فہرست

انوار العلوم جلد ۵

صفحات ۱–۶۰۰

تحریکِ تعمیر مسجد لندن

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّيْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

تحریک تعمیر مسجد لندن

برادران! اَلسَّلَامُ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهٗ !

ولایت کی تبلیغ کا کام اللہ تعالیٰ کے فضل سے جس عمدگی اور کامیابی کے ساتھ ہو رہا ہے وہ آپ لوگوں سے پوشیدہ نہیں کیونکہ ہمیشہ اس کام کے متعلق رپورٹیں شائع ہوتی رہتی ہیں جس وقت سے یہ کام شروع کیا گیا ہے ہمارے ولایت کے مبلغین برابر اس امر پر زور دیتے رہتے ہیں کہ اس وقت تک یہ کام کما حقہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنی مسجد نہ ہو اور اپنا مکان نہ ہو۔ کیونکہ مسجد نہ ہونے سے لوگوں کی توجہ ہمارے کام کی طرف منتقل نہیں ہوتی اور وہ ہمارے کام کو ایک مذہبی تبلیغ نہیں بلکہ ایک پُر اسرار تحریک خیال کرتے ہیں اور اپنے مکان کے نہ ہونے کے سبب سے جلدی جلدی نقل مکانی کرنی پڑتی ہے جس کے باعث تبلیغ کا خاص مرکز قائم نہیں ہو سکتا۔ ہمارے مبلغین کی یہ درخواست واقعی قابلِ توجہ ہے مگر میرے نزدیک اپنی مسجد کے بنوانے کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ کچھ خاص برکات ہیں جو بغیر مسجد کے حاصل نہیں ہوتیں پس ان کے حاصل کرنے کے لئے مسجد کی تعمیر نہایت ضروری ہے۔ اور یہ موقع اس کام کے لئے سب سے بہتر ہے کیونکہ اس وقت پونڈ کی قیمت گری ہوئی ہے اور ہم اگر یہاں سے دس روپے بھیجیں تو ولایت میں اس کے بدلہ میں ایک پاؤنڈ مل جاتا ہے۔ گویا اس وقت روپیہ بھیجنے سے ہمیں ڈیوڑھا روپیہ ملنے کی اُمید ہے۔ پس ان تمام اُمور کو مدّنظر رکھ کر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اسی ماہ میں ایک معقول رقم جس کا اندازہ تیس ہزار کیا جاتا ہے مسجد لندن کے لئے یہاں سے بھجوا دی جائے جو اُمید ہے کہ وہاں پچاس ہزار کے قریب ہو جاوے گی اور اس سے ایک گذارہ کے قابل مسجد اور مختصر مکان بن سکے گا اور میں اس اعلان کے ذریعہ تمام احمدی احباب کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد اس رقم کو پورا کرنے کی کوشش کریں اور اپنے اپنے چندے فوراً بھیجوا دیں تاکہ اسی ماہ ولایت روانہ کئے جاسکیں۔ گو اس قدر رقم کا اس قدر قلیل عرصہ میں ہماری جماعت کی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جمع ہونا بادی النظر میں مشکل معلوم ہوتا ہے خصوصاً جبکہ دیکھا جاتا ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ ایک کثیر رقم ماہوار چندہ کے طور پر ادا کرتے ہیں۔ لیکن اس جماعت کے اخلاص اور اس کام کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے میں یقین رکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے مرد اور عورتیں اس کار خیر کے پورا کرنے میں دلی جوش سے قدم بڑھائیں گے۔ اور اس امر کو ثابت کر دینگے کہ خدا تعالیٰ کی برگزیدہ جماعتیں جب کسی کام کے لئے ارادہ کر لیتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کو کر کے چھوڑتی ہیں۔ مؤمن کے اخلاص اور اس کے عزم کے سامنے دنیا کی کوئی مشکل نہیں ٹھہر سکتی اور پہاڑ بھی اس کے سامنے کائی کی طرح اُڑ جاتے ہیں اور دریا پایاب ہو جاتے ہیں پس اے جماعت احمدیہ کے احباب! تم اس کام کے لئے عزم کر لو اور پختہ ارادہ کے ساتھ اس کے لئے اُٹھو اور پھر خدا تعالیٰ کی قدرت کا تماشہ دیکھو کہ وہ کس طرح تمہاری مدد کرتا ہے کیونکہ یہ کام درحقیقت خدا تعالیٰ کا کام ہے اور تم صرف ایک ہتھیار ہو جسے زبردست ہستی نے اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا ہے۔

میں اس موقع پر ان احباب کو خاص طور توجہ دلاتا ہوں جن کو خدا تعالیٰ نے صاحب ثروت کیا ہے وہ اس امر کو دیکھیں کہ ان کے دوسرے بھائی جو ابھی حق کے پانے سے محروم ہیں کس طرح نام ونمود کی غرض سے دس دس بیس بیس ہزار روپیہ خرچ کرکے ایسے مقامات پر مساجد تیار کراتے ہیں جہاں مساجد کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا کے حصول اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے ان سے بڑھ کر نہیں تو ان کے برابر تو ہمت دکھائیں۔ مگر نہیں یہ ایک مایوسی کا کلمہ ہے اور مؤمن مایوس نہیں ہوتا۔ میں یہی کہوں گا کہ بہرحال وہ ان سے بڑھ کر ہمت دکھائیں اور خدا تعالیٰ کے فضلوں اور آئندہ آنے والی نسلوں کی دُعاؤں کے مستحق بنیں۔ وہ یاد رکھیں انگلستان وہ مقام ہے جو صدیوں سے تثلیث پرستی کا مرکز بن رہا ہے اور اس میں ایک ایسی مسجد کی تعمیر جس پر سے پانچ وقت لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کی صدا بلند ہو کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا عظیم الشان کام ہے جس کے نیک ثمرات نسلاً بعد نسل پیدا ہوتے رہیں گے اور تاریخیں اس کی یاد کو تازہ رکھیں گی۔ وہ مسجد ایک نقطۂ مرکزی ہوگی جس میں سے نورانی شعاعیں نکل کر تمام انگلستان کو منور کر دینگی۔ بیشک اس سے پہلے بھی وہاں ایک مسجد قائم ہے مگر وہ ایسے وقت میں بنائی گئی تھی جبکہ اس مسجد کی ضرورت نہ تھی اور صرف اسلام کا نشان قائم کرنے کے لئے اُسے تیار کیا گیا تھا۔ مگر یہ مسجد ضرورت پڑنے پر تعمیر ہوگی۔ پس یہی مسجد پہلی مسجد کہلانے کی مستحق ہے کیونکہ اس کی تعمیر کے پہلے دن سے ہی اس پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا نعرہ بلند ہونا شروع ہوجائے گا۔ جبکہ پہلی مسجد سالہا سال تک مقفل اور بند رہی ہے۔ پس اے صاحب ثروت احباب! بلند حوصلگی سے اُٹھو اور ہمیشہ کے لئے ایک نیک یادگار چھوڑو تا ابدی زندگی میں اس کے نیک ثمرات پاؤ۔ وہ ثمرات جن کی لذت کا اندازہ انسانی دماغ کر ہی نہیں سکتا اور یاد رکھو کہ غرباء ہزاروں طریق سے خدمتِ دین کرکے ثواب کما رہے ہیں۔ اور اس کام میں بھی وہ اپنے ذرائع کے مطابق یہی کوشش کرینگے کہ اپنے امیر بھائیوں سے آگے نکل جاویں کیونکہ وہ خدمات دین کرتے کرتے بوجھ اٹھانے کے عادی ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام احمدی احباب کے قلوب کو کھول دے اور ان کے حوصلوں اور ذرائع کو وسیع کر دے۔ اور اس کام کے بہت جلد تکمیل کو پہنچنے کے سامان پیدا کر دے۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْن۔

مکرر یہ کہ میں اس حد تک لکھ چکا تھا کہ میں نے قادیان کے احباب کو جمع کرکے چندہ کی تحریک کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پانچ ہزار کے قریب چندہ قادیان سے ہی ہو گیا۔ دوسرے دن پھر عورتوں اور مردوں میں تحریک کی تو چندہ کی مقدار گیارہ ہزار سے بھی بڑھ گئی اور بارہ ہزار کے قریب پہنچ گئی جس میں سے سات ہزار وصول بھی ہو چکا ہے اور باقی بہت جلد وصول ہو جائیگا۔ انشاء اللہ اس غریب جماعت سے اسقدر چندہ کی وصولی خاص تائید الٰہی کے بغیر نہیں ہوسکتی تھی۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اس چندہ کے ساتھ شامل ہے۔ ان دنوں میں قادیان کے لوگوں کا جوش وخروش دیکھنے کے قابل تھا اور اس کا وہی لوگ ٹھیک اندازہ کر سکتے ہیں جنھوں نے اس کو آنکھوں سے دیکھا ہو۔ اخلاص تو نیا نہیں پیدا ہوتا۔ وہ تو دل میں پہلے سے ہوتا ہے مگر اس کے اظہار کا یہ ایک خاص موقع تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ قادیان کے احمدیوں کا اخلاص اُبلنے کے درجہ پر پہلے سے پہنچا ہوا تھا اور صرف بہانہ ڈھونڈ رہا تھا اور مرد اور عورت اور بچے سب ایک خاص نشئہ محبت میں چور نظر آتے تھے۔ عورتوں کا ہی چندہ دو ہزار سے بڑھ گیا اور قریباً سب کا سب فوراً وصول ہوگیا۔ کئی عورتوں نے اپنے زیور اُتار دیئے اور بہتوں نے ایک دفعہ چندہ دیگر پھر دوبارہ جوش آنے پر اپنے بچوں کی طرف سے چندہ دینا شروع کیا۔ اور پھر بھی جوش کو دبتا نہ دیکھ کر اپنے وفات یافتہ رشتہ داروں کے نام سے چندہ دیا۔ بچوں کے جوش کا یہ حال تھا کہ ایک بچہ نے جو ایک غریب اور محنتی آدمی کا بیٹا ہے مجھے ساڑھے تیرہ روپے بھیجے کہ مجھے جو پیسے خرچ کرنے کے لئے ملتے تھے، ان کو میں جمع کرتا رہتا تھا وہ میں سب کے سب اس چندہ کے لئے دیتا ہوں نہ معلوم کن کن اُمنگوں کے ماتحت اس بچہ نے وہ پیسے جمع کئے ہونگے۔ لیکن اس کے مذہبی جوش نے خدا کی راہ میں ان پیسوں کے ساتھ ان اُمنگوں کو بھی قربان کروا دیا۔ اَنْبَتَهُ اللهُ نَبَاتًا حَسَنًا۔ مدرسہ احمدیہ کے غریب طالب علموں نے جو ایک سو سے بھی کم ہیں اور اکثر ان میں سے وظیفہ خوار ہیں ساڑھے تین سو روپیہ چندہ لکھوایا۔ اور ان کی مالی حالت کو مدّنظر رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کئی ماہ کے لئے اپنی اشد ضروریات کے پورا کرنے سے بھی محرومی اختیار کرلی۔ اسی طرح ٹریننگ کلاس کے طلباء نے جن کی کل تعداد اٹھارہ ہے، ساڑھے تین سو روپیہ چندہ لکھوایا۔ مدرسہ ہائی کے بچوں نے چھ سو کے قریب چندہ لکھوایا۔ غرض بچوں نے بھی اس اخلاص کا نمونہ دکھایا جو دوسری اقوام کے بڑوں میں بھی موجود نہیں ہوتا۔

یہ حال جب عورتوں اور بچوں کا تھا جو بوجہ کمی علم یا قلت تجربہ کے دینی ضروریات کا اندازہ پوری طرح نہیں کر سکتے تو مردوں کا کیا حال ہوگا۔ اسے خود قیاس کیا جا سکتا ہے کہ ایک بڑی تعداد ایسے آدمیوں کی تھی جنہوں نے اپنی ماہوار آمدنیوں سے زیادہ چندہ لکھوایا۔ جن میں سے ایک معقول تعداد ان لوگوں کی تھی جنہوں نے تین تین چار چار گنے چندہ لکھوایا۔ بعض لوگوں کا حال مجھے معلوم ہوا کہ جو کچھ نقد پاس تھا انہوں نے دیدیا اور قرض لیکر کھانے اور پینے کے لئے انتظام کیا۔ ایک صاحب نے جو بوجہ غربت زیادہ رقم چندہ میں داخل نہیں کر سکتے تھے نہایت حسرت سے مجھے لکھا کہ میرے پاس اور تو کچھ نہیں میری دکان کو نیلام کرکے چندہ میں دیا جاوے۔ گو ان کی اس درخواست کو میں قبول نہیں کر سکتا تھا۔ مگر اس سے اس اخلاص کا پتہ لگتا ہے جو انکے دلوں میں موجزن تھا۔ بعض لوگوں نے سکنی زمینیں چندہ میں دیدیں۔ غرض بےنظیر قربانی کے ساتھ قادیان کی غریب جماعت نے بارہ ہزار روپیہ کے قریب چندہ لکھوایا اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ اس میں سے اکثر حصہ نقد وصول ہوگیا اور لوگوں نے بجائے آہستہ آہستہ چندہ ادا کرنے کے زیورات وغیرہ فروخت کرکے اپنے وعدے ادا کر دیئے اور باقی بھی عنقریب انشاء اللہ وصول ہو جاوینگے۔ جَزَاهُمُ اللهُ خَيْرًا۔

میرا قادیان کے حالات کے بیان کرنے سے جہاں یہ مطلب ہے کہ بیرون جات کے احباب کو تحریک پیدا ہو وہاں میرا یہ بھی منشاء ہے کہ میں اس غلط فہمی کو دُور کروں جو بعض بیرونی جماعتوں میں پھیلی ہوئی ہے کہ قادیان کے لوگ دینی کاموں میں حصہ نہیں لیتے ۔ چنانچہ اسی جلسہ پر مجھ سے ایک شخص نے کہا کہ آپ قادیان کے لوگوں کو باہر نکالیں کہ کچھ کام بھی کریں اور چندہ بھی دیں اور بوجھ نہ بنیں ۔ حالانکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ چند معذور آدمیوں کے سوا باقی تمام کے تمام احباب قادیان سخت محنت سے اپنی روزی کماتے ہیں اور اپنے فارغ اوقات کو دین کی اشاعت کے لئے صرف کرتے ہیں اور اپنے مالوں میں سے عموماً دوسری جماعتوں کی نسبت زیادہ حصہ خدا کی راہ میں نکالتے ہیں ۔ غرض ان کے اموال اور ان کی جانیں خدا کی راہ میں قربان ہو رہی ہیں۔ اِلَّا مَا شَاءَ اللّٰہُ اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر انہی کے نقش قدم پر چل کر باہر کی جماعتیں کوشش کریں تو تیس ہزار تو کیا چیز ہے، ایک ماہ میں دو لاکھ روپیہ کا جمع ہو جانا بھی کچھ مشکل نہیں۔ کم سے کم وہ لوگ جن کو قادیان کے احمدیوں پر شکوہ ہے ۔ ان سے میں امید کرتا ہوں کہ اس موقع پر اپنے شکوہ کو عملی طور پر سچا ثابت کر کے دکھائیں گے تاکہ ان کے اس گناہ کا بھی کفارہ ہو جاوے جو اپنے بھائیوں پر بدظنی کر کے ان سے سرزد ہوا ہے۔

قادیان کے چندہ کے ساتھ ہی میں احباب کو یہ بھی خوشخبری سناتا ہوں کہ امرتسر اور لاہور کی جماعتوں نے بھی (جو اس بدظنی سے جس کا میں نے اُوپر ذکر کیا ہے پاک ہیں اور بوجہ قرب اور کثرت تعلقات کے حقیقت سے آگاہ ہیں) خاص ایثار سے کام لیا ہے۔ خصوصاً امرتسر نے کہ جہاں کی بالکل غریب اور قلیل جماعت نے دو ہزار سے اوپر چندہ لکھوایا ہے ۔ لاہور کا چندہ ابھی ہو رہا ہے لیکن اس وقت تک جو اطلاع ملی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دس ہزار روپیہ سے انشاء اللہ اوپر ہی چندہ ہو جاوے گا ۔ فَجَزَاهُمُ اللّٰہُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔

اس رفتار سے میں سمجھتا ہوں کہ گورداسپور ، امرتسر اور لاہور اور دوسرے مقامات کے چندے ملکر یہ تیس ہزار کی رقم جس کا میں نے شروع میں اعلان کیا ہے ، ان تینوں ضلعوں سے ہی پوری ہو جاوے گی اور احمدیوں کے اخلاص کو دیکھتے ہوئے میں ڈرتا ہوں کہ اس سے دوسری جماعتوں کو سخت صدمہ ہو گا کیونکہ ایسے اعلیٰ درجہ کے ثواب کا موقع ان کے ہاتھوں سے نکل جاوے گا۔ پس میں اس اعلان کی رقم کو بڑھا کر ایک لاکھ کر دیتا ہوں تاکہ تمام جماعتہائے احمدیہ اپنے اخلاص کا اظہار کر سکیں ۔ اور ثواب حاصل کرنے کا موقع پاویں اور یہ روپیہ کچھ زیادہ نہیں ہے کیونکہ اگر گورداسپور ، امرتسر اور لاہور کی جماعتیں تیس ہزار روپیہ جمع کر سکتی ہیں تو بقیہ جماعتوں کے لئے ستر ہزار روپیہ جمع کرنا بہت زیادہ آسان ہے اور اگر ایک ماہ کے اندر یہ جمع ہو جاوے تو ولایت میں یہ رقم قریباً بارہ ہزار پاؤنڈ یا ایک لاکھ اسی ہزار کے قریب ہمیں مل جاوے گی جس کو اس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے کہ علاوہ مسجد کی تیاری کے اسی رقم سے آئندہ ولایت کی تبلیغ اور امریکہ کی تبلیغ کے اخراجات بھی نکالے جا سکتے ہیں اور جماعت کی آئندہ کوششیں ایشیا اور افریقہ کی تبلیغ کی طرف منتقل ہو سکتی ہیں۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ اس رقم کو ہر ایک احمدی اس طرح پورا کرنے کی کوشش کریگا کہ گویا اس کام کا سب بوجھ اسی پر ہے اور اس اکیلے نے اس کام کو کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اس کام کے پورا کرنے کی توفیق دے اور آپ کی ہمتوں کو بلند اور آپ کی نیتوں کو خالص کرے اور آپ کے کاموں میں برکت دے اور اسلام کی شان کو آپ لوگوں کے ہاتھ پر ظاہر کرے۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْن ثُمَّ اٰمِیْن ثُمَّ اٰمِیْن۔

خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

قیامِ توحید کیلئے غیرت

(حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ولایت میں احمدیہ مسجد بنانے کے متعلق ۷؍ جنوری ۱۹۲۰ء کو بعد نماز عصر حسب ذیل تقریر فرمائی)

حضور نے تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔

انسانی پیدائش میں فطرتی باتیں

انسان کی پیدائش میں خدا تعالیٰ نے بعض باتیں ایسی رکھی ہیں کہ گو ان کو رسم و رواج اور عادات کئی کئی طرز پر ڈھال دیتے ہیں مگر ان کی اصلیت نہیں بدل سکتی۔ مثلاً غصہ ہے یہ ایک فطرتی امر ہے۔ یہ اور بات ہے کہ عیسائی کو کسی اور امر پر غصہ آئے۔ پس یہ تو ممکن ہے کہ ہر قوم کے شخص کو مختلف وجوہ پر غصہ آئے لیکن یہ نہیں کہ غصہ بعد میں پیدا کیا جاتا ہو۔ کوئی فلسفہ ثابت نہیں کر سکتا کہ غصہ بعد میں پیدا ہوتا ہے یا سکھایا جاتا ہے۔ ہاں تعلیم اور مختلف اثرات کے ماتحت غصہ کا مقام بدل جاتا ہے۔ ایک مسلمان کو اُس وقت غصہ آئے گا جب اللہ کو بُرا کہا جائے۔ ایک عیسائی کو غصہ آئے گا مگر اس وقت جب خدا کے بیٹے کی شان میں کچھ بُرے الفاظ کہے جائیں۔ ایک ہندو کو اللہ کے لفظ پر غصہ نہ آئیگا۔ بلکہ بعض اوقات کوئی بُری طبیعت کا ہندو اللہ کو بُرا کہہ جائیگا مگر اس کو اس وقت غصہ آئے گا جب برہما، شَو وغیرہ ناموں کو بُرا کہا جائے۔ اسی طرح ایک مسلمان کو اس وقت غصہ آئیگا جب بیت اللہ کو گالی دی جائے لیکن ایک ہندو کو بیت اللہ کے بُرے کہے جاتے وقت بُرا معلوم نہ ہو گا۔ ہاں جب بنارس کی ہتک کی جائے تب اس کو جوش آئے گا۔ مگر ایک عیسائی کا غصہ ان دونوں سے علیحدہ ہے وہ نہ بیت اللہ کو بُرا کہنے سے ناراض ہوتا ہے نہ بنارس کو۔ بلکہ اس کو اس وقت غصہ آتا ہے

جب ناصرہ کو بُرا کہا جاتا ہے۔ مگر ایک یہودی کو اس وقت طیش آتا ہے جب یروشلم کو بُرا کہا جائے۔ دیکھو غصہ میں فرق نہیں۔ غصہ سب کو آتا ہے۔ مگر غصہ کے آنے کے مقامات میں اختلاف ہے۔ غصہ کے آنے میں افریقہ کے حبشی اور انگلستان ، امریکہ کے سفید منہ والے دونوں برابر ہیں۔ مگر ان سب کو ایک ہی بات پر غصہ نہیں آتا بلکہ ان کو غصہ آنے کے مقامات علیحدہ علیحدہ ہیں۔ ایک ہندو ایک بکرے کو ذبح ہوتا دیکھ کر رحم کھاتا ہے۔ مگر ایک مسلمان بکرے کو ذبح ہوتا دیکھ کر رحم کے جذبہ سے متاثر نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ اس کو اپنی خوراک خیال کرتا ہے اور ایک قاعدہ جاریہ خیال کرتا ہے لیکن ایک ہندو ایک جانور کو ذبح ہوتے دیکھ کر رحم کھائے گا۔ مگر ایک مسلمان کو اس جرم پر مارتے ہوئے اس کے دل میں رحم پیدا نہ ہوگا۔ پس عادت ، رسم و رواج اور تعلیم وغیرہ رحم کی تعلیم نہیں کرتے کیونکہ وہ فطرتی جذبہ ہے ہاں یہ باتیں رحم کے مقام کی تعلیم کرتی ہیں۔ پس رحم فطرتی امر ہے لیکن رحم کے مقام فطرتی امر نہیں مثلاً ایک شخص عیسائی ہو جائے یا مسلمان ہو جائے ۔ تو پہلے جن باتوں کی ہتک سے اس کو غصہ یا جن چیزوں پر ظلم اس کے رحم کو کھینچتا تھا اس میں فرق آکر اس کے مقام بدل جائیں گے۔

جذبۂ غیرت

ان فطرتی جذبات میں سے ایک امر غیرت بھی ہے۔ فلسفی کہتے ہیں کہ غیرت سکھائی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ بعض علاقے اس قسم کے ہیں کہ وہاں بہن کی شادی بھائی سے ہو جاتی ہے مگر غیرت کے متعلق ان کا یہ خیال غلط ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ غیرت کا مقام سکھایا جاتا ہے اور ہر جگہ غیرت کے اظہار کے لئے جُدا جُدا مقام ہوتے ہیں بعض لوگ عزت و ناموس کے لئے غیرت مند نہیں ہوتے۔ بعض مال کے لئے ہوتے ہیں، بعض مال کی پرواہ نہیں کرتے مگر ملکوں کے لئے مرتے ہیں۔ ان کی عزت و آبرو جائے، ننگ و ناموس مٹے تو مٹے ، مگر وہ اس بات کو گوارا نہیں کر سکتے کہ کوئی شخص ان کے ملک کی زمین کے چپہ پر بھی قابض ہو۔ مگر ایک اور لوگ ہوتے ہیں جن کو مال و عزت ، ننگ و ملک کے لئے کوئی غیرت نہیں ہوتی۔ البتہ وہ تجارت پر جان لڑا دیتے ہیں ۔ یورپ کے وہ فلسفی اس نکتہ کو نہیں سمجھتے جو کہتے ہیں کہ یہ جذبات پیدا کئے جاسکتے ہیں اور غیرت وغیرہ سکھائی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ باتیں ہر قوم میں فطرتاً پیدا شدہ ہوتی ہیں مگر ان کے مقامات سکھائے جاتے ہیں۔ پس یہ اُمور فطرتی ہیں اور ان کے استعمال نسبتی امور ہیں۔ ہاں تو غیرت جو ایک فطرتی جذبہ ہے کئی رنگ میں ظاہر ہوتی ہے جو چیز جس کو محبوب ہوتی ہے ، وہ اسی کے لئے غیرت دکھاتا ہے ایک دلیر اور شجاع کو مال کے چوری ہو جانے، زراعت کے برباد ہونے، تجارت کے خراب ہونے سے غیرت نہیں آئیگی۔ مگر جب وہ میدانِ جنگ میں جائیگا تو اس کی غیرت جوش میں آئیگی اور اس سے شجاعت کے کام کرائیگی۔ ایک دوسرا شخص ہے جسے مال سے محبت ہے وہ اس کے لئے غیرت دکھائے گا۔ ایک اور شخص ہے جو تجارت سے دلچسپی رکھتا ہے جب وہ کسی کو تجارت میں اپنے سے بڑھتا دیکھے گا تو وہ اس سے بڑھنے کے لئے نقصان گوارا کر کے آٹھ آنے کی چیز کو چار آنے پر فروخت کر دیگا۔ تو غیرت ایک فطرتی بات ہے گو اس کے استعمال کے مقام علیحدہ علیحدہ ہیں اور ہر ایک مذہب اور ہر ایک قوم اور ہر ایک ملک میں اس کے ظاہر ہونے کے جُدا جُدا مقام ہوتے ہیں۔ مثلاً بعض ملک ننگ و ناموس کی پرواہ نہیں کرتے۔ مثلاً یورپ میں اس کی کچھ چنداں پرواہ نہیں کی جاتی۔ اگر کوئی ایسا واقعہ ہو تو عدالت میں چارہ جوئی کرنے پر عدالت چار سو یا پانچسو روپیہ دلوا دیگی۔ گویا اس ننگ و ناموس کی خرابی کا معاوضہ مل گیا۔ مگر ہمارے ملک میں جان دینا اور لینا اس معاملہ میں لوگ ایک معمولی بات خیال کرتے ہیں۔ تو یورپ کے لوگ ننگ و ناموس کی اسقدر قیمت نہیں لگاتے جتنی ایشیائی۔ البتہ ملک پر وہ لوگ جان دیتے ہیں کیونکہ ان لوگوں کو ملک سے زیادہ لگاؤ ہے۔

مسلمان کی غیرت

مگر ایک مسلم کے لئے ایک مذہبی آدمی کے لئے مذہب غیرت کی چیز ہے۔ اس کو جب غیرت آتی ہے تو مذہبی معاملہ میں غیرت آتی ہے اور اس کے ماتحت جو کام مذہب کا اس سے کرانا ہو۔ وہ اس کو کریگا سوائے اس کام کے جس میں خدا کی طرف سے روک پیدا کر دی جائے۔ اسی غیرت کے ماتحت بڑے بڑے کام ہوئے ہیں۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب نے جھوٹا نبوت کا دعویٰ کیا اور اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلہ بھی کیا تھا اور حضور کی زندگی میں نصف ملک کا مطالبہ کیا تھا۔ اس وقت حضور کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ اس کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا کہ میں تو اس کو یہ بھی نہیں دونگا جب حضور کی وفات ہوئی تو آپ کی وفات سے اس نے فائدہ اُٹھانا چاہا۔ اس کی مسلمانوں سے جنگ ہوئی۔ بہت مسلمان مرے اور مسلمانوں کو فتح نہ ہوئی۔ اس وقت سوال پیدا ہوا کہ کیا کرنا چاہئے۔ اس وقت کئی آراء ہوئیں۔ لیکن غیرت سامنے آئی اور اس نے کہا کہ بیشک ہم کمزور ہیں اور تعداد میں بھی تھوڑے ہیں یہ سب کچھ ہے۔ مگر میں نہیں رہتی اگر تم پیچھے ہٹ گئے۔ وہ لوگ جو اپنے آپکو اسلام کیلئے بیچ چکے تھے اس جذبہ غیرت کے ماتحت انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہو تم ہمیں ہاتھ پیر باندھ کر قلعہ کے اندر ڈال دو۔ چنانچہ کتنے ہی آدمیوں کو اسی طرح قلعہ کے اندر ڈال دیا گیا۔ جن پر بہت سے کفار جھپٹ پڑے اور ان میں سے کتنے ہی آدمی مر گئے اور باقیوں نے جوش میں ان تمام کمندوں کو توڑ دیا اور مرتے مارتے قلعہ کے دروازے میں پہنچ گئے اور اُسے کھول دیا جس سے مسلمانوں کا لشکر قلعہ کے اندر گھُس آیا اور مسیلمہ مارا گیا اور تھوڑی دیر میں مسلمانوں کو کامل فتح حاصل ہوگئی۔ اب وہ کیا چیز تھی جس کی وجہ سے باوجود دشمن کے زیادہ اور قوی ہونے کے مسلمان کامیاب ہوئے ۔ وہ غیرت تھی جس کے ماتحت اتنا بڑا کام ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مذہبی حکومت قائم ہوگئی۔

غیرت کی مثال

اس زمانہ میں بھی ہمیں ایک نظیر ملتی ہے۔ یونان اور ترکوں کی ایک دفعہ جنگ ہوئی۔ یونانیوں کا گمان تھا کہ ہمیں بیرونی ممالک کی مدد سے ترکوں کے مقابلہ میں فتح حاصل ہوگی۔ یونانیوں کے پاس ایک قلعہ تھا جو ایک پہاڑی پر واقع تھا اور ایسے موقع پر تھا کہ وہاں سے اگر گولہ باری ہوتی تو تمام یونان کو جانے والے راستوں پر گولے پڑتے تھے۔ یورپ کی وہ حکومتیں جنہوں نے یونان کو انگیخت کیا تھا، ان کا خیال تھا کہ چھ مہینہ تک یہ قلعہ فتح نہیں ہوسکتا اور اتنے عرصہ میں روس وغیرہ حکومتوں کی طرف سے یونانیوں کے لئے کمک پہنچ جائیگی اور پھر ترکوں کا مار لینا کچھ بھی مشکل نہ ہوگا۔ ان لوگوں میں بھی مذہب کی ظاہری حالت کے لئے ایک غیرت تھی۔ ترکوں کا ایک مشہور جرنیل (جس کا نام غالباً ابراہیم پاشا تھا، ترکوں کی فوج کا افسر تھا۔ اس نے حکم دیا کہ یونان کی طرف بڑھو۔ جب لشکر بڑھا تو یونانیوں کی طرف سے اس شدت سے گولہ باری ہوئی کہ قدم اُٹھانا مشکل ہوگیا اور پہاڑی کی بلندی کی وجہ سے اس پر سیدھا چڑھنا مشکل تھا اور سپاہیوں نے درخواست کی کہ ہمیں بوٹ اُتارنے کی اجازت دی جائے مگر افسر نے اجازت نہ دی اور خود ان کے لئے نمونہ بن کر آگے بڑھا۔ اس گولیوں کے مینہ کا مقابلہ کرنا آسان نہ تھا۔ تھوڑی ہی دُور چل کر گولی لگی اور جرنیل زخمی ہو کر گرا۔ اور اس کے گرتے ہی سپاہی اس کو اُٹھانے کے لئے آگے بڑھے۔ مگر اس نے انہیں کہا کہ تم کو خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ مجھے ہاتھ نہ لگاؤ اور یہیں پڑا رہنے دو۔ اگر تم نے مجھے عزت کے ساتھ دفن کرنا ہے تو اس کا ایک ہی مقام ہے اور وہ اس قلعہ کی چھت ہے۔ پس یا تو مجھے اس جگہ دفن کرو ورنہ یہیں پڑا رہنے دو کہ چیلیں اور کُتے میرا گوشت نوچ کر کھا جاویں۔ چونکہ اس افسر کا تعلق فوج سے بہت اعلیٰ درجہ کا تھا۔ اس کی یہ بات ایک چنگاری بن گئی۔ جس نے سپاہ کی غیرت کو بارود کی طرح آگ لگا دی ، اور اب ان کے سامنے سوائے اس قلعہ کی فتح کے اور کوئی مقصد نہ رہا۔ اور وہ لوگ ایک منٹ میں کچھ کے کچھ بن گئے اور چیخیں مارتے ہوئے اسی آگ کی بارش میں قلعہ کی طرف بڑھے اور اس طرح قلعہ کے اوپر چڑھ گئے۔ لکھا ہے کہ ان کے ہاتھوں کے پپوٹے اور ناخن تمام پتھروں سے رگڑ کر اُڑ گئے۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہُوا کہ وہ قلعہ فتح ہو گیا اور ترکوں کا وہاں جھنڈا گڑ گیا اور اس پاشا کو وہاں دفن کیا گیا پس جب غیرت آتی ہے تو کوئی بات انہونی نہیں رہتی۔

ہماری جماعت کی غیرت

ہماری جماعت جو احمدی جماعت ہے اس کو مذہب کے لئے غیرت دی گئی ہے۔ لوگوں کو تجارت کے لئے غیرت ہے زراعت کے لئے غیرت ہے۔ بہت لوگوں کو ملک کے لئے غیرت ہے۔ مگر جو خدا کی جماعتیں ہوتی ہیں انہیں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے لئے غیرت ہوتی ہے۔ ملک جاتے ہیں تو جائیں، حکومتیں مٹتی ہیں تو مٹیں، زراعتیں برباد ہوتی ہیں تو ہوں، تجارتیں تباہ ہوتی ہیں تو ہوں، زمینیں چھنتی ہیں تو چھن جائیں اور اگر ظالموں کی طرف سے ننگ و ناموس پر حملہ ہو اور وہ جائے تو چلی جائے مگر وہ ہرگز نہیں دیکھ سکتے کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مٹ جائے۔ اس کی حفاظت کے لئے وہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ اگر وطنوں سے بے وطن ہونا پڑے تو کچھ پرواہ نہیں۔ اگر مال چھنتے ہیں تو کچھ مضائقہ نہیں۔ عہدے اور امارتیں لی جائیں تو کچھ حرج نہیں۔ وہ ان سب چیزوں کو چھوڑنے کے لئے تیار ہوتی ہیں۔ اگر نہیں چھوڑتیں اور نہ چھوڑنے کے لئے تیار ہوتی ہیں تو وہ ایک ہی چیز ہے یعنی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عرب کے نمائندے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر آپ کو دولت کی تمنا ہے تو عرب کی آدھی دولت حاضر کرتے ہیں، اگر عورت چاہتے ہیں تو جو عورت پسند ہو وہ پیش کرتے ہیں۔ اگر حکومت چاہتے ہیں تو ہم بادشاہ ماننے کو تیار ہیں۔ مگر آپ ہمارے معبودوں کو بُرا کہنا چھوڑ دیں۔ گویا کہ وہ بتوں کی غیرت کے لئے ننگ و ناموس بھی قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔ مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت بھی دیکھنے کے قابل ہے۔ فرماتے ہیں اگر سورج کو میرے دائیں اور چاند کو بائیں ہاتھ پر لا کر رکھ دو تو بھی میں شرک کے خلاف وعظ کہنے سے باز نہ رہوں گا (سیرت ابن ہشام عربی جلد ۱ صفحہ ۲۸۵ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء) دونوں نے غیرت دکھائی۔ مگر سچی غیرت غالب آئی۔ وہی سچی غیرت جو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے لئے دکھائی گئی۔

سب سے بڑی غیرت

تو سب غیرتوں میں سے بڑی غیرت مذہب کی ہوتی ہے اور باطل مذاہب والے بھی اپنے مذاہب کے لئے غیرت دکھاتے ہیں۔ یورپ کے عیسائیوں میں یروشلم کو مسلمانوں کے قبضہ میں دیکھ کر غیرت پیدا ہوئی۔ کئی سو سال تک لاکھوں کی تعداد میں وہ یورپ سے یروشلم کے فتح کرنے کے لئے آئے۔ آخر اسی غیرت کے ماتحت انہوں نے ایک بچوں کی فوج تیار کی کیونکہ انجیل میں انہوں نے پڑھا تھا کہ خدا کی بادشاہت میں بچے داخل ہوتے ہیں۔ اس سے انھوں نے قیاس کیا کہ ممکن ہے کہ ہماری متواتر شکستوں کا باعث ہمارے گناہ ہوں۔ اس لئے مناسب ہے کہ ایک بچوں کا لشکر تیار کریں۔ چنانچہ وہ لشکر تیار ہوا جس میں دس دس برس تک کے بچے شامل کئے گئے انہوں نے کام تو کیا کرنا تھا، رستہ میں ہی مرگئے۔ مگر اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں بھی اپنے مذہب کی کہاں تک غیرت تھی یہ غیرت انہوں نے اس لئے دکھائی کہ وہ یروشلم کو مسلمانوں کے قبضہ میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔ تو بہت دفعہ غیرت باطل کے لئے بھی جوش میں آتی ہے۔ مگر جو غیرت حق کے لئے ہوتی ہے وہ تمام روکوں اور بطالتوں کو خس و خاشاک کی طرح دُور کرتی بلکہ سمندروں کو چیرتی اور پہاڑوں کو کو رستہ سے دُور کر دیتی ہے۔ اسی غیرتِ حقہ کے ماتحت سچے لوگ صداقت کے جھنڈے لے کر دوڑتے ہیں کہ ہمارے سچے خدا کے مقابلہ میں جھوٹے خداؤں کی کیوں پرستش ہوتی ہے۔

ہماری جماعت کی غیرت کا ثبوت

ہماری جماعت نے اسی غیرت کے ماتحت خدا کے فضل سے کام کیا ہے اور بڑا کام کیا ہے ہماری جماعت کوئی مالدار جماعت نہیں لیکن جو کچھ خدا کے فضل سے خدا کے سچے دین اسلام کے لئے ان غریبوں نے کیا ہے وہ مسلمانوں کی مالدار جماعتیں بھی نہیں کر سکیں۔ افریقہ کے مغربی اور مشرقی کنارے میں اس کی آواز پہنچی۔ سیلون اور ماریشس میں اس کی ندا پہنچی۔ امریکہ میں یہ پہنچانا چاہتے ہیں۔ لندن میں ان کا مشن قائم ہے۔ یہ تمام کام ہماری حیثیت کے نہیں بلکہ اس غیرت کے ہیں جو خدا نے ہمارے سینوں میں سچے مذہب کی خدمت کے لئے پیدا کی ہے۔ پس ان کاموں کو مذہبی غیرت ہی آگے آگے لئے جا رہی ہے۔ یہ غیرت ہی کا جذبہ ہے جو ان تمام باروں اور تمام دقتوں کو محسوس نہیں ہونے دیتا۔ یہ خدا کا فضل ہے اور یہ خدا ہی کا کام ہے کہ وہ ہم سے یہ کام لے رہا ہے۔ ورنہ کجا وہ مقامات جو شرک کا مرکز ہیں اور کجا خدا کے فضل سے وہاں سینکڑوں لوگ اسلام کو قبول کر رہے ہیں۔ یہاں ہمارے مبلغ جہاں جاتے ہیں تو سال میں دو چار کسی ایک جگہ سے لوگ سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں۔ مگر وہاں ہر ہفتہ میں خدا کے فضل سے لوگ اسلام قبول کرتے ہیں۔ پس یہ جو کچھ ہے خدا ہی کے فضل سے ہے۔ خدا نے وہاں کے لئے تمہاری غیرت کو دیکھا۔ اس لئے نمایاں بدلے دیئے۔

گورنمنٹ انگریزی اور ہم

انگلستان کفر کا مرکز ہے۔ ہر ایک احمدی جو ہندوستان میں ہے۔ وہ گورنمنٹ انگریزی کا وفادار اور اگر وقت پڑے تو اس کے لئے جان دینے کو تیار ہے۔ کم از کم میں تو اپنے اندر یہ شرح صدر پاتا ہوں کہ اگر گورنمنٹ کے لئے مجھے جان دینا پڑے تو میں خوشی سے دوں۔ مگر باوجود اس کے ہم ان کے مذہب کے دشمن ہیں نادان ہمیں کہتے ہیں کہ ہم خوشامدی ہیں۔ مگر ہم علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہم سے بڑھ کر دنیا میں عیسائیت کا کوئی دشمن نہیں۔ میں نے ایک دفعہ وائسرائے کو لکھا تھا کہ ہماری حالت اور دوسروں کی حالت میں فرق ہے۔ ان کو آپ کے مذہب سے عناد نہیں۔ اگر وہ وفادار ہوں تو ہو سکتے ہیں۔ ہم لوگ عیسائی مذہب کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ مگر باوجود اس کے برٹش گورنمنٹ کے سب سے زیادہ وفادار ہیں، جس کا ثبوت ہر دفعہ اور ہمیشہ انشاء اللہ ملے گا۔ پس ہماری وفاداری دوسروں سے زیادہ قیمتی ہے۔ تو حقیقت یہ ہے کہ مذہبی حیثیت میں دنیا میں عیسائیت اور احمدیت جمع نہیں ہو سکتے۔ جب تک دنیا میں ایک بھی عیسائی ہے یا غیر مذہب کا انسان ہے کوئی سچا احمدی تبلیغ کرنے سے باز نہیں رہ سکتا۔

عیسائیت کے سب سے بڑے مرکز پر ہمارا حملہ

یورپ کی تمام اقوام میں سے انگلستان کے لوگوں کو مذہب کا بہت خیال ہے۔ دنیا میں جس قدر عیسائی مذہب انگلستان کے ذریعہ پھیلا ہے اس کے مقابلہ میں دوسرے ممالک کے ذریعہ بہت کم عیسائیت کی تبلیغ ہوئی ہے۔ امریکہ کی آبادی بھی آدھی سے زیادہ انگریز ہے چین، جاپان اور افریقہ وغیرہ ملکوں میں کروڑوں اور ہندوستان میں لاکھوں لوگ انگریزوں کے ذریعہ عیسائیت میں داخل ہوئے ہیں۔ پس انگلستان جو عیسائیت کا گڑھ ہے۔ اس پر ہم نے حملہ کیا ہے یعنی ہمارے مبلغ وہاں پہنچے ہیں۔ ہمارے حملے لوہے کی تلوار سے نہیں بلکہ دلائل کی تلوار سے ہیں، وہ ہمارے مذہبی مخالفوں کا قلعہ ہے۔ وہاں ہم نے سپاہی بھیجے ہیں۔ ان کے لئے سامان کی ضرورت ہے۔ سامان میں سب سے پہلے قلعہ کے مقابلہ میں قلعہ ہی ہونا چاہئے۔ یہ قاعدہ ہے کہ مورچہ کے مقابلہ میں جب تک مورچہ نہ ہو تو کامیاب مقابلہ نہیں ہو سکتا۔ جو فوج میدان میں ہو وہ مورچہ بند فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس بات کو مدّنظر رکھ کر ہمارے مبلغوں نے وہاں مسجد بنانے کی تحریک بارہا کی ہے اور مذہب کا قلعہ مسجد ہی ہوتی ہے جس کے مناروں سے پانچ وقت اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے ساتھ اہل باطل پر گولے پھینکے جاتے ہیں۔

ہماری جماعت کی غیرت کا ثبوت

پس ہمارے مبلغوں نے مسجد کے لئے اصرار کیا ہے جب سپاہی وہاں موجود ہیں اور ہم وہاں فتح حاصل کرنا چاہتے ہیں تو

فتح کے لئے سامانوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ان سامانوں میں سے سب سے بڑا سامان ایک مسجد کا ہوتا ہے۔ خدا نے اس وقت ہمارے لئے بہت آسانی پیدا کر دی ہے یعنی صرافی کے تغیرات کے ماتحت اگر ہم دس روپیہ یہاں دیں تو وہاں پندرہ روپیہ کا پونڈ ہمیں مل جاتا ہے اور خدا تعالیٰ نے میرے دل میں بڑے زور سے تحریک کی ہے کہ اس کام کو شروع کیا جاوے۔ اور یہ تحریک عجیب طرح ہوئی ہے۔ کل جب میں ظہر کی نماز پڑھنے کے لئے آیا تو مجھے خیال ہوا کہ پانچ سات ہزار روپیہ جمع کرکے ولایت بھیج دیا جاوے کہ احمدیہ مسجد کا انتظام ہو۔ مگر جب ظہر کے بعد میں ان دوستوں کو جو مسجد میں موجود تھے، یہ تجویز سنانے لگا تو بجائے پانچ سات ہزار کے میرے منہ سے نکلا کہ پندرہ ہزار کی تحریک کی جائے اور قرض کے طور پر جماعت سے لیکر یہ روپیہ بھیج دیا جائے پھر آہستہ آہستہ ادا ہو جائے گا۔ اس وقت چند دوست مسجد میں تھے۔ اسی وقت چندہ شروع ہو گیا اور چھ سو روپیہ اُسی وقت ہو گیا۔ گھر جا کر جب میں نے والدہ اور اپنی بیبیوں سے ذکر کیا تو دوسو وہاں ہوا۔ پھر جب میں مضمون لکھنے لگا تو بجائے پندرہ کے تیس ہزار لکھا گیا پہلے خیال تھا کہ قرض لیا جائے لیکن جب میں مضمون لکھ چکا تو دیکھا کہ مضمون تو مکمل ہو گیا ہے اس میں آگے لکھنے کی گنجائش نہیں لیکن اس میں قرض کی بات رہ گئی ہے۔ میں نے ہر چند چاہا کہ کہیں اس کو داخل کروں مگر اس کے درج کرنے کی کوئی جگہ نہ ملتی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ خدا ہی کا تصرف ہے۔ کل شام کے وقت کچھ دوست مسجد مبارک میں جمع ہوئے ، وہاں تحریک کی اور آج عورتوں میں تحریک کی تو مجھے بتلایا گیا کہ آٹھ ہزار کے وعدے ہو چکے ہیں جس میں سے بہت سی رقم وصول بھی ہوچکی ہے۔ اس حساب سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیان سے ایک معقول رقم وصول ہوگی اور اب آپ صاحبوں کو اسی کے لئے جمع کیا گیا ہے جب یہ تحریک باہر جائیگی تو انشاء اللہ وہاں بھی جلد یہ تحریک کامیاب ہوگی۔

ہندوستان اور ولایت کے اخراجات کی نسبت

ممکن ہے کہ بعض کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ تیس ہزار روپیہ کی لاگت سے وہاں جو عمارت بنے گی وہ بہت عظیم الشان ہوگی اور یہ ہماری موجودہ حالت کے لحاظ سے ایک اسراف ہے، تو اس کے متعلق یاد رکھو کہ انگلستان کا ملک ہمارے ملک کی طرح نہیں۔ اگر یہاں ایک روپیہ میں ایک چیز ملتی ہے تو وہاں وہی چیز پندرہ روپیہ کی ہے۔ اسی نسبت سے وہاں مزدوری کی گرانی ہے۔ کیونکہ ایک روٹی آٹھ آنے میں آتی ہے اور ایک انڈا چھ آنے میں ملتا ہے۔ پس جبتک مزدور ایک معقول رقم نہ لے اس کا کیسے گزارہ ہو سکتا ہے۔ اس بات کو مدنظر رکھ کر دیکھو۔ یہ ہمارے تیس ہزار جن کا پچاس ہزار بنتا ہے، اس سے جو عمارت بنے گی وہ وہاں کے لحاظ سے ایک نہایت چھوٹی سی مسجد ہو گی۔ اگر یہاں اس لاگت کی مسجد بنائی جائے تو موجودہ حالت میں یقیناً اسراف ہو گا مگر ولایت میں اسراف نہیں پس چونکہ وہاں مسجد بنے گی، اس لئے وہاں کے متعلق ہی اندازہ ہو گا۔ اس مسجد (مسجد اقصیٰ) کے برابر کی مسجد اگر یہاں بنائیں تو سات آٹھ ہزار روپیہ میں بن سکتی ہے لیکن اگر اتنی بڑی مسجد وہاں بنائیں تو ڈیڑھ دو لاکھ میں تیار ہو سکتی ہے۔ یہ مسجد جس کیلئے چندہ جمع کیا جا رہا ہے تین چار مرلے کی ہو گی اور چھوٹا سا صحن ہو گا۔ اس میں معمولی گزارہ کے لائق عمارت ہو گی اور نیز یہ مسجد لندن میں نہیں ہو گی بلکہ لندن سے کسی قدر فاصلہ پر ہو گی۔

مسجد نہ ہونے کے نقصان

علاوہ ازیں جب مسجد بن جائیگی تو وہ اپنا مکان ہو گا جس کو روز بدلنے کی ضرورت نہ پڑیگی اور مکان بدلنے کا وہاں بڑا اثر پڑتا ہے۔ تین برس چودھری صاحب وہاں رہے، ان کو ہمیشہ مکان بدلنے پڑتے تھے جس کا اثر ان کی تبلیغ پر بہت پڑا۔ مکان تبدیل کرنے کے متعلق یہ نہ خیال کرو جیسے یہاں نشیخنہ کے دفتر تک چلے گئے۔ بلکہ لندن ایک سو میل لمبا شہر ہے ایسا سمجھو جیسا یہاں سے گجرات۔ اب لندن میں مکان بدلنے کے یہ معنے ہیں کہ جیسے یہاں سے ایک مولوی گجرات چلا جائے۔ یا گجرات والوں کو کہا جائے کہ مت گھبراؤ مولوی تمہارے پاس ہیں۔ یعنی قادیان میں ہیں۔ جس طرح قادیان میں مولوی ہونے سے گجرات والوں کو تسلی نہیں، اسی طرح لندن کی حالت ہے۔ ایک جگہ اگر ایک شخص رہتا ہے تو وہاں لوگوں پر اثر پڑا ہے اور پھر وہ جگہ چھوڑ دینی پڑی تو دوسری جگہ جانے سے اس جگہ کے لوگوں پر سے تمام اثر زائل ہو گیا۔ پھر مکان اپنا نہ ہونے کے باعث متعصب لوگوں سے بہت نقصان پہنچتا ہے۔ مثلاً ایک جگہ چودھری صاحب رہتے تھے، جنگ شروع تھی، ایک نو مسلم شخص جس کا نام جرمن زبان میں تھا آیا۔ صاحب مکان نے کہا کہ یا تو اس کو نکالو یا میرا مکان خالی کر دو۔ چودھری صاحب نے کہا کہ میں کیسے ایک شخص کو روک سکتا ہوں جبکہ میں آیا ہی اس غرض سے ہوں کہ لوگوں کو بلاؤں اور تبلیغ کروں۔ غرض ایک تو مکان بدلنے سے وہ دلچسپی لوگوں میں پیدا نہیں ہو سکتی یا قائم نہیں رہ سکتی جو پیدا ہو گئی ہو۔ دوسرے متعصب آدمی چھوٹی چھوٹی باتوں پر مکان خالی کرانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور وہ لوگ سو سو میل کا چکر کاٹ کر جیسے یہاں سے گجرات یا گوجرانوالہ یا فیروز پور، نہ روز ملنے کے لئے مبلغ کے پاس آ سکتے ہیں نہ مبلغ ان کے پاس جا سکتا

ہے۔ غرض اس سے تبلیغ کے کام میں بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔ اسی سے قیاس کرلو کہ جب سے مکان چار پانچ سال کیلئے کرایہ پر لیا گیا ہے، ہمارے کام میں جلد جلد ترقی ہو رہی ہے۔ پہلے دو تین سال میں گیارہ شخص مسلمان ہوئے تھے اور اب سو سے بھی زیادہ ہیں۔ مگر ایک سال کے بعد مکان خالی کرنا پڑیگا اور نیا انتظام کیا جائیگا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یک لخت یہ ترقی رُک جائیگی، بعض کہیں گے کہ اب جو مبلغ گئے ہیں وہ ٹھیک نہیں لیکن یہ اس مکان کے ردّ و بدل کا نتیجہ ہوگا۔

اس کے علاوہ مسجد کے نہ ہونے کا ایک اور بھی اثر ہے کہ جن لوگوں کو تبلیغ کی جاتی ہے۔ ان میں سے بعض مسلمان ہونے کو تیار ہوتے ہیں۔ مگر جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کا مکان بھی نہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ کوئی جماعت نہیں۔ پھر وہ ضائع ہو جاتے ہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ جب وہ اپنے لوگوں سے علیحدہ ہوتے ہیں تو ان کو نئی سوسائٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر وہ ان کو سوسائٹی خیال نہیں کر سکتے۔ جبکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ چند دن کے مہمان ہیں۔ لیکن جب وہ مکان دیکھیں گے تو یقین کرینگے کہ یہ ایک سوسائٹی ہے۔

ہماری جماعت کا جوش

پس ان حالات کے ماتحت مسجد کا ہونا ضروری ہے۔ اس بات کو خوب یاد رکھو کہ وہ جگہ کفر و ضلالت کا قلعہ ہے جس طرح یونان کے قلعہ کے فتح کرنے کے لئے ترکوں نے جوش دکھایا۔ اس سے کہیں بڑھ کر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کے قلعہ کے قیام کے لئے تم جوش و خروش دکھاؤ۔ سو ہماری جماعت میں اس جوش کی خدا کے فضل سے کمی نہیں۔ قادیان کے وہ احباب جنہوں نے ابھی اس میں کوئی حصہ نہیں دیا وہ بھی دیں۔ یا جو اپنے چندے میں کچھ بڑھا سکتے ہیں بڑھا کر اس کسر کو پورا کر دینگے۔ میں خیال کرتا ہوں کہ اگر یہی جوش جو یہاں کے احباب میں ہے باہر اسی شان سے قائم رہا تو یہ رقم بہت جلد پوری ہو جائیگی۔ یہاں تو بچوں میں اتنا جوش ہے جس کی حد نہیں۔ ایک بچہ نے جو کسی امیر کا لڑکا نہیں بلکہ ہاتھ سے محنت کرنے والے مزدور کا لڑکا ہے، اس نے ساڑھے تیرہ روپے مجھے دیئے اور بتایا کہ میرے والد جو پیسے مجھے خرچ کے لئے دیتے رہے ہیں وہ میں جمع کرتا رہا ہوں جس کی مجموعی رقم یہ ہے جو میں مسجد کے لئے دیتا ہوں۔ خدا جانے اس کے دل میں کیا کیا جوش ہوں گے اور اس روپیہ سے کیا کیا کام لینے چاہتا ہو گا۔ لیکن اس نے اپنے اس مقصد پر جو تین چار سال سے اس کے ذہن میں تھا اور جس کے لئے وہ پیسہ پیسہ جمع کر رہا تھا چھری پھیر دی۔ یہ ایک اعلیٰ درجہ کے جوش اور ہمت کی بات ہے۔

پھر میں دیکھتا ہوں کہ بظاہر اپنی ہمت سے بڑھ کر لوگ حصہ لے رہے ہیں اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان میں کام کرنے والی روح موجود ہے۔ ان کے لئے دوہرا ثواب ہوگا۔ ایک تو یہ جتنا زیادہ دینگے اسی نسبت سے اللہ تعالیٰ ثواب دیگا، دوسرے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اَلدَّالُّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِہٖعه کہ لوگوں کو نیکی کی طرف دلالت کرنے والے کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا نیکی کرنے والے کو۔ جو لوگ اس جماعت کے چندہ کی مقدار کو سن کر زیادہ چندہ دینگے اس کے زیادہ چندہ دینے کے عوض میں اللہ تعالیٰ قادیان والوں کو بھی ثواب دیگا کیونکہ انہوں نے اس کام میں ابتداء بھی کی ہے اور جو دے رہے ہیں میں جانتا ہوں کہ بہت حد تک اپنے نفسوں کو قربان کر کے دے رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری جماعت کے اخلاص کا خدا کے فضل سے مقام بہت بلند ہے۔ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے اس کے اخلاص اور حوصلہ میں وسعت دی اگر اس جماعت کے سوا دوسرے لوگوں کے اُمراء کا بھی مجمع ہوتا تو مشکل سے ایسے کام کے لئے اسقدر چندہ جمع ہوتا۔ مگر یہاں تو نہ صرف مردوں نے ہمت دکھلائی بلکہ عورتوں نے بھی ہمت دکھلائی۔ آج صبح وہ جمع ہوئیں۔ ان کا چندہ بھی دو ہزار سے اوپر جمع ہو گیا ہے۔ بہت نے اپنے زیور اُتار اُتار کر دیدئیے۔

جب میں مضمون لکھنے لگا اور اس میں تیس ہزار چندہ لکھا گیا تو میں نے چاہا کہ اپنی جماعت کے اُمراء کو توجہ دلاؤں۔ چنانچہ میں نے اس میں لکھا کہ غیر احمدی اُمراء مساجد کی تعمیر پر بڑی بڑی رقوم خرچ کر دیتے ہیں۔ کیا آپ اتنا چندہ نہ کرینگے، بلکہ آپ ان سے بڑھ کر چندہ دینگے، مگر ایک خدائی تصرّف نے مجھ سے یہ فقرہ بھی لکھوا دیا کہ میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ کے غرباء احمدی بھائی آپ کو اس امر میں بھی شکست دینے کی کوشش کرینگے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا ہی کو یہ منظور ہے کہ اس تحریک میں زیادہ غرباء حصہ لیں اور قادیان کے غرباء نے جو نمونہ دکھلایا وہ بہت اعلیٰ ہے کیونکہ یہاں غرباء نسبتاً زیادہ ہیں ان کی آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہیں۔ پھر بھی باوجود اس کے انہوں نے چندے زیادہ دیئے ہیں۔ ان کی عورتوں اور ان کے بچوں نے زور سے چندہ دیا ہے۔ میں نے جب یہ نظارہ دیکھا کہ عورتیں اپنے زیور اُتار اُتار کر دے رہی ہیں اور بچے پیسہ دو پیسہ یا اس سے بڑی رقم لے لے کر دوڑے چلے آرہے ہیں اور اسی طرح مردوں کا حال ہے۔

ایک عجیب نظارہ

تو اس بات کا خیال کرتے ہوئے ایک خاص بات میرے دل میں آئی اور معاً ایک نظارہ میری آنکھوں کے سامنے آگیا اور آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آئے۔ خدا کے فضل سے مجھے اس قسم کی طبیعت ملی ہے کہ میں اپنے جذبات کو روک سکتا ہوں۔ مگر اس بات کو دیکھ کر میں بے بس ہو گیا۔ اسی خوشی کے موقع پر مجھے حضرت عائشہؓ کا ایک واقعہ یاد آگیا۔ لکھا ہے کہ ایک دفعہ میدے کی روٹی حضرت عائشہؓ کے سامنے آئی تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ جب پوچھا گیا کہ آپ کیوں روتی ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جَو کی روٹی کھاتے تھے اور چکیاں اور چھلنیاں اس وقت نہ تھیں جَو کی روٹی بے چھنے آٹے کی ہم پکا کر آپ کے سامنے رکھ دیتے اور آپ کھا لیتے۔؎اب اس میدہ کی روٹی کو دیکھ کر اور اس حالت کو یاد کر کے یہ میرے گلے میں پھنستی ہے۔ مجھے بھی یہ نظارہ دیکھ کر ایک بڑا نظارہ یاد آگیا۔ وہ وقت جب منارہ کے بنانے کا سوال درپیش تھا۔ اس پر میری نظر آج سے بیس سال پیچھے جاپڑی۔ چھوٹی مسجد جس میں اس وقت چند آدمی بیٹھ سکتے تھے۔ وہاں حضرت صاحب بیٹھے تھے۔ منارہ کے بنانے کی تجویز درپیش تھی اور دس ہزار کا حضرت صاحب نے تخمینہ لگایا تھا تا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیشگوئی کی تھی وہ اپنے ظاہری لفظوں کے لحاظ سے بھی پوری کر دی جائے۔ اب سوال یہ تھا کہ دس ہزار روپیہ کہاں سے آئے کیونکہ اس وقت جماعت کی حالت زیادہ کمزور تھی۔ اس کے لئے دس ہزار کو سو سو روپیہ کے حصوں پر تقسیم کیا گیا اور اس فہرست کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے ایسے لوگوں پر بھی سو روپیہ لگایا گیا جن کی حیثیت سو روپیہ ادا کرنے کی نہ تھی اور اس وقت گویا دس ہزار روپیہ کا جمع کرنا ایک امر محال تھا۔ اس وقت بعض لوگوں نے اپنی حالت اور حیثیت سے بڑھ کر چندہ دیا۔ چنانچہ منشی شادی خان صاحب پر بھی سو روپیہ غالباً لگا تھا۔ انھوں نے اپنا تمام گھر کا سامان بیچ کر نین سو روپیہ پیش کر دیا اس پر حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا کہ شادی خان صاحب سیالکوٹی نے بھی وہی نمونہ دکھایا ہے جو حضرت ابوبکرؓ نے دکھایا تھا کہ سوائے خدا کے اپنے گھر میں کچھ نہیں چھوڑا ۔ جب میاں شادی خان نے یہ سُنا تو گھر میں جو چارپائیاں موجود تھیں ان کو بھی فروخت کر ڈالا اور انکی رقم بھی حضرت صاحب کے حضور پیش کر دی۔ مگر باوجود اتنی کوششوں کے یہ روپیہ پورا نہ ہوا۔ مجھے یاد ہے کہ اس کام کے لئے سیالکوٹ سے حضرت صاحب نے میر حسام الدین صاحب کو جو میر حامد شاہ صاحب کے والد تھے بلایا۔ کیونکہ ان کو عمارت کا مذاق تھا۔ جو بھٹہ تیار کیا گیا، اس پر اتنا خرچ آگیا کہ خیال تھا کہ جمع شدہ روپیہ سے صرف بنیادوں سے اُوپر تک شاید عمارت بلند ہو سکے۔ اب خیال ہوا کہ کیا کیا جائے۔ حضرت صاحب فرماتے تھے اسی روپیہ میں کام کرو۔ میر صاحب بلند آواز کے آدمی تھے اور حضرت صاحب کے بچپن کے دوست تھے، بعض اوقات حضرت صاحب سے لڑ بھی پڑتے تھے انہوں نے کہا کہ حضرت! آپ مجھ سے وہ کام کرانا چاہتے ہیں جو ممکن نہیں، اس روپیہ میں کچھ نہیں ہوسکتا حضرت صاحب نے فرمایا اچھا میر صاحب آپ بتلائیں کہ آپ کے اندازہ میں کتنا روپیہ درکار ہوگا انہوں نے کہا کہ پچیس ہزار۔ اس پر حضرت صاحب نے فرمایا میر صاحب آپ کے اتنے بڑے اندازہ کے تو یہ معنے ہوئے کہ کام کو روک دیا جائے، اس وقت بہت سے لوگ ہونگے جو خیال کرتے ہونگے کہ اگر ہم ہوتے تو پچیس ہزار کیا بات تھی، فوراً مہیا کر دیا جاتا۔ مگر جب تو یہ حالت تھی کہ پچیس ہزار کا نام سُن کر کہہ دیا جاتا تھا کہ کام کو روک دینا چاہئے۔ یا اب تیس ہزار کہا جاتا ہے اور ایک مہینہ کے اندر جمع کرانے کا خیال ہے اور جس طرح قادیان میں چندہ ہوا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مہینہ کے اندر اندر یہ روپیہ جمع ہو جائیگا اور اُمید ہے کہ اس رقم کو گورداسپور، امرتسر، لاہور کے تینوں اضلاع ہی پورا کر دینگے اور باقی اضلاع کے لوگ یہی کہیں گے کہ ایک تحریک ہوئی تھی جو لاہور میں پہنچ کر ختم ہوگئی۔

حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا نشان

یہ اصل میں لوگوں کے لئے ایک نشان ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے کیا نشان دکھایا۔ کیا یہ نشان نہیں کہ ایک غرباء کی جماعت دین کے لئے اس طرح قربانیاں کرتی ہے۔ عیسائی مؤرخ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں سامان فتح مہیا تھے ۔ روم کی سلطنت مٹ رہی تھی۔ ایران کمزور تھا، مسلمان جوش سے اُٹھے انہیں فتح حاصل ہوگئی۔ اسی طرح لوگ اب تو ہم پر ہنستے ہیں، مگر جب دو تین سو سال کے بعد احمدیت پھیل جائیگی تو لوگ کہدینگے کہ پہلے مذاہب بے جان ہو گئے تھے۔ احمدیت میں جان تھی۔ احمدی جوش سے اُٹھے اور انہوں نے غلبہ پالیا۔ آج ہنسی کے طور پر پوچھا جاتا ہے کیوں جی ! کتنی حکومتیں احمدی مسلمان ہو گئیں لیکن جب حکومتوں کو خدا تعالیٰ مسلمان کر دیگا تو کہیں گے کہ تم لوگ جوش سے اُٹھے اور دُنیا کو شکار کر لیا۔

جیسی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ابتدائی حالت تھی ویسی ہی بعینہ ہماری آج سے بیس سال قبل تھی اور اب بھی قریباً ویسی ہی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس زمانہ کی نسبت فرانس کا ایک مؤرخ لکھتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک بات عجیب تھی۔ لوگ کہتے ہیں وہ جھوٹا تھا مگر

میں کہتا ہوں کہ وہ کیسے جھوٹا ہو سکتا ہے۔ اس کو جھوٹا نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کو غلطی لگی تھی۔ وہ لکھتا ہے کہ میں اس نظارہ کو دل میں لا کر حیران ہو جاتا ہوں کہ آج سے تیرہ سو۱۳۰۰ سال پہلے ایک چھوٹی سی مسجد میں جس پر کھجور کی ٹہنیوں کی چھت پڑی تھی جو بارش کے وقت ٹپکنے لگ جاتی تھی اور نمازیوں کو کیچڑ میں نماز ادا کرنی پڑتی تھی اس میں بیٹھ کر کچھ لوگ جن کو تن ڈھانکنے کے لئے کپڑا بھی میسر نہیں تھا یہ باتیں کرتے تھے کہ ہم دُنیا پر غالب آجاویں گے اور جو دین ہم پھیلانا چاہتے ہیں اس کو پھیلا دینگے اور پھر باوجود اس بے بضاعتی کے وہ اپنی بات کو پورا کر کے دکھا دیتے ہیں۔ یہ ایک معمولی بات نہیں بلکہ غیر معمولی ہے۔ اس بات کو سوچنا چاہئے۔

یہی حال ہمارا ہے۔ ایک طرف غور کرو یورپ میں پیس (PEACE) کانفرنس بیٹھی ہے اس میں مسٹر لائد جارج وزیر اعظم انگلستان اور دوسری بڑی سلطنتوں کے وزراء اور نمائندے تجویز کرتے ہیں کہ دنیا میں امن کس طرح قائم ہو سکتا ہے ایک ہماری یہ جماعت ہے جو ٹھرک کے مقامات میں اسلام کا جھنڈا گاڑنے اور دیگر مذاہب کے پیروؤں کے دلوں کو دلائل سے فتح کرنے اور اس طرح امن قائم کرنے کے لئے مشورہ کرنے کے لئے بیٹھی ہے۔ وہاں اگر وزراء سلطنت ہیں تو یہاں غرباء ہیں جن میں سے بہت کی وہی حالت ہے جو اس وقت صحابہؓ کی حالت تھی۔ پس یہ لوگ جو یہاں نظر آتے ہیں، ان کا خیال ہے نہ صرف خیال بلکہ یقین اور ایمان ہے کہ ایک ایک اینٹ جو ان کی طرف سے لندن میں مسجد کی رکھی جائیگی وہ گویا ترقی اسلام کی بنیاد کی اینٹ ہوگی۔ اس وقت دنیاوی طور پر خواہ کیسے ہی وسیع دماغ کا آدمی ہو وہ اس بات کو سمجھ نہیں سکتا کہ یہ لوگ بھی کچھ کر سکتے ہیں اور یہ سچ ہے کہ یہ لوگ کچھ نہیں کر سکتے۔ مگر خدا ان سے بہت کچھ کرا سکتا ہے۔

اُمید ہے کہ اب چندوں کی مقدار آمد بہت بڑھ جائیگی۔ اس لئے اندیشہ ہے کہ جلد وہ وقت نہ آجائے جسکے متعلق رسول کریمؐ نے فرمایا کہ احد کے برابر سونا ابتداء کے ایک درہم کے برابر ہوگا لیکن ابھی وقت ہے خوب ثواب کمایا جا سکتا ہے خصوصاً قادیان والوں کیلئے۔ اس لئے میں نے آپ لوگوں کو جمع کیا ہے اور وہ تمام ضروریات بتادی ہیں جو وہاں مسجد بنانے کی داعی ہیں۔ میں تحریک کرتا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے چندہ کی مقدار کو جو انہوں نے پہلے لکھایا ہو بڑھا سکتے ہیں بڑھا دیں جنہوں نے نہیں لکھوایا وہ لکھوا دیں تاکہ کل وہ اشتہار جو باہر کیلئے شائع ہونیوالا ہے اس میں لکھ دیا جائے کہ قادیان کی جماعت نے مطلوبہ تیس ہزار میں سے کسقدر روپیہ فراہم کر دیا ہے۔

صداقتِ احمدیّت

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

صداقتِ احمدیت

(تقریر حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی فرمودہ ۱۹؍ فروری ۱۹۲۰ء بمقام لاہور)

احترام انبیاء علیہم السلام

دُنیا میں بہت سے انبیاء گزرے ہیں اور اس وجہ سے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیارے اور بزرگ تھے اور اس کی طرف سے بھیجے ہوتے تھے ، ہمارے سردار ہیں۔ ہم ان کا ادب اور احترام کرتے ہیں اور ان سے محبت رکھتے ہیں اور جب خدا تعالیٰ توفیق دے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ ان کو بھی درودوں میں شامل کر لیتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے مالک اور خالق کے پیارے ہیں تو ہمارے بھی پیارے ہیں۔ ان کو ہمارے مالک اور خالق خدا نے عزت دی ہے اور جن کو اس نے عزت دی ہے ان کی عزت کرنا ہمارا فرض ہے۔ پس ہم تمام انبیاء علیہم السلام کا احترام کرتے ہیں۔ خواہ ان کا نام ہمیں قرآنِ کریم کے ذریعہ معلوم ہوا یا قرآن نے ان کا نام نہیں لیا۔ قرآن کے اس مقرر کردہ اُصول کے ماتحت کہ وَاِنۡ مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ(فاطر: ۲۵) کوئی اُمت ایسی نہیں گذری جس میں نذیر نہ آیا ہو۔ ہم سب کی عزت کرتے ہیں ، اور جہاں جہاں کوئی نبی آیا ہے اس کا احترام کرتے ہیں۔

فضیلت رسولؐ اللہ بر جملہ انبیاءؑ

لیکن با وجود اس اقرار کے ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان سب نبیوں اور سب انسانوں کے جو آج تک پیدا ہوئے یا آئندہ پیدا ہوں گے سردار اور ان سے افضل اور اعلیٰ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ جب سے دُنیا کا آغاز ہوا ہے اس وقت سے لے کر کسی ماں نے کوئی ایسا بچہ نہیں جنا جو محمدؐ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کھڑا ہو سکے اور کسی ذاکر نے خدا تعالیٰ کا اتنا ذکر اپنی زبان پر جاری نہیں کیا کہ اس مقام پر قدم رکھ سکے جہاں محمدؐ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم تھا۔ خواہ کوئی نبی ہو یا غیر نبی ، رسول ہو یا غیر رسول کوئی ہو کسی ملک کا رہنے والا ہو، کسی تمدن کی اتباع کرنے والا ہو، کوئی زبان بولنے والا ہو، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں ہرگز نہیں کھڑا ہو سکتا۔

صداقتِ عظمتِ رسول اکرمؐ

یہ صرف دعویٰ نہیں بلکہ ایک صداقت اور حقیقت ہے جس کے دلائل موجود ہیں۔ خالی دعویٰ تو ہر شخص پیش کر سکتا ہے۔ ایک ہندو بھی کہہ سکتا ہے کہ تمہارا کیا حق ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل ہے۔ ہمارے اوتار سب سے اعلیٰ ہیں۔ ہم احمدیت کے رو سے یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ ہندوؤں میں بھی اوتار گزرے ہیں مگر یہ نہیں مان سکتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اوتار افضل گزرا ہے۔ مگر ایک ہندو کا حق ہے کہ وہ دعویٰ کرے کہ ہمارا فلاں اوتار سب انسانوں سے افضل ہے۔ اسی طرح ایک عیسائی بھی کہتا ہے کہ یسوع مسیح محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے افضل ہے۔ یہودی بھی کہتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ سب سے افضل ہیں۔ اسی طرح دیگر مذاہب کے لوگ بھی اپنے اپنے بزرگوں کو سب سے افضل بتاتے ہیں۔ لیکن ان کے اور ہمارے دعویٰ میں بہت بڑا فرق ہے اور وہ یہ کہ ہمارے دعویٰ کے ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں۔ مگر ان کے پاس اپنے دعویٰ کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا نبی یا ہمارا اوتار یا ہمارا خداوند مسیح سب سے افضل ہے مگر اس کا کوئی ثبوت نہیں پیش کر سکتے اور ہم جو کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل ہیں تو اس کا ثبوت بھی پیش کرتے ہیں جو روزِ روشن کی طرح ظاہر ہے۔ ہاں اگر ہمارے پاس بھی دوسرے مذاہب کے لوگوں کی طرح ثبوت اور دلائل نہ ہوتے تو ہمارا بھی حق نہ تھا کہ یہ دعویٰ کرتے مگر خدا کے فضل سے ہمارے پاس ثبوت اور اور دلائل موجود ہیں جو ہم پیش کرتے ہیں لیکن دوسرے لوگ محض ضد اور تعصب سے ایسا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو اپنی ہی چیز کو اچھا کہے اور دوسروں کے پاس خواہ اس سے اچھی چیز موجود ہو اسے بُرا قرار دے۔

کرشمۂ اُلفت و محبّت

کہتے ہیں ایک بادشاہ تھا ایک دن جبکہ اس کا دربار لگا ہوا تھا اس نے اپنے ایک غلام کو ٹوپی دی اور کہا جو لڑکا سب سے خوبصورت ہو اس کے سر پر رکھ دو۔ وہ ٹوپی لے کر گیا اور اپنے میلے کچیلے لڑکے کے سر پر رکھ آیا جس کے ہونٹ بہت موٹے تھے ناک بہہ رہی تھی اور آنکھیں چندھائی ہوئی تھیں۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا یہ تم نے کیا کیا۔ اس نے کہا بادشاہ سلامت مجھے یہی لڑکا سب سے زیادہ خوبصورت نظر آتا ہے اس لئے اسی کے سر پر ٹوپی رکھ آیا ہوں۔ تو یہ عام قاعدہ ہے کہ اپنی ہی چیز کو اعلیٰ اور سب سے افضل قرار دیا

جاتا ہے۔ کہتے ہیں کسی نے مجنوں کو کہا تھا کہ لیلیٰ کوئی خوبصورت عورت نہیں ہے اس سے اعلیٰ درجہ کی اور کئی عورتیں ہیں تم اس پر کیوں مر رہے ہو۔ مجنوں نے کہا تمہاری نظر میں وہ خوبصورت نہ ہوگی اس کو میری آنکھوں سے دیکھو تو معلوم ہو۔ تو جس سے انسان کو محبت ہوتی ہے اس کا درجہ سب سے بڑھاتا ہے اور اس کو سب سے اعلیٰ قرار دیتا ہے۔ اسی طرح دوسرے مذاہب والے اپنے اپنے بزرگوں کو جو سب سے اعلیٰ اور افضل بتاتے ہیں تو محض محبت اور تعلق کی وجہ سے بتاتے ہیں۔ مگر ان کے افضل اور اعلیٰ ہونے کا جب ان سے ثبوت طلب کیا جائے تو کچھ پیش نہیں کر سکتے ثبوت صرف ہمارے پاس ہے جو ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے اعلیٰ اور افضل ہونے کے متعلق پیش کر سکتے ہیں۔ ہمارے پاس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے افضل ہونے کے ثبوت اور دلائل تو اتنے ہیں کہ اگر ان کو ہم پیش کرنا شروع کریں تو سالہا سال کا عرصہ درکار ہے ۔ قرآن کریم سارے کا سارا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت کے ثبوتوں سے بھرا ہوا ہے۔ زمین و آسمان آپ کی افضلیت کی شہادت دے رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جو ہر ایک چیز کا خالق ہے اور اس کی تمام مخلوق شہادت پیش کر رہی ہے مگر چونکہ اس قدر وسیع باتوں کا سمجھنا اور اس وقت ان کا پیش کرنا آسان نہیں ہے اس لئے میں ایک ہی دلیل کو لیتا ہوں جو بہت بڑی ہے اور جس کا سمجھنا ہر ایک انسان کے لئے نہایت آسان ہے۔

سچائی پرکھنے کا معیار

وہ دلیل جو حضرت مسیحؑ کے قول میں بیان کی گئی ہے۔ حضرت مسیحؑ انجیل میں فرماتے ہیں کہ درخت اپنے پھل ہی سے پہچانا جاتا ہے ہے جب کسی درخت کو پھل لگتے ہیں تو ان کے ذریعہ اس کی خوبی اور برتری معلوم ہو سکتی ہے۔ یہ ایک بالکل سچا واقعہ اور نیچر کا مقرر کردہ قاعدہ ہے جس کو حضرت مسیحؑ نے بیان کیا ہے مثلاً آم کے درخت کو کیکر کے درخت پر کیا فضیلت ہے۔ یہی کہ آم شیریں پھل دیتا ہے لیکن کیکر نہیں دیتا۔ پھر آم کے درختوں کی ایک دوسرے سے کیونکر قیمت بڑھتی ہے۔ اسی طرح کہ کوئی درخت کم پھل دیتا ہے اور کوئی زیادہ۔ کسی کے پھل شیریں ہوتے ہیں اور کسی کے کھٹے۔ تو پھلوں کی وجہ سے ہی ایک درخت کو دوسرے درخت پر فضیلت ہوتی ہے اور اسی وجہ سے ایک کی قیمت دوسرے کی قیمت سے بڑھتی ہے۔ یہی حال اور دوسرے درختوں کا ہوتا ہے کہ جس غرض اور جس کام کے لئے وہ ہوتے ہیں اس کو جو اعلیٰ طور پر پورا کرتا ہے اس کو دوسروں پر فضیلت دی جاتی ہے اور جو اس غرض کو پورا نہیں کرتے ان کی کچھ فضیلت نہیں رہتی۔ دیکھو آم کا درخت پھل دینے چھوڑ دیتا ہے تو اس کے مقابلہ میں ایک ایسے درخت کی قیمت بڑھ جاتی ہے جو کوئی پھل نہیں دیتا کیونکہ اس کی لکڑی آم کی لکڑی کی نسبت مضبوط اور اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے تو آم انار اور اور درختوں کی قیمت ان کے پھلوں کی شیرینی پر لگتی ہے۔

مقابلہ آنحضرتؐ بر دیگر انبیاءؑ

اسی اصل کے ماتحت ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء کی تعلیم کا مقابلہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ آیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فضیلت حاصل ہے یا نہیں۔ کہ آپؐ کی تعلیم پھل اور نتائج کے لحاظ سے دوسروں سے اعلیٰ ہے۔ اگر آپؐ کی تعلیم کے پھل دوسرے انبیاء کی تعلیموں سے زیادہ اور اعلیٰ درجہ کے ہوں تو پھر آپؐ کے اعلیٰ اور افضل ہونے میں بھی شک و شبہ نہیں رہ جاتا ، لیکن اگر آپؐ کی تعلیم کے پھل اور ثمرات اور فوائد پہلے نبیوں کی تعلیموں سے کم ہوں تو آپؐ بھی ان نبیوں سے کم درجہ کے ہونگے۔

اس اصل کے ماتحت ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو دیکھتے ہیں۔ اور موٹی موٹی چند ایک مثالیں لیتے ہیں کہ آدمی کو درختوں کی طرح میوے نہیں لگا کرتے۔ بلکہ اس کے پھلوں سے یہ مراد ہوتی ہے کہ جو تعلیم وہ دیتا ہے اس کا اثر اور نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ اور اس کی تعلیم سے کیسے لوگ تیار ہوتے ہیں۔ اس بات کا موازنہ کرنے کے لئے ہم تین نبیوں کو لیتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اَنَا سَيِّدُ وَلَدِ اٰدَمَ(ابن ماجہ کتاب الزهد باب ذکر الشفاعة) کہ میں آدم کے تمام بیٹوں کا سردار ہوں۔ اس دعویٰ کی صداقت ثابت کرنے کے لئے ہم حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ خدا تعالیٰ کے نبی تھے جیسا کہ خود خدا تعالیٰ نے بتایا ہے اس لئے ان کے خدا تعالیٰ کے برگزیدہ اور پیارے ہونے سے کس طرح انکار کیا جا سکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ کا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کیا درجہ ہے۔ اس کے لئے ہم ان کے پھلوں کو دیکھتے ہیں اور معلوم کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰؑ کی تعلیم کو کیسے پھل لگے اور حضرت عیسیٰ کی تعلیم کو کیسے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو کیسے ۔ یہ سب انبیاء چونکہ دُنیا کی اصلاح کے لئے آتے تھے اس لئے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ کس نبی نے اپنی تعلیم کے ذریعے ایسی جماعت تیار کی جو تقویٰ اور طہارت میں سب سے بڑھ گئی اور کوئی جماعت اس کا مقابلہ نہ کر سکی۔ جس نبی کی تیار کردہ جماعت ایسی ثابت ہو جائے گی وہ سب سے بڑھ جائے گا۔ خواہ وہ عیسیٰؑ ہو۔ خواہ موسیٰؑ لیکن اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تیار کردہ جماعت قربانی اور ایثار، تقویٰ و طہارت، نیکی اور بھلائی میں سب سے بڑھ کر ثابت ہو تو خواہ دُنیا کچھ کہے اور کسی کو افضل ٹھہرائے دلائل اور ثبوت ہی پکار پکار کر کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی سب سے افضل ہیں اور کوئی نہیں جو ان کی شان کو پہنچ سکے۔

اثراتِ تعلیم رسولؐ و تعلیم انبیاءؑ

اب ہم ان انبیاء علیہم السلام کی تعلیموں کے نتائج کا موٹاسا مقابلہ کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰؑ آتے اور انہوں نے بنی اسرائیل کو تبلیغ کی۔ کسی قوم اور جماعت کی فرمانبرداری اور اطاعت کا پتہ مشکلات اور مصائب کے وقت ہی لگا کرتا ہے۔ قصّہ مشہور ہے کہ ایک پوربیا مر گیا اور اس کی بیوی نے ماتم شروع کیا کہ ہائے فلاں سے اس نے اتنا روپیہ لینا تھا وہ کون لے گا ایک دوسرا پوربیا بولا ۔ ”اری ہم“۔ پھر اس نے کہا فلاں جائیداد کا کون انتظام کرے گا اسی نے کہا ”اری ہم“۔ اسی طرح کہتے کہتے جب اس نے یہ کہا کہ اس نے فلاں کا اتنا روپیہ دینا تھا وہ کون دے گا؟ تو کہنے لگا میں ہی بولتا جاؤں کوئی اور بھی بولے گا یا نہیں۔ تو ایسے تو بہت لوگ ہوتے ہیں جو لینے اور فائدہ اُٹھانے کے وقت آگے بڑھتے ہیں لیکن مشکل کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ اس لئے اصل قربانی اور محبت کا پتہ مشکلات کے وقت ہی لگتا ہے۔

ایک واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام

حضرت موسیٰ کی جماعت کا واقعہ قرآن میں آتا ہے اور بائیبل میں بھی مذکور ہے۔ اس لئے جب کہ نہ مسلمان اس کا انکار کرتے ہیں اور نہ عیسائی تو پھر اور کسی کو اس کا انکار کرنے کا کیا حق ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کو ایک ایسی قوم سے مقابلہ آپڑا جو بڑی زبردست اور طاقتور تھی تو حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیاری کا حکم دیا۔ مگر ان کی قوم نے یہ دیکھ کر کہ ہمارا دشمن بڑا طاقتور ہے کہا کہ اس سے ہم کس طرح مقابلہ کر سکتے ہیں۔ حضرت موسیٰ نے کہا تم خدا کا نام لے کر چلو تو سہی خدا ہمیں مدد دے گا۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا۔ اے موسیٰ! ہم تو اس دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہرگز نہ جائیں گے۔ تیرا خدا اور تُو جا اور جا کر لڑو۔ بائیبل سے ثابت ہے کہ حضرت موسیٰ کی جماعت کا ایک بہت قلیل حصہ مقابلہ کے لئے تیار ہوا اور باقی ساری کی ساری قوم پیچھے رہ گئی۔ (استثناء باب ۱ آیت ۲۶ تا ۳۳ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء) اس سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ کی جماعت کے اکثر حصہ کی حالت یہ ہوئی کہ اس نے ان کو کہہ دیا کہ تُو اور تیرا خدا جا کر لڑو ہم نہیں جائیں گے۔

ایک واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام

ان کے بعد ہم حضرت عیسیٰؑ کی طرف آتے ہیں۔ وہ دُنیا میں آتے اور انہوں نے لوگوں کی اصلاح کی جیسا کہ قرآنِ کریم سے ثابت ہے، مگر اِس وقت ہمیں مقابلہ کر کے یہ دیکھنا ہے کہ ان کا کام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کیسا تھا۔ ان کی جماعت میں بھی یہی نظر آتا ہے کہ جب دشمن نے حضرت عیسیٰؑ کو پکڑنا چاہا تو اس وقت ان کے بڑے حواری سے جس کو انہوں نے اپنی جماعت کا امام بنایا ہوا تھا جب پوچھا گیا کہ تو عیسیٰؑ کو جانتا ہے۔ تو اس نے یہ دیکھ کر کہ میں بھی پکڑا جاؤں گا کہا کہ میں تو اس پر لعنت کرتا ہوں (متی باب ۲۶ آیت ۷۴ برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی انارکلی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء) تو بجائے اس کے کہ وہ اس وقت یہ کہتا کہ ہاں میں اسے جانتا ہوں جو اس کا حال ہوگا وہی میرا ہوگا وہ کہتا ہے کہ میں اسے جانتا ہی نہیں اور پھر اس پر بس نہیں کرتا بلکہ لعنت کرتا ہے۔

ایک واقعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم

ان واقعات کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تیار کردہ جماعت کو دیکھتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وطن مکہ کو چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کرتے ہیں اور مدینہ آکر مدینہ والوں کے ساتھ یہ معاہدہ ہوتا ہے کہ اگر دشمن مدینہ پر حملہ کرے گا تو مدینہ والے اس کے مقابلہ میں لڑیں گے اور اگر باہر جا کر لڑنا پڑا تو ان پر لڑنا فرض نہ ہوگا لیکن جب اُحد کی لڑائی کا وقت آیا اور دشمن نے مدینہ پر حملہ کرنا چاہا تو صحابہؓ میں مشورہ ہوا اور یہ قرار پایا کہ مدینہ سے باہر نکل کر لڑیں تاکہ لڑائی کے لیے کھلا میدان مل جائے۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ دشمن کی تعداد اتنی کثیر تھی کہ مسلمان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔ دشمن کے پاس تین ہزار تجربہ کار سپاہی تھے اور مسلمانوں کے صرف ایک ہزار آدمی تھے جن میں سے اکثر لڑائی سے ناواقف تھے۔ کیونکہ مدینہ کے لوگ لڑائی کرنا نہ جانتے تھے۔ وہ زمینداری اور زراعت میں مصروف رہتے تھے اور جس طرح ہمارے ملک میں رواج ہے کہ غلطی سے پیشوں کی وجہ سے لوگوں کو حقیر سمجھا جاتا ہے اسی طرح ان کو حقیر سمجھا جاتا تھا اور ان کے متعلق کہا جاتا تھا کہ یہ کیا لڑیں گے۔ یہ لوگ بھی اس ایک ہزار کی تعداد میں شامل تھے پھر اس میں تین سو لوگ ایسے تھے جو منافق تھے اور جن کو سب مسلمان جانتے تھے کہ ہمیں گالیاں دیتے اور بُرا بھلا کہتے ہیں۔ اس لئے مسلمان سمجھتے تھے کہ ہماری تعداد دشمن کے مقابلہ میں بہت تھوڑی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ مشورہ دو باہر جا کر دشمن کا مقابلہ کریں یا اندر سے ہی۔ آخر فیصلہ ہوا کہ باہر جا کر مقابلہ کرنا چاہتے آپ نے بدر کے موقع پر بھی فرمایا تھا کہ ہاں مشورہ دو۔ جس سے آپ کا مطلب یہ تھا کہ انصار بولیں کہ ان کا کیا ارادہ ہے کیونکہ ان سے معاہدہ تھا کہ اگر باہر جا کر دشمن کا مقابلہ کرنا پڑا تو وہ نہ جائیں گے۔ اس پر ایک انصاری اُٹھا اور اس نے کہا۔ یا رسول اللہ ! کیا آپ کا یہ مطلب ہے کہ ہم بولیں ہم نے جب آپ کو خُدا کا رسول مان لیا تو اب کیا ہے اگر آپ ہمیں کہیں گے کہ سمندر میں گھوڑے ڈال دو تو ہم ڈال دیں گئےہم موسیٰ کی جماعت کی طرح نہ کہیں گے کہ جا تُو اور تیرا خدا جا کر لڑو۔ بلکہ جب تک دشمن ہماری لاشوں کو روند کر آپ تک نہیں آئے گا ہم اسے نہیں آنے دیں گے۔ (سیرت ابن ہشام عربی جلد ۲ صفحہ ۲۶۶ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء)

مابہ الامتیاز کی بین شہادت

یہ تھا پھل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا اور درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اب دیکھ لو کس کے پھل اعلیٰ ہیں۔ آیا موسیٰ کے جنہوں نے کہہ دیا تھا کہ تُو اور تیرا خُدا جا کر لڑو ہم نہیں جائیں گے۔ یا عیسیٰ کے جس کے خاص حواری نے ان پر لعنت کی تھی۔ یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جنہوں نے باوجود باہر جا کر نہ لڑنے کا معاہدہ کیا ہوا تھا یہ کہا کہ اگر دشمن آپ تک پہنچے گا تو ہماری لاشوں کو روند کر ہی پہنچے گا۔ جیتے جی ہم اسے آپ تک نہ آنے دیں گے۔ کوئی کہہ سکتا ہے جوش میں آکر لوگ اس طرح کہہ ہی دیا کرتے ہیں لیکن جب مصیبت آپڑتی ہے تب یہ جوش قائم نہیں رہتا۔ مگر انہوں نے یہ زبان سے ہی نہ کہا بلکہ لڑائی میں بھی گئے اور خدا تعالیٰ نے ان کے دعوے کو سچا کرنے کے لئے ایسے اسباب پیدا کر دیئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کے نرغے میں گھر گئے اور ایسے خطرناک طور پر گھر گئے کہ عام خبر مشہور ہوگئی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔ اس وقت ان لوگوں کی کیا حالت ہوتی اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک انصاری حضرت عمرؓ سے جنہوں نے سر نیچے ڈالا ہوا تھا آکر پوچھتے ہیں کیا ہوا؟ وہ کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے۔ یہ سن کر وہ انصاری کہتے ہیں اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس دُنیا سے چلے گئے ہیں تو ہمارے یہاں رہنے کا کیا فائدہ۔ چلو ہم بھی چلیں اور لڑ کر مر جائیں۔ یہ کہہ کر وہ گئے اور لڑ کر مارے گئے اور اس سختی سے لڑے کہ جب ان کی لاش کو دیکھا گیا تو اس پر ستر زخم لگے ہوتے تھے پھر اور اخلاص کا نمونہ دیکھئے۔ جب دشمن تیر پر تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مار رہا تھا۔ تو چند صحابہؓ آپ کے اردگرد کھڑے ہو گئے جن کی پیٹھیں تیروں سے چھلنی ہو گئیں۔ کسی نے ایک صحابیؓ سے پوچھا جب تم پر تیر پڑتا تھا تو کیا تم اُف بھی نہ کرتے تھے۔ انہوں نے کہا میں اُف اس لئے نہ کرتا تھا کہ کہیں میرا جسم نہ ہل جائے اور تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جا پڑے۔

اخلاص مستوراتِ مومنینؓ

یہ تو لڑنے والوں کا حال تھا جن کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ مرد بہادر ہوا ہی کرتے ہیں۔ مگر یہ اخلاص مردوں تک ہی محدود نہ تھا بلکہ عورتوں میں بھی ایسا ہی پایا جاتا تھا۔ یہی لڑائی جس میں مشہور ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے جب ختم ہوئی اور لوگ مدینہ کو واپس لوٹے تو ادھر مدینہ کے بچے اور عورتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سن کر دیوانہ وار باہر نکلے۔ لڑائی سے واپس آنے والے لوگ آگے آگے جا رہے تھے ان میں سے ایک سے ایک عورت بے تحاشا آ کر پوچھتی ہے کہ رسول اللہ کا کیا حال ہے؟ اس کے دل میں چونکہ رسول کریمؐ کے متعلق اطمینان اور تسلی تھی اس نے اس بات کو معمولی سمجھ کر کہا تمہارا باپ مارا گیا۔ عورت نے کہا میں نے پوچھا ہے کہ رسول اللہ کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا تمہارا بھائی مارا گیا ہے عورت نے کہا میں یہ پوچھتی ہوں کہ رسول اللہ کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا تیرا خاوند بھی مارا گیا ہے۔ عورت نے کہا میری بات کا تم کیوں جواب نہیں دیتے میں پوچھتی ہوں کہ رسول اللہ کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا رسول اللہ زندہ ہیں۔ یہ سُن کر اس عورت نے کہا شکر ہے خدا کا۔ اگر رسول اللہ زندہ ہیں تو ہمیں اور کسی کی پروا نہیں۔ (سیرت ابن ہشام اردو حصہ دوم صفحہ ۸۴ مطبوعہ لاہور ۱۹۰۷)

اس بات کو وہ شخص سمجھ سکتا ہے جس نے عورتوں کا جزع فزع دیکھا ہو کہ اگر کسی عورت کا ایک دن کا بچہ بھی مر جاتا ہے تو کسقدر روتی ہے۔ مگر اس عورت کا سارے کا سارا خاندان کہ جس پر اس کا آسرا تھا مارا جاتا ہے وہ کہتی ہے کہ اگر رسول اللہ زندہ ہیں تو کوئی حرج نہیں یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ تھی جس نے مردوں اور عورتوں میں ایسا اخلاص بھر دیا اور یہ آپؐ کے سب سے افضل ہونے کا ثبوت ہے جو اور کوئی قوم اپنے نبی کے متعلق پیش نہیں کر سکتی۔ پس ثابت ہو گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی سب انبیاء سے افضل ہیں اور آپؐ کا درجہ ہر بات میں دوسروں سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے جو جماعت تیار کی اس کے مردوں عورتوں حتیٰ کہ بچوں میں ایسا اخلاص اور محبت پائی جاتی ہے جس کا نمونہ اور کہیں نہیں مل سکتا۔

دو مسلم بچوں کی بہادری

بدر کی لڑائی میں دو پندرہ پندرہ برس کے لڑکوں نے بڑی کوشش سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی میں شامل ہونے کی اجازت حاصل کی۔ ایک صحابیؓ کہتے ہیں کہ لڑائی کے وقت یہ دونوں لڑکے میرے دائیں بائیں کھڑے تھے اور میں یہ خیال کر رہا تھا کہ آج میں کس طرح لڑوں گا۔ میرے ساتھ اگر بہادر سپاہی ہوتے تو میں لڑ سکتا۔ اب کیا کروں گا۔ میں ابھی اسی خیال میں تھا کہ ایک لڑکے نے مجھے کہنی ماری۔ اور جب میں اس کی طرف متوجہ ہوا۔ تو اس نے پوچھا ابوجہل کہاں ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت دُکھ دیا کرتا ہے؟ میں ابھی اس کو جواب نہیں دینے پایا تھا کہ دوسرے نے آہستہ سے پوچھا تاکہ دوسرا نہ سُن لے ۔ چچا! ابوجہل کون سا ہے؟ میرا دل چاہتا ہے کہ میں اس کو ماروں۔ یہ صحابی عبد الرحمنؓ بن عوف تھے جو بڑے بہادر اور جری تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ خیال میرے دل میں بھی نہ تھا کہ میں ابوجہل کو ماروں۔ مگر میں نے ابھی ابوجہل کی طرف اشارہ ہی کیا تھا کہ دونوں لڑکے میرے دائیں اور بائیں سے چیل کی طرح جھپٹے اور دشمن کے لشکر میں گھس کر ابوجہل کو جا مارا۔ (بخاری کتاب المغازی باب فضل من شہد بدرًا) دیکھو یہ پندرہ پندرہ برس کے لڑکے تھے۔ اس نور کے بغیر جو ان کو حاصل تھا اس عمر کے لڑکے کیا کرتے ہیں یہی کہ شہر کے لڑکے انگریزی کھیلیں کھیلتے ہیں اور گاؤں کے لڑکے دیہاتی کھیلیں۔ مگر وہ اپنی جان کی کھیل کھیلتے ہیں اور ایسی بہادری سے کھیلتے ہیں کہ بڑے بڑے بہادر حیران ہو جاتے ہیں۔

یہ نظارہ ایک عقلمند اور سمجھدار انسان کو بہت بڑے نتیجہ پر پہنچاتا ہے اور وہ یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء سے افضل تھے اور کوئی آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ پھر قرآن بھی یہی کہتا ہے اور خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہی فرماتے ہیں کہ میں سب انسانوں کا سردار ہوں۔ جب ہم اس نتیجہ پر پہنچ گئے تو معلوم ہوا کہ جو نبی سب سے افضل ہے وہی سب سے خدا کا پیارا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ رسولؐ اللہ سے پیار اور محبت کے متعلق فرماتا ہے۔ قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ(ال عمران: ۳۲) محمدؐ تو ہمارا ایسا محبوب ہے کہ جو اس کی فرمانبرداری کرے وہ بھی ہمارا محبوب ہو جاتا ہے۔

اختلاف فرقہائے مسلم کا طریق فیصلہ

اس نکتہ کو مدّنظر رکھ کر اسلام کی صداقت اور حقیقت کا سمجھنا بالکل آسان ہو جاتا ہے۔ پھر عام طور پر مسلمانوں میں جو اختلاف پایا جاتا ہے اس کا فیصلہ بھی اسی کے ذریعہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ جب تجربہ اور مشاہدہ سے یہ ثابت ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء سے اعلیٰ اور ہر طرح اور ہر رنگ میں افضل ہیں۔ تو اسلام کے ہر مسئلہ کے متعلق غور کرتے وقت یہ خیال رکھنا چاہئے کہ وہی عقیدہ درست اور صحیح ہو سکتا ہے۔ جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت اور سب کمالات کا جامع ہونا ثابت ہو اور جس عقیدہ سے یہ ثابت ہو کہ آپؐ کسی سے افضل نہیں رہتے۔ یا اس کے اختیار کرنے سے آپؐ کے کسی کمال میں نقص پایا جاتا ہے۔ تو وہ عقیدہ قطعاً اسلام کے خلاف، تجربہ اور مشاہدہ کے خلاف ہو گا۔ وہ اسلام کا پیش کردہ عقیدہ نہیں ہو سکتا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کم کرنے والا اور آپؐ کی عظمت کو بٹہ لگانے والا ہو۔

اس نقطہ کو مدّنظر رکھتے ہوئے جس میں کسی مسلمان کو خواہ وہ کسی فرقہ کا ہو۔ اہلحدیث ہو یا اہلسنت سہروردی ہو یا دیوبندی، شیعہ ہو یا سُنّی غرض کسی فرقہ کا ہو اسے اس امر میں اختلاف نہ ہو گا کہ محمّد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء علیہم السلام سے افضل ہیں اور کوئی ایسا عقیدہ درست نہیں ہوسکتا جس سے آپ کی شان اور عظمت کم ہو۔ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں جو ایک اختلاف پیدا ہُوا ہے کہ ایک شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ مجھے محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں اس دُنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں اس بات کو مدّنظر رکھ کر کہ عیسائیت تمام مذاہب کو عموماً اور اسلام کو خصوصاً کھاتی جا رہی ہے خدا نے میرا نام مسیح رکھا ہے تاکہ میں عیسائیت کو پاش پاش کر کے اس پر اسلام کو غالب کروں اور اس لحاظ سے کہ مسلمان اسلام سے دُور ہوگئے، شریعت کے احکام کی پابندی نہیں کرتے، ان کا اکثر حصہ نمازیں نہیں پڑھتا جو پڑھتا ہے وہ طوطے کی طرح پڑھتا ہے ان مفاسد کو دُور کرنے کے لئے میرا نام مہدی رکھا گیا ہے۔

مدعی کاذب بڑا مجرم ہے

اب اگر یہ دعویٰ کرنے والا جھوٹا ہو تو اس سے بڑھ کر کافر کون ہوسکتا ہے۔ خود خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ مجھے خُدا نے الہام کیا حالانکہ خدا نے نہ کیا ہو اور اس کا دعویٰ جھوٹا ہو تو اس سے بڑھ کر مجرم کون ہوسکتا ہے؟ ہاں ہر مسلمان پر یہ فرض ہے کہ وہ دیکھے اور غور کرے کہ دعویٰ سچا ہے یا جھوٹا۔ دیکھو اگر ایک چوہڑا، چمار معمولی ڈھنڈورا دیتا پھرے تو لوگ اس کی طرف دوڑتے جاتے اور معلوم کرتے ہیں کہ کیا کہتا ہے۔ لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ایک شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا کی اصلاح کے لئے آیا ہوں اس کی طرف توجہ نہ کی جائے۔ اگر وہ جھوٹا بھی ہو تو خدا تعالیٰ ان لوگوں سے جنہوں نے اس کے دعویٰ پر غور نہیں کیا ہو گا پوچھے گا کہ تمہیں بغیر غور کئے کس طرح معلوم ہو گیا کہ یہ جھوٹا تھا۔ دراصل تمہاری نیت ہی ٹھیک نہ تھی۔ ورنہ تم اس کے دعویٰ پر ضرور غور کرتے اور غور کے بعد اس کے جھوٹے یا سچے ہونے کا فیصلہ کرتے۔ تمہارے دل میں خدا کا ادب اور توقیر ہی نہ تھی۔ ورنہ وہ جس نے خُدا کی طرف سے آنے کا دعویٰ کیا تھا اس کے دعویٰ کی طرف تم ضرور توجہ کرتے۔

سعید انسان کی سعادت

خدا تعالیٰ کا ادب جس انسان کے دل میں ہوتا ہے۔ اس کی عجیب حالت ہوتی ہے۔ ایک دفعہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آکر کہا آپ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بتائیں کہ آپ نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں خدا کا نبی ہوں۔ یہ سن کر اس نے کہا میں آپ کو قبول کرتا ہوں۔ یہ بھی ادب کی ایک حد ہے۔ لیکن یہ ادب بہت کم لوگوں میں ہوتا ہے عام لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کے دعویٰ کو چھوڑ کر باقی خوبیاں تو مانتے جاتے ہیں۔ لیکن دعویٰ کی طرف توجہ نہیں کرتے۔

دعویٰ کی سچائی پر مخالف رائے

دیکھو حضرت مرزا صاحب کے متعلق مخالف یہ تو مانتے ہیں کہ آپ سلطان القلم تھے۔ چنانچہ آپ کی وفات پر اخبار وکیل میں لکھا گیا کہ:۔

”وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو۔ وہ شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا، جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تار اُلجھے ہوئے تھے، اور جس کی دو مٹھیاں، بجلی کی دو بیڑیاں تھیں۔ وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا جو شورِ قیامت ہو کے خفتگانِ خوابِ ہستی کو بیدار کرتا رہا خالی ہاتھ دُنیا سے اُٹھ گیا۔“ (بحوالہ تاریخ احمدیت جلد نمبر ۳ صفحہ ۵۶۵، ۵۶۶ مطبوعہ ۱۹۶۲ء)

کیا جس شخص کی یہ تعریف ہو اس کو پاگل یا مجنون کہا جاسکتا ہے ہرگز نہیں۔ اب اس کے متعلق یا تو یہ کہا جائے گا کہ چالاک اور لسان آدمی ہے لوگوں کو فریب میں لانا چاہتا ہے۔ یا یہ کہ سچا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا ہے۔ بس یہی دو صورتیں ہوسکتی ہیں کہ یا تو جھوٹا ہے اور خدا تعالیٰ پر افتراء کرتا ہے اس لحاظ سے اس سے بُرا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ یا سچا ہے اور واقع میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اس لحاظ سے اس کے دعویٰ کو ماننا ہر شخص پر فرض ہے۔

پس ایک ایسا شخص جو پاگل نہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے کا دعویٰ کرتا ہے اس کی بات کو سننا نہایت ضروری اور اہم ہے۔ اگر وہ جھوٹی ہو تو بے شک اسے ردّ کر دیا جائے ، لیکن اگر سچی ہو تو پھر اس کا ردّ کرنا آسان نہیں۔ آگ سے کھیلنا آسان ہے ، لیکن اس کی بات کا ردّ کرنا آسان نہیں کیونکہ آگ صرف جسم کو جلاتی ہے اور اس کا انکار رُوح کو جلاتا ہے۔ پھر آگ تو پچاس ساٹھ یا سو سال کی زندگی کا خاتمہ کرتی ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے کروڑوں کروڑ سال کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔ پھر آگ دُنیا کی خوشی اور آرام سے علیحدہ کرتی ہے مگر اس سے عقبیٰ کا آرام اور اطمینان کھویا جاتا ہے۔ پھر آگ عارضی رشتوں اور تعلقوں سے جُدا کرتی ہے مگر اس سے خالق اور مالک اور سب سے بڑھ کر محبوب خدا سے جُدائی ہو جاتی ہے۔ پس اس نہایت ہی ضروری مسئلہ پر جس قدر بھی غور کیا جائے تھوڑا ہے اور ہر ایک انسان کا فرض ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا دعویٰ کرنے والے کے دعویٰ کو سُنے اور اس پر غور کرے۔

دعویٰ حقّہ پر عظمت نبی پاک

اب رہا یہ کہ کس طرح غور کیا جائے ۔ اس کے متعلق میں بتاتا ہوں ۔ غور کرنے کے اور بھی طریق ہیں لیکن ایک اس وقت پیش کرتا ہوں اور وہ یہ کہ اب جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس کے متعلق یہ پرکھا جائے کہ اس کے دعویٰ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہوتی ہے یا ہتک ۔ اگر اس کے دعویٰ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہوتی ہے تو خواہ سُورج کو اپنے دائیں اور چاند کو اپنے بائیں رکھ کر بھی دکھا دے تو اس کا دعویٰ مردود ہو گا ۔ لیکن اگر اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور آپؐ کی شان بڑھتی ہے تو وہ قابلِ قبول ہو گا اور کسی مؤمن کے لئے سوائے اس کے چارہ نہیں کہ اسے قبول کرے ۔

وفاتِ مسیح و صداقت حقّہ

اب دیکھئے اس زمانہ میں جس انسان نے خدا کی طرف سے ہونے کا دعویٰ کیا ۔ اس نے پہلی بات یہ پیش کی ہے کہ حضرت عیسیٰؑ جن کو خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی اصلاح کے لئے بھیجا تھا فوت ہو گئے ہیں اور میں اُمّتِ محمّدیہ کی اصلاح کے لئے آیا ہوں ۔ اس کے متعلق ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات میں اور ان کے دوبارہ آکر رسول کریمؐ کی اُمت کے اصلاح کرنے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہے یا ہتک ۔ اگر ہتک ہو تو ہم اس عقیدہ کو ہرگز درست تسلیم نہ کریں گے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت ہر طرح سے دلائل کے ساتھ ثابت ہے ۔ دیگر مذاہب کے لوگوں کا تو یہ قاعدہ ہے کہ اپنے بزرگوں کو جو افضل نہیں ہیں سب انسانوں سے افضل قرار دیتے ہیں ۔ مگر ہمیں تو خدا تعالیٰ نے سردار ہی ایسا دیا ہے کہ اس کی جتنی بھی عزت و توقیر کریں تھوڑی ہے اور اس کو سب سے افضل کہنا بالکل سچ ہے ۔ لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے اس بات کو مدِّنظر نہ رکھ کر بڑی بڑی ٹھوکریں کھائی ہیں اور کہیں نکل گئے ہیں ۔ اس وقت ہم اس بات کو لیتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کی وفات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت ہے یا ان کی زندگی میں۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو خدا تعالیٰ نے ان کے دشمنوں سے بچانے کے لئے زندہ آسمان پر اُٹھا لیا اور وہ اس وقت تک زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں ۔ لیکن اس کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ آپؐ کو خدا تعالیٰ نے ۶۳ سال کی عمر میں وفات دے دی اور آپؐ اسی زمین میں مدفون ہیں ۔ آپؐ کو اپنی زندگی میں کئی تکلیفیں پیش آئیں ۔ مکہ سے آپؐ کو نکلنا پڑا ۔ لڑائیوں میں آپؐ کو زخم لگے ، دشمنوں نے آپؐ کو تنگ کیا ، لیکن اس ساری زندگی میں خدا تعالیٰ نے انہیں آسمان چھوڑ پہاڑ پر بھی نہ اُٹھایا ۔ حضرت عیسیٰؑ پر تو جب ایک ہی مشکل وقت آیا تو خدا تعالیٰ نے انہیں فوراً آسمان پر اُٹھا لیا۔ لیکن محمدمصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم پر دُکھ پر دُکھ آتے، مصیبتوں پر مصیبتیں پڑیں مگر خدا تعالیٰ نے انہیں اسی زمین میں رکھا آسمان پر نہ اُٹھایا۔ اس کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تو یہ حالت ہے کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ رات اور دن خدا تعالیٰ کی اطاعت کے سوا انہیں کوئی کام ہی نہیں اور خدا تعالیٰ کے سوا انہیں کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ حتّٰی کہ عیسائی بھی کہتے ہیں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اور تو خواہ کچھ کہیں لیکن اس میں شک نہیں کہ وہ اُٹھتا بیٹھتا، کھاتا پیتا، سوتا جاگتا، صبح و شام، شادی و غمی، حتّٰی کہ میاں بیوی کے تعلقات میں، کپڑے پہنتے وقت، پاخانہ پھرتے وقت غرضیکہ ہر گھڑی اور ہر لحظہ خُدا کا ہی نام لیتا ہے اور ایسے معلوم ہوتا ہے کہ گویا خدا کے متعلق اسے جنون تھا۔ تو وہ شخص جو خدا تعالیٰ کی محبت میں اتنا بڑھ گیا تھا کہ ایک عیسائی کہتا ہے کہ خدا کا اس کو جنون ہو گیا تھا اس کی تو خدا تعالیٰ مشکلات اور تکالیف میں اس طرح مدد نہیں کرتا کہ آسمان پر اُٹھا لے۔ لیکن جب حضرت عیسیٰؑ کو ذرا تکلیف آتی ہے تو خدا انہیں آسمان پر اُٹھا لیتا ہے۔ پھر محمدمصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کو تو دشمنوں سے محفوظ رہنے کے لئے راتوں رات مکہ سے جانا اور ایک غار میں چھپنا پڑتا ہے مگر حضرت عیسیٰؑ کے لئے خدا تعالیٰ مکان کی چھت پھاڑ کر انہیں آسمان پر اُٹھا لیتا ہے۔ اب بتاؤ ان دونوں میں سے خدا تعالیٰ کا زیادہ پیارا اور محبوب کون ہوا؟

حیاتِ مسیحؑ سے خُدا و رسولؐ پر الزام

اس سے خدا تعالیٰ پر الزام آتا ہے کہ جب محمدؐ صلی اللہ علیہ وسلم پیار اور محبت میں سب سے بڑھ گئے تھے تو کیوں خدا تعالیٰ نے ان سے سب سے زیادہ پیار اور محبت ظاہر نہ کی اور ان کے مقابلہ میں کیوں حضرت عیسیٰؑ سے اپنی محبت اور پیار کا زیادہ ثبوت دیا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیار میں سب سے بڑھ گئے تھے تو خدا تعالیٰ بھی انہیں کے ساتھ اپنی زیادہ محبت کا ثبوت دیتا اور مشکلات کے وقت انہیں آسمان پر اُٹھا لیتا۔ صحابہؓ کے دل میں آنی کے طور پر یہ بات آئی بھی ہے کہ یہ انسان ایسا نہیں ہے کہ زمین پر وفات پائے۔ چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو حضرت عمرؓ جیسا جلیل القدر صحابی تلوار لے کر کھڑا ہو گیا اور انہوں نے کہا کہ جس نے یہ کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اس کی گردن اُڑا دوں گا وہ تو آسمان پر گئے ہیں اور پھر آئیں گے۔ اس وقت اس کے خلاف کہنے کی کسی کو جرأت نہ ہوئی اور سب خاموش ہو گئے کہ اتنے میں حضرت ابوبکرؓ آئے اور سیدھے اندر چلے گئے۔ جب جا کر دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو باہر گئے اور لوگوں کو بُلا کر کہا سنو وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ(آل عمران: ۱۴۵) کہ محمدؐ نہیں تھے مگر اللہ کے رسول آپؐ سے پہلے رسول فوت ہو گئے۔ اگر آپ بھی فوت ہو گئے تو کیا تم ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے۔ یہ رسول ہی تو ہیں خُدا نہیں۔ اگر خدا ہوتے تو ہمیشہ زندہ رہتے۔ پھر انہوں نے کہا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَىٌّ لَا يَمُوْتُ(بخاری کتاب المناقب باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لوکنت متخذاً خلیلاً) جو محمدؐ کی عبادت کرتا ہے وہ دیکھ لے کہ آپ فوت ہو گئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ سُن لے کہ اللہ زندہ ہے کبھی نہیں مرتا۔

اِس طرح انہوں نے بتایا کہ جو یہ کہتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے وہ گویا آپ کو خدا سمجھتا ہے کیونکہ خدا ہی ایک ایسی ہستی ہے جس پر موت نہیں آسکتی۔ رسول تو پہلے بھی فوت ہو گئے ہیں اور یہ بھی فوت ہو گئے ہیں۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں جب حضرت ابو بکرؓ نے یہ آیت پڑھی اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ واقع میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اور یہ بات میرے ذہن میں آئی تھی کہ میں لڑکھڑا کر گر پڑا۔ اس وقت پھر حضرت حسانؓ مرثیہ پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں ؎

کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ فَعَمِیَ عَلَیْکَ النَّاظِرُ

مَنْ شَاءَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرُ

(دیوان حسان بن ثابت صفحہ ۹۴ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۶ء)

ہمارا تو سب کچھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھا جب وہ فوت ہو گیا تو ہمیں کیا کوئی مرے یا جیئے۔

پس اس سے معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت اسی صورت میں ثابت ہو سکتی ہے کہ یہ تسلیم کیا جائے کہ آپ سے پہلے کوئی رسول زندہ نہیں رہا۔ ورنہ ایک سچا مومن کس طرح یہ برداشت کر سکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو زمین میں مدفون ہوں اور حضرت عیسیٰؑ اس وقت تک زندہ آسمان پر بیٹھے ہوں۔ طبعی عمر کے متعلق تو ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی نبی کو زیادہ دے دے اور کسی کو کم مگر طبعی طور پر ایک نبی کو زندہ بٹھاتے رکھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو چونکہ اس نبی کی زیادہ ضرورت تھی۔ اس لئے اس کو زندہ رکھا ہے اور دوسرے کی کوئی ضرورت نہ تھی اس لئے اسے وفات دے دی۔ اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان پر اتنا بڑا حملہ ہوتا ہے کہ کوئی مسلمان اس کو ٹھنڈے دل سے برداشت نہیں کر سکتا۔

عام لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ کیا خدا تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ رکھنے پر قادر نہیں ہم کہتے ہیں قادر ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس کی کوئی قدرت ظاہر کس طرح ہوتی ہے۔ اس کی قدرت یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت ظاہر کرے پھر اس کے خلاف کس طرح ہو سکتا ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں خدا تعالیٰ کا قانونِ قدرت بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس طرح سنبھال کر رکھنے کے خلاف ہے۔ دیکھو ایک غریب آدمی اپنے کپڑوں کو خواہ کتنے پُرانے ہوں سنبھال کر رکھتا ہے تاکہ وہ پھر کام آئیں۔ لیکن امیر اپنے پُرانے کپڑے اور لوگوں کو دے دیتا ہے۔ اسی طرح غریب انسان ایک دفعہ کا پکا ہوا کھانا سنبھال کر رکھتا ہے کہ پھر کھالوں گا۔ لیکن امیر ایسا نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جب بھوک لگے گی اس وقت پھر تازہ پکوالوں گا۔ اب حضرت عیسیٰؑ کو سنبھال کر رکھنے کا یہ مطلب ہوا کہ خدا سے اتفاقاً حضرت عیسیٰؑ ایک اعلیٰ درجہ کے نبی بن گئے تھے اور پھر وہ ایسا نبی نہیں بنا سکتا تھا اس لئے ان کو سنبھال کر زندہ آسمان پر رکھ دیا کہ جب دُنیا میں فتنہ و فساد پھیلے گا تو ان کو بھیج دونگا پہلے تو میں نے بتایا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو زندہ ماننے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہے اب اس سے ظاہر ہے کہ ان کو زندہ ماننے والے خدا تعالیٰ کی ہتک تک بھی پہنچ گئے۔ کسی نے کہا ہے۔ ؎

زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا

عقیدہ حیات مسیح کی ابتداء

اس طرح حضرت مسیح کو زندہ مان کر خدا تعالیٰ پر حملہ کر دیا گیا۔ ہم کہتے ہیں کیا وہ خدا جس نے حضرت عیسیٰؑ کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا عظیم الشان نبی پیدا کیا وہ پھر حضرت عیسیٰ جیسا نبی نہیں پیدا کر سکتا تھا؟ ضرور پیدا کر سکتا تھا پس اس کو ضرورت نہ تھی کہ حضرت عیسیٰؑ کو زندہ رکھ کر اپنی قدرت پر حرف آنے دیتا۔

غرض حضرت عیسیٰؑ کی حیات کا عقیدہ نہ صرف اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے والا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی بھی ہتک کرنے والا ہے اور اس کی بنیاد اس وقت پڑی جبکہ مسلمانوں میں عیسائی شامل ہونے لگے۔ ان کی وجہ سے مسلمانوں میں بھی یہ عقیدہ داخل ہو گیا۔ ورنہ کئی بڑے بڑے بزرگوں کا یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰؑ فوت ہوگئے ہیں۔ تو غلطی میں اگر مسلمانوں نے یہ عقیدہ اختیار کر لیا ورنہ مجھے خیال بھی نہیں آتا کہ کوئی مسلمان جان بوجھ کر ایسا عقیدہ رکھتا۔ دراصل انہوں نے اس طرف خیال ہی نہیں کیا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ اگر انہیں علم ہوتا کہ اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ہتک ہوتی ہے تو وہ کبھی اسے اختیار نہ کرتے۔

معیارِ سچائی حضرت اقدسؑ

اس وقت ہم جس انسان کی صداقت پر غور کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ اُمتِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلاح کے لئے آپ ہی کی اُمت سے کوئی انسان پیدا ہونا چاہئے کیونکہ دوسرے سے مدد مانگنے سے ہتک ہوا کرتی ہے۔ اب یہ دیکھنا چاہئے کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت کی اصلاح کے لئے حضرت عیسیٰؑ آئیں تو اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہے یا نہیں۔ کچھ عرصہ ہوا میں نے اخبار میں ایک مضمون پڑھا تھا جس کا مجھ پر بڑا اثر ہوا۔ عمان ایک پُرانی ریاست ہے وہاں جب بغاوت ہوئی تو ہندوستان سے تار دیا گیا کہ اگر ضرورت ہو تو ہم مدد دیں۔ اس کے جواب میں سلطان نے کہا۔ جب تک ہم میں جان ہے آپ کی مدد کی ضرورت نہیں۔ تو جب تک کسی میں طاقت ہوتی ہے اس وقت تک دوسرے سے کوئی مدد کی درخواست نہیں کرتا اور نہ دوسرے سے مدد لینا چاہتا ہے۔ اب یہ صاف بات ہے کہ حضرت عیسیٰؑ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت میں شامل نہیں ہیں بلکہ حضرت موسیٰؑ کی قوم میں سے ہیں اور انہی کی قوم کی تربیت کے لئے آئے تھے چنانچہ انہوں نے خود کہا ہے کہ میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی طرف بھیجا گیا ہوںعہ۔ ان کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں فساد پیدا ہوگا تو ان کو اصلاح کے لئے بھیجا جائے گا۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی امداد کا محتاج بنائیگا ، لیکن کیا وہ مقدس انسان جس نے دُنیا کو نُور سے بھر دیا اور وہ سخی مرد جس نے اپنے خزانوں کے دروازے اس قدر فراخ کر دیئے کہ دُنیا مالا مال ہوگئی اس کے ہاتھ میں (نعوذ باللہ) بھیک کا ٹھیکرا دینا اس کی ہتک کرنا نہیں؟ خدا تعالیٰ تو اس کو یہ فرماتے کہ وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنۡہَرۡ(الضحٰی: ۱۱) ، ہم نے تجھے وہ نعمت دی ہے اور تم پر وہ انعام کئے ہیں کہ جو کوئی بھی تم سے مانگنے آتے اس کے سوال کو ردّ نہ کرو۔ تیرے پاس تو اتنی دولت ہے وَاَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ(الضحٰی: ۱۲) کہ تو علی الاعلان پکار پکار کر لوگوں کو کہہ کہ آؤ اور مجھ سے لو۔ ایک تو وہ سخی ہوتا ہے کہ جو اس سے مانگتا ہے اس کو ردّ نہیں کرتا۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے تیرا خزانہ اتنا وسیع ہے کہ تو جگہ بہ جگہ پھر اور شور مچا کہ آؤ مجھ سے لے لو اور یہی نہیں کہ جو سائل تیرے پاس آتے اسے تو دے بلکہ خود سائلوں کو تلاش کر کے دے۔ تو اس عظمت اور شان والا انسان جس کے سُپرد خدا تعالیٰ نے نُور اور معرفت کے خزانے کر دیئے اس کا بنی اسرائیل کے نبی کو بلا کر لانا کہ آؤ میری اُمّت میں فتنہ پڑ گیا ہے اس کو دُور کر دو کہاں تک اس کی شان کے شایاں ہے۔ اگر واقع میں ایسا ہو تو مَیں نہیں سمجھ سکتا کہ قیامت کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عیسیٰ کے سامنے کیونکر آنکھ اُٹھا سکتے ہیں۔ کیونکہ جب کہ ایمان ثریا پر چلا گیا قرآن کو لوگوں نے چھوڑ دیا۔ دشمنوں نے اسلام کو مٹانے کے لئے کمریں باندھ لیں۔ اس وقت آپ کی قدرت قدسیہ باطل ہو گئی اور آپ کو دوسرے کے گھر سے دیا روشن کرنا پڑا اور دوسرے کی امداد نے آپ کی اُمت کو بچایا اس سے زیادہ افسوس اور رنج کی بات کون سی ہو گی اور اس سے زیادہ اور کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم ہو گا۔ اس بات کو سامنے رکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء سے افضل ہیں۔ ماننا پڑے گا کہ یہ بالکل غلط ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کی اصلاح کے لئے بنی اسرائیل سے کسی عیسیٰ کو لانے کی ضرورت پیش آئے گی۔ بلکہ صحیح اور سچی بات یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ ہی خود عیسیٰ کو پیدا کرے گی۔ آپؐ کا روحانی فیض اور آپؐ کی تعلیم ایسے آدمی کھڑے کرے گی جو آپ کی اُمت کی اصلاح کریں گے۔

اجراء نبوت کی حقیقت

اب جبکہ ان دونوں باتوں کا فیصلہ ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ فوت ہو گئے ہیں اور اُمت محمدیہؐ کی اصلاح کے لئے اسی اُمت سے عیسیٰ کھڑا ہو گا تو کہا جا سکتا ہے کہ ان باتوں کو تو مان لیا لیکن خدا کی طرف سے آنے کا جو شخص دعویٰ کرتا ہے وہ تو کہتا ہے کہ مَیں نبی ہوں۔ کیا اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک نہیں ہوتی ہے؟ اس سے بھی تو ہتک ہوتی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی آئے۔

اس بات پر بھی ہم اسی طرح نظر ڈالتے ہیں کہ آیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا آنا آپ کی ہتک ہے یا عزت۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جو رسول شریعت لاتے ہیں ان کی شریعت کو وہی نبی آ کر مٹا سکتا ہے جو ان سے بڑا ہو۔ اب اگر کوئی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ نبی کریمؐ کے بعد کوئی ایسا نبی آ سکتا ہے جو اس کی شریعت کو مٹا دے تو اس سے نبی کریمؐ کی بہت بڑی ہتک ہو گی کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہو گا کہ آپؐ جو تعلیم لائے وہ چونکہ قابل عمل نہیں رہی اس لئے اس کو بدلنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ کیونکہ کوئی عمارت اسی وقت گرائی جاتی ہے جبکہ بوسیدہ ہو جائے یا حسب منشاء استعمال کے قابل نہ رہے۔ اسی طرح شریعت محمدیہ اسی صورت میں منسوخ ہو سکتی ہے کہ یا تو ناقص ہو جائے یا موجودہ زمانہ کے قابل نہ رہے۔ اب اگر کوئی یہ خیال رکھتا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ہتک کرتا ہے۔ لیکن اگر کوئی یہ خیال کرے کہ باوجود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے قائم اور برقرار رہنے کے کوئی ایسا نبی آسکتا ہے تو اس میں بھی رسولِ کریمؐ کی ہتک ہے کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے علاوہ اور بھی کوئی ایسا دروازہ ہے کہ جس کے راستے انسان خدا تک پہنچ سکتا ہے اگر کوئی ایسا دروازہ ہو تو وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح یا آپ سے بڑھ کر ہوا اور یہ بھی آپؐ کی ہتک ہے۔ لیکن سوال تو یہ درپیش ہے کہ ایک انسان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کر کے اتنا بڑھ سکتا ہے یا نہیں کہ جتنا پہلے نبیوں کی تعلیم پر عمل کر کے کوئی نہیں بڑھا اور آپؐ کی تعلیم پر عمل کر کے نہ کہ اس کے خلاف چل کر، آپؐ کی غلامی میں ہو کر نہ کہ آپ کی برابری کر کے ، آپؐ کے احکام کو مان کر نہ کہ ان کو رد کر کے ایک شخص عزت کے اس مقام پر کھڑا ہوسکتا ہے یا نہیں جس کا نام نبوت ہے۔ پس اس کے متعلق دیکھنا چاہئے کہ ایسا نبی محمدؐ کی ہتک کرنے والا ہوگا ۔ یا عزت کرنے والا ۔

مجدد و مصلح کی ضرورت حقّہ

اس کے متعلق بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی ایسا نبی مان لیں تو اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہوتی ہے کیونکہ اس طرح ماننا پڑتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور مصلح کی ضرورت باقی ہے۔ اس کے متعلق ہم کہتے ہیں۔ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مصلح کی ضرورت نہیں ہے پھر اسلام میں مجدد کیوں آتے ؟ اور بڑے بڑے بزرگ لوگوں سے بیعتیں لیتے رہے ۔ اس سے ظاہر ہے کہ مصلح کی ضرورت تو موجود ہے اور ہمیشہ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں۔ ہاں یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ ایسے مصلحین سے بڑے درجے کا بھی کوئی آسکتا ہے یا نہیں۔ اگر تو رسول اللہ کے بعد آپؐ کی اُمّت بگڑ نہیں سکتی تو پھر اس کے لئے کسی مصلح کی بھی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر بگڑ سکتی ہے اور شریعت کے احکام پر عمل کرنا چھوڑ سکتی ہے تو کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی کمال ہے کہ آپؐ کی اُمّت میں بُرائیاں تو پیدا ہوسکتی ہیں لیکن ان کو دُور کرنے والا کوئی نہیں پیدا ہوسکتا۔ خدا تعالیٰ سے آپؐ کو جسقدر محبت ہے اس کا تو یہ تقاضا ہونا چاہئے کہ آپؐ کی اُمّت کا خدا تعالیٰ زیادہ خیال رکھے نہ یہ کہ اسے آوارہ چھوڑ دے اور کہے جا تباہ ہو۔ دیکھو کسی کی خبر گیری بھی تو اس سے محبت کا ثبوت ہوتا ہے کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ میرے بچے بیمار ہوں تو میں ان کا کوئی علاج نہیں کرتا۔ آوارہ پھریں تو میں ان کا کوئی خیال نہیں رکھتا اور یہ میری محبت کا ثبوت ہے۔ ہرگز نہیں۔ پس اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے نزدیک سب سے افضل ہیں ۔ تو ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ آپؐ کی اُمّت کی حفاظت بھی دوسری امتوں سے زیادہ کرے کیونکہ جس سے جتنا پیار اور عشق زیادہ ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ اس سے سلوک بھی کیا جاتا ہے۔ محبت میں تو کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ حدیث میں آتا ہے کہ وہ پانی جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے صحابہؓ آپس میں لڑ پڑتے۔۳ عبد اللہ بن عمرؓ کو جاتے ہوتے اسی جگہ پیشاب کرتے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج پر جاتے ہوئے کیا تھا۔ آج کہا جائے گا کہ یہ بیہودہ بات تھی۔ مگر محبت کا علم جاننے والے جانتے ہیں کہ جس سے محبت ہو اس کی ہر ایک بات پیاری لگتی ہے۔ مگر کیسے افسوس کی بات ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کی اُمت بگڑ جائے تو اس کی اصلاح کے لئے خدا تعالیٰ کوئی انتظام نہیں کرتا۔ پس اگر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ چونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے تمام لوگ ہمیشہ نیک اور پرہیز گار ہی رہیں گے اس لئے ان کی اصلاح کے لئے کسی مصلح کے آنے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بات صحیح ہے تو واقع میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لئے کسی مصلح کی ضرورت نہیں ہوگی، لیکن اگر یہ نظر آتے کہ مسلمان کہلانے والوں نے نمازیں چھوڑ دی ہوں حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو لوگ عشاء کی نماز کے لئے مسجد میں نہیں آنے میرا دل چاہتا ہے کہ میں ان گھروں کو مع ان کے جلا کر راکھ سیاہ کر دوں۔۴ اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا رحیم کریم انسان عشاء کی نماز کے لئے یہ فرماتا ہے تو دوسری نمازوں کے لئے خود سمجھ میں آسکتا ہے کہ ان کا پڑھنا کتنا ضروری ہے۔ پس اگر لوگوں نے نمازیں چھوڑ دی ہیں اور زکوٰۃ جس کے متعلق حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا کہ جو اونٹ کی رسی تک نہیں دے گا میں اس سے جہاد کروں گا اس کا دینا ترک کر دیا، اور اسی طرح شریعت کے دوسرے احکام کو چھوڑ دیا ہے تو پھر کیوں ان کے لئے کسی مصلح کی ضرورت نہیں ہے ؟ ہاں اگر مسلمان نہ بگڑتے تو ان کو کسی مصلح کی بھی ضرورت نہ ہوتی مگر جب ان کا بگڑنا ثابت ہے تو پھر یہ کیوں نہ مانا جائے کہ خدا تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لئے سامان بھی کیا ہو گا۔ اگر نہیں کیا تو یہ ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو کسی مصلح کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر ہم کہتے ہیں یہ تو ”انگور کھٹے ہیں“ والی مثال ہے جب ہر ایک شخص دیکھ رہا ہے حتیٰ کہ دشمن بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی حالت بگڑ چکی ہے تو پھر یہ کہنا کہ ہمیں کسی مصلح کی ضرورت نہیں اپنی بیہودگی کا ثبوت دینا ہے۔

امکانِ نبوت کی اصلیت

باقی رہا یہ کہ کوئی کہے اسلام میں مجدّد اور مامور تو بے شک آئیں لیکن کوئی نبی نہیں آسکتا۔ کیونکہ اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہے۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ اگر کوئی ایسا نبی ہونے کا دعویٰ کرے جو صاحبِ شریعت ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ کرے تو بےشک اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہے لیکن اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت میں سے کسی کو بطورِ اعزاز کے یہ درجہ اور رُتبہ دیا جائے تو اس میں آپؐ کی ہتک نہیں۔ بلکہ عزت ہے۔ دیکھو دُنیا میں اسی انسان کی بڑی عزت سمجھی جاتی ہے، جس کے ماتحت بڑے بڑے درجہ کے انسان ہوں۔ ایک کمانڈر انچیف کیوں بڑا ہوتا ہے اس لئے کہ کئی جنرل اس کے ماتحت ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک جنرل کیوں بڑا ہوتا ہے اسی لئے کہ کئی کرنل اس کے ماتحت ہوتے ہیں۔ تو بڑے کی تعریف ہی یہ ہے کہ بڑے بڑے اس کے ماتحت ہوں۔ نہ یہ کہ بڑے بڑے تو مر جائیں اور جو پیچھے رہے وہ کہے کہ میں بڑا ہوں۔ یوں تو مُردوں میں بھی ایک بچہ بہادر کہلا سکتا ہے، لیکن کیا واقع میں وہ بہادر ہوتا ہے۔ بڑا بہادر اصل میں وہی ہوتا ہے جو کئی بہادروں سے بڑا ہو ایک بچہ مُردوں کے منہ پر طمانچے مار کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں بڑا بہادر ہوں۔ بہادر وہی ہوتا ہے جو دوسرے بہادر کے سینہ پر چڑھ بیٹھے۔ اسی طرح مدرسہ کون سا اعلیٰ سمجھا جاتا ہے وہی جس میں لڑکا پڑھ کر دوسرے مدرسوں کے لڑکوں کے مقابلہ میں زیادہ لائق ثابت ہو سکے۔ اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے فضیلت دی ہے اور میں قیامت کے دن اپنی اُمّت پر فخر کروں گا۔ اس کے متعلق یہ دیکھنا چاہئے کہ آپؐ کس بات پر فخر کریں گے اور وہ کون سی بات ہے جو اور کسی اُمّت کو نہیں دی گئی مگر آپؐ کی اُمّت کو دی گئی۔ یہی ہے کہ دوسرے انبیاء کے اُمّتیوں میں مجدّد اور مصلح تو ہوتے رہے ہیں۔ لیکن کوئی نہیں ہوا تو نبی نہیں ہوا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہی فخر کی بات ہے کہ یہ درجہ آپؐ کے غلاموں میں سے کسی کو حاصل ہو، تاکہ اس طرح آپؐ کی عزت اور عظمت بڑھے۔ پھر آپؐ کی اُمّت میں سے کسی کے نبی ہونے کی ایک اور بھی وجہ ہے۔ اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ کیا ہے کہ لَوْ كَانَ مُوْسٰى وَ عِيْسٰى حَيَّيْنِ مَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتِّبَاعِیْ(اليواقيت والجواهر مؤلفہ امام عبد الوہاب شعرانی صفحہ ۲۵ مطبوعہ مصر ۱۳۲۱ھ) اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو ان کے لئے سوائے اس کے چارہ نہ تھا کہ میری اطاعت کرتے۔ یہ ایک دعویٰ ہے جس کے متعلق دشمن اعتراض کر سکتا ہے کہ ایسا دعویٰ کرنا جس کا کوئی ثبوت نہ ہو بہادری نہیں ہے۔ اس اعتراض کا جواب دینا ضروری تھا اور اسی طرح دیا جا سکتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت میں سے اسی درجہ اور رُتبہ کا انسان بھیج دیا جاتے جو حضرت موسیٰؑ اور عیسیٰؑ کا درجہ تھا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعویٰ سچا کرنے کے لئے موؔسیٰ اور عیؔسیٰ زندہ ہوتے تو میری اتباع کرتے ضروری تھا کہ ایک شخص کو آپ کی اُمت میں سے کھڑا کیا جاتا جو ان کے درجہ پر پہنچ کر یہی کہتا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوں اور ان سے ایک قدم دُوری میرے لئے ہلاکت اور تباہی ہے۔ کیونکہ جب آپ کی اُمت میں سے کوئی ایسا شخص کھڑا ہو تب آپ کا دعویٰ سچا ثابت ہو سکتا ہے۔ ورنہ اس کے بغیر آپ کا دعویٰ یونہی تھا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا ثابت کرنے کے لئے ضروری تھا کہ آپ کی اُمت میں سے کسی کو نبوت کا درجہ دیا جاتا۔

دعویٰ نبوت پر اعزازِ خیر البشر

اب ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ شخص جس نے اس زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے اس نے اگر اپنے قول اور فعل سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ثابت کی ہے یا آپ کی ہتک کی ہے۔ اگر اس کے عمل سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ثابت ہو تو اسے قبول کرنا چاہئے ورنہ رَدّ کر دینا چاہئے ۔

اس زمانہ میں اسلام کی جو حالت ہو رہی ہے اس سے ظاہر ہے کہ اس پر تباہی آ رہی ہے ایسی حالت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی مصلح کا آنا ضروری تھا۔ مگر سوائے اس کے اور کوئی شخص ایسا نہیں ملتا جس نے خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے کا دعویٰ کیا ہو۔ اب وہ بھی سچا نہیں بلکہ جھوٹا ہے اور (نعوذ باللہ) دجال ہے تو یہی کہا جائے گا کہ بجائے اس کے کہ خدا تعالیٰ ایسی نازک حالت میں اسلام کی مدد کرتا اس نے بھیجا تو ایک دجال کو بھیجا۔ حالت تو یہ ہو کہ ایک مریض مر رہا ہو اس وقت چاہئے تو یہ کہ اسے ایسی دوا دی جائے جس سے وہ شفا پائے لیکن اُلٹا زہر دے دیا جائے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں۔ وہ دجال بھی عجیب ہے کہ اس کا ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرتا جس میں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجتا ہو ، آپ کی شان کو ظاہر کرنے کی کوشش نہ کرتا ہو اور اسلام کی خدمت میں مشغول نہ ہو۔ مسلمان کہلانے والوں کی تو یہ حالت ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے والوں، آپ کو گالیاں دینے والوں، اسلام پر حملے کرنے والوں سے بغل گیر ہوں۔ مگر اس کی غیرت کا یہ حال ہو کہ پنڈت لیکھرام سلام کے لئے آیا اور وہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتا اور اس طرف سے منہ پھیر لیتا ہے۔ اس پر سمجھایا جاتا ہے کہ آپ نے لیکھرام کو پہچانا نہیں اور بتایا جاتا ہے کہ پنڈت لیکھرام آپ کو سلام کرنے کے لئے آتے ہیں۔ اس پر اس کا چہرہ سُرخ ہو جاتا ہے اور کہتا ہے اس کو شرم نہیں آتی میرے آقا کو تو گالیاں دیتا ہے اور مجھے سلام کرنے کے لئے آیا ہے۔ پھر جہاں کہیں کوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آواز اُٹھاتا ہے وہ اسی پر پل پڑتا ہے۔ امریکہ میں ایک شخص ڈوئی اُٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ میں محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لائے ہوئے اسلام کو مٹانے اور عیسائیت کو پھیلانے آیا ہوں۔ اس کو للکارتا ہے کہ آ مجھ سے مقابلہ کر اور دیکھ کہ اسلام غالب آتا ہے یا عیسائیت۔ یہ سُن کر وہ کہتا ہے کہ اس کی طاقت ہی کیا ہے میں اسے موری کے کیڑے کی طرح مسل دوں گا۔ اس کے جواب میں وہ انسان کہتا ہے کہ خدا تجھے ذلیل اور رسوا کرے گا اس پر کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرتا کہ ڈوئی کا باپ اعلان کرتا ہے کہ یہ حرام کا لڑکا ہے۔ پھر اس کے بیوی بچے اس سے الگ ہو جاتے ہیں اور اس کی بُرائیاں اور بدکاریاں دُنیا میں ظاہر کرتے ہیں۔ پھر اس پر فالج گرتا اور ذلت اور رسوائی کی موت سے مرتا ہے۔ جس پر عیسائی اخبار لکھتے ہیں کہ عیسائیت کے پہلوان پر اسلام کا پہلوان غالب آگیا۔ تو وہ شخص جو اسلام کے دشمنوں کے سامنے سینہ سپر ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ

بعد از خدا بعشق محمّد مخمّرم

گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم

وہ اگر نعوذ باللہ دجال ہے تو پھر مسلمان کون ہو سکتا ہے؟ وہ تو خود کہتا ہے کہ اگر خدا کے بعد محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کفر ہے تو خدا کی قسم میں سب سے بڑا کافر ہوں۔ کیونکہ وہ اسلام جس سے محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہوتی ہو اس سے یہ کفر مجھے ہزار درجہ پسند ہے جس سے آپ کی عزّت اور عظمت ثابت ہوتی ہے۔

سچائی معلوم کرنے کا طریق

پس اس کی صداقت معلوم کرنے کے لئے اس کے کاموں اور اس کے ماننے والوں کے کاموں کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ آیا وہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے، اسلام کو ذلیل کرتے ہیں یا دُنیا کے چاروں کونوں میں اسلام اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پہنچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ گو اس وقت ہماری جماعت دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں بہت کم ہے اور مالی حالت بھی کمزور ہے مگر ہم نے مختلف ممالک میں اپنے مبلغ بھیجے ہوئے ہیں۔ اور ہر ایک آدمی جس قدر دین کی خدمت کر سکتا ہے اس میں لگا ہوا ہے اور دین کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کرنے کے لیے تیار ہے ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا اِیں نے لندن میں مسجد بنانے کے لئے ایک لاکھ کی تحریک کی تھی جس میں اس وقت تک ۹۲؍ہزار کے قریب روپیہ جمع ہو گیا ہے۔

پس اس اختلاف کا فیصلہ کرنے کے لئے جو ہم اور دوسرے لوگوں میں پایا جاتا ہے یہ دیکھنا چاہئے کہ کس کے عقائد ایسے ہیں جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہوتی ہے اور کس کے ایسے ہیں جن سے عزت۔ ہمارے افعال اور حالات سے اگر ہمارے مخالفین پر یہ ثابت ہو جائے کہ ان سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ثابت ہوتی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس سلسلہ کی طرف توجہ نہ کریں۔

خدا تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ آپ لوگوں کی آنکھیں کھولے اور اس بات کی توفیق دے کہ آپ لوگ ان عقائد کو چھوڑنے میں کسی رشتہ اور تعلق کی کوئی پرواہ نہ کریں جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہوتی ہے اور ان عقائد کو اختیار کریں جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور عظمت کا ثبوت ملتا ہے تاکہ دُنیا میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت قائم ہو۔


صداقتِ اِسلام

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

صداقتِ اسلام اور ذرائع ترقیٔ اسلام

(خطاب حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی۔ فرمودہ ۲۲؍ فروری بمقام بندے ماترم ہال امرتسر)

مذہب کی غرض

میرا مضمون آج صداقت اسلام پر ہے کہ اسلام کی صداقت کے کیا ثبوت ہیں اور اس وقت اسلام سے تعلق رکھنے والوں کی ترقی کے کیا ذرائع ہیں۔ کسی مذہب کی صداقت پر غور کرنے سے پہلے یہ نہایت ضروری امر ہے کہ ہم دیکھیں کہ مذہب کی غرض کیا ہے؟ کیونکہ جب تک یہ معلوم نہ ہو ممکن ہے کسی مذہب کی صداقت پر بحث کرتے ہوئے کہیں سے کہیں نکل جائیں اور جس چیز کو صداقت کا ثبوت سمجھیں وہ اس سے کوئی تعلق ہی نہ رکھتی ہو مثلاً جب کوئی شخص مکان خریدنے کے لئے جائے تو اس کی یہ غرض نہیں کہ اچھے بیل بوٹے اسے نظر آئیں یا یہ نہیں ہوتی کہ مکان کے اندر کوئی خاص قسم کا حوض بنا ہوا ہو۔ بلکہ اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ انسان اس کے اندر سردی و گرمی کی تکلیف سے بچ سکے، اپنے مال کی حفاظت کر سکے اور اس کے تعلقات خاندانی میں کوئی دوسرا مخل نہ ہو سکے۔ یہ مکان کی غرض ہوتی ہے اور مکان خریدنے کے وقت اسی کو دیکھا جائے گا۔ اگر یہ پوری ہو جائے تو خرید لیا جائے گا اور اگر یہ نہ پوری ہوگی تو ہم کبھی خریدنے کے لئے تیار نہ ہوں گے۔ کیا اگر چھت تو نہ پڑی ہو لیکن دیواروں پر بیل بوٹے بنے ہوں تو اس مکان کو لینے کے لئے ہم تیار ہو جائیں گے؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ اس سے مکان کی غرض پوری نہیں ہوتی۔ اسی طرح جب ہم مذہب کی صداقت کے متعلق غور کرنے لگیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ اس بات کو سوچیں کہ مذہب کی غرض کیا ہے؟ تاکہ پھر یہ دیکھ سکیں کہ کون سا مذہب اس کو پورا کرتا ہے اور جو پورا کرے گا وہی مذہب سچا اور قابل قبول ہوگا۔ پس چونکہ جب تک مذہب کی غرض معلوم نہ ہو جائے اس وقت تک سچے مذہب کی شناخت نہیں ہو سکتی اس لئے صداقت مذہب پر بولنے سے قبل ہر لیکچرار کا فرض ہے کہ مذہب کی غرض بیان کر دے تاکہ سامعین میں سے ہر ایک کو معلوم ہو سکے کہ لیکچرار کے نزدیک مذہب کی غرض کیا ہے؟ اور وہ دیکھ سکے کہ مذہب کی جو غرض وہ سمجھا ہوا تھا وہ صحیح نہیں۔ یا یہ کہ لیکچرار نے جو بتائی ہے وہ صحیح نہیں اور اس کے لیکچر کی بناء بنائے فاسد علی الفاسد ہو گی۔ پس آج میں مذہب کی صداقت کے دلائل بیان کرنے سے پہلے یہ بیان کروں گا کہ مذہب کی غرض کیا ہے؟ سو یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام جو عربی زبان میں نازل ہوا ہے اس میں مذہب کی غرض معلوم کرنا نہایت آسان ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی زبان کو خدا تعالیٰ نے یہ خصوصیت دی ہے کہ اس کے تمام الفاظ اپنے اندر معانی رکھتے ہیں۔ باقی دنیا کی کسی زبان کو یہ خصوصیت حاصل نہیں ہے۔ اور زبانوں میں مثلاً اُردو میں جس کے پیٹ سے بچہ پیدا ہوتا ہے اسے ماں اور جس کے نطفہ سے پیدا ہوتا ہے اسے باپ کہتے ہیں مگر ان الفاظ سے بچہ کے پیدا ہونے کے متعلق کوئی بات ظاہر نہیں ہوتی۔ اگر ماں کی بجائے لفظ ”پانی“ رکھ دیا جاتا تو وہ بھی ایسا ہی ہوتا جیسا کہ یہ ہے۔ مگر عربی میں ایسا نہیں ہے۔ اس میں جو نام رکھا جاتا ہے وہ خود بتاتا ہے کہ اس کا کیا کام اور اس کی کیا غرض ہے۔ عربی میں ماں کو اُمّ کہتے ہیں اور اسکے معنی جڑ کے ہیں۔ جس طرح شاخیں جڑ ھ سے پیدا ہوتی ہیں اسی طرح بچہ ماں سے پیدا ہوتا ہے اور گویا بچہ ماں کی شاخ ہوتا ہے۔ اب اگر ماں کی بجائے ”لاں“ یا ”شاں“ رکھ دیا جاتا تو کوئی حرج نہ تھا۔ مگر ”اُمّ“ کے لفظ کی جگہ کوئی اور لفظ رکھنے سے وہ غرض نہ ظاہر ہوسکتی جو اس سے ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح ”اُمّ“ کے معنی ہیں وہ چیز جسکے پیچھے پیچھے چلیں اور چونکہ بچہ ماں کے پیچھے پیچھے چلتا ہے اس لحاظ سے بھی اُمّ ماں کو کہتے ہیں کہ بچہ ہر دُکھ اور ہر تکلیف کے وقت اسی کی طرف راغب ہوتا ہے تو یہ معنی جو لفظ ”اُمّ“ میں پائے جاتے ہیں اور کسی لفظ میں نہیں پائے جاتے۔ یہی حال عربی کے تمام الفاظ کا ہے پس اس زبان میں مذہب کے لئے جو لفظ رکھا گیا ہے اسی میں مذہب کی غرض بھی پائی جاتی ہے۔ مذہب کے معنی رستہ، سبیل، طریق، منہاج اور شریعت بھی ہیں۔ پس عربی زبان کے لحاظ سے وہ قواعد جو انسان کو اخلاقی طور پر نہ جسمانی طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیں۔ ان کا نام مذہب ہے۔ اب رہا یہ کہ وہ قواعد کہاں پہنچاتے ہیں؟ اس کی نسبت سب مذاہب متفق ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ہستی ہے جس تک پہنچانا مذاہب کا فرض ہے۔ اس کے سوا مذہب کی اور کوئی غرض نہیں۔ مذہب کی غرض تجارت کے قواعد بتانا نہیں کہ جس مذہب کے لوگوں میں تجارت زور شور کی ہو ان کا مذہب سچا سمجھ لیا جائے۔ مذہب کی غرض دولت نہیں کہ جن لوگوں کے پاس مال زیادہ ہو ان کے مذہب کو سچا کہا جائے ۔ مذہب کی غرض حکومت نہیں کہ جن لوگوں کے پاس ملک زیادہ ہوں ان کے مذہب کو درست سمجھ لیا جائے ، بلکہ مذہب کی غرض یہ ہے کہ وہ ایک ایسی سڑک بتا دے جس پر چل کر انسان خدا تعالیٰ تک پہنچ جائے ، پس جو مذہب اس غرض کو پورا کرتا ہے وہ سچا ہے اور جو نہیں پورا کرتا وہ سچا مذہب نہیں ہے ۔

کیا اسلام مذہب کی غرض کو پورا کرتا ہے؟

اب جبکہ ہمیں پتہ لگ گیا کہ مذہب کی غرض یہ ہے ، تو ہم دیکھتے ہیں کہ کیا اسلام کی صداقت اس سے ثابت ہوتی ہے اور کیا اسلام کوئی ایسا رستہ پیش کرتا ہے جس پر چل کر اللہ تعالیٰ تک پہنچ جائیں؟ یا ایسی تعلیم دیتا ہے کہ جو دل کو تو بھاتی اور اچھی لگتی ہو مگر خدا تعالیٰ تک نہ پہنچاتی ہو؟ اگر اسلام کی تعلیم خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچاتی تو خواہ اس کی صداقت کی کیسی ہی دلیلیں کیوں نہ دی جائیں ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہاں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اسلام انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچا دیتا ہے تو ہر ایک عقلمند اور سمجھدار انسان کو ماننا پڑے گا کہ اسلام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور سچا مذہب ہے ۔

ہر ایک مذہب میں کچھ نہ کچھ خوبیاں پائی جاتی ہیں

اس اصل کے بعد میں تمہیدی طور پر ایک اور بات بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ کسی مذہب کے سچا ثابت کرنے سے یہ نہیں ثابت ہو جاتا کہ باقی مذاہب بالکل بیہودہ اور ان کی ساری کی ساری تعلیم لغو ہے ۔ ہمارے ملک میں بہت بڑا فساد اسی وجہ سے برپا ہوتا ہے کہ ہر مذہب کے لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ صرف ہمارا ہی مذہب سچا ہے اور باقی تمام مذاہب سرتا پا جھوٹے ہیں۔ لیکن جن لوگوں نے مذاہب کا مطالعہ کیا ہے وہ خوب سمجھتے ہیں کہ دُنیا میں کوئی مذہب ایسا نہیں جس میں کوئی بھی خوبی نہ ہو ۔ اگر یہ بات ہے کہ کسی مذہب کی ہر ایک بات جھوٹی اور لغو ہے اور اس میں کوئی بھی خوبی ایسی نہیں ہے جو انسان کے دل کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ اور عقلمند لوگ اس پر چل رہے ہیں۔ اصل بات یہی ہے کہ ہر ایک مذہب میں کچھ نہ کچھ خوبیاں پائی جاتی ہیں ۔ پس کسی مذہب کو سچا ثابت کرنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ باقی کسی مذہب میں کوئی خوبی نہیں۔ بلکہ یہ ہیں کہ وہ کون سا مذہب ہے جس میں سب سے زیادہ خوبیاں پائی جاتی ہیں ۔ ورنہ یوں تو کوئی مذہب ایسا نہیں ہے جس میں قطعاً کوئی خوبی نہ پائی جاتی ہو ۔ خواہ کوئی کتنا ہی ابتدائی مذہب ہو

اس میں بھی ضرور کوئی نہ کوئی خوبی ہو گی۔ آسٹریلیا کے لوگوں کا مذہب یا امریکہ کے بعض علاقوں کے لوگوں کے مذہب کو بہت ابتدائی سمجھا جاتا ہے ان میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ خوبیاں ہیں مثلاً یہ کہ کسی سے بدی نہ کرو، شراب نہ پیئو، بھائیوں سے محبت کرو، مخلوق سے نرمی کے ساتھ پیش آؤ، صدقہ دو۔ پس جب ان مذاہب میں بھی ایسی تعلیم پائی جاتی ہے تو جن مذاہب کو متمدن لوگ مانتے ہیں ان کے متعلق یہ کہنا کہ ان میں کوئی خوبی نہیں اس سے بڑھ کر اور کیا نادانی ہو سکتی ہے۔

پس کسی مذہب کی صداقت پر غور کرنے سے پہلے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک مذہب میں کچھ نہ کچھ خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ ہاں دیکھنا یہ چاہئے کہ سب سے زیادہ خوبیاں کون سے مذہب میں پائی جاتی ہیں۔ بعض مذاہب والے کہتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں لکھا ہے کہ کسی پر ظلم نہ کرو۔ اس لئے ہمارا مذہب سچا ہے۔ ہم کہتے ہیں کوئی ایسا مذہب تو دکھاؤ جس نے کہا ہو کہ ظلم کرو۔ اسی طرح بعض مذاہب والے کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں لکھا ہے لوگوں سے محبت کرو۔ ہم کہتے ہیں یہ خوبی ہے مگر سوال یہ ہے کہ وہ کون سا مذہب ہے جس میں لکھا ہے کہ لوگوں سے عداوت کرو۔ اگر کوئی نہیں تو پھر کس طرح مان لیں کہ صرف تمہارا ہی مذہب سچا ہے۔ پھر کوئی کہے کہ ہمارے مذہب میں لکھا ہے کہ صدقہ کرو اس سے ثابت ہوا کہ ہمارا مذہب سچا ہے۔ ہم کہیں گے کہ وہ کون سا مذہب ہے جو کہتا ہے کہ کبھی صدقہ نہ کرو۔ سارے کے سارے مذاہب ایسے ہیں جو یہی تعلیم دیتے ہیں پھر صرف تمہارے مذہب کو کیونکر سچا مان لیا جائے۔

کسی مذہب کی سچائی کس طرح ثابت ہو سکتی ہے؟

کسی مذہب کے سچا ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس میں چند اخلاقی باتیں دکھا دی جائیں کیونکہ اس لحاظ سے تو تمام کے تمام مذاہب قریباً یکساں ہیں۔ پس اگر کسی مذہب کی سچائی ثابت ہو سکتی ہے تو اسی طرح کہ اس میں ایسی تعلیم دی گئی ہو جس سے خُدا تعالیٰ تک انسان پہنچ سکتا ہو اور خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہو جاتی ہو اور یہ تعلیم اپنی تفصیلات میں بھی صحیح اور درست ہو۔ یوں تو بعض مذاہب ایسے ہیں کہ وہ اُصول کے رنگ میں اچھی تعلیم کے ساتھ متفق ہیں لیکن ان کی فروعـات اور تفصیلات میں جا کر بڑا فرق پڑ جاتا ہے اور ان کی تعلیم صحیح اور درست نہیں ثابت ہو سکتی۔


اسلام خداتعالیٰ سے بندہ کا تعلق قائم کرتا ہے

اس بات کو مدّنظر رکھ کر ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام خداتعالیٰ سے بندہ کا تعلق جوڑتا ہے یا نہیں۔ اگر جوڑتا ہے تو پھر اس بات کے ماننے میں کسی قسم کا شبہ نہیں رہ جاتا کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے کہ جس کے ذریعہ انسان کو نجات حاصل ہو سکتی ہے۔ اس کے متعلق قرآن کریم کا دعویٰ ہے اور قرآن علی الاعلان کہتا ہے کہ جو شخص مجھ پر عمل کرتا ہے میں خداتعالیٰ سے اس کی اتنی محبت بڑھا دیتا ہوں کہ اور کسی ذریعہ سے اتنی محبت حاصل ہونی ممکن ہی نہیں۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِیۡثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ ٭ۖ تَقۡشَعِرُّ مِنۡہُ جُلُوۡدُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ ۚ ثُمَّ تَلِیۡنُ جُلُوۡدُہُمۡ وَقُلُوۡبُہُمۡ اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَمَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ(الزمر: ۲۴) خداتعالیٰ فرماتا ہے۔ ہم نے قرآن ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں بہتر سے بہتر تعلیم دی گئی ہے۔ یہ نہیں کہ صرف اس کے اندر اچھی تعلیم ہے اور باقی سب میں بری۔ بلکہ یہ کہ اس کے اندر سب سے اعلیٰ اور اچھی تعلیم دی گئی ہے۔ یہاں خداتعالیٰ نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ دوسرے مذاہب کی کتابوں میں اچھی تعلیم نہیں بلکہ یہ فرمایا ہے کہ یہ تعلیم بہتر سے بہتر ہے۔ گویا اس کی کوئی بات کسی دوسری بات کے خلاف نہیں۔ بلکہ ہر ایک بات ایک دوسری کی تصدیق اور تائید کرتی ہے۔ اور اس کی تفصیلات میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ وہ ایک ایسی اصل پر قائم ہیں کہ اس سے ادھر اُدھر نہیں ہوتیں۔ پھر وہ ایسی تعلیم ہے کہ مَثَانِیْ یعنی بار بار دہرائی جاتی ہے۔ گویا اس میں ایسی روحانی طاقت اور قوت ہے کہ انسان کو بار بار پڑھنے پر مجبور کرتی ہے اور اس کے اندر ایسی کشش ہے کہ جو سُنتا ہے اسے اپنی طرف کھینچ لیتی ہے جس طرح جب کوئی اپنے محبوب کی آواز ایک بار سُنتا ہے۔ وہ پھر سُنتا ہے تو چاہتا ہے کہ پھر سنوں۔ اسی طرح قرآن کی آواز جو سنتا ہے وہ پھر سنتا ہے۔ اور پھر سُنتا ہے۔ اسی طرح اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ چونکہ قرآن کی تعلیم ہر زمانہ اور ہر صدی کے لئے ضروری ہے اس لئے ہر زمانہ میں دہرائی جاتی ہے اور تازہ کی جاتی ہے مٹائی نہیں جاتی۔ پھر اس کی خوبی یہ ہے کہ تَقۡشَعِرُّ مِنۡہُ جُلُوۡدُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ(39:24) اس سے جِلدوں پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے جلال، اس کی قوت، اس کی شان، اس کی شوکت کا بیان اس میں ایسا صاف صاف ہے کہ جب کوئی پڑھتا ہے تو خواہ دین سے کتنا ہی دُور ہو خدا کے خوف سے اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر تَلِیۡنُ جُلُوۡدُہُمۡ وَقُلُوۡبُہُمۡ اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ(39:24) ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ(6:89) صرف خوف اور ڈر تو ڈراؤنی چیزوں سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس سے صرف خوف نہیں پیدا ہوتا بلکہ اس کے ساتھ ہی محبت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ خوف دو قسم کی چیزوں سے پیدا ہوا کرتا ہے۔ ایک ایسی چیزوں سے جو ڈراؤنی ہوں اور دوسری وہ جو شان و شوکت والی ہوں۔ لیکن ڈراؤنی چیزوں سے صرف خوف پیدا ہوتا ہے۔ بلکہ چونکہ یہ شان والی ہے اس لئے اس کی عظمت اور شان کی وجہ سے اس کا خوف پیدا ہوتا ہے جس کے ساتھ محبت بھی ہوتی ہے چنانچہ فرماتا ہے ان کی جلدیں محبت سے نرم ہو جاتی ہیں۔ تو قرآن یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس میں سب سے بہتر تعلیم ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے وہی مذہب سچا ہو سکتا ہے جو یہ کہے کہ میں سب سے بہتر تعلیم پیش کرتا ہوں۔ نہ وہ جو یہ کہے کہ اور کسی مذہب میں کوئی سچائی ہی نہیں۔ پھر وہ مذہب سچا ہو سکتا ہے جو ایسی تعلیم دے جس پر چل کر انسان خدا تعالیٰ تک پہنچ جائے اور قرآن دعویٰ کرتا ہے کہ میرے اندر وہ رستہ موجود ہے جس پر چل کر انسان خدا تک پہنچ جاتا ہے۔

اب ہم قرآن کے اس دعویٰ پر نظر کرتے ہیں کہ آیا یہ ٹھیک ہے کہ قرآن خدا تعالیٰ سے انسان کا تعلق پیدا کر دیتا ہے۔ مگر اس مسئلہ کے دیکھنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ سے انسان کا جو تعلق ہوتا ہے وہ کس طرح ہوتا ہے۔ کسی چیز کے اچھا ہونے کا سائنٹیفک ذریعہ سے اس طرح ثبوت مل سکتا ہے کہ اس کے لئے طریق کیا بتایا گیا ہے۔ اگر وہ طریق صحیح ہو تو خواہ اس کو ماننے کا دعویٰ کرنے والوں کی حالت کیسی ہی ہو اس سے اس مذہب پر کوئی الزام نہیں آسکتا۔ بلکہ یہی کہا جائے گا کہ انہوں نے اس طریق پر عمل نہیں کیا۔ مثلاً کوئی شخص جیل خانہ میں جائے اور وہاں ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کو دیکھے اور کہے کہ سب کے مذاہب جھوٹے ہیں کیونکہ اگر سچا مذہب رکھتے ہوتے تو جیل خانہ میں نہ پڑے ہوتے۔ تو یہ درست نہیں ہوگا کیونکہ انہوں نے اپنے اپنے مذہب کے خلاف کیا تب جیل خانہ میں ڈالے گئے۔ اگر اپنے اپنے مذہب کے احکام کی پابندی کرتے تو ایسا نہ ہوتا۔ پس کسی مذہب کو سچا معلوم کرنے کے لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ آیا اس نے ایسے اصول بتائے ہیں یا نہیں جن کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر بتائے ہوں لیکن اس مذہب کے ماننے والے ایسے لوگ نظر آئیں جن کا خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں ہے تو یہی کہا جائے گا کہ ان کا اپنا قصور ہے نہ کہ اس مذہب میں نقص ہے۔ جیسے کونین تپ میں فائدہ دیتی ہے لیکن اگر کوئی کونین کو ہاتھ میں دبائے رکھے یا جیب میں ڈالے رکھے اور کہے کہ مجھے اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوا تو اسے کہا جائے گا کہ کھانے سے فائدہ ہوا کرتا ہے نہ کہ ہاتھ میں پکڑنے یا جیب میں ڈالے رکھنے سے۔ اسی طرح مذہب کا فائدہ بھی اسی کو ہوسکتا ہے جو اس پر عمل کرے نہ کہ صرف منہ سے اس کے ماننے کا دعویٰ کرے۔

خدا تعالیٰ سے تعلق کن ذرائع سے پیدا ہوسکتا ہے؟

اب اس بات کو مدّنظر رکھ کر ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے تعلق کن ذرائع سے پیدا ہو سکتا ہے۔ دنیا میں کسی سے تعلق پیدا ہونے کے دو طریق ہیں تعلق یا تو محبت سے پیدا ہوتا ہے یا خوف سے۔ اب ہم اسلام کی تعلیم پر غور کر کے دیکھیں گے کہ آیا اسلام نے ایسی تعلیم دی ہے کہ جس سے خدا تعالیٰ سے کمال درجہ کی محبت اور خوف پیدا ہوتا ہے یا نہیں اگر دی ہے تو ثابت ہو گیا کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جو خدا تعالیٰ سے ملانے کا صحیح رستہ بتاتا ہے گو دوسرے مذاہب میں بھی خوبیاں ہیں اور اگر یہ ثابت نہ ہو تو پھر ماننا پڑے گا کہ اسلام کے سوا کسی اور مذہب کی تلاش کرنی چاہئے۔

قرآن شریف میں ان ذرائع سے کس طرح کام لیا گیا ہے؟

اس کے لئے میں قرآنِ کریم کی تفصیلات کو چھوڑ کر سورۃ فاتحہ کو لیتا ہوں۔ جو پہلی سورۃ ہے اور جس میں صرف سات آیتیں ہیں دُنیا کے تمام فلسفے اس بات پر متفق ہیں کہ تعلق قائم رکھنے کے لئے پہلے محبت سے کام لینا چاہئے اور پھر خوف سے۔ مثلاً۔ بچہ کو صبح پڑھنے بھیجنے کے لئے پہلے محبت سے کہا جائے گا بیٹا پڑھنے جاؤ یہ نہیں کہ اُٹھتے ہی اس کے منہ پر تھپڑ مار دیں۔ اور اگر نہ مانے تو کہیں گے لو یہ مٹھائی لو اور جاؤ یا آ کر لے لینا۔ اس پر بھی اگر وہ نہ مانے تو پھر ماریں گے۔ گویا پہلے محبت سے بھیجا جائے گا اور پھر خوف سے۔ اب ہم یہ دیکھیں گے کہ قرآن نے اسی طبعی طریقہ کو خدا تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے کے لئے برتا ہے یا نہیں۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سورۃ کو شروع ہی اَلْحَمْدُ سے کیا گیا ہے جس میں محبت کا ذکر ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اصل جو ایک مدت کی تحقیقات کے بعد ثابت کیا گیا ہے اسے قرآن نے بہت عرصہ قبل بیان کر دیا ہے۔ پھر تعلق دو وجہ سے ہوا کرتا ہے۔ یا تو اس طرح کہ کوئی چیز اپنی ذات میں پیاری لگتی ہے یا اس سے فائدے پہنچتے ہیں۔ جیسا کہ انگریزی دانوں میں محاورہ ہے کہ نیکی کو نیکی کی خاطر قبول کرنا چاہئے۔ ان دونوں اصول کے متعلق دیکھتے ہیں کہ قرآن کیا کہتا ہے۔

سورۃ فاتحہ کی لطیف تفسیر

سورہ فاتحہ میں ان دونوں باتوں کو لیا گیا ہے اور اس میں ایسے اصول بیان کئے گئے ہیں کہ ممکن نہیں اگر انسان ان پر عمل کرے تو خدا تعالیٰ سے اس کا تعلق نہ پیدا ہو۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ(1:2) سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔ اللہ نام ہے خدا کا اور اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہستی جس میں کوئی نقص نہیں اور تمام خوبیوں کی جامع ہے۔ دُنیا میں لوگ ایسی چیزوں سے محبت کرتے ہیں جو سب خوبیوں سے متصف نہیں ہوتیں اور ایسی نہیں ہوتیں کہ ان میں کسی قسم کا نقص نہ پایا جاتا ہو مثلاً عورتوں پر عاشق ہوتے ہیں لیکن یہ نہیں ہوتا کہ جس عورت پر کوئی عاشق ہوتا ہے وہ دُنیا کے سارے حُسن کی جامع ہوتی ہے۔ قصہ مشہور ہے کہ لیلیٰ کو دیکھ کر کسی نے مجنوں کو کہا تھا کہ وہ تو کوئی خوبصورت نہیں تم کیوں عاشق ہو؟ مجنوں نے کہا لیلیٰ کو میری آنکھ سے دیکھنا چاہئے ۔ اسی لئے کہا جاتا ہے۔ لیلیٰ را بچشم مجنوں باید دید۔ تو کوئی عورت ایسی نہیں ہوسکتی جو تمام حسن کی جامع ہو اور نہ ہی کوئی اور چیز ایسی ہو سکتی ہے جس میں کوئی نقص نہ پایا جاتا ہو۔ مگر خدا ایسا ہے کہ تمام خوبیوں کا جامع ہے اور تمام نقصوں سے پاک ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ ہی وہ ہستی ہے جو تمام خوبیوں کی جامع ہے۔ ہم چاند کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور خوش نما پہاڑوں کو دیکھ کر مسرت حاصل کرتے ہیں مگر اس لئے نہیں کہ وہ ہمیں کچھ دیتے ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ اپنی ذات میں اچھے لگتے ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ(1:2)۔ اے انسان اگر تو ان لوگوں میں سے ہے جو چیز کی ذاتی خوبی کی وجہ سے اس سے محبت کرتے ہیں تو آئیں تجھے بتاؤں کہ اسلام وہ خدا دکھاتا ہے جو تمام نقصوں سے پاک اور تمام خوبیوں کا جامع ہے۔ لیکن چونکہ تمام فطرتیں ایسی نہیں ہوتیں کہ صرف یہ جان کر کسی چیز سے محبت کریں کہ وہ اپنی ذات میں اچھی ہے بلکہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہمیں فائدہ بھی پہنچائے گو یہ گری ہوئی فطرت کے انسان ہوتے ہیں ان کے متعلق فرماتا ہے۔ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(1:2) اگر تم یہ چاہتے ہو کہ وہ اپنے حُسن کے علاوہ تم پر احسان بھی کرے۔ تو آؤ تمہیں بتائیں خدا وہ ہے کہ جو تمہیں پیدا کرتا اور پھر ادنیٰ اور گری ہوئی حالت سے ترقی دے کر اعلیٰ درجہ پر پہنچاتا ہے مثلاً انسان کے جسم کا کوئی حصہ گیہوں سے بنا ہے کوئی چنے سے کوئی جَو سے یا اور وہ چیزیں جو انسان کھاتا ہے ان سے ایک مادہ بنتا ہے اور اس کا آگے انسان تیار ہو کر صفحہ دنیا پر آجاتا اور بڑے بڑے کام کرتا ہے۔ یہ سب خدا تعالیٰ کی ربوبیت کے ہی کھیل ہیں۔ تو فرمایا۔ اللہ تمہارا رب اور تمہارا محسن ہے۔ پھر ایک دُو کا نہیں بلکہ رب العالمین سب کا ہے۔ خواہ کوئی یورپ کا رہنے والا ہو یا افریقہ کا یا امریکہ کا۔

پھر کسی مذہب کا ہو وہ سب کا رب ہے۔ حتیٰ کہ حیوانوں اور پرندوں کا بھی رب ہے۔ حیوانوں کے متعلق خدا تعالیٰ کی ربوبیت کو اگر دیکھا جائے تو عجیب نظارہ نظر آتا ہے۔ دیکھو انسان بیلوں سے ہل چلاتا ہے اور کھیت بوتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں اگر انسان کو کھیت میں سے صرف دانے ہی حاصل ہوتے تو وہ بیلوں وغیرہ کو کھانے کے لئے غلہ نہ دیتا اس لئے دانوں کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے توڑی رکھ دی ہے کہ یہ ان کا حصہ ہے جو انسان کے ساتھ کام کرنے والے تھے۔ تو خدا تعالیٰ نے ہر ایک مخلوق کا حصہ رکھا ہوا ہے اور اس کو رزق پہنچاتا ہے۔ حتیٰ کہ ایسی جگہ جہاں انسان کے خیال میں بھی نہیں آ سکتا کہ کس طرح رزق پہنچ سکتا ہے۔ یعنی زمین کے نیچے یا سمندر کے اندر وہاں بھی جو مخلوق ہے اس کے لئے خدا تعالیٰ نے وہیں خوراک رکھی ہوئی ہے۔ تو فرمایا اللہ ایسا ہے جو تمام کے تمام جانداروں پر احسان کرنے والا ہے۔ پھر احسان تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو زمانہ ماضی میں کیا گیا ہو۔ دوسرا وہ جو زمانہ حال میں کیا جائے۔ تیسرا وہ جو زمانہ آئندہ میں کیا جانے والا ہو۔ اور دُنیا میں کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی قدیم احسان کا خاص لحاظ کرتے ہیں۔ کئی ایسے ہوتے ہیں جو حال کے احسان کی قدر کرتے ہیں اور کئی ایسے ہوتے ہیں کہ آئندہ ہونے والے احسان کو بڑا سمجھتے ہیں۔ یہاں خدا تعالیٰ نے ان تینوں قسم کے لوگوں کے متعلق فرمایا۔ خدا رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ہے۔ یعنی فطرتیں جو زمانہ ماضی کے احسان کو یاد رکھنے والی ہیں ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان پر وہی خدا احسان کر رہا ہے۔ اور جو آئندہ کے احسان کا خیال رکھتی ہیں انکو بھی معلوم ہونا چاہئے کہ ان پر بھی خدا ہی احسان کرے گا۔ اس لئے وہی ایک ایسی ذات ہے جس سے محبت کرنی چاہئے۔

پھر جب خدا تعالیٰ کی ربوبیت کے ماتحت انسان کی تکمیل ہو جاتی ہے اور وہ کام کرنے کے قابل ہو جاتا ہے تو جس طرح ماں باپ جوان بچہ کو کام پر لگانے کے لئے اس کو سامان مہیا کر دیتے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ بھی کرتا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے کہ جب انسان کام کرنے کے قابل ہو جاتا ہے تو اس وقت یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ محض اپنے فضل سے بغیر اس کی محنت اور کوشش کے کام کرنے کے اسباب عطا کرتا ہے۔ اس بات سے اسلام کی دوسرے مذاہب پر بہت بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ بعض مذاہب والے ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ نجات صرف ہمارے ہی مذہب میں ہے مگر کوئی اور اس میں داخل نہیں ہو سکتا۔ لیکن قرآن شریف ایسا نہیں کہتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ خدا تمام لوگوں کا رب ہے اور اس نے جو مذہب لوگوں کے نجات پانے کے لئے بھیجا ہے اس کا دروازہ ہر ایک کے لئے کُھلا ہے پھر اسلام اس خدا کو پیش کرتا ہے جو رحمانیت کی صفت بھی رکھتا ہے۔ یعنی وہ صرف ربوبیت ہی نہیں کرتا بلکہ اپنے فضل سے لوگوں کو ایسے سامان بھی عطا کرتا ہے جن کے حصول میں انکے اعمال کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اس میں بعض مذاہب پر اس طرح اسلام کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ وہ کہتے ہیں خدا بغیر عمل کے انسان کو کچھ نہیں دیتا۔ حالانکہ یہ بات تجربہ اور مشاہدہ بلکہ نیچر کے بالکل خلاف ہے۔ کیونکہ سورج، زمین، پانی، ہوا ایسی چیزیں ہیں جن کے بغیر کوئی انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ اب اگر بغیر عمل کے خدا انسان کو کچھ نہ دیتا تو ان کو بھی پیدا نہ کرتا۔ مگر اس نے پیدا کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ بغیر عمل کے بھی دیتا ہے اور اگر ان چیزوں کو عمل کا نتیجہ مانا جائے تو یہ کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ انسان عمل تو تب کر سکتے جب کہ زندہ ہوتے اور زندہ ہوا کے بغیر رہ نہیں سکتے۔ پس ثابت ہوا کہ انسانوں کو ہوا پہلے ملی پھر انہوں نے کوئی عمل کیا۔ اسی طرح کھانا ہے۔ اگر کھانا انسان کے عمل کرنے سے پہلے نہ ہوتا تو وہ زندہ نہ رہ سکتا اور جب زندہ نہ رہ سکتا تو عمل بھی نہ کر سکتا۔ پس اسلام کی تعلیم کے مطابق خدا تعالیٰ رحمن ہے۔ یعنی بغیر محنت کے دیتا ہے اور بے حد دیتا ہے۔ دیکھو ہوا جو انسان کو مفت اور بغیر اس کی محنت اور مشقت کے ملتی ہے ایسی ہے کہ اس کی کوئی حد بندی نہیں ہو سکتی اور ہر ایک کو مل جاتی ہے۔ اسی طرح پانی ہے یہ بھی بیحد ہے۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کی زندگی کے قیام کے لئے جس قدر کسی چیز کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اس قدر وہ آسانی سے حاصل ہوتی ہے۔ مثلاً کھانا ہے یہ اگر انسان کو نہ ملے تو ایک حد تک صبر کر سکتا ہے۔ لیکن پانی نہ ملنے پر اس سے کم اور ہوا نہ ملنے پر اس سے بھی کم عرصہ زندہ رہ سکتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے کھانا مہیا کرنے کے لئے جس قدر محنت اور کوشش رکھی ہے پانی مہیا کرنے کے لئے اس سے کم اور ہوا حاصل کرنے کے لئے اس سے بھی کم رکھی ہے۔ تو ان چیزوں کی انسان کو جتنی جتنی ضرورت ہے خدا تعالیٰ نے ان کا حصول اتنا ہی آسان بنایا ہے۔ پانی کے بغیر تو انسان کچھ عرصہ صبر کر سکتا ہے مگر ہوا کے بغیر ذرا بھی نہیں کر سکتا اس لئے خدا تعالیٰ نے ہوا کے لئے کچھ بھی قیمت نہیں رکھی۔ پس یہ اس کی رحمانیت کا ثبوت ہے۔ اور قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ رحمن ہے۔ پھر اسلام کہتا ہے یہیں خدا کی صفات کا خاتمہ نہیں ہو جاتا بلکہ اس سے آگے خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ جب کوئی انسان کام کرتا ہے تو خدا تعالیٰ یہ نہیں کہتا کہ چونکہ اس نے میرے ہی دیئے ہوئے ذرائع سے کام کیا ہے اس لئے میں اسے اس کے کام کا کوئی بدلہ نہیں دوں گا بلکہ پہلے کی نسبت اور زیادہ ان ذرائع کو بڑھا دیتا ہے۔ دیکھو جو انسان خدا تعالیٰ کے دیئے ہوئے ہاتھ سے کام لے اس کا ہاتھ اور زیادہ طاقتور ہو جاتا ہے۔ اور جو خدا تعالیٰ کے عطا کردہ دماغ سے کام لیتا ہے اس کا دماغ اور زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ علوم پڑھتے ہیں ان کی نسلیں بہ نسبت ان لوگوں کی نسلوں کے جو علوم سے بے بہرہ ہوتے ہیں بہت جلدی علوم میں ترقی کر لیتی ہیں۔ ہندوستان میں ہی دیکھ لو مسلمانوں اور ہندوؤں کے بچے چوڑے چماروں یا اور ایسی قوموں کے بچوں سے جن میں علم نہیں آسانی سے علوم حاصل کر لیتے ہیں۔ تو اسلام بتاتا ہے کہ خدا وہ خدا ہے کہ جب انسان اس کے دیئے ہوئے سامانوں سے خواہ وہ سامان جسمانی ہوں یا روحانی کام لیتا ہے تو خدا تعالیٰ ان کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے اور بڑھ چڑھ کر فائدہ پہنچاتا ہے۔

اسلام کا خدا وہ ہے کہ جس کی اور بھی صفات ہیں۔ بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو حسن اور احسان سے بات نہیں مانتے بلکہ خوف اور ڈر کی وجہ سے مانتے ہیں اس لئے اسلام نے ساتھ ہی بتا دیا کہ ہم یہی نہیں کہتے کہ خدا تعالیٰ سے اس لئے تعلق پیدا کرو کہ وہ محبت کرنے والا ہے اور تمام خوبیوں کا جامع ہے اور تم پر بڑے بڑے احسان کرتا ہے بلکہ اگر تم باوجود اس کے احسانوں کے اس کے احکام پر عمل نہ کرو گے تو وہ تمہیں سزا دے گا۔ کیونکہ وہ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ(1:4) ہے۔ دیکھو جو لوگ دُنیا میں ظاہری اسباب سے کام نہیں لیتے وہ ذلیل اور رسوا ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی تعلیم پر عمل نہیں کرتے وہ بھی تباہ اور برباد ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ(1:4) ہے۔ پس دنیا میں جو لوگ محبت سے ماننے والے ہیں وہ تو خدا تعالیٰ کے احکام کو اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ(1:2-3) کے ماتحت مانیں گے۔ اور جو سزا کے خوف اور ڈر سے ماننے والے ہیں وہ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ(1:4) کے ماتحت مانیں گے۔ کیونکہ وہ سمجھیں گے کہ اگر ہم خدا تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کریں گے تو وہ ہمیں سزا دیگا۔

یہ اسلام کی خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے لئے اُصولی تعلیم ہے۔ اس کو اگر تفصیل سے دیکھا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کو دوسرے تمام مذاہب پر بہت بڑی فضیلت حاصل ہے۔ مگر خدا تعالیٰ سے تعلق یہی نہیں ہوتا کہ انسان خدا سے محبت کرے بلکہ اس کا لازمی نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ خدا کی مخلوق کی آپس میں بھی محبت اور اُلفت ہو۔ دیکھو بھائی بھائی جو آپس میں محبت کرتے ہیں وہ کیوں کرتے ہیں اسی لئے کہ ایک ماں باپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی طرح اہلِ ملک آپس میں محبت کرتے ہیں کیوں؟ اسی لئے کہ ایک ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔ پس جب دنیاوی طور پر ایک چیز سے تعلق رکھنے والے آپس میں محبت کرتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ایک خدا سے تعلق رکھنے والوں کی آپس میں محبت نہ ہو۔ کیا خدا تعالیٰ ماں باپ یا ملک سے کم درجہ کا ہے اگر خدا تعالیٰ کا ان سب سے بڑا درجہ ہے تو

کیا وجہ ہے کہ ایک محلہ ، ایک شہر ، ایک ملک اور ایک ماں باپ سے تعلق رکھنے والے تو آپس میں محبت کریں مگر ایک خدا سے محبت اور تعلق رکھنے والے آپس میں محبت نہ کریں۔ ان کی محبت سب سے زیادہ اور سب تعلقات کی نسبت مضبوط ہوتی ہے اور دُنیا میں لوگوں پر ظلم و ستم کرنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں رکھتے ۔ جو لوگ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں وہ اس کے بندوں سے بھی ضرور محبت کرتے ہیں ۔

تو اسلام ہمیں اسی طرف لے جاتا ہے اور کہتا ہے کہ جب کوئی خدا تعالیٰ کی ان صفات کو دیکھتا ہے کہ ایک طرف وہ حسن میں کامل ہے ہر ایک خوبی اس میں پائی جاتی ہے اور وہ اپنے بندوں پر احسان کرتا ہے اور دوسری طرف وہ طاقت اور قوت میں کامل ہے جو اس سے تعلق توڑتا ہے اسے سزا دیتا ہے تو اس کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ وہ خدا کو اپنے سامنے دیکھ لیتا ہے اور اس کے دل میں خدا تعالیٰ کے بندوں کی محبت جوش زن ہو جاتی ہے ۔ اس وقت وہ دنیاوی لحاظ سے اپنے اور دوسرے مذاہب کے لوگوں میں کوئی فرق نہیں پاتا۔ اس وقت وہ یہ نہیں کہتا کہ فلاں چونکہ ہندو ہے یا عیسائی ہے یا سکھ ہے یا اور کسی مذہب کا ہے اس لئے اس کو دُکھ دینا چاہئے ، بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ سب خدا تعالیٰ کی مخلوق ہے اس سے مجھے محبت اور پیار کرنا چاہئے ۔ تو اسلام کہتا ہے کہ جب کوئی انسان اس درجہ پر کھڑا ہو جاتا ہے تو یہ کہتا ہے کہ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ(1:5) اے خدا ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں ۔ گویا اس وقت انسان یہ نہیں کہتا کہ میں ایسا کرتا ہوں بلکہ تمام کے تمام بندوں کی طرف سے کہتا ہے کہ میری عبادت ان کی عبادت ہے اور میں اپنے لئے ہی نہیں بلکہ ان سب کے لئے مدد چاہتا ہوں ۔ دنیا میں بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کو زبانی تو کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا مال تمہارا ہی مال ہے ۔ لیکن اگر کوئی ان کے مال سے ایک پیسہ بھی لے تو لڑنے مرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ۔ مگر اسلام کہتا ہے کہ جب انسان کا تعلق خدا تعالیٰ سے ہو جاتا ہے تو اس وقت وہ خدا تعالیٰ کے حضور اپنے آپ کو ہی پیش نہیں کرتا۔ بلکہ یہی کہتا ہے کہ اے خدا ہم سب تیری عبادت کرتے ہیں اور تو ہم سب کی مدد کر اور سب کو انعام دے ۔ پس یہ اسلام کی تعلیم ہے کہ اسلام سب کو اپنا بھائی سمجھنے اور سب کو فائدہ پہنچانے کی تلقین کرتا ہے ۔

یہ تو بندہ کا خُدا سے تعلق پیدا کرنے کا طریق ہے ۔ مگر یہ یک طرفہ بات ہے۔ کامل اور مکمل تعلیم وہ ہو سکتی ہے جو اس امر کا بھی ثبوت پیش کرے کہ خدا تعالیٰ بھی بندہ سے محبت اور پیار کرتا ہے کیونکہ اگر ایک شخص کو خدا تعالیٰ سے ملنے کا تو شوق ہو لیکن خدا تعالیٰ کو اس سے محبت نہ ہو تو پھر کیا فائدہ۔ پس وہ مذہب سچا نہیں ہو سکتا جو صرف بندہ کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کر دے۔ بلکہ سچا مذہب وہی ہو سکتا ہے جو اس بات کا بھی ثبوت پیش کرے کہ خدا تعالیٰ بھی بندہ سے محبت کرتا ہے۔ اس کے متعلق جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں کہ کیا کہتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو بھی بندہ سے محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔ قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ(آل عمران: ۳۲) اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ان لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تمہارے اندر خدا کی محبت ہے تو آؤ میری غلامی میں داخل ہو جاؤ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم خدا کے محبوب بن جاؤ گے۔ یعنی خدا تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگ جائے گا اس سے ظاہر ہے کہ اسلام اسی پر بس نہیں کرتا اور دیگر مذاہب کی طرح یہی نہیں کہتا کہ تمہارے دل میں خدا کی محبت پیدا ہو جائے گی بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگ جائے گا۔ یہ اسلام اور دوسرے مذاہب میں بہت بڑا فرق ہے۔

یہ میں نے پہلے بتایا ہے کہ اپنے مذہب کو اعلیٰ ثابت کرنے کے لئے یہ غلط طریق ہے کہ دوسرے مذاہب کے بزرگوں کو گالیاں دی جائیں اور ان مذاہب کی کسی خوبی کا اعتراف نہ کیا جائے ۔ اگر کسی کے پاس خوبی ہے تو اس کو پیش کرنا چاہئے دوسروں کو گالیاں دینے کا کیا فائدہ۔ کسی کو گالیاں دینے اور مارنے کی ضرورت اسی وقت ہوا کرتی ہے کہ جب اور طریق سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک طاقتور اور زبردست تو سزا دینے کے وقت بھی نرمی اور ڈھیل ہی دیا کرتا ہے۔ دیکھو چوہے بلی کی کتنی ادنیٰ مثال ہے۔ بلی ایک ذلیل سا جانور ہے مگر وہ بھی چوہے کو پکڑتے وقت اپنا وقار دکھاتی ہے۔ پکڑ کر چھوڑ دیتی ہے پھر جب چوہا بھاگنے لگتا ہے تو پھر پکڑ لیتی ہے۔ اسی طرح کئی بار پکڑتی اور چھوڑتی ہے۔ تو طاقتور اور زبردست انسان چھچھورا نہیں ہوتا۔ چھچھورا پن وہی انسان دکھاتا ہے جو اپنی کمزوری کو محسوس کرتا ہے۔ تو یہ کسی کی صداقت اور خوبی کی دلیل نہیں ہے کہ دوسروں کو گالیاں دی جائیں۔ بلکہ صداقت کی دلیل یہ ہے کہ اپنی خوبیاں پیش کی جائیں۔ اگر واقع میں وہ خوبیاں ہوں گی تو ضرور قبول کی جائیں گی۔ ڈنڈے اور زور سے تو کوئی خوبی نہیں منوائی جاتی۔

خدا تعالیٰ کا بندے سے محبت کرنا

پس سارے مذاہب تو یہ کہتے ہیں کہ ہم خدا سے انسان کا تعلق اور واسطہ پیدا کر دیتے ہیں لیکن اسلام میں یہ فضیلت ہے کہ اسلام کہتا ہے کہ میں وہی تعلیم نہیں دیتا جس سے خدا کی محبت تمہارے دل میں پیدا ہوسکتی ہے بلکہ یہ تعلیم بھی دیتا ہوں کہ خدا کو تمہاری محبت پیدا ہوجائے۔ پس اسلام یہی نہیں کہتا کہ تم نیک بن جاؤ ، بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ میری تعلیم پر عمل کر کے تم ایسے بن سکتے ہو کہ خود خُدا تمہیں بلائے اور کہے کہ تم میرے محبوب ہو۔ پھر اسلام یہی نہیں کہتا کہ مرنے کے بعد تمہیں پتہ لگے گا کہ اسلام سچا مذہب ہے بلکہ اسی دُنیا میں ثبوت دیتا ہے کہ تم سیدھے راستہ پر ہو اور وہ اس طرح کہ فرماتا ہے ۔ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ(آل عمران : ۳۲) کہ آؤ اسی دُنیا میں خدا کے محبوب بن جاؤ ۔ محبوب کے یہ معنی ہیں کہ اگر اس کو کوئی تکلیف ہو تو محب اس کی مدد کرے اور اس سے کلام کر کے اُسے تسلی دے ۔ اس کو کوئی شخص اپنا محب نہیں سمجھ سکتا جو یہ کہے کہ مجھے فلاں سے محبت ہے اور فلاں میرا محبوب ہے لیکن جب اسے کوئی تکلیف پہنچے تو اس کی کوئی مدد نہ کرے ۔ تو خدا تعالیٰ کے محبوب ہونے کے یہ معنی ہیں کہ جب وہ دُکھ اور تکلیف میں ہو تو خدا اس کی مدد کرے اور اس سے کلام کرے۔

اسلام میں خدا سے کلام کرنے کا دروازہ کُھلا ہے

اس کے ماتحت جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کے کلام کرنے کا دروازہ کھلا بتاتا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے ۔ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ(سورہ فاتحہ) کہ اے مومنو! تم ہمیشہ یہ دُعا کیا کرو کہ اے خدا ہمیں سیدھا رستہ دکھا۔ یعنی وہ رستہ جس پر چل کر پہلے لوگ خدا تک پہنچے ہیں اور خدا تعالیٰ انہیں یقین دلاتا رہا ہے کہ تم مجھ تک پہنچ گئے ہو۔

اسلام کی دیگر مذاہب پر فضیلت

یہ بَین فرق ہے اسلام اور دیگر مذاہب میں ۔ اخلاقی تعلیم میں مذاہب کا آپس میں کوئی بڑا فرق نہیں ہے ۔ ہر ایک مذہب بُرے کام کرنے سے روکتا اور اچھے کام کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ لیکن اسلام کہتا ہے کہ اسی دُنیا میں تم کو معلوم ہوجائے گا کہ تم خدا کے مقرب اور محبوب بن گئے ہو۔ چنانچہ اس کا ثبوت اسلام میں ملتا ہے۔ کیونکہ ہر زمانہ میں ایسے لوگ آتے رہے ہیں جنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کو انہوں نے دیکھا اور خدا ان سے کلام کرتا ہے۔ چنانچہ حضرت معین الدین چشتیؒ ، حضرت محی الدین ابن عربیؒ ، حضرت جنید بغدادیؒ اور اور بہت سے بزرگ اسلام میں ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنے دل میں خدا کی محبت پیدا کی اور خدا تعالیٰ نے بھی ان سے محبت کی اور انہیں اپنی محبت کا جبہ پہنایا ان کی ہر تکلیف کو اس نے خود دُور کیا اور ہر مُشکل وقت میں انکی مدد کی۔

ہمارے زمانہ میں خدا کا ایک محبوب

پس اسلام میں بہت سے ایسے بزرگ ہوئے ہیں جو خدا تعالیٰ کے محبوب تھے۔ اور اس زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ کا ایک خاص محبوب گزرا ہے۔ خدا تعالیٰ نے اس زمانہ کے مفاسد کو دیکھ کر اور خدا تعالیٰ سے لوگوں کا بُعد اور بے رُخی پا کر ایک انسان بھیجا جس نے اسلام کی خدمت کی اور اسلام کی سچائی ثابت کی۔ یہ وہ زمانہ تھا جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو بد سے بدتر قرار دیا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ سو سال تک دُنیا سے مٹ جائے گی۔ اس وقت خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آئی اور اس نے کہا کون ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو مٹا سکے۔ پس ایسے زمانہ میں جبکہ اسلام غریب ہو چکا تھا اور ایسے وقت میں جبکہ اسلام بلحاظ تعلیم یا بلحاظ اس کے کہ سائنس اور علوم کی ترقی کی وجہ سے اس پر نئے نئے اعتراض کئے جاتے تھے اور کہا جاتا تھا کہ قرآن میں ایسی باتیں درج ہیں جو خلافِ عقل ہیں پھر جو علم نکلتا اسلام پر حملہ آور ہوتا۔ ڈاروئن تھیوری نکلی تو اس کے ذریعہ اسلام پر حملے کئے گئے۔ جیالوجی کے رو سے اسلام کو ہدفِ اعتراضات بنایا گیا۔ اسٹرانومی کے ذریعہ اسلام میں نقص نکالے گئے۔ غرض ہر علم کی تحقیقات کا یہی نتیجہ بتایا گیا کہ اسلام نقصوں اور غلطیوں سے پُر ہے اور کسی علم کے مقابلہ پر ٹھہر نہیں سکتا۔ اس وجہ سے صاف طور پر کہہ دیا گیا کہ مسلمان جوں جوں علوم سے واقف ہوتے جائیں گے خود بخود اسلام کو چھوڑ دیں گے اور یہ خیال ایسا وسیع ہوا کہ مسلمان کہلانے والوں میں سے ایسے لوگ پیدا ہو گئے جنہوں نے کہہ دیا کہ اسلام کی اصلاح ہونی چاہئے اور زمانہ حال کے مطابق اس کی تعلیم کو بنانا چاہئے۔ جب یہ حالت ہو گئی تب وہ خدا جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا تھا کہ تُو میرا ایسا پیارا اور محبوب ہے کہ تیرے غلام بھی میرے محبوب ہو جائیں گے۔ اس خدا کی غیرت جوش میں آئی اور اس کی محبت فوارے کی طرح پھوٹی۔ اس نے اسلام کی عزت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو ثابت کرنے کے لئے ایک ایسے انسان کو کھڑا کر دیا جو کیا بلحاظ شان و شوکت اور کیا بلحاظ مال و دولت اور کیا بلحاظ شہرت و عزت دنیا میں کوئی حقیقت نہ رکھتا تھا اور کہا کہ مَیں اس کے ذریعہ اس زمانہ میں اسلام کو قائم کروں گا اور دُنیا میں پھیلا دوں گا۔ پس خدا تعالیٰ نے ایسے نازک اور پُرخطر زمانہ میں اسلام کی صداقت ثابت کرنے کے لئے ایک دروازہ کھولا اور قادیان سے اس شخص کو چُنا اور اسے کہا کہ چونکہ تُو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا جُوا اپنی گردن میں پوری طرح ڈالا ہے اس لئے مَیں تجھے اسلام کی خدمت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے لئے کھڑا کرتا ہوں۔


حضرت مرزا صاحب کی بعثت سے اسلام کی صداقت کا ثبوت

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح معلوم ہو کہ اس شخص کو خدا تعالیٰ سے محبت تھی اور خدا تعالیٰ کو اس سے محبت تھی اور اس کا کھڑا ہونا کس طرح اسلام کی صداقت کا ثبوت ہے؟ دوسرے مذاہب والوں کا حق ہے کہ ہم سے یہ سوال پوچھیں کہ یہ کس طرح ثابت ہوا کہ اس شخص کا کھڑا ہونا اسلام کی صداقت کا ثبوت ہے؟ کیوں نہ کہا جائے کہ چونکہ تم کو اسلام سے محبت ہے اس لئے تم نے یہ ڈھکوسلا بنا لیا ہے۔ اس کے لیے جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے کہ جو خدا تعالیٰ کا پیارا اور محبوب ہوتا ہے خدا تعالیٰ کی تائید اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس کے مطابق دیکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی تائید اس کے ساتھ تھی یا نہیں اور یہ اس طرح دیکھی جا سکتی ہے کہ جب وہ خدمتِ اسلام کے لئے کھڑا ہوا تو جیسا کہ میں نے پہلے اشارۃً بتایا ہے کہ بہت معمولی حالت میں تھا اور کوئی اُس کی شان و شوکت نہ تھی۔ نہ وہ دنیا میں مشہور تھا نہ اس کے پاس مال و دولت تھی نہ اس کے پاس جتھا اور طاقت تھی، مگر اس زمانہ میں اس نے اعلان کیا کہ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ ”میں تیری تبلیغ کو دُنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔“ پھر اس نے اعلان کیا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے کہا ہے کہ ” فَحَانَ اَنْ تُعَانَ وَ تُعْرَفَ بَيْنَ النَّاسِ “ (تذکرہ صفحہ ۲۲۷ ایڈیشن چہارم) وہ وقت آگیا ہے کہ تیری نصرت ہو اور تُو دُنیا میں پہچانا جائے۔ پھر اس نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر اعلان کیا کہ ”دنیا میں ایک نذیر آیا۔ پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا، لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ (تذکرہ صفحہ ۱۸۱، ۱۸۴ ایڈیشن چہارم)

غرض اس وقت جب کہ وہ اکیلا تھا کوئی گروہ چھوڑ چند لوگ بھی اس کے ساتھ نہ تھے۔ اس کے گاؤں میں لوگ باہر سے نہ آتے تھے۔ اس کا گاؤں کوئی مشہور گاؤں نہ تھا۔ بالکل معمولی اور چھوٹا سا گاؤں تھا۔ اس وقت خدا نے اسے بتایا۔ کہ میں تیرا نام تمام دُنیا میں پھیلا دوں گا۔ اس وقت اس کی اپنی حالت یہ تھی کہ اسی گاؤں کے اکثر لوگ جس میں وہ پیدا ہوا اور جس میں اس نے پرورش پائی اس کا نام تک نہ جانتے تھے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس کو دُنیا میں وہی عزت اور شہرت حاصل ہوئی یا نہیں۔؟ اور وہی مدد اور اعانت حاصل ہوئی یا نہیں؟ جس کا خدا تعالیٰ نے اس سے وعدہ کیا تھا دعویٰ سے قبل تو اس کی یہ حالت تھی کہ اپنے گاؤں کے لوگ بھی اس کو نہ جانتے تھے لیکن دعویٰ کے بعد آپ کی دنیا میں ایسی شہرت ہوئی کہ کوئی ملک اور کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں کے لوگ آپ کو نہ جانتے ہوں۔ ہر ایک قوم اور ہر ایک ملک میں آپ کا نام پھیلا اور اس طرح وہ بات پوری ہوئی جس کا اعلان اس نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر اس وقت کیا تھا جب کہ وہ بالکل گمنام تھا۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ چونکہ مرزا صاحب نے ایک نیا دعویٰ کیا تھا اور جو لوگ نئے دعوے کیا کرتے ہیں ان کے نام پھیل ہی جایا کرتے ہیں۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ اسی نے نیا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ اسی زمانہ میں اوروں نے بھی نئے نئے دعوے کئے تھے۔ ان کے نام کہاں پھیلے۔ پھر کوئی ایک بھی شخص تو ایسا نہیں جس نے قبل از وقت کہا ہو کہ میرا نام تمام دُنیا میں پھیل جائے گا اور پھر اس کا نام پھیلا ہو۔ یہ بات صرف حضرت مرزا صاحب کو ہی حاصل ہوئی ہے کہ آپ نے قبل از وقت جس طرح بتایا اسی طرح ظہور میں آیا جس سے ثابت ہے کہ آپ نے خدا تعالیٰ کی محبت کو جذب کر لیا تھا ۔ ورنہ اسی پنجاب میں ایسے لوگ ہوئے ہیں جنہوں نے نئے دعوے کئے مگر ان کے نام ہرگز نہیں پھیلے۔ اور نہ انہوں نے قبل از وقت اپنے متعلق کوئی اس قسم کا اعلان کیا جس قسم کا حضرت مرزا صاحب نے کیا۔

حضرت مرزا صاحب کے ذریعہ اشاعتِ اسلام

اب ہم پوچھتے ہیں کیا جس طرح حضرت مرزا صاحب نے قبل از وقت بتایا تھا اسی طرح ہوا یا نہیں؟ اور ضرور ہوا۔ وہی اقوام جو یہ کہتی تھیں کہ اسلام ایک صدی کے اندر اندر مٹ جائیگا انہوں نے حضرت مرزا صاحب کے ذریعہ اسلام قبول کیا۔ یورپ کے لوگ جو بوجہ مسلمانوں کے علوم اور تمدنی ترقی میں بہت پیچھے رہنے کے کہتے تھے کہ اسلام جہالت کا مذہب ہے اور اسلام کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے ان میں سے کئی ایک نے خود اسلام قبول کیا اور ایسے وقت میں قبول کیا جب دُنیا فتویٰ دے چکی تھی کہ اسلام مٹ جائے گا۔ اور ایسے وقت میں اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے جبکہ اسلام لوگوں کے سامنے پیش کرنا تو الگ رہا مسلمان کہلانے والے اسے خود چھپا رہے تھے۔ کیا اس سے وہ بات ثابت ہوگئی یا نہیں جو حضرت مرزا صاحب نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر بتلائی تھی کہ میرے ذریعہ دُنیا میں اسلام پھیلے گا۔ اس کے لئے جب ہم اس بیس پچیس سال کے عرصہ کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا کہ انہیں لوگوں میں سے جو اسلام کے خطرناک دشمن ہیں ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نہیں سوتے جب تک کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہیں بھیج لیتے۔ اور وہ ملک جہاں سے ہمارے کانوں میں یہ صدا آتی تھی کہ اسلام سو سال تک برباد ہو جائے گا اور وہ ملک جو اپنے خیال میں ہم پر رحم کھا کر کروڑوں روپے اس لئے خرچ کرتا تھا کہ ہم سے ایک خدا کی پرستش چھڑا کر تین خداؤں کا حلقہ بگوش بنائے اور وہ لوگ جو ہمیں اپنا شکار سمجھ کر ہم پر للچائی ہوئی نظریں ڈالتے تھے اور وہی مذاہب جو اسلام کو جہالت اور بیوقوفی کا مذہب قرار دیتے تھے انہی کے مقابلہ میں حضرت

مرزا صاحبؑ کے غلاموں نے کھڑے ہو کر انہیں شکست فاش دی اور ان کے گھر پہنچ کر لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے نعرے بلند کئے۔ اب ولایت میں دیکھ لو۔ وہی لوگ جو ہمیں تثلیث پرستی میں جکڑنا چاہتے تھے انہی میں سے بعض کے گھروں میں لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی آواز گونج رہی ہے اور ان کے علاوہ اب یہ آواز امریکہ کی طرف بھی منتقل ہو چکی ہے۔ چنانچہ ہم اپنا ایک مبلغ امریکہ بھیج چکے ہیں تاکہ وہ جا کر امریکہ والوں کی توجہ اسلام کی طرف پھیرے جو اس کے لئے تیار پائے جاتے ہیں۔ پھر وہی جرمنی جو مادیات کی طرف سب سے زیادہ جھکا ہوا تھا اب ادھر سے بیزار ہو کر روحانیت کی طرف متوجہ ہو رہا ہے۔ اس کا ایک قنصل چند روز ہوئے مسلمان ہوا ہے اور اس نے لکھا ہے کہ جرمنی میں اسلام کی بہت ترقی ہوگی پھر روس کے کئی ایک آدمی مسلمان ہو چکے ہیں اور ان لوگوں نے مجھے لکھا ہے کہ جب ہمارے ملک میں امن وامان ہو جائے گا تو ہم اپنی زندگیاں اسلام کی اشاعت کے لئے وقف کر دیں گے اور جہاں آپ بھیجیں گے وہاں جانے کے لئے تیار رہیں گے اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کی بنیاد اور کئی مقامات پر رکھی جا چکی ہے اور بیج کی طرح اسلام کئی جگہوں میں پہنچ چکا ہے۔ یہ سوائے اس کے اور کیونکر ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو بات بتائی تھی وہ پوری ہو رہی ہے۔ باوجود اس کے کہ مسلمانوں کی حکومت سینکڑوں سال سے چلی آتی ہے لیکن کیا کسی مسلمان حکومت کے ذریعہ یہ بات حاصل ہوئی؟ ہرگز نہیں۔ مگر ایک شخص بے سروسامانی کی حالت میں خبر دیتا ہے کہ ایسا ہو گا اور چند ہی سال میں اس طرح ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

حضرت مرزا صاحبؑ کی مخالفت

پھر کوئی کہہ سکتا ہے کہ کیا ہوا اگر کچھ لوگ مسلمان ہو گئے۔ یہ کون سی بڑی بات ہے، لیکن حضرت مرزا صاحبؑ نے یہی نہیں کہا تھا کہ اسلام دُنیا میں پھیل جائے گا بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ دُنیا اس کی مخالفت کرے گی اور باوجود اس کے اسلام پھیلے گا۔ چنانچہ دُنیا نے مخالفت کی اور وہ لوگ بھی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور بڑائی پر ایمان لانے کا دعویٰ رکھتے تھے۔ انہوں نے بھی رکاوٹیں ڈالیں۔ دوسروں نے تو ڈالنی ہی تھیں بعض گھر کے لوگوں نے بھی سختی سے مقابلہ کیا۔ طرح طرح کے ظلم کئے پتھر مارے گالیاں دیں اور ہر قسم کی سختیاں کیں مگر پھر بھی وہ یہی کہتا رہا۔

اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاہ دار

کآخر کنند دعوئیٰ حبّ پیمبرم

کہ یہ لوگ خواہ مجھ سے کیسا ہی بُرا سلوک کریں اور باوجود اس کے کہ میں اس تعلیم کو پھیلانے کے لئے کھڑا ہوا ہوں جس سے وہ خود محبت کرنے کا دعویٰ رکھتے ہیں پھر بھی میں ان کی خاطر کو نگاہ میں رکھتا ہوں ۔

کیونکہ آخر یہ اس پیغمبر کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں جس کا میں غلام ہوں۔ تو گھر کے لوگوں نے اس کا مقابلہ کیا اس کے آگے رکاوٹیں ڈالیں اس کے پیروؤں کو گھروں سے نکال دیا۔ ہر قسم کی تکلیفیں اور دُکھ دیئے مگر پھر بھی وہ غریب اور مفلس لوگ ایک ایک کر کے بڑھنے لگے انہوں نے اپنے اور اپنی بیوی بچوں کے خرچ بند کر کے اسلام کی اشاعت کے لئے خرچ دیئے اور باوجود مخالفتوں کے ترقی کی۔ لوگوں نے چاہا کہ اسلام نہ پھیلے مگر خدا تعالیٰ نے چاہا کہ روشن ہو اس لئے روشن ہوا۔ پس اسلام دُنیا میں پھیلا اور پھیل رہا ہے اور اسلام نے دُنیا کو منور کیا اور کر رہا ہے جو کہ اس شخص کے سچے اور خدا تعالیٰ کا برگزیدہ ہونے کا ایک عظیم الشان ثبوت ہے۔

حضرت مرزا صاحبؑ کی کامیابی

امریکہ کا ایک مصنف لکھتا ہے کہ دنیا میں کام کر نیوالے لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو دوسروں کو اپنے پیچھے چلاتے ہیں اور دوسرے وہ جو لوگوں کے ترجمان ہوتے ہیں۔ مثلاً کسی ملک میں تعلیم نہ ہو اس میں ایک ایسا شخص کھڑا ہو جائے جو تعلیم کو پھیلانا اپنا مقصد قرار دے لے۔ گو ابتداء میں اس کی مخالفت ہوگی اور اس کے خلاف بعض لوگ کھڑے ہوں گے لیکن آخر کار وہ کامیاب ہو جائے گا۔ کیونکہ لوگوں کو حالات اور واقعات مجبور کر دیں گے کہ تعلیم حاصل کریں لیکن ایک ایسا شخص جو ایسی باتیں لے کر کھڑا ہو جن کے ماننے کے لئے حالات مجبور نہ کریں بلکہ ان کے خلاف اُکسائیں اس کی کامیابی بہت مشکل ہوتی ہے۔ حضرت مرزا صاحبؑ ایسے ہی لوگوں میں سے تھے کیونکہ جو کچھ انہوں نے آ کر کہا سب کے سب اس کے خلاف کھڑے ہو گئے اور زمانہ کے حالات بالکل اس کے مخالف تھے۔ لوگ یہ تو مانتے تھے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں سے کلام کرتا رہا ہے لیکن یہ نہ مانتے تھے کہ اس زمانہ میں بھی کوئی انسان ایسا ہو سکتا ہے جس سے خدا تعالیٰ کلام کرے اور مرزا صاحب یہی منوانا چاہتے تھے۔ کیونکہ آپؐ دُنیا کی اصلاح کے لئے آئے تھے نہ کہ اہلِ دُنیا جس طرف چل رہے تھے اسی طرف چلانے کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔ اس لئے آپ کا کامیاب ہونا ایک عظیم الشان بات اور آپؐ کی صداقت کا بہت بڑا ثبوت ہے اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ اسلام خدا تعالیٰ کا سچا مذہب ہے۔

زار روس کے متعلق حضرت مرزا صاحب کی پیشگوئی

پھر اس نے قبل از وقت بتایا کہ دُنیا میں ایک خطرناک جنگ ہوگی اور اس میں زار کی حالت خراب ہو جائے گی۔ چنانچہ فرمایا ”زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی باحالِ زار“عط اور ایسا ہی ہوا پھر اس پیشگوئی میں اس نے جنگ کا تمام نقشہ کھینچ کر رکھ دیا۔ یہاں تک کہ بعض

اشتہارات میں ان میدانوں کی ہو بہو تصویر کھینچ دی جہاں بڑی بڑی خطرناک لڑائیاں ہوئیں اس پیشگوئی کا ایک شعر یہ ہے۔

رات جو رکھتے تھے پوشاکیں برنگِ یاسمن

صبح کر دے گی انہیں مثل درختانِ چنار

۱؎چنانچہ فرانس کی وہ جنگ عظیم جس میں جرمنی کو پسپا ہونا پڑا اس کی جائے وقوع وہ تھی جہاں کثرت سے چنار کے درخت تھے۔ ادھر تو خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں اور ادھر چنار کے سُرخ پتے جمے ہوئے خون کی مانند تھے جو اس نقشہ کو اور زیادہ بھیانک بنا رہے تھے۔ غرض اس نے قبل از وقت بتایا کہ ایک عظیم الشان جنگ ہوگی اور اس میں زارِ کی حالت خطرناک ہوگی چنانچہ اس کی وفات کے بعد ہم نے دیکھا کہ لڑائی ہوئی اور اس میں سب سے خطرناک اور عبرت انگیز زارِ روس کی حالت ہوئی۔ یورپ کے اور بادشاہ بھی اپنے ملک میں اختیارات رکھتے تھے لیکن زار ان سب سے بڑا با اختیار بادشاہ تھا۔ چنانچہ جن الفاظ میں وہ دستخط کیا کرتا تھا ان کے یہ معنی تھے کہ خدا کا نائب۔ تو حضرت مرزا صاحب کو بتایا گیا کہ ایک بہت بڑی جنگ ہوگی اور اس میں زارِ روس پر بہت بڑی مصیبت آئے گی۔ اور وہ مصیبت کوئی ایسی نہیں ہوگی جس سے وہ فوراً مر جائے گا بلکہ اس کی حالت نہایت درد ناک ہوگی اور نہایت دردناک حالت سے گذر کر مرے گا اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس طرح ہوا یا نہیں؟ زارِ روس پوری شان و شوکت کے ساتھ حکمران ہے کہ ایک علاقہ سے بغاوت کی اسے خبر ملی وہ اس طرف روانہ ہوتا ہے اور فوج کے کمانڈر کو لکھتا ہے کہ باغیوں کو سخت سزا دو۔ میں بھی آتا ہوں۔ لیکن ابھی وہ چند ہی سٹیشن گزرتا ہے کہ اسے تار کے ذریعہ خبر ملتی ہے کہ حالت نازک ہو گئی ہے۔ وہ کمانڈر کو لکھتا ہے کہ فلاں کو انتظام کی باگ دے دو۔ پھر چند سٹیشن اور آگے جاتا ہے کہ خبر ملتی ہے کہ حالت اور بھی خراب ہوگئی ہے اس پر لکھتا ہے کہ نرمی اختیار کرو۔ پھر سٹیشن پر ہی ہے کہ کچھ لوگ آتے ہیں اور اسے کہتے ہیں کہ تم تمام اختیارات سے دستبردار ہو جاؤ۔ اس کے بعد اس کی جو حالت ہوئی وہ آپ لوگوں نے اخباروں میں پڑھی ہی ہوگی۔ اس سے بڑھکر اس کی اور کیا حالتِ زار ہوسکتی تھی کہ اس کی لڑکیوں کے ساتھ اس کی آنکھوں کے سامنے شرمناک سلوک کیا گیا۔ پھر اس کو ہلاک کر کے اس کی حالتِ زار کو انتہاء تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ یہ واقعات روز روشن کی طرح

ثبوت دے رہے ہیں کہ جس شخص نے یہ خبر دی تھی وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا اور خدا تعالیٰ سے اس کا بہت بڑا تعلق ہے اور اس سے ثابت ہے کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جس میں اب بھی ایسا انسان پیدا ہوتا ہے جس کے دل میں خدا تعالیٰ سے محبت پیدا ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ اس سے اپنی محبت کا ثبوت دیتا ہے ۔

اسلام کی صداقت میں ایک اور پیشگوئی

پھر لوگ کہتے ہیں کہ وہ اسلام کا دشمن تھا مگر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اسلام کا کیسا عاشق تھا ۔ اس کے اپنے خاندان کے بعض لوگوں نے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی تو اس نے ان سے قطع تعلق کر لیا ۔ اسی خاندان کے ایک حصہ نے جو اسلام کی ہتک کیا کرتا تھا آپ سے درخواست کی کہ آپ ایک معاملہ میں ہم سے اچھا سلوک کریں ۔ مرزا صاحب نے کہا اچھا اگر تمہاری اصلاح ہو جائے تو ہم سلوک کر دیتے ہیں لیکن چونکہ ان کی اصلاح آپ سے تعلق پیدا کرنے سے ہو سکتی تھی اس لئے آپ نے کہا کہ تم اپنی لڑکی کا رشتہ مجھ سے کر دو ۔ انہوں نے اس کے جواب میں کہا کہ کیا تم پھوپھی کی لڑکی سے جو تمہاری بہن ہے شادی کرنا چاہتے ہو ۔ حضرت صاحب نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تو اپنی پھوپھی کی لڑکی سے شادی کی تھی ۔ کہنے لگے انہوں نے بھی بہن سے شادی کی تھی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہتک پر حضرت مرزا صاحب نے انہیں کہا کہ اس پر تمہیں خدا کی گرفت ہو گی ۔ نادانوں نے اس پر ہنسی اڑائی ۔ حالانکہ یہ ایک عظیم الشان ثبوت تھا اسلام کی صداقت اور خدا تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ کلام کرنے کا ۔ چنانچہ جب انہوں نے اس طرح کہا تو انہیں کہا گیا کہ اگر تم نے توبہ نہ کی اور اسی جگہ شادی نہ کی جہاں کے متعلق تم نے ایسے الفاظ کہے ہیں جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہوتی ہے تو کسی اور جگہ شادی کرنے سے تین سال کے عرصہ میں لڑکی کا باپ اور جس سے شادی کی جائے گی وہ اڑھائی سال کے اندر مر جائے گا ۔ یعنی اس پیشگوئی میں یہ باتیں بتائی گئی تھیں کہ (۱) لڑکی کی شادی ہونے تک اس کا باپ زندہ رہے گا ۔ (۲) اگر اس نے کسی اور جگہ لڑکی کا نکاح کر دیا تو نکاح کرنے سے تین سال کے اندر اندر وہ مر جائے گا ۔ (۳) جس سے اس کی شادی کی جائے گی وہ اڑھائی سال تک مر جائے گا ۔ (۴) پھر یہ بھی کہا گیا تھا کہ توبہ کر توبہ کر بلا آ رہی ہے ۔ یعنی اگر وہ توبہ کر لیں گے تو بلا ان سے ٹل جائے گی ۔ اس میں یہ بتایا گیا کہ عورت رجوع کر لے گی ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح یہ پیشگوئی پوری ہوئی ۔ اس کے شائع ہونے کے بعد لڑکی کا باپ اس وقت تک زندہ رہتا ہے جب تک اس کا نکاح نہیں کرنا۔

پھر جب وہ نکاح کرتا ہے اور نکاح کو ابھی چھ ماہ بھی نہیں گزرتے کہ اس پیشگوئی کے ماتحت مر جاتا ہے۔ پھر جیسا کہ بتایا گیا تھا کہ اگر وہ رجوع کر لیں گے تو بلا ٹل جائے گی۔ باقی لوگ رجوع کرتے ہیں اور اس عورت کی طرف سے پیغام آتا ہے کہ اس معاملہ میں میرا تو کوئی قصور نہیں مجھے معاف کیا جائے ۔ اس طرح گویا وہ اسلام کی ہتک سے توبہ کرتی ہے پھر دوسرے رشتہ دار بھی توبہ کرتے ہیں اور اس طرح پیشگوئی کا دوسرا حصہ جو توبہ کرنے پر بلا کے ٹلنے کی صورت میں ظاہر ہونا تھا پورا ہوتا ہے چنانچہ وہ عورت اور اس کا خاوند اب تک زندہ ہیں ۔ ہمارے مخالفین کہتے ہیں کہ ان کا نہ مرنا اس پیشگوئی کے جھوٹا ہونے کا ثبوت ہے۔ لیکن دراصل ان کا زندہ رہنا پیشگوئی کے سچا ہونے کا ثبوت ہے۔ کیونکہ اس پیشگوئی میں بتایا گیا تھا کہ خُوْبِیْ تُوْبِیْ فَإِنَّ الْبَلَاءَ عَلٰی عَقِبِكِ (تذکرہ صفحہ ۵۱۳ ایڈیشن چہارم) یعنی اگر توبہ کریں تو بلا ٹل جائے گی ۔ جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہتک آمیز الفاظ استعمال کئے تھے اس کی لڑکی کے خاوند کا مرنا اس کے لئے عذاب تھا۔ اگر وہ توبہ کر لیتی تو یہ عذاب ہٹا دیا جانا۔ کیونکہ اگر باوجود اس کے توبہ کرنے کے اس عذاب کو ہٹایا نہ جاتا تو یہ پیشگوئی غلط نکلتی ۔ لیکن چونکہ اس نے توبہ کی اس لئے یہ عذاب ہٹا دیا گیا اور اسے معاف کر دیا گیا ۔

پھر اس لڑکی کی جس شخص سے شادی ہوئی تھی اس نے ایک خط لکھا جس میں حضرت مرزا صاحب کی تعریف کی ۔ پھر اس لڑکی کے اور رشتہ داروں نے بھی توبہ کر لی اور اس طرح یہ پیشگوئی پوری ہوئی اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر پیشگوئی پوری نہ ہو سکتی تھی اور کہا جا سکتا تھا کہ یہ پیشگوئی ایک بالا رادہ کام کرنے والی ہستی کی طرف سے نہ تھی۔ کیونکہ فرض کرو ایک مکان پر پہاڑ سے پتھر گرتا ہے اور صاحب مکان کے بھائی بیٹے اور دوسرے رشتہ دار اس کے نیچے دب کر مر جاتے ہیں۔ اس کے متعلق کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مالک مکان نے اپنے ارادے سے پتھر گرایا تھا۔ کیونکہ اگر وہ ارادہ سے پتھر گراتا تو اپنے رشتہ داروں کو ضرور خبر کر دیتا اور انہیں بچا لیتا اور اپنے دشمنوں کو ہلاک ہونے دیتا ۔ تو بالا رادہ وہی فعل کہلا سکتا ہے جو انسان کے اعمال کے مطابق ہو۔ دیکھو پولیس ارادہ سے اسی کو پکڑتی ہے جو مجرم ہوتا ہے غیر مجرم کو نہیں پکڑتی ۔ یہ ممکن ہے کہ غلطی سے کسی غیر مجرم کو پکڑلے لیکن عقل اور سمجھ کے ماتحت یہی ہوتا ہے کہ مجرم کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر مجسٹریٹ کسی بے قصور کو چھوڑ دیتا ہے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ سزا دینے کی طاقت نہیں رکھتا بلکہ یہی کہا جائے گا کہ وہ ارادہ کے ماتحت کام کرتا ہے۔ پس اگر توبہ کرنے پر بھی وہ لوگ ہلاک کئے جاتے تو کہا جاسکتا تھا کہ پیشگوئی غلط نکلی اور کسی نجومی کی پیشگوئی تھی۔ مگر جب انہوں نے توبہ کر لی اور بچ گئے تو صاف ظاہر ہو گیا کہ پیشگوئی پوری ہو گئی اور اس ہستی کی طرف سے تھی جو بالا رادہ کام کرتی ہے۔ جیسی کسی کی حالت ہوتی ہے اسی کے مطابق اس سے سلوک کرتی ہے۔ پس یہ پیشگوئی اسلام کی صداقت کا ایک عظیم الشان ثبوت ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہے کہ اسلام کا خدا مشین کی طرح نہیں ہے کہ وہ امتیاز نہیں کر سکتا۔ بلکہ ایک بالا رادہ ہستی ہے۔ ہمارے مخالف سمجھتے ہیں کہ یہ پیشگوئی غلط نکلی۔ مگر ان کو دھوکا لگا ہوا ہے اصل میں یہ پیشگوئی بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی۔

دیوانہ کُتے کے کاٹے کا بچنا

اب کچھ اور باتوں کو لیتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مرزا صاحبؑ نے جو باتیں پیش کی ہیں ان سے اسلام کا جلال اور صداقت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے حضرت مرزا صاحب کو ایسی باتیں بتائیں جو سوائے یارِ غمگسار کے کسی کو نہیں بتاتا۔ ایک دفعہ ایک لڑکے کو دیوانہ کُتے نے کاٹا اور اسے کسولی بھیج کر علاج کرایا گیا لیکن جب وہاں سے واپس آیا تو تھوڑے سے عرصہ کے بعد اسے ہڑک اُٹھی اس حالت کے متعلق تمام طبی کتابوں میں یہی لکھا ہے اور ڈاکٹر بھی اس سے متفق ہیں کہ جس کو سگ گزیدہ کی ہڑک اُٹھنے لگے اس کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا چنانچہ اس لڑکے کی بیماری کی خبر جب کسولی دی گئی تو وہاں سے جواب آیا۔

SORRY NOTHING CAN BE DONE FOR ABDUL KARIM

(تتمہ حقيقة الوحی ص۴۸۳، روحانی خزائن جلد ۲۲) افسوس کہ عبدالکریم کے متعلق کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ چونکہ وہ لڑکا دُور دراز سے دین کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے آیا ہوا تھا ۔ اس لئے حضرت مرزا صاحب کو خیال ہوا کہ یہ ابتدائی زمانہ ہے چاروں طرف سے مخالفت ہو رہی ہے یہ لڑکا اگر فوت ہو گیا تو اس کے ماں باپ کو جنہوں نے اتنی دُور سے اسے تعلیم دین کے لئے بھیجا ہے بہت صدمہ ہو گا اور مخالفین بھی شور مچائیں گے اس لئے اس وقت جبکہ اس کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا تھا اس کے لئے دُعا کی اور وہ بچ گیا۔ چنانچہ اس وقت تک وہ لڑکا زندہ ہے۔ آج تک ہزاروں سالوں سے اس قسم کی کوئی نظیر نہیں مل سکتی کہ کوئی ایسا بیمار اچھا ہوا ہو۔ وہ صرف حضرت مرزا صاحبؑ کی دُعا کی وجہ سے بچ گیا۔ یہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا بہت بڑا نشان ہے جو حضرت مرزا صاحبؑ کے ذریعہ ظاہر ہوا۔

مایوس العلاج مریض کا شفا پانا

اسی طرح اور ہزاروں نشانات ظاہر ہوئے جن میں سے مثال کے طور پر ایک اور پیش کرتا ہوں۔ نواب محمد علی خان صاحب جو موجودہ نواب صاحب مالیر کوٹلہ کے ماموں ہیں اور میں نے سُنا ہے کہ آج یہاں آئے ہوئے ہیں۔ ان کے ایک لڑکے کو ٹائیفائیڈ بخار ہو گیا۔ جس کا علاج ایک یونانی حکیم مولوی نور الدین صاحب جو مہاراجہ صاحب جموں کے خاص طبیب رہ چکے تھے اور دو ڈاکٹر کر رہے تھے، لیکن ایک وقت اس پر ایسا آگیا کہ معالج بالکل گھبرا گئے اور انہوں نے کہہ دیا کہ اب یہ لڑکا نہیں بچ سکتا۔ اس کی خبر جب حضرت مرزا صاحبؒ کو ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ میں اس کی صحت کے لئے دُعا کروں گا۔ اور آپ نے دُعا کی، لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ اب یہ نہیں بچ سکتا۔ اس پر حضرت مرزا صاحبؒ نے کہا۔ میں اس کی صحت کے لئے سفارش کرتا ہوں۔ اس پر انہیں الہام ہوا۔ تُو کون ہے جو بلا اجازت سفارش کرتا ہے (تذکرہ صفحہ ۴۹۴ ایڈیشن چہارم) اس وقت کے متعلق حضرت مرزا صاحبؒ فرماتے ہیں کہ میری ایسی حالت ہو گئی کہ میں بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ اس وقت آواز آئی اچھا تم کو اجازت دی جاتی ہے۔ اب سفارش کرو۔ یہ سُن کر حضرت مرزا صاحبؒ نے دعا کی اور انہیں بتایا گیا کہ اب یہ لڑکا بچ جائے گا۔ چنانچہ آدھ گھنٹہ کے بعد ہی اسے ہوش آگئی اور وہ بچ گیا۔ اب ولایت تعلیم حاصل کرنے کے لئے گیا ہے۔

ایک سوال کا جواب

اس موقع پر کسی شخص نے لکھ کر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو یہ سوال دیا کہ آپ کا مضمون تو یہ تھا کہ ’’اسلام کی صداقت تازہ نشانات کے ساتھ‘‘ مگر آپ نے مرزا صاحب کے نشانات کو پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے متعلق حضور نے فرمایا: میرے مضمون کا پہلا حصہ اسلام کی صداقت کے دلائل کے متعلق تھا جو میں نے بیان کئے اور دوسرا حصہ اسلام کی صداقت کے مشاہدہ کا ہے جس کے لئے حضرت مرزا صاحب کے نشانات کو پیش کر رہا ہوں اور یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہم حضرت مرزا صاحب کو ان کی ذات کی وجہ سے نہیں مانتے بلکہ اس لیے مانتے ہیں کہ ان کے وجود سے اسلام کی صداقت ثابت ہوتی ہے۔ اس لئے ان کی صداقت کے نشان دراصل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے نشان ہیں کیونکہ حضرت مرزا صاحب اپنے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔

اسلام کی صداقت کے متعلق پادری لیفرائے کو چیلنج

پھر حضرت مرزا صاحب نے دُعا کے ذریعہ اسلام کی سچائی کا فیصلہ کرنے کے لئے پادری لیفرائے کو مدّنظر رکھ کر چیلنج دیا اور لکھا آپ عیسائیت کی طرف سے کھڑے ہوں اور میں اسلام کی طرف سے کھڑا ہوتا ہوں۔ اور دُعا کرتے ہیں کہ جو مذہب سچا ہے خدا اس کی تائید میں نشان

دکھلائے۔ اور وہ اس طرح کہ طرفین کچھ کچھ مریض لے لیں اور ان کی صحت کے لئے دُعا کریں جس کے زیادہ مریض صحت یاب ہو جائیں اس کے مذہب کو سچا سمجھا جائے۔ اس پر بڑے بڑے انگریزی اخباروں نے مضامین لکھے کہ ہمارے پادری جو اتنی بڑی بڑی تنخواہیں لیتے ہیں وہ کیوں مقابلہ میں نہیں آتے۔ یہی وقت عیسائیت کو سچا ثابت کرنے کا ہے۔ لیکن کوئی مقابلہ پر نہ آیا۔ یہ فیصلہ کا نہایت آسان اور عمدہ طریق تھا مگر کسی نے قبول نہ کیا اور یہ ثبوت ہے اس امر کا کہ دیگر مذاہب کے لوگ محسوس کرتے تھے کہ اپنی صداقت کا ثبوت اسلام ہی دے سکتا ہے ہمارے مذہب کچھ نہیں کر سکتے۔

حضرت مرزا صاحبؑ کے علمی کارنامے

پھر حضرت مرزا صاحبؑ نے علمی طور پر ایسے ایسے مضمون لکھے کہ مخالفین بھی ان کے سب سے زبردست ہونے کا اقرار کرنے پر مجبور ہو گئے۔ چنانچہ لاہور میں ایک بہت بڑا جلسہ ہوا جس کا نام مہوتسو رکھا گیا۔ اس میں یہ شرط رکھی گئی کہ ہر ایک مذہب کے قائمقام اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں اور کسی دوسرے مذہب پر کوئی حملہ نہ کریں۔ حضرت مرزا صاحبؑ نے اس کے لئے اسلام پر مضمون لکھا اور قبل از وقت خبر دے دی اور اشتہار چھاپ دیا کہ مجھے خدا نے خبر دی ہے کہ اس جلسہ میں تیرا مضمون سب سے اعلیٰ رہے گا۔ چنانچہ جب آپ کا مضمون اس جلسہ میں پڑھا گیا اور اس کے پڑھنے کا وقت پورا ہو گیا تو سب حاضرین جن میں مختلف مذاہب کے لوگ شامل تھے بول اُٹھے کہ اور وقت دیا جائے اور ایک شخص نے اپنا مضمون پڑھنے کا وقت اس کے لئے دے دیا۔ لیکن جب پھر بھی وہ مضمون ختم نہ ہوا تو لوگوں نے کہا کہ اسی کو پڑھتے جاؤ۔ لیکن پھر بھی وہ ختم نہ ہوا تو لوگوں نے کہا جلسہ میں ایک دن اور بڑھا دیا جائے۔ چنانچہ ایک دن بڑھایا گیا اور اس میں وہ مضمون سُنایا گیا۔ اور لوگوں نے علی الاعلان کہہ دیا کہ خواہ ہم ان باتوں کو مانیں یا نہ مانیں لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ مضمون باقی سب مضامین سے بالا رہا اور سول اینڈ ملٹری گزٹ نے اس کے متعلق ایک مضمون بھی لکھا۔

حضرت مرزا صاحبؑ کے متعلق ایک مخالف اخبار کی شہادت

الغرض عملی طور پر حضرت مرزا صاحبؑ نے اسلام کی صداقت میں وہ کام کیا کہ جو اس زمانہ میں کوئی نہ کر سکا۔ اور آپ کے مخالفین تک نے اس کو تسلیم کر لیا چنانچہ آپؐ کی وفات پر اس شہر کے اخبار وکیل نے جو ہمارے سلسلہ کا نہیں ہے ایک زبردست آرٹیکل لکھا

جس میں تسلیم کیا کہ مرزا صاحب نے اسلام کی شاندار خدمات کی ہیں اور انہوں نے دیگر مذاہب کے مقابلہ میں اسلام کی صداقت کو نمایاں کر دیا اور حضرت مرزا صاحب کے مخالف کی آپ کے متعلق گواہی ہے اور بھی کئی اخبارات نے آپ کی خدمات کا اعتراف کیا۔ مگر وکیل کا مضمون سب سے زبردست تھا اس میں لکھا گیا تھا۱؎ کہ مرزا صاحب کی قلم سحر اور زبان جادو تھی ۔ اور ان کی دو مٹھیاں بجلی کی بیڑیاں

تھیں۔ تو یہ علمی معجزہ تھا۔ جو حضرت مرزا صاحب نے اسلام کی صداقت میں دکھایا۔ پھر دیکھئے یا تو ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے اسلام کو پھیلایا نہیں یا دشمن بھی اقرار کر رہے ہیں کہ اسلام کی جو تعلیم مرزا صاحب نے پیش کی ہے وہ بہت اعلیٰ ہے۔ چنانچہ انہی دنوں یورپ سے ایک انگریز کا خط میرے نام آیا ہے جس میں وہ لکھتا ہے کہ میں نے حضرت مرزا صاحب کی ایک کتاب پڑھی ہے جس سے مجھ پر ثابت ہو گیا کہ اسلام کی تعلیم ایسی اعلیٰ ہے کہ میں حیران ہوں انسان اس پر عمل ہی کس طرح کر سکتا ہے۔ دیکھئے وہ یہ نہیں کہتا کہ اسلام کی تعلیم خراب یا ناقص ہے بلکہ یہ کہتا ہے کہ ایسی اعلیٰ ہے کہ عمل کرنا مشکل ہے۔

پس ان واقعات اور دلائل سے ثابت ہو گیا کہ اسلام ایک سچا مذہب ہے اور اپنی صداقت کے دلائل سے سب پر غلبہ رکھتا ہے اور مشاہدہ سے ثابت ہو گیا کہ اس زمانہ میں اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو خدا تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔

حاضرین سے خطاب

اس کے بعد میں سب احباب سے خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم درخواست کرتا ہوں کہ وہ اسلام کی صداقتوں اور سچائیوں پر محبت سے غور کریں۔ محبت اور پیار سے دوسرے کو تلقین کرنا برا نہیں۔ برا آپس میں لڑنا اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا ہے۔ آپ لوگ ٹھنڈے دل سے ہمارے مذہب پر غور کریں۔ ہم بھی آپ لوگوں کے مذاہب پر اسی طرح غور کرتے ہیں۔ کیا یہ مذہب جو میں نے پیش کیا ہے ایسا نہیں ہے کہ اس پر دُنیا کے امن وامان کی بنیاد ہو؟ اگر اسلام ایسا ہی ہے اور واقع میں ایسا ہی ہے تو میں آپ لوگوں سے اپیل کروں گا کہ آپ اسے قبول کریں تاکہ وہ بُعد دور ہوجائے جو ہم میں اور آپ لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ پھر میں ان لوگوں سے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے ہیں لیکن ہماری جماعت میں داخل نہیں ہیں پوچھتا ہوں کہ کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہم مستعد ہو کر اسلام کو دنیا میں پھیلا دیں۔ تمہارے سامنے وہ شخص گزر گیا جس نے اپنا سب کچھ اسلام کی اشاعت میں لگا دیا۔ کیا تم نے ابھی تک غور نہیں کیا کہ اس کی کوشش کیا تھی؟ کیا یہ کہ وہ اسلام کو مٹانے کے لئے پیدا ہوا تھا یا یہ کہ دن رات اسلام کے لئے مرتا تھا۔ اس کو ذیابیطس کا مرض تھا ، اسے جگر کی بیماری تھی ، اسے ہسٹیریا کا عارضہ تھا مگر باوجود ان بیماریوں کے ہم نے اسے دیکھا کہ ہر وقت اور ہر گھڑی اس کی یہی کوشش تھی کہ اسلام دُنیا میں پھیلے اور اسی میں وہ ہر وقت لگا رہتا تھا۔ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنے والا دل اسلام سے محبت رکھنے والا دل اس کی طرف بڑھنے سے ڈر سکتا ہے، اس سے علیحدہ رہ سکتا ہے ، اس کو چھوڑ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیا اس نے قرآن میں کوئی نقص بتایا؟ کیا اس نے اسلام کی تعلیم کو تبدیل کر دیا؟ یا کیا اس نے اسلام کو چھوڑ دیا؟ اگر نہیں اور اس کا مشن ہی یہ تھا کہ اسلام کو دُنیا میں پھیلایا جائے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ جو لوگ اپنا یہی مقصد قرار دیتے ہیں وہ اس کے جھنڈے کے نیچے نہیں آجاتے۔ وہ ٹھنڈے دل سے غور کریں اس تعصب اور ضد کو جانے دیں جو منصف مزاج لوگوں میں نہیں ہوتی۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو یقیناً یہی معلوم ہو جائے گا کہ خُدا نے اسے اسی لئے بھیجا تھا کہ وہ ایک ایسی جماعت قائم کرے جو دُنیا میں اسلام کو پھیلائے پس مسلمان اس پر غور کریں اور دیکھیں کہ اس وقت اسلام کی کیا حالت ہے۔ پس اے عزیزو! اے بھائیو!! اے پیارو!!! اس وقت کو پہچانو اور اس وقت کو دیکھو۔ کیا اس حالت کو دیکھ کر تمہیں رحم نہیں آتا۔ شوق نہیں ہوتا کہ تم بھی اسلام کی اشاعت کے لئے قدم بڑھاؤ۔ دیکھو اور یاد رکھو کہ اس وقت اسلام کے لئے خدا کی غیرت جوش میں ہے۔ اسلام کے مخالفین نے کہا کہ محمدؐ صلی اللہ علیہ وسلم ، نے تلوار کے زور سے اسلام کو پھیلایا ورنہ اسلام میں کوئی خوبی نہیں ہے کہ پھیل سکے۔ خدا تعالیٰ نے کہا یہ غلط ہے۔ اسلام دلائل کے زور سے پھیلا تھا۔ اب جبکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام دلائل کے ذریعہ اسلام کو پھیلا سکتا ہے تو اس کا آقا کیوں اس طرح نہ پھیلا سکتا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تلوار نہیں اُٹھائی تھی بلکہ پہل دشمن نے کی تھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف خود حفاظتی کے لئے تلوار ہاتھ میں لی تھی۔ مگر واقعات کے مخفی ہونے کی وجہ سے لوگوں نے کہا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا تھا اسکے جواب میں خدا کی غیرت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کو کھڑا کر دیا تاکہ وہ دلائل کے ذریعہ اسلام کو پھیلائے۔

پس تم لوگ خدا تعالیٰ کے اس ارادہ سے اپنے ارادوں کو ملا دو تا کہ خدا تعالیٰ کی برکتیں تم پر نازل ہوں اب مسلمانوں کی ترقی کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ تعصب اور ضد کو جانے دیں اور سچے مسلمان بن جائیں۔ خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو مدد دینے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا ہے اور اپنی طرف سے رسی پھینکی ہے۔ اب تمہارا یہ کام ہے کہ اسے پکڑ لو۔ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کہلاتے ہو۔ اگر تمہارے گرنے پر خدا مد د نہ کرتا اور تمہاری ترقی کا کوئی سامان نہ کرتا تو لوگ نتیجہ نکال لیتے کہ اسلام خدا کا پیارا مذہب نہیں ہے۔ لیکن چونکہ اسلام خدا کا پیارا مذہب ہے اس لئے ایسی حالت میں جبکہ مسلمان ہر طرح سے کمزور اور ناتواں ہو گئے تھے اس کا فرض تھا کہ مد د کرتا چنانچہ اس نے کی ۔ اور حضرت مرزا صاحب کو مسلمانوں کی ترقی کا سامان دے کر بھیج دیا۔ اب تمہارا یہ کام ہے کہ ان کو قبول کر لو اور یہ رسی جو خدا نے پھینکی ہے اس کو پکڑ لو۔ یہی ذریعہ ہے تمہارے ترقی کرنے کا اور یہی راستہ ہے تمہارے مقصود تک پہنچنے کا۔

تھوڑا ہی عرصہ ہوا۔ انگلستان کے ایک شخص نے جس کا نام فیتھ ہے خواب دیکھا کہ ایک چٹان ہے جس میں سے ایک شخص نکلا اور اس کے ہاتھ میں رسی ہے اور اس کو کہتا ہے یہ رسی پکڑ لے۔ اس کے بعد وہ ہمارے مبلغین سے ملا جنہوں نے اسے حضرت مسیح موعودؑ کی تصویر دکھائی جس کو دیکھ کر اس نے اپنی خواب بتائی اور کہا یہی شخص تھا جس کے ہاتھ میں رسی تھی اور جس نے مجھے کہا تھا کہ اسے پکڑلو۔

پس اے بھائیو! اے عزیزو! ! تم بھی اس خدمت میں شامل ہو جاؤ جو حضرت مرزا صاحب کا مشن کر رہا ہے تاکہ زندہ مذہب پر قائم ہو جاؤ۔ اگر تم ان دلائل کو لے کر نکلو گے جو حضرت مرزا صاحب نے اسلام کی صداقت میں پیش کئے ہیں تو کوئی مذہب تمہارے سامنے نہیں ٹھہر سکے گا۔ پس تم خدا تعالیٰ کے اس فضل کی قدر کرو اور اس کو قبول کر کے اس کے بتائے ہوئے دلائل کو لیکر دنیا میں نکل کھڑے ہو تا کہ دنیا کے چاروں کونوں تک لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ کی آواز کی گونج اُٹھے۔

اب میں اس دُعا پر اپنے لیکچر کو ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم احمدی سلسلہ کے لوگوں کو اور ان کو جو اس سلسلہ سے باہر ہیں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کو حتیٰ کہ ان کو بھی جو خدا کو نہیں مانتے سچے مذہب کو قبول کرنے اور سیدھا راستہ اختیار کرنے کی توفیق دے اور سیدھے راستے پر چلائے اور ہم پر وہی فضل نازل کرے جو پہلے انبیاء کے وقت ہوتے رہے آمین ثم آمین۔

جماعتِ احمدیہ کی ذمہ داریاں

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

جماعتِ احمدیہ کی ذمہ داریاں

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ۲۲؍فروری ۱۹۲۰ء کو لاہور سے روانگی کے موقع پر جماعتِ احمدیہ لاہور کے مردوں، عورتوں اور طالب علموں کے لئے شام کے سات بجے جو تقریر فرمائی تھی اس کا کسی قدر خلاصہ شائع ہو چکا ہے۔ اب ذیل میں وہ تقریر مفصل شائع کی جاتی ہے۔ (ایڈیٹر)

حضور نے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:-

ظاہری انتظام کے متعلق ہدایت

جو کچھ میں آج آپ لوگوں کو کہنا چاہتا ہوں اس کو ابھی تھوڑی دیر کے بعد بیان کروں گا۔ پہلے اس بیٹھنے کے متعلق جس طرز پر آپ لوگ اس وقت بیٹھے ہیں ایک واقعہ سناتا ہوں۔ حضرت مظہر جان جاناں اسلام میں بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں اور ہمارے حضرت خلیفہ اوّل، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے پہلے ان کے مُریدوں میں سے ایک کے مُرید تھے۔ ان کے متعلق لکھا ہے کہ انہیں ایک بادشاہ ملنے کے لئے گیا۔ اس کے ساتھ اس کا وزیر بھی تھا حضرت مظہر جان جاناں کے پاس پانی کی بھری ہوئی ایک صراحی رکھی تھی جس میں سے وہ ضرورت کے وقت پانی نکال لیا کرتے تھے۔ وزیر کو اس وقت پیاس لگی اور اس نے اس میں سے نکال کر پانی پیا لیکن پینے کے بعد آب خورہ ٹیڑھا رکھ دیا۔ لکھا ہے۔ اس پر انھوں نے بادشاہ کی طرف دیکھ کر کہا کہ اس کو کس احمق نے وزیر بنایا ہے کہ یہ آبخورہ کو بھی سیدھا رکھنا نہیں جانتا۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اتنی سی بات پر بادشاہ کے سامنے ایسے الفاظ استعمال کرنے مناسب نہ تھے۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو اس قسم کی معمولی باتوں کا انسان کے دوسرے اہم کاموں پر بڑا اثر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نماز پڑھتے وقت صفوں کو سیدھا رکھو ورنہ تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے۔۱؎اسی طرح فرمایا خدا خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔۲؎صفوں کو سیدھا رکھنے کی حقیقت فوجوں کے ظاہری انتظام کو دیکھ کر معلوم ہو سکتی ہے۔ فوجوں میں کیسی ظاہری خوبصورتی اور انتظام ہوتا ہے اور اس کا ان کے کام پر کتنا اثر پڑتا ہے۔ لیکن جن فوجوں کا ظاہری انتظام اچھا نہیں ہوتا۔ وہ کبھی دشمن پر فتح نہیں پاسکتیں تو مؤمن کو ظاہری شکل بھی خوبصورت بنانے کی کوشش کرنی چاہئے اور لیکچر سننے کے لئے ظاہری خوبصورتی یہی ہے کہ سننے والوں کا اکثر حصہ خطیب کے سامنے ہو۔ کیونکہ سامنے ہونے کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔

لاہور کی حیثیت حضرت خلیفۃ المسیح کے نزدیک

اس کے بعد میں آپ لوگوں کی توجہ اس مضمون کی طرف پھیرتا ہوں جس کے لئے میں نے آج آپ کو بُلایا ہے۔ میں لاہور میں قریباً بیس سال سے آتا ہوں اور یہاں خدا تعالیٰ نے میرا ایک خاص تعلق بھی پیدا کیا ہوا ہے یعنی وہیں وہ گھر ہے جس میں میرا بیاہ ہوا ہے۔ اس لحاظ سے قادیان کے بعد لاہور میرے لئے گھر کی حیثیت رکھتا ہے۔ پھر جس طرح حضرت صاحب کے نزدیک قادیان کے بعد سیالکوٹ کا درجہ تھا اسی طرح میرے نزدیک قادیان کے بعد لاہور کا درجہ ہے اور گو ہمارا تو یہ مذہب نہیں لیکن بعض فقہاء کے نزدیک اس تعلق کی وجہ سے جو مجھے لاہور سے ہے یہاں آکر مجھے پوری نماز پڑھنی چاہئے۔

جماعت لاہور کی مختلف حالتیں

اس عرصہ میں کہ جب سے میں لاہور آتا ہوں۔ میں نے یہاں کی جماعت کی مختلف حالتیں دیکھی ہیں میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے جبکہ لاہور میں ہماری جماعت تو تھی لیکن بہت قلیل تھی۔ پھر میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے کہ یہاں کی جماعت کثیر ہو گئی اور بہت سے لوگ اس میں شامل ہو گئے۔ مگر میرے نزدیک اس وقت با وجود کثیر ہونے کے قلیل تھی۔ اس لئے کہ لوگوں کے دل پھٹے ہوئے تھے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاہور اس اختلاف کا مرکز قرار پایا جس نے ڈائنامیٹ کی طرح احمدیت کو اُڑانا چاہا اور وہ شورش

جو ساری جماعت میں پھیلی اس کی بنیاد لاہور میں ہی رکھی گئی اس وقت جبکہ اس شورش کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔ لاہور میں آنیوالا شخص بجائے اس کے کہ یہاں کی جماعت کے افراد کی آپس میں محبت اور پیار دیکھے یہی دیکھتا تھا کہ ان میں اختلاف اور انشقاق بڑھتا جاتا ہے اور معلوم کرتا تھا کہ یہ جماعت اب بھی گئی ، اب بھی گئی۔ کیونکہ یہاں کے لوگوں کا رات دن سوائے جھگڑے کے اور کوئی کام ہی نہ تھا۔ اس وقت ایک طرف تو وہ لوگ تھے جن کے خیالات وہی تھے جو ہمارے ہیں اور دوسری طرف وہ تھے جو اب پیغامی بن کر رونما ہوئے ہیں۔ ان میں آئے دن جھگڑے اور بحثیں رہتی تھیں۔ نماز کے لئے جمع ہوتے تو جھگڑتے۔ نماز ختم کر لیتے تو جھگڑتے کسی دعوت پر جمع ہوتے تو جھگڑتے کسی اور موقع پر اکٹھے ہوتے تو جھگڑتے۔ اور یہ مادہ اس قدر بڑھ گیا تھا کہ جب کبھی آپس میں صلح صفائی کی تحریک ہوتی تو اس تحریک میں سے بھی فساد کا ہی پہلو نکال لیا جاتا۔ ایک دفعہ جب فتنہ بہت بڑھ گیا اور میں قادیان سے لاہور روانہ ہوا تو حضرت خلیفہ اوّل نے مجھے فرمایا کہ وہاں کے لوگوں کو سمجھانا۔ جب میں یہاں آیا تو میں نے اپنا یہ خیال پیش کیا کہ آپس میں صلح کی کوئی تدبیر ہونی چاہئے اور جس کے متعلق کسی کو اختلاف ہو اس کو علیحدگی میں بتانا چاہئے مجلس میں شرمندہ اور نادم نہیں کرنا چاہئے اور میں نے اسی مضمون پر تقریر بھی کی۔ تقریر کے بعد ایک دوست کے ہاں دعوت تھی جب ہم روانہ ہوئے تو پیچھے دیکھا کہ لوگوں کی ایک جماعت میری تقریر کے متعلق یہ کہہ رہی ہے کہ اس کا فلاں حصہ فلاں پر چسپاں ہوتا ہے اور فلاں حصہ فلاں پر۔ گویا وہ تقریر جو صلح کے لئے بطور تجویز کی گئی تھی ، اسی کے متعلق یہ کہنا شروع کر دیا گیا کہ اس میں جو یہ کہا گیا ہے کہ ضد نہیں کرنی چاہئے۔ یہ فلاں کے متعلق کہا گیا ہے ۔ دوسرا کہتا ، نہیں فلاں کے متعلق ہے۔ اس پر جھگڑا شروع ہو گیا۔ تو اس وقت سخت فتنہ کی بنیاد رکھی جا چکی تھی۔ پھر وہ وقت آیا جبکہ اس فتنہ کے بیج کا نتیجہ پیدا ہوا۔ اس وقت خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس الہام کے مطابق کہ ”لاہور میں ہمارے پاک ممبر“ یہاں کی جماعت کے کثیر حصہ کو سنبھالا اور گویا ایسا ہوا کہ بعض اور مقامات پر فتنہ برپا کرنے والوں کے ساتھی ہمارے لوگوں سے زیادہ پائے گئے ، لیکن لاہور میں خدا تعالیٰ نے جماعت کے اکثر حصہ کو حق پر قائم رکھا۔ تو لاہور کی جماعت مختلف حالتوں میں سے گذری ہے اور میں نے چونکہ ان حالتوں کو دیکھا ہے۔ اس لئے اس سے اچھی طرح واقف ہوں۔ گو مجھے اب لاہور میں آنے کا کم موقع ملتا ہے۔ پہلے تو میں سال میں دو تین بار آیا کرتا تھا اور اب کم آ سکتا ہوں۔ تاہم یہاں کی جماعت کی حالت کا مجھے خوب علم ہے اور میں یہاں کے لوگوں کے حالات سے خوب اچھی طرح واقف ہوں۔

قیام اجتماع کیلئے رائے کی قربانی ضروری ہے

ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں آپ لوگوں کو ایک نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ سب سے بڑی چیز اجتماع کے قیام کے لئے انسان کی رائے کی قربانی ہے۔ بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ جب ہم ایک بات کو سچا سمجھتے ہیں تو پھر کس طرح اس کے متعلق اپنی رائے کو قربان کر سکتے ہیں۔ اگر قربان کر دیں تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جھوٹ اور ناراستی پھیلے گی۔ لیکن یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے جو واقعات پر نظر نہ رکھنے کی وجہ سے لگتی ہے۔ کسی بات کے سچ یا جھوٹ ہونے اور کسی رائے کے صحیح یا غلط ہونے میں بہت بڑا فرق ہے۔ سچ اور جھوٹ تو یہ ہوتا ہے کہ ایسی بات جس کو انسان دیکھتا ہے اور دیکھ کر ایسے رنگ میں بیان کرتا ہے جس طرح اس نے دیکھا نہیں یہ جھوٹ ہے۔ اگر ہو بہو بیان کر دے تو یہ سچ ہوگا۔ یا کوئی پرانا واقعہ ہے اس کے متعلق وہ خود تو کچھ نہیں جانتا لیکن کسی اور نے اُسے جس طرح بتایا ہے وہ اسی طرح بیان نہیں کرتا بلکہ اور طریق سے بیان کرتا ہے یہ جھوٹ ہے اور اگر اس نے کسی سے جو کچھ سُنا ہے وہی جھوٹ ہے اور وہ اسی کو آگے بیان کرتا ہے تو یہ بھی جھوٹ ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ سچ یا جھوٹ کسی ایسے امر کے متعلق ہوتا ہے جو زمانہ ماضی میں گذر چکا ہو لیکن رائے آئندہ ہونے والے معاملات کے متعلق ہوا کرتی ہے۔ مثلاً یہ ہے کہ فلاں جگہ جلسہ کرنا چاہئے یا نہیں۔ اس کے متعلق یہ کہنا کہ کرنا چاہئے یا نہیں کرنا چاہئے۔ اس میں سچ یا جھوٹ کا کوئی دخل نہیں بلکہ یہ رائے ہے جس کے متعلق صحیح یا غلط کہا جا سکتا ہے لیکن سچ یا جھوٹ نہیں کہا جا سکتا۔ پس اس بات کو خوب اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ رائے میں سچ یا جھوٹ کا تعلق نہیں ہوتا۔ بلکہ رائے انسان کا خیال ہوتا ہے کہ فلاں کام یوں مناسب نہیں، یوں مناسب ہے۔

کسی رائے کے متعلق کس طرح فیصلہ کرنا چاہئے

پھر رائے کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کرتے وقت یہی نہیں دیکھا جانا کہ نقصان کی کونسی بات ہے اور نفع کی کونسی۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ فلاں کام یوں کرنا چاہئے ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ فی الواقع مفید ہو لیکن دوسروں کی سمجھ میں اس کا مفید ہونا نہ آئے۔ ایسے موقع پر یہ دیکھنا چاہئے کہ ان سب لوگوں کو فتنہ میں ڈالنا اچھا ہے جن کی سمجھ میں اس کام کا اچھا ہونا نہیں آیا یا اس کو کرنا مفید ہے۔ ایسے موقع کے لئے یہی مناسب ہو گا کہ اس کو چھوڑ دیا جائے اور جس طرح دوسرے کہتے ہیں اسی طرح کیا جائے پس معاملات کا فیصلہ کرتے وقت ہر انسان کو ہمیشہ اپنی ہی رائے پر زور نہیں دینا چاہئے اور اس کے خلاف فیصلہ سننے کیلئے بھی تیار رہنا چاہئے۔ نہ کہ اس پر اتنا زور دینا چاہئے کہ ضرور اسی طرح ہو اور نہ دوسروں کی حقارت کرتے ہوئے یہ کہنا چاہئے کہ یہی رائے درست ہے اور کسی کی درست نہیں۔

ضروری نہیں کہ ہر معاملہ میں انسان کی رائے درست ہو

یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ہر ایک معاملہ میں انسان کی اپنی رائے درست ہو اور انسان تو الگ رہے بعض معاملات کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ ممکن ہے میری رائے درست نہ ہو (نبراس ۔ شرح الشرح لعقائد نسفی ص ۳۹۲ مطبوعہ میرٹھ) پس جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے بھی ایسی ہو سکتی ہے تو اور کون ہے جو اپنی رائے میں غلطی نہیں کر سکتا۔

خلیفہ یا امیر کی اطاعت کیوں ضروری ہے؟

یہ جو امارت اور خلافت کی اطاعت کرنے پر اس قدر زور دیا گیا ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ امیر یا خلیفہ کا ہر ایک معاملہ میں فیصلہ صحیح ہوتا ہے۔ کئی دفعہ کسی معاملہ میں وہ غلطی کر جاتے ہیں۔ مگر باوجود اس کے ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کا اسی لئے حکم دیا گیا ہے کہ اس کے بغیر انتظام قائم نہیں رہ سکتا تو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں بھی غلطی کر سکتا ہوں تو پھر خلیفہ یا امیر کی کیا طاقت ہے کہ کہے میں کبھی کسی امر میں غلطی نہیں کر سکتا۔ خلیفہ بھی غلطی کر سکتا ہے، لیکن باوجود اس کے اس کی اطاعت کرنی لازمی ہے ورنہ سخت فتنہ پیدا ہو سکتا ہے مثلاً ایک جگہ وفد بھیجنا ہے۔ خلیفہ کہتا ہے کہ بھیجنا ضروری ہے لیکن ایک شخص کے نزدیک ضروری نہیں ہو سکتا ہے کہ فی الواقع ضروری نہ ہو لیکن اگر اس کو اجازت ہو کہ وہ خلیفہ کی رائے نہ مانے تو اس طرح انتظام ٹوٹ جائے گا جس کا نتیجہ بہت بڑا فتنہ ہوگا۔ تو انتظام کے قیام اور درستی کے لئے بھی ضروری ہے کہ اپنی رائے پر زور نہ دیا جائے جہاں کی جماعت کا کوئی امیر مقرر نہ ہو وہ اگر دوسروں کی رائے کو مفید نہیں سمجھتا تو انہیں چاہئے کہ اپنی رائے کو چھوڑ دیں۔ اسی طرح جہاں انجمن ہو وہاں کے لوگوں کو سیکرٹری کی رائے کے مقابلہ میں اپنی رائے پر ہی اصرار نہیں کرنا چاہئے۔ جہاں تک ہو سکے سیکرٹری یا امیر کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اُسے سمجھانا چاہئے لیکن اگر وہ اپنی رائے پر قائم رہے تو دوسروں کو اپنی رائے چھوڑ دینی چاہئے۔ کیونکہ رائے کا چھوڑ دینا فتنہ پیدا کرنے کے مقابلہ میں بہت ضروری ہے۔

کام کرنے والوں کا فرض

اسی طرح جن لوگوں کے سُپرد کام ہو مثلاً یہاں کی جماعت کا امیر مقرر ہے اور اس کے ماتحت اور کام کرنے والے ہیں۔ ان کا بھی فرض ہے کہ وہ یہ نہ کہیں کہ ہم چونکہ افسر بنائے گئے ہیں، اس لئے ہم ہی اپنی ہر ایک بات منوائیں گے۔ اپنی بات منوانے کا بہترین طریق یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی کی بھی مان لی جائے۔ اپنی ہی بات منوانے کا وہی موقع ہوتا ہے جبکہ انسان دیانتداری اور ایمانداری کے ساتھ سمجھتا ہو کہ میں اس کے خلاف مان ہی نہیں سکتا۔ ورنہ تھوڑا بہت نقصان اُٹھا کر بھی دوسروں کی بات مان لینی چاہئے تاکہ دوسروں کے احساسات کو صدمہ نہ پہنچے۔

مختلف طبائع کا خیال رکھنا ضروری ہے

اسی طرح آپس کے معاملات کے متعلق یہ بات بھی مدّ نظر رکھنی چاہئے کہ طبائع مختلف قسم کی ہوتی ہیں۔ بعض سخت ہوتی ہیں اور بعض نرم جو سخت ہوتی ہیں انہیں تھوڑی سی بات پر بھی ٹھوکر لگ جاتی ہے۔ تو دوسروں کے ساتھ سلوک اور معاملہ کرتے وقت ان کی طبائع کا ضرور خیال رکھنا چاہئے۔ انتظام قائم رکھنے کے لئے اسلام میں امیر رکھا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ جس طرح وہ کہے اسی طرح کرو۔ لیکن معاملہ اور سلوک کرنے میں امیر کا یہ حق نہیں ہے کہ کسی کو حقیر اور ادنیٰ سمجھے۔ حتیٰ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ حق نہیں کہ کسی کو حقیر سمجھیں۔ کجا یہ کہ ان کے خلفاء میں سے کسی کو یہ حق ہو۔ اور پھر کجا یہ کہ ان کے خلفاء کے غلاموں کے غلاموں کو یہ حق ہو۔ تو خود نبیوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ دوسروں کو حقیر سمجھیں۔ اس سے میری مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نبیوں کو ایسا کرنے سے خود بچاتا ہے۔ اور ان کے وہم و گمان میں بھی کسی کی تحقیر نہیں آتی۔

جس پر خدا احسان کرتا ہے وہ اور جھکتا ہے

تو خدا تعالیٰ جس کو بڑا بناتا ہے وہ خود سب سے نیچے ہو کر رہتا ہے۔ کیونکہ جس کو خدا تعالیٰ کوئی درجہ دیتا ہے اس پر احسان کرتا ہے اور احسان ایک بوجھ ہوتا ہے اور بوجھ سے گردن اونچی نہیں ہوا کرتی بلکہ نیچی رہتی ہے۔ ایک ایسا شخص جس پر خدا تعالیٰ کوئی احسان کرتا ہے اور وہ تکبر کرتا ہے اس کے تکبر کرنے کی یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ یا تو وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ مجھے ملا ہے میرا حق تھا یا یہ کہ وہ اس کو اپنے لئے عزت ہی نہیں سمجھتا۔ لیکن یہ دونوں دھوکے ہیں اور سخت خطرناک دھوکے ہیں جن کا نتیجہ تباہی اور بربادی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ اس لئے ہر جگہ کے کارکنوں اور خصوصاً لاہور کے کارکنوں کو جو اس وقت میرے مخاطب ہیں چاہئے کہ تواضع اور فروتنی اختیار کریں

اور خیال کریں کہ چونکہ انکے نام کے ساتھ امیر یا سیکرٹری یا محاسب یا امین یا اور کوئی نام لگ گیا ہے اس لئے وہ اور بھی گر کر رہیں ۔ تاکہ دوسرے لوگوں کو یہ خیال نہ پیدا ہو کہ اسی کی وجہ سے ان میں تکبر پیدا ہو گیا ہے ۔

اسلامی مساوات کی شان

دیکھو ! اسلامی مساوات کی بھی کیا شان ہے ۔ ایک طرف تو ایک شخص کو بڑھا کر اس درجہ پر پہنچا دیا کہ ہر ایک کو جو اس کے ماتحت کیا گیا ہے اس کے احکام کی اطاعت کرنی چاہئے اور اگر کوئی نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ کے نزدیک گنہگار ہے اور دوسری طرف معاملات میں اس کو اتنا نیچے لاتا ہے کہ کہتا ہے اسے غریب سے غریب انسان کی بھی عزت اور توقیر کرنی ہوگی ۔ اور اس کا قدرتی درجہ جس سے وہ عام طور پر فائدہ اُٹھاتا ہے مثلاً یہ کہ وہ امیر ہے اور اس وجہ سے اس کی خاص پوزیشن ہے ۔ اس کو بھی چھڑوا دیتا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ کا واقعہ ہے ۔ ایک شخص ان کے پاس آتا ہے اور آکر کہتا ہے کہ اے عمر ! میری بڑی ذلت کی گئی ۔ انہوں نے پوچھا کس نے کی ۔ اس نے کہا عمرو بن عاص کے بیٹے نے ۔ انھوں نے پوچھا کس طرح ۔ اس نے کہا گھوڑ دوڑ ہو رہی تھی ۔ میرا گھوڑا اس سے آگے بڑھنے لگا تھا کہ اس نے مجھے کوڑا مار کر کہا کہ میں شریف ہوں کیا تو شریف سے بھی بڑھنا چاہتا ہے ۔ حضرت عمرؓ نے کہا عمرو بن عاص کو بلاؤ ۔ جب وہ آئے تو پوچھا کیا تمہارے بیٹے نے اس شخص کو کوڑا مارا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں ۔ تحقیقات کی جائے ۔ تحقیقات کی گئی تو بات صحیح نکلی ۔ اس پر حضرت عمرؓ نے عمرو بن عاص کے بیٹے کو یہ سزا دی کہ جس کو اس نے کوڑا مارا تھا اسی کے ہاتھ میں کوڑا دیا اور کہا کہ مار شریف ابن شریف کو جب وہ مار چکا تو حضرت عمرؓ نے کہا کیا خدا نے جن کو آزاد کیا ہے تم ان کو غلام بناتے ہو۔ یہ ہے اسلامی مساوات ۔

یک جہتی کی بنیاد کیا ہے ؟

پس ہماری جماعت میں جو لوگ کام کرنیوالے ہیں دوسروں پر فرض ہے کہ وہ جو حکم دیں اس کے ماتحت کام کریں ۔ لیکن حکم دینے والوں کا یہ فرض ہے کہ کسی پر ایسا بوجھ نہ رکھیں جسے وہ اُٹھا نہیں سکتا اور ماتحت کام کرنے والوں کا فرض ہے کہ جن کو کوئی عہدہ دیا گیا ہو ان کی پوری پوری عزت اور توقیر کریں کیونکہ جن کاموں پر انھیں مقرر کیا گیا ہے وہ عزت چاہتے ہیں ۔ پھر افسروں کا فرض ہے کہ جو لوگ ان کے ماتحت کئے گئے ہیں ان کی تواضع کریں کہ یہ ان کے کام کے سرانجام پانے کے لئے ضروری ہے پس یہ وہ احکام ہیں جن کا آپ لوگوں کو سنانا ضروری تھا کہ جن کے سُپرد کوئی کام کیا گیا ہے۔ ان کی اطاعت کی جائے سوائے کسی صاف شرعی حکم کے خلاف حکم کے۔ اور جن کے سُپرد ہیں انکو چاہئے کہ دوسروں کے احساسات اور جذبات کا خیال رکھیں اور دوسرے انکی پوری اطاعت کریں ۔ ہو سکتا ہے کہ کبھی سیکرٹری یا محاسب یا اور کوئی عہدہ دار درجہ کے لحاظ سے چھوٹا ہو۔ مگر اس کے احکام کی انہیں اطاعت کرنی چاہئے۔ کیونکہ جو کام اس کے سپرد کیا گیا ہے وہ چھوٹا نہیں ہے یہ ہے وہ چیز جس پر اسلام ہر ایک مؤمن کو قائم کرنا چاہتا ہے اور یہی ہے وہ چیز جو اخوت اور یک جہتی کی بنیادوں کو استوار رکھتی ہے اور جب تک کوئی قوم اس پر قائم نہ ہو جائے اس وقت تک اسلام کے حقیقی فوائد حاصل نہیں کر سکتی ۔

لاہور میں تبلیغ کی ضرورت

اس کے بعد میں لاہور کی جماعت کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہاں تبلیغ میں بہت سُستی ہے۔ اگر ہر شخص اپنا یہ فرض قرار دے کہ میں سال میں کم از کم ایک شخص کو احمدی بناؤں گا تو ایک سال میں کتنے آدمی بڑھ سکتے ہیں ۔ مگر اب تو یہ ہوتا ہے کہ کسی سال ایک بھی آدمی داخل نہیں ہوتا جو کہ بہت ہی افسوس کی بات ہے۔

تبلیغ کرنا ہر ایک احمدی کا فرض ہے

ہر ایک احمدی یہ تو سمجھتا ہے کہ تبلیغ ہونی چاہئے لیکن صرف یہ سمجھنے سے تبلیغ نہیں ہو جاتی ۔ بلکہ تبلیغ اسی طرح ہو سکتی ہے کہ ہر ایک احمدی یہ محسوس کرے کہ مجھے تبلیغ کرنی چاہئے ۔ اب تو تبلیغ کرنا ہر شخص دوسرے کا فرض سمجھتا ہے اور اس طرح کوئی بھی اس فرض کو ادا نہیں کرتا۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسا ایک مجمع میں آواز دی جائے کہ پانی لاؤ۔ اس کے جواب میں ممکن ہے کہ ہزار آدمی کے مجمع میں سے کوئی بھی نہ اُٹھے اور ہر ایک یہ خیال کرے کہ اور کوئی اُٹھے گا۔ لیکن اگر کسی کا نام لے کر کہا جائے کہ پانی لاؤ تو وہ فوراً اُٹھ کھڑا ہو گا تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ایک شخص یہ سمجھے کہ تبلیغ کرنا اور احمدیت کو پھیلانا جماعتی فرض ہی نہیں ہے بلکہ فرداً فرداً بھی ہر ایک احمدی کا فرض ہے اور ہر ایک کو یہ خیال ہونا چاہئے کہ میں سال میں کم از کم ایک شخص کو احمدی بناؤں گا۔ اگر یہ خیال کر لیا جائے تو بہت عمدگی سے تبلیغ کی جاسکتی ہے۔ پس اس کے لئے پورے طور پر کوشش کرو تاکہ یہاں کی جماعت ترقی کرے۔ یہ ایک مرکزی جگہ ہے۔

لاہور میں مضبوط جماعت کی ضرورت

اگر یہاں ہماری مضبوط جماعت قائم ہو جائے تو پھر سارے پنجاب کا فتح کرنا ہمارے لئے بہت آسان ہو جاتا ہے کیونکہ تمدنی طور پر سارے علاقہ پر لاہور کا اثر ہے۔ یہی دیکھ لو پنجاب میں سیاسی خیالات پھیلانے والا کونسا مقام ہے؟ یہی لاہور جب یہاں کے لوگوں میں سیاسی معاملات کے متعلق جوش پیدا ہو گیا تو سارے صوبہ میں پھیل گیا۔ پس جو مقام کسی صوبہ کا دارالامارت ہوتا ہے۔ اس سے سارے صوبہ کے لوگوں کا بہت تعلق ہوتا ہے کوئی مقدمات کے لئے آتا ہے، کوئی سفارشوں کے لئے آتا ہے کوئی افسروں سے ملنے کے لئے آتا ہے۔ کوئی ملازمت کے لئے آتا ہے، کوئی تجارت کیلئے آتا ہے کوئی اور فوائد حاصل کرنے کیلئے آتا ہے پس اس شہر میں اگر ہماری مضبوط جماعت ہو جائے اور ایسی مضبوط ہو جائے کہ دیکھنے والوں کو دوسروں سے الگ اور نمایاں طور پر نظر آ جائے۔ دینی کوشش اور سعی کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ تعداد کے لحاظ سے بھی۔ مثلاً جس بازار میں کوئی جائے۔ اور پوچھے یہ دکان کس کی ہے۔ تو اسے بتایا جائے کہ فلاں احمدی کی ہے اور اگر کوئی پوچھے یہ کونسا وکیل ہے تو اُسے بتایا جائے فلاں احمدی وکیل ہے۔ اسی طرح ہر پہلو اور ہر رنگ میں ہماری جماعت کے لوگ ہر ایک شخص کو نمایاں طور پر نظر آنے لگیں تو انشاء اللہ سارے صوبہ میں ہماری بہت جلد ترقی ہو سکتی ہے۔

خاص فیضان کا زمانہ

ان خاص نصیحتوں کے بعد میں مردوں اور عورتوں کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ خاص فیضان کے خاص اوقات مقرر ہوتے ہیں۔ اگر وہ وقت جو کسی فیض کے حاصل ہونے کے لئے مقرر ہو، یونہی نکل جائے تو پیچھے کچھ نہیں بنتا۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میری اُمت میں سے ستر ہزار انسان ایسے ہونگے جو بغیر حساب کے جنت میں داخل کئے جائیں گے۔ ایک صحابیؓ نے کہا یا رسول اللہؐ میں بھی ان میں شامل ہوں گا آپ نے فرمایا ہاں۔ پھر دوسرے نے کہا یا رسول اللہؐ میں بھی۔ آپ نے فرمایا وہ وقت گذر گیاعلم۔ تو خدا تعالیٰ کے خاص فضل کے لئے خاص وقت مقرر ہوتے ہیں۔ اس زمانہ میں جبکہ لوگ دین کو چھوڑ چکے اور اس سے نفرت کرتے بلکہ اس پر ہنسی اڑاتے تھے۔ خدا تعالیٰ نے اپنے ایک رسول کو بھیج کر ہماری اصلاح کی اور ہماری ترقی کے لئے دروازے کھول دیئے اس کے متعلق خوب اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ ایسے دروازے روز روز نہیں کھلا کرتے تیرہ سو سال کے طویل عرصہ کے بعد ایک رسول کو دیکھنے کی صورت پیدا ہوئی ہے۔ دیکھو دنیا میں جب کوئی نئی چیز نکلتی ہے تو کس قدر شوق اور خوشی سے اس کو دیکھا جاتا ہے۔ فونوگراف اور گراموفون جب نکلے تو ہر دوں لوگ ان کو دیکھنے کے لئے کھڑے رہتے۔ لیکن ان سب سے بڑی چیز بلکہ اس سے بڑی کوئی ہے ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک شخص پیغام لے کر آئے اس کے لئے تو ہر ایک عورت، مرد، بچے، بوڑھے، نوجوان اور نو عمر کا فرض تھا کہ اس کی آواز کو سنتا اور اس کی قدر کرتا۔ لیکن افسوس! دنیا کے اکثر لوگوں نے قدر نہ کی۔ اب اگر ہماری جماعت بھی جس کو خدا تعالیٰ نے قدر کرنے کی توفیق دی ہے وہ بھی اسے پہچاننے کے باوجود قدر نہ کرے تو کسی قدر افسوس اور رنج کا مقام ہوگا۔ خدا تعالیٰ کا وہ برگزیدہ انسان تو گزر گیا لیکن چونکہ ابھی زمانہ قریب ہے اس لئے اس وقت بھی خدا تعالیٰ کے خاص فضل ہو رہے ہیں۔

خدا کا خاص فضل

مَیں تو اپنی ذات کو دیکھتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں۔ اگر کوئی اجنبی آئے اور مجھ سے ان باتوں کو سُنے جو خدا تعالیٰ مجھ پر کھولتا ہے تو سمجھے کہ یہ بڑا عالم ہے لیکن میں اپنے علم اور اپنی پڑھائی کو خوب جانتا ہوں۔ مَیں دس سال سکول میں پڑھتا رہا ہوں لیکن مجھے یاد نہیں کہ مَیں کسی سال بھی پاس ہوا اور کسی مضمون میں بھی پاس ہوا۔ انٹرنس کے امتحان میں دو تین مضامین میں پاس ہوا تھا جن میں سے ایک عربی تھا۔ یوں میں کبھی اردو میں بھی پاس نہیں ہوا تھا۔ پھر مَیں حضرت مولوی صاحب کے پاس پڑھنے بیٹھا۔ مولوی صاحبؒ نے بخاری پندرہ دن میں مجھے پڑھائی اور وہ اس طرح کہ فرماتے سُناتے جاؤ اگر میں کچھ پوچھتا تو فرماتے پوچھو مت پڑھے جاؤ اسی طرح ایک دو اور کتابیں پڑھیں اور صرف و نحو کی چھوٹی سی کتاب پڑھی گویا ظاہری طور پر میں نے کچھ نہیں پڑھا۔ مگر میں یہ جانتا ہوں کہ اسلام پر حملہ کرنے والا خواہ کسی علم کا ماہر ہو اور اس علم کا مَیں نے نام بھی نہ سُنا ہو وہ اعتراض کر کے دیکھ لے۔ اگر اسے یہ نہ معلوم ہو جائے کہ میں اس سے زیادہ اس علم کو جانتا ہوں تو پھر اعتراض کرے۔ لیکن یہ میری پڑھائی اور میری محنت کی وجہ سے نہیں۔ بلکہ اس مقام اور رُتبہ کی وجہ سے ہے جس پر مجھے کھڑا کیا گیا ہے۔

پھر مجھے لکھنے اور اس سے زیادہ بولنے کی بہت کم عادت ہے۔ کوئی ایک گھنٹہ میرے پاس بیٹھا رہے میں اس سے کوئی بات نہیں کر سکتا۔ بعض لوگ سمجھتے ہونگے کہ مَیں تکبر کی وجہ سے ایسا کرتا ہوں۔ مگر مَیں بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن کچھ سوجھتا نہیں۔ اور تقریر کرنے کے لئے تو میں کچھ سوچ ہی نہیں سکتا۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ مَیں خطبہ پڑھنے کے لئے جا کر کھڑا ہوتا ہوں لیکن یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کیا کہنا ہے۔ پھر تشہد پڑھتا ہوں مگر معلوم نہیں ہوتا کیا کہوں گا۔ پھر سورہ فاتحہ پڑھتا ہوں۔ اس وقت بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کیا بیان کروں گا۔ پھر میں بولنا شروع بھی کر دیتا ہوں اور تین چار منٹ تک بولتا جاتا ہوں۔ پھر پتہ نہیں ہوتا کہ کیا کہوں گا۔ اس کے بعد جا کر اصل مضمون تو سمجھتا ہے۔ ہمیشہ نوٹس اکثر دفعہ الٹا ہی بولتا ہے کھڑے ہوئے ہی مضمون سمجھا دیا جاتا ہے۔ ایک دفعہ تو قریب تھا کہ میں بے ہوش ہو کر گر پڑتا کیونکہ دیر تک بولنا رہا مگر یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کہہ رہا ہوں۔ آخر اس حالت سے اس قدر وحشت ہوئی کہ بے ہوش ہو کر گرنے لگا۔ مگر اس وقت معلوم ہوا کہ یہ تو دراصل فلاں مضمون کی تائید تھی اور پھر میں نے ایسا اعلیٰ مضمون بیان کیا کہ میں خود حیران تھا۔

زمانہ کا اثر

تو اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کا خاص فیضان نازل ہو رہا ہے اور ہمت سیکھو کہ یہ ہمیشہ رہے گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ نہ رہا تو کون کہہ سکتا ہے کہ کل کیا ہوگا۔ دیکھو حضرت ابوبکرؓ کا زمانہ حضرت عمرؓ کے وقت نہ تھا۔ اور حضرت عمرؓ کا زمانہ حضرت عثمانؓ کے وقت نہ تھا اور حضرت عثمانؓ کا زمانہ حضرت علیؓ کے وقت نہ تھا۔ بیشک حضرت ابوبکرؓ خود بھی کامل انسان تھے مگر ان کے زمانہ کو جو فضیلت حاصل ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب تھا۔ پھر اس میں شک نہیں کہ حضرت عمرؓ کا درجہ حضرت ابوبکرؓ سے کم تھا اور حضرت عثمانؓ کے زمانہ کی نسبت حضرت عمرؓ کا زمانہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ دور تھا کہ حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ کی نسبت حضرت عمرؓ کا زمانہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ دور تھا یہی حال حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کا تھا۔ بیشک ان کا درجہ اپنے سے پہلے خلیفوں سے کم تھا لیکن ان کے وقت جو واقعات پیش آئے ۔ ان میں ان کے درجہ کا اتنا اثر نہیں تھا ۔ جتنا رسول کریمؐ کے زمانہ سے دُور ہونے کا اثر تھا کیونکہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے وقت زیادہ تر وہ لوگ تھے جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی تھی۔ لیکن بعد میں دوسروں کا زیادہ دخل ہو گیا۔ چنانچہ جب حضرت علیؓ سے کسی نے پوچھا کہ حضرت ابوبکرؓ اور عمرؓ کے عہد میں تو ایسے فتنے اور فساد نہ ہوئے تھے۔ جیسے آپ کے وقت میں ہو رہے ہیں تو انہوں نے کہا بات یہ ہے کہ ابوبکرؓ اور عمرؓ کے ماتحت میرے جیسے لوگ تھے اور میرے ماتحت تیرے جیسے لوگ ہیں ۔ تو لوگوں کی وجہ سے زمانہ میں بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔

موجودہ زمانہ کی قدر کرو

پس تم لوگ اس زمانہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھو اور یہ مت سمجھو کہ یہ کوئی بوجھ پڑا ہوا ہے۔ بلکہ یہ سمجھو کہ تمہیں دین کی خدمت کا موقع ملا ہوا ہے۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے۔ وقت کے گزر جانے پر چھوٹی پُھول بالول پر بھی افسوس کیا جاتا ہے۔ مثلاً کسی کو کھانسی کی بیماری ہو اور وہ سگریٹ مانگے نوٹس دیا جائے۔ لیکن اگر وہ مر جائے تو پیچھے افسوس کیا جاتا ہے کہ ہم نے کیوں نہ اسے سگریٹ دے دیا۔ پس جب نادانی کی باتوں پر بعد میں حسرت اور افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے تو ایسی باتوں پر کیوں افسوس نہ ہو گا جو اپنے اندر بہت بڑی حقیقت اور صداقت رکھتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جب یہ زمانہ گذر جائے تو کوئی کہے کاش! میں اس وقت اپنا سب کچھ خدا کے لئے دے دیتا اور خود ننگا پھرتا۔ تو انسان کو چاہئے کہ کام کرنے کے وقت یہ نہ دیکھے کہ میں نے کتنا کام کیا ہے، بلکہ یہ دیکھے کہ اگر یہ وقت ہاتھ سے جاتا رہا تو پھر کس قدر مجھے حسرت اور افسوس ہوگا۔

پس ہماری جماعت کے خواہ مرد ہوں خواہ عورتیں ان کو میں اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اس وقت جو فیضانِ الٰہی ہو رہے ہیں ان سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اب یہ زمانہ جو تیرہ سو سال کے بعد آیا ہے پھر کب آئے گا۔ خدا تعالیٰ کے نبی عظیم الشان انسان ہوتے ہیں۔ وہ روز پیدا نہیں ہوا کرتے۔ پس تم لوگ اس زمانہ کی قدر کر کے دین کی خدمت کرنے کی کوشش کرو۔ تاکہ خدا تعالیٰ کی اس بارش سے تمہارے گھر بھر جائیں جو دُنیا کو سیراب کرنے کے لئے اس نے نازل کی ہے اور اس نور سے بھر پور ہو جاؤ جس کے پھیلانے کا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے۔

عورتوں کی ذمہ داری

ہماری جماعت کی عورتیں بھی، مرد بھی، بچے بھی، نوجوان بھی، ایک ذمہ داری اپنے اوپر رکھتے ہیں، لیکن اکثر دیکھا جاتا ہے کہ عورتیں کہہ دیتی ہیں دین کی خدمت کرنا مردوں کا فرض ہے۔ اس لئے میں نے کہا تھا کہ آج عورتیں بھی آئیں تاکہ ان کے کانوں میں یہ بات ڈال دی جائے کہ خدا تعالیٰ کے سامنے جس طرح مرد جواب دہ ہیں اسی طرح عورتیں بھی ہیں۔ اس لئے یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ساری ذمہ داری مردوں پر ہی ہے دین کے معاملہ میں مرد اور عورتیں دونوں یکساں جواب دہ ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ دین کی اشاعت میں دونوں حصہ لیں۔ اور جب تک دونوں حصہ نہ لیں۔ اس وقت تک خدا تعالیٰ کی پوری برکت ان پر نازل نہیں ہو سکتی۔ اس کی بہت اچھی مثال گاڑی کی ہے۔ جب تک دونوں گھوڑے متفق ہو کر اسے نہ کھینچیں وہ نہیں کھینچ سکتی۔ اسی طرح مرد و عورت کا حال ہے۔ مرد خواہ کتنا کمانے والا ہو اگر بیوی فضول خرچ ہو تو کچھ نہیں بن سکتا۔ اسی طرح اگر مرد سست اور کاہل ہو تو بیوی خواہ کتنی ہوشیار ہو کچھ نہیں بنا سکتی۔ یہی حال دینی معاملات کا ہے جب تک عورت اور مرد دونوں مل کر ان کو سر انجام نہ دیں وہ اچھی طرح پورے نہیں ہو سکتے۔ پس جہاں دین کی خدمت کرنا مردوں کا فرض ہے وہاں ان کی عورتوں کا بھی فرض ہے اور انہیں چاہئے کہ مقدور بھر ضرور اس فرض کو ادا کرنے کی کوشش کریں۔

بچوں کی ذمہ داری

اسی طرح بچوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ دین کی خدمت سے غافل نہ رہیں۔ بے شک ان کے پڑھائی کے دن ہیں۔ بلکہ کھیل کے دن ہیں اور جو لڑکا طالب علمی کے زمانہ میں کھیل چھوڑتا ہے۔ وہ نادانی کرتا ہے بلکہ ورزش کرنا تو طالب علمی کے زمانہ کے ختم ہونے کے بعد بھی صحت کے قیام کے لئے ضروری ہے۔ مجھے یہ بیماریاں اسی وجہ سے پیدا ہوئیں کہ میں کثرتِ کام کی وجہ سے ورزش کا خیال نہ رکھ سکا۔ تو کھیلنا اور ورزش کرنا بھی ضروری ہے حضرت صاحب کو خواہ کتنا کام ہوتا۔ نمازیں جمع ہوتیں۔ مگر آپ سیر کے لئے ضرور جاتے۔ بلکہ ایک دن میں دو دفعہ صبح و شام جاتے۔ میں نے آپ کی اس سنت کے خلاف کر کے بہت نقصان اُٹھایا ہے۔ اس لئے نوجوانوں کو کہتا ہوں۔ من نہ کردم شما حذر بکنید۔ میں نے کام کی کثرت کی وجہ سے ورزش کرنا چھوڑا۔ مگر پھر ایسی حالت ہو گئی کہ کام کرنا بالکل ہی چھوٹ گیا اور ایک وقت تو میری یہ حالت تھی کہ میں اکیلا بآسانی اتنا کام کر سکتا تھا جتنا چار مضبوط آدمی کر سکتے ہیں مگر پھر یہ حالت ہو گئی کہ میں کسی کتاب کا ایک صفحہ بھی نہ پڑھ سکتا تھا کہ چکر آنے شروع ہو جاتے اب جبکہ سیر شروع کی ہے تو گو پہلی سی طاقت نہیں ہے۔ مگر پھر بھی بڑا فرق ہے اور معلوم ہو گیا ہے کہ نیچر کے قواعد کی پابندی بھی ضروری ہے۔ تو لڑکوں کے لئے کھیل بھی ضروری ہے۔ مگر ان کا بڑا فرض یہ ہے کہ وہ دینداری کا اعلیٰ نمونہ بن کر دکھائیں کیونکہ وہ ایسے لوگوں میں رہتے ہیں جو کفر میں ڈوبے ہوئے ہیں اگر یہ اپنا اعلیٰ نمونہ نہ دکھائیں گے تو دوسرے کہہ سکتے ہیں کہ یہ جو زندہ خدا کے ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کی ایسی حالت ہے تو ہمیں خدا کو مان کر کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔

خلاصہ تقریر

پس میں اپنی جماعت کے تمام لوگوں کو خواہ وہ بچے ہیں یا جوان یا عورتیں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے نمونہ سے اور اپنی کوشش سے دین کی اشاعت میں لگ جائیں۔ چونکہ آج میرا ارادہ ہے کہ اس وقت جو گاڑی جاتی ہے اس پر جاؤں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ پھر یہاں آنے کا موقع ملے یا نہ ملے یا اس طرح سمجھانے کا موقع ملے یا نہ ملے، اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ جن کو کام کرنے کے لئے کوئی درجہ دیا گیا ہے دوسرے اس درجہ کے لحاظ سے انھیں دیکھیں اور وہ اپنے اندر ایسی تواضع اور انکساری پیدا کریں جیسی کہ اس درجہ کے لئے ضروری ہے۔

مخلوق خدا سے ہمدردی کرو

اسی طرح میں عورتوں، مردوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ صدقہ اور خیرات اور دوسرے طریقوں سے غریبوں، محتاجوں کی مدد کرنے کی کوشش کریں۔ میرے نزدیک وہ عورت یا مرد مسلمان نہیں جس کے دل میں کسی غریب کو دیکھ کر درد نہیں ہوتا۔ اور مصیبت زدہ کو دیکھ کر دکھ نہیں محسوس ہوتا جس شخص کی نظر اپنے ہی دُکھ درد تک محدود ہو۔ وہ مؤمن کہلانے کا مستحق نہیں ہے مسلم کے معنے خدا کی آنکھ ہیں اور خدا کی آنکھ صرف مسلمانوں کے ہی دُکھ درد کو نہیں دیکھتی بلکہ تمام مخلوق کو دیکھتی ہے۔ پھر مسلم کے معنے خدا کا ہاتھ ہیں اور خدا کا ہاتھ صرف مسلمانوں کے لئے دراز نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر ایک انسان کے لئے دراز ہوتا ہے۔ پھر مسلم کے معنیٰ خدا کا پاؤں ہیں اور خدا کا پاؤں صرف مسلمانوں کی طرف نہیں بڑھتا، بلکہ سکھ، ہندو، عیسائی سب کی طرف بڑھتا ہے۔ پس مسلمان اور مؤمن وہی کہلا سکتا ہے جسے ہر ایک انسان کے دُکھ اور مصیبت کے دُور کرنے کی فکر ہو۔ لیکن اگر کسی میں خدا تعالیٰ کی تمام مخلوق کے لئے تواضع اور ہمدردی نہیں تو اس کا اسلام ناقص ہے۔

تبلیغ کی رفتار تیز کرو

پھر میں کہتا ہوں مرد مردوں میں اور عورتیں عورتوں میں تبلیغ دین کریں وقت گزر رہا ہے۔ مگر کام جس رفتار سے ہونا چاہئے اس سے نہیں ہو رہا۔ بیشک ہماری جماعت کی ترقی ہو رہی ہے لیکن آج ہم جس طاقت اور قوت سے کام کر رہے ہیں۔ اس سے اگر زیادہ پیدا کر لیں تو کل بہت زیادہ کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ پس عورتیں اور مرد پہلے اپنی درستی کریں اور پھر دوسرے لوگوں تک دین کو پہنچائیں۔

خدا کی محبت اپنے دل میں پیدا کرو

خصوصاً میں طالب علموں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے دلوں میں خاص طور پر دین کی محبت پیدا کریں اور اپنی حالتوں کو بہت زیادہ اچھا بنائیں ۔ خود خدا تعالیٰ کی محبت اپنے دلوں میں گاڑ لیں کیونکہ محبت ہی قدرتِ کلام اور شان و شوکت اور اثر کو پیدا کرتی ہے۔ پس طالب علم خاص طور پر خدا تعالیٰ کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کریں۔ اور ایسی محبت پیدا کریں کہ دُنیا کی کوئی چیز اس کے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکے۔ جب یہ حالت ہو جائیگی تو وہ دیکھیں گے کہ ان کے اندر ایسی روشنی اور ایسا نُور پیدا ہو جائیگا کہ کسی سے کوئی بات منوانے میں انہیں رکاوٹ پیش نہ آئیگی اور کوئی علم ایسا نہ ہو گا جو اسلام کے بُطلان کے لئے نکلا ہو اور وہ اسے پاش پاش نہ کر دیں۔ مجھے محبت کے متعلق اپنا ایک بچپن کا رؤیا یاد ہے میری اس وقت کوئی گیارہ بارہ برس کی عمر تھی۔ میں نے دیکھا ایک سٹیچو ہے۔ جیسا کہ امرتسر میں ملکہ کا سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے اس کے اوپر ایک بچہ ہے جو آسمان کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی کو بُلاتا ہے۔ اتنے میں آسمان سے کوئی چیز اتری ہے جو نہایت ہی حسین عورت ہے۔ جس کے کپڑوں کے ایسے عجیب و غریب رنگ ہیں جو میں نے کبھی نہیں دیکھے اس نے چبوترے پر اُتر کر اپنے پر پھیلا دئے اور نہایت محبت سے بچہ کی طرف جھکی ہے۔ وہ بچہ بھی اس کی طرف اس طرح لپکا ہے جس طرح ماں سے محبت کرانے کے لئے لپکا کرتا ہے اور اس نے اس بچہ کو ماں کی طرح ہی پیار کرنا شروع کر دیا ہے اس وقت میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے۔

LOVE CREATES LOVE

محبت محبت کو کھینچتی ہے اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ وہ بچہ عیسیٰ ہے۔ اور وہ عورت مریم۔ تو محبت ہی محبت کو کھینچتی ہے پس تم خدا تعالیٰ کی محبت اپنے دل میں پیدا کر لو جب ایسا کر لو گے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ تمہارے اندر نور کی کھڑکی کُھل گئی ہے گو پہلے چھوٹی سی ہوگی مگر جوں جوں خدا تعالیٰ کے جلال اور شان پر نظر پڑتی جائے گی وہ بھی فراخ ہوتی جائیگی جب تمہاری یہ حالت ہو جائیگی تو مداری تو فریب سے روپیہ نکالتا ہے اور دیکھنے والے حیران ہو جاتے ہیں مگر تمہارے اندر وہ ایسی کھڑکی کُھل جائیگی کہ جو علم تم سے کوئی مانگے گا تم اسی سے نکال کر دکھا دو گے اور لوگ حیران رہ جائیں گے۔ میں اس امر کا تجربہ کار تمہارے سامنے کھڑا ہوں۔ مجھے کبھی ایسا موقع پیش نہیں آیا کہ کسی نے اسلام پر کوئی نئے سے نیا اعتراض کیا ہو اور مجھے اپنے دل کی تھیلی سے اس کا جواب نہ مل گیا ہو۔ مجھے معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں اس اعتراض کا جواب ہے یا نہیں مگر جب میں اس میں ہاتھ ڈالتا ہوں تو نکل ضرور آتا ہے اور یہ خدا کی محبت اپنے دل میں پیدا کرنے کا نتیجہ ہے۔

اس نصیحت پر جس میں میں نے طالب علموں کو زیادہ تر مخاطب کیا ہے ۔ میں آج کی تقریر ختم کرتا ہوں کہ ابھی مجھے گاڑی پر جانا ہے۔


تقریر سیالکوٹ

(نشانات صداقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم)

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

تقریر سیالکوٹ

(جو حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی نے ۱۰؍اپریل ۱۹۲۰ء کو بمقام سیالکوٹ ایک پبلک جلسہ میں فرمائی)

اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّجِيْمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۙ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۙ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ؕ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ؕ اِهْدِ نَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ۙ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۙ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ ؕ

(الفاتحة)

زمانہ بعثت نبوی کی تاریکی

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن کی طرف تمام مسلمان کہلانے والے لوگ خواہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں وہ آج سے تیرہ سو سال پہلے ایک ایسے زمانہ میں مبعوث ہوئے تھے کہ اس زمانہ کی نسبت آپ کے دوست و دشمن سب اقرار کرتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر تاریک زمانہ تاریخ میں نہیں پایا جاتا۔ وہ زمانہ تاریکی اور جہالت، بے دینی اور خدا تعالیٰ سے دُوری کے لحاظ سے تمام گذشتہ زمانوں سے بڑھا ہوا تھا۔ ہر مذہب اور ہر ملت میں ایسا اختلال اور کمزوری واقع ہوگئی تھی کہ علاوہ اس بات کے کہ کون سا مذہب سچا ہے اور کون سا جھوٹا۔ اخلاقی طور پر ہر ایک مذہب کے مدعی ایسے گر گئے تھے کہ کوئی مذہب اپنے پیروؤں پر فخر نہیں کر سکتا تھا۔ اس زمانہ میں دُنیا کی درستی اور اصلاح کے لئے خدا تعالیٰ نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔

رسولِ کریمؐ کی عظمت

جس طرح وہ زمانہ سب سے زیادہ تاریک، سب سے زیادہ جہالت اور سب سے زیادہ خدا تعالیٰ سے دُوری کا زمانہ تھا۔ اسی طرح اس زمانہ میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے سب انبیاء سے بڑا بنایا اور سب سے زیادہ چمکتا ہوا نُور اور روشنی آپؐ کو دی کیونکہ جتنی بڑی مرض ہوتی ہے اتنا ہی بڑا اس کا علاج کیا جاتا ہے۔ جتنی بُھوک ہوتی ہے اسی کے مطابق کھانا تیار کیا جاتا ہے۔ اور جتنا لمبا قد ہوتا ہے اسی کے مطابق لباس تیار کیا جاتا ہے۔ ایک ہوشیار اور سمجھدار درزی طویل القامت انسان کے لئے ایک چھوٹے بچہ کے قد کے مطابق لباس تیار نہیں کرتا۔ ایک قابل اور عقلمند ڈاکٹر کسی خطرناک بیماری کے لئے بے توجہی سے نسخہ نہیں لکھتا۔ نہ اتنی مقدار میں دوائی تجویز کرتا ہے جس سے مریض کو کچھ فائدہ نہ ہو بلکہ کافی مقدار میں تجویز کرتا ہے۔

رسولِ کریمؐ کی عظمت کی وجہ

پس جبکہ دُنیا کے تمام کے تمام مؤرخ اور سب سمجھدار لوگ خواہ وہ کسی مذہب اور کسی ملّت سے تعلق رکھتے ہوں تسلیم کرتے ہیں اور اس زمانہ کی تاریخ بھی شہادت دیتی ہے کہ اس زمانہ میں سب سے زیادہ تاریکی اور ظُلمت پھیلی ہوئی تھی سب لوگ اپنے اپنے مذہب کو چھوڑ چکے تھے ان کے اخلاق و عادات بگڑ چکی تھیں تو ایسے خطرناک زمانہ میں ضروری تھا کہ دُنیا کی اصلاح کے لئے وہی انسان آتا جو سب سے زیادہ نیکی اور تقویٰ، پاکیزگی اور طہارت میں بڑھا ہوا ہوتا۔ کیونکہ جب ایک معمولی درزی لمبے قد کے لئے چھوٹا کپڑا نہیں سیتا ایک معمولی طبیب خطرناک بیماری کا معمولی علاج تجویز نہیں کرتا تو وہ خدا جو علیم ہے اور ہر ایک بات کو جانتا ہے وہ کس طرح دُنیا کی ایسی خطرناک حالت کو معمولی سمجھتا اور کسی معمولی انسان کو بھیج دیتا۔ پس جبکہ یہ اقرار کر لیا گیا کہ اس زمانہ میں مرض حد سے بڑھا ہوا تھا تو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس وقت اصلاح کے لئے جو رسولؐ آیا وہ بھی سب سے بڑا تھا۔

رسولِ کریمؐ کا انکار کس قدر خطرناک ہے

اور پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جتنا وہ رسول بڑا تھا اتنا ہی اس کا انکار بھی بڑا اور خطرناک ہے۔ کیونکہ کوئی نعمت جتنی بڑی ہوتی ہے اس کے پھینکنے اور قدر نہ کرنے والا اتنا ہی زیادہ الزام کے نیچے ہوتا ہے۔ پس جبکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑی نعمت اور خدا تعالیٰ کی طرف سے سب سے بڑے انسان ہیں مخلوق پر تو ان کا رد کرنا بھی بہت بڑی ہلاکت اور خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکانے والی بات ہے۔

رسول کریمؐ کی صداقت کے نشان

پھر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار بہت بڑی لعنت اور خدا تعالیٰ سے دوری کا باعث ہے ۔ (ہمارے ملک میں لعنت گالی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن عربی میں دُور ہو جانے کو کہتے ہیں) تو اس کا لازمی نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ثابت کرنے کے لئے بڑے بڑے نشان بھی رکھے ہوں تا کہ ان کے ذریعہ لوگ آپؐ کو پہچان سکیں ۔ ورنہ اگر ایسا نہ ہو تو قیامت کے دن لوگ کہہ سکتے ہیں کہ جب ان کا اتنا بڑا دعویٰ تھا اس کے لئے دلائل اور نشان بھی بڑے بڑے ہونے چاہیئیں تھے۔ لیکن چونکہ ایسا نہ تھا اس لئے ہم ان کے نہ ماننے کی وجہ سے کسی الزام کے نیچے نہیں ہیں۔ تو عقلِ سلیم تسلیم کرے گی اور ہر مسلمان کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے ثبوت پہلے انبیاء سے بڑے ہونے چاہئیں کیونکہ آپؐ کی آمد تمام دُنیا کے لئے رحمت تھی اور آپؐ کا دعویٰ سب انبیاء سے بڑھ کر تھا۔

قرآن کریم میں صداقتِ رسول کریمؐ کے نشان

اس بات کو مدّنظر رکھ کر قرآن کریم کو دیکھتے ہیں کہ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے کیا ثبوت دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں رسول کریمؐ کی صداقت کے متعلق فرماتا ہے۔ اَفَمَنۡ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ وَیَتۡلُوۡہُ شَاہِدٌ مِّنۡہُ وَمِنۡ قَبۡلِہٖ کِتٰبُ مُوۡسٰۤی اِمَامًا وَّرَحۡمَۃً ؕ اُولٰٓئِکَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ ؕ وَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِہٖ مِنَ الۡاَحۡزَابِ فَالنَّارُ مَوۡعِدُہٗ ۚ فَلَا تَکُ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡہُ ٭ اِنَّہُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ وَلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ(ھود: ۱۸) فرماتا ہے۔ اس نبی کا انکار کوئی معمولی بات نہیں۔ کسی مذہب کا انسان ہو اس کا فرض ہے کہ اس پر ایمان لائے اگر وہ خدا کی رضا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس پر سوال ہوتا ہے کہ کس طرح معلوم ہو کہ اس کے ماننے سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہوسکتی ہے۔ فرماتا ہے اس کے تین ثبوت ہیں۔ اَفَمَنۡ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ وَیَتۡلُوۡہُ شَاہِدٌ مِّنۡہُ وَمِنۡ قَبۡلِہٖ کِتٰبُ مُوۡسٰۤی اِمَامًا وَّرَحۡمَۃً(11:18) تین زمانے ہوتے ہیں۔ ایک ماضی، دوسرا حال، تیسرا مستقبل۔ یہ تینوں زمانے شہادت دے رہے ہیں کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) خدا کی طرف سے ہے پس جس کی صداقت کے لئے زمانہ ماضی، زمانہ حال اور زمانہ مستقبل پکار رہا ہو اس کا کون عقلمند انکار کر سکتا ہے۔

زمانہ حال کی شہادت

فرماتا ہے سب سے پہلے زمانہ حال کے لوگ ہوتے ہیں کہ وہی ایمان لانے والے ہوتے ہیں اس کے متعلق فرماتا ہے۔ اَفَمَنۡ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ(47:15) کہ اس زمانہ میں ایسے ثبوت موجود ہیں جو اس رسول کی صداقت ظاہر کر رہے ہیں۔ یہاں تو مختصر طور پر فرما دیا اور دوسری جگہ اس کی یوں تفصیل کی ہے کہ دیکھو خدا اس کی تائید کر رہا اور اسے دشمنوں پر غلبہ دے رہا ہے جس سے ظاہر ہے کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔

زمانہ مستقبل کی شہادت

پھر آئندہ زمانہ کے متعلق فرمایا۔ وَیَتۡلُوۡہُ شَاہِدٌ مِّنۡہُ(11:18) کہ آئندہ زمانہ میں بھی خدا کی طرف سے ایک ایسا گواہ آئے گا جو اس کی صداقت کو ثابت کرے گا اور اس کے سچے ہونے کی گواہی دے گا۔ رسول کریمؐ کے وقت کے جو لوگ تھے ان پر آپ کے نشان حجت تھے۔ مگر سوال ہو سکتا تھا کہ جو بعد میں آئیں گے ان کے لئے کون سے نشان حجت ہوں گے۔ اس لئے فرمایا ایک ایسا شاہد آئے گا جو اپنے آنے کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ثابت کرے گا اور اس رسول کی سچائی کی گواہی دے گا۔ تو اس آیت میں فرمایا کہ زمانہ حال کے لئے تو اس کے نشان حجت ہیں اور زمانہ مستقبل کے لئے ایک اور شخص مبعوث کیا جائے گا جو اس وقت دُنیا پر اس کی صداقت ظاہر کر دے گا۔ یہ تو زمانہ حال اور مستقبل کے متعلق ہوا۔

زمانہ ماضی کی شہادت

اور زمانہ ماضی کے متعلق فرماتا ہے وَمِنۡ قَبۡلِہٖ کِتٰبُ مُوۡسٰۤی(46:13) اس سے پہلے زمانہ کے متعلق موسیٰ کی کتاب شہادت دے رہی ہے اس میں شہادت موجود ہے کہ بنی اسمعیل سے ایک ایسا نبی کھڑا ہو گا کہ جو اس کا انکار کرے گا اسے سزا دی جائے گی۔ (استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸-۱۹ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء)

صداقت کے عقلی اور نقلی ثبوت

پس یہ ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے ثبوت۔ دُنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو کہتے ہیں عقلی ثبوت پیش کئے جائیں۔ ان کے لئے فرماتا ہے کہ اس کے ساتھ نشان ہیں اور یہ بینات اپنے ساتھ رکھتا ہے ان کو دیکھ کر اس کی صداقت کو تسلیم کرو۔ دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ نقلی طور پر صداقت کا ثبوت دو۔ ان کو فرماتا ہے۔ تمہاری کتابوں میں موجود ہے کہ آئندہ ایک نبی آئے گا اور وہ یہی ہے۔ پھر آئندہ آنے والے لوگ تھے ان کے متعلق فرمایا۔ جب دُنیا خدا کو چھوڑ کر گمراہی میں مبتلاء ہو جائے گی اور اس رسول کا انکار کرے گی۔ اس وقت ایسا انسان آئے گا جو نشان دکھلائے گا اور ان نشانوں سے اس رسول محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صداقت ثابت کر دے گا۔

موجودہ زمانہ میں رسول کریمؐ کا انکار

اب ہمیں موجودہ زمانہ کو دیکھنا چاہئے کہ کیا یہ زمانہ ایسا نہیں ہے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا جا رہا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے زمانہ میں ایک انسان آئے گا مگر وہ خود نہیں کھڑا ہو گا بلکہ خدا تعالیٰ اس کو کھڑا کرے گا۔ ورنہ یوں تو ہر ایک کہہ سکتا ہے کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ثابت کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔ یہ صاف بات ہے کہ کسی امر کے متعلق گواہ کی اسی وقت ضرورت ہوتی ہے جب اس کا انکار کیا جاتا ہے ۔ اب ہم دیکھتے ہیں اس زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا انکار کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ گو واقعات سے کتنی ہی آنکھیں بند کر لی جائیں تاہم ہر ایک شخص کو جو ضد اور تعصب کی آلائشوں سے پاک ہو گا تسلیم کرنا پڑے گا کہ جس قدر سختی کے ساتھ اس زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا انکار کیا جا رہا ہے اس قدر پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔

پہلے زمانہ کے مخالفین اسلام کے حملے کیوں کمزور تھے؟

پہلے مخالفین اسلام پر اس لئے ناپاک اور گندے اعتراض نہ کرتے تھے کہ مسلمانوں کی حکومتوں سے ڈرتے تھے۔ پھر ان کے سامنے ایسے ایسے نمونے موجود تھے جن کی موجودگی میں وہ اسلام کی صداقت کا انکار نہیں کر سکتے تھے۔ کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی زندگیوں میں ایسا تغیر پیدا کر دیا تھا کہ ان کا مسلمان کہلانا ہی اس بات کے ثبوت میں کافی ہوتا تھا کہ وہ بدی اور بُرائی کے نزدیک تک نہیں جاتے اور جب لوگوں کا ان پر یہ اعتماد تھا تو انہیں یہ بھی تسلیم کرنا پڑتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم دُنیا میں نیکی اور بھلائی پھیلانے والا انسان تھا۔ پھر لوگ ان بزرگوں کو دیکھ کر جو خاص طور پر ہر زمانہ میں پیدا ہوتے رہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر کوئی ایسا حملہ نہیں کر سکتے تھے جیسے کہ اب کرتے ہیں۔ چنانچہ پہلے زمانہ کے مخالفین کی جو کتابیں موجود ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت جو اعتراض کئے گئے وہ بالکل پھیکے اور بہت کمزور تھے۔ چونکہ اس وقت عام طور پر مسلمانوں کی زندگیاں نقائص اور عیوب سے پاک و صاف تھیں اس لئے اسلام کی تعلیم بھی اعتراضات سے بری تھی اور اسلام مخالفین کے حملوں سے محفوظ تھا۔ کیا بلحاظ اس کے کہ اسلام کی تعلیم ہی ایسی ہے کہ اس پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا اور کیا بلحاظ اس کے کہ اسلام کی تعلیم کے عملی نمونے مسلمانوں میں موجود تھے اور کیا بلحاظ اس کے کہ مسلمانوں کی جماعتیں اسلام کو پھیلانے کے لئے دُنیا میں نکلی رہتی تھیں۔ تمام دُنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے اور خاص کر گذشتہ جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ کوئی قوم صرف دشمن کے مقابلہ میں اپنا بچاؤ کرتے کرتے اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتی جب تک خود بھی حملہ نہ کرے۔ چنانچہ اس جنگ میں لڑائی کے اس اصل پر خاص طور عمل کیا گیا۔ کیونکہ اس طرح دشمن کو اپنے گھر کا بھی فکر پڑ جاتا ہے۔ تو دشمن پر کامیابی حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ نہ صرف اس کے حملہ کو روکا جائے بلکہ خود اس پر حملہ کیا جائے۔ اور مذہبی رنگ میں یہی حملہ ہوتا ہے کہ اس مذہب کے نقائص بتائے جائیں۔ اسلام میں گیارہویں بارہویں صدی تک ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں جنہوں نے اشاعتِ اسلام کے لئے اپنی زندگیاں وقف کی ہوئی تھیں۔ چنانچہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت سے اسلام نہیں پھیلا۔ بلکہ خواجہ معین الدین اجمیریؒ جیسے بزرگوں کے ذریعہ پھیلا تو ان حالات کے ماتحت اسلام مخالفین کے حملوں سے بچا ہوا تھا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت میں شبہ نہیں پیدا ہو سکتا تھا۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی حالت

لیکن اس کے بعد وہ زمانہ آیا کہ ایک طرف تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بُعد اور دوری کی وجہ سے مسلمانوں کی حالت میں ایسا تغیر آگیا کہ ایک وقت وہ تھا کہ ایک شخص کا مسلمان کہلانا ہی ضمانت تھی اس بات کی کہ وہ سچ کہے گا۔ مگر ایک یہ وقت آگیا کہ مسلمان کہلانے والوں کو سب سے زیادہ جھوٹا سمجھا جانے لگا۔ پھر ایک تو وہ وقت تھا کہ یوروپین مصنف باوجود اسلام کے ساتھ سخت تعصب رکھنے اور گالیاں دینے کے لکھتے تھے کہ مسلمان عہد کے بڑے پکے ہوتے ہیں جو اقرار کر لیتے ہیں اسے ضرور پورا کرتے ہیں۔ چنانچہ سپین کے واقعات بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ بار بار عہد کئے گئے جنکو ریاستوں نے خود ہی توڑ دیا مگر مسلمانوں نے کبھی کسی عہد کو نہ توڑا۔ اسی طرح صلیبی جنگیں ہوئیں ان کے متعلق یوروپین مصنف اقرار کرتے ہیں اور وہ مصنف اقرار کرتے ہیں جو خود لڑنے کے لئے گئے تھے کہ جب بھی مسلمانوں نے معاہدہ کیا اسے لفظاً لفظاً پورا کیا۔ اس کے مقابلہ میں جرمنی اور فرانس نے عہدناموں کو توڑا۔ تو اُس وقت اسلام کا نام ضمانت تھی اس بات کی کہ صداقت اس کے ساتھ ساتھ جاتی ہے۔ مگر پھر وہ زمانہ آگیا کہ اسلام کی طرف منسوب ہونے والوں کو جھوٹا اور فریبی سمجھا جانے لگا اور خود مسلمانوں نے اپنا مسلمان ہونا جھوٹے ہونے کے مترادف سمجھ لیا۔ ایک دفعہ مجھے کشمیر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں میں نے غالیچے بنوائے۔ بنانے والا مسلمان تھا۔ اس کے ساتھ جو معاہدہ ہوا تھا اس سے دس پندرہ فٹ کم اس نے غالیچے تیار کئے اور قیمت پہلے لے لی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا یہ تم نے کیا کیا؟ اس کے جواب میں بار بار وہ یہی کہے ”میں مسلمان ہوں“ اس پر مجھے غصّہ آئے کہ یہ ایسا جواب کیوں دیتا ہے کیا مسلمان کے معنی فریبی اور دغا باز اور بدعہد کے ہیں؟ تو مسلمانوں کی یہ حالت ہے اور اس کے لئے کسی بیرونی شہادت کی ضرورت نہیں۔ خود مسلمان شاعروں کے شعر دیکھ لو۔ وہ مسلمانوں کی کیا حالت بیان کرتے ہیں۔ حالی جو فوت ہو گئے ہیں ان کے دل میں مسلمانوں کا درد تھا۔ ان کے شعر دیکھ لئے جائیں وہ کیا کہتے ہیں۔ میں نے ایک مصنف کی کتاب پڑھی ہے وہ ہمارے متعلق لکھتا ہے یہ لوگ کہتے ہیں قرآن میں یہ خوبی ہے اور حدیث میں یہ۔ لیکن ہم ان باتوں کو کیا کریں ہم یہ دیکھیں گے کہ عملی طور پر اسلام کیسا ہے۔ اس کے بعد وہ لکھتا ہے۔ چلو اسلامی ممالک میں چلیں اور دیکھیں مسلمان کہلانے والوں کی کیا حالت ہے۔ یہ اعتراض گو غلط ہے اور اسلام کی صداقت پر اس کی وجہ سے کوئی حرف نہیں آتا۔ تاہم ایسا ہے کہ ایک مسلمان سن کر شرمندہ ضرور ہو جاتا ہے۔ ولایت میں ایک عیسائی ان کتابوں کو پڑھ کر جو اسلام کی تائید میں لکھی گئیں مسلمان ہو گیا اور اس نے ارادہ کیا کہ چلو ہندوستان چل کر ان لوگوں کو دیکھیں جو مسلمان ہیں۔ اس میں کوئی نقص ہو گا کہ وہ بدقسمتی سے ایسے وقت میں ہندوستان کی ایک ریاست میں پہنچا جبکہ محرم کے ایام تھے اور مسلمان کہلانے والے شیر چیتے کی کھالیں پہن کر ناچ رہے تھے۔ یہ دیکھ کر اس نے کہا جس مذہب کے ماننے والوں کی عملی حالت یہ ہو اسے کوئی انسان قبول نہیں کر سکتا اور وہ مُرتد ہو گیا۔ اس پر میں نے اس رئیس کو خط لکھا۔ اب اس نے محرم کے متعلق ایسی قیود لگا دی ہیں کہ بہت کم خلافِ انسانیت باتیں کی جاتی ہیں۔

تو اس زمانہ میں مسلمانوں کی ایسی حالت ہو گئی ہے کہ جسے دیکھ کر رونا آتا ہے۔ دُنیا کے سارے کے سارے عیب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر لگائے جاتے ہیں۔ اگر اس وقت میں ان کو بیان کروں تو ہر مومن کے جسم کو کپکپی شروع ہو جائے۔ مگر بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہر ایک جانتا ہے۔

مسلمان کہلانے والے اسلام کے خلاف

یہ تو عملی کمزوری کی وجہ سے ہوا۔ لیکن مسلمانوں نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ اسلام کے خلاف خود لیکچر دیئے اور کہا اس وقت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بہت بڑا فرق ہو گیا ہے اس لئے وہ باتیں جو اس زمانہ میں کی گئیں اب نہیں ہو سکتیں۔ چنانچہ ایک شخص نے تجویز پیش کی کہ چونکہ پتلون پہن کر سجدہ نہیں کیا جا سکتا اور یہ جاہل لوگوں کے لئے تھا اس لئے اب اس طرح نماز پڑھنی چاہئے کہ لوگ بنچ پر بیٹھ کر میز پر سر جھکا لیا کریں۔ اسی طرح ہر روز نماز پڑھنے کا حکم زمانہ جہالت کے لئے تھا اب ہفتہ میں صرف ایک بار کافی ہے۔ اسی طرح روزہ یہ ہونا چاہئے کہ پیٹ بھر کے کھانا نہ کھایا جائے نہ یہ کہ سارا دن بھوکا پیاسا رہنا چاہئے۔ اسی طرح بعض مسلمانوں نے یہ سمجھ کر کہ اسلام دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا کہہ دیا کہ اسلام سو سال کے اندر اندر دنیا سے مٹ جائے گا۔

کلمہ تک نہ جاننے والے مسلمان

عام لوگوں کی حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کلمہ تک نہیں جانتے۔ پہلے سنا کرتے تھے کہ ایسے بھی مسلمان ہیں جو کلمہ بھی نہیں جانتے۔ مگر سلسلہ احمدیہ میں داخل کرتے وقت چونکہ کلمہ پڑھایا جاتا ہے اس لئے اس بات کی تصدیق ہوگئی۔ بیسیوں مرد اور عورتیں ایسی آتی ہیں جنہیں کلمہ ایک ایک لفظ کرکے پڑھانا پڑتا ہے۔ ایک پٹھان کا قصہ سُنا کرتے تھے کہ اس نے ایک ہندو کو پکڑ لیا اور کہا پڑھ کلمہ۔ ہندو نے کہا میں کلمہ جانتا نہیں کیا پڑھوں۔ پٹھان نے کہا پڑھ ورنہ مار دوں گا۔ آخر اس نے مجبور ہوکر کہا کہ اچھا پڑھاؤ پڑھتا ہوں۔ پٹھان نے کہا خود پڑھ۔ ہندو نے کہا میں جانتا نہیں پڑھوں کیا پٹھان نے کہا معلوم ہوتا ہے تمہاری قسمت خراب ہے ورنہ آج تو مسلمان ہو جاتا۔ کلمہ مجھے بھی نہیں آتا۔ میں اس کو ایک لطیفہ سمجھتا تھا اور اب بھی سمجھتا ہوں کہ شائد یہ واقعہ نہ ہو مسلمانوں کی حالت کا نقشہ کھینچنے کے لئے یہ کہانی بنائی گئی ہو۔ مگر بیسیوں کی تعداد میں مرد اور عورتیں میں نے ایسی دیکھی ہیں جو باوجود میرے کہنے کے کلمہ کے الفاظ دُہرا نہیں سکتیں۔ یہ حالت ہے اسلام کی اور اس اسلام کی جو ایسی کشش رکھتا تھا کہ اس نے وحشیوں اور جاہلوں کو مدبر اور حکمران بنا دیا۔ اس کے ماننے والوں کا آج یہ حال ہے کہ ایک چھوٹا سا کلمہ بھی نہیں پڑھ سکتے۔ پھر راجپوتانہ اور علیگڑھ کے پاس پاس ایسے دیہات ہیں جہاں لوگ کہلاتے تو مسلمان ہیں لیکن انہوں نے گھروں میں بُت رکھے ہوئے ہیں اور ہندوؤں کی تمام رسمیں بجالاتے ہیں۔

اسلام پر اندرونی بیرونی حملے

تو آج وہ زمانہ ہے جبکہ اسلام پر اندرونی اور بیرونی دونوں طرف سے حملے ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کی اپنی جو حالت ہے اس کے متعلق کسی قدر تو میں نے بتا دیا ہے اور عام طور پر سب لوگ جانتے ہیں۔ جاہل اور بے علم لوگ یوں اسلام سے دُور ہو چکے ہیں اور انگریزی تعلیم یافتہ طرح طرح شکوک اور شبہات اُٹھا کر اسلام سے متنفر ہو رہے ہیں۔ کہیں ایولیوشن تھیوری پیش کرتے ہیں کہ انسان ترقی کرتے کرتے موجودہ حالت کو پہنچ گیا ہے نہ کہ خدا نے اسے ایسا ہی پیدا کیا ہے۔ کہیں سائنس کی تعلیم کے غلط نتائج نکال کر اسلام پر حملہ کیا جاتا ہے۔ غرض ایک طرف نئے نئے علوم نے مسلمانوں کے دلوں سے اسلام کی قدر و وقعت کو مٹا دیا ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کی عملی حالت دیکھ کر مخالفین حملہ آور ہوتے ہیں تیسری طرف جب مسلمان دنیاوی طور پر گر گئے تو دشمنوں کو اسلام پر اور زیادہ حملہ کرنے کا موقع مل گیا۔

شاہد کے آنے کی ضرورت

پس یہ وہ وقت ہے جبکہ اس شاہد کے آنے کی ضرورت ہے جو آکر ثابت کر دے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے خدا کے محبوب اور پیارے تھے۔

اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جب شاہد کے آنے کی ضرورت ثابت ہے اور کوئی اس بات کا انکار نہیں کرسکتا کہ اسلام کے لئے یہ نہایت ہی خطرناک زمانہ ہے۔ آج زمین و آسمان مسلمانوں کے دشمن ہو گئے ہیں آسمان سے جو بلائیں آتی ہیں ان سے مسلمان ہی زیادہ مرتے ہیں۔ اور زمین پر جو لڑائیاں ہوتی ہیں ان میں بھی مسلمان ہی سب سے زیادہ زیر عتاب آتے ہیں۔ ایسی حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت رکھنے اور آپؐ کی اُمّت کو بچانے کے لئے خدا تعالیٰ نے کیا سامان کیا؟ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کبھی کوئی ایسا موقع آئے گا تو خدا تعالیٰ انتظام کرے گا۔ چنانچہ وہ خود کہتا ہے کہ میری طرف سے ایک گواہ آئے گا جو اس رسولؐ کی صداقت ثابت کرے گا۔ ہم کہتے ہیں اگر اب خدا تعالیٰ نے یہ انتظام نہ کیا تو پھر کب کرے گا۔ ایک شاعر کہتا ہے ؎

جب مر گئے تو آئے ہمارے مزار پر

پتھر پڑیں صنم تیرے ایسے پیار پر

اگر اسلام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کا سچا رسول ہے اگر قرآن خدا تعالیٰ کا کلام ہے تو آج وہ وقت ہے جبکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسلام کی مدد ہونی چاہئے ۔ ورنہ اگر اب بھی خدا تعالیٰ نے مدد نہ کی تو کہا جائے گا کہ اسلام خدا تعالیٰ کا سچا مذہب نہیں کیونکہ جب کوئی انسان یہ گوارا نہیں کر سکتا کہ ایک شخص اس کے سامنے اس کے بچے کی گردن پر چھری چلائے اور وہ چپکا بیٹھا رہے تو پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ اگر اسلام خدا کی طرف سے ہے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے سچے رسول ہیں ، قرآن خدا تعالیٰ کا کلام ہے تو جب ان پر طرح طرح کے حملے ہو رہے ہیں خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں نہ آئے اور وہ ان کی حفاظت کا کوئی سامان نہ کرے۔ پس اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں اور ہر ایک مسلمان تسلیم کرتا ہے کہ آپؐ خدا تعالیٰ کے سچے رسول ہیں تو اسے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ایسے سامان ضرور ہونے چاہئیں جن سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اس زمانہ میں بھی ثابت ہو۔

رسول کریمؐ کے شاہد کی بعثت

میرے آج کے لیکچر کا موضوع یہی ہے کہ میں اس بات کو ثابت کروں کہ خدا تعالیٰ کو اس زمانہ میں اسلام کی حالت دیکھ کر غیرت آئی اور اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ثابت کرنے کے لئے اس شاہد کو کھڑا کر دیا۔ جس کا اس نے قرآن کریم میں وعدہ کیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے ہندوستان ہی سے جو تمام مذاہب کا جولانگاہ بنا ہوا ہے اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادموں میں سے کھڑا کیا ہے تاکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو دُنیا میں پھیلائے اور آپؐ کا نام روشن کرے اور ثابت ہو جائے کہ آپؐ نعوذ باللہ کوئی فریبی اور دغا باز نہ تھے بلکہ خدا تعالیٰ کے پیارے اور محبوب تھے۔ چنانچہ حضرت مرزا صاحبؑ نے آکر یہی ثابت کیا اور ہم یہی مانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اسی بات کو ثابت کرنے کے لئے مرزا صاحب کو کھڑا کیا تھا۔ پس حضرت مرزا صاحبؑ کا دعویٰ کوئی نیا دعویٰ نہیں تھا بلکہ یہی تھا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت قائم کرنے اور اسلام کو مخالفین کے حملوں سے بچانے کے لئے کھڑا کیا ہے اور مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم ہونے کا فخر ہے۔ آپؐ کو خواہ مسیح کہیں یا مہدی، رسول کہیں یا نبی، بہرحال اس کا مطلب یہی ہو گا کہ آپؐ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہو کر آئے ہیں۔

حضرت مرزا صاحبؑ کے دعوٰی کی صداقت

اب میں اس بات کا ثبوت دیتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحبؑ نے جو دعویٰ کیا اس کو انہوں نے کس طرح پورا کیا۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ قرآن کریم میں جس شاہد کے آنے کا ذکر ہے وہ مرزا صاحبؑ ہیں؟ اس کے متعلق میں یہ عرض کرتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحبؑ کی سچائی معلوم کرنے کے لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ آیا وہ جھوٹے تھے، غلطی خوردہ تھے، یا مجنون تھے، یہی وہ تین باتیں ہیں جن میں سے کوئی نہ کوئی اس شخص میں پائی جائے گی جو ایک دعویٰ کرتا ہے مگر سچا نہیں ہے۔ اور یہ تینوں باتیں علیحدہ علیحدہ ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ایک دعویٰ کرنے والا جھوٹا ہو یا ہو سکتا ہے جھوٹا نہ ہو مگر کسی وجہ سے اسے غلطی لگ گئی ہو یا ہو سکتا ہے غلطی تو نہ لگی ہو لیکن پاگل اور مجنون ہو اب ہم دیکھتے ہیں حضرت مرزا صاحبؑ نے جو دعویٰ کیا ہے وہ کیسا ہے۔ آیا آپ جھوٹے ہیں یا غلطی خوردہ ہیں یا مجنون ہیں۔ ان میں سے کون سی بات پائی جاتی ہے۔

کیا حضرت مرزا صاحبؑ جھوٹے تھے؟

پہلے یہ لیتے ہیں کہ آیا آپؑ جھوٹے تھے؟ جھوٹے ہونے کا یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی عزت قائم کرنے کے لئے فریب سے یہ بات بنالی کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اور خدا نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص اس طرح اپنی عزت قائم کرنے کے لئے جھوٹ بنائے گا اس کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی عزت نہ ہوگی۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک انسان کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہو مگر وہ بندوں کے سامنے جھوٹ بول لے۔ لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولے۔ مثلاً ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کے دل میں میری عزت ہو وہ دوسرے کے متعلق تو جھوٹ بول لے لیکن میرے متعلق نہیں بولے گا۔ پس اگر حضرت مرزا صاحب کے دل میں خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عزت ہو تب تو وہ ایسا جھوٹ نہیں بول سکتے۔ ہاں جب ان کی عزت نہ ہو تب بول سکتے ہیں۔

حضرت مرزا صاحبؑ کو رسول کریمؐ سے عشق

اس کے لئے پہلے میں حضرت مرزا صاحبؑ کی زندگی پیش کرتا ہوں۔ ان کی زندگی کوئی مخفی نہ تھی ایک مشہور انسان تھے۔ اخباروں میں ان کے حالات شائع ہوتے رہتے تھے۔ انہوں نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں ان کو پڑھ کر دیکھ لیا جائے کہ شروع سے لے کر اخیر تک حضرت مرزا صاحب کی زندگی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں لگی ہوئی نظر آئے گی۔ یہ اور بات ہے کہ کوئی حضرت مرزا صاحب کو فریبی کہے لیکن یہ تو غیر مذاہب کے لوگ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مرزا صاحب کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق تھا۔ مجنوں و لیلیٰ، فرہاد و شیریں کے قصے مشہور ہیں۔ معلوم نہیں سچے ہیں یا جھوٹے۔ مگر اس میں شک نہیں کہ مرزا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ ہماری آنکھوں کے سامنے گزرا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ لیلیٰ اور شیریں، مجنوں اور فرہاد کوئی وجود بھی تھے یا نہیں، ان میں عشق تھا یا نہیں اور اگر تھا تو کیسا تھا مگر ہم یہ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا سچا عشق تھا کہ جس کی کوئی نظیر نہیں مل سکتی۔ چنانچہ مخالفین ہندوؤں، عیسائیوں وغیرہ کی کتابیں پڑھ کر دیکھ لو وہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ اسلام کے لئے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مرزا صاحب نے زندگی وقف کر رکھی تھی۔

میں اس کے متعلق بعض واقعات سناتا ہوں۔ پنڈت لیکھرام آریوں کے ایک مشہور مبلغ تھے ان سے اسلام کے متعلق حضرت مرزا صاحب کی خط و کتابت ہوتی رہی۔ چونکہ ان کی طبیعت میں سختی تھی اس لئے انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سخت اور ناشائستہ الفاظ استعمال کئے جیسا کہ ان کی کتاب ”کلیات آریہ مسافر“ سے ظاہر ہے۔ حضرت مرزا صاحب کو جو دلائل کا جواب دلائل سے دینے میں کبھی نہ تھکنے والے تھے ایسے الفاظ سُن کر بہت تکلیف ہوئی ۔ ایک دفعہ جب لاہور گئے تو پنڈت لیکھرام ملنے کے لئے آئے اور سامنے آکر سلام کیا۔ آپ نے ادھر سے منہ پھیر لیا۔ پھر وہ دوسری طرف آئے لیکن آپؐ نے توجہ نہ کی ۔ اس پر سمجھا گیا کہ شائد آپؐ کو معلوم نہیں یہ کون ہے اور بتایا گیا کہ یہ پنڈت لیکھرام ہیں اور آپؐ کو سلام کہتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اسے شرم نہیں آتی میرے آقا کو تو گالیاں دیتا ہے اور مجھے سلام کرتا ہے۔ پنڈت لیکھرام کی جو عزت آریوں میں تھی اس کی وجہ سے بڑے بڑے لوگ ان سے ملنا اپنی عزت سمجھتے تھے ۔ لیکن حضرت مرزا صاحب کی غیرت دیکھئے ۔ پنڈت صاحب خود ملنے کے لئے آتے ہیں مگر آپؐ فرماتے ہیں پہلے میرے آقا کو گالیاں دینا چھوڑ دے تب میں ملوں گا۔

اسی طرح ایک اور واقعہ ہے۔ حضرت مرزا صاحب کا سلوک اپنی اولاد سے ایسا اعلیٰ درجہ کا تھا کہ قطعاً خیال نہیں کیا جا سکتا تھا کہ آپؐ کبھی ناراض بھی ہو سکتے ہیں۔ ہم جب چھوٹے ہوتے تھے تو یہ سمجھا کرتے تھے کہ حضرت صاحب کبھی غصے ہوتے ہی نہیں۔ میرے بچپن کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے مولوی عبدالکریم صاحب جو اسی جگہ کے ایک عالم تھے اور جنہیں پرانے لوگ جانتے ہوں گے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے ایک دفعہ مجھے کہا میری پسلی میں درد ہے۔ جہاں ٹکور کی گئی لیکن آرام نہ ہوا۔ آخر دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ آپؐ کی جیب میں اینٹ کا ایک روڑا پڑا تھا۔ جس کی وجہ سے پسلی میں درد ہو گیا ۔ پوچھا گیا کہ حضور یہ کس طرح آپؐ کی جیب میں پڑ گیا۔ فرمایا محمود نے مجھے یہ اینٹ کا ٹکڑا دیا تھا کہ سنبھال کر رکھنا میں نے جیب میں ڈال لیا کہ جب مانگے گا نکال دوں گا۔ مولوی صاحب نے کہا حضور مجھے دے دیجئے میں رکھ چھوڑوں ۔ فرمایا نہیں میں اپنے پاس ہی رکھوں گا۔ تو آپؐ کو اولاد سے ایسی محبت تھی۔ آپؐ ہم سب سے ہی بہت پیار اور محبت کرتے تھے لیکن خاص کر ہمارے سب سے چھوٹے بھائی سے آپؐ کو ایسی محبت تھی کہ ہم سمجھتے تھے سب سے زیادہ اسی سے محبت کرتے ہیں۔ ایک دن میں جب باہر سے آیا تو دیکھا کہ چھوٹے بھائی کے جسم پر ہاتھ کی پانچوں انگلیوں کے نشان پڑے ہوئے تھے ۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ بچپن کی ناسمجھتی سے اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نکل گئی تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف تھی۔ اس پر حضرت صاحب نے اس زور سے اسے مارا کہ

اس کے بدن پر نشان پڑ گئے۔ حضرت مرزا صاحب کی زندگی کا یہ نہایت ہی چھوٹا اور معمولی واقعہ ہے لیکن اس کو سامنے رکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آج کل مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کی کسقدر عزت ہے۔ اکثر لوگ ایسے دیکھے جاتے ہیں جو مخالفین کے لیکچروں میں جاتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خوشی سے گالیاں سنتے ہیں۔ بعض جوش میں آکر آگے سے گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ مگر یہ بھی درست نہیں اور اکثر بیٹھے سنتے رہتے ہیں۔ لاہور میں آریوں کا ایک جلسہ ہوا جس میں شامل ہونے کی دعوت حضرت مرزا صاحب کو بھی دی گئی اور بانیان جلسہ نے اقرار کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی بُرا لفظ استعمال نہیں کیا جائے گا۔ لیکن جلسہ میں سخت گالیاں دی گئیں ہماری جماعت کے کچھ لوگ بھی وہاں گئے تھے جن میں مولوی نور الدین صاحب بھی تھے جن کی حضرت مرزا صاحب خاص عزت کیا کرتے تھے جب آپؐ نے سُنا کہ جلسہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی گئی ہیں تو مولوی صاحب کو کہا۔ وہاں بیٹھا رہنا آپ کی غیرت نے کس طرح گوارا کیا کیوں نہ آپ اُٹھ کر چلے آئے۔ اس وقت آپؐ ایسے جوش میں تھے کہ خیال ہوتا تھا کہ مولوی صاحب سے بالکل ناراض ہو جائیں گے۔ مولوی صاحب نے کہا حضور غلطی ہو گئی۔ آپؐ نے فرمایا یہ کیا غلطی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی جائیں اور آپ وہاں بیٹھے رہیں۔

غرض ایسے بیسیوں واقعات ہیں جن سے ثابت ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی ساری زندگی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور توقیر کے لئے وقف تھی۔

حضرت مرزا صاحب کے نمونہ کا اثر

پھر یہ دیکھنا چاہئے کہ آپؐ کے نمونہ کا آپؐ کی اولاد آپؐ کے متبعین اور آپؐ کے مریدوں پر کیا اثر ہوا۔ اس وقت وہ خواہ کتنے ہی کمزور ہوں لیکن اسلام کے لئے غیرت انہی لوگوں میں نظر آئے گی جو حضرت مرزا صاحب کو ماننے والے ہیں۔ کیونکہ اس وقت اسلام پر حملہ کرنے والوں کا جواب اگر کوئی جماعت دے رہی ہے تو وہ وہی ہے جو حضرت مرزا صاحب نے قائم کی ہے۔ اس سے ثابت ہے کہ حضرت مرزا صاحب رات دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت قائم کرنے میں لگے رہتے تھے۔ ایسے انسان کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولا۔

کیا حضرت مرزا صاحب غلطی خوردہ تھے؟

اب رہا یہ کہ کیا آپؓ غلطی خوردہ تھے۔؟ بعض لوگ کہتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ مرزا صاحب نے اسلام کی بڑی خدمت کی ہے۔ لیکن ایسے لوگوں کو بعض ایسے مقامات سے گزرنا پڑتا ہے جہاں غلطی لگ جاتی ہے۔ اسی طرح مرزا صاحب کے ساتھ ہوا اور اس کے ثبوت میں یہ سناتے ہیں کہ جس طرح منصورؔ نے اَنَا الْحَقُّ کہا تھا اسی طرح مرزا صاحب نے جو دعوے کئے ان میں ان کو غلطی لگ گئی۔ مگر دراصل یہ کہنے والوں کی غلطی ہے۔ اگر منصورؔ کو اَنَا الْحَقُّ الہام ہوا تو یہ کوئی بُری بات نہیں ہے۔ قرآن کریم میں ایسی آیتیں ہیں جن میں خدا تعالیٰ اپنے آپ کو اسی طرح مخاطب کرتا ہے۔ پس اس الہام سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ منصور نے خدا ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ کیونکہ اگر کوئی خدا کا ہو کر بھی ایسی ٹھوکر کھائے تو پھر خدا تعالیٰ سے تعلق ہونے کا فائدہ کیا ۔ تو یہ غلط ہے کہ حضرت مرزا صاحب کو غلطی لگ گئی۔ آپؓ متواتر کئی سال کہتے اور اعلان کرتے رہے کہ مجھے الہام ہوتا ہے اور وہ الہام پورے ہوتے رہے۔ اس لئے یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپؓ غلطی خوردہ تھے۔

کیا حضرت مرزا صاحبؑ کو جنون تھا؟

اب رہا جنون ۔ اس کے متعلق طبی شہادت سے فیصلہ ہو سکتا ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی جماعت میں جتنے طبیب اور ڈاکٹر داخل ہوئے ہیں اتنے کسی اور جماعت میں ایسے معزز پیشہ کے لوگ داخل نہیں ہوئے۔ اس صورت میں سوائے اس شخص کے جو خود پاگل ہو اور کوئی حضرت صاحب کو پاگل نہیں کہہ سکتا۔

حضرت مرزا صاحبؑ صادق تھے

پس ان تینوں باتوں میں سے کوئی بھی حضرت مرزا صاحب کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی۔ اب یہی پہلو باقی رہ گیا کہ آپ سچے ہیں۔ اس کے متعلق دیکھتے ہیں کہ سچائی کے کیا دلائل ہیں ؟

صداقت مسیح موعودؑ کی ایک دلیل

قرآن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی ایک دلیل پیش کرتا ہے اور وہ یہ کہ جو لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ جھوٹا ہے وہ ذرا اس کی اس عمر پر تو غور کریں جو دعویٰ سے پہلے گزری ہے کہ وہ کیسی تھی؟ یہ ایک بہت بڑا ثبوت ہے کسی کی سچائی کا جو اسلام نے پیش کیا ہے کہ دعویٰ سے پہلے کی زندگی کو دیکھو کیا وہ ایسی نہیں ہے کہ کوئی اس پر حرف گیری نہیں کر سکتا۔ اگر ایسی ہی ہے تو ظاہر ہے کہ جس شخص نے کل شام تک کسی سے دغا فریب نہیں کیا اور نہ جھوٹ بولا کس طرح ممکن ہے کہ وہ آج صبح اُٹھ کر لوگوں پر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولنا شروع کر دے۔ یہ بات کسی کی سمجھ میں آ ہی نہیں سکتی کہ ایسا ہو سکتا ہے اسی لئے خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے مخالفین کو کہہ دو فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ(یونس: ۱۷) میں نے تم میں ایک لمبی عمر گزاری ہے اس کو دیکھ لو کیسی تھی اور اسی سے اندازہ لگا لو کہ میں نے کبھی جھوٹ بولا ہے جو اب بولوں۔ یہی بات حضرت مرزا صاحب نے اپنے متعلق بیان کی ہے کہ میں ایک لمبا عرصہ تمہارے درمیان رہا ہوں۔ آج کہیں باہر سے آ کر دعویٰ نہیں کر دیا۔ میری پہلی زندگی کو دیکھو کیسی تھی؟ مگر کسی نے پہلی زندگی میں کوئی نقص نہ بتایا۔

اہل سیالکوٹ سے خطاب

آج میں اہلِ سیالکوٹ کو خاص طور پر مخاطب کرتا ہوں کیونکہ حضرت مرزا صاحب یہاں کئی سال تک رہے اور کئی لوگوں سے ان کے تعلقات تھے۔ مولوی میر حسن صاحب اور حکیم حسام الدین صاحب۔ لالہ بھیم سین صاحب وکیل ان کے دوستوں میں سے تھے۔ اور بھی کئی لوگوں سے حضرت مرزا صاحب کے تعلقات رہے اور مدتوں رہے اور جوانی کے زمانہ میں جبکہ عام لوگ بدیوں میں مبتلاء ہو جاتے ہیں رہے۔ پھر قادیان میں سکھ اور ہندو آپ سے مذہبی اختلاف رکھنے والے موجود تھے۔ ان کو حضرت صاحب نے چیلنج دیا کہ میرے چال چلن میں کوئی عیب نکالو۔ کیا میں نے اس دعویٰ سے پہلے کبھی جھوٹ بولا، کسی سے فریب کیا، کسی کو دغا دی یا کوئی اور بری بات کی۔ اگر نہیں تو خدارا غور کرو۔ جو کل تک لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا رہا وہ آج کس طرح جھوٹ میں اتنا بڑھ سکتا ہے کہ لوگوں کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولنے لگ جائے۔ ہر ایک تغیر وقفہ چاہتا ہے اور یہ ثابت شدہ بات ہے کہ ایک حالت سے بدل کر دوسری حالت کی طرف جانے کے لئے وقفہ ضروری ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ثبوت دیتے ہوئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے جب کل تک اس کی راست بازی اور سچائی میں کسی کو شبہ نہیں تھا تو ایک رات میں کس طرح اتنا تغیر ہو گیا کہ خدا پر جھوٹ بولنے لگ گیا۔ یہی حضرت مرزا صاحب نے کہا کہ اگر یہ ممکن نہیں تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں خدا پر جھوٹ بولنے لگ گیا۔ حضرت مرزا صاحب یہاں سیالکوٹ میں کئی سال رہے اور آپ سے ملنے والے بہت لوگ ابھی زندہ ہیں۔ ان سے دوسرے لوگ پوچھ سکتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کے کیسے اخلاق تھے۔ ایک دفعہ جب حضرت مرزا صاحب پر جہلم میں مقدمہ دائر کیا گیا تو یہاں کے لالہ بھیم سین صاحب نے آپ کو خط لکھا کہ میں تو بوڑھا ہو گیا ہوں خود آ نہیں سکتا اگر اجازت دیں تو میرا بیٹا جو بیرسٹر ہو کر آیا ہے اسے شہادت کے لئے بھیج دوں وہ اس الزام کی تردید کرے جو آپؐ پر لگایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے متعلق ان کے ملنے والوں کے کیا خیالات تھے۔ ایسے انسان کے متعلق کوئی سمجھدار خیال بھی نہیں کر سکتا کہ وہ یکدم سچائی کو چھوڑ کر جھوٹ بولنے لگ گیا۔ اور جھوٹ بھی خدا تعالیٰ پر اور اتنا بڑا کہ خدا نے تجھے دُنیا کا ہادی بنا کر بھیجا ہے۔ اس بات کو کوئی عقلمند تسلیم نہیں کر سکتا۔

دوسری دلیل

قرآن کریم میں سچے نبی کا خدا تعالیٰ نے ایک اور ثبوت پیش کیا ہے اور وہ یہ کہ وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ لَاَخَذۡنَا مِنۡہُ بِالۡیَمِیۡنِ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡہُ الۡوَتِیۡنَ(الحاقة: ۴۵ تا ۴۷) خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے۔ اگر یہ ہم پر جھوٹ بولتا تو چونکہ ہم قادر ہیں اور ہم پر جھوٹ بولنا کوئی معمولی بات نہیں ہے اس لئے ہم اس کا ہاتھ پکڑ لیتے اور اس کی رگ جان کاٹ دیتے۔ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی دلیل خدا تعالیٰ پیش کرتا ہے اس کے ماتحت ہم دیکھتے ہیں۔ حضرت مرزا صاحب سچے تھے یا نہیں۔ حضرت مرزا صاحب نے دعویٰ کیا کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوتا ہے۔ اب خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو یہ کہا ہے کہ اگر یہ ہم پر جھوٹ بولتا تو ہم اسے ہلاک کر دیتے۔ یہی حضرت مرزا صاحب پر چسپاں ہونا چاہئے۔ کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ پر افتراء کرتے تو ہلاک ہو جاتے اور کوئی دوسرا کرتا تو ہلاک نہ ہوتا۔ یہ ہو سکتا ہے کہ مفتری کو خدا تعالیٰ کچھ عرصہ ڈھیل دے دے۔ مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ اسے ہلاک نہ کرے اور اس کو لوگوں کے گمراہ کرنے کے لئے چھوڑ دے۔ اگر ایسے جھوٹے دعوے کرنے والے ہلاک نہ کئے جائیں تو پھر امن کس طرح قائم رہ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جتنے جھوٹے لوگوں نے دعوے کئے وہ سب کے سب ہلاک کئے گئے۔

یہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب نہ تو مجنون اور پاگل تھے۔ نہ دھوکا خوردہ۔ اب دو ہی باتیں باقی ہیں کہ یا تو آپ سچے تھے یا جھوٹے۔ اس کے لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ تیس سال متواتر حضرت مرزا صاحب علی الاعلان کہتے رہے ہیں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے دُنیا کا ہادی اور راہنما کر کے بھیجا ہے اور خدا تعالیٰ مجھ سے کلام کرتا ہے۔ مگر باوجود اس کے کہ ہزاروں نہیں لاکھوں آدمیوں نے آپؐ کی بیعت کی اور آپؐ کو قبول کر لیا۔ جنہیں مخالفین کے نزدیک حضرت مرزا صاحب نے اسلام سے نکال کر کافر بنا دیا۔ مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو پکڑا نہیں۔ اگر ایک جھوٹا انسان بھی اس طرح کامیاب ہو سکتا ہے تو پھر اسلام کی صداقت کی کون سی دلیل رہ گئی۔

خُدائی کا دعویٰ کرنیوالے

بعض لوگ کہتے ہیں۔ فلاں نے خُدائی کا دعویٰ کیا تھا وہ بچ گیا تو مرزا صاحب کے نبی کا دعویٰ کر کے بچنے میں کون سی عجیب بات ہے۔ ہم کہتے ہیں خُدائی کا دعویٰ کرنا اور بات ہے اور نبوت کا دعویٰ کرنا اور بات۔ دیکھو خدا تعالیٰ نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ ہم خدائی کا دعویٰ کرنے والے کو ہلاک کر دیں گے۔ کوئی کہے خُدائی کا دعویٰ کرنا تو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے سے بھی بڑا جرم ہے ایسے شخص کو تو ضرور پکڑنا چاہئے مگر بات یہ ہے کہ خدائی کا دعویٰ کرنا ایسی بیہودہ بات ہے کہ جس کا باطل ہونا ہر ایک عقلمند بآسانی سمجھ سکتا ہے قصہ مشہور ہے ایک سادھو نے خدائی کا دعویٰ کیا ایک زمیندار کو اس پر بہت غصّہ آتا لیکن سادھو کے چیلوں کے ڈر سے کچھ نہ کہتا۔ آخر ایک دن اکیلا دیکھ کر اسے کہنے لگا کیا تُو ہی خدا ہے۔ اس نے کہا ہاں۔ زمیندار نے کہا میں تو تجھے بہت عرصہ سے تلاش کر رہا تھا اچھا ہوا آج تم مل گئے۔ یہ کہہ کر اس نے پکڑ لیا اور یہ کہہ کر مارنا شروع کر دیا کہ تُو نے ہی میرے باپ کو مارا ہے۔ میرے فلاں رشتہ دار کو مارا ہے۔ آج میں سب کا بدلہ لے کر چھوڑوں گا۔ اس پر سادھو نے تھوڑی دیر کے بعد ہی ہاتھ باندھنے شروع کر دیئے اور کہہ دیا میں خدا نہیں ہوں۔

تو خُدائی کے دعویٰ کو باطل ثابت کرنے کے لئے تو ایک جٹ ہی کافی ہوتا ہے لیکن جھوٹے نبی سے لوگوں کو دھوکہ لگ سکتا ہے۔ کیونکہ نبی انسانوں میں سے ہی آیا کرتے ہیں۔ پس اگر نبی کی صداقت کا یہ ثبوت نہ ہوتا اور جھوٹا دعویٰ کرنے والے کو ہلاک نہ کیا جاتا تو دُنیا تباہ ہو جاتی۔

دعویٰ کے بعد حضرت مرزا صاحب سے خُدا کا سلوک

اب دیکھو! حضرت مرزا صاحبؑ دعویٰ کے بعد کتنے سال زندہ رہے اور اس عرصہ میں خدا تعالیٰ کا ان سے کیا سلوک رہا۔ یا تو وہ زمانہ تھا کہ آپؐ بالکل اکیلے تھے یا اب یہ وقت ہے کہ لاکھوں انسان ان کے نام پر جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اگر حضرت مرزا صاحبؑ سچے نہ تھے تو چاہئے تھا کہ خدا تعالیٰ آپ کو دعویٰ کے بعد تیس سال تک زندہ نہ رہنے دیتا۔ لیکن خدا تعالیٰ نے نہ صرف اتنا لمبا عرصہ آپ کو اپنے دعویٰ کے پیش کرنے کے لئے دیا بلکہ آپؐ کے تمام دشمنوں اور مخالفوں کے مقابلہ میں آپؐ کی مدد کی۔ آپؐ کی تائید میں بڑے بڑے نشان دکھلائے اور لاکھوں انسانوں کو ان کے سامنے جھکنے کی توفیق بخشی۔ کیا خدا تعالیٰ کا یہ سلوک کسی جھوٹے مدعی کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔

تیسری دلیل

تیسرا ثبوت سچے نبی کا خدا تعالیٰ یہ دیتا ہے کہ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ(الانعام: ۲۲)۔ اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے اور کہے کہ مجھے الہام ہوتا ہے حالانکہ نہ ہوتا ہو۔ یا اللہ کی آیات کی تکذیب کرے۔ ایسے لوگ ظالم ہوتے ہیں اور ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔

اب ہم پوچھتے ہیں جب خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والا اظلم ہوتا ہے۔ اور ظالم کبھی خدا تعالیٰ سے نصرت نہیں پاتا۔ تو جب حضرت مرزا صاحب ایسے تھے تو پھر کیا وجہ ہے خدا تعالیٰ کی نصرت انہیں ملتی رہی ہے۔ حضرت مرزا صاحب کو خدا تعالیٰ کی طرف سے جو نصرت ملی اس کو دیکھ کر کوئی مسلمان یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ جھوٹے تھے ورنہ اسے قرآن کو جھوٹا قرار دینا پڑے گا جو کہتا ہے کہ خدا پر جھوٹ بولنے والوں کو کبھی نصرت نہیں ملتی۔

دیکھو! حضرت مرزا صاحب نے آج سے کئی سال پہلے قادیان میں جہاں کے اکثر لوگ آپؐ سے ناواقف تھے اور صرف چند لوگ جانتے تھے کہا يَاْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ (تذکرہ صفحہ ۴۵ ایڈیشن چہارم) اور يَاْتِيْكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ (تذکرہ صفحہ ۳۳ ایڈیشن چہارم) کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے چاروں طرف سے تیرے پاس اس کثرت سے لوگ آئیں گے کہ رستے گھس جائیں گے اور چاروں طرف سے خورد و نوش کا سامان آئے گا۔ اس کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے بھی بتایا کہ چاروں طرف تیرا نام پھیل جائے گا۔

جب حضرت صاحب نے دعویٰ کیا بالکل گمنام تھے، کوئی ان کا متبع نہ تھا، آپ کوئی بڑے عالم نہ تھے، کوئی حکومت نہ رکھتے تھے کہ رُعب کی وجہ سے لوگ آپ کے ساتھ ہوگئے۔ پھر یہ بھی نہیں کہ آپؐ کی مخالفت نہیں ہوئی بلکہ جب آپؐ نے دعویٰ کیا تو ہندوستان کے سب علماء آپؐ کی مخالفت میں کھڑے ہوگئے۔ امراء نے بھی آپؐ کے خلاف زور لگایا اور پیروں گدی نشینوں نے بھی مخالفت کی۔ پھر اس وقت کے حالات کو دیکھ کر گورنمنٹ نے بھی بدظنی ظاہر کی کیونکہ حضرت صاحب نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور مہدی کا جو نقشہ مسلمانوں نے کھینچا ہوا تھا اس سے گورنمنٹ کو فتنہ و فساد کا ڈر تھا۔ ادھر ہندوؤں اور عیسائیوں نے حضرت مرزا صاحب کی مخالفت شروع کر دی۔ مگر آپؐ تن تنہا سب کے مقابلہ میں کھڑے ہوگئے اور کسی کی پرواہ نہ کی اور علی الاعلان کہہ دیا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خزانہ کی حفاظت کے لئے کھڑا ہوں۔ کون ہے جو ایک پیسہ بھی اس میں سے اُٹھا کر لے

جاسکے۔ تو اس زمانہ میں جبکہ حکومت کو بدظنی تھی ، ہر طرف سے مخالفت ہو رہی تھی ، آپ سے بات تک کرنا نا جائز سمجھا جاتا تھا ، اسی سیالکوٹ سے ایک اشتہار شائع ہوا تھا کہ جو شخص مرزائیوں سے بات کرے گا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ علماء نے کہہ دیا ہم وارث دین ہیں۔ ہم فتویٰ دیتے ہیں کہ مرزا واجب القتل ہے۔ لیکن وہ اکیلا سب کے مقابلہ میں کھڑا ہو گیا اور اس نے علی الاعلان کہہ دیا کہ میں اس کا غلام ہوں جو خدا کا محبوب ہے اور میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت قائم کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے کھڑا ہوا ہوں مجھے کوئی ہلاک نہیں کر سکتا اور اس وقت خدا تعالیٰ کا یہ الہام بھی سنا دیا کہ ”دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ء اب دیکھو ایسے حالات میں دُنیا کو یہ کہنا اور پھر ایسا ہی ہو جانا کس کی عقل میں آسکتا ہے کہ یہ جھوٹے اور فریبی انسان کا کام ہے۔ ہر گز نہیں۔ ایک طرف وہ دعویٰ دیکھو جو حضرت مرزا صاحب نے کیا اور دوسری طرف ان تکالیف پر نظر کرو جو حضرت مرزا صاحب اور آپؑ کے ماننے والوں کو دی گئیں اور پھر غور کرو کہ جو کامیابی آپؑ کو نصیب ہوئی اور ہو رہی ہے یہ کسی جھوٹے اور مفتری کو ہو سکتی ہے۔ ان باتوں پر غور کرو اور فائدہ اُٹھاؤ۔


خاتم النَّبِیّٖن ﷺ کی شان کا اظہار

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

حضرت مرزا صاحبؑ کے آنے سے رسول کریمﷺ کی کیا فضیلت ظاہر ہوئی

(حضرت فضلِ عمر خلیفۃ المسیح الثانی نے ۱۱؍ اپریل ۱۹۲۰ء کو سیالکوٹ میں ایک دعوت کے موقع پر جس میں ایک غیر احمدی صاحب کی طرف سے یہ سوال پیش کیا گیا کہ حضرت مرزا صاحبؑ کے آنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا فضیلت ظاہر ہوئی۔ حسبِ ذیل تقریر فرمائی)

ایک سوال

ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد مذہبی دُنیا میں کوئی ایسا تغیر ہو سکتا ہے جو اسلام اور خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کے خلاف ہو۔ اگر کوئی ایسی بات ہو کہ جس کا اثر اسلام کی ترقی اور فضیلت کے خلاف پڑتا ہو یا اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت نہ ظاہر ہوتی ہو تو وہ اسلام کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی۔ پس جبکہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اسلام کے سوا اور کوئی ایسا مذہب نہیں جو ساری خوبیوں کا مجموعہ ہو تو ہم سے اس بات کا مطالبہ کرنا کہ مرزا صاحبؑ کے آنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کیا زیادتی ہوئی اور اسلام کی کون سی خوبی ظاہر ہوئی بالکل بجا اور درست ہے۔ اور جب تک کوئی احمدی اس مطالبہ کو پورا نہ کرے اس وقت تک وہ احمدی کہلانے کا مستحق نہیں۔ یہ اور بات ہے کہ کوئی اپنی نادانی اور غفلت سے اس بات کی طرف توجہ نہ کرے لیکن توقع کی جاتی ہے کہ ہر ایک سمجھدار جو اپنے آپ کو کسی مذہب کی طرف منسوب کرتا ہے وہ کسی ایسی بات کو نہ مانے جس سے اس کے مذہب کی عظمت اور شان میں اضافہ نہ ہوتا ہو۔ پس جب ہم یہ کہتے ہیں کہ احمدیت کوئی نیا مذہب نہیں بلکہ اسلام ہی ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اس سوال کی طرف توجہ کریں کہ حضرت مرزا صاحب کے آنے سے اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی خوبی اور عظمت کا اظہار ہوا۔ اور جب تک ہم یہ نہ ثابت کر دیں کہ حضرت مرزا صاحب نے اسلام کی فلاں خوبی کا ثبوت پیش کیا اس وقت تک ہمارا کوئی حق نہیں ہے کہ کسی کو آپؐ کے قبول کرنے کی دعوت دیں اور وہ اس دعوت کو قبول کرے۔ ایک سکھ ایک عیسائی ایک یہودی کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ کسی ایسی خوبی کا مطالبہ کرے لیکن ہر ایک مسلمان کہلانے والے کے لئے ضروری ہے کہ یہ معلوم کرے۔ پس میں اس وقت اس مطالبہ کو سن کر بہت خوش ہوتا ہوں اور اس کا جواب دیتا ہوں۔

رسول کریمؐ کی فضیلت سے مراد

میرے نزدیک حضرت مرزا صاحب کے ذریعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کو معلوم کرنے سے پہلے یہ غور کرنا ضروری ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت سے مراد کیا ہے؟ اگر تو کہا جائے کہ حضرت مرزا صاحب کے آنے سے کوئی ایسی نئی بات نکل آئی ہو جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ اور منصب میں زیادتی ہوگئی ہو اور جب تک وہ نہ تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ درجہ حاصل نہ تھا جو اس کے بعد حاصل ہوا تو اسلام کے اندر رہ کر یہ کوئی سچا خیال نہیں ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت رسول کریمؐ میں موجود ہے اور ہر ایک درجہ جو انسان کو حاصل ہوسکتا ہے وہ آپؐ کو حاصل ہے۔

پس حضرت مرزا صاحب کے آنے سے رسول کریمؐ کی فضیلت ثابت ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اس کا اظہار ہوا نہ یہ کہ کوئی فضیلت رسول کریمؐ کو حاصل نہ تھی وہ حاصل ہوگئی۔ اور نہ یہ کہ آپؐ کے درجہ میں کوئی کمی تھی وہ پوری ہوگئی۔ پس ہم یہ دیکھیں گے کہ حضرت مرزا صاحب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا فضیلت ظاہر کی۔ عام لوگ ناواقفیت کی وجہ سے یہ سوال کیا کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں کون سی کمی تھی جو مرزا صاحب نے پوری کی۔ ہم کہتے ہیں یہ سوال ہی ٹھیک نہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کمی کے ساتھ نہیں آئے تھے بلکہ کامل ہو کر آئے تھے اور ہم اس بات کے مدعی نہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی کمی کو پورا کیا ہے بلکہ ہمارا تو یہ دعویٰ ہے کہ حضرت مرزا صاحب اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت دنیا پر ظاہر کرنے کے لئے آئے تھے اور اگر یہ بات نہ پائی جائے تو حضرت مرزا صاحب کی بعثت باطل ہو جاتی ہے۔

آپ کی بعثت سے مراد وہ دعاوی ہیں جو آپؐ نے کئے۔ اس لئے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ان دعوؤں سے اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ظاہر ہوتی ہے یا نہیں۔

حضرت مرزا صاحبؑ کا دعویٰ نبوت

حضرت مرزا صاحبؑ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام کی شان کے اظہار کے لئے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں۔ ایسا دعویٰ کرنے والے کو عربی میں نبی، رَسول اور مَأمور کہتے ہیں۔ ہندوستانی میں اوتار اور انگریزی میں پرافٹ (PROPHET) وغیرہ۔ حضرت مرزا صاحبؑ کا یہ دعویٰ ہے جس کے مختلف زبانوں میں مختلف نام ہیں۔ ان سے درجہ کے بڑے چھوٹے ہونے کا تعلق نہیں بلکہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فلاں انسان خدا کی طرف سے ہے۔ اس کے ماتحت ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحبؑ نے جو رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے اس سے کس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔

حضرت مرزا صاحبؑ کا دعویٰ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو یہ پیشگوئی ہے کہ میرے خدّام میں سے مہدی ہوگا وہ میں ہوں۔ اسی طرح اسلام میں پیشگوئی ہے اور مسیحیت میں بھی ہے کہ حضرت مسیحؑ دوبارہ آئیں گے اور یہود کی کتابوں میں بھی یہی لکھا ہے اس کا مصداق میں ہوں اور میرا نام مسیح ہے۔ اسی طرح انہوں نے اپنا نام کرشن بتایا۔ جیسا کہ ہندوؤں کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جب گناہ پھیل جائے گا تو اس وقت کرشن آئیں گے۔ حضرت مرزا صاحبؑ کا دعویٰ ہے کہ یہ سب نام مجھے دیئے گئے ہیں۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحبؑ کو یہ نام دیئے جانے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

سب مذاہب کے موعود

اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ تمام مذاہب میں آخری زمانہ میں ایک آنے والے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ حتیٰ کہ زرتشتی مذہب کی کتاب جاماسپی میں بھی لکھا ہے کہ میری اولاد سے ایک نبی آئے گا جس کا نام موسیوزر بھی ہوگا۔ پھر بدھوں کی کتابوں میں بھی آنے والے کی پیشگوئی ہے۔ غرض تمام مذاہب میں خبر دی گئی ہے۔ اب قدرتی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک انسان کے اتنے نام کیوں رکھے گئے۔ چنانچہ عام طور پر لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ مرزا صاحب اپنے اتنے نام بتاتے ہیں۔ ایک آدمی کے جسم میں اتنے آدمیوں کی رُوحیں کیونکر داخل ہو گئیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کی عظمت ثابت کرنے کے لئے یہ طریق رکھا ہے۔ لکھا ہے کہ آخری زمانہ میں شیطان اور آدم کی جنگ ہوگی۔ اور وہ جنگ خدائی اور شیطانی فوجوں کی آخری جنگ ہوگی۔ اس وقت شیطان اپنا سارا زور لگائے گا اور اتنا لگائے گا کہ پہلے

اس نے کبھی نہیں لگایا۔ پھر وہ فتنہ ایسا ہو گا جس کی خبر حضرت نوحؑ سے لے کر سارے انبیاء دیتے آئے ہیں۔ ایسے فتنہ و شر کے زمانہ میں ضروری تھا کہ اسلام کی حفاظت کے لئے خدا تعالیٰ کوئی خاص ہی سامان کرتا۔ کیونکہ اس نے خود وعدہ کیا ہے کہ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ(الحجر: ۱۰) کہ ہم نے ہی اس ذکر کو اُتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ یہ حفاظت کا لفظ بتاتا ہے کہ اسلام پر مخالفین کی طرف سے بار بار حملے ہوں کیونکہ حفاظت اسی چیز کی کی جاتی ہے جس کے اُٹھا لے جانے یا بگاڑ دینے کا خطرہ ہو۔ تو معلوم ہوا کہ قرآن خطرہ میں ہو گا اور خدا اس کی حفاظت کے سامان کرے گا اس وعدہ کے مطابق ضروری تھا کہ اس وقت جبکہ شیطان کا اسلام پر آخری حملہ ہونا تھا اور چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کے بعد ثابت ہو چکا تھا کہ اسلام ہی سچا مذہب ہے اس لئے اس کے قائم رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ انتظام کیا کہ ہر مذہب میں پیشگوئی کرادی کہ آخری زمانہ میں ایک نبی آئے گا اور ہر مذہب کو چونکہ اپنے ہی مذہب سے تعلق رکھنے والے کے ساتھ سب سے زیادہ اُلفت ہوتی ہے۔ مثلاً عیسائیوں کو حضرت مسیح سے، ہندوؤں کو کرشن جی سے، مسلمانوں کو مہدی سے اس لئے ہر ایک مذہب میں اسی مذہب سے تعلق رکھنے والے کے آنے کی پیشگوئی کرادی اور وہ اپنی اپنی جگہ اُمید لگائے بیٹھے رہے کہ ہم میں آئے گا۔ یہ تدبیر کر کے خدا نے ایک ہی انسان کو مقرر کر دیا تاکہ جب وہ آئے تو کسی مذہب والے کو اس کے ماننے میں عذر نہ ہو سکے۔ تو سب پر حجت قائم کرنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ ہر مذہب والوں سے آنے والے کا نام الگ الگ رکھوا دیا۔ مگر دراصل وہ ایک ہی انسان تھا تاکہ جب وہ آئے تو اس کا فیصلہ ماننے میں کسی کو عذر نہ ہو۔ یہ ایسی مثال ہے جیسا کہ ایک بات کا تصفیہ کرانے کے لئے چند آدمی پنچ مقرر کر لیں اور وہ ان کا فیصلہ کر دے۔ اسی طرح پارسیوں نے کہا موسیوز رجھی جو فیصلہ کرے گا اسے ہم مان لیں گے۔ عیسائیوں نے کہا مسیح جو فیصلہ کرے گا وہ ہم قبول کر لیں گے مسلمانوں نے کہا مہدی جو فیصلہ کرے گا وہ ہم تسلیم کر لیں گے۔ اس طرح جب سب مذاہب والے تیار ہو گئے تو خدا تعالیٰ نے ایک ایسے شخص کو بھیج دیا جس میں وہ ساری علامتیں پائی جاتی تھیں جو ہر ایک مذہب نے آنے والے کے لئے مقرر کی ہوئی تھیں۔ اس کے متعلق گو ابتداء میں مخالفت کریں لیکن جب غور کریں گے اور مقررہ علامات کو پورا ہوتا دیکھ لیں گے تو مان لیں گے۔ اس انسان کو خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادموں میں سے بھیجا جس نے اسلام کی صداقت ثابت کی اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت ظاہر ہوئی۔

تمام مذاہب میں آنیوالے کا ایک نام کیوں نہ رکھا گیا

کوئی کہہ سکتا ہے کہ اگر ایک ہی شخص نے آنا تھا تو تمام مذاہب میں اس کا ایک ہی نام کیوں نہ رکھا گیا۔ مگر بات یہ ہے کہ اگر ایک ہی نام ہوتا تو جن لوگوں کو یہ معلوم ہوتا کہ ہم میں نہیں ہو گا وہ اس کے آنے کی پیشگوئی کو مٹانا شروع کر دیتے لیکن چونکہ خدا تعالیٰ نے آنیوالے کا نام ان کی اپنی زبان میں رکھا اس لئے انہوں نے سمجھا کہ ہم میں سے ہی آئے گا اور اس کے آنے کی اُمید لگائے بیٹھے رہے کہ اس کے فیصلہ کو مانیں گے۔

یہ تدبیر کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت ظاہر کرنے کے لئے اس خدا نے جو حکمت کے ماتحت کام کرتا ہے کہ سب مذاہب میں پیشگوئی کرا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں میں سے اس کا مصداق بھیج دیا۔

اب اس بھیجے ہوئے پر یہ سوال ہو سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے کامل انسان ہوئے ہیں کہ ان کے بعد کسی اور نبی کے آنے کی ضرورت نہیں مگر مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ میں نبی ہوں پھر ہم ان کا یہ دعویٰ کیونکر مان سکتے ہیں۔ ان کے اس فعل سے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ایسا دعویٰ کیا ہے جس سے اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت ظاہر نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے برخلاف نتیجہ نکلتا ہے۔

اس کے لئے ہم یہ دیکھیں گے کہ حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور قدرت کو بڑھانے والا ہے یا کم کرنے والا۔ میں سمجھتا ہوں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ظاہر ہوتی ہے اور اس کے خلاف عقیدہ رکھنے سے کم ہوتی ہے تو پھر کسی مسلمان کو اپنا یہ خیال بدلنے میں کوئی عذر نہ ہونا چاہئے۔

وفاتِ مسیحؑ

اس میں شک نہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے لیکن اس کے متعلق بیان کرنے سے قبل میں ایک اور عقیدہ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جو حیاتِ مسیح کا عقیدہ ہے۔ اس کے متعلق جہاں تک ہمیں معلوم ہے وہ یہی ہے کہ حیاتِ مسیح کے عقیدہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ہتک ہے اور مجھے تو اس پر سخت جوش آ جاتا ہے کہ کیوں اس طرح حضرت مسیحؑ کو رسول کریمؐ سے بڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ دُنیا میں کوئی ایسی لغو حرکت نہیں کرتا جیسی حضرت مسیح کو زندہ ماننے والے کرتے ہیں۔ عام طور پر لوگ اپنے استاد اور اپنے بزرگ کو بڑھا کہ پیش کیا کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو سب سے بڑا درجہ دیا ہے اس کو بھی گھٹاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ۶۳ سال کی عمر میں فوت ہوچکے ہیں لیکن حضرت مسیح کو خدا تعالیٰ نے آج تک سنبھال کر رکھا ہوا ہے اور صاف بات ہے کہ اسی چیز کو سنبھال کر رکھا جاتا ہے جو اعلیٰ ہو۔ پھر کہا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت جب بگڑ جائے گی تو اصلاح کے لئے موسوی سلسلہ کا رسول حضرت عیسیٰ آئیں گے۔ حالانکہ ان کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو میری اتباع کرتے۔ (الیواقیت والجواہر مؤلفہ امام عبدالوہاب شعرانی جلد ۲ صفحہ ۲۲ مطبوعہ مصر ۱۳۲۱ھ) تعجب ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کی اصلاح کا حضرت عیسیٰ پر انحصار رکھنے والوں کو غیرت بھی نہیں آتی۔ جن لوگوں میں غیرت ہوتی ہے وہ کبھی پسند نہیں کرتے کہ دوسروں سے مدد لیں۔ عمان ایک چھوٹی سی ریاست ہے اس میں جب ایک دفعہ بغاوت ہوئی تو ہندوستان سے تار دیا گیا کہ اگر ضرورت ہو تو ہم مدد دیں۔ اس کا جواب اس ریاست کے سلطان نے یہ دیا کہ جب تک ہم میں جان ہے ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت نہیں۔ تو ہر ایک شخص جو غیرت رکھتا ہے وہ کسی دوسرے سے امداد کا متمنی نہیں ہوتا مگر مسلمان کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کی اصلاح حضرت مسیح آکر کریں گے۔

حیاتِ مسیحؑ کے عقیدہ سے اسلام پر حملہ

پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات یافتہ اور حضرت مسیح کو زندہ ماننے سے اسلام پر ایسا خطرناک حملہ ہوتا ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی اور حملہ نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ عیسائیوں کی طرف سے بیسیوں ٹریکٹ اسی بات کے متعلق شائع ہوتے رہتے ہیں کہ مُردہ اچھا ہوتا ہے یا وہ جو زندہ آسمان پر موجود ہو۔ چونکہ حضرت مسیح زندہ ہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) فوت ہو گئے اس سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح کا درجہ ان سے بڑا ہے۔ اسی بات کو پیش کر کے عیسائی لاکھوں کی تعداد میں ٹریکٹ شائع کرتے رہتے ہیں اور مسلمانوں میں سے ایک بھی نہیں جو ان کا کوئی معقول جواب دے سکے۔ اس وقت پتہ لگتا ہے کہ وہی عقیدہ درست ہے جو حضرت مرزا صاحب نے پیش کیا ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے ہیں۔ ہم نے عیسائیوں کے اس قسم کے ٹریکٹوں کے جواب اس لئے نہ دیئے کہ دیکھیں حضرت مسیح کو زندہ ماننے والے کیا جواب دیتے ہیں۔ آخر ہمارے پاس مسلمانوں کی طرف سے خطوط آئے کہ آپ لوگ کیوں ان کا جواب نہیں دیتے جس سے ثابت ہو گیا کہ ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے اور وہ لوگ جو حضرت مسیح کو زندہ مانتے ہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ کیا خدا تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ حضرت مسیح کو زندہ آسمان پر اُٹھا لے۔ ہم کہتے ہیں خدا تعالیٰ قادر ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ خدا نے ایسا کیا یا نہیں؟ ہم پوچھتے ہیں۔ کیا خدا قادر نہیں کہ انسان کے تین سر بنا دیتا ؟ قادر ہے مگر اس نے بنائے تو نہیں۔

پس خدا تعالیٰ کا قادر ہونا اور بات ہے اور کوئی کام کرنا الگ بات ہے چونکہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیحؑ کو زندہ آسمان پر نہیں اُٹھایا اس لئے ہم یہ بات نہیں مان سکتے کہ وہ زندہ اسی خاکی جسم کے ساتھ آسمان پر موجود ہیں اور کسی زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کی اصلاح کے لئے دنیا میں آئیں گے۔

حیات مسیحؑ کے عقیدہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک

پھر حضرت مسیحؑ کو زندہ آسمان پر ماننے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ہتک ہوتی ہے کیونکہ اگر کسی نبی نے زندہ رہنا ہوتا تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہو سکتے تھے۔ چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو یہی خیال پیدا ہوا اور حضرت عمرؓ جیسا جلیل القدر انسان ہاتھ میں تلوار لے کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ اگر کسی نے یہ کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو میں اس کا سر اُڑا دوں گا۔ تمام صحابہؓ جو بڑے دلیر اور بہادر تھے کسی نے ان کی تردید نہ کی۔ اس وقت وہ شخص جس کو خدا تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کے لئے کھڑا کیا اس نے آکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیا اور سب کو مخاطب کر کے کہا۔ سنو ! وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ(آل عمران: ۱۴۵) کہ محمدؐ نہیں تھے مگر اللہ کے رسول آپ سے پہلے جتنے رسول تھے وہ فوت ہو گئے۔ اگر آپؐ بھی فوت ہو گئے تو کیا تم ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے۔ پھر اس کے بعد کہا۔ لوگو! سنو! مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللّٰهَ فَإِنَّ اللّٰهَ حَيٌّ لَا يَمُوْتُ(بخاری کتاب المناقب باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لوکنت متخذا خلیلا) کہ جو محمدؐ کی عبادت کرتا ہے وہ دیکھ لے کہ آپ فوت ہو گئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ سُن لے کہ اللہ زندہ ہے۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ جب ابو بکرؓ نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی تو مجھے معلوم ہوا کہ رسول کریمؐ فوت ہو گئے ہیں۔ اس وقت وہ کانپنے لگے اور گر گئے۔ پھر لکھا ہے کہ صحابہؓ گلیوں میں روتے پھرتے اور حسانؓ کا یہ شعر پڑھتے کہ:

كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِيْ فَعَمِيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ

مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ اَحَاذِرُ

(دیوان حسان بن ثابتؓ ص ۹۵ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۶ء)

تُو ہماری آنکھوں کی پتلی تھا جب تو نہ رہا تو پھر خواہ کوئی مرے ہمیں کچھ پرواہ نہیں۔ یہ وہ محبت تھی جو صحابہؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی۔ اگر حضرت عیسیٰؑ زندہ ہوتے تو صحابہؓ کیوں یہ نہ کہتے کہ جب حضرت مسیح زندہ ہیں تو کیوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نہیں رہ سکتے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہونے والے اور آپؐ کی عظمت دل میں رکھنے والے یہ ہتک سمجھتے تھے کہ آپؐ فوت ہو جائیں۔ لیکن جب حضرت ابوبکرؓ نے قرآن کریم کی آیت پڑھی تو ان کی آنکھیں کُھل گئیں اور انہوں نے معلوم کر لیا کہ جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سارے نبی فوت ہو گئے ہیں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی فوت ہو گئے۔ ورنہ اگر حضرت مسیحؑ زندہ ہوتے تو صحابہؓ کبھی یہ نہ مانتے کہ وہ تو زندہ رہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو جائیں۔

حیاتِ مسیح کے عقیدہ سے خُدا کی ہتک

پھر حضرت مسیح کو زندہ ماننے سے خدا تعالیٰ کی بھی ہتک ہوتی ہے۔ کیونکہ اس سے ماننا پڑتا ہے کہ جس طرح ایک غریب شخص کو کوئی اچھی چیز مل جاتی ہے تو وہ اسے سنبھال کر رکھ چھوڑتا ہے کہ پھر استعمال کروں گا۔ اسی طرح نَعُوْذُ بِاللّٰہِ خدا تعالیٰ سے چونکہ حضرت مسیح ایک ایسا نبی بن گیا تھا جیسا وہ پھر نہیں بنا سکتا تھا اس لئے اس کو سنبھال کر رکھ چھوڑا کہ جب ضرورت پڑے گی اس کو نکال لیا جائے گا۔ تو حضرت مسیح کو زندہ ماننے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی ہتک ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی بھی کیونکہ حضرت مسیح کو زندہ رکھنے سے خدا تعالیٰ کے قادر ہونے کا ثبوت نہیں ملتا بلکہ اس کے برخلاف ظاہر ہوتا ہے کیونکہ قدرت تو یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ چاہے اس جیسا نبی بنا لے ۔

پس حیات مسیح کے عقیدہ سے اسلام پر سخت زد پڑتی ہے جس کو حضرت مرزا صاحب نے آ کر دُور کیا ہے۔

حضرت مرزا صاحبؑ کے دعویٰ نبوت سے رسول کریمؐ کی فضیلت

پھر حضرت مرزا صاحبؑ کا دعویٰ نبوت ہے۔ دُنیا میں عزت ایک نسبتی امر ہے اور اس کا اظہار اسی طرح ہوتا ہے کہ اس کے متعلقات کو دیکھا جائے۔ مثلاً جمعدار کا لفظ ہے۔ ایک فوج کا جمعدار ہوتا ہے اور ایک میونسپلٹی کے چوہڑوں کا۔ ان میں سے فوج کا جمعدار کیوں معزز سمجھا جاتا ہے اسی لئے کہ اس کے ماتحت معزز افسر اور سپاہی ہوتے ہیں۔ لیکن میونسپلٹی کے محکمہ صفائی کے جمعدار کے ماتحت چوہڑے ہوتے ہیں۔ تو کسی کی بڑائی کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ اس کے نیچے بڑے بڑے آدمی ہوں۔ دیکھو ایک نو فٹ لمبی چیز کیوں بڑی ہوتی ہے اسی لئے کہ اس کے نیچے ۷ فٹ ۸ فٹ اور ساڑھے آٹھ فٹ تک کی ویسی ہی چیزیں رکھی جا سکتی ہیں۔ تو بڑائی کے یہی معنی ہیں کہ اس کے جو ماتحت ہوں ان کو دیکھا جائے جس قدر کسی کے ماتحت بڑے ہوں گے اسی قدر اس کا درجہ بڑا ہوگا۔ ورنہ بڑائی کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔

اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں خاتم النبیین ہوںعلماور خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ ہمارا ایسا محبوب ہے کہ جو اس سے محبت کرے وہ بھی ہمارا محبوب بن جاتا ہے اب اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے پر یہ خیال کر لیا جائے کہ نبوت جو خدا تعالیٰ کا ایک انعام اور فضل ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے بند ہو گیا ہے تو یہ ایسی ہی بات ہے جیسا کہ ایک دریا بہہ رہا ہو اور بڑا پہاڑ اس میں گر کر اس کو بند کر دے۔ گویا یہ کہنا پڑے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے قبل دریائے نبوت جاری تھا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ اس میں پہاڑ کی طرح آپڑے اور اس کو روک دیا۔ اب اگر پھیل کر اس دریا کا پانی نکل جائے تو نکل جائے ورنہ پہلے کی طرح وہ نہیں بہہ سکتا۔ لیکن یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت اور عظمت کی علامت نہیں بلکہ عظمت کی علامت تو یہ ہے کہ پہلے سے زیادہ زور کے ساتھ فیضانِ نبوت جاری ہو۔ پس اگر آپ کا درجہ بڑا ہے اور واقع میں بڑا ہے تو ضروری ہے کہ آپؐ کے ماتحت بھی بڑے بڑے انسان آپؐ کی اُمت سے پیدا ہوں۔ مثلاً یہ جو کہتے ہیں کہ فلاں جرنیل ہے تو اس کی عظمت اسی وجہ سے ہوتی ہے کہ کرنل اس کے ماتحت ہوتے ہیں پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں میں سے جتنے بڑے بڑے انسان پیدا ہوں اتنی ہی آپؐ کی زیادہ عظمت کا اظہار ہوگا۔

ہاں اگر کوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی سے آزاد ہو کر اور آپؐ کی اتباع چھوڑ کر نبی ہونے کا دعویٰ کرے تو اس سے آپؐ کی ہتک ہوگی۔ لیکن حضرت مرزا صاحبؒ تو کہتے ہیں۔

بعد از خدا بعشق محمّد مخمّرم

گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم

(ازالہ اوہام حصہ اوّل صفحہ ۸۵، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۸۵)

کہ خدا کے بعد میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے عشق میں سرشار ہوں اگر اس کا نام کفر ہے تو خدا کی قسم میں سخت کافر ہوں۔ کیا ایسے نبی کے متعلق کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے والا ہے، ہرگز نہیں۔ بلکہ ایسے نبی تو جتنے بھی آئیں ان کے آنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت ظاہر ہوگی۔ پھر ایک حدیث میں آتا ہے۔ لَوْ كَانَ مُوْسٰی وَ عِيْسٰی حَيَّيْنِ مَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اِتَّبَاعِیْ (الیواقیت والجواہر مؤلفہ امام عبدالوہاب شعرانی جلد ۲ صفحہ ۲۲ مطبوعہ مصر ۱۳۲۱ھ) کہ اگر موسیٰؑ اور عیسیٰؑ زندہ ہوتے تو ان کے لئے سوائے اسکے چارہ نہ ہوتا کہ میری اتباع کرتے۔ اس حدیث کے متعلق عیسائی اور یہودی کہہ سکتے ہیں کہ یونہی بیٹھے بیٹھے دعویٰ کردیا اس کا کیا ثبوت ہے کہ اگر عیسیٰؑ اور موسیٰؑ زندہ ہوتے تو ان کی اتباع کرتے اور مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس کا جواب دیں اور وہ جواب یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت سے ایک انسان کو کھڑا کر کے اس کا نام موسیٰؑ اور عیسیٰؑ رکھ دیا اور وہ آپؐ کا غلام کہلایا اس نے آکر چیلنج دیا کہ آؤ جو کچھ موسیٰؑ اور عیسیٰؑ کو دیا گیا تھا وہ مجھ میں دیکھ لو۔ لیکن یہ کوئی میری فضیلت نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت ہے کیونکہ جو کچھ مجھے ملا ہے وہ آپ ہی کے طفیل اور آپ ہی کی وجہ سے ملا ہے۔ پس اس طرح حضرت مرزا صاحب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ظاہر کی ہے۔

آخری نبی کا مطلب

اب رہا یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو آخری نبی تھے۔ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ آخری کے یہ معنی نہیں کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا بلکہ یہ ہیں کہ آپؐ جیسا کوئی نبی نہیں ہوگا۔ جو شان، جو رُتبہ، جو درجہ آپؐ کو حاصل ہے وہ اور کسی کو حاصل نہیں ہوسکے گا اور آپؐ سے علیحدہ ہو کر کوئی نبی نہیں بن سکے گا۔ جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری حدیث اس کی تصدیق کرتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میری مسجد آخری مسجد ہے (مسلم کتاب الحج باب فضل الصلوٰة بمسجدی مکة والمدينة) اب کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے بعد دنیا میں اور مسجدیں بنائی گئیں یا نہیں؟ اگر بنائی گئیں تو پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہوا یہی کہ یہ مسجدیں غیر نہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے نقش کے مطابق ہی بنائی گئی ہیں۔ یہی بات ہم کہتے ہیں کہ اگر ایسا نبی آئے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں شامل ہو نہ کہ آپؐ سے الگ تو اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ہتک نہیں اور اس کا آنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخر الانبیاء ہونے کے خلاف نہیں لیکن اگر کوئی ایسا نبی بھی نہیں آسکتا تو پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے بعد کوئی مسجد بھی نہیں بنائی جاسکتی کیونکہ اس حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد کو آخری مسجد قرار دیا ہے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ جوں جوں کسی قوم کا حوصلہ پست ہوتا جاتا ہے وہ بڑے مدارج کا حاصل کرنا محال سمجھ کر چھوٹی چھوٹی باتوں پر گرنا شروع کر دیتی ہے لیکن انبیاء اپنی جماعتوں کے لئے چھوٹے مقاصد قرار نہیں دیتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنی اُمّت کو بہت بڑے درجہ کی طرف لے جانا چاہا ہے چنانچہ سورہ فاتحہ میں یہ دُعا سکھلائی ہے کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ(1:6-7) اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ(1:7) اور دوسری جگہ اس کی تشریح کر دی ہے کہ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ(النساء : ۷۰) جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اس کو نبی صدیق اور شہید بنایا جاتا ہے۔ ایک مسلمان روز کم از کم پچاس دفعہ یہ دُعا مانگتا ہے اور چونکہ اسلام سب سے اعلیٰ مذہب ہے اس لئے اس نے مسلمانوں کا مطمح نظر بھی سب سے اعلیٰ قرار دیا ہے اور یہ اسی طرح حاصل ہو سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام اس کی طرف بڑھیں۔ پہلے مسلمانوں میں اس قسم کی کمزوری اور پست ہمتی نہ تھی جیسی کہ آج کل پائی جاتی ہے چنانچہ پہلے کئی بزرگوں نے صاف طور پر لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد غیر تشریعی نبی آ سکتا ہے اور عام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ آنے والا مسیح نبی ہوگا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے کہ وہ نبی ہوگا۔ اب اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کے آنے سے آپ کی ہتک ہوتی تو یہ کیوں فرماتے۔ بات اصل میں یہی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت سے آپ کی اتباع میں کسی نبی کے آنے سے ہتک نہیں بلکہ عزت ہے۔ اب تک رسول کریمؐ کی اُمت سے صدیق، شہید اور صالح لوگ پیدا ہوتے رہے اور اب حضرت مرزا صاحب کے آنے سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے نبوت بھی حاصل ہو سکتی ہے اور یہ فضیلت صرف آپ ہی کو حاصل ہے۔ حضرت موسیٰ کی اُمت میں سے بھی نبی ہوئے ہیں مگر وہ ان کی غلامی اور اتباع سے نہیں ہوئے بلکہ علیحدہ مستقل طور پر ہوئے ہیں۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے وہ درجہ عطا کیا ہے کہ آپ کی اتباع سے نبی بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے اپنا نام اُمتی نبی رکھا ہے۔ بلحاظ اس کے کہ آپؑ دنیا کی اصلاح کے لئے آئے نبی تھے اور بلحاظ اس کے کہ آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں ہونے کی وجہ سے نبوت ملی اُمتی تھے۔ میں نہیں سمجھ سکتا اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کیونکر ہتک ہوتی ہے۔ اس طرح تو آپؐ کے درجہ کے اور بھی بلند ہونے کا ثبوت ملتا ہے کیونکہ جتنا بڑا کسی کا غلام ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ بڑا اس کا آقا ہوتا ہے۔ چنانچہ حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں :

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

اس سے بہتر غلامِ احمدؐ ہے

(دافع البلاء صفحہ ۲۰۔ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۸ صفحہ ۲۲۰)

خاتم النَّبِیٖنَ کے معنی

تو خدا تعالیٰ نے حضرت مرزا صاحب کو نبی بنا کر ثابت کر دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہنشاہ ہیں اور خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپؐ نبیوں کی مہر ہیں چنانچہ امام بخاری کتاب المناقب میں ختم نبوت کی تشریح یہ کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر مہر تھیعه۔ اس تشریح سے ظاہر ہے کہ ختم کے معنی مہر ہیں نہ ختم کر دینے کے اور مہر تصدیق کے لئے ہوا کرتی ہے جس سے مہر لگانے والے کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔ ورنہ آخر ہونا تو کوئی فضیلت نہیں ہے۔ فضیلت یہی ہے کہ جس جس نبی پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیقی مہر لگ گئی وہ سچا ثابت ہو گیا۔ جس قدر انبیاء مانے جاتے ہیں کیا اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی نبوت کی تصدیق نہ کرتے تو آج مسلمان ان کو نبی مانتے؟ ہرگز نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ گذشتہ انبیاء کی نبوت کے ثبوت کے لئے ضروری ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیقی مہر ان پر ہو۔ اسی طرح آئندہ بھی وہی نبی ہو گا جو آپؐ کی مہر کی تصدیق رکھے گا۔ اس سے آپؐ کی بہت بڑی عظمت اور بڑائی کا اظہار ہوتا ہے۔ اس لئے ہم نے حضرت مرزا صاحب کو قبول کیا ہے۔ فقط

تمت بالخیر

دُنیا کا آئندہ مذہب

اِسلام ہوگا

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ

دُنیا کا آئندہ مذہب اسلام ہوگا

(فرمودہ حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی۔ مورخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۲۱ء بمقام سیالکوٹ)

سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ:۔

اس وقت دنیا میں بہت سے مذاہب پائے جاتے ہیں جن میں سے ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ ہمارا ہی مذہب نجات کا باعث ہو سکتا ہے اور یہی ساری دُنیا میں پھیلے گا۔ یہ جھگڑا آج سے نہیں بلکہ ہمیشہ سے چلا آتا ہے اور اس بات میں ہمیشہ اختلاف رہا ہے کہ کونسا مذہب ساری دُنیا قبول کریگی۔ جب یہ بات شروع سے معرضِ بحث چلی آرہی ہے اور اس وقت کوئی فیصلہ نہیں ہوا تو اب کونسی نئی بات پیدا ہوگئی ہے کہ اس پر بحث کی جائے آج تک کونسا مذہب ساری دُنیا کا ہو چکا ہے کہ آئندہ ہوگا۔ اسلام تیرہ سو سال سے دُنیا میں موجود ہے، عیسائیت ۱۹ سو سال سے، ہندو مذہب کئی ہزار سال سے اور پارسی مذہب (کہتے ہیں) لاکھوں سال سے چلا آتا ہے ان میں سے کس نے ساری دُنیا کے دل میں گھر کر لیا ہے کہ آئندہ کے متعلق بحث کی جائے کہ کونسا مذہب تمام لوگ قبول کر لیں گے۔ اب کوئی نیا مذہب تو نہیں نکلا کہ اس کے متعلق کہا جائے کہ وہ ساری دُنیا کو اپنے پیچھے لگالے گا۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے اور پیدا ہونا چاہئے اس لئے میں پہلے اس کا جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ:۔

بیشک آج تک کسی مذہب نے تمام دُنیا کو اپنے پیچھے نہیں لگایا لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ جو حالت مذاہب کی آج ہو گئی ہے وہ پہلے نہیں تھی پس کسی نئے مذہب نے نہیں بلکہ زمانہ کی حالت نے لوگوں کی توجہ کو ادھر پھیر دیا ہے کہ دنیا کا آئندہ مذہب کیا ہوگا؟

پہلے ہر ملک کے لوگ ایک دوسرے سے علیحدہ رہتے تھے کیونکہ ایک دوسرے کے ساتھ ملنے اور تعلقات قائم کرنے کے جو ذرائع اب پیدا ہوگئے ہیں وہ اُس وقت نہ تھے اس لئے ان کا مذہب ایک خاص حلقہ تک ہی محدود رہتا تھا۔ لیکن اب چونکہ ریل، ڈاک، تار، جہاز اور دوسرے ایسے ذرائع پیدا ہوگئے ہیں جن کی وجہ سے ساری دُنیا کئی ایک ملک بلکہ ایک شہر کی حیثیت ہوگئی ہے اور علوم کی کثرت اور چھاپہ خانہ کی وجہ سے ہر ایک مذہب کی تعلیم لوگوں کے سامنے آگئی ہے اور لوگوں میں وسعتِ حوصلہ پیدا ہو کر ایک دوسرے مذہب کا معائنہ کرنے کا شوق ہو گیا ہے اس لئے وہ ایک دوسرے کے مذہب پر بہت آسانی اور سہولت سے غور کر سکتے ہیں اور ایک دوسرے کی خوبیاں ان پر واضح ہوسکتی ہیں۔ اس صورت میں یہ معلوم کرنا بہت آسان ہوگیا ہے کہ کونسا مذہب سب سے اعلیٰ اور تمام خوبیوں کا جامع ہے۔

عیسائیوں نے اس وسعت حوصلہ اور دوسرے مذاہب کے مطالعہ کے شوق سے فائدہ اُٹھانے کے لئے اپنے مذہب کی تائید میں لاکھوں اور کروڑوں ٹرکیٹ اور کتابیں لکھ کر تقسیم کرنا شروع کر دیں اور دوسو سال کے عرصہ میں کروڑوں انسانوں کو عیسائیت میں داخل کر لیا اور ایسے ایسے علاقے جہاں کوئی عیسائیت کا نام تک نہ جانتا تھا وہاں بھی پھیلا دی اور ملک تو الگ رہے خود ہندوستان میں تیس چالیس لاکھ لوگوں کو عیسائی بنا لیا جب اس طرح ہر طرف عیسائیت ہی عیسائیت پھیلنے لگی تو قدرتاً یہ سوال پیدا ہوا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ لیکن اس بات نے بھی لوگوں کی آنکھیں اچھی طرح نہ کھولی تھیں کہ دُنیا میں سیاسی تغیرات ایسے پیدا ہو گئے کہ سوائے عیسائیت کے اور کسی مذہب کی کوئی طاقتور حکومت نہ رہی۔

دُنیا میں بڑے بڑے مذاہب تین ہیں۔ ہندومت، عیسائیت اور اسلام۔ ہندوؤں میں اپنے مذہب کے پھیلانے کے لئے کوئی خاص تحریک نہیں پائی جاتی۔ تھوڑا عرصہ ہوا ان میں ایک چھوٹا سا فرقہ آریہ نکلا ہے جس میں بہت تھوڑے لوگ ہیں اور انہوں نے غیر مذاہب میں سے سوائے چند آدمیوں کو داخل کرنے کے اور کچھ نہیں کیا۔ اس فرقہ کی کوششیں ان ادنیٰ اقوام تک ہی محدود ہیں جو دراصل ہندو ہی ہیں۔ باقی رہے مسلمان اور عیسائی۔ عیسائیوں کے متعلق تو میں نے بتایا ہے کہ انہوں نے

کروڑوں لوگ عیسائیت میں داخل کرلئے مگر مسلمانوں نے کچھ نہ کیا حالانکہ ان میں سے ہر ایک کو اسلام نے تبلیغ کرنے کا حکم دیا ہوا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کو سخت ضعف پہنچا اور مزید بات یہ ہوئی کہ پے درپے ایسے حادثات اور واقعات پیش آئے کہ مسلمانوں کو خیال پیدا ہو گیا کہ اب ہم دُنیا میں قائم نہیں رہ سکتے۔ اس سے مسلمانوں کی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے سمجھا کہ اگر ہم اسی طرح گرتے رہے تو عیسائیت کے مقابلہ میں کسی صورت میں بھی نہیں ٹھہر سکیں گے۔ اب اگر یہ فیصلہ ہو جائے کہ اسلام عیسائیت کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکتا تو لازماً ماننا پڑیگا کہ وہ زمانہ آگیا ہے کہ ساری کی ساری دنیا نہ سہی قریباً ساری دنیا کا مذہب عیسائیت ہو اور اگر اسلام عیسائیت کا مقابلہ کر سکتا ہے اور اس پر غالب آسکتا ہے تو لازماً ماننا پڑیگا کہ دُنیا کا آئندہ مذہب اسلام ہوگا کیونکہ اب وہ زمانہ آگیا ہے کہ جو مذہب حق ہوگا وہ ساری دُنیا میں پھیل جائیگا۔

پس اس سوال پر غور کرنا لغو اور بیہودہ نہیں ہے کیونکہ زمانہ پوری قوت اور سارے زور سے ٹھوکریں اور کہنیاں مار مار کر ہمیں بتا رہا ہے کہ آنکھیں کھولو اور توجہ کرو کہ تمہارے مذہب اسلام نے دُنیا میں باقی رہنا ہے یا عیسائیت نے؟

پس یہ کوئی معمولی سوال نہیں بلکہ بہت اہم ہے اس کی اہمیت کو مدّنظر رکھ کر اس وقت جبکہ طبائع میں ہیجان پیدا ہو گیا ہے میں نے مناسب سمجھا ہے کہ اس امر کے متعلق اپنے خیالات ظاہر کروں کہ دنیا کا آئندہ مذہب اسلام ہوگا یا عیسائیت۔

دوسری وجہ اس سوال پر غور کرنے کی یہ ہے کہ چونکہ اس وقت مسلمانوں پر انتہائی درجہ کا ادبار آگیا ہے اور ان کی حالت مایوسی کی آخری حد تک پہنچی جا رہی ہے اس لئے مایوسی سے بچانے کے لئے کہ تمام ناکامیاں اور نامرادیاں اسی کی وجہ سے ہوتی ہیں میں نے یہ بتانا ضروری سمجھا ہے کہ اسلام ہی دُنیا کا آئندہ مذہب ہوگا اور کوئی طاقت اور کوئی قوت اسے ہرگز نہیں مٹا سکتی۔ اسلام ایک نہایت مضبوط چٹان پر کھڑا ہے اس لئے ناممکن ہے کہ مٹ سکے وہ پھیلے گا اور ضرور پھیلے گا۔

اس کے بعد حضور نے ان غلط الزامات کی تردید کی جو عیسائی اسلام پر لگا کر لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ایسا مذہب قائم رہنے کے قابل نہیں ہے اور عیسائیوں کی اس بات کو عقلی اور نقلی طور پر غلط ثابت کیا ہے کہ جو مذہب زمانہ کے ساتھ نہیں بدلتا وہ سچا مذہب نہیں ہے۔ حضور نے فرمایا ہم یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ اگر کوئی مذہب کامل نہیں ہے اور ہر زمانہ کی ضروریات کے مطابق تعلیم نہیں رکھنا تو جوں جوں زمانہ بدلے گا اسے بھی تغیر کرنا پڑیگا ورنہ وہ قائم نہیں رہ سکے گا لیکن اگر کوئی ایسا مذہب ہے جو ہر زمانہ کی ضروریات کو مہیا کرتا ہے وہ بدلے یہ نہیں ہم مان سکتے۔

اس کے بعد حضور نے یہ بتایا کہ مسیحیت اور اسلام میں سے کونسا مذہب ہے جو ہر زمانہ کے لئے کافی ہے! اس کے لئے اسلام اور عیسائیت کی تعلیم کا مقابلہ کر کے دکھایا کہ عیسائیت کی تعلیم زمانہ کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی اور اسے بدلا جا رہا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں اسلام کی تعلیم ایسی ہے کہ اگر زمانہ اس کو چھوڑ کر علیحدہ ہو جائے تو یہ نہیں کہ اس تعلیم کو بدلنے کی ضرورت ہے بلکہ زمانہ کو پھر پھرا کر اسی تعلیم کے ماتحت آنا پڑتا ہے جیسا کہ مسئلہ طلاق اور تعددِ ازواج کے متعلق ہوا ہے۔ طلاق کے مسئلہ پر یورپ بڑے بڑے اعتراض کرتا رہا ہے لیکن آخر کار اسے جاری کرنا پڑا ہے اور انگلستان میں بھی اس کے متعلق قانون پاس ہو گیا ہے جس کی بنیادی باتیں انہیں اُصول کے مطابق بنائی گئی ہیں جو اسلام نے بتائے ہیں اور جو فقہ حنفیہ میں موجود ہیں۔

عیسائیت اور اسلام کی تعلیم کا موازنہ نہایت ہی زبردست اور مدلل طریق سے کیا گیا اور صاف طور پر واضح کر دیا گیا کہ اسلام اپنی چٹان پر قائم ہے مگر عیسائیت بدل رہی ہے اور اسلام کے مقابلہ پر ہرگز نہیں ٹھہر سکتی اس لئے اسلام ہی دنیا کا آئندہ مذہب ہوگا۔

اسی سلسلہ میں حضور نے یہ بھی فرمایا کہ آجکل مشاہدہ پر بہت زور دیا جاتا ہے اس لئے مذہب کے متعلق بھی یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اگر خدا پہلے لوگوں سے بولا کرتا تھا تو اب کیوں نہیں بولتا اگر اب بھی بولے تب معلوم ہو کہ جس مذہب کے لوگوں سے بولتا ہے وہ سچا ہے اس سوال کا جواب سوائے اسلام کے اور کوئی نہیں دے سکتا۔ اسلام بتاتا ہے کہ خدا جس طرح پہلے بولتا تھا اسی طرح اب بھی بولتا ہے چنانچہ اس زمانہ میں حضرت مرزا صاحب جو اسلام کی خدمت کے لئے کھڑے ہوئے تھے ان سے بولا۔

پس اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو ہر ایک کی پیاس بجھا سکتا اور اس کو پیش آنے والی ضروریات کا علاج کر سکتا ہے اس لئے یہی دنیا کا آئندہ مذہب ہوگا۔

اس کے بعد حضور نے مسلمانوں کی موجودہ حالت کے متعلق بتایا کہ گو یہ خطرناک ہے لیکن یہ بھی اسلام کی صداقت ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس کے متعلق پہلے سے بتا دیا ہوا ہے کہ جب مسلمان اسلام کو چھوڑ دینگے تو ان کی ایسی حالت ہو جائے گی۔ اب چونکہ مسلمانوں نے خدا تعالیٰ، رسول کریمؐ اور قرآن کو چھوڑ دیا ہے اس لئے ان کی یہ حالت ہو گئی ہے اور ان کے ایسے عقائد ہیں جن سے

خدا تعالیٰ اور رسول کریم پر سخت حملے ہوتے اور الزام لگتے ہیں۔

اس موقع پر میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا ایک رؤیا جو حضور نے ۷؍اپریل ۱۹۲۰ء قادیان سے سیالکوٹ روانہ ہونے کے وقت ایک مجمع میں بیان فرمایا اپنے الفاظ میں درج کرنا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ اس کا تعلق اس خاص تقریر سے نہایت صاف طور پر معلوم ہوتا ہے۔

حضور نے فرمایا :۔ گزشتہ شب میں نے دیکھا کہ ایک مکان ہے اور اس کے پیچھے گلی ہے۔ میں نے دیکھا اس گلی میں کچھ لوگ سر نیچے کئے لیٹے ہیں اور مجھے ایسا معلوم ہوا کہ کسی آدمی کو سجدہ کر رہے ہیں اس پر مجھے سخت غصہ آیا اور میں ان کے پاس گیا کہ انہیں منع کروں لیکن جا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ سجدہ نہیں کر رہے بلکہ گال زمین پر رکھ کر لیٹے ہوئے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔ میں نے بھی آسمان کی طرف دیکھا تو مجھے ایک بہت بڑی آبادی نظر آئی اور اس جگہ خاص روشنی دیکھی جہاں حضرت مسیح موعودؑ ایک کشتی کی شکل کی چیز میں بیٹھے تھے اور وہ نیچے اُترنا چاہتی تھی۔ ان لوگوں نے بھی کہا کہ ہم حضرت مسیح موعودؑ کو دیکھ رہے ہیں اس کے بعد وہ کشتی ہوائی جہاز کی طرح نیچے اُتری اور میں حضرت صاحب کو تلاش کرنے لگا لیکن مجھے کہیں نہ ملے۔ آخر میں سخت غمگین ہو کر کہ شاید حضرت صاحب مجھ سے ناراض ہیں کہ مجھے نہیں ملے ، والدہ کے پاس گیا کہ ان کے پاس آئے ہوں گے۔ اس وقت میری آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے میں نے ان سے جا کر پوچھا اور کہا کہ حضرت صاحب مجھے نہیں ملے شاید ناراض ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ میں باہر تانگہ پر سیر کو جا رہی تھی شریف احمد میرے ساتھ تھا اور عزیز احمد کو بھی میں نے ساتھ لے لیا تھا لیکن حضرت صاحب کے آنے کا سُن کر جلدی واپس آ گئی ہوں مگر وہ ابھی تک مجھے بھی نہیں ملے اس سے مجھے تسلی ہوئی۔ والدہ نے جب میرے آنسو دیکھے تو فرمایا یہ تو رؤیا ہے اور رؤیا کی تعبیر ہوتی ہے۔ یہ سُنکر مجھے اطمینان ہو گیا اور میں نے سمجھا کہ یہ رؤیا ہے اور حضرت صاحب کے نہ ملنے کی جو وجہ میں نے سمجھی تھی وہ صحیح نہیں ہے۔ رؤیا میں مجھے اس کی تین تعبیریں سمجھائی گئیں۔ میں نے کہا یا تو میں ایسی زبان میں کتاب لکھونگا جس میں لکھنے کی مشق نہیں ، یا عظیم الشان تقریر کرونگا جو بے نظیر ہو گی یا کوئی بڑا نشان ظاہر ہو گا۔ اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔

اس رؤیا میں تقریر کرنے کی طرف جو اشارہ ہے وہ سیالکوٹ کی اس تقریر کے متعلق معلوم ہوتا ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔ اس تقریر کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ: جس وقت میں تقریر کر رہا تھا اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ یک لخت آسمان سے نُور اترا ہے اور میرے اندر داخل ہو گیا ہے اور پھر اس کی وجہ سے میرے جسم سے ایسی شعاعیں نکلنے لگی ہیں کہ مجھے معلوم ہوا میں نے حاضرین کو اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیا ہے اور وہ جکڑے ہوئے میری طرف کھنچے چلے آرہے ہیں۔

(الفضل ۹؍اپریل ۱۹۲۰ء)


فرائضِ مستورات

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

فرائضِ مستورات

(یہ تقریر حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی نے ۱۳؍ اپریل ۱۹۲۰ء کو بمقام سیالکوٹ مستورات میں پنجابی زبان میں فرمائی تھی جس کو ایڈیٹر صاحب الفضل نے اُردو میں لکھا)

وعظ عمل کرنے کیلئے سنو

ان چند دنوں میں مجھے عورتوں کی طرف سے بہت سے رُقعے ملے ہیں جن میں وہ لکھتی ہیں کہ ہمیں بھی کچھ سُنایا جائے۔ اگرچہ یہ جوش قابلِ تعریف ہے لیکن خالی جوش اس وقت تک کام نہیں دیتا جب تک انسان جو کہے اس پر عمل نہ کرے۔ دیکھو اگر ایک شخص بھوکا ہو اور بھوک سے اس کی جان نکل رہی ہو اس کو کہو کہ کھانا کھا لو۔ کھانا کھا لو لیکن کھانا دیا نہ جائے تو اس سے اس کا پیٹ نہیں بھر جائیگا اسی طرح وہ عورتیں جو دین کی باتیں سُنتی ہیں اور ان پر عمل نہیں کرتیں ان کو بھی کچھ فائدہ نہیں ہوتا بلکہ ان عورتوں کی نسبت جن کو دین کی باتیں سُننے کا موقع نہیں ملتا ان کے لئے زیادہ خوف اور ڈر کا مقام ہے کیونکہ جو نہیں سنتیں وہ معذور سمجھی جاسکتی ہیں لیکن جو سنتی ہیں اور پھر ان پر عمل نہیں کرتیں وہ زیادہ مجرم اور گنہگار ہیں۔ عام طور پر عورتیں وعظ کو ایک تماشا سمجھتی ہیں جس طرح بچے کوئی تماشا دیکھتے ہیں اور پھر تھوڑی مدت کے بعد اسے بھلا دیتے ہیں اسی طرح عورتیں کرتی ہیں۔ مردوں میں تو ایک جماعت ایسی ہے کہ وہ وعظ و نصیحت کی باتیں سُن کر ان پر عمل کرتے اور ترقی کرتے جاتے ہیں لیکن عورتیں عام طور پر کچھ فائدہ نہیں اُٹھاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہ اخلاق میں، نہ دین میں، نہ تمدن میں، نہ معاشرت میں ترقی کرتی ہیں اور نہ ان کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مردوں کی نسبت عورتوں کو کم وعظ و نصیحت کی باتیں سُننے کا موقع ملتا ہے تاہم کچھ نہ کچھ تو وہ بھی سنتی ہیں اس لئے ان کا یہ کہنا کہ مردوں جتنا ان کو نہیں سنایا جاتا اس وقت درست ہو سکتا ہے اور یہ کہنے کا انہیں اس وقت حق پہنچتا ہے جبکہ جس قدر انہیں سنایا جاتا ہے اس کو یاد رکھیں اور اس پر عمل کریں۔ ایک طالب علم اگر اپنا پہلا سبق یاد کر کے سُنا دے تو پھر اس کو یہ کہنے کا حق ہوتا ہے کہ اور سبق پڑھاؤ۔ لیکن اگر وہ پہلا ہی سبق یاد نہیں کرتا تو اسے اور پڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح عورتوں کو جس قدر سنایا جاتا ہے اس کو اگر وہ یاد رکھیں اور اس پر عمل کریں تو ان کا حق ہے کہ اور سُننے کا مطالبہ کریں ورنہ نہیں۔ پس تم بجائے اس کے کہ یہ کہو کہ ہمیں مردوں کی طرح لیکچر سُنائے جائیں جو کچھ سنایا جا چکا ہو اس پر عمل کر کے دکھاؤ۔ ورنہ اگر تم اس پر عمل نہ کرو اور سُننے کا مطالبہ کرو تو جو کچھ تمہیں سنایا جائے گا وہ مجبوری سے سنایا جائے گا اور اس کا کچھ فائدہ نہ ہو گا کیونکہ جو ایک بات کو ہی یاد نہیں رکھتا وہ دوسری کو کس طرح یاد رکھے گا۔ جو ایک روٹی ہضم نہیں کر سکتا وہ دو کس طرح ہضم کر لے گا۔ پس اگر تم نے ان پہلی باتوں پر عمل نہیں کیا جو تمہیں سنائی جا چکی ہیں تو کیا امید ہو سکتی ہے کہ اور سنانے سے کچھ فائدہ اُٹھایا جائے گا۔ پس میں پہلے تمہیں یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ کسی وعظ کی مجلس میں تماشا کے طور پر شامل ہونا اور وہ باتیں جو اس میں سنائی جائیں ان کو گھر جا کر بھلا دینا گناہ ہے اور اس کا کچھ فائدہ نہیں ہے۔ وعظ سنانے کی غرض یہی ہوتی ہے کہ اس کو یاد رکھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔

اچھا وعظ وہ نہیں جس میں سامعین کی تعریف کی جائے

عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ عورتوں کو وعظ میں بھی خیال ہوتا ہے کہ ان کے متعلق اس میں کیا کہا گیا ہے۔ جلسہ پر جو عورتیں جاتی ہیں وہ یہی کہتی ہیں کہ فلاں مولوی صاحب کا وعظ بہت اچھا تھا اور فلاں کا اچھا نہیں تھا۔ جب دریافت کیا گیا تو معلوم ہوا کہ جس وعظ میں ان کی تعریف کی گئی اس کو تو اچھا کہتی ہیں اور جس میں ان کے نقص بیان کئے گئے اور ان کو اصلاح کرنے کے لئے کہا گیا اس کو ناپسند کرتی ہیں۔ حافظ روشن علی صاحب جو بڑے اچھے واعظ ہیں ان کے متعلق کہا گیا کہ ان کا وعظ اچھا نہیں تھا۔ جب دریافت کیا گیا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے عورتوں کو نصیحتیں کی تھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں اسی وعظ کو پسند کرتی ہیں جس میں ان کو اچھا کہا جائے ان کی تعریف کی جائے اور اگر ان کو نصیحت کی جائے تو اس کو پسند نہیں کرتیں حالانکہ کسی کے اچھا کہہ دینے سے وہ اچھی نہیں ہو جاتیں جب تک خود اچھی نہ بنیں اور کسی کے بُرا کہہ دینے سے بری نہیں ہو جاتیں۔ اگر ان کو اچھا کہا جاتا ہے اور وہ واقع میں اچھی ہیں تو یہ خوشی کی بات ہے اور اگر ان کی کوئی بُرائی بیان کی جاتی ہے اور وہ برائی ان میں پائی جاتی ہے تو انہیں اس کی اصلاح کرنی چاہئے اور عبرت پکڑنی چاہئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب کوئی شخص مرتا ہے اور عورتیں بین کرتی ہوئی کہتی ہیں اے بھائی! تو ایسا بہادر تھا کہ تیرے سامنے شیر بھی نہیں ٹھہر سکتا تھا تو فرشتے اسے گرز مار کر پوچھتے ہیں کیا تو ایسا ہی تھا؟ وہ کہتا ہے نہیں۔ فرشتے پوچھتے ہیں پھر کیوں تیرے متعلق کہا جاتا ہے؟عه اسی طرح عورتیں جو اور جھوٹی تعریفیں کر کے روتی ہیں ان کے متعلق پوچھا جاتا ہے اور مرنے والے کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ یہ باتیں مجھ میں نہیں پائی جاتی تھیں۔ تو جھوٹی تعریف سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا اور نہ جھوٹی مذمت سے کوئی نقصان ہوتا ہے۔ اس لئے دیکھنا یہ چاہئے کہ جو کچھ بیان کیا جاتا ہے اس میں میرے عمل کرنے کے لئے کوئی بات ہے یا نہیں۔ اگر کوئی اچھی بات ہو تو اس پر عمل کرنا چاہئے اور اگر کوئی بُری بات اپنے اندر نظر آئے تو اسے چھوڑ دینا چاہئے۔ یہ غرض ہوتی ہے وعظ کی۔

اس نصیحت کے بعد میں مختصر طور پر چند باتیں بیان کرتا ہوں کیونکہ وقت بہت تھوڑا ہے اور دس بجے کے قریب جو گاڑی یہاں سے جاتی ہے اس پر میں جانے والا ہوں۔

اسلام کی غرض

پہلے میں یہ بیان کرتا ہوں کہ اسلام کی غرض کیا ہے؟ اسلام کے معنی ہیں ”فرمانبرداری“۔ اور ایمان کے معنی ہیں ”مان لینا“۔ جتنے مسلمان کہلانے والے مرد اور عورتیں ہیں ان سے اگر پوچھا جائے کہ تم کون ہو تو وہ کہتی ہیں۔ اللہ کے فضل سے ہم مسلمان ہیں ایمان دار ہیں۔ لیکن انہیں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ مسلمان اور ایمان دار کے کیا معنی ہیں۔ وہ یہی سمجھتی ہیں کہ ہمارے ماں باپ مسلمان کہلاتے ہیں اس لئے ہم بھی مسلمان ہیں۔

مسلمان ہونے کا ثبوت خداتعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے سے ہے

حالانکہ کوئی مرد اور عورت اس وقت تک مؤمن اور مسلمان نہیں ہوسکتی جب تک خدا تعالیٰ کے احکام کی فرمانبرداری نہ کرے اور جو خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری نہیں کرتی اور خدا تعالیٰ کے احکام کو نہیں مانتی وہ عقلمند کہلانے کی مستحق نہیں بلکہ وہ پاگل اور سودائی ہے۔ دیکھو جب ایک بادشاہ لکھتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں تو لوگ اس بات کو تسلیم کر لیتے ہیں لیکن اگر کوئی بادشاہ نہ ہو اور کہے کہ میں بادشاہ ہوں تو اسے پاگل کہا جاسکتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ یہی کہ جو بادشاہ ہوتا ہے اس کے پاس کئی فوجیں اور بادشاہت کا ساز و سامان ہوتا ہے مگر گلیوں میں دھکے کھانے والا ننگا انسان چونکہ بادشاہت کی علامت نہیں رکھتا اس لئے اسے پاگل کہا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عقلمند جو بات کہتا ہے اس کا اس کے پاس ثبوت ہوتا ہے لیکن سودائی جو کچھ کہتا ہے اس کا اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔ پس جو شخص یہ کہتا ہے یا جو عورت یہ کہتی ہے کہ میں مؤمن مسلمان ہوں لیکن وہ خدا تعالیٰ کے احکام کو نہیں مانتی، خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری نہیں کرتی اس میں اور پاگل میں کیا فرق ہے؟ کچھ نہیں۔ ایسا مرد یا ایسی عورت تو ایک پاگل کے بادشاہ ہونے سے بھی بڑا دعویٰ کرتی ہے جس کا اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا اس لئے وہ پاگل سے بھی گئی گزری ہے۔ پس دوسری نصیحت میں تم کو یہ کرنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کرو، اس کی اطاعت کرو، اس کے حکموں کو مان لو۔ اگر تم ایسا کرو گی تب مؤمن اور مسلمان کہلا سکو گی ورنہ تمہارا یہ دعویٰ ایک پاگل اور سودائی کے دعویٰ سے بڑھ کر کوئی حقیقت نہیں رکھے گا۔

خدا تعالیٰ کا بندہ وہی ہے جو خدا تعالیٰ کے احکام پر چلے

اب میں تمہیں ”اسلام کا خلاصہ“ بتاتا ہوں ۔ اسلام کا خلاصہ دو باتیں ہیں ایک یہ کہ بندے کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ(الذّٰریٰت: ۵۷) کہ میں نے جن اور انسان کو نہیں پیدا کیا مگر اس لئے کہ میرے بندے بن جائیں۔ یعنی اپنے سچے غلام بنانے کے لئے خدا تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اب اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بندے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ بہت تھوڑے لوگ ہوتے ہیں جن میں بندگی کی علامتیں پائی جاتی ہیں۔ اگر صرف خدا تعالیٰ کے پیدا کر دینے سے ہی انسان اس کے بندے بن جاتے تو پھر خدا تعالیٰ کو یہ کہنے کی ضرورت ہی کیا تھی کہ میں نے ان کو بندہ بنانے کے لئے پیدا کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بندہ بننے کے کچھ اور معنی ہیں اور وہ یہی ہیں کہ ایک غلام اپنے آقا کے سامنے کیا کرتا ہے یہی کہ ہاتھ باندھ کر اس کے احکام ماننے کے لئے کھڑا رہتا ہے۔ اسی طرح

خدا تعالیٰ کا بندہ بننے کے یہ معنی ہیں کہ انسان خدا تعالیٰ کا فرمانبردار رہے ہر وقت اس کے احکام مانتا رہے اور خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق اور رشتہ بڑھائے۔

خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں سب تعلقات ہیچ سمجھو

سب سے اعلیٰ تعلق انسان سے خدا تعالیٰ کا ہے۔ ماں باپ کا بہت بڑا تعلق ہوتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کے تعلق کے مقابلہ میں وہ بھی ہیچ ہے۔ ایک ماں کا بچہ سے یہی تعلق ہوتا ہے کہ وہ اسے نو ماہ تک اپنے پیٹ میں رکھتی ہے اور جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی خبر گیری کرتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا تعلق اس سے بہت زیادہ ہے۔ خدا تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے ماں نے پیدا نہیں کیا۔ پھر ماں جن چیزوں کے ذریعہ بچہ کی پرورش کرتی ہے وہ خدا تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوتی ہیں ماں کی پیدا کردہ نہیں ہوتیں۔ کہتے ہیں ماں نے بچہ کو دُودھ پلایا ہوتا ہے اس لئے اس کا بڑا حق ہوتا ہے۔ مگر میں پوچھتا ہوں ماں کہاں سے دُودھ پلاتی ہے کیا وہ خدا تعالیٰ کا پیدا کردہ نہیں ہوتا؟ پس اگر ماں نے بچہ کو دُودھ پلایا ہے تو خدا تعالیٰ نے دُودھ بنایا ہے۔ پھر ماں بچہ کو کھانا کھلاتی ہے مگر ماں کا تو اتنا ہی کام تھا کہ کھانا پکا کر کھلا دیتی۔ جب اس کا بچہ پر اتنا بڑا احسان ہے تو خدا تعالیٰ جس نے کھانا بنایا اس کا کس قدر احسان ہوگا؟ پھر بچہ جوان ہو کر ماں باپ کی خدمت کرتا ہے اور ان کو کھلاتا پلاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کو اس قسم کی کوئی احتیاج نہیں ہوتی۔ پھر ماں باپ کا تعلق مرنے سے ختم ہو جاتا ہے مگر خدا تعالیٰ کا تعلق مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ پس ماں باپ کا تو بچہ سے ایسا تعلق ہوتا ہے جیسے راہ چلتے مسافر کا تعلق اس درخت سے ہوتا ہے جس کے نیچے وہ تھوڑی دیر آرام کرتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کا تعلق ایسا ہوتا ہے کہ جو کبھی ختم ہی نہیں ہوتا۔ تو خدا تعالیٰ کا انسان سے بہت بڑا اور عظیم الشان تعلق ہے۔ مگر افسوس کہ لوگ دُنیا کے رشتہ داروں کا تو خیال رکھتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ عام طور پر عورتیں جھوٹ بول لیتی ہیں کہ ان کے مرد خوش ہو جائیں اور یہ خیال نہیں کرتیں کہ اللہ تعالیٰ کا ان سے جو تعلق ہے اس کو اس طرح کس قدر نقصان پہنچ جائے گا۔ اسی طرح دنیا کی محبت میں اس قدر منہمک ہو جاتی ہیں کہ جب بچہ پیدا ہو جائے تو بچہ کی محبت کی وجہ سے نماز میں سست ہو جاتی ہیں اور اکثر تو نماز چھوڑ ہی دیتی ہیں۔ روزہ کی کوئی پرواہ نہیں کرتیں حالانکہ انہیں خیال کرنا چاہئے کہ بچہ کی حفاظت اور پرورش تو ہم کرتی ہیں لیکن خدا وہ ہے جو ہماری حفاظت اور پرورش کر رہا ہے۔

برادری کی رُسوم کو شریعت پر ترجیح نہ دو

پھر کئی قسم کی رسمیں اور بدعتیں ہیں جن کے کرنے کے لئے عورتیں مردوں کو مجبور کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اگر اس طرح نہ کیا گیا تو باپ دادا کی ناک کٹ جائے گی گویا وہ باپ دادا کی رسموں کو چھوڑنا تو پسند نہیں کرتیں کہتی ہیں اگر ہم نے رسمیں نہ کیں تو محلہ والے نام رکھیں گے لیکن اگر خدا تعالیٰ ان کا نام رکھے تو اس کی انہیں پرواہ نہیں ہوتی۔ محلہ والوں کی انہیں بڑی فکر ہوتی ہے لیکن خدا تعالیٰ انہیں کافر اور فاسق قرار دے دے تو اس کا کچھ خیال نہیں ہوتا۔ کہتی ہیں یہ ورثا رہا ہے اسے ہم چھوڑ نہیں سکتیں۔ حالانکہ قائم خدا تعالیٰ ہی کا ورثا را رہے گا باقی سب کچھ یہیں رہ جائے گا اور انسان اگلے جہان چلا جائے گا جہاں کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کا دن ایسا سخت اور خطرناک ہو گا کہ ہر ایک رشتہ دار رشتہ داروں کو چھوڑ کر الگ الگ اپنی فکر میں گرفتار ہو گا۔ پس عورتوں کو چاہئے کہ اس دن کی فکر کریں۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرو اور اس تعلق کو مضبوط کرو جو قیامت میں تمہارے کام آئے گا۔ دنیا کے تعلق اور دُنیا کی باتیں کچھ حقیقت نہیں رکھتیں۔

ہمارے پیشوا خاتم الانبیاء کا اسوۂ حسنہ

دیکھو جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور آ کر کہا کہ خدا ایک ہے اور کوئی اس کا شریک نہیں ہے اس وقت ان کے سارے رشتہ دار بُتوں کے آگے سجدے کرتے اور ان کو خدا تعالیٰ کا شریک سمجھتے تھے۔ اکثر عورتوں کو معلوم ہو گا کہ مجاوروں کا گزارہ لوگوں کی منتوں پر ہی ہوتا ہے احمدیت سے پہلے تم میں کئی عورتیں خانقاہوں پر جاتی ہوں گی یا جن کو احمدیت کی تعلیم سے نا واقفیت ہے اور جو اپنے مذہب میں کمزور ہیں ممکن ہے وہ اب بھی جاتی ہوں۔ انہوں نے دیکھا ہو گا کہ مجاوروں کی آمدنی انہی لوگوں کے ذریعہ ہوتی ہے جو وہاں جاتے ہیں۔ تو مکہ والے بُتوں کے مجاور تھے انہوں نے کعبہ میں بُت رکھے ہوئے تھے جن پر لوگ دُور دُور سے آ کر نذریں چڑھاتے تھے جنہیں وہ آپس میں بانٹ لیتے تھے۔ یا لوگ بتوں کی پرستش کے لئے وہاں جمع ہوتے اور وہ تجارت کے ذریعہ ان سے فائدہ اُٹھاتے تھے اس لئے بتوں کو چھوڑ دینے سے وہ سمجھتے تھے کہ ہم بھوکے مر جائیں گے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے رشتہ دار ایسے ہی تھے جن کا گزارہ بتوں پر تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہوئے تو آپؐ نے کسی رشتہ دار کی پرواہ نہ کی اور بڑے زور کے ساتھ کہہ دیا کہ صرف خدا ہی ایک معبود ہے باقی سب معبود جھوٹے ہیں۔ یہ بات آپ کے رشتہ داروں کو بہت بُری لگی اور انہوں نے آپؐ کو تکلیفیں دینا شروع کر دیں۔ ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑ پر چڑھ گئے اور لوگوں کو بُلایا جب لوگ آ گئے تو کہا تم جانتے ہو میں جھوٹ بولنے والا نہیں۔ انہوں نے کہا ہاں ہم جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بڑا لشکر موجود ہے جو مکہ کو تباہ کرنا چاہتا ہے تو تم مان لوگے؟ انہوں نے کہا ہاں ہم مان لیں گے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو میں تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا عذاب تم پر آنے والا ہے تم اس سے بچ جاؤ اور شرک کر کے خدا تعالیٰ کے عذاب کے مستوجب نہ بنو۔ یہ بات سُن کر وہ گالیاں دیتے چلے گئے اور کہنے لگے یہ تو سودائی ہو گیا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور پہلے کی طرح ان کو شرک سے روکتے رہے۔ اس پر لوگ جمع ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے پاس گئے اور جا کر کہا اپنے بھتیجے کو سمجھاؤ یہ ہمارے بُتوں کی مذمت کرتا ہے باز آ جائے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا نے لوگوں سے کہہ دیا کہ جو بات وہ سچے دل اور پورے یقین کے ساتھ کہتا ہے اسے وہ کس طرح چھوڑ سکتا ہے۔ آخر بڑے بڑے لوگ جمع ہوئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں اور جا کر کہیں کہ جو کچھ تم کہو گے ہم مان لیں گے لیکن تم بُتوں کے خلاف کہنا چھوڑ دو۔ چنانچہ لوگ گئے اور جا کر کہا کہ ہم قوم کی طرف سے آئے ہیں اور تم بہت اچھے آدمی ہو ہم نہیں سمجھتے تم قوم کو تباہ ہونے دو گے ہم تمہارے پاس ایک پیغام لائے ہیں اس کو قبول کرو تا کہ تفرقہ نہ پڑے اور ہماری قوم تباہ نہ ہو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سناؤ کیا پیغام لائے ہو انہوں نے کہا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر تمہیں مال کی ضرورت ہو تو ہم تمہیں مال جمع کر کے دے دیں۔ اور اگر تم کسی اعلیٰ گھرانے میں رشتہ کرنا چاہتے ہو تو امیر سے امیر گھرانہ کی اچھی سے اچھی عورت سے رشتہ کرا دیتے ہیں اور اگر یہ چاہتے ہو کہ لوگ تمہاری باتیں مانیں تو ہم لکھ دیتے ہیں کہ جس طرح سے تم کہو گے اسی طرح ہم کریں گے۔ اگر تم بادشاہ بننا چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا بادشاہ تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں مگر تم یہ نہ کہو کہ ایک ہی خدا ہے اور کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کا جواب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا دیا۔ یہ کہ اگر تم سُورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لا کر بھی رکھ دو تو پھر بھی میں تمہاری یہ بات نہ مانوں گا۔عه

رسموں کو چھوڑ دو

مگر عورتیں کہتی ہیں اگر ہم نے فلاں رسم نہ کی تو محلہ والے کیا کہیں گے ۔ اب تو رسمیں کم ہوتی جاتی ہیں تاہم ہندوؤں کی رسمیں جو مسلمانوں میں آگئی ہیں ان کے متعلق سوچنا چاہئے کہ ان کا کیا فائدہ ہے؟ عقلمند انسان وہی کام کرتا ہے جس میں کوئی فائدہ ہو۔ مگر آج کل بیاہ شادیوں میں جو رسمیں کی جاتی ہیں ان کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ صرف اس لئے کی جاتی ہیں کہ ہمارے باپ دادا کی رسمیں ہیں ۔ مگر جن لوگوں میں ایمان داخل ہو جاتا ہے اور وہ دین پر عمل کرتے ہیں وہ ہرگز اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ ان کے باپ دادا کیا کیا کرتے تھے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کے باپ دادا کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے۔ آپؐ نے کفر سے نکال کر ایمان جیسی نعمت عطاء کی اس لئے آپؐ سے بڑھ کر کسی کی کیا وقعت ہو سکتی ہے۔ لیکن افسوس کہ لوگ آپؐ کو چھوڑ کر باپ دادا کی فضول رسموں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور چونکہ یہ باتیں زیادہ تر عورتوں میں پائی جاتی ہیں اس لئے ان کی حالت بہت ہی قابلِ افسوس ہے۔

ایک صحابیؓ عورت کا نمونہ

مَیں مثال کے طور پر بتاتا ہوں کہ وہ عورتیں جو سچے دل سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتی تھیں ان کی کیا حالت تھی۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب دشمنوں کے تکلیفیں پہنچانے پر مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آگئے تو مکہ والوں نے وہاں بھی آپؐ کا پیچھا نہ چھوڑا اور وہاں بھی لڑائی کرنے کے لئے آگئے۔ مدینہ سے چار میل کے فاصلہ پر ایک جگہ تھی جہاں لڑائی شروع ہوئی۔ اگرچہ کافر بہت زیادہ تھے اور ان کا مقابلہ میں مسلمان بہت تھوڑے تھے لیکن مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ جب فتح ہو گئی تو چند لوگ جن کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ کھڑے رہنے کا حکم دیا تھا اور فرمایا تھا خواہ کچھ ہو تم اس جگہ سے نہ ہلنا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لڑائی کے لئے یہاں کھڑا کیا گیا تھا جب ہماری فتح ہو گئی ہے تو پھر ہمیں یہاں کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے سردار نے کہا خواہ کچھ ہو چونکہ ہمیں کھڑے رہنے کا حکم ہے اس لئے یہاں سے نہیں جانا چاہئے۔ لیکن دوسروں نے کہا ہمارا کھڑا ہونا لڑائی کے لئے تھا اب جبکہ دشمن بھاگ گیا تو پھر کھڑے رہنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ کہہ کر جب وہ وہاں سے ہٹ گئے تو کافروں نے جو بھاگے جا رہے تھے دوبارہ یک لخت حملہ کر دیا اور ایسے زور سے حملہ کیا کہ مسلمانوں میں جو دشمن کی طرف سے مطمئن ہو چکے تھے ابتری پھیل گئی۔ اس وقت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو گئے اور آپؐ کے دو دانت شہید ہو گئے اور مشہور یہ ہو گیا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں یہ سُن کر مسلمانوں کو بہت صدمہ ہوا۔ حتیٰ کہ فرطِ غم کی وجہ سے حضرت عمرؓ جیسے بہادر انسان سر نیچے کر کے بیٹھ گئے۔ ایک صحابیؓ ان کے پاس سے گزرے اور پوچھا کیا ہوا ۔ انہوں نے کہا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے۔ یہ سن کر اس صحابیؓ نے کہا اگر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو یہاں بیٹھنے کا کیا فائدہ ؟ چلو جہاں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم گئے ہیں وہیں ہم بھی جائیں۔ یہ کہہ کر وہ دشمن پر حملہ آور ہوا اور اس قدر سختی سے لڑا کہ جب اس کی لاش دیکھی گئی تو معلوم ہوا کہ اس پر ستر زخم لگے ہوئے ہیںعدلیکن رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ تھے ،اور کیوں محفوظ نہ ہوتے جب کہ خدا تعالیٰ کا آپؐ سے وعدہ تھا کہ کوئی تمہیں مار نہیں سکتا۔ (المائدۃ: ۶۸) آخر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے اور مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جو صحابی آپؐ کے ساتھ تھے انہیں تو آپؐ کے زندہ ہونے کا علم ہو گیا لیکن مدینہ میں پہلے خبر پہنچ چکی تھی اس لئے مدینہ کے بچے اور عورتیں دیوانہ وار باہر نکلے۔ اس وقت جبکہ لشکر واپس آرہا تھا ایک صحابی آگے آگے تھا اس سے ایک عورت نے بےتحاشا آکر پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس کے دل میں چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اطمینان اور تسلی تھی اس لئے اس نے اس بات کو معمولی سمجھ کر کہا تمہارا باپ مارا گیا ہے۔ عورت نے کہا میں نے تم سے پوچھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا تمہارا بھائی بھی مارا گیا ہے۔ عورت نے کہا میں یہ پوچھتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا تیرا خاوند بھی مارا گیا ہے۔ عورت نے کہا میری بات کا تم جواب کیوں نہیں دیتے۔ میں پوچھتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا رسول اللہ زندہ ہیں یہ سن کر عورت نے کہا شکر ہے خدا کا۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تو ہمیں اور کسی کی پرواہ نہیں۔۱؎

ایماندار ہو تو رسول کریمؐ کو مقدم رکھو

اس بات کو سامنے رکھ کر تم اپنی حالت کو دیکھو۔ اگر پیدا ہوتے ہی بچہ مر جائے تو اس پر بین شروع کر دیئے جاتے ہیں حالانکہ وہ جانتی ہیں کہ جہاں بچہ گیا ہے وہیں ان کو بھی جانا ہے۔ اگر کچھ فرق ہے تو یہ کہ وہ پہلے چلا گیا ہے اور یہ کچھ عرصہ بعد جائیں گی۔ تاہم عجیب عجیب بین کرتی، روتی، چلاتی اور شور مچاتی ہیں۔ یہ تو آج کل کی مسلمان کہلانے والی عورتوں کی حالت ہے۔ اور ایک وہ مسلمان عورت تھی جس کا باپ، بھائی اور خاوند مارا جاتا ہے مگر وہ کہتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تو مجھے کچھ غم نہیں۔ یہ وہ ایمان ہے جو مسلمان کی علامت ہے۔ پس اگر تم ایماندار ہو اور تمہیں مسلمان ہونے کا دعویٰ ہے تو خدا تعالیٰ کے احکام کے مقابلہ میں کسی بات کی پرواہ نہ کرو اور اس کے حکموں پر عمل کر کے دکھاؤ۔ اس بات کی ہرگز پرواہ نہ کرو کہ لوگ تمہیں کیا کہیں گے بلکہ اس بات کی پرواہ کرو کہ خدا تمہیں کیا کہتا ہے۔

قبر پرستی سے بچو

عورتوں میں بہت سی باتیں ایسی پائی جاتی ہیں جو شرک ہیں، قبروں پر چڑھاوے چڑھائے جاتے، چراغ جلائے جاتے، منتیں مانی جاتی ہیں۔ یہ سب شرک ہے خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی کو کھڑا کرنا شرک ہے جو بہت ہی بڑا گناہ ہے اور اس سے خدا تعالیٰ کا غضب بھڑک اٹھتا ہے۔ دیکھو اگر کوئی اپنے باپ کے سامنے ایک چوہڑے کو اپنا باپ کہے تو اس کے باپ کو کس قدر غصّہ آئے گا اور وہ کس قدر ناراض ہوگا۔ اسی طرح ایک ادنیٰ مخلوق کو جو خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کیڑے کی حیثیت بھی نہیں رکھتی اپنا حاجت روا سمجھنا خدا تعالیٰ کی بہت بڑی ناراضگی کا موجب ہے ایک قبر میں دفن شدہ مردہ جس کی ہڈیاں بھی گل گئی ہوں اور جس کے جسم کو کیڑے کھا گئے ہوں اس کو جا کر کہنا کہ تو میری مراد پوری کر کتنی بڑی پاگلانہ بات ہے۔ خدا تعالیٰ جب زندہ ہے اور مانگنے والوں کو دیتا ہے تو جو کچھ مانگنا ہو اس سے مانگنا چاہئے۔ جو مٹی میں دفن ہو چکا ہو اس کے متعلق کیا معلوم ہے کہ نیک تھا یا کیسا تھا۔ اگر وہ نیک تھا تو ان پر لعنتیں بھیجتا ہوگا جو اس سے مرادیں مانگتی ہیں۔ اور اگر بُرا ہوگا تو خود جہنم میں پڑا ہو گا دوسروں کو کیا دے سکے گا۔

ٹونے ٹوٹکے ترک کر دو

اسی طرح عورتیں ٹونے ٹوٹکے کرتی ہیں۔ اگر کوئی بیمار ہوتا ہے تو کچا دھاگا باندھتی ہیں کہ صحت ہو جائے حالانکہ جس کو ایک چھوٹا بچہ بھی توڑ کر پھینک سکتا ہے وہ کیا کر سکتا ہے۔ اسی طرح عورتوں میں اور کئی قسم کی بدعتیں اور بُرے خیالات پائے جاتے ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور جن سے سوائے اس کے کہ ان کی جہالت اور نادانی ثابت ہو اور کچھ نہیں ہوتا۔ پس خوب اچھی طرح یاد رکھو کہ ٹونے ٹوٹکے، تعویذ، گنڈے، منتر جنتر سب فریب اور دھوکے ہیں جو پیسے کمانے کے لئے کسی نے بنائے ہوئے ہیں۔ یہ سب لغو اور جھوٹی باتیں ہیں ان کو ترک کرو۔ ایسا کرنے والوں سے خدا تعالیٰ سخت ناراض ہوتا ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتیں کہ مسلمان دن بدن تباہ و برباد ہوتے جا رہے ہیں۔ تم عام طور پر اپنے گھروں میں اپنے رشتہ داروں میں دیکھو اور مسلمانوں کی حالت پر غور کرو تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ مسلمان ہندوؤں کے مقروض ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ یہی کہ خدا تعالیٰ کی لعنت ان پر پڑی ہوئی ہے چونکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کو چھوڑ دیا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے بھی ان کو چھوڑ دیا ہے۔ تم ان بیہودہ رسموں اور لغو چیزوں کو قطعاً چھوڑ دو اور اپنے گھروں سے نکال دو۔ مسلمان اور مؤمن کے لئے صرف یہی جائز ہے کہ ایک خدا کی پرستش کرے اور اسی کے آگے سجدہ کرے۔ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے بھی سجدہ کرنے کی خدا تعالیٰ نے اجازت نہیں دی تو اور کون ہے جس کو سجدہ کیا جا سکے۔ پھر اس زمانہ کے مصلح حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہوئے ہیں انکے آگے بھی سجدہ کرنے کی اجازت نہیں۔ نہ ان کی قبر پر منتیں ماننے اور نذریں چڑھانے کی اجازت ہے پس تم اس قسم کی باتوں کو اپنے گھروں سے نکال دو اور اگر نکال دیا ہے تو دوسری عورتوں کو سمجھاؤ کہ وہ بھی اسی طرح کریں۔

قرآن کریم کا ترجمہ پڑھو اور اس پر عمل کرو

پھر یاد رکھو کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کی کتاب اور اس کے منہ کی باتیں ہیں۔ اس کا ادب کرو اور احترام کرو قرآن کریم کے بغیر کوئی دین نہیں اور اس دین کے بغیر کہیں ایمان نہیں اور ایمان کے بغیر نجات نہیں۔ وہ شخص ہرگز نجات نہیں پاسکتا جو قرآن کریم پر عمل نہ کرے۔ عام طور پر عورتیں خود پڑھی ہوئی نہیں ہیں مگر خود پڑھا ہوا ہونا ہی ضروری نہیں۔ دیکھو اگر کسی رشتہ دار کا خط آئے تو پڑھے ہوئے سے پڑھوا کر سنا جاتا ہے۔ اسی طرح قرآن بھی خط ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے نام آیا ہے اس کو اپنے رشتہ داروں سے پڑھوا کر سنو اور خاص کر اپنے خاوندوں سے تھوڑا تھوڑا کر کے سنو اور اسے یاد کرو۔ وعظ میں قرآن کی آیتیں نہیں سنائی جاتیں۔ اس وقت میں جو کچھ بیان کر رہا ہوں وہ اگرچہ قرآن ہی کی باتیں ہیں لیکن الفاظ میرے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کے لفظوں میں جو بات ہے وہ کسی انسان کے الفاظ میں نہیں پائی جاتی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وعظوں میں جو کچھ سنایا جاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے کلام کے خلاف ہوتا ہے مگر پھر بھی وہ انسان کے الفاظ ہوتے ہیں۔ تمہیں چاہئے کہ خدا کے کلام کو خدا کے الفاظ میں سنو۔ عربی پڑھو اور اس کے معنی سیکھو خواہ کوئی عمر ہو پڑھنے سے جی نہ چراؤ۔ قادیان میں ایک قاعدہ تیار کیا گیا ہے اس سے قرآن پڑھنے میں بہت مدد مل سکتی ہے اس کے ذریعہ قرآن کریم پڑھو۔ خود پڑھنے اور دوسرے سے سننے میں بڑا فرق ہے۔ سننے میں صرف کان ہی مشغول ہوتے ہیں لیکن خود پڑھنے سے آنکھیں بھی مشغول رہتی ہیں اور اس طرح زیادہ ثواب ہوتا ہے۔ تو خدا تعالیٰ کے کلام کو خود پڑھنے کی کوشش کرو اور جب تک خود پڑھنے کی قابلیت پیدا نہ ہو۔ اس وقت تک اپنے خاوندوں اور بچوں سے سنو یا اپنے ہمسائیوں سے پڑھو۔ دیکھو اگر کوئی بھوکا یا ننگا ہو تو دوسروں سے کھانا اور کپڑا مانگ لیتا ہے اور اس میں شرم نہیں کرتا۔ جب ایسی چیزوں کے لئے شرم نہیں کی جاتی تو خدا تعالیٰ کی باتیں سننے اور پڑھنے میں کیوں شرم کی جائے؟

خدا کے بعد رسولِ کریم سے بڑھ کر کسی کو درجہ نہ دو

پھر میں تمہیں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے رسولوں پر ایمان رکھو۔ سب سے بڑے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ان سے بڑا درجہ کسی رسول کو نہ دو۔ ہمارے ملک میں مسلمانوں نے اپنی جہالت سے حضرت عیسیٰؑ کو بڑا درجہ دے رکھا ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ تو آج تک زندہ ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں پھر کہتے ہیں حضرت عیسیٰؑ مُردے زندہ کیا کرتے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مردہ زندہ نہیں کیا۔ پھر ان کے نزدیک حضرت عیسیٰؑ تو آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زمین میں دفن ہیں۔ حضرت عیسیٰؑ کے متعلق اس قسم کی جتنی باتیں کہتے ہیں وہ غلط ہیں کیونکہ سب سے بڑا رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اگر ؁ کوئی رسول مُردوں کو زندہ کرتا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے لیکن مسلمان نادانی سے اس قسم کی باتیں حضرت عیسیٰؑ کی طرف منسوب کر کے ان کا درجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ سے بڑھاتے ہیں۔ تم ہرگز اس طرح نہ کرو اور سب سے بڑا درجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سمجھو۔ ان کے تم پر بہت بڑے احسان ہیں اس لئے ان پر ایمان لاؤ اور ان کے مقابلہ میں کسی اور کو کسی بات میں فضیلت نہ دو۔ ان پر درود بھیجو۔ درود دُعا ہوتی ہے جس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اے خدا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر جس قدر احسان کئے ہیں ان کا بدلہ ہم کچھ نہیں دے سکتے آپ ہی ان کو بدلہ دیں۔

بعث بعد الموت پر ایمان رکھو

پھر ایک بات میں تم کو یہ بتاتا ہوں کہ تمہیں عقیدہ رکھنا چاہئے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہونا ہے۔ جو لوگ یہ عقیدہ نہیں رکھتے وہ بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ مثلاً یہی کسی کے مرنے پر رونا پیٹنا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہوتی ہے یہی کہ ان کو یقین نہیں ہوتا کہ مرنے کے بعد ہم پھر مل سکیں گے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لاؤ۔ خدا تعالیٰ نے اس پر ایمان لانا نہایت ضروری قرار دیا ہے۔

موجودہ زمانہ کا نبی

پھر یہ بات یاد رکھو کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے حضرت مرزا صاحبؒ کو نبی بنا کر دُنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے لیکن آپ کوئی علیحدہ نبی نہیں ہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں۔ ہم سے ان کا تعلق نبی کا ہے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی تعلق ہے جو ایک غلام کو اپنے آقا سے ہوتا ہے۔ ان پر ایمان لانا ضروری ہے، ان کے بھی ہم پر بڑے بڑے احسان ہیں۔ اس زمانہ میں بھی دُنیا اسی طرح گمراہ اور دین سے غافل ہو گئی تھی جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ہو گئی تھی اور انہوں نے آ کر دین سکھایا اور خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا سیدھا راستہ دکھایا ہے۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو عقائد سے تعلق رکھتی ہیں۔ اب میں اعمال کے متعلق بتاتا ہوں۔

نماز کی پابند رہو

اوّل نماز ہے اس کی پابندی نہایت ضروری ہے۔ عام طور پر عورتوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ چھوٹی عمر میں کہتی ہیں ابھی بچپن ہے جوان ہو کر نماز پڑھیں گی جب جوان ہوتی ہیں تو بچوں کے عذر کر دیتی ہیں اور جب بوڑھی ہو جاتی ہیں تو کہتی ہیں اب تو چلا نہیں جاتا نماز کیا پڑھیں۔ گویا ان کی عمر ساری یونہی گزر جاتی ہے۔ تو اکثر عورتیں نماز پڑھنے میں بہت سُست ہوتی ہیں اور اگر پڑھتی ہیں تو چند دن پڑھ کے پھر چھوڑ دیتی ہیں یا اگر پڑھتی ہیں تو اس طرح پڑھتی ہیں کہ انہیں کچھ معلوم نہیں ہوتا کیا پڑھتی ہیں۔ جلدی جلدی رکوع اور سجدہ کر کے فارغ ہو بیٹھتی ہیں اس طرح کی نماز کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ان کی نماز اس طرح ہوتی ہے جس طرح مُرغی دانے چگتی ہے۔ آخر سوچنا چاہئے نماز کوئی ورزش نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی عبادت ہے اس لئے اسے سمجھ کر اور اچھی طرح جی لگا کر پڑھنا چاہئے۔ اور کوئی نماز سوائے اُن ایام کے جن میں نہ پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے نہیں چھوڑنی چاہئے۔ کیونکہ نماز ایسی ضروری چیز ہے کہ اگر سال میں ایک دفعہ بھی جان بوجھ کر نہ پڑھی جائے تو انسان مسلمان نہیں رہتا۔ پس جب تک ہر ایک مسلمان مرد اور عورت پانچوں وقت بلا ناغہ نمازیں نہیں پڑھتے وہ مسلمان نہیں ہو سکتے۔ ہاں اگر کہو آج تک ہم نے کئی نمازیں نہیں پڑھیں ان کے متعلق کیا کیا جائے تو اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے توبہ رکھی ہے۔ اگر آج سے پہلے تم نے جان بوجھ کر نمازیں چھوڑی ہیں تو توبہ کر لو اور عہد کرو کہ آئندہ کوئی نماز نہ چھوڑیں گی۔ مینہ برستا ہو یا آندھی ہو، کپڑے پاک ہوں یا ناپاک، کوئی ضروری سے ضروری کام ہو یا عدم فرصت، کچھ ہو کسی صورت میں نماز نہ چھوڑنی چاہئے۔ اوّل تو ضروری ہے کہ کپڑے پاک وصاف ہوں لیکن اگر ایسی صورت ہو کہ پاک کپڑے تیار نہ ہوں یا پہنے ہوئے کپڑے اتارنے سے بیمار ہو جانے کا خوف ہو تو خواہ کپڑے بچہ کے پیشاب میں تر ہوں تو بھی ان کے ساتھ نماز پڑھ لینا جائز ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچہ کو خود کپڑوں پر پیشاب کرا کے اسی طرح نماز پڑھ لینی چاہئے بلکہ یہ ہے کہ اگر پاک کپڑے مہیا ہونے کی صورت نہ ہو تو انہی کے ساتھ پڑھ لی جائے ورنہ اچھی بات یہی ہے کہ کپڑوں کو صاف کر لینا چاہئے۔ بچہ کا پیشاب ہوتا ہی کتنا ہے۔ بچہ جب تک دُودھ پیتا ہے روٹی نہیں کھاتا اس وقت تک شریعت نے یہ رکھا ہے کہ اس کے اوپر سے پانی بہا کر نچوڑ دینے سے کپڑا پاک ہو جاتا ہے۔ تو خواہ کچھ ہو نماز ضرور پڑھنی چاہئے کیونکہ نماز کسی صورت میں معاف نہیں ہو سکتی۔ یہ ایمان کا ستون ہے۔ جس طرح چھت بغیر ستون کے قائم نہیں رہتی اسی طرح نماز کے بغیر ایمان قائم نہیں رہتا۔

زکوٰۃ دیتی رہو

نماز کے بعد دوسرا حکم زکوٰۃ کا ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ جس مال پر ایک سال گزر جائے اس میں سے غریبوں اور مسکینوں کی امداد کے لئے چالیسواں حصہ نکالا جائے۔ اگر اسلامی حکومت ہو تو اس کو وہ حصہ دے دیا جائے۔ اگر نہ ہو تو جو انتظام ہو اس کو دیا جائے۔ ہم احمدیوں کا ایک باقاعدہ انتظام ہے اس لئے احمدی عورتوں کو چاہئے کہ منتظمین کو زکوٰۃ کا مال دے دیا کریں۔ زیوروں کے متعلق یہ حکم ہے کہ اگر پہنے جاتے ہوں تو ان کی زکوٰۃ نہ دی جائے اور اگر ان کی بھی دی جائے تو اچھی بات ہے۔ ہاں اگر ایسے زیور ہوں جو عام طور پر نہ پہنے جاتے ہوں کبھی بیاہ شادی کے موقع پر پہن لئے جاتے ہوں ان کی زکوٰۃ دینا ضروری ہے اور جو عام

طور پر پہنے جاتے ہوں ان کی زکوٰۃ دی جائے تو جائز ہے اور نہ دی جائے تو گناہ نہیں۔ ان کا گھسنا ہی زکوٰۃ ہے۔ ہمارے ملک میں عورتوں کو زیور بنوانے کی عادت ہے اس لئے قریباً سب عورتوں پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے وہ اس کا خیال نہیں رکھتیں۔ حالانکہ یہ اتنا ضروری حکم ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب کچھ لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ جب تک زکوٰۃ کی اونٹ باندھنے کی رسی تک نہ دیں گے میں ان سے جنگ کروں گا۔ اور یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ جو زکوٰۃ نہ دے وہ مسلمان نہیں۔ تم اپنی حالت پر غور کرو کہ تم میں سے بہت سی تو نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے مسلمان نہیں رہتیں۔ اور جو اس سے بچ جاتی ہیں ان میں سے اکثر زکوٰۃ نہ دینے کی وجہ سے مسلمان نہیں کہلا سکتیں۔

روزے رکھو

تیسرا حکم روزے کا ہے۔ اس کے متعلق حکم ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آئے تو سوائے ان دنوں کے جن میں خدا تعالیٰ نے عورتوں کو روزے رکھنے سے منع کیا ہے باقی دنوں میں روزے رکھنے چاہئیں۔ اس کے متعلق مجھے زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ لوگ نمازیں تو نہیں پڑھتے لیکن روزے بڑی پابندی کے ساتھ رکھتے ہیں۔ گو خدا تعالیٰ کے لئے نہیں بلکہ تماشا کے طور پر رات کو اُٹھتے ہیں اور روزے کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔

حج خانہ کعبہ

چوتھا حکم یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کسی کو توفیق دے تو حج کرے۔ اس کے لئے کئی شرطیں ہیں۔ مثلاً مال ہو، رستہ میں امن ہو اور اگر عورت ہو تو اس کیساتھ اس کا خاوند یا بیٹا یا بھتیجا یا ایسا ہی کوئی اور رشتہ دار محرم جانے والا ہو۔

صدقہ و خیرات

یہ تو وہ باتیں ہیں جو ہر ایک مومن مرد اور عورت پر فرض ہیں۔ ان کے علاوہ صدقہ و خیرات ہے۔ یہ اگرچہ فرض نہیں لیکن دینا ضروری ہے۔ اپنے خاندان میں اپنے محلہ میں جو غریب اور محتاج ہو اس کو دینا چاہئے۔ ہم احمدیوں میں صدقہ کا رواج بہت کم ہو گیا ہے جس کی ایک وجہ ہے اور وہ یہ کہ احمدی جو چندہ دیتے ہیں اسی کو صدقہ سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ دین کے لئے چندہ دینا اور بات ہے اور صدقہ دینا اور بات۔ صدقہ و خیرات وہاں کے غریب اور محتاج لوگوں کا حق ہوتا ہے جہاں انسان رہے۔ اس میں مذہب کی شرط نہیں خواہ کسی مذہب کا انسان ہو مگر محتاج ہو تو اس کی مدد کرنی چاہئے۔ مثلاً اگر تمہیں کوئی غریب عورت ملے تو تمہیں یہ نہیں کہنا چاہئے کہ چونکہ یہ ہندو ہے اس لئے اسے کچھ نہیں دینا چاہئے بلکہ اس کو بھی ضرور دینا چاہئے یہ تو خدا تعالیٰ کے حکم ہیں۔

اخلاقِ حسنہ سیکھو

ان کے علاوہ وہ حکم ہیں جو بندوں کو بندوں کے متعلق ہیں مثلاً یہ کہ ایک دوسرے کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آؤ۔ کسی کی غیبت نہ کرو۔ چغلی نہ کرو۔ کسی کے مال میں خیانت نہ کرو، کسی سے بغض اور کینہ نہ رکھو۔ عورتوں میں چغلی اور غیبت کی مرض بہت پائی جاتی ہے۔ اگر کسی کے متعلق کوئی بات سُن لیں تو جب تک دوسری کے سامنے بیان نہ کر لیں انہیں چین نہیں آتا۔ جو بات سنتی ہیں جھٹ دوسری جگہ بیان کر دیتی ہیں۔ حالانکہ چاہئے یہ کہ اگر کوئی کسی بھائی بہن کا نقص اور عیب بیان کرے تو اسے منع کر دیا جائے لیکن ایسا نہیں کیا جاتا۔ تو چغلی کرنا بہت بڑا عیب ہے اور اتنا بڑا عیب ہے کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ اسی کی وجہ سے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جا رہے تھے کہ راستہ میں دو قبریں آئیں۔ آپؐ وہاں ٹھہر گئے اور فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ ان قبروں کے مُردے ایسے چھوٹے چھوٹے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں پڑے ہوئے ہیں کہ جن سے بآسانی بچ سکتے تھے لیکن بچے نہیں۔ ان میں سے ایک تو پیشاب کے چھینٹوں سے اپنے آپ کو نہیں بچاتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا تھاعه۔ تو چغلی بہت بڑا عیب ہے اس میں ہرگز مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ اگر تمہارے سامنے کوئی کسی کے متعلق بُرا کلمہ کہے تو اسے روک دو اور کہہ دو ہمیں نہ سناؤ بلکہ جس کا عیب ہے اسے جا کر سناؤ۔ پھر اگر کوئی بات سن لو تو جس کے متعلق ہو اس کو جا کر نہ سناؤ تاکہ فساد نہ ہو۔ اسی طرح کسی کی غیبت بھی نہیں کرنی چاہئے۔ کیا اپنے نقص کم ہوتے ہیں کہ دوسروں کے نقص بیان کرنے شروع کر دیئے جاتے ہیں؟ تمہیں چاہئے کہ دوسروں کے عیب نکالنے کی بجائے اپنے عیب نکالو تاکہ تمہیں کچھ فائدہ بھی ہو۔ دوسروں کے عیب نکالنے سے سوائے گناہ کے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

اپنی اصلاح کی فکر کرو

پس اگر عیب ہی نکالنے ہیں تو اپنے عیب نکالو تاکہ ان کے دُور کرنے کی کوشش کر سکو۔ تم اپنے متعلق دیکھو کہ تم میں چڑچڑا پن تو نہیں پایا جاتا تم خواہ مخواہ دوسری عورتوں سے لڑائی فساد تو نہیں کرتیں۔ تمہارے اخلاق میں تو کوئی کمزوری نہیں۔ اور جب تمہیں اپنی کوئی کمزوری معلوم ہو جائے تو اس کو دُور کرنے کی کوشش کرو۔ تم اپنی مجلسوں میں ہی دیکھ لو ذرا ذرا سی بات پر عورتیں ایک دوسری سے اس طرح لڑتی ہیں کہ گویا انسان نہیں حیوان ایک جگہ جمع کئے ہوئے ہیں۔ پس اپنے اخلاق اور عادات دُرست کرو۔ جس مجلس میں جاؤ ادب اور تہذیب

سے بیٹھو۔ ایک دوسری کے ساتھ محبت اور اُلفت سے ملو۔ نرمی اور پیار سے بات کرو۔ اگر کوئی سختی بھی کر بیٹھے تو صبر اور تحمل سے کام لو اور خوش اخلاقی سے پیش آؤ۔

خاتمہ تقریر

یہ اسلام کی تعلیم ہے جو مختصر طور پر اس وقت میں نے تمہارے سامنے بیان کی ہے اس پر عمل کرو تا مسلمان بنو۔ جو اس پر عمل نہ کرے اس کو کوئی حق نہیں ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھے۔

ایک غلط بیانی کی تردید

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

ایک غلط بیانی کی تردید

(تحریر فرمودہ حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی)

معزز اخبار روزانہ آفتاب میں ”مرزا بشیر الدین محمود احمد سے قطع تعلق“ کے عنوان کے نیچے ایک صاحب کا خط شائع ہوا ہے۔ جنہوں نے اپنا نام مستری عمر بخش اور پتہ انجن ڈرائیور کوہاٹ بتایا ہے یہ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ انہوں نے ۱۷؍ستمبر ۱۹۱۵ء میں میری بیعت کی تھی اور مدت تک میرے وعظ اور خطبات کا مطالعہ کرتے رہے لیکن مجھے اپنی خواہشات پر اسلام کو قربان کرنے والا دیکھ کر انہیں مجھ سے قطع تعلق کرنا پڑا۔ جس کا وہ اخبار آفتاب کے ذریعہ اعلان کرتے ہیں۔ اس نفسانیت کی ایک مثال وہ یہ لکھتے ہیں کہ ان کو میری طرف سے تحریک کی گئی کہ وہ مسئلہ خلافت سے اپنی بے تعلقی کا اظہار کریں تاکہ گورنمنٹ خوش ہو کر مجھے تو کونسل کا ممبر نامزد کر دے اور میرے چھوٹے بھائی کو قادیان کا آنریری مجسٹریٹ بنا دے۔ آخر میں وہ تحریر فرماتے ہیں کہ انہوں نے اکتوبر ۱۹۱۹ء میں ایک سو پچاسی روپیہ سات آنے برائے اشاعت اسلام ارسال کئے تھے وہ خلافت کمیٹی بمبئی کو ادا کر دیئے جاویں کیونکہ وہ اپنا روپیہ تخریب اسلام میں خرچ نہیں کرنا چاہتے۔

اس خط کو پڑھکر اس کے لکھنے والے اور اس کے شائع کرنے والے دونوں صاحبوں پر مجھے تعجب ہوا۔ لکھنے والے صاحب پر اس لئے کہ انہوں نے اس قسم کے افتراؤں سے کام لیا ہے جن کا پوشیدہ رہنا بالکل محال تھا۔ اور شائع کرنے والے صاحب پر اس لئے کہ باوجود ایک شریف اور معزز آدمی ہونے کے اور صاحبِ تجربہ ہونے کے انہوں نے اس قسم کی تحریر بلا کسی تحقیق کے شائع کر دی۔

ہمارے لٹریچر سے واقفیت رکھنے والے اصحاب سے خواہ غیر احمدی ہوں یا احمدی یہ بات پوشیدہ نہیں کہ بیعت کرنے والوں کی فہرست باقاعدہ اخبار الفضل میں شائع ہوتی رہتی ہے اور ایک رجسٹر میں سب بیعت کرنے والوں کے نام لکھے جاتے ہیں۔ اس مضمون کے شائع ہونے پر اس فہرست کی پڑتال کرنے پر معلوم ہوا کہ ستمبر ۱۹۱۵ء میں کسی شخص نے جو اس نام یا اس پتہ کا ہو بیعت نہیں کی پس ان صاحب کا یہ تحریر فرمانا کہ انہوں نے ستمبر ۱۹۱۵ء میں بیعت کی تھی ایک افتراء ہے۔ مگر چونکہ بہت دفعہ دفتر کی غلطی سے یا اور وجوہات سے بیعت کرنے والوں کے نام اندراج سے رہ جاتے ہیں۔ اس لئے ہم نے مناسب سمجھا کہ پیشتر اس کے کہ اس خط کا جواب لکھا جاوے کوہاٹ کے سیکرٹری انجمن احمدیہ سے اس کے متعلق دریافت کر لیا جاوے کہ کیا اس نام کا کوئی احمدی وہاں ہے اور اس غرض سے وہاں خط لکھوایا گیا۔ مولوی صدر الدین صاحب مولوی فاضل مدرس گورنمنٹ سکول کوہاٹ سیکرٹری انجمن احمدیہ کوہاٹ نے اس خط کا جو جواب تحریر فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نام اور پتہ کا کوئی احمدی وہاں نہیں ہے۔ بلکہ اس نام اور اس پتہ کا کوئی آدمی ہی کوہاٹ میں نہیں ہے۔ وہ تحریر فرماتے ہیں ”خاکسار بھی تقریباً ۱۶؍ ماہ سے یہاں ہے اور اس سے پہلے بھی انجمن کوہاٹ کا وجود تھا لیکن نہ میری موجودگی میں کوئی ایسا احمدی جماعت کا ممبر تھا اور نہ سابقہ کاغذات میں اس شخص کا نام درج ہے“

مگر اسی پر بس نہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ لطیفہ ہے کہ وہ تحریر فرماتے ہیں کہ انہوں نے شہر میں تحقیقات کی کہ اس نام کا کوئی انجن ڈرائیور ہے بھی کہ نہیں؟ تو ان کو معلوم ہوا کہ کوہاٹ میں چار جگہیں ہیں جہاں انجن سے کام ہوتا ہے۔ (۱) ریلوے سٹیشن (۲) ملٹری ورکس گودام (۳) برف خانہ فوجی (۴) برف خانہ شہر کا متصل تحصیلی دروازہ۔ برف خانہ شہر بند ہے وہاں اس وقت کوئی ملازم نہیں ہے۔ برف خانہ فوجی میں چار انجن ہیں اور چاروں پر اس نام کا کوئی آدمی نہیں ہے۔ ریلوے سٹیشن اور ملٹری ورکس گودام بڑے محکمے ہیں وہاں کے کارکنوں سے بذریعہ تحریر دریافت کیا گیا تو میاں نبی بخش صاحب غیر احمدی فورمین کوہاٹ ملٹری ورکس گودام نے تحریر فرمایا کہ ”میں تصدیق کرتا ہوں کہ کوہاٹ ملٹری ورکس میں بنام عمر بخش ڈرائیور انجن کا کوئی نہیں ہے“۔ اسی طرح ریلوے سٹیشن کے شیڈ کلرک میاں خیر الدین صاحب نے جو ہماری جماعت میں شامل نہیں ہیں۔ جواب دیا کہ "CERTIFIED THAT MISTRI UMER BUKSH DRIVER

IS NOT EMPLOYED IN ANY CAPACITY AT KOHAT."

اب اس تحقیقات کے بعد ہم یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہیں کہ نہ صرف یہ کہ یہ صاحب احمدی ہی نہیں ہیں بلکہ ان صاحب کا وجود ہی خیالی ہے اور کسی شقی القلب انسان نے تمسخر کے طور پر جھوٹا خط بنا کر آفتاب کے ایڈیٹر کے نام ارسال کر دیا ہے۔

مندرجہ بالا تین دلائل کے علاوہ چوتھی دلیل اس خط کے جھوٹا ہونے کی یہ ہے کہ یہ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ وہ میرے مواعظ اور خطبات کو مدت تک پڑھتے رہے ہیں اور میرے خطبات صرف اخبار الفضل میں شائع ہوتے ہیں جس کے خریداروں میں اس نام کا کوئی شخص نہیں ہے اور ہمارے اخبار ایجنسیوں کی معرفت فروخت نہیں ہوتے کہ کہا جاسکے کہ یہ صاحب کسی ایجنسی سے اخبار خرید کر پڑھ لیا کرتے تھے۔

پانچویں دلیل ان صاحب کے جھوٹا ہونے کی یہ ہے کہ انہوں نے یہ لکھا ہے کہ اکتوبر ۱۹۱۹ء میں انہوں نے ایک سو پچاسی روپے سات آنے کی رقم اشاعت اسلام کے لئے بھیجی تھی۔ ہمارے ہاں باقاعدہ دفاتر ہیں جہاں ایک ایک پیسہ کی رقم درج ہوتی ہے۔ جو منی آرڈر وغیرہ براہ راست محاسب کے نام آتے ہیں وہ تو ان کے حسابات میں درج ہوتے ہی ہیں اور جو میرے نام آویں وہ بھی خواہ میرے ذاتی ہوں یا چندہ کے دفتر محاسب میں جاتے ہیں اور وہاں سے ایک رجسٹر پر درج ہو کر پھر میرے پاس بغرض دستخط آتے ہیں اور میرے دستخط کر دینے پر وہی دفتر ان کو وصول کرتا ہے اور اگر کوئی میرا ذاتی روپیہ ہو تو مجھے ادا کر دیتا ہے ورنہ وہیں دفتر کے حسابات میں اس کو جمع کر لیتا ہے۔ ان تمام رجسٹرات میں اس نام کے کسی شخص کی کوئی رقم درج نہیں ہے بلکہ جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچانے کے لئے ڈاک خانہ سے بھی دریافت کیا گیا کہ کیا اس نام کے کسی شخص کی کوئی رقم اس ماہ میں آئی ہے تو انہوں نے انکار کیا۔

ان تمام شہادتات کے بعد میں امید کرتا ہوں کہ پبلک اس خط کے لکھنے والے کی شرافت اور انسانیت کا اچھی طرح اندازہ کر سکے گی۔ اور اسے معلوم ہو جاوے گا کہ بعض لوگ تعصب میں اندھے ہو کر کس قدر ذلیل حرکات کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ اور ان جھوٹوں پر ہی قیاس کر کے وہ سمجھ سکے گی کہ کونسل کی ممبری اور آنریری مجسٹریٹی کے حصول کا الزام بھی اسی قسم کے اتہامات میں سے ہے۔

اللہ تعالیٰ شاہد ہے کہ کونسل کی ممبری کیا اس سے ہزاروں گنے بڑھ کر بھی کوئی دنیاوی عزت ہو تو وہ میری نظروں میں ایک تنکے کے برابر بھی قدر نہیں رکھتی۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے جو مقام دیا ہے اس کے مقابلہ

میں یہ گورنمنٹ یا کوئی اور گورنمنٹ مجھے دے ہی کیا سکتی ہے۔ مجھے فخر ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے خدمتِ اسلام کا موقع دیا ہے اور اس سے بڑھ کر اور کیا عزت ہوسکتی ہے۔ کیا اسلام کا خادم اور محمّد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہونے سے بڑھ کر اور کوئی مقام ہے جس کے حصول کے لئے انسان کوشش کرسکتا ہے؟ پھر جسے وہ حاصل ہو یا کم سے کم وہ خیال کرتا ہو کہ اسے وہ مقام حاصل ہے دُنیا کی عزتیں اس کی نگاہ میں ہیچ ہی کیونکر سکتی ہیں۔ نادان انسان اپنے پر دوسروں کو قیاس کرتا ہے وہ خیال کرتا ہے کہ جس طرح میرا دل دُنیا کی محبت سے بھر پور ہے اسی طرح ہر ایک شخص اس محبت کے جذبات کا متوالا ہے۔ مگر آہ ! اسے کیا معلوم ہے کہ دُنیا میں ایسے وجود بھی ہیں جو اس دُنیا کو مردار سے زیادہ حقیر خیال کرتے ہیں اور اس کے ساتھ اسی قدر تعلق رکھتے ہیں جس قدر تعلق رکھنے کے لئے شریعت اور احکامِ اسلام انہیں مجبور کرتے ہیں۔

میں آخر میں ان تمام لوگوں سے جو اپنے دل میں اسلام کا درد رکھتے ہیں التجاء کرتا ہوں کہ وہ اسلام کی موجودہ حالت پر غور کریں اور سوچیں کہ کیا یہی ذرائع ہیں جن سے اسلام ترقی کر سکتا ہے۔ مانا (گو یہ غلط ہے) کہ میں اور میری جماعت ترکوں کی دشمن ہے۔ مانا (نعوذ باللہ من ذالک) کہ ہم اپنے فوائد پر اسلام کو قربان کر رہے ہیں لیکن کیا اگر ہم گندے ہیں تو ضروری ہے کہ آپ لوگ بھی گندے ہو جاویں۔ کیا اگر ہم جھوٹے ہیں تو آپ لوگوں کو بھی جھوٹ بولنا شروع کر دینا چاہئے۔ اگر ہم لوگ فریب کرتے ہیں تو آپ لوگوں کو بھی فریب سے کام لینا چاہئے؟ کیا اسلام کی ترقی نعوذ باللہ من ذالک بغیر جھوٹ، اتہام اور فریب کے نہیں ہوسکتی۔ اے کاش! آپ لوگ سمجھتے کہ اسلام ان تدبیروں کا محتاج نہیں۔ جھوٹ اپنے قیام کے لئے جھوٹ کا محتاج ہوتا ہے۔ مگر سچ اپنی ترقی کے لئے سچ کے سہارے کے سوا اور کوئی سہارا نہیں چاہتا۔ وہ سچ ہی کیسا جس کی تائید کے لئے جھوٹ بولنا پڑے اور وہ حق ہی کیا ہے جس کی مدد کے لئے باطل کو بلانا پڑے۔ کیا وہ بھی خدا کہلا سکتا ہے جو اپنی مدد کے لئے بتوں کو بلاوے۔ اور وہ بھی زندہ کہلانے کا مستحق ہے جو لاشوں کے پیچھے چھپ کر اپنی جان بچاوے۔

اے کاش! آپ لوگ محسوس کرتے کہ اسلام خود گرنے والی چیز نہیں۔ گرنے والے مسلمان ہیں اور ان کے گرنے کی وجہ صرف اسلام کو چھوڑ دینا ہے۔ وہ صدق و سداد کا راستہ جسے محمّد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کیا تھا جب مسلمانوں نے چھوڑ دیا تب وہ درندوں کا شکار ہوئے اور وحشیوں کے پاؤں کے نیچے روندے گئے ۔ اب اس مصیبت سے بچنے اور اس دُکھ سے نجات پانے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ پھر وہ ان اخلاق کو اختیار کریں اور ان اُصولوں کو محکم پکڑیں جن کو محمّد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا اور جن کو لے کر قرآنِ کریم عرشِ عظیم سے نازل ہوا۔ عذاب تو خشیۃ اللہ پیدا کرنے کے لئے آتے ہیں۔ پھر اس قوم کا کیا حال ہو گا جو عذابِ الٰہی کے نزول کے وقت بھی بجائے خدا کے آگے جھکنے اور راستی کو اختیار کرنے کے تمسخر اور جھوٹ کی طرف مائل ہوتی ہے اور اسی کو اپنا شعار بناتی ہے ۔ کاش! آپ لوگ سمجھتے کہ انگارے سے بچنے کے لئے آگ میں نہیں کودتے اور بھیڑیئے سے محفوظ ہونے کے لئے شیر کی غار میں نہیں گھستے۔ کوئی نہیں جو بارش سے بھاگ کر سمندر میں جا گرتا ہو اور ہوا سے ڈر کر بگولے کو جا لپٹتا ہو۔ پھر آپ لوگوں کو کیا ہوا کہ دُنیا کے مصائب سے تنگ آکر ان راہوں پر قدم مارنے لگے جو رُوحانیت سے دُور لے جانے والی اور خدا سے بعید کر دینے والی ہیں۔ اگر دُنیا نے آپ کو دھکا دیا تھا تو کیا آپ کے لئے ایک ہی راہ کھلی نہ تھی کہ آپ خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے اور اپنے گناہوں کا اقرار کرتے اور اس کے آگے مُردہ کی طرح اپنے آپ کو ڈال دیتے اور ہر ایک گند سے اپنے آپ کو پاک کر دیتے اور جھوٹ اور فریب اور تمسخر اور ایذارسانی سے ایسے دُور ہو جاتے کہ گویا اس سے کبھی کسی کا تعلق ہوا ہی نہیں اور خشیت اللہ کے آثار آپ کے چہروں سے نمایاں ہوتے اور محبتِ الٰہی کا نور آپ کی پیشانیوں سے ٹپکنے لگتا۔ تب خدا کی محبت کا ہاتھ آپ کو کھڑا کر دینے کے لئے آپ کی طرف بڑھتا اور اس کے رحم کی آواز آپ کو خوش آمدید کہنے کے لئے بلند ہوتی اور اس کی رحمت کا سایہ آپ کے اوپر چھا جاتا اور پھر اس کی غیرت بھڑکتی اور آپ کے دشمنوں کو خس و خاشاک کی طرح جلا کر راکھ کر دیتی۔ اسلام پہلے بھی صداقت کے زور سے بلند ہوا اور اب بھی اسی کے ذریعہ سے ترقی کرے گا۔ جھوٹ مٹایا جاوے گا۔ خواہ مسلم کی زبان پر ہو خواہ کافر کی زبان پر۔ باطل کچلا جاوے گا خواہ ایمان کے جبہ میں ظاہر ہو یا کفر کے کوٹ میں۔ پس جھوٹ کو چھوڑ دو اور حق کو اختیار کرو تا خدا کی نصرت تمہارے ساتھ ہو اور اس کا غضب تمہارے خلاف نہیں بلکہ تمہاری تائید میں بھڑکے۔

وَآخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ قادیان

معاہدۂ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

معاہدۂ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ

(نوٹ:۔ یہ وہ مضمون ہے جسے امام جماعت احمدیہ نے اس کانفرنس میں بھیجنے کے لئے جو یکم و دو جون ۱۹۲۰ء کو الہٰ آباد میں منعقد ہوئی تحریر کیا اور جس میں بتایا گیا ہے کہ اس معاہدہ کی شرائط میں کیا نقص ہیں اور اس کے بد اثرات سے بچنے کے لئے مسلمانوں کو آئندہ کیا طریق اختیار کرنا چاہئے ۔)

اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَالنَّاصِرُ

آج گیارہ رمضان المبارک مطابق ۳۰؍مئی ۱۹۲۰ء کو مجھے جناب مولوی عبدالباری صاحب فرنگی محلی کی طرف سے ایک خط ملا ہے کہ یکم اور دو جون کو الہٰ آباد کے مقام پر ایک جلسۂ مشورت منعقد ہوگا جس میں دولت عالیہ عثمانیہ کے ساتھ شرائط صلح کے مسئلہ پر غور کیا جاوے گا اور آئندہ کے لئے طریق عمل تجویز کیا جاوے گا اور اس میں اپنے خیالات بیان کرنے کے لئے مولانا نے مجھے بھی دعوت دی ہے ۔

اگر میری شمولیت اس جلسہ میں کسی طرح بھی نفع رساں ہو سکتی اور مجھے اُمید ہوتی کہ میرا بذات خود حاضر ہونا میرے اہلِ وطن اور میرے بھائیوں کے لئے کسی طرح بھی مفید ہو سکتا ہے تو میں سو کام چھوڑ کر بھی اس

اہم اور وسیع الاثر معاملہ میں اپنے خیالات ظاہر کرنے کے لئے حاضر ہو جاتا۔ مگر چونکہ عموماً دیکھا جاتا ہے کہ اِس قسم کے جلسوں میں ایسے اشخاص کو جنہیں ذرّہ بھر بھی اختلاف رائے ہو بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اس لئے میرا بذاتِ خود آنا وقت کو ضائع کرنا ہے۔ مگر دوسری طرف چونکہ اپنے بھائیوں کی ہمدردی اور ان کی خیر خواہی اور خدمت اسلام کا جوش مجھے اس بات پر بھی مجبور کرتا ہے کہ کوئی سنے نہ سنے میں اپنا مشورہ ان تک پہنچا دوں۔ میں اس تحریر کے ذریعہ اپنے خیالات سے اس موقع پر جمع ہونے والے احباب کو آگاہ کرتا ہوں اور چند معزز دوستوں کے ہاتھ اس تحریر کو ارسال کرتا ہوں کہ تا جن دوستوں کے دلوں پر خدا تعالیٰ کے فضل سے اس تحریر کا کوئی اثر ہو وہ زبانی بھی میرے قائمقاموں سے اس میں درج شدہ مسائل پر تبادلہ خیالات کر سکیں۔

اے احبابِ کرام! میں نے ستمبر گذشتہ کے اجتماع کے وقت تحریر کے ذریعہ سے آپ لوگوں کو توجہ دلائی تھی کہ دولتِ عالیہ عثمانیہ کے مستقبل کے متعلق جدوجہد کی بنیاد اس امر پر رکھنی چاہئے کہ سلطانِ ترکی کثیر حصہ مسلمانان کے نزدیک خلیفہ ہیں اور باقی تمام مسلمان بھی بوجہ ان کے اسلامی بادشاہ ہونے کے ان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ اس لئے ان سے معاہدہ صلح کرتے وقت تمام عالم کے مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھا جاوے اور ان سے انہی اُصول کے ماتحت معاملہ کیا جاوے جس کے ماتحت دوسری مسیحی حکومتوں سے معاملہ کیا گیا ہے۔ اور میں نے بتایا تھا کہ اس طریق پر تمام وہ فرقے جو اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں قطع نظر اس کے کہ ان کا آپس میں کیسا ہی اختلاف ہو اس معاملہ میں اکٹھے ہو سکیں گے لیکن افسوس کہ اس وقت آپ لوگوں کو میرا وہ مشورہ پسند نہ آیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ کو یہ بات کہنے کا موقع ملا کہ خلافت عثمانیہ کے متعلق مسلمانوں کی آواز ایک نہیں اور اس لئے یہ کہنا کہ ترکوں کے متعلق تمام مسلمانوں کی ایک رائے ہے درست نہیں۔

اگر میرا مشورہ اُس وقت تسلیم کیا جاتا تو احمدیہ جماعت کو خلافت کے مسئلہ کے متعلق اپنے خیالات کے اظہار کی کوئی ضرورت نہ پیش آتی۔ اور وہ ترکوں کے لئے انصاف کا جائز طور پر مطالبہ کرنے میں اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ شامل ہو سکتی تھی۔ اگر اُس وقت میرا مشورہ قبول کر لیا جاتا تو شیعہ اصحاب کو جو کروڑوں کی تعداد میں ہیں علی الاعلان اس تحریک سے اظہارِ براءت کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی اور وہ بھی دوسرے بھائیوں کے ہم زبان ہو کر اس مسئلہ کے متعلق اپنی ہمدردی کا اظہار کر سکتے تھے۔

اگر اُس وقت میرا مشورہ قبول کر لیا جاتا تو عربوں کو اس وقت جب کہ حالاتِ زمانہ سے متاثر ہو کر وہ پھر حکومتِ ترکیہ سے صلح کرنے پر آمادہ ہو رہے تھے اور ان کی ہمدردی کا جوش ان کے دلوں میں موجزن تھا یہ اعلان نہ کرنا پڑتا کہ خلافت صرف قریش کے لئے مخصوص ہے اور وہ باوجود مخالفت کے ترکوں کی ہمدردی میں اپنی آواز بلند کر سکتے تھے کیونکہ پچھلے دنوں سے یورپ کی بعض حکومتوں سے ان کو بعض شکایات پیدا ہوگئی ہیں اور وہ ایک حد تک ترکوں سے صلح رکھنے پر تیار ہیں۔ اگر میرا مشورہ قبول کر لیا جاتا تو عرب کے وہابی فرقہ کو بھی کھلے طور پر اس مسئلہ میں دوسرے ممالک کے لوگوں کے ساتھ شریک ہونے میں کوئی اعتراض نہ ہوتا۔

اور اگر میرا مشورہ قبول کر لیا جاتا تو یورپ کے لوگوں کو اس بات پر ہنسی اڑانے کا موقع نہ ملتا کہ مسلمان اپنے خلیفہ کی حفاظت کی اپیل عیسائی حکومتوں سے کرتے ہیں۔

اور اگر اس کام کو تکمیل پر پہنچانے کے متعلق جو بات میں نے لکھی تھی اس پر عمل کیا جاتا تو یقیناً شرائط صلح موجودہ شرائط سے مختلف ہوتیں۔ وفود کا بھیجا جانا اس قدر معرض التوا میں ڈالا گیا کہ عمل کا وقت ہاتھ سے جاتا رہا۔ امریکہ کی طرف کوئی وفد نہیں بھیجا گیا۔ عراق، شام، عرب اور قسطنطنیہ کی طرف وفد بھیجے جانے ضروری تھے مگر اس کا کچھ خیال نہیں کیا گیا۔ فرانس اور اٹلی کی طرف مستقل وفدوں کی ضرورت تھی مگر اس کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔ جاپان بھی توجہ کا مستحق تھا اسے بھی نظر انداز کیا گیا۔ انگلستان کی طرف وفد گیا اور وہ بھی آخری وقت میں۔ ساری کوشش ہندوستان کی گورنمنٹ کو برا بھلا کہنے میں یا ان لوگوں کو گالیاں دینے میں صرف کر دی گئی جو گو ترکوں سے ہر طرح ہمدردی رکھتے تھے مگر سلطان المعظم کو خلیفہ تسلیم نہیں کرتے تھے۔ مگر کیا گالیاں دینے سے کام ہوتے ہیں؟ کام کام کرنے سے ہوتے ہیں۔

اے احباب کرام! آپ غور فرمادیں کہ اسلام کو اس وقت کس چیز نے نقصان پہنچایا ہے۔ اسلام کو نقصان پہنچایا ہے مسلمانوں کی غیر متقیانہ حالت نے، بُزدلی نے، بد اخلاقی نے، کم ہمتی نے، منافقت نے یہ چیزیں ہیں کہ جن کے دُور کرنے سے اسلام پھر ترقی کر سکتا ہے۔ مگر اس تکلیف کے ایام میں ان باتوں کی طرف کس قدر توجہ کی گئی ہے۔ آج مسلمان اس سے بہت زیادہ تعداد میں ہیں جس قدر کہ آج سے پانچ سو سال پہلے تھے۔ مگر وہ اس وقت فاتح تھے آج مفتوح ہیں۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ اس وقت ان میں مذکورہ بالا باتیں نہ تھیں مگر آج ہیں پھر ان باتوں کے ترک کرنے اور اخلاق حسنہ کے حصول کے لئے کیا کوشش کی گئی ہے۔ کیا اس مصیبت اور تکلیف کے زمانہ میں انابت الی اللہ سے کام لیا گیا ہے میں دیکھتا ہوں کہ ایسے لوگوں نے جو شہرت اور عزت کے دلدادہ ہیں مسلمانوں کے اخلاق اور بھی بگاڑ دئے ہیں۔ اور بجائے ان میں خشیتہ اللہ پیدا کرنے کے ان کو اور بھی زیادہ شوخ بنا دیا ہے۔ آج چاروں طرف

مسلمانوں کی زبان پر گالیاں سنی جاتی ہیں وہ تالیاں بجاتے سیٹیاں مارتے اور اپنے مخالف خیالات والوں سے استہزاء کرنے کے لئے بندروں کی طرح ہزاروں قسم کی حرکات ناشائستہ کرتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے عظیم الشان خدمت اسلام کی ہے۔

اے نمائندگانِ اسلام! اس وقت جبکہ آپ نہایت سنجیدگی سے دولتِ عالیہ عثمانیہ کے مستقبل پر غور کرنے کے لئے بیٹھے ہیں اور آپ کے دلوں میں غم اور فکر کا ہجوم ہے۔ اس وقت ہندوستان کے مختلف گوشوں میں ناکردہ گناہ بچے اور بے قصور عورتیں اس شدتِ گرما میں اس قصور میں پیاسے تڑپ رہے ہیں کہ ان کے والدین یا شوہر کیوں سلطانِ معظم کی خلافت کے قائل نہیں اور مسلمان کہنے والے لوگوں نے نہ معلوم کس کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اس پانی سے بھی ان کو روک دیا ہے جس سے خدا تعالیٰ کافر سے کافر انسان کو بھی نہیں روکتا۔ اب آپ سوچیں کہ کیا ان کی آہیں اور ان کی چیخ و پکار خدا تعالیٰ کے عرش کو ہلا کر اسی بات کی درخواست کر رہی ہوگی کہ ہم پر ظلم کرنے والوں کے کام میں برکت دے اور ان کی مرادوں کو پورا کر جبکہ کربلا اور نجف کے مقدس میدانوں کی حفاظت کا سوال پیدا ہو رہا ہے۔ خود ہندوستان میں اس قسم کے نمونے دکھائے جا رہے ہیں جو یزید اور اس کے ساتھیوں نے دکھائے محض اس اختلافِ رائے پر کہ کیوں احمدی خلافتِ عثمانیہ کے قائل نہیں۔ ان کو پانی سے روکا جاتا ہے، ان کو خرید و فروخت سے باز رکھا جاتا ہے۔ ان کے گھروں میں کام کرنے سے مہتروں کو باز رکھا جاتا ہے اور ان پر نماز ادا کرتے وقت کنکروں کی بارش کی جاتی ہے۔ کیا اس تنگی کے وقت میں اسی قسم کی انابت سے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل کو اپنی طرف کھینچنے کی سعی کرنی چاہئے تھی۔ اور کیا اگر ان کے اس ظلم سے تنگ آکر احمدی منافقت سے ان کے ہم خیال ہو جاویں (کیونکہ جبر سے دلوں کو تسلی نہیں ملا کرتی) تو کیا ایسے منافقوں کی امداد سے مسلمان کامیاب ہو جاویں گے۔ یہ وقت تو ایسا تھا کہ مسلمانوں میں جرأت اور دلیری پیدا کی جاتی اور ان کو دلیر بنایا جاتا نہ کہ منافقت پر ان کو مجبور کیا جاتا۔ کیا ان جاہلوں کو کوئی اس قدر سمجھانے والا نہیں ہے کہ جو لوگ ان سے ڈر کر اپنے صحیح خیالات کو چھوڑ دیں گے وہ ان سے زیادہ طاقت ور لوگوں کے دباؤ سے کیا موقع ملنے پر ان کے مخالف نہ بن جاویں گے؟

غرض مجھے افسوس ہے کہ اس کرب و اندوہ کے زمانہ میں وہ صحیح رویہ اختیار نہیں کیا گیا جس سے کامیابی کی امید ہو سکتی تھی۔ لیکن اب جبکہ پھر آپ لوگ دوبارہ اس اہم مسئلہ پر غور کرنے کے لئے جمع ہو رہے ہیں تو میں اخلاص اور محبت سے آپ کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوں شاید کسی سچے خیرخواہِ اسلام کے دل پر میری بات اثر کرے اور وہ خدمتِ اسلام کے لئے کمر ہمت باندھ کر کھڑا ہو جاوے۔

سب سے پہلا سوال شرائط صلح کے متعلق یہ ہے کہ آیا یہ درست ہیں اور مطابق انصاف ہیں۔ اس سوال کے متعلق میرے نزدیک اب ہم کو زیادہ غور و فکر نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ اس سوال کا حل ہمیں کچھ نفع نہیں دے سکتا مگر پھر بھی آئندہ نسلوں کو اپنے خیالات سے آگاہ کرنے کے لئے اور ان شرائط کے تیار کرنے والوں کو اپنی رائے سے واقف کرنے کے لئے میں اپنی رائے ان مختصر الفاظ میں ظاہر کر دیتا ہے کہ ترکوں کے متعلق شرائط صلح کا فیصلہ کرتے وقت ان اصول کی پابندی نہیں کی گئی جن کی پابندی یورپ کے مدبر انصاف کے لئے ضروری قرار دے چکے ہیں۔

عراق کی آبادی کو ایسے طور پر اپنی رائے کے اظہار کا موقع نہیں دیا گیا جیسا کہ جرمن کے بعض حصوں کو۔ ان سے باقاعدہ طور پر دریافت نہیں کیا گیا کہ وہ اپنے لئے کس حکومت یا کس طریق حکومت کو پسند کرتے ہیں۔ شام کی آبادی کو باوجود اس کے صاف صاف کہہ دینے کے کہ وہ آزاد رہنا چاہتی ہے فرانس کے زیر اقتدار کر دیا گیا۔ فلسطین کو جس کی آبادی کا ۶/۷ حصہ مسلمان ہے ایک یہودی نو آبادی قرار دے دیا گیا حالانکہ یہود کی آبادی اس علاقہ میں ۱/۶ کے قریب ہے اور یہ آبادی بھی جیسا کہ انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا میں لکھا ہے ۱۸۷۸ء سے ہوئی ہے اور ”زیادہ تر ان پناہ گیروں کی ہے جنہوں نے ان ممالک سے آکر یہاں پناہ لی ہے جن میں یہودیوں پر ظلم کرنا سیاست کا ایک بڑا جزو قرار دیا گیا ہے“ (یعنی روس وغیرہ)۔

CONSISTING PRINCIPALLY OF REFUGEES FROM COUNTERIES WHERE ANTI-SEMITISM IS AN IMPORTANT ELEMENT IN POLITICS. (انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا)

پس ایسے علاقہ سے ترکوں کو دست بردار کرانا اور یہود کے سُپرد کر دینا جس میں کثیر حصہ آبادی مسلمان ہے اور جو یہود کے لئے ایک یہی جائے پناہ تھی کیا اس جُرم کے سبب سے ہے کہ انہوں نے کیوں یہود کو اس وقت پناہ دی جبکہ مسیحی حکومتیں ان کو اپنے گھروں اور اپنی جائیدادوں سے بے دخل کر رہی تھیں؟

یہی حال لبنان کا ہے۔ اس کو فرانس کے زیر اقتدار دینا بالکل کوئی سبب نہیں رکھتا۔ اور آرمینیا کا آزاد کرنا بھی بے سبب ہے کیونکہ آرمینیا کا جائے وقوع ایسے علاقہ میں ہے جس کے چاروں طرف ترک آباد ہیں اور ان کی الگ حکومت بنانے سے یہ مطلب ہے کہ ترک قوم آپس میں اتحاد نہ کر سکے، اور روسی ترکستان کے لوگ کسی وقت بھی ایشیائی کوچک کے ترکوں سے مل نہ سکیں پھر آرمینیا کو جو بہت سے علاقے دیئے گئے ہیں۔ ان میں کثیر حصہ آبادی کا مسلمان ہیں اور ایسی بعض ولایات کے دینے کی تجویز ہے

جہاں کی آبادی قریب قریب ساری مسلمان ہے حالانکہ یہ بات ثابت ہے کہ آرمینین مسیحیوں نے نہایت بے دردی سے مسلمانوں کو قتل کیا ہے اور خود وزیر انگلستان اس بات کا انکار نہیں کر سکے کہ آرمینین مسیحیوں نے بھی مسلمانوں پر سخت سے سخت مظالم کئے ہیں۔ پس اگر ترکوں کو اس جرم میں اس علاقہ کی حکومت سے بے دخل کیا جاتا ہے کہ وہ کردوں کو آرمینین مسیحیوں پر ظلم کرنے سے کیوں نہیں روک سکے۔ تو آرمینین مسیحیوں کو جو خود مسلمانوں کو قتل کرنے کے جُرم کے مرتکب ہیں مسلمانوں پر کیوں حکومت دے دی گئی ہے اور اگر کوئی ایسے قواعد بنا دیئے گئے ہیں کہ جن کے ماتحت آرمینین مسیحی مسلمانوں پر ظلم نہیں کرسکیں گے تو کیوں ان ہی قواعد کے ماتحت آرمینیا کو ترکوں کے ماتحت نہیں رکھا گیا تا مسلمان مسیحیوں پر ظلم نہ کرسکیں۔

اسی طرح سَمُرنا۱؎کو یونان کے حوالے کرنا بھی خلافِ انصاف ہے کیونکہ کسی ملک کے صرف ایک شہر میں کسی قوم کی کثرت آبادی اسے اس شہر کی حکومت کا حق دار نہیں بنا دیتی اور یہ اصول کبھی بھی سیاست میں تسلیم نہیں کیا گیا اور اس کا نتیجہ سوائے فساد کے کچھ نہیں نکلے گا اور یقیناً چند سال بعد یونانی اس علاقہ میں فتنہ اندازی کر کے اور علاقہ بڑھانے کی فکر کریں گے۔

تھریش۲؎جو ترکوں سے لے کر یونان کو دیا گیا ہے اس کا سبب بھی معلوم نہیں ہوتا۔ خود وزیر اعظم مسٹر لائرڈ جارج اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کہ وہاں کی آبادی کا کثیر حصہ ترک ہے پھر اس ملک کو یونان کے سپرد کر دینا کس طرح جائز ہو سکتا ہے اور اگر مسٹر لائرڈ جارج کے بعد کے بیان کو بھی کہ وہاں کی اکثر آبادی غیر ترک ہے مان لیا جاوے تو بھی اس میں کوئی شک نہیں کہ اس علاقہ کا نہایت کثیر حصہ مسلمان ہے پس اگر اس وجہ سے کہ وہاں کی اکثر آبادی ترک نہیں اس علاقہ کو ترکوں کے سپرد نہیں کیا جا سکتا تھا تو یونان کو تو کسی طرح اس علاقہ پر حق حکومت نہ تھا۔ اس صورت میں یہاں آزاد حکومت قائم کر دی جاتی یونانیوں کو اس علاقہ کے سپرد کر دینے کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ وہ حسبِ عادت تھوڑے ہی عرصہ میں خفیہ اور ظاہر تدابیر سے وہاں کے لوگوں کو یا مسیحی ہونے پر مجبور کریں گے یا ان پر سخت ظلم کر کے ان کو ان علاقوں سے نکال دیں گے۔

غرض میرے نزدیک اس معاہدہ کی کئی شرائط میں حقوق کا اتلاف ہوا ہے اس لئے جس قدر جلد یورپ اس میں تبدیلی کرے اسی قدر یہ بات اس کی شہرت اور اس کے اچھے نام کے قیام کا موجب ہوگی لیکن سوال ہے کہ اگر اتحادی حکومتیں ان شرائط کو بدلنے سے انکار کریں تو مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے اور میرے نزدیک یہی اہم سوال ہے کیونکہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اتحادی ان شرائط کو نرم نہیں کریں گے۔

اس سوال کے جواب میں کہ اگر اتحادی اس معاہدہ کو نرم نہ کریں تو مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے ۔ مختلف آراء پیش کی گئی ہیں بعض نے ہجرت کی تجویز پیش کی ہے، بعض نے جہادِ عام کو پسند کیا ہے ، بعض نے قطع تعلقی کی پالیسی کو سراہا ہے۔ مگر میرے نزدیک ان سب تجاویز میں سے ایک تجویز بھی درست نہیں اور ناقابلِ عمل ہے۔

ہندوستان کی سات کروڑ آبادی ہندوستان کو چھوڑ کر باہر نہیں جاسکتی اور نہ اس کے باہر جانے کی کوئی غرض اور فائدہ ہے۔ ہجرت اس وقت ضروری ہوتی ہے جبکہ اس علاقہ میں جہاں کوئی شخص رہتا ہے اس کو ان احکامِ شرعیہ کے بجالانے کی آزادی نہ ہو جو افرادِ جماعت سے تعلق رکھتے ہیں لیکن کوئی حکم ایسا نہیں ہے جو افرادِ مسلمانان سے تعلق رکھتا ہو اور جس کا بجالانا اس ملک میں ناممکن ہو۔ اور پھر عملی پہلو اس تجویز کا لیا جاوے تو بھی اس پر عمل نہیں ہو سکتا۔ کس قدر آدمی ہیں جو اس تجویز پر عمل کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔ پس علاوہ اس کے کہ یہ تجویز شریعت کے خلاف ہو گی اس کو پیش کر کے سوائے اپنی سُبکی کرانے اور لوگوں کی نظروں میں ذلیل ہونے کے اور کوئی نتیجہ نہ نکلے گا ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو اس تحریک کو پیش کرنے والے ہیں وہ خود بھی اس تحریک پر عمل پیرا نہیں ہوئے۔

دوسری تجویز جہاد کی ہے۔ جہاد اس ملک میں رہ کر جائز نہیں اس ملک میں رہنے کے یہ معنے ہیں کہ ہم برطانیہ کی حکومت کو تسلیم کرتے ہیں اور ہمارا اس ملک میں رہنا بھی ایک عملی معاہدہ ہے جو ہم حکومتِ برطانیہ سے کرتے ہیں پس اس ملک میں رہتے ہوئے کسی طرح بھی گورنمنٹ کا مقابلہ کرنا ایک سخت غداری ہوگی اور غداری اسلام میں جائز نہیں۔ ہمیں سب سے زیادہ اپنا مذہب عزیز ہونا چاہئے۔ اگر ہم تمام دُنیا کی حکومت کے لئے بھی اپنا مذہب قربان کر دیتے ہیں تو ہم گھاٹے میں رہیں گے پس حکومتِ برطانیہ کے زیرِ سایہ رہتے ہوئے اس کی حفاظت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا یا اس کے متعلق تدابیر سوچنا ایک مسلمان کے لئے جو اپنے مذہب کی کچھ بھی قدر کرتا ہے نا جائز ہے اور اسلام کی عظمت کرنے والا مسلم اس تجویز پر بھی عمل نہیں کر سکتا۔

اگر کہا جاوے کہ باہر جا کر جہاد کریں تو اوّل تو اس سوال کیساتھ پھر ہجرت کا سوال آجاوے گا جسے میں پہلے ناجائز اور ناممکن ثابت کر چکا ہوں۔ دوم جہاد کے لئے یہ شرط ہے کہ اس حکومت سے کیا جاوے جو اسلام کے مٹانے کے لئے مسلمانوں پر حملہ کرتی ہے اور ترکوں سے جنگ کرنے میں اتحادیوں نے ابتداء نہیں کی نہ اس جنگ کی وجہ اسلام کو مٹانا تھی پس جب تک یہ ثابت نہ کیا جاوے کہ اس جنگ کی ابتداء اتحادیوں کی طرف سے ہوئی ہے۔ اور پھر یہ بھی کہ اتحادیوں نے ترکوں سے اس لئے جنگ کی تھی کہ وہ ان کو جبراً مسیحی بنالیں جہاد ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے جو برطانیہ کی حکومت کے نیچے رہتے ہیں جائز نہیں ہو سکتا۔ تیسری تجویز یہ ہے کہ گورنمنٹ سے قطع تعلق کیا جاوے اس تجویز کے متعلق بھی میری یہ رائے ہے کہ قطع تعلق بھی ایک قسم مقابلہ کی ہے۔ اور اس پالیسی پر عمل کر کے بھی ہندوستان میں امن قائم نہیں رکھا جا سکتا۔ ضرور ہے کہ جو لوگ اپنے کاموں سے علیحدہ ہوں آہستہ آہستہ ان کی ضروریات دنیاوی ان کو تنگ کریں اور وہ مجبور ہو کر نا جائز ذرائع اور جبر سے اپنے گزارے کا سامان پیدا کریں۔ پھر پیشتر اس کے کہ اس تجویز پر عمل کیا جاوے یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اس تجویز کی غرض کیا ہے۔ میرے نزدیک اس کی ایک ہی غرض ہو سکتی ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ پر اس ذریعہ سے دباؤ ڈالا جاوے اور اس غلطی کی اصلاح کروائی جاوے جو ترکوں کے معاہدہ صلح میں ہوئی ہے سو اوّل تو اگر اس قطع تعلق کا کوئی اثر ہو بھی تو وہ صرف ہندوستان پر ہو گا اور ہو گا بھی سالہا سال کے بعد۔ کیونکہ اگر یہ مان بھی لیا جاوے کہ سب مسلمان اس بات پر آمادہ ہو جاویں گے تو بھی اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کو اس کام کے لئے آمادہ کرنے کے لئے سالہا سال کی جدوجہد اور تلقین کی ضرورت ہوگی۔ اور اس وقت تک کہ یہ تجویز عملی جامہ پہنے گی معاہدہ ترکیہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہو چکا ہو گا۔ اور اس وقت اگر گورنمنٹ برطانیہ کی مرضی بھی ہو گی تب بھی وہ فرانس اور یونان اور آرمینیا کو اپنے اپنے حصہ سے علیحدہ نہیں کر سکے گی۔ دوم اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ اگر سب مسلمان اس تجویز پر عمل کرنے لگیں تب بھی وہ گورنمنٹ پر کوئی دباؤ نہیں ڈال سکتے کیونکہ اس ملک کی آبادی کی صرف چوتھا حصہ مسلمان ہے ۳/۴ ہندو ہیں اور قریباً چالیس لاکھ مسیحی ہیں۔ پس اگر گورنمنٹ کو اس کے خطاب واپس کر دیئے جاویں تو اس سے اس کا کوئی نقصان نہیں۔ اور اگر اس کی ملازمت سے علیحدگی کی جاوے تو ہندوستان کی ۳/۴ آبادی ان کی جگہیں پُر کرنے کے لئے تیار ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض ہندو سر بر آوردہ اس وقت مسلمانوں کے ساتھ شریک ہونے کے لئے آمادہ ہیں۔ لیکن اس تجویز کی مخالفت ہندوؤں میں بہت زیادہ ہے اور یقیناً پانچ فیصدی ہندو بھی مسلمانوں کا ساتھ نہ دیں گے۔ اگر مسلمان وکلاء اپنا کام چھوڑ دیں گے تو خود مسلمان اپنی دادرسی کے لئے ہندو وکلاء کی خدمات کو حاصل کریں گے اور وہ شوق سے ان کے مقدمات لیں گے اور اگر مسلمان جج استعفاء دے دیں گے تو ہندو اُمیدوار فوراً ان کی جگہ لینے کے لئے آگے بڑھیں گے۔ اگر فوجی مسلمان استعفاء دے دیں گے تو علاوہ اس کے کہ وہ فوجی قواعد کی خلاف ورزی کر کے سزا پاویں گے ان کا مستعفی ہو جانا ایسا مؤثر نہ ہوگا کیونکہ ہندو قوم اب فوجی خدمات کی اہمیت سے کافی طور پر واقف ہو چکی ہے اور وہ اپنے قدیم ملک کو بلا حفاظت چھوڑنے پر کبھی رضامند نہ ہوگی۔ غرض ہر ملازمت کے لئے دوسری اقوام کے لوگ نہ صرف مل جاویں گے بلکہ شوق سے آگے بڑھیں گے کیونکہ ملازمت تلاش کرنے والوں کی ہمارے ملک میں کمی نہیں ہے ایسے لوگ مسلمانوں کے اس فیصلہ کو ایک نعمت غیر مترقبہ سمجھیں گے اور ان کی بیوقوفی پر دل ہی دل میں ہنسیں گے۔ پس سوائے اس کے کہ اس فیصلہ سے لاکھوں مسلمان اپنی روزی سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور تعلیم سے محروم ہو جاویں اور اپنے حقوق کو جو بوجہ مسلمانوں کے سرکاری ملازمتوں میں کم ہونے کے پہلے ہی تلف ہو رہے ہیں اور زیادہ خطرہ میں ڈال دیں اور کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔

میں اس جگہ یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میری اس تحریر کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہندوؤں کے لیڈر جان بوجھ کر مسلمانوں کو اس کام پر آمادہ کر رہے ہیں تا وہ ان کے لئے میدان خالی چھوڑ دیں۔ میں ان لیڈروں کو جو اس امر میں مسلمانوں کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہیں دیانت دار سمجھتا ہوں۔ اور جو کچھ میں کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہندوؤں کا کثیر حصہ اس تجویز میں مسلمانوں کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ہے اور علاوہ اس تجویز کے بذاتہٖ غلط ہونے کے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک تمام ملک اس بات پر کاربند ہونے کے لئے تیار نہ ہوگا کبھی بھی اس تجویز کا مفید نتیجہ نہیں نکلے گا۔ اگر ہندو بھی ساتھ مل جاویں تب بھی ہندوستان کی ملکی ضروریات کے پورا کرنے کے لئے یورپین اور کرسچین کافی ہیں۔ اور فوجی ضروریات کو یوروپین فوج کے علاوہ سکھ اور گورکھے پورا کر سکتے ہیں۔ اور یہ قومیں ہرگز اس تجویز میں مسلمانوں کا ساتھ نہ دیں گی۔ پس اگر یہ تجویز فساد کا موجب نہ بھی ہو جو میرے نزدیک یقیناً ہوگی۔ اور اگر تمام کے تمام مسلمان اس پر کاربند ہونے کے لئے تیار بھی ہو جاویں جو یقیناً نہ ہوں گے تو بھی اس تجویز پر عمل کر کے حکومتِ برطانیہ پر دباؤ ڈالنے کی اُمید رکھنا ایک امر موہوم ہی نہیں بلکہ یقینی طور پر غلط ہے اور اس کے مقابلہ میں یہ بات یقینی ہے کہ اس تجویز پر عمل کر کے مسلمانوں کی رہی سہی طاقت بھی بالکل ٹوٹ جاوے گی اور اس ایک ملک میں بھی جس میں مسلمانوں کی ظاہری حالت کسی قدر اچھی نظر آتی ہے وہ کمزور اور ناطاقت ہو جاویں گے اور اس سب تباہی کا الزام ان کے اپنے سر ہوگا ۔

غرض میرے نزدیک اس وقت تک جس قدر تجاویز پیش کی گئی ہیں وہ یا تو شریعت کے خلاف ہیں یا ناقابلِ عمل۔ اور میرے نزدیک مسلمانوں کا فائدہ اسی میں ہے اور اس زمانہ کے حالات کو مدّنظر رکھ کر مسلمانوں کے لئے صرف یہی راہ کھلی ہے کہ وہ متفق اللسان ہو کر یہ بات اتحادی حکومتوں کے گوش گزار کر دیں کہ انہوں نے ترکوں سے شرائط صلح خود اپنے تجویز کردہ قواعد کے خلاف بنائی ہیں اور یہ کہ مسلمان ان کے اندر مسیحیت کے تعصب کا ہاتھ پوشیدہ دیکھتے ہیں اور کیپٹلٹس کے فوائد کی نگہداشت ان میں مدّ نظر رکھی گئی ہے۔ اور وہ ان سے ان کے اس فیصلہ کو تبدیل کرنے کے لئے اپیل کرتے ہیں۔ اور اگر وہ اس فیصلہ کو تبدیل نہ کریں تو اس فیصلہ کی اپیل وہ ان کی آئندہ نسلوں کی کانشنسوں سے کرتے ہوئے اور اپنے مذہب کے احکام کے ماتحت ہر قسم کے فساد اور شورش سے اجتناب کرتے ہوئے اس امر کے فیصلہ کو خدا پر چھوڑ دیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ نہ ان تجاویز پر عمل کر کے جو اس وقت تک پیش کی جا چکی ہیں اور نہ اس تجویز پر عمل کر کے جو اس وقت میں نے پیش کی ہے ان شرائط میں تبدیلی کرائی جاسکتی ہے جو اتحادیوں نے مقرر کی ہیں۔ لیکن اگر مسلمان اس تجویز پر عمل کریں گے جو میں نے بتائی ہے۔ تو یقیناً چند سال کے بعد خود وہی لوگ جو اس وقت اس فیصلہ پر خوش ہیں ورنہ ان کی اولادیں ضرور ان شرائط کو پڑھ کر شرم سے اپنی گردنیں نیچے جھکا لیں گی۔ اور جس طرح اور بہت سے تاریخی معاملات میں خود اولادوں نے اپنے آباء کے فیصلوں کو حقارت اور نفرت سے دیکھا ہے اس فیصلہ کو اتحادیوں کی آئندہ نسلیں افسوس اور حیرت کی نگاہ سے دیکھیں گی۔ لیکن اگر اس کے برخلاف شورش و فساد سے کام لیا گیا تو دلائل کا پہلو ان شرائط کو طے کرنے والوں کے حق میں بھاری ہو جاوے گا۔ اور خود مسلمانوں کی آئندہ نسلیں مسلمانوں کے اس طریق عمل کے بیان سے شرمائیں گی اور شورش پھیلانے والا رویہ بجائے مفید ہونے کے ان شرائط کی کمزوری پر پردہ ڈال کر دُنیا کی نظروں کو اور طرف پھیر دے گا۔

مگر میرا مشورہ اس حد تک محدود نہیں۔ جو لوگ کسی فیصلہ شدہ امر کو جو اُن کے فوائد کے لئے مضر ہو اسی جگہ چھوڑ دیتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ مسلمان تو وہ ہے جو خدا تعالیٰ سے بھی اس کے فیصلہ کو تبدیل کروا لیتا ہے اور گریہ و زاری اور دُعاؤں سے اس کے رحم کو جذب کر لیتا ہے۔ پس میں صرف اسی کارروائی کا مشورہ نہ دوں گا بلکہ اس کے علاوہ میرے نزدیک مسلمانوں کو آئندہ کے لئے ایک عملی پروگرام بھی بنانا چاہئے۔

سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ اس معاہدہ کی پابندی کا اثر اسلام پر کیا پڑے گا۔ اس سوال کا جواب دیتے وقت ایک چیز نمایاں طور پر ہمارے سامنے آجاتی ہے اور وہ ان علاقوں کی نگہداشت ہے جن میں مسلمان بستے ہیں اور جنہیں یونان اور آرمینیا کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ یونانیوں اور آرمینیوں کا تعصب اسلام سے اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ اس کے ثابت کرنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں جو

کچھ ان دونوں قوموں نے پچھلے دنوں میں مسلمانوں سے کیا ہے اس کو مدّ نظر رکھتے ہوئے یہ بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ ان کی حکومت میں باوجود یورپ کی تمام تسلیوں کے مسلمانوں کو امن نہ ہو گا اسی طرح یورپ کے نئے تغیرات کے ماتحت اور کئی علاقوں میں بھی مسلمانوں کو امن نہ ہو گا پس اس خطرہ سے ان ممالک کے بھائیوں کو بچانے کے لئے فوراً بلا تاخیر ایک عالم گیر لجنہ اسلامیہ قائم ہو جانی چاہئے جس کا کام یہ ہو کہ تمام دُنیا کے مسلمانوں کی مذہبی حالت کی اطلاع رکھے اور اس بات کی خبر رکھے کہ دنیا کے کسی علاقہ میں مسلمانوں کو ظاہر و مخفی ذرائع سے اپنے مذہب کو تبدیل کرنے یا بصورتِ دیگر ہلاک ہو جانے پر تو مجبور نہیں کیا جاتا۔ اور اس غرض کے لئے دُنیا کے تمام ممالک میں ایسے مبلغ بھیجنے چاہئیں جو ہر جگہ کے مسلمانوں کو اپنے مذہب پر ثابت قدمی سے پابند رہنے کی تلقین کریں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ کسی جگہ کے مسلمانوں کو جبراً تو اسلام سے نہیں ہٹایا جاتا۔ خواہ وہ جبر ظاہری اسباب سے ہو خواہ مخفی اسباب سے وہ اس کی جستجو رکھیں اور جس وقت کوئی ایسی بات معلوم ہو فوراً مرکز کو اس کی اطلاع دیں تاکہ تمام متمدن دُنیا کو اس سے اطلاع دی جاوے۔ کیونکہ ظالم گو کس قدر بھی طاقتور ہو جب اسے معلوم ہو کہ میرا ظلم دیکھنے والے موجود ہیں تو اسے بہت کچھ دبنا پڑتا ہے اور اپنے نام کا خیال رکھنا پڑتا ہے اس صورت میں بغیر کسی طاقت کے استعمال کے ان غریب مسلمانوں کے مذہب کی نگہداشت ہو سکے گی جو متعصب حکومتوں کے زیرِ حکومت رہتے ہیں اور دنیا کو بھی ان خفیہ ریشہ دوانیوں سے آگاہی ہوتی رہے گی جو اسلام کے مٹانے کے لئے بعض حکومتیں کر رہی ہیں اور زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ یورپ کی نظروں میں مسلم ظالم مسلم مظلوم ثابت ہو جاوے گا۔

یہ تجویز ایک نہایت اہم تجویز ہے اور گو میں بالتفصیل اس کے متعلق اس وقت اور اس جگہ نہیں لکھ سکا لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو سنجیدگی سے اس پر غور کرے گا اس کی اہمیت کو محسوس کر لے گا اور اس کے وسیع اثرات کا اندازہ لگانے کے قابل ہو جاوے گا۔

میں اس جگہ یہ بھی اعلان کر دینا چاہتا ہوں کہ میں نے بغیر اس امر کا انتظار کئے کہ دوسرے لوگ اس امر کے متعلق کیا فیصلہ کرتے ہیں اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش شروع کر دی ہے اور مختلف ممالک میں دو دو آدمی اس غرض کے لئے بھیجنے کی تجویز کر دی ہے اور میری جماعت کے جانبازوں کی ایک جماعت نے اپنے آپ کو اس غرض کے لئے وقف بھی کیا ہے جو عنقریب سہولتِ راہ میسر آنے پر اپنے اپنے مفوضہ علاقہ میں چلی جاوے گی۔

دوسری بات ہمیں یہ سوچنی چاہئے کہ اسلام پر اس قدر مصائب کی وجہ کیا ہے؟ آخر کیا سبب ہے

کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کی دوستی کی بجائے اس سے دشمنی شروع کر دی ہے۔ وہ خدا جو پہلے اسلام کے لئے اپنے قہری نشان ظاہر کیا کرتا تھا۔ اب کیوں اس کے لئے اپنی قدرت کے کرشمے ظاہر نہیں کرتا۔ ظاہر ہے کہ مسلمانوں نے تعلیمِ قرآن کو بھلا دیا ہے اس لئے ان پر یہ آفت آئی ہے انہوں نے خود حضرت مسیح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت دے رکھی ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے بھی مسیحیوں کو ان پر فضیلت دے دی۔ پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ بجائے اپنے اوقات کو بے فائدہ ضائع کرنے کے خدا تعالیٰ سے صُلح کرو اور اس کے فضل کی تلاش کرو اور پھر یاد رکھو کہ جیسا کہ میں نے ستمبر گذشتہ کے اجتماع کے موقع پر تحریر کیا تھا اس وقت اسلام کی ترقی کے لئے ایک ہی راہ کھلی ہے کہ ہم تبلیغ اسلام کے لئے کھڑے ہو جاویں۔ یورپ کو ترکوں سے نفرت جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں ان کی کسی بدانتظامی کی وجہ سے نہیں بلکہ درحقیقت اس کی وجہ یورپ کا یہ خیال ہے کہ اسلام تہذیب کا دشمن ہے اور وہ اس کو اپنی دُنیا کا دشمن سمجھ کر جو ان کو بہت عزیز ہے مٹانا چاہتے ہیں پس جب تک یورپ کے دل سے بلکہ تمام مسیحی دُنیا کے دل سے یہ خیال دُور نہ کیا جاوے گا اس وقت تک ہرگز مسلمانوں کے مصائب دُور نہیں ہو سکتے۔ درحقیقت یہ ذلت جو اس وقت مسلمانوں کو پہنچ رہی ہے اس قدر زمینی نہیں جس قدر کہ آسمانی ہے قرآنِ کریم کے صریح احکام کو پسِ پشت ڈال کر مسلمان اس ذلت کو پہنچے ہیں اور اب وہ اسی صورت میں اس سے نکل سکتے ہیں کہ جب پچھلی غفلتوں کا کفارہ دیں اور اپنے نفسوں کی اصلاح کر کے اس امانت کو پہنچائیں جو سب دُنیا کو پہنچانے کے لئے ان کے سُپرد کی گئی تھی۔ خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کا فرض مقرر کیا تھا کہ وہ اسلام کو دُنیا کے سب کناروں تک پہنچاویں لیکن انہوں نے اس فرض کو اس طرح پسِ پشت ڈال دیا کہ گویا ایک تنکے کے برابر بھی ان کو اس کی پروا نہیں تب خدا تعالیٰ نے ان کو بتا دیا کہ اس فرض کو پورا کرنا خود ان کے لئے مفید تھا نہ کہ خدا تعالیٰ کے لئے۔ اگر اسلام کو کوئی بھی نہ مانے۔ تب بھی اللہ تعالیٰ کی خدائی میں کچھ فرق نہیں آتا۔ اگر کچھ فرق آتا ہے تو مسلم کے ایمان میں اور اس کے امن میں۔ پس اب بھی ان مصائب سے بچنے کا یہی علاج ہے کہ دینِ اسلام کے غلبہ کے لئے مسلمان کھڑے ہو جاویں۔ حکومتیں اسلام سے پہلے نہیں آئیں بلکہ بعد میں آئی ہیں۔ اب اگر اسلام قائم ہو جاوے حکومتیں خود بخود چلی آئیں گی۔ خوب یاد رکھو کہ مذہبی اتحاد سب سے مضبوط اتحاد ہے۔ جب دُنیا کی قومیں اسلام کو قبول کریں گی تو کیا چیز ہے جو ان کو اسلام کے آثار کے مٹانے پر مائل کرے گی۔ وہ تو اسلامی آثار کے قیام کے لئے خود بے قرار ہوں گی۔ پس کیوں اس جماعت کو جو اسلام کو مٹانے کے درپے ہے اسلام کے حلقہ بگوشوں میں داخل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ کیا اس لئے کہ آپ لوگوں کو خود اسلام کی خوبیوں پر یقین نہیں اور اس کی قوتِ جذب کا تجربہ نہیں۔ اگر ایسا ہے تو یورپ پر اسلام کی دشمنی کا کیا شکوہ ہے جب خود مسلمانوں کو اس کی خوبیوں پر یقین نہ ہو تو دشمن اس کے حُسن کا دلدادہ کیونکر ہوسکتا ہے۔ یقین مانو کہ اسلام اپنے اندر بہت بڑی قوتِ جاذبہ رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ فیصلہ بھی کرچکا ہے کہ اسے دُنیا میں پھیلا دے اور اس نے اس کے لئے اپنے مامور کو بھیج بھی دیا ہے۔ اب مایوسی کا وقت نہیں۔ کیونکہ مایوسی گو ہمیشہ ہی بُری ہوتی ہے مگر اُمید کا سورج جب چڑھ آتا ہے تو تب اس سے زیادہ مکروہ کوئی چیز نہیں ہوتی پس اُٹھو اور اپنے جوشوں کے پانی کو یونہی زمین پر بہنے دینے کی بجائے تبلیغ اسلام کی نہر کے اندر محدود کردو تا ان کا کوئی فائدہ ہو اور ان سے کام لیا جاسکے۔ پانی جب سطح زمین پر بہہ جاتا ہے تو اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ لیکن وہی پانی جب نہر کی شکل میں بند کر دیا جاتا ہے تو اس سے ہزاروں ایکڑ زمین سیراب کی جاسکتی ہے اور آبشاریں بنا کر اس سے بجلی نکالی جاسکتی ہے۔ پس اے احباب کرام! ملک کے جوش کو بیہودہ طور پر ضائع نہ ہونے دو۔ بلکہ اس سے اسلام کی ترقی کے لئے کام لو اور پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ کی نصرت کس طرح نازل ہوتی اور اسلام کے جلال کو دُنیا پر ظاہر کرتی ہے۔ میری جماعت اس کام کو پہلے سے کر رہی ہے اور اس کام کے لئے آدمی مہیا کرسکتی ہے۔ پس اگر آپ لوگوں میں سے کوئی اسلام کے خیر خواہ ہوں تو اس کام کے لئے بڑھیں کہ اس سے زیادہ متبرک کام اس وقت کوئی نہیں۔ اور یہی سچی اسلامی ہمدردی ہے۔ ورنہ جلسے کرنا اور ریزولیوشن پاس کرنا کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتا۔

اسلام خدا کا بھیجا ہوا دین ہے اور قرآن اس کے منہ کا کلام ہے۔ پس یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ کمزور انسان اس کو مٹا سکے۔ خصوصاً وہ انسان جو ایک کمزور انسان کو خدا مان کر اس کے آگے سجدہ کرتا ہے۔ درحقیقت یہ سب وبال مسلمانوں کے اسلام کو پرے پھینک دینے کا ہے۔ اور افسوس ہے کہ مَیں دیکھتا ہوں کہ اب بھی وہ اس کی طرف متوجہ نظر نہیں آتے۔ کاش اب بھی مسلمان اس طرف متوجہ ہوں اور ان انعامات میں شریک ہوجائیں جو خدا تعالیٰ خادمانِ اسلام کو دینا چاہتا ہے ۔ درحقیقت وہ اسی امر کا منتظر ہے کہ کس قدر مسلمان اس خدمت میں شامل ہو کر اس کی رضا کو حاصل کرتے ہیں۔ ورنہ اسلام کی ترقی کا وقت آچکا ہے اور خواہ ساری دُنیا مل کر اسلام کو مٹانا چاہے نہیں مٹا سکتی۔ یہ آخری صدمہ واقع میں آخری صدمہ ہے۔ اب اسلام کے بڑھنے کے دن شروع ہوتے ہیں۔ اور اب ہم دیکھیں گے کہ مسیحی کیونکر اس کی بڑھتی ہوئی رو کو روکتے ہیں۔ خدا کی غیرت اس کے مامور کے ذریعہ سے ظاہر ہو چکی ہے اور اب سب دُنیا دیکھ لے گی کہ آئندہ اسلام مسیحیت کو کھانا شروع کر دے گا اور دُنیا کا آئندہ مذہب وہی مذہب ہو گا جو اس وقت سب سے کمزور مذہب سمجھا جاتا ہے۔ وَاٰخِرُ دَعۡوٰٮہُمۡ اَنِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(10:11)۔

خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ قادیان دارالامان ۳۰؍مئی ۱۹۲۰ء

لوحُ الہدیٰ

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

لوحُ الہدیٰ

(رقم فرمودہ حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی)

تمہید

اے نوجوانانِ جماعت احمدیہ!

ہر قوم کی زندگی اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہے کس قدر ہی محنت سے کوئی کام چلایا جائے اگر نہ آگے اس کے جاری رکھنے والے لوگ نہ ہوں تو سب محنت غارت جاتی ہے اور اس کام کا انجام ناکامی ہوتا ہے۔ گو ہمارا سلسلہ رُوحانی ہے مگر چونکہ مذکورہ بالا قانون بھی الٰہی ہے اس لئے وہ بھی اس کی زد سے بچ نہیں سکتا۔ پس اس کا خیال رکھنا ہمارے لئے ضروری ہے۔ ہم پر واجب ہے کہ آپ لوگوں کو ان فرائض پر آگاہ کر دیں جو آپ پر عائد ہونے والے ہیں اور ان راہوں سے واقف کر دیں جن پر چل کر آپ منزلِ مقصود پر پہنچ سکتے ہیں۔ اور آپ پر فرض ہے کہ آپ گوشِ ہوش سے ہماری باتوں کو سنیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں تا خدا تعالیٰ کی طرف سے جو امانت ہم لوگوں کے سُپرد ہوئی ہے اس کے کما حقہٗ ادا کرنے کی توفیق ہمیں بھی اور آپ لوگوں کو بھی ملے۔ اس غرض کو مدّ نظر رکھتے ہوئے میں نے مندرجہ ذیل نظم لکھی ہے۔ جس میں حتّی الوسع وہ تمام نصیحتیں جمع کر دی ہیں جن پر عمل کرنا سلسلہ کی ترقی کے لئے ضروری ہے گو نظم میں اختصار ہوتا ہے مگر یہ اختصار ہی میرے مدّعا کے لئے مفید ہے کیونکہ

اگر رسالہ لکھا جاتا تو اس کو بار بار پڑھنا وقت چاہتا جو ہر شخص کو میسر نہ ہو سکتا۔ مگر نظم میں لمبا مضمون تھوڑی عبارت میں آجانے کے باعث ہر ایک شخص آسانی سے اس کا روزانہ مطالعہ بھی کر سکتا ہے اور اس کو ایسی جگہ بھی لٹکا سکتا ہے جہاں اس کی نظر اکثر اوقات پڑتی رہے اور اس طرح اپنی یاد کو تازہ رکھ سکتا ہے۔ خوب یاد رکھو کہ بعض باتیں چھوٹی معلوم ہوتی ہیں مگر ان کے اثر بڑے ہوتے ہیں۔ پس اس میں لکھی ہوئی کوئی بات چھوٹی نہ سمجھو اور ہر ایک بات پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔ تھوڑے ہی دن میں اپنے اندر تبدیلی محسوس کرو گے اور کچھ ہی عرصہ کے بعد اپنے آپ میں اس کام کی اہلیت پیدا ہوتی دیکھو گے جو ایک دن تمہارے سپرد ہونے والا ہے۔ یہ بھی یاد رکھو کہ تمہارا یہی فرض نہیں کہ اپنی اصلاح کرو بلکہ یہ بھی فرض ہے کہ اپنے بعد میں آنے والی نسلوں کی بھی اصلاح کی فکر رکھو اور ان کو نصیحت کرو کہ وہ اگلوں کی فکر رکھیں اور اسی طرح یہ سلسلہ ادائے امانت کا ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف منتقل ہوتا چلا جاوے تاکہ یہ دریائے فیض جو خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری ہوا ہے ہمیشہ جاری رہے اور ہم اس کام کے پورا کرنے والے ہوں جس کے لئے آدمؑ اور اس کی اولاد پیدا کی گئی ہے۔ خدا تمہارے ساتھ ہو۔ اَللّٰھُمَّ آمِیْن خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی

نظم

نونہالانِ جماعت مجھے کچھ کہنا ہے

پر ہے یہ شرط کہ ضائع میرا پیغام نہ ہو

چاہتا ہوں کہ کروں چند نصائح تم کو

تاکہ پھر بعد میں مجھ پر کوئی الزام نہ ہو

جب گزر جائیں گے ہم تم پہ پڑے گا سب بار

سُستیاں ترک کرو طالبِ آرام نہ ہو

خدمتِ دین کو اک فضلِ الٰہی جانو

اس کے بدلے میں کبھی طالبِ انعام نہ ہو

دل میں ہو سوز تو آنکھوں سے رواں ہوں آنسو

تم میں اسلام کا ہو مغز فقط نام نہ ہو

سر میں نخوت نہ ہو آنکھوں میں نہ ہو برقِ غضب

دل میں کینہ نہ ہو لب پہ کبھی دشنام نہ ہو

خیر اندیشئ احباب رہے مَدِّ نظر

عیب چینی نہ کرو مفسد و نمّام نہ ہو

چھوڑ دو حرص کرو زہد و قناعت پیدا

زر نہ محبوب بنے سیمِ دل آرام نہ ہو

رغبتِ دل سے ہو پابند نماز و روزہ

نظر انداز کوئی حصّۂ احکام نہ ہو

پاس ہو مال تو دو اس سے زکوٰۃ و صدقہ

فکرِ مسکیں رہے تم کو غنمِ ایّام نہ ہو

حُسن اس کا نہیں کھلتا تمہیں یہ یاد رہے

دوشِ مسلم پہ اگر چادرِ احرام نہ ہو

عادتِ ذکر بھی ڈالو کہ یہ ممکن ہی نہیں

دل میں ہو عشق صنم لب پہ مگر نام نہ ہو

عقل کو دین پہ حاکم نہ بناؤ ہرگز

یہ تو خود اندھی ہے گر نیرِ الہام نہ ہو

جو صداقت بھی ہو تم شوق سے مانو اس کو

علم کے نام سے تم تابع اوہام نہ ہو

دشمنی ہو نہ محبانِ محمّدؐ سے تمہیں

جو معاند ہیں تمہیں ان سے کوئی کام نہ ہو

امن کے ساتھ رہو فتنوں میں حصہ مت لو

باعثِ فکر و پریشانیِ حکام نہ ہو

اپنی اس عمر کو اک نعمتِ عظمیٰ سمجھو

بعد میں تاکہ تمہیں شکوۂ ایّام نہ ہو

حُسن ہر رنگ میں اچھا ہے مگر خیال رہے

دانہ سمجھے ہو جسے تم وہ کہیں دام نہ ہو

تم مدبّر ہو کہ جرنیل ہو یا عالم ہو

ہم نہ خوش ہوں گے کبھی تم میں گر اسلام نہ ہو

سیلف ریسپکٹ کا بھی خیال رکھو تم بے شک

یہ نہ ہو پر کہ کسی شخص کا اکرام نہ ہو

عُسر ہو یُسر ہو، تنگی ہو کہ آسائش ہو

کچھ بھی ہو بند مگر دعوتِ اسلام نہ ہو

تم نے دُنیا بھی جو کی فتح تو کچھ بھی نہ کیا

نفسِ وحشی و جفاکیش اگر رام نہ ہو

منّ و احسان سے اعمال کو کرنا نہ خراب

رشتۂ وصل کہیں قطع سرِ عام نہ ہو

بھولیو مت کہ نزاکت ہے نصیبِ نسواں

مرد وہ ہے جو جفاکش ہو گُل اندام نہ ہو

شکل سے دیکھ کے گرنا نہ مگس کی مانند

دیکھ لینا کہ کہیں دُردِ تہِ جام نہ ہو

یاد رکھنا کہ کبھی بھی نہیں پاتا عزت

یار کی راہ میں جب تک کوئی بدنام نہ ہو

کام مشکل ہے بہت منزلِ مقصود ہے دُور

اے مرے اہلِ وفا سُست کبھی گام نہ ہو

گامزن ہوگے رہِ صدق و صفا پر گر تم

کوئی مشکل نہ رہے گی جو سر انجام نہ ہو

حشر کے روز نہ کرنا ہمیں رسوا و خراب

پیارو آموختۂ درسِ وفا خام نہ ہو

ہم تو جس طرح بنے کام کئے جاتے ہیں

آپ کے وقت میں یہ سلسلہ بدنام نہ ہو

میری تو حق میں تمہارے یہ دُعا ہے پیارو

سر پہ اللہ کا سایہ رہے ناکام نہ ہو

ظلمتِ رنج و غم و درد سے محفوظ رہو

مہرِ انوار درخشندہ رہے شام نہ ہو

(الحکم ۷؍اکتوبر ۱۹۲۰ء)

جب تک انسان کسی کام کا عادی اپنے آپ کو نہ بنائے اس کا کرنا دو بھر ہو جاتا ہے پس یہ غلط خیال ہے کہ جب ذمہ داری پڑے گی دیکھا جائے گا۔ آج ہی سے اپنے آپ کو خدمت دین کی عادت ڈالنی چاہئے ۔

کبھی خدمت دین کر کے اس پر فخر نہیں کرنا چاہئے یہ خدا کا فضل ہوتا ہے کہ وہ کسی کو خدمت دین کی توفیق دے نہ بندہ کا احسان کہ وہ خدمت دین کرتا ہے۔ اور یہ تو حد درجہ کی بیوقوفی ہے کہ خدمت دین کر کے کسی بندہ پر احسان رکھے یا اس سے کسی خاص سلوک کی اُمید رکھے۔

اس زمانہ کا اثر اس قسم کا ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے عجز و نیاز کرنے کو بھی وضع کے خلاف سمجھتے ہیں اور خدا کے حضور میں ماتھے کا خاک آلود ہونا انہیں ذلت معلوم ہوتا ہے حالانکہ اس کے حضور میں تذلل ہی اصل عزت ہے۔

اس زمانہ میں مادی ترقی کے اثر سے روپے کی محبت بہت بڑھ گئی ہے اور لوگوں کو ہر ایک معاملہ میں روپے کا خیال زیادہ رہتا ہے۔ روپے کمانا بُرا نہیں لیکن اس کی محبت خدا تعالیٰ کی محبت کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتی۔ جو شخص رات دن اپنی تنخواہ کی زیادتی اور آمد کی ترقی کی فکر میں لگا رہتا ہے اس کو خدا تعالیٰ کے قرب کے حاصل کرنے اور بنی نوع انسان کی ہمدردی کا موقع کب مل سکتا ہے۔ مؤمن کا دل قانع ہونا چاہئے ۔ ایک حد تک کوشش کرے پھر جو کچھ ملتا ہے اس پر خوش ہو کر خدا تعالیٰ کی نعمت کی قدر کرے۔ اس بڑھی ہوئی حرص کا نتیجہ اب یہ نکل رہا ہے کہ لوگ خدمت دین کی طرف بھی پوری توجہ نہیں کر سکتے اور دینی کاموں کے متعلق بھی ان کا یہی سوال رہتا ہے کہ ہمیں کیا ملے گا اور مقابلہ کرتے رہتے ہیں کہ اگر فلاں دنیا کا کام کریں تو یہ ملتا ہے اس دینی کام پر یہ ملتا ہے ہمارا کس میں فائدہ ہے۔ گویا وہ دینی کام کسی کا ذاتی کام ہے جس کے بدلہ میں یہ معاوضہ کے خواہاں ہیں۔ حالانکہ وہ کام ان کا بھی کام ہے اور جو کچھ ان کو مل جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے ہے۔ اور اس مال کی محبت کا ہی نتیجہ ہے کہ دنیا کا امن اُٹھ رہا ہے۔ ضروریات ایسی شئے ہیں کہ ان کو جس قدر بڑھاؤ بڑھتی جاتی ہیں۔ پس قناعت کی حد بندی توڑ کر پھر کوئی جگہ نہیں رہتی جہاں انسان قدم ٹکا سکے۔ کروڑوں کے مالک بھی تنگی کے شاکی نظر آتے ہیں۔ جس کے ہاتھ سے قناعت گئی اور مال کی محبت اس کے دل میں پیدا ہوئی وہ خود بھی دُکھ میں رہتا ہے اور دوسروں کو بھی دُکھ دیتا ہے اور خدا تعالیٰ سے تو اس کا تعلق ہو ہی نہیں سکتا۔

فکرِ مسکین رہے یعنی یہ غم نہ ہو کہ اگر غریب کی مدد کریں گے تو ہمارا روپیہ کم ہو جائے گا پھر ضرورت کے وقت کیا کرینگے جو اس وقت محتاج ہے اس کی دستگیری کرو اور آئندہ ضروریات کو خدا پر چھوڑ دو۔

حج ایک نہایت ضروری فرض ہے۔ نئی تعلیم کے دلدادہ اس کی طرف سے بہت غافل ہیں حالانکہ اسلام کی ترقی کے اسباب میں سے یہ ایک بڑا سبب ہے۔ طاقتِ حج سے یہ مراد نہیں کہ کروڑوں روپیہ پاس ہو۔ ایک معمولی حیثیت کا آدمی بھی اگر اخلاص سے کام لے تو حج کے سامان مہیا کر سکتا ہے۔

۷۔ نماز کے علاوہ ایک جگہ بیٹھ کر تسبیح و تحمید و تکبیر کرنا یا کاموں سے فراغت کے وقت تسبیح و تحمید و تکبیر کرنا دل کو روشن کر دیتا ہے۔ اس میں آج کل لوگ بہت سُستی کرتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رُوحانی صفائی بھی حاصل نہیں ہوتی نمازوں کے پہلے یا بعد اس کا خاص موقع ہے۔

۸۔ ہر ایک شخص کا فرض ہے کہ مذہب کو سچا سمجھ کر مانے یوں ہی اگر سچے دین کو بھی مان لیا جائے تو کچھ فائدہ نہیں لیکن جب پوری طرح یقین کر کے ایک بات کو مانا جائے تو پھر کسی کا حق نہیں کہ اس کی تفصیلات اگر اس کی عقل کے مطابق نہ ہوں تو ان پر حُجّت کرے۔ روحانیات کا سلسلہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے قائم ہے۔ پس عقل اور مذہب کا مقابلہ نہیں بلکہ عقل کو مذہب پر حاکم بنانے سے یہ مطلب ہوگا کہ آیا ہماری عقل زیادہ معتبر ہے یا خدا تعالیٰ کا علم۔ نعوذ بالله من ذلك۔ ہاں یہ بات دریافت کرنی بھی ضروری ہے کہ جس چیز کو ہم مذہب کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ مذہب کا حصہ ہے بھی یا نہیں۔

۹۔ آج کل یورپ سے جو آواز آوے اور وہ کسی فلاسفر اور سائنس دان کی طرف منسوب ہو تو جھٹ اس کا نام علم رکھ لیا جاتا ہے اور اس کے خلاف کہنے والوں کو علم کا دشمن کہا جاتا ہے۔ یہ نادانی ہے۔ جو بات مشاہدوں سے ثابت ہو اس کا انکار کرنا جہالت ہے۔ لیکن بلا ثبوت صرف بعض فلسفیوں کی تھیوریوں کو علم سمجھ کر قبول کرنا بھی کم عقلی ہے۔ اِس وقت بہت سے یورپ کے نو ایجاد علوم تھیوریوں (قیاسات) سے بڑھ کر حقیقت نہیں رکھتے ان کے اجزاء ثابت ہیں لیکن ان کو ملا کر جو نتیجہ نکالا جاتا ہے وہ بالکل غلط ہوتا ہے۔ لیکن علومِ جدیدہ کے شیدائی اس امر پر غور کئے بغیر ان وہموں کی اتباع کرنے لگ جاتے ہیں۔

۱۰۔ مؤمن کا فرض ہے کہ بجائے حقارت اور نفرت سے کام لینے کے محبت سے کام لے اور امن کو پھیلائے مؤمن کا وطن سب دُنیا ہے۔ اس سے جہاں تک ممکن ہو تمام فریقوں میں جائز طور پر صلح کرانے کی کوشش کرے ۔ اور قانون کی پابندی کرے۔

۱۱۔ اچھی بات خواہ دین کے متعلق ہو خواہ دُنیا کے متعلق اچھی ہی ہوتی ہے مگر بہت دفعہ بُری باتیں اچھی شکل میں پیش کی جاتی ہیں اس کا بھی خیال رکھنا چاہئے ۔ انگریزی کی مَثَل ہے ALL THAT GLITTERS IS NOT GOLD

۱۲۔ دنیاوی ترقی کے ساتھ اگر دین نہیں تو ہمیں کچھ خوشی نہیں ہوسکتی کیونکہ اگر یہ اصل مقصد ہوتی تو پھر ہمیں اسلام اختیار کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ پھر مسیحیت جو اس وقت ہر قسم کے دنیاوی سامان رکھتی ہے اس کو کیوں نہ قبول کرلیتے۔

۱۳۔ آج کل لوگ سیلف ریسپکٹ کے نام سے بزرگوں کا ادب چھوڑ بیٹھے ہیں ۔ حالانکہ صحیح عزت کے لئے ادب کا قائم رکھنا ضروری ہے۔ اگر ادب نہ ہو تو تربیت بھی درست نہیں ہوسکتی ۔ سیلف ریسپکٹ کے تو یہ معنی ہیں کہ انسان کمینہ نہ بنے نہ کہ بے ادب ہو جائے۔

۱۴۔ کسی زمانہ ، کسی وقت، کسی حالت میں اسلام کی تبلیغ کو نہ چھوڑو۔ ایک دفعہ اس کے خطرناک نتائج دیکھ چکے ہیں ۔ نہ نیکی تمہاری کوششوں کو سُست کرے کہ ہر تکلیف سے نجات اسی کام سے وابستہ ہے اور نہ ترقی تم کو سُست کر دے کیونکہ جبتک

ایک آدمی بھی اسلام سے باہر ہے تمہارا فرض ادا نہیں ہوا اور ممکن ہے کہ وہ ایک آدمی کفر کا بیج بن کر ایک درخت اور درخت سے جنگل بن جائے۔

۱۵۔ سب سے پہلا فرض اصلاحِ نفس ہے اگر اس کے نُظم ہوتے رہیں اور ان کی اصلاح نہ ہو تو دوسروں کی اصلاح تم کو اس قدر نفع نہیں پہنچا سکتی۔

۱۶۔ انسان نیکی کرتے کرتے کبھی خدا تعالیٰ کا پیارا بننے والا ہوتا ہے کہ احسان جتا کر پھر وہیں آ گرتا ہے جہاں سے ترقی شروع کی تھی۔ اور چوٹی پر پہنچ کر گر جاتا ہے اس کی ہمیشہ احتیاط رکھنی چاہئے۔ کیونکہ وہ محنت جو ضائع ہو جاتی ہے حوصلہ کو پست کر دیتی ہے۔

۱۷۔ صفائی اچھی چیز ہے مگر نازک بدنی اور جسم کے سنگار میں مشغول رہنا اور حُسنِ ظاہری کی فکر میں رہنا یہ مرد کا کام نہیں عورتوں کو خدا تعالیٰ نے اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ علاوہ دوسرے فرائض کی ادائیگی کے جو بحیثیت انسان ہونے کے ان کے ذمہ ہیں مرد کی اس خواہش کو بھی پورا کریں۔ مرد کے ذمہ جو کام لگائے گئے ہیں وہ جفاکشی اور محنت کی برداشت کی عادت چاہتے ہیں۔ پس جسم کو سختی برداشت کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے اور چونکہ ظاہر کا اثر باطن پر پڑتا ہے اس لئے زینت اور سنگار میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔

۱۸۔ جس طرح بڑی چیز اچھی شکل میں پیش ہو جائے تو دھوکا لگ جاتا ہے اس طرح کبھی اچھی چیز کے اندر بری مل جاتی ہے اور اس کے اثر کو خراب کر دیتی ہے پس ہر ایک کام کو کرتے وقت اور ہر ایک خیال کو قبول کرتے وقت یہ بھی سوچ لینا چاہئے کہ اس کا کوئی پہلو تو بُرا نہیں۔ اگر مخفی طور پر اس میں بُرائی ملی ہوئی ہو تو اس سے بچنا چاہئے۔

۱۹۔ بعض لوگ دینی کاموں میں حصہ لینے سے اس خیال سے ڈرتے ہیں کہ لوگ بُرا کہیں گے یا ہنسی کریں گے۔ حالانکہ خدا تعالیٰ کی راہ میں بدنام ہونا ہی اصل عزت ہے۔ اور کبھی کسی نے دینی عزت حاصل نہیں کی جب تک دُنیا میں پاگل اور قابلِ ہنسی نہیں سمجھا گیا۔

۲۰۔ یعنی جو کچھ دین کی محبت اور خدا تعالیٰ سے عشق کے متعلق ہم سے سیکھ چکے ہو اس کو خوب یاد کرو۔ ایسا نہ ہو کہ یہ سبق کچا رہے اور قیامت کے دن سُنا نہ سکو اور ہمیں جنہیں اس سبق کے پڑھانے کا کام سپرد کیا ہے شرمندگی اُٹھانی پڑے۔ دوسروں کے شاگرد فر فر سنا جاویں اور تم یوں ہی رہ جاؤ۔ والسلام مع الاکرام

خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی

ترکِ موالات اور احکامِ اسلام

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

التماس ضروری

ايها الاحباب!

السّلام علیکم

مَیں نے یہ رسالہ محض ہمدردیِ احباب کو مدّنظر رکھ کر لکھا ہے اور اُمید کرتا ہوں کہ اس کے ذریعہ ہر ایک وہ شخص جو قرآنِ کریم اور ارشاداتِ نبویؐ کا شیدائی ہے ترکِ موالات کے مسئلہ کے متعلق صحیح رائے قائم کرنے کے قابل ہو جائے گا لیکن میری غرض اس وقت تک پوری نہیں ہو سکتی جب تک یہ رسالہ تمام ایسے لوگوں کے ہاتھ نہ پہنچے جن کو اس مسئلہ سے ایک یا دوسرے رنگ میں دلچسپی ہے۔ پس میری ان تمام اصحاب سے جو ملّتِ خیرِ اَنامؐ سے محبت رکھتے ہیں اور اس کے احیاء کے متمنی ہیں۔ درخواست ہے کہ وہ اس رسالہ کو جہاں تک ہو سکے اپنے دوستوں، واقفوں، شناساؤں اور ہم وطنوں تک پہنچائیں۔ اور اس خطرناک رَو کے روکنے میں پوری سعی کریں جو اسلام کے بدنام کرنے کا باعث ہو رہی ہے اور مسلمانوں کی رہی سہی طاقت کے مٹانے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ یہ وقت غفلت کا نہیں ہے۔ اسلام پہلے ہی بہت صدمہ خوردہ ہے اور اس کی پاک اور پُر امن تعلیم پر پہلے ہی نہایت میلے کچیلے غلاف ڈالے جا چکے ہیں اب زیادہ تعلّل قابلِ برداشت نہیں۔ پس اُٹھو اور بلا کسی ملامت کے خوف اور لوگوں کے طعنوں کے ڈر کے اس کی مدد کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ بے شک لوگ آپ کو ترکِ موالات کے مخالف کی وجہ سے بزدل کہیں گے اور خوشامدی نام رکھیں گے لیکن اگر اسلام کی محبت کے لئے آپ یہ کام کریں گے تو یہ باتیں آپ کا نقصان نہیں کر سکتیں۔ وہ شخص بہادر نہیں ہوتا جو بزدل کہلانے سے ڈر جاتا ہے اور نہ وہ بزدل ہوتا ہے جو حق کو اس لئے نہیں چھوڑ دیتا کہ لوگ اسے بزدل کہیں گے۔

خاکسار میرزا محمود احمد

ترکِ موالات اور احکامِ اسلام

اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ

خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھو الناصر

ہندوستان کی موجودہ بے چینی

ان ایام میں تمام ہندوستانیوں میں عموماً اور مسلمانوں میں خصوصاً جو بے اطمینانی اور جوش پھیل رہا ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی انسان اس کی طرف سے آنکھ بند کر رکھے۔ تکلیف اور دُکھ تو غیر کا بھی نہیں دیکھا جاتا کجا یہ کہ اپنے بھائیوں اور اہلِ وطن کا۔ پس اس غیر مطمئن اور گھبراہٹ کی حالت کو دیکھ کر جو مسلمانوں پر خصوصاً اور باقی اہلِ ہند پر عموماً طاری ہے ایک دردمند دل درد محسوس کئے بغیر اور اس سے نجات دلانے کے لئے جدوجہد کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔

بے چینی کی وجوہات

اس غیر مطمئن حالت کی دو بڑی وجوہ بیان کی جاتی ہیں ایک وہ فیصلہ جو ترکی حکومت کے متعلق اتحادی حکومتوں نے کیا ہے اور ایک وہ ہتک آمیز اور سخت رویہ جو شورش پنجاب کے وقت بعض افسران گورنمنٹ نے اختیار کیا تھا اور جس کی بڑی مثالیں رینگ کر چلنے کا حکم اور جلیانوالہ باغ کے واقعات ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ان دونوں معاملوں میں گورنمنٹ اور گورنمنٹ کے افسران سے ضرور غلطی ہوئی ہے۔ اول الذکر فیصلہ میں بعض ان امیدوں کو جو خود وزراء انگلستان نے بلا مسلمانانِ عالم کے مطالبہ کے دلائی تھیں پورا نہیں کیا گیا اور یقیناً ترکوں سے وہ سلوک نہیں کیا گیا جو دوسری مسیحی حکومتوں

سے کیا گیا ہے۔ تُرک مجرم سہی مگر وہ اتنا مجرم نہ تھا جتنا کہ جرمن ، لیکن جرمن سے جو سلوک روا رکھا گیا ہے اس قدر سلوک بھی تُرک سے نہیں کیا گیا اور یہ فعل ان اعلانوں کے باوجود ہوا ہے جو اس سے پہلے شائع کئے جا چکے تھے اور جن میں بالکل برعکس فیصلہ کی اُمید دلائی جاتی تھی۔

اسی طرح اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ (رینگ کر) چلنے کا حکم ایسا وحشیانہ اور ظالمانہ ہے کہ کوئی شخص بھی اسے برداشت نہیں کر سکتا اور اس کے خلاف اگر ہندوستانیوں کو غصّہ پیدا ہو تو یہ کوئی تعجب کا مقام نہیں۔ اسی طرح جلیانوالے باغ کے واقعہ میں بھی جس سختی سے کام لیا گیا ہے وہ نہایت ہی قابلِ افسوس ہے اور جنرل ڈائر کا یہ قول کہ وہ اس لئے گولیاں چلاتے گئے کہ تا ملک کے دوسرے حصہ پر اثر ہو اور بغاوت فرو ہو جاوے ان کے مجرم ثابت کرنے کے لئے کافی ہے اور کسی مزید ثبوت کی ضرورت نہیں۔ یہ بیان کہ جنرل ڈائر کا فعل اجتہادی غلطی ہے درست نہیں۔ کیونکہ اجتہادی غلطی وہ ہوتی ہے کہ جس کا وقوع ایسے حالات میں ہو کہ اس کام کے کرنے یا نہ کرنے دونوں کے دلائل موجود ہوں لیکن اس جماعت پر گولیاں چلانا جو ہتھیار ڈال چکی ہو اور اپنے عمل سے اپنی غلطی کا اقرار کر رہی ہو خود میدانِ جنگ میں بھی جائز نہیں۔ جب کوئی فوج ہتھیار ڈال دے تو اس پر وار کرنا جائز نہیں۔ بارہا جرمن فوجوں کے خلاف یہ خبر شائع کی جاتی تھی کہ بعض جگہ صلح کی جھنڈیاں دیکھ کر بھی وہ گولہ باری سے باز نہیں آتے تھے اور اس طرح ان کا وحشیانہ پن ثابت کیا جاتا تھا۔ پھر وہی بات جو میدانِ جنگ میں بھی نا جائز تھی ایک ایسی جماعت کے مقابلہ میں کس طرح جائز ہو سکتی تھی جو گو احکام کی خلاف ورزی کرنے والی تو ضرور تھی لیکن نہ تو ان معنوں میں برسرِ جنگ تھی جن معنوں میں کہ ایک فوج دوسری فوج سے برسرِ جنگ ہوتی ہے اور نہ مارشل لاء کے قواعد سے واقف تھی کیونکہ یہ قانون ان کی زندگی میں پہلی دفعہ جاری ہوا تھا۔

اور ایک تجربہ کار جرنیل اس امر سے کس طرح نا واقف ہو سکتا تھا؟ کہ جب ایک فوج ہتھیار ڈال دے تو دوسری فوجوں پر رُعب ڈالنے کے لئے اس پر گولیاں چلانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ہیگ کنوینشن میں صاف طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ اس دشمن کو زخمی کرنا یا مارنا جس نے اپنے ہتھیار ڈال دیئے ہوں یا جس کے پاس اپنی حفاظت کا کوئی سامان نہ رہا ہو اور اس نے مقابلہ ترک کر دیا ہو بالکل ناجائز ہو گا اسی طرح یہ کہ یہ اعلان کر دینا کہ خواہ دشمن مقابلہ ترک ہی کر دے اس سے رحم کا سلوک نہ کیا جاوے گا جائز نہ ہو گا۔ مارشل لاء کے قوانین میں یہ شرط ہے کہ فوجی قوانین کا لحاظ کیا جاوے اور بلووں کے دبانے کے لئے جو اختیارات فوجیوں اور پولیس کو دیئے گئے ہیں ان میں کہیں نہیں لکھا کہ ان کا کام یہ ہے کہ رُعب ڈال کر بلوہ کو مٹائیں۔ بلکہ ان کا کام ہر فساد کے موقع پر اس خاص صورت کا لحاظ کرنا ہے جو اس وقت ان کے سامنے ہے۔ اور جان لینا اسی وقت جائز رکھا گیا ہے جب کہ باغی جائیداد تباہ کر رہے ہوں یا قتل و غارت میں مشغول ہوں یا افسروں کے احکام کے باوجود اجتماع کو پراگندہ نہ کریں اور پراگندہ کرنے کی کوشش میں سرکاری آدمیوں کا مقابلہ کریں۔ لیکن یہ صورت جلیانوالہ باغ میں پیدا نہ تھی لوگ پراگندہ ہونے شروع ہو گئے تھے اور ان کے بھاگنے پر ان پر گولیاں چلانا نہ فوجی قانون کے لحاظ سے جائز تھا نہ ملکی قانون کے لحاظ سے اور اس میں تجربہ کار جرنیل کو دھوکا نہیں لگ سکتا تھا۔

یہ واقعات واپس نہیں ہو سکتے

غرض یہ دونوں واقعات ضرور ظالمانہ تھے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی قوم ان گذشتہ واقعات کو جو ہو چکے ہوں پھیر سکتی ہے؟ یقیناً جو ہو چکا سو ہو چکا۔ اور اب اس فعل کو واپس نہیں کیا جا سکتا۔ پس اس اعلان کو مد نظر رکھتے ہوئے جو حضور قیصر ہند کی طرف سے پچھلے سال شائع ہوا تھا اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ ہندوستانیوں میں سے وہ لوگ جنہوں نے اس موقع پر قانون کی اس طرح پابندی نہیں کی جس طرح کہ کرنی چاہئے تھی رہا کر دیئے گئے ہیں اور ان کے جرم معاف کر دئے گئے ہیں۔ ہمیں بھی چاہئے کہ ان گذشتہ واقعات کی تاریک یاد کو دل سے نکال دیں اور آئندہ کی بہتری کی طرف توجہ کریں۔

اے عزیزو! صُلح اور محبت ایک پاک چیز ہے اور فساد اور فتنہ ناپاک ہے۔ خدا کا پیارا بننے کے لئے اور اس سے تعلق پیدا کرنے کے لئے محبت اور عفو کا پیدا کرنا ضروری ہے خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ(الشوریٰ: ۴۱) یعنی جو شخص درگزر کرتا ہے اور اصلاح سے کام لیتا ہے اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ پر ہے۔ تمہاری خفگی اور غصہ کی جو غرض تھی وہ پوری ہو گئی۔ وہ لوگ جن سے یہ افعال ہوئے تھے ان کے افعال کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا گورنمنٹ نے اس بات کا عہد کر لیا کہ آئندہ پوری احتیاط کی جاوے گی اور اس قسم کے واقعات نہ ہونے دیئے جاویں گے۔ اس اخلاقی فتح سے زیادہ اور آپ لوگ کیا حاصل کر سکتے تھے؟ اگر جنرل ڈائر کو کوئی قتل بھی کر دے یا بعض اور افسروں کو مار ڈالا جائے تو کیا یہ بات اس سے زیادہ ہو گی جو اب آپ لوگوں کو حاصل ہوئی ہے یعنی ان کے افعال کو غیر منصفانہ قرار دیا گیا ہے۔ ان کو ملازمتوں سے ریٹائر کر دیا گیا ہے اور آئندہ کے لئے ایسے واقعات کو روکنے کے لئے گورنمنٹ نے وعدہ دیا ہے اور اس کے لئے قواعد بھی بنا دیئے ہیں۔

جنرل ڈائر کے حامیوں اور ان کے مخالفین کی غلطی

یہ سچ ہے کہ بعض انگریز تعصب کی وجہ سے جنرل ڈائر کی مدد کے لئے چندہ جمع کر رہے ہیں لیکن اے عزیزو! یہ غلطی آپ سے بھی ہوئی ہے کہ جلیانوالہ باغ کے مقتولوں کی یادگار کو آپ نے بھی تازہ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ بے شک یہ ان لوگوں پر ظلم ہوا کہ باوجود اس کے کہ انہوں نے جلسہ کو منتشر کرنا چاہا اور اس جگہ سے جانے کے لئے تیار ہو گئے ، ان پر گولیاں برسائی جاتی رہیں اور دوسروں پر رعب ڈالنے کے لئے وہ قربان کئے گئے۔ مگر اے عزیزو! کیا اس میں کوئی شک ہے کہ گو ان کی یہ سزا نہ تھی جو دی گئی مگر کیا وہ حکومت کے قوانین کو توڑنے والے نہ تھے ۔ جس طرح جنرل ڈائر کی یاد کو تازہ رکھ کر بعض انگریز غلطی کر رہے ہیں اور اس کے فعل کو پسند کر کے ظلم کے مؤید بن رہے ہیں اور اپنی قوم پر ایک دھبہ لگا رہے ہیں ۔ اسی طرح کیا وہ لوگ غلطی نہیں کر رہے جنہوں نے جلیانوالہ باغ کے مقتولوں کے لئے چندہ جمع کیا اور کیا وہ یاد گار جو اس روپیہ سے قائم کی جائے گی ہمیشہ کے لئے ہندوستان کی آئندہ نسلوں کو اس امر کی طرف متوجہ نہ کرے گی کہ حکومت کے قوانین کو توڑنے میں کوئی ہرج نہیں ہوتا؟ اور کیا آئندہ جب ہندوستان کو حکومت خود اختیاری ملے گی تو ہم میں سے بعض کا یہ فعل اس حکومت کے انتظام میں خلل ڈالنے والا نہ ہوگا؟ بے شک بعض کہیں گے کہ ظالمانہ حکم کا مقابلہ کرنا چاہئے ۔ لیکن یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ ایک ہی حکم کو ایک شخص ظالمانہ اور دوسرا غیر ظالمانہ قرار دیتا ہے اور یہ بات لوگوں پر چھوڑ دینا کہ وہ ظالمانہ یا غیر ظالمانہ احکام میں آپ ہی امتیاز کر لیا کریں اور جو حکم ان کو ظالمانہ نظر آوے اس کی پابندی نہ کیا کریں ایسا خطرناک قدم ہے کہ اس کے اُٹھاتے ہی انسان امن و صلح کے میدان سے نکل کر فساد و شورش کے علاقہ میں داخل ہو جاتا ہے نظالمانہ فعل وہی ہے جس کا اختیار قانون کسی کو نہ دیتا ہو اور اگر قانون ہی کسی فعل کو جائز قرار دیتا ہے تو خواہ وہ ظالمانہ نظر آوے اس کا توڑنا خلافِ اصل ہے ۔ ظلم برداشت کر سکنے کی طاقت خود ایک تربیت ہے جو مدارج عالیہ کے حصول کے لئے ضروری ہے۔ اور اگر کوئی شخص ایسے قانون کی پابندی نہیں کر سکتا تو اس کا فرض ہے کہ ملک کا امن تباہ کرنے کی بجائے خود اس ملک کو چھوڑ کر چلا جائے اور دوسروں کے امن کو برباد نہ کرے ۔

پس اے برادران! یہ دونوں فعل نادرست ہیں۔ جنہوں نے جنرل ڈائر کی حمایت کی یا زمین پر رینگنے کے حکم کو جائز قرار دیا یا جنہوں نے جنرل ڈائر کی مدد کے لئے چندہ جمع کیا انہوں نے ظلم کی حمایت کی اور عدل و انصاف کو قومی تعصب پر قربان کر دیا بلکہ اپنے قومی فوائد کو دھڑہ بندی پر قربان کر دیا۔ اسی طرح

جنہوں نے جلیانوالہ باغ کے مقتولین کی یادگار کے لئے چندہ جمع کیا انہوں نے بھی قانون شکنی کے فعل کو سراہا اور آئندہ کے لئے لوگوں کو حکومت کے احکام کو پسِ پشت ڈالنے کی ترغیب دے کر ہندوستان کے مستقبل کو تاریک کرنا چاہا۔ پس ٹھنڈے دل سے غور کرو کہ اگر قانون شکنی کی روح کو اس طرح پیدا کیا گیا تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ گورنمنٹ برطانیہ کا خیال دل سے نکال کر یہ تو سوچو کہ اگر ہندوستانیوں کی اپنی حکومت ہو تو کیا تم اس کو جائز سمجھو گے کہ حکومت کے جس حکم کو کوئی درست نہ سمجھے اس کو رد کر دے اور اس کا مقابلہ کرے؟ کیا کسی حکومت کا کوئی بھی حکم ہے کہ جسے ساری کی ساری رعایا درست سمجھتی ہو؟ پھر کیا جو لوگ کسی حکم کو درست نہ سمجھیں ان کا حق ہے کہ اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیں؟ اگر یہ طریق جائز قرار دیا جائے تو کیا کوئی حکومت بھی جو خواہ کیسی ہی آزاد اور کیسی ہی اعلیٰ ہو قائم رہ سکتی ہے؟ ذرا سوچیں تو سہی کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ کیا آپ پسند کریں گے؟ کہ ہندوستان کی حکومت مثلاً یہ حکم دے کہ چور کو قید کیا جائے لیکن ایک مسلمان جس کے مذہب میں چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم ہے وہ اس حکم کو غیر منصفانہ اور ظالمانہ قرار دے کر خود چور کے ہاتھ کاٹ دے۔ یا ہندوستان کی حکومت زانی کو قانونی مجرم نہ قرار دے تو ایک مسلمان اس کو اپنے طور پر پکڑ کر رجم کر دے۔ یا اور اسی قسم کے معاملات میں جو جس حکم کو ظالمانہ سمجھے اس کے خلاف کرنے لگ جائے۔ یاد رکھیں کہ وہی ملک ترقی کر سکتا ہے جس میں قانون کے احترام کا مادہ ہو۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ آپ لوگوں کا کیا خیال ہو گا۔ مگر میں اپنی نسبت کہہ سکتا ہوں کہ میں تو اپنی اولاد کے متعلق ہرگز یہ پسند نہ کروں گا کہ وہ کبھی بھی کسی حکومت کے احکام کو ظالمانہ قرار دے کر ان کی تعمیل سے انکار کر دے۔ ہاں میں یہ پسند کروں گا کہ اگر وہ فی الواقع کسی حکومت کو ظالم سمجھتی ہے تو اپنے منافع کا خیال چھوڑ کر اس کی حدود سے باہر نکل جائے اور دنیوی فوائد کو اپنے ضمیر کی تسلی پر قربان کر دے۔ ہاں یہ بھی ضرور ہے کہ اس امر کا خیال بھی رکھے کہ کبھی انسان فیصلہ کرنے میں غلطی بھی کرتا ہے پس چھوٹے چھوٹے امور پر اور جلد بازی سے غصّہ میں نہ آ جاوے۔

شائد بعض لوگ کہہ دیں کہ تم میں وہ قومی جوش اور غیرت نہیں ہے جو ہم میں ہے۔ مگر انہیں یاد رہے کہ قومی غیرت اس چیز کا نام نہیں کہ انسان موقع بے موقع طیش میں آ جایا کرے اور اس غصّہ کی حالت میں خود اپنی قوم کے اخلاق پر دھبہ لگا دے بلکہ قومی غیرت اس کا نام ہے کہ انسان اپنے جوشوں پر قابو رکھے اور اپنی قوم کے نام کو خلافِ مذہب اور خلافِ اخلاق اور خلافِ تمدن افعال کے الزام سے پاک رکھے۔ پس قومی غیرت کا فقدان نہیں بلکہ خود قومی غیرت مجھے اس امر پر مجبور کرتی ہے کہ ہندوستان کے نیک نام کی حفاظت کروں اور یہ میرے ربّ کی محبت ہے جو مجھے آمادہ کرتی ہے کہ میں اس کے بندوں

کو صحیح راستہ کی طرف ہدایت کروں۔ مجھے گورنمنٹ سے کیا فائدہ ہے کہ میں اس کی تائید کروں؟ گورنمنٹ کا ہمارے خاندان سے تحریری وعدہ تھا کہ وہ اسے کسی وقت پھر اس کی پُرانی شوکت پر قائم کرنے کی صورت کرے گی لیکن ہم تو اس کے ان پُرانے وعدوں سے بھی فائدہ نہیں اُٹھانا چاہتے اور اسے وہ وعدہ یاد دلانے میں بھی اپنی ہتک خیال کرتے ہیں کجا یہ کہ اس سے اور کچھ مانگیں یا اگر وہ دے تو اسے قبول کریں۔ پس میری نصیحت محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کے لئے اور اپنے ملک کے نیک نام کے قائم رکھنے کے لئے ہے نہ کسی اور غرض سے۔

غرض اے بھائیو! حق یہی ہے کہ جلیانوالہ باغ کا جلسہ کرنے والوں نے قانون شکنی کی اور ان کے غلطی کا عملی طور پر اعتراف کر لینے پر بھی گولیاں چلائے جانے والے نے ظلم سے کام لیا۔ مگر جب حکومت نے اس غلطی کا اعتراف کر لیا اور آئندہ کے لئے وعدہ کر لیا کہ ایسا نہ ہو گا تو پھر ہمارا اس تلخ یاد کو تازہ رکھنا مذہبی اور اخلاقاً ایک مذموم فعل ہے اب ہمیں اس واقعہ کو بھلا کر محنت اور کوشش سے امن کو قائم کرنا چاہئے۔ یہی اسلام کا مدعا ہے اور اسی کی تعلیم ہر ایک مذہب اپنے اپنے رنگ میں دیتا ہے۔

ترکی کے متعلق اتحادیوں کا فیصلہ

شورشِ پنجاب کے متعلق تو میں اس وقت اسی قدر لکھنا چاہتا ہوں کیونکہ مجھے اس وقت ایک ایسے امر کے متعلق کچھ لکھنا ہے جو اس واقعہ سے بھی زیادہ لوگوں کے اندر بے اطمینانی پیدا کر رہا ہے میری مراد اس سے وہ فیصلہ ہے جو اتحادی دُوَل نے ترکی حکومت کے متعلق کیا ہے۔

مَیں لکھ چکا ہوں کہ ترکی حکومت کے مستقبل کے متعلق فیصلہ کرتے وقت اتحادی دُوَل نے اس دُور اندیشی سے کام نہیں لیا جس کا یہ امر مستحق تھا وہ کہتے ہیں کہ ہم دُور اندیشی کی وجہ سے مجبور تھے کہ یہی فیصلہ کرتے جو ہم نے کیا ہے مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فیصلہ بزبانِ حال پکار رہا ہے کہ اس کے کرتے وقت دُور اندیشی اتحادی نوابوں کے قریب بھی نہیں پھٹکی۔ وہ بیٹھے تو اس غرض سے تھے کہ آئندہ کے لئے فسادات کا امکان جاتا رہے مگر کام ان سے وہ ہوا ہے جس نے کروڑوں آدمیوں کے دلوں میں آگ لگا دی ہے اور جس کی موجودگی میں وہ اس امن کے امیدوار نہیں ہو سکتے جس کے وہ خواہش مند تھے ۔ کوئی شخص آگ بھڑکا کر ٹھنڈک نہیں پیدا کر سکتا نہ قومی اور مذہبی عناد کو اُبھار کر صلح کی امید رکھ سکتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں اور کم سے کم میرا یقین ہے کہ گو مذہبی تعصب اس معاہدہ کو جو ترکوں سے کیا گیا ہے باعث نہیں مگر مذہبی تعصب کا اثر اس معاہدہ پر ضرور ہے اور یہی سبب ہے کہ اس کی شرائط ان اُصول کے خلاف ہیں جو اتحادیوں نے خود ہی مقرر کئے تھے جیسا کہ میں اپنے مضمون بنام ”معاہدۂ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ“ میں لکھ چکا ہوں۔ بعض ممالک ترکوں سے ایسے لے لئے گئے ہیں جو ان سے نہیں لینے چاہئیں اور بعض اور علاقوں کو وہ آزادی نہیں دی گئی جس کے وہ مستحق تھے۔ آرمینیا با وجود وحشی ہونے کے آزاد ہے لیکن شام اور عراق اب تک اس آزادی کو حاصل نہیں کر سکے حالانکہ آرمینی جس وقت بے بس مسلمانوں کے گلے کاٹنے میں لگے ہوئے تھے اس وقت عرب اتحادیوں کی مدد کے لئے اپنے گلے کٹوا رہے تھے۔ امیر فیصل جس نے اپنے آرام اور اپنے چین کو اتحادیوں کے لئے قربان کر دیا تھا اس کے ساتھ سخت وعدہ خلافی کی گئی ہے اور وہ آج کسمپرسی کی حالت میں ہے کوئی اس کا پرسانِ حال نہیں۔

اتحادیوں نے وعدے ان معنوں میں پورے نہیں کئے جو سمجھے جاتے ہیں

یہ بات بھی درست ہے کہ اتحادی وزراء کے وعدے ان معنوں میں پورے نہیں ہوئے جو معنی کہ اس وقت ان کے سمجھے جاتے تھے جب ان کا اعلان ہوا تھا اور گو وہ بیان کرتے ہیں کہ اس وقت بھی ہمارا یہ مطلب نہ تھا جو لوگ سمجھتے ہیں مگر وہ اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ لوگ تو وہی معنی سمجھ سکتے ہیں جو الفاظ سے ظاہر ہوں تاویلاتِ بعیدہ لوگوں کے ذہن میں کیونکر آسکتی ہیں اور ایسے خطرناک موقع پر جب جنگ ہو رہی تھی اگر کوئی ان کے الفاظ پر یہ اعتراض کر بھی بیٹھتا کہ ان کے اور معنی بھی ہو سکتے ہیں تو خود یہی وزراء اس شخص کے اس فعل کو ناپسند کرتے اور فساد پھیلانے والا قرار دیتے پس اگر انہوں نے با وجود علم و فضل کے ایسے الفاظ استعمال کئے تھے جن کے عام طور پر اور ہی معنے سمجھے گئے اور پھر انہوں نے ان معنوں کی دوسرے اوقات میں بھی تردید نہیں کی تو اس غلطی کے ذمہ دار وہی وزراء ہو سکتے تھے نہ کہ دوسرے لوگ اور ان کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ اپنے ملک کی عزت کی حفاظت اور اس کے نیک نام کے قائم رکھنے کے لئے ایسا فیصلہ کرتے جو لوگوں کے دل سے ان کا اعتبار نہ نکال دیتا اور اس احترام کو صدمہ نہ پہنچاتا جو اس ملک کو جس کی خدمت کا بوجھ ان پر رکھا گیا تھا اس سے پہلے حاصل تھا۔

اتحادیوں کے فیصلہ کی اصلاح کیلئے کیا کرنا چاہئے

مگر اب سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کے فیصلہ کی اصلاح کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ میں اس سوال پر اس سے پہلے اپنے مضمون ”معاہدہ ترکیہ“ میں کافی بحث کر چکا ہوں مگر چونکہ اب سوال نے ایک نیا رنگ اختیار کر لیا ہے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے مجھے علم دیا ہے اس کے مطابق میں اپنے بھائیوں کی رہنمائی کروں تا وہ لوگ جو ناواقف ہیں واقف ہو جائیں اور تا ایسا نہ ہو کہ غلطی سے لوگ ایسا رستہ اختیار کر لیں جو ان کی ہلاکت کا موجب ہو۔

کیا اب صبر کر کے بیٹھ رہنا چاہئے ؟

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ امر اب طے ہو چکا ہے اس لئے ہمیں صبر سے اسے تسلیم کر لینا چاہئے۔ میرے نزدیک یہ لوگ صبر کے صحیح معنوں کو نہیں سمجھتے۔ صبر اسے نہیں کہتے کہ جو واقعہ ہو جائے اس کی اصلاح کی فکر نہ کی جاوے بلکہ بعض دفعہ ایسے امر کی جو ہو چکا ہو اصلاح ضروری ہوتی ہے اور اس کی اصلاح نہ کرنی یا اس کے لئے کوشش نہ کرنا کم ہمتی پر دلالت کرتا ہے۔ ہر کام جو ہو چکا غیر مبدل نہیں ہوتا۔ غیر مبدل وہی کام ہوتا ہے جس کی اصلاح ناممکن ہو۔ مثلاً کسی نے کسی کو گالی دی ہے یا مارا ہے تو اس فعل کو لوٹایا نہیں جا سکتا ایسے فعل کو یاد رکھنے سے اگر نقصان ہوتا ہو یا بھلانے سے فائدہ ہوتا ہو تو اچھی بات یہی ہے کہ اسے بھلا دیا جائے اور اس کا تذکرہ ہی نہ کیا جائے لیکن مثلاً اگر کسی نے کسی کی کوئی چیز چھین لی ہے جو ضائع نہیں ہو گئی بلکہ چھیننے والے کے پاس موجود ہے اور اس شخص نے وہ چیز اسے دے بھی نہیں دی تو جائز اور صحیح ذرائع سے اس کے واپس لینے کی کوشش کرنا منع نہیں ہے اور معاہدہ ترکیہ کا مسئلہ اس دوسری قسم کے امور میں سے ہے۔ ترکوں سے جو ممالک لئے گئے ہیں وہ اب بھی موجود ہیں اور آئندہ بھی موجود رہیں گے۔ پس اس تصفیہ میں تغیر ہو جانا ناممکنات میں سے نہیں ہے اس لئے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ صبر کرو اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک صبر کرنے کے لئے کافی وجوہات نہ ہوں اور یہ ثابت نہ ہو جائے کہ اس موقع پر صبر اللہ تعالیٰ کی رضاء کے حصول کا ذریعہ ہوگا۔

ہجرت اور ترک موالات

دوسری رائے یہ دی جاتی ہے کہ انگریزی علاقہ سے ہجرت کی جاوے یا ان سے ترک موالات کیا جائے میں نے اپنے رسالہ معاہدہ ترکیہ میں بتایا تھا کہ یہ دونوں آراء درست نہیں، ہجرت کے متعلق میں نے لکھا تھا کہ اوّل تو شرعاً یہ موقع ہجرت کا ہے ہی نہیں۔ دوم اگر خلافِ شریعت ہجرت کی بھی گئی تو اس کے سامان چونکہ آپ لوگوں کے پاس نہیں ہیں اس کا نقصان پہنچے گا اور دشمنوں کو ہنسی کا موقع ملے گا۔ پھر افغانستان میں گنجائش بھی نہیں ہوگی آخر یہی ہوا افغانستان میں مہاجرین کی گنجائش نہ نکلی ہزاروں واپس آئے ہزاروں مر گئے جو باقی ہیں ان کی حالت بھی بُری ہے اپنے گزارہ کے لئے یہاں سے روپیہ طلب کر رہے ہیں۔

ترک موالات کے متعلق تفصیلی بحث

دوسری صورت ترکِ موالات کی بتائی جاتی ہے اس کے متعلق میں نے لکھا تھا کہ یہ ناقابل عمل اور موجب فساد ہے مگر چونکہ اب اس مسئلہ نے بہت اہمیت اختیار کرلی ہے۔ اس لئے دوبارہ میں اس کے متعلق تفصیلی طور پر اپنی تحقیق بیان کرنی چاہتا ہوں۔

یاد رکھنا چاہئے کہ دُنیا میں دوقسم کے اُمور ہوتے ہیں ایک وہ جو شریعت کے ماتحت ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو مصلحتِ وقت کے ماتحت ہوتے ہیں۔ جو امور کہ شریعت کے ماتحت ہوں جب وہ حالات پائے جاویں جن میں شریعت نے ان کے کرنے کا حکم دیا ہے تو ان لوگوں کا جنہیں ان کے کرنے کا حکم دیا گیا ہو فرض ہوتا ہے کہ وہ ان احکام کو پورا کریں خواہ جان جاوے، خواہ مال قربان ہو، خواہ عزیز و اقارب ضائع ہوں غرض صرف ان ہی عذرات سے ان احکام کو چھوڑا جا سکتا ہے جن کو خود شریعت نے عذر قرار دیا ہے ان کے سوا عذرات پر خواہ وہ کسی قدر ہی بڑے کیوں نہ ہوں ان احکام کو ترک نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً جہاد کا حکم ہے جب جہاد کا حکم شریعت دے گی تو اندھے لنگڑے، لُولے، ایسے مریض جو چل پھر نہیں سکتے یا بالکل بوڑھے، عورتیں اور بچے تو اس سے معذور ہو جاویں گے۔ مگر ایک شخص جس کا دس کروڑ کا مال ضائع ہو رہا ہو وہ بغیر اجازتِ امام کے معذور نہیں قرار پاسکتا غرض جسمانی نقص کے سوا کوئی روک تسلیم نہیں کی جاوے گی۔ لیکن وہ امور جو شریعت کے ماتحت نہیں ہوتے بلکہ ان کا کرنا نہ کرنا ہماری مرضی پر منحصر ہوتا ہے ان کے کرتے وقت مصلحتِ وقت کا دیکھنا ضروری ہوتا ہے اگر ان کے کرنے کی نسبت نہ کرنے میں فائدہ ہے تو ان کا نہ کرنا بہتر ہوگا۔ اور اگر نہ کرنے سے کرنے میں فائدہ ہے تو کرنا بہتر ہوگا۔ شرعی حکم کی موجودگی میں یہ کہنا کہ اس کام کے کرنے میں بڑا نقصان ہوگا جہالت ہے اور کمیِ ایمان کی علامت ہے۔ جب خدا کا حکم ہے تو خواہ کچھ ہو جائے اس کو کرنا چاہئے۔ لیکن جہاں شرعی حکم کوئی نہ ہو وہاں نقصان کی زیادتی کو دیکھ کر بھی کسی کام کے کرنے پر اصرار کرنا نادانی ہے کیونکہ جب شرعی حکم کوئی نہیں تو ہمارا فرض ہے کہ اپنے اور اپنی قوم کے فوائد کو ملحوظ رکھیں۔

ترکِ موالات کے مسئلہ میں پیچیدگیاں اور ان کا حل

مَیں نے جہاں تک سوچا ہے ترکِ موالات کے متعلق بحث کرتے وقت اس مذکورہ بالا اصل کو اچھی طرح نہیں سمجھا گیا اس لئے اس مسئلہ کے متعلق جس قدر بحثیں ہو رہی ہیں وہ دن بدن زیادہ پیچیدہ ہوتی جاتی ہیں کیونکہ کبھی تو اس کو دینی مسئلہ قرار دیا جاتا ہے اور جب اس میں کوئی مشکل پیش آجاتی ہے تو اسے ایک سیاسی اور ملکی سوال قرار دیا جاتا ہے یا اس کے اُلٹ طریق اختیار کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس مسئلہ کا حل نہایت مشکل ہو گیا ہے۔ حالانکہ مناسب یہ تھا کہ اس مسئلہ کے دونوں پہلوؤں پر الگ الگ نظر ڈالی جاتی۔ پہلے اس بات کو دیکھا جاتا کہ کیا ترکِ موالات شرعی حکم ہے؟ اگر وہ شرعی حکم ثابت ہو جاتا تو پھر بلا نتیجہ کے خوف کے اس پر عمل شروع کر دیا جاتا اور اگر شرعی حکم ثابت نہ ہوتا تو پھر یہ سوچا جاتا کہ آیا ترکِ موالات ہمارے لئے زیادہ مفید ہے یا اس کے سوا اور

کوئی راہ ہے جس کے ذریعہ ہم اپنا مدعا حاصل کر سکتے ہیں؟ جب تک اس مسئلہ کے متعلق اس طریق کو اختیار نہ کیا جاوے گا۔ یعنی اس کے شرعی اور سیاسی پہلوؤں پر الگ الگ نظر نہ ڈالی جاوے گی کبھی صحیح نتیجہ نہ نکلے گا اور ہمیشہ اس پر گفتگو کرنے والے زیادہ سے زیادہ الجھنوں میں پڑتے چلے جاویں گے نہ مؤید اس کی صداقت کو ذہن نشین کرا سکیں گے نہ مخالف اس کی غلطی کو آشکار کر سکیں گے۔ پس اس مسئلہ پر غور کرتے وقت اس امر کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہئے تاکہ خلط مبحث نہ ہو۔ اس مسئلہ کی مشروعیت پر الگ غور کیا جاوے اور اس کی مصلحت پر علیحدہ۔ چونکہ اس وقت مسلمانوں کو عام طور پر بتایا جاتا ہے کہ اس وقت حکومتِ ہند سے ترکِ موالات کرنا ایک شرعی فرض ہے اور عوام الناس میں اس کی مشروعیت کے خیال سے ہی جوش پیدا ہو رہا ہے اس لئے اس مسئلہ پر کوئی تحریر اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی اور نہ زیادہ فائدہ مند ہو سکتی ہے جب تک وہ اس مسئلہ کے شرعی پہلو پر کافی روشنی نہ ڈالے اور چونکہ مسلمانوں کے علاوہ دوسری اقوام اس مسئلہ کے شرعی پہلو سے اس قدر تعلق نہیں رکھتیں جس قدر کہ اس کے عملی پہلو سے اس لئے کوئی تحریر اس وقت تک بھی مکمل نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس میں اس کے عملی پہلو پر بھی بحث نہ کی جاوے۔ پس میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں ترکِ موالات کے دونوں پہلوؤں پر روشنی ڈالوں۔ لیکن علیحدہ علیحدہ تاکہ خلط مبحث نہ ہو۔ اور ہر ایک شخص آسانی سے سمجھ سکے کہ شریعت اس معاملہ میں ہم سے کیا چاہتی ہے اور اگر شریعت ہم سے اس معاملہ میں کچھ مطالبہ نہیں کرتی تو مصلحتِ وقت کس بات کا تقاضا کرتی ہے۔ اوّل میں اس مسئلہ کے شرعی پہلو کو لیتا ہوں۔

ترکِ موالات کے معنی

کسی سوال کا جواب سمجھنے کے لئے پہلے سوال کا سمجھ لینا ضروری ہوتا ہے اس لئے ترکِ موالات پر غور کرنے سے پہلے اس کے معنوں کو سمجھ لینا چاہئے۔ موالات کہتے ہیں دوستی کو یا کسی سے مدد لینے یا اسے مدد دینے کو۔ پس ترکِ موالات کے معنی یہ ہوئے کہ اس سے دوستی نہ کی جائے اور نہ اس سے مدد لی جائے نہ اسے مدد دی جائے۔ مولوی محمود الحسن صاحب نے اپنے فتویٰ میں یہی معنے لکھے ہیں۔ پس جب کہا جاتا ہے کہ انگریزی حکومت سے ترکِ موالات کی جائے تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ انگریزی حکومت سے نہ تو تعلقِ محبت رکھا جائے نہ ان سے کسی قسم کی مدد لی جائے اور نہ ان کو کسی قسم کی مدد دی جائے مگر ترکِ موالات کے حامی اس لفظ کو اس کے پورے معنوں میں استعمال نہیں کرتے وہ صرف اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سردست انگریزوں کے کالجوں میں تعلیم حاصل نہیں کرنی چاہئے سوائے میڈیکل کالج وغیرہ علمی کالجوں کے۔ اسی طرح ان کی عدالتوں میں مقدمات نہیں لے جانے چاہئیں۔ وکیلوں کو ان کی عدالت میں وکالت نہیں کرنی چاہئے ان کے دیئے ہوئے خطاب واپس کر دینے چاہئیں۔

ترکِ موالات کے حق میں دلائل

ترکِ موالات کے سوال پر شرعی نقطہ خیال سے دو طرح بحث ہو سکتی ہے ایک تو یہ کہ کیا اس وقت انگریزوں سے ترکِ موالات کرنا ایک شرعی فرض ہے؟ اور دوسرے یہ کہ کیا شریعت ترکِ موالات سے روکتی تو نہیں؟ اگر بحث اسی حد تک محدود رہتی کہ شریعت نے ترکِ موالات کو منع نہیں کیا تو چنداں فکر کی بات نہ تھی کیونکہ جس کام سے شریعت نہ روکتی ہو نہ اس کا حکم دیتی ہو ہر شخص کو اختیار ہوتا ہے کہ چاہے اسے کرے چاہے نہ کرے مگر اس وقت جو فتوے شائع ہو رہے ہیں ان میں یہ بتایا جاتا ہے کہ شریعتِ اسلام کے مطابق اس وقت انگریزوں سے موالات کرنی حرام ہے اور جو ان سے تعلق رکھتا ہے وہ گویا شریعت کا مجرم ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم نے اس تحریک کو قبول نہ کیا تو ہم اسلام سے خارج ہو جاویں گے حالانکہ جیسا کہ میں ثابت کروں گا یہ بات نہیں ہے اسلام کا کوئی حکم ایسا نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ انگریزوں سے ترکِ موالات کرنی ضروری اور فرض ہے۔ جو فتوے کہ اس وقت تک شائع ہو چکے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مندرجہ ذیل آیات سے انگریزوں کے ساتھ ترکِ موالات کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

۱۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَالنَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ ۘؔ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَمَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاِنَّہٗ مِنۡہُمۡ(المائدة: ۵۲) یعنی اے ایمان والو یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست اور مددگار مت بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور جو کوئی تم میں سے ان کو دوست اور مددگار بنائے وہ بھی ان ہی میں سے ہے۔ (ترجمہ منقول از فتویٰ مولوی محمود الحسن صاحب)

۲۔ لَا یَتَّخِذِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ وَمَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللّٰہِ فِیۡ شَیۡءٍ(آل عمران: ۲۹) مسلمانوں کو نہیں پہنچتا کہ وہ مومنین کے سوا کافروں کو اپنا دوست و مددگار بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس کو اللہ سے کچھ تعلق نہیں۔ (ترجمہ منقول از فتویٰ)

۳۔ بَشِّرِ الۡمُنٰفِقِیۡنَ بِاَنَّ لَہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمَا ۣالَّذِیۡنَ یَتَّخِذُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ اَیَبۡتَغُوۡنَ عِنۡدَہُمُ الۡعِزَّۃَ فَاِنَّ الۡعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیۡعًا(النساء: ۱۳۹-۱۴۰) ان منافقین کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو جو مومنین کے سوا کافروں کو اپنا رفیق بناتے ہیں کیا وہ ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں حالانکہ تمام تر عزت خدا کے لئے ہے۔ (ترجمہ منقول از فتویٰ)

۴۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ اَتُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَجۡعَلُوۡا لِلّٰہِ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا(النساء: ۱۴۵)،اے ایمان والو !مومنوں کے سوا کافروں کو اپنا یار و مددگار مت بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ کا الزام صریح لو۔ (ترجمہ منقول از فتویٰ)

۵۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَکُمۡ ہُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَالۡکُفَّارَ اَوۡلِیَآءَ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ(المائدۃ: ۵۸) اے ایمان والو !تم ان اہل کتاب اور کافروں کو اپنا یار و مددگار مت بناؤ جنہوں نے بنا لیا ہے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل ۔ اور اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔ (ترجمہ منقول از فتویٰ)

۶۔ تَرٰی کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ یَتَوَلَّوۡنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَہُمۡ اَنۡفُسُہُمۡ اَنۡ سَخِطَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ وَفِی الۡعَذَابِ ہُمۡ خٰلِدُوۡنَ وَلَوۡ کَانُوۡا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَالنَّبِیِّ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مَا اتَّخَذُوۡہُمۡ اَوۡلِیَآءَ وَلٰکِنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ(المائدۃ: ۸۱-۸۲) ان میں سے بہت سے تم ایسے دیکھو گے جو رفیق بنتے ہیں کافروں کے۔ بیشک برا ہے وہ جو آگے بھیجا ہے انہوں نے خود اپنے لئے کہ اللہ کا غضب ہے ان پر اور وہ ہمیشہ عذاب میں ہیں اور اگر یقین رکھتے وہ اللہ پر اور نبی پر اور جو جو نبی کی طرف اُتارا گیا اس پر تو کافروں کو رفیق نہ بناتے لیکن ان میں بہت سے نافرمان ہیں ۔ (ترجمہ منقول از فتویٰ)

۷۔ لَا تَجِدُ قَوۡمًا یُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰہَ وَرَسُوۡلَہٗ وَلَوۡ کَانُوۡۤا اٰبَآءَہُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَہُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَہُمۡ اَوۡ عَشِیۡرَتَہُمۡ ؕ اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡاِیۡمَانَ وَاَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡہُ ؕ وَیُدۡخِلُہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡہُ ؕ اُولٰٓئِکَ حِزۡبُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ(المجادلۃ: ۲۳) نہیں پاؤ گے تم کسی قوم کو جو یقین رکھتی ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر کہ وہ دوستی کرے ان سے جنہوں نے مقابلہ کیا اللہ کا اور اس کے رسول کا۔ اگر چہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ایسے ہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی روح سے ان کی مدد فرمائی اور ان کو داخل کریگا باغ بہشت میں جس کے نیچے بہتی ہیں نہریں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے خوش اور وہ اللہ سے خوش۔ یہ جماعت ہے اللہ کی۔ یاد رکھو کہ خدا کی جماعت ہی کامیاب ہوتی ہے۔ (ترجمہ منقول از فتویٰ)

۸۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا عَدُوِّیۡ وَعَدُوَّکُمۡ اَوۡلِیَآءَ تُلۡقُوۡنَ اِلَیۡہِمۡ بِالۡمَوَدَّۃِ وَقَدۡ کَفَرُوۡا بِمَا جَآءَکُمۡ مِّنَ الۡحَقِّ(الممتحنة: ۲)۔ اے ایمان والو! میرے دشمن اور اپنے دشمن کو رفیق مت بناؤ۔ پیغام بھیجتے ہو تم ان کی طرف دوستی کا حالانکہ وہ منکر ہوئے ہیں اس سچائی سے جو تمہارے پاس بھیجی ہے۔ (ترجمہ منقول از فتویٰ)

ان آیات سے استنباط کر کے یہ فیصلہ دیا گیا ہے کہ چونکہ انگریزوں نے مسلمانوں سے جنگ کی اور پھر ان میں سے بعض کو پکڑ کر جلا وطن کر دیا اور بعض علاقوں سے مسلمانوں کی حکومت کو اُٹھا دیا جو وہ بھی اخراج کا حکم رکھتا ہے اور مسلمانوں سے یہ لوگ عداوت رکھتے ہیں اور ان کے دین کو حقیر خیال کرتے ہیں اس لئے ان سے ترک موالات کرنی ضروری ہے۔

کون سے کافروں سے ترک موالات کرنی چاہئے؟

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار سے دوستی کرنے سے منع فرمایا ہے اور ان کی مدد کرنی یا ان سے مدد لینی جائز نہیں رکھی مگر ساتھ ہی اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہر ایک کافر کی نسبت یہ حکم نہیں ہے کہ اس سے دوستی نہ کی جاوے یا یہ کہ اس کے ساتھ موالات نہ کی جاوے۔ چنانچہ خود مولوی محمود الحسن صاحب دیوبندی نے اپنے فتویٰ میں اور مولوی کفایت اللہ صاحب دہلوی نے اپنے لیکچر میں بیان کیا ہے کہ ہندوؤں سے موالات جائز ہے حالانکہ یہ دونوں قومیں قرآن کریم کی رو سے کفار میں شامل ہیں پس جب ہندوؤں سے جو گو سیاسی طور پر انگریزوں سے ہمارے زیادہ قریب ہیں کیونکہ ہمارے اہل وطن ہیں لیکن مذہبی طور پر مسیحیوں کی نسبت ہم سے دُور ہیں کیونکہ مسیحی ان اہلِ کتاب میں سے ہیں جن کا قرآن کریم نے نام لے کر ذکر کیا ہے اور اہلِ ہنود اگر اہلِ کتاب میں سے ہیں تو اس طبقہ میں سے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے نام لے کر نہیں کیا۔ اسی طرح مسیحی بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام کو مانتے ہیں اور صرف ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر ہیں حالانکہ ہندو صاحبان بہت سے انبیاء کرامؑ کی نبوت کے منکر ہیں پس مذہبی نقطۂ خیال سے مسیحی ہندوؤں کی نسبت ہمارے زیادہ قریب ہیں اور جب کسی مسئلہ پر مذہبی طور پر ہی غور کرنا ہو تو مذہبی نقطۂ خیال ہی کو مد نظر رکھنا ہوگا۔ اندریں حالات اگر ہندوؤں یا سکھوں سے موالات ہو سکتی ہے تو مسیحیوں سے بدرجہ اولیٰ ہو سکتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ گو ہنود مسیحیوں سے مذہبًا زیادہ دُور ہوں لیکن ہنود میں وہ بات نہیں پائی جاتی جس کی وجہ سے ترک موالات فرض ہوتی ہے۔ پس قرآن کریم کے حکم کے مطابق ان سے موالات کرنا منع نہیں ہے بلکہ

اچھا ہے اور اس کی تائید میں سورہ ممتحنہ کی یہ آیت پیش کی جاتی ہے ۔ لَا یَنۡہٰٮکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَلَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ(الممتحنة: ۹) یعنی اللہ تم کو ان لوگوں سے جو تم سے لڑے نہیں اور جنہوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔ نیکی کرنے یا انصاف کا معاملہ کرنے سے منع نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ مگر ہم سوال کرتے ہیں کہ یہی آیت انگریزوں سے بھی ترکِ موالات کرنے سے روکتی ہے اور ان سے معاملات کا سلسلہ جاری رکھنے کی ہدایت کرتی ہے تو پھر ان سے ترکِ موالات کرنے کا کیوں فتویٰ دیا جاتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے اگلی ہی آیت میں فرمایا ہے کہ صرف ان ہی لوگوں سے ترکِ موالات کی جا سکتی ہے جو مسلمانوں سے دین کے بارے میں لڑے ہوں یا جنہوں نے ان کو اپنے ملکوں سے نکال دیا ہو یا دوسرے لوگوں کو ان کے نکالنے میں مدد دی ہو جیسا کہ فرماتا ہے۔ اِنَّمَا یَنۡہٰٮکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ قٰتَلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَاَخۡرَجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ وَظٰہَرُوۡا عَلٰۤی اِخۡرَاجِکُمۡ اَنۡ تَوَلَّوۡہُمۡ ۚ وَمَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ(الممتحنة: ۱۰) یعنی اللہ تعالیٰ تم کو صرف ان لوگوں سے دوستی کرنے سے روکتا ہے جو تم سے دین کے متعلق لڑے ہوں یا انہوں نے تم کو تمہارے گھر سے نکال دیا ہو یا تمہارے نکالنے میں مدد دی ہو اور جو کوئی ایسے لوگوں سے دوستی کرے وہ ظالموں میں سے ہے۔ اب ہر ایک شخص دیکھ سکتا ہے کہ نہ تو انگریز مذہب کی خاطر مسلمانوں سے لڑے ہیں اور نہ انہوں نے مسلمانوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ یا تو اپنا دین چھوڑ دیں یا اپنے ملک سے نکل جاویں اور نہ انہوں نے اس کام میں دوسرے لوگوں کی مدد کی ہے۔

میں نے گھروں سے نکالنے کے متعلق بھی مذہب کی شرط لگائی ہے اس لئے میرے نزدیک یہ شرط ضروری ہے کیونکہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اگر کوئی حکومت کسی مسلمان کو کسی دنیوی جرم کی سزا میں ملک بدر کر دے تو مسلمانوں کو اس حکومت سے ترکِ موالات کا حکم ہو جاتا ہے اسی دھوکے میں پڑ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دشمن آپ کے خلاف لوگوں کو لڑائی کے لئے اکساتے تھے انہوں نے بعض لوگوں کو ملک بدر کر دیا تھا اور ان کے دشمن کہتے تھے کہ اس نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا ہے اس لئے اس کا مقابلہ جائز ہے۔ مگر ہمیں اس معاملہ میں قیاس کی بھی ضرورت نہیں خود قرآنِ کریم نے اس مسئلہ کو صاف کر دیا ہے کہ اخراج سے مراد صرف وہ اخراج ہے جو اس لئے کیا گیا ہو کہ اس نے فلاں دین کو قبول کر لیا ہے چنانچہ اس اخراج کی تشریح جس کا اس آیت میں جو اوپر گزر چکی ہے

ذکر ہے سورہ حج میں اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں فرماتا ہے۔ اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُ ۣالَّذِیۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ بِغَیۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ(الحج: ۴۰-۴۱) یعنی اجازت دی گئی ہے جنگ کرنے کی ان لوگوں کو کہ جن سے جنگ کی جاتی ہے بہ سبب اس کے کہ ان پر ظلم کئے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ ضرور ان کی مدد پر قادر ہے۔ (یہ وہ لوگ ہیں) جن کو ان کے گھروں سے اس لئے نکالا گیا کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے یعنی وہ مشرک نہ تھے! اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ سورہ ممتحنہ کی آیت میں وَاَخْرَجُوْكُمْ کی آیت سے یہی مراد ہے کہ مذہبی فرض کے طور پر اسی قوم سے ترکِ موالات فرض ہوتی ہے جنہوں نے کسی قوم کو کسی خاص مذہب کے قبول کرنے کی وجہ سے ملک بدر کر دیا ہو۔

غرض سورہ ممتحنہ کی یہ آیت جس کو ہندوؤں کے ساتھ دوستی رکھنے کی تائید میں پیش کیا جاتا ہے اس سے صرف ہندوؤں ہی سے موالات رکھنے کی اجازت نہیں نکلتی بلکہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ترکِ موالات صرف اور صرف ان لوگوں سے کی جانی چاہئے جو مسلمانوں سے اسلام لانے کے الزام میں لڑتے ہوں اور اسلام سے پھرانے کے لئے جنگ کرتے ہوں یا ان کو اس لئے گھروں سے نکالتے ہوں کہ وہ کیوں ایک خدا کی پرستش کرتے اور سچے دین کو قبول کرتے ہیں یا اس فعل میں دوسروں کے مددگار ہوئے ہوں اور چونکہ یہ تینوں باتیں انگریزوں میں نہیں پائی جاتیں اس لئے ان سے ترکِ موالات درست نہیں۔

کیا ترکوں سے مذہبی جنگ کی گئی؟

کہا جاتا ہے کہ ترکوں سے جنگ ایک مذہبی جنگ تھی، لیکن یہ خیال درست نہیں کیونکہ جنگ اصل میں ترکوں سے نہ تھی بلکہ اصل جنگ جرمن سے تھی ترک تو بعد میں جا کر شامل ہوئے ہیں اور جرمن مسیحی مذہب کے ہیں اسی طرح ان کے حلیف آسٹریا والے بھی پس یہ جنگ خالص دنیوی تھی اور اسے مذہبی جنگ نہیں کہا جا سکتا نہ ابتداء کے لحاظ سے نہ انجام کے لحاظ سے۔ مذہبی جنگ تو اسے کہتے ہیں جس جنگ کی غرض یہ ہو کہ کسی مذہب کے ماننے والوں سے اس مذہب سے توبہ کرائی جائے اور اس وقت تک اس جنگ کو بند نہ کیا جائے جب تک مخالف اپنے مذہب سے توبہ نہ کر لیں جیسا کہ قرآن کریم کفار کی جنگوں کی نسبت فرماتا ہے۔ وَلَا یَزَالُوۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ حَتّٰی یَرُدُّوۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِکُمۡ اِنِ اسۡتَطَاعُوۡا(البقرة: ۲۱۸) یعنی کفار ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے تاکہ تم کو اپنے دین سے مُرتد کر دیں اگر ان کی طاقت ہو، یعنی گو تمہارا مُرتد کر دینا تو ان کی طاقت سے باہر ہے مگر کفار کی

غرض تم سے لڑنے سے یہی ہے کہ اگر ان کا بس چلے تو تم کو مُرتد کر دیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ گو کفار اپنے بد ارادہ میں تو خدا کے فضل سے ناکام رہے اور مسلمانوں پر فتح نہ پاسکے مگر اِکّا دُکّا آدمی جو ان کے قبضہ میں آگیا ہے تو انہوں نے اپنی طرف سے اس کو مُرتد کرنے کی کوشش کی ہے۔ بلال رضی اللہ عنہ۔ ابوجندل رضی اللہ عنہ۔ اور یاسر رضی اللہ عنہ کی مثالیں اس امر پر کافی سے زیادہ روشنی ڈالتی ہیں لیکن انگریزوں کے خلاف ان میں سے ایک بات بھی ثابت نہیں ہوتی۔ وہ مذہبِ اسلام سے پھرانے کے لئے جنگ نہیں کرتے اگر کرتے ہیں تو دنیوی اغراض کے لئے کرتے ہیں ہم لوگ مدتِ دراز سے ان کے زیرِ حکومت زندگی بسر کر رہے ہیں کیا کوئی شخص ثابت کر سکتا ہے کہ ایک شخص کو بھی انہوں نے جبراً مسیحی بنایا ہو ؟ اور کیا عراق اور شام کے لوگوں کو انہوں نے جبراً مسیحی بنانے کی کوشش کی ہے ؟ پھر کیا انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو یا عراق یا شام کے مسلمانوں کو مجبور کیا ہے کہ یا مسیحی ہو جاؤ یا ان علاقوں سے نکل جاؤ ؟ ہم تو خود ان کے اپنے ممالک میں جا کر تبلیغِ اسلام کرتے ہیں اور ان میں سے بعض سعید روحیں اسلام کو قبول بھی کرتی ہیں لیکن کبھی وہ اس امر سے ہمیں نہیں روکتے کہ کیوں مسیحیوں کو ہم مسلمان بناتے ہیں کجا یہ کہ مسلمانوں کو جبراً عیسائی بناویں۔ پھر جب کوئی شرط بھی مسیحیوں میں ایسی نہیں پائی جاتی کہ جس کی وجہ سے ان سے ترکِ موالات فرض ہو تو پھر ہندوؤں سے موالات اور انگریزوں سے ترکِ موالات کرنے کا فتویٰ دینے کا باعث کیا ہے ؟ ان آیات سے تو صاف یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو ہندوؤں سے بھی اور سکھوں سے بھی اور انگریزوں سے بھی موالات کرنی چاہئے اور ہمدردی سے اور انصاف سے پیش آنا چاہئے اور صرف ان لوگوں سے موالات ترک کرنی چاہئے جو یا تو اسلام سے پھرانے کے لئے جنگ کریں یا اسلام سے نہ پھرنے والوں کو ملک سے نکال دیں یا اس کام میں دوسروں کی مدد کریں۔

مذہبی دست اندازی کیا ہے

شائد بعض لوگ کہہ دیں کہ انگریزوں نے بعض ایسے لوگوں کو جلا وطن کیا ہے جو مثلاً خلافت کی تائید کرتے تھے اور ایسے ہی کاموں میں حصہ لیتے تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مذہبی دست اندازی سے صرف خالص مذہبی مسائل میں دخل اندازی مراد ہے نہ کہ ان مسائل میں دخل اندازی مراد ہے جن کے ساتھ سیاست بھی شامل ہو۔ مثلاً اگر کوئی شخص کہے کہ میرا یہ مذہب ہے کہ فلاں قوم کو قتل کر دینا چاہئے تو اس کے اس خیال کو مذہبی سوال نہیں سمجھا جاوے گا بلکہ چونکہ قتل ایک ایسا فعل ہے جس کا دوسرے شخص سے بھی تعلق ہے اس لئے اس شخص کو اجازت نہ دی جاوے گی کہ اس کو قتل کر دے اگر وہ دوسرا شخص حاکم ہے تو اس کا اختیار ہوگا کہ ایسے شخص کو گرفتار کرے اور اس کے اس فعل کو کوئی شخص مذہبی دست اندازی نہیں کہہ سکتا۔ مذہبی دست اندازی صرف ایسے ہی افعال میں تصرف کرنے کو کہہ سکتے ہیں جو صرف اس شخص کی ذات سے تعلق رکھتے ہوں جس نے وہ فعل کرنا ہے اور حکومت کا اس کے اندر دخل نہ ہو یعنی اس فعل کی سزا یا جزاء کو خدا تعالیٰ نے حکومت کے ذمہ نہ رکھا ہو اسی وجہ سے گو مدت ہائے دراز سے ہندوستان میں انگریز زانی کو رجم نہیں کرتے۔ چور کے ہاتھ نہیں کاٹتے مگر مسلمان اس کے خلاف کبھی شور نہیں مچاتے کہ یہ مذہبی دست اندازی ہے اور نہ کبھی انہوں نے اس کے خلاف ترکِ موالات کی تحریک کی کیونکہ یہ کام انسان کی اپنی ذات سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ دوسروں سے تعلق رکھتے ہیں اور کسی شخص کے مذہبی خیالات کے مطابق دوسروں کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ پس جب انگریزوں کے نزدیک خلافت کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتی کیونکہ وہ مسلم ہی نہیں ہیں اور خصوصاً جبکہ انہوں نے اپنی خلافت سے بھی دنیوی شان و شوکت علیحدہ کر لی ہے تو ان سے یہ اُمید رکھنا کہ اگر ہم لوگ خلافت کے لئے جدوجہد کریں جس کے دوسروں لفظوں میں یہ معنے ہوں گے کہ ہم ان کے زیرِ اقتدار ممالک میں سے جن پر انہوں نے جائز طور پر یا ناجائز طور پر قبضہ کر لیا تھا نکال دیں تو وہ خاموش رہیں کس طرح درست ہو سکتا ہے یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ ہم کوئی ایسا فعل کریں جو ان کے دنیوی مفاد کے لئے مضر ہو تو وہ صرف اس لئے کہ وہ ہمارا مذہبی مسئلہ ہے خاموش بیٹھے رہیں گے اس طرح تو ان کی کیا کوئی حکومت بھی نہیں چل سکتی۔ پس بعض مسلمانوں کو جو جلاوطن کیا گیا تھا تو اس کی یہ وجہ نہ تھی کہ وہ لوگ اسلام پر کیوں ایمان لائے تھے بلکہ یہ وجہ تھی کہ ان لوگوں کے افعال گورنمنٹ برطانیہ کے نزدیک اس کے سیاسی فوائد کے لئے مضر تھے ورنہ کیا وجہ ہے کہ اور کروڑوں مسلمان اس کی حکومت کے نیچے بستے ہیں وہ ان کو جلاوطن نہیں کرتی یا قید نہیں کرتی ؟

خلاصہ کلام یہ ہے کہ وہی آیت جس سے ترکِ موالات کے حامی انگریزوں سے ترکِ موالات کا فتویٰ اور ہندوؤں سے موالات کا حکم نکالتے ہیں ان کے دعویٰ کو غلط ثابت کرتی ہے اور دوسری آیات اسی مضمون کی تائید کرتی ہیں۔

اس جنگ میں لڑنیوالے کون تھے اور اس وقت مفتی کیوں خاموش رہے

علاوہ ازیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ جس جنگ کا انگریزوں پر الزام لگایا جاتا ہے اس میں لڑنے والے کون تھے ؟ خود ہندو اور سکھ اور مسلمان ہی تھے جنہوں نے جا کر ترکوں کو مارا۔ اگر یہ جنگ فی الواقع مذہبی جنگ تھی تو مسلمان ترکوں کے مخالف

لڑنے کے لئے کس طرح گئے؟ اور ہندوستان کے ہزاروں مولوی اس وقت کہاں گئے ہوئے تھے؟ اگر مان بھی لیا جاوے کہ بعض کو گورنمنٹ نے خاموش رکھنے کے لئے قید کر دیا تھا تو بھی باقی ہزاروں علماء تھے ان میں سے کوئی کیوں نہ بولا؟ یہ عجیب ذہول ہوا کہ خود اپنے ہاتھوں سے ملک فتح کیا اور پانچ سال کے عرصہ میں کسی کو خیال نہ آیا کہ انگریز تو مذہبی جنگ کر رہے ہیں ان سے تو علیحدہ رہنے کا ہمیں حکم ہے بلکہ ان سے تو بات کرنی بھی جائز نہیں۔ ذرا سوچو تو سہی کہ کیا اس وقت جنگ کر کے اب ترکوں کی حمایت کرنا اور ان کے خلاف جنگ کو مذہبی جنگ قرار دینا کہیں مسلمانوں کو اس فتویٰ کے نیچے تو نہیں لے آتا۔ ثُمَّ اَنۡتُمۡ ہٰۤـؤُلَآءِ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ وَتُخۡرِجُوۡنَ فَرِیۡقًا مِّنۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِہِمۡ ۫ تَظٰہَرُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ بِالۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ ؕ وَاِنۡ یَّاۡتُوۡکُمۡ اُسٰرٰی تُفٰدُوۡہُمۡ وَہُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیۡکُمۡ اِخۡرَاجُہُمۡ ؕ اَفَتُؤۡمِنُوۡنَ بِبَعۡضِ الۡکِتٰبِ وَتَکۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ(البقرۃ: ۸۶) یعنی اللہ تعالیٰ یہودیوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ پھر تم وہ لوگ ہو کہ اپنی جانوں کو قتل کرتے ہو (یعنی اپنے ہم مذہبوں کو) اور اپنے میں سے ایک گروہ کو ان کے گھروں سے نکالتے ہو اور ان کے خلاف گناہ اور زیادتی کے معاملات میں لوگوں کی مدد کرتے ہو اور اگر تمہارے پاس وہ قید ہو کر آ جاویں تو پھر تم ان کو فدیہ دے کر آزاد کرانا چاہتے ہو حالانکہ ان کا نکالنا ہی تمہارے لئے حرام تھا کیا تم کتاب کے کچھ حصہ پر ایمان لاتے ہو اور کچھ حصہ کا انکار کرتے ہو؟

اب میں کافی طور پر ثابت کر چکا ہوں کہ وہ آیت جسے ترک موالات کے مفتیوں نے ہنود سے دوستانہ تعلق رکھنے کے جواز میں پیش کیا ہے اسی سے انگریزوں سے موالات کرنا جائز ثابت ہوتا ہے۔ پس مفتی صاحبان نے فتویٰ دینے میں غلطی کی ہے اور قرآن کریم کے صریح الفاظ کی موجودگی میں اصولِ اسلام کے خلاف فتویٰ دے دیا ہے اور ایسا فتویٰ مسلمانوں کے لئے قابلِ عمل نہیں بلکہ اس پر عمل کرنا نا جائز ہے۔

آیاتِ پیش کردہ پر تفصیلی نظر

تمام آیاتِ پیش کردہ پر ایک اجمالی نظر ڈالنے کے بعد میں تفصیلی طور پر ان آیات کے مضمون پر نظر ڈالنی چاہتا ہوں تاکہ حقیقت کے طالبوں کو یہ معلوم ہو جاوے کہ وہ آیتیں اپنی ذات میں بھی اس دعویٰ کی تصدیق نہیں کرتیں جو بعض علماء کے فتویٰ میں پیش کیا گیا ہے۔

ان آیات کی تین اقسام

آٹھ آیات ہیں جو ترک موالات کی تائید میں پیش کی گئی ہیں میرے نزدیک یہ تین اقسام میں تقسیم ہیں اور تینوں کے متعلق ہمیں الگ الگ غور کرنا چاہئے ۔ مولوی محمود الحسن صاحب نے اپنے فتویٰ میں خود تحریر فرمایا ہے کہ قرآن کریم

میں جو لفظ تولّی کا استعمال ہوا ہے اس کے معنی وہ دوستی اور مدد کے کرتے ہیں۔ پس دیکھنا چاہئے کہ آیا یہ دونوں معنی تمام آیات میں چسپاں ہوتے ہیں یا مختلف آیات میں مختلف معنے چسپاں ہوتے ہیں؟ کیونکہ بسا اوقات ایک لفظ جو کئی معنے رکھتا ہو کسی فقرہ میں ایک معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کسی میں دوسرے معنے میں اور کسی میں دونوں معنوں میں۔ پس صرف لغت دیکھنا کافی نہ ہو گا بلکہ ان آیات پر بھی غور کرنا ہو گا کہ ان میں یہ لفظ اپنے متعدد معنوں میں سے کس معنے میں استعمال ہوا ہے یا یہ کہ سارے ہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ انگریزوں کے متعلق فتویٰ دیتے وقت ان کو مدّنظر رکھا جاوے اور میرے نزدیک ان آیات میں یہ لفظ دو مختلف صورتوں میں استعمال ہوا ہے۔ بعض میں تو دوستی اور امداد دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے اور بعض میں صرف دوستی کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ امداد کے معنے ان آیات میں مدّنظر نہیں ہیں۔ جو آٹھ آیتیں پیش کی جاتی ہیں ان میں سے پانچ میں تو دوستی اور امداد کے معنے ہیں اور دو میں دوستی کے۔ ایک آیت بالکل جُدا گانہ حیثیت رکھتی ہے جس کا میں سب سے آخر میں ذکر کروں گا۔

آیاتِ قسم اوّل

سب سے پہلے میں ان آیات کو لیتا ہوں جن میں دوستی اور امداد کے معنوں میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور بتاتا ہوں کہ ان کا اطلاق ہرگز اس زمانہ کے حالات پر نہیں ہو سکتا اور انگریزوں کے خلاف ان کے احکام کی بناء پر فتویٰ نہیں دیا جا سکتا۔

پہلی آیت

اس قسم کی آیات میں سے پہلی آیت یہ ہے لَا یَتَّخِذِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ وَمَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللّٰہِ فِیۡ شَیۡءٍ(اٰل عمران: ۲۹)۔ یہ آیت مفتیوں نے پوری نہیں لکھی اس کے ساتھ کا حصہ جو اس کے معنوں پر روشنی ڈالتا ہے یہ ہے۔ اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡہُمۡ تُقٰٮۃً ؕ وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفۡسَہٗ ؕ وَاِلَی اللّٰہِ الۡمَصِیۡرُ(اٰل عمران: ۲۹) جو حصہ ترکِ موالات کے حامیوں نے لکھا ہے اس کا ترجمہ خود ان ہی کے الفاظ میں یہ ہے ”مسلمانوں کو نہیں پہنچتا کہ وہ مؤمنوں کے سوا کافروں کو اپنا دوست و مددگار بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس کو اللہ سے کچھ تعلق نہیں“ اس آیت میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کہ مسیحیوں یا یہودیوں سے ایسا سلوک نہ کرو بلکہ بلاشblankرط حکم ہے کہ جو بھی کافر ہو اس سے دوستی نہ رکھو۔ پس اس آیت سے یہ فتویٰ نکالنا کہ انگریزوں ہی سے ترکِ موالات کی جاوے درست نہیں بلکہ اس آیت کے ماتحت تو سب ان لوگوں سے جو اسلام کا دعویٰ نہیں کرتے ترکِ موالات کرنی پڑے گی۔

ایک ضمنی سوال اور اس کا جواب

اگر کہا جاوے کہ قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک کافر سے ترک موالات کا حکم نہیں بلکہ خاص کفار سے ہے ان آیات کو اس آیت سے ملا کر ہم ایسا فتویٰ دیتے ہیں۔ تو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ انگریزوں کے متعلق فیصلہ دیتے وقت بھی ہمیں انہیں آیات کو مدنظر رکھنا پڑے گا۔ یہ درست نہ ہو گا کہ دوسرے لوگوں کے متعلق فیصلہ کرتے وقت ان آیات کو مدنظر رکھا جائے اور انگریزوں کے متعلق فتویٰ دیتے وقت ان کو مدنظر نہ رکھا جاوے۔ اور یہ میں پہلے بتا آیا ہوں کہ جو شرائط دوسری آیات میں ترک موالات کے لئے بتائی گئی ہیں وہ جس طرح اس وقت کے ہندوؤں میں نہیں پائی جاتیں اسی طرح انگریزوں میں بھی نہیں پائی جاتیں۔

یہ حکم حربی کفار کے متعلق ہے

علاوہ ازیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ خود اس آیت کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم ان حربی کفار کے متعلق ہے جن سے دین اسلام کے متعلق جنگ ہو رہی ہو۔ چنانچہ اس سے چند آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کا ذکر فرمایا ہے اور جنگ بدر کے ساتھ ہی بلکہ اس سے بھی کچھ عرصہ پہلے سے کفار کے ساتھ جنگ شروع ہو گئی تھی اور اسی طرح جنگ بدر کے بعد یہود کے بعض سرداروں سے بھی فساد پیدا ہو گیا تھا پس اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان ہی لوگوں سے جو برسر جنگ ہوں تعلق رکھنے سے منع فرماتا ہے اور ان سے دوستی رکھنے یا ان کو فوائد مسلمانان کے خلاف مدد دینے یا ان سے مدد لینے سے منع فرماتا ہے بلکہ خود اس آیت میں بھی یہی مضمون ہے۔ کیونکہ اسی آیت کے اس حصہ میں جسے مفتی صاحبان نے فتویٰ میں درج نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡہُمۡ تُقٰٮۃً ؕ وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفۡسَہٗ ؕ وَاِلَی اللّٰہِ الۡمَصِیۡرُ(آل عمران: ۲۹) یعنی کفار سے دوستی نہ کرو سوائے اس کے بچو ان سے اچھی طرح اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور اسی کی طرف تمہارا لوٹنا ہے۔

اِلَّا اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰةً کے وہ معنی جو عام طور پر کئے جاتے ہیں

اس آیت کے عام طور پر یہ معنے کئے جاتے ہیں کہ جس وقت جنگ میں یا جب کفار غالب ہوں کسی سے جبراً کوئی کلمہ کفر کا کہلوایا جاوے تو وہ ایسا کلمہ کہہ دے تو اس کو اجازت ہے چنانچہ سعید بن الجبیر کا قول ہے لَيْسَ فِي الْاَمَانِ التَّقِيَّةُ اِنَّمَا التَّقِيَّةُ فِي الْحَرْبِ یعنی تقیہ امان میں نہیں ہوتا بلکہ لڑائی میں

ہوتا ہے۔ اسی طرح ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تقیہ مخافۃ الناس کے وقت ہوتا ہے۔ اسی طرح دیگر مفسرین کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حصہ آیت جنگ کے ایام پر دلالت کرتا ہے جب مسلمانوں کو جبراً اسلام سے نکالا جاتا ہو اور زبردستی پکڑ کر ان سے اسلام سے بیزاری کا اعلان کروایا جاتا ہو۔ اور اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ایسے کفار سے تعلقات رکھنا گویا خود اسلام کے چھوڑنے کی خواہش کرنا ہے مگر کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ انگریز جبراً پکڑ پکڑ کر لوگوں کو اسلام سے توبہ کرا کر مسیحی بناتے ہیں اگر نہیں تو اس آیت سے ان کے خلاف عدم تعاون کا فتویٰ نکالنا کس طرح درست ہو سکتا ہے؟ اس آیت کا وہ حصہ جسے مفتیوں نے غلطی سے چھوڑ دیا ہے صاف بتا رہا ہے کہ ترکِ موالات ان ہی کافروں سے ہونی چاہئے جو جبراً اسلام سے پھراتے ہوں اور کفر کا اقرار کرتے ہوں۔

تقیہ کے متعلق سلف و خلف کا فتویٰ

گو یہ بات اس مضمون سے تعلق نہیں رکھتی لیکن چونکہ یہ آیت مضمون میں آگئی ہے اور مجھے ایک ایسے معنے اس آیت کے لکھنے پڑے ہیں جو عام طور پر اس وقت کے مسلمانوں میں رائج ہیں اس لئے میں اس قدر ضرور کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میں اس آیت کے ان معنوں کا قائل نہیں بلکہ میرا مذہب امام احمد بن حنبلؒ کی طرح یہ ہے کہ اِذَا اَجَابَ الْعَالِمُ تَقِیَّةً وَّ الْجَاهِلُ یَجْهَلُ فَمَتٰی یَتَبَیَّنُ الْحَقُّ وَالَّذِیْ نُقِلَ اِلَیْنَا خَلَفًا عَنْ سَلَفٍ اَنَّ الصَّحَابَةَ وَتَابِعِیْهِمْ وَ تَابِعِیْ تَابِعِیْهِمْ بَذَلُوْا اَنْفُسَهُمْ فِیْ ذَاتِ اللهِ وَ اَنَّهُمْ لَمْ تَاْخُذْهُمْ فِی اللهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ وَّلَا سَطْوَةُ جَبَّارٍ ظَالِمٍ یعنی جب واقف آدمی لوگوں سے ڈر کر کوئی غلط بات کہہ دے اور جاہل کو معلوم ہی نہ ہو تو حق پھر کب ظاہر ہوگا؟ اور جو کچھ بھی ہمیں پچھلے بزرگوں سے ابتدائی زمانہ کے بزرگوں کے متعلق روایت پہنچی ہے وہ تو یہی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہ اور تابعی اور ان کے تابعی خدا کے واسطے اپنی جانیں قربان کر دیتے تھے اور ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے تھے اور نہ ظالم اور جابر کے حملہ اور اس کی گرفت سے ڈرتے تھے۔ اس حوالہ سے ظاہر کہ نہ صرف حضرت احمد بن حنبلؒ اپنے خیال کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ وہ اس زبردست تاریخی شہادت کی بناء پر جو ان کے علم حدیث کے امام ہونے کے لحاظ سے ان کے زیر نظر تھی ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اپنا ہم خیال بتاتے ہیں اور واقعہ یہی ہے کہ ایک دو صحابیوں رضی اللہ عنہم کے جو اقوال بیان کئے جاتے ہیں ان میں سے بعض کا تو مطلب ہی نہیں سمجھا گیا اور بعض کی روایت نہایت کمزور ہے۔

اس آیت کے اصل معنی

اس آیت کے اصل معنے یہی ہیں کہ خدا تم کو حربی کفار سے دوستی رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ہاں اس کے مقابل میں فرماتا ہے کہ تم ان سے ہر طرح بچتے رہو اور ان کے مقابلہ کا سامان تیار کرو۔ اِتَّقیٰ کے معنے حفاظت کا سامان جمع کرنے کے بھی ہیں اور اگلا حصہ وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفۡسَہٗ(3:31) ان ہی معنوں کی تصدیق کرتا ہے کیونکہ اگر آیت کے یہ معنی ہیں کہ اے لوگو! تم کفار سے دوستی نہ کرو ہاں زبردستی کریں تو ان کے ضرر کے ڈر سے ان ہی کی سی بات کہہ دو اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے تو اس کا ایک حصہ دوسرے کا مخالف ہو جاتا ہے جب دین کے معاملہ میں بھی ہندوؤں سے ڈرنے کا وہ حکم دیتا ہے تو پھر اپنے ڈر پر زور دینے کا کیا مطلب ہوا؟ پس اصل مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤمنوں سے فرماتا ہے کہ اے مؤمنو! حربی کفار سے دوستی نہ کرو بلکہ اس کے مقابلہ میں ان کے شر سے بچنے کے لئے سامانِ حفاظت جمع کرو اور ان سے نہ ڈرو بلکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ ڈرنے کے قابل اسی کی ذات ہے اور اگر ایسا نہ کرو گے تو آخر ایک دن اسی کے حضور پیش ہونا ہے اپنے کئے کی سزا پاؤ گے۔ سورہ نحل کی اس آیت کی موجودگی میں جس میں جبر کے ماتحت کلمہ کفر کہنے والے کو بھی گنہگار قرار دیا ہے اور خدا کے راستہ میں ہجرت کرنے اور اس کے دین کے لئے تکالیف اُٹھانے کے بعد اس کے معاف کرنے کی اُمید دلائی ہے ان معنوں کے سوا کوئی اور معنی اس آیت کے کئے ہی نہیں جاسکتے۔

اس ضمنی سوال کا جواب دینے کے بعد میں پھر اصل مضمون کی طرف لوٹتا ہوں۔

دوسری آیت

ترکِ موالات کی تائید میں دوسری آیت جس میں کفار کی دوستی اور موالات سے روکا گیا ہے یہ پیش کی جاتی ہے بَشِّرِ الۡمُنٰفِقِیۡنَ بِاَنَّ لَہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمَا ۣالَّذِیۡنَ یَتَّخِذُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ اَیَبۡتَغُوۡنَ عِنۡدَہُمُ الۡعِزَّۃَ فَاِنَّ الۡعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیۡعًا(النساء: ۱۳۹-۱۴۰) اس کا ترجمہ مولوی محمودالحسن صاحب نے اپنے فتویٰ میں یوں کیا ہے ”ان منافقین کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنادو۔ مؤمنین کے سوا کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں کیا وہ ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں حالانکہ تمام تر عزت خدا کے لئے ہے“ اس ترجمہ کے الفاظ پر غور کرو۔ یہاں کہاں لکھا ہے کہ نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یا ان سے ترکِ موالات کرو یہاں تو تمام کفار کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ ان کو دوست نہ بناؤ اور پھر کوئی شرط نہیں بتائی کہ کس کو دوست بناؤ اور کس کو نہ بناؤ اس کے جواب میں یہی کہا جائے گا کہ بے شک اس جگہ سب کفار سے قطع تعلق کا حکم ہے اور کوئی شرط نہیں کہ فلاں کو دوست بناؤ اور فلاں کو نہ بناؤ۔ لیکن

سورہ ممتحنہ کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دوست بنانے اور نہ بنانے کے لئے شرائط ہیں ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مگر میں پوچھتا ہوں کہ کیا ان شرائط کو ہنود کے لئے ہی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا مسیحیوں کے لئے نظر انداز کیا جا سکتا ہے جن کی نسبت اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اَقۡرَبَہُمۡ مَّوَدَّۃً(المائدۃ: ۸۳) یعنی محبت میں وہ دوسری قوموں کی نسبت مسلمانوں سے سب سے زیادہ قریب ہیں جب وہ شرائط جن کے پائے جانے کی وجہ سے ہنود قابل موالات سمجھے گئے ہیں مسیحیوں میں بھی پائی جاتی ہیں تو ان سے ترک موالات کرنا شرعی فتویٰ کے ماتحت کیونکر درست اور جائز ہو سکتا ہے؟

اس آیت میں بھی حربی کافروں سے تولی منع کی گئی ھے

پھر میں اس آیت کی نسبت بھی وہی کہتا ہوں جو پہلی آیت کی نسبت کہہ چکا ہوں کہ اس آیت کا مضمون بھی صاف بتا رہا ہے کہ جن لوگوں سے تو لّی منع کی گئی ہے وہ حربی کافر ہیں کیوں کہ اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی نہ کرو۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم اس وقت برسرِ پیکار تھی اور اس سے تعلق رکھنا خود اس حکومت اور اس جماعت کے خلاف تھا جس کے وہ لوگ جن کو یہ حکم دیا گیا ہے افراد تھے پھر اس آیت سے اگلی آیات کو بھی دیکھا جاوے تو ان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم اس قوم کے متعلق ہے جو ہم سے دین کے متعلق جنگ کر رہی ہو یا دین کی وجہ سے ہمیں اپنے گھروں سے نکالتی ہو کیونکہ آگے چل کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَقَدۡ نَزَّلَ عَلَیۡکُمۡ فِی الۡکِتٰبِ اَنۡ اِذَا سَمِعۡتُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ یُکۡفَرُ بِہَا وَیُسۡتَہۡزَاُ بِہَا فَلَا تَقۡعُدُوۡا مَعَہُمۡ حَتّٰی یَخُوۡضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖۤ ۫ۖ اِنَّکُمۡ اِذًا مِّثۡلُہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ جَامِعُ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَالۡکٰفِرِیۡنَ فِیۡ جَہَنَّمَ جَمِیۡعَا ۣالَّذِیۡنَ یَتَرَبَّصُوۡنَ بِکُمۡ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَکُمۡ فَتۡحٌ مِّنَ اللّٰہِ قَالُوۡۤا اَلَمۡ نَکُنۡ مَّعَکُمۡ ۫ۖ وَاِنۡ کَانَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ نَصِیۡبٌ ۙ قَالُوۡۤا اَلَمۡ نَسۡتَحۡوِذۡ عَلَیۡکُمۡ وَنَمۡنَعۡکُمۡ مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ فَاللّٰہُ یَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ وَلَنۡ یَّجۡعَلَ اللّٰہُ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ سَبِیۡلًا(النساء: ۱۴۱-۱۴۲) یعنی ”اور تحقیق تم پر کتاب میں یہ نازل ہو چکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے انکار کیا جاتا ہے اور ان سے ہنسی کی جاتی ہے تو ایسا کرنے والے لوگوں کے ساتھ مت بیٹھاکرو یہاں تک کہ وہ اس کے سوا کسی اور بات میں مشغول ہو جائیں ورنہ تم بھی ان ہی میں شامل سمجھے جاؤ گے۔ ضرور اللہ تعالیٰ ان منافقوں اور کافروں کو جہنم میں جمع کرے گا جو تمہاری ہلاکت کے منتظر ہیں اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری فتح کا سامان ہوتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ اور اگر کفار کو کچھ حاصل ہوتا ہے یہ ان سے کہتے ہیں کہ کیا ہم تم پر غالب نہ تھے اور کیا ہم نے تم کو بچایا نہیں مؤمنوں سے؟ پس اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان قیامت کو فیصلہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ کبھی مسلمانوں پر کافروں کو غلبہ نہیں دے گا۔“

اِس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلی آیت جو لکھی گئی اس میں ان منافقوں کو جو مدینہ میں رہتے تھے اور اسلامی حکومت کے افراد تھے ان کافروں سے جو اسلام کے مٹانے کے لئے مسلمانوں سے برسرِ جنگ تھے دوستی رکھنے سے منع کیا گیا ہے اور ان کی مدد کرنے اور ان کو اُکسانے سے باز رکھا گیا ہے نہ کہ تمام دنیا جہاں کے کافروں سے ، اور انگریز ہرگز اسلام کی وجہ سے مسلمانوں سے نہیں لڑ رہے بلکہ جو لڑائی وہ کر چکے ہیں وہ بھی دنیوی وجوہ پر تھی۔

تیسری آیت

تیسری آیت جو ترکِ موالات کی تائید میں پیش کی جاتی ہے یہ ہے۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ اَتُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَجۡعَلُوۡا لِلّٰہِ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا(النساء: ۱۴۵) اس کا ترجمہ ترکِ موالات کے فتویٰ میں یوں لکھا گیا ہے۔ ”اے ایمان والو! مومنوں کے سوا کافروں کو اپنا یار و مددگار مت بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ کا الزام صریح لو۔“ اس آیت میں بھی پہلی آیت کی طرح یہ نہیں بتایا گیا کہ کن کفار سے ترکِ موالات کرو اور کن سے نہیں اور اس کی تشریح دوسری آیات ہی سے کرنی پڑے گی اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ ان آیات کو مدّ نظر رکھتے ہوئے انگریزوں سے ترکِ موالات کا حکم کسی صورت میں نہیں نکلتا۔

چوتھی آیت

اب میں چوتھی آیت کو لیتا ہوں جو یہ ہے۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا عَدُوِّیۡ وَعَدُوَّکُمۡ اَوۡلِیَآءَ تُلۡقُوۡنَ اِلَیۡہِمۡ بِالۡمَوَدَّۃِ وَقَدۡ کَفَرُوۡا بِمَا جَآءَکُمۡ مِّنَ الۡحَقِّ(الممتحنة: ۲) یعنی ”اے ایمان والو میرے دشمن اور اپنے دشمن کو رفیق مت بناؤ پیغام بھیجتے ہو تم ان کی طرف دوستی کا حالانکہ وہ منکر ہوئے ہیں اس سچائی سے جو تمہارے پاس بھیجی ہے“ (ترجمہ منقول از فتویٰ) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اور مخاطبوں کے دشمنوں کو دوست و مددگار بنانے سے منع فرمایا ہے لیکن یہ کہ دشمن سے کیا مراد ہے؟ اس کی تشریح نہیں فرمائی۔ دشمنی عقائد کے اختلاف کا نام بھی ہو سکتا ہے اور اس سے مراد وہ کینہ بھی ہو سکتا ہے جس کے اثر سے انسان اپنے مخالف کو بالکل تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے پس اس آیت میں ”عدوّ“ کے جو معنے ہیں وہ معلوم کرنے ہمارے لئے ضروری ہیں اور اس لئے ہمیں دُور جانے کی ضرورت نہیں اسی آیت کے اگلے حصہ میں اس دشمنی کی اللہ تعالیٰ نے خود تفصیل فرما دی ہے جو نہ معلوم کس وجہ سے فتویٰ نویسوں نے ترک کر دی ہے پوری آیت یوں ہے یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا عَدُوِّیۡ وَعَدُوَّکُمۡ اَوۡلِیَآءَ تُلۡقُوۡنَ اِلَیۡہِمۡ بِالۡمَوَدَّۃِ وَقَدۡ کَفَرُوۡا بِمَا جَآءَکُمۡ مِّنَ الۡحَقِّ ۚ یُخۡرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَاِیَّاکُمۡ اَنۡ تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ رَبِّکُمۡ ؕ اِنۡ کُنۡتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِہَادًا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ وَابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِیۡ ٭ۖ تُسِرُّوۡنَ اِلَیۡہِمۡ بِالۡمَوَدَّۃِ ٭ۖ وَاَنَا اَعۡلَمُ بِمَاۤ اَخۡفَیۡتُمۡ وَمَاۤ اَعۡلَنۡتُمۡ ؕ وَمَنۡ یَّفۡعَلۡہُ مِنۡکُمۡ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیۡلِ(الممتحنة: ۲) اور اس سے اگلی آیت یہ ہے اِنۡ یَّثۡقَفُوۡکُمۡ یَکُوۡنُوۡا لَکُمۡ اَعۡدَآءً وَّیَبۡسُطُوۡۤا اِلَیۡکُمۡ اَیۡدِیَہُمۡ وَاَلۡسِنَتَہُمۡ بِالسُّوۡٓءِ وَوَدُّوۡا لَوۡ تَکۡفُرُوۡنَ(الممتحنة: ۳) اور ان دونوں آیتوں کا ترجمہ یہ ہے ۔ ”اے مومنو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ تم ان کو محبت کے پیغام بھیجتے ہو یا یہ کہ تم ان کو خط لکھتے ہو۔ حالانکہ انہوں نے اس حق کا انکار کر دیا ہے جو تمہارے پاس آیا ہے وہ لوگ رسولؐ کو اور تم کو اس لئے جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اللہ پر جو تمہارا رب ہے ایمان کیوں لائے؟ اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے کے لئے اور میری رضا کے حاصل کرنے کے لئے نکلتے ہو تو ان کی طرف پوشیدہ طور پر محبت کے پیغام بھیجتے ہو یا یہ کہ پوشیدہ طور پر خط بھیجتے ہو (مودۃ خط کو بھی کہتے ہیں) حالانکہ میں خوب جانتا ہوں اس کو جو تم چھپاتے ہو یا جسے ظاہر کرتے ہو اور جو کوئی شخص تم میں سے ایسا کرے وہ ضرور سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔ اگر وہ کہیں تم کو پکڑ پاویں تو ضرور تمہارے دشمن ہوں اور اپنے ہاتھ بھی تمہاری طرف بڑھاویں اور اپنی زبانیں بھی دراز کریں اور خواہش کرتے ہیں کہ تم کافر ہو جاؤ۔“ اگر فتویٰ شائع کرنے والے اس آیت کو سارے کا سارا نقل کر دیتے بلکہ اگلی آیت بھی ساتھ درج کر دیتے تو شاید اس کے متعلق مجھے کچھ لکھنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی کیونکہ اس آیت کا مضمون خود ہی شاہد ہے کہ انگریزوں سے ترکِ موالات کے ساتھ آیت کا تعلق ہی نہیں ہے اس آیت میں صاف طور پر اس بات کا بھی ذکر ہے کہ جو قوم تم سے جنگ کر رہی ہو اور تم کو خدا تعالیٰ پر ایمان لانے کے سبب سے تمہارے گھروں سے نکالتی ہو اور اگر تم اس کے قابو پڑ جاؤ تو تم کو واپس کفر میں لانے کے لئے زبان اور ہاتھوں سے ایذاء دینے میں بھی اسے کوئی عار نہ ہو تو ایسی قوم سے دوستی نہ کرو اور دوستی کی تشریح بھی فرما دی کہ یہ نہ کرو کہ اسلامی لشکر کی خبریں اسے خفیہ طور پر پہنچاؤ۔ اور یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ نہ یہ باتیں انگریزوں میں پائی جاتی ہیں اور نہ اس قسم کی دوستی ان سے کوئی کرتا ہے ہم تو خود ان کے زیر حکومت بستے ہیں ان کے اور ہمارے تعلقات اس قسم کے ہو ہی نہیں سکتے جو اس آیت میں بیان کئے گئے ہیں اور جب یہ بات ہے تو اس سے ترکِ موالات کا جواز بلکہ حکم

نکالنا کس طرح درست ہو گیا ؟ یہ چار آیات ہیں جن میں کفار کی تولّی سے مسلمانوں کو روکا گیا ہے اور ان آیتوں میں واقع تولّی سے مراد دوستی اور مدد کا لینا اور مدد دینا ہے لیکن جیسا کہ میں ثابت کر چکا ہوں ان چار آیتوں میں ان کفار سے تولّی یا ولایت منع کی گئی ہے جو دین اسلام کے مٹانے کے لئے جنگ کر رہے ہوں اور مسلمانوں کو گھروں سے نکال رہے ہوں لیکن انگریز نہ مسلمانوں کو دین اسلام سے پھرانے کے لئے جنگ کر رہے ہیں اور نہ دین سے پھرانے کے لئے ان کو گھروں سے نکالتے ہیں ان کی حکومت میں مسلمان کھلے بندوں اسلام کی تائید میں وعظ اور تبلیغ کرتے ہیں اور خود مسیحیوں کو مسلمان بناتے ہیں مگر وہ کسی سے باز پُرس نہیں کرتے۔

آیات قسم دوم

اب میں ان تین آیتوں کو لیتا ہوں جن میں امداد کا ذکر نہیں صرف محبت کرنے کا ذکر ہے۔

پہلی آیت

اوّل آیت تو بالکل صاف ہی ہے کیونکہ اس میں لفظ ہی محبت کا ہے۔ یعنی لَا تَجِدُ قَوۡمًا یُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰہَ وَرَسُوۡلَہٗ وَلَوۡ کَانُوۡۤا اٰبَآءَہُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَہُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَہُمۡ اَوۡ عَشِیۡرَتَہُمۡ ؕ اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡاِیۡمَانَ وَاَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡہُ ؕ وَیُدۡخِلُہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡہُ ؕ اُولٰٓئِکَ حِزۡبُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ(المجادلة: ۲۳) نہیں پاؤ گے تم کسی قوم کو جو یقین رکھتی ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر کہ وہ دوستی کرے ان سے جنہوں نے مقابلہ کیا اللہ اور اس کے رسول کا اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ایسے ہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کر دیا اور اپنی روح سے ان کی مدد فرمائی اور ان کو داخل کر لیا باغ بہشت میں جس کے نیچے بہتی ہیں نہریں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے خوش اور وہ اللہ سے خوش۔ یہ جماعت ہے اللہ کی۔ یاد رکھو کہ خدا کی جماعت ہی کامیاب ہوتی ہے۔ (ترجمہ منقول از فتوٰی) جیسا کہ اس آیت کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے اس میں لینے دینے کا بلکہ دوستی کا بھی کوئی ذکر نہیں بلکہ محبت کا ذکر ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ جو لوگ خدا اور اس کے رسول کے دشمن ہوں ان سے محبت نہ کی جائے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جو شخص بھی ایسا ہو کہ اسے ہم سے صرف مذہبی اختلاف ہی نہیں بلکہ وہ خدا اور رسول کو بھی بُرا بھلا کہتا ہو اس سے ہمیں ہرگز محبت نہیں کرنی

چاہئے خواہ ایسا شخص انگریزوں میں سے ہو خواہ ہندوؤں میں سے ہو خواہ یہودیوں میں سے ہو خواہ خود مسلمانوں میں سے ہو۔ متعصب اور بُرا بھلا کہنے والے انسان سے محبت کس طرح ہوسکتی ہے؟ جو شخص اخلاق سے عاری ہے اور دوسرے مذاہب کے بزرگوں پر غضب کا اظہار کرتا ہے اور عداوت سے کام لیتا ہے وہ ہرگز محبت کے قابل نہیں مگر اس آیت کے کسی قوم یا مذہب کے لوگوں سے ترکِ موالات کا مسئلہ نکالنا کسی طرح بھی درست نہیں ہوسکتا اور اس آیت کے الفاظ سے جیسا کہ ظاہر ہوتا ہے اس آیت کے مضمون اور ترکِ موالات کے مضمون میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

دوسری آیت

دوسری آیت جس میں کفار سے محبت منع کی گئی ہے یہ ہے۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَالنَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ ۘؔ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَمَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاِنَّہٗ مِنۡہُمۡ(المائدۃ: ۵۲) یعنی ”اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست و مددگار نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو کوئی ان سے دوستی کرے گا وہ ان ہی میں شامل سمجھا جائے گا۔“

اس آیت میں صرف حربی یہود و نصاریٰ مراد ہیں

اس آیت کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ اس میں کوئی شرط نہیں بیان فرمائی کہ فلاں قسم کے یہود و نصاریٰ سے دوستی نہ کرو اور فلاں سے کرو بلکہ بلا کسی شرط کے یہود و نصاریٰ کی دوستی سے منع کر دیا گیا ہے لیکن یہ استدلال درست نہ ہو گا کیونکہ ترکِ موالات کے متعلق جو آیات پیش کی جاتی ہیں ان میں سے تین میں کفار سے دوستی کرنے اور ان کے مددگار ہونے سے مطلقاً منع کیا گیا ہے مگر باوجود اس کے ہندوؤں سے دوستی کو ترکِ موالات کے حامیوں نے جائز قرار دیا ہے اور اس کی ذیل میں وہ سورہ ممتحنہ کی آیت پیش کرتے ہیں اور ان آیات کے عام الفاظ کو اس آیت کے مضمون سے خاص کرتے ہیں اسی طرح اس آیت کو بھی حل کرنا چاہئے اور اسی آیت کے ساتھ ملا کر اس کے معنی کرنے چاہئیں اور وہ معنے یہی ہوں گے کہ وہ یہود و نصاریٰ جو تم سے لڑائی کرتے ہوں یا لڑائی کرنے والوں کے شریک ہوں ان سے دوستی نہ کرو۔

اس آیت میں صرف دوستی کا ذکر ہے

مگر میرے نزدیک اس آیت میں مددگار بننے اور مدد لینے کا ذکر ہی نہیں ہے۔ بلکہ جیسا کہ اسی مضمون کی اگلی آیت سے معلوم ہوتا ہے اس میں صرف دوستی کرنے کا ذکر ہے وہ اگلی آیت جسے ترکِ موالات کے حامیوں نے بھی پیش کیا ہے یہ ہے۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیۡنَ(5:58) اتَّخَذُوۡا دِیۡنَکُمۡ ہُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَالۡکُفَّارَ اَوۡلِیَآءَ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ(المائدة: ۵۸) یعنی ”اے ایمان والو تم ان اہلِ کتاب اور کافروں کو اپنا یار و مددگار مت بناؤ جنہوں نے بنالیا ہے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل۔ اور اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔“ (ترجمہ منقول از فتویٰ)

ترکِ تولّی کے لئے شرط

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تولّی کے ترک کرنے کے لئے ایک شرط لگائی ہے۔ یعنی ان اہلِ کتاب اور نصاریٰ سے تولّی نہ کرو جو تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بناتے ہیں لیکن یہود و نصاریٰ کے علاوہ باقی کافروں کو بھی اس حکم میں شامل کر دیا ہے۔ پس پہلی آیت کے یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ یہود و نصاریٰ سے خواہ کسی حالت میں ہوں تولّی ناجائز ہے بلکہ پچھلی آیت میں جو شرط لگائی ہے وہ لگانی ضروری ہوگی ورنہ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ یہ کہنا پڑے گا کہ کچھ آیت پہلے تو اللہ تعالیٰ یہ حکم دیتا ہے کہ یہود و نصاریٰ سے مطلقاً دوستی نہ کرو ان سے امداد نہ لو اور نہ ان کو دو۔ اور کچھ آیت کے بعد فرماتا ہے کہ جو ان میں سے دین کو ہنسی یا کھیل بناویں ان سے ایسا تعلق پیدا نہ کرو۔ غرض پہلی اور دوسری دونوں آیتوں میں یہ شرط ساتھ لگانی پڑے گی کہ ان یہود و نصاریٰ سے دوستی نہ کی جاوے جو اسلام کو ہنسی اور کھیل بناتے ہیں اور جب اذان دی جاتی ہے تو اس پر ہنستے ہیں اور اسے کھیل بنا لیتے ہیں جیسا کہ ساتھ ہی فرمایا ہے وَاِذَا نَادَیۡتُمۡ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوۡہَا ہُزُوًا وَّلَعِبًا(المائدة: ۵۹)، یعنی جب تم نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو وہ ہنسی اور کھیل بنا لیتے ہیں لیکن صرف یہود و نصاریٰ کی نسبت ہی یہ فتویٰ نہیں ہو گا بلکہ باقی تمام لوگوں کی نسبت بھی ہو گا خواہ ہندو ہوں خواہ سکھ کیونکہ دوسری آیت میں صاف طور پر یہود و نصاریٰ کے ساتھ وَالْكُفَّارَ(المائدة: ۵۸) کا لفظ بڑھا کر یہود و نصاریٰ کے سوا جس قدر کافر ہیں ان کو بھی اس فتویٰ میں شامل کر دیا گیا ہے۔ پس جو حکم یہود اور نصاریٰ کی نسبت دیا جائے گا وہی حکم وَ الْكُفَّارَ کے لفظ کی وجہ سے دوسرے تمام مذاہب کے پیروؤں کی نسبت بھی لگانا پڑے گا۔

ان آیتوں میں صرف دوستی سے منع کیا گیا ہے

جیسا کہ ان دونوں آیتوں کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے ان میں تولّی سے مراد صرف دوستی ہے مدد لینے یا دینے کا ذکر نہیں۔ کیونکہ دین سے ہنسی یا اذان سے ہنسی کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے کہ حکومتوں کا اس سے تعلق ہو۔ یہ بات افراد سے تعلق رکھتی ہے پس مراد یہی ہوئی کہ یہودیوں عیسائیوں یا دیگر مذاہب کے پیروؤں میں سے جو لوگ تمہارے دین پر ہنسی کریں تمسخر اڑائیں اور اذان سن کہ اس کو ایک کھیل قرار دیں ایسے لوگوں سے گہرے تعلق نہ رکھو ورنہ تم بھی ان ہی لوگوں میں شامل سمجھے جاؤ گے اور یہ بات بالکل درست ہے کہ جو شخص ایسے لوگوں کی مجلس میں بیٹھتا ہے جو اس کے دین کا تمسخر اُڑاتے ہیں اور اس سے ہنسی کرتے ہیں اس کو بُرا نہیں مناتا وہ یا تو دل سے اس دین سے بیزار ہو چکا ہوتا ہے یا اس کے دل کے اندر تغیر پیدا ہونا شروع ہو چکا ہوتا ہے اور تھوڑے عرصہ کے بعد وہ ان ہی لوگوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ جب ایمان ہوتا ہے تو غیرت ساتھ ضرور ہوتی ہے ایمان غیرت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ جب کوئی شخص یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس سے یا اس کے ماں باپ سے تمسخر کیا جاوے اور ان کو کھیل بنایا جاوے تو وہ اس امر کو کب برداشت کر سکتا ہے کہ دین کے متعلق تمسخر کرنے والوں سے دوستی رکھے۔

یہاں دوستی سے کیسی دوستی مراد ہے؟

یہاں دوستی سے کیسی دوستی مراد ہے؟ اس کی تشریح ہمیں قرآن کریم کی دوسری آیات سے بھی معلوم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔ وَاِذَا رَاَیۡتَ الَّذِیۡنَ یَخُوۡضُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ حَتّٰی یَخُوۡضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖ ؕ وَاِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّکۡرٰی مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ(الانعام: ۶۹) یعنی "اے قرآن کے پڑھنے والے جب تُو دیکھے ان لوگوں کو جو تمہاری آیتوں میں بیہودہ بکواس کرتے اور ان کی تکذیب کرتے ہیں تو ان سے علیحدہ ہو جا یہاں تک کہ وہ اور باتوں میں مشغول ہوں اور اگر شیطان تجھے بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے پاس مت بیٹھ۔" اسی طرح ایک اور آیت میں جس کے متعلق میں پہلے تفصیل بیان کر چکا ہوں آتا ہے۔ وَقَدۡ نَزَّلَ عَلَیۡکُمۡ فِی الۡکِتٰبِ اَنۡ اِذَا سَمِعۡتُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ یُکۡفَرُ بِہَا وَیُسۡتَہۡزَاُ بِہَا فَلَا تَقۡعُدُوۡا مَعَہُمۡ حَتّٰی یَخُوۡضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖۤ ۫ۖ اِنَّکُمۡ اِذًا مِّثۡلُہُمۡ(النساء: ۱۴۱) یعنی "خدا تعالیٰ نے تم پر کتاب میں یہ حکم نازل کر چھوڑا ہوا ہے کہ جب تم سنو کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے اور ان سے ہنسی کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کے پاس نہ بیٹھو یہاں تک کہ وہ اور باتوں میں لگ جاویں۔" ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں آیات اللہ سے ہنسی ہوتی ہو وہاں نہیں بیٹھنا چاہئے اور آیات جو اوپر بیان ہوئیں ان میں بھی یہی ذکر ہے کہ ان یہود و نصاریٰ اور دیگر کافروں سے دوستی نہ کرو جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے ہنسی کرتے ہیں پس ان آیات کا یہی مطلب ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ زیادہ تعلق نہ رکھو اور ان سے زیادہ ملو جلو نہیں اور کسی سیاسی مسئلہ کا یہاں ذکر نہیں بلکہ اس دوستی کا ذکر ہے جو ایک شخص دوسرے سے کرتا ہے اور اس

تعلق کا بیان ہے جو دو محبت کرنے والوں کے درمیان ہوتا ہے۔ پس ان آیات سے ترکِ موالات کا فتویٰ نکالنا کسی طرح درست ہو ہی نہیں سکتا اور اگر کوئی فتویٰ نکلے گا تو وہ اسی طرح جس طرح انگریزوں پر چسپاں ہوگا ہندوؤں پر بھی چسپاں ہو گا کیونکہ ان آیات میں تمام کفار کا ذکر ہے نہ صرف یہود و نصاریٰ کا۔

اذان وغیرہ پر تمسخر اور استہزاء انگریز کرتے ہیں یا ہندو و سکھ وغیرہ؟

یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ گو مسیحی اسلام پر کس قدر ہی اعتراض کیوں نہ کرتے ہوں مگر وہ ہمارے دین کی اور اذان کی تضحیک نہیں کرتے بلکہ ان لوگوں میں جن کے ساتھ موالات جائز رکھی جاتی ہے یعنی ہندوؤں اور سکھوں میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو تمسخر سے کام لیتے ہیں اور اذان پر شور مچاتے ہیں بلکہ فساد پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

یہ حکم کسی قوم کے متعلق نہیں بلکہ افراد کے متعلق ہے

مگر جیسا کہ میں ثابت کر چکا ہوں کہ اس آیت کے الفاظ اور دوسری آیات کی تشریح سے ان آیات کے یہی معنی معلوم ہوتے ہیں کہ اس جگہ کسی قوم پر بحیثیت مجموعی فتویٰ نہیں دیا گیا جس طرح پہلی آیات میں دیا گیا تھا کہ جو قوم تم سے دین کی خاطر جنگ کرتی ہو اس کے کسی شخص سے تعلق دوستی نہ رکھو بلکہ اس میں افراد کے متعلق حکم ہے کہ یہودیوں عیسائیوں یا دوسرے کافروں میں سے جو لوگ دین سے تمسخر کرنے والے ہوں ان سے (نہ کہ ان کی ساری قوم سے) دوستانہ تعلقات نہ رکھو ورنہ تم بھی ان ہی میں شامل سمجھے جاؤ گے اس حکم کے ماتحت گو انگریزوں سے ہماری صلح ہو مگر جو انگریز بھی ہمارے دینی احکام پر ہنسے گا اور دین پر بجائے سنجیدگی سے غور کرنے کے تمسخر اُڑائے گا ہم اس سے میل ملاپ نہ کریں گے اور اس کی صحبت میں نہ بیٹھیں گے جب تک وہ سنجیدگی پیدا نہ کرے۔ اسی طرح ہندو سے گو ہماری صلح ہو مگر ان میں سے اگر کوئی شخص ہمارے دین سے تمسخر کرے گا تو ہم اس کے ساتھ بیٹھنا اُٹھنا بند کر دیں گے جب تک وہ اپنی اس عادت سے باز نہ آ جاوے اور اگر کوئی ایسے شخص سے دوستانہ تعلقات رکھے گا اور اس کی مجلس میں خوب شوق سے جاتا ہو گا تو ہم اس کی نسبت بھی یقین کریں گے کہ وہ اسلام سے بیزار ہے اور اس شخص کا ہم خیال ہے۔

ان ہر دو قسم کی آیات کے احکام میں فرق

غرض پہلی چار آیات میں جو احکام بیان کئے گئے ہیں وہ اقوام کے متعلق ہیں جن اقوام پر وہ احکام چسپاں ہوتے ہوں ان کے کسی فرد سے بھی ہم تعلق نہیں رکھ سکتے جب تک وہ ان کو چھوڑ کر ہم سے نہ

آئے۔ اور پانچویں آیت میں مدد لینے یا دینے کے متعلق کوئی ارشاد نہیں صرف یہ حکم ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہوں ان سے قلبی محبت نہ رکھو۔ اور پچھلی دونوں آیتوں میں جو احکام بیان کئے گئے ہیں وہ افراد کے متعلق ہیں جس شخص میں وہ عیب پایا جائے گا جو ان آیتوں میں بیان کیا گیا ہے اس سے ہم تعلق توڑ دیں گے باقی قوم پر اس کا کوئی اثر نہ ہوگا۔

اسلام نے تنگ دلی نہیں سکھائی

اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام نے تنگ دلی نہیں سکھائی اور ان آیات کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کوئی شخص اسلام پر بغرض تحقیق بھی اعتراض کرے تو ہم اس سے تعلق قطع کر دیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ جو شخص تمسخر کرے اور حق جوئی اس کے مدّ نظر نہ ہو بلکہ تحقیر اور ہنسی مذاق اڑانا مدّ نظر ہو اس کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا موقوف کر دیں کیونکہ یہ فعل بے غیرتی پر دلالت کرتا ہے اور بے غیرتی نہایت رذیلے اخلاق میں سے ہے۔

آیت پیش کردہ (المائدۃ : ۵۲) اور سیّد رشید رضا کا ایک واقعہ

سیّد محمد رشید رضا صاحب ایڈیٹر المنار مصر جن سے ہندوستان کے اکثر لوگ واقف ہوں گے کیونکہ وہ ۱۹۱۲ء میں ندوۃ العلماء کے جلسہ کے پریذیڈنٹ ہونے کے لئے ہندوستان آئے تھے اور ہندوستان کے مشہور مقامات کا ایک دورہ بھی انہوں نے کیا تھا انہوں نے آیت یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَالنَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ(المائدۃ: ۵۲) کے متعلق ایک واقعہ لکھا ہے جس کا اس جگہ لکھ دینا خالی از فائدہ نہ ہوگا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ۱۹۱۲ء میں مَیں قسطنطنیہ گیا تھا وہاں کی یونیورسٹی میں مَیں دینی تعلیم کی حالت دیکھنے گیا۔ ایک مدرس اس آیت کی تفسیر بیان کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اس آیت سے نکلتا ہے کہ یہود اور نصاریٰ سے بالکل تعلق نہیں رکھنا چاہئے اور ان سے دوستی نہیں کرنی چاہئے۔ جب وہ مدرس ترکی میں تقریر کر چکا۔ ایک طالب علم کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ پھر سلطنت عثمانیہ کیوں ان دونوں قوموں کو پارلیمنٹ کا ممبر بناتی ہے اور وزارت تک کے عہدے دیتی ہے؟ اس پر مدرس ایسا گھبرایا کہ اس کے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔ کیونکہ اگر وہ کہتا کہ یہ حکومت کی غلطی ہے تو ڈر تھا کہ مارا جاتا اور بیضاوی کے لکھے ہوئے معنوں کے سوا اس کے دماغ میں اور کوئی معنے تھے ہی نہیں اس پر مَیں نے کہا کہ کیا مجھے کچھ کہنے کی اجازت ہے؟ اس نے اجازت دی اور مَیں نے اسے ولایۃ کے معنے بتائے اور بتایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ان قوموں سے کیسے تعلق تھے؟ پس ولایۃ سے مراد ان کفار کی مدد ہے جو برسرِ پیکار تھے ورنہ خود صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے زمانہ حکومت میں ان کو بڑے بڑے عہدے دیئے ہیں اور عباسیوں نے تو وزیر تک بنائے ہیں۔ اس پر سائل کی تسلی ہو گئی اور مدرس صاحب کا خوف دُور ہو گیا۔ گو سیّد رشید رضا صاحب کی نظر ان معنوں تک نہیں پہنچی جو مَیں نے لکھے ہیں مگر بہرحال یہ واقعہ جو انہوں نے بیان کیا ہے ترکِ موالات کے حامیوں کے لئے ایک سبق ہے۔

تیسری قسم کی آیت

آٹھویں آیت جو ترکِ موالات کے حامیوں نے پیش کی ہے یہ ہے۔ تَرٰی کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ یَتَوَلَّوۡنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَہُمۡ اَنۡفُسُہُمۡ اَنۡ سَخِطَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ وَفِی الۡعَذَابِ ہُمۡ خٰلِدُوۡنَ وَلَوۡ کَانُوۡا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَالنَّبِیِّ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مَا اتَّخَذُوۡہُمۡ اَوۡلِیَآءَ وَلٰکِنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ(المائدہ: ۸۱-۸۲) ”ان میں سے بہت تم ایسے دیکھو گے جو رفیق بنتے ہیں کافروں کے۔ بے شک بُرا ہے وہ جو آگے بھیجا ہے انہوں نے خود اپنے لئے کہ اللہ کا غضب ہے ان پر اور وہ ہمیشہ عذاب میں ہیں اور اگر یقین رکھتے وہ اللہ پر اور نبی پر اور جو نبی کی طرف اتارا گیا تو کافروں کو رفیق نہ بناتے لیکن ان میں بہت سے نافرمان ہیں۔“

یہ آیت یہود کے متعلق ہے

معلوم ہوتا ہے کہ راقمانِ فتویٰ نے اس آیت کو قرآنِ کریم سے نکال کر نہیں پڑھا بلکہ کلید میں سے ہی دیکھ کر اس کو درج کر دیا ہے یا کسی ناواقف حافظ سے تولیٰ کی آیات دریافت کر کے لکھ دی ہیں کیونکہ یہ آیت یہود کی نسبت ہے مسلمانوں کی نسبت نہیں اللہ تعالیٰ یہود کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ یہود کفار سے دوستی کرتے ہیں اگر وہ مسلمان ہوتے تو ایسا نہ کرتے۔ اس آیت سے پہلی آیات میں یہود کا ہی ذکر ہے چنانچہ اس آیت سے پہلی دو آیتیں یہ ہیں۔ (۱) لُعِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِیۡسَی ابۡنِ مَرۡیَمَ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّکَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ(5:79) (۲) کَانُوۡا لَا یَتَنَاہَوۡنَ عَنۡ مُّنۡکَرٍ فَعَلُوۡہُ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ(المائدۃ: ۷۹-۸۰) یعنی بنی اسرائیل میں سے کافر لعنت کئے گئے ہیں داؤد کی زبان سے بھی اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے بھی یہ ان کی نافرمانی اور انکے حد سے نکل جانے کا نتیجہ تھا یہ لوگ ان بدیوں سے جن کے مرتکب تھے باز نہیں آتے تھے ضرور بہت بُرا تھا جو وہ کرتے تھے‘ اس سے آگے پھر وہ آیت ہے جسے مفتیوں نے لکھا ہے پس اس آیت کے مخاطب تو یہود ہیں نہ کہ مسلمان۔

ایک سوال اور اس کا جواب

شائد اس موقع پر یہ کہا جاوے کہ اس میں چونکہ یہ ارشاد ہے کہ اگر یہود خدا اور رسولؐ پر ایمان لاتے تو ایسا نہ کرتے اس لئے اس سے استدلال ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کے لئے کفار سے تولّی جائز نہیں ۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ میں ابھی ثابت کروں گا یہود پر اس آیت میں محض کفار کی دوستی کا الزام نہیں لگایا گیا بلکہ اصل اعتراض اور کیا گیا ہے پس با وجود اس فقرہ کے کہ اگر یہود مسلمان ہوتے تو ایسا نہ کرتے اس سے ترکِ موالات کی تائید میں استدلال کرنا درست نہیں ۔

اس آیت کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ یہود میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مشرکوں سے دوستی کرتے ہیں حالانکہ اگر یہ مسلمان ہوتے تو ایسا نہ کرتے ۔ اس خلاصہ پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے بھی انسان سمجھ سکتا ہے کہ اس جگہ پر اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء نہیں ہے کہ یہود مشرکوں سے کیوں دوستی کرتے ہیں ؟ اگر یہ مسلمان ہوتے تو مشرکوں سے دوستی نہ کرتے کیونکہ نہ تو یہود کا مشرکوں سے دوستی کرنا کوئی عجیب بات تھی اور نہ یہ قابلِ بیان بات تھی کہ اگر یہ مسلمان ہوتے تو ایسا نہ کرتے ۔ یہود کا مشرکوں سے دوستی کرنا اس لئے قابلِ تعجب نہیں کہ ان کی مشرکوں سے جنگ نہ تھی پس کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ ان سے دوستانہ تعلق نہ رکھتے اور یہ بات کہ اگر وہ مسلمان ہو جاتے تو مشرکوں سے دوستی نہ کرتے اس لئے قابلِ بیان نہیں کہ مسلمانوں کی کفار سے چونکہ جنگ تھی جو ان کے ساتھ شامل ہوتا وہ ضرور مشرکوں سے قطع تعلق کر ہی لیتا پس اگر یہ معنے کئے جاویں جو اوپر بیان ہوئے ہیں تو نہ پہلا جزوِ آیت کا قابلِ تعجب معلوم ہوتا ہے اور نہ دوسرا قابلِ بیان ۔ اور ایسے معنوں کو قرآن کریم کی طرف منسوب کرنا جو حکمت سے خالی ہوں سخت ظلم ہے ۔ قرآن کریم تو وہ کتاب ہے کہ اس کا ایک ایک لفظ نہیں بلکہ ایک ایک حرف بلکہ ایک ایک حرکت معنے خیز ہے اور اس کا کوئی فقرہ بھی حکمت سے خالی نہیں اور سارے کا سارا مفید معلومات اور زبردست صداقتوں سے پُر ہے تم ایک معمولی عقل کے آدمی کی نسبت بھی یہ اُمید نہ کرو گے کہ وہ ان خصوصیات کی نسبت جو اس کی جماعت کے ساتھ تعلق رکھتی ہوں یہ کہے کہ فلاں جماعت ایسا کیوں نہیں کرتی ؟ اگر وہ ہمارے ساتھ ہوتی تو وہ بھی ایسا ہی کرتی ۔ کوئی سمجھ دار مسلمان یہ فقرہ نہیں کہے گا کہ افسوس ہے کہ مسیحی نماز نہیں پڑھتے اگر وہ مسلمان ہوتے تو وہ بھی نماز پڑھا کرتے ۔ یا یوں نہ کہے گا کہ افسوس ہے کہ ہندو لوگ حج نہیں کرتے اور وہ مسلمان ہوتے تو وہ بھی حج کرتے ۔ یا یہ کہ افسوس ہے کہ سکھ لوگ رمضان کے روزے نہیں رکھتے اگر وہ بھی مسلمان ہوتے تو روزے رکھتے ۔ نماز اور زکوٰۃ اور حج تو اسلام کے خاص احکام ہیں اس میں کیا شک ہے کہ جو مسلمان نہیں وہ یہ کام نہ کرے گا کیونکہ احکام

ان باتوں میں سے نہیں جو فطرت کے تقاضوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جو سچے دل سے مسلمان ہو جاوے گا وہ یہ کام کرنے لگ جاوے گا اگر کوئی عقلی بات ہوتی یا فطرتی تقاضا ہوتا تب اس قسم کا کلام کہا جا سکتا تھا کیونکہ عقلی باتیں یا فطرتی تقاضے کسی مذہب سے تعلق نہیں رکھتے ہر عقلمند انسان سے اُمید کی جاتی ہے کہ وہ ان کے مطابق عمل کرے گا اور جو قوم فطرت کی آواز کا جواب دینے کی عادت رکھتی ہے اس کی نسبت کہا جا سکتا ہے کہ اگر فلاں شخص اس قوم میں ہوتا تو فطرتی تقاضوں یا عقل کی باتوں کے پورا کرنے میں کوتاہی نہ کرتا مثلاً گو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ افسوس ہے ہندو لوگ نماز نہیں پڑھتے اگر یہ مسلمان ہوتے تو نماز پڑھا کرتے مگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ فلاں بیج قوم کے لوگ تعلیم سے غافل ہیں اگر وہ لوگ مسیحی یا ہندو یا مسلمان ہوتے تو ایسا نہ کرتے۔ پس جب تک اس آیت کے الفاظ کسی عقلی قانون کی طرف اشارہ نہ کریں اس کے کوئی معنے بنتے ہی نہیں اور خدا تعالیٰ کے حکیمانہ کلام پر حرف آتا ہے۔ پس حق یہی ہے کہ یہ آیت ایک عقلی قانون کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہود اہل کتاب ہیں اور مسلمان بھی اہل کتاب ہیں مسلمان ان کے تمام نبیوں کو مانتے ہیں ان کی شریعت اور ان کی تعلیم کے ایک بڑے حصہ کو مانتے اور اس پر عمل کرتے ہیں اور سب سے زیادہ یہ کہ ان کی طرح ایک خدا کے ماننے والے ہیں۔ پس عقل یہ چاہتی تھی کہ جو جتنا قریب ہوتا اس کے قرب کے مطابق سلوک کیا جاتا اور یہ بات بالکل خلافِ عقل تھی کہ جو لوگ زیادہ قریب ہوتے ان سے دُور رہا جاتا ہے اور جو دُور ہوتے ان کی تائید کی جاتی مگر یہود ایسا ہی کرتے تھے چنانچہ قرآنِ کریم یہود کی نسبت فرماتا ہے۔ اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡجِبۡتِ وَالطَّاغُوۡتِ وَیَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ہٰۤؤُلَآءِ اَہۡدٰی مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِیۡلًا(النساء: ۵۲) یعنی کیا تُو نے دیکھا ان لوگوں کو جو کتاب میں سے حصہ دیئے گئے کہ یہ بدفالیوں اور شریروں اور شیطانوں کی باتوں کو مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کفار مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔ اسی کے متعلق اللہ فرماتا ہے کہ اگر یہ لوگ مسلمان ہوتے تو کبھی یہ بے اصُولا پن نہ کرتے بلکہ ہر ایک قوم کو اس کی حقیقی منزلت پر رکھتے چنانچہ قرآن کریم نے نہ صرف یہ کہ سلوک میں یہود و نصاریٰ کو کفار پر فضیلت دی ہے کہ ان کی لڑکیاں لینی جائز رکھی ہیں اور مشرکوں کی نہیں ان کے کھانے جائز رکھے ہیں اور مشرکوں کے نہیں بلکہ خود یہود و نصاریٰ کو سمجھایا ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کی خوبیوں کا انکار نہ کیا کرو چنانچہ فرمایا کہ وَقَالَتِ الۡیَہُوۡدُ لَیۡسَتِ النَّصٰرٰی عَلٰی شَیۡءٍ ۪ وَّقَالَتِ النَّصٰرٰی لَیۡسَتِ الۡیَہُوۡدُ عَلٰی شَیۡءٍ ۙ وَّہُمۡ یَتۡلُوۡنَ الۡکِتٰبَ ؕ کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ مِثۡلَ قَوۡلِہِمۡ(البقرة: ۱۱۴) یعنی یہود کہتے ہیں کہ نصاریٰ میں کوئی خوبی نہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہود میں کوئی خوبی نہیں حالانکہ دونوں بائیبل پڑھتے ہیں (جس میں کئی خوبیاں ہیں) اسی طرح وہ لوگ جو جاہل تھے کہا کرتے تھے یعنی ایک دوسرے کی خوبیوں کو بالکل نظر انداز کر دینا اور لڑائی جھگڑے کے وقت نیکی اور بدی کا موازنہ نہ کرنا تو جہلاء کا کام ہے۔ غرض اس آیت میں اس بات پر زور نہیں دیا گیا کہ اگر یہود مسلمان ہوتے تو کفار سے دوستی نہ کرتے کیونکہ یہ تو ایسی بات تھی جس کے کہنے میں کوئی فائدہ نہ تھا۔ اس میں کیا شبہ ہے کہ یہود کی چونکہ کفار سے جنگ نہ تھی وہ ان سے تعلق رکھتے تھے اگر وہ مسلمان ہو جاتے تو چونکہ مسلمانوں سے کفار کی جنگ تھی وہ ان سے دوستی ترک کر دیتے۔ پس آیت کا یہی مطلب ہے کہ یہود مذہبی معاملہ میں بھی مشرکوں کی تائید کرتے ہیں اور مسلمانوں کے مذہب کی حقارت کرتے ہیں اور ان کو مسلمانوں سے اچھا قرار دیتے ہیں حالانکہ ان سے ان کو مذہب میں کوئی اشتراک نہیں لیکن مسلمانوں سے سینکڑوں اشتراک کی وجوہ موجود ہیں اگر یہ مسلمان ہوتے تو ایسا نہ کرتے یعنی اسلام نے جو اخلاق اور تہذیب سکھائی ہے وہ اس بات سے مانع ہے کہ کوئی شخص عداوت میں حق کو بھی ترک کر دے اور گویا اس طرح یہودی مذہب پر اسلام کی فضیلت ثابت کی ہے۔ (افسوس! کہ آج با وجود قرآنِ کریم کے احکامِ صریح کے مسلمان بھی اسی غلطی میں مبتلا ہیں۔ بارہا متعصب لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ان احمدیوں سے تو ہندو اور عیسائی اچھے ہیں۔ بعض لوگ اپنے رشتہ داروں سے کہتے ہیں کہ تم عیسائی ہو جاؤ تو پرواہ نہیں مگر احمدی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی آنکھیں کھولے) پس اس آیت سے ترکِ موالات کا حکم نکالنا صریح بے انصافی ہے اور قرآنِ کریم کی آیات کا غلط استعمال ہے۔

اگر اس آیت میں عام دوستی مراد لی جائے تو بھی اس سے ترک موالات ثابت نہیں ہوتی

اگر اس آیت کے وہ معنی نہ بھی کئے جاویں جو میں نے کئے ہیں اور یہی مراد لی جائے کہ اس آیت میں عام دوستی مراد ہے تو بھی یہ آیت ترکِ موالات کی تائید میں نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے خلاف ہے کیونکہ اس آیت میں تو یہودیوں پر افسوس کیا گیا ہے کہ وہ مشرکوں سے دوستی کرتے ہیں پس جب قرآنِ کریم یہود پر اس لئے افسوس کرتا ہے کہ وہ کیوں مسلمانوں کے مقابلہ میں جو کتاب کے ماننے والے ہیں مشرکوں سے دوستی رکھتے ہیں تو کیا یہ عجیب بات نہیں کہ اس آیت سے یہ استدلال کیا جائے کہ انگریزوں سے جو مسیحی ہیں اور قرآنِ کریم کے ارشاد اَقۡرَبَہُمۡ مَّوَدَّۃً(5:83) کے مصداق ہیں یعنی سب کفار سے زیادہ مسلمانوں سے محبت رکھنے والے ہیں ترکِ موالات کیا جائے اور دوسری اقوام سے جو اہل کتاب نہیں ہیں دوستی کی جائے کیا اس سے بھی زیادہ اُلٹ فتویٰ کوئی ہو سکتا ہے قرآن کریم تو کہے کہ اہل کتاب کے مقابلہ میں مشرکوں سے کیوں دوستی کرتے ہو؟ اور فتویٰ یہ دیا جائے کہ اہل کتاب سے تو ترک موالات کرو اور غیر اہل کتاب سے دوستی۔ یہ تو ایسا فتویٰ ہے جسے اِس آیت کے الفاظ نہ صرف رد کرتے ہیں بلکہ اِس کے مخالف تعلیم دیتے ہیں۔

اِس آیت میں ظاہری دوستی مراد نہیں بلکہ مذہبی جنبہ داری مراد ہے

اصل بات یہی ہے کہ اس آیت میں ظاہری دوستی پر زور نہیں دیا گیا بلکہ یہود جو مسلمانوں کے مقابلہ میں مشرکوں سے مذہبی جنبہ داری کرتے تھے اس پر ان کو ڈانٹا ہے کہ وہ ایسے خلافِ عقل طریق کو کس طرح اختیار کرتے ہیں اور بتایا ہے کہ یہ حرکت اسی امر کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے سچے دین کا انکار کر کے اپنی فطرت کو مسخ کر لیا ہے۔

مفتیوں کی پیش کردہ آیات کے علاوہ بعض دیگر ایسی آیات

اب میں ان آٹھوں آیتوں کی صحیح تفسیر بیان کرنے کے بعد جو ترک موالات کے حامی پیش کرتے ہیں بعض اور آیات بھی لکھ دیتا ہوں جن کو اسی مسئلہ کی تائید میں پیش کیا جا سکتا ہے تاکہ اس مسئلہ پر نظر ڈالتے ہوئے وہ بھی نظر کے نیچے رہیں۔

پہلی آیت

ایک آیت تو یہ ہے۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَۃً مِّنۡ دُوۡنِکُمۡ لَا یَاۡلُوۡنَکُمۡ خَبَالًا ؕ وَدُّوۡا مَا عَنِتُّمۡ(ال عمران: ۱۱۹) یعنی ”اے مومنو مسلمانوں کے سوا کسی کو اپنا راز دان دوست نہ بناؤ یہ لوگ تم کو نقصان پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ تم دُکھ میں پڑ جاؤ“ اس آیت کا مضمون بھی پہلی آیات سے ملتا ہے اور یہی مطلب ہے کہ جن قوموں سے جنگ ہے ان کے افراد سے گہری دوستیاں نہ کرو کیونکہ یہ بات نقصان رساں ہوتی ہے اور اگر یہ شرط نہ لگائی جائے تو سورہ ممتحنہ کی آیت لَا یَنۡہٰٮکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَلَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ(الممتحنہ: ۹) جسے خود مفتیانِ ترک موالات نے پیش کیا ہے بے مطلب رہ جاتی ہے۔

دوسری آیت

دوسری آیت سورہ توبہ کی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡۤا اٰبَآءَکُمۡ وَاِخۡوَانَکُمۡ اَوۡلِیَآءَ اِنِ اسۡتَحَبُّوا الۡکُفۡرَ عَلَی الۡاِیۡمَانِ ؕ وَمَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ(التوبہ: ۲۴) یعنی

”اے مومنو! اگر تمہارے باپ اور بھائی کفر کو ایمان سے زیادہ پسند کرتے ہیں تو ان سے دوستی نہ کرو۔“ اس آیت کے آگے اور پیچھے جہاد کا ہی ذکر ہے پس اس جگہ بھی دوستی سے مراد ان لوگوں سے تعلق ہے جو اس وقت مسلمانوں سے دین کی وجہ سے لڑ رہے تھے اور اگر اس کو عام کیا گیا تو پھر ہندوؤں سکھوں وغیرہ قوموں سے بھی اس آیت کے ماتحت تعلق منع ہو جاوے گا اور اگر ان سے موالات کرنا سورہ ممتحنہ والی آیت کے ماتحت جائز قرار دیا گیا تو انگریزوں سے موالات کی اجازت بھی اسی آیت سے نکل آوے گی۔

تیسری آیت

اسی طرح ایک یہ آیت بھی سند کے طور پیش کی جاسکتی ہے کہ وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ(المائدة: ۳) ”بدی اور زیادتی کے معاملہ میں کسی کی مدد نہ کرو“ اور یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ چونکہ انگریز اس وقت ایک گناہ کا کام کر رہے ہیں اس لئے ہمیں ان کی مدد نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس سے ان کو طاقت ملے گی اور یہ گناہ اور زیادتی پر اور بھی دلیر ہو جاویں گے۔

یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم نے دوسری کتب مقدسہ سے ایک زائد تعلیم دی ہے جو اور کسی کتاب میں موجود نہیں میرا مطلب یہ ہے کہ اس امر کے متعلق۔ ورنہ ہزاروں تعلیمیں پرانی کتب سے زائد ہیں بلکہ نئی فلسفی کتب سے بھی۔ چہ نسبت خاک را با عالمِ پاک۔ کہاں دیگر کتب کہاں قرآن کریم) اور وہ یہ ہے کہ اس نے بد اور بدی میں فرق کیا ہے اس نے بہت سے موقعوں پر بد کو قابلِ رحم قرار دیا ہے لیکن بدی کو سرسری نظر سے دیکھنے کی کبھی اجازت نہیں دی۔ وہ بد کے متعلق حکم دیتا ہے کہ اس سے عفو سے کام لو لیکن بدی کی نسبت کہیں نہیں فرماتا کہ اس سے بھی چشم پوشی سے کام لو۔ چنانچہ اس آیت کے پہلے حصہ میں اس نے حکم دیا ہے وَلَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ اَنۡ صَدُّوۡکُمۡ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اَنۡ تَعۡتَدُوۡا ۘ وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَالتَّقۡوٰی(المائدة: ۳) ”کسی قوم کی دشمنی یعنی اس کا تم کو مسجدالحرام سے روکنا تم کو اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم اس پر زیادتی کرو۔ یہ نہ کرو بلکہ اس کے برخلاف نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں لوگوں کی مدد کرو۔“ اور آگے فرمایا وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ(المائدة: ۳) ”اور نہ مدد کرو آپس میں ایک دوسرے کی گناہ اور زیادتی میں۔“ پس اس آیت میں جہاں ایک طرف ظالم کے لئے موقع مناسب کے مطابق رحم کی سفارش کی ہے وہاں دوسری طرف بدی کے مٹانے کی بھی تعلیم دی ہے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ گنہگار اور زیادتی کرنے والے کے ساتھ مل کر کوئی کام نہ کرو بلکہ یہ ارشاد کیا گیا ہے کہ گناہ اور زیادتی میں کسی کی مدد نہ کرو۔ پس گو انگریزوں سے کوئی

غلطی سرزد ہو اور انسانوں سے غلطیاں ہوتی ہی رہتی ہیں۔ ہمارا یہ حق نہیں کہ ہم ان کاموں میں ان کے ساتھ کام کرنا چھوڑ دیں جو اپنی ذات میں گناہ نہیں ہیں اور یہ کام جن کو اب چھڑوایا جاتا ہے ان کو پہلے کبھی مذہبیًا ایسا برا نہیں کہا گیا کہ ان کا کرنا حرام ہے پس دوسرے سوالوں کی وجہ سے ان کاموں میں موالات نہیں چھوڑی جاسکتی ہاں اگر اللہ تعالیٰ یہ فرماتا کہ آثم اور عادی کے ساتھ مل کر کوئی کام بھی نہ کرو خواہ وہ دین یا دنیا میں فائدہ مند ہی کیوں نہ ہو۔ تب بے شک یہ فتویٰ قابلِ غور ہو سکتا تھا۔

مولوی محمود الحسن صاحب کے فتویٰ میں ایک حدیث کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول کریمؐ سے صحابہؓ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! اگر ہم لوگ کفار سے قطع تعلق کر لینگے تو پھر ہمارے رشتہ دار چھوٹ جائیں گے اور ہماری تجارتیں تباہ ہو جائیں گی اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَاَبۡنَآؤُکُمۡ وَاِخۡوَانُکُمۡ وَاَزۡوَاجُکُمۡ وَعَشِیۡرَتُکُمۡ وَاَمۡوَالُ ۣاقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَتِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوۡلِہٖ وَجِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَاللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ(التوبہ: ۲۴) کہہ دو تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا کنبہ اور مال جو تم نے کمایا ہے اور تجارت کی کساد بازاری جس سے تم ڈرتے ہو اور مکانات جو تم کو پسند ہیں۔ اگر یہ سب تم کو خدا اور خدا کے رسولؐ اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ عزیز ہیں تو منتظر رہو تا کہ لے آئے اللہ اپنے حکم کو۔ اور اللہ دستگیری نہیں کرتا اس قوم کی جو نافرمان ہو۔

اس حدیث کے بیان کرنے میں مولوی صاحب موصوف کو اس بات کا بتانا مدّ نظر ہے کہ ترکِ موالات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی ہوا ہے اور یہ کہ جو لوگ نقصان کے خوف سے اس سے ڈریں وہ خدا کے نافرمان ہیں یہ سوال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی اُٹھ چکا ہے کہ ترک موالات سے بہت نقصان ہوگا اور اس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ خود اللہ تعالیٰ حل کر چکا ہے کہ خواہ کس قدر نقصان بھی ہو اس پر عمل کرنا چاہئے۔

اس حدیث کا مطلب سمجھنے کے لئے میرے نزدیک یہ ضروری ہے کہ اس آیت کا زمانۂ نزول دیکھا

جائے کیونکہ اگر یہ آیت اس وقت نازل ہوئی ہے جب آپؐ ہجرت فرما چکے تھے اور جب کفارِ مکہ سے جنگ چھڑ چکی تھی۔ تو تب تو اس حدیث سے کوئی زائد امر پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اس کا کوئی بھی منکر نہیں کہ جن کفار سے مسلمان برسرِ جنگ ہوں ان کے ساتھ محبت اور ناصر کا تعلق رکھنا اور انکے زیراقتدار ملک میں رہنا یہ سب منع ہے اور یہی مطلب ان آیات کا ہے جو پہلے گزر چکی ہیں لیکن اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ آیت ہجرت سے پہلے اتری ہے تو پھر ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ اس حدیث کا جو اس آیت کا شانِ نزول بتاتی ہے کیا مطلب ہے؟ جب ہم تفاسیر کو اس غرض کے لئے دیکھتے ہیں تو سب کی سب متفق نظر آتی ہیں کہ سورہ توبہ ہجرت کے بعد نازل ہوئی ہے اور بعض تو اسے فتح مکہ کے بعد کی بتاتے ہیں مگر اس بات پر اکثر متفق ہیں کہ یہ سورۃ ساری کی ساری مدنی ہے اس کا کوئی حصہ مکی نہیں۔ بعض لوگ اس قدر اختلاف کرتے ہیں کہ آخر کی دو آیتیں مدنی نہیں ہیں لیکن ان کی نسبت اس جگہ سوال نہیں جس حصہ کی نسبت سوال ہے وہ تمام مفسرین کی رائے کے مطابق مدنی ہے اور مدینہ میں آنے کے بعد چونکہ کفارِ مکہ کے ساتھ جنگ شروع ہو گئی تھی اس لئے ان سے تعلقات قطع کرنے کا حکم تھا جیسا کہ پہلی آیات کی تشریح کرتے وقت بیان کیا جا چکا ہے۔

فتویٰ میں حدیث اُدھوری لکھی گئی ہے

اس آیت کی تفسیر میں جہاں وہ روایت بیان کی گئی ہے جو مولوی محمود الحسن صاحب نے تحریر فرمائی ہے وہاں اس کے ساتھ ایک اور فقرہ بھی ہے جو ان کے فتویٰ میں درج ہونے سے رہ گیا ہے اور وہ یہ ہے ثُمَّ رُخِّصَ لَهُمْ بَعْدَ ذَالِكَ یعنی ”پہلے تو رسولِ کریمؐ نے یہ حکم دیا تھا کہ کفار سے کلی طور پر قطع تعلق کر لو لیکن بعد میں اجازت دے دی گئی تھی۔“

یہ فقرہ دو صورتوں سے خالی نہیں یا تو اس کے یہ معنے ہو سکتے ہیں کہ جب کفار سے جنگ ختم ہو گئی تو چونکہ وہ حالات بدل گئے تھے جن کی وجہ سے قطع تعلق کا حکم تھا اس لئے بعد میں تعلقات رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔ اور یا یہ معنے ہو سکتے ہیں کہ علاوہ دوستانہ تعلق سے منع کرنے کے جو کہ جنگ کے دنوں میں کسی طرح قائم نہیں رکھے جا سکتے۔ آپؐ نے بعض اور تمدنی تعلقات سے بھی صحابہؓ کو روک دیا ہو مگر بعد میں اس حکم کو منسوخ کر دیا ہو۔ ان دونوں معنوں میں سے کوئی سے معنے بھی کئے جاویں ، موجودہ زمانہ میں ترکِ موالات کا حکم ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اگر یہ حکم منسوخ ہو چکا ہے تو اس کا اثر اس زمانہ میں کچھ ہے ہی نہیں اور اگر یہ دورانِ جنگ کے زمانہ کے لئے حکم تھا بعد میں حالات کے تغیر کی وجہ سے اس پر عمل کرنا چھوڑا گیا تو اس وقت انگریز ہم سے برسرِ جنگ نہیں ہیں پس ثُمَّ رُخِّصَ لَهُمْ کا فقرہ جسے فتویٰ نویس صاحبان نے درج نہیں کیا اس حدیث کے معنوں کو بالکل حل کر دیتا ہے اور اس وقت انگریزوں سے ترکِ موالات کرنے کے متعلق اس میں سے کوئی حکم نہیں نکلتا۔

خلاصہ کلام

خلاصہ کلام یہ ہے کہ جس قدر بھی دلائل اس وقت تک ترکِ موالات کی تائید میں دیئے جاتے ہیں ان سے موجودہ زمانہ میں ترکِ موالات کا فرض ہونا تو کیا اس کا واجب یا سنت ہونا بھی ثابت نہیں ہوتا اور یہ کہنا کہ اس وقت شریعتِ اسلامیہ کے احکام کے مطابق ہم ترکِ موالات کا فتویٰ دیتے ہیں ایک ظلمِ عظیم ہے اور اسلام سے منہی کرنا ہے۔ ترکِ موالات کے حامی عقل کی رو سے مصلحت زمانہ کی رو سے، ضروریاتِ موجودہ کی رو سے جس قدر چاہیں ترکِ موالات پر زور دیں مگر شریعت سے اس کا فرض ہونا ثابت کرنا ایک ایسا اندھیر ہے جو نصف النہار کے سورج کا انکار کرنے سے بھی زیادہ ہے اور اسلام کا ادب اور شریعت کا احترام رکھنے والا انسان کبھی اس کی جرأت نہیں کر سکتا۔

ایک سوال اور اس کا جواب

شائد بعض لوگ اس جگہ پر یہ شبہ پیدا کریں کہ انگریز اس وقت چونکہ ایک اسلامی حکومت سے برسرِ جنگ ہیں اس لئے ان سے ترکِ موالات کا حکم ہے۔ اور یہ بات تم خود تسلیم کر چکے ہو کہ قرآن کریم نے حربی کفار سے ترکِ موالات کرنے کو فرض قرار دیا ہے پس جبکہ انگریز ترکوں سے جنگ کر رہے ہیں ان سے حربی کافروں والا سلوک ضروری ہے۔

اس شبہ کا ازالہ یہ ہے کہ اوّل تو یہ غلط ہے کہ انگریز اس وقت ترکوں سے جنگ کر رہے ہیں۔ انگریزی حکومت کی اس وقت ترکوں سے صلح ہے اور دونوں حکومتوں کے درمیان معاہدہ صلح ہو چکا ہے پس اگر ہندوستان کے مسلمانوں کو جو انگریزی حکومت کی رعایا ہیں حکام کے برخلاف ترکِ موالات کرنے کی اجازت بھی ہوتی تو بھی اس وقت ان کے لئے یہ امر جائز نہ تھا۔ کیونکہ اب جنگ ختم ہو چکی ہے اور آپس میں صلح ہو چکی ہے۔ تعجب ہے کہ جو وقت اس سوال کے اُٹھانے کا تھا اس وقت تو اُٹھایا نہیں گیا بلکہ مسلمان بجائے ترکِ موالات کے خود لاکھوں کی تعداد میں انگریزی لشکر میں شامل ہوئے اور ترکوں سے جا کر لڑے لیکن اب جنگ کے بعد جب صلح ہو گئی ہے تو یہ سوال اُٹھایا جاتا ہے۔ کیا اس وقت مسلمانوں کا یہ خیال تھا کہ ترکی حکومت کی تباہی کے بعد اتحادی ان کے سب ملک ان کو پھر واپس کر دیں گے بلکہ کچھ اور ملک اپنے پاس سے بھی دے دیں گے؟ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس وقت ہمیں شرائطِ صلح کا پتہ نہیں تھا کیونکہ اوّل تو شرائطِ صلح معلوم ہوں یا نہ معلوم ہوں ہر ایک عقلمند انسان سمجھ سکتا تھا کہ اس قدر خطرناک جنگ کے بعد نقشہ وہی نہیں رہ سکتا جس طرح کہ پہلے تھا۔ دوم جنگ کے دوران میں ہی اتحادیوں کی طرف سے یہ اعلان ہو چکے تھے کہ جن ممالک کی زیادہ آبادی غیر اقوام کی ہے ان کو ترکوں کے ماتحت نہیں رکھا جاوے گا اور اس شرط کے ماتحت شام، فلسطین، عرب، عراق وغیرہ علاقے جنگ کے بعد خود بخود ترکوں کے ہاتھ سے نکل جانے تھے اور اس کا علم ساری دُنیا کے لوگوں کو تھا۔ اگر کسی بات کا علم نہ تھا تو فقط تھریس اور سمرنا کا۔ پس لاعلمی کا دعویٰ بالکل باطل ہے۔

اگر بفرضِ محال اس وقت ترکِ موالات فرض ہے تو اس کا پہلا قدم یہاں سے ہجرت ہے

پھر اگر بفرضِ محال مان ہی لیا جاوے کہ انگریز اب تک برسرِ جنگ ہیں اور حربی کافر ہیں تو پھر یاد رکھو کہ تمہارا پیچھا صرف ترکِ موالات سے نہیں چھوٹ سکتا۔ اگر یہ بات درست ہے کہ انگریز حربی کافر ہیں اور اگر یہ بات درست ہے کہ یہ اسلام کے مٹانے کے لئے جنگ کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال رہے ہیں تو ترکِ موالات بے شک فرض ہے اور اس کا تارک منافق ہے۔ لیکن اس سے پہلے ایک اور قدم ہے جس کا اُٹھانا ضروری ہے۔ تم انگریزوں کو حربی کافر قرار دے کر صرف ان کے سکولوں اور کالجوں کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتے۔ تم ان کی عدالتوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں کر سکتے۔ تم ان کے خطاب واپس دے کر اپنی روحوں کو موت سے نہیں بچا سکتے۔ تم انکی کونسلوں کا بائیکاٹ کر کے سچے مسلم نہیں بن سکتے۔ بلکہ اس صورت میں تم پر واجب ہے کہ تم اس ملک کو چھوڑ دو جس پر وہ حکمران ہیں۔ یہی قرآنِ کریم کا حکم ہے اور تمام دُنیا کے علماء بھی مل کر اسے چھوڑ کر اور کوئی فتویٰ نہیں دے سکتے کیونکہ شریعت کامل ہو چکی ہے اور اب کوئی نیا حکم نہیں آ سکتا۔ اگر ترکِ موالات اس وقت فرض ہے تو ترکِ موالات سے پہلا قدم ہجرت ہے جس کے اُٹھائے بغیر تم ترکِ موالات نہیں کر سکتے۔ ہجرت و ترکِ موالات وغیرہ احکام ایسے نہیں ہیں کہ جو صرف الفاظ میں محدود ہوں اور عملی طور پر ان کی تفسیر نہ کی گئی ہو۔ ان احکام پر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بار بار صحابہؓ نے عمل کر کے دکھایا ہے۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں عمل کر کے دکھایا گیا ہے۔ پس ان کی تشریح میں غلطی نہیں ہو سکتی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہجرت کے بعد مکہ والوں سے مسلمانوں کی جنگ تھی۔ ان کے ملک میں ان کے زیرِ اقتدار مسلمان بھی بستے تھے لیکن ان کو کبھی بھی ترکِ موالات کا حکم نہیں دیا گیا۔ ترکِ موالات کا حکم ان لوگوں کے لئے نہ تھا جو کفار کے علاقہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں آ گئے تھے۔ جو لوگ کفار کے ہی علاقہ میں تھے ان کے لئے پہلا حکم ہجرت تھا، جب تک وہ ہجرت نہ کرتے وہ مسلمانوں میں شامل ہی نہ ہو سکتے تھے اور اسی لئے اسلامی احکام کے پابند ہی نہ سمجھے جاتے تھے

یہ حکم تبھی آکر منسوخ ہوا جب کہ مکہ فتح ہو گیا اور کفر کا زور ٹوٹ گیا اور اگر آج پھر وہی حالت ہے کہ ایک دشمنِ اسلام، اسلام کو مٹانے کیلئے اور لوگوں کو جبراً اسلام سے مُرتد کرنے کے لئے مسلمانوں پر فوج کشی کر رہا ہو تو اس وقت پھر وہی حکم جاری ہو گا جو اس وقت جاری تھا اور اس صورت میں جو شخص ہجرت نہیں کرتا خواہ وہ کتنے ہی خطاب ترک کر دے۔ کالج کی تعلیم چھوڑ دے نوکری چھوڑ دے بلکہ انگریزوں کا بنایا ہوا کپڑا بھی چھوڑ دے تو بھی وہ شخص مسلم کہلانے کا مستحق نہیں کیونکہ قرآن کریم ان حالات میں ہجرت نہ کرنے والے کو منافق کہتا ہے اور صاف طور پر کفار میں شامل کرتا اور جہنمی قرار دیتا ہے۔

عدم استطاعت ہجرت کا عذر اور اس کا جواب

کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم میں ہجرت کی طاقت نہیں کیونکہ ہجرت کے راستہ میں روک صرف جسمانی ناتوانیاں سمجھی گئی ہیں جیسے کوئی شخص ایسا بوڑھا ہو کہ چل نہ سکتا ہو یا اندھا ہو یا لنگڑا ہو یا ایسا بیمار ہو کہ چارپائی پر سے اُٹھ نہ سکتا ہو یا عورت ہو یا بچہ ہو۔ جسمانی کمزوریوں کے سوا دوسرے عذر اس معاملہ میں نہیں سُنے جاتے اور ان سب عذرات کو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں لغو اور بیہودہ قرار دیتا ہے چنانچہ فرماتا ہے اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَفّٰہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ قَالُوۡا فِیۡمَ کُنۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا کُنَّا مُسۡتَضۡعَفِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَکُنۡ اَرۡضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوۡا فِیۡہَا ؕ فَاُولٰٓئِکَ مَاۡوٰٮہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَسَآءَتۡ مَصِیۡرًا اِلَّا الۡمُسۡتَضۡعَفِیۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالۡوِلۡدَانِ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ حِیۡلَۃً وَّلَا یَہۡتَدُوۡنَ سَبِیۡلًا فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّعۡفُوَ عَنۡہُمۡ ؕ وَکَانَ اللّٰہُ عَفُوًّا غَفُوۡرًا وَمَنۡ یُّہَاجِرۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ یَجِدۡ فِی الۡاَرۡضِ مُرٰغَمًا کَثِیۡرًا وَّسَعَۃً ؕ وَمَنۡ یَّخۡرُجۡ مِنۡۢ بَیۡتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوۡلِہٖ ثُمَّ یُدۡرِکۡہُ الۡمَوۡتُ فَقَدۡ وَقَعَ اَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ؕ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا(النساء: ۹۸ تا ۱۰۱) ”وہ لوگ جن کی رُوح فرشتے اس حالت میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہوتے ہیں (تمام مفسرین اس کے معنے یہ کرتے ہیں کہ انہوں نے ہجرت نہیں کی ہوئی ہوتی) ملائکہ ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس خیال میں تھے؟ یعنی تم نے کیوں ہجرت نہیں کی؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو ملک میں کمزور سمجھے جاتے تھے ہجرت کیونکر کرتے؟ وہ کہیں گے کہ کیا اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے؟ پس یہ لوگ جہنم میں ڈالے جاویں گے اور یہ بُرا ہی ٹھکانا ہے۔ ہاں وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جو واقعی معذور ہیں۔ مردوں یا عورتوں یا بچوں میں سے جن کے اس ملک سے نکلنے کا کوئی سامان ہی نہیں اور نہ راستہ جانتے ہیں۔ پس یہ لوگ ایسے ہیں کہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے اور اللہ تعالیٰ بڑا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ہجرت کرے وہ دنیا میں مصائب سے بچنے کے کئی راستہ پاوے گا اور کشائش دیکھے گا۔ اور جو شخص اپنے گھر سے خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ہجرت کرتا ہے پھر اس کو موت آجاتی ہے تو اس کا بدلہ خدا کے حضور میں مُسلّم ہو گیا۔ اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔“ اس آیت سے ثابت ہے کہ سوائے ان اشخاص کے کہ جسمانی عوارض کی وجہ سے ہجرت نہ کر سکیں اور دوسرے لوگ خواہ غربت کا عذر رکھتے ہوں خواہ تعلقات کا ، خواہ چھوٹے درجہ کے لوگ ہوں ، خواہ بڑے درجہ کے لوگ ہوں ، عالم ہوں کہ جاہل سب پر ہجرت فرض ہے اور اگر وہ ہجرت کئے بغیر مر جاویں تو وہ جہنمی ہوں گے۔

اس عذر کا جواب کہ یہ حکمِ ہجرت صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے متعلق ہے

شائد کوئی اس جگہ کہہ دے کہ یہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کی بات ہے اب تو یہ حکم نہیں ۔ مگر یہ حیلہ درست نہ ہوگا ۔ کیونکہ اگر اس طرح احکام کو محدود کرنے لگیں تو قرآن کریم کے تو بہت تھوڑے احکام رہ جائیں گے جو سب مسلمانوں کے لئے ہوں گے کیونکہ بالعموم قرآن کریم میں مخاطب کر کے احکام نازل ہوتے ہیں پس جیسا کہ مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ احکام ہر زمانہ کے لئے ہیں۔ جب بھی یہ حالت ہوگی کہ ایک کافر حکومت اسلام کے مٹانے کے لئے تلوار پکڑے گی تو اس کے ماتحت رہنے والے مسلمانوں کو حکم ہو گا کہ وہ اس کا ملک چھوڑ کر چلے جاویں اور پھر ان مسلمانوں سے مل کر جن کے مقابلہ پر وہ دشمنِ اسلام کھڑے ہیں کفار کا مقابلہ کریں اور سب کچھ خدا تعالیٰ کے لئے قربان کر دیں۔ چنانچہ فتح البیان میں لکھا ہے فَيُرَادُ بِالْاَرْضِ كُلُّ بُقْعَةٍ مِّنْ بُقَاعِ الْاَرْضِ تَصْلُحُ لِلْهِجْرَةِ إِلَيْهَا وَيُرَادُ بِالْاَرْضِ الْاُولٰى كُلُّ اَرْضٍ يَنْبَغِي الْهِجْرَةُ مِنْهَا۔ (تفسیر فتح البیان تفسیر سورۃ النساء زیر آیت إِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ جلد ۲ مطبوعہ مصر ۱۳۰۱ھ) یعنی ”ہجرت کی زمین سے صرف مدینہ مراد نہ لیا جاوے گا ہر ایک زمین جو ہجرت کرنے کے قابل ہو وہ مراد لی جاوے گی اور اسی طرح وہ زمین جہاں سے ہجرت کرنی ہے اس سے مراد بھی صرف مکہ نہیں لیا جاوے گا بلکہ ہر ایک وہ زمین مراد لی جائے گی جہاں سے ہجرت کرنا مناسب ہو۔“ غرض یہ حکم ہر زمانہ کے لئے ہے اور اگر انگریز واقع میں دینِ اسلام کے مٹانے کے لئے جنگ کر رہے ہیں اور اب تک بر سرِ جنگ ہیں تو بھی ان سے ترکِ موالات کا حکم نہیں۔ پہلا حکم ان کے مقبوضہ ملک سے نکل جانے کا ہے اور پھر ترکِ موالات کا حکم ہوگا اور کسی کا حق نہیں کہ اس آسان حکم کو تو لے لے اور شریعت کے اصل حکم کو چھوڑ دے لیکن جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ یہ سب بات ہی غلط ہے اور اس پر بَنَاءُ الْفَاسِدِ عَلَی الْفَاسِد کی مثل صادق آتی ہے۔ نہ انگریز مسلمانوں سے دینِ اسلام سے جبراً توبہ کرانے اور اسلام کو مٹانے کے لئے لڑ رہے ہیں اور نہ یہ حربی کافر ہیں کہ ان کے مقبوضہ ملک سے ہجرت کی جائے اور جب ہجرت کا حکم نہیں تو ترکِ موالات کا بھی حکم نہیں کیونکہ ترکِ موالات ہجرت کے بعد ہوتا ہے نہ ہجرت سے پہلے۔

اگر انگریز واقعی حربی کافر ہیں تو صرف ہجرت بھی کافی نہیں بلکہ اس کے بعد دوسرا قدم جہاد ہے

پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگر انگریز واقعی حربی کافر ہیں جو اسلام کے مٹانے کے لئے مسلمانوں پر حملہ کر رہے ہیں اور ان سے جنگ کر رہے ہیں اور ان کو گھروں سے نکال رہے ہیں۔ جو شرطیں کہ ترکِ موالات کے لئے ضروری ہیں تو صرف ہجرت بھی کافی نہ ہوگی بلکہ ہجرت پہلا قدم ہوگا۔ ہجرت کے بعد دوسرا قدم جہاد ہوگا۔ کیونکہ جو قومیں اسلام کے مٹانے کے لئے لڑتی ہیں ان سے جنگ کرنا اور ان کے حملہ کا جواب دینا سب مسلمانوں پر فرض ہے اور اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے۔ قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَاَبۡنَآؤُکُمۡ وَاِخۡوَانُکُمۡ وَاَزۡوَاجُکُمۡ وَعَشِیۡرَتُکُمۡ وَاَمۡوَالُ ۣاقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَتِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوۡلِہٖ وَجِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَاللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ(التوبة: ۲۴) ”اے لوگو! اگر تمہارے باپ دادے اور بیٹے اور بھائی اور بیویاں اور رشتہ دار اور دوست اور مال جو تم نے کمائے اور تجارتیں کہ جن کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور گھر جو تم کو پسند آتے ہیں تمہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اس کے راستہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیارے ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجاوے اور اللہ تعالیٰ فاسق قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔“ پس اگر انگریز واقع میں اسلام کو مٹانے کے لئے جنگ کر رہے ہیں تو اوّل ان کے مقبوضہ ملک سے ہجرت اور پھر ان سے جنگ کرنی ہر مسلمان پر واجب ہو جاتی ہے کیونکہ جو قوم مذہب کے لئے تلوار اُٹھاتی ہے وہ ہرگز اس قابل نہیں ہوتی کہ اسے دنیا میں حکومت کرنے کا موقع دیا جاوے۔

اس سوال کا جواب کہ جہاد صرف تلوار کا ہی نہیں ہوتا

شائد بعض لوگ یہ کہہ دیں کہ جہاد سے مراد تلوار ہی کا جہاد نہیں ہوتا بلکہ اس کے علاوہ اور بھی جہاد ہیں لیکن یاد رہے کہ گو جہاد صرف تلوار کے جہاد کو ہی نہیں کہتے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نفس کی اصلاح کو بھی جہاد قرار دیا ہے اور اسے تلوار کے جہاد سے بڑا قرار دیا ہے۔ مگر جس قسم کا جہاد اسلام کے خلاف ہو رہا ہو اس کے مقابلہ میں اسی قسم کے جہاد کا حکم ہوتا ہے یہ نہیں کہ لوگ تلوار لے کر مسلمانوں سے جبراً توبہ کرواتے پھریں اور کوئی شخص یہی توجیہہ کر کے کہہ دے کہ میں نفس کا جہاد جو بڑا ہے کر رہا ہوں اور ان لوگوں کا ہاتھ نہ پکڑے۔ کیا کوئی عقلمند اس بات کو جائز قرار دے گا؟ کہ اس قسم کی توجیہات سے کہ مال کا جہاد ہوتا ہے اور علم کا بھی جہاد ہوتا ہے اور نفس کا بھی جہاد ہوتا ہے اور وقت کا بھی جہاد ہوتا ہے۔ لوگ اپنا پیچھا چھڑالیں اور اسلام کو دشمن پامال کرتا پھرے اگر دشمن تلوار کے ساتھ اسلام کو مٹانا چاہتا ہے تو جب تک تلوار ہی کے ساتھ جہاد نہ کیا جاوے کوئی دوسرا جہاد قبول نہیں ہو سکتا۔

اس سوال کا جواب کہ جہاد فرض کفایہ ہے ہر فرد پر فرض نہیں

یہ بھی شبہ نہیں پیش کیا جا سکتا کہ جہاد ایک فرض کفایہ ہے اگر مسلمانوں کا ایک حصہ جہاد کر رہا ہو تو دوسرا حصہ اگر جہاد میں شامل نہ ہو لیکن ان کی ہمدردی دل میں رکھے یا دوسرے ذرائع سے ان کی مدد کرے تو اس کا حق بھی ادا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ گو جہاد فرض کفایہ ہے لیکن اسی وقت تک کہ تلوار سے جہاد کرنے والے باقی مسلمانوں کی طرف سے جہاد میں کفایت کر رہے ہوں اسلام کا فاتح لشکر جو اسلام کے خلاف مذہبی جنگ کرنے والوں کو ہر میدان میں شکست دے رہا ہو بلا شبہ باقی مسلمانوں کو تلوار کے جہاد میں حصہ لینے سے آزاد کر دیتا ہے لیکن اگر اسلامی لشکر شکست کھاتا ہو اگر ایک کے بعد دوسرا علاقہ اس کے ہاتھوں سے نکلا جا رہا ہو ، اگر اسلام کا مٹانے والا دشمن اسلام کو اور اس کے ماننے والوں کو مٹاتا چلا جا رہا ہو تو پھر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جہاد کرنے والے سب مسلمانوں کی طرف سے ان کے فرض کو پورا کر رہے ہیں۔ ایک شب خون جو کسی سرحد پر پڑتا ہے اس کے بچانے کے لئے تو بے شک وہاں کی چوکی کافی ہے اور ساری دنیا کے مسلمانوں کو وہاں جمع ہونے کی حاجت نہیں لیکن اگر دشمن آگے ہی آگے بڑھتا چلا آوے تو پھر لوگ یہ عذر نہیں کر سکتے کہ صرف ساتھ ملنے والے علاقوں پر جہاد ہوتا ہے۔ کیا وہ اس وقت کا انتظار کریں گے کہ ایک ایک کر کے سب شہر ہاتھ سے نکل جاویں یا آگے بڑھ کر اس رَو کو روکیں گے؟

اسی طرح اگر انگریز واقع میں اسلام کے مٹانے کے لئے ایک مذہبی

اس سوال کا جواب کہ ہم جنگ کرنا نہیں جانتے

جنگ کے مرتکب ہیں تو کوئی شخص یہ کہہ کر کہ میں لڑائی نہیں جانتا اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکتا۔ قرآن کریم نے اس قسم کے حیلہ سازوں کو منافق کہا ہے اور اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ کون سا کام ہے جو انسان کا پیدائش سے پہلے ہی سیکھا ہوا ہوتا ہے؟ ہر ایک کام سیکھ کر آتا ہے۔ حکومتِ برطانیہ نے چند سال میں ۱۲؍لاکھ فوج سکھائی یا نہیں؟ پس یہ کہنا کہ ہم لوگ جنگ نہیں جانتے ایک منافقانہ عذر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ منافقوں کی نسبت فرماتا ہے۔ وَقِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَوِ ادۡفَعُوۡا ؕ قَالُوۡا لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعۡنٰکُمۡ ؕ ہُمۡ لِلۡکُفۡرِ یَوۡمَئِذٍ اَقۡرَبُ مِنۡہُمۡ لِلۡاِیۡمَانِ ۚ یَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاہِہِمۡ مَّا لَیۡسَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ وَاللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا یَکۡتُمُوۡنَ(آل عمران: ۱۶۸) منافقوں سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے راستہ میں لڑو یا یوں کہو کہ دشمن کا حملہ دُور کرو۔ تو جواب دیتے ہیں کہ اگر ہمیں لڑائی کا فن آتا تو ہم ضرور تمہارے ہمراہ چلتے۔ یہ لوگ اس دن جب انہوں نے یہ بات کہی ایمان کی نسبت کفر کے زیادہ قریب تھے یہ لوگ وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں اور اللہ خوب جانتا ہے اسے جو یہ چھپاتے ہیں۔

پس اگر واقع میں کوئی مذہبی جنگ شروع ہے اور اسلام کو تلوار کے ذریعہ سے مٹایا جا رہا ہے جو ترکِ موالات کے لئے شرط ہے۔ تو اس سے پہلے ہجرت کرنا اور پھر جہاد کرنا بھی فرض ہے اور اگر یہ دونوں باتیں فرض نہیں تو یقیناً ترکِ موالات بھی فرض نہیں کیونکہ ترکِ موالات اسی قوم سے ہوتی ہے جس سے مذہب کی خاطر جنگ ہو رہی ہو۔

کیا انگریزوں کو جبراً اسلام کے مٹانے والے قرار دینا اور ہجرت و جہاد کے بغیر ترکِ موالات کا فتویٰ دینا اسلام پر تمسخر نہیں ؟

میں ہر ایک اس شخص سے جو قرآنِ کریم اور شریعتِ اسلام کا ادب دل میں رکھتا ہے دریافت کرتا ہوں کہ وہ اپنے سچے دل سے یہ بتائے کہ کیا واقع میں انگریز اسلام کو جبراً مٹا رہے ہیں اور پکڑ پکڑ کر لوگوں کو مسیحی بنا رہے ہیں؟ اور اس لئے مسلمانوں سے لڑ رہے ہیں کہ کیوں وہ کلمہ شہادت پڑھتے ہیں اور اور قرآن کو مانتے ہیں؟ اگر یہ بات نہیں تو وہ بیدار ہو جاوے کہ اس وقت کس طرح شریعتِ اسلام سے تمسخر کیا جا رہا ہے اور اس کی محبت کا دعویٰ کر کے اس کی ہنسی اڑائی جا رہی ہے اور اس سے دشمنی کی جاتی

ہے اور خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وہ باتیں منسوب کی جا رہی ہیں جو انہوں نے نہیں کیں اور اگر فی الواقع انگریز مذہبی جنگ ہی کر رہے ہیں تو پھر شریعت نے ان لوگوں کو کب اختیار دیا ہے کہ یہ شریعت کے احکام کو منسوخ کر کے جو چاہیں حکم دے دیں؟ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے مسلمان صرف کفار کے پاس غلہ نہ بیچ کر یا ان سے بات چیت ترک کر کے ان احکام سے آزاد ہو سکتے تھے؟ جن سے اس وقت بعض لوگ ترکِ موالات کر کے مسلمانوں کو آزاد کروانا چاہتے ہیں؟

مولوی محمود الحسن صاحب کا یہ فتویٰ دینا کہ میں اس وقت تلوار چلانے کا فتویٰ نہیں دیتا اور ترکِ موالات کے دوسرے حامیوں کا ان کی رائے سے اتفاق کرنا اور کم سے کم عملاً سب علماء کا تصدیق کرنا دو باتوں میں سے ایک کی طرف ضرور اشارہ کرتا ہے یا تو یہ کہ ترکِ موالات کا یہ وقت نہیں ہے اور شریعت کے احکام کے ماتحت اس وقت اس کی اجازت نہیں ہے لیکن چونکہ مسلمانوں کے جوش اس وقت تک نہیں بھڑک سکتے جب تک کسی بات کو مذہبی رنگ نہ دیا جاوے اس لئے ترکِ موالات کو مذہبی جامہ پہنا دیا گیا ہے یا یہ کہ دل سے یہ علماء سمجھتے ہیں کہ ہجرت اور جہاد دونوں اس وقت فرض ہیں لیکن یا تو حکومت سے ڈر کر اس کا نام نہیں لیتے اور ترکِ موالات جس کی تلقین کرنا قانونی زد سے بچائے رکھتا ہے اس پر زور دیتے ہیں اور یا یہ کہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے ہجرت اور جہاد کا فتویٰ دیا تو ہمیں بھی اپنا آرام ترک کرنا پڑے گا اور اگر ہم نے اپنے فتویٰ پر عمل نہ کیا تو لوگ ہم پر اعتراض کریں گے کہ لوگوں کو کہتے ہو خود کیوں عمل نہیں کرتے؟ اور اگر ان دونوں صورتوں میں سے کوئی بھی صورت نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ترکِ موالات جو تیسرا قدم ہے اس پر تو زور دیا جاتا ہے اور بیچ کے دو قدموں کا ذکر تک نہیں کیا جاتا؟ کیا اب وہ آیات قرآنیہ جن میں یہ شرائط بتائی گئی ہیں منسوخ کر دی گئی ہیں یا لوگوں میں خوفِ خدا ہی نہیں رہا؟ کہ جس طرح چاہتے ہیں قرآن کریم کے احکام کو بگاڑ کر پیش کر دیتے ہیں۔ کاش! عقلمند انسان آنکھیں کھول کر دیکھیں کہ اس طریق کا کس قدر نقصان ہو رہا ہے؟

موجودہ حالت کے متعلق ترکِ موالات کے حامیوں کے ضمیر کا فتویٰ

کھیری کے ڈپٹی کمشنر کا قتل ایک بیّن

ثبوت ہے اس امر کا کہ جب حکومت سے ترکِ موالات کی تعلیم دی جاوے تو لازماً انسان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ پھر ایسی حکومت کے باقی رکھنے کی کیا حاجت ہے؟ اس خیال کی اشاعت یقیناً فساد پھیلانے والی اور امن کو دُور کرنے والی ہوگی۔

اِس وقت ہندوستان کے مسلمانوں کا جہاد کی فرضیت سے انکار صاف بتا رہا ہے کہ عدمِ تعاون کے بانی ہرگز انگریزوں کی نسبت یقین نہیں کرتے کہ یہ مذہبی جنگ کر رہے ہیں اور اگر مذہبی جنگ نہ ہو تو ترکِ موالات کا حکم قرآنِ کریم سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ پس دونوں باتوں میں سے ایک بات کا فیصلہ ہونا چاہئے یا تو انگریزوں کی نسبت فیصلہ کیا جائے کہ وہ دینِ اسلام کو مٹانے کے لئے تلوار لے کر کھڑے ہو گئے ہیں اور جبراً اشاعتِ اسلام کو روکتے ہیں اور یا پھر ان کو معاہدین کے زمرہ میں شامل رکھا جاوے۔ مذہبی پہلو سے اور کوئی تیسری صورت جائز نہیں۔ اگر پہلی صورت فرض کی جائے تو پھر اوّل ہجرت اور بعد میں جہاد اور ترکِ موالات کرنا شریعت کا حکم ہے۔ جسے نہ کوئی مولوی منسوخ کر سکتا ہے نہ کوئی کمیٹی منسوخ کر سکتی ہے کیونکہ خدا ان حالات سے ناواقف نہ تھا جو اب ظاہر ہو رہے ہیں۔ اگر اس وقت ان تمام احکام پر عمل کرنا ضروری نہیں جن پر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ضروری تھا تو پھر قرآن ایک وقتی ہدایت نامہ ہے یا خدا تعالیٰ کا علم ناقص ہے لیکن اگر قرآن ہمیشہ کے لئے ہے اور اگر خدا تعالیٰ کا علم کامل ہے تو قرآنِ کریم کی صریح تعلیم کے بعد کوئی شخص یا کوئی کمیٹی یا کوئی علماء کی جماعت نیا فتویٰ نہیں دے سکتی۔ اور اگر دوسری صورت میں یعنی انگریز مذہبِ اسلام کو مٹانے کے لئے اور جبراً اسلام سے پھرانے کے لئے نہیں کھڑے ہوئے تب شریعتِ اسلام کے احکام کے مطابق ان سے ترکِ موالات کرنا واجب نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا یَنۡہٰٮکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَلَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ(الممتحنہ: ۹)۔ "اللہ تعالیٰ تم کو ہرگز منع نہیں کرتا ان لوگوں کے متعلق جو تم سے برسرِ جنگ نہیں ہیں اور جنہوں نے تم کو گھروں سے نہیں نکالا کہ ان سے نیکی کرو اور ان کے ساتھ عدل کا معاملہ کرو۔ اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے"

مذہبی جنگ کرنیوالا وہی کافر محارب ہے جو جنگ میں پہل کرے

اس معاملہ پر غور کرتے وقت یہ بات بھی مدّ نظر رکھنی چاہئے کہ قرآن کریم نے مذہبی جنگ کی یہ بھی شرط بتائی ہے کہ بَدَءُوۡکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ(التوبۃ: ۱۳) "انہوں نے تم سے پہلے جنگ شروع کی ہو۔" لیکن کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ ترکوں سے جنگ پہلے انگریزوں نے شروع کی تھی۔ جب جنگ کی ابتداء ترکوں کی طرف سے ہوئی ہے

تو پھر انگریزوں پر اعتراض کیا ہے؟ اگر یہ مذہبی جنگ بھی سمجھ لی جاوے تو اس کی ابتداء ترکوں کی طرف سے ہوئی ہے نہ کہ انگریزوں کی طرف سے۔ متواتر کئی سال سے انگریز اور دوسرے اتحادی اس بات کو پیش کر رہے ہیں کہ ترکوں نے ہم سے جنگ میں ابتداء کی ہے مگر آج تک اس کا جواب ترک نہیں دے سکتے۔ اگر کوئی معقول جواب وہ دے دیتے تو گو دوسرے لوگ اس کو تسلیم نہ کرتے۔ مگر کم سے کم ان سے ہمدردی رکھنے والے لوگوں کے دلوں کو تو تسلی ہوتی اور وہ سمجھتے کہ ترک اس لڑائی میں معذور تھے۔ اگر بعض خفیہ حالات ایسے موجود بھی تھے جن کا اظہار اب تک نہیں کیا جا سکتا جن کی وجہ سے جنگ ضروری ہو گئی تھی تو بھی اسلام کے احکام کے مطابق ترکوں کو اس وقت تک انتظار کرنا چاہئے تھا جب تک اتحادی حملہ کرتے اور اپنے پُرانے معاہدات کو ایک عرصہ پہلے خدا کے حکم کے مطابق منسوخ شدہ قرار دینا چاہئے تھا اور ان کے منسوخ ہونے کی وجوہات بیان کرنی چاہئے تھیں تاکہ دوسروں کو یہ کہنے کا موقع نہ ملتا کہ انہوں نے خلاف عہد کام کیا۔ لیکن جب ترکوں نے جنگ شروع کر دی تو کیا یہ اُمید کی جاتی ہے کہ برطانیہ خاموش رہتا؟ اور اپنی سپاہ کو ہلاک ہونے دیتا اور جواب نہ دیتا؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ برطانیہ اور اتحادی خواہ کسی سبب سے سہی اس امر کو چاہتے تھے کہ ترک یا ان کے ساتھ مل جائیں یا جنگ میں شریک ہی نہ ہوں تاکہ مسلمانوں کی ہمدردی ان کو حاصل رہے۔ لیکن جب ان کی خواہشات کے خلاف ترک شامل ہوئے اور انہوں نے جنگ کی ابتداء کی تو پھر یہ جنگ مذہبی جنگ کس طرح قرار پا سکتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ترک بلاوجہ جنگ میں شامل ہو گئے نہ میں یہ کہتا ہوں کہ انہوں نے غلطی کی۔ ممکن ہے کہ ان کو اس جنگ میں شامل ہونے میں بعض فوائد نظر آتے ہوں اور نہ شامل ہونے میں نقصان معلوم ہوتا ہو۔ لیکن بہرحال جب انہوں نے ابتداء کی تو وہ جنگ مذہبی نہ رہی دنیاوی ہو گئی اور دنیاوی فتوحات اور دنیاوی فوائد کی جنگوں میں انسان موقع اور محل کو دیکھ کر ابتداء بھی کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ یہ ثابت کر سکے کہ اس کا جنگ کرنا انصاف پر مبنی تھا۔

بعض چیزوں کا بائیکاٹ کرنا اور بعض کا نہ کرنا بھی بتاتا ہے کہ وہ اسے شرعی مسئلہ نہیں سمجھتے

ترک موالات کے حامیوں کا یہ فعل بھی کہ وہ بعض چیزوں کا بائیکاٹ کرتے ہیں اور بعض کا نہیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسے شرعی مسئلہ نہیں سمجھتے۔ اوّل تو اگر یہ شرعی مسئلہ ہوتا تو اس سے پہلے ہجرت اور پھر جنگ ہونی چاہئے تھی۔ لیکن اگر بفرضِ محال یہ مان بھی لیا جائے کہ کسی حکومت کے ماتحت رہتے ہوئے بھی بغیر اس کے مقبوضہ ملک سے ہجرت کرنے کے اور بغیر اس سے جہاد شروع ہونے کے ترکِ موالات کیا جا سکتا ہے بلکہ بعض وقت ایسا کرنا فرض ہوتا ہے تو پھر میں پوچھتا ہوں کہ اس شرعی فرض میں اپنی طرف سے تغیّر کیوں کر لیا گیا ہے۔ خدا تعالیٰ تو ان لوگوں کی نسبت جن سے ترکِ موالات کا حکم دیتا ہے کلّی ترکِ موالات کا فتویٰ دیتا ہے۔ پھر یہ کس کا اختیار ہے کہ اس حکم کو نرم یا سخت کر دے؟ حرام کو حلال یا حلال کو حرام کرنا تو ایک خطرناک جرم ہے۔ پس اگر ترکِ موالات ایک شرعی حکم ہے تو پھر اس کے مدارج مقرّر کرنے کا کسی کو کیا اختیار ہے؟ اور عام کالجوں کے طالب علموں کو تعلیم جاری رکھنے سے منع کرنا اور طبّی کالجوں کے طلباء کو پڑھائی جاری رکھنے کی اجازت دینا کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ پھر انگریزوں سے تجارت کرنا کس طرح جائز ہے؟ کیا ترکِ موالات والی آیت میں وَتِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا(التوبۃ: ۲۴) کا ذکر خاص طور پر نہیں کیا گیا؟ پھر اگر واقع میں یہ حکم شرعی ہے تو کیوں تجارت کو بند نہیں کیا جاتا؟ کیوں طبّی کالجوں کے طلباء کو بھی پڑھائی چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جاتا؟ کیوں چوری وغیرہ جرائم کے موقع پر پولیس کی مدد لی جاتی ہے؟ یا کم سے کم کیوں اعلان نہیں کیا جاتا کہ اگر کسی کے چوری ہو جاوے تو وہ پولیس میں اطلاع نہ کرے؟ کیوں ریل میں سوار ہوا جاتا ہے؟ کیوں ڈاک سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے؟ کیوں تار کے محکمہ سے نفع حاصل کیا جاتا ہے؟ کیا قرآنِ کریم کی ان آیات میں جن میں ترکِ موالات کا فتویٰ دیا گیا ہے کوئی حد بندی کی گئی ہے؟ یا ان آیتوں کے سوا اور کوئی آیات ہیں جنہوں نے ان محکموں سے فائدہ اُٹھانے کی اجازت دے دی ہے؟

اگر یہ ترکِ موالات شرعی ہے تو اسے اپنے آپ کیوں محدود کر لیا گیا ہے اور اگر مسٹر گاندھی کے کہنے پر ہے تو اس کا نام شرعی فرض کیوں رکھا جاتا ہے؟

کیا ترکِ موالات کے حامیوں کے پاس ان سب سوالوں کا ایک ہی جواب نہیں کہ مسٹر گاندھی نے چونکہ ایسا کہا ہے اس لئے ہم اس طرح کرتے ہیں؟ مگر میں کہتا ہوں کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ اس طرح نہ کرو جس طرح مسٹر گاندھی کہتے ہیں اگر کسی کے خیال میں مسٹر گاندھی کا پروگرام مفید اور قابلِ عمل معلوم ہوتا ہے تو وہ بے شک اس پر عمل کرے۔ مگر مسٹر گاندھی کے قول کو قرآنِ کریم کیوں قرار دیا جاتا ہے؟ شریعت اس کا نام کیوں رکھا جاتا ہے؟ اگر یہ بات ہے تو لوگوں سے یہ کہو کہ چونکہ مسٹر گاندھی اس طرح فرماتے ہیں اس طرح تم کو عمل کرنا چاہئے یہ کیوں کہتے ہو کہ شریعتِ اسلام کا یہ فتویٰ ہے؟ شریعتِ اسلام نے غیرمسلموں سے ترکِ موالات کرنے کا جن شرائط کے ساتھ حکم دیا ہے وہ شرائط تو جب بھی کسی قوم میں پائی جائیں اس سے ہر قسم کی امداد لینی یا اس کو کسی قسم کی مدد دینی ناجائز ہو جاتی ہے سوائے اس کے کہ تذلّل کی امداد ہو یعنی ایسی مدد ہو جس میں ہم حاکم ہوں اور وہ ماتحت ہوں۔ پس اگر یہ فتویٰ وہی ہے جو خدا تعالیٰ نے دیا ہے اور وہی حالات ہیں جن میں ترک موالات کرنا اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے۔ تو پھر پروگرام مقرر نہیں ہو سکتے ، کسی قسم کی موالات معاف نہیں ہو سکتی ، نفع اور نقصان کو نہیں سوچا جا سکتا۔ لیکن اگر یہ پروگرام شریعتِ اسلام کا نہیں بلکہ مسٹر گاندھی کا ہے، تو پھر اس کو شریعت کی طرف منسوب کرنا اور آیاتِ قرآنیہ سے اس کا استدلال کرنا ایک خطرناک گناہ ہے۔ اگر ترک موالات کے حامی اسے شریعت کا فرض مقرر کرتے ہیں تو پھر اس طرح عمل کریں جس طرح کہ شریعت نے کہا ہے اور اگر اسے مسٹر گاندھی کا ارشاد قرار دیتے ہیں تو عوام کو قرآن کریم کے نام سے دھوکا نہ دیں اور اسلام کا تمسخر نہ اڑائیں۔

کیا اب گورنمنٹ برطانیہ بھی ہمارے ساتھ محاربین والا سلوک کرنے کی مجاز ہے؟

پھر اس مسئلہ کے متعلق ایک اور بھی سوال ہے جسے ترک موالات کے حامیوں کو مدّ نظر رکھنا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ جیسا کہ میں پہلے ثابت کر چکا ہوں قرآن کریم سے ان ہی لوگوں سے ترک موالات کرنے کا حکم ثابت ہوتا ہے جو حربی کفار ہوں تو اب جبکہ حکومت برطانیہ کے خلاف ترک موالات کا فتویٰ دیا جاتا ہے۔ کیا حکومت برطانیہ بھی وہی معاملہ مسلمانوں سے کر سکتی ہے جو دو باہم لڑنے والی قومیں ایک دوسرے سے کرتی ہیں؟ کیا وہ جس کو چاہیں پکڑ کر قید کر دیں۔ ذرا سی شورش پر کورٹ مارشل بٹھا کر لوگوں کو قتل کر دیں؟ مارشل لاء جاری کر دیں تو مسلمان اس کو خوشی سے قبول کریں گے؟ کیا وہ اس وقت یہی اعتراض نہیں کریں گے کہ ہم تو وفادار رعایا ہیں ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ پھر جب انگریزوں کے ساتھ حاکم اور رعایا کے تعلقات قائم ہیں تو ترک موالات کا فتویٰ کس طرح دیا جا سکتا ہے۔ ترک موالات کا حکم تو اسی وقت ہوتا ہے جب جنگ شروع ہو۔ اور اگر ترک موالات کرنے کی شرائط اس وقت پوری ہو گئی ہیں تو حکومت برطانیہ کے لئے بھی جائز ہو گا کہ جس طرح چاہے مسلمانوں سے معاملہ کرے۔ اور اس پر ظلم کا الزام نہیں لگ سکے گا کیونکہ محاربین کے درمیان بہت سی وہ باتیں جائز ہوتی ہیں جو دوسری صورت میں جائز نہیں ہوتیں۔ مگر کوئی شخص اس بات کو قبول نہ کرے گا کہ حکومت برطانیہ کے لئے جائز ہے کہ وہ حربی قوموں والا سلوک ہندوستان کے مسلمانوں سے کرے اسی طرح کوئی عقلمند یہ بھی تسلیم نہ کرے گا کہ شریعت نے جو حکم محارب کفار کے متعلق دیا ہے اسے برطانیہ کی حکومت پر چسپاں کیا جائے۔

ترک موالات کا حکم صرف خلیفۂ وقت ہی دے سکتا ہے

ترک موالات کے حامیوں کو اس امر پر

بھی غور کرنا چاہئے کہ ترکِ موالات کا حکم دینے کا مجاز صرف خلیفہ ہی ہو سکتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے احکام کی طرف بلانا اور ان کا نافذ کرنا اس کا کام ہے۔ ترکِ موالات چونکہ ان تعلقات میں سے ہے جو افراد کے درمیان نہیں بلکہ قوموں یا حکومتوں کے درمیان ہوتے ہیں اس لئے اس کے متعلق فیصلہ خلیفہ ہی کر سکتا ہے لیکن جبکہ وہ سلطان المعظم کی خلافت کے متعلق اس قدر زور دے رہے ہیں کیا کبھی انہوں نے اس امر پر بھی غور کیا ہے کہ خود سلطان المعظم نے کبھی ترکِ موالات کے لئے مسلمانوں کو دعوت نہیں دی بلکہ وہ خود اتحادیوں سے صلح کرنے پر تیار ہو گئے بلکہ انہوں نے صلح کر لی۔ اس صورت میں دوسرے مسلمانوں کو خصوصاً ان کو جو سلطان المعظم کو خلیفہ تسلیم کرتے ہیں یہ حق کس طرح پہنچتا ہے کہ وہ ان کے منشاء بلکہ ان کے عمل کے خلاف کام کریں۔

اس سوال کا جواب کہ سلطان ترکی بوجہ اتحادیوں کے نرغہ میں آجانے کے معذور ہیں

بے شک بعض لوگ کہہ دیں گے کہ سلطان المعظم کو اتحادیوں نے اپنے نرغہ میں لے لیا ہے لیکن سوال یہ ہے کیا سلطان المعظم اس سے زیادہ نرغہ میں ہیں جس قدر کہ ہندوستان کے مسلمان ہیں؟ ہندوستان کے مسلمانوں کے پاس نہ تو فوج ہے نہ اسلحہ، نہ مال، نہ طاقت۔ اگر یہ ترکِ موالات کر سکتے ہیں تو کیا سلطان المعظم جو اس حالت سے بہر حال اچھی حالت میں ہیں ترکِ موالات نہیں کر سکتے؟ اگر وہ ترکِ موالات نہیں کرتے نہ ترکِ موالات کی مسلمانانِ عالم کو دعوت دیتے ہیں تو کیا ان کے عمل اور ان کے منشاء کے خلاف کام کرنے والے ان کے سچے عقیدت مند کہلا سکتے ہیں؟ کیا مدعی سست اور گواہ چست والی مثال ان مسلمانوں پر صادق نہیں آتی جو اس وقت ترکِ موالات پر زور دے رہے ہیں؟ پھر یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ اگر فی الواقع سلطان المعظم کو نرغہ میں لے لیا گیا ہے اور وہ بالکل بے بس ہیں تو کیا مسلمانانِ ہندوستان اس امر کو درست سمجھتے ہیں کہ خلیفہ وقت کسی وقت بھی دشمن کی طاقت کو دیکھ کر ان احکام کے نفاذ کو ترک کر دے جو اس کے سپرد کر دیئے گئے تھے؟ پس ان کا یہ رویہ ثابت کرتا ہے کہ یا تو وہ سلطان المعظم پر بھی اعتراض کرتے ہیں کہ وہ شریعت کے احکام کی پیروی نہیں کرتے اور یا یہ کہ وہ خود شریعت کے خلاف عمل کرتے ہیں اور ان کا سلطان المعظم سے تعلق کا دعویٰ بالکل غلط ہے اور صرف سیاسی اغراض پر مبنی ہے اور حق بھی یہی ہے کیونکہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو آج سلطان المعظم کے طریقِ عمل کی بجائے مسٹر گاندھی کے طریقِ عمل کی پیروی نہ کی جاتی اور ان کو امام گاندھی کا لقب دے کر شریعتِ اسلام کی علی الاعلان ہتک نہ کی جاتی۔

فتنہ ہلاکو خاں کے وقت علماء اسلام کا رویہ اور اس سے سبق

ترکِ موالات کے حامیوں کو ایک

اور بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اس سے پہلے بھی ایک زمانہ اسلام پر ایسا آچکا ہے کہ اس کی مرکزی حکومت کفر کے ہاتھ سے برباد ہو چکی ہے۔ ترکوں کے ہاتھوں بغداد کی تباہی کا واقعہ مسلمانوں سے پوشیدہ نہیں۔ پس پیشتر اس کے کہ کوئی خاص طریقِ عمل تجویز کیا جاوے ہمارے لئے اس امر کا دیکھنا ضروری ہے کہ اس وقت کے علماء نے کیا طریقِ اختیار کیا تھا؟ کیا فی الواقع اس وقت کے علماء نے جو اس وقت کے علماء سے اپنے علم اور اپنے تقویٰ میں بہت بڑھ کر تھے یہی طریقِ اختیار کیا تھا جو آجکل ترکِ موالات کے حامی کر رہے ہیں۔ اس وقت تو خلافت کی ظاہری شکل بھی باقی نہ رکھی گئی تھی۔ خود خلیفہ کے خاندان کے ہزاروں مرد و عورت قتل کئے گئے تھے اور بغداد کے اردگرد اٹھارہ لاکھ آدمی تہِ تیغ کر دیئے گئے تھے ، عورتوں کو بھاگنے کے لئے راستہ نہ ملتا تھا۔ اس وقت کے علماء نے کیا فتویٰ دیا تھا اور عالمِ اسلام نے اس پر کس طرح عمل کیا تھا؟ وہ زمانہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے قریب کا زمانہ تھا اور آج کل کے زمانہ سے اچھا تھا۔ کیونکہ اس وقت کے بعد ترکِ موالات کے حامیوں کے عقیدہ کے مطابق کوئی نئی رُوح مسلمانوں میں ایسی نہ آئی کہ جس نے ان کو پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کر دیا ہو اور جو آئی ہے اسے انہوں نے قبول نہیں کیا۔ پس اس زمانہ کے علماء کے فتوؤں کو بھی تو دیکھو کہ کیا انہوں نے اسی طریقِ عمل کو اختیار کیا تھا جو آج کل کے لوگ کر رہے ہیں۔

آنحضرت ﷺ کی وصیت کفار کو جزیرہ عرب سے نکال دینے کی بابت

ترکِ موالات کی تائید میں ایک یہ بات بھی پیش کی جاتی ہے کہ جزیرہ عرب سے کفار کے نکال دینے کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا اسلئے جزیرہ عرب کے ممالک پر مسیحیوں کا قبضہ یا اقتدار نہیں ہونا چاہئے اس میں کوئی شک نہیں کہ مسجدِ حرام کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مشرک اس کے قریب نہ آئیں لیکن باقی جزیرہ عرب کے متعلق قرآن کریم میں کوئی ذکر نہیں۔ ہاں بعض احادیث سے ضرور یہ پتہ چلتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواہش ظاہر فرمائی تھی کہ اگر آپؐ زندہ رہے تو یہود کو خیبر وغیرہ علاقوں سے خارج کر دیں گےعه اور یہ خواہش حضرت عمرؓ کے زمانہ میں پوری کی گئی۔ مگر ان احادیث کے متعلق دو سوال حل طلب ہیں اوّل یہ کہ کیا یہ ایسی ہی خواہش تھی کہ اس کے پورا کرنے کے لئے مسلمانوں پر جہاد فرض ہو جاتا ہے؟ دوم

یہ کہ جزیرہ عرب سے کیا مراد ہے؟

کیا جزیرہ عرب کو کفار سے خالی رکھنے کیلئے جہاد فرض ہے؟

سوال اوّل کا جواب تو یہ ہے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق عمل کو دیکھتے ہیں کہ یہ ایسا امر نہیں ہے۔ درحقیقت یہ ایک سیاسی سوال تھا ورنہ کیا وجہ تھی کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات میں یہود کو نہیں نکال دیا۔ کیا مذہبی احکام کے پورا کرنے میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح دیر کیا کرتے تھے؟ آپؐ تو الٰہی باتوں کی ایسی غیرت رکھتے تھے کہ ان کے پورا کرنے میں ایک منٹ کی بھی دیر نہ لگاتے تھے۔

اگر کہا جاوے کہ پہلے آپ کو خیال نہیں آیا جس وقت آپ کو یہ معلوم ہوا کہ ان کو عرب میں نہیں رہنے دینا چاہئے اس وقت آپ نے اس کا اظہار کر دیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر واقعی یہ کوئی مذہبی فرض ہوتا تو کیا آپؐ اسی وقت ایک لشکر اس غرض کے لئے نہ بھیج دیتے اور اگر بفرضِ محال آپؐ ایسا نہ کر سکے تھے تو کیا حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ خلافت میں خود اس خواہش کو پورا نہ کر دیا جاتا؟ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حضرت ابوبکرؓ کے پاس طاقت نہ تھی۔ مُرتدوں کے فتنہ کے وقت جب لوگوں نے کہا کہ جیشِ اسامہؓ کو جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کے لئے تیار کیا ہے روک لیا جاوے تو آپؓ نے فرمایا کہ ابو قحافہ کا بیٹا (یعنی ابوبکرؓ) کیا حیثیت رکھتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو منسوخ کرے۔ (البداية والنهاية جلد ۶ ص ۳۳۴ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۶ء) ایسا دلیر آدمی کب گوارا کر سکتا تھا کہ ایسا زبردست حکم جس کے پورا کرنے کے لئے جہاد فرض ہو جاتا ہے اور جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حکم تھا پورا نہ کیا جائے۔

پھر اگر مرتدین کے فتنہ کے وقت آپؓ نے توجہ نہ کی تھی تو ان کے فتنہ کے دُور ہونے کے بعد کیوں آپؓ نے یہود کے نکالنے کی طرف توجہ نہ فرمائی؟ شام کی سرحد اور ایران کی سرحد پر تو جنگیں ہو رہی تھیں لیکن خود عرب کے اندر ایسا عظیم الشان حکم بے توجہی کی نذر ہو رہا تھا کیا یہ بات کسی صاحبِ بصیرت کی سمجھ میں نہیں آ سکتی ہے؟

پس اصل بات یہی ہے کہ حجاز کے علاقہ کو چھوڑ کر جس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ واقع ہیں اور جس کو خدا اور اس کے رسولؐ نے ایک خاص حیثیت دی ہے باقی عرب کی نسبت جو کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ بطور فرض اور واجب کے نہیں فرمایا بلکہ ایک پسندیدہ بات کے طور پر فرمایا ہے۔ پس جب مسلمانوں میں طاقت ہو اور جب مناسب حالات موجود ہوں ان حالات کے پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے لیکن جب حالات مناسب نہ ہوں یا مسلمان طاقت نہ رکھتے ہوں تو ان امور کے پورا کرنے کے لئے جہاد اور قتال فرض نہیں ہوتا ورنہ حضرت ابوبکرؓ جو پہلے خلیفہ تھے اور اپنے تقویٰ اور غیرتِ اسلامی میں سب صحابہؓ سے بڑھے ہوئے تھے ان پر سخت الزام آتا ہے۔

حضرت عمرؓ کے بعد بھی اسلامی حکومت کے سامنے یہود جزیرہ عرب میں رہتے تھے

پھر جب ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے بعد بھی اسلامی حکومتوں کی آنکھوں کے سامنے حجاز سے باہر مسیحی اور یہودی عرب کے علاقوں میں بستے رہے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اُمّتِ اسلامیہ نے کبھی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے وہ معنی نہیں لئے جو اب لئے جاتے ہیں۔ حجاز سے باہر عرب میں مسیحی قبائل تیسری صدی ہجری تک بستے رہے ہیں اور سینکڑوں سال سے یمن کے شہروں میں یہودیوں کی ایک معقول تعداد بس رہی ہے اور صنعاء کی بیس ہزار کی آبادی میں سے قریباً دو ہزار یہودی ہے اگر عراق عرب کا حصہ ہے تو ترکی حکومت کے زمانہ میں بھی بغداد بجائے ایک اسلامی شہر کہلانے کے یہودی شہر کہلانے کا مستحق تھا۔ کیونکہ وہاں کے سب بڑے بڑے مکان اور بڑی بڑی تجارتی کوٹھیاں یہودیوں ہی کے قبضہ میں تھیں۔

غیر مسلم اقتدار عرب پر

یہ تو عرب کی غیر مسلم آبادی کا حال ہے اب رہا غیر مسلم اقتدار کا سوال۔ سو اس کا جواب بھی سلطان المعظم کے عمل سے ثابت ہے عدن پر انگریزوں کا قبضہ ایک عرصہ سے چلا آتا ہے۔ ۱۹۰۲ء سے ۱۹۰۵ء تک ایک کمیٹی ترکوں اور انگریزوں کی بیٹھی تھی جس نے یہ فیصلہ کیا کہ شیخ سعید کے پاس دریائے بانا کے ساتھ ساتھ قتبہ نامی قصبہ کے جنوب مشرق کی طرف سے ایک حد صحرائے اعظم کی طرف کھینچی جاوے اور جنوبی علاقہ کو انگریزی اقتدار میں دیا جائے۔ یہ علاقہ تو بلاشبہ عرب کا حصہ ہے مگر خود سلطان المعظم نے یہ علاقہ انگریزوں کے سُپرد کر دیا۔ پس وہ لوگ جو ان کو خلیفہ تسلیم کرتے ہیں وہ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ عرب کے کسی حصہ پر کسی غیر مذہبی حکومت کا قبضہ ہونے پر جو جہاد نہ کرے وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے کیا وہ اس طرح خود سلطان المعظم اور ان کی حکومت پر اعتراض نہیں کرتے اور کیا یہ عجیب نہیں کہ جب عدن پر جو یقیناً عرب کا حصہ ہے قبضہ کیا گیا تھا اور جب اس قبضہ کو سلطان المعظم کی حکومت نے تسلیم کر لیا تھا اس وقت تو اس پر اعتراض نہ کیا گیا۔ اور اب عراق پر قبضہ کرنے پر (جس کے عرب کا حصہ ہونے میں شبہ ہے) اعتراض کیا جاتا ہے۔ اگر کہا جائے کہ اس وقت ترکی حکومت کمزور تھی یا مسلمانانِ ہند کمزور تھے ۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا اب وہ طاقتور ہوگئے ہیں؟ اور کیا جہاد کے لئے طاقت کی بھی کوئی شرط شریعت نے لگائی ہے؟ غربت یا فوجوں کی کمی تو جہاد کے موانع میں شامل نہیں۔

کیا عراق جزیرۃ العرب میں داخل ہے؟

دوسرا سوال کہ جزیرۃ العرب سے کیا مراد ہے۔ اس کی خواہ کوئی تعریف جغرافیہ والے کریں صحابہؓ کے طریقِ عمل سے ہمیں یہی معلوم ہوتا ہے کہ عراق کو انہوں نے جزیرۃ العرب میں شامل نہیں کیا کیونکہ صحابہؓ کے زمانہ میں جبکہ اصل عرب سے کفار کو نکال دیا گیا تھا عراق سے کفار کو نہیں نکالا گیا۔ بلکہ کوفہ میں اور اس کے گرد و نواح میں کثرت سے مسیحی رہتے تھے بلکہ جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے حضرت عمرؓ نے نجران کے مسیحیوں کو وہاں سے جلاوطن کرکے شام اور عراق میں آباد کردیا تھا اور وہاں ان کو جائدادیں دے دیں تھیں۔ اب اگر عراق بھی عرب میں شامل ہوتا۔ تو کیا یہ ممکن تھا کہ حضرت عمرؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو پورا کرنے کے لئے مسیحیوں کو نجران سے تو نکالتے اور اس قدر تعمد کرنے کے بعد پھر ان کو عراق میں (اگر وہ عرب کا حصہ ہے) لا کر آباد کردیتے۔ جغرافیہ کے لحاظ سے یا طبعی لحاظ سے عرب کی حدود خواہ کوئی ہوں مگر صحابہؓ نے عرب کے جو معنے سمجھے ہیں وہ خود حضرت عمرؓ کے قول اور فعل سے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے پورا کرنے والے ہیں خوب کھل جاتے ہیں۔ طبری سے ثابت ہے کہ حضرت عمرؓ نے یعلیٰ بن اُمیّہ کو جنہیں انہوں نے اس غرض سے نجران بھیجا تھا کہ وہاں کے مسیحیوں کو جلاوطن کردیں۔ یہ حکم دیا تھا کہ "ان کو بتا دینا کہ ہم ان کو خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے ماتحت جلاوطن کرتے ہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جزیرہ عرب میں دو دین نہ رکھے جاویں"۔ ان لوگوں کو جلاوطن کرکے کہاں بھیجا؟ اس کے متعلق فتوح البلدان میں لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ نے ان لوگوں کو یہ خط لکھ کر دیا کہ "اہلِ شام اور اہل عراق میں سے جن کے پاس یہ خط پہنچے ان کو چاہئے کہ ان کو زمین برائے کاشت اچھی طرح سے دیں اور جس زمین کو یہ آباد کریں وہ ان کی یمن کی زمین کے بدلہ میں ان ہی کی ہو جاوے گی"۔ شائد کہا جائے کہ عراق سے مراد عراقِ عجم ہوگا۔ لیکن جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے ان لوگوں کو کوفہ کے پاس زمینیں ملی تھیں اور وہاں انہوں نے نجران کی یادگار میں نجرانیہ نام ایک قصبہ بھی آباد کیا تھا اب سوچو کہ حضرت عمرؓ کے نزدیک عراق اگر عرب میں شامل ہوتا یا صحابہؓ میں سے کسی کے خیال میں بھی یہ بات ہوتی تو کیا یہ ممکن تھا کہ وہ مسیحیوں کو اس علاقہ میں جائدادیں دیتے؟

لفظ جزیرہ کے مفہوم پر بحث

عراق کے عرب میں شامل ہونے کی یہ دلیل دی جاتی ہے کہ عرب جزیرہ کہلاتا ہے اور جب تک دجلہ اور فرات تک کے علاقے اس کے اندر شامل نہ کئے جاویں اس کی حیثیت جزیرہ کی نہیں بنتی کیونکہ اس صورت میں اس کے چاروں طرف پانی نہیں رہتا۔

لیکن یہ دلیل درست نہیں کیونکہ عرب لوگ ان ممالک کو بھی جزیرہ کہتے ہیں جن کے زیادہ حصہ کے گرد پانی ہو اور کم حصہ خشکی کے ساتھ ملتا ہو۔ چنانچہ جس نے تاریخ کا ذرا بھی مطالعہ کیا ہو وہ جانتا ہے کہ عرب لوگ سپین کو بھی جزیرہ کہتے تھے اور اس کو جزیرہ اندلس کے نام سے موسوم کرتے تھے حالانکہ ایک جہت سپین کی فرانس سے ملی ہوئی ہے۔ لسان العرب اور تاج العروس کے مصنف اس کے مادہ کے نیچے لکھتے ہیں کہ وَانْدُلُسُ جَزِیْرَۃٌ مَّعْرُوْفَۃٌ (لسان العرب زیر لفظ ”دلس“ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۸ء تاج العروس زیر لفظ ”دلس“ مطبوعہ مصر ۱۳۰۶ھ) یعنی اندلس (سپین) ایک مشہور جزیرہ ہے۔ پس جزیرہ عرب کے لفظ سے یہ استدلال کرنا کہ اس کے اردگرد پانی کا ہونا ضروری ہے ایک غلطی ہے۔

اس بحث سے ہمارا یہ مدعا نہیں کہ عراق پر ضرور انگریزوں کا قبضہ ہونا چاہئے

میرا اس تمام تحریر سے یہ مطلب نہیں کہ چونکہ عراق عرب میں شامل نہیں یا اس کی شمولیت مشتبہ ہے اور خود حضرت عمرؓ نے اس کو عملاً شامل نہیں کیا اس لئے عراق پر انگریزوں کو قبضہ کر لینا چاہئے یا یہ کہ عرب کے اندرونی علاقہ میں انگریزوں کو شوق سے داخل ہو جانا چاہئے بلکہ میں انکے اس فعل کو سختی سے ناپسند کرتا ہوں اور عراق تو کیا میں تو چاہتا ہوں کہ وہ اپنے پُرانے مقبوضہ علاقہ عدن سے بھی واپس آجائیں تو بہت اچھی بات ہے لیکن مجھے صرف اس پر اعتراض ہے کہ ان باتوں کو مذہب کے عظیم الشان احکام بنا کر دُنیا کے بگڑے ہوئے امن کو اور نہ بگاڑا جاوے اور مسلمانوں کی رہی سہی طاقت کو نہ توڑا جاوے اور عوام الناس کو جو حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے جوش دلا کر ان کی ہلاکت اور اسلام کی بدنامی کے سامان نہ پیدا کئے جاویں ورنہ مجھے تو اس قدر بھی پسند نہیں جس کی اجازت ترکی حکومت نے دے رکھی ہے اور میں تو یہی کہوں گا کہ اگر مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ پھر طاقت دے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے ادب اور احترام کے طور پر یمن اور دوسرے عرب علاقوں میں بسنے والے غیر مذاہب کے پیروؤں کو دوسرے ممالک میں خواہ ان کی موجودہ جائیدادوں سے بہت زیادہ قیمتی جائیدادیں لے کر دے دی جاویں مگر محبت اور پیار سے سمجھا کر ان کو عرب کے علاقہ سے بالکل ہی رخصت کر دیا جاوے لیکن میں اس کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا کہ جس بات پر صحابہؓ کے زمانہ سے اس وقت تک کبھی بھی عالم اسلام نے اس قدر زور نہیں دیا اس کو اس وقت ایسا اہم مسئلہ بنا دیا جاوے کہ اس کا لحاظ نہ ہونے پر جہاد اور ترک موالات کی تعلیم دینی شروع کردی جاوے اور مسلمانوں کو اپنے ہاتھوں ہلاکت کے گڑھے میں گرایا جائے۔ یقیناً جو جہاد خدا تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت ہو وہ خواہ کیسی ہی کمزوری کی حالت میں ہو بد نتائج نہیں پیدا کر سکتا لیکن جو لڑائی کہ جہاد کے نام سے کی جائے یا جو جدوجہد کہ دین کی آڑ میں کی جائے حالانکہ اس کا دین سے کوئی تعلق نہ ہو یقیناً وہ سخت ناکام ہو کر رہے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ہرگز پسند نہیں فرماتا کہ اس کے بھیجے ہوئے دین کو اس طرح بچوں کا کھیل بنایا جائے۔

ترک موالات از روئے شریعت اس وقت نہ صرف فرض یا واجب نہیں بلکہ جائز ہی نہیں

یہ بتا چکنے کے بعد کہ ترک موالات فرض اور واجب نہیں ہے میں نہایت ہی مختصر طور پر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ موجودہ حالات میں شریعت اس کو جائز بھی نہیں قرار دیتی۔

اس وقت ترک موالات از روئے قرآن کریم موجب فساد کبیر ہے

(۱) قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَہَاجَرُوۡا وَجٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَاَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَالَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ یُہَاجِرُوۡا مَا لَکُمۡ مِّنۡ وَّلَایَتِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا ۚ وَاِنِ اسۡتَنۡصَرُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ فَعَلَیۡکُمُ النَّصۡرُ اِلَّا عَلٰی قَوۡمٍۭ بَیۡنَکُمۡ وَبَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ ؕ وَاللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ اِلَّا تَفۡعَلُوۡہُ تَکُنۡ فِتۡنَۃٌ فِی الۡاَرۡضِ وَفَسَادٌ کَبِیۡرٌ(الانفال: ۷۳-۷۴) یعنی ضرور وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے کہ جگہ دی اور مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں اور جو لوگ کہ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت نہیں کی تم پر ان کی کسی قسم کی مدد کرنا فرض نہیں جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں اور اگر وہ تم سے دین کے متعلق مدد مانگیں تو تم پر ان کی مدد فرض ہو گی سوائے اس صورت کے کہ وہ اس قوم کے خلاف مدد مانگیں جس کے اور تمہارے درمیان معاہدہ ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔ اور وہ لوگ جو کافر ہوئے وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اگر تم ایسا ہی نہ کرو گے جیسا کہ ہم نے پیچھے بتایا ہے تو زمین میں فتنہ برپا ہو جاوے گا اور بہت فساد ہو گا ۔

اس آیت کے مضمون پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں مندرجہ ذیل باتیں بیان کی گئی ہیں ۔ ۱۔ مومنوں کو چاہئے کہ آپس میں ایک دوسرے کی مدد کیا کریں۔ ۲۔ جو لوگ مسلمان ہوں لیکن ان علاقوں میں رہتے ہوں جن پر کفار قابض ہیں وہ جب تک ہجرت نہ کریں ان کی مدد کرنی مسلمانوں کے لئے فرض نہیں۔ ۳۔ ہاں اگر ان پر دین کے معاملہ میں ظلم ہوتا ہو تو ان کی مدد کرنی فرض ہے ۔ ۴۔ بشرطیکہ یہ مدد اس قوم کے خلاف نہ ہو جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہو۔ ۵۔ کفار بھی آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ ۶۔ اگر تم ان تمام پچھلے احکام کو تسلیم نہ کرو گے تو دُنیا میں فتنہ پڑ جاوے گا اور بہت بڑا فساد کھڑا ہو جائے گا۔

اب ان چھ باتوں کو دیکھو کہ کس طرح یہ اس امر پر روشنی ڈالتی ہیں کہ گو مسلمانوں پر ایک دوسرے کی مدد کرنی واجب ہے لیکن اس قوم کے خلاف جس سے ایک مسلمان جماعت کا معاہدہ ہو دوسرے مسلمانوں کی مدد نہیں کرنی چاہئے حتیٰ کہ اگر دین کا معاملہ بھی ہو تب بھی ان کی مدد نہیں کرنی چاہئے ، ورنہ فساد پڑ جاوے گا۔

اس آیت کا فیصلہ انگریزوں سے ہمارے ترک موالات کے متعلق

اب دیکھو کہ انگریزوں کے ساتھ اگر ہندوستان کے مسلمانوں کا اور کوئی بھی تعلق نہ ہو تو بھی ان کے ساتھ ان کا ایک معاہدہ ہے اور وہ معاہدہ یہ ہے کہ وہ ان کی تمام کاموں میں جو حکومت کے متعلق ہیں مدد کریں گے۔ یہ معاہدہ تحریر میں نہیں ہے لیکن ہر ایک قوم جو کسی حکومت کے ماتحت رہتی ہے وہ اس معاہدہ کی پابند سمجھی جاتی ہے چنانچہ وہ مسلمان علماء جو وَاُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ(النساء : ۶۰) کی آیت سے انگریزوں کی فرمانبرداری کا حکم تسلیم نہیں کرتے وہ ان کی اطاعت کی یہی دلیل دیتے ہیں کہ ان کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہے پس جب ان کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہوا تو قرآن کریم کی آیت مذکورہ بالا کے احکام کے مطابق ان کے خلاف کسی مسلمان جماعت کی بھی مدد نہیں کی جاسکتی حتیٰ کہ مذہبی اُمور میں بھی ان کے خلاف دوسرے مسلمانوں کی مدد نہیں کی جاسکتی اور صرف ایک ہی طریق ان کی مدد کا ہے کہ اس علاقہ کو چھوڑ کر پہلے اس معاہدہ سے جس کے ہم برطانوی حکومت کے مقبوضہ ملک میں رہنے کی وجہ سے پابند ہیں آزادی حاصل کی جائے ۔ اور اگر ہم ایسا نہ کریں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دُنیا میں فساد پڑ جائے گا ۔

اِلَّا تَفْعَلُوْہُ کی ضمیر غائب کا مرجع

شائد کسی شخص کو یہ خیال گزرے کہ اِلَّا تَفۡعَلُوۡہُ(الانفال: ۷۴) سے یہ مراد نہیں کہ اگر پچھلی آیت کے تمام احکام پر عمل نہ کرو گے تو فتنہ ہو گا بلکہ تَفْعَلُوْہُ کی ضمیر صرف وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ(8:74) کے مضمون کی طرف جاتی ہے لیکن یاد رہے کہ اوّل تو لفظوں کے لحاظ سے وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ(8:74) میں کوئی ایسی بات نہیں جس کی نسبت یہ کہا جائے کہ اگر تم یوں نہ کرو گے تو فساد ہو گا بلکہ کفار کا حال بیان کیا ہے کہ وہ فلاں کام کرتے ہیں ۔

دوسرے مفسرین بھی یہی لکھتے ہیں کہ اِلَّا تَفۡعَلُوۡہُ(8:74) کی ضمیر پچھلی آیت کے سارے مضمون کی طرف جاتی ہے چنانچہ فتح البیان میں ہے الضَّمِيْرُ يَرْجِعُ اِلٰی مَا اُمِرُوْا بِهِ قَبْلَ هٰذَا مِنْ مُّوَالاَةِ الْمُؤْمِنِيْنَ وَمَنَاصَرَتِهِمْ عَلَی التَّفْصِيْلِ الْمَذْكُوْرِ وَ تَرْكِ مَوَالاَةِ الْكُفْرِيْنِ (تفسیر فتح البیان جلد ۴ ص۵۹ مطبوعہ مصر ۱۳۰۱ھ) یعنی یہ ضمیر ان احکام کی طرف لوٹتی ہے جو اس سے پہلے بیان ہوئے مؤمنوں کی دوستی اور ان کی مدد کے متعلق اسی تفصیل کے مطابق جو آیت میں بیان ہو چکی ہے (یعنی معاہدین کفار کے خلاف مسلمانوں کی مدد نہ کرو) اور کفار سے دوستی ترک کرنے کے متعلق ۔

غرض اس آیت سے ثابت ہے کہ جس قوم سے معاہدہ ہو اس کے خلاف مسلمانوں کا بھی مدد کرنا خواہ دینی امور پر ہی جھگڑا کیوں نہ ہو جائز نہیں اور ایسا کرنا موجب فساد ہوگا ۔ اب دیکھو کہ انگریزی حکومت سے ترک موالات کا حکم دے کر مسلمانوں نے اس حکم کو توڑا ہے یا نہیں ؟ اور کیا اس کا نتیجہ جیسا کہ قرآن کریم نے بتایا ہے فساد ہوا ہے یا نہیں ؟

اسلام نے حقوق اولی الامر کو قائم کیا ہے

(۲) جس شخص نے اسلام کو ذرا تامل سے بھی مطالعہ کیا ہو وہ اس بات کو خوب جانتا ہے کہ اسلام نہایت امن پسند مذہب ہے اس کا نام اسلام ہی بتا رہا ہے کہ وہ صلح اور آشتی کو لے کر دُنیا میں آیا ہے ۔ اس کے تمام احکام میں قیامِ امن کا اصل روشن نظر آتا ہے ۔ اس کے اٴصول اور اس کے فروع تمام کے تمام اساسِ تمدن کے مضبوط کرنے والے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ حقیقی طور پر تمدن کی اساس اسلام نے ہی آ کر رکھی ہے ۔ اس سے پہلے تمدن کی عمارت بالکل زمین پر رکھی تھی اور ذرا ذرا سے صدمہ سے منہدم ہو جاتی تھی ۔ اسی نے تمدن پر تفصیلی نظر ڈالی ہے اور اسی نے

اس کو اقسام میں منقسم کیا ہے اور اسی نے مختلف عمالِ تمدن کے اعمال کے مدارج قائم کئے ہیں اور ان کے حقوق مقرر کئے ہیں۔ ایسے مذہب کی نسبت ہرگز اُمید نہیں کی جاسکتی کہ وہ رعایا اور بادشاہ کے حقوق پر توجہ نہ ڈالے گا۔ اور واقعہ یہی ہے کہ اس نے اس تعلق کو نہایت مضبوط چٹان پر قائم کیا ہے۔ قرآنِ کریم ولاۃ الامر کے احکام کی اتباع کا پُرزور الفاظ میں حکم دیتا ہے اور اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَاَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ(النساء: ۶۰) کہہ کر حکومتوں کے حقوق کو قائم کرتا ہے۔

کیا اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ سے مراد صرف مسلمان حکام ہیں؟

بعض مسلمان غلطی سے اس آیت کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حکم صرف مسلمان حکام کے حق میں ہے کہ ان کی اطاعت کی جاوے لیکن یہ بات غلط ہے اور قرآنِ کریم کے اُصول کے خلاف ہے۔ بے شک اس جگہ لفظ ”مِنْكُمْ“ کا پایا جاتا ہے مگر مِنْكُمْ کے معنے یہ نہیں ہیں کہ جو تمہارے ہم مذہب ہوں بلکہ اس کے یہی معنی ہیں کہ جو تم میں سے بطور حاکم مقرر ہوں۔ مِنْ ان معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کفار کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ(الانعام: ۱۳۱)عا اُس آیت میں ”مِنْكُمْ“ کے معنی اگر ہم مذہب کریں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ رسول کفار کے ہم مذہب تھے۔ پس ضروری نہیں کہ مِنْكُمْ کے معنی ہم مذہب کے ہوں۔ یہ اور معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اس جگہ اس کے یہی معنی ہیں کہ وہ حاکم جو تمہارے ملک کے ہوں یعنی یہ نہیں کہ جو حاکم ہو اس کی اطاعت کرو بلکہ ان کی اطاعت کرو جو تمہارا حاکم ہو۔ اور فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوۡلِ(4:60) کے یہ معنی نہیں کہ قرآن وحدیث کی رو سے فیصلہ کر لو بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اگر حکام کے ساتھ تنازع ہو جائے تو خدا اور اس کے رسولؐ کے احکام کی طرف اس کو لوٹا دو اور وہ حکم یہی ہے کہ انسان حکومتِ وقت کو اس کی غلطی پر آگاہ کر دے اگر وہ نہ مانے تو پھر اللہ تعالیٰ پر معاملہ کو چھوڑ دے وہ خود فیصلہ کرے گا اور ظالم کو اس کے کردار کی سزا دے گا۔

غیر مذہب کے اُولِی الْاَمْرِ کا ثبوت قرآن کریم سے

قرآنِ کریم میں حضرت یوسفؑ کا واقعہ جس طرح بیان ہوا ہے وہ بھی دلالت کرتا ہے کہ حاکم خواہ کسی مذہب کا ہو اس کی اطاعت ضروری ہے بلکہ اگر اس کے احکام ایسے شرعی احکام کے مخالف بھی پڑ جاویں جن کا بجا لانا حکومت کے ذمہ ہوتا ہے تب بھی اس کی اطاعت کرے۔ چنانچہ حضرت یوسفؑ کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب انکے بھائی اُنکے پاس چھوٹے بھائی کو لائے تو وہ ان کو وہاں کے بادشاہ کے قوانین کی رُو سے اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے اس لئے خدا نے ان کے لئے خود ایک تدبیر کر دی۔ چنانچہ فرماتا ہے کَذٰلِکَ کِدۡنَا لِیُوۡسُفَ ؕ مَا کَانَ لِیَاۡخُذَ اَخَاہُ فِیۡ دِیۡنِ الۡمَلِکِ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ(یوسف: ۷۷) یعنی اسی طرح ہم نے تدبیر کی کیونکہ وہ بادشاہ کے قوانین کے مطابق اپنے بھائی کو نہیں رکھ سکتے تھے ہاں مگر اس صورت میں کہ خدا تعالیٰ ایسا ہی چاہتا۔ فتح البیان میں ہے کہ بادشاہ مصر کا قانون اور تھا اور اس کی شریعت اور تھی۔ پس خدا تعالیٰ نے الہاماً یوسف کے بھائیوں کے منہ سے نکلوا دیا کہ جو چور ثابت ہو اسی کو غلام بنا کر رکھ لینا اسی طرح اجۡعَلۡنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرۡضِ(یوسف: ۵۶) کے نیچے لکھا ہے کہ وَقَدِ اسْتُدِلَّ بِهٰذِهِ الْاٰيَةِ عَلٰۤى اَنَّهُ يَجُوْزُ تَوَلِّى الْاَعْمَالِ مِنْ جِهَةِ السُّلْطَانِ الْجَائِرِ بَلِ الْكَافِرِ لِمَنْ وَّثِقَ مِنْ نَفْسِهِ بِالْقِيَامِ بِالْحَقِّعلو یعنی اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے کہ ”ظالم بلکہ کافر بادشاہ کی طرف سے عہدوں کا قبول کرنا اس شخص کے لئے جائز ہے جو اپنی جان پر اعتبار رکھتا ہے کہ وہ حق کو قائم رکھ سکے گا“۔ یاد رکھنا چاہئے کہ حق کے قیام سے یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنی شریعت کو چلا سکے۔ کیوں کہ جیسا کہ حضرت یوسفؑ کے بھائی کے معاملہ سے ظاہر ہے۔ کافر کی ملازمت کے لئے یہ شرط نہیں کہ مومن اپنا ذاتی خیال چلا سکے۔ پس حق کی حفاظت سے یہی مراد ہے کہ ظلم کی باتوں میں ساتھ شامل نہ ہو جائے۔ پس حضرت یوسفؑ کے معاملہ سے بھی ظاہر ہے کہ خواہ گورنمنٹ کافر ہی کیوں نہ ہو اس کی وفاداری ضروری ہے۔

حکومت کی اطاعت کا حکم احادیث کی رُو سے

جب ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو دیکھتے ہیں تو وہاں بھی حکومت کی اطاعت کا خاص حکم پاتے ہیں آپؐ فرماتے ہیں۔ عَلَيْكَ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِيْ عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَاَثَرَةٍ عَلَيْكَ(مسلم کتاب الامارة باب وجوب طاعة الامراء فی غیر معصیة وتحریمها فی المصیبة) یعنی تم پر واجب ہے حکم ماننا اور اطاعت کرنی تنگی میں اور کشائش میں اور خوشی میں اور ناراضگی میں اور اس وقت بھی جب تمہارے حقوق تلف کئے جاتے ہوں“۔ اسی طرح روایت کیا جاتا ہے کہ آپؐ سے صحابہؓ نے دریافت کیا کہ يَا نَبِيَّ اللّٰهِ اَرَاَيْتَ اِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا اُمَرَآءُ يَسْاَلُوْنَا حَقَّهُمْ وَيَمْنَعُوْنَا حَقَّنَا فَمَا تَاْمُرُنَا فَاَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَاَلَهُ فَاَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَاَلَهُ فِي الثَّانِيَةِ اَوْ فِي الثَّالِثَةِ فَجَذَبَهُ الْاَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ وَقَالَ اِسْمَعُوْا فَاِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَّا حُمِّلُوْا وَعَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ(مسلم کتاب الامارة باب فی) طاعة الامر وان منحوا الحقوق) یعنی اے نبی اللہ! بتائیے تو سہی کہ اگر ہم پر ایسے حاکم مقرر ہوں جو اپنے حق تو لے لیں اور جو ہمارے حقوق ہیں وہ نہ دیں تو ہم کیا کریں؟ آپ نے پہلے تو اس کے سوال کا جواب نہ دیا لیکن جب اس نے دوبارہ دریافت کیا تو فرمایا کہ ان کی باتیں سنو اور ان کی اطاعت کرو کیونکہ وہ اپنے کئے کی جزاء پائیں گے تم اپنے کئے کی جزاء پاؤ گے۔ ان احادیث میں کوئی لفظ ایسا نہیں کہ جس کا یہ مطلب ہو کہ صرف مسلمان حاکم کی اطاعت کرو اور دوسرے کی نہ کرو۔ کوئی شخص کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ کسی خاص ملک یا خاص بادشاہ کے ماتحت رہے لیکن اگر کوئی شخص خود ایک ملک کو چُنتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ پھر اس ملک کے آئین کی اطاعت کرے اور حکومت کے خلاف مقابلہ کے لئے کھڑا نہ ہو جائے۔

کیا ترکِ موالات مقابلہ نہیں؟

شائد بعض لوگ کہہ دیں کہ ترکِ موالات تو مقابلہ نہیں لیکن ان کو یاد رہے کہ ترکِ موالات کے حامی اس بات پر خاص طور پر زور دے رہے ہیں کہ یہ ہتھیار گورنمنٹ کو نقصان پہنچانے کے لئے ہے۔ پس ان کے اپنے اقوال کے مطابق یہ حملہ ہے کیونکہ حملہ اسے ہی نہیں کہتے کہ جس میں تلوار اُٹھائی جائے۔ ہر ایک کام جس سے کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچایا جائے وہ حملہ ہے اور ہمیشہ ایسا کام جب ایسے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جائے جن کے ساتھ اشتراک ہونا جائز ہے ان ہی لوگوں کے خلاف یہ ذریعہ استعمال کیا جا سکتا ہے جن کے ساتھ جنگ ہو۔ اور اسلام نہ صرف یہ کہ حکومت کے خلاف جنگ کرنے سے روکتا ہے بلکہ اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے کا حکم دیتا ہے۔ کیا جو شخص خواہ کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچانے کی فکر میں ہو وہ اس کا مطیع کہلا سکتا ہے؟

قرآن کریم فتنہ و فساد کی راہوں سے روکتا ہے

(۳) اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِہَا(الاعراف: ۵۷) یعنی زمین میں جب امن قائم ہو جائے تو اسے برباد کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ اسی طرح فرماتا ہے کہ وَالۡفِتۡنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الۡقَتۡلِ(البقرہ: ۱۹۲) فتنہ قتل سے بھی زیادہ جرم ہے اور زیادہ نقصان رساں ہے۔

انگریزوں کے آنے سے امن حاصل ہوا یا نہیں؟

ترکِ موالات کے بانی سوچیں کہ کیا انگریزوں کے ہندوستان میں آنے سے پہلے اسی قسم کا امن تھا جیسا کہ آج کل ہے؟ کیا مذہب کی اسی قسم کی آزادی تھی؟ جانیں

اسی طرح محفوظ تھیں؟ بلکہ کیا قومی روح اسی طرح زندہ تھی جس طرح کہ آج کل زندہ ہے؟ لوگ سوال کرتے ہیں کہ ان کے یہاں آنے کا کیا فائدہ ہوا؟ میں کہتا ہوں کہ سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ تم آزادی اور حریت کے معنوں سے آشنا ہوگئے ہو جن کو قریباً ایک صدی کی تباہیوں کے عرصہ میں تم بھول گئے تھے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پہلے کوئی اس مضمون سے آگاہ نہ تھا مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ بہت کم لوگ ان الفاظ سے آگاہ تھے۔ اور جو لوگ آگاہ تھے وہ وہی تھے جن کو انگریزوں کے اس ملک پر قابض ہونے سے پہلے کچھ نہ کچھ حکومت میں دخل تھا ۔ آج لوگ جلیانوالہ باغ کے واقعہ پر شور مچاتے ہیں حالانکہ ان کے آنے سے پہلے بلا وجہ لوگ مارے جاتے تھے اور کوئی نہ پوچھتا تھا۔ پنجاب میں اذان دینا جُرم تھا۔ مسجدیں ویران تھیں بلکہ اصطبل بنائی گئی تھیں۔ عربی کے الفاظ استعمال کرنے پر ہی لوگوں کو مار دیا جاتا تھا۔ چوری، قتل، ڈاکر، فساد اس قدر پھیلا ہوا تھا کہ الامان ۔ یہی وجہ تھی کہ پُرانے لوگ انگریزی حکومت کے زیادہ مداح تھے کیونکہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ سب باتیں دیکھی تھیں اور ان کے اثر ابھی ان کے دلوں پر سے مٹے نہ تھے۔ پس اس امن کے بعد جو ان کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہے بلکہ اس اتحاد کے بعد جو ان کے ذریعہ قائم ہوا ہے فساد نہیں پھیلانا چاہئے ۔

لوگ یہ بات نہیں دیکھتے کہ ان ہی کے زمانہ میں ہندوستان نے ایک ملک کی حیثیت پکڑی ہے اس سے پہلے یہ کئی ملکوں کا مجموعہ تھا۔ میں اس کا انکار نہیں کر سکتا کہ یہ لوگ اپنے ساتھ اپنی بدیاں بھی لائے ہیں لیکن بحیثیت مجموعی ان سے ہندوستان کو بہت فائدہ پہنچا ہے۔ جاپان کی مثال کو جانے دو کہ اس کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہاں کے حالات بالکل مختلف ہیں۔ دوسرے ممالک کو دیکھو کہ وہ ابھی تک ہندوستان سے بھی پیچھے ہیں پس یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اگر یہ نہ آتے تو ہم خود یورپ کے علوم کو حاصل کر لیتے ۔ جاپان کے سوا کس ایشیائی ملک نے اپنے طور پر جدید علوم کو حاصل کیا ہے اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا ہے؟ یقیناً جاپان کے بعد ہندوستان ہی ایسا ملک ہے جو علومِ جدیدہ کا حامل کہلا سکتا ہے اگر یہ درست ہوتا کہ ان کے آنے سے ہمیں نقصان پہنچا ہے تو یقیناً وہ علاقے جن میں ان کا دخل بعد میں ہوا ہے تعلیم اور سیاسی قابلیت میں دوسرے ممالک سے بڑھے ہوئے ہوتے۔ بنگال میں حکومتِ برطانیہ دو سو سال کے قریب سے قائم ہے اسی طرح مدراس اور بمبئی میں ان کا دخل پُرانا ہے ۔ اور یو۔پی میں اس کے بعد اور پنجاب میں تو کل ستر اسی سال سے ان کا تصرف ہوا ہے اگر یہ بات درست ہوتی تو چاہئے تھا کہ سیاسی اور علمی قابلیت میں پنجاب سب سے زیادہ ہوتا ۔ پھر یو۔پی اور پھر بنگال اور مدراس

اور بمبئی۔ لیکن معاملہ بالکل برعکس ہے ان ممالک کے لوگوں کی قابلیت جس پر ان کا دیرینہ قبضہ ہے ان ممالک کے لوگوں کی قابلیت سے جن پر ان کا بعد میں قبضہ ہوا ہے بہت بڑھی ہوئی ہے اور ان میں سیاست کے سمجھنے اور علوم سے عملی صورت میں فائدہ اُٹھانے کی اہلیت بہت زیادہ پیدا ہو گئی ہے حالانکہ اگر ان کا اثر ایک زہر ہے تو اس وقت تک ان کو بالکل جاہل ہو جانا چاہئے تھا۔

انگریزوں کا انتظام نقائص سے پاک نہیں مگر ان کا فائدہ ان کے نقصان پر غلبہ رکھتا ہے

میرا مطلب اس تحریر سے یہ نہیں کہ ان کے انتظام اور ان کی تعلیم میں نقص نہیں ہیں۔ میں اس میں بہت سے نقص دیکھتا ہوں لیکن میں کہتا ہوں کہ ہمیں غصّہ میں آکر ان کی خوبیوں سے آنکھیں بند نہیں کرلینی چاہئیں اور ان کی آمد سے واقعی جو ہمیں فائدہ ہوا ہے اور ان کے ذریعہ سے جو امن ہمیں حاصل ہوا ہے اس کا انکار نہیں کرنا چاہئے۔

غرض انگریزوں کے آنے سے ہندوستان کو بہت امن ملا ہے اور گو یہ بھی بہت سی غلطیاں کرتے ہیں لیکن بحیثیت مجموعی ان کا وجود بہت نفع دہ ثابت ہوا ہے اور اگر اسے نہ بھی تسلیم کیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے یہاں ایک منظم حکومت قائم کر لی ہے۔ اور ہندوستان کے ان سینکڑوں حصوں کو جو پہلے بالکل علیحدہ علیحدہ تھے ایک جگہ جمع کر دیا ہے پس اس امن کو جو انہوں نے قائم کیا ہے اور اس اتحاد کو جو ان کے ذریعہ سے حاصل ہوا ہے ان کی سلطنت کو کمزور کر کے توڑنا نہیں چاہئے کیونکہ علاوہ ہمارے دنیوی نقصان کے اس میں شریعت کے احکام کی بھی خلاف ورزی ہے اور قرآن کریم کی صریح تعلیم کا انکار ہے۔

کیا ترک موالات موجب فساد نہیں؟

شاید اس جگہ یہ کہا جائے کہ ہم تو فساد نہیں کرتے لیکن یہ بات درست نہیں ترک موالات کا آخری نتیجہ ضرور فساد ہے اور ابھی سے فساد شروع ہے۔ علی گڑھ اور لاہور کے اسلامیہ کالجوں میں جو کچھ ہوا وہ راز نہیں کہلا سکتا ہر ایک شخص کی زبان پر ان دونوں کالجوں کے واقعات ہیں اور ابھی تو ابتداء ہے یہ فساد روز بروز اور ترقی کرے گا اور اگر اس تحریک کو ترک نہ کر دیا گیا تو مسلمانوں کی رہی سہی طاقت کو بھی خاک میں ملا دے گا۔ یہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ عوام الناس کو کہا جائے کہ گورنمنٹ اب اس حد تک گر گئی ہے کہ اس سے کسی قسم کا تعلق رکھنا جائز نہیں اور پھر وہ فساد سے باز رہیں؟ جب لوگوں کو یہ کہا جائے گا تو وہ گورنمنٹ سے وحشیوں والا سلوک کریں گے۔ ایک ملک اور ایک جگہ رہ کر اور روزمرہ کے تعلقات کی موجودگی میں سوائے خاص حالات کے ایسی تحریک کبھی امن کے ساتھ نہیں کی جا سکتی؟

محبت و ہمدردی اور ترک موالات

(۴) یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ کل مذاہب محبت اور ہمدردی کی تعلیم دیتے چلے آئے ہیں اور جس قدر محبت کام کر سکتی ہے اور کوئی حربہ کام نہیں کر سکتا۔ اسلام تو محبت اور مروّت کی تعلیم سے پُر ہے پس ایسی تعلیم دینی جو مروّت کو قطع کرنے والی اور مواسات کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینے والی ہے مذہبًا درست نہیں ہو سکتی آخر قرآن کریم کے سکھائے ہوئے اخلاق کس دن کے لئے ہیں؟ ایک ملک میں رہ کر وہاں کی حکومت کی بیخ اکھاڑ کر پھینکنے کی کوشش اور عداوت اور بغض کا بیج بونا کسی طرح جائز نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَلَا تَسۡتَوِی الۡحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَبَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ(حم السجدۃ: ۳۵) یعنی نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتی تو بدی کو نیکی کے ذریعہ دور کر۔ پس اچانک دیکھے گا کہ وہ شخص جس کے اور تیرے درمیان عداوت تھی تیرا گہرا دوست بن گیا ہے۔ غرض محبت کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے اور کینہ اور غضب مذموم عادات میں سے ہیں مسلمان کو صاحبِ وقار ہونے کا حکم ہے اور محبت کی اسے تعلیم دی گئی ہے جو شخص اس تعلیم پر عمل نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی ہدایت کا مستحق نہیں پس ایسا نہ ہو کہ لوگوں کو حق کی طرف رہنمائی کرنے والے خود ہی فتنہ میں پڑ جاویں بے شک کبھی سزا بھی ضروری ہوتی ہے مگر حکام کے مقابلہ میں نرمی کا ہی حکم ہے کیونکہ جو شخص ان کے مقابلہ کی جرات پیدا کرتا ہے وہ ملک کے امن کو تباہ کرتا ہے اگر ان کی کوئی بات ناپسند ہو اور وہ سمجھانے سے بھی نہ مانیں اور وہ بات نظر انداز کرنے کے قابل نہ ہو تو ایسے وقت میں وہی حکم ہے جو اوپر گزر چکا کہ اس ملک کو چھوڑ کر چلا جاوے۔

قرآن کریم نے صرف دو قسم کی ترک موالات کا حکم دیا ہے جن میں سے کوئی بھی انگریزوں پر عائد نہیں ہوتی

خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن کریم نے مخالفین سے صرف دو قسم کی ترک موالات کا حکم دیا ہے۔ ایک وہ ترک موالات ہے جو افراد افراد سے کرتے ہیں اور ایک وہ جو قوم قوم سے کرتی ہے۔ جو ترک موالات کہ افراد کے متعلق ہے اس کا موقع استعمال تب ہوتا ہے جب کوئی شخص دینِ اسلام سے تضحیک کرے اور بجائے تحقیقِ حق کے اس پر ہنسی اڑائے ایسے شخص کے ساتھ مسلمانوں کو اٹھنا بیٹھنا

اور دوستانہ تعلق رکھنا منع ہیں اور اگر وہ باز نہ آوے تو یہ سمجھا جاوے گا کہ وہ بھی ان ہی کے سے خیالات رکھتا ہے ۔

دوسری قسم ترکِ موالات کی جو قوم قوم سے کرتی ہے اس کا موقع استعمال تب ہوتا ہے کہ جب کوئی قوم مسلمانوں سے مذہبی جنگ چھیڑے اور جبراً ان سے ان کا مذہب چھڑوائے اس وقت مسلمانوں پر فرض ہو جاتا ہے کہ اس قوم کے لوگوں سے دوستی محبت اور معاملات کے تعلق چھوڑ دیں اور اگر بعض مسلمان خود ایسے کفار کے ملک میں رہتے ہوں تو پھر ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس ملک سے ہجرت کر جاویں اور دوسرے بھائیوں سے مل کر جہاد کریں اور اپنے بھائیوں کی طرح ان کفار سے قطع تعلق کرلیں ورنہ وہ بھی کفار ہی سمجھے جاویں گے ۔ اگر اسی حالت میں مرگئے تو جہنم میں جاویں گے یہ اللہ تعالیٰ نے کہیں نہیں فرمایا کہ ایسے موقع پر وہ اسی ملک میں رہ کر ترکِ موالات کر سکتے ہیں اور شریعت فساد کو ناپسند کرتی ہے اور اپنے دشمن کے ملک میں بھی فساد پھیلانے کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔

غرض یہ دو حکم ترکِ موالات کے متعلق ہیں اور دونوں حکم انگریزوں پر چسپاں نہیں ہوتے اور ان حکموں کا ان پر چسپاں کرنا گویا قرآن کریم کے احکام کو مروڑنا ہے جو ایک بہت بڑا گناہ ہے اور اگر کوئی شخص خیال کرتا ہے کہ واقع میں بحیثیت قوم ان کے متعلق ترکِ موالات کا فتویٰ لگانا اسلام کے مطابق ہے تو پھر اس کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ ان کے ملک سے ہجرت کرکے اور ان کے خلاف مسلمانوں سے مل کر جہاد کرے ۔

ایک تیسری قسم کی ترکِ موالات

ان دوقسم کی ترک موالات کے سوا ایک اور قسم بھی ترکِ موالات کی ہے لیکن وہ حکومت کے خلاف استعمال نہیں کی جا سکتی بلکہ حکومت اس کا حکم دیتی ہے اور وہ ترکِ موالات وہ ہے جس کا حکم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین صحابیوںؓ کے متعلق دیا تھا جو غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے ۔

واقعہ مخلفینؓ

ان کا واقعہ مختصر یوں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کی طرف تشریف لے گئے تو آپؐ نے سب مسلمانوں کو حکم دیا کہ سب ساتھ چلیں مسلمان تو سب تیار ہوگئے منافقین پیچھے رہ گئے لیکن بعض غلطیوں کی وجہ سے تین مسلمان بھی ساتھ جانے سے رہ گئے ان میں سے ایک کعب ابن مالکؓ اپنا واقعہ یوں بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس اس وقت سامان تو سب تھا مگر وہ پھلوں اور سایوں کا زمانہ تھا اور میں ان کا بڑا شائق تھا میں نے کہا کہ میں عین وقت پر انتظام کرلوں گا ۔ آخر

وقت آگیا آپ چلے گئے اور میں رہ گیا مگر پھر بھی میں نے سوچا کہ میں بعد میں جاملوں گا مگر یہ بھی نہ ہو سکا ۔ جب آپؐ واپس تشریف لائے ۔ منافقوں نے تو جا کر عذر کر دیئے میں نے جو سچ بات تھی وہ کہہ دی ۔ آپؐ نے ان کے لئے تو دُعا کر دی اور میری نسبت فرما دیا کہ اللہ کے فیصلہ کا انتظار کرو۔ اس کے بعد لوگوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں کوئی بات بنا کر معافی مانگ لوں ۔ مگر مجھے معلوم ہوا کہ دو اور شخصوں کو بھی یہی حکم ملا ہے اور یہ دونوں مجھے معلوم تھا کہ مخلص مسلمان تھے اس لئے میں نے اس بات سے انکار کر دیا ۔ آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تینوں سے کلام کرنے سے مسلمانوں کو روک دیا۔ باقی دونوں گھروں میں بیٹھ رہے مگر میں زیادہ بہادر تھا۔ میں نمازِ مسجد میں جا کر پڑھتا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بار بار جا کر سلام کہہ کے دیکھتا کہ آپؐ کے ہونٹ جواب کے لئے ہلتے ہیں یا نہیں۔ میں نے دیکھا کہ جب میری آنکھیں آپؐ کی طرف ہوتیں تو آپؐ میری طرف نگاہ نہ ڈالتے لیکن جب میری نگاہ دوسری طرف ہوتی تو آپؐ میری طرف دیکھتے ۔ ایک دن تنگ آکر اپنے بھائی اور دوست قتادہؓ کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ کیا آپ جانتے نہیں کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت رکھتا ہوں؟ انہوں نے جواب نہ دیا ۔ میں نے پھر کہا اور قسم دی مگر پھر جواب نہ دیا۔ میں نے پھر کہا اور قسم دی مگر پھر بھی جواب نہ دیا ۔ آخر مجھے مخاطب کئے بغیر یہ کہا کہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ اس پر میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں وہاں سے افسردگی میں واپس آیا۔ بازار پہنچا تو ایک شخص میرا پتہ پوچھتا ہوا آیا اور ایک خط مجھے دیا جو بادشاہِ غسان کی طرف سے تھا اور اس کا مضمون یہ تھا کہ تو کوئی ذلیل آدمی نہ تھا مگر تجھ سے بہت بُرا سلوک ہوا ہے تو ہمارے پاس آجا ہم تجھے بہت عزت دیں گے۔ میں نے خیال کیا کہ یہ بھی ابتلاء ہے اور اس خط کو تنور میں ڈال کر جلا دیا ۔ جب چالیس دن گزر گئے تو ایک شخص نے آکر مجھ سے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ اپنی بیبیوں سے علیحدہ ہو جاؤ ۔ میں نے دریافت کیا ۔ طلاق دے دوں یا علیحدہ رہوں ؟ اس نے کہا نہیں علیحدہ رہو۔ اس پر میں نے اپنی بیوی کو میکے بھیج دیا۔ میرے دوسرے ساتھیوں کو بھی ایسا ہی حکم ملا تھا ۔ ان میں سے ہلال ابن امیہؓ نہایت ضعیف ہو رہے تھے ان کی بیوی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا تو کوئی نوکر بھی نہیں۔ کیا آپ اس کو ناپسند کرتے ہیں کہ میں اس کی خدمت کر دیا کروں ؟ آپؐ نے فرمایا میرا یہ حکم نہیں کہ تو خدمت نہ کرے بلکہ صرف یہ حکم ہے کہ وہ تیرے قریب نہ جایا کرے ۔ اس کے بعد پچاس راتیں گزر گئیں تو خدا تعالیٰ کا حکم نازل ہوا اور ہمیں معاف کر دیا گیا۔

(بخاری کتاب المغازی باب حدیث کعب بن مالکؓ)

یہ حدیث احترامِ حکومت کے متعلق ہمیں کیا تعلیم دیتی ہے؟

اس حدیث کو دیکھو کس وضاحت سے حکومت کا احترام سکھاتی ہے۔ خاوند کو بھی بیوی پر ایک قسم کی حکومت ہوتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں پر ناراض تھے چاہتے تو بجائے ان کو کہلا بھیجنے کے کہ تم اپنی بیویوں سے علیحدہ ہو جاؤ۔ بیویوں کو کہلا بھیجتے کہ تم اپنے خاوندوں سے علیحدہ ہو جاؤ۔ مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا بلکہ خاوند کو کہلا بھیجا کہ وہ اپنی بیویوں سے علیحدہ ہو جائیں۔ پھر جب ہلال بن امیہؓ کی بیوی آپؐ سے پوچھنے گئیں کہ کیا میں خدمت بھی نہ کروں؟ تو پھر بھی یہ نہیں فرمایا کہ خدمت کرو مگر اس کے قریب نہ جا۔ بلکہ یہ فرمایا کہ خدمت کر مگر وہ تیرے قریب نہ آوے۔ با وجود اس عورت کے مخاطب ہونے کے حکم کا مخاطب خاوند ہی کو قرار دیا ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت پر مرد کے اختیارات کا اس قدر لحاظ کیا ہے تو ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو حکومتوں کے خلاف رعایا کو اکساتے ہیں اور ماں باپ کے خلاف بچوں کو جوش دلاتے ہیں اور اساسِ تمدن کو توڑتے اور انتظام برباد کرتے ہیں۔

یہ قسم ترک موالات حکومت کے اختیار میں ہے نہ رعیت کے اختیار میں

یہ ترکِ موالات حکومت کے اختیار میں ہے رعایا کے اختیار میں نہیں ہے اور بلا ان وجوہ کے جن کو شریعت نے بیان کیا ہے ترکِ موالات کرنے کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے جیسا کہ فرماتے ہیں لَا تَبَاغَضُوْا وَلَا تَحَاسَدُوْا وَلَا تَدَابَرُوْا وَلَا تَقَاطَعُوْا وَ كُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰهِ اِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ اَنْ يَّهْجُرَ اَخَاهُ فَوْقَ ثَلٰثٍع ”یعنی ایک دوسرے سے بغض نہ کرو۔ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو۔ ایک دوسرے سے مخالفت اور عداوت نہ کرو اور ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ کے لئے تعلقات قطع کرے۔“ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ افراد کو ان مواقع کے سوا جن میں شریعت نے ترکِ موالات کا حکم دیا ہے۔ تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرنے کا اختیار نہیں ۔ پس یہ تیسری قسم ترکِ موالات کی صرف حکومت کے ہاتھ میں ہے وہ حکومت خواہ سیاسی ہو خواہ مذہبی اور یہ قسم حکومت کے خلاف نہیں استعمال کی جاسکتی۔

حکومت کے سوا کسی کو اختیار نہ دینے کی حکمت

حکومت کے سوا دوسرے لوگوں کو اس کا حکم دینے کا اختیار نہ دینے کی یہ حکمت ہے کہ اس طرح تفرقہ اور شقاق بڑھتا ہے اور بجائے محبت میں ترقی ہونے کے عداوت پیدا ہو جاتی ہے۔ پس افراد کو تو ترک موالات کرنے سے روک دیا گیا ہے اور حکومت کو اختیار دے دیا گیا ہے۔

حکومت کو اختیار دینے کی ایک یہ وجہ بھی ہے کہ صاحب الامر کی نظر وسیع ہوتی ہے اور وہ فیصلہ دیتے وقت جلدی نہیں کرتا بلکہ اس کو اپنے فیصلہ کے وسیع اثرات کا خیال ہوتا ہے پس اس کے ہاتھ میں یہ آلہ محفوظ ہوتا ہے اور نقصان کا خطرہ نہیں ہوتا۔

یہ قسم ترک موالات بھی موجودہ حالات کے مناسب نہیں

یہ قسم ترک موالات کی بھی موجودہ حالات کے مناسب نہیں کیونکہ اس وقت بجائے حکومت کی طرف سے اس کے استعمال کئے جانے کے حکومت کے خلاف اس کو استعمال کیا جاتا ہے جو بالکل خلاف اصول اور مخالف قرآن و حدیث ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں اَلْاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَّرَائِهِ(بخاری کتاب الجہاد باب يقاتل من وراء الامام و یتقی به) امام ایک ڈھال ہوتا ہے اس کے پیچھے کھڑے ہو کر لڑائی کی جاتی ہے״۔ ایسے تمام احکام جو حکومت سے تعلق رکھتے ہیں امام کی معرفت ہی ان پر عمل کیا جاتا ہے۔ ہر ایک شخص کو ان کے استعمال کرنے کا حق نہیں ہوتا اگر یہ احتیاط نہ کی جائے تو غیر ذمہ دار لوگ اپنے جوش اور غصہ کی حالت میں اپنے ساتھ دوسروں کو بھی لے ڈوبیں جیسا کہ آج کل اس حکم کو نظر انداز کرنے کے سبب سے ہو رہا ہے۔

موجودہ ترک موالات محض ہوائے نفس کے ماتحت ہے نہ اسلام کی خاطر

پس اے برادرانِ ملک ! ترک موالات کی کوئی صورت بھی اس زمانہ میں جائز نہیں ہے اور اس وقت برطانیہ کے خلاف اس کا وجوب تو الگ رہا شرعی طور سے اس کے جواز کا بھی فتویٰ دینا ظلم اور تعدی ہے اور اگر کوئی شخص اس امر پر جوش اور غضب سے الگ ہو کر سوچے گا تو یقیناً دلائل کے ذریعہ سے بھی اس نتیجہ پر پہنچے گا اور شواہد کے ذریعہ بھی یہی فیصلہ کرنے پر مجبور ہو گا کہ موجودہ شورش صرف خواہشاتِ نفس کا نتیجہ ہے کیونکہ وہ ادنیٰ تامل سے معلوم کرلے گا کہ یہ تمام جوش جو اسلام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اُس وقت بھڑکتا ہے جب مادی اسباب پر حملہ ہوتا ہے۔ روحانیت اور مغزِ اسلام کی حفاظت کے لئے کبھی اس قدر غصّہ کا اظہار نہیں

کیا جاتا بلکہ اس تحریک میں حصہ لینے والوں میں سے اکثر وہ لوگ ہیں جو اسلام کے خالص مذہبی احکام سے بالکل لاپروا ہیں اور ان کا اس قدر بھی خیال نہیں کرتے جتنا کہ ایک اپنے دَور کے شناسا کی بات کا۔ حالانکہ اصل چیز تو اسلام ہے ظاہری حکومت یا طاقت تو صرف سہولت کار کے لئے ہے جب اسلام میں حکومت نہ تھی تب اسلام کی شان میں کوئی فرق نہ تھا اور جب حکومت مل گئی تو اسلام کے حُسن میں کوئی زیادتی نہیں ہو گئی۔ اسلام تو اپنی ذات میں حسین ہے اور مؤمن اپنے وجود میں مبارک۔ نہ اسلام ظاہری شان وشوکت کا محتاج ہوتا ہے نہ مؤمن ظاہری قوت و طاقت کا بھوکا۔ اسلام کا حُسن اس کی خوبیاں ہیں اور مؤمن کی قوت اس کا دل۔ پس دُنیا کی حکومت اسلام اور مسلم کے لئے کوئی ضروری چیز نہیں ہے۔ دُنیا کی نعمتیں تو اس کی غلام ہوتی ہیں جب وہ ان کو حکم دیتا ہے وہ اس کے سامنے آکھڑی ہوتی ہیں اور اسی وقت تک اس سے دُور رہتی ہیں جب تک صداقت نے اپنا ذاتی جوہر اور مؤمن نے اپنی ذاتی قوت ایمانیہ لوگوں پر ظاہر کرنی ہوتی ہے۔ پس اگر اسلام اور مسلم موجود ہو تو ان چیزوں کی کچھ فکر نہیں ہوسکتی اگر فکر کی بات ہے تو یہ کہ اسلام نہ رہے صداقت مٹ جاوے اور ایمان سلب ہو جاوے۔ وہ نور سامنے سے ہٹ جاوے جو یار کا چہرہ دکھاتا تھا مؤمن دُنیا پر افسوس کرتا ہے وہ دین پر افسوس نہیں کرتا اس لئے ایک کلمہ خیر کا بھولنا نقارہ فتح کے بند ہونے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا اور وصال یار کا ایک دروازہ بند ہونا دُنیا کی سب کامیابیوں کے مبدل بہ ناکامی ہونے سے زیادہ موجب گھبراہٹ ہوتا ہے اور اگر ایمان کا مٹنا اور اسلام کا ضعیف ہو جانا انسان پر گراں نہ گزرے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ اس شخص کے دل میں دُنیا ہی دُنیا کی محبت سما گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کا دامن چھوٹ گیا ہے اور یہی حال اس وقت مسلمانوں کا ہے۔ اسلام کی ایک ایک اینٹ ان کی آنکھوں کے سامنے اکھاڑی گئی مگر ان کے دل میں احساس نہ پیدا ہوا۔ مسلمان کہلانے والے لوگوں نے ایک ایک کر کے ارکانِ اسلام کو خیر باد کہا مگر ان کا دل دردمند نہ ہوا۔ عقائد صحیحہ کو ایک ایک کر کے چھوڑا گیا بلکہ ان کی پھبتیاں اُڑادی گئیں مگر انہوں نے بجائے تکلیف محسوس کرنے کے ان لطیفہ سنجیوں میں لُطف محسوس کیا۔ غرض کوئی صورت دین کی تخریب کی نہ تھی جو خود مسلمانوں نے نہیں کی اور ہنستے کھیلتے ہوئے نہیں کی خوش چہروں اور مسکراتے ہوئے ہونٹوں کے ساتھ نہیں کی یہاں تک کہ اسلام ایک مُردہ کی طرح ہو گیا جس میں رُوح باقی نہ تھی یا ایک گرے ہوئے مکان کی طرح ہو گیا جس کے ملبہ کو بھی لوگ اُٹھا کر لے گئے اور حاجت مندوں نے اسکی نیوؤں کی اینٹیں بھی اُکھاڑ کر استعمال کرلیں اور وحشی جانوروں نے اس کی نیوؤں کے اندر بسیرا بنایا۔ نہیں نہیں وہ ایک مُردار کی طرح ہو گیا جس کو اپنوں نے اپنے گھر سے نکال کر پھینک دیا اور غیروں نے اس کے پاس سے گزرتے ہوئے اپنی ناکوں پر رومال رکھ لیا۔ مگر ایک

مسلمان کا دل بھی اس پر غمگین نہ ہوا اور وہ اسی طرح اپنے عیش و طرب میں مشغول رہے جس طرح کہ پہلے مشغول تھے ان کی تیوروں پر بل نہ پڑا اور ان کی آنکھوں نے افسردگی کی جھلک نہ دکھلائی انہوں نے اپنے کندھے ہلا کر لا پرواہی سے کہہ دیا کہ اسلام اگر ہماری ہوا و ہوس کے راستہ میں روک ہے تو اسے تباہ ہونے دو ہمارے عیش میں خلل نہیں آنا چاہئے لیکن جب خدا تعالیٰ نے ان کی آنکھیں کھولنے کے لئے وہ چیز جو اسلام کے مقابلہ میں ایک پشہ کے برابر بھی قیمت نہ رکھتی تھی اور جس سے مسلمان کھلونے کی طرح کھیل رہے تھے ان کے ہاتھوں سے چھین لی اور اس کو توڑ کر پھینک دیا تو وہ سب یکساں رونے اور چلانے لگے اور ماتم کرنے لگے اور آہ و فغاں سے انہوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ کیا یہ بات ان کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی نہیں؟ کیا ابھی انہیں کسی اور ثبوت کی ضرورت ہے؟ جس سے ان کو معلوم ہو کہ وہ خدا کے نہیں بلکہ اپنے نفوس کے بندے ہو رہے ہیں اس وقت اسلام کی محبت کہاں گئی تھی جب ہزاروں مسلمان کہلانے والے مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہونے والے قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہوئے اسلام کے دشمنوں اور ایمان کی عمارت پر گولہ باری کرنے والوں کے لشکر میں جماعت در جماعت شامل ہو رہے تھے اور اعداء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بازوؤں کو قوت دے رہے تھے اس وقت ان کی زبانوں کو کیوں جنبش نہ ہوئی اس وقت ان کے ہاتھوں میں کیوں حرکت پیدا نہ ہوئی اور اس وقت کیوں ان کے خونوں نے جوش نہ مارا؟ کیا خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی قیمت اتنی بھی نہیں جتنی کہ عراق یا شام کی؟ ترکوں پر یورپ نے ظلم کئے تو ان کے دلوں کو صدمہ پہنچا۔ لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قہر توڑے گئے تو کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور جس کی محبت کے دعویٰ میں اس قدر جوش دکھایا جا رہا ہے اس کا یہ قول ان کو یاد نہ رہا کہ ایک نفس کو ہدایت ہو جائے تو وہ جانوروں کے ریوڑوں سے زیادہ بابرکت ہے مگر یہاں تو کسی نفس کو ہدایت دینا تو الگ رہا اس قدر تڑپ بھی نہ پیدا ہوئی کہ جو اپنے تھے انہی کو گمراہ ہونے سے بچایا جائے ۔ ایک دو ظاہری علاقوں کے جانے پر اس قدر صدمہ ہوا لیکن لاکھوں رُوحانی زمینیں ہاتھ سے نکل گئیں اور کوئی تکلیف نہ ہوئی۔ اے کاش! اب بھی آنکھ کھلتی اور اب بھی سمجھتے کہ یہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نہیں بلکہ دُنیا کی ہوس ہے۔ آج جن بچوں کو کالجوں سے ہٹایا جا رہا ہے اور ان کی خیر خواہی کا راگ گایا جا رہا ہے اس سے پہلے یہ بچے کیوں بھولے ہوئے تھے ، کالجوں سے ہٹانے کے لئے تو سب سے پہلے ان محرکانِ ترکِ موالات کو وہ یاد آئے اور ان کی محبت ان کو کالجوں کے ہالوں میں کھینچ کر لائی ۔ لیکن جب علی الاعلان وہ خدا کے انکار پر کمر بستہ تھے۔ نماز کو ترک کر رہے تھے ، روزوں کو ایک جرمانہ خیال کرتے تھے ، حج کو فضول خرچی کا موجب خیال کرتے تھے ، اس وقت ان کی محبت نے کیوں جوش نہ مارا ؟ کیوں ان کو سمجھانے اور سیدھا راستہ دکھانے کا خیال پیدا نہ ہوا ؟ کیا اسی لئے نہیں کہ اس وقت ان کے مصرف کے نہ تھے اور اب ان کے ارادوں کو ان سے تقویت پہنچ سکتی ہے۔

مَیں جانتا ہوں کہ ترکِ موالات کے بانیوں کو میری یہ تحریر بُری لگے گی اور ان کے فریب خوردہ ساتھی بھی اس پر غصہ کا اظہار کریں گے مگر ان کی ہمدردی اور ان کی خیر خواہی مجھے مجبور کرتی ہے کہ مَیں سچی سچی بات ان کو سُنا دوں۔ حق ایک سخت کڑوی چیز ہے اور بہت دفعہ انسان خود اپنے آپ کو حق سنانے سے بھی ڈر جاتا ہے مگر ہم نے اپنی زندگیاں اسی لئے وقف کی ہوئی ہیں اور خدا کے بندوں کی ہدایت کا بار اپنے سروں پر اُٹھایا ہے اور کسی کی مخالفت یا عداوت کی ہمیں پرواہ نہیں۔ طبیب کبھی بیمار کی سختی کو دیکھ کر علاج کو ترک نہیں کرتا۔ پس ہم بھی اپنے کام سے باز نہیں رہ سکتے اور اپنے بھائیوں کی اصلاح سے مایوس نہیں ہیں۔

اپنی حالت پر نگاہ ڈالو

اے عزیزو! مَیں یہ نہیں کہتا کہ تم اس غلطی کو دور کرنے کے لئے جو اتحادیوں سے ہوئی ہے جدوجہد چھوڑ دو مَیں صرف یہ کہتا ہوں کہ اپنی حالت پر نگاہ ڈالو اور دیکھو کہ تمہارے نفس نے تم کو دھوکہ دیا ہے جسے تم اسلام کی محبت سمجھ رہے ہو وہ فقط ایک مقابلہ کی روح ہے جو یورپ کی دیکھا دیکھی تمہارے اندر جوش مار رہی ہے۔ اگر اسلام کی محبت ہوتی تو اس وقت کیوں جوش پیدا نہ ہوتا جب خود اسلام پر حملہ ہو رہا تھا یا اب ہی کیوں اس امر کی طرف توجہ پیدا نہیں ہوتی کہ اسلام سے مسلمانوں کو جو دوری ہے اسے دُور کیا جائے اور خدا تعالیٰ پر ایمان اور اس سے محبت پیدا کی جائے یا اسلامی اخلاق اور اسلامی آداب پیدا کئے جائیں۔ ہاں میں تمہیں فقط یہ کہتا ہوں کہ ہر ایک چیز کی طرف اس کے مناسب توجہ دو۔ اگر دنیا کی بادشاہت تم کو مل جائے مگر اسلام نہ ہو تو اس حکومت کا کیا فائدہ؟ اس جدوجہد سے زیادہ اس کے لئے جدوجہد کرو جو اصل مقصود ہے اور اس کام کے لئے بھی جو کوشش کرو وہ اسلام کے اصول کے مطابق ہو نہ کہ اس کے مخالف۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب تک ہندوستان میں ہر ایک امر کو مذہبی رنگ نہ دیدیا جائے لوگوں کو جوش نہیں آتا۔ لیکن کیا کسی اچھی بات کے حاصل کرنے کے لئے ناجائز وسائل کا استعمال جائز ہو جاتا ہے۔ یہ یورپ کا مقولہ ہے کہ اچھے مقصد کے حصول کے لئے ہر قسم کے ذرائع کا استعمال جائز ہے اسلام کی یہ تعلیم نہیں ہے۔

اس وقت اس مجرب نسخہ موالات کو استعمال کرو جو ہلاکو خان کے ہاتھ سے عباسی سلطنت کے مٹنے پر استعمال کیا گیا نہ کہ اسکے برعکس ترکِ موالات کا نسخہ

اے عزیزو! ہوشیار آدمی کسی سبق کو بھلاتا نہیں اور دانا کسی عبرت کی بات کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔ اس فتنہ کے وقت میں یہ تو سوچو کہ آج سے پونے سات سو سال پہلے اسلامی حکومت کو موجودہ صدمہ سے بہت زیادہ صدمہ پہنچا تھا۔ اب تو کچھ نہ کچھ ڈھانچہ موجود بھی ہے اس وقت تو یہول بھی باقی نہ رہا تھا۔ اس وقت کیا ہتھیار تھا جو کام آیا اور کیا گُر تھا جس سے یہ سوال حل ہوا تھا؟ ایک دفعہ کا تجربہ شدہ نسخہ اسی قسم کی بیماری کے دوبارہ ظاہر ہونے پر اس بات کا مستحق ہے کہ سب سے پہلے اسی کا تجربہ کیا جائے ۔ غور تو کرو کہ جب ترکوں نے خلافت عباسہ کے محل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی جب ان کے ٹڈی دل لشکروں کا مقابلہ کرنے والا مسلمانوں میں کوئی باقی نہ رہا تھا ۔ اور جب اسلام کے مقدس مقامات ایک لاوارث کی طرح دشمنوں کے رحم پر تھے اس وقت کیا علاج تھا؟ جو ہمارے آباء نے سوچا تھا اور کیا وہ اس علاج میں کامیاب ہوئے تھے یا ناکام؟ اگر تم کو یاد نہیں کہ انہوں نے کیا تدبیر اختیار کی تھی اور اگر تم اس سبق کو فراموش کر چکے ہو تو سنو ! اس وقت انہوں نے موالات کے ہتھیار سے نہ کہ ترکِ موالات کے ہتھیار سے ان پر حملہ کیا تھا اور آخر کفر کو فنا کر کے اسی کے جسم اور اسی کے پوست اور اسی کے خون سے اسلام کے لئے ایک نیا جسم تیار کر دیا تھا جس میں اسلام کی روح نے دُنیا کو پھر اپنی جادو بیانی کا والا وشیدا بنانا شروع کر دیا تھا ۔ اس وقت کے علماء نے جو اس وقت کے علماء سے کہیں علم وفضل میں بڑھ کر تھے اور جن کے عمل کا نتیجہ ان کی رائے کے صائب ہونے پر تصدیق کی مہر لگا چکا ہے یہ راہ اختیار کی تھی کہ وہ ترکوں کے درباروں اور ان کی مجالس میں گھس گئے تھے اور انہوں نے مسلمانوں کے جسموں پر فتح پانے والوں کے دلوں پر فتح پانے کا مصمم ارادہ کر لیا تھا۔ آخر اس موالات کا یہ اثر ہوا کہ اس بادشاہ کا پوتا جس نے بغداد کی اسلامی حکومت کو تباہ کیا تھا اور اٹھارہ لاکھ مسلمانوں کے خون سے اس سرزمین کو رنگ دیا تھا ۔ اسلام کی غلامی میں داخل ہوا اور خدائے واحد لا شریک کے عبادت گزاروں میں شامل ہو کر ایک نئی اسلامی حکومت کا بانی ہوا جس کے آثار اب اس موجودہ جنگ میں آکر مٹے ہیں بلکہ اب بھی کچھ نہ کچھ موجود ہی ہیں ۔ وجہ کیا ہے کہ اب وہی نسخہ نہیں برتا جاتا بلکہ اس کے بالکل برعکس علاج کیا جاتا ہے اگر اس وقت کے مسلمانوں نے موالات کو اختیار کر کے اسلام کی حفاظت کی تھی تو آج ترکِ موالات کی کیوں تعلیم دی جاتی ہے کیا کوئی کامیاب نسخہ بھی ترک کیا کرتا ہے؟ کیا اب اسلام میں ہی ایسا جذب نہیں رہا کہ وہ فاتحین کے دلوں کو مسخر کر کے اور ان کو اپنی غلامی کے حلقہ میں لا سکے یا تم میں ہی وہ نُورِ ایمان نہیں رہا جو تمہارے آباء میں تھا؟ ان کی باتوں کا دلوں پر اثر ہوتا تھا لیکن تمہاری باتیں بالکل بے اثر ہیں۔ کیا سبب ہے کہ وہ محبت سے دُشمن کو دوست بنا لیتے اور تم دوست کو عداوت سے دُشمن بنانا چاہتے ہو؟ یا دوست نہ سہی دشمن کو اور بھی زیادہ دُشمن بنانا چاہتے ہو؟

اس مذہبی معاملہ میں مسلمان مسٹر گاندھی کی اقتداء میں

کیا تم کو یہ نظر نہیں آتا کہ تم اس صحیح راستہ کو ترک کر کے کہاں کہاں دھکے کھاتے پھرتے ہو؟ اوّل تو تمام علماء و فضلاء کو چھوڑ کر ایک غیر مسلم کو تم نے لیڈر بنایا ہے کیا اسلام اب اس حد تک گر گیا ہے کہ اس کے ماننے والوں میں سے ایک رُوح بھی اس قابلیت کی نہیں ہے کہ اس طوفان کے وقت میں اس کشتی کو بھنور سے نکالے اور کامیابی کے کنارے پہنچائے؟ کیا اللہ تعالیٰ کو اپنے دین کی اس قدر غیرت بھی نہیں رہی کہ وہ ایسے خطرناک وقت میں کوئی ایسا شخص پیدا کر دے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا شاگرد اور آپؐ کے خدام میں سے ہو اور جو اس وقت مسلمانوں کو اس راستہ پر چلائے اور جوان کو کامیابی کی منزل تک پہنچائے؟ آہ! تمہاری گستاخیاں یہ کیا رنگ لائیں؟ پہلے تو تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسیح ناصری کا ممنون منت بنایا کرتے تھے اب مسٹر گاندھی کا مرہون احسان بناتے ہو؟ اگر یہ درست ہے کہ ترکِ موالات سے ایک دو سال میں تم اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاؤ گے تو اسلام کی دوبارہ زندگی یقیناً مسٹر گاندھی کے ہاتھوں ہو گی اور نعوذ باللہ من ذالک ابد الاباد تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک بار احسان سے ان کے سامنے جھکا رہے گا کیونکہ مسٹر گاندھی نے آپؐ سے کچھ نہیں لیا اور آپؐ گویا سبھی کچھ مسٹر گاندھی کی عطاء سے پاویں گے۔ اے کاش! اس خیال کے دل میں آنے سے پہلے تم نے اس دل ہی کو کیوں نہ نکال کر باہر پھینک دیا؟ مسٹر گاندھی بے شک ایک سنجیدہ اور محنتی سیاسی لیڈر ہیں لیکن ان کو اس امر میں راہنما بنانا جس پر تم اسلام کی زندگی اور موت کا انحصار سمجھتے ہو اور جسے تم اہم ترین مذہبی فرائض میں سے خیال کرتے ہو قابل افسوس و حیرت نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا حضرت مسیح ناصری کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محسن بنا کر تم نے خدا کی غیرت کا مشاہدہ نہ کیا؟ خدا کا مسیح تم کو ہزار سمجھاتا تھا کہ یہ غضب نہ کرو کہ اسلام سے باہر کے نبی کو لا کر اسلام کا مصلح بناؤ اور رسول کریمؐ کو اس کا ممنون بناؤ۔ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرو اور اس کی عزت بڑھاؤ۔ پہلے اس حرکت کی سزا بہت کچھ پا چکے ہو اور اب

اور دیکھو گے۔ جب تم نے مسیح کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت دی تو خدا تعالیٰ کیوں مسیحیوں کو تم پر فضیلت نہ دے تم نے اس کی آواز کو نہ سُنا اور آخر دیکھ لیا کہ خدا کی گرفت کیسی سخت ہوتی ہے تم نے خدا کے محبوبؐ کو حضرت مسیحؑ کا احسان مند بنا کر اس کی گردن اس کے سامنے جھکائی تھی خدا نے تمہاری گردنوں کو ہر جگہ مسیحیوں کے آگے جھکا دیا ہے۔ پس یہ جو کچھ ہو رہا ہے تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کا ثمرہ ہے اب تم دوسری غلطی کرنے لگے ہو۔ حضرت مسیح تو خیر ایک نبی تھے اب جس شخص کو تم نے اپنا مذہبی راہنما بنایا ہے وہ تو ایک مومن بھی نہیں۔ پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہتک کا نتیجہ پہلے سے بھی زیادہ سخت دیکھو گے اور اگر باز نہ آئے تو اس جرم میں مسٹر گاندھی کی قوم کی غلامی اس سے زیادہ تم کو کرنی پڑے گی جتنی کہ حضرت مسیح کی اُمت کی غلامی تم کہتے ہو کہ ہمیں کرنی پڑی ہے پس اب بھی سنبھل جاؤ اور سمجھ لو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کا نجات دہندہ آپؐ ہی کے غلاموں میں سے ہو سکتا ہے جس کی گردن آپؐ کے سامنے جھکی رہے نہ یہ کہ آپؐ کو اس کے آگے گردن جھکانی پڑے۔

اس سوال کا جواب کہ برسوں موالات بلکہ پرستش تک بھی کر کے ہم نے اس کا نتیجہ دیکھ لیا

تمہارے دل میں یہ خیال نہ گزرے کہ ہم نے موالات کر کے دیکھ لی اور برسوں برطانوی حکومت کی دہلیز پر جبینِ نیاز رگڑ کر معلوم کر لیا کہ اس دروازہ سے ہمارا سوال پورا ہونے والا نہیں اور اس درگاہ سے ہماری مراد بر آنے والی نہیں۔ ہم نے ان کی غلامی کی، ہم نے ان کی خوشامد کی، ہم نے ان کی منت کی، ہم نے ان کی سماجت کی، ہم نے اگر سچ پوچھو تو ان کی پرستش کی مگر نتیجہ یہی نکلا کہ انہوں نے ہمارے ہی ہاتھوں ہمارے بھائیوں کے گلے کٹوائے اور پھر ہمیں بھی جواب دے دیا اور اسی گڑھے میں ہم کو دھکیل دیا جو ہمیں سے کھدوایا تھا۔ میں مانتا ہوں کہ یہ بات درست ہے تم نے اسی طرح کیا جس طرح تم بیان کرتے ہو کہ تم نے کیا اور انہوں نے بھی ویسا ہی بدلہ دیا جیسا کہ تم بیان کرتے ہو۔ مگر جانتے ہو کہ اَلْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کیا یہ سب کچھ کوشش تم نے اسلام کی عظمت اور اس کی ترقی کے لئے کی تھی؟ تم نے ان کی خوشامدیں کیں مگر اپنی جیبوں کو پُر کرنے کے لئے کیں، خطابوں کے لئے کیں، نوکریوں کے لئے کیں، جھوٹی عزتوں کے لئے کیں۔ تم ان سے ملے اور ان سے محبت کے اظہار تم نے کئے مگر کیا اس لئے کہ اس طرح تم ان کے دلوں کو اسلام کے لئے فتح کرو؟ تم اس لئے ملے تا ان سے سرٹیفکیٹ حاصل کرو، خوشنودی کے پروانے لو، تم نے محبت کے اظہار کئے مگر اس لئے کئے کہ ان کی نگاہِ مہر کے تم بھوکے تھے، ان کی مسکراہٹ کو تم اپنی سب حاجتوں کے پورا ہونے کی کلید سمجھتے تھے، ان کی نظر کو تم اپنے لئے خدا کی نظر سے زیادہ مبارک خیال کرتے تھے۔ بے شک تم نے گھنٹوں اور پہروں جبیں نیاز رگڑی بلکہ یوں کہو کہ تم نے اس قدر ناک رگڑی کہ تمہاری ناک ہی باقی نہ رہی مگر اس سے یہی ثابت کیا کہ تم منہ سے تو خدائے واحد کے پرستار ہو لیکن اصل میں تم پیسے کے یار ہو۔ اس کی خاطر تم کو ذیل سے ذیل کام کرنے میں بھی عار نہیں۔ تم اس کے پیچھے خدا تعالیٰ کو بھی چھوڑنے کے لئے تیار ہو۔ تم نے کالجوں میں تعلیم پائی اور ان کی زبان سیکھی اور ضرور سیکھی لیکن کیا اس لئے کہ اس زبان کو سیکھ کر تم ان ہی کی زبان میں ان کو حق پہنچاؤ ان کے وساوس کو معلوم کر کے ان کے دُور کرنے کی کوشش کرو، اسلام کی خوبیوں سے ان کو واقف کرو، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کو پیغام پہنچاؤ؟ نہیں بلکہ اس لئے کہ تم زیادہ عمدگی سے ان کے آگے سوال کر سکو اور ان ہی کی زبان میں ان کے گیت گا سکو۔ تم نے ان کی زبان کیوں پڑھی؟ کیا قرآن کی خدمت کے لئے؟ تم تو اس کو پڑھ کر خدا کی باتوں کو بھول گئے۔ تم نے خدا کی کتاب کو اپنی پیٹھ کے پیچھے ڈال دیا اور برکے اور مل اور سپنسر تمہاری نظروں سے ایک دم کے لئے جُدا نہ ہوتے تھے تم نے بجائے خدا کے رسولؐ کی باتوں کے پہنچانے میں اس زبان سے مدد لینے کے بخاری اور مسلم کا نام تک بھلا دیا۔ ڈارون اور ہکسلے اور چیمبرز کا وظیفہ ہر دم تمہاری زبان پر رہنے لگا۔ تم کہو گے کہ یہ انگریزی تعلیم کا نقص تھا۔ میں کہتا ہوں یہ تعلیم کا نقص نہ تھا یہ تمہاری نیتوں کا نقص تھا۔ اگر تم خدا اور رسولؐ کی محبت رکھتے اگر اسلام کو تم نے خود سمجھا ہوتا تو کیا تم اپنی اولاد کے لئے نورِ ایمان کی فکر نہ کرتے اگر تم ذرا بھی توجہ کرتے تو کیا نُور ظلمت کے سامنے ٹھہر سکتا؟ آؤ تو میں تم کو تمہارے ہی بچوں جیسے اور بچے دکھاؤں جو تمہارے بچوں کی طرح کالجوں میں ان ہی پروفیسروں سے پڑھتے ہیں، وہی کتابیں وہ پڑھتے ہیں جو تمہارے بچے پڑھتے ہیں، ان ہی یونیورسٹیوں کا امتحان دیتے ہیں جن کا وہ دیتے ہیں لیکن ان کے دل نورِ ایمان سے معمور ہیں۔ وہ قرآنِ کریم کو اس لئے نہیں مانتے کہ ان کے باپ دادا اس کو مانتے تھے بلکہ اس لئے کہ اس کو انہوں نے خود پڑھا اور اس کو سچا پایا ہے۔ وہ اس کو قسمیں کھانے کا آلہ نہیں جانتے بلکہ اسے خدا تعالیٰ سے ملنے کا دروازہ خیال کرتے ہیں اس کو بند کر کے رکھ نہیں چھوڑتے اس کی تلاوت کرتے ہیں طوطے کی طرح نہیں رٹتے بلکہ سمجھ کر پڑھتے ہیں۔ وہ نمازوں کے عادی ہیں، روزوں کا خیال رکھتے ہیں، دُعا کے منکر نہیں دُعاؤں کو اپنی زندگی کا سہارا جانتے ہیں۔ غرض اسلام ان کا شعار ہے خدا کی محبت ان کی رُوح ہے اور اس کا ذکر ان کی غذا ہے اور اس کے رسولؐ کی ہر ایک بات ان کو پیاری ہے پس یہ نقص کالجوں کا نہیں،

کورسوں کا نہیں، یونیورسٹیوں کا نہیں، یہ سب تمہاری غفلت اور تمہاری سُستی کا نتیجہ ہے۔

فوجی خدمات سے تمہارا مقصود کیا تھا

میں پھر اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ تم جنگ میں گئے اور تم نے خوب جانبازیاں کیں اور ترکوں کو مارا اور ان کے خون سے میدان کو رنگ دیا۔ مگر کیا خدا کے لئے ایسا کیا؟ اس لئے کیا کہ خدا تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اپنے حاکم کی اطاعت کرو؟ یا جس وقت فوج میں بھرتی ہوتے تھے ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے جاتے تھے کہ ہم کافر ہو رہے ہیں اور دس دس روپے کے لئے اپنی جانیں شیطان کے ہاتھ بیچ رہے ہیں اور ہر ایک کارِ نمایاں جو تم سے ہوتا تھا اس کے بدلے اپنے افسروں کو زمینوں کی درخواستوں اور خطابات سے گھبرا دیتے تھے جس غرض سے تم یہ سب کام کرتے تھے وہ غرض تمہاری ایک حد تک پوری ہو گئی۔ خطاب بھی تم نے پائے، نوکریاں بھی حاصل ہوئیں، جاگیریں بھی ملیں، تمغے بھی لگے، غرض تمہارا معراج تم کو حاصل ہو گیا۔ اب اور کون سا تمہارا حق تھا جس کے بدلے میں تم نے انگریزوں سے ترکوں کی جان بخشی کا سوال کیا ہے؟ کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ تم مذہبیّاً اس جنگ کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور صرف نوکریوں کی خاطر یا انعام حاصل کرنے کے لئے گورنمنٹ کو خوش کرنے کے لئے یا خطابوں اور جاگیروں کی خواہشات سے فوج میں بھرتی ہو کر جا رہے ہو الا ماشاء اللہ۔ پھر جب وہ دیکھتے تھے کہ تم اپنے عقیدہ کو جو گو غلط تھا مگر بہرحال تم اس کو مانتے تھے دنیوی فوائد کے لئے قربان کر رہے ہو تو ان کے دلوں پر اسلام کی تعلیم کا کیا اثر ہوتا اور اس موالات سے وہ اسلام کے قریب کیونکر آتے؟

یہ بد نتیجہ تم نے موالات کا نہیں بلکہ اپنی نیتوں کا پایا

پس یہ غلط ہے کہ تم نے موالات کا تجربہ کر لیا اور اس کو نقصان دہ پایا۔ تم نے موالات کا بد نتیجہ نہیں دیکھا بلکہ اپنی نیتوں کا بد نتیجہ دیکھا اگر تم ان کو اسلام کی خوبیوں کا قائل کرنے کے لئے ان سے ملتے اپنے کاموں میں دیانتداری اور اخلاص کا نمونہ دکھا کر اسلام کی تعلیم کا اثر ان پر ثابت کرتے، موقع ملنے پر اسلام کے متعلق گفتگو کرتے اور ان کی پرستش نہ کرتے بلکہ ان کو خدائے واحد کی طرف توجہ دلاتے تو کیا ان کے دل پتھر کے تھے کہ ان پر اثر نہ ہوتا؟ وہ انسان ہیں اور حُسن پر فدا ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ جب ان کی آنکھیں خدا کے ایک نبیؐ کو دیکھ کر چندھیا گئیں تو جب وہ خود اللہ تعالیٰ کا چہرہ دیکھیں گے تو کیا اس کے نُور سے ان کی آنکھیں منور نہ ہوں گی؟ جب حضرت مسیحؑ نے ان کو فریفتہ کر لیا تو کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے دلوں پر قابو نہ پائیں گے؟

یقیناً پائیں گے اور ضرور پائیں گے مگر صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ اپنی پہلی گندی نیتوں کو بدل کر تم میں سے ہر ایک خدا کا بندہ اور اسلام کا شیدائی اور اس کا مبلغ بن کر ان سے موالات کرے یہاں تک کہ وہ وقت آجاوے جب خدا تعالیٰ کا کلام پورا ہو اور وہ جو آج دشمن ہے کل اسی طرح تمہارا دوست اور اسلام کا دلدادہ ہو۔ جس طرح کسی وقت تمہارے آباء کی موالات کے اثر سے بغداد کو تباہ کرنے والا اور عباسی خلافت کو مٹانے والا تُرک اسلام کا دلدادہ ہو گیا تھا۔

عیسائیت تمہارا شکار ہے جو تمہارے گھر میں آگیا ہے

تم غصّہ میں ہو کہ یہ لوگ ہماری غفلت سے فائدہ اُٹھا کر ہمارے گھر میں گھس آئے ہیں لیکن مسلم تو شیر ہوتا ہے کیا شیر بھی افسوس کرتا ہے کہ اس کا شکار اس کی کچھار میں گھس آیا۔ وہ اس کو حیلوں سے باہر نکالنا چاہتا ہے یا اس کو اپنا شکار بنانا چاہتا ہے؟ جس طرح تمہارے آباء نے اس وقت جب تُرک ان کی غفلت سے فائدہ اُٹھا کر عراق میں گھس آئے تھے ان کو ترکِ موالات کا ہتھیار استعمال کر کے باہر نہیں نکالا بلکہ ان پر موالات کی کمند ڈال کر ہمیشہ کے لئے اپنا بنا لیا۔ تم کیوں اسی طرح نہیں کرتے؟ اگر تم سچے ہو تو ہر ایک شخص جو تمہارے راستہ میں آتا ہے تمہارا شکار ہے۔ بے شک یہ افسوس کی بات ہے کہ تمہارے شکار کو یہ جرأت ہوئی کہ خود تمہارے راستہ میں آتا ہے مگر جب وہ آگیا تو اب اس کی آمد سے فائدہ اُٹھانا چاہئے اور آئندہ کے لئے اپنی غفلت کو ترک کرنا چاہئے۔

ارضِ مقدسہ کا تمہارے ہاتھ سے نکلنا اور اس کے متعلق سابقہ نوشتے

تم چڑتے ہو کہ ارضِ مقدسہ تمہارے ہاتھوں سے نکل گئی مگر کیا تم قرآنِ کریم کو کھول کر نہیں دیکھتے کہ ارضِ مقدسہ کا ملنا ترکِ موالات پر مقدر نہیں ہے بلکہ عبادت پر۔ اور زبور کو نہیں کھولتے جس کا حوالہ خود قرآنِ کریم نے دیا ہے جہاں صاف لکھا ہے کہ ارضِ مقدسہ جب غیر قوموں کے ہاتھ میں چلی جاوے تو غصّہ نہ ہو جیو اور کڑھیو نہیں اور نہ جوش میں آجا بُو تا ایسا نہ ہو اس جوش کی حالت میں تُو کوئی بُرا کام کر بیٹھے بلکہ صبر سے اس وقت کا انتظار کیجیو۔ جب خود اللہ تعالیٰ تیری مدد کو آوے گا۔ پس اسی پیشگوئی کو مدّ نظر رکھو اور خدا تعالیٰ کے حضور میں گر کر اس کے سچے عبد ہونے کی کوشش کرو تا وہ تمہاری مصیبتوں کو دُور کر دے اور ایسے نازک وقت میں قرآنِ کریم کی تعلیم کو بگاڑ کر خدا تعالیٰ کے غضب کو مت بھڑکاؤ۔ وہ جو امن پھیلانے کے لئے آیا تھا اور رحمت کا فرشتہ تھا اسے دشمنوں کی نظر میں ایک آتشی دیو ثابت نہ کرو۔ بلکہ دوسروں کو جو سرکشی پر آمادہ ہوں روکو اور قرآن کریم کی قوتِ قدسیہ پر یقین رکھتے ہوئے اور اس کے اثر پر ایمان لاتے ہوئے ان اقوام کے اندر گھس جاؤ جو آج اسلام کی مُنکر ہیں تا وہ اس سے روشنی لیں۔ یہ یقین نہ کرو کہ تمہارے دُور ہونے سے ان کی اصلاح ہو جائے گی۔ دشمنی انسان کی آنکھ کو بند کر دیتی ہے عداوت اندھا کر دیتی ہے پس عداوت اور فتنہ کا بیج مت بوؤ اور صُلح اور آشتی کے کے ساتھ کام کرو اور ناامیدی کو پاس پھٹکنے مت دو کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک قرنا پھونکی گئی ہے۔ بشارت اور خوش خبری کی قرنا۔ اسلام کی فتح اور کامیابی کی قرنا۔ وہی جو آج سے پہلے وقتاً فوقتاً پھونکی جاتی رہی ہے اور جو جب جب پھونکی جاتی رہی ہے۔ اس نے دُنیا میں ایک حشر برپا کر دیا ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح نے اسلام کی حالت کو دیکھ کر خدا کے فضل کو جذب کیا ہے جو مسیح موعودؑ کی شکل میں اس دُنیا پر ظاہر ہوا ہے۔ پس اسلام کی فتح سے نا اُمید نہ ہو اس کی فتح تو ضرور ہو کر رہے گی۔ تم اپنی فکر کرو کہ ایسا نہ ہو دوسرے کاموں میں لگے رہو اور اس برکت کے پانے سے محروم رہو جس کی دُنیا کو تیرہ سو سال سے اُمید تھی اور جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سلام بھیجا تھا۔

وَ اٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

خاکسار میرزا محمود احمد

اسلام اور حریت و مساوات

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

اسلام اور حریت و مساوات

(مسائل حاضرہ کے متعلق چند سوالات اور حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی کے جوابات) (تحریر فرمودہ ۲۸؍ اکتوبر ۱۹۲۰ء)

کوہ مری سے ایک گریجویٹ صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں چند سوالات لکھ کر بھیجے جن کے حسب ذیل جواب حضور نے لکھوائے ۔ (خاکسار محمد اسماعیل مولوی فاضل)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ

مکرمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ آپ نے جو سوالات تحریر فرمائے ہیں ۔ ان کے جوابات حسب ذیل ہیں :۔

سلسلہ احمدیہ کی غرض

سوال ۱۔ کیا سلسلہ احمدیہ کی وجۂ ماموریت اشاعت اسلام ہے؟ جواب :۔ سلسلہ احمدیہ کی غرض مسلمان کہلانے والوں کو مسلمان بنانا ہے ۔ چونکہ ہر مسلم کا فرض ہے کہ وہ اپنی طاقت کے مطابق اشاعتِ اسلام کرے اس لئے ہر احمدی کا فرض اشاعتِ اسلام بھی ہوجائے گا۔

اشاعتِ اسلام اور اسلام کے بنیادی اُصول

سوال ۲۔ کیا اشاعتِ اسلام کے اندر ان تمام اُصول کی اشاعت نہیں آتی جو اسلام کے بنیادی اُصول کہلاتے ہیں؟ جواب:۔ اشاعتِ اسلام کے اندر اُن تمام اُصول کی اشاعت آجاتی ہے جو اسلام کے بنیادی اُصول ہیں مگر ان اُصول کی اشاعت اس میں نہیں آتی جو اُصولِ اسلام کہلاتے ہیں جیسا کہ آپ نے تحریر کیا ہے۔

اسلام کے بنیادی اُصول

سوال ۳:۔ کیا توحید و رسالت کے علاوہ اسلام کے کوئی اور اُصول بھی ہیں؟ جواب:۔ اسلام کے بنیادی اُصول دو قسم کے ہیں۔ ایک عقائد کے متعلق دوسرے اعمال کے متعلق۔ عقائد کے متعلق یہ اُصول ہیں خدا کو ایک ماننا ، اس کے تمام نبیوں پر ایمان لانا، قضا و قدر پر ایمان لانا ، ملائکہ پر ایمان لانا، خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی ان تمام وحیوں پر ایمان لانا جو اس کے انبیاء پر نازل ہوتی ہیں ، بعث بعد الموت پر ایمان لانا ۔ اعمال میں سے نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ اوامر کے بنیادی اصول ہیں۔ اور قتل نہ کرنا، چوری نہ کرنا ، زنا نہ کرنا ، خیانت نہ کرنا نواہی کے۔ اور اگر شرک کو اعمال میں داخل کیا جاوے تو اس صورت میں شرک بھی اعمالِ منہیہ میں داخل ہو گا۔

حریت اور مساوات

سوال ۴:۔ کیا حریت اور مساوات کے زریں اُصول اسلام کے بنیادی اُصول نہیں ہیں۔ اور کیا یہ ہر دو اُصول اشاعتِ اسلام کے زمرہ میں داخل ہیں یا نہیں؟ جواب:۔ حریت اور مساوات اسلام کے بنیادی اُصولوں میں سے نہیں ہیں ۔ خود یہ الفاظ ایسے مبہم ہیں کہ اپنی بعض تعریفوں کے لحاظ سے اچھے اخلاق بھی نہیں کہلا سکتے ۔ اس لئے حریت اور مساوات کی جب تک تعریف نہ کی جائے۔ اس وقت تک نہیں کہا جا سکتا کہ اسلام انہیں جائز بھی قرار دیتا ہے یا نہیں؟ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کے ذہن میں ان کی کیا تعریف ہے؟ ہو سکتا ہے کہ کسی تعریف کے ماتحت ان دونوں امور کا خیال رکھنا ایک مسلم کے لئے ضروری ہو اور ہو سکتا ہے کہ ایک دوسری تعریف کے مطابق صرف جائز ہو اور ہو سکتا ہے کہ ایک تیسری تعریف کے مطابق ناجائز ہو۔ شریعت میں مساوات کی تو کوئی اصطلاح ہی نہیں ۔ حُر کی ایک اصطلاح ہے جس کے یہ معنے قرآن اور حدیث کی رو سے معلوم ہوتے ہیں کہ جو شخص ان افعال میں جو افراد کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں حکومت کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے مختار ہو ۔ وہ اپنے مال کا خود مالک ہو افرادِ رعایا میں سے کوئی شخص

ایسا نہ ہو کہ اس کے کمائے ہوئے مال پر بلا اس کی اجازت یا بلا اس سے خرید و فروخت کے قبضہ کر لے۔

اسلام میں حریت و مساوات

سوال ۵:۔ کیا اسلام حریت و مساوات کا علم بردار ہونے کا مدعی ہے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب چوتھے سوال کے نیچے آجاتا ہے۔

نبی کریمؐ کے خلفاء کا مشن

سوال ۶:۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء رضوان اللہ علیہم کا مشن نہیں کہ وہ دُنیا میں حریت و مساوات کے قائم کرنے کے لئے ہر طرح کی ممکن جد وجہد کریں؟ جواب۔ اگر حریت و مساوات کی کوئی ایسی تعریف ہے جو اسلام کے احکام کے نیچے آجاتی ہے اور جو کسی اور اسلامی حکم کے مخالف نہیں پڑتی تو پھر اس کی تلقین کرنا خلفاء اسلام کا فرض ہے۔ مگر یہ بھی ان کا فرض ہے کہ جو بڑے کام ہوں ان کی طرف زیادہ توجہ کریں اور جو چھوٹے ہوں ان کی طرف کم۔

امامِ وقت کا فرض

سوال ۷:۔ کیا امامِ وقت کا یہ فرض نہیں کہ دنیا کی چھوٹی چھوٹی قوموں کو ظالموں کی دستبرد سے بچانے کے لئے آئینی طور پر جد وجہد کرے اور انہیں آزادی اور شہری حقوق دلانے میں کوشاں ہو؟ جواب۔ امام وقت کا یہ فرض ہے کہ دُنیا کی چھوٹی اور بڑی، زبردست اور کمزور تمام قوموں کو نہ کہ صرف چھوٹی قوم کو ہی ظالموں کی دستبرد سے بچانے کے لئے بہترین ذرائع کو استعمال میں لاوے اور بہترین ذریعہ یہی ہے کہ انہیں سچے مذہب کی طرف بلائے۔ اس کے بعد نہ ظالم ظالم رہ سکتا ہے نہ مظلوم مظلوم رہ سکتا ہے۔

یوروپین حکومتیں اور چھوٹی قومیں

سوال ۸:۔ کیا آج یورپ کی دو ایک ظالم و جابر حکومتیں استبدادانہ طور پر چھوٹی چھوٹی آزاد قوموں کی آزادی نہیں چھین رہی ہیں؟ کیا وہ ملک گیری کی ہوس میں ان کو بالکل نگل نہیں چکی ہیں؟ جواب:۔ بے شک یورپ کی بعض طاقتوں نے دوسرے ممالک پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے آباء مسلمان کہلانے والے ہندوستان میں کس طرح آئے تھے؟ اگر ان کا ہندوستان پر قبضہ کر لینا جائز تھا تو آج انگریزوں کا اس پر قبضہ کیوں ناجائز ہو گیا؟ کیا ہندو خود انہیں بلانے گئے تھے؟ پس کسی غیر ملک پر مجرد قبضہ کر لینا بُرا نہیں کہلا سکتا۔ اسے بُرا قرار دینے کی کچھ شرائط لگانی پڑیں گی۔ جب تک وہ شرائط مجھے معلوم نہ ہوں میں پورا جواب نہیں دے سکتا۔

عیسائی حکومتوں کا منشاء

سوال ۹:- کیا ان عیسائی حکومتوں کا منشاء حقیقی یہ نہیں ہے کہ مسلمان حکومتوں کو تباہ کر کے ان کی جگہ عیسائی حکومتیں قائم کر لی جائیں؟

جواب:- دل کا حال تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے مگر موجودہ عیسائی حکومتیں کسی کو زبردستی عیسائی نہیں بناتیں اور اگر آپ کا یہ منشاء ہے کہ مسلمان حکومتوں کی جگہ ایسی حکومتیں قائم ہو رہی ہیں جو عیسائی ہیں۔ گو وہ دوسروں کو عیسائی نہ بناویں تو یہ بات تو ظاہر ہی ہے۔ اس کے پوچھنے کی کوئی وجہ مجھے معلوم نہیں ہوئی۔

خلیفئہ وقت کی غیرت کا تقاضا

سوال ۱۰:- کیا آپ کا دعویٰ امامِ وقت ہونے کا نہیں ہے؟ اگر ہے تو کیا آپ کی غیرت کا یہی تقاضا ہے کہ آپ یہ سب مظالم اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے دیکھیں اور ٹس سے مس نہ ہوں؟

جواب:- بے شک میرا دعویٰ خلیفۂ وقت ہونے کے لحاظ سے امامِ وقت ہونے کا بھی ہے اور فی الواقع میری غیرت اس بات کا تقاضا نہیں کرتی کہ میں ان سب مظالم کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھوں جو لوگ کر رہے ہیں اور ان کے مٹانے کی کوئی کوشش نہ کروں۔ مگر میں صرف ان ہی مظالم کو ناپسند نہیں کرتا جو عیسائی ہندوؤں یا مسلمانوں پر کریں بلکہ ان مظالم کو بھی ناپسند کرتا ہوں جو ہندو مسلمانوں پر یا مسلمان ہندوؤں پر یا دونوں عیسائیوں پر کریں۔ یا خود مسلمان ایسے افعال کا ارتکاب جو موجبِ فساد ہوں اپنے بھائیوں پر کریں۔

اشاعتِ اسلام کیا ہے

سوال ۱۱:- کیا اشاعتِ اسلام صرف اسی کا نام ہے کہ ایک سال میں دو چار مسلمان بنا لئے۔ کیا اشاعتِ اسلام صرف THEORETICAL ہے PRACTICAL نہیں؟

جواب:- اشاعتِ اسلام صرف اسی کا نام نہیں کہ سال میں دو چار مسلمان بنائے جائیں بلکہ اس کا نام بھی نہیں کہ دو چار چھوڑ ایک کو ہی مسلمان بنایا جائے۔ بلکہ اشاعتِ اسلام نام ہے اپنے عقائد کو دوسروں تک پہنچا دینے کا خواہ ایک آدمی بھی انہیں نہ مانے۔ منوانا یا نہ منوانا اس کا کام ہے جو قلوب پر تصرف رکھتا ہے اور ماننا یا نہ ماننا اس کا کام ہے جس کے سامنے ہم بات پیش کرتے ہیں۔ ہمارا کام صرف اتنا ہی ہے اور ہمارے آقا و راہنما آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی صرف اتنا ہی کام تھا کہ حق بات لوگوں تک بطریق احسن پہنچا دیں۔ لوگوں کو منوانا ہمارا کام نہیں:

اگر ہم حق لوگوں کو پہنچا دیتے ہیں اور ہماری بات کو سُن کر لاکھوں آدمی اسے قبول کرتے ہیں۔ یا ایک بھی اسے قبول نہیں کرتا تو اس کا ہم پر نہ کوئی الزام آتا ہے نہ تعریف ہوتی ہے۔ THEORETICAL اور PRACTICAL جو الفاظ آپ نے استعمال کئے ہیں۔ اگر ان سے آپ کی یہ مراد ہے کہ اسلام صرف عقائد کا نام ہے یا اعمال بھی اس کے اندر شامل ہیں تب تو اسلام PRACTICAL مذہب ہے اور نہ یہ کہ وہ عمل میں آسکتا ہے بلکہ عمل کے بغیر اس کی حقیقت ہی ظاہر نہیں ہوتی اور اگر آپ کی یہ مراد ہے کہ وہ اپنے عقائد کو جبریہ بھی منواتا ہے یا نہیں۔ تو تب بے شک اسلام PRACTICAL مذہب نہیں ہے۔

ہندوستان میں انگریزوں کے مقابلہ میں ہندوستانی

سوال ۱۲ :۔ کیا آپ کے خیال میں ہندوستان میں انگریزوں اور ہندوستانیوں کے درمیان مساوات قائم ہے؟ جواب :۔ میرے نزدیک ہندوستان میں انگریزوں اور ہندوستانیوں کے درمیان مساوات قائم نہیں۔ بلکہ میرے نزدیک تو انگریزوں انگریزوں کے درمیان بھی مساوات قائم نہیں اور نہ ہی ہندوستانیوں ہندوستانیوں کے درمیان مساوات قائم ہے۔ آپ کا کھانا پکانے والے، آپ کے کپڑے دھونے والے آپ کا مکان صاف کرنے والے اور آپ میں فرق ہے۔ پھر کون سی حکومت دُنیا میں گزری ہے جس نے غیر لوگوں کو مساوات دی ہے۔ اکبر یا جہانگیر کے زمانہ کے ایک دو مدبروں یا ایک دو جرنیلوں کی مثال دیکھ کر کیا آپ مساوات ثابت کر سکتے ہیں۔ یہ بھی تو بتائیں کہ اس وقت مسلمان ہندوستان میں کتنے تھے اور ہندو کتنے؟ چند لاکھ مسلمانوں اور اسی کروڑ ہندوؤں میں سے بڑے عُہدوں پر کتنے ہندو اور کتنے مسلمان مقرر تھے۔ یقیناً وہ نسبت نہیں تھی جو اب کونسلوں میں انگریزوں اور ہندوستانیوں میں ہے۔ ہم بھی ہندوستان کے لئے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں مگر ہمارے مطالبہ کی بنیاد ہی اور اُصول پر ہے۔

انگریزوں کا سلوک ہندوستانیوں سے

سوال ۱۳ :۔ کیا یہ امر واقع نہیں ہے کہ انگریز لوگ جو ہندوستان میں آباد ہیں ۔ ہندوستانیوں کے ساتھ کس قدر بُرا سلوک کرتے ہیں اور ان پر کس قدر ظلم ڈھاتے ہیں اور ان بے چاروں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا؟ کیا ہر روز ریل گاڑیوں میں ، بازاروں میں ، اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر گویا ہر جگہ اور ہر وقت معزز ہندوستانیوں کی تذلیل حکومت کے نشہ میں سرشار لیکن کم حیثیت انگریز لوگ نہیں کرتے؟

جواب:۔ انگریز جو ہندوستان میں آباد ہیں ان میں سے بعض بے شک ہندوستانیوں سے بُرا سلوک کرتے ہیں جس طرح بعض ہندوستانی بعض ہندوستانیوں سے بُرا سلوک کرتے ہیں۔ جس طرح ظالم ہندوستانیوں کے ظلم دُور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بعینہٖ اسی طرح ظالم انگریزوں کے ظلم کے دُور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

آپ کا یہ سوال میری سمجھ میں نہیں آیا کہ کم حیثیت انگریز معزز ہندوستانیوں کی تذلیل کرتے ہیں آپ تو مساوات کے قائل تھے ، یہ کم حیثیت اور معزز کہاں سے آگئے؟

انگریزوں کے مقابلہ میں ہندوستانیوں کی حالت عدالتوں میں

سوال ۱۴:۔ کیا عدالتوں میں ہندوستانیوں کی انگریزوں کے مقابلہ میں کبھی شنوائی ہوتی ہے؟

جواب:۔ سارے مقدمات کی مثلیں تو میرے پاس نہیں ۔ مگر بالعموم ہندوستانیوں کو فوجداری معاملات میں اپنے حقوق نہیں ملتے اور اس معاملہ کے متعلق اب تک کوئی معقول عذر نہیں پیش کیا گیا۔ لیکن اس میں بہت سا حصہ خود ہندوستانی مجسٹریٹوں کا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ انگریزوں کے چلے جانے پر میجارٹی (MAJORITY) جس قوم کی ہو گی ۔ کیا اس کے مقابلہ میں ہمیں حقوق مل جائیں گے ۔ اگر اس بات کی تسلی ہو جاوے تو پھر یہ دلیل کچھ وقعت رکھ سکتی ہے۔

جلیانوالہ باغ کا واقعہ

سوال ۱۵:۔ کیا جلیانوالہ باغ کا واقعہ فاجعہ اور ایسے ہی کئی ایک اور واقعات مساوات کا ثبوت دیتے ہیں؟

جواب:۔ جلیانوالہ باغ کا واقعہ بے شک نہایت ہی ظالمانہ واقعہ ہے۔ میرے نزدیک جنرل ڈائر کا فعل قریباً اتنا ہی انسانیت سے بعید ہے جتنا کہ کٹار پور اور بہار کے قاتلوں کا۔ لیکن اگر کٹار پور اور بہار میں مسلمان عورتوں اور بچوں کو زندہ جلا دینے والے لوگوں کو ہم معاف کر سکتے ہیں تو جنرل ڈائر کو کیوں نہیں معاف کر سکتے ۔ مساوات کے طریق کو یہاں پر کیوں نہ مدنظر رکھا جائے؟

ناگوار واقعات سے گورنمنٹ کو متنبہ کرنا

سوال ۱۶:۔ کیا آپ کا نہ صرف بحیثیت ایک شہری ہونے کے بلکہ امام اُولِی الْاَمْرِ ہونے کی حیثیت سے یہ فرض نہیں ہے کہ آپ ان روزمرہ کے ناگوار واقعات کے اہم نتائج سے گورنمنٹ کو متنبہ کریں۔ اور اگر حکومت نہ مانے تو عملی صورت میں اس کے خلاف آئینی طریق پر غم و غصہ کا اظہار کریں؟

جواب: بحیثیت ایک شہری ہونے کے اور امام ہونے کے میرا فرض ہے کہ میں لوگوں کو ظلموں کی خرابی سے متنبہ کروں۔ مگر میرا یہ کام نہیں کہ ہر ایک واقعہ جو دنیا میں ہو اس کے متعلق تحقیقات کروں کہ آیا وہ ظالمانہ تھا یا منصفانہ۔ یہ کام کوئی انسان نہیں کر سکتا۔ یہ صرف خدا تعالیٰ کا کام ہے۔ انگریزوں کی غلطیاں ہم ان سے چھپاتے نہیں۔ بلکہ ان پر ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ ہم آئینی طور پر ہر ایک ظلم کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ظلم اخلاق کی خرابی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اور ہم اخلاق کی درستی کی کوشش کرتے ہیں۔

سوال ۱۷:۔ کیا ایک ظالم و جابر حکومت کو اس کے تشدد آمیز افعال سے آگاہ کرنا اور اسکے دل میں اس کا احساس پیدا کرانا آپ کا فرض منصبی نہیں ہے؟

اس کا جواب نمبر ۱۶ میں آچکا ہے۔

فرائض کی ادئیگی

سوال ۱۸:۔ اگر یہ سب آپ کے فرائض ہیں تو بتائیے کہ آپ نے اب تک ان فرائض کی ادائیگی کیوں نہیں کی؟ کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ آپ لوگ حکومت سے ڈرتے اور اپنے اصل مشن کو بالکل بھولے ہوئے ہیں۔ شاید آپ کی طرف سے یہ کہا جاوے کہ ہم نے خطوط کے ذریعہ حکومت کو آنے والے واقعات سے آگاہ کر دیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حکومت نے آپ کے مشورہ پر عمل بھی کیا؟ اگر نہیں تو کیا اس کے دل میں احساس پیدا کرانے کے لئے آپ نے کوئی عملی تدابیر بھی اختیار کیں۔

جناب عالی! یاد رکھئے کہ سال بھر میں دو ایک کا مسلمان بنا لینا ہی صرف اشاعت اسلام نہیں ہے بلکہ حق و صداقت کے لئے آئینی جنگ کرنا اصل اشاعت اسلام ہے۔ محض گورنمنٹ کو خوش کرنا، اپنے کو سرکار کا وفادار ظاہر کرنا، دوسروں پر غیر وفاداری کے اتہام لگانا، ہوم رول کی طرف سے استغناء ظاہر کرنا، لیکن کونسلوں میں ایک نشست حاصل کرنے کے لئے جا و بیجا منت سماجت کرنا یہ تمام باتیں مسیح موعود کی جماعت کے شایان نہیں ہیں۔

جواب:۔ میں اپنے فرائض سے آگاہ ہوں۔ ان کی ادائیگی کی حتی الوسع کوشش کرتا ہوں۔ میں صرف خدا سے ڈرتا ہوں۔ یا اس سے جس سے ڈرنے کا خدا نے حکم دیا ہے۔ حکومت کے اندر احساس پیدا کرنے کے لئے میں وہی کوشش کرتا ہوں ۔ جو خدا کے نبی اور ان کے خلفاء ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں۔

کونسل کی نشست کی نہ میں نے کبھی خواہش کی ہے نہ مجھے فرصت ہے کہ میں کونسل میں جا کر بیٹھوں۔ آپ کونسل کی نشست کا ذکر کرتے ہیں۔ میں تو برطانیہ کی ساری حکومت چھوڑ دُنیا کی ساری حکومتوں کو بھی اس درجہ کے مقابل میں جو خدا نے مجھے دیا ہے ادنیٰ اور بے حقیقت خیال کرتا ہوں۔

آپ کے غصہ سے میں بُرا نہیں مناتا کیونکہ آپ مجبور ہیں۔ چونکہ آج ۲۸؍ تاریخ سے پہلے آپ کا جواب دینے کی مجھے فرصت نہیں ملی اور آپ کا پتہ ۱۸؍ تاریخ کے بعد بدل گیا ہے۔ اس لئے میں اس خط کو اخبار کے ذریعہ شائع کرتا ہوں۔ جب آپ تک پہنچے اور پھر آپ کو اور سوالات کرنے ہوں تو بخوشی کر سکتے ہیں۔

(الفضل ۱۱؍ نومبر ۱۹۲۰ء)

اسلام اور حُرِّیّت و مساوات

(رقم فرمودہ حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی)

اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

هُوَ الْنَّاصِرُ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ

کچھ دن ہوئے کہ ایک گریجویٹ صاحب نے مری سے میرے نام کچھ سوالات لکھ کر بھیجے تھے۔ جن کا جواب میں نے مولوی محمد اسمعیل صاحب مولوی فاضل و منشی فاضل قادیان کو جو ان دنوں صیغہ ڈاک کے انچارج ہیں لکھوایا تھا۔ یہ جواب گیارہ نومبر کے الفضل میں شائع کرا دیا گیا تھا۔ کیونکہ خط بھیجنے والے صاحب جس وقت جواب شائع کیا گیا ہے مری میں نہ تھے اور ان کا اس وقت کا پتہ معلوم نہ تھا۔ اور یہ بھی غرض تھی کہ دوسرے لوگ بھی اس سے فائدہ اُٹھائیں۔ اس مضمون کے شائع ہونے پر امرتسر کے روزانہ اخبار وکیل میں خواجہ عباد اللہ صاحب اختر نے ایک سلسلہ مضامین شائع کرایا ہے جس میں بعض ان باتوں کو رد کیا گیا ہے جو ان کے خیال میں مَیں نے لکھی تھیں ۔ چونکہ حریت و مساوات کا سوال ایک خاص اہمیت رکھتا ہے اور لوگوں کی طبائع اس کی طرف مائل ہیں۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ خواجہ محمد عباد اللہ صاحب اختر بی۔ اے کے مضمون کے متعلق کچھ تحریر کروں۔ تاکہ وہ ان لوگوں کے لئے جو حق طلبی کی عادت رکھتے ہیں رہنمائی کا کام دے اور میرے نقطہ نگاہ سے بھی لوگ آگاہ ہو جائیں۔

اصل مضمون پر غور کئے بغیر جواب دیا گیا

مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ خواجہ صاحب موصوف نے میرے خط پر غور کئے بغیر اس کا جواب دینا شروع کر دیا ہے۔ اگر وہ اسے غور سے پڑھتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ اس میں حریت و مساوات کو اسلامی تعلیم کے خلاف نہیں کہا گیا۔ بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ یہ الفاظ مبہم ہیں ۔ ان کی مختلف تشریحات ہو سکتی ہیں جن میں سے بعض تشریحات کے موجب ان کا مفہوم اسلامی احکام میں شامل ہوگا

اور بعض کے مطابق اسلامی احکام کے رو سے جائز ہوگا اور بعض کے رو سے منع ہو گا اور پھر ان کو یہ بھی معلوم ہو جاتا کہ اس مضمون میں میں نے اُصول کے لفظ کو خاص معنوں میں استعمال کیا ہے۔ اور وہ وہی معنی ہیں کہ جو قرآنِ کریم اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریحات اور ائمہ اسلام کے استعمال سے ثابت ہوتے ہیں۔

سائل سے حریت و مساوات کی تشریح چاہی گئی تھی

چونکہ خواجہ صاحب نے میرے مضمون پر غور نہیں کیا اس لئے ایک تو انہوں نے یہ دھوکا کھایا ہے کہ گویا میں ہر ایک صورت میں حریت و مساوات کو ناجائز سمجھتا ہوں یا اس کا قائم کرنا ناجائز سمجھتا ہوں۔ حالانکہ میرے خط کا جو حصہ انہوں نے خود نقل کیا ہے۔ اسی سے ان پر ثابت ہو سکتا تھا کہ یہ وہم ان کا غلط ہے۔ وہ میرے خط کا یہ حصہ اپنے مضمون میں نقل کرتے ہیں:۔

”حریت و مساوات اسلام کے بنیادی اُصول میں سے نہیں ہیں۔ خود یہ الفاظ ایسے مبہم ہیں کہ اپنی بعض تعریفوں کے لحاظ سے اچھے اخلاق بھی نہیں کہلا سکتے۔ اس لئے حریت اور مساوات کی جب تک تعریف نہ کی جائے اس وقت تک نہیں کہا جا سکتا کہ اسلام انہیں جائز بھی قرار دیتا ہے یا نہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کے ذہن میں ان کی کیا تعریف ہے؟ ہو سکتا ہے کہ کسی تعریف کے ماتحت ان دونوں امور (حریت و مساوات) کا خیال رکھنا ایک مسلم کے لئے ضروری ہو اور ہو سکتا ہے کہ ایک دوسری تعریف کے مطابق صرف جائز ہو اور ہو سکتا ہے کہ ایک تیسری تعریف کے مطابق ناجائز ہو۔“

میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس عبارت کی موجودگی میں جسے انہوں نے خود نقل کیا ہے وہ یہ نتیجہ کس طرح نکال سکتے تھے کہ میں نے حریت و مساوات کو اسلامی احکام میں شامل نہیں کیا۔ ان الفاظ سے تو صاف ثابت ہے کہ میں سائل کو قائل کرنے کے لئے اور اس کی غلطی پر اسے آگاہ کرنے کے لئے پہلے اس سے حریت و مساوات کی تشریح کرانی چاہتا ہوں تاکہ جب وہ خود تشریح کر دے۔ تو اس کی تصدیق کرنی یا اس کی غلطی نکالنی آسان ہو جائے اور میں نے خود لکھ دیا ہے کہ ان الفاظ کی کئی تشریحیں ہو سکتی ہیں۔ بعض کے لحاظ سے ان الفاظ کا مفہوم اسلامی اوامر میں شامل ہو جائے گا بعض کے لحاظ سے صرف جائز رہے گا۔ اور بعض کے لحاظ سے منع ہو جائے گا۔ اگر وہ میرے مضمون پر غور کرتے تو بجائے اس کا جواب لکھنے کے پہلے حریت و مساوات کی تشریح کرتے پھر مجھ سے دریافت کرتے کہ یہ تشریح ان الفاظ کی اسلامی احکام میں شامل ہے یا اسلام کے رو سے جائز ہے یا منع ہے اور پھر میرے جواب پر جو چاہتے لکھتے۔ میں تو سائل سے ان الفاظ کی تشریح چاہتا ہوں اور خواجہ صاحب پہلے ہی جواب لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ کاش! وہ جواب لکھنے کی طرف توجہ کرنے سے پہلے میرے خط کو سمجھنے کی تکلیف گوارا کرتے۔

اُصول کا لفظ ارکانِ اسلام کے معنوں میں استعمال کیا گیا

دوسری ٹھوکر جلد بازی کے سبب سے خواجہ محمد عباد اللہ صاحب اختر نے یہ کھائی ہے کہ انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ میں نے اُصولِ اسلام کے الفاظ کن معنوں میں استعمال کئے ہیں۔ جیسا کہ میری تحریر سے ظاہر ہوتا ہے یہ الفاظ میں نے ارکانِ اسلام کے معنوں میں استعمال کئے ، لیکن خواجہ صاحب کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انہیں احکام کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ احکام تو اسلام کے سینکڑوں ہیں۔ مگر صرف چند ہی ارکان کا پتہ قرآن کریم اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ جن عقائد کو خدا تعالیٰ نے ایمان میں شامل کیا ہے اور ان کا انکار کفر قرار دیا ہے۔ وہ ارکانِ ایمان ہیں اور قرآن کریم سے ایسی باتیں پانچ ہی ثابت ہوتی ہیں۔ اول اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا۔ دوم ملائکہ پر۔ سوم نبیوں پر۔ چہارم کتب سماوی پر پنجم بعث ما بعد الموت پر۔ چونکہ خدا تعالیٰ پر ایمان لانے کے اندر ہی اس کی صفات کے ظہور پر ایمان لانا بھی شامل ہے۔ اس لئے مسلمانوں نے ایمان بالقدر کو بھی ارکانِ ایمان میں شامل کیا ہے۔ اور یہ ان کا فیصلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق ہے۔

قرآن کریم سے ارکانِ اسلام کا ثبوت

قرآن کریم سے ارکانِ اسلام مختلف آیات کے مطالعہ سے معلوم ہوتے ہیں جن میں سے ایک یہ آیت ہے:۔

وَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِاللّٰہِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا(النساء: ۱۳۷) جو شخص کفر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ملائکہ کا اور اس کی کتب کا اور اس کے رسولوں کا اور یومِ آخر کا وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہو گیا۔ اسی طرح فرماتا ہے:۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡفُرُوۡنَ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَیُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَیَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّنَکۡفُرُ بِبَعۡضٍ ۙ وَّیُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ حَقًّا ۚ وَاَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا(النساء: ۱۵۱، ۱۵۲) یعنی وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسولوں کا اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں میں فرق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانیں گے اور بعض کو نہیں مانیں گے۔ اور چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان کوئی راستہ تلاش کریں۔ یہ لوگ سچے کافر ہیں اور کافروں کے لئے ہم نے رسوا کرنے والا عذاب مقرر کیا ہے۔

پس قرآن کریم کے رو سے عقائد کے اصول جن میں سے کسی ایک کے چھوٹنے پر بھی انسان کافر ہو ہو جاتا ہے یہی پانچ ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ، ملائکہ پر ایمان لانا ، کتب پر ایمان لانا ، رسولوں پر ایمان لانا اور یوم الاخر پر ایمان لانا۔ قضاء و قدر پر ایمان لانا جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں ۔ خدا تعالیٰ پر ایمان لانے میں شامل ہے۔ کیونکہ بندہ کا خدا تعالیٰ سے تعلق اس کی قدر کے ہی ذریعہ ہے۔ اگر قضاء و قدر جاری نہ ہو تو خدا تعالیٰ اور بندہ کے درمیان کوئی واسطہ ہی نہیں رہتا۔ اور اس پر ایمان لانے میں کوئی فائدہ یا روحانی ترقی ہو ہی نہیں سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان بالقدر کو بھی ایمانیات کے اندر شامل کیا ہے۔ احادیث سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کے یہی ارکان ہیں کیونکہ احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دفعہ حضرت جبرائیلؑ آئے اور آپؐ سے سوال کیا کہ مَا الْاِیْمَانُ ایمان کیا ہے؟ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: کہ اَلْاِیْمَانُ اَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰهِ وَ مَلَائِكَتِهٖ وَ بِلِقَائِهِ وَ رُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ(بخاری کتاب الایمان باب سؤال جبریل النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن الایمان) یعنی ایمان یہ ہے کہ تُو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس کے فرشتوں پر اور اس کے لقاء پر اور اس کے رسولوں پر اور یہ کہ ایمان لائے مرنے کے بعد اُٹھنے پر۔

اور اصیل کی روایت میں بِرُسُلِهٖ کے بعد كُتُبِهٖ بھی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی کتب پر ایمان لائے مگر میرے نزدیک اس لفظ کے بغیر بھی کتابوں پر ایمان کا ذکر اس حدیث میں آجاتا ہے کیونکہ اس حدیث میں لقاء کا لفظ ہے جس کے معنے شراح نے خدا تعالیٰ کی ملاقات کے کئے ہیں۔ اور یہ معنے ہیں بھی ٹھیک۔ مگر انہوں نے اس سے مراد مرنے کے بعد کی ملاقات لی ہے۔ حالانکہ یہ بات بعث پر ایمان لانے کے اندر آگئی ہے۔ لقاء سے مراد کتب ہی ہیں کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی ملاقات کا ذریعہ ہیں ۔ بندہ اپنے رب سے اس کے کلام کے ذریعہ سے ہی ملتا ہے۔ اس کے متعلق ایک لطیف استدلال صاحب بصیرت کے لئے جو دوسروں کی خوشہ چینی پر کفایت نہ کرتا ہو۔ آیت کریمہ وَلَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ فَلَا تَکُنۡ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآئِہٖ(السجدة: ۲۴) سے بھی ہو سکتا ہے۔

وہ اعمال جن کا اسلام نے حکم دیا ہے

دوسری قسم ہے اعمال کی۔ ان میں سے ایک تو فعلیہ ہیں یعنی جن کے کرنے کا حکم ہے اور ایک ترکیہ ہیں یعنی جن کے ترک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ فعلیہ اُصول میں نے اپنے خط میں نماز، زکوٰۃ حج اور روزہ بتائے تھے۔ اور یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ارشاد ہے اس میں میرا کوئی دخل نہیں۔ آپؐ فرماتے ہیں کہ:۔

بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلَی خَمْسٍ شَھَادَةِ اَنْ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَاءِ الزَّکٰوةِ وَ الْحَجِّ وَ صَوْمِ رَمَضَانَ(بخاری کتاب الایمان باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم بُنِیَ الاسلام علی خمس) یعنی اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر رکھی گئی ہے یہ گواہی دینا کہ اللہ ایک ہے اور محمّدؐ اس کے رسول ہیں اور نماز ادا کرنی ، زکوٰۃ دینی اور حج اور رمضان کے روزے۔

اسی حدیث میں جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے سوال پر کہ اسلام کیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکَ بِہٖ وَتُقِیْمَ الصَّلٰوةَ وَتُؤَدِّیَ الزَّکٰوةَ الْمَفْرُوْضَةَ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ(بخاری کتاب الایمان باب سؤال جبریل النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن الایمان) یعنی اسلام یہ ہے کہ تُو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور نماز کو قائم کرے اور فرض زکوٰۃ ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے۔

بخاری میں حج کا ذکر نہیں ہے۔ لیکن دوسرے بعض راویوں نے حج کا بھی ذکر کیا ہے۔ اسی طرح طلحہؓ بن عبید اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اور آپؐ سے سوال کیا کہ اسلام کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا۔

خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِی الْیَوْمِ وَ اللَّیْلَةِ فَقَالَ هَلْ عَلَیَّ غَیْرُهَا قَالَ لَا إِلَّا اَنْ تَطَوَّعَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِيَامُ رَمَضَانَ قَالَ هَلْ عَلَیَّ غَیْرُهٗ - قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ قَالَ وَ ذَکَرَ لَهُ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّکوٰةَ ۔ قَالَ هَلْ عَلَیَّ غَيْرُهَا قَالَ لَا إِلَّا اَنْ تَطَوَّعَ قَالَ فَاَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُوْلُ وَاللّٰهِ لَا أَزِيْدُ عَلَى هٰذَا وَلَا انْقُصُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ(بخاری کتاب الایمان باب الزکوٰة من الاسلام) یعنی اسلام کے اصول پانچ نمازیں ہیں دن اور رات میں۔ اس نے پوچھا کہ کیا ان کے سوا مجھ پر کچھ اور بھی فرض ہے۔ آپؐ نے فرمایا۔ نہیں ہاں اگر شوق سے زیادہ نماز

پڑھو۔ تو اور بات ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا اور رمضان کے روزے۔ اس پر اس نے دریافت کیا کہ ان کے سوا مجھ پر اور روزے بھی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ نہیں ہاں تم اپنی خواہش سے زیادہ رکھو تو رکھ سکتے ہو۔ پھر آپؐ نے اس کے سامنے زکوٰۃ کا مسئلہ بیان فرمایا۔ اس نے پوچھا کہ کیا مجھ پر اس سے زیادہ کچھ اور بھی فرض ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ نہیں۔ ہاں اگر تم اپنی خواہش سے زیادہ دو۔ تو یہ اور بات ہے۔ اس پر وہ شخص واپس چلا گیا۔ اور چلتے ہوئے کہتا گیا۔ کہ خدا کی قسم! میں نہ اس سے زیادہ کروں گا نہ کم رسول کریمؐ نے فرمایا کہ اگر اس شخص نے اپنی بات پوری کر دی تو کامیاب ہو گیا۔

اس حدیث میں حج کا ذکر نہیں۔ لیکن چونکہ دوسری احادیث میں ارکان اعمال میں حج کو شامل کیا گیا ہے۔ اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خیال فرما کر کہ عرب لوگ حج کو خود ہی ضروری خیال کرتے ہیں۔ صرف وہ احکام بیان فرما دیئے جو اسلام میں نئے نازل ہوئے تھے۔

غرض عبادت فعلیہ کے یہ چار ارکان ہیں۔ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں۔ اور شراح احادیث اس شخص کے سوال کے متعلق کہ اسلام کیا ہے لکھتے ہیں۔ کہ اس کا سوال ان ارکان اسلام کے متعلق تھا جو اعمال سے تعلق رکھتے ہیں (بخاری کتاب الایمان باب الزکوٰة من الاسلام حاشیہ) پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور علماء اسلام کی تشریح کے مطابق اعمال فعلیہ کے یہی چار ارکان ہیں۔ اور یہی چاروں میں نے اپنے جواب میں بیان کئے ہیں۔

عبادت ترکیہ کے اُصولی احکام

عبادت ترکیہ یعنی ان احکام میں سے جن کے نہ کرنے کا شریعت نے حکم دیا ہے۔ مَیں نے چار اصل بیان کئے ہیں۔ قتل نہ کرنا، چوری نہ کرنا، زنا نہ کرنا، خیانت نہ کرنا۔ یہ چار اصل بطور استدلال مَیں نے قرآن کریم ہی سے لئے ہیں۔ کیونکہ قرآن کریم میں قتل کے جرم کی سزا قتل بیان کی گئی ہے اور زنا کی سزا کوڑے۔ اور بعض صورتوں میں مطابق فیصلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، رجم اور چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا اور ڈاکہ یا چوری کی حد میں آجاتا ہے یا قتل کے دائرہ میں۔ اس لئے اس کو مَیں نے الگ نہیں بیان کیا تھا۔ چوتھا جرم جس کے لئے سزا مقرر ہے۔ قذف اور افتراء ہے جسے مَیں نے وسعت کے خیال سے خیانت سے تعبیر کیا تھا۔ پس یہی چار احکام ہیں۔ جو عبادت ترکیہ کے اصل ہیں۔ باقی جس قدر احکام ہیں۔ ان کی سزا یا تو غیر معین ہے اور سیاست پر چھوڑ دی گئی ہے یا ان کا معاملہ قیامت پر رکھا گیا ہے۔ ان کے سوا باقی تمام عقائد یا اوامر یا نواہی ان ہی کے فروع ہیں۔ یا ان کے اندر وہی اصل مخفی ہیں جو ان عقائد و اوامر و نواہی میں ہیں۔ یہ چاروں نواہی یکجائی طور پر عورتوں کی بیعت کے الفاظ میں جمع کردیئے گئے ہیں چنانچہ سورہ ممتحنہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَکَ الۡمُؤۡمِنٰتُ یُبَایِعۡنَکَ عَلٰۤی اَنۡ لَّا یُشۡرِکۡنَ بِاللّٰہِ شَیۡئًا وَّلَا یَسۡرِقۡنَ وَلَا یَزۡنِیۡنَ وَلَا یَقۡتُلۡنَ اَوۡلَادَہُنَّ وَلَا یَاۡتِیۡنَ بِبُہۡتَانٍ یَّفۡتَرِیۡنَہٗ بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِنَّ وَاَرۡجُلِہِنَّ وَلَا یَعۡصِیۡنَکَ فِیۡ مَعۡرُوۡفٍ فَبَایِعۡہُنَّ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَہُنَّ اللّٰہَ(الممتحنة: ۱۳)

اصول اور احکام میں فرق نہیں کیا گیا

کوئی عقلمند یہ خیال نہیں کر سکتا کہ میرا یہ مطلب تھا کہ ان احکام کے سوا اسلام میں اور کوئی حکم ہی نہیں ہیں۔ بلکہ میرا مطلب جیسا کہ عبارت سے ظاہر ہوتا ہے یہی تھا کہ اصولِ اسلام یہی ہیں ۔ گو ان کے سوا احکام سینکڑوں ہیں۔ چنانچہ سائل کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کا یہ فرض نہیں کہ وہ دُنیا کی جھوٹی حکومتوں کو ظلم سے بچائیں۔ میں نے یہی جواب دیا ہے کہ اگر حریت و مساوات کی کوئی ایسی تعریف ہے جو احکام اسلام کے نیچے آجاتی ہے اور کسی اور اسلامی حکم کے مخالف نہیں پڑتی تو اس کی تلقین کرنا خلفاء اسلام کا فرض ہے۔ اس جواب سے صاف ظاہر ہے کہ میں نے اصول اور احکام میں فرق کیا ہے۔ کیونکہ ایک طرف تو میں نے حریت و مساوات کو اصول اسلام سے خارج کیا ہے اور دوسری طرف یہ لکھا ہے کہ اگر اس کی کوئی ایسی تعریف کی جائے جو احکامِ اسلام کے مطابق ہو تو پھر اس کی تلقین فرض ہو جائے گی۔ خواجہ صاحب نے اسی فرق کو نہ سمجھتے ہوئے میرے مضمون کا جواب لکھنا شروع کر دیا ہے۔ اور حریت و مساوات کو احکام اسلام میں سے ثابت کرنے کی کوشش کر کے یہ فرض کر لیا ہے کہ انہوں نے میرے مضمون کا جواب دے دیا ہے ۔ حالانکہ نہ میں نے یہ لکھا تھا کہ حریت و مساوات کی تمام تعریفات کی رُو سے وہ احکام اسلام میں شامل نہیں ہو سکتیں اور نہ میں نے یہ لکھا تھا کہ اصل اور حکم ایک ہی شئے ہے۔ کاش وہ ذرہ بھر بھی تدبر سے کام لیتے اور میرے مضمون پر غور کرتے اور یا تو سائل کو خود آگے آکر اپنے مطلب کو بیان کرنے دیتے ۔ یا خود حریت و مساوات کی تعریف کر کے اس کے متعلق مجھ سے سوال کرتے کہ یہ تعریف احکامِ اسلام میں شامل ہے یا نہیں؟ اگر اس تعریف کو میں احکامِ اسلام میں شامل نہ قرار دیتا اور اگر ان کی تسلی میرے جواب سے نہ ہوتی تو وہ اس کا جواب لکھتے۔


خواجہ صاحب کے نزدیک حریت و مساوات کو کیوں اصول اسلام سے خارج کیا گیا

خواجہ صاحب نے اپنے مضمون کے آخر میں یہ بات ظاہر کرنے کی بھی کوشش کی ہے کہ مجھے دھوکا کس طرح لگ گیا اور کس طرح میں نے حریت و مساوات کو اسلام کے بنیادی اصول میں سے خارج کر دیا اور بعض آیات ایسی نقل کی ہیں جن میں بعض گروہوں کے غیر مساوی ہونے کا ذکر ہے اور نتیجہ نکالتے ہیں کہ شاید ان آیتوں سے مجھے دھوکا لگ گیا۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں خواجہ صاحب کا منشاء یہ نہیں ہے کہ وہ میرے مضمون کو کسی قدر معقولیت کا جامہ پہنائیں بلکہ ان کا اصل منشاء یہ بات ظاہر کرنا ہے کہ وہ ان دلائل سے بھی خوب واقف ہیں جو میں اپنے مدعا کے ثبوت کے لئے پیش کرونگا۔ حالانکہ ان کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ اس معاملہ میں دلائل دینا میرے ذمہ نہیں بلکہ سائل کے ذمہ ہے کہ وہ پہلے اپنے سوال کا مطلب بیان کرے۔ جب تک وہ اپنے مطلب کو واضح نہ کرے اس وقت تک اس کے سوال کا جواب دینا وقت کا ضائع کرنا ہے۔ بلکہ اگر وہ سوال کو واضح کرے گا تو اس کے سوال کا جواب خود اس کی اپنی تشریح میں ہی آ جائے گا یا اس پر اپنی غلطی کھل جاوے گی۔

الزامی جواب کی اقسام

اس تمہید کے بعد میں خواجہ صاحب کے مضمون کے مختلف حصوں پر روشنی ڈالتا ہوں۔ خواجہ صاحب اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ میں نے سائل کو الزامی جواب دیئے ہیں اور یہ کمزوری ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ الزامی جواب سے بالعموم اصل مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ بلکہ صرف سائل خاموش ہو جاتا ہے اور اسی لئے الزامی جواب کو اصولی جواب کے مدمقابل قرار دے کر اسے کمزور سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جو لوگ کلام کی حقیقت اور اس کے معارف سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ الزامی جواب کئی اقسام کے ہوتے ہیں۔ بعض دلیل کے لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں بعض مضبوط ہوتے ہیں اور بعض ایسے مضبوط ہوتے ہیں کہ اصولی جواب بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

کونسا الزامی جواب کمزور ہوتا ہے

وہ الزامی جواب جو کمزور ہوتا ہے اس کی یہ شرط ہے کہ اس کے ذریعہ سے کسی عیب کو چھپانے کی کوشش کی جائے یعنی جس پر اعتراض کیا جائے وہ اس بات کو محسوس کرتا ہو کہ اس کی جس بات پر اعتراض کیا گیا ہے۔ وہ واقع میں ایک عیب اور کمزوری ہے۔ اور اس پر پردہ ڈالنے کے لئے معترض کے کسی عیب کی طرف اشارہ کرے۔ مثلاً دو شخص جو مل کر تجارت کر رہے ہیں ان میں سے ایک دوسرے کو خیانت کرتے ہوئے دیکھے اور اسے کہے کہ کیوں صاحب یہ کام بھی جائز ہے تو آگے سے وہ شخص معترض کی کسی خیانت کی طرف جس سے وہ آگاہ تھا اشارہ کر کے کہہ دے کہ ہاں جس طرح وہ جائز تھی یہ بھی جائز ہے۔ یہ الزامی جواب کہلائے گا اور کمزور ہوگا کیونکہ اس جواب سے جواب دینے والے کی بریت ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ وہ شخص جس نے اعتراض کیا تھا خود اسی قسم کی مرض میں مبتلا ہے اور اس جواب سے مجیب کی غرض صرف معترض کو خاموش کرنا ہے۔

قسم دوم کے الزامی جواب

دوسری قسم کا الزامی جواب یہ ہوتا ہے کہ جس بات پر اعتراض کیا جاتا ہے وہ مجیب کے مذہب میں پائی ہی نہیں جاتی یا اس کے نزدیک جائز ہی نہیں ہوتی یا یہ کہ وہ بات عقلاً اور اخلاقاً بالکل درست ہوتی ہے اور اس پر اعتراض ہی نہیں پڑ سکتا۔ یا یہ کہ جو اعتراض کیا جاتا ہے وہ اعتراض ہی نہیں ہوتا لیکن مجیب وقت بچانے کے لئے کسی ایسی ملتی جلتی لیکن نادرست اور ناواجب بات کی طرف جو معترض یا معترض کے مذہب یا عقیدہ میں پائی جاتی ہے اشارہ کر دیتا ہے اور اس سے اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ سائل کو خاموش کر دے۔ مثلاً اگر کوئی آریہ اسلام پر اعتراض کر دے کہ اسلام میں متعہ کی اجازت ہے اور اس پر کوئی سُنّی المذہب اس کے جواب میں کہہ دے کہ ہاں یہ مسئلہ ایسا ہی ہے جیسا کہ آریہ مت میں نیوگ کا مسئلہ تو اس سے اس کی غرض معترض کو خاموش کرنا ہوگی۔ اور وہ صرف اس تاریخی بحث میں پڑنے سے بچنے کی کوشش کرے گا کہ متعہ اسلامی مسئلہ ہے بھی کہ نہیں۔ ورنہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں نہ اس وقت متعہ جائز ہے نہ کبھی پہلے جائز ہوا۔ جب تک اسلام کا حکم اس مسئلہ کے متعلق نازل نہ ہوا تھا اس وقت تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرب کی رسوم کے مطابق اس فعل کی اجازت دیتے رہتے تھے۔ کیونکہ آپ کی عادت مبارک میں یہ بات داخل تھی کہ آپ الٰہی حکم کے نزول تک لوگوں کی رسوم و عادات میں دخل دینا پسند نہ فرماتے تھے اور الٰہی کلام کا ادب رکھتے تھے۔

یا مثلاً کوئی آریہ صاحب اسلام کے مسئلہ کثرتِ ازدواج پر اعتراض کر دے اور کوئی مسلمان نیوگ کا حوالہ دے کر ان کو خاموش کرا دے تو یہ بھی الزامی جواب ہوگا۔ لیکن اس میں پہلے جواب سے یہ فرق ہوگا کہ پہلا جواب تو ایک ایسے اعتراض سے بچنے کے لئے تھا جس کا مورد اسلام میں موجود ہی نہ تھا۔ اور یہ جواب ایک ایسی بات پر سے اعتراض ہٹانے کے لئے ہے جو فی الواقع اسلام میں موجود ہے اور صرف وقت کو بچانے کے لئے یا معترض پر یہ بات روشن کرنے کے لئے ہے کہ اس کا اعتراض نیک نیتی

پر مبنی نہیں۔ کیونکہ باوجود ایک ایسی بات پر یقین رکھنے کے جس میں شناعت کا پہلو موجود ہے۔ وہ ایک ایسی بات پر اعتراض کرتا ہے جس میں کوئی شناعت کا پہلو موجود ہی نہیں۔

یا مثلاً یہ کہ کوئی مسیحی اسلام پر اعتراض کرے کہ اسلام کی ترقی کا باعث جنت کا عقیدہ ہے۔ لوگوں کو لالچ دلا کر اسلام میں داخل کر لیا گیا ہے۔ اور اس کا کوئی مسلمان یہ جواب دے دے کہ ہاں جس طرح ادنیٰ اقوام کو مسیحی روپیہ پیسہ دے کر اور قسم قسم کی لالچیں دے کر مسیحی بنا لیتے ہیں اسی طرح مسلمانوں نے بھی کیا ہے۔ یہ جواب بھی اسی قسم کے الزامی جوابوں میں شامل ہو گا جو پہلے مذکور ہوئے ہیں۔ مگر پہلے دو جوابوں میں اور اس جواب میں یہ فرق ہو گا کہ پہلا الزامی جواب تو ایک ایسے اعتراض کے متعلق تھا جس کا مورد اسلام میں موجود ہی نہ تھا اور دوسرا الزامی جواب ایک ایسے اعتراض کے متعلق ہے جس کا مورد تو موجود تھا لیکن اس پر وہ اعتراض نہ پڑتا تھا جو دشمن نے کیا۔ اور یہ آخری مثال اس امر کی ہے کہ جو اعتراض کیا گیا تھا وہ اعتراض ہی نہیں ہے۔ اس قسم کی تحریک کرنی کہ اس مذہب کو قبول کر کے تم سُکھ پاؤ گے لالچ نہیں ہے بلکہ مذہب کی ضرورت کا اظہار ہے اور اس دعویٰ کے بغیر کوئی مذہب سچا ہو ہی نہیں سکتا۔

قرآن کریم سے دوسری قسم کے الزامی جواب کی مثال

یہ دوسری قسم الزامی جواب کی گو پہلی قسم کی نسبت مضبوط ہے لیکن پھر بھی اس میں یہ کمزوری ہے کہ اس سے دشمن کی کمزوری اور اس کا تعصب تو ظاہر ہو جاتا ہے لیکن اس امر کی نسبت لوگوں کا علم وسیع نہیں ہوتا جس پر اعتراض کیا گیا تھا کیونکہ لوگ دیکھتے ہیں کہ جس امر کی طرف اشارہ کر کے معترض کو خاموش کیا گیا ہے وہ امر اور قسم کا ہے اور جس پر اعتراض کیا گیا ہے وہ اور قسم کا ہے۔ اور ان کے دل میں یہ تڑپ باقی رہتی ہے کہ اس کی خوبیوں پر بھی اطلاع ملے بلکہ معترض کے دل میں بھی یہی خواہش باقی رہتی ہے گو وہ اس جواب کے ڈر سے دوبارہ اعتراض اُٹھانے کی جرأت نہیں کرتا۔ یہ قسم جواب کی اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب اس کے ساتھ اصولی جواب بھی دے دیا جائے چنانچہ قرآن کریم میں اس قسم کے الزامی جوابوں کی مثالیں ملتی ہیں۔ جیسا کہ فرماتا ہے: اَلَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ عَہِدَ اِلَیۡنَاۤ اَلَّا نُؤۡمِنَ لِرَسُوۡلٍ حَتّٰی یَاۡتِیَنَا بِقُرۡبَانٍ تَاۡکُلُہُ النَّارُ ؕ قُلۡ قَدۡ جَآءَکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِیۡ بِالۡبَیِّنٰتِ وَبِالَّذِیۡ قُلۡتُمۡ فَلِمَ قَتَلۡتُمُوۡہُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ(آل عمران: ۱۸۴) یعنی وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہوا ہے کہ ہم صرف اس رسول کو مانیں جو سوختنی قربانی کا حکم دے۔ ان سے کہہ دو کہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول تمہاری طرف آئے ہیں جن کے پاس دلائل بھی تھے اور وہ حکم بھی دیتے تھے جس کی طرف تم اشارہ کرتے ہو پھر کیا اگر تم سچے ہو تو تم نے ان کو مان لیا تھا اور ان کا مقابلہ نہیں کیا تھا ۔

اس جگہ یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ سوختنی قربانی کا حکم ضروری ہے یا نہیں ؟ صرف ان کو اس جواب سے خاموش کر دیا گیا ہے کہ تمہارا حق نہیں کہ یہ اعتراض کرو کیونکہ تم ان رسولوں کا مقابلہ بھی کرتے رہے ہو جو سوختنی قربانی کا بھی حکم دیتے تھے۔ مگر چونکہ قرآن کریم ہر ایک پہلو کو مکمل کرتا ہے اگلی آیات میں جا کر یہ بھی جواب دے دیا کہ یہ دعویٰ باطل ہے کہ تم کو کوئی ایسا حکم تھا۔ تم تو تورات پر افتراء کرتے ہو۔ اور تمہاری یہ عادت ہے چنانچہ آگے چل کر فرمایا کہ

وَاِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَکۡتُمُوۡنَہٗ ۫ فَنَبَذُوۡہُ وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمۡ(آل عمران: ۱۸۸) اللہ تعالیٰ نے تو اہلِ کتاب سے عہد لیا تھا کہ یہ مسائل تورات کو چھپائیں گے نہیں لیکن یہ اس عہد کے پابند نہ رہے۔

یعنی اب یہ لوگوں کو غلط مسائل بتانے لگے ہیں۔ جن میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس وقت تک کسی رسول کو نہیں ماننا چاہئے جب تک وہ سوختنی قربانی کا حکم نہ دے۔

قسم سوم کے الزامی جواب

ان دونوں قسموں کے سوا ایک تیسری قسم الزامی جواب کی ہوتی ہے جو بلحاظ دلیل کے ایسی ہی مضبوط ہوتی ہے جیسے کہ اصولی جواب۔ کیونکہ گو وہ بظاہر الزامی جواب نظر آتی ہے۔ لیکن اس کی اصل غرض یہی ہوتی ہے کہ اصولی جواب کی طرف سائل کی توجہ کو پھیرا جائے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ کبھی معترض کو سمجھانے کے لئے اس کے اعتراض کے جواب میں اسی کے عقیدہ اور خیال کی ایک ایسی بات اس کو یاد دلائی جاتی ہے جو بعینہٖ اسی قسم کی ہوتی ہے جس پر اس شخص نے اعتراض کیا ہوتا ہے لیکن جس طرح یہ بات قابلِ اعتراض نہیں ہوتی جس پر اعتراض کیا گیا ہے وہ بھی قابلِ اعتراض نہیں ہوتی۔

قرآن کریم سے تیسری قسم کے الزامی جواب کی مثال

اس قسم کے الزامی جواب قرآن کریم میں بھی دیئے گئے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کفار کا اعتراض سورہ انبیاء میں نقل فرماتا ہے کہ

ہَلۡ ہٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ(الانبیاء: ۴) :۔ نہیں ہے یہ شخص مگر تمہارے جیسا ایک آدمی۔

اور اس کا جواب آگے چل کر یہ دیتا ہے کہ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ(الانبیاء: ۸) یعنی ہم نے تجھ سے پہلے بھی آدمی ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ اگر تم کو نہ معلوم ہو۔ تو یہود و نصاریٰ سے پوچھ لو۔ اس میں بھی الزامی جواب ہی دیا ہے۔ کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف اور کسی کی نہ سہی۔ حضرت ابراہیمؑ کی نبوت کے اور آپ کے خدارسیدہ ہونے کے تو ضرور قائل تھے۔ اللہ تعالیٰ بجائے یہ ثابت کرنے کے کہ نبی کے لئے بشر ہونا ضروری ہے۔ صرف یہ حوالہ دیتا ہے کہ پہلے نبی جن کو مانتے ہو وہ بھی تو ایسے ہی تھے۔

قسم سوم کے الزامی جواب کا فائدہ

اس قسم کے الزامی جواب سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ معترض جس بات کو تسلیم کرتا ہے اس کے خلاف اسے تعصب نہیں ہوتا اور اس کی تائید میں اس کے پاس دلائل ہوتے ہیں۔ پس بجائے اس کے کہ اس بات کی تائید میں جس پر اس نے اعتراض کیا ہوتا ہے دلائل دیئے جائیں۔ یہ زیادہ سہل طریق ہوتا ہے کہ اس کی تسلیم کردہ باتوں میں سے کوئی اس کے سامنے پیش کر دی جائے تاکہ اس کی تائید میں جو دلائل اس کے پاس ہیں ان ہی کے ذریعہ سے وہ اس بات کی صداقت کو بھی سمجھ لے جس پر وہ اعتراض کرتا ہے۔ پس گو بظاہر یہ جواب الزامی ہوتا ہے لیکن دراصل حقیقی جواب ہوتا ہے۔ اس میں اور حقیقی جواب میں صرف یہ فرق ہوتا ہے کہ حقیقی جواب میں دلائل مجیب کو دینے پڑتے ہیں۔ اور اس قسم کے الزامی جواب میں خود معترض کے ہی منہ سے اپنے دعویٰ کی تائید میں دلائل دلوائے جاتے ہیں۔ ایسا الزامی جواب بجائے کمزور ہونے کے عام طور پر حقیقی کہلانے والے جواب سے زیادہ سہل اور مفید ہوتا ہے اور مضبوطی میں بھی اس سے کم نہیں ہوتا اور خصوصاً اس صورت میں اور بھی زیادہ مضبوط ہوتا ہے جبکہ اعتراض صرف ایک ہی جماعت کی طرف سے وارد ہوتا ہو۔ کیونکہ جو اعتراض مختلف پہلو رکھتا ہو اور متعدد جماعتوں کی طرف سے پڑ سکتا ہو۔ وہ حقیقی جواب کے بغیر مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ الزامی جواب صرف اس نقطہ خیال پر روشنی ڈالے گا جو سائل یا اس کے ہم خیالوں سے تعلق رکھتا ہے اور دوسری جماعتوں کے نقطہ خیال کے مطابق جو اس پر اعتراض ہوتا ہے وہ دور نہ ہو سکے گا۔ لیکن اگر اعتراض ایک ہی جماعت کی طرف سے ہو سکتا ہو تو پھر مندرجہ بالا قسم کا الزامی جواب حقیقی جواب سے بھی زیادہ مفید ہو گا۔ کیونکہ اس میں حقیقی جواب کی طرح روشنی بھی ہوگی اور الزامی جواب کی طرح قوت اور شدت بھی ہوگی۔

سائل کو تیسری قسم کے جواب دئیے گئے تھے

اس تفصیل کے بعد میں خواجہ صاحب کو توجہ دلاتا ہوں کہ میرے جوابات گو الزامی تھے مگر اسی تیسری قسم کے تھے مثلاً جلیانوالہ کے باغ کے متعلق جو اعتراض ہوا ہے اس کا جو جواب میں نے دیا ہے اور جس کی طرف خواجہ صاحب نے اشارہ بھی کیا ہے وہ اسی قسم کا ہے۔ کیونکہ اس میں مَیں نے سائل کے ہم خیال لوگوں کے ایک مستحسن فعل کی طرف اشارہ کر کے بتایا ہے کہ جس طرح انہوں نے فساد کو دُور کرنے کے لئے کٹار پور اور بہار کے وحشی اور انسانیت سے عاری قاتلوں کو معاف کر دیا ہے اسی طرح اگر بادشاہ معظم کے اعلان کے جواب میں ہم لوگوں نے جلیانوالے واقعہ کو بھلا دیا ہے تو کون سی قباحت آگئی۔ یہاں دونوں فعل مستحسن ہیں اور ایک ہی قسم کے ہیں۔ سائل ایک کام کرتا ہے اور دوسرا اسے بُرا معلوم ہوتا ہے۔ اس کو یہ امر سمجھانے کے لئے کہ دوسرا کام بھی مستحسن ہے۔ اس کے اپنے فعل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ دلائل جن کے باعث اس نے پہلا کام کیا ہے اسے یاد آجائیں گے۔ اور اس کا اعتراض دوسرے کام پر سے خود بخود اُٹھ جائے گا۔ اور اس جواب سے ہر ایک شخص جو اس کا ہم خیال ہو گا وہ بھی تسلی پالے گا اور بجائے اس کے کہ ہم اس کو اپنے فعل کے دلائل دیں خود اس کا ذہن اس کے سامنے حقیقی دلائل پیش کر دے گا۔ پس اس الزامی جواب میں اور حقیقی جواب میں یہی فرق ہے کہ اس جواب کے ذریعہ سے خود معترض کے منہ سے اپنے فعل کے مستحسن ہونے کا اقرار کرانے کی کوشش کی گئی ہے اور بجائے دلائل کو کاغذ پر لا کر اس کے سامنے پیش کرنے کے خود اسی کے دماغ میں ایسی حرکت پیدا کر دی گئی ہے کہ خود ہی دلائل اس کے سامنے آجائیں۔

اسلامی اخوت کا مطلب

خواجہ صاحب نے جوابوں کی نسبت الزامی ہونے کا الزام قائم کر کے سب سے پہلے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسلام نے اخوت قائم کی ہے۔ اس لئے جو مساوات اخوت میں ہوتی ہے وہی بنی نوع انسان میں قائم ہونی چاہئے۔ اگر خواجہ صاحب کا یہ منشاء ہے کہ اسلام کی رو سے تمام بنی نوع انسان اپنی پیدائش میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں۔ یا یہ کہ ان کو ایک دوسرے کو حقیر نہیں سمجھنا چاہئے اور ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہئے تو یہ سچی بات ہے۔ اس کا کسی کو انکار نہیں۔ لیکن اگر خواجہ صاحب کا اس سے زیادہ کچھ اور مطلب ہے تو وہ اس آیت سے نہیں نکلتا۔ کیونکہ باوجود اس تعلیم کے اسلام نے حقیقی بھائیوں اور دوسرے لوگوں میں فرق کیا ہے۔ پس جب تک اس آیت کو ان آیات و احکام کے ماتحت نہ لایا جائے گا جن سے اس مسئلہ کی تفصیل معلوم ہوتی ہے اس آیت کو عام کر کے کامل مساوات کا ثبوت نکالنا غلط ہے۔

اسلام میں مرد و عورت کے حقوق

اس سے آگے خواجہ صاحب نے عورت اور مرد کی عدم مساوات کا سوال اُٹھایا ہے اور لکھا ہے کہ یہی ایک فرق ہے جسے عدم مساوات کے حق میں پیش کیا جا سکتا تھا لیکن اسلام نے اس فرق کو بھی مٹا دیا ہے اور عورت اور مرد کے حقوق کو مساوی قرار دیا ہے۔ لیکن یہ دعویٰ خواجہ صاحب کا بالکل خلافِ احکامِ اسلام ہے۔ اسلام نے ہر رنگ میں عورت اور مرد کے حقوق کو مساوی نہیں رکھا بلکہ احکام کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک وہ احکام ہیں جو مرد و عورت کی انسانیت کو مدنظر رکھ کر دیئے جاتے ہیں اس میں دونوں کو مساوات دی گئی ہے۔ اور دونوں فریق کے لئے ایک قسم کے حکم ہیں۔ مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ دونوں احکام میں مرد و عورت شامل ہیں اور دونوں کو یکساں ثواب ملنے کا وعدہ ہے۔ یہ نہیں کہ عورت صرف مرد کا کھلونا ہو بلکہ اسے اس مقصدِ عالی کے حصول کے لئے جس کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے اسی طرح مکلف کیا گیا ہے جس طرح مرد کو۔ مگر وہ احکام جو انتظام اور ریاست کے متعلق ہیں ان میں مرد اور عورت میں امتیاز کیا گیا ہے اور مرد کو عورت پر فضیلت دی گئی ہے۔ اور اگر اس تقسیم کو اسلام قائم نہ کرتا تو اسلام دینِ فطرت ہو ہی نہ سکتا تھا۔ یہ فرق صرف اسلام نے ہی قائم کیا ہے اور کسی مذہب نے قائم نہیں کیا۔ اور یہ ایک فضیلت ہے جو اسلام کو دوسرے مذاہب پر حاصل ہے ایک طرف تو وہ مساوات قائم کرتا ہے اور دوسری طرف وہ اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کرتا کہ کوئی انتظام بلا اس کے نہیں چل سکتا کہ مختلف شرکاء میں سے ایک کی آواز کو سب کی آواز پر مقدم کیا جائے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مردوں کی نسبت فرماتا ہے کہ اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ(النساء: ۳۵) یعنی مرد عورتوں کے اوپر نگران ہیں۔ اور اس کی وجہ بھی بیان فرمادی کہ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ وَّبِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ(النساء: ۳۵) یعنی اس لئے ان کو نگران مقرر کیا گیا ہے کہ انسانی خلقت مرد کو نگرانی کا حق دیتی ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے مرد کو ایسے قویٰ ملے ہیں جن کی وجہ سے وہ اشتراکِ خاندانی میں اس امر کا مستحق ہے کہ اس کی آواز انتظام میں آخری آواز ہو۔ اور بوجہ اس کے کہ مرد کے ذمہ مال کا خرچ کرنا ہے اور یہ ایک تسلیم شدہ اصل ہے کہ مال کا خرچ کرنا جس کے ذمہ ہو اس کی آواز کو زیادہ وزن دیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس شخص کے لئے نقصان کے احتمال زیادہ ہوتے ہیں۔ پھر مرد جسمانی طور پر بھی گھر کے کام کاج میں کچھ نہ کچھ حصہ لیتا ہے۔ پس چونکہ مرد پر ذمہ داری زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے حقوق بھی زیادہ رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ :۔

وَلَہُنَّ مِثۡلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۪ وَلِلرِّجَالِ عَلَیۡہِنَّ دَرَجَۃٌ(البقرة: ۲۲۹) یعنی عورتوں کو بھی مردوں پر ویسے ہی ضروری حقوق ہیں جیسے کہ مردوں کو۔ اور مردوں کو ان پر ایک فضیلت ہے۔

اس میں اسی اصل کو بیان کیا گیا ہے جو میں اوپر لکھ چکا ہوں کہ ایک پہلو سے مساوات قائم کی گئی ہے اور دوسرے پہلو سے مرد کو حاکم بھی قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت کے متعلق یہ اختیار بھی دیا ہے کہ اگر وہ نشوز کرے اور کسی طرح اس کی اصلاح نہ ہو۔ تو اس کو مارو۔ بے شک یہ کہا جا سکتا ہے کہ نشوز کی حالت میں ہی ایسا اختیار دیا گیا ہے اس کے بغیر تو نہیں دیا گیا۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر مرد نشوز کرے تو کیا قرآن و حدیث نے عورت کو بھی حق دیا ہے کہ وہ بھی مرد کو مارے ۔

پھر مرد کی جسمانی قوتوں کی زیادتی اور اس کے صاحب نفوذ ہونے کے سبب ہی سے مرد کو ایک سے زیادہ بیویاں کرنے کی اجازت دی ہے۔ نکاح کے معاملہ میں بھی مرد کو اجازت دی ہے کہ وہ خود پسند کر کے نکاح کرے۔ لیکن عورت کے لئے شرط رکھی ہے کہ اس کی رضامندی کے ساتھ اس کے والد یا کسی اور قریبی رشتہ دار کی بھی رضامندی ضرور لی جائے اور اسی کی معرفت نکاح ہو۔

عورت کے لئے نفلی روزہ تک رکھنے کے لئے خاوند سے اجازت لینے کا حکم دیا۔ لیکن مرد کے لئے گو یہ ہدایت کی کہ وہ اس قدر روزہ نہ رکھے کہ عورت کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہو جائے ۔ لیکن روزہ رکھنے کے لئے عورت کی اجازت شرط نہیں رکھی۔

مرد وعورت میں ہر رنگ میں مساوات نہیں

غرض اس قسم کے بہت سے احکام ہیں جن میں عورت کو مرد کی رائے کے تابع کیا گیا ہے۔ مگر یہ اُمور وہی ہیں جو انتظامی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ احکام جو افراد سے تعلق رکھتے ہیں ان میں دونوں کو برابر رکھا ہے۔ دونوں کو یکساں احکام و نواہی ہیں۔ دونوں کو یکساں

اپنے اموال کا مالک مقرر کیا ہے۔ دونوں کو یکساں اپنی جان کے متعلق اختیار دیئے ہیں پس یہ کہنا کہ ہر رنگ میں مرد و عورت میں مساوات ہے۔ غلط ہے۔ بعض لحاظ سے مساوات ہے اور بعض لحاظ سے نہیں۔ اور مساوات کو وہیں مٹایا گیا ہے کہ جہاں مساوات کا مٹانا کام کے بخوبی چلانے اور امن کے قیام کے لئے ضروری تھا۔ اور ایسے موقع پر مرد کو عورت کے حقوق کا پوری طرح خیال رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ مگر حکم مرد ہی کے سپرد کیا گیا ہے۔

شاید اس جگہ یہ کہا جائے کہ ہماری بھی حریت و مساوات سے یہی مراد تھی۔ مگر میں کہوں گا کہ میں نے بھی تو مراد دریافت کرنے کے لئے ہی سوال کیا تھا۔ پہلے مراد بیان کرنی تھی اور پھر میرا خیال معلوم کر کے مضمون لکھنے بیٹھنا تھا۔

کیا وراثت میں مرد و عورت کے مساوی حقوق ہیں

خواجہ صاحب نے عورتوں کے حقوق کے متعلق ایک عجیب نکتہ لکھا ہے اور وہ یہ کہ عورت اور مرد کے حقوق وراثت میں بھی مساوی ہیں۔ کیونکہ اگر عورت اپنے باپ کے مال میں سے آدھا حصہ لیتی ہے تو اپنے خاوند کی بھی وارث ہوتی ہے معلوم ہوتا ہے وہ کلید دیکھ کر آیات لکھنے کے عادی ہیں۔ اور جس طرز سے انہوں نے اپنے مضمون میں آیات لکھی ہیں ان سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے مطالب کے سمجھنے کی انہوں نے کبھی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے یہ خیال نہ کیا کہ اگر عورت اپنے خاوند کی وارث ہوتی ہے تو خاوند بھی اپنی عورت کا وارث ہوتا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ جس قدر حصہ عورت کو خاوند کے ترکہ سے ملتا ہے اس سے دگنا مرد کو اپنی بیوی کے ترکہ سے ملتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ مرد عورت سے ہمیشہ پہلے ہی مرے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

وَلَکُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَکَ اَزۡوَاجُکُمۡ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّہُنَّ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصِیۡنَ بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ ؕ وَلَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّکُمۡ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَکُمۡ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ وَصِیَّۃٍ تُوۡصُوۡنَ بِہَاۤ اَوۡ دَیۡنٍ(النساء: ۱۳) :۔ جو کچھ تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں اس میں سے نصف تمہارا حصہ ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو اور اگر ان کی اولاد ہو تو چوتھا حصہ تمہارا ہے۔ وصیت کے حصہ یا قرض کے وضع کرنے کے بعد۔ اسی طرح عورتوں کے لئے تمہارے مال میں سے چوتھا حصہ ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو۔ اور آٹھواں اگر اولاد ہو۔ یہ حصہ بھی تمہاری وصیت یا قرضہ کی ادائیگی کے بعد جو مال بچے اس میں سے ہو گا۔ خواجہ صاحب اس آیت کو دیکھیں اور سوچیں کہ ان کی دلیل وراثت کے مساوی ہونے کی کہاں گئی؟ اگر عورت خاوند کے مال کی وارث ہوتی ہے تو خاوند بھی عورت کے مال کا وارث ہوتا ہے اور یہاں بھی اس کا حصہ دگنا ہوتا ہے پس بہر حال مرد کا حصہ عورت کے حصہ سے دگنا رہے گا۔ بلکہ دُگنے سے بھی بعض صورتوں میں بڑھ جائے گا۔

ورثہ میں مرد و عورت کے حقوق مساوی نہ ہونے میں حکمت

یہ فرق جو مرد اور عورت کے حصہ میں شریعت نے رکھا ہے اس کی وجہ اور ہے اور یہ عدمِ مساوات ظالمانہ طور پر نہیں بلکہ ثابت شدہ حقائق کے ماتحت ہے۔ عورتوں اور مردوں میں مساوات ثابت کرنے کی کوشش کرنے کے بعد خواجہ صاحب نے اور کئی قسم کی مساوات احکامِ قرآنیہ سے ثابت کرنی چاہی ہیں اور بتایا ہے کہ اسلام نے مذہب میں مساوات قائم کی ہے کہ ۱۔ سب انسانوں کو اسلام کی دعوت دی ہے۔ ۲۔ نسلی مساوات قائم کی ہے کہ عربی و عجمی اور بڑی اور چھوٹی ذاتوں کا فرق مٹا دیا ہے۔ ۳۔ مال میں مساوات قائم کی ہے کہ کوئی شخص اپنے پاس ضرورت سے زیادہ مال نہیں رکھ سکتا۔

ہر امر میں مساوات نہ ہونے کا اعتراف

مَیں نہیں سمجھتا کہ ان دعاوی کے ثابت کرنے یا ثابت کرنے کی کوشش کرنے میں خواجہ صاحب کا کیا مقصد تھا۔ جس خط پر انہوں نے یہ سلسلہ مضامین لکھنا شروع کیا ہے۔ اس میں تو یہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ ہر ایک بات میں حریت ومساوات نہیں بعض جگہ حریت ومساوات بُری ہوتی ہے بعض جگہ جائز اور بعض جگہ ضروری پس ان امور میں اگر حریت ومساوات ثابت بھی ہو جائے تو اس کا فائدہ اور نفع ؟ اصل مضمون پر کیا روشنی پڑے گی؟ میرے خط کی تردید تو تب ہو سکتی تھی کہ حریت ومساوات ہر رنگ میں ضروری ہوں اور یہ آپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ ہر امر میں حریت ومساوات کا اصل قائم نہیں رہ سکتا۔ آپ لکھتے ہیں۔ ”اس میں شک نہیں کہ حکومت کے باعث حکمران قوم کو ایک طرح کی فضیلت محکوم قوم پر حاصل ہوتی ہے لیکن اس فضیلت کا مفہوم ایسی عدمِ مساوات نہیں ہے جو غلامی کا مترادف ہے“۔ (وکیل ۴؍دسمبر ۱۹۲۰ء) جب آپ خود تسلیم کرتے ہیں کہ ہر جگہ حریت ومساوات کا اصل نہیں چل سکتا تو پھر اس سلسلہ

مضامین کی کیا ضرورت تھی۔ یہی بات تو میں نے لکھی تھی کہ ہو سکتا ہے کہ حریت و مساوات کا کوئی مفہوم ایسا ہو کہ وہ احکامِ اسلام میں شامل ہو جائے اور اس کا خیال رکھنا ضروری ہو جائے۔ اور ہو سکتا ہے کہ اس کا خیال رکھنا صرف جائز ہو اور ہو سکتا ہے کہ منع ہو۔ آپ بھی یہی لکھتے ہیں کہ حاکم قوم کو ایک حد تک فضیلت حاصل ہوتی ہے لیکن محکوم قوم کی حالت غلامی تک نہیں پہنچنی چاہئے۔ اور یہ کس نے لکھا تھا کہ محکوم قوم کے لئے اسلامی احکام کے مطابق غلام بن کر رہنے کا حکم ہے۔ یہ تو ایک خیال ہے جو خود ہی آپ نے پیدا کر لیا اور خود ہی اس کا جواب دینے لگ گئے ہیں۔ میرا تو صرف اس قدر دعویٰ تھا کہ حریت و مساوات کا اصل ہر جگہ چسپاں نہیں ہو سکتا۔ اور یہ کہ اس کی مختلف تعریفیں اور حد بندیاں کی جا سکتی ہیں جن کے ماتحت اس کی تعریف یا مذمت کی جا سکتی ہے۔ آپ خود تشریح کرتے ہوئے اسی پھندے میں پھنس گئے اور آپ کو تسلیم کرنا پڑا کہ ہر جگہ اس کا استعمال نہیں ہو سکتا۔

سائل نے کون سی حریت و مساوات کے متعلق پوچھا تھا؟

خواجہ صاحب کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ سائل کا منشاء حریت و مساوات کے قیام سے ایسی حریت و مساوات کا قائم کرنا تھا جو حاکم و محکوم کے درمیان ہو۔ کیونکہ ان کا اشارہ حکومتوں کے تعلقات کے متعلق تھا نہ کہ مغل اور سید اور راجپوت اور جاٹ کے فرق یا نجات کے عام ہونے کے متعلق اور اس امر میں عدمِ مساوات کے مٹانے کے متعلق انہوں نے اشارہ کیا تھا۔ اور اسی وجہ سے میں ان سے تشریح چاہتا تھا کہ وہ جب صفائی سے ان الفاظ کے مفہوم کی تعیین کریں تو آپ کی طرح ان کو بھی تسلیم کرنا پڑے کہ حریت و مساوات کا مفہوم بھی محدود ہے اور ایک حد تک حریت و مساوات کا خیال کر کے فضیلت اور درجہ کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے اور اس کے بغیر دُنیا کا امن قائم ہی نہیں رہ سکتا۔

اس اجمالی جواب کے بعد میں ان تینوں قسم کی حریت و مساوات کے متعلق جو خواجہ صاحب نے قائم کی ہے۔ الگ الگ اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوں ۔

مذہبی مساوات

پہلی مساوات خواجہ صاحب نے مذہب کی بیان کی ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ مساوات سب سے بڑی ہے۔ اور سب سے پہلے اسے اسلام نے ہی قائم کیا ہے لیکن اس مساوات کا ذکر کرنے سے خواجہ صاحب کی غرض نہ معلوم کیا ہے؟ جس شخص کے خط کا جواب میں نے دیا ہے اور جس کی وکالت کے لئے آپ کھڑے ہوئے ہیں وہ تو اس مساوات کو نہایت حقارت سے دیکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے آقا اور راہنما حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک ایسے شخص ہوئے ہیں جنہوں نے اس مسئلہ پر اس قدر زور دیا ہے جو اس کی عظمت کے مطابق تھا۔ اور ہماری جماعت ہی وہ جماعت ہے جو اس مساوات کو عملی طور پر قائم کرنے کے لئے ہمہ تن کوشاں ہے۔ اور ہر گورے اور کالے کو اسلام کی طرف بلا رہی ہے اور اس کی دعوت کر رہی ہے۔ پھر ہمیں یہ مساوات یاد دلانی کیا معنی رکھتی ہے ہم سے زیادہ اس مساوات پر کسے یقین ہے اور کس کے دل میں ہم سے زیادہ اس کی قدر ہے۔ یہ مساوات تو خواجہ صاحب کو ان صاحب کو یاد دلانی چاہئے تھی جن کی وکالت کے لئے آپ کھڑے ہوئے ہیں کیونکہ وہ اس مساوات کو نہایت حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور مجھ پر طعن کرتے ہیں ۔ کہ کیا سال بھر میں ایک دو آدمیوں کا اسلام میں شامل کر لینا ہی اشاعتِ اسلام ہے؟ اور انکے نزدیک اس اسلام کی امتیازی خصوصیت سے فائدہ اُٹھانا اور اسلام کا ہر گھر کے دروازہ تک پہنچانا کچھ حقیقت ہی نہیں رکھتا جب تک مسٹر گاندھی کی تقلید میں ہندوستان کا امن برباد کرنے اور بچوں کو مادرِ پدر آزاد بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔

نسلی امتیاز مٹا کر مساوات قائم کرنا

دوسری قسم کی مساوات خواجہ صاحب نے نسلی امتیاز کا مٹانا بتائی ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام نے اس مساوات کو بھی قائم کیا ہے۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی بات ہے کہ یہ مساوات دوسری عدمِ مساوات کو باطل نہیں کر سکتی۔ مثلاً اگر ایک خاص قوم اپنے علم یا حکومت کی وجہ سے دوسری قوم پر برتری رکھتی ہے تو اس مساوات کی بناء پر اس کی برتری کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی دوسری اقوام پر فضیلت کا بار بار ذکر فرمایا ہے اور یہ فضیلت ان کو اس زمانہ میں اپنی تجربہ کاری اور رسوخ کی وجہ سے کل عرب کی اقوام پر ضرور حاصل تھی اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا(بخاری کتاب المناقب باب المناقب وقول الله تعالى يا ايها الناس إنا خلقنكم من ذكر وانثى.........) یعنی جو لوگ جاہلیت میں معزز سمجھے جاتے تھے اب بھی معزز سمجھے جائیں گے۔ اگر دین کے واقف ہو جائیں۔ پس نسلی امتیاز کو تو اسلام نے مٹایا ہے مگر یہ اجازت نہیں دی کہ اس دلیل کی بناء پر کسی قوم کے ایسے امتیازات کو بھی مٹا دیا جائے جو اسے کسی اور وجہ سے حاصل ہو چکے ہوں۔ مثلاً خود قرآنِ کریم نے نبوت و کتاب کے فیضان کو آلِ ابراہیم میں مخصوص کر دیا ہے اور جیسا کہ فرماتا ہے : وَجَعَلۡنَا فِیۡ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَالۡکِتٰبَ(العنکبوت: ۲۸) یعنی ہم نے اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب مقرر کر دی۔ اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ نسلی امتیاز چونکہ منع ہے۔ اس لئے یہ حکم بھی ناجائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ فیضان اس لئے حضرت ابراہیمؑ کی نسل کے لئے خاص نہیں کیا گیا کہ وہ کسی خاص قوم میں سے تھے بلکہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کی نیکی کو دیکھ کر ان کے ساتھ ایک دائمی عہد باندھ دیا تھا جس میں دوسروں کا کوئی نقصان نہ تھا اور حضرت ابراہیمؑ کی عزت افزائی تھی۔ دوسروں کا نقصان اس لئے نہیں کہ ان کے لئے بھی ترقی کے تمام دروازے کھلے ہیں۔ اور ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ اس فیضان کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ کوئی شخص حضرت ابراہیمؑ کی اولاد میں سے ایک مہرِ تاباں سے روشنی لئے بغیر بارگاہ الٰہی تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔

کیا اسلام نے مالی مساوات قائم کی ہے

تیسری قسم کی مساوات خواجہ صاحب نے مالی مساوات بتائی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام نے یہ احتیاط کی ہے کہ غرباء کے ترقی کے راستے بند نہ ہو جائیں۔ اور کوئی ایسی روک ان کی ترقی کے راستہ میں نہ آجائے جس کے سبب سے وہ آگے بڑھ ہی نہ سکیں۔ لیکن یہ استدلال کہ اسلام نے اموال کے جمع کرنے سے منع کیا ہے اور زائد مال کے تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے ایک ظلم عظیم ہے اور اسلام کی تعلیم میں ایک خطرناک تحریف ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو اسلام میں تفرقہ اور شقاق ڈالنے کا سب سے پہلا ذریعہ بنایا گیا تھا۔ چنانچہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں مفسدوں نے اسی خیال کو لوگوں میں پھیلانا شروع کیا تھا کہ صحابہؓ میں بڑے بڑے مالدار ہیں اور دوسروں کے حقوق مار کر یہ لوگ مالدار ہوگئے ہیں اور اس خیال کو تقویت دینے کے لئے ان لوگوں نے حضرت ابوذرؓ کو آلہ بنایا تھا۔ حضرت ابوذرؓ ایک غریب مزاج آدمی تھے اور زیادہ مال پاس رکھنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ مگر وہ دوسروں کو بھی کچھ نہیں کہتے تھے۔ ان شریروں نے ان کو جا کر اکسایا کہ دیکھو لوگ کس طرح مال و دولت جمع کرنے میں لگ گئے ہیں۔ اور اس قدر ان کو جوش دلایا کہ وہ سارا دن سونٹا لے کر اسی جستجو میں پھرتے رہتے۔ جہاں کوئی صحابی مالدار ملا اس کو پکڑ بیٹھتے کہ تمہارے پاس مال کیوں ہے؟ اور لوگوں کو انہوں نے اس قدر دق کیا کہ آخر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو حکماً ان کو مدینہ بلوانا پڑا۔ اور آخر عمر تک وہ مدینہ کے پاس ایک گاؤں میں مقیم رہے۱؎۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صحابہ کثرت سے سخاوت کیا کرتے تھے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ اس بات کا تعہد نہیں کیا کرتے تھے کہ ضرورت سے زیادہ مال کتنا ہے تا اسے اسی وقت غرباء میں تقسیم کر دیں۔ یہ مسئلہ تو عبداللہ بن سباء یہودی کا ایجاد کردہ تھا اور سوائے حضرت ابوذرؓ کے جو اپنی فقیرانہ طبیعت کے سبب سے اس کے اصل مطلب کو نہ سمجھ کر اس کے دھوکے میں آ گئے اور کسی صحابی نے بھی اس عقیدہ کو تسلیم نہیں کیا۔ حالانکہ اس وقت ان میں بڑے بڑے صحابہؓ موجود تھے جو حضرت ابوذرؓ سے زیادہ سابق اور زیادہ فقیہہ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ مقرب تھے۔

زکوٰۃ مقرر کرنے کی وجہ

باقی رہا یہ کہنا کہ اسلام نے زکوٰۃ کے نکالنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام مال کی تقسیم کا حکم دیتا ہے ایک غلط استدلال ہے۔ زکوٰۃ کے مسئلہ سے تو صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ غرباء کی مدد اسلام نے فرض مقرر کی ہے نہ یہ کہ مال کو تقسیم کرنا اسلام نے فرض مقرر کیا ہے۔ خود زکوٰۃ کی تعیین ہی اس امر کا ثبوت ہے کہ مال کی تقسیم شریعت نے مقرر نہیں کی۔ کیونکہ زکوٰۃ تو مثلاً مال پر چالیسواں حصہ ہوتی ہے۔ اور زراعت پر عُشر اور نصف عُشر ہوتی ہے۔ لیکن آمد اس نسبت سے زیادہ ہوتی ہے تو یہ تقسیم مساوات رکھنے والی کہاں ہوئی؟ پھر زکوٰۃ آگے کئی آدمیوں میں تقسیم ہو گی کچھ عملہ زکوٰۃ پر خرچ ہو جائے گی۔ پس زکوٰۃ کے مسئلہ سے مال میں مساوات رکھنے کا مسئلہ ثابت کرنا ایک سخت تعدی ہے۔

عفو کے کیا معنی ہیں

خواجہ صاحب نے اپنے اس دعویٰ کی تصدیق میں کچھ آیات بھی لکھی ہیں اور جس طرح تمام مضمون میں انہوں نے صرف آیات کے درج کرنے سے غرض رکھی ہے یہ نہیں دیکھا کہ وہ آیات وہاں چسپاں بھی ہوتی ہیں یا نہیں؟ یہاں بھی ایسا ہی کیا ہے۔ کئی آیات اس مضمون کی درج کی ہیں کہ جو کچھ تم کو خدا تعالیٰ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرو۔ حالانکہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے غرباء کو بھی حصہ دینا یہ اور بات ہے اور اپنے اخراجات نکال کر غرباء کو باقی مال تقسیم کر دینا اور بات ہے۔ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ کئی آیات اس امر کے متعلق نقل کر دی ہیں کہ جنگوں میں حاصل شدہ مال کس طرح تقسیم کرنے چاہئیں۔ حالانکہ ان اموال کا زیر بحث مسئلہ سے کچھ تعلق ہی نہیں صرف ایک آیت ہے جس سے کچھ استدلال ہو سکتا ہے اور وہ یہ ہے۔ وَیَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَاذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ؕ قُلِ الۡعَفۡوَ(البقرة: ۲۲۰) عفو کے کئی معنی ہیں جن میں سے ایک معنی زیادہ کے بھی ہیں ان معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ ”تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں کہہ دے کہ جو بچ جائے اسے خرچ کرو۔“ بعض لوگوں نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ اس میں جو مال بھی ضرورت سے زائد ہو اس کے خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن یہ معنے روایت اور درایت دونوں کے خلاف ہیں۔ مفسرین نے اس آیت کے کئی معنے لکھے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس جگہ جہاد میں اموال خرچ کرنے کا حکم ہے صدقات مراد نہیں۔ اس صورت میں اس کے یہ معنی ہوں گے کہ جب جہاد درپیش ہو تو اپنی ضروریات سے زائد مال تمام کا تمام جہاد کے لئے دے دو۔ اور ان معنوں سے مساوات ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ مال غرباء میں تقسیم نہ کیا جائے گا بلکہ دشمن کے مقابلہ میں خرچ ہو گا۔ دوسرے معنی اس کے یہ کئے جاتے ہیں کہ یہ جہاد کا ذکر نہیں بلکہ صدقات کا ذکر ہے۔ جو لوگ صدقات کا ذکر بتاتے ہیں وہ بھی اس آیت کے کئی معنی کرتے ہیں بعض تو کہتے ہیں کہ عفو کے معنی ضروریات سے زائد بچے ہوئے مال کے ہیں۔ شروع اسلام میں سال بھر کے نفقہ سے جو بچ رہے اس کے فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا حکم تھا۔ مگر آیت زکوٰۃ کے نازل ہونے پر یہ حکم موقوف ہو گیا۔ ان لوگوں کے نزدیک گویا یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے۔ دوسرے لوگ یہ کہتے ہیں کہ نہیں یہ زکوٰۃ کے متعلق حکم ہے اور مجملاً بیان ہوا ہے۔ اس کی تفصیل دوسری جگہوں سے معلوم ہوتی ہے۔ ایک اور جماعت عفو کے معنی اس مال کے کرتی ہے جس کا خرچ کرنا بوجھ نہ معلوم ہو اور جس کے خرچ کرنے سے جائداد تباہ نہ ہو جائے۔ بعضوں نے کہا ہے کہ اس کے معنی درمیانی خرچ کے ہیں یعنی نہ بالکل کم خرچ کرو نہ حد سے زیادہ خرچ کرو۔ اور بعضوں نے کہا ہے کہ عفو کے معنی بہتر اور پاک مال کے ہیں۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اچھے اور پاک مال میں سے خرچ کرو۔ یہ نہ خیال کرو کہ پرانی اشیاء یا دوسروں کے مال اُٹھا کر دے دو تو تم صدقہ کے حکم کے بجالانے والے ہو جاؤ گے بعضوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ صدقہ اور خیرات خوب دل کھول کر کرو۔

ضرورت سے زائد مال تقسیم کر دینے کا اسلام نے حکم نہیں دیا

ان تمام معانی سے جو مفسرین نے کئے ہیں۔ آپ کے معنوں کی تصدیق نہیں ہوتی۔ جس جماعت نے اس آیت کے یہ معنی کئے بھی ہیں کہ جو ضرورت سے زائد بچے اسے خرچ کر دو۔ اس نے بھی یا تو اسے جہاد پر چسپاں کیا ہے یا منسوخ قرار دیا ہے اور وہ اس بات پر مجبور بھی تھے۔ کیونکہ وہ صحابہ رضوان اللہ علیہم کے عمل کو اور امت اسلامیہ کے طریق کو اس کے خلاف دیکھتے تھے۔ احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی بات کی تائید فرماتی ہیں کہ اپنے اخراجات نکال کر باقی مال تقسیم کر دینا اسلامی حکم نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ :

يَجِیْئُ اَحَدُكُمْ بِمَالِهِ يَتَصَدَّقُ بِهِ وَيَقْعُدُ يَتَكَفَّفُ النَّاسَ اِنَّمَا الصَّدَقَةُ عَلَى ظَهْرِ غِنًى(دارمی کتاب الزکوٰة باب النهى عن الصدقة بجميع ما عند الرجل) تم میں سے بعض اپنا سارا مال صدقہ کے لئے لے آتے ہیں اور پھر لوگوں کے آگے سوال کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ صدقہ زائد مال سے ہوتا ہے۔

اسی طرح فرماتے ہیں کہ

اِنَّكَ اَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ اَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِّنْ اَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ(بخاری کتاب الجنائز باب رثاء النبی صلی الله علیه وسلم سعد بن خولة) یعنی اگر تو اپنے ورثاء کو دولتمند چھوڑ جائے تو یہ اچھا ہے بہ نسبت اس کے کہ ان کو غریب چھوڑ جائے کہ لوگوں کے آگے سوال کے لئے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔

اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ سعد بن ابی وقاص نے رسول کریمؐ سے دو ثلث مال کے تقسیم کر دینے کی اجازت چاہی۔ مگر آپ نے اس سے منع فرمایا۔ پھر انہوں نے آدھا مال تقسیم کر دینا چاہا تو اس سے بھی منع فرمایا۔ پھر انہوں نے تیسرے حصہ کے تقسیم کر دینے کی اجازت چاہی تو اس حصہ کی آپ نے اجازت دے دی۔ مگر ساتھ ہی فرمایا۔ اَلثُّلُثُ وَ الثُّلُثُ كَثِيْرٌ(بخاری کتاب الجنائز باب رثاء النبی صلی الله علیه وسلم سعد بن خولة) یعنی تیسرے حصہ کی وصیت کردو گو ثلث بھی بہت ہے۔

غرض یہ خیال کہ اسلام کا یہ حکم ہے کہ جو مال ضرورت سے زائد بچے اسے تقسیم کر دینا چاہئے۔ بالکل خلاف اسلام اور خلاف عمل صحابہؓ ہے کہ جن میں سے بعض کی وفات پر لاکھوں کروڑوں روپیہ ان کے ورثاء میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اور اگر یہی حکم تھا تو پھر زکوٰۃ کا حکم دینے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ جب سب مال جو ضرورت سے زائد ہو تقسیم کر دینے کا حکم ہے تو پھر زکوٰۃ کے مقرر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

ضرورت سے زائد مال کی اصطلاح مبہم ہے

اور ضرورت سے بچے ہوئے کی اصطلاح خود مبہم ہے۔ بعض لوگ جو کچھ ان کو مل جائے گو لاکھوں روپیہ کیوں نہ ہو اس کو خرچ کر دیتے ہیں اور ضرورت سے زائد ان کے نقطۂ خیال میں کوئی مال ہوتا ہی نہیں بعض لوگ اپنا سب مال تجارت وغیرہ میں لگائے رکھتے ہیں۔ ان کے پاس بھی ضرورت سے زیادہ نہیں بچ سکتا۔ عقلاً بھی یہ خیال بالکل باطل ہے کیونکہ جب تک ایک جماعت ایسے لوگوں کی نہ ہو جو مالدار ہوں عام ملکی بہبودی ہو ہی نہیں سکتی اور غرباء کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض روحانی لوگ اپنے اموال کو حتی الوسع غرباء کی خدمت میں خرچ کرتے ہیں اور اسے اسلام نے منع نہیں کیا بلکہ پسند کیا ہے۔ مگر یہ بات غلط ہے کہ اسلام نے اس امر کا حکم دیا ہے کہ دنیا میں مالی مساوات قائم کی جاوے اور ضرورت سے زیادہ مال لوگ ضرور ہی خرچ کر دیں۔ اگر یہ اصل تسلیم کیا جائے تو یہ اصل بھی مقرر کرنا پڑے گا کہ ضرورت سے مراد عام حالت ملکی کے مطابق اخراجات ہوں گے۔ ورنہ اگر اس بات کی اجازت دے دی جائے کہ ہر شخص اپنی ضرورت کا خود فیصلہ کرے تو پھر بھی مساوات نہیں رہے گی۔ کوئی شخص اعلیٰ سے اعلیٰ کھانوں اور عمدہ سے عمدہ کپڑوں اور وسیع اور کھلے اور آراستہ اور پیراستہ مکانوں اور خوشنما چمنوں اور میوہ دار باغوں کے لئے روپیہ رکھ کر باقی اگر نیچے گا تو غرباء میں بانٹ دے گا اور غریب بیچارے گاڑھا پہننے اور جھونپڑیوں میں رہنے پر مجبور ہوں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ اسلام کے احکام کے مطابق یہ فرض ہے ہر مسلمان حکومت کا کہ اس کے ملک کے باشندے فاقہ سے نہ رہیں، اور انکے قابلِ ستر مقامات کے لئے کپڑا مہیا کیا جاوے گویا انسانی زندگی کی حفاظت پوری طرح ہو اس کے لئے وہ امراء سے مطابق حکم شریعت مال لے کر غرباء پر خرچ کرتی ہے اور اس سے زیادہ جو کچھ خرچ کیا جائے وہ امراء کی اپنی مرضی پر ہے۔ اگر نہ کریں تو جرم نہیں۔ ہاں اگر زکوٰۃ دینے کے بعد بھی ایک شخص فاقہ پر مرتا ہوا کسی کو نظر آئے تو اس کا فرض ہے کہ اس کی جان بچانے کی کوشش کرے۔

اس دعویٰ کا ثبوت اس حدیث سے ملتا ہے جو میں پہلے نقل کر چکا ہوں کہ ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اسلام کیا ہے تو آپ نے اُسے اسلام کے اصولی احکام بتائے۔ اور ان میں زکوٰۃ کا مسئلہ بھی بیان کیا۔ سب کچھ سن کر اس شخص نے کہا کہ میں اس سے نہ زیادہ کروں گا نہ کم۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ اگر اس نے اس قول کو پورا کر دیا تو یہ کامیاب ہو گیا۔ (بخاری کتاب الایمان باب الزکوٰۃ من الاسلام) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ غرباء کی مدد کے لئے زکوٰۃ سے زیادہ دینا فرض نہیں۔ اگر کوئی زیادہ دے تو یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے۔

غنیمت اور فئے کے مال کی تقسیم میں مساوات کہاں ہے

خواجہ صاحب نے تقسیم اموال میں مساوات ثابت کرنے کے لئے غنیمت اور فئے اور نفل کے متعلق چند آیات بھی لکھی ہیں لیکن نہ معلوم ان سے کیا نتیجہ نکالا ہے۔ غنیمت کے متعلق انہوں نے یہ آیت لکھی ہے۔

وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِی الۡقُرۡبٰی وَالۡیَتٰمٰی وَالۡمَسٰکِیۡنِ وَابۡنِ السَّبِیۡلِ(الانفال: ۴۲) یعنی یاد رکھو کہ جو مال تم کو جنگ میں ملیں ان میں سے پانچواں حصہ خدا اور اس کے رسول اور قریبیوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے۔

اس آیت سے اگر کوئی حکم نکلتا تھا تو صرف یہ کہ اسلام نے ہر ایک موقع پر غرباء کی مدد کو مدنظر رکھا ہے اور حکماً ان کے لئے ایک حصہ اموال کا علیحدہ کر دیا ہے ۔ نہ یہ کہ مال کی تقسیم میں مساوات رکھی ہے ۔

اسی طرح ایک آیت نفل کے متعلق لکھی ہے :۔ قُلِ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوۡلِ(الانفال: ۲)۔ کہہ کہ انفال اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہیں ۔ اس سے نہ معلوم انہوں نے تقسیم اموال میں مساوات کا مسئلہ کہاں سے نکال لیا ہے ؟ کیونکہ اس میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ انفال خدا اور اس کے رسول کے ہیں نہ کہ یہ انفال تمام بنی نوع انسان میں برابر تقسیم ہونے چاہئیں ۔ اس آیت میں تو لوگوں کے اس سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ انفال کیونکر تقسیم ہوں گے اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا ہے کہ یہ خدا اور اس کے رسول کا کام ہے کہ جنگ میں آنے والے اموال کو تقسیم کریں ۔ تم حکومت کے معاملات میں دخل کیوں دیتے ہو ۔ اپنی اصلاح کی فکر کرو اور ان باتوں میں نہ پڑو ۔

ایک آیت خواجہ صاحب نے فئے کے متعلق لکھی ہے ۔ اس سے بھی میں نہیں سمجھا کہ مساوات کیونکر نکلتی ہے ۔ یہ آیت اس طرح ہے ۔ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ مِنۡ اَہۡلِ الۡقُرٰی فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِی الۡقُرۡبٰی وَالۡیَتٰمٰی وَالۡمَسٰکِیۡنِ وَابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ کَیۡ لَا یَکُوۡنَ دُوۡلَۃًۢ بَیۡنَ الۡاَغۡنِیَآءِ مِنۡکُمۡ(الحشر: ۸) یعنی جو مال دشمن کا کہ بغیر جنگ کے قبضہ میں آئے وہ اللہ اور اس کے رسول اور قریبیوں، یتامیٰ اور مساکین اور مسافروں کا حق ہے تاکہ دولت تم میں سے دولتمندوں کے درمیان نہ رہے۔

اس آیت میں مساوات کا کہاں ذکر ہے ۔ اس سے تو صرف یہ نکلتا ہے کہ جس مال کے لئے جنگ نہ کرنی پڑے خود بخود دشمن سونپ دے ۔ یا اور کسی طرح بلا لڑے قبضہ میں آئے وہ بطور حق کے تقسیم نہیں کیا جاسکتا بلکہ اشاعت اسلام اور امام اسلام اور اس کے قریبیوں اور غریبوں ، یتیموں اور مسافروں کے لئے حکومت ہی کے پاس رہے گا ۔ اس میں لوگوں کے اموال کا کیا ذکر ہے ۔ زید اور بکر کے مال کا تو یہاں ذکر ہی نہیں ۔ اس میں تو حکومت کے اموال کی تقسیم کا ذکر ہے اور کَیۡ لَا یَکُوۡنَ دُوۡلَۃًۢ بَیۡنَ الۡاَغۡنِیَآءِ مِنۡکُمۡ(59:8) سے بتایا ہے ۔ کہ امراء کو یہ مال نہ دینا چاہئے ۔ کیونکہ یہ مال حکومت کا ہے اور بوجہ خود مالدار ہونے کے ان کا حق نہیں ہے کہ اس مال میں سے لیویں۔ نہ اس جگہ مساوات کا ذکر ہے نہ عدم مساوات کا ۔ بلکہ ایک طرح تو کہہ سکتے ہیں کہ عدم مساوات ہو گئی ۔ کیونکہ ایک حصہ آبادی کو اس مال کے پانے سے روک دیا گیا ہے۔

جہاد کا بے تعلق ذکر اور حضرت مسیح موعودؑ پر حملہ

خواجہ صاحب نے اپنے مضمون میں بلاکسی ظاہری تعلق کے جہاد کا بھی ذکر کر دیا ہے اور حضرت مسیح موعودؑ پر حملہ کیا ہے کہ آپ جہاد کے مخالف تھے۔ لیکن علاوہ اس کے کہ یہ بات بالکل بے تعلق ہے غلط بھی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے کبھی نہیں تحریر فرمایا کہ باوجود جہاد کا موقع ہونے کے جہاد جائز نہیں۔ بلکہ یہ تحریر فرمایا ہے کہ یہ موقع جہاد کا نہیں۔ کیونکہ جہاد کی شرائط اس وقت نہیں پائی جاتیں۔ مگر میں نہیں کہہ سکتا کہ اس مضمون کا جہاد کے ساتھ تعلق کیا ہے؟

خواجہ صاحب کے تمام مضمون کے پڑھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پریشان خیالات کا ایک طوفان اٹھا ہے جو انہوں نے کاغذ کی نذر کر دیا ہے۔ آیتیں ہیں تو ان کا اصل مضمون سے کچھ تعلق نہیں۔ باتیں ہیں تو وہ مقصد سے دور۔ ان کو تو خیر کسی وجہ سے جوش آگیا ہوگا۔ مجھے ایڈیٹر صاحب وکیل پر تعجب ہے کہ باوجود ایک فہمیدہ اور تجربہ کار آدمی ہونے کے بلا نظر ثانی کرنے کے انہوں نے یہ مضمون شائع کس طرح کر دیا ؟ جس حصہ مضمون کو دیکھو وہی سوال از آسمان اور جواب از ریسمان کی مثال ہے۔

خدا تعالیٰ کی شان میں گستاخی

میں مضمون ختم کرنے سے پہلے یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ خواجہ صاحب نے اپنے مضمون میں مناسب ادب سے بھی کام نہیں لیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ذکر بلا وجہ تو وہ لائے ہی تھے۔ اللہ تعالیٰ کی نسبت بھی انہوں نے ایک جگہ ایسا لفظ استعمال کیا ہے جو سخت ہتک آمیز ہے۔ لکھتے ہیں کہ مطلق العنان حکومت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خاص ہے مطلق العنان کے معنے ہوتے ہیں جس کی باگ چھوڑ دی جائے۔ اس قسم کا ذلت پر دلالت کرنے والا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال کرنا ایک مومن کی شان سے بعید ہے بے شک استعارہ اور مجاز کلام میں ہوتا ہے۔ لیکن وہ لفظ جو انسانوں کے لئے بھی دراصل ہتک کا موجب ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ کے لئے استعمال کرنا سخت تعجب انگیز ہے اگر خواجہ صاحب کی نسبت کوئی شخص مطلق العنان کا لفظ استعمال کرے تو وہ ضرور اس کو بُرا منائیں گے۔ پھر نہ معلوم خدا تعالیٰ کے لئے یہ لفظ انہوں نے کیوں استعمال کیا۔ مجازاً ہی کوئی لفظ استعمال کرنا تھا تو ایسا لفظ استعمال کرتے جو ظلم اور خودسری پر دلالت نہ کرتا۔

خواجہ صاحب کو نصیحت

آخر میں میں پھر خواجہ صاحب کو نصیحت کرتا ہوں کہ کسی کا مضمون بغور پڑھنے سے پہلے اس کا جواب نہ دینے بیٹھ جایا کریں اور قرآن پر زیادہ تدبر کی عادت ڈالیں۔ قرآن کریم کا مطالعہ نہ کرنا بھی عیب ہے اور اس کا غلط استعمال اور اس کی آیات کو بے محل طور پر مضمون میں درج کرنا یہ بھی عیب ہے میرے خط میں حریت ومساوات کی تمام اقسام کا انکار نہیں کیا گیا۔ بلکہ سائل سے ان کی تعریف پوچھی گئی ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس بات کو خوب اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ اسلام نے کس حد تک اور کن معنوں میں حریت و مساوات کی تعلیم دی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے احکام کے مطابق اسلامی حریت کے اس حصہ کو جس کا قیام میری ذات سے متعلق ہے قائم کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ مگر سائل کے جوش اور تعصب کو دیکھ کر میں نے چاہا تھا کہ اس نے حریت و مساوات کی جو غلط تعریف اپنے ذہن میں رکھی ہوئی ہے اس کی تفصیل پہلے اسی کے قلم سے کروالوں پھر اس کو جواب دوں۔ آپ نے نہ اس کے جواب کا انتظار کیا نہ خود اس کے قائم مقام بن کر ان الفاظ کی تفسیر اپنے خیالات کے مطابق کی۔ بلکہ ایک دہی بات کا جواب دینے بیٹھ گئے عقلمند انسان کا کام نہیں ہوتا کہ مبہم الفاظ کا جواب دے۔ جب تک حریت و مساوات کی تعریف سائل نہ کر لیتا میرا حق نہ تھا کہ میں اس کے سوالات کا تفصیلی جواب دیتا۔ اور نہ میرا فرض تھا کہ حریت و مساوات کی پہلے خود تشریح کرتا اور پھر اسے بتاتا کہ ان ان معنوں میں فلاں فلاں محل پر حریت و مساوات کا قائم کرنا اسلامی احکام کے مطابق ہے اور فلاں فلاں معنوں میں فلاں فلاں محل پر حریت و مساوات کا قائم کرنا دین یا عقل یا قواعدِ تمدن کے خلاف ہے۔ اور یہ طوالت ایک خط برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ پس میں نے وہ طریق اختیار کیا جو اس موقع پر بہترین ہوتا ہے کہ خود سائل سے ہی دریافت کر لیا کہ وہ حریت و مساوات کے کن معنوں اور اس کے کس محل پر استعمال کے متعلق مجھ سے دریافت کرتا ہے جس جگہ بحث کا رنگ پیدا ہو یا بحث کا خطرہ ہو اس جگہ مبہم سوال کا جواب زیرِ بحث مسئلہ کو اور پیچ دار بنا دیا کرتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص کسی سے دریافت کرے کہ کیا کسی سے جبراً کوئی حکم منوانا بھی جائز ہے اور وہ آگے سے جواب دے دے کہ نہیں۔ تو اگلا آدمی اگر تو تعصب سے علیحدہ ہے اور جوش میں بھرا ہوا نہیں تو وہ اس کا مطلب سمجھ جائے گا لیکن اگر سائل غصہ کی حالت میں ہے اور دوسرے پر الزام قائم کرنے کی فکر میں ہے تو وہ آگے سے کہہ اُٹھے گا۔ کیا بچوں سے جبراً بات منوائی نہیں جاتی۔ کیا حکومت بعض باتیں جبراً نہیں منواتی ؟ کیا پاگلوں سے جبراً بات نہیں منوائی جاتی ؟ اور خواہ مخواہ بات کو لمبا کر دے گا چونکہ جن صاحب کے خط کا میں نے جواب لکھا ہے ان کی طرزِ تحریر سے بھی یہی ثابت ہوتا تھا کہ وہ محض الزام دینے کی فکر میں ہیں ۔ اس لئے ان سے اسی قسم کا برتاؤ کیا گیا جس کے وہ مستحق تھے اور پہلے ان سے ان الفاظ کے معنے اور ان کے استعمال کا محل دریافت کیا گیا تھا تا کہ ان کے جواب سے ہی ان کی کمزوری ان پر ثابت

کر دی جائے۔ آخر میں خواجہ صاحب کو یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بلا وسیع طور پر اسلام کے احکام پر نظر ڈالنے کے اسرارِ شریعت بیان کرنے کی کوشش نہ کیا کریں۔ اسرارِ شریعت بیان کرنا اُن کا کام ہے جن کی نظر وسیع ہو۔ اب یہی وراثت میں مساوات کی حکمت جو انہوں نے بیان کی ہے اگر غیر مسلم لوگوں میں وہ اس کو بیان کرنے بیٹھتے تو کس قدر سبکی اور شرمندگی کی بات ہوتی۔ اگر خود پوری طرح کسی مسئلہ کا علم نہ ہو تو واقف کار لوگوں سے دریافت کر لینا چاہئے۔ اس میں ہتک کی کوئی بات نہیں۔ عالم سے علم حاصل کرنے میں ہرگز کسی قسم کی ہتک نہیں ہوتی۔ وَ اخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ خاکسار میرزا محمود احمد (الفضل ۲۰؍دسمبر ۱۹۲۰ء)

اسلام اور حریت و مساوات

(تحریر فرمودہ حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی ۱۶؍مارچ ۱۹۲۱ء)

اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ

هُوَ النَّاصِرُ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ

کچھ حصہ مضمون کا لکھا تھا کہ مجھے پہلے آب و ہوا کی تبدیلی کے لئے باہر جانا پڑا۔ پھر لاہور اور کوئلہ کا سفر پیش آگیا اور بعض اور اہم کام بھی پیش آگئے اس لئے اس مضمون کے مکمل کرنے میں دیر ہو گئی۔ اب سفر سے آکر اس جواب کو شائع کرتا ہوں۔

خاکسار مرزا محمود احمد (۱۶؍مارچ ۱۹۲۱ء)

احباب کو یاد ہوگا کہ ’’الفضل‘‘ میں میرا ایک خط چھپا تھا جس میں ایک صاحب کے چند سوالات کا جواب تھا۔ ان سوالات کا مدعا یہ تھا کہ حریت و مساوات اسلام کے بنیادی اصول ہیں۔ اور خلفاء اور اماموں کا فرض ہے کہ وہ چھوٹی قوموں کو ظالموں کی دستبرد سے بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں اور کیا یورپ کی بعض حکومتیں چھوٹی حکومتوں کو نگل نہیں چکیں؟ اور کیا ان کا یہ منشا نہیں کہ اسلامی حکومتوں کی جگہ مسیحی حکومتیں قائم کردیں؟ اور کیا انگریزوں نے ہندوستان میں مساوات قائم رکھی ہے؟ اور کیا انگریز ہندوستانیوں سے بُرا سلوک نہیں کرتے؟ پھر آپ نے اس کے رفع کرنے کے لئے کیا کوشش کی ہے؟

مَیں نے ان سوالات کے جواب ان صاحب کو مختصر طور پر لکھوا دیئے اور یہ بھی لکھا کہ حریت و مساوات اسلام کے احکام کے مطابق کیا حیثیت رکھتے ہیں اسکا جواب اسی صورت میں دیا جا سکتا ہے جب پہلے یہ معلوم ہو جائے کہ سائل کے نزدیک ان دونوں الفاظ کی کیا تشریح ہے؟ ممکن ہے کہ بعض صورتوں میں یہ اسلامی احکام میں داخل ہوں اور بعض میں داخل نہ ہوں۔ میری اس تحریر سے یہ غرض تھی کہ جب ان الفاظ کی وہ تشریح کریں گے تو کئی قسم کی حریت اور کئی قسم کی مساوات جسے وہ اس وقت جائز بلکہ ضروری سمجھتے ہیں خود ان کو بُری لگنے لگے گی اور خود ان ہی کے الفاظ سے ان کا سوال حل ہو جائے گا۔

خواجہ عباد اللہ صاحب کا مضمون

اس مضمون کے شائع ہونے پر اصل سائل صاحبؒ تو نہ بولے لیکن خواجہ محمد عباد اللہ صاحب اخترؔ نے ایک مضمون وکیل میں شائع کرایا جس کا مطلب یہ تھا کہ گویا میں نے حریت و مساوات کو ناجائز قرار دیا ہے اور بعض آیات سے بعض قسم کی حریت اور مساوات ثابت کرنی شروع کی ۔ جیسا کہ ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے یہ فعل ان کا جلد بازی پر مبنی تھا ۔ وہ اس بات کا جواب دے رہے تھے جو میں نے نہ لکھی تھی ۔ اور بعض ایسی باتیں ثابت کر رہے تھے جن کا میں نے کبھی اور کہیں انکار نہ کیا تھا۔

خواجہ صاحب کی درشت کلامی

میں نے ان کو اپنے مضمون مندرجہ ”الفضل“ ۲۰؍دسمبر ۱۹۲۰ء میں ان کی اس غلطی پر متنبہ کیا ۔ اور ان کے مضمون کی بعض غلطیوں پر بھی آگاہ کیا اور جیسا کہ ان لوگوں کا جو غلطی پر ہوتے ہیں اور اپنی اصلاح کرنے کو اپنی ہتک سمجھتے ہیں خاصہ ہے انہوں نے اس مضمون کے جواب میں نہایت گندہ دہنی سے کام لیا ہے اور مختلف پیرایوں میں گالیاں دے کر اپنا غصہ نکالنا چاہا ہے ۔ اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ باوجود دوبارہ یاد دلائے جانے کے پھر بھی اسی رنگ میں مضمون لکھتے چلے گئے ہیں کہ گویا میں حریت و مساوات کا ہر رنگ اور ہر شکل میں مخالف ہوں۔ حالانکہ میں نے ابھی اس مضمون کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار بھی نہیں کیا۔ اور بار بار یہی لکھا ہے کہ ان الفاظ کی تشریح ہونے پر میں بتا سکتا ہوں کہ آیا ان امور کا خیال رکھنا اسلام کے مطابق ہے یا مخالف۔

خواجہ صاحب کے مضمون کی حقیقت

خواجہ صاحب نے اپنے تازہ مضمون میں جہاں پہلے مضمون کی طرح بے سروپا اور غیر متعلق باتوں کی بھر مار کی ہے وہاں کئی ایسی باتیں میری طرف منسوب کی ہیں جو میں نے کبھی نہیں لکھیں اور غلط باتیں میری طرف منسوب کر کے آیات قرآنی اس کی سند میں لکھنی شروع کر دی ہیں۔ اور وہ بھی ایسے ہتک آمیز طریق پر کہ کوئی سچا مسلمان اس طریق کو برداشت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ بالکل بے محل آیتوں کو جمع کر دیا گیا ہے اور اس قدر تعلی سے کام لیا ہے کہ ”ہم“ کے سوا وہ اپنا ذکر ہی کرنا پسند نہیں کرتے۔ گو بعض دوستوں نے ان کی اس تعلی اور غلط مبحث کی عادت اور سخت کلامی کو دیکھ کر مجھے مشورہ دیا ہے کہ جبکہ وہ اصل مضمون کی طرف نہیں آتے اور خواہ مخواہ من گھڑت باتوں کا جواب دینے میں مشغول ہو جاتے ہیں تو مجھے ان کا جواب لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ہماری جماعت کے اور کسی دوست کو ان کے مضامین کے جواب دینے پر مقرر کر دیا جائے۔ لیکن چونکہ ممکن ہے کہ خواجہ صاحب جان بوجھ کر اس راستہ پر نہیں چل رہے بلکہ وہ اپنے نفس کے دھوکا میں آئے ہوئے ہیں اس لئے میں ایک دفعہ پھر ان کو راستی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور امید ہے کہ اب وہ اس بے اُصولے پن سے رُکنے کی کوشش کریں گے جس کو وہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اگر اب بھی انہوں نے بجائے اصل مطلب کی طرف آنے کے اسی طرح بے سر و پا باتوں کی طرف توجہ کی تو ان کا جواب دینے کے لئے اور بہت سے احباب موجود ہیں جو اپنے اوقات میں سے کچھ ان کی خاطر بچا سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان سے علم اور سمجھ میں ہر طرح بالا ہیں۔

خواجہ صاحب کے اسلام کے خلاف خطرناک عقائد

سب سے پہلے تو میں پھر خواجہ صاحب کو اس امر کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ جس مضمون کا جواب وہ لکھنے بیٹھے ہیں اس کا ہرگز وہ مطلب نہیں جو وہ سمجھے ہیں۔ میں نے حریت و مساوات کے متعلق اپنی رائے ہرگز بیان نہیں کی۔ بلکہ سائل سے ان الفاظ کا مطلب پوچھا ہے تاکہ اس کی تشریح کے مطابق اس کو جواب دیا جائے۔ آپ بلا اس کے کہ میرا خیال آپ کو معلوم ہو ایک غلط بات کو میری طرف منسوب کر کے اس کا رد کرنے لگ گئے ہیں اور اس فعل میں ایسے خطرناک اور خلافِ اسلام عقائد کو پیش کرنے لگ گئے ہیں کہ ان کو اگر صحیح تسلیم کر لیا جائے تو وہ اسلام جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے اور جو قرآن کریم میں بیان ہے اس کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ جیسے یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے بغیر بھی نجات ہو سکتی ہے اور یہ کہ رسولوں کی بات کا ماننا بھی شرک ہے اور غیر اللہ کی عبادت ہے۔ وَغَيْرُ ذٰلِكَ مِنَ الْخُرَافَاتِ الْوَاهِيَةِ وَالْمَقَالَاتِ الْكُفْرِيَّةِ ۔ اور باوجود اس کے میری بیان کردہ باتوں کو ضلالت اور کفر اور فسق ثابت کرنے پر زور دیتے ہیں۔ مجھے اس جگہ ان مسائل پر کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان سے میرے مضمون کا کچھ تعلق نہیں۔ آپ نے تو غالباً بات کو مشتبہ کرنے کے لئے جو مسئلہ بھی سامنے آیا ہے ۔ اسے اپنے مضمون میں داخل کر دیا ہے ۔ مجھے اس امر میں آپ کی اتباع کی ضرورت نہیں۔ اور نہ اس طرح کسی امر کا تصفیہ ممکن ہی ہے۔

حق و باطل ظاہر ہو جاتا ہے

اس کے بعد میں خواجہ صاحب کو بتانا چاہتا ہوں کہ حق کبھی حیلوں اور بہانوں سے نہیں ٹل سکتا۔ نہ باطل پردوں کے نیچے چھپ سکتا ہے۔ حق بھی ظاہر ہو کر رہتا ہے اور باطل بھی۔ پس خواہ کیسا ہی اختلاف ہو اور کسی کا بھی مقابلہ ہو امانت کو کبھی ترک نہیں کرنا چاہئے۔ دیانتدار انسان کا خاصہ ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہئے کہ وہ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے کبھی باطل کی مدد نہیں لیتا اور ناجائز وسائل کو اختیار نہیں کرتا بلکہ دلیری اور جرأت سے حق کا اظہار کرتا ہے اور صداقت کو اختیار کرتا ہے خواہ اس میں اس کا کچھ نقصان ہی ہو مگر مجھے افسوس ہے کہ آپ نے بعض وقت طیش میں آکر اس امر کو مدّنظر نہیں رکھا اور لوگوں کو بھڑکانے کے لئے یا میری باتوں کو حقیر ثابت کرنے کے لئے میری طرف وہ باتیں منسوب کر دی ہیں جو میں نے نہیں کہیں۔ یا جن کے متعلق میں نے اس مضمون کے بالکل خلاف بیان کیا ہے جو آپ نے میری طرف منسوب کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر میں چند امور کو بیان کرتا ہوں:۔

صحابہؓ کی ہتک کرنے کا غلط الزام

(۱) آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ میں نے صحابہ کرامؓ اور تابعین کو شریروں سے تعبیر کیا ہے۔ خواجہ صاحب آپ جانتے ہیں اور وہ سب لوگ جو میرے خیالات سے واقف ہیں یا جنہوں نے میرا وہ مضمون پڑھا ہے جس کی طرف آپ اشارہ کرتے ہیں جانتے ہیں کہ یہ ایک خطرناک بہتان ہے۔ میں نے ہرگز کسی صحابی یا تابعی کو شریر نہیں کہا۔ بلکہ میں صحابیؓ یا تابعی کو شریر کہنے والے یا سمجھنے والے کو شریر سمجھتا ہوں۔ میرے مضمون کا کوئی فقرہ یا جملہ نہ وضاحتًا نہ اشارۃً نہ کنایۃً اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ کوئی صحابی یا تابعی شریر ہے اور باوجود اس کے آپ کا یہ بات میری طرف منسوب کرنا اس امر پر شاہد ہے کہ یا تو آپ کو حد درجہ کی موٹی عقل ملی ہے جس کی وجہ سے آپ دن کو دن اور رات کو رات بھی نہیں سمجھ سکتے۔ یا آپ کو اپنی بات کی پچ اور ضد میں حق و باطل کی بھی تمیز نہیں رہتی! ان دونوں باتوں کے سوا تیسری اور کوئی بات میرے خیال میں نہیں آتی جس پر میں آپ کے اس فعل کو محمول کروں میں نے جو کچھ لکھا تھا۔ وہ یہ تھا کہ حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں بعض شریروں نے جو صحابہؓ کے اموال کو دیکھ نہیں سکتے تھے۔ لوگوں میں اس کے خلاف جوش پیدا کرنا شروع کیا اور حضرت ابوذر غفاریؓ کو جو ایک غریب مزاج آدمی تھے اور زیادہ مال پاس رکھنے کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن دوسروں کو بھی مجبور نہیں کرتے تھے جا کر اُکسایا کہ دیکھو لوگ کس طرح مال و دولت جمع کرنے میں لگ گئے ہیں اور ان کو اس قدر جوش دلایا کہ ان کو جہاں کوئی مالدار صحابیؓ مل جاتا اس کو پکڑ بیٹھتے کہ تمہارے پاس مال کیوں ہے؟ اور بجائے معمولی نصیحت کے آپ نے اس امر میں تشدد سے کام لینا شروع کیا۔ آخر حضرت عثمانؓ کو رپورٹ ہوئی اور آپ نے ان کو مدینہ بلوا لیا۔ اس عبارت سے ظاہر ہے کہ نہ تو میں نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو اور نہ

کسی اور بزرگ کو شریر کہا ہے۔ بلکہ جو شریر تھے صرف ان ہی کو شریر کہا ہے۔ ہاں اگر خواجہ صاحب کے نزدیک وہ اشرار جو حضرت عثمانؓ کے وقت میں فتنہ پھیلانے کے موجب ہوئے تھے صحابہؓ کا درجہ رکھتے تھے تو پھر بےشک مجھ پر الزام آسکتا ہے لیکن اگر صحابیؓ سے مراد وہ اشخاص ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور جن کو آپ نے مومنوں میں شامل کیا تو پھر یہ ایک خطرناک بہتان ہے کہ میں نے صحابہؓ تو الگ رہے کسی ایک صحابیؓ کو بھی شریر کہا ہو اور مجھے افسوس ہے کہ خواجہ صاحب نے خلافِ تقویٰ اور دیانت مجھ پر ایسا گندہ الزام لگایا ہے۔ اگر ان کا یہ خیال ہے کہ اس طرح اس مضمون پر پردہ پڑ جائے گا جس پر انہوں نے قلم اُٹھایا ہے تو یہ ایک غلط خیال ہے کیونکہ باطل کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔

تابعین کو شریر کہنے کا جھوٹا الزام

انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں نے ”تابعین کو بھی شریر کہا ہے“۔ تابعی کا لفظ تو میرے مضمون میں ہے ہی نہیں۔ مگر شاید انہوں نے تابعی کا استدلال اس سے کر لیا ہے کہ چونکہ میں نے حضرت عثمانؓ کے زمانہ کے بعض لوگوں کو شریر کہا ہے اور اس وقت صحابہ کرامؓ کی چونکہ ایک کثیر تعداد موجود تھی اس لئے اس زمانہ کے سب لوگ تابعی ہو گئے۔ استدلال تو یہ بہت باریک ہے۔ مگر اس اصل کے ماتحت غالباً خواجہ صاحب ابوجہل اور عقبہ اور شیبہ کو بھی صحابی قرار دیتے ہوں گے کیونکہ انہوں نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا اور عبداللہ بن ابی ابن سلول اور اس کے ساتھیوں کو تو ضرور وہ صحابہؓ میں شامل کرتے ہوں گے۔ کیونکہ وہ تو سالہا سال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہے تھے۔ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ۔ خواجہ صاحب پر مجھے تعجب ہے۔ وہ اتنا بھی نہیں سمجھ سکتے کہ ”تابعی تو اس شخص کو کہتے ہیں جو صحابہ کا سچا متبع ہو نہ یہ کہ ہر شخص جو صحابہؓ سے ملا ہو وہ تابعی ہے خدا تعالیٰ قرآن کریم میں تابعی کی تعریف یہ فرماتا ہے کہ وَالَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُمۡ بِاِحۡسَانٍ(التوبة: ۱۰۰) جو لوگ صحابہؓ کے کامل متبع ہو گئے۔ پس وہی تابعی ہے جو صحابہ کا کامل متبع ہے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والا ہے۔ نہ کہ ہر وہ شخص جس نے صحابہؓ کو دیکھا ہو خواہ کس قدر ہی شریر اور مفسد کیوں نہ ہو۔ اگر خواجہ صاحب کو تاریخ سے ادنیٰ درجہ کی واقفیت بھی ہوتی تو وہ جان لیتے کہ میں نے جس جماعت کی طرف اپنے مضمون میں اشارہ کیا ہے وہ عبداللہ بن سباء اور اس کے پیروؤں کی جماعت ہے۔ اور ان کے شریر اور مفسد ہونے کے صحابہؓ بھی اور بعد کے بزرگانِ اسلام بھی قائل ہیں۔ چنانچہ حضرت ابو درداءؓ اور حضرت عبادة ابن الصامت جیسے معزز صحابہؓ نے اسے مفسد اور منافق قرار دیا ہے۔ اور اس کی تمام زندگی ہی اسلام میں فتنہ اور نفاق ڈالنے میں خرچ ہوئی ہے۔ پس ایسے شریر النفس انسان کو تابعی قرار دے کر مجھ پر یہ الزام لگانا کہ میں تابعیوں کو شریر کہتا ہوں سخت ظلم ہے۔ خواجہ صاحب کو شاید معلوم نہیں کہ یہی وہ شخص ہے جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رجعت کا مسئلہ ایجاد کیا تھا اور لوگوں میں یہ بات پھیلایا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر دوبارہ اسی جسد عنصری کے ساتھ تشریف لائیں گے۔

حافظ قرآن ہونے کا الزام کب لگایا گیا

دوسرا اتہام خواجہ صاحب نے مجھ پر یہ لگایا ہے کہ میں نے ان پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ حافظ قرآن نہیں ہیں ہر ایک شخص جس نے میرا مضمون پڑھا ہے جانتا ہے کہ یہ بات بالکل بے بنیاد ہے۔ میں نے اپنے مضمون میں ہرگز ان کے حافظ قرآن نہ ہونے پر ان کو الزام نہیں دیا۔ بلکہ میں نے صرف ان کو یہ نصیحت کی تھی کہ وہ قرآن کریم کی آیات کو کلید میں دیکھ کر بلا قرآن کریم میں سے نکالے کے اور ان کے مفہوم پر غور کئے کے یونہی اپنے مضمون میں درج نہ کر دیا کریں۔ کیونکہ جیسا کہ ان کے دونوں مضامین سے ظاہر ہوتا ہے ان کو یہ عادت ہے کہ بلا مطلب کا لحاظ کئے یونہی آیات درج کرتے چلے جاتے ہیں اور اس طرح آیات قرآنیہ کا بے محل استعمال کلام الٰہی کی شان کے خلاف ہے۔ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید بہت سی آیات کا درج کر دینا علمیت کا ثبوت ہے۔ حالانکہ بے محل آیات قرآنیہ کا استعمال نہ صرف جہالت کا ثبوت ہے بلکہ کلام الٰہی کی ہتک ہے۔ مگر ان کا یہ شوق اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ انہوں نے لوگوں کی توجہ کو اس امر کی طرف پھیرنے کے لئے تمام ان آیات قرآنیہ کا ایک سلسلہ وار نمبر دیا ہے جو انہوں نے اپنے مضمون میں درج کی ہیں۔ حالانکہ ان میں سے بعض تو بے موقع استعمال کی گئی ہیں اور بعض ایسے مضامین کی تردید یا تائید میں بیان کی گئی ہیں کہ جن کو یا تو میں نے بیان نہیں کیا یا میں نے ان کا انکار نہیں کیا۔ پس ایک کی تردید اور دوسرے کی تائید دونوں ہی عبث عمل ہیں۔

قرآن میں نسخ کے قائل ہونے کا غلط الزام

تیسرا اتہام خواجہ صاحب نے مجھ پر یہ لگایا ہے کہ وہ لکھتے ہیں کہ میں قرآن کریم میں نسخ کا قائل ہوں اور آیت زکوٰۃ سے آیت انفاق کو منسوخ قرار دیتا ہوں حالانکہ یہ بات ہمارے سلسلہ کے اشد ترین دشمنوں سے بھی پوشیدہ نہیں کہ ہماری جماعت بلا استثناء شروع زمانہ سے لے کر قرآن کریم کی آیات تو الگ رہیں اس کے ایک لفظ یا اس کی ایک حرکت کے نسخ کی بھی

قائل نہیں ۔ ہم صرف قرآن کریم میں نسخ کے منکر ہی نہیں بلکہ اس کے خلاف ہمیشہ سے زور دیتے چلے آئے ہیں اور ہمارا تمام لٹریچر اس پر شاہد ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان تمام آیات کی ضرورت اور حکمت بیان کر سکتے ہیں جن کو لوگ منسوخ سمجھتے ہیں ۔ ہماری جماعت کی طرف سے جو قرآن کریم کے پہلے پارہ کا انگریزی ترجمہ شائع ہوا ہے اس میں میرا ہی لکھا ہوا ایک نوٹ آیت مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰیَۃٍ اَوۡ نُنۡسِہَا نَاۡتِ بِخَیۡرٍ مِّنۡہَاۤ(البقرة : ۱۰۷) کے متعلق اس مضمون کا درج ہے کہ ”دوسرے معنی جو بعض مترجم اس آیت کے کرتے ہیں یعنی بعض آیات قرآنیہ منسوخ ہو گئی ہیں ۔ نہ صرف قرآن کریم کے اور اس آیت کے مضمون کے برخلاف ہیں ۔ بلکہ اقوال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کی تردید کرتے ہیں ۔ حتیٰ یہ ہے کہ بعض انگریز مترجموں کا خیال کہ قرآن کریم کے بعض حصص منسوخ ہو گئے ہیں ۔ ایک غلط اور دھوکا دینے والا خیال ہے قرآن کریم کا کوئی حصہ منسوخ نہیں ہوا ۔ تمام کا تمام قرآن نہیں بلکہ اس کا ہر ایک لفظ اور اس کی ہر ایک حرکت نسخ کے عمل سے بالکل بالا ہے ۔ قرآن کریم میں کوئی دو متضاد حکم نہیں ہیں ۔ اس لئے نسخ کا مسئلہ درمیان میں لانے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ جو اختلافات کہ بیان کئے جاتے ہیں وہ صرف نسخ کے قائلوں کے خلاف اس امر کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے قرآن کریم پر گہری نظر نہیں ڈالی“۔ الخ صفحہ ۸۸ ، ۸۹ ۔

اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ میں نسخ کا کیسا مخالف ہوں ۔ اور اس کے علاوہ میری بہت سی تحریرات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ میں نسخ کے مسئلہ کو ایک نہایت ہی بے بنیاد اور دین میں رخنہ ڈالنے والا مسئلہ سمجھتا ہوں ۔ پھر باوجود جماعت احمدیہ کے عام عقیدہ اور میری اپنی تحریرات کی موجودگی کے نہ معلوم خواجہ صاحب کو کیونکر جرأت ہوئی کہ وہ میری طرف اس عقیدہ کو منسوب کریں ۔

یہ تو میں نے جماعت احمدیہ کا اور اپنا عام اور مشہور اور شائع شدہ مذہب بیان کیا ہے ۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ میرے جس مضمون سے خواجہ صاحب استدلال کرتے ہیں کہ میں نے آیتِ انفاق کو منسوخ قرار دیا ہے اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ میں نسخ کا قائل نہیں ہوں ۔ بلکہ جس عبارت سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ میں نے نسخ فی القرآن کا عقیدہ بیان کیا ہے اسی سے اس کے خلاف ثابت ہوتا ہے ۔ میری وہ عبارت جس سے انہوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ میں نے آیت انفاق کو منسوخ قرار دیا ہے یہ ہے ۔ کہ ”جو لوگ صدقات کا ذکر بتاتے ہیں ۔ (آیت انفاق میں) وہ بھی اس آیت کے کئی معنے کرتے ہیں بعض تو کہتے ہیں کہ عفو کے معنے ضرورت سے زائد بچے ہوئے مال کے ہیں شروع اسلام میں سال بھر کے نفقہ سے جو بچ رہے۔ اس کے فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا حکم تھا ۔ مگر آیت زکوٰۃ کے نازل ہونے پر یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ ان لوگوں کے نزدیک گویا یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے۔“

پھر آگے لکھا ہے۔ ”ان تمام معانی سے جو مفسرین نے کئے ہیں۔ آپ کے معنوں کی تصدیق نہیں ہوئی جس جماعت نے اس آیت کے یہ معنی کئے بھی ہیں کہ جو ضرورت سے زائد بچے اسے خرچ کر دو۔ اس نے بھی یا تو اسے جہاد پر چسپاں کیا ہے یا منسوخ قرار دیا ہے۔“

ان عبارات سے صاف ظاہر ہے کہ میں نے آیتِ انفاق کو منسوخ نہیں قرار دیا بلکہ دوسروں کے اقوال نقل کئے ہیں۔ اور ایسے الفاظ ساتھ لگا کر جیسے ”گویا“ اور ”ان لوگوں کے نزدیک“ ان سے مختلف الخیال ہونے کا بھی اظہار کر دیا ہے۔ اور خود میرا اس آیت کے معنوں سے انکار کرنا جن سے اس آیت کو منسوخ قرار دینا پڑتا ہے اس امر کا ثبوت تھا کہ میں نسخ کا قائل نہیں۔ مگر باوجود اس کے خواجہ صاحب مفہومِ عبارت کے بالکل بر خلاف میرے خلاف یہ بات کسی پوشیدہ مجلس میں نہیں بلکہ ایک اخبار کے کالموں میں بیان کرتے ہیں کہ میں آیتِ انفاق کے نسخ کا قائل ہوں۔ اور پھر یہ الزام لگا کر نسخ کے عقیدہ کے خلاف دلائل دینے شروع کر دیتے ہیں گویا اپنی طرف سے اسلام پر سے ایک زبردست الزام کو دُور کرتے ہیں۔

غرباء میں تقسیم مال کے متعلق جھوٹا الزام

چوتھا اتہام خواجہ صاحب نے مجھ پر یہ لگایا ہے کہ گویا میرے نزدیک جو مال اعلیٰ سے اعلیٰ کھانوں اور کپڑوں اور دوسرے اسبابِ تعیش سے بچے صرف وہی غرباء کو دیا جا سکتا ہے۔ اور اس پر حاشیہ چڑھاتے ہیں کہ پھر کیا خاک بچے گا۔ اور بطور تمسخر ساتھ یہ بھی زائد کرتے ہیں کہ میں نے اس طرح الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا وَزِیۡنَتَہَا(11:16) کا پورا نقشہ کھینچ دیا ہے۔ اور ان کے نزدیک یہ تصویر اور بھی مکمل ہو جاتی اگر اس کے ساتھ حسین عورتوں کی کثرت کا بھی ذکر کر دیا جاتا۔ یہ بھی ایک بہتان ہے جو خواجہ صاحب نے مجھ پر باندھا ہے۔ میں نے ہرگز کسی جگہ بھی اپنے مضمون میں یہ نہیں لکھا کہ عمدہ سے عمدہ کھانوں اور قیمتی کپڑوں کے بعد جو کچھ بچے وہ غرباء کو دیا جائے۔ بلکہ میں نے اس کے بالکل برخلاف لکھا ہے جسے بگاڑ کر انہوں نے یہ رنگ دے دیا ہے۔ میں پہلے ان کی عبارت اور پھر اپنی عبارت لکھتا ہوں جس سے ہر ایک شخص آسانی سے سمجھ سکے گا کہ خواجہ صاحب نے کس قدر دیدہ دلیری سے کام لیا ہے۔ خواجہ صاحب لکھتے ہیں: ”ایک اور خیال نے میاں صاحب ممدوح کے دل میں چٹکی لی (خواجہ صاحب کی عبارت پر تعجب نہیں کرنا چاہئے ۔ جو شخص جس رنگ میں پرورش پاتا ہے، اسی قسم کی باتیں اس کی زبان و قلم پر جاری ہوتی ہیں) کہ اگر اعلیٰ سے اعلیٰ کھانوں اور عمدہ سے عمدہ کپڑوں اور وسیع اور کھلے اور آراستہ و پیراستہ مکانوں اور خوشنما چمنوں اور میوہ دار باغوں کے لئے روپیہ رکھ کر باقی اگر بچے گا تو وہ غرباء میں تقسیم ہوگا۔ اس جمع شدہ مال کے بعد خاک بچے گا؟ تعجب ہے کہ قرآن دانی کے بعد احادیث اور مفسرین کے قول سے تو آنجناب استدلال کر چکے تھے اب عیش پسند امراء کے خیالات کو سنداً بیان کرنا باقی تھا۔ یہ درجہ بدرجہ تنزل واقع میں حیرت انگیز ہے۔“

یہ تو وہ مضمون ہے جو خواجہ صاحب میری طرف منسوب کرتے ہیں اور جو کچھ میں نے لکھا ہے۔ وہ یہ ہے کہ خواجہ صاحب نے لکھا تھا کہ قرآن کریم کی رو سے جو مال ضرورت سے زائد بچے وہ غرباء پر خرچ کر دینا چاہئے۔ اس کے متعلق میں نے لکھا تھا ۔ ”ضرورت سے زائد بچے ہوئے کی اصطلاح خود مبہم ہے۔ بعض لوگ جو کچھ ان کو مل جائے گو لاکھوں روپیہ کیوں نہ ہو اس کو خرچ کر دیتے ہیں اور ضرورت سے زائد ان کے نقطۂ خیال میں کوئی مال ہوتا ہی نہیں۔“ پھر اسی سلسلہ میں آگے چل کر لکھا تھا کہ ”اگر اس بات کی اجازت دے دی جائے کہ ہر شخص اپنی ضرورت کا خود فیصلہ کرے تو پھر بھی مساوات نہیں رہے گی۔ کوئی شخص اعلیٰ سے اعلیٰ کھانوں اور عمدہ سے عمدہ کپڑوں اور وسیع اور کھلے اور آراستہ اور پیراستہ مکانوں اور خوشنما چمنوں اور میوہ دار باغوں کے لئے روپیہ رکھ کر باقی اگر بچے گا تو غرباء میں بانٹ دے گا۔ اور غریب بیچارے گاڑھا پہننے اور جھونپڑیوں میں رہنے پر مجبور ہوں گے“۔

اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ امراء کو چاہئے کہ اس قدر اسباب تعیش جمع کریں۔ بلکہ یہ کہا ہے کہ اگر خواجہ صاحب کا بتایا ہوا اصل شریعتِ اسلام کا بتایا ہوا ہوتا تو اس کے ساتھ کوئی تشریح بھی ہوتی۔ ورنہ امراء یہ شرارت کرتے کہ سب سامان تعیش کو جمع کر لیتے اور اس خیال سے کہ ہمارا بچا ہوا مال غرباء کو دیا جائے گا۔ اس کو عیاشی میں اُڑا دیتے۔ اب ہر ایک عقلمند انسان سمجھ سکتا ہے کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ خواجہ صاحب کے بتائے ہوئے مضمون کے بالکل الٹ ہے۔

خواجہ صاحب نے کیوں افتراء پردازی کی

یہ چار موٹے موٹے بہتان ہیں جو خواجہ صاحب نے مجھ پر لگائے ہیں اور ایسے صریح طور پر غلط ہیں کہ شاید بہت سے لوگ ان کو پڑھ کر فوراً یہ فیصلہ کر دیں کہ خواجہ صاحب نے جان بوجھ کر افتراء پردازی سے کام لیا ہے۔ مگر چونکہ علم النفس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی دماغ بلا سوچے سمجھے بعض خاص حالات میں اس قسم کے افعال کا مرتکب ہو جاتا ہے اس لئے میں ان پر یہ الزام نہیں لگاتا۔ میں یہی خیال کرتا ہوں کہ اپنی سبکی اور شرمندگی کو مٹانے کے لئے ان کے نفس میں جو جوش پیدا ہوا ہے اس کے اثر کے نیچے بلا سوچے سمجھے ان کی تحریر میں بعض ایسی باتیں آگئی ہیں جو بالبداہت واقعات کے خلاف ہیں اور جن سے غرض صرف یہ ہے کہ وہ ناظرین کو میرے خلاف بھڑکا دیں یا ان پر میرے مضمون کی کمزوری اور بے ہودگی ثابت کریں۔

خواجہ صاحب کا حقِ وکالت

خواجہ صاحب نے مجھ پر جو بہتان باندھے ہیں ان میں سے بعض صریح اور موٹے بہتانوں کا ذکر کرنے کے بعد میں خواجہ صاحب کے مضمون پر ایک سرسری نظر ڈالتا ہوں۔ خواجہ صاحب بیان فرماتے ہیں کہ میں ان کی وکالت پر معترض ہوں حالانکہ اخبار میں مضمون چھپنے پر ہر ایک شخص کا حق ہے کہ اس کا جواب دے۔ میں خواجہ صاحب کو پھر اپنی پہلی نصیحت کی طرف توجہ دلاؤں گا کہ وہ بلا غور سے مضمون پڑھنے کے یونہی نہ جواب دینے بیٹھ جایا کریں۔ میں نے کبھی بھی ان کے حقِ وکالت پر اعتراض نہیں کیا۔ جو کچھ میں نے لکھا تھا یہ تھا کہ خواجہ صاحب کو چاہئے تھا کہ وہ سائل کو میرے مطالبہ کے مطابق حریت و مساوات کی تشریح کر لینے دیتے یا اگر انتظار نہ کر سکتے تھے تو خود حریت و مساوات کی تشریح کر کے اس کے متعلق میری رائے دریافت کرتے۔ بلا اسکے کہ میری رائے دریافت کریں مجھ پر اعتراض کرنا جائز نہ تھا۔ پس ان کا یہ لکھنا کہ میں ان کے حق وکالت پر اعتراض کرتا ہوں درست نہیں۔ ہماری باتیں نہ تو پوشیدہ ہیں نہ اپنے خیالات کو ہماری جماعت نے کبھی چھپایا ہے جو شخص جرح کو نہیں سُن سکتا وہ ہرگز اس بات کا مستحق نہیں کہ کامیابی کا منہ دیکھے۔ ہم تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب دُنیا کا مقابلہ کرتے ہیں اور اپنے متاع کو تمام دُنیا کے مبصروں کے سامنے پیش کرتے ہیں لیکن ہماری طرف سے اعتراض کی اجازت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ بلا سوچے اور سمجھے ہر شخص اعتراض کر سکتا ہے۔ اپنے وقار کے قائم رکھنے کے لئے دوسروں کا بھی فرض ہے کہ وہ سوچ لیں کہ وہ کس بات پر اعتراض کرتے ہیں اور یہ بھی دیکھ لیں کہ جس بات پر وہ اعتراض کرتے ہیں کیا وہ ہم نے کہی بھی ہے یا نہیں ؟

حدیث سے کیوں استدلال کیا گیا

خواجہ صاحب کو شکایت ہے کہ میں نے اپنے مضمون میں حدیث سے کیوں استدلال کیا اور یہ کہ جب اصول اسلام پر بحث ہو تو صرف قرآن کریم سے بحث ہوگی۔ کیونکہ احادیث موضوع بھی ہیں اور ضعیف بھی اور پھر خاص حالات کے ماتحت ہیں اور اگر وہ صحیح بھی ہوں تو بھی کتاب اللہ کے سوا کسی شخص کا فیصلہ ماننا خواہ وہ نبی یا رسول ہی کیوں نہ ہو۔ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ(آل عمران: ۶۵) کی ذیل میں آجاتا ہے۔ خواجہ صاحب کے اس بیان سے تین سوال پیدا ہوتے ہیں۔ (۱) یہ کہ میں نے حدیث سے کیوں استدلال کیا۔ قرآن کریم سے کیوں نہ کیا؟ (۲) حدیث ظنی اور ضعیف اور موضوع ہے اور خاص حالات کے ماتحت ہے۔ (۳) اگر حدیث صحیح بھی ہو تو بھی کتاب اللہ کے سوا کسی دوسرے شخص کا فیصلہ ماننا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ(9:31) کے ذیل میں داخل ہے۔

سوال اوّل کا تو یہ جواب ہے کہ میں تو احادیث نبی کریمؐ کو مناسب تحقیق و تدقیق کے ماتحت نہایت ضروری یقین کرتا ہوں۔ اور سنت کے بغیر تو اسلام میں ایک ناقابلِ تلافی رخنہ پڑ جاتا ہے پس اگر میں سنت و حدیث سے استدلال کروں تو قابلِ تعجب نہیں۔ دوم جس قدر امور مہتم تھے سب کے لئے میں نے آیاتِ قرآنیہ سے استدلال کیا تھا۔ ہاں احادیث کو بطور تائید کے بیان کیا تھا۔ اور اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ خواجہ صاحب احادیث کے منکر ہیں تو پھر میں کبھی احادیث سے مسائلِ شرعیہ کے متعلق استنباط نہ کرتا۔ مگر چونکہ مجھے ان کے عقیدہ کا علم نہ تھا اس لئے عام عالمِ اسلام پر قیاس کر کے میں نے ان کے جواب میں بعض احادیث کو بھی بیان کر دیا۔

دوسرا اس کا جواب یہ ہے کہ خواجہ صاحب کو حدیث کی کمزوری تب آکر معلوم ہوئی ہے جب ان کے مقابلہ میں احادیث سے استدلال کیا گیا ہے۔ ورنہ انہوں نے اپنے پہلے مضمون میں خود احادیث سے استدلال کیا ہے۔ چنانچہ لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلٰى اَعْجَمِيٍّ(مسند احمد بن حنبل جلد ۵ صفحہ ۴۱۱) کی حدیث اور خدا تعالیٰ کی زمین اور اس کے بندوں سے برتری تلاش نہ کرو کی حدیث انہوں نے اپنے پہلے مضمون میں بیان کر کے اس پر خاص زور دیا ہے۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ بعض احادیث ان کے خلاف پڑتی ہیں تو ان کو موضوع اور ضعیف قرار دینا شروع کر دیا۔ ضد و تعصب بھی انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں۔

اگر خواجہ صاحب کہیں کہ میں تو ان مضامین کی تائید میں احادیث لایا تھا جو قرآن کریم سے ثابت ہیں تو میرا بھی ان کو یہی جواب ہے کہ میں بھی احادیث ان ہی مضامین کی تائید میں لایا تھا جو قرآن کریم سے ثابت ہیں۔ پھر اس پر ان کو کیوں اعتراض پیدا ہوا ؟

احادیث کا درجہ

سوال دوم کہ حدیثیں ضعیف اور موضوع ہیں اور پھر وقتی حالات کے ماتحت ہیں۔ ایک مستقل سوال ہے جس کا اس مضمون سے کوئی تعلق نہیں ۔ بیشک احادیث اسی طرح یقینی نہیں ہیں جس طرح قرآن کریم یقینی ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دُنیا کے کاروبار کی بنیاد بہت حد تک تاریخ پر ہے اور دُنیا کی معتبر سے معتبر تاریخوں سے حدیث زیادہ یقینی اور معتبر ہے اور بعض حدیثیں تو اس تواتر سے پہنچی ہیں کہ ان کے مضمون سے انکار کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنی ذات سے انکار کر دے۔کیونکہ علاوہ قولی تائید کے لاکھوں ، کروڑوں انسان ان کی عملی تائید بھی کرتے چلے آئے ہیں۔

باقی رہا یہ کہ حدیثیں وقتی حالات کے ماتحت ہیں یہ ایک حیرت انگیز انکشاف ہے کیونکہ اس کے یہ معنے ہوں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زندگی بھر اسلام کی اصل تعلیم کے متعلق نہ کوئی بات کہنے کا موقع ملا اور نہ کسی حکم پر عمل کرنے کا۔ آپؐ کی زندگی کے تمام حالات اور آپؐ کے تمام اقوال صرف وقتی حالات کے ماتحت تھے۔ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِکَ ۔ اور اگر آپ یہ کہیں کہ بعض باتیں تو وقتی حالات کے ماتحت بھی ہوں گی۔پس حدیثوں کا معاملہ مشتبہ ہو گیا ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک بعض امور وقتی حالات کے متعلق بھی ہیں۔لیکن ان میں اور دائمی صداقتوں میں ہم انہی اُصول کے ماتحت فیصلہ کر سکتے ہیں جن کے ماتحت ہم قرآن کریم کی آیات متشابہات کا فیصلہ کر لیا کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں۔

کتاب اللہ کے سوا کسی کی بات ماننا

تیسرا سوال خواجہ صاحب کی مذکورہ بالا تحریر سے یہ پیدا ہوا تھا کہ کتاب اللہ کے سوا کسی اور شخص کی بات ماننی ” اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ(اٰل عمران: ۶۵) “ میں داخل ہے خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو۔

اگر خواجہ صاحب کا اس بات سے یہ مطلب ہے کہ بفرضِ محال اگر نبی خدا تعالیٰ کی بات کے خلاف کہہ دے تو ہم اس کی بات نہیں مانیں گے۔ تب تو گو میں اس قسم کے کلمہ کو گستاخی اور بے ادبی انبیاء کی قرار دوں گا۔لیکن اس امر کی تصدیق کروں گا کہ اگر اس صورت کو ممکن سمجھ لیا جائے تو اس کا مضمون سچا ہے۔ مگر پھر اس صورت میں اس جگہ اس مضمون کے بیان کرنے کی حکمت سمجھ میں نہ آوے گی۔ کیونکہ حدیث کو اس دلیل سے رد نہیں کیا جا سکتا کہ خدا تعالیٰ کے خلاف کوئی بھی بات کہے خواہ نبی ہی کیوں نہ

ہو اس کی بات قابل تسلیم نہیں۔ کیونکہ حدیث تبھی رد ہو سکتی ہے اور اس کا ماننا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ کی اطاعت کے ماتحت تبھی آسکتا ہے جب ساتھ یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ بعض باتیں خدا تعالیٰ کے خلاف منشاء اور اس کے احکام کی مخالفت میں بھی کہہ لیا کرتے تھے۔ لیکن جب خواجہ صاحب اس امر کا دعویٰ نہیں کرتے تو پھر اس جگہ اس بات کے بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور اس کے بیان کرنے سے حدیث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح درجۂ اعتبار سے ساقط ہو گئی؟

اور اگر خواجہ صاحب کا یہ مطلب ہے ۔ کہ نبی گو ایسی بات بھی کہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف نہ ہو تب بھی اس کا حکم ماننے کے لئے وہ تیار نہیں ہیں تو پھر اس سے زیادہ انبیاء کی ہتک کوئی نہیں ہو سکتی کہ دنیاوی حکام کے احکام مانے جائیں۔ ماں باپ کے احکام پر عمل کیا جائے۔ مگر نبی کی بات تسلیم نہ کی جائے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ(النساء: ۶۵) یعنی ہم نے کوئی رسول دنیا میں مبعوث نہیں فرمایا مگر اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اس کی اطاعت کی جائے۔

اس آیت میں "باذن اللہ" کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں نہ کہ فی اوامر اللہ۔ پس اس آیت کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے احکام میں اس کی اطاعت کریں کیونکہ اوّل تو الفاظ اس کے متحمل نہیں ہوتے۔ دوم اگر احکام الٰہیہ میں ہی اس کی اطاعت تھی تو پھر اس کی اطاعت کا ذکر کیوں کیا گیا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔

لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ(الاحزاب: ۲۲)۔ تم لوگوں کے لئے رسول اللہ میں ایک پاک نمونہ ہے۔

اور پھر فرماتا ہے :۔ قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ(3:32)؎ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری اطاعت کرو۔ تم سے اللہ تعالیٰ محبت کرنے لگے گا۔

ان آیات سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ علاوہ کلام الٰہی میں مذکور شدہ احکام کے رسول بھی جو حکم دے اس کی اطاعت خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے اور شرک وہ اس لئے نہیں ہوتی کہ اطاعت اپنی ذات میں شرک نہیں۔ اطاعت کسی وجود کی تبھی شرک ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ کی اطاعت کے مقابلہ پر پڑ جاوے۔ ورنہ اطاعت تمام انسان کسی نہ کسی مخلوق کی کرتے ہیں۔ اور چونکہ رسولوں کی اطاعت باذن اللہ ہوتی ہے۔ ان کی اطاعت کو شرک کہا ہی نہیں جا سکتا۔ نہ شرک وہی اطاعت ہو سکتی ہے جو باذن اللہ کے خلاف ہو نہ کہ جو اس کے موافق ہو۔

غرض احادیث کو اس بناء پر رد کرنا کہ ان کو ماننے سے شرک لازم آ جاتا ہے ایک دھوکا ہے جو خواجہ صاحب کو لگا ہوا ہے۔ اور درحقیقت ایسا اعتقاد رکھنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنا ہے کیونکہ اس صورت میں دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ماننی پڑے گی۔ یا تو یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ من ذلک خدا تعالیٰ کے احکام کے خلاف بھی کہہ دیا کرتے تھے اور یا یہ کہ باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کے احکام کے خلاف ان کی بات نہ ہو، تب بھی اس کو قبول کرنا گناہ ہے۔ کیونکہ اس سے شرک لازم آتا ہے۔ گویا رسالت ایک رحمت نہیں بلکہ عذاب ہے ۔ نعوذ باللہ

حریت و مساوات اسلام میں

خواجہ صاحب نے یہ بھی سوال کیا ہے کہ حریت و مساوات اگر بعض تشریحات کے مطابق اسلامی احکام میں شامل ہونگی تو کیا اصولاً ہوں گی یا کسی اور طرح؟ خواجہ صاحب نے اپنی طرف سے نہایت سوچ کر یہ ایک معمہ پیدا کر دیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ اگر میں کہوں کہ اصولاً داخل ہوں گی تو وہ کہیں گے کہ پھر یہ اُصولی مسائل ہوئے اور اگر کہوں کہ اصولاً داخل نہیں ہوں گی تو پھر وہ سوال کریں گے کہ جب اسلام میں کوئی چیز بے اُصول کے داخل ہوتی ہے تو پھر اسلام مہمل ہو گیا نہ تو اسلام پر الزام ہے۔ حالانکہ یہ ایک دھوکا ہے کسی امر کا اصولاً کسی دائرہ کے اندر داخل ہو جانا اس امر کا ثبوت نہیں ہوتا کہ اسے اس کے اُصول میں داخل کر دیا جائے ہر ایک منضبط کلام اور دین اور شریعت اور قانون اپنے اندر ایک رابطہ اور سلسلہ رکھتا ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اس کا ہر ایک جزو اصول میں شامل ہے۔ مدرسہ میں داخل ہونے والا ہر ایک طالبعلم کسی قانون یا اصل کے ماتحت مدرسہ میں داخل کیا جاتا ہے مگر ہر ایک طالب علم اس مدرسہ کی روح رواں نہیں کہلاتا۔ ہر ایک اینٹ جو کسی عمارت میں لگائی جاتی ہے کسی اُصول کے ماتحت لگائی جاتی ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ اس شخص کی ملکیت ہے جس کا مکان بن رہا ہے۔ یا یہ کہ معمار اسے اس جگہ کے لئے پسند کرتا ہے۔ یا یہ کہ وہ اس موقع پر سامنے آ گئی جب کہ اس مقام پر معمار کو ایک اینٹ لگانے کی ضرورت تھی۔ مگر کوئی نادان ہر ایک اینٹ کو جو عمارت میں لگی ہوئی ہے بنیاد نہیں کہے گا۔ اسی طرح ہر ایک حکم جو شریعت حقہ دے گی کسی سلسلہ فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے دے گی۔ لیکن صرف اس لئے کہ اس کا شمول کسی قاعدہ یا کسی اصل کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ہر ایک حکم کو اس مذہب کے اُصول میں شامل نہیں کر دے گا۔ پس خواجہ صاحب کا قول زخرف القول سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا اور ایک فیلیسی ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ نے حریت و مساوات پر کیوں زور دیا

میں نے خواجہ صاحب کے پہلے مضمون کے جواب میں لکھا تھا کہ مذہبی مساوات کے مسئلہ کو ہمارے سامنے پیش کرنا غلطی ہے کیونکہ اس مسئلہ پر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے بعد اس کی اہمیت کے مطابق زور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہی دیا ہے۔ خواجہ صاحب میری اس بات کو میری دوسری باتوں کے متضاد خیال کرتے ہیں کیونکہ وہ پوچھتے ہیں کہ اگر حریت و مساوات اصولِ اسلام میں سے نہیں ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پر زور کیوں دیا۔ مَیں حیران ہوں کہ خواجہ صاحب اس قدر بات بھی نہیں سمجھ سکتے کہ کسی بات پر زور دینے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ بات اَصول میں شامل ہو۔ ہر ایک چیز اپنے موقع کے مناسب توجہ چاہتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک بات چھوٹی ہو اور کسی وقت اس کی طرف کم توجہ ہو رہی ہو اس وقت بڑی باتوں کی نسبت اس کی طرف زیادہ توجہ کی جائے گی اسی طرح یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک بات خود چھوٹی ہو لیکن بڑی باتوں کے ساتھ وابستہ ہو گئی ہو۔ اس لئے بڑی باتوں کی طرف توجہ کرتے وقت اس کی طرف توجہ لازماً کرنی پڑے۔ چونکہ لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف توجہ دلاتے وقت اس امر کا یقین دلانا بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا دروازہ ہر ایک شخص کے لئے کھلا ہے اس لئے لوگوں کو خدا تعالیٰ تک لانے کی غرض سے نہ کہ مساوات کا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے اس امر پر بھی زور دینا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ کسی قوم یا کسی ملک کے لئے بند نہیں کیا گیا۔

مذہبی اور مالی مساوات میں فرق

دوسرا اعتراض خواجہ صاحب کو یہ ہے کہ جب مَیں نے مذہبی مساوات کو تسلیم کیا ہے تو کیوں مالی مساوات کو تسلیم نہیں کرتا۔ اگر ایک کو تسلیم کیا ہے تو اًصولاً دوسری کو بھی تسلیم کرنا ہو گا۔ یہ اعتراض بھی ان کا قلتِ تدبر سے پیدا ہوا ہے۔ مذہبی مساوات پر مالی مساوات کو قیاس نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہم اس قسم کی مذہبی مساوات کے قائل ہیں جس قسم کی مالی مساوات پر خواجہ صاحب کو اصرار ہے۔ اور جس کے وہ خود بھی عامل نہیں ہیں۔

مذہبی مساوات پر مالی مساوات کا قیاس اس لئے نہیں کیا جا سکتا کہ اوّل تو مذہبی مساوات کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ انسان اپنے مذہب میں سے زائد بچا ہوا دوسرے کو دے دیتا ہے کہ ہم پر یہ الزام لگایا جائے کہ جب تم مذہبی مساوات کے قائل ہو تو کیوں مالی مساوات کے قائل نہیں ہو۔ مذہب مال کی طرح نہیں کہ خرچ کرنے سے خرچ ہو جاتا ہو بلکہ مذہب اگر دوسروں کو پہنچایا جائے تو اصل چیز پہنچانے والے کے پاس ہی موجود رہتی ہے۔ اور جس کو پہنچائی جاتی ہے وہ اگر دعوت کو قبول کرے تو اس کو اسی قسم کی اور چیز مل جاتی ہے نہ کہ وہ جو دعوت دینے والے کے پاس تھی۔ پس مالی مساوات کو مذہبی مساوات پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے جو جائز نہیں۔

اسلام کی قائم کردہ مالی مساوات

علاوہ ازیں جس قسم کی مذہبی مساوات اسلام نے قائم کی ہے۔ اس قسم کی مالی مساوات بھی قائم ہے۔ اور اس سے کسی کو انکار نہیں یعنی جس طرح اسلام ہر ایک شخص کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ حق کو قبول کرے اسی طرح یہ بھی دعوت دیتا ہے کہ ہر ایک شخص اپنی فطرتی قوتوں سے کام لے کر دنیاوی ترقی بھی کرے اور جس طرح اسلام اس امر کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی کے اعمال کسی اور کی طرف منسوب کر دئیے جائیں اسی طرح یہ بھی جائز نہیں رکھتا کہ کسی کا مال کسی کے حوالہ کر دیا جائے پس اوّل تو مذہبی اُمور کا قیاس مِنْ كُلِّ الْوُجُوْہِ مالی معاملات پر کیا ہی نہیں جاسکتا اور جس حد تک کیا جاسکتا ہے اس کا اس مسئلہ زیر بحث سے کوئی تعلق نہیں۔ اور اس کے بیان کرنے سے خواجہ صاحب کا مدعا ثابت نہیں ہوتا۔

حریت اور مساوات اور اُصول اسلام

میں نے اپنے مضمون میں قرآن کریم کی رو سے اصولِ اسلام لکھے تھے اور خواجہ صاحب ان کو تسلیم کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی اس امر پر بھی زور دیتے ہیں کہ سوائے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے باقی تمام اصول بالذات مقصود نہیں ہیں۔ حالانکہ اس امر کا سوال ہی نہ تھا کہ کون سے اصول بالذات مقصود ہیں اور کون سے بالذات مقصود نہیں ہیں۔ سوال تو یہ تھا کہ جو اُصول قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں ان میں حریت و مساوات شامل نہیں پس اس بحث میں پڑ جانا کہ نبیوں کا ماننا یا نہ ماننا ، کتابوں کا ماننا یا ملائکہ کو ماننا بالذات مقصود ہے یا نہیں ایک لغو بحث ہے وہ بالذات مقصود ہوں یا نہ ہوں سوال تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو اصولِ اسلام قرار دیا ہے اور کسی کا حق نہیں کہ ان کے سوائے اپنے پاس سے اُصول بنالے۔

نماز روزہ میں مساوات

نماز روزہ وغیرہ احکام کو بھی اصول تسلیم کرتے ہوئے خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ ان میں بھی مساوات کو مدنظر رکھا گیا۔ پس اس بحث

میں نہیں پڑوں گا کہ کس حد تک ان احکام میں مساوات کو تسلیم کیا گیا ہے اور کن اصول کے ماتحت لیکن میں خواجہ صاحب کو دوبارہ ان کی اس غلطی پر آگاہ کر دینا چاہتا ہوں کہ کسی نظام کے اُصول میں جو بات مدنظر رکھی جائے وہ بھی اس کے اصول میں شامل ہو جاتی ہے۔ تمام انجمنوں میں ممبروں کی حیثیت برابر کی ہوتی ہے لیکن ان انجمنوں کے ممبروں سے پوچھ کر دیکھ لو وہ کبھی اپنی انجمن کے اصول میں مساوات کو بیان نہ کریں گے۔ مثلاً انجمن حمایتِ اسلام ہے یا اور بہت سی اسلامی یا آریہ یا سکھوں کی مجالس ہیں۔ ان سے جب اُصول پوچھے جاویں گے تو وہ یہ کبھی نہ کہیں گی کہ ہماری انجمن کا بڑا اصل مساوات ہے۔ بلکہ جس غرض کے لئے ان کو بنایا گیا ہے اس کا نام لیں گی۔ غرض کسی نظام کے اُصول اور ہوتے ہیں اور وہ باتیں جو نظام کے تیار کرتے وقت مدنظر رکھی جاتی ہیں اور ہوتی ہیں ان دونوں میں فرق نہ سمجھنے کے سبب سے خواجہ صاحب ایک حل نہ ہونے والے عُقدہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔

خدا کو مطلق العنان اور مُضِلّ کہنے میں فرق

خواجہ صاحب نے خدا تعالیٰ کے متعلق ”مطلق العنان“ کا لفظ استعمال کیا تھا میں نے ان کو اس پر توجہ دلائی تھی کہ یہ لفظ خدا تعالیٰ کی نسبت استعمال کرنا جائز نہیں۔ خواجہ صاحب اس پر دبی زبان میں اپنی غلطی کا اقرار کرتے ہوئے یہ بات پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں مُضِلّ بھی ہے۔ مجھے اس بات کو پڑھ کر خواجہ صاحب کی دینی واقفیت کی کمی پر افسوس آیا۔ یہ بات ایسی موٹی ہے کہ ہمارے بچے بھی اس کا جواب دے سکتے ہیں۔ اور جس نکتہ کو خواجہ صاحب نہایت باریک سمجھے ہوئے ہیں ہمارے اَن پڑھ بھی اس سے واقف ہیں۔ اگر خواجہ صاحب ذرا بھی غور کرتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ خدا تعالیٰ کی نسبت مطلق العنان کا لفظ استعمال کرنا اور اِضلال کو اس کی طرف نسبت دینا دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اِضلال کے معنے عربی زبان میں صرف گمراہ کرنے کے نہیں ہوتے بلکہ اس کے معنے گمراہی کی طرف منسوب کرنے کے اور ہلاک کرنے کے بھی ہوتے ہیں اور ہر ایک لفظ کے معنے اس شخص کی ذات کو مدنظر رکھ کر کئے جاتے ہیں جس کے لئے وہ استعمال کیا گیا ہو جیسے جبر کے معنے اصلاح کے بھی ہیں اور دوسرے کو ذلیل کر کے آپ عزت حاصل کرنے کے بھی ہیں جب خدا تعالیٰ کی نسبت یہ لفظ استعمال ہو گا تو اس کے معنے ہمیشہ اصلاح کے ہوں گے اور جب بندہ کی نسبت استعمال ہو گا تو ہمیشہ اس کا مطلب دوسروں کو دبا کر خود بڑائی حاصل کرنا ہو گا اسی طرح اِضلال جب بندوں کی طرف منسوب ہو گا تو اس کے معنے اس کے مناسبِ حال ہوں گے اور جب خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہوگا تو ہمیشہ اس کے معنے گمراہ قرار دینے یا ہلاک کرنے کے ہوں گے اور ان معنوں میں خدا تعالیٰ کی نسبت یہ لفظ استعمال کرنا نہ قابلِ اعتراض ہے نہ اس کے سمجھنے میں کوئی دِقّت ہے۔ لیکن مطلق العنان کا لفظ بالکل جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے کوئی اچھے معنے نہیں ہیں۔ نہ لغتًا نہ محاورۃً۔ پس اضلِال پر اس کا قیاس نہیں کیا جا سکتا۔

مساوات ہر جگہ جاری نہ ہونے کے متعلق اعتراض

مَیں نے اپنے پہلے مضمون میں لکھا تھا کہ مساوات بلا دیگر اُمور پر نظر رکھنے کے ہر جگہ جاری نہیں ہوتی چنانچہ قرآنِ کریم میں حضرت ابراہیمؑ کی اولاد کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَجَعَلۡنَا فِیۡ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَالۡکِتٰبَ(العنکبوت: ۲۸) خواجہ صاحب اس کے جواب میں مجھ پر دو اعتراض کرتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ میں نے اس استثناء کو ترک کر دیا ہے جو قرآنِ کریم نے بیان فرمایا ہے یعنی لَا یَنَالُ عَہۡدِی الظّٰلِمِیۡنَ(البقرۃ: ۱۲۵) اور دوسرا اعتراض یہ کرتے ہیں کہ اگر اس آیت کے وہ معنی ہیں جو میں نے کئے ہیں تو پھر لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ(یونس: ۴۸) کے کیا معنی ہوں گے۔ یہ دونوں اعتراض بھی قلّتِ تدبر کا نتیجہ ہیں۔ پہلا اعتراض یہ کہ لَا یَنَالُ عَہۡدِی الظّٰلِمِیۡنَ(2:125) سے ظالموں کو مستثنیٰ کر دیا ہے اس لئے غلط ہے کہ اس جگہ یہ سوال نہ تھا کہ ابراہیمؑ کی اولاد میں سے کس کو خدا تعالیٰ نبی بنائے گا۔ بلکہ سوال یہ تھا کہ ایک عظیم الشان انعام اللہ تعالیٰ نے دوسری قوموں کے مقابلہ میں آلِ ابراہیمؑ کے ساتھ مخصوص کر دیا ہے۔ پس اگر بعض آلِ ابراہیمؑ بھی اس انعام سے محروم کر دیئے گئے ہیں تو اس سے خصوصیت میں فرق نہیں آتا۔ آلِ ابراہیمؑ کا امتیاز پھر بھی باقی ہے کہ ایک عظیم الشان انعام ان میں سے ایک فرد کے لئے مخصوص کر دیا گیا ہے۔

دوسرا اعتراض اس لئے غلط ہے کہ سب قوموں میں نبی آنے کے یہ معنی نہیں کہ ہمیشہ سب قوموں میں نبی آتے رہیں گے۔ وعدہ ابراہیمی کے پورا ہونے کے وقت سے پہلے پہلے ہر ایک قوم میں نبی آچکے تھے۔ مگر جب وعدہ ابراہیمی کے پورا ہونے کا وقت آیا تو یہ فیض آلِ ابراہیمؑ کے ایک فرد سے مخصوص کر دیا گیا۔ اور اب آلِ ابراہیمؑ کے فیض سے باہر ہوکر کوئی فیض نہیں۔ پس وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلًا(النحل: ۳۷) کی آیت سے اس وعدہ الٰہی پر تب اعتراض پڑ سکتا تھا کہ اگر حضرت ابراہیمؑ ابتدائے عالم میں پیدا ہوئے ہوتے۔ کیونکہ اس صورت میں اگر نبی ان ہی کی اولاد سے آتے تو باقی تمام اقوام اس فیض سے محروم رہ جاتیں۔ یا یہ اعتراض تب پڑ سکتا تھا کہ اگر آئندہ فیض ایمان ان کی اولاد سے مخصوص کر دیا جاتا۔ لیکن جب تمام اقوامِ عالم میں نبی مبعوث ہونے کے بعد آخری زمانہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے اس وعدہ کو پورا کیا اور جبکہ آپؐ پر ایمان لانے کا دروازہ سب دنیا کے لئے کھلا چھوڑا تو دونوں آیتوں کا مفہوم ایک وقت میں پورا ہو گیا۔ فیض نبوت ہمیشہ کے لئے آل ابراہیمؑ کے ساتھ بھی مخصوص ہو گیا اور سب اقوام میں نبی بھی آگئے۔ کیا بلحاظ اس کے کہ آپؐ کی بعثت سے پہلے سب عالم میں نبی آچکے تھے اور کیا بلحاظ اس کے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت صرف عرب نہ قرار دیئے گئے۔ بلکہ سب جہان کے انسان آپ کی امّت قرار دیئے گئے یہی معنی ہیں جن سے دونوں آیتوں کے معنوں میں تطابق رہتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ ”ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ اس فیضان کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ کوئی شخص حضرت ابراہیمؑ کی اولاد میں سے مہرِ تاباں سے روشنی لئے بغیر بارگاہِ الٰہی تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔“

معلوم ہوتا ہے کہ خواجہ صاحب نے اعتراض کرتے وقت وہ معنے اپنے ذہن میں نہیں رکھے جو میں نے کئے تھے اور اپنے ذہنی معنوں کی بناء پر مجھ پر اعتراض کر دیا ہے۔

تقسیم دولت اور وحدت

پھر خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ ہم نے تو واضح طور پر لکھ دیا ہے کہ اصل الاصول وحدت ہے جو کثرت کو ایک مرکز پر لاتی ہے اس لئے تقسیم دولت اسی اصول کے ماتحت ہونی چاہئے۔ خواجہ صاحب نہ معلوم توحید اور تقسیمِ مال کو ایک اصل کے نیچے کیونکر لاتے ہیں۔ ان کا ایک دوسرے پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔ خواجہ صاحب خود بھی اس امر کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ اس پر عامل ہیں کہ کُلّ دنیا کے اموال آپس میں برابر تقسیم ہو کر سب لوگ برابر ہوں۔ وحدت اور برابری تو ایک ایسا مشکل کام ہے کہ اس کا پورا کرنا ناممکن ہے۔ وحدت اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک کہ مکان و لباس، کھانا، انتخابِ مَرد و عورت، آب و ہوا، اور کام سب میں برابری نہ ہو۔ یہ تو کوئی برابری نہیں کہ زائد بچا ہوا مال دوسرے کو دے دے۔ جب برابری ہے تو ایک قسم کا لباس سب کا ہونا چاہئے۔ سوائے اسکے کہ ایک شخص خود ہی کسی خاص قسم کے لباس سے انکار کر دے۔ پھر ایک قسم کا مکان اور ایک قسم کی جگہ پر ہونا چاہئے ۔ سوائے اس کے کہ خود کوئی شخص کسی ادنیٰ جگہ کو قبول کرے۔ پھر ایک قسم کا انتخابِ ازواج ہونا چاہئے۔ پھر ایک قسم کی آب و ہوا میں رہنے کا سب کو موقع ملنا چاہئے۔ سوائے اس کے کہ کوئی شخص خود اپنے حق کو چھوڑ دے۔ پھر ایک قسم کا کام ہونا چاہئے سوائے اس کے کہ کوئی شخص خود دوسرا کام پسند کرے۔ مگر باوجود اس کے پوری برابری پھر بھی نہ ملے گی۔ کئی ایسے نقائص ملیں گے جن کا دُور کرنا اختیار سے باہر ہو گا۔ لیکن کیا کوئی عقلمند اس قسم کی برابری کے امکان کا خیال بھی کر سکتا ہے۔ بالشوکس نے کوشش کی لیکن اب تک ناکامی کا منہ دیکھ رہے ہیں۔ پس حق وہی ہے جو اسلام نے بیان کیا کہ ہر شخص کو اس کی محنت کا پھل دے کر پھر اس پر ایسے لوگوں کی مدد مقرر کر دی جو کمزور ہیں اور ایک حصہ مدد کا فرض کر دیا اور دوسرا بطور نفل کے رکھا تاکہ مختلف مدارجِ رُوحانیہ کے آدمی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کریں اور فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ(البقرۃ: ۱۴۹) کے حکم کی تعمیل کریں۔

خواجہ صاحب جس مساوات کی طرف دُنیا کو دعوت دیتے ہیں۔ وہ عقلاً بھی نہایت مضر ہے۔ کیونکہ اگر اس پر عمل کیا جائے تو بہت سے لوگ سُست ہو جائیں اور دنیا کی تمام ترقی رُک جائے۔

مال کما کر بطور امانت رکھنا

عجیب بات یہ ہے کہ خواجہ صاحب ایک طرف تو مساوات پر زور دیتے ہیں اور دوسری طرف یہ قانون بھی بتاتے ہیں کہ جس نے مال کمایا ہے وہ اسی کے پاس امانت رہے۔ امانت تو تب رکھی جاتی ہے جب امانت رکھنے والے کو اس مال کی ضرورت نہ رہے جب کہ دُنیا میں بعض زیادہ مالدار اور بعض بالکل غریب نہ ہوں۔ لیکن جب کہ یہ بات نہیں ۔ بلکہ دنیا کے لوگوں میں بہت بڑا فرق موجود ہے تو پھر امراء کے پاس مال امانت پڑا رہنے کا کیا مطلب ہوا ؟ اس کو ان لوگوں میں تقسیم کرنا چاہئے جو خواجہ صاحب کے نزدیک اس کے اہل ہیں ۔

خواجہ صاحب کی پیش کردہ آیت کا صحیح مطلب

خواجہ صاحب اپنے دعویٰ کی تائید میں قرآن کریم کی آیت ’ وَالَّذِیۡنَ یَکۡنِزُوۡنَ الذَّہَبَ وَالۡفِضَّۃَ وَلَا یُنۡفِقُوۡنَہَا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ(التوبہ: ۳۴) ‘ سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ اس میں سے مال کی مساوی تقسیم کا فتویٰ نکلتا ہے۔ حالانکہ اس سے یہ بات ہرگز نہیں نکلتی ۔

اول تو اس آیت کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ لوگ جو اس وقت جب کہ دین کے راستہ میں مشکلات ہوتی ہیں دین کی اشاعت میں روپیہ صرف نہیں کرتے بلکہ روپیہ جوڑتے رہتے ہیں سزا کے مستحق ہیں۔ مساوی تقسیم کا یہاں سوال ہی نہیں۔ فی سبیل اللہ سے مراد قرآن کریم میں اشاعتِ دین و نصرتِ دین ہوتی ہے۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ جب دین اور دُنیا کا مقابلہ ہو جائے تو ہر شخص کا فرض ہے کہ اپنا مال اور اپنی جان اور اپنی عزت اور وطن اور دولت سب کچھ دین کے لئے قربان کر دے اور

جو شخص ایسا نہیں کرتا خدا تعالیٰ کے حضور سزا کا مستحق ہے جس جس قدر دین کی اشاعت کے لئے مال کی ضرورت پیش آئے۔ اسی اسی قدر مال اس کی راہ میں دینا ہر مؤمن کا فرض ہے۔

اگر اس آیت کے یہ معنے بھی کر لئے جائیں کہ اس سے عام لوگوں پر خرچ کرنا مراد ہے تو بھی اس امر کو ملحوظ رکھنا ہو گا کہ اس جگہ ”یَکْنِزُوْنَ“ کا لفظ ہے اور کنز کرنا اور مال کا پاس رکھنا بالکل جداگانہ باتیں ہیں۔ خواجہ صاحب نے خود اپنے مضمون میں علم الاقتصاد کا حوالہ دیا ہے پس ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ کنز کرنے کے معنے جوڑنے کے ہیں۔ جسے انگریزی میں ہورڈنگ (HOARDING) کہتے ہیں اور اس کو تمام علم الاقتصاد کے ماہر ایک خطرناک عیب قرار دیتے ہیں۔ لیکن باوجود اس کے مالدار ہونے کو کوئی عیب نہیں قرار دیتا اور جس شخص نے روپیہ کمایا ہے اس کو اس مال کے تقسیم کر دینے کی ہدایت نہیں کرتا۔ ہمارے مْلک میں بھی بخیل بُرا سمجھا جاتا ہے لیکن ہر وہ شخص جس کے پاس جائیداد ہو بخیل نہیں کہلاتا۔ پس اگر اس آیت میں عام حکم ہے تو بھی اس میں روپیہ جوڑنے سے منع فرمایا ہے نہ کہ مال کی برابر تقسیم کا حکم دیا ہے۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ اسلام روپیہ جوڑنے سے منع فرماتا ہے اور اسی لئے شریعت نے زکوٰۃ کا حکم دیا ہے۔ تاکہ کوئی شخص روپیہ نہ جوڑا کرے۔ جو روپیہ جوڑے گا ساٹھ ستر سال کے عرصہ میں اس کا سب مال غرباء میں زکوٰۃ کے ذریعہ تقسیم ہو جائے گا پس مال جوڑنا شرعاً ناپسند ہے۔ اور ایسا شخص جو مال جوڑتا ہے واقع میں اسلام کے خلاف کرتا ہے۔ لیکن اگر کسی کا روپیہ تجارت میں لگا ہوا ہے یا زمینوں یا مکانوں پر۔ تو ایسا شخص اگر زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور غریبوں اور مسکینوں کی خبرگیری کرتا ہے تو اسے شریعت مجبور نہیں کرتی کہ وہ اپنا سب مال برابر حصہ کر کے غرباء میں تقسیم کر دے اور مساوات قائم کرے اور نہ اس کو گنہگار قرار دیتی ہے غرض اگر اس آیت کا مفہوم عام ہے تو بھی اس میں روپیہ جوڑنے سے منع کیا ہے۔ کیونکہ جو شخص روپیہ جوڑتا ہے وہ مال کو بیکار پڑا رہنے دیتا ہے اور اس سے دُنیا کو نقصان پہنچتا ہے۔ شریعتِ اسلام اس امر کو پسند کرتی ہے کہ روپیہ کام پر لگا رہے تاکہ اس سے دوسرے لوگ بھی فائدہ اُٹھائیں۔ مثلاً جو شخص روپیہ تجارت پر لگائے گا اس سے علاوہ لوگوں کو خرید و فروخت کے فائدہ کے یہ بھی فائدہ ہو گا کہ کئی لوگوں کی تجارت کو اس سے فائدہ پہنچے گا۔ کئی لوگ اس کے ہاں ملازم ہو سکیں گے۔ مال کے بڑھنے سے اسے غریبوں کی مدد کرنے کا بھی زیادہ موقع ملے گا۔ درحقیقت روپیہ کا جوڑنا ایک ایسا گندہ فعل ہے جو مسلمان کر ہی نہیں سکتا۔ لیکن اس بات میں اور مال کو برابر تقسیم کرنے یا مالی مساوات قائم کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

خواجہ صاحب کا عجیب استدلال

خواجہ صاحب نے اس آیت سے یہ بھی استدلال کیا ہے کہ اس میں وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ”اور نہیں خرچ کرتے اس سے“۔ یہ نہیں فرمایا ”کہ نہیں خرچ کرتے اس میں سے“۔ پس معلوم ہوا کہ سب مال خرچ کر دینا چاہئے۔ اول تو یہ معنی بالبداہت غلط ہیں کیونکہ اس صورت میں اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ انسان جو کچھ کمائے اسے روز کے روز خرچ کرتا چلا جائے کیونکہ اگر وہ آج کی مزدوری میں سے کچھ رقم اس لئے رکھ لے گا کہ کل کام آوے گی تو یہ اس آیت کے خلاف ہوگا کیونکہ اپنی ذات کے لئے جمع کرنا اس میں منع کیا ہے۔ اور اگر جمع بھی کرے تو پھر اس جمع شدہ میں سے اپنی ذات پر خرچ کرنا منع ہوگا۔ لیکن اس بات کا دعویٰ خواجہ صاحب نہیں کرتے اور عقلاً بھی ایسے معنے کرنے محال ہیں پس اس کے یہ معنے ہو ہی نہیں سکتے۔ باقی رہا يُنْفِقُوْنَهَا سے استدلال۔ سو یہ استدلال بوجہ عربی زبان سے ناواقفیت کے ہے۔ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ کُل اور بعض اور ایسے ہی عام الفاظ کو حذف کر دیا جاتا ہے اور کبھی عام الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں اور اس سے بعض حصہ مراد ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کی نسبت فرماتا ہے وَجَعَلَکُمۡ مُّلُوۡکًا(المائدة: ۲۱) اور تم کو بادشاہ بنا دیا۔ حالانکہ سب بنی اسرائیل بادشاہ نہ تھے ان میں سے بعض بادشاہ تھے۔

غرض ھا سے یہ استنباط کرنا کہ سب مال تقسیم کر دینے کا حکم ہے۔ درست نہیں کیونکہ عربی زبان کے قواعد کے مطابق ھا سے بَعْضُهَا بھی مراد ہو سکتا ہے۔ اور یہ ایک ایسا موٹا قاعدہ ہے کہ علوم عربیہ کے واقف کاروں میں سے ادنیٰ واقف بھی اس مسئلہ کو جانتا ہے۔

اسلام میں تفرقہ کی ایک وجہ مال کا حسد تھی

خواجہ صاحب نے اپنے مضمون میں مجھ پر یہ بھی اعتراض کیا ہے کہ شروع زمانہ اسلام کے وجوہ تفرقہ میں جو میں نے یہ بات بیان کی ہے کہ صحابہؓ کے پاس مال دیکھ کر دشمنوں نے حسد سے ان پر اعتراض کئے اور لوگوں میں پھیلانا شروع کیا کہ یہ دوسروں کا حق مار کر مالدار ہو رہے ہیں یہ میری اختراع ہے۔ مجھے ان کی اس تحریر کو پڑھ کر ان کی علمیت پر سخت تعجب اور حیرت ہوئی جس شخص کو تاریخ کا اس قدر علم بھی نہ ہو وہ ایسے مباحث پر لکھنے بیٹھے جن میں تاریخ کا علم ضروری ہے تو اس کی دلیری پر تعجب ضرور ہوتا ہے۔ خواجہ صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے۔ اس کی تائید کے لئے مختلف تاریخوں کی ورق گردانی کی بھی ضرورت نہیں۔ صرف اس مشہور تاریخ کا حوالہ دینا کافی ہے۔ جو زمانہ اسلام کی تاریخوں کی ماں کہلانے کی مستحق ہے یعنی طبری اس کتاب میں حضرت عثمان کے زمانہ کے اختلاف کی وجوہ میں یہ بات لکھی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں کے حقوق کا پورا خیال رکھتے تھے ۔ مگر وہ لوگ جن کو اسلام میں سبقت حاصل نہ تھی چونکہ نہ تو صحابہؓ کے برابر عزت پاتے تھے اور نہ ان کے برابر اموال میں حصہ پاتے تھے اس پر ان لوگوں نے اس تفضیل پر گرفت شروع کردی اور اسنے ظلم قرار دینے لگے۔ لیکن عامۃ الناس سے ڈر کر اپنے خیالات کو ظاہر نہ کرتے تھے صرف خفیہ طور پر یا ناواقف مسلمانوں میں یا آزاد شدہ غلاموں میں یہ باتیں پھیلاتے تھے۔ اسی طرح طبری لکھتا ہے کہ حضرت ابوذر غفاریؓ کو ابن سوداء نے جوش دلا کر امراء کے خلاف کھڑا کیا تھا۔۱؎ پس خواجہ صاحب گو یہ بات کہیں کہ یہ تاریخی شہادت کمزور ہے لیکن ان کے لئے یہ جائز نہیں کہ اس تاریخی شہادت کے وجود کا انکار ہی کر بیٹھیں کیونکہ یہ بات صرف ان کی جہالت پر دلالت کرے گی۔

عفو کے معنی اور تفاسیر

خواجہ صاحب اس امر پر بھی اعتراض کرتے ہیں کہ میں نے عفو کے معنی تفسیروں سے کیوں بیان کئے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مجھے خواجہ صاحب کا مشرب معلوم نہ تھا۔ چونکہ عام طور پر مسلمان تفاسیر سے باہر کوئی بات سننا پسند نہیں کرتے اس لئے میں نے تفاسیر کے حوالے دیئے۔ ورنہ ہمارا علم کلام شاہد ہے اور دشمن سے دشمن بھی جانتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے تفاسیر کی قید سے آزاد ہیں۔ ہم مفسرین کی خدمت کے مقر ہیں مگر جو ان کی بات درست ہو اس کو شکر گزاری سے اس کے بدلائل ثابت ہونے کے سبب سے لیتے ہیں اور جو ان کی بات غلط ہو اس کو رد کر دیتے ہیں اور اس کی بجائے خود مستقل تفسیر کرتے ہیں۔ مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ تفاسیر کے بیان کو نقل کرنے سے میری مراد صرف ان کے خیالات بتانا ہی نہ تھی بلکہ عفو کے جو معنے ان لوگوں کے نزدیک ثابت ہیں ان کا بتانا بھی مدنظر تھا اور اس میں کیا شک ہے کہ عربی زبان کے متعلق اہل عرب کی تحقیق ہی ہمارے لئے خضر راہ بن سکتی ہے۔

کسی چیز کے مستحق کے پاس اس چیز کا رہنا

خواجہ صاحب نے اپنے اس مضمون میں مجھ پر مختلف اعتراض کرنے کے ساتھ ساتھ پھر اس امر پر زور دیا ہے کہ انسان چونکہ خلیفۃ اللہ ہے اس لئے جو شخص جس چیز کا مستحق ہے وہ اس کے پاس رہنی چاہئے ۔ میں بھی اس امر کو تسلیم کرتا ہوں کہ جو شخص جس چیز کا مستحق ہے وہ اس کے پاس رہنی چاہئے ۔ لیکن نہ تو انسان کے خلیفۃ اللہ ہونے سے اس کے متعلق کوئی استدلال ہو سکتا ہے اور نہ مستحق کے یہ معنے ہیں کہ مساوات کی جائے ۔ بلکہ ہر شخص جو جائز ذرائع سے مال کماتا ہے وہ اس کا مستحق ہے اور وہ مال اس کے پاس رہنا چاہئے کوئی شخص اس سے جبراً نہیں چھین سکتا۔ سوائے اس کے کہ اس سے خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ حق زکوٰۃ وصول کرے یا اور دوسرے معین حقوق وصول کرے۔ ہاں بنی نوع انسان کے اندر محبت و الفت کے بڑھانے اور تقویٰ کے درجوں کو بڑھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے صدقہ و خیرات کی تحریک مؤمن کو کی ہے۔ پس ہر ایک شخص جس قدر زیادہ تقویٰ میں بڑھا ہوا ہوتا ہے اسی قدر غرباء اور مساکین کی خبرگیری کرتا ہے۔ مگر اس پر اسے مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنا گزارہ لے کر باقی سب مال غرباء میں تقسیم کر دے۔

عورت کا ورثہ

عورت کے ورثہ کے متعلق خواجہ صاحب نے اپنے پہلے مضمون میں لکھا تھا کہ اس کا ورثہ اس لئے آدھا ہے کہ وہ اپنے خاوند کی بھی وراثت ہوتی ہے۔ میں نے ان کو اس تحریفِ قرآنی پر آگاہ کیا تو انہوں نے اس غلطی کے قبول کرنے میں کوئی چارہ نہ دیکھا مگر پھر بھی اپنی بات رکھنے کے لئے انہوں نے اپنے تازہ مضمون میں اس طرح بات بنائی ہے کہ عورت اگر سو روپیہ کمائے گی تو مرد چار سو اس لئے جب وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے تو عورت کا حصہ دُگنا ہو جائے گا۔ مگر یہ بات کٹ حجتی سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی کیونکہ عورت نے اپنے تمام رشتہ دار مردوں اور رشتہ دار عورتوں کے اموال سے سوائے شاذ حالت کے آدھا ورثہ پایا ہے اور مرد نے پورا۔ پس کسی صورت میں بھی عورت کا حصہ مرد کے برابر نہیں ہو سکتا۔ میں نے خواجہ صاحب کو وَلِلرِّجَالِ عَلَیۡہِنَّ دَرَجَۃٌ(البقرۃ: ۲۲۹) آیت کی طرف بھی توجہ دلائی تھی اور بتایا تھا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرد اور عورت میں شریعت نے مِنْ کُلِّ الْوُجُوْہ مساوات نہیں رکھی خواجہ صاحب اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اگر مرد کو اس کی طاقت کی وجہ سے عورت کی حفاظت کا حق دیا گیا ہے تو اس حق کا اسے غلط استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ میں اس جواب پر حیران ہوں کہ اس کے لکھتے ہوئے خواجہ صاحب کو اس قدر بھی خیال نہ آیا کہ سوال کیا تھا اور میں جواب کیا دے رہا ہوں۔ ظلم یا انصاف کا یہاں سوال نہ تھا۔ میں نے تو یہ بتایا تھا کہ معاملات میں بعض ایسے حقوق مرد کو دیئے گئے ہیں جو عورت کو نہیں دیئے گئے اور اس کو انہوں نے تسلیم کر لیا ہے۔ مرد خواہ انصاف سے ان حقوق کا استعمال کرے خواہ ظلم سے مساوات بہرحال نہ رہی۔

شریعت نے عورت کی اصلاح کا ایک طریق مارنا رکھا ہے

میں نے لکھا تھا کہ مرد کو حق ہے کہ اگر عورت کو ناشزہ پائے اور اور ذرائع سے اس کی اصلاح نہ ہو تو اس کو مارے۔ لیکن عورت کو یہ حق نہیں۔ پس مساوات نہ رہی۔ خواجہ صاحب اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ(النساء: ۳۵) میں رجال سے مراد فرقۂ ذکور اور نساء سے مراد فرقۂ نساء ہے۔ اور خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَیۡنِہِمَا(النساء: ۳۶) میں ضمیر جمع مخاطب اسی جمہور کی طرف راجع ہے اور بَیْنِهِمَا میں میاں بیوی کی طرف یعنی سزا دینا پنچایت کے اختیار میں ہے۔ اول تو یہ معنے ہی باطل ہیں ۔ کیونکہ اِنۡ خِفۡتُمۡ(4:102) والی آیت بعد کی ہے اور وَالّٰتِیۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَہُنَّ(النساء: ۳۵) والی آیت پہلے کی ہے۔ اور دوسرے کوئی شریف آدمی اس امر کو برداشت نہیں کر سکتا کہ پنچایت بیٹھ کر اس کے متعلق یہ فیصلہ کرے کہ وہ اس قدر عرصہ تک اپنی بیوی سے ہم صحبت نہ ہو۔ یہ امر تو خاوند کے اختیار میں ہے اور اسی کو شریعت نے اختیار دیا ہے لیکن اگر یہ معنے بھی تسلیم کر لئے جاویں تب بھی سوال وہی رہتا ہے کہ عورت کے نشوز پر تو پنچایت کو مارنے کا حکم دیا ہے لیکن مرد کو مارنے کا حکم پنچایت کو بھی نہیں دیا۔ پس پھر بھی مساوات نہ رہی۔

تعدادِ ازواج اور خواجہ صاحب

ایک سے زیادہ بیویاں کرنے کے متعلق خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ مرد کو اس کی حسب پسند ایک سے زیادہ نکاح جائز نہیں۔ مگر فَانۡکِحُوۡا مَا طَابَ لَکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ(النساء: ۴) کی موجودگی میں یہ دعوٰی ایک دعوٰی بلا دلیل سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ خواجہ صاحب حدیث کا انکار کر دیں مگر تاریخ کا انکار تو نہیں کر سکتے۔ آج کل کے آزاد خیالوں نے یہ عجیب طریقہ اختیار کیا ہے کہ حدیث کا تو انکار کر دیتے ہیں جو تاریخ سے زیادہ پختہ دلائل سے ثابت ہے۔ مگر تاریخ کو قبول کر لیتے ہیں جس کی بناء حدیث کی صحت کے دلائل کی نسبت نہایت کمزور دلائل پر ہے، تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی رضوان اللہ علیہم کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں۔ کیا عقل اس امر کو تسلیم کر سکتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے بزرگوں کو ایسی مجبوریاں پیش آ گئی تھیں کہ جن کی موجودگی میں ایک سے زیادہ نکاح کے بغیر چارہ نہ تھا۔

عورت کا نفلی روزہ

مَیں نے لکھا تھا کہ عورت کو نفلی روزہ رکھنا بلا خاوند کی اجازت کے جائز نہیں۔ اس پر خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ کیا خاوند کو جائز ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خواجہ صاحب کو علمی مباحث میں پڑنے سے پہلے شریعت کے موٹے موٹے مسائل کی واقفیت ضرور حاصل کر لینی چاہئے ان کو یاد رہے کہ شریعتِ اسلام نے اگر روزہ کے متعلق کچھ قواعد بنائے ہیں تو مرد کے لئے بھی نفلی روزہ کی قید رکھی ہے مگر اس میں عورت سے اجازت لینے کی شرط نہیں رکھی۔ عورت کے لئے یہ شرط مقرر کی ہے کہ وہ خاوند سے اجازت لے اور میرا منشاء اس حکم کے پیش کرنے سے صرف یہ ہے کہ مِنْ كُلِّ الْوُجُوْہِ مساوات کا مسئلہ شریعت کے خلاف ہے مساوات بعض دفعہ نہایت خطرناک ہوتی ہے اور بجائے اس سے فائدہ پہنچنے کے نقصان پہنچ جاتا ہے اور اس کی خوبیاں نسبتی خوبیاں ہیں اور اس کی شکلیں بھی ہزاروں ہیں۔ بعض دفعہ جو چیز مساوات نظر آتی ہے وہ عدم مساوات ہوتی ہے۔

عورت کے لئے نکاح کے وقت ولی کی ضرورت

مَیں نے یہ بھی لکھا تھا کہ عورت کو نکاح کے لئے کسی ولی کی وساطت کی ضرورت رکھی گئی ہے لیکن مرد کے لئے ایسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی۔ خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ اگر ایسا کیا گیا ہے تو اسی کے فائدہ کے لئے ہے کیونکہ مرد کے عیوب سے عورت واقف نہیں ہوتی۔ اس لئے کسی مرد کی ولایت میں نکاح کرنے کا اسے حکم دیا گیا تا مردوں کے ذریعہ ایسے مرد کے عیب و صواب کا علم ہو جائے۔ مگر خواجہ صاحب نے یہ نہ سوچا کہ سوال تو مساوات کا تھا فائدہ یا عدم فائدہ کا سوال نہ تھا۔ اگر فائدہ کا سوال درمیان میں آ جائے تو پھر تو اس بحث کا کچھ فائدہ ہی نہیں۔ کیونکہ اصل سائل کو انگریزوں کے طریق عمل پر اعتراض تھا۔ اور اگر یہ اصل تسلیم کر لیا جائے کہ جس میں کسی کا فائدہ نظر آئے اس سے اسی رنگ میں معاملہ کیا جائے خواہ مساوات نہ رہے تو پھر تو بات ہی حل ہو جاتی ہے۔ انگریز بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ عدم مساوات صرف ہندوستانیوں کے فائدہ کے لئے ہے۔ اور یورپ جس قدر ممالک پر قبضہ کر رہا ہے صرف اسی عذر پر کر رہا ہے کہ ان لوگوں کا ہمارے ماتحت رہنا ان کے لئے نہایت مفید ہے۔

پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگر عورت کو مرد کی ولایت سے نکاح کا تصفیہ کرنے کا اس لئے حکم دیا گیا ہے کہ عورت مرد کے عیب سے واقف نہیں ہوتی تو پھر اس صورت میں تو مرد کو بھی حکم ہونا چاہئے تھا کہ وہ کسی عورت کی ولایت سے نکاح کرے۔ کیونکہ جس طرح عورت کو مرد کے عیب و صواب کا علم نہیں ہوتا مرد کو بھی عورت کے عیب و صواب کا علم نہیں ہوتا۔ جو وجہ خواجہ صاحب بتاتے ہیں وہ تو دونوں میں پائی جاتی ہے پھر کیوں حکم میں برابری نہیں رکھی گئی۔

مغربی ممالک میں اسلام کی اشاعت

خواجہ صاحب یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ جس صورت میں مَیں نے اسلام کو پیش کیا ہے اس سے زیادہ بھیانک صورت میں پادری بھی پیش نہیں کرتے اور اس صورت میں اسلام مغربی ممالک میں نہیں پھیل سکتا۔ مجھے خواجہ صاحب کے اس اعتراض پر تعجب ہے۔ وہ واقعات کو اس طرح نظر انداز کر دیتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ ان کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ جبکہ وہ اسلام جس کے وہ قائل ہیں روز بروز تنزل کی طرف قدم اُٹھا رہا ہے اور مسیحیوں کے حملوں سے نیم جان ہو رہا ہے ۔ وہ اسلام جسے میں پیش کرتا ہوں یورپ اور امریکہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ماتحت پھیل رہا ہے۔ خود میری تین بیویاں ہیں اور یورپ کے نومسلم ان مسائل کو خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں بلکہ نو مسلمہ عورتیں شادی شدہ مرد کے ساتھ شادی کرنے پر تیار ہیں اور کرتی ہیں۔ اور ہمارے نزدیک جو اسلام کی تعلیم ہے اس سے ایک حد تک واقف ہیں پس عملی کامیابی کو نظر انداز کر کے عملی ناکامی کو اصل کامیابی کا راستہ قرار دینا ایک ایسا فعل ہے جس کی حقیقت کو خواجہ صاحب یا ان کے ہم خیال ہی سمجھ سکتے ہیں۔

زائد مال کس کے پاس رہنا چاہئے

خواجہ صاحب آخر میں پھر اس امر پر زور دیتے ہیں کہ جو شخص مال کماتا ہے اپنی ضرورت کے مطابق خرچ کر سکتا ہے اس سے جو زائد بچے وہ اس کے پاس امانت کے طور پر رہے گا اور اگر اس کے اہل کے پاس جاوے گا تو بھی اسی غرض سے جاوے گا۔ پس اس امر کو نہیں سمجھ سکتا کہ امانتاً اس شخص کے پاس مال کیوں رہے گا۔ امانت اسی وقت رکھوائی جاتی ہے جب اس کی ضرورت نہ ہو۔ جب دنیا پر وہ زمانہ نہیں آیا جب سب دنیا کے لوگ آسودہ حال ہو گئے ہوں تو پھر جس شخص کے پاس زائد مال ہو اس کے پاس بقیہ مال کے امانتاً رکھوا دینے کی وجہ کیا ہے؟ موجودہ حالات میں تو قاعدہ یہ ہونا چاہئے کہ اس سے مال چھین کر فوراً ان لوگوں میں تقسیم کر دیا جائے جو اس سے کم مال رکھتے ہیں اس مساوات کا کیا فائدہ ہے کہ ایک تو لاکھوں روپیہ اپنے گھر میں امانت کے نام سے جمع کر کے بیٹھا ہوا ہو اور دوسرے کے پاس اس سے آدھا سامانِ معیشت بھی نہ ہو۔ یہ مساوات تو صرف رسمی مساوات ہو گی نہ کہ حقیقی۔

پھر یہ بھی سوال ہے کہ جب ضرورت سے زائد مال لوگوں کا ہے تو کسی خاص شخص کے پاس اسکو کیوں امانت رکھا جائے۔ یہ حق تو لوگوں کا ہونا چاہئے تھا کہ وہ جس کے پاس چاہیں اس مال کو امانتاً رکھوائیں یا حکومت اس مال کو اپنے پاس رکھنے کی حقدار ہے کہ وہ سب آبادی سے یکساں تعلق رکھتی ہے۔

اور اگر اس بناء پر کہ جس شخص نے محنت سے روپیہ کمایا ہے وہ مستحق ہو گیا ہے کہ اس پر اعتبار کیا جائے اور روپیہ اس کے پاس رہنے دیا جائے تو کیا وجہ ہے کہ آئندہ اس مال کو ورثہ میں تقسیم کیا جاتا ہے

کیا جو شخص مستحق ہو اس کی اولاد بوجہ اولاد ہونے کے ہی مستحق ہو جاتی ہے۔ اگر مال کمانے والے کے پاس بوجہ استحقاق روپیہ رہنے دیا جاتا ہے تو پھر یہ شرط مقرر کی جانی چاہئے تھی کہ اگر جمع شدہ مال کی نسبت یہ یقین کر لیا جائے کہ متوفیٰ کی اولاد اسے اپنے نفس پر خرچ نہیں کرے گی بلکہ اسے مساوی طور پر حاجتمندوں میں تقسیم کر دے گی تب اس مال کو اس کے پاس رہنے دیا جائے ورنہ ان سے لے کر کسی اور امین کو دے دیا جائے کہ مساوی طور پر حاجتمندوں میں تقسیم کر دے۔

خواجہ صاحب کو نصیحت

چونکہ خواجہ صاحب کے مضمون کی تمام باتیں جو قابلِ توجہ تھیں میرے مضمون میں آگئی ہیں اس لئے میں اسی حد تک اس مضمون کو ختم کرتا ہوں اور خواجہ صاحب کو پھر نصیحت کرتا ہوں کہ اپنا بھی اور دوسروں کا وقت بھی ضائع کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اگر فی الواقع ان کو اِحقاقِ حق کا شوق ہے تو نفسِ مضمون کی طرف توجہ کریں اور ایک دفعہ سائل کے سوالات اور میرے جوابات کو پھر غور سے پڑھیں۔ اور پھر اگر کوئی امر دریافت طلب ان کو نظر آوے تو مجھ سے دریافت کریں۔ یونہی ادھر سے ادھر کلام کی باگیں پھیرتے جانا خلافِ دانش ہے اور سوائے خلطِ مبحث کے اس سے کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ اور اگر وہ حق سے محروم نہیں رہنا چاہتے تو مضمون لکھتے وقت اس امر کی طرف زیادہ توجہ دیا کریں کہ جس کے خلاف وہ مضمون لکھ رہے ہوں اس کی طرف ایسی باتیں نہ منسوب کیا کریں جو اس نے نہیں کہیں۔ کیونکہ گو اس سے ان لوگوں کو دھوکا لگ جائے جنہوں نے فریقِ ثانی کا مضمون نہیں پڑھا مگر اس سے مضمون نویس کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے اور آہستہ آہستہ اس پر مسخ کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے اور حق کے قبول کرنے سے وہ ہمیشہ کے لئے محروم رہ جاتا ہے۔ وَاخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

خاکسار مرزا محمود احمد

(الفضل ۲۱؍مارچ ۱۹۲۱ء)

اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

اسلام پر ایک آریہ پروفیسر کے حملہ کا جواب

از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی

اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ

آریہ پروفیسر صاحب کی تقریر

پچھلے دنوں لاہور میں آریہ سماج کے دونوں حصوں کے جلسے تھے۔ ان جلسوں میں جہاں اپنے قومی اُمور کے متعلق تقریریں ہوئیں وہاں دوسرے مذاہب سے اپنے مذہب کا مقابلہ کر کے بھی دکھایا گیا۔ ان تقاریر میں سے گورُوکل پارٹی کے ایک لیکچرار پروفیسر رام دیو صاحب کی تقریر خصوصیت کے ساتھ عام پبلک کے خیالات میں ایک جوش پیدا کر رہی ہے۔ اس تقریر کا موضوع یہ تھا کہ دیگر مذاہب مثلاً بُدھ مذہب اور مسیحی مذہب اور اسلام اس زمانہ کے حالات کے مطابق نہیں ہیں اور سائنس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ لیکن ہندو مذہب چونکہ خود سائنس کا سرچشمہ ہے اس کو علوم کی ترقی سے خطرہ نہیں۔ پس یہی آئندہ دنیا کا مذہب ہے۔

تقریر سے مسلمانوں میں جوش

ان مسلمانوں میں جن کو اس لیکچر کا علم ہوا ہے ایک عام جوش ہے کہ اس صلح کے زمانہ میں اس قسم کے مضامین پر لیکچر دینے سے اس اتحاد میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے جو بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا تھا۔ مگر میرے نزدیک آریہ سماج کی یہ رُوح اس بے غیرتی کے مقابلہ میں جو بعض مسلمانوں نے دکھائی ہے بہت زیادہ قابلِ تحسین ہے۔ آریہ سماج نے ثابت کر دیا ہے کہ جو تھوڑا بہت تعلق بھی اسے مذہب سے ہے وہ اس کو اس سیاسی شورش کے زمانہ میں بھی چھوڑ نہیں سکتی یا یہ کہ وہ مذہبی جوش کو سیاسی کامیابی کے لئے ضروری سمجھتی ہے لیکن بعض مسلمانوں نے اس کے برخلاف اپنے مذہبی احکام کو دنیاوی فوائد کے لئے قربان کر دیا ہے۔

مختلف الخیال اقوام کا کن اُمور میں اتحاد ہو سکتا ہے

میرے نزدیک وہ لوگ جو پروفیسر صاحب کے اس لیکچر پر اس رنگ میں معترض ہیں انہوں نے انسانی دماغ کی بناوٹ پر غور ہی نہیں کیا اور دوسروں کو تو انھوں نے کیا سمجھانا تھا خود اپنے نفس کو بھی انھوں نے نہیں سمجھا۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ جس طرح ہم نے اپنے ہندو بھائیوں کو ساتھ ملانے کے لئے گائے کی قربانی چھوڑ دی ہے وہ بھی ہمیں اپنے ساتھ ملانے کے لئے اپنے مذہبی خیالات کے اظہار سے باز رہیں اور اسلام کے ساتھ اس کا مقابلہ نہ کریں حالانکہ وہ اتحاد جس میں یہ شرط رکھی جائے کہ اختلافِ آراء کا اظہار نہ ہو دو مختلف الخیال اقوام میں ناممکن ہے۔ ایسا اتحاد لمبے عرصہ تک قائم نہیں رہ سکتا اور ضرور ہے کہ جلد یا بدیر ضمیر اپنی طاقت کو ظاہر کرے اور ایک فریق سے ایسے خیالات کا اظہار کرائے جو دوسرے فریق کے نزدیک درست نہیں ہیں۔ جو لوگ اتحاد کے لئے یہ شرط رکھتے ہیں کہ کسی قسم کا اختلاف نہ ہو وہ انسانی فطرت سے واقف نہیں ہیں اور ہرگز اس قابل نہیں کہ اتحاد قائم کرنے کا کام ان کے ہاتھوں میں دیا جائے۔ اتحاد کے قیام کا ایک ہی ذریعہ ہوتا ہے کہ اختلاف کے وجود کو تسلیم کر لیا جائے اور صرف ان امور میں اختلاف کو روکا جائے جن پر کہ اتحاد کرنا مدنظر ہے اور اس طرز کے اختلاف کو روکا جائے کہ جس اختلاف سے اس کام کا چلنا مشکل ہو جائے جس میں اتحاد کیا گیا ہے۔

مثلاً ایک ہندو اور ایک مسلمان مشترک دکان کرنے لگے ہیں تو اگر وہ یہ شرط کریں کہ مسلمان نماز نہ پڑھا کرے اور ہندو مندر میں نہ جایا کرے تو یہ اتحاد بناوٹی ہے اور خلافِ قدرت ہے یہ ضرور ٹوٹ کر رہے گا اور اتنی عمر نہیں پائے گا جتنی کہ صحیح بنیادوں پر رکھا ہوا اتحاد پایا کرتا ہے۔ یہ اتحاد یا تو اخلاقِ فاضلہ کا خون کریگا اور بے غیرتی پیدا کریگا یا جلد ٹوٹ کر فتنہ و فساد کا دروازہ کھول دیگا اور امر اول کا نتیجہ بھی آخر میں فساد ہی ہو گا کیونکہ جو شخص ان عقائد کو جن پر وہ یقین رکھتا ہے یا ان اعمال کو جن کو وہ مستحسن خیال کرتا ہے دنیاوی فوائد کے حصول کے لئے چھوڑتا ہے وہ کسی خاص فائدہ کی امید میں اس اتحاد کو بھی ترک کر سکتا ہے۔ پس اتحاد وہی اتحاد ہے جس کی بنیاد اس امر پر ہو کہ حق اور راستی کے خلاف جو امور نہ ہوں گے ان میں ملکر کام کیا جائیگا اور ایک دوسرے کے عقیدہ اور خیال میں یا اس کے ذاتی عمل میں دست اندازی نہ کی جائیگی۔

گائے کی قربانی ترک کرنے کا سمجھوتہ

بعض مسلمانوں نے اس نکتہ کو نہیں سمجھا اور جوش میں آکر بلا کسی خاص سمجھوتے کے جو اس فعل کو جائز قرار دیتا گائے کی قربانی کو ترک کرنے کی تحریک شروع کر دی اور اب ہندوؤں سے اس امر کی امید رکھتے ہیں جس کا انہوں نے وعدہ نہیں کیا تھا۔ مسلمان یہ اُمید ہرگز نہیں کر سکتے کہ اگر یہ کوئی غلطی کریں تو ان کے خوش کرنے کے لئے دوسری قوم بھی جو ان سے اتحاد رکھنا چاہتی ہو باوجود عقل اور سمجھ کے اسی قسم کی ایک غلطی کرے اس سے زیادہ ناجائز مطالبہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی مطالبہ تھا تو اسے ابتداء ہی میں پیش کرنا چاہئے تھا۔ اب تو ”مُشتے کہ بعد از جنگ یاد آید برکلۂ خود باید زد“ والی مثال ہے۔

دنیا سے مذہب کی حکومت نہیں اُٹھ سکتی

ان مسلمانوں کو خوب یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک دنیا آباد ہے اور جب تک انسان اس میں بستا ہے اس وقت تک مذہب کی حکومت دُنیا سے اُٹھ نہیں سکتی۔ مختلف زمانوں میں مذاہب کا اثر مٹانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن اُنکی گرفت اگر کسی وقت عارضی طور پر ڈھیلی ہو بھی گئی ہے تو پھر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اس کا پنجہ مضبوط ہو گیا ہے پس گو انہوں نے مذہب کے متعلق کسی قسم کی گفتگو کو خلافِ اتحاد قرار دیا ہو مگر فطرتِ انسانی اس فیصلہ کو قبول نہیں کر سکتی یہ فیصلہ بدل کر رہے گا اور اس وقت تک اتحاد قائم نہ ہو گا جب تک اس کی بنیاد صحیح بنیادوں پر نہ ڈالی جائے گی۔ یعنی چند مقررہ قواعد پر جو پہلے سے منضبط کر لئے جائیں تاکہ بعد میں فتنہ کی گنجائش نہ رہے۔

پروفیسر صاحب کے دلائل اسلام کے خلاف

اس تمہید کے بعد میں پروفیسر رام دیو صاحب کے لیکچر کے اس حصہ پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں جو اسلام کے متعلق ہے۔ اخبار بندے ماترم لاہور کے تیس نومبر کے پرچہ میں جو خلاصہ پروفیسر صاحب کے لیکچر کا لکھا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اسلام کو اس زمانہ کی ضروریات کے پورا کرنے کے ناقابل ان دلائل سے قرار دیا ہے کہ (۱) مسلمانوں کا رنگ گورا نہیں اس لئے وہ یورپ کی مشکلات کو حل نہیں کر سکتے (۲) بعض مسلمان بھی اسلام کی تعلیم پر اعتراض کرنے لگ گئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سائنس کے حملوں کا اسلام مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس دعویٰ کی تائید میں انھوں نے مندرجہ ذیل مثالیں بیان کی ہیں۔ مسٹر خدا بخش ایم اے نے لکھا ہے کہ قرآن کریم محمد صاحب

(صلی اللہ علیہ وسلم) کی ڈائری تھی جس میں وہ اپنے خیالات لکھ لیا کرتے تھے۔ سید امیر علی صاحب اپنی کتاب سپرٹ آف اسلام میں لکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں جو فرشتوں کا ذکر ہے وہ محمد صاحب (صلی اللہ علیہ وسلم) کا وہم اور شاعرانہ نازک خیالی تھی۔ پھر وہ لکھتے ہیں کہ محمد صاحب (صلی اللہ علیہ وسلم) نے غلطی کی کہ چند دنوں کے لئے مشرکوں کے کہنے پر بتوں کو مان لیا۔ اسی طرح سید امیر علی پردہ سسٹم کے خلاف ہیں اور کثرتِ ازدواج کے مسئلہ کو زنا کاری خیال کرتے ہیں۔ صوفی فرقہ کے لوگ ہندوؤں کی طرح لفظ رام رام کی بجائے اللہ اللہ کر کے ذکر کرتے ہیں۔ مظہر الحق صاحب بیرسٹر نے گوشت کو انسانوں کے لئے قدرتی خوراک نہیں بتایا۔ ایک اور لیڈر مسٹر یوسف علی ایم اے نے دہلی میں مسلمانوں کو کہا کہ اگر پاکیزگی چاہتے ہو تو رامائن پڑھو۔ پس اسلام بھی زمانہ ماضی کا مذہب ہے اور نئے تعلیم یافتہ لوگوں کو تسلی نہیں دے سکتا۔

پروفیسر صاحب کے دلائل کی حقیقت

یہ دو دلائل ہیں جو پروفیسر صاحب نے اسلام کے خلاف دیئے ہیں اور وہ خوش ہیں کہ ان دلائل کے ذریعہ انہوں نے اسلام کو مذہبی میدانِ جنگ میں سے بیکار کر کے واپس کر دیا ہے مگر میرے نزدیک ان سے زیادہ بودے اور ان سے زیادہ کمزور اور کوئی دلائل نہیں ہو سکتے اور اگر بندے ماترم کے ایڈیٹر صاحب نے کسی مخفی بغض کی وجہ سے جو ان کو پروفیسر صاحب سے ہو ان کی طرف وہ بات منسوب نہیں کر دی جو انہوں نے نہیں کہی اور ان دلائل کو نظر انداز نہیں کر دیا جو پروفیسر صاحب نے اپنے دعویٰ کی تائید میں اس وقت دیئے ہوں تو یقیناً ہر ایک عقلمند کے لئے یہ بات نہایت تعجب خیز اور حیرت انگیز ہے کہ ایک پروفیسر نے اس قسم کے دلائل ایک تعلیم یافتہ جماعت کے سامنے بیان کئے۔

رنگت کے متعلق اعتراض

پہلی دلیل جو پروفیسر صاحب نے دی ہے وہ مسلمانوں کی رنگت کے متعلق ہے۔ پروفیسر صاحب کے نزدیک مسلمان تعلیم یافتہ یورپ کا علاج نہیں کر سکتے کیونکہ وہ سفید رنگ کے نہیں۔ یہ دلیل یونہی نہایت بیہودہ ہے لیکن اس شخص کے منہ پر جو خود کالی کہلانے والی قوم میں سے ہے اور اپنے مذہب کے بالآخر غالب آ جانے کی خبر دینے کے لئے کھڑا ہوا ہے اور بھی زیادہ قابلِ مضحکہ معلوم ہوتی ہے۔ اگر مسلمان بوجہ سفید رنگ نہ رکھنے کے یورپ کی مشکلات کو حل نہیں کر سکتے تو آریہ صاحبان ان سے بھی زیادہ سیاہ رنگ رکھتے ہوئے یورپ کی مشکلات کو کیونکر حل کر سکتے ہیں۔ پروفیسر صاحب کو یہ بھی خیال نہ آیا کہ مسلمانوں کا کچھ حصہ یورپ کا آباد کار ہے جبکہ آریہ مذہب کے پیرو صرف کالی نسلوں تک محدود ہیں۔

کسی سچائی کے پھیلنے میں اس کے ماننے والوں سے نفرت کی وجہ سے ناکامی نہیں ہو سکتی

مجھے تعجب آتا ہے کہ پروفیسر صاحب نے ایسی بات زبان پر آنے ہی کیوں دی۔ اگر ان کے دل میں اس قسم کا مضحکہ خیز خیال پیدا ہوا بھی تھا تو ان کو چاہئے تھا کہ اس کو دباتے نہ کہ برسرِ اجلاس اس کا اظہار کرتے۔ کیا کوئی شخص جو خدا پر ایمان رکھتا ہے یہ یقین کر سکتا ہے کہ کوئی سچا مذہب اس لئے کسی قوم میں پھیلنے میں ناکام رہے گا کہ اس کے ماننے والوں سے لوگ نفرت کرتے ہیں؟ وہ کون سا مذہب ہے جس سے دوسرے مذاہب نے نفرت نہیں کی؟ جس وقت اسلام عرب کے لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے اس وقت ان لوگوں کو کیا مسلمانوں سے اس سے کم نفرت تھی جو اس وقت یورپ کے لوگوں کو مسلمانوں سے ہے۔ عرب اس سے بدتر سلوک مسلمانوں سے کرتے تھے جو اس زمانہ میں اہل یورپ مسلمانوں سے کرتے ہیں اسی طرح جب اسلام ہندوستان میں آیا ہے تو کیا مسلمان یہاں کے اصل باشندوں کے محبوب تھے؟ وہ ان سے سخت نفرت کرتے تھے مگر اسلام کی خوبیوں نے ان کے دلوں پر فتح پاہی لی اور کروڑوں آدمی اسلام کے حلقہ بگوش ہو گئے۔ اسی طرح یورپ بھی جب اسلام کی خوبیوں پر آگاہ ہو گا تو اس کی نفرت خود بخود جاتی رہے گی۔ ہر ایک کام اپنے وقت پر ہوتا ہے۔ سینکڑوں سال کی عداوت اور بغض ایک دن میں نہیں جاتا وہ خیالات جو بطور ورثہ کے کسی قوم کو ملتے ہیں ان کا بکلی دُور کرنا کافی وقت چاہتا ہے اور قومیں کبھی یکدم کسی نئی بات کو قبول نہیں کر لیا کرتیں۔ مذہب کا فائدہ تو رُوحانی فائدہ ہے اور بوجہ لطیف ہونے کے تیز نظر آدمی کو ہی نظر آ سکتا ہے۔ وہ عام فائدہ کی باتیں جن میں انسان کے جسمانی فوائد مرکوز ہوتے ہیں ان کی اشاعت بھی مشکل سے ہوتی ہے۔ چیچک کے ٹیکے سے ہمارے ملک کو کس قدر فائدہ ہوا ہے ہزاروں آدمی ہر سال اندھے ہو جاتے تھے جو اس ٹیکہ کے سبب سے اس صدمہ سے محفوظ ہو گئے ہیں لیکن باوجود اس کے اس قدر مفید ہونے کے لوگ شروع شروع میں اس کی سخت مخالفت کرتے تھے اور بچوں کو چھپا دیتے تھے۔ بیس تیس سال کے تجربہ اور تربیت کے بعد جا کر لوگ اس کے فائدہ کے قائل ہوئے ہیں۔ ریل اور تار کیسی مفید ایجادات ہیں لیکن عرب لوگ اب تک ریل کے فوائد کے قائل نہیں ہو سکے بار بار ترکوں نے ریل بنائی اور انہوں نے توڑ دی۔ جاپان کس قدر ترقی یافتہ ملک ہے لیکن اس کے سٹسومہ قبیلہ نے جس کا جاپان کی موجودہ ترقی میں بہت سا حصہ ہے اور جس کی انتھک کوششوں کے نتیجہ میں جاپان کو غیر ملکی حکومتوں کے دخل سے آزادی حاصل ہوئی ہے تار کے اجراء پر حکومت کی سخت مخالفت کی تھی اور بزور شمشیر اس کے اس فعل کا مقابلہ کیا تھا اور اسی طرح ریل کو اپنے علاقہ میں بننے نہ دیا تھا اور یہ مخالفت اس قدر لمبے عرصہ تک رہی کہ ۱۹۰۶ء سے پہلے وہاں ریل نہ بنائی جاسکی حالانکہ یہ قبیلہ شاہی فرمانبرداری میں سب قبائل پر فوقیت رکھتا تھا اور ایڈمرل ٹوگو اور مارشل ٹاکاماری جیسے لائق آدمی اس میں پیدا ہوئے۔ پس جب لوگ دنیاوی فوائد کو پرانی عادات کی بناء پر رَد کر دیتے ہیں تو رُوحانی خیالات کو جو ان کے دیرینہ خیالات کے خلاف ہوں کیوں نفرت کی نگاہ سے نہ دیکھیں اور کیوں ان کو رد نہ کریں۔ ایسے خیالات کی اشاعت کے لئے وقت چاہئے ۔ خواہ اسلام کو یورپ مسلمانوں کے ایشیائی ہونے کے سبب سے نفرت کی نگاہ سے دیکھے خواہ اس سبب سے کہ یہ مذہب ان کے مذہب کے بعد پیدا ہوا ہے مگر اسلام اگر سچا ہے تو وہ قدیم سنت کے مطابق ان کے خیالات پر غالب آکر رہے گا اور یورپ کی نفرت کو محبت سے بدل کر رہے گا۔

یورپ پر اسلام کے غالب آنے کے آثار

چنانچہ ہم اس کے آثار ابھی سے دیکھتے ہیں۔ باوجودیکہ یورپ کے لوگوں میں اسلام کی تبلیغ شروع کئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا کہ حق جُو لوگوں میں تحقیق کا خیال پیدا ہو گیا ہے اور آہستہ آہستہ ایک دو دو کر کے وہ اس کے قبول کرنے کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔

اسلام کے مقابلہ میں ویدک دھرم نے کیا کیا

پروفیسر صاحب کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جس مذہب کی نسبت ان کا خیال ہے کہ وہ قومی اختلاف کے سبب یورپ کے لوگوں میں اشاعت نہیں پاسکتا وہ تو دنیا میں اپنی تبلیغی کامیابیوں کے شاندار نمونہ خواہ وہ وحشی قوموں میں ہی کیوں نہ ہوں دکھا بھی چکا ہے لیکن جس مذہب کی حمایت میں وہ کھڑے ہوئے ہیں اُس نے تو وحشی قوموں میں بھی کوئی کامیابی حاصل نہیں کی۔

کیا اسلام دُنیا کا آئندہ مذہب نہیں ہو سکتا

دوسری دلیل پروفیسر صاحب نے اسلام کے خلاف یہ دی ہے کہ وہ سائنس کے حملہ کی برداشت نہیں کر سکا اور خود مسلمانوں کے ایمان متزلزل ہو گئے ہیں اس لئے وہ دنیا کا آئندہ مذہب نہیں ہو سکتا۔

یہ سوال کہ دنیا کا آئندہ مذہب ہونے کے لئے کن شرائط کا پایا جانا کسی مذہب کے لئے

ضروری ہے ایک وسیع سوال ہے لیکن میرے نزدیک پروفیسر رام دیو صاحب کے لیکچر پر غور کرتے وقت اس کو چھیڑنے کی ضرورت نہیں۔ اس وقت اسی قدر کافی ہے کہ اس سوال کے جس پہلو کو پروفیسر رام دیو صاحب نے پیش کیا ہے اس پر روشنی ڈالی جائے۔

پروفیسر صاحب بیان کرتے ہیں کہ اسلام اس لئے دنیا کا آئندہ مذہب نہیں ہو سکتا کہ اس کے پیروؤں میں سے تعلیم یافتہ طبقہ اس کی تعلیم میں اپنے لئے تسلی نہیں پاتا۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ کسی مذہب کے چند افراد کا اس کی تعلیم پر تسلی نہ پانا اس امر کا ثبوت ہے کہ وہ مذہب اب لوگوں کو تسلی نہیں دے سکتا۔

میرے نزدیک پروفیسر رام دیو صاحب کا ایک تعلیم یافتہ جماعت کے سامنے اس قسم کا معیار پیش کرنا اس جماعت کی سخت ہتک ہے کیونکہ اس کے یہ معنی ہونگے کہ ان کے سامنے جس قدر لوگ بیٹھے تھے وہ عقل اور خرد سے ایسے خالی تھے کہ ان کے سامنے جو کچھ بھی بیان کر دیا جاتا وہ اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار تھے۔ میرے نزدیک ہر ایک تعلیم یافتہ انسان بلکہ ہر ایک انسان اس امر سے واقف ہے کہ ہر ایک مذہب اور عقیدہ کے لوگوں میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں کہ جو گو بظاہر ان کے ساتھ شامل ہوں مگر باطن میں یا تو ان سے بالکل علیحدہ ہوتے ہیں یا اس کے بعض خیالات سے ان کو اختلاف ہوتا ہے۔ پس ایک تعلیم یافتہ جماعت کے سامنے یہ دلیل پیش کرنی کہ چونکہ اس کے کروڑوں افراد میں سے ایک دو ایسے آدمی بھی ہیں جو اس کی بعض تعلیموں سے اختلاف رکھتے ہیں اس لئے اس مذہب سے اب دنیا کو ہدایت نہیں ہو سکتی۔ گویا انکی آنکھوں میں خاک جھونکنا ہے یا ان کی عقل اور ان کی حق طلبی پر حرف گیری کرنا ہے۔

مسلمان کہلا کر اسلام کے خلاف کہنے والوں کی حقیقت

پروفیسر رام دیو صاحب نے جن چند مسلمانوں کے اقوال کو اپنی تائید میں پیش کیا ہے وہ دو حالوں سے خالی نہیں ہیں یا تو ان لوگوں نے اسلام کے خلاف جو باتیں کہی ہیں اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ اسلام سچا مذہب نہیں ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوا اور یا ان کا یہ مطلب ہے کہ دوسرے لوگ جو ان مسائل کے متعلق اپنے خیالات ظاہر کرتے ہیں وہ اسلام کے مطابق نہیں بلکہ اسلام در حقیقت اس خیال کو پیش کرتا ہے جو انھوں نے بیان کیا ہے۔ اگر پہلی صورت ہے یعنی وہ لوگ اسلام سے متنفر ہو گئے ہیں اور اس کے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کے قائل نہیں رہے اور قرآن کریم کو انسان کی تصنیف خیال کرتے ہیں اور رسول کریمؐ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف ایک فلسفی یا تجربہ کار مصلح سمجھتے ہیں تو پھر وہ لوگ مُرتَد ہیں اور کونسا مذہب ہے جس میں سے کبھی کوئی مُرتَد نہیں ہوا اور اگر دوسری صورت ہے یعنی وہ لوگ اسلام پر اعتراض نہیں کرتے بلکہ ان کا یہ یقین ہے کہ اسلام کی جو تشریح دوسرے لوگ کرتے ہیں وہ غلط ہے اس کی تشریح وہ ہے جو انہوں نے پیش کی ہے۔ تو پروفیسر صاحب بتائیں کہ وہ کونسا مذہب ہے جس کی تشریح کے متعلق اس کے ماننے والوں میں اختلاف نہیں اور کیا وہ اس اصل کے ماتحت جو انہوں نے قائم کیا ہے دنیا کے تمام مذاہب کو جن میں آریہ سماج اور ویدک دھرم بھی یقیناً شامل ہو گا جھوٹا سمجھ لیں گے۔

تعصب کی پٹی

تعصب انسان کی آنکھ پر پٹی باندھ دیتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ پروفیسر صاحب کو اتفاقاً ان چند اختلافات پر اطلاع ہو گئی اور انھوں نے سمجھ لیا کہ اب اسلام مٹا اور اس کا نشان دنیا سے غائب ہوا۔ کیونکہ بعض مسلمانوں نے بھی قرآن کریم یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کر دیا ہے اور اس خوشی میں اس امر کو بھول گئے ہیں کہ یہ دلیل نہیں بلکہ صرف ایک تمنا ہے جو نہ آج تک بر آئی ہے نہ آئندہ اس کے بر آنے کی کوئی صورت ہے۔

کیا پروفیسر صاحب کی دلیل سے آریہ مت سچا ثابت ہو سکتا ہے

اب میں پروفیسر صاحب کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اگر یہ دلیل جو انھوں نے پیش کی ہے اسی نتیجہ پر پہنچاتی ہے جو انہوں نے نکالا ہے تو خود آریہ مت بھی اس کی زد سے نہیں بچ سکتا۔ چنانچہ مثال کے طور پر میں آریہ سماج کے چند ممبروں کے اقوال پیش کرتا ہوں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آریہ سماج ایسے لوگوں سے پُر ہے جو آریہ سماج کی تعلیم پر یقین نہیں رکھتے اور اسے دنیا کے لئے کافی نہیں خیال کرتے۔

پہلی مثال

چنانچہ سب سے پہلے تو میں خود لالہ لاجپت رائے صاحب کو ہی لیتا ہوں جن کے اخبار بندے ماترم میں پروفیسر رام دیو صاحب کے لیکچر کا خلاصہ چھپا ہے۔ یہ صاحب آریہ سماج کے ایک سرگرم ممبر تھے بلکہ انھوں نے تقریباً اپنی زندگی ہی اس کی ترقی کے لئے وقف کی ہوئی تھی لیکن اب وہ آریہ سماج کے متعلق جو خیال رکھتے ہیں وہ یہ ہیں:۔ میں ویدوں کو ایشور گیان نہیں مانتا۔ اپنے ضمیر کے مطابق ان کا پرچار نہیں کر سکتا۔ ویدک مشنری نہیں بن سکتا۔ حتیٰ کہ میں آریہ سماجی بھی نہیں کہلا سکتا۔ بقول آریہ اخبار ہمالہ ۱۳؍ مئی ۱۹۲۱ء انھوں نے اپنے ایک مضمون میں یہ بھی لکھا تھا کہ اب وید ہدایت کا کام نہیں دے سکتے ان کا خیال چھوڑ دو۔

ان پُرانی باتوں کو اگر جانے بھی دیا جائے تو بھی ان کی وہی تقریریں جو انہوں نے اسی سال کے سماج کے جلسہ میں کی ہیں اس امر پر روشنی ڈالنے کے لئے کافی ہیں کہ وہ اب سماج کے اُصول کے قائل نہیں۔ بندے ماترم اخبار کے اسی نمبر میں جس میں پروفیسر رام دیو صاحب کا لیکچر چھپا ہے لالہ لاجپت رائے صاحب کے دو لیکچروں کا بھی ذکر ہے۔ ایک وہ لیکچر جو انہوں نے کالج پارٹی کے جلسہ میں دیا ہے اور ایک وہ مختصر لیکچر جو انہوں نے وچھو والی کے جلسہ میں دیا ہے۔ وچھو والی کے جلسہ میں جو کچھ انہوں نے بیان کیا اس کا ایک فقرہ یہ ہے کہ ”میں آریہ سماج کے اندر کام کروں یا نہ کروں لیکن آریہ سماج کے احسان کو کبھی نہ بھولوں گا۔“ یہ احسان کوئی مذہبی احسان نہیں بلکہ اس احسان سے مُراد وہ سیاسی خیالات ہیں جو آریہ سماج مذہب کے پردہ کے نیچے پھیلاتی ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں شمالی ہندوستان کی بیداری کا باعث آریہ سماج کا کام ہے اگرچہ یہ بیداری کافی نہیں اور اس سے سوراجیہ حاصل نہیں ہو سکتا تاہم آریہ سماج نے زمین تیار کر دی ہے۔ ”آپ کو پالیٹیکس میں جو کچھ روشنی نظر آتی ہے یہ سب کچھ آریہ سماج کے پرچار کا نتیجہ ہے“۔ ان کے ان فقرات سے معلوم ہوتا ہے کہ آریہ سماج کے احسان سے ان کی مراد سیاسی احسان ہے ورنہ اس کے مذہبی اصول سے دستبردار ہو چکے ہیں اور ویدوں کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔

کالج پارٹی میں ان کا جو لیکچر ہوا ہے اس میں بھی انہوں نے یہ بیان کیا کہ ”لوز ڈکنس ہندوستانیوں پر اعتراض کرتا ہے کہ وہ قدرت کی طاقتوں سے بھاگتے ہیں اور خوفزدہ ہو کر ان کی عبادت کرنے لگتے ہیں اور انہیں قابو میں لانے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ اعتراض خواہ کبھی گذشتہ زمانہ میں صحیح نہ ہو لیکن میری رائے میں پندرہ سو سال سے یہی ہماری تباہی کا باعث ہوا ہے“۔ ان کے ان فقرات سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہندو مذہب کی موجودہ حالت کو تو یقیناً قابل تسلی نہیں سمجھتے اور پچھلے زمانہ کے متعلق ان کو شبہ ہے کہ آیا وہ بھی زمانۂ حال کی طرح کا تھا یا اس سے اچھا تھا۔ اسی طرح وہ بیان کرتے ہیں کہ ”بعض اصحاب کا یہ خیال غلط ہے کہ ہمارے پر اَچین رشی مُنی لاثانی اور بے نظیر تھے۔ یورپ اور امریکہ میں اب بھی ایسے رشی ہیں جو اپنی پاکیزگی، بے غرضی اور رُوحانیت کے لحاظ سے ان قدیم رشیوں سے کسی طرح کم نہیں کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہکسلے، ڈارون، ہربرٹ سپنسر، مارکونی کی زندگی پاک نہیں۔ یا یہ پراچین رشیوں سے کسی طرح کم تھے“۔

کیا لالہ لاجپت رائے صاحب کے ان خیالات کی بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ آریہ سماج اب ماضی کا مذہب ہو گیا ہے اور آئندہ اس سے کسی اصلاح کی اُمید رکھنا فضول ہے کیونکہ اس کے بڑے بڑے لوگوں پر یورپ کی علمی ترقی کا اثر ایسا گہرا پڑا ہے کہ اب وہ ان عقائد کو ترک کر بیٹھے ہیں جو ان کے مذہب نے بتائے ہیں۔ اگر کسی شخص کا خواہ وہ لیڈر ہی کیوں نہ ہو آریہ سماج سے کلی طور پر قطع تعلق کرنا یا اس کے بعض اصول کو ترک کر دینا اس امر کا ثبوت نہیں کہ آریہ سماج اب ایک مُردہ مذہب ہو گیا ہے تو مسلمان کہلانے والے کروڑوں آدمیوں میں سے اگر چند لوگ اسلام کے اصول کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کریں تو اس سے اسلام کے زمانہ ماضی کا مذہب ہو جانے کا ثبوت کہاں سے نکل آیا۔

دوسری مثال

دوسری مثال رائے بہادر لالہ مولراج صاحب ایم اے کی ہے جو آریہ سماج کے ایک دیرینہ رکن ہیں۔ ان کی نسبت پرکاش ۱۳؍جون ۱۹۲۰ء؁ میں ایک صاحب نے شائع کرایا ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ وہ وید کو نہ پہلے مانتے تھے اور نہ اب مانتے ہیں۔ بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے رشی دیانند صاحب سے بھی کہا تھا کہ وہ اس شرط کو کہ آریہ سماج میں داخل ہونے کے لئے وید کا ماننا ضروری ہے نکال دیں تاکہ وید کو نہ ماننے والے بھی آریہ سماج میں شامل ہو سکیں۔ اب پروفیسر رام دیو صاحب بتائیں کہ اگر مسٹر خدا بخش کے قرآن کریم کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈائری قرار دینے سے اسلام کے متعلق شبہ پڑ جاتا ہے کہ وہ ضرورت زمانہ کو پورا نہیں کر سکتا تو لالہ مولراج صاحب ایم اے کے وید نہ ماننے سے کیوں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وید بھی اب ضرورت زمانہ کو پورا نہیں کر سکتے۔

تیسری مثال

تیسری مثال لالہ منشی رام صاحب کی ہے جو گروکل کانگڑی کے بانی کہلانے چاہئیں اور جن کے ماتحت کام کرنے کا فخر غالباً پروفیسر رام دیو صاحب کو بھی ہے۔ لالہ منشی رام صاحب نے نیوگ کے عقیدہ کی نسبت جسے پنڈت دیانند صاحب ہندو مذہب کی تعلیمات میں شامل کرتے ہیں بیان کیا کہ یہ نیچ اور گرے ہوئے لوگوں کا فعل ہے (دیکھو آریہ پتر کا لاہور) گو لالہ صاحب نے سُنا ہے کہ بعد میں اپنے کلام کی تشریح کی مگر وہ تشریح آریہ صاحبان کے عام طریق عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے بیان کو زیادہ نہیں سُلجھاتی۔ کیونکہ آریہ صاحبان میں ایسے لوگ شاذ ہی پائے جاتے ہیں جو نیوگ کی تعلیم پر علی الاعلان عمل کرنے کے لئے تیار ہوں اور لالہ منشی رام صاحب تو عقلمند اور فہمیدہ آدمی ہیں ان سے کم عقل کے آریہ صاحبان کو بھی میں دیکھتا ہوں کہ وہ اس عقیدہ سے بیزار نظر آتے ہیں تو جب ان کی اس بیزاری کے باوجود پروفیسر صاحب کو آریہ مذہب دنیا کی ہدایت کے لئے کافی نظر آتا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ جب آریہ صاحبان نیوگ کو بے حیائی کہیں اور اس سے

آریہ مت کی صداقت پر کوئی شبہ وارد نہ ہو تو کیا وجہ ہے کہ کوئی مسلمان اگر کثرتِ ازدواج کو زنا قرار دیدے تو اس سے یہ نتیجہ نکالا جائے کہ اسلام اس وقت دُنیا کو تسلی نہیں دے سکتا حالانکہ یہ دونوں باتیں ایک ہی قسم کی ہیں۔ بلکہ ان میں ایک ایسا فرق ہے جو اسلام کے حق میں مفید ہے اور وہ یہ کہ نیوگ کی تعلیم واقع میں بُری ہے اور کثرتِ ازدواج کی تعلیم حکمت سے پُر ہے۔ چنانچہ لالہ لاجپت رائے صاحب نے ۴؍دسمبر ۱۹۲۰ء کے بندے ماترم میں پروفیسر رام دیو صاحب کے مضمون کے متعلق معذرت کرتے ہوئے کثرتِ ازدواج کی نسبت لکھا ہے کہ:۔

”میری ذاتی رائے میں اسلام کا قانونِ شادی نہ صرف زنا کاری نہیں ہے بلکہ بہت حد تک زنا کاری کو روکتا ہے۔“

پھر خود ہندوؤں کے بڑے بڑے لوگ ایک سے زیادہ شادیاں کرتے رہے ہیں اور اب بھی کرتے ہیں لیکن ان کی اولاد کو کوئی ولدالزنا نہیں کہتا۔ گو میں یقین رکھتا ہوں کہ نیوگ سے پیدا ہونے والے لڑکے کو کوئی آریہ صاحب بھی اسی نظر سے نہ دیکھیں گے جس نظر سے بیاہتا بیوی کے بچوں کو دیکھا جاتا ہے۔ پس اگر کسی مذہب کی ایک بُری بات کو بُرا کہنے سے اس مذہب کی صداقت پر پروفیسر صاحب کے نزدیک کوئی حرف نہیں آتا تو کسی مذہب کی اچھی بات کو بُرا کہنے سے اس مذہب پر کیا اعتراض آئے گا۔

اگر بعض مسلمانوں نے کثرتِ ازدواج کو بُرا قرار دیا ہے تو آج یورپ کے سینکڑوں نہیں ہزاروں آدمی اسی مسئلہ کو دنیا کی مشکلات کا حل سمجھنے لگ گئے ہیں اور خود آریہ صاحبان کے بعض موجودہ اور پُرانے ممبر بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ چنانچہ وکیل اخبار نے ایک آریہ پنڈت صاحب کی نسبت لکھا ہے کہ انھوں نے بیان کیا کہ مادی زندگی میں سخت پرہیزگاری کی اُمید کرنا عبث ہے۔ پھر اس کا حل سوائے کثرتِ ازدواج کے اور کیا ہوسکتا ہے۔ لالہ لاجپت رائے صاحب نے بھی اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ دھرم شاستر بعض حالتوں میں خاوند کو اجازت دیتا ہے کہ ایک یا زیادہ بیویوں کی زندگی میں بھی اور شادی کرلے۔

چوتھی مثال

چوتھی مثال آریہ گزٹ کے ایڈیٹر صاحب کی ہے جس نے بیوہ کے نکاح کے متعلق جسے پنڈت دیانند صاحب نے ناجائز قرار دیا ہے لکھا ہے کہ ایسے حالات و واقعات کی موجودگی میں بھی اگر ودھوا وواہ (نکاحِ بیوگان) کی مخالفت کرتے ہیں تو نہ معلوم اور کتنی تباہی کے نظارے وہ چاہتے ہیں جو ان کی آنکھیں کھول سکیں۔

آریہ صاحبان کے عقائد متزلزل ہو رہے ہیں

یہ مثالیں تو خاص آدمیوں کی ہیں لیکن خود آریہ سماج کے لیڈروں اور ان کے اخباروں کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ آریہ سماج کے ممبروں کے عقائد عام طور پر متزلزل ہو رہے ہیں اور عوام کے ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے لوگوں کے۔ چنانچہ آریہ اخبار کانپور گزٹ لکھتا ہے:۔

”آریہ سماج میں ایک شخص اگر جنم سے ورن بیوستھا مانتا ہے تو دوسرا نیوگ سے صاف منکر ہے۔ تیسرا اگر ویدوں میں جادو ٹونا ظاہر کرتا ہے تو چوتھا سوامی دیانند جی کے وید بھاشیہ کے خلاف آواز اُٹھاتا ہے۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ وہ اصحاب آریہ سماج کے عہدہ داروں میں شامل کئے جاتے ہیں“

شاید کانپور گزٹ کی رائے پروفیسر صاحب کے نزدیک اس قدر با وقعت نہ ہو اس لئے ان کے سامنے ہم گوروکل کانگڑی کے سابق گورنر لالہ منشی رام صاحب جن کے ماتحت پروفیسر صاحب بھی کام کرتے رہے ہیں کی رائے بھی پیش کر دیتے ہیں۔ لالہ منشی رام صاحب لکھتے ہیں:۔

”ہم بڑے بڑے تعلیم پر فخر کر نیوالوں سے واقف ہیں جو یہ کہتے ہوئے نہیں شرماتے کہ ویدوں پر بیوقوف بشواش کرتے ہیں۔ ایشور ودوانوں (عالموں) کے لئے کوئی چیز نہیں ہے ایشور کا ماننا سرو ساد ہارن (عوام الناس) کے لئے اچھا ہے لیکن ہم آریہ سماج کو کام کر نیوالی سوسائٹی سمجھ کر سبھاسند (ممبر) ہوئے ہیں ......... ہمارے تعلیم یافتہ ممبر کہا کرتے ہیں کہ سپنسر اور بریڈلا کی زبان جاننے والے خدا نہیں مان سکتے۔“

اب پروفیسر صاحب بتائیں کہ جس جماعت کے تعلیم یافتہ اس کے لیڈر اپنے قول کے بموجب عمل میں نہیں بلکہ عقیدہ میں اور کسی معمولی عقیدہ میں نہیں بلکہ خدا تعالیٰ پر ایمان لانے کے عقیدہ میں اس کی تعلیم کے مخالف ہوں اس کا کوئی فرد کسی دوسرے مذہب کے بعض افراد کی ایسی باتوں سے جو انہوں نے اپنے مذہب کے خلاف کہی ہوں یہ استدلال کرنے کا کب مجاز ہو سکتا ہے کہ اب وہ مذہب دنیا کے لئے تسلی دینے کا موجب نہیں ہو سکتا اب ہمارا مذہب تسلی دیگا۔

ہندو مذہب میں اختلاف کثیر

یہ تو آریہ سماج کا حال ہے اب میں ہندو مذہب پر مجموعی نظر ڈالتا ہوں۔ ہندو مذہب میں اس قدر اختلاف ہے کہ اب تک ہندو کی کوئی تعریف ہی نہیں ہو سکی۔ بڑے بڑے ہندوؤں نے ہندو کی تعریف کرنی چاہی مگر نہیں کر سکے اور آخر تھک کر اقرار کیا کہ ہندو مذہب کوئی مذہب نہیں بلکہ سینکڑوں مذاہب جو مسلمانوں کے حملہ سے پہلے ہندوستان میں موجود تھے۔ انہوں نے غیر اقوام کے حملہ کے مقابل جو اتحاد کیا تھا اسی کا نام ہندو مذہب ہے۔ حملہ آور قوموں کے لوگ ہر ایک ایسے شخص کو جو ہندوستان کا رہنے والا تھا اپنے مقابل پر لڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے مذہبی اختلاف سے ناواقف ہونے کے سبب ہندو کہہ دیتے تھے اور اس سے ہندو مذہب ایک نئی اصطلاح بن گئی۔ بلکہ ہندو قانون بھی درحقیقت انگریزی زمانہ کی ایجاد ہے انگریزوں نے بعض تعلیم یافتہ ہندو مذاہب کی عام رسوم کو دیکھ کر ایک قانون تیار کر دیا اور خیال کر لیا کہ سب ہندو اس کے پابند ہیں اور اس کو رائج کر دیا اس سے ہندو قانون تیار ہو گیا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مسلمانوں کے لئے بھی اس وقت غلطی سے ہندو قانون وضع کر دیا گیا تھا۔ پس نہ ہندو مذہب کوئی مذہب ہے بلکہ سینکڑوں مذاہب کا سیاسی مجموعہ ہندو مذہب سے پکارا جاتا ہے اور نہ ہندو قانون کوئی قانون ہے بلکہ یہ قانون انگریزوں کا بنایا ہوا ہے۔ جنہوں نے اس ملک کے حالات سے ناواقف ہونے کے سبب بعض اقوام کے قانون کو سارے ہند کے غیر مسلم مذاہب پر جاری کر دیا۔ چنانچہ اب تک کئی اقوام ہندستان میں ایسی موجود ہیں جنہوں نے اس قانون کو تسلیم نہیں کیا اور اس قانون سے بچنے کے لئے وہ اپنے مقدمات کو انگریزی عدالتوں میں لے جاتے ہی نہیں۔ مسٹر پی ٹی سری نواس ائنگر ایم۔ اے۔ ایف۔ ایم لکھتے ہیں کہ ہندوؤں کے زمانہ میں کوئی ایسا ہندو قانون نہ تھا جو سب ہندوستان پر حاوی ہو کیونکہ اس ملک کی نہ دنیاوی حکومت ایک تھی نہ کسی ایک مذہبی انتظام سے وہ لوگ تعلق رکھتے تھے۔ پھر لکھتے ہیں کہ لاکھوں لاکھ آدمی ایسے ہیں جو عدالتوں میں اپنے مقدمات لے ہی نہیں جاتے بلکہ اپنے قومی قانون کے مطابق گھروں میں فیصلہ کر لیتے ہیں۔

ہندوؤں میں ویدوں کو نہ ماننے والی قومیں

ہندوؤں میں ایسی قومیں بھی پائی جاتی ہیں جو ویدوں کو نہیں مانتیں چنانچہ جینی وبدوں کو نہیں مانتے اسی طرح اور کئی قومیں ہندو کہلاتی ہیں لیکن وہ ویدوں کو نہیں مانتیں۔ تو کیا ایک دو اشخاص کے مسلمان کہلا کر قرآن کریم کا انکار کرنے سے اگر یہ نتیجہ نکل آتا ہے کہ قرآن کریم اب دنیا کو تسلی نہیں دے سکتا تو لاکھوں نہیں کروڑوں آدمیوں کا ہندو کہلا کر ویدوں کا انکار کرنا کیا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وید بھی اب دنیا کو تسلی نہیں دے سکتے۔ شاید پروفیسر صاحب کہیں کہ جین مت تو ایک علیحدہ مذہب ہے مگر اول تو میں امید نہیں کر سکتا کہ وہ ایسا کہہ سکیں کیونکہ اس وقت کی سیاسی جدوجہد کی موجودگی میں جبکہ ہندو ان اقوام کو بھی اپنے اندر شامل کرنے کی کوشش میں ہیں جو خود اپنے آپ کو ہندوؤں سے علیحدہ رکھنا چاہتے ہیں جیسے کہ سکھ وہ ہرگز اس بات کا اعلان نہیں کریں گے کہ جین ہندو نہیں ہیں بلکہ ہندوؤں سے ان کا علیحدہ مذہب ہے لیکن اگر وہ یہ بھی کہہ دیں کہ یہ لوگ تو علیحدہ مذہب رکھتے ہیں تو یہی بات قرآن کریم کے ماننے والوں کی طرف سے بھی کہی جاسکتی ہے کہ جس وقت کسی شخص نے قرآن کریم کا انکار کیا اسی وقت وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور مسلمان نہیں رہتا۔

ویدوں کے متعلق ہندوؤں کا پرانا فیصلہ

پروفیسر صاحب کو تو اس زمانہ میں چند آدمی ایسے ملے ہیں جنہوں نے اسلام کی تعلیمات کے خلاف قلم اُٹھائی ہے مگر میں ان کی توجہ اس طرف پھیرتا ہوں کہ اگر یہ اصل جو انھوں نے پیش کیا ہے درست ہے تو پھر ہزاروں سال سے ویدک تعلیم دنیا کے لئے ناکافی ثابت ہو چکی ہے کیونکہ یہ کروڑوں بُدھ جو ہندوستان میں بستے تھے اور کروڑوں جینی جو اب تک ہندوستان میں موجود ہیں آج سے دو ہزار سال پہلے کے زمانہ سے ویدک تعلیم کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔ یہ لوگ پہلے ہندو ہی تھے اور ویدوں کے ماننے والے تھے کیونکہ بدھ اور جینی کہیں باہر سے نہیں آئے یہ دونوں مذہب ہندوستان میں ہی پیدا ہوئے اور اسی ملک کے لوگوں نے ان کو قبول کیا۔ پس آج سے دو ہزار سال پہلے کروڑوں کی تعداد میں ویدک تعلیم کو ماننے والے اپنے عمل سے اس امر کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ ویدک تعلیم دنیا کی روز افزوں علمی ترقی کا ساتھ نہیں دے سکتی اور علوم جدیدہ کے حاصل کرنے والوں کے لئے تسلی کا موجب نہیں ہو سکتی۔

تازہ فیصلہ

یہ فیصلہ تو پُرانا ہے۔ کئی کروڑ آدمیوں کا تازہ فیصلہ بھی اس کی تصدیق میں موجود ہے۔ ہندوستان میں جو مسلمان اس وقت موجود ہیں ان میں سے اکثر اسی ملک کے باشندہ ہیں ان کا ویدوں کی تعلیم کو ترک کر کے اسلام کو قبول کر لینا کیا پروفیسر صاحب کے نزدیک اسی امر کا ثبوت ہو گا کہ ویدک تعلیم دنیا کی روز افزوں علمی ترقی کا ساتھ نہیں دے سکتی اور اب لوگوں کی تسلی کے لئے کافی نہیں۔ اگر یہ بات نہیں تو وہ دوسروں کے لئے اس پیمانہ سے کیوں وزن کرتے ہیں جس پیمانہ سے وہ اپنے لئے وزن کرنے کے لئے تیار نہیں۔

مگر میں انہی مثالوں پر بس نہیں کرتا۔ میں پروفیسر صاحب کو ان کے نہایت واجب التعظیم لیڈروں کے اور ایسے ہی خیالات کی طرف توجہ دلاتا ہوں وہ ان پر غور کریں اور اس دلیل کی طاقت کو دیکھیں جو انھوں نے اسلام کے اثر کے خلاف دی ہے۔

ہندو مذہب کے متعلق ٹیگور کی رائے

مسٹر ستیندرا ناتھ ٹیگور آئی۔ سی۔ ایس لکھتے ہیں کہ تم کوئی عقیدہ رکھو خواہ دہریت کو اختیار کرو تم ہندو مذہب سے خارج نہیں ہو سکتے جس کے یہ معنے ہوئے کہ ہندو مذہب کوئی حقیقت اپنے اندر مخفی نہیں رکھتا بلکہ ایک نام ہے جو اس نام کو اختیار کرلے وہ خواہ کوئی عقیدہ رکھے وہ ہندو ہی ہے۔ اس تعریف کی موجودگی میں جو ایسے لائق آدمی نے ہندو مذہب کی کی ہے کیا پروفیسر صاحب کہہ سکتے ہیں کہ ہندو مذہب دُنیا کو تسلی دے سکتا ہے۔ مسٹر ٹیگور کے بیان کے مطابق تو کوئی خیال بھی دُنیا میں پیدا ہو ہندو مذہب اس کو غلط دیکھ کر اس کی اصلاح کرنے کی بجائے اس کے اختیار کرنے کی اجازت دیدیتا ہے۔ اس صورت میں ہندو مذہب نے دنیا کی اصلاح کی یا دنیا کے بڑھتے ہوئے علوم نے ہندو مذہب کی اصلاح کی ؟

ایک اور ہندو کی رائے

رائے بہادر لالہ بیج ناتھ اخبار لیڈر میں لکھتے ہیں کہ ویدوں کو ماننا یا برہمنوں اور گائے کی عزت کرنا موجودہ ہندو مذہب کے اُصول نہیں کہلا سکتے کیونکہ یہ باتیں آج کل ہمارے خیالات پر قابض نہیں ہیں۔ پروفیسر صاحب بتائیں کہ جس مذہب نے اپنی کتاب اور اپنے بہترین اصول اپنے ماننے والوں سے نہ منوائے ہوں حتّٰی کہ اس کے بڑے بڑے پیروکاروں کو ان اصول کو اصولوں کی فہرست سے خارج کرنا پڑا ہو اس کی نسبت انہی کے مقولہ کے مطابق کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ وہ علوم کی بڑھتی ہوئی رَو کی موجودگی میں لوگوں کے قلوب پر تصرف رکھ سکتا ہے۔

ہندوؤں کا لاش دفن کرنا

ہندو مذہب میں لاش کا جلانا فرض ہے جس کی تائید میں پنڈت دیانند صاحب نے بہت سے دلائل بھی دیئے ہیں اور لاش کو دفنانے والوں پر تمسخر بھی اُڑایا ہے لیکن ہندوؤں میں سے جنگاما اور سنیاسی لوگ مردہ دفن کرتے ہیں یا جنگاما لوگ پانی میں لاش پھینک دیتے ہیں۔ اب کیا اس قوم کا یہ طریقی عمل جو ہندو مذہب کی ہدایات کے خلاف ہے کیا پروفیسر صاحب کے نزدیک اس امر کا ثبوت ہے کہ ہندو مذہب اب لوگوں کی تسلی کا موجب نہیں ہو سکتا۔

ظاہر میں ہندو دل میں مسلمان

آنریبل مسٹر گوکل داس کے پریکھ لکھتے ہیں کہ میں بہت سے خاندان ایسے جانتا ہوں جو ظاہر میں ہندو ہیں لیکن دل میں مسلمان ہیں۔ کیا ان کے اس بیان سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ زمانہ کی ترقی کے ساتھ ہندو مذہب ترقی نہیں کر سکا کیونکہ اس کے ماننے والوں کو اس مذہب پر تسلی نہ ہوئی اور اپنے ضمیر کا مقابلہ نہ کر کے انہوں نے خفیہ طور پر اسلام کو قبول کر لیا۔

گو اس بات کا یہاں تعلق نہیں مگر میں ضمنی طور پر اس امر کے بیان کرنے سے نہیں رہ سکتا کہ آنریبل مسٹر گوکل داس صاحب کی یہ شہادت ہندو صاحبان کے اس اعتراض کا بھی قلع قمع کر دیتی ہے کہ اسلام تلوار سے پھیلا ہے۔ اس سے تو پتہ لگتا ہے کہ کئی خاندان دل سے اسلام لے آئے مگر وہ اپنے عقیدہ کو اپنے رشتہ داروں سے ڈر کر ظاہر نہیں کر سکے بلکہ یہ شہادت تو اس امر کا ثبوت ہے کہ اسلام کے اظہار کرنے میں لوگوں کو دقتیں ہوئی تھیں اور جبراً ان کو اس بات سے روکا جاتا تھا، تبھی تو کئی ہندو خاندانوں کو باوجود اسلام کی صداقت کا قائل ہو جانے کے اس کے اظہار کی جرأت نہیں ہوئی اور وہ اپنے ہم قوموں سے ڈر کر خفیہ خفیہ اسلام کی تعلیم پر عمل کرتے ہیں اور ظاہرہ طور پر ہندو بنے ہوئے ہیں۔

ویدوں کے متعلق چند اور آراء

اب میں پھر اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔ پنڈت درگا دتا جوشی صاحب لکھتے ہیں کہ ”ایک شخص خاص حد تک ویدوں کے علوم سے زیادہ علوم بھی حاصل کر سکتا ہے“۔ ان پنڈت صاحب کے بیان کے مطابق وید تمام علوم کا مخزن نہیں بلکہ ویدوں سے اوپر اور علوم بھی ہیں جو انسان حاصل کر سکتا ہے۔

راؤ بہادر دیولراؤ نایک صاحب کے نزدیک وید ہر زمانہ کے لئے کافی نہیں ہیں کیونکہ وہ لکھتے ہیں کہ یہ سچ ہے کہ اصلی ویدک تعلیمات اب رائج نہیں ہیں اور شاستر اور سمرتی لکھنے والے عقلمند لوگ تھے جنہوں نے اس زمانہ کی بدلی ہوئی حالت کے مطابق قواعد بنا دیئے۔

بابو گوونداداس صاحب کا خیال ہے کہ خدا تعالیٰ پر ایمان لانا ضروری نہیں کیونکہ یوگا کے سوا باقی پانچوں آستک خیالات کے سلسلہ خدا تعالیٰ کا ذکر تک نہیں کرتے۔

پروفیسر صاحب کونسی راہ اختیار کرینگے

ان حوالہ جات کے بعد میں نہیں سمجھ سکتا کہ پروفیسر صاحب ان دو راہوں کے سوا کسی تیسری راہ کو اختیار کر سکتے ہوں کہ یا تو وہ یہ اقرار کریں کہ جس دلیل کے ساتھ انہوں نے اسلام کے اثر کو ناقص ثابت کرنا چاہا تھا وہ دلیل درحقیقت دلیل نہیں ہے بلکہ ایک بات تھی جو لیکچر کو مزیدار بنانے کے لئے پیش کر دی گئی تھی اور صرف حاضرین کو خوش کرنا اس سے مقصود تھا اور یا یہ تسلیم کریں کہ وہ دلیل تو درست ہے گو اسلام کے خلاف وہ اس زور کے ساتھ پیش نہیں کی جا سکتی جس قدر کہ آریہ مذہب کے خلاف۔

اور قرآن کریم کے اثر کا نقص اس دلیل سے اس طرح ثابت نہیں ہوتا جس طرح کہ ویدوں کے اثر کا نقص۔

معلوم نہیں پروفیسر صاحب ان دونوں راہوں میں سے کونسی راہ اختیار کریں ۔ مگر میں ان کو یہی مشورہ دونگا کہ جو سچی بات ہے وہ اسی کو قبول کر لیں کیونکہ آریہ سماج کے نیموں میں سے ایک یہ نیم بھی ہے کہ ستیہ کا گرہن کرنا اور استیہ کا چھوڑنا۔ اور سچی بات یہی ہے کہ یہ دلیل جو انھوں نے پیش کی تھی دلیل ہی نہیں ہے بلکہ ایک چٹکلہ ہے جو جہلاء کو خوش کرنے کے لئے پیش کیا جا سکتا ہے۔ اور میں اُن سے اُمید کرتا ہوں کہ وہ آئندہ اس قسم کے دلائل کو پیش نہ کیا کریں گے اور ایسے دلائل کو پیش کر کے ویدک مت کی صداقت کو ثابت کرنے کی کوشش کرینگے جو تنقید کو برداشت کر سکیں یا کم سے کم اس طرح بالبداہت باطل اور بے اصل نہ ہوں۔

بعض لوگوں کے کسی عقیدہ کے انکار کرنے کی وجوہات

گو یہ جوابات جو میں نے دیئے ہیں الزامی جوابات ہیں لیکن پروفیسر صاحب کے پیش کردہ دلائل کا جواب الزامی کے سوا اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ انھوں نے اپنے دعوٰی کی کوئی دلیل دی ہو تو اُسے رد کیا جائے۔ جن لوگوں کے اقوال انھوں نے نقل کئے ہیں ان کے دعوؤں کی بھی کوئی دلیل نہیں دی۔ پس ان پر بھی اس مضمون میں بحث نہیں کی جا سکتی۔ ہاں میں اس دلیل کے متعلق جو پروفیسر صاحب نے پیش کی ہے ان کی توجہ منعطف کرانی چاہتا ہوں ۔ پروفیسر صاحب کو یاد رہنا چاہئے کہ کسی خیال یا عقیدہ کو بعض لوگوں کا نہ ماننا اس کے جھوٹے ہونے کی علامت نہیں ہوتا۔ لوگوں کا انکار ہمیشہ اس عقیدہ کے جھوٹا ہونے کا شاہد نہیں ہوتا بلکہ اس کی کئی وجوہ ہوتی ہیں۔

پہلی وجہ

کبھی لوگوں کا انکار اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ گو وہ بات جس کا انکار کیا جاتا ہے سچی تھی مگر اس کے پیش کرنے والے قابل لوگ نہ تھے پس اس کے منکروں نے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے لوگوں کو پھسلا لیا اور وہ منکر ہو گئے۔ چنانچہ پروفیسر صاحب اس امر کو تسلیم کرینگے کہ ان کے عقیدہ کے مطابق ویدک توحید پچھلے زمانہ میں ہندوستان سے اسی طرح مٹی تھی۔ پنڈت دیانند صاحب سے پہلے ہندوستان میں بت پرستی ہی ہندوؤں کا شعار تھا۔ پنڈت صاحب نے ہندوؤں میں ایک ایسی جماعت قائم کی جو ایک طرف بتوں سے بیزار تھی تو دوسری طرف الہام کی بھی قائل تھی۔ پنڈت صاحب کا یہ بھی عقیدہ تھا اور سب آریوں کا عقیدہ ہے کہ ویدوں میں توحید ہی کی تعلیم ہے اور پہلے ہندو موحد ہُوا کرتے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ موحد ہندوستان مشرک کیونکر ہو گیا۔ آریہ صاحبان اس کا یہی جواب دینگے کہ آہستہ آہستہ لوگوں میں بدیاں پھیلتی گئیں اور سچی تعلیم کو وہ چھوڑتے چلے گئے ۔ جس کے دوسرے لفظوں میں یہی معنے ہونگے کہ گو توحید کی تعلیم اصلی تھی مگر اس کے قائم رکھنے والے لوگ ایسے قابل نہ تھے کہ لوگوں کو اس پر قائم رکھ سکتے اور لوگ شرک کی طرف متوجہ ہو گئے پس ایک وجہ کسی رائج عقیدہ یا خیال سے لوگوں کے منکر ہونے کی یہ ہوتی ہے کہ اس کے قائم رکھنے اور اس کی تبلیغ کرنے کے لئے لائق لوگوں کی کمی ہو جاتی ہے یا وہ بالکل مٹ جاتے ہیں۔

دوسری وجہ

دوسری وجہ کسی عقیدہ یا خیال کے ترک کرنے کی یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگ جو منکر ہوتے ہیں اس کے تائیدی دلائل سُنے بغیر اس کے مخالفوں کی باتوں کو سنتے ہیں اور ان کی باتیں آہستہ آہستہ ان کے دل پر ایسا اثر کر جاتی ہیں کہ وہ مخالف خیالات ان کا اصل عقیدہ ہو جاتے ہیں اور جو ان کا آبائی عقیدہ تھا وہ ان کے نزدیک جدید خیالات کی طرح ہو جاتا ہے جس کو وہ تعصب کی وجہ سے نہ قبول کر سکتے ہیں اور نہ اس پر غور کر سکتے ہیں۔

تیسری وجہ

تیسری وجہ کسی عقیدہ کے ترک کرنے کی یہ ہوتی ہے کہ انسان اپنی کمزوری کی وجہ سے اس کے مطابق عمل نہیں کر سکتا اور اپنی اس کمزوری کے اظہار سے بھی شرماتا ہے۔ پس اپنے عیب کے چھپانے کے لئے وہ اس عقیدہ کا ہی انکار کر دیتا ہے ۔

چوتھی وجہ

چوتھی وجہ کسی عقیدہ کے انکار کی یہ ہوتی ہے کہ بعض دفعہ انسان دوسروں کے رُعب میں آ جاتا ہے اور بغیر اپنے خیالات کی صحت یا ان کی غلطی پر غور کرنے کے محض رعب کی وجہ سے ان کے خلاف بیان کرنے لگ جاتا ہے کیونکہ وہ یہ خیال کر لیتا ہے کہ کیا ایسے عقلمند لوگ غلطی کر سکتے ہیں۔

پانچویں وجہ

پانچویں وجہ کسی عقیدہ کے انکار کی یہ بھی ہوتی ہے کہ کوئی نیا علم ایسا دریافت ہوتا ہے جو اس کے خلاف نظر آتا ہے اور انسان خیال کر لیتا ہے کہ میرا عقیدہ اس علم کے مخالف ہے حالانکہ وہ علم ابھی ناقص ہوتا ہے اور بسا اوقات آئندہ تحقیقات اس بات کو ثابت کر دیتی ہیں کہ اس سے جو استدلال کیا گیا تھا وہ غلط تھا۔ چنانچہ ایسی بیسیوں باتیں ہیں کہ جن کو یورپ نے بعض جدید علوم کی بناء پر ترک کر دیا لیکن مزید تحقیقات سے ثابت ہُوا کہ ان کا استدلال غلط تھا اور اس ادھورے علم سے جو نتیجہ انہوں نے نکالا تھا اس کے مکمل ہونے پر اس کی غلطی ان پر ثابت ہوگئی۔

چھٹی وجہ

چھٹی وجہ کسی عقیدہ کے انکار کی یہ ہوتی ہے کہ انسان اس عقیدہ کو باطل سمجھ کر نہیں بلکہ اور اغراض اور فوائد کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے۔ کبھی مال کے لالچ کی وجہ سے کبھی اس عقیدہ کے پھیلانے والوں سے جھگڑا ہو جانے کے سبب ، کبھی عزت کی خاطر ، کبھی دوستوں کو خوش کرنے کے لئے۔

ساتویں وجہ

ساتویں وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ واقعہ میں وہ عقیدہ جسے انسان ترک کرتا ہے غلط ہی ہوتا ہے اور انسان پر اس کی غلطی کھل جاتی ہے اس لئے وہ اس کا انکار کر دیتا ہے۔

پروفیسر صاحب نے نتیجہ نکالنے میں غلطی کی

غرض بعض لوگوں کے کسی عقیدہ یا مذہب کو ترک کر دینے سے یہی نتیجہ نہیں نکلتا کہ وہ عقیدہ یا مذہب ہی کمزور ہے بلکہ بسا اوقات اس ارتداد کا باعث اس عقیدہ کا غلط ہونا نہیں اس کا انکار کرنے والوں کی کمزوری یا کوتاہی یا بد نیتی یا غلطی ہوتا ہے اور جب کسی مذہب سے پھر نے والوں کے اقوال کو اس مذہب کی کمزوری کے ثبوت میں پیش کیا جائے تو مدعی کا یہ بھی فرض ہوتا ہے کہ وہ ثابت کرے کہ یہ ارتداد اس مذہب کی کمزوری کے سبب سے ہے نہ کہ کسی اور سبب سے۔ مگر پروفیسر رام دیو صاحب نے ایسا نہیں کیا بلکہ چند لوگوں کے خیالات پیش کر کے جھٹ نتیجہ نکال لیا ہے کہ اسلام اس زمانہ کے لوگوں کی تسلی نہیں کر سکتا۔

مَیں نے یہ جوابات اس بات کو فرض کر کے دیئے ہیں کہ پروفیسر صاحب نے جو کچھ مسٹر خدا بخش صاحب اور سید امیر علی صاحب اور مسٹر مظہر الحق صاحب اور مسٹر یوسف علی صاحب کی نسبت لکھا ہے وہ درست ہی ہے لیکن مجھے یہ شبہ کرنے کی کافی وجہ ہے کہ ان لوگوں کے خیالات کے اظہار میں بھی پروفیسر صاحب کو غلطی لگی ہے۔ مگر چونکہ پہلے دو صاحبوں کی کتب اس وقت میرے پاس موجود نہیں ہیں اور دوسرے دو صاحبوں کی تقریر کا حوالہ پروفیسر رام دیو صاحب نے نہیں دیا اس لئے مَیں اس امر کی نسبت کچھ تحریر نہیں کر سکتا کہ جو کچھ انہوں نے ان صاحبان کی نسبت لکھا ہے وہ درست بھی ہے یا نہیں ہاں ان کو اس امر کے متعلق اپنا عقیدہ بتا دیتا ہوں۔

مَیں قرآن کریم پر عقلی یا نقلی اعتراض کر نیوالوں کو جواب دے سکتا ہوں

میرے نزدیک قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کا ایک ایک لفظ اسی طرح محفوظ ہے جس طرح کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور یہ بات میں صرف عقیدۃً ہی نہیں مانتا بلکہ اسبات پر مجھے کامل یقین ہے اور یہ یقین اس امر کا نتیجہ نہیں کہ میں مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوا ہوں بلکہ اس یقین کی بناء دلائل اور عینی شواہد پر ہے اور میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر اس شخص کے اعتراضات کا جواب دے سکتا ہوں جو قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے کا منکر ہو خواہ وہ اعتراضات عقلی ہوں یا نقلی۔

مَیں فرشتوں کے متعلق اعتراض کرنیوالوں کو جواب دے سکتا ہوں

اسی طرح میرا یہ یقین ہے کہ فرشتے خیالی یا وہمی وجود نہیں ہیں بلکہ ان کا وجود عالم خیال سے باہر بھی موجود ہے اور قرآن کریم نے فرشتوں کی نسبت جو کچھ بیان فرمایا ہے اس کا ایک ایک لفظ درست ہے اور اگر کسی شخص کو ان کے وجود کے خلاف کوئی اعتراض ہو تو میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے شکوک کا ازالہ کر سکتا ہوں اور فرشتوں کا وجود میں صرف اس لئے ہی نہیں مانتا کہ میں نے قرآن کریم میں ان کا ذکر پڑھا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے محض فضل اور احسان سے میں نے خود بھی ان کی ملاقات کی ہے اور اُن سے کئی علوم سیکھے ہیں اور ان کا انکار ایسا ہی ہے جیسا کوئی نابینا سورج کی روشنی کا انکار کر دے۔ جب تک انسان کی رُوحانی آنکھیں نہ ہوں وہ کب اس بات کا اہل ہو سکتا ہے کہ روحانی وجودوں کو دیکھ سکے۔

رسول کریمؐ نے ایک آن کیلئے کسی کو اللہ کا شریک نہیں بنایا

میرا اسبات پر بھی یقین ہے کہ بعثت کے بعد تو الگ رہا بعثت سے پہلے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آن کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کا شریک کسی کو نہیں بنایا اور جو لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے کبھی بھی مشرکوں کے کہنے سے ان کے تین دیوتاؤں کو مان لیا وہ تاریخ سے ناواقف اور حقیقت سے جاہل ہیں وہ اپنے دعویٰ کا ثبوت پیش کریں تو ہم باہر سے نہیں خود انکے دیئے ہوئے دلائل سے ہی ان کے دعویٰ کا باطل ہونا ثابت کر دیں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ

اسلام تمام دُنیا کیلئے ہے

مَیں اس بات پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ اسلام عرب کے نیم وحشیوں کے لئے نہیں بلکہ دُنیا کے بہترین متمدن لوگوں کے لئے بھی مفید ہی نہیں بلکہ ضروری ہے اور میں ہر اس شخص کے اعتراضات کا جواب دینے کے لئے تیار ہوں جو اسلام کا حلقۂ اثر صرف نیم وحشیوں تک محدود رکھتا ہے۔ اسلام عملی طور پر یورپ اور ایشیاء کے متمدن ممالک یعنی یونان کے علاقوں ایران اور ہندوستان کی اصلاح کر کے ثابت کر چکا ہے کہ وہ تہذیب کا دعویٰ کرنیوالے ممالک کے لئے بھی ایسا ہی ضروری ہے جیسا کہ غیر متمدن لوگوں کے لئے اور اگر کسی کو عقلاً اس امر پر کوئی اعتراض ہے تو وہ پیش کرے۔ اگر اس کے اعتراضات تنقید کی کسوٹی پر سچے ثابت ہوں تب جو چاہے دعویٰ کرے۔

اسلامی پردہ نیکی کے قیام کا بہترین ذریعہ ہے

مَیں اس بات پر بھی یقین کرتا ہوں کہ اسلامی پردہ نیکی اور تقویٰ کے قیام کے لئے بہترین ذریعہ ہے اور مَیں مشتاق ہوں کہ اس شخص کے دلائل سنوں جسے اس پر کوئی اعتراض ہو۔

مسئلہ کثرتِ ازدواج

مَیں کثرتِ ازدواج کا نہ صرف قائل ہوں بلکہ اس پر عامل ہوں، اور میرے نزدیک اسلامی احکام کے ماتحت ایک سے زیادہ نکاح کرنے نہ صرف یہ کہ زنا کاری نہیں بلکہ اوّل درجہ کی بُردباری، قربانی، ایثار اور تقویٰ کی علامت ہے اور کوئی عیاش انسان ان قواعد کے ماتحت دوسرا نکاح کر ہی نہیں سکتا۔

صرف اللہ اللہ کرنا

خالی اللہ اللہ کا ذکر کرنا اسلامی تعلیم کے خلاف ہے اور اگر کوئی مسلمان ہندوؤں کی دیکھا دیکھی ایسا کرتا ہے تو وہ ایسا ہی ہے جیسے کئی ہندو مسلمانوں کی قبروں پر جا کر سجدہ کرتے ہیں۔

گوشت خوری

گوشت کو مَیں ان خوراکوں میں سے سمجھتا ہوں جو انسان کے لئے مضر نہیں بلکہ مفید ہیں اور اسلام نے جو اس کو حلال کیا ہے اس حکم کو مَیں نہایت ہی پُر حکمت سمجھتا ہوں اور جس شخص کو اس کے غیر قدرتی غذا ہونے کا خیال ہو اس کے دلائل معلوم ہونے پر اس کے اعتراضات کو وہم اور خیال ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں۔ انشاء اللہ۔ اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ گوشت انسان کی قدرتی غذا نہیں میرے نزدیک وہ ایسا نا واقف ہے کہ قدرتی غذا کے معنی بھی نہیں سمجھ سکتا۔ ہر وہ غذا جو غذا کا کام دے سکتی ہے اور انسان کے جسم کی نشوونما اس سے ہو سکتی ہے اور زہر نہیں ہے وہ قدرتی غذا ہے اس کو غیر قدرتی کہنا جاہل کا کام ہے۔ قدرتی کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جس کے بغیر گزارہ نہ ہو سکے کیونکہ ایسی کوئی بھی غذا نہیں جس کے بغیر انسان زندہ نہ رہ سکے۔ بعض ممالک کی اصل غذا گیہوں ہوتی ہے، بعض دوسرے ممالک کے لوگ گیہوں کو اس طرح ہضم نہیں کر سکتے جس طرح چاول کو، بعض اور اقوام جوار کا زیادہ استعمال کرتی ہیں، بعض زیادہ تر گوشت اور دودھ پر گزارہ کرتی ہیں۔ پس ایسی کوئی بھی غذا نہیں جس کے بغیر گزارہ ہی نہ ہو سکے اور اگر اس اصل سے کسی غذا کو قدرتی قرار دیا جائے تو کوئی غذا بھی قدرتی نہیں رہ سکتی۔

اور اگر گوشت کو قدرتی غذا نہ کہنے کی وجہ لوئی کو ہنی کی یہ دلیل ہے کہ انسانی آنتیں گوشت خور جانوروں کی طرح نہیں ہیں تو یہ دلیل بھی باطل ہے کیونکہ انسان گوشت خور جانور نہیں ہے یہ خیال خود باطل ہے کہ ہر ذی روح کو یا گوشت خور ہونا چاہئے یا سبزی خور۔ انسان نہ گوشت خور ہے نہ سبزی خور۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے دونوں چیزیں استعمال کرنے کی طاقت دی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں چیزوں کو ہضم کر لیتا ہے ورنہ وہ جانور جو صرف ایک چیز کھانے کی طاقت رکھتے ہیں دوسری چیز یا تو استعمال ہی نہیں کرتے یا اس کے استعمال سے ہلاک ہو جاتے ہیں یا متواتر استعمال سے ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ پس گوشت کو غیر قدرتی غذا قرار دیکر اسلام پر حملہ کرنا نادانی کا فعل ہے۔

پرہیزگاری اسلامی احکام پر عمل کرنے سے حاصل ہو سکتی ہے

میرا یہ بھی یقین ہے کہ پُرانوں اور رامائن کے پڑھنے سے نہیں بلکہ اسلامی احکام پر عمل کرنے سے سچی پرہیزگاری نصیب ہوتی ہے اور میں اس بات کا مشتاق ہوں کہ وہ باتیں معلوم کروں جو رامائن میں ایسی موجود ہیں کہ جن سے پاکیزگی حاصل ہوتی ہے لیکن قرآن کریم اور احادیث اور اسلامی لٹریچر میں موجود نہیں۔ میرے نزدیک تو ہندوؤں کی ان مذکورہ بالا کتب میں ایسی کوئی بات نہیں مل سکتی جو پاکیزگی کا باعث ہو مگر اسلام میں موجود نہ ہو۔ ہاں ایسی باتیں ضرور مل جاویں گی جو ان کتب میں موجود ہیں اور خود ہندو صاحبان بھی دل سے یہی پسند کریں گے کہ کاش یہ نہ ہوتیں۔

پروفیسر صاحب اسلامی مسائل کے خلاف جو دلائل رکھتے ہیں۔ پیش کریں !

اپنے عقیدہ کے بیان کے بعد میں پروفیسر صاحب سے اُمید کرتا ہوں کہ یہ باتیں جو انھوں نے اسلام کی کمزوری ثابت کرنے کے لئے پیش کی ہیں ان کے متعلق اگر کوئی دلیل ان کے پاس ہے یا ان لوگوں کے پاس ہے جن کی مدد انہوں نے حاصل کی ہے تو اس کو پیش کریں۔ میں انشاء اللہ اس کا جواب دینے کے لئے تیار ہوں اور اس امر کو یقینی دلائل سے ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں کہ علوم کی ترقی اور سائنس کے انکشافات اگر کسی مذہب کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تو وہ صرف اسلام ہے یہی مذہب ہے جو ہر زمانہ کی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے اور پورا کرتا رہے گا۔ تعجب ہے کہ پروفیسر صاحب کو وہ چند لوگ تو نظر آگئے جو ان کے صوبہ سے باہر رہتے تھے اور جو اسلام کے بعض مسائل پر معترض تھے اور اس سے انہوں نے یہ نتیجہ نکال لیا کہ اسلام ہر زمانہ کی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتا لیکن ان کو وہ لوگ جو انہی کے صوبہ میں رہتے ہیں اور جو علی الاعلان اسلام کے ہر ایک حکم کی خوبی ثابت کرنے کے مدعی اور اس کی زندگی بخش قوت کے گواہ ہیں اور ان میں علوم جدیدہ کے ماہرین بھی شامل ہیں نظر نہ آئے۔

وَ اخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

خاکسار مرزا محمود احمد


کونسا مذہب دُنیا کی تسلّی کا موجب ہو سکتا ہے؟

پروفیسر رام دیو صاحب کے مضمون کا جواب

(از سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی)

اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

خُدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ

احباب کرام کو یاد ہو گا کہ پروفیسر رام دیو صاحب کے ایک لیکچر کے متعلق جو انھوں نے آریہ سماج کے سالانہ جلسہ کے موقع پر دیا تھا اور جس میں انھوں نے ویدک دھرم کی فضیلت دوسرے مذاہب پر ثابت کرنے کی کوشش کی تھی میں نے ایک مضمون لکھا تھا جو ۱۳؍دسمبر ۱۹۲۰ء کے الفضل میں شائع ہو چکا ہے۔

پروفیسر صاحب کے مضمون کا خلاصہ

پروفیسر رام دیو صاحب نے اس مضمون کا جواب پرکاش کے ۱۶؍ جنوری ۱۹۲۱ء کے پرچہ میں شائع کرایا ہے جس میں انھوں نے اول تو اس بات پر خوشنودی کا اظہار کیا ہے کہ ان کے مضمون پر سنجیدگی اور متانت سے نکتہ چینی کی گئی ہے پھر ہندو مسلم اتحاد پر میرے خیالات کی تائید کی ہے۔ آگے چل کر وہ تحریر فرماتے ہیں کہ میں نے غلط فہمی سے پروفیسر صاحب کی طرف یہ بات منسوب کر دی ہے کہ انھوں نے اسلام کے خلاف یہ دلیل دی ہے کہ مسلمانوں کا رنگ کالا ہے اس لئے وہ یورپ کی تسلی نہیں کر سکتے۔ وہ تحریر فرماتے ہیں کہ یہ بات انھوں نے عیسائیوں کے متعلق بطور مذاق کہی تھی اور ”بندے ماترم“ میں شائع شدہ خلاصۂ تقریر سے اس قسم کی غلط فہمی کا ہو جانا بعید از قیاس نہیں۔ پھر

وہ تحریر فرماتے ہیں کہ مسٹر سید امیر علی صاحب اور مسٹر خدا بخش کی کتابوں سے اقتباسات جس غرض سے پروفیسر صاحب نے پیش کئے تھے اس کا مطلب بھی میں غلط سمجھا ہوں وہ تسلیم کرتے ہیں کہ کسی مذہب کے پیروکار کا اس مذہب سے منکر ہو جانا لازمی طور پر اُس مذہب کے غلط ہونے کی دلیل نہیں لیکن اگر کسی مذہب کا پُرجوش واعظ اور مسلم لیڈر اس کتاب میں جو اس نے اس مذہب کی حمایت میں لکھی ہو اس کے کئی مسائل کو زمانہ کے لحاظ سے ناقابل حمایت تسلیم کرے تو یہ ان مسائل کی کمزوری کا ثبوت ضرور ہے۔ اگر ایک مقدمہ میں ایک فریق کا وکیل ہی خاص امر پر زور نہ دے یا اپنی کمزوری مان لے اور موکل اس کے نمائندہ ہونے سے انکار نہ کرے تو عدالت کے لئے ناممکن ہے کہ ان امور کے متعلق اس فریق کے حق میں فیصلہ کرے۔ سید امیر علی نہ مُرتد ہیں نہ معمولی مسلمان بلکہ انھوں نے یہ کتاب ہی اس غرض سے لکھی تھی کہ یورپ میں اشاعت اسلام ہو۔ پس جب ایک مسلمان عالم دنیا کو اسلام کی طرف کھینچنے کے لئے ایک کتاب لکھتا ہے اور اس میں یہ بتاتا ہے کہ اس کے بعض مسائل وحشیوں کے لئے تو مناسب تھے لیکن آج غیر ضروری ہیں تو اگر کوئی غیر مذہب کا واعظ اس سے یہ نتیجہ نکالے کہ کئی مسلمان عالم بھی اس روشنی کے زمانہ میں اسلام کے چند مسائل کی حمایت نہیں کر سکتے تو اس کا کیا قصور ہے۔ پھر لکھتے ہیں اس کے دو جواب ہو سکتے تھے یا یہ کہ سید امیر علی مُرتد ہیں یا یہ کہ حوالے غلط ہیں۔ مگر سید صاحب کو کسی نے کافر نہیں قرار دیا اور ان کے حوالوں کو کسی نے غلط ثابت نہیں کیا پس ان مسائل کا اسلام کی کمزوری کی دلیل میں پیش کرنا بالکل درست تھا۔ یہ میری دلیل تھی بھی اور ہے بھی کہ کسی مذہب کے نمائندوں کا باوجود کوشش کے اس کے بعض مسائل کی حمایت نہ کر سکنا اس مذہب کی کمزوری کی دلیل ہے۔

پھر پروفیسر صاحب لکھتے ہیں کہ ہندو صاحبان کے جو حوالے میں نے پیش کئے تھے وہ اپنے مدعا کو ثابت کرنے سے قاصر ہیں۔ مثلاً لالہ لاجپت رائے صاحب کے اقوال اول تو کچھ ثابت ہی نہیں کرتے اور اگر ثابت کریں تو وہ آریہ سماجی نہیں ہیں پھر اگر انھوں نے یہ کہہ دیا کہ پندرہ سو برس سے بعض عقائد کی وجہ سے ہندو مذہب ہماری تباہی کا موجب ہو رہا ہے تو اس میں کیا حرج ہے اس کے تو سب ہندو قائل ہیں۔ لالہ مولراج صاحب بھی آریہ سماج کے مذہبی نمائندہ نہیں ہیں اور ان کے خیالات سے آریہ سماج کے دونوں فریق اختلاف ظاہر کر چکے ہیں نہ انھوں نے آریہ سماج کی حمایت میں کبھی کوئی کتاب لکھی ہے۔ آریہ گزٹ نے اگر گرے ہوئے لوگوں کیلئے ودھوا کے بیاہ کی اجازت دیدی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ پنڈت دیانند صاحب نے بھی شودروں

کے لئے ودھوا بیاہ جائز قرار دیا ہے پس آریہ سماج کا کوئی نمائندہ آریہ اصول سے منحرف نہیں۔

پھر لکھتے ہیں کہ ہندو مذہب میں اختلاف کثیر کی موجودگی ویدک دھرم کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔ کیونکہ ویدک دھرم ہندو دھرم نہیں بلکہ ایک عالمگیر دھرم ہے جو لوگ ویدوں کو نہیں مانتے اور جن کو ہندوؤں نے اپنا نمائندہ تسلیم نہیں کیا اور جنہوں نے ویدک دھرم کی تائید میں کوئی کتاب نہیں لکھی ان کا وید کے خلاف لکھنا ویدک دھرم پر کوئی حرف نہیں لاتا۔

آخر میں لکھتے ہیں کہ میں نے جو چیلنج ان کو دیا ہے کہ سید امیر علی صاحب نے اسلام کے جن مسائل کو ترک کر دیا ہے ان کے متعلق وہ مجھ سے بحث کر سکتے ہیں وہ اس چیلنج کو منظور کرتے ہیں اور اگر مجھے اعتراض نہ ہو تو سب سے پہلے قرآن کریم کے الہامی ہونے کے خلاف دلائل پیش کرنے کے لئے وہ تیار ہیں وہ مضامین پہلے اخبارات میں شائع ہو جاویں پھر کتابی صورت میں شائع ہو جاویں۔

رنگت کا سوال مذاق تھا

پروفیسر صاحب کے اس لیکچر کا خلاصہ جو انہوں نے آریہ سماج کے جلسہ پر دیا تھا اخبارات میں یہ دیا گیا تھا کہ اسلام آئندہ دنیا کا مذہب نہیں ہو سکتا کیونکہ ایک تو مسلمانوں کا رنگ سفید نہیں دوسرے خود بعض مسلمان مصنف اسلام کے بعض مسائل کو غلط اور ناقابل تسلیم تصور کرتے ہیں۔ ان دونوں سوالات میں سے پہلے سوال کے متعلق تو اپنے تازہ مضمون میں پروفیسر صاحب نے چونکہ تحریر فرما دیا ہے کہ وہ غلط فہمی سے پیدا ہوا ہے اس لئے اس کے متعلق مزید بحث فضول ہے۔ دوسرا سوال باقی رہ جاتا ہے جسے انہوں نے پھر پیش کیا ہے اور اس کی صحت پر زور دیا ہے پس میں اسی کے متعلق مزید روشنی ڈالوں گا۔ مگر پیشتر اس کے کہ میں ان باتوں کا جواب دوں جو پروفیسر صاحب نے اپنے دعویٰ کی تائید میں بطور تشریح یا بطور دلیل پیش کی ہیں میں یہ امر لکھ دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ یہ امر میری سمجھ میں نہیں آیا کہ پروفیسر صاحب نے سوالِ اوّل کے متعلق غلط فہمی کو میری طرف کس طرح منسوب کیا ہے۔ غلط فہمی کے تو یہ معنے ہوتے ہیں کہ کسی عبارت کا جو اصل مطلب ہو اس کے خلاف دوسرا مطلب سمجھ لیا جائے اور یہ بات اس جگہ درست نہیں کیونکہ میں نے جو مفہوم ”بندے ماترم“ کا سمجھا ہے اس کے سوا اور کوئی مطلب اس کا نکل ہی نہیں سکتا پس اگر غلط فہمی تھی تو اس کا مرتکب ”بندے ماترم“ ہے نہ کہ میں۔ ”بندے ماترم“ ان کی تقریر کا خلاصہ ان الفاظ میں لکھتا ہے :۔

”مگر یہی سب کچھ نہیں کہ مسلمانوں کا رنگ سفید نہیں اس لئے یورپ کی مشکلات کا حل ان سے نہیں ہو سکتا۔“

پروفیسر صاحب فرماتے ہیں کہ انھوں نے یہ بات مسیحیوں کے متعلق مذاق کے طور پر کہی تھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر مسیحیوں سے مذاق کرنا تھا تو وہ اُس حصہ لیکچر میں ہونا چاہئے تھا جو مسیحیوں کے متعلق تھا نہ کہ اس حصہ میں جو مسلمانوں کے متعلق تھا اور پھر اگر مذاق ہی کرنا تھا تو انھوں نے کیوں یہ نہ کہا کہ ویدک دھرم سے بھی اس مشکل کا حل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے پیروؤں کا رنگ سفید نہیں۔ ایک تیسری قوم کو کیوں بیچ میں لے آئے۔ مگر چونکہ وہ فرماتے ہیں کہ یہ مذاق تھا اس لئے میں بھی اس کو مذاق ہی تسلیم کرتا ہوں۔

اب رہا دوسرا سوال جو یہ ہے کہ چونکہ اسلام کے بعض پیرو اس کے بعض مسائل کو ضرورت کے مطابق نہیں بتاتے یا غلط قرار دیتے ہیں اس لئے اسلام اس زمانہ کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتا۔ اس کے متعلق اپنے تازہ مضمون میں پروفیسر صاحب نے کچھ تشریحات کی ہیں اور کچھ شرائط لکھی ہیں اور اس بات پر مُصرّ ہیں کہ یہ دلیل میری دُرست تھی۔ پروفیسر صاحب کے تازہ بیان کے مطابق اگر کسی مذہب کا مصنف پیرو جو اس مذہب کی حمایت کے لئے کھڑا ہوا اور وہ اس مذہب کے بعض مسائل کو ناقابلِ حمایت ظاہر کرے اور دوسرے لوگ اس کو مُرتد قرار نہ دیں تو اس شخص کا یہ اقرار ضرور اس مذہب کے ان مسائل کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے اور دو صورتوں میں سے ایک ضرور اختیار کرنی ہو گی یا اس شخص کو مُرتد ثابت کرنا ہو گا یا حوالہ جات کو غلط ثابت کرنا ہو گا۔

تصنیف کسی کو راہنما یا نمائندہ نہیں بنا دیتی

میرے نزدیک پروفیسر صاحب نے جو تشریح اپنی دلیل کی اب کی ہے اس سے بھی ان کا مدّعا ثابت نہیں ہوتا اور جو حوالے انھوں نے دیئے ہیں وہ بھی درست نہیں ہیں۔ پروفیسر صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ تصنیف کسی کو رہنما اور مسلمہ لیڈر نہیں بنا دیتی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے رہنما دُنیا میں گذرے ہیں لیکن انھوں نے خود کوئی تصنیف نہیں کی اور بعض ایسے لوگوں نے جو اہل نہ تھے تصانیف کر دی ہیں۔ تصنیف تو ادبی مذاق یا جوشِ قلب پر دلالت کرتی ہے یا شہرت و نمود کی خواہش کی علامت ہے۔ پس سید امیر علی صاحب کا یا اور کسی کا کوئی کتاب لکھ دینا اسبات کی دلیل نہیں ہو سکتا کہ وہ مسلمانوں کے مسلمہ لیڈر ہیں۔ مسلمہ لیڈر تو وہ تبھی ہو سکتے ہیں جب کوئی جماعت مسلمانوں کی ایسی موجود ہو جو اپنے آپ کو ان کی رائے سے متفق ظاہر کرتی ہو اور انکی اتباع کی مدعی ہو یا کم سے کم ان کو مذہبی طور پر کوئی رُتبہ دیتی ہو۔ مثلاً مذہبی مسائل میں ان کی رائے کو وقعت دیتی ہو، ان سے مذہبی اُمور میں مشورہ لیتی ہو مگر یہ بات ہرگز ثابت نہیں نہ سید امیر علی صاحب، نہ مسٹر خدا بخش صاحب، نہ مسٹر مظہر الحق صاحب جن لوگوں کے اقوال یا تحریریں پروفیسر صاحب نے نقل کئے ہیں ان میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں جس کو تمام فرقہ ہائے اسلام تو الگ رہے کسی ایک فرقہ نے بھی کبھی ایک مذہبی عالم واقفِ شریعت اور ماہر تسلیم کیا ہو۔ مثلاً سید امیر علی صاحب ہیں ان کی تمام تر عزت و شہرت ان کی قانونی قابلیت کی وجہ سے ہے یا سیاسی سعی کی وجہ سے اور اب تو مسلمان ان کو سیاسی لیڈر بھی تسلیم نہیں کرتے اور مسٹر خدا بخش صاحب کو کسی رنگ میں بھی مسلمانوں میں کوئی عظمت حاصل نہیں ہوئی اور دوسرے صاحبان جن کے آپ نے نام لکھے ہیں وہ خود آپ کے معیار کے مطابق بھی پورے نہیں اُترتے کیونکہ انہوں نے اسلام کی تائید میں کوئی کتاب نہیں لکھی۔ پس اگر یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ کسی مذہب کے کسی مقتدر عالم کا قول اس مذہب کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے تو بھی ان لوگوں کے اقوال اسلام کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ لوگ مذہبی عالم کبھی بھی تسلیم نہیں کئے گئے اور کبھی بھی مذہبی اُمور کے تصفیہ میں ان سے مشورہ نہیں لیا گیا۔ اگر ان میں سے بعض نے اسلام کے متعلق کتب بھی لکھی ہیں تو اس سے بھی یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ یہ اسلام کے عُلماء میں سے ہیں اور اِس کے نمائندہ ہیں۔ نمائندہ تو دوسروں کے تسلیم کرنے سے ہوتا ہے نہ کہ کتاب لکھ دینے سے۔ اگر کوئی شخص آریہ مذہب کے متعلق کوئی کتاب لکھ دے تو کیا وہ اس کا نمائندہ کہلانے لگ جائے گا ؟ کسی قوم کا نمائندہ تو وہی ہے جس کو وہ قوم خود اپنا نمائندہ مقرر کرے یا تسلیم کرے۔ ان لوگوں کو کب مسلمانوں نے اپنا مذہبی نمائندہ تسلیم کیا کہ ان کا قول اسلام کے خلاف حجت ہو۔

یہ بات بھی نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کہ ان صاحبان کو اسلام کی تائید میں کتب لکھنے کے لئے اہل اسلام نے نہیں کہا کہ یہ کتب اہلِ اسلام کی طرف سے سمجھی جاویں نہ ان کی کتب کے شائع ہونے پر ان کو اسلام کی صحیح ترجمانی کرنے والا قرار دیا گیا ہے پس صرف اس وجہ سے کہ کسی شخص نے اسلام کی تائید میں کتاب لکھی ہے اس شخص کو اسلام کا نمائندہ نہیں قرار دیا جا سکتا اور نہ اس کی کتاب کو اسلام کی صحیح ترجمانی کہا جا سکتا ہے۔ خود آریہ سماج میں بیسیوں مصنف ہیں۔ پروفیسر صاحب کبھی جائز نہیں رکھیں گے کہ ان میں سے ہر ایک کو آریہ سماج کا نمائندہ قرار دیا جائے یا ان کی ذاتی رائے کو مدنظر رکھ کر آریہ سماج پر حملہ کیا جائے۔ رائے اسی شخص کی حجت ہو سکتی ہے جو کسی مذہب کا بانی ہو یا کسی جماعت نے خود اس کو اپنا نمائندہ منتخب کیا ہو یا اس کے رائے ظاہر کرنے کے بعد سب نے اس کے صحیح ہونے کی تصدیق کی ہو۔

کسی بات کی تردید نہ کرنا اسکو صحیح تسلیم کرنا نہیں ہوتا

پروفیسر صاحب کا یہ فرمانا بھی کہ لوگوں نے اُس کی تردید کیوں نہ کی ۔ پس تردید نہ کرنا اور اس شخص کو مرتد نہ قرار دینا اس امر کا ثبوت ہے کہ اس کو صحیح تسلیم کر لیا گیا درست نہیں۔ ہر مخالف رائے کا رد کرنا ضروری نہیں ہوتا نہ ہر بات جس کو رد نہ کیا جائے صحیح تسلیم کی جا سکتی ہے۔ اگر ہر ایک مخالف رائے کا رد کرنا ضروری ہو تو دُنیا میں اندھیر پڑ جائے اور اسقدر فضول تصنیف کرنی پڑے کہ جس کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔ کیا پروفیسر صاحب کہہ سکتے ہیں کہ آریہ سماج میں ہر اس بات کا جو ان کا کوئی ممبر غلطی سے کہہ بیٹھے رد کیا جاتا ہے اور اخبارات کے ایک ایک مضمون کو مدّنظر رکھا جاتا ہے۔ یہ دعویٰ دنیا کا کوئی مذہب بھی نہیں کر سکتا کہ اس کے افراد میں سے ہر ایک نے جو خیالات ظاہر کئے ہوں ان کا بالاستیعاب رد کیا جاتا رہا ہے۔ بیسیوں باتیں کئی وجوہ سے ناقابلِ التفات خیال کی جاتی ہیں اور بیسیوں تحریریں ان لوگوں کی نظر سے جو جواب دینے کی اہلیت رکھتے ہیں پوشیدہ رہتی ہیں پس انکار نہ کرنے کو ان کے مُسَلّم ہونے کی دلیل قرار دینا بالکل غلط بات ہے۔ پروفیسر صاحب نے اس دلیل کی تائید میں ایک مثال دی ہے کہ اگر کسی شخص کا وکیل عدالت میں کوئی بات بیان کرے اور اس کا موکل اس کا انکار نہ کرے تو عدالت کے نزدیک وہ بات موکل ہی کی طرف سے سمجھی جائیگی۔ لیکن یہ مثال غلط ہے کیونکہ وکیل تو اس خاص کام کے لئے موکل مقرر کرتا ہے اور خود اسے اپنا کیس سمجھاتا ہے پھر اپنی یا اپنے کسی معتبر کی موجودگی میں اس سے کام لیتا ہے۔ یہاں ان میں سے کونسی بات پائی جاتی ہے۔ اگر مسلمانانِ عالم نے سید امیر علی صاحب یا کسی دوسرے مصنف کو اپنی طرف سے باقاعدہ مقرر کیا ہوتا تو تب بیشک بشرطِ علم ان پر لازم آتا کہ ان کی ہر ایک بات کو جو ان کے منشاء کے خلاف کہیں رد کریں لیکن جب یہ بات ہی نہیں تو پھر اس مثال سے پروفیسر صاحب کیا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں ۔

سید امیر علی صاحب کی کتاب کی تردید کیوں نہ ہوئی

پروفیسر صاحب کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ کتاب انگریزی میں لکھی گئی ہے اور جس وقت یہ کتاب لکھی گئی ہے اُس زمانہ میں مختلف فرقوں کے وہ لوگ جو مذہب سے واقف تھے اس زبان سے نا واقف تھے اور نہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ کتاب اُن تک پہنچی تھی۔ پس ان امور کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کتاب یا اسی قسم کی اور کتب جو انگریزی میں لکھی گئی ہوں کی تردید نہ ہونا یا ان کے لکھنے والوں کے اسلام کے نمائندہ ہونے سے انکار نہ کیا جانا اس امر کا ثبوت نہیں قرار پا سکتا کہ ان کا مضمون درست ہے یا یہ کہ وہ شخص ان لوگوں کا نمائندہ ہے۔

پروفیسر صاحب کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ مسلمان ہمیشہ سے ان عقائد کے مخالف ہیں اور اس قسم کی کتب کے چھپنے کے بعد بھی مخالف رہے ہیں پس جب وہ مخالف خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں تو پھر کسی اور تردید کی ان کو کیا ضرورت تھی۔ ہر ایک عقلمند انسان خیال کر سکتا تھا کہ جب آپس میں اسقدر اختلافِ رائے ہے تو ایک دوسرے کا نمائندہ کیونکر ہو سکتا ہے خصوصاً جبکہ خود مصنف کتاب نے اپنے نمائندہ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تو پھر باوجود مسلمانوں میں مخالف خیال کی موجودگی کے اس کی نمائندگی کا انکار کرنا ایک حماقت نہ ہوتی تو اور کیا ہوتا۔ اگر کوئی شخص ان کی نمائندگی کا انکار کرتا تو کیا سید امیر علی صاحب اس امر پر ہنستے یا نہ ہنستے اور کیا جواب میں یہ نہ کہتے کہ میں نے کب تمہارا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

مسلمانوں کا نمائندہ ہونے سے سید امیر علی صاحب کا انکار

مجھے تعجب ہے کہ پروفیسر صاحب سید امیر علی صاحب کو مسلمانوں کا نمائندہ قرار دے رہے ہیں اور سید امیر علی صاحب اپنی کتاب میں اس عہدہ سے انکار کرتے ہیں کیونکہ وہ متعدد جگہ لکھتے ہیں کہ اس وقت مسلمان اسلام کو چھوڑ بیٹھے ہیں اور صحیح اسلام ان میں نہیں پایا جاتا اور یہ کتاب جیسا کہ وہ خود اس کے دیباچہ میں لکھتے ہیں انھوں نے مسلمانوں کو بزعمِ خود حقیقی اسلام سمجھانے کے لئے لکھی ہے نہ کہ ان کی طرف سے نمائندہ کی حیثیت سے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:۔ ”یہ کتاب جس کو پہلی کتاب کا دوسرا ایڈیشن کہنا غلط ہو گا خصوصیت کے ساتھ ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے لکھی گئی ہے“۔ پھر لکھتے ہیں کہ یہ کتاب انھوں نے اس اُمید سے لکھی ہے کہ:۔ ”ہندوستان کے مسلمان اس بڑی یورپین طاقت کے زیر نگرانی دوبارہ عقلی اور اخلاقی زندگی حاصل کریں“۔ یہ عجیب قسم کا وکیل ہے جو اپنی تقریر کا مخاطب جج کی بجائے موکل کو بناتا ہے۔ سید صاحب کے یہ فقرات بتاتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو خود تراشیدہ جج خیال کرتے ہیں نہ کہ مسلمانوں کا وکیل۔

سید صاحب کی نمائندگی کا انکار کیا گیا

یہ بات بھی درست نہیں کہ سید صاحب کی نمائندگی سے انکار نہیں کیا گیا کیونکہ گو ان کا نام لیکر ان کو مخاطب نہ کیا گیا ہو مگر ان کے جن مضامین کی طرف پروفیسر صاحب نے اشارہ کیا ہے ان کا رد واقف کارانِ اسلام کی طرف سے پچھلے تیس سال کے عرصہ میں ہمیشہ ہوتا رہا ہے۔ پس جب ان مضامین کو رد کیا جاتا رہا ہے تو سچی سید صاحب کے مذہبی نمائندہ ہونے کا رد ہے ان مضامین سے ایک بھی مضمون نہیں جس کا رد نہ کیا گیا ہو۔

مگر میں پروفیسر صاحب کے اس مطالبہ کو بھی کہ خاص اس کتاب کو مد نظر رکھ کر سید صاحب کی مخالفت کی گئی ہو پورا کئے بغیر آگے نہیں جانا چاہتا اور سید صاحب کی اپنی شہادت اس بارہ میں پیش کرتا ہوں اور یہ ان کا وہ فقرہ ہے جو ان کی کتاب کے دوسرے ایڈیشن کے دیباچہ میں انھوں نے لکھا ہے وہ لکھتے ہیں:۔

”وہ مخالفت جو اس کتاب کی ہوئی ہے اس نے یہ فائدہ ہی دیا ہے کہ وہ خیالات جو اس کے ذریعہ سے اگلی نسلوں میں پیدا کرنے مد نظر تھے ان کا اثر اور بھی بڑھ گیا ہے۔“

اس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سید صاحب کی اس کتاب پر مخالفت کی گئی تھی پس پروفیسر صاحب کا یہ خیال بھی غلط ہو گیا کہ سید صاحب کی نمائندگی کا انکار کیوں نہیں کیا گیا۔ جیسا کہ سید صاحب تحریر فرماتے ہیں انکی کتاب کے شائع ہوتے ہی اسکے غلط خیالات کو رد کر دیا گیا تھا پس ان کی نمائندگی کا انکار ہو چکا ہے۔ سید صاحب کے اس فقرہ سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ کتاب بحیثیت نمائندہ اہل اسلام نہیں لکھی تھی بلکہ اپنے چند خیالات کو پھیلانے کے لئے یہ کتاب لکھی تھی۔ اگر پروفیسر صاحب کہیں کہ تمام اہل اسلام نے بالاتفاق اسکے نمائندہ ہونے سے انکار نہیں کیا تو میں پوچھتا ہوں کہ کیا لالہ مولراج صاحب کے اقوال کا رد ویدک دھرم کے ہر ایک ماننے والے نے استثناء کیا ہے ۔ انکار کے لئے اسی قدر کافی ہوتا ہے کہ بعض لوگ اپنے اصل عقائد کا اظہار کر دیں اور نئے خیالات سے اپنی براءت کر دیں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر فرد ان کا انکار کرے اور یہ بات سید امیر علی صاحب کی کتاب سپرٹ آف اسلام کے متعلق خود ان کے اپنے بیان کے مطابق ہو چکی ہے۔

پروفیسر صاحب ایک اور دھوکے میں

پروفیسر صاحب ایک اور بہت بڑے دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ یہ کہ وہ ایک شخص کی غلطی سے تمام لوگوں پر حجت قائم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ خواہ کوئی شخص کسی قوم کا نمائندہ بھی ہو اس کی بات کا اثر اس کے مخالف خیال کے لوگوں پر نہیں ہو سکتا ۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ جو شرائط پروفیسر صاحب نے بتائی ہیں وہ جس میں پائی جائیں اس کی بات اس کے ہم مذہبوں پر حجت ہوتی ہے تو بھی پروفیسر صاحب کی دلیل بالکل بے وزن ہے کیونکہ اسلام کی طرف منسوب ہونے والے اسوقت بیسیوں فرقے ہیں جس طرح وید کی طرف منسوب ہونے والے بیسیوں فرقے ہیں پس اگر کوئی شخص ایک قوم کا نمائندہ بھی ہو تب بھی اس شخص کا قول زیادہ سے زیادہ اس کی قوم پر حجت ہو گا نہ کہ اس مذہب کے تمام پیروان پر خواہ وہ اس سے اختلاف ہی کیوں نہ رکھتے ہوں۔ چنانچہ خود پروفیسر صاحب اپنے مضمون میں اس امر پر بڑا زور دیتے ہیں کہ کوئی آریہ سماج کا نمائندہ آریہ سماج کے اصول سے منحرف نہیں ہے اور ہندو مذہب میں اختلاف ویدک دھرم کے خلاف دلیل نہیں ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آریہ سماج کے سوا دوسرے ہندوؤں کے اقوال کو ویدک دھرم کے خلاف حجت نہیں سمجھتے حالانکہ وہ لوگ بھی وید کو مانتے ہیں۔ پس اگر وید کے ماننے والے مختلف فرقوں میں سے بعض لوگوں کا یہ تسلیم کرنا کہ وید سے بڑھ کر اور علوم بھی ہیں جن کو انسان حاصل کر سکتا ہے ویدک دھرم کے خلاف اس لئے دلیل نہیں کہ ان کا کہنے والا پروفیسر رام دیو صاحب کا ہمخیال نہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ پھر کس سبب سے ایک ایسے شخص کا خیال جو زیادہ سے زیادہ اسلام کے کسی ایک فرقہ کا لیڈر کہلا سکتا ہے اسلام کے خلاف حجت قرار دیا جائے۔ اگر اس کا قول حجت ہو گا تو پھر ویدوں کے ماننے والے فرقوں میں سے کسی ایک سربرآوردہ شخص کا قول بھی ویدک دھرم اور ویدک دھرم کے تمام ماننے والوں کے خلاف حجت ہو گا۔ اگر پروفیسر رام دیو صاحب کے نزدیک مسٹر تلک، پنڈت درگا دتا جوشی اور راؤ بہادر دیو راؤ نایک صاحبان جیسے ویدک دھرم کے پیروؤں کے اقوال جو ویدک دھرم کے بعض اصول کی کمزوری پر دلالت کرتے ہیں صرف اس وجہ سے قابل سند نہیں کہ یہ لوگ آریہ سماجی نہیں تھے تو میں پروفیسر صاحب سے سوال کرتا ہوں کہ کیوں سید امیر علی صاحب اور مسٹر خدا بخش صاحب کے ایسے اقوال جو اسلام کے خلاف ہوں اسلام کے خلاف استعمال کئے جا سکتے ہیں جبکہ اسلام میں بھی ویدک دھرم کے ماننے والوں کی طرح کئی فرقے ہیں۔ کیا ہم بھی پروفیسر صاحب کی طرح نہیں کہہ سکتے کہ اسلام کا کوئی شخص اسلامی اصول سے اختلاف نہیں رکھتا کیونکہ احمدیوں میں سے کوئی شخص اسلامی اُصول سے اختلاف ظاہر نہیں کرتا۔ پروفیسر صاحب کے مضمون کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آریہ سماج اور ویدک دھرم میں امتیاز نہیں کر سکے اور اسی طرح اسلامی فرق اور اسلام میں امتیاز نہیں کر سکے۔

غرض اگر پروفیسر صاحب کی بیان کردہ دلیل کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو بھی وہ اسلام کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتی کیونکہ نہ تو وہ لوگ جن کے حوالہ جات پروفیسر صاحب نے نقل کئے ہیں اسلام کے مذہبی نمائندہ ہیں اور نہ ان کو مسلمانوں نے کبھی مذہبی علماء میں شامل کیا ہے نہ ان لوگوں نے مسلمانوں کی طرف سے مذہبی نمائندہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور نہ ان کے مذہبی خیالات کو مسلمانوں نے کبھی صحیح تسلیم کیا ہے بلکہ وہ ہمیشہ ان کے خلاف عقیدہ رکھتے رہے ہیں اور ان کے خیالات کی عام طور پر بھی اور ان کی کتب کو مدّنظر رکھ کر بھی تردید ہوتی رہی ہے۔ پس ان لوگوں کا بیان انہی کے خلاف تو دلیل ہو سکتا ہے باقی مسلمانوں یا اسلام کے خلاف کسی صورت میں بھی حجّت نہیں ہو سکتا۔ اور اگر ان کا قول باوجود تمام مذکورہ بالا وجوہ کے اسلام کے خلاف حجّت ہو سکتا ہے تو پھر بعض ہندو صاحبان کے وہ اقوال بھی جو میں نے اپنے مضمون میں لکھے ہیں ویدک دھرم کے خلاف ضرور استعمال ہو سکتے ہیں۔

پروفیسر صاحب کا پیشکردہ قاعدہ غلط ہے

اس وقت تو میں نے یہ بتایا ہے کہ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ جو اصل پروفیسر رام دیو صاحب نے قائم کیا ہے وہ درست ہے تب بھی جن لوگوں کے اقوال سے پروفیسر رام دیو صاحب نے استدلال کیا ہے ان کے اقوال خود انہی کے قائم کردہ اصل کے مطابق اسلام کے خلاف حجت نہیں۔ مگر اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پروفیسر رام دیو صاحب نے جو قاعدہ بتایا ہے وہی غلط ہے۔ اوّل دلیل اس کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ یہ بات ہی ناممکن ہے کہ کوئی شخص ایک تعلیم کو خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی بھی مانے اور پھر اس کے بعض حصوں کو کمزور بھی کہے کیونکہ اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کو مانتا ہے اور پھر اس بات پر بھی ایمان لاتا ہے کہ وہ بندوں کی ہدایت کے لئے کلام بھی کرتا ہے اور بعض خاص بندوں کو اپنی مرضی بتانے کیلئے چن لیتا ہے اور پھر ایک خاص تعلیم پر یقین رکھتا ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے اس نے خود نازل فرمائی ہے اور اس زمانہ کے لئے واجب العمل ہے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ اس کے بعض حصوں کو وہ رد کر دے اور کہے کہ یہ ناقابل عمل ہیں کیونکہ اس کے یہ معنے ہونگے کہ ایک شخص خدا تعالیٰ کو مانتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے زیادہ جانتا ہے اور خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے قانون سے بہتر قانون تجویز کر سکتا ہے اور اس قسم کا آدمی تجویز کرنا عقل کے خلاف ہے۔ کوئی عقلمند آدمی ایسا نہیں مل سکتا جو صدق دل کے ساتھ ایسا دعویٰ کر سکے اگر کوئی شخص اس قسم کا ملے تو وہ ضرور یا تو پاگل ہو گا یا نیم پاگل کہ وہ اپنے دعوے کے بالبداہت باطل ہونے کو سمجھ ہی نہیں سکتا یا فریبی ہو گا کہ ظاہر میں اپنے آپ کو ایک مذہب کا پیرو قرار دیگا لیکن باطن میں اس کی بیخکنی کرنے کے درپے ہو گا اور دوست بن کر اس سے دشمنی کرنا چاہے گا اور ان دونوں صورتوں میں اس کے قول کو دوسروں پر حجت نہیں قرار دیا جا سکتا۔ کیونکہ اگر وہ پاگل ہے تب بھی اس کی بات کسی پر حجّت نہیں اور اگر وہ جھوٹا ہے تب بھی اس کی بات کسی کے خلاف دلیل نہیں کیونکہ اس صورت میں یہ نمائندہ نہیں بلکہ دشمن ہے اور دشمن کا قول کسی پر حجت نہیں ہوا کرتا۔ پس ان شرائط کا آدمی فرض کرنا جو پروفیسر صاحب نے پیش کیا ہے محال ہے اور ناممکن ہے اور جب ایسا آدمی ہو ہی نہیں سکتا تو پھر اس قسم کے آدمی کا وجود فرض کر کے اس کے قول کو حجت قرار دینا ایک غلط راہ ہے کیونکہ جب بنیاد ہی مفقود ہے تو اس پر عمارت کیونکر کھڑی کی جاسکتی ہے۔

عدالتی وکیل اور مذہبی نمائندہ میں فرق

پروفیسر صاحب نے عدالتی مقدمات پر قیاس کر کے فرض کر لیا ہے کہ مذاہب کی جنگ میں بھی ایسے آدمی کا وجود ممکن ہے حالانکہ مقدمات میں وکیل خود فریق مقدمہ نہیں ہوتا بلکہ ایک تیسرا شخص ہوتا ہے جو وکالت کسی اپنے یقین اور وثوق پر نہیں کرتا بلکہ روپیہ لیکر بطور مزدور کے کام کرتا ہے اور مذاہب کے وکیل ایسے نہیں ہوتے۔ بلکہ کسی مذہب کے وکیل ہونے کے یہ معنے ہیں کہ وہ سب سے زیادہ اس مذہب پر یقین رکھتا ہے اگر وہ یقین رکھتا ہے تو اس کی نسبت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ بعض مسائل کو غلط قرار دیتا ہے اور اگر وہ بعض مسائل کو غلط قرار دیتا ہے تو پھر وہ اس مذہب کا وکیل نہیں کہلا سکتا۔ ہاں یہ بیشک ہو سکتا ہے کہ ایک مباحثہ ہو اور اس میں ایک شخص کسی مذہب کی طرف سے وکیل ہو کر پیش ہو اور دورانِ بحث میں اس کو اپنے دعویٰ کا بطلان ثابت ہو جائے اور وہ اقرار کرے کہ جس مذہب پر میں تھا وہ باطل تھا۔ مگر یہاں کسی بحث کے بعد اقرار کر لینے کا سوال نہیں بلکہ یہ سوال ہے کہ ایک شخص اپنے طور پر کتاب لکھنے لگا ہے اور اس میں لکھتا ہے کہ جس مذہب پر میں ہوں اس کے بعض مسائل کمزور ہیں۔ پس جب یہ شخص پہلے سے ہی اس مذہب کی کمزوری کا یقین رکھتا تھا تو پھر اس کی طرف سے وکالت کرنے کے لئے کس طرح کھڑا ہو سکتا تھا اور ایسے شخص کو کون عقلمند اس مذہب کا وکیل کہہ سکتا ہے۔

دوسرا فرق مقدمات کے وکلاء اور مذہبی وکلاء کے درمیان یہ ہوتا ہے کہ مقدمات کے فریق انسان ہوتے ہیں اور ان کی نسبت امکان ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بول دیں یا غلطی کر دیں اور یہ بھی ممکن ہوتا ہے کہ کچھ حصہ ان کے بیان کا غلط یا جھوٹ ہو اور کچھ حصہ درست اور سچا ہو اور یہ ممکن ہے کہ ایک وکیل پر دورانِ مقدمہ میں اپنے موکل کے بیان کے کسی حصہ کی کمزوری ثابت ہو اور وہ اس کا اقرار کر لے لیکن جس تعلیم کی بنیاد اس پر ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اس کے کسی حصہ کے رد کر دینے کے معنے یہ ہیں کہ وہ مذہب خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور جھوٹا ہے پس جو شخص کسی مذہب کے بعض حصوں کو رد کرتا ہے وہ در حقیقت اس سارے مذہب کو رد کرتا ہے اور جو شخص کسی مذہب کو جھوٹا سمجھتا ہے وہ اس کی طرف سے وکیل کیونکر کہلا سکتا ہے۔ پس مقدمات پر مذہبی وکالت کا قیاس کرنا بالکل غلط اور خلافِ عقل ہے۔

مذہب کے کسی حصہ سے انکار اس مذہب سے نکلنا ہے

کسی تعلیم کے بعض حصوں کو رد اور بعض حصوں کو تسلیم اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جبکہ اس کو انسانی قرار دیا جائے۔ جیسا کہ فلسفیانہ خیالات کے پیرو ہوتے ہیں کہ وہ بعض دفعہ ایک خاص جماعت فلاسفہ میں داخل ہوتے ہیں لیکن ان کے بعض خیالات کے منکر ہوتے ہیں اور اس سے اُن پر خلاف عقل کام کرنے کا الزام نہیں آسکتا کیونکہ وہ ان خیالات کو انسانی سمجھتے ہیں اور اکثر کو مان کر کچھ حصہ کا انکار کر کے بھی اس حلقہ میں داخل رہ سکتے ہیں لیکن مذہب میں یہ بات ناممکن ہے۔ مذہب کے ایک شوشہ کو بھی اگر کوئی شخص یہ کہہ کر رد کرتا ہے کہ ہے تو یہ مذہب کا جزو لیکن ہے غلط۔ وہ عقلاً اسی وقت اس مذہب سے نکل جاتا ہے اور اس مذہب کا وکیل نہیں کہلا سکتا اور عقل اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ وہ اس مذہب کی صداقت ثابت کرنے کے لئے تصانیف کریگا۔

مذہب کو بطور تمدن ماننے والے

ہاں ایک اور صورت بھی ہوتی ہے اور وہ یہ کہ بعض لوگ ایک مذہب کو جھوٹا سمجھتے ہیں لیکن اس تمدن کے عادی ہونے کے سبب سے جو اس مذہب کے ارد گرد جمع ہو گیا ہے یا بعض اور دنیاوی اغراض کے ماتحت ظاہر میں اس سے انکار نہیں کر سکتے بلکہ اس تمدن کے عادی ہونے کے سبب سے جو اس مذہب کے پیروان میں قائم ہو چکا ہے اس نظام کا ٹوٹنا بھی پسند نہیں کرتے اور یہ دیکھ کر کہ اگر اس مذہب کو کوئی نقصان پہنچا تو یہ تمدن بھی ٹوٹ جائیگا جو اس کا جزو اور حصہ ہو چکا ہے وہ مذہب پر حملہ ہوتے ہوئے دیکھ کر اس مذہب کی حمایت بھی شروع کر دیتے ہیں لیکن اس سے ان کی غرض مذہب کا بچانا نہیں ہوتا بلکہ اس تمدن کا بچانا ہوتا ہے جسے اس کی اصل شکل میں یا ایک قلیل تغیر کے ساتھ وہ قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی حمایت بیشک چونکہ بے اصو لے پن کے سبب سے ہوتی ہے ان کی باتوں میں اختلاف اور کمزوری پائی جاتی ہے کیونکہ اس مذہب کو خدا کی طرف سے یقین نہ کر کے اس کی اصلی شکل کا قیام ان کے نزدیک ضروری نہیں ہوتا۔ وہ اس کو صرف ایک نام سمجھتے ہیں جس نے ایک خاص جماعت کو دوسرے لوگوں سے علیحدہ کر کے ان کی ہستی کو ایک خاص تمدن کے ساتھ قائم رکھا ہوا ہوتا ہے۔ مسیحیوں میں ایسے لوگ کثرت کے ساتھ پائے جاتے ہیں اور یہ لوگ صاحبِ تصنیف بھی ہوتے ہیں اور مسیحیت پر حملہ کے وقت پادریوں کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں اور دوسرے مذاہب کو مٹانے میں ان کی مدد بھی کرتے ہیں لیکن ان کو مسیحیت سے کوئی پیار نہیں ہوتا نہ وہ اس کو سچا یقین کرتے ہیں لیکن وہ یہ جانتے ہیں کہ صدیوں کے اثر سے مسیحیوں میں ایک خاص تمدن پیدا ہو گیا ہے جس کے وہ عادی ہو چکے ہیں اگر مسیحیت تباہ ہوئی اور اس کی جگہ کوئی دوسرا مذہب قائم ہوا تو وہ اپنا تمدن ساتھ لائے گا اور اس سے ان کی زندگی پر بھی اثر پڑے گا یا اس سبب سے نہیں بعض اور اسباب دنیاوی کے سبب سے وہ اس حلقہ کا ٹوٹنا پسند نہیں کرتے۔ پس وہ باوجود اس مذہب سے متنفر ہونے کے سوسائٹی کو بچانے کے لئے مسیحیت کی مدد کرتے ہیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسی سبب سے نہ کہ کسی مذہبی تعصب کے سبب سے ایسے لوگ ترکوں کے خلاف پادریوں کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ ان کو مسیحیت سے محبت نہیں ہوتی بلکہ اسلام کا جو اثر تمدن پر ان کے نزدیک پڑ سکتا ہے وہ اسے ناپسند کرتے ہیں پس اس کو مٹانا چاہتے ہیں۔ بعض ایسے لوگ مسلمانوں میں بھی ہیں اور ہندوؤں میں بھی ہیں۔ صرف ایک ہماری جماعت ایسی ہے کہ جس میں ایسے لوگ یا تو بالکل نہیں یا بالکل شاذ ہیں اور وہ بھی ایسے نہیں کہ جو علمی یا عملی حصہ میں کوئی وقار رکھتے ہوں۔

ایک مثال

مجھے اس قسم کی ایک مثال یاد آگئی۔ ؁۱۹۱۲ء میں میں مصر گیا تھا راستہ میں میرے ہم سفر ہندوستانیوں میں سے ایک ہندو صاحب لاہور کے باشندہ تھے جواب سنا ہے ایک کامیاب بیرسٹر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ یہ صاحب اس وقت بیرسٹری کی تعلیم حاصل کر رہے تھے اور چند ماہ کے لئے گھر آئے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ دو مسلمان طالب علم بھی تھے کہ وہ بھی ہندوستان رشتہ داروں سے ملنے کے لئے آئے تھے اور کچھ ماہ میں تعلیم سے فارغ ہونے والے تھے۔ ہمارے جہاز میں ایک پادری صاحب بھی تھے ان کے ساتھ ان ہندو صاحب کی ایک دن بحث ہو گئی اور ان صاحب نے خوب زور سے پادری صاحب پر یہ بات ثابت کرنی چاہی کہ ہندو مذہب ہی مکمل مذہب ہے اور مسیحیت اس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ اس کے ایک یا دو دن کے بعد ان کی مجھ سے گفتگو ہوئی اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ہستی کا تمسخر آمیز طریق پر انکار کیا۔ میں نے اُن کو وہ گفتگو یاد دلائی جو انہوں نے پادری سے کی تھی تو وہ ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ وہ تو ایک مقابلہ کی صورت تھی۔ پادری اس مذہب پر حملہ کرتا تھا جس

کے ماننے والے میرے آباؤ واجداد تھے اور جس کی طرف میں خود منسوب ہوں اس لئے میں اس سے بحث کرتا تھا اور ہمیشہ اس کے لئے تیار ہوں۔ مگر اس وقت پرائیویٹ گفتگو ہے میں تو خدا تعالیٰ کو ہرگز نہیں مانتا میرا مذہب صرف قومیت ہے ان مذاہب نے ہماری ترقی کو روک دیا ہے۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ مسلمان صاحبان بھی اسی خیال کے آدمی تھے گو جہاز سے میرے اُترنے سے پہلے پہلے میں سمجھتا ہوں اور جیسا کہ ان میں سے بعض نے ذکر بھی کیا ان کے خیالات میں ایک حد تک اصلاح ہو چکی تھی۔

غرض اس قسم کے آدمی ہوتے ہیں اور وہ مذہب کے مقابلہ میں حصہ بھی لے لیتے ہیں لیکن وہ مذہبی نمائندہ ہرگز نہیں کہلا سکتے۔ اور یہ بات عقلاً ناممکن ہے کہ کوئی شخص صدقِ دل سے ایک مذہب کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مانے اور پھر اس کے بعض حصوں کو نا قابل عمل یا ناقص یا باطل سمجھے۔

صرف کسی کے کہہ دینے سے کوئی مسئلہ کمزور نہیں ہو سکتا

دوسری دلیل پروفیسر رام دیو صاحب کے بتائے ہوئے معیار کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ اگر بفرضِ محال یہ مان بھی لیا جائے کہ مذہب کا نمائندہ بھی ایک ایسا شخص ہو سکتا ہے جو اس کے بعض حصوں کو غلط قرار دے۔ اور عارضی طور پر تسلیم کر لیا جائے کہ یہ بات ممکن ہے کہ ایک شخص کسی تعلیم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی مانتا ہو اور پھر اس کے بعض حصوں کو غلط بھی جانتا ہو تو بھی ایسے فرضی آدمی کے بعض مسائل کو رد کر دینے سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ وہ مسائل کمزور ہیں اور بودے ہیں۔ کیونکہ دوسرے کا قول اس جگہ کسی امر کو مشتبہ کیا کرتا ہے جہاں وہ چیز نظروں سے پوشیدہ ہو مثلاً کچھ تاجر کسی جگہ سے مویشی لاویں اور یہ ظاہر کریں کہ مثلاً فی مویشی ان کو دو دو سو روپیہ پر پڑا ہے لیکن ان میں سے کوئی شخص یا ان کی دکان کا مینیجر خریدار سے کہہ دے کہ اصل خرید تو سو روپیہ فی مویشی کی ہے تو گو یہ ممکن ہے کہ وہ کسی مخفی سبب سے اپنے ساتھیوں یا اپنے مالکوں کو نقصان پہنچانے کے لئے جھوٹ بول رہا ہو لیکن خریدار کو شک پڑ جاتا ہے کہ شاید یہ بات سچ ہی ہو لیکن وہ حصہ دار یا مینیجر اگر مثلاً ایک بیل کی نسبت یہ کہہ دے کہ میاں یہ بیل نہیں ہے بلکہ سچ پوچھو تو یہ گدھا ہے تو کیا پھر بھی خریدار کو شک پڑ جائے گا اور وہ کہے گا کہ یہ ایک حصہ دار کی رائے ہے یا مینیجر کی بتائی ہوئی بات ہے ضرور کوئی بات ہو گی۔ اس شخص کا ایسی بات کہنا دو حال سے خالی نہ ہو گا یا کہنے والا پاگل ہو گا یا دوسروں کو پاگل سمجھتا ہو گا پس شہادت اس امر کے متعلق ہوا کرتی ہے جو بات نظروں سے اوجھل ہو۔ نمائندہ ہو یا غیر نمائندہ اس کی بات تبھی قابل سماعت ہو گی جب کسی ایسے امر کے متعلق کہ جو نظروں سے اوجھل ہو لیکن جو بات عقل کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور دلائل کے ساتھ ثابت کی جاتی ہے اس کے متعلق کہنا کہ فلاں شخص یوں کہتا ہے کس قدر عجیب بات ہے۔ ایسی باتیں جو معقولات میں سے ہیں اور جن کی صداقت یا بطلان دلائل عقلیہ سے ثابت کیا جاتا ہے نہ کہ روایت سے ان کے متعلق تو دس کروڑ انسان بھی کہہ دیں کہ وہ غلط ہیں تو ان کے کہنے کا کچھ اثر اُنکی صداقت پر نہیں پڑ سکتا۔ اگر کوئی شخص ان کو غلط ثابت کرنا چاہتا ہے تو اس کا ایک ہی فرض ہے کہ وہ دلائل و براہین کیساتھ ان کو غلط ثابت کر دیوے۔ ایسے امور میں دوسروں کے اقوال پر اپنی دلیل کا انحصار رکھنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کے بیوہ ہو جانے پر اس لئے یقین کر لیا تھا کہ قاضی کی مہر لگا ہوا خط اُس کے پاس پہنچا تھا کہ اس کی بیوی بیوہ ہو گئی ہے۔ جب وہ مسائل جن پر اعتراض کیا گیا ہے عقلی ہیں تو ان کے غلط ثابت کرنے کا یہ طریق ہی ہے کہ دلائل کے ساتھ ان کو غلط ثابت کیا جائے نہ کہ زید و بکر کے قول سے ان کے خلاف حجت پکڑی جائے۔ صداقت ساری دنیا کے انکار سے صداقت ہی رہے گی اور جھوٹ ساری دنیا کی تصدیق سے بھی جھوٹ ہی رہے گا۔ پس کسی بات کے جھوٹا ثابت کرنے کا ایک ہی حقیقی ذریعہ ہے کہ دلائل سے اس کے جھوٹا ہونے کو ثابت کر دیا جائے۔

پروفیسر صاحب کے پیش کردہ حوالے

تیسرا جواب پروفیسر رام دیو صاحب کے مضمون کا یہ ہے کہ انہوں نے چار مسلمانوں کے اقوال پیش کئے ہیں۔ سید امیر علی صاحب، خدا بخش صاحب، یوسف علی صاحب اور مسٹر مظہر الحق صاحب۔ یوسف علی صاحب تو کوئی ایسے غیر معروف آدمی ہیں اور ان کا فقرہ ایسا مہمل ہے کہ اس سے تو کوئی نتیجہ ہی نہیں نکلتا۔ مسٹر مظہر الحق صاحب نے گوشت کو غیر قدرتی غذا کہا ہے اور یہ خود ایک مبہم فقرہ ہے کیونکہ انسان کی کوئی خاص غذا نہیں ہے اور نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے کن معنوں میں یہ فقرہ استعمال کیا تھا اور اگر ان کے فقرہ کے سخت سے سخت معنے بھی کر لئے جاویں تو بھی ایک طبی مسئلہ سے زیادہ اس کو وقعت نہیں دی جا سکتی اور اس کے یہی معنے لئے جا سکتے ہیں کہ گوشت کوئی اعلیٰ درجہ کی غذا نہیں اور اس سے اسلام کے زمانہ حال کے لئے نا کافی ہونے کا ہرگز ثبوت نہیں نکلتا۔ اب دو شخص باقی رہ جاتے ہیں ایک سید امیر علی صاحب اور دوسرے مسٹر خدا بخش صاحب مسٹر خدا بخش صاحب کی جس کتاب میں قرآن کریم کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈائری قرار دیا گیا ہے اس کا حوالہ چونکہ پروفیسر رام دیو صاحب نے نہیں دیا اس لئے میں اس کے متعلق کچھ نہیں لکھ سکتا۔ ہاں سید امیر علی صاحب کی کتاب سپرٹ آف اسلام کے جن تین حوالوں کو انہوں نے پیش کیا ہے ان کے متعلق میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ دُرست نہیں ہیں ۔

رسول کریمؐ کے متعلق سید امیر علی صاحب نے نہیں لکھا کہ آپؐ نے بتوں کو مان لیا

ایک حوالہ جو سپرٹ آف اسلام سے پروفیسر رام دیو صاحب نے دیا ہے یہ ہے کہ سیّد امیر علی صاحب نے لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کفار مکہ نے کہا کہ وہ ان کے تین بُتوں کو مان لیں تو وہ بھی ان کے خدا کو مان لینگے تو آپؐ نے کچھ دن کے لئے بُتوں کو مان لیا ۔

مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سید امیر علی صاحب پر یہ اتہام ہے ان پر اور ہزار الزام لگ سکتے ہوں مگر یہ الزام ان پر نہیں لگ سکتا ۔ انہوں نے ہرگز اپنی کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے کہنے پر بُتوں کو مان لیا تھا بلکہ اس مضمون پر انہوں نے اپنی طرف سے کچھ لکھا ہی نہیں۔ یہ واقعہ جس کی طرف پروفیسر رام دیو صاحب نے اشارہ کیا ہے سپرٹ آف اسلام کے پہلے باب میں مندرج ہے۔ سید امیر علی صاحب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات بیان کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ:۔

”اس دوران میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے پیغمبر صاحب کے مسیحی سوانح نویس اور مسلمان مؤرخ مختلف پیرایوں میں بیان کرتے ہیں۔“

اس کے آگے انھوں نے پہلے تو اسلامی مؤرخین کی روایت نقل کی ہے اور بعد میں مسیحی مؤرخوں کا وہ بیان نقل کیا ہے جس کی طرف پروفیسر رام دیو صاحب نے اشارہ کیا ہے اور جسے انہوں نے سیّد امیر علی صاحب کی طرف منسوب کیا ہے اپنی طرف سے سید صاحب نے کوئی رائے ظاہر نہیں کی ۔ چنانچہ سید صاحب لکھتے ہیں کہ ”دو مسیحی مؤرخین کے نزدیک اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریمؐ کے دل میں ایک قلیل عرصہ کے لئے یہ خواہش پیدا ہو گئی تھی کہ وہ قریش کے ساتھ جو جنگ ہو رہی تھی کسی سمجھوتہ کے ذریعہ خاتمہ کر دیں“ اور آگے انھوں نے مسیحی مؤرخین کے دونوں گروہوں کے خیالات نقل کئے ہیں ۔ ان کے بھی جو متعصب ہیں اور ان کے بھی جو غیر متعصب ہیں جیسے لین پول وغیرہ ۔ پس مسیحی مؤرخین کے خیالات کو سید امیر علی صاحب کی طرف منسوب کرنا ایک ظلم عظیم ہے اور مجھے افسوس ہے کہ ایک قابل آدمی کی زبان سے اس قسم کی غلطی کی اشاعت ہو اور ایک ایسے مضمون کے بیان کرتے وقت جس میں وہ ایک اہم اور وسیع الاثر مسئلہ کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر رہا ہو۔

فرشتوں کے متعلق حوالہ بھی غلط پیش کیا گیا

دوسرا حوالہ فرشتوں کے متعلق ہے۔ پروفیسر رام دیو صاحب فرماتے ہیں کہ سید امیر علی صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ قرآن میں فرشتوں کا جو ذکر ہے وہ صرف محمد صاحب کا وہم اور شاعرانہ نازک خیالی تھی ورنہ فرشتے در حقیقت کوئی چیز نہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ اس حوالہ کے بیان کرنے میں بھی پروفیسر صاحب نے غلطی کی ہے اور جلد بازی سے کام لیا ہے۔ سید امیر علی صاحب نے اپنی کتاب سپرٹ آف اسلام میں ہرگز نہیں لکھا کہ فرشتوں کے متعلق جو کچھ قرآن میں ہے وہ صرف محمد صاحب کا وہم تھا اور نہ یہ لکھا ہے کہ فرشتے درحقیقت کوئی چیز نہیں ہیں۔ خود پروفیسر صاحب نے جو فقرہ سید امیر علی صاحب کی طرف منسوب کیا ہے وہی اپنی غلطی کا آپ مظہر ہے۔ پروفیسر صاحب سید امیر علی صاحب کی طرف یہ فقرہ منسوب کرتے ہیں کہ فرشتے محمد صاحب کا وہم اور شاعرانہ نازک خیالی کا نتیجہ ہیں۔ اب ہر عقلمند انسان سمجھ سکتا ہے کہ وہم اور شاعرانہ نازک خیالی دو مخالف باتیں ہیں۔ کیونکہ وہم کسی ایسی چیز کے خیال کو کہتے ہیں جس کا وجود نہ پایا جائے لیکن کوئی شخص غلطی سے اس کے وجود کا قائل ہو۔ اور شاعرانہ نازک خیالی اُسے کہتے ہیں کہ ایک چیز تو موجود ہو لیکن اس کا ذکر استعارہ اور مجاز میں نظم یا کلام کو خوبصورت بنانے کے لئے کر دیا جائے اور یہ دونوں باتیں ایسی متضاد ہیں کہ جس چیز کو ہم وہم کہیں اُسے شاعرانہ نازک خیالی نہیں کہہ سکتے اور جس کو شاعرانہ نازک خیالی کہیں اُسے وہم نہیں کہہ سکتے۔ وہم یہ ہے کہ ایک چیز موجود نہیں اور ہم اس کو موجود خیال کرتے ہیں اور شاعرانہ نازک خیالی یہ ہے کہ ہمیں علم تو ہے کہ فلاں بات کس طرح ہے لیکن کلام کو موثر بنانے کے لئے ہم ایک خاص رنگ میں اُسے بیان کر دیتے ہیں اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک شخص چھلاوے کے وجود کا قائل ہو جس کی نسبت بیان کرتے ہیں کہ کبھی آدمی بن جاتا ہے کبھی گھوڑا، کبھی بکرا ، کبھی نیولا، کبھی کوئی بے جان شے غرض منٹ منٹ میں وہ کئی شکلیں بدل لیتا ہے۔ اس شخص کے اس خیال کو تو ہم وہم کہیں گے کیونکہ جو شے واقع میں موجود نہیں ہے اُسے بلا کسی ثبوت کے یہ خیال کر لیتا ہے کہ اسی طرح ہے لیکن ایک شاعر جب شمع کی نسبت بیان کرتا ہے کہ وہ ساری رات روتی ہے تو اسے ہرگز وہم نہیں کہیں گے کیونکہ شاعر یہ یقین نہیں رکھتا کہ شمع واقع میں روتی ہے بلکہ وہ اپنے قلب کے نقشہ کو اس رنگ میں بیان کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ میرا عشق اسقدر بڑھا ہوا ہے کہ ہر ایک شے جو گھل رہی ہو مجھے یونہی معلوم ہوتا ہے کہ گویا میری طرح محبوب کے عشق میں رورہی ہے اور گھلتی جارہی ہے۔ اگر کوئی شخص واقع میں یہ سمجھ لے کہ شمع روتی ہے تو پھر یہ شاعرانہ نازک خیالی نہ رہے گی بلکہ وہم ہو جائے گا۔

پس شاعرانہ نازک خیالی اور وہم دو مخالف چیزیں ہیں اور ایک شخص کا وہم اسی شخص کی شاعرانہ نازک خیالی نہیں کہلا سکتا نہ کسی کی نازک خیالی وہم کہلا سکتی ہے۔ پس پروفیسر رام دیو صاحب کا یہ فقرہ کہ سید امیر علی صاحب کے نزدیک فرشتوں کا وجود محمد صاحب کا وہم اور شاعرانہ نازک خیالی ہے اپنی آپ ہی تردید کر دیتا ہے۔

جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے سید صاحب نے ہرگز یہ نہیں لکھا کہ فرشتوں کا ذکر جو قرآن میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہم تھا۔ انہوں نے صرف یہ لکھا ہے کہ بدر کی جنگ میں فرشتوں کے اُترنے کا جو واقعہ قرآن کریم میں مذکور ہے اس کی عبارت شاعرانہ رنگ کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:۔

”قرآن کریم کے وہ چند سادہ بیان جو اس شاعرانہ رنگینی کو ظاہر کرتے ہیں جو فرشتوں کے خدا کی طرف سے لڑنے کے خیال میں پوشیدہ ہے اپنی شان اور دل آویزی میں زبور کے فصیح ترین حصوں سے بھی کم نہیں ہیں۔ یقیناً ان دونوں بیانوں میں شاعرانہ رنگ نظر آتا ہے۔“

ان فقرات سے ایک تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مسٹر سید امیر علی صاحب فرشتوں کے وجود کے متعلق نہیں بلکہ ان کے لڑائی میں شامل ہونے کے متعلق یہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ اس میں شاعرانہ رنگینی پائی جاتی ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ فرشتوں کے وجود کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہم نہیں بتاتے بلکہ فرشتوں کے لڑائی میں شامل ہونے کے ذکر کو شاعرانہ رنگ کا کلام ظاہر کرتے ہیں جس کے دو معنے ہو سکتے ہیں یہ بھی کہ وہ فرشتوں کے لڑائی میں شامل ہونے کے منکر نہیں بلکہ اس عبارت کی رنگینی اور فصاحت کا اظہار کرتے ہیں اور زبور جس پر مسیحیوں کو ناز ہے اس کا مقابلہ کر کے اس کی خوبی مسیحیوں پر ظاہر کرتے ہیں اور یہ بھی کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس جگہ فرشتوں کے لڑنے سے قرآن کریم کی مُراد واقع میں لڑنا نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی نصرت کو اس شاعرانہ کلام کے ذریعہ سے بیان کیا گیا ہے اور مجاز اور استعارہ کو استعمال کیا گیا ہے۔ اور کیا پروفیسر صاحب اس امر کے قائل نہیں کہ خود ان کی اپنی مذہبی کتب میں مجاز اور استعارہ کا استعمال کیا گیا ہے اور کیا کوئی شخص اگر اہل ہنود کے اس کلام کے کہ ان کی مذہبی کتب میں مجاز اور استعارہ کا جو حسن کلام کی اعلیٰ صفتوں میں سے ہیں استعمال کیا گیا ہے یہ معنے کرے کہ اہل ہنود کے نزدیک ان کی مذہبی کتب

میں بہت سی واہی باتیں بیان ہو گئی ہیں تو اہل ہنود اس کی عقل پر ہنسیں گے یا نہیں۔ اسی طرح اہل دانش پروفیسر صاحب کے اس بیان پر کہ مسٹر امیر علی صاحب کے نزدیک قرآن کریم میں جو فرشتوں کا ذکر آیا ہے وہ محمد صاحب کا وہم ہے زیر لب متبسم ہیں اور پروفیسر صاحب کی اس جلد بازی پر حیران ہیں جس سے انہوں نے اس حوالہ کے درج کرنے میں کام لیا ہے۔

اگر پروفیسر صاحب اس فقرہ کے ساتھ کے اگلے فقرات پڑھتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ مسٹر امیر علی صاحب نہ صرف یہ کہ فرشتوں کے ذکر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہم اور خیال نہیں بتاتے بلکہ ان کو اس امر میں بھی شک ہے کہ فرشتوں کا ذکر مجازی ہی ہے یا واقع میں بھی کوئی ایسا وجود ہے غرض وہ فرشتوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہم نہیں بتاتے بلکہ ان کے متعلق جو اس زمانہ کے خیالات ہیں ان کے غیر یقینی ہونے کا خیال ظاہر کرتے ہیں۔ وہ اس فقرہ کے معا بعد جس سے پروفیسر صاحب نے غلط نتیجہ اخذ کیا ہے تحریر کرتے ہیں۔

”غالباً محمد (صلی اللہ علیہ وسلم، مسیح اور دوسرے انبیاء علیہم السلام) کی طرح ایسی درمیانی ارواح کے جو خدا اور بندہ کے درمیان پیغام رساں ہوں قائل تھے۔ اس زمانہ میں فرشتوں کا جو انکار کیا جاتا ہے وہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے ہمارے آباء کے جو خیالات فرشتوں کے متعلق تھے ان کی ہنسی اڑائی جائے۔ ہمارا انکار اسی طرح وہم کہلا سکتا ہے جس طرح ان کا یقین۔ فرق صرف یہ ہے ایک میں نفی کا پہلو ہے تو دوسرے میں اثبات کا۔ جس چیز کو ہم اس زمانہ میں اصول طبعی خیال کرتے ہیں وہ ان کو فرشتہ اور آسمانی کارپردازان خیال کرتے تھے۔ یا جس طرح فاک کا خیال ہے خدا اور بندے کے درمیان کوئی اور وجود بھی ہیں جس طرح انسان اور ادنیٰ حیوانات کے درمیان اور وجود ہیں؟ یہ ایک ایسا باریک سوال ہے کہ انسانی عقل اس کی تہ تک نہیں پہنچ سکتی۔“

ان فقرات سے صاف ثابت ہے کہ مسٹر امیر علی صاحب فرشتوں کے وجود کو محض استعارہ قرار دینے کو بھی جائز نہیں سمجھتے اور ان کا خیال ہے کہ فرشتوں کا انکار کرنے والے اگر فرشتوں کے وجود کو ماننے کا نام وہم رکھتے ہیں تو ان کے فرشتوں کو نہ ماننے کا نام بھی وہم رکھا جا سکتا ہے اور یہ کہ فرشتوں کے وجود کا مسئلہ ایسا باریک مسئلہ ہے کہ انسانی عقل اس کی تہ تک نہیں پہنچ سکتی جس کے معنے دوسرے لفظوں میں یہ ہیں کہ ان کے متعلق ہم بحث نہیں کر سکتے ان کے متعلق بحث کرنا آسمانی کتب کا کام ہے۔ پس باوجود مسٹر امیر علی صاحب کے ایسے صریح بیان کے پروفیسر رام دیو صاحب کا یہ بیان فرمانا کہ مسٹر امیر علی صاحب قرآن میں جو فرشتوں کا ذکر ہے اسے محمد صاحب کا وہم قرار دیتے

میں ایک نہایت ہی حیرت انگیز بات ہے۔

سید امیر علی صاحب اور کثرتِ ازدواج

تیسری بات جو پروفیسر رام دیو صاحب نے سید امیر علی صاحب کی طرف منسوب کی ہے یہ ہے کہ کثرت ازدواج زنا کاری ہے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ حوالہ بھی ایسا ہی غلط ہے جیسا کہ پچھلے دو حوالے ۔ سید امیر علی صاحب نے ہرگز یہ نہیں کہا کہ کثرت ازدواج زنا کاری ہے اور یہ کہ اس امر کے متعلق اسلام کی تعلیم ناقص ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سید امیر علی صاحب کی کتاب میں ہمیں ایسے فقرات ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک کثرت ازدواج مہذب ممالک کے لوگوں کے لئے درست نہیں اور قابل ملامت فعل ہے۔ مگر ان کی کتاب پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ ساتھ ہی یہ یقین بھی رکھتے ہیں کہ اسلام کی بھی یہی تعلیم ہے۔ پس انھوں نے جو کچھ بھی کثرت ازدواج کے خلاف لکھا ہے وہ گو غلط ہو مگر اسلام پر حملہ نہیں کہلا سکتا کیونکہ وہ اسے اسلام کا ہی حصہ قرار دیتے ہیں۔ سید امیر علی صاحب کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک نکاح کے متعلق اسلام کی دو تعلیمیں ہیں ایک تعلیم تو غیر تعلیم یافتہ زمانوں اور ملکوں کے لئے یا بعض مجبوریوں کو جو انسان کو پیش آجاتی ہیں مد نظر رکھ کر دی گئی ہے اور ایک تعلیم تہذیب کے زمانہ کے لئے اور مہذب ممالک کے لئے ہے۔ چنانچہ انھوں نے اس باب کو جس میں عورتوں کے متعلق اسلام کی تعلیم بیان کی ہے شروع ہی اس فقرہ سے کیا ہے۔ ”تمدنی ترقی کے بعض درجوں میں ایک مرد کا بہت سی عورتوں سے تعلق ایک ایسا فعل ہے جس سے بچا نہیں جاسکتا۔“ اسی باب میں وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:۔

”اس امر کو ہمیشہ زیر نظر رکھنا چاہئے کہ کثرت ازدواج حالات پر منحصر ہے بعض زمانوں اور سوسائٹی کی بعض حالتوں میں عورتوں کو فاقہ کشی اور تباہی سے بچانے کے لئے یہ نہایت ہی ضروری ہے۔“

پھر وہ لکھتے ہیں کہ:۔

”جس جگہ ایسے ذرائع جن سے عورتیں اپنا گذارہ آپ کر سکتی ہیں مفقود ہوں وہاں کثرت ازدواج ضرور قائم رہے گی۔“

ان فقروں سے معلوم ہوتا ہے کہ سید امیر علی صاحب اگر ایک طرف بعض ممالک اور بعض زمانوں کے لئے کثرت ازدواج کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف بعض ممالک اور بعض حالات میں اس کو ضروری بھی قرار دیتے ہیں۔ پس ایسی صورت میں یہ کہنا کہ وہ کثرت ازدواج کو زنا کاری قرار دیتے ہیں ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔

اس جگہ یہ سوال ہو سکتا ہے کہ گو سید امیر علی صاحب نے کثرتِ ازدواج کو بعض حالتوں میں جائز رکھا ہو مگر جبکہ ان کے نزدیک بعض حالتوں میں یہ تعلیم ناپسندیدہ بھی ہے تو اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ ان کے نزدیک اسلام کی تعلیم ناقص ہے کیونکہ وہ صرف بعض زمانوں کے لئے اور بعض ممالک کے لئے محدود ہو گئی۔ یہ سوال سید امیر علی صاحب پر ضرور پڑ جاتا اگر یہ ثابت ہو سکتا کہ ان کے نزدیک اسلام کا صرف یہی حکم ہے کہ کثرتِ ازدواج ضرور کیا کرو یا یہ کہ ان کے نزدیک اسلام کے رُو سے ہر حالت میں ایک سے زیادہ بیویاں کرنی ہی پسندیدہ ہوں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ان کا یہ عقیدہ نہیں ۔ وہ اگر مہذب ممالک میں ایک ہی بیوی پر اکتفاء کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس کا یہ باعث نہیں کہ وہ اس تعلیم کو اپنی عقل کے رو سے درست سمجھتے ہیں اور قرآن کریم کی تعلیم میں نقص نکالتے ہیں بلکہ اس کا باعث جیسا کہ خود ان کی تحریر سے ظاہر ہے یہ ہے کہ ان کے نزدیک اسلام ہی یہ تعلیم دیتا ہے کہ کثرتِ ازدواج کا حکم وقتی ہے۔ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم ہر حالت اور ہر زمانہ کے مطابق ہے اور اسی کی تائید میں وہ ایک کثرتِ ازدواج کا مسئلہ بھی پیش کرتے ہیں جس سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اسلام نے ہر زمانہ اور ہر قوم کے مناسبِ حال تعلیم دی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ:

”یہ یاد رکھنا چاہئے کہ احکام کی وسعت ان کے مفید اور نفع رساں ہونے کا بہترین ثبوت ہوتی ہے اور یہ قرآن کریم کے احکام کی خصوصیت ہے وہ اعلیٰ سے اعلیٰ سوسائٹی کے مناسبِ حال حکم بھی دیتا ہے اور ادنیٰ سے ادنیٰ قوم کے مناسبِ حال حکم بھی دیتا ہے“

چنانچہ وہ ایک بیوی پر اکتفاء کرنے کو قرآن کریم سے ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:۔ ”چونکہ احساسات کے معاملہ میں کامل عدل ناممکن ہے اس لئے قرآن کریم کا فتویٰ کثرتِ ازدواج کے متعلق قریباً حرمت کا ہی حکم رکھتا ہے“

ان عبارتوں سے ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک اگر ایک بیوی پر اکتفاء کرنا بعض حالتوں میں ضروری ہے تو اسے بھی وہ قرآن کریم کا ہی حکم ثابت کرتے ہیں۔ مذکورہ بالا خیال کی تائید میں ان کے یہ حوالہ جات بھی پیش کئے جاسکتے ہیں وہ کثرتِ ازدواج کی رسم کے قانوناً روکے جانے کی خواہش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔ ”لیکن یہ منسوخی صرف حقیقت پر آگاہ ہونے اور رسول کریمؐ کی تعلیم کے صحیح معنے سمجھنے کا ہی نتیجہ ہو سکتی ہے“ اسی طرح وہ لکھتے ہیں کہ :۔

’’اِس بات کی اُمید کی جاتی ہے کہ جلد ہی ایک عام مجلسِ علماءِ اسلام کی فیصلہ کر دے گی کہ غلامی کی طرح کثرتِ ازواج بھی اسلامی قوانین کے خلاف ہے۔‘‘

ان حوالہ جات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سید امیر علی صاحب (۱) کثرتِ ازواج کو بلا شرط بُرا نہیں کہتے بلکہ بعض حالتوں میں اس کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ (۲) اگر وہ ایک بیوی پر اکتفاء کرنے کو مہذب سوسائٹی میں ضروری سمجھتے ہیں اور کثرتِ ازواج سے اس حکم کو اچھا سمجھتے ہیں تو اس سے اسلام کی کسی تعلیم کو ناقص نہیں قرار دیتے بلکہ ان کے نزدیک یہ بھی اسلام ہی کی تعلیم ہے کہ کثرتِ ازواج اصل میں بُری ہے فقط خاص حالات میں جائز ہے۔ پس ان حوالہ جات کی موجودگی میں پروفیسر صاحب کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ سید امیر علی صاحب کے نزدیک اسلام کی تعلیم کے خلاف کثرتِ ازواج زناکاری ہے۔ وہ نہ تو کثرتِ ازواج کو ہر حالت میں بُرا کہتے ہیں اور نہ ایک بیوی پر اکتفاء کرنے کو قرآنِ کریم کی تعلیم سے جُدا ہو کر مستحسن قرار دیتے ہیں۔ ان کی تحریر کا یہ مطلب نہیں کہ قرآنِ کریم کی تعلیم ناقص ہے اور ہر زمانہ کے لئے نہیں بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ قرآنِ کریم نے ہر زمانہ کے مطابق حال تعلیم دی ہے اور یہ دونوں مضمون ایک دوسرے کے ایسے ہی مخالف ہیں جیسا کہ نُور اور ظلمت۔ پھر معلوم نہیں کہ پروفیسر صاحب نے دونوں باتوں کو ایک کیونکر سمجھ لیا۔

تعجب ہے کہ پروفیسر صاحب کو سید امیر علی صاحب کی اُس تحریر میں کہ اسلام نے مختلف حالات کے مناسب مختلف احکام دیئے ہیں یہ بات تو نظر آگئی کہ وہ اسلام کے بعض احکام کو ناقص سمجھتے ہیں لیکن ان کا خیال ادھر نہیں گیا کہ انہوں نے خود ایسی ہی بات آریہ سماج کی نسبت اپنے مضمون میں لکھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ آریہ گزٹ نے اگر یہ لکھ دیا کہ گرے ہوئے لوگ ودھوا بیاہ کر سکتے ہیں تو اس سے آریہ سماج کے کسی عقیدہ کی کمزوری ظاہر نہیں ہوتی۔ بھگوان دیانند نے بھی شودروں کے لئے ودھوا بیاہ جائز قرار دیا ہے۔ اب وہ بتائیں کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اگر پنڈت دیانند صاحب لکھ دیں کہ ودھوا بیاہ بعض قوموں کے لئے جائز ہے اور بعض کے لئے نہیں تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پنڈت دیانند صاحب کے نزدیک ویدک تعلیم میں نقص ہے لیکن اگر سید امیر علی صاحب یہ تحریر کریں کہ اسلام نے مختلف حالات کے مناسبِ حال تعلیم دی اور اپنی تعلیم کو ہر حالت اور ہر زمانہ کے لئے مکمل کر دیا ہے تب سید امیر علی صاحب کی یہ تحریر ان کے اسلام پر اعتراض کرنے کے مترادف ہے اور اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ اسلام کے بعض احکام کو ناقص قرار دیتے ہیں۔

ببیں تفاوت راہ از کجاست تا بکجا

ناواقف کون ہے؟

اب میں پروفیسر صاحب کے اصل مضمون کا جواب دے چکا ہوں لیکن پیشتر اس کے کہ میں اپنے مضمون کو ختم کروں پروفیسر صاحب کے ایک اور اعتراض کا بھی جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں نے لالہ لاجپت رائے صاحب کے اس قول سے کہ بعض ہندو اصول پندرہ سو برس سے ہندوؤں کی تباہی کا موجب ہیں جو نتیجہ نکالا ہے کہ اس سے معلوم ہوا کہ ہندو مذہب کے اصول سے ان کو مخالفت ہے یہ اس بات کی علامت ہے کہ مجھے ہندو مذہب سے ناواقفیت ہے کیونکہ لالہ لاجپت رائے ہی نہیں تمام آریہ سماج اس امر کا قائل ہے کہ ہندو مذہب کی موجودہ حالت قابلِ تسلی نہیں۔ پروفیسر رام دیو صاحب کے اس اعتراض کے متعلق میرے لئے اسی قدر کہہ دینا کافی ہے کہ میری تحریر سے ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ مجھے ہندو مذہب سے واقفیت نہیں لیکن پروفیسر صاحب کی تحریر سے یہ نتیجہ ضرور نکلتا ہے کہ پروفیسر صاحب کو اس تحریر سے بھی ناواقفیت ہے جس کا وہ جواب لکھنے بیٹھے ہیں کیونکہ نہ لالہ لاجپت رائے صاحب کا وہ قول ہے جو پروفیسر صاحب بیان کرتے ہیں اور نہ میرا وہ استدلال ہے جس پر پروفیسر صاحب اعتراض کرتے ہیں۔ لالہ لاجپت رائے صاحب کا یہ قول نہیں کہ ہندو مذہب کے بعض خیال پندرہ سو سال سے ہماری تباہی کا موجب ہو رہے ہیں بلکہ یہ قول ہے کہ خواہ پرانے زمانہ کی نسبت یہ اعتراض درست نہ ہو کہ ہندوستانی قدرت کی طاقتوں سے مرعوب ہیں مگر پندرہ سو سال سے تو ضرور یہ خیال ہماری تباہی کا موجب ہو رہا ہے اور میرا یہ استدلال نہ تھا کہ لالہ لاجپت رائے صاحب ہندوؤں کی موجودہ حالت کو نا قابلِ تسلی سمجھتے ہیں بلکہ یہ تھا کہ وہ موجودہ حالت ہی کو ناقابلِ تسلی نہیں سمجھتے بلکہ پچھلی حالت کی نسبت بھی ان کو شک ہے۔

لالہ لاجپت رائے صاحب نے اس فقرہ میں خواہ کا لفظ استعمال کیا ہے اور خواہ کا لفظ ہمیشہ دو ہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے جب دشمن مخالف ہو اور اس کے قول کی تردید کرنی ہو تو اس جگہ اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس بحث کو میں ابھی چھیڑنا نہیں چاہتا اور جب اپنے لوگوں کو مخاطب کر کے یہ لفظ استعمال کیا جائے اور کسی قول کی تردید نہیں بلکہ تصدیق مراد ہو تو اس جگہ اس لفظ کے معنے شک کے ہوتے ہیں اور لالہ لاجپت رائے صاحب نے اس فقرہ میں پچھلی صورت میں اس لفظ کو استعمال کیا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ ان کے نزدیک یہ بات ثابت شدہ نہیں ہے کہ کسی پچھلے زمانہ میں ہندو لوگ قوانین قدرت کے استعمال کرنے والے اور سائنس کے موجد تھے اور یہ کہ وید تمام علوم کا سرچشمہ ہیں۔

قرآن کریم پر اعتراض کرنیکی اجازت اور بعض ضروری اُمور

پروفیسر رام دیو صاحب نے اپنے مضمون کے آخر میں اس بات کی بھی اجازت چاہی ہے کہ وہ قرآن کریم کے الہامی ہونے کے متعلق کچھ اعتراضات شائع کریں جن کا جواب میں شائع کروں پھر وہ مضامین کتابی صورت میں شائع کرا دیئے جاویں۔ مجھے بہت ہی خوشی ہوئی ہے کہ پروفیسر صاحب نے میری تحریر کے مطابق اس طریق کو اختیار کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور سچی بات یہی ہے کہ کسی مسئلہ کی تحقیق اسی طریق پر ہو سکتی ہے کہ اس کے صدق و کذب کو مشاہدہ یا دلائل کے ذریعہ سے دیکھا جائے نہ اس طرح کہ زید و بکر کے اقوال کو سند لیا جائے ۔ زید و بکر کے اقوال سند نہیں ہوتے ہاں کبھی بطورِ تائیدی دلائل کے استعمال ہو سکتے ہیں ۔ لیکن پیشتر اس کے کہ وہ اس کام کو شروع کریں بعض اُمور کا تصفیہ ضروری ہے تاکہ بات شروع ہو کر ضائع نہ ہو جائے اور وہ اُمور سوال و جواب اور ان کی اشاعت کے طریق کے متعلق ہیں۔ میں اس جگہ اپنی رائے ظاہر کر دیتا ہوں اگر اس میں کوئی ایسی بات ہو جو نا واجب ہو یا مثلاً ایک فریق کو اس سے کوئی خاص فائدہ پہنچتا ہو تو وہ اس کی نسبت تحریر فرما دیں اس کی اصلاح ہو سکتی ہے ۔ میری رائے میں۔ ۱۔ چونکہ اعتراضات کا سلسلہ ایسا وسیع ہوتا ہے کہ ان کا ختم ہونا ہی ناممکن ہے کیونکہ اعتراض ہر ایک شئے پر ہو سکتا ہے اس لئے اس سلسلہ کو نا واجب طوالت سے بچانے کے لئے یہ طریق اختیار کیا جائے کہ پروفیسر صاحب قرآن کریم کے الہامی ہونے کے خلاف جو اعتراض رکھتے ہوں ان میں سے تین اعتراض جو ان کے نزدیک سب سے مضبوط اور لاینحل ہوں چُن لیں اور انہی کو پیش کریں۔ یہ نہیں کہ سوال کے بعد سوال کا سلسلہ شروع ہو جائے ۔ ۲۔ بعض سوال بھی وسیع ہوتے ہیں اور ان کی جزئیات سینکڑوں ہوتی ہیں اس کے متعلق بھی یہ قاعدہ رہنا چاہئے کہ جزئیات بھی تین سے زیادہ نہ چنی جاویں۔ مثلاً یہ کہ قرآن کریم پر یہ اعتراض ہو کہ اس میں بعض باتیں خلافِ قانونِ قدرت کے ہیں تو اس اعتراض کی مثالیں انتخاب کرتے وقت بھی یہ بات مدنظر رکھی جائے کہ سب سے صاف اور واضح تین مثالیں چُن لی جائیں نہ یہ کہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ اعتراضات کا شروع ہو جائے ۔ کیونکہ جب سب سے زیادہ واضح اعتراضات کا جواب ہو گیا تو دوسری مثالوں کا جواب بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ موجود ہی ہو گا اور یہ طریق وقت کے بچانے کے لئے ایسے سلسلۂ تحریرات میں مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے جس میں ایک فریق کا کام صرف اعتراض کرنا اور دوسرے کا کام صرف جواب دینا ہو۔

۳۔ اگر یہ طریق آپ کو منظور نہ ہو تو پھر یوں کیا جائے کہ ایک ہی وقت میں میری طرف سے وید کے الہامی ہونے پر اعتراضات ہوں اور آپ کی طرف سے قرآن کریم کے الہامی ہونے پر تاکہ ہر ایک فریق پر برابر کی ذمہ داری رہے۔

۴۔ سوال و جواب کا طریق یہ ہو کہ معترض اپنا اعتراض مع وضاحت اور تشریح کے شائع کر دے پھر مجیب اس کا جواب شائع کرا دے پھر معترض اس جواب پر اپنی جرح شائع کرا دے۔ اس کے بعد مجیب اس جرح کا جواب شائع کر دے اور اس مسئلہ کو ختم سمجھا جائے۔

۵۔ تین اعتراضات جو کئے جائیں ان کی نسبت فیصلہ کر لیا جائے کہ آیا ایک ہی دفعہ پیش کئے جاویں گے یا علیحدہ علیحدہ۔ میرے نزدیک یہ بہتر ہوگا کہ پیش اکٹھے کئے جاویں۔ آگے جواب ان کے باری باری دیئے جاویں۔ پہلے ایک سوال کا جواب اور اس پر تنقید اور پھر اس کا جواب شائع ہو جائے پھر دوسرے کو لیا جائے پھر تیسرے کو۔

۶۔ یہ انتظام کیا جائے کہ دونوں فریق کے مضامین ایک آریہ اخبار میں شائع ہوں اور ایک مسلمان اخبار میں۔ اپنی طرف سے میں ”الفضل“ پیش کرتا ہوں۔ ”الفضل“ میرے مضامین کے علاوہ پروفیسر صاحب کے ان مضامین کو جو اس سلسلہ میں نکلیں گے مکمل طور پر شائع کر دیا کرے گا اور پروفیسر صاحب جس آریہ اخبار میں اپنے مضامین شائع کرائیں اس کے ساتھ یہ انتظام بھی کر دیں کہ وہ میرے مضامین کو بھی جو اس سلسلہ میں نکلیں بتمامہٖ شائع کر دیا کرے۔ اگر اخبارات کو اس خیال سے کہ ان کے صفحات میں اس سلسلہ مضامین کے شائع ہونے کی گنجائش نہ ہوگی اس پر اعتراض ہو تو پھر یہ انتظام کیا جائے کہ ایک ضمیمہ طبع کرا کے اخبار میں شائع کرایا جائے ۔ آپ کے مضامین بھی ضمیمہ کے طور پر شائع ہوں اور میرے بھی۔ ضمیمہ کا خرچ فریقین ادا کریں یا کوئی ایسی جماعت جسے اس مذہبی تحقیق سے دلچسپی ہو۔

۷۔ اگر کتابی صورت میں مضامین شائع کئے جاویں تو کسی کو اختیار نہ ہوگا کہ مضامین کے متعلق اپنی طرف سے کچھ لکھے یا مضامین میں کسی قسم کا تغیر و تبدل کرے۔ اس صورت میں بھی بہتر ہوگا کہ دونوں فریق کے متحدہ انتظام کے ماتحت مضامین شائع کئے جاویں اور دونوں فریق خرچ میں برابر کے حصہ دار ہوں اور بعد میں کتب کو تقسیم کر لیا جائے۔

۸۔ مضامین کی تحقیق کا یہ طریق ہوگا کہ کسی کلام کے معنے کرتے وقت یا خود اسی کلام کا سیاق و سباق حجت ہوگا یا اس کتاب کا محاورہ یا لغت یا قواعد صرف و نحو اور معانی یا محاورۂ زبان یا ایسے علوم جو تمام دنیا میں تسلیم ہوتے ہیں مثلاً تاریخ و جغرافیہ ہندسہ وغیرہ اور ان علوم کی بات اسی طریق پر قابل سند ہوگی جس طریق پر کہ علوم عقلیہ کی باتیں سند ہوتی ہیں۔

۹۔ کسی مضمون کا جواب تین ماہ سے زائد دیر کر کے نہ شائع ہو اگر اس سے زائد دیر لگے تو وہ سلسلہ ختم سمجھا جائے۔

میرے نزدیک تو یہ اُمور ایسے بدیہی اور ظاہر ہیں کہ ان پر پروفیسر صاحب کو کوئی اعتراض نہ ہونا چاہئے لیکن اگر ان میں کوئی ایسی بات ہے جو ان کے نزدیک قابل اعتراض ہے تو وہ اسے پیش کر دیں اور اگر کوئی بات قابل اعتراض نہیں تو پھر کسی اخبار سے انتظام کر کے اپنے اعتراضات قرآن کریم کے الہامی ہونے کے متعلق شائع کرا دیں پھر میں اُن کا جواب شائع کرا دوں گا۔

وَآخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

پروفیسر رام دیو صاحب اور صداقتِ اسلام

از سیدنا حضرت خلیفة المسیح الثانی

اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ

نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّىْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ

ھُوَ النَّاصِرُ

احباب کو معلوم ہو گا کہ پروفیسر رام دیو صاحب اور میرے درمیان ان کے ایک لیکچر کے متعلق تبادلہ خیالات ہوتا رہا ہے۔ پروفیسر صاحب نے اپنے آخری جواب میں تحریری مباحثہ کا جو طریق مَیں نے پیش کیا اس کو قریباً منظور کر لیا ہے اور مَیں اُمید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ اس طریقِ بحث سے اچھا نتیجہ نکلے گا۔ پروفیسر صاحب نے سید امیر علی صاحب کے عقائد کے متعلق پھر بھی اس امر پر زور دیا ہے کہ ان کا قول اسلام کے خلاف حجت ہے اور یہ کہ ان کا وہی عقیدہ ہے جو پروفیسر صاحب نے بیان کیا تھا مگر چونکہ بعض مجبوریوں کی وجہ سے پہلے ہی ان کے مضمون کا جواب لکھنے میں دیر ہو گئی ہے اس لئے مَیں سر دست مباحثہ کے متعلق جو کچھ انہوں نے لکھا ہے اس کا جواب لکھ دیتا ہوں اور چند روز تک ان کے مضمون کے دوسرے حصہ کا جواب بھی انشاء اللہ شائع ہو جائیگا۔

مَیں نے طوالتِ بحث سے بچنے کے لئے اور آسانی سے فیصلہ ہو سکنے کی غرض سے اپنے مضمون کے آخر میں کچھ شرائط لکھی تھیں اور پروفیسر صاحب سے ان کے متعلق ان کی رائے دریافت کی تھی ۔ پروفیسر صاحب نے اپنے جواب میں ان کے متعلق اپنی رائے دی ہے لیکن چونکہ انہوں نے جن شرائط کی تصدیق کی ہے ان کے متعلق صرف منظوری کا ہی اعلان نہیں بلکہ میرے مضمون کو اپنے الفاظ میں دہرا دیا ہے اور بعض جگہ بعض الفاظ رہ گئے ہیں اس لئے اس امر کے معلوم کرنے کے لئے کہ وہ الفاظ غلطی سے رہ گئے ہیں یا ان کو اس پر اعتراض ہے مَیں یہ طریق اختیار کروں گا کہ جن شرائط کو میرے نزدیک انہوں نے منظور کر لیا ہے ان کے متعلق مَیں یہ تحریر کر دونگا کہ پروفیسر صاحب نے ان کو منظور کر لیا ہے ۔ اگر میری رائے غلط ہو تو پروفیسر صاحب میرے مضمون کے جواب میں اس حصہ کے متعلق جس سے ان کو اختلاف ہو اپنے خیالات کا اظہار کر دیں ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ ان کو اس سے اختلاف نہیں ہے۔

میں نے پہلی بات موجودہ بحث کے متعلق یہ لکھی تھی کہ پروفیسر صاحب قرآن کریم کے الہامی ہونے کے خلاف تین اعتراض جو ان کو سب سے زبردست معلوم ہوں چن لیں کیونکہ بحث کو محدود کرنے کے لئے اعتراضات کو محدود کرنا ضروری ہے۔ پروفیسر صاحب اس امر کو منظور کرتے ہیں۔

۲۔ میں نے لکھا تھا کہ ہر ایک اعتراض کی مثالیں بھی محدود ہوں کیونکہ بعض اعتراض ایسے ہو سکتے ہیں کہ ان کی مثالیں بیسیوں کی تعداد تک پہنچ جائیں اور اگر معترض ایک عام اعتراض کر کے اس کی تائید میں بیسیوں مثالیں لکھ جائے تو ان کا جواب بہت طویل عرصہ اور سینکڑوں صفحات کا محتاج ہو گا۔ پروفیسر صاحب کو اس پر اعتراض ہے اور وہ اس امر کو محدود نہیں کرنا چاہتے۔ میرے نزدیک اس امر میں بھی حد بندی مناسب اور ضروری ہے کیونکہ سوال کرنا ایک شخص کے اختیار میں ہے اور دوسرے فریق کا کام صرف جواب دینا ہے پس اس کے حقوق شرائط کے ساتھ محفوظ ہو جانے ضروری ہیں۔ ہاں اگر پروفیسر صاحب کو تین مثالیں اس اعتراض کی تشریح کے لئے کم معلوم ہوتی ہیں تو تین کی بجائے پانچ مثالوں کی حد مقرر کر لی جائے مگر حد ضرور مقرر ہونی چاہئے۔

۳۔ میں نے لکھا تھا کہ ایک طریق یہ بھی ہے کہ پروفیسر صاحب قرآن کریم کے الہامی ہونے پر اعتراض کریں اور میں انکے جواب دوں اور میں وید کے الہامی ہونے پر اعتراض کروں اور وہ اس کا جواب دیں۔ پروفیسر صاحب گو اس کو منظور کرتے ہیں لیکن یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایک مذہب کے جھوٹا ثابت ہونے سے دوسرا کیونکر سچا ثابت ہو جائے گا۔ میرے نزدیک یہی بات ان کے خلاف بھی کہی جاسکتی ہے کہ آپ کا مضمون تو دُنیا کے آئندہ مذہب پر تھا اگر اسلام جھوٹا ثابت ہو جائے تو ویدک دھرم کیونکر سچا ثابت ہو جائے گا لیکن چونکہ وہ اس کو پسند نہیں کرتے، میں اس سوال کو جانے دیتا ہوں۔

۴۔ میں نے لکھا تھا کہ سوال و جواب کا طریق یہ ہو کہ پہلے معترض اپنا اعتراض پیش کرے پھر مجیب جواب دے پھر معترض اس پر جرح کرے اور پھر مجیب اس جرح کا جواب شائع کر دے اور اس کے بعد بحث ختم سمجھی جائے۔

پروفیسر صاحب اس کے متعلق تحریر کرتے ہیں کہ اگر بحث ایک ہی ہو تو پھر یہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا کہ آخری موقع ایک ہی فریق کو ملے۔

میں پروفیسر صاحب کی توجہ اس طرف پھیرنی چاہتا ہوں کہ آخری موقع صرف ایک فریق کو اس لئے ملنا ضروری ہے کہ اعتراض کرنے کا موقع صرف ایک فریق کو ملنا ہے۔ یہ بات بالکل موٹی ہے کہ جس نے جواب دینا ہوگا وہ آخر میں بولے گا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص دو اعتراض کرے اور جواب دینے والا جب ایک اعتراض کا جواب دے چکے تو اسے کہہ دے کہ ایک سوال کے متعلق آخری دفعہ تم بول چکے ہو اب میں نہ بولنے دونگا کیونکہ آخری دفعہ بولنے کا موقع مجھے بھی ملنا چاہئے۔ جس شخص کی حیثیت مجیب کی ہوگی اس کو آخر میں لازماً بولنا پڑیگا ورنہ وہ جواب کس طرح دیگا۔ دو دفعہ بولنے کا موقع تو صرف مزید وضاحت کے لئے رکھا گیا ہے ورنہ اصل کیفیت تو یہ ہے کہ آپ سوال کریں گے میں اس کا جواب دوں گا۔ جب سوال آپ کی طرف سے ہوگا اور جواب میری طرف سے تو بہرحال میرا موقع آخری ہوگا کیونکہ جواب ہمیشہ سوال کے بعد ہوتا ہے۔

اگر آپ نے آخر میں بولنے کا موقع ضرور لینا ہے تو اس کی بھی یہی صورت ہوسکتی ہے کہ اس بحث کے ساتھ ساتھ ایک اور بحث شروع ہو جس میں میں ویدوں کے الہامی ہونے پر اعتراض کروں پھر آپ جواب دیں۔ پھر میں جواب پر جرح کروں اور آخر میں آپ اس جرح کے متعلق اپنے جوابات شائع کر دیں۔ اس صورت میں ایک بحث میں آپ کو بھی آخری موقع مل جائے گا ورنہ یہ بات تو عقل کے خلاف ہے کہ سائل بھی آپ ہوں اور جواب کا آخری موقع بھی آپ کو ملے۔ آخر میں تو بہرحال جواب دینے والا ہی بولے گا۔ اگر سوال کرنے والا آخر میں موقع پائیگا تو اس بحث کا کوئی فائدہ ہی نہ ہوگا۔ پس اگر آخر میں موقع پانے کا آپکو خاص خیال ہے تو دو بحثوں کو ایک وقت میں شروع کیجئے اور اگر صرف قرآن کریم کے الہامی ہونے پر ہی آپ نے اعتراض کرنا ہے تو پھر آخری موقعہ مجھے جس نے جواب دینا ہے ملنا ضروری ہے۔

علاوہ ازیں پروفیسر صاحب یہ بھی تو دیکھیں کہ جو طریق میں نے بیان کیا ہے اس میں انصاف بھی ہے کیونکہ دو ہی موقعے ان کو ملتے ہیں اور دو ہی مجھے ملتے ہیں۔ اس طرح کہ پہلے وہ اپنے اعتراض کو مفصل اور با دلائل بیان کرینگے۔ پھر میں ان کے اعتراض کا جواب دوں گا اور جس امر پر ان کا اعتراض ہوگا اس کی حقیقت بیان کروں گا۔ پھر دوسری دفعہ وہ میرے بیان پر جرح کرینگے اور اس کے بعد مجھے دوسرا موقع ملے گا اور میں ان کی جرح کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرونگا پس دو موقعے ان کو ملے اور دو مجھے۔ لیکن اگر ان کی بات تسلیم کی جائے کہ بعض دفعہ ان کو آخر میں موقع

دیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اُنکو دو موقعے ملیں گے اور مجھے ایک کیونکہ سب سے پہلی دفعہ بوجہ سائل یا معترض ہونے کے انہیں موقع ہو گا۔ اس کے بعد مجھے پھر ان کو۔ پس ان کو دو موقع ملیں گے اور مجھے ایک۔ اور یہ بات انصاف کے خلاف ہے کہ ایک امر کا ثابت کرنا بھی میرے ذمہ نہ ہو جو خود آپ کی تحریر کے مطابق اعتراض کی نسبت مشکل ہوتا ہے اور موقع بھی مجھ کو ایک ہی دیا جائے۔

پروفیسر صاحب نے اس امر کو تسلیم کر لیا ہے کہ معترض تینوں اعتراضات اکٹھے شائع کر دے بلکہ وہ لکھتے ہیں کہ مجیب جس سوال کا چاہے پہلے جواب دے اور جس کا چاہے پیچھے جواب دے میں اس کے متعلق اس قدر لکھ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ پروفیسر صاحب نے یہ جو سہولت رکھی ہے کہ مجیب جس سوال کا چاہے جواب پہلے دے اور جس کا چاہے پیچھے انکی سہولت پر ان کا ممنون ہوں لیکن اس کی مجھے ضرورت نہیں۔ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس امر کے لئے تیار ہوں کہ جس سوال کو وہ پہلے لیں میں اس کا جواب پہلے لکھوں۔ صرف میری اس قدر خواہش تھی کہ تینوں سوالات ایک ساتھ بیان ہو جائیں تا اعتراضات کا حلقہ جواب دیتے وقت مدنظر رہے اور مجیب اپنے وقت اور فرصت کا خیال رکھ سکے۔

یہ بات بھی ضروری نہیں کہ تینوں سوالات کو پہلی ہی دفعہ مشرح اور واضح کر کے با دلائل بیان کیا جائے۔ بلکہ یہ بھی اجازت ہو گی کہ جس سوال کا جواب پروفیسر صاحب پہلے لینا چاہیں اس کے متعلق پوری تشریح سے اپنے سوال کو مع ان دلائل کے جن کی بناء پر ان کو وہ اعتراض پیدا ہوئے ہیں شائع کرا دیں اور دوسرے سوالات کو مجملاً بیان کر دیں اور پھر ان کی باری پر ان کی تشریح کر دیں۔

اس جگہ میں یہ بھی لکھ دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ سوال کرنے سے میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ پروفیسر صاحب صرف سوال ہی لکھ دیں۔ بلکہ ان کو اجازت ہو گی کہ وہ اپنے اعتراض کو زور دار بنانے کے لئے جس قدر چاہیں وضاحت کو کام میں لائیں اور وہ وجوہات بالتفصیل بیان کریں جن کی بناء پر ان کو وہ اعتراض پیش کرنے کا خیال پیدا ہوا ہے اور جس کی بناء پر اس مسئلہ کو جس پر وہ اعتراض کریں گے وہ قرآن کریم کے الہامی ہونے کے خلاف سمجھتے ہیں۔ گویا سوال نام اس اعتراضی پرچہ کا ہو گا جس میں ایک خاص مسئلہ کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ قرآن کریم کے غیر الہامی ہونے کے خلاف بحث کریں گے۔ یہ تو ان کے حقوق کی حد ہے آگے ان کا یہ اختیار ہے کہ صرف سوال ہی پیش کر دیں اور میرے جواب پر جرح کرنے پر ہی اکتفاء کریں۔

میں اِس جگہ پروفیسر صاحب کی اِس غلط فہمی کا بھی ازالہ کر دینا چاہتا ہوں کہ الزامی جوابات کی اجازت نہ ہو گی۔ میرے کسی حصہ مضمون میں یہ بات نہیں آئی کہ الزامی جوابات کی اجازت نہ ہو گی ۔ مجیب کے دائرہ جواب کو محدود نہیں کیا جا سکتا اگر وہ ایسے الزامی جواب ہی دیگا جس سے یہ معلوم ہو کہ اگر اس کا مذہب جھوٹا ہے تو معترض کا بھی جھوٹا ہے تو خود اُسے نقصان پہنچے گا لیکن اگر وہ سائل کو یہ بات سمجھانے کے لئے کہ جس بات کو وہ صداقت کے خلاف سمجھتا ہے وہ صداقت کے خلاف نہیں کیونکہ وہی یا ویسی ہی بات یا اس سے بڑھ کر کوئی بات اس مذہب میں موجود ہے جسے وہ سچا سمجھتا ہے تو اس کو اس امر سے روکنا انصاف کے بالکل خلاف ہے۔ الزامی جواب ہمیشہ کمزوری پر دلالت نہیں کرتا بلکہ بسا اوقات ایک صداقت کو منوانے کے لئے سب سے چھوٹا راستہ ہوتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص کسی انسان پر یہ اعتراض کرے کہ تو شریف آدمی نہیں ہے اور میں شریف آدمی ہوں کیونکہ تو فلاں کام کرتا ہے اور وہ کام شرافت کے خلاف نہ ہو اور وہ شخص جس پر اعتراض ہوا ہے آگے سے یہ جواب دیدے کہ یہ کام تو تُو بھی کرتا ہے تو اسے کوئی الزامی جواب کہہ کر کمزور نہ کہے گا۔ یہ جواب تو سب سے زیادہ قریب الفہم ہو گا اور بہت جلد دوسرے آدمی کی سمجھ میں آجاوے گا کہ میری غلطی تھی ۔ الزامی جواب اسی وقت کمزور ہوتا ہے جبکہ وہ بات جس پر اعتراض کیا گیا ہو واقع میں بُری ہو اور مجیب اپنے عیب کو اس پردہ میں چھپانا چاہے کہ دوسرا بھی ویسے ہی عیب میں مبتلاء ہے۔

غرض الزامی جواب کا دروازہ بند نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کی بعض اقسام حقیقی جواب ہی کی طرح مضبوط ہوتی ہیں اور تصفیہ کی صورت پیدا کرنے میں بہت ممد ہوتی ہیں۔

اس جگہ ایک سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ الزامی جواب اعتراض کا رنگ رکھتا ہے اور جب مجیب کو الزامی جواب دینے کی اجازت ہو گی تو گویا اس حصہ میں مجیب سائل ہو جائیگا اور سائل مجیب ہو جائیگا اور وہی بے انصافی کا سوال آجائیگا کہ آخری پرچہ سائل کا ہو گا۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس بے انصافی کے دُور ہونے کے لئے یہ صورت کی جا سکتی ہے کہ مجیب کے پہلے پرچہ میں جو الزامی جوابات آئیں ان کے جواب یہ سائل دے تو اس حصہ کی بحث وہیں ختم سمجھی جائے۔ اپنے آخری پرچہ میں ان الزامی جوابات کا ذکر مجیب نہ کرے، ہاں یہ ضروری ہو گا کہ مجیب کے جواب پر یہ نوٹ کر دیا جائیگا کہ اسے ان الزامی جوابات کا جواب الجواب دینے کی اجازت نہ تھی۔

اخبارات میں اس بحث کی اشاعت کے متعلق پروفیسر صاحب نے پسند کیا ہے کہ ان کے سوالات اور میرے جوابات اور پھر جواب الجواب اور پھر اس کا جواب بطور ضمیمہ پرکاش اور الفضل میں شائع ہو جائیں۔ پرکاش کے ضمیمہ کا خرچ ان کے ذمہ ہو گا اور الفضل کے ضمیمہ کا خرچ میرے ذمہ میرے نزدیک بہتر تو یہ تھا کہ بجائے الگ ضمیمہ شائع کرنے کے دونوں اخبارات کے ان نمبروں کے جن میں ہمارے سوال و جواب چھپیں صفحات بڑھا دیئے جایا کریں لیکن اگر یہ بات ناممکن ہو تو یہ ضرور ہونا چاہئے کہ الفضل اور پرکاش دونوں کے ایڈیٹر اس ذمہ داری کو اٹھائیں کہ وہ خود اطمینان کر لیا کرینگے کہ تمام خریداروں کو ضمیمہ بھیجدیا گیا ہے۔ الفضل کی طرف سے میں یہ اقرار کرتا ہوں کہ اس میں اصل اخبار میں ہی پروفیسر صاحب کے اور میرے مضامین شائع ہونگے اور حسب ضرورت اخبار کے صفحات بڑھا دیئے جایا کرینگے۔

پروفیسر صاحب نے اس امر کو بھی منظور کیا ہے کہ مشترکہ خرچ پر اس مباحثہ کے سب مضامین بلا کم و کاست متحدہ انتظام کے ماتحت کتابی صورت میں بھی شائع کرائے جائیں اور بعد میں کتب تقسیم کر لی جائیں۔

کلام کے معانی کرنے کے متعلق پروفیسر صاحب نے تسلیم کر لیا ہے کہ سیاق و سباق اور صرف و نحو اور بیان و معانی اور محاورۂ زبان اور لغت اور اس کتاب کا محاورہ حجت ہوگا یا سند کے طور پر علوم مسلمہ کو انہی شرائط کے ساتھ جن شرائط کے ساتھ ان کی باتیں تسلیم کی جاتی ہیں پیش کیا جا سکے گا۔

یہ بھی پروفیسر صاحب نے تسلیم کر لیا ہے کہ کسی مضمون کا جواب تین ماہ سے زائد عرصہ میں شائع نہ ہوگا اگر کسی فریق کی طرف سے اس عرصہ میں جواب شائع نہ ہو تو بحث کا خاتمہ سمجھا جائیگا اور اسی صورت میں مباحثہ کے مضامین شائع کرا دیئے جائیں گے۔

چونکہ سوائے چند باتوں کے جن پر پروفیسر صاحب کو اعتراض تھا باقی سب امور طے شدہ ہیں اور چونکہ ان کے متعلق بھی میں اب وضاحت کر چکا ہوں اس لئے اگر پروفیسر صاحب کو میری اوپر کی تحریر سے اتفاق ہو تو وہ ان تین اعتراضات کو شائع کرا دیں جن کی بناء پر قرآن کریم کے الہامی ہونے میں انکو کلام ہے اور ان اعتراضات کو وضاحت سے بیان کر دیں جس کا تصفیہ سب سے پہلے کرنا وہ پسند کرتے ہوں انکے مضمون کے شائع ہونے پر میں انکا مضمون الفضل میں شائع کروا دونگا اور اپنا جواب بھی شائع کرا دونگا اور اسی طرح یہ سلسلہ مطابق شرائط چلتا چلا جائیگا۔

خاکسار مرزا محمود احمد

اصلاحِ نفس

(متفرق اُمور)

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

اصلاحِ نفس

(تقریر حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی جو حضور نے سالانہ جلسہ کے موقع پر ۲۷؍ دسمبر ۱۹۲۱ء کو مسجد نُور میں ظہر کے بعد فرمائی)

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(1:2-7) اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَیَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ رَبَّنَاۤ اِنَّکَ مَنۡ تُدۡخِلِ النَّارَ فَقَدۡ اَخۡزَیۡتَہٗ ؕ وَمَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیۡ لِلۡاِیۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ فَاٰمَنَّا ٭ۖ رَبَّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَکَفِّرۡ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدۡتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَلَا تُخۡزِنَا(3:191-195) یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّکَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ فَاسۡتَجَابَ لَہُمۡ رَبُّہُمۡ اَنِّیۡ لَاۤ اُضِیۡعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنۡکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی ۚ بَعۡضُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ ۚ فَالَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَاُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَاُوۡذُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ وَقٰتَلُوۡا وَقُتِلُوۡا لَاُکَفِّرَنَّ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَلَاُدۡخِلَنَّہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۚ ثَوَابًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ وَاللّٰہُ عِنۡدَہٗ حُسۡنُ الثَّوَابِ(اٰل عمرٰن: ۱۹۵ تا ۱۹۶)

حضرت مسیح موعودؑ کے بوئے ہوئے بیج کا درخت بن گیا

سب سے پہلے تو میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ جس نے اس بیج کو جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دن نہایت سختی اور شدت کے زمانہ میں لوگوں کی خطرناک مخالفت کے باوجود ایسی حالت میں کہ لوگوں کی صرف دنیاوی سامانوں پر ہی نظر تھی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے مایوس ہوچکے تھے، بویا تھا بار آور کیا اور اس سے ایسا درخت پیدا کر دیا ہے جو روز بروز اس کے فضل اور رحم کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے اور بڑھتا جائے گا۔ یہ خدا تعالیٰ کا بہت بڑا فضل اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں ناکامی کے غار سے نکال کر کامیابی کے کے راستہ پر چلا دیا ہے۔

آج سے تیس سال قبل جب حضرت صاحبؓ نے دعویٰ کیا تھا کون شخص تھا جو خیال میں بھی لا سکتا تھا کہ اس کی ایک عظیم جماعت قائم ہو جائے گی؟ مگر خدا کی باتیں پوری ہو کر رہتی ہیں اور ہر زمانہ میں یہی ہوتا رہا ہے کہ وہ پتھر جس کو معماروں نے رد کر دیا خدا نے اسی کو کونہ کا پتھر قرار دیا اور اسی پر عظیم الشان عمارت کی بنیاد رکھی۔ ایسا ہی اس زمانہ میں ہوا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ پر ہر قسم کے حملے کئے گئے، آپ کو طرح طرح کی تکلیفیں دی گئیں، رنگا رنگ کی ایذائیں پہنچائی گئیں مگر باوجود مخالفوں کی شرارتوں کے اور باوجود دشمنوں کی ایذاء رسانیوں کے اور باوجود معاندوں کی تکلیفوں کے پھر بھی خدا نے آپ کا سلسلہ قائم کیا اور قائم کرتا رہے گا اس وقت تک کہ دُنیا اقرار نہ کرلے کہ خدا ہے اور ایسا خدا ہے جو کمزور سے کمزور انسان سے بھی کام لیتا ہے اور اس کے ذریعہ اپنا جلال اور قدرت دکھاتا ہے۔

ظُلمت سے بچانے پر خدا کا شکر

پھر میں اللہ تعالیٰ کا شکر، تسبیح اور تمحید اس لئے کرتا ہوں کہ اس نے اپنے فضل سے ہمیں اس ظلمت اور تاریکی سے بچایا جس میں باقی دُنیا مبتلا ہے۔ کیا یہ خدا تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک

بہت بڑا فضل نہیں ہے؟ کہ اس وقت جب کہ دُنیا طرح طرح کی تاریکیوں میں گرفتار ہے اور قسم قسم کی ظلمتوں میں پڑی ہوئی ہے اس نے حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ ہمیں ایسی روشنی عطا کی ہے کہ ہم پر ان ظلمتوں اور تاریکیوں کا کوئی بھی اثر نہیں ہے۔ ذرا خیال تو کرو کہ ایک تاریک رات میں جب کہ لوگ ٹھوکریں کھا رہے ہوں، گڑھوں میں گر رہے ہوں، ایک ایسا سُورج چڑھے جس کی روشنی صرف تمہیں ہی پہنچے اوروں کو نہ پہنچے تو اس وقت تم کس قدر خوش ہو گئے؟ اور کس قدر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کروگے؟ اور خواہ تم کتنا ہی شکر کرو یقیناً تم شکر کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ مگر افسوس بہت ہیں جن پر خدا کا ایسا ہی فضل ہوا ہے مگر انہوں نے اس کو سمجھا نہیں کہ خدا نے ان پر کتنا بڑا فضل کیا ہے۔

یہ میں نے چھوٹی سی مثال بیان کی ہے کہ تاریکی ہو، لوگ ٹھوکریں کھا رہے ہوں، اس وقت سُورج چڑھے جس کی روشنی تمہیں ہی ملے۔ اور تم بڑے آرام اور اطمینان کے ساتھ چلے جاؤ تو تم کتنے خوش ہو گے؟ اور تمہارا کتنا ایمان بڑھے گا؟ یا ایک جنگ کا میدان گرم ہو، سینکڑوں آدمی تمہارے دائیں بائیں گر رہے اور کچلے جا رہے ہوں مگر تمہارے اوپر جو گولی لگے وہ پانی کی طرح بہہ جائے اور تمہیں اس سے ذرا بھی صدمہ نہ پہنچے۔ تو بتاؤ اس وقت کس قدر شکر کی لہر تمہارے اندر پیدا ہوگی؟

اب بتاؤ۔ خدا نے جو فضل تم پر کیا ہے۔ کیا وہ اس سے بڑھ کر نہیں ہے؟ اس رُوحانی ظلمت اور تاریکی کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ایک سورج چڑھایا جس کی برکت سے تم راستہ دیکھتے اور ٹھوکروں سے بچ رہے ہو، لیکن کیا تم نے کبھی یہ خیال کیا ہے کہ اس خطرناک جنگ میں جس میں شیطانی فوج نے اپنی پوری طاقت سے رُوحانیت پر خطرناک حملہ کیا ہے اور یکے بعد دیگرے جوان گر رہے ہیں۔ تم پر کوئی شیطانی گولی اثر نہیں کرتی اور تم صحیح و سالم ہو۔ یہ تم پر کتنا بڑا فضل ہے؟ اس نقشہ کو اپنے دل میں جماؤ اور پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ کا شکر کس قدر تمہارے دل میں پیدا ہوتا ہے؟

یہ ہنسی نہیں ۔ یہ کھیل نہیں۔ یہ معمولی بات نہیں ۔ ہمیں ضرور خدا تعالیٰ کے آگے شکریہ کے طور پر جھک جانا چاہئے کیونکہ اگر اس کا فضل نہ ہوتا، اس کا رحم نہ ہوتا، اس کی بندہ نوازی نہ ہوتی تو اس خطرناک جنگ میں ہمارے محفوظ رہنے کی کوئی بھی وجہ نہ تھی۔ ظاہری علم ہمارے پاس دوسروں سے زیادہ نہیں، مال ہمارے پاس نہیں دنیاوی عزت ہمارے پاس نہیں، دنیاوی سامان ہمارے پاس نہیں، دنیاوی طاقت ہمارے پاس نہیں غرض کوئی بھی سامان ہمارے پاس نہیں یہ محض اس کا فضل اور اس کا احسان ہی ہے کہ اس نے اس خطرناک موقع پر ہمیں بچا لیا ہے اور ہمیں حضرت مسیح موعودؑ کی

شناخت بخشی ہے۔ پس ہم اس کے لئے جس قدر بھی شکر کریں کم ہے۔

مشکلات کے زمانے میں خدا تعالیٰ کا ڈھارس دینا

اس کے بعد میں اللہ تعالیٰ کا اس بات پر شکر کرتا ہوں کہ اس نے اس مشکلات اور تکالیف کے وقت جبکہ میں نے دیکھا کہ دنیا خطرناک حالات میں مبتلا ہے اس وقت اس نے میرے دل کو ڈھارس دی اور یقین دلایا کہ اس جماعت پر وہ ضرور اپنا فضل کرے گا۔

میں بالعموم اپنی رؤیا اور کشوف کا اظہار نہیں کیا کرتا۔ کیونکہ میرے نزدیک یہ ماموروں کا کام ہے۔ مگر بعض اوقات احباب کا یقین بڑھانے کے لئے اور انہیں تسلی دینے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اپنی رؤیا بیان کی جائے۔ اسی لئے خدا نے موجودہ حالات میں مجھے جو بشارت دی ہے وہ سناتا ہوں تاکہ جس طرح خدا تعالیٰ نے اس کے ذریعہ میرا دل خوش کیا ہے اسی طرح تمہارا دل بھی خوش ہو جائے۔

چند دن ہوئے میں نے ایک نظارہ دیکھا جس میں مجھے بتایا گیا کہ بعض لوگوں کو کچھ ابتلاء آئے ہیں۔ اس کو دیکھ کر میری طبیعت بہت گھبرائی اور میں خدا تعالیٰ کے حضور جھکا اور گرا اور کہا کہ خدا تعالیٰ ان پر رحم کرے ان کے گناہوں کی پردہ پوشی کرے اور ان کے گناہوں کو مٹا دے۔ اس دُعا کے بعد جبکہ جلسہ کے دن قریب تھے بلکہ آ ہی گئے تھے۔ یعنی پرسوں کی بات ہے کہ میں نے دیکھا کہ میں بیٹھا ہوا ہوں اور ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب جو میرے ماموں ہیں وہ آئے ہیں میں نے ایک لمبے تجربہ کے بعد یہ بات معلوم کی ہے کہ اسماء کے ساتھ رویاء اور کشوف کا خاص تعلق ہوتا ہے اور مجھے جو خدا تعالیٰ سے قبولیت کا تعلق ہے اس کے متعلق میں نے دیکھا کہ اٹھانوے ۹۸٪ فیصدی انہیں کو دیکھتا ہوں۔ ان کا نام ہے ”اسماعیل“ جس کے معنی ہیں خدا نے سُن لی۔ جب میں کوئی دُعا کرتا ہوں تو یہی مجھے دکھائے جاتے ہیں۔ ہاں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا کسی مَلَک کے ذریعہ بتا دیتا ہے اور کبھی خود جلوہ نمائی کرتا ہے۔

تو میں نے دیکھا کہ وہ آئے ہیں اور ہشاش بشاش ہیں اور کہتے ہیں کہ لوگ آرہے ہیں اور وہ اتنے خوش معلوم ہوتے ہیں اور آنے والوں کا ایمان اتنا ترقی یافتہ ہے کہ انہوں نے ان کے چہروں سے دیکھ لیا ہے۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے کہ نور ان کے چہروں سے ٹپکتا ہے۔ جب انہوں نے یہ کہا کہ لوگ آرہے ہیں اور ایمان اور اخلاص کے ساتھ آرہے ہیں۔ تو اسی وقت جوش سے میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے کہ اَللّٰھُمَّ زِدْ فَزِدْ عَلٰی نَہْجِ الصَّلَاحِ وَالْعِفَّةِ۔ اے اللہ ان کو زیادہ کر ایمان اور اخلاص میں پھر زیادہ کر ایمان اور اخلاص میں۔ اور یہ پھر آویں مگر مٹی کے رستوں پر چل کر نہیں بلکہ نیکی اور اخلاص اور ترقی کے راستہ پر چل کر آئیں۔

اس کے بعد آنکھ کھل گئی اور اس طرح خدا تعالیٰ نے مجھے تسلی دی۔ تو میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ جماعت کے کثیر حصہ کو اور ایسے کثیر حصہ کو کہ شاذ ہی کوئی رہ جائے اور ممکن ہے کہ کوئی بھی نہ رہے۔ اس خطرناک وقت میں جب کہ بڑے بڑوں کے قدم لڑکھڑا رہے ہیں محفوظ رکھے گا اور تقویٰ اور صلاحیت پر ہی چلائے گا گمراہی کے رستہ پر نہیں چلائے گا۔ انشاء اللہ

اس کے بعد پیشتر اس کے کہ مضمون شروع کروں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو جیسا کہ میں جلسہ پر دو مضمون بیان کیا کرتا ہوں اسی طرح اب بھی بیان کروں گا اور کل علمی مضمون بیان ہو گا۔ آج میں جماعت کی اخلاقی اور عام حالت کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں۔ کل دوسرا مضمون جو بالعموم دوسرے دن ہی بیان کیا کرتا ہوں اور کبھی پہلے دن بھی بیان کیا ہے بیان کروں گا۔ وہ مضمون گو علمی ہوتا ہے لیکن وہ بھی روحانیت سے تعلق رکھتا ہے۔

پیشتر اس کے کہ میں آج کے مضمون کو بیان کروں کچھ باتیں پچھلے سال کے متعلق کہنا چاہتا ہوں۔

مسجد لندن

اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے جس کام میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ مسجد لندن کی تعمیر کا سامان ہے۔ اس میں شک نہیں کہ لندن عیسائیوں کے ہزاروں شہروں میں سے ایک شہر ہے اور اس کی شہرت مسیحیت کا مرکز ہونے کے سبب سے نہیں بلکہ اس کی دنیاوی عظمت کے سبب سے ہے۔ مگر غور سے دیکھا جائے تو اس میں بھی شک نہیں کہ لندن عیسائیت کا مرکز ہے۔ اور ایسا مرکز ہے کہ اس کے مقابلہ میں روم بھی جو یورپ کا دارالاقامۃ ہے نہیں ٹھہر سکا۔ لندن پراٹسٹنٹ فرقہ کے عیسائیوں کا مرکز ہے جو دنیا میں بہت بڑے انتظام اور سامان کے ساتھ تبلیغ کرتے ہیں اور روم رومن کیتھولک فرقہ کا مرکز ہے جن کا طرزِ تبلیغ بالکل جُدا گانہ ہے۔ وہ اپنی ذات میں ایسے محو ہیں کہ غیر مذاہب کی کتابیں پڑھنا بھی پسند نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ رومن کیتھولک فرقے کے بہت کم پادری ہیں جنہوں نے اسلام پر حملے کئے ہیں مگر پراٹسٹنٹ فرقہ کے عیسائیوں نے اسلام پر بہت زیادہ حملے کئے ہیں اور دل دکھانے والے حملے کئے ہیں۔ اس فرقہ کے لوگوں کا مرکز لندن ہے اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ اسلام پر جارحانہ حملہ کرنے والی مسیحیت کا مرکز لندن ہی ہے اور

ہماری جماعت کو توفیق ملی ہے کہ اس مرکز میں اسلام کا نشان قائم کرنے کے لئے مسجد کی زمین خریدے۔ ایسی کمزور مالی حالت میں جو کہ ہماری جماعت کی ہے یہ بہت شکر کا مقام ہے کہ اتنا بڑا کام کرنے کی اسے توفیق ملی۔

پچھلے سال جلسہ ختم ہونے کے سات آٹھ دن کے بعد میرے دل میں اس مسجد کی تحریک پڑی اور اس زور سے پڑی کہ میں نے سمجھا کہ ملائکہ نے ہی ڈالی ہے۔ میں گھر سے نماز کے لئے نکلا اور مسجد میں فوراً یہ خیال ہوا کہ لندن میں مسجد بنانی چاہئے۔ لیکن لندن میں مسجد بنانے کا خیال چونکہ بہت بڑا خیال تھا اس لئے سوال پیدا ہوا کہ کس طرح بنائی جائے؟ اس کے لئے میں نے یہ خیال کیا کہ چونکہ ہماری جماعت کے لوگ آگے بہت سا چندہ دیتے ہیں اور چندہ دینا ان کے لئے مشکل ہو گا اس لئے یہی صورت ہو سکتی ہے کہ قرضہ لے لیا جائے جو باقساط ادا کر دیا جائے۔ پہلے مجھے پانچ ہزار کا خیال آیا لیکن جب میں تحریک کرنے لگا تو پندرہ ہزار کا خیال آیا۔ میں نے سمجھا یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اس لئے اس رقم کی تحریک کرنی چاہئے۔ اس کے متعلق جب میں نے مسجد میں ان چند آدمیوں کے سامنے جو میرے اردگرد بیٹھے تھے ذکر کیا تو اسی وقت بعض نے چندے لکھوانے شروع کر دیئے اور بعض نے کہا کہ ہم قرضہ نہیں دیتے یونہی چندہ دیتے ہیں۔ پھر جب میں اس کے متعلق مضمون لکھنے لگا تو دل نے کہا قرضہ کیا لکھنا ہے ممکن ہے جماعت پر زور دیں تو پندرہ ہزار ہی چندہ ہو جائے۔ اس لئے یہی تحریک ہوئی کہ چندہ ہو قرضہ نہ ہو۔ لیکن جب میں مضمون لکھتے ہوئے رقم لکھنے پر پہنچا تو پندرہ ہزار کی بجائے قلم سے تیس ہزار نکلا میں نے سمجھا یہ بھی الٰہی تحریک ہو گی۔ مگر دل میں تعجب تھا کہ اتنا روپیہ کہاں سے آئے گا۔ میں نے وہ اعلان یہاں کی جماعت کے چند لوگوں کو سنایا جو بالعموم تھوڑی تھوڑی تنخواہوں پر تنگی سے گذارہ کرتے ہیں مگر اسی وقت دو تین ہزار کے درمیان رقم کا اعلان ہو گیا۔ پھر میں نے گھر جا کر سنایا تو چند ہی عورتوں نے پانچ سو کے قریب رقم لکھوا دی۔ پھر شام کو یہاں کے سب لوگوں کو جمع کر کے تحریک کی تو رقم نو ہزار کے قریب پہنچ گئی اور دوسرے دن بارہ ہزار سے آگے نکل گئی۔ تب مجھے یقین ہو گیا کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی تحریک ہے۔ اس وقت میں نے اشتہار لکھا اور خیال آیا کہ خدا کچھ اور قدرت دکھانا چاہتا ہے۔ لاہور آدمی بھیجا اس خیال سے کہ یہ رقم لاہور تک ہی جمع ہو جائے۔ لاہور کے احمدیوں نے کہا کہ ہم قادیان والوں سے مل کر ۳۰ ہزار کی رقم پوری کر دیں گے۔ چنانچہ لاہور اور قادیان اور گورداسپور کی جماعتوں نے مل کر یہ رقم پوری کر دی۔

انہی دنوں غیر احمدی شور مچا رہے تھے کہ اسلام تباہ ہو گیا ہے۔ کیونکہ خلافت پر حملہ ہوا ہے اور خلافت کو قائم رکھنے کے لئے چندہ جمع کر رہے تھے۔ ایک کالج میں جب ان کا چندہ ہوا تو چھ سو طلباء نے دو ہزار چندہ لکھایا۔ مگر جب ہماری تحریک لاہور پہنچی تو وہاں کے امیر نے احمدی طلباء کو کہا کہ کیا کفر و اسلام میں کوئی فرق نہیں۔ چھ سو طلباء نے دو ہزار چندہ لکھوایا ہے۔ تم ستر طلباء ہی دو ہزار پورا کر دو۔ چنانچہ انہی طلباء نے دو ہزار پورا کر دیا۔ پھر یہ عجیب بات ہے کہ ان چھ سو طلباء کا چندہ تو ادا نہ ہوا مگر ہمارے ستر طلباء نے دو ہزار روپیہ ادا کر دیا۔

پھر اس تحریک کو وسیع کر دیا گیا تا کہ ساری جماعت اس ثواب میں شریک ہو سکے اور اس طرح اس چندہ کی رقم ایک لاکھ کر دی گئی۔ جو رقم اس وقت تک وصول ہو چکی ہے وہ ۹۳ ہزار ہے اور وعدے ملا کر ایک لاکھ سے اوپر ہو جاتی ہے۔

یہ وہ بہت بڑا کام ہے جو اس سال خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت سے کرایا ہے۔ اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بات کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ہو کر رہتی ہے رُک نہیں سکتی۔ لندن مسجد کی جگہ خرید لی گئی ہے جس میں مبلغین کے رہنے کے لئے مکان بھی ہے۔ اب انشاء اللہ مسجد تیار ہوگی، اور اس کا اشاعتِ اسلام پر بہت بڑا اثر ہوگا۔ جو جگہ خریدی گئی ہے وہ بہت اعلیٰ درجہ کی ہے۔ اس کے ارد گرد تاجر رہتے ہیں جو اعلیٰ درجہ کے ہیں۔ پھر مکان ہی نہیں زمین بھی لندن جیسے شہر میں موقع کی مل گئی ہے اور سستی مل گئی ہے اور اتنی سستی ہے کہ لاہور جیسے شہر میں بھی اس نرخ پر ایسے با موقع اور اس نرخ پر ملنی مشکل ہے۔

امریکہ میں احمدیہ مشن

دوسری چیز جو اس سال قائم ہوئی وہ امریکہ کا مشن ہے۔ اسی جگہ میں نے گذشتہ جلسہ پر اعلان کیا تھا کہ بیرونی ممالک میں تبلیغی مشن قائم کئے جائیں گے۔ چنانچہ اس سے تھوڑے ہی دن بعد مفتی صاحب امریکہ روانہ ہو گئے۔ مگر امریکہ کی سلطنت نے انہیں ملک میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اور وہ لوگ جو ہماری ہر بات کی مخالفت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں انہوں نے کہا کہ بہت اچھا ہوا۔ ان کے آدمی کو امریکہ نے روک دیا۔ حالانکہ امریکن گورنمنٹ کو یہ اعتراض نہیں تھا کہ مفتی صاحب احمدی ہیں اس لئے داخل نہ ہوں بلکہ وہ کہتی تھی کہ مفتی صاحب چونکہ اسلام کا ایک ایسا مسئلہ مانتے ہیں جسے ہم پسند نہیں کرتے اس لئے داخل نہ ہوں مگر مسلمان کہلانے والوں نے اس موقع پر یہودیوں والی بات کی کہ ہمارے مقابلہ میں کفار سے دوستی ظاہر کی اور خوش ہوئے کہ انہوں نے ایک اسلامی مسئلہ کی بناء پر ہمارے مبلغ کو روک دیا۔ لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ خدا چاہتا تھا کہ ان کا ہم پر کسی قسم کا احسان نہ ہو۔ کیونکہ ممکن تھا کہ اگر وہ ہمارے ساتھ مل کر امریکہ کے خلاف آواز اُٹھاتے اور اس کے بعد مفتی صاحب کو داخل ہونے کی اجازت مل جاتی۔ تو وہ کہتے کہ ہماری وجہ سے ہی ایسا ہوا ہے مگر خدا تعالیٰ نے ان کو ہمارے مقابلہ میں کھڑا کر کے ہمیں ان کے احسان کا بار اُٹھانے سے باز رکھا۔ انہی دنوں میں سیالکوٹ گیا جہاں میرا لیکچر ہوا۔ اس میں میں نے کہا کہ امریکہ نے ہمارا مقابلہ کیا ہے اور یہ خدا کی حکومت ہے اس مقابلہ میں امریکہ کو ضرور نیچا دیکھنا پڑے گا۔ چنانچہ مفتی صاحب امریکہ داخل ہو گئے۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ اب انہیں بعض ایسی قانونی گنجائشیں مل گئی ہیں کہ انہوں نے لکھا ہے اگر اجازت ہو تو میں دوسرا نکاح کر لوں۔

اس ملک کے متعلق میں نے گزشتہ سے پیوستہ جلسہ پر بیان کیا تھا کہ میں نے رؤیا میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعودؑ کہیں سے دوڑے دوڑے آئے ہیں۔ میں نے کہا حضور اندر آئیں۔ فرمایا خدا نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں امریکہ جاؤں۔ میں پانچ سال امریکہ رہ کر آیا ہوں۔ میں نے کہا حضور! اب کچھ عرصہ گھر پر ٹھہریں۔ فرمایا نہیں میں نہیں ٹھہر سکتا۔ کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا ہے کہ پانچ سال بخارے جا کر رہوں۔ چنانچہ آپ چلے گئے۔

امریکہ کے بعد ہمارا قدم کدھر اُٹھے گا

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کے بعد اب دوسرا قدم ہمارا بخارا کی طرف اُٹھنا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ اس رؤیا کے بعد حضرت مسیح موعودؑ کا ایک الہام ملا ہے جو بخارا کے متعلق ہے۔ دو رؤیا ہیں۔ ایک میں یہ ہے کہ زارِ روس کا سوٹا حضرت مسیح موعودؑ کے ہاتھ آگیا ہے۔ بخارا زارِ روس کا علاقہ تھا۔ اس رؤیا کا ایک حصہ تو پورا ہو گیا۔ کہ زار سے اس کا یہ سوٹا چھین لیا گیا۔ اب دوسرا حصہ باقی ہے کہ وہ ہمیں ملے۔ سوٹا کی تعبیر بادشاہت ہے۔ وہ تو زار سے چھن چکی ہے۔ جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ زار قتل کر دیا گیا۔ اب حضرت صاحبؑ کو ملنا باقی ہے۔

دوسری رؤیا یہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے دیکھا۔ ”خوارزم شاہ بادشاہ جو بوعلی سینا کے وقت میں تھا۔ اس کی تیر کمان میرے ہاتھ میں ہے۔ بوعلی سینا بھی پاس ہی کھڑا ہے۔ اور اس تیر کمان سے میں نے ایک شیر کو بھی شکار کیا ہے“ ؎(ملفوظات جلد ۳ سوم صفحہ ۲۷ حاشیہ)

شیر مارنے کی تعبیر بادشاہت فتح کرنا ہے اور جیسا کہ میں ابھی بتا چکا ہوں۔ بخارا کی پہلی بادشاہت تو ٹوٹ چکی ہے۔ اب ہمیں ملنا باقی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے رؤیا میں شیر کا شکار کیا ہے۔ جس کی تعبیر یہ ہے کہ سلطنت فتح کی گئی ہے اور ہمارا تیر کمان تو دُعائیں ہی ہیں۔ انہیں کے ذریعہ ہم فتح کریں گے۔

کہتے ہیں ایک امیر تھا۔ اس کے محلہ میں ایک بزرگ رہتے تھے اس امیر کے ہاں ساری رات گانا بجانا ہوتا رہتا جس سے محلہ والے بہت تنگ آگئے۔ لیکن چونکہ وہ بڑا آدمی تھا اور بادشاہ سے اس کا تعلق تھا اس لئے کوئی اسے کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔ ایک دن اس بزرگ نے اسے کہا کہ آپ ساری رات گاتے بجاتے رہتے ہیں کسی وقت بند بھی کیا کرو کہ ہمیں آرام ملے۔ اس نے کہا تُو کون ہے مجھے کہنے والا؟ اس بزرگ نے کہا میں تو کوئی نہیں ۔ سارے محلہ والے کہتے ہیں جو کہ بہت تنگ آگئے ہیں۔ اس نے کہا میں نہیں رُک سکتا ۔ بزرگ نے کہا اگر تم نہیں رُکتے تو پھر ہم جبراً روکیں گے ۔ اس نے کہا میں بادشاہ کی فوج لے آؤں گا پھر کون ہے جو میرا مقابلہ کرسکے؟ بزرگ نے کہا ہم فوج کا بھی مقابلہ کریں گے ۔ اس نے کہا کس طرح؟ بزرگ نے کہا سِہام اللیل کے ذریعہ یعنی رات کے تیروں کے ساتھ ۔ اس بات کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے کہا کہ میں آئندہ آپ کو تکلیف نہیں دوں گا ۔ آپ معاف کریں ۔

تو رات کے تیروں اور تلواروں کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں بھی کفار کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ہم تلوار سے مقابلہ کریں گے ۔ اس کے پاس چونکہ تلوار نہیں اس لئے ہمارے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکے گا۔ مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ تلوار جو رات کو چلائی جاتی ہے وہ ایسی ہے کہ اس کے حملہ سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ کیونکہ اسی حملہ سے بچاؤ ہو سکتا ہے جو نظر آتا ہے جو نظر نہ آئے اس سے بچنا نا ممکن ہوتا ہے ۔

سو ہمارے پاس دُعا کا تیر کمان ہے اور اسی کو ہم چلائیں گے اور امید ہے کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعودؑ کی رؤیا کا بقیہ حصہ بھی پورا کر دے گا اور ہمارے ہاتھ میں زارِ روس کا سوٹا دے دے گا ۔ لیکن چونکہ رؤیا کے پورا کرنے کے لئے کوشش کرنا بھی ضروری ہے۔ اس لئے میں دوستوں کو کہوں گا کہ وہ اپنی دُعاؤں میں اس بات کو بھی یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ اس کشف کو پورا کرے تاکہ زارِ روس کا سوٹا ہمارے ہاتھ میں آجائے ۔

اس سال تبلیغ میں کمی رہی

یہ باتیں جو میں نے آپ لوگوں کو خوشی کی سنائی ہیں ان کے ساتھ ہی ایک رنج کی بات بھی سناتا ہوں جو میرے لئے بہت ہی تکلیف کا موجب ہوئی ہے ۔ آپ لوگوں نے اس سال بہت مال دیئے اور اس قدر دیئے کہ مخالف اخبار نویس حیران ہو گئے اور لکھا کہ نئے سلسلوں کا یہی حال ہوتا ہے جماعت احمدیہ چونکہ نیا سلسلہ ہے اس لئے اس وقت اس میں بھی وہی جوش ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت مسلمانوں میں تھا۔ سو الحمد للّٰہ کہ خدا تعالیٰ نے دشمن سے بھی اقرار کرا دیا ہے کہ تم لوگوں کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی تعلق ہے اور تمہاری نظیر مخالفوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ میں ہی ملتی ہے۔ مگر اس کے ساتھ تم سے ایک کوتاہی بھی ہوئی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس کی وجوہ ہیں۔ اور چونکہ مسجد کی تحریک کی گئی تھی جو بہت بڑا کام تھا۔ علماء اس کے لئے چندہ جمع کرتے رہے ہیں اور آپ لوگ بھی اس کام میں مشغول رہے ہیں۔ مگر جو شخص سر کو ڈھانکنے کے لئے ستر کی جگہ کو ننگا کر دیتا ہے۔ کون ہے جو اسے کہے کہ غلطی نہیں کر رہا؟ روپیہ دین کی خدمت کے لئے دینا بے شک اچھی بات ہے۔ مگر میں افسوس سے کہوں گا کہ اس کی وجہ سے اس سال تبلیغ میں بہت کمی آگئی ہے اور پہلے کی نسبت نمایاں فرق پڑ گیا ہے۔ ہر سال پہلے سالوں کی نسبت زیادہ آدمی سلسلہ میں داخل ہوتے رہے ہیں مگر اس سال صرف بارہ سو عورتیں اور بچے علیحدہ کر کے داخل ہوئے ہیں۔ اگر عورتوں اور بچوں کو بھی ملا لیا جائے تو چار ہزار کے قریب بن جاتے ہیں لیکن اس طرح پہلے سالوں میں دس ہزار کے قریب تعداد بنتی ہے۔

یہ تم پر قرض ہو گیا ہے اور میں اس کے متعلق تحریک کروں گا کہ مقروض کی طرح تم اس قرض کی ادائیگی کی فکر کرو اور اس وقت تک چین نہ لو جب تک اسے ادا نہ کرلو۔

جماعتوں کے امیر

اس کے بعد میں انتظام سلسلہ کے متعلق ایک تحریک کرنی چاہتا ہوں جب میں نے نظارتوں کے قیام کے متعلق رسالہ لکھا تھا۔ تو اس میں بیان کیا تھا کہ ہر جگہ کی جماعتوں کے انتظام کے لئے امیر مقرر ہونے چاہئیں (جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ یا خلفاء کے زمانہ میں ہر ضلع اور ہر شہر میں امیر ہوتے تھے) اور احمدی ان سے اپنے معاملات میں مشورہ لیں تاکہ انتظام پراگندہ نہ ہو۔ اس وقت میں نے یہ حکم نہیں دیا تھا مشورہ دیا تھا۔ اس سال اس کا دو جگہ تجربہ کیا گیا ہے ایک لاہور میں اور دوسرے فیروز پور میں۔ لاہور کی جماعت اخلاص میں بہت اعلیٰ درجہ کی ہے اور تھی مگر انفرادی طور پر وہاں کے لوگوں میں بہت اختلاف تھا۔ اس انتظام سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ خوش ہیں اور ان کے معاملات آسانی اور سہولت سے طے ہوتے ہیں۔ فیروز پور کی جماعت کا انتظام بہت اعلیٰ ہو گیا ہے۔

غرض تجربہ سے یہ طریق بہت اعلیٰ ثابت ہوا ہے اور گو میں اب بھی اس کے متعلق حکم نہیں دیتا۔ مگر یہ بتاتا ہوں کہ شریعت نے اس بات کو پسند کیا ہے اور اس کے ذریعہ انتظام بہت اعلیٰ درجہ کا چلتا ہے۔ پس جو جماعتیں چاہتی ہیں کہ ان کے امیر مقرر کر دئے جائیں وہ یہاں لکھیں کہ وہ اپنے میں سے کس کو اپنا امیر بنانا پسند کرتی ہیں تاکہ ہم انہی میں سے ان کے امیر مقرر کر دیں۔

اخبارات سلسلہ

اس کے بعد میں جماعت کے اخبار اور رسالہ جات کے متعلق کہنا چاہتا ہوں۔ پچھلے سال میں نے ان کے متعلق تحریک کی تھی کہ احباب انہیں خریدیں اس کے ماتحت توجہ کی گئی ہے الفضل اور ریویو کی طرف اور تشحیذ کی طرف بھی کسی قدر توجہ ہوئی ہے مگر ان کو چھوڑ کر اوروں کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔ الحکم، نور اور فاروق کے خریدار بہت کم ہیں۔ اگرچہ میں ان کے کارکنوں کو بھی کہوں گا کہ ان کی اصلاح کریں اور زیادہ مفید بنائیں مگر تم لوگوں کو بھی کہتا ہوں کہ ان کی خریداری کی طرف توجہ کرو۔

الحکم میں ایک خصوصیت رہی ہے۔ اب اگرچہ اس کا ایڈیٹر بدل گیا ہے لیکن پھر بھی کسی حد تک پائی جاتی ہے اور وہ یہ کہ وہ تاریخ سلسلہ کو محفوظ رکھتا ہے اور جماعت میں رُوح پھونکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس معاملہ میں الفضل بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور اور بھی کوئی نہیں علمی حیثیت سے اس میں پہلی بات نہیں رہی جس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا ایڈیٹر نا تجربہ کار اور نو آموز ہے مگر میں دُعا کرتا ہوں کہ خدا اسے اس لحاظ سے بھی کام کرنے کی توفیق دے۔

پھر نور ہے۔ اس کے مضامین مفید ثابت ہوئے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ کا منشاء تھا کہ سکھوں کو تبلیغ کریں۔ چنانچہ آپ نے ان کے متعلق کتاب ست بچن لکھی تھی۔ اس اخبار نے یہ کام کیا ہے اور ممکن ہے کہ ہزاروں سکھ اسلام میں داخل ہو جائیں۔ مگر اس اخبار کی اشاعت کم ہے اور بہت کم ہے۔ میں نے گذشتہ سال کچھ پرچے جاری کرائے تھے اور جن کے نام جاری تھے ۔ انہوں نے بہت فائدہ اُٹھایا ہے۔ اس کے متعلق کئی خطوط آئے۔ پچھلے دنوں جب ایڈیٹر صاحب نور ایک سفر پر گئے تو ایک سکھ صاحب نے ان کی معرفت مجھے نذر بھیجی۔ جو اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ ان کا دل اس اخبار کے ذریعہ سلسلہ کی طرف مائل ہو رہا ہے۔

پس ہماری جماعت کو چاہئے کہ اس کی طرف بھی توجہ کرے۔ مجھے بہت افسوس کے ساتھ معلوم ہوا ہے کہ اس کے کل خریدار ۳۵۰ ہیں۔ اس اشاعت میں پہلے بھی کوئی اخبار نہیں چل سکتا تھا اور اب تو پہلے کی نسبت بہت گرانی ہو گئی ہے۔ اب چلنا بالکل محال ہے۔

پھر میں فاروق کی خریداری کے لئے بھی تحریک کرتا ہوں۔ مگر اخبار والوں کو بھی کہتا ہوں کہ اپنا اپنا حلقہ محدود کر لیں۔ اب تک انہوں نے ایسا نہیں کیا اور ایک ہی قسم کی باتیں لکھتے رہتے ہیں۔ اس لئے لوگ کہتے ہیں کہ جب ایک اخبار خرید لیا تو پھر کسی اور کی کیا ضرورت ہے؟ انہیں اپنے اپنے حلقے تقسیم کر لینے چاہئیں تاکہ لوگ سب کو خریدیں۔

کتب اور کتب فروش

رسالوں اور ٹریکٹوں کے متعلق میں یہ کہتا ہوں کہ چونکہ تبلیغ کے لئے لٹریچر کی سخت ضرورت ہے۔ اس لئے جن دوستوں کو خدا تعالیٰ نے علم دیا ہے وہ تبلیغی رسالے لکھیں اور شائع کریں۔ مگر پچھلے دنوں سے یہاں کے کتب فروشوں میں ایک بیہودہ روح تاجرانہ طرز کی نمودار ہو گئی ہے وہ یونہی بیہودہ اور فضول رسالے چھاپ دیتے ہیں۔ پھر ایک دوسرے کی نقل کر کے ایک ہی کتاب یا رسالہ شائع کرتے ہیں۔ اس قسم کی ایک دوسرے کے خلاف شکایت میرے پاس پہنچی ہے۔ انہوں نے اپنی اپنی بریت کی ہے لیکن میرے نزدیک ان کا جرم ثابت ہے آئندہ انہیں اپنی اصلاح کر لینی چاہئے۔ ورنہ اعلان کر دیا جائے گا کہ ایسے نقال کتب فروشوں کی کتابیں نہ خریدی جائیں۔ مگر جہاں ایک دوسرے کی نقل ہوتی ہے وہاں بعض مفید رسالے بھی نکلتے ہیں۔ اس لئے ان کی مدد کرنی چاہئے مگر اسی حد تک کہ تاجرانہ حیثیت سے وہ کام کرتے ہیں جماعت کے لحاظ سے نہیں۔

مفید ٹریکٹوں اور رسالوں سے بہت فائدہ پہنچتا ہے۔ ہمارے سیٹھ عبداللہ دین صاحب اس قسم کے مفید ٹریکٹ شائع کرتے رہتے ہیں جن کے ذریعہ کئی ممالک میں تبلیغ ہو رہی ہے اور فائدہ بھی ہوا ہے۔ ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا افریقہ کا ایک خط انہوں نے بھجوایا تھا جس نے ان کے ذریعہ بیعت کی ہے۔

ہمارے خلاف شورش

اس کے بعد میں اس شورش اور غصّہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو پچھلے دنوں سے ہمارے خلاف پھیلا ہوا ہے۔ ہم آدمی ہیں اور آدمیوں میں رہتے ہیں اور آدمیوں میں ہی رہیں گے۔ اس لئے ممکن نہیں کہ اس دنیا میں رہتے ہوئے ان معاملات اور حالات سے علیحدہ رہ سکیں جو دوسروں کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ بعض لوگ اس قسم کے معاملات کے متعلق کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں ان سے کیا؟ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ ٹھیک نہیں۔ ہمیں ان معاملات سے تعلق ہے اور جب تک ہم انسان ہیں اس وقت تک ان باتوں سے علیحدہ نہیں رہ سکتے جو ہمارے ملک میں ہو رہی ہیں۔ اگر ملک میں لڑائیاں ہوں گی تو ان کا اثر ہم پر پڑے گا اور اگر روشنی ہو گی تو اس کا بھی اثر ہم پر پڑے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم ایسے طور پر رہیں کہ دشمن کا گندہ اثر ہم پر نہ پڑ سکے۔

ہم گورنمنٹ کی وفاداری کیوں کرتے ہیں؟

پچھلے دنوں سیاست کا بڑا شور برپا رہا ہے اور لوگ ہمارے خلاف پڑنے بڑے منصوبے باندھتے رہتے ہیں حتیٰ کہ دیسی حکام بھی جو ظاہر میں جا کر گورنمنٹ کے حامی ہونے کا دم بھرتے ہیں گھر میں آ کر ہمیں گالیاں دیتے اور طرح طرح کی تکالیف پہنچاتے ہیں کہ ہم کیوں گورنمنٹ کے وفادار ہیں؟

ہر محکمہ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو گورنمنٹ سے تنخواہیں پاتے ہیں اور گورنمنٹ کی وفاداری کے دعویدار ہیں ۔ مگر ہماری جماعت سے اس لئے دشمنی کرتے ہیں کہ ہم کیوں گورنمنٹ کی وفاداری کرتے ہیں۔ ایسے لوگ محکمہ پولیس میں بھی ہیں مجسٹریٹ بھی ہیں پروفیسر بھی ہیں اور دیگر صیغوں میں بھی ہیں جو ہمارے متعلق شکایتیں کرتے رہتے ہیں کہ اصل میں یہی جماعت گورنمنٹ کی بدخواہ ہے وہ یہ حرکت اس لئے کرتے ہیں کہ گورنمنٹ ہمارے خلاف کوئی ناروا کارروائی کرے اور ہم اس وجہ سے گورنمنٹ سے بد دل ہو کر ان کے ساتھ مل جائیں۔ مگر انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہم گورنمنٹ کی وفاداری اس لئے نہیں کرتے کہ ہمیں کوئی خاص رعایتیں حاصل ہیں یا ہم کوئی خاص فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں ۔ بلکہ ہم تو اس لئے کرتے ہیں کہ خدا کی طرف سے ہمیں یہی حکم ہے ۔

پس ہم گورنمنٹ کی وفاداری کسی فائدہ کی غرض سے نہیں کرتے اور نہ کسی رعایت کی وجہ سے کرتے ہیں اور نہ ہم اس کی ناراضگی سے ڈرتے ہیں۔ ہم تو اس لئے اس کی وفاداری کرتے ہیں کہ اگر ہم ایسا نہ کریں گے تو خدا تعالیٰ ہم سے ناراض ہوگا۔ کیونکہ خدا نے حکام کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے ورنہ اگر یہ نہ ہوتا اور ہمیں خدا کی ناراضگی کا ڈر نہ ہوتا تو ہم بھی سیاست کے معاملات میں وہ راہ اختیار کر لیتے جسے خود گورنمنٹ بھی جائز قرار دیتی ہے ۔ ذرا سوچو تو سہی کہ گورنمنٹ ہمیں کیا دے رہی ہے اور کیا دے سکتی ہے؟ جب کبھی ہماری جماعت کو کسی جگہ تکلیف پہنچی ہے اور ہم نے گورنمنٹ کے آفیسروں کو توجہ دلائی ہے ۔ انہوں نے یہی کہہ دیا ہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ تو گورنمنٹ ہمیں کیا دے رہی ہے؟ کہ اس کی وجہ سے ہم اس کے وفادار ہیں ۔ دراصل ہمارا گورنمنٹ پر احسان ہے اس کا ہم پر کوئی احسان نہیں جس میں اور لوگ حصہ دار نہیں ہیں۔ اگر ہم ریل ڈاک تار وغیرہ سے فائدہ اُٹھاتے ہیں تو کیا مسٹر گاندھی ان سے فائدہ نہیں اُٹھا رہے؟ اگر ہم گورنمنٹ کے قائم کردہ سکولوں اور کالجوں میں پڑھتے ہیں تو کیا اور لوگ نہیں پڑھتے؟ تار، ڈاک، ریل وغیرہ چیزوں سے فائدہ تو خونی اور بم BOMB مارنے والے بھی اُٹھا رہے ہیں پھر ہم پر گورنمنٹ کا کون سا خاص احسان ہے کہ ہم اس کی خوشامد کریں؟ کوئی بھی نہیں پس دنیا کی کوئی حکومت نہیں جو ہمارا سر اپنی طاقت اور قوت کے زور سے اپنے آگے جھکا سکے۔ مومن کا سر کسی دنیاوی طاقت کے آگے کبھی نہیں جھک سکتا۔ اگر جھکتا ہے تو خدا تعالیٰ کے حکم کے آگے ہی جھکتا ہے کیونکہ ہمیں خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ جس حکومت میں رہیں اس میں امن قائم رکھیں اور فتنہ نہ پھیلائیں اس لئے ہم گورنمنٹ کی وفاداری کرتے ہیں نہ کہ گورنمنٹ سے کوئی فائدہ اور نفع حاصل کرنے کی غرض سے۔ اگر ہمیں گورنمنٹ دُکھ بھی دے گی تو پھر بھی ہم وفاداری ہی کریں گے۔ اور جب تک اس کے علاقہ میں رہیں گے فتنہ و فساد کی طرف قدم نہ اُٹھائیں گے خواہ وہ ہم پر ظلم ہی کیوں نہ کرے اور ہمیں دُکھ ہی کیوں نہ دے۔ اگر ایسی حالت ہو جائے کہ ہمارا اس کے علاقہ میں رہنا مشکل ہو جائے تو بھی ہم ملک میں فساد نہیں کریں گے بلکہ اس کے ملک کو چھوڑ کر کسی اور ملک میں چلے جائیں گے پس ہم خوشامدی نہیں۔ وہ لوگ جو ہم پر الزام لگاتے ہیں اور خود بہادر بننے کا دعویٰ کرتے ہیں ہم ان سے زیادہ جری ہیں اور ہم نے اپنے عمل سے دکھا دیا ہے کہ جہاں ہمیں دین کے معاملہ میں جانوں اور مالوں کا خطرہ پیش آیا ہے وہاں ہم نے ان کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ وہ لوگ جو ہمیں ڈرپوک کہتے ہیں خود ذرا ذراسی بات پر ڈرتے ہیں۔ لیکن ہمارے آدمیوں کو کابل میں اپنی جانیں دینی پڑیں اور انہوں نے ذرا دریغ نہ کیا۔ اسی ہندوستان میں ہمارے لوگوں کو مارا پیٹا جاتا ہے ان کی جائدادیں چھینی جاتی ہیں۔ مگر انہوں نے دین کے لئے کسی بات کی پروا نہیں کی۔

غرض ہم نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ ہم ڈرنے والے نہیں ہم کسی سے خوف کھانے والے نہیں ہم پر کسی کی طاقت اور قوت کا کوئی رُعب نہیں۔ پھر ہم پر خوشامدی ہونے کا الزام کس منہ سے لگایا جاتا ہے؟

ہم گورنمنٹ کی مخالفت میں کیوں شریک نہیں ہوتے؟

وہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے ہم گورنمنٹ کے خلاف فتنہ و فساد سے الگ رہتے ہیں؟ اور کیوں گورنمنٹ کی وفاداری کرتے ہیں؟ وہ یہ ہے کہ ہمارے امام نے ہاں اس امام نے جس نے ہمیں ظلمت و تاریکی سے نکالا اس نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ یہ حکومت جس نے اس ملک میں انتظام کر رکھا ہے اس کی اطاعت کرو۔ اس میں انگریزوں کی شرط نہیں۔ بلکہ شرط یہ ہے کہ جس ملک میں رہو اس ملک کی گورنمنٹ کی اطاعت کرو۔ پس اگر ہم کابل میں رہیں گے تو اسی کی اطاعت کریں گے۔ اور اگر جرمنی میں رہیں گے تو اسی کی اطاعت کریں گے اور اگر فرانس میں رہیں گے تو اسی کی اطاعت کریں گے جہاں جہاں ہماری جماعت ہو گی وہاں جو بھی سلطنت ہو گی اس کی اطاعت کرے گی اور یہ ایک ایسی بات ہے کہ اگر دُنیا مان لے تو تمام دُنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے اور کوئی جنگ اور لڑائی نہیں اُٹھ سکتی۔

دیکھو جرمنی نے محض اس خیال سے جنگ شروع کی کہ اس نے سمجھا کہ انگریزوں کے ممالک میں بغاوت ہو جائے گی۔ ورنہ اگر اسے یہ یقین ہوتا کہ انگریزوں کی ساری رعایا لڑ کر مر جائے گی مگر اپنی حکومت سے بغاوت نہ کرے گی تو وہ کبھی جنگ نہ کرتا۔ پس جس ملک کے متعلق دشمن کو یہ یقین ہو کہ وہاں کا ہر فرد اپنی گورنمنٹ کا وفادار رہے گا لڑ کر مر جائے گا مگر ہتھیار نہ ڈالے گا وہاں کبھی حملہ کرنے کی جرأت نہ کرے گا۔ ایک گورنمنٹ دوسری گورنمنٹ پر تبھی چڑھائی کرتی ہے جب وہ جانتی ہے کہ اس کے افراد میں وفاداری نہیں رہے گی۔ یہ لالچ اس کو خراب کرنا اور حملہ کرنے کی جرأت دلاتا ہے۔

یہ تعلیم جو مسیح موعودؑ نے اپنی جماعت کو دی ہے کہ جس سلطنت میں کوئی ہو اس کی وفاداری کرے اگر دُنیا اس پر عمل پیرا ہو جائے تو آج امن قائم ہو جائے اور تمام فساد دُور ہو جائیں۔

پھر ہم گورنمنٹ کی اس لئے وفاداری کرتے ہیں کہ ہمیں ایک بہت عظیم الشان کام درپیش ہے اور اسے سرانجام دینے کے لئے امن کی ضرورت ہے۔ دوسروں کو تو یہ فکر ہے کہ فلاں ملک کسی طرح مل جائے۔ مگر ہمیں یہ خیال ہے کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت آجائے۔ اور جس شخص کے سامنے کوئی بہت بڑا مقصد ہوتا ہے وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف متوجہ نہیں ہوا کرتا اور جس شخص نے ایک لمبے سفر پر جانا ہو وہ تھوڑے سے نقصان کی کوئی پرواہ نہیں کیا کرتا۔ مثلاً کسی کا ایک روپیہ گر پڑے اور اسے ریل پر جانا ہو جو آگئی ہو تو کیا وہ روپیہ کی تلاش میں بیٹھ جائے گا؟ اور ریل پر نہیں جائے گا؟ نہیں وہ ایسا نہیں کرے گا اور اگر بیٹھے گا تو بیوقوف کہلائے گا۔ پس ہمارا کام چونکہ بہت بڑا ہے اس لئے ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف متوجہ نہیں ہو سکتے۔ دوسروں کو تو یہ خیال ہے کہ ترکوں کی بادشاہت جا رہی ہے اس کو قائم کریں۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ خدا کی بادشاہت سے لوگ نکل رہے ہیں ہم اس کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ تو کھلونے کے جانے پر غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں مگر ہم حقیقت کے جانے پر متفکر ہو رہے ہیں۔ اگر ان میں اسلام کی سچی تڑپ تھی اور اسلام سے فی الواقع انہیں محبت تھی تو جب اسلام مٹ رہا تھا اس وقت وہ کہاں تھے؟ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی کتابوں میں بار بار لکھا کہ مسلمانو! کچھ ہوش کرو لاکھوں مسلمان عیسائی ہو کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے رہے ہیں۔ کوئی فکر کرو۔ مگر انہیں اس وقت قطعاً غصہ نہ آیا اور ذرا بھی توجہ نہ کی۔ اب کہتے ہیں کہ اسلام کے مٹنے پر ہم ناراض ہو رہے ہیں۔ حالانکہ یہ اسلام کے مٹنے پر ناراض نہیں ہو رہے بلکہ ترکوں کے مٹنے پر ناراض ہو رہے ہیں۔

پھر دیکھو وہ کہتے ہیں۔ خلافت کا مسئلہ ایک اہم مسئلہ ہے اور گائے کا کھانا چھوٹا۔ اس لئے ہم گائے کا ذبح کرنا ترک کر دیتے ہیں تاکہ ہندو ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں اور ان کی مدد سے خلافت مل جائے۔ ہم کہتے ہیں ہمارے نزدیک چونکہ خدا کی بادشاہت بڑی ہے اور دوسرے جھگڑے چھوٹے اس لئے ہم انگریزوں سے صلح رکھنا چاہتے ہیں تاکہ امن میں ہم خدا کی بادشاہت کو قائم کر سکیں۔ پس انہوں نے نام نہاد خلافت کے لئے ہندوؤں سے صلح کر لی ہے اور ہم نے خدا کی بادشاہت کے لئے انگریزوں سے صلح کرلی۔ وہ عراق عرب لینے کے لئے ہندوؤں سے صلح کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ مل کر انگریزوں کو ان علاقوں سے نکال دیں گے۔ لیکن ہم کہتے ہیں ہندو اگر اتنے ہی بہادر تھے تو انہوں نے ہندوستان کیوں دوسروں کے حوالہ کر دیا تھا۔ بہر حال کہا جاتا ہے کہ ہندوؤں سے اس لئے ہم صلح کرتے ہیں کہ عراق، عرب اور شام خالی کرا لیا جائے۔ ہم کہتے ہیں چونکہ ہم نے ساری دُنیا کو لینا ہے اس لئے ہم ساری دنیا سے صلح کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم خدا کا نام بلند کرنے کے لئے مختلف ممالک میں تبھی جا سکتے ہیں جب کہ امن قائم ہو۔ اور جہاں امن نہ ہو وہاں ہم نہیں جا سکتے پس اس بڑے مدعا کو حاصل کرنے کے لئے ہم ہر قوم سے صلح کرنا چاہتے ہیں اور صلح کرتے رہیں گے۔ جبتک کہ ہمارا مدعا پورا نہ ہو جائے اور خدا کی حکومت قائم نہ ہو جائے اور جب خدا کی حکومت قائم ہو جائے گی تب پھر کسی جنگ کی ضرورت ہی نہ رہے گی۔

موجودہ فسادوں کی خبر قرآن میں

پھر ہم اس لئے صلح کرتے ہیں کہ امن کے قیام کے لئے ہمیں پہلے سے خبر دی گئی ہے اور آج نہیں بلکہ آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن کریم میں اس زمانہ کے فسادوں کا ذکر کیا گیا ہے اس لئے اس موقعہ پر ہم وہی کام کرتے ہیں جو خدا نے بتایا ہے کہ ہمیں کرنا چاہئے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔

قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِکِ النَّاسِ اِلٰہِ النَّاسِ مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ ۬ۙ الۡخَنَّاسِ الَّذِیۡ یُوَسۡوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ مِنَ الۡجِنَّۃِ وَالنَّاسِ(الناس)

اے مسلم تو کہہ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ(114:2) میں پناہ مانگتا ہوں اس سے جو آقا ہے تمام لوگوں کا۔ مَلِکِ النَّاسِ(114:3) جو بادشاہ ہے تمام لوگوں کا۔ اِلٰہِ النَّاسِ(114:4) جو معبود ہے تمام لوگوں کا۔

ان آیات میں خدا تعالیٰ کی تین صفات کا ذکر ہے اور کہا گیا ہے کہ ان کے ذریعہ پناہ مانگو۔ یعنی یہ کہو کہ اے خدا! جو رب ہے لوگوں کا ہم تیری پناہ مانگتے ہیں۔ اے خدا! جو بادشاہ ہے سب کا ہم تیری پناہ مانگتے ہیں۔ اے خدا! جو معبود ہے سب کا ہم تیری پناہ مانگتے ہیں۔ اور یہ ظاہر بات ہے کہ جس چیز کی طرف نسبت دے کر پناہ مانگی جاتی ہے دراصل اسی چیز سے پناہ پانا مقصود ہوتا ہے۔ مثلاً جب ہم کہتے ہیں ، اے کتّے والے ہمیں بچا تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں کتّے سے بچا یا اگر کسی ایسی جگہ جاتے ہیں جہاں کسی نے شیر پالا ہو اور کہیں کہ اے شیر والے دوڑ لو تو معلوم ہوگا کہ شیر سے بچنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔ اب جب ہم رَبّ ۔ مَلِک اور اِلٰہ سے پناہ مانگتے ہیں تو معلوم ہوا کہ ان صفات کا جن چیزوں سے تعلق ہے ان سے پناہ چاہتے ہیں پس جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ(114:2) تو معلوم ہوا کہ صفت رب کے متعلق کوئی تکلیف ہے اس سے پناہ مانگتے ہیں۔ اسی طرح جب کہتے ہیں مَلِکِ النَّاسِ(114:3) تو معلوم ہوا کہ صفت ملک کے متعلق کوئی تکلیف ہے جس سے بچنا چاہتے ہیں، اور جب کہتے ہیں اِلٰہِ النَّاسِ(114:4) تو معلوم ہوا کہ صفت الوہیت کے متعلق کوئی تکلیف ہے جس سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں۔

اب دیکھو صفت رَبّ ، مَلِک اور اِلٰہ کا کن چیزوں سے تعلق ہے ؟ اور اس کے کون سے ظل ہیں ؟ رب کے معنی آقا کے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ آقا کے متعلق جھگڑے ہونے والے ہیں ان سے پناہ مانگنے کی دُعا سکھائی گئی ہے اور یہ جھگڑے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ آقا نوکر سے جھگڑے اور دوسرے یہ کہ نوکر آقا سے جھگڑے۔ گویا خدا تعالیٰ سے جو سب کا آقا ہے پناہ مانگنے کا یہ مطلب ہے کہ یا تو دنیا کے آقا نوکروں کو دُکھ دیتے ہیں، ظلم کرتے ہیں، تکلیف پہنچاتے ہیں یا نوکر دنیاوی آقاؤں کو تنگ کرتے اور تکلیف پہنچاتے ہیں۔

پھر خدا تعالیٰ کی صفت ملکیت سے پناہ مانگنے کا یہ مطلب ہے کہ یا تو دنیاوی بادشاہ رعایا پر ظلم کرتے ہیں اور دُکھ دیتے ہیں۔ یا رعایا بادشاہ کی بغاوت کرتی ہے۔

اسی طرح اللہ سے پناہ مانگنے کا یہ مطلب ہے کہ اس صفت کے اظلال مولویوں، پادریوں اور پنڈتوں سے جو کہ دین کے وارث کہلاتے ہیں لوگوں کو دُکھ پہنچتا ہے اس سے پناہ مانگی گئی ہے۔ یا لوگوں سے ان کو جو دُکھ پہنچتے ہیں ان سے حفاظت چاہی گئی ہے۔

چھ قسم کے فسادوں کی خبر

اسی طرح یہ چھ باتیں ان آیات سے نکلتی ہیں اور ان چھ اقسام کے فسادوں کی خبر ان میں دی گئی ہے۔ (۱) یعنی یہ کہ ایک زمانہ میں ایک تو یہ فساد ہو گا کہ نوکر آقا کے خلاف سٹرائیکش کریں گے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم اس فتنہ سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگو۔ (۲) یہ کہ آقا اتنے ظالم ہوں گے کہ نوکروں کے حقوق کی کوئی پرواہ نہیں کریں گے اس لئے تم ایسے آقاؤں کے ظلموں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے رہو۔ (۳) یہ کہ رعایا بادشاہ کی مخالفت کرے گی اس وقت تم دعا کرو کہ اے خدا ! اصل بادشاہ تو تُو ہی ہے تو ہمیں ان فتنوں سے بچا۔ (۴) یہ کہ بادشاہ رعایا پر ظلم کریں گے اس کے لئے بھی اللہ تعالیٰ سے ہی دُعا کرو کہ وہ ان کے ظلموں سے تمہیں بچائے۔ (۵) یہ کہ اس وقت دین کے محافظ اور اللہ تعالیٰ کے اظلال ہونے کے مدعی دین کے علماء فتنے پھیلائیں گے اس کے لئے یہ دعا کرو کہ اے خدا ! ان مولویوں پنڈتوں، پادریوں کے فتنے سے ہمیں بچا۔ (۶) یہ کہ مولوی جو سچی بات بھی کہیں گے اسے لوگ نہیں مانیں گے اس فتنہ سے بچنے کے لئے بھی دُعا کرو۔

تو یہ چھ قسم کے فساد ہوں گے۔ ملازم آقا کے مقابلہ پر کھڑے ہو جائیں گے۔ اور آقا ملازموں پر ظلم کریں گے۔ رعایا بادشاہ کا مقابلہ کرے گی بغاوت پھیلائے گی اور بادشاہ رعایا پر ظلم کریں گے مولوی جھوٹے فتوے دے کر لوگوں سے غلط باتیں منوائیں گے۔ اور لوگ سچی باتوں کا بھی انکار کرینگے اور دہریت کی طرف چلے جائیں گے۔

فتنوں کے وقت مؤمن کا کام

یہ باتیں بیان کر کے بتایا ہے کہ اس وقت سچے مسلمان کا کیا کام ہو گا ؟ یہ کہ خدا تعالیٰ سے پناہ مانگے کہ اے خدا ! میں نہ تو سٹرائیک کرنے والوں میں سے بنوں اور نہ ایسے آقاؤں میں سے جو ملازموں پر ظلم کرتے ہیں۔ پھر نہ تو میں اس رعایا کی طرح ہو جاؤں جو بغاوت کرتی ہے اور نہ ایسے بادشاہ کی طرح جو رعایا کے حقوق نہیں ادا کرتا ہے۔ پھر نہ تو میں ان کی طرح ہو جاؤں جو تیری عبادت کی بجائے شیطان کی عبادت کراتے ہیں اور نہ ایسا کہ جو سچا واعظ ملے اس کی بھی بات نہ مانوں اور انکار کردوں۔

اب دیکھ لو کہ ان فسادوں کے سوا کوئی اور فساد ہے جو اس زمانہ میں ہو رہا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ اور پھر ان باتوں کے بیان کرنے میں ترتیب کیسی اعلیٰ درجہ کی رکھی گئی ہے۔ ادنیٰ فسادوں کے بعد بڑے فسادوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلے آقا اور نوکر کے تعلق کے متعلق بتایا ہے۔ پھر رعایا اور بادشاہ کے تعلق کے متعلق جو اس سے اعلیٰ ہے پھر عبد اور معبود کے تعلق کا ذکر کیا ہے جو سب سے اعلیٰ ہے۔

موجودہ زمانہ کے فسادوں کی نوعیت کا ذکر قرآن میں ہے

ان باتوں کے متعلق ہمارا یہی فرض ہے کہ ہم ان میں کوئی حصہ نہ لیں اور ان سے پناہ مانگیں۔ مگر پیشگوئی یہاں تک ہی نہیں بلکہ آگے بھی بڑھتی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ وہ زمانہ ہو گا کہ ہر بات کے لئے آرگنائزیشن ہو گی۔ ایک انتظام کے ماتحت یہ فساد ہوں گے۔ لوگ فرداً فرداً ان میں حصہ نہیں لیں گے بلکہ دوسروں کو بھی اکسائیں گے اور اپنے ساتھ ملائیں گے۔ آقا کی ملازمت ایک نوکر خود ہی نہیں چھوڑے گا بلکہ دوسروں کو بھی کہے گا کہ تم بھی چھوڑ دو۔ اسی طرح آقا دوسرے آقاؤں کو کہے گا کہ اگر میں کسی ملازم کو اپنے کارخانہ سے نکالوں تو تم اس کو نہ رکھنا۔ آقا اپنی مجلسیں بنائیں گے اور نوکر اپنی الگ۔

دوسری پیش گوئی بادشاہ کے فساد کے متعلق تھی۔ اس کے متعلق بتایا کہ ساری دنیا کی رعایا دُنیا کے بادشاہوں کے مقابلہ پر مل کر کھڑی ہو جائے گی۔ اب دیکھو ہندوستان میں ہلچل ہے تو ولایت سے لیبر پارٹی کے ممبر یہاں کے لوگوں کی ہم نوائی کے لئے آرہے ہیں۔ اسی طرح بادشاہوں کو دیکھو، ان کی انجمن بنائی گئی ہے جس میں یہ کیا جاتا ہے کہ ایک ملک سامنے رکھ کر کہا جاتا ہے اس کو آپس میں بانٹ لیں تاکہ آپس میں کوئی لڑائی جھگڑا نہ ہو۔ تو ادھر رعایا بادشاہوں کے خلاف جو سمجھوتے کر رہی ہے وہ بھی ایک انتظام کے نیچے کر رہی ہے۔ ادھر بادشاہوں کا جتھا بن رہا ہے کہ اگر ایک کو مدد کی ضرورت ہو تو دوسرا اس کا ساتھ دے۔

پھر اِلٰہِ النَّاسِ کو لیتے ہیں۔ اس سے تعلق رکھنے والے فسادی ہوں گے لیکن یہ نہیں ہوگا کہ کوئی دہریہ ہو تو وہ اپنے آپ کو ظاہر نہ کرے۔ بلکہ دہریوں کی بھی انجمن ہوگی اور وہ علی الاعلان کہیں گے کہ خدا کا غلط عقیدہ لوگوں کے دلوں سے مٹانا ہمارا کام ہے۔ اب دیکھ لو اسی ہندوستان میں دیو سماجیوں کی انجمن موجود ہے۔ پہلے زمانہ میں بھی دہریے تھے مگر وہ اپنے خیالات کو الگ الگ ظاہر کرتے تھے کوئی ان کی انجمن نہ تھی جو اخباریں اور ٹریکٹ شائع کرتی۔ مگر اس زمانہ میں ہندوستان میں بھی ان کی انجمن موجود ہے اور یورپ کے تمام ممالک میں بھی ان کی انجمنیں پائی جاتی ہیں۔ پھر اسلام کے خلاف لڑنے والوں کی بھی انجمنیں موجود ہیں اور تو اور مولویوں کو دیکھو جو کبھی اکٹھے ہو کر نہیں بیٹھتے تھے مگر اب ان کی بھی کانفرنسیں ہوتی ہیں۔ پھر پادریوں کی بھی انجمنیں ہیں۔ ایک مقولہ تھا، کہ

پادری کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے، مگر اب وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ مل کر کام کرنا چاہئے۔ یہ وہی پیشگوئی پوری ہو رہی ہے۔ جو اس طرح بیان کی گئی ہے کہ ۔

مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ ۬ۙ الۡخَنَّاسِ الَّذِیۡ یُوَسۡوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ مِنَ الۡجِنَّۃِ وَالنَّاسِ(114:5-7)

جس کے دل میں جو خیال پیدا ہو گا وہ اکیلا اس کے مطابق کام نہیں کرے گا بلکہ دوسروں کو بھی اپنے ساتھ ملائے گا۔

جس طرح رَبِّ النَّاسِ میں دو فسادوں کا ذکر تھا ایک آقا کا نوکروں کے متعلق اور دوسرا نوکروں کا آقا کے متعلق جس طرح مَلِکِ النَّاسِ(114:3) میں دو فسادوں کا ذکر تھا ایک بادشاہ کارعایا کے متعلق اور دوسرا رعایا کا بادشاہ کے خلاف ۔ اور جس طرح اِلٰہِ النَّاسِ(114:4) میں دو فسادوں کا ذکر تھا ایک پادریوں ، پنڈتوں اور مولویوں کے متعلق اور دوسرا عوام کے متعلق ۔ اسی طرح اس آیت میں کہ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ ۬ۙ الۡخَنَّاسِ الَّذِیۡ یُوَسۡوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ مِنَ الۡجِنَّۃِ وَالنَّاسِ(114:5-7) یہ بتایا ہے کہ دونوں فریقوں کی انجمنیں اور کمیٹیاں ہوں گی ۔ صرف ایک فریق کی نہیں ۔ اگر صرف شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ ۬ۙ الۡخَنَّاسِ الَّذِیۡ یُوَسۡوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ(114:5-6) ہوتا اور ساتھ مِنَ الۡجِنَّۃِ وَالنَّاسِ(114:7) نہ ہوتا ۔ تو پہلے حصہ کے متعلق ایک فریق کہتا کہ اس میں دوسرے کا ذکر ہے اور دوسرا فریق کہتا کہ اس میں پہلے کا ذکر ہے ۔ مگر اس میں بتا دیا گیا کہ دونوں فریق کا یہی حال ہوگا ۔ کچھ بڑے لوگ ہوں گے اور کچھ چھوٹے۔ وہ فساد جو آقا نوکروں کے خلاف کریں گے وہ بھی انتظام کے ماتحت ہوگا اور وہ فساد جو نوکر آقا کے خلاف کریں گے وہ بھی انتظام کے ماتحت ہوگا پھر وہ فساد جو رعایا بادشاہ کے خلاف کرے گی یا بادشاہ رعایا کے خلاف کرے گا اس میں بھی انتظام ہوگا ۔ اسی طرح وہ فساد جو اللہ کے خلاف ہوگا یا وہ جو اللہ کے جھوٹے ظل لوگوں کے خلاف کریں گے وہ بھی انتظام کے ماتحت ہوگا۔

زمانہ موجودہ کے فساد

موجودہ زمانہ کے فسادات کے متعلق یہ ایسی صاف اور واضح پیشگوئی ہے کہ اگر دشمن کے سامنے بھی پیش کی جائے گی تو وہ ہکابکا رہ جائے گا۔ اب دیکھو یہی فساد دُنیا میں ہو رہے ہیں یا نہیں ؟ کارخانوں کے ملازم ایک دوسرے کو کہتے ہیں کہ سٹرائیکس کرو اور اپنی انجمنیں بناؤ ۔ اسی طرح مالک اپنی انجمنیں بنا رہے ہیں۔ تاجر آقا اپنی انجمنیں بنا رہے ہیں ۔ زمیندار آقا اپنی اور اسی طرح دوسرے آقاؤں کی انجمنیں بن رہی ہیں۔ پھر ہر قسم کے ملازم اور نوکر اپنی انجمنیں بنا رہے ہیں ۔ اس موقع کے لئے ایک مؤمن کو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے تو یہ کہہ کہ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ(114:2) میں پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ ان میں سے کسی میں بھی شامل ہوؤں ۔

پھر اس وقت بادشاہ رعایا کو تباہ کرنے میں لگے ہوں گے ۔ اور رعایا بادشاہوں کے خلاف جوڑ توڑ کر رہی ہوگی ۔ اس وقت ایک مؤمن یہی کہے گا ۔ کہ مَلِکِ النَّاسِ(114:3) میں نہ تو ایسی باغی رعایا میں سے بنوں اور نہ ایسے ظالم بادشاہ کی طرح ۔ پھر وہ یہ کہے گا کہ نہ تو میں ایسا بنوں کہ جھوٹے طور پر علم کے ذریعہ لوگوں کو اپنا غلام بناؤں اور نہ ایسا کہ سچی باتوں کو بھی نہ مانوں ۔ اے خدا ! ان سب باتوں سے

سمجھے بیچا۔ یہ پیش گوئی ہے جس کے ماتحت ہم کام کر رہے ہیں نہ کہ یونہی کام کرتے ہیں۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے تیرہ سو سال قبل ہمارے لئے یہ کام بتا دیا تھا جو اب ہم کر رہے ہیں۔

جو کچھ کہا جائے اس کا مخاطب اپنے آپ کو سمجھو

اب میں اصل موضوع کو لیتا ہوں جس پر آج مجھے تقریر کرنی ہے مگر اس سے پہلے میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ بعض لوگ کسی ہدایت سے اس لئے محروم رہ جاتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے مخاطب ہم نہیں بلکہ دوسرے ہیں۔ اگر ایک مجلس میں کہا جائے کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہئے یہ بہت بُری بات ہے تو بعض لوگ ایسے ہوں گے جن کی اس بات کو سن کر چیخیں نکل جائیں گی۔ مگر اس لئے نہیں کہ وہ سمجھیں گے کہ ہم جھوٹ بولتے ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ کہیں گے دوسرے لوگ ایسے ہیں جو جھوٹ بولتے ہیں۔ وہ اس وقت غصّہ سے اپنے دائیں بائیں دیکھیں گے اور اپنی حرکات سے غم و غصّہ کا اظہار کریں گے کہ لوگ کیوں جھوٹ بولتے ہیں لیکن یہ خیال کسی کو نہ آئے گا کہ شائد میں ہی اس نصیحت کا مخاطب ہوں مومن کا یہ کام نہیں ہوتا۔ پس یاد رکھو کہ جب وعظ ہو رہا ہو تو اس کا مخاطب اپنے ہی نفس کو سمجھنا چاہئے۔ اس موقعہ پر شیطان اس طرح دھوکا دیا کرتا ہے کہ اس کے مخاطب تم نہیں ہو بلکہ دوسرے ہیں اور اس طرح اس سے فائدہ اُٹھانے سے محروم رکھتا ہے۔ کیونکہ اگر شیطان یہ کہے کہ جھوٹ اچھی بات ہے اگر تم میں پایا جاتا ہے تو کوئی حرج نہیں تو اس کی بات کوئی نہیں مانے گا۔ لیکن جب یہ کہتا ہے کہ جھوٹ فی الواقع بہت بُری چیز ہے اور اس سے بچنے کی جو نصیحت کی جا رہی ہے وہ بہت ضروری ہے مگر اس نصیحت کے مخاطب دوسرے لوگ ہیں تم نہیں ہو۔ تو بہت سے لوگ اس نصیحت سے فائدہ اُٹھانے سے محروم رہ جاتے ہیں پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جو کچھ کہا جائے اسے خوب غور سے سنیں۔ اور ہر وہ شخص جس کے کان تک بات پہنچے وہ سمجھے کہ میں اس کا مخاطب ہوں۔ کیونکہ اگر وہ یہ سمجھے گا کہ میں نہیں بلکہ اس کے مخاطب دوسرے ہیں تو اسے کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور وہ کورے کا کورا ہی رہے گا۔

اپنے اپنے نفس میں غور کرو

اب میں اصل بات کی طرف توجہ کرتا ہوں۔ ہم لوگ جو احمدی کہلاتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں ایک بات ہے جو غیروں میں نہیں ہے اس وجہ سے ہم خوش بھی ہوتے ہیں۔ مگر میں کہتا ہوں کہ جب حضرت مسیح موعودؑ نے ہم میں نیکی اور تقویٰ کا بیج بویا تھا اس

وقت سے اب تک ہم نے کتنی ترقی کی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے لکھا ہے کہ نبی صرف بیج بویا کرتا ہے اور آپؐ نے ایسا ہی کیا۔ اُس زمانہ میں لوگ شور مچا رہے تھے کہ تقویٰ اختیار کرو۔ تقویٰ اختیار کرو مگر نہ کوئی ان کی بات سنتا اور نہ کوئی تقویٰ اختیار کرتا، لیکن جب حضرت مرزا صاحبؑ نے آکر کہا کہ تقویٰ اختیار کرو تو جو سعید لوگ تھے وہ کھڑے ہو گئے۔ اور انہوں نے آپؐ کی آواز پر لبیک کہا۔ گو اکثر لوگوں نے توجہ نہ کی۔ پھر آپؐ نے پہلے سے زیادہ بلند آواز کے ساتھ بلایا اس پر کچھ اور لوگ نکل آئے۔ پھر آپؐ نے اس سے بلند آواز کے ساتھ پکارا اور اس پر دائیں بائیں آگے پیچھے غرض چاروں طرف سے لوگ نکل آئے اور انہوں نے آپؐ کی آواز پر لبیک کہا۔ تب خدا تعالیٰ نے تقویٰ کا بیج لیا اور ان زمینوں میں ڈالا جو اس کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو چکی تھیں اور پھر ان کی آبپاشی کی۔ جب وہ بیج اُگ آیا تو سنت اللہ کے ماتحت مسیح موعودؑ فوت ہو گئے۔ اب میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ وہ بیج ترقی کر کے کس حد کو پہنچ گیا ہے؟ اگر وہ بلند نہیں ہوا اور بڑھا نہیں۔ تو کیا یہ فکر اور اندیشہ کی بات نہیں ہے؟ کیونکہ جو بیج نہیں بڑھتا وہ خشک ہو جاتا ہے۔ پس وہ بیج جو حضرت مسیح موعودؑ نے تمہارے قلب میں بویا دیکھو کہ اس نے کچھ ترقی کی یا نہیں؟ اگر کوئی ترقی نہیں کی تو بتاؤ تم نے اس کے لئے کیا فکر کیا ہے؟ بیشک تم لوگوں میں اخلاص اور محبت ہے اور دین کے لئے قربانی کرنے کی روح بھی ہے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے یقین دلایا ہے کہ ایک جماعت ہو گی جو حضرت مسیح موعودؑ کے بوئے ہوئے درخت کو بڑھائے گی اور دُنیا اس کے نیچے بسے گی۔ مگر ہر شخص اپنے نفس کے متعلق غور کر کے دیکھے کہ وہ بھی ان میں ہو گا یا نہیں؟ اگر وہ نہیں ہو گا تو اسے کیا فائدہ؟ کیا ایک بھوکا اس طرح سیر ہو سکتا ہے؟ کہ اس کے ہمسایہ نے کھانا کھا لیا؟ یا ایک ننگا اس طرح اپنی ستر پوشی کر سکتا ہے کہ اس کے ہمسایہ نے کپڑے پہن لئے؟ یا ایک پیاسا اس طرح اپنی پیاس بجھا سکتا ہے کہ اس کے ہمراہی نے پانی پی لیا؟ اگر نہیں تو تم اس بات پر خوش نہ ہو کہ بعض تم میں سے نیک اور متقی ہیں اور ان کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہے۔ بلکہ اپنے متعلق دیکھو تمہارا کیا حال ہے؟ تمہارے دل میں جو بیج ڈالا گیا ہے وہ کس حالت میں ہے؟

ابراہیمی سنّت پر چلو

حضرت ابراہیمؑ کی سنت کو یاد رکھو۔ جب خدا تعالیٰ نے انہیں بتایا کہ میں مُردوں کو زندہ کرتا ہوں۔ ادھر بادشاہ سے اس مضمون پر مقابلہ بھی کرا دیا، اور زندہ کرنے کی مثال بھی دے دی جب انہیں خدا سے مکالمہ نصیب ہوا تو چونکہ دُور اندیش اور عقلمند انسان تھے سب کچھ سن کر کہا۔ یہ تو سب ٹھیک ہے لیکن مجھے کس طرح اطمینان ہو؟ گویا مطلب یہ کہ مجھے زندہ کیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اچھا تمہیں زندہ کریں گے اور مثال کے ذریعہ سمجھایا کہ تمہاری قوم چار دفعہ اُٹھے گی۔ ایک دفعہ حضرت موسیٰؑ کے ذریعے دوسری دفعہ حضرت مسیحؑ کے ذریعے تیسری دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اور چوتھی دفعہ حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعے۔ یہ ان کا کمال تھا کہ موقع تاڑ کر خدا تعالیٰ سے اپنی قوم کے لئے یہ وعدہ لے لیا۔ جونہی انہوں نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اس طرح قوموں کو زندہ کرتے ہیں اور جاؤ جا کر بادشاہ سے اس کے متعلق بحث کرو۔ تو وہ بحث کرنے چلے گئے اور آ کر کہا، بحث تو میں کر آیا ہوں مگر مجھے اس سے کیا فائدہ؟ مجھے تو میری قوم کے زندہ کرنے کا وعدہ دیں تب بات ہے۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا۔ اچھا تمہاری قوم کو بھی زندہ کریں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ حضرت ابراہیمؑ کی نسل سے حضرت موسیٰؑ ہوئے جن کے ذریعہ ان کی قوم زندہ ہوئی۔ پھر حضرت عیسیٰؑ ہوئے ان کے ذریعہ قوم زندہ ہوئی۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے انہوں نے قوم زندہ کی اور پھر حضرت مسیح موعودؑ ہوئے ان کے ذریعہ قوم زندہ کی گئی۔ یہ چار دفعہ ان کی قوم سے زندہ پرندے اُڑے اور اُڑ کر خدا تعالیٰ کی طرف گئے۔

تو حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ زندہ پرندے پیدا ہوئے۔ جو تقویٰ اور طہارت کے پروں سے اُڑ کر خدا تعالیٰ تک پہنچنے والے ہیں۔ مگر دوسروں کے فائدہ سے تمہیں کیا ۔ بے شک مومن کا دل چاہتا ہے کہ دوسرے بھی فائدہ اُٹھائیں۔ مگر اس کا دل یہ بھی تو چاہتا ہے کہ وہ خود بھی فائدہ اُٹھائے۔ بیشک ہماری جماعت میں بعض لوگ متقی اور پرہیز گار ہیں مگر ان کی وجہ سے تمہیں کس طرح تسلی ہو سکتی ہے؟ اگر تم متقی اور پرہیزگار نہیں ہو؟ دیکھو حضرت ابراہیمؑ کو باوجود نبوت کے تسلی نہ تھی اور وہ چاہتے تھے کہ جو کچھ ملے لے لیں۔ اور موقع پا کر انہوں نے جو کچھ مل سکتا تھا اسے بھی لیا۔ مگر تم اگر متقی بھی نہیں ہو تو تمہیں کیونکر تسلی ہو جاتی ہے؟ اور تم کیوں آئندہ کے لئے کوئی کوشش نہیں کرتے؟

پس تم ابراہیمی سنت پر چلو اور کبھی تسلی نہ پاؤ۔ بلکہ خدا تعالیٰ سے مانگتے ہی رہو اور اس وقت تک لیتے ہی رہو جب تک کہ تمہیں ملتا رہے۔ پس تم وہ رستے تلاش کرو کہ اوپر ہی اوپر اُڑتے رہو۔ خدا تعالیٰ نے تمہارا نام پرندہ رکھا ہے پھر تم پرندے ہو کر غاروں میں کیوں گھسو؟ حضرت ابراہیمؑ کو خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا تھا کہ اُلو پالو۔ بلکہ یہ کہا تھا کہ پاک اور روشنی کو پسند کرنے والے پرندے پالو۔ اور انہوں نے ایسے ہی پرندوں کو پالا تھا پھر تم کیوں اندھیرے کو پسند کرو؟ پس تم اپنی حالتوں پر مطمئن نہ ہو جاؤ بلکہ کوشش کرو کہ خدا تعالیٰ ہر روز تمہاری حالت کو اور بلند کرے۔ قرآن کریم نے اس ترقی کے لئے دو رستے بتائے ہیں۔

مومن کے دو کام

قرآن نے مؤمن کا یہی کام مقرر نہیں فرمایا کہ وہ آپ اڑے بلکہ یہ کام مقرر کیا ہے کہ وہ آپ بھی اڑے اور دوسروں کو بھی اڑائے۔ قرآن نے تمہیں چڑیا اور طوطے کی طرح نہیں بنایا بلکہ ایروپلین بنایا ہے تاکہ آپ بھی اڑو اور دوسروں کو بھی اڑاؤ۔ تمام قرآن کریم سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ غرض قرآن نے مؤمن کے دو کام بتائے ہیں کہ وہ خود بھی پرندہ بن جائے یعنی خود متقی اور پرہیز گار بن جائے اور دوسروں کو بھی بنائے۔ لوگوں کو کھینچ کر اوپر لے آئے اور خدا سے ملائے۔ اور یہ لازمی نتیجہ ہے پہلی بات کا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ پر وہی عاشق ہو گا جسے یقین ہو گا کہ خدا تعالیٰ میں تمام خوبیاں ہیں اور ہم دیکھتے ہیں یہ قدرتی بات ہے کہ جن کو کسی چیز میں خوبیاں معلوم ہوتی ہیں وہ دوسروں کو وہ خوبیاں دکھاتے ہیں۔ کوئی تو بدنیتی سے کہ ان کو دوسروں پر فخر حاصل ہو۔ اور کوئی نیک نیتی سے کہ دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے۔ دیکھو قرآن کریم ادھر تو یہ کہتا ہے کہ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُبۡطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالۡمَنِّ وَالۡاَذٰی ۙ کَالَّذِیۡ یُنۡفِقُ مَالَہٗ رِئَآءَ النَّاسِ(البقرة: ۲۶۵) ان لوگوں کی طرح نہ بنو جو ریاء کے طور پر مال خرچ کرتے ہیں۔ مگر ادھر کہتا ہے وَاَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ(الضحٰی: ۱۲) کہ لوگوں کو بتا بتا کر خدا کی نعمتوں سے آگاہ کرو۔ یہ ریاء نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ لوگ بھی ان کو دیکھ کر ان کے حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ غرض ہر قسم کا اظہار ریاء نہیں ہوتا بعض حالات میں ایک بات کا اظہار ریاء ہو جاتا ہے مگر دوسرے حالات میں اسی امر کا اظہار ریاء نہیں ہوتا مثلاً اگر ایک شخص اچھے اچھے کپڑے اس لئے پہن کر لوگوں میں جاتا ہے کہ وہ اسے بڑا مالدار سمجھیں تو یہ ریاء ہے لیکن اگر وہی شخص عید کے دن یا جمعہ کے دن عمدہ لباس پہن کر نکلے تا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل ہو۔ یا مثلاً اگر کہیں بخار پھیلا ہو اور کسی کے پاس کونین ہو اور وہ لوگوں کو بتائے کہ میرے پاس کونین ہے تو یہ ریاء نہیں ہوگا۔ اور کوئی نہیں کہے گا کہ یہ اپنی عقلمندی جتا رہا ہے کہ میں نے پہلے سے ہی کونین رکھی ہوئی تھی۔ کیونکہ اس کا اس امر کو ظاہر کرنا ضروری ہوگا تا کہ لوگوں کو فائدہ پہنچے۔

تو مؤمن کا فرض اپنا ہی کام کرنا نہیں بلکہ دوسروں کا بھی کرنا ہے۔ اب میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے ان دونوں اقسام کی نیکیوں میں سے کتنا حصہ لیا ہے؟

پہلی باتیں کیوں دہرائی جاتی ہیں؟

ان باتوں میں سے جو اصلاح نفس کے متعلق ہیں اور جو دوسروں کی اصلاح کے لئے ہیں بعض ایسی ہیں کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں اور بعض نئی ہیں۔ ممکن ہے بعض لوگ کہیں کہ پرانی باتیں پھر ان کو سنائی جا رہی ہیں۔ مگر یاد رکھو پرانی چیز وہ ہوتی ہے جس کو استعمال میں لے آئیں۔ اور جب تک اسے استعمال نہ کیا جائے وہ پرانی نہیں ہوتی۔ جو کچھ میں آپ لوگوں کو سنا چکا ہوں جب تک اس پر تمہارا عمل نہ دیکھوں اور جو کپڑے میں پہنانا چاہتا ہوں ان کو تمہارے جسم پر نہ دیکھوں میں ان باتوں کو نہیں چھوڑونگا اور بار بار کہتا رہوں گا۔ اگر تم اپنی ضد پر قائم ہو کہ سن لیا اور عمل نہ کیا تو میں بھی اپنی ضد پر قائم ہوں کہ تمہیں سناتا رہوں۔ وہ لوگ جو ان باتوں کو مانتے نہیں ان کی اور میری لڑائی ہے اور میں دیکھوں گا کہ کس کا استقلال قائم رہتا ہے؟ مگر میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ فائدہ اسی میں ہے کہ ان کا استقلال قائم نہ رہے اور میرا قائم رہے کیونکہ ان کا استقلال قابل فخر استقلال نہیں ہے بلکہ استقلال تو اسے کہا ہی نہیں جا سکتا۔

کسی شاعر نے کہا ہے۔ معلوم نہیں اس نے تو کس نیت سے کہا ہے مگر مجھے بہت پسند ہے۔ کہتا ہے ؎

وہ اپنی خُو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں

سبک سر بن کے کیوں پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو؟

یعنی وہ اپنا طریق نہیں چھوڑتا تو ہم کیوں چھوڑیں؟ اور کیوں اپنی حالت بدلیں؟ ہم نے جو حالت بنائی ہوئی ہے اس میں اگر ہم اس سے پوچھیں کہ ہم پر کیوں ظلم کرتے ہو؟ تو وہ سمجھے گا کہ ہمارے ہوش و حواس درست ہیں۔

یہی تمہارا اور میرا معاملہ ہے جب تک تم اپنی حالت کو نہ بدلو گے میں بھی اپنے رنگ نہیں بدلوں گا۔ میں اس وقت تک ان باتوں کو کہتا رہوں گا جب تک تم ان پر عمل پیرا نہ ہو جاؤ اور اس لباس کو پہن نہ لو۔ جب تم ایسا کر لو گے تو پھر مجھے نئی باتیں کہنے کا موقع ملے گا۔

اصلاحِ نفس کی اقسام

میں بتا رہا تھا کہ اصلاحِ نفس دو قسم کی ہوتی ہے اور اسلام نے دونوں قسم کی اصلاحوں کو ضروری قرار دیا ہے۔ ایک اپنی اصلاح اور دوم دوسروں کی اصلاح۔ پھر آگے اصلاح کی دو قسمیں ہیں۔

(۱) بدی کو دُور کرنا۔ اس کو عبادتِ تزکیہ کہتے ہیں۔

(۲) عبادتِ فعلیہ جس کا اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔

تو دو قسم کے کام انسان کے ذمہ ہیں۔ ایک ایسے جو اختیار کرنے والے ہیں اور دوسرے ایسے جن کا چھوڑنا ضروری ہے۔

بدظنی سے بچو

پہلے میں ان دوسری قسم کے کاموں میں سے بعض کو لیتا ہوں یعنی پہلے میں ترک شرک کو لیتا ہوں۔ اس میں سے پہلی بات بدظنی ہے۔ بدظنی سے قرآن کریم نے منع فرمایا ہے اور اس سے اتنے فساد پیدا ہوتے ہیں جن کی کوئی حد نہیں۔ مگر اس زمانہ میں بدظنی کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔ ہر شخص دل میں خواہ مخواہ ہی خیال کر لیتا ہے کہ یوں ہوگا۔ اخبار میں کوئی خبر پڑھتے ہیں تو خیال کر لیتے ہیں کہ گورنمنٹ کا اس سے یہ مطلب ہوگا یا فلاں شخص کی اس سے یہ غرض ہوگی۔ اگر کسی کا کوئی دوست ہو اور اسے کہے کہ ہمارے گھر چلو تو کہیں گے اس میں اس کا کوئی فائدہ ہوگا۔ اور اگر وہ نہ کہے تو کہیں گے آج کل کون کسی کو پوچھتا ہے؟

غرضیکہ ہر بات میں بدظنی کرتے ہیں مثلاً اگر کوئی زیادہ چندہ دے تو کہیں گے ریاء کے لئے دیتا ہے اور اگر تھوڑا دے تو کہیں گے بخیل ہے خدا کے لئے دینا جانتا ہی نہیں۔ اگر کوئی نماز پڑھے تو کہیں گے صوفی بنتا ہے اور اگر نہ پڑھے تو کہیں گے کافر ہے۔ اگر کوئی کسی سے ہمدردی کرتا ہے تو کہیں گے اس کی کوئی غرض ہوگی اور اگر نہ کرے تو کہیں گے لوگوں کا خون سفید ہو گیا ہے۔

غرض کہ جو بھی کوئی کام کرے اس کا بد پہلو ہی نکالیں گے اور بدظنی ہی کریں گے۔ حالانکہ یہ بات بہت گندی ہے کیونکہ اگر سب لوگ بدظنی پر اتر آئیں تو نیکی قائم ہی نہیں رہ سکتی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ اِیَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَاِنَّ الظَّنَّ اَكْذَبُ الْحَدِيْثِ(بخاری کتاب الوصایا باب قول اللہ تعالیٰ من بعد وصیة یوصی بھا او دین) بدظنی سب سے بڑا جھوٹ ہے اور جھوٹ تو لوگ دوسروں سے بولتے ہیں مگر یہ ایسا جھوٹ ہے جو اپنے نفس سے بولتے ہیں اور بہت کم لوگ ہیں جو اس سے بچتے ہیں۔ پھر افسوس تو یہ ہے کہ ہماری جماعت میں بھی بہت ہیں جو اس سے نہیں بچتے۔ کوئی سیکرٹری پر بدظنی کرتا ہے کہ مال کھا جاتا ہے۔ کوئی پریذیڈنٹ کے متعلق کہتا ہے کہ غبن کرتا ہے۔ میں کہتا ہوں اگر اس طرح بدظنی کی گئی تو کسی کو کیا ضرورت ہوگی کہ کام کرے؟ اس طرح بددل ہو کر وہ کام کرنا چھوڑ دے گا اور اس سے سلسلہ کا کام خراب ہوگا بدظنی کرنے والوں کا کیا جائے گا یہاں بھی ایک شاعر کا مصرعہ مجھے یاد آ گیا۔ جو کہتا ہے ؎

کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری

ایک شخص جو کام کرے اگر اس کے کان میں اس قسم کی آوازیں آتی رہیں کہ بہت کھاتا ہے اس نے مکان بنوا لیا ہے شادی کر لی ہے وغیرہ وغیرہ۔ تو اگلے سال وہ کیا کام کرے گا؟ پھر جس طرح ایک کے متعلق کہا جائے گا اسی طرح دوسرے کے متعلق بھی کہا جائے گا اور وہ بھی کام کرنا چھوڑ بیٹھے گا۔ اس سے ایک طرف تو بدظنی کرنے والا ہلاک ہو گا دوسری طرف جس کی نسبت بدظنی کی جائے گی وہ کام چھوڑ بیٹھے گا اور اس طرح سلسلہ کا کام خراب ہو گا۔ سو اے عزیزو! اس کو بالکل چھوڑ دو۔ کئی لوگ جو سننے آتے ہیں ایک دوسرے کے متعلق باتیں سناتے ہیں جن کی بنیاد محض بدظنی پر ہوتی ہے اور جن میں محض قیاس اور خیال سے کام لیا جاتا ہے۔ یہ لوگ ظاہرہ باتوں کی طرف تو توجہ نہیں کرتے۔ دیکھتے ہیں فلاں شخص علی الاعلان نمازوں میں نہیں آتا اس کو کچھ نہیں کہتے۔ دیکھتے ہیں فلاں علی الاعلان عورتوں پر ظلم کرتا ہے اس کو نہیں سمجھاتے۔ اور کئی قسم کے عیب ہیں جو لوگ علی الاعلان کرتے ہیں اور ان کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ مگر بدظنی کرتے ہوئے پوشیدہ سے پوشیدہ عیبوں کو بیان کریں گے۔ یہ ایک سخت کمزوری اور بُرا فعل ہے۔ اس سے بچنا چاہئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجۡتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ ۫ اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوۡا وَلَا یَغۡتَبۡ بَّعۡضُکُمۡ بَعۡضًا ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُکُمۡ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحۡمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ ؕ وَاتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ رَّحِیۡمٌ(الحجرات : ۱۳)

اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو بہت سے گمان جو دل میں آتے ہیں ان سے بچو اور زیادہ تجسس نہ کیا کرو۔ واقعات کو دیکھا کرو۔ اور بدظنی کو چھوڑ دو۔ کیا تم پسند کرتے ہو کہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھاؤ؟ پس اس سے الگ رہو۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا رحیم ہے۔

بدظنی کے خطرناک نتائج

بدظنی ایسی خطرناک چیز ہے کہ جو شخص اس کو اختیار کرتا ہے وہ اسی حد تک نہیں رہتا کہ اپنے بھائی پر بدظنی کر کے ٹھہر جائے بلکہ وہ ترقی کرتے کرتے اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ آخر خدا تعالیٰ پر بھی بدظنی کرتا ہے جو شخص اپنے بھائی پر بدظنی کرتا ہے اس کا دوسرا قدم یہ ہوتا ہے کہ وہ باپ پر بھی بدظنی کرتا ہے۔ اور جو باپ پر کرتا ہے وہ رسول پر کرتا ہے اور جو رسول پر کرتا ہے وہ خدا پر کرتا ہے۔

بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب انہیں کہا جائے کہ اپنے بھائی پر بدظنی نہ کرو تو کہتے ہیں کہ وہ ہمارا پیر ہے؟ مگر یاد رکھو جو بھائی پر بدظنی کرتا ہے جب اس کو اس کی عادت ہو جاتی ہے تو اس کا دل اسی پر تسلی نہیں پاتا بلکہ وہ اور آگے بڑھتا ہے اور ہوتے ہوتے امامِ وقت یا رسول کو اپنا نشانہ بنا لیتا ہے اور پھر اس پر بھی صبر نہیں کرتا۔ خدا تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے۔ قرآن کریم میں

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسے لوگ مسلمانوں میں موجود تھے جنہوں نے پہلے اپنے بھائیوں پر بدظنی کی اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کرنے لگ گئے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔

وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّلۡمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ ۚ فَاِنۡ اُعۡطُوۡا مِنۡہَا رَضُوۡا وَاِنۡ لَّمۡ یُعۡطَوۡا مِنۡہَاۤ اِذَا ہُمۡ یَسۡخَطُوۡنَ(التوبة : ۵۸)

اے رسول! جو مال آتا ہے اس کے متعلق کچھ لوگ بدظنیاں کرتے ہیں کہ اتنا مال جو آتا ہے اس میں سے یہ بھی کچھ لیتا ہی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ بدظنی کرنے والوں کا اپنا نفس چونکہ گندہ ہوتا ہے اس لئے وہ دوسرے کے متعلق بھی خیال کر لیتے ہیں کہ اس کا بھی ایسا ہی ہو گا۔

میری فطرت میں بدظنی کا مادہ ہی نہیں

میں محض خدا تعالیٰ کے فضل کے اظہار کے لئے نہ کسی اور وجہ سے کہتا ہوں کہ میری فطرت میں بدظنی کا مادہ رکھا ہی نہیں گیا اور بچپن سے میری طبیعت ایسی بنائی گئی ہے کہ بعض باتوں کو میں نے خود دیکھا لیکن مجھے بتایا گیا کہ تمہیں غلطی لگی ہے تو میں نے کہا ایسا ہی ہوگا۔ اور اس وقت تک میں یہی سمجھتا ہوں کہ مجھے دیکھنے میں غلطی لگی ہوگی اور اصل میں وہ بات اس طرح نہ ہوگی۔ اس طریق نے مجھے بہت فائدہ پہنچایا ہے۔ اور وہ یہ کہ اور لوگوں کے دلوں میں تو قرآن پر اعتراض پیدا ہوتے ہیں مگر مجھے جواب ہی جواب سمجھائے جاتے ہیں اور میری تو یہ حالت ہوتی ہے کہ اگر کسی آیت کی تشریح کرنے کے لئے اس پر تنقید کرنا ہوتی ہے تو دوسروں سے پوچھتا ہوں کہ اس پر کون کون سے اعتراض پڑتے ہیں؟ یا بڑی کوشش اور محنت سے اعتراض نکالنے پڑتے ہیں۔

تو فرمایا کہ ایسے لوگ ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی بدظنی کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ان کی ذاتی اور نفسانی غرض ہوتی ہے۔ اگر تو ان کو مال میں سے دے دے تو کہتے ہیں بڑا دیانتدار ہے اور اگر نہ دے تو بدظنی کرتے ہیں کہ خود کھا جاتا ہے۔

بدظنی کتنا بُرا عیب ہے ؟

بدظنی۔ یہ بہت بڑا عیب ہے اور خطرناک عیب ہے اور ایسا خطرناک عیب ہے کہ اس کے مرتکب کا حملہ آخر خدا تعالیٰ تک جا پہنچتا ہے۔ یہ مت خیال کرو کہ تم جب اپنے کسی بھائی پر بدظنی کرتے ہو تو خلیفہ جسے خدا کا بنایا ہوا سمجھتے ہو اس پر نہیں کرو گے۔ جب ایک قدم اُٹھاتے ہو تو دوسرا قدم اُٹھانا تمہارے لئے آسان ہو جاتا ہے اور جب خلیفہ پر بدظنی کرو گے تو اس سے اگلا قدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بدظنی کرنا ہوگا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کرو گے تو اس سے آگے خدا تعالیٰ تک پہنچو گے۔ دیکھو وہ

لوگ جو ہم سے علیحدہ ہو گئے ان میں اپنے بھائیوں پر بدظنی کرنے کی عادت تھی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ حضرت صاحبؓ کی نسبت کہہ گزرے کہ آپؑ جماعت کا روپیہ اپنے ذاتی مصارف میں خرچ کر لیتے ہیں۔ حضرت صاحبؓ کو آخری وقت میں یہ بات معلوم بھی ہو گئی اور آپؑ نے مجھے فرمایا کہ یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ لنگر کے لئے جو روپیہ آتا ہے اسے میں اپنے ذاتی مصارف میں خرچ کر لیتا ہوں مگر ان کو معلوم نہیں کہ لوگ جو میرے لئے نذروں کا روپیہ لاتے ہیں میں تو اس میں سے بھی لنگر کے لئے خرچ کرتا ہوں۔ چنانچہ میں آپؑ کے منی آرڈر لایا کرتا تھا اور مجھے خوب معلوم ہے کہ لنگر کا روپیہ بہت تھوڑا آیا کرتا تھا اور اتنا تھوڑا آیا کرتا تھا کہ اس سے خرچ نہ چل سکتا تھا۔

پھر ان لوگوں نے اس بدظنی کا خود اعتراف کیا۔ ایک دفعہ ایک مجلس میں خواجہ کمال الدین صاحب نے اپنی طرف تو اس بات کو منسوب نہ کیا مگر اس طرح ذکر کیا کہ کہا جاتا تھا کہ مرزا صاحبؓ لنگر کا روپیہ خود خرچ کر لیا کرتے تھے لیکن لنگر کا انتظام جب سے ہمارے پاس آیا ہے مقروض ہی چلا جا رہا ہے۔ اور حضرت صاحبؓ نے مجھے فرمایا تھا کہ اگر میں لنگر کا انتظام ان لوگوں کے سپرد کر دوں تو یہ کبھی اسکے اخراجات کو پورا نہ کر سکیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اب تک اس بدظنی کا خمیازہ بھگتا جا رہا ہے کہ لنگر کا فنڈ ہمیشہ مقروض رہتا ہے۔

پس بدظنی بہت بڑا گناہ ہے اور خطرناک گناہ ہے اس سے بچو۔

جھوٹ ترک کر دو

دوسری بات جو قابلِ ترک ہے۔ اور اس کی بھی کثرت سے مثالیں ملتی ہیں وہ جھوٹ اور جھوٹی شہادت ہے۔ یہ ایک خطرناک گناہ ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ یہ گناہوں کی کلید ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا مجھ میں چار ایسے گناہ ہیں جن کو میں چھوڑ نہیں سکتا ان کے چھوڑنے کا مجھے طریق بتائیے۔ آپؐ نے فرمایا ایک تو چھوڑ دے تین میں چھڑا دوں گا۔ اس نے کہا۔ بہت اچھا۔ آپؐ نے فرمایا جھوٹ چھوڑ دے۔ اس نے کہا اچھا میں جھوٹ چھوڑتا ہوں۔ یہ عہد کر کے وہ چلا گیا۔ جانے کے بعد جب اسے کسی گناہ کے کرنے کا خیال آیا اور وہ یہ سمجھ کر کرنے لگا کہ اس کے چھوڑنے کا تو میں نے وعدہ نہیں کیا تو اسے خیال آیا کہ اگر اس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تو سچ کہنا پڑے گا کیونکہ جھوٹ کے چھوڑنے کا وعدہ کر آیا ہوں۔ پھر میں کیا جواب دوں گا؟ اس طرح وہ ایک دن اس کے کرنے سے رُک گیا دوسرے دن پھر جب اسے گناہ کرنے کا خیال آیا تو اسی طرح رک گیا۔ اور جوں جوں وہ رُکتا جاتا اس کی طبیعت میں مضبوطی آتی جاتی حتیٰ کہ ایک دن وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ ان گناہوں میں سے میں نے کوئی بھی نہیں کیا اور سب مجھ سے چھوٹ گئے ہیں۔

تو جب کوئی شخص جھوٹ چھوڑ دیتا ہے پھر سب گناہ اس سے چھوٹ جاتے ہیں۔

لوگ جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟

سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ جھوٹ بولتے کیوں ہیں؟ جس آدمی کے متعلق معلوم ہو جائے کہ جھوٹ کا عادی ہے وہ خواہ کوئی بات سنائے اس کی بات پر تسلی نہیں ہوتی اور نہ اس کو کوئی فائدہ ہوتا ہے۔ مگر پھر بھی بالعموم لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور ایسی ایسی باتوں میں جھوٹ بولتے ہیں جن میں وہ خود بھی سمجھتے ہیں کہ کوئی نفع نہیں ہوگا ۔ مثلاً یونہی ایک شخص کہہ دے گا میں فلاں فلاں جگہ گیا یا فلاں فلاں کام کیا۔ حالانکہ ان باتوں کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں کو محض عادت ہوتی ہے کہ خواہ مخواہ جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک مرض ہے اور اس کا چھوڑنا بھی مشکل کام ہے اس لئے اس کو چھوڑنے کے لئے خاص کوشش کرنی چاہئے۔

کامیابی جھوٹ نہ بولنے میں ہے

بےشک خالص جھوٹ بہت کم لوگ بولتے ہیں۔ جہاں نقصان کا اندیشہ ہو صرف وہاں ایسا جھوٹ بولتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہم نقصان سے بچ جائیں گے اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ کامیابی جھوٹ کے نہ بولنے میں ہی ہوتی ہے۔

حضرت صاحب کا ہی واقعہ ہے۔ آپ نے ایک پیکیٹ میں خط ڈال دیا۔ اس کا ڈالنا ڈاکخانہ کے قواعد کی رو سے منع تھا مگر آپ کو اس کا علم نہ تھا۔ ڈاکخانہ والوں نے آپ پر نالش کر دی اور اس کی پیروی کے لئے ایک خاص افسر مقرر کیا کہ آپ کو سزا ہو جائے اور اس پر بڑا زور دیا اور کہا کہ ضرور سزا ملنی چاہئے تاکہ دوسرے لوگ ہوشیار ہو جائیں۔ حضرت صاحب کے وکیل نے آپ کو کہا کہ بات بالکل آسان ہے آپ کا پیکیٹ گواہوں کے سامنے تو کھولا نہیں گیا۔ آپ کہہ دیں کہ میں نے خط الگ بھیجا تھا شرارت اور دشمنی سے کہا جاتا ہے کہ پیکیٹ میں ڈالا تھا۔ حضرت صاحب نے فرمایا یہ تو جھوٹ ہوگا۔ وکیل نے کہا اس کے سوا تو آپ بچ نہیں سکتے۔ آپ نے فرمایا خواہ کچھ ہو میں جھوٹ تو نہیں بول سکتا۔ چنانچہ عدالت میں جب آپ سے پوچھا گیا کہ آپ نے پیکیٹ میں خط ڈالا تھا؟ تو آپ نے فرمایا۔ ہاں میں نے ڈالا تھا مگر مجھے ڈاکخانہ کے اس قاعدہ کا علم نہ تھا۔ اس پر استغاثہ کی طرف سے لمبی چوڑی تقریر کی گئی اور کہا گیا کہ سزا ضرور دینی چاہئے۔ تاکہ دوسرے لوگوں کو عبرت ہو۔ حضرت صاحبؓ فرماتے ہیں تقریر چونکہ انگریزی میں تھی اس لئے میں اور تو کچھ نہ سمجھتا لیکن جب حاکم تقریر کے متعلق NO، NO (نو۔ نو) کہتا تو اس لفظ کو سمجھتا۔ آخر جب تقریر ختم ہوئی تو حاکم نے کہہ دیا ۔ بری۔ اور کہا کہ جب اس نے اس طرح سچ سچ کہہ دیا تو میں بری ہی کرتا ہوں۔

ہنسی میں جھوٹ

پھر لوگ ہنسی مذاق میں جھوٹ بول لیتے ہیں، مگر یہ بھی ناجائز ہے اور یہ بھی جھوٹ ہی ہے اس سے بھی بچنا چاہئے۔

جھوٹی گواہی

پھر جھوٹ کی خاص قسم جھوٹی گواہی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہو تو کوئی اس سے بچ سکتا ہے۔ وہ لوگ جو اور باتوں میں جھوٹ نہیں بولتے وہ بھی اس مرحلہ پر آکر رہ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے اس لئے جھوٹی گواہی دے دی کہ فلاں بھائی ناراض نہ ہو جائے۔ مگر اس میں بھی خوب مضبوطی کے ساتھ صداقت پر قائم رہنا چاہئے۔ کئی لوگ ہیں جو اس لئے جھوٹی گواہی دیتے ہیں کہ دوسرے کا منہ رکھیں اور اس کو ناراض نہ ہونے دیں۔ مگر اس سے زیادہ نادان اور بے وقوف کون ہوگا جو دوسرے کا منہ رکھنے کے لئے اپنا منہ کالا کرلے لیکن بہت ہیں جو اس بات کی پرواہ نہیں کرتے۔ تمہیں چاہئے کہ خواہ تمہارے ماں باپ کے خلاف گواہی ہو یا بھائی کے خلاف یا اور کسی عزیز اور رشتہ دار کے خلاف تم کبھی اس کو نہ چھپاؤ اور نہ اس میں جھوٹ ملاؤ بلکہ سچ سچ کہہ دو۔ قرآن کریم میں مؤمن کی یہ علامت بتائی گئی ہے کہ ماں باپ، بہن بھائی جس کے متعلق بھی اسے کوئی گواہی دینی ہو سچی سچی دیتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے جو گواہی کو چھپاتا ہے اس کا دل گنہگار ہو جاتا ہے اور جب دل گنہگار ہو گیا تو سب کچھ خراب ہو گیا۔ یہ بھی بہت بُرا کام ہے اس سے بچنا چاہئے ۔ ورنہ اس میں بھی بڑھتے بڑھتے انسان رسول اور خدا تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ جو جھوٹی حدیثیں بنی ہیں وہ ایسے ہی لوگوں نے بنائی ہیں جن کو جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔ اور پھر جھوٹ بولنے والے خدا تعالیٰ کے متعلق بھی جھوٹ سے دریغ نہیں کرتے ۔ چنانچہ آتا ہے۔

مَا جَعَلَ اللّٰہُ مِنۡۢ بَحِیۡرَۃٍ وَّلَا سَآئِبَۃٍ وَّلَا وَصِیۡلَۃٍ وَّلَا حَامٍ ۙ وَّلٰکِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ ؕ وَاَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ(المائدہ: ۱۰۴)

کہ یہ جو نذریں نیازیں سانڈوں وغیرہ کی دی جاتی ہیں یہ خدا نے مقرر نہیں کیں۔ یہ ان لوگوں نے جو کافر ہیں آپ مقرر کرلی ہیں اور خدا تعالیٰ پر جھوٹا افتراء باندھ دیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر بے وقوف ہیں۔

تو ان لوگوں نے آپ نذریں مقرر کر کے کہہ دیا کہ خدا نے مقرر کیں ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ جھوٹ بولنے والے خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولنے سے بھی باز نہیں رہتے۔

پس چونکہ یہ ایسی بات ہے کہ اس میں انسان بڑھتے بڑھتے خدا تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے اس لئے اس کو بالکل چھوڑ دینا چاہئے۔ اور یہ ایسے عیوب میں سے ہے کہ اگر انسان اس سے بچ جائے تو اور سینکڑوں عیوب سے بچ سکتا ہے۔

سخت کلامی اور درشتی سے کام نہ لو

تیسری بات جو قابلِ ترک ہے وہ سخت کلامی اور درشتی ہے۔ یہ بھی بہت بڑا عیب ہے، بہت لوگ ہیں جو اپنے بھائی کے احساسات کا خیال نہیں رکھتے۔ ذرا ذراسی بات پر گالی دے دیتے ہیں یا سخت کلامی سے پیش آتے ہیں۔ مثلاً بجائے اس کے کہ مجلس میں آکر کہیں جگہ دیجئے۔ یہ کہہ دینگے کہ کس طرح لتّاں پسار کے بیٹھے ہوئے ہو یعنی پاؤں پھیلا کر کیوں بیٹھے ہو؟ ایسے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ اگر کسی سے کوئی مطالبہ کریں گے تو سختی سے اور اگر کسی کا کچھ دینا ہوگا تو اس سے بھی لڑیں گے۔ ان میں نرمی، محبت اور آشتی نہیں ہوگی۔ حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لڑائی، دنگا اور فساد ایسی ناپسندیدہ باتیں ہیں کہ جہاں یہ ہوتی ہیں وہاں سے خدا تعالیٰ کی برکتیں جاتی رہتی ہیں۔ اور آپؐ نے ان کی برائی یہاں تک بیان فرمائی ہے کہ ایک دفعہ آپؐ رات کو باہر نکلے اور دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ آپؐ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے لیلۃ القدر کی گھڑی بتائی تھی لیکن تمہاری لڑائی دیکھ کر مجھے بھول گئی ہے۔عه اب غور کرو ان کی لڑائی کس قدر نقصان دہ ثابت ہوئی کہ نسل درنسل اس کا اثر چلے گا۔ پھر فرمایا اچھا رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ اگر وہ نہ لڑ رہے ہوتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلۃ القدر کے متعلق جو بتایا گیا تھا وہ آپؐ بتا دیتے تو کیسی آسانی ہوتی اور مسلمان اس سے کس قدر فائدہ اُٹھاتے؟ اب ہر ایک کے لئے دس راتوں میں جاگنا مشکل بات ہے۔ دو آدمیوں کے جھگڑے نے کتنا نقصان پہنچایا؟

تم کسی پر درشتی اور سختی نہ کرو بلکہ ہر ایک کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔ اس میں دونوں کا فائدہ ہے لیکن اگر ایک درشتی کرتا ہے تو دوسرے کو چاہئے کہ نرمی اختیار کرے۔ اس طرح درشتی کرنے والا خود بخود شرمندہ اور نادم ہوگا اور معافی مانگے گا۔ ورنہ اگر دوسرا بھی درشتی کرے گا اور اس طرح بات بڑھے گی تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دونوں کا ایمان جاتا رہے گا اور دونوں کو نقصان اُٹھانا پڑے گا۔

پھر درشت کلامی سے گالیوں پر لوگ اتر آتے ہیں۔ بعض لوگ نمازیں پڑھیں گے، دوسرے فرائض ادا کریں گے، دین کے کاموں میں حصہ لیں گے، لیکن گندی سے گندی ماں بہن کی گالیاں بھی دیں گے اور فساد پھیلائیں گے۔ اس طرح اپنے آپ کو تباہ کریں گے اور دوسروں کو اشتعال دلا کر ان کی بھی عاقبت خراب کریں گے۔ تمہیں چاہئے کہ اس تباہ کن فعل سے بچو اور نرمی کی عادت ڈالو تا کہ خدا تعالیٰ بھی تمہارے ساتھ نرمی سے پیش آئے ۔ ورنہ اگر تم خدا تعالیٰ کی مخلوق پر درشتی کرتے ہو تو تم بھی اپنے آپ کو اس بات کا حق دار بناتے ہو کہ خدا تعالیٰ تم پر بھی درشتی کرے ۔ درشتی اور سختی جوش اور غصّہ کی وجہ سے کی جاتی ہے ۔ مگر تمہارے لئے تو جوش اور غصّہ نکالنے کے لئے کافی جگہ ہے۔ تم اس کو محفوظ رکھو اور ضائع نہ کرو۔ جس کو ایک بڑا سفر درپیش ہوتا ہے وہ اپنی روٹیاں کتوں کے آگے نہیں ڈالتا بلکہ ضرورت کے لئے محفوظ رکھتا ہے ۔ تمہارے آگے بھی بہت بڑا سفر ہے تمہیں ابھی بہت سی لڑائیاں لڑنی ہیں۔ تمہیں جوش اور طاقت کی ضرورت ہے پس تم اس کو اس وقت کے لئے محفوظ رکھو جب تمہیں کفر سے لڑائی کرنی پڑے۔ ورنہ اگر تم نے یونہی جوش ضائع کر دیا تو یاد رکھو وقت پر کچھ نہ کر سکو گے۔ کیونکہ جس انجن کی بھاپ نکل جاتی ہے وہ گاڑیاں نہیں کھینچ سکتا گاڑیاں وہی انجن کھینچتا ہے جس کے اندر بھاپ بند رہتی ہے۔ پس تم غصہ اور جوش کے دبانے کے عادی بنو تاکہ نہ صرف خود ہی چلو بلکہ اوروں کو بھی کھینچ کر لے جا سکو۔

دیکھو نرمی ایسی ضروری چیز ہے کہ خدا تعالیٰ نبی کو کہتا ہے ۔ فَقُوۡلَا لَہٗ قَوۡلًا لَّیِّنًا(طٰہٰ: ۴۵) فرعون تمہیں گالیاں دے گا۔ تم پر سختی کرے گا۔ مگر تم اس سے نرم نرم باتیں کرنا۔ یہ انہیں اس لئے کہا گیا کہ وہ فرعون کے سامنے بطور نمونہ تھے ۔ اگر وہ ہی سختی کرتے اور درشتی سے پیش آتے تو وہ کہتا جس انسان کی اپنی یہ حالت ہے وہ مجھے کیا فائدہ دے سکتا ہے۔ مگر ان کی نرمی کو دیکھ کر فرعون گھبرا گیا ۔ کیونکہ وہ سختی کرتا اور گالیاں دیتا تھا مگر حضرت موسیٰؑ ہنس کر نرمی سے جواب دے دیتے اس سے وہ گھبرا گیا کہ کوئی طاقت اور قوت ہے جس نے اسے سہارا دیا ہوا ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ سختی اور درشتی نے اس پر ذرا بھی اثر نہیں کیا۔

اس سے ظاہر ہے کہ بجائے اس کے کہ سختی کی وجہ سے فرعون کا رعب حضرت موسیٰؑ پر پڑتا۔ یہ ہوا کہ ان کی نرمی کی وجہ سے فرعون پر ان کا رعب پڑ گیا۔ اکثر لوگ اپنا رعب داب جمانے کے لئے سختی کرتے ہیں ۔ حالانکہ حقیقی رُعب سختی سے نہیں بلکہ نرمی سے پڑتا ہے۔ اس لئے نرمی سے ہی کام لینا چاہئے ۔

نشوں سے پرہیز کرو

چوتھی بات نشوں کا ترک کرنا ہے۔ کئی نشیلی چیزیں ہیں جنہیں لوگ استعمال کرتے ہیں اور جن کی وجہ سے قوموں کی قومیں ہلاک ہو گئی ہیں۔ چین کے ملک کی اتنی آبادی ہے کہ اپنی وسعت کے لحاظ سے سب سے زیادہ آباد ہے یعنی چالیس کروڑ اس کی آبادی ہے۔ مگر با وجود اس کے جاپان نے جس کی آبادی صرف اڑھائی کروڑ تھی اسے ایسی خطرناک شکست دی کہ جس کی حد نہیں۔ اور یورپ کی چند ہزار فوج نے چین کا دارالسلطنت فتح کر لیا اس کی کیا وجہ تھی؟ یہی کہ چین کے لوگ افیم کھاتے تھے۔ اور پینک میں پڑے رہنے والوں نے لڑنے والوں کے مقابلہ میں کیا کرنا تھا؟

ایک قصّہ ہے۔ نہ معلوم کہاں تک صحیح ہے مگر مشہور ہے۔ کہ ایک افیمی پڑا تھا اسے خیال ہُوا کہ کوئی مجھے مارنے لگا ہے۔ اس پر اس نے لٹھ اُٹھا کر اپنے ہی اوپر دے مارا اور کہنے لگا مجھے کوئی شخص مار گیا ہے لیکن میں نے بھی اسے خوب مارا ہے۔

نشہ ایسی بُری چیز ہے کہ نشہ کی عادی قوم کوئی کام نہیں کر سکتی۔ زیادہ نشہ والی چیزیں جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں۔ اور جو کم نشہ والی ہوتی ہیں ان سے اگر جسم کو نقصان نہ بھی ہو۔ تو روح کو ضرور ہوتا ہے۔

حُقّہ کی کثرت

ہمارے ملک میں ایک عام نشہ والی چیز حُقّہ ہے۔ یوں تو اس کا نشہ اس طرح نہیں ہوتا جس طرح دوسری نشہ والی چیزوں کا ہوتا ہے۔ مگر اس کی وجہ سے اعصاب بے حس ہو جاتے ہیں۔ امریکہ سے کوئی کم بخت اسے لایا تھا مگر اب تین سو سال کے عرصہ میں اس قدر پھیل گیا ہے کہ قرآن کریم تیرہ سو سال میں اتنا نہیں پھیلا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس میں نشہ ہے۔ حُقّہ پینے والا رمضان میں کہتا ہے کہ میرے پیٹ میں درد پیدا ہو جاتا ہے اگر میں حُقّہ نہ پیوں اور اس طرح رمضان کی برکات سے محروم ہو کر سخت گناہ گار بنتا ہے۔ لوگ پہلے تو اس لئے شروع کرتے ہیں کہ اس سے قبض کھل جاتی ہے۔ مگر پھر ان کی ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ پاخانہ میں بیٹھ کر تین تین دفعہ چلمیں بھرواتے ہیں۔ ایک شاعر کے متعلق لکھا ہے کہ وہ پاخانہ میں بیٹھ کر حُقّہ کی نال اپنے منہ میں لے لیتا اور کئی کئی چلمیں پی جاتا۔ بظاہر حُقّہ پینے والا سمجھتا ہے کہ اس سے طاقت آتی ہے مگر کیا جو لوگ حُقّہ نہیں پیتے وہ پینے والوں سے کمزور ہوتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ ہر حُقّہ پینے والا شخص پچھلی عمر میں کھانستا ہی رہے گا اور حُقّہ پینے والوں کو ہمیشہ کھانسی کا عارضہ لاحق رہے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو چیز جسم کو سُن کر دیتی ہے وہ آخر میں اعصاب کو ڈھیلا اور کمزور کر دیتی ہے اور طاقت زوال کی طرف آجاتی ہے۔ حُقّہ صحت کے لئے سخت مضر ہے۔ لوگوں نے پہلے یورپ والوں کو تمباکو استعمال کرتے دیکھا اور پھر حقہ کے رنگ میں اس کی ایجاد کر لی۔ اور یہ اس قدر پھیل گیا ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل فرماتے کہ مکہ کی کوئی شادی ایسی نہیں ہوتی جس میں ہر ایک کے لئے ایک حُقّہ نہ رکھا جاتا ہو۔ پھر ہمارے ملک میں بھی پھیلا ہوا ہے اور کئی رنگ میں پھیلا ہوا ہے۔

ایک سفر میں ایک پٹھان ہمارے ساتھ تھا۔ ایک جگہ اس کی نسوار کی ڈبی گر گئی۔ وہ ایسا پریشان ہوا کہ راستہ میں جو شخص ملتا۔ بڑی لجاجت سے اس سے پوچھتا کہ تمہارے پاس نسوار ہے؟ حالانکہ پٹھان اور لجاجت کیا؟ مگر وہ ایسا گھبرایا ہوا پھرتا کہ اگر کوئی اسے مار بھی لیتا اور نسوار دے دیتا تو شاید وہ اسے یہی کہتا کہ میں تمہارا غلام ہوں۔ پھر ایک سخت گندے شہر میں پہنچ کر جب اس کو نسوار مل گئی تو کہنے لگا اس شہر کو گندہ کیوں کہا جاتا ہے؟ اس سے تو مجھے نسوار مل گئی ہے اس کے نام کے ساتھ تو شریف کا لفظ لگانا چاہئے۔

اس کے نشہ کی عادت ایسی خطرناک ہوتی ہے کہ بعض دفعہ لوگ اس کی ایسی عادت ڈال لیتے ہیں کہ اس کا چھوڑنا طبی طور پر بھی خطرناک ہو جاتا ہے اور بڑی احتیاط چاہتا ہے۔ ایک دوست نے جب نسوار چھوڑی تو اس کے حلق میں زخم ہو گیا۔ پھر یہ اس لئے بھی بری ہے کہ انسان ہو کر ایسی بے جان چیزوں کی غلامی اختیار کرنی پڑتی ہے۔ ایک انسان درختوں کے پتے کھا کر پیٹ بھر سکتا ہے مگر نشوں کے بغیر نہیں رہ سکتا اور ان کی بدترین غلامی اختیار کرنی پڑتی ہے۔

یہاں ایک ایسا گندہ اسلام کا دشمن تھا جو فخریہ کہا کرتا تھا کہ میں بچپن میں ہی سمجھا کرتا تھا کہ کبھی جھکنا کبھی سر ٹیکنا یعنی نماز پڑھنا ایک فضول بات ہے اور اب تو میں دانا اور عقلمند ہوں اور ان حرکات کی لغویت کو خوب اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ اس کے پاس کئی لوگ حُقّہ پینے کے لئے جا بیٹھتے۔ وہ حضرت مسیح موعودؑ کو بُرا بھلا کہتا رہتا اور وہ سر جھکائے سنتے رہتے۔ اس سے بدترین غلامی اور کیا ہوگی۔

نشہ والے دوسروں کو نشہ میں کیوں شریک کرتے ہیں؟

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ نشے والے دوسروں کو بھی اس چیز میں شریک کرنا چاہتے ہیں جو خود استعمال کرتے ہیں۔ ایک معزز دوست کے ہاں ایک دفعہ ان کے ایک بھائی صاحب ملنے کے لئے آئے۔ ایک کمرہ میں ان کا بچہ اور چند اور احمدی بیٹھے تھے۔ ان صاحب نے افیون کی ڈبیہ نکالی اور سب کے آگے پھرائی۔ جب کسی نے بھی اس میں سے کچھ نہ لیا تو اس نے بڑے افسوس سے کہا کیا کوئی بھی نہیں کھاتا ؟

اس قسم کی باتوں کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ نشے کے عادی دوسروں کو کیوں وہی چیز کھلانے کی کوشش کرتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ وہ سب کو نشہ لگانا چاہتے ہیں کہ سب جگہ اس نشہ والے موجود ہوں اور جہاں وہ جائیں انہیں وہ نشہ والی چیز میسر آسکے۔ گویا وہ اپنے فائدہ کے لئے ساری دُنیا کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔

حقّہ پینا چھوڑ دو

میں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم میں سے جو لوگ حقّہ پینے کی عادت رکھتے ہیں وہ چھوڑ دیں ۔ اور اگر خود نہ چھوڑ سکیں تو اپنے بچوں میں اس عادت کو نہ جانے دیں۔ اول تو ہم یہی چاہتے ہیں کہ حقہ کی عمر ان کی عمر سے چھوٹی ہو یعنی وہ اپنی زندگی میں ہی حقہ کا خاتمہ کر دیں ۔ لیکن اگر انہیں اتنا ہی عزیز ہے کہ جیتے جی نہیں چھوڑنا چاہتے تو اپنی عمر کے ساتھ ہی اس کا بھی خاتمہ کریں اور اپنے پیچھے اپنے بچوں میں اسے نہ چھوڑیں۔ لوگ اول اول تو تھوڑی سی تکلیف سے بچنے کے لئے بچے کو کہتے حقہ سلگا دو۔ مگر چونکہ یہ نشہ ہے اس کو بھی لگ جاتا ہے اور وہ بھی اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ تمہیں چاہئے کہ اپنے بچوں تک اس بُری عادت کو ہرگز نہ جانے دو۔ یہ ایک لعنت ہے اور ایسی لعنت ہے کہ روٹی کے لئے نہیں مگر اس کے لئے گندی سے گندی اور ذلیل سے ذلیل مجلس میں جانا پڑتا ہے۔ اوّل تو میں یہی کہوں گا کہ ہر ایک اسے چھوڑ دے ورنہ جن کی عمر تیس سال تک کی ہے وہ تو ضرور چھوڑ دیں۔ اور جن کی عمر تیس اور چالیس کے درمیان ہے وہ بھی چھوڑنے کی کوشش کریں۔ اور جو اس سے بڑی عمر کے ہیں وہ اگر نہ چھوڑ سکیں تو اپنی اولاد کو ضرور یہ کہیں کہ

من نہ کردم شما حذر بکنید

احمدی لڑکیوں کے رشتوں سے متعلق ہدایت

پانچویں بات جو اس زمانہ میں ہماری جماعت کے لئے نہایت ضروری ہے وہ غیر احمدی کو رشتہ نہ دینا ہے۔ جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے وہ یقیناً حضرت مسیح موعودؑ کو نہیں سمجھتا۔ اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے؟ کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا کسی عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو مگر اس معاملہ میں وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دے دیتے ہو۔ کیا اس لئے دیتے ہو کہ وہ تمہاری قوم کا ہوتا ہے؟ مگر جس دن سے کہ تم احمدی ہوئے تمہاری قوم تو احمدیت ہو گئی۔ شناخت اور امتیاز کے لئے اگر کوئی پوچھے تو اپنی ذات یا قوم بتا سکتے ہو۔ ورنہ اب تو تمہاری قوم تمہاری گوت تمہاری ذات احمدی ہی ہے۔ پھر احمدیوں کو چھوڑ کر غیر احمدیوں میں کیوں قوم تلاش کرتے ہو۔ مومن کا تو یہ کام ہوتا ہے کہ جب حق آجائے تو باطل کو چھوڑ دیتا ہے۔ اس کے متعلق میں ایک مثال سناتا ہوں۔

حضرت عمرؓ کو شعروں کا بہت شوق تھا۔ طبائع کو بعض امور سے کچھ مناسبت ہوتی ہے میری طبیعت کو بھی اشعار سے مناسبت ہے۔ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے ایک علاقہ کے گورنر کو لکھا کہ اس علاقہ کے بڑے بڑے شاعروں کے کلام بھجواؤ۔ اس علاقہ میں دو بڑے شاعر تھے۔ ایک کا نام لبید تھا یہ عرب کے بہت بڑے شاعر تھے اور بڑھاپے کی آخر عمر میں اسلام لائے اور اسلام میں بھی بہت لمبی عمر پائی۔ اور دوسرا ایک اور شاعر تھا۔ گورنر نے ان کو بلا کر کہا کہ قصیدے بنا کر دو کچھ دنوں کے بعد ایک نے تو بنا کر دے دیا مگر لبید جو بہت اعلیٰ درجہ کے شاعر تھے جب ان کو کہا گیا کہ قصیدہ سناؤ تو انہوں نے اس طرح پڑھنا شروع کیا۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ الٓـمّٓ ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَیُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ(البقرة: ۱ تا ۴) گورنر نے کہا یہ تو قرآن ہے۔ شعر سناؤ انہوں نے پھر یہی آیات پڑھیں ۔ تیسری بار پھر کہا تو بھی یہی پڑھا اور کہا جب سے یہ کلام آیا ہے میں شعر کہنا بھول گیا ہوں (الاصابة فی تمييز الصحابة جلد ۳ صفحہ ۳۲۶ مطبوعہ ۱۳۲۸ھ بیروت) وہ اپنے زمانہ میں سب سے بڑے شاعر تھے مگر انہوں نے کہہ دیا کہ جب سے قرآن سنا ہے شعر کہنا چھوڑ دیا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ اس زمانہ میں شعر فخر و مباہات کے لئے کہے جاتے تھے دین کے لئے بہت کم کہے جاتے تھے اس لئے انہوں نے چھوڑ دیئے ۔

جس طرح وہاں قرآن کریم کے آنے پر شعر کہنے چھوڑ دیئے گئے تھے اسی طرح اب حضرت صاحبؑ کے آنے پر سب پہلے رشتے چھوڑ دو اور اسی کو اپنا رشتہ دار سمجھو جو حضرت صاحب کے ذریعہ تمہارا بھائی بنا ہے۔

حضرت صاحب نے بہت صاف اور واضح طور پر فرمایا ہے کہ غیر احمدیوں کو لڑکی دینا گناہ ہے ہاں لینا جائز ہے۔ پس جب حضرت صاحب لڑکی دینے کو گناہ قرار دیتے ہیں تو پھر تم کس طرح دیتے ہو ؟ مگر ایسے ہیں جو دیتے ہیں اور عجیب عجیب عذر پیش کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے وعدہ کیا ہوا

تھا اسے پورا کرنا ضروری تھا ۔ لیکن میں کہتا ہوں کیا اگر کسی نے مندر کے بُت کے آگے سجدہ کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہو تو اس کے لئے پورا کرنا ضروری ہوگا ؟ اگر نہیں تو پھر تمہارے اس وعدہ کے پورا کرنے کا کیا مطلب؟ بہت لوگ ان وعدوں کو تو پورا نہیں کرتے جو خدا تعالیٰ سے انہوں نے کئے ہوتے ہیں اور فرائض کو بڑی دلیری سے توڑتے ہیں مگر وہ بات جسے ان کا دل چاہے اس کے لئے وعدہ کا عذر گھڑ لیتے ہیں ۔ میں نے کئی دفعہ سنایا ہے ایک لڑکا ریوڑیاں کھا رہا تھا اور بڑی حرص سے کھا رہا تھا میں نے اس کو کہا اس طرح کیوں کھاتے ہو ؟ اس نے کہا مجھے ریوڑیاں بہت پسند ہیں کیونکہ حضرت صاحبؓ بھی کھایا کرتے تھے ۔ میں نے کہا حضرت صاحبؓ تو کونین بھی کھایا کرتے تھے کیا تم بھی کھاتے ہو؟ اس کا اس نے کوئی جواب نہ دیا ۔ تو اکثر لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جس بات کے کرنے کو ان کا نفس چاہتا ہے ۔ اس کے کئی بہانے گھڑ لیتے ہیں اور جس کو نہ چاہے وہ خواہ کیسی ضروری بات ہو اس کو نہیں کرتے ۔ تمہیں غیر احمدیوں کو لڑکی دینے کے معاملہ میں اپنے نفس کی ہرگز اطاعت نہ کرنی چاہئے بلکہ ہر حال میں حضرت صاحبؑ کے حکم کو ماننا چاہئے ۔

غیر احمدی کا جنازہ

چھٹی بات غیر احمدیوں کے جنازے پڑھنا ہے۔ ایسے لوگ ہیں جو جنازے پڑھتے ہیں یہ ایک خطرناک غلطی ہے ۔ میں کہتا ہوں اگر تمہارا یہ خیال ہو کہ تمہارے جنازہ پڑھنے سے مُردہ بخشا جائے گا تو تمہیں معذور سمجھا جاسکتا ہے لیکن کیا تم خیال کرتے ہو کہ تمہارے جنازہ پڑھنے سے وہ غیر احمدی بخشا جاتا ہے؟ یا تم اس بات کے ذمہ دار ہو کہ وہ جہنم سے بچ جائے اگر نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ تم کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھتے ہو؟ کیا یہی نہیں کہ تم رشتہ داروں یا تعلق والوں کا منہ رکھتے ہو اور کہتے ہو اگر جنازہ نہ پڑھا تو ان کو کیا منہ دکھائیں گے ؟ حالانکہ وہی منہ دکھانا قابلِ عزت و فخر ہو سکتا ہے جو بے عیب ہو۔ مگر جو کافر کا جنازہ پڑھتا ہے ۔ اور خدا کے نبی کو گالیاں دینے اور جھٹلانے والے کا جنازہ پڑھتا ہے اس کا منہ تو چھپانے کے قابل ہے نہ کہ دکھانے کے قابل ۔ تم منہ دکھانے کے قابل اسی وقت ہو سکتے ہو جب خدا کے دین کی محبت تمہارے اندر ہو۔ اگر تمہاری ایسی حالت ہو اور میناروں پر چڑھ کر بھی اپنے منہ دکھاؤ تو بھی جائز ہے ۔ مگر جب تم خدا کا کوئی حکم توڑتے ہو تو تمہیں غاروں میں گھس کر چھپنا چاہئے ۔ کیونکہ تم علی الاعلان سینکڑوں آدمیوں میں جا کر عملی طور پر کہتے ہو کہ مرزا صاحبؒ کے متعلق جو عقیدہ ہے وہ غلط ہے پس اس فعل سے بچو۔

یہ تو ترکِ شر کی باتیں تھیں جو میں نے بیان کی ہیں۔ اب دوسرا حصہ لیتا ہوں جو اعمالِ خیر

کرنے کے متعلق ہے۔

نماز باجماعت پڑھو

اوّل حکم نماز کا ہے۔ یہ اسلام کا بھی پہلا حکم ہے اور میں نے بھی اس کو پہلے ہی رکھا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو عملی باتوں کی جان قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے جس کی نماز نہیں اس کا دین نہیں۔ مگر میں افسوس سے کہوں گا کہ آپ میں سے بہت لوگ ہیں جو اس کی طرف پوری پوری توجہ نہیں کرتے ہیں۔ ایسے لوگ تو احمدیوں میں بہت ہی کم ہوں گے جو بالکل نماز پڑھتے ہی نہ ہوں۔ مگر ایسے ہیں جو گنڈے دار نماز پڑھتے ہیں۔ ایک آدھ نماز پڑھ لیں گے باقی نہیں پڑھیں گے۔ یا شیعوں کی طرح جمع کر کے نمازیں پڑھ لیں گے۔ پھر ایسے ہیں جو گھر میں نماز پڑھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں نماز ہوگئی۔ لیکن کیا آپ لوگوں میں سے جو لوگ دفتروں میں ملازم ہیں وہ اس طرح کر سکتے ہیں کہ دفتر نہ جائیں ؟ اور گھر میں ہی رجسٹر لے کر بیٹھ رہیں کہ کام ہی کرنا ہے وہ گھر میں کر لیا ہے۔ اگر اس طرح کوئی کرے تو اس کی ملازمت قائم نہ رہے گی۔ میں پوچھتا ہوں اگر دفتر کا کام گھر میں بیٹھ کر کرنے سے منظور نہیں کیا جاتا تو نماز گھر میں پڑھ لینے سے کیونکر منظور ہوسکتی ہے ؟ نماز تو باجماعت ہی ہوگی۔ بے شک مجبوریوں کو مدّنظر رکھ کر گھر میں نماز پڑھ لینے کو جائز کر دیا گیا ہے اور اس حالت میں الگ بھی نماز پڑھ لی جاسکتی ہے۔ مثلاً اگر دفتر میں کام کرتے ہوئے نماز کا وقت آجائے تو بے شک وہاں پڑھ لو۔ مگر جہاں کوئی مجبوری نہیں اس حالت کے متعلق میرا یہی عقیدہ ہے کہ نماز نہیں ہوتی۔ میں چار سال سے نماز باجماعت پڑھنے کے لئے کہہ رہا ہوں اور اب بھی کہتا ہوں۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ یہ بات جو پورے وثوق اور پورے یقین کے ساتھ میں سمجھتا ہوں اس کے متعلق مرتے دم تک کبھی میرا خیال بدلے۔ سچی اور پکی بات یہ ہے کہ جو شخص مسجد میں جاسکتا ہے مگر نہیں جاتا اور گھر میں نماز پڑھ لیتا ہے اس کی نماز نہیں ہوتی۔ وہ قیامت کے دن جا کر دیکھے گا کہ کوئی نماز اسے نہیں ملے گی اور کوئی ملے گی۔ وہ حیران ہو کر کہے گا کہ میری باقی نمازیں کہاں گئیں؟ مگر اسے کہا جائے گا کہ باقی نمازیں تم نے پڑھیں کب تھیں ؟ تو ایسے لوگ اس وقت حیران ہوں گے۔ مگر میں انہیں اب بتاتا ہوں کہ ان کی وہ نمازیں جو بغیر کسی عذر کے وہ جماعت کے ساتھ نہیں پڑھتے بلکہ گھروں میں پڑھتے ہیں نہیں ہوتیں اور اس وقت ان کا کوئی عذر نہیں سنا جائے گا اور نہ قبول کیا جائے گا خدا کے حضور ان کی نمازیں نہیں لکھی جاتیں۔ صرف انہی کی لکھی جاتی ہیں جو باجماعت نماز پڑھتے ہیں سوائے اس کے کہ مجبور ہوں مسجد میں نہ جا سکتے ہوں۔ مثلاً کوئی بیمار ہو یا کہیں ملازم ہو۔

ملازم کو یہ دیکھ لینا چاہئے کہ اگر اسے کوئی ایسی ملازمت مل سکتی ہے جس میں باجماعت نماز پڑھنے کا موقع ہے تو اسے ترجیح دینی چاہئے۔ بعض دفعہ ملازموں کو ان کے افسر نماز نہیں پڑھنے دیتے ایک افسر تھا وہ ایک احمدی کو نماز نہیں پڑھنے دیتا تھا۔ اس نے ملازمت چھوڑ دی اور دوسری جگہ کرلی۔ دوسری جگہ اسے ایسا انگریز افسر ملا جس نے خود مُصَلّٰی لا کر دیا اور کہا اس پر میرے سامنے نماز پڑھا کرو۔ تو جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے کوئی کام کرتا ہے خدا تعالیٰ خود اس کا انتظام کر دیتا ہے۔

یہ تو مجبوری کی حالت کے متعلق ہے۔ مگر ایسے لوگ ہیں جو بغیر کسی مجبوری کے سُستی اور کاہلی سے مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کے لئے نہیں آتے۔ ان کی نہ نمازیں ہوتی ہیں اور نہ انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔ بتاؤ اس شخص کی نسبت تم کیا کہو گے؟ جس کے مکان کی ایک دیوار گری ہوئی ہو اور وہ کہے کہ رات کو کوئی میرا اسباب لے جاتا ہے کچھ پتہ نہیں لگتا کہ کیونکر لے جاتا ہے؟ اسی طرح اس شخص کی حالت ہے جو نماز تو باجماعت نہیں پڑھتا اور کہتا ہے کہ مجھے تقویٰ و طہارت حاصل نہیں ہوتی۔ مجھ پر حقائق اور معارف نہیں کھلتے۔ تم لوگ اپنے وقت کا حرج کرکے اور ایک حد تک نقصان بھی برداشت کرکے باجماعت نمازیں پڑھو۔ ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ مسجد سے بہت دُور ہوں جیسا کہ لاہور کے رہنے والے ہیں کہ کوئی شہر کے کسی حصہ میں رہتا ہے اور کوئی کسی حصہ میں۔ مگر میں کہتا ہوں کیوں قریب قریب کے دس پندرہ آدمی مل کر ایک جگہ معین نہیں کر لیتے کہ وہاں جمع ہو کر نماز پڑھ لیا کریں؟ کوئی اس بات کے لئے مجبور نہیں کرتا کہ سارے کے سارے ایک جگہ جمع ہو کر نماز پڑھیں۔ سو سو گز کا حلقہ بنا لیا جائے اور اس حلقہ میں رہنے والے ایک جگہ جمع ہو کر نماز پڑھ لیا کریں۔ یہ کوئی مُشکل بات نہیں ہے۔

نماز کا ترجمہ سیکھو

پھر نماز کا ترجمہ سیکھو اور سمجھ کر پڑھو تاکہ نفع حاصل ہو۔ یہ کوئی مشکل امر نہیں بلکہ بالکل آسان ہے۔ وہ لوگ جو نماز کا ترجمہ نہیں سیکھتے کیا انہیں خیال نہیں آتا کہ اگر کوئی شخص کسی جگہ کا راستہ پوچھے اور اسے انگریزی میں بتا دیا جائے حالانکہ وہ انگریزی کا ایک لفظ بھی نہ سمجھتا ہو تو وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ اسی طرح وہ شخص جس کے لئے موقع ہے کہ نماز کا ترجمہ اور معنی پڑھے۔ مگر وہ نہیں پڑھتا۔ وہ بھی نماز کے ذریعہ اس جگہ نہیں پہنچ سکتا جہاں نماز پہنچاتی ہے۔

پس تم نماز باجماعت پڑھو اور پانچوں وقت پڑھو سوائے اس وقت کے جو دفتر میں آجائے یا جہاں جماعت کا انتظام نہ ہو سکتا ہو۔ اور سمجھ کر پڑھو تاکہ اس کا تمہیں فائدہ ہو۔ دفتر کا عذر بھی ظہر اور عصر کی نماز کے متعلق ہو سکتا ہے باقی نمازوں کے لئے نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر تم ان اوقات میں باجماعت نماز پڑھو گے تو خدا تعالیٰ ایسا تغیر کر دے گا کہ تمہارے افسر مسلمان ہو جائیں گے اور وہ تمہارے ساتھ نماز پڑھا کریں گے۔ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ وہ اوقات جن میں تم باجماعت نماز پڑھ سکتے ہو ان میں بھی نہ پڑھو۔ اگر تم ان اوقات میں بھی نماز باجماعت نہیں پڑھتے تو دوسرے اوقات کے لئے خدا تعالیٰ کو کس طرح غیرت آئے کہ تمہارے لئے کوئی سامان کر دے؟

روزے رکھو

دوسرا عمل جو اصلاح نفس سے تعلق رکھتا ہے۔ روزہ ہے۔ روزہ بھی انسان کے نفس کو اس طرح پاک کرتا ہے جس طرح نماز پاک کرتی ہے اور یہ چٹیاں نہیں ہیں۔ جس طرح عیسائی کہتے ہیں کہ شریعت لعنت ہے۔ اس کی مثال تو ایسی ہی ہوگی کہ کسی شخص کو نمونیا ہو ڈاکٹر اسے کہے فلاں نسخہ استعمال کرو مگر وہ روئے اور چلائے کہ نسخہ تو لعنت ہے اسے میں کیوں استعمال کروں؟ کیا اس کے لئے نسخہ لعنت ہو گا یا رحمت؟ کوئی شخص بھی اسے لعنت نہیں کہے گا۔ اسی طرح شریعت لعنت نہیں بلکہ رحمت ہے۔ چنانچہ نماز کے لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡکَرِ(العنکبوت: ۴۶) کہ نماز چونکہ بدیوں سے روکتی ہے ۔ اس لئے ہم اس کا حکم دیتے ہیں۔ اسی طرح روزہ کے متعلق فرمایا۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ(البقرة: ۱۸۴)

کہ روزہ کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ تم متقی ہو جاؤ۔ تو روزہ کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ اس کے ذریعہ تم گناہوں سے بچ جاؤ گے ۔ پس روزہ چٹی نہیں بلکہ متقی بننے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ مگر بہت لوگ ہیں جو اسے چٹی خیال کرتے ہیں۔ انگریزی تعلیم یافتہ بالعموم ایسا سمجھتے ہیں اور ان میں روزہ کا بہت کم رواج ہے۔ اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ جو زمیندار طبقہ کے لوگ ہیں وہ بھی روزہ کی طرف کم توجہ کرتے ہیں اور اسی تلاش میں رہتے ہیں کہ روزے سے بچنے کا فتویٰ مل جائے۔ اور اسی طرح جس طرح حضرت صاحب کے پاس بعض لوگ یہ کوشش کیا کرتے تھے کہ سود کی اجازت مل جائے اور اس کے لئے عجیب عجیب عذرات پیش کیا کرتے۔ حتیٰ کہ ایک شخص نے کہا کہ اگر روپیہ بنک میں نہ رکھیں تو گھر میں چوری ہونے کا خطرہ ہوتا ہے اور بنک میں رکھیں تو سود ملتا ہے اگر سود نہ لیں تو عیسائیت کی تبلیغ میں خرچ کیا جاتا ہے کیا اس کو بھی نہ لیں؟ آپؐ نے فرمایا تم خود نہ لو بلکہ اشاعتِ اسلام کے لئے دے دو۔ ایک شخص نے حضرت صاحب کی وفات پر کہا۔ واہ مرزیا! مرگیٹوں پر سود جائز نا ہی کیتا۔ تو شریعت نے جو حکم دیا ہے اسے کوئی بدل کس طرح سکتا ہے؟ اگر کوئی شریعت کے خلاف فتویٰ دے بھی دے تو بھی شریعت کا حکم نہیں چھوڑا جاسکتا پس میں روزہ کے متعلق خاص طور پر نصیحت کرتا ہوں اس کی قدر کرو اور اس پر عمل کرو۔

علم حاصل کرو

تیسری بات علم کا سیکھنا ہے۔ مومن کبھی جاہل نہیں ہو سکتا۔ ا۔ ب۔ ت پڑھا ہوا نہ ہو تو ہو۔ مگر علم سے جاہل نہیں ہو سکتا۔ کیا حضرت صاحب کتابی علم اس زمانہ کے مولویوں سے زیادہ جانتے تھے؟ مولوی تو ان کے متعلق یہی کہتے تھے کہ منشی ہے لکھنا جانتا ہے۔ علم اس کے پاس کہاں ہے؟ مگر کیا یہ درست نہیں کہ آپؑ نے ہر علمی مقابلہ میں ان علم جاننے والوں کو شکست دی؟ پھر یہی نمونہ حضرت مولوی صاحب کے زمانہ میں تھا اور پھر اب بھی یہی ہے۔ میں نے کوئی امتحان پاس نہیں کیا ہر دفعہ فیل ہی ہوتا رہا ہوں۔ مگر اب میں خدا کے فضل سے کہتا ہوں کہ کسی علم کا مدعی آجائے اور ایسے علم کا مدعی آجائے جس کا میں نے نام بھی نہ سُنا ہو اور اپنی باتیں میرے سامنے مقابلہ کے طور پیش کرے اور میں اسے لاجواب نہ کر دوں تو جو اس کا جی چاہے کہے۔ ضرورت کے وقت ہر علم خدا مجھے سکھاتا ہے اور کوئی شخص نہیں ہے جو مقابلہ میں ٹھہر سکے۔ ابھی سورۃ الناس کی تفسیر جو میں نے سنائی ہے۔ یہ الہام ہی کے ذریعہ مجھے بتائی گئی ہے۔ حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ اس میں گورنمنٹ کی وفاداری کی تعلیم دی گئی ہے۔ میں نے بہت غور کیا مگر یہ بات میری سمجھ میں نہ آتی تھی کہ کس طرح اس میں گورنمنٹ کی وفاداری کی تعلیم دی گئی ہے؟ لیکن اسی جگہ جب میں نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو سجدہ میں جاتے ہوئے ایک سیکنڈ میں ساری تفسیر اس طرح میرے قلب میں ملا دی گئی جس طرح شکر دودھ میں ملا دی جاتی ہے اور جو کچھ میں نے بیان کیا ہے یہ اس میں سے بہت مختصر طور پر بیان کیا ہے۔ ورنہ دُنیا کے سارے موجودہ مفاسد کے متعلق اس کی نہایت لطیف تفسیر بیان کی جاسکتی ہے۔

پس تم دین کا علم حاصل کرو۔ بے شک دُنیا کا علم بھی ضروری ہے مگر دین کا اس کے ساتھ ضرور ہو۔ اب جو لوگ دُنیا کا علم حاصل کر لیتے ہیں وہ اپنا حق سمجھ لیتے ہیں کہ مذہبی مسائل پر بھی بولیں لیکن یہ غلط بات ہے۔ تم ظاہری علوم بھی پڑھو مگر ان کے ساتھ دین کا علم بھی ضرور سیکھو اور اس قدر سیکھو کہ خدا کی طرف سے باتیں سمجھنے کی اہلیت تم میں پیدا ہو جائے ۔

جیسا کہ میں ابھی کہہ آیا ہوں۔ مومن جاہل نہیں ہو سکتا۔ مگر جاہل نہ ہونے سے میری یہ مراد نہیں کہ خط پڑھ سکتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خط نہ پڑھ سکتے تھے مگر ان سے بڑا عالم کون تھا یا کون ہوگا؟ ساری دُنیا کے عالم آپؐ کی جوتیاں اُٹھا کر رکھنے کے بھی قابل نہ تھے۔ تم بے شک ظاہری علوم پڑھو مگر دین کا علم ضرور حاصل کرو اور اپنے اندر دین کی باتیں سمجھنے اور اخذ کرنے کا ملکہ پیدا کرو۔

اس کے لئے ایک تو قرآنِ کریم سیکھو اور دوسرے حضرت صاحبؑ کی کتابیں پڑھو! اور خوب یاد رکھو کہ حضرت صاحبؑ کی کتابیں قرآن کی تفسیر ہیں۔ کل میں ان کے متعلق ایک خاص نکتہ بتاؤں گا آج صرف اتنا ہی کہتا ہوں کہ وہ قرآن کی تفسیر ہیں ان کو پڑھو۔

خدا کی محبت دل میں پیدا کرو

چوتھی نصیحت میں آپ لوگوں کو یہ کرنی چاہتا ہوں کہ خدا اور اس کی محبت کے مقابلہ میں باقی سب کچھ ہیچ ہے۔ آپ لوگ کہیں گے ہم مسلمان ہیں پھر خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کیوں نہ ہوگی۔ مگر بہت لوگ ہوتے ہیں جن میں حقیقی محبت بہت کم ہوتی ہے۔ ان کا اعتقاد خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق عقلی یا رسمی ہوتا ہے۔ مگر احمدیوں کا ایسا اعتقاد نہیں ہونا چاہئے۔ تمہارا خدا تعالیٰ سے محبت کا وہ تعلق ہونا چاہئے جو ماں کو بچہ سے ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کو بھی عقلی کہا جا سکتا ہے مگر یہ عقلی سے اوپر کا درجہ رکھتا ہے۔

پس تمہیں اللہ تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا محبت کا تعلق ہو کہ جب ان کے خلاف کوئی بات سنو تو یہ نہ ہو کہ عقلی اور رسمی لحاظ سے تمہارے اندر جوش پیدا ہو۔ بلکہ اس طرح جوش اور محبت پیدا ہو جس طرح تمہارے ماں باپ کو جب کوئی نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو اس وقت ان کی محبت تمہارے دل میں جوش مارتی ہے۔ یہ تو ضروری بات ہے کہ جس کا باپ مارا جائے گا اس کو نقصان پہنچے گا۔ مگر کوئی شخص اس نقصان کی وجہ سے اپنے باپ کے دشمن سے نہیں لڑتا بلکہ اس سے لڑتا ہے کہ وہ اس کا باپ ہے۔ پس تم ان اعتراضات کا جو خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعودؑ پر کئے جائیں اس لئے دفاع نہ کرو کہ تمہیں ان سے عقلی یا رسمی لحاظ سے تعلق ہے۔ بلکہ اس لئے کرو کہ تمہیں ان سے الفت اور محبت ہے اور ان کی محبت تمہارے رُواں رُواں میں رچی ہوئی ہے۔

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم لوگوں کو گالیاں دیتے پھرو یا ان سے لڑنا شروع کر دو۔ میں تمہیں پہلے بتا چکا ہوں کہ کسی سے درشتی نہ کرو۔ ہاں میں یہ کہوں گا کہ جب تم خدا یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا مسیح موعودؑ کے خلاف کوئی بات سنو تو تمہارے سر سے لے کر پاؤں تک ایک شعلہ نکل جائے ۔ اور تم جواب دینے کے لئے کھڑے ہو جاؤ ۔ تمہارا تعلق ایسا ہونا چاہئے کہ جس وقت کوئی شخص خدا تعالیٰ یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا مسیح موعودؑ یا وہ لوگ جو تمہارے لئے واجب الادب ہیں ان کے خلاف کوئی بات سنو تو اس وقت تمہارے جسم میں غیرت اور نفرت کی لہر چلنی چاہئے اور تمہارا جسم کانپ اٹھنا چاہئے ۔ پھر جب تم اس لہر اور جوش کو دباؤ گے اور روکے رکھو گے تو تمہیں بہت بڑا فائدہ ہو گا اور تم بڑے بڑے کام کر سکو گے ۔ یہ نہیں کہ ایسے وقت میں تمہارے اندر غیرت اور حمیت کی لہر ہی پیدا نہ ہو ۔ اگر ایسا ہو گا تو یہ بے غیرتی ہو گی جو ذلیل ترین چیز ہے ۔

قادیان آؤ

پانچویں بات جو ان چاروں باتوں میں ممد ہو گی وہ قادیان کی آمد ہے ۔ اس کے لئے میں نے بار بار کہا ہے اور اب بھی کہتا ہوں ۔ کیونکہ یہاں کی آمد میں بے شمار فوائد ہیں اور یہ بہت بڑی نعمت ہے اگر کوئی اس پر غور کرے ۔ کیونکہ یہ ان باتوں کے لئے ممد ہے جو میں نے بیان کی ہیں ۔

قادیان آنے کا ایک فائدہ

ایک تو اس طرح کہ خدا تعالیٰ نے قادیان کو اسلام کی ترقی کا مرکز بنا دیا ہے اور یہ قدرتی بات ہے کہ جو چیز مرکز سے جس قدر قریب ہو گی وہ اس سے جو دُور ہو گی اتنی ہی زیادہ مضبوط ہو گی ۔ وہی لکڑی کمزور ہو گی اور وہی کٹیگی جو مرکز سے دُور ہو گی اور جس کا مرکز سے کم تعلق ہو گا اسی طرح مرکز سے تعلق رکھنے والا انسان ہلاکت سے بچا رہتا ہے ۔ دیکھو وہ بچہ جو ماں کی گود میں ہے اس کی نسبت ہلاکت سے زیادہ بچا ہوا ہے جو کھیل رہا ہے ۔ پھر وہ بچہ جو گھر میں کھیل رہا ہے اس کی نسبت ہلاکت سے زیادہ بچا ہوا ہے جو گلی میں کھیل رہا ہے اور جو گلی میں کھیل رہا ہے وہ اس کی نسبت ہلاکت سے زیادہ بچا ہوا ہے جو گاؤں کے کسی دوسرے حصہ میں کھیل رہا ہے اور جو گاؤں کے کسی دوسرے حصہ میں کھیل رہا ہے وہ اس کی نسبت زیادہ ہلاکت سے بچا ہوا ہے جو گاؤں سے باہر کھیل رہا ہے ۔ خدا تعالیٰ نے قادیان کو مرکز قرار دیا ہے اور اسے اُمّ کہا ہے پس اس سے جتنا جتنا زیادہ کوئی تعلق رکھے گا اُتنا ہی زیادہ خطرات سے بچا رہے گا ۔

میں نے اس طرف اپنی جماعت کے لوگوں کو بہت دفعہ توجہ دلائی ہے اور توجہ ہوئی بھی ہے مگر غرباء میں سے تو ایسے لوگ ہیں جو چار پانچ چھ دفعہ سال میں یہاں آئیں گے لیکن امراء نہیں آتے ۔ وہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم بڑے ہو گئے ہیں ہمیں جانے کی کیا ضرورت ہے ؟ مگر یاد رکھو بچہ کبھی ماں سے بڑا نہیں ہو سکتا خواہ وہ کتنا ہی بڑا ہو جائے ۔ اگر وہ اپنی ماں کے مقابلہ میں کہتا ہے کہ میں بڑا ہو گیا ہوں تو جاہل ہے نادان ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ باہر گیا ہوا دُودھ بھی فائدہ دے سکتا ہے مگر اتنا نہیں جتنا تازہ دُودھ۔ یہی وجہ ہے کہ نازک اور چھوٹے بچے کے لئے ماں کی چھاتی کا دُودھ خدا تعالیٰ نے رکھا ہے۔ بڑے انسان کو گائے، بھینس کا دُودھ بھی فائدہ دے سکتا ہے مگر چھوٹے بچے کے لئے ماں کا ہی دُودھ فائدہ بخش ہو سکتا ہے۔ تمہاری حالت ابھی چھوٹے بچے کی سی ہے اس لئے تمہیں اس جگہ اگر جسے خدا تعالیٰ نے اُمّ قرار دیا ہے روحانیت کا تازہ بہ تازہ دودھ پینا چاہئے۔

دوسرا فائدہ

دوسرا فائدہ یہاں آنے میں یہ ہو گا کہ ایک تو تم ان کاموں میں جو یہاں ہو رہے ہیں مدد دے کر ثواب حاصل کرو گے۔ دوسرے اوروں کو دیکھ کر روحانی باتوں کے حاصل کرنے کی تحریک ہو گی۔ یہاں تاجر بھی رہتے ہیں مگر نمازوں اور درس کے وقت دوکانیں بند کر کے چلے جاتے ہیں اور سودے والے شکایت کرتے ہیں۔ تو یہاں دوسروں کو دیکھ کر بھی نیک اور دینی باتوں میں حصہ لینے کی تحریک ہوتی ہے۔

تیسرا فائدہ

تیسرا فائدہ یہ ہے تعلقات مابین میں زیادتی ہوتی ہے۔ ایک بھائی کو دوسرے بھائی سے واقفیت پیدا ہوتی ہے۔ جلسہ کے دنوں میں یہ بات پورے طور پر حاصل نہیں ہو سکتی۔ دوسرے دنوں میں جب لوگ آتے ہیں ایک دوسرے کو اپنے حالات اور تکالیف سناتے ہیں تو ایک دوسرے کا ایمان تازہ ہوتا ہے۔ صحابہؓ آپس میں کہا کرتے تھے آؤ ایمان تازہ کریںعهاور یہ اس طرح کہ ایک دوسرے کے حالات سنتے اور فائدہ اُٹھاتے۔ پھر اس طرح ایک دوسرے سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ اس غرض کے لئے بھی قادیان آنا ضروری ہے۔

چوتھا فائدہ

چوتھا فائدہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کو متفرق بھیڑوں کی طرح نہیں بنایا بلکہ ایک انتظام کے ماتحت رکھا ہے۔ ایک شخص کے ہاتھ پر اس نے تمہیں جمع کیا ہے اور وہ خلیفہ ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ جو سامنے رہتا ہے وہ اس سے زیادہ فائدہ اُٹھاتا ہے جو سامنے نہیں ہوتا۔ پھر جو زیادہ خط لکھتا ہے وہ اس سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے جو کم خط لکھتا ہے۔ پھر جو شخص یہاں آکر رہتا ہے اس کی روحانیت کو اس سے زیادہ فائدہ پہنچتا ہے جو یہاں نہیں آتا یا کم آتا ہے۔ چنانچہ میں نے ہر تہجد میں ایک سجدہ قادیان میں رہنے والوں کے لئے دُعا کرنے کے مخصوص کیا ہوا ہے۔ یوں تو وہ دوسری دُعاؤں میں بھی شامل ہو جاتے ہیں مگر ایک سجدہ میں خاص طور پر ان کے لئے دُعا کی جاتی ہے پھر بعض اوقات مجلس میں بیٹھے بیٹھے دعا کی تحریک ہوتی ہے اس

وقت میں اس طرح دُعا کرتا ہوں کہ اوّل ان کے لئے جو اس مجلس میں بیٹھے ہوں پھر ان کو ساتھ ملا کر جو قادیان میں رہتے ہیں پھر ساری جماعت کے لئے اس میں پھر قادیان والے آجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک روحانی اثر ہوتا ہے جو سامنے آنے والے لوگوں پر پڑتا ہے۔ اس کو ہر ایک نہیں سمجھ سکتا۔ مگر یہ تو عام بات ہے کہ جب ڈاکٹر بیمار کے پاس آتا ہے تو بیمار کے چہرہ پر بشاشت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی کہ ڈاکٹر کا اثر اس پر پڑتا ہے۔ اسی طرح دعا کے علاوہ قلب کا ایک اثر ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ بہت سی اصلاح ہوجاتی ہے اور اس اثر کو وہی حاصل کر سکتا ہے جو مجلس میں آکر بیٹھے۔ اور جو مجلس میں نہیں آتا اس پر یہ اثر نہیں ہو سکتا۔ میں نے دیکھا ہے کہ حضرت صاحبؑ کے زمانہ میں بعض ایسے لوگ تھے جو قادیان میں رہتے تھے مگر آپؐ کی مجلس میں نہ آتے تھے پھر انہیں کوئی ابتلاء آگیا۔ تو جو شخص مجلس میں نہیں آتا وہ خواہ زبان سے کچھ بھی نہ بولے دل ہی دل کے ذریعہ اثرات میں سے حصہ لے لیتا ہے۔

پانچواں فائدہ

پانچواں فائدہ یہ ہے کہ خود قادیان، برکات کا موجب ہے اور بعض مقام ایسے ہوتے ہیں جن کا برکات سے خاص تعلق ہوتا ہے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مکہ اور مدینہ کی نمازوں کا اور جگہ کی نمازیں مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ تو مقام سے بھی برکات حاصل ہوتی ہیں اور ہمیشہ ہوتی ہیں۔ دیکھو مکہ کے لوگ اب گندے ہو گئے ہیں مگر مکہ تو خراب نہیں ہو گیا پیغامیوں میں سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ قادیان جا کر کیا لینا ہے؟ مگر وہ نہیں سمجھتے کہ انسان کی برکتوں سے علیحدہ مقام کی بھی برکتیں ہوتی ہیں۔ جو شخص برکت والے انسان سے تعلق رکھتا ہے وہ برکت والے مقام پر جا کر دوہری برکتیں حاصل کرتا ہے اور جو صرف مقام سے تعلق رکھتا ہے وہ ایک طرح کی برکتیں حاصل کرتا ہے اب اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ نعوذ باللہ قادیان میں کوئی انسان برکت والا نہیں رہ گیا تو بھی قادیان تو برکتوں سے خالی نہیں ہو سکتا۔ گندہ انسان اپنا گند اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے نہ کہ یہاں کی برکتیں بھی لے جا سکتا ہے۔ یہ پانچواں فائدہ ہے قادیان آنے کا۔ یہاں کی نماز، یہاں کا روزہ، یہاں کی عبادت، یہاں کا درس باہر کے مقابلہ میں بہت بڑا درجہ رکھتے ہیں۔ یہاں ہی وہ مسجد اقصیٰ ہے جس کی نسبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں نماز پڑھنے کی بہت بڑی فضیلت ہے۔ پھر یہاں ہی وہ مسجد ہے جس میں خدا کا مسیح اُترا۔ پھر یہاں ہی وہ مسجد ہے جہاں راتوں رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس تاریکی کے زمانہ میں آکر اُترے۔ اس اندھیری رات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکلے اور اس جگہ آگئے۔ پس ان برکتوں کی وجہ سے بھی یہ مقام بہت بڑی فضیلت رکھتا ہے۔

چھٹا فائدہ

چھٹا فائدہ یہ ہے کہ انسان پوری طرح اس وقت تک کوئی کام نہیں کر سکتا جب تک اس کام کی اہمیت اس کے ذہن نشین نہ ہو۔ باہر رہ کر پتہ نہیں لگ سکتا کہ کس طرح کوئی کام کرنا ہے؟ خواہ کتنا ہی شور ڈالا جائے اور کتنے ہی زور کے ساتھ آگاہ کیا جائے پھر بھی باہر والوں کو پورا پورا پتہ نہیں لگ سکتا۔ یہاں ایک ایک رات میں ایسا کام آپڑتا ہے کہ جس کی وجہ سے انسان کا خون خشک ہو جاتا ہے۔ مگر اس بات کو وہی سمجھ سکتا ہے جو یہاں رہتا ہو۔

پچھلے ہی دنوں تبلیغ کے رستہ میں ایک روک پیش آگئی۔ اسی سے میری طبیعت خراب ہوگئی۔ عام طور پر مجھے قبض رہی ہے مگر اس کی وجہ سے اسہال شروع ہوگئے۔ اس بات سے باہر کے لوگ بالکل ناواقف ہیں مگر یہاں کے لوگوں میں کسی نہ کسی طرح اس کی بھنک پڑ گئی اور ان پر اس کی اہمیت ظاہر ہوگئی۔

تو یہاں کی ضروریات اور یہاں کے کاموں کی اہمیت وہی سمجھ سکتے ہیں جو یہاں آکر رہیں اور جب یہاں آکر کاموں کی اہمیت سے آگاہ ہوں گے تو ان میں کام کرنے کا جوش اور ولولہ بہت زیادہ پیدا ہوگا۔

ساتواں فائدہ

ساتواں فائدہ یہ ہے کہ بعض باتیں مرکزی اُمور سے تعلق رکھتی ہیں اور انفرادی کاموں کی برکتیں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ دیکھو انفرادی طور پر ایک سپاہی لڑ کر جان بھی دے دیتا ہے مگر ملک اس کی اتنی قدر نہیں کرتا جتنی وزیر جنگ کی کرتا ہے۔ کیونکہ وزیر مرکزی بوجھ کو اُٹھائے ہوئے ہوتا ہے۔ تو باہر جو لوگ کام کرتے ہیں وہ انفرادی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر یہاں جو کام کرتے ہیں وہ مرکزی کام کرکے مرکزی برکات سے فائدہ اُٹھا لیتے ہیں۔ یہاں آنے کی یہ سات برکات ہیں جو نفس کی اصلاح سے تعلق رکھتی ہیں۔

دوسروں کی اصلاح کی کوشش کرو

اپنے نفس کی اصلاح کے بعد دوسری بات دوسروں کو نفع پہنچانا ہے اور یہ چیز بھی دو قسم کی ہے پہلی باتیں تو عمل خیر تھیں اور یہ ایصال خیر ہیں۔ جو دو طرح پر ہوتا ہے۔ ایک جسمانی طور پر اور دوسرا روحانی طور پر جسمانی یعنی جسم کو فائدہ پہنچانا اور رُوحانی یعنی روح کو فائدہ پہنچانا۔

جسمانی کی ایک مثال بیان کرتا ہوں کہ ساری تعلیم بیان کرنے کے لئے وقت نہیں ہے اور یہ زکوٰۃ خیرات اور چندہ دینا ہے جنہیں شریعت نے ضروری قرار دیا ہے۔

زکوٰۃ کی فرضیت

زکوٰۃ تو ایسی ضروری چیز ہے کہ جو نہیں دیتا وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکرؓ کے زمانہ میں جب کچھ لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ۔ خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمۡ وَتُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا وَصَلِّ عَلَیۡہِمۡ(التوبۃ: ۱۰۳) اس میں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے کہ تو لے ۔ اب جب کہ آپؐ نہیں رہے تو اور کون لے سکتا ہے؟ نادانوں نے یہ نہ سمجھا کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم مقام ہو گا جو لے گا۔ لیکن جہالت سے انہوں نے کہہ دیا کہ ہم زکوٰۃ نہیں دیں گے۔ ادھر تو لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور ادھر فساد ہو گیا قریباً سارا عرب مُرتد ہو گیا اور کئی مدعی نبوت کھڑے ہو گئے۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ نعوذ باللہ اسلام تباہ ہونے لگا ہے۔ ایسے نازک وقت میں صحابہؓ نے حضرت ابو بکرؓ سے کہا کہ آپؐ ان لوگوں سے جنہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا ہے فی الحال نرمی سے کام لیں۔ حضرت عمرؓ جن کو بہت بہادر کہا جاتا ہے وہ کہتے ہیں کہ گو میں کتنا ہی جری ہوں مگر ابو بکرؓ جتنا نہیں کیونکہ میں نے بھی اس وقت یہی کہا کہ ان سے نرمی کی جائے۔ پہلے کافروں کو زیر کر لیں پھر ان کی اصلاح کریں گے۔ لیکن ابوبکرؓ نے کہا ابن قحافہ کی کیا حیثیت ہے؟ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیئے ہوئے حکم کو بدلا ٹلے میں تو ان سے اس وقت تک لڑوں گا جب تک کہ یہ لوگ پوری طرح زکوٰۃ نہ دیں اور اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت اونٹ باندھنے کی ایک رسی جو دیتے تھے وہ بھی ادا نہ کر دیں ۔ (بخاری کتاب الزکوٰۃ باب وجوب الزکوٰۃ ومسند احمد بن حنبل جلد ۱ ص ۱۹) اس وقت صحابہؓ کو پتہ لگا کہ خدا کا بنایا ہوا خلیفہ کس قدر جرأت اور دلیری رکھتا ہے؟ آخر حضرت ابو بکرؓ نے ان کو زیر کیا اور ان سے زکوٰۃ لے کر چھوڑی۔

مگر بہت لوگ ہیں جو زکوٰۃ نہیں دیتے جب انہیں کہا جائے تو کہتے ہیں اچھا یہ بھی فرض ہے؟ پھر ایک سال یونہی گزار دیتے ہیں گویا انہوں نے کچھ سنا ہی نہیں۔ دوسرے سال پھر سنتے ہیں مگر ایسا ہی سنتے ہیں گویا نہیں سُنا۔ مگر اس طرح وہ اس فرض کی ادائیگی سے بچ نہیں سکتے۔ جو شخص زکوٰۃ کو چھوڑتا ہے اس سے وہی معاملہ جائز ہو جاتا ہے جو کفار سے کیا جاتا ہے چنانچہ حضرت عمرؓ نے جب حضرت ابو بکرؓ کو زکوٰۃ نہ دینے والوں کے متعلق کہا یہ مسلمان ہیں ان سے کافروں والا معاملہ نہ کیا جائے۔ تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا ۔ نہیں۔ ان سے کافروں والا ہی معاملہ کیا جائے گا۔ چنانچہ ان کو پکڑ کر غلام بنایا گیا۔

زکوٰۃ کے متعلق ہم نے ایک رسالہ شائع کیا ہوا ہے۔ تم اس کو پڑھو اور جس پر زکوٰۃ واجب ہے

وہ زکوٰۃ دے۔ اور اس رقم کو مرکز میں پہنچاؤ جیسا کہ اس کے متعلق حکم ہے۔

صدقہ دینا

دوسری چیز صدقہ دینا ہے۔ اس کے متعلق شریعت کا کوئی مُقرر حکم نہیں ہے کہ اتنا دیا جائے۔ ہاں یہ ہے کہ بچے ہوئے مال سے اپنے مقدور کے مطابق غریبوں پر خرچ کرو۔ ایمان کی ترقی اور نفس کی اصلاح کے لئے یہ بھی نہایت ضروری ہے۔ اگر کوئی زکوٰۃ دیتا ہے تو اس کو ایمان حاصل ہو گیا۔ مگر اس کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو گا جب تک کہ صدقہ بھی نہ دے۔

اس بات کو خوب یاد رکھو کہ قرب الٰہی کے مدارج کی ترقی نوافل کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔ فرائض ادا کرنا انسان کو صرف جہنم سے بچاتا ہے۔ مگر نوافل جنت میں لے جانے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ پھر فرضوں میں کئی کوتاہیاں ہو جاتی ہیں ان کو پورا کرنے کے لئے ساتھ سنتیں رکھ دی گئی ہیں اسی طرح زکوٰۃ میں جو کوتاہیاں رہ جاتی ہیں ان کو صدقہ دور کر دیتا ہے۔

چندہ دینا

تیسری چیز چندہ ہے۔ جو دین کے جہاد کے لئے ہوتا ہے یہ جہاد خواہ تلوار سے ہو یا قلم اور کتب سے یہ بھی ضروری ہے۔ کیونکہ زکوٰۃ اور صدقہ تو غرباء کو دیا جاتا ہے اس سے کتابیں نہیں چھاپی جاسکتیں اور نہ وہ مبلغوں کو دیا جاسکتا ہے۔

زکوٰۃ میں حکمت

یہ تینوں چیزیں ضروری ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک میں حکمت ہے۔ زکوٰۃ جس رنگ میں رکھی گئی ہے اس میں تو یہ حکمت ہے کہ اگر یونہی صدقہ کا حکم دیا جاتا رقم اور وقت مقرر نہ ہوتا تو بہت لوگ نہ دیتے۔ اس لئے تھوڑے سے تھوڑا چندہ شریعت نے خود مقرر کر دیا ہے کہ اس قدر اپنے مال میں سے ضرور دیا جائے۔ اس سے زائد جو دے وہ انعام کا مستحق سمجھا جائے اور جو اس حد تک بھی نہ دے وہ مجرم ہو گا۔ پس تم اس حد کو پورا کرو۔

دوسرا اس کے مقرر کرنے میں یہ فائدہ ہے کہ بعض لوگوں کو جو ضروریات آپڑتی ہیں ان کو فرداً فرداً پورا نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً ایک شخص غریب ہے اس کو لاکھ روپیہ کی ضرورت آپڑی ہے۔ کوئی کہے کہ غریب اور پھر لاکھ روپیہ کی ضرورت کا کیا مطلب؟ مگر ہوتی ہے۔ مثلاً ایک تاجر ہے اس کو کاروبار میں گھاٹا پڑ گیا ہے اس کے چلانے کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے۔ ایسے لوگوں کی بھی زکوٰۃ سے مدد کی جا سکتی ہے۔ تو زکوٰۃ سے غرباء کو بھی دیا جاتا ہے تاکہ اپنی ضروریات پورا کریں۔ مگر ان کو بھی دیا جاتا ہے جنہیں کاروبار چلانے کے لئے ضرورت ہو اور پیشہ ور ہوں۔ پس زکوٰۃ کے فنڈ

سے ایسے لوگوں کو دیا جاتا ہے۔ افراد کے چندہ سے ان کا کام نہیں چل سکتا۔

پھر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دوسرے کا احسان اٹھانا پسند نہیں کر سکتے۔ وہ بھوکے مر جائیں گے مگر یہ گوارا نہیں کریں گے کہ زید کے سامنے جائیں اور اپنی ضروریات کے لئے اس سے کچھ حاصل کریں۔ چونکہ ایسی طبیعت کئی لوگوں کی خدا نے بنائی ہوتی ہے اور ان کا خیال رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے اس لئے شریعت نے یہ رکھا ہے کہ حکومت امراء سے لے اور ایسے لوگوں کو دے تاکہ وہ طبائع جو کسی کا احسان نہیں اُٹھانا چاہتیں وہ اس طرح مدد پائیں۔

صدقہ کے فوائد

دوسری چیز صدقہ ہے۔ اس کے بھی کئی فائدے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس کے ذریعہ طبیعت میں ہمدردی کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔ زکوٰۃ دینے والے میں یہ مادہ نہیں پیدا ہو سکتا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ تو میں نے حکومت کو ٹیکس دیا ہے۔ اس کے سامنے لینے کے لئے مسکین نہیں آتا بلکہ حکومت آتی ہے اس لئے شریعت نے صدقہ رکھا ہے کہ اس کے سامنے مسکین آئے تاکہ اس میں دوسروں کے ساتھ محبت اور ہمدردی کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔ اسی وجہ سے شریعت نے صدقہ دینے کا حکم علیحدہ دیا ہے تاکہ انسان پر محبّتانہ اور ہمدردانہ اثر پڑے۔

دوسرا فائدہ اس کا یہ ہے کہ شریعت چاہتی ہے کہ لوگوں کے آپس کے تعلقات مضبوطی کے ساتھ قائم ہوں اور یہ صاف بات ہے کہ جو انسان کسی کو کچھ دیتا ہے اور جو لیتا ہے ان کا آپس میں انس ہو جاتا ہے۔ وہ لوگ جو کسی بچہ کو پالتے ہیں ان کو جب کوئی تکلیف پہنچے تو وہ بچہ ایسا ہی درد محسوس کرتا ہے جیسا اپنا بچہ۔ لیکن اگر غریب بچوں کو حکومت پالے اور روپے لوگ دیں تو ان میں لوگوں کے ساتھ ایسی محبت نہیں پیدا ہو سکتی پس دوسرا فائدہ صدقہ کا یہ ہے کہ لوگوں میں محبت اور ہمدردی کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔

تیسرا فائدہ صدقہ کا یہ ہے کہ اس سے خدا تعالیٰ کے قُرب کا موقع ملتا ہے۔ وہ شخص جو بندھا ہوا کچھ دیتا ہے اس میں ایسی خوشی اور رغبت نہیں پیدا ہوتی جیسی خود بخود دینے والے میں پیدا ہوتی ہے اس لئے شریعت نے زکوٰۃ کے علاوہ صدقہ دینا ضروری رکھا ہے کہ جب کوئی اس طرح مسکین کی مدد کرے گا اور اس سے خوشی اور فرحت محسوس کریگا تو اس کے دل میں اُمنگ پیدا ہو گی کہ پھر بھی خرچ کروں۔

چوتھا فائدہ صدقہ کا یہ ہے جو زکوٰۃ دینے میں اس قدر حاصل نہیں ہوتا کہ مسکین کی دُعا ملتی ہے۔ زکوٰۃ میں مسکین نہیں جانتا کہ مجھے حیدرآباد سے بھیجی ہوئی زکوٰۃ سے دیا گیا ہے یا لاہور کی بھیجی ہوئی سے۔ وہ تو یہی کہے گا کہ ناظر بیت المال کا بھلا ہو جس نے مجھے دیا ہے۔ مگر جب کوئی

شخص اسے خود دیتا ہے تو وہ اس کے لئے خاص طور پر دُعا کرتا ہے۔

مخفی اور ظاہر طور پر صدقہ دینا

پھر آگے صدقے دو قسم کے ہیں۔ ایک مخفی جس کا لینے اور دینے والے کے سوا کسی کو پتہ نہیں لگتا۔ اور بعض تو ایسے مخفی صدقے ہوتے ہیں کہ ان میں لینے والے کو بھی پتہ نہیں لگتا کہ کس نے مجھے دیا ہے؟ وہ یہی کہہ سکتا ہے کہ اندھیرے میں دینے والے کا بھلا ہو۔ یہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ بعض لوگوں میں یہ کمزوری ہوتی ہے کہ جب وہ کسی کو صدقہ دیتے ہیں تو اس پر احسان جتلانے لگتے ہیں شریعت نے خفیہ صدقہ رکھ کر انہیں مشق کرائی ہے کہ جب وہ اس طرح دے کر کسی پر احسان نہیں جتلا سکیں گے تو ظاہر دینے میں بھی نہ جتلائیں گے۔ اور ظاہری صدقہ اس لئے رکھا ہے کہ دوسروں کو بھی دینے کی تحریک ہو اور دوسرے بھی ایسا ہی کریں۔ یہ صدقے کے فوائد ہیں۔

چندہ دینے کا فائدہ

تیسری چیز چندہ ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ بعض ایسے مسلمان ہوتے ہیں جو دین کی خدمت میں اتنا وقت نہیں لگا سکتے جتنا لگانا ان کے ذمہ ہوتا ہے۔ وہ اور کاموں میں لگے رہتے ہیں ان کی اس کمی کو پورا کرنے کے لئے چندہ رکھ دیا گیا ہے۔ مثلاً ایک زمیندار جو بہت زیادہ وقت دنیاوی دھندوں میں لگا دیتا ہے اور بہت تھوڑا وقت خدا کے لئے صرف کرتا ہے چندہ کے ذریعہ اسکی اس کمی کو پورا کیا جاتا ہے۔

پس چندہ وہ قیمت ہے جو انسان اس کوتاہی کی ادا کرتا ہے جو اس سے ہوتی ہے۔ مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس سے پورا حق ادا نہیں ہوتا۔ اس لئے کوئی یہ نہ سمجھے کہ چندہ دے کر وہ اپنے فرض سے سبکدوش ہوگیا۔ اس سے صرف کمی پوری ہوتی ہے۔ دیکھو اگر کوئی فرض نہ پڑھے اور نفل پڑھ لے تو کیا نماز کی فرضیت سے آزاد ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اسی طرح جو چندہ دیتا ہے وہ یہ نہ سمجھے کہ عملی طور پر دین کی خدمت کرنے سے آزاد ہوگیا۔ یہ مال کے ذریعہ دوسروں کو جسمانی فائدہ پہنچانا ہے۔

علمی فائدہ پہنچانا

مگر ایصالِ خیر کا دوسرا پہلو روحانی بھی ہے۔ یہ بھی دو قسم کا ہے۔ ایک علمی فائدہ پہنچانا اور دوسرا رُوحانی۔ یعنی ایک تو وہ جو دین سے تعلق نہیں رکھتا اس سے ورے ورے ہی رہتا ہے اور ایک رُوحانی جو دینی فائدہ ہے۔

بیوی بچوں کو دین سکھانا

پہلی شق کی سب سے ضروری بات بیوی بچوں کو دین سکھانا اور تعلیم دینا ہے اور یہ نہایت ضروری ہے۔ کیونکہ اب اگر ہم اپنی اولاد کو تعلیم نہ دیں آج سے پچاس سال بعد ہماری ہی اولاد سے ایسے لوگ کھڑے ہو جائیں گے جیسے دوسرے لوگ ہیں ایسی صورت میں ہمیں ان قربانیوں اور کوششوں کی کیا ضرورت ہے جو ہم دین کے لئے کر رہے ہیں ۔ اگر ہم اس وقت امریکہ یورپ اور افریقہ سے پکڑ پکڑ کر لوگوں کو اسلام کی طرف تو لائیں مگر اپنی اولاد کو دین نہ سکھائیں تو اس کا کیا فائدہ؟

پس احمدیوں کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت کریں۔ یہ نظم جو آج سنائی گئی ہے میں نے انہی بچوں کے لئے لکھی ہے جو اس وقت تربیت کے محتاج ہیں۔ وہ قوم کبھی قائم نہیں رہ سکتی جو اپنی اولاد کی تربیت نہیں کرتی۔ پس جب تک تم اپنی اولاد، بیوی بچوں کو دین نہیں سکھلاتے تمہاری کوششوں کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کپڑا بنا کر پھاڑ ڈالا جائے ۔ تم ان کو دین سکھاؤ اور اس طرح سکھاؤ کہ ان میں ایسا رچ جائے کہ ان کے لئے دین کو چھوڑنا زیادہ مشکل ہو بہ نسبت اس کے کہ ان کے گلے پر چھری رکھی جائے تو اس کے نیچے سے نکلنا۔ دیکھو ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا بچہ اس سے بڑا انسان بنے۔ پھر تمہیں یہ کس طرح گوارا ہو سکتا ہے کہ تمہاری اولاد دین میں تم سے کم رہے ۔ حضرت مسیح موعود نبی تھے مگر دیکھو خیر خواہوں کی نیت کیسی ہوتی ہے جب میں نے تشحیذ نکالا تو ایک دفعہ مسجد میں حضرت خلیفہ اوّل کو کہا گیا آپ نے تشحیذ پڑھا ہے؟ انہوں نے کہا پڑھا ہے۔ اچھا لکھا ہے۔ مگر مجھے پسند نہیں آیا کیونکہ ہمارے ہاں ٹوڈا ۴۲ کی مثال مشہور ہے۔ میں نہیں سمجھتا تھا کہ ٹوڈا کیا ہوتا ہے ؟ مولوی صاحب نے فرمایا ٹوڈا اونٹ کا بچہ ہوتا ہے اور مثل ہے کہ اونٹ کی قیمت ۴۰ ہو تو اس کے بچے کی ۴۲ ہونی چاہئے۔ ہم تو تب سمجھتے جب تم مرزا سے بڑھ کر لکھتے۔ یہ تو ان کا ذوق تھا۔ مگر ہر شخص جو خیر خواہ ہو۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے قائمقام بننے والے ہم سے بڑھ کر ہوں۔

ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب کے مکان پر اس سفر میں کہ جس میں حضرت مسیح موعود فوت ہوئے ایک دفعہ ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کسی ہندو پنشنر سیشن جج کی آمد کی خبر دینے آئے جو بغرضِ ملاقات آئے تھے۔ آپ نے اس وقت ان سے کہا کہ میں بھی بیمار ہوں ۔ مگر محمود بھی بیمار ہے مجھے اس کی بیماری کا زیادہ فکر ہے آپ اس کا توجہ سے علاج کریں ۔ تو والدین کو اپنی اولاد کا بڑا فکر ہوتا ہے۔ مگر تم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اپنی اولاد کو احمدی بنانے کا فکر نہیں کرتے ۔ اپنی اولاد کو دین نہیں سکھاتے ۔ نماز کا وقت ہو گا تو سردی یا کسی اور وجہ سے کہیں گے بچہ نے نماز نہیں پڑھی تو کیا ہوا ؟ حالانکہ بچوں کی تربیت کا زمانہ ان کا بچپن کا ہی زمانہ ہوتا ہے اور بچپن کی تربیت ہی آئندہ زندگی میں کام آسکتی ہے۔ کیا تم نے دیکھا نہیں؟ کہ ہمارے ملک میں جن کو شاہ دولا کا چوہا بنایا جاتا ہے ان کے سروں پر بچپن میں ہی خول چڑھا دیا جاتا ہے۔ کیونکہ بڑے کا سر چھوٹا نہیں کیا جاسکتا۔ پس آپ لوگ بچوں کی خاص طور پر تربیت کریں اور ایسی تربیت کریں کہ ایمان میں آپ سے بڑھ جائیں۔ آپ لوگوں کی مثال تو ایسی ہے جیسے ترکھان لکڑی کو تراش کر کوئی چیز بناتا ہے۔ مگر بچوں کی کی ایسی مثال ہے جیسے کسی چیز کو ڈھالا جاتا ہے اور ڈھالنے میں کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی، مگر تراشنے میں کچھ نہ کچھ الگ کرنی پڑتی ہے۔ اور اس میں محنت بھی زیادہ صرف ہوتی ہے۔ پس تم اپنی اولاد کو دین کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرو تاکہ تمہارے بعد ایک مضبوط جماعت پیدا ہو جائے اور جب تم فوت ہونے لگو تو تمہارے دل غمگین نہ ہوں بلکہ خوشی سے بھرے ہوئے ہوں کہ ہم ایسی جماعت کے سپرد دین کی امانت کر رہے ہیں جو اس کی حفاظت کرنے کی اہل ہے۔ پس کبھی یہ خیال مت کرو کہ بچہ اگر کوئی بُری حرکت کرتا ہے یا دین نہیں سیکھتا تو کوئی حرج نہیں بڑا ہو کر سیکھ لے گا۔ سیکھنے کی عمر دراصل بچپن ہی ہے۔ بہت لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ بچہ نے جھوٹ بولا تو کیا ہوا۔ بڑا ہو کر چھوڑ دے گا۔ مگر انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ جو بچہ ہونے کی حالت میں جھوٹ بولتا ہے وہ بوڑھا ہونے تک بھی اسے نہیں چھوڑے گا کیونکہ اسے تو جس طرح ڈھلنا تھا ڈھل چکا۔ دیکھو جن بچوں کے سر کو بچپن میں چھوٹا کر دیا جاتا ہے ان کے بڑے ہونے پر سر بڑا نہیں ہو جاتا۔ اسی طرح جو بچپن میں جھوٹ بولتا ہے یا چوری کرتا ہے وہ بڑا ہو کر چوری چھوڑ نہیں دے گا بلکہ بڑا چور بن جائے گا سوائے اس کے جسے خدا تعالیٰ کاٹ کاٹ کر صاف کر دے۔ پس اپنے بچوں کی تربیت کرو اور یہ مت خیال کرو کہ نمازیں پڑھنے میں انہیں تکلیف ہوتی ہے یا روزہ رکھنے میں وہ کمزور ہو جاتے ہیں۔ دین کے احکام پر ان سے عمل کراؤ۔ اور اگر وہ کوئی بری بات کریں تو سمجھاؤ اور بے شک نرمی سے سمجھاؤ۔ لیکن اگر نرمی سے نہ مانیں اور سختی کی ضرورت ہو تو سختی بھی کرو۔

دوسروں کو تبلیغ کرو

دوسری قسم روحانیت کی تبلیغ ہے۔ یہ بھی نہایت ضروری بات ہے اور کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک دوسروں کو تبلیغ نہ کرے۔ یہ خدا تعالیٰ نے مومن کا فرض رکھا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَتَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ(آل عمران: ۱۱۱) کہ تم سب سے بہتر اُمّت ہو جو لوگوں کے فائدہ کے لئے پیدا کئے گئے ہو اس لئے تمہارا فرض ہے کہ تم لوگوں کو نیکی سکھاؤ اور بُرائی سے روکو۔

پس جب خدا تعالیٰ نے ہر مؤمن کا یہ فرض قرار دیا ہے اور وہ پیدا ہی اسی غرض کے لئے کیا گیا ہے تو کس قدر افسوس کی بات ہے اگر اس فرض کو ادا کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور پھر کیا فائدہ ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے کا؟ اگر آپ جس غرض کے لئے آئے تھے اس کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے دُنیا میں آئے تھے کہ لوگوں سے اسلام منوائیں۔ اب اگر کوئی دوسروں کو اسلام نہیں منواتا تو اس کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننا کیا ہوا؟ کچھ بھی نہیں۔ پھر اس کے بغیر مسلمان قوم زندہ ہی نہیں رہ سکتی کیونکہ تبلیغ کرنے کے معنی آگ بُجھانے کے ہیں۔ اور کیا تم بتا سکتے ہو کہ اگر کسی کے ہمسائے میں آگ لگی ہو اور وہ اس کو نہ بُجھائے تو اس آگ کی لپیٹ سے وہ بچ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ پس اگر تمہارا ہمسایہ یہودی یا عیسائی یا آریہ یا غیر احمدی ہے۔ یا تمہارا بچہ یا بھائی یا اور دوسرے رشتہ دار احمدی نہیں ہیں تو وہ ضرور تمہیں بھی خراب کریں گے اور ان کے کفر کا اثر تمہارے تک بھی پہنچے گا۔ پس کفر ایک آگ ہے اور مؤمن کا فرض ہے کہ اپنے گھر تک پہنچنے سے قبل ہی اسے بُجھانے کی کوشش کرے اور یہ نہ سمجھے کہ اگر اس کے ہمسائے میں کفر کی آگ جل رہی ہے تو جلتی رہے اس سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ تم خاص طور سے لوگوں میں تبلیغ کرنے کی کوشش کرو اور لوگوں کو سلسلہ کی طرف توجہ دلاؤ۔ اگر ہندو اور عیسائی ہیں تو ان کو اسلام کی طرف لاؤ اور اگر غیر احمدی ہیں تو ان کو سلسلہ کی خصوصیات بتا کر سلسلہ میں لاؤ۔

دیکھو تبلیغ کے متعلق نصیحتیں میں بہت دفعہ کر چکا ہوں اور اب بھی مختصر طور پر کہہ دیا ہے کیونکہ وقت بہت ہو گیا ہے۔ ان کو خوب اچھی طرح یاد رکھو اور ان پر عمل کرو۔ آج ہی میں نے آپ لوگوں کو بتایا ہے کہ اس سال تبلیغ نہ کرنے کی وجہ سے تمہارے ذمہ قرضہ ہو گیا ہے اس کی ادائیگی کی فکر کرو۔ اور یہ تمہارے ذمہ قرضہ نہیں بلکہ جرمانہ ہے کیونکہ تم نے سُستی سے کام لیا ہے اس کو بہت جلدی ادا کرنا چاہئے۔

اب کے میں نے تجویز کی ہے کہ جس طرح ضلع وار رقمیں تقسیم کی جاتی ہیں۔ اسی طرح ضلعوں میں یہ بھی تقسیم کی جائے کہ اتنے اتنے احمدی بنانے کی کوشش کرو۔ اور جس طرح سالانہ جلسہ پر ناظر بیت المال تمہیں بتاتا ہے کہ فلاں جماعت نے اتنا چندہ دیا اور فلاں نے اتنا۔ اسی طرح

ناظر تالیف و اشاعت بتایا کرے گا کہ فلاں جماعت نے اتنے احمدی بنائے اور فلاں نے اتنے۔

اگر یہ باتیں جو میں نے آپ لوگوں کو بتائی ہیں مان لو تو یقیناً یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے وہ وعدے جو اس نے اپنے مومن بندوں کے متعلق کئے ہیں وہ پورے ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے تو وہ وعدے بھی جو معمولی بندوں کے متعلق ہوتے ہیں پورے ہوتے ہیں پھر اگر کوئی شخص پورا مومن بن جائے تو کس طرح ممکن ہے کہ وہ وعدے جو مومنوں کے متعلق ہیں پورے نہ ہوں۔

میں نے حضرت صاحبؓ کا لکھا ہوا ایک نوٹ دیکھا تھا اور اسے چھپوا دیا ہے۔ اس میں آپؑ لکھتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ تُو خدا کو چھوڑ دے مگر میں کس طرح چھوڑ سکتا ہوں؟ جب کہ سب سوئے ہوتے ہیں خدا مجھے آکر جگاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ تمہیں کسی سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بتاؤ ایسے خدا کو میں کس طرح چھوڑ سکتا ہوں۔ تو خدا اپنے بندوں سے بڑی محبت کرنے والا ہے۔ مسیح موعودؑ تو بہت بڑا درجہ رکھتے تھے میں اپنا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں جس کو یاد کر کے مجھے عجیب لذت آتی ہے۔

کچھ دن ہوئے ایک ایسی بات پیش آئی کہ جس کا کوئی علاج میری سمجھ میں نہ آتا تھا۔ اس وقت میں نے کہا کہ ہر ایک چیز کا علاج خدا تعالیٰ ہی ہے اسی سے اس کا علاج پوچھنا چاہئے ۔ اس وقت میں نے دُعا کی اور وہ ایسی حالت تھی کہ میں نفل پڑھ کر زمین پر ہی لیٹ گیا۔ اور جیسے بچہ ماں باپ سے ناز کرتا ہے اسی طرح میں نے کہا۔ اے خدا! میں چارپائی پر نہیں زمین پر ہی سوؤں گا۔ اس وقت مجھے یہ بھی خیال آیا کہ حضرت خلیفہ اوّل نے مجھے کہا ہُوا ہے کہ تمہارا معدہ خراب ہے اور زمین پر سونے سے معدہ اور زیادہ خراب ہو جائے گا۔ لیکن میں نے کہا۔ آج تو میں زمین پر ہی سوؤں گا۔

یہ بات ہر ایک انسان نہیں کہہ سکتا بلکہ خاص ہی حالت ہوتی ہے۔ یہ کوئی چھ سات ہی دن کی بات ہے جب میں زمین پر سو گیا تو دیکھا کہ خدا کی نصرت اور مدد کی صفت جوش میں آئی اور متمثل ہو کر عورت کی شکل میں زمین پر اُتری۔ ایک عورت تھی اس کو اس نے سوٹی دی اور کہا اسے مار اور کہو جا کر چارپائی پر سو۔ میں نے اس عورت سے سوٹی چھین لی۔ اس پر اس نے (خدا تعالیٰ کی اس مجسم صفت نے) سوٹی خود پکڑ لی اور مجھے مارنے لگی۔ اور میں نے کہا لو مار لو۔ مگر جب اس نے مارنے کے لئے ہاتھ اُٹھایا تو زور سے سوٹی گھٹنے تک لا کر چھوڑ دیا اور کہا۔ دیکھ محمود! میں تجھے مارتی نہیں۔ پھر کہا جا اُٹھ کر سو رہو یا نماز پڑھ۔ میں اسی وقت کود کر چارپائی پر چلا گیا اور جا کر

سورہا۔ میں نے اس وقت سمجھا کہ اس حکم کی تعمیل میں سونا ہی بہت بڑی برکات کا موجب ہے۔ تو خدا تعالیٰ جس سے محبت کرتا ہے اس کے سامنے سب کچھ ہیچ ہو جاتا ہے۔ تم اس کے لئے کوشش کرو کہ خدا تعالیٰ تم سے محبت کرے۔ تاکہ اس کی مدد اور نصرت تم کو مل جائے۔ اور جب اس کی نصرت تمہارے ساتھ شامل ہو جائے تو پھر ساری دُنیا ہے کیا چیز؟ وہ تو ایک کیڑے کی بھی حیثیت نہیں رکھتی۔

مومنوں کے متعلق خدا کے وعدے

اب میں وہ وعدے سناتا ہوں جو خدا تعالیٰ نے مومنوں کے ساتھ کئے ہیں۔ ان کو سنو اور سوچو کہ خدا تعالیٰ مومنوں پر کیا کیا انعام کرنے کے وعدے فرماتا ہے؟

بدیوں کے چھپے رہنے کی خواہش

دیکھو انسان کی کیا خواہشات ہوتی ہیں؟ کبھی وہ یہ کہا کرتا ہے کہ اس کی کمزوریاں دُور ہو جائیں اور اس کی غلطیوں پر کوئی آگاہ نہ ہو۔ اور یہ خواہش ایسی فطرتی ہے کہ بعض حیوان بھی جو تربیت یافتہ ہوتے ہیں ان میں بھی پائی جاتی ہے۔ چنانچہ وہ پاخانہ پھر کر اس پر مٹی ڈالتے ہیں۔ تو یہ ایسی فطرتی بات ہے کہ حیوانوں تک میں بھی پائی جاتی ہے۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

فَالَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَاُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَاُوۡذُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ وَقٰتَلُوۡا وَقُتِلُوۡا لَاُکَفِّرَنَّ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَلَاُدۡخِلَنَّہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۚ ثَوَابًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ وَاللّٰہُ عِنۡدَہٗ حُسۡنُ الثَّوَابِ(اٰل عمران: ۱۹۶)

کہ وہ لوگ جو میرے لئے اپنے رشتہ داروں کو، اپنے مال کو، اپنے وطن کو چھوڑ دیتے ہیں، جو اپنے گھروں سے نکالے جاتے ہیں، میرے دین کو قبول کرنے کی وجہ سے دُکھ دئے جاتے ہیں میرے دین کے لئے لڑتے اور مارے جاتے ہیں میں ان کی بدیاں ڈھانپ دوں گا ان کی غلطیوں کی پردہ پوشی کروں گا کسی کی طاقت نہیں ہوگی کہ ان کی بدیوں کو دیکھ سکے۔ بلکہ جیسا کہ صوفیاء نے لکھا ہے کہ ایسا شخص جس کے گناہوں پر خدا تعالیٰ پردہ ڈال دے اگر اس کے گناہوں کو کوئی دیکھنا چاہے تو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ تو جو خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں ان سے اگر غلطیاں بھی ہو جائیں تو بعض اوقات خدا تعالیٰ ان کو ڈھانپ دیتا ہے اور بعض دفعہ ان کی غلطیوں کو دُور کر دیتا ہے یہ اتنا بڑا وعدہ ہے کہ جو خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی کر ہی نہیں سکتا۔

پاک ہونے کی خواہش

پھر انسان چاہتا ہے کہ پاک ہو جائے۔ اچھی باتیں اس میں پائی جائیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِیۡدًا یُّصۡلِحۡ لَکُمۡ اَعۡمَالَکُمۡ وَیَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ(الاحزاب : ۷۱-۷۲) کہ اے لوگو! اگر تم مومن بن جاؤ۔ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سچی بات کہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تمہارے اعمال نیک کر دے گا اور تم سے بدی سرزد ہی نہ ہوگی۔ اس سے ظاہر ہے کہ مومن ترقی کر کے اس حد کو پہنچ جاتا ہے کہ اس سے جو بات بھی سرزد ہوتی ہے نیک ہی سرزد ہوتی ہے بُری نہیں ہوتی۔

دنیا میں عزت اور رُتبہ پانے کی خواہش

پھر انسان چاہتا ہے کہ اسے دُنیا میں عزت اور رُتبہ ملے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ آؤ مومن بن جاؤ ہم تم کو یہ بھی دے دیں گے ۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ نَحۡنُ اَوۡلِیٰٓؤُکُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَفِی الۡاٰخِرَۃِ(حم السجدة : ۳۱-۳۲) ایسے لوگوں پر فرشتے نازل ہوتے ہیں جو انہیں کہتے ہیں کہ ہم اس دُنیا میں بھی اور آخرت میں بھی تمہارے مددگار ہیں اور تم کو کامیابی ہوگی تم کسی قسم کا خوف نہ کرو۔

علم اور فہم حاصل ہونے کی خواہش

پھر انسان علم اور فہم چاہتا ہے ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ اَوَمَنۡ کَانَ مَیۡتًا فَاَحۡیَیۡنٰہُ وَجَعَلۡنَا لَہٗ نُوۡرًا یَّمۡشِیۡ بِہٖ فِی النَّاسِ کَمَنۡ مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیۡسَ بِخَارِجٍ مِّنۡہَا(الانعام : ۱۲۳) کہ کیا وہ جو مُردہ تھا اور ہم نے اس کو زندہ کیا۔ اور پھر اسے شمعِ نورانی دے دی تاکہ ہر تاریکی میں اسے رستہ مل جائے ۔ وہ اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جو ظلمت میں پڑا ہو اور اس سے نکل نہ سکتا ہو۔ اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ مومن کو وہ نُور دیتا ہے کہ جس کا کوئی مقابلہ کر ہی نہیں سکتا۔ تو انسان علم کو پسند کرتا ہے۔ فرمایا مومن بن جاؤ تو یہ بھی لے لو۔ میں نے بتایا تھا کہ حضرت صاحبؓ کو خدا تعالیٰ نے وہ علم سکھایا کہ کوئی انسان آپؐ کا مقابلہ نہ کر سکا۔ اب مجھے خدا تعالیٰ نے ایسا علم دیا ہے کہ خواہ کوئی ایسا علم جس کا مجھے پتہ بھی نہ ہو اس کے جاننے والا اس علم کے ذریعہ اگر اسلام پر اعتراض کرے تو خدا تعالیٰ مجھے اس کا ایسا جواب سکھاتا ہے کہ پھر وہ بول ہی نہیں سکتا۔ حضرت صاحبؑ کو ایک ہی علم نہیں سکھایا گیا تھا بلکہ مختلف طرح کے علوم سکھائے گئے تھے۔ چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں کہ ایک ہی رات میں مجھے خدا تعالیٰ نے چالیس ہزار الفاظ کا مادہ سکھایا۔(انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۲۳۴) یہی وجہ تھی کہ کوئی انسان آپؑ کے مقابلہ میں عربی نہیں لکھ سکتا تھا۔

ہر آفت سے بچنے کی راہ

پھر فرمایا:۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَتَّقُوا اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ فُرۡقَانًا وَّیُکَفِّرۡ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ(الانفال: ۳۰)

کہ اے لوگو! اگر مومن ہو جاؤ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم تمہیں ہر مصیبت اور ہر تکلیف سے نکلنے کے سامان بتا دیں گے۔

مومن پر بھی تکالیف آتی ہیں۔ مومن بھی بیمار ہوتا ہے۔ مگر وہ ہلاک نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کے کسی برگزیدہ انسان کو قابلِ نفرت بیماری مثلاً کوڑھ وغیرہ نہیں ہوتی۔ انبیاءؑ میں یہ مرض نہیں ہوتا نہ وہ پاگل یا اور اسی قسم کی ہلاکتوں میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔

دُنیا میں رُعب و داب حاصل ہونے کی خواہش

پھر انسان دنیا میں اپنا رعب و داب چاہتا ہے اور اس کے لئے بڑی بڑی کوششیں کی جاتی ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے آؤ اس کے حاصل کرنے کا طریق بھی میں بتاؤں۔ چنانچہ فرماتا ہے:۔

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا(النور: ۵۶)

کہ خدا تعالیٰ مومنوں سے وعدہ کرتا ہے کہ ان میں ایسے بادشاہ اور خلیفے بنائے گا جیسے کہ پہلوں میں بناتا تھا۔ اور وہ صرف ظاہری شان و شوکت ہی نہ رکھتے ہوں گے بلکہ ایسے ہوں گے کہ ان کے ذریعہ دین کی تمکین ہوگی اور ان کے خوف کو اللہ تعالیٰ امن سے بدل دے گا۔ ان پر کسی کا رُعب نہیں ہوگا بلکہ ان کا لوگوں پر رُعب ہو گا۔

نئی نئی چیزیں حاصل ہونے کی خواہش

پھر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے نئی نئی چیزیں ملیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے میں اِس کو بھی پورا کر دوں گا۔ چنانچہ فرمایا: فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعۡیُنٍ ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ(السجدة: ۱۸) کہ مومن کو ہمیشہ اخفاء ہی رہتا ہے۔ خواہ وہ کسی درجہ اور رُتبہ پر پہنچ جائے۔ لوگ پُرانی چیز کو پسند نہیں کرتے۔ اگر کوئی کپڑا ایک سال تک نہ پھٹے تو کہتے ہیں کہ اس سے جی اُکتا گیا ہے یہ پھٹتا ہی نہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ تم کو ایسی نئی نئی چیزیں دی جائیں گی جن کا تم کو اس سے پہلے علم بھی نہ ہوگا۔

دشمن کے تباہ ہونے کی خواہش

پھر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا دشمن تباہ ہو۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ اللّٰہَ وَرَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَالۡاٰخِرَۃِ وَاَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا مُّہِیۡنًا وَالَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِیۡنًا(الاحزاب: ۵۸-۵۹) وہ لوگ جو خدا اور اس کے رسولؐ کو ایذاء دیتے ہیں اور وہ جو مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دُکھ دیتے اور ان پر جھوٹے الزام لگاتے ہیں ان کو ہم جلا کر راکھ کر دیں گے ۔

پھر فرمایا:- اَلَمۡ تَکُنۡ اٰیٰتِیۡ تُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فَکُنۡتُمۡ بِہَا تُکَذِّبُوۡنَ قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَیۡنَا شِقۡوَتُنَا وَکُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّیۡنَ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡہَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ قَالَ اخۡسَـُٔوۡا فِیۡہَا وَلَا تُکَلِّمُوۡنِ اِنَّہٗ کَانَ فَرِیۡقٌ مِّنۡ عِبَادِیۡ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰحِمِیۡنَ فَاتَّخَذۡتُمُوۡہُمۡ سِخۡرِیًّا حَتّٰۤی اَنۡسَوۡکُمۡ ذِکۡرِیۡ وَکُنۡتُمۡ مِّنۡہُمۡ تَضۡحَکُوۡنَ(23:106-111)

الْفَائِزُوْنَ(المؤمنون: ۱۰۷ تا ۱۱۲)

ان آیات میں خدا تعالیٰ نے عذاب کا عجیب نقشہ کھینچا ہے۔ فرماتا ہے۔ مومنوں کے دشمن جب قیامت کے دن پیش کئے جائیں گے۔ تو ہم کہیں گے لے جاؤ ان کو جہنم میں۔ اس وقت وہ کہیں گے ہم سے غلطی ہو گئی۔ یہ بخشی جائے۔ اور ہمارا یہ قصور معاف کیا جائے۔ ایسا دردناک عذاب دیکھ کر وہ کیوں نہ گھبرائیں گے؟ کہ فِیۡ جَہَنَّمَ خٰلِدُوۡنَ تَلۡفَحُ وُجُوۡہَہُمُ النَّارُ وَہُمۡ فِیۡہَا کٰلِحُوۡنَ(23:104-105) یا تو ان کی یہ حالت تھی۔ کہ کہتے تھے ہم ہی حق پر ہیں یا کہیں گے قَوۡمًا ضَآلِّیۡنَ(23:107) ہم تو بڑے گمراہ تھے۔ اس وقت وہ کہیں گے۔ ایک دفعہ اس سے نکال دیجئے۔ پھر اگر کریں گے تو نہ بخشنا۔ خدا تعالیٰ نے اس کا عجیب جواب دیا ہے اور اس سے ظاہر ہے کہ مومنوں کو دُکھ دینے والوں کو کس قدر سزا دی جائے گی۔ فرماتا ہے۔ قَالَ اخۡسَـُٔوۡا فِیۡہَا وَلَا تُکَلِّمُوۡنِ(23:109) جاؤ اور چلے جاؤ بلکہ جہنم میں جاؤ اور مجھ سے بات نہ کرو۔ میں تمہاری بات نہیں سنتا۔ کیوں رحیم و کریم خدا ان کی بات نہیں سنتا؟ اس لئے کہ فرماتا ہے۔ اِنَّہٗ کَانَ فَرِیۡقٌ مِّنۡ عِبَادِیۡ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰحِمِیۡنَ فَاتَّخَذۡتُمُوۡہُمۡ سِخۡرِیًّا حَتّٰۤی اَنۡسَوۡکُمۡ ذِکۡرِیۡ وَکُنۡتُمۡ مِّنۡہُمۡ تَضۡحَکُوۡنَ(23:110-111) کہ کچھ میرے بندے تھے۔ جو کہتے تھے۔ ہم ایمان لائے اپنے رب پر اور اپنے رب سے بخشش مانگتے تھے۔ تم ان میرے پیاروں سے ہنسی اور مخول کرتے تھے۔ کسی قدر غیرت اور محبت ہے۔ فرماتا ہے تم نے جو میرے بندوں کا دل دُکھایا تو میں تمہاری بات کیوں سنوں؟

انعام کے کم نہ ہونے کی خواہش

پھر انسان چاہتا ہے کہ جو انعام ملے وہ کم نہ ہو اور چھینا نہ جائے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔

وَاَمَّا الَّذِیۡنَ سُعِدُوۡا فَفِی الۡجَنَّۃِ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّکَ ؕ عَطَآءً غَیۡرَ مَجۡذُوۡذٍ(ھود: ۱۰۹)

جو تمہیں نعمت ملے گی وہ کبھی کاٹے گی نہیں ۔ بلکہ اس میں تم بڑھتے ہی جاؤ گے۔ پھر اس عطا کی خدا تعالیٰ تشریح کرتا ہے۔ کہ غیر مجذوذ ہے۔ اس کی کوئی حد بندی ہی نہیں۔ جو کچھ ان کے دل میں خواہش پیدا ہو گی وہی پوری ہو جائے گی۔ اور جو کچھ وہ چاہیں گے وہی انہیں مل جائے گا۔ کوئی کہے کہ انسان کی خواہش ہی کس قدر ہو سکتی ہے؟ خواہ وہ کس قدر بھی خواہش کرے تھوڑی ہی ہو گی۔ اس کے متعلق فرماتا ہے کہ ہم اسی کی خواہش کرنے پر نہ رہیں گے بلکہ اپنی طرف سے دیں گے۔

پھر فرماتا ہے۔ وَاُدۡخِلَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا بِاِذۡنِ رَبِّہِمۡ ؕ تَحِیَّتُہُمۡ فِیۡہَا سَلٰمٌ(ابراهيم: ۲۴) وہ لوگ جو مؤمن ہوں گے۔ ان کو اعلیٰ مقام پر جگہ دی جائے گی اور جب وہ اس مقام پر پہنچیں گے فرشتے ان کے پاس آئیں گے۔ اور انہیں مرحبا کہینگے یعنی یہ کہ تم سلامتیوں میں رہو۔ یہ کس قدر اکرام ہے کہ خدا تعالیٰ کے وزراء آکر بندوں کا استقبال کریں گے۔

اپنے متعلقین کو عزت ملنے کی خواہش

پھر انسان چاہتا ہے کہ نہ صرف اسے عزت حاصل ہو بلکہ اس کے متعلقین کو بھی عزت ملے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَالَّذِیۡنَ صَبَرُوا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ رَبِّہِمۡ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً وَّیَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عُقۡبَی الدَّارِ جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآئِہِمۡ وَاَزۡوَاجِہِمۡ وَذُرِّیّٰتِہِمۡ وَالۡمَلٰٓئِکَۃُ یَدۡخُلُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ کُلِّ بَابٍ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَی الدَّارِ(الرعد: ۲۳ تا ۲۵) کہ وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اپنے رب کی مرضی چاہنے کے لئے اور نمازوں کو قائم کیا اور خرچ کیا اس میں سے جو ان کو دیا گیا پوشیدہ اور ظاہر اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ بدی کو ہٹا دیا یہی وہ لوگ ہیں جن کا آخری گھر جنت ہے۔ وہ اس میں داخل کئے جائیں گے۔ اور ان کے آباء اور بیویاں اور اولاد کو بھی جنہوں نے ایسا ہی کیا داخل کیا جائے گا۔ فرشتے ان کے پاس آئیں گے ۔ اور ان پر سلامتی کہیں گے۔

اس سے ظاہر ہے کہ ایک مؤمن کی اولاد سے جو مؤمن ہوں گے۔ خواہ وہ نچلے ہی درجہ کے ہوں گے ان کو بھی اس کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ پھر کوئی یہ خیال نہ کرے کہ باپ جو اعلیٰ درجہ کا مؤمن ہو گا اس کو کچھ کم درجہ پر لے آیا جائے گا اور اولاد کو کچھ اوپر کر کے اس کے ساتھ ملا دیا جائے گا بلکہ یہ ہو گا کہ نچلے درجہ والے کو بڑھا کر اوپر لے جایا جائے گا۔ پھر اس بات کو اولاد تک ہی نہیں رکھا بلکہ یہ بھی فرما دیا ہے کہ اگر خاوند بڑے درجہ پر ہو گا اور بیوی چھوٹے درجہ پر تو بیوی کو بھی خاوند کے درجہ پر پہنچا دیا جائے گا۔ اور اگر بیوی بڑے درجہ پر ہوگی اور خاوند چھوٹے درجہ پر تو خاوند کو بڑے درجہ پر لے جا کر بیوی کے ساتھ شامل کر دیا جائے گا۔ اب غور کرو۔ یہ کس قدر فضل اور رحم ہے اور کس قدر مؤمن کے ساتھ رعائت کی گئی ہے مثلاً اگر باپ ۱۰؍ نمبر کے مقام پر ہوگا اور بیٹا ۳؍ نمبر کے مقام پر تو بیٹے کو بھی ۱۰؍ نمبر پر پہنچا دیا جائے گا اس کے باپ کا باپ اگر ۳۰؍ نمبر پر ہوگا تو ان دونوں کو اس تک پہنچانے کے لئے ۳۰؍ نمبر پر لے جایا جائیگا اسی طرح ان کے آباء میں سے جو سب سے اعلیٰ درجہ پر ہوگا اسی تک سب کو پہنچا دیا جائے گا یعنی اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد سے کوئی کافر نہیں ہو گیا تو سب کو آپؐ کے پاس پہنچا دیا جائے گا اسی طرح اگر حضرت ابوبکرؓ کی اولاد سے کوئی کافر نہیں ہو گیا تو ان سب کو ان کے پاس لے جایا جائے گا۔ یہی حال تمام مؤمنوں کا ہوگا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں سے آپؐ کے اوپر کے لوگوں میں سے جہاں تک مؤمن ہوں گے ان کو بھی کھینچ کر آپؐ تک لے جایا جائے گا۔ اب دیکھو کس قدر بڑا درجہ ایک مؤمن کو حاصل ہو گا۔ بظاہر تو یہی کہا گیا ہے کہ باپ بیٹے سے یا بیٹا باپ سے ملا دیا جائے گا۔ لیکن یہ سلسلہ آگے دادا تک بھی چلتا ہے اور پھر اسی طرح اس سے آگے ۔ تو یہ بہت بڑی رحمت ہے جو مؤمنوں پر کی جائے گی۔

محبوب کا قُرب حاصل ہونے کی خواہش

پھر انسان سب سے زیادہ اس بات کو چاہتا ہے کہ اسے اپنے محبوب کا قُرب حاصل ہو۔ خدا فرماتا ہے: وَعَدَ اللّٰہُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ ؕ وَرِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکۡبَرُ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ(التوبۃ: ۷۲) خدا تعالیٰ کا مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں سے وعدہ ہے کہ ان کو ایسے مقامات ملیں گے جن میں باغات ہوں گے اور جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ باغ بھی ایسے ہوں گے جو ہمیشہ رہنے والے ہونگے اور ان سے بڑھ کر ان کو یہ نعمت ملے گی کہ خدا ان سے راضی ہو جائے گا اور وہ اپنے محبوب سے مل جائینگے۔

اپنے نفسوں میں غور کرو کہ کیا تم انعام پانے کے مستحق ہو؟

ان نعمتوں کو دیکھو جو خدا تعالیٰ نے مؤمنوں کے لئے بیان فرمائی ہیں اور بتاؤ کوئی نعمت ان سے باہر رہ گئی ہے؟ ہرگز نہیں ۔ آپ لوگ ان کو سن کر خوش

ہوئے ہوں گے اور میں بھی خوش ہوا ہوں۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی تو دیکھو کہ یہ کن لوگوں کے لئے ہیں ؟ اُن کے لئے جو مؤمن ہوں گے۔

میں نے آپ لوگوں کو یہ نعمتیں اس لئے سُنائی ہیں کہ آپ دیکھیں آپ کے نفس میں کوئی ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے یہ نعمتیں ملنی چاہئیں ۔ ان کو دیکھو اور سوچو کہ کیا ان کو حاصل کرنے کی تم میں اہلیت اور قابلیت ہے ؟ اور ان کو پانے کے تم مستحق ہو گئے ہو ؟ معمولی سے معمولی انعام بھی کسی کو اس وقت تک نہیں ملتا جب تک کہ وہ اپنے آپ کو اس کے قابل نہیں بنالیتا۔ پھر کیا تم اتنے بڑے انعامات کو پانے کے مستحق ہو ؟ یہ تو وہ انعام ہیں اور اتنے بڑے انعام ہیں کہ اگر کسی بادشاہ کے سامنے بھی ان کو رکھا جائے تو وہ بھی انہیں دیکھ کر حیران ہو جائے اور ہمارے مخالفین تو جانتے ہی نہیں کہ یہ انعام مل سکتے ہیں۔ مگر خدا نے ہم سے تو ان کا وعدہ کیا ہے ۔ لیکن سوال یہی ہے کہ آیا تم ان کے مستحق بھی ہو گئے ہو ؟ اگر نہیں تو پھر تمہیں کون سی خوشی ہے ؟ پھر کیا تم نے ان انعامات کے حاصل کرنے کے قابل اپنے آپ کو بنانے کی کوشش کی ہے ؟ اگر تم نے ان کو حاصل کرنے کا استحقاق ہی پیدا نہیں کیا اور نہ اس کے لئے کوشش کی تو پھر یاد رکھو کہ تمہارے لئے نہیں بلکہ ان کے لئے ہے جو اپنے آپ کو ان کا مستحق بنائیں گے ۔

تم اپنے نفسوں میں غور کرو اور دیکھو کہ کیا جس طرح تم چندہ دینے میں بہت لیت و لعل کرتے ہو اگر اسی طرح سرکاری ٹیکس دینے والے کریں تو ان کو کوئی انعام ملے گا ؟ انعام نہیں بلکہ ان سے تو جیل خانے بھرے جائیں گے ۔ ہمارے سیکرٹری اور کارکن تو چندہ کے لئے تمہارے پیچھے پیچھے پھرتے ہیں اور تم کوئی پرواہ نہیں کرتے ۔

پھر اسی طرح نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، حج اور دوسرے احکام کو دیکھو کہ آیا تم ان کو ایسے رنگ میں پورا کرتے ہو کہ تمہیں انعام مل سکے ؟

کیا تم خلافت کی اطاعت اسی طرح کرتے ہو جس طرح سرکار کی ؟ یا خلافت کی طرف سے جو آدمی مقرر ہیں ان کے ایسے ہی احکام مانتے ہو جیسے حکام کے ؟

بیشک اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے اور اپنے بندوں پر رحم کرے گا۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ چھوٹے درجہ کے مؤمن کو بھی اوپر لے جائے گا۔ مگر رحم بھی حکمت کے ماتحت ہوگا۔ تم اس حکمت کے ماتحت تو اپنے آپ کو لاؤ۔ تم اپنے اندر کم از کم اتنا مادہ تو پیدا کرو کہ اگر تم سے کوئی غلطی ہو جائے اور اس پر ملامت ہو تو اسے برداشت کر سکو ۔ مثلاً جو نماز با جماعت کے لئے نہیں آتا اسے جب آنے کے لئے کہا جائے تو اس کی آنکھیں جھک جائیں اور شرمندگی کے مارے پسینہ آجائے۔ ایسے شخص کے متعلق کہیں گے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کے رحم کا مستحق بنانا چاہتا ہے۔ لیکن اگر کوئی نصیحت کرے اور آگے سے کہا جائے تُو کون ہے مجھے نصیحت کرنے والا ؟ تو اس کے متعلق یہی کہیں گے کہ وہ اصلاح پانے کا مستحق نہیں ہے۔ تو کم از کم اتنا تو ہو کہ سمجھانے والے سے لڑتے نہ پھرو۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سمجھانے والے لوگوں کو مجلسوں میں شرمندہ کرتے پھریں۔ انہیں خود اس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔

پھر بعض لوگ شعائر اللہ کی ہتک کرتے ہیں۔ گناہ اور چیز ہے مگر شعائر اللہ کی ہتک بہت بُری بات ہے۔ ایک شخص گناہ کرتا ہے مگر اس پر شرماتا ہے تو اس کی شرمندگی خدا کے رحم کو کھینچتی ہے۔ مگر ایک اور شخص ہے جو علی الاعلان رشوت لیتا ہے یا سود لیتا ہے یا نماز چھوڑتا ہے یا دو بیویاں کر کے ایک کو معلقہ کرتا ہے۔ تو وہ شعائر اللہ کی ہتک کرنے والا ہے اور ایسا شخص قابلِ رحم نہیں ہو سکتا۔ ایسے گناہ جو مخفی کئے جائیں اور جن پر شرمندگی لاحق ہو وہ قابلِ عفو ہوتے ہیں۔ مگر علی الاعلان شعائر اللہ کی ہتک کرنے والے گناہ معاف نہیں کئے جاتے۔

کفار کے متعلق خُدا کے وعدے

پھر جہاں آپ لوگوں نے وہ وعدے سنے ہیں جو خدا تعالیٰ نے مومنوں سے کئے ہیں۔ وہاں یہ بھی تو دیکھو کہ خدا نے کُفار کے متعلق کیا کہا ہے۔ اور کس قدر عذاب کے ان سے وعدے کئے ہیں؟ فرماتا ہے۔

وَاَمَّا الَّذِیۡنَ فَسَقُوۡا فَمَاۡوٰٮہُمُ النَّارُ ؕ کُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنۡہَاۤ اُعِیۡدُوۡا فِیۡہَا وَقِیۡلَ لَہُمۡ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ وَلَنُذِیۡقَنَّہُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰی دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَکۡبَرِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ(السجدة: ۲۱-۲۲)

ان آیات میں خدا نے بتایا ہے کہ یہ لوگ اس دُنیا میں بھی دُکھ پائیں گے اور اگلے جہان میں انہیں بہت زیادہ عذاب دیا جائے گا۔ پھر عذاب کی نوعیت کے متعلق فرمایا۔

اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتۡ مِرۡصَادًا لِّلطَّاغِیۡنَ مَاٰبًا لّٰبِثِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَحۡقَابًا لَا یَذُوۡقُوۡنَ فِیۡہَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا اِلَّا حَمِیۡمًا وَّغَسَّاقًا(النباء: ۲۲ تا ۲۷)

کہ جہنم ان کافروں کی انتظار میں گھات لگائے ہوئے ہوگا جو خدا کی باتیں نہیں مانتے تھے ان کو آگ میں ڈالا جائے گا۔ اور گرم پانی اور پیپ پینے کے لئے دی جائے گی۔

پھر فرماتا ہے۔ جس طرح مؤمن کے لئے وعدہ تھا کہ جو چیز وہ چاہے گا وہی اسے مل جائے گی۔

اسی طرح کافر کے متعلق کہتا ہے کہ وہ ہر چیز چھوڑنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔ چنانچہ فرماتا ہے :۔ یَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ یَفۡتَدِیۡ مِنۡ عَذَابِ یَوۡمِئِذٍۭ بِبَنِیۡہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیۡہِ وَفَصِیۡلَتِہِ الَّتِیۡ تُــٔۡوِیۡہِ وَمَنۡ فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا ۙ ثُمَّ یُنۡجِیۡہِ کَلَّا ؕ اِنَّہَا لَظٰی(المعارج : ۱۲ تا ۱۶) مجرم چاہے گا کہ بیٹا، بیوی، بھائی، سارا کنبہ اور ساری چیزیں جو کچھ زمین میں ہوں دے کر میں اس عذاب سے مخلصی پاؤں لیکن اسے نہیں چھوڑا جائے گا۔ پھر مؤمن کے لئے یہ تھا کہ فرشتے تکریم کے لئے آئیں گے۔ کافر کے متعلق فرماتا ہے۔ اِنَّ الۡمُجۡرِمِیۡنَ فِیۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ یَوۡمَ یُسۡحَبُوۡنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوۡہِہِمۡ ؕ ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ(القمر : ۴۸-۴۹) کہ مجرم جب مارا جائے گا تو جان نکلتے ہی اس کو کوڑے پڑنے شروع ہو جائیں گے اور ذلت کی یہی حالت نہ رہے گی بلکہ اور زیادہ ہوگی جس طرح مردہ بھیڑ کی لاش کو پھینک دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ان کو لاتوں سے پکڑ کر مونہوں کے بل گھسیٹ کر آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سزا میں آرام کے لئے وقفہ مل جاتا ہے لیکن کافروں کے لئے ایسا نہیں ہوگا۔ ادھر مؤمنوں کے لئے تو یہ فرمایا تھا کہ ان کا انعام بڑھتا ہی جائے گا۔ ادھر کافروں کے متعلق فرماتا ہے کہ جب وہ عذاب سے نکلنا چاہیں گے۔ تو پکڑ کر پھر اس میں ڈال دیا جائے گا۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ کُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنۡہَا مِنۡ غَمٍّ اُعِیۡدُوۡا فِیۡہَا ٭ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ(الحج : ۲۳) جب کبھی کافر ارادہ کریں گے کہ عذاب سے نکلیں ان کو لوٹا کر اسی میں ڈال دیا جائے گا کہ اس جلانے والے عذاب کا مزا چکھو۔ یہاں رُوحانی اور جسمانی دونوں عذابوں کا ذکر ہے کہ ان کے جسم تو آگ میں جلتے ہوں گے مگر ان کے دلوں میں بھی آگ لگی ہوگی۔ پھر جب عادت ہو جائے گی تو سزا کی تکلیف اتنی محسوس نہیں ہوتی جتنی ابتداء میں ہوتی ہے ۔ چنانچہ وہ لوگ جو جیل میں زیادہ عرصہ رہتے ہیں انہیں جب نکالا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہمارا لوٹا وغیرہ سنبھال رکھنا ہم پھر آئیں گے۔ کافروں کے متعلق فرمایا۔ ان کو عادی نہیں ہونے دیا جائے گا۔ بلکہ کُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُہُمۡ بَدَّلۡنٰہُمۡ جُلُوۡدًا غَیۡرَہَا لِیَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ(النساء : ۵۷)

کہ جب انکے چمڑے جل جائیں گے تو ہم انہیں نئے چمڑے پہنا دیں گے تاکہ وہ عذاب کو محسوس کرسکیں۔

پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ مجرم چاہتا ہے کہ سزا دے لو مگر راضی ہو جاؤ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنۡظُرُ اِلَیۡہِمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیۡہِمۡ(اٰل عمرٰن: ۷۸)

ان کو عذاب بھی ملے گا دکھ بھی پہنچے گا اور خدا ان سے بات بھی نہیں کرے گا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ان کی طرف نظر بھی اُٹھا کر نہیں دیکھے گا۔

غرض جس قدر عذاب ہو سکتے ہیں وہ بیان کئے گئے ہیں۔ اب میں تم سے پوچھتا ہوں کہ جو چیز تم اپنے نفس میں پاتے ہو اس پر غور کرو اور دیکھو کہ آیا وہ اس قابل ہے کہ اگر نہ ہو تو اتنے عذابوں میں مبتلا کئے جاؤ۔ اگر وہ چیز تمہارے پاس نہیں جس کے نہ ہونے پر اس قدر عذاب دیئے جائیں اور جس کے ہونے پر اس قدر انعام کئے جائیں تو سوچو کہ تم ہرگز ایمان کے اس مقام پر نہیں پہنچے جس کا نام قرآن کریم میں ایمان رکھا گیا ہے۔

بہت بڑی تبدیلی پیدا کرو

ان سب باتوں کو بیان کرنے کے بعد میں تو یہی کہوں گا کہ ایک بہت بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے اور اپنے نفس پر موت وارد کرنے کی حاجت ہے۔ تم اپنے نفسوں پر موت وارد کر کے دیکھو تو سہی کہ تمہیں کیا ملتا ہے؟ اور تم سے کہا جاتا ہے کہ تم انعام کے وعدوں اور عذاب کی وعیدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اندر تبدیلی کرو اور تھوڑی تھوڑی بات پر ٹھوکر نہ کھایا کرو۔ میں نے دیکھا ہے کہ کئی لوگ معمولی معمولی باتوں پر ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔

تھوڑا ہی عرصہ ہوا ایک جگہ سے دریافت کیا گیا کہ ہم کس کو ووٹ دیں؟ شہر والوں کو لکھا گیا کہ مشورہ کر کے لکھیں کہ کون آدمی مناسب ہے؟ ان کے جواب کی بناء پر ایک شخص کے متعلق سفارش کر دی گئی۔ مگر گاؤں کے لوگوں نے جن کے ووٹ تھے اس معاملہ کو دوبارہ پیش کیا اور کہا کہ یہ شخص مناسب نہیں اس پر ان کو اجازت دے دی گئی کہ جس کو چاہیں ووٹ دیں۔ اس پر ایک شخص کا خط آیا کہ اس وجہ سے سیکرٹری کو ابتلاء آ گیا کہ کیوں حکم بدلا گیا ہے؟ میں نے کہا اس پر ابتلاء کوئی نہیں آیا کیونکہ ابتلاء تو وہ ہوتا ہے کہ جس پر نازل ہو وہ کہے کہ نہیں آیا۔ مثلاً جس کے رشتہ داروں کو خدا نے مار دیا وہ خوش ہو اور کہے کہ خدا کی راہ میں مارے گئے ہیں غم کی کونسی وجہ ہے؟ اس کے متعلق کہیں گے کہ اسے ابتلاء آیا لیکن جو یہ کہے کہ مجھ پر ابتلاء آگیا ہے کہ میرے رشتہ دار مر گئے ہیں اس کو کہیں گے جھوٹا ہے اسے سمجھنا چاہئے کہ اس پر ابتلاء نہیں بلکہ اس کی کسی غلطی کی وجہ سے عذاب آیا ہے۔ پس اپنے ایمانوں کو مضبوط کرو اور اس نعمت کی قدر کرو جو مسیح موعودؑ کے ذریعہ تمہیں حاصل ہوئی ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ کتنی صدیاں گزر گئیں کہ لوگ مسیح موعودؑ کا انتظار کر رہے تھے۔ بڑے بڑے علماء مسیح موعودؑ کو دیکھنے کی حسرت کو لے کر چلے گئے۔ لیکن تم کو خدا تعالیٰ نے اس کا زمانہ عطا کر دیا ہے۔ تم کو وہ ہادی ملا ہے جس کی تعریف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے اور جس کی تعریف عرش پر بھی کی گئی ہے کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاكَ۱؎اگر تو نہ ہوتا تو میں افلاک کو ہی پیدا نہ کرتا۔ پھر خدا نے اپنے فضل سے تمہارے لئے وہ لوگ مہیا کر دیئے جو خود قرآن سمجھتے اور تمہیں سمجھا سکتے ہیں۔ پھر خدا نے تمہیں ایک ایسا دل دیا ہے جس میں تمہارے لئے تم سے زیادہ درد ہے۔ ایک زبان دی ہے جو تمہارے لئے ناصح ہے۔ ایک ہاتھ دیا ہے جو تمہیں اوپر کو اُٹھاتا ہے پس تم اس دل اور زبان اور ہاتھ کی قدر کرو۔ تمہارے بعد آنے والے آئیں گے اور حسرت کریں گے کہ ان کو یہ نعمت نہ ملی۔ مگر تم کو ملی ہے افسوس ہوگا اگر تم نے اس کی قدر نہ کی۔ تمہارے لئے آج وہ موقع ہے کہ تمہارے لئے خوانوں میں قسم قسم کی نعمتیں لگا کر آقا خود تمہارے پاس لایا ہے اس کی قدر کرو اور اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔ تمہارا ایمان پہاڑ کی طرح ہو کہ بڑی سے بڑی چیز جب اس سے ٹکرائے تو پاش پاش ہو جائے نہ کہ تھوڑی تھوڑی بات پر کہو کہ ابتلاء آگیا۔ مومن کب کہتا ہے کہ میں ابتلاء میں پڑ گیا ؟ ہاں اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ہم نے مومن کو ابتلاء میں ڈالا۔ خدا تعالیٰ انبیاءؑ کے متعلق فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو ابتلاء میں ڈالا مگر کوئی نہیں جو یہ ثابت کر سکے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کہا ہو کہ مجھے ابتلاء آیا۔

بہادر بنو

تم مضبوط چٹان کی طرح بن جاؤ اور ایسی مضبوط چٹان کی طرح کہ اگر ساری دنیا کے ہاتھی مل کر بھی ٹکر ماریں تو وہ پاش پاش ہو جائیں مگر تم ایک ذرہ بھی اپنی جگہ سے نہ ہلو۔ تم بزدل نہ بنو، ڈرپوک نہ بنو، تم گورنمنٹ کی اطاعت کرو مگر اس لئے نہیں کہ تم اس سے ڈرتے ہو بلکہ اس لئے کہ اس کی اطاعت کرنے کا حکم خدا نے دیا ہے۔ گورنمنٹ خواہ تمہاری گردنوں پر تلوار بھی رکھ دے تو بھی اس کے ڈر کی وجہ سے اس کے آگے ذرا نہ جھکو کہ تمہارا جھکنا صرف خدا ہی کے حکم کے لئے ہے اور اس نعمت کی قدر کرو جو خدا نے تمہیں دی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے اس نعمت کو سمجھا اور تم جانتے ہو کہ وہ کیا سے کیا بن گئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وقت میں کہا کہ اگر کسی کو مجھ سے کوئی دُکھ پہنچا ہو تو وہ مجھ سے بدلہ لے لے۔ ایک صحابیؓ نے کہا مجھے پہنچا ہے اور وہ یہ کہ ایک دفعہ آپؑ صفیں سیدھی کر رہے تھے تو مجھے آپؐ کی کہنی لگی تھی میں اس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا لے لو صحابیؓ نے کہا اس وقت میرا جسم ننگا تھا آپؐ بھی جسم ننگا کریں ۔ یہ باتیں سُن کر صحابہؓ پر کیسے اثرات ہوئے ہوں گے؟ وہ چاہتے ہوں گے کہ اس شخص کا سر اُڑا دیں ۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا اُٹھا دیا۔ یہ دیکھ کر اس صحابیؓ نے آپؐ کے جسم مبارک کو بوسہ دیا اور کہا یہی بدلا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم آنکھوں سے اوجھل ہونے والا ہے اور پھر کہاں مل سکے گا ؟ اس موقع سے فائدہ اُٹھالوں۔ (سیرت ابن ہشام (عربی) جلد ۲ صفحہ ۱)

یہ وہ محبت کا جذبہ تھا جو صحابہؓ میں پیدا ہو گیا تھا۔ تم بھی محبت کا ایسا ہی جذبہ پیدا کرو اور اب جس وقت یہاں سے جاؤ تو بدلے ہوئے جاؤ۔ وہ کون سا وقت آئے گا جب ہماری جماعت کے لوگ خدا کی راہ میں ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی پرواہ نہ کریں گے۔ تمہارے دل میں کسی دنیاوی طاقت کا خوف اور ڈر قطعاً نہیں ہونا چاہئے تم حکام کی اطاعت کرو مگر ان کے آگے تمہاری گردنیں نہ جھکیں ۔ ان کا ادب اور احترام ہو مگر اس لئے کہ خدا کا حکم ہے نہ کہ ڈر کی وجہ سے ۔ ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو مگر کسی لالچ اور طمع کی وجہ سے نہیں ۔ تمہیں جو کچھ مانگنا ہے خدا سے مانگو اور کسی سے تمہیں کچھ نہیں مانگنا چاہئے اور نہ خدا کے سوا کسی اور کا دیا ہوا تمہارے کسی کام آ سکتا ہے۔

مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ چیز جو تمہیں مل سکتی ہے اور جو میرے ذہن میں ہے میری طاقت بیان سے باہر ہے۔ اگر تم بزدلیوں ، کاہلیوں اور غفلتوں کو چھوڑ دو تو تمہیں وہ نعمتیں مل سکتی ہیں جو تمہارے خیال میں بھی نہیں آسکتیں اور تم اُن کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے اور تم تو اس کا بھی اندازہ نہیں کر سکتے جو میرے ذہن میں ہے کیونکہ تمہارا دل اتنا وسیع نہیں۔ چونکہ خدا نے مجھ سے کام لینا ہے اس لئے اس نے میرا دل بہت وسیع بنایا ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہ کیا نعمتیں ہیں جو تمہیں مل سکتی ہیں۔

پس تم اس وقت کی جو تمہیں ملا ہوا ہے قدر کرو کبھی بڑے کے بعد چھوٹے لوگ میسر ہوتے ہیں۔ اگر ان کی بھی قدر نہ کی جائے تو پھر ایک وقت آتا ہے جب کہ چھوٹے بھی نہیں رہتے۔ اب ایسے لوگ ہیں جو تمہیں دین سکھا سکتے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی قدر نہ کرو اور وہ بھی نہ رہیں تو تمہیں حسرت اور افسوس سے ہاتھ ملنے پڑیں ۔

کوئی احمدی اکیلا نہیں

پس اپنے اندر تغیر پیدا کرو اور کبھی کوئی اس بات سے نہ ڈرے کہ کسی جگہ وہ اکیلا احمدی ہے۔ کوئی احمدی اکیلا نہیں ۔ ایک وہ ہے اور ایک اسکے ساتھ اور ہے جو خدا ہے اور جسکے ساتھ خدا ہو وہ ساری دُنیا کی پرواہ جتنی بھی پرواہ نہیں کرتا پس اپنے دلوں سے ہر قسم کا خوف نکال دو اور کمریں کس لو اور نیتیں کر لو کہ ساری دُنیا میں اسلام کو پھیلا کے چھوڑیں گے۔ تم اس ارادہ اور نیت کو لے کر یہاں سے چلو تاکہ وہ آرزوئیں جو تمہارے متعلق میرے دل میں ہیں وہ پوری ہوں۔ اور ان کو پورا ہوتا ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ خدا تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو۔ آمین

ملائکۃ اللہ

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

ملائِکۃُ اللہ

تقریرِ حضرت فضلِ عمر خلیفۃ المسیح الثانی

(جو حضور نے سالانہ جلسہ پر ۲۸؍دسمبر ۱۹۲۰ء کو مسجد نُور میں بعد نماز ظہر فرمائی)

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(الفاتحہ)

بات یاد رکھنے کا طریق

مَیں نے پچھلے جلسوں پر بھی آپ لوگوں کو بارہا نصیحت کی ہے اور مشورہ دیا ہے کہ جو لوگ خاص طور پر کسی بات کو یاد رکھنا چاہیں ان کے لئے اس کا ایک اعلیٰ درجے کا طریق یہ بھی ہے کہ لکھتے جائیں کیونکہ انسانی دماغ کی بناوٹ خدا تعالیٰ نے اس طرز کی بنائی ہے کہ جتنے زیادہ حواس کسی چیز کے معلوم کرنے کے لئے لگائے جائیں اسی قدر وہ زیادہ محفوظ رہتی ہے۔ جس چیز کے دریافت کرنے میں ایک حِسّ کام کرے اس کا اثر دماغ پر بنسبت اس کے کم ہو گا جس کی دریافت کرنے میں دو حستیں لگتی ہیں۔ اور جب کوئی شخص کسی بات کو سنتا بھی جائے اور ساتھ ساتھ لکھتا بھی جائے تو اس کی دو طاقتیں خرچ ہوں گی۔ اور کیا بلحاظ اس کے کہ اس کی نظر بھی اس بات پر پڑتی جائے گی اور کیا بلحاظ اس کے کہ اس کی قوتِ ارادی بہت جوش میں ہو گی اس کے دماغ پر زیادہ گہرا اثر پڑے گا۔ ہاں وہ لکھنا نہیں جو اخباروں والے لکھتے ہیں کیونکہ ان پر لکھنے کا اتنا زیادہ بوجھ ہوتا ہے کہ ان کو یاد نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے چونکہ دوسروں کے لئے لکھنا ہوتا ہے اس لئے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ جہاں تک ہو سکے ہر لفظ کو محفوظ کریں۔ لیکن دوسرے چونکہ خلاصہ لکھتے ہیں اس لئے وہ اس پر غور کر سکتے ہیں۔ اور جب غور کر لینے کے بعد لکھتے ہیں تو ان کے حافظہ سے وہ بات باہر نہیں جا سکتی اور جوں جوں وہ لکھیں گے ان کی نظر اس پر پڑتی جائے گی اور اس طرح وہ بات ان کے حافظہ میں اور زیادہ محفوظ ہوتی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے پرانے بزرگ اس بات کی احتیاط کرتے تھے کہ جب درس دیتے تو سننے والوں کو کاپی اور قلم دوات کے بغیر نہ بیٹھنے دیتے۔ لکھا ہے کہ امام مالکؒ درس دیا کرتے تھے ان کے درس میں امام شافعیؒ آ گئے۔ امام مالکؒ مدینہ میں رہتے تھے اور یہ مکہ سے گئے تھے۔ ان کی عمر بھی چھوٹی تھی۔ یعنی تیرہ سال کی تھی۔ جب دو تین دن ان کے درس میں بیٹھے اور انہوں نے دیکھا کہ ان کے پاس کاپی اور قلم دوات نہیں ۔ تو امام مالکؒ نے انہیں کہا لڑکے تُو کیوں یہاں بیٹھا کرتا ہے؟ امام مالکؒ کو بُرا معلوم ہوا کہ جب درس میں آتا ہے تو لکھتا کیوں نہیں؟ امام شافعیؒ کو خدا نے ایسا حافظہ دیا تھا کہ جو بات سنتے یاد ہو جاتی۔ انہوں نے کہا پڑھنے کے لئے آیا ہوں۔ امام مالکؒ نے کہا پھر لکھتا کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا میں جو کچھ سنتا ہوں یاد ہو جاتا ہے۔ امام مالکؒ نے کہا اچھا جو کچھ میں نے پڑھایا ہے سناؤ۔ انہوں نے سنا دیا۔ امام مالکؒ کے دوسرے شاگرد کہتے ہیں کہ ہماری کاپیوں میں غلطیاں نکلیں مگر انہوں نے صحیح صحیح سنا دیا۔

لیکن ایسا ذہن ہر شخص کا نہیں ہو سکتا اس لئے ایسے طریق سے کام لینا چاہئے جس سے حافظہ کی کمزوری کی تلافی ہو سکے۔ اور وہ یہ ہے کہ جو کچھ سُنا جائے اسے اپنے طور پر نوٹ کر لیا جائے اس سے یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ انسان اسے بار بار دیکھ کر یاد کر لیتا ہے۔

سنتے وقت پوری توجہ کرنی چاہئے

اس کے بعد میں آپ لوگوں کو ایک اور نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ سُنتے ہوئے پوری توجہ مضمون کی طرف دینی چاہئے کیونکہ جو بات علمی ہو اس کا سمجھنا اور یاد رکھنا آسان بات نہیں۔ اس کے لئے جب تک پوری توجہ نہ دی جائے انسان سننے کے بعد ایسا ہی کورے کا کورا اُٹھتا ہے جس طرح کا کورا آیا تھا۔

قرآن کریم میں ایسے لوگوں کے متعلق سخت الفاظ استعمال کئے گئے ہیں لیکن چونکہ مثال ہے ۔اس لئے بیان کرتا ہوں :۔ آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں منافق آتے اور باہر جا کر ایک دوسرے سے پوچھتے مَاذَا قَالَ اٰنِفًا(محمد: ۱۷) ابھی انہوں نے کیا بات کہی تھی ۔ وہ گو مجلس میں آتے لیکن سُنتے نہ تھے کہ کیا باتیں ہوتی ہیں ؟ اس لئے ایک دوسرے سے پوچھتے ۔ اصل بات یہ ہے کہ جب انسان کسی ایسی مجلس میں بیٹھتا ہے جس میں دین کی باتیں ہوتی ہیں تو شیطان اس کی توجہ کو کہیں کا کہیں لے جاتا ہے تاکہ انسان ان باتوں سے فائدہ نہ اُٹھا سکے اور ٹھوکر کھا جائے ۔

بہت لوگ ہوتے ہیں جو مجلس میں تو بیٹھتے ہیں لیکن جو بات سنائی جائے اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ اور بعض اوقات جب ان سے پوچھا جائے کہ کیا کہا گیا ہے ؟ تو کہہ دیتے کہ مزا تو بڑا آیا تھا مگر یاد نہیں رہا کہ کیا کہا گیا تھا ؟ ایسے لوگوں کو مزا اس لئے نہیں آتا کہ وہ توجہ سے سُن رہے تھے بلکہ اس لئے آتا ہے کہ دوسرے واہ واہ کہہ رہے اور مزا اُٹھا رہے تھے ۔

پس جو کچھ کہا جائے اسے غور سے سنو اور توجہ سے سنو ۔ اور جن کے پاس لکھنے کا سامان ہے اور وہ لکھنے کے عادی ہیں وہ لکھتے بھی جائیں ۔ ہاں جو لکھنے کے عادی نہ ہوں وہ نہ لکھیں نا ایسا نہ ہو کہ لکھنے لگیں تو بھول جائیں جن میں لکھنے کی مشق ہے وہ لکھتے جائیں ۔ یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ بعض دفعہ بیماری یا کسی وجہ سے تقریریں جلدی شائع نہیں ہو سکتیں اور وہ نقوش جو یہاں سے دل پر ہوتے ہیں مٹ جاتے ہیں ۔ لیکن جنہوں نے خود لکھا ہو گا وہ اپنے لکھے کو دیکھ کر اپنی یاد تازہ کر سکیں گے ۔

پچھلے سال ایک ایسے اہم مسئلہ پر تقریر ہوئی تھی جو ایمانیات میں داخل ہے مگر ایسے اسباب ہو گئے کہ وہ تقریر جلدی نہ چھپ سکی اور اب چھپی ہے ۔ اب اسے جو پڑھے گا اسے نیا مضمون معلوم ہو گا مگر جنہوں نے نوٹ لکھے ہوں گے انہوں نے بہت فائدہ اُٹھایا ہو گا ۔

مضمون کی اہمیت

آج کا جو مضمون ہے وہ بھی بہت اہم ہے اور اسلام کے بنیادی اصول اور ایمانیات میں سے ہے اور نہایت باریک مضمون ہے ۔ تقدیر کا مسئلہ مشکل تھا مگر اس طرف عام و خاص کی توجہ چونکہ لگی رہتی ہے ۔ اس کا سمجھنا اس توجہ اور لگاؤ کی وجہ سے آسان تھا ۔ مگر یہ مسئلہ وہ ہے کہ باوجود ایمانیات میں سے ہونے کے اس کی طرف لوگوں کو توجہ نہیں۔ تقدیر تو ایسا مشہور لفظ ہے کہ جہاں کسی کو نقصان ہوا یا فائدہ پہنچا اس نے کہہ دیا تقدیر سے ہوا ہے اور چونکہ اس تقریر میں بار بار تقدیر کا لفظ آتا تھا اس لئے اس کی طرف توجہ رہتی تھی اور چونکہ بالعموم لوگ سوال کرتے ہیں کہ تقدیر کیا ہوتی ہے؟ اس لئے بھی اس کے متعلق جو کچھ کہا گیا اسے توجہ سے سننے کی خواہش ہوتی تھی اور چونکہ تقدیر ہر روز سامنے آتی ہے اس لئے بھی اس کی طرف خیال رہتا تھا۔

مگر یہ مضمون جو آج بیان ہوگا اگرچہ ایمانیات میں شامل ہے لیکن بار بار انسان کے سامنے نہیں آتا۔ اور لوگ جانتے ہی نہیں اور سمجھتے ہی نہیں کہ اسے ایمانیات میں کیوں داخل کیا گیا ہے؟ اس لئے اس کی طرف خاص توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ مسئلہ ملائکہ کا وجود ہے۔

ملائکہ پر ایمان لانا ایمانیات میں داخل ہے

ملائکہ کو خدا تعالیٰ نے ایمانیات میں شامل کیا ہے اور جو شخص ملائکہ پر ایمان نہیں لاتا وہ اسلامی نقطۂ خیال سے چاہے کتابوں پر، رسولوں پر اور آخرت پر ایمان لائے تو بھی مسلمان نہیں ہوسکتا کافر ہی رہے گا۔ اور جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرنے والا کافر ہوگا اسی طرح جبرائیلؑ کا منکر بھی کافر ہوگا۔ اور جس طرح خدا تعالیٰ کی کتابوں کا انکار کرنے والا کافر ہوگا اسی طرح ملائکہ کا انکار کرنے والا بھی کافر ہوگا اور جس طرح حشر و نشر پر ایمان نہ لانے والا کافر ہوگا اسی طرح فرشتوں کو نہ ماننے والا بھی کافر ہوگا۔ مگر افسوس کہ مسلمانوں نے ملائکہ کی طرف بہت کم توجہ کی ہے۔ ملائکہ کیا ہوتے ہیں؟ ان کا وجود کیوں منوایا گیا ہے؟ ان کے ماننے سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟ اس کو نہیں جانتے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کو ماننے کا تو یہ فائدہ ہے کہ اچھی باتوں کی ہدایت ملتی ہے اور ان پر عمل کرکے انسان اعلیٰ روحانی مدارج حاصل کر سکتا ہے، قیامت کے ماننے کا یہ فائدہ ہے کہ انسان ڈر کے مارے گناہ چھوڑتا اور نیک عمل کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ قیامت کے دن بُرے کاموں کی سزا ملے گی اور نیک اعمال کا اجر ملے گا۔ خدا تعالیٰ کو ماننے کا بھی فائدہ ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ رازق ہے، خالق ہے، رحیم ہے، کریم ہے اس کو مان کر اس کی ان صفات سے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔ مگر ملائکہ کیا ہیں جو منوائے جاتے ہیں؟ ان کا کیا فائدہ ہے کہ انہیں مانا جائے؟

ملائکہ کے متعلق عام لوگوں کا ایمان

عام طور پر لوگوں کو جو ملائکہ کے متعلق ایمان ہے اس کی نسبت سوچیں کہ وہ اگر جاتا رہے تو ان میں کیا کمی آجائے گی؟ ہر ایک شخص سوچے کہ اگر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہوں گا کہ آپؐ رسول نہیں تو ان کی تعلیم اس سے جاتی رہے گی اگر قرآن کے متعلق کہوں گا کہ خدا کا کلام نہیں تو اس کی تعلیم کو جواب دینا پڑے گا۔ لیکن اگر یہ کہہ دوں کہ فرشتے نہیں تو کیا نقصان ہوگا؟ لوگوں کو ملائکہ کے متعلق جو ایمان ہے وہ ننانوے فیصدی لوگوں میں اتنا کم ہے کہ اگر اس کی نفی کر دی جائے تو ان کے موجودہ ایمان میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور ان کے ماننے کی وجہ سے ان کے ایمان میں کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ حالانکہ ہر ایک ایمانی مسئلہ کے یہ معنے ہیں کہ وہ بہت بڑا اہم مسئلہ ہے۔ اس کے فائدے بھی بہت بڑے ہیں اور اس کو ترک کرنے کے نقصان بھی بہت بڑے ہیں۔ نہ یہ کہ صرف منہ سے کہہ دیں کہ فلاں بات ہم نے مان لی تو کافی ہو جاتا ہے۔ ورنہ نہ اس کے ماننے سے کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ انکار کرنے سے کوئی نقصان۔ اس طرح تو ہم ہمالیہ پہاڑ پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ مگر چونکہ ہمالیہ پر ایمان لانے سے نہ کوئی نفع ہے اور نہ اس کا انکار کرنے سے نقصان اس لئے اسے ایمانیات میں داخل نہیں کیا گیا۔ مگر ملائکہ پر ایمان لانے کو ایمانیات میں داخل کیا گیا ہے۔ پس ضروری ہے کہ ان پر ایمان لانے سے بہت بڑا فائدہ ہو اور نہ ایمان لانے سے نقصان۔

فرشتوں پر کیوں ایمان لائیں

غرض یہ ایک نہایت ضروری سوال ہے کہ فرشتوں کو کیوں مانیں؟ ان کا ہمارے ساتھ کیا تعلق ہے؟ ان سے ہمیں کیا فائدہ پہنچتا ہے؟ اگر ہمیں ان سے کوئی فائدہ نہیں تو ان پر ایمان لانے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر کوئی کہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر فرشتے تعلیم لائے اس لئے ان پر ایمان لانا چاہئے تو کہا جا سکتا ہے کہ پھر ہمیں ان سے کیا تعلق؟ اگر ان کی معرفت وحی کا آنا ہمیں معلوم نہ ہو تو ہمارے ایمان اور ہمارے عمل میں کیا کمی آجائے گی؟ اگر یہی فرض کر لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ اپنا کلام بلا واسطہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر نازل فرماتا تھا تو اس سے کیا حرج واقعہ ہوگا؟ اس سے قرآن کریم میں تو کوئی کمی نہیں آجائے گی پھر ہم سے فرشتوں کا وجود کیوں منوایا جاتا ہے؟ اور اتنے زور سے کیوں منوایا جاتا ہے؟ کہ اگر نہ مانیں تو مسلمان ہی نہیں رہتے کافر ہو جاتے ہیں۔

اس قسم کے خیالات کی وجہ سے یہ مضمون مشکل بھی ہے اور شاید بہتوں کے لئے پھیکا بھی ہو اور ان کی توجہ اس طرف قائم نہ رہے کیونکہ فرشتے ایسی چیز ہیں جو نظر نہیں آتے اور ان سے بظاہر کوئی تعلق بھی نہیں معلوم ہوتا۔ مسئلہ تقدیر بھی مشکل تھا۔ لیکن جب اس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ

خدا نے تقدیر کے ذریعہ کسی کے لئے عذاب نہیں مقرر کر چھوڑا اور ایسا نہیں ہے کہ انسان عذاب سے بچ نہ سکے تو ان خیالات کے باعث جو تقدیر کے متعلق عام طور پر پھیلے ہوئے ہیں جو بوجھ نظر آتا تھا وہ اتر جاتا تھا اور اس وجہ سے اس مسئلہ کی طرف توجہ قائم رہتی تھی اور لوگ غور سے سنتے تھے۔ مگر ملائکہ کو چونکہ غیر متعلق چیز سمجھا جاتا ہے اور ان کی کوئی ضرورت بھی نہیں سمجھی جاتی۔ اس لئے شائد توجہ نہ رہے۔

پھر ملائکہ کے متعلق عام مصنفین نے بھی کچھ نہیں لکھا۔ انہوں نے ان کی کیفیت کو سمجھا ہی نہیں۔ حالانکہ ان سے انسان کو ایسے ایسے فوائد پہنچ سکتے ہیں کہ اگر معلوم ہو جائیں تو لوگ بیتاب ہو کر ایسی کتابوں کو پڑھیں جن میں ان کا ذکر ہوتا ہے۔ صوفیاء نے ان کے ذکر کو لیا ہے اور اپنی تصنیفوں میں بیان کیا ہے مگر پھر بھی بہت تھوڑا بیان کیا ہے۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کسی انسان نے سب سے زیادہ ان کے متعلق بیان کیا ہے تو مسیح موعود نے ہی بیان کیا ہے۔ اور آپ ہی نے آکر ان کی حقیقت کے رازِ سربستہ کو کھولا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود کے درمیان اور کسی نے نہیں کھولا ۔ قرآن کریم نے ان کی حقیقت کو کھولا ہے یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات میں ان کا ذکر ہے۔ باقی صوفیاء کے کلام میں بھی ان کا ذکر ہے مگر بہت کم ۔ اور دوسرے مصنفین نے تو ان کا ذکر ہی نہیں کیا۔ معمولی معمولی باتوں کے متعلق تو انہوں نے بیسیوں قصّے بیان کر دیئے مگر ملائکہ کی نسبت اس طرح چپ چاپ گزر گئے کہ گویا یہ کوئی چیز ہی نہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کی حقیقت بیان کرنا بہت مشکل کام تھا اور ان میں بیان کرنے کی طاقت نہ تھی۔ لیکن اب چونکہ ایسا زمانہ آگیا ہے کہ ہر چیز کی حقیقت کو کھول دیا جائے تاکہ کسی کو کسی مسئلہ پر حملہ کرنے کی جرأت نہ رہے اس لئے خدا تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ ملائکہ کی حقیقت سے بھی دُنیا آگاہ ہو جائے۔

آج کل کے مسلمانوں کے وہمی فرشتے

چند ہی دن ہوئے ایک آریہ نے بیان کیا کہ مسلمان اسلام سے بدظن ہو رہے ہیں اور اس کے ثبوت میں یہ بات بھی پیش کی ہے کہ سیّد امیر علی صاحب نے جو مسلمان ہیں لکھا ہے کہ فرشتے ایک وہمی چیز ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس میں شک نہیں کہ آج کل کے مسلمان کہلانے والوں کے ذہن میں جو فرشتے ہیں وہ وہمی ہی ہیں۔ کیونکہ انہیں کچھ پتہ نہیں ہے کہ فرشتے کیا ہیں ؟ ان پر ایمان لانے کی کیا ضرورت ہے ؟ ان کے کیا فوائد ہیں ؟ مگر میں نے جیسا کہ ابھی بتایا ہے جو بات بھی ایمان میں داخل ہے وہ لغو نہیں ہے بلکہ اس کے بہت بڑے فوائد ہیں۔

پس چونکہ یہ ایک ایسا مضمون ہے کہ جس سے عام لوگوں کو لگاؤ نہیں اس لئے اس کی طرف خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ نئی تعلیم کی وجہ سے ملائکہ پر بھی اعتراض کئے جاتے ہیں مگر ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو ثابت کر سکتے ہیں اور اسی طرح ثابت کر سکتے ہیں جس طرح اور بہت سی چیزوں کو ثابت کیا جاتا ہے جو نظر سے غائب ہوتی ہیں۔ اور ہم ملائکہ کے متعلق ایسے ثبوت دے سکتے ہیں کہ ہر شخص ان کو سمجھ سکتا ہے بشرطیکہ تعصب کی پٹی اس کی آنکھوں پر نہ بندھی ہو۔

کیا ملائکہ نہیں ہیں؟

آج کل نئی تعلیم کے اثر سے بالعموم مسلمانوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ ملائکہ کا کوئی وجود نہیں ہے۔ بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو قوت پیدا ہوتی تھی اسی کا نام ملائکہ رکھ دیا گیا ہے۔ اور یہ جو نام جبرائیل یا میکائیل رکھ دیئے گئے ہیں ان کی غرض یہ ہے کہ لوگوں میں چونکہ ان کا خیال پھیلا ہوا تھا اور یہ نام رائج تھے اس لئے اپنی باتوں کو زیادہ مؤثر بنانے کے لئے ان کے نام لے دیئے گئے ہیں۔

مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ملائکہ کا وجود اس زور کے ساتھ تسلیم کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے بعد اگر کثرت کے ساتھ کوئی مسئلہ پایا جاتا ہے تو ملائکہ کا ہی ہے۔ وحشی سے وحشی قوموں کے حالات سے بھی پتہ لگتا ہے کہ وہ ملائکہ کو مانتے تھے۔ بہت سے مذاہب ایسے ہیں جن کی تعلیمیں اب دُنیا میں پائی نہیں جاتیں مگر ان کے آثارِ قدیمہ سے ملائکہ کا پتہ لگتا ہے اور جو مذاہب موجود ہیں ان میں تو نہایت صفائی کے ساتھ ان کا ذکر پایا جاتا ہے۔

دیگر مذاہب میں ملائکہ کا ذکر

چنانچہ قدیمی مذاہب میں سے سب سے زیادہ زرتشتی مذہب میں بیان کیا گیا ہے۔ اس مذہب کے لوگوں نے جس صفائی کے ساتھ ملائکہ کے متعلق بیان کیا ہے (اگرچہ انہوں نے اس بیان میں غلطیاں بھی کی ہیں) مجھے افسوس کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اتنا مسلمانوں نے نہیں کیا۔ ان لوگوں نے ملائکہ کا ذکر نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔

ان کے بعد دوسرے درجہ پر یہودی ہیں۔ یہ چونکہ تازہ ہی مذہب ہے اور کوئی بہت زیادہ زمانہ اس پر نہیں گزرا اور اس کی حفاظت بھی ایک حد تک ہوتی رہی ہے اس میں بھی ملائکہ کے متعلق بہت سی تعلیم موجود ہے۔ ان کے بعد ہندو ہیں۔ ان کا مذہب اگرچہ بہت قدیم کا ہے مگر ان میں بھی ملائکہ کو تسلیم کیا گیا ہے۔ گو آج کل یہ لوگ ان کی اور تشریحیں کر دیں۔ اسی طرح چین کے لوگوں کی جو پرانی کتابیں ہیں ان میں بھی ملائکہ کا ذکر پایا جاتا ہے۔ پھر مصر اور یونان کے آثارِ قدیمہ میں بھی ملائکہ کا ثبوت پایا جاتا ہے۔ اور ایسی وحشی قومیں جن کے نام کا بھی پتہ نہیں لگتا ان کے آثار اور ضرب الامثال سے بھی ملائکہ کا پتہ لگتا ہے۔ کسی جگہ تو یوں ذکر ہے کہ پروں والی ایک مخلوق ہے جو انسان کو سزا دیتی ہے۔ اور کسی جگہ اس قسم کی تصویریں ملتی ہیں جو کئی کئی ہزار سال کی ہیں کہ پروں والی تصویریں اوپر سے نیچے کی طرف آرہی ہیں۔ اس قسم کی باتوں سے پتہ لگتا ہے کہ ان میں بھی ملائکہ کا خیال پایا جاتا تھا۔

پس تمام اقوام میں ملائکہ کے خیال کا پتہ لگتا ہے۔ سب سے زیادہ زرتشتیوں میں۔ ان سے اُتر کر یہودیوں میں۔ ان سے اُتر کر ہندوؤں میں۔ اور دوسری پرانی اقوام میں بھی پایا جاتا ہے اور عیسائیوں میں بھی۔ حتّٰی کہ پولوس نے بحث اُٹھائی ہے کہ ان کی عبادت جائز ہے یا نہیں؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایسی تعلیم تھی جس کا اثر تمام قلوب پر تھا۔ اور جس طرح خدا تعالیٰ کے متعلق ہر ایک قوم کے ایمان کو دیکھ کر انسان کہہ سکتا ہے کہ شروع سے تمام لوگ خدا تعالیٰ کو مانتے چلے آئے ہیں اور یہ ثبوت ہے خدا تعالیٰ کی ہستی کا۔ اسی طرح جب وہ قومیں جن کے تمدن آپس میں نہیں ملتے جن کا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا وہ ساری کی ساری ملائکہ کی قائل پائی جاتی ہیں تو یہ ملائکہ کے ہونے کا ایک زبردست ثبوت ہے۔

زرتشتی مذہب میں ملائکہ کا ذکر

زرتشتیوں میں یہ عجیب بات پائی جاتی ہے کہ ان میں فرشتوں کے جو نام آئے ہیں اور وہ نام جو مسلمانوں میں ہیں آپس میں ملتے جلتے ہیں اور ان کے کام بھی آپس میں ملتے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ خدا دو ہیں۔ ایک تاریکی کا اور ایک نُور کا۔ نُور والے خدا کی یہ منشاء ہے کہ ظُلمت کے خدا کو کمزور کر دے۔ اور کہتے ہیں ایک وقت آئے گا جب ظلمت کا خدا کمزور ہوجائے گا نیکی کے خدا کو یزدان اور بدی کے خدا کو اہروما نہ اور بالعموم اہرمن کہتے ہیں یعنی تاریکی کا آدمی۔ اس نام سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے معنے شیطان تھے خدا نہ تھے لیکن وہ کہتے ہیں کہ خدا کے مقابلہ میں یہ بدی کا خدا ہے اور یہی بدیاں کراتا ہے۔

زرتشتیوں کی مذہبی زبان اوستا میں بڑے فرشتوں کو اَمیشیا کہتے ہیں جو کہ اَمیش سے نکلا ہے جس کے معنے غیر فانی کے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ فرشتے غیر فانی ہوتے ہیں۔ جس طرح انسانی رُوح فنا سے محفوظ رکھی گئی ہے۔ اسی طرح ان کو بھی ہمیشہ کی زندگی عطا کی گئی ہے۔

زرتشتیوں کا عقیدہ ہے کہ فرشتے تمام نیکیوں اور مذہب کا سرچشمہ ہیں اور اصولاً خدا تعالیٰ کے مظاہر ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ فرشتے ہزاروں سال کی ترقی کے بعد اپنے موجودہ درجہ تک پہنچے ہیں۔ اور وہ فرشتوں کی نسبت خیال کرتے ہیں کہ وہ لاثانی موتی ہیں جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں لیکن ہمیں نفع رساں ہیں۔ وہ جواہر نہیں کہلا سکتے کیونکہ یہ ان کی ہتک ہوگی۔ وہ پھول نہیں جو درختوں پر لٹکے ہوں بلکہ وہ ستاروں کی طرح ہیں جو سُورج کے گرد گھوم رہے ہوں وہ خدا کے لئے زینت نہیں بلکہ اس کی ذات کے مظہر ہیں ۔

زرتشتی کتب میں سب سے بڑے فرشتہ کا نام وہوہو ماناح لکھا ہے۔ اسے وہشتاماناح بھی کہتے ہیں یعنی سب سے بہتر فرشتہ۔ وہوہوماناح کے معنے نیک دل یا اصلاح کرنے والے فرشتہ کے ہیں ۔ اور عبرانی اور عربی میں جبر کے معنے بھی اصلاح کے ہیں۔ پس دونوں ناموں کی مطابقت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہوہوماناح درحقیقت جبرائیل کا ہی نام ہے۔

زرتشتی کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی دماغ کو روشنی اس فرشتہ کی وساطت سے آتی ہے۔ بلکہ زرتشت نے خدا تعالیٰ سے دُعا کی تھی کہ نُور اور الہام کی روشنی سے وہ وہوہوماناح کو دیکھے اور آخر وہ فرشتہ اسے ملا۔ تمام نیک تحریکیں اس فرشتہ کی طرف سے آتی ہیں اور جو لوگ اس فرشتہ کی تحریکات کو قبول نہیں کرتے یہ فرشتہ ان کو چھوڑ دیتا ہے۔

دوسرا فرشتہ زرتشتیوں کے نزدیک آرشا ہے۔ یعنی تقویٰ کا فرشتہ ہے۔ ظاہری اشیاء میں سے آگ آرشا کے سُپرد ہے۔ کیونکہ نُور آگ سے پیدا ہوتا ہے۔ اور تقویٰ نور سے پیدا ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ فرشتہ میکائیل ہے کیونکہ میکائیل دنیاوی ترقی کا فرشتہ ہے اور دنیاوی ترقی کا نشان آگ ہے۔

ان دونوں فرشتوں کے علاوہ وہ پانچ بڑے فرشتے اور مانتے ہیں اور چھوٹے فرشتوں کا تو کچھ شمار ہی نہیں۔ اور بڑے فرشتوں کے سپرد تمام انتظام ہے اور ان کا خیال ہے کہ فرشتے ہمیشہ انسان کے دل پر نیک اثر ڈالتے ہیں تاکہ شیطان اس میں نہ گھس سکے ۔ اور کہتے ہیں پیدائش خدا کی طرف سے ہے اور موت شیطان کی طرف سے۔ اس وجہ سے وہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ چونکہ پیدائش خدا کی طرف سے ہوتی ہے اس لئے انسان نیک ہی پیدا ہوتا ہے اور فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہیں مگر شیطان اس کو بُرائی سکھاتا ہے۔ اگر انسان اس کی بات مان لے تو فرشتے اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں کہ اب یہ شیطان کا بندہ ہو گیا ہے ۔

پھر ان کا خیال ہے کہ خدا اور شیطان کا مقابلہ ہوتا چلا جائے گا یہاں تک کہ ایرانی نسل ایک نبی پیدا ہوگا اور اس کا نام سوسیوزر بھی ہوگا یعنی مسیح مبارک کے نام سے ایک نبی آئیگا جو زرتشت کی اولاد سے ہوگا۔ مگر ظاہری اولاد سے نہیں کیونکہ لکھا ہے کہ وہ اس بیوی سے ہوگا جس سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔

اس کے زمانہ میں شیطان سے آخری جنگ ہوگی۔ وہ خدا تعالیٰ سے التجا کرے گا کہ جنگ بہت مہیب ہے تُو فرشتے نازل کر۔ اس پر خدا تعالیٰ فرشتے نازل کرے گا۔ شیطان مقابلہ کرتا کرتا آخر کار تھک جائے گا۔ اس وقت وہ نبی اس پر فرشتوں کی مدد سے آخری حملہ کرے گا اور خطرناک جنگ ہوگی جس میں شیطان کو شکست ہوگی۔ اور وہ پکڑا اور مارا جائے گا۔ اس کے بعد امن ہو جائے گا اور یہ دُنیا بہت پھیل جائے گی اس لئے کہ کوئی آدمی مر نہیں سکے گا کیونکہ شیطان جو مارنے سے تعلق رکھتا ہے خود مر گیا ہوگا۔

معلوم ہوتا ہے یہ باتیں ایک نبی کی کہی ہوئی ہیں کیونکہ سچی نکلی ہیں اور پوری ہو رہی ہیں سوسیوز رہی (مسیح مبارک) آیا اور انہی نشانات کے ساتھ آیا جو بیان کئے گئے تھے۔ پھر یہ بات اور نبیوں نے بھی کہی ہے کہ ایک آخری جنگ شیطان کے ساتھ ہوگی۔ چنانچہ اب ہو رہی ہے۔ کئی کئی طریقوں سے کوشش کی جاتی ہے کہ لوگوں کو سچے مذہب سے پھرایا جائے اور لوگ خدا کو چھوڑ دیں۔ اس کے مقابلہ میں لوگوں کو خدا سے ملانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ ایک نہایت خطرناک جنگ ہے۔

پھر فرشتے آسمان سے مانگنے والی بات بھی درست نکلی۔ چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ کا ایک کشف ہے کہ آپؐ نے خدا سے ایک لاکھ فرشتےعدمانگے ہیں اور خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے پانچ ہزار کافی ہیں ایک لاکھ زیادہ ہیں (تذکرہ صفحہ ۱۷۸، ایڈیشن چہارم) چونکہ قرآن میں زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار فرشتوں کا ذکر آیا ہے اس لئے اتنے ہی دیئے گئے ان سے زیادہ نہ دیئے گئے۔ غرض یہ بات بھی سچی نکلی۔

زرتشتیوں میں فرشتوں کے اعمال کے متعلق بڑی تفصیلیں آتی ہیں۔ گو انہوں نے ٹھوکریں بھی کھائی ہیں مگر ان کی کتابوں میں ایسے مضامین پائے جاتے ہیں کہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر اسلام کو چھوڑ کر کسی مذہب نے ملائکہ کا بیان کیا ہے تو وہ زرتشتی مذہب ہی ہے۔

یہودی مذہب میں ملائکہ کا ذکر

پھر یہودیوں میں بھی ملائکہ کی تعلیم پائی جاتی ہے وہ جبرائیل کو آگ کا فرشتہ کہتے ہیں مگر ان کو غلطی لگی ہے۔ کیونکہ یہی نام زرتشتیوں میں پایا جاتا ہے مگر وہ اسے کلام لانے والا فرشتہ کہتے ہیں۔ چونکہ یہ نام ان میں پہلے کا پایا جاتا تھا اور یہودیوں میں بعد میں آیا ہے اور ان کی ایران سے جلاوطنی کے بعد آیا ہے اس لئے چونکہ جن یہودیوں سے یہ نام لیا ہے ان میں اس کو رحمت کا فرشتہ اور کلام لانے والا مانا جاتا ہے اس لئے آگ کا فرشتہ کہنا غلط ہے۔ پھر بائیبل میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اسے رحمت کا فرشتہ قرار دیا گیا ہے۔ طالمود میں آتا ہے کہ دانیال نبی کے زمانہ میں جن لوگوں کو آگ میں ڈالا گیا تھا ان کو بچانے والا جبرائیل ہی تھا۔

چنانچہ لکھا ہے کہ جب حضرت ابراہیمؑ کو لوگ آگ میں ڈالنے لگے تو جبرائیل نے خدا تعالیٰ سے کہا مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کو بچاؤں۔ خدا تعالیٰ نے کہا نہیں تمہیں اس کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ابراہیمؑ بھی زمین میں ایک ہی ہے اور میں بھی ایک ہی ہوں اس لئے میں ہی اسے بچاؤں گا یہ وہی بات ہے جو ہمارے ہاں ہے کہ جب حضرت ابراہیمؑ کو آگ میں ڈالنے لگے تو جبرائیلؑ ان کے پاس آیا اور کہا مجھ سے کچھ مانگ لو۔ انہوں نے کہا تم سے میں کچھ نہیں مانگتا۔ اس پر اس نے کہا پھر خدا سے مانگو۔ انہوں نے کہا خدا سے مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا وہ خود نہیں دیکھتا کہ میری کیا حالت ہے؟

طالمود میں آتا ہے کہ جبرائیل کو خدا نے کہا کہ تو نہیں میں ابراہیمؑ کو بچانے کے لئے جاؤں گا۔ مگر میں تیری اس نیکی کو ضائع نہیں کروں گا۔ آئندہ ابراہیمؑ کی اولاد میں سے ایک کو بچانے کے لئے تجھے اجازت دوں گا۔ چنانچہ دانیالؑ کے وقت جو لوگ آگ میں ڈالے گئے تو اس وقت خدا نے جبرائیلؑ کو ان کے بچانے کی اجازت دی اور اس نے انہیں بچایا۔

غرض یہودیوں میں بھی شروع سے لے کر آخر تک فرشتوں کا ذکر چلتا ہے اور انہیں خدا کا بیٹا کہا گیا ہے۔

ہندو مذہب میں ملائکہ کا ذکر

اسی طرح ہندوؤں میں بھی فرشتوں کا ذکر پایا جاتا ہے ورونہ وغیرہ نام آتے ہیں۔ عام لوگ ان کو ایسی روحیں سمجھتے ہیں جن کی پوجا کرنی چاہئے۔ مگر دراصل یہ فرشتے تھے جو خدا کا کلام لاتے تھے کیونکہ وہ ہومانہ اور ورونہ کا کام ایک ہی معلوم ہوتا ہے۔ وہ ہومانہ کا تعلق بھی سورج سے بتاتے ہیں اور ورونہ کا بھی سورج سے ہی۔ مگر غلطی سے یہ سمجھا جانے لگا کہ چونکہ سورج سے ان کا تعلق ہے اس لئے سورج خدا ہے اور اس طرح سورج کو خدا ماننے لگ گئے۔

اس میں شک نہیں کہ ان کا تعلق سورج سے ہے۔ جیسا کہ اسلام میں سورج کا تعلق جبرائیلؑ سے بتایا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ نے بھی لکھا ہے کہ اس کا تعلق سورج سے ہے جبرائیلؑ کا تعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن میں سورج کہا گیا ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ پر جو کفر کے فتوے لگے ان میں ایک بات یہ بھی لکھی گئی تھی کہ آپؑ فرشتوں کا انکار کرتے ہیں۔ حضرت صاحبؑ نے توضیح مرام اور آئینہ کمالات اسلام میں فرشتوں کے متعلق بحث کی ہے اور قرآن کریم سے آپؑ نے ثابت کیا ہے کہ ملائکہ کا تعلق اجرام سماوی سے ہے اور ان کے ذریعہ سے ان کے اثرات دُنیا میں پڑتے ہیں جس پر علماء نے یہ شبہ پیدا کر کے کہ آپؑ فرشتوں کے منکر ہیں اور ستاروں کی تاثیرات کے قائل ہیں آپؑ پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے۔

یہ ستاروں کا مضمون ایک علیحدہ مضمون ہے میں اس وقت اس کے متعلق کچھ بیان کرنا نہیں چاہتا کیونکہ اس طرح بحث کہیں کی کہیں نکل جائے گی۔ سردست مَیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ سب مذاہب میں فرشتوں کا خیال پایا جاتا ہے اور اسلام میں بھی جہاں سینکڑوں شرک کی باتوں کا ردّ کیا گیا ہے وہاں فرشتوں کے عقیدہ کو قائم کیا گیا ہے اور اس قدر زور کے ساتھ قائم کیا گیا ہے کہ اگر ان کو نہ مانا جائے تو انسان کافر ہو جاتا ہے۔ اور اسلام کا سب مذاہب پر یہ احسان ہے کہ جس طرح نبیوں پر جس قدر اعتراض پڑتے ہیں ان کو اسلام نے دُور کیا ہے اسی طرح فرشتوں پر جس قدر اعتراض پڑتے ہیں ان کو بھی دُور کیا ہے۔

زرتشتیوں اور یہودیوں کا خیال ہے کہ فرشتے بھی شیطان کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں۔ اور ان ہی کی تقلید میں مسلمانوں نے ہاروت اور ماروت دو فرشتوں کے متعلق یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں شیطان کے پھندے میں پھنس جانے کی وجہ سے اس وقت تک بابل کے کسی کنویں میں اُلٹا لٹکایا ہوا ہے (تفسیر ابن کثیر سورۃ البقرۃ زیر آیت واتبعوا ما تتلوا الشیطین علی ملک سلیمن) لیکن قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے ایک ایسی مخلوق ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کچھ بھی نہیں کرتے۔ چنانچہ آتا ہے ۔

لَّا یَعۡصُوۡنَ اللّٰہَ مَاۤ اَمَرَہُمۡ وَیَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡنَ(التحریم: ۷)

اب جبکہ یہ معلوم ہو گیا کہ فرشتوں کا خیال ایک ایسی بات ہے جس کے متعلق سب قوموں کا اتفاق ہے تو ہر ایک سنجیدہ آدمی کو چاہئے کہ سوچے۔ یہ کوئی بہت ہی بڑی اور اہم بات ہو گی تبھی سب مذاہب کی کتب میں ان کا ذکر ہے اور قرآن سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اتنا پرانا خیال ہے کہ حضرت نوحؑ کے زمانہ میں بھی پایا جاتا تھا۔ حضرت نوحؑ کے مخالفین کا قول اللہ تعالیٰ نقل فرماتا ہے کہ ۔

فَقَالَ الۡمَلَؤُا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖ مَا ہٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ ۙ یُرِیۡدُ اَنۡ یَّتَفَضَّلَ عَلَیۡکُمۡ ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓئِکَۃً ۚۖ مَّا سَمِعۡنَا بِہٰذَا فِیۡۤ اٰبَآئِنَا الۡاَوَّلِیۡنَ(المؤمنون: ۲۵)

یعنی حضرت نوحؑ کے منکروں کے سرگروہوں نے کہا۔ یہ شخص تو تمہارے جیسا ایک آدمی ہے جو تم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اور اگر خدا کا منشاء ہوتا تو وہ فرشتے اتارتا۔ ہم نے تو ایسی بات پہلے بزرگوں کے حق میں نہیں سنی (یعنے ان میں رسولؐ آیا کرتے تھے)

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی یہ اعتراض کیا گیا ہے:۔ لَوۡ مَا تَاۡتِیۡنَا بِالۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ(الحجر: ۸) کیوں نہیں تو ہمارے پاس فرشتے لاتا اگر تو سچا ہے؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب کے لوگوں میں بھی ملائکہ کا خیال پایا جاتا تھا۔

اس مختصر سے ذکر کے بعد میں اسلامی تعلیم کی طرف آتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ اسلام نے ملائکہ کے متعلق کیا تعلیم دی ہے؟

ملائکہ کی حقیقت

پہلی بات یہ ہے کہ ملائکہ مخلوق ہیں یا نہیں؟ کیونکہ جو درجہ ان کو دیا گیا ہے اس سے خیال پیدا ہوتا ہے کہ فرشتے مخلوق نہیں۔ چنانچہ اسی وجہ سے عیسائیوں کو دھوکا لگا ہے اور انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ روح القدس مخلوق نہیں بلکہ خدا کا حصہ ہے اور اس کو بھی خدا بنا دیا ہے لیکن اسلام کہتا ہے کہ فرشتوں کا غیر مخلوق ہونا جھوٹ ہے۔ وہ مخلوق ہیں۔ چنانچہ فرشتوں کے مخلوق ہونے کا ثبوت قرآن کریم سے ملتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔

اَمۡ خَلَقۡنَا الۡمَلٰٓئِکَۃَ اِنَاثًا وَّہُمۡ شٰہِدُوۡنَ(الصّٰفّٰت: ۱۵۱)

کیا جب ملائکہ پیدا کئے گئے اس وقت یہ وہاں موجود تھے؟ کہ کہتے ہیں فرشتے لڑکیاں ہیں؟ اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے ملائکہ کو پیدا کیا ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ فنا ہوں گے یا نہیں؟ جس طرح ارواح انسانی محفوظ رکھی جائیں گی اسی طرح ملائکہ بھی فنا نہیں کئے جائیں گے یا سب فنا ہو جائیں گے یا بعض فنا ہو جائیں گے بعض باقی رکھے جائیں گے۔ یہودیوں کا خیال ہے کہ جب الہام ہوتا ہے تو ہزاروں فرشتے اس حرکت سے جو الہام کے الفاظ کے بیان سے پیدا ہوتی ہے پیدا ہوتے ہیں مگر پھر ساتھ ہی ہلاک ہو جاتے ہیں۔ مگر زرتشتی فرشتوں کو غیر فانی ہستی مانتے ہیں۔

دوسری بات ملائکہ کے متعلق یہ یاد رکھنی چاہئے کہ یہ ایسی رُوحانی مخلوق ہیں کہ بندہ کو ان آنکھوں سے اپنے اصلی جسم میں نظر نہیں آسکتے۔ اور اگر ان آنکھوں سے نظر آئیں گے تو اپنے اصلی وجود کے سوا غیر وجود میں ہوں گے۔ گویا فرشتوں کو دیکھنے کے لئے یا تو یہ ظاہری آنکھیں نہیں ہوں گی بلکہ رُوحانی آنکھوں کی ضرورت ہوگی اور اگر ان آنکھوں سے دیکھا جائے گا تو فرشتے اپنے اصلی جسم میں نہیں ہوں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔ وَلَوۡ جَعَلۡنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلۡنٰہُ رَجُلًا وَّلَلَبَسۡنَا عَلَیۡہِمۡ مَّا یَلۡبِسُوۡنَ(الانعام: ۱۰) یہ لوگ کہتے ہیں کہ فرشتہ کیوں نہیں اُترتا۔ لیکن اگر فرشتہ آ جائے تو آدمی کی شکل میں ہی آئیگا۔ تب یہ دیکھ سکیں گے۔ اور جب انسان کی شکل میں آئے گا تو پھر بات مشتبہ رہے گی کہ یہ فرشتہ ہے یا آدمی ؟ اور جو شبہ یہ اب پیدا کر رہے ہیں پھر بھی قائم رہے گا کہ یہ کلام خدا کا نہیں بلکہ انسانی بناوٹ ہے۔ پس فرشتہ تو ہم تب بھیجتے جب اس کا کوئی فائدہ بھی ہوتا۔ لیکن چونکہ ان آنکھوں سے لوگ فرشتے کو دیکھ نہیں سکتے اور اگر دیکھیں تو انسان کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں اور اس پر وہ پھر اعتراض کریں گے اس لئے فرشتہ نازل نہیں کیا جاتا۔

پس فرشتوں کا وجود نہانی ہے ان آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا۔

تیسری بات ان کے متعلق یہ یاد رکھنی چاہئے کہ وہ ایسی مخلوق ہیں کہ نہ نر ہیں نہ مادہ۔ اس بات کا پتہ اس آیت سے لگتا ہے جو میں نے پہلے پڑھی ہے کہ اَمۡ خَلَقۡنَا الۡمَلٰٓئِکَۃَ اِنَاثًا وَّہُمۡ شٰہِدُوۡنَ(الصّٰفّٰت: ۱۵۱) یہاں خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ تو مرد ہیں۔ بلکہ یہ کہا ہے کہ یہ کہتے ہیں فرشتے لڑکیاں ہیں۔ ان کو کیا پتہ ہے کہ وہ کیا ہیں؟ کیا یہ اس وقت موجود تھے؟ جب خدا نے فرشتوں کو بنایا۔ خدا تعالیٰ نے فرشتوں کے مادہ ہونے سے تو انکار کر دیا مگر ساتھ یہ نہیں فرمایا کہ وہ نر ہیں ۔ پس ان کو نر یا مادہ کہنا غلط ہے۔ یہ تو مادہ چیزوں میں ہوتا ہے۔ رُوحانی چیزوں میں نر و مادہ نہیں ہوتا۔ یہ نہیں کہ مرد کی روح نر ہو اور عورت کی مادہ۔ نر اور مادہ تو ظرف کی حالت ہے ان میں جو چیز ہے وہ ایک ہی ہے۔

چوتھی بات ملائکہ کے متعلق یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان کے تین درجے ہیں۔ وہ سارے کے سارے ایک قسم کے نہیں ہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔

اَلَّذِیۡنَ یَحۡمِلُوۡنَ الۡعَرۡشَ وَمَنۡ حَوۡلَہٗ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَیُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ وَیَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ رَبَّنَا وَسِعۡتَ کُلَّ شَیۡءٍ رَّحۡمَۃً وَّعِلۡمًا فَاغۡفِرۡ لِلَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَاتَّبَعُوۡا سَبِیۡلَکَ وَقِہِمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ(المؤمن: ۸)

اس آیت سے تین قسم کے فرشتوں کا پتہ چلتا ہے۔ دو قسم کے فرشتوں کا دلالت النص سے اور تیسری قسم کے فرشتوں کا اشارۃ النص سے۔ کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک تو وہ فرشتے ہیں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور ایک وہ فرشتے ہیں جو عرش کے گرد رہتے ہیں یعنی ایک تو وہ فرشتے ہیں جن کے ذریعہ سے احکام الٰہی جاری ہوتے ہیں۔ اور ایک وہ فرشتے ہیں جو ان کے نائب اور ان کے احکام کو نچلے طبقہ تک لے جانے والے ہیں ،اور اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک اور طبقہ فرشتوں کا ہے جو ان عرش کے گرد رہنے والے فرشتوں سے بھی نیچے کا ہے۔ اور احادیث سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ کیونکہ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض فرشتے مختلف اشیاء پر مقرر ہیں پس وہ حَمَلَۃُ الْعَرْشِ اور مَنْ حَوْلَہٗ کے سوا تیسری قسم کے فرشتے ہیں۔ زرتشتیوں میں بھی اس مسئلہ کا کسی قدر کچھ پتہ لگتا ہے۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ سات فرشتے ہیں جو دُنیا کا کام چلاتے ہیں۔ قرآن کریم میں آتا ہے کہ قیامت کو آٹھ فرشتے خدا کے تخت کو اُٹھائے ہوئے ہوں گے۔ تخت سے مراد چاندی سونے کا تخت نہیں بلکہ وہ اعلیٰ صفات مراد ہیں جن سے خدا تعالیٰ کی الوہیت روشن ہوتی ہے۔ اگلے جہان میں وہ آٹھ ملائکہ کے ذریعہ سے ظاہر ہوگی۔ مگر اس دُنیا میں جیسا کہ استدلال سے ثابت ہوتا ہے سات فرشتوں سے ظاہر ہوتی ہے ۔

تو ایک وہ فرشتے ہیں جو خدا کا عرش اُٹھائے ہوئے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو ان سے ادنیٰ ہیں مگر خدا تعالیٰ کے مقرب ہیں اور وہ ایسے ہیں جیسے اسسٹنٹ ہوتے ہیں۔ اصل کام ان کے سُپرد نہیں ہوتا وہ ان کے مددگار ہیں اور تیسرے وہ جو ادنیٰ درجہ کے ہیں ۔

پس تین قسم کے فرشتے ہیں :۔

۱۔ وہ جو خدا کی صفات ظاہر کرنے والے ہیں۔

۲۔ وہ جو ان کے مددگار اور خدا کے مقرب ہیں۔

۳۔ وہ جو مختلف چھوٹے چھوٹے کاموں پر متعین ہیں ۔اور ان کی تعداد کی تعیین ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے :۔

وَمَا یَعۡلَمُ جُنُوۡدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ(المدثر: ۳۲)

ان کا اندازہ کوئی انسان کر ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ جیسا کہ نبیوں کے کلام سے ثابت ہوتا ہے ہر کام کا علیحدہ فرشتہ ہوتا ہے۔

پانچویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ملائکہ ایسی مخلوق ہے جو بدی کر ہی نہیں سکتی۔ انسان میں تو یہ مادہ ہے کہ انبیاء حتیٰ کہ خدا کا بھی انکار کر دیتا ہے۔ اور ایسے لوگ ہوتے ہیں جو خدا کو گالیاں دیتے ہیں۔ مگر قرآن سے پتہ لگتا ہے کہ ملائکہ ایسی مخلوق ہے کہ اس میں بدی کی قوت ہی نہیں ہے اور انسان کی نسبت ان کا دائرہ عمل محدود ہوتا ہے۔ انسان حدود کو توڑ دیتا ہے۔ مگر ملائکہ کے لئے جو حدود مقرر ہیں ان کو نہیں توڑ سکتے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔ لَّا یَعۡصُوۡنَ اللّٰہَ مَاۤ اَمَرَہُمۡ وَیَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡنَ(التحريم: ۷) کہ ملائکہ اللہ کے حکم کو نہیں توڑتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔

چھٹی بات یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ ملائکہ خدا کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کرتے، بلکہ ان میں ایسا مادہ ہے کہ خدا کے احکام کو پورے طور پر بجا لاتے ہیں۔ کسی حکم کی خلاف ورزی کرنا اور بات ہوتی ہے اور اس کو پورے طور پر نہ کر سکنا اور بات۔ مثلاً ایک کمزور شخص کو کہا جائے کہ فلاں چیز اٹھاؤ لیکن وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے اُٹھا نہ سکے تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس نے حکم کی خلاف ورزی کی۔ ہاں ایک ایسا شخص جو اُٹھانے کی طاقت رکھتا ہو وہ اگر اُٹھانے سے انکار کر دے تو یہ خلاف ورزی ہو گی۔ فرشتوں کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے ان میں ایسی قابلیت ہوتی ہے کہ جو کام انہیں کرنے کو کہا جاتا ہے اسے وہ من حیث الافراد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یعنی سب میں اس کے کرنے کی طاقت موجود ہوتی ہے۔ انسانوں کی طرح نہیں ہوتے کہ بعض آدمیوں میں حکم پورا کرنے کی طاقت ہوتی ہے اور بعض میں نہیں۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ وَیَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡنَ(النحل: ۵۱) انہیں جو حکم دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔ انسان کی یہ حالت نہیں ہوتی۔ وہ بعض اوقات چاہتا ہے کہ ایک کام کرے لیکن کر نہیں سکتا۔ مثلاً وہ چاہتا ہے کہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے لیکن وہ بیمار ہو تو ایسا نہیں کر سکتا۔

ساتویں بات ملائکہ کے متعلق یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ ارد گرد کے اثرات کو قبول نہیں کرتے، باقی مخلوق زبردست سے زبردست ہو تو بھی اثر قبول کرتی ہے۔ ہاں یہ ہوتا ہے کہ بعض اثرات کو قبول کرتی ہے اور بعض کو نہیں بھی قبول کرتی۔ مثلاً انبیاء ہیں یہ نیکی کے اثر کو قبول کرتے ہیں، یا لڑائی ہو اور وہ اس میں شامل ہوں تو بشریت کے لحاظ سے ان پر بھی اثرات پڑیں گے۔ لیکن نبی بُرے اثرات سے محفوظ ہوتے ہیں۔ مگر فرشتے ہر رنگ میں محفوظ ہوتے ہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔

عَلَیۡہَا مَلٰٓئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ(التحريم: ۷) ملائکہ کی صفت یہ ہے کہ وہ غلاظ اور شداد ہوتے ہیں۔ دوسری کوئی چیز ان پر اثر نہیں ڈال سکتی۔ ہاں ان کو جس چیز پر اثر ڈالنے کے لئے کہا جائے اس پر ضرور ڈال دیتے ہیں۔ یہ طاقت انسان میں نہیں ہوتی۔ بعض باتوں میں ہوتی ہے اور بعض میں نہیں ہوتی۔ یعنی بعض صفات میں انسان بھی ایسا ہوتا ہے مگر من کل الوجوہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔

مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَالَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ(الفتح: ۳۰) کہ مؤمن بھی اَشِدَّاء ہوتے ہیں مگر کفار پر۔ آپس میں وہ ایک دوسرے کا اثر قبول کرتے ہیں۔ اسی طرح فرماتا ہے:۔

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الۡکُفَّارَ وَالۡمُنٰفِقِیۡنَ وَاغۡلُظۡ عَلَیۡہِمۡ(التوبة: ۷۴) اے نبی! کفار اور منافقین کا مقابلہ کرو مگر ان کا اثر نہ قبول کرو۔ تو مؤمنوں میں یہ بات ہوتی ہے کہ وہ دوسروں پر اپنا اثر ڈالتے بھی ہیں اور ان کا اثر قبول بھی نہیں کرتے مگر بعض امور میں۔ اور ملائکہ من کل الوجوہ ایسے ہوتے ہیں کہ کبھی اثر قبول نہیں کرتے۔

آٹھویں بات یہ ہے کہ ان کی تعداد انسان کے لئے غیر محدود ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔

وَمَا یَعۡلَمُ جُنُوۡدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ(المدثر: ۳۲) ملائکہ کی تعداد خدا ہی جانتا ہے۔ اور کوئی معلوم نہیں کر سکتا۔

نویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان میں افسر ماتحت بھی ہوتے ہیں۔ یہی نہیں کہ ایک بڑا ہے اور دوسرا چھوٹا مگر اپنے اپنے کام اور جگہ پر سب مستقل ہیں۔ بلکہ وہ افسر اور ماتحت کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ چنانچہ ایک جگہ تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔

قُلۡ یَتَوَفّٰٮکُمۡ مَّلَکُ الۡمَوۡتِ الَّذِیۡ وُکِّلَ بِکُمۡ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ(السجدة: ۱۲) کہہ دے کہ تمہاری رُوح قبض کرے گا موت کا فرشتہ جس کے سپرد تمہاری جان نکالنے کا کام کیا گیا ہے۔ پھر تم اپنے ربّ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اور دوسری جگہ فرماتا ہے:۔

وَلَوۡ تَرٰۤی اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِیۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓئِکَۃُ بَاسِطُوۡۤا اَیۡدِیۡہِمۡ ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ اَلۡیَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡہُوۡنِ بِمَا کُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ غَیۡرَ الۡحَقِّ وَکُنۡتُمۡ عَنۡ اٰیٰتِہٖ تَسۡتَکۡبِرُوۡنَ(الانعام: ۹۴)

یعنی اور کاش کہ تو دیکھے اس گھڑی کو جب کہ ظالم موت کی تکلیف میں ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھوں کو ان کی طرف دراز کئے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ نکالو اپنی جانوں کو۔ آج کے دن تم رسوائی کا عذاب دیئے جاؤ گے۔ بہ سبب تمہارے اللہ تعالیٰ کے متعلق نادرست باتوں کے کہنے کے اور بہ سبب اس کے نشانات سے تکبر کر کے اعراض کرنے کے۔ اسی طرح فرماتا ہے:۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَفّٰہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ قَالُوۡا فِیۡمَ کُنۡتُمۡ(النساء: ۹۸)

یعنی ضرور وہ لوگ کہ جن کی ملائکہ روح قبض کریں گے ایسے حال میں کہ وہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہوں گے۔ ان سے ملائکہ کہیں گے کہ تم کس خیال میں ٹھہرے ہوئے تھے؟ اب ان تینوں آیتوں کو ملا کر دیکھو کہ اوّل الذکر آیت میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ سب انسانوں کی جانیں نکالنے کا کام صرف ایک ہی فرشتہ کے سپرد کیا گیا ہے۔ اور دوسری دونوں آیتوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ جان بہت سے فرشتے نکالتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ موکل تو ایک فرشتہ ہے مگر آگے اس کے نائب بہت سے فرشتے ہیں جو اس کی اطاعت میں اس کام کو بجا لاتے ہیں۔ اور جب موت کے انتظام میں افسری ماتحتی کے سلسلہ کو ملحوظ رکھا گیا ہے تو دوسرے امور کو بھی اسی پر قیاس کیا جا سکتا ہے کہ تمام امور جو فرشتوں کے ذریعہ سے ہوتے ہیں۔ وہ چند بڑے فرشتوں کے سُپرد ہیں۔ اور آگے ان کے ماتحت شمار سے باہر ایک جماعت کام کرتی ہے۔

دسویں بات یہ ہے کہ فرشتوں میں انسان کی طاقتوں کے مقابلہ میں محدود طاقتیں ہوتی ہیں۔ ملائکہ ایک ہی حالت میں رہتے ہیں لیکن انسان بہت ترقی کر سکتا ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔

وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَ کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمۡ عَلَی الۡمَلٰٓئِکَۃِ ۙ فَقَالَ اَنۡۢبِـُٔوۡنِیۡ بِاَسۡمَآءِ ہٰۤؤُلَآءِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ قَالُوۡا سُبۡحٰنَکَ لَا عِلۡمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ(البقرة: ۳۲-۳۳)

اللہ نے آدم کو سارے نام سکھا دیئے اور پھر ملائکہ کے سامنے ان چیزوں کو جن کے نام سکھائے تھے پیش کیا۔ اور پوچھا کہ مجھے ان کے نام بتاؤ اگر تم حق پر ہو۔ انہوں نے کہا کہ تُو پاک ہے۔ ہمیں کچھ علم نہیں۔ مگر اتنا ہی جتنا کہ تُو نے ہمیں سکھایا ہے۔ ضرور تُو بہت جاننے والا حکمت والا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدمؑ سے کہا کہ وہ نام بتائے اور انہوں نے بتا دئیے۔ اس جگہ ضمنی طور پر میں اس سوال کا جواب دے دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے خود کیوں نام نہ بتائیے؟ آدمؑ سے کیوں کہلوائے؟ سو اس میں یہ حکمت تھی کہ اگر خدا تعالیٰ بتاتا تو ان میں ساری صفتیں آجائیں۔ حضرت آدمؑ کو کہا گیا کہ تُو بتا۔ یعنی تیری طرف یہ دیکھ لیں۔ غرض ملائکہ کی طاقتیں انسان سے محدود ہوتی ہیں۔ مگر با وجود اس کے ملائکہ جو کچھ کرتے ہیں خدا کے حکم اور منشاء کے ماتحت کرتے ہیں کسی قسم کی نافرمانی نہیں کر سکتے۔ گیارہویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ملائکہ میں ارادہ ہے مگر بہت محدود۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے گھوڑے کے گلے میں لمبارسہ ڈال کر ایک کیلے سے باندھ دیا جائے کہ حرکت کرتا رہے لیکن اس حلقہ سے باہر نہ جاسکے۔ ملائکہ بھی ایک مرکز کے ارد گرد حرکت کرتے رہتے ہیں اور اس حد سے باہر نہیں جا سکتے۔ وہ حد یہی ہے کہ:۔ لَّا یَعۡصُوۡنَ اللّٰہَ مَاۤ اَمَرَہُمۡ وَیَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡنَ(التحریم: ۷) اس حد سے باہر نہیں جا سکتے۔ فرشتوں کے ارادہ کا پتہ زمین سے بھی لگتا ہے کہ وہ حضرت آدمؑ کے متعلق کہتے ہیں:۔ اَتَجۡعَلُ فِیۡہَا مَنۡ یُّفۡسِدُ فِیۡہَا وَیَسۡفِکُ الدِّمَآءَ(البقرة: ۳۱) یہ انہوں نے خدا تعالیٰ سے سوال کیا ہے کہ ہمیں سمجھائیے کہ آدمؑ دُنیا میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا۔ اس کا کیا انتظام ہوگا؟ یہ سوال کرنا بتاتا ہے کہ ایک حد تک ان میں ارادہ ہوتا ہے جو نہ تو بدی تک جاتا ہے اور نہ نیکی سے آگے گزر جاتا ہے۔ مگر اس آیت سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پوچھا۔ کہا جا سکتا ہے ممکن ہے کہ خدا نے الہام کیا ہو کہ پوچھو تو انہوں نے پوچھا ہو۔ اوّل تو یہی بات غلط ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے کہنے پر پوچھا کیونکہ آگے خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ(56:88) اگر تم یہ سوال کرنے میں سچے ہو تو اسماء بتاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کا سوال خدا کے حکم کے ماتحت نہ تھا۔ پھر حدیثوں میں ہم ایسی باتیں پڑھتے ہیں جن سے فرشتوں کا ارادہ ظاہر ہوتا ہے۔ جیسا کہ آتا ہے:۔ ایک شخص ایک عالم کے پاس گیا اور جا کر کہا میں نے اتنے گناہ کئے ہیں کیا میں توبہ کر سکتا ہوں؟ اس نے کہا تمہاری توبہ قبول نہیں۔ اس نے اسے قتل کر دیا اور پھر ایک اور شخص کے

پاس جانے کے لئے روانہ ہوا تاکہ اس کے پاس توبہ کرے مگر راستے میں ہی مر گیا۔ اس پر جنت والے فرشتوں نے کہا کہ ہم اسے جنت میں لے جائیں گے کہ یہ توبہ کی نیت کر چکا تھا اور دوزخ والے فرشتوں نے کہا ہم اسے دوزخ میں لے جائیں گے کہ یہ توبہ کرنے سے پہلے مر گیا۔ (مسلم کتاب التوبة باب قبول توبة القاتل وان كثر قتله) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ میں ارادہ ہوتا ہے۔

پھر اس آیت سے بھی پتہ لگتا ہے ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے : مَا کَانَ لِیَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤی اِذۡ یَخۡتَصِمُوۡنَ(ص: ۷۰) مجھے کیا معلوم تھا اس بحث کا حال جب فرشتے آپس میں بحث کر رہے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ایک دوسرے سے بحث بھی کر لیتے ہیں پس ان میں ارادہ پایا جاتا ہے مگر نہایت محدود۔

بارہویں بات ملائکہ کے متعلق یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ عالم الغیب نہیں ہیں ۔ کیونکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔ وَیَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ یَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اَہٰۤؤُلَآءِ اِیَّاکُمۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ قَالُوۡا سُبۡحٰنَکَ اَنۡتَ وَلِیُّنَا مِنۡ دُوۡنِہِمۡ ۚ بَلۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ ۚ اَکۡثَرُہُمۡ بِہِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ(سبا: ۴۱-۴۲) اور جس دن کہ اللہ ان سب کو اکٹھا کرے گا۔ پھر ملائکہ سے کہے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے۔ وہ کہیں گے تُو پاک ہے ان سے ہمارا کیا واسطہ ہے۔ ہمارا دوست تو تُو ہے۔ یہ لوگ تو جنوں کی عبادت کرتے تھے ۔ اور ان میں سے اکثر ان پر ایمان لاتے تھے ۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کو علم غیب نہیں۔ کیونکہ اگر انہیں علم غیب ہوتا تو وہ عبادت سے لاعلمی ظاہر نہ کرتے۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے یونہی سوال کیا تھا کیونکہ ایسے موقع میں بلا وجہ سوال بھی ایک قسم کا جھوٹ بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے ۔ دوم پچھلی کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ فرشتوں کی عبادت کے بھی قائل تھے۔

پس معلوم ہوتا ہے کہ بعض فرشتے بوجہ عدم علم کے اس امر سے انکار کر دیں گے کہ بعض انسان ان کی عبادت کرتے تھے بعض حدیثوں سے بھی یہ بات وضاحت کے ساتھ ظاہر ہو جاتی ہے کہ فرشتے عالم الغیب نہیں ہوتے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ ایک شخص مؤمن کہلاتا اور مؤمنوں والے کام کرتا ہے۔ اس کے کاتب فرشتے جب اس کے عمل لے کر خدا تعالیٰ کے حضور میں پیش کرنے کے لئے لے جاتے ہیں۔ مثلاً وہ نماز پڑھتا ہے اور وہ اس عمل کو اس کے حضور میں پیش کرتے ہیں تو آسمان سے آواز آتی ہے کہ اسے واپس لے جاؤ اور جا کر اس کے منہ پر مارو۔ یہ نماز اس نے میرے لئے نہیں پڑھی۔

اس سے معلوم ہوا کہ ملائکہ کو غیب کا علم نہیں ہوتا اگر ہوتا تو وہ ایسی نماز کو لے ہی کیوں جاتے جو قابلِ قبول نہ تھی؟

تیرہویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ الگ الگ چیزوں کے الگ الگ فرشتے ہوتے ہیں۔ چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے کہ حضرت عائشہؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ آپ کو اُحد کے دن سے زیادہ بھی کبھی تکلیف پہنچی ہے۔ آپ نے فرمایا۔ ہاں۔ یوم عقبہ کو جب کہ مکہ والوں کے انکار کو دیکھ کر میں نے عبد یالیل کی قوم کی طرف توجہ کی۔ مگر انہوں نے توجہ نہ کی اور میری بات کو رد کر دیا۔ اس پر میں سخت غمگین ہو کر بلا کسی خاص جہت کو مدّ نظر رکھنے کے یونہی ایک طرف کو نکل کھڑا ہوا۔ راستہ میں میں نے ایک بادل کا ٹکڑا دیکھا جس میں جبرائیلؑ مجھے نظر آئے اور انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی بات کو سن کر اور ان کی مخالفت کو دیکھ کر پہاڑ کے فرشتہ کو حکم دیا ہے کہ جو تو اسے حکم کرے وہ کرے۔ اس پر پہاڑ کے فرشتہ نے مجھے سلام کیا اور کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ میں اَخشبین کو (مکہ کے گرد کے دو پہاڑ) ان پر برابر کر دوں یعنی ان میں زلزلہ پیدا ہو کر وہ لوگ ہلاک ہو جائیں۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ ان کی اولاد نیک پیدا ہو جائے جو ایک خدا کی پرستش کرنے لگے۔ (الہدایۃ والنھایۃ جلد ۳ ص ۱۳۵ تا ۱۳۶ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۶ء)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جبرائیلؑ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا کہ خدا نے پہاڑ کے فرشتے کو حکم دیا ہے کہ آپ کی مدد کرے اپنے متعلق نہیں کہا۔ کہ میں مدد کے لئے آیا ہوں اس سے ظاہر ہے کہ پہاڑ کا فرشتہ الگ تھا اور الگ الگ چیزوں کے علیحدہ علیحدہ فرشتے مقرر ہوتے ہیں۔

چودھویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ملائکہ مختلف صفات الٰہیہ کے مظہر ہوتے ہیں۔ بعض کسی ایک طاقت کے اور بعض ایک سے زیادہ طاقتوں کے مظہر ہوتے ہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ جَاعِلِ الۡمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا اُولِیۡۤ اَجۡنِحَۃٍ مَّثۡنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ؕ یَزِیۡدُ فِی الۡخَلۡقِ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ(فاطر: ۲) سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو اور جو فرشتوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے۔ جن میں سے بعض دو بعض تین اور بعض چار صفات کے مظہر ہوتے ہیں اور اللہ ان میں زیادتی بھی کرتا ہے جتنی چاہتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اس آیت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مختلف فرشتے مختلف صفات کے مظہر ہوتے ہیں اور کوئی تھوڑی صفات کے اور کوئی زیادہ صفات کے۔ اور یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جس زمانہ کے لئے جتنی ضرورت ہوتی ہے اتنی ہی استعداد کے فرشتے بھیجے جاتے ہیں انہی فرشتوں کو لوگوں کے پاس بھیجا جاتا رہا جن میں ان لوگوں کے مطابق استعداد ہوتی تھی ۔ اور جب دنیا پورے درجہ تک پہنچ گئی تو اس وقت خدا تعالیٰ نے جبرائیلؑ کو اپنی کامل صورت میں بھیجا جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس کے چھ سو پَر ہیں جو کامل کتاب لے کر آیا۔عهاس سے معلوم ہوا کہ جبرائیلؑ خدا کی چھ سو صفات کے مظہر ہیں ۔ یہ کہنا غلطی ہے کہ خدا کی صفات تو تھوڑی ہیں پھر یہ چھ سو صفات کے کیونکر مظہر ہوئے ؟ خدا تعالیٰ کی بے شمار صفات ہیں اور چھ سو تو صرف وہ ہیں جو انسان کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہیں ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ایک نہایت لطیف بات لکھی ہے جو یہ ہے کہ قرآن کریم کا علم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جبرائیل سے زیادہ تھا۔ اور یہ بالکل درست بات ہے وجہ یہ کہ اور ملائکہ بھی آپؐ کی تائید میں تھے اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صفات کے فرشتے تھے۔ تو معلوم ہوا کہ ملائکہ مختلف صفات کے مظہر ہوتے ہیں۔ اور اجنحہ کے معنے پر نہیں بلکہ صفات کے ہیں جو ان میں پائی جاتی ہیں۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جن سے ملائکہ کے متعلق اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کیسی مخلوق ہیں ۔ اس بیان سے بعض کو مَلَک کے لفظ کے ساتھ اس کی کچھ کچھ صفات کا پتہ بھی لگ گیا ہو گا۔ اب میں ان کے کام بتاتا ہوں۔

ملائکہ کے کام

ملائکہ کا ایک کام جو بہت بڑا ہے وہ یہ ہے کہ وہ کلام الٰہی لاتے ہیں چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔ اَللّٰہُ یَصۡطَفِیۡ مِنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ(الحج: ۷۶) اللہ تعالیٰ ملائکہ اور انسانوں سے رسولوں کو چُنتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ملائکہ کا ایک کام خدا کا کلام پہنچانا ہے۔ دوسرا کام ملائکہ کا جان نکالنا ہے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔

قُلۡ یَتَوَفّٰٮکُمۡ مَّلَکُ الۡمَوۡتِ الَّذِیۡ وُکِّلَ بِکُمۡ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ(السجدة: ۱۲)

کہ تمہاری روح قبض کرتا ہے موت کا فرشتہ جس کے سپرد تمہاری جان نکالنے کا کام کیا گیا ہے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔

تیسرا کام فرشتوں کا یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ شریر لوگ جو نبیوں کا مقابلہ کرتے ہیں ان پر عذاب لاتے ہیں۔ وہ فرشتے جب شریروں سے ملتے ہیں تو ان میں ایسی میگنیٹک طاقت پیدا ہوتی ہے کہ شریر جل جاتے ہیں۔ جیسے پٹرول کے پاس آگ جلاؤ تو اسے آگ لگ جاتی ہے اسی طرح شریر پٹرول کی طرح ہوتے ہیں اور ملائکہ آگ کی طرح ۔ جب ان کے ساتھ لگتے ہیں تو شریر جل جاتے ہیں اور جب وہ ان کے پاس آتے ہیں تو انہیں تباہ کر دیتے ہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔

ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِیَہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَوۡ یَاۡتِیَ رَبُّکَ اَوۡ یَاۡتِیَ بَعۡضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ ؕ یَوۡمَ یَاۡتِیۡ بَعۡضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنۡفَعُ نَفۡسًا اِیۡمَانُہَا لَمۡ تَکُنۡ اٰمَنَتۡ مِنۡ قَبۡلُ اَوۡ کَسَبَتۡ فِیۡۤ اِیۡمَانِہَا خَیۡرًا(الانعام: ۱۵۹)

کیا یہ اس بات کی انتظار کرتے ہیں کہ ملائکہ آجائیں ۔ اگر وہ آگئے تو ادھر وہ آئیں گے اُدھر یہ تباہ ہو جائیں گے ۔ وہ ان کے لئے چنگاری ہیں اور یہ ان کے سامنے بارود۔

چوتھا کام ملائکہ کا یہ ہے کہ مومنوں کی مدد کرتے ہیں۔ کافروں کے لئے تو وہ چنگاری ہیں کہ اِدھر وہ قریب ہوئے اور اُدھر وہ جلے۔ لیکن مومن ان سے مدد لیتے اور وہ انہیں مدد دیتے ہیں ۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ نَحۡنُ اَوۡلِیٰٓؤُکُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَفِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَلَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَشۡتَہِیۡۤ اَنۡفُسُکُمۡ وَلَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَدَّعُوۡنَ(حم السجدة: ۳۱-۳۲)

وہ لوگ جو کہتے ہیں ۔ ہمارا رب اللہ ہے ۔ پھر وہ اس بات پر قائم ہو جاتے ہیں۔ کوئی چیز انہیں اس سے پھرا نہیں سکتی ۔ ان پر ملائکہ اترتے ہیں اور کہتے ہیں تمہیں بشارت ہو جنت کی ۔ تم ڈرو نہیں۔ ہم تمہارے مددگار ہیں ۔ اس دُنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ اور جنت میں جو کچھ تم چاہو گے وہی تمہیں ملے گا اس سے معلوم ہوا کہ بعض فرشتوں کا کام مومنوں کی مدد کرنا ہے ۔

پانچواں کام یہ معلوم ہوتا ہے کہ علاوہ اس کے کہ فرشتے جب نظر آجائیں۔ تو وہ کفار اور مشرکین کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ ایک کام ان کا یہ بھی ہوتا ہے کہ ہر ملک جو انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ نبی اور اس کی جماعت کا رُعب انسان کے دل پر ڈالتا رہتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔

اِذۡ تَقُوۡلُ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَلَنۡ یَّکۡفِیَکُمۡ اَنۡ یُّمِدَّکُمۡ رَبُّکُمۡ بِثَلٰثَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُنۡزَلِیۡنَ(اٰل عمران : ۱۲۵)

کیا تمہارے لئے یہ کافی نہیں کہ تین ہزار ملائکہ تمہاری مدد کو آجائیں۔ تین ہزار ملائکہ کیوں فرمایا؟ اس لئے کہ اس موقع پر دشمن کی فوج اتنی ہی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ اعلیٰ درجہ کے فرشتے نہیں تھے بلکہ وہ تھے جو ہر انسان کے ساتھ ایک ایک لگا ہوا ہے۔ کیونکہ فرمایا۔ کیا یہ کافی نہیں ہے؟ کہ ہم تین ہزار ملائکہ سے تمہاری مدد کریں۔ یعنی جب تم دشمن کے مقابلہ پر جاؤ تو وہ تمہارا رُعب ہر ایک کے دل میں ڈالنا شروع کر دیں۔ چنانچہ آگے فرماتا ہے:۔

سَنُلۡقِیۡ فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا الرُّعۡبَ(اٰل عمران : ۱۵۲)

کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیا گیا۔ پس ہر انسان کے ساتھ جو ملک ہوتا ہے وہ نبی اور اس کی جماعت کا رُعب ڈالتا رہتا ہے۔ رُعب کی مثال اس زمانہ میں بھی ملتی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے مخالفین کو بلایا کہ مباہلہ کر لو مگر کوئی سامنے کھڑا نہ ہو سکا۔ وجہ یہ کہ جب وہ سامنے کھڑے ہونے کا خیال کرتے تو فرشتہ ان کے دل میں رُعب ڈال دیتا کہ مارے جاؤ گے اس لئے وہ ہٹ جاتے۔

جن دنوں میں شملہ گیا وہاں مجھے ایک آریہ ملنے کے لئے آیا۔ ویدوں کے متعلق گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ اگر تمہیں ویدوں کے سچے ہونے کا یقین ہے تو قسم کھاؤ۔ کہنے لگا ہاں میں قسم کھانے کو تیار ہوں۔ میں نے کہا اس طرح قسم کھاؤ اگر یہ سچے نہ ہوں تو میری بیوی بچوں پر عذاب آجائے۔ کہنے لگا یہ تو نہیں ہو سکتا یہ کہتے ہوئے دل ڈرتا ہے۔ میں نے کہا میں قرآن کے متعلق اسی طرح قسم کھانے کو تیار ہوں کہنے لگا یہ تو بڑی جرأت ہے۔ میں نے کہا کہ جب مجھے یقین ہے کہ قرآن سچا اور خدا کا کلام ہے تو جرأت کیوں نہ ہو؟

بات یہی ہے کہ ایسے لوگوں کے دلوں میں ملائکہ رُعب ڈالتے ہیں۔ اس زمانہ میں بھی اس کی مثال موجود ہے کہ بار بار چیلنج دیا گیا مباہلہ کر لو مگر کوئی سامنے کھڑا نہ ہو سکا۔ ابھی صوفیت کا دعویٰ کرنے والے ایک صاحب حسن نظامی نامی اُٹھے اور انہوں نے لکھا کہ آؤ میں ایک گھنٹہ میں جان نکال لونگا۔ آخر اتنے ذلیل ہوئے کہ بالکل خاموش ہو گئے۔ پھر دیوبندیوں کو دیکھو کتنے اشتہار لکھے اور شائع کئے مگر اب ہمارے اشتہار کا کوئی جواب ہی نہیں دیتے جو کئی ماہ سے نکلا ہوا ہے۔ تو مباہلہ کے خیال پر انکے دل پر رُعب چھا جاتا ہے۔

حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ذکر کیا ابو جہل نے مجھ پر ظلم کر رکھا ہے آپؐ انصاف کرائیں۔ اس نے میرا اتنا روپیہ دینا ہے مگر دیتا نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ساتھ لے کر ابو جہل کے پاس گئے اور جا کر پوچھا کہ تم نے اس کا اتنا روپیہ دینا ہے۔ اس نے کہا ہاں دینا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دے دو۔ اس نے جھٹ نکال کر دے دیئے۔ اس پر لوگوں نے ابو جہل کو شرمندہ کیا کہ یہ تم نے کیا کیا ؟ تم تو ہمیں کہا کرتے تھے کہ مسلمانوں کا مال کھا جانا جائز ہے۔ پھر تم نے کیوں دے دیا ؟ اس نے کہا تمہیں کیا معلوم ہے مجھے اس وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دو مست اونٹ میرے سامنے کھڑے ہیں۔ اگر میں نے ذرا انکار کیا تو وہ مجھے چیر ڈالیں گے دراصل یہ رُعب تھا جو فرشتہ اس کے قلب پر ڈال رہا تھا۔عه

غرض ملائکہ کا یہ کام بھی ہے کہ رُعب ڈالتے ہیں۔

پھر ملائکہ کا چھٹا کام یہ ہے۔ کہ توحید الٰہی قائم کرتے ہیں۔ یوں تو سارے ہی کام فرشتے کرتے ہیں مگر یہ خاص کام ہے جو ہر ایک فرشتہ کرتا ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔ شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۙ وَالۡمَلٰٓئِکَۃُ وَاُولُوا الۡعِلۡمِ قَآئِمًۢا بِالۡقِسۡطِ(اٰل عمران: ۱۹)

خدا بھی اپنی توحید پر گواہی دیتا ہے اور ملائکہ بھی گواہی دیتے ہیں۔ تو ملائکہ توحید کے ثبوت کے لئے اسباب مہیا کرتے ہیں۔

ساتواں کام ملائکہ کا یہ ہوتا ہے کہ انبیاء کی تصدیق ظاہر کرتے ہیں۔ لوگ انبیاء کو جھٹلاتے ہیں مگر وہ دلوں میں خیال ڈالتے رہتے ہیں کہ یہ جھوٹا نبی نہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے :۔ لٰکِنِ اللّٰہُ یَشۡہَدُ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اِلَیۡکَ اَنۡزَلَہٗ بِعِلۡمِہٖ ۚ وَالۡمَلٰٓئِکَۃُ یَشۡہَدُوۡنَ ؕ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًا(النساء: ۱۶۷)

فرمایا خدا گواہی دیتا ہے کہ جو کچھ تجھ پر نازل کیا گیا ہے یہ ہماری طرف سے ہے اور ملائکہ بھی گواہی دیتے ہیں۔

ملائکہ کئی طرز سے گواہی دیتے ہیں۔ مثلاً خواب میں نبی کی سچائی ظاہر کر دیتے ہیں۔ ایک شخص نبی کا دشمن ہوتا ہے اور اسے جھوٹا سمجھتا ہے۔ لیکن ملائکہ ایسی بات اس کے دل میں خواب کے ذریعہ ڈالتے ہیں کہ وہ نبی کو مان لیتا ہے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ مَلَک اس موقع کو تاڑتا رہتا ہے کہ کب فلاں شخص کے دل میں نیکی آئے ۔ اور ہر انسان پر ایسا وقت آتا ہے خواہ وہ ابوجہل ہو یا فرعون اور جب نیکی کے آنے کا وقت ہوتا ہے ۔ تو اس سے مَلَک فائدہ اُٹھا لیتا اور نبی کی سچائی دل میں ڈال دیتا ہے ۔ آگے یہ انسان کا کام ہوتا ہے کہ اس سے فائدہ اُٹھائے یا نہ اُٹھائے ۔ تو ملائکہ کا ایک کام یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں انبیاء کی تصدیق پیدا کرتے رہتے ہیں۔ آٹھواں کام ملائکہ کا یہ ہوتا ہے کہ خدا کی تسبیح کرتے رہتے ہیں ۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔

وَتَرَی الۡمَلٰٓئِکَۃَ حَآفِّیۡنَ مِنۡ حَوۡلِ الۡعَرۡشِ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ(الزمر: ۷۶)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ خدا کی تسبیح اور تمحید کرتے ہیں ۔ نواں کام ملائکہ کا یہ ہوتا ہے کہ وہ مومنوں کے لئے استغفار کرتے ہیں۔ یہ خاص ملائکہ ہوتے ہیں۔ ان کا خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ فرض ہوتا ہے کہ مومنوں کے لئے دُعا اور استغفار کرتے رہیں کہ اگر مومن سے کوئی کمزوری صادر ہو جائے تو اس پر خدا تعالیٰ پردہ ڈال دے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔

اَلَّذِیۡنَ یَحۡمِلُوۡنَ الۡعَرۡشَ وَمَنۡ حَوۡلَہٗ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَیُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ وَیَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ رَبَّنَا وَسِعۡتَ کُلَّ شَیۡءٍ رَّحۡمَۃً وَّعِلۡمًا فَاغۡفِرۡ لِلَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَاتَّبَعُوۡا سَبِیۡلَکَ وَقِہِمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ(المؤمن: ۸)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خاص الخاص ملائکہ کا یہ کام ہوتا ہے کہ خاص الخاص مومنوں کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں کہ خدا ان کی کمزوریوں کو معاف کر دے۔ اور جو عام فرشتے ہوتے ہیں۔ ان کا کام یہ ہوتا ہے کہ سب کے لئے دُعا کرتے ہیں ۔ عام مومنوں حتّٰی کہ کافروں کے لئے بھی دُعا کرتے ہیں ۔ اور اس طرح مومنوں کو دوہرا فائدہ پہنچتا ہے ۔ ایک تو خاص فرشتے ان کے لئے دُعا کرتے تھے اور دوسرے عام فرشتے جو سب کے لئے دُعا کرتے ہیں ان میں بھی مومن شامل ہوتے ہیں۔ سب کے لئے دُعا کرنے کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے :۔

وَالۡمَلٰٓئِکَۃُ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَیَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِمَنۡ فِی الۡاَرۡضِ(الشوریٰ: ۶)

یعنی خدا کی رحمانیت کے فرشتے سب کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں کہ خدا سب کو معاف کر دے ۔ میرا خیال ہے کہ خدا تعالیٰ نے دوزخ کو خالی کرنے کی یہ سبیل رکھی ہے خدا تعالیٰ فرشتوں کی دُعا کے نتیجہ میں آخر کہے گا کہ جاؤ میں سب کو چھوڑتا ہوں۔

دسواں کام ملائکہ کا یہ ہے کہ وہ قوانینِ نیچر کی آخری علّت ہیں اور دُنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے۔ سب ملائکہ کے اثر کے ذریعہ سے ہو رہا ہے۔ مثلاً بارش برستی ہے ، ہوا چلتی ہے سورج کی شعاعیں پہنچتی ہیں ، زہر اثر کرتا ہے ، تریاق اثر کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کچھ ملائکہ کے اثر کی وجہ سے ہو رہا ہے اور کوئی چیز ایسی نہیں جو ان کے اثر کے بغیر اثر کر سکتی ہو۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ زہر بجائے خود زہر نہیں ہے اور تریاق اپنی ذات میں تریاق نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس مَلَک کے ماتحت زہر ہے جب تک وہ زہر کو اجازت نہ دے وہ اثر نہیں کر سکتا ہے اور جس کے ماتحت تریاق ہے جب تک وہ حکم نہ دے تریاق اثر نہیں کر سکتا اور ہر چیز کے متعلق یہی بات ہے چنانچہ قرآنِ کریم میں مختلف مقامات پر ذکر آتا ہے کہ بارشیں برسانا ، آندھیاں لانا اور دوسرے کئی کام ملائکہ کے سپرد ہیں۔ یہ ایک لمبا سلسلہ ہے اور بیسیوں مثالیں اس قسم کی مل سکتی ہیں اور کھلی کھلی پندرہ بیس مثالیں تو مل جاتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ قانونِ قدرت کے مختلف شعبوں کو پورا کر رہے ہیں۔ اگرچہ چند ایک مثالیں جو کھلی کھلی ہیں ان سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے لیکن اگر کوئی کہے کہ ان کی وجہ سے سب باتوں کے متعلق کس طرح قیاس کیا جا سکتا ہے ؟ تو اس کا یہ جواب ہے کہ یہ قیاس یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ سے ہو سکتا ہے کہ ملائکہ ہی خدا کی سب صفات کو ظاہر کرتے ہیں۔

گیارہواں کام ملائکہ کا یہ ہے کہ وہ استغفار ہی نہیں کرتے کہ لوگوں کے گناہ معاف کئے جائیں بلکہ دُعائیں بھی کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر برکتیں نازل کرے۔ استغفار کرنے کے تو یہ معنے ہیں کہ انسانوں سے جو غلطیاں ہوں ان کو ڈھانپ دیا جائے۔ مگر وہ دعائیں کرتے ہیں کہ خدا اپنی رحمت نازل کرے۔ چنانچہ آتا ہے:۔ اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا(الاحزاب: ۵۷) یہ فرشتے خدا کی رحمت کے ماتحت ہوتے ہیں جب کوئی شخص خدا کی راہ میں کام کرتا ہے تو ملائکہ اس پر خدا کی برکت نازل ہونے کی دُعائیں کرتے ہیں وہ خود تو برکت نہیں دے سکتے اس لئے خدا سے دُعائیں کرتے ہیں کہ فلاں پر برکت نازل کرے۔ ان کا درود ایسا ہی ہوتا ہے۔ جیسے ہمارا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہوتا ہے کہ ہم خدا سے درخواست کرتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی برکت نازل کرے۔ اسی طرح وہ بھی درخواست کرتے ہیں کہ خدایا اپنے اس بندے پر رحم کر۔ خدا تعالیٰ

فرماتا ہے۔ تم بھی دُعائیں کرو کیونکہ خدا اور ملائکہ بھی اِس کام پر لگے ہوئے ہیں۔

بارہواں کام ملائکہ میں سے بعض کا یہ ہے کہ وہ سوائے عبادت کے کچھ نہیں کرتے۔ وہ محض عبادت ہی کر رہے ہیں اور کرتے چلے جائیں گے حتّٰی کہ اِس دُنیا کا خاتمہ ہو جائے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ساتوں آسمانوں پر ایک قدم یا ایک بالشت یا ایک ہتھیلی کے برابر بھی جگہ خالی نہیں سب جگہ فرشتے کھڑے عبادت کر رہے ہیں یا سجدہ میں ہیں یا رکوع میں ہیں۔ جب قیامت کا دن آئے گا سب کہیں گے تُو پاک ہے۔ ہم نے تیری عبادت اس طرح نہیں کی جو حق تھا۔ ہاں بس اتنا کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے تیرا شریک کسی کو نہیں ٹھہرایا۔

فرشتوں کے اِس قول سے مومنوں کو بھی سبق لینا چاہئے کہ اس قدر عبادت کرنے کے بعد فرشتے کہیں گے ہم نے کچھ نہیں کیا۔ مگر بعض لوگ تھوڑی سی عبادت کر کے کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے اتنی عبادت کی ہے۔

تیرہواں کام ملائکہ کا یہ ہے کہ لوگوں کے اعمال محفوظ رکھتے ہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔ وَاِنَّ عَلَیۡکُمۡ لَحٰفِظِیۡنَ کِرَامًا کَاتِبِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ مَا تَفۡعَلُوۡنَ(الانفطار: ۱۱ تا ۱۳) فرماتا ہے کہ تمہارے اوپر فرشتے مقرر کئے گئے ہیں جن کا کام یہ ہے کہ تمہارے اعمال لکھتے رہتے ہیں جو تم ظاہر میں کرتے ہو۔ باقی رہی نیت یہ ان ہی کو معلوم ہوتی ہے جن کو محاسبہ قلب کا کام سپرد ہے۔

چودہواں کام ملائکہ کا یہ ہے کہ جو خدا کے پیارے ہوتے ہیں ان کی محبت دُنیا میں پھیلاتے ہیں اور لوگوں کو تحریک کرتے ہیں کہ ان سے محبت کرو۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے۔ کہ إِذَا أَحَبَّ اللهُ الْعَبْدَ نَادٰى جِبْرِيلَ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَاَحِبَّهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ فَيُنَادِىْ جِبْرِيلُ فِيْ اَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَاَحِبُّوْهُ فَيُحِبُّهُ اَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الأَرْضِ۔(بخاری کتاب بدء الخلق باب ذکر الملئکۃ) یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل کو پکارتا ہے کہ اللہ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے۔ اس پر جبرائیل اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ پھر جبرائیل تمام آسمان والوں میں پکارتا ہے کہ اللہ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے پس تم بھی اس سے محبت کرو۔ پس اس پر سب آسمان والے اس سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں۔ پھر اس کی قبولیت زمین میں پھیلا دی جاتی ہے۔

اس زمانہ میں یہ نظارہ دیکھ لو۔ یہ وہ زمانہ ہے کہ لوگ حکومتوں کو کہہ رہے ہیں کہ ہم تمہیں کیوں مانیں؟

مگر اسی زمانہ میں لوگ حضرت مسیح موعودؑ کی غلامی میں داخل ہو رہے ہیں۔ اور جو بعد میں داخل ہوتے ہیں انہیں افسوس ہوتا ہے کہ ہم نے پہلے کیوں نہ آپ کو مان لیا؟ یہ ملائکہ ہی کی پھیلائی ہوئی محبت ہے۔ خدا تعالیٰ کے پیاروں کی صداقت کی یہ ایک لطیف دلیل ہے۔ جھوٹے مدعی اُٹھتے ہیں بڑا شور مچاتے ہیں لیکن انہیں کوئی پوچھتا تک نہیں۔ اسی زمانہ میں ایک ظہیر الدین اروپی اور دوسرا عبد اللہ نیما پوری ہے بارہا انہوں نے اپنے متعلق ٹریکٹ لکھ لکھ کر چھپوائے اور شائع کئے۔ مگر کوئی ان کی طرف توجہ بھی نہیں کرتا۔ مگر حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق دیکھو کس طرح آپ کی محبت دُنیا میں پھیلی؟ اور پھیل رہی ہے۔

پندرھواں کام ملائکہ کا یہ ہوتا ہے کہ کبھی ملائکہ کو خدا کے پیاروں کی خدمت میں لگا دیا جاتا ہے اور ماموروں کے خادم اور غلام بنا دیئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔ وَاِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَنَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ(الحجر: ۲۹-۳۰) خدا تعالیٰ نے ملائکہ کو کہا کہ مٹی سے بشر بنانے والا ہوں۔ جس وقت میں اس کو بنا چکوں اور اس پر اپنا کلام نازل کروں یعنی اسے نبی بناؤں اس وقت تم اس کی غلامی میں جھک جانا۔ گویا ملائکہ کو نبی کی غلامی میں دیا جاتا ہے اور وہ نبی کے مقام سے نیچے آ جاتے ہیں۔

سولھواں کام ملائکہ کا یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو علم سکھاتے اور تعلیم دیتے ہیں یعنی ان کو مقرر کیا جاتا ہے کہ وہ لوگ جو علم کی طرف توجہ کرنے والے ہوں ان کے قلوب پر علم کی روشنی ڈالتے رہو۔ چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے کہ جبرائیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس متمثل ہو کر آئے اور سوال کیا یا رسول اللہ ایمان کیا ہے؟ دین کیا ہے؟ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیتے رہے جب چلے گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو فرمایا جانتے ہو یہ کون تھا؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہؐ ہم تو نہیں جانتے آپؐ ہی بتائیے۔ آپؐ نے فرمایا یہ جبرائیل تھا جو تمہیں دین سکھانے کے لئے آیا تھا۔

(بخاری کتاب الایمان باب سؤال جبریل النبیّ عن الایمان و الاسلام)

تو ملائکہ کا یہ بھی کام ہوتا ہے کہ علوم سکھاتے ہیں۔ مگر دینی علوم ہی نہیں۔ دُنیا کے معاملات کے متعلق علوم بھی سکھاتے ہیں حتیٰ کہ کافروں کو بھی سکھاتے ہیں میں نے ایڈیسن کی ایک کتاب پڑھی ہے۔ وہ لکھتا ہے کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں جو میں نے ایجاد کر کے نکالی ہو۔ ایک دم میرے دل میں آکر ایک بات پڑتی اور میں اس کو عمل میں لے آتا۔ اس کو چونکہ ایسے علوم کا شوق تھا اس لئے اس قسم کی باتیں سکھائی گئیں۔ نبیوں اور ولیوں میں چونکہ دینی علوم کا شوق ہوتا ہے اس لئے انہیں دینی علوم سکھاتے ہیں۔

فرشتوں کے علوم سکھانے کا بھی عجیب طریق ہے۔ وہ جو بات سکھاتے ہیں اسے OBJECTIVE MIND (قلبِ عامل) میں نہیں رکھتے بلکہ SUB CONSCIOUS MIND (قلبِ غیر عامل) میں رکھتے ہیں۔ یعنی دماغ کے پچھلے حصہ میں رکھتے ہیں تاکہ سوچ کر انسان اسے نکال سکے۔ اس میں ظاہری دماغ سے حفاظت کی زیادہ طاقت ہوتی ہے اور یہ ذخیرہ کے طور پر ہوتا ہے۔ ملائکہ جو کچھ سکھاتے ہیں اسی حصہ دماغ میں ڈالتے ہیں۔ الا ماشاء اللہ۔ دماغ کے تین حصے ہوتے ہیں۔ ایک وہ حصہ جس کے ذریعہ ہم چیزوں کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ دوسرا وہ حصہ جو ذخیرہ کے طور پر ہوتا ہے۔ اس میں باتیں محفوظ رکھی جاتی ہیں جو یاد کرنے پر یاد آ جاتی ہیں اور تیسرا وہ حصہ جس میں ذخیرہ تو ہوتا ہے مگر یاد کرنے سے بھی اس میں جو کچھ ہو یاد نہیں آتا بلکہ بہت کریدنے سے وہ بات سامنے آتی ہے۔ ملائکہ کبھی اس تیسرے حصے میں بھی علوم داخل کر جاتے ہیں جب ان کی ضرورت ہو اس وقت ایسے واقعات پیش آجاتے ہیں کہ وہ علوم سامنے آجاتے ہیں۔ یوں یاد کرنے سے نہیں آتے۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے میری کوئی ۱۷۔ ۱۸ سال کی عمر ہو گی حضرت مسیح موعودؑ کا زمانہ تھا۔ اس وقت میں نے رسالہ تشحیذ نکالا تھا۔ خواب میں میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ آیا ہے جو مجھے کہتا ہے کیا تمہیں کچھ سکھائیں؟ میں نے کہا سکھاؤ۔ اس نے کہا سورہ فاتحہ کی تفسیر سکھائیں؟ میں نے کہا ہاں سکھائیے۔ اس رؤیا کا بھی عجیب نظارہ تھا۔ یہ شروع اس طرح ہوئی کہ پہلے مجھے ٹن کی آواز آئی اور پھر وہ پھیلنے لگی اور پھیل کر ایک میدان بن گئی۔ اس میں سے مجھے ایک شکل نظر آنے لگی۔ جو ہوتے ہوتے صاف ہو گئی۔ اور میں نے دیکھا کہ فرشتہ ہے۔ اس نے مجھے کہا تمہیں علم سکھاؤں۔ میں نے کہا سکھاؤ۔ اس نے کہا لو سورہ فاتحہ کی تفسیر سیکھو۔ اس پر اس نے سکھانی شروع کی اور اِیَّاکَ نَعۡبُدُ(1:5) پر پہنچ کر کہا کہ سب نے اسی حد تک تفسیریں لکھی ہیں آگے نہیں لکھیں۔ میں بھی اس وقت سمجھتا ہوں کہ ایسا ہی ہے۔ پھر اس نے کہا مگر میں تمہیں اس سے آگے سکھاتا ہوں۔ چنانچہ اس نے ساری سورۃ کی تفسیر سکھائی اور میری آنکھ کھل گئی۔ اس وقت مجھے اس کی ایک دو باتیں یاد تھیں جن کی نسبت اتنا یاد ہے کہ نہایت لطیف تھیں۔ مگر دوبارہ سونے کے بعد جب میں اُٹھا تو میں وہ بھی بھول گیا تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کو جب میں نے یہ رؤیا سنائی تو آپ بہت ناراض ہوئے کہ کیوں اسی وقت نہ لکھ لی؟ جو کچھ سکھایا گیا تھا اسے اسی وقت لکھ لینا چاہئے تھا۔

اس دن کے بعد آج تک میں سورہ فاتحہ پر کبھی نہیں بولا کہ مجھے اس کے نئے نئے نکات نہ سمجھائے گئے ہوں۔ میں سمجھتا ہوں یہ اسی علم کی وجہ ہے جو مجھے سکھایا گیا۔

ایک دفعہ مجھے اس علم کا خاص طور پر تجربہ ہوا۔ ہمارے سکول کی ٹیم امرتسر کھیلنے کے لئے گئی میں اس وقت اگرچہ سکول سے نکل آیا تھا لیکن مدرسہ سے تعلق تھا کیونکہ میں نیا نیا نکلا تھا اس لئے میں بھی ساتھ گیا۔ وہاں ہمارے لڑکے جیت گئے اس کے بعد وہاں مسلمانوں نے ایک جلسہ کیا اور مجھے تقریر کرنے کے لئے کہا گیا۔ جب ہم اس جلسہ میں گئے تو راستہ میں مَیں ساتھیوں کو سناتا جا رہا تھا کہ خدا تعالیٰ کا میرے ساتھ یہ معاملہ ہے کہ جب بھی میں سورۃ فاتحہ پر تقریر کروں گا نئے نکات سمجھائے جائیں گے۔ جلسہ میں پہنچ کر جب میں تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا تو کوئی آیت سوائے سورۃ فاتحہ کے میری زبان پر رہی نہ آئے۔ آخر میں نے خیال کیا کہ میرا امتحان ہونے لگا ہے اور مجھے مجبوراً سورۃ فاتحہ پڑھنی پڑی اس کے متعلق کوئی بات میرے ذہن میں نہ تھی۔ میں نے یونہی پڑھی لیکن پڑھنے کے بعد فوراً میرے دل میں ایک نیا نکتہ ڈال گیا اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب سورۃ فاتحہ اُتری ہے اس وقت آپؐ کے مخاطب کفار تھے۔ یہودی اور عیسائی نہ تھے مگر دعا اس میں یہ سکھائی گئی ہے کہ ہمیں یہودی اور عیسائی بننے سے بچا کہ ہم ان کی طرح نہ بنیں۔ حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ جو سامنے تھے ان کے متعلق دُعا سکھائی جاتی کہ ہم ان کی طرح نہ بنیں۔ اس میں یہ نکتہ ہے کہ مشرکین نے چونکہ تباہ و برباد ہو جانا تھا اور بالکل مٹائے جانا تھا اس لئے ان کے متعلق دُعا کی ضرورت نہ تھی۔ لیکن عیسائیوں اور یہودیوں نے چونکہ قیامت تک رہنا تھا اس لئے ان کے متعلق دُعا سکھائی گئی۔

یہ نکتہ معاً مجھے سمجھایا گیا اور میں نے خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا کہ اس موقع پر اس نے میری آبرو رکھ لی۔

تو یہ علم جو خدا تعالیٰ کی طرف سے سکھایا جاتا ہے، ہمیشہ ضرورت کے وقت کام آتا ہے اور اسکے یاد نہ رہنے میں یہ حکمت ہے کہ اگر بات یاد رہتی تو ایک ہی دفعہ کے لئے وہ ہوتی مگر اس طرح یہ علم ہمیشہ کام آتا ہے۔ اب کبھی کوئی اعتراض کرے اور کوئی حافظ نہ ہو جس سے قرآن کی کوئی اور آیت پوچھی جاسکے تو خدا تعالیٰ سورۃ فاتحہ سے ہی مجھے اس کا جواب سمجھا دیتا ہے۔ تو سماوی علوم میں برکت ہوتی ہے کہ جب ضرورت پڑے ان سے کام لیا جا سکتا ہے۔

پس ملائکہ کے ذریعے علوم سکھائے جاتے ہیں۔ محی الدین ابن عربیؒ فتوحات مکیہ میں لکھتے ہیں کہ مجھے بہت سے علوم ملائکہ نے سکھائے ہیں (فتوحات مکیہ جلد ۱ ص ۱۵ مطبوعہ مصر) صوفیاء میں نئے بھی ہیں جنہوں نے ملائکہ کے متعلق بحث کی ہے۔ اگرچہ ان کی مبحث حضرت مسیح موعودؑ کے مقابلہ میں دسواں حصہ بھی نہیں ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ بار بار فرمایا کرتے تھے کہ کئی ہزار الفاظ کا مادہ آپ کو سکھایا گیا ۔ میں نے بھی اور بہت سی باتیں ملائکہ کے ذریعہ سیکھی ہیں ۔ ایک دفعہ گناہ کے مسئلہ کے متعلق اس وسعت کے ساتھ مجھے علم دیا گیا کہ میں اس کا خیال کر کے حیران ہو جاتا ہوں کہ کس عجیب طریق سے کوتاہیوں اور غلط کاریوں کا نقشہ کھینچا گیا ہے ۔

سترھواں کام ملائکہ کا یہ ہوتا ہے کہ ہر شخص کے دل میں نیک تحریک اور نیک خیال پیدا کرتے ہیں۔ یہ اس فرشتہ کا کام ہوتا ہے جو ہر ایک انسان کے لئے الگ الگ مقرر ہوتا ہے ۔ اصل میں یہ انتظام جبرائیلی تسلّط کے ماتحت ہی ہوتا ہے کہ فرشتہ انسان کے دل میں نیک تحریکیں کرتا رہتا ہے ۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :۔ فِی الْقَلْبِ لَمَّتَانِ لَمَّةٌ مِّنَ الْمَلَكِ اِيْعَادٌ بِالْخَیْرِ وَتَصْدِیْقٌ بِالْحَقِّ فَمَنْ وَجَدَ ذٰلِكَ فَلْیَعْلَمْ اَنَّهٗ مِنَ اللّٰهِ سُبْحَانَهٗ فَلْیَحْمَدِ اللّٰهَ وَلَمَّةٌ مِّنَ الْعَدُوِّ اِيْعَادٌ بِالشَّرِّ وَتَكْذِیْبٌ بِالْحَقِّ وَنَهْىٌ عَنِ الْخَیْرِ فَمَنْ وَجَدَ ذٰلِكَ فَلْیَسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ فرماتے ہیں ۔ انسان کے دل میں دو تحریکیں ہوتی ہیں۔ ایک فرشتے کی طرف سے اس میں نیک باتوں کی تحریک ہوتی اور سچائی کی تصدیق ہوتی ہے پس جس کے دل میں ایسی تحریک ہو جائے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے پس وہ اللہ کا شکر کرے ۔ اور ایک عدو کی طرف سے اس میں بُری باتوں کی تحریک ہوتی ہے اور سچائیوں کا انکار ہوتا ہے اور نیک باتوں سے روکا جاتا ہے پس جس کے دل میں ایسی تحریک ہو وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے شیطان سے ۔

یہ میں نے ملائکہ کی حقیقت اور ان کے کام بتائے ہیں ان سے معلوم ہو گیا ہو گا کہ ملائکہ یونہی نہیں بلکہ ان کا انسان کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے ۔ اس لحاظ سے یہ معمولی مسئلہ نہ رہ گیا جیسا کہ عام لوگ سمجھتے ہیں ۔ بلکہ معلوم ہوا کہ ملائکہ کا وجود بھی ایک نہایت کارآمد چیز ہے ۔

کیا انسان ملائکہ کو نفع پہنچا سکتا ہے؟

اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آیا ملائکہ کو انسان بھی کوئی فائدہ پہنچاتا ہے یا نہیں؟ اس کے متعلق جہاں تک میری تحقیق ہے یہی معلوم ہوتا ہے اور میرا قرآن اور حدیث سے استنباط ہے کہ اور تو کسی رنگ میں انسان ملائکہ کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا البتہ ان کے مدارج کی ترقی کے لئے دُعا کر سکتا ہے چنانچہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ جب حضرت ابراہیمؑ کے پاس فرشتے آئے اور آکر سلام کہا تو حضرت ابراہیمؑ نے بھی آگے سے ان کو جواب دیا۔ اگر ملائکہ کو اس کا کوئی فائدہ نہ پہنچ سکتا تو وہ سلام کا جواب نہ دیتے کیونکہ سلام سلامتی کی دُعا ہے اور جس کے مدارج میں ترقی نہ ہو سکتی ہو اس کے حق میں دُعا فضول ہے۔ اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہؓ کو کہا کہ جبرائیلؑ نے تمہیں السلام علیکم کہا ہے۔ اس پر حضرت عائشہؓ نے کہا وعلیکم السلام اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع نہیں فرمایا۔ (ابن ماجه كتاب الادب باب رد السلام)

اسی طرح جب تک تشھّد نہ اُترا تھا صحابہؓ کہا کرتے تھے خدا تعالیٰ پر سلام، جبرائیلؑ پر سلام، فلاں فلاں پر سلام۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا پر سلام کہنے سے منع فرمایا لیکن جبرائیلؑ پر سلام کہنے سے منع نہ کیا۔ اگر جبرائیلؑ کو اس سے کوئی فائدہ نہ ہوتا تو آپؐ منع کر دیتے۔ اس سے زیادہ ملائکہ کو فائدہ پہنچانے کا اور کوئی پتہ نہیں لگتا۔

ملائکہ کے وجود کا ثبوت

اب میں اس امر کا ثبوت پیش کرتا ہوں کہ ملائکہ واقع میں ہیں۔ پہلے تو قرآن سے یہ بتایا گیا ہے کہ ہیں اب میں دلائل سے ثابت کرتا ہوں کہ کس طرح معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ ہیں؟

(۱) ہم دیکھتے ہیں کہ تمام عالم میں ایک قانون جاری ہے اور وہ ایسا زبردست قانون ہے کہ اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا اور وہ قانون ایک ارادہ کے ماتحت ہے۔ مثلاً آسمان میں ہم تاروں کی گردش دیکھتے ہیں۔ ان میں ایسی حکمت پائی جاتی ہے کہ ان کا انتظام بلا وجہ اور بغیر کسی ارادہ کے نہیں ہو سکتا۔ پھر یہی زمین ہے جو آباد ہے۔ اسٹرانومرز نے اس کو معمولی سیارہ ثابت کرنے کے لئے بڑا زور مارا ہے۔ اور انہوں نے بڑی کوشش کی ہے کہ اس کو چھوٹا سا سیارہ ثابت کریں۔ مگر کہتے ہیں کہ یہ مرکز میں ہے۔ ہم کہتے ہیں اسے کیوں مرکز میں جگہ ملی ہے؟

بات اصل میں یہ ہے کہ چونکہ بنی نوع انسان اس پر بستے ہیں۔ اس لئے ضروری تھا کہ سارے ستارے اس پر اثر ڈالتے اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا تھا کہ یہ مرکز میں ہوتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ ارادہ کے ماتحت بنائی گئی ہے یونہی نہیں بنائی گئی۔

اسی طرح باقی سارا انتظام ہے۔ کئی سال ہوئے ایک ستارہ نمودار ہوا تھا جس کے متعلق خیال کیا گیا تھا کہ وہ زمین سے ٹکرائے گا اور ساری دُنیا تباہ ہو جائے گی مگر کچھ عرصہ کے بعد اس کا رُخ بدل گیا اور کچھ بھی نہ ہوا۔ کئی دفعہ ایسا ہوا ہے اور یہی خیال کیا جاتا رہا ہے کہ ستارہ کے زمین کے ساتھ ٹکرانے سے زمین تباہ ہو جائے گی۔ جو ایسے ٹھوس ستارے ہوتے ہیں کہ ان کے ٹکرانے سے زمین تباہ ہو جاتی ہے وہ جب اس حد پر پہنچتے ہیں کہ زمین سے ٹکرائیں تو اس وقت اپنا راستہ بدل لیتے ہیں۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ دُمدار ستارے جن کے ٹکرانے سے کوئی نقصان نہیں ہو سکتا وہ زمین کے پاس آجاتے ہیں اور ان کی دُم زمین سے ٹکرا جاتی ہے۔ مگر وہ ایسے باریک ذروں سے بنی ہوئی ہے کہ دُنیا کو کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔

ایک دفعہ یورپ کے سائنس دانوں نے اعلان کیا تھا کہ اب ایک ستارہ زمین کے پاس سے گزرے گا جس سے دُنیا تباہ ہو جائے گی۔ اس پر کئی لوگ خودکشی کر کے مر گئے کہ نہ معلوم اس وقت کس قدر دُکھ اور تکلیف سے مریں۔ مگر وہ ستارہ آیا اور گزر گیا اس سے کچھ نقصان نہ ہوا۔ اس پر ہیئت دانوں نے بتایا کہ اس کے ذرات اتنے باریک تھے کہ جب وہ سورج کے مقابلہ میں آیا تو اس کی دُم سورج کی شعاعوں کے دباؤ سے ہٹ کر دائیں سے بائیں طرف ہو گئی۔

اس قسم کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتب قانون ہے جس کے ماتحت سب کام ہو رہا ہے اگر ایک بالا ارادہ ہستی پیچھے نہ ہوتی تو پھر یہ کام کس طرح چلتا؟ اب سوال یہ ہے کہ وہ بالا ارادہ ہستی کون ہے؟ اس کا فیصلہ خدا تعالیٰ ہی کر سکتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ ملائکہ ہیں۔ پس ہر ایک چیز پر ملائکہ کا قبضہ ہے اور ان کے ذریعہ یہ انتظام چل رہا ہے۔

مجھے ذاتی طور پر اس بات کا تجربہ ہے کہ ہر چیز پر ملائکہ کا قبضہ ہے اور ان کے ارادے کے ماتحت وہ چیز کام کرتی ہے۔ ایک دفعہ مجھے بخار ہوا۔ ڈاکٹر نے دوائیں دیں مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ایک دن چودھری ظفر اللہ خان صاحب آئے ان کے ساتھ ایک غیر احمدی بھی تھا۔ ان کو میں نے اپنے پاس بلا لیا۔ ان کے آنے سے پہلے مجھے غنودگی آئی اور ایک مچھر میرے سامنے آیا اور کہا آج تپ ٹوٹ جائے گا۔ جب ڈاکٹر صاحب اور چودھری صاحب اور ان کا غیر احمدی دوست اور بعض اور احباب آئے تو میں نے ان کو وہ کشف بتا دیا۔ چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد جب ڈاکٹر صاحب نے تھرما میٹر لگا کر دیکھا تو اس وقت تپ نہیں تھا۔

دراصل وہ مچھر نہیں بولا تھا بلکہ اس کی طرف سے وہ فرشتہ بولا تھا جس کا مچھر پر قبضہ تھا تو ہر ایک چیز جو انتظام اور ارادہ کے ماتحت کام کر رہی ہے ملائکہ کی ہستی کا ثبوت ہے۔

(۲) جسمانی بناوٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ ملائکہ ہیں۔ کیونکہ موجودہ تحقیقات سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ جو چیزیں دُنیا میں ہمیں نظر آتی ہیں یہ اصل میں ایسی ہی نہیں ہیں۔ مثلاً انسان جو ہمیں نظر آتا ہے یہ ایک ہی چیز سے بنا ہوا نہیں ہے بلکہ کروڑوں ذرات سے مل کر بنا ہوا ہے۔ پھر وہ ذرے بھی آگے کئی کروڑ ذروں سے مل کر بنے ہیں۔ پھر وہ بھی باریک در باریک ذروں کا مجموعہ ہیں، حتیٰ کہ امریکہ کے ایک سائنس دان نے ایسا ذرہ دریافت کیا ہے کہ جو انسان کے جسم میں سے گزر جاتا ہے۔ ہوا جسم میں سے نہیں گزر سکتی مگر وہ ذرہ جب جسم پر لگتا ہے تو دوسری طرف نکل جاتا ہے۔

پس یہ مادی تحقیقات سے ثابت ہے کہ جو چیز بھی ہمیں نظر آتی ہے وہ باریک در باریک ہوتی جاتی ہے اور نہایت لطیف در لطیف ذروں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ جب ہر ایک چیز اپنی طاقت ایسے لطیف منبع سے حاصل کرتی ہے جو نظروں سے پوشیدہ ہے تو ماننا پڑتا ہے کہ اس لطافت کی طرف جانے میں کوئی حکمت ہے۔ اور وہ یہی ہے کہ اشیاء پر ملائکہ کا تصرف ہے جو خود نہایت لطیف ہیں۔

غرض دُنیا کی اشیاء کا سلسلہ ایک باریک در باریک ذرات کی طرف جانا بتاتا ہے کہ باریک ہی ان کے منتظم ہوں۔ اور اشیاء کی لطافت دلالت کرتی ہے کہ ان پر لطیف ارواح ہی کام کر رہی ہیں اور وہی ملائکہ ہیں۔

(۳) معتبر شہادت سے بھی کسی چیز کے ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ مثلاً جب لوگ لندن سے آکر کہتے ہیں کہ لندن ایک شہر ہے تو لوگ ان کی اس بات پر اعتبار کر لیتے ہیں۔ اسی طرح ملائکہ کے وجود کے متعلق جب اتنے معتبر آدمی کہتے چلے آئے ہیں کہ ہیں تو پھر ان کو کیوں نہ مانیں؟ اگر شہادت پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا تو پھر لندن بھی انہی لوگوں کے نزدیک ہونا چاہئے جو اسے دیکھ آئیں۔ اور جو نہیں دیکھ آئے ان کے نزدیک لندن کی بھی کچھ حقیقت نہیں ہونی چاہئے۔ کوئی کہے کہ لندن تو ہر شخص جا کر دیکھ سکتا ہے مگر ملائکہ کو تو ہر شخص نہیں دیکھ سکتا۔ ہم کہتے ہیں یہ غلط ہے کہ ہر شخص لندن کو دیکھ سکتا ہے لندن وہی شخص دیکھ سکتا ہے جس کے پاس پیسہ ہو۔ اسی طرح ہم کہتے ہیں ملائکہ کو دیکھنے کی جس میں قوت ہوتی ہے وہ ملائکہ کو بھی دیکھ سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص روپیہ جمع کر کے لندن دیکھ سکتا ہے تو ملائکہ کو دیکھنے کی قوت پیدا کرنے سے ملائکہ کو بھی دیکھ سکتا ہے۔

پس ملائکہ کے متعلق سینکڑوں اور ہزاروں آدمیوں کی جو شہادت ملتی ہے وہ بھی ان کی ہستی کا ثبوت ہے۔

(۴) ثبوت یہ ہے جو روزانہ مشاہدوں میں آتا ہے۔ اور اگر روزانہ نہیں تو ایک عرصہ کے بعد ہر شخص کے مشاہدہ میں آتا ہے۔ کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ اس کے قلب پر ایک ایسی بات اثر کرتی ہے جس کا اس کے خیالات سے بالکل کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بلکہ بعض اوقات اس کے خیالات کے اُلٹ وہ تحریک ہوتی ہے اور اس کے کرنے کے لئے انسان ایسا مجبور ہوتا ہے کہ چھوڑ نہیں سکتا۔ ہر انسان پر کبھی نہ کبھی ایسا وقت ضرور آتا ہے حتیٰ کہ کفار پر بھی آتا ہے۔ دہریوں پر بھی آتا ہے۔ چنانچہ دہریوں کے ایسے واقعات لکھے ہیں۔ مثلاً وہ کہتے ہیں ہمارے دل میں ایسی تحریک پیدا ہوئی جو مجبور کر کے ایک جگہ لے گئی اور وہاں دیکھا کہ لاش پڑی ہے۔ اس قسم کی تحریک کے محرک کون ہوتے ہیں؟ ملائکہ۔

تو اس قسم کی شہادت مادی لوگوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اور روحانی لوگوں کی تو بہت ہی شہادتیں اس کے متعلق ملتی ہیں کہ یکلخت دل میں ایک تحریک ہوتی ہے جس کا خیالات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور اس پر عمل کرنا پڑتا ہے یہ تحریک ملائکہ کی طرف سے ہی ہوتی ہے اور یہ ان کی ہستی کا ثبوت ہے۔

ملائکہ کی ضرورت

یہ تو میں نے ملائکہ کے ثبوت کے عقلی دلائل بتائے ہیں۔ اب یہ بتاتا ہوں کہ ملائکہ کی ضرورت کیا ہے؟ ضرورت بھی کسی چیز کا ثبوت ہوتی ہے۔ کیونکہ جس چیز کی ضرورت ثابت ہو جائے قانونِ قدرت کے وسیع مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہوتی بھی ضرور ہے۔ پس کسی چیز کی ضرورت بھی اس کے ہونے کا ثبوت ہے مگر یہ ثبوت بالواسطہ ہوتا ہے بلا واسطہ نہیں ہوتا اس لئے میں ملائکہ کی ضرورت بتاتا ہوں۔

پہلی ضرورت تو یہ ہے کہ روحانی اور جسمانی نظام میں مشابہت ہوتی ہے اور ہونی چاہئے ۔ روحانی امور کو جسمانی پر قیاس کر لیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ دونوں سلسلے ایک جیسے چلتے ہیں سوائے اس کے کہ جہاں ان کا ایک جیسا نہ چلنا ضروری ہوتا ہے۔ اور جسمانی معاملات میں ہم دیکھتے ہیں کہ اسباب کا ایک وسیع سلسلہ چلتا ہے اور مخفی در مخفی اسباب چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ نہایت باریک گیسوں تک پہنچتا ہے بلکہ کہتے ہیں کہ ان سے بھی آگے چل کر مادہ طاقتوں میں منتقل ہو جاتا ہے اور انہی طاقتوں کے منبعوں کا نام ہم ملائکہ رکھتے ہیں۔

غرض جسمانی سلسلہ اس طرز پر واقع ہُوا ہے کہ لطیف ہوتے ہوتے بالکل غائب ہو جاتا ہے اور کوئی ذریعہ اس کے دیکھنے کا نہیں ہو سکتا۔ ایسا ہی رُوحانی سلسلہ کے لئے بھی ہونا ضروری ہے اور ہے۔ اور اس سلسلہ کی آخری کڑی مَلَک ہیں۔ یہ کہنا کہ روحانی امور میں سبب نہیں ہوتا۔ صرف جسمانی امور میں ہوتا ہے غلطی ہے جسمانیات کے متعلق ایک فلاسفر نے یہاں تک لکھا ہے کہ کوئی بات یونہی نہیں ہو جاتی بلکہ ہر ایک بات کے اسباب دُور دُور سے چلے آتے ہیں۔ پس جب جسمانیات میں کوئی بات بغیر سلسلہ اسباب کے نہیں ہوتی تو کیا روحانی اُمور ہی ایسے ہیں کہ ان میں اسباب کا سلسلہ نہ مانا جائے جب جسمانی امور کا سلسلہ چلتا ہے تو ضروری ہے کہ مشابہت کے لئے رُوحانی امور میں بھی چلے۔ اور روحانی امور کے سلسلہ کی آخری کڑی ملائکہ ہیں پس رُوحانیات کے لئے ملائکہ کی ضرورت ہے۔

(۲) ہم ہر چیز میں ارتقاء پاتے ہیں۔ اور اسی مسئلہ ارتقاء کی عمومیت کو دیکھ کر سائنس دان اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ یہ جو انسان موجود ہے یہ پہلے سے ہی ایسا نہ تھا۔ پہلے یہ ایک کیڑے کی شکل میں تھا پھر ترقی کر کے بڑھا پھر اور بڑھا حتّٰی کہ موجودہ حالت کو پہنچ گیا۔ مسئلہ ارتقاء کا یہ استعمال تو غلط معلوم ہوتا ہے اور کئی طرح سے رد کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس میں شک نہیں کہ اس مسئلہ پر غور کرنے سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ ایک دوسرے سے متغائر حالات میں تبدیلی یا تو مختلف مدارج کو چاہتی ہے یا وسائط کی محتاج ہے۔ یکدم بالکل متغائر حالات کی طرف انتقال بالکل محال ہے پس ایک طرف انسان کے اندر اعلیٰ سے اعلیٰ ترقیات کے حصول کی خواہش اور خدا تعالیٰ سے وصال کی تڑپ کا ہونا اور دوسری طرف اس کی موجودہ کثافت کا اس سے ملنے میں روک ہونا دونوں امر اس نتیجہ پر ہمیں پہنچاتے ہیں کہ انسان اور خدا تعالیٰ کے درمیان ایک اور واسطہ ہونا چاہئے جو ایک طرف تو مخلوق ہو اور دوسری طرف نیک اور رُوحانی ہو۔ اور اس واسطہ کو ملائکہ کہتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ ایک شخص کسی بلند مینار پر چڑھ گیا مگر اُتر نہ سکتا تھا۔ کسی نے تیر کے ساتھ باریک تاگے کی ریل باندھ کر تیر اس کی طرف مارا اور اس نے پکڑ لیا۔ اس باریک تاگے کو اس نے نیچے لٹکا دیا اور نیچے والے نے اس کے ساتھ ذرا موٹا تاگا باندھ دیا جسے اس نے اوپر کھینچ لیا۔ پھر اس کے ساتھ اور زیادہ موٹا تاگا باندھا گیا حتّٰی کہ ایک زنجیر باندھی گئی اور وہ اس کے ذریعہ نیچے اُتر آیا۔

اسی طرح ملائکہ کے ذریعہ بندہ کا تعلق خدا سے ہوتا جاتا ہے۔ وہ درمیانی کڑی ہیں جن کے ذریعہ بندہ کا خدا سے تعلق ہوتا ہے اور وہ اس کے فیوض کو اپنے اندر جذب کرتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے لئے ملائکہ کا وجود ضروری ہے۔

تیسری ضرورت ملائکہ کی یہ معلوم ہوتی ہے کہ ہم ظاہری عالم میں دیکھتے ہیں کہ جسمانی تربیت کے لئے دو صیغے ہیں ایک وہ جو بغیر انسان کے علم اور اس کے دخل کے اس کا کام کر رہا ہے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔

وَسَخَّرَ لَکُمُ الَّیۡلَ وَالنَّہَارَ ۙ وَالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ ؕ وَالنُّجُوۡمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمۡرِہٖ(النحل: ۱۳)

کہ خدا کے حکم کے ماتحت رات اور دن، سورج اور چاند اور ستارے بغیر تمہاری کسی محنت کے تمہارے لئے کام کر رہے ہیں۔ مسخّر عربی میں اس کو کہتے ہیں جس پر کچھ خرچ نہ ہو اور وہ کام دے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے تمہارے لئے رات اور دن، سورج اور چاند اور ستاروں کو کام میں لگا دیا ہے تمہیں ان کے لئے کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی۔ رات آتی ہے اور دن چڑھتا ہے لیکن تم اس کے لئے کوئی محنت نہیں کرتے اور تمہارا ان پر کچھ خرچ نہیں ہوتا۔ اسی طرح سورج دھوپ نازل کرتا ہے۔ چاند روشنی کرتا ہے۔ ستارے طرح طرح کے اثرات ڈال رہے ہیں لیکن تمہیں ان کے لئے کچھ نہیں کرنا پڑتا یہ انتظام جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک ایسا سلسلہ ہمارے فائدہ کیلئے رکھا ہوا ہے جو آپ ہی آپ کام کرتا رہتا ہے۔ ہمارا اس میں کچھ دخل نہیں ہوتا۔ مثلاً سورج کی شعاعوں میں ایسی طاقت ہے کہ پانی کو مختلف رنگ کی شیشیوں میں ڈال کر اگر اس کے سامنے رکھ دیا جائے تو اس میں ایسی طاقت پیدا ہو جائے گی کہ اس سے کئی بیماریوں کا علاج کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح چاند کی روشنی سے بعض سبزیاں بڑھتی اور پکتی ہیں ۔ لکڑی کو تو میں نے خود دیکھا ہے کہ چاندنی رات میں اس قدر جلدی بڑھتی ہے کہ اس کے بڑھنے کی صَر صَر کی آواز آتی ہے۔ اور بھی نباتات ایسی ہیں کہ چاند کی روشنی کا ان پر بڑا اثر ہوتا ہے اور یہ تو ایک دو مثالیں ہیں۔ ان چیزوں کے ہزاروں ہی اثرات ہیں جو ہمیں معلوم ہیں۔ اور جو ہمیں معلوم نہیں وہ تو نہ معلوم کتنے ہوں گے ؟ پس یہ چاند اور سورج اور ستارے سب اثر ڈال رہے ہیں اور اب یہ بات دریافت کی گئی ہے کہ سل کے کیڑوں کی قاتل دھوپ ہے اس لئے دھوپ کو بھی علاج کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اسی بات کو مدنظر رکھ کر دیکھو کہ سورج کس طرح انسانوں کی خدمت کر رہا ہے۔ ایک شخص سل کے بیمار کے پاس جاتا ہے ممکن ہے کہ اس کے اندر سل کے کیڑے داخل ہو کر اس کی ہلاکت کا باعث ہوں مگر جب وہ سورج کی تیز دھوپ میں سے گزرتا ہے تو وہ کیڑے خود بخود مر جاتے ہیں اور اس بات کا اسے پتہ بھی نہیں ہوتا اور اس طرح وہ بچ جاتا ہے۔ پس ایک تو یہ سلسلہ ہے جو انسان کی محنت اور کوشش کے بغیر اس کے فائدہ کے لئے کام کر رہا ہے۔ اور وہ دوسرا سلسلہ ہے جو انسان محنت اور کوشش کر کے کسی چیز سے فائدہ اٹھاتا اور اپنے لئے مفید بناتا ہے۔ جیسے غلہ سے روٹی پکانا ، مٹی سے مکان بنانا ، لوہے اور لکڑی سے گاڑی ، بگھی ، ریل کا تیار کرنا ، علم حاصل کرنا اب غور کا مقام ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ انسان کی جسمانی تربیت اور انتظام کے لئے تو یہ دو سلسلے ہوں لیکن اس کی روحانیت کے لئے خدا نے کچھ بھی نہ کیا ہو؟ ادھر روحانی اور جسمانی سلسلوں کی مشابہت بتاتی ہے کہ جس طرح چاند، سورج اور ستاروں کے اثرات خود بخود انسان کے جسمانی انتظام پر پڑ رہے اور فائدہ پہنچا رہے ہیں اسی طرح روحانیت کے لئے بھی کوئی سلسلہ ہونا چاہئے جس سے انسان کی رُوحانیت کو فائدہ پہنچے۔ اس کے لئے خدا تعالیٰ نے ملائکہ رکھے ہیں جو انسان میں روحانیت پیدا کرتے اور اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔ ہاں جب بیماری بڑھ جاتی ہے تو جس طرح سورج کی دھوپ سل کے کیڑوں کو نہیں مار سکتی بلکہ دوائی دینے کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح جب روحانیت کی بیماری بڑھ جاتی ہے تو اس کے لئے بھی اور سامانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ملائکہ کے ہونے کی ضروریات ہیں۔

ملائکہ کے وجود پر اعتراض اور ان کے جواب

اب میں ان اعتراضات کے جواب دیتا ہوں جو ملائکہ کے متعلق کئے جاتے ہیں :۔ پہلا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اگر ملائکہ ہیں تو ہمیں نظر کیوں نہیں آتے؟ یہ ایسا اعتراض ہے جس کو سن کر ہنسی آتی ہے کیونکہ سینکڑوں چیزیں دنیا کی ایسی ہیں کہ جو نظر نہیں آتیں لیکن لوگ ان کو مانتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کیا مٹھاس کسی کو نظر آتی ہے ؟ اس کے متعلق یہی کہا جائے گا کہ زبان سے تعلق رکھنے والی چیز ہے نظر نہیں آیا کرتی ۔ میں کہتا ہوں کیا آواز کسی کو نظر آتی ہے ؟ کہا جائیگا اس کا تعلق کان سے ہے۔ پھر میں کہتا ہوں کہ سختی یا نرمی کسی کو نظر آتی ہے ؟ یہی کہا جائے گا کہ یہ چھونے کے ساتھ تعلق رکھتی ہے ۔ پھر میں کہتا ہوں خوشبو یا بد بو کسی کو نظر آتی ہے ؟ یہی کہا جائیگا کہ یہ ناک سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان جوابات سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کے معلوم کرنے کا یہی ذریعہ نہیں کہ وہ نظر آئے بلکہ اور حواس بھی ہیں۔ جن سے ان کا ہونا معلوم کیا جاتا ہے۔ پھر میں کہتا ہوں ہوا کو کسی نے دیکھا ہے ۔ جب ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہوا ہلا رہی ہے ورنہ نظر نہیں آتی۔ اسی طرح اور بہت سی طاقتیں ہیں۔ مثلاً قوت حافظہ ہے۔ کون ہے جو اس کو چکھ کر یا سونگھ کر یا دیکھ کر مانتا ہے؟ اس کے اثرات سے ہی اس کا پتہ لگایا جاتا ہے۔

پس معلوم ہوا کہ ایسی چیزیں بھی ہیں جن کو دیکھنے کے بغیر اور ذرائع سے مانا جاتا ہے اور ان کے اثرات کو دیکھ کر ان کو مانا جاتا ہے۔ اسی طرح ملائکہ بھی اثرات کے ذریعہ مانے جا سکتے ہیں یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ نظر ہی آئیں۔ ان کے اثرات سے ان کا پتہ لگ جاتا ہے۔

دوسرا اعتراض ایسا ہے جسے علماء کا اعتراض کہا جاتا اور بڑا پکا قرار دیا جاتا ہے لیکن میں کہتا ہوں یہ ایسا جاہلانہ اعتراض ہے کہ اس سے بڑھ کر جہالت اور نہیں ہو سکتی۔ وہ اعتراض یہ ہے کہ کہا جاتا ہے۔ کیا خدا ملائکہ کا محتاج ہے؟ کہ ان کو اس نے بنایا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ خدا ملائکہ کا خالق ہے اور کسی چیز کا خالق اس کا محتاج نہیں ہوا کرتا۔ خدا تعالیٰ کو ملائکہ کا محتاج تب کہا جاتا جب خدا ملائکہ کو کسی اور جگہ سے لاتا۔ لیکن خدا تو ملائکہ کو خود پیدا کرتا ہے پھر ان کا محتاج کیونکر ہوا؟ احتیاج الی الغیر ہوا کرتی ہے نہ کہ اپنے قبضہ اور اختیار کی احتیاج ہوتی ہے۔ پس چونکہ خدا تعالیٰ نے ملائکہ کو خود پیدا کیا ہے اس لئے وہ ان کا محتاج نہیں ہے اور یہ جاہلانہ اعتراض ہے۔

دوسرے اس اعتراض کا رَدّ اس طرح بھی ہو جاتا ہے کہ مادی دنیا میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ایک چیز کے اسباب مقرر ہیں۔ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ملائکہ کو ماننے سے خدا کو ان کا محتاج ماننا پڑیگا وہ مانتے ہیں کہ کھانے کے ذریعے پیٹ کا بھرنا خدا کا قانون ہے۔ ہم کہتے ہیں کیا کھانے کے ذریعہ پیٹ بھرنے کا قانون بنانے سے خدا اس بات کا محتاج ہو گیا کہ وہ بندہ کا پیٹ کھانے سے بھرے اسی طرح بیماری ہے خدا نے دوائی کے ذریعہ اس کا علاج مقرر کیا ہے۔ کیا خدا دوائی کا محتاج ہو گیا؟ اسی طرح روشنی کے لئے خدا نے سورج بنایا ہے کیا خدا سورج کا محتاج ہو گیا؟ وجہ کیا ہے کہ جسمانی سلسلہ میں اسباب مقرر کرنے سے تو محتاج نہیں ہوتا۔ لیکن اگر روحانی سلسلہ میں فرشتوں کو اسباب مقرر کرے تو محتاج ہو جاتا ہے۔

تیسرا رَدّ اس اعتراض کا یہ ہے کہ وہی اسباب دنیا میں کمزوری ظاہر کیا کرتے ہیں جن کے بغیر کوئی کام نہ کر سکے وہ اسباب کمزوری کا باعث نہیں ہوتے جو اپنے قبضہ اور اختیار میں ہوتے ہیں۔

مثلاً ایک شخص کسی سے ناراض ہے اور اس سے بولتا نہیں لیکن ایک اور شخص کو اس کے متعلق کہہ دیتا ہے کہ فلاں شخص یہاں نہ آئے ۔ تو کیا وہ کہے گا کہ یہ گونگا ہے ؟ بول ہی نہیں سکتا کہ مجھ سے نہیں بولا۔ نہیں ۔ یہ اعتراض غلط ہوگا۔ کیونکہ وہ دوسروں سے بولتا ہے ۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں خدا نے ملائکہ کو بلا اسباب کے پیدا کر لیا کہ نہیں۔ اگر ان کو پیدا کر لیا تو معلوم ہوا کہ بلا اسباب کے بھی خدا کام تو کر سکتا ہے لیکن ملائکہ کو اس نے کسی حکمت کے ماتحت اسباب مقرر کیا ہے۔ پس ملائکہ کی پیدائش جب ایسی ہے کہ خدا نے بلا اسباب کے کی ہے تو معلوم ہوا کہ ان کا مقرر کرنا کسی حکمت کے ماتحت ہے نہ کہ خدا ان کا محتاج ہے اور ان کے بغیر وہ کچھ کر نہیں سکتا۔

چوتھا جواب اس کا یہ ہے کہ تم ملائکہ کے مقرر کرنے کو احتیاج کہتے ہو ہم اسے حکمت کہتے ہیں اور ملائکہ کے مقرر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ علوم کی وسعت ان کے مخفی اسباب اور پھر ان کی کثرت کی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مثلاً کونین میں جو صفات تھیں وہ اگر مخفی نہ ہوتیں تو اس کے متعلق جو علم نے ترقی کی ہے وہ نہ ہوتی۔ پس علوم کی وسعت کے لئے مخفی سامانوں کا ہونا ضروری ہے۔ جب تک اسباب مخفی نہ ہوں وسعت نہیں ہو سکتی کیونکہ جو بات ظاہر ہو اس میں وسعت کہاں پیدا کی جا سکتی ہے ؟ پس علوم کی وسعت کے لئے خدا تعالیٰ نے مخفی سامان رکھے ہیں۔ اور جوں جوں ان کو دریافت کیا جاتا ہے علوم میں وسعت پیدا ہوتی جاتی ہے اور جس قدر کوئی ان کے دریافت کرنے میں زیادہ محنت اور کوشش کرتا ہے اسی قدر زیادہ فائدہ اور ناموری حاصل کرتا ہے۔ اگر یونہی تپ اتر جایا کرتا تو وہ ڈاکٹر جس نے اس کے اسباب پر غور و فکر کرتے کرتے اس کا علاج کونین دریافت کیا اس میں اور دوسرے لوگوں میں کیا فرق ہوتا اور اس علم میں جو ترقی ہو رہی ہے وہ کس طرح ہوتی ؟ پس دنیا میں ترقی اور درجہ حاصل کرنے کا مخفی اسباب بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ اگر یہ نہ ہوتے تو نہ کوئی ترقی کر سکتا اور نہ اعلیٰ درجہ حاصل کر سکتا۔

یہی حالت روحانیت کی ہے۔ انسان اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ رُوحانی ترقی حاصل کرے اس کے لئے روحانی اسباب بھی مخفی رکھے گئے ہیں جو ان سے کام لیتا ہے وہ انعام اور درجہ حاصل کرتا ہے۔ پس ترقیات کے لئے اخفاء کی بہت سخت ضرورت ہے۔ اس لئے یہ کہنا غلط ہے کہ اگر مخفی اسباب مانے جائیں تو خدا کو ان کا محتاج قرار دینا پڑے گا۔ مخفی اسباب کا ہونا خدا تعالیٰ کی احتیاج نہیں ثابت کرتا بلکہ بندہ کی احتیاج ثابت کرتا ہے کہ بندہ ان کے ذریعہ ترقی کرے۔ خدا نے اگر یہ قانون مقرر کیا ہے کہ زمین کو ایک خاص حد تک کھودا جائے تو اچھا پھل پیدا ہو گا یہ اس لئے نہیں کہ خدا اس کا محتاج ہے بلکہ اس لئے کہ زمینداروں میں سے جو بڑا زمیندار بننا چاہتا اور اچھی کھیتی پیدا کرنا چاہتا ہے اس کو اس کی احتیاج ہے اگر زمین کا عمدہ پھل لانا کسی محنت یا علم پر نہ رکھا جاتا تو کسی زمیندار کو دوسرے پر فضیلت نہ ہوتی اور مقابلہ کی جو روح اس وقت کام کر رہی ہے بالکل مفقود ہو جاتی۔ دوسرے یہ بھی بات ہے کہ اگر مخفی اسباب نہ ہوتے تو خدا کا جلال لوگوں پر ظاہر نہ ہوتا اور اس کی قدرت کی قدر وہ نہ کرتے۔ اگر سب باتیں پہلے سے ہی معلوم ہوتیں تو خدا کا جلال کس طرح بندوں پر ظاہر ہوتا؟ یہ اسی طرح ظاہر ہوتا کہ انسان کسی بات کے متعلق جتنی تلاش اور جستجو کرتا ہے اتنا ہی اس کے متعلق نئی نئی باتیں دریافت کرتا جاتا ہے اور اس طرح خدا تعالیٰ کی قدرت کا اسے اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ پس مخفی اسباب کا پیدا کرنا خدا کی احتیاج کو ظاہر نہیں کرتا، بلکہ یہ بندہ کی اصلاح اور فائدہ کے لئے ہے۔

اور یہ مخفی اسباب جن کے دریافت کرنے سے درجہ اور ترقی اور عزت حاصل ہو سکتی ہے ان کی آخری کڑی ملائکہ ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اسباب اس وسعت کے ساتھ ظاہر ہوئے کہ آپؐ کو جو ترقی اور درجہ حاصل ہوا۔ وہ اور کسی کو حاصل نہ ہو سکا۔ اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ پر یہ اسباب ظاہر ہوئے اور آپؑ کو بھی اعلیٰ عزت اور رُتبہ نصیب ہو گیا۔ پھر ان کے ذریعہ مجھ پر بھی یہ اسباب ظاہر ہوئے اور مجھے بھی خدا تعالیٰ نے عزت اور رُتبہ عطا کیا۔ تو یہ مدارج کا تفاوت بھی نہ ہوتا اور سب ایک ہی جیسے ہوتے لیکن مخفی اسباب کی وجہ سے جتنے جتنے اسباب کسی پر ظاہر ہوئے انہی کے مطابق اس کو درجہ بھی ملا۔

اس امر میں کیا شبہ ہے کہ بالعموم مسبّب ظاہر ہوتا ہے اور سبب مخفی۔ اور مخفی کے دریافت کرنے کے لئے انسان کو محنت برداشت کرنی پڑتی ہے جو اس کے لئے موجبِ ثواب اور زیادتِ علم ہوتی ہے اور اس کی دلچسپی کو بڑھاتی ہے۔ یہ ایک طبعی خاصہ ہے کہ مخفی شئے انسان کی دلچسپی کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ دوائیوں کی تاثیرات اور ایجادات اس قبیل میں سے ہیں۔ اور ان اسباب کا دریافت کرنا ہی مدارج انسانی قائم کرتا ہے۔ پس روحانی اسباب مخفیہ بھی ضروری تھے تا انسان کے علم باطن میں بھی زیادتی ہو اور کوشش اور سعی میں بھی تفاوت ہو۔ اور روحانی آدمی ایک دوسرے کے مقابلہ میں فضیلت حاصل کریں اور مسابقت کا موقعہ ملے اور مخفی در مخفی علوم کی واقفیت حاصل کرکے اس کے یقین میں ترقی اور حوصلہ میں زیادتی ہو اور خدا تعالیٰ کی غیر محدود طاقتیں اس کے سامنے ظاہر ہوں۔ بھلا یہ کیونکر ہو سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو جو اس کا وجود مخفی کرتا تھا اسقدر شاندار بناتا اور اِس سلسلہ کو جو اس کا وجود ظاہر کرتا ہے بالکل محدود کر دیتا۔ پس اسباب کی احتیاج کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

تیسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ہر چیز کا دُنیا میں ہمیں سبب نظر آتا ہے پھر اس بات کو کس طرح مان لیں کہ وہ فرشتوں کے ذریعہ ہوتی ہیں؟ مثلاً آندھی آتی ہے اس کے متعلق ہمیں معلوم ہے کہ جب جو میں بعض خاص قسم کے تغیرات ہوں تو آتی ہے۔ یا بادل آتے ہیں ہم جانتے ہیں کہ سُورج کے ذریعہ پانی کے بخارات اُٹھتے ہیں اور وہی برستے ہیں۔ یہ کس طرح مان لیں کہ فرشتوں کے ذریعہ ایسا ہوتا ہے؟ یہ جہالت کی باتیں ہیں اور اُس زمانہ کی ہیں جب کہا جاتا تھا کہ فرشتہ سمندر سے پانی پی کر آتا ہے اور پھر آکر بارش برساتا ہے اس قسم کی باتیں اب علم اور تحقیقات کے زمانہ میں کون مان سکتا ہے؟

مگر اس اعتراض کے پیش کرنے والوں نے فرشتوں کے متعلق جو صحیح عقیدہ ہے۔ اس کو سمجھا نہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ بارش برسنے کا قریبی سبب فرشتہ ہے اور فرشتہ سمندر سے پانی لاکر برساتا ہے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ ان بخارات کو قائم کرنے والا فرشتہ ہے جن سے بارش بنتی ہے۔ ہم تو آخری سبب کو فرشتہ کہتے ہیں نہ یہ کہ کوئی اور سبب ہی نہیں ہوتا۔ ہر چیز کے سبب ہیں مگر سب اسباب کے آخر میں فرشتہ کام کر رہا ہوتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ مختلف تغیرات اسباب کے ماتحت ہوتے ہیں اور ایک سبب کے پیچھے دوسرا، دوسرے کے پیچھے تیسرا ، حتیٰ کہ سینکڑوں ایسے سبب بھی ہوں گے جن کو دنیا جانتی بھی نہیں۔ مگر سب کے پیچھے فرشتہ ہوگا۔ درمیانِ اسباب خواہ کروڑوں ہوں ہم ان کا انکار نہیں کرتے، لیکن سب کے آخر میں فرشتہ مانتے ہیں۔

چوتھا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ جو تغیرات ہوتے ہیں ۔ وہ مقررہ قانون کے ماتحت ہوتے ہیں مثلاً کسی کو تپ چڑھتا ہے اگر تپ چڑھانے والا فرشتہ ہے تو کونین دینے سے کیوں اُتر جاتا ہے؟ اور جب علاج سے مرض دُور ہو جاتی ہے تو کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ فرشتے نے تپ چڑھایا؟ اسی طرح اگر کھانسی فرشتہ لگاتا ہے ، تو دوائی دینے سے کیوں دور ہو جاتی ہے؟ کیا اس وقت فرشتہ بھاگ جاتا ہے؟

یہ اعتراض بھی جاہلانہ ہے کیونکہ ہم یہ نہیں کہتے کہ فرشتے کوئی قادرِ مطلق ہستی ہیں بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ فرشتے خواص الاشیاء کو ظاہر کرتے ہیں۔ جب کوئی شخص ان اشیاء کو استعمال کرتا ہے جن کے نتیجہ میں تپ چڑھایا جانا مقدر ہے تو جو فرشتہ ان اشیاء کے خواص کے ظہور کے ابتدائی اسباب کا مئوکل ہے اس کا نتیجہ بخار پیدا کرنا ہے لیکن جب انسان ان اشیاء کو استعمال کرتا ہے جن کے خواص مخفی در مخفی سلسلہ اسباب کے نتیجہ میں بخار کو اُتارنے کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں، تو اس وقت ان اشیاء کا آخری مئوکل فرشتہ اپنا اثر ظاہر کرنا شروع کرتا ہے۔ اور پہلا فرشتہ بموجب مقررہ قواعد کے اپنے اثر کو ہٹانا شروع کر دیتا ہے۔

پس یہ کہنا درست نہیں کہ دوا سے بیماری کا اثر ظاہر کرنے والا فرشتہ بھاگ جاتا ہے۔ بلکہ امر واقع یہ ہے کہ جب دوا کے فرشتہ کا اثر ظاہر ہونا شروع ہوتا ہے تو بیماری کے آثار ظاہر کرنے والا فرشتہ اپنے اثر کو ہٹانا شروع کر دیتا ہے۔

ملائکہ پر ایمان لانے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟

اب میں اس بات کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ ملائکہ پر ایمان لانے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ مانا کہ ملائکہ اچھی چیزیں ہیں اور ان کے ذریعہ چیزوں کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن کونین بھی تو مفید چیز ہے اس سے تپ اُتر جاتا ہے۔ اس پر ایمان لانے کا کیوں حکم نہیں دیا گیا؟ اسی طرح تم کہتے ہو۔ ملائکہ بارشیں برساتے ہیں مگر سورج بھی تو بارشیں برسنے کا ذریعہ ہوتا ہے اس پر ایمان لانے کا کیوں نہیں حکم دیا گیا؟ ملائکہ پر ایمان لانے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟

اس کے متعلق غور کرنے کے لئے آؤ یہ معلوم کریں کہ رسولوں، کتابوں پر ایمان لانے کا کیوں حکم دیا گیا ہے؟ جب یہ معلوم ہو جائے گا تو ہمیں اس اصل کا پتہ لگ جائے گا جس کی وجہ سے کسی شئے پر ایمان لانے کا حکم دیا جاتا ہے اس کو ملائکہ کے متعلق بھی چسپاں کر کے دیکھیں گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہستی جو بالذات ایمان کی مستحق ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ہی ہے رسول اور کتابیں وہ ذرائع ہیں جن سے خدا پر ایمان لایا جاتا ہے۔ ورنہ اصل میں وہ مقصود بالذات نہیں ہیں۔ آسمانی کتابوں پر ایمان لانے کا اس لئے حکم دیا گیا ہے کہ ان کے ذریعہ خدا کی شناخت ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ سے ملاقات ہوتی ہے۔ چونکہ وہ خدا کا کلام ہوتی ہیں اس لئے ان کے ذریعہ انسان خدا کی ذات کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح رسولوں پر ایمان لانے کی یہ وجہ ہے کہ رسول خدا تعالیٰ کی ہستی کا نشانات کے ذریعہ ہونا ثابت کرتے ہیں تو رسول پر ایمان لانا ان کی اپنی ذات کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اس لئے ہوتا ہے کہ رسول خدا پر ایمان لانے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ پس رسولوں پر، کتب پر، قیامت پر ایمان لانا خدا تعالیٰ پر ایمان لانے کا ذریعہ ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا پانچ اور امر ہیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے :۔ ① ملائکہ ② کتب ③ رسل ④ تقدیر ⑤ قیامت ان پر ایمان لانا خدا ہی کی ہستی پر ایمان لانے کے لئے ہے کیونکہ یہ خدا پر ایمان کے حاصل ہونے کے ذرائع ہیں۔ ملائکہ کے متعلق تو اس وقت بحث ہی ہے باقی جتنے امور ہیں ان کو دیکھ لو ان پر ایمان لانے کی یہی غرض ہے کہ وہ خدا کی طرف متوجہ کرنے کے محرّک ہیں۔ اس اصل کے مطابق ہم کہتے ہیں کہ اگر ملائکہ کے ذریعہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف توجہ پھرتی ہے تو ان پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔

دُنیا میں عام طور پر جو لوگ خدا کو چھوڑتے ہیں وہ اسی دھوکا کی وجہ سے چھوڑتے ہیں کہ ان کی نظر ظاہری اسباب پر ہوتی ہے۔ مثلاً کو نین کے متعلق جب دیکھتے ہیں کہ اس سے تپ اُترتا ہے تو کہتے ہیں خدا کیا ہوتا ہے یہی ہے جس سے تپ اُترتا ہے اسی طرح اور امور کے متعلق کہتے ہیں اور ظاہری اسباب کو دیکھ کر خدا کا انکار کر دیتے ہیں۔ لیکن فرشتوں پر ایمان لانے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ ہر ایک چیز کا آخری سبب فرشتہ ہے اور یہ ایسا حکم ہے کہ ساری سائنس اسی سے نکل آتی ہے کیونکہ اس میں خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ہر چیز کی اگر حقیقت تم تلاش کرنے لگو گے تو اس کے مخفی در مخفی اسباب نکلتے آئیں گے۔ اس وقت جب دُنیا چیزوں کے قریب قریب اور ظاہری اسباب سمجھ رہی تھی اس وقت اسلام یہ بتا رہا تھا کہ ہر چیز کے باریک در باریک اسباب ہیں۔ خوردبین نے اب بتایا ہے کہ طاعون کی گلٹی یونہی نہیں ہوتی بلکہ اس کا باعث کیڑے ہوتے ہیں وہ ان کی وجہ سے ہوتی ہے۔ پھر ان کیڑوں کے پیدا ہونے کے اور اسباب ہیں۔ پھر ان کے اور اسباب ہیں۔ اسی طرح اسباب در اسباب ہیں۔ انہی اسباب کا آخری اور انتہائی سبب ملائکہ ہیں اور ان کے اوپر خدا ہے۔ تو ملائکہ پر ایمان لانے سے اسباب کی آخری کڑی پر ایمان حاصل ہوتا ہے اور اس سے خدا پر ایمان حاصل ہوتا ہے۔ اور ملائکہ پر ایمان لانے کی یہی وجہ ہے۔

پھر ایمان قرآنِ کریم میں اور معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ ماننے کو بھی ایمان کہا جاتا ہے۔ لیکن صرف کسی وجود کا ماننا ہی نہیں اس کی تحریکات کو ماننا بھی ایمان کہلاتا ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے :۔ فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَیُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی ٭ لَا انۡفِصَامَ(2:257) لَہَا ؕ وَاللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ(البقرة : ۲۵۷) جو شخص طاغوت کا انکار کرتا ہے اور اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ ایسے مضبوط کڑے کو پکڑ لیتا ہے کہ جو ٹوٹتا ہی نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

طاغوت شیطان کو کہتے ہیں۔ اب اگر انکار کے معنے کسی شئے کی ذات کے انکار ہی لئے جاویں تو اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ ہلاکت سے وہی شخص بچتا ہے جو شیطان کے وجود کا انکار کرے اور اللہ تعالیٰ کے وجود کا اقرار حالانکہ یہ معنی سراسر غلط ہیں۔ کیونکہ قرآن کریم صاف طور پر خدا تعالیٰ کے وجود کا بھی اقرار کرتا ہے اور شیطان کے وجود کا بھی اقرار کرتا ہے۔ پس اقرار سے اور ایمان سے اس آیت میں یہی مراد ہے کہ شیطان کی باتوں کو رد کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کی باتوں کو مانتا ہے۔ اب اگر یہی معنی ایمان کے ملائکہ کے متعلق کئے جائیں تو ان پر ایمان لانے کا یہ مطلب ہو گا کہ انکی تحریکات کو مانا کرو۔ اسی طرح کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانے کے یہ معنے ہوں گے کہ جو احکام الٰہی کتابوں میں ہوں ان کو مانو۔ جو کچھ رسول تم کو حکم دیں ان کو مانو۔ اور قیامت پر ایمان لانے کے یہ معنے ہوئے کہ اس کا خیال کر کے بُری باتوں سے بچو۔ تو خدا، ملائکہ، کتب اور رسولوں پر ایمان لانے سے مراد ان کے احکام ماننا ہے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ اگر ایمان لانے کا یہ مطلب ہے تو پھر ان چاروں پر ایمان لانے کا کیوں حکم دیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ مجدّد بھی ہوتے ہیں اور انبیاء کے خلفاء بھی ہوتے ہیں ان کے احکام ماننا بھی ایمان میں داخل ہونا چاہئے اور ان کا انکار کفر ہونا چاہئے لیکن جب ان کا انکار کفر نہیں تو پھر باقیوں کا انکار کیوں کفر ہے؟

یہ ٹھیک ہے کہ خلفاء اور مجدّدین بھی اچھی باتیں بتاتے ہیں۔ لیکن خدا تعالیٰ، نبیوں، ملائکہ اور کتب کی باتوں اور ان کی باتوں میں ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ ایمانیات میں وہ داخل ہیں جن کی کسی چھوٹی سے چھوٹی بات سے اختلاف کرنے والا بھی کافر ہو جاتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی کہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے وقت پاؤں دھونے کا جو حکم دیا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے تو وہ کافر ہو جائے گا مگر خلیفہ سے تفصیلات میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ مثلاً خلیفہ ایک آیت کے جو معنے سمجھتا ہے وہ دوسرے شخص کی سمجھ میں نہ آئیں اور وہ ان کو نہ مانے تو اس کے لئے جائز ہے۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو کہے کہ فلاں آیت کے آپؐ نے جو معنے کئے ہیں میں ان کو نہیں مانتا تو کافر ہو جائے گا۔ کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ میں سے ایک شوشہ بھی ردّ کرنا کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔ گو خلفاء کے احکام ماننا ضروری ہوتے ہیں لیکن ان کی آراء سے متفق

ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ ممکن ہے کہ خلیفہ کسی امر کے متعلق جو رائے دے اس سے کسی کو اتفاق نہ ہو چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا تھا یہ کہا تھا کہ ان کو غلام بنا لینا جائز ہے کیونکہ وہ مُرتد اور کافر ہیں۔ مگر اس کے متعلق حضرت عمرؓ اخیر تک کہتے رہے کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں لیکن اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تو اس سے اختلاف کرنا ان کے لئے جائز نہ تھا۔ انبیاء سے چونکہ اصول کا تعلق ہوتا ہے اس لئے ان سے اختلاف کرنا ہرگز جائز نہیں ہوتا۔ ہاں تفصیلات میں خلفاء سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اب بھی کسی علمی مسئلہ میں اختلاف ہو جاتا ہے۔ اور پہلے بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بعض دفعہ خلفاء کو دوسروں کی بات ماننی پڑی ہے اور بعض دفعہ خلفاء کی بات دوسروں کو ماننی پڑی ہے چنانچہ حضرت عمرؓ اور صحابہؓ میں یہ مسئلہ اختلافی رہا کہ جنبی خروج ماء سے ہوتا ہے یا محض صحبت سے۔

غرض خلفاء سے اس قسم کی باتوں میں اختلاف ہو سکتا ہے لیکن انبیاء سے نہیں کیا جا سکتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر کوئی التحیات میں اُنگلی اُٹھانے کے متعلق اختلاف کرے گا تو بھی کافر ہو جائے گا۔ لیکن مجددین اور خلفاء ایسے نہیں ہوتے کہ مسائل میں بھی اگر ان سے اختلاف ہو جائے تو انسان کافر ہو جائے مگر انبیاء کی چھوٹی سے چھوٹی بات سے اختلاف کرنے والا بھی کافر ہو جاتا ہے ان کی کوئی بات سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ یہی کہنا فرض ہے کہ جو نبیؐ کہتا ہے وہی سچ ہے۔

غرض ملائکہ پر ایمان لانے کے یہ معنے ہیں کہ ملائکہ جو کہتے ہیں وہ صحیح ہے۔ اس لئے یہی حکم دیا کہ ملائکہ جو کہیں اس کو مانو۔ یعنی ایمان لاؤ۔ اور اس کا ثبوت قرآن سے ملتا ہے کہ ملائکہ جو کہتے ہیں وہ صحیح ہوتا ہے۔

قرآن کریم میں مثال کے ذریعہ بتایا گیا ہے کہ ملائکہ کو نہ ماننے کا کیا نتیجہ ہوتا ہے؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔

وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ اَبٰی وَاسۡتَکۡبَرَ ٭۫ وَکَانَ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ(البقرة: ۳۵)

اللہ نے جب ملائکہ کو حکم دیا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا۔ لیکن ابلیس نے انکار کر دیا اور کافر ہو گیا۔

اب یہ قرآن سے پتہ لگتا ہے کہ ابلیس مَلَک نہ تھا بلکہ جن تھا اور ملائکہ کا غیر تھا۔ اور غیر کو کس طرح معلوم ہو گیا کہ آدمؑ کو سجدہ کرنا چاہئے کیونکہ حکم تو ملائکہ کو ہی دیا گیا ۔ اسے اسی طرح معلوم ہو سکتا تھا

کہ ملائکہ نے اس کو سجدہ کرنے کی تحریک کی ہو مگر اس نے اس کو نہ مانا۔ نتیجہ کیا ہوا؟ کافر ہو گیا۔ تو ملائکہ کی تحریکیں ماننا بھی فرض ہیں اور وہ نیک ہی ہوتی ہیں۔

اب میں یہ بتا چکا ہوں کہ ملائکہ کیا چیز ہیں۔ ان کا کیا کام ہے؟ اور یہ بھی کہ ان پر ایمان لانا کیوں ضروری ہے؟ ان کی کیا ضرورت ہے؟ پھر ان پر جو اعتراض پڑتے ہیں ان کے جواب بھی دے چکا ہوں۔ مگر ان کے متعلق اور بھی سوال پیدا ہوتے ہیں اور میں اب ان سوالوں کا جواب دیتا ہوں۔

ملائکہ اور ان کا تعلق کتنی اقسام کا ہوتا ہے؟

اب میں یہ بیان کرتا ہوں کہ ملائکہ کا فیضان کتنی اقسام کا ہے؟ لیکن چونکہ ملائکہ کے فیضان کے ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ شیطان کا انسان کے ساتھ کس قسم کا تعلق ہے کیونکہ یہ دونوں ہستیاں بالمقابل ہیں اس لئے میں ساتھ ہی اس کا بھی ذکر کروں گا۔

یاد رکھنا چاہئے کہ ملائکہ کے اثرات تین اقسام کے ہیں اور شیطان کے اثرات بھی تین قسم کے ہیں مَلَک کا پہلا تعلق انسان سے وہ ہوتا ہے جسے لمّۂ مَلَکیہ کہتے ہیں یعنی فرشتے کی تحریک۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کہ رستہ چلتے چلتے انسان بھولنے لگ جاتا ہے کہ ایک آدمی اسے کہہ دیتا ہے یہ سڑک نہیں وہ ہے جس پر تمہیں جانا چاہئے ۔ اسی طرح ملائکہ کی طرف سے تحریک ہو جاتی ہے اور یہ تعلق ایسا ہی ہوتا ہے جیسا ایک اجنبی کا اجنبی سے ہوتا ہے۔

اس سے اوپر جب تعلق بڑھتا ہے تو ایسا ہوتا ہے جیسا سفر میں دوست کا دوست سے ہوتا ہے جو دوست کسی رستے کا واقف ہوتا ہے جدھر وہ جاتا ہے اُدھر ہی اس کا ساتھی بھی جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ ہر قدم پر اس سے پوچھتا ہے کہ کدھر جا رہے ہو؟ اسی طرح اس مرتبہ میں جب فرشتہ ساتھ ہو جاتا ہے تو انسان اور فرشتہ دونوں ایک ہی طرف چلتے ہیں اس کو تائید رُوح القدس کہتے ہیں اور یہ تائید نزول کے لفظ کے ساتھ تعبیر کی جاتی ہے جب کسی کو نزولِ رُوح القدس کا مقام حاصل ہو جاتا ہے تو یہ تعلق دائمی ہوتا ہے۔ مگر پہلا یعنی لمّۂ ملکی کا تعلق عارضی ہوتا ہے۔

اس سے بڑھ کر تیسرا درجہ ہوتا ہے جس میں فرشتہ اور انسان کا تعلق غلام و آقا کا ہو جاتا ہے یعنی فرشتہ محض ساتھی نہیں ہوتا بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف انسان کی اطاعت اور خدمت کا بھی حکم مل جاتا ہے اور وہ دوست کی طرح نہیں خادموں کی طرح ساتھ رہتا ہے۔ یہی وہ مرتبہ ہے جس کی وجہ سے حضرت مسیح موعودؑ کو الہام ہوا کہ "آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔" (تذکرہ صفحہ ۴۶۹ ایڈیشن چہارم) آگ کے غلام ہونے کا یہی مطلب ہے کہ آگ کا فرشتہ آپؑ کا غلام تھا۔ اور فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ(الحجر: ۳۰) کے بھی یہی معنی ہیں کہ آدم اول کے متعلق فرشتوں کو حکم ہوا کہ اس کے فرمانبردار اور غلام ہو جاؤ۔ جب آدم اول کے متعلق فرشتوں کو حکم ہوا۔ تو آدم ثانی (حضرت مسیح موعودؑ) جو آدم سے شان میں بڑھا ہوا تھا اس کے لئے کیوں نہ کہا جاتا کہ آگ تمہاری غلام بلکہ تمہارے غلاموں کی غلام ہے۔

اس مرتبہ کے انسان کے لئے فرشتہ کی حالت عبد کی سی ہوتی ہے۔ اور اس کو اس سے علیحدہ ہونے اور اسے چھوڑنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ ایک نوکر نوکری چھوڑ کر علیحدہ ہو سکتا ہے مگر فرشتہ علیحدہ نہیں ہو سکتا۔ یہ انبیاء کا درجہ ہوتا ہے۔

انہی درجوں کے مشابہ شیطان اور انسان کے تعلقات ہوتے ہیں۔ شیطان سے تعلق والوں کا پہلا درجہ شیطانی کا ہوتا ہے۔ جیسے کوئی سیدھے رستہ پر جا رہا ہوتا ہے اور شریر آدمی اسے کہہ دیتے ہیں کہ ادھر نہ جاؤ بلکہ ادھر جاؤ یونہی تمسخر سے کہتے ہیں۔ اگر کوئی ان کی بات مان لیتا ہے تو گمراہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح شیطان ابتداء میں اسی طرح دھوکا دیتا ہے اور جب کوئی اس کے دھوکا میں آجاتا ہے تو اسے گمراہ کر دیتا ہے لیکن اس وقت اس کے ساتھ ملائکہ موجود ہوتے ہیں وہ سیدھے رستہ پر لانے کی کوشش کرتے ہیں۔

مگر جب کوئی بار بار شیطان کی بات ماننے لگتا ہے تو اس حالت سے اور زیادہ بُری حالت میں چلا جاتا ہے اور شیطان کے ساتھ بار بار ملنے کی وجہ سے ان کا آپس میں دوستانہ تعلق ہو جاتا ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔ وَمَنۡ یَّکُنِ الشَّیۡطٰنُ لَہٗ قَرِیۡنًا فَسَآءَ قَرِیۡنًا(النساء: ۳۹) کہ شیطان ان کا قرین بن جاتا ہے اور یہ بہت بُرا دوست ہے۔ یہ دوسرا درجہ ہوتا ہے۔

پھر تیسرا درجہ شروع ہوتا ہے یعنی شیطان آقا بن جاتا ہے اور انسان اس کا غلام۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ ہیں یعنی وہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے غلام ہو جاتے ہیں۔ گویا وہ جو نیکی کی طرف جا رہا ہوتا ہے وہ تو آخر مَلَک پر سوار ہو جاتا ہے اور یہ جو بدی کی طرف جا رہا ہوتا ہے اس پر آخر شیطان سوار ہو جاتا ہے۔

یہ تین سلسلے ہیں نیکی بدی کے جو بندوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ہر انسان کی ان حالتوں میں سے کوئی حالت ہوتی ہے تو کیا ہر انسان کے ساتھ علیحدہ علیحدہ فرشتے ہوتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں ہر انسان کے ساتھ علیحدہ علیحدہ فرشتے ہوتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جیسا کہ میں پہلے بیان کر آیا ہوں فرشتے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ کہ ہر انسان کے ساتھ ان میں سے ایک ایک دو دو مقرر ہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔ اِنۡ کُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَیۡہَا حَافِظٌ(الطارق: ۵) کوئی نفس نہیں جس پر ایک نگران مقرر نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر ہے۔ دوسرے فرشتے وہ ہوتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کا ہر انسان سے تعلق ہوتا ہے اور ہر انسان پر ان کا اثر کم و بیش پڑ رہا ہوتا ہے۔ چنانچہ جبرائیلؑ سب پر اثر ڈالتا ہے۔ ایسے فرشتوں کے آگے خادم ہوتے ہیں وہ ان کے اثرات دیگر اشیاء تک پہنچاتے ہیں۔

اب سوال ہوتا ہے کہ اگر ایک ہی فرشتہ سب انسانوں پر اثر ڈالتا ہے تو پھر فرشتے نازل کس طرح ہوتے ہیں۔ اس کے لئے یاد رکھو کہ ملائکہ کا نزول قرآن کریم کی اصطلاح ہے۔ اس کے یہ معنے نہیں کہ ضرور فرشتہ آتا ہے بلکہ یہ ہے کہ دائمی طور پر اثر ڈالتا ہے دیکھو خدا تعالیٰ کے لئے بھی نزول کا لفظ آتا ہے۔ حدیثوں میں آتا ہے کہ لیلۃ القدر کے آخری حصہ میں خدا نیچے اُترتا ہے۔ اس کا یہی مطلب ہے کہ اس وقت خدا تعالیٰ اپنا بہت زیادہ اثر ڈالتا ہے۔ یہی معنے جبرائیلؑ کے نزول کے ہوں گے کہ جبرائیلؑ بھی بذات خود نہیں اُترتا کیونکہ وہ تو مقام معلوم پر ہوتا ہے اور اس سے نہیں ہلتا اسی اپنے مقام پر بیٹھا اثر ڈالتا ہے۔ دیکھو جب سورج شیشے میں اثر ڈالتا ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ اس میں اُتر آتا ہے۔ اسی طرح جبرائیلؑ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں آتا تھا۔ بلکہ اُس کا عکس آتا تھا۔ انسان کی شکل میں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو وہ خود نہیں آیا تھا بلکہ اس نے اپنے اثر سے انسان کی ایک شکل پیدا کی تھی وہ آئی تھی۔ ورنہ وہ تو جہاں ہے وہیں موجود رہتا ہے۔

پس اس کے نزول کے معنے صرف یہ ہیں کہ جس طرح شیشے میں سورج عکس ڈالتا ہے اسی طرح جبرائیلؑ ایسے دل میں جو اس کا اثر قبول کرنے کے قابل ہوتا ہے اپنا اثر ڈالتا ہے اور یہی اس کا نزول ہے جب یہ نزول ہوتا ہے تب روح القدس انسان کے ساتھ ہو جاتی ہے اور وہ ہر کام اسی کے ذریعہ کرتا ہے۔ یہی بات حضرت عیسیٰؑ کے متعلق آئی۔ عیسائی کہتے ہیں کہ شیطان ان کو دھوکا دیتا تھا ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان ان کو کس طرح دھوکا دے سکتا تھا ان کے ساتھ تو جبرائیلؑ تھا۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب جبرائیلؑ کے نازل ہونے کا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنا عکس ڈالتا ہے تو جس قدر انسان ایسے ہوئے ہیں کہ ان پر جبرائیلؑ کا عکس پڑتا تھا وہ سب ایک جیسے ہونے چاہئیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ ان سب کا ایک ہی درجہ ہونا چاہئے۔ مگر یہ غلط ہے کیونکہ عکس مختلف ہوتے ہیں اور اس کے لئے یہی نہیں دیکھا جاتا کہ عکس کس کا ہے؟ بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ عکس کس پر پڑا ہے۔ لوہے کی چادر پر سورج کا جو عکس پڑے گا وہ اور شان کا ہوگا اور شیشے پر جو عکس پڑے گا وہ اور شان کا۔ بیشک جبرائیل ایک ہی تھا اور اس کا عکس بھی ایک ہی ہے۔ مگر آگے جتنے جتنے قلب مصفّٰی تھے اتنی ہی اس کی شکل اعلیٰ درجہ کی دکھائی دی۔ یہی وجہ ہے کہ باوجود اس کے کہ جبرائیلؑ ایک ہی تھا آگے جن پر عکس پڑا وہ الگ الگ درجہ کے تھے۔ موسیٰؑ موسیٰؑ ہی تھا اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) محمدؐ ہی۔ اور یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء سے اعلیٰ رتبے اور درجہ والے قرار پائے کہ ایک ہی نے سب نبیوں پر عکس ڈالا ورنہ اگر عکس ڈالنے والے الگ الگ ہوتے تو کہا جاتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر عکس ڈالنے والا چونکہ اعلیٰ درجہ کا تھا اس لئے آپؐ کو اعلیٰ درجہ حاصل ہوا اور دوسرے انبیاء پر عکس ڈالنے والے ایسے نہ تھے اس لئے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کم درجہ پر رہے۔ اگر ان پر بھی وہی عکس ڈالتا جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈالا تو وہ اسی درجہ کو حاصل کر لیتے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوا لیکن اب چونکہ ایک ہی عکس ڈالنے والا ہے اس لئے ان کے مدارج میں جو فرق ہے وہ ان کے اپنے اپنے قلب کی صفائی سے تعلق رکھتا ہے۔ کیونکہ ایک ہی چیز جب مختلف چیزوں پر برابر اثر ڈالے تو ان کے اپنے اپنے ظرف کے مطابق نتیجہ مرتب ہوگا۔ جبکہ جن پر عکس پڑے ان کے اندرونے میں فرق ہو تو باوجود ایک شئے کا ہی عکس پڑنے کے پھر بھی نتیجہ میں فرق ہوگا۔ اور یہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب انبیاء پر فضیلت ہے کہ آپؐ کا سینہ سب سے اعلیٰ اور مصفّٰی تھا اور اس پر جو عکس پڑا وہ سب سے بڑھ کر تھا۔

اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ کبھی فیضان کی نوعیت کے لحاظ سے اس کے نام مختلف رکھ دیئے جاتے ہیں یوں وہ روح القدس کا ہی فیضان ہوتا ہے اور فیضان کی نوعیت قلب کی صفائی کے مطابق ہوتی ہے۔ دیکھو جب سورج کا عکس لینا ہو اور معلوم ہو کہ اس کے لئے

شیشہ بہت بہتر ہے تو اسی پر لیں گے نہ کہ لوہے کے ٹکڑے پر لیں گے۔ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب بہترین قلب تھا اس لئے آپؐ پر فیضان کا جو عکس پڑا وہ چونکہ سب سے اعلیٰ اور بڑھ کر تھا اس لئے وہی قیامت تک رہے گا اور اس طرح فیضان کی نوعیت بدل گئی۔

دیکھو حضرت مسیحؑ کو جبرائیلؑ کے فیضان کی شکل کشف میں کبوتر کی دکھائی گئی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ فیض آدمی کی شکل میں آیا جو بہت اعلیٰ اور اکمل فیضان تھا۔ تو فیضان کی نوعیت کا بھی فرق ہوتا ہے اسی نوعیت کے فرق کی وجہ سے جبرائیلؑ کے کئی نام ہیں۔ روح القدس۔ روح الامین وغیرہ۔ روح القدس جبرائیلؑ کا نام اس کلام پاک کی وجہ سے ہے جو وہ نازل کرتا ہے اور روح الامین اس کا لقب اس کلام پاک کے نازل کرنے کی وجہ سے ہے جس کی ہمیشہ اس نے حفاظت بھی کرنی تھی اور جس کلام کو ہر قسم کے نقص سے محفوظ رکھنا اس کا فرض تھا۔ یہ نام جبرائیلؑ کے لئے اسی فیضان کی وجہ سے ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑا۔ گویا جبرائیلؑ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ممنون احسان ہے کہ آپؐ کے سبب اسے ایک اور خطاب ملا۔

غرض دوسرے انبیاءؑ پر روح القدس کے رنگ میں جبرائیلی پرتو پڑا۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر روح الامین کے رنگ میں پرتو پڑا جس کا یہی کام نہیں کہ پاکیزگی پیدا کرے بلکہ یہ بھی ہے کہ پاکیزگی ہمیشہ کے لئے قائم بھی رکھی جائے۔ روح الامین میں قدوسیت بھی آگئی اور اس کے ساتھ ہی ہمیشگی بھی پائی گئی اس لئے یہ نام روح القدس کی نسبت اعلیٰ ہے۔

مَلَک افضل ہے یا انسان؟

اب میں اس سوال کا جواب دیتا ہوں کہ مَلَک افضل ہے یا انسان؟ کیونکہ پیچھے جو اس بات پر زور دیا گیا ہے۔ کہ عیسیٰؑ، موسیٰؑ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیلی پرتو سے اس درجہ کو پہنچے تو اس کے متعلق کسی کے دل میں خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ افضل ہوا جس نے ان پر پرتو ڈالا نہ کہ وہ جو اس کے پرتو سے اعلیٰ مقام پر پہنچے۔

یاد رکھنا چاہئے کہ باوجود اس کے کہ حضرت عیسیٰؑ، حضرت موسیٰؑ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جبرائیلؑ کا پرتو پڑا یہ جبرائیلؑ سے اعلیٰ ہیں اور اس کے کئی وجوہ ہیں۔

(۱) جبرائیلؑ بے شک پرتو ڈالنے والا ہے مگر بطور واسطہ کے ورنہ اصل عکس ڈالنے والا خدا ہی ہے۔ اور اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ سورج کا عکس شیشے پر پڑے اور اس سے کسی اور چیز پر پڑے۔ جبرائیلؑ خدا تعالیٰ سے نور اخذ کر کے آگے ڈالتا ہے نہ کہ اپنی ذات سے۔ اور واسطہ کبھی اعلیٰ ہوتا ہے اور کبھی ادنیٰ۔ اعلیٰ کی مثال تو شیشے کی ہے جس پر سورج کا عکس پڑے۔ شیشہ اس چیز سے اعلیٰ ہو گا جس پر اس کے واسطہ سے عکس پڑے گا۔ اور ادنیٰ کی مثال یہ ہے کہ بادشاہ چٹھی لکھ کر چپڑاسی کو دے کہ فلاں وزیر کو پہنچا دے وہ نہیں جانتا کہ چٹھی میں کیا ہے یا کیا نہیں؟ اس کا کام پہنچا دینا ہے۔ یا مثلاً اس کے ہاتھ زبانی پیغام بھی کہلا بھیجے۔ تب بھی وزیر جو کچھ اس سے کہے گا وہ پیغامبر سے اکمل مفہوم ہو گا۔ اس مثال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا پرتو جبرائیلؑ کے ذریعہ نبی پر پڑے مگر جبرائیلؑ کو معلوم ہی نہ ہو کہ کیا ہے؟ اس کا پتہ حدیث سے بھی لگتا ہے معراج کی حدیث میں آتا ہے کہ ایک مقام پر جا کر جبرائیلؑ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا آگے آپ ہی جائیے میں نہیں جا سکتا۔ تو جبرائیلؑ کے ذریعہ جو کچھ پہنچایا گیا وہ ایسا ہے جیسا کہ کسی کو ایک پیغام دے کر کسی کے پاس بھیجا جائے جس میں سے کچھ تو وہ سمجھ لے اور کچھ ایسے اشارے ہوں جنہیں وہی سمجھ سکتا ہو جس کے پاس پیغام بھیجا گیا یا وہ سمجھ سکتا ہے جس نے پیغام بھیجا۔ اسی طرح جبرائیلؑ کو جو کچھ دیا گیا وہ لے تو گیا مگر اس میں ایسی باتیں بھی ہیں جنہیں خدا اور رسول ہی سمجھ سکتے ہیں۔

یہ مثال تو ایسی ہے کہ جبرائیلؑ جو کچھ لے گیا اسے وہ سمجھ نہ سکتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ حصہ جو جبرائیلؑ سمجھ سکتا تھا اس میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بڑھے ہوئے تھے۔ اس کو مثال کے ذریعہ سمجھاتا ہوں۔ دو آدمی بخار میں مبتلا ہوں اور دونوں کو کونین دی جائے تو بسا اوقات ایک کو تو جھٹ اثر ہو جائے گا اور ایک کو دیر میں ہو گا۔ ایسا کیوں ہو گا؟ ظاہر ہے کہ یہ فرق ان دونوں کی ذاتی قوتوں کی وجہ سے پڑے گا جس کے جسم میں ایسے مادے ہوں گے کہ جو کونین پر غالب آجائیں اس پر کم اور دیر سے ہو گا۔ اور جس کا جسم صاف ہو گا اس پر فوراً اثر ہو گا اور بخار اُتر جائے گا۔

یہ مثال تو دفع شر کی قوتوں کے اختلاف کی ہے۔ جلب خیر میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ دو آدمی ایک ہی خوراک کھاتے ہیں ایک بہت موٹا اور مضبوط ہو جاتا ہے دوسرا اس قدر فائدہ نہیں اُٹھاتا۔ گو بسا اوقات وہ پہلے سے غذاء مقدار میں بھی زیادہ کھا لیتا ہے اسی طرح وہ تعلیم جس کو دونوں یعنی جبرائیلؑ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے تھے اس میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم افضل تھے کیونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آپؐ کے قویٰ کے مطابق اثر ڈالتی تھی اور حضرت جبرائیلؑ پر ان کے قویٰ کے مطابق۔

یہ بات اس طرح اور زیادہ آسانی کے ساتھ سمجھ میں آسکتی ہے کہ میں اس وقت یہ مضمون اُردو میں

بیان کر رہا ہوں اور ہر شخص اسے سمجھ سکتا ہے۔ مگر ہر ایک ایک جیسا نہیں سمجھ سکتا اور نہ ہر ایک پر ایک جیسا اثر ہوتا ہے۔ پھر قلب کا اثر بھی بات پر جا پڑتا ہے۔ دیکھو سورہ فاتحہ ہی ہے۔ کوئی شخص اسے پڑھتا ہے تو اس کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔ اور کوئی پڑھتا ہے تو اس کے چہرہ پر بشاشت آجاتی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ جس کے قلب کے اندر رونے کا مادہ ہوتا ہے اور وہ مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے وہ اسے پڑھ کر سمجھتا ہے خدا ہی ہے جو میری مصیبت کو دُور کر سکتا ہے اور اس سے اس کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔ لیکن دوسرا شخص جو کامیابیوں کو اپنے گرد و پیش پاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خدا ہی میری حفاظت کرنے والا ہے کون ہے جو مجھے تباہ کر سکے۔ اس سے اس کے پڑھنے سے چہرہ پر بشاشت آجاتی ہے۔ تو ایک ہی بات کا قلب کی حالت کے لحاظ سے مختلف اثر ہوتا ہے۔

پس وہ کلام جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا وہ ان بشری قویٰ سے مل کر جو آپ کے اندر تھے اور نتیجہ اور مطلب پیدا کرتا اور جبرائیلؑ کے اندر چونکہ اور قویٰ تھے اس لئے ان کے ساتھ مل کر اور نتیجہ پیدا ہوتا۔ اور یہ صاف بات ہے کہ مختلف چیزوں کی ترکیب سے مختلف نتائج پیدا ہوا کرتے ہیں۔ مثلاً چونا ہے اس پر اینٹیں رکھ دی جائیں تو کچھ نہیں ہو گا لیکن اگر پانی ڈالا جائے تو آگ پیدا ہو جائے گی کیونکہ چونا اور پانی کے ملنے سے یہ نتیجہ پیدا ہوا کرتا ہے۔ تو باوجود اس کے کہ جو کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جبرائیل کے ذریعہ سے اُترا اسے جبرائیل سمجھتے تھے۔ مگر جو قویٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھے وہ ان کو حاصل نہ تھے اس لئے ایسا نہ سمجھ سکتے تھے جیسا رسول کریمؐ سمجھتے اور اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بھی فضیلت حاصل ہے۔

اس جگہ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ہر انسان ملَک سے افضل نہیں ہوتا۔ خاص انسان خاص ملائکہ سے افضل ہوتے ہیں اور جو عام مؤمن ہوتے ہیں وہ عام ملائکہ سے افضل ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی ملائکہ کی نسبت وسیع ذمہ داریاں ہیں اور انسان تو ایسا ہے کہ اسے جہنم میں بھی ڈالا جاسکے گا لیکن ملائکہ کے لئے یہ نہیں ہے۔ وہ مجبور ہیں کہ بدی نہ کریں۔ مگر انسان دونوں طرف جاسکتا ہے بدی بھی کر سکتا ہے اور نیکی بھی اس لئے وہ انسان جو نیکی کرتے ہیں خواہ وہ معمولی درجہ کے مؤمن ہوں وہ عام ملائکہ پر فضیلت رکھتے ہیں۔

بقیہ تقریر

(جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ۲۹؍دسمبر ۱۹۲۱ء کو مسجد نورؐ میں ساڑھے نو بجے فرمائی)

تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ ایک صاحب نے سوال کیا ہے کہ یہ کیوں نہ مانا جائے کہ اشیاء کے خواص اشیاء سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور ملائکہ کے اثر کے نیچے نہیں ہیں۔ اس بات کے تسلیم کرنے کی کیا وجہ ہے کہ اشیاء کے خواص ملائکہ کے اثر کے نیچے ہوتے ہیں۔

میں نے ملائکہ کا ثبوت دیتے ہوئے بعض دلائل بیان کئے ہیں اور ان کے ذریعہ ملائکہ کا وجود ثابت کیا ہے اور جب ملائکہ کا وجود ثابت ہو گیا تو خود بخود ان کی ضرورت ثابت ہوگئی اور جب کوئی بات دلائل کے ساتھ ثابت ہوجائے تو پھر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ چونکہ اس کے امکان کی کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی ہے۔ اس لئے کیوں نہ اسی وجہ کو مانا جائے ۔ مثلاً ہوا کاغذ کو اڑاتی اور کاغذ اس کے ذریعہ اڑ کر میز پر پڑ سکتا ہے۔ لیکن اگر کسی شخص کو کاغذ لا کر میز پر رکھتے دیکھ لیں تو یہ سوال نہیں کیا جا سکتا کہ کیوں نہ مانا جائے کہ کاغذ ہوا ہی اڑا کر لائی ہے۔ پس جب ملائکہ کا وجود ثابت ہو گیا تو پھر یہ امکان کہ اشیاء کے خواص اشیاء سے ہی تعلق رکھتے ہیں ملائکہ کا ان سے تعلق نہیں باطل ہو گیا۔ امکان اور ہوتا ہے اور کسی واقعہ کا دلائل سے ثابت ہونا اور۔ مثلاً یہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ آسمان پر نہیں گئے تو اس لئے نہیں کہا جاتا کہ ان کا آسمان پر جانا ممکن نہیں بلکہ اس لئے کہ اس کے خلاف دلائل موجود ہیں تو پھر قیاس نہیں چلایا جا سکتا۔ قیاس اسی وقت چلتا ہے جب دلائل موجود نہ ہوں قیاس

اور امکان کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اور بھی صورتیں ہو سکتی ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ سارے امکان ایک بات میں پائے بھی جاتے ہیں پس ہو سکتا تھا کہ اشیاء کے خواص اشیاء سے ہی متعلق ہوں اور یہ امکان ہے مگر دوسرے شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ خواص کا تعلق ملائکہ سے ہے ۔

پھر ہم یہ نہیں کہتے کہ اشیاء میں خواص نہیں ۔ ہمارا یہ دعویٰ نہیں ۔ بلکہ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ اشیاء کے خواص کے ظہور کے ابتدائی محرّک ملائکہ ہیں ۔ ملائکہ کو حکم ہوتا ہے اور وہ اپنے سے اگلے سبب پر اثر کرتے ہیں ۔ وہ اپنے سے اگلے پر اور اسی طرح ہوتے ہوتے ظاہری موجودات پر اس کا اثر ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔

وہ لوگ جو خدا کو مانتے ہیں اور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ خدا نے مادہ پیدا کیا ہے ان کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جتنی چیزیں ہیں ان کی خاصیتیں خدا نے ہی رکھی ہیں ۔ ورنہ یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ مادہ غیر مخلوق ہے خدا نے پیدا نہیں کیا ۔ بلکہ اپنے آپ ہی ہے اور خدا کوئی ہستی نہیں ہے ۔ اگر کوئی یہ خیال رکھتا ہے تو اس کو ملائکہ کے متعلق کچھ بتانے سے قبل خدا کی ہستی کا قائل کرانا ہو گا ۔ پھر اگر خدا کی ہستی کا کوئی قائل ہو جائے لیکن یہ کہے کہ ہر چیز اپنے آپ ہی پیدا ہو گئی ہے ۔ تو پھر ملائکہ کے متعلق اسے کچھ کہا جائے گا ۔ ہاں جب یہ بھی تسلیم کر لے کہ ہر ایک چیز کو پیدا کرنے والا خدا ہے تو پھر اس کے سامنے یہ سوال رکھا جائے گا کہ ملائکہ کا وجود بھی ثابت ہے ۔ پس یہ سوال تب اٹھایا جا سکتا ہے جب کوئی یہ تسلیم کر لے کہ خدا ہے اور اس نے مادہ پیدا کیا ہے ورنہ نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ قومیں جو خدا کی ہستی کی قائل نہیں یا خدا کی تو قائل ہیں لیکن مادہ کو مخلوق نہیں مانتیں وہ فرشتوں کی قائل نہیں ہوتیں ۔ پس پہلے یہ اُمور فیصلہ کئے جائیں گے اور ان کے بعد ملائکہ پر بحث ہو سکے گی ۔ اور جب ملائکہ پر بحث ہو گی تو اس کے ساتھ ہی یہ بات تسلیم شدہ قرار دی جائے گی کہ خدا کی ہستی اور مادہ کا مخلوق ہونا تسلیم کیا جاتا ہے اور جب کوئی یہ باتیں تسلیم کرے گا تو اسے یہ بھی ماننا پڑیگا کہ خدا نے چیزوں میں صفات رکھی ہیں اس کے متعلق ہمارا دعویٰ صرف یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اشیاء میں صفات براہِ راست نہیں رکھیں بلکہ ملائکہ کے توسط سے رکھی ہیں ۔ کیونکہ چیزیں کثیف ہیں اور خدا تعالیٰ لطیف ۔ اور ہم قوانینِ نیچر کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہیں کہ خدا تعالیٰ نے کثیف اشیاء پر اثر ڈالنے کے لئے وسائط مقرر فرمائے ہیں ۔ سب لطیف چیزوں کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ کثیف کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے لئے وسائط ہوتے ہیں ۔ خود کثیف چیز لطیف سے تعلق نہیں رکھ سکتی ۔

انسان کو ہی دیکھ لو اس میں قلب، روح یا MIND کچھ کہہ لو کوئی چیز ہے جس کی وجہ سے انسان سب کام کرتا ہے اور جب وہ نہیں رہتی تو انسان بے جان ہو جاتا ہے لیکن وہ چیز جو اس کے اندر ہے وہ اسے نہیں کہتی کہ یہ کرو اور یہ نہ کرو۔ بلکہ وہ نہایت باریک اعصاب پر اثر کرتی ہے اور وہ آگے باریک شاخوں پر اثر کرتے ہیں اور اس طرح ہوتے ہوتے کسی عضو میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور وہ کام کرتا ہے مثلاً آنکھ کو براہِ راست روح یا مائنڈ کوئی حکم نہیں دیتی۔ بلکہ نہایت باریک اعصاب پر اثر کر کے تدریجی طور پر اس پر اپنے منشاء کا اظہار کرتی ہے۔ غرض جتنی لطیف اشیاء ہیں وہ کثیف کے ساتھ وسائط کے ذریعہ تعلق پیدا کرتی ہیں۔ پس ہم کہتے ہیں کہ خدا کا وجود ثابت ہے اور اس کا ہر چیز کا خالق ہونا مسلّم ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس کا تعلق اشیاء سے کسی ذریعہ سے ہے اور اسی ذریعہ کو ہم ملائکہ کہتے ہیں۔ لیکن جو یہ نہیں مانتا کہ خدا ہے یا وہ سب اشیاء کا خالق ہے تو اس کے سامنے ہم ملائکہ کی بحث نہیں پیش کریں گے۔ بلکہ اس سے پہلے یہ منوائیں گے کہ خدا ہے اور وہ دُنیا کا خالق ہے۔ اور جو اس کو مان لے گا اسے قانونِ قدرت پر نگاہ کر کے لازماً یہ ماننا پڑے گا کہ کوئی لطیف مگر مخلوق ہستیاں ایسی ہیں جو اللہ اور موجوداتِ ظاہری کے درمیان بطورِ واسطہ ہیں اور یہ ایسی بات ہے جو سائنس کی رو سے ثابت ہے۔ سائنس کا مسئلہ ہے کہ ہر ایک چیز کے اسباب ہیں۔ لطیف سبب اپنے سے موٹے سبب پر اثر ڈالتا ہے اور وہ اپنے سے موٹے پر اور یہ سلسلہ اسی طرح آگے چلتا ہے۔ پس ہم مانتے ہیں کہ کونین میں جو خاصیت آئی ہے وہ اور اسباب کے ذریعہ آئی ہے۔ اور کونین بھی کئی اجزاء سے مرکب ہے اور کوئی بھی چیز مفرد نہیں سب مرکب ہیں۔ کونین کے اندر ایک خاص جزو ہے جس کا اثر بخار پر ہوتا ہے اور اس جزو کا اثر بعض اور مخفی اسباب کی وجہ سے ہے اور وہ مخفی اسباب کی طرف منتقل ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ آخری ذریعہ ملائکہ ہیں۔ اور وہ خدا تعالیٰ سے براہِ راست فیضان حاصل کرتے ہیں کیونکہ اصل خالق وہی ہے۔ اگر یہ نہ مانا جائے بلکہ یہ کہا جائے کہ ہر چیز کی ذاتی خاصیت ہوتی ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ خدا چیزوں کا خالق نہیں ہے اور اگر خدا کو چیزوں کا خالق مانا جائیگا تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ہر چیز میں خاصیت خدا کی طرف سے ہے اور خواص اشیاء کو مختلف اسبابِ مخفیہ کا نتیجہ دیکھ کر بھی ماننا پڑے گا کہ انہی اسبابِ مخفیہ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کا حکم ان تک پہنچتا ہے اور انہی کی آخری کڑی کا نام مَلک ہے۔


لمّہ مَلکیہ ترقی کرتا ہَے

اب مَیں یہ بتاتا ہوں کہ لمّہ ملکیہ ترقی کرتا ہے اور ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ ایک لمّہ سے دو ہو جاتے ہیں۔ اور اگر کسی نے نہ سمجھے ہوں تو پھر بتائے دیتا ہوں کہ اس کے معنے تحریک کے ہیں اور اس کی ترقی کرنے کا یہ مطلب ہے کہ فرشتے جو تحریکیں کرتے ہیں وہ بڑھتی جاتی ہیں۔ ایک سے دو، دو سے تین، تین سے چار حتّٰی کہ کئی ہو جاتی ہیں۔ جب کوئی شخص ایک تحریک کو قبول کرتے کرتے اس مقام پر آجاتا ہے کہ خدا تعالیٰ دیکھتا ہے کہ وہ زیادہ کا مستحق ہے تو اسے اور زیادہ طاقت دے دی جاتی ہے پھر گویا دو فرشتے اس کے اندر تحریک کرتے ہیں۔ اس کے دو محافظ ہو جاتے ہیں پھر تین اور اسی طرح بڑھتے جاتے ہیں۔ اور یہ بات ہم قانونِ قدرت میں بھی دیکھتے ہیں کہ جو شخص کسی چیز کا صحیح طور پر استعمال کرتا ہے اس کی اس کے متعلق طاقتیں بڑھ جاتی ہیں۔ مثلاً جو لوگ علوم پڑھتے ہیں ان پر نئی نئی باتیں منکشف ہوتی رہتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس اصل کے متعلق فرمایا ہے۔ وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(العنکبوت: ۷۰) کہ جو لوگ ہمارے رستہ پر چلتے ہیں تو ان کو ہم کئی رستے بتا دیتے ہیں۔ جب خدا تعالیٰ تک پہنچانے والے ایک رستہ پر چلتے ہیں تو انہیں قرب کے اور رستے بتا دیئے جاتے ہیں۔ یعنی جب وہ ایک نیکی پر عمل کرتے ہیں تو اور نئی نئی نیکیوں کا انہیں علم حاصل ہو جاتا ہے اور وہ ان کو عمل میں لاتے ہیں۔ اور ایسی نیکیاں جو پہلے وہم و خیال میں بھی نہیں ہوتیں خدا کے رستہ میں کوشش کرنے والے کو بتائی جاتی ہیں۔ چنانچہ اس کا ثبوت قرآن سے ملتا ہے۔ ایک جگہ تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنۡ کُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَیۡہَا حَافِظٌ(الطارق: ۵) کہ ہر ایک انسان پر فرشتہ مقرر ہے جو اسے شیطانی تحریکوں سے بچاتا ہے اور نیکی کی تحریکیں کرتا ہے مگر ایک دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان اس فرشتہ کی تحریکوں کو مان لیتا ہے تو ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ اب شیطان اس کے ساتھ ہی نہ رہے اور اسے بالکل محفوظ کر دیتا ہے اور وہ اس طرح کہ انسان کے قلب پر اثر کئی ذرائع سے ہوتا ہے کبھی آنکھ کے ذریعہ، کبھی ناک کے ذریعہ، کبھی کان کے ذریعہ، کبھی زبان کے ذریعہ غرضیکہ کئی ذرائع ہیں خدا تعالیٰ ان سب ذرائع کے لئے محافظ مقرر کر دیتا ہے۔ گویا جب کوئی انسان نیک تحریکوں کو مانتا جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اور فرشتے اس کے محافظ مقرر کر دیتا ہے جو ان دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں جن کے ذریعہ شیطان داخل ہو کر قلب پر اثر ڈالتا ہے۔ پہلے تو سب دروازوں پر ایک فرشتہ تھا کہ وہ چکر لگاتا اور دیکھتا رہے کہ کسی دروازے سے شیطان داخل نہ ہو سکے پھر ترقی کرتے کرتے اس طرح ہوتا ہے کہ ہر سوراخ پر فرشتہ مقرر ہو جاتا ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔ لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَمِنۡ خَلۡفِہٖ یَحۡفَظُوۡنَہٗ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰہِ(الرعد: ۱۲) لوگوں نے غلطی سے اس آیت کو ہر انسان کے متعلق سمجھا ہے۔ مگر اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ذکر ہے۔ اور لَهٗ کی ضمیر آپؐ ہی کی طرف جاتی ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ہمارا ایسا بندہ ہے کہ اس کے آگے اور پیچھے محافظ مقرر ہیں۔ کوئی شیطانی تحریک نہیں جو شیطانی ہو کر اس کے پاس پہنچے ہر ایک شیطانی تحریک اس کے پاس آکر رُک جائے گی اور اس تک نہیں پہنچ سکے گی۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کے لئے ایک ہی فرشتہ مقرر ہوتا ہے۔ لیکن جو خدا کے خاص مقرب ہوتے ہیں۔ ان کے لئے کئی کئی ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس کا لطیف ثبوت دوسری جگہ سے بھی ملتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ ترقی کرتے کرتے مؤمن اس درجہ کو پہنچ جاتا ہے کہ اس کے ہر سوراخ پر فرشتے بیٹھ جاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔ وَالۡمَلٰٓئِکَۃُ یَدۡخُلُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ کُلِّ بَابٍ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَی الدَّارِ(الرعد: ۲۴-۲۵) فرمایا جب انسان مرنے کے بعد جنت میں جائیں گے تو ملائکہ ہر دروازے سے آکر ان کو سلام کریں گے اور کہیں گے کہ تمہارے صبر کے بدلہ میں تم پر سلامتی ہو۔ اس آیت کے یہ معنے نہیں کہ بہت سارے فرشتے ہوں گے اس لئے مختلف دروازوں سے آکر سلام کریں گے کیونکہ اگر بہت فرشتے ہوں تو وہ بھی ایک ہی دروازہ سے آ سکتے ہیں۔ اور اگر کہا جائے کہ اتنا ہجوم ہو گا کہ ایک دروازہ سے نہیں آسکیں گے تو پھر اس کے بیان کرنے کی کیا ضرورت اور کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ ایک دروازہ سے آئیں یا مختلف دروازوں سے آئیں ایک ہی بات ہوگی۔ اصل میں اس کے یہی معنے ہیں کہ قیامت کے دن ہر دروازہ کا فرشتہ آئیگا اور آکر مبارک باد دے گا کہ تم اس میں کامیاب ہو گئے ہو جس میں میں اور تم دونوں مل کر شیطان کا مقابلہ کرتے رہے تھے۔ اس وقت فرشتہ کو بھی خوشی ہوگی اور انسان کو بھی۔ تو ہر سوراخ کا فرشتہ اسے سلامتی کی دُعا دے گا۔

رہی یہ بات کہ آیا کئی دروازے ہوتے ہیں یا نہیں یہ موٹی بات ہے اور ہر انسان جانتا ہے کہ بیرونی چیزوں کے اثر کرنے کے کئی ذرائع ہیں۔ کبھی انسان آنکھ سے روپیہ دیکھتا ہے تو اس کے دل میں لالچ پیدا ہوتی ہے اور وہ چوری کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ اگر اس کی آنکھیں نہ دیکھتیں تو یہ خیال بھی اس کے دل میں نہ پیدا ہوتا۔ پھر کبھی انسان سُنتا ہے کہ فلاں کے پاس بہت مال ہے تو چوری کا خیال پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر وہ نہ سنتا تو یہ خیال بھی اسے پیدا نہ ہوتا۔ اسی طرح بعض خیال چھونے کے ذریعہ سے، بعض سونگھنے کے، بعض چکھنے کے ذریعہ سے پیدا ہو جاتے ہیں۔ تو بدی یا نیکی کی تحریکیں انہی ذرائع سے پیدا ہوتی ہیں اور ان ہی راستوں کے ذریعہ شیطان اس کے اندر داخل ہوتا ہے ان پر ایک ایک فرشتہ مقرر کر دیا جاتا ہے جو حفاظت کرتا رہتا ہے اور کسی بُری تحریک کو اندر نہیں جانے دیتا۔ لیکن خاص اور عام لوگوں کے ان محافظ فرشتوں میں ایک فرق ہوتا ہے اور وہ یہ کہ عام کے محافظ تو صرف بری تحریکوں کو اندر جانے سے روکتے ہیں لیکن خاص کے محافظ بری تحریکوں کو بھی نیک کر کے اندر جانے دیتے ہیں۔ مثلاً ایسا انسان جب سنتا ہے کہ فلاں دولت مند ہے تو بجائے اس کے کہ اس کے دل میں یہ تحریک ہو کہ ڈاکا مار کر اس کا مال حاصل کرے اس کے دل میں یہ تحریک ہوتی ہے کہ خدا اسے اور بھی دے اور یہ نیک کاموں میں صرف کرے۔ غرض اس طرح ان کے اندر ہر تحریک نیک ہو کر جاتی ہے مگر خدا کے نبیوں کے ساتھ ان فرشتوں کے یہی دو کام نہیں ہوتے کہ اوّل کسی بُری تحریک کو اندر نہیں جانے دیتے اور دوسرے اس کو نیک کر کے اندر جانے دیتے ہیں بلکہ ان کے دل میں پیدا ہونے والی تحریکوں کے باہر بھی نیک اثرات پیدا کرتے ہیں۔ خدا کے نبی کے بات کرتے وقت، اس کے کسی کی طرف دیکھتے وقت، کسی کو چھوتے وقت، غرضیکہ ان کی ہر حالت میں فرشتے نیک اثر پیدا کرتے رہتے ہیں۔

شاید کوئی کہے کہ کسی کے مال کو دیکھ کر جب کسی کے دل میں چوری کا خیال پیدا ہوتا ہے تو یہ اس کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ باہر نہیں پیدا ہوتا۔ اس لئے فرشتے اس کے متعلق کیا حفاظت کر سکتے ہیں۔ گو یہ بات غلط ہے کیونکہ چوری کا جو خیال پیدا ہو گا وہ کسی محرک سے ہی پیدا ہوگا اور محرک چیز باہر ہی ہوگی۔ مگر یہ بھی ہوتا ہے کہ دوسروں کے بد خیالات کا بھی اثر ہوتا ہے ایک کے بُرے خیالات دوسرے کے دل پر اثر کر دیتے ہیں۔ اور یہ اثر چھونے، باتیں کرنے یا پاس بیٹھنے سے ہوتا ہے یہ بات علمی طور پر بھی ثابت ہے میسمریزم ایک علم ہے۔ اس میں ایک شخص دوسرے کو کہتا ہے سو گیا سو گیا۔ اور اپنے دل میں خیال لاتا ہے کہ سو گیا۔ جب زور سے یہ خیال اس کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے تو وہ شخص فی الواقع سو جاتا ہے۔ پھر یہاں تک ہو جاتا ہے کہ اسے کہا جاتا ہے ۔ لکڑی کی طرح سخت ہو جا تو وہ ایسا ہی ہو جاتا ہے اس وقت اگر اسے ایسی طرز پر لٹا کر کہ اس کی کمر کے نیچے کوئی سہارا نہ ہو۔ اس پر بوجھ بھی رکھ دیا جائے تو اس کی کمر ٹیڑھی نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر کہا جائے تُو بلّی ہو گیا تو وہ بلّی کی طرح میاؤں میاؤں کرنے لگ جائے گا۔ یا اگر کہا جائے کہ کُتّا ہو گیا تو کُتّے کی طرح بھونکنے لگ جائے گا۔ تو ایک شخص کے خیال کا اثر دوسرے پر ہوتا ہے۔ دُنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے لوگ موجود ہیں جن کا بُرا اثر اس ملک میں جہاں وہ رہتے ہیں اس شہر میں جہاں وہ بستے ہیں اس گاؤں میں جہاں وہ سکونت رکھتے ہیں پڑتا ہے اور ہر انسان اس کا تجربہ کر سکتا ہے کہ ایک شخص کے خیال کا اثر دوسروں پر پڑ رہا ہے۔ حتیٰ کہ بچے بھی اس اثر کو محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ ایک بچہ کی آنکھیں بند کر کے کوئی چیز کہیں چھپا کر رکھ دیتے ہیں اور پھر سب خیال کرنے لگتے ہیں کہ وہ لڑکا اس طرف چلے۔ جہاں وہ چیز رکھی ہوئی ہے تو وہ ادھر ہی چلا جاتا ہے اور اس چیز کے پاس پہنچ کر اسے اُٹھا لیتا ہے۔

ایک دفعہ ایک سکھ طالب علم نے جو گورنمنٹ کالج میں پڑھتا تھا اور حضرت مسیح موعودؑ سے اخلاص رکھتا تھا حضرت صاحبؓ کو کہلا بھیجا کہ پہلے مجھے خدا پر یقین تھا مگر اب میرے دل میں اس کے متعلق شکوک پڑنے لگ گئے ہیں۔ حضرت صاحبؓ نے اسے کہلا بھیجا کہ جہاں تم کالج میں بیٹھتے ہو اس جگہ کو بدل لو۔ چنانچہ اس نے جگہ بدل لی اور پھر بتایا کہ اب کوئی شک نہیں پیدا ہوتا۔ جب یہ بات حضرت صاحبؓ کو سنائی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اس پر ایک شخص کا اثر پڑ رہا تھا جو اس کے پاس بیٹھتا تھا اور وہ دہریہ تھا۔ جب جگہ بدل لی تو اس کا اثر پڑنا بند ہو گیا اور شکوک بھی نہ رہے۔ تو بُرے آدمی کے پاس بیٹھنے سے بھی بلا اس کے کہ وہ کوئی لفظ کہے اثر پڑتا ہے اور اچھے آدمی کے پاس بیٹھنے سے بلا اس کے کہ وہ کچھ کہے اچھا اثر پڑتا ہے۔ پس دُنیا میں خیالات ایک دوسرے پر اثر کر رہے ہوتے ہیں مگر ان کا پتہ نہیں لگتا ایک شخص کسی مجلس میں جاتا ہے جہاں کسی شخص کے دل میں کوئی بُرا خیال ہوتا ہے اور کسی کے دل میں کوئی۔ وہ اس کے دل پر اثر کر رہے ہوتے ہیں اور اسے پتہ بھی نہیں ہوتا۔ مگر جب ملائکہ اس کے ہر دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں ہاتھ، کان، ناک، منہ اور آنکھ وغیرہ دروازوں پر تو ایسے لوگ جب کسی مجلس میں جاتے ہیں ان پر کوئی بُرا اثر نہیں ہو سکتا۔ ان پر پاک ہی پاک اثر ہوتا ہے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود تو پاک تھے مگر دوسروں کو سکھانے کے لئے جب آپ کسی مجلس میں بیٹھتے تو ستر دفعہ استغفار کرتے۔ اس سے آپؐ نے مسلمانوں کو سکھایا کہ وہ بھی ایسا ہی کیا کریں۔

تو خیالات کا اثر یقینی اور ثابت شدہ اثر ہے۔ جو لوگ زیادہ نیک اور متقی ہوتے ہیں انکے ہر دروازہ پر کہ جس سے خیالات کا اثر اندر آتا ہے فرشتے متعین ہوتے ہیں جو انہیں بُرے اثرات سے محفوظ کر دیتے ہیں۔

شیطان سے کیا مراد ھے

اب میں یہ بتاتا ہوں کہ شریعت نے انسان کے ذاتی بُرے خیالات کو بھی شیطانی قرار دیا ہے اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ شیطان کا وجود ہی نہیں ہے کیونکہ میرا یہ بھی یقین ہے کہ ہر نیک تحریک درحقیقت انسان کے قلب سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ حالانکہ میں ملائکہ اور ان کے اثرات کا قائل ہوں۔

پس میرے قول کا یہ مطلب ہے کہ شریعت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی خیالات کو بھی شریعت نے شیطانی قرار دیا ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ جب انسان کے دل میں بد خیال آئے تو شیطان اس پر اپنا پرتو ڈال کر اس کو بڑھا دیتا ہے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا۔ ایک وضوء کا شیطان ہے اس کا نام وُلھان ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ پانی زیادہ گروا تا ہے۔عهرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا اس جگہ یہ مطلب نہیں کہ واقع میں کوئی وضوء کا شیطان ہے۔ بلکہ آپ نے دل کے خطرہ کا نام شیطان رکھا ہے۔ شیطان کا کام تو خدا تعالیٰ سے دُور کرنا ہے پانی سے اس کا تعلق نہیں۔ اور ولھان کے معنے ہیں ایسا متفکّر کہ جسے ایک خیال کے سوا اور کوئی خیال ہی نہ رہے اور اسی حالت کا نام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولھان نامی شیطان رکھا ہے۔ اس حالت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کو کچھ ہوش ہی نہیں رہتی اور بجائے اس کے کہ وضوء کے وقت اسے نماز کی طرف توجہ ہو۔ وہ اپنے خیالات میں محو ہو کر پانی بہاتا چلا جاتا ہے۔ ورنہ فی الواقع شیطان اس کو پانی گرانے کے لئے نہیں کہتا کیونکہ شیطان کو زیادہ یا کم پانی گرانے سے کیا تعلق۔

اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کا بھی ایک شیطان ہے جو نماز میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی جب میں نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہوں تو مختلف خیالات میرے دل میں آنے لگ جاتے ہیں آپ نے فرمایا یہ شیطان ہے اور اس کا نام خنزب ہے۔درحقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے شیطان کا نام خنزب بتایا ہے۔ یہ مرکب لفظ ہے خنٰی اور ازیب سے۔ خنٰی کے معنے نوائب الدھر کے ہیں۔ اور ازیب کے معنے واہیہ کے ہیں یعنی آفات اور بلائیں اور مصیبتیں ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا ہے کہ دُنیا کے حوادث انسان کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ اگر انسان دُنیا میں حتیٰ المقدور علیحدگی اختیار کرے تو وہ اس حالت سے بچ سکتا ہے۔ غرض دل کے بُرے خیالات کا نام بھی شیطان رکھا گیا ہے۔

لمّہ ملکی اور شیطانی انسان کی قلبی حالت کا نتیجہ ہوتے ہیں

اب میں یہ بتاتا ہوں کہ پہلے مَلَک یا شیطان کی تحریک نہیں ہوتی۔ پہلی تحریک خواہ بُری ہو یا اچھی انسان کے اپنے قلب سے پیدا ہوتی ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر انسان فطرت پر پیدا کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر انسان نیکی پر پیدا کیا گیا ہے پھر حالات اور صحبتوں سے اس کے قلب میں خیال پیدا ہوتے ہیں۔ ان خیالات کو بڑھانے کے لئے جو نیک ہوتے ہیں ملائکہ آجاتے ہیں اور بُد کے لئے شیطان۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَنْ كَانَ لَهُ مِنْ قَلْبِهِ وَاعِظٌ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ اللّٰهِ حَافِظٌجس کے اپنے دل میں نیک خیال پیدا ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ بھی اس کے لئے ایک نگران فرشتہ کو مقرر کر دیتا ہے۔ اور یہی حال بُری تحریکوں کا ہوتا ہے جس کے دل میں بُرے خیالات پیدا ہونے لگتے ہیں اس کے اوپر ایک شیطان مسلط ہو جاتا ہے۔

پس معلوم ہوا کہ نیکی اور بدی پہلے انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ گو اس کی تحریک بیرونی اسباب سے ہوتی ہو۔ اور پھر اگر نیک تحریک ہو تو مَلَک اس کو بڑھاتا ہے۔ اور اگر بد ہو تو شیطان ایسے آدمی کے ساتھ لگ جاتا ہے۔ ورنہ اگر تحریک پہلے ہی سے باہر سے آتی اور قلب کا اس سے تعلق نہ ہوتا اور اس کے قبول کرنے یا رد کرنے میں اس کا کوئی دخل نہ ہوتا تو پھر انسان مجبور ہوتا۔ لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ ”کند ہم جنس باہم جنس پرواز“ کے ماتحت جب قلب میں نیکی کی تحریک پیدا ہوتی ہے تو ملائکہ سے تعلق ہو جاتا ہے اور جب بُرائی کی تحریک ہوتی ہے تو بد ارواح تعلق پیدا کر لیتی ہیں۔

پس یہ جو دونوں تحریکیں ہیں ان کے متعلق یہ بات مدّنظر رکھنی چاہئے۔ بہت لوگ سوال کیا کرتے

ہیں کہ ہم روحانی ترقی کس طرح حاصل کریں۔ ان کا جواب یہ ہے کہ روحانی ترقی حاصل کرنے کا طریق یہ ہے کہ انسان اپنے قلب کا مطالعہ کرتا رہے۔ روحانی ترقی یہی ہوتی ہے کہ انسان کو اعلیٰ سے اعلیٰ مدارج اور مراتب کا حال معلوم ہوتا جائے اور اس کا ذریعہ یہی ہے کہ انسان دیکھے کہ اس کے قلب میں نیک تحریکیں زیادہ ہوتی ہیں یا بد۔ اگر نیکی کی تحریکیں زیادہ ہوں تو سمجھ لے کہ خدا تعالیٰ کی طرف ملائکہ اس کا قدم بڑھا رہے ہیں۔ پس بجائے اس کے کہ انسان اپنی نمازوں کو اپنے روزوں کو اپنے چندوں کو دیکھے کہ ان میں میں نے کس قدر ترقی کی ہے اسے یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کے قلب میں کیا تحریکیں ہوتی ہیں۔ اس کا قلب اسے زیادہ نماز، زیادہ روزے اور زیادہ نیکی کرنے کا حکم دیتا ہے یا نہیں۔ اگر قلب حکم نہیں دیتا تو سمجھ لے کہ جو کچھ کر رہا ہے وہ صرف ایک ابتدائی کوشش ہے یا عادت ہے یا ریاء ہے اور خدائی کام نہیں۔ اگر نمازیں پانچ چھوڑ دس بھی پڑھتا ہے یعنی علاوہ فرائض کے پانچ وقت نوافل ادا کرتا ہے۔ مگر اس کا قلب نماز سے متنفر ہے تو معلوم کرے کہ ابھی وہ ایسے مقام پر نہیں پہنچا کہ ملائکہ کا اس سے تعلق قائم ہو جائے۔ بلکہ ممکن ہے کہ ابھی وہ ابتدائی کوشش کے مقام پر بھی نہیں پہنچا بلکہ اس کا نفس رسماً یا عادتاً یا ریاءً اس سے نمازیں پڑھوا رہا ہے۔ اور اگر اسے ابھی عمل کی توفیق نہیں ملی مگر اس کے دل میں نیک تحریکیں پیدا ہو رہی ہیں تو سمجھے کہ فرشتے اس سے تعلق پیدا کر رہے ہیں پس تم اپنی نمازوں، روزوں وغیرہ سے اپنی حالت کا اندازہ نہ کرو۔ بلکہ تمہارے دل میں جو کچھ ہو اس کو دیکھو۔ جن قوموں کے دل خراب ہو جاتے ہیں وہ خواہ ظاہرہ طور پر کتنی ہی مضبوط ہوں، گر پڑتی ہیں۔ روس کو ہی دیکھ لو کتنی بڑی حکومت تھی۔ لیکن حضرت مسیح موعودؑ کی اس کے متعلق چونکہ پیشگوئی تھی اس لئے ان لوگوں کے دل خراب ہو گئے اور اس سے ساری سلطنت خراب ہو گئی۔ حالانکہ ظاہری خرابی سے معاً پہلے وہ ایک زبردست حکومت سمجھی جا رہی تھی۔ تو کسی انسان کو اپنے متعلق نمازوں، روزوں اور زکوٰۃ سے فیصلہ نہیں کرنا چاہئے کہ میں نے نیکی اور تقویٰ میں کس قدر ترقی کی ہے بلکہ اپنے قلب کے اندر جو چیز ہے اس سے اپنی نیکی اور تقویٰ کو دیکھے۔ اگر اس کے دل میں نیک تحریکیں بڑھ رہی ہوں تو سمجھ لے کہ ملائکہ کا پرتو جو اس پر پڑتا ہے وہ بڑھ رہا ہے خواہ ابھی تک بعض گناہ اس سے نہ چھوٹے ہوں۔ اور اگر بُرائی کی تحریکیں اس کے قلب میں بڑھ رہی ہوں، تو خواہ اچھا کام کر رہا ہو یہی خیال کرے کہ اس کا شیطان سے تعلق بڑھ رہا ہے۔ پس نمازیں زیادہ پڑھنا یا روزے رکھنا ایمان کی علامات نہیں۔ تمہیں اپنے قلوب کو دیکھنا اور ان کا مطالعہ کرنا چاہئے لوگوں کا کام تمہارے متعلق یہ ہے کہ تمہارے اعمال کا مطالعہ کریں لیکن تمہارا کام اپنے متعلق یہ ہے کہ

اپنے قلب کا مطالعہ کرو۔

لمّۂ مَلکی اور لمّۂ شیطانی کا موازنہ کرنے کا طریق

اب میں ایک موٹا اصول بتاتا ہوں کہ کس طرح معلوم ہو کہ تمہاری تحریکوں میں شیطان کا دخل زیادہ ہے یا ملائکہ کا۔

پہلے میں نے بتایا ہے کہ اصل تحریکیں خواہ بُری ہوں یا اچھی۔ تمہاری اپنی ہوتی ہیں۔ فرشتے یا شیطان کی نہیں ہوتیں اس لئے تمہیں اپنے قلب کو دیکھنا چاہئے اور اس کو دیکھ کر معلوم کرنا چاہئے کہ تمہارے ساتھ کس کا تعلق زیادہ ہے۔

اوّل۔ اگر تم دیکھو کہ پہلے دل میں نیک خیال پیدا ہوتا ہے اور پھر بد تو سمجھ لو کہ فرشتہ کا تعلق تم سے شیطان کی نسبت زیادہ ہے۔ فرشتہ اپنے تعلق کو بڑھانا چاہتا ہے مگر شیطان اس میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔ تو ہمیشہ جب کسی بدی کا خیال پیدا ہو یہ دیکھو کہ اس سے پہلے نیکی کا خیال تم میں پیدا ہوا تھا یا نہیں۔ اگر پیدا ہوا تھا تو مَلَک کا تعلق تم سے بہت زیادہ ہے بنسبت شیطان کے مثلاً تم نماز پڑھنے کے لئے آئے ہو مگر تمہارے دل میں وسوسے پڑتے ہیں تو معلوم ہوا کہ ملائکہ کا تم سے زیادہ تعلق ہے تم نیکی کرنے آتے ہو اور شیطان اسے خراب کرنے لگتا ہے۔

دوم۔ اگر تم دیکھو کہ جب کوئی بُرا خیال تمہارے دل میں پیدا ہوتا ہے تو جھٹ ساتھ ہی نیک خیال بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ مثلاً یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ مسجد میں چلو لوگ دیکھیں گے کہ مَیں بھی نماز پڑھتا ہوں اور بعد میں یہ خیال آجاتا ہے کہ نماز پڑھنی ہے تو پھر اللہ ہی کی پڑھوں گا۔ تو ایسی صورت میں سمجھ لو کہ ملائکہ کا تعلق تم سے زیادہ نہیں مگر پھر بھی ملائکہ نے تم کو بالکل چھوڑ بھی نہیں دیا۔ جب انہوں نے موقع دیکھا جھٹ آجاتے ہیں تاکہ نیکی کی طرف لے آئیں۔

اس حد تک انسان محفوظ ہوتا ہے کیونکہ ملائکہ نے اس سے محبت کا تعلق ترک نہیں کیا ہوتا۔ پہلا درجہ تو یہ تھا کہ وہ اسے اوپر اٹھاتے تھے اور شیطان نیچے کھینچتا تھا۔ دوسرا یہ کہ وہ ڈوبنے لگتا تھا تو ملائکہ اسے بچاتے تھے۔ جو انسان اس حالت میں ہو وہ بھی سمجھ لے کہ وہ ایسے مقام پر ہے کہ ترقی کر سکتا ہے مایوسی کی حد تک نہیں پہنچا۔

سوم۔ تیسرا درجہ نہایت نازک ہے اور وہ یہ ہے کہ تم محسوس کرو کہ بدی کی تحریک ہوئی ہے مگر ساتھ اس کے نیکی کی تحریک نہیں ہوتی۔ گھنٹہ پر گھنٹہ اور دن پر دن گزرتا جاتا ہے مگر دل میں اس تحریک کے خلاف جوش نہیں پیدا ہوتا۔ اگر یہ حالت ہے تو سمجھ لو کہ تم کو ملائکہ بالکل چھوڑ گئے ہیں اور تم بالکل شیطان کے قبضہ میں پڑ گئے ہو۔

یہ تین درجے تو وہ ہیں جن میں بدی کی تحریک نیکی کے برابر یا اس سے زیادہ ہوتی ہے اور ان میں سے ایک درجہ پر قائم شخص کو بہت ہوشیار رہنا چاہئے۔ ان سے اوپر دو اور درجے ہیں جن میں لمّۂ ملکی اور لمّۂ شیطانی سے انسان کا واسطہ پڑتا ہے مگر لمّۂ ملکی غالب ہوتا ہے اور وہ یہ ہیں:

(۱) پہلے نیک خیال پیدا ہوتا ہو اور اس کے بعد بد خیال پیدا ہوتا ہو۔ جب یہ حالت ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ گو فرشتے پورے طور پر اس کے اردگرد نہیں ہیں لیکن اصل تعلق فرشتوں کا ہے شیطان صرف ترقی روکنے کے لئے زور لگا رہا ہے۔

(۲) دوسری حالت یہ ہے کہ نیک خیالات پہلے پیدا ہوں اور بد بعد میں۔ مگر بد خیالات بہت کم پیدا ہوں یا یہ کہ مختلف قسم کی نیک تحریکوں میں سے بعض کے متعلق دل میں خیال پیدا ہوں بعض کے متعلق نہیں اس حالت کے متعلق جان لینا چاہئے کہ فرشتوں کا تعلق مضبوط ہو رہا ہے اور شیطان کا کم۔ اور کوئی دروازہ اس کے لئے کھلا رہ گیا ہے۔ جب اس سے اوپر انسان ترقی کرتا ہے تو پھر شیطانی حملہ سے بالکل محفوظ ہو جاتا ہے۔ ان پانچوں ذریعوں سے پتہ لگ سکتا ہے کہ انسان بدی میں بڑھ رہا ہے یا نیکی میں ترقی کر رہا ہے۔

اب یہ سوال ہوتا ہے کہ انسان کے اندر کون سی تحریک زیادہ زبردست ہے آیا ملکی تحریک یا شیطانی؟ اور انسان کے لئے کون سے راستے زیادہ کھلے ہیں؟ ملائکہ کے رستے یا شیطان کے۔ اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ خدا نے انسانی ترقی کے زیادہ سامان رکھے ہیں یا گمراہی کے؟ صوفیاء سے ایک غلطی ہوئی ہے۔ یا یوں کہنا چاہئے کہ ان سے ٹیکنیکل یعنی اصطلاحی غلطی ہوئی ہے حقیقی غلطی نہیں اور وہ یہ کہ ایک چیز کا مفہوم سمجھنے میں انہوں نے غلطی کھائی ہے۔ عام طور پر بلکہ سارے کے سارے لکھتے ہیں کہ فرشتہ کا ایک ہی رستہ ہے اور شیطان کے انسان کے اندر داخل ہونے کے کئی دروازے ہیں۔ مگر یہ غلط ہے اول تو قانونِ قدرت سے یہ بات غلط ثابت ہوتی ہے۔ پھر قرآنِ کریم کی رو سے بھی غلط ہے۔ قانونِ قدرت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اندر خیالات بیرونی اثرات سے پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص کے دل میں چوری کا خیال اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ کوئی چیز باہر دیکھتا ہے اسی طرح اور باتوں کے متعلق ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن ذرائع سے انسان کے اندر برُے خیالات کی تحریک جاتی ہے انہی ذرائع سے نیکی کے خیالات کی تحریک بھی جاتی ہے۔ مثلاً جہاں دیکھنے سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ فلاں مال چُرا لیا جائے وہاں دیکھنے سے ہی یہ بھی خیال پیدا ہوتا ہے کہ فلاں غریب ہے اس کی مدد کی جائے۔ اسی طرح جہاں کان کے ذریعہ ایک بات سُن کر بُرا خیال پیدا ہو سکتا ہے وہاں کان ہی کے ذریعہ نیک خیال بھی پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح چھونے ، دیکھنے اور چکھنے سے ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر چیز ایسی ہے کہ بد طور پر بھی استعمال کی جاسکتی ہے اور نیک طور پر بھی۔ اس لئے جن ذرائع سے شیطان اندر داخل ہو سکتا ہے انہی ذرائع سے فرشتے داخل ہو کر نیکی کی تحریک بھی کرتے ہیں۔

پھر قرآنِ کریم سے بھی یہ بات غلط ثابت ہوتی ہے کہ شیطان کے گمراہ کرنے کے تو بہت سے راستے ہیں لیکن ملائکہ کا ایک ہی راستہ ہے۔ ان کو دھوکا اس آیت سے لگا ہے کہ وَاَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیۡ مُسۡتَقِیۡمًا فَاتَّبِعُوۡہُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمۡ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ(الانعام: ۱۵۴) خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ میرا سیدھا راستہ ہے اس کی اتباع کرو اور مختلف رَستوں کی اتباع نہ کرو۔ وہ تمہیں کہیں کا کہیں پہنچا دیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کا ایک ہی رستہ ہے اور شیطان کے کئی رستے ہیں مگر اس آیت کے معنے سمجھنے میں انہیں غلطی لگی ہے۔ اوّل تو قرآن کریم میں ہی خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(العنکبوت : ۷۰) کہ جو لوگ ہمارے رستہ میں کوشش کرتے ہیں انہیں ہم مختلف رستے دکھاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نیکی کے بھی مختلف رستے ہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں جو ایک رستہ اور کئی رستے بتائے گئے ہیں۔ اس سے یہ بات بتائی ہے کہ خدا تک پہنچنے کے لئے کئی مذہب قبول کرنے کی ضرورت نہیں۔ صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کے قبول کرنے سے انسان خدا تک پہنچ سکتا ہے۔ ہاں آگے اسلام نے روحانی ترقیوں کے لا تعداد رستے بتائے ہیں۔ تو اس آیت میں نفی اس بات کی گئی ہے کہ جس طرح شیطان نے گمراہ کرنے کے کئی رستے رکھے ہوئے ہیں ۔ کہیں عیسائی بننے کی تحریک کرتا ہے، کہیں آریہ بننے کی ، کہیں کوئی اور جھوٹا مذہب قبول کرنے کی ۔ اس طرح خدا نے نہیں کیا بلکہ خدا نے ایک مذہب رکھا ہے ہاں وہ مذہب ایسا ہے جو کئی رستوں پر حاوی ہے۔

اسی بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے صوفیاء نے غلطی کھائی ہے۔ اصل میں خدا تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے شیطان کے گمراہ کن طریقوں سے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَرَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ(الاعراف: ۱۵۷) کہ میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔

اب مَیں اس سوال کی طرف آتا ہوں کہ اگر نیکی کی تحریک کے بھی زیادہ ذرائع ہیں۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ دنیا میں شیطانی انسان زیادہ ہوتے ہیں اور دوسرے کم۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شیطانی اثر ملائکہ کے اثرات کی نسبت زیادہ ہیں۔

اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ شیطانی اور ملائکہ کی تحریکات کا مقابلہ اس طرح نہیں کرنا چاہئے کہ برے لوگ زیادہ ہوتے ہیں یا نیک۔ بلکہ اس طرح کرنا چاہئے کہ ہر انسان کے اندر نیکی کی تحریک زیادہ ہوتی ہے یا بُرائی کی۔ اس بات کو دیکھنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ لوگوں کے اکثر کام نیکی پر زیادہ مشتمل ہوتے ہیں بنسبت بدی کے۔ اور بدی صرف اس لئے زیادہ نظر آتی ہے کہ وہ گھناؤنی شئے ہونے کے سبب نمایاں نظر آتی ہے۔ اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک وقت سب لوگ جہنم سے نکل آئیں گے۔ (مسند احمد بن حنبل جلد ۶ صفحہ ۱۰۲ حاشیہ)

ایک شخص جو چوری کرتا ہے اسے بڑا بدمعاش اور بُرا انسان کہا جائے گا۔ مگر اور کئی عیب ہوں گے جو اس میں نہیں ہوں گے۔ اور کئی اچھی باتیں ہوں گی جو اس میں پائی جاتی ہوں گی۔ گویا اس میں کئی نیکیاں ہوں گی اور چوری کرنا ایک بُرائی ہوگی۔ اور کوئی شخص ایسا نہ ہوگا جس میں بُرائیاں زیادہ ہوں اور ان کے مقابلہ میں نیکیاں کم ہوں۔ تو نیکی دُنیا میں زیادہ ہوتی ہے اور بُرائی کم۔ مگر چونکہ بُرائی پر ہر ایک کی نظر پڑتی ہے اس لئے وہ نمایاں طور پر نظر آجاتی ہے اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ اگر کوئی شخص ایسا ہو جس کا صرف ناک کٹا ہو اور باقی اعضاء بالکل درست ہوں تو اس کے ناک پر ہی نظر پڑے گی۔ اور باقی اعضاء کی خوبصورتی کوئی نہ دیکھے گا۔ تو نیکیاں زیادہ ہوتی ہیں لیکن لوگوں کی نظر بُرائی پر پڑتی ہے اس لئے اسی کو زیادہ نمایاں سمجھا جاتا ہے۔

اب میں یہ بتاتا ہوں کہ فرشتہ دل میں تحریک کس طرح کرتا ہے۔ اور اس کے تحریک کرنے کا کیا ذریعہ ہے؟ اس کی تحریک کرنے کے متعلق اپنے تجربہ سے اور خُدا کے ان مقرب لوگوں کے تجربہ سے جنہیں علم دیا گیا ہے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان کوئی نیک کام کرتا ہے تو مَلَک اس کے دل میں اس کام کی محبت پیدا کر دیتا ہے۔ اور جب کوئی انسان ارادہ کر لیتا ہے کہ مَیں نیکی کے اس راستہ پر چلوں گا تو مَلَک ہر موقع کے آنے پر اسے اطلاع دیتا رہتا ہے کہ موقع آگیا ہے اس سے فائدہ اُٹھا لو۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ملک انسان کو مجبور کر کے وہ کام کراتا ہے بلکہ یہ ہے کہ اسے اطلاع دیتا رہتا ہے۔

دوسرا ذریعہ ملک کے تحریک کرنے کا یہ ہے کہ علم کی زیادتی کرتا رہتا ہے۔ اس سے انسان کو نیکی کرنے کی تحریکیں پیدا ہوتی رہتی ہیں کہ یہ بھی نیکی ہے اسے کر لوں۔ یہ بھی نیکی ہے اس کو عمل میں لے آؤں۔ مگر اصل منبع نیکی کا قلب ہی ہوتا ہے اسی پر ملک روشنی اور پرتو ڈالتا ہے اور اس کا کام ان تحریکوں پر چلانا ہوتا ہے یعنی ملائکہ خود انسان سے نیکی نہیں کراتے بلکہ نیکی کرانے کے لئے آسانی پیدا کرتے رہتے ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ مثلاً ایک معزز شخص بہت سے لوگوں میں سے گزرے اور وہ لوگ اس کو آگے سے رستہ دیتے جائیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لوگ اسے چلاتے ہیں۔ چلتا تو وہ خود ہے ہاں اس کے چلنے میں وہ لوگ آسانی پیدا کر دیتے ہیں۔ فرشتے بھی انسان کے لئے ایسے ذرائع پیدا کرتے ہیں کہ وہ بآسانی نیکی کر سکے۔

اسی طرح شیطان یہ نہیں کرتا کہ کسی سے جبراً کوئی بُرائی کراتا ہے بلکہ جب کوئی شخص ایک بُرائی کا ارتکاب کر لیتا ہے تو شیطان اس کے سامنے دوسری رکھ دیتا ہے اور جب دوسری کر لیتا ہے تو تیسری۔ اسی طرح آگے آگے چلاتا جاتا ہے۔ مثلاً چلتے چلتے کسی کو خیال پیدا ہوا کہ چوری کروں۔ اس خیال کے آنے پر شیطان نے اس کی توجہ اس طرف پھرا دی کہ فلاں شخص مالدار ہے۔ گویا شیطان کا اتنا ہی کام ہے کہ مشورہ دے یہ نہیں کہ قلب پر قبضہ پالے۔ اس لئے جو نیکی یا بدی انسان کرتا ہے وہ اس کا اپنا ہی فعل ہوتا ہے ۔ ملک یا شیطان صرف تحریک کر دیتا ہے۔

تیسرا ذریعہ یہ ہوتا ہے کہ فرشتہ انسان کو ایسی جگہ لے جاتا ہے جہاں نیکی کی تحریک پیدا ہو سکے آگے اس تحریک کا حاصل کرنا انسان کے دل کا کام ہوتا ہے۔

اب ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے۔ اور وہ یہ کہ جب انسان کو ملائکہ یا شیطان کی طرف سے مدد آتی ہے۔ نیک باتیں فرشتہ سمجھاتا ہے اور بُری باتیں شیطان۔ تو پھر برائی کرنے میں انسان کا گناہ کیا ہوا ۔ مان لیا کہ بُرائی انسان نے کی مگر شیطان نے بھی تو اس میں امداد دی۔ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ شیطان کی تحریک پیدا ہونے پر انسان کو گناہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے دبانے اور اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں اسے ثواب ہوتا ہے۔ ہاں اگر اس پر عمل کرے تو پھر گناہ ہوتا ہے چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور آکر کہا میرے دل میں ایسے ایسے بُرے خیال آتے ہیں کہ زبان کٹ جائے۔ انہیں بیان کرنے کو دل نہیں چاہتا۔ فرمایا۔ یہی بات ہے جو نورِ ایمان ہے۔

تو شیطانی تحریک جو ہے وہ خود گناہ نہیں ہوتی۔ اگر انسان کے دل میں کوئی وسوسہ پیدا ہو اور وہ اسے ترک کر دے تو گناہگار نہ ہوگا۔ چنانچہ قرآنِ کریم سے بھی معلوم ہوتا ہے خداتعالیٰ فرماتا ہے:۔ وَاِنۡ تُبۡدُوۡا مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ اَوۡ تُخۡفُوۡہُ یُحَاسِبۡکُمۡ بِہِ اللّٰہُ(البقرۃ: ۲۸۵) تمہارے دل میں جو کچھ ہے تم اسے چھپا رکھو یا ظاہر کرو۔ تم سے خدا حساب لے گا۔ اس میں بتایا ہے کہ یہ نہیں کہ کوئی خیال پیدا ہونے پر سزا دی جائے گی بلکہ اگر اسے دل میں محفوظ رکھ چھوڑو گے یا پھیلاؤگے تو تمہارا محاسبہ ہوگا۔ پس شیطانی تحریک کو ظلم نہیں کہا جاسکتا۔ کیونکہ اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی۔ ایسی تحریک ہزار بار ہو اگر انسان اسے نہیں مانتا تو گنہگار نہیں ہوگا بلکہ اسے ثواب ہوتا رہے گا۔

اب یہ سوال ہے کہ تحریکِ شیطان کی ہوتی کس طرح ہے؟ اور کس رنگ میں شیطان تحریک کرتا ہے؟ سو یاد رکھنا چاہئے کہ جو انسان نیک ہوتا ہے اور جس نے اپنے آپ کو شیطان کے قبضہ میں نہیں دیا ہوتا بلکہ اس کا تعلق ملائکہ سے ہی ہوتا ہے اس کو شیطان نیک تحریکات کے ذریعہ ہی گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہاں جب وہ شیطان کے قبضہ میں چلا جاتا ہے تب بُری تحریکوں کے ذریعہ گمراہ کرتا ہے۔ اس کی تشریح میں آگے چل کر کروں گا۔ اس وقت اتنا بتاتا ہوں کہ شیطان کی تحریک کی دو شاخیں ہوتی ہیں۔ ایک نیکی کی اور دوسری بدی کی۔ اس کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب شیطان بھی نیکی کی تحریک کرتا ہے۔ تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ انسان اس کی تحریکوں سے بچے؟ ممکن ہے انسان ایک نیک کام کرے مگر شیطان اس سے کرا رہا ہو۔ جب بُرا کام ہو تب تو معلوم ہو سکتا ہے کہ شیطانی ہے۔ لیکن یہ کیونکر معلوم ہو کہ ایک نیک کام بھی شیطان کی تحریک کے ماتحت ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے میں موازنہ کرکے بتاتا ہوں کہ فرشتے اور شیطان کی تحریک میں کیا امتیازات ہوتے ہیں۔

اوّل یہ بات یاد رکھو کہ فرشتے کی طرف سے وہی تحریک ہوگی جس کا نتیجہ نیک ہوگا بعض دفعہ ایک تحریک بظاہر نیک معلوم ہوتی ہے لیکن اس کا نتیجہ بد ہوتا ہے اور بعض دفعہ نیک تحریک ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ بھی نیک ہوتا ہے۔ پس جب کسی تحریک پر عمل کرنے لگو تو سوچ لو کہ اس کا نتیجہ تو بد نہیں ہوگا۔ مثلاً نیکی کی تحریک ہوئی کہ فلاں بھائی نماز نہیں پڑھتا اس کو سمجھائیں۔ مگر جب سمجھانے لگے تو اس کا طریق یہ اختیار کیا کہ جہاں بہت سے آدمی بیٹھے تھے وہاں اسے کہہ دیا کہ تو نماز نہیں پڑھتا اس لئے منافق ہے اس منافقت کو چھوڑ دے۔ یہ تحریک تو نیک تھی لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اتنے آدمیوں کے سامنے جو اس کو اس طرح کہا جائے گا تو وہ نماز کا ہی انکار کر دے گا۔

حضرت خلیفۃ اوّل سناتے تھے کہ آپ کا ایک داماد وہابی تھا۔ آپ سے ملنے کے لئے ایک رئیس آیا جس کا پاجامہ ٹخنے سے نیچے تھا۔ اس نے اس کے ٹخنے پر مسواک ماری اور کہا تُو جہنمی ہے کہ اس طرح پاجامہ پہنے ہوئے ہے۔ اس پر رئیس نے گالی دے کر کہا میں خدا اور رسول کو ہی نہیں مانتا وہ کیا ہوتے ہیں؟ حضرت خلیفہ اوّل نے اپنے داماد کو کہا تُو نے اچھی نصیحت کی ہے کہ اسے کافر بنا دیا۔

غرض ایک تحریک بظاہر نیک معلوم ہوتی ہے مگر اس کا نتیجہ بد نکلتا ہے۔ یہ تحریک مَلَک کی طرف سے نہیں ہوتی۔ مَلَک وہی تحریک کرے گا کہ جس کا نتیجہ بھی نیک ہی ہو گا۔ فرشتہ کی تحریک چونکہ خدا تعالیٰ کی تحریک کے ماتحت ہوتی ہے اس لئے وہ بد نتیجہ نہیں پیدا کر سکتی۔ پس کسی تحریک کے پیدا ہونے پر جہاں یہ دیکھ لو کہ نیک ہے وہاں یہ بھی دیکھ لو کہ اس کا نتیجہ بھی نیک ہے یا نہیں۔ اگر نتیجہ بد ہو تو سمجھ لو کہ شیطان کی طرف سے ہے مَلَک کی طرف سے نہیں۔ ہاں اگر نتیجہ نیک ہے تو مَلَک کی طرف سے ہو گی۔

دوسرا طریق شیطان اور مَلَک کی تحریک میں موازنہ کرنے کا یہ ہے کہ فرشتہ کی تحریک میں موازنہ ہوتا ہے۔ لیکن شیطان کی تحریک ایسی نہیں ہوتی۔ شیطان ایک نیکی کراتا ہے لیکن اس کی وجہ سے اس سے بڑی نیکی کو چھڑانا اس کے مدّنظر ہوتا ہے۔ مثلاً نماز کی جماعت ہو رہی ہے ادھر خیال پیدا ہوتا ہے کہ نفل پڑھیں اب اگر جماعت کے چھوٹ جانے کی پرواہ نہ کی جائے اور نفل پڑھے جائیں تو یہ شیطانی تحریک ہو گی کیونکہ بڑی نیکی کو چھوٹی نیکی کے لئے ترک کر دیا گیا۔ سرسید احمد صاحب کو جب کہا گیا کہ آپ نماز کیوں نہیں پڑھتے تو انہوں نے کہا کہ یہ کام بھی دین ہی کا ہے جو میں کرتا ہوں ان کے کام کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس میں فنا ہو گئے ہیں۔ اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ وہ اس کام کو بدی سمجھ کر کرتے تھے، نیکی سمجھ کر ہی کرتے تھے مگر چھوٹی نیکی پر انہوں نے بڑی کو قربان کر دیا۔ اس لئے یہ کام ان کا فرشتہ کی تحریک سے نہیں کہلا سکتا۔

غرض بعض دفعہ شیطانی تحریک بھی نیک ہی ہوتی ہے مگر بڑی نیکی کو چھڑوا کر چھوٹی نیکی کرائی جاتی ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب اپنے خاندان کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے خاندان کی ایک عورت بہت ذکر اللہ کیا کرتی تھیں اور ان کے ایک بھائی ان کو اس امر سے روکتے تھے اور کہتے تھے کہ نماز زیادہ پڑھا کرو۔ وہ جواب دیتیں کہ مجھے اس میں بہت لطف آتا ہے۔ اس پر وہ کہتے تھے کہ یہ شیطانی وسوسہ ہے آخر بڑھتے بڑھتے سنتیں اور پھر فرض شیطان چھڑوائے گا۔ کچھ مدت کے بعد بہن نے بھائی کو بتایا کہ واقع میں اب ایسا ہونے لگا ہے کہ سنتوں میں بھی مزا جاتا رہا ہے آپ علاج بتائیں۔ انہوں نے ایک لاحول پڑھنے کے لئے کہا۔ آخر ان کو کشف میں ایک بندر نظر آیا جس نے کہا میں شیطان ہوں اگر تم لاحول نہ پڑھتی اور تمہارے بھائی تم کو نہ سمجھاتے تو میں نے فرض بھی چھڑوا دینے تھے۔

غرض شیطان کی تحریک کبھی نیکی کی شکل میں پیش کی جاتی ہے لیکن اس میں قدر مراتب کا خیال نہیں ہوتا۔ خدا تعالیٰ کے ہر قانون میں موازنہ ہوتا ہے اور ہر بڑی چیز کے مقابلہ میں چھوٹی قربان ہوتی ہے۔ لیکن جہاں بڑی چیز چھوٹی کے لئے قربان ہونے لگے وہاں سمجھ لو کہ یہ شیطانی تحریک ہے۔

یہ طریق وسوسہ کا بہت عام ہے۔ چنانچہ بعض لوگ سوال کیا کرتے ہیں کہ تعلیم کے بغیر کوئی ترقی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس لئے پہلے تعلیم ہونی چاہئے اور پھر تبلیغ کا کام شروع کرنا چاہئے۔ اس لئے جتنا روپیہ جمع ہو سکے وہ سب تعلیم پر خرچ کرنا چاہئے۔ اس سوال کا جواب دینے والا یہ تو کہہ نہیں سکتا کہ تعلیم اچھی نہیں اس لئے اس کا انتظام نہیں ہونا چاہئے اس لئے وہ بالعموم اس سوال سے متاثر ہو جاتا ہے مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ ایک وسوسہ ہے کیونکہ تعلیم بطور تزئین کے ہے جو دین کے لئے ایک زائد چیز ہے۔ بے شک اس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ لیکن سب کچھ اسی پر خرچ کر دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ دس آدمیوں کو زندہ رکھنے کے لئے کھانا تیار کرنے کا جو سامان ہو اس سے ایک ہی آدمی کے لئے پلاؤ پکا لیا جائے ۔ اور باقی سب کو بھوکا مر جانے دیا جائے دس آدمیوں کو زندہ رکھنا بہتر ہے بنسبت اس کے کہ ایک کو پُرتکلف کھانا کھلا دیا جائے پس تعلیم پر سارا روپیہ اور ساری محنت خرچ کرنے کی نسبت یہ بہت ضروری ہے کہ لوگوں کو روحانی زندگی حاصل کرانے کی کوشش کی جائے۔ اور اس بڑے کام کو چھوٹے کام کے لئے نہ چھوڑا جائے ورنہ اعلیٰ اور ادنیٰ کام میں موازنہ نہیں رہے گا۔ موازنہ کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت لطیف پیرائے میں اشارہ فرمایا ہے۔ آپؐ سے پوچھا گیا کہ حرام اور حلال چیز کا کس طرح پتہ لگے فرمایا:۔ اَلْاِثْمُ مَا حَاكَ فِیْ صَدْرِكَعہ اپنے دل سے پوچھ لینا چاہئے۔ اگر ساری دُنیا کے مولوی کہتے رہیں کہ فلاں بات ناجائز ہے لیکن دل فتویٰ دے کہ جائز ہے تو جائز ہوگی۔ یہ بات ان امور کے متعلق نہیں جن کے جائز و ناجائز ہونے کا فیصلہ شریعت نے کر دیا ہے۔ بلکہ ان کے متعلق ہے جن کا کرنا بعض لحاظ سے نیکی معلوم ہو اور بعض لحاظ سے بدی۔ اگر ایسی بات کے کرنے کو دل نہ مانے تو نہ کی جائے۔ مثلاً ذکر ہے اس کے متعلق اگر کسی مولوی سے پوچھا جائے گا تو وہ کہے گا کہ اچھا ہے۔ مگر یہ کہ نفل پڑھنے اس کے لئے چھوڑ دئے جائیں۔ یہ اس کے اپنے دل کی بات ہو گی۔ اس کا فیصلہ اس کا دل ہی کر سکے گا۔ یا مثلاً کوئی کہے کیوں جی! کسی کی خاطر داری یا کسی کو تحفہ دینا کیسا ہے؟ ایک عالم یہی جواب دے گا کہ اچھی بات ہے۔ لیکن اگر اس تحفہ کا مطلب وہ اپنے دل میں کسی کو رشوت اور ڈالی رکھ لے تو گو اس کو فتویٰ مل گیا کہ جائز ہے لیکن اس کی جو نیت اس فتویٰ کے حاصل کرنے کے وقت تھی اس کو اس کا دل ہی جانے گا اس وقت اسے اپنے دل کی بات کو ہی ماننا چاہئے جو کہہ رہا ہو گا کہ یہ ناجائز ہے۔ فتویٰ کو نہیں ماننا چاہئے۔

تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خواہ کوئی فتویٰ دے دے کہ فلاں بات کر لو لیکن اگر اپنے دل میں اس کا کوئی بد پہلو پیدا ہو تو اسے نہیں کرنا چاہئے اور چھوڑ دینا چاہئے۔

نیکی اور شیطانی تحریک میں تیسرا فرق یہ ہے کہ نیکی کی تحریک میں ترتیب ہوتی ہے وہ درجہ بدرجہ ترقی کرتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے بچہ کو ماں پہلے اٹھا کر چلتی ہے۔ پھر اسے پکڑ کر چلاتی ہے اور اس طرح آہستہ آہستہ بچہ چلنا سیکھ جاتا ہے۔ لیکن شیطانی تحریک کی یہ مثال ہو گی کہ جس طرح دشمن بچہ کو اٹھا کر پھینک دے۔ یا پھر نیکی اور شیطانی تحریک کی مثال یہ ہے کہ جو استاد لڑکے کا خیر خواہ ہو گا وہ تو اسے ا۔ب شروع کرائے گا اور پھر آہستہ آہستہ ترقی کراتا جائے گا۔ لیکن اگر دشمن استاد ہو گا تو پہلے ہی ایسا مشکل سبق پڑھائے گا کہ لڑکا اکتا کر بھاگ جائے گا۔ تو نیکی تحریک درجہ بدرجہ ہو گی یکدم کسی بات کا بوجھ انسان پر نہیں آپڑے گا اور کسی امر میں جلدی نہیں کرائی جائے گی۔ لیکن جب ایسا نہ ہو بلکہ سخت کوئی بوجھ پڑتا ہو اور جلدی کی تحریک ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ نیکی نہیں بلکہ شیطانی تحریک ہے۔ مثلاً شیطان اس طرح تحریک کرے گا کہ آج ہی ولی بن جاؤ اور اس کے لئے سارا دن نماز پڑھو اور تمام سال روزے رکھو لیکن اگر کوئی اس پر عمل کرے گا۔ تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ اکتا کر اور بد دل ہو کر نماز اور روزہ کو بالکل ہی چھوڑ دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ بعض لوگ ساری رات تہجد پڑھتے رہتے اور دن کو روزہ رکھتے ہیں تو آپ نے اس کو پسند نہ کیا اور فرمایا یہ نیکی نہیں ہے کہ اس طرح تم دوسروں کے حقوق جو تم پر ہیں مارتے ہو۔عہنیکی یہی ہے کہ انسان تدریجاً کام کرے۔ پہلے ایک قدم اٹھائے، پھر دوسرا اور پھر تیسرا یہ نیکی تحریک کی علامت ہوتی ہے۔ اور شیطانی تحریک یکدم ایک کام کرانا چاہتی ہے۔ مثلاً ایک شخص جو پہلے کچھ بھی دین کے لئے چندہ نہیں دیتا اسے تحریک ہو کہ میں اگلے مہینے سارا مال چندہ میں دے دوں گا۔ تو چونکہ یہ اس کی حقیقی خواہش نہ ہو گی اس لئے جب دے دے گا تو پھر اس کو ملال پیدا ہو گا اور جب ملال پیدا ہو گا تو اس پر شیطان کا قبضہ ہو جائے گا جو اسے بالکل گمراہ کر دے گا ۔

پس شیطانی تحریک کی یہ صورت ہو گی کہ وہ عجلت کی طرف لے جائے گا اور یکدم بہت زیادہ بوجھ رکھ دے گا ۔ پہلے تو یہ تحریک کرے گا کہ آج ہی تُو خدا سے مل جا جب یہ بات حاصل نہ ہو گی تو انسان کے دل میں مایوسی پیدا کر دے گا۔ کئی لوگ ہوتے ہیں جو ہفتہ بھر نمازیں پڑھ کر کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں تو خدا نہیں ملا۔ اور بہت ایسے ہوتے ہیں جو چند دن نمازیں پڑھ کر خواہش کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ملیں حالانکہ یہ سب شیطانی وسوسے ہوتے ہیں۔ جب انسان خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے قابل بن جائے گا تب دیکھ سکے گا ۔ یونہی کس طرح دیکھ لے تو اس قسم کی عجلت شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب انسان کو وہ بات حاصل نہیں ہوتی جس کی اسے اُمید ہوتی ہے تو مایوس ہو جاتا ہے اور پھر بالکل چھوڑ چھاڑ کر علیحدہ ہو جاتا ہے ۔

چوتھا فرق یہ ہوتا ہے کہ کوئی ایسا امر جس میں مشتبہ باتیں بھی ہوں ۔ یعنی جن کے متعلق خیال ہو کہ ممکن ہے اچھی ہوں اور ممکن ہے بُری ہوں ۔ اس کے متعلق جب ملائکہ کی طرف سے تحریک ہو گی تو اس طرح ہو گی کہ مشتبہ باتوں کو چھوڑ دیا جائے اور ان کو عمل میں نہ لایا جائے لیکن شیطانی تحریک اس طرح ہو گی کہ ان کے کرنے میں حرج کیا ہے کر لی جائیں ۔ اس طرح ان پر وہ عمل کرا لیتا ہے اور جب ان پر عمل کرا لیتا ہے تو اس کو مقام قرار دے دیتا ہے اور اس سے اگلی باتوں کو حد ٹھہرا دیتا ہے ۔ پھر اس سے آگے چلاتا ہے اور حد پر عمل کرا کر اسے مقام بنا دیتا ہے۔ اسی طرح آگے ہی آگے چلاتا جاتا ہے اور بڑی بڑی بدیاں کرا لیتا ہے ۔

پھر ایک اور بھی فرق ہے ۔ اور وہ یہ کہ ملکی تحریک وہ ہوتی ہے کہ جس میں انسان جب مشغول ہو تو اس میں ترقی دی جاتی ہے ۔ مثلاً نماز میں مشغول ہو تو اور عمدگی سے پڑھنے کی تحریک ہو گی مگر شیطانی تحریک یہ ہو گی کہ جس میں انسان مشغول ہو گا وہ چھڑا کر دوسری پر عمل کرایا جائے گا۔ غرض اس سے شیطان کی یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ ایک شخص نیکی کا کام کر رہا ہے یہ تو اس سے چھٹراؤ۔ اور جب اس کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کرے گا تو پھر اس کو دیکھا جائے گا۔

چھٹا فرق یہ ہوتا ہے کہ شیطانی تحریک کبھی اس قسم کی ہوتی ہے کہ انسان پر دوسرے کے عیبوں اور نقصوں کو ظاہر کیا جاتا ہے ۔ مگر ملک کی تحریک والا شخص دوسرے کے متعلق نیک ہی خیال کریگا کیونکہ ملائکہ کی طرف سے حُسنِ ظنی کا ہی خیال ڈالا جاتا ہے مگر شیطانی تحریک میں لوگوں کے عیب ظاہر کئے جاتے ہیں اور اس طرح یہ خیال پیدا کیا جاتا ہے کہ فلاں میں یہ عیب ہے فلاں میں یہ عیب ہے لیکن میں بڑا ولی ہوں عیسائیوں کی طرح کہ وہ کہتے ہیں کہ ابراہیمؑ، موسیٰؑ، داؤدؑ غرضیکہ سب نبی گنہگار تھے اس لئے مسیح کا درجہ ان سب سے بڑا ہے۔ مگر یہ ایسی ہی مثال ہے جس طرح کوئی کہے کہ فلاں فلاں جو مُردہ پڑے ہیں میں ان کی نسبت زیادہ طاقتور ہوں۔ ایسا ہی خیال شیطان پیدا کرتا ہے کہ لوگوں کو حقارت سے انسان کی نظر میں گرا کر اسے یہ خیال پیدا کر دیتا ہے کہ میں بہت بڑا ہوں۔ اور اس طرح عُجب اور تکبر پیدا کر کے اسے ہلاک کر دیتا ہے۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نیکیوں میں موازنہ کا فرق نہیں ہوتا۔ یعنی کبھی تو یہ ہوتا ہے کہ بڑی نیکی کو چھوٹی نیکی کے لئے قربان کرا دیتا ہے۔ مگر کبھی اس طرح ہوتا ہے کہ نیکیاں تو ایک ہی جیسی ہوتی ہیں لیکن وہ ایک ہی کی طرف رکھتا ہے اور دوسری نیکی کو بالکل چھڑا دیتا ہے۔ مثلاً ایک شخص جو تبلیغ کرتا ہے اسے شیطان تحریک کرے گا کہ چندہ دینے کی تمہیں کیا ضرورت ہے ایک کام جو کرتے ہو۔ یا جو چندہ دے گا اسے کہے گا تبلیغ کرنا ضروری نہیں چندہ جو دے دیتے ہو۔ مگر فرشتہ یہی کہتا ہے کہ تبلیغ کرنا بھی نیکی ہے اسے بھی کرو اور چندہ دینا بھی نیکی ہے اسے بھی بجا لاؤ۔

آٹھویں بات یہ ہوتی ہے جو بڑی خطرناک ہے کہ جب انسان کوئی نیکی کرنے لگتا ہے اور ایسا انسان ادنیٰ درجہ کا ہوتا ہے اعلیٰ درجہ کا نہیں ہوتا تو شیطان اس کے دل میں یہ خیال پیدا کر دیتا ہے کہ لوگ کہیں گے کہ یہ ریاء کے طور پر کرتا ہے اس لئے کرنا ہی نہیں چاہئے۔ مثلاً ایسا شخص جب مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے جانے لگے گا تو شیطان اس کے دل میں ڈال دے گا کہ لوگ تجھے دیکھیں گے اور کہیں گے یہ بھی نمازی ہے اور اس طرح ریاء ہو جائے گا اس لئے مسجد میں جانا ہی نہیں چاہئے اس طرح شیطان نماز باجماعت سے روک دے گا۔ لیکن ملائکہ کی طرف سے جو تحریک ہوتی ہے اس میں شریعت کے ادب کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ ایسی شیطانی تحریکوں پر مومن کو چاہئے کہ اپنے نفس سے کہے کہ چاہے لوگ کچھ کہیں میں تو شریعت کے حکم کو ضرور بجا لاؤں گا اور اس قسم کی باتوں کی کوئی پرواہ نہ کرے اور خدا تعالیٰ کا جو حکم ہو اسے بجا لائے۔

ان صورتوں میں یہ بات خوب اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ مومن کا طریق یہی ہے کہ وہ ایسی تمام صورتوں میں یہ احتیاط کر لیا کرے کہ جس نیکی میں دیکھے کہ اس کی توجہ نہیں پیدا ہوتی اس کی وجہ شیطانی

تحریک سمجھے اور ایسی بات پر اور زیادہ زور دے۔ مثلاً چندہ دیتا ہے لیکن تبلیغ نہیں کرتا اور خیال پیدا ہوتا ہے کہ تبلیغ کرنا ضروری نہیں تو تبلیغ پر زیادہ زور دے جس طرح لڑکے جس مضمون میں کمزور ہونے میں اسی پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ اسی طرح تم بھی جس نیکی میں کمزوری پاؤ اس پر زیادہ زور دو اور جو کمی اس میں ہو اس کو پورا کرو۔

اب میں یہ بتاتا ہوں کہ تحریک شیطانی سے بچنے کا کیا طریق ہے۔

جب شیطان کسی نیکی کی تحریک کرے اور غرض اس کی یہ ہو کہ کسی بڑی نیکی کو چھڑا کر بدی کرائے تو ایسے موقع پر موازنہ کر لینا چاہئے۔ اور جس نیکی سے شیطان باز رکھنا چاہا ہے وہ بھی کر لی جائے اور جو نیکی کرائے وہ بھی کر لینی چاہئے۔ مثلاً ذکر کرنے میں انسان کمزور ہے اس کے متعلق شیطان نے تحریک کی تو یہ بھی کرے اور ساتھ ہی فرائض میں بھی کمی نہ آنے دے ان کو بھی پورا کرے اس طرح شیطان اس سے مایوس ہو جائے گا اور پھر اس قسم کی تحریک کرنے کی جرأت نہیں کرے گا۔

حضرت مسیح موعودؑ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ حضرت معاویہؓ کی صبح کے وقت آنکھ نہ کھلی اور جب کھلی تو دیکھا کہ نماز کا وقت گزر گیا ہے اس پر وہ سارا دن روتے رہے۔ دوسرے دن انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک آدمی آیا اور نماز کے لئے اُٹھاتا ہے۔ انہوں نے پوچھا تو کون ہے۔ اس نے کہا میں شیطان ہوں جو تمہیں نماز کے لئے اُٹھانے آیا ہوں۔ انہوں نے کہا تجھے نماز کے لئے اُٹھانے سے کیا تعلق؟ یہ بات کیا ہے؟ اس نے کہا کل جو میں نے تمہیں سوتے رہنے کی تحریک کی اور تم سوتے رہے اور نماز نہ پڑھ سکے اس پر تم سارا دن روتے رہے خدا نے کہا اسے نماز باجماعت پڑھنے سے کئی گنا بڑھ کر ثواب دے دو۔ مجھے اس بات کا صدمہ ہوا کہ نماز سے محروم رکھنے پر تمہیں اور زیادہ ثواب مل گیا۔ آج میں اس لئے جگانے آیا ہوں کہ آج بھی کہیں تم زیادہ ثواب نہ حاصل کر لو۔

تو شیطان تب پیچھا چھوڑتا ہے جب کہ انسان اس کی بات کا توڑ کرتا رہے۔ اس سے وہ مایوس ہو جاتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ اور یہ بات اسلام سے ثابت ہے کہ شیطان مایوس ہو جاتا ہے ؎

اب میں یہ بتاتا ہوں کہ شیطان کی تحریک کو انسان نیکی کے رنگ میں استعمال کر سکتا ہے اور وہ نیکی کے رنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ شیطان کے دو قسم کے اثر ہوتے ہیں۔ ایک عام اثرات جیسے بد خیال پیدا کرنا جن کا اثر دوسروں پر بھی پڑتا ہے۔ ایسے خیالات کے اثر ہم میں سے ہر شخص پر حتیٰ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی پڑیں گے۔ یہ اور بات ہے کہ آگے کوئی انہیں قبول کرے یا نہ کرے لیکن پڑیں گے ضرور۔

دوسرے خاص اثرات ہوتے ہیں جو انہی لوگوں پر پڑتے ہیں۔ جو شیطان سے محفوظ نہیں ہوتے یا اس کے زیر اثر ہو چکے ہوتے ہیں۔

ان دونوں قسم کے اثرات کو جو شخص قبول کر لیتا ہے وہ محفوظ نہیں ہوتا۔ اور جو قبول نہیں کرتا وہ ان سے فائدہ اُٹھا لیتا ہے۔ شیطان بد اثر ڈالتا ہے لیکن وہ اسے نیک بنا لیتا ہے اور بجائے شیطان سے بدی کی تعلیم حاصل کرنے کے اس سے نیک کام لے لیتا ہے، اس کا طریق یہ ہے کہ شیطان کا حملہ جذبات کے ذریعہ ہوتا ہے۔ شیطان ان کو اُبھار دیتا ہے اور وہ بدی میں مبتلا ہو جاتے ہیں لیکن اگر انسان ارادہ کی قوت کو بڑھائے تو جتنی قوتِ ارادی بڑھ جائے گی اتنا ہی زیادہ وہ نیکی میں بڑھ جائے گا۔ جب قوتِ ارادی کم ہو تب ہی انسان پر شیطانی تحریک کا اثر ہوتا ہے۔ مثلاً ناجائز طور پر شہوت پیدا ہوتی ہے یا مال کی محبت پیدا ہوتی ہے۔ اب اگر قوتِ ارادی کم ہوگی تو ان جذبات کو انسان غلط طور پر استعمال کرے گا۔ لیکن اگر قوتِ ارادی زیادہ ہوگی تو ان کو اپنی جگہ اور محل پر عمدہ طریق سے استعمال کرے گا۔ تو قوتِ ارادی کے بڑھانے سے انسان شیطان کی بری تحریکوں سے بھی فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں ایسا ہی کرتا ہوں۔

ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے فرمایا تم میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس کے لئے شیطان مقرر نہیں۔ صحابہؓ نے پوچھا کیا آپ بھی؟ آپؐ تو محفوظ ہوں گے؟ فرمایا ہاں میں بھی ایسا ہی ہوں۔ مگر مجھے خدا نے طاقت دی ہے اور میں شیطان پر غالب آگیا ہوں جب مجھے وہ کوئی تعلیم دیتا ہے تو نیکی کی ہی دیتا ہے بُرائی کی نہیں دیتا۔ (مسلم کتاب صفة القيامة والجنة والنار باب تحريش الشيطان وبعثة سراياه لفتنة الناس وان مع كل انسان قريناً)

اس حدیث کے یہ معنی نہیں کہ ایک ایک شیطان ہر انسان کے لئے مقرر ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شیطان نیکی کی تحریک کرتا تھا۔ اگر وہ الگ وجود تھا اور اس نے بدی کی تحریک چھوڑ کر نیکی کی تحریک شروع کر دی تھی تو پھر وہ شیطان کس طرح رہا۔ پھر تو وہ فرشتہ ہو گیا۔ اگر کہو کہ وہ پہلے شیطان تھا لیکن جب نیکی کی تحریک کرنے لگا تو فرشتہ ہو گیا۔ تو یہ بھی درست نہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نیکی کی تحریک کرنے کا ذکر کرتے وقت بھی اسے شیطان ہی کہا ہے۔ اگر اس کا یہ جواب دیا جائے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام شیطان اس کی پہلی حالت کی وجہ سے رکھا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اس نے شیطنت کو چھوڑ دیا تھا تو یہ عظیم الشان اثر تو اس کے اندر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہوا۔ چنانچہ آپؐ خود فرماتے ہیں کہ سَلَّطَنِیْ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر تسلط دے دیا۔ پس اس کا اسلام تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے تھا۔ پھر اس کو یہ درجہ کہاں سے ملا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں نیک تحریکیں کرنے لگا۔ کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وہ مجھے نیک تحریکیں کرتا ہے۔

پس یہ معنے اس کے بالبداہت غلط ہیں۔ اور اس کے اور ہی معنے ہیں جو یہ ہیں کہ وہ عام اثرات شیطان کے جو ہر ایک انسان پر پڑ رہے ہیں اور جن سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکتا ان کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب شیطان کا کوئی ایسا اثر مجھ پر آ کر پڑتا ہے تو وہ نیکی ہو جاتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے گندہ پانی جب فلٹر میں سے گزرتا ہے تو صاف ہو جاتا ہے اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آ کر جو برا اثر پڑتا وہ آپؐ کے ذریعہ نیک ہو جاتا۔ یا اس کی مثال گنے پیلنے والے بیلے کی ہے کہ جب اس میں گنا رکھا جاتا ہے۔ تو رس ایک طرف نکل آتی ہے اور چھلکا دوسری طرف گر پڑتا ہے۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب کوئی ایسی بات پڑتی جو پاک نہ ہوتی اس کی ناپاکی علیحدہ ہو جاتی اور باقی پاک رہ جاتی اور اسی کا نام آپؐ نے یہ رکھا ہے کہ میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے۔ غرض شیطانی تحریکوں کو بھی نیک استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اب میں آخری بات بتاتا ہوں اور وہ یہ کہ فرشتہ کی تحریک کو بڑھایا کس طرح جا سکتا ہے اس کے لئے دیکھنا چاہئے کہ قانونِ قدرت میں ہر ایک چیز کے بڑھانے کا اصل قاعدہ کیا ہے؟ ادنیٰ تدبر سے معلوم ہو گا کہ وہ قاعدہ یہی ہے کہ اسے عمدگی سے استعمال کیا جائے۔ دیکھو جو لوگ ابتداء میں ذرا ذرا سنکھیا کھانا شروع کرتے ہیں۔ آخر تولہ تولہ کھا کر ہضم کر لیتے ہیں۔ کوئی دوسرا اگر تھوڑا بھی سنکھیا کھا لے تو اس کی جان نکل جائے۔ مگر وہ چونکہ بڑھاتے بڑھاتے اپنی عادت بنا لیتے ہیں اس لئے انہیں کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اسی طرح جسم کی طاقت ہے۔ جو لوگ ہاتھوں سے زور کا کام کرتے ہیں ان کے ہاتھ موٹے اور مضبوط ہو جاتے ہیں۔ جو لوگ زیادہ کھانے کی عادت ڈالتے ہیں وہ چار چار پانچ پانچ آدمیوں کی خوراک اکیلے کھا جاتے ہیں۔ تو جتنا کسی چیز کا زیادہ استعمال کیا جائے اتنی ہی وہ زیادہ بڑھتی ہے۔ یہی حال فرشتے کی تحریک کا ہوتا ہے۔ جتنی اس کی تحریک انسان زیادہ قبول کرتا جائے اور اس کو استعمال میں لائے اتنی ہی زیادہ فرشتے کی تحریک زیادہ جذب کی جا سکتی ہے۔ یہاں

ایک سوال ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ جسمانی امور میں تو یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی آدمی زیادہ کھائے گا تو چار پانچ یا زیادہ سے زیادہ آٹھ دس آدمیوں کی خوراک کھالے گا سَو یا ہزار آدمی کی خوراک نہیں کھا لے گا۔ کیا اسی طرح فرشتوں کی تحریک کے متعلق بھی کوئی حد مقرر ہے کہ اس سے زیادہ قبول نہیں کر سکتا۔

یاد رکھنا چاہئے کہ یہ مقابلہ صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ انسان کا جسم چند روز کے لئے ہے اور جسم اور روح کا مقابلہ دلالت بالاولٰی کے طور پر ہے نہ کہ کلی طور پر۔ جسم چونکہ تھوڑے عرصہ کے لئے ہے اس لئے اس کی قوتیں محدود ہیں۔ مگر روح چونکہ ہمیشہ کے لئے ہے۔ اس لئے اس کی طاقتیں بھی غیر محدود ہیں۔ اور روح کو خدا تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ جتنا کوئی اسے بڑھائے بڑھتا جاتا ہے اور جتنی انسان ترقی کرنا چاہے اتنی ہی کر سکتا ہے۔

پس روحانی طاقت نے چونکہ ہمیشہ کام آنا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کے بڑھانے کے غیر محدود ذرائع رکھے ہیں۔ اور جسمانی طاقت چونکہ ختم ہونے والی ہے کیونکہ جسم کے ختم ہونے کے ساتھ ہی اس کی طاقتیں بھی ختم ہو جاتی ہیں اس لئے ان کے بڑھانے کے محدود ذرائع رکھے گئے ہیں۔

اس کا ثبوت ہم خدا تعالیٰ کی پیدائش سے دیتے ہیں۔ یہ ثابت شدہ بات ہے کہ تمام جسمانی طاقتیں ایسی ہیں جو محدود ہیں۔ ایک حد تک بڑھ سکتی ہیں اور اس سے آگے نہیں جا سکتیں مثلاً معدہ ہے یہ ایک حد تک بڑھے گا اس سے آگے نہیں۔ اسی طرح سینہ ہے یہ بھی ایک حد تک بڑھے گا۔ اسی طرح سر ہے اس کے بڑھنے کی بھی ایک حد ہے۔ یہ نہیں کہ بڑھتے بڑھتے مٹکے کے برابر ہو جائے یا قد ہے چھ سات یا زیادہ سے زیادہ نو فٹ ہو جائے گا۔ مگر بیس پچیس فٹ تک نہیں جا سکے گا۔ تو جس قدر جسمانی چیزیں ہیں ان کی حد مقرر ہے۔ لیکن وہ قوتیں جو روحانیت سے تعلق رکھتی ہیں وہ کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ مثلاً دماغ میں باتوں کو محفوظ رکھنے کے ذرات ہیں ان کو جتنا بڑھاؤ بڑھتے جاتے ہیں اور خواہ کوئی کتنا بڑا عالم ہو جائے اس کے یہ ذرات ختم نہیں ہو جائیں گے۔ اور یہ طاقت بڑھتی جائے گی کیونکہ یہ روحانیت سے تعلق رکھتی ہے۔ اور جسم اور روح کا واسطہ دماغ ہی ہے۔ مگر معدہ وغیرہ کے لئے یہ بات نہیں ہے۔ تو فرشتوں کی تحریک سے انسان جتنا زیادہ کام لیگا طاقت اتنی ہی زیادہ بڑھتی جائے گی۔

دوسری بات جو قرآن سے معلوم ہوتی ہے وہ ایک عام قاعدہ ہے اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ

”کندہم جنس باہم جنس پرواز“۔ جو ہم جنس ہو جاتے ہیں ان کو آپس میں تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ اس قاعدہ کے ماتحت جو لوگ ملائکہ کی طرح ہو جاتے ہیں ان کے لئے ملائکہ کے فیوض بھی بڑھتے جاتے ہیں۔ ملائکہ کی صفت خدا تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ لَّا یَعۡصُوۡنَ اللّٰہَ مَاۤ اَمَرَہُمۡ وَیَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡنَ(التحریم: ۷)، وہ خدا کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے۔ جو حکم بھی انہیں ملتا ہے اسے بجالاتے ہیں۔ جب کوئی شخص اسی صفت کو اپنے اندر پیدا کرلیتا ہے تو اس کے ساتھ ملائکہ کا تعلق ہو جاتا ہے۔

کوئی کہے یہ تو بڑے لوگوں کا کام ہے چھوٹے درجہ کے لوگ کیا کریں لیکن ایسے لوگوں کے لئے بھی کچھ ذرائع ہیں۔ ان ذرائع کو بیان کرتے ہوئے میں سب سے پہلے اس ذریعہ کو لیتا ہوں جو حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے ۔

پہلا ذریعہ جو حضرت صاحب نے فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ جس انسان پر جبرئیلؑ نازل ہو اس کے پاس بیٹھنے سے یہ بات حاصل ہو جاتی ہے کیونکہ اس کی آنکھوں سے، اس کے ہاتھوں سے، اس کے ناک سے، اس کے منہ سے، غرض کہ اس کے جسم کے ہر ذرّے سے ایسی نورانی شعاعیں نکلتی ہیں جو قلوب پر اثر کرتی ہیں اور اس طرح ملک انسان پر بالواسطہ نازل ہوتا رہتا ہے۔ قرآن کریم سے اس کے متعلق اس طرح استدلال ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ(التوبۃ: ۱۱۹) صادقوں کے ساتھ مل جاؤ۔ اس کا یہی مطلب ہے کہ صادقوں سے ایسا تعلق پیدا کرو کہ جبرئیل کا جو اثر ان پر ہوتا ہے اس سے تمہیں بھی سہارا مل جائے ۔ ایک گرے ہوئے کے اُٹھانے کا کیا ذریعہ ہے یہی کہ وہ دوسرے کو پکڑ کر اور اس کا سہارا لے کر کھڑا ہو جائے ۔ ایسا ہی جبرائیلؑ جس پر نازل ہوتا ہو اس کا سہارا لے کر ایسے لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں۔

دوسرا ذریعہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے اور یہ بھی قرآن سے معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا(الاحزاب: ۵۷) اللہ اور اس کے ملائکہ اس نبیؐ پر ہر وقت برکتیں بھیج رہے ہیں اور جب وہ برکتیں بھیجتے ہیں۔ تو مؤمنو! تمہارا بھی یہ کام ہے کہ تم بھی برکتیں بھیجو۔

اس کے متعلق سوال ہو سکتا ہے کہ یہ بات بیشک مانی کہ اس آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا حکم ہے۔ مگر یہ کس طرح معلوم ہوا ہے کہ اس کے نتیجہ میں ملائکہ سے تعلق ہو جاتا ہے۔ اس کا ثبوت قرآن سے ہی ملتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ(33:42)

اٰمَنُوا اذۡکُرُوا اللّٰہَ ذِکۡرًا کَثِیۡرًا وَّسَبِّحُوۡہُ بُکۡرَۃً وَّاَصِیۡلًا ہُوَ الَّذِیۡ یُصَلِّیۡ عَلَیۡکُمۡ وَمَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخۡرِجَکُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ(الاحزاب: ۴۲-۴۴)

اے مومنو! اللہ کا کثرت سے ذکر کرو۔ اور صبح شام تسبیح کرو۔ وہ خدا ہی ہے اور اس کے ملائکہ جو تم پر درود بھیجتے ہیں۔ تاکہ تم کو ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لے جاویں۔ ایک جگہ تو حکم دیا ہے کہ چونکہ خدا اور ملائکہ اس نبی پر درود بھیجتے ہیں اس لئے تم بھی بھیجو۔ اور دوسری جگہ یہ فرمایا کہ خدا اور ملائکہ تم پر درود بھیجتے ہیں۔ پہلی آیت کے مطابق یہاں بھی یہ چاہئے تھا کہ چونکہ خدا اور ملائکہ تم پر درود بھیجتے ہیں اس لئے تم بھی ایک دوسرے پر درود بھیجو لیکن یہ نہیں کہا گیا۔ اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ پہلی بات مستقل حکم کا رنگ رکھتی تھی یعنی چونکہ خدا اور ملائکہ اس رسول پر درود بھیجتے ہیں اس لئے تم بھی بھیجو۔ اور دوسری آیت میں اس فعل کی جزاء بتائی کہ چونکہ تم نے اس حکم کی تعمیل کی اس لئے اس کی جزاء میں خدا اور رسول ان پر بھیجنے لگ گئے۔ گویا وہاں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ کی وجہ سے درود کا حکم دیا گیا تھا۔ اور یہاں اس کی جزاء کو بیان کیا گیا ہے اور چونکہ جزاء کے بدلے میں پھر اور حکم نہیں دیا جاتا اس لئے آگے یہ نہیں فرمایا کہ تم دوسرے بندوں پر بھی درود بھیجو مثلاً جب ہم روپیہ دے کر کپڑا خریدیں تو کپڑا دینے والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے جو کپڑا دیا ہے اس کا تم نے کوئی بدلہ نہیں دیا۔ تو پہلی آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ چونکہ خدا اور ملائکہ اس رسول پر درود بھیجتے ہیں اس لئے تم بھی بھیجو۔ مگر مومنوں کے لئے یہی فرمایا کہ ہم اور ملائکہ ان پر درود بھیجتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ نہیں فرمایا کہ تم بھی اپنے بھائیوں پر درود بھیجو۔

غرض اس آیت سے ثابت ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے ملائکہ کیساتھ تعلق ہو جاتا ہے۔ پس جو لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں گے ان کی ملائکہ سے ایک نسبت ہو جائے گی اور اس طرح ان سے تعلق ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ صلحاء نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کو بڑا اعلیٰ عمل قرار دیا ہے۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ وہ دُعا جس میں خدا کی حمد اور مجھ پر درود نہ ہو وہ دُعا قبول نہیں ہوگی (سنن ابی داؤد کتاب الصلوٰة باب الدعاء) اس کا یہی مطلب ہے کہ جس دُعا میں خدا تعالیٰ کی حمد اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ہو گا وہ زیادہ قبول ہو گی۔

یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا میں جو چیزیں ایک طرح کی ہوتی ہیں ان کا آپس میں بہت تعلق ہوتا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔ قُلۡ لَّوۡ کَانَ فِی الۡاَرۡضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَئِنِّیۡنَ لَنَزَّلۡنَا عَلَیۡہِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَکًا رَّسُوۡلًا(بنی اسرائيل: ۹۶) اگر دنیا میں ملائکہ ہوتے تو ہم بھی فرشتے رسول بنا کر نازل

کرتے۔ گویا خدا تعالیٰ فرماتا ہے اگر لوگ ترقی کرتے کرتے ملائکہ ہو جاتے تو ہم ان پر ملائکہ ہی نازل کرتے۔ یعنی ملائکہ جیسے ہونے سے وہ نازل ہوتے ہیں۔

اب ہمیں دیکھنا چاہئے کہ انسان ملائکہ جیسا کس طرح ہوتا ہے؟

اول طریق

ملائکہ سے مشابہت حاصل کرنے کا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے نبیوں کا پیغام دنیا کو پہنچایا جائے۔ اللہ تعالیٰ ملائکہ سے فرماتا ہے۔ فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَنَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ(الحجر: ۳۰) یعنی اے فرشتو جب میں انسان کو پیدا کروں اور اس کی پوری طرح فرمانبرداری کرو۔ گویا نبی کے ساتھ ہونا اور اس کے مشن کی تبلیغ کرنا ملائکہ کا کام ہے۔ اب جو شخص نبی کے ساتھ ہو جائے گا اور تبلیغ کرے گا وہ چونکہ ملائکہ جیسا کام کرے گا۔ اس لئے انہی کی طرح کا ہو جائے گا اور جب وہ ایسا ہو جائے گا تو ملائکہ اس سے انس کرنے لگیں گے اور اس سے تعلق پیدا کر لیں گے۔

دوسرا طریق

جو ملائکہ سے مشابہت پیدا کرنے سے ہی تعلق رکھتا ہے یہ ہے کہ توحید کی اشاعت کی جائے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ ملائکہ کے متعلق فرماتا ہے کہ شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۙ وَالۡمَلٰٓئِکَۃُ وَاُولُوا الۡعِلۡمِ قَآئِمًۢا بِالۡقِسۡطِ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ(آل عمران: ۱۹) اللہ کی توحید کی خدا بھی گواہی دیتا ہے اور ملائکہ بھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کی توحید کی اشاعت کرنا بھی ملائکہ کا ایک کام ہے اور جو اس کام کو کرتے ہیں وہ بھی ان سے برکت حاصل کر سکتے ہیں۔ اور ہم تو یہاں تک دیکھتے ہیں کہ جو لوگ جھوٹے طور پر خدا کی واحدنیت کی اشاعت کرتے ہیں وہ بھی فائدہ اُٹھا لیتے ہیں۔ ہندوستان میں رام موہن رائے اور پنڈت دیانند کی قوموں کو جتنی ترقی ہوئی اتنی دوسرے ہندوؤں کو نہیں ہوئی۔ وجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کے مقابلہ میں خدا کی توحید کے قائل ہیں اور اس کی اشاعت کرتے ہیں۔ پس توحید الٰہی کے متعلق غیرت رکھنے والا انسان بہت بڑی برکات ملائکہ سے پالیتا ہے۔

تیسرا طریق:

ملائکہ سے مشابہت حاصل کرنے کی تیسری تدبیر یہ ہے کہ انسان کے قلب میں یہ تحریک ہو کہ عفو اور درگزر کو قائم کرے اور بدظنی کو ترک کرے۔ جتنی یہ عادت زیادہ ہوگی۔ اتنی ہی ملائکہ کی تحریک زیادہ ہوگی۔ دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنا اور عفو سے کام لینا ملائکہ کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: وَیَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا(المؤمن: ۸) ملائکہ مومنوں کے گناہوں کے لئے معافی مانگتے ہیں۔ جو انسان اپنے اندر اس صفت کو زیادہ پیدا کر لیتا ہے اس کا تعلق ملائکہ سے ہو جاتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے بھائی کے لئے دعا کرتا ہے ملائکہ اس کے لئے دعا کرتے ہیں۔ پس لوگوں کے گناہوں کو معاف کرنا اور غیظ وغضب کا پتلا نہ بننا فرشتوں سے تعلق پیدا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

چوتھا طریق جو ملائکہ سے مشابہت پیدا کرنے کی چوتھی تدبیر ہے۔ یہ ہے کہ انسان تسبیح و تحمید کرے۔ خدا تعالیٰ نے ملائکہ کو یہ کام بتایا ہے کہ وَتَرَی الۡمَلٰٓئِکَۃَ حَآفِّیۡنَ مِنۡ حَوۡلِ الۡعَرۡشِ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ(الزمر: ۷۶) کہ وہ خدا کی تسبیح اور حمد کرتے ہیں۔ پس تسبیح و تحمید کرنے والے کا بھی ملائکہ سے خاص تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کا ثبوت بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے ملتا ہے۔ فرماتے ہیں۔ جہاں کوئی خدا کا ذکر کر رہا ہوتا ہے وہاں ملائکہ نازل ہوتے ہیں۔

اس کے متعلق یہ بھی یاد رکھو کہ بالعموم میں قرآن سے استدلال کرتا ہوں اور وہی بات حدیث میں مل جاتی ہے۔ جس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قرآن سے اخذ کر کے یہ باتیں فرماتے تھے۔ ہاں آپؐ کا علم چونکہ بہت وسیع اور نہایت کامل تھا اس لئے آپؐ زیادہ اعلیٰ طور پر ان باتوں کا اخراج کر لیتے تھے۔

یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ(39:76) سے میں نے تسبیح کرنا ملائکہ کا کام بتایا تھا اور حدیث سے یہ معلوم ہو گیا کہ جو لوگ یہ کام کرتے ہیں انہیں ملائکہ سے مشابہت پیدا ہو جاتی ہے اور ان سے تعلق ہو جاتا ہے۔ کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جہاں خدا کا ذکر ہو رہا ہو وہاں فرشتے نازل ہوتے ہیںعه۔ یعنی اس جگہ اپنا فیضان نازل کرتے ہیں۔ چند سال ہوئے میں نے ذکر الٰہی پر تقریر کی تھی اس کے متعلق ایک صاحب نے جو غیر احمدی تھے اور ابھی احمدی نہیں ہوئے تھے بتایا کہ میں فرشتوں کے فیضان کی زندہ شہادت ہوں۔ ان دنوں میری آنکھیں بیمار تھیں اور میں اس دن بڑی مشکل سے دوسروں کے ذریعہ جلسہ گاہ میں گیا تھا لیکن تقریر سننے کے بعد میری آنکھیں اچھی ہو گئیں اور میں خود واپس آگیا۔

پھر ایک تو ذکر سِری ہوتا ہے کہ انسان الگ بیٹھ کر خدا تعالیٰ کی تسبیح کرے اور ایک جہری ذکر ہوتا ہے اور وہ یہ کہ لوگوں کو جا کر سنائے اور ان کو تبلیغ کرے۔ یہ دونوں ذرائع ایسے ہیں جن کو اختیار کر کے انسان ملائکہ سے تعلق پیدا کر سکتا ہے۔

پانچواں طریق یہ ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کی جائے۔ اس سے بھی ملائکہ سے تعلق پیدا ہوتا ہے۔

چنانچہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ جہاں قرآن پڑھا جائے وہاں ملائکہ نازل ہوتے ہیںعه

پس یہ بات یاد رکھو کہ جو کام بھی ملک کرتا ہے جب وہی کام انسان کرے گا تو اس سے ملائکہ کا تعلق پیدا ہو جائے گا۔

چھٹا طریق۔ جو کتابیں ایک ایسے شخص نے لکھی ہوں جس پر فرشتے نازل ہوتے تھے ان کے پڑھنے سے بھی ملائکہ نازل ہوتے ہیں۔ چنانچہ حضرت صاحب کی کتابیں جو شخص پڑھے گا اس پر فرشتے نازل ہوں گے۔ یہ ایک خاص نکتہ ہے کہ کیوں حضرت صاحب کی کتابیں پڑھتے ہوئے نکات اور معارف کھلتے ہیں۔ اور جب پڑھو جب ہی خاص نکات اور برکات کا نزول ہوتا ہے۔ براہینِ احمدیہ خاص فیضانِ الٰہی کے ماتحت لکھی گئی ہے۔ اس کے متعلق میں نے دیکھا ہے کہ جب کبھی میں اس کو لے کر پڑھنے کے لئے بیٹھا ہوں۔ دس صفحے بھی نہیں پڑھ سکا کیونکہ اس قدر نئی نئی باتیں اور معرفت کے نکتے کھلنے شروع ہو جاتے ہیں کہ دماغ انہیں میں مشغول ہو جاتا ہے۔

تو حضرت صاحب کی کتابیں بھی خاص فیضان رکھتی ہیں۔ ان کا پڑھنا بھی ملائکہ سے فیضان حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ اور ان کے ذریعہ نئے نئے علوم کھلتے ہیں۔ دوسری اگر کوئی کتاب پڑھو تو اتنا ہی مضمون سمجھ میں آئے گا۔ جتنا الفاظ میں بیان کیا گیا ہو گا مگر حضرت صاحب کی کتابیں پڑھنے سے بہت زیادہ مضمون کھلتا ہے۔ بشرطیکہ خاص شرائط کے ماتحت پڑھی جائیں۔ اس سے بھی بڑھ کر قرآنِ کریم کے پڑھنے سے معارف کھلتے ہیں اگرچہ ان شرائط کا بتانا جن کے ساتھ حضرت مسیح موعود کی کتب پڑھنی چاہئیں اس مضمون سے بے تعلق ہے جو میں بیان کر رہا ہوں مگر پھر بھی ایک شرط کا ذکر کر دیتا ہوں۔

اسی وقت دوسری چیز داخل ہو سکتی ہے جبکہ پہلی نکال دی جائے۔ مثلاً ایک جگہ لوگ بیٹھے ہوں تو جب تک وہ نہ نکلیں تب تک اور آدمی نہیں آ سکتے۔ اس کے سوا نہیں۔ پس حضرت صاحب کی کوئی کتاب پڑھنے سے پہلے چاہئے کہ اپنے اندر سے سب خیالات نکال دیئے جائیں اور اپنے دماغ کو بالکل خالی کر کے پھر ان کو پڑھا جائے۔ اگر کوئی اس طرح ان کو پڑھے گا تو بہت زیادہ اور صحیح علم حاصل ہو گا۔ لیکن اگر اپنے کسی عقیدہ کے ماتحت رکھ کر ان کو پڑھے گا تو یہ نتیجہ نہ نکلے گا۔

پس حضرت صاحب کی کتابیں بالکل خالی الذہن ہو کر پڑھنی چاہئیں۔ اگر کوئی اس طرح کرے گا تو اسے بہت سی برکات نمایاں طور نظر آئیں گے۔

ساتواں طریق ملائکہ سے فیضان حاصل کرنے کا یہ ہے کہ جس مقام پر ملائکہ کا خاص نزول ہوا ہو۔

انسان وہاں جائے۔ اس سے پہلے میں بتا چکا ہوں کہ جس انسان پر جبرئیلؑ اور ملائکہ نازل ہوں اس کے پاس بیٹھنے سے فیضان حاصل ہوتا ہے۔ اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جس جگہ ملائکہ خاص طور پر نازل ہوں وہاں جانے سے بھی ملائکہ کا خاص نزول ہوتا ہے۔ چنانچہ اس قاعدہ کے ماتحت نمازِ جمعہ میں جانا بہت مفید ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خطبہ شروع ہونے سے پہلے جو لوگ مسجد میں جاتے ہیں ملائکہ ان کے نام لکھتے ہیں اور جب خطبہ شروع ہو جاتا ہے تو پھر نہیں لکھتے۔ (مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحہ ۲۳۹) تو نمازِ جمعہ میں باقاعدہ اور بار بار جانے سے ملائکہ سے تعلق اور مؤانست پیدا ہو جاتی ہے اور ان سے فیوض حاصل ہو سکتے ہیں۔

آٹھواں طریق ملائکہ سے فیض حاصل کرنے کا یہ ہے کہ خلیفہ کے ساتھ تعلق ہو۔ یہ بھی قرآن سے ثابت ہے۔ جیسا کہ آتا ہے۔ وَقَالَ لَہُمۡ نَبِیُّہُمۡ اِنَّ اٰیَۃَ مُلۡکِہٖۤ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ التَّابُوۡتُ فِیۡہِ سَکِیۡنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَبَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوۡسٰی وَاٰلُ ہٰرُوۡنَ تَحۡمِلُہُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ(البقرة: ۲۴۹) کہ ایک زمانہ میں ایک نبی سے لوگوں نے کہا کہ ہمارے لئے اپنا ایسا جانشین مقرر کر دیجئے جس سے ہم دنیاوی معاملات میں مدد حاصل کریں۔ لیکن جب ان کے لئے ایک شخص کو جانشین مقرر کیا گیا تو انہوں نے کہہ دیا اس میں وہ کون سی بات ہے جو ہمارے اندر نہیں ہے جیسا کہ اپنے نامی کہتے ہیں۔ نبی نے کہا۔ آؤ بتائیں اس میں کون سی بات ہے جو تم میں نہیں اور وہ یہ کہ جو لوگ اس سے تعلق رکھیں گے ان کو فرشتے تسکین دیں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ خلافت کیساتھ وابستگی بھی ملائکہ سے تعلق پیدا کراتی ہے کیونکہ بتایا گیا ہے کہ ان کے دل فرشتے اُٹھائے ہوئے ہوں گے تابوت کے معنے دل اور سینہ کے ہیں۔ فرمایا خلافت سے تعلق رکھنے والوں کی یہ علامت ہوگی کہ ان کو تسلی حاصل ہوگی اور پہلے صلحاء اور انبیاءؑ کے علم ان پر ملائکہ نازل کریں گے۔ پس ملائکہ کا نزول خلافت سے وابستگی پر بھی ہوتا ہے۔

ایک سوال کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر رسول کے ساتھ ہر وقت جبرئیلؑ ہوتا ہے تو پھر وہ کوئی غلطی کیوں کرتے ہیں۔ اس کا جواب حضرت صاحبؑ نے دیا ہے کہ جان کر نبی کی آنکھ بعض اوقات بند رکھی جاتی ہے اور اس میں بڑی بڑی حکمتیں ہوتی ہیں۔

یہ وہ ذرائع ہیں جن سے ملائکہ کے ساتھ تعلق بڑھتا ہے اور بعض ایسی باتیں ہیں جن کی وجہ سے تعلق کم بھی ہو جاتا ہے۔ مثلاً وہ امور جو ان امور کے مخالف ہوں جو اوپر بیان کئے گئے ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ظاہری طہارت کا بھی فرشتوں کے تعلق سے بڑا تعلق ہے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی انسان اس حالت میں سوتا ہے کہ اسے غلاظت لگی ہوئی ہے اور شیطان اسے چھیڑے تو وہ اپنے آپ کو ملامت کرے۔ پھر فرمایا فرشتے بھی ان چیزوں سے نفرت رکھتے ہیں جن سے انسان نفرت کرتا ہے۔ پھر فرمایا کتوں سے کھیلنا بھی فرشتوں کی رکاوٹ کا باعث ہوتا ہےعلواور تصویر کے متعلق فرمایا کہ جو لوگ اپنے گھروں میں تصویریں لگاتے ہیں ان کے گھروں میں فرشتے داخل نہیں ہوتےعلمپھر بدبودار چیزوں مثلاً پیاز وغیرہ کھانا یا کھانا کھانے کے بعد منہ صاف نہ کرنا اور کھانے کے ریزوں کا منہ میں سڑ جانا اس قسم کی غلاظتوں میں ملوث ہونے والوں کے ساتھ بھی فرشتے تعلق نہیں رکھتے۔ اسی ذیل میں حقہ پینے والے بھی آگئے۔ حقہ پینے والے کو بھی صحیح الہام ہونا ناممکن ہے۔

آخر میں میری یہ دُعا ہے کہ خدا تعالیٰ ہم سب کو ملائکہ کے ذریعہ مدد دے اور اس میں کامیاب کرے جس لئے ہم کھڑے ہوئے ہیں اور اس کی طرف سے جو تعلیم آئی ہے اس کو اپنے نفس پر قائم کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق دے۔ ہماری تمام غلطیاں اور کمزوریاں معاف کرے۔ ہمیں نیکی اور تقویٰ کی راہوں پر چلائے۔ ہر میدان میں ہمیں غلبہ دے۔ ہر جگہ اور ہر موقع پر ہماری نصرت اور تائید فرمائے اور ہر مقام پر ہمارے دشمنوں کو ذلیل اور ناکام کرے اور ہمیں دینی اور دنیوی آفتوں سے بچائے۔ آمین۔


ہدایاتِ زرّیں

(مبلّغین کو ہدایات)

از

سیّدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

مبلّغین کو ہدایات

(۲۶؍ جنوری ۱۹۲۱ء بعد نماز عصر، بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کے ایک کمرہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے مبلغین جماعت احمدیہ، مبلغین کی کلاس کے طلباء، مدرسہ احمدیہ کی ساتویں جماعت کے طلباء اور افسرانِ صیغہ جات کے سامنے حسبِ ذیل تقریر فرمائی۔ تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:)

تبلیغ کے طریقوں پر غور کرنا

ہم چونکہ ایک ایسے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں جس نے اور ذمہ داریوں کے علاوہ اس ذمہ داری کا اٹھانا بھی ضروری قرار دیا ہوا ہے کہ ساری دُنیا کو ہدایت پہنچائی جائے اور ہر مذہب ، ہر ملت، ہر فرقہ اور ہر جماعت کے لوگوں کو ہدایت کی جائے اس لئے ہمارے لئے تبلیغ کی ضروریات پر غور کرنا اور اس کے لئے سامان بہم پہنچانا نہایت ضروری معاملہ ہے اور خصوصیت کے ساتھ اس معاملہ پر غور کرنا نہایت ضروری ہے کہ تبلیغ کن ذرائع سے کرنا زیادہ مفید اور نتیجہ خیز ہو سکتا ہے اور کن طریقوں کو کام میں لانے سے اعلیٰ نتائج نکل سکتے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ تیس سال سے زیادہ عرصہ ہمارے سلسلہ کو تبلیغ شروع کئے ہوئے ہوا ہے مگر اس وقت تک وہ نتائج پیدا نہیں ہوئے جن کے پیدا ہونے کی امید ان صداقتوں کی وجہ سے کی جاسکتی ہے جو ہمارے پاس ہیں۔ مفید اور اعلیٰ نتائج دو ہی طرح پیدا ہوا کرتے ہیں یا تو طاقت ور ہاتھ ہوں، مضبوط بازو ہوں یا اعلیٰ درجہ کے اور مضبوط ہتھیار ہوں اور اعلیٰ درجہ کا نتیجہ اسی طرح نکل سکتا ہے کہ یہ دونوں چیزیں حاصل ہوں ورنہ اگر طاقتور ہاتھ ہوں لیکن ہتھیار ناکارہ اور کمزور ہوں تو بھی اچھا نتیجہ نہیں نکل سکتا اور اگر ہتھیار اعلیٰ درجہ کے ہوں لیکن ہاتھوں میں طاقت نہ ہو تو بھی بہتر نتیجہ نہیں رونما ہو سکتا مثلاً اگر ایک کمزور شخص ہو وہ اعلیٰ درجہ کی تلوار لے کر دشمن کے مقابلہ میں کھڑا ہو جائے تو مار ہی کھائے گا۔ یا طاقتور انسان ہو مگر خراب اور ناقص بندوق لے کر کھڑا ہو جائے تو بھی شکست ہی کھائے گا پس مفید اور اچھا نتیجہ اس صورت میں نکل سکتا ہے کہ یہ دونوں باتیں حاصل ہوں ہاتھوں میں طاقت اور قوت بھی ہو اور کام کی مشق ہو اور ہتھیار بھی اعلیٰ درجہ کے ہوں۔

متوقع نتائج کیوں نہیں نکل رہے؟

اب ہمیں دیکھنا چاہئے کہ جس نتیجہ کے نکلنے کی ہمیں اُمید ہو سکتی ہے وہ اگر نہیں نکلتا تو ان دونوں چیزوں میں سے کون سی چیز ہے جس میں کمی ہے۔ آیا ہمارے پاس ہتھیار ایسے ناقص ہیں کہ ان سے کام نہیں لیا جا سکتا؟ یا ہتھیار تو اعلیٰ درجہ کے ہیں مگر ہم ایسے نہیں ہیں کہ ان سے کام لے سکیں ۔ یا دونوں باتیں نہیں ہیں۔ ہتھیار بھی اعلیٰ درجہ کے نہیں ہیں اور ہم بھی اس قابل نہیں کہ کام کر سکیں۔

جب ہم غور کرتے ہیں تو اس امر میں تو کوئی شبہ نہیں رہتا کہ ہتھیار تو ہمارے پاس اعلیٰ درجہ کے ہیں۔ کیونکہ دشمن بھی اقرار کرتے ہیں کہ جو دلائل ہمارے پاس ہیں وہ بہت مضبوط اور زبردست ہیں۔ خصوصاً حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ جو دلائل اور براہین ہمیں پہنچے ہیں ان کی قوت اور طاقت کا اعتراف دشمن بھی کرتے ہیں۔ اس بات کی موجودگی میں اور پھر اس بات کے ہوتے ہوئے کہ ہم شواہد اور دلائل کے ساتھ مانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے۔ پھر اعلیٰ درجہ کے نتائج کا نہ نکلنا بتاتا ہے کہ ہم میں ہی نقص ہے ورنہ اگر ہم ان ہتھیاروں کو عمدگی کے ساتھ چلانے والے ہوں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ اعلیٰ درجہ کے نتائج نہ پیدا ہوں۔ پس یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ہتھیار چلانے والے اچھے نہیں ہیں اور انہیں ہتھیار چلانے کا فن نہیں آتا۔ چونکہ نیا سال شروع ہو رہا ہے اس لئے میں نے ضروری سمجھا ہے کہ دوستوں کو جمع کر کے میں اس مضمون پر کچھ بیان کروں کہ کس طرح تبلیغ کے عمدہ نتائج نکل سکتے ہیں۔

مخاطبین

اِس مجلس میں مَیں نے ایک تو ان لوگوں کو بلایا ہے جو تبلیغ کا کام کرتے ہیں اور دوسرے ان کو بلایا ہے جو آئندہ مبلغ بننے والے ہیں تاکہ ابھی سے ان کے کانوں میں یہ باتیں پڑیں اور ان کے دلوں پر نقش ہوں۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچہ کے پیدا ہوتے ہی اس کے کان میں اذان کہنے کا ارشاد فرمایا ہےعہ تاکہ پہلے دن ہی اس کے کان میں خدا کا نام پڑے۔ تو مَیں نے اس لئے کہ جو مبلغ بننے والے ہیں ان کے دلوں میں ابھی سے یہ باتیں بیٹھ جائیں ان کو بھی بلایا ہے یہ بھی اس وقت میرے مخاطب ہیں۔ پھر میرے مخاطب منتظمین ہیں جنہوں نے مبلغین سے کام لینا ہے۔ کیونکہ جب تک انہیں ان باتوں کا علم نہ ہو وہ کام نہیں لے سکتے تو اس وقت میرے مخاطب تین گروہ ہیں اوّل وہ جو کام کر رہے ہیں ۔ دوسرے وہ جو اس وقت تو کام نہیں کر رہے ۔ لیکن دو تین سال کے بعد کام کرنے والے ہیں اور تیسرے وہ جنہوں نے کام لینا ہے۔

مخاطبین کی پہلی قسم

پھر اس وقت میرے سامنے تین قسم کے لوگ ہیں ایک تو وہ جن کا حلقۂ نظر بہت ہی محدود ہے جیسے طالب علم جو آئندہ کام کرنے والے ہیں ان کا حلقۂ نظر بہت ہی محدود ہے۔ اور ان کی مثال ایسی ہے جیسی کہ کنویں کے مینڈک کی ایک مثل بیان کی جاتی ہے کہ کوئی کنویں کا مینڈک تھا وہ سمندر کے مینڈک سے ملا اور پوچھا بتاؤ سمندر کتنا بڑا ہے۔ سمندر کے مینڈک نے کہا بہت بڑا ہوتا ہے۔ اس نے کہا کیا کنویں جتنا۔ کہا نہیں بہت بڑا ہوتا ہے۔ اس پر کنویں کے مینڈک نے ایک چھلانگ لگائی اور کہا کیا اتنا بڑا ہوتا ہے۔ اس نے کہا نہیں یہ کیا ہے وہ بہت بڑا ہوتا ہے۔ اس پر کنویں کے مینڈک نے دو تین اکٹھی چھلانگیں لگا کر پوچھا اتنا بڑا۔ اس نے کہا یہ کیا بے ہودہ اندازہ لگاتے ہو سمندر تو بہت بڑا ہوتا ہے۔ کنویں کے مینڈک نے کہا تم بہت جھوٹے ہو اس سے بڑا کیا ہو سکتا ہے میں تم جیسے جھوٹے کے ساتھ بات نہیں کرنا چاہتا۔ تو طالب علموں کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے۔ ان کو اگر ایک بات بھی مل جاتی ہے اور استاد سے کوئی ایک دلیل بھی سن لیتے ہیں تو کہتے ہیں اسی دلیل کو لے کر کیوں لوگ نہیں نکل جاتے اور ساری دُنیا کو کیوں نہیں منوا لیتے۔ اس کی کیا تردید ہو سکتی ہے اور کون ہے جو اس کو توڑ سکتا ہے۔ حالانکہ مختلف طبائع مختلف دلائل کی محتاج ہوتی ہیں۔ اور مختلف لیاقتوں کے دشمنوں کے مقابلہ میں مختلف ذرائع کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اگر ایک دلیل ایک قسم کے پانچ دَس

آدمیوں کے لئے مفید ہوتی ہے تو سینکڑوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ وہ بعض اور قسم کے دلائل کے محتاج ہوتے ہیں پس مبلغ کے لئے ایک نہ ختم ہونے والے خزانہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

تو بعض لوگوں کے خیالات بالکل محدود ہوتے ہیں۔ وہ ایک دلیل کو لے لیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ یہ ایسی دلیل ہے کہ اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا اور یہ سب کے لئے کافی ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ پھر یا ایسے لوگوں کی مثال ان بچوں کی سی ہے جو گاؤں میں رہتے ہیں اور ان کا کام یہ ہوتا ہے کہ بیریوں کے درختوں کے بیرے سے بیر کھا چھوڑے یا جانوروں کے لئے چارہ لے آئے یا جانوروں کو باہر چرا لائے۔ انہوں نے نہ کبھی کوئی شہر دیکھا ہوتا ہے نہ ریل اور تار سے واقف ہوتے ہیں اور جب کوئی ان کے متعلق انہیں باتیں سناتا ہے تو وہ اس طرح سنتے ہیں جس طرح کہانیاں سنی جاتی ہیں۔ اس سے زیادہ دلچسپی ان کو نہیں ہوتی اور نہ کوئی اثر ان پر پڑتا ہے۔ ان بچوں میں سے بہت کم ایسے ہوتے ہیں جن کے قلب پر یہ اثر پڑتا ہے کہ جب ہم بڑے ہوں گے تو ان چیزوں کو دیکھیں گے ورنہ سب ان باتوں کو سن کر اسی طرح مطمئن ہو جاتے ہیں جس طرح قصوں اور کہانیوں کو سننے کے وقت ہوتے ہیں۔ کہانیاں سن کر انہیں کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ جن باتوں کا ان میں ذکر ہے ان کو ہم دیکھیں اور معلوم کریں۔ یہی حال طالب علموں کا ہوتا ہے۔ اور ایسے ہی لوگوں کا جن کے خیال وسیع نہیں ہوتے وہ سمجھتے ہیں کہ صرف ایک نکتہ سے وہ سب مباحثات میں فتح پالیں گے۔ وہ حیران ہوتے ہیں کہ دشمن کی فلاں دلیل کو توڑنا کون سی مشکل بات ہے۔ ہمارے استاد نے یا فلاں مولوی صاحب نے جو بات بتائی ہے اس سے فوراً اسے رد کیا جا سکتا ہے۔ اور دشمن کو اپنی بات منوانے کے لئے مجبور کیا جا سکتا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہی نہیں کہ دُنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ جو ایک غلط اور نادرست بات بھی ایسے طور پر پیش کر سکتے ہیں کہ عوام کو درست ہی معلوم ہو یا ایک ایک بات میں اعتراض کے کئی ایسے پہلو نکالے جا سکتے ہیں جن کی طرف پہلے ان کا خیال بھی نہیں گیا ہوتا۔

دوسری قسم

دوسرا گروہ وہ ہے جس کی نظر تو محدود نہیں ہے وہ دنیا میں پھرے ہیں لوگوں سے ملے ہیں مخالفین کے اعتراضات سننے کا انہیں موقع ملا ہے مگر ان کی نظر کی وسعت عرض کے لحاظ سے ہے عمق کے لحاظ سے نہیں۔ میں نے عورتوں کو کئی دفعہ بڑی حیرت سے یہ کہتے سُنا ہے کہ لوگ خدا کا انکار کس طرح کر سکتے ہیں بھلا خدا کی ہستی کا بھی انکار کیا جا سکتا ہے؟ مگر ان کو دنیا کا علم نہیں ہوتا اور وہ نہیں جانتیں کہ دُنیا میں ایسے بھی لوگ ہیں جو حیرت سے پوچھتے ہیں کہ دنیا خدا کو مانتی کیوں ہے؟ بھلا اس کے ماننے کے لئے بھی کوئی دلیل ہوسکتی ہے۔ ان عورتوں نے مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوکر یہ سمجھا کہ خدا کا انکار کوئی کر ہی نہیں سکتا۔ لیکن اگر ان کی نظر وسیع ہوتی اور وہ دنیا کے لوگوں کی حالت سے آگاہ ہوتیں تو پھر وہ حیرت کے ساتھ یہ نہ کہتیں۔

تو ہمارے مبلغوں میں سے بعض ایسے ہیں جن کو عرض کے لحاظ سے تو وسعت حاصل ہے مگر ان کے اندر عمق نہیں ہے وہ یہ جانتے ہیں کہ لوگوں میں مذہبی مسائل میں کتنا اختلاف ہے۔ مگر یہ نہیں جانتے کہ کیوں ہے؟ کیوں پیدا ہوا ہے؟ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ ایک شخص کنویں میں جھانک کر دیکھتا ہے کہ اس میں پانی ہے اور اتنی جگہ میں ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ کتنی گہری زمین سے جا کر پانی نکلا ہے اور کس طرح نکلا ہے۔ تو یہ لوگ دنیا کے اعتراضات سے واقف ہیں، دنیا کے خیالات سننے کا انہیں موقع ملا ہے، وہ جانتے ہیں کہ دنیا میں دہریت پیدا ہو رہی ہے، انہیں علم ہے کہ ایسے لوگ ہیں جو مذاہب کے پیروؤں کو حقیر جانتے ہیں اور مذاہب پر ہنسی اُڑاتے ہیں۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ اس کی وجوہات کیا ہیں کیوں لوگوں میں ایسے خیالات پیدا ہو رہے ہیں؟ کیوں وہ مذاہب کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں؟

تیسری قسم

تیسرا گروہ وہ ہے جس کو یہ تینوں باتیں حاصل ہیں۔ اس کی نظر بھی وسیع ہے، وہ لوگوں کے خیالات کے عرض سے بھی واقف ہے اور ان کے عمق کا بھی علم رکھتا ہے یعنی ان خیالات کے پیدا ہونے کے جو اسباب ہیں ان سے واقف ہے اور جانتا ہے کہ ظاہری تغیر کے پسِ پردہ کیا طاقتیں کام کر رہی ہیں۔

تینوں قسم کے لوگوں کو مخاطب کرنے کی غرض

اس وقت جو باتیں میں کہوں گا وہ ان تینوں گروہوں کو مدّنظر رکھ کر ہوں گی اور گو بعض کے لئے ان کا سمجھنا مشکل ہوگا۔ لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک گروہ یعنی طلباء کو سنانے کی یہی غرض ہے کہ اس کے کان میں اس قسم کی باتیں پڑتی رہیں اور اس کے دل میں نقش ہوتی رہیں۔ دوسرے دو طبقوں کے لوگ جو اپنی واقفیت اور تجربہ کی وجہ سے ان باتوں کو سمجھ سکتے ہیں ان کو سنانے کی یہ غرض ہے کہ اگر انہیں معلوم نہ ہوں تو اب واقف ہو جائیں اور اگر معلوم ہوں تو ان پر اور غور و فکر کریں اور ان سے اچھی طرح فائدہ اُٹھائیں۔

مبلّغ کے معنی اور اس کا کام

اس تمہید کے بعد میں اس امر کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ مبلغ کسے کہتے ہیں اور اس کا کیا کام ہے؟ مبلغ کے معنی ہیں پہنچا دینے والا مگر جب ہم یہ لفظ بولتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ خواہ وہ کچھ پہنچا دے اس کو مبلغ کہا جائے گا۔ بلکہ اسلامی اصطلاح میں اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ ایسا شخص جو دوسروں کو اسلام کی تعلیم پہنچائے۔ آج کل کے مبلغ تو ظلی مبلغ ہیں۔ بعض لوگ نبوت ظلی پر ہی بحث کر رہے ہیں مگر سچی بات یہ ہے کہ ہمارا سبھی کچھ ظل ہی ظل ہے۔ ایمان بھی ظلی ہے تبلیغ بھی ظلی ہے۔ کیونکہ پہلے اور اصلی مبلغ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ ان کی وساطت اور ذریعہ سے ہی دوسرے لوگ مبلغ بن سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی حقیقی اور اصلی مؤمن ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ ہم سب ظلی مؤمن ہیں کیونکہ ہم نے مؤمن بننے کے لئے جو کچھ لیا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی لیا ہے۔ تو حقیقی مبلغ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان کو خدا تعالیٰ نے کس بات کا حکم دیا ہے۔ خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے۔ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ(5:68) جو کچھ تجھ پر تیرے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے اسے لوگوں تک پہنچا دے۔ اس کو مدّنظر رکھ کر اسلامی مبلغ کے یہ معنی ہوئے کہ جو کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دے اور اگر اس میں کوتاہی کرے تو مبلغ نہیں کہلا سکتا۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ(5:68)۔ پہنچا دے جو اتارا گیا ہے تجھ پر تیرے رب کی طرف سے۔ وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ(5:68) اور اگر تو نے یہ کام نہ کیا تو تب خدا کا پیغام نہ پہنچایا۔ اس کے اگر یہ معنی کئے جائیں کہ تُو نے خدا کا کلام اگر نہ پہنچایا تو کلام نہ پہنچایا تو کلام بے معنی ہو جاتا ہے۔ مثلاً کوئی کہے کہ اگر تُو نے روٹی نہیں کھائی تو نہیں کھائی یا پانی نہیں پیا تو نہیں پیا۔ تو یہ لغو بات ہو گی کیونکہ جب روٹی نہیں کھائی تو ظاہر ہے کہ نہیں کھائی۔ پھر یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ تُو نے نہیں کھائی یا پانی نہیں پیا تو ظاہر ہے کہ نہیں پیا۔ پھر یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ تُو نے نہیں پیا۔ اس لئے وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ(المائدة: ۶۸)۳؎ کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اگر تُو نے خدا کا کلام نہیں پہنچایا تو کلام نہیں پہنچایا۔ بلکہ یہ ہیں کہ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ(5:68-69) میں جو وسعت رکھی گئی ہے اس میں سے اگر کوئی بات نہیں پہنچائی اس کا کوئی حصہ رہ گیا ہے تو تجھے جو کچھ پہنچانا چاہئے تھا اسے تُو نے گویا بالکل ہی نہیں پہنچایا۔ کیونکہ وہ کلام بتمام و کمال پہنچانا ضروری تھا۔

پس مبلغ کا کام یہ ہے کہ جو کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا وہ سارے کا سارا دنیا میں پہنچا دے اور جو حصہ جس کے متعلق ہے اسے پہنچائے ۔ یہ نہیں کہ کسی اور کا حصہ اور ہی کو دے آئے یا بعض کو ان کا حصہ پہنچا دے اور بعض کو نہ پہنچائے ۔ اگر وہ اس طرح کرے گا تو اپنے فرض سے سبکدوش نہ ہوگا ۔ بلکہ اس کا فرض ہے کہ جس جس کا حصہ ہے اس تک پہنچا دے ۔ مثلاً گھروں میں حصے بٹتے ہیں ۔ لوگ نائنوں کو حصہ دیتے ہیں کہ فلاں فلاں گھروں میں دے آؤ ۔ اب اگر نائن کو دس حصے پہنچانے کے لئے دیئے جائیں ۔ اور وہ ان میں سے آٹھ تو پہنچا دے ۔ مگر دو نہ پہنچائے تو وہ یہ نہیں کہہ سکتی ۔ آٹھ جو پہنچا آئی ہوں اگر دو نہیں پہنچائے تو کیا ہوا ؟ پس جس طرح اس کا آٹھ حصے پہنچا دینا دو کے نہ پہنچانے کے قصور سے اسے بری الذمہ نہیں کر سکتا ۔ اسی طرح مبلغ اگر ہر ایک کو اس کا حصہ نہیں پہنچاتا بلکہ بعض کو پہنچا دیتا ہے تو وہ بری الذمہ نہیں ٹھہر سکتا ۔ اس لئے مبلغ کا فرض ہے کہ اسے جس قدر اور جس کے لئے جو کچھ دیا گیا ہے اسے پہنچا دے ۔ یہ بھی نہیں کہ سارے کا سارا ایک ہی کو پہنچا دے ۔ مثلاً اگر ایک شخص کے گھر کے پاس جو آدمی رہتا ہو وہ اسے عیسائیوں ، دہریوں ، آریوں وغیرہ کے رد کے دلائل پہنچا دے لیکن جن عیسائیوں ، دہریوں یا آریوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہو انہیں یونہی چھوڑ دے ۔ تو اس کی نسبت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے پہنچا دیا ۔ کیونکہ اس کا فرض ہے کہ دہریوں کے رد کے دلائل دہریوں کو بتائے اور عیسائیوں کے رد کے دلائل عیسائیوں کو بتائے اور آریوں کے رد کے دلائل آریوں کو پہنچائے ۔ تو جس طرح کوئی شخص اگر وہ ساری چیزیں نہ پہنچائے جو اسے پہنچانے کے لئے دی جائیں ۔ اور یا ان سب کو نہ پہنچائے جن کے لئے دی جائیں بری الذمہ نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح مبلغ ساری باتیں نہ پہنچائے اور جس جس کے لئے ہیں اس کو نہ پہنچائے تو وہ مبلغ ہی نہیں ہو سکتا ۔ مثلاً کوئی اس طرح کرے کہ عیسائیوں میں جائے اور جا کر ان کی تو تعریف کرے اور ان میں یہودیوں کے خلاف دلائل دینے شروع کر دے یا ہندوؤں میں جائے اور ان کی تو تعریف کرے لیکن عیسائیوں کے خلاف تقریر شروع کر دے یا غیر احمدیوں میں جائے اور ان کے بگڑے ہوئے عقائد کے متعلق تو کچھ نہ کہے مگر مجوسیوں کے خلاف دلائل دینے شروع کر دے تو اس سے کوئی فائدہ نہ ہو گا اور نہ وہ اپنے فرض سے سبکدوش سمجھا جائے گا ۔ اسی بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیغامی ہم سے الگ ہوئے ہیں ۔ ان کے لیکچراروں کا طریق تھا کہ غیر احمدیوں میں گئے تو عیسائیوں کے نقص بیان کرنے شروع کر دیئے ۔ ہندوؤں میں گئے تو کسی دوسرے مذہب کی برائیاں بیان کرنے لگ گئے اور ساتھ ساتھ ان لوگوں کی جو ان کے سامنے ہوتے تعریف کرتے جاتے ۔ گویا وہ کسی کی ٹوپی کسی کو دیتے اور کسی کی جوتی

کسی کو پہنچا دیتے ۔ اس کا جو کچھ نتیجہ ہوا ۔ وہ ظاہر ہی ہے۔ جب تک جس قوم میں جو کمزوریاں اور نقائص ہوں وہ اسے بتائے نہ جائیں اس وقت تک کوئی مبلغ نہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ(5:68) کے ماتحت ضروری ہے کہ یہودیوں میں جو نقص ہوں وہ ان کو بتائے جائیں، عیسائیوں میں جو نقص ہوں وہ ان کو سنائے جائیں۔ غیر احمدیوں میں جو نقص ہوں ان سے انہیں آگاہ کیا جائے اور اپنی جماعت میں جو کمزوریاں ہوں وہ اپنے لوگوں کو بتائی جائیں۔ ہاں جو مبلغ بنانے اور تیار کرنے والے ہوں ان کا کام ہے کہ ایک ایک شخص کو یہ سب باتیں بتائیں۔ لیکن جو شخص تبلیغ کرتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ جس قوم میں جائے اس کی کمزوریاں اور نقائص اس تک پہنچائے ۔ اگر اس کے سامنے کسی دوسری قوم کی کمزوریوں کا ذکر کرے گا تو یہ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ(5:68) کے ماتحت نہ ہوگا۔ پس قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو ساری صداقتیں پہنچا دینی اور جو جس کا مستحق ہے اس کے پاس وہی پہنچانا مبلغ کا کام ہے ۔ اگر کوئی شخص کسی کو پوری پوری صداقت نہیں پہنچاتا تو وہ مبلغ نہیں ہو سکتا اور اگر کسی کے کام آنے والی صداقت کسی اور کو پہنچا دیتا ہے تو بھی مبلغ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہ پہنچانا نہیں ہوتا بلکہ پھینکنا ہوتا ہے ۔ مثلاً اگر چٹھی رساں کسی کا خط کسی کو دے آئے تو یہ نہیں کہیں گے کہ وہ خط پہنچا آیا بلکہ یہی کہیں گے کہ پھینک آیا ہے۔ غرض مبلغ کے لفظ نے بتا دیا کہ جس کے کام آنے والی صداقت ہو اسی کو پہنچانا ضروری ہے اور مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ(5:68-69) نے بتا دیا کہ ساری کی ساری پہنچانی چاہئے نہ کہ اس کا کچھ حصہ پہنچا دیا جائے ۔ اس چھوٹے سے فقرے میں مبلغ کا سارا کام بتا دیا گیا ہے۔

تبلیغ کی تقسیم

آگے پہنچانا دو طرح کا ہوتا ہے ۔ ایک اٴصول کا پہنچانا دوسرے فروع کا پہنچانا۔ غیر مذاہب کے لوگوں کے لئے تو اصول کی تعلیم پہنچانا ضروری ہے اور جو ماننے والے ہوں ان کے لئے تفصیل کی ضرورت ہوتی ہے کہ فلاں بات کس طرح کرنی چاہئے اور فلاں کس طرح۔ اس لحاظ سے تبلیغ کی موٹی تقسیم یہ ہوئی کہ ایک تو ان لوگوں کو تبلیغ کرنا جو اسلام کو نہیں مانتے ۔ ان کو اصولی باتیں بتانی چاہئیں اور دوسرے ان کو تبلیغ کرنا جو مسلمان تو کہلاتے ہیں مگر اسلام کی باتوں کو جانتے نہیں یا جانتے ہیں

تو ان پر عمل نہیں کرتے۔ ان کو اصول کے علاوہ فروع سے بھی آگاہ کرنا۔ غرض دو طرح کی تبلیغ ہوتی ہے۔ ایک ظاہر کے متعلق اور ایک باطن کے متعلق۔ وہ لوگ جو ابھی اسلام میں داخل ہی نہیں ہوئے ان کے تو قفل لگے ہوئے ہیں جب تک پہلے وہ نہ کھلیں ان کے باطن میں کوئی چیز داخل نہیں ہو سکتی اس لئے ان کی بیرونی اصلاح کی ضرورت ہے۔ انہیں اصولی باتیں سمجھائی جائیں۔ مگر جو اپنی جماعت کے لوگ ہیں ان کے تو قفل کھلے ہوئے ہیں انکی اندرونی اصلاح کی جاسکتی ہے۔ ان میں روحانیت، تقویٰ، طہارت اور پاکیزگی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

مبلّغ کے کام کی اہمیت

یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مبلغ کا فرض بہت بڑا ہوتا ہے۔ لوگ کسی ایک بات کو بھی آسانی سے نہیں مانتے۔ لیکن مبلغ کا کام یہ ہوتا ہے کہ ہزاروں باتوں کو منوائے۔ پھر ایک آدمی سے منوانا بہت مشکل ہوتا ہے چہ جائیکہ ساری دنیا کو منوایا جائے۔ انتظام کے طور پر اور کام چلانے کے لئے خواہ مبلغوں کے لئے علاقے تقسیم کر دیئے جائیں۔ مگر اصل بات یہی ہے کہ جو ضلع گورداسپور میں تبلیغ کرتا ہے وہ اسی ضلع کا مبلغ نہیں ہے بلکہ ساری دنیا کا مبلغ ہے۔ اسی طرح ضلع لاہور میں جو تبلیغ کرتا ہے وہ لاہور کا مبلغ نہیں ہے بلکہ ساری دُنیا کا مبلغ ہے کیونکہ مبلغ کے لئے کوئی خاص علاقہ مقرر نہیں کیا گیا بلکہ قرآن کریم میں یہی بتایا گیا ہے کہ مبلغ کا علاقہ سب دنیا ہے۔ غرض مبلغوں کا کام بہت بڑا ہے اور اتنا بڑا ہے کہ حکومتیں بھی اس کام کو نہیں کر سکتیں۔ حکومتیں زور سے یہ باتیں منواتی ہیں کہ چوری نہ کرو، قتل نہ کرو، ڈاکہ نہ ڈالو مگر ان باتوں کو لوگوں کے دلوں سے نہیں نکال سکتیں۔ حکومتیں یہ تو کر سکتی ہیں کہ مجرم کو پھانسی پر چڑھا کر مار دیں لیکن یہ نہیں کر سکتیں کہ جرم کا میلان دل سے نکال دیں۔ مگر مبلغ کا کام دل سے غلط باتوں کا نکالنا اور ان کی جگہ صحیح باتوں کو داخل کرنا ہوتا ہے پس مبلغ کا کام ایسا مشکل ہے کہ حکومتیں بھی اس کے کرنے سے عاجز ہیں اور باوجود ہتھیاروں، قید خانوں، فوجوں، مجسٹریٹوں اور دوسرے ساز و سامان کے عاجز ہیں۔

مبلّغ کے مددگار

جب مبلغ کا کام اس قدر وسیع اور اس قدر مشکل ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس کام کو کیونکہ کر سکتا ہے؟ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ وہ خدا جس نے یہ کام بندوں کے ذمہ لگایا ہے اس نے ان کو بے مددگار نہیں چھوڑا۔ اگر مبلغ بے ساتھی و مددگار کے ہوتا تو اتنے بڑے کام کے مقابلہ میں کچھ بھی نہ کر سکتا۔ مگر خدا تعالیٰ نے مبلغ کو دو مددگار دیئے ہیں جن کی امداد سے وہ تبلیغ کر سکتا اور کامیاب ہو سکتا ہے۔ اس کے راستہ میں روکیں آتی ہیں مشکلات پیدا ہوتی ہے مگر ان دو مددگاروں سے کام لے کر وہ سب روکوں کو دُور کر سکتا ہے۔

وہ مددگار کون سے ہیں؟ ان میں سے ایک کا نام تو عقل ہے اور دوسرے کا نام شعور۔ جب مبلغ ان دو مددگاروں کی مدد حاصل کرتا ہے تو پھر اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔

آگے چل کر میں تشریح کروں گا کہ عقل سے میری کیا مراد ہے اور شعور سے کیا؟ اس جگہ اتنا ہی بتاتا ہوں کہ یہ مبلغ کے مددگار ہیں۔ جب کوئی تبلیغ کے لئے جائے تو ان کو بلالے اور جب ان کی مدد اسے حاصل ہو جائے گی تو وہ وہ کام بہت خوبی کے ساتھ کرے گا جو حکومتیں بھی نہیں کر سکتیں۔

عقل کی مدد سے مُراد

ہر ایک انسان میں خدا نے عقل بھی پیدا کی ہے اور شعور بھی۔ عقل سے میری مراد وہ مادہ اور انسان کے اندر کی وہ طاقت ہے جس کے ذریعہ انسان دلائل کے ساتھ معلوم کرتا ہے کہ فلاں بات درست ہے یا غلط۔ بے شک بعض دفعہ انسان ضدی بن جاتا ہے اور ایک بات کو صحیح اور درست جانتا ہوا اس کا انکار کر دیتا ہے۔ لیکن یہ حالت بہت گند اور بہت دیر کی گمراہی کے بعد پیدا ہوتی ہے ورنہ کثیر حصہ لوگوں کا ایسا ہی ہے کہ عقل کے فیصلہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ جب اس کے سامنے ایسی باتیں پیش کی جائیں جو عقلی طور پر صحیح ثابت ہوں تو وہ ان کا انکار نہیں کر سکتا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جن باتوں کو عقلی لحاظ سے ایک مبلغ معقول اور مدلل سمجھتا ہے۔ ان کو دوسرے لوگ بھی معقول سمجھتے ہیں بشرطیکہ اندھے کی بصارت کی طرح ان کی عقل بالکل مردہ نہ ہو گئی ہو اور وہ اس کو بالکل مار نہ چکے ہوں مگر جس طرح اندھے بہت کم ہوتے ہیں۔ اسی طرح عقل کے اندھے بھی کم ہی ہوتے ہیں اور عموماً لوگ عقل کو مارتے نہیں۔ کیونکہ انہیں اس سے دنیاوی کام بھی کرنے ہوتے ہیں پس لوگ عقل سے ضرور کام لیتے ہیں۔ اور جب ان کے سامنے ایسی باتیں پیش کی جائیں۔ جو عقلی طور پر معقول ہوں تو وہ عقل سے کام لے کر ان کو تسلیم کر لیتے ہیں اور چونکہ خدا تعالیٰ نے عقل کے بہت سے دروازے رکھے ہیں اس لئے کہ کسی دروازہ سے حق اندر داخل ہو ہی جاتا ہے۔ اس لئے ہر ایک مبلغ کو چاہئے کہ اس سے ضرور کام لے۔ یعنی لوگوں کے سامنے ایسے دلائل پیش کرے جن کو عقل تسلیم کرتی ہے۔ اس ذریعہ سے وہ بہت جلدی دوسروں سے اپنی باتیں منوالے گا اور وہ کام کر لے گا جو حکومتیں بھی نہیں کر سکتیں ابھی دیکھ لو کچھ لوگوں نے غلط طور پر عام لوگوں کے دلوں میں یہ خیال بٹھا دیا ہے کہ گورنمنٹ سے اہل ہند کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا بلکہ نقصان پہنچ رہا ہے۔ گورنمنٹ کے پاس طاقت ہے سامان ہے مگر وہ روک نہیں سکتی کہ یہ خیال لوگوں کے دلوں میں نہ بیٹھے۔ وجہ یہ کہ اس خیال کو بٹھانے والے تو عقلی دلائل سے کام لے رہے ہیں لیکن گورنمنٹ ان سے کام نہیں لے رہی اس لئے اس کا کچھ اثر نہیں ہو رہا۔ تو عقلی دلائل سے کام لینے پر بہت اعلیٰ درجہ کے نتائج نکل سکتے ہیں۔

شعور کی مدد سے مراد

اس سے بڑھ کر شعور ہے مگر جہاں عقل کی نسبت زیادہ نتیجہ خیز ہے وہاں خطرناک بھی ایسا ہے کہ جس طرح بعض اوقات ڈائنامیٹ چلانے والے کو بھی ساتھ ہی اڑا کر لے جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی کام لینے والے کو اُڑا کر لے جاتا ہے۔ لوگوں نے شعور کی مختلف تعریفیں کی ہیں مگر میری اس سے مراد اس حس سے ہے جو فکر اور عقل کے علاوہ انسان کے اندر رکھی گئی ہے اور جس کا تعلق دلائل عقلیہ کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ انسان کی اندرونی حسّوں کے ساتھ ہوتا ہے اور جسے ہم جذبات کہہ سکتے ہیں جیسے محبت ہے ، غضب ہے ، شہوت ہے ، خواہشِ بقا ہے۔

بہت دفعہ عقلی دلائل سے کسی مسئلہ کو ثابت کرنے سے اس قدر اس کی طرف میلان یا اس سے نفرت پیدا نہیں ہوتی ۔ مگر ان جذبات کو اُبھار دینے سے انسان فوراً بات کو قبول کر لیتا ہے اور ان احساسات کو اُبھار کر بڑے بڑے کام لئے جا سکتے ہیں اور لئے جاتے ہیں اور اس کے ذریعہ ایک گھڑی میں کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ دیکھا ہوگا کہ کہیں بحث ہو رہی ہے۔ جب مولوی دیکھے کہ میں ہارنے لگا ہوں تو وہ کہہ دے گا مسلمانو! تمہیں شرم نہیں آتی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہو رہی ہے تم خاموش بیٹھے سن رہے ہو۔ یہ سن کر سب کو جوش آجائے گا اور وہ شور ڈال دیں گے۔ چاہے ہتک ہو رہی ہو یا نہ ہو رہی ہو۔ جذبات جس وقت اُبھر جاویں تو غلط اور صحیح کی بھی تمیز نہیں رہتی اور ایک رَو چل پڑتی ہے جس میں لوگ بہنے لگ جاتے ہیں۔ غلط طور پر اس سے کام لینا جائز نہیں۔ لیکن جب عقل اس کی تائید کرتی ہو اور حق اور صداقت کے لئے حق اور صداقت کے ساتھ کام لیا جائے تو اس کا استعمال جائز ہے بلکہ بسا اوقات ضروری ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس طریق سے بہت کام لیا گیا ہے اور پھر حضرت مسیح موعودؑ نے بھی اس سے خوب ہی کام لیا ہے۔ آپ وفاتِ مسیح کے متعلق دلائل لکھتے لکھتے یہ بھی لکھ جاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو زمین میں دفن ہوں اور حضرت عیسیٰ آسمان پر بیٹھے ہوں۔ ایک مسلمان کی غیرت اس بات کو کس طرح گوارا کر سکتی ہے۔ یہ وفاتِ مسیح کی عقلی دلیل نہیں لیکن ایک رُوحانی دلیل ہے اور اس سے جذبات بھی ابھر آتے ہیں۔ اور اس کا جس قدر دلوں پر اثر ہوتا ہے ہزارہا دلیلوں کا نہیں ہو گا کیونکہ اس کے ذریعہ سے وہ میلان طبعی جو نسلاً بعد نسلٍ اسلام سے تعلق رکھنے کے سبب سے ایک مسلمان کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ہے وہ خود بخود جوش میں آ جاتا ہے اور کسی بات کو سامنے نہیں آنے دیتا۔

حضرت صاحب کی تمام کتابوں میں یہی بات ملتی ہے۔ اگر عقلی دلائل اور شعور سے کام لینے کے دونوں پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر دیکھیں تو دونوں پائے جاتے ہیں۔ اور اگر صرف عقلی دلائل کو مدنظر رکھیں تو ساری کتاب میں عقلی دلائل ہی نظر آتے ہیں۔ اور اگر جذبات کے پہلو کو مدنظر رکھ کر دیکھیں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ساری باتیں ایسی ہیں جن کے ذریعہ جذبات کو تحریک کی گئی ہے۔ ہر ایک شخص کی کتاب میں یہ بات نہیں پائی جا سکتی۔ اور یہ حضرت صاحب کے قادر الکلام ہونے کا ثبوت ہے۔ آپ نے عقلی دلائل اور جذبات کو ایسے عجیب رنگ میں ملایا ہے کہ ایسا کرنا ہر ایک کا کام نہیں ہے لیکن گو ہر ایک اس طرح نہیں کر سکتا مگر یہ کر سکتا ہے کہ ان سے الگ الگ طور پر کام لے ۔ عقلی دلائل سے الگ کام لے اور جذبات سے الگ۔

حضرت صاحب نے ہر موقع پر جذبات کو ابھارا ہے اور کبھی محبت کبھی غضب کبھی غیرت کبھی بقائے نسل کے کبھی حیا کے جذبات میں حرکت پیدا کی ہے۔

چنانچہ آپ نے عیسائیوں کو مخاطب کر کے لکھا ہے کہ کیا تم لوگ مسیح کی نسبت صلیب پر مرنے کا عقیدہ رکھ کر اسے ملعون قرار دیتے ہو اس پر غور کرو اور سوچو۔ اس طرح ان کے دلوں میں حضرت مسیح کی محبت کے جذبات کو پیدا کر دیا گیا اور اس جائز محبت کے جذبات کے ذریعہ اس ناجائز محبت کے جذبات کو کہ انہوں نے مسیح کو خدا سمجھ رکھا ہے کاٹ دیا گیا۔

دونوں مددگاروں سے اکٹھا کام لینا چاہئے

غرض خدا تعالیٰ نے مبلغ کو یہ مددگار اور ہتھیار دیئے ہیں۔ (۱) دلائل عقلی پیش کرنا ۔ (۲) جذبات کو صحیح اور درست باتوں کے متعلق ابھارنا۔ ان میں سے اگر کسی ایک کو چھوڑ دیا جائے اور اس سے کام نہ لیا جائے تو کامیابی نہیں ہو سکتی۔ اگر صرف جذبات کو ابھارنا شروع کر دیا جائے اور دلائل دینے چھوڑ دیئے جائیں تو بہت نقصان ہوگا کیونکہ جب لوگ عقلی دلائل کو چھوڑ دیں گے تو پھر ایسی حالت ہو جائے گی کہ وہ ہمارے کام کے بھی نہ رہیں گے اور اگر خالی دلائل سے کام لیا جائے تو ہمارے مبلغ صرف فلاسفر بن جائیں گے دین سے ان کا تعلق نہ رہے گا اور اس طرح بھی نقصان ہوگا۔

ان باتوں کو اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے

پس اعلیٰ نتائج پیدا کرنے کے لئے ان دونوں ذریعوں سے کام لینا ضروری ہے مگر یہ بھی اسی وقت کام دے سکتے ہیں جبکہ انسان خود نمونہ کے طور پر بن جائے۔ تم دلائل عقلی پیش کرو۔ مگر تمہاری اپنی حالت ایسی نہ ہو کہ دیکھنے والے سمجھیں کہ عقلاً تم جس بات پر قائم ہو اس سے تم کو فائدہ نہیں ہے تو ان پر کبھی ان دلائل کا خاص اثر نہ ہو گا۔ کیونکہ اگر تم پر ان دلائل نے کوئی اثر نہیں کیا تو خوب یاد رکھو کہ تمہاری کوئی دلیل دوسروں پر بھی کوئی اثر نہ کرے گی۔ تم جو دلائل دو پہلے اپنے آپ کو ان کا نمونہ بناؤ۔ اپنے اوپر ان کا اثر دکھاؤ اور پھر دوسروں سے ان دلائل کے تسلیم کرنے کی توقع رکھو۔ اسی طرح جذبات کا حال ہے جذبات کو ابھارنے والی وہی تقریر اثر کرے گی کہ جس وقت انسان تقریر کر رہا ہو اس کے اپنے دل میں بھی ایسے ہی جذبات پیدا ہو رہے ہوں کیونکہ دوسروں کے جذبات اس وقت تک نہیں ابھر سکتے جب تک ظاہری الفاظ کے ساتھ اندرونی جذبات بھی نہ ہوں۔ اس کے لئے اپنے دل میں بھی ان جذبات کا پیدا کرنا ضروری ہے۔ ورنہ ایسی تقریر کا کوئی اثر نہ ہوگا۔ اسی طرح عقلی دلائل اس وقت تک اثر نہ کریں گے جب تک ان کے ماتحت انسان خود اپنے اندر تبدیلی نہ پیدا کریگا۔ اگر انسان خود تو ان دلائل کے ماتحت تبدیلی پیدا نہ کرے اور دوسروں کو کہے تو وہ ہرگز اس کی باتوں کی طرف توجہ نہ کریں گے۔ اور اس کی مثال ایسی ہی ہو گی جیسا کہ کہتے ہیں کہ کسی لومڑی کی دُم کٹ گئی تھی۔ اس نے اپنی شرمندگی مٹانے کے لئے تجویز کی کہ سب کی دُمیں کٹانی چاہئیں اس نے دوسرے لومڑوں کو بتایا کہ دُم کی وجہ سے ہی ہم قابو آتے ہیں اس کو کٹا دینا چاہئے تاکہ ہم پکڑنے نہ جائیں یہ سنکر سب کٹانے کے لئے تیار ہو گئے کہ ایک بوڑھے لومڑ نے کہا ذرا تم خود تو دکھاؤ کہ تمہاری دُم ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو ہم سب کٹانے کے لئے چلیں اور اگر تمہاری پہلے ہی کٹی ہوئی ہے تو معلوم ہوا کہ تم ہماری بھی کٹوانی چاہتے ہو۔ باقی یونہی باتیں ہی ہیں۔

تو عقلی دلائل کا اس وقت تک اثر نہیں ہوتا جب تک کہ خود دلیل دینے والے میں اس دلیل کا ثبوت نہ پایا جاتا ہو۔ ایسی صورت میں لوگ یہی کہیں گے کہ بیشک دلیل تو معقول ہے مگر یہ بتاؤ اس کا نتیجہ کیا نکلا اور تم نے اس سے کیا فائدہ اُٹھایا؟ اگر نتیجہ کچھ نہیں اور کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا تو پھر کیوں ہم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر تمہارے مذہب کو قبول کریں اور خواہ مخواہ نقصان اُٹھائیں۔

اسی طرح جذبات کو اُبھارتے وقت اگر صرف الفاظ استعمال کئے جاویں اور ان کے ساتھ روح نہ ہو تو وہ الفاظ بھی اثر نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہوتی ہے کہ بہت لوگ جو بڑے زور شور سے تقریریں کرنیوالے ہوتے ہیں ان کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ مگر جن مقرروں کے اپنے جذبات ابھرے ہوئے ہیں خواہ کسی سچی وجہ سے یا جھوٹی وجہ سے ہی ان کے الفاظ اثر کرتے ہیں مثلاً اگر کوئی سمجھے کہ مجھے دکھ پہنچا ہوا ہے حالانکہ دراصل ایسا نہ ہو تو بھی اس کا اثر اس کی آواز میں پایا جائے گا اور پھر سُننے والوں پر ہوگا۔ اس کے بالمقابل اگر کسی کو فی الواقعہ کوئی تکلیف پہنچی ہو لیکن اس کا قلب اسے محسوس نہ کرتا ہو تو کوئی اُس کی باتوں سے متاثر نہ ہوگا۔

پس دوسروں کے جذبات اُبھارنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ جب انسان بول رہا ہو تو اس کے اپنے جذبات بھی اُبھرے ہوئے ہوں مثلاً جب کوئی مبلغ مسلمانوں میں تقریر کر رہا ہو اور کہہ رہا ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی کو فضیلت نہ دینی چاہئے۔ ان کی عزت، ان کا رتبہ، ان کا درجہ سب انبیاء سے اعلیٰ ہے تو اس کے ساتھ ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس کے دل میں بھی موجزن ہونی چاہئے اور اس کے دل سے بھی جذبات کی لہر اُٹھنی چاہئے تب دوسروں پر اثر ہوگا۔ مسمریزم کیا ہے؟ یہی کہ جذبات کو اُبھارنا اور شعور کا دل سے کام لینا۔ اس کی بڑی شرط یہ ہے کہ جس شخص کو سلانا ہو اس کے سامنے کھڑے ہو کر انسان یقین کرے اور اس حالت کو اپنی آنکھوں کے سامنے لائے کہ وہ سو گیا ہے۔ جب یہ کیفیت کسی انسان میں پیدا ہو جاتی ہے تو دوسرا آدمی فوراً سو جاتا ہے۔ اسی طرح اپنے قلب میں جو کیفیت بھی پیدا کر لی جائے اس کا اثر دوسروں پر ضرور ہو جاتا ہے۔

غرض تبلیغ کرنے والوں کے لئے یہ دونوں باتیں نہایت ضروری ہیں کہ وہ عقلی دلائل کا ظاہری نمونہ بھی ہوں اور پھر جذبات بھی ان میں موجود ہوں۔ یوں تو ہر وقت ہی ہوں مگر تقریر کرتے وقت خاص طور پر اُبھرے ہوئے ہوں۔

یہ جو باتیں مَیں نے بتائی ہیں یہ تو اُصولی ہیں۔ اب میں کچھ فروعی باتیں بتاتا ہوں جو ہر ایک مبلغ کو یاد رکھنی چاہئیں۔

پہلی ہدایت

سب سے پہلے یہ ضروری بات ہے کہ مبلغ بے غرض ہو اور سننے والوں کو معلوم ہو کہ اس کی ہم سے کوئی ذاتی غرض نہیں ہے۔ ورنہ اگر مبلغ کی کوئی ذاتی غرض ان لوگوں سے ہو گی تو وہ خواہ نماز پر ہی تقریر کر رہا ہو گا سننے والوں کو یہی آواز آ رہی ہو گی کہ مجھے فلاں چیز دے دو۔ فلاں دے دو۔مسلمانوں کے واعظوں میں یہ بہت ہی بُری عادت پیدا ہو گئی ہے کہ وہ اپنے وعظ کے بعد کوئی غرض پیش کر کے امداد مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس سے سننے والوں کے ذہن میں یہ بات داخل ہو گئی ہے کہ وعظ کرنے والے کو کچھ نہ کچھ دینا چاہئے اور اسے ایک فرض سمجھا جاتا ہے۔

یہ ایسی بُری رسم پھیلی ہوئی ہے کہ جب کوئی واعظ وعظ کر رہا ہو تو سننے والے حساب ہی کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے پاس کیا ہے اور ہم اس میں سے کسقدر مولوی صاحب کو دے سکتے ہیں اور کتنا گھر کے خرچ کے لئے رکھ سکتے ہیں۔ اس رسم کی وجہ یہی ہے کہ عام طور پر مولوی وعظ کے بعد مانگتے ہیں کہ مجھے فلاں ضرورت ہے اسے پورا کر دیا جائے۔ اس کا بہت بُرا اثر ہو رہا ہے۔ کیونکہ واعظ کی باتوں کو توجہ اور غور سے نہیں سنا جاتا۔

پس واعظ کو بالکل مستغنی المزاج اور بے غرض ہونا چاہئے۔ اگر کسی وقت شامتِ اعمال سے کوئی طمع یا لالچ پیدا بھی ہو تو وعظ کرنا بالکل چھوڑ دینا چاہئے اور توبہ واستغفار کرنا چاہئے اور جب وہ حالت دُور ہو جائے پھر بے غرض ہو کر کھڑا ہونا چاہئے۔ اور وعظ کے ساتھ اپنے اندر اور باہر سے لوگوں پر ثابت کر دینا چاہئے کہ وہ ان سے کوئی ذاتی فائدہ اور نفع کی اُمید نہیں رکھتا اور نہ ان سے اپنی ذات کے لئے کچھ چاہتا ہے۔ جب کوئی مبلغ اپنے آپ کو ایسا ثابت کر دیگا تو اس کے وعظ کا اثر ہو گا ورنہ وعظ بالکل بے اثر جائے گا۔

اسی طرح دوسرے وقت میں بھی سوال کرنے سے واعظ کو بالکل بچنا چاہئے۔ سوال کرنا تو یوں بھی منع ہے اور کسی مومن کے لئے پسندیدہ بات نہیں ہے لیکن اگر واعظ سوال کرے گا تو یہ سمجھا جائے گا کہ وعظ اسی وجہ سے ہی کرتا ہے۔ پس یہ نہایت ہی ناپسندیدہ بات ہے اور واعظوں کو خاص طور پر اس سے بچنا

چاہئے ورنہ ان کے وعظ کا اثر زائل ہو جائے گا یا کم ہو جائے گا۔

دوسری ہدایت

دوسری بات واعظ کے لئے یاد رکھنے کے قابل یہ ہے کہ دلیر ہو۔ جب تک واعظ دلیر نہ ہو اس کی باتوں کا دوسروں پر اثر نہیں پڑتا اور اس کا دائرہ اثر بہت محدود رہ جاتا ہے کیونکہ وہ انہی لوگوں میں جانے کی جرأت کرتا ہے جہاں اس کی باتوں پر واہ واہ ہوتی ہے۔ لیکن اگر دلیر ہوتا تو ان میں بھی جاتا جو گالیاں دیتے، دھکے دیتے اور بُرا بھلا کہتے ہیں اور اس طرح اس کا حلقہ بہت وسیع ہوتا۔ ہماری جماعت کے مبلغ سوال کرنے سے تو بچے ہوئے ہیں اور ان میں سے بہت میں غناء کی حالت بھی پائی جاتی ہے۔ مگر یہ کمزوری ان میں بھی ہے کہ جہاں اپنی جماعت کے لوگ ہوتے ہیں وہاں تو جاتے ہیں اور وعظ کرتے ہیں لیکن جہاں کوئی نہیں ہوتا وہاں نہیں جاتے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے دل میں مخفی طور پر واہ واہ سننے کی عادت جاگزیں ہوتی ہے۔ وہ دورے کرتے ہیں اور بیس بیس دفعہ جاتے ہیں مگر انہی مقامات پر جہاں پہلے جا چکے ہیں اور جہاں احمدی ہوتے ہیں اور جس جگہ کوئی احمدی نہ ہو وہاں اس خیال سے کہ ممکن ہے کوئی گالیاں دے یا مارے نہیں جاتے۔ حالانکہ سب سے زیادہ ضرورت انہی مقامات پر جانے کی ہوتی ہے جہاں کوئی احمدی نہ ہو۔ کیونکہ جہاں بیج ڈال دیا گیا ہے وہاں وہ خود بڑھے گا۔ اور جہاں ابھی بیج ہی نہیں پڑا وہاں ڈالنا چاہئے اور خدا تعالیٰ کی بھی یہی سنت معلوم ہوتی ہے کہ کسی ایک جگہ ساری کی ساری جماعت نہیں ہوتی بلکہ متفرق طور پر ہوتی ہے اسی قادیان میں دیکھ لو یہاں کے سارے باشندوں نے تو حضرت مسیح موعودؑ کو نہیں مان لیا۔ بلکہ اشد ترین مخالف یہاں ہی ہیں مگر بٹالہ کے کچھ لوگوں نے آپ کو مان لیا پھر وہاں بھی سب نے نہیں مانا بلکہ اکثر مخالف ہی ہیں۔ پھر لاہور میں کچھ لوگوں نے مان لیا۔ اسی طرح کچھ نے کلکتہ میں مانا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے بیج کی طرح صداقت کو بویا ہوا ہے۔ اور اس طرح خدا تعالیٰ صداقت کے مقام اور چھاؤنیاں بناتا جاتا ہے تاکہ ان کے ذریعہ اردگرد اثر پڑے۔

پس یہ خیال بالکل نادرست ہے کہ فلاں جگہ کے سب لوگوں کو احمدی بنالیں تو پھر آگے جائیں۔ اگر ایسا ہونا ضروری ہوتا تو قادیان کے لوگ جب تک سب کے سب نہ مان لیتے ہم آگے نہ جاتے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا اور نہ ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ بعض ایسی طبائع ہوتی ہیں کہ دس بیس دن میں مان جاتی ہیں بعض اس سے زیادہ عرصہ میں بعض دو تین سال میں اور بعض دس پندرہ سال میں اور ہر جگہ ایسی طبائع کے لوگ ہوتے ہیں۔ اب اگر ان لوگوں کی وجہ سے جنہوں نے لمبے عرصہ کے بعد ماننا ہے دوسری جگہ نہ جائیں گے تو وہاں کے ایسے لوگوں کو جو جلدی ماننے والے ہیں اپنے ہاتھ سے کھو دیں گے اور ان کو اپنے ساتھ نہ ملا سکیں گے۔ مگر ہمارے مبلغوں نے ابھی تک اس بات کو سمجھا نہیں اور اسی کے نہ سمجھنے کی وجہ سے ہزاروں اور لاکھوں آدمی ایسے ہیں جو صداقت کو قبول کرنے سے ابھی تک محروم ہیں۔ اگر سب جگہ ہماری جماعت کے مبلغ جاتے تو بہت سے لوگ مان لیتے ۔ چونکہ ہر جگہ ایسی طبیعتیں موجود ہیں جو جلد صداقت کو قبول کرنے والی ہوتی ہیں اس لئے ہر جگہ تبلیغ کرنی چاہئے۔

یہاں ایک دوست نے بتایا کہ ایک شخص ان کو ریل میں ملا۔ معمولی گفتگو ہوئی اور اس نے مان لیا اور پھر وہ یہاں آیا۔ صرف تین روپے اس کی تنخواہ ہے اور روٹی کپڑا اسے ملتا ہے مگر اس میں بڑا اخلاص ہے اور اخبار خریدتا ہے۔ تو صرف ایک دن کی ملاقات کی وجہ سے وہ احمدی ہو گیا۔

ہمیں دائرہ اثر وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر مبلغین کی کمزوری کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ مبلغ کو دلیر ہونا چاہئے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ مبلغ کی دلیری اور جرأت کا بھی دوسروں پر اثر پڑتا ہے اور لوگ اس کی جرأت کو دیکھ کر ہی مان لیتے ہیں۔ کئی ہندو اور مسلمان اسی لئے عیسائی ہو گئے کہ انہوں نے پادریوں کی اشاعتِ مسیحیت میں دلیری اور جرأت کو دیکھا اور اس سے متاثر ہو گئے تو مبلغ کو دلیر ہونا چاہئے اور کسی سے ڈرنا نہیں چاہئے اور ایسے علاقوں میں جانا چاہئے جہاں تاحال تبلیغ نہ ہوئی ہو۔

دلیری اور جرأت ایسی چیز ہے کہ تمام دُنیا میں اکرام کی نظر سے دیکھی جاتی ہے اور مبلغ کے لئے سب سے زیادہ دلیر ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ وہ دوسروں کے لئے نمونہ بن کر جاتا ہے۔ اگر مبلغ ہی دلیر نہ ہو گا تو دوسروں میں جو اسے اپنے لئے نمونہ سمجھتے ہیں دلیری کہاں سے آئے گی۔ ہمارے مبلغوں میں اس بات کی کمی ہے اور وہ بہت سے علاقے اسی دلیری کے نہ ہونے کی وجہ سے فتح نہیں کر سکتے ورنہ بعض علاقے ایسے ہیں کہ اگر کوئی جرأت کر کے چلا جائے تو صرف دیا سلائی لگانے کی ضرورت ہو گی آگے خود بخود شعلے نکلنے شروع ہو جائیں گے ۔ مثلاً افغانستان اور خاص کر سرحدی علاقے ان میں اگر کوئی مبلغ زندگی کی پرواہ نہ کر کے چلا جائے تو بہت جلد سارے کے سارے علاقہ کے لوگ احمدی ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ان کی حالت عربوں کی طرح کی ہے وہ جب احمدی ہوں گے تو اکٹھے کے اکٹھے ہی ہونگے عام طور پر متمدن ممالک میں قوانین کے ذریعہ بہت کام چلایا جاتا ہے مثلاً اگر یہاں کسی کو کوئی دشمن قتل نہیں کرتا تو اس لئے نہیں کہ زید یا بکر کے دوست اور اس کے ہم قوم اس کا مقابلہ کریں گے بلکہ اس لئے قتل نہیں کرتا کہ قانون اسے پھانسی دے گا۔ اس لئے ایسے ممالک میں جو متمدن ہوں قانون کے ڈر کی وجہ سے لوگ ظلم سے رُکتے ہیں۔ لیکن جہاں تمدن نہ ہو وہاں ذاتی تعلقات بہت زوروں پر ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہر ایک شخص اپنا بچاؤ اسی میں سمجھتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے آدمیوں کی جنبہ داری کرے تا وہ بھی بوقت ضرورت اس کی جنبہ داری کریں اور اس طرح ان ممالک میں کوئی شخص اکیلا نہیں ہوتا۔ جو حال یہاں گھرانوں کا ہوتا ہے وہ ان ممالک میں قوموں کا ہوتا ہے اور اگر ان ممالک میں پندرہ بیس آدمی جان ہتھیلی پر رکھ کر چلے جائیں۔ اور کچھ لوگوں کو بھی احمدی بنالیں تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ارد گرد کی قومیں ان پر ظلم کریں گی اور قومی جنبہ داری کے خیال سے ان کے ہم قوم بھی احمدیت قبول کر لیں گے اور اس طرح تھوڑے ہی عرصہ میں تیس چالیس لاکھ آدمی سلسلہ میں داخل ہو سکتا ہے۔

افریقہ کے لوگ اسی طرح عیسائی ہوئے۔ پہلے پہل ان میں ایک عورت گئی جو علاج وغیرہ کرتی تھی۔ اس وجہ سے وحشی لوگ اسے کچھ نہ کہتے۔ لیکن ایک دن انہیں غصہ آگیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کھا گئے۔ اس عورت کا ایک نوکر تھا جسے اس نے عیسائی کیا ہوا تھا اس نے تین سو میل کے فاصلہ پر جا کر جہاں انگریز موجود تھے بتایا کہ وہ عورت ماری گئی ہے وہاں سے ولایت تار دی گئی۔ اور لکھا ہے کہ جب ولایت میں اس عورت کے مرنے کی تار شائع ہوئی تو جس مشن سے وہ عورت تعلق رکھتی تھی اس میں صبح سے لے کر شام تک بہت سی عورتوں نے درخواستیں دیں کہ ہم کو وہاں بھیج دیا جائے چنانچہ بہت سے مبلغ اپنے خرچوں پر وہاں گئے اور سارے یوگنڈا کے لوگ عیسائی ہو گئے۔

وہ عورت سات سال تک اکیلی وہاں کام کرتی رہی اور جب وہ ماری گئی تو اس کی دلیری اور جرأت کی وجہ سے سب میں جرأت پیدا ہو گئی اور انہوں نے کسی خطرے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وہاں جانے کی درخواستیں دے دیں۔

پس مبلغ کی جرأت بہت بڑا کام کرتی ہے اور اس کی وجہ سے دوسروں میں بھی جرأت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک دفعہ ایک شخص نے خوشی سے سنایا کہ پیغامیوں کے مبلغوں کو ایک جگہ مار پڑی ہے وہ تو خوش ہو کر سنا رہا تھا مگر میں اس وقت افسوس کر رہا تھا کہ وہاں ہمارے مبلغ کیوں نہ تھے جنہیں مار پڑتی اور دلیری اور جرأت دکھانے کا انہیں موقع ملتا۔ گو افسوس ہے کہ پیغامی مبلغوں نے بزدلی دکھائی اُس موقع کو ضائع کر دیا مگر ان کا مار کھانا خود کوئی ہتک کی بات نہ تھی۔ بلکہ اگر وہ دلیری سے کام لیتے تو یہ ایک قابل قدر کارنامہ ہوتا۔ ہمارے واعظ حکیم خلیل احمد صاحب کو جب مدراس میں تکلیف پہنچی اور ان پر سخت خطرناک حملہ کیا گیا اور ان کے قتل کرنے کی کوشش کی گئی تو مجھے بہت خوشی ہوئی اور میں نے اس خبر کو اخبار میں شائع کرایا جس پر ایک دوست نے سخت افسوس کا خط لکھا کہ اخبار والوں کو منع کیا جائے کہ ایسی خبر نہ شائع کیا کریں۔ حالانکہ وہ خبر میں نے خود کہہ کر شائع کرائی تھی۔ اور منجملہ اور حکمتوں کے ایک یہ غرض تھی کہ اس خبر کے شائع ہونے سے جماعت میں غیرت پیدا ہو اور ان میں سے اور لوگ اپنے آپ کو تبلیغ کے لئے پیش کریں۔ یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ میرا یہ منشاء نہیں کہ خود بخود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالو۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ کسی جگہ کی تبلیغ اس لئے مت ترک کرو کہ وہاں کوئی خطرہ ہے۔ اور نہ میرا یہ منشاء ہے کہ لوگ بے شک تکلیف دیں اس تکلیف کا مقابلہ نہ کرو۔ بے شک قانوناً جہاں ضرورت محسوس ہو اس کا مقابلہ کرو۔ مگر تکالیف اور خطرات تمہیں اپنے کام سے نہ روکیں اور تمہارا حلقہ کار محدود نہ کر دیں۔

میں نے اخلاق کے مسئلہ کا مطالعہ کیا ہے اور دیکھا ہے کہ ستر فیصدی گناہ جرأت اور دلیری کے نہ ہونے کے سبب پیدا ہوتے ہیں۔ اگر جرأت ہو تو اس قدر گناہ نہ ہوں۔ پس دلیری اپنے اندر پیدا کرو تاکہ ایک تو خود ان گناہوں سے بچو جو جرأت نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور دوسرے تمہاری کوششوں کے اعلیٰ نتائج پیدا ہوں۔ ہاں اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رکھو کہ اپنی طرف سے ہر قسم کے فساد یا جھگڑے کے دور کرنے کی کوشش کرو اور موعظہ حسنہ سے کام لو۔ اس پر بھی اگر کوئی تمہیں دُکھ دیتا ہے، مارتا ہے، گالیاں نکالتا ہے یا بُرا بھلا کہتا ہے تو اس کو برداشت کرو اور ایسے لوگوں کا ایک ذرہ بھر خوف بھی دل میں نہ لاؤ۔

تیسری ہدایت

تیسری بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس میں لوگوں کی ہمدردی اور ان کے متعلق قلق ہو۔ جس جگہ گئے وہاں ایسے افعال کئے کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ ہمارا ہمدرد ہے۔ اگر لوگوں پر یہ بات ثابت ہو جائے تو پھر مذہبی مخالفت سرد ہو جائے کیونکہ مذہبی جذبات ہی ساری دُنیا میں کام نہیں کر رہے۔ اگر یہی ہوتے تو ساری دنیا مسلمان ہوتی۔ پس مبلغ کے لئے نہایت ضروری ہے کہ وہ جہاں جائے وہاں کے لوگوں پر ثابت کر دے کہ وہ ان کا ہمدرد اور خیر خواہ ہے۔ جب لوگ اسے اپنا خیر خواہ سمجھیں گے تو اس کی باتوں کو بھی سنیں گے اور ان پر اثر بھی ہوگا۔

چوتھی ہدایت

چوتھی بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ دنیاوی علوم سے جاہل نہ ہو۔ اس سے بہت بُرا اثر پڑتا ہے۔ مثلاً ایک شخص پوچھتا ہے کہ جاوا کہاں ہے؟ گو اس کا دین اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر کوئی نہ جانتا ہو تو اس کے مذہب میں کوئی نقص نہیں آجائے گا۔ مگر جب ایک مبلغ سے یہ پوچھا جائے گا اور وہ اس کے متعلق کچھ نہیں بتا سکے گا تو لوگ اسے حقیر سمجھیں گے کہ اتنا بھی نہیں جانتا کہ جاوا کہاں ہے جہاں تین کروڑ کے قریب مسلمان بستے ہیں۔

تو مبلغ کو جنرل نالج حاصل ہونا چاہئے تاکہ کوئی اسے جاہل نہ سمجھے۔ ہاں یہ ضروری نہیں کہ ہر ایک علم کا عالم ہی ہو لیکن کچھ نہ کچھ واقفیت ضرور ہونی چاہئے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاول ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ آپ ایک بیمار کو دیکھنے کے لئے گئے۔ وہاں ایک اور طبیب صاحب بھی بیٹھے تھے۔ آپ نے اہل خانہ سے پوچھا کہ تھرما میٹر لگا کر بیمار کو دیکھا ہے یا نہیں۔ طبیب صاحب نے کہا اگر آپ نے انگریزی دوائیاں استعمال کرنی ہیں تو میں جاتا ہوں۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ تھرما میٹر کوئی دوائی نہیں بلکہ ایک آلہ ہے جس سے بخار کا درجہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کس قدر ہے۔ اس نے کہا آلہ ہو یا کچھ اور ہر ایک انگریزی چیز گرم ہوتی ہے اور بیمار کو پہلے ہی بہت زیادہ گرمی ہے۔ تو اس قسم کے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں عام باتوں کا کچھ علم نہیں ہوتا اور مجلسوں میں سخت حقیر سمجھے جاتے ہیں۔ مبلغ کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ علمِ مجلس سے واقف ہو اور کسی بات کے متعلق ایسی لاعلمی کا اظہار نہ کرے جو بیوقوفی کی حد تک پہنچی ہوئی ہو۔ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک بادشاہ تھا جو کسی پیر کا بڑا معتقد تھا اور اپنے وزیر کو کہتا رہتا تھا کہ میرے پیر سے ملو۔ وزیر چونکہ اس کی حقیقت جانتا تھا اس لئے ٹلا تا رہتا۔ آخر ایک دن جب بادشاہ پیر کے پاس گیا تو وزیر کو بھی ساتھ لیتا گیا۔ پیر صاحب نے بادشاہ سے مخاطب ہو کر کہا۔ بادشاہ سلامت! دین کی خدمت بڑی اچھی چیز ہے سکندر بادشاہ نے دین اسلام کی خدمت کی اور وہ اب تک مشہور چلا آتا ہے۔ پرینسن کرو ز پر نے کہا۔ دیکھئے حضور! پیر صاحب کو ولایت کے ساتھ تاریخ دانی کا بھی بہت بڑا ملکہ ہے اس پر بادشاہ کو اس سے نفرت ہو گئی۔ حضرت صاحب یہ قصہ سنا کر فرمایا کرتے تھے کہ علم مجلس بھی نہایت ضروری ہے۔ جب تک انسان اس سے واقف نہ ہو دوسروں کی نظروں میں حقیر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح آدابِ مجلس کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے مثلاً ایک مجلس مشورہ کی ہو رہی ہو اور کوئی بڑا عالم ہو مگر اس مجلس میں جا کر سب کے سامنے لیٹ جائے تو کوئی اس کے علم کی پرواہ نہیں کرے گا اور اس کی نسبت لوگوں پر بہت بُرا اثر پڑے گا۔ پس یہ نہایت ضروری علم ہے اور مبلغ کا اس کو جاننا بہت ضروری ہے۔ ہر ایک مبلغ کو چاہئے کہ وہ جغرافیہ، تاریخ، حساب، طب، آدابِ گفتگو، آدابِ مجلس

وغیرہ علوم کی اتنی اتنی واقفیت ضرور رکھتا ہو جتنی مجلس شرفاء میں شامل ہونے کے لئے ضروری ہے۔ اور یہ کوئی مشکل کام نہیں تھوڑی سی محنت سے یہ بات حاصل ہوسکتی ہے۔ اس کے لئے ہر علم کی ابتدائی کتابیں پڑھ لینی چاہئیں۔

پھر واقعات حاضرہ سے واقفیت ہونی چاہئے۔ مثلاً کوئی پوچھے کہ مسٹر گاندھی کون ہے اور مبلغ صاحب کہیں کہ میں تو نہیں جانتا۔ تو سب لوگ ہنس پڑیں گے اور اسے حقیر سمجھیں گے اس لئے ایسے واقعات سے جو عام لوگوں سے تعلق رکھتے ہوں اور روزمرہ ہو رہے ہوں ان سے واقفیت حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔

پانچویں ہدایت

پانچویں بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ غلیظ نہ ہو۔ ظاہری نظافت کے متعلق بھی خاص خیال رکھا گیا ہے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مسجد میں کوئی تھوکتا ہے تو یہ ایک غلطی ہے۔ اس کا کفارہ یہ ہے کہ تھوک کو دفن کرے۔ (مسند احمد بن حنبل جلد ۳ صفحہ ۱۷۳)

حضرت صاحب کی طبیعت میں کتنی بُردباری تھی۔ مگر آپؐ نے اس وجہ سے باہر لوگوں کیساتھ کھانا کھانا چھوڑ دیا کہ ایک شخص نے کئی چیزیں ساگ، فرنی، زردہ، شوربا وغیرہ ملا کر کھایا۔ فرماتے تھے کہ اس سے مجھے اتنی نفرت ہوئی کہ قے آنے لگی۔ اس کے بعد آپؐ نے باہر کھانا کھانا چھوڑ دیا۔ اور اس طرح لوگ اس فیض سے محروم ہو گئے جو آپؐ کے ساتھ کھانا کھانے کے وقت انہیں حاصل ہوتا تھا۔

پھر حضرت صاحبؑ فرماتے اور میری طبیعت میں بھی یہ بات ہے کہ اگر استرے سے سر مونڈوا کر کوئی سامنے آئے تو بہت بُرا لگتا ہے اور مجھے تو اسے دیکھ کر سر درد شروع ہو جاتی ہے تو ظاہری صفائی اور ظاہری حالت کے عمدہ ہونے کی بھی بہت ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو نفرت نہ پیدا ہو۔ اور وہ بات کرنا تو الگ رہا دیکھنا بھی نہ چاہیں۔ مگر ظاہری صفائی سے میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ کالر اور نکٹائی وغیرہ لگانی چاہئے اور بال ایک خاص طرز کے بنائے جائیں۔ ان میں سے بعض باتوں کو تو ہم لغو کہیں گے اور بعض کو نا جائز ۔ مگر جو ضروری صفائی ہے یعنی کوئی غلاظت نہ لگی ہو یا کوئی بُودار چیز نہ لگی ہو اس کا ضرور خیال رکھنا چاہئے۔ ہاں یہ بھی نہ کرے کہ ہر وقت کپڑوں اور جسم کی صفائی میں لگا رہے کیونکہ اگر ایسا کرے گا تو پھر کام خراب ہو جائے گا۔

چھٹی ہدایت

چھٹی بات مبلغ کے لئے یہ ہے جس میں بہت کوتاہی ہوتی ہے کہ جو مبلغ دورے پر جاتے ہیں وہ خرچ بہت کرتے ہیں۔ میرے نزدیک مبلغ کے لئے صرف یہی جائز ہے کہ وہ کرایہ لے، کھانے کی قیمت لے یا رہائش کے لئے اسے کچھ خرچ کرنا پڑے تو وہ لے گویا میرے نزدیک قُوْتٌ لَّا يَمُوْتُ یا ایسے اخراجات جو لازمی طور پر کرنے پڑیں ان سے زیادہ لینا ان کے لئے جائز نہیں ہے۔ مثلاً مٹھائی وغیرہ یا اور کوئی مزہ کے لئے چیزیں خریدی جائیں تو ان کا خرچ اپنی گرہ سے دینا چاہئے۔ ہماری حالت اور ہمارے کام کی حالت کی وجہ سے جائز نہیں ہے کہ اس قسم کے اخراجات فنڈ پر ڈالے جائیں۔ میں نے مولوی صاحب کے زمانہ میں دوستوں کے ساتھ دو دفعہ سفر کیا ہے۔ مگر میرے نزدیک دوستوں کی جو زائد چیزیں تھیں ان کا خرچ اپنے پاس سے دیا اور خود اپنا خرچ تو میں لیا ہی نہ کرتا تھا یہی وجہ تھی کہ کئی آدمیوں کے بنارس تک کے خرچ پر صرف ستر روپے خرچ آئے تھے پس جہاں تک ہو سکے مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ بہت کم خرچ کرے کیونکہ یہ نمونہ ہوتا ہے دوسروں کے لئے اگر یہی اسراف کرے گا تو لوگ معترض ہوں گے ۔ اگر ایک تنخواہ دار تنخواہ میں سے خرچ کرتا ہے تو اس کا مال ہے وہ کر سکتا ہے لیکن اگر اس طرح کا خرچ ہو جس طرح کا مبلغوں کا ہوتا ہے اور ایک پیسہ بھی اسراف میں لگائے تو لوگ کہتے ہیں کہ اَلے تللے خرچ کرتے ہیں۔ اپنی جیب سے تھوڑا ہی نکلنا ہے کہ پرواہ کریں۔ اور جب لوگوں کو اس طرح کے اعتراض کا موقع دیا جائے گا تو وہ چندہ میں سستی کریں گے۔

ساتویں ہدایت

ساتویں بات یہ ہے کہ مبلغ میں خود ستائی نہ ہو۔ بہت لوگوں کی تباہی کی یہی وجہ ہوئی ہے۔ خواجہ صاحب اپنے لیکچروں کی تعریف خود لکھتے اور دوسروں کی طرف سے شائع کرانے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ مولوی صدرالدین صاحب خواجہ صاحب کے ایک لیکچر کی رپورٹ حضرت خلیفہ اوّل کو سنا رہے تھے کہ مولوی صاحب نے اس کے ہاتھ سے وہ کاغذ لے لیا اس کی پشت پر لکھا ہوا تھا کہ جہاں جہاں میں نے اس قسم کے الفاظ لکھے ہیں کہ میں نے یہ کہا یا میری نسبت یہ کہا گیا وہاں خواجہ صاحب لکھ کر شائع کرا دیا جائے ۔ حضرت مولوی صاحب نے وہ خط پڑھ کر مجھے دیدیا اور میں نے اس کی پشت پر یہ ہدایت لکھی ہوئی دیکھی۔ اس کا جو نتیجہ نکلا وہ ظاہر ہے۔ پس مبلغ کو کبھی اس بات پر زور نہ دینا چاہئے کہ فلاں جگہ میں نے یہ بات کہی اور اس کی اس طرح تعریف کی گئی یا اس کا ایسا نتیجہ نکلا کہ مخالف دم بخود ہو گیا۔ بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ سنائیں ۔ ہم نے یہ بات کہی اور اس کا ایسا اثر ہوا کہ لوگ عش عش کرنے

لگے ۔ اس سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگ تعریف کریں ۔ اس میں شک نہیں کہ اپنے کام کا نتیجہ اور کامیابی سنانا بھی ضروری ہوتا ہے جس طرح حضرت صاحبؐ سنایا کرتے تھے ۔ مگر یہ انتہائی مقام کی باتیں ہیں ابتدائی حالت کی نہیں۔ پس مبلغوں کو چاہئے کہ اپنے لیکچروں اور مباحثوں کی خود تعریفیں نہ سنایا کریں اور صرف اتنی ہی بات بتائیں جتنی ان سے پوچھی جائے اور وہی بات بتائیں جو انہوں نے کہی ۔ آگے اس کے اثرات نہ بیان کیا کریں۔ یہ بتانا ان کا کام نہیں بلکہ اس مجلس کا کام ہے جس میں وہ اثرات ہوئے وہ خود بتاتے پھریں کسی مبلغ کا یہ کہنا کہ میں نے فلاں مخالف کو یوں پکڑا کہ وہ ہکا بکا رہ گیا اور اس کا رنگ فق ہو گیا جائز نہیں۔ یہ تم نہ کہو بلکہ وہ لوگ کہیں گے جنہوں نے ایسا ہوتے دیکھا۔ تمہارے منہ سے ایک بھی ایسا لفظ نہ نکلے جس سے تمہاری خوبی ظاہر ہوتی ہو۔ تم صرف واقعات بیان کر دو اور آگے اثرات کے متعلق کچھ نہ کہو۔ یہ بات نوجوان اور مبتدی مبلغوں کے لئے نہایت ضروری ہے اور جو استاد ہو جائیں انہیں دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے بیان کرنا بعض دفعہ ضروری ہوتا ہے۔

آٹھویں ہدایت

آٹھویں بات یہ ہے کہ عبادات کے پابند بنو۔ اس کے بغیر نہ تم دُنیا کو فتح کر سکتے ہو اور نہ اپنے نفس کو۔ فرض عبادات تو ہر ایک مبلغ ادا کرتا ہی ہے لیکن ان کے لئے تہجد پڑھنا بھی ضروری ہے۔ صحابہؓ کے وقت تہجد نہ پڑھنا عیب سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب تہجد پڑھنے والے کو ولی کہا جاتا ہے۔ حالانکہ رُوحانیت میں ترقی کرنے کے لئے تہجد اور نوافل پڑھنے ضروری ہیں۔ دوسرے لوگوں کے لئے بھی ضروری ہیں مگر مبلغ کے لئے تو بہت ہی ضروری ہیں پس اگر زیادہ نہیں تو کم ہی پڑھ لے۔ آٹھ کی بجائے دو ہی پڑھ لے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو یہاں تک کرلے کہ نماز سے پہلے پانچ منٹ لیٹے لیٹے استغفار پڑھ لے اور آہستہ آہستہ قدم آگے بڑھاتا جائے۔ اس کے علاوہ ذکر الٰہی اور دوسری عبادتوں کا بھی شغل رکھنا چاہئے ۔ کیونکہ ان کے بغیر روح کو جلاء نہیں ہوتا۔ فرائض تو ایسے ہیں کہ اگر کوئی ان کو ادا نہ کرے تو مبلغ رہتا ہی نہیں اور فرائض تو ادا کئے ہی جاتے ہیں۔ کیونکہ اگر مسجد میں نہ آئے تو وہ سمجھتا ہے کہ لوگ کہیں گے اچھا مبلغ ہے۔ لیکن قربِ الٰہی حاصل کرنے کے لئے اور روحانیت میں ترقی کرنے کے لئے نوافل پڑھنے ضروری ہیں اور دیگر اذکار کی بھی بہت ضرورت ہے۔

نویں ہدایت

نویں چیز مبلغ کے لئے دُعا ہے۔ دُعا خدا کے فضل کی جاذب ہے جو شخص عبادت تو کرتا ہے مگر دُعا کی طرف توجہ نہیں کرتا اس میں بھی کبر ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی مدد اور اس کے انعام کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ حالانکہ موسیٰؑ جیسا نبی بھی خدا تعالیٰ سے کہتا ہے۔ رَبِّ اِنِّیۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَیَّ مِنۡ خَیۡرٍ فَقِیۡرٌ(القصص: ۲۵) کہ جو کچھ تیری طرف سے مجھ پر بھلائی نازل ہو میں اس کا محتاج ہوں پس جب حضرت موسیٰؑ نبی ہو کر خدا تعالیٰ کے محتاج ہیں تو معمولی مومن کیوں محتاج نہ ہوگا؟ ہر ایک مبلغ کو دُعا سے ضرور کام لینا چاہئے اور اس کو کسی حالت میں بھی نہ چھوڑنا چاہئے۔

دسویں ہدایت

دسویں چیز مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس میں انتظامی قابلیت ہو۔ اگر اس میں یہ قابلیت نہ ہو گی تو اس کا دائرہ عمل بہت محدود ہو گا۔ اور اس کی کوششوں کا دائرہ اس کی زندگی پر ہی ختم ہو جائے گا۔ اس لئے اسے اس بات کی بھی فکر ہونی چاہئے کہ جس کام کو اس نے شروع کیا ہے وہ اس کے ساتھ ہی ختم نہ ہو جائے بلکہ اس کے بعد بھی جاری رہے اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے قائمقام بنائے۔ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبلغ تھے مگر آپؐ مبلغ گر بھی تھے۔ ہمارے مبلغوں کی اس طرف قطعاً توجہ نہیں ہے۔ وہ یہ کوشش نہیں کرتے کہ جہاں جائیں وہ اپنے قائمقام بنائیں اور کام کرنے والے پیدا کریں تاکہ انتظام اور ترتیب کے ساتھ کام جاری رہے۔ یہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ مبلغ جن لوگوں کو دوسروں کی نسبت زیادہ لائق دیکھیں اور جو شوق رکھیں ان کو مختلف مسائل کے دلائل سکھائیں اور ہر بار ان میں اضافہ کرتے رہیں۔ اور دیکھتے رہیں کہ انہوں نے پہلے دلائل کو یاد کر لیا ہے یا نہیں۔ اور پھر انہیں یہ بھی کہیں کہ ہمارے بعد تم تبلیغ کرنا اور اس کے متعلق ہمیں اطلاع دیتے رہنا۔ میں نے تالیف واشاعت کے دفتر کو اس کے متعلق تاکید کی تھی کہ ہر جگہ تبلیغ کرنے والے مقرر کئے جائیں اور اس نے نیم مردہ سی تحریک بھی کی جو اسی حالت میں رہی۔ کئی جگہ تبلیغی سیکرٹری مقرر ہی نہیں ہوئے اور کسی جگہ مقرر ہوئے تو انہوں نے کچھ کیا نہیں۔ دراصل ان کو پہلے خود زندہ ہونا چاہئے اور زندگی کی علامات ظاہر کرنی چاہئیں تاکہ دوسروں کو زندہ کر سکیں لیکن جبکہ وہ خود مردہ حالت میں پڑے ہیں تو ان سے کسی کام کی کیا اُمید ہو سکتی ہے۔

غرض جہاں مبلغ جائیں۔ وہاں دوسروں کو تبلیغ کرنا سکھائیں اور بتائیں کہ اس طرح بحث کرنی چاہئے۔ بحث کرنا اور بات ہوتی ہے اور لیکچر دینا اور۔ اس لئے بحث اور دوسرے مذاہب کے متعلق گفتگو کرنے کے گر سکھانے چاہئیں تاکہ ایسے لوگ پیدا ہو جائیں جو ان کے بعد کام کرتے رہیں۔


(بعد از نمازِ مغرب)

مَیں نے پہلے دس باتیں بیان کی تھیں ۔ اب گیارہویں بات بتاتا ہوں۔

گیارہویں ہدایت

گیارہویں بات جس کا یاد رکھنا مبلغ کے لئے ضروری ہے ۔ وہ نازک امر ہے بہت لوگ اس کی طرف توجہ نہیں رکھتے اس لئے بعض دفعہ زک پہنچ جاتی ہے ۔ مَیں نے اس سے خاص طور پر فائدہ اُٹھایا ہے اور یہ ان باتوں میں سے ہے جو بہت سہل الحصول ہیں۔ مگر تعجب ہے کہ بہت لوگ اس سے فائدہ نہیں اُٹھاتے ۔ اور وہ یہ ہے کہ دُشمن کو کبھی حقیر نہ سمجھو اور اس کے ساتھ ہی کبھی یہ خیال اپنے دل میں نہ آنے دو کہ تم اس کے مقابلہ میں کمزور ہو ۔

مجھے مباحثات کم پیش آئے ہیں اس لئے مَیں اس معاملہ میں کم تجربہ رکھتا ہوں مگر مَیں نے دیکھا ہے کہ بعض دفعہ نہایت کم علم اور معمولی سے آدمی نے ایسا اعتراض کیا ہے کہ جو بہت وزنی ہوتا ہے اور کئی دفعہ میں نے بچوں کے منہ سے بڑے بڑے اہم اعتراض سنے ہیں۔ اس لئے یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ہمارا مدمقابل کم علم اور جاہل انسان ہے اور اس کی ہمیں کیا پرواہ ہے ۔ بلکہ یہی مدّ نظر رکھنا چاہئے کہ یہ بہت بڑا دُشمن ہے ۔ اور اگر بچہ سامنے ہو اور اس کا رُعب نہ پڑ سکے تو یہ خیال کرلینا چاہئے کہ ممکن ہے میرا امتحان ہونے لگا ہے۔ پس ایک طرف تو خواہ بچہ ہی مقابلہ پر ہو اس کو حقیر نہ سمجھو بلکہ بہت قوی جانو۔ اور دوسری طرف اس کے ساتھ ہی تمہارے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ ہم حق پر ہیں ہمیں کسی کا کیا ڈر ہو سکتا ہے۔ گویا نہ تو مد مقابل کو حقیر سمجھنا چاہئے اور نہ مایوس ہونا چاہئے کیونکہ جب خدا تعالیٰ پر اعتماد ہو تو اس کی طرف سے ضرور مدد آتی ہے اور خدا ہی کی مدد ہوتی ہے جس کے ذریعہ انسان دُشمن کے مقابلہ میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ ورنہ کون ہے جو سب دُنیا کے علم پڑھ سکتا ہے ؟ پھر کون ہے جو سب اعتراضات نکال سکتا ہے اور پھر کون ہے جو ان کے جوابات سوچ سکتا ہے ؟ ہر انسان کا دماغ الگ الگ باتیں نکالتا ہے۔ اس لئے خدا پر ہی اعتماد رکھنا چاہئے کہ وہ ہی ہماری مدد کرے گا اور ہم کامیاب ہوں گے اور ادھر دُشمن کو حقیر نہ سمجھا جائے ۔جب یہ دو باتیں ایک وقت میں انسان اپنے اندر پیدا کر لے تو وہ کبھی زک نہیں اُٹھا سکتا۔ مگر دیکھا گیا ہے کہ اکثر لوگ جب ایک دو دفعہ کامیاب ہو جاتے ہیں اور اچھا بولنے لگتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں۔ کون ہے جو ہمارا مقابلہ کرسکتا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔ دشمن کو کبھی حقیر نہ سمجھنا چاہئے بلکہ بہت بڑا سمجھنا چاہئے ہاں ساتھ ہی یہ بھی اعتقاد ہونا چاہئے کہ اگر دشمن قوی ہے تو میرا مددگار بھی بہت قوی ہے ۔ اس لئے دشمن میرے مقابلہ میں کچھ نہیں کر سکے گا۔ جب یہ دو باتیں انسان میں پیدا ہو جائیں۔ تو اوّل تو خدا اس کے دشمن کی زبان پر کوئی اعتراض ہی جاری نہیں کرے گا اور اگر کرے گا تو اس کا جواب بھی سمجھا دے گا۔ ایک دفعہ یہاں ایک انگریز پادری آیا۔ والٹر اس کا نام تھا۔ احمدیت کے متعلق ایک کتاب بھی اس نے لکھی ہے۔ اب مر گیا ہے اس نے مجھ سے پوچھا کہ قرآن انجیل اور توریت کی تصدیق کرتا ہے مگر ان میں آپس میں اختلاف پایا جاتا ہے اگرچہ میں قرآن کی تصدیق کرنے کے اور معنے کیا کرتا ہوں اور میرے نزدیک جب ایسے موقع پر لامِ صلہ آئے تو اس کا اور ہی مطلب ہوتا ہے۔ مگر اس وقت میرے دل میں یہی ڈالا گیا کہ کہو ہاں تصدیق کرتا ہے۔ اور بتایا گیا کہ وہ کوئی اختلاف پیش ہی نہیں کر سکے گا۔ اس نے کہا کہ ان میں تو اختلاف ہے پھر تصدیق کے کیا معنی؟ میں نے کہا کوئی اختلاف پیش تو کرو۔ اس پر وہ خوب قہقہہ مار کر ہنسا اور کہا ایک اختلاف؟ اختلاف تو بیسیوں ہیں۔ میں نے کہا ایک ہی پیش کرو۔ یہ باتیں میرے منہ سے خدا ہی کہلوا رہا تھا۔ ورنہ اختلاف تو فی الواقع موجود ہیں۔ گو اس قسم کے اختلاف نہیں ہیں جس قسم کے اس کی مراد تھی۔ وہ پادری تھا اور انجیل کا ماہر۔ اگر کوئی اختلاف پیش کر دیتا تو بات لمبی جا پڑتی۔ مگر چونکہ میرے دل میں ڈالا گیا تھا کہ وہ کوئی اختلاف پیش نہیں کر سکے گا۔ اس لئے میں نے زور دے کر کہا کہ کوئی اختلاف تو پیش کرو۔ اس نے تھوڑی دیر سوچ کر کہا۔ قرآن کریم میں لکھا ہے کہ مسیح پرندہ پیدا کیا کرتا تھا انجیل میں اس طرح نہیں لکھا۔ میں نے کہا۔ پادری صاحب آپ تو سمجھدار آدمی ہیں اور تاریخ نویسی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ بتائیں کیا اگر ایک مؤرخ کچھ واقعات کو اپنی کتاب میں درج کر دے اور دوسرا ان کو درج نہ کرے ۔ تو یہ کہا جائے گا کہ ان کتابوں کا آپس میں اختلاف ہے۔ یہ سن کر اس کے ساتھ جو دو انگریز تھے ان کی بے اختیار ہنسی نکل گئی اور انہوں نے کہا فی الواقع یہ تو کوئی اختلاف نہیں اس پر وہ بالکل خاموش ہو گیا۔ پس جب انسان خدا تعالیٰ پر بھروسہ کر لیتا ہے تو خدا خود اس کی مدد کرتا ہے اور اسے دشمن پر خواہ اس کا دشمن کتنا ہی قوی ہو کامیاب کر دیتا ہے۔

بارہویں ہدایت

بارہویں بات جس کا میں نے بارہا تجربہ کیا ہے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے اسے استعمال کیا ہو اور اس کا فائدہ نہ دیکھا ہو۔ یہ ہے کہ جب انسان تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہو تو ذہن میں جتنے علوم اور جتنی باتیں ہوں ان کو نکال دے اور یہ دُعا کر کے کھڑا ہو کہ اے خدا! جو کچھ تیری طرف سے مجھے سمجھایا جائے گا میں وہی بیان کروں گا۔ جب انسان اس طرح کرے تو اس کے دل سے ایسا علوم کا چشمہ پھوٹتا ہے جو بہتا ہی چلا جاتا ہے اور کبھی بند نہیں ہوتا۔ اس کی زبان پر ایسی باتیں جاری ہوتی ہیں کہ وہ خود نہیں جانتا۔

اس گر کا میں نے بڑا تجربہ کیا ہے بعض دفعہ ایسا بھی ہوا ہے کہ میں پانچ پانچ منٹ تقریر کرتا چلا گیا ہوں مگر مجھے پتہ نہیں لگا کہ کیا کہہ رہا ہوں۔ خود بخود زبان پر الفاظ جاری ہوتے چلے جاتے ہیں اور اس کے بعد جا کر معلوم ہوتا ہے کہ کس امر پر تقریر کر رہا ہوں۔ پچھلے ہی دنوں ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے خطبہ نکاح کے وقت ایسا ہی ہوا۔ جب میں کھڑا ہوا تو پتہ نہیں تھا کہ کیا کہنے لگا ہوں مگر کچھ منٹ بول چکا تو پھر بات سمجھ آئی کہ اس مضمون کو بیان کر رہا ہوں۔

یہ بات بہت اعلیٰ درجہ کی ہے اور ہر ایک شخص کو حاصل نہیں ہو سکتی۔ لیکن چونکہ یہاں ہر طبقہ کے آدمی ہیں اور دوسرے بھی جب اعلیٰ درجہ پر پہنچیں گے تو اس کو سمجھیں گے۔ اس لئے میں اسے بیان کرتا ہوں جب انسان تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہو تو بالکل خالی الذہن ہو کر کھڑا ہو اور اسی بات پر اسے بھروسہ ہو کہ جو کچھ خدا بتائے گا وہی بیان کروں گا۔ یہ توکل کا ایک ایسا مقام ہے کہ انسان جو کچھ جانتا ہے اسے بھی بھول جاتا ہے۔ ان لوگوں کو بھول جاتا ہے جو اس کے سامنے ہوتے ہیں حتیٰ کہ اپنا نام تک بھول جاتا ہے اور جو کچھ اس کی زبان پر جاری ہوتا ہے وہ نہیں جانتا کہ میں کیوں کہہ رہا ہوں اور اس کا کیا مطلب ہے؟ مثلاً وہ یہ کہتا ہے کہ خدا کی عبادت کرو ان الفاظ کو تو سمجھتا ہے اور ان کا مطلب بھی جانتا ہے مگر یہ اسے پتہ نہیں ہوتا کہ میں نے یہ کیوں کہا ہے اور کس مضمون کے بیان کرنے کے لئے میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے ہیں۔ جب وہ ایسی حالت میں ہوتا ہے تو پھر یکدم اس پر کشف ہوتا ہے کہ یہ بات ہے جس کو تو بیان کرنے لگا ہے۔ مگر یہ بات پیدا ہوتی ہے اپنے آپ کو گرا دینے سے۔ جب کوئی انسان اپنے آپ کو بالکل گرا دیتا ہے۔ تو پھر خدا تعالیٰ اسے اٹھاتا ہے لیکن اگر کوئی یہ سمجھے کہ میرے پاس علم ہے میں خوب لیکچر دے سکتا ہوں مجھے سب باتیں معلوم ہیں ان کے ذریعہ میں اپنا لیکچر بیان کروں گا تو اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی مدد نہیں ملتی۔ کہا جا سکتا ہے کہ اگر لیکچر کیلئے کھڑے ہوتے وقت بالکل خالی الذہن ہو کر کھڑا ہونا چاہئے تو پھر لیکچر کے لئے نوٹ کیوں لکھے جاتے ہیں۔ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ جس طرح لیکچر کے وقت میں نے بتایا ہے کہ بالکل خالی الذہن ہونا چاہئے اسی طرح جن لیکچروں کے لئے حوالوں کی کثرت یا مضمون کی طوالت یا اس کی مختلف شاخوں کے سبب سے نوٹ لکھنے ضروری ہوں ان کے نوٹ لکھتے وقت یہی کیفیت دماغ میں پیدا کرنی چاہئے اور پھر نوٹ لکھنے چاہئیں۔ میں ایسا ہی کرتا ہوں اور اس وقت جو کچھ خدا تعالیٰ سکھاتا جاتا ہے وہ لکھتا جاتا ہوں۔ پھر ان میں اور باتیں بڑھا لوں تو اور بات ہے۔ اسی سالانہ جلسہ پر لیکچر کے وقت ایک اعتراض ہوا تھا کہ فرشتوں کا چشمہ تو خدا ہے جیسا کہ بتایا گیا ہے اور وہ اس چشمہ سے لے کر آگے پہنچاتے ہیں۔ مگر شیطان کا چشمہ کیا ہے اس اعتراض پر دس پندرہ منٹ کی تقریر میرے ذہن میں آئی تھی اور میں وہ بیان ہی کرنے لگا تھا کہ یک لخت خدا تعالیٰ نے یہ فقرہ میرے دل میں ڈال دیا کہ شیطان تو چھینتا ہے نہ کہ لوگوں کو کچھ دیتا ہے اور چھیننے والے کو کسی ذخیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ ایسا مختصر اور واضح جواب تھا کہ جسے ہر ایک شخص آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا تھا۔ لیکن جو تقریر کرنے کا میں نے ارادہ کیا تھا وہ ایک تو لمبی تھی اور دوسرے ممکن تھا کہ علمی لحاظ سے وہ ایسی مشکل ہو جاتی کہ ہمارے دیہاتی بھائی اسے نہ سمجھ سکتے۔ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ دل میں ڈالا جاتا ہے وہ بہت جامع اور نہایت زود فہم ہوتا ہے اور اس کا اثر جس قدر سننے والوں پر ہوتا ہے اتنا کسی لمبی سے لمبی تقریر کا بھی نہیں ہوتا۔ پس تم یہ حالت پیدا کرو کہ جب تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہو تو بالکل خالی الذہن ہو اور خدا تعالیٰ پر تمہارا سارا مدار ہو۔ اگرچہ یہ حالت پیدا کر لینا ہر ایک کا کام نہیں ہے اور بہت مشکل بات ہے لیکن ہوتے ہوتے جب اس کی قابلیت پیدا ہو جائے تو بہت فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔

تیرہویں ہدایت

تیرہویں بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ کسی پارٹی میں اپنے آپ کو داخل نہ سمجھے۔ بلکہ سب کے ساتھ اس کا ایک جیسا ہی تعلق ہو۔ یہ بات صحابہؓ میں بھی ہوتی تھی کہ کسی سے محبت اور کسی مناسبت کی وجہ سے زیادہ تعلق ہوتا تھا اور وہ دوسروں کی نسبت آپس میں زیادہ تعلق رکھتے تھے۔ اور ہم میں بھی اس طرح ہے اور ہونی چاہئے لیکن جو بات بُری ہے اور جس سے مبلغ کو بالا رہنا چاہئے یہ ہے کہ وہ کسی فریق میں اپنے آپ کو شامل کرے۔ ہر ایک مبلغ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل ہے اور ظل وہی ہو سکتا ہے جس میں وہ باتیں پائی جائیں جو اصل میں تھیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ نکلے تو دیکھا کہ دو پارٹیاں آپس میں تیر اندازی کا مقابلہ کر رہی ہیں آپ ان کا حوصلہ بڑھانے کے لئے ایک کے ساتھ ہو کر تیر مارنے لگے اس پر دوسری پارٹی نے اپنی کمانیں رکھ دیں اور کہا ہم آپؐ کا مقابلہ نہیں کریں گے۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا لو۔ میں دخل نہیں دیتا۔ چونکہ آپؐ سب کے ساتھ ایک ہی تعلق رکھتے تھے۔ اس لئے آپؐ کو مدّ مقابل بنانے کے لئے صحابہؓ تیار نہ ہوئے۔ اور اس بات کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلیم کر کے دخل دینا چھوڑ دیا۔ یہ چونکہ جنگی لحاظ سے ایک مقابلہ تھا۔ اس لئے آپ الگ ہو گئے ورنہ ایسی باتیں جو تفریح کے طور پر ہوتی ہیں ان میں آپ شامل ہوتے تھے۔ چنانچہ ایسا ہوا ہے کہ گھوڑ دوڑ میں آپ نے بھی اپنا گھوڑا دوڑایا۔ اس قسم کی باتوں میں شامل ہونے میں کوئی حرج نہیں تھا۔ غرض مبلغ کو بھی ایسی باتوں میں کسی فریق کے ساتھ نہیں ہونا چاہئے جو مقابلہ کے طور پر ہوں اور بالکل الگ تھلگ رہ کر اس بات کا ثبوت دینا چاہئے کہ اس کے نزدیک دونوں فریق ایک جیسے ہی ہیں۔

چودھویں ہدایت

چودھویں بات یہ ضروری ہے کہ کسی کو یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ میرا علم کامل ہو گیا ہے بہت لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارا علم مکمل ہو گیا ہے اور ہمیں اور کچھ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر اس سے زیادہ جہالت کی اور کوئی بات نہیں ہے۔ کیونکہ علم کبھی مکمل نہیں ہو سکتا۔ میں تو علم کی مثال ایک رستہ کی سمجھا کرتا ہوں جس کے آگے دو رستے ہو جائیں پھر اس کے آگے دو ہو جائیں اور پھر اس کے آگے دو۔ اسی طرح آگے شاخیں ہی شاخیں نکلتی جائیں اور اس طرح کئی ہزار رستے بن جائیں۔ یہی حال علم کا ہوتا ہے۔ علم کی بیشمار شاخیں ہیں اور اس قدر شاخیں ہیں جن کی انتہاء ہی نہیں پس علم کا خاتمہ شاخوں کی طرف نہیں ہوتا بلکہ اس کا خاتمہ جڑ کی طرف ہے کہ وہ ایک ہے اور وہ ابتداء ہے جو جہالت کے بالکل قریب ہے۔ بلکہ جہالت سے بالکل ملی ہوئی ہے ورنہ آگے جوں جوں بڑھتے جائیں اس کی شاخیں نکلتی آتی ہیں اور وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتیں اگر کسی نے ایک شاخ کو ختم کر لیا تو اس کے لئے دوسری موجود ہے۔ غرض علم کی کوئی حد نہیں ہوتی اور وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا اور روحانی علوم کی تو قطعاً کوئی حد ہے ہی نہیں۔ ڈاکٹری کے متعلق ہی کس قدر علوم دن بدن نکل رہے ہیں اور روز بروز ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پس کوئی علم ختم نہیں ہو سکتا۔ اور جہاں کسی کو یہ خیال پیدا ہو کہ علم ختم ہو گیا ہے وہاں سمجھ لینا چاہئے کہ وہ علم کے درخت سے اُتر کر جہالت کی طرف آگیا ہے پس کبھی یہ مت خیال کرو کہ ہمارا علم کامل ہو گیا۔ کیونکہ ایک تو یہ جھوٹ ہے کوئی علم ختم نہیں ہو سکتا۔ دوسرے اس سے انسان متکبر ہو جاتا ہے اور اس کے دل پر زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے لیکن اگر انسان ہر وقت اپنے آپ کو طالب علم سمجھے اور اپنے علم کو بڑھاتا رہے تو اس کے دل پر زنگ نہیں لگتا۔ کیونکہ جس طرح چلتی تلوار کو زنگ نہیں لگتا لیکن اگر اسے یوں ہی رکھ دیا جائے اور اس سے کام نہ لیا جائے تو زنگ لگ جاتا ہے۔ پس ہر وقت اپنا علم بڑھاتے رہنا چاہئے اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ علم کبھی ختم نہیں ہونا۔

پندرھویں ہدایت

پندرھویں بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ بَلِّغْ میں کہا گیا ہے کہ پہنچا دے۔ اور جس کو کچھ پہنچایا جاتا ہے وہ بھی کوئی وجود ہونا چاہئے جو معین اور مقرر ہو۔ ورنہ اگر کسی معین وجود کو نہ پہنچانا ہوتا تو یہ کہا جاتا کہ پھینک دو یا بانٹ دو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے پہنچانا فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ معین وجود ہیں جن کو ان کا حصہ پہنچانا ہے۔ پھر قرآن کریم فرماتا ہے۔ کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ(آل عمران: ۱۱۱) اس میں عموم کے لحاظ سے سب انسان آگئے ان کو پیغام الٰہی پہنچانا ہمارا کام ہے۔ پس کسی قوم اور کسی فرقہ کو حقیر اور ذلیل نہ سمجھا جائے مبلغ کا کام پہنچانا ہے اور جس کو پہنچانے کے لئے کہا جائے اسے پہنچانا اس کا فرض ہے۔ اسے یہ حق نہیں کہ جسے ذلیل سمجھے اسے نہ پہنچائے اور جسے معزز سمجھے اسے پہنچائے۔ مگر ہمارے مبلغوں میں یہ نقص ہے کہ وہ ادنیٰ اقوام چوہڑوں چماروں میں تبلیغ کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ بھی خدا کی مخلوق ہے اسے بھی ہدایت کی ضرورت ہے۔ ان کو بھی تبلیغ کرنی چاہئے اور سیدھے رستہ کی طرف لانا چاہئے۔ عیسائیوں نے ان سے بڑا فائدہ اُٹھایا ہے اور اس سے زیادہ ہندوستان میں ایسی اقوام کے لوگوں کو عیسائی بنایا ہے جتنی ہماری جماعت کی تعداد ہے اور اب ان لوگوں کو کونسل کی ممبری کی ایک سیٹ بھی مل گئی ہے۔ ہمارے مبلغ اس طرف خیال نہیں کرتے۔ حالانکہ ان لوگوں کو سمجھانا بہت آسان ہے۔ ان کو ان کی حالت کے مطابق بتایا جائے کہ دیکھو تمہاری کیسی گری ہوئی حالت ہے۔ اس کو درست کرو اور اپنے آپ کو دوسرے انسانوں میں ملنے جلنے کے قابل بناؤ۔ اس قسم کی باتوں کا ان پر بہت اثر ہوگا۔ اور جب انہیں اپنی ذلیل حالت کا احساس ہو جائے گا اور اس سے نکلنے کا طریق انہیں بتایا جائے گا تو وہ ضرور نکلنے کی کوشش کریں گے۔ ان کو کسی مذہب کے قبول کرنے میں سوائے قومیت کی روک کے اور کوئی روک نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا تو یہ اچھی بات نہ ہوگی۔ ہمارے ہاں جو چوہڑیاں آتی ہیں تبلیغ کرنے پر کہتی ہیں۔ ہم مسلمان ہی ہیں مگر ہم اپنی قوم کو کیونکر چھوڑ دیں۔ یہ روک اس طرح دور ہو سکتی ہے کہ دس پندرہ بیس گھر اکٹھے کے اکٹھے مسلمان ہو جائیں اور ان کی قوم کی قوم بنی رہے جیسا کہ یہ لوگ جب عیسائی ہوتے ہیں تو اکٹھے ہی ہو جاتے ہیں۔ پس ان میں تبلیغ کرنے کی ضرورت ہے اور سخت ضرورت ہے۔ اگر ہم ساری دنیا کے لوگوں کو مسلمان بنالیں مگر ان کو چھوڑ دیں تو قیامت کے دن خدا تعالیٰ کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ چوہڑے چمار تھے اس لئے ہم نے انکو مسلمان نہیں بنایا۔ خدا تعالیٰ نے ان کو بھی آنکھ، کان، ناک، دماغ، ہاتھ، پاؤں اسی طرح دیئے ہیں جس طرح اوروں کو دیئے ہیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انہوں نے ان چیزوں کا غلط استعمال کر کے انہیں خراب کر لیا ہے اگر ان کی اصلاح کر لی جائے ۔ تو وہ بھی ویسے ہی انسان بن سکتے ہیں جیسا کہ دوسرے ۔ چنانچہ مسیحیوں میں بعض چوہڑوں نے تعلیم پا کر بہت ترقی کر لی ہے ۔ ان کے باپ یا دادا عیسائی ہو گئے اور اب وہ علم پڑھ کے معزز عہدوں پر کام کر رہے ہیں اور معزز سمجھے جاتے ہیں ۔ پس اگر ان لوگوں کی اصلاح کر لی جائے تو یہ بھی اوروں کی طرح ہی مفید ثابت ہو سکتے ہیں ۔ ہمارے مبلغوں کو اس طرف بھی خیال کرنا چاہئے اور ان لوگوں میں بھی تبلیغ کرنی چاہئے ۔

سولہویں ہدایت

سولہویں بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ لوگوں سے ملنا جلنا جانتا ہو ۔ بہت لوگ اس بات کو معمولی سمجھتے ہیں اور اس سے کام نہیں لیتے ۔ لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے سے بڑا فائدہ ہوتا ہے اور اس طرح بہت اعلیٰ نتائج نکلتے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء میں لوگوں کے خیموں میں جاتے اور تبلیغ کرتے تھے ۔ وہ لوگ جو اپنے آپ کو بڑا آدمی سمجھتے ہیں وہ عام لیکچروں میں نہیں آتے ان کے گھر جا کر ان سے ملنا چاہئے ۔ اس طرح ملنے سے ایک تو وہ لوگ باتیں سُن لیتے ہیں ۔ دوسرے ایک اور بھی فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے ۔ اور وہ یہ کہ اگر کبھی کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہوگی تو اگر یہ لوگ ظاہری مدد نہیں دیں گے تو خفیہ ضرور دیں گے ۔ کیونکہ ملنے اور واقفیت پیدا کر لینے سے ایک ذاتی تعلق پیدا ہو جاتا ہے ۔ اور وہ لوگ جن میں شرافت ہوتی ہے اس کا ضرور لحاظ رکھتے ہیں ۔ ہمارے مسٹر محمد امین سابق ساگر چند صاحب میں ملنے کی عادت ہے ۔ وہ لارڈوں تک سے ملتے رہے ہیں اور اب تک خط و کتابت کرتے رہتے ہیں ۔ تو ملنے جلنے اور واقفیت پیدا کر لینے سے انسان بہت سی باتیں سنا سکتا ہے ۔ جو کسی دوسرے ذریعہ سے نہیں سُنا سکتا ۔ اس لئے ہمارے مبلغوں کو اس بات کی بھی عادت ڈالنی چاہئے اور اس سے فائدہ اُٹھانا چاہئے ۔

سترہویں ہدایت

سترہویں بات یہ ہے کہ مبلغ میں ایثار کا مادہ ہو ۔ جب تک یہ نہ ہو لوگوں پر اثر نہیں پڑتا ۔ جب ایثار کی عادت ہو تو لوگ خود بخود کھنچے چلے آتے ہیں ۔ کئی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایثار کس طرح کریں ۔ کونسا موقع ہمارے لئے ایثار کا ہوتا ہے مگر اس کے بہت موقعے اور محل ملتے رہتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ہی دیکھ لو کہ ریل پر سوار ہونے والوں کو قریباً ہر اسٹیشن پر وہ لوگ سوار ہونے سے روکتے ہیں جو پہلے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ سوار ہونے والا ان کی منتیں کرتا ہے خوشامدیں کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں کھڑا ہی رہوں گا لیکن اسے روکا جاتا ہے اور جب وہ بیٹھ جاتا ہے تو دیکھا گیا ہے کہ پھر جو سوار ہونے کے لئے آتا ہے اسے سب سے آگے بڑھ کر وہی روکتا ہے اور کہتا ہے یہاں جگہ نہیں ہے ہمارا دَم پہلے ہی گھٹ رہا ہے اسی طرح ہر جگہ ہوتا رہتا ہے۔ ایسے موقع پر مبلغ ان کا افسر بن کر بیٹھ جائے اور نرمی و محبت سے کہے آنے دیجئے کوئی حرج نہیں بیچارہ رہ گیا تو نہ معلوم اس کا کتنا نقصان ہو۔ اور اگر کہیں جگہ نہ ہو تو کہہ دے میں کھڑا ہو جاتا ہوں۔ یہاں بیٹھ جائے گا۔ جب وہ اس بات کے لئے تیار ہو جائے گا اور اس قدر ایثار کرے گا تو اس کا لوگوں پر اتنا اثر ہو گا کہ سب ایثار کے لئے تیار ہو جائیں گے اور تھوڑی تھوڑی جگہ نکال کر آنے والے کو بٹھا دیں گے۔ اس طرح اسے اپنی جگہ بھی نہیں چھوڑنی پڑے گی اور بات بھی پوری ہو جائے گی۔ اس قسم کی باتوں سے مبلغ لوگوں کو ممنونِ احسان بنا سکتے ہیں ایک مبلغ جن لوگوں کو گاڑی کے اندر لائے گا وہ تو اس کے شکر گزار ہوں گے ہی ، دوسرے بھی اس کے اخلاق سے متاثر ہوں گے اور اس کی عزت کرنے لگیں گے۔ اور اس طرح انہیں تبلیغ کرنے کا موقع نکل آئے گا۔ لیکن اگر اس موقع پر اسی قسم کی بداخلاقی دکھائی جائے جس طرح کی اور لوگ دکھاتے ہیں تو پھر کوئی بات سننے کے لئے تیار نہ ہو گا۔ اور نہ تمہیں خود جرأت ہو سکے گی کہ ایسے موقع پر کسی کو تبلیغ کر سکو۔ ایک سفر میں ایک شخص گاڑی کے اس کمرہ میں آداخل ہوا جس میں ہمارے آدمی بیٹھے تھے۔ اس کے پاس بہت سا اسباب تھا جب وہ اسباب رکھنے لگا تو بعض نے اسے کہا کہ یہ سیکنڈ کلاس ہے۔ اس سے اتر جائیے اور کوئی اور جگہ تلاش کیجئے لیکن وہ خاموشی سے ان کی باتیں سنتا رہا۔ اور جب اسباب رکھ چکا تو سیکنڈ کلاس کا ٹکٹ نکال کر ان کو دکھلا دیا۔ اس پر وہ سخت نادم ہو کر بیٹھ گئے۔ مجھے سخت افسوس تھا کہ ان لوگوں نے اس قسم کی بداخلاقی کیوں دکھائی۔ جب میں نے اس کا جواب سُنا تو میرے دل کو بہت خوشی ہوئی جس سے اس طرح پیش آئے تھے وہ لوگ تبلیغ کر سکتے تھے اور وہ ان کی باتوں سے متاثر ہو سکتا تھا۔ ہرگز نہیں۔ تو ایثار کے موقع پر ایثار کر کے لوگوں میں اپنا اثر پیدا کرنا چاہئے تاکہ تبلیغ کے لئے راستہ نکل سکے۔ اس قسم کی اور بیسیوں باتیں ہیں جن میں انسان ایثار سے کام لے سکتا ہے۔

اٹھارہویں ہدایت

اٹھارہویں بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دلائل دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک عقلی اور دوسرے ذوقی۔ عقل تو چونکہ کم و بیش ہر ایک میں ہوتی ہے اس لئے عقلی دلائل کو ہر شخص سمجھ سکتا ہے لیکن ذوقی دلیل ہوتی تو سچی اور پکی ہے مگر چونکہ ایسی ہوتی ہے کہ مناسبت ذاتی کے بغیر اس کو سمجھنا ناممکن ہوتا ہے۔ اس لئے اس کا مخالف کے سامنے پیش کرنا مناسب نہیں ہوتا۔ کیونکہ اگر اس میں بھی ذوقِ سلیم ہوتا اور اس کا دل اس قابل ہوتا ہے کہ اس بات کو سمجھ سکے تو وہ احمدی کیوں نہ ہوگیا ہوتا اور کیوں الگ رہتا۔ اس کا تم سے الگ رہنا بتاتا ہے کہ اس میں وہ ذوقِ سلیم نہیں ہے جو تمہارے اندر ہے۔ اور ابھی اس کا دل اس قابل نہیں ہوا کہ ایسا ذوق اس کے اندر پیدا ہو سکے۔ اس لئے پہلے اس کے اندر یہ ذوق پیدا کرو اور پھر اس قسم کی دلیلیں اسے سناؤ۔ ورنہ اس کا اُلٹا اثر پڑے گا۔ کئی مبلغ ہیں جو مخالفین کے سامنے اپنی ذوقی باتیں سنانے لگ جاتے ہیں اور اس سے بجائے فائدہ کے نقصان ہوتا ہے۔ کیونکہ مخالف اس کا ثبوت مانگتا ہے تو وہ دیا نہیں جاسکتا اور اس طرح زک اُٹھانی پڑتی ہے پس مخالفین کے سامنے ایسے دلائل پیش کرنے چاہئیں جو عقلی ہوں اور جن کی صحت ثابت کی جاسکے۔

انیسویں ہدایت

انیسویں بات یہ ہے کہ مبلغ کوئی موقع تبلیغ کا جانے نہ دے۔ اسے ایک دھت لگی ہو کہ جہاں جائے جس مجلس میں جائے ، جس مجمع میں جائے، تبلیغ کا پہلو نکال ہی لے۔ جن لوگوں کو باتیں کرنے کی عادت ہوتی ہے وہ ہر ایک مجلس میں بات کرنے کا موقع نکال لیتے ہیں۔ مجھے باتیں نکالنے کی مشق نہیں ہے اس لئے بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ گھنٹہ گھنٹہ بیٹھے رہنے پر بھی کوئی بات نہیں کی جاسکتی۔ حضرت مسیح موعودؑ عام طور پر باتیں کر لیتے تھے۔ مگر پھر بھی بعض دفعہ چپ بیٹھے رہتے تھے۔ ایسے موقع کے لئے بعض لوگوں نے مثلاً میاں معراج الدین صاحب اور خلیفہ رجب الدین صاحب نے یہ عمدہ طریق نکالا تھا کہ کوئی سوال پیش کر دیتے تھے کہ حضور مخالفین یہ اعتراض کرتے ہیں اس پر تقریر شروع ہو جاتی۔ تو بعض لوگوں کو باتیں کرنے کی خوب عادت ہوتی ہے۔ اور بعض تو ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں چپ کرانا پڑتا ہے۔ مبلغوں کے لئے باتیں کرنے کا ڈھب سیکھنا نہایت ضروری ہے۔

میر صاحب ہمارے نانا جان کو خدا کے فضل سے یہ بات خوب آتی ہے۔ میں نے ان کیساتھ سفر میں رہ کر دیکھا کہ خواہ کوئی کسی قسم کی بھی باتیں کر رہا ہو۔ وہ اس سے تبلیغ کا پہلو نکال ہی لیتے ہیں۔

بیسویں ہدایت

بیسویں بات یہ ہے کہ مبلغ بیہودہ بحثوں میں نہ پڑے۔ بلکہ اپنے کام سے کام رکھے۔ مثلاً ریل میں سوار ہو تو یہ نہیں کہ ترک موالات پر بحث شروع کر دے۔ میں نے اس کے متعلق کتاب لکھی ہے مگر اس لئے لکھی ہے کہ میرے لئے جماعت کی سیاسی حالت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے اور سیاسی طور پر اپنی جماعت کی حفاظت کرنا بھی میرا فرض ہے۔ اگر میں صرف مبلغ ہوتا تو کبھی اس کے متعلق کچھ نہ لکھتا کیونکہ مبلغ کو ایسی باتوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے ہر وقت اپنے کام کا ہی فکر رکھنا چاہئے۔ اور اگر کہیں ایسی باتیں ہو رہی ہوں جو اس کے دائرہ عمل میں داخل نہیں ہیں تو وہ واعظانہ رنگ اختیار کرے اور کہے کہ اتفاق و اتحاد ہی اچھا ہوتا ہے اور وہی طریقِ عمل اختیار کرنا چاہئے جس میں کوئی فساد نہ ہو کوئی فتنہ نہ پیدا ہو اور کسی پر ظلم نہ ہو۔ اس کے سوا کیا ہو یا کیا نہ ہو اس میں پڑنے کی اسے ضرورت نہیں ہے بلکہ یہی کہے کہ ہر ایک وہ بات جو فساد، فتنہ اور ظلم و ستم سے خالی ہو اور حق و انصاف پر مبنی ہو اسے ہم ماننے کے لئے تیار ہیں اور اس میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ جو بات حق و صداقت پر مبنی ہو اسے ہم ہر وقت ماننے کے لئے تیار ہیں۔

اکیسویں ہدایت

اکیسویں بات یہ ہے کہ مبلغ کو اس بات کی بھی نگرانی کرنی چاہئے کہ ہماری جماعت کے لوگوں کے اخلاق کیسے ہیں۔ مبلغ کو اپنے اخلاق درست رکھنے بھی نہایت ضروری ہیں۔ مگر اس کے اخلاق کا اثر مخالفین پر اتنا نہیں ہوتا جتنا ان لوگوں کے اخلاق پر ہوتا ہے جو ہر وقت ان کے پاس رہتے ہیں۔ مبلغ تو ایک آدھ دن کے لئے کسی جگہ جائے گا اور مخالفین اس کے اخلاق کا اندازہ بھی نہ لگا سکیں گے۔ ان پر تو وہاں کے احمدیوں کے اخلاق کا ہی اثر ہو گا۔ لیکن اگر ان احمدیوں کے اخلاق اچھے نہیں جو ان میں رہتے ہیں تو خواہ انہیں کوئی دلیل سناؤ ان کے سامنے وہاں کے لوگوں کے ہی اخلاق ہوں گے اور ان کے مقابلہ میں دلیل کا کچھ بھی اثر ان پر نہ ہو گا۔ پس مبلغ کا یہ اولین فرض ہے کہ جہاں جائے وہاں کے لوگوں کے متعلق دیکھے کہ ان کے روحانی اور ظاہری اخلاق کیسے ہیں۔ ان کے اخلاق اور عبادات کو خاص طور پر دیکھے اور ان کی نگرانی کرتا رہے۔ جب بھی جائے مقابلہ کرے کہ پہلے کی نسبت انہوں نے ترقی کی ہے یا نہیں۔ یہ نہایت ضروری اور اہم بات ہے اور ایسی اہم بات ہے کہ اگر اخلاق درست نہ ہوں تو ساری دلیلیں باطل ہو جاتی ہیں۔ اور اگر اخلاق درست ہوں تو ایک آدمی بھی بیسیوں کو احمدی بنا سکتا ہے۔ کیونکہ دس تقریریں اتنا اثر نہیں کرتیں جتنا اثر ایک دن کے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ کرتا ہے۔ کیونکہ یہ مشاہدہ ہوتا ہے اور مشاہدہ کا اثر دلائل سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔ دیکھو اگر ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ(2:3) کا اثر بذریعہ کشف دل پر ڈال دیا جائے تو اس کا اتنا اثر ہو گا کہ سارے قرآن کے الفاظ پڑھنے سے اتنا نہ ہو گا۔ کیونکہ وہ مشاہدہ ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیاء نے کہا ہے ایک آیت پر عمل کرنا بہتر ہے بہ نسبت سارا قرآن پڑھنے کے۔ اس کا غلط مطلب سمجھا گیا کہ ایک ہی آیت کو لے لینا چاہئے اور باقی قرآن کو چھوڑ دینا چاہئے۔ حالانکہ اس سے مراد وہ اثر ہے جو کسی

آیت کے متعلق کشفی طور پر انسان پر ہو۔ تو اخلاق کا نمونہ دکھانا بڑی تاثیر رکھتا ہے۔ اسی کے متعلق قرآن میں آیا ہے رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ کَانُوۡا مُسۡلِمِیۡنَ(الحجر: ۳) کفار مسلمانوں کے اخلاق کو دیکھ کر خواہش کرتے کہ کاش ہم بھی ایسے ہو جائیں۔ یہ اخلاق ہی کا اثر ہو سکتا ہے کہ کافر بھی مؤمن کی طرح بننے کی خواہش کرتا ہے۔ اور جب کوئی سچے دل سے خواہش کرے تو اس کو خدا ان لوگوں میں داخل بھی کر دیتا ہے جن کے اخلاق اسے پسند آتے ہیں۔

بائیسویں ہدایت

بائیسویں بات مبلغ کے کامیاب ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس میں ایک حیات اور حرکت ہو۔ یعنی اس میں چُستی، چالا کی اور ہوشیاری پائی جائے۔ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ تم جہاں جاؤ آگ لگا دو تا کہ لوگ جاگیں اور تمہاری باتیں سنیں۔ پس چاہئے کہ مبلغ کے اپنے جسم میں ایک ایسا جوش اور ولولہ پیدا ہو جائے کہ جو زلزلہ کی طرح اس کے جسم کو ہلا دے اور وہ دوسروں میں زلزلہ پیدا کر دے۔ مبلغ جس گاؤں یا شہر میں جائے وہ سونے کے بلکہ بیدار ہو جائے۔ مگر اب تو ایسا ہوتا ہے کہ کبھی مبلغ ایک ایک مہینہ کسی جگہ رہ کر آ جاتا ہے اور وہاں کے لوگوں کو اتنا بھی معلوم نہیں ہوتا کہ یہاں کوئی آیا تھا۔

ان ہدایات پر عمل کرو

یہ بائیس موٹی موٹی باتیں ہیں مگر اس لئے نہیں کہ ان کو سنو اور کان سے نکال دو بلکہ اس لئے ہیں کہ ان پر عمل کرو۔ ہماری ترقی اسی لئے رُکی ہوئی ہے کہ صحیح ذرائع سے کام نہیں لیا جا رہا۔ اخلاص اور چیز ہے لیکن کام کو صحیح ذرائع اور طریق سے کرنا اور چیز۔ دیکھو اگر کوئی شخص بڑے اخلاص کے ساتھ مسجد کے پیچھے مرزا نظام الدین صاحب کے مکان کی طرف بیٹھ رہے اور کہے کہ میں اخلاص کے ذریعہ مسجد میں داخل ہو جاؤں گا تو داخل نہیں ہو سکے گا۔ لیکن اگر کسی میں اخلاص نہ بھی ہو اور وہ مسجد میں آنے کا راستہ جانتا ہو تو آ جائے گا۔ ہاں جب یہ دونوں باتیں مل جائیں یعنی اخلاص بھی ہو اور صحیح طریق پر عمل بھی ہو تب بہت بڑی کامیابی حاصل ہو سکتی۔ پس یہ ہدایتیں جو میں نے بتائی ہیں ان پر عمل کرو تا کہ تبلیغ صحیح طریق کے ماتحت ہو۔ یہ ہدایتیں دفترِ تالیف میں محفوظ رہیں گی اور ان کے مطابق دیکھا جائے گا کہ کس کس مبلغ نے ان پر کتنا کتنا عمل کیا ہے۔

یہ ٹھیک بات ہے اور میں نے بارہا اس پر زور دیا ہے کہ مبلغ کا کام کسی سے منوانا نہیں بلکہ پہنچانا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ لوگ مانتے ہی نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچاتے ہی تھے۔ منواتے نہ تھے۔ مگر لوگ مانتے تھے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ پہنچاتے ہی تھے۔ منواتے نہیں تھے۔ مگر لوگ مانتے تھے۔ کیوں؟ اس لئے کہ صحیح ذرائع کے ماتحت پہنچانے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مان لیتے ہیں۔

پس ہمارے مبلغ بھی صحیح ذرائع پر عمل کریں گے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ لوگ نہ مانیں۔ اگر ہم ان باتوں کو جو میں نے بیان کی ہیں اپنی جماعت کے ہر ایک آدمی میں پیدا کر دیں تو ہر سال ہماری جماعت پہلے کی نسبت دگنی ہو جائے۔ کیونکہ کم از کم ایک شخص ایک کو تو احمدی بنالے اور اگر اس طرح ہونے لگ جائے تو تم دیکھ سکتے ہو کہ ہماری جماعت کسقدر ترقی کر سکتی ہے۔ بیس پچیس سال کے اندر اندر دنیا فتح ہو سکتی ہے۔ اس وقت اگر ہم اپنی جماعت کو بطور تنزل ایک لاکھ ہی قرار دیں تو اگلے سال دو لاکھ ہو جائے اور اس سے اگلے سال چار لاکھ، پھر آٹھ لاکھ، پھر سولہ لاکھ اس طرح سمجھ لو کہ کس قدر جلدی ترقی ہو سکتی ہے۔ مگر یہ خیالی اندازہ ہے۔ اگر اس کو چھوڑ بھی دیا جائے اور حقیقی طور پر اندازہ لگایا جائے تو دس پندرہ سال کے اندر اندر ہماری جماعت اس قدر بڑھ سکتی ہے کہ سیاسی طور پر بھی ہمیں کوئی خطرہ نہیں رہ جاتا۔ مگر افسوس ہے کہ صحیح ذرائع اور اصولِ تبلیغ سے کام نہیں لیا جاتا اگر ان سے کام لیا جائے اور ان شرائط کو مدّنظر رکھا جائے جو میں نے بیان کی ہیں تو قلیل عرصہ میں ہی اتنی ترقی ہو سکتی ہے کہ ہماری جماعت پہلے کی نسبت بیس گنے ہو جائے۔ اور جب جماعت بڑھ جاتی ہے تو وہ خود تبلیغ کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اگر اس وقت ہماری جماعت بیس لاکھ ہو جائے تو ہزاروں ایسے لوگ جو چھپے ہوئے ہیں وہ ظاہر ہو کر ہمارے ساتھ مل جائیں گے۔

پس ایک انتظام اور جوش کے ساتھ کام کرنا چاہئے ۔ اور اس سال ایسے جوش سے کام کرو کہ کم از کم ہندوستان میں زلزلہ آیا ہوا معلوم ہو۔ اور اگر تم اس طرح کرو گے تو پھر دیکھو گے کہ کس قدر ترقی ہوتی ہے۔