فہرست

انوار العلوم جلد ۳

صفحات ۱–۶۱۴

چند غلط فہمیوں کا ازالہ

(مسئلہ نبوت کے بارہ میں

مولوی محمد علی صاحب کے بعض خیالات کا رد)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ

چند غلط فہمیوں کا ازالہ

جب انسان جلد بازی سے کام لیتا ہے اور بغیر کافی غور کرنے کے ایک بات پر بحث کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ٹھوکر کھاتا ہے اور بجائے راستی کو پانے کے دروغ پر ہاتھ مارتا ہے اور اپنے ساتھ اور بہت سے بے خبروں کو بھی باطل کے عمیق گڑھے میں گرا دیتا ہے۔ خواجہ کمال الدین صاحب کے رسالہ ”اندرونی اختلافاتِ سلسلہ احمدیہ کے اسباب“ پر جو میں نے رسالہ ”القول الفصل“ لکھا تھا اس کے ایک حصہ کے جواب دینے کی مولوی محمد علی صاحب نے کوشش کی ہے اور مجھے افسوس ہے کہ انہوں نے بہت سی غلط فہمیوں میں پڑ کر بہت سے اور لوگوں کو بھی حق کے سمجھنے سے روکا ہے اور جلد بازی سے کام لے کر میرے مضمون پر کافی غور کئے بغیر ہی اس کا جواب لکھنے کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں۔ جب آپ کا رسالہ میرے پاس پہنچا اور میں نے اسے پڑھا تو اس کے پڑھتے ہی میں نے معلوم کر لیا کہ بجائے اس کے کہ جناب مولوی صاحب رسالہ ”القول الفصل“ کو پڑھ کر ان غلطیوں سے متنبہ ہوتے جن میں آپ گرفتار تھے آپ نے اس کے جواب لکھنے کی فکر میں اس رسالہ کی عبارت پر بھی غور نہیں کیا اور چند اور غلط فہمیوں کا شکار ہو گئے اور القول الفصل کی کسی غلطی کا ازالہ تو کیا کرنا تھا اپنی سمجھ کی بعض غلطیوں کو دور کرنے لگ گئے اور گو بعض وہ اشخاص جنہوں نے رسالہ القول الفصل نہ پڑھا ہو دھوکا کھا جائیں کہ جناب مولوی صاحب نے واقع میں القول الفصل کی کوئی سخت غلطی معلوم کر لی ہے لیکن جو لوگ القول الفصل کے مضمون سے آگاہ ہیں وہ اس رسالہ کو دیکھتے ہی معلوم کر لیں گے کہ مولوی صاحب موصوف نے بجائے القول الفصل کی کسی غلطی کا ازالہ کرنے کے خود ایک غلطی ایجاد کی ہے اور پھر اس کا جواب دینا شروع کر دیا

ہے۔ مگر چونکہ ممکن تھا کہ مولوی صاحب کے رسالہ کو کوئی شخص میرے رسالہ کی تردید خیال کرلیتا اس لئے میں نے اس رسالہ کے پہنچتے ہی اس کے جواب میں ایک رسالہ لکھنا شروع کر دیا۔ لیکن بعد میں مجھے خیال پیدا ہوا کہ مسئلہ نبوت پر ایک مستقل کتاب لکھ دی جائے تاکہ اپنی جماعت کے لوگ اس کو خوب اچھی طرح سمجھ لیں اور آئندہ ہر رسالہ کے جواب دینے کی ضرورت نہ رہے اور ہر جگہ کے احمدی خود بخود ہر اعتراض کا جواب دینے پر قادر ہو جائیں اور انہیں ایسے ٹریکٹوں کے جواب کے لئے قادیان سے جواب شائع ہونے کی انتظار نہ کرنی پڑے۔ اس لئے میں نے اس رسالہ کو کتاب کی صورت میں تبدیل کر دیا جو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے شائع ہو چکی ہے۔ لیکن چونکہ احمدی جماعت کو واقف کرنے کے علاوہ غیر مبائعین کو سمجھانا بھی اور غیر احمدیوں کے دلوں سے ان غلط فہمیوں کو دور کرنا بھی جو ان میں ہمارے اعتقادات کی نسبت پھیلائی جاتی ہیں نہایت ضروری ہے اور اتنی بڑی کتاب نہ کثرت سے شائع کی جا سکتی ہے اور نہ ہر ایک شخص اس کو پڑھ سکتا ہے اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ایک ایسے مختصر ٹریکٹ میں مولوی صاحب کی غلط فہمیوں کو ظاہر کر دیا جائے جسے تمام غیر مبائعین اور غیر احمدی بھی آسانی سے پڑھ سکیں اور اس کی اشاعت بھی کثرت سے ہو سکے۔

جناب مولوی صاحب نے اپنے رسالہ کے شروع میں اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ وہ نیک نیتی سے سب کام کر رہے ہیں اور ہمیں اس بات کے قبول کر لینے سے کوئی چیز مانع نہیں کہ وہ واقع میں نیک نیتی سے ہی سب کام کر رہے ہیں لیکن ہم اس بات کے اظہار سے بھی نہیں رک سکتے کہ نیک نیتی کے ساتھ ساتھ تعصب بھی ضرور شامل ہے کیونکہ گو اس بات کو ہم تسلیم کر سکتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر لوگوں کو دھوکا نہیں دے رہے لیکن اس بات کو ہم تسلیم نہیں کر سکتے کہ وہ ہماری تحریرات کو ٹھنڈے دل اور اطمینان قلب کے ساتھ پڑھتے ہیں بلکہ اس کے برخلاف ان کی تحریرات کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وہ جوش و غضب سے مجبور ہو کر اپنی رائے سے اختلاف رکھنے والے کی تحریر پر کافی غور نہیں کر سکتے اور اس کے غلط معنی سمجھ کر اپنی غلط فہمی کا ازالہ شروع کر دیتے ہیں اور یہ عادت انسان کے لئے بہت سی ٹھوکروں کا موجب ہو جاتی ہے۔

ہم جناب مولوی صاحب کی اس نصیحت کو بھی قبول کرتے ہیں کہ غلو نہایت بری شئے ہے اور مانتے ہیں کہ غلو بھی؎ انسان کو ویسا ہی تباہ کر دیتا ہے جیسا کہ کسی کو اس کے درجہ سے گھٹانا۔

لیکن آپ کے اس خیال کو ہرگز قبول نہیں کر سکتے کہ کسی مصلح کی جماعت اسے اپنے درجہ سے گھٹاتی نہیں اور تاریخ سے ثابت ہے کہ تمام مصلحین کی جماعتوں نے ان کے درجہ کے متعلق غلو سے کام لیا ہے نہ تفریط سے کیونکہ ہمارے سامنے خود ایسے لوگ موجود ہیں کہ جو اپنے پیشواؤں کے درجہ کو بڑھانے کی بجائے گھٹانے کے عادی ہیں۔ چکڑالوی رسول اللہ کے فیصلہ کو حجت نہیں قرار دیتے اور جہاں رسولوں کی اطاعت کا حکم آتا ہے اس سے مراد قرآن کریم کو لیتے ہیں اسی طرح خوارج کا گروہ تھا کہ وہ بھی رسول اللہ کو وحی کے علاوہ عام مسلمانوں کا سا درجہ دیتا تھا اور اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ(یوسف: ۴۱، ۶۸) کے مفہوم کو غلط سمجھ کر حق سے دور ہو رہا تھا پھر احادیث سے ثابت ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت کے منہ پر کہہ دیا کہ آپ عدل سے کام لیں۔ پس یہ بات غلط ہے کہ تفریط سے کسی جماعت نے کام نہیں لیا بلکہ اگر افراط سے کام لیا گیا ہے تو تفریط سے بھی کام لیا گیا ہے۔ پھر ہم اس بات کے اقرار کرنے سے بھی نہیں رک سکتے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوؤں کی جماعتوں میں سے ایک جماعت بھی ایسی نہیں ملتی جس کے اکثر افراد اس کی وفات کے ساتھ ہی بگڑ گئے ہوں بلکہ وہ لوگ جو اس کے صحبت یافتہ ہوتے ہیں ان کا بڑا حصہ ہمیشہ حق پر قائم رہتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کے صحبت یافتوں کا ایک بڑا حصہ ہمارا ہم خیال ہے پھر یہ بھی بات ہے کہ اگر جناب مولوی صاحب کے مقرر کردہ اصل کو قبول کر لیا جائے تو ہمیں پہلے جماعت احمدیہ کے تمام لوگوں کے عقائد معلوم کرنے ہوں گے۔ اور پھر ان میں سے جس شخص کے عقائد میں حضرت مسیح موعودؑ کا درجہ سب احمدیوں کے عقائد کی نسبت کم ہو اسے قبول کرنا ہو گا کیونکہ اگر اس کے سوا کسی اور عقیدہ کو قبول کیا جائے گا تو ماننا پڑے گا کہ ماموروں کی جماعت میں سے بعض درجہ کو بڑھانے کی بجائے کم بھی کر دیتے ہیں اور یہ بات جناب مولوی صاحب کی تحقیق کے بالکل خلاف ہے پس جو احمدی حضرت مسیح موعودؑ کے درجہ کو باقی سب احمدیوں کی نسبت گھٹا کر بیان کرتا ہے اسی کا خیال صحیح تسلیم کرنا پڑے گا اور میں ایسے آدمی پیش کر سکتا ہوں جن کے خیال میں حضرت مسیح موعودؑ کی وہ باتیں جو آپ وحی سے نہ کہیں ماننے کے قابل نہیں اور ایسے آدمی بھی پیش کر سکتا ہوں جو کہتے ہیں کہ مسیح موعودؑ نے چونکہ ہم کو نہ مانا اس لئے بطور سزا ان کی عمر کم کر دی گئی اور ایسے بھی جو کہتے ہیں کہ آپ بلحاظ ماموریت کے جو کچھ فرماتے ہیں درست ہے لیکن مامور بھی بشر ہوتا ہے اور بلحاظ بشریت گناہ میں مبتلا ہو سکتا ہے چنانچہ ایک غیر مبائع صاحب نے پیسہ اخبار میں ایک خط لکھا ہے اور اس میں قبول کیا ہے کہ حضرت مسیح موعودؓ بھی نفسانیت سے پاک نہ تھے بلکہ آپ میں بھی ایک حد تک شخصیت پائی جاتی تھی۔ پس اگر اس اصل کو تسلیم کر لیا جائے تو ان لوگوں کے خیالات کو اصل اور درست قرار دینا ہو گا کیونکہ تفریط تو کوئی جماعت کر ہی نہیں سکتی۔ لیکن یہ بات بالکل غلط ہے۔ بعض لوگ افراط کرتے ہیں اور بعض تفریط۔ لیکن ہمیشہ مامور کی صحبت پانے والا حصہ زیادہ تر حق پر رہتا ہے نہ کہ افراط و تفریط میں مبتلا ہو جاتا ہے اور جو لوگ حق کو چھوڑتے ہیں خواہ افراط کریں یا تفریط وہ مامور کی فیض و صحبت یافتہ جماعت کا ایک قلیل گروہ ہو سکتے ہیں نہ کثیر ورنہ مامور پر ناکام جانے کا الزام آتا ہے۔

اس بات کے ظاہر کرنے کے بعد کہ مولوی صاحب کا اس امر سے حجت پکڑنا کہ ہمیشہ کسی مصلح کی جماعت اس کے درجہ میں افراط سے کام لیتی ہے نہ کہ تفریط سے اس لئے ہم حق پر ہیں غلط ہے۔ میں بتانا چاہتا ہوں کہ مولوی صاحب کی وہ کونسی غلط فہمیاں ہیں جن کے ازالہ کے لئے انہیں قلم اٹھانی پڑی ہے؟ سو یاد رہے کہ میں نے اپنے رسالہ ”القول الفصل“ میں لکھا تھا کہ حضرت مسیح موعودؓ کو جزوی نبی ہم اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ آپ گو پہلے اپنے آپ کو جزوی نبی خیال کرتے تھے لیکن بعد میں آپ نے اس عقیدہ کو ترک کر دیا۔ مولوی صاحب نے میرے منشاء کو سمجھنے کے بغیر اپنے رسالہ میں لکھ دیا کہ میاں صاحب کے خیال میں پہلے تو مرزا صاحب جزوی نبی تھے مگر بعد کے الہامات میں آپ کو نبی قرار دیا گیا۔ اور وہ میرا یہ عقیدہ خیال کر کے مجھ سے اس الہام کا مطالبہ کرتے ہیں جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ حضرت مسیح موعودؓ پہلے جزوی نبی تھے لیکن اب نبی بنائے جاتے ہیں۔ (گو وہ خود اس الہام کے پیش کرنے سے قاصر ہیں جس میں حضرت مسیح موعودؓ کو جزوی نبی کہا گیا ہو) اسی طرح وہ حضرت مسیح موعودؓ کی کتب سے چند عبارات نقل کر کے ثابت کرتے ہیں کہ دیکھو حضرت مسیح موعودؓ ہمیشہ یہی کہتے رہے ہیں کہ آپ کی نبوت سے صرف مکالمہ و مخاطبہ اور امورِ غیبیہ پر کثرت سے اطلاع پانا مراد ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعودؓ ہمیشہ اپنی نبوت کی ایک ہی تشریح کرتے رہے ہیں۔ لیکن ہر ایک ایسا انسان جس نے اللہ تعالیٰ کے عنایت کردہ فہم کو ضائع نہ کر دیا ہو سمجھ سکتا ہے کہ ان دونوں باتوں سے مولوی صاحب کا مطلب حاصل نہیں ہوتا اور ان سے میری بات کی تردید نہیں ہوتی۔ کیونکہ نہ تو میں نے کہیں یہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعودؓ کو پہلے خدا تعالیٰ جزوی نبی کہتا تھا اور بعد میں اس نے آپ کو نبی بنا دیا اور نہ میں نے یہ لکھا ہے کہ پہلے حضرت مسیح موعودؑ اپنی نسبت یہ لکھتے تھے کہ مجھے کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی جاتی ہے اور میری نبوت سے یہی مراد ہے اور بعد میں اس سے بڑھ کر کوئی اور دعوٰی شروع کر دیا۔ بلکہ میں نے اپنے رسالہ ”القول الفصل“ کے صفحہ ۱۹ پر صاف لکھا ہے کہ :

”میں اس مضمون کے ختم کرنے سے پہلے یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ مسئلہ نبوت کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ پر دو زمانے گزرے ہیں۔ ایک تو وہ زمانہ تھا کہ آپ کو جب اللہ تعالیٰ کی وحی میں نبی کہا جاتا تو آپ اس پرانے عقیدہ کی بناء پر جو اس وقت کے مسلمانوں میں پھیلا ہوا تھا۔ اپنے آپ کو نبی قرار دینے کی بجائے ان الہامات کے یہ معنی کر لیتے تھے کہ نبی سے مراد صرف ایک جزوی نبوت ہے اور بعض دوسرے انبیاء پر جو مجھے فضیلت دی گئی ہے وہ بھی ایک جزوی فضلیت ہے۔ اور جزوی فضلیت ایک غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے“۔

اب اس عبارت پر غور کرو۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ پہلے جزوی نبی تھے اور بعد میں نبی ہو گئے یا اس کا یہ مطلب ہے کہ نبی تو ہمیشہ سے آپ کو کہا جاتا تھا اور آپ شروع دعویٰ سے نبی ہی تھے۔ لیکن ایک وقت تک احتیاط انبیاء سے کام لے کر آپ لفظ نبی کی تاویل کر لیا کرتے تھے۔ مگر کیسے تعجب کی بات ہے کہ جناب مولوی صاحب ایسی صاف عبارت کے ہوتے ہوئے لکھتے ہیں ”آپ اس حد تک اور بھی ہمارے ساتھ متفق ہیں کہ بے شک یہی مجددیت والی نبوت ہی اوائل میں حضرت مسیح موعودؑ کو ملی تھی۔ مگر آپ کا خیال ہے کہ کچھ مدت بعد نبوت جزئی کے مرتبہ سے آپ کو ترقی دے کر نبوت تامہ کاملہ کا خلعت پہنایا گیا۔ اور اس کے مقابل میرا یہ دعویٰ ہے کہ نبوت تامہ کاملہ کا خلعت آپ کو کبھی نہیں پہنایا گیا۔“ (صفحہ ۳)

ایک غلطی کا اظہار

اب انصاف پسند طبائع اس بات پر غور کریں کہ میں تو صاف لکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعودؑ کو خدا تعالیٰ کے الہامات میں نبی پہلے سے کہا جاتا تھا۔ لیکن عام مسلمانوں کے عقیدہ کے ماتحت آپ اس کی تاویل کر لیتے تھے اور مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں حضرت مسیح موعودؑ پہلے جزوی نبی تھے پھر نبی بن گئے۔ کیا القول الفصل کی وہ عبارت جو میں اوپر نقل کر آیا ہوں کسی ایسی زبان میں ہے جسے مولوی محمد علی صاحب سمجھ نہ سکتے تھے۔ القول الفصل کی عبارت صاف ہے۔ اس کے معنی پیچ دار

عبارتوں میں پوشیدہ نہیں ہیں۔ لیکن جہاں غور و فکر کے بغیر ہی جواب دینے کا ارادہ ہو وہاں مطلب کو سمجھنے کی کوشش کرنے کی طرف توجہ ہو تو کیونکر؟ لیکن اگر جناب مولوی محمد علی صاحب القول الفصل کے صفحہ ۱۹ کو پھر ایک دفعہ پڑھیں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری جس غلطی کا ازالہ انہوں نے کیا ہے وہ درحقیقت ان کی اپنی ہی غلطی تھی اور یہ کہ انہوں نے بجائے میرے خیالات کا جواب دینے کے اپنی ہی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا ہے۔ میرا مذہب ہرگز یہ نہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ پہلے جزوی نبی تھے اور بعد میں نبی ہوئے۔ بلکہ میرے نزدیک حضرت مسیح موعودؑ شروع دعوے سے ایک سے ہی نبی تھے ہاں پہلے آپ اپنے آپ کو جزوی نبی قرار دیتے تھے اور اپنے الہامات کی تاویل کرتے تھے۔ لیکن بعد میں الہامات میں جب بار بار آپ کو نبی قرار دیا گیا تو آپ نے ان الہامات کی تحریک سے اپنے اس عقیدہ کو بدلا کہ آپ جزوی نبی ہیں نہ کہ آپ کو جزوی نبی سے نبی بنا دیا گیا۔ پھر میں نے حضرت مسیح موعودؑ کا جو حوالہ اس خیال کی تائید میں نقل کیا تھا۔ اس میں حضرت مسیح موعودؑ اس اختلاف کو وفات مسیحؑ کا سا اختلاف قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ اختلاف بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ میں حضرت مسیحؑ کی نسبت ایک وقت میں حیات کا قائل رہا اور پھر وفات کا۔ اور باوجود اس کے کہ میرا نام عیسیٰ رکھا گیا پھر بھی میں پچھلے مسیح کی دوبارہ آمد کا قائل رہا۔ اب غور کرو کہ جب میں نے اپنی تائید میں حضرت مسیح موعودؑ کے اس حوالہ کو نقل کیا تھا جس میں حضرت مسیح موعودؑ نے نبوت کے متعلق اپنی تبدیلی رائے کو حیات و وفات مسیحؑ کے ساتھ مشابہت دی ہے تو میری نسبت یہ کس طرح خیال کیا جاسکتا تھا کہ میں حضرت مسیح موعودؑ کی نسبت یہ خیال کرتا ہوں کہ آپ پہلے جزوی نبی تھے اور بعد میں نبی ہو گئے۔ کیا حضرت مسیحؑ ناصری براہین لکھنے کے وقت زندہ تھے اور بعد میں فوت ہو گئے ہیں کہ ہم یہ سمجھیں کہ حضرت مسیح موعودؑ پہلے جزوی نبی تھے اور بعد میں نبی ہوئے؟ کیا مسیحؑ کی حیات اور اس کے دوبارہ آنے کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ کے عقیدہ کی تبدیلی اس طرح نہیں ہوئی کہ باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں حضرت مسیحؑ کی وفات کا ذکر تھا اور باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعودؑ کو مسیح موعودؑ قرار دیا گیا تھا آپ حضرت مسیحؑ کو زندہ خیال کرتے رہے اور انہی کی آمد کے منتظر رہے۔ اور بعد میں بار بار کے الہامات سے آپ کی توجہ اس طرف ہوئی کہ وہ فوت ہو گئے ہیں اور آپ ہی مسیح موعودؑ ہیں پھر جبکہ آپ اپنی نبوت کے عقیدہ کے متعلق اپنے دو مختلف بیانات کو اسی کے مشابہ قرار دیتے ہیں تو کیا اس کا یہی مطلب نہیں کہ جس طرح حضرت مسیحؑ براہین لکھنے کے وقت بھی فوت شدہ تھے حضرت مسیح موعودؑ بھی شروع دعوٰی سے نبی تھے اور جس طرح بعد کے الہامات سے آپ کی توجہ اس طرف ہوئی کہ حضرت مسیحؑ فوت ہو چکے ہیں اور آپ ہی مسیح موعودؑ ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں باتیں براہین لکھنے کے وقت بھی آپ کو الہاماً بتائی گئی تھیں۔ اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ کو وحی الٰہی میں بار بار نبی اور رسول کے نام سے پکارے جانے سے آپ کی توجہ اس طرف منعطف ہوئی کہ آپ واقع میں نبی ہیں گو آپ کو مدت سے نبی کہا جاتا تھا۔ پس میری ایسی صاف تحریر اور حضرت مسیح موعودؑ کی ایسی صاف عبارت کے ہوتے ہوئے ایسے غلط مفہوم کو لوگوں میں پھیلانا جو کسی قیاس کے ذریعہ نہیں بلکہ میرے صاف الفاظ سے رد ہوتا ہے کیا یہ ثابت نہیں کرتا کہ مولوی صاحب موصوف نے انصاف سے کام نہیں لیا اور خود ہی ایک غلطی ایجاد کی ہے۔ اور پھر اس کا ازالہ کرنے لگ گئے ہیں؟

چونکہ ایک غلطی کا نتیجہ دوسری غلطی ہوتی ہے۔ اس لئے ضرور تھا کہ مولوی صاحب میرے مضمون کو غلط سمجھ کر اور کئی غلطیوں میں پڑ جاتے۔ چنانچہ جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں آپ نے حضرت مسیح موعودؑ کی مختلف تحریرات اس امر کے ثابت کرنے کے لئے نقل کی ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ ہمیشہ کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پانے کا نام نبوت رکھتے رہے ہیں اور ابتدائی تحریروں میں بھی انہی معنوں سے اپنے آپ کو نبی قرار دیتے تھے اور بعد میں بھی انہی معنوں سے اپنے آپ کو نبی قرار دیا ہے جس سے ثابت ہوا کہ حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت ایک ہی قسم کی رہی ہے۔ لیکن مولوی صاحب کو ان مختلف حوالہ جات کے تلاش کرنے کی ضرورت بھی صرف اسی غلط فہمی سے پیدا ہوئی ہے کہ گویا میرے نزدیک حضرت مسیح موعودؑ پہلے جزوی نبی تھے اور بعد میں نبی ہوئے۔ میں تو جیسا کہ پہلے ثابت کر چکا ہوں یہی عقیدہ رکھتا ہوں۔ اور یہی درست ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ پہلے اپنی نبوت کا نام جزوی نبوت رکھتے رہے ہیں لیکن بعد میں کثرت سے نبی اور رسول کے لفظ سے اپنے آپ کو پکارا جاتا دیکھ کر آپ نے اپنے نام میں تبدیلی پیدا کی اور معلوم کیا کہ میں جزوی نبی نہیں بلکہ نبی ہوں۔ پس جبکہ آپ ہمیشہ سے نبی ہی تھے تو آپ کی تحریرات میں کوئی ایسا فرق کیوں آتا جس سے یہ ثابت ہوتا کہ آپ پہلے نبی نہ تھے۔ اور جب کہ آپ شروع سے نبی تھے۔ اور جیسے نبی ابتدائی دعوٰی کے وقت تھے ویسے ہی بلحاظ نبوت کے وفات کے وقت تھے۔ تو کیا وجہ تھی کہ آپ آخری عمر میں اس بات کا اعلان کرتے کہ اب میری نبوت سے مراد امورِ غیبیہ پر کثرت سے اطلاع پانا نہیں بلکہ اور ہے۔ یہ بات تو دو ہی صورت سے ہو سکتی تھی یا تو اس صورت میں کہ حضرت مسیح موعودؑ پہلے جزوی نبی ہوتے بعد میں نبی بنائے جاتے۔ تب ضروری تھا کہ آپ اپنا کوئی نیا کام بتاتے کہ اب میں چونکہ نبی بنایا گیا ہوں مجھے فلاں نیا کام سپرد کیا گیا ہے یا فلاں نیا انعام مجھ پر کیا گیا ہے یا اس صورت میں آپ کی تحریرات میں اختلاف ہونا چاہئے تھا کہ پہلے آپ جن باتوں کے اپنے اندر پائے جانے کے مدعی تھے ان کے سوا نبیوں میں کچھ اور باتیں ہوتی ہیں۔ پس جب آپ نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تو ان باتوں کے پائے جانے کا دعویٰ بھی کرنا چاہئے تھا جن سے کوئی شخص نبی ہوتا ہے۔ لیکن جب کہ یہ دونوں خیالات غلط ہیں نہ تو آپ جزوی نبی سے نبی بنائے گئے۔ اور نہ یہ کہ کثرت سے امورِ غیبیہ پر اطلاع پانے کے سوا نبوت کسی اور چیز کو کہتے ہیں تو پھر حضرت مسیح موعودؑ کی تحریرات میں اختلاف کیوں ہوتا؟ افسوس ہے کہ جناب مولوی صاحب نے رسالہ القول الفصل میں وہ عبارات نہ دیکھیں جو صفحہ ۴‘ ۵‘ ۶‘ ۷ پر میں نے لکھی ہیں اور حضرت مسیح موعودؑ کے حوالہ جات سے ان کی تصدیق کی ہے جن کا یہ مطلب ہے کہ نبی کہتے ہی اسی کو ہیں جس پر کثرت سے امورِ غیبیہ ظاہر کئے جائیں اور خدائے تعالیٰ اور اس کے بھیجے ہوئے نبیوں اور قرآن کریم اور اسلام کی اصطلاح میں ایسے ہی شخص کو نبی کہتے ہیں جس پر کثرت سے امورِ غیبیہ ظاہر کئے جائیں۔ کیونکہ اگر مولوی صاحب نے ان صفحات کو غور سے پڑھا ہوتا تو آپ میرے خلاف وہ حوالہ جات کیوں پیش کرتے جن میں حضرت مسیح موعودؑ کثرت مکالمہ ومخاطبہ اور امورِ غیبیہ پر اطلاع پانے کو اپنے نبی کہلانے کی وجہ بتاتے ہیں؟ کیا اس بات سے میں نے انکار کیا تھا؟ جب کہ میں نے آپ کے نبی ہونے کے ثبوت میں خود آپ ہی کی کتب میں سے یہ ثبوت دیا تھا کہ نبی اسے کہتے ہیں جس پر کثرت سے امورِ غیبیہ ظاہر کئے جائیں تو مولوی صاحب کے ایسے حوالے نقل کر دینے سے کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے جن میں حضرت مسیح موعودؑ نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ میری نبوت سے مراد کثرت سے امورِ غیبیہ پر اطلاع پانا ہے؟ کیا پہلے نبیوں کے نبی کہلانے کی کوئی اور وجہ تھی؟ پہلے نبی بھی تو اسی لئے نبی تھے کہ ان پر کثرت سے امورِ غیبیہ کا اظہار ہوتا تھا جیسا کہ خود حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں ”یہ ضرور یاد رکھو کہ اس امت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پا چکے ہیں۔ پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے“۔ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵ حاشیہ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۹)۔

پس اس بات کے ثابت کرنے سے کہ حضرت مسیح موعودؑ ہمیشہ اپنی نبوت کے یہی معنی کرتے رہے کہ آپ کو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی جاتی تھی نبوت کا رد نہیں ہوتا بلکہ نبوت ثابت ہوتی ہے کیونکہ نبوت اسی کا نام ہے اللہ تعالیٰ بھی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(الجن: ۲۷-۲۸) یعنی اللہ تعالیٰ سوائے اپنے رسولوں کے کسی کو غیب پر غلبہ عطاء نہیں فرماتا۔ پس کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پانے کا یہ مطلب کیونکر نکالا جاسکتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نبی نہیں۔ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ضرور نبی تھے غرض کہ جب میں نے القول الفصل میں نبی کی تعریف ہی یہ کی ہے کہ نبی اسے کہتے ہیں جسے کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی جائے اور خود حضرت مسیح موعودؑ کی تحریرات سے ثابت کیا ہے کہ نبی ایسے ہی شخص کو کہتے ہیں تو میرے مضمون کے رد کرنے کے لئے ایسی عبارتوں کے نقل کرنے سے کیا فائدہ جن سے یہ ثابت ہو کہ حضرت مسیح موعودؑ ہمیشہ اپنے نبی ہونے کے یہ معنی کرتے رہے ہیں کہ آپ کو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی جاتی ہے جب کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پانے والے کو ہی نبی کہتے ہیں تو ان حوالوں سے تو یہ ثابت ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ سے نبی تھے نہ یہ کہ آپ کبھی بھی نبی نہیں ہوئے۔ وہ حوالے تو میری تائید میں ہیں نہ کہ میرے مخالف۔ ان حوالوں کو پڑھ کر شائد ان لوگوں کو تو دھوکا لگ جائے جنہوں نے القول الفصل کو غور سے نہیں پڑھا لیکن جنہوں نے القول الفصل کا غور سے مطالعہ کیا ہے وہ تو انہیں پڑھ کر حیران ہوتے ہیں کہ مولوی صاحب تردید میں رسالہ لکھ رہے ہیں یا تائید میں؟ کیونکہ جو باتیں وہ میرے مضمون کی تردید میں پیش کرتے ہیں وہ درحقیقت میری تائید میں ہیں۔ اور یہ سب اسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے جو میں پہلے بتا آیا ہوں کہ آپ کے خیال میں میرے نزدیک حضرت مسیح موعودؑ پہلے جزوی نبی تھے اور بعد میں نبی ہو گئے حالانکہ جیسا کہ میں القول الفصل کی ایک عبارت نقل کر چکا ہوں اس نتیجہ پر وہ بغیر غور کے ہی پہنچ گئے ہیں اور ایک عقیدہ انہوں نے خود ہی ایجاد کیا ہے اور خود ہی اس کی تردید کرنی شروع کر دی ہے میرے رسالہ کا جواب تو وہ اسی طرح دے سکتے ہیں کہ یا تو یہ ثابت کریں کہ امور غیبیہ پر اس کثرت سے اطلاع پانا کہ گویا ان پر ایک غلبہ حاصل ہو جائے اس کا نام نبوت نہیں بلکہ انبیاء کے نبی کہلانے کی کوئی اور وجہ تھی اور یا یہ ثابت کریں کہ حضرت مسیح موعودؑ کو اس کثرت سے امورِ غیبیہ پر اطلاع نہیں دی گئی جس کثرت سے نبی ہونے کے لئے ضروری ہے۔ مگر وہ یاد رکھیں کہ وہ ایسا ہرگز نہیں کر سکتے کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ ایک طرف تو یہ فرماتے ہیں

”اور جبکہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر امورِ غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے“ (الوصیت صفحہ ۱۳، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۱۱)

اسی طرح فرماتے ہیں ”ہر ایک شخص اپنی گفتگو میں ایک اصطلاح اختیار کر سکتا ہے لِكُلٍّ أَنْ یَّصْطَلِحَ سو خدا کی یہ اصطلاح ہے جو کثرتِ مکالمات و مخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے“ ۲؎(چشمہ معرفت صفحہ ۳۲۵، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۴۱)

اور دوسری طرف یہ فرماتے ہیں کہ ”اگر کہو کہ اس وحی کے ساتھ جو اس سے پہلے انبیاء علیہم السلام کو ہوئی تھی معجزات اور پیشگوئیاں ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ اکثر گذشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیشگوئیاں موجود ہیں بلکہ بعض گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیشگوئیوں کو ان معجزات اور پیشگوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں“ (نزول المسیح صفحہ ۸۴، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۴۶۰)

ان تینوں حوالوں کو ملا کر پڑھو تو کیسا صاف ثابت ہو جاتا ہے کہ نبی ھدائے تعالیٰ اور اس کے نبیوں کی اصطلاح میں اسے کہتے ہیں کہ جو کثرت سے امورِ غیبیہ پر اطلاع پائے (اور قرآنِ کریم بھی فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ(72:27) کی آیت کے ماتحت ایسے ہی شخص کو نبی کہتا ہے) اور یہ کہ حضرت مسیح موعودؑ کو اکثر گذشتہ انبیاء کی نسبت امورِ غیبیہ پر بہت زیادہ اطلاع دی گئی ہے جس کے معنی دوسرے الفاظ میں یہ ہیں کہ آپ یقیناً یقیناً بلا ریب بلحاظِ نبوت ویسے ہی نبی ہیں جیسے پہلے انبیاء تھے ہاں بلحاظِ خصوصیات کے یہ بات بالکل درست ہے کہ پہلے نبیوں میں سے بعض شریعت لائے لیکن آپ کوئی شریعت نہیں لائے اور یہ کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے انبیاء بلا واسطہ نبوت پاتے تھے مگر آنحضرت ﷺ کے بعد اس کی کوئی ضرورت نہ تھی اس لئے حضرت مسیح موعودؑ نے نبوت کا درجہ آپ کی غلامی میں پایا اور اگر دیکھنے والی آنکھ ہو تو وہ دیکھے کہ آنحضرت ﷺ کی غلامی میں نبی بننے والا اپنی شان میں بعض پہلے نبیوں سے بھی افضل ہو سکتا ہے۔

غرضکہ ہر ایک شخص القول الفصل اور مولوی صاحب کے رسالہ کو پڑھ کر بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ مولوی صاحب نے القول الفصل کے جواب دینے کی ایک نہایت ناکام کوشش کی ہے اور غلط نتائج نکال کر ان کو رد کرنا شروع کر دیا ہے جیسا کہ بعض غیر مذاہب والوں کی یہ عادت ہے کہ وہ اسلام پر ایک اعتراض کرتے ہیں پھر مسلمانوں کی طرف سے اس کے جواب اپنے پاس سے بنا کر نقل کرتے ہیں لیکن یہ احتیاط کر لیتے ہیں کہ وہ جواب اصل جواب نہ ہوں بلکہ نہایت بودے ہوں پھر ان جوابات کو رد کر کے دھوکا دیتے ہیں کہ گویا اسلام کی کمزوری انہوں نے ثابت کر دی مگر اس سے اسلام کی کمزوری ثابت نہیں ہوتی بلکہ ان جوابات کی کمزوری ثابت ہوتی ہے جو ان کی اپنی ایجاد تھے۔ مولوی صاحب نے بھی غلط فہمی سے (کیونکہ میں یہ نہیں خیال کر سکتا کہ انہوں نے جان بوجھ کر لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے ایسا کیا ہے) میرے مضمون کے پہلے ایک اور معنی کئے ہیں جو میرے لفظوں سے ثابت نہیں اور پھر اس ایجاد کردہ مطلب کو رد کرنا شروع کر دیا ہے حالانکہ جیسا کہ میں اوپر بتا آیا ہوں ان کے جوابات سے القول الفصل کا مضمون رد نہیں ہوتا بلکہ صرف ان خیالات کا رد ہوتا ہے جو مولوی صاحب موصوف نے میری طرف منسوب کئے ہیں اور القول الفصل ابھی اسی طرح بے جواب پڑا ہے جس کا جواب دینا ابھی ان کے ذمہ باقی ہے اور وہ جواب تبھی درست ہو سکتا ہے جبکہ وہ یہ بات ثابت کر دیں کہ نبی کی تعریف وہ نہیں جو میں اوپر کر چکا ہوں اور جو میں نے القول الفصل میں ثابت کی ہے یا یہ کہ وہ تعریف حضرت مسیح موعودؑ پر صادق نہیں آتی اور پھر یہ بھی ثابت کریں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے سوا کسی اور مجدد کی نسبت بھی کبھی یہ لکھا ہے کہ اسے بھی پہلے انبیاء کی طرح کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی جاتی تھی لیکن وہ یہ یاد رکھیں کہ وہ ہرگز اس امر کو کبھی بھی ثابت نہیں کر سکتے۔ پس دیگر مجددین کو آپ کے ساتھ شامل کرنا درست نہیں ہم مانتے ہیں کہ ان کو بھی الہام ہوتے تھے اور یہ بھی مانتے ہیں کہ بعض کو کثرت سے بھی امور غیبیہ پر اطلاع دی گئی ہو گی۔ لیکن یہ ثابت کرو کہ حضرت مسیح موعودؑ نے جس طرح اپنی نسبت لکھا ہے ان میں سے بھی کسی کی نسبت یہ لکھا ہو کہ اسے اس کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی گئی ہے جس طرح پہلے انبیاء کو۔ پس جیسا کہ خود حضرت مسیح موعودؑ اپنی کتاب حقيقة الوحی میں لکھتے ہیں:

”جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں“ (حقیقة الوحی — روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۶-۴۰۷)

حضرت مسیح موعودؑ کے سوا اس امت میں اور کوئی شخص نبی نہیں کہلا سکتا اور نہ نبیوں کی سی نبوت کسی کو ملی ہے۔ ہاں جزوی نبوت کے بیشک بعض لوگ مستحق ہوئے۔ لیکن جزوی نبوت درحقیقت کوئی نبوت نہیں بلکہ بعض کمالات نبوت پانے کا نام ہے۔ اور جو شخص صرف رؤیائے صالحہ دیکھ لے۔ اس کی نسبت بھی کہا جا سکتا ہے کہ نبوت کا ایک جزو اس میں بھی پایا جاتا ہے مگر وہ نبی نہیں ہو سکتا اور یہی وجہ ہے کہ جب تک حضرت مسیح موعودؑ اپنی نبوت کو جزوی نبوت خیال کرتے رہے۔ آپ اپنے آپ کو نبی نہیں قرار دیتے تھے جیسا کہ تریاق القلوب کے وقت میں آپ نے اپنے آپ کو غیر نبی قرار دے کر مسیحؑ سے اپنے من کل الوجوہ افضل ہونے سے انکار کیا ہے لیکن بعد میں اپنے افضل ہونے کا اس بناء پر کہ آپ کو بار بار نبی کہا گیا ہے بڑے زور سے اعلان کیا ہے۔ دیکھو حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۴۸، ۱۴۹، ۱۵۰ اور ۱۹۰۱ء سے لے کر اس کے بعد جب سے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے افضل ہونے اور اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا ہے کبھی اپنی نبوت کو جزوی یا ناقص نبوت نہیں قرار دیا۔ اور اگر ایسا کیا ہو تو اس کا ثبوت دیا جائے۔ تریاق القلوب تک بے شک آپ اپنے آپ کو جزوی نبی قرار دیتے رہے جو ۱۸۹۹ء میں لکھی گئی اور ۱۹۰۲ء میں شائع ہوئی۔ لیکن ۱۹۰۱ء سے آپ نے اس عقیدہ کو بالکل ترک کر دیا اور حقیقۃ الوحی سے ثابت ہے کہ اس کے ترک کرنے کا باعث انکشافِ تام تھا۔ اور وحی الٰہی سے اسطرف توجہ منعطف ہوئی تھی۔ پس آپ کی نبوت کو اب جزوی نبوت نہیں کہا جا سکتا۔

مولوی صاحب نے اسی غلطی میں پڑ کر جو میں نے پہلے بیان کی ہے کچھ سوالات بھی کئے ہیں مثلاً یہ کہ اگر ۱۹۰۲ء میں دعوٰی نبوت کیا ہے تو پھر لَوْ تَقَوَّلَ والی آیت سے کیوں حضرت مسیح موعودؑ پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہ کہ جب مسیح موعودؑ کے دعوے کے باوجود آپ کئی سال تک جزوی نبی رہ سکتے تھے تو بعد میں کیوں آپ کا نبی ہونا ضروری ہوا۔ اسی طرح یہ کہ حضرت مسیح موعودؑ لکھتے ہیں کہ جو شخص کثرت مکالمہ مخاطبہ سے زیادہ کسی اور نبوت کا دعویٰ کرے تو اس پر خدا کی لعنت ہو وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ہر ایک دانا شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ سب سوالات اسی غلط فہمی کا نتیجہ ہیں جو میں اوپر بتا آیا ہوں۔ اور چونکہ نہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ ۱۹۰۲ء سے نبی بنائے گئے ہیں اور نہ یہ کہ نبی کے لئے امور غیبیہ پر کثرت سے اطلاع پانے کے سوائے کسی اور شئے کی بھی ضرورت ہے۔ اس لئے مجھ پر یہ اعتراض وارد نہیں ہوتے۔ یہ اعتراضات تو آپ کے ایجاد کردہ خیالات پر ہی پڑتے ہیں پس آپ ہی ان کے جواب دینے کی تکلیف کریں۔ میں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کے جواب دینے کا ذمہ وار ہی نہیں۔

ممکن ہے بعض لوگ حضرت صاحب کا ۱۸۹۹ء کا ایک حوالہ نقل کر دیں جس میں حضرت مسیح موعودؑ نے نبی کے لئے شریعت جدیدہ کا لانا یا بلاواسطہ نبوت پانا شرط رکھا ہے۔ اور اس سے یہ ثابت کرنا چاہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نبی نہیں۔ سو یاد رہے کہ یہ حوالہ تو ۱۹۰۱ء سے پہلے کا ہے اور یہی تو حوالہ ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ پہلے اپنی نبوت سے کیوں انکار کرتے تھے کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ عام مسلمانوں کے خیالات کے مطابق خیال کرتے تھے کہ نبی کے لئے شریعت جدیدہ کا لانا یا بلاواسطہ نبوت پانا شرط ہوتا ہے اور چونکہ آپ میں یہ شرائط نہیں پائی جاتی تھیں اس لئے آپ اپنے الہامات میں نبی کے لفظ کی تاویل کر دیتے تھے۔ لیکن جیسا کہ میں اوپر حضرت مسیح موعودؑ کے حوالہ جات سے ثابت کر آیا ہوں۔ ۱۹۰۱ء سے آپؐ نے اپنے الہامات سے متنبہ ہو کر اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا۔ اور اب نبی کی وہ تعریف بھی جو لوگوں میں مشہور تھی ترک کر دی اور جیسا کہ میں اوپر حوالہ دے چکا ہوں آپ نے صاف لکھ دیا کہ خدا کی اصطلاح میں اور نبیوں کے محاورہ میں نبی کی تعریف صرف یہ ہے کہ کثرت سے مکالمہ و مخاطبہ اسے حاصل ہو جو امور غیبیہ پر مشتمل ہو۔ پس اس تعریف کو حضرت مسیح موعودؑ نے بعد میں غلط قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ نبی کے لئے شریعت جدیدہ کا لانا یا دوسرے نبی کا متبع نہ ہونا شرط نہیں۔ پس جس تعریف کو حضرت مسیح موعودؑ غلط قرار دیتے ہیں اور جن باتوں کو نبوت کے لئے شرط ہی نہیں قرار دیتے ان سے آپ کی نبوت کے خلاف یا میرے عقیدہ کے خلاف حجت کس طرح پکڑی جا سکتی ہے؟ اور جبکہ خود قرآن کریم بھی فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ(72:27) والی آیت میں کھلے الفاظ میں اسی خیال کی تائید کرتا ہے جو حضرت مسیح موعودؑ نے ۱۹۰۱ء کے بعد ظاہر فرمایا تو پھر تو مؤمن کو شک کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔

اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ تریاق القلوب گو اکتوبر ۱۹۰۲ء میں شائع ہوئی ہے لیکن درحقیقت وہ ۱۸۹۹ء کے دسمبر میں تیار ہو چکی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے تریاق القلوب کے حوالہ کو ریویو کے حوالہ سے جو جون ۱۹۰۲ء کا ہے منسوخ قرار دیا ہے حالانکہ تاریخ اشاعت کے لحاظ سے تریاق القلوب بعد کی ہے اور ریویو پہلے کا۔ پس حضرت مسیح موعودؑ کا اس عقیدہ کو جو ریویو میں ظاہر فرمایا ہے ناسخ قرار دینا اس کا جو تریاق القلوب میں ہے اس بات کا ثبوت ہے کہ تریاق القلوب پہلے کی لکھی ہوئی ہے۔ اور جب ہم اس کتاب کو دیکھتے ہیں تو کتاب کے خاتمہ سے صرف بائیس صفحے پہلے لکھا ہوا ہے کہ آج ۵۔ دسمبر ۱۸۹۹ء کو ہم یہ مضمون لکھ رہے ہیں جس سے صاف ثابت ہے کہ یہ کتاب ۱۸۹۹ء کو لکھی گئی گو شائع ۱۹۰۲ء میں ہوئی (مفصل دیکھو حقیقتہ النبوۃ) پس جناب مولوی صاحب کا تریاق القلوب سے یہ سند پکڑنا کہ وہ ۱۹۰۲ء میں شائع ہوئی ہے اور اس سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ غیر نبی تھے درست نہیں کیونکہ وہ درحقیقت ۱۹۰۱ء سے پہلے کی ہے۔

میں اس جگہ اس بات کا جواب دینا بھی ضروری خیال کرتا ہوں کہ مولوی صاحب نے بعض حوالوں سے جو یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ اپنے آپ کو مجازی نبی کہتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ آپ نبی نہ تھے (اور بتانا چاہتا ہوں کہ) یہ بات بھی ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ مجازی کا لفظ حقیقی کے مقابلہ میں ہوتا ہے اور حضرت مسیح موعودؑ نے خود ہی حقیقی نبی کے یہ معنی کر دئیے ہیں کہ جو شریعت جدیدہ لائے پس مجازی کے صرف یہ معنی ہوں گے کہ آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائے نہ یہ کہ آپ نبی ہی نہیں۔ آپ نے عوام کو ان کے اپنے عقائد کے مطابق نبوت کا مسئلہ سمجھانے کے لئے جو اصطلاح قرار دی ہے اس کے رو سے آپ حقیقی نبی نہیں بلکہ مجازی نبی ہیں۔ لیکن قرآن کریم نے نبی کی جو تعریف کی ہے اس کی رو سے آپ نبی ہیں اور خود آپ نے ایک غلطی کے ازالہ میں لکھا ہے کہ ”جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے بالضرور اس پر مطابق آیت فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ(72:27) کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۴‘ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۸)

پس قرآن کریم کی نبی کی تعریف کے مطابق تو آپ نبی تھے۔ ہاں عوام کو سمجھانے کے لئے جو آپ نے حقیقی نبی کے یہ معنی کئے ہیں کہ جو شریعت جدیدہ لائے ان معنوں کے مطابق آپ مجازی نبی تھے۔ جس کے صرف یہ معنی ہیں کہ آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائے۔

میں آخر میں طالبان حق سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایک دفعہ پھر القول الفصل اور مولوی صاحب کے غلطی کے اظہار کو پڑھ کر دیکھیں کیونکہ انہیں ان کے دوبارہ پڑھنے سے معلوم ہو جائے گا کہ مولوی صاحب نے اپنی ہی ایجاد کردہ غلطیوں کا ازالہ کیا ہے نہ کہ میرے رسالہ القول الفصل کا۔ اور نبوت کے متعلق بحث ابھی اسی جگہ پر ٹھہری ہوئی ہے۔ جہاں تک القول الفصل کے بعد وہ پہنچ چکی ہے اور مولوی صاحب کے رسالہ نے سوائے اس بات کے ظاہر کرنے کے کہ آپ جس شخص کو غلطی پر سمجھتے ہیں اس کے مضمون کو سمجھنے کے بغیر ہی جواب لکھنے کے عادی ہیں اور کچھ ثابت نہیں کیا اور یہ بات ایسی ہے جس کے ثابت کرنے سے اس کا ثابت نہ کرنا بہتر تھا اور جو لوگ ان دونوں رسالوں کا مقابلہ کرنا چاہیں۔ وہ القول الفصل کے صرف ابتدائی ۲۷ صفحات اور پھر مولوی صاحب کا جواب پڑھ لیں۔ سارا القول الفصل پڑھنے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ نبوت کی بحث صرف انہی صفحات میں ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ طالبان حق مسیح موعودؑ کی نبوت کے مسئلہ پر ایک دفعہ پھر غور کریں گے۔ کیونکہ حق کا انکار انسان کو بہت سی صداقتوں سے محروم کر دیتا ہے اور مومن تو کسی صداقت سے محروم رہنا نہیں چاہتا۔ پس میں ہر اس شخص سے جو صداقت معلوم کرنا چاہتا ہے۔ اپیل کرتا ہوں کہ وہ صرف لفظوں پر نہیں بلکہ حقیقت پر غور کرے۔ اور کچھ نہیں تو صرف اس امر کو ہی دیکھے کہ کس طرح میری مخالفت میں بات سمجھنے سے پہلے ہی جواب دینے کی کوشش کی جاتی ہے جو ثبوت ہے اس بات کا کہ حق میری ہی طرف ہے اور خدا کی قسم کہ حق میری ہی طرف ہے کیونکہ مجھے خود اللہ تعالیٰ نے بذریعہ رؤیا بتایا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نبی تھے۔ پس میں آپ کو علیٰ وجہ البصیرت نبی مانتا ہوں نہ ایسا کہ آپ کوئی جدید شریعت لائے اور نہ ایسا کہ آپ آنحضرت ﷺ کی اتباع سے باہر تھے بلکہ ایسا کہ آپ کی سب زندگی قرآن کریم کی اتباع میں گزری۔ اور ایسا کہ آپ نے جو کچھ پایا آنحضرت ﷺ کی غلامی میں پایا اور اس سے آپ کی نبوت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اور آپ کا سب سے بڑا درجہ یہی تھا کہ آپ امت محمدیہ میں سب لوگوں سے زیادہ آنحضرت ﷺ کے فرمانبردار تھے۔ میں آخر میں یہ بھی ظاہر کر دیتا ہوں کہ جن لوگوں نے نبوت مسیح موعودؑ کو سمجھنا ہو وہ میری کتاب حقیقۃ النبوۃ ضرور پڑھیں جو غیر احمدیوں اور غیر مبائعین کو مفت بھیجی جائے گی۔

الراقم خاکسار مرزا محمود احمد از قادیان

؎ مولوی صاحب اس حدیث کو پیش کر کے جس میں مسلمانوں کے یہودیوں اور عیسائیوں کے مشابہ ہو جانے کی پیشگوئی ہے۔ اشارۃً ہمیں ضالین بھی قرار دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ یہودی تو غیر احمدی ہیں ضال احمدیوں میں ہونے چاہئیں۔ لیکن یاد رہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے عیسائیوں کے مشابہ ہونے والا گروہ بھی ان لوگوں کو قرار دیا ہے جو اپنی رفتار، گفتار اور لباس میں عیسائیوں کے مشابہ ہو رہے ہیں اور غیر احمدیوں کو ہی دو گروہوں میں تقسیم کیا ہے اس شخص کی بات کو چھوڑ کر جو مغضوب علیہم اور ضالین میں اصلاح کے لئے آیا تھا ہم آپ کی بات کس طرح مان لیں۔

؎ بعض شخص اپنی نادانی سے یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ لِكُلٍّ أَنْ يَّصْطَلِحَ کے ماتحت نبی کے جو معنی کر لئے جائیں وہ ماننے کے قابل نہیں بلکہ ماننے کے قابل تو شریعت اسلام کی اصطلاح ہو گی وہ نادان اتنا نہیں خیال کرتے کہ نبی خدا بھیجتا ہے یا کوئی اور۔ پس نبی وہ ہو گا جو خدائے تعالیٰ کی اصطلاح کے مطابق نبی ہو نہ وہ جسے لوگ نبی کہہ دیں اور پھر کیا اسلام خدائے تعالیٰ کے بتائے ہوئے مذہب کے سوا کسی اور شئے کا نام ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ خدائے تعالیٰ کی اصطلاح کچھ اور ہو اور اسلام کی اصطلاح کچھ اور؟ مرزا محمود احمد۔

؎ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس بات کا علم کس طرح ہو کہ کسی کو اس حد تک کثرت سے امورِ غیبیہ پر اطلاع دی گئی ہے یا نہیں جو نبی ہونے کے لئے ضروری ہے۔ سو انہیں یاد رہے کہ نبی خدا بناتا ہے نہ کہ انسان۔ جب کسی کے الہامات اس کثرت کو پہنچ جاتے ہیں جس پر وہ کسی کو نبی بناتا ہے تو وہ خود اس کا نام نبی رکھتا ہے ہمیں اس فکر کی کیا ضرورت ہے کہ کثرت سے کیا مراد ہے قلت کو ہم سمجھ سکتے ہیں اور کثرت کا فیصلہ خود اللہ تعالیٰ کرتا ہے وہ خود ہی نبی کے نام رکھتا ہے اور خود ہی فیصلہ کرتا ہے کہ اب کوئی شخص نبی کہلا سکتا ہے یا نہیں ۔ مرزا محمود احمد۔

ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب

(سیٹھ عبداللہ الدین صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب

(از حضرت سیدنا مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی)

مکرمی! السلام علیکم۔ تیرہ مارچ کا لکھا ہوا خط جو ۱۸۔ مارچ کو صدر انجمن احمدیہ کے سیکرٹری کے نام پہنچا میں نے پڑھا ہے۔ اور چونکہ اس خط میں آپ نے اپنے سوالات کے جواب مجھ سے پوچھ کر لکھنے کی درخواست کی ہے میں نے مناسب خیال کیا کہ میں خود ہی ان سوالات کے جواب لکھوا دوں۔ آگے ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور دلوں پر سوائے اس کے کسی کی حکومت نہیں۔ میں افسوس کرتا ہوں کہ چونکہ میں کچھ دن بیمار رہا ہوں اس لئے آپ کو جلد جواب نہیں لکھوا سکا۔ آپ نے پانچ سوال کئے ہیں اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں وہ پانچوں سوال درحقیقت ایک ہی سوال کی شاخیں ہیں اور ایک سوال دوسرے کے ساتھ پیوست ہے بہرحال میں آپ کے پانچوں سوالات کے جواب ذیل میں لکھواتا ہوں۔ آپ کے پانچ سوال یہ ہیں:

میں نے حضرت مرزا غلام احمد صاحب مرحوم کی بہت تعریف سنی ہے اور اسلام کے متعلق جو آپ نے تعلیم دی ہے میں اسے بہت عزت کی نظر سے دیکھتا ہوں۔

میں اس بات کے لئے تیار ہوں کہ ان کو ایک مصلح اعظم تسلیم کروں لیکن احمدیت کا اظہار کرتے ہوئے مجھے مفصلہ ذیل امور کی وجہ سے خوف معلوم ہوتا ہے۔

(۱) اگر میں احمدیت کا اظہار کروں تو مجھے تمام مسلمان کافر سمجھیں گے اور مجھے بھی ان کو ایسا ہی سمجھنا پڑے گا۔

(۲) احمدی لوگ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں سمجھتے اور اس لئے غیر احمدی بھی ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ اس طرح مجھے تمام اسلامی مساجد سے قطع تعلق کرنا پڑے گا۔ حالانکہ ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہے کہ پنجوقتہ جماعت کے ساتھ قریب کی مسجد میں نماز پڑھے اور جمعہ کی نماز جامع مسجد میں ادا کرے۔

(۳) اس صورت میں آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ احمدی نام اختیار کرنے سے مجھے کس قدر تکلیف اٹھانی پڑے گی قرآن کریم ہمیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا قرآن کریم میں ہمارا نام مسلمان ہے اور ہمیں تاکید ہے کہ ہم مذہب کو فرقوں میں تقسیم نہ کریں۔

(۴) قرآن یا احادیث میں کسی جگہ یہ مذکور نہیں کہ ہر انسان کو اپنی نجات کے لئے مسیح اور مہدی پر اعلانیہ ایمان لانا ضروری ہے۔

(۵) باوجود اس کے مذکورہ بالا حالات کے ماتحت مَیں اس میں کوئی ہرج نہیں دیکھتا کہ خفیہ طور پر ایمان رکھوں۔

یہ میرے عقائد ہیں اگر میں غلطی پر ہوں تو مہربانی کر کے قرآن اور احادیث کے حوالہ جات سے مجھے اس غلطی پر مطلع کیا جائے۔

ان سوالات کا خلاصہ یہی نکلتا ہے کہ آپ کے خیال میں حضرت مسیح موعودؑ کے ماننے میں آپ کو بعض باتیں روک ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے سلسلہ احمدیہ میں علی الاعلان داخل ہونے سے اسلام کے بعض فرائض کو ترک کرنا پڑتا ہے۔ گو ان تمام سوالات کے جواب الگ الگ بھی دوں گا لیکن پہلے میں سب سوالات پر مجموعی طور سے نظر ڈالنا چاہتا ہوں۔

میرے خیال میں ان سب سوالات کے جواب ہم صرف ایک سوال میں دے سکتے ہیں اور وہ یہ کہ آیا حضرت مسیح موعودؑ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے یا نہیں۔ اگر آپ حق پر نہ تھے تو ان سوالات کی ضرورت ہی نہیں رہتی کیونکہ جھوٹے آدمی کا ماننا خواہ پوشیدہ ہو خواہ ظاہر ہر طرح گناہ اور معصیت ہے۔ اور اگر آپ سچے تھے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ ضرور سچے تھے تو پھر بھی یہ سوال حل ہو جاتے ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی بیعت کرنے یا نہ کرنے اپنے مخالفوں کے پیچھے نماز پڑھنے یا نہ پڑھنے وغیرہا سب مسائل کی بناء خدا تعالیٰ کے الہامات پر رکھی ہے اور اپنی طرف سے ان مسائل پر کچھ نہیں لکھا۔ پس آپ کی صداقت ثابت ہو جانے کے بعد ایک دانا انسان کے لئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ باقی نہیں رہتا کہ وہ ان سب باتوں کو قبول کرے کیونکہ ان کو رد کرنا خدا تعالیٰ کے احکام اور اس کے فیصلہ کو رد کرنا ہے۔ اور ان کا قبول کرنا درحقیقت خدا تعالیٰ کے فیصلہ کو قبول کرنا ہے۔ غرضکہ اصل جھگڑا صرف حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کے متعلق ہے اور سوال یہ ہے کہ کیا آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے؟ اگر اس سوال کا جواب یہ ملے کہ ہاں خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے تو اب جو کچھ ان کا حکم ہے وہ ہمیں قبول کرنا پڑے گا۔ اور خصوصاً ان باتوں کے رد کرنے کی تو ہمارے پاس کوئی وجہ ہی نہیں جن کی نسبت مسیح موعودؑ نے فرما دیا ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ کیونکہ جب وہ سچے ہیں تو وہ باتیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے کہتے ہیں وہ بھی سچی ہیں۔ اور ان پر اعتراض نہیں پڑ سکتا۔ پس آپ کے ان سوالات کے جواب میں سب سے پہلے تو میں یہی کہوں گا کہ آپ اس بات کی تحقیق کریں کہ مسیح موعودؑ واقعہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے یا نہیں۔ اگر آپ پر یہ بات کھل جائے کہ وہ واقعہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو پھر آپ کو ان سوالات کا جواب بھی خود ہی مل جائے گا کیونکہ جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو اس کے فیصلوں کا ماننا ضروری ہے اور جن باتوں کے متعلق آپ نے سوال کیا ہے وہ تو ایسی ہیں کہ ان کے متعلق مسیح موعودؑ کا فیصلہ امر الٰہی کے ماتحت ہے۔ اب میں مختصراً آپ کے سوالات کا جواب نمبروار دیتا ہوں۔

ا۔ پہلا سوال یہ ہے:

کہ اگر میں احمدیت کا اظہار کروں تو مجھے تمام مسلمان کافر سمجھیں گے اور مجھے بھی ان کو ایسا ہی سمجھنا پڑے گا۔

اگر آپ اس سوال پر مزید غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کے احمدی مشہور ہونے یا نہ ہونے کو مسئلہ کفر و اسلام غیر احمدیاں سے تعلق ہی نہیں کیونکہ پہلا سوال تو یہ ہو گا کہ آیا مسیح موعودؑ کے منکر کافر ہیں یا نہیں۔ اگر وہ کافر نہیں تو خواہ آپ احمدی مشہور ہوں یا نہ ہوں آپ کو انہیں مسلمان ہی ماننا پڑے گا اور اگر وہ مسلمان نہیں تو پھر بھی خواہ آپ اپنے احمدی ہونے کا اظہار نہ کریں اور خفیہ رہیں آپ کو انہیں کافر ماننا پڑے گا کیونکہ آپ کے احمدی مشہور ہونے یا نہ ہونے سے اصل واقعہ میں فرق نہیں آ جاتا اگر وہ کافر ہیں تو ہر دو صورت میں کافر ہی رہیں گے اور اگر وہ مسلمان ہیں تو ہر دو صورت میں مسلمان رہیں گے اگر فرق ہو گا تو صرف یہ کہ اگر آپ احمدی مشہور ہوں تو لوگوں کو آپ کے دلی خیالات کا علم ہو جائے گا اور اگر آپ احمدی مشہور نہ ہوں تو آپ کے حقیقی خیالات سے لوگ ناواقف رہیں گے۔ پس سوائے اس کے کہ حقیقت پر ایک پردہ پڑا رہے نفسِ حقیقت میں کسی کے احمدی مشہور ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں آتا۔ جو شخص مسیح موعودؑ کو سچا مان لے اور اسے یہ بھی یقین ہو جائے کہ اس کے منکر کافر ہیں تو گو وہ اپنی احمدیت کو ظاہر کرے یا نہ کرے اور لوگوں میں غیر احمدی مشہور ہو تب بھی اپنے دل میں تو اسے غیر احمدیوں کو کافر ہی سمجھنا پڑے گا۔ اور اگر ایک شخص حضرت مسیح موعودؑ کے منکروں کو کافر خیال نہیں کرتا تو خواہ وہ اپنی احمدیت کا کتنا ہی اعلان کرے غیر احمدیوں کو کافر کہنے پر مجبور نہیں کیونکہ کسی چیز کے علی الاعلان کہہ دینے سے اس کے منکروں پر کفر کا فتویٰ نہیں لگ جاتا۔ بلکہ صرف اسی چیز کے منکروں پر کفر کا فتویٰ لگتا ہے جس کا انکار واقعہ میں کفر ہو۔ اب رہا اس سوال کا دوسرا پہلو اور وہ یہ کہ آپ کے احمدی مشہور ہونے پر لوگ آپ کو کافر کہیں گے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کے اسلام پر دوسروں کے کافر کہنے یا مسلمان کہنے کا کیا اثر پڑتا ہے حضرت ابو بکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ وَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْا و دیگر صحابہ کرامؓ کو مسلمانوں کی ایک جماعت منافق کہتی ہے۔ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ۔ اور ان کا خیال یہ ہے کہ یہ لوگ سچے دل سے اسلام میں داخل نہ ہوئے تھے بلکہ صرف اسلام کا اظہار کرتے تھے اور ایسا منافق درحقیقت کافر ہی ہوتا ہے لیکن کیا ان لوگوں کے ایسا کہہ دینے سے یہ بزرگ کافر بن جاتے ہیں یا ان کا کوئی نقصان ہو جاتا ہے پھر ان کے بعد جس قدر بزرگ ہوئے ہیں قریباً سب پر کفر کا فتویٰ لگا۔ سید عبدالقادر جیلانیؒ پر بھی کفر کا فتویٰ لگایا گیا اور بڑے بڑے مولویوں نے اس پر اپنی مہریں لگائیں۔ اور آپ کا نام نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ ابلیس رکھا۔ مجدد الف ثانیؒ، احمد سرہندیؒ پر بھی کفر کا فتویٰ لگا۔ جنید بغدادیؒ اور شبلیؒ بھی کافر قرار دیئے گئے لیکن کیا ان لوگوں نے اپنے عقائد کو اس ڈر سے کہ لوگ ہمیں کافر کہتے ہیں چھپا لیا۔ اور کیا لوگوں کے کافر کہنے سے وہ واقعہ میں کافر ہو گئے یا ان کے دین میں کوئی نقص پیدا ہو گیا۔ آج تو سنی شیعوں کو اور شیعہ سنیوں کو۔ اور یہ دونوں خوارج کو اسلام سے باہر خیال کرتے ہیں۔ اس وقت ہندوستان میں کوئی ایسا فرقہ نہیں جس کے پیروان پر کفر کا فتویٰ نہیں لگا۔ لیکن کسی کے دوسرے کو کافر کہنے سے اس کے مذہب میں کوئی نقص نہیں آجاتا۔ نقص تو تبھی آتا ہے جب واقعہ میں کوئی کفر کا عقیدہ انسان کے اندر پیدا ہو جائے۔ پس لوگوں کے کافر کہنے سے خوف کھا کر ایک حق کو قبول نہ کرنا کسی نفع کا باعث نہیں ہو سکتا۔ اگر ایک شخص مسلمان ہو اور ساری دنیا اسے کافر کہے تو وہ کافر نہیں ہو جاتا اور اگر ایک شخص کافر ہو اور سب دنیا اسے مسلمان کہے تو وہ مسلمان نہیں ہو جاتا۔

بات یہ ہے کہ لوگوں نے کفر و اسلام کے مسئلہ کو سمجھا ہی نہیں اگر وہ روحانی معاملات کو جسمانی معاملات پر عرض کر کے ان کی صداقت معلوم کرتے تو ان پر حق کھل جاتا اور صداقت روشن ہو جاتی۔ قرآن کریم کی یہ طرز ہے کہ وہ روحانی سلسلہ کا جسمانی سلسلہ سے مقابلہ کر کے اپنی پیش کردہ تعلیم کی صداقت ظاہر کرتا ہے اور کسی بات کی صداقت ثابت کرنے کے لئے یہ طریق نہایت عمدہ ہے کیونکہ جسمانی سلسلہ کی نسبت تو کسی کو شک ہی نہیں ہو سکتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جب کہ کسی مذہب کو ان قواعد کے مطابق ثابت کر دیا جائے جو اللہ تعالیٰ نے جسمانیات میں جاری کئے ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ وہ مذہب اسی خدا کی طرف سے ہے جو دنیا کا خالق ہے۔ اگر ہم مسئلہ کفر کو اسی رنگ میں دیکھیں تو نہایت آسانی سے حل ہو جاتا ہے کفر بیماری ہے اور اسلام صحت کا نام۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک حد تک انسان کے اندر بیماری کا مادہ ہوتے ہوئے بھی وہ تندرست کہلاتا ہے۔ کیونکہ دنیا میں اکثر انسان جو تندرست کہلاتے ہیں ان کی صحت میں بھی خفیف خفیف نقص ہوتے ہیں لیکن ان کی وجہ سے ہم ان کو بیمار نہیں کہہ دیتے۔ اسی طرح ہر بیمار میں ایک حد تک صحت کا مادہ بھی ہوتا ہے لیکن اس کی وجہ سے ہم اسے تندرست نہیں کہتے۔ تندرست اسی کو کہتے ہیں جس کے سب اعضاء رئیسہ بیماری سے بچے ہوئے ہوں یا اس کے جسم پر بیماری غالب نہ آگئی ہو۔ اور بیمار اسے کہتے ہیں جس کے جسم پر بیماری غالب آگئی ہو یا اس کے اعضاء رئیسہ میں سے کسی پر اسے غلبہ حاصل ہو گیا ہو۔ کفر و اسلام کا بھی یہی حال ہے ایک شخص باوجو د اس کے کہ اس میں بعض گناہ پائے جاتے ہوں مسلمان کہلاتا ہے اور مسلمان اس لئے کہ اس کی روحانیت پر گناہ غالب نہیں آگیا۔ اور جب وہی گناہ غالب آجاتا ہے تو وہ کافر ہو جاتا ہے اسی طرح ایسا شخص بھی جو بہت سے مسائل میں حق پر ہو لیکن ایک اہم مسئلہ میں جو روحانی سلسلہ کے اعضاء رئیسہ میں شامل ہو حق پر نہ ہو کافر کہلاتا ہے۔

پہلی بات کی مثال میں دہریہ پیش کئے جاسکتے ہیں کہ ان کے سب جسم پر بیماری کو غلبہ حاصل ہے اور وہ مذہب کے کسی اصل کو بھی قبول نہیں کرتے پھر برہمو ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو قبول کرتے ہیں لیکن آگے الہام اور نبیوں کو قبول نہیں کرتے۔ ان کی روحانیت کا گویا ایک عضو درست ہے لیکن باقی بیمار ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِاللّٰہِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا(النساء: ۱۳۷) اور

برہمو ان باتوں میں سے چاروں باتوں کا انکار کرتے ہیں۔ پھر مشرکینِ عرب ہیں جو خدا اور ملائکہ کو تو مانتے تھے مگر اس کے نبیوں اور کتابوں اور بعث بعد الموت کے منکر تھے اس کے بعد ہندو ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ، ملائکہ، الہام، رسولوں اور بعث بعد الموت کے قائل ہیں لیکن صرف ابتدائی زمانہ کی ہدایت کے سوا اور سب ہدایتوں کے منکر ہیں۔ پھر یہود ہیں ان میں سے دو گروہ ہیں ایک وہ جو سب مسائل کو قبول کرتے ہیں۔ لیکن نبیوں میں سے دو نبیوں کے منکر ہیں اور ایک ان کا گروہ وہ ہے جو علاوہ ان دو نبیوں کے انکار کے بعث بعد الموت کا بھی قائل نہیں۔ آخر میں مسیحیوں کا نمبر آتا ہے کہ یہ سب سے زیادہ اسلام کے قریب ہیں اور سب باتوں کو قبول کرتے ہیں۔ صرف نبیوں میں ہمارے آنحضرت کو قبول نہیں کرتے لیکن یہ بھی کافر ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو شرائطِ اسلام مقرر فرمائی ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان ہو۔ ملائکہ پر ایمان ہو سب کتب پر ایمان ہو۔ بعث بعد الموت پر ایمان ہو۔ ان میں سے ایک شرط ان میں پورے طور پر نہیں پائی جاتی یعنی وہ سب نبیوں پر ایمان نہیں لاتے بلکہ خاتم النبیّین آنحضرت کے منکر ہیں۔ اب آنحضرت کے بعد اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا جاتا ہے تو جو مسلمان کہلانے والے لوگ اس کا انکار کرتے ہیں وہ باوجود دیگر سب مذاہب کی نسبت اس کے قریب ہونے کے ایک شرط کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے بیماروں میں ہی شامل ہوں گے کیونکہ اعضاءِ رئیسہ میں سے ان کا ایک عضو بیمار ہے۔

اب جس شخص کے خیال میں ایک دوسرے شخص میں مذکور بالا قاعدہ کے ماتحت جو خود قرآن کریم نے بتایا ہے کوئی نقص پایا جاتا ہے اور وہ اسے کافر کہنے پر مجبور ہے۔ کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اس میں ایک ایسی بیماری پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے وہ بیماروں میں شامل ہونے کے لائق ہے اس شخص کو اس پر ناراض ہونے کی کوئی وجہ نہیں اس کا حق ہے کہ اس کی غلطی اسے سمجھائے اور بتائے کہ مجھ میں سب شرائطِ اسلام پائی جاتی ہیں۔ پس بجائے مجھے جو پورا مسلمان ہوں کافر کہنے کے تُو اپنے اسلام کی اصلاح کر لیکن اس کا کوئی حق نہیں کہ وہ اسے یہ کہے کہ تو اپنے عقیدہ کو حق سمجھتے ہوئے مجھے کافر کیوں خیال کرتا ہے۔ کافر کے تو صرف یہ معنی ہیں کہ وہ اصولِ مسائل میں سے سب یا بعض یا ایک مسئلہ کا انکار کرتا ہے اور جو شخص کسی انسان کی نسبت ایسا خیال کرتا ہے وہ اسے کافر خیال کرنے پر مجبور ہے اور اگر وہ اسے مسلم ہی سمجھتا ہے تو اسے اس کے خیالات کو قبول کر لینا چاہئے اور اپنے خیالات کو ترک کرنا چاہئے۔

غرض جب کافر کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ جس شخص کی نسبت وہ لفظ استعمال کیا گیا ہے وہ کم سے کم ایک بڑے حق کا انکار کر رہا ہے اور جبکہ اسکے صرف یہ معنی ہیں تو کیسی خلافِ عقل بات ہوگی اگر ہم اپنے مخالف سے جس کے نزدیک ہمارا اور اس کا اصولی اختلاف ہے یہ امید رکھیں کہ وہ ہماری نسبت یہ اعلان کرے کہ ہم کسی حق کا انکار نہیں کرتے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہم کافر نہیں۔ ہم اس کو یہ تو ضرور کہیں گے کہ ہمیں کافر کہنے پر تم غلطی پر ہو اور ہم میں سب شرائطِ اسلام پائی جاتی ہیں اور تم کو بھی چاہئے کہ اس حق کو قبول کرو جو ہمارے پاس ہے لیکن جب تک وہ اپنے عقائد پر قائم ہے وہ ہمیں کافر کے سوا اور کچھ نہیں سمجھ سکتا پس جو شخص احمدی ہوتا ہے اسے اگر دوسرے لوگ کافر کہتے ہیں تو انہیں ایسا کہنے دے اور ان کو سمجھائے کہ میں حقیقی اسلام پر ہوں اور ان لوگوں کا حق ہے کہ اپنے عقائد کے مطابق اسے کافر ہی سمجھیں جب ان کے مذہب کے رو سے واقعہ میں اس نے ایک جھوٹے مدعی کو قبول کیا ہے تو وہ اسے حق پر کس طرح کہہ سکتے ہیں اور اگر یہ واقعہ میں حق پر ہے تو لوگوں کے یہ سمجھ لینے سے کہ یہ باطل پر ہے اسے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔

۲۔ آپ کا دوسرا سوال یہ ہے:

کہ احمدی غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ اگر کوئی شخص احمدی ہو جائے تو اسے کُل مسجدوں سے علیحدہ ہونا پڑے گا۔ اور ایک فرض کو ترک کرنا پڑے گا جو جائز نہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ کی بناء صرف خیالات پر نہیں اور اسلام انسان کو رسومات میں گرفتار کرنے نہیں آیا۔ بلکہ اسلام میں جس قدر احکام ہیں ان سب کی غرض اطاعتِ الٰہی ہے اور کوئی کام اپنی ذات میں ثواب کا مستحق انسان کو نہیں بنا دیتا بلکہ اطاعتِ الٰہی انسان کو ثواب کا مستحق بناتی ہے نماز کیسی اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے اور عملی شریعت کے ارکان میں سے ہے لیکن اگر کوئی شخص سورج نکلتے وقت یا سورج ڈوبتے وقت نماز پڑھے تو یہی عبادت گناہ ہو جاتی ہے۔ روزہ قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے لیکن عید کے دن روزہ رکھنے والا شیطان ہوتا ہے پس کوئی عمل درحقیقت فی ذاتہٖ اچھا نہیں بلکہ عمل وہی اچھا ہے جو خدا تعالیٰ کی رضا کا مستحق بنا دے۔

جنگِ احزاب میں آنحضرت ﷺ کو چار نمازیں اکٹھی پڑھنی پڑیں حالانکہ قرآن کریم میں کہیں اس بات کا ذکر نہیں مگر آپ کا یہ فعل شریعتِ اسلام کے خلاف نہ تھا۔ نہ قرآن کریم کے حکم کے خلاف۔ وہ ایک وقتی مجبوری تھی جس کی وجہ سے ایسا کرنا پڑا۔ اب بھی اگر کسی کو ایسی مجبوری پیش آئے تو وہ ایسا ہی کر سکتا ہے اور اس کے لئے ایسا جائز ہوگا۔ سونا پہننا مردوں کے لئے جائز نہیں لیکن حضرت عمرؓ نے کسریٰ کے کڑے ایک صحابی کو پہنائے اور جب اس نے ان کے پہننے سے انکار کیا تو اس کو آپ نے ڈانٹا اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ تیرے ہاتھوں میں مجھے کسریٰ کے کڑے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح ایک موقعہ پر کسریٰ کا تاج اور اس کا ریشمی لباس جب غنیمت کے اموال میں آیا تو حضرت عمرؓ نے ایک شخص کو اس لباس اور اس تاج کے پہننے کا حکم دیا اور جب اس نے پہن لیا تو آپ رو پڑے اور فرمایا چند دن ہوئے کسریٰ اس لباس کو پہن کر اور اس تاج کو سر پر رکھ کر ملکِ ایران پر جابرانہ حکومت کرتا تھا اور آج وہ جنگلوں میں بھاگا پھر رہا ہے۔ دنیا کا یہ حال ہوتا ہے اور یہ حضرت عمرؓ کا فعل ظاہر بین انسان کو شاید درست معلوم نہ ہو کیونکہ ریشم اور سونا پہننا مردوں کے لئے جائز نہیں لیکن ایک نیک بات سمجھانے اور نصیحت کرنے کے لئے حضرت عمرؓ نے ایک شخص کو چند منٹ کے لئے سونا اور ریشم پہنا دیا۔ غرض اصل شئے تقویٰ اللہ ہے۔ احکام سب تقویٰ اللہ کے پیدا کرنے کے لئے ہوتے ہیں اگر تقویٰ اللہ کے حصول کے لئے کوئی شئے جو بظاہر عبادت معلوم ہوتی ہے چھوڑنی پڑے تو وہی کارِ ثواب ہوگا جیسے میں نے بتایا ہے کہ عید کے دن روزہ اور سورج نکلتے اور غروب ہوتے وقت نماز کا ترک ہی ثواب کا موجب ہے اور ان عبادتوں کا ان اوقات میں بجالانا انسان کو شیطان بنا دیتا ہے۔ اس اصل کو مد نظر رکھ کر اب آپ نماز باجماعت کے معاملہ کو دیکھیں۔ مسیح موعودؑ آتا ہے اس کی صداقت کو ہم نشانات سے دیکھتے ہیں اور اسے سچا پاتے ہیں۔ اسے اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ تیری جماعت کے لوگ غیروں کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ اب بتائیں کہ خدا تعالیٰ کے اس حکم کا ماننا ثواب ہو گا یا اس کو ترک کرنا ثواب ہو گا۔ نماز باجماعت بے شک ایک کارِ ثواب ہے لیکن اسی وقت جب کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہو اگر خدا تعالیٰ کے حکم کے خلاف وہ نماز ہو تو وہ ثواب نہیں بلکہ گناہ ہے۔ بعض علماء نے بھی اپنے مخالفوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے اپنے متبعین کو روکا ہے لیکن ان کا یہ فعل ناجائز تھا کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ تھا۔ لیکن مسیح موعودؑ کی صداقت کو جب ایک شخص مان لے اور مسیح موعودؑ ایک بات اذنِ الٰہی سے کہے تو اس کی اطاعت ہی کارِ ثواب ہو گا نہ کہ اس کی خلاف ورزی۔ ہم تو احادیث میں دیکھتے ہیں کہ بارش کے وقت بھی جماعت ترک کر دینے کی اجازت ہے اور صَلُّوْا فِيْ رِحَالِكُمْ(مسلم كتاب المساجد ومواضع الصلوٰة باب الصلوة في الرحال في المطر) کا حکم ہے۔ جب اس چھوٹی سی وجہ کے پیدا ہونے سے نماز باجماعت کو ترک کیا جا سکتا ہے تو جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہو وہاں یہ عذر کیونکر پیش کیا جا سکتا ہے کہ احمدی ہو کر نماز باجماعت ترک کرنی پڑے گی جس خدا نے نماز باجماعت کا حکم دیا ہے اسی نے اپنے مسیحؐ کی معرفت یہ حکم دیا ہے کہ اب غیر کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ پس اگر مسیح موعودؑ سچا ہے تو اب ثواب اسی میں ہے اور وہی نماز قبول ہے جو علیحدہ پڑھی جائے نہ وہ جو غیر احمدی کے پیچھے۔ اس جگہ یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ شریعتِ اسلام تو کامل ہو چکی ہے اب یہ نیا حکم کیونکر جاری ہوا کیونکہ یہ کوئی نیا حکم نہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ اگر یہ حکم دیتے کہ نماز باجماعت پڑھنی جائز نہیں تب بے شک ایک نیا حکم ہوتا لیکن آپ نے تو یہ حکم دیا ہے کہ غیر احمدی کے پیچھے جائز نہیں اور یہ حکم نیا نہیں نماز باجماعت سے تو آپ نے نہیں روکا۔ احمدی آپس میں نماز باجماعت پڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر جو شخص احمدیت قبول کرتا ہے اسے اللہ تعالیٰ اکیلا نہیں رکھتا بلکہ اس کے لئے جماعت کا سامان پیدا کر دیتا ہے۔ آپ غور فرمائیں کہ اگر آپ کو معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص جو نماز پڑھا رہا ہے وہ ناپاک ہے اور بلا غسل نماز پڑھا رہا ہے یا بلا وضو تو آپ اس کے پیچھے نماز پڑھ لیں گے؟ کبھی نہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ یہ امام تو احکام اسلام کو توڑ رہا ہے اس کے پیچھے نماز کی قبولیت کیا ہوگی۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں مَنْ مَاتَ وَ لَمْ يَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مِيْتَةً جَاهِلِيَّةً(کشف الغمة جلد ۳ صفحہ ۳۴) کہ جو شخص امامِ وقت اور مسیح موعودؑ کو قبول نہیں کرتا وہ کس قدر خدا تعالیٰ سے دور ہے حتیٰ کہ آنحضرت ﷺ جو انسانوں میں سے اصدق الصادقین ہیں اس کی موت کو اسلام سے پہلے کے کفار کی موت کی طرح قرار دیتے ہیں۔ پس جو شخص آنحضرت ﷺ کو قبول کرتا ہے اور پھر حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کو قبول کرتا ہے وہ آپ کے منکر کے پیچھے کس طرح نماز پڑھ سکتا ہے کیونکہ نماز کا امام تو سب جماعت کا قائم مقام ہوتا ہے پھر کیا خدا تعالیٰ کے حضور اپنی التجاؤں کے پیش کرنے کے لئے انسان اس شخص کو آگے کر سکتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہے اس شخص کو اپنا امام بنانا گویا اپنی دعاؤں کو بھی قبولیت سے محروم رکھنا ہے۔ گورنمنٹ کے پاس لوگ ڈیپوٹیشن بھیجتے ہیں تو یہ دیکھ لیتے ہیں ایسا شخص ڈیپوٹیشن کا رئیس ہو جس سے حکام خوش ہوں اور کبھی ڈاکو یا مجرم کو آگے نہیں کرتے کیونکہ اس سے انہیں خطرہ ہوتا ہے کہ اگر درخواست قبول ہونی بھی ہوگی تو نہ ہو گی اسی

وجہ سے آنحضرت ﷺ نے اَتْقَى النَّاسِ اور اَعْلَمُ النَّاسِ امام بنانے کا حکم دیا یا کم سے کم متقی انسان تو امام ہونا چاہئے جس کی نسبت ہمارا گمان ہو کہ اللہ تعالیٰ اس پر خوش ہے لیکن وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے مامور کو رد کرتا اور اس کے حکم کو ٹالتا اور رسول اللہ ﷺ کے ارشادات اور اشارات کو پسِ پشت ڈالتا ہے اس کی نسبت ہم کب خیال کر سکتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کا امام ہونے کے قابل ہے جو اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو قبول کر چکے ہیں اور اس کی امان میں آچکے ہیں ان کا امام تو وہی ہونا چاہئے جو ان میں سے ہو۔ اللہ تعالیٰ تو قرآن کریم میں مؤمنوں کی دعا بتاتا ہے وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِیۡنَ اِمَامًا(الفرقان: ۷۵)، ہمارے مقتدی بھی متقی ہوں۔ پھر بھلا وہ شخص جو امام وقت کو رد کر کے اللہ تعالیٰ کو ناراض کر چکا ہو امام ہونے کے لائق کب ہے۔ پس اصل بات یہی ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے یہ حکم کبھی نہیں دیا کہ نماز با جماعت نہ پڑھو بلکہ ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے روکا ہے جو امام ہونے کے اہل نہیں اور اللہ تعالیٰ کو ناراض کر چکے ہوں تا ایسا نہ ہو کہ ان کو امام بنانے کی سزا میں یہ بھی ایمان سے محروم کر دیا جائے اور اس کی دعا بھی رد ہو اور جہاں ایسے آدمی ملیں جو امام ہونے کے اہل ہوں وہاں نماز باجماعت کا حکم اسی طرح موجود ہے جس طرح اسلام نے دیا ہے۔

آپ آنحضرت ﷺ کے اقوال پر بھی غور فرماویں ان سے بھی ثابت ہے کہ مسیح کے متبع ایک دوسرے کے پیچھے ہی نماز پڑھیں گے۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں۔ كَيْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ فِيْكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ فَاَمَّكُمْ مِّنْكُمْ(مسلم کتاب الایمان باب نزول عيسى بن مريم حاكما بشريعة نبينا محمد صلى الله عليه وسلم)، دوسری حدیث میں ہے وَ اِمَامُكُمْ مِّنْكُمْ(بخاری کتاب بدء الخلق باب نزول عيسى ابن مريم عليهما السلام) اب اس حدیث پر غور کریں کیسے صاف الفاظ میں بتایا ہے کہ احمدیوں کا امام احمدی ہی ہونا چاہئے۔ فرماتے ہیں کہ جب عیسیٰؑ بن مریم نازل ہوں گے تو تم میں سے ہی امام ہوگا۔ اب یہ بات تو صاف ثابت ہے کہ نماز کا امام عیسائی یا ہندو تو ہوا ہی نہیں کرتا کہ ہم اس جگہ یہ خیال کر لیں کہ آنحضرت ﷺ یہ فرماتے ہیں کہ اس وقت کی یہ خصوصیت ہو گی کہ امام ہندو عیسائی یا یہودی نہ ہوا کریں گے بلکہ مسلمان ہی ہوں گے غرض اس جگہ اس حدیث کے یہ معنی کرنے کہ اے مسلمانو! اس وقت تمہارا امام تم میں سے ہو گا یعنی مسلمان ہو گا اس حدیث کو لغو اور بے معنی بنا دینا ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ پس اس کے یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ مسیح کے نزول تک تو سب فرق کا اختلاف ایسا نہ ہو گا کہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز ترک کر دیں لیکن چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا مرسل ہو گا اس لئے اس کی جماعت کی خصوصیت یہ ہوگی کہ ان کا امام انہی میں سے ہو گا نہ کہ ان دوسرے فرق سے جو دعوٰی اسلام کرتے ہوں گے۔ غرض غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنے کا ترک ہرگز کسی فرض کا ترک نہیں بلکہ قرآن کریم و احادیث کی رو سے امام جماعت امامت کے اہل انسان کو بنانا چاہئے اور چونکہ ایک مامور اور مامور بھی مرسل مامور اور پھر مسیح موعودؑ کا انکار ایک خطرناک جرم ہے جو انسان کے تعلق کو اللہ تعالیٰ سے توڑ دیتا ہے۔ اس لئے مسیح موعودؑ کا منکر ہرگز ایک احمدی کی امامت کا اہل نہیں اور بموجب حدیث جماعتِ مسیح موعودؑ کا امام خود انہی میں سے ہونا چاہئے اور خدا تعالیٰ نے مسیح موعودؑ کو حکم دیا ہے اور یہ فیصلہ قیاسی نہیں مطابق الہام ہے۔

علاوہ ازیں آپ یہ بھی خیال فرمادیں کہ مسیح موعودؑ کی نسبت رسول اللہ ﷺ حَكَمًا عَدْلًا(بخاری کتاب بدء الخلق باب نزول عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام) فرماتے ہیں یعنی وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ کرنے کے لئے آئے گا اور اس کے فیصلے بالکل درست ہوں گے پس جب مسیح موعودؑ کے فیصلوں کو آنحضرت ﷺ درست قرار دیتے ہیں تو اور کسی انسان کا کیا حق ہے کہ ایک شخص کو مسیح موعودؑ مان کر پھر بھی کہے کہ اسکے بعض فیصلوں کو مان کر اسلام کے بعض احکام کو ترک کرنا پڑتا ہے۔ کیا حَكَمًا عَدْلًا کے فیصلے غلط ہو سکتے ہیں؟ اس کا تو ہر ایک حکم اسلام کے ماتحت ہی ہو گا۔ پس یہ بحث تو ہو سکتی ہے کہ مرزا صاحب واقعہ میں مسیح ہیں یا نہیں مگر ان کو مسیح مان کر ان کے فیصلوں کو اسلام کے خلاف نہیں کہا جا سکتا۔

۳۔ تیسرا سوال آپ کا یہ ہے:

کہ قرآن کریم میں ہمارا نام مسلم رکھا گیا ہے اور ہمیں مختلف فرقے بنانے سے روکا گیا ہے پھر ہم کس طرح احمدی کہلائیں اور ایک اور فرقہ کی بنیاد رکھیں سو اس کا جواب یہ ہے کہ احمدی نام ہمارے مذہب کا نہیں۔ ہمارا مذہب اسلام ہی ہے۔ لیکن جب کہ اس وقت مسلمانوں میں ہزاروں فرقے موجود ہیں اگر ہم صرف مسلمان کہلائیں تو دنیا ہماری خصوصیات سے کس طرح واقف ہو۔ اس وقت احمدی کا لفظ گویا ہمارے لئے ایک اشتہار ہے اور اس کے یہ معنی نہیں کہ احمدی کوئی نیا مذہب ہے بلکہ اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور اس جماعت میں شامل ہیں جو مسیح موعودؑ کو ماننے والی ہے۔ دیکھئے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین کا خطاب دیا ہے یا نہیں اور پھر بہت سے آدمیوں کو نبی کر کے پکارا ہے یا نہیں۔ پھر کیا یہ سَمّٰكُمُ

الْمُسْلِمِیْنَ کے خلاف ہے؟ ہرگز نہیں وہ لوگ نبی بھی تھے مسلمان بھی تھے۔ اسلام ان کا مذہب تھا اور نبوت ان کی خصوصیت تھی جو اور دوسرے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی تھی۔ پس نبی یا خاتم النبیّین کے نام سے پکارنے سے یہ مطلب نہیں تھا کہ مسلم کے نام کے خلاف کیا گیا ہے بلکہ اس میں ایک خصوصیت بتلائی گئی تھی۔

پھر خود قرآن کریم میں مہاجرین و انصار کے دو گروہوں کا ذکر آتا ہے اور یہ دونوں گروہ مسلمانوں میں سے تھے۔ کیا پھر قرآن کریم نے خود اپنے ہی بتائے ہوئے قاعدہ کے خلاف کیا کہ آپ ہی تو بتایا کہ تمہارا نام مسلم ہے اور آپ ہی ایک جماعت کو مہاجر کے نام سے پکارا اور ایک کو انصار کے نام سے مگر اس کا جواب یہی ہے کہ یہ نام مسلم نام کے خلاف نہیں وہ لوگ مذہبًا مسلم تھے لیکن چونکہ ان میں بعض خصوصیات ہیں جن کا ذکر کرنا ان کے درجہ اور ان کے حقوق کے اظہار کے لئے ضروری تھا اس لئے ان کا ذکر بھی کیا گیا جو سَمّٰٮکُمُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ(الحج: ۷۹) کے خلاف نہ تھا۔ اسی طرح مسلمانوں میں سے کوئی سید کوئی قریشی کوئی پٹھان کوئی مغل وغیرہ کہلاتے ہیں اور یہ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ کے خلاف نہیں بلکہ بعض جگہ اس کا اظہار ضروری ہو جاتا ہے۔ گورنمنٹ نے پنجاب میں خاص اقوام کو زمین کے خریدنے کا اہل قرار دیا ہے اور ہر قوم کو مستحق نہیں سمجھا۔ اب اگر مسلمان سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ کے ماتحت اپنے ان ناموں کو پوشیدہ رکھیں جو ان کی قوم کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو وہ ان تمام حقوق سے محروم ہو جائیں۔ اسی طرح آپ غور کریں کہ ہر ایک شخص کا ایک نام ہوتا ہے اگر سب مسلمان اسی حکم کے ماتحت نام رکھنے چھوڑ دیں تو دنیا میں کس قدر تباہی آجائے۔ غرضکہ مختلف وجوہات کے ماتحت انسان کو اپنے بعض نام قرار دینے پڑتے ہیں کبھی اپنے آپ کو دوسرے لوگوں سے ممتاز کرنے کے لئے وہ اپنا نام رکھتا ہے یا یہ کہ اس کے والدین اسکا کوئی نام رکھتے ہیں اور کبھی ایک قوم کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ایک قومی نام رکھا جاتا ہے کبھی بعض عہدوں اور مدارج کے بتانے کے لئے نام رکھے جاتے ہیں اور ایسا کرنے سے مسلمانوں کے مسلم نام میں کوئی فرق نہیں آجاتا۔ پس ہم جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں تو یہ قرآن کریم کے حکم کے خلاف نہیں کیونکہ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ہم مسلم نہیں بلکہ ہم ہمیشہ اپنے آپ کو مسلم ہی کہتے ہیں۔ احمدی تو ہم صرف اس بات کے ظاہر کرنے کے لئے کہلاتے ہیں کہ ہم وہ مسلمان ہیں جو مسیح موعودؑ کے ہاتھوں پر اسلام کی حقیقت کو پا کر مسلم بنے ہیں اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے مأمور اور مرسل کو رد نہیں کیا بلکہ قبول کیا ہے جس طرح انصار اس لئے انصار کہلاتے تھے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے رسول کو اپنے گھروں میں جگہ دی۔ غرضکہ احمدی کہلانے میں اسلام کا انکار نہیں بلکہ ایک خصوصیت کا اظہار ہے۔

باقی رہا یہ کہ قرآن کریم نے فرقہ بندی سے منع کیا ہے سو یہ بالکل درست ہے۔ اسلام نے فرقہ بندی سے منع کیا ہے جو شخص فرقہ بندی کرتا ہے وہ غلطی کرتا ہے مگر ہم تو کوئی فرقہ بندی نہیں کرتے ہم تو اصل اسلام کو نقلی اسلام اور بناوٹی اسلام سے علیحدہ کرتے ہیں۔ اس وقت مسلمان کہلانے والے لوگ ہزاروں گندے عقائد اور بد رسومات میں مبتلا ہیں اور بہت سی صداقتوں سے منکر ہیں۔ مسیح موعودؑ نے ان سب باتوں کو خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت دور کیا ہے اور حقیقی اسلام کو پیش کر کے اس کی طرف لوگوں کو بلایا ہے۔ پس یہ فرقہ بندی نہیں بلکہ اسلام کی شیرازہ بندی ہے۔ کیا قرآن کریم نے اس بات سے بھی منع کیا ہے کہ اسلام کی شیرازہ بندی کبھی نہ کرنا اور خواہ مسلمان اسلام سے کتنے ہی دُور ہوتے چلے جائیں تم ان کو اصل اسلام کی طرف نہ بلانا اور اگر یہ جائز ہے تو احمدی جماعت کا قیام فرقہ بندی کی بناء پر نہیں بلکہ اسلام کی شیرازہ بندی کی بناء پر ہے۔ اور جو لوگ اسلام سے دور چلے گئے تھے ان کو کھینچ کھینچ کر ایک مرکز پر جمع کیا جا رہا ہے۔ اسلام میں کسی شخص کا ہاتھ یا پیر کاٹ دینا منع ہے لیکن ایک ڈاکٹر جب ایک بے کار عضو کو کاٹ دیتا ہے تو یہ عین ثواب ہوتا ہے کیونکہ اسکا ساتھ جڑا رہنا دوسرے اعضاء کو بھی خراب کر دے گا اسی طرح محفوظ اعضاء کو بے کار اعضاء سے جدا کر دینا اور ان کو ایک شیرازہ میں لے آنا ہرگز فرقہ بندی نہیں کہلا سکتا۔ اس وقت اگر حقیقی اسلام کو الگ نہ کیا جائے تو اسلام کی تباہی یقینی ہے۔ ضروری ہے کہ اسلام کی بہتری اور اس کے احیاء اور قیام کے لئے حق کو باطل سے علیحدہ کر دیا جائے۔

۴۔ چوتھا سوال آپ کا یہ ہے:

کہ قرآن کریم میں یا احادیث میں کہیں اس بات کا حکم نہیں کہ مسیح و مہدی کو کھلے طور پر قبول کرنا۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم سے تو سوائے آنحضرت ﷺ کے اور کسی نبی کی اطاعت کا قبل از وقت حکم دیا جانا معلوم نہیں ہوتا لیکن جب کہ اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ(التوبہ: ۱۱۹) صادقوں کے ساتھ مل جاؤ۔ اور فرماتا ہے کہ وَارۡکَعُوۡا مَعَ الرّٰکِعِیۡنَ(البقرہ: ۴۴) فرمانبردار لوگوں کے ساتھ شامل ہو جاؤ تو مسیح اور مہدی کا نام لے کر اس بات کی تاکید کرنے کی کیا ضرورت تھی کہ اس کی فرمانبرداری کرو۔ اگر مسیح موعودؑ صادق ہے تو اس کے ساتھ ہونے اور اس کی جماعت میں علی الاعلان شامل ہونے کی ضرورت ہے اور قرآن کریم کا حکم ہے اور اگر کاذب ہے۔ نعوذ باللہ۔ تو پھر اس سوال کی ہی ضرورت نہیں پھر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نسل انسان کو فرماتا ہے فَاِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ مِّنِّیۡ ہُدًی فَمَنۡ تَبِعَ ہُدَایَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَکَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ(البقرہ: ۳۹، ۴۰) پس جس کا نام مہدی رکھا گیا ہے وہ جب دنیا میں آئے تو اس کے ساتھ ہونا اور اس کی جماعت میں داخل ہونا تو ایک حکم الٰہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی اتباع کرنا تو مؤمن کا فرض اولین ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَتَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ(ال عمران: ۱۱۱) تم بہتر امت ہو جو لوگوں کے نفع کے لئے نکالی گئی ہے تم لوگ سب نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور سب بری باتوں سے لوگوں کو روکتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہو۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کو دوسری امتوں پر فضیلت ہی اس لئے دی گئی ہے کہ ان کا فرض مقرر کیا گیا ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو لوگوں کے نفع کے لئے وقف کر دیں اور حق باتیں لوگوں کو پہنچاتے رہیں اور بری باتوں سے روکتے رہیں۔ پس جبکہ مسلمان کا فرض دوسروں کو حق پہنچانا ہے تو اپنا مذہب پوشیدہ رکھنا اسے کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نور اور ہدایت نازل ہو گئی تو ہر ایک مؤمن کا فرض ہے کہ وہ اس کو شائع کرے اور لوگوں کو اس کی طرف بلائے اور یہ مسلم کا پہلا فرض ہے اور ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ تبلیغ کرنے والے لوگوں کو کہتا ہے کہ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ(ال عمران: ۱۰۵) یعنی جب تک لوگوں کو دعوت حق دینے کا مادہ مسلمانوں میں رہے گا اسی وقت تک مسلمان کامیاب ہوں گے۔ پس ان تمام آیات کے ہوتے ہوئے ایمان کا پوشیدہ رکھنا جائز نہیں۔ اور ان آیات میں ہرگز کہیں نہیں لکھا کہ یہ حکم صرف فلاں فلاں نبی کے لئے ہے یا یہ کہ فلاں فلاں ہدایت کے لئے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں یہود کی نسبت آتا ہے کہ اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَعۡرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَہُمۡ(البقرہ: ۱۴۷) اہل کتاب رسول اللہﷺ کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دل سے تو وہ آپ کے مؤمن تھے لیکن اس کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ لیکن باوجود اس کے ان پر سخت الزام لگایا گیا ہے۔ پھر ہم حضرت مسیح موعودؑ کے الہامات کو دیکھتے ہیں تو وہاں بھی یہ حکم پاتے ہیں کہ جو شخص اس کشتی میں نہیں بیٹھتا جو اللہ تعالیٰ نے مسیح موعودؑ کے ہاتھوں سے تیار کروائی ہے یعنی احمدی جماعت میں داخل نہیں ہوتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ نہیں اور اس کے فضلوں کا وارث نہیں ہو سکتا۔

۵۔ پانچواں سوال آپ کا یہ ہے:

کہ مذکورہ بالا واقعات کے ہوتے ہوئے اگر میں آپ کو خفیہ طور پر قبول کروں تو اس میں کچھ حرج نہیں؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ میں پہلے سوالوں کے جواب دے چکا ہوں جن میں میں نے بتایا ہے کہ ماموروں کا ماننا اور ان کی جماعت میں شامل ہونا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسیح موعودؑ کی جماعت سے عظیم الشان ترقیوں اور انعامات کے وعدے کئے ہیں۔ ان وعدوں کا حصہ دار انسان تب ہی ہو سکتا ہے جب ان کی جماعت میں شامل ہو۔ مکرمی! آپ سوچیں کہ اگر سب لوگ اسی طرح اپنے دل میں فیصلہ کر کے اپنی اپنی جگہ پر قائم رہیں تو وہ کام جو مسیح موعودؑ کا ہے کس طرح پورا ہو۔ آپ نے جو خیالات ظاہر فرمائے ہیں یہ دوسروں کے لئے بھی روک ہو سکتے ہیں۔ پھر اسلام کا غلبہ جو مسیح موعودؑ کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ کرانا چاہتا ہے کیونکر ہو اور کھرے اور کھوٹے میں کیا امتیاز پیدا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام حضرت مسیح موعودؑ کو بیعت لینے پر مقرر فرمایا تھا اور ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد آپ کے خلفاء جو غیر مامور تھے ان کی بیعت کی نسبت بھی صحابہؓ کو اس قدر اصرار تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے زیادہ دیر بغیر ایک امام کے رہنے کو پسند نہ کیا اور سب سے پہلا کام یہ کیا کہ حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور جس شخص نے بیعت نہ کی اس سے بالکل قطع تعلق کر لیا اور کلام تک چھوڑ دیا۔ پس جب یہ غیر مامور خلفاء کا حال ہے تو مامور خلیفہ اور مسیح موعودؑ اور امتِ محمدیہ کے درخشندہ گوہر آنحضرت ﷺ کے فیض صحبت سے ترقی کرتے ہوئے نبی کا نام پانے والے انسان کے ساتھ شامل نہ ہونا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔ ایمان کی سلامتی کے لئے ضروری ہے کہ کھلے بندوں اس کی جماعت میں شامل ہو کر ہر ایک مؤمن باللہ اپنے نفس کی درستی اور خدمتِ اسلام میں لگ جائے۔ میرے خیال میں تو جو شخص مسیح موعودؑ کو امام برحق مان لیتا ہے اس کے لئے سوائے دنیاوی مشکلات اور مولویوں کے فتوؤں کے اور کوئی چیز مسیح موعودؑ کے ماننے میں روک نہیں ہو سکتی۔ لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا چند روزہ ہے اور آخر میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں

حاضر ہونا ہے جہاں کسی کی سفارش یا شفاعت کام نہیں دے سکتی الا ماشاء اللہ اور جب خدا تعالیٰ کے علم سے کوئی بات مخفی نہیں۔ ہمارے زمانہ میں تو وہ مشکلات نہیں پہلے زمانہ میں تو لوگوں کو صداقت کی خاطر جانیں دینی پڑتی تھیں اور بعض کو اپنے سامنے اپنی بیویوں اور بچوں کو ذبح ہوتے دیکھنا پڑتا وطن چھوڑنے پڑتے تھے جائیدادیں ترک کرنی پڑتی تھیں مگر وہ لوگ صداقت کے قبول کرنے سے انکار نہ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ(العنکبوت: ۳) کیا لوگ خیال کرتے ہیں کہ صرف ایمان کا دعویٰ کرنے پر ان کو چھوڑ دیا جائے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے یعنی ایسا نہیں ہو سکتا۔ ایمان وہی قابل قدر اور انعام الٰہی کا وارث کرتا ہے جس میں انسان آزمائشوں میں ڈالا جائے اور خدا تعالیٰ کے لئے ہر ایک قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔ پس مؤمن تو وہی ہے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک اسی کی قدر ہے جو اپنے پیدا کرنے والے اور اپنے رازق اور اپنے مالک کے حکم کے ماتحت ہر ایک تکلیف برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ ہماری جماعت میں سے ہی بعض لوگ اس سلسلہ میں داخل ہونے کی وجہ سے ریاست کابل میں قتل کئے گئے اور بعض کو اپنے وطن چھوڑنے پڑے لیکن انہوں نے صداقت کو نہ چھپایا اور ایسا تو شاید ہی کوئی انسان ہو جس کو اور قسم قسم کے دکھ نہیں دیئے گئے۔ اور کچھ نہیں تو فتوئیٰ کفر کے ذریعہ سے اسے ڈرانے کی کوشش نہ کی گئی ہو۔ اور ایمان قبول بھی وہی ہوتا ہے جو باوجود مشکلات کے ثابت رہے۔ کاش! دنیا اس بات پر غور کرتی۔ اور لوگ اس بات کو سوچتے کہ انسان اس دنیا میں نہ رہے گا۔ اگر صداقت کے قبول کرنے میں اسے سخت سے سخت تکلیفیں بھی دی جائیں تب بھی وہ ایک محدود وقت کے لئے ہوں گی۔ اول تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں مؤمنوں کی نصرت کرتا ہے اور اگر اس دنیا میں دکھ ہی دکھ ہو تب بھی یہ زندگی زیادہ سے زیادہ سو سال کی سمجھ لو پھر مرنا ہے اور ایک نئے گھر میں بود وباش کرنی ہے جس کا کوئی خاتمہ نہیں پھر اس نہ ختم ہونے والے آرام کو قربان کرنا اور اس محدود زندگی کے آرام کو قبول کرنا کہاں کی دانائی ہے۔ اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ رضائے الٰہی کے مقابلہ میں دنیا کے دکھوں اور تکلیفوں کی ہستی ہی کیا ہے۔ کاش! مسلمان اس قدر غور کرتے کہ آج اسلام خطرناک مصائب میں گرفتار ہے اور اسے پھر بڑھانے کے لئے خدا تعالیٰ نے مسیح موعودؑ کو بھیجا ہے اور اس کے ہاتھ سے اسلام کے شیرازہ کو پھر باندھنا چاہا ہے اور اس جماعت میں شامل ہونے کے لئے دوڑتے جسے خدا تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کے لئے پیدا کیا ہے اور اس جماعت سے علیحدہ ہو جاتے جس نے حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ جب آنحضرت ﷺ مسیح موعودؑ کو اپنا سلام پہنچا دینے کا حکم ہر ایک مسلمان کو دیتے ہیں تو پھر کیا مسلمان کہلاتے ہوئے کوئی شخص مسیح موعودؑ سے جدا ہو سکتا ہے۔ ہر ایک شخص کو یہ حکم دینا کہ میری طرف سے مسیح موعودؑ کو سلام کہنا اس کا مطلب سوائے اس کے اور کیا ہے کہ اس کی جماعت میں شامل ہونا۔ کیونکہ سلام پہنچانا چاہتا ہے کہ اس کے پاس بھی انسان جائے اور الٰہی سلسلے انسانوں کی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہو جاتے۔ مسیح موعودؑ کا ماننا جیسے اس کی زندگی میں ضروری تھا اسی طرح اب بھی ہے۔ اسلام کو سب سے بڑا نقصان پراگندگی سے پہنچا اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ پھر نئے سرے سے مسلمانوں کو ایک جماعت بنائے اور اس کے لئے اس نے مسیح موعودؑ کو بھیجا ہے۔ اب جس شخص کے دل میں اسلام کی محبت ہے اور خدا تعالیٰ کا تقویٰ رکھتا ہے اسے چاہئے کہ مسیح موعودؑ کے دعوٰی کو پرکھنے کے بعد اس کی صداقت معلوم کر کے اس کے احاطہ میں آجائے تا ایسا نہ ہو کہ خدا تعالیٰ کے حضور میں وہ ان لوگوں میں شامل کیا جاوے جو اسلام کو نقصان پہنچانے والے اور جماعتِ مسلمین کو پراگندہ کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے اور حق کی طرف ہدایت کرے۔ آمین۔

مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی قادیان دار الامان ۹۔ اپریل ۱۹۱۵ء

پیغام مسیح موعودؑ

(پیروانِ مذاہبِ عالم کو حضرت مسیح موعودؑ کے پیغام کو قبول کرنے اور باہمی صلح و آشتی کی تعلیم)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمده و نصلی علی رسولہ الکریم

پیغام مسیح موعود علیہ السلام

تقریر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثانی (جو حضور نے ۱۱؍ جولائی ۱۹۱۵ء بعد از نمازِ مغرب بمقام لاہور احاطہ میاں سراج دین صاحب میں ایک پبلک جلسہ میں فرمائی)

میں لاہور کوئی تقریر کرنے یا کسی جلسہ میں شمولیت کے لئے نہیں آیا تھا بلکہ میرے حلق میں کچھ تکلیف تھی اور اس تکلیف کی وجہ سے میں مجبور ہوا کہ لاہور آکر اس کا علاج کراؤں۔ جب میں یہاں آیا تو میرے دل میں تحریک ہوئی کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے مجھے اس تکلیف سے آرام ہو گا یا نہ ہو گا اور خدا ہی اچھی طرح جانتا ہے کہ میں اس بیماری سے شفا پاؤں گا یا نہ پاؤں گا لیکن خدا تعالیٰ نے جب مجھے موقع دیا ہے کہ میں اس صوبہ کے دارالامارت میں آیا ہوں جس کا میں باشندہ ہوں تو بہتر ہے کہ میں اس جگہ پر ان تمام اصحاب کو جو حق طلبی کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہیں وہ پیغام پہنچا دوں جو اس خدا نے جو تمام انسانوں کا خالق ہے اپنے بندوں کی طرف بھیجا ہے۔

میں دیکھتا ہوں کہ ایک معمولی چپڑاسی۔ چپڑاسی بھی نہیں کوئی چوہڑا چمار گلے میں ڈھول ڈال کر ڈم ڈم کرتا ہوا گلی میں سے گزرتا ہے تو لوگ دوڑتے آتے ہیں کہ کیا ڈھنڈورا پیٹتا ہے اور کیا کہہ رہا ہے تو میں کوئی وجہ نہیں دیکھتا کہ وہ انسان جو دنیاوی حیثیت کے لحاظ سے بھی معزز ہو اور مخالف بھی اقرار کریں کہ وہ معزز و مکرم ہے۔ جب دنیا میں پکار پکار کر کہے کہ میں خدا کی طرف سے ڈھنڈورا دیتا ہوں۔ اے سننے والو سنو! تو کیوں ہر ایک آدمی پر فرض نہ ہو کہ کم از کم اس ڈھنڈورا دینے والے کی آواز کی طرح تو اس کی آواز کو سنے اور دریافت کرے کہ کیا کہتا ہے؟ پس میں ہر ایک حق پسند حق طلب اور انصاف پسند سے امید کرتا ہوں کہ وہ اس پیغام کو غور سے سنے گا جو میں بیان کرنے لگا ہوں۔ یہ پیغام جیسا کہ میں نے بتایا ہے خدا کا پیغام ہے اور اس خدا کا ہے جو ہر ایک چیز کا جو زمین و آسمان کے درمیان ہے خالق ہے ہر ایک چھوٹی سے لے کر بڑی چیز کا مالک ہے اور ہر ایک جاندار کا رازق ہے اور جس کے حضور ایک دن تمام انسانوں کو حاضر ہونا ہے۔ پھر اس پیغام کے لانے والا کوئی معمولی انسان نہیں بلکہ وہ ہے جو کہتا ہے کہ میں وہ مسیح ہوں جس کی خبر انجیل نے دی ہے۔ میں وہ نبی ہوں جس کی خبر دانیال نبی نے دی ہے۔ میں وہ مہدی ہوں جس کی خبر آنحضرت ﷺ نے دی ہے۔ میں وہ کرشن ہوں جس کی خبر گیتا میں درج ہے۔ میں وہ میسیادر بہمی ہوں جس کی خبر جاماسپ نے اپنی کتاب جاماسپی میں لکھی ہے اور پھر وہ یہی نہیں کہتا بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ میں تمام دنیا کی طرف صلح کرانے اور تمام کو ایک دین پر جمع کرنے کے لئے آیا ہوں۔ اس کا یہ دعویٰ بہت بڑا دعویٰ ہے پس ہر ایک انصاف پسند کا فرض ہے کہ اس کے دعویٰ کو سن تولے۔ میں مانتا ہوں کہ بہت سے لوگ اس کو قبول نہ کریں گے اور یہ سنت اللہ ہے کہ خدا کے فرستادوں کو بہت سے لوگ قبول نہیں کیا کرتے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ کرشن کی اس کے زمانہ میں مخالفت کی گئی کیا یہ درست نہیں کہ رامچندر، زرتشت، موسیٰ، داؤد، ابراہیم اور مسیح کی اپنے اپنے زمانہ میں مخالفت کی گئی۔ کیا یہ امر واقعہ نہیں کہ آخری لے نبی جو خاتم النبین اور سب نبیوں کے سردار ہیں ان کی بھی مخالفت کی گئی اور کیا یہ صحیح نہیں کہ آج تک کوئی بھی نبی ایسا نہیں گزرا جس کا کوئی بھی مخالف نہ رہا ہو۔ جب بات یہ ہے تو یہ خیال کرنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ساری دنیا مان لے اور کوئی مخالف نہ رہے حماقت ہے کیونکہ یہ سنت اللہ کے خلاف ہے پس ایسا ہونا ناممکن ہے چونکہ انسانوں کی مختلف فطرتیں ہوتی ہیں اس لئے انبیاء کو سب کے سب قبول نہیں کر سکتے۔ ہاں بعض ایسے ہوتے ہیں جو قبول کر لیتے ہیں لیکن بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن تک حق پہنچتا ہی نہیں اور بعض جلد بازی سے کام لے کر انکار کر دیتے ہیں اس لئے یہ خیال کہ کسی ایک انسان کو ساری دنیا مان لے باطل ہے۔ لیکن میں اس وقت آپ لوگوں کے سامنے ایک ایسے انسان کا پیغام پیش کرتا ہوں جس کو خدا تعالیٰ نے ساری دنیا کی طرف مبعوث کیا ہے اور جس سے خدا کا وعدہ ہے کہ دنیا کا اکثر حصہ تیرے ہاتھ پر صداقت کو قبول کرے گا اور تو اسلام کا چہرہ ظاہر کرے گا پھر جس کی نسبت مختلف نبیوں نے خبر دی ہے اور ہر ایک مذہب والے اس کے منتظر بیٹھے ہیں۔ عیسائی صاحبان ، ہندو صاحبان ، یہودی اور پارسی صاحبان سب مانتے ہیں کہ ہماری کتابوں میں آخری زمانہ میں آنے والے کی پیشگوئی موجود ہے۔ چینی یہاں کوئی موجود نہیں لیکن اگر کسی چینی سے دریافت کرو گے تو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے ہاں بھی آخری زمانہ میں آنے والے کی پیشگوئی موجود ہے۔ پس جب تمام مذاہب کا اس پر اتفاق ہے تو ضرور اس میں خدا تعالیٰ کی بہت بڑی حکمت ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہتے ہیں یہ سب ڈھکوسلے ہیں نہ کوئی آیا نہ آئندہ آئے گا اور نہ آ سکتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ کیا ڈھکوسلے ایسے ہی ہوتے ہیں جو مختلف ملکوں میں اور مختلف مذاہب کی کتابوں میں پھیل جاتے ہیں۔ اگر یہ بات صرف حضرت مسیح کی کتاب میں ہوتی تو کوئی کہہ سکتا تھا ڈھکوسلا ہے۔ اگر صرف دانیال کی کتاب اس خبر کو شائع کرنے والی ہوتی تو کوئی کہہ سکتا تھا ڈھکوسلا ہے۔ لیکن مختلف نبی جو مختلف ممالک میں آئے اور مختلف کتابیں لائے انہوں نے متفق ہو کر یہ خبر دی کہ آخری زمانہ میں دنیا میں ایک نبی آئے گا اور اس کے ظہور کا وقت وہ ہو گا جب دنیا میں خطرناک جنگیں ہوں گی اور دنیا ان کے ذریعہ سے ہل جائے گی اس کے بعد اس آنے والے کے ذریعہ سے دنیا میں امن اور صلح قائم ہوگی۔ پس یہ کس طرح ممکن ہے کہ مختلف ممالک کے انبیاء ایک آنے والے کی یک زبان ہو کر خبر دیں اور ان سب کا قول ڈھکوسلا کہلائے وہ انبیاء آپس میں کب اکٹھے ہوئے کہ سب نے مل کر ایک بات بنائی۔

حضرت مسیح موعودؑ کا پیغام

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو پیغام میں سنانے کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔ وہ نیا بھی نہیں اور پرانا بھی نہیں۔ نیا تو اس لئے نہیں کہ وہ وہی پیغام ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے مرسل ہمیشہ سے سناتے آئے ہیں اور پرانا اس لئے نہیں کہ اس وقت دنیا اس پیغام کو اس طرح بھول گئی ہے کہ گویا کبھی بھیجا ہی نہیں گیا۔ دنیا کا کوئی مذہب نہیں جس میں وہ پیغام نہیں بھیجا گیا۔ ہر مذہب میں اس کی تعلیم موجود ہے مگر اب دنیا اسے بھول گئی ہے اور ایک لفظ بھی یاد نہیں ، اس لئے نیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی ربوبیت

اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف زمانہ میں مختلف نبی آئے ہیں اور ایسا ہی ہونا چاہئے تھا۔ قرآن شریف شروع ہی اس طرح ہوتا ہے اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(الفاتحہ: ۲) تمام تعریفیں خدا کے لئے ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ تمام جہانوں کا رب ہے۔ اگر ہندوستان کا رب ہے تو عرب کا بھی رب ہے۔ اگر یورپ کا رب ہے تو افریقہ کا بھی رب ہے۔ اگر ایران کا رب ہے تو شام کا بھی رب ہے۔ غرضیکہ دنیا کے تمام حصص کا رب ہے اور زمین و آسمان کے درمیان جس قدر چیزیں ہیں ان سب کا رب ہے۔ کوئی چیز کوئی ملک کوئی علاقہ ایسا نہیں جس کا کوئی اور رب ہو اس لئے فرمایا رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(56:81) ہم اس خدا کو پیش کرتے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے اور جس کی ربوبیت کسی خاص چیز سے تعلق نہیں رکھتی۔ مثلاً اس کا سورج ہے وہ کبھی ایسا نہیں چڑھے گا کہ اس کی روشنی صرف مسلمانوں تک ہی محدود ہو اور عیسائی، ہندو، یہودی وغیرہ مذاہب کے لوگ اس سے محروم رہیں یا اس کی روشنی صرف عیسائیوں کو ہی پہنچے یا صرف ہندوؤں کے لئے ہو یا کسی اور خاص مذہب کے لوگوں کے لئے ہو بلکہ سب لوگوں کے لئے ہے۔ خواہ کوئی مؤمن ہو یا کافر، ہندو ہو یا عیسائی، دہریہ ہو یا خدا پرست جو کوئی بھی اس سے فائدہ اٹھانا چاہے اس کے لئے آزادی ہے لیکن اگر کوئی دروازہ بند کر کے اندر بیٹھ رہے یا اپنی غلطی سے آنکھوں کو ضائع کر لے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔ خدا تعالیٰ کا سورج اس پر روشنی کو بند نہیں کرتا۔ میں اس آیت کے متعلق جب نقشہ کھینچتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں کہ انسان غلہ بوتا ہے بیل اس کے ساتھ کام کرتے ہیں اور وہ سارا سارا دن ان سے کام لیتا ہے ہل چلاتا ہے پانی دیتا ہے۔ اگر سال کے بعد کھیت سے تمام غلہ ہی غلہ پیدا ہوتا اور بھوسہ نہ ہوتا تو انسان ایسا حریص ہے کہ بیلوں کو دانہ نہ ڈالتا اور سب کے سب غلہ کو اپنے کام میں ہی لے آتا لیکن خدا جس طرح انسانوں کا رب ہے اسی طرح حیوانوں کا رب ہے اس نے اگر انسانوں کے لئے دانہ پیدا کیا ہے تو ساتھ ہی حیوانوں کے لئے بھی بھوسہ پیدا کر دیا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ محنت کرنے میں انسان اور حیوان دونوں شریک ہیں۔ اگر حیوانوں کے لئے الگ حصہ نہ رکھا گیا تو انسان اپنی ضروریات سے مجبور ہو کر انہیں محروم کر دے گا۔ جیسا کہ پہلے زمانہ میں حیوانوں کے چرنے کے لئے بڑی بڑی چراگاہیں چھوڑی جاتی تھیں لیکن اب ان کو کھیتی باڑی کے کام میں استعمال کیا گیا ہے اور بہت کم چراگاہیں باقی رہ گئی ہیں۔ تو خدا تعالیٰ نے جس طرح کھیت سے دانہ نکالا ہے اسی طرح حیوانوں کے پیٹ کے موافق بھوسہ بھی نکالا ہے اسی طرح ہر ایک چیز میں دیکھ لو۔ مجھے خیال آیا کرتا ہے کہ اگر میووں وغیرہ میں بیج الگ نہ ہوتا تو انسان سارے کے سارے میوہ کو ہی کھا جاتے اور آگے پیدا ہونے کے لئے بیج بھی نہ رہنے دیتے لیکن خدا تعالیٰ نے ایسا سامان کر دیا ہے کہ ان کے بیج محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ تو خدا رب العالمین ہے جو گرم اور ٹھنڈے ملک کے رہنے والوں، گوروں، کالوں، مسلمانوں، عیسائیوں، یہودیوں، ہندوؤں سب کا خدا ہے۔

ہر قوم میں نبی

پس اسلام اور قرآن جس خدا کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے وہ ایسا خدا نہیں ہے جس کا کسی خاص قوم سے تعلق ہو۔ بلکہ وہ تمام قوموں کا خدا ہے اور ساری دنیا کا خدا ہے۔ اسی لئے قرآن شریف یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ساری ہی دنیا کی طرف رسول آتے رہے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا وَاِنۡ مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ(فاطر: ۲۵) کوئی قوم اور کوئی امت ایسی نہیں گزری جس میں کوئی نبی مبعوث نہ ہوا ہو کیونکہ وہ رب العالمین ہے۔ پس کس طرح ہو سکتا تھا کہ وہ سب اقوام میں نبی نہ بھیجتا اور کسی خاص قوم میں بھیج دیتا لیکن اگر بائبل کو پڑھو تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے صرف حضرت نوحؑ کی اولاد سے کلام کیا۔ حضرت ابراہیمؑ سے کلام کیا۔ کیا ہندوستان کے لوگ خدا تعالیٰ کی مخلوق نہ تھے۔ یا یورپ، افریقہ اور امریکہ کے لوگوں کا خدا خالق نہ تھا جب سب اسی کی مخلوق تھے تو جس طرح اس نے چاند، سورج، ہوا، پانی وغیرہ میں بخل نہیں کیا حالانکہ یہ جسم کے لئے سامان ہیں پھر کیونکر ممکن تھا کہ وہ سوائے خاص خاص لوگوں کے باقیوں کی روح کے لئے کوئی سامان نہ کرتا اور انہیں یونہی چھوڑ دیتا۔ ہمیں اسلام نے ایسے خدا کی تعلیم دی ہے جو کسی خاص قوم کا نہیں ہے بلکہ تمام دنیا کا ہے۔ اس لئے وہ سب دنیا کے نبیوں کو ماننے کی تعلیم دیتا ہے۔ ہمارے سامنے جب کوئی شخص یہ پیش کرتا ہے کہ ہمارے ملک میں بھی فلاں نبی آیا تو ہم کہتے ہیں۔ اللہ اکبر۔ کیوں؟ اس لئے کہ اس سے وَاِنۡ مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ(35:25) کی صداقت ثابت ہوئی۔ ایسے موقع پر ایک مسیحی کے لئے مشکل ہے۔ ایک ہندو کے لئے مشکل ہے اور اسی طرح اسلام کے سوا باقی سب مذاہب کے لوگوں کے لئے مشکل ہے مگر اسلام کا ماننے والا کبھی شرمندہ نہیں ہوتا۔ جب کبھی اس کے سامنے کوئی نبی پیش کیا جائے گا وہ بڑی خوشی سے اللہ اکبر کہہ کر کہے گا کہ الحمد للّٰہ۔ وہ کتاب جس پر میں چلتا ہوں کیسی کیسی اعلیٰ صداقتیں اپنے اندر رکھتی ہے باوجودیکہ وہ ایسے ملک میں نازل ہوئی جس کے تعلقات دوسرے ممالک سے کٹے ہوئے تھے اور کوئی ایسے ذرائع نہ تھے جن سے اسے دوسرے ممالک کے حالات معلوم ہو سکیں لیکن چونکہ اس کے نازل کرنے والا رب العالمین تھا اس لئے اس نے تمام دنیا کے نبیوں کی تصدیق فرمادی۔ غرض دنیا میں ہر قوم اور ہر ملک میں نبی گزرے ہیں جیسا کہ قرآن شریف نے بتایا ہے کہ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ(35:25) اور جیسا کہ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(1:2) سے استدلال ہوتا ہے اور نبیوں کا سلسلہ کوئی نیا سلسلہ نہیں ہے پس حضرت مسیح موعودؑ کی غرض اور ان کی بعثت کا مدعا دریافت کرنے کے لئے ہمیں کسی شخص سے دریافت کرنے کی ضرورت نہیں جو غرض ان پہلے نبیوں کی بعثت کی تھی وہی حضرت مسیح موعودؑ کی بعثت کی ہے جب کہ اس جماعت کے ہزاروں افراد پہلے گزر چکے ہیں تو مسیح موعودؑ کی بعثت کی غرض دریافت کرنے کے لئے ہمیں کسی مزید کوشش کی کیا ضرورت ہے جو پیغام نبیوں کی معرفت دنیا کو دیا گیا ہے وہی پیغام حضرت مسیح موعودؑ کی معرفت دیا گیا ہے اور جس بات کی طرف ان کے ذریعہ بلایا جاتا تھا اسی کی طرف حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ بلایا گیا ہے اور اسی لحاظ سے میں نے کہا تھا کہ وہ پیغام جو حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی طرف بھیجا ہے وہ کوئی نیا پیغام نہیں بلکہ پرانا ہی پیغام ہے اور نیا صرف اس لحاظ سے ہے کہ اس زمانہ کے لوگوں نے اسے ایسا ہی بھلا دیا ہے کہ اب وہ ان کے لئے ایک نئے پیغام کی طرح ہی ہے۔

نبیوں کے آنے کی غرض

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے نبی کیا پیغام دنیا کی طرف لائے تھے اور کس کام پر مقرر کئے جاتے تھے سو اس کا جواب قرآن کریم میں موجود ہے اور اس کے متعدد مقامات میں اس پیغام کو خوب کھول کر بیان کیا گیا ہے جو نبیوں کی معرفت بھیجا جاتا ہے۔ بلکہ اس پیغام کا مغز تو اسلام اور ایمان کے لفظ سے ہی معلوم ہو جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے اس آخری دین کا نام اسلام اور اس کے قبول کرنے کا نام ایمان رکھ کر تمام مذاہب کی غرض کی طرف اشارہ فرما دیا ہے۔ اس جگہ جو صاحبان بیٹھے ہیں ممکن ہے بلکہ اغلب ہے کہ چونکہ ان میں سے اکثر عربی کا مذاق نہیں رکھتے اس لئے میرے مطلب کو نہ سمجھ سکیں کہ ان الفاظ سے کس طرح انبیاءؑ کی بعثت کی غرض نکلتی ہے۔ اس لئے میں مختصراً بتا دیتا ہوں۔ اسلام کے معنے ہیں فرمانبرداری اور ایمان کے معنی ماننے کے ہیں۔ اس دنیا میں جو نبی بھیجے جاتے ہیں ان کی یہی غرض ہوتی ہے کہ لوگ ان کی فرمانبرداری کریں اور ان کی باتوں کو مان لیں۔ یہ مطلب تو ان الفاظ کے عام معنوں کے مطابق ہے لیکن جب ہم ان دونوں لفظوں کی بناوٹ پر غور کریں تو اور زیادہ وضاحت سے انبیاءؑ کی بعثت کی غرض معلوم ہو جاتی ہے مگر اس کے سمجھنے سے پہلے یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ عربی زبان کی خصوصیات میں سے یہ ایک عجیب خصوصیت ہے کہ اس میں صرف الفاظ کے معنے نہیں ہوتے بلکہ حروف کے بھی ہوتے ہیں اور اسی طرح یہ کہ اس زبان میں جو لفظ کسی خاص شئے کے لئے وضع کیا گیا ہو وہ صرف اس چیز کے لئے بطور علامت نہیں ہوتا بلکہ اس چیز کا وہ نام کسی مناسبت کی وجہ سے رکھا جاتا ہے اور وہ نام ہی بتا دیتا ہے کہ اس چیز میں وہ کونسی بات ہے جس کی وجہ سے اس کا یہ نام رکھا گیا ہے مثلاً اردو میں ایک لمبی چیز کو لمبی کہیں گے۔ ماں کو ماں کہیں گے۔ باپ کو باپ کہیں گے تو ان الفاظ سے مراد صرف وہ چیزیں ہوں گی۔ ان سے یہ پتہ نہ لگے گا کہ ان میں کیا امتیازی بات ہے جس کی وجہ سے انہیں اس نام سے مخصوص کیا گیا ہے اور اگر ہم ان لفظوں کی بجائے اور لفظ بدل دیں تب بھی ہمارے مطلب میں نقص نہ آئے گا مثلاً اگر لمبی چھوٹی چیز کو کہنے لگیں اور چھوٹی لمبی کو تو اس سے اردو زبان میں کوئی نقص نہ ہو گا لیکن عربی زبان کا یہ حال نہیں اس میں اگر طویل کو قصر کہنے لگیں تو یہ کسی طرح جائز نہیں ہو سکتا کیونکہ ط و ل جن معنوں پر دلالت کرتے ہیں ق ص ر ان پر نہیں کرتے۔ غرض دوسری زبانوں میں تو چیزوں کے نام صرف علامت کے طور پر ہیں اگر ان کو بدل کر اور لفظ رکھ دیں تو کوئی حرج نہیں لیکن عربی زبان میں ہر ایک نام نہ صرف بطور علامت ہوتا ہے بلکہ اس چیز کے کسی خاص امتیاز پر بھی دلالت کرتا ہے اور اس وجہ سے ایک لفظ کی بجائے دوسرا نہیں رکھ سکتے۔ ابھی چند ماہ ہی ہوئے جنگِ یورپ کے متعلق انگلستان کے اخبارات میں ایک عجیب سوال پیدا ہوا تھا جس کا باعث یہ تھا کہ جرمن افسروں اور انگریز افسروں کے طریقِ جنگ میں فرق تھا جرمن افسر تو پیچھے کھڑے ہو کر اپنی فوج کو لڑواتے اور انگریز افسر آگے ہو کر۔ اس پر یہ سوال اٹھایا گیا کہ ان دونوں طریقوں میں سے کون سا طریق بہتر ہے۔ انگریزی اخبارات نے لکھا کہ ہمارے افسروں کا ہی طریق درست ہے کیونکہ اس سے فوج کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ افسر ہمیں مروانا نہیں چاہتے بلکہ خود ہم سے بھی آگے رہتے ہیں مجھے اس بحث کو دیکھ کر عربی زبان کی طرف توجہ ہوئی اور میں نے دیکھا کہ عربی زبان نے انگریزوں کے حق میں فیصلہ کیا ہے کیونکہ عربی میں فوج کے افسر کو قائد کہتے ہیں اور قاد جس سے یہ لفظ نکلا ہے اس کے معنے ہیں کسی جانور کو آگے کھڑے ہو کر اس کی نکیل پکڑ کر کھینچنا۔ پس عربی زبان نے فوجی افسر کے لئے جو لفظ رکھا ہے۔ اس میں سے ہی یہ بھی نکل آیا کہ وہ افسر فوج کے آگے ہو پیچھے نہ ہو۔ انگریزی میں جرنیل کرنل وغیرہ الفاظ ہیں جو صرف اشارہ کے طور پر مقرر کر دیئے گئے ہیں لیکن عربی نے ایسا لفظ مقرر کیا ہے جس سے اس افسر کے فرائض پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ قائد کے لفظ میں ایک اور بھی خوبی ہے اور وہ یہ کہ وہ سپاہیوں کو اس طرح اپنے ہاتھ میں رکھے جس طرح باگ سے گھوڑے کو رکھا جاتا ہے یعنی فوجی افسر میں دو باتیں ہوں۔ ایک یہ کہ فوج کے آگے آگے چلے۔ دوسرے یہ کہ سپاہیوں پر وہ ایسا قبضہ رکھتا ہو اور وہ اس کے ایسے مطیع و منقاد ہوں جیسے زبردست گھوڑے باگ کے ذریعہ قابو رہتے ہیں۔

خداوند تعالیٰ نے اسلام اور ایمان کے الفاظ ہی ایسے چنے ہیں جو اپنے اندر بڑی بڑی خوبیاں رکھتے ہیں۔ س۔ل۔م اور ء۔م۔ن۔ اسلام اور ایمان کے اصلی حروف یا روٹ ہیں۔ یہ جہاں اکٹھے ہوں گے وہاں ان کے معنوں میں حفاظت ضرور پائی جائے گی اور یہ ایک عجیب خوبی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے سچے دین کے لئے ایسے الفاظ استعمال فرمائے ہیں جو مذہب کی غرض کو بھی ظاہر کر دیتے ہیں حالانکہ اور بھی ایسے الفاظ تھے جو مذہب کے لئے استعمال ہو سکتے تھے مگر قرآن شریف نے اسلام اور ایمان کے الفاظ رکھے ہیں۔ ان کے حروف کو جس قدر بدلو ان سب صورتوں میں حفاظت کے معنے پائے جائیں گے۔ اول سلم کو لے لو اور اس کو بدلنا شروع کرو مثلاً اسلام ہے اس کے معنے فرمانبرداری کے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب کوئی بڑے آدمی کی فرمانبرداری کرتا ہے اور اس کی بات مان لیتا ہے تو تکالیف سے محفوظ ہو جاتا ہے اور اسی کے مال و جان کی حفاظت کی جاتی ہے جو مطیع و منقاد ہوتا ہے۔ چنانچہ جو لوگ باغی ہوتے ہیں وہ گورنمنٹ کی حفاظت میں نہیں ہوتے گذشتہ زمانہ میں تو ایسے لوگ آوٹ آف لاز کہلاتے تھے اور ان کو اگر کوئی قتل کر دیتا۔ تو بھی اسے گورنمنٹ نہ پوچھتی تھی پھر سلم ہے عیب اور آفت سے بچنے کو سلم کہتے ہیں اسی طرح سَلَمَ الْجِلْدَ کے معنے ہیں۔ سلم سے چمڑے کی دباغت کر دی۔ اور دباغت بھی چمڑے کو گلنے سے بچانے کے لئے کرتے ہیں پس اس میں بھی حفاظت کے معنے پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح کہتے ہیں سَالَمَهُ صَالَحَهُ اس سے مصالحت کی۔ صلح کرنے میں بھی حفاظت ہوتی ہے۔ اسی طرح کہتے ہیں تَسَلَّمَ الشَّيْئَ یعنی فلاں چیز کو اس نے پکڑ لیا اور اس پر قبضہ کر لیا اور جب کوئی چیز قبضہ میں آجاتی ہے تو وہ بھی حفاظت میں ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اِسْتَلَمَ الزَّرْعُ کا محاورہ ہے۔ کھیتی نے استیلام کیا۔ یعنی کھیتی میں دانہ پڑ گیا۔ اس میں حفاظت کے معنے ہیں کیونکہ جب تک کھیتی میں دانہ نہ پڑے اس وقت تک کسان اس پر مطمئن نہیں ہوتا اور جب دانہ پڑ جائے تو پھر ایک حد تک وہ اسے محفوظ خیال کرتا ہے پھر سلام خدا کا نام ہے کہ ہر قسم کے عیب اور نقص سے پاک ہے پھر اور بدلتے چلے جائیں تو سمل بن جائے گا۔ جس کے معنی صلح کرانی اور حوض سے گند نکال کر صاف کرنا ہیں۔ لمس چھونے کو کہتے ہیں۔ تمام باتیں جو انسان محفوظ کرتا ہے۔ پانچ حواس سے کرتا ہے ان میں سے ایک لمس بھی ہے۔ لَمَسَ الْمَاءُ کے معنے ہیں پانی بہ پڑا۔ جب پانی بہہ کر کھیتی میں پہنچتا ہے تو کھیتی کی حفاظت کرتا ہے اور اسے خشک ہونے سے بچاتا ہے۔ اسی طرح لسم ہے اس کے معنے چپ رہنے کے ہیں اور یہ ضرب المثل مشہور ہے کہ نکلی ہونٹوں چڑھی کوٹھوں۔ حفاظت اور امن جو خاموشی میں نصیب ہوتا ہے۔ اس کو ہر ایک جانتا ہے۔ ملس مداہنت کو کہتے ہیں اور مداہنت کی غرض ہمیشہ یہی ہوتی ہے کہ کسی شخص کے شر سے چکنی چپڑی باتیں کر کے محفوظ ہو جائے۔ یہ تو لفظ اسلام کے روٹ کو آگے پیچھے کر کے جو الفاظ بنتے ہیں ان کے معنوں کا اشتراک میں نے بتایا ہے۔ اب ایمان کے متعلق بتاتا ہوں۔ اَنام مخلوق کو کہتے ہیں اور کسی چیز کا بن جانا ہی اس کی حفاظت کا پہلا ذریعہ ہوتا ہے۔ نَأْمَ کے معنے بولنے اور آواز نکالنے کے ہیں۔ بولنا زندگی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اور اسی مفہوم کے مطابق یہ لفظ عربی میں استعمال ہوتا ہے چنانچہ جو شخص مر جائے اس کی نسبت کہتے ہیں اَسْکَتَ اللّٰهُ نَأْمَتَهُ جس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی آواز بند کر دی۔ لیکن مراد یہ ہے کہ اسے مار دیا۔ مَأَنَ الْقَوْمَ کے معنے ہیں قوم کو کھانا کھلانا۔ کھانا بھی حفاظت کا باعث ہے اگر کوئی کھانا نہ کھائے تو ہلاک ہو جائے۔ مَأَنَ الشَّيْئُ کے معنے ہیں اس کے جس قدر پہلو ہیں سب کو پورا کیا اور مہیا کر لیا جائے ۔ مَأَنَ فِی الْاَمْرِ کے معنے غور کر کے بات کو ذہن میں جما لینے کے ہیں۔ مَأْنَۃ ناف کو کہتے ہیں۔ اس کے ذریعہ بچہ کو غذا پہنچتی ہے اور بچہ زندہ رہتا ہے۔ مَنَأَ الْجِلْدَ کے معنے چمڑے کو رنگ کر مضبوط کرنے کے ہیں۔ غرض س ل م اور ا م ن یہ تینوں حروف آگے پیچھے ہو کر جس طرح بھی آئیں ان کے معنے حفاظت کے ہی ہوتے ہیں۔ پس اسلام اور ایمان کے معنے یہ ہوئے کہ ایسے افعال کرنا جن سے انسان ہلاکت سے محفوظ ہو جائے۔ تو خدا تعالیٰ نے اپنے سچے مذہب کے نام کے لئے ایسے الفاظ رکھے ہیں کہ ان میں ہی مذہب کی اصل غرض بتادی ہے جو دوسرے الفاظ میں یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے غضب سے لوگ بچ جائیں اور آپس کے لڑائی جھگڑوں سے نجات پا جائیں۔ اب ہم قرآن کریم پر غور کرتے ہیں تو اسلام کی یہی تعریف قرآن شریف سے معلوم ہوتی ہے۔

تعلیم القرآن

کیونکہ مؤمن کے فرائض قرآن کریم نے یہی بیان فرمائے ہیں جیسا کہ فرمایا اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَالۡاِحۡسَانِ وَاِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی وَیَنۡہٰی عَنِ(16:91) الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡکَرِ وَالۡبَغۡیِ ۚ یَعِظُکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ(النحل: ۹۱) اللہ حکم دیتا ہے تمہیں عدل کا۔ عدل برابری کو کہتے ہیں۔ جس میں نہ کمی پائی جائے نہ زیادتی۔ پھر اللہ حکم دیتا ہے احسان کا۔ یعنی نہ صرف یہ کہ انسان جس طرح اپنی چیزوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ اسی طرح دوسروں کی چیزوں کو رکھے۔ بلکہ یہ کہ محتاج کو اپنی دے دے۔ یہاں خدا تعالیٰ نے کسی مسلمان‘ ہندو‘ عیسائی وغیرہ کی شرط نہیں لگائی۔ کہ فلاں کو تم دو اور فلاں کو نہ دو۔ عام طور پر فرما دیا کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ خواہ کوئی کسی مذہب کا ہو اس سے عدل کرو یعنی جس طرح تم یہ پسند نہیں کرتے کہ کوئی تمہارے مال کو لے تمہاری عزت کو برباد کرے تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے اسی طرح تم کسی کے ساتھ نہ کرو۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِاَخِيْهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهٖ(بخاری کتاب الایمان باب من الایمان ان یحب لاخیه ما یحب لنفسه) کہ تم میں سے اس وقت تک کوئی مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی کچھ پسند نہ کرے جو اپنے لئے کرتا ہے۔ پس مؤمن کی یہ شرط رکھی گئی ہے کہ جس کے ضرر سے ساری دنیا محفوظ رہے اور جس طرح وہ اپنی جان کے لئے پسند نہیں کرتا کہ کوئی اس کی خیانت کرے۔ وہ بھی کسی کی نہ کرے اور جس طرح وہ اپنے لئے یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی اس کی غیبت کرے اس کے سامنے جھوٹ بولے اسے نقصان پہنچائے اسی طرح وہ بھی کسی سے اس طرح نہ کرے۔ پھر اللہ عدل کا ہی حکم نہیں دیتا بلکہ کہتا ہے کہ جو کسی کا حق دینا ہے اس سے بڑھ کر دو۔ اور دوسروں کو شر سے ہی نہ بچاؤ بلکہ نعمت سے مالا مال کرو۔ پھر وَاِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی(16:91) کرو۔ جس طرح ماں بچہ سے محبت بغیر کسی خواہش اور لالچ کے رکھتی ہے۔ اسی طرح تمہارا سب سے تعلق ہونا چاہئے۔ اور کسی سے نیکی اور احسان کی امید اور توقع رکھ کر نہیں کرنا چاہئے اور منع کرتا ہے اللہ فحشاء سے یعنی ایسی بدیوں سے جو مکروہ ہیں۔ یا ایسی باتیں ہیں جو ناپسندیدہ ہیں لیکن اپنے نفس کے متعلق ہیں۔ لوگ ان کو نہیں جانتے اور پھر منکر سے منع کرتا ہے یعنی ایسی ناپسندیدہ باتوں سے جو ہیں تو اپنے نفس کے متعلق لیکن لوگ بھی انہیں جانتے ہیں اور برا مناتے ہیں۔ اور بغی سے منع کرتا ہے یعنی ایسی برائی سے جو اپنے نفس سے گزر کر دوسروں پر بھی اثر کرتی ہے اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے نقصان پہنچتا ہے۔ ان سب قسم کی بدیوں سے اللہ منع کرتا ہے۔ غرض مؤمن کی تعریف قرآن کریم نے یہ بتائی ہے کہ اول تو وہ دوسروں کے ساتھ ایسا سلوک کرے جیسا پسند کرتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ کریں اور دوسروں کا حق نہ دبائے کسی کو نقصان نہ پہنچائے۔ لوگوں کے حقوق کو پوری طرح ادا کرے۔ دوم نہ صرف یہ کہ ان کے حقوق ادا کرے بلکہ اور زیادہ احسان کرے۔ سوم یہ کہ احسان اس کی طبیعت میں داخل ہو جائے اور وہ اپنی طبیعت سے مجبور ہو کر احسان کرے اور ایسے تمام افعال سے بچے جو ناپاک ہوں۔ اور پھر ایسے افعال سے بھی بچے جو لوگوں کی نظروں میں ناپسند ہوں اور ان سے بھی جن میں کسی دوسرے پر ظلم ہوتا ہو۔ یہ تو بنی نوع انسان کی حفاظت اور سلوک کے متعلق تھا۔ باقی روح رہ جاتی ہے۔ اس کے متعلق کسی خاص آیت کے پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ قرآن شریف کا ہر صفحہ ہر رکوع ہر سطر خدا کی عظمت اور جلال کا مظہر ہے۔ یورپ کا ایک مصنف لکھتا ہے کہ محمد (ﷺ) نے اپنی کتاب (قرآن) میں خدا کا اتنا ذکر کیا ہے کہ معلوم ہوتا ہے (نعوذ باللہ) اسے خدا کا جنون ہے۔ یہ چونکہ عیسائی ہے۔ اس لئے اس نے قرآن کو آنحضرت ﷺ کی تصنیف کردہ کتاب بتا کر دنیاوی رنگ میں ایک نتیجہ نکال لیا کہ اسے خدا کا جنون معلوم ہوتا ہے لیکن معرفت رکھنے والے لوگ اس بات سے اور ہی نتیجہ نکالتے ہیں۔

غرض قرآن شریف نے نبیوں کی یہ غرض بتائی ہے کہ وہ آکر خدا کے غضب سے لوگوں کو بچائیں اور انسانوں کو آپس کے ضرر اور نقصان سے محفوظ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کرنے کے طریق بتائیں۔ پس ہر ایک نبی جو آتا ہے انہی اغراض کو لے کر آتا ہے۔ اب تم اپنے دلوں میں سوچ لو کہ نبی کی تعلیم پر جہاں عمل کیا جائے ۔ وہاں کیسا سُکھ اور آرام میسر ہو سکتا ہے۔ اگر دنیا نبیوں کی تعلیم پر چلنے لگے تو نہ پولیس کی ضرورت رہتی ہے نہ پہرہ داروں کی‘ نہ فوج کی نہ آلات حرب کی‘ کیونکہ مؤمن کے معنے ہی یہی ہیں کہ ایسا انسان جس میں کسی قسم کا شر اور کسی قسم کی بے حیائی نہ ہو اور فرمانبرداری کی صفت اپنے اندر رکھتا ہو۔

نبی اور فلاسفر میں فرق

نبی دنیا میں سب سے بڑا مصلح ہوتا ہے۔ بڑے بڑے فلاسفر گزرے ہیں مگر نبیوں کے مقابلہ میں کھڑے نہیں کئے جا سکتے کیونکہ جس طرح نبیوں نے اصلاح کی ہے اس طرح وہ نہیں کر سکے۔ بو علی سینا کی نسبت لکھا ہے کہ اسے ایک شاگرد نے کہا کہ اگر آپ نبوت کا دعویٰ کرتے تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ آپ کو یہ دعویٰ سجتا ہے۔ محمد (ﷺ) نے (نعوذ باللہ) یونہی دعویٰ کر دیا۔ وہ تو امّی تھا۔ یہ سن کر بو علی سینا چپ ہو رہا اور کچھ جواب نہ دیا۔ ایک دن سردی کا موسم تھا۔ اس نے تالاب میں جس کا پانی سردی کی وجہ سے یخ ہو رہا تھا۔ اسی شاگرد کو چھلانگ مارنے کے لئے کہا۔ اس نے انکار کر دیا اور کہا کیا آپ جانتے نہیں کہ سردی کا موسم ہے۔ پانی میں چھلانگ مارنے سے سن ہو جاؤں گا۔ آج آپ کو کچھ ہو تو نہیں گیا۔ بو علی نے کہا۔ احمق اسی عقیدت پر تُو نے کہا تھا کہ اگر تُو نبوت کا دعویٰ کرتا تو درست ہوتا۔ کیا تُو نہیں جانتا کہ آنحضرت ﷺ نے ایک کو نہیں دو کو نہیں بلکہ ہزاروں کو حکم دیا کہ اپنی جانوں کو لڑا دو۔ تو وہ اپنے بیوی، بچے، عزیز و اقارب، مال و اموال سب کچھ چھوڑ کر چلے گئے اور جان جانے کی ذرا پرواہ نہ کی۔ بے تنخواہ کی پولیس، فوج اور مجسٹریٹ بن گئے۔ اپنا خرچ کرتے اور دنیا کی حفاظت کرتے اپنی جانیں قربان کرتے اور دنیا کو ہلاک ہونے سے بچاتے۔ پس نبیوں کا کام ثابت کرتا ہے کہ واقعہ میں وہ نبی ہیں۔ فلاسفر اصلاحِ خلق کا دعویٰ تو کر دیتے ہیں مگر ان کے کام میں کامیابی نہیں ہوتی۔ بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں لیکن نبی دنیا کی حفاظت اور اصلاح کے لئے آیا کرتا ہے۔

شریعت کی غرض

اور شریعت بھی اسی غرض کے پورا کرنے کا ایک ذریعہ ہوتی ہے۔ لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ جنہوں نے اس پر غور نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں شریعت لعنت ہے انہیں یہ غلطی لگی ہے کہ انسان چونکہ کمزور ہے اس لئے شریعت پر عمل نہیں کر سکتا۔ پس یہ لعنت ہے لیکن انہوں نے سمجھا نہیں۔ شریعت گائڈ بک اور ہدایت نامہ کے طور پر ہوتی ہے اور نبی ہادی اور راہ نما ہوتا ہے۔ آپ لوگ جانتے ہیں کہ ہدایت نامہ یا گائڈ بک کبھی گمراہی کا باعث نہیں ہو سکتی۔ کیا اگر کسی کتاب میں لاہور آنے کا راستہ لکھا ہو، عجائب گھر، لارنس ہال، چڑیا گھر وغیرہ جگہوں کے پتے درج ہوں۔ یا طب کی کتابوں میں لکھا ہوتا ہے کہ فلاں زہر نہ کھانا اور اگر فلاں زہر کوئی کھا لے تو اس کے لئے یہ تریاق ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسی کتابیں سُکھ اور آرام کا موجب ہوا کرتی ہیں یا تکلیف کا۔ اسی طرح شریعت ہے کہ جو تکلیفیں اور مصیبتیں لوگوں پر آتی ہیں اس میں ان سے بچنے کے طریق بتائے جاتے ہیں اور جو آ چکی ہوں ان کو دور کرنے کی تدابیر سمجھائی جاتی ہیں چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمۡ وَیَہۡدِیَکُمۡ سُنَنَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَیَتُوۡبَ عَلَیۡکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ وَاللّٰہُ یُرِیۡدُ اَنۡ یَّتُوۡبَ عَلَیۡکُمۡ ۟ وَیُرِیۡدُ الَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الشَّہَوٰتِ اَنۡ تَمِیۡلُوۡا مَیۡلًا عَظِیۡمًا(النساء: ۲۷-۲۸) اللہ نے ارادہ کیا ہے کہ تمہارے لئے خوب کھول کر بیان کر دے کہ فلاں کام کرو گے تو فائدہ اٹھاؤ گے اور فلاں کرو گے تو نقصان۔ تم سے پہلے بھی کچھ

قومیں گزری ہیں ان میں سے بعض نے اپنے اعمال کی وجہ سے سُکھ پایا تھا اور بعض نے دکھ۔ خدا چاہتا ہے کہ ان کی باتیں تمہیں کھول کھول کر سنا دے۔ اور ان لوگوں کا راستہ تم کو بھی بتا دے جو ہلاکتوں سے بچ گئے کیونکہ اللہ ان کے حالات کو اچھی طرح جاننے والا اور ان حالات کے سنانے کی حکمت کو سمجھنے والا ہے اور اللہ چاہتا ہے کہ تم پر اپنی رحمت کرے۔ اور وہ لوگ جو اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ایک ہی طرف سارے کے سارے جھک جائیں۔ یعنی تمام پہلوؤں کو مدّنظر نہ رکھیں اگر عیش میں پڑیں تو اسی میں پڑے رہیں۔ اگر تشدد کرنے لگیں تو اسی میں لگے رہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ ہم تمہیں ایسی تعلیم دیتے ہیں جس کے ذریعہ انسان سارے پہلوؤں پر نظر رکھ سکتا ہے۔ خواہشات کی پیروی کرنے والے کبھی سارے پہلوؤں کو مدّنظر نہیں رکھ سکتے۔ ایسے آدمی ایک طرف جھک جاتے ہیں۔ اگر انہیں غصہ آتا ہے تو یہی چاہتے ہیں کہ پیس کر رکھ دیں اور اگر محبت کرتے ہیں تو کہتے ہیں سب کچھ قربان کر دیں۔ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ انسان کو ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ فلاں موقعہ پر اس طرح کام کرو اور فلاں موقعہ پر اس طرح تا کسی بات میں حد سے بڑھنے کی وجہ سے نقصان نہ اٹھاؤ۔ یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّخَفِّفَ عَنۡکُمۡ ۚ وَخُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِیۡفًا(النساء: ۲۹) اللہ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تمہارے بوجھوں کو کم کر دے یعنی شریعت کی غرض یہ ہے کہ انسان کے بوجھ کو ہلکا کیا جائے نہ جیسا کہ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ شریعت ایک جکڑ بند ہے۔ شریعت کوئی بوجھ نہیں بلکہ ہدایت نامہ ہے۔ چونکہ انسان کمزور تھا اور اللہ خوب جانتا تھا کہ اگر اسے کوئی ہدایت نامہ نہ دیا گیا تو بڑے بڑے نقصان اٹھائے گا اور بڑے تجربوں اور نقصان اٹھانے کے بعد کسی چیز کو مضر اور کسی چیز کو مفید قرار دے گا۔ پس اس نے شریعتیں اور انبیاءؑ کو اسی لئے بھیجا۔ تو شریعت اور نبی دنیا میں صلح و آشتی، امن اور امان کے لئے آتے ہیں۔ یہی وہ تعلیم ہے جس کو تمام انبیاءؑ لے کر آئے اور یہی حضرت مسیح موعودؑ لے کر آئے آپ کا یہی مشن تھا کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ لوگوں کا تعلق مضبوط کریں۔ اور دوسرے بندوں کا آپس میں ایسا سلوک کرا دیں کہ دشمنی اور عداوت، رنج اور غصہ باقی نہ رہے۔ تمام انبیاءؑ انہیں باتوں کیلئے آتے رہے ہیں۔

انبیاءؑ کے کام

اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ انبیاءؑ کے کام کی تشریح فرمادی ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام دعا کرتے ہیں کہ الٰہی مکہ والوں میں ایک نبی مبعوث کر اور اس کا کام یہ ہو کہ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ(2:130) تیری طرف سے جو اسے دلائل ملیں انہیں سنائے وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ(2:130) اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے۔ وَيُزَكِّيْهِمْ اور انہیں پاک کرے اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ(البقرہ: ۱۳۰) بیشک تو بڑا غالب اور بڑی حکمت والا ہے۔ پس یہ نبیوں کے کام ہیں۔ جس طرح نبی کی بعثت کا زمانہ وہ ہوتا ہے جس میں دنیا دکھوں اور مصیبتوں میں پڑی ہوتی ہے اسی طرح نبی کی آمد کا وہ زمانہ ہوتا ہے جس میں لوگ خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کر چکے ہوتے ہیں۔ اور آپس میں لڑائی جھگڑے شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ صلح اور امن اور خدا پرستی کے زمانہ میں کوئی نبی آیا ہو۔ لیکن جب لڑائی فتنہ اور گند بڑھ جائے تو ضرور ہے کہ اس وقت نبی آئے اور اس فتنہ اور گند کو دور کرے۔

لوگوں کے لڑائی جھگڑے کا سبب

جھگڑے اور فساد کے متعلق یہ بات خوب یاد رکھو کہ ان کی وجہ دنائت اور کم حوصلگی ہوتی ہے۔ لوگ اپنی طاقتوں کو بھلا دیتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑنے لگتے ہیں جن لوگوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں وہ ذرا ذرا سی بات پر نہیں لڑتے اور جن کے حوصلے بلند ہوتے ہیں ان کا خدا تعالیٰ سے بھی بڑا تعلق ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کی نسبت جن کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں فرماتا ہے اَبَعَثَ اللّٰہُ بَشَرًا رَّسُوۡلًا(بنی اسرائیل: ۹۵) گویا انہوں نے انسان کو ایسا ذلیل اور حقیر سمجھ رکھا ہے کہ کہتے ہیں بھلا انسان خدا کا رسول ہو سکتا ہے یہ تو بہت مشکل بات ہے پس ایسے ہی زمانہ میں نبی کی بعثت ہوتی ہے۔ جبکہ لوگوں کے حوصلے ادنیٰ ہو جاتے ہیں۔ نبی آکر ان کے حوصلے بڑھاتا اور ان میں بڑی بڑی طاقتیں بھر دیتا ہے۔ حتیٰ کہ آنحضرت ﷺ جب آئے تو آپؐ کو انتہائی درجہ پر انسانی حوصلہ کو پہنچانے کا شرف دیا گیا اور کہا گیا قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ(آل عمران: ۳۲) اے لوگو! تم تو یہ اعتراض کرتے ہو کہ ایک انسان کس طرح رسول ہو سکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے وہ کچھ سکھایا ہے کہ اگر تم میرے بتائے ہوئے احکام پر چلو گے تو خدا کے محبوب ہو جاؤ گے اور وہ تم سے پیار کرنے لگے گا۔ یہ تو انسان کی ترقی کا اعلیٰ درجہ ہے جو خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے دنیا کے سامنے پیش کیا لیکن جو نبی بھی آتا رہا ہے اس کا بڑا کام یہی رہا ہے کہ لوگوں کو دنائت سے بچائے۔ چنانچہ انبیاءؑ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے بہت سے ذرائع اختیار کرتے رہے ہیں جن میں سے ایک زکوٰۃ و صدقہ کی تعلیم بھی ہے۔ اسلام نے تو یہاں تک احتیاط کی ہے کہ زکوٰۃ

کی ادائیگی حکام کی معرفت رکھی ہے وہی لے کر مستحقین کو دیں تاکہ زکوٰۃ دینے والے کا لینے والے پر کوئی احسان نہ ہو۔ اور اسے اس سے دبنا نہ پڑے۔ اس طریق سے اسلام نے دنائت کو جڑھ سے اکھیڑ دیا ہے۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ایسے ہی وقت میں آتے ہیں جبکہ قوم میں دنائت پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ دنائت ہی تمام جھگڑوں اور فساد کی جڑھ ہوتی ہے اگر کسی انسان کا دل اس مرض سے پاک ہو تو وہ فسادوں اور جھگڑوں میں کبھی حصہ نہ لے گا اور جب دنیا صلح اور امن سے زندگی بسر کرے تو انبیاء کی بعثت کی بھی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ چنانچہ حضرت موسیٰؑ کی قوم کا ایک واقعہ قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ کس طرح وہ دنائت کی طرف جھکتی تھی اور حضرت موسیٰؑ ان کو اعلیٰ خیالات کی طرف لے جاتے تھے جس میں بتایا ہے کہ نبی ایسی قوم میں مبعوث ہوتا ہے جو دَنی الطبع ہو جاتی ہے اور اس کا کام ان کو اس دلدل سے نکالنا ہوتا ہے چنانچہ فرمایا ہے وَاِذۡ قُلۡتُمۡ یٰمُوۡسٰی لَنۡ نَّصۡبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادۡعُ لَنَا رَبَّکَ یُخۡرِجۡ لَنَا مِمَّا تُنۡۢبِتُ الۡاَرۡضُ مِنۡۢ بَقۡلِہَا وَقِثَّآئِہَا وَفُوۡمِہَا وَعَدَسِہَا وَبَصَلِہَا ؕ قَالَ اَتَسۡتَبۡدِلُوۡنَ الَّذِیۡ ہُوَ اَدۡنٰی بِالَّذِیۡ ہُوَ خَیۡرٌ ؕ اِہۡبِطُوۡا مِصۡرًا فَاِنَّ لَکُمۡ مَّا سَاَلۡتُمۡ ؕ وَضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَالۡمَسۡکَنَۃُ ٭ وَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقۡتُلُوۡنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّکَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ(البقرہ: ۶۲) اس آیت میں اس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب حضرت موسیٰؑ کی قوم ایک مدت تک فرعونیوں کے ماتحت رہ کر پست حوصلہ ہو گئی۔ اور ان کے خیالات بہت گر گئے تو ان میں ایک نبی مبعوث ہوا یعنی حضرت موسیٰؑ۔ اور وہ ان کو وہاں سے نکال کر شام کی حکومت دلانے کے لئے لایا لیکن چونکہ اس قوم کے حوصلے بہت پست تھے ان کی اصلاح کے لئے ان کو ایک جنگل میں رکھا گیا تاکہ دوسری قوموں سے الگ رہ کر موسیٰؑ کی تعلیم کا اثر دل میں لیں اور مدت دراز کی غلامی کے بد اثر سے جو دنائت پیدا ہو گئی تھی اسے دور کریں چنانچہ ان کو حکم دیا گیا کہ کوئی کام کاج نہ کرو شکار اور جنگل کی کھمبیاں کھاؤ۔ مگر ایک مدت کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم اس ایک کھانے پر صبر نہیں کر سکتے۔ پیاز ہو لہسن ہو مسور ہو گیہوں ہو۔ تاکہ ہم کھائیں۔ اللہ نے انہیں کہا۔ کیا تم ادنیٰ کے بدلہ اعلیٰ کو قربان کرنا چاہتے ہو؟ اس کے یہ معنی نہیں کہ گوشت کوئی ایسی چیز ہے جس کے ہوتے ہوئے سبزی کا مانگنا ایک گناہ ہو جاتا ہے۔ یہ تو ہم مانتے ہیں کہ گوشت اعلیٰ ہے اور آنحضرت ﷺ نے بھی اسے اعلیٰ فرمایا ہے لیکن یہ نہیں مانتے کہ اگر کوئی سبزی کے مقابلہ میں گوشت کو ادنیٰ قرار دے تو وہ خدا کے حضور قابل سرزنش اور لائق عذاب سمجھا جائے۔ پس یہاں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ چونکہ انہوں نے اعلیٰ کو ادنیٰ پر قربان کرنا چاہا۔ اس لئے ہم نے کہا چلے جاؤ کسی شہر میں اس میں تمہیں جو مانگتے ہو مل جائے گا۔ اور ان پر ذلت اور مسکنت ڈالی گئی اور وہ اللہ کا غضب لے کر چلے گئے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ ان کو شام کی سلطنت دینے کا وعدہ تھا اور جنگل میں انہیں اس لئے رکھا گیا تھا کہ ان کی دنائت دور ہو کر اس قابل ہو جائیں کہ حکومت کر سکیں۔ اور طبیعت میں جرأت، آزادی اور بلند حوصلگی پیدا ہو جائے لیکن انہوں نے حکومت کی بجائے سبزیوں اور ترکاریوں یعنی زراعت پیشہ کو پسند کیا اور حکومت کی بے قدری کی اس لئے موردِ عتاب ہو گئے اور ان پر عذاب نازل ہوا۔ اور اس ادنیٰ شے کی طرف ان کی توجہ پھر جانے کی یہ وجہ تھی کہ انہیں اللہ کی آیات پر ایمان نہ تھا اور یقین نہ آتا تھا کہ حضرت موسیٰؑ کا وعدہ سچا ہو گا اور اس کمیٔ ایمان کا باعث ان کا نبیوں سے بلاوجہ جھگڑنا تھا اور نبیوں کا مقابلہ کرنے کا باعث ان کی بدیاں اور شرارتیں تھیں کہ انبیاءؑ ان سے ان کو روکتے تھے اور وہ باز آنا نہ چاہتے تھے۔ اس آیت سے خوب واضح طور سے معلوم ہو جاتا ہے کہ نبیوں کی بعثت کیسے وقت میں ہوتی ہے اور وہ کس طرح لوگوں کے حوصلوں کو بلند کرنا چاہتے ہیں۔ اور دنائت سے نکال کر اعلیٰ اخلاق کی طرف لے جاتے ہیں اور جو نبی کو چھوڑتے ہیں وہ دنائت اور کمینگی کی طرف جھکتے ہیں۔ حتیٰ کہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہم پر کمال فضل ہو سکتا ہے؟ میں نے ابھی یہ آیت پڑھی ہے کہ ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا(الجمعہ: ۳) وہی خدا ہے جس نے امیوں میں رسول بھیجا۔ اور انہی میں سے بھیجا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو حیرت اور تعجب ہوا کہ بھلا ہم میں سے کوئی رسول ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں ہم تو امی ہیں۔ لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے امیوں سے ہی ایک کو نبی بنا دیا۔ اسی طرح جب یوسف علیہ السلام فوت ہو گئے تو لوگوں نے کہا کہ اب کوئی نبی کہاں سے آئے گا یعنی اب کوئی نبی نہیں آسکتا۔ لیکن یہ بات کم حوصلگی اور دنائت سے پیدا ہوتی ہے اور پھر اس سے آپس میں لڑائی اور فساد شروع ہو جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے لوگوں کے تعلق قطع ہو جاتے ہیں۔ اس زمانہ میں بھی چونکہ لوگوں کی یہی حالت ہو گئی تھی اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی لئے آئے اور انہوں نے آکر پکارا کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ خدا سے تمہارا تعلق پیدا کراؤں اور تم میں صلح وآشتی اور محبت پیدا کراؤں۔ خدا تعالیٰ سے تعلق کرانے اور دنیا میں صلح اور آشتی پھیلانے کے لئے نبی ایک جماعت پیدا کرتے ہیں اور یہ ایسی جماعت ہوا کرتی ہے جو کسی بات کو اندھادھند نہیں مانتی بلکہ ہر ایک بات کو دلائل سے مانتی ہے۔ خدا، قیامت، فرشتے، جزاء وسزا، بہشت و دوزخ وغیرہ ہر ایک چیز کو دلائل سے قبول کرتی ہے۔ لیکن اس جماعت کے بعد جب لوگوں میں کم حوصلگی پیدا ہو جاتی ہے تو وہ نبیوں کی باتوں کی پرواہ نہیں کرتے اور جو اعتقاد وہ رکھتے ہیں۔ ان کے ثبوت کے لئے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی بلکہ رسم و رواج کا نام ہی دین رکھ لیتے ہیں۔ آپ لوگ اگر اس وقت کے مولویوں سے پوچھیں کہ خدا تعالیٰ کے ثبوت میں آپ کے پاس کیا دلائل ہیں تو اکثر کچھ جواب نہ دے سکیں گے اور الٹا یہ کہنے لگ جائیں گے کہ تم خدا کا ثبوت مانگتے ہو کیا دہریہ ہو گئے ہو۔ اگر کسی قرآن شریف کی آیت کے متعلق پوچھا جائے تو کہہ دیں گے کہ کیا تم قرآن پر ایمان نہیں لاتے جو اعتراض کرتے ہو ایسا کہنا تو کفر ہے۔ یہی حال اہلِ ہنود کا ہے۔ لیکن نبی کی بنائی ہوئی جماعت ہر بات کے لئے دلائل رکھتی ہے۔ کیونکہ نبی ہر ایک بات دلائل سے منواتا ہے چنانچہ جن لوگوں نے ہمارے سلسلہ کی کتابیں پڑھی ہیں انہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہوگی۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ ہماری جماعت کے ۸۰۔۹۰ فیصدی بلکہ اس سے بھی زیادہ ایسے لوگ ہوں گے جو یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کو اس لئے مانتے ہیں کہ ہمارے پاس اس کی ہستی کے متعلق یہ ثبوت ہیں۔ اسلام کو اس لئے قبول کیا ہے کہ اس کی صداقت کے فلاں فلاں دلائل ہیں۔ لیکن اگر دوسرے لوگوں سے پوچھا جائے تو ان میں سے بہت ہی کم ایسے ہوں گے جو کوئی ثبوت دے سکیں۔ ابھی کل ہی کا ذکر ہے کہ ایک نوجوان جو میرے نہایت عزیز ہیں اور گریجوایٹ ہیں میں نے ان سے پوچھا کہ آنحضرت ﷺ کی رسالت کا آپ کے پاس کیا ثبوت ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ میں نے سوچا ہوا نہیں۔ اسی طرح اگر کسی ہندو سے پوچھیں کہ آپ کے مذہب کا کیا ثبوت ہے۔ تو اس کا یہی جواب ہو گا کہ چونکہ میں ہندوؤں کے گھر پیدا ہوا ہوں اس لئے ہندو ہوں۔ یہی حال اور مذاہب کے لوگوں کا ہے۔ تو نبی کا یہ کام ہوتا ہے کہ رسمی اور رواجی اعتقادوں سے نکال کر یقینی باتوں کی طرف لے آتا ہے۔ پھر نبی کا دوسرا کام یہ ہوتا ہے۔ وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ(2:130) لکھنے پڑھنے کی تعلیم سکھاتا ہے۔ اس میں تعلیم بھی آ جاتی ہے اور شریعت بھی۔ وَالْحِكْمَةَ اور ہر ایک شریعت کے حکم کی حقیقت اور وجہ بھی بتاتا ہے۔ اس وقت اکثر لوگ نہیں جانتے کہ نماز کیوں پڑھی جاتی ہے پَیسیا کیوں کی جاتی ہے گرجا میں کیوں حاضر ہوا جاتا ہے۔ لیکن قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے ہر ایک حکم کی وجہ بتا دی ہوئی ہے کہ نماز اس لئے پڑھو‘ روزہ اس لئے رکھو، شراب اس لئے نہ پیو، زنا اس لئے نہ کرو، جُوا اس لئے نہ کھیلو۔ پھر نبی کا یہ کام ہے وَ یُزَكِّيْهِمْ ان کے اعمال کو پاک کرتا اور خیالات کو بلند کرتا ہے ان میں وسعت حوصلہ پیدا کرتا ہے۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک کام تو یہ تھا کہ ایک دیندار جماعت پیدا کر دے۔ اور ایک اور کام تھا جو آپ سے نہیں بلکہ آپ کی پیدا کردہ جماعت سے تعلق رکھتا تھا۔ خدا تعالیٰ کے مرسلین نہ صرف ایک ایسی جماعت تیار کرتے ہیں جو ہر طرح سے اعلیٰ اور اکمل ہو بلکہ ایسی بھی ہو جو دنیا میں آشتی اور صلح پھیلائے۔ چنانچہ سب انبیاء نے ایسا کیا ہے۔ اور ایسی جماعتیں تیار کر گئے ہیں۔ جو دنیا میں صلح اور امن پھیلانے کا باعث ہوتی ہے۔ اور جو بیج ان نبیوں نے بویا تھا۔ اس کو پانی دے کر انہوں نے ایک بڑے درخت تک پہنچایا ہے۔ ہمارے آنحضرت ﷺ نے بھی اپنی امت کو مختلف اقوام میں صلح و آشتی کا نمونہ دکھانے کے لئے مدینہ میں غیر اقوام سے معاہدات کئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اسی غرض کے لئے پیغام صلح ایک رسالہ لکھا۔ جو لاہور میں ہی پڑھا گیا جس میں غیر مذاہب کے لوگوں کو اس طرف بلایا گیا۔ کہ ہم آپ کے نبیوں کو مانتے ہیں اور برا نہیں کہتے اس لئے آپ کا بھی فرض ہے کہ ہمارے آنحضرت ﷺ کو سچا سمجھیں۔ اور برا نہ کہیں آپ نے فرمایا کہ اگر تم اس طرح کرو تو صلح ہو سکتی ہے۔ کیونکہ جھگڑے اور فساد عقائد کی وجہ سے نہیں ہوتے بلکہ بدگوئی اور گالیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ اسی طرح آپ نے مناظرات کے متعلق یہ تجویز پیش کی کہ اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کی جائیں نہ کہ ایک دوسرے پر حملے کئے جایا کریں آپ کا یہ پیغام آپ کی جماعت کے لئے خضر راہ کے طور پر ہے اور اس کے لئے آپ نے ایک نظام مقرر فرما دیا کہ اس طریق پر چل کر دنیا میں صلح و امن قائم کرو۔ بے شک آپ فوت ہو گئے ہیں لیکن آپ کا کام اسی قدر تھا جو آپ نے کیا اور ضرور تھا کہ دوسرے نبیوں کی طرح آپ بھی ایک راستہ دکھا کر رخصت ہو جاتے اب ہمارا کام ہے کہ ہم اس راستہ پر چل کر دنیا کو صلح کی طرف لائیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ان تدابیر پر عمل کیا جائے جو آپ نے بتائی ہیں تو دنیا میں بالکل امن قائم ہو سکتا ہے۔ کیونکہ جہاں نرمی اور سلوک سے کام کیا جاتا ہے وہاں صلح اور آشتی ہوتی ہے لیکن جہاں سختی کو استعمال کیا جائے وہاں جدائی ہو جاتی ہے۔ خواہ آپس میں کتنی ہی محبت کیوں نہ ہو لیکن اگر سختی ہو تو دشمنی اور رنج پیدا ہو جاتا ہے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مختلف مذاہب کے لوگوں کو اس طرف بلانا کہ ایک دوسرے کو گالیاں دینے کی بجائے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کرو درحقیقت امن عامہ کیلئے راستہ صاف کرنا تھا اور اس غرض کو پورا کرنے کے لئے میں آپ لوگوں کے سامنے کھڑا ہوا ہوں۔ اور چاہتا ہوں کہ مختلف مذاہب کے لوگ سکھ، ہندو، مسیحی، آریہ، سناتی اور غیر احمدی جو اس وقت یہاں موجود ہیں اپنی اپنی جگہوں پر اس بات پر غور کریں کہ آپس میں گالیاں دینے کا کیا فائدہ ہے۔ حق کے اظہار کے لئے گالیاں دینے کی ضرورت نہیں۔ گالیوں سے سوائے عناد اور بغض کے ترقی کرنے کے اور آپس میں فساد ہونے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ترقی جو دین و دنیا میں ہم لوگ کر سکتے ہیں پیچھے اور پیچھے ہی پڑ رہی ہے۔ جبکہ وہی باتیں جو کہ سختی اور فحش کلامی کے ساتھ کہی جا سکتی ہیں نرمی سے بھی کہی جا سکتی ہیں تو کیوں اس مفید طریق کو چھوڑ کر اس گندے رویہ کو اختیار کیا جائے جن سے دین و دنیا کا نقصان ہے۔ دین کا تو اس لئے کہ جب اس میں عناد پیدا ہو جائے۔ تو دوسرے کی بات پر غور کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہی نہیں۔ اور دنیا کا اس لئے کہ اس فساد کا باعث یہ ہوتا ہے کہ ایک ہی ملک میں رہنے والی اقوام باوجود قرب مکانی کے ایک دوسرے سے ایسی بعید رہتی ہیں کہ ان فوائد سے جو متحدہ کوششوں سے حاصل ہو سکتے ہیں محروم ہو جاتی ہیں۔ اور یہ خیال کرنا کہ بعض لوگ باوجود اس اختلاف کے مل کر کام کرتے ہیں درست نہیں۔ کیونکہ اگر بعض لوگ اپنے مذہب سے دلی طور پر تنفر رکھنے کی وجہ سے دوسرے کی گالیوں کی بھی کوئی پرواہ نہیں کرتے یا مذہب پر دنیا کو مقدم رکھتے ہیں تو ان کی حالت پر سب کا قیاس کر لینا درست نہیں۔ جب تک دو قوموں میں کثرت ان لوگوں کی نہ ہو۔ جو ایک دوسرے سے بجائے نفرت رکھنے کے محبت رکھتے ہوں۔ اس وقت تک ان میں صلح نہیں ہو سکتی۔ چند آدمیوں کی کوششیں خواہ وہ کتنے ہی عالی رتبہ کیوں نہ ہوں کبھی بار آور نہیں ہو سکیں گی۔ اور چونکہ اکثر لوگ دین کی محبت رکھنے والے ہوتے ہیں جب تک مذہبی تنافر دور نہ ہو کبھی دو قوموں میں صلح نہیں ہو سکتی۔ اور مذہبی تنافر دور کرنے کا ایک ہی طریق ہے کہ سخت کلامی اور فحش گوئی سے پرہیز کیا جائے۔ پس ہندوستان کے موجودہ اختلافات اور بغض و عناد کے دور کرنے کیلئے ایک ہی تجویز ہے

مذہبی جھگڑوں کے انسداد کی تجویز

کہ ایک دوسرے کو گالیاں دینا اور برا بھلا کہنا ترک کر دیا جائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وعدہ کیا تھا کہ اگر لوگ ہم پر سختی کرنا چھوڑ دیں تو ہم بھی چھوڑ دیں گے۔ ورنہ بعض اوقات سختی کا جواب سختی سے ہی دینا پڑتا ہے۔ کیونکہ اگر جواب نہ دیا جائے تو بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس جواب ہی نہیں۔ پس اگر مختلف مذاہب کے لوگ اس بات میں ہمارے ساتھ شامل ہونے پر آمادہ ہو جائیں تو میں اپنی جماعت کی طرف سے جو کئی لاکھ ہے۔ اور جس کا میں واحد امام ہوں اپنی طرف سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ جو لوگ گالیوں کو ترک کر کے نرمی اور آشتی کی طرف ایک قدم بڑھائیں گے میں دس قدم بڑھاؤں گا اور جو ہماری طرف ایک ہاتھ بڑھے گا ہم اس کی طرف دس ہاتھ بڑھیں گے۔ جدائی کا باعث ہمیشہ سختی اور دل آزاری ہی ہوا کرتی ہے چنانچہ ہمارے اپنے اندر سے ہی جب ایک گروہ نے سختی کی تو باوجود ہزاروں اتحاد کے پہلوؤں کے ہمیں ان سے جدا ہونا پڑا۔ پس جب اپنے بھی گالیاں دیں تو ان سے علیحدگی ہو جاتی ہے۔ تو غیر تو پھر غیر ہی ہیں۔ لیکن سوچنا چاہئے کہ اس نا اتفاقی اور لڑائی جھگڑے کی وجہ سے کس قدر فساد بڑھ رہا ہے اور اس کے دور کرنے کے لئے کتنی قربانی کی ضرورت ہے۔ ایک طرف اس فساد کو رکھو اور دوسری طرف اس قربانی کو۔ تو معلوم ہو جائے گا کہ فساد کے مقابلہ میں اس قربانی کو جو مختلف مذاہب کے لوگوں کو کرنی پڑے گی کچھ نسبت ہی نہیں۔ کیونکہ دوسرے مذاہب کے بزرگوں کو گالیاں دینے سے کسی مذہب کو حقیقتاً کوئی فائدہ نہیں۔ مثلاً اگر کوئی ہندو یا آریہ آنحضرت کو گالی دے تو اسے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ گالی تو زندہ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی فوت شدہ کا کیا بگاڑے گی۔ پھر اس انسان کا جس کو خدا تعالیٰ نے پاک اور مطہر ٹھہرایا کیا بگاڑ سکتا ہے اس کو کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔ مگر اس سے مسلمانوں کے دلوں میں ایسا ناسور پڑ جاتا ہے کہ کوئی مرہم اسے بند نہیں کر سکتی۔ کیونکہ مسلمان یہ تو پسند کر لیں گے کہ ان کے سامنے ان کے بیوی بچوں کو قتل کر دیا جائے ان کے مال و اموال کو چھین لیا جائے ان کی گردنوں پر کُند چھری پھیر دی جائے لیکن یہ کبھی پسند نہیں کریں گے کہ اس رسولؐ کو جس کے ذریعہ انہیں ہدایت نصیب ہوئی کوئی برا لفظ کہا جائے۔ پس جو شخص رسول اللہ کو گالی دیتا ہے۔ اس کے مذہب کو یا اس کو اس سے کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے اس عمل سے مسلمانوں کو اس سے اور اس کے ہم مذہبوں سے ضرور نفرت ہو جائے گی جس کا نتیجہ خطرناک ہو گا۔ اسی طرح اگر مسلمان کریں کہ رام چندر جی یا کرشن جی کو برا بھلا کہیں تو ان کو کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ مگر اس سے یہ ضرور ہو گا کہ ان کے اہل وطن کے دلوں پر ایسا زخم لگے گا کہ جس کو کوئی مرہم اچھا نہیں کر سکے گی اور مسلمانوں کو خطرناک نقصان پہنچے گا۔ غرض سخت کلامی اور دوسرے مذاہب اور ان کے بزرگوں کو گالیاں دینا یا ان کی عیب جوئی کرنا ایک ایسا خطرناک کام ہے کہ جس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں ہو سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو عادت اس وقت ہندوستان کے لوگوں میں پڑ چکی ہے اس کو دور کیونکر کیا جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یکدفعہ تو اس کام کا ہونا مشکل ہے۔ لیکن مشکل کام سے گھبرانا بھی انسان کا کام نہیں۔ اس لئے میرے خیال میں سردست اس مدعا کو پورا کرنے کے لئے ایک مذہبی کانفرنس کی جائے جس کے اجلاس سال میں ایک یا دو دفعہ ہوا کریں۔ ان اجلاسوں میں مختلف مذاہب کے پیرؤوں کو اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے کے لئے بلایا جائے۔ اور دوسرے مذاہب پر صراحتاً یا کنایتاً حملہ کرنے کی ہرگز اجازت نہ ہو۔ بلکہ ہر ایک مقرر اپنی تقریر میں مقرر کردہ مضامین کے متعلق صرف وہ تعلیم پیش کرے جو اس کے مذہب نے دی ہے یا اس پر جو اعتراض پڑ سکتے ہوں ان کا جواب دے دے۔ اس کو یہ اجازت نہ ہو کہ دوسرے مذاہب پر حملہ کرے یا ان کے بزرگوں کو برا بھلا کہے۔ یہ کوشش نہ صرف مختلف مذاہب کے پیرؤوں کے لئے موجبِ برکت ہوگی بلکہ گورنمنٹ برطانیہ کی بھی ایک خدمت ہوگی کیونکہ ملک میں امن ہو تو گورنمنٹ بھی آزادی کے ساتھ اپنی اصلاحی تدابیر پر عمل کر سکتی ہے اور ملک میں فساد گورنمنٹ کے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ پس ایسی کوشش نہ صرف ملک کی خدمت ہے بلکہ گورنمنٹ کی بھی خدمت ہے۔ اور میرے نزدیک وہ سراسر غلطی پر ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ گورنمنٹ کی کامیابی مختلف اقوام کے اختلاف میں ہے۔ نہ یہ خیال درست ہے اور نہ گورنمنٹ برطانیہ کا طریقِ عمل اس کی تائید کرتا ہے اور نہ عقل اس کی تائید کرتی ہے۔ پس اس کام کو جس قدر جلد ہو سکے شروع کر دیا جائے۔ اور جب یہ کام شروع ہو جائے گا تو امید ہے کہ لوگ آہستہ آہستہ خود اس طریق کی خوبی کے قائل ہو جائیں گے۔ اور اگر پہلے ہمارے ساتھ شامل نہ ہوتے تھے تو بعد میں ہو جائیں گے۔ بے شک اس کام کے راستہ میں بہت سی تکالیف اور مشکلیں ہیں لیکن کونسا کام ہے جس کے راستہ میں تکالیف نہیں ہوتیں۔ ابتداءً بے شک بعض لوگ مخالفت کریں گے لیکن آخر کار اس میں ضرور کامیابی ہوگی۔ کیونکہ جب تجربہ سے معلوم ہو جائے گا کہ یہ طریق خیر و برکت کا طریق ہے تو جو لوگ اس کے مخالف ہوں گے وہ بھی اسے ضرور قبول کریں گے۔ کیونکہ کون ہے جو اپنے فائدہ کو معلوم کر کے پھر بھی اسکے حاصل کرنے سے دریغ کرتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ آپ لوگوں میں سے جو اس جگہ موجود ہیں بعض کو اس کام کی توفیق دے تو اس کے مبارک نتائج میں تو کسی کو شک ہو ہی نہیں سکتا۔ اور اس وقت ضرورت ہے کہ وہ لوگ جو ایک ہی ملک میں رہتے ہیں بلکہ ایک ہی شہر میں رہتے ہیں ایک ہی زبان بولتے ہیں ایک ہی کنویں سے پانی پیتے ہیں اور ایک ہی دریا میں نہاتے ہیں۔ آپس میں بغض و عناد کو ترک کر کے صلح کی طرف قدم بڑھائیں۔

دوسرا پیغام

اس پیغام کے علاوہ ایک اور بھی پیغام ہے جو میں آپ لوگوں کو پہنچانا چاہتا ہوں اور وہ حضرت مسیح موعودؑ کا دعویٰ ہے۔ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک برگزیدہ ہم میں مبعوث کیا ہے اس کو قبول کرو۔ میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ میں اس کی صداقت کے دلائل پیش کروں۔ ہاں ایک چھوٹی سی بات بیان کرتا ہوں اس سے صداقت پسند لوگ سمجھ سکتے ہیں۔ اور وہ یہ کہ ایک شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے کا دعویٰ کرتا ہے اور جو اس کے مقابلہ کے لئے اٹھتا ہے گرایا جاتا ہے۔ جو اسے رسوا کرنا چاہتا ہے خود رسوا ہو جاتا ہے جو اسے دکھ دینا چاہتا ہے خود دکھ اٹھاتا ہے تو کیا ایسا شخص مفتری ہو سکتا ہے؟ اگر یہ مان لیا جائے کہ (نعوذ باللہ) ایسا انسان مفتری ہو سکتا ہے تو پھر خدا کی ہستی میں بھی شک پیدا ہو جائے گا۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی حکومتیں ایسے شخص کو جو جھوٹے طور پر ان کی طرف سے عہدہ دار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے پکڑتی اور سزا دیتی ہیں مگر ایک شخص کہتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے آیا ہوں حالانکہ وہ نہیں آیا تو اسے خدا تعالیٰ کچھ نہیں کہتا بلکہ وہ ہر مقابلہ میں فتح پاتا اور ہر جگہ نصرت اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو پھر سچے نبی کا کوئی معیار نہیں رہ جاتا۔ پس آپ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ پر غور کریں کہ جس کی سچائی کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک نہیں دو نہیں بلکہ لاکھوں نشان ظاہر کئے قادیان ہی ایک بہت بڑا نشان ہے ایک وقت تھا کہ وہاں ضروری چیزیں بھی نہ مل سکتی تھیں ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ ہفتہ میں شائد ایک دفعہ ڈاک آتی تھی اور وہاں کے پرائمری سکول کے مدرس کو تین روپے ماہوار الاؤنس ڈاک کے کام کا ملا کرتا تھا۔ لیکن اب وہاں آبادی کی کثرت سے زمینوں کی اس قدر قیمت بڑھ گئی ہے کہ بڑے بڑے شہروں میں بھی اتنی نہ ہوگی۔ اور یورپ، امریکہ اور افریقہ سے ڈاک آتی ہے اور دور دراز ملکوں سے لوگ کھنچے آتے ہیں۔ ایک سب پوسٹماسٹر اور کلرک کام کرتے ہیں۔ بے شک بہت سے شہروں میں اس سے بڑا کام ہوتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا

کوئی اور بھی ایسا شہر ہے جس کے متعلق قبل از وقت ایک شخص نے اعلان کیا ہو کہ مجھے خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے اس کی ترقی کی خبر دی ہے اور پھر وہ اس حیرت انگیز طریق سے بلا کسی دنیاوی سبب کے اس طرح ترقی پا گیا ہو۔ وہاں کوئی سرکاری محکمہ نہ ہو حتیٰ کہ تھانہ بھی نہ ہو۔ آپ لوگ غور کریں کہ کونسی چیز لوگوں کو اس کی طرف کھینچ رہی ہے۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ خدائی ہاتھ کام کر رہا ہے اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ کا الہام تھا کہ فَحَانَ اَنْ تُعَانَ وَ تُعْرَفَ بَيْنَ النَّاسِ (تذکرہ صفحہ ۶۶) وقت آگیا ہے کہ خدا تیری مدد کرے اور دنیا میں تیرا نام روشن کر دے۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس کو دنیا میں کوئی نہ جانتا تھا۔ اور اس کے ضلع کے لوگ بھی اس سے واقف نہ تھے اس قدر شہرت پاتا ہے کہ دنیا بھر میں اس کا نام مشہور ہو جاتا ہے۔ اور مختلف ممالک میں مختلف اقوام کے لوگ اس کی غلامی میں داخل ہوتے ہیں حتیٰ کہ وہ قوم جو اس کے ملک میں حاکم ہے اس کے افراد بھی اس کی غلامی میں داخل ہوتے ہیں۔ اور اس کو اپنا فخر سمجھتے ہیں۔ بے شک بعض لوگ کہہ دیں گے کہ بعض اور گمنام لوگ بھی اسی طرح مشہور ہو گئے ہیں۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ اس کی نظیر بتاؤ کہ کسی شخص نے قبل از وقت گمنامی کی حالت میں الہام پا کر اعلان کیا ہو اور پھر باوجود اس کے بجائے موردِ غضب الٰہی ہونے کے اس نے دنیا میں ترقی کی ہو۔ اور اس طرح اس کا نام شہرۂ آفاق ہوا اور ہر رتبہ کے اور ہر طبقہ کے لوگوں نے اس کی غلامی اختیار کی ہو۔ اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ نے قبل از وقت الہام پاکر لکھا تھا کہ يَأْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ۔ اب کوئی قادیان جا کر دیکھ لے کہ وہاں امریکہ اور یورپ تک کے لوگ آتے ہیں۔ یورپ میں تو آٹھ آدمی بیعت بھی کرچکے ہیں۔ اسی طرح مصر سے افریقہ کے ساحلوں سے اور ہندوستان کے مختلف اقطاع سے لوگ آتے ہیں۔ بھلا یہ کہنا کسی انسان کا کام ہو سکتا ہے۔ کوئی ایسا انسان پیش تو کرو اور اگر اس کی نظیر نہیں ملتی تو حق پسندی طالب ہے اس بات کی کہ اس کے دعوٰی کو قبول کیا جائے ۔ جو باتیں میں نے سنائی ہیں کسی خاص مذہب سے تعلق نہیں رکھتیں۔ ہر مذہب کے پیرو اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ہاں مسلمانوں پر تو بالخصوص حجت ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا یُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ(6:22) ظالم کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ پس اگر نعوذ باللہ مرزا جھوٹا ہے تو قرآن بھی جھوٹا ہو جاتا ہے۔ اور اگر قرآن کریم سچا ہے تو مرزا صاحب کے دعوٰی کے قبول کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔ اور اس جماعت کی ترقی بھی اس حالت کو پہنچ گئی ہے کہ اب وہ وقت نہیں رہا کہ لوگ کہیں کہ یہ سلسلہ مٹ جائے گا۔ اب دنیا کی کوئی طاقت ہماری ترقی میں روک نہیں ہو سکتی۔ اور کوئی حکومت روک نہیں سکتی۔ ہم خدا کے فضل سے اس حد کو پہنچ چکے ہیں کہ خدا نے ہمارے لئے ترقی کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ اگر ساری دنیا مل کر بھی ہماری ترقی کو روکنا چاہے تو نہیں روک سکتی۔ آنحضرت ﷺ کے پاس ایک شخص آیا۔ اور اس نے کہا کہ آپ اس خدا کی قسم کھائیں جس کے قبضہ میں آپ کی جان ہے کہ میں سچا ہوں۔ تو آپ نے قسم کھائی۔ میں بھی آپ کی اتباع میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ کہ اب اس سلسلہ کے لئے کوئی چیز روک نہیں ہو سکتی۔ خدا تعالیٰ نے مجھے خود ایک رؤیا کے ذریعہ بتایا۔ کہ کہ آسمان سے سخت گرج کی آواز آ رہی ہے اور ایسا شور ہے جیسے توپوں کے متواتر چلنے سے پیدا ہوتا ہے اور سخت تاریکی چھائی ہوئی ہے۔ ہاں کچھ کچھ دیر کے بعد آسمان پر روشنی ہو جاتی ہے۔ اتنے میں ایک دہشت ناک حالت کے بعد آسمان پر ایک روشنی پیدا ہوئی اور نہایت موٹے اور نورانی الفاظ میں آسمان پر لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ لکھا گیا ہے۔ اس کے بعد کسی نے بآواز بلند کچھ کہا۔ جس کا مطلب یاد رہا کہ آسمان پر بڑے بڑے تغیرات ہو رہے ہیں جن کا نتیجہ تمہارے لئے اچھا ہو گا۔ پس اس سلسلہ کی ترقی کے دن آگئے ہیں کیونکہ اس خواب کا ایک حصہ پورا ہو گیا ہے۔ اور یورپ کی خطرناک جنگ کی شکل میں ظاہر ہوا ہے۔ اور صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اسلام کی صداقت کو روشن کرے۔ اور یہ ہو نہیں سکتا مگر اس کے ہاتھ سے جس نے مسیح موعودؑ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ خدا تعالیٰ کا منشاء ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت پھیلے۔ کیونکہ وہ خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جن لوگوں کا یہ خیال ہو کہ یہ سلسلہ فلاں آدمی کی وجہ سے چل رہا ہے۔ اس کے بعد تباہ ہو جائے گا۔ وہ سن رکھیں کہ ایسے بہت لوگ تھے جو کہتے تھے کہ مرزا صاحب مر گئے تو یہ سلسلہ بھی مر جائے گا۔ پھر بہت تھے جو یہ کہتے تھے کہ مولوی نور الدین کی وجہ سے چل رہا ہے۔ حتیٰ کہ خواجہ غلام الثقلین صاحب نے بھی ایسا ہی لکھا تھا۔ جس کا میں نے جواب دیا تھا کہ تم غلط کہتے ہو کہ کسی انسانی طاقت سے یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ پھر انگریزی خوانوں کا خیال تھا کہ چند انگریزی پڑھے ہوئے چلا رہے ہیں۔ لیکن خدا تعالیٰ نے دو تین واقعات یکے بعد دیگرے کر کے دکھا دیا کہ یہ خیال غلط ہے چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے بعد ایک تو وہ بے نظیر انسان اٹھا لیا۔ جس کی علمیت کا اعتراف غیر احمدی عالموں کو بھی کرنا پڑتا تھا۔ اور دوسرے ان لوگوں کو الگ کر دیا جو سلسلہ کے لئے بطور عمود سمجھے جاتے تھے۔ اور سلسلہ احمدیہ کو ذرا بھی کسی قسم کا ضعف نہ آنے دیا۔ اس سے ثابت ہو گیا کہ یہ سلسلہ انسانی نہیں بلکہ خدائی ہے۔ پس وقت آگیا ہے کہ جنہوں نے بدون غور کرنے کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کیا ہے۔ ان سے ضرور پوچھا جائے اگر (نعوذ باللہ) یہ سلسلہ جھوٹا ہے۔ تو قبول کرنے والوں کو سزا نہیں ہوگی۔ لیکن جنہوں نے غور ہی نہیں کیا۔ ان کو سزا دی جائے گی کہ کیوں انہوں نے غور نہیں کیا۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ صاحبان دنیا کے کاموں سے وقت نکال کر مہینہ میں ایک دفعہ یا کم از کم سال میں ایک دو دفعہ اس سلسلہ کی کتابیں ضرور پڑھیں گے۔ اور واقف کار لوگوں سے باتیں سنیں گے۔ اگر یہ باتیں حق نہ ہوں تو آپ لوگ رد کر دیں۔ کیا ہمارے ہاتھ میں تلوار ہے کہ ہم کسی کو ان باتوں کے قبول کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ نہیں اور ہرگز نہیں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو تلوار دے کر نہیں بھیجا۔ اور اس میں ایک بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ پر منکرین اسلام نے اعتراض کیا تھا کہ انہوں نے اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا ہے۔ حالانکہ آنحضرت ﷺ کو جب مخالفین نے از حد تنگ کیا تھا تو تب آپ نے تلوار اٹھائی تھی۔ تاہم نادان لوگوں نے یہی کہا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے لیکن اب جبکہ دنیا سے اسلام اٹھ چکا تھا تو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو کھڑا کر کے بتا دیا کہ جب اس کا یہ غلام دلائل اور براہین سے لوگوں کے دلوں کو فتح کر سکتا ہے تو آقا نے کیوں نہ ایسا کیا ہو گا۔ دنیا نے چونکہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں تلوار اٹھائی تھی اس لئے ضرور تھا کہ وہ تلوار سے ہی مقابلہ کرتے لیکن اب خدا تعالیٰ نے مذہب کے متعلق تلوار چھین لی ہے اور ایسا زمانہ آگیا ہے کہ ہم اسی گورنمنٹ کے مذہب پر جس کی حکومت میں رہتے ہیں آزادی سے اعتراض کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے دلائل سے کام لیا ہے پس ہمارے ہاتھ میں تلوار نہیں اور نہ حضرت مسیح موعودؑ کے ہاتھ میں ہونی چاہئے تھی۔ ہم دلائل پیش کرتے ہیں آپ ان پر غور کریں اور اگر حق نہ پائیں تو ان کو رد کر دیں لیکن سننا اور غور کرنا شرط ہے۔ کیا ممکن نہیں کہ یہ سلسلہ سچا ہو پس اگر سچا ہے تو میں سب مذاہب کے لوگوں کو کہتا ہوں کہ بتلاؤ کہ خدا کو کیا جواب دو گے تم لوگ جھوٹے اشتہاروں اور ڈنڈھوروں کی طرف تو متوجہ ہو جاتے ہو۔ پھر کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو آواز آئی ہے اس پر کان نہ دھرو۔

آخر میں میں پھر اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے باہمت ضرور ان تدابیر پر عمل کرنے کی کوشش کریں جن سے ہندوستان کے یہ لڑائی جھگڑے دور ہوں اگر کوئی مجھ سے اس کے متعلق خط و کتابت کرے گا تو میں ہر قسم کی بدنی، مالی، علمی خدمات کرنے کو تیار ہوں گا۔ کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ وہ زمانہ آئے کہ ہر طرف امن اور صلح ہو۔ اور خدا تعالیٰ جلد وہ وقت لائے جو نبیوں کے وقت لایا کرتا ہے۔ تاکہ تمام لوگ خواہ کسی مذہب کے ہوں۔ علمی اور قومی اور گورنمنٹ کی خدمت مل کر کریں اور مذہب میں سختی اور درشتی کو چھوڑ دیں اور سچے مذہب کی خوبیوں سے آگاہ ہونے کا ان کو موقعہ ملے۔

فاروق کے فرائض

(ایڈیٹر اخبار فاروق کو چند نصائح)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

نحمده و نصلی علیٰ رسوله الکریم بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم

فاروق کے فرائض

(مؤرخہ ۷۔ اکتوبر ۱۹۱۵ء)

حضرت مصلح موعود فضل عمر نے ذیل کے نصائح فاروق کے لئے اپنے دست مبارک سے رقم فرما کر عطا فرمائے۔ عاجز ایڈیٹر فاروق خدائے تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ وہ القادر اپنے فضل سے بہ طفیل سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ وبہ تصدق امام ربانی مرسل یزدانی حضرت مسیح موعود قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام مجھے ان نصائح پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما کر فاروق کو اسم بامسمّٰی بنائے۔ آمین۔ (ایڈیٹر)

دعا

سب سے پہلے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتا ہوں کہ وہ فاروق کے اجراء میں آپ کی مدد فرمائے اور اس کے چلانے میں آپ کی تائید فرمائے۔ آمین رب العالمین۔

نصیحت

اس کے بعد میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ ہمیشہ اس نام کی طرف جو آپ نے اپنے اخبار کے لئے پسند کیا ہے متوجہ رہیں اور اسے اپنے ذہن سے کبھی نہ اترنے دیں اَلْاَسْمَاءُ تَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ نام آسمان سے اترتے ہیں یعنی جو مفہوم کسی کے نام سے ادا ہوتا ہے اسی کے مطابق اس کے افعال ہوتے ہیں یہ بات دنیا کے تجربہ سے کہاں تک درست ثابت ہوتی ہے اس سے مجھے اس وقت غرض نہیں لیکن یہ قول ایک رنگ میں ضرور پورا ہو رہا ہے یعنی مختلف اشیاء کے ایسے نام رکھے جاتے ہیں کہ جن سے ان کا آئندہ کام بتانا مقصود ہوتا ہے اور پھر اس نام کے مفہوم کی پیروی کی جاتی ہے۔

نام مطابق کام

یورپ تو اس نکتہ کا ایسا شیدا ہے کہ وہاں ہر ایک دکان کا کچھ نام رکھا جاتا ہے اور اکثر کوشش کی جاتی ہے کہ اس نام میں ہی اس دکان کا کام بھی بیان ہو جائے اور یہ کبھی نہ ہو گا کہ ایک دکان کے نام میں تو یہ ظاہر کیا جائے کہ اس میں جوتیوں کی تجارت ہوتی ہے اور درحقیقت وہاں ٹوپیوں کی تجارت ہوتی ہو غرض نام کام بتانے کے لئے رکھے جاتے ہیں اور ان ناموں کی پابندی کی جاتی ہے اور جب کسی دکان کا کام بدلنا ہوتا ہے تو پہلے اس کا نام بدلتے ہیں۔

کام خلافِ نام

لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جہاں انسانوں میں اس بات کا خیال ہے کہ وہ اپنی دکان یا اپنے کارخانہ کے نام کے مطابق اپنے کاموں کو رکھتے ہیں وہاں اپنے ناموں کے متعلق ان کو اس قدر فکر نہیں ہوتی کہ ہمارا نام کیا ہے اور ہمارے کام کیا ہیں ایک دکان کا نام اگر کتب فروشی کی دکان رکھا جاتا ہے تو اس بات کی پابندی کی جاتی ہے کہ وہاں کتابیں ہی فروخت ہوں اور اگر ایک کارخانہ کا نام فلور ملز ہوتا ہے تو آٹا پیسنے کا ہی کام وہاں کیا جاتا ہے لیکن کتنے عبدالرحمٰن ہیں جو در حقیقت عبدالشیطان ہیں؟ کتنے عبدالغنی ہیں جو حرص و آز میں مبتلا ہیں؟ اور کتنے دارا شکوہ ہیں جن کی راتیں جھونپڑیوں میں اور دن کھلیانوں میں کٹتے ہیں؟ اور کتنے آسمان جاہ ہیں جن کو سر چھپانے کے لئے زمین کی کوئی غار بھی نصیب نہیں؟ پھر کتنے اکرام الدین ہیں کہ ان کا وجود دین کے لئے بدنامی اور ذلت کا باعث ہو رہا ہے؟ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ لوگ کتنے ہیں؟ نہیں اور ہرگز نہیں کیونکہ ان کا گننا ناممکن ہے دنیا کے پردہ پر کوئی بستی کوئی قصبہ کوئی شہر کوئی ملک ایسا نہیں جو ان نمونوں سے خالی ہو۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ کوئی جگہ ایسی نہیں جو ان نمونوں سے پُر نہ ہو مگر باوجود اس کے وہی انسان جو اپنے نام کی عزت نہیں کرتا اور اس کے مطابق اپنے کاموں کو کرنے کی فکر نہیں کرتا اس کا تمام تر زور یہ ہوتا ہے کہ اس کی دکان یا اس کے کارخانہ کا جو نام ہے اس کے مطابق اس کا کام بھی ہو کیا یہ ایک عجیب بات نہیں؟ لیکن کتنے آدمی ہیں جن کی توجہ اس طرف پھری ہو اور انہیں اس دل شکن تماشہ کا علم بھی ہوا ہو جیسے تماشہ کرنے والے انسان اور نام اور لباس پہن کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں اسی طرح اکثر انسان اپنے حقیقی ناموں کو بدل بدل کر اپنے ہم جنسوں کے سامنے آتے ہیں لوگ اپنے روپیہ کو ضائع کر کے تھیٹروں میں اپنے نام بدلنے والوں کا تماشہ دیکھنے جاتے ہیں لیکن نہیں سمجھتے کہ یہ تماشہ تو ہر گھر میں جاری ہے اور رات اور دن ہو رہا ہے اور پھر اس کے لئے کوئی ٹکٹ بھی نہیں کوئی قیمت نہیں ایک سنگدل انسان جس کا پیشہ ظلم اور جور ہے جس کے دل میں رحم کبھی پیدا نہیں ہوتا اپنا نام محمد لطیف بتاتا ہے اور ایک شخص جو بخل اور کنجوسی کا مجسمہ ہے اور ایک پیسہ فی سبیل اللہ خرچ نہیں کر سکتا اپنا نام محمد احسان ظاہر کرتا ہے۔ خیر یہ تو ایک درمیانی بات تھی۔ میں یہ بیان کرنا چاہتا تھا کہ نام درحقیقت کام کے اظہار کے لئے ہوتے ہیں اور صرف شناخت کے لئے علامت ہی نہیں ہوتے بلکہ اصل غرض ان سے کام کا بتانا ہی ہوتا ہے۔

فصاحت عربی

اور یہ بات اس زبان سے بخوبی ظاہر ہے جو الہامی زبان ہے اور جس کا نام (یعنی عربی) ہی بتا رہا ہے کہ وہ ایک فصاحت سے پر اور غلطیوں سے پاک زبان ہے اور دوسری عجمی زبانوں کی طرح خیالات انسانی کے ادا کرنے میں ناکافی ثابت نہیں ہوتی اس زبان میں جس قدر اشیاء کے نام ہیں وہ ان کی حقیقت پر بھی روشنی ڈالتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نام کام کے اظہار کے لئے ہوتے ہیں اور ہونے چاہئیں پس فاروق کو بھی اسم بامسمّٰی ہونا چاہئے اور اس وسیع دنیا کے کروڑوں ایکٹروں کی طرح ایک ایکٹر نہیں بننا چاہئے کہ اس کا نام تو فاروق ہو لیکن وہ فاروقی صفات سے عاری ہو۔

فاروق کا کام

فاروق عربی زبان کا ایک لفظ ہے جس کے دو معنے ہیں ڈرنے والا اور حق و باطل میں فرق کرنے والا پس فاروق کے مضامین یہ دونوں رنگ اپنے اندر رکھیں تب فاروق کے نام کا وہ مستحق ہو سکتا ہے اس کے مضامین خشیت الٰہی سے لکھے جائیں اور خشیت الٰہی کے پیدا کرنے والے ہوں کیونکہ خدائے تعالیٰ کا خوف اپنے دل میں رکھنے والے لوگ دوسروں کے دل میں خشیت پیدا کرنے کا باعث بھی ہو جاتے ہیں اسی طرح اس میں حق و باطل میں فرق کر کے دکھایا جائے اور کبھی اس بات کے منوانے کی کوشش نہ کی جائے جو خود منوانے والے کے نزدیک غلط ہو اور اگر کبھی غلطی بھی ہو جائے تو اس کا اعتراف کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔

گورنمنٹ کی وفاداری

اس بات کو خوب یاد رکھیں کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ہم پر بہت احسان ہیں اگر ہماری سمجھ میں وہ احسان نہ بھی آئیں تب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اس حکومت میں پیدا ہونا ہی اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ یہ حکومت خدائے تعالیٰ کی نظروں میں دنیا کی تمام موجودہ حکومتوں سے زیادہ رعایا پرور اور انصاف پسند ہے حضرت مسیح موعودؑ اپنی تمام عمر اس گورنمنٹ کی فرمانبرداری پر زور دیتے رہے ہیں پس اس نازک وقت میں کہ ہندوستان مختلف تحریکوں کی آماجگاہ بن رہا ہے فاروق کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ ہر ایک مشکل میں گورنمنٹ برطانیہ کا مددگار ہو اور نیک ارادوں کو لوگوں کے ذہن نشین کرنے کا آلہ۔

مگر ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رہے کہ ہماری خدمت بے ریا رہے اور بغیر کسی خواہش کے ہے پس خوشامد کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں انسان غلطی کر سکتا ہے اور گورنمنٹ انگریزی بھی انسانوں کی بنی ہوئی ایک گورنمنٹ ہے وہ بھی غلطی کر سکتی ہے اور کرتی ہے پس ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہئے کہ اس کی ہر ایک کارروائی کو جو اپنی ضمیر کے کیسی ہی خلاف کیوں نہ ہو خوبصورت کر کے دکھایا جائے بلکہ اگر ایسا کوئی موقعہ ہو تو گورنمنٹ سے امید رکھنی چاہئے کہ وہ فوراً اسے درست کر دے گی اور لوگوں کو سمجھانا چاہئے کہ ایجی ٹیشن کے ذریعہ سے وہ گورنمنٹ کا مقابلہ نہ کریں بلکہ جس طرح ایک باپ سے بیٹا امیدوار ہوتا ہے کہ اس کی تکلیف کو وہ دور کرے گا اسی طرح گورنمنٹ سے امید رکھیں کہ وہ اس کی تکلیف کو دور کرے۔ غرض نیک باتوں کی تعریف کرنا اور اگر گورنمنٹ کسی بات میں غلطی کرے تو لوگوں کو تسلی اور تسکین دینا اور گورنمنٹ کے نیک ارادوں اور صاف نیت کو لوگوں پر ظاہر کرنا یہ فاروق کی پالیسی ہونی چاہئے۔

فاروق کے مضامین

فاروق کے مضامین کی عبارت سنجیدہ ہو کہ ہنسی اور ٹھٹھا مؤمن کے شایانِ شان نہیں۔ مضامین کے الفاظ گو زور دار ہوں لیکن گالیوں سے بالکل خالی ہوں کہ گالی کا فائدہ کچھ نہیں ہوتا۔ دشمن کے خلاف اس رنگ میں لکھنا چاہئے کہ غیر تو غیر خود دشمن کا دل بھی محسوس کر لے کہ متانت اور اخلاص اور خیر خواہی سے مضمون لکھا گیا ہے کیونکہ اس کے بغیر ہدایت نہیں ہوتی اور ہدایت کے سوا اور کیا چیز ہے جس کے لئے مضمون لکھا جاتا ہے؟ وہ انسان کسی عزت کے قابل نہیں جو صرف لوگوں کو خوش کرنے کے لئے چٹخارہ دار مضامین لکھتا ہے یا اپنے دل کا غصہ ظاہر کرنے کے لئے سختی سے کام لیتا ہے اخلاص اور اصلاح مَدِّنظر ہو اور اس کے بغیر نہ کوئی مضمون لکھا جائے اور نہ چھاپا جائے۔

اخبارات سے بہترین خدمت ہو سکتی ہے

اس وقت اخبارات کی بڑی قدر ہے اور لوگ اخبارات کے پڑھنے کے عادی ہیں وہ لوگ جو کتابیں نہیں پڑھ سکتے اخبارات کا بڑے شوق سے مطالعہ کرتے ہیں اور اخبار اس وقت تعلیم یافتہ لوگوں کی غذا ہو گیا ہے پس ایک اخبار نویس بنی نوع انسان کی بڑی خدمت کر سکتا ہے اور اس کے لئے قرب الٰہی کا دروازہ کھلا ہے اسلام اس وقت سخت مصیبت میں ہے اور دنیا کی نظر میں ایک بدصورت بڑھیا کی شکل کے مشابہ ہے اس کے حسن کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ایک ایسی خدمت ہے جو خدائے تعالیٰ کے قرب کا بہترین ذریعہ ہے اس کام میں دل و جان سے مشغول ہوں کہ فاروق کا نام اسی بات کا طالب ہے اسلام کے سوا اور کونسا حق ہے۔ اور حق و باطل میں فرق کرنا ہی تو فاروق کا کام ہے پس اسلام کی صداقت کو اسلام کے مدعیوں اور دیگر مذاہب کے پیرؤوں کے سامنے پیش کرنا فاروق کا بڑا کام ہونا چاہئے آنحضرت ﷺ سے بڑا فاروق اور قرآن کریم سے بڑا فرقان آج تک خدائے تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوا پس اس فاروق اور اس فرقان کو دنیا کے آگے پیش کریں کہ جب تک انسان ان کی محبت کی عینک کو آنکھوں پر نہیں لگاتا اسے حق و باطل میں تمیز کرنے کی توفیق نہیں ملتی۔ دنیا نے کسی انسان پر اس قدر ظلم نہیں کیا جس قدر کہ آنحضرت ﷺ پر۔ جس قدر وہ حسین ہے اسی قدر لوگوں نے اس کی عیب گیری کی ہے اور بے دردانہ طور سے اس پر حملے کئے ہیں ان حملوں کا نرمی‘ محبت اور اخلاص سے جواب دیں اور اس کے وجودِ باکمال مسیح موعودؑ کے آئینہ میں ظاہر کریں کہ وہ اپنی صفائی کی وجہ سے اس کے حسن کو پورے طور پر ظاہر کرنے والا ہے۔ فاروق کی نظر وسیع ہو اور یہ نہ ہو کہ ایک معاملہ کی طرف متوجہ ہوئے تو اسی میں لگ گئے بلکہ ہر ایک بات پر اتنا ہی زور ہو جس قدر اسکے مناسب ہے اور ایک دشمن کے مقابلہ میں دوسرے دشمنوں کو بھلا نہ دیا جائے کہ ایسا کرنے والا کبھی کامیاب نہیں ہوتا نیک نیتی اور اخلاص پر سب کاموں کی بناء ہو کیونکہ جس شخص کے کاموں کی ان پر بناء ہوتی ہے وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔ اور آپ کی مدد فرمائے۔ آمین۔ وَآخِرُ دَعْونَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔

خاکسار مرزا محمود احمد

انوارِ خلافت

(مجموعہ تقاریر جلسہ سالانہ ۱۹۱۵ء)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

نحمده و نصلی علیٰ رسولہ الکریم بسم اللہ الرحمن الرحیم

تقریر حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی

(جو ۲۷؍ دسمبر ۱۹۱۵ء کو جلسہ سالانہ پر فرمائی)

(ظہر سے قبل)

اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَ رَسُوْلُهٗ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ - بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ہ سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ ۚ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ۝ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ۝ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ۝ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ ۝ وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِيْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ؕ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ ۝ وَ اِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ يٰبَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰيةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ يَّاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِي اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ ۝ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ يُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ ؕ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ۝ يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــُٔوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ ۖ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ ۝ هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ ۝ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ ۝ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ ؕ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۝ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ يُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ ۝ وَاُخۡرٰی تُحِبُّوۡنَہَا ؕ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتۡحٌ قَرِیۡبٌ ؕ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰہِ کَمَا قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ لِلۡحَوَارِیّٖنَ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ فَاٰمَنَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ وَکَفَرَتۡ طَّآئِفَۃٌ ۚ فَاَیَّدۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلٰی عَدُوِّہِمۡ فَاَصۡبَحُوۡا ظٰہِرِیۡنَ(سورۃ الصف)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ الۡمَلِکِ الۡقُدُّوۡسِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیۡہِمۡ وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ ٭ وَاِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ ؕ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ(الجمعة: ۱ تا ۵)

اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں اور سلامتی ہو تم لوگوں پر جو خدا تعالیٰ کے لئے اپنے گھروں کو چھوڑ کر اس لئے یہاں آئے ہو کہ خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی کوئی بات سنو۔ اللہ تعالیٰ بخیل نہیں، کنجوس نہیں، ظالم نہیں اور کسی کے حقوق نہیں مارتا۔ پس یہ مت سمجھو کہ تمہاری یہ کوششیں اور محنتیں ضائع جائیں گی۔ نہیں نہیں بلکہ یہ سود اور بڑے سود کے ساتھ واپس آئیں گی اور اپنے ساتھ بڑے بڑے انعام و اکرام لائیں گی کیونکہ اگر کوئی خدا تعالیٰ کی طرف ایک قدم چل کر جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی طرف دو قدم آتا ہے اگر کوئی خدا تعالیٰ کی طرف دو گز چل کر جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی طرف چار گز آتا ہے اور اگر کوئی خدا تعالیٰ کی طرف چل کر جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی طرف دوڑ کر آتا ہے پس وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے لئے اپنے گھروں سے چل کر یہاں آئے ہیں ان کو بشارت ہو کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جو کوئی خدا تعالیٰ کی طرف چل کر جاتا ہے خدا تعالیٰ اس کی طرف دوڑ کر آتا ہے اگر آپ لوگ یہاں خدا کے لئے چل کر آئے ہیں تو خدا تعالیٰ تمہاری طرف دوڑ کر آئے گا۔

وسیع جلسہ گاہ کی ضرورت

میں نے کچھ آیات اس وقت پڑھی ہیں ان کے پڑھنے کی غرض انشاء اللہ میں ابھی بتاؤں گا لیکن پہلے میں ایک اور بات بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ پچھلے سال کے تجربہ سے معلوم ہوا تھا اور اس سال تو ثابت ہی ہو گیا ہے کہ ہمارے اجتماع کے لئے پہلی جگہیں کافی نہیں ہیں۔ خدا تعالیٰ ہماری

جماعت میں دن بدن ایسی برکتیں ڈال رہا ہے کہ ہمارے ہاتھ جو کچھ انتظام کرتے ہیں اور ہمارے دل جو کچھ سوچتے ہیں اس سے بہت بڑھ کر خدا کی مخلوق آجاتی ہے۔ ہم ہر سال یہ سمجھتے ہیں کہ بس اس قدر مکانات اور دیگر اسباب کافی ہوں گے۔ خدا تعالیٰ ان کو ناکافی ثابت کر دیتا ہے۔ اس دفعہ ہمارے منتظمین نے جلسہ کے لئے جو تیاری کی تھی وہ بہ نسبت پہلے کے بہت زیادہ تھی لیکن خدا تعالیٰ نے آنے والوں میں ایسی برکت ڈالی ہے کہ وہ ناکافی نکلی ہے اور دن بدن خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم زیادہ سے زیادہ نازل ہو رہے ہیں۔ ہماری ہر سال کی یہ ترقی ظاہر کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے خاص الخاص فضل ہم پر ہو رہے ہیں اور وہ دن جلد آنے والے ہیں کہ ہماری ترقی کو دیکھ کر مخالف لوگوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور نشانات دیکھ کر محوِ حیرت ہو جائیں گے۔ اور وہ لوگ دیکھیں گے جو یہ سمجھتے تھے کہ یہ سلسلہ مٹ جائے گا کہ خود مٹ گئے ہیں اور اسی دنیا میں ان پر موت وارد ہو گئی ہے۔ لیکن یہ سلسلہ ترقی پر ترقی کر رہا ہے۔ غرض ایک طرف خدا کی یہ برکتیں ہو رہی ہیں اور دوسری طرف ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ جو لوگ یہاں آئیں ان کو ہم کچھ باتیں سنائیں اور ان کے فرائض سے ان کو آگاہ کریں اس لئے اب لیکچرروں کو بولنے کے لئے بہت زیادہ زور لگانا پڑتا ہے تاکہ سب کے کانوں تک ان کی آواز پہنچ جائے لیکن پھر بھی نہیں پہنچ سکتی۔ اس لئے میرا ارادہ ہے کہ آئندہ لیکچروں کے لئے یہ تدبیر کی جائے کہ لیکچر کسی بند مکان میں نہ ہوں جیسا کہ اس سال ہال میں تجویز تھی بلکہ کھلے میدان میں ہوں اور وہ اس طرح کہ ایک احاطہ بنایا جائے جس کی اطراف کو ڈھلوان کر دیا جائے۔ اس طرح بہت سے لوگ لیکچرار کی آواز کو اچھی طرح سن سکیں گے۔ یورپ میں اسی طرح کیا جاتا ہے اور بہت سے لوگ آواز کو سن سکتے ہیں حتیٰ کہ دس دس ہزار آدمیوں کا مجمع بھی آسانی سے لیکچر سن سکتا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو میں اس جلسہ کے بعد اس لیکچر گاہ کے بنانے کی تجویز کروں گا۔ اس صورت میں عورتوں کے لئے بھی انتظام ہو سکتا ہے۔ اب عورتوں کے لئے انتظام کرنا چاہا تھا اور اسی غرض کے لئے سکول کے ہال میں جلسہ کا انتظام کیا گیا تھا لیکن جگہ ناکافی ہوئی اور پھر گھر پر ہی عورتوں کے لیکچروں کا انتظام کرنا پڑا۔ پس اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو آئندہ سال اس طرح جلسہ گاہ کا انتظام کیا جائے گا۔ انتظام جلسہ کے متعلق اس قدر کہنے کے بعد میں اپنے مضمون کی طرف لوٹتا ہوں۔ اس دفعہ میرا منشاء یہ تھا کہ جب جلسہ پر دوست و احباب آئیں تو میں بعض ایسی باتیں جو بہت ضروری ہیں ان کے سامنے بیان کروں اور کچھ نصائح (جو اللہ تعالیٰ سمجھائے) کروں۔ لیکن آخر کار میری توجہ اس طرف پھری کہ جہاں نصیحتوں اور دیگر باتوں کی ضرورت ہے۔ وہاں یہ بھی ضرورت ہے کہ احباب کو ان مسائل سے بھی واقف کیا جائے جن سے انہیں روزمرہ واسطہ پڑتا ہے۔ اس لئے میں نے چاہا کہ ان کو بھی مختصراً بیان کر دوں۔

پیغامیوں کی بد زبانی

اس وقت جماعت احمدیہ میں اختلاف کی وجہ سے بہت جھگڑا پیدا ہو گیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ فریق ثانی نے تہذیب اور شرافت کو بالکل ترک کر دیا ہے اور ہمیں اس قدر گالیاں دی ہیں کہ غیر احمدی اخباروں نے بھی آج تک نہیں دی تھیں۔ میری نسبت اس وقت تک جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ تو ایک بہت بڑی فہرست ہے جس کا اس مختصر وقت میں بیان کرنا مشکل ہے لیکن اس میں سے کسی قدر میں بتاتا ہوں۔ وہ عام طور پر اور کثرت سے مجھے نوحؑ کا بیٹا کہتے ہیں یعنی وہ جو حضرت نوحؑ کے کشتی پر سوار ہونے کے وقت باوجود حضرت نوحؑ کے بلانے کے ان کے پاس نہ آیا اور ان کو اس نے قبول نہ کیا اور طوفان میں غرق ہو گیا اور وہ جو کافروں میں سے تھا بلکہ کفار کا سردار تھا اور جو شرارت میں اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور اپنے قول کی وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام چونکہ خدا تعالیٰ نے نوحؑ رکھا ہے اور تم ان کے بیٹے ہو پس تم نوحؑ کے بیٹے ہو۔ ہم کہتے ہیں حضرت مسیح موعود کو تو ابراہیمؑ بھی کہا گیا ہے جن کا بیٹا اسماعیلؑ تھا تو اگر تمہاری ہی دلیل درست ہے تو پھر مجھے اسماعیلؑ کیوں نہیں کہتے پھر وہ میری نسبت کہتے ہیں کہ یہ دجال ہے، کذاب ہے، مفتری ہے، خائن ہے لوگوں کے مال کھا جاتا ہے، خدا سے دور ہے، پوپ ہے وغیرہ وغیرہ۔ غرض یہ اور اسی قسم کے اور بہت سے الفاظ ہیں جو میری نسبت وہ استعمال کرتے ہیں لیکن مجھے ان کے اس طرح کہنے سے کچھ گھبراہٹ نہیں اور میرا دل ذرا بھی ان کی باتوں سے متاثر نہیں ہوتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جب انسان دلائل سے شکست کھاتا اور ہار جاتا ہے تو گالیاں دینی شروع کر دیتا ہے اور جس قدر کوئی زیادہ گالیاں دیتا ہے اسی قدر اپنی شکست کو ثابت کرتا ہے۔ آپ لوگوں نے کئی دفعہ دیکھا ہو گا کہ ایک کمزور شخص مار تو کھاتا جاتا ہے لیکن گالیاں بھی دے رہا ہوتا ہے تو اب چونکہ ہم ان کو شکست پر شکست دے رہے ہیں اور وہ ہار پر ہار کھاتے چلے جا رہے ہیں اس لئے وہ گالیوں پر اتر آئے ہیں ان کے آدمی ہم میں آکر مل رہے ہیں اور وہ دن بدن کم ہو رہے ہیں۔ ان کے پاس ہمارے دلائل اور براہین کا کوئی جواب نہیں ہے اس لئے بد زبانی کے ہتھیار کو استعمال کر رہے ہیں۔ دیکھو جب بیعت ہوئی تھی اس وقت جماعت کا اکثر حصہ ان کے ساتھ تھا چنانچہ انہوں نے خود بھی لکھا تھا کہ ہماری طرف جماعت کے بہت آدمی ہیں۔ لیکن مجھے خدا تعالیٰ نے اسی وقت بتا دیا تھا کہ لُيُمَزِّقَنَّهُمُ وہ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ ان کی ہڈیاں توڑ کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں گے بلکہ یہ کہ خدا تعالیٰ ان میں سے لوگوں کو توڑ توڑ کر ہماری طرف لے آئے گا اور ہم میں شامل کر دے گا۔ حضرت مسیح موعودؑ کو بھی یہی الہام ہوا تھا جس کے آپ نے یہی معنی کئے ہیں۔ اس میں شک نہیں وہ اس بات سے بھی چڑتے ہیں کہ میں کیوں اپنے الہام اور رؤیا شائع کرتا ہوں۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ جب یہ باتیں تمام قوم کے متعلق ہوں تو کیوں نہ انہیں شائع کیا جائے۔ بیشک اگر میرے الہام کسی ایک شخص کے ساتھ تعلق رکھتے تو میں بیان نہ کرتا لیکن جب یہ قومی معاملہ ہے تو کیوں چھپایا جائے۔ پس اسی لئے میں اپنے وہ رؤیا جو جماعت کے متعلق ہوں شائع کرتا رہا ہوں اور کرتا رہوں گا۔ پھر میرے ساتھ ہماری جماعت کے اور لوگوں کو بھی اسی طرح گالیاں دیتے ہیں۔ ہم سب کا نام انہوں نے محمودی رکھا ہوا ہے اور اپنے خیال میں ہمیں یہ بھی گالی ہی نکالتے ہیں لیکن نادان یہ نہیں سمجھتے کہ یہ کوئی گالی نہیں۔ آنحضرت ﷺ کو بھی کفار گالیاں دیتے تو آپ فرماتے کہ میرا نام محمدؐ ہے جس کے معنی ہیں کہ بہت تعریف کیا گیا پھر مجھے کس طرح گالی لگ سکتی ہے۔ اسی طرح عرب کے کفار جب آپ کو گالی دیتے تو اس وقت آنحضرت ﷺ کا نام محمدؐ نہ لیتے بلکہ مذمم کہتے۔ اس کے متعلق آنحضرت ﷺ فرماتے کہ اگر یہ لوگ میرا نام محمدؐ لے کر گالیاں دیں تو مجھے گالی لگ ہی نہیں سکتی کیونکہ جسے خدا پاک ٹھہرائے کون ہے جو اس کی نسبت کچھ کہہ سکے اور اگر مذمم کہہ کر گالیاں دیتے ہیں تو دیتے جائیں یہ میرا نام ہی نہیں۔ کفارِ عرب اہل زبان تھے اس لئے وہ اتنی سمجھ رکھتے تھے کہ محمدؐ نام لے کر ہم گالی نہیں دے سکتے لیکن یہ چونکہ عربی نہیں جانتے اس لئے یہ گالی دیتے ہیں کہ تم محمودی ہو۔ ہم کہتے ہیں خدا تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہے کہ ہم محمودی ہیں کیونکہ یہ تو رسول کریم ﷺ کا وہ مقام ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے عَسٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحۡمُوۡدًا(بنی اسرائیل: ۸۰) اگر ہمارا رسول کریمؐ سے اس عظیم الشان درجہ کے ذریعہ سے تعلق قائم ہو جسے اللہ تعالیٰ نے انعامِ عظیم کے طور پر آپ کے لئے وعدہ فرمایا ہے تو ہمارے لئے اس سے زیادہ فخر اور کیا ہو سکتا

ہے۔ غرض یہ فتنہ بڑھتا ہی گیا اور ابھی تک بڑھ ہی رہا ہے اور عجیب عجیب اعتراض ہمارے خلاف پیدا کئے جاتے ہیں۔ مثلاً مولوی محمد علی صاحب میری نسبت کہتے ہیں کہ یہ اپنے آپ کو پاک اور معصوم عن الخطاء کہتا ہے۔ میں نے اس کے جواب میں لکھا کہ بالکل غلط ہے میں اپنے آپ کو ایسا نہیں سمجھتا اور نہ ہی کوئی انسان ہو کر ایسا سمجھ سکتا ہے لیکن اس کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ میاں صاحب نے یہ جواب صرف لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے دے دیا ہے ورنہ واقعہ میں وہ اپنے آپ کو ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے ابھی تک اپنی کوئی غلطی شائع نہیں کی اور نہ ہی کسی غلطی کا اعتراف کیا ہے۔ میں کہتا ہوں غلطی کا ہونا اور بات ہے اور غلطی کرنے کا امکان اور بات ہے اور ان دونوں باتوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ وہ باوجود ایم اے ہونے کے اور امیر قوم کہلانے کے اتنا نہیں سمجھ سکتے کہ غلطی کرنا اور کر سکنا الگ الگ باتیں ہیں۔ میں نے یہ کبھی نہیں کہا اور نہ اب کہتا ہوں کہ میں غلطی نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر میری طرف سے کسی غلطی کا اعلان نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ میں غلطی نہیں کر سکتا تو کوئی شخص مولوی صاحب سے پوچھے کہ جناب مولوی صاحب! میاں صاحب تو آپ کی اس دلیل کی رو سے بیشک اپنے آپ کو معصوم عن الخطاء سمجھتے ہیں۔ مگر آپ یہ تو بتائیں کہ آپ نے اس وقت تک اپنی غلطیوں کے کتنے اشتہار دیئے ہیں اور کتنی غلطیوں کا اعتراف کیا ہے کیا آپ کو بھی معصوم عن الخطاء سمجھ لیا جائے؟ کتنے تعجب اور حیرانی کی بات ہے کہ مجھ پر وہ سوال کیا جاتا ہے جو خود ان پر پڑتا ہے۔ لیکن پھر بھی وہ اسی پر اڑے ہوئے ہیں۔ اگر ان کی طرف سے اپنی غلطیوں کے اعتراف میں کوئی اشتہار شائع ہو چکا ہوتا تب تو وہ مجھے یہ کہنے کا حق رکھتے تھے۔ لیکن جب انہوں نے خود ہی ایسا نہیں کیا تو پھر مجھ سے کیوں یہ توقع رکھتے ہیں۔ لیکن میں اقرار کرتا ہوں کہ میں غلطی کر سکتا ہوں اور اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے غلطی بھی کی ہے اور بہت بڑی غلطی کی ہے جو یہ ہے کہ میں نے اپنے اخباروں کو سمجھایا کہ ان کے متعلق کچھ نہ لکھو۔ لیکن میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی ہمارے اخباروں نے میرے کہنے پر خاموشی اختیار کی جب ہی وہ گالیوں اور بد زبانی میں بڑھ گئے اور طرح طرح کے جھوٹ اور بہتان لکھنے شروع کر دیئے۔ میں نے یہ غلطی کی اور بڑی غلطی کی کہ اپنے اخباروں کو ان کے متعلق لکھنے سے روکا۔ چونکہ انسان غلطی کرتا ہے میں نے بھی یہ غلطی کی۔ ایک دوست ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں سفر میں گیا تو ایک مسجد میں ٹھہرا۔ وہاں ایک شخص بیٹھا تھا وہ بے تحاشا مجھے گالیاں دینے لگ گیا اور میں خاموش سنتا رہا اور خیال کرتا رہا کہ میں اب کروں تو کیا کروں اور اسے کیونکر چپ کراؤں لیکن کچھ نہ سوجھتا۔ آخر کچھ دیر کے بعد اسی جگہ سے ایک صف میں سے ایک اور شخص نکلا اور وہ اس کو گالیاں دینے لگ گیا جب اس نے بھی گالیاں دینی شروع کیں تب جا کر وہ پہلا شخص خاموش ہوا بعد میں معلوم ہوا کہ یہ دونوں دیوانے تھے اور اتفاق سے اس جگہ اکٹھے ہو گئے تھے۔ اسی طرح اگر ادھر سے چپ ہو جائیں تو وہ گالیوں میں بڑھے چلے جاتے ہیں اور اعتراض پر اعتراض کرتے چلے جاتے ہیں اور آ گا پیچھا کچھ نہیں دیکھتے۔ لیکن اگر ان کے اعتراضات کا جواب دیا جائے اور ظاہر کیا جائے کہ جو اعتراضات وہ ہم پر کرتے ہیں وہ ہم پر نہیں بلکہ ان پر پڑتے ہیں تو پھر اپنے حملوں میں وہ ذرا محتاط ہو جاتے ہیں۔

غرض اس جھگڑے میں ہمارا روپیہ اور وقت بہت کچھ ضائع ہوا۔ نہ ان کے حملوں پر خاموش ہو سکتے ہیں کہ بعض کمزور طبائع لوگوں کو ابتلاء نہ آ جائے اور نہ ان کا جواب دینے کو دل چاہتا ہے کیونکہ اس وقت اور اس روپیہ کو خدمتِ دین اسلام میں خرچ کرنے سے بہت سے نیک نتائج کے نکلنے کی امید ہوتی ہے مگر مجبوراً ان لوگوں کی طرف توجہ کرنی ہی پڑتی ہے اس وقت بھی جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ گو میں اور مضامین بیان کرنا چاہتا تھا۔ لیکن موجودہ اختلاف کی وجہ سے دو اختلافی مسائل پر بھی کچھ بیان کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔ اور پہلے انہی اختلاف کو شروع کرتا ہوں۔

پہلا مسئلہ یہ ہے کہ آیا حضرت مسیح موعودؑ کا نام احمد تھا یا آنحضرت ﷺ کا اور کیا سورۃ الصف کی آیت جس میں ایک رسول کی جس کا نام احمد ہوگا بشارت دی گئی ہے آنحضرت ﷺ کے متعلق ہے یا حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق۔

اسمہٗ احمد کی پیشگوئی کے مصداق حضرت مسیح موعودؑ ہیں

میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت مسیح موعودؑ کے متعلق ہے اور احمد آپ ہی ہیں لیکن اس کے خلاف کہا جاتا ہے کہ احمد نام رسول کریم ﷺ کا ہے اور آپ کے سوا کسی اور شخص کو احمد کہنا آپ کی ہتک ہے۔ لیکن میں جہاں تک غور کرتا ہوں میرا یقین بڑھتا جاتا ہے اور میں ایمان رکھتا ہوں کہ احمد کا جو لفظ قرآن کریم میں آیا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ہی ہے۔ میں اس بات کے ثبوت میں اپنے پاس خدا کے فضل سے دلائل رکھتا ہوں اور تمام دنیا کے عالموں اور فاضلوں کے سامنے بیان کرنے کے لئے تیار ہوں حتیٰ کہ میں انعام رکھنے کے لئے بھی تیار ہوں اور اگر کوئی میرے دلائل کو غلط ثابت کر دے اور قرآن کریم سے اور احادیث صحیحہ سے یہ بات ثابت کر دے کہ احمد آنحضرت ﷺ کا نام تھا نہ کہ صفت اور یہ کہ جو نشانات احمد کے قرآن کریم میں آتے ہیں وہ آنحضرت ﷺ پر چسپاں ہوتے ہیں اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ پیشگوئی اپنے پر چسپاں فرمائی ہے تو میں ایسے شخص کو ایک مقرر تاوان جو فریقین کو منظور ہو دینے کے لئے تیار ہوں۔

یہ یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو احمد کہنے میں آنحضرت ﷺ کی ہتک نہیں اور اس سے یہ مراد نہیں کہ آنحضرت ﷺ احمد نہ تھے۔ آپ احمدؐ تھے اور ضرور تھے لیکن احمد آپ کی صفت تھی نہ کہ آپ کا نام اور جو شخص یہ کہے کہ احمدؐ آپ کی صفت نہ تھی وہ جھوٹا ہے کیونکہ صحیح احادیث سے یہ بات ثابت ہے اور اگر آپؐ احمد نہ ہوتے تو حضرت مسیح موعودؐ احمدؐ ہو ہی کیونکر سکتے تھے کیونکہ آپ نے جو کچھ حاصل کیا ہے آپ کی ہی شاگردی سے حاصل کیا ہے۔ لیکن باوجود اس کے یہ کہنا درست نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا نام احمد تھا اور اس قول پر غیر مبائعین کا یہ شور مچانا کہ اس طرح رسول کریم ﷺ کی ہتک ہو گئی بالکل غلط اور فضول ہے۔ رسول کریم ﷺ کی اس میں کوئی ہتک نہیں۔ کیا حضرت موسیٰؑ کو موسیٰؑ کہنے سے آنحضرت ﷺ کی ہتک ہے یا حضرت ابراہیمؑ کو ابراہیمؑ کہنے میں آنحضرت ﷺ کی ہتک ہے اگر ایسا نہیں تو حضرت مسیح موعودؑ کو احمد کہنے میں آنحضرت ﷺ کی کیوں ہتک ہونے لگی۔ کسی شخص کا پیشگوئی کا مصداق ہونا دلائل سے معلوم ہوتا ہے اور جب دلائل اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اس پیشگوئی کے مصداق حضرت مسیح موعودؑ ہیں تو رسول کریم ﷺ کی اس میں کس وجہ سے ہتک ہوئی۔ یہ کہنا کہ آنحضرت ﷺ کا نام احمد نہیں آپ کی ہتک نہیں ہے کیونکہ صرف نام کا بغیر نام کی صفات کے ہونا کچھ فائدہ نہیں رکھتا جب تک کسی میں اس کے نام کے مطابق اوصاف نہ پائے جاتے ہوں۔ نام کوئی قابل عزت بات نہیں۔ دیکھو بعض لوگوں کا نام عبدالرحمٰن اور عبدالرحیم ہوتا ہے لیکن وہ کام عبد الشیطان کے کرتے ہیں۔ اسی طرح بعض کا نام نیک اور شریف ہوتا ہے لیکن دراصل وہ بد اور بد وضع ہوتے ہیں تو ماں باپ کا رکھا ہوا نام کوئی عزت کی شئے نہیں ہو جاتا۔ اگر ہم رسول کریم ﷺ کے متعلق

یہ کہیں کہ رسول اللہ میں احمدؐ کی صفت نہیں پائی جاتی تو یہ آپ کی ہتک ہے لیکن یہ کہنا کہ آپ کا نام احمد نہیں ہرگز آپ کی ہتک کرنا نہیں کہلا سکتا بلکہ یہ ایک امر واقعہ کہلائے گا۔ پس جبکہ نام فضیلت کا ذریعہ نہیں ہوتا بلکہ کام فضیلت کا ذریعہ ہوتے ہیں تو پھر آپ کا نام احمد نہ ماننے میں آپ کی ہتک کس طرح ہو سکتی ہے۔ اگر رسول کریم اللہﷺ کا نام محمدؐ بھی نہ ہوتا بلکہ کچھ اور ہوتا تو کیا اس میں آپ کی ہتک ہو جاتی اور کیا آپ کی برکات میں کمی آ جاتی۔ آپؐ کا نام جو کچھ بھی ہوتا وہی با برکت ہوتا اور اس نام پر دنیا اسی طرح فدا ہوتی جس طرح اب محمدؐ نام پر فدا ہوتی ہے کیونکہ لوگ آپؐ کے نام پر فدا نہیں ہوتے بلکہ درحقیقت آپؐ کے کام پر فدا ہوتے ہیں۔ پس اگر یہ کہا جاتا ہے کہ آنحضرت اللہﷺ کا نام احمد نہیں ہاں احمد کی صفات آپ میں پائی جاتی ہیں تو پھر نادان ہے وہ جو یہ کہے کہ ایسا کہنے سے آپ کی ہتک ہوتی ہے۔

قرآن کریم میں جو احمد کی خبر دی گئی ہے اس کے متعلق میں نے وہ آیات پڑھ دی ہیں جن میں احمد کا ذکر ہے اور اب میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بتاتا ہوں کہ ان آیات میں احمدؐ کا اصل مصداق حضرت مسیح موعودؑ ہی ہیں اور آنحضرت اللہﷺ صرف صفت احمدیت کی وجہ سے اس کے مصداق ہیں ورنہ جس احمد نام کے انسان کے متعلق خبر ہے وہ حضرت مسیح موعودؑ ہی ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ ۚ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ کَبُرَ مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰہِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمۡ بُنۡیَانٌ مَّرۡصُوۡصٌ وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖ یٰقَوۡمِ لِمَ تُؤۡذُوۡنَنِیۡ وَقَدۡ تَّعۡلَمُوۡنَ اَنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ ؕ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوۡبَہُمۡ ؕ وَاللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ(الصف: ۲ تا ۶) (ترجمہ) تسبیح کرتی ہے اللہ کے لئے ہر ایک وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور وہی غالب اور حکمت والا ہے۔ اے مومنو! کیوں وہ بات کہتے ہو جو خود نہیں کرتے۔ یہ بات اللہ کو بڑی ہی ناپسند ہے کہ دوسروں کو وہ کچھ کہو جو تم خود نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے راستہ میں اس طرح صفیں باندھ کر لڑتے ہیں کہ گویا سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہیں اور جب کہا موسیٰؑ نے اپنی قوم کو کہ اے قوم کیوں مجھے ایذاء دیتے ہو اور تحقیق تم یہ بات جانتے ہو کہ میں خدا کا رسول ہو کر تمہاری طرف آیا ہوں۔ پس جب انہوں نے کجی کی تو خدا نے ان کے دلوں کو کج کر دیا اور اللہ فاسقوں کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس واقعہ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک واقعہ بیان فرمایا ہے کہ جب عیسیٰ بن مریم نے بنی اسرائیل کو کہا کہ اے بنی اسرائیل میں اللہ کا رسول ہو کر تمہاری طرف آیا ہوں اور ان باتوں کی تصدیق کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے کہی گئی ہیں تورات سے۔ اور تمہیں خوشخبری دیتا ہوں اس رسول کی جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا۔ اب یہاں سوال ہوتا ہے کہ وہ کون سا رسول ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آیا اور اس کا نام احمد ہے۔ میرا اپنا دعویٰ ہے اور میں نے یہ دعویٰ یونہی نہیں کر دیا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں بھی اسی طرح لکھا ہوا ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے بھی یہی فرمایا ہے کہ مرزا صاحب احمد ہیں۔ چنانچہ ان کے درس کے نوٹوں میں یہی چھپا ہوا ہے اور میرا ایمان ہے کہ اس آیت کے مصداق حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی ہیں ہاں پہلے پہل جب حضرت خلیفہ اول سے یہ بات میں نے سنی تو ابتداءً اسے قبول نہ کیا اور بہت کچھ اس کے متعلق بحثیں ہوتی رہیں لیکن جب میں نے اس پر غور کیا تو خدا تعالیٰ نے اس کے متعلق میرا سینہ کھول دیا اور دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ عنایت فرما دیئے اور میں نے اس خیال کو قبول کر لیا۔

ان آیات میں خدا تعالیٰ نے اول حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا ہے کہ جب وہ اپنی قوم میں آئے اور ان کی قوم نے انہیں دکھ دیئے تو انہوں نے کہا کہ میں خدا کی طرف سے تمہارے پاس رسول ہو کر آیا ہوں مجھے قبول کر لو لیکن جب انہوں نے قبول نہ کیا اور کجی اختیار کی تو خدا تعالیٰ نے بھی ان کے دلوں کو کج کر دیا۔ اس ذکر کے بعد خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کے تمام انبیاء کا ذکر چھوڑ دیا ہے اور صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا ہے۔ اس کی غرض سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تیرہ سو سال بعد حضرت مسیحؑ آئے تھے اسی طرح آنحضرت ﷺ کے تیرہ سو سال بعد جو مثیل موسیٰ ہیں مسیح موعودؑ آئے گا اور اِسْمُہٗ اَحْمَدُ کا جملہ اس کو صاف کر دیتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کا نام احمد نہ تھا بلکہ محمدؐ تھا۔ چنانچہ اس آیت زیر بحث کو چھوڑ کر جس میں رسول اللہ ﷺ کو احمد کہہ کر مخاطب نہیں فرمایا بلکہ صرف حضرت مسیحؑ کی ایک پیشگوئی بیان فرمائی ہے جو خود زیر بحث ہے کسی جگہ بھی قرآن کریم میں آنحضرت ﷺ کو احمد نام سے یاد نہیں کیا گیا۔ اگر آنحضرت ﷺ کا نام احمد ہوتا اور جیسا کہ لوگ بیان کرتے ہیں والدہ کو الہام کے ذریعہ سے یہ نام بتایا گیا ہو تا تو قرآن کریم میں جو وحی الٰہی ہے اول تو احمد نام ہی آتا اور اگر محمدؐ بھی آتا تو احمد بعض مقامات پر ضرور آتا۔ وہ عجیب الہامی نام تھا کہ قرآن کریم اس نام سے ایک دفعہ بھی آنحضرت ﷺ کو نہیں پکارتا۔ دوسری دلیل آپ کا نام احمد نہ ہونے کی یہ ہے کہ کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ آپ کا نام احمد تھا۔ کلمہ شہادت جس پر اسلام کا دارو مدار ہے اس میں بھی محمد رسول اللہ کہا جاتا ہے کبھی احمد رسول اللہ نہیں کہا جاتا حالانکہ اگر آپ کا نام احمد ہوتا تو کلمہ شہادت کی کوئی روایت تو یہ بھی ہوتی کہ اَشْهَدُ اَنَّ اَحْمَدَ رَّسُوْلُ اللّٰهِ۔ پنجوقتہ اذان میں بھی بہ بانگ بلند مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ کہہ کر آپ کی رسالت کا اعلان کیا جاتا ہے۔ کبھی احمد رسول اللہ نہیں کہا جاتا۔ تکبیر میں بھی محمدؐ ہی آنحضرت کا نام آتا ہے اور درود میں بھی آنحضورؐ کو محمدؐ نام لے کر ہی یاد کیا جاتا ہے اور اسی نام کے رسول پر خدا تعالیٰ کی رحمتیں بھیجی جاتی ہیں۔ رسول کریم ﷺ کے خطوط کی نقلیں موجود ہیں ان سب میں آپ نے اپنے دستخط کی جگہ محمدؐ نام کی ہی مہر لگائی ہے۔ ایک خط میں بھی احمد اپنا نام تحریر نہیں فرمایا۔ پھر صحابہ کرامؓ کی گفتگو احادیث میں مذکور ہیں لیکن ایک دفعہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ کسی صحابی نے آنحضرت ﷺ کو احمد کہہ کر پکارا ہو اور نہ ان کی آپس کی گفتگو میں ہی یہ نام آتا ہے نہ تاریخ سے ثابت ہے کہ آپ کا نام احمد رکھا گیا تھا۔ بلکہ تاریخ سے بھی یہی ثابت ہے کہ آپ کا نام محمدؐ رکھا گیا تھا۔ آپ کے مخالف جس قدر تھے جن میں خود آپ کے رشتہ دار اور چچا بھی شامل تھے سب آپ کو محمد ﷺ نام سے پکارتے تھے یا شرارت سے مذمم کہہ کر پکارتے تھے کہ وہ بھی محمدؐ کے وزن پر ہے۔ غرض جس قدر بھی غور کریں اور فکر کریں آپ کا نام قرآن کریم سے، احادیث سے، کلمہ سے، اذان سے، تکبیر سے، درود سے، آپ کے خطوط سے، معاہدات سے، تاریخ سے، صحابہؓ کے اقوال سے محمدؐ ہی معلوم ہوتا ہے نہ کہ احمد۔ پھر اس قدر دلائل کے ہوتے ہوئے کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا نام احمد تھا۔ اگر احمد بھی آپ کا نام ہوتا تو مذکورہ بالا مقامات میں محمدؐ نام کے ساتھ آپ کا نام احمد بھی آتا اور کچھ نہیں تو ایک ہی جگہ احمد نام سے آپ کو پکارا جاتا یا کلمہ شہادت میں بجائے اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ کے احمد رسول اللہ بھی پڑھنا جائز ہوتا مگر ایسا نہیں ہے نہ یہ بات رسول کریمؐ سے ثابت ہے اور نہ صحابہؓ سے۔

اب ان واقعات کے ہوتے ہوئے ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ آپ کا نام احمد نہ تھا۔

پس اس آیت میں جس رسول احمد نام والے کی خبر دی گئی ہے وہ آنحضرت ﷺ نہیں

ہو سکتے ہیں اگر وہ تمام نشانات جو اس احمد نام رسول کے ہیں آپ کے وقت میں پورے ہوں تب بیشک ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس آیت میں احمد نام سے مراد احمدیت کی صفت کا رسول ہے کیونکہ سب نشانات جب آپ میں پورے ہوگئے تو پھر کسی اور پر اس کے چسپاں کرنے کی کیا وجہ ہے لیکن یہ بات بھی نہیں جیسا کہ میں آگے چل کر ثابت کروں گا۔

دوسری صورت یہ تھی کہ اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ(61:7) والی پیشگوئی میں کوئی ایسا لفظ ہوتا جس کی وجہ سے ہم کسی غیر پر اسے چسپاں نہ کر سکتے مثلاً یہ لکھا جاتا کہ وہ خاتم النبیین ہو گا اور چونکہ خاتم النبیین صرف رسول کریمؐ ہی ہیں اور ایک ہی شخص خاتم النبیین ہو سکتا ہے اس لئے ہم کہہ سکتے تھے کہ گو بعض نشانات آپ کے وقت میں اپنے ظاہر الفاظ میں پورے نہیں ہوئے لیکن جبکہ ایک ایسی صریح علامت موجود ہے جو آپ کے سوا کسی اور میں پائی ہی نہیں جاسکتی تو ان باتوں کی کوئی اور تاویل ہوگی اور بہرحال یہ پیشگوئی آپ پر ہی چسپاں ہوتی ہے لیکن یہ بات بھی نہیں۔ اس پیشگوئی میں کوئی ایسا لفظ نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ یہ پیشگوئی خاتم النّبیّن کے متعلق ہے۔ نہ کوئی اور ایسا لفظ ہے جس کی وجہ سے ہمیں یہ پیشگوئی ضرور آنحضرت ﷺ پر چسپاں کرنی پڑے۔ سوم باوجود آپ کا نام احمد نہ ہونے کے آپ پر یہ پیشگوئی چسپاں کرنے کی یہ وجہ ہو سکتی تھی کہ آپ نے خود فرما دیا ہوتا کہ اس آیت میں جس احمد کا ذکر ہے وہ میں ہی ہوں لیکن احادیث سے ایسا ثابت نہیں ہوتا نہ سچی نہ جھوٹی نہ وضعی نہ قوی نہ ضعیف نہ مرفوع نہ مرسل کسی حدیث میں بھی یہ ذکر نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کو اپنے اوپر چسپاں فرمایا ہو اور اس کا مصداق اپنی ذات کو قرار دیا ہو۔ پس جب یہ بھی بات نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم خلاف مضمون آیت کے اس پیشگوئی کو آنحضرت ﷺ پر چسپاں کریں۔ ایک چوتھی مجبوری بھی ہو سکتی تھی جس کی وجہ سے ہم یہ آیت رسول کریم ﷺ پر چسپاں کرنے کے لئے مجبور تھے اور وہ یہ کہ انجیل میں صرف ایک ہی نبی احمد کی خبر دی گئی ہوتی۔ اس صورت میں واقعہ میں مشکل تھی کہ اگر اس پیشگوئی کو ہم کسی اور شخص پر چسپاں کر دیتے تو رسول کریمؐ مسیحؑ کے موعودؐ نہ رہتے حالانکہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ آپ حضرت مسیحؑ ناصری کے موعودؐ ہیں۔ لیکن انجیل میں ہم دو نبیوں کے آنے کی خبر پاتے ہیں۔ ایک وہ نبی جو تمام نبیوں کا موعودؐ ہے اور جس کا آنا گویا خدا تعالیٰ کا آنا قرار دیا گیا ہے۔ اور دوسرے مسیحؑ کی دوبارہ آمد۔ اور بتایا گیا ہے کہ پہلے ”وہ نبی“ آئے گا۔ پھر مسیح دوبارہ آئے گا اور ان دونوں پیشگوئیوں میں احمد نام ہی موجود نہیں۔ پس جب کہ اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ(61:7) والی آیت کو اگر مطابق مضمون اس آیت کے بجائے رسول کریمؐ کے چسپاں کرنے کے آپ کے کسی خادم پر چسپاں کیا جائے تو قرآن کریم کی کسی اور آیت کی تکذیب نہیں ہوتی اور آنحضرت ﷺ پھر بھی حضرت مسیحؑ کے موعودؐ رہتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اس آیت کے مضمون کو توڑ مروڑ کر آپ پر صرف اس لئے چسپاں کیا جائے تا یہ ثابت ہو کہ آپ کے بعد کوئی اور رسول نہیں آسکتا۔ کیا خدا تعالیٰ کا خوف دلوں سے اٹھ گیا ہے کہ اس طرح اس کے کلام میں تحریف کی جاتی ہے اور صریح طور پر اس کے غلط معنی کر کے اس کے مفہوم کو بگاڑا جاتا ہے۔ جب تک حق نہ آیا تھا اس وقت تک کے لوگ مجبور تھے لیکن اب جبکہ واقعات سے ثابت ہو گیا ہے کہ احمد سے مراد آنحضرت ﷺ کا ایک خادم ہے تو پھر بھی ہٹ دھرمی سے کام لینا شیوہ مؤمنانہ نہیں۔

انجیل میں آپ کا نام محمدؐ آیا ہے

پھر ایک عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو یہ زور دیا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کا نام احمد تھا اور دوسری طرف یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ انجیل میں آنحضرت ﷺ کا نام محمدؐ آیا ہے۔ جبکہ انجیل میں آپ کا نام محمدؐ آیا ہے تو پھر اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ(61:7) والی پیشگوئی آپ پر چسپاں کرنا گویا آپ کی تکذیب کرنا ہے کیونکہ انجیل تو صریح محمدؐ نام سے آپ کی خبر دیتی ہے اور اس پیشگوئی میں کسی احمد نام رسول کی خبر دی گئی ہے تو کیا صاف ثابت نہیں ہوتا کہ وہ پیشگوئی اور ہے اور یہ اور۔ اور کیا اس پیشگوئی کو آپ پر چسپاں کرنے والا قرآن کریم پر غلط بیانی کا الزام نہیں لگاتا کہ انجیل میں تو محمدؐ نام لکھا تھا لیکن قرآن کریم احمد نام بتاتا ہے۔ ایسا شخص ذرا غور تو کرے کہ اس کی یہ حرکت اسے کس خطرناک مقام پر کھڑا کر دیتی ہے اور وہ اپنا شوق پورا کرنے کے لئے قرآن کریم اور رسول کریم کی بھی تکذیب کر دیتا ہے۔ جس انجیل میں آنحضرت ﷺ کو محمدؐ کے نام سے یاد کیا گیا ہے وہ برنباس کی انجیل ہے اور نواب صدیق حسن خاں مرحوم بھوپالوی اپنی تفسیر فتح البیان کی جلد ۹ صفحہ ۳۳۵ میں اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ(61:7) والی پیشگوئی کے نیچے لکھتے ہیں کہ برنباس کی انجیل میں جو خبر دی گئی ہے اس کا ایک فقرہ یہ ہے لٰكِنَّ هٰذِهِ الْاِهَانَةَ وَالْاِسْتِهْزَاءَ تَبْقِيَانِ اِلٰى اَنْ يَجِيْئَ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ یعنی حضرت مسیحؑ نے فرمایا کہ میری یہ اہانت اور استھزاء باقی رہیں گے یہاں تک کہ محمد رسول اللہ تشریف لائیں۔ یہ حوالہ ہمارے موجودہ اختلافات سے پہلے کا ہے اور نواب صدیق حسن خان صاحب کی قلم سے نکلا ہے۔ پس یہ حوالہ نہایت معتبر ہے بہ نسبت ان حوالہ جات کے جواب ہم کو مد نظر رکھ کر گھڑے جاتے ہیں اور اس حوالہ سے ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ کا نام انجیل میں محمدؐ آیا ہے۔ پس جبکہ اگر کوئی نام رسول کریم ﷺ کا انجیل میں آیا بھی ہے تو وہ محمدؐ نام ہے تو پھر اس آیت کو خلافِ منشاء آیت آپؐ پر چسپاں کرنے کی کیا وجہ ہے اور کیا اس میں رسول کریم ﷺ کی ہتک نہیں کی جاتی بلکہ خدا تعالیٰ پر الزام نہیں دیا جاتا کہ اول تو انجیل میں اور نام سے خبر دی گئی تھی لیکن قرآن کریم نے وہ نام ہی بدل دیا۔ دوم یہ کہ وہ علامتیں بتائیں جو آنحضرت ﷺ پر چسپاں نہیں ہوتیں۔

فارقلیط

ہمارے مخالف ہمارے مقابلہ پر ایک اور رنگ بھی اختیار کرتے ہیں اور وہ یہ کہ انجیل میں فارقلیط کی جو خبر دی گئی ہے اس سے اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ(61:7) کی پیشگوئی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فارقلیط سے احمد نام ثابت ہوتا ہے اور جب کہ تم اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ(61:7) کی پیشگوئی رسول کریم ﷺ پر چسپاں نہیں کرتے تو فارقلیط کی پیشگوئی آپ پر چسپاں نہ ہوگی۔ اور وہ بھی مسیح موعودؑ پر چسپاں ہوگی۔ اور اگر ایسا ہو گا تو آنحضرت ﷺ کے متعلق انجیل میں کونسی پیشگوئی رہ جائے گی۔

سو اس کا جواب یہ ہے کہ فارقلیط کی پیشگوئی آنحضرت ﷺ کے متعلق ہی ہے اور ہمارے نزدیک آپ ہی اس پیشگوئی کے مصداق ہیں۔ لیکن ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ اگر فارقلیط کے معنی احمد نہ کئے جائیں تو یہ پیشگوئی آنحضرت ﷺ پر چسپاں نہیں ہوتی بلکہ ہمارے نزدیک بہرحال یہ پیشگوئی آنحضرت ﷺ پر چسپاں ہوتی ہے اور جو لوگ فارقلیط کے معنی احمد کر کے اس پیشگوئی کا مصداق رسول کریم ﷺ کو بناتے ہیں تو وہ اپنا پہلو کمزور بناتے ہیں کیونکہ احمد ترجمہ لفظ پیریکلیطاس کا کیا جاتا ہے حالانکہ موجودہ یونانی نسخوں میں لفظ پیریکلیطاس کا ہے پس جبکہ وہ لفظ جس سے احمد کے معنی نکالے جاتے ہیں موجودہ اناجیل میں ہے ہی نہیں۔ اور پہلے زمانہ کے متعلق بحث ہے کہ آیا ایسا تھا یا نہیں تو ایسے لفظ پر استدلال کی بنیاد جبکہ اور شواہد اس کے ساتھ نہ ہوں نہایت کمزور بات ہے اور صرف اس قدر کہہ دینا کافی نہیں کہ چونکہ انجیل میں تحریف ہوئی ہے اس لئے اس میں یہی لفظ ہو گا جو بعض لوگوں نے خیال کیا ہے کیونکہ اس طرح تو جو شخص چاہے انجیل کی ایک آیت لے کر کہہ سکتا ہے کہ یہ یوں نہیں یوں ہے اور اس کی دلیل وہ یہ دے دے کہ چونکہ انجیلوں میں تحریف ہوئی ہے اس لئے مان لو

کہ جو کچھ میں کہتا ہوں وہی صحیح ہے۔ تحریف کا ہونا اور بات ہے اور کسی خاص جگہ تحریف ہونا اور بات ہے۔ جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ کس جگہ تحریف ہوئی ہے اپنے پاس سے ایک نئی بات بنا کر انجیل میں داخل نہیں کر سکتے اور نہیں کہہ سکتے کہ اصل میں یہ تھا اور ایسا کرنے کی ہم کو ضرورت نہیں کیونکہ فارقلیط عبرانی لفظ ہے اور یہ لفظ مرکب ہے فارق اور لیط سے۔ فارق کے معنی بھگانے والا اور لیط کے معنی شیطان یا جھوٹ کے ہیں اور ان معنوں کے رو سے آنحضرت ﷺ ہی اس پیشگوئی کے مصداق بنتے ہیں کیونکہ آپ ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے روحانی ہتھیاروں سے شیطان کو بھگایا اور جھوٹ کا قلع قمع کیا اور بلند آواز سے دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ منادی کی کہ وَقُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَزَہَقَ الۡبَاطِلُ ؕ اِنَّ الۡبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا(بنی اسرائیل: ۸۲) پس ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم خواہ مخواہ ایک یونانی ترجمہ پر جو خود زیر بحث ہے اپنی دلیل کی بناء رکھیں۔ اصل لفظ فارقلیط ہے اور اس کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ کا نام احمد ہو یا نہ ہو آپ اس پیشگوئی کے مصداق بنتے ہیں بلکہ موجودہ ترجمہ یونانی میں جو لفظ پیریکلیطاس ہے اور جس کا ترجمہ مختلف محققین نے تشفی دہندہ معلم مالک یا پاک روح کے کئے ہیں اگر اس کو بھی مان لیا جائے تو ہمارا کوئی حرج نہیں کیونکہ حضرت مسیحؑ کے بعد کون انسان دنیا کے لئے تشفی دہندہ آیا ہے یا کس نے يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ کا دعویٰ کیا ہے یا کس کو خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان سے بیعت لینے کا حکم دیا ہے جو سنت کہ اس سے پہلے کے انبیاءؑ میں بھی معلوم نہیں ہوتی اور بیعت کے معنی بیچ دینے کے ہوتے ہیں پس وہ مالک بھی ہوا بلکہ آگے اس کے غلام بھی مالک ہو گئے۔ پھر وہ کون شخص ہے جو سر سے لے کر پیر تک پاک ہی پاک تھا اور جس کو اللہ تعالیٰ نے کل جہان کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا۔ ظاہر ہے کہ ایسا شخص ایک ہی تھا اور صرف اسی نے ایسا ہونے کا دعویٰ بھی کیا یعنی ہمارے آنحضرت ﷺ فداہ ابی و امی ہی وہ شخص تھے جن کو یہ سب باتیں حاصل تھیں اور قیامت تک کے لئے بنی نوع انسان کی طرف مبعوث ہوئے تاکہ فارقلیط کی اس شرط کو پورا کریں کہ وہ ہمیشہ لوگوں کے ساتھ رہے گی۔ اور کون سا نبی ہے جس پر ایمان لانا اور اس کے حکموں کو ماننا قیامت تک واجب رہے گا سوائے ہمارے آنحضرت ﷺ کے۔

غرض اِسْمُهُ اَحْمَدُ کے ساتھ فارقلیط والی پیشگوئی کا کوئی تعلق نہیں اور یہ پیشگوئی بہرحال رسول کریم ﷺ کے متعلق ہے خواہ اس کے معنی احمد کے مطابق ہوں یا اس کے غیر ہوں

اور اگر اس کے معنی احمد کے مطابق بھی فرض کر لئے جائیں تو کیا رسول کریمؐ اپنی صفات میں احمد نہ تھے۔ کیا کوئی اس کا انکار کرتا ہے بلکہ انجیل میں فارقلیط کا نام آنا ہی دلالت کرتا ہے کہ یہاں صفت مراد ہے کیونکہ ناموں کا ترجمہ نہیں کیا جاتا ہاں صفات کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔ پس اگر اس پیشگوئی میں تسلیم کیا جائے کہ آپ کی صفت احمدیت کی طرف اشارہ ہے تو یہ کیونکر معلوم ہوتا ہے کہ فارقلیط والی پیشگوئی میں اِسْمُہٗ اَحْمَدُ والی پیشگوئی کی طرف اشارہ ہے۔ ان دونوں میں کوئی تعلق دلائل سے ثابت نہیں کہ ہم ان دونوں پیشگوئیوں کو ایک ہی شخص کے حق میں سمجھنے کے لئے مجبور ہوں۔

شاید بعض لوگ میرے مقابلہ میں بخاری کی حدیث پیش کریں۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اِنَّ لِیْ اَسْمَاءً اَنَا مُحَمَّدٌ وَّ اَنَا اَحْمَدُ وَ اَنَا الْمَاحِی الَّذِیْ یَمْحُو اللہُ بِیَ الْکُفْرَ وَ اَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی قَدَمَیَّ وَ اَنَا الْعَاقِبُ وَ الْعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہٗ نَبِیٌّ۔(مشکوٰۃ کتاب الاٰداب باب اسماء النبی و صفاتہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میرے کئی نام ہیں میرا نام محمدؐ ہے میرا نام احمد ہے میرا نام ماحی ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ سے کفر کو مٹائے گا۔ میرا نام حاشر ہے کہ لوگ میرے قدموں پر اٹھائے جائیں گے اور میرا نام عاقب ہے اور عاقب کے معنی ہیں وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ غیر مبائعین کہتے ہیں کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام احمد تھا مگر یہ ایسی ہی بات ہے جیسا ایک آریہ کہے کہ قرآن میں چونکہ خدا کی نسبت مکر کرنے والا آیا ہے اس سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں کا خدا مکار ہے۔ چونکہ آریہ نہیں جانتے کہ مکر کا لفظ اگر اردو میں استعمال ہو تو برے معنی لئے جاتے ہیں اور عربی میں برے معنوں میں نہیں آتا اس لئے وہ اس کو قابل اعتراض سمجھتے ہیں۔ حالانکہ عربی میں مکر کے معنی ہیں تدبیر کرنا اور چونکہ قرآن شریف عربی زبان میں ہے اس لئے مکر کے وہی معنی کرنے چاہئیں جو عربی زبان میں مستعمل ہوتے ہیں نہ کہ اردو کے معنی۔ یہی بات یہاں ہے۔ ان لوگوں کو یہ دھوکا لگا ہے کہ اس حدیث میں لفظ اَسْمَاءً کا آیا ہے۔ اردو میں چونکہ اسم نام کو ہی کہتے ہیں اس لئے انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ رسول کریم کے یہ سب نام ہیں حالانکہ عربی میں اسم بمعنی صفت بھی اور اسم بمعنی نام بھی آتا ہے۔ انہیں سوچنا چاہئے تھا کہ جب اسم کے دو معنی ہیں تو ان دو معنوں میں سے یہاں کون سے لگائے جائیں۔ قرآن کریم میں اسم بمعنی صفات کے آیا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَہُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی(الحشر: ۲۵) یعنی سب اچھے نام خدا تعالیٰ کے ہیں لیکن یہ بات ثابت ہے کہ اسم ذات تو اللہ تعالیٰ کا ایک ہی ہے یعنی اللہ۔ باقی تمام صفاتی نام ہیں نہ کہ ذاتی۔ پس قرآن کریم سے ثابت ہے کہ اسم بمعنی صفت بھی آتا ہے بلکہ قرآن کریم میں تو صفات الٰہیہ کا لفظ ہی نہیں ملتا۔ سب صفات کو اسماء ہی کہا گیا ہے اور جبکہ اسم بمعنی صفت بھی استعمال ہوتا ہے تو حدیث کے معنی کرنے میں ہمیں کوئی مشکل نہیں رہتی۔ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صفات گنوائی ہیں کہ میری اتنی صفات ہیں۔ میں محمدؐ ہوں یعنی خدا نے میری تعریف کی ہے میں احمدؐ ہوں کہ مجھ سے زیادہ خدا تعالیٰ کی تعریف کسی اور شخص نے بیان نہیں کی۔ میں ماحی ہوں کہ میرے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے کفر مٹانا ہے۔ میں حاشر ہوں کہ میرے ذریعہ سے ایک حشر برپا ہو گا۔ میں عاقب ہوں کہ میرے بعد اور کوئی شریعت لانے والا نبی نہیں۔ اور اگر اس حدیث کے ماتحت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام احمد رکھا جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ آپ کا نام ماحی بھی تھا اور حاشر بھی تھا اور عاقب بھی تھا۔ حالانکہ سب مسلمان تیرہ سو سال سے متواتر اس بات کو تسلیم کرتے چلے آئے ہیں کہ ماحی اور عاقب اور حاشر آپ کی صفات تھیں نام نہ تھے۔ پس جبکہ ایک ہی لفظ پانچوں ناموں کے لئے آیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک جگہ اس کے معنی نام لئے جائیں اور ایک دوسرے لفظ کے متعلق اسی لفظ کے معنی صفت لئے جائیں۔ غرض اس جگہ اسماء سے مراد نام لئے جائیں تو پانچوں نام قرار دینے پڑیں گے جو کہ بالبداہت غلط ہے۔ اور اگر صفت لئے جائیں تو اس حدیث سے اسی قدر ثابت ہو گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت احمد بھی تھی اور اس بات سے کسی کو بھی انکار نہیں بلکہ انکار کرنے والا مؤمن ہی نہیں ہو سکتا۔ ممکن ہے کہ کوئی شخص اس حدیث سے یہ استدلال کرے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد و احمد کی تو تشریح نہیں کی اور دوسرے تینوں ناموں کی تشریح کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے دونوں آپ کے نام ہیں اور دوسری تین آپ کی صفات ہیں کیونکہ تبھی ان کے معنی کر دیئے۔ لیکن یہ استدلال بھی درست نہیں کیونکہ اول تو یہ دلیل ہی غلط ہے کہ جس کی تشریح نہ کی جائے وہ ضرور نام ہوتا ہے۔ بلکہ تشریح صرف اس کی کی جاتی ہے جس کی نسبت خیال ہو کہ لوگ اس کا مطلب نہیں سمجھیں گے۔ دوسرے ایک اور روایت اس دلیل کو بھی رد کر دیتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ابو موسیٰ اشعریؓ روایت کرتے ہیں کہ سَمّٰى لَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ اَسْمَاءً مِّنْهَا مَا حَفِظْنَا فَقَالَ اَنَا مُحَمَّدٌ وَّ اَحْمَدُ وَ الْمُقَفّٰى وَالْحَاشِرُ وَنَبِیُّ الرَّحْمَةِ ..... وَنَبِیُّ التَّوْبَةِ وَنَبِیُّ الْمَلْحَمَةِ۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۴ صفحہ ۳۰۵) یعنی رسول کریم ﷺ نے ہمارے سامنے اپنے کئی نام بتائے جن میں سے بعض ہم کو بھول گئے اور بعض یاد رہ گئے۔ آپ نے فرمایا کہ میرا نام محمدؐ ہے میرا نام احمد ہے میرا نام مقفیٰ ہے حاشر ہے نبی الرحمہ نبی التوبہ اور نبی الملحمہ ہے۔ اس حدیث میں مقفی اور نبی الرحمہ اور نبی التوبہ اور نبی الملحمہ کی تشریح نہیں کی لیکن یہ سب صفات ہیں۔ آج تک کسی نے بھی ان کو نام تسلیم نہیں کیا اور نہ یہ نام ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ آپ کے نام تو آپ کے بزرگوں نے رکھے تھے اور عرب لوگ نبوت کے قائل ہی نہ تھے وہ آپ کا نام نبی الرحمۃ کیونکر رکھ سکتے تھے غرض یہ حدیث آپ ہی پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اس میں رسول کریم کے نام نہیں بلکہ آپ کی صفات بیان کی گئی ہیں۔

شائد اس جگہ کوئی شخص یہ بھی سوال کر بیٹھے کہ اوپر کے بیان سے تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کا نام محمدؐ بھی نہ تھا کیونکہ محمدؐ بھی اس حدیث میں دوسری صفات کے ساتھ آیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حدیث میں محمدؐ بطور صفت ہی بیان ہوا ہے بطور نام نہیں۔ ہاں قرآن کریم اور دوسری احادیث سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کا نام محمدؐ تھا اس حدیث میں سب صفات ہی بیان ہوئی ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس حدیث میں رسول کریم ﷺ نے تحدیثِ نعمت کے طور پر فرمایا کہ میرے یہ یہ نام ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ نام ہونا تو کوئی تعریف نہیں ہوتی۔ کیا رسول کریم ﷺ جیسا انسان صرف نام پر فخر کرے گا نعوذ باللہ من ذالک۔ بات یہی ہے کہ آپ نے اس جگہ اپنی صفات ہی بیان فرمائی ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کا احسان بتایا ہے کہ اس نے مجھے محمدؐ بنایا ہے احمد بنایا ہے اور دیگر صفاتِ حسنہ سے متصف کیا ہے اور محمدؐ بھی اس جگہ بطور صفت کے استعمال ہوا ہے نہ بطور نام کے اور اس میں آپ نے بتایا ہے کہ میرا صرف نام ہی محمدؐ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے کاموں اور اخلاق کے لحاظ سے بھی میں محمدؐ ہوں جس کی خدا نے تعریف کی ہے۔ فرشتوں نے پاکی بیان کی ہے۔ میں وہ ہوں جو سب سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کی تعریف کرنے والا ہوں۔ میں وہ ہوں جو دنیا سے کفر اور ضلالت کو مٹانے والا ہوں۔ میں وہ ہوں جس کے قدموں پر لوگ اٹھائے جائیں گے اور میں وہ ہوں جو سب سے آخری شریعت لانے والا نبی ہوں۔ اگر اس حدیث میں صرف اتنا ہی آتا کہ میں محمدؐ ہوں اور میں احمد ہوں تو کوئی کہہ سکتا تھا کہ یہ آپ کے نام ہیں صفات نہیں۔ لیکن جب انہی کے ساتھ ماحیؐ، حاشر اور عاقب بھی آگیا۔ تو معلوم ہوا کہ یہ سب آپ کی صفات ہیں نام نہیں۔ اس لئے غیر مبائعین کا یہ استدلال بھی غلط ہو گیا کہ آنحضرت ﷺ کا احمد نام اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ ورنہ اگر صرف محمدؐ نام پر نعوذ باللہ آپ نے فخر کیا تھا تو اس نام کے تو اور بہت سے انسان دنیا میں موجود ہیں۔ کیا وہ سب اپنے ناموں پر فخر کر سکتے ہیں اور کیا ان کا یہ فخر بجا ہو گا۔ اگر نہیں تو کیوں اس حدیث کے ایسے معنی کئے جاتے ہیں جن میں رسول کریم ﷺ کی ہتک ہوتی ہے اور نعوذ باللہ آپ پر الزام آتا ہے کہ آپ اپنے ناموں پر فخر کیا کرتے تھے یہ حرکت تو ایک معمولی انسان بھی نہیں کر سکتا چہ جائیکہ خدا کا نبی اور پھر تمام نبیوں کا سردار ایسی بات کرے۔ ہمارے مخالف ذرا اتنا تو سوچیں کہ وہ ہماری مخالفت میں رسول کریم ﷺ پر بھی حملہ کرنے لگ گئے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ بھی فرماتے ہیں کہ۔ منم محمدؐ و احمد کہ مجتبیٰ باشد۔ کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے بھی یہ سب نام تھے ۔ احمد نام گو اختلافی ہے لیکن محمدؐ تو آپ کا نام ہرگز نہ تھا۔ پھر کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھ میں صفت محمدیت ہے اور یہی بات قابل فخر ہو بھی سکتی ہے۔ صرف نام محمدؐ آپ کے لئے باعث فخر کیونکر ہو سکتا تھا اور حضرت مسیح موعودؑ کا نام محمدؐ تو تھا بھی نہیں کہ یہاں وہ دھوکا لگ سکے۔

ہمارے مخالف یہ روایت بھی پیش کیا کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی والدہ محترمہ کو آپؐ کا نام احمد بتایا گیا تھا۔ لیکن یہ حدیث جھوٹی ہے کیونکہ اس کا راوی وہ شخص ہے جس نے کئی ہزار جھوٹی حدیثیں بنائی ہیں۔ اور جس نے خود اس بات کا اقرار کیا ہے کہ میں نے جھوٹی حدیثیں بنائی ہیں۔ پھر جبکہ صحیح روایات میں یہ آتا ہے کہ آپ کی والدہ کو آپ کا نام محمد بتایا گیا تھا۔ چنانچہ ابن ہشام کے صفحہ ۶۲ پر لکھا ہے کہ آپ کی والدہ فرماتی ہیں مجھے خواب میں بتایا گیا کہ جب یہ بچہ پیدا ہو گا تو سَمِّيْهِ مُحَمَّدًا۔ (ابن ہشام جلد ۱ صفحہ ۶۲ ناشر دار ریحانی بیروت) اس کا نام محمد رکھنا۔ اسی طرح دیکھو مواہب اللدنیہ۔ پھر ایک ایسے جھوٹے کی حدیث پر ہم کیونکر اعتبار کر سکتے ہیں۔ یہ حدیث ایسے ہی لوگوں میں سے کسی نے بنالی ہے جنہوں نے اپنی عقل سے بلاسند قرآن مجید اور قولِ نبی کریمؐ کے پہلے اِسْمُهٗٓ اَحْمَدُ کو آنحضرت ﷺ پر چسپاں کیا اور پھر ان کو مشکل پیش آئی کہ اس کی سند کیا ہے۔ پس انہوں نے ایک روایت گھڑی ورنہ کیا وجہ ہے کہ ایسی بڑی بات کا ذکر صحیح احادیث میں نہیں۔ کیوں اس حدیث کے راوی واقدی اور اسی قماش کے اور لوگ ہیں جو محدثین کے نزدیک جھوٹے یا منکر الاحادیث ہیں ؟

غرض کسی طرح بھی یہ بات ثابت نہیں کہ آنحضرت ﷺ کا نام احمد تھا۔ پس اب دو ہی صورتیں باقی رہ جاتی ہیں یا تو یہ تسلیم کیا جائے کہ یہ پیشگوئی احمد نام کے کسی اور شخص کی نسبت ہے اور یا یہ مانا جائے کہ اِسْمُهٗٓ اَحْمَدُ سے بھی یہ مراد نہیں کہ اس کا نام احمد ہو گا بلکہ یہ کہ اس کی صفت احمد ہو گی۔ اور چونکہ رسول کریم ﷺ کی صفت احمد تھی اس لئے آپ پر اس پیشگوئی کو اس رنگ میں چسپاں کیا جائے لیکن یہ تدبیر بھی کارگر نہیں ہوتی۔ کیونکہ جو علامات اس احمد نام یا صفت والے کی اس صورت میں مذکور ہیں وہ رسول کریم ﷺ میں نہیں پائی جاتیں جیسا کہ ابھی بتایا جائے گا۔ پس اب ایک ہی صورت باقی ہے کہ یہ احمد نام یا احمد صفت والا نبی (جیسی صورت بھی ہو) آنحضرت ﷺ کے بعد آپ کے خدام میں سے ہوگا۔ اور ہمارا دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ ہی وہ رسول ہیں جن کی خبر اس آیت میں دی گئی ہے۔

بعض لوگ آنحضرت ﷺ کے اسم ذات احمد ہونے پر یہ دلیل پیش کیا کرتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت مسیحؑ نے کہا تھا کہ وہ رسول يَّأْتِيْ مِنْۢ بَعْدِيْ میرے بعد آئے گا۔ پس اس پیشگوئی سے کوئی ایسا ہی شخص مراد ہونا چاہئے جو آپ کے بعد سب سے پہلے آئے اور حضرت مسیحؑ کے بعد آنحضرت ﷺ ہی آئے تھے نہ کہ حضرت مسیح موعودؑ۔ آپ تو آنحضرتؐ کے بعد آئے تھے۔ پس آنحضرت ﷺ کے سوا کوئی اور شخص احمد کیونکر ہو سکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس قسم کے معترضین بوجہ عربی زبان سے ناواقفی کے اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ بعد کے معنی پیچھے کے ہیں نہ کہ فوراً پیچھے کے۔ ایک چیز جو کسی کے پیچھے ہو خواہ دس چیزیں چھوڑ کر ہو یا فوراً پیچھے ہو وہ بعد ہی کہلائے گی۔ عربی زبان میں تین ہی لفظ ہیں۔ جو وقت کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک قبل یعنی پہلے دوسرا فِیْ زَمَنِہٖ یعنی اس کے وقت میں تیسرے بعد یعنی پیچھے۔ اور یہی تین الفاظ ہر ایک زبان میں ہیں۔ پس دیکھنا چاہئے کہ ان تین لفظوں میں سے کون سا لفظ حضرت مسیح موعودؑ کی نسبت استعمال ہو سکتا ہے آیا قبل کا لفظ آپ کی نسبت استعمال ہو سکتا ہے کیا آپ مسیحؑ سے پہلے آئے تھے اگر نہیں تو پھر کیا ساتھ کا لفظ استعمال ہو سکتا ہے کیا آپ اس کے زمانہ میں تھے۔ اگر یہ بھی نہیں تو وہ کون سا لفظ ہے جو آپ کی نسبت استعمال ہو سکتا ہے کیا وہ صرف بعد کا لفظ نہیں ہے پس اگر بعد کا لفظ حضرت مسیحؑ نے استعمال کیا تو اس میں کیا حرج ہوا اس کے سوا اور کون سا لفظ ہے جو وہ استعمال کر سکتے تھے۔ اگر حضرت مسیح موعودؑ حضرت مسیحؑ ناصری سے پہلے ہوتے یا ان کے وقت میں ہوتے تب بیشک بعد کے لفظ سے آپ کے خلاف حجت ہو سکتی تھی۔ لیکن جبکہ وہ واقعہ میں بعد میں ہیں تو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ حضرت مسیحؑ نے یہ فرمایا ہے کہ وہ رسول ان کے بعد ہوگا۔ اس سے صرف اتنا نتیجہ نکل سکتا ہے کہ وہ آپ کی زندگی میں نہیں آئے گا بلکہ بعد وفات آئے گا۔ اور یہ نتیجہ ہرگز نہیں نکل سکتا کہ وہ فوراً بعد آئے گا۔ اور پھر فوراً بعد تو رسول کریم ﷺ بھی کہاں ہوئے۔ آپ تو چھ سو سال کے بعد ہوئے تھے اور اگر کہو کہ یہ شرط ہے کہ رسول ہونے کے لحاظ سے وہ فوراً بعد ہی ہو اور یہ صرف رسول کریم ﷺ میں ہی پائی جاتی ہے تو میں کہتا ہوں کہ ہمارا حق ہے کہ ہم کہیں کہ رسول ہونے کے لحاظ سے نہیں بلکہ احمد ہونے کے لحاظ سے فوراً بعد کہا ہے یعنی جس رسول کی میں خبر دیتا ہوں یہ احمد نام کے لحاظ سے سب سے پہلا ہوگا۔ پس جس سب سے پہلے رسول کا نام احمد ثابت ہو جائے اس کی نسبت یہ پیشگوئی تسلیم کرنی پڑے گی غرض اگر شرائط ہی بڑھانی ہوں۔ تو دوسرا فریق بھی حق رکھتا ہے کہ شرائط بڑھائے اور اگر لغت عرب کے مطابق فیصلہ کیا جائے تو بھی ہماری بات کو رد کرنے کی کسی مخالف کے پاس کوئی وجہ نہیں حضرت مسیحؑ نے بعد کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ اور حضرت مسیح موعودؑ ان کے بعد ہی ہیں۔ نہ ان سے پہلے نہ ان کے زمانہ میں۔

اب میں اس بات کا ثبوت قرآن کریم سے پیش کرتا ہوں کہ اس پیشگوئی کے مصداق حضرت مسیح موعودؑ ہی ہو سکتے ہیں نہ اور کوئی۔

پہلی دلیل

پہلی دلیل آپ کے اس پیشگوئی کا مصداق ہونے کی یہ ہے کہ آپ کا نام احمد تھا اور آپ کا نام احمد ہونے کے مفصلہ ذیل ثبوت ہیں:۔

حضرت مسیح موعودؑ کے احمد ہونے کے متعلق پہلا ثبوت

اول اس طرح کہ آپ کا نام آپ کے والدین نے احمد رکھا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ کے والد صاحب نے آپ کے نام پر گاؤں بسایا ہے اس کا نام احمد آباد رکھا ہے۔ اگر آپ کا نام غلام احمد رکھا گیا تھا۔ تو چاہئے تھا کہ اس گاؤں کا نام بھی غلام احمد آباد ہوتا۔ اسی طرح آپ کے بھائی کے نام پر بھی ایک گاؤں بسایا گیا ہے جس کا نام قادر آباد ہے حالانکہ ان کو غلام قادر کہا جاتا تھا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا نام بھی قادر تھا۔ اور دونوں بھائیوں کے نام سے پہلے غلام صرف ہندوستان کی رسم و عادت کے طور پر زیادہ

کر دیا گیا تھا۔ ہندوستان میں یہ رسم چلی آتی ہے کہ لوگ مرکب نام رکھتے ہیں۔ حالانکہ ان مرکب ناموں کا کوئی معنی اور کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ مثلاً بعض کا نام محمد احمد۔ محمد علی وغیرہ رکھ دیتے ہیں حالانکہ ان ناموں کے کوئی معنی نہیں محمدؐ ایک الگ نام ہے اور احمد یا علی ایک علیحدہ نام ہے۔ ان دونوں کے ملانے سے کوئی جدید فائدہ حاصل نہیں ہوتا صرف نام لمبا ہو جاتا ہے اور اسی غرض کے لئے یہ الفاظ بڑھائے جاتے ہیں ورنہ ان دونوں ناموں میں سے ایک ہی نام درحقیقت اصل نام ہوتا ہے۔ حضرت صاحبؓ کے خاندان میں بھی غلام کا لفظ سب ناموں کے پہلے بڑھایا جاتا تھا آپ کے والد کا نام غلام مرتضیٰ تھا۔ چچوں کا نام غلام حیدر۔ غلام محی الدین تھا۔ اسی طرح آپ کے نام کے ساتھ غلام بڑھایا گیا۔ ورنہ آپ کا نام احمد ہی تھا۔ جیسا کہ آپ کے والد کی اپنی شہادت موجود ہے کہ انہوں نے آپ کے نام پر جو گاؤں بسایا اس کا نام احمد آباد رکھا نہ کہ غلام احمد آباد۔ اور غلام احمد اگر مرکب نام تسلیم کرو تو یہ تو کسی زبان کا نام نہیں عربی زبان میں یہ نام ” غُلَامُ اَحْمَدَ “ ہونا چاہئے تھا لیکن یہ آپ کا نام نہ تھا فارسی ترکیب لو تو ”غلامِ احمد“ ہونا چاہئے تھا لیکن آپ کا نام یوں بھی نہیں۔ کیونکہ آپ کے نام میں میم پر جزم ہے زیر نہیں ہے۔ اور اگر اردو یا پنجابی ترکیب سمجھو تو ”احمد کا غلام“ یا ”احمد دا غلام“ ہونا چاہئے تھا مگر اس طرح بھی نہیں۔ پھر یہ کون سی زبان کا نام ہے جو حضرت صاحبؓ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ پس سچی بات یہی ہے کہ آپ کا نام احمد تھا اور غلام صرف خاندانی علامت کے طور پر شروع میں بڑھا دیا گیا تھا۔

دوسرا ثبوت

دوسرا ثبوت آپ کا نام احمد ہونے کا یہ ہے کہ آپ نے اپنے سب لڑکوں کے ناموں کے ساتھ احمد لگایا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ اپنا نام احمد ہی جانتے تھے تبھی تو علامت کے طور پر سب بیٹوں کے نام کے بعد احمد لگایا۔ ورنہ جبکہ احمد لگانے سے معنوں کے لحاظ سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوتا تھا۔ تو پھر احمد بڑھانے کا کیا فائدہ تھا؟ ظاہر ہے کہ احمد حضرت صاحبؓ کا نام تھا اور وہ خاندانی علامت کے طور پر ہر ایک لڑکے کے نام کے ساتھ بڑھا دیا گیا۔

تیسرا ثبوت

تیسرا ثبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احمد ہونے کے متعلق یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے جس نام پر بیعت لیتے رہے ہیں وہ احمد ہی ہے کہ آپ نے کبھی غلام احمد کہہ کر بیعت نہیں لی۔ چنانچہ آپ میں سے سینکڑوں آدمی ایسے ہوں گے جنہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور وہ شہادت دے سکتے ہیں کہ آپ یہی کہہ کر بیعت لیا کرتے تھے کہ آج میں احمد کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوتا ہوں۔ پس آپ لوگ بتائیں کہ آپ نے احمد کے ہاتھ پر بیعت کی تھی یا غلام احمد کے ہاتھ پر (چاروں طرف سے بڑے زور کے ساتھ آوازیں آئیں کہ ہم نے احمد کے ہاتھ پر بیعت کی تھی) اگر آپ کا نام غلام احمد ہوتا۔ تو آپ بیعت لیتے وقت یہ فرماتے کہ کہو آج میں غلام احمد کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔ لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔ پس ثابت ہے کہ آپ اپنا نام احمد ہی قرار دیتے تھے۔

چوتھا ثبوت

چوتھا ثبوت آپ کے احمد ہونے کے متعلق یہ ہے کہ آپ نے اپنی کئی کتابوں کے خاتمہ پر اپنا نام صرف احمد لکھا ہے جو اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ آپ کا نام احمد ہے اگر احمد آپ کا نام نہ ہوتا تو کیوں آپ صرف احمد لکھتے۔ اگر آپ کا نام غلام احمد تھا تو آپ کا اصل نام غلام قرار پا سکتا ہے نہ کہ احمد۔ پس اگر مختصر نام آپ کبھی لکھتے غلام لکھ سکتے تھے۔ نہ کہ احمد۔ لیکن آپ نے احمد ہی اپنا نام لکھا ہے نہ کہ غلام جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا نام احمد تھا۔

پانچواں ثبوت

پانچواں ثبوت یہ ہے کہ یہی غیر مبائعین جو آج ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح موعودؑ کو احمد لکھتے ہیں۔ وہ بار بار اپنی کتابوں میں حضرت مسیح موعودؑ کو احمد قادیانی لکھتے رہے ہیں۔ چنانچہ مولوی محمد علی صاحب نے ہی حضرت صاحبؑ کے حالات کے متعلق ایک رسالہ لکھا تھا۔ اس کا نام ہی احمد رکھا تھا۔ اگر آپ احمد نہیں تھے تو آپ کے حالات پر جو رسالہ لکھا گیا اس کا نام احمد کیوں رکھا گیا۔ اسی طرح خواجہ صاحب نے اپنی تحریروں میں حضرت صاحب کو احمد لکھا ہے۔

غرض یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں تو یہ کہتے رہے کہ آپ احمد ہیں۔ لیکن آج دھوکا دیتے ہیں کہ آپ احمد نہیں ہیں۔

چھٹا ثبوت

حضرت صاحب کے الہامات میں کثرت سے احمد ہی آتا ہے۔ ہاں ایک یا دو جگہ غلام احمد بھی آیا ہے۔ اور ان مقامات کے متعلق بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہاں بطور صفت کے آیا ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ جبکہ صفت احمدیت کے مظہر اتم تھے۔ تو حضرت مسیح موعودؑ غلام احمد بھی ضرور تھے۔ پس ان چند مقامات سے یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ نام نہیں بلکہ صفت آئی ہے لیکن کثرت سے احمد کر کے پکارنا صاف دلالت کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے علم میں بھی آپ کا نام احمد تھا۔ ورنہ تعجب ہے کہ آنحضرت ﷺ کا نام احمد تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ بھی ان کو اس نام سے یاد نہ کیا۔ اور حضرت مسیح موعودؑ کا نام احمد نہ تھا بلکہ غلام احمد تھا لیکن احمد کے نام سے آپ کو بار بار پکارا گیا۔ اور شاذ و نادر طور پر غلام احمد کے نام سے (وہ بھی جہاں تک مجھے یاد ہے غلام احمد کہہ کر آپ کو الہام میں کبھی مخاطب نہیں کیا گیا۔ ہاں اس قسم کے الہامات میں کہ غلام احمد کی جے) یاد کیا۔ پس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ نعوذ باللہ اصل نام کو ترک کر دیتا ہے اور دوسرے نام سے یا اس نام سے جس کا پیشگوئی میں ذکر نہ ہو انسان کو پکارتا ہے۔ چاہئے تو یہ کہ اس نام سے پکارا جائے جس کا پیشگوئی میں خاص طور پر ذکر ہو تاکہ لوگوں کو اس طرف توجہ ہو۔

ساتواں ثبوت

پھر آپ کا نام احمد ہونے پر حضرت خلیفہ اول کی بھی شہادت ہے آپ اپنے رسالہ مبادئ الصرف والنحو میں لکھتے ہیں کہ ”محمد ﷺ خاص نام ہمارے سید و مولیٰ خاتم النَّبیّٖن کا ہے۔ مکہ خاص شہر کا نام ہے جس میں ہمارے نبی کریم ﷺ کا تولّد ہوا۔ احمد نام ہمارے اس امام کا ہے جو قادیان سے ظاہر ہوا“ اور حضرت خلیفہ اول تو وہ انسان تھے جن کی طہارت اور تقوٰی کے غیر مبائعین بھی قائل ہیں۔ پھر کیونکر ہو سکتا ہے کہ آپ نے نعوذ باللہ جھوٹ بولا۔ یا یہ کہ حضرت خلیفہ اول کو حضرت صاحبؑ کا نام بھی معلوم نہ تھا۔

آٹھواں ثبوت

خود غیر مبائعین بلکہ ان کی متفقہ انجمن کا ہے۔ اور اس شہادت سے زیادہ غیر مبائعین کے لئے اور کونسی شہادت معتبر ہو سکتی ہے؟ جو ان کی صدر انجمن نے دی ہے وہ شہادت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے الوصیت کے صفحہ ۸ پر لکھا ہے کہ:

”اور چاہئے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں“ (الوصیت ص۸۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۳۰۶)

اس حکم کے ماتحت انجمن اشاعت اسلام لاہور کی طرف سے جو الفاظِ بیعت شائع ہوئے ہیں ان کی عبارت یہ ہے:

”آج میں محمد علی کے ہاتھ پر احمد کی بیعت میں داخل ہو کر اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں“ اس عبارت کو پڑھ کر ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ الوصیت کے اس حکم کی کہ میرے نام پر بیعت لیں۔ انجمن اشاعتِ اسلام نے یہ تاویل کی ہے کہ احمد کے نام پر لوگوں کی بیعت لینی شروع کی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح موعودؑ کا نام احمد نہیں تو میرے نام پر بیعت لینے کا حکم کس طرح پورا ہوا۔ اور اگر آپ کا نام احمد ہے جیسا کہ ان الفاظِ بیعت سے ظاہر ہے تو پھر اس بات پر بحث کیوں ہے کہ حضرت صاحب کا نام احمد نہ تھا اور کیوں جو الزام ہم پر دیا جاتا ہے اس کے خود مرتکب ہو رہے ہیں اور کیوں غلام احمد کو احمد بنا رہے ہیں لیکن ہر ایک شخص جو تعصب سے خالی ہو کر اس امر پر غور کرے سمجھ سکتا ہے کہ در حقیقت ہمارے مخالفین کے دل بھی یہی گواہی دے رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کا نام احمد تھا۔ اور ہم پر جو اعتراض کئے جاتے ہیں وہ صرف دکھانے کے دانت ہیں اور ان کے کھانے کے دانت اور ہیں۔

نواں ثبوت

نواں ثبوت حضرت مسیح موعودؑ کا نام احمد ہونے کا یہ ہے کہ خود آپ نے اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیا ہے۔ چنانچہ آپ ازالہ اوہام جلد ۲ صفحہ ۶۷۳ میں تحریر فرماتے ہیں: ”اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی۔ اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف یہ اشارہ ہے وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِی اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ(61:7) مگر ہمارے نبی ﷺ فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمدؐ بھی ہیں یعنی جامع جلال و جمال ہیں۔ لیکن آخری زمانہ میں بر طبق پیشگوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقتِ عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا۔“ (روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۴۶۴)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو ہی قرار دیتے ہیں کیونکہ آپ نے اس میں دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اگر رسول کریم ﷺ اس جگہ مراد ہوتے تو محمد و احمد کی پیشگوئی ہوتی۔ لیکن یہاں صرف احمد کی پیشگوئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی اور شخص ہے جو مجرد احمد ہے پس یہ حوالہ صاف طور پر ثابت کر رہا ہے کہ آپ احمد تھے بلکہ یہ کہ اس پیشگوئی کے آپ ہی مصداق ہیں اور اگر کسی دوسری جگہ پر آپ نے رسول کریم ﷺ کو بھی اس آیت کا مصداق قرار دیا ہے تو اس کے یہی معنی ہیں کہ بوجہ اس کے کہ کل فیضان جو حضرت مسیح موعودؑ کو پہنچا ہے آپ ہی سے پہنچا ہے اس لئے جو خبر آپؐ کی نسبت دی گئی ہے اس کے مصداق رسول کریم ﷺ بھی ضرور ہیں کیونکہ جو خوبیاں ظل میں ہوں اصل میں ضرور ہونی چاہئیں۔ پس عکس کی خبر دینے والا ساتھ ہی اصل کی خبر بھی دیتا ہے پس اس آیت میں ضمنی طور پر رسول کریم ﷺ کی بھی خبر دی گئی ہے اور اس بیان سے یہ واجب نہیں آتا کہ اس پیشگوئی کے مصداق حضرت مسیح موعودؑ نہ ہوں۔ اس کے اصل مصداق حضرت مسیح موعودؑ ہیں اور اس لحاظ سے کہ آپ کے سب کمالات آنحضرت ﷺ سے حاصل کئے ہوئے ہیں۔ رسول کریم ﷺ کی بھی پیشگوئی اس میں سے نکل آتی ہے۔

دسواں ثبوت

حضرت مسیح موعودؑ کے احمد ہونے کا دسواں ثبوت یہ ہے کہ انجیل میں لفظ احمد کہیں نہیں آتا۔ پس گو ایک صورت تو یہ ہے کہ انجیل سے یہ لفظ تحریف کے زمانہ میں مٹ گیا لیکن ایک دوسری صورت اور بھی ہے اور وہ یہ کہ احمد کا لفظ عربی زبان میں مسیحؑ کی کسی پیشگوئی کا ترجمہ ہے۔ اور یہ بات ہم کو قرآن کریم سے صاف طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ مختلف زبانوں میں جو خبریں دی گئی ہیں ان کو عربی زبان کے لباس میں ہی قرآن کریم بیان کرتا ہے۔ پس اس اصل کو دل میں رکھ کر جب ہم انجیل کو دیکھتے ہیں تو اس میں دو رسولوں کی خبر پاتے ہیں۔ ایک ”وہ نبی“ کی خبر اور ایک مسیح کی دوبارہ آمد کی خبر۔ جب عربی زبان پر غور کریں تو ”وہ نبی“ کا ترجمہ عربی زبان میں احمد نہیں ہوتا نہ کسی محاورہ کا اس میں تعلق ہے لیکن دوبارہ آنے کے متعلق ہمیں ایک محاورہ عربی زبان کا معلوم ہوتا ہے اور وہ اَلْعَوْدُ اَحْمَدُ کا محاورہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ دوبارہ لوٹنا احمد ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان کسی کام کے کرنے کی طرف دوبارہ توجہ کرے تو اسے پہلے کی نسبت اچھا کرتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کی طرف یہ اشارہ فرمایا ہے کہ مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰیَۃٍ اَوۡ نُنۡسِہَا نَاۡتِ بِخَیۡرٍ مِّنۡہَاۤ اَوۡ مِثۡلِہَا(البقرہ: ۱۰۷)۔ یعنی جب ہم کوئی تعلیم منسوخ کر دیں یا بھلوا دیں تو اس سے بہتر لاتے ہیں یا اس جیسی تو ضرور لاتے ہیں۔ اس آیت میں بتایا ہے کہ جب ایک تعلیم کو مٹا کر ہم دوسری لا دیں تو اس میں کوئی حکمت ہی ہوتی ہے اور اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس سے بہتر ہم کوئی اور تعلیم لاویں۔ یا کم سے کم ویسی ہی ہو۔ پس اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دوسری دفعہ کام کرنے میں زیادہ خوبی والی شئے مدنظر ہوتی ہے۔ اور اسی بات کو مدنظر رکھ کر عربی زبان کا یہ محاورہ ہو گیا ہے کہ اَلْعَوْدُ اَحْمَدُ پس جب کہ دوبارہ لوٹنے کو احمد کہتے ہیں تو حضرت مسیحؑ کے اس قول کو کہ میں دوبارہ دنیا میں آؤں گا۔ عربی زبان میں استعارةً یوں بھی ادا کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایک رسول کی خبر دی جس کی صفت یہ ہو گی کہ وہ دوبارہ دنیا میں آیا ہو گا اور یہ معنی احادیث کی ان پیشگوئیوں کے بھی مطابق ہیں جن میں مسیحؑ کے دوبارہ آنے کی خبر دی گئی تھی اور اس استعارہ کے استعمال کرنے میں یہ حکمت تھی کہ ایک تو اس پیشگوئی کو جو احادیث میں تھی اس طرح حل کر دیا کہ یہ ایک استعارہ ہے نہ کہ مسیحؑ کا لوٹنا حقیقتاً مراد ہے۔ دوسرے اس ایک ہی لفظ میں یہ بھی بتا دیا کہ مسیحؑ کی یہ دوسری بعثت اس کی پہلی بعثت سے بہتر اور عمدہ ہوگی۔ اور اس طرح ان لوگوں کا اعتراض دور کر دیا جو کہتے ہیں کہ مرزا صاحب مسیحؑ سے افضل کیونکر ہو سکتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے خود ان لوگوں کا جواب دیا کہ جب دوسری دفعہ ہم نے ایک شخص کو اسی نام سے بھیجا ہے تو اس کو احمد بھی بنایا ہے یعنی پہلے مسیحؑ پر فضیلت بھی دی ہے۔

غرض یہ دس ثبوت ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ ہی احمد تھے اور آپ ہی کی نسبت اس آیت میں خبر دی گئی تھی۔

اس جگہ میں ایک اور اعتراض کو بھی دور کر دیتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ شائد کوئی شخص کہے کہ حضرت صاحبؑ کا ایک شعر ہے؎

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

اس سے بہتر غلام احمدؑ ہے

اس شعر سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحب کا نام غلام احمد تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس شعر میں تو حضرت صاحبؑ نے اپنی صفت بیان کی ہے کہ میں جو غلام احمد ہو کر مسیحؑ سے بڑھ کر ہوں۔ اس سے رسول کریم ﷺ کی عظمت معلوم ہوتی ہے اور اس جگہ اپنا نام بیان نہیں فرمایا اور اگر یہاں نام ہے تو اس شعر کے کیا معنی ہوں گے کہ؎

کرامت گرچہ بے نام و نشان است

بیابنگر ز غلمانِ محمدؐ

یعنی کرامت گو اس زمانہ میں کہیں نظر نہیں آتی لیکن آؤ غلامانِ محمدؐ سے کرامت دیکھ لے۔ کیا اس شعر کے یہ معنی ہیں کہ جن کا نام غلام محمدؐ ہو ان سے کرامت دیکھ لے؟ اس شعر کے یہ معنی نہیں اور غلام محمدؐ سے یہاں نام مراد نہیں بلکہ صفت مراد ہے کہ جو محمدؐ کا غلام ہو۔ اسی طرح پہلے شعر میں بھی غلام احمد سے آپ کا نام مراد نہیں بلکہ آپ کی صفت مراد ہے پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہم کب کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کا پورا نام غلام احمد نہ تھا ہم تو خود تسلیم کرتے ہیں کہ پورا نام آپ کا غلام احمد ہی تھا لیکن اس تمام نام میں سے اصل حصہ نام کا احمد تھا اور غلام صرف خاندانی علامت کے طور پر بڑھا دیا گیا تھا۔ اسی وجہ سے کہیں آپ اپنا نام غلام احمد لکھتے تھے اور کہیں احمد۔ اور اصل نام وہی ہوتا ہے جو نام کا چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا ہو اور جسے انسان الگ استعمال کرتا ہو۔

دوسری دلیل

دوسری دلیل آپ کے اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ قَالُوۡا ہٰذَا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ(الصف: ۷) پس جب وہ رسول کھلے کھلے نشانات کے ساتھ آگیا تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ تو سحر مبین ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ رسول آئے گا تو لوگ ان دلائل و براہین کو سن کر جو وہ دے گا کہیں گے کہ یہ تو سحر مبین ہے یعنی کھلا کھلا فریب یا جادو ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ سے یہی سلوک ہوا ہے۔ جب آپ نے زبردست دلائل اور فیصلہ کن براہین اپنے مخالفوں کے سامنے پیش کئے تو بہت سے لوگ چلا اٹھے کہ باتیں تو بہت دلربا ہیں لیکن ہیں جھوٹ۔ اور بہتوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ کی تحریر میں کچھ ایسا جادو ہوتا ہے کہ پڑھنے والے کو اپنی طرف مائل کرلیتی ہے اس لئے اس کو پڑھنا نہیں چاہئے۔ اور گو خواجہ صاحب نے سیالکوٹ میں لیکچر دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرزا صاحب کو چونکہ کسی نے جادوگر نہیں کہا اس لئے وہ اس پیشگوئی کے مصداق نہیں ہیں مگر سینکڑوں آدمی ایسے ہیں جنہوں نے کہا کہ مرزا صاحب کو جادو آتا ہے اور اب بھی بہت سے ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کو جادو آتا تھا۔

اس جگہ شاید کوئی شخص یہ دلیل بھی دے کہ یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ قَالُوۡا ہٰذَا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ(61:7)۔ جب وہ رسول ان کے پاس دلائل کے ساتھ آگیا تو لوگوں نے کہا کہ یہ تو کھلا کھلا جادو ہے۔ پس یہ کوئی ایسا رسول ہے جو اس آیت کے نزول سے پہلے آ چکا تھا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں لیکن ایسا اعتراض وہی شخص کرے گا جو قرآن کریم کی طرز کلام سے ناواقف ہو کیونکہ قرآن کریم میں بیسیوں جگہ پر آئندہ کی بات کو ماضی کے پیرایہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ حتیٰ کہ بعض جگہ دوزخیوں اور جنتیوں کے اقوال کو ماضی کے صیغوں میں ادا کیا گیا ہے۔ پس جبکہ دوسرے دلائل سے یہ بات ثابت ہو جائے کہ یہ رسول کسی آئندہ زمانہ میں آنے والا تھا تو صرف ماضی کے صیغوں میں اس عبارت کا ادا ہونا اس بات کا ہرگز ثبوت نہیں کہ وہ رسول ضرور اس آیت کے نزول سے پہلے آچکا تھا۔

تیسری دلیل احمد کی تعیین پر

اس آیت میں یہ بیان کرنے کے بعد کہ جب وہ رسول آئے گا تو لوگ اسے جادوگر یا جھوٹا یا رَمّال یا فریبی کہیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ وَہُوَ یُدۡعٰۤی اِلَی الۡاِسۡلَامِ ؕ وَاللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ(الصف: ۸) یعنی اور اس سے زیادہ اور کون ظالم ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتا ہے در آنحالیکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ تو ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ پر افتراء کرے وہ تو سب سے زیادہ سزا کا مستحق ہے پھر اگر یہ شخص جھوٹا ہے جیسا کہ تم بیان کرتے ہو تو اسے ہلاک ہونا چاہئے نہ کہ کامیاب۔ اللہ تعالیٰ تو ظالموں کو بھی ہدایت نہیں کرتا تو جو شخص خدا تعالیٰ پر افتراء کر کے ظالموں سے بھی ظالم ترین بن چکا ہے اس کو وہ کب ہدایت دے سکتا ہے۔ پس اس شخص کا ترقی پانا اس بات کی علامت ہے کہ یہ شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جھوٹا نہیں جیسا کہ تم لوگ بیان کرتے ہو۔

اس آیت میں خدا تعالیٰ نے اس احمد رسول کی ایسی تعیین کر دی ہے کہ ایک منصف مزاج کو اس بات کے ماننے میں کوئی شک ہی نہیں ہو سکتا کہ یہ احمد رسول کریم ﷺ کے بعد آنے والا ہے اور نہ آپؐ خود وہ رسول ہیں نہ آپؐ سے پہلے کوئی اس نام کا رسول گذرا ہے کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی شرط لگا دی ہے جو نہ آنحضرت ﷺ میں پوری ہوتی ہے نہ آپؐ سے پہلے کسی اور نبی میں پوری ہو سکتی ہے اور وہ شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرے حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے“ اور یہ شرط کہ حالانکہ اسلام کی طرف اسے بلایا جاتا ہے ایک ایسی شرط ہے جو رسول کریم ﷺ میں نہیں پائی جاتی۔ کیونکہ اسلام کے معنی قرآن کریم سے دو معلوم ہوتے ہیں ایک تو ہر ایک سچے دین کا نام جب تک کہ وہ اپنی اصل حالت پر قائم ہو صفاتی طور پر اسلام رکھا گیا ہے چنانچہ پہلے تمام نبیوں کو بھی جو آنحضرت ﷺ سے پہلے گزرے ہیں مسلم کہا گیا ہے۔ دوسرے اسلام اس دین کا نام رکھا گیا ہے جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا۔ پس ”حالانکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے“ کے جملہ کے دو ہی معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ وہ اس وقت کے حقیقی اور سچے مذہب کی طرف بلایا جاتا ہے یا یہ کہ اسلام نامی دین کی طرف بلایا جاتا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں باتیں رسول کریم ﷺ پر چسپاں نہیں ہوتیں کیونکہ آپ کے وقت میں سچا دین تو کوئی تھا ہی نہیں سوائے اس دین کے جس پر آپ چل رہے تھے اور کفار کے نزدیک سچے دین کا نام اسلام تھا نہیں کہ ان پر حجت قائم کرنے کے لئے یہ کہا جاتا کہ حالانکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔ باقی رہا یہ کہ کسی دین کا نام اسلام ہو۔ سو یہ بات سوائے اس دین کے جو رسول کریم ﷺ لائے اور کسی دین میں نہیں پائی جاتی اور رسول کریم کا لایا ہوا دین ہی وہ دین ہے جس کا نام اسلام رکھا گیا ہے۔ پس یہ شرط کہ اگر وہ جھوٹا ہے اور لوگ اس کو اسلام کی طرف بلاتے ہیں رسول کریمؐ میں نہیں پائی جاتی کیونکہ لوگ آپؐ کو اسلام کی طرف نہیں بلاتے تھے بلکہ کوئی لات و منات کے دین کی طرف آپؐ کو بلاتا تھا۔ کوئی یسوعی مذہب کی طرف، کوئی یہودی دین کی طرف، کوئی زرتشتی دین کی طرف اور ایسا کوئی بھی نہ تھا جو آپؐ کو اسلام کی طرف بلاتا ہو بلکہ آپ لوگوں کو اسلام نام دین کی طرف بلاتے تھے پس آپؐ دَاعِیٌ اِلَی الْاِسْلَامِ تھے نہ کہ یُدْعٰی اِلَی الْاِسْلَامِ اور دین اسلام کی طرف کوئی ایسا ہی شخص بلایا جا سکتا ہے جو ایسے وقت میں آئے کہ اس وقت دنیا میں کوئی مذہب اسلام نامی ہو۔ اور اس بات میں کیا شک ہے کہ ایسا شخص رسول کریم ﷺ کے بعد ہی ہو سکتا ہے کیونکہ آپ ہی اسلام نام مذہب دنیا کی طرف لائے تھے۔ غرض یُدْعٰی اِلَی الْاِسْلَامِ کی شرط ظاہر کر رہی ہے کہ یہ شخص رسول کریم ﷺ کے بعد آئے گا اور اس وقت کے مسلمان اسے کہیں گے کہ میاں تُو کافر کیوں بنتا ہے اپنا دعویٰ چھوڑ اور اسلام سے منہ نہ موڑ۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر واقعہ میں یہ جھوٹا ہے اور تم سچے ہو یہ کافر ہے اور تم مسلم اور تم اس کو اسلام کی طرف بلاتے ہو اور یہ کفر کی طرف جاتا ہے اور خدا پر جھوٹ باندھتا ہے تو اس سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے اس کو تو ہلاک ہونا چاہئے کیونکہ خدا تو ظالموں کو بھی ہدایت نہیں کرتا۔ اور یہ اظلم ہے پس چونکہ یہ ہلاک نہیں ہوتا بلکہ ہر میدان میں ہدایت پاتا ہے اس لئے یہ جھوٹا کیونکر ہو سکتا ہے اور کیونکر ممکن ہے کہ تم اسلام پر ہو کر پھر ذلیل ہوتے ہو۔ غرض اس آیت میں دشمنان احمد رسول پر ایک زبردست حجت قائم کی گئی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؐ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ(6:22) کی آیت پر زور بھی بہت دیا کرتے تھے۔

بعض لوگ اس جگہ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ یُدْعٰی اِلَی الْاِسْلَامِ رسول کی نسبت نہیں بلکہ اس کے دشمنوں کی نسبت ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سے زیادہ ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے حالانکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔ پس اس جگہ آنحضرت ﷺ کے دشمنوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ وہ اسلام کی طرف بلائے جاتے تھے۔

یہ خیال ابتداءً بیشک خوش کن معلوم ہوتا ہے لیکن قرآن کریم پر ایک ادنیٰ غور کرنے سے اس کی غلطی معلوم ہو جاتی ہے اور وہ اس طرح کہ اس جگہ کسی ایسے شخص کا ذکر ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتا ہے کیونکہ افتراء کہتے ہی اس بات کو ہیں جو جان بوجھ کر بنائی جائے اور کذب اور افتراء میں یہ فرق ہے کہ کذب اس کو بھی کہیں گے جو بات غلط ہو خواہ اس شخص نے خود نہ بنائی ہو بلکہ کسی سے سنی ہو۔ مثلاً ایک شخص کسی سے سن کر کہے کہ زید لاہور چلا گیا ہے اور وہ گیا نہ ہو۔ تو وہ کاذب ہے مفتری نہیں لیکن اگر اس نے خود اپنے دل سے یہ بات بنائی ہو تو وہ کاذب بھی ہے اور مفتری بھی ہے۔ پس چونکہ آیت کریمہ میں اِفْتَرٰی عَلَی اللّٰهِ کا ذکر ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایسے شخص کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کی نسبت کوئی بات کہتا ہے۔ یعنی مدعی ہے اور قرآن کریم میں کسی ایک جگہ بھی منکر کی نسبت مُفْتَرِی عَلَی اللّٰهِ کا لفظ نہیں آیا بلکہ یہ لفظ جب استعمال ہوا ہے۔ مدعی کی نسبت ہی ہوا ہے چنانچہ کفار کی نسبت بھی جب یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے تو پہلے ان کا دعویٰ بیان کیا ہے۔ غرض اِفْتَرٰی عَلَی اللّٰهِ کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کوئی مدعی ہے۔ اب ہم ان آیات کو دیکھتے ہیں تو ان میں کفار کا کوئی دعویٰ ایسا بیان نہیں جو وہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہوں بلکہ صرف ان کا انکار بیان ہے اور منکر کی نسبت مُفْتَرِی عَلَی اللّٰهِ نہیں کہتے۔ پس کفار اس آیت میں مراد نہیں ہو سکتے۔ بلکہ مدعی رسالت کا ہی اس آیت میں ذکر ہے کہ اگر وہ خدا پر اس حالت میں جھوٹ بول رہا ہے کہ اسے اسلام کی طرف بھی بلایا جاتا ہے تو ہلاک کیوں نہیں ہو جاتا۔

آخر میں حجت پوری کرنے کے لئے میں یہ بھی تسلیم کر لیتا ہوں کہ کفار کا جو یہ قول نقل ہے کہ انہوں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادو ہے یہ ان کا دعویٰ ہے۔ گو کوئی دانا اسے دعویٰ نہیں کہے گا بلکہ یہ انکار ہے تو بھی یہ آیت کفار پر چسپاں نہیں ہو سکتی کیونکہ اس آیت میں اِفْتَرٰی عَلَی اللّٰهِ کا لفظ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کا دعویٰ خدا تعالیٰ کی نسبت ہے اور وہ جو بات کہتا ہے اسے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے لیکن یہ کہنا کہ فلاں شخص جو بات کہتا ہے یہ فریب ہے اگر اسے دعویٰ ہی مان لیا جائے تو یہ افتراء تو کہلا سکتا ہے اِفْتَرٰی عَلَی اللّٰهِ نہیں

کہلا سکتا۔ کیونکہ یہ اگر جھوٹ ہے تو اس شخص پر جو سچا ہے لیکن یہ اسے جھوٹا کہتا ہے اور خدا پر یہ افتراء نہیں ہے لیکن آیت مذکورہ میں افْتَرَىٰ عَلَى اللّٰهِ کا ذکر ہے جو اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اس آیت میں اسی رسول کا ذکر ہے جس کی آمد کی پہلے اطلاع دی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اگر یہ شخص جھوٹا دعویٰ رسالت کرتا ہے اور خدا پر افتراء کرتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ باوجود اس کے کہ اسلام کے ہوتے ہوئے یہ ایسی شرارت کرتا ہے خدا تعالیٰ اسے ہلاک نہیں کرتا۔

غرض اس آیت میں صاف طور پر بتا دیا گیا ہے کہ یہ احمد رسول، رسول کریم ﷺ کے بعد آئے گا اور اس وقت کے مسلمان اسے کہیں گے کہ اسلام کی طرف آ۔ اور خدا تعالیٰ اپنے رسول کی زبانی ان سے کہے گا کہ اگر اسلام تمہارے پاس ہے اور تم اسے اسلام کی طرف بلاتے ہو اور یہ پھر بھی خدا پر افتراء سے باز نہیں آتا تو کیوں ہلاک نہیں ہوتا۔ اور جبکہ یہ ہلاک نہیں ہوتا تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلام پر ہے نہ کہ تم۔ آخر میں میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ یہ اعتراض کہ قرآن کریم میں اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا(6:22) کئی جگہ پر آیا ہے جہاں کوئی پیشگوئی نہیں درست نہیں۔ کیونکہ وہاں کسی جگہ بھی وَہُوَ یُدۡعٰۤی اِلَی الۡاِسۡلَامِ(61:8) کی شرط مذکور نہیں اور صرف اسی جگہ یہ شرط بیان ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چونکہ اس جگہ عام قاعدہ نہیں بیان کیا گیا تھا بلکہ ایک پیشگوئی تھی اس لئے یہ لفظ بڑھا کر اس رسول کی ایک حد تک تعیین بھی کر دی کہ وہ اسلام کے ظہور کے بعد آئے گا۔

چوتھی دلیل

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یُرِیۡدُوۡنَ لِیُطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰہِ بِاَفۡوَاہِہِمۡ(61:9)۔ لوگ چاہیں گے کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں مگر اللہ اپنے نور کو پورا کر کے ہی رہے گا۔ اگرچہ کافر لوگ اسے ناپسند ہی کرتے ہوں۔ یہ آیت بھی حضرت مسیح موعودؑ کے احمد ہونے پر ایک بہت بڑی دلیل ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اس پیشگوئی کے اول مصداق نہیں ہیں کیونکہ اس آیت میں بتایا ہے کہ اس رسول کے وقت لوگ اس کے سلسلہ کو مونہوں سے مٹانا چاہیں گے۔ رسول کریم ﷺ کے زمانہ کے حالات ہمیں بتا رہے ہیں کہ آپ کے سلسلہ کو مونہہ سے نہیں بلکہ تلوار سے مٹانے کی کوشش کی گئی اور ایسے ایسے مظالم کئے گئے کہ الامان۔ اور دلائل سے اسلام کا مقابلہ کرنے کی بہت ہی کم کوشش کی گئی تھی۔ پس اس آیت میں ضرور کسی اور زمانہ کی طرف اشارہ ہے جس میں امن و امان ہوگا اور تلوار کی بجائے زیادہ تر زبانوں سے کام لیا جائے گا اور لوگ مونہوں کی پھونکوں سے اس رسول کے کام کو مٹانا چاہیں گے اور چاہیں گے کہ باتیں بنا بنا کر اس کے کام کو روک دیں اور اس کی ترقی کو بند کر دیں۔ اور وہ زمانہ یہی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی منصف حکومت قائم کر دی ہے کہ جس کے زیر سایہ شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے ہیں اور اگر کوئی شخص ظلم کرنے لگے تو یہ اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے۔ چنانچہ اس وقت ہمارے مخالفوں کے پاس سوائے فتوؤں اور گالیوں کے کچھ نہیں۔ اور وہ اپنے فتوؤں سے چاہتے ہیں کہ ہمارے کام کو مٹا دیں لیکن ان کے ہاتھ میں ایسے سامان نہیں ہیں کہ جن کے ذریعہ سے زبردستی وہ کسی کو دین سے پھیر دیں یا اسے قتل کر دیں۔ پس یہی زمانہ جبکہ لوگوں کے ہاتھ سے تلوار چھین لی گئی ہے اور صرف مونہہ کی لڑائی رہ گئی ہے وہ زمانہ ہو سکتا ہے جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے اور آنحضرت ﷺ کا زمانہ تو وہ تھا کہ تلواروں سے مسلمانوں کو بھیڑ اور بکریوں کی طرح ذبح کیا گیا۔ اور عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مار مار کر ان کو شہید کیا گیا۔ پس وہ زمانہ جبکہ اصل کام تلوار کر رہی تھی اور دلائل و براہین کا استعمال مخالفینِ اسلام جانتے ہی نہ تھے وہ زمانہ نہیں ہو سکتا جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس وقت لوگ اپنے مونہوں کی پھونکوں سے اسلام کو مٹانا چاہیں گے بلکہ وہ زمانہ یہی ہے کہ گو اس وقت بھی مخالفین سلسلہ جہاں تک ہو سکے احمدیوں کو دکھ دینے سے باز نہیں آتے۔ لیکن ان کا زیادہ زور گالیوں اور فتوؤں پر ہی ہے اور ہاتھ چلانے کی ان کو اس قدر طاقت نہیں جس قدر کہ پہلے زمانوں میں ہوا کرتی تھی۔

پانچویں دلیل

وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوۡرِہٖ وَلَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ(61:9) اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کر کے چھوڑے گا گو کہ کفار ناپسند ہی کریں۔ یہ آیت بھی احمد رسول کی ایک علامت ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مسیح موعودؑ کے متعلق ہے کیونکہ اس میں بتا دیا گیا ہے کہ احمد کا وقت اتمامِ نور کا وقت ہے اور گو قرآن کریم سے ہمیں یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے ہاتھ پر شریعت کامل کر دی گئی مگر اتمامِ نور آپ کے وقت میں معلوم نہیں ہوتا بلکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسیح موعودؑ کے وقت میں ہوگا۔ اور رسول کریم ﷺ کے وقت میں اسکی بنیاد ڈالی گئی تھی۔ چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ وہ امت کس طرح گمراہ ہو سکتی ہے جس کے ابتداء میں مَیں اور آخر میں مسیح ہے (كنز العمال فی سنن الاقوال والافعال۔ کتاب القيامة من قسم الاقوال نزول عيسى على نبينا عليه الصلوٰة والسلام جلد ۷، صفحه ۲۰۲ مطبوعه ۱۳۱۳ھ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دشمنانِ اسلام کے حملوں سے کامل نجات اسی وقت مسلمانوں کو ملے گی جبکہ دوسری طرف مسیح موعودؑ کی دیوار کھینچ جائے گی۔ پس اتمامِ نور مسیح موعودؑ کے ہی وقت میں ہونا مقدر تھا۔ اور اس جگہ بھی اتمامِ نور کا ہی وقت بتایا گیا ہے۔ پس اس آیت میں مسیح موعودؑ کا ہی ذکر ہے اور بات بھی یہی ہے کہ اسلام کی تائید میں جو دلائل کہ قرآن کریم اور احادیث میں دیئے گئے تھے وہ ایک مخفی خزانہ کی طرح تھے اور باوجود موجود ہونے کے لوگ ان سے غافل تھے۔ اب مسیح موعودؑ نے ہی آکر ان کو کھولا ہے۔ اور مسلمانوں کو ایک ایسی روشنی عطا کر دی ہے کہ اب دشمن تاریکی میں ان پر حملہ آور نہیں ہو سکتا۔

چھٹی دلیل

ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَدِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ(9:33) یعنی وہ خدا ہی ہے کہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو غالب کر دے باقی سب دینوں پر۔ اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مسیح موعودؑ ہی کا ذکر ہے۔ کیونکہ اکثر مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت مسیح موعودؑ کے حق میں ہے کیونکہ اسی کے وقت میں اسلام کا باقی ادیان پر غلبہ مقدر ہے چنانچہ واقعات نے بھی اس بات کی شہادت دے دی ہے۔ کیونکہ اس زمانہ سے پہلے اشاعت دین کے ایسے سامان موجود نہ تھے جو اب ہیں۔ مثلاً ریل، تار، دخانی جہاز، ڈاک خانے، مطابع، اخبارات کی کثرت، علم کی کثرت، تجارت کی کثرت جس کی وجہ سے ہر ایک ملک کے لوگ ادھر ادھر پھرتے ہیں اور ایک شخص اپنے گھر بیٹھا ہوا چاروں طرف تبلیغ کر سکتا ہے۔ اور جہاں چاہے وہاں جا کر بھی اشاعتِ دین کا کام سر انجام دے سکتا ہے۔ چنانچہ ہم نے اپنے مبلغ ماریشس اور ولایت میں بھیجے ہوئے ہیں۔ اور دیگر ممالک میں بھی بھیجنے کا ارادہ ہے۔ تو یہی زمانہ ایسا ہے کہ اس میں نہایت آسانی سے سب مذاہب کا رد کیا جا سکتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے وقت ایسے حالات نہ تھے۔ آپ کے وقت نہ اس طرح مذاہب سے مقابلہ ہوا۔ اور نہ ان مذاہب نے آپ کے وقت اس طرح سر نکالا۔ یہ سب کچھ حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں ہی ہونا تھا اور ایسا ہی ہوا۔ پھر اس زمانہ میں اشاعتِ دین تحریر اور تقریر کے ذریعہ اس لئے بھی ضروری تھی کہ دوسرے مذاہب والوں نے آنحضرت ﷺ پر اعتراض کیا تھا کہ انہوں نے تلوار کے زور سے اسلام پھیلایا۔ خدا تعالیٰ نے اس اعتراض کو رد کرنے کے لئے آپ کے ایک غلام کو کھڑا کر کے دکھلا دیا کہ جب یہ دلائل اور براہین سے اسلام کو دیگر مذاہب پر غالب کر سکتا ہے تو اس کے آقا نے کیوں اسی طرح نہ کیا ہو گا۔ پس یہ بات بھی حل ہو گئی کہ آنحضرت ﷺ نے جو تلوار اٹھائی تھی وہ اس لئے اٹھائی تھی کہ آپ کے مقابلہ میں تلوار اٹھائی گئی ورنہ آپ کبھی تلوار نہ اٹھاتے۔ غرض یہ آیت بھی ظاہر کرتی ہے کہ اس رسول کے آنے کا ایسا زمانہ ہو گا جب کل مذاہب ظاہر ہو جائیں گے اور ایسے سامان پیدا ہو جائیں گے جن کے ذریعہ سے اسلام کو کل ادیان پر غالب کیا جا سکے گا اور وہ یہی زمانہ ہے اور اس لئے مسیح موعودؑ ہی احمد ہو سکتے ہیں۔ اس آیت سے ایک اور طرح بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ مسیح موعودؑ کا ذکر ہے۔ اور وہ یہ کہ یہ آیت قرآن کریم میں تین جگہ آئی ہے اور تینوں جگہ مسیحؑ کا ساتھ ذکر ہے۔ دو جگہ تو صاف مسیحؑ کا نام موجود ہے اور تیسری جگہ ساتھ انجیل کا ذکر ہے۔ پس تین جگہ اس آیت کا قرآن کریم میں آنا۔ اور تینوں جگہ ساتھ مسیحؑ کا ذکر ہونا دلالت کرتا ہے کہ مسیحؑ کے ساتھ اس آیت کا کوئی خاص تعلق ہے اور وہ یہی ہو سکتا ہے کہ اس آیت کا مضمون مسیحؑ کی بعثت ثانیہ کے وقت پورا ہونا تھا۔ اور اگر اس آیت کا مسیحؑ کے ساتھ کوئی خاص تعلق نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ تین متفرق جگہ پر مسیحؑ کے ذکر کے ساتھ اس آیت کو دہرایا گیا ہے ایک دفعہ سورۃ توبہ رکوع ۵ میں۔ دوسری دفعہ سورۃ فتح رکوع ۴ میں۔ اور تیسری دفعہ اسی سورۃ صف میں۔

ساتویں دلیل

ہَلۡ اَدُلُّکُمۡ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنۡجِیۡکُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ(الصف : ۱۱) وہ آنے والا رسول لوگوں کو کہے گا کہ اے لوگو! تم جو دنیا کی تجارت کی طرف جھکے ہوئے ہو کیا میں تمہیں وہ تجارت بتاؤں جس کی وجہ سے تم عذاب الیم سے بچ جاؤ۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ اس زمانہ میں تجارت کا بہت زور ہو گا لوگ دین کو بھلا کر دنیا کی تجارت میں لگے ہوئے ہوں گے۔ چنانچہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں دنیا کی تجارت کی اس قدر کثرت ہے کہ پہلے کسی زمانہ میں نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے ان الفاظ میں بیعت لی کہ کہو میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ پس یہ آیت بھی ثابت کرتی ہے کہ ان آیات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی ذکر ہے۔

ایک ضمنی بات

تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوۡلِہٖ وَتُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِکُمۡ وَاَنۡفُسِکُمۡ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ(الصف : ۱۲) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اے لوگو! تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرو اپنے اموال اور اپنی جانوں کے ساتھ۔ یہ تمہارے لئے بہت اچھی بات ہے۔ اگر تم جانتے

والے ہو۔

بہت لوگ ایسے ہیں جو چندہ دے کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم چھوٹ گئے اب ہمارے سر پر کوئی فرض نہیں۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم مال بھی خرچ کرو اور جان بھی یعنی چندے بھی دو اور تبلیغ بھی کرو۔ پس احمدی جماعت کے لوگوں کو ایسا ہی کرنا چاہئے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم مال خرچ کرو گے اور تبلیغ بھی کرو گے تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہوگا۔ یعنی جلد تم ترقی کرو گے۔ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ وَیُدۡخِلۡکُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ وَاُخۡرٰی تُحِبُّوۡنَہَا ؕ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتۡحٌ قَرِیۡبٌ ؕ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ(الصف: ۱۳، ۱۴) خدا تعالیٰ تمہارے گناہوں اور تمہاری فروگزاشتوں کو بخش دے گا اور تم کو باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور رہنے کے لئے بڑی پاکیزہ جگہیں ہوں گی باغوں میں۔ یہ تمہارے لئے بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ اور ایک اور بات تمہیں نصیب ہو گی جس کو تم چاہتے ہو یعنی خدا کی نصرت تمہارے لئے آئے گی اور جلدی کامیابی ہوگی۔ اور یہ مومنوں کے لئے بشارت ہے۔

آٹھویں دلیل

اس کے بعد فرمایا۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰہِ کَمَا قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ لِلۡحَوَارِیّٖنَ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ فَاٰمَنَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ وَکَفَرَتۡ طَّآئِفَۃٌ ۚ فَاَیَّدۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلٰی عَدُوِّہِمۡ فَاَصۡبَحُوۡا ظٰہِرِیۡنَ(الصف: ۱۵) اے وہ لوگو! جو رسول پر ایمان لائے ہو اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے مدد کرنے والے بن جاؤ جیسا کہ عیسیٰؑ بن مریم نے حواریوں کو کہا تھا کہ تم میں سے کون ہے جو انصار اللہ ہو تو انہوں نے کہا کہ ہم سب کے سب انصار اللہ ہیں۔ پس ایمان لایا بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ اور ایک گروہ نے کفر کیا۔ پس ہم نے ان کی مدد کی جو ایمان لائے اوپر ان کے دشمنوں کے پس وہ غالب ہو گئے۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ آنے والا رسول لوگوں کو کہے گا کہ انصار اللہ بن جاؤ۔ لیکن رسول کریم ﷺ کی یہ آواز نہ تھی کہ اے لوگو انصار بن جاؤ۔ بلکہ آپ کے وقت میں مہاجرین و انصار دو گروہ تھے۔ اور مہاجرین کا گروہ انصار پر فضیلت رکھتا تھا۔ چنانچہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ غزوہ حنین کے بعد جب بہت سا مال غنیمت آیا اور آپ نے اسے تالیف قلب کے طور پر مکہ کے نو مسلموں میں تقسیم کر دیا تو انصار میں سے بعض نے اعتراض کیا کہ خون تو اب تک ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے لیکن مال رسول اللہ نے اور لوگوں کو دے دیا اور بعض نے یہاں تک کہہ دیا کہ اب آپ اپنی قوم سے جاملیں گے۔ جب آپؐ نے یہ بات سنی تو انصار کو ایک جگہ جمع کیا اور فرمایا کہ اے انصار! مجھے تمہاری نسبت خبر پہنچی ہے اور تم نے میری نسبت کیا برائی معلوم کی ہے۔ کیا تم گمراہ نہ تھے کہ خدا تعالیٰ نے میرے ذریعہ تم کو ہدایت دی اور کیا جب میں آیا ہوں تم غریب نہ تھے کہ خدا تعالیٰ نے تم کو مالدار کر دیا۔ اور کیا تم آپس میں دشمن نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو دوست بنا دیا۔ انصار نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ! اللہ اور اس کے رسول کے فضل اور احسان سے ایسا ہی ہوا۔ پھر فرمایا کہ اے انصار! تم مجھے جواب کیوں نہیں دیتے انہوں نے عرض کیا کہ ہم کیا جواب دیں۔ فرمایا تم چاہو تو کہہ سکتے ہو اور تمہاری بات جھوٹی بھی نہ ہوگی کہ تُو ہمارے پاس ایسے وقت میں آیا کہ لوگ تجھے جھٹلاتے تھے ہم نے تیری تصدیق کی۔ اور کوئی تیرے ساتھ نہ تھا پھر ہم نے تیری مدد کی۔ اور تو دھتکارا ہوا تھا ہم نے تجھے جگہ دی۔ اور تُو غریب تھا ہم نے تیری ہمدردی کی۔ اے انصار! تم نے دنیا کے مال کے لئے جس کے ذریعہ سے میں نے ایک نئی قوم کے قلوب کی تالیف کی تھی اپنے دلوں میں برا منایا۔ اے انصار! کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ لوگ تو بکریاں اور اونٹ اپنے گھروں کو لے جائیں اور تم اپنے گھروں کو خدا کے رسول کو لے جاؤ۔ مجھے اسی خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ہونا پسند کرتا۔ اور اگر لوگ ایک وادی میں جائیں اور انصار دوسری وادی میں تو میں اس وادی میں جاؤں جس میں انصار گئے ہوں۔ اے خدا! انصار پر رحم کر اور ان کے بیٹوں پر اور ان کی بیٹیوں پر۔ اس پر انصار اس قدر روئے کہ ان کی داڑھیاں تر ہوگئیں۔ (بخاری کتاب المغازی باب غزوة الطائف۔۔۔ الخ)

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہجرت کا درجہ بلند تھا۔ اور قرآن کریم میں بھی ہجرت پر خاص زور ہے پس اگر رسول کریمؐ کا زمانہ مراد ہو تا تو انصار سے پہلے ہجرت کا ذکر ہوتا اور یہ لکھا ہوتا کہ مہاجرین و انصار میں داخل ہو جاؤ۔ لیکن اس جگہ ہجرت کا ذکر بھی نہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایسا زمانہ ہے کہ جب ہجرت فرض نہ ہوگی۔ اور وہ یہی زمانہ ہے۔

نویں دلیل

اس سورۃ سے اگلی سورۃ میں جو اس کے ساتھ ہی ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیۡہِمۡ(62:3) وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ ٭ وَاِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ(الجمعة: ۳) اور اس کے بعد فرماتا ہے وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ ؕ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ(الجمعة: ۴) اور وہ اس رسول کو ایک اور جماعت میں مبعوث کرے گا جو اب تک تم سے نہیں ملی۔ ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی دو بعثوں کا ذکر ہے اور چونکہ احادیث سے آپ کے بعد ایک مسیح کا ذکر ہے جس کی نسبت آپ نے یہاں تک فرمایا ہے کہ وہ میری قبر میں دفن ہوگا۔ یعنی وہ اور میں ایک ہی وجود ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری بعثت سے مراد مسیح موعودؑ ہی ہے۔ کیونکہ اسلام تناسخ کا قائل نہیں کہ یہ خیال کیا جائے کہ آپ خود ہی دوبارہ تشریف لائیں گے اس لئے آپ کی بعثتِ ثانیہ سے صرف یہی مراد لی جاسکتی ہے کہ کوئی شخص آپ کے رنگ میں رنگین ہو کر آئے گا۔ اور وہ سوائے مسیح موعودؑ کے اور کوئی نہیں ہو سکتا جس کی نسبت فرمایا ہے کہ وہ میری قبر میں دفن ہوگا۔ اب ہم جب پہلی سورۃ کے ساتھ اس کو ملاتے ہیں تو اس میں بھی پہلے حضرت موسیٰؑ کا ذکر ہے اور پھر حضرت مسیحؑ کا۔ پھر اس سورۃ میں آنحضرت ﷺ کی دو بعثوں کا ذکر ہے جن میں سے ایک مسیحؑ کی بعثت کے رنگ میں ہوئی ہے۔ ان دونوں باتوں کو ملا کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلی سورۃ میں احمد کی جو پیشگوئی ہے وہ اسی بات کو بتانے کے لئے ہے کہ جس طرح اس امت میں مثیلِ موسیٰؑ ہوا ہے مثیلِ مسیحؑ بھی احمد کے نام سے ظاہر ہوگا۔ چنانچہ اس بات کو صاف کرنے کے لئے سورۃ جمعہ میں رسول کریمؐ کی دو بعثوں کا ذکر فرما دیا۔ تا دانا انسان سمجھ لے کہ احمد سے مراد آپ کی بعثتِ ثانیہ ہے نہ کہ اول۔ کیونکہ اس سے پہلے موسیٰؑ کا واقعہ بیان ہو چکا ہے۔ اور آنحضرت ﷺ حضرت موسیٰؑ کے مثیل ہیں۔

غرض سورۃ جمعہ کو سورۃ صف کے ساتھ رکھ کر خدا نے اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ(61:7) کی پیشگوئی کو اور بھی صاف کر دیا ہے۔ اور بات بالکل صاف ہے خواہ کوئی مانے یا نہ مانے یہ اس کا اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تم لوگ جو مسیح موعودؑ کے ماننے والے ہو۔ صحابہ احمد سے ہو اور رسولِ کریم ﷺ کی بعثتِ ثانیہ پر ایمان لانے والے ہو اس وقت کوئی اور جماعت نہیں جو تمہارا مقابلہ کر سکے۔ اس وقت سلسلہ احمدیہ کو خدا تعالیٰ نے صحابہؓ کے ہم رنگ کر دیا ہے اور یہی ایک جماعت ہے جو ہر قسم کے دکھ، تکلیفیں اور مصیبتیں اٹھاتی ہے۔ لیکن پھر بھی دینِ خدا کے پھیلانے سے باز نہیں آتی اور نہ تھکتی ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ تمہیں جرأت دلانے اور زیادہ جوش سے کام کرنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ تم میں یہ کمی ہے یہ نقص ہے یہ کمزوری ہے لیکن تم ہی دنیا میں ایک ایسی جماعت ہو جس کا کوئی نمونہ نہیں اور تمہیں وہ ہو جو صحابہؓ کا پورا پورا نمونہ ہو۔ اب کوئی اندھا ہی ہو گا جو یہ کہے کہ تم صحابہؓ کے رنگ میں رنگین نہیں ہو۔ گو اس وقت دنیا کی نظروں میں تم غریب اور کمزور ہو مگر خدا کی نظر میں تم بہت طاقتور ہو۔ دنیا کی نظروں میں ذلیل ہو لیکن خدا کے حضور تمہارا بہت بڑا درجہ ہے اور بہت عزت رکھتے ہو۔ اس لئے وہ دن آرہے ہیں جبکہ خدا تعالیٰ تمہیں دنیا کی نظروں میں بھی کامیاب اور بامراد کر دے گا اور دنیا اپنی آنکھوں سے تم میں جماعتِ احمد کی پیشگوئی پوری ہوتی دیکھ لے گی۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

بقیہ تقریر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی

(جو ۲۷؍دسمبر ۱۹۱۵ء کو سالانہ جلسہ پر بعد از نماز ظہر و عصر فرمائی)

اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ۝ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(1:2-7)

میں نے ظہر کی نماز سے پہلے اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ(61:7) پر کچھ بیان کیا تھا۔ اب مسئلہ نبوت پر کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد انشاء اللہ جماعت کی عملی حالت کی درستی کے متعلق کچھ بیان کروں گا۔

مسئلہ نبوت

مجھے مسئلہ نبوت کے متعلق ہمیشہ ہی سے تعجب آیا کرتا ہے کہ اس میں کسی قسم کا شک کرنے کی کیا وجہ ہے۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ باوجود ایک صاف مسئلہ ہونے کے اس کے متعلق عجیب عجیب اعتراض کئے جاتے ہیں۔ اور اپنی تائید میں عجیب عجیب دلیلیں پیش کی جاتی ہیں جن سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا یا یہ کہ مرزا صاحب نبی نہیں تھے۔ مثلاً ان عجیب و غریب دلیلوں میں سے ایک یہ بھی پیش کی جاتی ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جس کا نام مفرد ہو مرکب نام والا کوئی نبی نہیں ہو سکتا چنانچہ پیسہ اخبار میں

کسی نے ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں اس نے لکھا ہے کہ یہ ایک ایسی دلیل ہے جس سے مرزا صاحب کی نبوت بالکل باطل ہو جاتی ہے۔ وہ لکھتا ہے: ”خدا تعالیٰ کی طرف سے جس قدر انبیاءؑ دنیا میں آئے ہیں اور انہوں نے مبعوث ہو کر لوگوں کو توحید کا قائل کیا۔ منجملہ ان کے ایک بھی ایسا نبی و رسول نہ آیا۔ جس کا اسم مبارک دو لفظوں سے مل کر بنا ہو۔ بلکہ ہر نبی و رسول منصوص من اللہ کا اسم مبارک نقطہ واحد سے مشتق ہوتا چلا آیا ہے“

(روزنامہ پیسہ اخبار مورخہ ۲۸۔ نومبر ۱۹۱۵ء)

یہ اور اسی قسم کی اور دلیلیں بھی دی جاتی ہیں جن کو پڑھ کر تعجب ہی آتا ہے۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کل کوئی شخص ایک ایسے نبی کو جسے وہ مانتا ہے خواب میں دیکھ لے کہ اتنی لمبی اس کی داڑھی ہے اتنا قد ہے اس طرح کی شکل ہے تو لکھ دے کہ نبی وہی ہو سکتا ہے۔ جس کی اس قسم کی داڑھی ہو اتنا بڑا قد ہو اگر ایسا نہ ہو تو نبی نہیں ہو سکتا۔ پچھلے نبیوں کی نبوت کے متعلق ان کے نام کا مفرد ہونا دلیل ہی کس طرح ہو سکتی ہے؟ اور کس کو معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ کے ان تمام نبیوں کے نام جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت ﷺ تک ہوئے ہیں مفرد تھے؟ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ مجھے تمام انبیاء کے نام معلوم ہیں تو وہ جھوٹا ہے اور جھوٹا دعویٰ کرتا ہے۔ کیونکہ جب خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے کہ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِکَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ قَصَصۡنَا عَلَیۡکَ وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ لَّمۡ نَقۡصُصۡ عَلَیۡکَ(المؤمن: ۷۹) اور ضرور ہم نے تجھ سے پہلے رسولوں کو بھیجا ہے ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں جن کا ذکر ہم نے تجھ پر کر دیا ہے۔ اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کا تجھ سے ذکر نہیں کیا یعنی خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بھی بعض انبیاء کے نام نہیں بتائے تو اب اور کون ہے جس کو تمام انبیاء کے نام معلوم ہوں۔ اور اگر کسی کو دعویٰ ہے تو کم سے کم ان ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کے نام ہی ہم کو بتائے جن کا ذکر حدیث میں آتا ہے۔

(مسند احمد بن حنبل جلد ۵ صفحہ ۲۶۶)

غرض اول تو یہ دعویٰ ہی غلط ہے کہ تمام انبیاء کے نام مفرد تھے۔ اور اگر بفرض محال درست بھی ہو تو یہ کوئی ثبوت نہیں کیونکہ اس بات کا ثبوت نہ قرآن کریم سے ملتا ہے نہ احادیث سے نہ پہلے صحفِ انبیاء سے اور ایک عقلمند انسان تو نبی کی یہ علامت سن کر حیران ہو جائے گا کہ نبی وہی ہوتا ہے جس کا نام مفرد ہو۔ گویا نبوت کا سب دارو مدار نام پر ہے نہ کہ کام پر۔ لیکن اگر اس دعویٰ کو قبول کر لیا جائے کہ نبی وہی ہوتا ہے جس کا نام مفرد ہو تو اس کا یہ

نتیجہ ہو گا کہ قرآن میں مذکور انبیاء میں سے بھی بعض انبیاء کی نبوت کا انکار کرنا پڑے گا۔

کون نہیں جانتا کہ ہمارے رسول کریم کے جد امجد حضرت اسماعیلؑ تھے۔ اور آپ کا یہ نام مرکب ہے۔ عربی والوں نے اس کے دو حصے کئے ہیں۔ ایک سمع۔ اور دوسرا ایل اور عبرانی والے بھی اس نام کے دو ہی حصے کرتے ہیں۔ ایک یسمع اور دوسرا ایل۔ تو معلوم ہوا کہ عبرانی کے لحاظ سے یسمع اور ایل۔ اور عربی کے لحاظ سے سمع اور ایل دو لفظوں سے یہ نام مرکب ہے۔ سمع کے معنی ہیں سن لیا۔ اور ایل کے معنی ہیں خدا۔ ایل در حقیقت عربی زبان کے لفظ آئل سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں قدرت رکھنے والا لوٹنے والا۔ تو چونکہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر رحم اور کرم کی وجہ سے لوٹتا یعنی متوجہ ہوتا ہے اس لئے اس کا یہ نام ہو گیا۔ جس طرح عربی میں خدا تعالیٰ کا ایک نام توّاب ہے۔ اور اسی وجہ سے ہے کہ خدا اپنے بندوں کی طرف فضل کے ساتھ لوٹتا ہے۔ تو سمع ایل کے معنی ہیں خدا نے سنا۔ اس سے بگڑ کر اسماعیل بن گیا۔ اور بائبل میں اس نام کے رکھے جانے کی یہی وجہ لکھی ہے۔ چنانچہ وہاں لکھا ہے کہ جب حضرت ابراہیمؑ کی چھوٹی بیوی ہاجرہ ان کی بڑی بیوی سارہ کے تنگ کرنے سے گھر سے نکلی تو خداوند کے فرشتے نے اسے میدان میں پانی کے ایک چشمے کے پاس پایا۔ یعنی اس چشمے کے پاس جو صور کی راہ پر ہے۔ اور اس نے کہا کہ اے سری کی لونڈی ہاجرہ! تو کہاں سے آئی اور کدھر جاتی ہے۔ وہ بولی کہ میں اپنی بی بی سری کے سامنے سے بھاگی ہوں اور خداوند کے فرشتے نے اسے کہا۔ کہ تو اپنی بی بی کے پاس پھر جا اور اس کے تابع رہ۔ پھر خداوند کے فرشتے نے اسے کہا کہ میں تیری اولاد کو بہت بڑھاؤں گا کہ وہ کثرت سے گنی نہ جائے۔ اور خداوند کے فرشتے نے اسے کہا کہ تو حاملہ ہے۔ اور ایک بیٹا جنے گی۔ اس کا نام اسماعیل رکھنا کہ خداوند نے تیرا دکھ سن لیا“ (پیدائش باب ۱۶ آیت ۷ تا ۱۱) اب یہ دلیل پیش کرنے والا بتائے کہ خدا اور سن لی دو الگ الگ لفظ ہیں یا نہیں۔ اور یہ بھی بتائے کہ یہ نام مرکب ہوا یا مفرد۔ پس اگر حضرت اسمعیلؑ باوجود مرکب نام رکھنے کے نبی ہو سکتے ہیں۔ تو کیا وجہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب مرکب نام کی وجہ سے نبی نہیں بن سکتے۔ لیکن وہ نادان جو نہ عربی جانتا ہے نہ عبرانی۔ وہ کہتا ہے کہ کسی نبی کا مرکب نام نہیں ہے۔ اور جب نبی کا مرکب نام نہیں تو مرزا صاحب جن کا نام مرکب ہے نبی نہیں ہو سکتے۔

پھر ابھی مفتی محمد صادق صاحب نے ایک رقعہ لکھ کر دیا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کا نام ابی اور رہام سے مرکب ہے اور اسکے معنی ہیں بلندی کا باپ۔ اور حضرت موسیٰؑ کا نام مو اور شی سے مرکب ہے۔ مو (عربی ماء بگڑی ہوئی عربی مویہ) کہتے ہیں پانی کو۔ اور شی (عربی شیئ) بمعنی چیز۔ یعنی پانی کی چیز ہے۔ چونکہ حضرت موسیٰؑ کو پانی میں ڈالا گیا تھا۔ اس لئے آپ کا یہ نام ہوا۔ پھر یسوع بھی مرکب نام ہے۔ غرض بہت سے نبیوں کے نام مرکب ہیں۔ لیکن وہ نادان بوجہ عربی اور عبرانی کا علم نہ رکھنے کے اس بات کو نہیں سمجھا۔ اس لئے کہتا ہے کہ تمام نبیوں کے نام مفرد ہیں۔ پھر قرآن کریم پر غور کرنے سے ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ اس میں نبیوں کے مخالفوں کے نام بھی مفرد آئے ہیں (کیونکہ ابولہب صفت ہے نہ کہ نام) اب اگر کوئی یہ کہہ دے کہ دنیا میں جس کا نام مرکب ہو وہ شریر نہیں ہو سکتا تو یہ جہالت نہیں تو اور کیا ہے۔ لیکن کیا کیا جائے۔ حدیث میں آیا ہے کہ امت محمدیہ پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اس کے اندر سے علم اٹھ جائے گا اور جاہل لوگ عالم کہلائیں گے جو لوگوں کو اپنی بے علمی کی وجہ سے گمراہ کریں گے۔ پس چونکہ مسلمانوں پر یہ زمانہ آگیا ہے اور وہ علم و جہالت میں فرق نہیں کر سکتے۔ اس لئے اس قسم کی باتیں کرتے ہیں جو ان کو مخالفینِ اسلام کی نظروں میں ذلیل کرنے والی ہوں اور صداقت کے ایسے معیار بناتے ہیں جنہیں کوئی دانا انسان قبول نہیں کر سکتا۔ اور جو خدا تعالیٰ کی سنت سے ناواقفیت کا نتیجہ ہیں۔ کیا ایک مسیحی اس معیار کو سن کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ رسول کریم ﷺ سے پہلے جس قدر نبی گزرے ہیں کسی کا نام محمد وزن پر نہیں ہوا۔ اس لئے آپؐ نبی نہیں ہیں اور کیا ایسا دعویٰ کرنے والا مجنون نہیں کہلائے گا۔

پھر حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جس کے نام کا پہلے کوئی آدمی نہ گزرا ہو۔ چونکہ آپ کا نام غلام احمد تھا۔ اور اس نام کے آپ سے پہلے بہت سے لوگ ہو گزرے ہیں۔ اس لئے آپ نبی نہیں ہو سکتے۔ گویا ان لوگوں کے نزدیک چونکہ آنحضرت ﷺ سے پہلے کوئی شخص آپ کا ہم نام نہیں گزرا۔ اس لئے آپ نبی ہیں اور اگر یہ غلط ثابت ہو جائے تو پھر آپ نبی نہیں۔ (نعوذ باللہ) اسی طرح حضرت مسیحؑ سے پہلے چونکہ یسوع نام کا جو آپ کا نام تھا کوئی شخص نہیں گزرا اس لئے آپ نبی ہیں۔ اور اگر یہ غلط ثابت ہو جائے تو پھر آپ نبی نہیں۔ اس بات کا اگر ان سے ثبوت پوچھیں کہ تم نے یہ دلیل کہاں سے لی ہے تو کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں جو حضرت یحییٰؑ کی نسبت لکھا ہے کہ لَمۡ نَجۡعَلۡ لَّہٗ مِنۡ قَبۡلُ سَمِیًّا(مریم : ۸) اول تو جو معنی کر کے وہ استدلال کرتے ہیں وہ معنی ہی ہمارے نزدیک قابل تسلیم نہیں لیکن اگر انہی کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ جو بات کسی نبی کی نسبت قرآن کریم میں مذکور ہو وہ نبوت کی شرط ہوتی ہے اور اگر یہ تسلیم کیا گیا تو نہایت مشکل پیش آئے گی۔ کیونکہ ایسی باتیں نکلیں گی جو قرآن کریم میں بعض انبیاءؑ کے متعلق بیان ہیں اور دوسروں کی نسبت بیان نہیں اور نہ ان میں وہ پائی جاتی تھیں تو اس سے ثابت ہوگا کہ وہ نبی ہی نہ تھے مثلاً حضرت داؤد کی نسبت آتا ہے ان کو ہم نے زرہ بنانی سکھائی تھی۔ تو زرہ بنانی بھی شرائط نبوت میں داخل کرنی پڑے گی۔ اور چونکہ ہمارے نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم یہ فن نہ جانتے تھے اس لئے آپ کی نبوت گویا باطل ہوگئی۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ پس یہ اصل ہی باطل ہے کہ جو بات ایک نبی کے متعلق بیان ہو وہ سب نبیوں میں پائی جانی چاہئے اور وہ شرائط نبوت میں سے ہونی چاہئے۔ لیکن ہم اس باطل کو بھی تسلیم کر لیتے ہیں اور فی الحال مان لیتے ہیں کہ نبی وہی ہے جس کے نام کا پہلے کوئی اور شخص نہ گزرا ہو۔ اور ثابت کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں جن نبیوں کا ذکر آتا ہے ان کے نام کے آدمی پہلے بھی گزرے ہیں چنانچہ زکریاؑ ایک نبی ہیں اور قرآن شریف نے ان کو نبی قرار دیا ہے لیکن ان سے چار سو سال پہلے ایک نبی ہوئے ہیں ان کا نام بھی زکریاؑ تھا۔ اور ان کی کتاب اب تک بائبل میں موجود ہے۔ پھر اسی طرح حضرت یحییٰؑ کے نام کے پہلے پانچ آدمی گزر چکے تھے جن کا ذکر بائبل میں موجود ہے جن میں سے ایک حضرت داؤدؑ سے بھی پہلے ہوئے ہیں۔ اب کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ پھر اس آیت کے کیا معنی ہوئے۔ میں کہتا ہوں لوگوں نے اس کے معنی غلط سمجھے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ بشارت کے طور پر ان سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا۔ لیکن مشکل وہی ہے کہ اس زمانہ میں جُہّال علماء بن گئے ہیں اور حقیقی علم ان سے چھین لیا گیا ہے اس لئے اس قسم کی باتیں منہ پر لاتے ہیں۔

پھر اس معیار کے ماتحت تو حضرت مسیحؑ کی نبوت بھی ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان کا نام یسوع ہے اور اس نام کا ایک اور شخص بھی تھا جس کو یسوع بن سائر س کہتے ہیں۔ اس کی کتاب بھی اپو کرفاس میں موجود ہے۔ (یعنی بائبل کا وہ حصہ جسے بعض لوگ بائبل میں شامل سمجھتے ہیں اور بعض نہیں اور وہ الگ چھپا ہوا ہے اور جو لوگ اسے بائبل کا حصہ مانتے ہیں ان کی چھاپی ہوئی بائبلوں میں موجود بھی ہے) تو اب کیا حضرت مسیحؑ سے پہلے یسوع نام کا ایک اور شخص ثابت ہو جانے سے آپ کی نبوت باطل ہوگئی۔ پھر بڑے تعجب اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ وہ نبی جو خاتم النبیین ہے اور جو تمام نبیوں کا سردار ہے۔ اس کی نبوت بھی اس دلیل کے مطابق (نعوذ باللہ) باطل ٹھہرتی ہے۔ کیونکہ آپ سے پہلے پانچ شخص ایسے گذرے ہیں جن کا نام محمد تھا۔ چنانچہ آپ سے پہلے بنو سواءۃ میں محمد الجُشَمی گزرا ہے۔ اور ایک محمد اس ابرہہ کے دربار میں تھا جس نے مکہ پر حملہ کیا تھا۔ اور یہ حملہ رسول کریم ﷺ کی پیدائش سے ایک سال پہلے ہوا۔ اس کی نسبت جاہلیت کا ایک شعر بھی ہے فَذَالِكُمُ ذُو التَّاجِ مِنَّا مُحَمَّدٌ۔ وَرَأَيْتُهُ فِي حَوْمَةِ الْمَوْتِ تَخْفُقُ تیسرا شخص اس نام کا بنو تمیم میں گزرا ہے اور یہ شخص پادری تھا۔ چوتھا محمد الاسیدی تھا۔ پانچواں محمد الفقعسی۔ پس اگر یہی دلیل حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کو باطل کرنے والی ہے تو حضرت یحییٰؑ، حضرت زکریاؑ، حضرت مسیحؑ اور آنحضرت ﷺ کی نبوت بھی ثابت نہیں ہوتی۔ کیسے تعجب کی بات ہے کہ ہمارے مخالفین ہماری مخالفت میں ان ہتھیاروں پر اتر آئے ہیں کہ جن سے پہلے نبیوں کی نبوت بھی باطل ہو جاتی ہے۔ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کفار کی نسبت فرماتا ہے کہ یہ ہمارے رسول (محمد ﷺ) پر ایسے اعتراض کرتے ہیں جو ان کے نبیوں پر بھی پڑتے ہیں جن کو یہ مانتے ہیں یعنی یہ کہتے ہیں کہ آسمان پر چڑھ جا۔ اور ہمارے لئے کتاب لا۔ وغیرہ وغیرہ۔ تو جیسے اعتراضات وہ لوگ آنحضرت ﷺ پر کیا کرتے تھے ایسے ہی اعتراضات یہ لوگ آج حضرت مسیح موعودؑ پر کرتے ہیں جن کو اگر سچا مان لیا جائے تو سب نبیوں کی نبوت باطل ہو جاتی ہے۔


ایک اور اعتراض اور اس کا جواب

پھر ایک یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے کئی نام رکھے ہیں۔ حالانکہ کسی اور نبی نے اپنے کئی نام نہیں رکھے اس لئے یہ نبی نہیں ہو سکتے۔ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اِنَّ لِیْ اَسْمَاءً اَنَا مُحَمَّدٌ وَّ اَنَا اَحْمَدُ وَ اَنَا الْمَاحِی الَّذِیْ يَمْحُو اللهُ بِيَ الْكُفْرَ وَ اَنَا الْحَاشِرُ الَّذِيْ يُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰى قَدَمَىَّ وَ اَنَا الْعَاقِبُ وَ الْعَاقِبُ الَّذِیْ لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ۔(مشکوٰۃ کتاب الاَداب باب اسماء النبی وصفاتہٗ) یعنی آنحضرتؐ فرماتے ہیں کہ میرے پانچ نام ہیں۔ پس اگر حضرت مسیح موعودؑ کے بھی خدا تعالیٰ نے کئی نام رکھ دیئے اور آپ کو مہدی اور کرشن بنا دیا۔ تو اس سے آپ کی نبوت کس طرح باطل ہو گئی۔ آپ نے اپنے آقا سے تو ایک نام کم ہی پایا ہے۔ پس آنحضرت ﷺ کی نبوت پانچ نام رکھنے کے باوجود ثابت ہو سکتی ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ آپ کی نبوت چار نام رکھنے کی وجہ سے ثابت نہیں ہو سکتی۔ وہ لوگ جو یہ اعتراض کرتے ہیں سوچیں اور بتائیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کیوں ثابت نہیں ہو سکتی۔

نبی کے لئے شریعت لانا شرط نہیں

پھر یہ کہا جاتا ہے کہ نبی کے لئے شرط ہے کہ وہ کتاب یعنی شریعت لائے۔ لیکن حضرت مسیح موعودؑ چونکہ کوئی کتاب نہیں لائے۔ اس لئے نبی نہیں ہو سکتے۔ یہ اعتراض جن کی طرف سے کیا جاتا ہے وہ اپنے آپ کو احمدی کہتے اور حضرت مسیح موعودؑ کے شیدائی کہلاتے ہیں لیکن اتنا نہیں جانتے کہ حضرت مسیح موعودؑ اس کے متعلق خود لکھ گئے ہیں کہ ”نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱۳۸، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۰۶)

پھر آپ لکھتے ہیں کہ ”نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے۔ یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امورِ غیبیہ کھلتے ہیں (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۱۰)

اسی طرح آپ فرماتے ہیں ”بعد توریت کے صدہا ایسے نبی بنی اسرائیل میں سے آئے کہ کوئی نئی کتاب انکے ساتھ نہیں تھی۔ بلکہ ان انبیاء کے ظہور کے مطالب یہ ہوتے تھے کہ تا ان کے موجودہ زمانہ میں جو لوگ تعلیم توریت سے دور پڑ گئے ہوں۔ پھر ان کو توریت کے اصلی منشاء کی طرف کھینچیں۔ (شہادۃ القرآن صفحہ ۴۴، روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۳۲۰)

پھر آپ لکھتے ہیں ”بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں۔ جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ صرف خدا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے“ (بدر ۵۔ مارچ ۱۹۱۵ء)

اب یہ لوگ کہتے ہیں کہ کوئی ایک نبی بھی ایسا نہیں ہوا جو شریعت نہ لایا ہو۔ لیکن حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ کئی نبی ایسے ہوئے ہیں۔ ہم کہتے ہیں جب بنی اسرائیل میں ایسے نبی آ چکے ہیں جو کوئی کتاب نہیں لائے تو پھر یہ مطالبہ حضرت مرزا صاحب کے لئے کیوں پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن افسوس تو یہ ہے کہ یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور ہمارا وار کہاں پڑتا ہے۔ کیسا نادان ہے وہ شخص جو کسی کو تیر مارے اور سامنے اس کا اپنا باپ کھڑا ہو مگر وہ یہ خیال نہ کرے کہ اگر میں نے تیر مارا تو تیر پہلے میرے باپ کو چھیدے گا اور پھر کہیں اس تک پہنچے گا۔

یہ لوگ بھی ایسے ہی ہیں یہ نہیں جانتے کہ ہمارا حملہ حضرت مسیح موعودؑ پر نہیں ہے بلکہ حضرت ابراہیمؑ ، حضرت موسیٰؑ ، حضرت عیسیٰؑ اور آنحضرت ﷺ پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی باتیں پیش کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے بار بار لکھا ہے کہ کئی نبی ایسے ہوئے ہیں جو کوئی کتاب نہیں لائے۔ لیکن ہم سے یہی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مرزا صاحب کی کتاب بتاؤ ورنہ وہ نبی نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے سمجھا ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ کی کوئی کتاب دنیا میں کیوں آتی ہے۔ کتاب تو اس وقت آتی ہے جبکہ پہلی شریعت کے احکام مٹ چکے ہوں یا ایسے مسخ ہو چکے ہوں کہ ان کا معلوم کرنا مشکل ہو گیا ہو۔ لیکن جب پہلی شریعت موجود ہو اور اس کے احکام میں بھی کوئی نقص نہ واقعہ ہو گیا ہو تو پھر کسی اور کتاب کے آنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نبوت خدا تعالیٰ کا ایک فضل ہوتا ہے اس کے لئے ضروری نہیں کہ نبی وہی ہو جس کو شریعت بھی دی جائے۔ جس طرح دنیا کے بادشاہوں نے اپنے وزراء اور امراء کے لئے درجے مقرر کر کے نام رکھے ہوتے ہیں۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے بھی اپنے مقربین کے لئے نام تجویز فرمائے ہوئے ہیں اور وہ نام یہ ہیں۔ نبی، صدیق، شہید اور صالح ان میں سے نبی ایک خاص درجہ ہے۔ اور جو یہ نام پاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے خاص الخاص انسانوں میں سے ہو جاتا ہے۔ جس طرح بادشاہوں کے بھی کچھ لوگ مقرب ہوتے ہیں جن سے وہ اپنے راز کی باتیں کرتے اور بڑے بڑے امور کی ان کو پیش از وقت اطلاع دے دیتے ہیں۔ اسی طرح خدا تعالیٰ جن کو اپنے راز کی باتیں بتاتا اور آئندہ ہونے والے امور کی اطلاع بخشتا ہے وہ نبی ہوتے ہیں۔ نبی ہونا خدا تعالیٰ کے قرب کا آخری درجہ پانا ہے اور امور غیبیہ پر کثرت سے اطلاع پانا نبی ہونے کی علامت ہے۔ جس طرح بادشاہ جب اپنے کسی خاص آدمی سے مشورہ کرتا اور اس سے اپنے راز کی باتیں کہتا ہے تو لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ بادشاہ کا خاص وزیر ہے۔ اسی طرح جب ایک انسان خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پا کر لوگوں کو بتاتا ہے اور وہ پوری ہو جاتی ہیں تو وہ جان جاتے ہیں کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں کہ غیب کی خبریں بتائے۔ اس لئے یہ جو بات بتاتا ہے خدا ہی کی بتائی ہوئی بتاتا ہے پس یہ خدا کا نبی ہے۔

جو شخص یہ کہتا ہے کہ نبی کے لئے کتاب کا لانا ضروری ہے وہ تاریخ کا انکار کرتا ہے اور اسے ہندوؤں ، یہودیوں اور عیسائیوں کے بہت سے انبیاء کو رد کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ان میں ایسے نبی آئے ہیں جو کوئی کتاب نہیں لائے۔ اور اگر کتاب سے الہامات کا مجموعہ مراد ہے تو ایسی

کتاب تو حضرت مسیح موعودؑ بھی لائے ہیں۔ دور جانے کی ضرورت نہیں پیغامیوں میں سے ہی ایک شخص نے حضرت مسیح موعودؑ کے الہامات کا مجموعہ تین جلدوں میں شائع کیا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ تو اپنے متعلق لکھتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ تھا۔ اور شیطان کا مع اپنی تمام ذریت کے آخری حملہ تھا۔ اس لئے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لئے ہزار ہا نشان ایک جگہ جمع کر دئیے“ (چشمۂ معرفت صفحہ ۳۱۷، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۳۲)

لیکن کتنے تعجب کی بات ہے کہ ایک ایسا انسان جس پر اتنے نشانات اترے کہ ان سے ہزاروں نبیوں کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے وہ خود نبی نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے یہ سب باتیں اپنے پاس سے بنالی ہیں۔ اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی قدر کو نہیں سمجھا۔ خدا تعالیٰ کافروں کی نسبت قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖ(الانعام: ۹۲) یعنی انہوں نے خدا تعالیٰ کی قدر کو نہیں سمجھا اور یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے اس لئے کسی کو کچھ نہیں دے سکتا۔ اسی طرح یہ کہتے ہیں کہ خواہ کتنا ہی زہد اور اتقاء میں بڑھ جائے پرہیزگاری اور تقویٰ میں کئی نبیوں سے آگے گذر جائے معرفت الٰہی کتنی ہی حاصل کرلے لیکن خدا اس کو کبھی نبی نہیں بنائے گا اور کبھی نہیں بنائے گا۔ ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی قدر کو ہی نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے ورنہ ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی ہوں گے اور ایک ایسا انسان جو اس درجہ کو پہنچ جاتا ہے جو حضرت یحییٰؑ اور یوحنا وغیرہ انبیاء کا تھا وہ نبی بن سکتا ہے۔ وہ تو حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کے متعلق کہتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ اب بھی نبی بن سکتا ہے۔ دنیا میں جب ضلالت اور گمراہی اور بے دینی پھیل سکتی ہے تو نبی کیوں نہیں آ سکتا۔ جس جس وقت ضلالت اور گمراہی پھیلتی رہی ہے اور لوگ خدا تعالیٰ کو بھلا دیتے رہے ہیں اور فسق و فجور میں پھنس جاتے رہے ہیں۔ اسی وقت نبی آتا رہا ہے۔ اسی طرح اب بھی جب ایسا ہو گا کہ دنیا خدا تعالیٰ کو چھوڑ دے گی آنحضرت ﷺ کو بھلا دے گی اور گند اور پلیدیوں میں مبتلا ہو جائے گی اس وقت نبی آئے گا اور ضرور آئے گا۔ لیکن وہ کوئی اور شریعت نہیں لائے گا بلکہ آنحضرت ﷺ ہی کی شریعت کو پھیلائے گا۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ کوئی نبی آئے اور آنحضرت ﷺ کے سوا کوئی اور شریعت لائے کیونکہ آپ کی شریعت قیامت تک کے لئے ہے اس لئے جو نبی بھی آئے گا اسی کے اندر آئے گا اور اسی کو آکر پھیلائے گا۔ آنحضرت ﷺ حضرت موسیٰؑ کے بعد اس لئے شریعت لے کر آئے کہ ان کی لائی ہوئی شریعت باقی نہ رہی تھی۔ یعنی ان کی لائی ہوئی شریعت کو لوگوں نے اس طرح بگاڑ دیا تھا کہ کوئی اس پر عمل کر کے خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ پس ان کی شریعت کو آنحضرت ﷺ نے مٹا دیا اور ان کی شریعت میں جو نقص پیدا ہو گئے تھے ان کو دور کر دیا اور دنیا کے سامنے ایک ایسی شریعت پیش کی جس میں کبھی نقص نہیں آسکتا۔ غرض نئی شریعت کی ضرورت پہلی شریعت کے خراب ہو جانے یا ضائع ہو جانے یا نئی ضروریات پیدا ہو جانے پر ہوتی ہے اور اگر کوئی شریعت ایسی آجائے کہ اس میں یہ تینوں نقص پیدا نہ ہوں تو اس کے بعد کسی جدید شریعت کی ضرورت نہ رہے گی چنانچہ قرآن کریم ایسی ہی کتاب ہے جس میں کامل شریعت آئی ہے اور جو ہر ایک نقص سے محفوظ ہے۔ پس اس کے بعد کوئی شریعت نہیں لیکن نبی کی ضرورت کو کامل شریعت نہیں روک سکتی۔

اور اگر کوئی شخص کہے کہ رسول کریم ﷺ کے بعد نبی نہیں آسکتا تو میں کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعودؑ آنحضرت ﷺ کے بعد نہیں آئے کیا نبی کریمؐ کی نبوت اور آپ کی حکومت ختم ہو گئی ہے کہ کہا جائے کہ مرزا صاحب آپ کے بعد آئے ہیں مرزا صاحب کی نبوت تو نبی کریمؐ کی نبوت کے اندر ہے۔ کیا اندر کی چیز کو باہر کی کہا جاتا ہے۔ مثلاً ایک مکان میں کچھ آدمی بیٹھے ہوں تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ مکان سے باہر ہیں۔ بلکہ یہی کہیں گے کہ مکان کے اندر ہیں۔ پس جب حضرت مرزا صاحب بھی آنحضرت ﷺ کے اندر ہیں تو پھر انہیں بعد میں آنے والا کیوں قرار دیا جائے۔

آنحضرتؐ کی ہتک نہیں بلکہ عزت ہے

ہمارے مخالفین کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کا آنا خواہ وہ آپ کے فیض سے ہی کیوں نہ نبی بنے آپ کی ہتک ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ ان لوگوں کا یہ کہنا آنحضرت ﷺ کی ہتک ہے کیونکہ نبوت تو خدا تعالیٰ کی رحمت ہے جو وہ اپنے بندوں پر نازل کیا کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ وہ رسول ہیں جو سارے جہان کے لئے رحمت ہو کر آئے تھے۔ لیکن آپ کے آنے پر کہا جاتا ہے کہ اب خدا تعالیٰ نے وہ سارے فیض بند کر دیئے ہیں جو آپ سے پہلے اپنے بندوں پر کیا کرتا تھا۔ آپ سے پہلے تو نبی بھیجتا تھا۔ جو اس کی طرف گرتا اسے اٹھاتا تھا۔ جو اس کی طرف جھکتا اسے پکڑتا تھا۔ جو اس کے آگے گڑگڑاتا اسے چپ کراتا تھا۔ اور جو اس کی پوری پوری اطاعت اور فرمانبرداری کرتا اسے نبی بناتا تھا۔ لیکن (نعوذ باللہ) اب ایسا بخیل ہو گیا ہے کہ خواہ کوئی کتنا ہی روئے چلائے اور کتنے ہی اعمالِ صالحہ کرے اس نے کہہ دیا ہے کہ اب میں کسی کو منہ نہ لگاؤں گا اور اگر لگاؤں گا تو ادنیٰ درجہ پر رکھوں گا پورا نبی کبھی نہیں بناؤں گا۔

اب بتاؤ آنحضرتﷺ کی یہ ہتک ہے کہ آپ کی امت سے کوئی نبی نہیں بن سکتا یا یہ کہ آپ کے فیض سے آپ کی امت میں سے بھی نبی بن سکتا ہے۔ بڑے تعجب کی بات ہے کہ ایک انسان جو تمام جہان کے لئے رحمت اور فضل ہو کر آتا ہے اس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ اس نے آکر خدا تعالیٰ تک پہنچنے کی تمام راہوں کو بند کر دیا ہے اور آئندہ نبوت تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن میں کہتا ہوں نبوت رحمت ہے یا زحمت اگر رحمت ہے تو آنحضرتﷺ کے بعد بند کیوں ہو گئی آپ کے بعد تو زیادہ ہونی چاہئے تھی آپ تو ایک بہت بڑے درجہ کے نبی تھے اس لئے آپ کے بعد جو نبی آتا وہ بھی بڑے درجہ کا ہونا چاہئے تھا نہ یہ کہ کوئی نبی ہی نہ بن سکتا۔

دیکھو! دنیا میں مدرسے ہوتے ہیں۔ لیکن کسی مدرسہ والے یہ اعلان نہیں کرتے کہ ہمارے مدرسہ میں اپنے لڑکوں کو بھیجو کیونکہ ہمارے مدرسہ کے استاد ایسے لائق ہیں کہ ان کے پڑھائے ہوئے لڑکے ادنیٰ درجہ پر ہی پاس ہوتے ہیں۔ لیکن کتنے تعجب کی بات ہے کہ آنحضرتﷺ کی شان بلند ثابت کرنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ چونکہ آپ کے شاگرد ادنیٰ درجہ پر پاس ہوتے ہیں اس لئے آپ کی بڑی شان ہے۔ لیکن آنحضرتﷺ کی شان پر یہ ایک ایسا زبردست حملہ ہے کہ جو ابھی تک کسی عیسائی یا آریہ نے بھی نہیں کیا۔ کیونکہ وہ درحقیقت آپؐ سے دشمنی رکھتے ہیں اور آپؐ کو رحمت نہیں بلکہ زحمت سمجھتے ہیں لیکن یہ آپؐ کو رحمت سمجھ کر پھر یہ درجہ دیتے ہیں۔ اور وہ جو دوسروں کے درجہ کو بڑھانے آیا تھا اس کے درجہ کو گھٹاتے ہیں۔ مگر ہم رسول کریمﷺ کی اس ہتک کو ایک منٹ کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم حضرت مرزا صاحب کو نبی کہیں گے تو لوگ ہماری مخالفت کریں گے اور ہمیں دکھ دیں گے۔ میں کہتا ہوں حضرت مرزا صاحب کو نبی نہ کہنے میں آنحضرتﷺ کی سخت ہتک ہے جس کو ہم کسی مخالفت کی وجہ سے برداشت نہیں کر سکتے۔ وہ تو مخالفت سے ڈراتے ہیں لیکن اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا تُو جھوٹا ہے کذّاب ہے آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔ کیونکہ آنحضرت کی شان ہی ایسی ہے کہ آپ کے ذریعہ سے نبوت حاصل ہو سکتی ہے۔ آپ نے رحمۃ للعالمین ہو کر رحمت کے دروازے کھول دیئے ہیں اس لئے اب ایک انسان ایسا نبی ہو سکتا ہے جو کئی پہلے انبیاء سے بھی بڑا ہو مگر اس صورت میں کہ آنحضرت کا غلام ہو۔

ہمارے لئے کتنی عزت کی بات ہے کہ قیامت کے دن تمام نبی اپنی اپنی امتوں کو لے کر کھڑے ہوں گے اور ہم کہیں گے کہ ہمارے نبی کی وہ شان ہے کہ آپ کا غلام ہی ہمارا نبی ہے۔ لیکن مسلمان کہتے ہیں کہ ہمارے لئے وہی مسیح آئے گا جو بنی اسرائیل کے لئے آیا تھا۔ اگر وہی آیا تو یہ قیامت کے دن کیا کہیں گے کہ ہمارے نبی آنحضرت کی وہ شان ہے کہ آپ کی امت کی اصلاح کے لئے بنی اسرائیل کا ہی ایک نبی آیا تھا۔ اس بات کو سوچو اور غور کرو کہ آنحضرت کی ہتک تم کر رہے ہو یا ہم۔ آنحضرت کی اسی میں عزت ہے کہ آپ کی امت میں سے کسی کو نبی کا درجہ ملے نہ کہ بنی اسرائیل کا کوئی نبی آپ کی امت کی اصلاح کے لئے آئے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اسی لئے فرمایا کہ

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

اس سے بہتر غلامِ احمدؐ ہے

یعنی ابن مریم کا تم کیوں انتظار کر رہے ہو مجھے دیکھو کہ میں احمدؐ کا غلام ہو کر اس سے بڑھ کر ہوں۔ کوئی کہے کہ اس شعر میں مرزا صاحب کہتے ہیں کہ میں غلام احمد ہوں اس لئے آپ کا ہی نام ہوا۔ میں کہتا ہوں کون مسلمان ہے جو اپنے آپ کو غلام احمد نہیں کہتا۔ ہر ایک سچا مسلمان اور مؤمن یہی کہے گا کہ میں احمدؐ کا غلام ہوں۔ اسی طرح حضرت صاحب نے فرمایا ہے۔ چنانچہ آپ ایک اور جگہ فرماتے ہیں۔

کرامت گرچہ بے نام و نشان است

بیانگر ز غلمانِ محمدؐ

اب اس شعر سے کوئی احمق ہی یہ نتیجہ نکالے گا کہ جس شخص کا نام غلام محمدؐ ہو وہ کرامت دکھا سکتا ہے۔ پس پہلے شعر میں صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ آنحضرت کا ایک غلام مسیح سے بہتر ہو سکتا ہے۔

غرض کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کے بعد کوئی نبی نہ آئے تو اس طرح آپ کی تعریف ہوتی ہے لیکن یہ عجیب تعریف ہے۔ مثلاً ایک مدرس کی یوں تعریف کی جائے کہ اس کے پڑھائے ہوئے لڑکے کبھی پاس نہیں ہوتے بلکہ فیل ہی ہوتے ہیں اور اگر پاس بھی ہوتے ہیں تو بہت ادنیٰ درجہ پر۔ کیا یہ اس کی تعریف ہوگی اور اس سے اس کی عزت بڑھے گی۔ یہ تو اس پر ایک بہت بڑا حملہ ہوگا۔ اسی طرح مسلمان کہتے ہیں کہ بیشک آنحضرت ﷺ تمام انبیاء کے سردار ہیں تمام سے بلند درجہ رکھتے ہیں اور تمام سے کمالات میں بڑھے ہوئے ہیں لیکن اس کا ثبوت یہ دیتے ہیں کہ آپ کے شاگرد کبھی اعلیٰ درجہ نہیں پاتے۔ اور اس طرح رسول کریم ﷺ کی سخت ہتک کرتے ہیں۔ لیکن باوجود اس کے ہم پر الزام دیتے ہیں کہ تم آنحضرت ﷺ کی ہتک کرتے ہو۔ لیکن درحقیقت وہ آپ کی ہتک کر رہے ہیں۔ اور وہ جو رحمتہ للعالمین ہے اس کو عذاب للعالمین ثابت کرتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا فخر ہے کہ ہم آنحضرت ﷺ کی سچی عزت اور تعریف کرتے ہیں۔ اور ہم عیسائیوں کو کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی وہ عزت ہے کہ اس کا غلام بھی تمہارے نبیوں سے بڑھ کر ہے۔ لیکن دوسرے لوگوں کو یہ فخر حاصل نہیں ہے۔ بھلا بتلاؤ ایک بادشاہ کا درجہ بڑا ہوتا ہے یا شہنشاہ کا۔ ہر ایک جانتا ہے کہ شہنشاہ کا درجہ بڑا ہوتا ہے۔ تو رسول اللہ کی نسبت خیال کرو کہ ہم آپ کی یہ شان بیان کرتے ہیں کہ آپ کی غلامی میں نبی آئیں گے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ دوسرے تمام نبی بادشاہ کی مانند ہیں اور آنحضرت ﷺ شہنشاہ۔ کیونکہ آپ کے فیض سے نبی بن سکتے ہیں۔ یہی تو آپ کی عزت ہے جو خدا تعالیٰ نے خاتم النّبیّٖن کے الفاظ میں بیان فرمائی ہے۔ آپ انبیاء کی مہر ہیں جس پر آپ کی مہر لگی وہی نبی ہوگا۔

اس مسئلہ کے متعلق خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت سے دلائل دیئے جاسکتے ہیں لیکن اس وقت بیان کرنے کا موقعہ نہیں مگر یہ بات خوب یاد رکھو کہ یہ ماننا کہ آنحضرت ﷺ کے فیض سے آپ کے بعد نبی ہو سکتا ہے آپ کی ہتک نہیں بلکہ عزت ہے اور یہ آپ پر حملہ نہیں بلکہ آپ کی شان کو بلند کرنا ہے۔ ہاں یہ کہنا ہتک ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا یہ ایک حیرانی کی بات ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے جو رسول آئے ان کے ماننے والوں نے ان کو وہ درجہ دے دیا۔ جو خدا تعالیٰ نے ان کو نہ دیا تھا لیکن آج ایسے بدبخت ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺ کو مانتے ہیں مگر آپ کو خدا تعالیٰ نے جو درجہ دیا تھا وہ بھی چھین لینا چاہتے

ہیں۔ مسئلہ رسالت کے متعلق میں اس وقت اسی قدر کہنا کافی سمجھتا ہوں۔ اور اب دوسرے امور کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جو آپ لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اور وہ بھی بہت ضروری ہیں۔ نبوت کے مسئلہ کے متعلق تو بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ اور ابھی اور بھی لکھا جائے گا۔ اور جب تک خدا تعالیٰ اس روک کو ہمارے رستہ سے دور نہ کر دے گا لکھا ہی جائے گا۔ لیکن ہمیں اس بات کا بہت افسوس ہے کہ ہم تو دشمنانِ اسلام پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر پیچھے گھر سے ہی ڈنڈا لے کر مارنے والے کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پہلے ہم سے لڑ لو تو پھر کسی اور سے لڑنا۔ گو ہم مانتے ہیں کہ ان کا یہ سلوک ہمارے ہی گناہوں کا نتیجہ ہے تاہم وہ دن قریب آگئے ہیں جبکہ ہمارے راستہ میں کوئی روک نہیں ہوگی اور ہم خدا کے دین کو آسانی سے پھیلاتے جائیں گے۔

تحصیلِ علم

تیسری بات جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔ وہ علم کا حصول ہے۔ علم اور جہالت میں بہت بڑا فرق ہے۔ جس طرح ایک اندھے اور سوجاکھے میں فرق ہے۔ اسی طرح عالم اور جاہل میں فرق ہے۔ جس طرح ایک اندھا نہیں جانتا کہ میں نجاست میں ہاتھ ڈال رہا ہوں یا کسی لذیذ اور مزیدار کھانے میں۔ سانپ پکڑ رہا ہوں یا کوئی نہایت نرم اور ملائم چیز۔ اسی طرح جہالت کی وجہ سے انسان بہت بری بری حرکتیں کرتا ہے اور نہیں سمجھتا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ اس لئے تباہ ہو جاتا ہے۔ دیکھو وہ لوگ جنہوں نے جہالت کی وجہ سے خدا تعالیٰ کو نہ سمجھا وہ خدا اور انسان میں فرق نہ کر سکے۔ پھر کیا تم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جو خود پتھر تراشتے ہیں اور خود ہی ان کے آگے گرتے اور سجدہ کرتے ہیں۔ پھر ایسے بھی فرقے ہیں جو جہالت میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ عورتوں کو ننگا کر کے ان کی شرمگاہوں کی پرستش کرتے ہیں اور اس کو بہت بڑی عبادت سمجھتے ہیں۔ پھر ایسے بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی اپنی ماں سے زنا کر لے تو وہ سیدھا بہشت میں چلا جاتا ہے۔ البتہ اس میں وہ ایک شرط بتاتے ہیں کہ انسان ایسا کر کے پھر اس کو مخفی رکھے اور کسی کو اس کا پتہ نہ لگنے دے۔ شاید تم کو یہ سن کر تعجب ہو گا کہ کیا ایسے انسان بھی دنیا میں ہوتے ہیں لیکن یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ لاہور، امرتسر اور دہلی وغیرہ شہروں میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں۔ پھر ایسے لوگ بھی ہیں جو قبروں سے مردوں کی لاشیں نکال کر کھانا بہت ثواب کا کام سمجھتے ہیں۔ غرض جہالت انسان کو بہت دور پھینک دیتی ہے اور جاہل انسان نہ خدا کو پا سکتا ہے اور نہ دنیا حاصل کر سکتا ہے نہ تمدن میں بڑھ سکتا ہے نہ تجارت میں فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ پس علم کو حاصل کرنا اور جہالت سے نکلنا بہت ضروری ہے۔ ہماری جماعت تو خدا تعالیٰ کی پیاری جماعت ہے اور آنحضرت ﷺ ہی کی جماعت کے مشابہ ہے کیونکہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم اس قوم کے وارث ہو جن کے اہل قوم شر اور فساد میں سب سے بڑھے ہوئے تھے۔ ڈاکہ ، چوری ، راہزنی میں مشہور عام تھے فسق و فجور میں لاثانی تھے۔ انسان کا قتل کر دینا ان کے لئے کوئی بات ہی نہ تھی۔ ماؤں سے شادی کر لیتے تھے۔ علم و تہذیب سے بالکل نا آشنا تھے۔ غرضکہ ہر ایک قسم کی خرابی اور جہالت میں گرفتار تھے۔ لیکن ان میں سے نکل کر ان لوگوں نے ایسا پلٹا کھایا کہ یا تو جاہل تھے یا تمام دنیا کے استاد بن گئے اور ایسے استاد بنے کہ اس زمانہ کے جو عالم تھے ان سے اقرار کرایا کہ ہم جاہل ہیں۔ اور یا تو فسق و فجور میں مبتلا تھے یا خدا رسیدہ اور خدا نما ہو گئے۔ اور یہ وہ قوم تھی جو تھوڑے سے عرصہ میں بجلی کی طرح کوند کر جہاں گرتی وہاں کی سب چیزوں کو بھسم کر دیتی۔ اور ایسی مہذب بنی کہ تمام دنیا کے مہذبوں کو اس کے سامنے زانوئے ادب خم کرنا پڑا۔ پھر ان میں وہ قدرت اور روشنی پیدا ہو گئی کہ بہت دور دور کی چیزوں تک ان کی نظر پہنچتی۔ اور خدا تعالیٰ کی معرفت کے باریک در باریک راز پا گئی۔ اور ایک ایسی قوم بن گئی کہ دنیا کی کوئی قوم اس سے مقابلہ نہ کر سکی۔ کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ اونٹوں کے چرانے والا ایک شخص عظیم الشان بادشاہ بن گیا اور صرف دنیاوی بادشاہ نہیں بلکہ روحانی بھی۔ یہ حضرت عمرؓ تھے جو ابتدائے عمر میں اونٹ چرایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ آپ حج کو گئے۔ تو راستہ میں ایک مقام پر کھڑے ہو گئے۔ دھوپ بہت سخت تھی جس سے لوگوں کو بہت تکلیف ہوئی لیکن کوئی یہ کہنے کی جرأت نہ کرتا کہ آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں۔ آخر ایک صحابی کو جو حضرت عمرؓ کے بڑے دوست تھے اور جن سے آپ فتنہ کے متعلق پوچھا کرتے تھے لوگوں نے کہا کہ آپ ان سے پوچھیں کہ یہاں کیوں کھڑے ہیں۔ انہوں نے حضرت عمرؓ سے عرض کیا کہ آگے چلئے یہاں کیوں کھڑے ہو گئے ہیں۔ فرمایا کہ میں یہاں اس لئے کھڑا ہوا ہوں کہ ایک دفعہ میں اونٹ چرانے کی وجہ سے تھک کر اس درخت کے نیچے لیٹ گیا تھا میرا باپ آیا اور اس نے مجھے مارا کہ کیا تجھے اس لئے بھیجا تھا کہ وہاں جا کر سو رہنا۔ تو ایک وقت میں میری یہ حالت تھی۔ لیکن میں نے رسول کریم کو قبول کیا تو خدا تعالیٰ نے مجھے یہ درجہ دیا کہ آج اگر لاکھوں آدمیوں کو کہوں تو وہ میری جگہ جان دینے کے لئے تیار ہیں (طبقات ابن سعد جلد ۳ حصہ ۱ مطبوعہ لندن صفحہ ۱۴۱۲۱؎) اس واقعہ سے اور نیز اس قسم کے اور بہت سے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہؓ کس حالت میں تھے اور رسول کریمؐ کی اتباع سے ان کی کیا حالت ہو گئی۔ اور انہوں نے وہ درجہ اور علم پایا جو کسی کو حاصل نہ تھا۔ یہ قصہ میں نے اس لئے سنایا ہے کہ دیکھو ایک اونٹ چرانے والے کو دین اور دنیا کے وہ وہ علم سکھائے گئے جو کسی کو سمجھ نہیں آسکتے۔ ایک طرف اونٹ یا بکریاں چرانے کی حالت کو دیکھو کہ کیسی علم سے دور معلوم ہوتی ہے۔ اور دوسری طرف اس بات پر غور کرو کہ اب بھی جبکہ یورپ کے لوگ ملک داری کے قوانین سے نہایت واقف اور آگاہ ہیں حضرت عمرؓ کے بنائے ہوئے قانون کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایک اونٹ کا چرواہا اور سلطنت کیا تعلق رکھتے ہیں لیکن دیکھو کہ انہوں نے وہ کچھ کیا کہ آج دنیا ان کے آگے سر جھکاتی اور ان کی سیاست دانی کی تعریف کرتی ہے۔ پھر دیکھو حضرت ابوبکرؓ ایک معمولی تاجر تھے۔ لیکن اب دنیا حیران ہے کہ ان کو یہ فہم یہ عقل اور یہ فکر کہاں سے مل گیا۔ میں بتاتا ہوں کہ ان کو قرآن شریف سے سب کچھ ملا۔ انہوں نے قرآن شریف پر غور کیا اس لئے ان کو وہ کچھ آگیا جو تمام دنیا کو نہ آتا تھا کیونکہ قرآن شریف ایک ایسا ہتھیار ہے کہ جب اس کے ساتھ دل کو صیقل کیا جائے تو ایسا صاف ہو جاتا ہے کہ تمام دنیا کے علوم اس میں نظر آجاتے ہیں اور انسان پر ایک ایسا دروازہ کھل جاتا ہے کہ پھر کسی کے روکے وہ علوم جو اس کے دل پر نازل کئے جاتے ہیں نہیں رک سکتے۔ پس ہر ایک انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن کو پڑھنے اور غور کرنے کی کوشش کرے۔ دیکھو دنیا کے علوم کے لئے کس قدر محنت اور روپیہ خرچ کیا جاتا ہے۔ آپ لوگ خوب جانتے ہیں کہ بچوں کی پڑھائی کے لئے کس قدر روپیہ خرچ کر کے ان کو اس محنت اور مشقت پر لگایا جاتا ہے۔ جب دنیا کے علم کے لئے اس قدر کوشش کی جاتی ہے۔ تو دین کے علم کے لئے کتنی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ عالم اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے جیسا کہ فرمایا قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَالَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ(الزمر: ۱۰) کہہ دے کہ کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں ان کے برابر ہو سکتے ہیں جو علم سے بے بہرہ ہیں یعنی یہ دونوں ہرگز برابر نہیں ہو سکتے۔ اور آنحضرت فرماتے ہیں کہ عالم جو عابد ہو وہ جاہل عابد سے بڑھ کر ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ كَفَضْلِیْ عَلٰی اَدْنَاكُمْ(ترمذی ابواب العلم)۳ یعنی عالم (جو عابد بھی ہو) کو عابد (جو عالم نہ ہو) پر اسی قدر فضیلت ہے جس قدر کہ مجھے تم میں سے ادنٰی سے ادنٰی انسان پر فضیلت ہے۔

ہماری جماعت جس نے خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے ہاتھ پر دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا ہے میں اس سے پوچھتا ہوں کہ کیا اسے قرآن شریف کے پڑھنے کے لئے کوشش کرنی چاہئے یا نہیں۔ اس وقت دنیا کے علوم سیکھنے میں جو قومیں لگی ہوئی ہیں ان کو دیکھو وہ کس طرح رات دن ان علوم کے سیکھنے میں صرف کرتی ہیں بعض لوگوں کا میں نے حال پڑھا ہے کہ انہوں نے بعض زبانیں بڑی بڑی عمروں میں سیکھی ہیں چنانچہ ایک انگریز کی نسبت لکھتے ہیں کہ اس نے ستر سال کی عمر میں لاطینی زبان سیکھنے کی طرف توجہ کی اور خوب اچھی طرح سے اسے سیکھ لیا پھر آپ لوگ جو دین کی خدمت کے لئے اور قرب الٰہی کے حاصل کرنے کے لئے کمربستہ ہوئے ہیں آپ کو اس قانون کے سیکھنے کی طرف کس قدر توجہ کرنی چاہئے۔ مگر غور تو کرو کہ تم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے اتنی عمر میں قرآن شریف کے پڑھنے کی کوشش کی ہے۔ قرآن شریف تو وہ کتاب ہے جس میں ایسی ایسی باتیں ہیں کہ اگر ہم ان سے واقف ہو جائیں تو اس دنیا میں بھی سکھ پا سکتے ہیں اور اگلے جہان میں بھی آرام سے رہ سکتے ہیں۔ پس کیسا غافل ہے وہ انسان جو اپنے پاس خدا تعالیٰ کی کتاب کے ہوتے ہوئے اس کو نہ پڑھے۔ دنیا میں اگر کسی کے نام چھوٹی سے چھوٹی عدالت کا سمن آئے تو اس کو بڑی توجہ سے پڑھتا ہے اور جو خود نہ پڑھ سکتا ہو وہ ادھر ادھر گھبرایا ہوا پھرتا ہے کہ کوئی پڑھا ہوا ملے تو اس سے پڑھاؤں اور سنوں کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ اور جب تک پڑھا نہ لے اسے صبر نہیں آتا۔ پھر اگر کسی کا خط آئے تو ان پڑھ چار چار پانچ پانچ دفعہ پڑھاتے پھرتے ہیں۔ اور پھر بھی ان کی تسلی نہیں ہوتی۔ لیکن تعجب ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے خط آیا ہے (کتاب کے معنی خط کے بھی ہیں) اس کو پڑھنے یا پڑھوا کر سننے کی طرف کسی کو توجہ نہیں ہوتی۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ قرآن شریف ایسا خط اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ڈاکیا اور خدا تعالیٰ جیسا خط بھیجنے والا لیکن دنیا اور غافل دنیا نے اس کی کچھ قدر نہ کی۔ ایک سات روپیہ کا چٹھی رساں اگر خط لاتا ہے تو پڑھتے پڑھاتے پھرتے ہیں لیکن خاتم الانبیاء کی لائی ہوئی کتاب کو نہیں پڑھتے۔ ایک پیسہ کے کارڈ کی عزت کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتاب کی نہیں کرتے۔ کیا قرآن شریف کی قدر ایک پیسہ کے کارڈ کے

برابر بھی نہیں ہے پھر کیوں اس کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ بیشک تم دنیا کے کام کرو۔ لیکن تمہارا یہ بھی کام ہے کہ قرآن شریف کے سیکھنے کی کوشش کرو۔ قرآن شریف میں وہ حکمت اور وہ معرفت ہے کہ اگر انسان اس پر غور کرے تو حیران ہو جائے ۔ میں تو قرآن شریف کی ایک ایک زیر اور زبر پر حیران ہو ہو جاتا ہوں۔ قرآن شریف میں بظاہر ایک لفظ ہوتا ہے لیکن بڑے بڑے مضامین ادا کرتا ہے ۔ قرآن شریف کوئی ایسی کتاب نہیں ہے کہ انسان اس کی طرف سے مونہہ موڑ لے اور توجہ نہ کرے۔ خصوصاً ہماری جماعت کا فرض ہے کہ قرآن شریف کو سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔ اس کے سیکھنے کے بہت سے طریق ہیں۔ ہماری جماعت پر خدا تعالیٰ کے بڑے فضل ہیں کہ سینکڑوں آدمی ایسے ہیں جو قرآن شریف کے معنی جانتے ہیں اور دوسروں کو پڑھا سکتے ہیں۔ غیر احمدیوں نے تو قرآن شریف کو بالکل بھلا دیا ہے اس لئے وہ کچھ نہیں جانتے بلکہ ان کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ قرآن شریف کے معنی بلا مدد تفاسیر کے کرنے کفر سمجھتے ہیں۔ چنانچہ ایک شخص نے مجھے ایک واقعہ سنایا ایک احمدی کچھ لوگوں کو قرآن سنایا کرتا تھا۔ ایک دن خطبہ میں اس نے قرآن شریف پڑھ کر مطلب بیان کیا۔ تو ایک شخص کہنے لگا کہ یہ باتیں تو بڑی اچھی کرتا ہے لیکن ہے کافر۔ اس کا کیا حق ہے کہ قرآن شریف کے معنی کرے اسے تو چاہئے تھا کہ بیضاوی دیکھتا۔ تفسیر کبیر پڑھتا۔ یہ قرآن شریف کے معنی اپنے پاس سے کیوں کر رہا ہے۔ یہ ہے غیر احمدیوں کی حالت ۔ یہی ہیں وہ لوگ جن کی نسبت قرآن شریف میں آیا ہے ۔ وَقَالَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِی اتَّخَذُوۡا ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ مَہۡجُوۡرًا(الفرقان: ۳۱)۔ کہ رسول کریم ﷺ خدا تعالیٰ سے کہیں گے کہ اے میرے رب! اس میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ دیا۔ ان کے عزیزوں کے خط آتے تو بڑے شوق اور محبت سے پڑھاتے تھے۔ لیکن قرآن جس میں تجھ تک پہنچنے کی راہیں تھیں اور تجھ سے تعلق پیدا کرنے کے طریق تھے اس کو انہوں نے نہ پڑھا باوجودیکہ پڑھانے والے ان کو پڑھاتے تھے مگر انہوں نے کوئی توجہ نہ کی اور نہ پڑھا۔ پس وہ لوگ جنہوں نے ابھی تک قرآن شریف نہیں پڑھا اور اگر پڑھا ہے تو با معنی نہیں پڑھا وہ ہوشیار ہو جائیں اور پڑھنے کی فکر میں لگ جائیں کیونکہ بے علمی کی مرض بہت بری ہے ۔ ایک بے علم شخص نماز پڑھتا ہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں۔ اسی طرح ایک جاہل انسان روزہ رکھتا ہے۔ اور سارا دن بھوکا رہتا ہے لیکن بے علمی کی وجہ سے بعض ایسی باتیں کر بیٹھتا ہے کہ جن سے روزہ کا پورا پورا

ثواب اسے حاصل نہیں ہوتا۔ اسی طرح ایک شخص زکوٰۃ دیتا ہے۔ مگر کئی ایسی باتیں ترک کر دیتا ہے جن کی وجہ سے وہ پورے ثواب سے محروم ہو جاتا ہے۔ ایسے آدمیوں کو اپنے اپنے اخلاص کا ثواب تو ملے گا۔ لیکن کیا ان کو ایسا ہی ثواب مل سکتا ہے جیسا ایک ایسے شخص کو ملے گا جو اپنے علم کی بناء پر اپنی عبادت کو تمام شرائط کے ساتھ بجالاتا ہے ہرگز نہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہر ایک انسان علم حاصل کرنے کی کوشش کرے تاکہ پورے ثواب کا مستحق ہو سکے۔ اور جب تک علم نہ ہو یہ بات حاصل نہیں ہو سکتی۔ میں نے دیکھا ہے ہماری جماعت کے بعض لوگ جو بڑے بڑے علماء بنتے ہیں اور پاک ممبر کہلاتے ہیں ان میں سے ایک شخص ایسی حالت میں جرابوں پر مسح کر کے نماز پڑھتا تھا جبکہ اس کی جراب ایسی پھٹی ہوئی تھی کہ اس کی ایڑیاں بالکل ننگی ہو گئی تھیں اور وہ غریب بھی نہ تھا بلکہ اس وقت ایک معقول تنخواہ پر ملازم تھا۔ اس کی کیا وجہ تھی یہی کہ وہ نہیں جانتا تھا کہ جرابوں پر مسح کرنے کی کیا شرائط ہیں۔ تو دین کے متعلق علم حاصل کرنا نہایت ضروری ہے۔ ممکن ہے کہ تم میں سے بہت سے لوگ یہ کہہ دیں کہ ہمیں دین کی واقفیت ہے۔ غیر احمدی ہمیں مولوی کہتے ہیں اور ہم سے مسائل پوچھتے ہیں اور عالم سمجھتے ہیں۔ لیکن میں کہتا ہوں ان کے سمجھنے سے کیا ہوتا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کی نظروں میں تم عالم نہیں ہو۔ کوئی تمہیں ہزار عالم کہے اگر خدا کی نظر میں تم اس کے دین کے عالم نہیں ہو تو کچھ نہیں ہو۔ خوب یاد رکھو کہ جب تک تم خدا تعالیٰ کے لئے علم نہ سیکھو اور اس کی نظر میں عالم نہ ٹھہرو اس وقت تک ان انعامات کے مستحق نہیں ہو سکتے جو اپنے علوم حاصل کرنے والوں کو خدا تعالیٰ دیا کرتا ہے۔ صحابہؓ پڑھے ہوئے لوگ نہ تھے بلکہ بعض تو ان میں سے اپنا نام بھی نہیں لکھ سکتے تھے۔ لیکن دین کی ان میں ایسی محبت تھی کہ رسول کریم ﷺ سے باتیں سن کر نہایت احتیاط سے یاد کر لیتے تھے اور جو خود نہ سنتے وہ دوسروں سے پوچھ کر حفظ کر لیتے۔ اس بات کی کوئی پرواہ نہ کرتے کہ اپنے سے چھوٹا بات بتا رہا ہے یا بڑا۔ اگر کسی چھوٹے کی نسبت بھی سنتے کہ اس کو فلاں بات یاد ہے تو اس تک پہنچتے اور اس سے سن کر یاد کر لیتے۔ وہ جب تک رسول کریمؐ کی بات سن نہ لیتے انہیں چین نہ آتا تھا۔ لیکن ان کے لئے جو مشکلات تھیں وہ ہمارے لئے نہیں ہیں۔ خدا تعالیٰ کی ہزار ہزار رحمتیں ہوں محدثوں پر کہ انہوں نے ہمارے لئے بہت سی مشکلوں کو آسان کر دیا ہے حدیثیں چھپی ہوئی موجود ہیں جن کو ہر ایک شخص خرید سکتا ہے۔ قرآن شریف کا تو خدا تعالیٰ حافظ تھا اسے کون مٹا سکتا تھا وہ

موجود ہے اور اب تو چھپنے کی وجہ سے اس کا خریدنا نہایت آسان ہو گیا ہے آٹھ آٹھ آنے کو مل سکتا ہے۔ کیا اب بھی یہ مہنگا ہے یا اس کے خریدنے میں کوئی مشکل درپیش ہے ہرگز نہیں۔ پس آپ لوگوں کو میں نصیحت کرتا ہوں اور میرا فرض ہے کہ تمہیں نصیحت کروں کیونکہ میں اگر نہ کروں تو گنہگار ہوں گا کہ آپ لوگ قرآن شریف پڑھیں۔ حدیث کی کتابوں کو پڑھیں حدیثوں کے ترجمے ہو گئے ہیں۔ وہ لوگ جو عربی نہیں پڑھ سکتے وہ ترجمہ دیکھ کر پڑھ لیا کریں۔ پھر حضرت مسیح موعودؑ کی اردو کتابیں ہیں ان کو پڑھیں۔ آج ہم میں جو یہ اتنا بڑا جھگڑا پیدا ہو گیا ہے تو اس کی یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں نے حضرت صاحب کی کتابوں کے پڑھنے کی طرف توجہ نہیں کی اور ان کا پڑھنا ضروری نہیں سمجھا۔ اور اگر پڑھا تو اس وقت پڑھا جبکہ ان کے دل میں یہ بیٹھ چکا تھا کہ اگر ہم نے غیر احمدیوں میں حضرت صاحب کا ذکر کیا تو وہ ناراض ہو جائیں گے اور چندہ نہیں دیں گے۔ اگر یہی لوگ پہلے پڑھتے تو کبھی گمراہ نہ ہوتے۔ پس حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کا پڑھنا بھی نہایت ضروری ہے۔ اگر وہ لوگ بھی حضرت صاحب کی کتابیں پڑھتے تو کبھی گمراہ نہ ہوتے۔

آپ لوگوں کے لئے علم پڑھنے کے کئی ذرائع ہیں۔ اول یہ کہ جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے ہر مہینہ میں ایک یا دو یا تین دفعہ یہاں آئیں اور قرآن شریف پڑھیں۔ اور یہ مت خیال کریں کہ اس طرح تو بہت عرصہ میں جا کر قرآن کریم ختم ہو سکے گا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی نیک کام کا ارادہ کر لے اور اس کے کرنے سے پہلے مر جائے تو خدا تعالیٰ اس کا اجر اسی طرح دیتا ہے جس طرح کہ گویا اس نے وہ کام کر ہی لیا۔ پس تم میں سے اگر کوئی یہ ارادہ کر لے گا۔ اور خدانخواستہ فوت ہو جائے گا تو اس کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا اس شخص کو ملے گا جس نے قرآن کریم بھی ختم کر لیا۔ تم خدا کے لئے وقت نکالو اور یہاں آکر اس کے احکام سیکھو۔ اگر کوئی ملازم ہیں تو چھٹی لے کر آئیں اور علم دین کو پڑھیں۔ اور جو اُن پڑھ ہیں وہ پڑھنا سیکھیں اور اگر نہیں پڑھ سکتے یعنی حافظہ کمزور ہے تو دوسروں کی زبانی سنیں۔ صحابہؓ میں سے ایسے لوگ بھی تھے جو بہت کچھ زبانی یاد رکھتے تھے۔ اور بلا اس کے کہ ان کو لکھنا پڑھنا آئے دین کے پورے عالم تھے اور یہ مشکل بات نہیں حافظ روشن علی صاحب نے سب علم زبانی سن کر ہی حاصل کیا ہے اور بہت بڑے عالم ہیں۔ انہوں نے اسی طرح علم پڑھا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کتاب پڑھتے جاتے اور وہ سنتے جاتے۔ اسی طرح انہوں نے سارا علم

پڑھا ہے۔ پس خواہ کوئی کتنی عمر کا ہو اور اس کو لکھنا پڑھنا بھی نہ آتا ہو تب بھی اگر وہ کوشش کرے تو علم دین سیکھ سکتا ہے۔ میں نے ان مشکلات کے دور کرنے کے لئے جو قرآن شریف پڑھنے والوں کو پیش آتی ہیں کچھ تدابیر کی ہیں۔ جو امید ہے انشاء اللہ مفید ثابت ہونگی۔ پہلی یہ تدبیر کی ہے کہ قرآن شریف کے پہلے پارہ کا اردو میں ترجمہ کروا کے چھپنے کے لئے بھیج دیا ہے جو انشاء اللہ کل تک تیار ہو کر آجائے گا (آگیا تھا) اس ترجمہ کے ذریعہ انشاء اللہ قرآن کریم کے تیسویں حصہ کے سمجھنے کے قابل تو انشاء اللہ ہماری جماعت کے لوگ ہو جائیں گے۔ دوسری تدبیر میں نے یہ کی ہے کہ قرآن شریف کے متعلق ایسے سبق تیار کرائے ہیں کہ جن کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی۔ وہ بھی کل پرسوں تک تیار ہو جائیں گے اور جو پرسوں تک ٹھہریں گے وہ لے سکیں گے اور جو نہیں ٹھہریں گے وہ منگوا سکتے ہیں۔ جو لوگ ان اسباق کو پڑھنا چاہیں وہ اپنے نام اور پتے دفتر ترقی اسلام میں لکھوا دیں۔ ان اسباق میں یہ انتظام کیا گیا ہے کہ ہر لفظ کے معنی علیحدہ علیحدہ لکھ دیئے ہیں۔ مثلاً بِسْمِ اللهِ لکھ کر اس کی یوں تشریح کر دی ہے کہ ب کے معنی ساتھ۔ اسم کے معنی نام۔ اور اللہ ایک ایسی ذات کا نام ہے جو تمام نقصوں سے پاک اور تمام خوبیوں کی جامع ہے۔ اسم ذات ہے۔

امید ہے کہ اگر کوئی ان اسباق کو چار پانچ پارے تک پڑھ لے گا۔ تو سارا قرآن پڑھ سکے گا۔ ان اسباق کو نمونے کے طور پر پہلے میں نے خود لکھا اور پھر شیخ عبد الرحمن صاحب مصری کو دیا۔ انہوں نے فی الحال سورۃ فاتحہ کے سبق لکھے ہیں۔ ان اسباق کے ساتھ یہ بھی تجویز کی ہے کہ پڑھنے والوں کے ہوشیار کرنے کے لئے ان کے ساتھ سوالات بھی لکھے گئے ہیں جن کا جواب لکھ کر بھیجنا ہر ایک طالب علم کا فرض ہو گا۔ مثلاً بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کا سبق ختم ہونے کے بعد ایسے سوال دے دیئے گئے ہیں کہ رَحْمٰن کے کیا معنی ہیں اَلْ کے کیا معنی ہیں۔ اور ان سوالوں کے جواب دینے کے لئے یہ شرط ہے کہ سبق دیکھنے کے بغیر ان کا جواب دیا جائے۔ جواب کے پرچے تمام طالب علموں کو یہاں بھیجنے ہوں گے۔ اور یہاں ایک استاد ان کو درست کر دے گا۔ اور انہیں لکھ دے گا کہ تم نے فلاں فلاں غلطی کی ہے جو درست کر دی ہے۔ اس طرح ہماری ساری جماعت کے لوگ جہاں جہاں بھی ہوں گے وہیں قرآن شریف سیکھ لیں گے۔ ہمارا کام ہے کہ چیز تیار کر کے قوم کو دے دیں آگے جس کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ فائدہ اٹھائے۔ ہم کسی کو زبردستی نہیں سکھا سکتے اس لئے جس کا دل چاہتا ہے خدا تعالیٰ کی

باتوں کو سیکھے آنحضرت کی باتوں سے واقف ہو اور حضرت مرزا صاحب کی باتوں سے آگاہ ہو۔ ہم اپنی طرف سے ایسے لوگوں کے لئے آسانی بہم پہنچانے کی حتی الوسع کوشش کریں گے۔ ۱؎ قرآن شریف کا ایک تو وہ ترجمہ ہو گا جس میں نوٹ اور ترجمہ ہو گا لیکن یہ علیحدہ ہو گا جس میں الگ الگ الفاظ کے معنی لکھے جائیں گے۔ اس سے آئندہ انشاء اللہ بہت آسانیاں پیدا ہو جائیں گی۔ موجودہ صورت میں قرآن شریف کے با ترجمہ پڑھنے میں بہت سی مشکلات ہیں۔ مثلاً اَلْ ایک لفظ ہے جس کے معنی خاص کے ہیں۔ یہ جس لفظ پر آئے اس کے معنوں کو خاص کر دیتا ہے یہ حرف قرآن کریم میں سینکڑوں جگہ پر آتا ہے لیکن چونکہ یہ حرف جب آتا ہے دوسرے حرف سے مل کر آتا ہے۔ اس لئے عربی زبان سے ناواقف انسان ہر جگہ استاد کا محتاج ہوتا ہے لیکن اگر کسی کو ان کے معنی الگ بتا دیئے جائیں تو اس ایک حرف سے اسے گویا سینکڑوں مقامات آسان ہو جائیں گے۔ اب یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص مثلاً قَادِرٌ کے معنی جانتا ہے مگر جب اَلْقَادِرُ آ جائے تو وہ کوئی اور لفظ سمجھنے لگ جاتا ہے۔ پس جب اسے اَلْ کے معنی معلوم ہوں گے تو جہاں بھی اور جس لفظ پر بھی یہ آئے گا۔ اس کے معنی وہ خود کر لے گا۔ اور اس طرح ایک لفظ کے معنی جاننے سے اسے سینکڑوں الفاظ آ جائیں گے۔

دوسری تجویز یہ ہے کہ جیسا میں نے ۱۲۔ اپریل ۱۹۱۴ء کے جلسہ میں بتایا تھا۔ خاص خاص مسائل پر چھوٹے چھوٹے ٹریکٹ لکھے جائیں تاکہ عام لوگ ان کو پڑھ کر مسائل دین سے پوری طرح واقف ہو جائیں تا ایسا نہ ہو کہ بعض پاک ممبر کہلانے والوں کی طرح ان کی جرابیں ایڑیوں سے پھٹی ہوئی ہوں اور انہیں کوئی پرواہ نہ ہو۔ انہی پاک ممبر کہلانے والوں میں سے میں نے ایک کو دیکھا ہے کہ ایک ٹانگ پر بوجھ ڈالے اور دوسری کو ڈھیلا چھوڑے نماز پڑھا کرتا تھا۔ اور ایک دیوار سے ٹیک لگا کر پڑھتا تھا وجہ یہ کہ اس نے حضرت صاحب کو اس طرح پڑھتے دیکھا تھا۔ حالانکہ آپ بیمار تھے اور بعض دفعہ یک لخت آپ کو دورانِ سر کا دورہ ہو جاتا تھا۔ جس سے گرنے کا خطرہ ہوتا تھا اس لئے آپ ایسے وقت میں کبھی سہارا لے لیا کرتے تھے۔ ان لوگوں نے تکبر اور بڑائی کی وجہ سے باوجود حضرت مسیح موعود کی صحبت پانے کے کچھ نہ سیکھا۔ ان میں سے ایسے بھی تھے کہ حضرت صاحب کے سامنے بیٹھے ہوئے اپنی لات پر مکھیاں مار رہے ہوتے۔ اور آہاہا آہاہا کرتے۔ کوئی ادب اور کوئی تہذیب ان کو نہ ہوتی۔ میں ان کو دیکھ کر تعجب ہی کیا کرتا تھا کہ یہ کس طرح کے لوگ ہیں۔ غرض وہ خالی آئے اور خالی ہی چلے گئے۔

لیکن تم ڈرو کہ خدا تعالیٰ کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے۔ وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے احکام کی قدر نہیں کرتے اور ان کو سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ خدا تعالیٰ بھی ان کو نہیں چاہتا کہ اپنے قرب میں جگہ دے۔ پس میں نے قرآن شریف کے پڑھنے کے لئے یہ تجویزیں کی ہیں ان سے فائدہ اٹھاؤ اور کچھ حاصل کرلو۔ غرض جماعت کو علم دین سکھانے کی دوسری تدبیر ایسے ٹریکٹوں کا شائع کرنا ہے جن میں مختلف ضروری مسائل ہوں۔ فی الحال ایک رسالہ مسئلہ زکوٰۃ پر لکھا گیا ہے جو کل چھپ جائے گا (چھپ گیا ہے) اس کا آپ لوگ خوب مطالعہ کریں اور ان احکام پر عمل کرنے کی طرف متوجہ ہوں۔ زکوٰۃ کے متعلق کئی قسم کی غلط باتیں مشہور ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ صرف رجب کے مہینہ میں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ بعض کچھ اور کہتے ہیں اور پھر کئی قسم کے بہانے اور ذریعے زکوٰۃ نہ دینے کے نکالے جاتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرماتے تھے کہ ایک شخص بڑا مالدار تھا وہ جب زکوٰۃ دیتا تو اس طرح کرتا کہ ایک گھڑے میں روپے ڈال کر اوپر تھوڑے سے گندم کے دانے ڈال دیتا اور ایک غریب طالب علم کو بلا کر کہتا کہ میں نے یہ مال تمہیں دے دیا ہے تم اسے قبول کرو۔ وہ کہتا میں نے قبول کیا۔ پھر وہ اسے کہتا اس بوجھ کو کہاں اٹھا کر لے جاؤ گے۔ اس کو میرے پاس ہی بیچ دو اور دو تین روپے لے لو۔ اس طرح وہ اس کو دو تین روپے دے کر سارا مال گھر میں ہی رکھ لیتا۔ وہ آدمی خوب سمجھتا کہ اس گھڑے میں روپے ہیں لیکن اس ڈر سے کچھ نہ کہہ سکتا کہ اگر میں نے کچھ کہا تو ان دو تین روپؤوں سے بھی جاؤں گا۔ تو اس قسم کے حیلے تراشے جاتے ہیں اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ جاہل لوگ نہیں جانتے کہ زکوٰۃ دینے کی کیا شرائط ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے تو یہاں تک فرما دیا ہے کہ جو شخص کسی کو صدقہ کا مال دے وہ اس سے نہ خریدے۔ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو معلوم تھا کہ ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ لوگ روپؤوں پر گیہوں رکھ کر دھوکا دیں گے اور خود ہی خرید لیں گے۔ اس لئے فرما دیا کہ کوئی صدقہ کا مال دے کر پھر نہ خریدے۔ اگر یہ بات انہیں معلوم ہو تو کیوں ایسا کریں۔ یہ زکوٰۃ کا رسالہ بارہ صفحہ کا ہے۔ اس کو اگر آپ لوگ اچھی طرح پڑھ لیں اور یاد کرلیں تو کوئی مولوی ان مسائل کے متعلق آپ سے گفتگو کرنے کی جرأت نہیں کر سکے گا۔ یہ ٹریکٹ بہت محنت اور تحقیق سے تیار کیا گیا ہے۔ جلسہ کے قریب میں نے علماء کی ایک کمیٹی میں بیٹھ کر اور کتب حدیث وفقہ سامنے رکھ کر اس کو تیار کروایا ہے۔ پڑھنے والے کو معلوم نہیں ہو سکتا کہ فج اعوج کے زمانہ میں کسی مسئلہ کے متعلق تحقیق کرنے میں کس قدر مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔ جنہوں نے یہ کام کیا ہے وہی اس کی مشکلات کو سمجھ سکتے ہیں۔ کئی مسائل ایسے ہیں کہ آئمہ نے ابتداءً احادیث کے مرتب نہ ہونے کی وجہ سے ان میں قیاس سے کام لیا ہے لیکن ہمارے پاس احادیث نہایت مرتب صورت میں موجود ہیں پس ہمیں ان مسائل پر از سر نو غور اور تحقیق کی ضرورت ہوئی۔ اسی طرح اور بہت سی مشکلات تھیں جن کو دور کر کے یہ رسالہ تیار کیا گیا ہے جو خدا کے فضل سے بہت عمدہ تیار ہوا ہے۔ یہ رسالہ بارہ صفحات کا ہے۔ اسی طرح کے اور بھی چھوٹے چھوٹے رسائل مختلف مسائل مثلاً وراثت، طلاق، صدقہ، نکاح وغیرہ کے متعلق ہوں گے۔ پھر اسی طرح اعتقادات کے متعلق کہ خدا تعالیٰ کو ہم کیا سمجھیں عرش کیا ہے، بہشت، دوزخ، فرشتے، تقدیر وغیرہ وغیرہ کے متعلق کیا کیا اعتقاد رکھنے چاہئیں۔ اس زمانہ میں جھوٹے پیروں اور جاہل علماء نے بہت سی غلط اور بیہودہ باتیں پھیلا رکھی ہیں۔ آج ہی صوفی غلام محمد صاحب کا خط آیا ہے۔ جس میں وہ اور وہاں کے دوسرے احمدی بھائی آپ سب لوگوں کو السلام علیکم لکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے اس خط میں لکھا ہے کہ ایک شخص احمدی ہوا ہے۔ اس نے بتایا کہ میں ایک پیر کا مرید تھا پہلے میں نماز پڑھا کرتا تھا لیکن جب اس پیر کا مرید ہوا تو اس نے کہا کہ تم یہ کیا لغو حرکت کرتے ہو۔ خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِیۡدِ(ق: ۱۷) کہ ہم رگ جان سے بھی قریب تر ہیں۔ پھر تم نماز کیسی اور کس کی پڑھتے ہو۔ تم تو ہندوؤں کے پتھر کے بتوں پر ہنستے ہو اور خود اینٹوں کی بنی ہوئی مسجد کے آگے سجدے کرتے ہو۔ غرض اس طرح اس نے نماز چھڑوا دی۔ تو ایسے لوگوں نے اس قسم کی باتیں پھیلا کر دین کو بگاڑ دیا ہے۔ بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو بیماری میں کہا جائے کہ علاج کراؤ تو کہہ دیتے ہیں کہ جو خدا کی مرضی وہی ہو گا علاج سے کیا بنتا ہے۔ یہ خیالات مسئلہ تقدیر کے نہ سمجھنے کا نتیجہ ہیں۔ پس میرا منشاء ہے کہ ایسے مسائل پر عمدگی کے ساتھ چھوٹے چھوٹے رسائل لکھے جائیں اور زبانی بھی سمجھایا جائے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ اگلے جلسہ پر یا جب خدا تعالیٰ توفیق دے اور جس کو دے تقدیر اور تدبیر کے مسئلہ پر بحث کر کے بتایا جائے کہ ان دونوں کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ کہاں تک تقدیر کو دخل ہے اور کہاں تک تدبیر کو۔ اس وقت وقت نہیں ورنہ میں بتا دیتا۔ پھر ایک مسئلہ ہستی باری تعالیٰ کا ثبوت ہے اس کے متعلق میرا ایک لیکچر فیروز پور میں ہوا تھا جس کو میں ایک ٹریکٹ کی صورت میں چھپوا کر مفت شائع کر چکا ہوں جو اب بھی دفتر اخبار الفضل سے مل سکتا ہے اس میں میں نے خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت میں دس دلائل دیئے ہیں۔ ارادہ ہے کہ اسی طرح خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کے متعلق ٹریکٹ لکھے جائیں جن میں موٹی موٹی دلیلیں لکھی جائیں۔ اور باریک باتوں میں نہ پڑا جائے۔ کیونکہ بہت سے ایسے لوگ ہیں کہ جب ان پر کوئی اعتراض کر بیٹھتا ہے تو جواب نہیں دے سکتے۔ ان رسائل کو پڑھ کر انشاء اللہ وہ اس قابل ہو جائیں گے کہ کسی کے سوال کے جواب میں لا جواب نہ ہوں۔ اسی طرح نبیوں کے ثبوت میں ان کے افعال میں ان کے نشانات میں اور دعا، الہام، قیامت وغیرہ کے متعلق جو بہت ضروری باتیں ہیں، پندرہ پندرہ یا بیس بیس صفحے کے رسالے لکھے جائیں۔ جن کو لوگ جلدی سے پڑھ لیا کریں۔ اور جو مہینہ میں دو تین چار بار پڑھنے سے حفظ ہو جائیں اور جب تک کوئی دوسرا ٹریکٹ نہ نکلے۔ پہلے کو اچھی طرح یاد کر لیا جایا کرے۔

پس میں نے علم کے حاصل کرنے کے لئے چار تدبیریں بتائی ہیں۔

اول یہ کہ ہر ماہ میں ایک یا دو دفعہ قادیان آؤ اور آ کر قرآن پڑھو۔

دوم پہلا پارہ ترجمہ قرآن کا خرید و اور پڑھو۔

سوم اسباق قرآن پڑھو۔

چہارم مختلف رسائل کے ٹریکٹوں کو پڑھو اور حفظ کرو۔

ان باتوں کے علاوہ میرا ایک اور بھی ارادہ ہے مگر وہ ابھی وقت، آدمی، اور بہت سا روپیہ چاہتا ہے۔ اگر میری زندگی میں خدا تعالیٰ نے اس کے متعلق اسباب پیدا کر دیئے تو میں اس پر بھی ضرور عمل کراؤں گا۔ جو یہ ہے کہ کچھ ایسے مدرس مقرر کئے جائیں جو اچھے عالم ہوں۔ وہ گاؤں بہ گاؤں اور شہر بہ شہر دورہ کرتے پھریں اور ایک جگہ پندرہ بیس دن ٹھہر کر وہاں کے لوگوں کو پڑھائیں پھر دوسرے گاؤں میں چلے جائیں۔ اس طرح وہ ہر سال اپنے اپنے مقررہ علاقے میں دورہ کرتے رہیں ایسا کرنے سے انشاء اللہ بہت سے لوگ عالم بن جائیں گے اور دین سے واقف ہو جائیں گے یہ دین کی نا واقفیت ہی ہے کہ لاکھوں آدمی دہریہ بن گئے ہیں اور لاکھوں نے دوسرے مذاہب کو اختیار کر لیا ہے۔ اور ایسے انسان جو سیدوں کے گھر پیدا ہوئے تھے۔ آج رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیتے اور برا بھلا کہتے ہیں اور اسلام کو ایک جھوٹا مذہب قرار دیتے ہیں۔ جب میں حج کرنے گیا تو میرے ساتھ جہاز میں دو تین نوجوان بیٹھے ہوئے تھے جو ولایت پڑھنے کے لئے جا رہے تھے وہ اسلام کی حمایت میں بڑے زور اور جوش

سے باتیں کرتے۔ ایک کہتا اگر یوں ہو تو یوں ہو جائے ۔ دوسرا کہتا اگر یوں ہو تو یوں ہو سکتا ہے۔ میں نے ان کی کسی بات پر کہا کہ قرآن شریف میں تو یوں لکھا ہے۔ ایک نے مجھے ہنس کر کہا قرآن کو کون مانتا ہے میں نے کہا ادھر تو تم اسلام کی حمایت میں بڑی بڑی باتیں کر رہے تھے اور ادھر کہتے ہو کہ قرآن کو کون مانتا ہے یہ کیا؟ اس نے کہا میں رسول اللہ کی تو عزت کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے ایک متحد قوم تیار کر دی اور دنیا کو بہت فائدہ پہنچایا لیکن میں قرآن کی کوئی عزت نہیں کرتا۔ میں نے کہا رسول کریمؐ نے قرآن شریف خود تو نہیں لکھا یہ تو خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔ کہنے لگا یہ انہوں نے لوگوں کو منوانے کے لئے کہہ دیا ہے ورنہ خدا کیا اور اس کی کتاب کیا۔ میں نے ان باتوں سے سمجھ لیا کہ اسے اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں بہت دیر تک اسے سمجھاتا رہا لیکن خدا ہی جانتا ہے کہ اس پر کوئی اثر ہوا یا نہیں۔ مگر اتنا میں نے دیکھا کہ جس دن ہم نے جدا ہونا تھا اس سے ایک دن پہلے ایک ہندو دہریہ نے جو اس کے ساتھ ہی کا تھا خدا تعالیٰ کی نسبت کوئی سخت لفظ کہا تو وہ اس کے پاس آکر کہنے لگا خدا کی نسبت ایسا نہ کہو۔ یہ الفاظ سن کر میرا دل دھڑکتا ہے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ متاثر ضرور ہوا۔ غرض لوگ ناواقفى کی وجہ سے اسلام کو چھوڑ رہے ہیں۔ اگر ان کو واقف کر دیا جائے تو وہ سچے مسلمان بن سکتے ہیں۔ وہ شخص جس کو ہیرے کی قدر ہی معلوم نہ ہو وہ اسے پھینکتا ہے لیکن جسے معلوم ہو کہ یہ نہایت قیمتی چیز ہے وہ حتی الوسع کبھی اس کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔ میں نے علم کے حاصل کرنے کی یہ تجاویز کی ہیں سو ان کو کام میں لانے کی تم لوگ کوشش کرو تا اسلام کی قدر اور قیمت جاننے والے بنو۔ اور اس بیش بہا ہیرے کو رائیگاں نہ جانے دو۔ اگر تم اس کام کے لئے کوشش کرو گے تو خدا تعالیٰ تمہاری ہمتوں میں برکت دے گا۔ اور جو کوئی اس کام میں اپنا کچھ وقت لگائے گا خدا تعالیٰ پہلے سے کم وقت میں اس کا کام کر دیا کرے گا۔ میرا دل چاہتا ہے کہ ہماری جماعت کا ہر ایک فرد اس قابل ہو کہ ہر ایک سوال کا جھٹ جواب دے سکے اور ہر ایک بات کے متعلق فوراً دلائل سنا دے۔

عورتوں کو علم دین سکھاؤ

اسی مضمون کا ایک اور حصہ ہے اور وہ یہ کہ ہماری جماعت کے وہ لوگ جو علم کا سیکھنا تو ضروری سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کو فرض کفایہ جانتے ہیں یعنی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایک گھر میں سے خاوند سیکھ لے تو سب کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔ مثلاً ابا جان احمدی ہو گئے تو بیٹے بھی بخشے گئے خواہ وہ غیر احمدی ہی کیوں نہ ہوں۔ لیکن یہ غلط ہے اور بالکل غلط ہے۔ اگر باپ نیک ہے اور بیٹا بد۔ تو باپ ہی بخشا جائے گا اور بیٹا سزا پائے گا اور اگر ایک بھائی نیک ہے اور دوسرا بد تو نیک ہی جنت میں جائے گا اور دوسرا دوزخ میں۔ اگر خاوند نیک ہے اور بیوی بد تو خاوند ہی خدا تعالیٰ کے انعامات کا وارث ہوگا اور بیوی خدا کے غضب کی۔ پس تم یہ مت سمجھو کہ تمہارے پڑھ لینے سے یا علمِ دین سے واقف ہو جانے سے تمہارے بیوی بچے بھائی بہن وغیرہ بخشے جائیں گے بخشا وہی جائے گا جس کا دل صاف ہوگا اور دل صاف سوائے علم کے ہو نہیں سکتا۔ پس جس طرح تم اپنے لئے پڑھنا ضروری سمجھتے ہو اسی طرح ان کے لئے بھی پڑھنا ضروری سمجھ کر ان کو پڑھاؤ تا تمہارے گھر ایسے نہ ہوں کہ صرف تم ہی قرآن جاننے والے ہو اور باقی جاہل بلکہ تمہاری عورتیں بھی جانتی ہوں۔ خدا تعالیٰ، ملائکہ، سزاو جزاء، قضاء و قدر وغیرہ سب احکام سے واقف ہوں۔ خدا تعالیٰ نے عورتوں کو مردوں کا ایک حصہ قرار دیا ہے۔ اور جہاں مردوں کے لئے حکم آیا ہے وہاں عورتوں کو بھی ساتھ ہی رکھا ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا وَبَثَّ مِنۡہُمَا رِجَالًا کَثِیۡرًا وَّنِسَآءً ۚ وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِہٖ وَالۡاَرۡحَامَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیۡکُمۡ رَقِیۡبًا(النساء: ۲) اے لوگو! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا ہے۔ اور تم میں سے ہی تمہارا جوڑا پیدا کیا ہے۔ پھر ان دونوں سے بہت سی جانیں نکالی ہیں جو بہت سے مرد ہیں اور بہت سی عورتیں۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جسکے نام سے تم سوال کرتے ہو۔ اور قرابتوں کا۔ بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ تقویٰ کا حکم صرف مردوں کو ہی نہیں بلکہ عورتوں کو بھی ہے۔ پس ان کو بھی دین سے واقف کرو۔ آنحضرت ﷺ کی عورتیں دین سے بڑی واقف تھیں یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ تم نصف دین عائشہؓ سے سیکھ سکتے ہو اور واقعہ میں آدھا دین حضرت عائشہؓ نے سکھایا ہے۔ لوگوں نے اس کے غلط معنے کئے ہیں کہ اس طرح ان کو حضرت ابو بکرؓ حضرت عمرؓ وغیرہ پر فضیلت ہو گئی ہے لیکن یہ غلط ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ رسول اللہ نے حضرت عائشہؓ کی فضیلت بتائی ہے بلکہ یہ عورتوں کے متعلق جو احکام ہیں وہ ان سے سیکھو۔ چنانچہ جب بھی صحابہؓ کو عورتوں کے متعلق کسی بات میں مشکل پیش آتی تو ان سے ہی پوچھتے۔ حضرت عمرؓ کو ایک دفعہ یہ دقت پیش آئی کہ مرد عورت سے صحبت کرے اور انزال نہ ہو تو غسل کرنا چاہئے یا نہیں۔ اس کے متعلق انہوں نے لوگوں سے پوچھا لیکن تسلی نہ ہوئی فرمایا دین کے معاملہ میں کیا شرم ہے آنحضرت ﷺ کی عورتوں سے پوچھنا چاہئے۔ پھر انہوں نے اپنی لڑکی سے پوچھا جس نے بتایا کہ غسل کرنا فرض ہے رسول کریمؐ اسی طرح کیا کرتے تھے۔ پس اگر آپ کی بیویاں آپ سے اس قسم کے احکام نہ سیکھتیں تو یہ باتیں ہم تک کس طرح پہنچتیں۔ حالانکہ ان میں سے بعض ایسے مسائل ہیں کہ اگر ان کے متعلق معلوم نہ ہوتا تو ہمارا آرام حرام ہو جاتا زندگی مشکل ہو جاتی اور جینا دو بھر معلوم ہوتا۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ او مردو! کیا تم اپنے آپ کو عورتوں سے بڑا سمجھتے ہو۔ تم دونوں کو ہم نے ایک ہی نفس سے پیدا کیا ہے۔ پھر تم کیوں ان کو اپنے سے علیحدہ سمجھتے ہو۔ ان کو بھی اپنی طرح کا ہی سمجھو اور جو بات اپنے لئے ضروری خیال کرتے ہو وہی ان کے لئے کرو۔ خدا تعالیٰ کے اس حکم کے ہوتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ مرد یہ تو کرے گا کہ عورت کو اچھے کپڑے پہنا دے عمدہ زیور بنوا دے لیکن وہ یہ خیال نہیں کرے گا کہ اس کو دین سکھانا بھی ضروری ہے۔ کیا لوگ اچھے کپڑے میزوں اور کرسیوں پر نہیں ڈالتے۔ اور کیا لوگ گھنگرو اپنے گھوڑوں کی گردنوں میں نہیں پہناتے۔ پس جب ان حیوانوں اور بے جان چیزوں کی آرائش کے لئے بھی وہی کچھ کیا جاتا ہے تو عورتوں اور ان میں فرق کیا رہا۔ درحقیقت جو شخص عورت کو صرف ظاہری زینت کا سامان دے کر سمجھ لیتا ہے کہ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا وہ عورت پر کوئی احسان نہیں کرتا اور نہ اس کا ہمدرد ہے بلکہ وہ خود اپنی خوشی کا طالب ہے کیونکہ عورت کی زینت مرد کی خوشی کا باعث ہوتی ہے پس عورت کا صرف یہی حق نہیں کہ اس کے جسمانی آرام کا مرد خیال رکھے بلکہ اس سے زیادہ کی وہ حقدار ہے اس کا حق ہے کہ جس طرح انسان خود دین سے واقف ہو اسی طرح اسے بھی دین سے واقف کرے۔

غرض دین کی تعلیم عورتوں کو بھی ضرور دینی چاہئے کیونکہ جب تک دونوں پہلو درست نہ ہوں اس وقت تک انسان خوبصورت نہیں کہلا سکتا۔ کیا کانا آدمی بھی خوبصورت ہوا کرتا ہے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اگر کسی کی ایک آنکھ جاتی رہے تو اسے برا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن بہت سے ایسے ہیں جو بیوی کی طرف سے کانا بننے کو محسوس بھی نہیں کرتے۔

میں تو باوجود اس کے کہ اور بہت سے کام کرنے پڑتے ہیں گھر میں ضرور پڑھاتا ہوں کیونکہ عورتوں کو پڑھانا بہت ضروری ہے۔ خدا تعالیٰ نے مرد و عورت کے لئے زوج کا لفظ رکھا ہے۔

بعض لوگوں نے اس کے معنی میاں یا بیوی کے کئے ہیں۔ اور بعض نے جوڑا کئے ہیں۔ لیکن عربی زبان میں زوج اس شے کو کہتے ہیں جس کے ملے بغیر ایک دوسری شئے نامکمل رہے۔ جوتیوں کے جوڑا میں سے ہر ایک کو زوج کہتے ہیں کیونکہ صرف ایک جوتی کام نہیں دے سکتی۔ پس خدا تعالیٰ نے میاں بیوی کا نام زوج رکھ کر بتایا ہے کہ بیوی کے بغیر میاں اور میاں کے بغیر بیوی کسی کام کی نہیں ہوتی۔ پس جب مرد و عورت کا ایسا تعلق ہے تو غور کرنا چاہئے کہ عورتوں کو دین سے واقف کرنا کس قدر ضروری ہوا۔ ہماری جماعت کے وہ لوگ جنہوں نے اپنی عورتوں کو دین سے واقف نہیں کیا ان کا تلخ تجربہ ہمارے سامنے موجود ہے ان کے فوت ہو جانے کے بعد ان کے بیوی بچے غیر احمدی ہو گئے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے ان کو کچھ نہ سکھایا۔ خاوندوں کی وجہ سے وہ احمدی ہو گئیں جب خاوند مر گیا تو انہوں نے بھی احمدیت کو چھوڑ دیا۔ اگر کوئی عورت مر جائے تو خاوند اس کا جنازہ پڑھتا ہے۔ لیکن نہیں جانتا کہ اس حالت میں جبکہ میں نے اپنی عورت کو دین سے واقف نہیں کیا میرا جنازہ پڑھنا کیا فائدہ دے گا۔ مذہب اسلام کوئی ٹھٹھا نہیں بلکہ اس کی ہر ایک بات اپنے اندر حقیقت رکھتی ہے جنازہ بھی ایک حقیقت رکھتا ہے اس طرح نہیں کہ جنازہ پڑھا اور مرنے والا بخشا گیا جنازہ تو ایک دعا ہے جو نیک بندے مردہ کے لئے اس طرح کرتے ہیں کہ اے خدا! تیرا یہ انسان بہت نیکیاں کرتا رہا ہے لیکن اگر اس نے کوئی تیرا قصور بھی کیا ہے تو اسے ان نیکیوں کی وجہ سے بخش دے۔ لیکن وہ شخص جو زندگی میں اپنی عورت کو دین سے ناواقف رکھتا ہے وہ کس منہ سے کہہ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ اسے بخش دے۔

غرض بیویاں انسان کا آدھا دھڑ ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی بیویوں میں انصاف نہیں کرتا قیامت کے دن اس کا آدھا دھڑ گرا ہوا ہو گا۔ اس سے آپ نے بتایا ہے کہ عورت درحقیقت انسان کا جزو بدن ہے۔ وہ شخص جو اپنی بیوی کو علم نہیں پڑھاتا وہ بھی اس سے ناانصافی کرتا ہے اسے بھی اس وعید سے ڈرنا چاہئے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی کی بیوی بیمار ہو تو گھبراتا ہے علاج معالجہ کے لئے ادھر ادھر بھاگا پھرتا ہے دعا کے لئے ہماری طرف تاریں بھیجتا ہے لیکن اگر بیوی روحانی بیماری میں مبتلا ہو تو اسے کوئی فکر نہیں ہوتا۔ اگر بیوی کے سر میں درد ہو تو میری طرف لکھتے ہیں کہ دعا کی جائے۔ لیکن اگر نماز روزہ کی تارک ہو۔ تو پتہ بھی نہیں دیتے۔ اگر کھانسی ہو تو حکیم کے پاس دوڑے جاتے ہیں۔ لیکن اگر زکوٰۃ نہ دیتی ہو بخل کرتی ہو۔ تو پرواہ نہیں کرتے۔ بخار کھانسی اور درد کو خطرناک سمجھتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ اس کھانسی بخار اور درد کی ماری ہوئی بیوی تو انہیں مل جائے گی مگر دین کی ماری ہوئی نہیں ملے گی۔ اس دنیا کی جدائی سے گھبراتے ہیں اور ہر طرح کی کوششیں کرتے ہیں کہ جدائی نہ ہو لیکن اس ہمیشہ کی جدائی کا انہیں فکر نہیں ہے جو بے دین ہونے کی وجہ سے واقعہ ہوگی۔ پس اگر تمہیں اپنی عورتوں سے محبت ہے‘ پیار ہے‘ انس ہے تو جس طرح خود دین کی تعلیم سیکھتے ہو اسی طرح ان کو بھی سکھاؤ۔ اور یاد رکھو جب تک اس طرح نہ ہو گا ہماری جماعت کا قدم اس جگہ پر نہ پہنچے گا جس جگہ صحابہ کرامؓ کا پہنچا تھا۔ کیونکہ اولاد پر عورتوں کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔ اگر عورتوں کے بے دین ہونے کی وجہ سے اولاد بھی بے دین رہی تو آئندہ کس طرح ترقی ہوگی۔

ہمارے ایک دوست لکھتے ہیں کہ میں اپنے بچوں کو احمدیت کے متعلق سمجھاتا رہتا ہوں لیکن جب باہر جاتا ہوں تو ان کی والدہ پیار سے اپنے پاس بلا کر کہہ دیتی ہے کہ تمہارا باپ جو کچھ کہتا ہے سب جھوٹ ہے اس کو نہ ماننا۔ اس طرح بچے ویسے کے ویسے ہی ہو جاتے ہیں۔ اب غور کرو کہ بچے باہر رہنے والے ابا کی بات مانیں گے یا ہر وقت پاس رہنے والی ماں کی۔ ماں سے بچوں کو بالطبع محبت ہوتی ہے اس لئے اس کی بات کا ان پر زیادہ اثر ہوتا ہے اور اسی کی بات وہ جلدی قبول کر لیتے ہیں۔ چنانچہ بعض جگہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے مسلمان جنہوں نے عیسائی عورتوں سے شادی کی ان کی اولاد بھی عیسائی ہو گئی۔ جس کی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ ماں اپنے بچوں کو خفیہ خفیہ عیسائیت کی تعلیم دیتی رہی۔ پس تم لوگ اگر اپنی اولاد کو دیندار بنانا چاہتے ہو تو ان کی ماؤں کو مضبوط کرو تاکہ تمہاری نسلیں مضبوط ہوں۔ کیونکہ بچپن سے کان میں پڑی ہوئی بات پھر مٹ نہیں سکتی۔ کیا اگر دنیا میں نسلی تعصب نہ ہوتا تو اسلام کبھی کا سب مذاہب کو کھا نہ جاتا؟ ضرور کھا جاتا۔ مگر چونکہ دوسرے مذاہب والوں نے بچپن میں ہی ماں کی گود میں بیٹھ کر یہ سنا ہوا ہے کہ اسلام جھوٹا ہے۔ اس لئے باوجود ہزاروں دلیلوں کے پھر بھی نہیں مانتے۔ اگر تم لوگ اپنی آئندہ نسلوں میں احمدیت دیکھنا چاہتے ہو تو ان ماؤں کو پورا پورا احمدی بناؤ۔ اور احمدیت سے خوب واقف کرو۔ یاد رکھو اگر تمہاری آئندہ نسلوں میں احمدیت نہ رہی تو تمہاری اس وقت کی ساری کوشش اور محنت ضائع جائے گی۔ کیونکہ انسان تو پچاس ساٹھ یا زیادہ سے زیادہ سو سوا سو سال کے عرصہ تک مرجاتا ہے۔ اگر اس کی جگہ لینے والا کوئی اور نہ ہوا تو وہ خالی ہو جائے گی۔ میرے چھوٹے بھائی میاں بشیر احمد نے مجھے ایک بات سنائی کہ گورنمنٹ

کالج کے ایک طالب علم کو میں نے بعض دوسرے غیر احمدی طلباء سے یہ کہتے سنا کہ ہمارے ابا جان بڑے ہی نیک انسان ہیں کئی سال ہوئے کہ وہ احمدی ہوئے ہیں لیکن ہمیں کبھی ایک دن بھی انہوں نے نہیں کہا کہ تم بھی احمدی ہو جاؤ۔ اس لڑکے کو اپنے باپ میں یہ نیکی نظر آئی کہ مجھے احمدی بننے کے لئے کبھی نہیں کہا گیا۔ لیکن کس قدر افسوس ہے اس باپ پر جس نے اس طرح کیا۔ کیا ایک باپ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بچے کو کنویں میں گرنے دے گا۔ نہیں بلکہ ممکن ہے کہ بچہ کو گرنے سے بچاتے ہوئے خود بھی گر پڑے۔ مگر بچہ جہنم میں جاتا ہے اور باپ سامنے کھڑا دیکھ رہا ہے۔ پکڑتا نہیں بلکہ خوش ہوتا ہے۔ پس تم اپنے گھروں میں تعلیم دو تاکہ تمہاری اولاد بھی سیکھے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ ہماری نسلیں ہم سے بھی زیادہ احمدیت کا جوش لے کر اٹھیں۔ تاکہ خدا تعالیٰ کا یہ دین اطرافِ عالم میں پھیل جائے۔ اس لئے میں یہی نہیں کہتا کہ تم قرآن پڑھو بلکہ یہ بھی کہتا ہوں کہ اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی پڑھاؤ تاکہ جس طرح تم اس دنیا میں اکٹھے ہو اگلے جہان میں بھی اکٹھے ہی رہو۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں میں اس کو سختی سے محسوس کر رہا ہوں۔ اس لئے سخت تاکید کرتا ہوں کہ عورتوں کے پڑھانے کی طرف جلدی توجہ کرو۔ ہماری جماعت میں عورتیں کم داخل ہیں اور بچے بھی کم احمدی ہیں جس کی یہی وجہ ہے کہ وہ تعلیم دین سے ناواقف ہیں۔ تمہیں چاہئے کہ دونوں طرفوں کو مضبوط کرو۔ یعنی بیوی بچوں کو پڑھاؤ اور خود بھی پڑھو۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یاد رکھو کہ ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ احمدیت جس کے لئے تم جان اور مال تک دینے کے لئے تیار ہو اسی کو تمہاری اولاد گالیاں دے گی۔ غور کرو کہ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو ہمیں غیروں کو احمدی بنانے اور اس قدر کوششیں کرنے کا کیا اجر ملا جبکہ ہماری اپنی اولاد ہی اس نعمت سے محروم ہو گئی۔ میرے خیال میں ایک ایسا شخص جو سینکڑوں روپیہ اس لئے دیتا ہے کہ ولایت میں مبلغوں کو بھیجو جو لوگوں کو احمدی بنائیں لیکن وہ خود اپنے بیوی بچوں کو تبلیغ نہیں کرتا جن پر نہ روپیہ خرچ ہوتا ہے نہ کسی مبلغ کی ضرورت پیش آتی ہے وہ بہت افسوس کے قابل ہے۔ کیونکہ اس کا کیا خرچ ہوتا یا اسے کیا تکلیف پیش آتی اگر وہ گھر میں بیٹھے بیٹھے کچھ سنا دیا کرتا۔ صحابہ کرامؓ اسی طرح کیا کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی عورتیں بھی اشاعتِ اسلام میں بہت مدد دیتی تھیں۔

غرض میں نے یہ تیسری بات بتائی ہے کہ ہماری جماعت کے مرد اور عورتوں کو علم دین کی بڑی ضرورت ہے۔ پس تم خود بھی علم سیکھو اور اپنی عورتوں کو بھی سکھاؤ۔ تاکہ خدا تعالیٰ کے پاک انسانوں میں داخل ہو جاؤ اور ان انعامات کے وارث بنو جو خدا تعالیٰ کے پاک بندوں کو ملا کرتے ہیں۔ خدا کرے ہماری جماعت کا ایک ایک فرد دینِ اسلام سیکھے۔ اور جس طرح ہم اس دنیا میں اکٹھے ہیں اسی طرح اگلے جہان میں بھی اکٹھے ہوں۔ اور خدا تعالیٰ کی معرفت کو پائیں تاکہ جہالت کی موت نہ مریں۔ آمین

چونکہ وقت بہت تھوڑا ہے اس لئے ہر ایک بات کو میں بہت اختصار سے بیان کر رہا ہوں۔

غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنا منع ہے

پھر ایک اور مسئلہ ہے جس کے متعلق بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اس کے متعلق بھی میں کچھ کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سختی سے تاکید فرمائی ہے کہ کسی احمدی کو غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ باہر سے لوگ اس کے متعلق بار بار پوچھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں تم جتنی دفعہ بھی پوچھو گے اتنی دفعہ ہی میں یہی جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں۔ جائز نہیں۔ جائز نہیں۔ میں اس کے متعلق خود کر ہی کیا سکتا ہوں۔ میں بھی تو اسی کا فرمانبردار ہوں جس کے تم سب ہو۔ پھر میں کیا کر سکتا ہوں اور میرا کیا اختیار ہے۔ ہاں میرا یہ فرض ہے کہ میں آپ لوگوں کو حضرت مسیح موعودؑ کا یہ حکم بار بار سناتا رہوں خود مانوں اور تم سے منواؤں۔

غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق جو لوگ پوچھتے ہیں میں ان کو کہا کرتا ہوں مجھے یہ تو بتاؤ کہ جس شخص پر گورنمنٹ ناراض ہو اس کو تم لوگ گورنمنٹ کے آگے اپنی سفارش کرانے کے لئے پیش کیا کرتے ہو یا اس کو جس پر خوش ہو اور جو اس کے سامنے مقبول ہو اس کا یہی جواب دیتے ہیں کہ جس پر گورنمنٹ خوش ہو اسی کو پیش کیا کرتے ہیں۔ پس اگر گورنمنٹ کے سامنے اپنا ڈیپوٹیشن (DEPUTATION) لے جانے کے لئے کسی ایسے انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی نظر میں مقبول ہو۔ تو پھر یہ کونسی عقلمندی ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہونے کے لئے ایک ایسے آدمی کو اپنے آگے کھڑا کیا جائے جو مغضوب ہو۔ یہ کوئی مشکل بات نہیں آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے۔ اس لئے ان لوگوں کو اپنا امام نہیں بنانا چاہئے جنہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کو قبول نہیں کیا کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور مغضوب ٹھہر چکے

ہیں۔ اور ہمیں اس وقت تک کسی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے جب تک کہ وہ بیعت میں داخل نہ ہو جائے اور ہم میں شامل نہ ہو۔ خدا تعالیٰ کے مامور ایک بڑی چیز ہوتے ہیں جو ان کو قبول نہیں کرتا وہ خدا کی نظر میں قبول نہیں ہو سکتا۔ اس میں شک نہیں کہ بعض غیر احمدی ایسے ہوں گے جو سچے دل سے حضرت مسیح موعودؑ کو صادق نہیں مانتے اس لئے قبول نہیں کرتے۔ لیکن ہم بھی مجبور ہیں کہ ایسے لوگوں کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ خواہ کسی وجہ سے سہی وہ حق کے منکر ہیں۔ غیر احمدیوں کا اس بات پر چڑنا کہ ہم ان کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے ایک لغو امر ہے۔ وہ غیر احمدی جو یہ سمجھتا ہے کہ مرزا صاحب جھوٹے ہیں وہ ہم کو مسلمان کیونکر سمجھتا ہے اور کیوں اس بات کا خواہاں ہے کہ ہم اس کے پیچھے نماز پڑھیں۔ ہمارا اس کے پیچھے نماز پڑھ لینا اسے کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ غیر احمدیوں سے ہم دیگر دنیاوی اور تمدنی تعلقات کو منقطع کر دیں۔ آنحضرت ﷺ نے تو عیسائیوں کو بھی اپنی مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دی تھی۔ پس جب باوجود اس قدر اختلاف کے دین میں ایک دوسرے کو مذہبی سہولتیں بہم پہنچانے کا حکم ہے تو دنیاوی تعلقات کو ترک کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔ دوسروں سے محبت کرو پیار کرو، ان کی مصیبت کے وقت ان کے کام آؤ، بیمار کا علاج کرو، بھوکے کو روٹی کھلاؤ، ننگے کو کپڑا پہناؤ ان باتوں کا تمہیں ضرور ثواب ملے گا۔ لیکن دین کے معاملہ میں تم ان کو اپنا امام نہیں بنا سکتے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اس کے متعلق بار بار حکم دیا ہے۔ پس اس بات کو خوب یاد رکھو۔ اور سختی سے اس پر عملدرآمد کرو۔

غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا

پھر ایک سوال غیر احمدی کے جنازہ پڑھنے کے متعلق کیا جاتا ہے۔ اس میں ایک یہ مشکل پیش کی جاتی ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے بعض صورتوں میں جنازہ پڑھنے کی اجازت دی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بعض حوالے ایسے ہیں جن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے۔ اور ایک خط بھی ملا ہے جس پر غور کیا جائے گا۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عمل اس کے برخلاف

ہے چنانچہ آپ کا ایک بیٹا فوت ہو گیا جو آپ کی زبانی طور پر تصدیق بھی کرتا تھا۔ جب وہ مرا تو مجھے یاد ہے آپ ٹہلتے جاتے اور فرماتے کہ اس نے کبھی شرارت نہ کی تھی بلکہ میرا فرمانبردار ہی رہا ہے۔ ایک دفعہ میں سخت بیمار ہوا اور شدتِ مرض میں مجھے غش آ گیا جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ وہ میرے پاس کھڑا نہایت درد سے رو رہا تھا۔ آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ میری بڑی عزت کیا کرتا تھا۔ لیکن آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا حالانکہ وہ اتنا فرمانبردار تھا کہ بعض احمدی بھی اتنے نہ ہوں گے۔ محمدی بیگم کے متعلق جب جھگڑا ہوا تو اس کی بیوی اور اس کے رشتہ دار بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ حضرت صاحب نے اس کو فرمایا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو اس نے طلاق لکھ کر حضرت صاحب کو بھیج دی کہ آپ کی جس طرح مرضی ہے اسی طرح کریں۔ لیکن باوجود اس کے جب وہ مرا تو آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔

حدیث میں آیا ہے کہ جب ابوطالب جو آنحضرت ﷺ کے چچا تھے فوت ہونے لگے (بعض نے تو ان کو مسلمان لکھا ہے لیکن اصل بات یہی ہے کہ وہ مسلمان نہ تھے) تو آنحضرت ﷺ نے کہا کہ چچا ایک دفعہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو تاکہ میں آپ کی شفاعت خدا تعالیٰ کے حضور کر سکوں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ کیا کروں جو کچھ تم کہتے ہو۔ اس کو دل تو مانتا ہے مگر زبان پر اس لئے نہیں لا سکتا کہ لوگ کہیں گے مرنے کے وقت ڈر گیا ہے۔ اسی حالت میں وہ فوت ہو گئے (السیرۃ النبویۃ لابن ھشام جلد ۲ و ۴۱۸ مطبوعہ از مؤسسہ علوم القرآن بیروت) حضرت علیؓ کے چونکہ والد تھے اس لئے وہ چاہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ سے ان کے متعلق کچھ فیض حاصل کریں۔ مگر ساتھ ہی ڈرتے تھے کہ یہ چونکہ مسلمان نہیں ہوئے اس لئے رسول کریم ناراض نہ ہو جائیں۔ اس لئے انہوں نے اپنے والد کے مرنے کی خبر رسول کریم ﷺ کو ان الفاظ میں پہنچائی کہ یا رسول اللہ آپ کا گمراہ بڈھا چچا مر گیا ہے۔ آپ نے فرمایا جاؤ اور جا کر ان کو غسل دو لیکن آپ نے ان کا جنازہ نہ پڑھا۔ قرآن شریف سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو بظاہر اسلام لے آیا ہے لیکن یقینی طور پر اس کے دل کا کفر معلوم ہو گیا ہے تو اس کا جنازہ بھی جائز نہیں۔ پھر غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔

یہ دین کی باتیں ہیں۔ ان میں جھگڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ دنیا کے معاملات میں ہم دوسروں کے ساتھ ایک ہیں لیکن دین کے معاملہ میں فرق ہے اس میں ایک نہیں ہو سکتے۔ اور سمجھدار آدمی اس کو خوب سمجھ سکتے ہیں۔ لکھنؤ میں ہم ایک آدمی سے ملے جو بڑا عالم ہے اس نے کہا آپ لوگوں کے بڑے دشمن ہیں جو یہ مشہور کرتے پھرتے ہیں کہ آپ ہم لوگوں کو کافر کہتے ہیں میں یہ نہیں مان سکتا کہ آپ ایسے وسیع حوصلہ رکھنے والے ایسا کہتے ہوں۔ اس سے شیخ یعقوب علی صاحب باتیں کر رہے تھے۔ میں نے ان کو کہا آپ کہہ دیں کہ واقعہ میں ہم آپ لوگوں کو کافر کہتے ہیں یہ سنکر وہ حیران سا ہو گیا۔ لیکن جب اس سے یہ پوچھا گیا کہ آپ جس مسیح کے آنے کے منتظر ہیں اس کے منکروں کو کیا کہتے ہیں۔ تو کہنے لگا بس بس میں سمجھ گیا بے شک آپ کا حق ہے کہ ہم کو کافر سمجھیں۔

پس تم لوگ دین کو اپنی جگہ پر رکھو اور دنیا کو اپنی جگہ پر۔ اور جہاں دین کا معاملہ آئے وہاں فوراً الگ ہو جاؤ۔ وہ لوگ جو اس بات سے چڑتے ہیں کہ ہمیں کافر کیوں کہا جاتا ہے۔ ان سے پوچھو کہ جب تمہارا مسیح آئے گا اور جو لوگ اسے نہیں مانیں گے ان کو کیا کہو گے۔ یہی نا کہ ان کی گردن اڑا دو۔ لیکن ہم تو کسی کی گردن نہیں اڑاتے ہم تو شریعت کا فتویٰ استعمال کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو کہو اگر تمہارے خیال میں ہم ایک جھوٹے مسیح کو مانتے ہیں تو پھر ہمارے جنازہ پڑھنے سے تمہارے مردہ کو فائدہ کیا ہو گا کیا جس صورت میں کہ ہم مسلمان ہی نہیں ہماری دعا سے آپ کا مردہ بخشا جا سکتا ہے۔ پس اگر ان باتوں پر کوئی غور کرے تو کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہو سکتا۔

اب ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی تو حضرت مسیح موعودؑ کے منکر ہوئے اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔ لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے ۔ تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔ وہ تو مسیح موعودؑ کا مکفر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا اور کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے شریعت وہی مذہب ان کے بچہ کا قرار دیتی ہے۔ پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا۔ اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔ پھر میں کہتا ہوں بچہ تو گنہگار نہیں ہوتا اس کو جنازہ کی ضرورت ہی کیا ہے۔ بچہ کا جنازہ تو دعا ہوتی ہے اس کے پسماندگان کے لئے اور اس کے پسماندگان ہمارے نہیں بلکہ غیر احمدی ہوتے ہیں۔ اس لئے بچہ کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔ باقی رہا کوئی ایسا شخص جو حضرت صاحب کو تو سچا مانتا ہے لیکن ابھی اس نے بیعت نہیں کی یا احمدیت کے متعلق غور کر رہا ہے اور اسی حالت میں مر گیا ہے اس کو ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کوئی سزا نہ دے۔ لیکن شریعت کا فتویٰ ظاہری حالات کے مطابق ہوتا ہے اس لئے ہمیں اس کے متعلق بھی یہی کرنا چاہئے کہ اس کا جنازہ نہ پڑھیں۔

غیر احمدیوں کو لڑکی دینا

ایک اور بھی سوال ہے کہ غیر احمدیوں کو لڑکی دینا جائز ہے یا نہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اس امر پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اول نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا۔ اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجودیکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔ اب میں نے اس کی سچی توبہ دیکھ کر قبول کرلی ہے۔

حضرت ابو بکرؓ کو لوگوں نے کہا تھا کہ اگر آپ نے اپنے بعد عمرؓ کو جانشین مقرر کیا تو بڑا غضب ہو گا کیونکہ یہ بہت غصیلے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ان کا غصہ اسی وقت تک گرمی دکھاتا ہے جب تک کہ میں نرم ہوں۔ اور جب میں نہ رہوں گا تو یہ خود نرم ہو جائیں گے۔ اسی طرح میرا نفس تھا جو یہ کہتا تھا کہ اگر کوئی ذرا بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حکم کے خلاف کرے تو اسے بہت سخت سزا دی جائے لیکن اب تو نچلا گیا ہے اور بہت نرمی کرنی پڑتی ہے۔ تاہم میں اس بات سے خوش ہوں کہ دس ہی پکے احمدی ہوں لیکن اس بات سے سخت ناخوش ہوں کہ دس کروڑ ایسے احمدی ہوں جو حضرت مسیح موعودؑ کا حکم نہ ماننے والے ہوں پس وہ لوگ جو ایسے ہیں وہ سن لیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اس بات پر بہت زور دیا ہے اس لئے اس پر ضرور عمل درآمد ہونا چاہئے۔ میں کسی کو جماعت سے نکالنے کا عادی نہیں لیکن اگر کوئی اس حکم کے خلاف کرے گا تو میں اس کو جماعت سے نکال دوں گا۔ ابھی چند ماہ ہوئے ایک شخص نے غیر احمدیوں میں اپنی لڑکی دی تھی میں نے اسے جماعت سے الگ کر دیا۔ بعد میں اس نے بہت توبہ کی اور معافی مانگی لیکن میں نے کہا کہ تمہارا یہ اخلاص بعد از جنگ یاد آیا ہے۔ اس لئے برکلہ خود بائد زد کے مطابق اپنے سر پر مارو۔ ہمیں دیندار لوگوں کی ضرورت ہے۔ میں اگر کسی کی بیعت لے بھی لوں تو کیا اس وقت تک وہ احمدی ہو سکتا ہے جب تک کہ خدا کی نظر میں احمدی نہ ہو۔ احمدی اصل میں وہی ہے جو خدا کی نظر میں احمدی ہے۔ میرے احمدی کر لینے سے کوئی احمدی نہیں بن جاتا۔ پس تم خدا تعالیٰ کی نظر میں احمدی بنو۔ اور وہ اس طرح کہ حضرت مسیح موعودؑ کے تمام احکام کو پوری پوری طرح بجالاؤ۔ خدا تعالیٰ تمہیں توفیق دے۔

گورنمنٹ کی وفاداری

ایک اور خاص بات ہے جس کا بیان کر دینا بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ اس کے متعلق بھی حضرت صاحب نے بار بار تاکید فرمائی ہے۔ میں نے پچھلے جلسہ پر اس کے متعلق بیان کیا تھا اور وہ گورنمنٹ کی وفاداری ہے۔ اس گورنمنٹ کے ہم پر بڑے بڑے احسان ہیں۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے بارہا سنا ہے کہ اس گورنمنٹ کے ہم پر اتنے احسان ہیں کہ اگر ہم اس کی وفاداری نہ کریں اور اسے مدد نہ دیں تو ہم بڑے ہی بے وفا ہوں گے۔ میں بھی یہی کہتا ہوں کہ گورنمنٹ کی وفاداری ہمیں دل و جان سے کرنی چاہئے۔ میں اگر کسی سے کوئی ایسی بات سنتا ہوں جو گورنمنٹ کے خلاف ہوتی ہے تو کانپ جاتا ہوں۔ کیونکہ اس قسم کی کوئی بات کرنا بہت ہی نمک حرامی ہے یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ اگر یہ گورنمنٹ نہ ہوتی تو نہ معلوم ہمارے لئے کیا کیا مشکلات ہوتیں۔ ابھی چند دنوں کا ہی ذکر ہے کہ ہمارے مالابار کے احمدیوں کی حالت بہت تشویش ناک ہو گئی تھی ان کے لڑکوں کو سکولوں میں آنے سے بند کر دیا گیا۔ ان کے مردے دفن کرنے سے روک دیئے گئے چنانچہ ایک مردہ کئی دن تک پڑا رہا۔ مسجدوں سے روک دیا گیا۔ تجارت کو بند کر دیا لیکن اس گورنمنٹ نے ایسی مدد کی ہے کہ اگر ہماری اپنی سلطنت بھی ہوتی تو بھی ہم اس سے زیادہ نہ کر سکتے۔ اور وہ یہ کہ گورنمنٹ نے احمدیوں کی تکلیف دیکھ کر اپنے پاس سے زمین دی ہے کہ اس میں مسجد اور قبرستان بنالو۔ لیکن وہاں کا راجہ اس پر بھی باز نہیں آیا اور اس نے یہ سوال اٹھایا کہ یہ زمین تو میری ہے میں نہیں دیتا۔ اور یہ بھی لکھا کہ خبردار اگر تم نے اس پر کوئی عمارت بنائی تو سزا پاؤ گے۔ اور یہ بھی کہا کہ تم لوگ حاضر ہو کر بتاؤ کہ کیوں تمہارا بائیکاٹ نہ کر دیا جائے کیونکہ علماء نے فتویٰ دیا ہے کہ تم مسلمان نہیں ہو۔ اس پر احمدیوں نے گورنمنٹ کی خدمت میں درخواست دی تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے یہ حکم دیا کہ اگر اب احمدیوں کو کوئی تکلیف ہوئی تو مسلمانوں کے جتنے لیڈر ہیں ان سب کو نئے قانون کے ماتحت ملک بدر کر دیا جائے گا۔ اس طرح کا حکم کسی کے مونہہ سے نہیں نکل سکتا مگر اسی کے مونہہ سے جس کے دل میں بنی نوع انسان کی ہمدردی ہو۔ تو یہ تازہ سلوک اس گورنمنٹ نے تمہارے مالاباری بھائیوں کے ساتھ کیا ہے۔ اور جو کسی کے بھائی پر احسان کرتا ہے وہ اسی پر کرتا ہے۔ پس جب مالاباری احمدی ہمارے بھائی ہیں تو ہمیں گورنمنٹ کا کس قدر احسان مند ہونا چاہئے۔ پھر ماریشس میں ہمارے ایک مبلغ گئے ہیں جو جہاں لیکچر دینا چاہتے غیر احمدی بند کروا دیتے۔ آخر انہوں نے گورنمنٹ سے سرکاری ہال کے لئے درخواست کی تو وہاں کے گورنر نے حکم دیا کہ آپ ہفتہ میں تین دن اس ہال میں لیکچر دے سکتے ہیں۔ گویا گورنمنٹ نے ہفتہ کے نصف دن ہمارے مبلغ کو دے دیئے اور نصف اپنے لئے رکھے۔

پس جو گورنمنٹ ایسی مہربان ہو اس کی جس قدر بھی فرمانبرداری کی جائے تھوڑی ہے۔ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر مجھ پر خلافت کا بوجھ نہ ہوتا تو میں مؤذن بنتا۔ اسی طرح میں کہتا ہوں کہ اگر میں خلیفہ نہ ہوتا۔ تو والنٹیر ہو کر جنگ میں چلا جاتا۔ اس وقت گورنمنٹ کو آدمیوں کی بہت ضرورت ہے۔ اس لئے جس کسی سے کوئی خدمت ادا ہو سکے ضرور کرے۔ اس جنگ سے تو ہمیں بہت فائدہ پہنچا ہے۔ ہمارے بہت سے احمدی احباب میدان جنگ میں گئے ہوئے ہیں لیکن خدا کا فضل ہے کہ ابھی تک ایک بھی فوت نہیں ہوا۔ پھر وہ احباب جو فرانس کے میدان جنگ میں ہیں وہ تو تبلیغ کا کام بھی خوب کر رہے ہیں۔ انہوں نے ٹیچنگز آف اسلام کا فرانسیسی میں ترجمہ کروا کر شائع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی ٹریکٹ فرانسیسی میں لکھا کر شائع کرائے ہیں۔ پس اگر کوئی میدان جنگ میں جائے گا تو گویا گورنمنٹ کے خرچ پر ہمارا مفت کا مبلغ ہو گا۔ اس لئے اگر کوئی جانا چاہے تو ضرور جائے بہت عمدہ کام ہے۔ مجھ سے اب تک جتنے احمدیوں نے لڑائی پر جانے کے لئے پوچھا ہے میں نے بڑی خوشی سے انہیں اجازت دی ہے۔ اور کہا ہے کہ اگر تم اس نیک نیتی سے جاؤ گے کہ ہم گورنمنٹ کی خدمت کرنے کے لئے جا رہے ہیں اور ساتھ ہی دین کی تبلیغ بھی کریں گے تو خدا تعالیٰ تمہارا حافظ ہو گا اور تمہیں ہر ایک تکلیف سے محفوظ رکھے گا۔

پس یہ گورنمنٹ کی مدد کا ایک موقعہ ہے جس کو خدا تعالیٰ توفیق دے۔ شامل ہو جائے۔

(نوٹ) چونکہ نماز مغرب کا وقت بالکل قریب آگیا تھا۔ اس لئے حضرت خلیفۃ المسیح نے تقریر کو یہاں ہی ختم کر دیا اور فرمایا کہ باتیں تو بہت تھیں لیکن وقت نہیں رہا اس لئے تقریر بند کرتا ہوں۔

(مرتب کننده)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

تقریر حضرت فضلِ عمر خلیفۃ المسیح الثانی

(۲۸؍دسمبر ۱۹۱۵ء بر موقع جلسہ سالانہ)

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَالۡفَتۡحُ وَرَاَیۡتَ النَّاسَ یَدۡخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اَفۡوَاجًا فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ وَاسۡتَغۡفِرۡہُ ؕؔ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا(سورۃ النصر)

میں نے آپ لوگوں کے سامنے جو یہاں تشریف لائے ہیں۔ بعض باتیں بیان کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ چنانچہ میں نے نوٹ کر لیا تھا کہ فلاں فلاں بات کہوں گا۔ اور میرا منشاء تھا کہ جس طرح پچھلے جلسہ پر یہ انتظام کیا گیا تھا کہ کچھ امور ایسے بیان کئے جائیں جو جماعت کی اصلاح کے متعلق ہوں اور کچھ ایسے جو روحانیت سے تعلق رکھتے ہوں۔ چنانچہ گزشتہ جلسہ پر میں نے بتایا تھا کہ انسان کی روحانی ترقی کے سات درجے ہیں اور یہ بھی بتایا تھا کہ ان کے حصول کے کیا ذرائع ہیں۔ اس دفعہ بھی میرا ارادہ تھا کہ ایک دن تو دوسری ضروری باتیں بیان کروں اور دوسرے دن ذکر الٰہی اور عبادت الٰہی پر کچھ کہوں۔ لیکن کہتے ہیں تدبیر کند بندہ تقدیر زند خندہ۔ یہ کسی نے تو اپنے رنگ میں کہا ہو گا مگر میں جو کل اپنے ارادہ کو پورا نہیں کر سکا تو معلوم ہوتا ہے کہ یہی خدا تعالیٰ کا منشاء ہو گا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کے سلسلوں کے کام اس کی منشاء اور ارادہ کے ماتحت ہوتے ہیں۔ کل جو میں تقریر کرنے لگا تو گو بہت اختصار سے کام لیا اور بہت حصہ مضمون کا کاٹ کر بیان کیا۔ مگر مغرب تک پھر بھی نہ بیان کر سکا اور ایک حصہ رہ ہی گیا جو میرے خیال میں بہت ضروری ہے اور آج وقت بھی مل گیا ہے اس لئے اسی حصہ کو بیان کرتا ہوں۔

وہ دوسرا حصہ جس کو میں اس وقت بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے متعلق میں نے ایک مختصر سی سورۃ پڑھی ہے۔ جو گو عبارت کے لحاظ سے بہت مختصر ہے لیکن مضامین کے لحاظ سے بہت وسیع باتیں اپنے اندر رکھتی ہے اور حکمت اور معرفت کے بڑے بڑے دریا اس کے اندر بہہ رہے ہیں۔ نیز اس سورۃ میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہ بات بتائی ہے کہ اگر وہ اس پر غور و فکر اور عمل درآمد کرتے تو ان پر وہ ہلاکت اور تباہی کبھی نہ آتی جو آج آئی ہوئی ہے۔ اور نہ مسلمان پراگندہ ہوتے۔ نہ ان کی حکومتیں جاتیں۔ نہ اس قدر کشت و خون کی نوبت پہنچتی اور نہ ان میں تفرقہ پڑتا۔ اور اگر پڑتا تو اتنا جلدی اور اس عمدگی سے زائل ہو جاتا کہ اس کا نام و نشان بھی باقی نہ رہتا لیکن افسوس کہ ان میں وہ تفرقہ پڑا جو باوجود گھٹانے کے بڑھا اور باوجود دبانے کے اٹھا اور باوجود مٹانے کے ابھرا اور آخر اس حد تک پہنچ گیا کہ آج مسلمانوں میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں فرقے موجود ہیں۔ کیونکہ وہ بند جس نے مسلمانوں کو باندھا ہوا تھا کاٹا گیا۔ اور اس کے جوڑنے والا کوئی پیدا نہ ہوا۔ بلکہ دن بدن وہ زیادہ سے زیادہ ہی ٹوٹتا گیا۔ حتیٰ کہ تیرہ سو سال کے دراز عرصہ میں جب بالکل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تو خدا تعالیٰ نے اپنے پاس سے ایک شخص کو اس لئے بھیجا کہ وہ آکر اس کو جوڑے۔ اس فرستادۂ خدا سے پہلے کے تمام مولویوں، گدی نشینوں، بزرگوں اور اولیاؤں نے بڑی بڑی کوششیں کیں مگر اکارت گئیں۔ اور اسلام ایک نقطہ پر نہ آیا۔ پر نہ آیا۔ اور کس طرح آسکتا تھا جبکہ اس طریق سے نہ لایا جاتا جو خدا تعالیٰ نے مقرر کیا تھا یعنی کسی مامور من اللہ کے ذریعے سے۔ غرض اس سورۃ میں خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو ایک آنے والے فتنہ پر آگاہ فرمایا ہے اور اس سے بچنے کا علاج بھی بتایا ہے۔ اس سورۃ میں آنحضرت ﷺ کو تاکید کی گئی ہے کہ آپ استغفار کریں۔ چونکہ استغفار کے معنی عام طور پر اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کے ہوتے ہیں۔ اس لئے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ شخص جو دنیا کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے آیا تھا۔ گمراہ اور بے دین لوگوں کو باخدا بنانے آیا تھا۔ گناہوں اور بدیوں میں گرفتار شدہ انسانوں کو پاک و صاف کرنے آیا تھا۔ اور جس کا درجہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ(آل عمران: ۳۲) سب لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو۔ اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ تم خدا تعالیٰ کے محبوب اور پیارے بن جاؤ گے۔ پھر وہ جس کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ(الاحزاب: ۲۲) کہ اس رسول میں تمہارے لئے پورا پورا نمونہ ہے۔ اگر تم خدا کے حضور مقبول بننا چاہتے ہو۔ اگر تم خدا سے تعلق پیدا کرنا پسند کرتے ہو تو اس کا آسان طریق یہ ہے کہ اس رسول کے اقوال‘ افعال اور حرکات و سکنات کی پیروی کرو۔ کیا اس قسم کا انسان تھا کہ وہ بھی گناہ کرتا تھا اور اسے بھی استغفار کرنے کی ضرورت تھی۔ جس رسول کی یہ شان ہو کہ اس کا ہر ایک قول اور فعل خدا کو پسندیدہ ہو کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس کی نسبت یہ کہا جائے کہ تُو اپنے گناہوں کی معافی مانگ۔ اگر وہ بھی گناہ گار ہو سکتا ہے تو خدا تعالیٰ نے اس کی اتباع کی دوسروں کو کیوں ہدایت فرمائی ہے۔

ہم اس بات کو ثابت کر سکتے ہیں کہ آپ ہر ایک قسم کی بدی اور گناہ سے پاک تھے۔ یہی تو وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اے لوگو! اگر تمہیں مجھ سے محبت کا دعویٰ ہے اور میرے محبوب بننا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی طریق ہے کہ تم اس رسول کی اتباع کرو۔ ورنہ ممکن نہیں کہ تم میرے قرب کی کوئی راہ پاسکو۔ پس آنحضرت ﷺ کی طرف کسی گناہ کا منسوب کرنا تعلیم قرآن کے بالکل خلاف ہے مگر کوئی کہہ سکتا ہے کہ پھر آپ کے متعلق یہ کیوں آیا ہے کہ تُو استغفار کر۔ استغفار کر۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ انہی الفاظ کو مَدِّ نظر رکھ کر عیسائی صاحبان بھی مسلمانوں پر ہمیشہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ تمہارا رسول گناہ گار تھا۔ کیونکہ قرآن اس کو حکم دیتا ہے کہ تُو استغفار کر لیکن ہمارے مسیحؑ کی نسبت قرآن میں یہ کہیں نہیں آیا۔ پس معلوم ہوا کہ تمہارا رسول گناہ کرتا تھا۔ اور بعض جگہ تو تمہارے رسول کی نسبت ذنب کا لفظ بھی آیا ہے تو معلوم ہوا کہ تمہارا رسول گناہ گار تھا اور ہمارا مسیح گناہوں سے پاک۔ اس سے ثابت ہو گیا کہ مسیح کا درجہ اس سے بہت بلند ہے۔ اس اعتراض کے جواب میں مسلمانوں کو بڑی دقت پیش آئی ہے اور گو انہوں نے جواب دینے کی بڑی کوشش کی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے اس کا جواب دینے میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ یہی وجہ تھی کہ ہزار ہا مسلمانوں کی اولاد عیسائی ہو گئی اور تو اور سیدوں کی اولادوں نے بھی بپتسمہ لینا پسند کر لیا اور وہ اب سٹیجوں پر کھڑے ہو کر آنحضرت ﷺ کو گالیاں دیتے ہیں۔ غرض ان الفاظ کی وجہ سے نادانوں نے دھوکا کھایا۔ اور بجائے اس کے کہ عیسائیوں کو جواب دیتے خود عیسائی بن گئے۔ قرآن شریف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ آنحضرت ﷺ کی نسبت ان معنوں کے لحاظ سے استعمال نہیں کیا گیا جن معنوں میں عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ کے متعلق اور معنوں میں استعمال ہوا ہے اور یہ بات اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرت کی نسبت ذنب کا لفظ قرآن شریف میں تین جگہ آیا ہے۔ اول سورہ مومن میں جہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّاسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۡۢبِکَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ بِالۡعَشِیِّ وَالۡاِبۡکَارِ(المؤمن: ۵۶) دوم سورہ محمدؐ میں یوں آیا ہے فَاعۡلَمۡ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۡۢبِکَ وَلِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ وَاللّٰہُ یَعۡلَمُ مُتَقَلَّبَکُمۡ وَمَثۡوٰٮکُمۡ(محمد: ۲۰) سوم سورہ فتح میں آیا ہے اِنَّا فَتَحۡنَا لَکَ فَتۡحًا مُّبِیۡنًا لِّیَغۡفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکَ وَیَہۡدِیَکَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا(الفتح: ۲-۳) اسی طرح بعض جگہ پر استغفار کا لفظ آپ کی نسبت استعمال ہوا ہے جیسا کہ اسی سورۃ میں جو میں نے ابھی پڑھی ہے۔ ان سب جگہوں پر اگر ہم غور کریں تو ایک ایسی عجیب بات معلوم ہوتی ہے جو سارے اعتراضوں کو حل کر دیتی ہے اور وہ یہ کہ ان سب جگہوں میں آنحضرت کے دشمنوں کے ہلاک ہونے اور آپ کی فتح کا ذکر ہے۔ پس اس جگہ بالطبع یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کی فتح اور آپ کے دشمنوں کی مغلوبیت کے ساتھ گناہ کا کیا تعلق ہے۔ اور یہی بات ہے جس کے بیان کرنے کے لئے میں نے یہ سورۃ پڑھی ہے اور جس سے ہمیں اقوام کے تنزل و ترقی کے قواعد کا علم ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے ان آیات کے یہ معنی کئے ہیں کہ خدا تعالیٰ آپ کو یہ فرماتا ہے کہ اب تمہاری فتح ہو گئی اور تمہارے دشمن مغلوب ہو گئے۔ اس لئے تمہارے دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آگیا ہے پس تُو توبہ اور استغفار کر۔ کیونکہ تیری موت کے دن قریب آگئے ہیں اور گو یہ استدلال درست ہے لیکن ان معنوں پر بھی وہ اعتراض قائم رہتا ہے۔ کہ آپ نے کوئی گناہ کئے ہی ہیں اسی لئے توبہ کا حکم ہوتا ہے۔

میں نے جب ان آیات پر غور کیا تو خدا تعالیٰ نے مجھے ایک عجیب بات سمجھائی اور وہ یہ کہ جب کسی قوم کو فتح حاصل ہوتی ہے اور مفتوح قوم کے ساتھ فاتح قوم کے تعلقات قائم ہوتے ہیں تو ان میں جو بدیاں اور برائیاں ہوتی ہیں وہ فاتح قوم میں بھی آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فاتح قوم جن ملکوں سے گزرتی ہے ان کے عیش و عشرت کے جذبات اپنے اندر لیتی جاتی ہے۔ اور چونکہ عظیم الشان فتوحات کے بعد اس قدر آبادی کے ساتھ فاتح قوم کا تعلق ہوتا ہے جو فاتح سے بھی تعداد میں زیادہ ہوتی ہے اس لئے اس کو فوراً تعلیم دینا اور اپنی سطح پر

لانا مشکل ہوتا ہے اور جب فاتح قوم کے افراد مفتوح قوم میں ملتے ہیں تو بجائے اس کو نفع پہنچانے کے خود اس کے بد اثرات سے متاثر ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ رفتہ رفتہ نہایت خطرناک ہوتا ہے۔ جب اسلام کی فتوحات کا زمانہ آیا تو اسلام کے لئے بھی یہی مشکل درپیش تھی گو اسلام ایک نبی کے ماتحت ترقی کر رہا تھا لیکن نبی باوجود نبی ہونے کے پھر انسان ہی ہوتا ہے اور انسان کے تمام کام خواہ کسی حد تک وسیع ہوں محدود ہی ہوتے ہیں۔ ایک استاد خواہ کتنا ہی لائق ہو اور ایک وقت میں تیس چالیس نہیں بلکہ سو سوا سو لڑکوں تک کو بھی پڑھا سکتا ہو لیکن اگر اس کے پاس ہزار دو ہزار لڑکے لے آئیں تو نہیں پڑھا سکے گا۔ رسول بھی استاد ہی ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کی نسبت آیا ہے یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ وَیُزَکِّیۡہِمۡ(البقره: ۱۳۰) کہ اس رسول کا یہ کام ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کی آیتیں لوگوں کو سنائے۔ کتاب کی تعلیم دے اور ان کو پاک کرے۔ غرض نبی ایک استاد ہوتا ہے اس کا کام تعلیم دینا ہوتا ہے۔ اس لئے وہ تھوڑے لوگوں کو ہی دے سکتا ہے کیونکہ لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کو سبق دینا اور پھر یاد بھی کروا دینا کسی انسان کا کام نہیں ہو سکتا۔ پس جب کسی کے سامنے لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کی جماعت سبق لینے کے لئے کھڑی ہو تو ضرور ہو گا کہ اس کی تعلیم میں نقص رہ جائے اور پوری طرح علم نہ حاصل کر سکے یا یہ ہوگا کہ بعض تو پڑھ جائیں گے اور بعض کی تعلیم ناقص رہ جائے گی اور بعض بالکل جاہل کے جاہل ہی رہ جائیں گے اور کچھ تعلیم نہ حاصل کر سکیں گے۔ پس آنحضرت ﷺ کو جب فتوحات پر فتوحات ہونی شروع ہوئیں اور بے شمار لوگ آپ کے پاس آنے لگے تو ان کے دل میں جو بڑا ہی پاک دل تھا یہ گھبراہٹ پیدا ہوئی کہ ان تھوڑے سے لوگوں کو تو میں اچھی طرح تعلیم دے لیتا قرآن سکھا سکتا تھا (چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ بڑی پابندی سے صحابہؓ کو قرآن سکھاتے تھے) لیکن یہ جو لاکھوں انسان اسلام میں داخل ہو رہے ہیں ان کو میں کس طرح تعلیم دوں گا۔ اور مجھ میں جو بوجہ بشریت کے یہ کمزوری ہے کہ اتنے کثیر لوگوں کو تعلیم نہیں دے سکتا اس کا کیا علاج ہو گا۔ اس کا جواب سورۃ نصر میں خدا تعالیٰ نے یہ دیا کہ اس میں شک نہیں کہ جب فتح ہوگی اور نئے نئے لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہوں گے تو ان میں بہت سی کمزوریاں ہوں گی۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ وہ سب کے سب تجھ سے تعلیم نہیں پا سکتے۔ مگر ان کو تعلیم دلانے کا یہ علاج ہے کہ تو خدا سے دعا مانگے کہ اے خدا! مجھ میں بشریت کے لحاظ سے یہ کمزوری ہے کہ اتنے لوگوں کو تعلیم نہیں دے سکتا تو میری اس کمزوری کو ڈھانپ دے اور وہ اس طرح کہ ان سب لوگوں کو خود ہی تعلیم دے دے اور خود ہی ان کو پاک کر دے۔ پس یہی وہ بات ہے جس کے متعلق آنحضرت ﷺ کو استغفار کرنے کا ارشاد ہوا ہے۔ ذنب کے معنی ایک زائد چیز کے ہیں اور غفر ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔ اس سے خدا تعالیٰ نے رسولِ کریم ﷺ کو یہ بات سکھائی ہے کہ تم یہ کہو کہ میں اس قدر لوگوں کو کچھ نہیں سکھا سکتا پس آپ ہی ان کو سکھائیے اور میری اس انسانی کمزوری کو ڈھانپ دیجئے۔ دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابتدائی زمانہ میں ایک ایک سے اپنے ہاتھ پر ہاتھ رکھا کر بیعت لیتے تھے پھر ترقی ہوئی تو لوگ ایک دوسرے کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کرنے لگے۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے زمانہ میں تو پگڑیاں پھیلا کر بیعت ہوتی تھی اور اب بھی اسی طرح ہوتی ہے۔ تو ایک آدمی ہر طرف نہیں پہنچ سکتا۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں کوئی مسلمان یمن میں تھا کوئی شام میں کوئی عراق میں تھا کوئی بحرین میں اور کوئی نجد میں تھا۔ اس لئے نہ آنحضرت ﷺ ہر ایک کے پاس پہنچ سکتے تھے اور نہ وہ آپ تک آسکتے تھے۔ جب حالت یہ تھی تو ضرور تھا کہ آپ کی تعلیم میں نقص رہ جاتا لیکن آپ کا دل کبھی یہ برداشت نہ کر سکتا تھا۔ اس لئے آپ کو حکم ہوا کہ خدا سے دعا کرو کہ اے خدا ! اب یہ کام میرے بس کا نہیں اس لئے تو ہی اسے پورا کر۔ کیونکہ شاگرد بہت ہیں اور میں اکیلا مدرس ہوں مجھ سے ان کی تعلیم کا پورا ہونا مشکل ہے۔ آج کل تو سکولوں میں یہ قاعدہ ہو گیا ہے کہ ایک استاد کے پاس چالیس یا پچاس سے زیادہ لڑکے نہ ہوں اور اس سے زیادہ لڑکوں کو جماعت میں داخل نہ کیا جائے۔ اور اگر کیا جائے تو ایک اور استاد رکھا جائے۔ کیونکہ افسرانِ تعلیم جانتے ہیں کہ اگر ایک جماعت میں بہت زیادہ لڑکے ہوں۔ اور ایک اکیلا استاد پڑھانے والا ہو تو لڑکوں کی تعلیم ناقص رہ جاتی ہے۔ چنانچہ جن سکولوں میں بہت سے لڑکے ہوتے ہیں اور ایک استاد وہاں کے لڑکوں کی تعلیمی حالت بہت کمزور ہوتی ہے۔ کیونکہ زیادہ لڑکوں کی وجہ سے استاد ہر ایک کی طرف پوری پوری توجہ نہیں کر سکتا۔ تو چونکہ فتح کے وقت لاکھوں انسان مسلمان ہو کر اسلام میں داخل ہوتے تھے۔ اس لئے آنحضرت ﷺ کو یہ خطرہ دامن گیر ہوا کہ مسلمان تعلیم میں ناقص نہ رہ جائیں۔ خدا تعالیٰ نے آپ کو اس کے متعلق یہ گر بتا دیا کہ خدا کے آگے گر جاؤ۔ اور اسی کو کہو کہ آپ ہی اس کام کو سنبھال لے۔ میری طاقت سے تو اس کا سنبھالنا باہر ہے۔

پس آنحضرت کے متعلق استغفار کا لفظ اسی لئے استعمال کیا گیا ہے کہ آپؐ کو اس بات کی طرف متوجہ کیا جائے کہ اسلام میں کثرت سے داخل ہونے والے لوگوں کی تعلیم و تربیت کے لئے آپؐ خدا تعالیٰ سے دعا کریں اور التجا کریں۔ کہ اب لوگوں کے کثرت سے آنے سے جو بد نتائج نکلیں گے ان سے آپ ہی بچائیے اور ان کو خود ہی دور کر دیجئے اور آپؐ کا لاکھوں انسانوں کو ایک ہی وقت میں پوری تعلیم نہ دے سکنا کوئی گناہ نہیں بلکہ بشریت کا تقاضا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ کی نسبت ذنب کا لفظ تو استعمال ہوا ہے لیکن جناح کا لفظ کبھی استعمال نہیں ہوا۔ گناہ اسے کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت اور قوت کے باوجود اس کے حکم کی فرمانبرداری نہ کی جائے۔ اور وہ بات جس کی خدا تعالیٰ کی طرف سے طاقت ہی نہ دی جائے اس کا نہ کر سکنا گناہ نہیں ہوتا بلکہ وہ بشری کمزوری کہلاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص بیمار ہو جاتا ہے تو یہ اس کا گناہ نہیں بلکہ ایک کمزوری ہے جو بشریت کی وجہ سے اسے لاحق ہے۔ تو رسول کریم کا یہ گناہ نہ تھا کہ آپ اس قدر زیادہ لوگوں کو پڑھا نہ سکتے تھے بلکہ خدا تعالیٰ نے ہی آپؐ کو ایسا بنایا تھا۔ اور آپ کے ساتھ یہ ایسی بات لگی ہوئی تھی۔ جو آپؐ کی طاقت سے بالا تھی۔ اس لئے آپؐ کو بتایا گیا کہ آپؐ خدا تعالیٰ کے حضور کثرتِ طلباء کی وجہ سے جو نقص تعلیم میں ہونا تھا اس کے دور کرنے کے لئے دعا کریں۔

پس ان تمام آیات سے پتہ لگتا ہے کہ ان میں رسول کریم کے گناہ کا اظہار نہیں ہے بلکہ ایک بشری کمزوری کے بد نتائج سے بچنے کی آپؐ کو راہ بتائی گئی ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ آپؐ کے وقت کثرت سے لوگ ایمان لے آئے مگر ابتلاؤں اور فتنوں کے وقت ان کا ایمان خراب نہ ہوا۔ اور وہ اس نعمت سے محروم نہ ہوئے۔ چنانچہ آنحضرتؐ کے زمانہ میں جو لوگ ایمان لائے تھے آپ کے بعد گو ان میں سے بھی کچھ مرتد ہو گئے۔ مگر جھٹ پٹ ہی واپس آگئے اور ان فتنہ و فسادوں میں شامل نہ ہوئے جو اسلام کو تباہ کرنے کے لئے شریروں اور مفسدوں نے برپا کئے تھے۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جو بہت بڑا فساد ہوا اس میں عراق، مصر، کوفہ اور بصرہ کے لوگ تو شامل ہو گئے جو آنحضرت کی وفات کے بعد ایمان لائے تھے لیکن یمن، حجاز اور نجد کے لوگ شامل نہ ہوئے۔ یہ وہ ملک تھے جو آنحضرت کے وقت میں فتح ہوئے تھے۔ جانتے ہو اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ خفیہ منصوبے جو مسلمانوں کی تباہی کا موجب ہوئے ان میں وہ ممالک تو شامل ہو گئے جو آپ کی وفات کے بعد فتح ہوئے۔ مگر وہ ملک شامل نہ ہوئے جو آپؐ کے زمانہ میں فتح ہوئے تھے۔ اس کی یہی وجہ ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان ملکوں کے لوگوں کی جو آپؐ کے زمانہ میں اسلام لائے تھے برائیاں اور بدیاں دور کر دی تھیں۔ لوگ تو کہتے ہیں کہ امیر معاویہؓ کا زور اور طاقت تھی کہ شام کے لوگ اس فتنہ میں شامل نہ ہوئے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی کرامت تھی کہ وہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف نہیں اٹھے تھے۔ کیونکہ گو یہ ملک آپؐ کے زمانہ میں فتح نہ ہوا۔ لیکن آپؐ نے اس پر بھی چڑھائی کی تھی۔ جس کا ذکر قرآن شریف کی سورہ توبہ میں ان تین صحابہؓ کا ذکر کرتے ہوئے جو اس سفر میں شامل نہ ہوئے تھے آیا ہے۔ پس شام کا اس فتنہ میں شامل نہ ہونا امیر معاویہؓ کی دانائی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس لئے تھا کہ وہاں اسلام کا بیج رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بویا گیا۔ اور اس سرزمین میں آپؐ نے اپنا قدم مبارک ڈالا تھا۔ پس خدا تعالیٰ نے آپؐ کی دعاؤں میں اس ملک کو بھی شامل کر لیا اتنے بڑے فتنہ میں اس قدر صحابہؓ میں سے صرف تین صحابہ کے شامل ہونے کا پتہ لگتا ہے اور ان کی نسبت بھی ثابت ہے کہ صرف غلط فہمیوں کی وجہ سے شامل ہو گئے تھے اور بعد میں توبہ کر لی تھی۔ تو یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایسی خصوصیت ہے جو کسی اور نبی کو حاصل نہیں ہوئی۔ اس لئے جہاں آپؐ کی فتح کا ذکر آیا ہے وہاں ساتھ ہی استغفار کا حکم بھی آیا ہے۔ جو آپؐ کو اس طرف متوجہ کرنے کے لئے تھا کہ دیکھنا ہم آپؐ کو بہت بڑی فتح اور عزت دینی چاہتے ہیں اور بے شمار لوگوں کو آپؐ کے ساتھ شامل کرنا چاہتے ہیں۔ پس یاد رکھو کہ جب تمہارے بہت سے شاگرد ہو جائیں تو تم خدا کے حضور گر جانا اور کہنا کہ الٰہی! اب کام انسانی طاقت سے بڑھتا جاتا ہے آپ خود ہی ان نوواردوں کی اصلاح کر دیجئے۔ ہم آپ کی دعا قبول کریں گے اور ان کی اصلاح کر دی جائے گی اور ان کی کمزوریوں اور بدیوں کو دور کر کے ان کو پاک کر دیا جائے گا۔ لیکن ان سب باتوں کو ملانے سے جہاں ایک طرف یہ اعتراض مٹ جاتا ہے کہ آپؐ کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے وہاں دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت ایک قوم ترقی کرتی اور کثرت سے پھیلتی ہے وہی زمانہ اس کے تنزل اور انحطاط کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے فتح کے ساتھ ہی استغفار کا ارشاد فرمایا ہے۔ کیونکہ کسی قوم کے بڑھنے اور ترقی کرنے کا جو وقت ہوتا ہے وہی وقت اس کے تنزل کے اسباب کو بھی پیدا کرتا ہے۔ اور جب کوئی قوم بڑھ جاتی ہے اسی وقت اس میں فساد اور فتنے بھی شروع ہو جاتے ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ قوم میں ایسے لوگ آجاتے ہیں جو نبی کی خدمت اور صحبت میں نہیں رہے ہوتے اچھی طرح بد آلائشوں سے پاک وصاف نہیں ہوتے۔ اور جنہیں وہ مشکلات پیش نہیں آئی ہوتیں۔ جو خدا تعالیٰ نے اپنے پیارے بندوں کو پاک کرنے کے لئے مقرر فرمائی ہوئی ہیں اس لئے وہ فتنہ و فساد پیدا کرتے ہیں اور قوم کو تباہی کے گھاٹ اتارنا چاہتے ہیں۔ آپ لوگ اس مضمون کو غور سے سنیں اس کا کچھ حصہ علمی اور تاریخی ہے اس لئے ممکن ہے کہ بعض کو مشکل معلوم ہو۔ لیکن یہ وہ بات ہے۔ اور میں کامل یقین سے کہتا ہوں۔ یہ وہ بات ہے جو خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تو بیان فرمائی ہے لیکن آج تک کسی نے اسے قرآن شریف سے سیکھ کر بیان نہیں کیا۔ مجھے خدا تعالیٰ نے سکھائی ہے اور اس بات کا موقع دیا ہے کہ آپ لوگوں کو سناؤں۔ پس جو شخص اسے سنے گا اور پھر اس پر عمل کرے گا وہ کامیاب اور بامراد ہو جائے گا۔ اور جو نہیں سنے گا اور عمل نہیں کرے گا وہ یاد رکھے کہ ایسے ایسے فتنے آنے والے ہیں کہ جن کے ساتھ یہ فتنہ جو اس وقت برپا ہوا ہے کچھ مقابلہ ہی نہیں کر سکتا۔ کیا یہ فتنہ تم کو یاد نہیں ہے اور تم نے نہیں دیکھا کہ اس کے بانیوں نے کس قدر زور سے کیا مگر انہیں کیا حاصل ہوا کچھ بھی نہیں۔ آج یہ نظارہ دیکھ لو اور لاہور جا کر بھی دیکھ لو۔ باوجود اس کے کہ بیعت کے وقت وہ زیادہ تھے اور ہم تھوڑے لیکن خدا تعالیٰ نے ظاہر کر دیا ہے کہ ان کی کچھ بھی پیش نہیں گئی پس یہ وہ فتنہ نہیں ہے جو جماعتوں کی تباہی اور ہلاکت کا موجب ہوا کرتا ہے۔ وہ وہ فتنہ ہوتا ہے جو سمندر کی لہروں کی طرح آتا ہے اور خس و خاشاک کی طرح قوموں کو بہا کر لے جاتا ہے۔

پس اس فتنہ سے خدا تعالیٰ کی رحمت اور فضل کے بغیر کوئی بچ نہیں سکتا۔ ہم سے پہلے بہت سی جماعتوں نے اس کے تلخ تجربے کئے ہیں۔ پس مبارک ہے وہ جو ان کے تجربوں سے فائدہ اٹھائے اور افسوس ہے اس پر جس نے پہلوں کے تجربہ سے فائدہ نہ اٹھایا اور چاہا کہ خود تجربہ کرے۔ دیکھو سنکھیا ایک زہر ہے اور اس کو ہر ایک زہر جانتا ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ بہت سے لوگوں نے جب اس کو کھایا تو مر گئے۔ اس کے متعلق اب کوئی یہ نہیں کہتا کہ میں اسے اس وقت تک زہر نہیں کہوں گا جب تک کہ خود تجربہ کر کے نہ دیکھ لوں۔ لیکن کیسا افسوس ہو گا اس شخص پر جو خود تجربۃً سنکھیا کھائے کیونکہ اس کا انجام سوائے اس کے کچھ نہیں ہو گا کہ مرے۔ تم لوگ بھی اس بات کا تجربہ کرنے کا خیال دل میں نہ لاؤ جس کا تجربہ تم سے پہلے لوگ کر چکے ہیں کیونکہ ان تجربات کا نتیجہ ایسا خطرناک تھا کہ اگر جوان سنے تو بوڑھا ہو جائے اور اگر سیدھی کمر والا سنے تو اس کی کمر ٹیڑھی ہو جائے۔ اور اگر کالے بالوں والا سنے تو اس کے بال سفید ہو جائیں وہ بہت تلخ اور کڑوے تجربے تھے اور ازحد دل ہلا دینے والے واقعات تھے وہ نہایت پاک روحوں کے شریروں اور بدباطنوں کے ہاتھ سے قتل کے نظارے تھے۔ وہ ایسے درد انگیز حالات تھے کہ جن کو سن کر مؤمن کا دل کانپ جاتا ہے۔ اور وہ ایسے روح فرسا منظر تھے کہ جن کو آنکھوں کے سامنے لانے سے کلیجہ پھٹنے لگتا ہے۔ انہی کی سزا میں مسلمانوں میں اس قدر فتنہ اور فساد پڑا کہ جس نے انہیں تباہ کر دیا۔ حضرت عثمانؓ کو جو آدمی قتل کرنے آئے تھے ان کو آپ نے فرمایا کہ اگر تم میرے قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ تو یاد رکھنا کہ مسلمان جو اس وقت اس طرح پیوستہ ہیں جیسے دو کنگھیوں کے دندانے ہوتے ہیں بالکل جدا ہو جائیں گے اور ایسے جدا ہوں گے کہ قیامت تک انہیں کوئی نہ اکٹھا کر سکے گا۔

حضرت عبداللہ بن سلامؓ نے بھی اس فتنہ کے بانیوں سے بیان کیا کہ میں نے بنی اسرائیل کی بعض کتب میں دیکھا ہے کہ ایک نبی ہو گا اس کے بعد اس کے خلفاء ہوں گے اس کے خلیفہ ثالث کے خلاف لوگ فساد کریں گے اگر وہ اس کے مارنے پر کامیاب ہو گئے تو اس کی سزا ان کو یہ دی جائے گی کہ وہ ہمیشہ کے لئے پراگندہ کر دیئے جائیں گے اور پھر کوئی تدبیر ان کو جمع نہ کر سکے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ یہ فتنہ اتنا پھیلا اتنا پھیلا کہ سوائے مسیح موعود علیہ السلام کے کوئی اس کو روک نہ سکا۔ اور مسلمان جو ٹوٹ چکے تھے انہیں کوئی نہ جوڑ سکا۔ پس تم لوگ یاد رکھو کہ آنے والا فتنہ بہت خطرناک ہے اس سے بچنے کے لئے بہت بہت تیاری کرو۔ پہلوں سے یہ غلطیاں ہوئیں کہ انہوں نے ایسے لوگوں کے متعلق حسن ظنی سے کام لیا جو بدظنیاں پھیلانے والے تھے۔ حالانکہ اسلام اس کی حمایت کرتا ہے جس کی نسبت بدظنی پھیلائی جاتی ہے۔ اور اس کو جھوٹا قرار دیتا ہے جو بدظنی پھیلاتا ہے۔ اور جب تک کہ باقاعدہ تحقیقات پر کسی شخص پر کوئی الزام ثابت نہ ہو اس کا پھیلانے والا اور لوگوں کو سنانے والا اسلام کے نزدیک نہایت خبیث اور متفنی ہے۔

پس تم لوگ تیار ہو جاؤ تاکہ تم بھی اس قسم کی کسی غلطی کا شکار نہ ہو جاؤ کیونکہ اب تمہاری فتوحات کا زمانہ آ رہا ہے اور یاد رکھو کہ فتوحات کے زمانہ میں ہی تمام فسادات کا بیج بویا جاتا ہے۔ جو اپنی فتح کے وقت اپنی شکست کی نسبت نہیں سوچتا اور اقبال کے وقت ادبار کا خیال نہیں کرتا اور ترقی کے وقت تنزل کے اسباب کو نہیں مٹاتا اس کی ہلاکت یقینی اور اس کی تباہی لازمی ہے۔ نبیوں کی جماعتیں بھی اس فساد سے خالی نہیں ہوتیں اور وہ بھی جب ترقی کرتی ہیں اور ایسے لوگ ان میں داخل ہوتے ہیں جنہوں نے نبی کی صحبت نہیں پائی ہوتی اور ان کا ایمان اتنا مضبوط نہیں ہوتا جتنا ان لوگوں کا ہوتا ہے جو نبی کی صحبت میں رہے ہوتے ہیں اور جن کی تربیت بوجہ اس کے کہ وہ جماعت در جماعت آکر داخل ہوئے ہوتے ہیں نامکمل ہوتی ہے تو ان میں بھی فساد شروع ہو جاتا ہے جو آخر کار ان کو مختلف جماعتوں میں تقسیم کر کے ان کے اتحاد کو توڑ دیتا ہے یا ان کی جڑ کو ایسا کھوکھلا کر دیتا ہے کہ آئندہ ان کی روحانی طاقتیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ ہماری جماعت کی ترقی کا زمانہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت قریب آگیا ہے اور وہ دن دور نہیں جبکہ افواج در افواج لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوں گے۔ مختلف ملکوں سے جماعتوں کی جماعتیں داخل ہوں گی اور وہ زمانہ آتا ہے کہ گاؤں کے گاؤں اور شہر کے شہر احمدی ہوں گے۔ اور ابھی سے مختلف اطراف سے خوشخبری کی ہوائیں چل رہی ہیں۔ اور جس طرح خدا کی یہ سنت ہے کہ بارش سے پہلے ٹھنڈی ہوائیں چلاتا ہے تاکہ غافل لوگ آگاہ ہو جائیں اور اپنے مال و اسباب کو سنبھال لیں۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے ہماری ترقی کی ہوائیں چلا دی ہیں پس ہوشیار ہو جاؤ۔ آپ لوگوں میں سے خدا کے فضل سے بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت پائی ہے آپ کے منہ سے باتیں سنی ہیں آپ سے ہم کلامی کا شرف حاصل کیا ہے۔ ان کا فرض ہے کہ وہ آنے والوں کے لئے ہدایت اور راہنمائی کا باعث ہوں۔ کیونکہ کوئی ایک شخص بہتوں کو نہیں سکھا سکتا۔ دیکھو اسی جلسہ پر خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنے لوگ آئے ہیں کہ ان سب تک مشکل سے میری آواز پہنچ سکتی ہے مگر جب لاکھوں اور کروڑوں انسان آئے تو انہیں کون ایک شخص سنا سکے گا۔ لیکن بتلاؤ اگر ایک ہی سنانے والا ہوا تو یہ کیسا درد ناک نظارہ ہو گا کہ کچھ لوگ تو سن رہے ہوں گے اور کچھ لوگ پکوڑے کھا رہے ہوں گے۔ وہ سنیں گے کیا اور یہاں سے لے کر جائیں گے کیا۔ وہ اس اطاعت سے واقف نہ ہوں گے جو انبیاء لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ ایک دفعہ رسول کریم ﷺ تقریر فرما رہے تھے آپ نے لوگوں کو فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ عبداللہ بن مسعودؓ ایک گلی میں چلے آرہے تھے آپؐ کی آواز انہوں نے وہاں ہی سنی اور وہیں بیٹھ گئے۔ کسی نے پوچھا آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں وہاں رسول کریم ﷺ کی تقریر ہو رہی ہے وہاں کیوں نہیں جاتے۔ انہوں نے کہا میرے کان میں رسول کریم ﷺ کی آواز آئی ہے کہ بیٹھ جاؤ پس میں یہیں بیٹھ گیا۔ (ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ باب الامام یکلم الرجل فی خطبتہ) پھر ان کے سامنے یہ نظارہ نہ ہو گا کہ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں تین شخص آئے ایک کو آگے جگہ مل گئی وہ وہاں جا کر بیٹھ گیا دوسرے کو آگے جگہ نہ ملی وہ جہاں کھڑا تھا وہیں بیٹھ گیا۔ تیسرے نے خیال کیا کہ یہاں آواز تو آتی نہیں پھر ٹھہرنے سے کیا فائدہ وہ واپس چلا گیا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ ایک نے تمہاری مجلس میں قرب حاصل کرنے کے لئے کوشش اور محنت کی اور آگے ہو کر بیٹھ گیا خدا تعالیٰ نے بھی اسے قریب کیا۔ ایک اور آیا اس نے کہا اب مجلس میں آگیا ہوں اگر اچھی جگہ نہیں ملی تو نہ سہی وہیں بیٹھ گیا اور اس نے واپس جانا مناسب نہ سمجھا خدا نے بھی اس سے چشم پوشی کی۔ ایک اور آیا اسے جگہ نہ ملی اور وہ واپس پھر گیا خدا تعالیٰ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔ (بخاری کتاب العلم باب من قعد حيث ينتهی به المجلس و من رأى فرجة فى الحلقة مجلس منها)

اس قسم کی باتیں نبیوں کی ہی صحبت میں رہ کر حاصل ہو سکتی ہیں۔ لیکن انہوں نے اس قسم کے نظارے نہ دیکھے ہوں گے پھر انہوں نے وہ محبت کی گھڑیاں نہ دیکھی ہوں گی جو آپ نے دیکھی ہیں۔ انہوں نے اطاعت اور فرمانبرداری کے وہ مزے نہ اٹھائے ہوں گے جو آپ نے اٹھائے ہیں۔ انہیں حضرت مسیح موعودؑ سے وہ پیار نہ ہو گا جو آپ لوگوں کو ہے۔ انہوں نے وہ نشانات نہ دیکھے ہوں گے جو آپ لوگوں نے حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ رہ کر دیکھے ہیں۔ انہیں حضرت مسیح موعودؑ کا وہ پیار اور محبت سے دیکھنا اور باتیں کرنا نصیب نہ ہو گا جو آپ لوگوں کو ہوا ہے۔ ان کے دلوں میں اطاعت اور فرمانبرداری کا وہ جوش نہ ہو گا جو آپ لوگوں کے دلوں میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جن کے سینے خدا تعالیٰ خاص طور پر خود کھول دے۔ اس میں شک نہیں کہ صحابہ کرامؓ کے بعد بھی ایسے لوگ ہوئے ہیں جنہوں نے پہلوں کی طرح ایمان اور یقین حاصل کر لیا تھا اور ان جیسی ہی صفات بھی پیدا کر لی تھیں۔ مثلاً امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام ابو حنیفہؒ، شیخ عبد القادر جیلانیؒ، شہاب الدین سہروردیؒ، معین الدین چشتیؒ وغیرہم۔ ان لوگوں نے محنتیں اور کوششیں کیں اس لئے ان کے دل پاک ہو گئے۔ مگر جس کثرت سے صحابہؓ میں ایسے لوگ تھے اس کثرت سے بعد میں نہ ہو سکے۔ بلکہ بعد میں کثرت ان لوگوں کی تھی جن میں بہت سے نقص موجود تھے اور قلت ان کی تھی جو صحابہؓ

جیسی صفات رکھتے تھے۔ لیکن صحابہؓ کے وقت کثرت کامل ایمان والوں کی تھی۔ ہماری جماعت میں اس وقت خدا کے فضل سے کثرت ان لوگوں کی ہے جو حضرت مسیح موعودؑ کی صحبت میں رہے اور قلت ان کی ہے جو بعد میں آئے لیکن یہ کثرت ایسی ہے جو دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے۔ میرا مطلب اس تقریر سے یہ نہیں کہ نبی کے بعد اعلیٰ درجہ کے لوگ ہوتے ہی نہیں۔ نہیں اعلیٰ درجہ کے لوگ ہوتے ہیں اور ضرور ہوتے ہیں جیسا کہ ابھی میں نے بعض آدمیوں کے نام لئے ہیں جنہوں نے صحابہؓ کے بعد بڑا درجہ حاصل کیا۔ اپنی جماعت کے متعلق بھی آج ہی ایک شخص نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ کیا بعد میں آنے والے وہ درجہ پا سکتے ہیں جو حضرت مسیح موعودؑ کی صحبت پانے والوں نے پایا۔ تو میں نے اسے جواب دیا کہ ہاں وہ درجہ پاسکتے ہیں۔ پس اس تقریر کا یہ مطلب نہیں کہ میں بعد میں آنے والے لوگوں کو مایوس کروں بلکہ میرا مطلب تمہیں اور ان کو ہوشیار کرنا ہے۔ تمہیں اس لئے کہ تا تم آنے والوں کی تعلیم کا فکر کرو اور انہیں اس لئے تا وہ جان لیں کہ ان کے راستہ میں بہت سی مشکلات ہیں وہ ان پر غالب آنے کی تدبیر کریں۔ ورنہ یہ عقیدہ کہ نبی کی جماعت کے بعد کوئی ان کے درجہ کو پا ہی نہیں سکتا ایک غلط اور باطل عقیدہ ہے جو جھوٹی محبت سے پیدا ہوا ہے۔ صحابہؓ کے بعد بڑے بڑے مخدوم بڑے بڑے بزرگ اور بڑے بڑے اولیاء اللہ گزرے ہیں۔ جن کی نسبت ہم ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ وہ سب کے سب ہر ایک اس شخص سے روحانیت میں ادنیٰ تھے جس نے رسول کریمﷺ کی صحبت خواہ ایک دن ہی پائی ہو ۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ جو صحابہؓ میں اعلیٰ درجہ رکھتا ہے وہ ان بعد میں آنے والوں سے اعلیٰ ہے۔ لیکن وہ جو ان میں ادنیٰ ہے اس سے بعد میں آنے والوں کا اعلیٰ طبقہ اعلیٰ ہے۔ ہاں سب صحابہؓ کو یہ ایک جزوی فضیلت حاصل ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کا چہرہ مبارک دیکھا جس کے لئے اب اگر کوئی ساری دنیا کی سلطنت بھی دینے کو تیار ہو جائے تو حاصل نہیں کر سکتا۔ یہی بات حضرت مسیح موعودؑ کے صحابہؓ کے متعلق ہے۔

غرض وہ وقت آتا ہے کہ ایسے لوگ اس سلسلہ میں شامل ہوں گے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت نہ پائی ہوگی۔ اور اس کثرت سے ہوں گے کہ ان کو ایک آدمی تقریر نہیں سنا سکے گا اس لئے اس وقت بہت سے مدرسوں کی ضرورت ہوگی۔ اور پھر اس بات کی بھی ضرورت ہوگی کہ ایک شخص لاہور میں ایک امرتسر میں بیٹھا سنائے۔ اور لوگوں کو دین سے واقف کرے۔ اور احکامِ شرع پر چلائے تاکہ تمام جماعت صحیح عقائد پر قائم رہے اور تفرقہ سے بچے۔

کل میں نے آپ لوگوں کو یہ بتایا تھا کہ علم ایک بہت اچھی چیز ہے اس کو حاصل کرنے کے لئے کوشش کرو لیکن آج بتاتا ہوں کہ علم بغیر خشیت اور تقویٰ کے ایک لعنت ہے۔ اور ایسا علم بہت دفعہ حجابِ اکبر ثابت ہوا ہے۔ دیکھو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ایک عالم آدمی ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر وہ ایمان نہ لائے۔ بلکہ انہوں نے کہہ دیا کہ میں نے ہی مرزا کو بڑھایا تھا اور میں ہی گھٹاؤں گا۔ گویا انہوں نے اپنے علم کے گھمنڈ پر سمجھا کہ کسی کو میں ہی بڑھا سکتا ہوں اور میں ہی گھٹا سکتا ہوں۔ رسول کریم ﷺ کے زمانہ سے پہلے ایک شخص شرک کے خلاف تعلیم دیا کرتا تھا۔ جب رسول کریم ﷺ مبعوث ہوئے تو کسی شخص نے اسے اسلام کی تلقین کی۔ اس نے جواب دیا کہ شرک کے مٹانے میں جو محنت اور کوشش میں نے کی ہے وہ اور کسی نے نہیں کی پس اگر کوئی شخص دنیا میں نبی ہوتا تو وہ میں ہوتا یہ شخص نبی کیو نکر بن گیا۔ وہ شخص گو توحید کا علم رکھتا تھا لیکن بوجہ خشیت نہ ہونے کے اسلام لانے سے محروم ہو گیا۔ پس میں آپ لوگوں کو یہی نہیں کہتا کہ علم سیکھو بلکہ یہ بھی کہتا ہوں کہ تقویٰ اور خشیت اللہ پیدا کرو۔ کیونکہ اگر یہ نہ ہو تو علم ایک عذاب ہے نہ کہ کوئی مفید چیز۔ تم قرآن شریف پڑھو اور خوب پڑھو کیونکہ بے علم انسان نہیں جانتا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے کیا کیا حکم دیئے ہیں لیکن یہ بھی یاد رکھو کہ کئی انسان ایسے ہوتے ہیں جو قرآن شریف جانتے ہیں مگر خود گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں اور اس طرح کے ہو گئے ہیں جس طرح کہ یہود کے عالم تھے جن کا ذکر قرآن شریف میں آتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ قرآن شریف وہی ہے جو رسول اللہ کے زمانہ میں تھا۔ مگر جانتے ہوئے نہیں جانتے۔ وہ مولوی اور مفتی کہلاتے ہیں مگر ان کے اعمال میں اسلام کا کوئی اثر نہیں پایا جاتا۔ قرآن شریف کے معنوں کی ایسی ایسی توجیہیں نکالتے اور ایسی ایسی شرارتیں کرتے ہیں کہ ان کے دل بھی انہیں شرمندہ کرتے ہیں۔ عالم کہلاتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے۔ اس لئے گو انہوں نے علم پڑھا مگر ان کا علم ان کے کسی کام نہ آیا اور وہ گمراہ کے گمراہ ہی رہے۔

پس خشیت اللہ کی بہت ضرورت ہے۔ اس کے پیدا کرنے کے طریق نبیوں کے زمانہ میں بہت سے ہوتے ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ انسان کو سانچے میں ڈھال دیتے ہیں اور خود نمونہ بن کر لوگوں کو سکھلاتے ہیں۔ یہ ایک ثابت شدہ بات ہے کہ ہر ایک کام جس طرح کسی استاد کے بتانے اور تجربہ کر کے دکھانے سے آتا ہے اس طرح خود بخود کتابوں میں سے پڑھ لینے سے نہیں آیا کرتا مثلاً اگر کوئی شخص ڈاکٹری کی کتابیں پڑھ لے لیکن اسے تجربہ نہ ہو تو وہ لوگوں کا علاج کرنے کی بجائے ان کو مارے گا۔ کیونکہ علاج وہی کر سکتا ہے جس کو تجربہ بھی ہو اور جسے اس نے کسی استاد سے سیکھا ہو۔ مگر جس نے کسی استاد کو دیکھا ہی نہ ہو اس کے علاج سے بہت مرتے اور کم جیتے ہیں اور جو جیتے ہیں وہ بھی اس لئے نہیں کہ اس کی دوائی اور علاج سے بلکہ اپنی طاقت اور قوت سے۔ پس خشیت اللہ نبی کی صحبت سے جس طرح حاصل ہوتی ہے اس طرح کسی اور طریق سے نہیں حاصل ہو سکتی۔ پس تم میں سے تو بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کی صحبت سے اس کو سیکھا ہے۔ اس لئے تم اس زمانہ کے لئے ہوشیار ہو جاؤ جبکہ فتوحات پر فتوحات ہوں گی عنقریب ایک زمانہ آتا ہے جبکہ تمہارے نام کے ساتھ لوگ رضی اللہ عنہ لگائیں گے۔ آج اگر تمہاری قدر نہیں تو نہ سہی لیکن ایک وقت آتا ہے جبکہ اس شخص کی پگڑی، کرتہ اور جوتی تک کو لوگ متبرک سمجھیں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ رہا ہے۔ بیشک حضرت مسیح موعودؑ کو ہی خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے لیکن یاد رکھو صادقوں کے ساتھ رہنے والوں کے کپڑوں کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے الوصیت میں لکھا ہے کہ ”ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفادار اور صادق خدا ہے وہ سب کچھ تمہیں دکھلائے گا۔ جس کا اس نے وعدہ فرمایا ھےاگرچہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں۔ اور بہت بلائیں ہیں جن کے نزول کا وقت ہے۔ پر ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبر دی ۔ میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا۔ اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں۔ اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے“۔

(الوصیت صفحہ ۸۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۰۶)

پس وہ وقت جلد آنے والا ہے اس میں شک نہیں کہ آج تم لوگوں کی نظروں میں جاہل ہو۔ پر وہ دن جلدی ہی آنے والے ہیں جبکہ دنیا کہے گی کہ تمہارے زمانہ میں تم سے زیادہ مہذب کوئی نہیں گذرا۔ تم نے خدا تعالیٰ کا حکم مانا ہے اس کے رسول کا حکم مانا ہے اور اس کے مسیح کو قبول کیا ہے۔ پس تم ہی دنیا میں ایک برگزیدہ قوم ہو۔ تمہارے کپڑوں سے لوگ برکت

ڈھونڈیں گے اور تمہارے ناموں کی عزت کریں گے کیونکہ تمہارے نام عزت کے ساتھ آسمان پر لکھے گئے ہیں۔ پس کون ہے جو انہیں دنیا سے مٹا سکے۔ لیکن یہ بات بھی یاد رکھو کہ جس طرح تم پر اس قدر انعام ہوئے ہیں اسی طرح تمہارے فرض بھی بہت بڑھ گئے ہیں۔ بیشک بعد میں آنے والے تحریریں پڑھ سکتے ہیں حضرت مسیح موعودؑ کی کتابوں کو پڑھ سکتے ہیں مگر اس طرح وہ اعمال نہیں سیکھ سکتے۔ اور نہ دوسرے لوگ انہیں سکھا سکتے ہیں جس طرح تم نے سیکھے ہیں۔ مگر وہی سکھا سکتے ہیں جو حضرت مسیح موعودؑ کی صحبت میں پاک دل ہوئے۔ صرف علم نہ پہلوں کے کام آیا اور نہ پچھلوں کے کام آسکتا ہے۔ مگر تمہیں خود علم کی ضرورت ہے قرآن شریف عربی زبان میں ہے اس لئے جب تک عربی نہ آتی ہو اس کے پڑھنے میں لذت نہیں آسکتی اور نہ اس کے احکام سے انسان واقف ہو سکتا ہے۔ پس تم عربی سیکھو تاکہ قرآن شریف کو سمجھ سکو۔ ابھی میر حامد شاہ صاحب نے ایک نظم پڑھی ہے۔ عجیب بات ہے کہ اس میں انہوں نے ایک شعر ایسا بھی کہا ہے کہ اسی کے مضمون کے متعلق میں اس وقت تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تم بار بار قادیان آؤ اور آکر قرآن سیکھو تا بعد میں آنے والوں کو سکھا سکو۔ اگر تم اس کے لئے تیار نہ ہوئے تو یاد رکھو کہ ایک عرصہ تک تو بیشک تمہیں عزت حاصل ہو گی لیکن ایسا زمانہ آئے گا جبکہ تم خاک میں ملائے جاؤ گے۔ اور تم سے آنے والے لوگ جن میں خشیت اللہ نہ ہوگی وہی سلوک کریں گے جو صحابہؓ کے ساتھ ان لوگوں نے کیا جو بعد میں آئے تھے کہ انہیں قتل کرا کر ان کی لاشوں پر تھوکا اور دفن نہ ہونے دیا۔

دیکھو میں آدمی ہوں اور جو میرے بعد ہو گا وہ بھی آدمی ہی ہو گا جس کے زمانہ میں فتوحات ہوں گی وہ اکیلا سب کو نہیں سکھا سکے گا۔ تم ہی لوگ ان کے معلم بنو گے۔ پس اس وقت تم خود سیکھو تا ان کو سکھا سکو۔ خدا تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم لوگ دنیا کے لئے پروفیسر بنا دیئے جاؤ۔ اس لئے تمہارے لئے ضروری ہے اور بہت ضروری ہے کہ تم خود پڑھو تا آنے والوں کے لئے استاد بن سکو۔ اگر تم نے خود نہ پڑھا تو ان کو کیا پڑھاؤ گے۔ ایک نادان اور جاہل استاد کسی شاگرد کو کیا پڑھا سکتا ہے۔ کہتے ہیں ایک استاد تھا اس نے چند خطوط پڑھے ہوئے تھے جو کوئی خط لا کر دیتا اسے انہیں خطوں میں سے کوئی ایک سنا دیتا۔ ایک دن ایک شخص خط لایا اس وقت اس کے پاس اپنے پہلے خط موجود نہ تھے اس لئے نہ پڑھ سکا۔ اور کہنے لگا کہ میں طاق والے خط پڑھ سکتا ہوں۔ پس تم بھی اس خط کے پڑھنے والے کی طرح نہ بنو۔ آپ لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ اپنے اندر اخلاص اور خشیت پیدا کرو اور علم دین سیکھو اور اپنے دلوں کو صیقل کرو تاکہ جو لوگ تم میں آئیں ان کو تعلیم دے سکو اور ان میں خشیت اللہ پیدا کر سکو۔ صحابہؓ کے وقت جو فتنہ ہوا تھا وہ اسی بات کا نتیجہ تھا کہ وہ لوگ مدینہ میں نہ آتے تھے۔ اور انہوں نے قرآن شریف نہ پڑھا اور نہ سمجھا تھا۔ اس لئے ان میں خشیت اللہ پیدا نہ ہوئی۔ جس کا انجام یہ ہوا کہ انہوں نے صحابہؓ کو قتل کر کے اپنے پاؤں تلے روندا ان کی لاشوں کی بے عزتی کی۔ اور انہیں مکانوں میں بند کر دیا۔ اگر وہ مدینہ آتے اور اہل مدینہ سے تعلق رکھتے۔ تو کبھی یہ فتنہ نہ ہوتا۔ اور اگر ہوتا تو ایسی خطرناک صورت نہ اختیار کرتا۔ اس فتنہ میں سارے مدینہ سے صرف تین آدمی ایسے نکلے۔ جن کو مفسد اور شریر لوگ اپنے ساتھ ملا سکے۔ اور ان کو بھی دھوکا اور فریب سے۔ وہ ایک عمارؓ بن یاسر تھے۔ دوسرے محمد بن ابی بکرؓ، اور تیسرے ایک انصاری تھے۔ چونکہ تم لوگ بھی صحابہؓ کے مشابہ ہو اس لئے میں چاہتا ہوں کہ تاریخ سے بیان کروں کہ کس طرح مسلمان تباہ ہوئے۔ اور کون سے اسباب ان کی ہلاکت کا باعث بنے پس تم ہوشیار ہو جاؤ اور جو لوگ تم میں نئے آئیں ان کے لئے تعلیم کا بندوبست کرو۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت جو فتنہ اٹھا تھا۔ وہ صحابہؓ سے نہیں اٹھا تھا۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ صحابہؓ نے اٹھایا تھا ان کو دھوکا لگا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت علیؓ کے مقابلہ میں بہت سے صحابہؓ تھے اور معاویہ کے مقابلہ میں بھی لیکن میں کہتا ہوں کہ اس فتنہ کے بانی صحابہؓ نہیں تھے بلکہ وہی لوگ تھے جو بعد میں آئے اور جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب نہ ہوئی اور آپ کے پاس نہ بیٹھے۔ پس میں آپ لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں اور فتنہ سے بچنے کا یہ طریق بتاتا ہوں کہ کثرت سے قادیان آؤ۔ اور بار بار آؤ تاکہ تمہارے ایمان تازہ رہیں۔ اور تمہاری خشیت اللہ بڑھتی رہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرماتے تھے میں زمانہ طالب علمی میں ایک شخص کے پاس ملنے کے لئے جایا کرتا تھا۔ کچھ عرصہ نہ گیا پھر جو گیا تو کہنے لگے کیا تم کبھی قصائی کی دکان پر نہیں گئے میں نے کہا قصائی کی دکان تو میرے راستہ میں پڑتی ہے ہر روز میں اس کے سامنے سے گزرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کیا تم نے کبھی قصائی کو نہیں دیکھا کہ وہ کچھ دیر گوشت کاٹ کر ایک چھری کو دوسری چھری پر پھیر لیتا ہے وہ ایسا اس لئے کرتا ہے کہ تا دونوں چھریاں تیز ہو جائیں۔ اسی طرح جب ایک نیک آدمی دوسرے نیک آدمی سے ملتا ہے تو ان پر جو کوئی بد اثر ہوتا ہے وہ دور ہو جاتا ہے۔ پس تم لوگ بھی کثرت سے یہاں آؤ تاکہ نیک انسانوں سے ملو۔ اور صاف و شفاف ہو جاؤ۔ خدا تعالیٰ نے قادیان کو مرکز بنایا ہے اس لئے خدا تعالیٰ کے جو برکات اور فیوض یہاں نازل ہوتے ہیں اور کسی جگہ نہیں ہیں۔ پھر جس کثرت سے حضرت مسیح موعودؑ کے صحابہ یہاں موجود ہیں اور کسی جگہ نہیں ہیں۔ اس لئے یہاں کے لوگوں کے ساتھ ملنے سے انسان کا دل جس طرح صیقل ہوتا ہے اور جس طرح اسے تزکیہ نفس حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح کسی جگہ کے لوگوں کے ساتھ ملنے سے نہیں ہوتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جو لوگ قادیان نہیں آتے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہی رہتا ہے۔ اب ہی دیکھ لو ان لوگوں کو چھوڑ کر جو یہاں متکبرانہ آتے اور اسی نشہ میں چلے جاتے تھے باہر کے ایسے ہی لوگ غیر مبائعین ہیں جو یہاں نہیں آتے تھے۔ پس اسی وجہ سے ان کے دل زنگ آلود ہوتے گئے۔ جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ وہ مردہ دل ہو گئے۔ انہوں نے اپنے دل میں ایمان کا پودا تو لگایا تھا مگر اسے پانی نہ دیا۔ اس لئے وہ سوکھ گیا۔ انہوں نے اپنے دل میں خشیت اللہ کا بیج تو بویا تھا مگر اس کی آبپاشی نہ کی۔ اس لئے وہ خشک ہو گیا۔ تم ان لوگوں کے نمونہ سے عبرت پکڑو اور بار بار یہاں آؤ۔ تاکہ حضرت مسیح موعودؑ کی صحبت یافتہ جماعت کے پاس بیٹھو۔ حضرت مسیح موعودؑ کے نشانات کو دیکھو اور اپنے دلوں کو صیقل کرو۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ لوگوں نے اس وقت تک کچھ نہیں سیکھایا کچھ نہیں حاصل کیا آپ نے بہت کچھ سیکھا اور بہت کچھ حاصل کیا ہے مگر اس کو قائم اور تازہ رکھنے کے لئے یہاں آؤ اور بار بار آؤ۔ بہت لوگ ایسے ہیں جو صرف جلسہ پر آتے ہیں اور پھر نہیں آتے۔ میں کہتا ہوں انہیں اس طرح آنے سے کیا فائدہ ہوا۔ یہ فائدہ تو ہوا کہ انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کا حکم مانا اور اس حکم کی قدر کی۔ مگر ایسے موقعہ پر انہیں کچھ سکھانے اور پڑھانے کا کہاں موقعہ مل سکتا ہے۔ بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جلسہ پر آتے اور پھر چلے جاتے ہیں ان کی بعض حرکات خلاف شرع ہوتی ہیں۔ لیکن ایسے وقت میں نہ کچھ بتایا جا سکتا ہے اور نہ بتانے کا کوئی موقعہ ملتا ہے۔ اور پھر وہ جو یہاں نہیں آتے ان کے لئے بار بار دعا بھی نہیں ہو سکتی اور کس طرح ہو۔ میں تو دیکھتا ہوں۔ ماں بھی اپنے اس بچہ کو جو ہر وقت اس سے دور رہے بھول جاتی ہے اور جو نزدیک رہے اسے یاد رکھتی ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ بھی ان لوگوں کو بھلا دیتا ہے جو اس کو یاد نہیں رکھتے۔ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کافروں کو کہتا ہے کہ تم میرے ملنے سے ناامید ہو گئے پس میں نے بھی تم کو ترک کر دیا۔ تو وہ شخص جو بار بار مجھے ملتا اور اپنے آپ کو شناخت کراتا ہے وہ اپنے لئے دعا کے لئے بھی یاد دلاتا ہے۔ بیشک میں تمام جماعت کے لئے ہمیشہ دعا کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا۔ اور مجھے اپنی دعاؤں کے نیک نتائج نکلنے کی امید ہے۔ ناامیدی میری فطرت میں ہی نہیں ہے کیونکہ میری طبیعت خدا تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے جو ناامیدی کے الفاظ کو سننا بھی گوارا نہیں کرتی۔ مجھے اس شخص پر بہت غصہ آتا ہے جو خدا تعالیٰ کی نسبت کسی ناامیدی کا اظہار کرے اس وقت میرے تمام بدن کو آگ لگ جاتی ہے۔ نیز میں یہ بات بھی کبھی نہیں سن سکتا کہ فلاں بات ہو نہیں سکتی۔ مجھے ایسے لوگوں سے ہمیشہ نفرت رہی ہے اور ہے جو اس قسم کے ہوتے ہیں۔ خیر یہ ایک ضمنی بات تھی جو میں نے بیان کر دی ہے۔ ہاں آپ لوگوں کو میں نے بتایا ہے کہ خدا سے دور رہنے والے لوگوں کا خدا سے قرب نہیں ہوتا۔ اسی طرح اس کے بندوں سے دور رہنے والا بھی ان کا مقرب نہیں بن سکتا۔ وہ دعائیں جو میں کرتا ہوں مجملاً ہوتی ہیں۔ اس لئے ان کا اثر اجمالی طور پر سب کو ہو گا مگر فرداً فرداً اسی کے لئے دعا کی تحریک پیدا ہوتی ہے جو بار بار سامنے نظر آئے۔ پس اس بات کو مدنظر رکھ کر بھی یہاں آؤ۔ پھر قادیان میں نہ صرف قرآن شریف علمی طور پر حاصل ہوتا ہے بلکہ عملی طور پر بھی ملتا ہے۔ یہاں خدا کے فضل سے پڑھانے والے ایسے موجود ہیں جو پڑھنے والے کے دل میں داخل کر دیں۔ اور یہ بات کسی اور جگہ حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ تفقہ فی الدین اور چیز ہے اور علم اور چیز۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عباسؓ کے لئے یہی دعا فرمائی کہ خدا تعالیٰ تمہیں دین کے باریک رازوں سے واقف کرے تفقہ فی الدین حاصل ہو۔ پس ہر ایک وہ شخص جو قرآن شریف پڑھ سکتا ہے وہ عالم ہو سکتا ہے مگر فقیہ نہیں ہو سکتا۔ جب تک کہ قرآن کریم کے باریک رازوں سے بھی واقف نہ ہو۔ ایسے انسان خدا کے فضل سے یہاں موجود ہیں ان سے آپ یہ بات حاصل کریں۔ اور وہ اس طرح کہ بار بار یہاں آئیں کیونکہ وہ وقت عنقریب آنے والا ہے جبکہ آپ دنیا کے پڑھانے والے بنیں گے۔ پس جلدی تعلیم حاصل کرو تاکہ دوسروں کو پڑھا سکو۔ خدا تعالیٰ کا جن مرکزوں کے ساتھ تعلق ہوتا ہے ان کے رہنے والوں کے ساتھ بھی وہ اپنے خاص فضل کا سلوک کرتا ہے تو یہاں نہ صرف یہ کہ خود بہت سے لوگ خدا کے فضل سے تفقہ فی الدین رکھتے ہیں۔ بلکہ ہر ایک بات میں دوسروں کو بھی تسلی اور تشفی کرا سکتے ہیں خدا کے فضل سے پھر یہاں کی ایک ایک اینٹ ایک ایک مکان حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کی دلیل ہے کیونکہ یہ وہ شہر ہے جس کا نام بھی کوئی نہ جانتا تھا مگر اس میں پیدا ہونے والے ایک شخص نے کہا کہ خدا نے مجھے کہا ہے کہ تمہیں تمام جہان میں مشہور کر دوں گا۔ اور

یہاں دور دور سے لوگ آئیں گے۔ چنانچہ وہ مشہور ہو گیا اور دور دراز ملکوں سے لوگ آئے جو آپ کی صداقت کا ایک کھلا کھلا ثبوت ہے۔ ایک دفعہ ایک انگریز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو امریکہ سے ملنے کے لئے آیا۔ اس نے آپ سے پوچھا کہ کیا آپ نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں میں نبی ہوں۔ اس نے کہا اگر آپ نبی ہیں تو کوئی نشان دکھلائیے۔ آپ نے فرمایا آپ ہی میرے نشان ہیں۔ اس نے کہا میں کس طرح ہوں۔ فرمایا ایک وقت تھا کہ یہاں مجھے کوئی نہ جانتا تھا اور میں ایک گمنامی کی حالت میں رہتا تھا۔ لیکن آج آپ مجھے امریکہ سے ملنے کے لئے آئے ہیں۔ کیا یہ میری صداقت کا نشان نہیں ہے۔ غرض آپ میں سے ایک ایک شخص اور اس مسجد اور دوسرے مکانوں کی ایک ایک اینٹ آنے والوں کے لئے نشان ہے کیونکہ اگر حضرت صاحب کے ذریعہ یہاں لوگ جمع نہ ہوتے۔ تو کون یہ مسجدیں اور یہ سکول اور یہ بورڈنگ بناتا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ایسے وقت میں اس کی خبر دی تھی جبکہ کسی کے خیال میں بھی یہ بات نہ آسکتی تھی۔ پھر آپؑ نے یہ بھی فرمایا ہوا ہے کہ قادیان اس دریا تک جو یہاں سے سات آٹھ میل کے فاصلہ پر ہے پھیل جائے گا۔ چنانچہ ایک میل تک تو اس تھوڑے سے عرصہ میں ہی پھیل گیا ہے۔ قاعدہ ہے کہ ابتداء میں ہر ایک چیز آہستہ آہستہ ترقی کرتی ہے اور کچھ عرصے کے بعد یک لخت بہت بڑھ جاتی ہے۔ مثلاً بچہ پہلے تھوڑا تھوڑا بڑھتا ہے لیکن ایک وقت میں یک لخت بڑھ جاتا ہے۔ تو یہ قادیان کی ابتدائی ترقی ہے اس سے اس کی انتہائی ترقی کا اندازہ کرلو۔ غرض قادیان کی ہر ایک چیز ہر ایک درخت ہر ایک اینٹ ہر ایک مکان نشان ہے۔ بہشتی مقبرہ‘ حضرت صاحب کا باغ‘ بورڈنگ‘ سکول‘ مسجدیں وغیرہ سب حضرت صاحب کا معجزہ ہیں اور یہاں کی گلیاں بھی بہت بابرکت ہیں کیونکہ ان میں خدا کا مسیحؑ چلا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ مکہ اور مدینہ کیوں اب بھی بابرکت ہیں۔ ان میں کیا ایسی چیز ہے جو کسی اور جگہ نہیں ہے۔ وہ یہ کہ مکہ کی بنیاد حضرت ابراہیمؑ جیسے برگزیدہ انسان نے رکھی۔ اور مدینہ میں رسول کریمﷺ رونق افروز رہے لیکن اب کیا وہاں رسول اللہ موجود ہیں۔ پھر کیوں اس کی عزت اور توقیر کی جاتی ہے۔ اور رسول اللہ نے یہ کیوں فرمایا ہے کہ میری مسجد میں نماز پڑھنے والے کو بہ نسبت کسی اور مسجد میں پڑھنے والے کے زیادہ ثواب ہوگا حالانکہ وہاں رسول اللہ کیا آپؐ کے صحابہؓ بھی نہیں ہیں اور اب تو وہاں ایسے علماء رہتے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعودؑ پر بھی کفر کا فتویٰ لگا دیا مگر چونکہ وہاں آنحضرتﷺ کے قدم پڑے تھے اس لئے وہ اب بھی مقدس اور مطہری ہے۔ پھر مکہ کو دیکھو وہاں نہ حضرت ابراہیمؑ ہیں اور نہ حضرت اسماعیلؑ۔ اور نہ ہی ان کے صحابہ موجود ہیں۔ مگر چونکہ ان متبرک انسانوں نے اس کی بنیاد رکھی تھی اس لئے باوجود اس وقت ان کے وہاں موجود نہ ہونے کے مکہ ویسا ہی متبرک ہے۔ تو جن مقاموں کے ساتھ خدا تعالیٰ کا تعلق ہوتا ہے وہ ہمیشہ کے لئے متبرک بنا دیئے جاتے ہیں۔ قادیان بھی ایک ایسی ہی جگہ ہے۔ یہاں خدا تعالیٰ کا ایک برگزیدہ مبعوث ہوا اور اس نے یہاں ہی اپنی ساری عمر گزاری۔ اور اس جگہ سے وہ بہت محبت رکھتا تھا۔ چنانچہ اس موقعہ پر جبکہ حضرت مسیح موعودؑ لاہور گئے ہیں۔ اور آپ کا وصال ہو گیا ہے۔ ایک دن مجھے آپ نے ایک مکان میں بلا کر فرمایا۔ محمود دیکھو یہ دھوپ کیسی زرد سی معلوم ہوتی ہے۔ چونکہ مجھے ویسی ہی معلوم ہوتی تھی جیسی کہ ہر روز دیکھتا تھا۔ میں نے کہا نہیں اسی طرح کی ہے جس طرح کی ہر روز ہوا کرتی ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں یہاں کی دھوپ کچھ زرد اور مدھم سی ہے۔ قادیان کی دھوپ بہت صاف اور عمدہ ہوتی ہے۔ چونکہ آپ نے قادیان میں ہی دفن ہونا تھا۔ اس لئے آپ نے یہ ایک ایسی بات فرمائی جس سے قادیان سے آپ کی محبت اور الفت کا پتہ لگتا تھا۔ کیونکہ جب کہیں سے جدائی ہونے لگتی ہے تو وہاں کی ذرا ذرا چیز سے بھی محبت اور الفت کا خیال آتا ہے۔ تو اس جگہ کی چھوٹی سے چھوٹی چیز سے بھی خدا کے مسیح کو وہ الفت تھی جس کا ثبوت اس واقعہ سے ملتا ہے۔ پھر خدا تعالیٰ نے تمہیں ایک سلک میں منسلک کر دیا ہے اور تم ایک لڑی میں پروئے گئے ہو۔ خدا تعالیٰ نے تمہیں اتفاق و اتحاد کی مضبوط چٹان پر کھڑا کر دیا ہے۔ اس لئے یہاں صرف مقام ہی کی برکتیں نہیں بلکہ اتحاد کی برکتیں بھی ہیں۔ لیکن میں کہتا ہوں اگر خدانخواستہ اتحاد نہ بھی ہو تو بھی یہاں آنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ وہ شخص جو یہاں نہیں آتا۔ یاد رکھے کہ اس کا ایمان خطرہ میں ہے۔ پس وہ لوگ جو پرانے ہیں اور وہ بھی جو نئے ہیں یہاں بار بار آئیں۔ میں بڑے زور سے کہتا ہوں کہ ان کے یہاں آنے جانے کے روپے ضائع نہیں جائیں گے بلکہ خدا تعالیٰ انہیں واپس کر دے گا۔ اور بڑے نفع کے ساتھ واپس کرے گا کیونکہ خدا تعالیٰ کسی کا حق نہیں مارتا۔ اسے بڑی غیرت ہے اور اس معاملہ میں وہ بڑا غیور ہے۔ دیکھو اس میں اتنی غیرت ہے کہ جب مؤذن کھڑا ہو کر اذان میں کہتا ہے۔ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوةِ کہ اے لوگو نماز کا وقت ہو گیا ہے نماز کے لئے آؤ۔ تو خدا تعالیٰ اتنا برداشت نہیں کر سکتا کہ اس آواز سے لوگ یہ خیال کر کے آئیں کہ چلو خدا کا حکم ہے مسجد میں چلیں۔ اور اس طرح ایک طرح کا احسان

جتائیں۔ اس لئے ساتھ یہ بھی فرما دیا کہ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کسی کا نماز پڑھنے کے لئے آنا مجھ پر کوئی احسان نہیں ہے اگر کوئی نماز پڑھے گا تو خود ہی فلاح حاصل کرے گا۔ تو جو لوگ خدا تعالیٰ کے لئے اپنا مال خرچ کریں گے اس کی رضامندی کے لئے اپنا وطن چھوڑیں گے اس کی رضا کے لئے سفر کی تکلیفیں برداشت کریں گے۔ ان کی یہ باتیں ضائع نہیں جائیں گی۔ بلکہ وہ اس درجہ کو پائیں گے کہ خدا ان کا ہاتھ‘ خدا ان کی زبان‘ خدا ان کے کان‘ اور خدا ان کے پاؤں ہو جائے گا۔ اور جو کچھ وہ اس راستہ میں ڈالیں گے وہ بیج ہو گا جو انہیں کئی گنا ہو کر واپس ملے گا۔ پس کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ قادیان آنا خرچ کرنا ہے یہ خرچ کرنا نہیں بلکہ برکتیں حاصل کرنا ہے۔ دیکھو کھیتی میں بیج ڈالنے والا بھی بیج کو خرچ کرتا ہے لیکن اس سے گھبراتا نہیں بلکہ امید رکھتا ہے کہ کل مجھے بہت زیادہ ملے گا۔ پس تم بھی یہاں آنے جانے کے اخراجات سے نہ گھبراؤ۔ خدا تعالیٰ تمہیں اس کے مقابلہ میں بہت بڑھ کر دے گا۔ پس تمہارے یہاں آنے میں کوئی چیز روک نہ ہو اور کوئی بات مانع نہ ہو تاکہ تم اپنے دین اور ایمان کو مضبوط کرلو۔ اور اپنے میں آنے والوں سے پہلے ان کے لینے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ اور اگر آنے والے ہزاروں ہوں تو تم بھی ہزاروں ہی ان کے لینے کے لئے موجود رہو۔

اس بات کو خوب ذہن نشین کر کے اس پر عمل کرو۔ صحابہؓ کا بڑا تلخ تجربہ ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کیسی دردناک مصیبت ان پر آئی تھی۔ اور کس قدر مصائب اور آلام کا وہ نشانہ بنے تھے۔ یہ فساد جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے صحابہؓ سے پیدا نہیں ہوا تھا۔ بلکہ ان لوگوں نے کیا تھا جو مدینہ میں نہیں آتے تھے۔ اور صحابہؓ میں شامل نہ تھے۔ چنانچہ اس فساد کا بانی مبانی ایک شخص عبداللہ بن سبا تھا۔ اس کی ابتدائی زندگی کا حال تو معلوم نہیں ہوتا کہ سیاست کے ساتھ اس کو کیا تعلق تھا لیکن تاریخ میں اس کا ذکر حکیم بن جبلہ کے ساتھ آتا ہے۔ حکیم بن جبلہ ایک چور تھا جب فارس پر چڑھائی ہوئی تو یہ بھی صحابہؓ کے لشکر میں شامل تھا۔ لشکر کی واپسی پر یہ راستہ میں غائب ہو گیا۔ اور غیر مسلموں پر حملہ کر کے ان کے اموال لوٹ لیا کرتا تھا اور بھیس بدل کر رہتا تھا۔ جب غیر مسلم آبادی اور مسلم آبادی نے اس کی شرارتوں کا حال حضرت عثمانؓ کو لکھا تو آپ نے اس کے نظر بند کرنے کا حکم دیا اور بصرہ سے باہر جانے کی اسے ممانعت کر دی گئی اس پر اس نے خفیہ شرارتیں اور منصوبے شروع کئے۔ چنانچہ ۳۲ھ میں اس کے گھر پر عبداللہ بن سبا مہمان کے طور پر آکر اترا۔ اور لوگوں کو بلا کر ان کو ایک خفیہ جماعت کی شکل میں بنانا شروع کیا اور آپس میں ایک انتظام قائم کیا۔ جب اس کی خبر والی کو ملی تو اس نے اس سے دریافت کیا کہ تو کون ہے تو اس نے کہلا بھیجا کہ میں ایک یہودی ہوں اسلام سے مجھے رغبت ہے اور تیری پناہ میں آکر رہا ہوں۔ چونکہ اس کی شرارتوں کا علم گورنر کو ہو چکا تھا انہوں نے اسے ملک بدر کر دیا۔ یہ پہلا واقعہ ہے جو تاریخ عبداللہ بن سبا کی سیاسی شرارتوں کے متعلق ہمیں بتاتی ہے اور اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حکیم بن جبلہ بھی سچے دل سے مسلمان نہ تھا اور اس کا ذمیوں پر حملہ کرنا اس لئے نہ تھا کہ غیر مسلموں سے اسے دشمنی تھی۔ بلکہ غیر مسلموں کو اسلامی حکومت کے خلاف بھڑکانے کے لئے وہ ڈاکہ مارتا تھا جیسا کہ آج کل بنگالہ کے چند شریر ہندوستانی آبادی پر ڈاکہ مارتے ہیں۔ اور ان کی غرض صرف اس قدر ہوتی ہے کہ عام آبادی انگریزی حکومت کو نا قابل سمجھ کر اس سے بگڑ جائے۔ اور یہ نتیجہ اس بات سے نکلتا ہے کہ عبداللہ بن سبا ایک یہودی جو دل سے اسلام کا دشمن تھا اسی کے پاس آکر ٹھہرا ہے اگر حکیم سچا مسلمان ہوتا اور غیر مسلموں کا دشمن تو کبھی عبداللہ بن سبا جو دل سے اسلام کا دشمن تھا سب بصرہ میں سے اس کو نہ چنتا بلکہ اسے اپنا دشمن خیال کرتا۔

جب عبداللہ بن سبا بصرہ سے نکالا گیا تو کوفہ کو چلا گیا۔ اور وہاں ایک جماعت اپنے ہم خیالوں کی پیدا کر کے شام کو گیا لیکن وہاں اس کی بات کسی نے نہ سنی۔ اس لئے وہ وہاں سے مصر کو چلا گیا۔ مصری لوگ تازہ مسلمان تھے۔ ان میں ایمان اس قدر داخل نہ ہوا تھا۔ جیسا کہ دیگر بلاد کے باشندوں میں پھر مدینہ سے زیادہ دور تھے اور مرکز سے تعلق کم تھا اس لئے بہت کثرت سے اس کے فریب میں آگئے۔ اور عبداللہ بن سبا نے دیکھ لیا کہ مصر ہی میرے قیام کے لئے مناسب ہو سکتا ہے چنانچہ اس نے مصر میں ہی رہائش اختیار کی اور لوگوں کو اکسانا شروع کیا۔

ادھر تو یہ فتنہ شروع تھا ادھر چند اور فتنے بھی پیدا ہو رہے تھے اور ان کے بانی بھی وہی لوگ تھے جو بعد میں مسلمان ہوئے تھے اور مدینہ سے ان کا تعلق بالکل نہ تھا اس لئے ان کی تربیت نہ ہو سکتی تھی۔ چنانچہ جس طرح بصرہ میں حکیم بن جبلہ عبداللہ بن سبا کے ساتھ مل کر یہ شرارتیں کر رہا تھا۔ کوفہ میں بھی ایک جماعت اسی کام میں لگی ہوئی تھی۔ سعید بن العاص گورنر کوفہ تھے اور ان کی صحبت اکثر ذی علم لوگوں کے ساتھ رہتی تھی۔ مگر کبھی کبھی تمام لوگوں کو وہ اپنے پاس آنے کی اجازت دیتے تھے تاکہ حالات سے باخبر رہیں۔ ایک دن ایسا ہی موقعہ تھا باتیں ہو رہی تھیں۔ کسی نے کہا فلاں شخص بڑا سخی ہے سعید بن العاص نے کہا کہ میرے پاس دولت ہوتی تو میں بھی تم لوگوں کو دیتا۔ ایک بیچ میں بول پڑا کہ کاش اٰلِ کسریٰ کے اموال تمہارے قبضہ میں ہوتے۔ اس پر چند نو مسلم عرب اس سے لڑ پڑے اور کہا کہ یہ ہمارے اموال کی نسبت خواہش کرتا ہے کہ اس کو مل جائیں۔ سعید بن العاص نے سمجھایا تو اس نے کہا کہ تم نے اس کو سکھایا ہے کہ ایسی بات کہے اور اٹھ کر اس شخص کو مارنے لگے اس کی مدد کے لئے اس کا باپ اٹھا تو اسے بھی مارا حتیٰ کہ دونوں بیہوش ہو گئے۔ جب لوگوں کو علم ہوا کہ اس قسم کا فساد ہو گیا ہے تو وہ قلعہ کے ارد گرد جمع ہو گئے۔ مگر سعید بن العاص نے ان کو سمجھا کر ہٹا دیا کہ کچھ نہیں سب خیر ہے اور جن لوگوں کو مار پڑی تھی انہیں بھی منع کر دیا کہ تم اس بات کو مشہور مت کرنا خواہ مخواہ فساد پڑے گا۔ اور آئندہ سے اس فسادی جماعت کو اپنے پاس آنے سے روک دیا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ہمیں والی اپنے پاس نہیں آنے دیتا تو انہوں نے لوگوں میں طرح طرح کے جھوٹ مشہور کرنے شروع کر دیئے اور دین اسلام پر طعن کرنے لگے۔ اور مختلف تدابیر سے لوگوں کو دین سے بدظن کرنے کی کوشش شروع کی۔ اس پر لوگوں نے حضرت عثمانؓ سے شکایت کی اور آپ نے حکم دیا کہ ان کو کوفہ سے جلاوطن کر کے شام بھیج دیا جائے۔ اور حضرت معاویہؓ کو لکھ دیا کہ ان کی خبر رکھنا۔ حضرت معاویہؓ نے نہایت محبت سے ان کو رکھا اور ایک دن موقعہ پا کر ان کو سمجھایا کہ رسول کریم ﷺ کی آمد سے پہلے عرب کی کیا حالت تھی اسے یاد کرو اور غور کرو کہ خدا تعالیٰ نے قریش کے ذریعہ سے تم کو عزت دی ہے پھر قریش سے تمہیں کیوں دشمنی ہے (وہ لوگ اس بات پر بھی طعن کرتے تھے کہ خلیفہ قریش میں سے کیوں ہوتے ہیں قریشیوں نے خلافت کو اپنا حق بنا چھوڑا ہے یہ ناجائز ہے) اگر تم حکام کی عزت نہ کرو گے تو یاد رکھو جلد وہ دن آتا ہے کہ خدا تعالیٰ تم پر ایسے لوگوں کو مقرر کرے گا جو تم کو خوب تکلیف دیں گے۔ امام ایک ڈھال ہے جو تم کو تکلیف سے بچاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قریش کا کیا احسان ہے کیا وہ کوئی بڑی جماعت تھی جن کے ذریعہ سے اسلام کامیاب ہو گیا اور باقی رہا کہ امام ڈھال ہے اور ہمیں تکلیف سے بچا رہا ہے۔ سو یہ خیال مت کرو جب وہ ڈھال ٹوٹ جائے گی تو پھر ہمارے ہاتھ میں دے دی جائے گی۔ یعنی خلافت اگر قریش کے ہاتھ سے نکل جائے گی تو پھر ہم ہی ہم اس کے وارث ہیں اس لئے ہمیں اس کا فکر نہیں کہ خلافت قریش کے ہاتھ سے نکل گئی تو پھر کیا ہو گا۔ اس پر حضرت معاویہ نے ان کو سمجھایا کہ ایام جاہلیت کی سی باتیں نہ کرو اسلام میں کسی قوم کا زیادہ یا کم ہونا موجب شرف نہیں رکھا گیا۔ بلکہ دیندار و خدارسیدہ ہونا اصل سمجھا گیا ہے۔ پس جبکہ قریش کو خدا تعالیٰ نے جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں ممتاز کیا۔ اور ان کو دین کی اشاعت و حفاظت کا کام سپرد کیا ہے تو تم کو اس پر کیا حسد ہے اور تم لوگ اپنی پہلی حالت کو دیکھو اور سوچو کہ اسلام نے تم لوگوں پر کس قدر احسانات کئے ہیں۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ تم اہل فارس کے کارندہ تھے اور بالکل ذلیل تھے اسلام کے ذریعہ سے ہی تم کو سب عزت ملی۔ لیکن تم نے بجائے شکریہ ادا کرنے کے ایسی باتیں شروع کر دی ہیں جو اسلام کے لئے ہلاکت کا باعث ہیں تم شیطان کا ہتھیار بن گئے ہو وہ جس طرح چاہتا ہے تمہارے ذریعہ سے مسلمانوں میں پھوٹ ڈلوارہا ہے۔ مگر یاد رکھو کہ اس بات کا انجام نیک نہ ہو گا اور تم دکھ پاؤ گے۔ بہتر ہے کہ جماعت اسلام میں شامل ہو جاؤ۔ میں خوب جانتا ہوں کہ تمہارے دل میں کچھ اور ہے جسے تم ظاہر نہیں کرتے لیکن اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کر کے چھوڑے گا (یعنی تم اصل میں حکومت کے طالب ہو اور چاہتے ہو کہ ہم بادشاہ ہو جائیں اور دین سے متنفر ہو لیکن بظاہر اپنے آپ کو مسلم کہتے ہو) اس کے بعد حضرت معاویہؓ نے حضرت عثمانؓ کو ان کی حالت سے اطلاع دی اور لکھا کہ وہ لوگ اسلام و عدل سے بیزار ہیں اور ان کی غرض فتنہ کرنا اور مال کمانا ہے پس آپ ان کے متعلق گورنروں کو حکم دے دیجئے کہ ان کو عزت نہ دیں یہ ذلیل لوگ ہیں۔ پھر ان لوگوں کو شام سے نکالا گیا اور وہ جزیرہ کی طرف چلے گئے وہاں عبدالرحمن بن خالد بن ولید حاکم تھے انہوں نے ان کو نظر بند کر دیا اور کہا کہ اگر اس ملک میں بھی لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے اور فتنہ ڈالنے کی کوشش کی تو یاد رکھو میں ایسی خبر لوں گا کہ سب شیخی کرکری ہو جائے گی۔ چنانچہ انہوں نے انہیں سخت پہرہ میں رکھا۔ حتیٰ کہ ان لوگوں نے آخر میں توبہ کی کہ اب ہم جھوٹی افواہیں نہ پھیلائیں گے۔ اور اسلام میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش نہ کریں گے۔ اس پر حضرت عبدالرحمن بن خالد بن ولید نے ان کو اجازت دے دی کہ جہاں چاہو چلے جاؤ۔ اور اشتر کو حضرت عثمانؓ کی خدمت میں بھیجا کہ اب یہ معافی کے طالب ہیں آپ نے انہیں معاف کیا اور اختیار دیا کہ جہاں چاہیں رہیں۔ اشتر نے کہا کہ ہم عبدالرحمن بن خالد کے پاس ہی رہنا چاہتے ہیں چنانچہ وہیں ان کو واپس کیا گیا۔

اس گروہ کے علاوہ ایک تیسرا گروہ تھا جو تفرقہ کے پیچھے پڑا ہوا تھا۔ اس کا سرگروہ ایک شخص حمران بن ابان تھا اس نے ایک عورت سے عدت کے اندر شادی کر لی تھی جس پر اسے مارا گیا اور بصرہ کی طرف جلاوطن کر دیا گیا۔ وہاں اس نے فساد ڈلوانا شروع کیا اور تفرقہ اور فساد ڈالنے کے لئے یہ صورت اختیار کی کہ شرفاء کے خلاف موقعہ پاکر جھوٹ منسوب کر دیتا اور اس طرح تفرقہ ڈلواتا۔

غرض یہ تین گروہ اسلام کی تباہی میں کوشاں تھے اور تینوں گروہ ایسے تھے جو دینِ اسلام سے بے خبر اور اپنی وجاہت کے دلدادہ تھے۔ اسلام کی ناواقفہی کی وجہ سے اپنی عقل سے مسائل ایجاد کر کے مسلمانوں کے اعتقاد بگاڑتے تھے اور چونکہ حکومتِ اسلامیہ ان کے اس فعل میں روک تھی اور وہ کھلے بندوں اسلام کو بازیچہ اطفال نہیں بنا سکتے تھے اس لئے حکومت کے مٹانے کے درپے ہو گئے تھے۔

چنانچہ سب سے پہلے عبد اللہ بن سبا نے مصر میں بیٹھ کر باقاعدہ سازش شروع کر دی اور تمام اسلامی علاقوں میں اپنے ہم خیال پیدا کر کے ان کے ساتھ خط و کتابت شروع کی اور لوگوں کو بھڑکانے کے لئے یہ راہ نکالی کہ حضرت عثمانؓ کے عُمال کے خلاف لوگوں کو بھڑکانا شروع کیا۔ اور چونکہ لوگ اپنی آنکھوں دیکھی بات کے متعلق دھوکا نہیں کھا سکتے اس لئے یہ تجویز کی کہ ہر ایک جگہ کے لوگ اپنے علاقہ میں اپنے گورنر کے عیب نہ مشہور کریں بلکہ دوسرے علاقہ کے لوگوں کو اس کے مظالم لکھ کر بھیجیں۔ وہاں کے فتنہ پرداز ان کو اپنے گورنر کے عیب لکھ کر بھیجیں اس طرح لوگوں پر ان کا فریب نہ کھلے گا۔ چنانچہ بصرہ کے لوگ مصر والوں کی طرف لکھ کر بھیجتے کہ یہاں کا گورنر بڑا ظالم ہے اور اس اس طرح مسلمانوں پر ظلم کرتا ہے اور مصر کے لوگ یہ خطوط لوگوں کو پڑھ کر سناتے اور کہتے کہ دیکھو تمہارے بصرہ کے بھائی اس دکھ میں ہیں اور ان کی فریاد کوئی نہیں سنتا۔ اسی طرح مصر کے متفنی کسی اور صوبہ کے دوستوں کو مصر کے گورنر کے ظلم لکھ کر بھیجتے اور وہ لوگوں کو سنا کر خلیفہ کے خلاف اکساتے کہ اس نے ایسے ظالم گورنر مقرر کر رکھے ہیں جن کو رعایا کی کوئی پرواہ نہیں۔ علاوہ ازیں لوگوں کو بھڑکانے کے لئے چونکہ اس بات کی بھی ضرورت تھی کہ ان کے دل ان کی طرف جھک جائیں۔ اسکے لئے عبد اللہ بن سبا نے یہ تجویز کی کہ عام طور پر وعظ و لیکچر دیتے پھرو تاکہ لوگ تمہاری طرف مائل ہو جائیں اور بڑا خادمِ اسلام سمجھیں۔ چنانچہ اس کے اصل الفاظ یہ ہیں جو طبری نے لکھے ہیں وَ اَظْهِرُوا الْاَمْرَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ تَسْتَمِيْلُوا النَّاسَ وَادْعُوهُمْ اِلیٰ هٰذَا الْاَمْرِ فَبُثَّ دُعَاتَهٗھیعنی اس نے نصیحت کی کہ ظاہر میں تو تمہارا کام لوگوں کو نیک باتوں کا وعظ کرنا اور بری باتوں سے روکنا ہو تاکہ اس ذریعہ سے لوگوں کے دل تمہاری طرف مائل ہو

جائیں کہ کیا عمدہ کام کرتے ہیں لیکن اصل میں تمہاری غرض ان وعظوں سے یہ ہو کہ اس طرح لوگوں کے دل جب مائل ہو جائیں تو انہیں اپنا ہم خیال بناؤ۔ یہ نصیحت کر کے اس نے اپنے واعظ چاروں طرف پھیلا دیئے۔ غرض ان لوگوں نے ایسا طریق اختیار کیا کہ سادہ لوح لوگوں کے لئے بات کا سمجھنا بالکل مشکل ہو گیا۔ اور فتنہ بڑے زور سے ترقی کرنے لگا۔ اور عام طور پر مسلمان خلافت عثمانؓ سے بدظن ہو گئے اور ہر جگہ یہی ذکر لوگوں کی زبانوں پر رہنے لگا کہ ہم تو بڑے مزے میں ہیں۔ باقی علاقوں کے لوگ بڑے بڑے دکھوں میں ہیں۔ بصرہ کے لوگ خیال کرتے کہ کوفہ اور مصر کے لوگ سخت تکلیف میں ہیں اور کوفہ کے لوگ سمجھتے کہ بصرہ اور مصر کے لوگ سخت دکھ میں ہیں حالانکہ اگر وہ لوگ آپس میں ملتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ یہ شریروں کی شرارت ہے ورنہ ہر جگہ امن وامان ہے۔ ہر جماعت دوسری جماعت کو مظلوم قرار دیتی تھی حالانکہ مظلوم کوئی بھی نہ تھا۔ اور ان سازشیوں نے ایسا انتظام کر رکھا تھا کہ اپنے ہم خیالوں کو ایک دوسرے سے ملنے نہ دیتے تھے تا راز ظاہر نہ ہو جائے۔

آخر یہ فساد بڑھتے بڑھتے خیالات سے عمل کی طرف لوٹا۔ اور لوگوں نے یہ تجویز کی کہ ان گورنروں کو موقوف کروایا جائے۔ جن کو حضرت عثمانؓ نے مقرر کیا ہے چنانچہ سب سے پہلے حضرت عثمانؓ کے خلاف کوفہ کے لوگوں کو اکسایا گیا اور وہاں فساد ہو گیا۔ لیکن بعض بڑے آدمیوں کے سمجھانے سے فساد تو دب گیا۔ مگر فساد کے بانی مبانی نے فوراً ایک آدمی کو خط دے کر حمص روانہ کیا کہ وہاں جو جلا وطن تھے ان کو بلا لائے۔ اور لکھا کہ جس حالت میں ہو فوراً چلے آؤ کہ مصری ہم سے مل گئے ہیں۔ وہ خط جب ان کو ملا تو باقیوں نے تو اسے رد کر دیا۔ لیکن مالک بن اشتر بگڑ کر فوراً کوفہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ اور تمام راستہ میں لوگوں کو حضرت عثمانؓ اور سعیدؓ بن العاص کے خلاف اکساتا گیا اور ان کو سناتا کہ میں مدینہ سے آ رہا ہوں۔ راستہ میں سعیدؓ بن العاص سے ملا تھا وہ تمہاری عورتوں کی عصمت دری کرنا چاہتا ہے اور فخر کرتا ہے کہ مجھے اس کام سے کون روک سکتا ہے۔ اسی طرح حضرت عثمانؓ کی عیب جوئی کرتا۔ جو لوگ حضرت عثمانؓ اور دیگر صحابہؓ کے واقف نہ تھے اور مدینہ آنا جانا ان کا کم تھا وہ دھوکے میں آتے جاتے تھے اور تمام ملک میں آگ بھڑکتی جاتی تھی عقلمند اور واقف لوگ سمجھاتے لیکن جوش میں کون کسی کی سنتا ہے۔

اس زمانہ میں بھی حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف لوگ قسم قسم کے جھوٹ مشہور کرتے تھے

اور ایسے احمدی بھی جو قادیان کم آتے تھے ان کے دھوکے میں آجاتے تھے۔ اب بھی ہمارے مخالف میری نسبت اور قادیان کے دوسرے دوستوں کی نسبت جھوٹی باتیں مشہور کرتے ہیں کہ سب اموال پر انہوں نے تصرف کر لیا ہے اور حضرت صاحب کو حقیقی نبی (جس کے معنی حضرت مسیح موعودؑ نے تشریعی نبی کئے ہیں) مانتے ہیں اور نعوذ باللہ من ذالک رسول کریم ﷺ کی ہتک کرتے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ جو لوگ قادیان نہیں آتے ان میں سے بعض ان کے فریب میں آجاتے ہیں۔ ایک رئیس نے مسجد کوفہ میں لوگوں کو اکٹھا کر کے ایک تقریر کی اور سمجھایا لیکن دوسرے لوگوں نے انہیں کہا کہ اب فتنہ حد سے بڑھ گیا ہے۔ اب اس کا علاج سوائے تلوار کے کچھ نہیں۔ اس ناشکری کی سزا اب ان کو یہی ملے گی کہ یہ زمانہ بدل جائے گا اور بعد میں یہ لوگ خلافت کے لوٹنے کی تمنا کریں گے لیکن ان کی آرزو پوری نہ ہوگی۔ پھر سعیدؓ بن العاص ان کو سمجھانے گئے انہوں نے جواب دیا کہ ہم تجھ سے راضی نہیں۔ تیری جگہ پر اور گورنر طلب کریں گے انہوں نے کہا کہ اس چھوٹی سی بات کے لئے اس قدر شور کیوں ہے۔ ایک آدمی کو خلیفہ کی خدمت میں بھیج دو کہ ہمیں یہ گورنر منظور نہیں وہ اور بھیج دیں گے۔ اس بات کے لئے اس قدر اجتماع کیوں ہے؟ یہ بات کہہ کر سعید نے اپنا اونٹ دوڑایا اور مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور حضرت عثمانؓ کو سب حالات سے آگاہ کیا۔ آپ نے فرمایا کسے گورنر بنانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا۔ ابو موسیٰ اشعریؓ کو۔ فرمایا ہم نے ان کو گورنر مقرر کیا اور ہم ان لوگوں کے پاس کوئی معقول عذر نہ رہنے دیں گے۔ جب حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو یہ اطلاع ملی تو آپ نے سب لوگوں کو جمع کر کے اس خبر سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا تو آپ ہمیں نماز پڑھائیں۔ مگر انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ جب تک کہ تم آئندہ کے لئے توبہ نہ کرو اور حضرت عثمانؓ کی اطاعت کا وعدہ نہ کرو میں تمہاری امامت نہ کروں گا اور تم کو نماز نہ پڑھاؤں گا۔ انہوں نے وعدہ کیا تب آپ نے انہیں نماز پڑھائی۔ لیکن فتنہ اس پر بھی ختم نہ ہوا کیونکہ ان لوگوں کی اصل غرض تو خلافت کا اڑانا تھا۔ عمال و حکام کی تبدیلی تو صرف ایک بہانہ اور حضرت عثمانؓ کے مظالم (نعوذ باللہ) کا اظہار ایک ذریعہ تھے جس سے وہ لوگ جو مدینہ آتے جاتے نہ تھے اور اس برگزیدہ اور پاک انسان کے حالات سے آگاہ نہ تھے وہ دھوکے میں آجاتے تھے اور اگر وہ خود آکر حضرت عثمانؓ کو دیکھتے تو کبھی ان شریروں کے دھوکے میں نہ آتے اور اس فساد میں نہ پڑتے۔

غرض یہ فتنہ دن بدن بڑھتا ہی گیا اور آخر حضرت عثمانؓ نے صحابہؓ کو جمع کیا اور دریافت کیا کہ اس فتنہ کے دور کرنے کے لئے کیا تدبیر کرنی چاہئے۔ اس پر مشورہ ہوا اور یہ تجویز ہوئی کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ حکام کی شکایت درست بھی ہے یا نہیں اور اس بات کے معلوم کرنے کے لئے تمام صوبوں میں کچھ ایسے آدمی بھیجے جائیں جو یہ معلوم کریں کہ آیا گورنر ظالم ہیں یا یونہی ان کے متعلق غلط خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ اس کام کے لئے جو آدمی بھیجے گئے۔ ان سب نے لکھ دیا کہ ہر ایک صوبہ میں اچھی طرح امن اور امان قائم ہے۔ گورنروں کے متعلق کوئی شکایت نہیں ہے۔ لیکن عمارؓ بن یاسر جو مصر میں بھیجے گئے تھے۔ ان کو عبد اللہ بن سبا کے ساتھی پہلے ہی مل گئے اور اپنے پاس ہی ان کو رکھا اور لوگوں سے ملنے نہ دیا بلکہ ایسے ہی لوگوں سے ملایا جو اپنے ڈھب کے اور ہم خیال تھے۔ اور انہیں سارے جھوٹے قصے سنائے اس لئے وہ ان کے دھوکے میں آگئے۔ یہ واقعہ اسی طرح ہوا جس طرح کہ آنحضرت ﷺ کے عہد میں ابو جہل کرتا تھا کہ جب لوگ رسول کریم ﷺ کو ملنے کے لئے آتے۔ تو وہ ان کو روکتا کہ اول تو اس کے پاس ہی نہ جاؤ۔ اور اگر جاتے ہو تو اپنے کانوں میں روئی ٹھونس کر جاؤ تاکہ اس کی آواز تمہارے کانوں تک نہ پہنچے۔ اسی طرح عمار بن یاسر کو گورنر اور دوسرے امراء مصر سے ملنے ہی نہ دیا گیا۔

ان لوگوں کے واپس آنے کے بعد جو تحقیقات کے لئے مختلف بلاد کی طرف بھیجے گئے تھے حضرت عثمانؓ نے مزید احتیاط کے طور پر ایک خط تمام ممالک کے مسلمانوں کی طرف لکھا اور اس میں تحریر فرمایا کہ مجھے ہمیشہ سے مسلمانوں کی خیر خواہی مد نظر رہی ہے مگر میں شکایتیں سنتا ہوں کہ بعض مسلمانوں کو بلاوجہ مارا جاتا ہے اور بعض کو بلاوجہ گالیاں دی جاتی ہیں اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ لوگ جن کو شکایت ہو۔ اس سال حج کے لئے جمع ہوں اور جو شکایات انہیں ہیں وہ پیش کریں خواہ میرے حکام کے خلاف ہوں خواہ میرے خلاف‘ میری جان حاضر ہے اگر مجھ پر کوئی شکایت ثابت ہو تو مجھ سے بدلہ لے لیں۔ جب یہ خط تمام ممالک کی مساجد میں سنایا گیا۔ تو شریروں پر تو کیا اثر ہونا تھا مگر عام مسلمان اس خط کو سن کر بے تاب ہو گئے اور جب یہ خط سنایا گیا تو مساجد میں ایک کہرام مچ گیا اور روتے روتے مسلمانوں کی داڑھیاں تر ہو گئیں اور انہوں نے افسوس کیا کہ چند بد معاشوں کی وجہ سے امیر المومنین کو اس قدر صدمہ ہوا ہے۔ اور سب جگہ پر حضرت عثمانؓ کے لئے دعا کی گئی۔ موسم حج کے قریب حضرت عثمانؓ نے تمام

گورنروں کے نام خطوط لکھے کہ حج میں حاضر ہوں۔ چنانچہ سب گورنر حاضر ہوئے اور آپ نے ان سے دریافت کیا کہ یہ شور کیسا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شور تو کوئی نہیں بعض شریروں کی شرارت ہے اور آپ نے اکابر صحابہؓ کو بھیج کر خود دریافت کرلیا ہے کہ اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں بلکہ تمام الزامات جھوٹے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ اچھا آئندہ کے لئے کیا مشورہ دیتے ہو۔ سعیدؓ بن العاص نے کہا کہ یہ ایک خفیہ منصوبہ ہے جو الگ تیار کیا جاتا ہے اور پھر ایسے لوگوں کے کان بھر دیئے جاتے ہیں جو حالات سے ناواقف ہیں اور اس طرح ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے تک بات پہنچتی جاتی ہے۔ پس علاج یہی ہے کہ اصل شریروں کو تلاش کر کے انہیں سزا دی جائے اور قتل کر دیا جائے۔ عبد اللہ بن سعدؓ نے مشورہ دیا کہ آپ نرمی کرتے ہیں جب آپ لوگوں کو ان کے حقوق دیتے ہیں تو لوگوں سے ان حقوق کا مطالبہ بھی کریں جو ان کے ذمہ واجب ہیں۔ حضرت معاویہؓ نے عرض کیا کہ یہ دونوں بزرگ اپنے اپنے علاقہ کے واقف ہوں گے۔ میرے علاقہ میں تو کوئی شور ہی نہیں۔ وہاں سے آپ نے کبھی کوئی فساد کی خبر نہ سنی ہوگی۔ اور جہاں شورش ہے وہاں کے متعلق میرا مشورہ یہی ہے کہ وہاں کے حکام انتظام کی مضبوطی پر زور دیں۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے فرمایا کہ آپ بہت نرمی کرتے ہیں اور آپ نے لوگوں کو ایسے حقوق دے دیئے ہیں جو حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ نہ دیتے تھے۔ پس آپ اب لوگوں سے ویسا ہی سلوک کریں جیسا کہ یہ دونوں کرتے تھے۔ اور جس طرح نرمی سے کام لیتے ہیں سختی کے موقعہ پر سختی سے بھی کام لیں۔ ان سب مشوروں کو سن کر حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ یہ فتنہ مقدر ہے اور مجھے اس کا سب حال معلوم ہے کوئی سختی اس فتنہ کو روک نہیں سکتی۔ اگر روکے گی تو نرمی۔ پس تم لوگ مسلمانوں کے حقوق پوری طرح ادا کرو۔ اور جہاں تک ہو سکے ان کے قصور معاف کرو۔ خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں نے لوگوں کو نفع پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کی۔ پس میرے لئے بشارت ہے اگر میں اسی طرح مرجاؤں اور فتنہ کا باعث نہ بنوں۔ لیکن تم لوگ یہ بات یاد رکھو کہ دین کے معاملہ میں نرمی نہ کرنا بلکہ شریعت کے قیام کی طرف پورے زور سے متوجہ رہنا۔ یہ کہہ کر سب حکام کو واپس روانہ کر دیا۔

حضرت معاویہؓ جب روانہ ہونے لگے تو عرض کیا۔ اے امیر المؤمنین! آپ میرے ساتھ شام کو چلے چلیں سب فتنوں سے محفوظ ہو جائیں گے۔ آپ نے جواب دیا کہ معاویہؓ میں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمسائیگی کو کسی چیز کی خاطر بھی نہیں چھوڑ سکتا۔ خواہ میرے چمڑے کی رسیاں ہی کیوں نہ بنا دی جائیں۔ اس پر حضرت معاویہؓ نے عرض کیا کہ آپ یہ بات نہیں مانتے تو میں ایک لشکر سپاہیوں کا بھیج دیتا ہوں جو آپ کی اور مدینہ کی حفاظت کریں گے آپ نے فرمایا کہ میں اپنی جان کی حفاظت کے لئے ایک لشکر رکھ کر مسلمانوں کے رزق میں کمی نہیں کرنا چاہتا۔ حضرت معاویہ نے عرض کیا کہ امیرالمؤمنین ! خدا کی قسم آپ کو شریر لوگ دھوکا سے قتل کر دیں گے یا آپ کے خلاف جنگ کریں گے۔ آپ ایسا ضرور کریں لیکن آپ نے یہی جواب دیا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا خدا میرے لئے کافی ہے۔ پھر حضرت معاویہؓ نے عرض کیا کہ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو پھر یہ کریں کہ شرارتی لوگوں کو بڑا گھمنڈ بعض اکابر صحابہؓ پر ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ آپ کے بعد وہ کام سنبھال لیں گے اور ان کا نام لے لے کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ آپ ان سب کو مدینہ سے رخصت کر دیں اور دور دراز ملکوں میں پھیلا دیں۔ شریروں کی کمریں ٹوٹ جائیں گی۔ آپ نے فرمایا کہ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمع کیا تھا میں تو انہیں جلاوطن نہیں کر سکتا۔ اس پر حضرت معاویہؓ رو پڑے اور فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے اس فتنہ کے لئے منشائے الٰہی ہو چکا ہے۔ اور اے امیرالمؤمنین ! شاید یہ میری آپ سے آخری ملاقات ہے۔ اس لئے ایک عرض میں آخر میں اور کرتا ہوں کہ اگر آپ اور کچھ بھی نہیں کرتے تو اتنا کریں کہ اعلان کر دیں کہ میرے خون کا بدلہ معاویہؓ لے گا۔ (یعنی بہ صورت آپ کے شہید ہونے کے) آپ نے فرمایا کہ معاویہ ! تمہاری طبیعت تیز ہے۔ میں ڈرتا ہوں کہ تم مسلمانوں پر سختی کرو گے۔ اس لئے یہ اعلان بھی نہیں کر سکتا۔ اس پر روتے روتے حضرت معاویہؓ آپ سے جدا ہوئے اور مکان سے نکلتے ہوئے یہ کہتے گئے کہ لوگو ہوشیار رہنا۔ اگر اس بوڑھے (یعنی حضرت عثمانؓ) کا خون ہوا تو تم لوگ بھی اپنی سزا سے نہیں بچو گے۔

اس واقعہ پر ذرا غور کرو اور دیکھو اس انسان کے جس کی نسبت اس قدر بدیاں مشہور کی جاتی تھیں کیا خیالات تھے اور وہ مسلمانوں کا کتنا خیر خواہ تھا اور ان کی بہتری کے لئے کس قدر متفکر رہتا تھا اور کیوں نہ ہوتا۔ آپ وہ تھے کہ جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیاں بیاہ دی تھیں اور جب دونوں فوت ہو گئیں تو فرمایا تھا کہ اگر میری کوئی تیسری بیٹی ہوتی تو اس کو بھی میں ان سے بیاہ دیتا۔ افسوس لوگوں نے اسے خود آکر نہ دیکھا اور اس کے خلاف شور کر کے دین و دنیا سے کھوئے گئے۔

جب مفسدوں نے دیکھا کہ اب حضرت عثمانؓ نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اور اس طرح ہمارے منصوبوں کے خراب ہو جانے کا خطرہ ہے تو انہوں نے فوراً ادھر ادھر خطوط دوڑا کر اپنے ہم خیالوں کو جمع کیا کہ مدینہ چل کر حضرت عثمانؓ سے روبرو بات کریں۔ چنانچہ ایک جماعت جمع ہو کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئی۔ حضرت عثمانؓ کو ان کے ارادہ کی پہلے سے ہی اطلاع ہو چکی تھی۔ آپ نے دو معتبر آدمیوں کو روانہ کیا کہ ان سے مل کر دریافت کریں کہ ان کا منشاء کیا ہے۔ ان دونوں نے مدینہ سے باہر جا کر ان سے ملاقات کی اور ان کا عندیہ دریافت کیا۔ انہوں نے اپنا منشاء ان کے آگے بیان کیا پھر انہوں نے پوچھا کہ کیا مدینہ والوں میں سے بھی کوئی تمہارے ساتھ ہے تو انہوں نے کہا کہ صرف تین آدمی مدینہ والوں سے ہمارے ساتھ ہیں۔ ان دونوں نے کہا کہ کیا صرف تین آدمی تمہارے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا ہاں صرف تین ہمارے ساتھ ہیں (اب بھی موجودہ فتنہ میں قادیان کے صرف تین چار آدمی ہی پیغام والوں کے ساتھ ملے ہیں یا دو تین ایسے آدمی جو مؤلفة القلوب میں داخل تھے اور جو بعد میں پیغام والوں سے بھی جدا ہو گئے) انہوں نے دریافت کیا کہ پھر تم کیا کرو گے۔ ان مفسدوں نے جواب دیا کہ ہمارا ارادہ ہے کہ ہم حضرت عثمانؓ سے وہ باتیں دریافت کریں گے جو پہلے ہم نے ان کے خلاف لوگوں کے دلوں میں بٹھائی ہوئی ہیں۔ پھر ہم واپس جا کر تمام ملکوں میں مشہور کریں گے کہ ان باتوں کے متعلق ہم نے (حضرت) عثمانؓ سے ذکر کیا لیکن اس نے ان کو چھوڑنے سے انکار کر دیا اور توبہ نہیں کی۔ اس طرح لوگوں کے دل ان کی طرف سے بالکل پھیر کر ہم حج کے بہانہ سے پھر لوٹیں گے اور آکر محاصرہ کریں گے۔ اور عثمانؓ سے خلافت چھوڑ دینے کا مطالبہ کریں گے۔ اگر اس نے انکار کر دیا تو اسے قتل کر دیں گے۔ ان دونوں مخبروں نے ان سب باتوں کی اطلاع آ کر حضرت عثمانؓ کو دی تو آپ ہنسے اور دعا کی کہ یا اللہ ان لوگوں پر رحم کر۔ اگر تو ان پر رحم نہ کرے تو یہ بد بخت ہو جائیں گے۔ پھر آپ نے کوفیوں اور بصریوں کو بلوایا اور مسجد میں نماز کے وقت جمع کیا اور آپ منبر پر چڑھ گئے اور آپ کے اردگرد وہ مفسد بیٹھ گئے۔ جب صحابہؓ کو علم ہوا تو سب مسجد میں آکر جمع ہو گئے اور ان مفسدوں کے گرد حلقہ کر لیا۔ پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی۔ اور ان لوگوں کا حال سنایا اور ان دونوں آدمیوں نے جو حال دریافت کرنے گئے تھے سب واقعہ کا ذکر کیا۔ اس پر صحابہؓ نے بالاتفاق بآواز بلند پکار کر کہا کہ ان کو قتل کر دو۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو کوئی اپنی یا کسی اور کی

خلافت کے لئے لوگوں کو بلائے اور اس وقت لوگوں میں ایک امام موجود ہو تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گی اور تم ایسے شخص کو قتل کر دو۔ اور حضرت عمرؓ کا بھی یہی فتویٰ ہے اس پر حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ انہیں ہم معاف کریں گے اور اس طرح ان کی آنکھیں کھولنے کی کوشش کریں گے۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ بعض باتیں بیان کرتے ہیں وہ ایسی باتیں ہیں کہ تم بھی جانتے ہو لیکن فرق یہ ہے کہ یہ ان کے ذریعہ سے لوگوں کو میرے خلاف بھڑکانا چاہتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں کہ اس نے سفر میں نماز قصر نہیں کی حالانکہ پہلے ایسا نہ ہوتا تھا۔ سنو میں نے نماز ایسے شہر میں پوری پڑھی ہے جس میں کہ میری بیوی تھی۔ کیا اسی طرح نہیں ہوا ۔ سب صحابہؓ نے کہا کہ ہاں یہی بات ہے۔ پھر فرمایا یہ لوگ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ اس نے رکھ بنائی ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے رکھ نہ بنائی جاتی تھی مگر یہ بات بھی غلط ہے حضرت عمرؓ کے وقت سے رکھ کا انتظام ہے۔ ہاں جب صدقات کے اونٹ زیادہ ہو گئے تو میں نے رکھ کو اور بڑھا دیا۔ اور یہ دستور بھی حضرت عمرؓ کے وقت سے چلا آیا ہے۔ باقی میرے اپنے پاس تو صرف دو اونٹ ہیں اور بھیڑ اور بکری بالکل نہیں۔ حالانکہ جب میں خلیفہ ہوا تھا تو میں تمام عرب میں سب سے زیادہ اونٹوں اور بکریوں والا تھا۔ لیکن آج میرے پاس نہ بکری ہے نہ اونٹ سوائے ان دو اونٹوں کے کہ یہ بھی صرف حج کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔ کیا یہ بات درست نہیں سب صحابہؓ نے عرض کیا کہ بالکل درست ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ قرآن کئی صورتوں میں تھا میں نے اسے ایک صورت پر لکھوا دیا ہے۔ سنو! قرآن ایک ہے اور ایک خدا کی طرف سے آیا ہے اور اس بات میں میں سب صحابہؓ کی رائے کا تابع ہوں۔ میں نے کوئی بات نہیں کی کیا یہ بات درست نہیں۔ سب صحابہؓ نے عرض کیا کہ بالکل درست ہے اور یہ لوگ واجب القتل ہیں ان کو قتل کیا جائے۔ غرض اسی طرح حضرت عثمانؓ نے ان کے سب اعتراضوں کا جواب دیا اور صحابہؓ نے ان کی تصدیق کی۔ اس کے بعد بہت بحث ہوئی۔ صحابہؓ اصرار کرتے تھے کہ ان شریروں کو قتل کیا جائے۔ لیکن حضرت عثمانؓ نے اس مشورہ کو قبول نہ کیا اور ان کو معاف کر دیا اور وہ لوگ واپس چلے گئے۔

مدینہ سے واپسی پر ان مفسدوں نے سوچا کہ اب دیر کرنی مناسب نہیں۔ بات بہت بڑھ چکی ہے اور لوگ جوں جوں اصل واقعات سے آگاہ ہوں گے ہماری جماعت کمزور ہوتی جائے گی۔ چنانچہ انہوں نے فوراً خطوط لکھنے شروع کر دیئے کہ اب کے حج کے موسم میں ہمارے سب ہم خیال مل کر مدینہ کی طرف چلیں لیکن ظاہر یہ کریں کہ ہم حج کے لئے جاتے ہیں۔ چنانچہ ایک جماعت مصر سے، ایک کوفہ سے، ایک بصرہ سے ارادہ حج ظاہر کرتی ہوئی مدینہ کی طرف سے ہوتی مکہ کی طرف روانہ ہوئی۔ اور تمام لوگ بالکل بے فکر تھے اور کسی کو وہم و گمان بھی نہ تھا کہ کیا منصوبہ سوچا گیا ہے۔ بلکہ راستہ میں لوگ ان کو حاجی خیال کر کے خوب خاطرو مدارات بھی کرتے۔ لیکن بعض لوگوں کے مونہہ سے بعض باتیں نکل جاتی ہیں۔ چنانچہ کسی نہ کسی طرح سے ان لوگوں کی نیت ظاہر ہو گئی۔ اور اہل مدینہ کو ان کی آمد کا اور نیت کا علم ہو گیا۔ اور چاروں طرف قاصد دوڑائے گئے کہ اس نیت سے ایک جماعت مدینہ کی طرف بڑھی چلی آرہی ہے چنانچہ آس پاس جہاں جہاں صحابہؓ مقیم تھے وہاں سے تیزی کے ساتھ مدینہ میں آگئے۔ اور دیگر قابل شمولیت جنگ مسلمان بھی مدینہ میں اکٹھے ہو گئے اور ان مفسدوں کے مدینہ پہنچنے سے پہلے ایک لشکر جرار مدینہ میں جمع ہو گیا جب یہ لوگ مدینہ کے قریب پہنچے اور انہیں اس بات کی خبر ہو گئی کہ مسلمان بالکل تیار ہیں اور ان کی شرارت کامیاب نہیں ہو سکتی تو انہوں نے چند آدمی پہلے مدینہ بھیجے کہ امہات المؤمنینؓ اور صحابہؓ سے مل کر ان کی ہمدردی حاصل کریں چنانچہ مدینہ میں آکر ان لوگوں نے فرداً فرداً امہات المؤمنینؓ سے ملاقات کی۔ لیکن سب نے ان سے بیزاری ظاہر کی۔ پھر یہ لوگ تمام صحابہؓ سے ملے لیکن کسی نے ان کی بات کی طرف توجہ نہ کی اور صاف کہہ دیا کہ تم لوگ شرارتی ہو۔ ہم تمہارے ساتھ نہیں مل سکتے۔ اور نہ تم کو مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ اس کے بعد مصری حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں۔ آپ ہماری بیعت قبول کریں اس پر حضرت علیؓ نے ان کو دھتکار دیا اور کہا کہ نیک لوگ جانتے ہیں کہ مروہ اور ذی خشب کے لشکر پر رسول کریم ﷺ نے لعنت کی ہے (یہ وہ مقامات ہیں جہاں مدینہ کے باہر باغیوں کا لشکر اترا تھا) اسی طرح بصرہ کے لوگ طلحہؓ کے پاس گئے اور ان سے ان کا سردار بننے کے لئے کہا لیکن انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ مروہ اور ذی خشب کے لشکروں پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی ہے میں تمہارے ساتھ شامل نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح کوفہ کے لوگ حضرت زبیرؓ کے پاس گئے اور ان سے یہی درخواست کی۔ لیکن انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ میرے پاس سے دور ہو جاؤ میں تمہارے ساتھ شامل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ سب مسلمان جانتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مروہ، ذی خشب اور اعوص کے لشکروں پر لعنت کی ہے۔ جب

باغی سب طرف سے مایوس ہو گئے تو انہوں نے یہ ظاہر کرنا شروع کیا کہ ان کی اصل غرض تو بعض عاملوں کا تبدیل کروانا ہے۔ ان کو تبدیل کر دیا جائے تو ان کو پھر کوئی شکایت نہ رہے گی۔ چنانچہ حضرت عثمانؓ نے ان کو اپنی شکایت پیش کرنے کی اجازت دی اور انہوں نے بعض گورنروں کے بدلنے کی درخواست کی۔ حضرت عثمانؓ نے ان کی درخواست قبول کی اور ان کے کہنے کے مطابق محمد بن ابی بکرؓ کو مصر کا گورنر مقرر کر دیا اور حکم جاری کر دیا کہ مصر کا گورنر اپنا کام محمد بن ابی بکرؓ کے سپرد کر دے۔ اسی طرح بعض اور مطالبات انہوں نے کئے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ بیت المال میں سے سوائے صحابہؓ کے دوسرے اہل مدینہ کو ہرگز کوئی روپیہ نہ دیا جایا کرے۔ یہ خالی بیٹھے کیوں فائدہ اٹھاتے ہیں (جس طرح آج کل بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ بعض لوگ قادیان میں یونہی بیٹھے رہتے ہیں اور لنگر سے کھانا کھاتے ہیں ان کے کھانے بند کرنے چاہئیں مگر جس طرح پہلوں نے اصل حکمت کو نہیں سمجھا ان معترضوں نے بھی نہیں سمجھا) غرض انہوں نے بعض مطالبات کئے جو حضرت عثمانؓ نے قبول کئے اور وہ لوگ یہ منصوبہ کر کے کہ اس وقت تو مدینہ کے لوگ چوکس نکلے اور مدینہ لشکر سے بھرا ہوا ہے۔ اس لئے واپس جانا ہی ٹھیک ہے لیکن فلاں دن اور فلاں وقت تم لوگ اچانک مدینہ کی طرف واپس لوٹو اور اپنے مدعا کو پورا کر دو۔ جب یہ لوگ واپس چلے گئے تو جس قدر لوگ مدینہ میں جمع ہو گئے تھے سب اپنے اپنے کاموں کے لئے متفرق ہو گئے۔ اور ایک دن اچانک ان باغیوں کا لشکر مدینہ میں داخل ہو گیا اور تمام گلیوں میں اعلان کر دیا کہ جو شخص خاموش رہے گا اسے امن دیا جائے گا۔ چنانچہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ رہے اور اس اچانک حملہ کا مقابلہ نہ کر سکے کیونکہ اگر کوئی شخص کوشش کرتا بھی تو اکیلا کیا کر سکتا تھا اور مسلمانوں کو آپس میں ملنے کی اجازت نہ دیتے تھے سوائے اوقاتِ نماز کے کہ اس وقت بھی عین نماز کے وقت جمع ہونے دیتے اور پھر پراگندہ کر دیتے اس شرارت کو دیکھ کر بعض صحابہؓ ان لوگوں کے پاس گئے اور کہا کہ تم نے یہ کیا حرکت کی ہے انہوں نے کہا کہ ہم تو یہاں سے چلے گئے تھے۔ لیکن راستہ میں ایک غلام حضرت عثمانؓ کا ملا۔ اس کی طرف سے ہمیں شک ہوا ہم نے اس کی تلاشی لی تو اس کے پاس ایک خط نکلا جو گورنر مصر کے نام تھا اور جس میں ہم سب کے قتل کا فتویٰ تھا۔ اس لئے ہم واپس آگئے ہیں کہ یہ دھوکا ہم سے کیوں کیا گیا ہے۔ ان صحابہؓ نے ان سے کہا کہ تم یہ تو ہمیں بتاؤ کہ خط تو مصریوں کو ملا تھا اور تم تینوں جماعتوں (یعنی کوفیوں، بصریوں اور مصریوں) کے

راستے الگ الگ تھے اور تم کئی منزلیں ایک دوسرے سے دور تھے پھر ایک ہی وقت میں اس قدر جلد تینوں جماعتیں واپس مدینہ میں کیونکر آگئیں اور باقی جماعتوں کو کیونکر معلوم ہوا کہ مصریوں کو اس مضمون کا کوئی خط ملا ہے۔ یہ تو صریح فریب ہے جو تم لوگوں نے بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فریب سمجھو یا درست سمجھو ہمیں عثمانؓ کی خلافت منظور نہیں۔ وہ خلافت سے الگ ہو جائیں۔ اس کے بعد مصری حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اب تو اس شخص کا قتل جائز ہو گیا ہے آپ ہمارے ساتھ چلیں اور عثمانؓ کا مقابلہ کریں۔ حضرت علیؓ نے بھی ان کو یہی جواب دیا کہ تم جو واقعہ سناتے ہو وہ بالکل بناوٹی ہے کیونکہ اگر تمہارے ساتھ ایسا واقعہ گزرا تھا تو بصری اور کوفی کس طرح تمہارے ساتھ ہی مدینہ میں آگئے۔ ان کو اس واقعہ کا کس طرح علم ہوا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے پہلے سے ہی منصوبہ بنا رکھا تھا چلے جاؤ۔ خدا تعالیٰ تمہارا برا کرے۔ میں تمہارے ساتھ نہیں مل سکتا۔ (مصری لوگ خط ملنے کا جو وقت بتاتے تھے اس میں اور ان کے مدینہ میں واپس آنے کے درمیان اس قدر قلیل وقت تھا کہ اس عرصہ میں بصریوں اور کوفیوں کو خبر مل کر وہ واپس مدینہ میں نہیں آسکتے تھے پس صحابہؓ نے سمجھ لیا کہ یہ لوگ مدینہ سے جاتے وقت پہلے سے ہی منصوبہ کر گئے تھے کہ فلاں دن مدینہ پہنچ جاؤ اور خط کا واقعہ صرف ایک فریب تھا) جب حضرت علیؓ کا یہ جواب ان باغیوں نے سنا تو ان میں سے بعض بول اٹھے کہ اگر یہ بات ہے تو آپ ہمیں پہلے خفیہ خط کیوں لکھا کرتے تھے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں نے کبھی کوئی خط تم لوگوں کو نہیں لکھا آپ کا یہ جواب سن کر وہ آپس میں کہنے لگے کہ کیا اس شخص کی خاطر تم لوگ لڑتے پھرتے ہو (یعنی پہلے تو اس نے ہمیں خط لکھ کر اکسایا اور اب اپنی جان بچاتا ہے)۔

اس گفتگو سے یہ بات صاف معلوم ہو جاتی ہے کہ یہ باغی جھوٹے خط بنانے کے پکے مشاق تھے اور لوگوں کو حضرت علیؓ کی طرف سے خط بنا کر سناتے رہتے تھے کہ ہماری مدد کے لئے آؤ۔ لیکن جب حضرت علیؓ کے سامنے بعض ان لوگوں نے جو اس فریب میں شامل نہ تھے خطوں کا ذکر کر دیا۔ اور آپ نے انکار کیا تو پھر ان شریروں نے جو اس فریب کے مرتکب تھے یہ بہانہ بنایا کہ گویا حضرت علیؓ نعوذ باللہ پہلے خط لکھ کر اب خوف کے مارے ان سے انکار کرتے ہیں حالانکہ تمام واقعات ان کے اس دعویٰ کی صریح تردید کرتے ہیں اور حضرت علیؓ کا رویہ شروع سے بالکل پاک نظر آتا ہے لیکن یہ سب فساد اسی بات کا نتیجہ تھا کہ ان مفسدوں کے پھندے میں

آئے ہوئے لوگ حضرت علیؓ سے بھی واقف نہ تھے۔ الغرض حضرت علیؓ کے پاس سے ناامید ہو کر یہ لوگ حضرت عثمانؓ کے پاس گئے اور کہا کہ آپ نے یہ خط لکھا آپ نے فرمایا کہ شریعتِ اسلام کے مطابق دو طریق ہیں یا تو یہ کہ دو گواہ تم پیش کرو کہ یہ کام میرا ہے۔ یا یہ کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ یہ تحریر ہرگز میری نہیں اور نہ میں نے کسی سے لکھوائی اور نہ مجھے اس کا علم ہے اور تم جانتے ہو کہ لوگ جھوٹے خط لکھ لیتے ہیں اور مہروں کی بھی نقلیں بنا لیتے ہیں مگر اس بات پر بھی ان لوگوں نے شرارت نہ چھوڑی اور اپنی ضد پر قائم رہے۔ اس واقعہ سے بھی ہمیں یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ مدینہ کے لوگ ان کے ساتھ شامل نہ تھے کیونکہ اگر مدینہ میں سے بعض لوگ ان کی شرارت میں حصہ دار ہوتے تو ان کے لئے دو جھوٹے گواہ بنا لینے کچھ مشکل نہ تھے لیکن ان کا اس بات سے عاجز آ جانا بتاتا ہے کہ مدینہ میں سے دو آدمی بھی ان کے ساتھ نہ تھے (سوائے ان تین آدمیوں کے جن کا ذکر پہلے کر چکا ہوں مگر ان میں سے محمد بن ابی بکرؓ تو ان لوگوں کے ساتھ تھے۔ مدینہ میں نہ تھے اور صرف عمار اور محمد بن ابی حذیفہ مدینہ میں تھے لیکن یہ دونوں بھی نیک آدمی تھے اور صرف ان کی فریب دینے والی باتوں کے دھوکے میں آئے ہوئے تھے) اور یہ لوگ اپنے میں سے گواہ نہیں بنا سکتے تھے کیونکہ یہ لوگ مدینہ میں موجود نہ تھے ان کی گواہی قابلِ قبول نہ تھی۔ گو ہر طرح ان لوگوں کو ذلت پہنچی لیکن انہوں نے اپنی کارروائی کو ترک نہ کیا اور برابر مدینہ کا محاصرہ کئے پڑے رہے۔ شروع شروع میں تو حضرت عثمانؓ کو بھی اور باقی اہل مدینہ کو بھی مسجد میں نماز کے لئے آنے کی اجازت انہوں نے دے دی تھی۔ اور حضرت عثمانؓ بڑی دلیری سے ان لوگوں میں آکر نماز پڑھاتے ۔ لیکن باقی اوقات میں ان لوگوں کی جماعتیں مدینہ کی گلیوں میں پھرتی رہتیں اور اہل مدینہ کو آپس میں کہیں جمع ہونے نہ دیتیں تاکہ وہ ان پر حملہ آور نہ ہوں۔ جب جمعہ کا دن آیا تو حضرت عثمانؓ جمعہ کی نماز کے لئے مسجدِ نبوی میں تشریف لائے اور منبر پر چڑھ کر فرمایا کہ اے دشمنانِ اسلام! مدینہ کے لوگ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے تمہاری نسبت پیشگوئی کی ہے اور تم پر لعنت کی ہے پس تم نیکیاں کر کے اپنی بدیوں کو مٹاؤ۔ کیونکہ بدیوں کو سوائے نیکیوں کے اور کوئی چیز نہیں مٹاتی۔ اس پر محمد بن مسلمہؓ کھڑے ہوئے اور فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں لیکن حکیم بن جبلہ (وہی چور

جس کا پہلے ذکر آچکا ہے) نے ان کو بٹھا دیا۔ پھر زید بن ثابتؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا مجھے قرآن کریم دو (ان کا منشاء بھی ان لوگوں کے خلاف گواہی دینے کا تھا) مگر باغیوں میں سے ایک شخص نے ان کو بھی بٹھا دیا اور پھر اس خیال سے کہ ایسا نہ ہو صحابہؓ اسی طرح گواہی دے دے کر ہمارا ملعون اور خلافِ قرآن امور پر عامل ہونا ظاہر کر دیں پتھر مار مار کر صحابہؓ کو مسجد سے باہر نکال دیا اور اس کے بعد حضرت عثمانؓ پر پتھر پھینکنے شروع کئے جن کے صدمہ سے وہ بیہوش ہو کر زمین پر جا پڑے۔ جس پر بعض لوگوں نے آپ کو اٹھا کر آپ کے گھر پہنچا دیا۔ جب صحابہؓ کو حضرت عثمانؓ کا حال معلوم ہوا تو باوجود اس بے بسی کی حالت کے ان میں سے ایک جماعت لڑنے کے لئے تیار ہو گئی۔ جن میں ابو ہریرہؓ زید بن ثابتؓ کاتب رسول کریم اور حضرت امام حسنؓ بھی تھے۔ جب حضرت عثمانؓ کو اس بات کا علم ہوا۔ تو آپ نے ان کو قسم دے کر کہلا بھیجا کہ جانے دو اور ان لوگوں سے جنگ نہ کرو۔ چنانچہ بادل ناخواستہ یہ لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے اور حضرت علیؓ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ نے آپ کے گھر پر جا کر اس واقعہ کا بہت افسوس کیا۔ اس واقعہ کے بعد بھی حضرت عثمانؓ نماز پڑھاتے رہے لیکن محاصرہ کے تیسویں دن مفسدوں نے آپ کو نماز کے لئے نکلنے سے بھی روک دیا۔ اور اہل مدینہ کو بھی دق کرنا شروع کیا۔ اور جو شخص ان کی خواہشات کے پورا کرنے میں مانع ہوتا اسے قتل کر دیتے اور مدینہ کے لوگوں میں کوئی شخص بغیر تلوار لگائے کے باہر نہ نکل سکتا کہ کہیں اس کو یہ لوگ ایذاء نہ پہنچائیں۔ انہی دنوں میں کہ حضرت عثمانؓ خود نماز پڑھاتے تھے۔ آخری جمعہ میں آپ نماز پڑھانے لگے تو ایک خبیث نے آپ کو گالی دے کر کہا کہ اتر منبر سے اور آپ کے ہاتھ میں رسول کریم کا عصا تھا وہ چھین لیا اور اسے اپنے گھٹنے پر رکھ کر توڑ دیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ سزا دی کہ اس کے گھٹنے میں کیڑے پڑ گئے۔ اس کے بعد حضرت عثمانؓ صرف ایک یا دو دفعہ نکلے۔ پھر نکلنے کی ان باغیوں نے اجازت نہ دی۔ ان محاصرہ کے دنوں میں حضرت عثمانؓ نے ایک شخص کو بلوایا اور پوچھا کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔ اس نے کہا کہ دو باتوں میں سے ایک چاہتے ہیں یا تو یہ کہ آپ خلافت ترک کر دیں اور یا یہ کہ آپ پر جو الزام لگائے جاتے ہیں ان کے بدلہ میں آپ سے قصاص لیا جائے۔ اگر ان دونوں باتوں میں سے آپ ایک بھی نہ مانیں گے تو یہ لوگ آپ کو قتل کر دیں گے۔ آپ نے پوچھا کہ کیا کوئی اور تجویز نہیں ہو سکتی۔ اس نے کہا نہیں۔ اور کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔ اس پر آپ نے فرمایا۔ کہ خلافت تو میں چھوڑ نہیں سکتا یہ قمیض خدا تعالیٰ نے مجھے پہنائی ہے اسے تو میں ہرگز نہیں اتاروں گا۔ مجھے اپنا قتل ہونا اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی پہنائی ہوئی قمیض کو اتار دوں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑنے مرنے دوں۔ باقی رہا قصاص کا معاملہ۔ سو مجھ سے پہلے دونوں خلیفوں سے کبھی ان کے کاموں کے بدلہ میں قصاص نہیں لیا گیا۔ باقی رہا یہ کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے سو یاد رکھو کہ اگر وہ مجھے قتل کر دیں گے تو اس دن کے بعد سب مسلمان کبھی ایک مسجد میں نماز نہیں ادا کریں گے اور کبھی سب مسلمان مل کر ایک دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ اور نہ مسلمانوں کا اتحاد قائم رہے گا (چنانچہ تیرہ سو سال کے واقعات اس قول کی صداقت پر شہادت دے رہے ہیں)۔ (تاریخ طبری جلد ۶ صفحہ ۲۹۹۰ مطبوعہ بیروت)

اس کے بعد مفسدوں نے حکم دے دیا کہ کوئی شخص نہ حضرت عثمانؓ کے پاس جا سکے نہ اپنے مکان سے باہر نکل سکے۔ چنانچہ جب یہ حکم دیا تو اس وقت ابن عباسؓ اندر تھے جب انہوں نے نکلنا چاہا تو لوگوں نے ان کو باہر نکلنے کی اجازت نہ دی۔ لیکن اتنے عرصہ میں محمد بن ابی بکرؓ آ گئے اور انہوں نے ان لوگوں سے کہا کہ ان کو جانے دو۔ جس پر انہوں نے انہیں نکلنے کی اجازت دے دی۔ اس کے بعد محاصرہ سخت ہو گیا اور کسی شخص کو اندر جانے کی اجازت نہ دی جاتی۔ حتیٰ کہ حضرت عثمانؓ اور آپ کے گھر والوں کے لئے پانی تک لے جانے کی اجازت نہ تھی اور پیاس کی شدت سے وہ سخت تکلیف اٹھاتے تھے۔ جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو حضرت عثمانؓ نے اپنی دیوار پر چڑھ کر اپنے ایک ہمسایہ کے لڑکے کو حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ اور امہات المؤمنینؓ کے پاس بھیجا کہ ہمارے لئے پانی کا کوئی بندوبست کرو۔ اس پر حضرت علیؓ فوراً پانی کی ایک مشک لے کر گئے لیکن ہر چند انہوں نے کوشش کی۔ مفسدوں نے ان کو پانی پہنچانے یا اندر جانے کی اجازت نہ دی۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ کیا طریق ہے نہ مسلمانوں کا طریق ہے نہ کفار کا رومی اور ایرانی بھی اپنے دشمن کا کھانا اور پینا بند نہیں کرتے۔ تم لوگوں کو خوفِ خدا بھی اس حرکت سے نہیں روکتا۔ انہوں نے کہا کہ خواہ کچھ ہو اس کے پاس ایک قطرہ پانی نہیں پہنچنے دیں گے جس پر حضرت علیؓ نے اپنی پگڑی حضرت عثمانؓ کے گھر میں پھینک دی۔ تا ان کو معلوم ہو جائے کہ آپ نے تو بہت کوشش کی لیکن لوگوں نے آپ تک انکو پہنچنے نہ دیا۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت ام حبیبہؓ کو جب علم ہوا تو آپ بھی خلیفہ کی مدد کے لئے گھر سے تشریف لائیں لیکن ان بدبختوں نے آپ سے وہ سلوک کیا کہ جو ہمیشہ کے لئے ان کے لئے باعثِ لعنت رہے گا۔ اول تو انہوں نے اس خچر کو بدکا دیا جس پر آپ سوار تھیں۔ اور جب آپ نے کہا کہ حضرت عثمانؓ کے پاس بنو امیہ کے یتامیٰ اور بیواؤں کے اموال کے کاغذات ہیں۔ ان کی وفات کے ساتھ ہی یتامیٰ اور بیواؤں کے مال ضائع ہو جائیں گے۔ اس کے لئے تو مجھے جانے دو کہ کوئی انتظام کروں تو انہوں نے کہا کہ تُو جھوٹ بولتی ہے (نعوذ باللہ من ذالک) اور پھر تلوار مار کر آپ کی خچر کی ٹانگ توڑ دیا اور قریب تھا کہ وہ اس انبوہ میں گر کر شہید ہو جاتیں اور بے پردہ ہوتیں کہ بعض سچے مسلمانوں نے آگے بڑھ کر آپ کو سنبھالا اور حفاظت سے آپ کے گھر پہنچا دیا۔ اس خبر کے پہنچتے ہی حضرت عائشہؓ حج کے لئے چل پڑیں اور جب بعض لوگوں نے آپ کو روکا کہ آپ کے یہاں رہنے سے شاید فساد میں کچھ کمی ہو تو انہوں نے کہا کہ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں ہر طرح اس فساد کو روکتی۔ لیکن کیا تم چاہتے ہو کہ میرے ساتھ بھی وہی سلوک ہو جو آنحضرت ﷺ کی دوسری بیوی ام حبیبہؓ کے ساتھ ہوا ہے اور اس وقت میرے بچانے والا بھی کوئی نہ ہو۔ خدا کی قسم میں اپنے آپ کو ایسے خطرہ میں نہ ڈالوں گی کہ میرے ننگ و ناموس پر حرف آئے۔

ان باغیوں نے جب دیکھا کہ ان کی طرف سے فساد کی کوئی راہ نہیں نکلتی تو آپ کے گھر پر پتھر مارنے شروع کئے تاکہ کوئی ناراض ہو کر ان پر بھی حملہ کر دے تو ان کو عذر مل جائے کہ ہم پر حملہ کیا گیا تھا اس لئے ہم نے بھی حملہ کیا۔ پتھروں کے پڑنے پر حضرت عثمانؓ نے آواز دی کہ اے لوگو! خدا سے ڈرو دشمن تو تم میرے ہو۔ اور اس گھر میں تو میرے سوا اور لوگ بھی ہیں ان کو کیوں تکلیف دیتے ہو۔ ان بدبختوں نے جواب دیا کہ ہم پتھر نہیں مارتے یہ پتھر خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہارے اعمال کے بدلے میں پڑ رہے ہیں۔ آپ نے کہا کہ یہ جھوٹ ہے تمہارے پتھر تو کبھی ہمیں لگتے ہیں اور کبھی نہیں لگتے اور خدا تعالیٰ کے پتھر تو خالی نہیں جایا کرتے وہ تو نشانہ پر ٹھیک بیٹھتے ہیں۔ فساد کو اس قدر بڑھتا ہوا دیکھ کر حضرت عثمانؓ نے چاہا کہ مدینہ کے لوگوں کو بیچ میں سے ہٹاؤں تاکہ میرے ساتھ یہ بھی تکلیف میں نہ پڑیں چنانچہ آپ نے حکم دیا کہ اے اہلِ مدینہ! میں تم کو حکم دیتا ہوں کہ اپنے گھروں میں بیٹھ رہو اور میرے مکان کے پاس نہ آیا کرو اور میں تم کو قسم دیتا ہوں کہ میری اس بات کو مان لو۔ اس پر وہ لوگ بادلِ نخواستہ اپنے گھروں کی طرف چلے گئے لیکن اس کے بعد چند نوجوانوں کو پہرہ کے لئے انہوں نے مقرر کر دیا۔ حضرت عثمانؓ نے جب صحابہؓ کی اس محبت کو دیکھا اور سمجھ لیا کہ اگر کوئی فساد ہوا تو صحابہؓ

اور اہل مدینہ اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈال دیں گے۔ لیکن خاموش نہ رہیں گے تو انہوں نے اعلان کیا کہ حج کا موسم ہے لوگوں کو حسب معمول حج کے لئے جانا چاہئے اور عبد اللہ بن عباسؓ کو جو ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے آپ کا دروازہ نہیں چھوڑا تھا۔ فرمایا کہ تم کو میں حج کا امیر مقرر کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا اے امیر المؤمنین! خدا کی قسم یہ جہاد مجھے حج سے بہت زیادہ پیارا ہے مگر آپ نے ان کو مجبور کیا کہ فوراً چلے جائیں اور حج کا انتظام کریں۔ اس کے بعد اپنی وصیت لکھ کر حضرت زبیرؓ کے پاس بھجوا دی اور ان کو بھی رخصت کیا۔ چونکہ حضرت ابو بکرؓ کے چھوٹے لڑکے محمد ان باغیوں کے فریب میں آئے ہوئے تھے۔ ان کو ایک عورت نے کہلا بھیجا کہ شمع سے نصیحت حاصل کرو وہ خود جلتی ہے اور دوسروں کو روشنی دیتی ہے پس ایسا نہ کرو کہ خود گنہگار ہو کر ان لوگوں کے لئے خلافت کی مسند خالی کرو جو گنہگار نہیں۔ خوب یاد رکھو کہ جس کام کے لئے تم کوشش کر رہے ہو وہ کل دوسروں کے ہاتھ میں جائے گا۔ اور اس وقت آج کا عمل تمہارے لئے باعثِ حسرت ہوگا۔ لیکن ان کو اس جوش کے وقت اس نصیحت کی قدر معلوم نہ ہوئی۔

غرض ادھر تو حضرت عثمانؓ اہل مدینہ کی حفاظت کے لئے ان کو ان باغیوں کا مقابلہ کرنے سے روک رہے تھے اور ادھر آپ کے بعض خطوط سے مختلف علاقوں کے گورنروں کو مدینہ کے حالات کا علم ہو گیا تھا اور وہ چاروں طرف سے لشکر جمع کر کے مدینہ کی طرف بڑھے چلے آ رہے تھے۔ اسی طرح حج کے لئے جو لوگ جمع ہوئے تھے ان کو جب معلوم ہوا۔ تو انہوں نے بھی یہ فیصلہ کیا کہ حج کے بعد مدینہ کی طرف سب لوگ جائیں اور ان باغیوں کی سرکوبی کریں۔ جب ان حالات کا علم باغیوں کو ہوا تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور فیصلہ کیا کہ یہ غلطی جو ہم سے ہوئی ہے کہ ہم نے اس طرح خلیفہ کا مقابلہ کیا ہے اس سے پیچھے ہٹنے کا اب کوئی راستہ نہیں۔ پس اب یہی صورت نجات کی ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر دو۔

جب انہوں نے یہ ارادہ کر کے حضرت عثمانؓ کے مکان پر حملہ کیا تو صحابہؓ تلواریں کھینچ کر حضرت عثمانؓ کے دروازہ پر جمع ہو گئے۔ مگر حضرت عثمانؓ نے ان کو منع کیا اور کہا کہ تم کو میں اپنی مدد کے عہد سے آزاد کرتا ہوں تم اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ لیکن اس خطرناک حالت میں حضرت عثمانؓ کو تنہا چھوڑ دینا انہوں نے گوارا نہ کیا اور واپس لوٹنے سے صاف انکار کر دیا۔ اس پر وہ اسی سالہ بوڑھا جو ہمت میں بہادر جوانوں سے زیادہ تھا ہاتھ میں تلوار لے کر اور ڈھال پکڑ کر اپنے گھر کا دروازہ کھول کر مردانہ وار صحابہؓ کو روکنے کے لئے اپنے خون کے پیاسے دشمنوں میں نکل آیا۔ اور آپ کے اس طرح باہر نکل آنے کا یہ اثر ہوا کہ مصری، جو اس وقت حملہ کر رہے تھے الٹے پاؤں لوٹ گئے اور آپ کے سامنے کوئی نہ ٹھہرا۔ آپ نے صحابہؓ کو بہت روکا لیکن انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں ہم آپ کی بات نہ مانیں گے کیونکہ آپ کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔ آخر حضرت عثمانؓ ان کو اپنے گھر میں لے آئے اور پھر دروازہ بند کر لیا۔ اس وقت صحابہؓ نے ان سے کہا کہ اے امیر المؤمنین اگر آج آپ کے کہنے پر ہم لوگ گھروں کو چلے جائیں تو خدا تعالیٰ کے سامنے کیا جواب دیں گے کہ تم میں حفاظت کی طاقت تھی پھر تم نے حفاظت کیوں نہ کی۔ اب ہم میں اتنی تو طاقت ہے کہ اس وقت تک کہ ہم سب مر جائیں ان کو آپ تک نہ پہنچنے دیں (ان صحابہؓ میں حضرت امام حسنؓ بھی شامل تھے) جب مفسدوں نے دیکھا کہ ادھر تو صحابہؓ کسی طرح ان کو حضرت عثمانؓ کے گھر میں داخل ہونے نہیں دیتے اور ادھر مکہ کے حاجیوں کی واپسی شروع ہو گئی ہے بلکہ بعض بہادر اپنی سواریوں کو دوڑا کر مدینہ میں پہنچ بھی گئے ہیں۔ اور شام و بصرہ کی فوجیں بھی مدینہ کے بالکل قریب پہنچ گئی ہیں بلکہ ایک دن کے فاصلہ پر رہ گئی ہیں تو وہ سخت گھبرائے اور کہا کہ یا آج ان کا کسی طرح فیصلہ کر دو۔ ورنہ ہلاکت کے لئے تیار ہو جاؤ۔ چنانچہ چند آدمیوں نے یہ کام اپنے ذمہ لیا اور بے خبری میں ایک طرف سے کود کر آپ کے قتل کے لئے گھر میں داخل ہوئے۔ ان میں محمد بن ابی بکرؓ بھی تھے جنہوں نے سب سے آگے بڑھ کر آپ کی داڑھی پکڑی۔ اس پر حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ اگر تیرا باپ ہوتا تو ایسا نہ کرتا اور کچھ ایسی پُر رعب نگاہوں سے دیکھا کہ ان کا تمام بدن کانپنے لگ گیا اور وہ اسی وقت واپس لوٹ گئے۔ باقی آدمیوں نے آپ کو پہلے مارنا شروع کیا۔ اس کے بعد تلوار مار کر آپ کو قتل کر دیا۔ آپ کی بیوی نے آپ کو بچانا چاہا لیکن ان کا ہاتھ کٹ گیا جس وقت آپ کو قتل کیا گیا اس وقت آپ قرآن پڑھ رہے تھے اور آپ نے ان قاتلوں کو دیکھ کر قرآن کی تلاوت نہیں چھوڑی بلکہ اسی میں مشغول رہے چنانچہ ایک خبیث نے پیر مار کر آپ کے آگے سے قرآن کریم کو پرے پھینک دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شقی دین سے کیا تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے قتل کرنے کے بعد ایک شور پڑ گیا اور باغیوں نے اعلان کر دیا کہ آپ کے گھر میں جو کچھ ہو لوٹ لو۔ چنانچہ آپ کا سب مال و اسباب لوٹ لیا گیا۔ لیکن اسی پر بس نہیں کی گئی بلکہ آپ کے گھر کے لوٹنے کے بعد وہ لوگ بیت المال کی طرف گئے اور خزانہ میں جس قدر روپیہ تھا سب لوٹ لیا جس سے ان لوگوں کی اصل نیت معلوم ہوتی ہے یا تو یہ لوگ حضرت عثمانؓ پر الزام لگاتے تھے اور ان کے معزول کرنے کی یہی وجہ بتاتے تھے کہ وہ خزانہ کے روپیہ کو بری طرح استعمال کرتے ہیں اور اپنے رشتہ داروں کو دے دیتے ہیں۔ یا خود سرکاری خزانہ کے قفل توڑ کر سب روپیہ لوٹ لیا اس سے معلوم ہو گیا کہ ان کی اصل غرض دنیا تھی۔ اور حضرت عثمانؓ کا مقابلہ محض اپنے آپ کو آزاد کرنے کے لئے تھا تاکہ جو چاہیں کریں اور کوئی شخص روک نہ ہو۔ جب حضرت عثمانؓ شہید ہوئے تو اسلامی لشکر جو شام و بصرہ اور کوفہ سے آتے تھے ایک دن کے فاصلہ پر تھے ان کو جب یہ خبر ملی تو وہ وہیں سے واپس لوٹ گئے تا ان کے جانے کی وجہ سے مدینہ میں کشت و خون نہ ہو اور خلافت کا معاملہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے سپرد کر دیا۔ ان باغیوں نے حضرت عثمانؓ کو شہید کرنے اور ان کا مال لوٹنے پر بس نہیں کی بلکہ ان کی لاش کو بھی پاؤں میں روندا اور دفن نہ کرنے دیا۔ آخر جب خطرہ ہوا کہ زیادہ پڑے رہنے سے جسم میں تغیر نہ پیدا ہو جائے ۔ تو بعض صحابہؓ نے رات کے وقت پوشیدہ آپ کو دفن کر دیا۔

ایک دو دن تو خوب لوٹ مار کا بازار گرم رہا۔ لیکن جب جوش ٹھنڈا ہوا ۔ تو ان باغیوں کو پھر اپنے انجام کا فکر ہوا۔ اور ڈرے کہ اب کیا ہو گا۔ چنانچہ بعض نے تو یہ سمجھ کر کہ حضرت معاویہؓ ایک زبردست آدمی ہیں اور ضرور اس قتل کا بدلہ لیں گے شام کا رخ کیا اور وہاں جا کر خود ہی واویلا کرنا شروع کر دیا کہ حضرت عثمانؓ شہید ہو گئے اور کوئی ان کا قصاص نہیں لیتا۔ کچھ بھاگ کر مکہ کے راستے میں حضرت زبیرؓ اور حضرت عائشہؓ سے جاملے اور کہا کہ کس قدر ظلم ہے کہ خلیفہ اسلام شہید کیا جائے اور مسلمان خاموش رہیں کچھ بھاگ کر حضرت علیؓ کے پاس پہنچے اور کہا کہ اس وقت مصیبت کا وقت ہے۔ اسلامی حکومت کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہے آپ بیعت لیں تالوگوں کا خوف دور ہو۔ اور امن و امان قائم ہو جو صحابہؓ مدینہ میں موجود تھے انہوں نے بھی بالاتفاق یہی مشورہ دیا کہ اس وقت یہی مناسب ہے کہ آپ اس بوجھ کو اپنے سر پر رکھیں کہ آپ کا یہ کام موجب ثواب و رضائے الٰہی ہو گا۔ جب چاروں طرف سے آپ کو مجبور کیا گیا تو کئی دفعہ انکار کرنے کے بعد آپ نے مجبوراً اس کام کو اپنے ذمہ لیا اور بیعت لی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت علیؓ کا یہ فعل بڑی حکمت پر مشتمل تھا۔ اگر آپ اس وقت بیعت نہ لیتے تو اسلام کو اس سے بھی زیادہ نقصان پہنچتا جو آپ کی اور حضرت معاویہؓ کی جنگ

سے پہنچا۔ کیونکہ اس صورت میں تمام اسلامی صوبوں کے آزاد ہو کر الگ الگ بادشاہتوں کے قیام کا اندیشہ تھا۔ اور جو بات چار سو سال بعد ہوئی وہ اسی وقت ہو جانی ممکن ہی نہیں بلکہ یقینی تھی۔ پس گو حضرت علیؓ کا اس وقت بیعت لینا بعض مصالح کے ماتحت مناسب نہ تھا۔ اور اسی کی وجہ سے آپ پر بعض لوگوں نے شرارت سے اور بعض نے غلط فہمی سے یہ الزام لگایا کہ آپ نعوذ باللہ حضرت عثمانؓ کے قتل میں شریک تھے اور یہ خطرہ آپ کے سامنے بیعت لینے سے پہلے حضرت ابن عباسؓ نے بیان بھی کر دیا تھا اور آپ اسے خوب سمجھتے بھی تھے لیکن آپ نے اسلام کی خاطر اپنی شہرت و عزت کی کوئی پرواہ نہیں کی اور ایک بے نظیر قربانی کر کے اپنے آپ کو ہدف ملامت بنایا لیکن اسلام کو نقصان پہنچنے سے بچا لیا۔ فجزا ہ اللہ عنا و عن جمیع المسلمین۔ جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں قاتلوں کے گروہ مختلف جہات میں پھیل گئے تھے اور اپنے آپ کو الزام سے بچانے کے لئے دوسروں پر الزام لگاتے تھے جب ان کو معلوم ہوا کہ حضرت علیؓ نے مسلمانوں سے بیعت لے لی ہے تو ان کو آپ پر الزام لگانے کا عمدہ موقعہ مل گیا اور یہ بات درست بھی تھی کہ آپ کے اردگرد حضرت عثمانؓ کے قاتلوں میں سے کچھ لوگ جمع بھی ہو گئے تھے۔ اس لئے ان کو الزام لگانے کا عمدہ موقعہ حاصل تھا چنانچہ ان میں سے جو جماعت مکہ کی طرف گئی تھی اس نے حضرت عائشہؓ کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ حضرت عثمانؓ کے خون کا بدلہ لینے کے لئے جہاد کا اعلان کریں چنانچہ انہوں نے اس بات کا اعلان کیا اور صحابہؓ کو اپنی مدد کے لئے طلب کیا۔ حضرت طلحہؓ اور زبیرؓ نے حضرت علیؓ کی بیعت اس شرط پر کر لی تھی کہ وہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے جلد سے جلد بدلہ لیں گے انہوں نے جلدی کے جو معنی سمجھے تھے وہ حضرت علیؓ کے نزدیک خلاف مصلحت تھی ان کا خیال تھا کہ پہلے تمام صوبوں کا انتظام ہو جائے پھر قاتلوں کو سزا دینے کی طرف توجہ کی جائے۔ کیونکہ اول مقدم اسلام کی حفاظت ہے قاتلوں کے معاملہ میں دیر ہونے سے کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح قاتلوں کی تعیین میں بھی اختلاف تھا جو لوگ نہایت افسردہ شکلیں بنا کر سب سے پہلے حضرت علیؓ کے پاس پہنچ گئے تھے اور اسلام میں تفرقہ ہو جانے کا اندیشہ ظاہر کرتے تھے ان کی نسبت حضرت علیؓ کو بالطبع شبہ نہ ہوتا تھا کہ یہ لوگ فساد کے بانی ہیں دوسرے لوگ ان پر شبہ کرتے تھے اس اختلاف کی وجہ سے طلحہؓ اور زبیرؓ نے یہ سمجھا کہ حضرت علیؓ اپنے عہد سے پھرتے ہیں۔ چونکہ انہوں نے ایک شرط پر بیعت کی تھی اور وہ شرط ان کے خیال میں حضرت علیؓ نے پوری نہ کی تھی اس لئے وہ شرعاً

اپنے آپ کو بیعت سے آزاد خیال کرتے تھے جب حضرت عائشہؓ کا اعلان ان کو پہنچا تو وہ بھی ان کے ساتھ جاملے اور سب مل کر بصرہ کی طرف چلے گئے۔ بصرہ میں گورنر نے لوگوں کو آپ کے ساتھ ملنے سے باز رکھا لیکن جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ طلحہؓ اور زبیرؓ نے صرف اکراہ سے اور ایک شرط سے مقید کر کے حضرت علیؓ کی بیعت کی ہے تو اکثر لوگ آپ کے ساتھ شامل ہو گئے۔ جب حضرت علیؓ کو اس لشکر کا علم ہوا تو آپ نے بھی ایک لشکر تیار کیا اور بصرہ کی طرف روانہ ہوئے۔ بصرہ پہنچ کر آپ نے ایک آدمی کو حضرت عائشہؓ اور طلحہؓ اور زبیرؓ کی طرف بھیجا۔ وہ آدمی پہلے حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور دریافت کیا کہ آپ کا ارادہ کیا ہے انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا ارادہ صرف اصلاح ہے اس کے بعد اس شخص نے طلحہؓ اور زبیرؓ کو بھی بلوایا۔ اور ان سے پوچھا کہ آپ بھی اسی لئے جنگ پر آمادہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ اس شخص نے جواب دیا کہ اگر آپ کا منشاء اصلاح ہے تو اس کا یہ طریق نہیں جو آپ نے اختیار کیا ہے اس کا نتیجہ تو فساد ہے اس وقت ملک کی ایسی حالت ہے کہ اگر ایک شخص کو آپ قتل کریں گے تو ہزار اس کی تائید میں کھڑے ہو جائیں گے اور ان کا مقابلہ کریں گے تو اور بھی زیادہ لوگ ان کی مدد کے لئے کھڑے ہو جائیں گے۔ پس اصلاح یہ ہے کہ پہلے ملک کو اتحاد کی رسی میں باندھا جائے پھر شریروں کو سزا دی جائے ورنہ اس بدامنی میں کسی کو سزا دینا ملک میں اور فتنہ ڈلوانا ہے۔ حکومت پہلے قائم ہو جائے تو وہ سزا دے گی۔ یہ بات سن کر انہوں نے کہا کہ اگر حضرت علیؓ کا یہی عندیہ ہے تو وہ آجائیں ہم ان کے ساتھ ملنے کو تیار ہیں۔ اس پر اس شخص نے حضرت علیؓ کو اطلاع دی اور طرفین کے قائم مقام ایک دوسرے کو ملے اور فیصلہ ہو گیا کہ جنگ کرنا درست نہیں صلح ہونی چاہئے۔

جب یہ خبر سبائیوں کو (یعنی جو عبداللہ بن سبا کی جماعت کے لوگ اور قاتلین حضرت عثمانؓ تھے) پہنچی تو ان کو سخت گھبراہٹ ہوئی۔ اور خفیہ خفیہ ان کی ایک جماعت مشورہ کے لئے اکٹھی ہوئی۔ انہوں نے مشورہ کے بعد فیصلہ کیا کہ مسلمانوں میں صلح ہو جانی ہمارے لئے سخت مضر ہو گی۔ کیونکہ اسی وقت تک ہم حضرت عثمانؓ کے قتل کی سزا سے بچ سکتے ہیں جب تک کہ مسلمان آپس میں لڑتے رہیں گے۔ اگر صلح ہو گئی اور امن ہو گیا تو ہمارا ٹھکانا کہیں نہیں۔ اس لئے جس طرح سے ہو صلح نہ ہونے دو۔ اتنے میں حضرت علیؓ بھی پہنچ گئے۔ اور آپ کے پہنچنے کے دوسرے دن آپ کی اور حضرت زبیرؓ کی ملاقات ہوئی۔ وقت ملاقات حضرت علیؓ نے فرمایا کہ آپ نے میرے لڑنے کے لئے تو لشکر تیار کیا ہے مگر کیا خدا کے حضور میں پیش کرنے کے لئے کوئی عذر بھی تیار کیا ہے۔ آپ لوگ کیوں اپنے ہاتھوں سے اس اسلام کے تباہ کرنے کے درپے ہوئے ہیں جس کی خدمت سخت جانکاہیوں سے کی تھی۔ کیا میں آپ لوگوں کا بھائی نہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ پہلے تو ایک دوسرے کا خون حرام سمجھا جاتا تھا لیکن اب حلال ہو گیا اگر کوئی نئی بات پیدا ہوئی ہوتی تو بھی بات تھی جب کوئی نئی بات پیدا نہیں ہوئی تو پھر یہ مقابلہ کیوں ہے اس پر حضرت طلحہؓ نے کہا۔ وہ بھی حضرت زبیرؓ کے ساتھ تھے کہا کہ آپ نے حضرت عثمانؓ کے قتل پر لوگوں کو اکسایا ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں حضرت عثمانؓ کے قتل میں شریک ہونے والوں پر لعنت کرتا ہوں پھر حضرت علیؓ نے حضرت زبیرؓ سے کہا کہ کیا تم کو یاد نہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ خدا کی قسم تو علیؓ سے جنگ کرے گا اور تُو ظالم ہوگا۔ یہ سن کر حضرت زبیرؓ اپنے لشکر کی طرف واپس لوٹے اور قسم کھائی کہ وہ حضرت علیؓ سے ہرگز جنگ نہیں کریں گے اور اقرار کیا کہ انہوں نے اجتہاد میں غلطی کی۔ جب یہ خبر لشکر میں پھیلی تو سب کو اطمینان ہو گیا کہ اب جنگ نہ ہو گی بلکہ صلح ہو جائے گی لیکن مفسدوں کو سخت گھبراہٹ ہونے لگی۔ اور جب رات ہوئی تو انہوں نے صلح کو روکنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ ان میں سے جو حضرت علیؓ کے ساتھ تھے انہوں نے حضرت عائشہؓ اور حضرت طلحہؓ و زبیرؓ کے لشکر پر رات کے وقت شب خون مار دیا۔ اور جو ان کے لشکر میں تھے انہوں نے حضرت علیؓ کے لشکر پر شب خون مار دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک شور پڑ گیا۔ اور ہر فریق نے خیال کیا کہ دوسرے فریق نے اس سے دھوکا کیا حالانکہ اصل میں یہ صرف سبائیوں کا ایک منصوبہ تھا۔ جب جنگ شروع ہو گئی تو حضرت علیؓ نے آواز دی کہ کوئی شخص حضرت عائشہؓ کو اطلاع دے۔ شاید ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اس فتنہ کو دور کر دے۔ چنانچہ حضرت عائشہ کا اونٹ آگے کیا گیا لیکن نتیجہ اور بھی خطرناک نکلا مفسدوں نے یہ دیکھ کر کہ ہماری تدبیر پھر الٹی پڑنے لگی۔ حضرت عائشہؓ کے اونٹ پر تیر مارنے شروع کئے۔ حضرت عائشہؓ نے زور زور سے پکارنا شروع کیا کہ اے لوگو! جنگ کو ترک کرو۔ اور خدا اور یوم حساب کو یاد کرو لیکن مفسد باز نہ آئے اور برابر آپ کے اونٹ پر تیر مارتے چلے گئے۔ چونکہ اہل بصرہ اس لشکر کے ساتھ تھے۔ جو حضرت عائشہؓ کے اردگرد جمع ہوا تھا۔ ان کو یہ بات دیکھ کر سخت طیش آیا اور ام المؤمنین کی یہ گستاخی دیکھ کر ان کے غصہ کی کوئی حد نہ رہی اور تلواریں کھینچ کر لشکر مخالف پر حملہ آور ہو گئے۔ اور اب یہ حال

ہو گیا کہ حضرت عائشہؓ کا اونٹ جنگ کا مرکز بن گیا۔ صحابہ اور بڑے بڑے بہادر اس کے ارد گرد جمع ہو گئے اور ایک کے بعد ایک قتل ہونا شروع ہوا لیکن اونٹ کی باگ انہوں نے نہ چھوڑی۔ حضرت زبیرؓ تو جنگ میں شامل ہی نہ ہوئے اور ایک طرف نکل گئے مگر ایک شقی نے ان کے پیچھے سے جا کر اس حالت میں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے ان کو شہید کر دیا۔ حضرت طلحہؓ عین میدانِ جنگ میں ان مفسدوں کے ہاتھ سے مارے گئے۔ جب جنگ تیز ہو گئی تو یہ دیکھ کر کہ اس وقت تک جنگ ختم نہ ہو گی جب تک حضرت عائشہؓ کو درمیان سے ہٹایا نہ جائے۔ بعض لوگوں نے آپ کے اونٹ کے پاؤں کاٹ دیئے۔ اور ہودج اتار کر زمین پر رکھ دیا۔ تب کہیں جا کر جنگ ختم ہوئی۔ اس واقعہ کو دیکھ کر حضرت علیؓ کا چہرہ مارے رنج کے سرخ ہو گیا لیکن یہ جو کچھ ہوا اس سے چارہ بھی نہ تھا جنگ کے ختم ہونے پر جب مقتولین میں حضرت طلحہؓ کی نعش ملی تو حضرت علیؓ نے سخت افسوس کیا۔

ان تمام واقعات سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ اس لڑائی میں صحابہؓ کا ہرگز کوئی دخل نہ تھا بلکہ یہ شرارت بھی قاتلانِ عثمانؓ کی ہی تھی۔ اور یہ کہ طلحہؓ اور زبیرؓ حضرت علیؓ کی بیعت ہی میں فوت ہوئے کیونکہ انہوں نے اپنے ارادہ سے رجوع کر لیا تھا اور حضرت علیؓ کا ساتھ دینے کا اقرار کر لیا تھا۔ لیکن بعض شریروں کے ہاتھوں سے مارے گئے چنانچہ حضرت علیؓ نے ان کے قاتلوں پر لعنت بھی کی۔

ادھر تو یہ جنگ ہو رہی تھی۔ ادھر عثمانؓ کے قاتلوں کا گروہ جو معاویہؓ کے پاس چلا گیا تھا۔ اس نے وہاں ایک کہرام مچا دیا۔ اور وہ حضرت عثمانؓ کا بدلہ لینے پر آمادہ ہو گئے۔ جب حضرت علیؓ کے لشکر سے ان کا لشکر ملا۔ اور درمیان میں صلح کی بھی ایک راہ پیدا ہونے لگی تو ایک جماعت فتنہ پردازوں کی حضرت علیؓ کا ساتھ چھوڑ کر الگ ہو گئی۔ اور اس نے یہ شور شروع کر دیا کہ خلیفہ کا وجود ہی خلافِ شریعت ہے احکام تو خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہی ہیں باقی رہا انتظام مملکت سو یہ ایک انجمن کے سپرد ہونا چاہئے۔ کسی ایک شخص کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہئے۔ اور یہ لوگ خوارج کہلائے۔ اب بھی جو لوگ ہمارے مخالف ہیں ان کا یہی دعویٰ ہے اور ان کے وہی الفاظ ہیں جو خوارج کے تھے۔ اور یہ بھی ہماری صداقت کا ایک ثبوت ہے کہ ان لوگوں کو اس جماعت سے مشابہت حاصل ہے جسے کل مسلمان بالاتفاق کراہت کی نگاہ سے دیکھتے چلے آئے ہیں اور ان کی غلطی کے معترف ہیں۔

ابھی معاملات پوری طرح سلجھے نہ تھے کہ خوارج کے گروہ نے یہ مشورہ کیا کہ اس فتنہ کو اس طرح دور کرو کہ جس قدر بڑے آدمی ہیں ان کو قتل کر دو۔ چنانچہ ان کے دلیر یہ اقرار کر کے نکلے کہ ان میں سے ایک حضرت علیؓ کو ،ایک حضرت معاویہؓ کو اور ایک عمرو بن العاصؓ کو ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں قتل کر دے گا۔ جو حضرت معاویہؓ کی طرف گیا تھا اس نے تو حضرت معاویہؓ پر حملہ کیا لیکن اس کی تلوار ٹھیک نہیں لگی اور حضرت معاویہ صرف معمولی زخمی ہوئے۔ وہ شخص پکڑا گیا اور بعد ازاں قتل کیا گیا۔ جو عمرو بن العاصؓ کو مارنے گیا تھا وہ بھی ناکام رہا۔ کیونکہ وہ بوجہ بیماری نماز کے لئے نہ آئے جو شخص ان کو نماز پڑھانے کے لئے آیا تھا اس نے اس کو مار دیا اور خود پکڑا گیا اور بعد ازاں مارا گیا۔ جو شخص حضرت علیؓ کو مارنے کے لئے نکلا تھا اس نے جبکہ آپ صبح کی نماز کے لئے کھڑے ہونے لگے آپ پر حملہ کیا اور آپ خطرناک طور پر زخمی ہوئے آپ پر حملہ کرتے وقت اس شخص نے یہ الفاظ کہے کہ اے علیؓ ! تیرا حق نہیں کہ تیری ہر بات مانی جایا کرے بلکہ یہ حق صرف اللہ کو ہے (اب بھی غیر مبائعین ہم پر شرک کا الزام لگاتے ہیں)

ان سب واقعات کو معلوم کر کے آپ لوگوں نے معلوم کر لیا ہو گا کہ یہ سب فتنہ انہی لوگوں کا اٹھایا ہوا تھا جو مدینہ میں نہیں آتے تھے۔ اور حضرت عثمانؓ سے واقفیت نہ رکھتے تھے آپ کے حالات نہ جانتے تھے ‘ آپ کے اخلاص ‘ آپ کے تقویٰ ‘اور آپ کی طہارت سے نا واقف تھے آپ کی دیانت اور امانت سے بے خبر تھے۔ چونکہ ان کو شریروں کی طرف سے یہ بتایا گیا کہ خلیفہ خائن ہے ‘بد دیانت ہے ‘فضول خرچ ہے ‘وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے وہ گھر بیٹھے ہی ان باتوں کو درست مان گئے اور فتنہ کے پھیلانے کا موجب ہوئے۔ لیکن اگر وہ مدینہ میں آتے۔ حضرت عثمانؓ کی خدمت میں بیٹھتے آپ کے حالات اور خیالات سے واقف ہوتے تو کبھی ایسا نہ ہوتا جیسا کہ ہوا۔

میں نے ان حالات کو بہت مختصر کر دیا ہے ورنہ یہ اتنے لمبے اور ایسے دردناک ہیں کہ سننے والے کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پس یاد رکھو کہ یہ وہ فتنہ تھا جس نے مسلمانوں کے ۷۲ فرقے نہیں بلکہ ۷۲ ہزار فرقے بنا دیئے۔ مگر اسکی وجہ وہی ہے جو میں نے کئی دفعہ بتائی ہے کہ وہ لوگ مدینہ میں نہ آتے تھے۔ ان باتوں کو خوب ذہن نشین کر لو کیونکہ تمہاری جماعت میں بھی ایسے فتنے ہوں گے جن کا علاج یہی ہے کہ تم بار بار قادیان آؤ اور صحیح صحیح حالات سے واقفیت پیدا کرو۔ میں نہیں جانتا کہ یہ فتنے کس زمانہ میں ہوں گے لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ ہوں گے ضرور لیکن اگر تم قادیان آؤ گے اور بار بار آؤ گے تو ان فتنوں کے دور کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔ پس تم اس بات کو خوب یاد رکھو اور اپنی نسلوں در نسلوں کو یاد کراؤ تاکہ اس زمانہ میں کامیاب ہو جاؤ۔ صحابہؓ کی دردناک تاریخ سے فائدہ اٹھاؤ اور وہ باتیں جو ان کے لئے مشکلات کا موجب ہوئی ہیں ان کے انسداد کی کوشش کرو۔ فتنہ اور فساد پھیلانے والوں پر کبھی حسنِ ظنی نہ کرنا۔ اور ان کی کسی بات پر تحقیق کئے بغیر اعتبار نہ کر لینا۔ کیا اس وقت تم نے ایسے لوگوں سے نقصان نہیں اٹھایا ضرور اٹھایا ہے پس اب ہوشیار ہو جاؤ اور جہاں کوئی فتنہ دیکھو فوراً اس کا علاج کرو۔ توبہ اور استغفار پر بہت زور دینا۔ دیکھو اس وقت بھی کس طرح دھو کے دیئے جاتے ہیں۔ ہمارے مخالفین میں سے ایک سرکردہ کا خط میر حامد شاہ صاحب کے پاس موجود ہے جس میں وہ انہیں لکھتے ہیں کہ نور دین اسلام کا خطرناک دشمن ہے اور انجمن پر حکومت کرنا چاہتا ہے۔ شاہ صاحب تو چونکہ قادیان آنے جانے والے تھے اس لئے ان پر اس خط کا کچھ اثر نہ ہوا۔ لیکن اگر کوئی اور ہوتا جو قادیان نہ آیا کرتا تو وہ ضرور حضرت مولوی صاحب کے متعلق بدظنی کرتا۔ اور کہتا کہ قادیان میں واقعی اندھیر پڑا ہوا ہے۔ اسی طرح اور بہت سی باتیں ان لوگوں نے پھیلائی ہیں لیکن اس وقت تک خدا کے فضل سے انہیں کچھ کامیابی نہیں ہوئی۔ لیکن تم اس بات کے ذمہ دار ہو کہ شریر اور فتنہ انگیز لوگوں کو کرید کرید کر نکالو اور ان کی شرارتوں کے روکنے کا انتظام کرو۔ میں نے تمہیں خدا تعالیٰ سے علم پا کر بتا دیا ہے اور میں ہی وہ پہلا شخص ہوں جس نے اس طرح تمام صحیح واقعات کو یکجا جمع کر کے تمہارے سامنے رکھ دیا ہے جن سے معلوم ہو جائے کہ پہلے خلیفوں کی خلافتیں اس طرح تباہ ہوئی تھیں۔ پس تم میری نصیحتوں کو یاد رکھو۔ تم پر خدا کے بڑے فضل ہیں اور تم اس کی برگزیدہ جماعت ہو۔ اس لئے تمہارے لئے ضروری ہے کہ اپنے پیشروؤں سے نصیحت پکڑو۔ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں لوگوں پر افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ پہلی جماعتیں جو ہلاک ہوئی ہیں تم ان سے کیوں سبق نہیں لیتے۔ تم بھی گذشتہ واقعات سے سبق لو۔ میں نے جو واقعات بتائے ہیں وہ بڑی زبردست اور معتبر تاریخوں کے واقعات ہیں جو بڑی تلاش اور کوشش سے جمع کئے گئے ہیں اور ان کا تلاش کرنا میرا فرض تھا کیونکہ خدا تعالیٰ نے جبکہ مجھے خلافت کے منصب پر کھڑا کیا ہے تو مجھ پر واجب تھا کہ دیکھوں پہلے خلیفوں کے وقت کیا ہوا تھا اس کے لئے میں نے نہایت کوشش کے ساتھ حالات کو جمع کیا ہے۔ اس سے پہلے کسی نے ان واقعات کو اس طرح ترتیب نہیں دیا۔ پس آپ لوگ ان باتوں کو سمجھ کر ہوشیار ہو جائیں اور تیار رہیں۔ فتنے ہوں گے اور بڑے سخت ہوں گے ان کو دور کرنا تمہارا کام ہے۔ خدا تعالیٰ تمہاری مدد کرے اور تمہارے ساتھ ہو اور میری بھی مدد کرے اور مجھ سے بعد آنے والے خلیفوں کی بھی کرے اور خاص طور پر کرے کیونکہ ان کی مشکلات مجھ سے بہت بڑھ کر اور بہت زیادہ ہوں گی دوست کم ہوں گے اور دشمن زیادہ۔ اس وقت حضرت مسیح موعودؑ کے صحابہؓ بہت کم ہوں گے۔ مجھے حضرت علیؓ کی یہ بات یاد کر کے بہت ہی درد پیدا ہوتا ہے۔ ان کو کسی نے کہا کہ حضرت ابوبکرؓ اور عمرؓ کے عہد میں تو ایسے فتنے اور فساد نہ ہوتے تھے جیسے آپ کے وقت میں ہو رہے ہیں۔ آپ نے اسے جواب دیا کہ او کم بخت! حضرت ابوبکرؓ اور عمرؓ کے ماتحت میرے جیسے شخص تھے اور میرے ماتحت تیرے جیسے لوگ ہیں۔ غرض جوں جوں دن گزرتے جائیں گے حضرت مسیح موعودؑ کے صحبت یافتہ لوگ کم رہ جائیں گے۔ اور آپ کے تیار کردہ انسان قلیل ہو جائیں گے۔ پس قابل رحم حالت ہوگی اس خلیفہ کی کہ جس کے ماتحت ایسے لوگ ہوں گے۔ خدا تعالیٰ کا رحم اور فضل اس کے شامل ہو اور اس کی برکات اور اس کی نصرت اس کے لئے نازل ہوں جسے ایسے مخالف حالات میں اسلام کی خدمت کرنی پڑے گی۔ اس وقت تو خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے بہت سے صحابہ موجود ہیں۔ جن کے دل خشیت الٰہی اپنے اندر رکھتے ہیں۔ لیکن یہ ہمیشہ نہیں رہیں گے۔ اور بعد میں آنے والے لوگ خلیفوں کے لئے مشکلات پیدا کریں گے۔ میں خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ خدا آنے والے زمانہ میں اپنے فضل اور تائید سے ہماری جماعت کو کامیاب کرے اور مجھے بھی ایسے فتنوں سے بچائے اور مجھ سے بعد میں آنے والوں کو بھی بچائے۔ آمین۔

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

تقریر حضرت فضلِ عمر خلیفۃ المسیح الثانی

(جو حضور نے ۳۰؍دسمبر ۱۹۱۵ء کو مسجد اقصیٰ میں بوقت ۷ بجے صبح فرمائی)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کرشن، بدھ، مسیح اور مہدی ہونے کا ثبوت

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ۝ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝ کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ۟ فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیۡنَ وَمُنۡذِرِیۡنَ ۪ وَاَنۡزَلَ مَعَہُمُ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَ النَّاسِ فِیۡمَا اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ؕ وَمَا اخۡتَلَفَ فِیۡہِ اِلَّا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡہُ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ۚ فَہَدَی اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَا اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ مِنَ الۡحَقِّ بِاِذۡنِہٖ ؕ وَاللّٰہُ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ(البقرۃ: ۲۱۴)

تمام مذاہب ایک ہی مذہب کی شاخیں ہیں

اس میں کوئی شک نہیں ہو سکتا کہ دنیا میں اس وقت جس قدر مذاہب موجود ہیں وہ تمام کے تمام درحقیقت کسی ایک ہی مذہب کی شاخیں ہیں اور ان کی جڑ ایک ہی ہے مثلاً مسلمانوں میں ہی دیکھ لو کئی ایک فرقے ہیں، کوئی حنفی ہے، کوئی شافعی، کوئی حنبلی ہے، کوئی مالکی، کوئی شیعہ، کوئی سنی، کوئی ظاہری ہے، کوئی باطنی، کوئی خارجی ہے، کوئی چکڑالوی یہ مختلف فرقے ہیں مگر ان تمام کی اصل در حقیقت ایک ہی ہے اور یہ مختلف فقہاء کے نکلنے کی وجہ سے پیدا ہو گئے ہیں۔ اسلام اصل میں ایک ہی تھا اور اس کے اصول اور فروع بھی ایک ہی تھے لیکن جب مختلف علماء نکلے اور انہوں نے قرآن کریم کی آیات کے مختلف معنی کئے تو کچھ کچھ لوگ ہر ایک کے ساتھ شامل ہو گئے۔ اس لئے کوئی مالکی بن گیا کوئی شافعی، کوئی حنبلی بن گیا کوئی حنفی، کوئی شیعہ بن گیا کوئی سنی پس جس طرح اسلام کے سب فرقوں میں یہ بات پائی جاتی ہے اسی طرح تمام مذاہب میں بھی یہی بات ہے۔ جس وقت بنی نوع انسان پیدا ہوئے تھے اس وقت خدا تعالیٰ نے ایک ہی مذہب پر سب کو قائم کیا تھا اور سب کا ایک ہی مذہب تھا۔ لیکن جب یہ لوگ اپنے مذہب میں سست ہو گئے اور دنیا میں پڑ کر خدا تعالیٰ کو بھول گئے تو خدا کی طرف سے ان میں ایک نبی مبعوث ہوا۔ اس نے ان کو کہا کہ آؤ میں تمہیں خدا کی طرف لے جاؤں اور تمہاری سستی اور کاہلی کو دور کر کے تمہیں پاک و صاف کر دوں۔ اس وقت کچھ لوگ تو ایسے نکلے جنہوں نے ضد، تکبر اور عزت کے گھمنڈ کی وجہ سے اسے قبول نہ کیا اس لئے ان کی دو جماعتیں بن گئیں۔ ایک وہ جس نے دنیا کے لحاظ سے سب سے پہلے آنے والے نبی کو قبول کیا اور دوسری وہ جس نے قبول نہ کیا۔ اور اس طرح اس نبی کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں میں فرق ہو گیا۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے اس نبی کو مانا تھا ان میں آہستہ آہستہ کمزوریاں، بدیاں اور برائیاں آنی شروع ہو گئیں۔ اور ان میں سے کچھ عرصہ کے بعد ایسے لوگ پیدا ہو گئے جو دین میں بہت کمزور تھے اس لئے کچھ مدت کے بعد ان کی حالت بدل گئی۔ اور وہ ویسے نہ رہے جیسے نبی کے زمانہ میں تھے۔ بلکہ دین سے بے بہرہ ہو گئے اس لئے ایک اور نبی آیا اور اس نے آکر سب کو اپنی طرف بلایا لیکن اس کو پہلے نبی کے کچھ ماننے والوں نے اور کچھ نہ ماننے والوں نے قبول کیا۔ اس وقت تین مذاہب کے لوگ ہو گئے ایک وہ جنہوں نے پہلے نبی کو نہ مانا تھا اور دوسرے کو بھی نہ مانا دوسرے وہ جنہوں نے پہلے نبی کو تو مان لیا تھا مگر دوسرے کو نہ مانا تھا اور تیسرے وہ جن میں کچھ ایسے شامل تھے جنہوں نے پہلے نبی کو مانا تھا۔ اور کچھ عرصہ تو یہی تین مذہب رہے۔ مگر جب دوسرے نبی کے ماننے والے لوگوں میں بھی نقص پیدا ہو گئے اور وہ خدا کے پیارے اور پسندیدہ نہ رہے تو خدا تعالیٰ نے ایک تیسرا نبی بھیجا۔ جس کو پہلے تین مذاہب کے لوگوں میں سے کچھ کچھ نے قبول کیا اب چار مذہب ہو گئے۔ ایک مدت تک تو اس چوتھے نبی کے تابع لوگ اس قابل رہے کہ خدا تعالیٰ کے احکام کو بجالاتے اور اس کی رضا مندی کے حاصل کرنے والے کام کرتے۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ بھی خدا کو بھول گئے۔ اور ان میں ایسے بھی لوگ پیدا ہو گئے جنہوں نے نبی کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے نشان نہ دیکھے تھے اس لئے ان میں بدیاں اور نقص پیدا ہو گئے۔ جب خدا تعالیٰ نے ان کی یہ حالت دیکھی تو ایک اور نبی بھیج دیا جس کے آنے پر ایک اور مذہب بن گیا۔ غرض اسی طرح نبی پر نبی آنا شروع ہوا ۔ اور جماعت پر جماعت بننی شروع ہوئی۔ اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہزاروں ہزار مذاہب دنیا پر موجود ہیں۔ اور جو مٹ گئے ہیں ان کا کچھ پوچھو ہی نہ ۔ آج کل ایسی کتابیں بنی ہیں جن میں یہ دکھایا گیا ہے کہ آج تک کس قدر مذاہب ہوئے ہیں۔ اس وقت تک ایک ایسی ہی کتاب کی بائیس جلدیں چھپ چکی ہیں اس میں عام طور پر ایک صفحہ سے زیادہ ایک مذہب کے حالات کے لئے نہیں دیا جاتا مگر پھر بھی بہت بڑی ضخیم کتاب بن گئی ہے۔

ساری دنیا کے لئے ایک مذہب

غرض اس قدر مذاہب درحقیقت مختلف انبیاءؑ کے انکار کے نتیجہ میں پیدا ہوگئے ہیں۔ نبی پر نبی آئے۔ اور ہر نبی کے آنے پر ایک اور فرقہ پیدا ہو گیا۔ جس سے اختلاف بڑھتا گیا اور بہت ہی بڑھ گیا حتیٰ کہ خدا تعالیٰ نے جب دیکھا کہ انسان بے انتہاء فرقوں میں متفرق ہوگئے ہیں حق اور صداقت سے بہت دور چلے گئے ہیں ظلمت اور تاریکی میں بہت بڑھ گئے ہیں فسق و فجور میں بہت ترقی کر گئے ہیں عصیان اور طغیان میں حد سے گزر گئے ہیں تو اس نے اس طرف توجہ کی اور اس کی غیرت نے جوش مارا اور اس کی ربوبیت نے چاہا کہ جس طرح ابتداء میں دنیا میں ایک مذہب تھا اور اسی ایک پر ہی سب لوگ تھے پھر بھی ایسا ہی ہو۔ اس کے لئے اس نے ایک ایسا نبی بھیجا جو تمام دنیا کے لئے تھا اور جو سب کو ایک کرنے آیا تھا اور وہ آنحضرت ﷺ تھے۔ خدا تعالیٰ نے چاہا کہ جس طرح وہ آسمان پر ایک ہے اسی طرح اس کے بندوں میں بھی ایک ہی رسول آئے جو تمام دنیا کو اس کی طرف بلائے۔ چنانچہ ایک ایسا ہی نبی آیا۔ لیکن سنت اللہ کے مطابق ضروری تھا کہ جس طرح اس سے پہلے آنے والے نبیوں کی مخالفت کی گئی اسی طرح اس کی بھی کی جائے۔ اور مخالفت کا ہونا ضروری بھی ہے کیونکہ جب تک مخالفت نہ ہو صداقت اور حقانیت اچھی طرح نہیں کھلتی۔ پس ضروری تھا کہ اس نبی کی مخالفت بھی ہو۔ چنانچہ ہوئی اور بڑے زور سے ہوئی اس لئے ایک اور مذہب قائم ہو گیا۔ لیکن اس نبی کے مبعوث کرنے سے جو خدا تعالیٰ کا یہ منشاء تھا کہ تمام دنیا پر ایک مذہب ہو۔ وہ زائل نہ ہوا خدا تعالیٰ نے اس کے لئے یہ تجویز کی کہ آنحضرت ﷺ کے ذریعہ اس کی ابتداء کی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اس کی انتہاء رکھی۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے فرما دیا کہ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَدِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ۙ وَلَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ(الصف: ۱۰) خدا وہ ہے جس نے اپنا ایک رسول ہدایت کے ساتھ بھیجا ہے اور اس لئے بھیجا ہے تاکہ تم سب ایک امت بن جاؤ۔ اور ایسا ہی ضرور ہو کر رہے گا۔ خواہ مشرک لوگ اس کو ناپسند ہی کرتے ہوں۔ تمام علم حقیقی رکھنے والے اس بات پر متفق ہیں کہ یہ آیت مسیح موعودؑ کے متعلق ہے۔ تو خدا تعالیٰ نے اپنی اس تجویز کو آنحضرت ﷺ کے وقت میں پورا نہ کیا بلکہ آپ کے خادموں میں سے ایک کو رسول بنا کر کھڑا کر دیا اور اس کے ہاتھ سے اس غرض کو پورا کرایا۔ اس میں شک نہیں کہ آنحضرت ﷺ کو خدا تعالیٰ نے تمام دنیا کے لئے بھیجا اور چاہا کہ تمام دنیا کو آپ کے ذریعہ اکٹھا کرے مگر اپنی بہت سی مصلحتوں اور حکمتوں کی بناء پر یہ کیا کہ اس ارادہ کو حضرت مسیح موعودؑ کے وقت پورا کرے۔ ان حکمتوں کو میں انشاء اللہ آگے چل کر بیان کروں گا۔

خدا تعالیٰ کے تمام کام تدبیر سے ہوتے ہیں

خدا تعالیٰ نے تمام دنیا کو ایک مذہب پر قائم کرنے کے لئے ایک تدبیر فرمائی۔ اور خدا تعالیٰ کی یہی سنت ہے کہ اس کے تمام کام تدبیر سے ہی ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ آسمان سے فرشتے آئیں اور ہمارے لئے سب کچھ بیان کریں۔ وہ غلط کہتے ہیں۔ خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ٭ۖ وَّمَا مَسَّنَا مِنۡ لُّغُوۡبٍ فَاصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ قَبۡلَ طُلُوۡعِ الشَّمۡسِ وَقَبۡلَ الۡغُرُوۡبِ(ق: ۳۹، ۴۰) کہ باوجود اس طاقت اور قدرت کے کہ میں کُنْ سے سب کچھ پیدا کر سکتا ہوں۔ پھر بھی میں نے زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے اندر ہے چھ ہی دن میں بنایا ہے۔ ہم سارے کام کو تو کُنْ سے بھی کر سکتے ہیں لیکن ہماری حکمت اور مصلحت چاہتی ہے کہ ہم آہستگی سے کریں اور ہم اس طرح کام کرنے سے تھکتے نہیں اور نہ ہی گھبراتے ہیں۔ پس جبکہ ہم باوجود سب طرح کی طاقت رکھنے کے آہستگی سے کام کرنے سے نہیں گھبراتے تو جو انسان ہے اس خیال سے کیوں گھبراتا ہے کہ اس قدر دیر سے کیوں اسلام کی ترقی ہو رہی ہے۔ تجھے تو چاہئے کہ تیرے مخالفین جو کچھ بھی کہیں اس سے ذرا نہ گھبرائے اور خدا کے حضور گر کر صبح اور شام اس کی تسبیح کرے۔ وہ خود تیرے سب کاموں کو کر دے گا اور تیرے دشمنوں کو تباہ کر دے گا۔

غرض خدا تعالیٰ کے ہر ایک کام میں آہستگی اور ترتیب ہوتی ہے۔ اور خدا تعالیٰ نے ہر ایک کام کے لئے ایک تدبیر کی ہوئی ہے۔ دیکھو دنیا کی ہدایت کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی آتے ہیں جو دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان ہی ہوتے ہیں لیکن ان کے منوانے کے لئے کبھی یہ نہیں ہوا کہ آسمان سے فرشتے اترے ہوں۔ اور اگر کہا ہو کہ ان نبیوں کو مان لو اور کبھی یہ نہیں ہوا کہ انبیاء کے منکروں پر آسمان سے گولے برسے ہوں۔ بلکہ قحط پڑتے ہیں ، زلازل آتے ہیں ، سیلاب آتے ہیں اور بھی بہت سی بلائیں نازل ہوتی ہیں۔ لیکن نادان یہی کہتے ہیں کہ یہ کوئی نشان نہیں ہیں یہ تو پہلے بھی ہوا کرتے تھے۔ تو خدا تعالیٰ ہر ایک کام کے لئے تدبیر فرماتا ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ کی کامیابی کے لئے تدبیر کی تھی اس کام کے لئے بھی خدا تعالیٰ نے تدبیر کی۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی خدا نے یہود کو سزا دینے کے لئے ایک تدبیر فرمائی تھی جو یہ تھی کہ جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو آپ نے کفار سے معاہدہ کیا کہ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف کوئی فساد نہ کیا جائے اور مدینہ کی حفاظت میں مل کر کام کریں لیکن باوجود اس معاہدہ کے وہ شرارتوں سے باز نہ آتے۔ آنحضرت ﷺ ان کو معاف کر دیا کرتے لیکن جب حالت بہت خطرناک ہو گئی اور رسول کریم ﷺ پر پتھر گرا کر قتل کرنے کا منصوبہ انہوں نے کیا اور جنگ احزاب کے وقت جبکہ مسلمانوں کی حالت سخت نازک ہو رہی تھی بر خلاف معاہدہ کے کفار سے مل کر مسلمانوں کو ہلاک کرنا چاہا تو ان کے خلاف جنگ کرنے کا حکم ہوا۔ لیکن جیسا کہ رسول کریم ﷺ کا طریق تھا آپ غالباً اس جنگ کے بعد بھی ان لوگوں سے نرمی کرتے۔ لیکن خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ انہیں سزا ہو اس لئے اس نے ایک تدبیر فرمائی۔ آنحضرت ﷺ نے جب ان یہود کو کہا کہ آؤ میں تمہاری شرارت کے متعلق فیصلہ کروں تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہم تمہارا فیصلہ نہیں مانتے۔ آپ نے فرمایا اچھا بتاؤ تم اس معاملہ میں کس کو منصف مقرر کرتے ہو انہوں نے ایک آدمی کا نام لیا۔ لیکن جس کا انہوں نے نام لیا تھا اسی نے ان کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ ان کے سب قابل جنگ مردوں کو قتل کر دیا جائے۔ اگر آنحضرت ﷺ فیصلہ کرتے تو آپ ضرور نرمی فرماتے جیسا کہ اس قبیلہ کے دو بھائی قبیلوں سے نرم برتاؤ کر چکے تھے۔ لیکن خدا تعالیٰ چونکہ چاہتا تھا کہ انہیں ان کے اعمال کی سزا ملے اس لئے اس نے یہ تدبیر کر دی کہ انہیں کی زبانی ایک شخص مقرر کروا کر انہیں سزا دلوا

دی۔ تو اس مقصد کے لئے بھی کہ تمام دنیا ایک مذہب پر ہو جائے۔ خدا تعالیٰ نے اسی طرح ایک تدبیر فرمائی ہے۔

تمام دنیا کو ایک مذہب پر لانے کی تدبیر

دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب آپس میں لوگوں کے جھگڑے اور فساد ہوتے ہیں۔ تو عام طور پر فیصلہ کا طریق یہ مقرر کیا کرتے ہیں کہ کچھ پنچ مقرر کروائے جاتے ہیں۔ یا اس طرح کہ ہر ایک فریق اپنی اپنی طرف سے ایک شخص کو مقرر کر دیتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ یہ جو کچھ فیصلہ کرے وہ مجھے منظور ہے۔ اور کبھی اس طرح ہوتا ہے کہ ایک ہی آدمی کو فیصلہ کے لئے تمام فریق منتخب کر لیتے ہیں۔ دنیا کی تمام حکومتیں بھی اپنے بڑے بڑے امور کی نسبت اسی طرح فیصلے کیا کرتی ہیں کہ اپنی اپنی طرف سے نمائندے مقرر کر دیتی ہیں اور ان کا ساختہ پر داختہ منظور کر لیتی ہیں۔ خدا تعالیٰ نے بھی چاہا کہ مختلف مذاہب کا فیصلہ بھی اسی طرح ہو اس لئے اس نے ایسی تدبیر کی کہ تمام مذاہب میں سے پنچ مقرر کر دیئے۔ چونکہ اس کا ارادہ تھا کہ ایک دین کو سب دینوں پر غالب کرے اور ایک ہی دین پر سب کو جمع کرے اس لئے اس نے یہ تدبیر کی کہ حضرت کرشنؑ کے پیروؤں کو کہہ دیا کہ جب دنیا میں لڑائی فساد بہت پھیل جائے گا فسق و فجور بہت بڑھ جائے گا۔ اور لوگ خدا کو بھلا دیں گے تو اس وقت کرشنؑ دوبارہ آئے گا۔ اور سب بدیوں کو آکر دور کرے گا۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے بدھ مذہب کے پیروؤں کو کہہ دیا کہ جب فتنہ و فساد بڑھ جائے گا اور دنیا خدا سے غافل ہو جائے گی تو اُس وقت بدھ دوبارہ آئے گا اور آکر لڑائی جھگڑوں کا فیصلہ کرے گا۔ اسی طرح مسیحی مذہب والوں کو ان کے مسیح نے کہا کہ اب میں جاتا ہوں لیکن اس وقت دوبارہ آؤں گا جب کہ قومیں ایک دوسرے پر چڑھیں گی اور دنیا میں فساد پھیل جائے گا۔ تب میں آکر صلح کراؤں گا۔ اسی طرح خدا نے آنحضرت ﷺ کے مونہہ سے یہ کہلایا کہ وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ(الجمعة: ۴) یہ رسول آخری زمانہ میں بھی آئے گا اور اس وقت کے لوگوں کو پہلوں کی طرح بنا دے گا۔ غرض تمام مذاہب کے بانیوں کی طرف سے یہ کہلا دیا گیا تھا کہ ہم دوبارہ آئیں گے۔ اس لئے ان کے پیروؤں نے ان کے دوبارہ آنے کی توقع رکھی۔ حضرت کرشنؑ کے پیرو اس بات کے منتظر تھے کہ کرشنؑ آئے گا۔ حضرت بدھؑ کے پیرو اس بات کے منتظر تھے کہ بدھؑ آئے گا۔ حضرت مسیحؑ کے پیرو اس بات کے منتظر تھے کہ مسیحؑ آئے گا۔ اور آنحضرت ﷺ کے پیرو اس بات کے لئے چشم براہ تھے کہ

محمدؐ مہدی آئے گا۔ اور سب سے یہ آپس کے اختلاف اور لڑائی جھگڑوں کے بند کرنے اور ایک مذہب پر قائم کرنے کے لئے کہلایا جا رہا تھا۔ ہندو، مسلمان، عیسائی اور یہودی سب آپس میں جھگڑتے تھے اور ہر ایک یہی چاہتا تھا کہ دوسرے کو برباد کر دے۔ لیکن خدا تعالیٰ نے اس لڑائی جھگڑے کو دور کرنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ ہر ایک قوم سے ایک ایک پنچ مقرر کرا دیا اور ہر ایک کو فرما دیا کہ تمہارا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا۔ مولانا روم اپنی مثنوی میں ایک قصہ لکھتے ہیں کہ چار آدمی کہیں جا رہے تھے ایک امیر نے انہیں کچھ پیسے دیئے ان میں سے ایک نے کہا کہ ہم انگور لے کر کھائیں گے۔ دوسرے نے کہا انگور نہیں عِنَب لیں گے۔ تیسرے نے کہا نہیں عِنَب بھی نہیں داکھ لیں گے۔ چوتھے نے بھی ان تینوں کے خلاف اپنی زبان میں انگور کا نام لے کر کہا کہ نہیں فلاں چیز لیں گے۔ اس طرح وہ چاروں ایک دوسرے کی بات نہ مانے اور خوب آپس میں لڑے۔ ایک شخص پاس سے گذر رہا تھا اس نے کہا کیا بات ہے مجھے بتاؤ میں فیصلہ کرتا ہوں۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی بات بتائی اس نے کہا لاؤ میں سب کو مطلوبہ شئے لا دیتا ہوں وہ پیسے لے کر انگور خرید لایا اور ان کے سامنے رکھ دیئے وہ سارے ان کو دیکھ کر خوش ہو گئے اور کھانے لگ گئے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے جو حضرت کرشنؑ، حضرت بدھؑ، حضرت مسیحؑ اور آنحضرت ﷺ کی زبان سے ان کے دوبارہ آنے کے متعلق پیشگوئی کرائی تھی وہ بھی جب پوری ہوئی تو ایک ہی آدمی کے حق میں نکلی وہ کرشن بھی تھا، وہ بدھ بھی تھا، وہ مسیح بھی تھا، اور وہ محمدؐ بھی تھا۔ خدا تعالیٰ نے ہر ایک قوم کی طرف سے ایک ایک پنچ مقرر کیا تھا جس کے فیصلہ کے حق ہونے پر وہ یقین رکھتے تھے اور اسے قبول کرنے کے لئے تیار تھے۔ چنانچہ جب ہندوؤں نے کہا کہ کرشن ہمارا سردار ہے جو کچھ وہ کہے ہم اس کے ماننے کے لئے دل و جان سے تیار ہیں۔ تو خدا تعالیٰ نے کہا کہ اسی کو دوبارہ بھیجا جائے گا۔ اسی طرح بدھوں نے کہا کہ بدھؑ ہمارا آقا ہے جو کچھ وہ کہے اس کے ماننے سے ہمیں ذرا بھی انکار نہیں ہو سکتا تو خدا نے کہا کہ اسی کو دوبارہ بھیجا جائے گا۔ اسی طرح جب عیسائیوں نے کہا کہ حضرت مسیحؑ کی ہر ایک بات ہم دل و جان سے مانتے ہیں تو خدا نے کہا کہ اسی کو بھیجا جائے گا۔ اور اسی طرح مسلمانوں نے کہا کہ آنحضرت ﷺ ہمارے ہادی اور راہنما ہیں ان کے مونہہ سے نکلی ہوئی ہر ایک بات کا ماننا ہم پر فرض ہے تو خدا تعالیٰ نے کہا کہ انہی کو ہم دوبارہ مبعوث فرما دیں گے۔ یوں خدا تعالیٰ نے ان قوموں سے ان پنچوں کو قبول کروا لیا۔ تاکہ جب یہ آئیں تو ان کے فیصلہ کو ماننے میں انہیں

کوئی تردد نہ ہو اور سب ایک دین پر قائم ہو جائیں۔ چنانچہ یہ چاروں پنچ آئے مگر چاروں الگ الگ ہو کر نہیں بلکہ ایک ہی بن کر۔ اب ہندوؤں پر یہ حجت پوری ہوئی کہ تمہارے لئے حضرت کرشنؑ کا فیصلہ ماننا ضروری ہے۔ پس جبکہ کرشنؑ آگیا ہے تو اس کے فیصلہ کو مان لو۔ بدھوں پر یہ حجت ہوئی کہ ان کا قائم مقام حضرت بدھؑ آگیا۔ مسیحیوں پر یہ حجت ہوئی کہ ان کا قرار داد ہ مسیحؑ آگیا۔ اور مسلمانوں پر یہ حجت ہوئی کہ ان کا منتخب کردہ پنچ محمد ﷺ آگیا۔ خدا تعالیٰ نے تو سب مذاہب کو ایک بنانے کے لئے یہ تدبیر کی تھی۔ لیکن غلطی اور نا سمجھی سے ہندوؤں نے سمجھا کہ کرشنؑ آکر ہمارے ہی مذہب کو پھیلائیں گے اور باقی کو نیست و نابود کر دیں گے۔ یہی بات بدھوں، عیسائیوں اور مسلمانوں نے بھی اپنے اپنے آنے والے نبیوں کے متعلق خیال کرلی۔ انہوں نے تو صلح کرانے کے لئے اور لڑائی جھگڑوں کو دور کرنے کے لئے آنا تھا لیکن سمجھا یہ گیا کہ وہ آکر کشت و خون کا بازار گرم کریں گے۔ یہ ایک ایسی غلط فہمی ہر ایک مذہب والوں کے دلوں میں بیٹھ گئی کہ جس کا اس وقت تک دور ہونا مشکل تھا جب تک کہ وہ انسان نہ آتا جس کے وہ منتظر بیٹھے تھے۔ چنانچہ وہ آیا اور اس نے آکر ثابت کر دیا کہ جو جو خیالات تمہارے دلوں میں ہیں وہ غلط اور بیہودہ ہیں۔ میں ہی وہ ہوں جو تمہارے سب کے لئے آنے والا تھا تاکہ تم کو ایک کروں اور ایک مذہب پر قائم کر کے خدا تعالیٰ کے ایک ہی دین کو تمام دینوں پر غالب کروں۔ چنانچہ اس نے یہ سب کچھ اس زمانہ میں کر کے دکھا دیا۔ اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہی ایسا زمانہ ہے جس میں یہ مقصد پورا ہو سکتا ہے اور اسی زمانہ میں کسی ایسے انسان کو آنا چاہئے تھا جو ایک دین پر سب کو قائم کرتا۔ اور پھر وہ سب علامتیں بھی اس زمانہ میں پوری ہو رہی ہیں جو حضرت کرشنؑ، حضرت بدھؑ، حضرت مسیحؑ اور مہدیؑ کی آمد پر پوری ہونی تھیں۔ پس جب کہ زمانہ کے حالات اور واقعات پکار پکار کر بتا رہے ہیں کہ ہر ایک مذہب کے آنے والے کا یہی وقت ہے۔ اور پھر جبکہ جو علامتیں مقرر کی گئی تھیں وہ بھی پوری ہو گئی ہیں تو آنے والوں کو بھی آجانا چاہئے۔ لیکن ان سب کی طرف سے ایک ہی مدعی کھڑا ہوا ہے جس نے کہا ہے کہ میں کرشنؑ ہوں، میں بدھؑ ہوں، میں مسیحؑ ہوں اور میں مہدیؑ ہوں۔ پس وہی ان تمام جھگڑوں کا فیصلہ کرنے والا ٹھہرا۔ اور اگر پہلے نبیوں کو سچا سمجھا جائے تو اسے قبول کرنے کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہیں۔

اب اگر کوئی کہے کہ اس ایک کے آنے سے تو ایک فرقہ دنیا میں زائد ہو گیا اور بجائے پہلے مذاہب کے ایک مذہب ہو جانے کے ان میں ایک اور کا اضافہ ہو گیا۔ تو اس کا یہ جواب ہے کہ گو ابتداء میں ایسا ہی خیال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ میں اس دین کو تمام دینوں پر غالب کروں گا اس لئے ضرور ایک نہ ایک دن ایسا ہو کر رہے گا۔ جس طرح ابتداء میں ایک چھوٹا سا بادل اٹھتا ہے اور پھر پھیل کر تمام آسمان کو ڈھانپ لیتا ہے اسی طرح اس آنے والے کا حال ہے۔ گو یہ اس وقت ایک چھوٹے سے ابر کی مانند ہے لیکن وہ دن قریب ہے جبکہ یہی تمام عالم پر پھیل جائے گا۔ کیونکہ جب ہندوؤں کے سامنے یہ پیش کیا جائے گا کہ جس کرشنؓ کے تم منتظر بیٹھے ہو اور جس کی آمد کی علامات پوری ہو چکی ہیں وہ آگیا ہے۔ تو ان میں سے جو لوگ صداقت پسند ہوں گے وہ مان لیں گے اور کہیں گے کہ واقعہ میں ہمارا مذہب سچا ہے کیونکہ جس انسان کے آنے کی ہمیں خبر دی گئی تھی وہ آگیا ہے۔ اسی طرح جب بدھ مذہب والوں کو کہا جائے گا کہ تمہارا بدھ آگیا ہے اور اس کے آنے کی علامات پوری ہو چکی ہیں تو ان میں سے جو سمجھدار ہوں گے وہ بڑی خوشی سے قبول کر لیں گے۔ اسی طرح جب عیسائیوں اور یہودیوں کو کہا جائے گا کہ جس مسیحؑ کی آمد کے انتظار میں تم بیٹھے ہو وہ دوبارہ آگیا ہے تو ان میں سے عقلمند انسان بڑے جوش سے اس کا خیر مقدم کریں گے۔ اور اس طرح وہ مسلمان جو اب تک اس انسان کے ماننے والوں میں شامل نہیں ہوئے جب آپ کو آنے والا مسیح اور مہدی پائیں گے تو بڑی خوشی سے قبول کر لیں گے۔ اس طرح کام بھی ہو جائے گا اور سارے مذاہب والے خوش بھی ہو جائیں گے کیونکہ ہر ایک یہی سمجھے گا کہ ہمارا ہی مذہب سچا ہے اور ہمارے ہی مذہب کا غلبہ دوسروں پر ہوا ہے۔ جس طرح وہ انگور کھانے والے سارے کے سارے خوش ہو گئے تھے اسی طرح یہ لوگ بھی اپنے اپنے مقصود کو پا لیں گے تو خوش ہو جائیں گے۔ اور وہ کام یعنی یہ کہ تمام کو ایک مذہب پر قائم کرنا بھی ہو جائے گا۔

خدا تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اب دنیا پر اس کا ایک ہی مذہب ہو۔ پس جوں جوں قوموں کو معلوم ہو گا اور وہ غور کریں گی اس آنے والے کو جو سب کا قائم مقام ہو کر آیا ہے ۔ مان لیں گی کیونکہ یہ کوئی دوسرا نہیں بلکہ ان کا اپنا ہی ہے۔ کسی دوسرے کو ماننے سے عار آیا کرتی ہے۔ لیکن جب ہندوؤں کو کرشنؓ، بدھوں کو بدھؑ، مسیحیوں کو مسیحؑ، اور مسلمانوں کو آنحضرت ﷺ کہیں گے کہ ہمیں مان لو تو پھر کسی کو ان کے ماننے میں کوئی عذر نہ ہو گا۔ اور عذر ہو ہی کیا سکتا ہے جبکہ وہ اپنے مانے ہوئے نبی کو ہی دوبارہ مانیں گے۔ اور جب یہ قومیں مان لیں گی تو

اور سب انہی میں آجائیں گی کیونکہ باقی سب مذاہب انہی مذاہب کی شاخیں ہیں۔ میں نے ان چار مذاہب کے نام اسلئے لئے ہیں کہ یہ بڑے بڑے مذہب ہیں اور ان کے ماننے والی بڑی بڑی جماعتیں ہیں ورنہ ہر ایک مذہب میں کسی نہ کسی نبی کے آنے کی پیشگوئی موجود ہے۔ غرض خدا تعالیٰ نے تمام دنیا پر ایک ہی مذہب قائم کرنے کی یہ تدبیر کی۔ لیکن خدا کی یہ سنت نہیں ہے کہ مذاہب کو بالکل مٹا کر اور نیست و نابود کر کے ایک ہی مذہب کو رہنے دے۔ اسی سنت کے مطابق اب بھی دیگر مذاہب کچھ کچھ رہیں گے۔ لیکن بہت ہی قلیل تعداد میں ان کے پیرو ہوں گے جو گویا نہ ہونے کے ہی برابر ہوں گے۔

ایک اعتراض اور اس کا جواب

اس جگہ میں ایک اعتراض کا جو عام طور پر احمدیوں پر کیا جاتا ہے اور جو میری پہلی تقریر پر بھی پڑ سکتا ہے ازالہ کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ مانا کہ تمام مذاہب کے جمع کرنے کے لئے یہ ایک عمدہ تدبیر ہے کہ سب مذاہب کے نبیوں کی دوبارہ آمد کی خبر دی جائے اور پھر ان سب کو ایک شخص کے وجود میں ظاہر کیا جائے لیکن یہ ہو کیونکر سکتا ہے کہ ایک ہی شخص کرشنؓ بھی ہو مسیحؓ بھی ہو محمدؐ بھی ہو اور اسی طرح اور نبیوں کا بھی مظہر ہو۔

اس کے جواب میں میں کہتا ہوں کہ چار ناموں والے ایک شخص کا ہونا کچھ بھی مشکل نہیں۔ میں نے جلسہ کے موقعہ پر اپنی ایک تقریر میں بتایا ہے کہ آنحضرت اللہﷺ فرماتے ہیں کہ میرے کئی نام ہیں۔ میرا نام محمدؐ ہے کیونکہ میں سب انسانوں سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے حضور تعریف کیا گیا ہوں۔ میں احمد ہوں کہ مجھ سے بڑھ کر خدا کی تعریف کرنے والا کوئی نہیں۔ میں حاشر ہوں کہ دنیا کو اس کی روحانی موت کے بعد پھر زندہ کروں گا۔ میں ماحی ہوں کہ دنیا کے کفر اور ضلالت کو مٹانے والا ہوں۔ میں عاقب ہوں کہ میرے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا نبی نہیں ہو سکتا۔ پس اگر آنحضرت اللہﷺ کے پانچ نام ہو سکتے ہیں۔ تو حضرت مسیح موعودؑ کے چار نام کیوں نہیں ہو سکتے۔ اس میں تعجب کی کونسی بات ہے۔ اور خدا تعالیٰ کے تو ننانوے نام کہے جاتے ہیں۔ ہمارے نزدیک تو خدا تعالیٰ کے ہزار ہا نام ہیں لیکن اگر ننانوے ہی تسلیم کئے جائیں۔ تب بھی بات صاف ہے اگر ایک ہستی کے ننانوے نام ہو سکتے ہیں تو چار نام ایک جگہ کیوں جمع نہیں ہو سکتے۔ اور یہ تو صفاتی ناموں کا حال ہے۔ ہم تو دیکھتے ہیں کہ اسم ذات بھی بعض دفعہ ایک سے زیادہ ہوتے ہیں مثلاً ہمارا ہی چھوٹا بھائی تھا جس کا مبارک احمد بھی نام تھا۔

اور دوست احمد بھی۔ کئی لڑکوں کے نام نھیال والے اور رکھتے ہیں اور ددھیال والے اور۔ بعض کا تاریخی نام کچھ اور ہوتا ہے اور عام مشہور نام کوئی اور۔ پس جب عام طور پر متعدد نام ہوتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ایک شخص کے نام کرشن، بدھ، مسیح، مہدی، احمد اور غلام احمد نہ ہوں۔ جب دنیا میں اور کئی شخصوں کے کئی نام ہوتے ہیں۔ اور اس کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ تو یہ بھی تعجب کی کوئی بات نہیں کہ ایک ہی شخص پہلے کئی اشخاص کے نام پالے۔ ہاں یہ تعجب کی بات ہے کہ پہلے ہی اصل شخص پھر آجائیں۔ لیکن ہمارا یہ مذہب ہرگز نہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ وہی مسیحؑ ہیں جو بنی اسرائیل کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔ یا وہی بدھ ہیں جو بدھ مذہب کا بانی تھا۔ یا وہی کرشن ہیں جو ہندوؤں میں بھیجا گیا تھا۔ یا وہی محمد ﷺ ہیں جو تیرہ سو سال ہوئے عرب میں مبعوث ہوئے تھے۔ بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان سب کے نام ایک شخص کو دے دیئے ہیں۔ اور ایک شخص کے بہت سے نام رکھنا ہرگز قابل تعجب نہیں۔ قابل تعجب یا تو یہ بات ہو سکتی تھی کہ پہلے ہی آدمی اپنے اپنے جسم عنصری کے ساتھ واپس تشریف لاتے۔ یا یہ کہ تناسخ کے مسئلہ کے ماتحت ان کی ارواح دنیا میں آتیں اور ان کی روحیں ایک ہی جسم میں داخل ہو جاتیں۔ لیکن ہم تناسخ کے قائل نہیں اور نہ اس بات کے قائل ہیں کہ ان پہلے انبیاء کی ارواخ ایک شخص میں آکر داخل ہو گئی ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ چونکہ پہلے مسیحؑ کی روح حضرت مسیح موعودؑ کے جسم میں آگئی ہے اس لئے وہ مسیح کہلاتے ہیں۔ یا کرشن کی روح ان کے جسم میں آگئی ہے اس لئے وہ کرشن کہلاتے ہیں۔ یا بدھ کی روح آپ میں حلول کر گئی ہے اس لئے آپ بدھ کہلاتے ہیں۔ یا آنحضرت ﷺ کی روح مبارکہ نے آپ کے جسم کو اپنا مسکن بنایا ہے اس لئے آپ محمدؐ کہلاتے ہیں۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ایک شخص کئی آدمیوں کے اخلاق اور کمالات حاصل کر کے ان کے نام پا گیا ہے۔ اسلام اس عقیدہ کو جائز نہیں رکھتا کہ کوئی روح تناسخ کے چکر میں واپس دنیا میں آئے لیکن بروز کو جائز کہتا ہے کیونکہ تناسخ علیحدہ بات ہے۔ تناسخ تو اس کو کہتے ہیں کہ ایک شخص جو وفات پا چکا ہو اس کی روح کو خدا تعالیٰ جنت سے نکالے اور کسی اور جسم میں ڈال دے۔ جیسا کہ ہندو کہتے ہیں کہ جو انسان مر جائے اس کی روح مختلف جانوروں کی شکل اختیار کرتی رہتی ہے کبھی مکھی بنتی ہے، کبھی کتا، کبھی بلی، کبھی سور، کبھی انسان وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ ایک لغو بات ہے۔ پس ہمارا یہ کہنا کہ حضرت کرشن، بدھ، مسیح اور آنحضرتؐ آئے۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ وہی آگئے ہیں جو پہلے وفات پا چکے ہیں بلکہ یہ کہ ایک شخص نے ان کے کمالات حاصل کرنے کے باعث ان کے نام پائے ہیں۔

پس اگر کوئی شخص ہم پر یہ اعتراض کرے کہ ایک جسم میں اتنے آدمیوں کی ارواح کیونکر آگئیں تو یہ اس کی غلطی ہے کیونکہ ہم تو تناسخ کے قائل ہی نہیں پھر ہم کیونکر یہ عقیدہ رکھ سکتے ہیں کہ ایک شخص میں متعدد آدمیوں کی ارواح حلول کر گئی ہیں۔ پس ہم پر ایسا اعتراض کرنے والا صرف ہمارے عقائد سے ناواقف ہونے کے باعث ایسا اعتراض کرتا ہے۔ پس جبکہ ہم تناسخ کی رو سے کسی کا دوبارہ آنا نہیں مانتے اور یہ بھی نہیں مانتے کہ کوئی مر کر دوبارہ اس دنیا میں آ سکتا ہے۔ کیونکہ قرآن شریف اس بات کو بڑے زور سے رد کرتا ہے تو پھر ہمارے اس عقیدہ پر کہ ایک شخص نے کئی نبیوں کے نام حاصل کر لئے ہیں کیا اعتراض پڑ سکتا ہے۔ ایک متعصب مسلمان جو یہ نہیں مانتا کہ بدھوں اور ہندوؤں کے مذہب میں بھی کوئی سچائی ہے وہ اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ کوئی کرشن اور کوئی بدھ مبعوث ہو کر نہیں آئے گا۔ لیکن اس بات کا منکر نہیں ہو سکتا کہ ایک مہدی آخری زمانہ کی اصلاح کے لئے آنے والا ہے۔ لیکن ایک صداقت پسند انسان کرشن اور بدھ کے آنے سے بھی انکار نہیں کر سکتا کیونکہ ان کے متعلق جو پیشگوئیاں تھیں اور ان کے آنے کی جو علامتیں مقرر کی گئی تھیں وہ پوری ہو رہی ہیں۔ تو پھر کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ یہ نبی نہیں آئیں گے۔ اگر ان تمام علامات کے ظاہر ہونے پر بھی کوئی شخص ان نبیوں کے دوبارہ آنے کا منکر ہی ہو تو اس کی مثال بالکل اس شخص کی ہو گی جو ایک جنگ میں شامل ہو کر زخمی ہو گیا تھا۔ چونکہ بزدل اور بیوقوف آدمی تھا اس لئے تیر لگتے ہی بھاگ گیا بھاگتے ہوئے اپنے زخم سے خون بھی پونچھتا جاتا تھا۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا جاتا تھا کہ یا اللہ مجھے تیر لگنے والی بات جھوٹ ہی ہو۔

پس جب پیشگوئیاں پوری ہو گئی ہیں تو کیسا نادان ہے وہ شخص جو یہ کہے کہ ہندوؤں میں کرشن یا بدھوں میں بدھ کے آنے والی خبر جھوٹ ہے۔ وہ شخص بعینہٖ اسی قسم کا ہے جو خون بھی پونچھتا جائے اور کہے کہ الٰہی جھوٹ ہی ہو۔ یہ پیشگوئیاں ضرور سچی ہیں اور نبیوں کا کلام ہیں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو کلام ہوتا ہے وہ سچا ہوتا ہے اور جو شیطان کی طرف سے ہوتا ہے وہ جھوٹا ہوتا ہے۔ پس جبکہ ہم ان پیشگوئیوں کو بھی جھوٹا نہیں کہہ سکتے اور تناسخ کے بھی قائل نہیں ہیں۔ تو اب ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ کہ چونکہ کہا گیا ہے کہ کرشن آئے گا۔

اور وہ تناسخ کی رو سے آ نہیں سکتا مگر اس کی علامتیں پوری ہو گئی ہیں۔ اس لئے ہم یہ مان لیں کہ کوئی شخص اس کی خو بو پر آئے گا۔ پھر کہا گیا ہے کہ بدھ دوبارہ آئے گا اور اس کے آنے کی علامتیں بھی پوری ہو گئی ہیں لیکن وہ تناسخ کی رو سے آ نہیں سکتا اس لئے ہمیں ماننا پڑے گا کہ کوئی شخص اس کے کمالات حاصل کر کے اس کا نام پا کر آئے گا۔ اسی طرح کہا گیا تھا کہ مسیح دوبارہ آئے گا۔ اور اس کے دوبارہ آنے کی جو علامتیں بتائی گئی تھیں وہ پوری بھی ہو گئی ہیں۔ لیکن چونکہ وہ فوت ہو چکا ہے۔ اس لئے ماننا پڑے گا کہ مسیح کے رنگ میں کوئی اور آئے گا نہ کہ وہی مسیح۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پیشگوئی تھی کہ آپ دوبارہ مبعوث ہوں گے لیکن چونکہ حقیقتاً آپ کا آنا تعلیم قرآن کے خلاف ہے اس لئے یہی تسلیم کرنا ہو گا کہ آپ ہی دوبارہ نہیں آئیں گے بلکہ آپ کا بروز اور مثیل آئے گا۔ پس جبکہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ کوئی شخص مر کر دوبارہ دنیا میں نہیں آ سکتا اور یہ بھی ثابت ہے کہ تناسخ ایک باطل عقیدہ ہے اور یہ بھی پایۂ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ حضرت کرشن، بدھ، مسیح اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دوبارہ آنے کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں وہ سچی ہیں تو اب سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ ان سب کے رنگ اور صفات میں کوئی اور آئے گا۔ اور جب کہ ان کے مثیلوں کا آنا ثابت ہوا۔ تو پھر ایک ہی شخص کا ان سب کا مثیل ہو جانا بالکل ممکن ہے اور الگ الگ آدمیوں کے آنے کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ صفات ایک آدمی میں بہت سی اکٹھی ہو سکتی ہیں۔ کیا یہ نہیں ہوتا کہ ایک شخص بہادر بھی ہو اور شریف بھی۔ سخی بھی ہو اور رحم دل بھی۔ حاتم ایک بڑا سخی انسان ہوا ہے۔ جب کوئی بہت سخی ہو تو اسے حاتم کہتے ہیں۔ رستم ایک بڑا بہادر ہوا ہے اور جس میں بہت بہادری پائی جائے اسے رستم کہتے ہیں۔ افلاطون ایک بڑا فلسفی ہوا ہے اور جو کوئی بڑا فلسفی ہو تو اسے افلاطون کہتے ہیں۔ جالینوس ایک بڑا طبیب ہوا ہے اور جو کوئی بڑا طبیب ہو تو اسے جالینوس کہتے ہیں۔ لیکن کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک ہی شخص بڑا سخی بھی ہو بڑا بہادر بھی ہو بڑا فلسفی بھی ہو اور بڑا طبیب بھی ہو۔ اور جب ایسا ہو سکتا ہے تو ہم ایسے شخص کو اس کی چاروں صفات کی وجہ سے حاتم، رستم، افلاطون اور جالینوس کہہ سکتے ہیں۔ حالانکہ جب کسی کو یہ نام دیئے جائیں گے تو ان ناموں کے اصلی مصداق دنیا میں نہیں آ جائیں گے۔ بلکہ یہی کہا جائے گا کہ ایک شخص میں ان چار آدمیوں کی صفات اکٹھی ہو گئی ہیں۔ پھر ذرا شاعروں کے قصیدوں کو پڑھو تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ تو بہت سے انسانوں کے نام اپنے ممدوحوں کی

طرف منسوب کرتے ہیں۔ سکندر بھی بناتے ہیں، رستم بھی بناتے ہیں، افلاطون بھی بناتے ہیں، حاتم بھی بناتے ہیں پس اس میں کون سی مشکل ہے کہ ایک ہی انسان کو پہلے نبیوں کے نام دیئے جائیں۔ اگر ہم کسی کو حاتم کہتے ہیں تو اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہی حاتم جو مر چکا ہے دوبارہ آگیا ہے اس کی روح تناسخ کے طور پر اس میں آگئی ہے بلکہ یہ مراد ہوتی ہے کہ وہ بھی ایک بڑا سخی تھا اور یہ بھی ایک بڑا سخی ہے۔ تو ایک آدمی میں بہت سی صفات اکٹھی ہو سکتی ہیں اور اس میں کوئی عجیب اور انوکھی بات نہیں ہے۔ دیکھو آنحضرت ﷺ کو خدا تعالیٰ نے ان تمام صفات حسنہ سے جو انسانوں میں پائی جاتی ہیں متصف فرمایا ہے۔ اس لئے آپ ابراہیمؑ بھی ہیں نوحؑ بھی ہیں موسیٰؑ بھی ہیں عیسیٰؑ بھی ہیں اسماعیلؑ بھی ہیں اسحاقؑ بھی ہیں۔ اور تمام انبیاءؑ کے جامع ہیں۔ اب بتاؤ۔ آنحضرت ﷺ جب ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے جامع تھے جیسا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے تو آپؐ میں سب کے نام اکٹھے تھے یا نہیں۔ اگر نہیں تو یہ کہنا جھوٹ ہے کہ آپؐ سب نبیوں کے جامع تھے لیکن اگر جامع تھے۔ یعنی آدمؑ کے کمالات آپؐ میں پائے جاتے تھے تو آپ آدمؑ تھے۔ اگر نوحؑ کے کمالات آپ میں پائے جاتے تھے تو آپ نوحؑ تھے۔ اگر ابراہیمؑ کے کمالات آپ میں پائے جاتے تھے تو آپ ابراہیمؑ تھے۔ پس اگر کوئی یہ تسلیم کرتا ہے کہ آپؐ سب انبیاءؑ کے جامع تھے۔ اور سب انبیاءؑ کی خوبیاں آپؐ میں تھیں تو اسے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاءؑ کے نام بھی آپؐ کے نام تھے۔ جو اس بات سے انکار کرتا ہے گویا وہ آپؐ کے جامع کمالات انبیاء ہونے سے بھی انکار کرتا ہے۔ پس جبکہ آنحضرتؐ کے اتنے ہی نام ہیں جتنے تمام انبیاء تھے۔ تو یہ کون سے تعجب کی بات ہے۔ اگر حضرت مسیح موعودؑ نے کہا ہے کہ میں محمدؐ ہوں میں کرشن ہوں میں بدھ ہوں۔ یہ ایسا کھلا کھلا مسئلہ ہے کہ انسان تھوڑا سا غور کرے تو اس پر روز روشن کی طرح ثابت ہو جاتا ہے اور اسے کچھ شک و شبہ نہیں رہ جاتا۔

غرض میں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کچھ لوگوں نے آنا ہے اور ان کے آنے کے متعلق کچھ علامتیں مقرر ہیں جو اس وقت پوری ہو گئی ہیں اور جب علامتیں پوری ہو گئی ہیں تو کوئی ان کے آنے سے انکار نہیں کر سکتا۔ حضرت کرشنؑ کے متعلق جو پیشگوئیاں تھیں وہ پوری ہو گئی ہیں اور واقعات نے شہادت دے دی ہے اس لئے ان کے آنے کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ حضرت بدھؑ کی آمد کی نسبت جو خبریں اور علامتیں تھیں وہ پوری ہو گئی ہیں اس لئے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ نہیں آئیں گے۔ اسی طرح حضرت مسیح کی آمد کے متعلق انجیل میں جو بشارتیں تھیں وہ پوری ہو گئی ہیں۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کے دوبارہ آنے کے متعلق جو بشارتیں تھیں ان کی آسمان اور زمین گواہی دے رہے ہیں۔ پس ان انبیاء کا آنا ضروری ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اصل تو واپس نہیں آسکتے اور نہ ہی ان کی روحیں کسی بدن میں داخل ہو کر آسکتی ہیں اس لئے یہی ماننا پڑتا ہے کہ ان کی صفات اور خصوصیات کا حامل کوئی اور آئے گا اور وہ ایک ہی شخص میں ہوں گی جو ان کی صفات رکھنے کی وجہ سے انہی کے نام بھی پائے گا۔

ایک ضمنی اعتراض اور اس کا جواب

اب میں نے یہ تو بتا دیا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے کرشن، بُدھ، مسیح اور محمدؐ نام ہونے سے یہ مراد ہے کہ آپ میں ان کی خوبیاں اور صفات پائی جاتی ہیں۔ لیکن اس پر ایک ضمنی اعتراض پڑتا ہے اور وہ یہ کہ اگر یہ درست ہے تو اس طرح آنحضرت ﷺ کی ہتک ہوتی ہے کیونکہ آپ تمام انبیاءؑ کے جامع ہیں اور تمام کی صفات اپنے اندر رکھتے ہیں۔ مگر مرزا صاحب دعویٰ کرتے ہیں کہ میں محمدؐ بھی ہوں جس سے ماننا پڑتا ہے کہ آپ میں دوہرے کمالات ہیں۔ اس لئے آنحضرت ﷺ سے بڑے ہیں کیونکہ رسول اللہ تمام پچھلے انبیاء کے قائم مقام تھے مگر مرزا صاحب آپ کے بھی قائم مقام بننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن یہ ایک دھوکا لگا ہے جو کم سمجھی کا نتیجہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ تمام انبیاء کی تفصیل ہیں اور حضرت مرزا صاحب آپ کے بروز اور مثیل۔ لوگ تو کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے صرف چار نبیوں کے نام اپنے نام قرار دیے ہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ آپ تمام انبیاءؑ کے نام رکھتے تھے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ میں عیسیٰؑ ہوں۔ ہارونؑ ہوں۔ موسیٰؑ ہوں۔ ابراہیمؑ ہوں۔ داؤدؑ ہوں۔ یہ تو اپنے نام لے دیے ہیں لیکن آپ کے نام ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاءؑ کے نام تھے۔ اور پھر آپ آنحضرت ﷺ کے غلام ہی تھے۔ کیونکہ آپ نے سب کچھ آنحضرت ﷺ کے ذریعہ ہی حاصل کیا تھا۔ آپ کا نام ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ، ہارونؑ وغیرہ اس لئے تھا کہ آپ ان کی تفصیل تھے۔ اور محمدؐ اس لئے تھا کہ آپ ان تمام انبیاء کے جامع تھے۔ پس بلحاظ الگ الگ صفات کے آپ ہر ایک نبی کا نام پانے والے تھے مگر مجموعی لحاظ سے آپ محمدؐ تھے۔ اور چونکہ آپ نے یہ تمام کمالات محمدؐ کی اطاعت میں پائے تھے اس لئے آپ ان کے غلام بھی تھے۔

حضرت مسیح موعودؑ کے اتنے نام کیوں رکھے گئے

اب ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بجائے اس کے کہ یہ کہا جاتا کہ کرشن، بدھ، مسیحؑ اور محمدؐ دوبارہ آئیں گے۔ کیوں یہ نہ کیا گیا کہ سب کی طرف سے ایک ہی نبی کے آنے کی خبر دے دی جاتی۔ اس طرح تمام لوگ ایک نقطہ پر بھی جمع ہو جاتے۔ اور جب ان انبیاء کی پیشگوئی پوری ہوتی تو کسی کو دھوکا بھی نہ لگتا۔ یہ کیوں کہا گیا کہ کرشن ہی آئے گا؟ یہ کیوں نہ کہہ دیا گیا کہ حضرت کرشنؓ یہ پیشگوئی کرتے کہ ایک انسان آئے گا جس کی یہ یہ علامتیں ہوں گی۔ اسی طرح حضرت مسیحؑ، حضرت بدھ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کیوں کہلایا گیا کہ مسیحؑ اور بدھ اور محمدؐ ہی آئیں گے۔ یہ کیوں نہ کہلا دیا کہ ایک شخص آئے گا جس کی فلاں فلاں علامتیں ہوں گی۔ اور اگر ایسا نہ کیا گیا تھا تو یہ تو کیا جاتا کہ ان سے یہ کہلا دیا ہوتا کہ ایک مثیل بدھ آئے گا۔ مثیل کرشن آئے گا۔ مثیل مسیحؑ آئے گا۔ اور مثیل محمدؐ آئے گا۔ اس کی کیا وجہ ہے کہ ان انبیاء کے اصل نام لے کر کہا گیا کہ یہی دوبارہ آئیں گے۔ ان کے اصل نام رکھ کر دھوکے میں ڈالنے کی کیا وجہ ہے؟

پہلی حکمت

اس کی ایک بڑی حکمت تو اب کھلی ہے جبکہ ہماری جماعت میں اختلاف پیدا ہوا ہے۔ اگر مثیل کہا جاتا تو آج اس طرح یہ حقیقت نہ کھلتی۔ کیونکہ مثیل کہنے سے یہ بات نہیں کھلتی کہ وہ جس کا مثیل ہے اس کے برابر ہے یا کم۔ کیونکہ صرف ایک صفت کے اشتراک سے مثیل بن سکتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ ایک شخص دوسرے کا مثیل ہو لیکن اس کے تمام کمالات کا جامع نہ ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے بھی بڑھ کر کمالات رکھنے والا ہو۔ پس خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کے نام بدھ، کرشن، مسیحؑ اور محمدؐ اور سب نبیوں کے جو نام رکھے۔ یعنی فرمایا جِرْيُّ اللّٰهِ فِيْ حُلَلِ الْاَنْبِيَاءِ (تذکرہ صفحہ ۷۹)۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ان انبیاء کا مسیح موعودؑ کو مثیل کہا جاتا۔ تو کہنے والے کہہ دیتے کہ آپ نبی نہیں ہیں کیونکہ مثیل کے لئے ضروری نہیں کہ ہر ایک بات میں مماثلت رکھے۔ پس ان ناموں کے رکھنے سے بھی حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کا ثبوت ملتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے آپ کو کرشن کہا ہے اور کرشن ایک نبی کا نام ہے۔ اس لئے آپ بھی نبی ہیں۔ خدا تعالیٰ نے آپ کو مسیح کہا ہے اور مسیحؑ ایک نبی کا نام ہے اس لئے آپ بھی نبی ہیں۔ خدا تعالیٰ نے آپ کو محمدؐ کہا ہے اور محمدؐ ایک نبی کا نام ہے اس لئے آپ بھی نبی ہیں۔ تو گویا پہلے انبیاء کے نام لے کر بتانے اور مثیل نہ کہنے کی یہی وجہ

ہے کہ کیونکہ مثیل کہنے میں یہ نقص ہے کہ یہ کبھی بڑا ہوتا ہے اور کبھی چھوٹا اور کبھی برابر کا۔ اگر مثیل کہا جاتا تو ہمارے مخالف تیسری شق کو لے لیتے۔ لیکن خدا تعالیٰ نے اس بات کو پہلے ہی دور کر دیا تاکہ ایسا کرنے کا کسی کے لئے موقعہ ہی نہ رہے۔ دیکھو آنحضرت ﷺ کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا(المزمل: ۱۶) حالانکہ آنحضرت ﷺ حضرت موسیٰؑ نے بہت بڑا درجہ رکھتے تھے تو مثیل کبھی عین ہوتا ہے کبھی اعلیٰ اور کبھی ادنیٰ۔ تو خدا تعالیٰ نے بجائے اس کے کہ ایک ایسا لفظ رکھتا جو تین پہلو رکھتا تھا جس کا ادنیٰ درجہ لے کر حضرت مسیح موعودؑ کی ہتک کی جاتی ایسا لفظ رکھ دیا کہ جس سے کوئی اور پہلو نکل ہی نہیں سکتا۔ یعنی خدا تعالیٰ نے اس آنے والے نبی کو مثیل بدھ نہیں کہا بلکہ بدھ ہی کہا ہے۔ مثیل کرشن نہیں کہا بلکہ کرشن ہی کہا ہے۔ مثیل مسیحؑ نہیں کہا بلکہ مسیح ہی کہا ہے۔ اور اسی طرح وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ(الجمعۃ: ۴) میں مثیل محمد قرار نہیں دیا۔ بلکہ محمدؐ ہی قرار دیا ہے تاکہ آپ کے درجہ کے کم کرنے والے آپ کے کمالات کا انکار نہ کر بیٹھیں۔ غرض یہ ایک بڑی حکمت تھی جس کے لئے مثیل نہیں کہا گیا بلکہ اصل نبی کا نام دیا گیا۔

دوسری عظیم الشان حکمت

یہ ہے کہ کوئی لفظ جو کسی کے متعلق بولا جاتا ہے وہ مثال دینے کے لئے ہوتا ہے۔ مثلاً یہ کہیں کہ فلاں شیر ہے یا یہ کہیں کہ فلاں شیر کی طرح ہے تو ان دونوں فقروں میں بڑا فرق ہے۔ کیونکہ مثال کے طور پر لفظ بولنے سے اس طرح مطلب واضح نہیں ہوتا۔ جس طرح مجازاً وہی لفظ بول دینے سے ہوتا ہے۔ چنانچہ کسی کو مثیل شیر کہنے سے جو اس کی حیثیت پیدا ہوتی ہے شیر کہنے سے اس سے بہت بڑھ کر ظاہر ہوتی ہے۔ تو مسیح موعودؑ کو جو اصل نام دیئے گئے ہیں۔ اور کرشن، بدھ، مسیح، محمدؐ کہا گیا ہے اور ان کا مثیل کر کے نہیں پکارا گیا تو اسی لئے کہ تا اس سے آپ کے درجہ کی عظمت ظاہر ہو۔

تیسری حکمت

یہ ہے کہ اگر حضرت کرشنؑ کے منہ سے یہ نہ کہلوایا جاتا کہ کرشن آئے گا بلکہ مثیل کرشن آئے گا۔ اور حضرت بدھ کے منہ سے یہ نہ کہلوایا جاتا کہ بدھؑ آئے گا بلکہ مثیل بدھ آئے گا۔ اور حضرت مسیحؑ کے منہ سے یہ نہ کہلوایا جاتا کہ مسیحؑ آئے گا بلکہ مثیل مسیحؑ آئے گا۔ اور آنحضرت ﷺ سے یہ نہ کہلوایا جاتا کہ محمدؐ آئے گا بلکہ مثیل محمدؐ آئے گا۔ تو ان انبیاء کی تمام صفات کو تفصیل وار لکھنے کے لئے دفتر کے دفتر چاہئیں تھے۔ مثلاً خدا تعالیٰ نے انجیل میں فرمایا ہے کہ مسیحؑ حلیم تھا اور مثالوں میں باتیں کیا کرتا تھا۔ تو بتایا جاتا کہ وہ جو مثیل مسیح ہو گا وہ بھی حلیم ہو گا اور مثالوں میں باتیں کرے گا۔ اسی طرح ہر ایک نبی کی ہر ایک صفت کو بیان کر کے بتایا جاتا کہ یہ یہ اوصاف اس میں بھی ہوں گے اور اگر ہر ایک صفت کو بیان کر کے اس کو حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق بھی قرار نہ دے دیا جاتا تو یہ سمجھ لیا جاتا کہ باقی صفتیں ان میں نہیں ہیں کیونکہ ان کے متعلق مذکور نہیں ہوئیں۔ لیکن یہ ایک بہت طول طویل کام تھا مگر جب خدا تعالیٰ نے ہر ایک نبی کا نام لے دیا اور بتا دیا کہ یہی دوبارہ آئے گا تو اس سے پتہ لگ گیا کہ اس میں جس قدر بھی صفات ہیں وہ سب کی سب بغیر کسی استثناء کے آنے والے میں ہوں گی۔ اسی طرح اگر قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کی تمام صفات کو بالتفصیل بیان فرما کر ان کو مسیح موعودؑ کے لئے بھی بیان کیا جاتا تب یہ بات حاصل ہو سکتی تھی۔ لیکن نام لے دینے سے نہایت وضاحت سے یہ بات پوری ہو گئی۔ اور اگر حضرت کرشنؔ یا حضرت بدھؔ یا حضرت مسیحؑ یا آنحضرت ﷺ کی کوئی ایک صفت بیان کر دی جاتی اور اس کا حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق ذکر ہوتا لیکن ان کی اور صفات کا ذکر حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق نہ ہوتا۔ تو لوگ کہتے کہ صرف یہی صفت مسیح موعودؑ میں پائی جاتی ہے اور کوئی صفت نہیں پائی جاتی۔ لیکن خدا تعالیٰ نے پہلے انبیاء کے نام رکھ دیئے تاکہ ان کی الگ الگ صفتیں نہ گنانی پڑیں۔ اور انجیل کا مطالعہ کرنے والے جو جو خوبیاں حضرت مسیحؑ میں پائیں وہی مسیح موعودؑ کی تسلیم کریں۔ اور قرآن شریف کے پڑھنے والے جو جو صفات آنحضرت ﷺ کی دیکھیں وہی مسیح موعودؑ کی قرار دیں۔ اسی طرح دوسرے انبیاء کی کتابیں پڑھنے والے جو کوئی خوبی بھی ان میں پائیں وہی مسیح موعودؑ میں سمجھ لیں۔ تو خدا تعالیٰ نے ان انبیاء کے نام ہی حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق بول دیئے۔ تاکہ ان کی تمام کی تمام صفتیں آپ میں سمجھی جائیں۔

چوتھی حکمت

یہ ہے کہ اگر یوں کہہ دیا جاتا کہ ایک نبی آئے گا تو خواہ اس کی کتنی ہی تعریف کر دی جاتی پھر بھی اس کی اصل حقیقت نہ کھل سکتی۔ کیونکہ جب تک کسی چیز کا نمونہ موجود نہ ہو اس وقت تک اس کی اصلیت معلوم نہیں ہو سکتی۔ مثلاً ایسے لوگوں کو جنہوں نے قادیان کو نہیں دیکھا اس کا نام بتایا جائے تو کوئی یہ خیال کر لے گا کہ قادیان ایک بڑا شہر ہو گا ٹنمیں اور موٹر کاریں چلتی ہوں گی سجے سجائے بازار ہوں گے سیر و تفریح کے بڑے سامان موجود ہوں گے۔ اور کوئی یہ سمجھ لے گا کہ قادیان ایک چھوٹا سا گاؤں ہو گا پانچ دس شخص ہوں گے ایک پیر بیٹھا ہو گا رطب و یابس ہانک رہا ہو گا۔ اور جس طرح اور سینکڑوں ہزاروں گدیاں ہیں اسی طرح وہ بھی ایک گدی ہوگی اس کے سوا اور وہاں رکھا ہی کیا ہو گا۔ غرض جو انسان حضرت مسیح موعود کو مانتا ہو گا وہ اپنے دل میں اور ہی نظارہ کھینچے گا۔ اور جو نہیں مانتا ہو گا وہ کچھ اور ہی۔ لیکن اس قسم کے خیالی نظارے اکثر غلط ہوا کرتے ہیں۔ اور لاکھ میں سے ننانوے ہزار نو سو ننانوے غلط ہوتے ہیں۔ تو اگر حضرت مسیح موعود کی نسبت یہ کہا جاتا کہ فلاں زمانہ میں ایک نبی آئے گا جو سب لوگوں کو ایک نقطہ پر بلائے گا۔ تو بعض ختم نبوت کے خیال سے اس کا ایسا بھونڈا نقشہ بناتے جو دیکھنے کے قابل ہی نہ ہوتا۔ اور بعض غلو کی راہ سے اسے کچھ اور کا اور ہی قرار دے لیتے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کا نمونہ بتا دیا اور کہہ دیا کہ کرشن ہی آئے گا تاکہ کرشن کے ماننے والے سمجھ لیں کہ وہ اس طرح کا ہو گا۔ یہ اسی طرح کیا گیا ہے جس طرح جب کسی کو قادیان کا نام بتایا جائے تو ساتھ ہی یہاں کا نقشہ اور صحیح حالات بھی اس کے سامنے رکھ دیئے جائیں۔ اس سے اس کو دھوکا نہیں لگے گا۔ خدا تعالیٰ نے اسی بات کو مد نظر رکھ کر کہ لوگ جھوٹا نقشہ نہ بنا لیں جس سے دھوکا کھا جائیں کچھ نبیوں کے نام ہی دوبارہ آنے کے لئے رکھ دیئے۔ تاکہ اس طرح لوگ آسانی سے سمجھ لیں۔ پس اب کوئی حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق جھوٹا نقشہ نہیں کھینچ سکتا کیونکہ اس کے سامنے پہلے نبیوں کے نقشے موجود ہیں۔

پانچویں حکمت

یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی منشاء تھی کہ تمام لوگوں کو اکٹھا کر کے ایک ہاتھ پر اور ایک جگہ جمع کر دے۔ اور ایسا اس وقت تک ہو نہیں سکتا تھا جب تک کہ جس کے ذریعہ اکٹھا کیا جاتا اس سے لوگوں کو محبت اور انس نہ ہوتا۔ دیکھو ایک راعی جب بکریوں کو بلاتا ہے تو سب دوڑی آتی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ یہ ہمیں کوئی کھانے کی چیز دے گا یا آرام کی جگہ لے جائے گا۔ اسی طرح مرغے اپنے پالنے والے کی آواز پر اکٹھے ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ہمیں دانہ ڈالے گا۔ اسی طرح کبوتر پالنے والا جب انہیں بلاتا ہے تو وہ بھاگے آتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ہمیں کھانے کو دے گا۔ تو چونکہ خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ تمام لوگوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرے اور یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا تھا جب تک کہ اس ہاتھ والے سے سب کو محبت نہ ہو۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے ان نبیوں کے نام جن سے انہیں پہلے ہی محبت اور الفت تھی ایک شخص کو دے دیئے۔ ہندوؤں کو حضرت کرشنؑ سے محبت تھی اس لئے انہیں کہا گیا کہ آؤ یہ کرشن آگیا ہے اس کے ہاتھ پر جمع ہو جاؤ۔ مسیحوں کو حضرت مسیحؑ کے ساتھ محبت تھی اس لئے انہیں کہا گیا کہ آؤ مسیح آگیا ہے اس کا ہاتھ پکڑلو۔ مسلمانوں کو آنحضرت ﷺ سے محبت تھی اس لئے انہیں کہا گیا کہ آؤ محمدؐ آگیا ہے اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دو۔ مسلمان لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ(9:33) کا نظارہ دیکھنے کے لئے منتظر تھے کہ محمد ﷺ کب مبعوث ہوں گے۔ لیکن جب انہیں کہا جائے گا کہ لو تمہارے زمانہ میں محمدؐ نازل ہو گیا ہے تو بہت خوش ہوں گے اور اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھیں گے کیونکہ جس بات کا شوق سے انتظار ہو اس کے پورا ہو جانے پر اسے شوق سے قبول بھی کیا جاتا ہے۔ دیکھو حضرت مسیحؑ نے اپنے بعد دو نبیوں کے آنے کی پیشگوئی کی تھی۔ ایک اپنے سے بڑے کی اور ایک اپنی ہی آمدِ ثانی کی لیکن مسیحی لوگ یہی کہتے ہیں کہ مسیح کب آئے گا۔ اور ”وہ نبی“ جو تمام انبیاء کا موعود اور سب نبیوں کا سردار تھا باوجود اس کی پیشگوئی انجیل میں موجود ہونے کے مسیحی لوگ اس کی آمد کے خواہشمند نہیں۔ مسیح کو خواہ کتنا ہی بڑا کہا جائے پھر بھی وہ آنحضرت ﷺ کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ لیکن مسیحیوں نے اس خوشی اور شوق سے آپؐ کا انتظار نہ کیا جس سے وہ مسیحؑ کا انتظار کر رہے ہیں۔ کیونکہ مسیحؑ کو وہ اپنا نبی سمجھتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو بیگانہ۔ ان کی حالت اسی طرح کی ہے کہ ایک شخص کو کہا جائے کہ تمہیں بیٹا ملے گا پھر یہ کہا جائے تمہارا وہ بیٹا مر گیا ہے وہ دوبارہ زندہ ہو کر ملے گا۔ تو اس شخص کو مردہ بیٹے کے زندہ ہو کر ملنے سے جو خوشی ہوگی وہ دوسرے کے ملنے سے نہ ہوگی۔ چونکہ خدا تعالیٰ کا منشاء تھا کہ تمام لوگوں کو ایک جگہ جمع کر دے اس لئے ان کی محبت اور شوق کو جوش دلانے کے لئے ان کے نبیوں کے نام بتا دیئے کہ یہی دوبارہ آئیں گے۔ لیکن اگر انہیں یہ کہا جاتا کہ ان کے مثیل آئیں گے تو انہیں ایسا شوق اور محبت ان سے ملنے کے لئے نہ ہوتی۔ اب مسیحیوں نے بڑے شوق سے انتظار کیا کیونکہ انہیں حضرت مسیحؑ سے محبت تھی۔ ہندوؤں نے بڑی بے تابی سے انتظار کیا کیونکہ انہیں حضرت کرشنؑ سے محبت تھی۔ بدھوں نے بڑے جوش سے انتظار کیا کیونکہ انہیں بدھؑ سے محبت تھی۔ مسلمانوں نے بڑی خوشی سے انتظار کیا کیونکہ انہیں آنحضرت ﷺ سے محبت تھی۔ یہ خدا تعالیٰ نے ایک تدبیر فرمائی تھی کہ تمام لوگ آنے والے کی انتظار میں محبت

اور شوق رکھیں۔ لیکن جب وہ آگیا تو پتہ لگا کہ وہ مثیل تھا۔

چھٹی حکمت

یہ ہے کہ اگر ہر ایک مذہب کی کتابوں میں حضرت مسیح موعودؑ کا نام لکھ دیا جاتا کہ یہ نبی آئے گا اس کو قبول کرلینا تو ہر ایک مذہب والے کسی دوسرے نبی کی پیشگوئی دیکھ کر اس میں تحریف کر دیتے۔ یا اس کا نام ہی کاٹ دیتے جیسا کہ ایسا ایک واقعہ موجود ہے کہ استثناء باب ۱۸ میں آنحضرت صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم کے متعلق پیشگوئی تھی لیکن یہود نے اس میں تحریف کر دی۔ بات یہ تھی کہ خدا تعالیٰ کے سچے الہاموں کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ بڑی شان کے ساتھ نازل ہوتے ہیں۔ ورنہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہر ایک شخص یہ کہہ دیتا کہ میں خدا سے بات پوچھ لوں۔ وہ اپنے اوپر چادر ڈال لیتا اور تھوڑی دیر کے بعد کہہ دیتا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے بتا دیا ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہم نے مسیح موعودؑ کو دیکھا ہے کہ آپ کو جب الہام ہوتا تو آپ پر مردنی کی سی حالت ہو جاتی اور اس طرح آپ کے حلق سے آواز آتی کہ گویا کوئی سخت تکلیف میں ہے۔ تو خدا تعالیٰ کا کلام خاص شان کے ساتھ نازل ہوتا ہے۔ یہود جو ابھی پختہ ایمان والے نہ تھے انہوں نے جب الہام کا نازل ہونا دیکھا جس کو خروج باب ۲۰ آیت ۱۸ و ۱۹؎ میں اس طرح لکھا ہے کہ ”اور سب لوگوں نے دیکھا کہ بادل گرجے۔ بجلیاں چمکیں ۔ قرنائی کی آواز ہوئی۔ پہاڑ سے دھواں اٹھا۔ اور سب لوگوں نے جب یہ دیکھا تو وہ ہٹے اور دور جا کھڑے رہے۔ تب انہوں نے موسیٰ سے کہا کہ تو ہی ہم سے بول اور ہم سنیں۔ لیکن خدا ہم سے نہ بولے۔ کہیں ہم مر نہ جائیں“۔ تو خدا تعالیٰ نے اس کی سزا ان کو یہ دی کہ ”میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا۔ اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔ اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا۔ وہ سب ان سے کہے گا (استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸) یعنی اب ان میں سے کسی کو نبی نہ بناؤں گا اور ان کے ساتھ ہم کلام نہ ہوں گا۔ کیونکہ انہوں نے کہا ہے کہ ”خدا ہم سے نہ بولے“ بلکہ اسطرح کروں گا کہ بنی اسماعیل جو ان کے بھائی ہیں۔ ان میں نبی بھیجوں گا۔ جو تجھ (موسیٰ) جیسا ہو گا۔

یہود پہلے تو ڈر گئے تھے اور کہہ دیا تھا کہ ہم سے خدا نہ بولے۔ لیکن جب ان کو یہ سزا ملی کہ ان میں سے صاحبِ شریعت نبی ہونے بند کئے گئے اور نبوت کا فیض بنی اسماعیل کی طرف چلا گیا۔ تو انہیں لالچ پیدا ہوئی کہ اب اگر غیر سے نبی پیدا ہوئے تو ہماری ذلت ہو گی اس لئے انہوں نے تحریف کر دی۔ اور اس طرح بنا دیا کہ ”خداوند تیرا خدا تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کرے گا“۔ استثناء آیت ۱۵۔ یعنی ”ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے“ کی بجائے ”تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے“ کر دیا گیا۔ لیکن جس نے یہ تحریف کی اسے یہ یاد نہ رہا کہ ۱۵ آیت میں تو میں نے تحریف کر دی ہے لیکن ۱۸ آیت اسی طرح کی ہے۔ پس اگر تمام مذاہب کی کتابوں میں لکھا ہوتا کہ ایک نبی اسلام میں آئے گا اس کو مان لینا تو ضرور ہر ایک مذہب والے حسد اور دشمنی کی وجہ سے اس میں ایسی تحریف کر دیتے کہ جس سے کچھ بھی پتہ نہ لگتا۔ خدا تعالیٰ نے اس دھوکا سے لوگوں کو بچانے کے لئے یہ تدبیر کی کہ انہی کے نبیوں کے نام رکھ دیئے تاکہ وہ بجائے ان کے کاٹنے کے سب لوگوں کو سناتے پھریں۔ اور اس طرح اس کی آمد سے پہلے خود تمام مذاہب کے پیروؤں کے ذریعہ اس کی شہرت ہو جائے۔ اور جب آنے والا آئے گا تو لوگ خود سمجھ لیں گے کہ یہی ہے۔ غرض خدا تعالیٰ نے اسلام کے غلبہ کے لئے یہ تدبیر فرمائی کہ ہر ایک مذہب والوں کے منہ سے اقرار کرایا کہ فلاں نبی آئے گا۔

ساتویں حکمت

یہ ہے کہ تناسخ کا مسئلہ جو ایک بہت پرانا مسئلہ ہے۔ لوگ اس کے دھوکا میں نہ پڑیں۔ اور وہ اس طرح کہ تناسخ کے قائل کہتے ہیں کہ جب کوئی انسان مر جاتا ہے تو اسکی روح کسی اور جسم میں داخل ہو کر دنیا میں آجاتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو تمام آنے والے انبیاء کی جگہ بھیج کر بتا دیا کہ روحیں کبھی واپس نہیں آیا کرتیں اور نہ کوئی اور جسم اختیار کرتی ہیں۔ بلکہ کوئی شخص اس رنگ میں دوبارہ دنیا میں واپس آسکتا ہے کہ اسکی خو بو کسی اور میں آجائے۔ دیکھو تم اپنے اپنے نبیوں کی آمد کے منتظر تھے وہ اسی طرح آئے ہیں۔ تو اس طرح خدا تعالیٰ نے عملی رنگ میں تناسخ کا رد کر دیا۔ بیشک لوگ کسی بات کو دلائل اور براہین سے بھی سمجھ جاتے ہیں لیکن دلائل سے ایسی توضیح نہیں ہو سکتی جیسی کہ نمونہ سے ہوتی ہے۔ ہندوؤں نے کہا کہ کرشنؑ آئے گا اور یہی تناسخ کے بڑے زور سے قائل تھے۔ لیکن ایک شخص آیا جو نہ پہلا کرشن تھا اور نہ کرشن کی روح اس میں تھی۔ ہاں اسکی صفات رکھتا تھا۔ اس لئے وہ کرشنؑ کہلایا۔ اسی طرح مسیحیوں کے کچھ فرقے ہیں جو تناسخ کے قائل ہیں۔ اب معلوم نہیں ہیں یا نہیں لیکن پہلے تھے۔ ان کو اس غلط عقیدہ سے بچانے کے لئے مسیحؑ آئے۔ پھر مسلمانوں میں بھی ایسی جماعت ہے جو تناسخ کو مانتی ہے ان کے اس وہم کو دور کرنے کے لئے محمدؐ آئے اور اس طرح ہر ایک مذہب والوں پر حجت ہو گئی کہ تناسخ بالکل

غلط ہے۔ لیکن اگر آنے والے نبی کو مثیل کہا جاتا تو اس سے تناسخ کا رد نہ ہو سکتا تھا۔ لیکن جب انہی کا نام رکھا گیا اور وہ نہ آئے بلکہ ان کے رنگ میں ایک شخص آیا تو یہ بات ثابت ہو گئی کہ جب خدا تعالیٰ نے ایک شخص کا نام لیا تھا کہ وہ دوبارہ آئے گا اور پھر بھی وہ دوبارہ دنیا میں نہ آیا بلکہ اس کا مثیل آیا۔ تو بلا وعدہ کے پہلی ارواح کس طرح واپس آسکتی ہیں۔

آٹھویں حکمت

یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے نبیوں اور پیاروں کی عزت کو بڑھاتا ہے۔ جب تمام دنیا میں اندھیر ہو گیا لوگ خدا کو چھوڑ کر فسق و فجور میں پڑ گئے اور اس بات کی ضرورت ہوئی کہ ایک مصلح بھیجا جائے اور ادھر اللہ تعالیٰ نے پسند نہ فرمایا کہ رسول کریم ﷺ کی نسبت یہ کہا جائے کہ آپ کی امت کے بگڑنے پر فلاں شخص نے آکر اس کی اصلاح کی پس اس آنے والے کو آپ کا بروز اور مثیل بنایا اور غیریت کو بالکل مٹانے کے لئے آپ کا نام اسے دیا تا یہ نہ کہا جائے کہ محمد ﷺ کی امت کے بگڑنے پر کسی اور نے اس کی اصلاح کی بلکہ یہی کہا جائے کہ امتِ محمدیہ کی اصلاح محمدؐ نے ہی کی۔ لیکن گو آپؐ کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ ایک نیا طریق اختیار کیا تھا مگر چونکہ دوسرے انبیاء کی امتوں کی اصلاح بھی اسی شخص کے سپرد تھی اس لئے ان کے نام بھی اس آنے والے کو دیئے گئے کیونکہ جب خدا تعالیٰ فضل کرتا ہے تو اس کا فضل وسیع ہو جاتا ہے۔ غرض اس طرح کی عجیب عجیب حکمتیں تھیں جن کے لئے ایک ہی انسان کو بھیجا گیا۔ اور آنحضرت ﷺ کی امت سے بھیجا گیا۔

نویں حکمت

یہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے لکھا ہے۔ اور حدیث و قرآن کے مطابق لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کے پیاروں کو جبکہ وہ فوت ہو جاتے ہیں دنیا کے حالات بتائے جاتے ہیں۔ پس جب دنیا میں ظلمت اور تاریکی پھیل گئی فسق و فجور بڑھ گیا اور ایسی گمراہی پھیل گئی کہ اس کی نظیر اس سے پہلے کے کسی زمانہ میں نہیں ملتی تو تمام نبیوں کی روحوں کو کرب اور اضطراب ہوا کہ ہماری امتیں گمراہ ہو رہی ہیں۔ پس خدا تعالیٰ نے ان کے اضطراب اور ان کی دعاؤں کے ماتحت ایک مصلح کو دنیا میں مبعوث کیا۔ اور ہر ایک نبی کی توجہ اور دعا کی قبولیت کے اظہار کے لئے اس مصلح کو اسی نبی کا نام دیا۔

دسویں حکمت

یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح موعودؑ کا نام بدھ، کرشن، مسیحؑ اور محمدؐ نہ رکھا جاتا تو رسول اللہ ﷺ کی اس میں سخت ہتک ہوتی۔ اور اگر ان کا مثیل کہا جاتا تو بھی بڑی ہتک ہوتی کیونکہ آنحضرت ﷺ نے تو فرمایا کہ لَوْ كَانَ مُوْسٰى وَ عِيْسٰى حَيَّيْنِ مَا وَسِعَهُمَا اِلَّا اتِّبَاعِیْ(اليواقيت والجواهر مرتبہ امام شعرانی جلد ۲ صفحہ ۲۲) اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں میری اطاعت کے بغیر کوئی چارہ ہی نہ ہوتا۔ اگر اس بات کا کوئی ثبوت دنیا کے سامنے پیش نہ کیا جاتا تو لوگ کہہ دیتے کہ (نعوذ باللہ) یہ بڑ ماری ہے اس کا کیا ثبوت ہے کہ وہ آپ کی اتباع کرتے۔ خدا تعالیٰ نے اس بات کو دور کرنے کے لئے یہ کیا کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحبؑ کو ان نبیوں کے کمالات کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ کو تمام نبیوں کے نام سے یاد کیا۔ موسیٰؑ بھی کہا۔ عیسیٰؑ بھی کہا۔ ابراہیمؑ بھی کہا۔ داؤدؑ بھی کہا۔ اور پھر جَرِیُّ اللهِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِيَاءِ کہہ کر سب نبیوں کے نام آپ کے نام رکھے اور پھر اس کے ساتھ آپ کو غلام احمدؐ بھی کہا اور اس طرح رسول کریم ﷺ کے قول کی سچائی ثابت کی۔ کیونکہ جبکہ ایک شخص ان سب انبیاء کے کمالات کا جامع ہو کر رسول کریم ﷺ کا غلام کہلایا۔ تو اگر ان ناموں کے مصداق الگ الگ دنیا میں زندہ ہوتے تو رسول کریم ﷺ کی کیوں غلامی نہ کرتے۔ پس تمام نبیوں کے نام حضرت صاحب کو دے کر رسول کریم ﷺ کے دعوے کی تصدیق کی گئی ہے۔ لیکن اگر خدا تعالیٰ یہ فرماتا کہ مثیل عیسیٰ آئے گا مثیل موسیٰ آئے گا تو لوگ کہہ سکتے تھے کہ مثیل تو چھوٹا بھی ہو سکتا ہے پس اس کی غلامی سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ اگر وہ انبیاء ہوتے تو وہ بھی آپ کی غلامی کرتے۔ پس خدا تعالیٰ نے آپ کو پہلے نبیوں کا مثیل نہیں کہا۔ بلکہ مسیحؑ، نوحؑ، موسیٰؑ، ابراہیمؑ، داؤدؑ کہا اور سب نبیوں کے کمالات کا جامع کہا۔ لیکن باوجود اس کے محمدؐ کا غلام کہا تا معلوم ہو کہ اگر وہ الگ الگ طور پر پہلے نبی دنیا میں ہوتے تو وہ بھی رسول کریمؐ کا غلام ہونے کو فخر سمجھتے۔

غرض یہ حکمتیں تھیں حضرت مسیح موعودؑ کے اس قدر نام رکھنے کی اور یہ مصلحتیں تھیں آپ کو وہی نبی قرار دینے کی اور مثیل نہ کہنے کی۔ جن کو میں نے مختصر الفاظ میں بیان کر دیا ہے۔

۱؎اس مضمون میں نظر ثانی کے وقت میں نے اور مضامین بھی زائد کر دیئے ہیں جو لیکچر کے وقت بوجہ کمی وقت بیان نہیں کر سکا۔

۲؎حضرت خلیفۃ المسیح یہاں تک تقریر فرما چکے تھے کہ ایک شخص نے بذریعہ رقعہ ایک سوال دریافت کیا جو یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہو سکتا تو وہ عمرؓ ہوتا۔ پس جب حضرت عمرؓ نبی نہیں ہوئے تو پھر آپؐ کے بعد کوئی اور کس طرح نبی ہو سکتا ہے۔ اس کا مختصر سا جواب حضور نے اپنی مسلسل تقریر کو بند کر کے جو دیا وہ درج ذیل ہے:۔ حضور نے فرمایا کہ چونکہ رقعہ لکھنے والے غیر احمدی صاحب ہیں۔ اس لئے جواب دیتا ہوں اگر کوئی احمدی پوچھتا تو اسے روک دیتا کیونکہ دوران گفتگو میں بولنا جائز نہیں۔ جس صاحب نے یہ سوال کیا ہے وہ سن لیں۔ کہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے نبی کے آنے کی یہ شرط فرمائی ہے کہ جب دنیا میں ظلمت اور تاریکی ہو جاتی ہے اور دنیا خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر بحر عصیان میں گر پڑتی ہے۔ اس وقت نبی آتا ہے اور اس کو ضلالت کے گڑھے سے آکر نکالتا ہے۔ لیکن حضرت عمرؓ تو اس زمانہ میں ہوئے ہیں جبکہ چاروں طرف نور ہی نور پھیلا ہوا تھا۔ اور خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے لئے بے شمار ذرائع موجود تھے۔ اس لئے وہ کس طرح نبی ہوتے پھر آنحضرت ﷺ نے ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ آنے والا مسیح نبی ہو گا اس لئے یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ہاں یہ سوال ہو سکتا ہے کہ حضرت مرزا صاحبؑ مسیح موعود ہیں یا نہیں۔ اگر آپ مسیح موعود ہیں۔ تو نبی بھی ہیں۔ اور جب آپ مسیح موعود ہیں۔ تو پھر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ آپ نبی کس طرح ہوئے پس نبوت کے ہونے نہ ہونے پر سوال نہیں ہو سکتا۔ ہاں یہ سوال ہو سکتا ہے کہ اس حدیث کا کیا مطلب ہے سو ایک مطلب اس حدیث کا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر رسول کریم ﷺ کے بعد فوراً ہی آپؐ کی جماعت کو سنبھالنے کے لئے کسی نبی کی ضرورت ہوتی۔ جس طرح حضرت موسیٰؑ کے بعد تھی تو حضرت عمرؓ ہی آپؐ کے بعد نبوت کے مقام پر ترقی پاتے۔ لیکن چونکہ آپؐ ایک ایسی جماعت تیار کر کے رخصت ہونے والے تھے۔ جو اپنی نیکی اور تقویٰ میں حضرت موسیٰؑ کی جماعت سے کئی درجہ زیادہ تھی اور مکمل تھی اس لئے آپؐ کے بعد فوراً کسی نبی کی بعثت کی ضرورت نہ تھی۔

۳؎بعد میں معلوم ہوا کہ وہ دوست فوت ہو گئے ہیں۔

اسلام اور دیگر مذاہب

(اسلام اور دیگر مذاہب کی تعلیم کا موازنہ)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

نحمده ونصلی علیٰ رسوله الکریم بسم الله الرحمن الرحیم

اسلام اور دیگر مذاہب

پیشتر اس کے کہ میں اس مضمون کو شروع کروں جس پر بولنے کے لئے میں اس وقت کھڑا ہوا ہوں۔ میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہمیں وہ طاقتیں عطا فرمائیں جن کے ذریعہ سے ہم باریک مسائل پر غور کرنے اور فکر کرنے کے قابل ہوئے جن کی وساطت سے ہم اس وراء الوریٰ ہستی تک پہنچ سکیں جو تمام موجودات کی خالق اور رازق اور مالک ہے ہاں میں اس شہنشاہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو باوجود اپنی بے انتہاء قدرتوں اور طاقتوں کے باوجود اپنی لا انتہاء پاکیزگی اور طہارت کے کمزور اور ضعیف انسان کی ہدایت کیلئے متوجہ ہوا اور اسے ایسی طاقتیں اور ایسے علوم عطا فرمائے جن کے ذریعہ سے وہ تمام درمیانی روکوں کو دور کرتے ہوئے اور تمام پردوں کو چاک کرتے ہوئے اپنے آقا کے دربار میں پہنچ سکتا اور اس کے قرب کے مقام کو پا سکتا ہے۔ پھر میں تیسری دفعہ شکریہ ادا کرتا ہوں اس شہنشاہ کا کہ اس نے انسان کی کمزوری دیکھ کر اپنے فضل و کرم سے انسانوں میں سے پاک اور برگزیدہ انسانوں کو چنا تا وہ اس کا شیریں کلام سنیں اور اپنے ایمان کی بنیاد مشاہدہ کی مضبوط چٹان پر رکھیں اور جس نے ان کو ایسے زبردست نشان عطا فرمائے کہ جنہیں دیکھ کر دوسرے لوگ بھی جو صداقت کی تڑپ اپنے اندر رکھتے ہیں اپنے ایمان کو کامل کریں۔ پھر میں شکریہ ادا کرتا ہوں اس محسن رب کا جس نے ہمیں ایک ایسی حکومت کے ماتحت رکھا ہے کہ جس کی پرامن حکومت میں ہم آزادی سے مذہبی امور میں تبادلہ خیالات کر سکتے ہیں اور بلا خوف و خطر اپنی تحقیقات کو دوسرے بھائیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

اسلام دنیا کے تمام انبیاءؑ کی تصدیق کرتا ہے۔

اس کے بعد میں آپ لوگوں کی توجہ اس بات کی طرف منعطف کرانی چاہتا ہوں کہ میری غرض اس وقت اسلام اور دیگر مذاہب کا مقابلہ اس رنگ میں کرنا نہیں ہے کہ میں مختلف مذاہب پر کچھ الزامات لگا کر بتاؤں کہ وہ تمام مذاہب باطل ہیں اور صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے خدائے تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہے کیونکہ اگر میں ایسا کروں تو نہ صرف یہ کہ عقل انسانی میرے اس خیال کو بڑے زور سے رد کرے گی بلکہ خود اسلام بھی میرے اس خیال سے بریت ظاہر کرے گا کیونکہ اسلام خدائے تعالیٰ کو ظالم قرار نہیں دیتا اور وہ دنیا سے ہرگز یہ بات منوانا نہیں چاہتا کہ جب تک رسول کریم صلّی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف نہ لائے تھے اس وقت تک خدا تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کیلئے کوئی سامان پیدا نہیں کیا تھا۔ اگر خدائے تعالیٰ قدیم ایام سے اپنے بندوں کی جسمانی ضروریات کو پورا کرتا چلا آیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس نے ان کی روحانی ضروریات کے پورا کرنے کا سامان نہ کیا ہو اور لاکھوں برس تک انسان کو گمراہی میں پڑا رہنے دیا ہو۔ اسلام اس خیال کا بالکل مخالف ہے اور وہ خدائے تعالیٰ کو رب العالمین قرار دیتا ہے یعنی جس کی ربوبیت ہر زمانہ اور ہر ملک کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور کسی خاص قوم یا خاص زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ جس طرح اس کا سورج ہمیشہ سے اپنی روشنی سے بنی نوع انسان کی جسمانی آنکھوں کو منور کرتا رہا ہے۔ اسی طرح اس کا نور ہمیشہ ہمیشہ سے انسانی عقل کو اپنی چمکدار شعاعوں سے منور کرتا رہا ہے اور جس طرح چند گیسوں سے مرکب پانی ہمیشہ سے انسان کے جسم کو تازہ رکھنے کیلئے اس کی طرف سے نازل ہوتا رہا ہے اسی طرح راستی اور صداقت سے مرکب وحی روح کو سرسبز و شاداب رکھنے کیلئے اس کی طرف سے اترتی رہی ہے اور اس نے اپنے احسانات سے کسی قوم کو محروم نہیں رکھا۔ نہ تو اس نے ہندوستان کے باشندوں سے بخل کیا ہے، نہ ایران کے باشندوں سے، نہ اس نے چین کے باشندوں سے اپنی موہبت کو روکے رکھا ہے، نہ عرب کے باشندوں سے، نہ ایشیا سے اس کی روحانی بارش روکی گئی ہے نہ یورپ سے، نہ امریکہ کے جنگل اس سے محروم رہے ہیں نہ افریقہ کے ریگستان۔ قرآن کریم بڑے زور سے دعویٰ فرماتا ہے کہ وَاِنۡ مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ(فاطر: ۲۵) یعنی کوئی بھی ایسی قوم نہیں گزری کہ جس میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے کوئی نبی نہیں بھیجا گیا۔ اور اسی طرح فرماتا ہے وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ(16:37) رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ(النحل: ۳۷) ہر ایک قوم میں ہم نے رسول بھیجے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔ اسی طرح ہمارے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہندوستان میں بھی بعض رسول گزرے ہیں اور ایران کے متعلق جب آپ سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ہاں فارسی زبان بھی خدا تعالیٰ کے کلام سے خالی نہیں رہی اور اس کا الہام اس زبان میں بھی اترتا رہا ہے۔ پس ان حالات کی موجودگی میں اگر اسلام اور دیگر مذاہب کا مقابلہ کرتے وقت میں یہ دعویٰ کروں کہ دنیا کی ہدایت کیلئے اگر کوئی مذہب بھیجا گیا ہے تو وہ صرف وہی مذہب ہے جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا تھا تو ایسا دعویٰ خود اسلام کے خلاف ہو گا۔ پس میری پوزیشن مختلف مذاہب کا مقابلہ کرتے وقت دیگر تمام مذاہب کے پیروؤں سے بالکل مختلف ہے کیونکہ وہ اپنے نبیوں کی صداقت کے ثابت کرنے کے لئے دوسری اقوام کے نبیوں کی تکذیب کرنے پر مجبور ہوتے ہیں لیکن میں اس نبی کی صداقت ثابت کرنے کے لئے جس کی غلامی میں ہونے کا مجھے فخر حاصل ہے اس بات پر مجبور ہوں کہ تمام دنیا کے نبیوں کی تصدیق کروں۔ ایک آریہ ویدوں کے لانیوالے رشیوں کے دعویٰ کو اس وقت تک محفوظ سمجھتا ہے جب تک دنیا میں کوئی اور خدا کا پیارا اور برگزیدہ بندہ جو اس سے براہ راست کلام حاصل کرنے والا ہو ثابت نہ ہو۔ پس وہ اپنے مذاہب کی سچائی ثابت کرنے کیلئے ان تمام راستبازوں کو جو مختلف ممالک میں بنی نوع انسان کی ہدایت کیلئے بھیجے گئے جھوٹا قرار دیتا ہے۔ ایک یہودی یا مسیحی اپنی الہامی کتاب کی عزت اسی میں خیال کرتا ہے کہ ان کے سوا جس قدر کتب خدائے تعالیٰ کی طرف سے اس کے ان بندوں کی ہدایت کیلئے جو سرزمینِ شام کے علاوہ اور ممالک میں بستے تھے نازل ہوئی تھیں جھوٹی قرار دی جائیں۔ پس وہ اپنے مذہب کی تائید کیلئے دیگر مذاہب کو سرے سے ہی باطل قرار دیتا ہے۔ اسی طرح ایک زرتشتی ایران کے باہر کسی الہامی کتاب کے نزول کو اپنے مذہب کے فوائد کے سخت خلاف سمجھتا ہے اور اس لئے ایسے تمام نبیوں کو جو ایران کے باہر گزرے ہوں کاذب اور ایسی تمام کتب اور وحیوں کو جو ایران سے باہر نازل ہوئی ہوں انسانی مفتریات قرار دیتا ہے۔ غرض اسلام کے سوا تمام مذاہب کے پیرو جب تاریخ قدیم کے مفتشوں کی تحقیقات سے کبھی یہ بات معلوم کرتے ہیں کہ کسی زمانہ میں کسی اور ملک میں کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا یا کوئی اور کتاب خدائے تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ بتائی جاتی تھی تو وہ فوراً ہوشیار ہو جاتے ہیں کہ ہمارے مذہب کا ایک اور دشمن بھی پیدا ہو گیا ہے لیکن اس کے بالکل برعکس ایک مسلمان کی حالت ہے کہ جب کبھی بھی اس کے سامنے کسی ملک کے کسی نبی کا ذکر کیا جائے تو اس کا دل خوشی سے اچھل پڑتا ہے کیونکہ اس کے ہاتھ میں قرآن کریم کی صداقت کا ایک اور ثبوت مل جاتا ہے اور اس کی آنکھوں کے سامنے فوراً یہ صداقت سے پُر کلام آجاتا ہے کہ وَاِنۡ مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ(35:25) کوئی قوم نہیں ہے کہ جس میں کوئی خدا کا نبی نہ گزر چکا ہو۔ جس قدر ممالک میں جس قدر نبیوں اور جس قدر کتب کا بھی ثبوت ملے اتنا ہی قرآن کریم کا دعویٰ ثابت ہوتا ہے کہ ہر ایک قوم میں نبی گزرے ہیں اور اسلام کے سوا جس قدر اور مذاہب بھی ثابت ہوں ایک مسلمان کو ان کے معلوم کرنے سے رنج کی بجائے خوشی ہوتی ہے۔ پس اسلام اور دیگر مذاہب کا مقابلہ کرتے وقت میرا یہ کام نہیں کہ میں دیگر مذاہب کو انسانوں کا بنایا ہوا اور مختلف اقوام کے نبیوں اور رشیوں کو نعوذ باللہ مفتری اور کاذب ثابت کروں بلکہ میرا بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے یہ فرض ہے کہ جس قدر راستباز مختلف اقوام اور مختلف ممالک میں گزرے ہیں میں ان کی تصدیق کروں اور بلا کسی انقباض کے جس طرح بنی اسرائیل کے نبیوں کی صداقت کا اقرار کروں اسی طرح ہندوستان کے برگزیدوں رامؓ اور کرشنؓ کی راستبازی کا اور ایران کے بزرگ زرتشتؓ کی صداقت کا اعتراف کروں اور جس قوم کا بھی کوئی راستباز ہو جس نے خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا دعویٰ کیا ہو اور اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت اسے حاصل ہوئی ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس کی قبولیت بنی نوع انسان کے دل میں پیدا کر دی ہو اس کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے تسلیم کروں کیونکہ جیسا کہ قرآن کریم مجھے بتاتا ہے کہ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ(الانعام: ۲۲) اس شخص سے زیادہ ظالم اور قابلِ سزا کون ہو سکتا ہے جو خدائے تعالیٰ پر جھوٹ بولتا ہے اور لوگوں کو جھوٹے الہام بنا کر سناتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا دعویٰ کرتا ہے حالانکہ اسے خدائے تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں اور اگر ایسا شخص بھی کامیاب اور بامراد ہو سکتا ہے تو پھر خدائے تعالیٰ کی طرف سے آنے والوں میں اور جھوٹوں میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔

دوسرے مذاہب کی موجودگی میں اسلام کی ضرورت

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اسلام تمام دیگر مذاہب کو جو مختلف ممالک میں پیدا ہوئے اور پھیلے خدائے تعالیٰ کی طرف سے قبول کرتا ہے تو

پھر ان مذاہب کے ہوتے ہوئے اسلام کی کیا ضرورت ہے اور ان کی موجودگی میں اسے دوسرے مذاہب کے پیروان کے سامنے پیش کرنے میں کیا فائدہ ہے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ جہاں اسلام یہ تسلیم کرتا ہے کہ وہ پہلا ہی مذہب نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی تمام بلاد میں اللہ تعالیٰ ہر قوم کی ہدایت کیلئے رسول بھیجتا رہا ہے وہاں یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ اسلام سے پہلے جس قدر مذاہب آئے تھے وہ اس وقت کی محدود ضروریات کے مطابق تھے اور اسی لئے ہر ایک قوم میں الگ الگ نبی بھیجے جاتے تھے تا انسانوں کو اس اعلیٰ ترقی کیلئے تیار کیا جائے جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے ان کے لئے مقدر تھی اور رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بوجہ انبیاء کے زمانہ سے بُعد واقع ہو جانے کے تمام دین ہلاکت کے کنارہ پر پہنچے ہوئے تھے اور خدائے تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پاک علوم میں انسان نے اپنی نادانی سے بہت سی باتیں اپنی طرف سے زیادہ کر کے اس پاک چشمہ کو مکدر کر دیا تھا چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ لِیُذِیۡقَہُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ(الروم: ۴۲) یعنی خشکی میں بھی اور تری میں بھی لوگوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے فساد ظاہر ہو گیا ہے۔ اور قرآن کریم کے محاورہ کے مطابق خشکی سے مراد وہ عقل ہوتی ہے جو وحی الٰہی سے مجرد ہو اور تری سے مراد کلام الٰہی ہوتا ہے پس اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ لوگوں کی بداعمالیوں کا نتیجہ اس وقت اس طرح ظاہر ہو رہا ہے کہ ایک طرف تو خواہشاتِ نفسانی نے لوگوں کی عقلوں پر پردہ ڈال رکھا ہے اور لوگوں کی عقلیں بوجہ وفورِ ہوا و ہوس خراب ہو رہی ہے اور وہ اقوام جن کا دارومدار صرف عقل پر ہے بوجہ دنیا میں کامل طور پر منہمک ہونے کے اس مقام تک بھی پہنچنے سے محروم ہو رہی ہیں جہاں تک مجرد عقل انسان کو پہنچا سکتی ہے اور کلام الٰہی بھی بگڑ چکا ہے یعنی خدائے تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لئے مختلف ممالک اور مختلف اوقات میں جو نبی بھیجے تھے ان پر جو کلام نازل ہوا تھا اس میں بھی لوگوں نے اپنی عقل سے ایسے خیالات ملا دیئے ہیں کہ اسے بھی گندہ کر دیا ہے اور اس طرح وہ اقوام جن کا دارومدار کلام الٰہی پر تھا اور جو اس چشمۂ صافی سے سیراب ہوتی تھیں اب وہ بھی بوجہ اس چشمہ کے مکدر نہونے کے وہ روحانیت حاصل نہیں کر سکتیں جو وہ پہلے اس کے صاف پانی سے حاصل کرتی تھیں اس لئے ان میں بھی کمزوریاں اور بدیاں پھیل رہی ہیں پس جبکہ دنیا کی یہ حالت ہو رہی ہے تو ضرور تھا کہ خدائے تعالیٰ جو اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے ان کی خبرگیری کرے اور اُس ہلاکت سے ان کو بچائے۔ واقعہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مختلف مذاہب کے متبعین کی ایسی ہی حالت تھی جیسا کہ ایک بلند مینار کے اردگرد مختلف رسے لٹک رہے ہوں اور کچھ لوگ ان مختلف رسوں کو پکڑ کر اس پر چڑھنا چاہیں تو سرے پر جا کر ان کے ہاتھ چھوٹ جائیں اور ان کے گرنے میں سوائے اس کے اور کوئی روک نہ ہو کہ ان کا کوئی کپڑا رسہ کے کسی حصہ سے لپٹ جائے اور وہ اس طرح اوندھے منہ ہوا میں معلق پڑے ہوئے ہوں۔ مختلف زمانہ میں انبیاء نے مختلف اقوام کو روحانیت کے بلند مینار پر چڑھانا شروع کیا جس کی وجہ سے استعدادوں میں تو ترقی ہو گئی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں انبیاء سے بُعد کی وجہ سے مختلف مذاہب کے پیرو عملی اور اعتقادی حالت میں ایسے گر گئے کہ اگر اس وقت کوئی ان کو ہدایت کی طرف بلانے والا نہ آتا تو وہ بالکل ہلاک ہو جاتے اور وہ تمام کوششیں جو مختلف انبیاء نے کی تھیں اکارت جاتیں۔ لیکن جیسا کہ قرآن کریم دعویٰ کرتا ہے وہ دنیا کا نجات دہندہ عین وقت پر آگیا اور اس نے ان اوندھے منہ لٹکتے ہوئے انسانوں کو جو یوں تو مینار کے سر پر پہنچ گئے تھے لیکن اپنی موجودہ حالت میں نیچے کھڑے ہوئے انسانوں سے بھی زیادہ خطرہ میں تھے ہاتھوں سے پکڑ پکڑ کر اوپر اٹھا لیا اور ان مختلف لوگوں کو جو مختلف جہات سے چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے مینار کی بلندی پر ایک ہی جگہ اکٹھا کر دیا اور آئندہ کیلئے سب دنیا کیلئے ایک ہی مذہب اور ایک ہی کتاب قرار پائی کیونکہ تمدن کی ترقی نے اب سب دنیا کو ایک ہی ملک کی طرح اور سب بنی نوع انسان کو ایک ہی قوم کی طرح کر دیا تھا اور وہ پہلا دن تھا جب کہ برادر ہُڈ آف مین (اخوت انسانی) پر اس کے حقیقی معنوں میں عمل کیا گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم الٰہی کے ماتحت بڑے زور سے دنیا میں اعلان کیا کہ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا ۣالَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحۡیٖ وَیُمِیۡتُ ۪ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَرَسُوۡلِہِ النَّبِیِّ الۡاُمِّیِّ الَّذِیۡ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَکَلِمٰتِہٖ وَاتَّبِعُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ(الاعراف: ۱۵۹) اے لوگو! میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے تم سب کی طرف بلا استثناء کے رسول بنا کر اس خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں جس کے قبضہ میں آسمان و زمین کی بادشاہت ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ پس ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے غیب کی خبریں قبل از وقت سناتا ہے جو اسی طرح گناہ سے پاک ہے جس طرح وہ بچہ جو ابھی ماں سے جدا نہیں کیا گیا اور جو تم کو ہی ایمان و عمل کی طرف نہیں بلاتا بلکہ خود بھی خدائے تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور اس کے تمام احکام کو قبول کرتا ہے پس تم اس کی فرمانبرداری کرو تاکہ تم خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکو۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے کہ تمام دنیا کی طرف ایک ہی رسول اس لئے بھیجا گیا ہے کہ تا اس ذریعہ سے وہ خدا جو زمین و آسمان کا ایک ہی خدا ہے اپنے پورے جلال کے ساتھ ایک ہی رسول کے ذریعہ سے سب دنیا پر ظاہر ہو اور تا اس کی توحید ایک نئے رنگ میں جلوہ گر ہو اور یہ کیونکر ہو سکتا تھا کہ وہ اس وقت دنیا کو چھوڑ دیتا حالانکہ وہ زندہ کرنے والا اور مارنے والا ہے۔ پس اس کی صفتِ احیاء نے چاہا کہ مردہ زمین کو پھر زندہ کرے اور جو مذاہب کہ اب دنیا کی ہدایت کیلئے کار آمد نہیں ان کو مردہ مذاہب میں شامل کر دے یعنی ان کو منسوخ کر کے ایک کار آمد اور کل انسانی ضروریات کو پورا کرنے والا مذہب دنیا میں پھیلائے اور یہ دعویٰ ایک ایسا دعویٰ تھا جو نہ تو ہند کے رشیوں نے نہ ایران کے داناؤں نے نہ شام کے نبیوں نے کیا تھا بلکہ وہ ایک ہی قوم یا ایک ہی ملک کی طرف آئے تھے اور اگر کسی قوم نے اپنی تبلیغ کو کسی وقت وسیع بھی کیا ہے تو بانیانِ مذہب کی تعلیم کے خلاف اور ان کے بعد ایسا کیا ہے جیسا کہ اسلام کے سوا دوسرے مذاہب میں سے سب سے بڑے تبلیغی مذہب یعنی مسیحیت کی تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت مسیحؑ نے تو تبلیغِ عام سے روکا لیکن ان کے بعد تبلیغِ عام کر دی گئی پس وہ اس مذہب کا حصہ نہیں کہلا سکتی۔ غرض اسلام کا دعویٰ ہے کہ اس سے پہلے جس قدر مذاہب تھے وہ دو وجوہات سے منسوخ کر دیئے گئے اول تو یہ کہ ان کی بعض تعلیمیں وقتی تھیں اور ایک خاص قوم یا خاص ملک یا خاص زمانہ کے حالات کے مطابق تھیں اور اللہ تعالیٰ کی کامل حکمت چاہتی تھی کہ اب ان کو منسوخ کر دیا جائے اور ایک ایسی تعلیم بھیجی جائے جو سب قوموں اور سب ملکوں اور سب زمانوں کے مطابقِ حال ہو۔ اور دوم اس لئے کہ پہلی کتب کی اصل تعلیم بھی بہت کچھ بگڑ چکی تھی اور ان کی الہامی کتابیں اس شکل میں نہ رہی تھیں جس میں کہ وہ نازل ہوئی تھیں اور اب ان پر عمل کرنا ایک محقق انسان کیلئے مشکل ہو گیا تھا کیونکہ وہ اس کے لئے بوجہ مشکوک ہونے کے باعثِ تسلی نہ رہی تھیں اور باوجود ان کے اندر بہت سی صداقتوں کے موجود ہونے کے انسان یقین اور تسلی سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ جس حکم پر عمل کر رہا ہے واقعہ میں وہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہے بھی یا نہیں۔ پس اس بے اعتباری اور شک کو دور کرنے کیلئے جو روحانی ترقیات کیلئے ایک مہلک زہر کی طرح ہوتا ہے خدائے تعالیٰ نے چاہا کہ ایک نیا کلام اور نئی شریعت نازل کرے جس پر انسان بلاکھٹکے کے عمل کر سکے اور جس کے ہر ایک لفظ کی نسبت اسے یقین ہو کہ یہ خدائے تعالیٰ کا کلام ہے۔ اور اسلام اور دیگر مذاہب میں یہ بھی ایک عظیم الشان فرق ہے کہ دیگر مذاہب میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس کی مذہبی کتب اُسی طرح محفوظ ہوں جس طرح وہ نازل ہوئی تھیں یا جن کے محفوظ ہونے کا کوئی قطعی ثبوت ہو۔ لیکن اسلام کی کتاب قرآن کریم کی نسبت زبردست تاریخی شہادتوں کی بناء پر یقیناً کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی اسی شکل میں ہے جس شکل میں کہ آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی اس لئے جو تسلی ایک مسلم کو قرآن کریم پر عمل کرتے وقت ہو سکتی ہے وہ کسی اور مذہب کے پیرو کو اپنی الہامی کتب پر نہیں ہو سکتی کیونکہ باقی تمام کی تمام کتب کا یہی حال ہے کہ یا تو زبردست تاریخی شہادتوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ ان کی اصل شکل اس وقت قائم نہیں ہے اور یا وہ ایسے تاریک زمانوں میں سے گزری ہیں کہ ہرگز یقین کے ساتھ ان کی نسبت نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اپنی اصلی حالت پر ہیں۔

اس اعتراض کا جواب کہ پہلی کتب کی کیوں خدائے تعالیٰ نے حفاظت نہ کی

اور یہ اعتراض ہرگز قابلِ وقعت نہیں کہ پہلی کتب کی کیوں خدائے تعالیٰ نے حفاظت نہ کی کیونکہ ابتدائی زمانہ میں مختلف اقوام ایک دوسرے سے کیا بلحاظ مسافت کے اور کیا بلحاظ تمدن کے اتنے بُعد پر تھیں کہ ان کے لئے ایک کتاب نہیں بھیجی جاسکتی تھی اور روحانی حالت بھی اس وقت ابتدائی منازل میں سے گزر رہی تھی۔ پس ضرور تھا کہ اس وقت کی ضروریات کے مطابق ہر ایک علاقہ میں الگ نبی اور الگ کتاب بھیجی جاتی اور چونکہ ان ابتدائی کتب نے بہر حال انسان کی ترقی کے ساتھ ساتھ منسوخ ہونا تھا اس لئے ان کی حفاظت کی کوئی ضرورت نہ تھی اور یہی وجہ ہے کہ یہ دعویٰ صرف قرآن کریم میں ہی ہے کہ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ(الحجر : ۱۰) ہم ہی نے اس کتاب کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں یعنی اللہ تعالیٰ خود اس کی حفاظت کرے گا اور اسے بگڑنے نہ دے گا اور یہ وہ دعویٰ ہے جو قرآن کریم کے سوا کسی اور کتاب نے نہیں کیا۔ اگر کیا ہے تو کوئی شخص ہمیں کسی الہامی کتاب کا یہ دعویٰ دکھائے ہم اس کے نہایت ممنون احسان ہوں گے۔ لیکن قرآن کریم کے سوا کوئی الہامی کتاب ایسا دعویٰ نہیں کرتی اور کر بھی نہیں سکتی کیونکہ قرآن کے سوا کوئی اور کتاب نہیں جس نے سب دنیا کیلئے ہونے کا اور پھر ہر رنگ میں کامل ہونے کا دعویٰ کیا ہو اور اگر ان دونوں دعوؤں کے بغیر کوئی کتاب ایسا دعویٰ کرتی تو اس کا یہ مطلب ہوتا کہ یا تو قیامت تک باوجود تمدن کی ترقی کے اور بنی نوع انسان کے جسمانی اور روحانی اختلاط کے خدائے تعالیٰ نے بلاوجہ نعوذ باللہ کل انسانوں کو مذہبیباً جدا جدا رکھنا چاہا ہے اور اس اتحاد سے جو تمام ترقیات کی جڑ ہے محروم رکھنا پسند کیا ہے اور یا پھر یہ قبول کرنا پڑتا کہ اللہ تعالیٰ نے باوجود انسان کے ہر رنگ میں ترقی پا جانے کے کامل شریعت سے اسے حصہ نہیں دیا اور ان شرائع کو بلا ضرورت بلکہ خلاف مصلحت جاری رکھا جو کہ صرف خاص اوقات اور خاص زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتی تھیں اور یہ دونوں باتیں کوئی دانا انسان قبول نہیں کر سکتا۔ پس چونکہ دیگر کتب نہ تو سب جہان کیلئے تھیں اور نہ ان کی تعلیم انسانی اعمال کے تمام شعبوں کے متعلق احکام پر حاوی تھیں اس لئے ہرگز ضروری نہ تھا کہ ان کی خاص طور پر حفاظت کی جاتی۔ اور ان کا حال ایسا ہی تھا کہ جیسے کسی ضرورت کے وقت ایک جگہ پر عارضی کیمپ لگائے جاتے ہیں تو ان کی حفاظت اس رنگ میں نہیں کی جاتی جس رنگ میں ان عمارتوں کی جو ہمیشہ کے قیام کیلئے بنائی جاتی ہیں کیونکہ اول الذکر کا فائدہ صرف عارضی ہوتا ہے اور اس فائدہ کے حاصل ہو چکنے کے بعد اس کی ضرورت نہیں رہتی لیکن آخر الذکر کے ساتھ ہمیشہ کا تعلق ہوتا ہے اس لئے اس کی حفاظت کی جانی ضروری ہوتی ہے۔

قرآن کا دعویٰ

خلاصہ کلام یہ ہے کہ تمام مذاہب میں سے صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کی الہامی کتاب نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ تمام انسانوں اور تمام آئندہ زمانوں کیلئے ہے جیسا کہ فرمایا کہ وَاُوۡحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَمَنۡۢ بَلَغَ(الانعام: ۲۰) یعنی اے زمانہ کے لوگو! یہ قرآن میری طرف وحی کیا گیا ہے تاکہ میں تم کو اس کے ذریعہ سے خدائے تعالیٰ کے غضب سے ڈراؤں اور ان کو بھی جن کو یہ قرآن پہنچتا جائے یعنی اس کتاب کے متعلق کسی خاص زمانہ اور کسی خاص ملک کی شرط نہیں جسے اس کی خبر ملے اس پر اس کا ماننا اور اس پر عمل کرنا فرض ہے۔؎ اسی طرح اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کی الہامی کتاب نے یہ دعویٰ کیا ہے۔ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ(المائدہ: ۴) یعنی آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین ہر رنگ میں کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی ہے۔ اور ان دونوں باتوں کا لازمی نتیجہ تھا کہ اس کتاب کی نسبت یہ بھی کہا جاتا کہ خدائے تعالیٰ اس کی حفاظت کرے گا کیونکہ جو کتاب کامل ہو گئی اس کے منسوخ کرنے کی ضرورت نہیں اور جو ہر زمانہ کیلئے ہے اس کی حفاظت کئے بغیر چارہ نہیں

اسلام میں اور دوسرے مذاہب میں فرق

میرے پچھلے مضمون سے یہ بات پایہ ثبوت پہنچ جاتی ہے کہ اسلام سب ادیان کو خدا کی طرف سے سمجھتا ہے لیکن اس بات کا مدعی ہے کہ جس وقت اسلام آیا اس وقت سب مذاہب بگڑ چکے تھے اس لئے خدائے تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت کیلئے قرآن کریم اتارا اور چونکہ انسان کی روحانی استعداد کامل ہو چکی تھی اور دنیا بھی اس حد تک ترقی کر چکی تھی کہ تمام عالم آپس میں مل جائے جیسا کہ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا اس لئے خدائے تعالیٰ نے ایک کامل اور مکمل دین دنیا کی طرف بھیجا تا اسے ترقی کے کمال پر پہنچائے۔ پس اس اصل کے ماتحت ہم جو اسلام کا مقابلہ دیگر ادیان کے ساتھ کرتے ہیں تو یا تو اس لئے کہ ان مذاہب میں بعض خوبیاں تھیں لیکن مرور زمانہ کے سبب سے وہ بعد میں مٹ گئیں یا ان کی جگہ بعض انسانوں نے اپنے بعض مطالب کو پورا کرنے کے لئے کچھ اور تعلیم ملا دی اور یا اس لئے کہ اس میں جو تعلیم تھی وہ بنفسہٖ تو اچھی تھی لیکن ایسی نہ تھی کہ ہر زمانہ اور ہر وقت میں کام آسکتی اور اس میں خاص حالات کو مد نظر رکھ کر انسانی فطرت کے کسی خاص پہلو پر یا انسانی فرائض میں سے کسی خاص فرض پر زور دیا گیا تھا اور انسانی فطرت کے بعض دیگر پہلوؤں یا اس کے بعض فرائض کو یا تو بالکل نظر انداز کر دیا گیا تھا یا ایسے دبے الفاظ میں ان کا ذکر تھا کہ وہ انسانی اعمال کی درستی کیلئے پورے طور پر موثر نہیں ہو سکتے تھے چنانچہ اسلام اور دیگر مذاہب کے اس فرق کو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے وَکَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمۡ شَہِیۡدًا(البقرة: ۱۴۴) اور اسی طرح ہم نے تم کو ایک ایسی امت بنایا ہے کہ جو اپنے اعمال میں ایک درمیانی رنگ رکھتی ہے۔ اور نہ تو افراط کی طرف جھک جاتی ہے اور نہ تفریط کی طرف مائل ہو جاتی ہے بلکہ اس کے اعمال ترازو کے تول کی طرح ایسے درمیان میں رہتے ہیں کہ کسی پہلو کو ان میں نظر انداز نہیں کیا جاتا اور ہم نے تم کو ایسا اس لئے بنایا ہے کہ تا تم دوسرے مذاہب اور دوسری اقوام کیلئے ایک گواہ کی طرح ہو یعنی جس طرح گواہ کی گواہی سے ثابت ہوتا ہے کہ حق کیا ہے اور کس کا ہے اسی طرح تم میں سے جو لوگ قرآن کریم کی تعلیم پر چل کر اس کے نیک اثرات کو اپنے اندر پیدا کریں وہ دوسری اقوام کیلئے جو اب تک قرآن کریم کی صداقت سے لذت آشنا نہیں اس کی صداقت اور اس کے وسیع اور روحانی زندگی میں تغیر عظیم پیدا کرنے والے اثرات پر بطور ایک شاہد کے ہوں یعنی زبان اور عمل دونوں سے اس بات کا اقرار کریں کہ انہوں نے اس کے دعادیٰ کو سچ پایا اور لوگ ان کی پاکیزہ زندگی اور آسمانی نصرت کو دیکھ کر سمجھ لیں کہ سچا راستہ یہی ہے جس پر یہ لوگ چلتے ہیں اور پھر آخر میں بتایا کہ جس طرح ان مسلمانوں کو جو قرآن کریم کی تعلیم پر چلتے ہیں دوسری اقوام کیلئے شاہد بنایا ہے رسول کریم ﷺ کو اس جماعت کیلئے شاہد بنایا ہے یعنی ان کے دل میں آپ کی زندگی کو دیکھ کر اسلام کی صداقت گھر کر جاتی ہے۔ غرض قرآن کریم نے خود دعویٰ کیا ہے کہ اسلام کو دیگر مذاہب پر یہ فضیلت ہے کہ اس میں کسی بات میں افراط تفریط سے کام نہیں لیا گیا بلکہ اس کی تعلیم درمیانی ہے اور اس لئے ہر زمانہ اور ہر ملک و قوم کیلئے ہر حالت میں کار آمد ہے اور گو قرآن کریم میں اور بھی بیسیوں بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں خوبیاں ایسی مذکور ہیں اور احادیثِ رسول کریم ﷺ میں بھی بڑی کثرت سے ایسی خوبیاں پائی جاتی ہیں لیکن میں اس وقت صرف ایک ایسی خوبی پر نہایت اختصار سے کچھ بیان کروں گا جس سے معلوم ہو جائے گا کہ اس وقت اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو تمام انسانی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور جس کا کوئی حکم ایسا نہیں کہ کسی خاص مصلحت اور زمانہ کیلئے دیا گیا ہو اور بعد میں اس کی ضرورت نہ رہی ہو۔ پس وہی ایک مذہب ہے جس کی طرف طالبانِ صداقت کو دوڑنا چاہئے اور جان بیچ کر بھی اسے خریدنا چاہئے کیونکہ نیک انسان کے لئے صداقت سے زیادہ اور کوئی چیز محبوب نہیں۔ میں اس نہایت ہی مختصر مقابلہ میں زیادہ زور صرف اسلام کی خوبیوں کے بیان پر دوں گا اور دیگر مذاہب کے جو احکام کہ بگڑ گئے ہیں یا وہ ہر ایک زمانہ میں اور ہر حالت میں قابلِ عمل نہیں ہیں ان کی طرف صرف اشارہ کرنا کافی سمجھوں گا کیونکہ اول تو گنجائش نہیں ۔ دوم بعض لوگ شاید ان تفاصیل سے کسی قدر گھبرائیں۔

مذہب کی غرض

پیشتر اس کے کہ ہم اسلام اور دیگر مذاہب کا اس خاص پہلو میں مقابلہ کریں جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں یہ دیکھنا چاہئے کہ مذہب کی غرض کیا ہوتی ہے تا غور کیا جاسکے کہ ان اغراض کے پورا کرنے میں میانہ روی کا پہلو کس مذہب نے اختیار کیا ہے۔ قرآن کریم مذہب کی دو ہی غرضیں بتاتا ہے ایک حقوق اللہ کی بجا آوری اور دوسری حقوق العباد کی نگہداشت اور دیگر مذاہب بھی اس بات میں قرآن کریم کے مخالف نہیں۔ پس ہم امن مقابلہ میں ان دونوں پہلوؤں کو لیتے ہیں۔

تعلق باللہ

قلبی تعلق کن وجوہات سے پیدا ہوتا ہے

اس مقابلہ میں سب سے پہلے ہم تعلق باللہ کو لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اسلام نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندوں کا تعلق قائم کرنے کے لئے کیا تدبیر کی ہے مگر پیشتر اس کے کہ ہم ان تدابیر کو بیان کریں جو اسلام نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندوں کا تعلق قائم کرنے کے متعلق اختیار کی ہیں اس مضمون کو زیادہ سہل اور آسان کرنے کے لئے ہمیں پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ انسان کے اندر وہ کون سی مخفی قوتیں ہیں جن کے ذریعہ سے اس کا کسی اور چیز سے قلبی تعلق قائم ہوتا ہے اور کسی اپنے سے برتر ہستی کی فرمانبرداری وہ کن قوتوں کے حکم کے ماتحت کرتا ہے۔ سو یاد رہے کہ انسان کا تعلق قلبی کسی دوسری شئے سے صرف دو ہی جذبات کے نیچے ہوتا ہے یا محبت کی وجہ سے اور یا خوف کی وجہ سے۔ جس قدر دوستیاں اور تعلقات ہیں ان سب پر غور کر کے دیکھ لو کہ ان کی وجہ یا محبت ہے یا خوف۔ یا تو ایک چیز سے انسان کو محبت پیدا ہو جاتی ہے اور اس محبت کی وجہ سے وہ اس کے ساتھ تعلق قائم کرتا ہے اسے دیکھ کر خوش ہوتا ہے اس کی جدائی کو ناپسند کرتا ہے اس کے قریب ہونے کے لئے کوشاں رہتا ہے حتیٰ کہ اپنے محبوب کے حق میں جو چیز مضر ہو یا جو اسے ناپسند ہو اس سے یہ بھی نفرت کرنے لگ جاتا ہے اور جو چیز یا جو کام اپنے محبوب کا پسندیدہ پائے یا اس سے اسے نفع پہنچتا دیکھے تو اسے خود بھی پسند کرنے لگتا ہے۔ غرض محبت کی وجہ سے اپنے محبوب کی ہر پسندیدہ شئے کو پسندیدہ اور ہر ناپسند شئے کو ناپسند سمجھنے لگتا ہے اور محبت کی ترقی کے ساتھ اس کی حالت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ پھر اپنے محبوب کی رضا کو پورا کرنا اس کی طبیعت ثانیہ ہو جاتا ہے اور یہ ایسا خیال کرتا ہے کہ گویا بعض کام اسے خود طبعاً پسند ہیں اور بعض ناپسند لیکن درحقیقت ان کاموں سے نفرت یا ان کی طرف رغبت اس محبوب کے خیالات کا عکس یا ظل ہوتی ہے۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ بعض تعلق صرف خوف کی وجہ سے ہوتے ہیں اور اگر خوف جاتا رہے تو فوراً وہ تعلق ٹوٹ جائے چنانچہ بعض لوگ بعض درندوں کو پالتے ہیں اور ان کو سدھا لیتے ہیں لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ ان کا تعلق ان درندوں سے صرف خوف کا ہوتا ہے اسی لئے وہ ان کے پاس جاتے ہوئے کوڑا یا تلوار رکھتے ہیں اور بارہا ایسا ہوا ہے کہ اگر کسی وقت وہ کوڑا یا تلوار بھول گئے اور وہ یونہی اس درندہ کے پاس چلے گئے تو اس نے ان پر حملہ کر دیا اور قتل یا زخمی کر دیا یہی حال بعض درندہ طبع انسانوں کا ہوتا ہے کہ وہ بھی محبت اور پیار سے کبھی نہیں مانتے۔ بہت ہیں کہ وہ اپنے والدین تک کو کہ جن کے احسانات انسانوں میں سے سب سے زیادہ ہوتے ہیں زدوکوب کرتے ہیں اور ان سے سخت حقارت و نفرت کرتے ہیں اور بعض بالغ ہو کر ان کی جائیداد پر قبضہ کرنے کے لئے ان کو زہر تک دے دیتے ہیں۔ لیکن یہی لوگ حکامِ وقت کے سامنے نہیں بولتے اور بظاہر ان کی فرمانبرداری کرتے ہیں اور ان کے سامنے ایسے ہو جاتے ہیں کہ جیسے کوئی شرمیلا بچہ ہوتا ہے۔ اور یہ ان کا تعلق اور فرمانبرداری صرف اسی خوف کی وجہ سے ہوتی ہے کہ اگر ظاہر میں ہم نے قانون توڑ دیا تو ہمیں سزا ملے گی ورنہ اگر حکامِ وقت اور حکومتِ ملک ان کو صرف پیار اور محبت سے منوانا چاہے تو وہ ایک دن میں اس سے جدا ہو جائیں اور فوراً اس کا مقابلہ شروع کر دیں۔ غرض انسانی فطرت کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلق دو وجہ سے ہوتے ہیں یا تو محبت سے یا خوف سے۔

محبت کے اسباب

اسی طرح محبت کے اسباب کو جب ہم دیکھتے ہیں تو اس کے بھی دو سبب معلوم ہوتے ہیں یا حسن یا احسان یعنی یا تو انسان کسی شئے سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ وہ اسے اچھی لگتی ہے اور خوبصورت معلوم ہوتی ہے خواہ شکل کے لحاظ سے خواہ اخلاق کے لحاظ سے خواہ علم کے لحاظ سے خواہ عقل کے لحاظ سے غرض کسی قسم کی خوبصورتی ہو بعض انسان اس پر فدا ہوتے ہیں۔ سجے ہوئے مکان اور تصاویر اور سبزہ زار زمینیں اور بعض بے خوشبو کے خوش رنگ پھول اسی قسم کی اشیاء میں سے ہیں کہ جن سے انسان اس لئے محبت کرتا ہے کہ وہ خوبصورت ہیں ورنہ ان سے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ ان پر خرچ کرنا پڑتا ہے اسی طرح خوبصورت انسانوں سے لوگ محبت کرتے ہیں اور یہ خوبصورتی جیسا کہ اوپر بیان ہوا کئی قسم کی ہوتی ہیں کبھی تو ان کی شکل خوبصورت ہوتی ہے اور کبھی ان کے اخلاق اور ان کا علم و عقل وغیرہ خصائل و قوتیں اچھی ہوتی ہیں۔ اس لئے ان سے لوگ محبت کرتے ہیں دوسرا سبب محبت پیدا کرنے کا احسان ہوتا ہے اور بہت سے تعلقاتِ محبت احسان کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں چنانچہ ماں باپ سے محبت کا ایک بہت بڑا باعث ان کے احسانات بھی ہوتے ہیں جو وہ بچہ کے پیدا ہونے سے لے کر اس کے برسرِکار ہونے تک اس پر کرتے ہیں۔ اسی طرح

ایک ملازم اپنے محسن آقا سے محبت کرتا ہے اور ایک آقا اپنے وفادار خادم سے محبت کرتا ہے اور وفا بھی ایک قسم احسان کی ہی ہوتی ہے کیونکہ وفا احسان کے بدلہ کا نام ہے اور احسان کا بدلہ سوائے احسان کے اور کیا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح خاوند اور بیوی کی محبت ہوتی ہے کہ وہ بھی حسن و احسان دونوں ذرائع سے پیدا ہوتی ہے۔ غرض جس قدر محبت کے تعلقات ہوتے ہیں وہ سب کے سب حسن اور احسان سے متفرع ہوتے ہیں چنانچہ بھائیوں کی محبت بھی انہیں دو ذرائع سے پیدا ہوتی ہے کیونکہ یہ محبت طفیلی ہوتی ہے اور دراصل اس کا باعث وہ تعلق ہے جو اولاد کو ماں باپ سے ہوتا ہے اور چونکہ بھائی بہن ایک محبوب کے محبوب بلکہ جزو بدن ہوتے ہیں اس لئے بالطبع ایک بھائی دوسرے بھائی یا بہن سے محبت کرتا ہے اور بہت دفعہ نہیں جانتا کہ اس محبت کا باعث کیا ہے۔ غرض محبت کا باعث یا تو حسن ہوتا ہے یا احسان۔ اور احسان کا تعلق پھر دو قسم پر منقسم ہے یا تو کسی کے احسان کی وجہ سے ایک شخص سے محبت کی جاتی ہے یا اپنی محسن طبیعت کی وجہ سے کوئی شخص دوسرے سے محبت کرتا ہے اور یہ محبت رافت و شفقت ہوتی ہے جو اس کی اپنی محسن طبیعت کا نتیجہ ہوتی ہے جب ہم انسانی فطرت کا اور بھی گہرا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بعض آدمیوں کے اندر تو یہ تینوں خاصے پائے جاتے ہیں یعنی ان کے تعلقات تینوں قسم کے ہوتے ہیں بعض خوف سے بعض محبت حسن سے بعض محبتِ احسان سے لیکن بعض کے اندر ان تینوں خاصوں میں سے ایک یا دو بعض وجوہ سے تلف بھی ہو جاتے ہیں یعنی وہ صرف حسن یا صرف احسان یا صرف خوف کے جذبات سے تعلق رکھتے ہیں اور دوسرے جذبہ کا ہیجان ان کے اندر نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ ایسے دیکھے جائیں گے کہ جب تک محبت سے ان سے کام لیتے رہو وہ خوشی سے کریں گے۔ ذرا ان پر سختی کرو یا رعب بٹھاؤ وہ فوراً مقابلہ کیلئے کھڑے ہو جائیں گے۔ بعض لوگ محبت کے دونوں بواعث یعنی حسن یا احسان کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہ کریں گے لیکن خوف سے فوراً مطیع ہو جائیں گے۔

انسانی فطرت کے اس مطالعہ کے بعد ہمیں لامحالہ یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہی تعلیم ہر ایک زمانہ اور ہر ایک ملک اور ہر ایک انسان کے لئے مفید ہو سکتی ہے جس میں ان تینوں جذبات کو ہیجان میں لا کر تعلق پیدا کرنے کی صورت کی جائے اور اگر کوئی مذہب ایسا ہے جو صرف خدائے تعالیٰ کے حسن پر زور دیتا ہے اور ایسی محبت کی طرف انسان کو بلاتا ہے جس کا باعث کوئی خواہش یا طلب انعام نہ ہو اور کسی بدلہ کی امید جس کے ساتھ نہ ہو تو وہ ایک انسانی گروہ کا تو لحاظ کرلیتا ہے لیکن وہ دوسرے گروہوں کا جو احسان یا خوف کے بغیر تعلق نہیں پیدا کرتے اور نیک یا بد کسی نہ کسی سبب سے ان کے اندر وہ جذبہ مر گیا ہے جو صرف حسن سے محبت کو جوش میں لاتا اور اس طرح تعلق پیدا کراتا ہے تو ایسے لوگ اس مذہب کے ذریعہ سے ہرگز خدائے تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتے اور ضرور ہے کہ ان کی طبیعت اپنا علاج نہ پا کر دین سے بیزار ہو جائے اور اس طرح ہمیشہ کی ہلاکت میں گر جائے۔ اسی طرح اگر کوئی مذہب صرف احسان پر زور دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کی طرف متوجہ کر کے اس کا تعلق اس سے قائم کرنا چاہتا ہے جو وہ اپنے سے تعلق رکھنے والوں کو دیتا ہے تو یہ مذہب بھی ایک طرف جھک جاتا ہے اور میانہ روی کو ترک کر دیتا ہے اور وہ طبائع جو حسن و خوف سے تعلق پیدا کیا کرتی ہیں ان کی بیماری کا علاج اس مذہب میں نہیں اور ایسی تمام طبائع اس مذہب کے ذریعہ سے خدائے تعالیٰ تک نہیں لائی جا سکتیں اسی طرح اگر کوئی مذہب خوفِ خدا پر ہی زور دیتا ہے تو اسے ایسی بھیانک شکل میں دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے کہ اس سے قطعاً کسی بخشش اور رحم کی امید نہیں تو بے شک وہ لوگ جو خوف کا اثر اپنے دل میں قبول کرتے ہیں اس مذہب کے ذریعہ سے کچھ فائدہ اٹھائیں تو اٹھائیں لیکن وہ طبائع جو محبت سے تعلق پیدا کرنے کی عادی ہیں کبھی اس مذہب سے فائدہ نہیں اٹھا سکتیں اور جو لوگ خوف سے تعلق پیدا کرتے ہیں ان کا تعلق درحقیقت ایک عارضی تعلق ہوتا ہے اور ان انعامات کا ہرگز مستحق نہیں بناتا جن کا مستحق تعلقِ محبت بناتا ہے پس وہ مذہب جو خدا محبت ہے کہہ کر دنیا کی اصلاح کرنا چاہتا ہے۔ اور صرف ایک عقیدہ پر ایمان لانے پر نجات کو منحصر کرتا ہے اور اعمال کے پہلو کو بالکل بھلا دیتا ہے کبھی کل بنی نوع انسان کیلئے کافی نہیں ہو سکتا کیونکہ بہت ہیں جو صرف ایمان پر اپنا مدار رکھ کر اپنی خونی طبیعت کے نیچے دب جائیں گے اور خدا کی محبت خواہ کیسے ہی اعلیٰ سے اعلیٰ رنگ میں ان کے سامنے پیش کی جائے وہ اس سے متاثر نہ ہوں گے اور اسی طرح خدا سے دور جا پڑیں گے جیسے کہ وہ بدبخت جو اپنے ماں باپ کے احسانات کو دیکھتے ہوئے پھر ان کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ مذہب جو کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایسا یک طرفہ معاملہ کرتا ہے کہ اس نے اپنا تمام تعلق ایک قوم سے مخصوص کر دیا ہے اور اس کے سب چیدہ انعامات صرف ایک خاص نسل کے ساتھ وابستہ ہونے پر ملتے ہیں کبھی سب دنیا کی اصلاح کرنے والا مذہب نہیں ہو سکتا کیونکہ ایسا مذہب خدائے تعالیٰ کے متعلق انسانوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرتا ہے نہ محبت پھر اسی طرح وہ مذہب جو خدائے تعالیٰ کے متعلق یہ عقیدہ پیش کرتا ہے کہ وہ کبھی کوئی گناہ نہیں بخشتا اور نہ بخش سکتا ہے وہ گو زبان سے اسے باپ یا ماں یا اس سے بھی زیادہ مہربان کہے لیکن ایسا مذہب اس خالق فطرت کی طرف سے نہیں ہو سکتا جس نے انسانوں کے دلوں میں بھی ایسا رحم پیدا کیا ہے کہ وہ اپنے گناہ گاروں کو بخشتے ہیں حالانکہ ان کے دشمنوں نے ان کافی الواقعہ نقصان کیا ہوتا ہے لیکن کبھی انسان کے کسی فعل سے خدائے تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اسی طرح وہ مذہب جو کہتا ہے کہ خدائے تعالیٰ انسان کے گناہوں میں سے نجات دیتے وقت بعض گناہ رکھ لیتا ہے اور ان کی سزا میں پھر اسے دارالعمل کی طرف واپس کرتا ہے کبھی خدائے تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کا باعث نہیں ہو سکتا کیونکہ اس عقیدہ سے خدائے تعالیٰ سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور ساتھ ہی مایوسی پیدا ہو کر انسان گناہوں پر اور بھی دلیر ہو جاتا ہے۔ پس درحقیقت وہی مذہب تمام دنیا کیلئے ہو سکتا ہے جو ان تمام باتوں میں میانہ روی اختیار کرتا ہے اور ایک طرف تو خدائے تعالیٰ کا حسن پیش کر کے دنیا سے محبت کا خراج لیتا ہے اور اس کے احسانات قدیم و جدید یاد دلا کر اس کے جذبہ محبت کو ابھارتا ہے۔ اور دوسری طرف اس کی عظمت اس کے جبروت اس کی بدیوں سے نفرت کا نقشہ کھینچ کر اسے اس سے تعلق پیدا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اور یہ مذہب صرف اسلام ہی ہے۔

اسلام میں ہر طبیعت کے انسان کا علاج موجود ہے

چنانچہ قرآن کریم کی سب سے پہلی سورۃ میں جسے مسلمان ہر نماز میں پڑھتے ہیں اسی مضمون کو ادا کر کے ہر طبیعت کے انسان کا علاج کیا گیا ہے چنانچہ اس میں اللہ تعالیٰ بندہ کی طرف سے حکایۃً فرماتا ہے بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ(1:1-5) یعنی میں شروع کرتا ہوں خدا کا نام لے کر جو رحمن ہے رحیم ہے سب خوبیاں اور سب حسن اور سب خوبصورتیاں جو کسی تعریف کی مستحق ہیں اور انسان کے دل سے کسی چیز کی تعریف نکلوا سکتی ہیں وہ سب کی سب خدائے تعالیٰ میں جمع ہیں پھر وہ صرف حسین ہی نہیں بلکہ محسن بھی ہے وہ رب ہے تمام جہانوں کا کہ اس نے تمام مادہ اور ارواح پیدا کی ہیں اور پھر ان کی انفرادی یا اجتماعی حالتوں میں ان کی خبرگیری کرتا ہے اور ہر ایک قسم کی تربیت کر کے ان کی طاقتوں اور قوتوں کو نشوونما دے کر کمال تک پہنچاتا ہے وہ ایسا مہربان ہے کہ خدمت کا بدلہ ہی نہیں دیتا بلکہ بلا کسی کام یا خدمت کے اپنے پاس سے بھی بندہ پر اپنے فضل کی بارش کرتا ہے اور اسی پر بس نہیں۔

جو لوگ ان فضلوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو اس کی طرف سے ملتے ہیں اور ان کو صحیح طور پر اور ایسے مواقع پر استعمال کرتے ہیں جہاں ان کا استعمال کرنا مناسب ہے تو وہ اس فعل پر اور بھی فضلوں کی بارش کرتا ہے اور جس قدر انسان کام کرے اس کا بدلہ دے کر پھر زائد انعام دیتا ہے اور وہ جزاء و سزا کے دن کا مالک ہے یعنی نہ صرف یہی کہ نہایت حسین اور محسن ہے بلکہ انسان کے تمام افعال کا ایک وقت مقررہ پر وہ جائزہ بھی لیتا ہے اور پھر اپنے مالکانہ اقتدار کے ساتھ نیک کو انعام اور شریر کو سزا دیتا ہے۔ اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔ مالک کے لفظ میں یہ اشارہ فرمایا ہے کہ اس کا انعام بھی بڑا ہوتا ہے اور اس کی سزا بھی سخت ہوتی ہے کیونکہ جو مالک نہ ہو اس کی سزا سے انسان بچ جاتا ہے جیسا کہ بادشاہ کسی کو سزا دینے لگے اور وہ مر جائے یا کسی تکلیف کے عذاب کے خیال سے خود کشی کرلے تو اس بادشاہ کی سزا سے وہ بچ جائے گا لیکن فرمایا کہ ہم مالکانہ اقتدار رکھتے ہیں اور ہمارے قبضہ سے نکل جانا کسی کی طاقت میں نہیں پس اگر تمہارے لئے کوئی اور بات ہم سے تعلق پیدا کرنے کا باعث نہیں ہو سکتی تو اس بات کا خیال رکھو کہ ہم حکم عدولی پر سزا بھی سخت دیتے ہیں چنانچہ آگے فرمایا

اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ(1:5) یعنی بندہ جب ان تمام صفات پر غور کرتا ہے تو خواہ کسی خیال اور کسی طبیعت کا انسان ہو حسن پر شیدا ہو جانے والا ہو یا احسان پر یا خوف سے ماننے والا ہو۔ وہ اپنی طبیعت کے مطابق سورۃ فاتحہ میں علاج پالیتا ہے اور بے اختیار ہو کر کہہ اٹھتا ہے کہ اے خدا! میں تیری ہی فرمانبرداری کرتا ہوں یعنی جب وہ سب باتیں جن کی وجہ سے کسی ہستی سے محبت اور پیار کیا جاتا ہے تجھ میں پائی جاتی ہیں تو پھر تیرے سوا اور کس سے میں تعلق پیدا کر سکتا ہوں۔ ان الفاظ میں یہ بتایا گیا ہے کہ مومن جب کامل تعلق اللہ تعالیٰ سے پیدا کر لیتا ہے تو اس کی محبت اور خوف دونوں اس سے وابستہ ہو جاتے ہیں اور آئندہ نہ محبت میں نہ خوف میں خدائے تعالیٰ کا شریک کسی کو نہیں کرتا اگر وہ کسی چیز سے محبت کرتا ہے تو خدا کیلئے اور خدا میں ہو کر اور اگر وہ خوف کرتا ہے تو خدا کے حکم سے اور انہی سے جن کی نافرمانی سے بچنے کا اس نے حکم دیا ہے۔ اور چونکہ جب ان صفاتِ کاملہ پر انسان غور کرے تو وہ محبت یا خوف کی وجہ سے بے اختیار ہو جاتا ہے اور محبت و خوف اس پر اس قدر حاوی ہو جاتے ہیں کہ وہ اب اپنی ذات کو حقیر اور اللہ تعالیٰ کے سامنے بالکل بے جان خیال کرتا ہے۔ اس لئے اس خیال کی ترجمانی کرنے کے لئے ساتھ ہی فرما دیا کہ

وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ(1:5) یعنی آپ کے اس حسن اور احسان اور اس طاقت و جلال کو معلوم کر کے ہم اپنے نفس پر بھروسہ نہیں کر سکتے کہ وہ ان لوازماتِ محبت اور تعلقاتِ خوف کو پورا کر سکے گا جو آپ کے ساتھ تعلق میں ضروری ہیں اس لئے ہم آپ سے ہی مدد مانگتے ہیں کہ اس تعلق کو نباہنے کی ہمیں طاقت دے۔ غرض ان مختصر الفاظ میں خدائے تعالیٰ کے حسن اور احسان اور اس کے جلال کا ایسا نقشہ کھینچ دیا ہے کہ کسی ملک کسی قوم کسی تہذیب اور کسی زمانہ کے لوگ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے اور ہر ایک انسان جب اللہ تعالیٰ کی صفات کا مطالعہ ان آیات پر نظر ڈال کر کرتا ہے جو ابھی بیان ہوئیں تو اس کا قلب اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

خوف کے تعلق کو کامل بنانے کا طریق

اس جگہ ضمنی طور پر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ گو خوف بھی ایک ذریعہ تعلق ہے لیکن یہ ذریعہ تعلق نہایت ادنیٰ ہے کیونکہ خوف کا تعلق حقیقی تعلق نہیں ہوتا مگر اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ بعض طبائع خوف کے بغیر تعلق پیدا نہیں کرتیں جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے پس اس تعلق کو کامل کرنے کا بھی ایک طریق قرآن کریم نے بتایا ہے اور خوف سے تعلق پیدا کرنا صرف ابتدائی ذریعہ رکھا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ بعض بچے جب سکول نہیں جاتے یا اور بعض فرائض ادا نہیں کرتے تو ان کے والدین جب معلوم کر لیتے ہیں کہ ہماری محبت اور ہمارا احسان ان کی بگڑی ہوئی طبیعت کی اصلاح نہیں کر سکتے تو وہ سختی سے کام لے کر ان کو مدرسہ بھیجتے ہیں اور کچھ مدت تک تو وہ اس ڈر اور خوف سے جو ان کے والدین ان کے دل میں پیدا کرتے ہیں مدرسہ جاتے رہتے ہیں لیکن اگر کوئی مہربان مدرس ہو تو وہ چند ہی دنوں میں ان کے دلوں میں اپنی محبت پیدا کر لیتا ہے اور پھر وہ خوف مبدل بہ محبت ہو جاتا ہے اور گو ان کے سکول میں جانے کی ابتداء خوف سے ہوئی تھی لیکن بعد میں خوف کی جگہ محبت اور ڈر کی جگہ پیار لیتا ہے اور اس طرح ان ناقص نتائج کا جو ایسی تعلیم سے نکلتے تھے جس کا محرک صرف خوف تھا اندیشہ جاتا رہتا ہے۔ بعینہٖ اسی طرح خدائے تعالیٰ بھی اپنے بندے سے سلوک کرتا ہے اور گو تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کیلئے اور ان طبائع کو ہلاکت سے بچانے کیلئے جو بعض کمزوریوں کی وجہ سے ایسی مسخ ہو جاتی ہیں کہ صرف خوف سے ہی قریب آسکتی ہیں۔ اس شہنشاہِ ارض و سماء کا جلال اور اس کی گرفت کی سختی بھی انسان کو یاد کرائی گئی ہے لیکن اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَرَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ(الاعراف: ۱۵۷) میری رحمت اور میری بخشش ہر ایک چیز پر حاوی ہے۔ اب اس آیت کے مضمون کو اس آیت کے مضمون سے ملا کر دیکھو تو معلوم ہو جائے گا کہ خوف صرف ایک ابتدائی ذریعہ رکھا گیا ہے ورنہ جب کوئی شخص خوف سے اللہ تعالیٰ کی طرف آتا ہے تو وہ اپنی رحمت کی اس قدر بارش اس پر کرتا ہے اور اپنے افضال کے اتنے چھینٹے اسے دیتا ہے کہ گو اس کا بندہ اپنے تعلق کی بناء خوف پر ہی رکھے جاتا ہے لیکن آخر اس کے دل کی سختی دور ہو جاتی ہے اور وہ آہستہ آہستہ پہلے خدائے تعالیٰ کے احسان اور پھر اس کے حسن کا ادراک اپنے دل میں پاتا ہے اور خوف کا تعلق محبت کے تعلق سے بدل جاتا ہے اور اس کا دل خدائے تعالیٰ کے خوف سے پُر ہونے کی بجائے اس کی رحمت کی یاد سے پُر ہو جاتا ہے اور آخر رحمت ہی رحمت رہ جاتی ہے اور محبت ہی محبت جلوہ گر ہو جاتی ہے اور اگر خوف باقی رہتا ہے تو صرف اس بات کا کہ کہیں کسی فعل کی وجہ سے اس محبوبِ یکتا سے جدائی نہ ہو جائے۔

تعلق باللہ کے لئے جس تدبیر سے اسلام نے کام لیا ہے دوسرے مذاہب اس کی نظیر لانے سے قاصر ہیں

یہ مضمون جو اوپر بیان ہوا ہے۔ ان تدابیر کو ظاہر کرتا ہے جو اسلام نے اللہ تعالیٰ سے بندے کا تعلق پیدا کرنے اور پھر اسے مضبوط کرنے کیلئے کی ہیں اور ہر ایک شخص ایک ذرا سے غور سے معلوم کر سکتا ہے کہ کس طرح ان تدابیر میں میانہ روی سے کام لیا گیا ہے اور تمام وہ پہلو مدّ نظر رکھے گئے ہیں جن کے ذریعہ سے انسان کا تعلق خدائے تعالیٰ سے قائم ہو سکتا ہے لیکن اس مقابلہ میں جو تعلیم دوسرے مذاہب نے پیش کی ہے وہ ایسی وسیع اور تمام طبائع کے مطابق نہیں مثلاً یہودیت نے خدائے تعالیٰ کو نہایت ہیبت ناک شکل میں پیش کیا ہے اور اس کی غضب اور انتقام کی خواہش پر بہت زور دیا ہے جس کی یہ وجہ تھی کہ بنی اسرائیل فرعون کی ماتحتی میں رہ کر جو ایک ظالم بادشاہ تھا اس بات کے عادی ہو گئے تھے کہ خوف اور ظلم سے ہی بات مانتے تھے پس ان پر خدائے تعالیٰ کا جلوہ گرجوں اور زلزلوں کے رنگ میں ہوا لیکن آہستہ آہستہ ان کی طبیعت کی اصلاح ہو گئی اور کچھ مدت کے بعد تو ان خیالات نے ان پر حد سے زیادہ تصرف کر لیا۔ پس ضرورت تھی کہ اس وقت کے حالات کے ماتحت حضرت مسیحؑ محبت کا پیام لاتے اور روح القدس کبوتری جیسے نرم طبیعت اور حلیم جانور کی شکل میں ظاہر ہوتا اور اللہ تعالیٰ کی محبت پر زور دیا جاتا تا ان غلط خیالات کی اصلاح ہو جو خدائے تعالیٰ کی سخت گیری اور منتقم طبیعت کے متعلق ان کے اندر پھیل گئے تھے چنانچہ اس وقت کے نقص کا علاج اسی طرح کیا گیا لیکن جب ایک مدت کے بعد مسیحوں کا میلان بالکل دوسری طرف ہو گیا اور وہ اعمال سے غافل ہونے لگے تو پھر ایک اور شریعت کی ضرورت ہوئی اور یہی حال دیگر مذاہب کا ہے کہ ان میں سے کسی مذہب میں ضرورتاً خدائے تعالیٰ کے غضب اور انتقام کی صفات پر زور دیا گیا ہے اور کسی میں اس کی محبت اور پیار پر اور چونکہ یہ تمام تعلیمیں وقتی تھیں جب حالات بدل گئے تو بجائے نفع رسانی کے نقصان دہ ہو گئیں اور اب چونکہ وہ وقت آگیا تھا جسے اللہ تعالیٰ کی حکمتِ کاملہ نے ایک کامل اور عالمگیر مذہب کیلئے پسند فرمایا تھا اس لئے نبیوں کے سردار اور نیکوں کے پیشوا محمد ﷺ پر وہ وحی نازل کی گئی جو ایسی جامع اور مانع تھی کہ کسی طبیعت اور کسی تعلیم اور کسی تہذیب کے آدمیوں کی ضرورت اس میں نظر انداز نہیں کی گئی اور نہ کوئی غیر ضروری اور وقتی بات اس میں داخل کی گئی۔ پس ہم ان نادانوں کی طرح جو اپنے خُبث کا اظہار خدائے تعالیٰ کے پاک بندوں کو گالیاں دے کر کرتے ہیں یہ نہیں کہتے کہ اسلام سے پہلے کے سب مذاہب جھوٹے تھے بلکہ ہم ان کو سچا تسلیم کرتے ہیں۔ ہاں واقعات اور حق کی محبت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم اس بات کو تسلیم کریں کہ جو جامعیت اسلام میں ہے وہ کسی مذہب میں نہیں اور یہ کہ اسلام کے آنے کے بعد اب اور کسی مذہب کی ضرورت نہیں۔ ان مذاہب نے خدائے تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے لئے جو تدابیر اختیار کی تھیں وہ اپنے وقت کے مطابق درست تھیں لیکن اب اس زمانہ میں جبکہ تمدن کی ترقی نے سب دنیا کو ایک کر دیا ہے اور انسانی علوم بہت ترقی کر چکے ہیں وہ انسان کی ہدایت کیلئے کافی نہیں ہو سکتیں اور اس وقت اسلام ہی ہے جو اپنی بے عیب تعلیم کی وجہ سے تمام دنیا کی ہدایت کر سکتا ہے اور جس کی تعلیم کسی خاص بات پر زور نہیں دیتی بلکہ تمام ضروری ہدایتوں کو کھولتی اور شرح کرتی ہے۔ مختلف مذاہب اپنے اندر مختلف صداقتیں رکھتے ہیں لیکن کوئی ایسا مذہب نہیں جو یکجائی طور پر ان تمام خوبیوں کا جامع ہو جو اسلام کے اندر پائی جاتی ہیں پس آج روئے زمین پر سوائے اسلام کے اور کوئی ایسا مذہب نہیں جو انسان کا تعلق خدائے تعالیٰ سے پیدا کر سکے اور اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے کامل شریعت بھیج دی ہے تو اس نے اپنی رضا کے اظہار کے لئے اسلام کے سوا اور تمام دروازے بند کر دیئے ہیں اور کوئی شخص اب خدائے تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ اسلام کا جُوا اپنی گردن پر نہ اٹھائے۔ افسوس ہے کہ قلتِ وقت کی وجہ سے اس موضوع پر بالتفصیل بحث نہیں ہو سکتی ورنہ اور بہت سی مثالوں کے ساتھ بتایا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے لئے اسلام نے کونسی ایسی تدابیر اختیار کی ہیں کہ جن کی نظیر لانے سے اور سب مذاہب قاصر ہیں۔

دوسرا حصہ شفقت علیٰ خلق اللہ

جیسا کہ میں اوپر بتا آیا ہوں اللہ تعالیٰ سے بندے کا تعلق قائم کرنے کے علاوہ مذہب کا ایک اور بھی کام ہے اور وہ اپنے پیروان کو شفقت علیٰ خلق اللہ کی تعلیم دیتا ہے چنانچہ پہلے حصہ سے فارغ ہو کر میں اس کے متعلق اسلام کی تعلیم بیان کرتا ہوں۔ شفقت علیٰ خلق اللہ کے مضمون کے بڑے بڑے حصے تین ہیں اول انسان کا معاملہ اپنے نفس سے۔ دوم انسان کا معاملہ دوسرے انسانوں سے۔ سوم انسان کا معاملہ دوسرے حیوانوں سے چنانچہ ان تینوں حصوں میں سے سب سے پہلے میں اس مضمون پر کچھ بیان کرتا ہوں کہ اسلام نے انسان کو اپنے نفس کے ساتھ کیسا معاملہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

انسان کا معاملہ اپنے نفس سے

مختلف مذاہب نے بنی نوع انسان کے آپس کے سلوک کے متعلق تو بہت کچھ کہا ہے لیکن اس کے متعلق کہ انسان کو اپنے نفس کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہئے بہت کم مذاہب میں کوئی تعلیم پائی جائے گی سوائے اسلام کے کہ اس نے اس امر پر بھی نہایت تشریح کے ساتھ روشنی ڈالی ہے اور علاوہ ان روحانی طریقوں کے بتانے کے جن کے ذریعہ انسان خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے انسان کو اس بات کی طرف بھی متوجہ فرمایا ہے کہ اسے اپنے نفس کے ساتھ کیسا معاملہ کرنا چاہئے اور یہ معاملہ ایسا ضروری اور زبردست ہے کہ اس پر روشنی ڈالے بغیر کوئی مذہب کامل نہیں ہو سکتا کیونکہ جب تک انسان کو یہ نہ بتایا جائے کہ وہ اپنے نفس سے کیسا معاملہ کرے تب تک اس کی کامل طور پر اصلاح نہیں ہو سکتی کیونکہ جسم کا روح پر بڑا اثر پڑتا ہے اور جسم کی مختلف حالتوں سے روح متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب کسی شخص کے جسم پر چوٹ آئے تو اس کی روح کو بھی اس سے سخت صدمہ پہنچتا ہے اور انسان کا دل مغموم ہو جاتا ہے اور بارہا ایسا ہوتا ہے کہ سخت چوٹ سے انسان کے حواس میں فرق آجاتا ہے اور کبھی سخت غم کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بدن گھلنے لگتا ہے اور انسان چند گھنٹوں کے اندر ضعیف ہو جاتا ہے چنانچہ

ایسے بہت سے واقعات ہوئے ہیں کہ کسی شخص کو کوئی سخت صدمہ پہنچا تو چند گھنٹوں یا چند دنوں کے اندر اس کے بال سفید ہو گئے۔ غرض ہمارا تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ جسم و روح کو خدائے تعالیٰ نے ایسا ایک دوسرے سے پیوستہ کیا ہے کہ ایک کا اثر دوسرے پر فوراً پڑتا ہے پس جب کہ جسم و روح کے قرب کی یہ حالت ہے تو ضرور ہے کہ جو حالت جسم کی ہوگی وہی حالت روحانی ترقیات کی ہوگی اور جو مذہب کہ انسان کو یہ نہیں بتاتا کہ اسے اپنے جسم کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہئے وہ درحقیقت انسان کو منجدھار دیتا ہے کہ تاکہ ہلاک ہو اور جو مذہب اس کے متعلق ادھوری تعلیم دیتا ہے وہ بھی کسی خاص حالت میں تو درست ہو سکتی ہے لیکن ہر انسان کے لئے نہیں بلکہ اغلب ہے کہ بہتوں کی ہلاکت کا باعث ہو چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مذاہب کی یہ تعلیم ہے کہ جسم کو جس قدر بھی دکھ دیا جائے اسی قدر روحانیت میں ترقی ہوتی ہے۔ اس تعلیم کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ ان کے پیروان اپنے پورے زور سے اپنی جسمانی طاقتوں کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسے ذرائع استعمال کرتے ہیں کہ جن کے ذریعہ سے وہ اپنے جسم کو بالکل تباہ کر دیں چنانچہ بعض لوگ گرمی کے دنوں میں ہر وقت آگ کا الاؤ لگا کر اس کے اندر بیٹھے رہتے ہیں اور اس طرح اپنے جسم کی تمام طاقتوں کو اپنے ہاتھوں سے زائل کر دیتے ہیں۔ اسی طرح سردی میں ٹھنڈے پانی میں کھڑے رہتے ہیں۔ بعض سورج کے نکلتے ہی اس کی طرف ٹکٹکی لگا کر کھڑے رہتے ہیں اور اس طرح اس منور دن کو جو خدائے تعالیٰ نے کام کرنے کے لئے پیدا کیا ہے ضائع کر دیتے ہیں بعض ہر وقت ٹانگیں اوپر کر کے اور سر نیچے کر کے لٹکے رہتے ہیں اور اسی کو بڑی خوبی خیال کرتے ہیں۔ بعض اپنے آپ کو خصی کرا کے انسانیت کے دائرہ سے باہر نکال دیتے ہیں۔ بعض نفس کشی کے نام سے ہر قسم کی طیبات سے پر ہیز کرتے ہیں اور کل لطیف غذائیں ترک کر دیتے ہیں اور اگر کوئی لطیف شئے کھاتے بھی ہیں تو اس کے اندر کچھ ایسی چیز ملا دیتے ہیں جیسے راکھ وغیرہ اور اس طرح اپنا نفس مارتے ہیں بعض لوگ ہر وقت خاموش رہتے ہیں اور اس طرح خدائے تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بعض نجاستیں کھا لیتے ہیں۔ بعض مردہ انسان کا گوشت کھاتے ہیں۔ بعض ہر روز روزہ رکھتے ہیں۔ بعض لوگ یہ نیت کر لیتے ہیں کہ ساری عمر شادی نہیں کریں گے اور بہت سے مرد اور عورتیں اپنی عمریں اسی طرح گزار دیتے ہیں۔ بعض لوگ نہانا اور ناخن کتروانا وغیرہ صفائی کے کام چھوڑ دیتے ہیں غرض اس قسم کے سینکڑوں کام ہیں جو مختلف مذاہب میں بتائے گئے ہیں اور انہیں پسند کیا جاتا ہے اور ان کے کرنے والوں کو خدائے تعالیٰ کا برگزیدہ اور پیارا انسان سمجھا جاتا ہے۔ لیکن درحقیقت یہ ایک ظلم ہے جو یہ لوگ اپنی جان سے کرتے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں جبکہ خدائے تعالیٰ نے ہاتھ پکڑنے کیلئے اور زبان بولنے کیلئے اور آنکھیں دیکھنے کیلئے اور پاؤں چلنے کیلئے دیئے ہیں اور یہ اعضاء اس کے انعامات میں سے ہیں۔ تو کیسا قابل ملامت ہے وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کو ضائع کر دیتا ہے اور ان کی قدر نہیں کرتا۔ ایسا شخص تو اللہ تعالیٰ کی ہتک کرتا ہے کیونکہ اس کی دی ہوئی نعمت کو حقارت سے پھینک دیتا ہے کہ میں نہیں لیتا اور خود اپنے نفس پر بھی ظلم ہے کہ اسے بے وجہ اور بے فائدہ ایسی تکالیف دی جاتی ہیں کہ جن کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسی طرح جو لوگ ساری عمر بغیر شادی کے رہنے کا عہد کرتے ہیں یا ان طاقتوں کو ضائع کر دیتے جن سے نسل انسانی چلتی ہے وہ اپنے نفوس پر ظلم کرتے ہیں کہ انہیں ان پاک جذبات سے روکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر رکھے تھے ایسے فعل کبھی خدائے تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ نہیں ہو سکتے کیونکہ جو اس کی نعمت کو رد کرتا ہے وہ کبھی اس کا پسندیدہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح جو لوگ طیبات کو چھوڑ دیتے ہیں یا نجاستوں کا استعمال کرتے ہیں وہ بھی اپنے نفس پر ایسا ظلم کرتے ہیں کہ جس کی کوئی انتہاء نہیں اور یہ سب لوگ اپنے آپ کو ایسے حالات میں ڈال دیتے ہیں کہ جن سے اکثر بجائے شیطان سے بچنے کے وہ شیطان کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں کیونکہ جو شخص اپنے جسم کو سخت صدمہ پہنچاتا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس کی روح کو بھی اس سے صدمہ پہنچ جائے گا اور یا تو اس کے دماغ میں بلادت پیدا ہو جائے گی کہ وہ باریک مسائل کو سمجھ ہی نہیں سکے گا اور یا جنون کا کوئی شعبہ اس کے اندر پیدا ہو جائے گا جس کی وجہ سے وہ ان انعامات سے قطعی محروم ہو جائے گا جو خدائے تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لئے مقرر ہیں۔ چنانچہ خدائے تعالیٰ کے جس قدر برگزیدے دنیا میں گزرے ہیں ان کی نسبت صحیح تواریخ سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ ان میں سے ایک نے بھی اپنی طاقتوں کو اس طرح ضائع کر دیا ہو۔ ہاں ممکن ہے کہ انہوں نے بعض لوگوں کے اندر جذبات کا سخت جوش دیکھ کر ان کے جوش کے کم کرنے کی وقتی ضرورت دیکھ کر ان کو بعض ایسی سخت ریاضتیں کرنے کا حکم دے دیا ہو؟ لیکن ایک عالمگیر مذہب میں کسی ایسی تعلیم کا گزر نہیں ہو سکتا کیونکہ اس تعلیم کا پھیلانا نوع انسان کو ان تمام ترقیات سے محروم کر دینا ہے جو وہ ان علوم کے ذریعہ سے کر رہی ہے جو خدائے تعالیٰ نے اسے عنایت فرمائے ہیں۔ ذرا

خیال تو کرو کہ اگر کسی ملک کے سب لوگ سب کچھ چھوڑ کر درختوں میں رسیاں ڈال کر الٹے لٹکنے لگ جائیں یا جنگل کاٹ کاٹ کر اپنے اردگرد آگ کے الاؤ لگا کر سب اس کے اندر بیٹھ جائیں یا سب مرد و عورت یہ عہد کر لیں کہ فلاں اوتار یا نبی کی خاطر ساری عمر مجرد رہیں گے اور نکاح نہ کریں گے تو اس قوم یا اس ملک کا کیا حشر ہو گا۔ کیا اس میں کوئی شک ہے کہ چند ہی سال میں وہ ملک برباد ہو جائے گا اور انسان کی بجائے درندے اس کے شہروں میں بسیرا کریں گے اگر اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ایسے جذبات نہ رکھے ہوئے ہوتے جو انسان کو ان ریاضتوں سے روکتے ہیں تو شاید بہت سی قومیں ایسے تجربوں کے ذریعہ ہلاک ہو جاتیں مگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی حفاظت کیلئے خود ان کے اندر ہی ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں جو اکثروں کو ہلاک ہونے سے بچا لیتے ہیں۔

علاوہ اس کے کہ انسان کا اپنے نفس سے وہ معاملہ کرنا جو اوپر بیان ہوا ایک ظلم عظیم ہے اور سوسائٹی کے حقوق کا اتلاف ہے بلکہ خدائے تعالیٰ کی نعمتوں کا رد کرنا ہے۔ اس قسم کی ریاضتوں کا یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ نفس انسانی ایسا کمزور ہو جاتا ہے کہ اس کے اندر بد خیالات کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رہتی چنانچہ یہ ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جب انسان کمزور ہو جاتا ہے تو وہ اپنے خیالات و توہمات کا جلد شکار ہو جاتا ہے پس ایسی ریاضتوں کے ذریعہ سے جسم کی طاقت کو توڑ دینے کا نتیجہ بہت دفعہ یہی نکلتا ہے کہ انسان بجائے گناہ سے بچنے کے گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے اور جس اژدہا سے بھاگنا چاہتا تھا اسی کے منہ میں چلا جاتا ہے اور جو لوگ اپنے آپ کو ان نعمائے سبکی روکنا چاہتے ہیں جو خدائے تعالیٰ نے انسان کے استعمال کے لئے پیدا کی ہیں وہ حلال ذرائع سے تو محروم ہو جاتے ہیں لیکن بہت دفعہ اپنے طبعی جوشوں سے مغلوب ہو کر حرام خوری اور حرام کاری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ غرض انسان کا اپنے جسم کو سخت مشقتوں میں ڈالنا اپنے آپ پر ظلم کرنا ہے اور اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا ہے اور ان قیمتی طاقتوں کا ضائع کرنا ہے جو خدائے تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اسے دین و دنیا کی ترقی کے لئے عطا فرمائی تھیں۔ پس جو مذہب اپنے پیروؤں کو اس قسم کی تعلیم دیتا ہے وہ تفریط سے کام لیتا ہے اور نفس کے حقوق کو بلا وجہ روک کر اسے ہلاکت کے گڑھے میں گرا دیتا ہے اور ایسا مذہب کسی خاص وقت میں کسی خاص قوم کے لئے تو ممکن ہے کہ مفید ہو لیکن دنیا کی ہدایت کے لئے وہ ہرگز کار آمد نہیں ہو سکتا۔

اس تفریط کے مقابلہ میں بعض مذاہب نے افراط سے کام لیا ہے اور انہوں نے جسمانی ریاضتوں کو سرے سے ہی مضر اور لغو قرار دیا ہے اور صاف کہہ دیا ہے کہ جسم کو کسی ریاضت میں ڈالنا بالکل لغو اور فضول ہے اور اس میں سوائے نقصان کے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ خدائے تعالیٰ کو کسی انسان کو تکلیف دینے یا اسے بھوکا پیاسا رکھنے سے کیا سروکار ہے اور اس عذر کے ماتحت انہوں نے تمام عبادات کو ترک کر دیا ہے۔ لیکن جس طرح ان مذاہب نے جنہوں نے نفس کو بلاوجہ دکھ میں ڈالنے اور تمام لذائذ و نعمائے بچنے کی ترغیب دی ہے نفس کے حق میں تفریط سے کام لیا ہے اسی طرح اس جماعت نے اس کے حق کی ادائیگی میں افراط سے کام لیا ہے۔ کیونکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جو لوگ طرح طرح کی دنیاوی لذتوں کے حصول میں مشغول رہتے ہیں اور ہر وقت اپنے جسم کی تربیت میں مشغول رہتے ہیں ان کا جسم اسقدر آرام طلب ہو جاتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں روح بھی سست ہو جاتی ہے اور ایسے لوگوں کا رفتہ رفتہ قلب بھی سیاہ ہو جاتا ہے کیونکہ جسم انسان کی روح کے ساتھ وہی تعلق رکھتا ہے جو کہ ایک میوہ کا قشر اس کے مغز سے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قشر خود مطلوب نہیں لیکن قشر کو جب مغز سے جدا کر دو گے تو وہ فوراً یا کچھ دیر کے بعد بالکل برباد ہو جائے گا اسی طرح اگر عبادات میں جسم کو بھی شامل نہ کیا جائے تو ایسی عبادات جلد فنا ہو جاتی ہیں اور ایسے لوگ جو عبادت کا تعلق صرف قلب کے متعلق سمجھ کر یہ خیال کرتے ہیں کہ صرف دل کی عبادت کافی ہے کچھ دنوں کے بعد دلی عبادت سے بھی محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ تھوڑے ہی عرصہ میں ان کی روح کی تازگی جاتی رہتی ہے اور سستی اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ اس طرح مرجھائی جاتی ہے جس طرح قشر سے الگ کیا ہوا مغز۔ اور اس بات کو اگر نظر انداز بھی کر دیا جائے تب بھی اس بات میں کوئی شک نہیں ہو سکتا کہ جس طرح انسان کی روح خدائے تعالیٰ کے احسان کے نیچے ہے اسی طرح اس کا جسم بھی ہے۔ پس روح اور جسم دونوں کو عبادت میں لگانا ہی انسان کو اس شکر گزاری کے فرض سے سبکدوش کر سکتا ہے جس کا بجالانا اس کے لئے نہایت ضروری ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ انسان کا جسم مثل ایک سواری کے گھوڑے کے ہے جس پر سوار ہو کر انسان اس زندگی کے سفر کو طے کرتا ہے اور اس کو جب تک ایسی حالت میں نہ رکھا جائے جس سے ایک تو یہ چست و چالاک ہو جائے اور دوسری طرف ایسے دُبلاپن سے محفوظ رہے کہ جس کا نتیجہ ہلاکت ہو تب تک کبھی انسان اپنے سفر زندگی کو عمدگی سے طے نہیں کر سکتا۔ کیا نہیں دیکھتے

کہ ہوشیار آقا کس طرح اپنے گھوڑے کو ایسا موٹا اور فربہ ہونے سے بچانے کی کوشش کرتا ہے کہ جس کا نتیجہ یہ ہو کہ وہ سفر کے ناقابل ہو جائے اسی طرح وہ اسے ایسا دبلا ہونے سے بھی بچاتا ہے کہ جس کا نتیجہ اس کی ہلاکت ہو۔ یہی حال جسم کا ہے جب تک اس کے متعلق دونوں باتوں کا خیال نہ رکھا جائے انسان کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا یعنی ایک طرف تو اس سے اس قدر ریاضت لی جائے کہ وہ بالکل دنیا کی طرف نہ جھک جائے اور ضرورت کے وقت خدائے تعالیٰ کے حکم کو بجالانے سے قاصر رہے اور دوسری طرف اسے اس قدر کمزور نہ کر دیا جائے کہ وہ اپنے دنیاوی فرائض سے بھی معذور ہو جائے اور قسم قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو جائے اور اپنی کمزور حالت سے روح کو بھی صدمہ پہنچائے پس جو مذہب انسان کو اپنے نفس سے اس قسم کا سلوک کرنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ یا وہ تفریط کی طرف چلا جاتا ہے یا افراط کی طرف وہ مذہب کامل نہیں کہلا سکتا اور نہ تمام دنیا کے لئے ایسا مذہب قابل عمل ہو سکتا ہے۔ اور وہی مذہب تمام دنیا کے لئے قابل عمل ہو سکتا ہے جو تمام انسانی ضروریات کو پورا کرنے والا ہو اور انسان کو ایسے راستہ پر چلائے جس پر چل کر وہ آسانی سے خدائے تعالیٰ تک پہنچ جائے اور باوجود اس بات کا اقرار کرنے کے کہ تمام مذاہب خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہی آئے ہیں میں یہ بات کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اگر کوئی مذہب اس مسئلہ پر کہ انسان کو اپنے نفس کے ساتھ کیسا معاملہ کرنا چاہئے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر اور کل طبائع کا خیال رکھ کر روشنی ڈالتا ہے تو وہ صرف اسلام ہی ہے۔ وہی ہے جو ایک طرف تو ایسے لوگوں کا خیال رکھتا ہے جو جسم کے نحیف اور صحت کے کمزور ہوتے ہیں تو دوسری طرف ان لوگوں کا علاج کرتا ہے جو اپنے جسم کی فربہی کی فکر میں اپنی روح کو بالکل بھلا دیتے ہیں چنانچہ قرآن کریم ایک قاعدہ کلیہ کے طور پر اس بارہ میں کہ انسان کو اپنے نفس سے کیسا معاملہ کرنا چاہئے یوں فرماتا ہے کہ

وَلَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ(البقرة : ۱۹۶) یعنی تم لوگ اپنے ہاتھوں سے اپنے نفس کو ہلاکت میں نہ ڈالاکرو یعنی عبادات میں یا کھانے پینے میں یا محنت و مشقت میں یا صفائی و طہارت میں کبھی کوئی ایسی راہ نہ اختیار کرو جس کا نتیجہ تمہاری صحت یا تمہاری عقل یا تمہارے اخلاق کے حق میں برا نکلے۔ تَہْلُکَۃ کا لفظ جو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے استعمال کیا ہے اس کے معنے کسی ایسے فعل کے ہوتے ہیں جس کا انجام ہلاکت ہو اس لفظ کے استعمال کرنے میں ایک بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ تَہْلُکَۃ کے اصل معنے ایسا کام کرنے کے ہیں جس کا نتیجہ برا نکلے۔ پس اس لفظ کے استعمال کرنے سے قرآن کریم نے اس طرف بھی اشارہ کر دیا ہے کہ اسلام دین یا عزت یا تمدن کی حفاظت کے لئے انسان کو اپنی جان خطرہ میں ڈال دینے سے نہیں روکتا بلکہ ایسے کاموں سے روکتا ہے جن کا کوئی نیک نتیجہ برآمد ہونے کی امید نہ ہو اور جن میں انسان کی جان یا کسی اور مفید شئے کے بلاوجہ برباد ہونے کا خطرہ ہو۔ یہ تو ایک عام حکم ہے جس میں اصولاً انسان کو بتایا گیا ہے کہ اسے اپنے نفس سے کیسا معاملہ کرنا چاہئے لیکن اس کے علاوہ قرآن کریم و احادیث میں اس کے متعلق بہت سی تفاصیل بھی پائی جاتی ہیں چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ انسان کے کھانے اور پینے کے متعلق فرماتا ہے یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَاذَاۤ اُحِلَّ لَہُمۡ ؕ قُلۡ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ(المائدۃ: ۵) یعنی لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کو کون کونسی اشیاء کھانے کی اجازت ہے تو اس کے جواب میں کہہ دے کہ ہر ایک چیز جو تمہارے جسم یا تمہاری عقل یا تمہارے اخلاق یا تمہارے دین کے لئے مضر نہیں وہ تمہارے لئے حلال ہے بےشک اس کا استعمال کرو۔ اسی طرح ایک دوسری جگہ فرماتا ہے کہ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ(المائدۃ: ۸۸) یعنی اے مؤمنو! جو پاک اشیاء (جو کسی طرح بھی تمہارے لئے مضر نہیں) حلال کی گئی ہیں ان کو اپنے نفس پر کبھی حرام نہ کرو یعنی کبھی اپنے نفس سے عہد نہ کرو کہ فلاں چیز جو صحتِ بدن و سلامتیِ عقل و درستیِ اخلاق و حفاظتِ دین میں سے کسی شئے کے لئے بھی مضر نہیں صرف نفس کشی کے لئے ہم اپنے نفس پر حرام کرتے ہیں۔ اور اس کے علاوہ یہ بات بھی یاد رکھو کہ اگر ایک طرف تم کو ان چیزوں کو اپنے نفس پر حرام کرنے کی اجازت نہیں تو دوسری طرف اس بات کی بھی اجازت نہیں کہ تم اپنے نفس کو بس کھانے پینے ہی میں لگا دو اور دیگر فرائض کو بھول جاؤ۔ اگر ایسا کرو گے تو یہ فعل تمہارا حد سے نکلا ہوا ہو گا اور اللہ تعالیٰ حد سے بڑھ جانے اور ایک طرف ہی جھک جانے کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ اس آیت پر غور کرو کہ کھانے پینے کے متعلق کس طرح ایک طرف تو بلاوجہ اپنے نفس کو طیب اور پاک اشیاء سے محروم رکھنے سے منع کیا ہے اور دوسری طرف بالکل جسم کی پرورش میں ہی مشغول ہو جانے سے روکا ہے۔ کیا یہی وہ تعلیم نہیں کہ جو ہر ایک طبیعت اور ہر ایک ملک اور ہر ایک زمانہ اور ہر ایک ضعیف یا قوی انسان کے مناسب حال ہے پھر کیا اسلام کے سوا کوئی اور بھی مذہب ہے جس نے اس رنگ میں انسان کی ہدایت کی ہو۔ اگر نہیں تو کیا اس امر سے یہ بات پوری طرح ثابت نہیں ہو جاتی کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جو اس وقت

خدائے تعالیٰ تک انسان کو پہنچا سکتا ہے اور جس کی تعلیم تمام بنی نوع انسان کو ہدایت دے سکتی ہے۔ مذکورہ بالا آیت کے علاوہ ایک اور آیت بھی کھانے پینے کے متعلق قرآن کریم میں آتی ہے اور وہ یہ ہے وَّکُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا وَلَا تُسۡرِفُوۡا(الاعراف: ۳۲)۔ یعنی کھاؤ اور پیو لیکن کھانے اور پینے میں اسراف نہ کرو یعنی ایسا نہ ہو کہ اپنی زندگی عمدہ کھانوں اور ٹھنڈے شربتوں کے لئے وقف کر دو بلکہ ضرورت کے مطابق ہر طیب چیز بے شک استعمال کرو۔ کھانے پینے اور باقی زینت اور آرام کی اشیاء کے لئے جو انسان اپنے آرام کے لئے استعمال کرتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ(الاعراف: ۳۳) یعنی کہہ کہ کس نے حرام کی ہیں وہ زینت کی اشیاء جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہیں اسی طرح کس نے طیب رزق حرام کئے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب خدائے تعالیٰ نے کچھ اشیاء بطور زینت پیدا کی ہیں تو پھر کس کی طاقت ہے کہ ان اشیاء کو کوئی استعمال نہ کرے اگر ان کا استعمال کرنا نا جائز تھا تو پھر خدائے تعالیٰ نے انہیں پیدا کیوں کیا؟

اسی طرح عبادت کے متعلق رسول کریم ﷺ نے تاکید فرمائی ہے کہ اتنی عبادت کرو جس پر نفس راضی ہو اور جب نفس میں ملال پیدا ہونے لگے اسی وقت چھوڑ دو اور آپ کی نسبت یہ روایت ہے کہ آپ ایک دفعہ مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں ایک رسی لٹکی ہوئی دیکھی۔ آپؐ نے دریافت کیا کہ یہ کیسی رسی ہے تو لوگوں نے جواب دیا کہ ام المؤمنین زینبؓ نے اس لئے لٹکوائی ہے کہ جب وہ نماز میں مشغول ہوتی ہیں تو کبھی سخت نیند آئے تو اس پر سہارا لے لیتی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اس رسی کو ابھی کھول دو۔ (بخاری کتاب التهجد باب ما يكره من التشديد فی العبادة) ایسی عبادت کی اجازت نہیں۔ اسی طرح روزوں کے متعلق عبداللہ بن عمرؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اطلاع ملی کہ انہوں نے کہا ہے کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا تو اس پر آپ نے ان کو بلا کر فرمایا کہ یہ درست نہیں اور آخر ان کے بہت اصرار کرنے پر اس بات کی اجازت دی کہ ایک دن روزہ رکھ لیں اور ایک دن افطار کریں اور جب انہوں نے کہا کہ میں اس سے بھی بہتر روزوں کی طاقت رکھتا ہوں یعنی میں اس سے زیادہ برداشت کر سکتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ اس سے بہتر کوئی روزہ نہیں یعنی اگر اس سے زیادہ کوئی انسان رکھے گا تو اس کی صحت کو صدمہ پہنچے گا اور نتیجہ اچھا نہ نکلے گا۔ غرض آپؐ نے آخر میں یہ کہہ کر ان کو رخصت کیا کہ اے عبداللہ تیرے جسم کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری آنکھ کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔ (بخاری کتاب الصیام باب صوم الدهر)

اسی طرح جسم کے بعض اعضاء کے ضائع کرنے کی نسبت حدیث میں آتا ہے کہ جب بعض صحابہؓ نے ساری عمر مجرد رہنے کیلئے یہ تجویز کی کہ وہ اپنے آپ کو خصی کر لیں تو رسول کریم ﷺ نے ان کو منع فرمایا اور شادی نہ کرنے کے خیال کو بھی رسول کریم ﷺ نے ناپسند فرمایا ہے چنانچہ آپؐ فرماتے ہیں کہ لَا رَهْبَانِيَّةَ فِي الْإِسْلَامِ(المبسوط سرخسی جلد ۱۰ صفحہ ۱۱۱) اسلام میں رہبانیت نہیں یعنی اسلام مسیحوں کی طرح مانکس (Monks) اور ننز (Nuns) بننے کی اجازت نہیں دیتا۔

پچھلے تمام حوالہ جات سے آپ لوگوں نے سمجھ لیا ہو گا کہ اسلام نے کس طرح شفقت علیٰ خلق اللہ کے اس حصہ کے متعلق بھی کامل اور مکمل تعلیم دی ہے اور کس طرح افراط و تفریط سے اجتناب کر کے میانہ روی کی طرف مسلمانوں کو متوجہ کیا ہے اور ایسے احکام دیئے ہیں جو ہر زمانہ اور ہر ملک میں جاری ہو سکتے ہیں اور اگر ایک طرف جسم انسانی کو روح کا شریک حال کرنے کے لئے بلکہ روحانی طاقت کو بڑھانے کے لئے جسم کو بھی ریاضت اور عبادت میں شریک کیا ہے تو دوسری طرف اس کی تربیت کی ہے اور اس کی ضروریات کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے اور اسلام نے تو یہاں تک صحت انسانی کا خیال رکھا ہے کہ ان مختصر سی عبادات میں بھی جو مسلمانوں کے لئے مقرر کی ہیں بیماری اور سفر کی حالت میں بہت کچھ سہولت رکھ دی ہے تاکہ کسی انسان پر وہ بوجھ نہ ہوں اور کسی کی طبعی قوتیں اور استعدادیں اس سے تباہ نہ ہو جائیں۔ پس اس حصہ شریعت کے متعلق بھی صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو ایسی کامل تعلیم پیش کرتا ہے جس پر تمام دنیا کے انسان عمل کر سکتے ہیں۔

دوسرے انسانوں سے سلوک

دوسرا حصہ شفقت علیٰ خلق اللہ کا وہ تعلیم ہوتی ہے جو کسی مذہب نے اپنے پیروؤں کو اپنے سوا دوسرے بنی نوع انسان سے سلوک کے متعلق دی ہوتی ہے۔ پس پہلے حصہ سے فارغ ہو کر ہم اس حصہ کے متعلق کچھ بیان کرتے ہیں تا معلوم ہو کہ اس میدان میں بھی اسلام ہی دیگر ادیان پر غالب ہے مگر پیشتر اس کے کہ اس حصہ کے متعلق ہم کچھ تفصیل وار بیان کریں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تمام بنی نوع انسان سے سلوک کرنے کے متعلق جو تعلیم اجمالی طور پر قرآن کریم میں مذکور ہے پہلے بیان کر دی جائے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ(16:91) وَالۡاِحۡسَانِ وَاِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی وَیَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡکَرِ وَالۡبَغۡیِ ۚ یَعِظُکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ(النحل: ۹۱) یعنی اللہ تعالیٰ تم کو عدل اور احسان اور ایتاء ذی القربیٰ کا حکم دیتا ہے اور تم کو فحشاء اور منکر اور بغاوت سے روکتا ہے وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے تا تم اپنی اصلاح کر لو۔ اس آیت میں خدائے تعالیٰ نے ہر ایک مسلمان کو تین باتوں کا حکم دیا ہے اور تین باتوں سے روکا ہے۔ گویا ایک حکم کے مقابلہ میں ایک نہی ہے اور ہر ایک نیکی جس کے کرنے کا حکم دیا ہے اس کے مقابل کی بدی کو بھی بیان کر دیا ہے کہ اس سے تم کو بچنا چاہئے۔ پہلا زینہ جس پر ایک مؤمن کو چڑھنے کا حکم دیا ہے وہ عدل کا زینہ ہے یعنی کسی کی حق تلفی نہ کرے۔ اگر کسی کے ہاں ملازم ہے تو اس کا کام دیانت سے کرے جتنی تنخواہ لیتا ہے اس کے مطابق حسب معاہدہ کام بھی کرے اگر مزدور ہے تو محنت سے اپنا وقت اس شخص کے کام میں صرف کرے جس نے اس کو لگایا ہے اگر کسی کا کوئی روپیہ دینا ہے تو اسے ادا کرے اگر کسی کا کوئی اور حق ادا کرنا ہے تو دیانت سے ادا کرے۔ غرض اپنے ہر ایک فعل میں عدل سے کام لے اور کسی کی حق تلفی نہ کرے پورا پورا حق ادا کر دے۔ اس کے بعد فرمایا کہ عدل کے زینہ پر جب مؤمن چڑھ جائے تو پھر اسے چاہئے کہ احسان کے زینہ پر قدم رکھے یعنی نہ صرف اسے اس بات کا خیال رہے کہ میں ہر ایک شخص کے حقوق پورے پورے ادا کر دوں بلکہ اب اس کی ایمانی حالت اس درجہ تک ترقی پا جائے کہ وہ لوگوں کے حقوق ادا کر کے اپنی طرف سے بھی کچھ بطور احسان ان کو دے اور لوگوں کے ساتھ عدل کرنا تو اس کے لئے ایسا ہو جائے جیسے ایک معمولی بات ہے اور اس کو اب اسی بات کی فکر رہے کہ میں اپنی طاقت، اپنی قوت، اپنے مال، اپنی دولت، اپنی عزت، اپنی وجاہت سے کس طرح لوگوں کو فائدہ پہنچاؤں اور جب وہ اس درجہ کو بھی پالے تو ایک مسلمان کو چاہئے کہ اس سے بھی بلند ہو اور احسان کرنا بھی اس کی نظر میں ادنیٰ ہو جائے اور وہ ایتاء ذی القربیٰ کا درجہ حاصل کر کے جو احسان سے بہت بڑا درجہ ہے۔ اور احسان میں اور ایتاء ذی القربیٰ میں یہ فرق ہے کہ احسان ایک آدمی دوسرے آدمی سے بعض حالات کے ماتحت کرتا ہے یعنی کسی کو تکلیف میں دیکھا اور اس پر رحم آگیا تو اس پر احسان کر دیا۔ کسی نے کبھی پہلے کوئی سلوک کیا ہوا ہو تو اس کا بدلہ اتار کر اس کے احسان کو یاد کر کے اس کے ساتھ کچھ مروت کر دی غرض عام احسان کا محرک ہمیشہ رحم یا شفقت ہوتی ہے لیکن ایتاء ذی القربیٰ یعنی قریبیوں کو دینا رحم و شفقت کا نتیجہ نہیں ہوتا ایک ماں اپنے بچہ کی خدمت کرتی ہے اور اس کی ناز برداریاں کرتی ہے نہ اس لئے کہ اس کی حالت زار دیکھتی ہے یا اسے مصیبت میں پاتی ہے بلکہ صرف اس لئے کہ وہ اس کے جگر کا ٹکڑا ہے اور اس کا بیٹا ہے۔ بارہا اولاد امیر ہوتی ہے اور ماں باپ غریب ہوتے ہیں تو وہ اسی طرح اپنی اولاد کے ساتھ اپنے محدود ذرائع سے سلوک کرتے رہتے ہیں جیسا کہ ایک امیر ماں باپ اپنی حیثیت کے مطابق اپنی اولاد سے سلوک کرتے ہیں پس ماں باپ کا سلوک نہ تو انعام کی خواہش پر ہوتا ہے نہ کسی پہلے احسان کے بدلہ میں نہ مصیبت یا دکھ کا نظارہ دیکھ کر رحم کے جوش کی وجہ سے بلکہ ان کا سلوک ان تمام باتوں سے پاک ہوتا ہے اور صرف محبت اس کا باعث اور محرک ہوتی ہے۔ پس وَاِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی(16:91) یعنی ایسا دینا جیسا کہ قریبی رشتہ دار دیتے ہیں عام احسان سے زیادہ اعلیٰ درجہ کا احسان ہوتا ہے اور اسی درجہ کی طرف اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ ایک مؤمن کو صرف احسان کے درجہ پر کھڑا نہیں ہو جانا چاہئے بلکہ اسے چاہئے کہ وہ آگے بڑھے اور اپنے اندر بنی نوع انسان کی ایسی محبت پیدا کرے جیسی محبت کہ مہربان باپ اور محبت کرنے والی ماں اپنے بچہ سے رکھتے ہیں اور ان سے بلا امتیاز امارت و غربت نیک سلوک کرے اور کسی وقتی جوش کے ماتحت ان سے تعلق نہ ہو۔ اسی طرح ان تین نیکیوں کے حاصل کرنے کے ساتھ ہی وہ تین بدیاں بھی ترک کرے یعنی ان بدیوں کو بھی ترک کر دے جو اس کی اپنی ذات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور ان کو بھی جو ہیں تو اس کی ذات کے ہی متعلق مگر ایسی ہیں کہ لوگ بھی ان سے واقف ہوتے ہیں اور انہیں ناپسند کرتے ہیں اور وہ بدیاں بھی چھوڑ دے جن میں دوسرے لوگوں کے حقوق کو نقصان پہنچتا ہے یا کسی حکومت کے انتظام میں ان سے خلل آتا ہے اور ان دونوں حکموں کو ملا کر گویا شفقت علیٰ خلق اللہ کے تمام مدارج کو پورا کر دیا کیوں کہ شفقت دو ہی قسم پر منقسم ہوتی ہے اول ایصالِ خیر دوم دفعِ شر اور اس آیت میں دونوں قسموں کو بتمام و کمال بیان کر دیا گیا ہے یعنی ایک مسلم کو لوگوں سے نیکی تو اتنی کرنی چاہئے کہ عدل سے ترقی کرتے کرتے وہ اس حد تک پہنچ جائے کہ لوگوں کے ساتھ ایسی محبت کے ساتھ معاملہ کرے اور بلا امتیاز ان پر اس طرح احسان کرے جس طرح ماں باپ بچہ پر کرتے ہیں اور بدی سے بھی اس قدر دور رہنا چاہئے کہ خطرناک بغاوتوں اور شرارتوں کو چھوڑتے چھوڑتے اس حد تک پہنچ جائے کہ ان بدیوں کو بھی چھوڑے جو صرف ان کے نفس کے اندر مخفی ہیں کیونکہ نہ معلوم کسی نامعلوم رنگ میں ان سے ہی کسی کو نقصان پہنچ جائے غرض شفقت علیٰ خلق اللہ کے دونوں پہلوؤں یعنی ایصالِ خیر اور دفعِ شر کے تمام مدارج کو اس آیت میں بیان کر دیا گیا ہے اور اس سے بڑھ کر نہ کوئی اور درجہ شفقت علیٰ خلق اللہ کا ہے جو انسان حاصل کر سکے اور نہ کوئی باریک بدی ہے جسے انسان چھوڑ سکے پس شفقت علیٰ خلق اللہ کے متعلق اس تعلیم سے بڑھ کر کوئی مذہب کوئی اور تعلیم پیش ہی نہیں کر سکتا کیونکہ جو آخری مقام ہے اس پر اسلام کھڑا ہے اور اس سے اوپر جانے کی انسان کے لئے گنجائش نہیں اور بڑھ کر تو کسی نے کیا پیش کرنی ہے ہم دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ اس تعلیم کے برابر بھی کوئی اور مذہب کوئی تعلیم پیش نہیں کر سکتا۔ اسلام نے شفقت علیٰ خلق اللہ کے متعلق جو تعلیم اجمالی طور پر دی ہے اس کے بیان کرنے کے بعد میں اب وہ تعلیم پیش کرتا ہوں کہ جو تفصیلی طور پر شفقت علیٰ خلق اللہ کے متعلق اسلام اپنے پیروؤں کو دیتا ہے اور سب سے پہلے وہ تعلیم بیان کرتا ہوں جو رشتہ داروں کے متعلق اسلام دیتا ہے۔

والدین سے تعلق

بنی نوع انسان میں سے دنیاوی تعلقات کے لحاظ سے سب سے بڑا تعلق انسان کو اپنے والدین سے ہوتا ہے کہ ان کو خدائے تعالیٰ نے اس کے دنیا میں لانے کا ذریعہ بنایا ہے۔ والدین کی محبت جیسی پاک اور بے غرض ہوتی ہے اس کی نظیر دنیا میں بہت کم ملتی ہے۔ وہ اس وقت بچہ کی خبر گیری کرتے ہیں جب اسے اپنے وجود کی بھی خبر نہیں ہوتی اور وہ اپنی زندگی کے قیام کے لئے کوئی تدبیر نہیں کر سکتا ایسی حالت میں جن تکالیف سے وہ ان کی پرورش کرتے ہیں اسے صرف والدین ہی سمجھ سکتے ہیں دوسرا انسان اس کا خیال بھی نہیں کر سکتا اور یہی وجہ ہے کہ والدین جس محبت سے بچہ کی خبرگیری کرتے ہیں بچہ اس کا عشر عشیر بھی ادا نہیں کر سکتا اور بہت کم بچے ایسے ملیں گے جو اس احسان کا پورا بدلہ دے سکیں جو ان پر ان کے والدین نے کیا ہوتا ہے اسی وجہ سے اسلام نے ان کی فرمانبرداری کرنے کا سخت حکم دیا ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَبِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنۡہَرۡہُمَا وَقُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا وَاخۡفِضۡ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحۡمَۃِ وَقُلۡ رَّبِّ ارۡحَمۡہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا(بنی اسرائیل: ۲۴-۲۵) یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ احسان کا معاملہ کرو اگر ماں باپ میں سے ایک یا دونوں تمہارے جوان ہونے پر بوڑھے ہو جائیں تو ان کو اُف تک نہ کہو اور کبھی ان سے سختی سے کلام نہ کرو بلکہ جب ان سے بات کرو تو ادب و احترام کو مدّنظر رکھو اور ان کے آرام و آسائش کے لئے کمالِ رحم کے ساتھ اپنی خدمت کے بازو ان کے سامنے بچھا دو اور باوجود اس سلوک کے یہی سمجھو کہ تم نے ان کی خدمت کا حق پورے طور پر ادا نہیں کیا اس لئے خدا تعالیٰ کے حضور میں دعا کرتے رہو کہ الٰہی! میں تو ان کے احسانات کا بدلہ بھی نہیں دے سکتا پس تُو ہی ہماری طرف سے ان کا متکفل ہو جا اور جس طرح انہوں نے اس وقت کہ ہم بے بس و بے کس تھے ہماری مدد کی تُو بھی اس دن کہ یہ بے بس و بے کس ہوں اسی محبت اور پیار کے ساتھ ان سے معاملہ کیجیو۔ یہ وہ بے نظیر تعلیم ہے جو اسلام والدین کے حق میں دیتا ہے اور دنیا کا کونسا مذہب ہے جو اس کے مقابلہ میں اپنی تعلیم کو پیش کر سکے اس میں کوئی شک نہیں کہ سب مذاہب اپنے اندر خوبیاں رکھتے ہیں اور چونکہ وہ خدائے تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں اس لئے ان کے اندر بہت سی صداقتیں موجود ہیں۔ لیکن والدین کے متعلق وہ افراط و تفریط سے خالی اور کامل تعلیم جو اسلام پیش کرتا ہے اور کسی مذہب میں نہیں پائی جاتی۔ کس طرح ایک ہی آیت میں اول تو یہ بتایا ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی ہوتی ہے اور والدین کے احسان بھی اس کے مقابلہ میں ہیچ ہوتے ہیں پس تم ہرگز اس مذہب کی پیروی نہ کرو جو والدین کے حقوق کی ادائیگی میں اس قدر افراط سے کام لیتا ہے کہ ان کے آگے سجدہ کرنا اور عبادت کی شرائط بجا لانے کو جائز قرار دیتا ہے کیونکہ یہ کام حد سے بڑھا ہوا ہے اور والدین کی تکریم کرتے ہوئے اس میں اس حقیقی محسن کی ہتک کی گئی ہے کہ جو اس احسان کا بھی خالق ہے جو والدین انسان پر کرتے ہیں۔ دوسری بات اس آیت میں یہ بتائی ہے کہ والدین کی عبادت تو نہیں کرنی لیکن ان کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنا ہے یہ وہ تعلیم ہے کہ جس کے مقابلہ میں اور کوئی مذہب کھڑا نہیں ہو سکتا کیونکہ دیگر مذاہب صرف یہ کہتے ہیں کہ تُو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کر اور ان کی خدمت کر لیکن اسلام صرف یہی نہیں کہتا توؔ ان سے نیک سلوک کر بلکہ اسلام یہ کہتا ہے کہ تُو ان سے احسان کرنے کی کوشش کر اور احسان اس خدمت یا اس انعام کو کہتے ہیں جو دوسرے کی خدمت یا انعام سے زائد ہو۔ ایک مزدور اگر کسی شخص کی مزدوری کرتا ہے اور وہ دوسرے وقت میں اسے اس کا حق ادا کر دیتا ہے تو وہ ہرگز اس کا محسن نہیں کہلاتا محسن وہ کہلاتا ہے جو اس کے حق سے زیادہ بدلہ اس کو دے۔ پس اسلام نے والدین کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ تُو ان سے نیک سلوک کر کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اپنے

والدین سے نیک سلوک کرے لیکن اس کا نیک سلوک اس سلوک کی حد کو بھی نہ پہنچے جو والدین نے اس سے کیا تھا پس ایسے شخص کا سلوک نیک تو کہلائے گا لیکن وہ ان کا محسن نہیں کہلا سکتا محسن وہ تبھی کہلا سکتا ہے جب ان کے سلوک سے بڑھ کر محبت کا سلوک کرے اور والدین کے سلوک کو مدّنظر رکھتے ہوئے۔ دیکھو کہ اسلام نے والدین کے حق میں کیسی شاندار تعلیم دی ہے اور کیا کوئی اور بھی مذہب ہے جس نے اس رنگ میں والدین کے ساتھ سلوک کو بیان کیا ہو کہ ایک طرف تو افراط کو روکا ہو اور ایک طرف تفریط کو۔ ایک طرف تو عبادت سے منع کر کے خدائے تعالیٰ کی شان کا لحاظ فرمایا اور دوسری طرف ان مذاہب کی تردید کر دی جو بیوی کا تو لحاظ کرتے ہیں لیکن والدین کی نسبت کوئی حکم نہیں دیتے اور بیاہ کے بعد بیوی کو ہی تمام تر توجہ کا مستحق قرار دیتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ اگر والدین بوڑھے ہو جائیں تو ان کو اُف تک بھی نہ کہو کہ فلاں کام تمہارا ہم ناپسند کرتے ہیں۔ بوڑھے ہو جانے کی شرط اس لئے لگائی گئی ہے کہ اول تو جب والدین خود کام کے قابل ہوں تو وہ اپنی اولاد پر بوجھ نہیں ڈالتے۔ دوم جب انسان بوڑھا ہو جاتا ہے تو بوجہ بیدست و پا ہونے کے اور مختلف قسم کی بیماریوں اور ضعفوں کے پیدا ہو جانے کے اس کا مزاج چڑچڑا ہو جاتا ہے پس فرمایا کہ اس حالت میں بھی کہ جب وہ نہایت چڑچڑے اور تُرش رو ہو جائیں اور ان کی حرکات برداشت سے باہر ہوتی جائیں تم کو چاہئے کہ ان کی کسی حرکت پر اظہارِ ناراضگی نہ کرو بلکہ (ان کی خواہش) اگر پوری کر سکتے ہو تو کر دو اور اگر پوری نہیں کر سکتے تو بڑی نرمی سے عرض کر دو کہ یہ بات ہماری طاقت سے باہر ہے اور جب ان سے کلام کرو تو نہایت ادب کے ساتھ کرو اور ان کے سامنے ایسے نرم ہو جاؤ کہ گویا رحمت کے مارے تم ان کے سامنے بچھے جاتے ہو اور پھر اسی پر بس نہ کرو بلکہ ان کے لئے دعائیں کرتے رہو کہ ان کی خدمت میں جو کچھ کوتاہی ہم سے ہوتی ہے اس کا بدلہ خدائے تعالیٰ اپنے پاس سے ان کو دے۔ یہ تو وہ سلوک ہے جس کا حکم اسلام نے اولاد کو اس حالت میں دیا ہے جب وہ زندہ ہو لیکن اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے والدین زندہ ہوں تو پھر بھی والدین کو نہیں بھلایا اور نہ ان کے حقوق کی نگہداشت میں دوسرے رشتہ داروں کو بھلا دیا ہے۔ نہ تو اسلام نے بعض مذاہب کی طرح یہ حکم دیا ہے کہ اولاد کا سب مال والدین کو دے دیا جائے کیونکہ اس طرح کئی اور رشتہ داروں کی کہ وہ بھی رحم کے مستحق ہوتے ہیں حق تلفی ہے مثلاً اگر اس کی بیوی ہو اور چھوٹے چھوٹے بچے ہوں تو وہ اس حکم کے ماتحت بالکل بے دست و پارہ جاتے ہیں۔ اور نہ اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ والدین کو بالکل محروم رکھا جائے جیسا کہ بعض دیگر مذاہب کی تعلیم ہے بلکہ اسلام نے ان دونوں تعلیموں کے خلاف ایک میانہ راہ اختیار کی ہے اور وہ یہ کہ مرنے والے کے مال کے ایک حصہ کا وارث والدین کو قرار دیا ہے یعنی اگر اس کی اولاد ہو تو چھٹا چھٹا حصہ والدین کو دیا جائے اور اگر اولاد نہ ہو تو تیسرا حصہ والدہ کو اور باقی کُل والد کو لیکن یہ صورت خاوند یا بیوی کے موجود ہونے کے ان کا حصہ نکال کر باقی اس کو ملے گا۔

ماں باپ کا اولاد سے سلوک

والدین سے جس سلوک کا اولاد کو حکم دیا ہے اسے تو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں اب دوسرے نمبر پر اس سلوک کا ذکر کرتے ہیں جس کا حکم والدین کو ان کی اولاد کے متعلق دیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین کے دل میں اپنی اولاد سے طبعاً محبت ہوتی ہے اور انہیں اپنی اولاد سے نیک معاملہ کرنے کے متعلق کسی خاص حکم کی بظاہر ضرورت نہیں معلوم ہوتی لیکن تاریخِ عالم ہمیں بتاتی ہے کہ اصل واقعہ یوں نہیں بلکہ باوجود اس فطرتی محبت کے جو والدین کو اپنی اولاد سے ہوتی ہے کئی وجہ سے اس بات کی ضرورت ہے کہ والدین کو بھی اس بات کی ہدایت کی جائے کہ اپنی اولاد سے کیا سلوک کریں اور مختلف مذاہب کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس تعلیم سے خالی ہونے کی وجہ سے ان کے پیروان کو سخت دقتیں پیش آئی ہیں۔ سوائے ایک ورثہ کے کہ اس کی ضرورت ہر ایک گھر میں پیش آتی تھی باقی امور کے متعلق دیگر مذاہب بالکل خاموش ہیں اور نہیں بتاتے کہ والدین کو اپنی اولاد سے کیسا معاملہ کرنا چاہئے۔ لیکن اسلام چونکہ کامل اور آخری مذہب ہے اور تمام بنی نوع انسان کے لئے آیا ہے کہ اس نقص سے خالی ہے کیونکہ وہ ایسے زمانہ میں آیا جب بنی نوع انسان کی حالت چاہتی تھی کہ ان کو ایک ایسی شریعت دی جائے جو ہر رنگ میں کامل ہو اور جس میں انسانی معاملات کے تمام پہلوؤں کا لحاظ رکھا جائے۔ اسلام سے جو پہلے مذاہب ہیں ان کو صرف اسی قدر تعلیم کی ضرورت تھی جو اس وقت کی ضروریات کے لئے کافی ہو اور جس کے ذریعے اس وقت کے لوگوں کو اس کامل شریعت کے قبول کرنے کے لئے تیار کیا جائے جو بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے روزِ ازل سے مقدر تھی۔

اولاد کا قتل

مختلف ممالک میں کسی نہ کسی سبب سے اولاد کے قتل کر دینے کا رواج تھا اور بعض لوگ لڑکیوں کو اس لئے قتل کر دیتے تھے کہ وہ کسی اور گھر میں بیاہی جائیں گی اور اس میں ہماری ہتک ہے۔ بعض اس خوف سے کہ کہیں بڑی ہو کر وہ کوئی گناہ نہ کر بیٹھیں اور اس میں ہماری ذلت ہو ان کو قتل کر دیتے بعض بوجہ غربت کے بچوں کو ضائع کر دیتے کہ ان کو کھانا کون کھلائے گا۔ چنانچہ ان دنوں میں کہ تعلیم گراں ہے بہت سے لوگ یورپ و امریکہ و ایشیاء کے ایسے ہیں جو ایسی تدابیر اختیار کرتے ہیں کہ جن سے اولاد نہ ہو اور یہ بھی ایک قسم اولاد کے ضائع کر دینے کی ہے۔ جب ان سے پوچھا جائے تو کہتے ہیں کہ اس وقت تعلیم نہایت گراں ہے اولاد زیادہ ہوئی تو ان کو تعلیم دلانا مشکل ہوگا۔ اسلام نے اس فعل کو سخت ناپسند فرمایا ہے اور فرماتا ہے کہ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَۃُ سُئِلَتۡ بِاَیِّ ذَنۡۢبٍ قُتِلَتۡ(التکویر: ۹، ۱۰) جو لوگ اپنی لڑکیوں کو زندہ گاڑ دیتے ہیں ان سے سوال کیا جائے گا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا اور کس گناہ کی سزا میں کیا۔ اسی طرح فرماتا ہے وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَکُمۡ خَشۡیَۃَ اِمۡلَاقٍ ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُہُمۡ وَاِیَّاکُمۡ ؕ اِنَّ قَتۡلَہُمۡ کَانَ خِطۡاً کَبِیۡرًا(بنی اسرائیل: ۳۲) یعنی اپنی اولاد کو اس ڈر سے نہ قتل کر دیا کرو کہ ہمارے مال ان کی تربیت اور تعلیم اور کھلانے اور پلانے پر خرچ ہوں گے کیونکہ تم کو بھی جو کچھ ملتا ہے ہمارے خزانہ سے ملتا ہے اور ان کو بھی ہم ہی دیں گے اور پھر اس شک کو دور کرنے کے لئے کہ کیا صرف مال کے فنا ہو جانے کے ڈر سے اولاد کو مارنا منع ہے یا اس کا کوئی اور باعث بھی ہو تب بھی منع ہے فرمایا کہ اِنَّ قَتۡلَہُمۡ کَانَ خِطۡاً کَبِیۡرًا(17:32) اولاد کا مارنا ہی بڑا گناہ تھا یعنی مال کے فنا ہو جانے کے ڈر سے مارنا ہی گناہ نہیں بلکہ منع کرنے کا اصل باعث یہی ہے کہ اولاد کا قتل کرنا خواہ وہ کسی باعث سے ہو گناہ اور برا کام ہے اور اوپر جو وجہ بتائی گئی ہے صرف بطور ایک مثال کے ہے۔

یہ تو اولاد کو قتل کرنے کے متعلق اسلام کی تعلیم ہے اس کے بعد وہ تعلیم ہے جس میں اولاد کی تعلیم و تربیت کے متعلق احکام ہیں۔ پہلا حکم ان کی ولایت کے متعلق ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ اولاد کی کفالت والد کے ذمہ ہے اور اس طرح اولاد کو اس تباہی سے بچالیا گیا ہے جو اس وقت ان کو پیش آتی ہے جب بعض دفعہ والدین میں لڑائی ہو جانے کی وجہ سے بعض والد اولاد کا خرچ اس لئے ادا کرنے سے پہلو تہی کرتے ہیں کہ وہ اس والدہ کے بچے ہیں جس سے وہ ناراض ہیں۔ اس حکم کے ماتحت خواہ والد راضی ہو یا نہ ہو حکومت اسے مجبور کرے گی کہ وہ اپنے ذرائع آمد کے مطابق اولاد کو ان کے بلوغ تک خرچ دے۔

اس کے علاوہ اولاد کی تربیت کے متعلق بھی اسلام بہت تاکید کرتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَاَہۡلِیۡکُمۡ نَارًا(التحريم: ۷)۔ یعنی اے لوگو اپنی جانوں کو اور اپنے اہل و عیال بیوی اور بچوں کو بھی آگ سے بچاؤ یعنی ان کو تعلیم و تربیت دو اور یوں ہی آوارہ نہ رہنے دو کہ جاہل رہ کر خدائے تعالیٰ سے بھی پھر جائیں اور آخر ہلاک اور برباد ہو جائیں۔

اسی طرح اولاد کی تربیت کے متعلق حدیث میں حکم آتا ہے کہ ان کی عزت کرو اور ایسا معاملہ ان سے نہ کرو جس کا نتیجہ آخر یہ نکلے کہ ان کے اندر دنائت پیدا ہو جائے۔ اسی طرح فرمایا کہ اولاد کو علم و عقل سکھانا صدقہ و خیرات سے بہتر ہے اور یہ بات بھی درست ہے کیونکہ جو شخص لوگوں کی خیر خواہی میں اپنی اولاد کی تربیت کو بھول جاتا ہے وہ اپنے ساتھ ہی نیکی کو ختم کر دیتا ہے اور جو شخص اپنی اولاد کو بھی علم و عقل اور نیکی کی تعلیم دیتا ہے وہ ایصال خیر کا دروازہ اپنی موت کے بعد بھی کھلا چھوڑ جاتا ہے۔

اسی طرح اولاد کو مارنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے اور حکم ہے کہ اولاد کو دکھ دینا اور ستانا درست نہیں اور اس کی یہ حکمت ہے کہ مارنے اور دکھ دینے سے ہمیشہ اخلاق ناقص اور خراب ہو جاتے ہیں اور آئندہ زندگی میں انسان کام کا نہیں رہتا لیکن چونکہ اولاد کی تربیت میں کبھی مارنے کی ضرورت پیش آتی ہے اس لئے اگر کبھی ضرورت اور مجبوری ہو تو اس کے لئے حکم دیا گیا ہے کہ مونہہ پر نہ مارا جائے بلکہ کسی ایسی جگہ مارا جائے جس پر مارنے سے اس کے جسم کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ (سنن ابی داؤد کتاب الحدود باب فی ضرب الوجه فی الحد)

پھر بھائیوں کی محبت قائم رکھنے کے لئے حکم دیا کہ والدین کو سب بیٹوں اور بیٹیوں سے برابر کا سلوک اور معاملہ کرنا چاہئے اور بعض سے خاص رعایت کا معاملہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپس میں جھگڑے اور لڑائیوں کی نوبت پہنچ جاتی ہے چنانچہ لکھا ہے کہ ایک شخص رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں نے اپنے فلاں بیٹے کو ایک غلام دیا ہے آپ گواہ رہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ کیا سب بیٹوں کو دیا ہے اس نے کہا کہ نہیں ۔ فرمایا کیا تیرا دل چاہتا ہے کہ سب ایک سے نیک ہوں اس نے کہا کہ ہاں۔ فرمایا تو کس طرح پسند کرتا ہے کہ ایک بیٹے کو خاص کر کے انعام دے یہ جائز نہیں۔ یا سب کو دے یا اس سے واپس کرلے۔ اس طرح آپ نے بتایا کہ جب تم ایک بیٹے کو دوسرے سے خاص کرو گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ دوسرے اس سے بغض کریں گے اور آخر اس کے دشمن ہو کر گناہ میں مبتلا ہوں گے پس جبکہ ایک باپ نہیں چاہتا کہ اس کی اولاد گناہ گار اور ایسی راہ پر چلے جس سے خدائے تعالیٰ سے دور ہو جائے تو وہ کیوں اپنے ہاتھ سے ایسے سامان کرتا ہے کہ جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کی اولاد میں سے بعض گناہ گار ہوں گے۔ اس تعلیم کا مقابلہ بعض اقوام کے اس طریقِ عمل سے کرو جو وہ اپنی اولاد سے کرتے ہیں کہ ایک کو وارث بنا کر باقی سب کو محروم کر دیتے ہیں تو معلوم ہو گا کہ اسلام نے کس طرح باریک در باریک مسائل کو بھی کھول دیا ہے تا لوگ ٹھوکر کھا کر ہلاک نہ ہوں چنانچہ اسلام نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ مرنے کے بعد بھی کوئی شخص اپنے کسی بیٹے کو زائد مال نہیں دے سکتا۔ علاوہ ان احکام کے عورتوں کی قابلِ رحم حالت معلوم کر کے اسلام نے لڑکیوں کی تربیت اور ان کی خبرگیری کے لئے خاص طور پر حکم دیا ہے۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جسکو خدائے تعالیٰ تین بیٹیاں دے اور وہ ان کی اچھی طرح خبرگیری کرے تو وہ اس کیلئے جہنم سے بچانے کا ذریعہ ہو جائیں گی۔ (ابن ماجہ کتاب الأدب باب بر الوالد واحسانه الى البنات) ان تمام احکام سے ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ شفقت علیٰ خلق اللہ کے اس پہلو کو جسے اکثر مذاہب نے یا تو بالکل ترک کر دیا ہے یا نہایت ناقص احکام اس کے متعلق دیئے ہیں۔ اسلام نے کس کامل طور پر بیان کیا ہے اور کس طرح والدین کو ایسے راستہ پر چلایا ہے کہ جس پر چل کر وہ اپنی اولاد کو ہلاکت سے بچا سکتے ہیں اور خود ہلاکت سے بچ سکتے ہیں۔ کیا کوئی اور مذہب ہے جس نے اولاد کے حق میں ایسے بالتفصیل احکام دیئے ہیں۔ اگر نہیں تو اسلام کے مقابلہ میں کسی اور مذہب کا کیا حق ہے کہ دنیا کی اصلاح کا دعویٰ کرے وہ مذاہب اپنا وقت ختم کر چکے اور اپنے اپنے وقتوں میں انہوں نے بھی دنیا کو فائدہ پہنچایا لیکن اس کامل مذہب کے آنے پر اب ان کی ضرورت نہیں رہی۔

بھائیوں کے متعلق احکام

ماں باپ اور اولاد کے علاوہ اسلام نے بھائیوں اور بہنوں کو بھی فراموش نہیں کیا اور ان سے بھی نیک سلوک کا حکم دیا ہے اور اولاد و والدین کی عدم موجودگی میں ان کو اپنے بھائی کا وارث بنا کر ان کے سلوک کو کامل کیا ہے۔

بیوی کے متعلق احکام

گو مختلف مذاہب اس ترقی علوم کے زمانہ میں اس بات کے مدعی ہیں کہ ان کا مذہب عورتوں کے حقوق کی دیگر سب مذاہب سے زیادہ خبر گیری کرتا ہے اور ان کے حقوق بیان کرتا ہے لیکن ان کا یہ دعویٰ قابل توجہ نہیں کیونکہ کوئی مذہب ایسا نہیں جو عورتوں کے حقوق کو اپنے مذہب کی طرف سے پیش کرے بلکہ موجودہ زمانہ کی تمدنی حالت کے لحاظ سے اپنا دعویٰ پیش کیا جاتا ہے حالانکہ کسی خاص شخص یا خاص قوم کا عمل اس کے مذہب کو تعریف کا مستحق نہیں بنا سکتا جب تک کہ خود اس مذہب کی طرف سے وہ تعلیم نہ پیش کی گئی ہو اور ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کے سوا جس قدر دیگر مذاہب ہیں وہ باوجود سینکڑوں ہزاروں خوبیاں رکھنے کے بوجہ اس کے کہ صرف خاص زمانہ اور خاص قوم کے لئے تھے عورت کے حقوق کے متعلق بہت حد تک خاموش ہیں چنانچہ اسلام سے سب سے قریب کا مذہب مسیحیت بھی عورت کے متعلق کوئی مشرح تعلیم نہیں دیتا اور یورپ کا طریقِ عمل مسیحیت کے لئے باعثِ فخر نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ مسیحیت کے حکم سے نہیں پیدا ہوا بلکہ علوم کی ترقی یا اسلام کی صحبت کا نتیجہ ہے۔ ہاں اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے اپنی توجہ کو اس مظلوم فرقہ کے بلند کرنے کی طرف بھی کی ہے اور اپنی شفقت کو صرف کسی خاص گروہ کے ساتھ خاص نہیں کیا چنانچہ والدہ بیٹی اور بہن کے متعلق جو احکام اسلام نے دیئے ہیں وہ تو اوپر بیان ہو چکے ہیں۔ اب ہم بیوی کے متعلق جو احکام اسلام نے دیئے ہیں ان کو بیان کرتے ہیں۔ دیگر مذاہب میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے اس موضوع کو ہاتھ بھی نہیں لگایا اور جنہوں نے اس کے متعلق کچھ احکام بیان کئے ہیں وہ نہایت ناقص اور نامکمل ہیں اور آج سے سینکڑوں سال پہلے جب علوم و تمدن کی حالت گری ہوئی تھی اس وقت کے لئے تو بے شک عورتوں کو بعض شدید مظالم سے بچانے کے لئے کافی ہوں گے لیکن اب جبکہ تمام جہان میں ایک زندگی کی روح پھونکی گئی ہے ان پر عمل کر کے بیویوں کے حقوق کی کامل طور پر نگہداشت نہیں ہو سکتی اور صرف اسلام ہی کے احکام ایسے کامل ہیں کہ ان کے ذریعہ سے عورتوں کے حقوق ادا ہو سکتے ہیں عورتوں کے حقوق کے متعلق سب سے پہلا حکم جس کے ذریعہ سے اسلام عورتوں کو یک لخت پستی کی حالت سے بلند کر کے مرد کے برابر لا کھڑا کرتا ہے یہ ہے کہ عورت و مرد دونوں کو ایک ہی قسم کے اور ایک ہی جنس کے قرار دے کر برابر کے حقوق کا مستحق کر دیا ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا(النحل: ۷۳) یعنی

اللہ تعالیٰ نے تمہاری ہی جنس سے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں پس تم کو یہ نہیں چاہئے کہ ان کو کوئی ادنیٰ مخلوق سمجھ کر ان کو حقارت کی نظر سے دیکھو اور ان کے ساتھ درشتی یا سختی سے پیش آؤ۔ اس کے علاوہ قرآن کریم میں مرد و عورت کے حقوق کے متعلق حکم ہے کہ وَلَہُنَّ مِثۡلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۪ وَلِلرِّجَالِ عَلَیۡہِنَّ دَرَجَۃٌ(البقرہ: ۲۲۹) یعنی عورتوں کو مردوں پر اسی قسم کے حقوق حاصل ہیں جس قسم کے مردوں کو عورتوں پر۔ ہاں مردوں کو عورتوں پر انتظامی معاملات میں ایک درجہ عطا ہے یعنی گھر کا آخری فیصلہ مرد کے اختیار میں ہوتا ہے اور یہ حکم ایسا ہے کہ جس نے عورتوں کے حقوق کے متعلق جو افراط کی جاتی ہے اس کو مٹا دیا ہے بعض لوگ عورتوں کو معلقہ کے طور پر چھوڑ رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ نیک برتاؤ نہیں کرتے ان کے متعلق حکم دیا وَلَا تَعۡضُلُوۡہُنَّ لِتَذۡہَبُوۡا بِبَعۡضِ مَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ(النساء: ۲۰) یعنی یہ نہ کرو کہ نہ ان سے نیک معاملہ کرو اور نہ ان کو آزاد کرو تا اس طرح ڈرا کر تم ان سے ان کا مال چھین لو۔ اسی طرح حکم دیا کہ وَعَاشِرُوۡہُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ(النساء: ۲۰) عورتوں سے نہایت عمدہ معاملہ کرو۔ پھر عورتوں کے حقوق کو پورا کرنے کے لئے اسلام ان کو اپنے خاوندوں کے مال میں سے اولاد ہونے کی صورت میں آٹھویں حصہ کا اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں چوتھے حصہ کا وارث قرار دیتا ہے اور پھر جس مال کی وہ مالک ہو جائیں اس پر انہی کا قبضہ قرار دیتا ہے نہ ان کے والدین یا خاوندوں کا۔ قرآن کریم کے احکام کے علاوہ رسول کریم ﷺ نے بھی اپنے عمل اور اپنی تاکیدات سے عورتوں کے حقوق نہایت تاکید کے ساتھ قائم کئے ہیں اور یہاں تک فرما دیا کہ خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِاَهْلِهٖ(ابن ماجہ کتاب النکاح باب حسن معاشرة النساء) تم میں سے سب سے بہتر وہی انسان ہے جو اپنی بیوی سے سب سے بہتر سلوک کرتا ہے اسی طرح فرمایا کہ اے مسلمانو! عورت کے متعلق میری یہ بات مانو کہ ان کے ساتھ نیک معاملہ کیا کرو تمہارا کوئی حق نہیں کہ اپنی بیویوں سے نیک سلوک کے سوا کسی اور قسم کا سلوک کرو سوائے اس کے کہ وہ ایسی بدی کریں جسے سب لوگ برا منائیں اور جو نہایت کھلی کھلی ہو۔ اگر وہ کوئی ایسی بدی کریں تو کچھ دن اپنے سے علیحدہ کرو اگر مان لیں تو بہتر ورنہ ان کو کچھ بدنی سزا دو لیکن ایسی سزا نہ ہو کہ ان کے جسم پر اس سے نشان پڑ جائیں۔ (ابن ماجہ کتاب النکاح باب حق المرأة علی الزوج) جس طرح اسلام نے مرد پر عورت کے کچھ حقوق رکھے ہیں عورت پر بھی مرد کے کچھ

حقوق رکھے ہیں عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے خاوند کی امانت کو پوری طرح ادا کرے اس کے آرام اور اس کے سکھ کی فکر کرے اس کی مشکل کے وقت اس کی غمگسار ہو اس کی اولاد کی تربیت کرے اور اس کی ناشکری نہ کرے۔ غرض یہ نہیں کیا کہ اگر مرد کے حقوق بیان کئے ہوں تو عورتوں کو ترک کر دیا ہو اور اگر عورت کے حقوق بیان کئے ہوں تو مرد کے حقوق کو نظر انداز کر دیا ہو یا دونوں کے حقوق بیان کئے ہوں لیکن ان میں افراط و تفریط سے کام لیا ہو۔ بلکہ مرد و عورت کے تمام حقوق کو نہایت مناسب طور پر تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر بیان کیا ہے اور اس طرح اس عظیم الشان تعلق کو جو تمام انسانی ترقی کی جڑ ہے ایسی مضبوط چٹان پر قائم کر دیا ہے کہ کوئی آندھی اور کوئی طوفان اس کو ہلا نہیں سکتا۔

دیگر رشتہ داروں کے ساتھ سلوک

ان نہایت ہی قریبی رشتہ داروں کے علاوہ جن کے حقوق اوپر بیان ہوئے دیگر رشتہ داروں کو بھی اسلام نے فراموش نہیں کیا چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰی حَقَّہٗ(الروم: ۳۹) یعنی جو تمہارے قریبی اور رشتہ دار ہیں ان کو ان کا حق ادا کرو۔ اس حکم کے ذریعہ نہ صرف رشتہ داروں کے ساتھ نیک تعلقات کے قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے بلکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ حقدار ہیں کہ ان کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے اور ان سے نیک سلوک کرنا گویا ان کا حق ادا کرنا ہے۔ حق کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ رشتہ داروں کو بہت دفعہ ماں باپ یا خاوند کے نہ ہونے کی وجہ سے اولاد یا بیواؤں کی خبر گیری کرنی پڑتی ہے اور وہ بھی گویا ایک قسم کے ماں باپ ہی ہوتے ہیں کیونکہ ان کو وقت پر ماں باپ کا ہی کام کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ جب رشتہ داروں کے اوپر یہ حق رکھا گیا ہے کہ ضرورت کے وقت وہ ایک دوسرے کی اولاد کی کفالت کریں تو ان کا حق ہے کہ ان کے ساتھ خاص طور پر نیک سلوک کیا جائے۔ اس حکم کے علاوہ اور بھی بہت سے احکام ہیں جن میں رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک دفعہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ کوئی ایسا عمل مجھے بتائیں جس سے میں جنت کا وارث ہو جاؤں فرمایا کہ وہ عمل یہ ہے کہ تو خدا کی عبادت کر اور اس کا شریک کسی کو نہ بنا اور نماز پڑھ اور زکوٰۃ دے اور رشتہ داروں سے نیک سلوک کر۔ (بخاری کتاب الزکوٰۃ باب وجوب الزکوٰۃ)

ہمسایہ اور شریک سے نیک سلوک کا حکم

قرابت داروں کے علاوہ جن کا تعلق انسان کے ساتھ خون کے ذریعہ سے ہوتا ہے ایک اور قسم کے بھی قریبی ہوتے ہیں جن کو بوجہ خونی رشتہ کے تعلق نہیں ہوتا لیکن قرب مکانی کے لحاظ سے وہ بھی قریبی ہوتے ہیں اس لئے اسلام نے ان کو بھی فراموش نہیں کیا چنانچہ ان کے متعلق حکم دیا ہے کہ وَاعۡبُدُوا اللّٰہَ وَلَا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّبِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِی الۡقُرۡبٰی وَالۡیَتٰمٰی وَالۡمَسٰکِیۡنِ وَالۡجَارِ ذِی الۡقُرۡبٰی وَالۡجَارِ الۡجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَنۡۢبِ وَابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ وَمَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا(النساء : ۳۷) یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ کرو اور والدین کے ساتھ احسان کا معاملہ کرو اور قریبیوں سے بھی احسان کا معاملہ کرو اور یتامیٰ اور مساکین سے اور ہمسایہ سے جو دیوار بـدیوار رہتا ہے اور اس سے بھی جو فاصلہ پر ہے احسان کرو یعنی جس کا مکان ساتھ تو نہیں لیکن ایک محلہ میں یا ایک گاؤں میں رہتا ہے یا پاس کے گاؤں میں رہتا ہے اور اس شخص کے ساتھ بھی نیک سلوک کرو جو تمہاری تجارت میں شریک ہے یا ایک جگہ پر تمہارے ساتھ ملازم ہے یا تمہارا رفیق سفر ہے۔ یہ وہ تعلیم ہے جو ہمسایہ اور شریک کے متعلق کہ ایک بوجہ مکان کے پاس رہنے کے اور دوسرا بوجہ کسی کام میں اس کا ساتھی ہو جانے کے قریبیوں میں شامل ہو جاتا ہے اسلام نے دی ہے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ مجھے جبريل نے ہمسایہ سے نیک سلوک رکھنے کی اس قدر تاکید کی اور اتنی دفعہ کی کہ مجھے خیال ہو گیا کہ شائد ہمسایہ کو وارث قرار دے دیا جائے گا۔ (بخاری کتاب الادب باب الوصایۃ بالجار) اسی طرح ہم سفروں کے متعلق آپ نے فرمایا کہ جو شخص اونٹنی پر سوار ہو اور دوسرے آدمی کی جگہ خالی ہو تو چاہئے کہ کسی ہم سفر کو اپنے ساتھ سوار کر لے اور جو شخص کہ سفر پر ہو اور اس کے پاس کچھ زیادہ کھانا ہو وہ اپنے ہم سفر کو شریک کرے۔ ہم سفر کے علاوہ ایک مجلس میں بیٹھنے والوں کے متعلق بھی اسلام نے نیک سلوک کا حکم دیا ہے چنانچہ فرمایا یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قِیۡلَ لَکُمۡ تَفَسَّحُوۡا فِی الۡمَجٰلِسِ فَافۡسَحُوۡا یَفۡسَحِ اللّٰہُ لَکُمۡ(المجادلہ : ۱۲) یعنی اے مؤمنو! جب تم کسی مجلس میں بیٹھے ہوئے ہو اور کوئی اور آدمی آکر کہے کہ ذرا کھل جاؤ اور ہمیں بھی جگہ دو تو چاہئے کہ تم سمٹ کر جگہ دے دیا کرو۔ خدا تعالیٰ تم کو اپنے قرب میں جگہ دے گا۔ اسی طرح ہم مجلس کی فیلنگز کا خیال رکھنے کے لئے رسول کریم ﷺ نے حکم دیا ہے کہ جب ایک جگہ پر تین آدمی بیٹھے ہوں تو دو مل کر سرگوشیاں نہ کیا کریں کیونکہ اس سے تیسرے کو تکلیف ہوتی ہے۔ (بخاری کتاب الاستیذان باب لا يتناجى اثنان دون الثالث)

بڑوں کے ساتھ چھوٹوں کا معاملہ اور چھوٹوں کے ساتھ بڑوں کا معاملہ

علاوہ ان تفصیلی احکام کے ان تمام تعلقات کے متعلق جو اوپر بیان ہوئے ہیں ایک عام حکم بھی اسلام نے دیا ہے چنانچہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں۔ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ يَرْحَمْ صَغِيْرَنَا وَلَمْ يُوَقِّرْ كَبِيْرَنَا۔ (ترمذی ابواب البر والصلة باب ما جاء فى رحمة الصبيان)یعنی جو چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور بڑوں کا ادب نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں۔ اسی مختصر مگر جامع فقرہ میں تمام ان تعلقات کی تشریح کردی جو چھوٹوں اور بڑوں کے متعلق ہیں۔

مہمان کے ساتھ نیک سلوک

جہاں اور متعلقین کے ساتھ اسلام نے نیک سلوک کا حکم دیا ہے وہاں مہمان کو بھی فراموش نہیں کیا چنانچہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ (ابو داؤد كتاب الاطعمة باب فى الضيافة)یعنی جو شخص اللہ اور یومِ آخر پر ایمان لاتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے مہمانوں کی عزت کرے۔

دشمن کے ساتھ تعلق

دوستی اور محبت کے تعلق کے علاوہ ایک تعلق انسان کا دشمن سے بھی ہوتا ہے اور یہ تعلق ایسا ہے کہ اس میں پڑ کر انسان کا حال معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اندر کہاں تک شفقت علیٰ خلق اللہ کا مادہ رکھتا ہے کیونکہ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں تو انسان محبت کی وجہ سے نیک سلوک کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ جہاں محبت نہ ہو بلکہ عداوت ہو ایسی جگہ پر انسان کی قلبی کیفیت کا علم ہو سکتا ہے۔ پس وہ مذہب جو دشمنوں کے متعلق بھی ایسی تعلیم دے جو شفقت اور رحمت والی ہو اور ہر ایک فساد اور شر سے پاک ہو وہی مذہب اس قابل ہے کہ دنیا کی اصلاح کا کام اس کے سپرد کیا جائے۔ مختلف مذاہب نے دشمنوں کے متعلق مختلف تعلیمیں دی ہیں لیکن ایک ادنیٰ غور سے معلوم ہو سکتا ہے کہ جو تعلیم اسلام نے اپنے دشمنوں سے سلوک کے متعلق دی ہے وہی ایسی تعلیم ہے جو ہر ایک زمانہ اور ہر ایک ملک کی اصلاح کا باعث ہو سکتی ہے اور جس کے ذریعہ سے دنیا میں امن وامان قائم ہو سکتا ہے۔ اسلام دشمنی اور عداوت کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے ایک دینی اور ایک دنیاوی۔ دینی

عداوت سے مراد وہ عداوت ہے جس کا باعث اختلاف مذہبی ہو اور دنیاوی عداوت سے مراد وہ عداوت ہے جس کا باعث کوئی دنیاوی جھگڑا یا فساد ہو۔ ان دونوں کا ذکر الگ الگ کیا جائے گا۔ پہلے ہم دنیوی عداوت کو لیتے ہیں کہ اس کے متعلق اسلام کا کیا حکم ہے۔ سو یاد رہے کہ وہ عداوت جس کا باعث کوئی دنیاوی جھگڑا یا فساد ہو اسلام نے دو قسموں میں تقسیم کی ہے ایک وہ جس کا تعلق دل کے ساتھ ہے اور ایک جس کا تعلق اعمال کے ساتھ ہے۔ جس کا تعلق قلب کے ساتھ ہے اس کے متعلق اسلام کا یہ حکم ہے کہ تم اس کی بالکل پرواہ نہ کرو اور ہرگز کسی شخص کا بغض اپنے دل میں نہ رکھو حتّٰی کہ یہ بھی منع فرمایا کہ اگر کسی شخص سے جھگڑا ہو جائے تو اس سے کلام ترک کر دے بلکہ فرمایا کہ تین دن سے زیادہ کسی شخص سے کلام ترک کرنا منع ہے پھر فرمایا کہ جو شخص کسی سے جھگڑا ہو جانے پر سب سے پہلے اپنے دل سے بغض نکال کر اس سے صلح کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے رحم کا مستحق ہوتا ہے۔ (بخاری کتاب الادب باب الهجرة ۔ مسلم کتاب البر والصلة) غرض قلبی عداوت سے اسلام قطعی طور پر روکتا ہے اور بڑے زور سے اپنے پیروؤں کو اس سے باز رکھتا ہے کیونکہ یہ انسان کے لئے ایک زہر کی طرح ہوتی ہے جو اندر ہی اندر اس کے تمام اخلاق حسنہ کو برباد کر دیتی ہے اور اس کا نتیجہ خطرناک فتن ہوتے ہیں جو نسلاً بعد نسل چلتے ہیں اور قوموں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ یہ تعلیم تو وہ ہے جو اسلام نے اس عداوت کے متعلق دی ہے جس کا مرکز قلب ہوتا ہے۔ باقی رہی وہ عداوت جو اعمال سے تعلق رکھتی ہے یعنی ذہنی اور خیالی عداوت نہ ہو بلکہ عملی طور پر ظاہر ہو یعنی ایک شخص ظلم سے کسی کو نقصان پہنچاتا ہو اور اسے دکھ دیتا ہو تو اس کی نسبت اسلام نے پہلا حکم تو یہ دیا ہے کہ دل میں بغض تو ایسے شخص کے متعلق بھی نہ رکھے کیونکہ کینہ رکھنا ہر حال میں منع ہے کیونکہ وہ فتنوں کا پیدا کرنے والا ہے اور اخلاق کا بگاڑنے والا ہے۔ باقی رہا دشمن کی عملی شرارت کا بدلہ سو اس کے متعلق دو حکم ہیں ایک یہ کہ عفو کرو دوسرا یہ کہ سزا دو اور یہ دونوں حکم مختلف موقعوں کے متعلق ہیں کسی موقعہ پر عفو کا حکم ہے اور کسی موقعہ پر سزا کا حکم ہے اور یہ دونوں حکم اور ان کا موقعہ اس آیت میں بیان کئے گئے ہیں۔ وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا ۚ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ(الشورٰی: ۴۱) یعنی برائی کی سزا اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کہ بدی ہو لیکن جو شخص کہ معاف کر دے ایسی صورت میں کہ اس کے عفو سے اصلاح ہوتی ہو پس اس کا اجر اللہ پر ہے اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک دشمن کی شرارت کے مقابلہ میں دو قسم کے سلوک کا ایک مؤمن کو حکم دیا ہے ایک یہ کہ اسی قدر سزا اسے دلوا دو۔ دوسرے یہ کہ اسے معاف کر دو اور دونوں کا موقعہ بھی بتا دیا ہے۔ اور وہ یہ کہ جہاں امید ہو کہ معاف کرنے سے اصلاح ہوتی ہے وہاں معاف کر دینا چاہئے اور جہاں معاف کرنے سے اصلاح نہ ہوتی ہو وہاں سزا دلانی چاہئے۔ اور یہ حکم در حقیقت دو قسم کی طبائع کے لوگوں کے لئے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسانوں میں سے دو قسم کے انسان ہیں ایک ایسے ہیں کہ جب ان کے قصور کو نظر انداز کیا جائے اور باوجود ان کی شرارت کے ان سے چشم پوشی کی جائے تو ان پر ایسا اثر ہوتا ہے کہ وہ آئندہ دشمنی سے باز آجاتے ہیں اور اپنے کئے پر سخت پشیمان ہوتے ہیں اور بجائے دشمن کے دوست بن جاتے ہیں چنانچہ یہ وجہ بھی خود قرآن کریم نے ہی بیان فرمائی ہے جیسا کہ فرمایا وَلَا تَسۡتَوِی الۡحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَبَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ(حم السجده: ۳۵) یعنی نیکی کرنی اور بخش دینا اور سزا دینی ایک نہیں ہو سکتے پس تو اپنے دشمن کی شرارت کا نیک سلوک کے ساتھ جواب دے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جس شخص کے ساتھ تیرا تعلق عداوت کا تھا وہ ایک گہرا دوست بن جائے گا۔ اس آیت سے معلوم ہو جاتا ہے کہ عفو میں اللہ تعالیٰ نے کونسی حکمت رکھی ہے اور اس سے کیا غرض ہے۔ پس عفو جیسا کہ پہلی آیت سے ظاہر ہے اسی وقت کرنا چاہئے جب اس میں اصلاح ہوتی ہو اور جب عفو سے اصلاح نہ ہوتی ہو بلکہ وہ شخص اور بگڑتا ہو تو اس وقت سزا دینی چاہئے کیونکہ اس وقت عفو کرنا در حقیقت اس شخص پر بھی اور دیگر بنی نوع انسان پر بھی ظلم کرنا ہے کیونکہ ایسے شخص سے عفو کرنے کا جو عفو سے اور بھی تیز ہوتا ہے اور بغیر سزا کے مانتا ہی نہیں یہ نتیجہ نکلے گا کہ وہ شرارت پر اور دلیر ہو جائے گا اور دوسرے لوگوں پر بھی زیادتی کرے گا اور جس سے ذرا اس کا جھگڑا ہو گا اسے تباہ اور برباد کرنے کی کوشش کرے گا اور اس طرح دنیا میں فتنہ ترقی کرے گا۔ اور اس تمام فتنہ کا باعث یہی شخص ہو گا جس نے ایسے شریر آدمی کو جو دوسروں کو دکھ دیتا ہے اور ان پر ظلم کرتا ہے خالی چھوڑ دیا اور باوجود اس بات کے تجربہ کے کہ عفو سے وہ نہیں مانتا اس سے درگزر کیا۔ اس موقعہ پر شاید کسی کے دل میں یہ خیال گزرے کہ کسی شخص کو کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ جس شخص سے میرا معاملہ پڑا ہے وہ سزا سے مانے گا یا عفو سے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات تجربہ سے معلوم ہو گی اگر دو تین دفعہ کے تجربہ سے معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص عفو اور درگزر سے اپنی اصلاح نہیں کرتا تو پھر اس کو سزا دینا ہی بہتر سمجھے۔ اور اگر تجربہ سے اس کا عفو اور درگزر سے اپنی دشمنی اور شرارت سے باز آجانا ثابت ہو تو درگزر ہی کرے اور یہی وہ تعلیم ہے جو میانہ روی اور انصاف پر مبنی ہے اور اس کے سوا اگر کوئی تعلیم ہو تو ضرور وقتی ہی کہلا سکتی ہے۔ مثلاً یہود کو بوجہ ایک مدت تک محکومیت میں رہنے کے سزا دینے اور بدلہ لینے کی بہت تاکید کی گئی تھی تاکہ ان کے اندر جوش اور ہمت پیدا ہو چنانچہ اس تعلیم کا یہ نتیجہ نکلا کہ تھوڑی ہی مدت میں حضرت موسیٰؑ کے زمانہ میں بنی اسرائیل اپنی کمزوری سے پاک ہو گئے ورنہ انکی یہ حالت تھی کہ جب فرعون نے انکو آگھیرا تو باوجود فرعون کے مظالم کے ان میں سے بہت تھے جو اس بات پر راضی ہو گئے تھے کہ ہم واپس چلے جاتے ہیں اور یہ حالت اسی وقت قوم میں پیدا ہوتی ہے کہ جب وہ حد درجہ کی بزدل ہو جائے ورنہ اپنے مظالم اور چھیڑنے والے سے تنگ آکر ایسے جانور بھی مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں جو شکاری جانور نہیں ہوتے حالانکہ وہ اپنے دشمن کے مقابلہ میں کوئی بھی ہستی نہیں رکھتے۔ پس بنی اسرائیل میں سے کئی قبائل کا واپس جانے کے لئے تیار ہو جانا اور پھر ہر موقع پر ڈرنا بتاتا ہے کہ اس وقت وہ جرأت و بہادری کے لحاظ سے نہایت گری ہوئی حالت میں تھے۔ پس انکے ابھارنے اور بڑھانے کے لئے اسی بات پر زور دینے کی ضرورت تھی کہ تم بدلہ ضرور لو اور اس وقت کے مناسب حال یہ حکم تھا کہ ”اور تیری آنکھ مروت نہ کرے کہ جان کا بدلہ جان آنکھ کا بدلہ آنکھ دانت کا بدلہ دانت ہاتھ کا بدلہ ہاتھ اور پاؤں کا بدلہ پاؤں ہوگا“۔ (استثناء باب ۱۹ آیت ۲۱ مطبوعہ ۱۹۲۲ء) لیکن جب ایک زمانہ گزر گیا اور نسلاً بعد نسلٍ بنی اسرائیل نے اس قاعدہ پر عمل کیا تو ان کے اندر ایک قسم کی خونخواری اور سخت دلی پیدا ہوگئی اور اس کے دور کرنے کیلئے حضرت مسیحؑ کے ذریعہ یہ اعلان کرایا گیا کہ ”تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے اور اگر کوئی تجھ پر نالش کر کے تیرا کرتالینا چاہے تو چوغہ بھی اسے لے لینے دے اور جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار میں لے جاوے اس کے ساتھ دو کوس چلا جا جو کوئی تجھ سے مانگے اسے دے اور جو تجھ سے قرض چاہے اس سے منہ نہ موڑ۔ تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا اپنے پڑوسی سے محبت رکھ اور اپنے دشمن سے عداوت لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو اور اپنے ستانے والوں کیلئے دعا مانگو تا کہ تم اپنے باپ کے جو آسمان پر ہے بیٹے ٹھہرو اور جو تم پر لعنت کریں ان کیلئے برکت چاہو جو تم سے کینہ رکھیں انکا بھلا کرو اور جو تمہیں دکھ دیں اور ستاویں ان کے لئے دعا مانگو“ (متی باب ۵ آیت ۳۸ تا ۴۵) اس اعلان پر جن لوگوں نے کان دھرے انہوں نے اس پر عمل کرنے کی بدولت اپنے اندر سے اس خونخواری کو نکال پھینکا جو اس وقت کے بنی اسرائیل کے دل میں پیدا ہو گئی تھی اور رفتہ رفتہ ایک جماعت ایسے لوگوں کی پیدا ہو گئی جو بجائے لڑنے اور جھگڑنے کے محبت و پیار کرنے والے تھے لیکن کیا یہ تعلیم ہمیشہ کے لئے اور ہر ملک کے لئے ہو سکتی تھی کیا اس سے دنیا میں امن قائم ہو سکتا تھا اور بنی نوع انسان کی اصلاح ممکن تھی؟ اپنے وقت میں اس تعلیم سے بے شک نہایت عمدہ اور نیک نتائج پیدا ہوئے لیکن اس کا رواج انہی میں دیا جا سکتا تھا جو موسوی تعلیم پر عمل کرتے کرتے دوسری حد پر پہنچ گئے تھے ورنہ سب دنیا میں اس پر عمل ہرگز نہیں ہو سکتا تھا۔ نہ اس وقت نہ اس کے بعد۔ پس ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا کے لئے کوئی ایسی تعلیم آتی جو دونوں پہلوؤں پر مشتمل ہوتی اور ہر ایک موقعہ و محل کے مناسب انسان کو ہدایت کرتی۔ چنانچہ قرآن کریم آیا اور جیسا کہ ابھی آپ لوگوں کے سامنے پڑھا گیا ہے قرآن کریم نے ایک طرف تو موسوی شریعت کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ شریر اور بدکار کو اس کی بدی کے اندازہ کے مطابق سزا دو اور دوسری طرف مسیحی تعلیم کو بھی پیش کیا کہ تُو بدی کے بدلہ میں اعلیٰ سے اعلیٰ نیک سلوک کر اور ان دونوں تعلیموں سے زائد بات یہ بیان فرمادی کہ جہاں سزا سے اصلاح ہوتی ہو وہاں سزا دے اور جہاں عفو سے اصلاح ہوتی ہو وہاں عفو کر۔ غرض دونوں سلوکوں میں سے جو سلوک بھی اس شخص کے مناسب حال ہو اس سے کر۔ تا دنیا میں حقیقی امن قائم ہو اور دنیا سے ظلم اور بے جا عداوت دور ہو۔ اور یہی تعلیم ہے جو درمیانی ہے اور ہر زمانہ اور ہر ملک کے لئے مفید ہو سکتی ہے اور ایک ادنیٰ سے غور سے بھی انسان معلوم کر سکتا ہے کہ اس تعلیم کے بغیر اور کوئی تعلیم نہیں جسے سب دنیا میں رائج کیا جاسکے اور جس پر عمل کرنے سے انسانی طبیعت کے ایک طرف جھک جانے کا خطرہ بالکل مٹ جائے۔ ہم دعوٰی سے کہتے ہیں کہ ایسی کامل تعلیم اور کسی مذہب میں موجود نہیں اور اگر ہے تو اس مذہب کے پیروؤں کو چاہئے کہ ان تمام شرائط کے ساتھ مشروط تعلیم اپنی مذہبی کتب سے بھی دکھائیں۔ دنیا میں تین ہی قسم کے مذہب نکلیں گے یا وہ جو کہتے ہیں کہ تو بدی کے بدلہ میں بدی کر۔ یا وہ جو کہتے ہیں کہ تو بدی کے بدلہ میں بھی نیکی ہی کر۔ یا وہ جو بلا کسی شرط کے یہ بھی کہتے ہیں کہ تو معاف کر اور یہ بھی کہ سزا دے۔ لیکن سوائے اسلام کے ایسا کوئی مذہب نہ پاؤ گے جو انسان کو یہ بھی بتاتا ہو کہ تو سزا کس وقت دے اور معاف کس وقت کر۔ اور جب تک مذہب انسان کو اسباب کی بھی ہدایت نہ کرتا ہو اس وقت تک اس کی تعلیم کامل نہیں کہلا سکتی۔

مذہبی عداوتیں

اس بیان کے بعد اب ہم مذہبی اعداء کو لیتے ہیں کہ ان کے ساتھ کس قسم کے سلوک کا اسلام نے حکم دیا ہے سو یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام مذہبی اختلاف اور عداوت کو دو الگ الگ چیزیں قرار دیتا ہے۔ اسلام ہمیں یہ تعلیم نہیں دیتا کہ جن لوگوں کو تم سے مذہبی اختلاف ہے تم ان کو اپنا دشمن سمجھو اور ان سے دشمنوں کا سا سلوک کرو بلکہ اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ تم تمام مذاہب کے پیروان کے ساتھ نیکی اور بھلائی کا سلوک کرو اور مذہبی اختلاف کو عداوت نہ سمجھو اور ایسے لوگ جو مذہبی طور پر تم سے کوئی عداوت نہیں رکھتے اور تم پر مذہبی اختلافات کی وجہ سے کوئی ظلم نہیں کرتے ان سے بے شک احسان اور مروت سے پیش آؤ اور ان سے نیک معاملہ کرو اور انصاف کے ساتھ ان سے سلوک کرو۔ لیکن جو لوگ کہ دین کے معاملہ میں جبر سے کام لیتے ہیں اور اپنے عقیدہ کے خلاف کوئی اور عقیدہ نہیں دیکھ سکتے ان سے بالکل قطع تعلق رکھو کیونکہ یہ بات غیرت کے خلاف ہے کہ ایک شخص تمہارے دین کو تلوار کے ساتھ مٹانا چاہے اور خدا اور اس کی کتاب کو گالیاں دے اور تم اس سے دوستی رکھو چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لَا یَنۡہٰٮکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَلَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ اِنَّمَا یَنۡہٰٮکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ قٰتَلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَاَخۡرَجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ وَظٰہَرُوۡا عَلٰۤی اِخۡرَاجِکُمۡ اَنۡ تَوَلَّوۡہُمۡ ۚ وَمَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ(الممتحنہ: ۹-۱۰) یعنی اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں سے جو دین کے معاملہ میں تم سے نہیں لڑتے اور جنہوں نے دینی عداوت سے تم کو گھروں سے نہیں نکالا۔ نیکی اور حسن سلوک کا معاملہ کرنے سے نہیں روکتا بلکہ اللہ تعالیٰ تو عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ہاں وہ ان لوگوں کے ساتھ دوستی و تعلق رکھنے سے روکتا ہے جو تم سے اس لئے جنگ کرتے ہیں کہ تم نے یہ دین کیوں اختیار کر لیا اور تم کو اسی باعث سے گھر سے بھی نکال دیا اور تمہارے دشمنوں کے مددگار ہوئے۔ ایسے لوگوں سے جو دوستی کرتا ہے وہ ظالم ہے۔ کیونکہ وہ اسے اس کے فعل بد پر اکسانے کا باعث ہوتا ہے اور اس کے عمل سے اس دشمن دین کے دل میں خیال پیدا ہو گا کہ دیکھو باوجود اس کے کہ میں ان کے دین کو گالیاں دیتا ہوں یہ شوق سے ملتا ہے تو ضرور ہے کہ یہ مجھ سے متاثر ہو جائے۔ اور بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جب ایک شخص غیرت سے خالی ہو جائے تو رفتہ رفتہ وہ دوسروں کے خیالات سے متاثر ہو جاتا ہے پس حفاظت دین کے لئے اور غیرت جیسے اعلیٰ درجہ کے خلق کو زندہ رکھنے کے لئے ایسی تعلیم دینی ضروری تھی کہ جو شخص دین کے معاملہ میں لڑنے پر آمادہ ہو جاتا ہے اور اپنے عقیدہ کے خلاف عقیدہ سن کر ایسا آگ بگولہ ہو جاتا ہے کہ انسانیت کی معمولی شرائط کو بھی پورا نہیں کر سکتا وہ کب اس لائق ہو سکتا ہے کہ اس کے ساتھ دوستی رکھی جائے اور اگر کوئی شخص پھر بھی اس شخص سے محبت رکھتا ہے تو ضرور اس کا دل غیرت سے خالی ہے۔ غرض اس تعلیم میں بھی اسلام نے افراط و تفریط دونوں باتوں کو چھوڑ کر درمیانی راہ اختیار کی ہے اور ایک طرف تو محبت اور پیار کو قائم کیا ہے اور دوسری طرف غیرت کو جو اخلاق حسنہ سے ہے اور جس کے بغیر انسان حیوانوں کی طرح ہو جاتا ہے زندہ رکھا ہے تا ایسا نہ ہو کہ اسلام کا پیرو کسی ایک طرف جھک جائے اور یہ وہ تعلیم ہے کہ جس کا مقابلہ نہ تو وہ مذاہب کر سکتے ہیں جو غیر مذاہب کے ساتھ کسی قسم کا تعلق جائز نہیں قرار دیتے اور نہ وہ جو باوجود شدید سے شدید مذہبی عداوت کے پھر بھی محبت کا حکم دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ انسانی فطرت کو توڑتے ہیں جس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکل سکتا۔

عام بنی نوع انسان سے سلوک

اس کے بعد اب میں ان لوگوں کے متعلق اسلام کی تعلیم پیش کرتا ہوں جن سے انسان کسی قسم کا ذاتی تعلق نہیں رکھتا۔ چنانچہ اس قسم میں سے سب سے اول تو یتامیٰ اور مساکین ہیں۔ گو یتیم اور مسکین ایک رشتہ دار بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن چونکہ یتیم اور مسکین کے ساتھ سلوک کرنے میں اسلام نے کوئی شرط نہیں لگائی کہ وہ کن میں سے ہو اس لئے میں ان کو عام مخلوق کے عنوان کے نیچے ہی رکھتا ہوں۔ کیونکہ اکثر اوقات جن یتامیٰ اور مساکین سے پالا پڑتا ہے وہ غیر ہی ہوتے ہیں۔ ان دونوں قسموں کے متعلق اسلام میں نہایت وسیع احکام ہیں جنہیں اس وقت بیان نہیں کیا جا سکتا کیونکہ آگے ہی مضمون بہت لمبا ہو گیا ہے اس وقت صرف اس قدر ہی بیان کر دینا کافی ہے کہ یتامیٰ اور مساکین سے نیک سلوک کرنے کا اسلام میں نہایت زور سے حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ بعض اس کے متعلق اوپر مضامین آچکے ہیں۔ اس جگہ صرف یہ بات ہی لکھ دینی کافی ہو گی کہ قرآن کریم یتامیٰ کے ساتھ نیک سلوک نہ کرنے کو ان اعمال میں سے قرار دیتا ہے جن کا نتیجہ ذلت و رسوائی ہوتا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے کہ بعض لوگوں پر عذاب آتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ خدا نے ہمارے ساتھ یہ معاملہ کیوں کیا ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ ان کی نسبت فرماتا ہے کَلَّا بَلۡ لَّا تُکۡرِمُوۡنَ الۡیَتِیۡمَ(الفجر: ۱۸) یہ بات نہیں جو تم کہتے ہو بلکہ بات یہ ہے کہ تم یتامیٰ کی خبرگیری نہیں کرتے تھے بلکہ ان کو بے بس دیکھ کر ان کی طرف التفات ہی نہ کرتے تھے۔ مساکین کی نسبت فرماتا ہے کہ ان سے حُسنِ سلوک نہ کرنا ان افعال میں سے ہے جو انسان کو دوزخی بنا دیتا ہے۔ چنانچہ بعض جہنمیوں کی نسبت فرماتا ہے وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡنِ فَلَیۡسَ لَہُ الۡیَوۡمَ ہٰہُنَا حَمِیۡمٌ(الحاقہ: ۳۵-۳۶) چونکہ وہ مساکین کی خبرگیری کی تحریک نہیں کرتے تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے بھی ان کی مدد نہ کی ورنہ خدا تعالیٰ ان کو عذاب سے بچاتا۔

یتامیٰ اور مساکین کے علاوہ دیگر بنی نوع انسان سے سلوک کے متعلق تعلیم

ان احکام میں سے جو اسلام نے عام بنی نوع انسان کے متعلق دیئے ہیں ایک یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص اتفاقاً کسی انسان کی بدی پر آگاہ ہو جائے تو اس پر پردہ ڈال دے۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ فِيْ يَوْمِ الْقِيَامَةِ(مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحہ ۳۸۹) یعنی کوئی بندہ کسی بندہ کا کوئی عیب چھپائے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب چھپائے گا۔

اسی طرح یہ تعلیم ہے کہ کسی انسان سے بھی ایک مسلمان کو سود لینا جائز نہیں بلکہ اگر کوئی حاجتمند ہو تو جہاں تک ہو سکے اس کی مدد کرے یا اسے قرض دے کہ سود ایک زیادتی ہے جو ایک انسان دوسرے انسان پر کرتا ہے۔ کیونکہ جس وقت اس کا ایک بھائی حاجتمند ہوتا ہے اس وقت وہ اس سے اور مال بھی چھیننا چاہتا ہے۔

انہی تعلیموں میں سے یہ تعلیم بھی ہے کہ کسی شخص کو کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب و پاخانہ کرنے کی اجازت نہیں (ترمذی ابواب الطهارة باب ماجاء فی كراهية البول فی الماء الراكد) کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بعض لوگ اگر ضرورتاً ایسے پانی کو استعمال کریں گے تو بوجہ نجس ہونے کے نقصان اٹھائیں گے۔ پھر انہی تعلیموں میں سے جو اسلام نے عام بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے دی ہیں۔ یہ بھی ہے کہ کسی شخص کو سایہ دار درخت یا راستہ یا پانی کی گھاٹ۳؎ پر پاخانہ پھرنے کی اجازت نہیں (ترمذی ابواب الطهاره باب ان النبی كان اذا اراد الحاجة ابعد فی المذهب) کیونکہ اس سے تھکے ماندے ہوئے مسافروں اور راستہ چلنے والے لوگوں اور پیاسوں کو ایذاء پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

علاوہ ازیں اسلام کی یہ تعلیم بھی ہے کہ مساجد میں کوئی بدبودار شے کھا کر یا ایسی چیز استعمال کر کے نہ آؤ جس کے بعد بدبودار ڈکار آئیں یا مونہہ سے بو آئے (مسلم کتاب الصلوٰۃ باب النھی اکل الثوم) انہی تعلیمات میں سے ہے جن کی غرض عام بنی نوع انسان پر شفقت ہے کیونکہ ایسا کرنے سے بہت سے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے اور مساجد کا نام تو اس لئے لیا گیا ہے کہ مسلمانوں کا اجتماع مساجد میں ہی ہوتا ہے ورنہ یہ حکم عام ہی ہے۔ اور یہ ایسا ضروری حکم ہے کہ آج حکام ریلوے کو یہ قانون بنانا پڑا ہے کہ ریل میں کوئی شخص سگرٹ نہ پئے کیونکہ اس سے سکھوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ اگر اسلام ہی کی تعلیم پر عمل کیا جائے تو ان باتوں کے لئے کسی مزید قانون کی ضرورت نہیں اور جو اثر انسان کے اعمال پر مذہب کر سکتا ہے قانون ہرگز نہیں کر سکتا۔

پھر انہی تعلیمات میں سے ایک یہ تعلیم بھی ہے کہ جب کسی جگہ پر کوئی وباء پڑے تو لوگوں کو اجازت نہیں کہ اس جگہ سے بھاگ کر دوسرے شہروں میں چلے جائیں (مسلم کتاب السلام باب الطاعون) کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ دوسرے محفوظ علاقوں میں بھی وہ مرض پھوٹ پڑے گا۔ اس حکم کی خوبی پچھلے دنوں ہندوستان کافی طور پر دیکھ چکا ہے کیونکہ طاعون کی کثرت ہندوستان میں اسی حکم پر عمل نہ ہونے کے باعث ہوئی ہے جب ایک جگہ طاعون پڑی تھی تو وہاں کے لوگ بھاگ کر دوسرے شہروں میں چلے جاتے تھے اور طاعون کا اثر وہاں بھی ہو جاتا تھا۔ اگر ہندوستان مسلمان ہوتا اور وہ اس حکم پر عمل کرتا تو سمجھ سکتے ہو کہ یہ وباء کس طرح دبی رہتی۔ اس حکم کا یہ مطلب نہیں کہ شہر کو چھوڑ کر باہر ڈیرہ لگانا بھی منع کر دیا گیا ہے کیونکہ سنت صحابہؓ سے یہ بات ثابت ہے کہ طاعون وغیرہ وبائوں کے وقت جنگلوں میں پھیل جانا چاہئے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایک وباء زدہ شہر سے نکل کر دوسرے محفوظ علاقوں میں نہیں جانا چاہئے۔

اسی طرح اسلام بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے یہ حکم بھی دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص عام راستہ پر کوئی ایذاء دینے والی چیز دیکھے تو اسے چاہئے کہ اسے راستہ سے ہٹا کر پرے کر دے۔ مثلاً عین راستہ میں کوئی پتھر پڑا ہے کانٹے دار درخت کی شاخیں پڑی ہیں جن سے چلنے والوں کے گرنے یا زخمی ہونے کا خطرہ ہے تو چاہئے کہ ان کو وہاں سے ہٹا کر ایک طرف کر دیا جائے۔

(ترمذی ابواب البر والصلة باب ما جاء فی اماطة اذی عن الطریق) اور آنحضرت ﷺ نے اس فعل کو صدقات میں شامل فرمایا ہے۔ اور یہ وہ تعلیم ہے جس کی مثال اور کوئی مذہب نہیں پیش کر سکتا۔

جانوروں سے نیک سلوک

اسلام نے جہاں انسانوں پر شفقت کا حکم دیا ہے وہاں جانوروں پر شفقت کی بھی سخت تاکید کی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَفِیۡۤ اَمۡوَالِہِمۡ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ(الذّٰریٰت: ۲۰) یعنی مسلمان وہ ہوتا ہے کہ اس کے مال میں ان کا جو سوال کر سکتے ہیں یعنی انسانوں کا اور ان کا جو سوال نہیں کر سکتے یعنی جانوروں کا حق ہوتا ہے۔ یعنی مسلمان کا کام ہے کہ وہ اپنے مال میں محتاج انسانوں اور جانوروں کو بھی شریک کرے۔ اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ جانور کو ایذاء دینا سخت منع ہے حتیٰ کہ آنحضرت ﷺ نے ایسے انسان پر جو کسی جانور کو باندھ کر اسے نشانہ بناتا ہے لعنت کی ہے اور یہ آنحضرت ﷺ ہی ہیں جنہوں نے جانوروں کے مونہہ پر نشان لگانا منع کیا کہ مونہہ ایک نازک جگہ ہے اس پر نشان نہ لگایا کرو۔ اور آپؐ نے جانوروں کی پچھلی ران کے اوپر کے سرے پر نشان لگانے کا حکم دیا جو رواج کہ اس وقت عام طور پر دنیا میں پایا جاتا ہے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ایک بلی کو بند کر دیا اور وہ بھوکی پیاسی مر گئی تو خدا تعالیٰ نے اس کو جہنم میں ڈال دیا (مسلم کتاب البر والصلة والآداب باب تحریم تعذیب الهرة) یعنی اس ظلم کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایسے اعمال میں پھنس گئی جن کا نتیجہ جہنم ہوا۔ غرض جانوروں سے بھی نیک سلوک کرنے کا حکم اور ان پر بے جا ظلم کرنے اور بے فائدہ تکلیف دینے سے اسلام نے روکا ہے اور اس طرح اپنی تعلیم کو ہر رنگ میں کامل کر دیا ہے۔ اور کسی خاص بات پر ہی زور نہیں دیا۔ بلکہ انسانی زندگی کے ہر شعبہ اور اس کی ہر ضرورت کے متعلق مناسب اور عدل پر مبنی احکام بتائے ہیں جن پر عمل کرنے سے انسان اس دنیا اور اگلے جہان دونوں جگہ خوش و خرم ہو سکتا ہے۔ پس اسلام ہی ایک مذہب ہے جو تمام دنیا کے لئے قابل عمل ہے اور وہی ایک ایسا مذہب ہے جس کی تعلیم پر ہر ایک طبقہ اور ہر ایک طبیعت کے انسان عمل کر سکتے ہیں۔ اور جس پر عمل کر کے کوئی مفسدہ پیدا نہیں ہوتا۔ اور جو ہر زمانہ کے لئے قابل عمل ہے اور اس پر چل کر انسان نجات پا سکتا ہے۔ اور جو خوبیاں تمام مذاہب مختلف طور پر رکھتے ہیں وہ سب کی سب اس میں جمع ہیں اور یہ تمام مفید اور بابرکت تعلیمات کو اپنے اندر شامل رکھتا ہے۔ اور چونکہ یہ خدا تعالیٰ کا بھیجا ہوا آخری مذہب ہے جو انسان کو خدا تعالیٰ سے اسی دنیا میں ملا دیتا ہے اور ہمیشہ پھل دیتا ہے چنانچہ اس پر چلنے والے لوگ ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ تک پہنچتے رہے ہیں۔ اور یہ زمانہ بھی اس کے شِیریں پھلوں سے خالی نہیں گیا۔ اور خدا تعالیٰ نے اسی مذہب کے ایک پیرو حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو اس زمانہ کی اصلاح کے لئے مسیح موعودؑ اور مہدی مسعودؑ بنا کر بھیجا ہے۔

پس اے صداقت کے طالبو! اور حق کے شیدائیو! اٹھو! اور تمام بند توڑ کر اور تمام قیدوں کو توڑ کر اس چشمۂ صافی کی طرف آؤ کہ تمہاری فطرت جس خوشی اور جس راحت اور جس تسلی کو چاہتی ہے وہ اس وقت صرف اسلام میں ہی ملتی ہے۔ اور اسلام ہی ہے جو تم کو روحانی ترقی کے اس اعلیٰ مقام پر پہنچا سکتا ہے کہ اسی دنیا میں تم خدا کو پاسکتے ہو اور شک و شبہ سے گزر کر یقین کا مرتبہ حاصل کر سکتے ہو۔

خاکسار محمود احمد از قادیان

نصائح مبلغین

(مبلغین کے لئے زریں ہدایات جو حضور نے ۱۶؍ مارچ ۱۹۱۶ء کو ارشاد فرمائیں)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

نصائح مبلغین

جن کے بالاستیعاب و بامعان نظر پڑھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ فی الواقعہ یہ نصیحتیں کرنے والا خلافتِ مسیح موعودؓ کی مسند پر بیٹھنے کا اہل تھا۔ حضور نے بہت تفصیل سے تقریر فرمائی تھی۔ لکھنے والا نو مشق تھا اور نظرثانی بھی نہیں کرائی جاسکی۔ تاہم مجھے اطمینان ہے کہ بہت سا حصہ حضور کی تقریر کے مفہوم کا اس میں آگیا ہے۔ ناظرین پڑھ کر اس پر عمل کریں کہ احمدی جماعت کا ہر فرد دراصل ایک مبلغ ہے۔ (نوٹ از مرتب کنندہ)

تبلیغ میں تزکیہ نفس سے غافل نہ ہو

سب سے پہلے مبلغ کے لئے ضروری ہے کہ وہ تزکیہ نفس کرے۔ صحابہؓ کی نسبت تاریخوں میں آتا ہے کہ جنگ یرموک میں دس لاکھ عیسائیوں کے مقابل میں ساٹھ ہزار صحابہؓ تھے۔ قیصر کا داماد اس فوج کا کمانڈر تھا اس نے جاسوس کو بھیجا کہ مسلمانوں کا جا کر حال دریافت کرے۔ جاسوس نے آکر بیان کیا مسلمانوں پر کوئی فتح نہیں پا سکتا۔ ہمارے سپاہی لڑ کے آتے ہیں اور کمریں کھول کر ایسے سوتے ہیں کہ انہیں پھر ہوش بھی نہیں رہتی۔ لیکن مسلمان باوجود دن کو لڑنے کے رات کو گھنٹوں کھڑے رو رو کر دعائیں مانگتے ہیں۔ خدا کے حضور گرتے ہیں۔ یہ وہ بات تھی جس سے صحابہؓ نے دین کو قائم کیا۔ باوجود اپنے تھکے ماندے ہونے کے بھی اپنے نفس کا خیال رکھا۔ بعض دفعہ انسان اپنے تبلیغ کے فرض میں ایسا منہمک ہو جاتا ہے کہ پھر اسے نمازوں کا بھی خیال نہیں رہتا۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے ہر ایک چیز اپنے اپنے موقعہ اور محل کے مطابق اور اعتدال کے طور پر ہی ٹھیک ہوا کرتی ہے۔ لوگوں کی بھلائی کرتے ہوئے یہ نہیں ہونا چاہئے کہ انسان اپنی بھلائی سے بے فکر ہو جائے۔ پس ضروری ہے کہ وہ اپنا تزکیہ نفس کرے۔

قرآن شریف کا مطالعہ کرے۔ پھر اپنے نفس کا مطالعہ کرے۔ تبلیغ بہت عمدہ کام ہے مگر تبلیغ کرنے میں بھی انسان کے دل پر زنگ لگتا ہے کبھی اگر تقریر اچھی ہو گئی اپنے مقابل کے مباحث کو ساکت کرا دیا تو دل میں غرور آگیا۔ اور کبھی اگر تقریر اچھی نہ ہوئی لوگوں کو پسند نہ آئی تو مایوسی ہو گئی کبھی یہ ایک دلیل دیتا ہے دل ملامت کرتا ہے کہ تو دھوکا دے رہا ہے۔ اس قسم کی کئی باتیں ہیں جو دل پر زنگ لاتی ہیں۔ حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کسی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے تو آپؐ استغفار پڑھ لیا کرتے تھے حالانکہ آپؐ اعلیٰ درجے کے انسان تھے۔ اور آپؐ کی مجلس میں بھی نیک ذکر ہوتا تھا۔ یہ اس لئے تھا کہ آپ اللہﷺ ہمارے لئے ایک نمونہ تھے یہ ہمیں سکھایا جاتا تھا کہ ہم ایسا کیا کریں کہ جب کسی مجلس میں بیٹھیں تو استغفار کرتے رہیں اس لئے کہ کسی قسم کا ہمارے دل پر زنگ نہ بیٹھے۔ اس لئے ذکر الٰہی پر زیادہ زور دینا چاہئے۔ نماز وقت پر ادا کرنی چاہئے۔ ہاں اگر کوئی ایسا ہی خاص موقعہ آجائے۔ تو اگر نماز جمع کرنی پڑے تو کرے۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں لوگ جھٹ نماز جمع کر لیتے ہیں۔ یہ مرض نماز جمع کرنے کی بہت پھیلی ہے ایسا نہیں چاہئے۔ اگر کوئی تمہاری باتیں کرتے ہوئے اٹھ کر نماز پڑھنے پر برا مناتا ہے تو منانے دو کوئی پرواہ نہ کرو اور نماز وقت پر ادا کر لو۔ قرآن شریف میں یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ(8:4) آیا ہے اس لئے کہ وقت پر نماز پڑھنی چاہئے۔ جب اس کے اپنے نفس میں کمزوری ہو گی تو پھر اس کے جذب میں بھی کمزوری ہو گی۔

تہجد کی نماز

تہجد کی نماز مبلغ کے لئے بہت ضروری ہے۔ قرآن شریف میں آتا ہے۔ یٰۤاَیُّہَا الۡمُزَّمِّلُ قُمِ الَّیۡلَ اِلَّا قَلِیۡلًا نِّصۡفَہٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡہُ قَلِیۡلًا اَوۡ زِدۡ عَلَیۡہِ وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِیۡلًا(المزمل : ۲ تا ۵) دن کے تعلقات سے جو زنگ آتے ہیں۔ وہ رات کو کھڑے ہو کر دعائیں مانگ مانگ کر خشوع و خضوع کر کے دور کرنے چاہئیں۔

روزہ

روزہ بھی بڑی اچھی چیز ہے۔ اور زنگ کے دور کرنے کے لئے بہت عمدہ آلہ ہے۔ صحابہؓ بڑی کثرت سے روزے رکھتے تھے۔ ہماری جماعت میں بہت سے لوگ ہیں جو روزہ رکھنے میں سستی کرتے ہیں۔ روزہ انسان کی حالت کو خوب صاف کرتا ہے جہاں تک توفیق مل سکے روزہ رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بعض ایسے مواقع تلاش کرے جن میں کسی سے کلام نہ کرے خاموش ہو کر بیٹھے خواہ یہ وقت پندرہ بیس منٹ ہی ہو۔ بہت وقت نہ سہی مگر کچھ وقت ضرور ہونا چاہئے تاکہ خاموشی میں ذکر کرے۔ تبلیغ سے ذرا فراغت ہوئی تو ذکر الٰہی

کرے اس کے لئے یہ بہت مفید وقت ہے۔ سورج نکلنے سے پہلے صبح کی نماز کے بعد پھر سورج ڈوبنے کے قریب۔ پھر نمازِ عشاء کے بعد اور ۹ بجے دن سے لیکر دس بجے دن تک کسی وقت کر لینا چاہئے۔ یہ تو اپنے نفس کی اصلاح ہے۔ تبلیغ کے کام میں مطالعہ بہت وسیع ہونا چاہئے۔ بعض دفعہ اجڈ گنوار آدمی آکر کچھ سناتے ہیں۔ اور وہ بہت لطیف بات ہوتی ہے۔ سلسلے کی کتابوں کا مطالعہ رہے۔ حضرت صاحبؓ کی کتابیں اور پھر دوسرے آدمیوں کی کتابیں اتنی اتنی دفعہ پڑھو کہ فوراً حوالہ ذہن میں آجائے۔

کتابیں اپنی خریدو

ایک مرض مولویوں میں ہے۔ یاد رکھو مولوی کبھی کتاب نہیں خریدتے اس کو لغو یا اسراف سمجھتے ہیں۔ شاذ و نادر زیادہ سے زیادہ مشکوٰۃ رکھ لی اور ایک کافیہ رکھ لیا۔ لیکن انسان کے لئے جہاں وہ اور بہت سے چندے دیتا ہے۔ کتاب خریدنا نفس کے لئے چندہ ہے۔ کچھ نہ کچھ ضرور کتاب کے لئے بھی نکالنا چاہئے خواہ سال میں آٹھ آنہ کی ہی کتاب خریدی جائے۔ یہ کوئی ضروری نہیں کہ لاکھوں کی ہی کتابیں خریدی جائیں بلکہ جس قدر خرید سکو خریدو۔ یہ اس لئے کہ خریدنے والا پھر اسی کتاب کا آزادی سے مطالعہ کر سکے گا اور اس طرح اس کے علم میں اضافہ ہو گا فراست بڑھے گی۔ بعض جگہ ہمارے مولوی جاتے ہیں اور وہاں کے لوگوں کی کتابیں لیتے ہیں لیکن جب وہاں سے چلنے لگتے ہیں تو وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری کتابیں لاؤ پھر دینی پڑتی ہیں۔ تو دوسری بات اپنی کتابیں خریدنے سے یہ ہوتی ہے کہ آزادی پیدا ہوتی ہے احتیاج نہیں ہوتی۔

سوال و خوشامد کی عادت نہ ڈالو

پھر نفس کے لئے لجاجت، خوشامد، سوال کی عادت نہیں ہونی چاہئے۔ یہ بھی علماء میں بڑا بھاری نقص ہے کہ وعظ کیا اور بعد میں کچھ مانگ لیا۔ اور اگر کوئی ایسا گرا ہوا نہ ہوا تو اس نے دوسرے پیرایہ میں اپنی ضرورت جتادی۔ مثلاً ہمارا کنبہ زیادہ ہے گزارہ نہیں ہوتا یا کسی دوسرے الفاظ میں لوگوں کو سنا دیا کہ کچھ روپے کی یا کوٹ وغیرہ کی ضرورت ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ پر توکل چاہئے اسی سے مانگنا چاہئے۔ حضرت مسیح موعودؑ کو الہام ہوا تھا کہ تیرے پاس ایسا مال لایا جائے گا کہ مال لانے والوں کو الہام ہو گا کہ مسیح موعودؑ کے پاس لے کر جاؤ۔ پھر وہ مال آتا ہے۔ کوئی کہتا تھا کہ حضور مجھے فلاں بزرگ نے آکر خواب میں کہا اور کوئی کہتا تھا حضور مجھے الہام ہوا۔

اللہ پر توکل کرو۔ وہ خود تمہارا کفیل ہوگا

میرا اپنا تجربہ ہے کہ جب ضرورت ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ کہیں نہ کہیں سے بھیج دیتا ہے۔ خدا تعالیٰ خود لوگوں کے دلوں میں تحریک کرتا ہے۔ جو دوسروں کا محتاج ہو پھر اس کے لئے ایسا نہیں ہوتا۔ ہاں اللہ تعالیٰ پر کوئی بھروسہ کرے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے لئے سامان پیدا کرتا ہے۔ حضرت مولوی صاحب سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ مجھے کچھ ضرورت پیش آئی میں نے نماز میں دعا مانگی مصلّیٰ اٹھانے پر ایک پونڈ پڑا تھا میں نے اسے لیکر اپنی ضرورت پر خرچ کیا۔ تو خدا تعالیٰ خود سامان کرتا ہے کسی کو الہام کرتا ہے کسی کو خواب دکھاتا ہے اس طرح اس کی ضرورت پوری کرتا ہے۔ لیکن کبھی اس طرح پر بھی ہوتا ہے کہ وہ ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ابتدائی مرحلہ یہی ہے کہ اس کی ضروریات ہی نہیں بڑھتیں اور اگر ضروریات پیش آتی ہیں تو پھر ایسے سامان کئے جاتے ہیں کہ وہ مٹ جاتی ہیں۔ مثلاً ایک شخص بیمار ہے اب اس کے لئے دوائی وغیرہ کے لئے روپوں کی ضرورت ہے۔ دعا کی۔ بیمار ہی اچھا ہو گیا تو اب روپوں کی ضرورت ہی پیش نہ آئی۔ تو ابتدائی مرحلہ یہی ہے کہ ضرورت پیش ہی نہیں آتی۔

پہلی حکمت یہ ہے کہ وہ لوگوں کا محتاج ہی نہیں ہوتا۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ لوگوں کا رجوع اس کی طرف ہو جاتا ہے۔ خدا خود لوگوں کے ذریعے سے سامان کراتا ہے۔ ہمارے سلسلے کے علماء اور دوسرے مولویوں کا مقابلہ کر کے دیکھ لو ان کو لوگ خود نذر پیش کرتے ہیں۔ اور مولوی مانگتے پھرتے ہیں۔ ایک پیر تھا وہ ایک اپنے مرید کے گھر گیا وہ مرید اسے جب وہ آتا تھا ایک روپیہ دیا کرتا تھا اس دن اس نے ایک اٹھنی پیش کی۔ پیر نے لینے سے انکار کیا اور کہا کہ میں تو روپیہ لوں گا۔ غرض وہ اٹھنی دیتا تھا وہ روپیہ مانگتا تھا۔ بہت تکرار کے بعد اس مرید نے کہا جاؤ میں نہیں دیتا۔ تمام رات وہ پیر باہر کھڑا رہا رات کو بارش ہوئی تھی اس میں بھیگا۔ صبح کہنے لگا کہ اچھا لاؤ اٹھنی۔ تو یہ حالت ہوتی ہے جو دوسروں کے محتاج ہیں۔ زلزلے کا ذکر ہے باہر باغ میں ہم ہوتے تھے۔ حضرت صاحب کو ایک ضرورت پیش آئی۔ فرمانے لگے قرض لے لیں پھر فرمانے لگے قرضہ ختم ہو جائے گا۔ تو پھر کیا کریں گے چلو خدا سے مانگیں نماز پڑھ کر جب آئے تو فرمانے لگے ضرورت پوری ہو گئی۔ ایک شخص بالکل میلے کچیلے کپڑوں والا نماز کے بعد مجھے ملا۔ السلام علیکم کر کے اس نے ایک تھیلی نکال کر دی۔ اس کی حالت سے میں نے سمجھا کہ یہ پیسوں کی تھیلی ہو گی کھولا تو معلوم ہوا کہ دو سو روپیہ ہے۔ تو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی حاجات کو جو اس پر توکل رکھتے ہیں اس طرح پورا کیا کرتا ہے۔ تم کبھی دوسرے پر بھروسہ نہ رکھو۔ سوال ایک زبان سے ہوتا ہے اور ایک نظر سے۔ تم نظر سے بھی کبھی سوال نہ کرو۔ پس جب تم ایسا کرو گے تو پھر خداتعالیٰ خود سامان کرے گا۔ اس صورت میں جب کوئی تمہیں کچھ دیگا بھی تو دینے والا پھر تم پر احسان نہیں سمجھے گا بلکہ تمہارا احسان اپنے اوپر سمجھے گا۔

لوگوں سے تعلقات

مبلغ کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر خادمانہ حیثیت رکھے۔ لوگوں نے یہ نکتہ نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت نقصان اٹھایا ہے۔ بعض نے سمجھا کہ نوکر چاکروں کی طرح کام کرے۔ یہ مراد نہیں اس غلط فہمی کی وجہ سے مَلّانے پیدا ہوئے جن کے کام مردے نہلانا ہوا کرتا ہے۔ کوئی بیمار ہو جائے تو کہتے ہیں بلاؤ میاں جی کو وہ آکر اس کی خدمت کریں۔ کھیتی کاٹنی ہو تو چلو میاں جی۔ گویا میاں جی سے وہ نائی دھوبی جس طرح ہوتے ہیں اس طرح کام لیتے ہیں۔ دوسری صورت پھر پیروں والی ہے۔ پیر صاحب چارپائی پر بیٹھے ہیں کسی کی مجال نہیں کہ پیر صاحب کے سامنے چارپائی پر بیٹھ جاوے۔ حافظ صاحب سناتے تھے ان کے والد بھی بڑے پیر تھے لوگ ہمیں آکر سجدے کیا کرتے تھے۔ تو میں نے ایک دفعہ اپنے باپ سے سوال کیا کہ ہم تو مسجد میں جاکر سجدے کسی اور کے آگے کرتے ہیں اور یہ لوگ ہمیں سجدے کرتے ہیں اس پر میرے والد نے ایک لمبی تقریر کی۔ تو ایک طرف کا نتیجہ میاں جی پیدا ہوئے جو جھوٹی گواہی دینی ہوئی تو چلو میاں جی۔ اور اگر انکار کریں تو کہہ دیا کہ تمہیں رکھا ہوا کیوں ہے۔ آپ قیامت کے دن کیا خاک کام آئیں گے جو اس دنیا میں کام نہ آئے۔ اور دوسری طرف پیر صاحب جیسے پیدا ہو گئے تو دونوں کا نتیجہ خطرناک نکلا۔ یہ بڑی نازک راہ ہے۔ مبلغ خادم ہو اور ایسا خادم ہو کہ لوگوں کے دل میں اس کا رعب ہو۔ خدمت کرنے کے لئے اپنی مرضی سے جائے۔ ڈاکٹر پاخانہ اپنے ہاتھوں سے نکالتے ہیں لیکن کوئی انہیں بھنگی نہیں کہتا۔ ڈاکٹر اپنے ہاتھوں سے بنا کر دوائی بھی پلاتے ہیں لیکن کوئی انہیں کمپونڈر نہیں کہتا۔ وہ بیمار کی خاطر داری بھی کرتے ہیں لیکن کوئی انہیں ان کا خادم نہیں کہتا۔ یہ اس کی شفقت سمجھی جاتی ہے۔ اس لئے جب تم میں بھی توکل ہو گا اور تم کسی کی خدمت کسی بدلے کے لئے نہیں کرو گے تو پھر تمہاری بھی ایسی ہی قدر ہوگی۔ وہ شفقت سمجھی جائے گی۔ وہ احسان سمجھا جائے گا۔ اگر کوئی شخص کسی مصیبت میں مبتلا ہو تو اس کی تشفی دینے والا ہمارا مبلغ ہو۔ کوئی بیوہ ہو تو

حسب ہدایات شریعت اسلامیہ اس کا حال پوچھنے والا اس کا سودا وغیرہ لانے والا اور اس کے دیگر کاروبار میں اس کی مدد کرنے والا ہمارا مبلغ ہو۔ اسکا نتیجہ یہ ہو گا کہ ان کے دلوں میں دو چیزیں پیدا ہوں گی۔ ادب ہو گا اور محبت ہو گی۔ توکل کا نتیجہ ادب ہو گا اور خدمت کا نتیجہ محبت ہو گی۔ مبلغ کے لئے ضروری ہے کہ ایک طرف اگر ان میں دنائت نہ ہو تو دوسری طرف متکبر بھی نہ ہو۔ لوگ نوکر اس کو سمجھیں گے جو ان سے سوال کرتا ہو۔ جو سوال ہی نہیں کرتا اس کو وہ نوکر کیونکر سمجھیں گے۔ اگر وہ اس کے پاس آئیں گے تو نوکر سمجھ کر نہیں بلکہ ہمدرد سمجھ کر۔ اگر اس سے کچھ پوچھیں گے تو ہمدرد سمجھ کر۔ اس وقت پھر مبلغ کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ میں نوکر نہیں انہوں نے تو اسے نوکر نہیں سمجھا ہے وہ تو اسے ہمدرد سمجھ کر آئے ہیں۔ تو یہ دو رنگ ہونے چاہئیں کہ اگر سب سے بڑا خادم ہو تو ہمارا مبلغ ہو اور اگر لوگوں کے دلوں میں کسی کا ادب ہو تو وہ ہمارے مبلغ کا ہو۔ اس کے لئے وہ اپنے مال قربان کرنے کے لئے تیار ہوں اس کے لئے جان دینے کے لئے تیار ہوں۔

دعائیں کرتے رہو

پھر مبلغ کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ وہ دعائیں کرتا رہے کہ الٰہی! میں ان لوگوں کو ناراستی کی طرف نہ لے جاؤں۔ جب سے خلافت قائم ہوئی ہے میں یہی دعا مانگتا ہوں۔ ایک امام کی نسبت ایک لطیفہ ہے کہ بارش کا دن تھا ایک لڑکا بھاگتا چلا جا رہا تھا امام صاحب نے کہا دیکھنا لڑکے کہیں گر نہ پڑنا۔ لڑکا ہوشیار تھا بولا آپ میرے گرنے کی فکر نہ کریں میں گرا تو اکیلا گروں گا۔ آپ اپنے گرنے کی فکر کیجئے اگر آپ گرے تو ایک جماعت گرے گی۔ امام صاحب کہتے ہیں کہ مجھے اس بات کا بہت ہی اثر ہوا تو مبلغ کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اگر وہ گرے گا تو اس کے ساتھ اس کا حلقہ بھی گر جائے گا۔

دیکھو مولوی گرے مسلمان بھی گر گئے۔ یہ دو باتیں ہر وقت مد نظر رہنی چاہئیں۔ اول کوئی ایسی بات نہ کرے جس پر پہلے سوچا اور غور نہ کیا ہو۔ دوئم دعا کرتا رہے کہ الٰہی میں جو کہوں وہ ہدایت پر لے جانے والا ہو۔ اگر غلط ہو تو الٰہی ان کو اس راہ پر نہ چلا۔ اور اگر یہ درست ہے تو الٰہی توفیق دے کہ یہ لوگ اس راہ پر چلیں۔

جو بدی کسی قوم میں ہو اس کی تردید میں جراٴت سے لیکچر دو

اپنے عمل دیکھتا رہے۔ کبھی سستی نہ کرے۔ لوگوں کو ان کی غلطی سے روکے۔ ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالےٰ کے قول کے نیچے آئے۔

لَوۡلَا یَنۡہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِہِمُ الۡاِثۡمَ وَاَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ(المائدہ: ۶۴)

ترجمہ: عارف (لوگ) اور علماء انہیں ان کے جھوٹ بولنے اور ان کے حرام کھانے سے کیوں نہیں روکتے؟ جو کچھ وہ کرتے ہیں وہ یقیناً بہت برا ہے۔

کیوں انہوں نے نہ روکا۔ تو یہ فرض ہے۔ بمبئی کے مولویوں کی طرح نہ ہو وہی لیکچر ہونا چاہئے جس کی لوگوں کو ضرورت ہو۔ یہی بات ہمارے اور لاہوریوں کے درمیان جھگڑے کی ہے۔ وہ مرض بتانا نہیں چاہتے اور ہم مرض بتانا چاہتے ہیں۔ ان باتوں پر لیکچر دینے کی ضرورت نہیں جو اچھی باتیں ان میں ہیں یا جو بدیاں ان میں نہیں ہیں۔ اگر وہ لڑکیوں کو حصہ نہ دیں تو اس پر لیکچر دو۔ روزے نہ رکھیں تو اس پر دو۔ نماز نہ پڑھیں تو اس پر دو۔ زکوٰۃ نہ دیں تو اس پر دو۔ صدقہ و خیرات نہ دیں تو اس پر دو۔ لیکن جو باتیں ان میں ہیں ان پر نہ دو۔ غریبوں پر اگر وہ ظلم کرتے ہیں، شریفوں کا ادب نہیں کرتے، چوری کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، ان پر لیکچر دو۔ لیکن چوری ان میں نہیں ہے اس پر نہ دو۔ مریض تلاش کرو اور پھر دوا دو۔

کبھی کسی خاص شخص کی طرف اشارہ نہ ہو۔ میں اپنا طریقہ بتاتا ہوں میں نے جب کبھی کسی کی مرض کے متعلق بیان کرنا ہو تو میں دو تین مہینے کا عرصہ درمیان میں ڈال لیتا ہوں۔ تاکہ وہ بات لوگوں کے دلوں سے بھول جائے۔ تو اتنا عرصہ کر دینا چاہئے۔ اگر موقعہ ملے تو اس شخص کو جس میں یہ مرض ہے علیحدہ تخلیہ میں نرم الفاظ کے ساتھ سمجھاؤ۔ ایسے الفاظ میں کہ وہ چڑ نہ جائے۔ ہمدردی کے رنگ میں وعظ کرو۔ ایک طرف اتنی ہمدردی دکھاؤ کہ غریبوں کے خدمتگار تم ہی معلوم ہو دوسری طرف اتنا بڑا بنو کہ تمہیں دنیا سے کوئی تعلق نہ ہو۔ دو فریق بننے نہ دو۔ دو شخصوں کے جھگڑے کے متعلق کسی خاص کے ساتھ تمہاری طرف داری نہ ہو۔ کوئی مرض پاؤ تو اس کی دوا فوراً دو۔ کسی موقعہ پر چشم پوشی کر کے مرض کو بڑھنے نہ دو۔ ہاں اگر اصلاح چشم پوشی ہی میں ہو تو کچھ حرج نہیں۔ لوگوں کو جو تبلیغ کرو اس میں ایک جوش ہونا چاہئے۔ جب تک تبلیغ میں ایک جوش نہ ہو وہ کام ہی نہیں کر سکتا۔ سننے والے پر اثر ڈالو کہ جو تم کہہ رہے ہو اس کے لئے جان دینے کے لئے تیار ہو۔ اور یہ جو کچھ تم سنا رہے ہو یہ تمہیں ورثے کے طور پر نہیں ملا بلکہ تم نے خود اس کو پیدا کیا ہے۔ تم نے خود اس پر غور کیا ہے۔

(۲) ٹھٹھے باز نہیں ہونا چاہئے۔ لوگوں کے دلوں سے ادب اور رعب جاتا رہتا ہے۔

ہاں مذاق نبی کریم ﷺ بھی کر لیا کرتے تھے اس میں حرج نہیں۔ احتیاط ہونی چاہئے۔ سنجیدہ معلوم ہو۔

(۳) اور ہمدردی ہونی چاہئے۔ نرم الفاظ ہوں سنجیدگی سے ہوں سمجھنے والا سمجھے میری زندگی اور موت کا سوال ہے۔ تمہاری ہمدردی وسیع ہونی چاہئے احمدیوں سے بھی ہو غیر احمدیوں سے بھی ہو۔ ہمدردی دونوں فریق کے ساتھ نہ ہونے کی وجہ سے ہی جھگڑے ہوا کرتے ہیں۔ ایک فریق کہتا ہے ہم اپنے مولوی کو بلاتے ہیں دوسرے کہتے ہیں ہم اپنے مولوی کو بلاتے ہیں۔ لیکن اگر تمہاری ہمدردی دونوں فریق کے ساتھ ہو تو دونوں فریق کے تم ہی مولوی ہو گئے۔ اور پھر انہیں کسی اور مولوی کے بلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ وہ تمہیں اپنا مولوی سمجھیں گے۔ پھر تبلیغ صرف مسلمانوں میں ہی نہیں ہونی چاہئے۔

(۴) آج تک ہمارے مبلغوں کا زور غیر احمدیوں پر ہی رہا ہے۔ کثرت سے ہندو آباد ہیں ان میں بھی تبلیغ ہونی چاہئے۔ بہت سی سعید روحیں ان میں بھی ہوتی ہیں۔ تمہاری ہمدردی ان کے ساتھ بھی ویسی ہی ہونی چاہئے جیسے مسلمانوں اور احمدیوں کے ساتھ تاکہ تم ان کے بھی پنڈت ہو جاؤ۔ اسلام کی تبلیغ ہندوستان میں اسی طرح پھیلی ہے حضرت معین الدین چشتیؒ کوئی اتنے بڑے عالم نہ تھے بلکہ انہوں نے اپنے اعمال کے ساتھ دعاؤں کے ساتھ ہمدردی کے ساتھ ہندوؤں کو مسلمان بنایا۔ اس لئے تم اپنی تبلیغ غیر احمدیوں سے ہی مخصوص نہ کرو بلکہ ہندوؤں عیسائیوں میں بھی تمہاری تبلیغ ہو اور ان سے بھی تمہارا ویسا ہی سلوک ہو۔ مجھے ہندو یہاں دعا کے لئے لکھتے ہیں نذریں بھیجتے ہیں ان میں بھی سعید روحیں موجود ہیں۔ اگر ان کو صداقت کی طرف بلایا جائے اور صداقت کی راہ دکھائی جائے تو وہ صداقت کو قبول کر لیں۔

مبلغ کا فرض ہے کہ ایسا طریق اختیار نہ کرے کہ کوئی قوم اسے اپنا دشمن سمجھے۔ اگر یہ کسی ہندوؤں کے شہر میں جاتا ہے تو یہ نہ ہو کہ وہ سمجھیں کہ ہمارا کوئی دشمن آیا ہے بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ ہمارا پنڈت ہے۔ اگر عیسائیوں کے ہاں جائے تو سمجھیں کہ یہ ہمارا پادری ہے وہ اس کے جانے پر ناراض نہ ہوں بلکہ خوش ہوں۔ اگر یہ اپنے اندر ایسا رنگ پیدا کرے تو پھر غیر احمدی کبھی تمہارے کسی شہر میں جانے پر کسی مولوی کو نہ بلائیں گے۔ نہ ہندو کسی پنڈت کو اور نہ عیسائی کسی پادری کو۔ بلکہ وہ تمہارے ساتھ محبت سے پیش آئیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے بڑے بڑے لوگوں کو جو کسی مذہب میں گزر چکے ہوں گالیاں دینے سے روکا ہے۔

اسلام اس بات کا مدعی ہے کہ تمام دنیا کے لئے نبی آئے اور انہوں نے اپنی امتوں میں ایک استعداد پیدا کر دی پھر بتایا کہ اسلام تمام دنیا کے لئے تبلیغ کرنے والا ہے۔ تبلیغ میں یہ یاد رکھو کہ کبھی کسی شخص کے قول سے گھبراؤ نہیں اور نہ قول پر دارو مدار رکھو۔ دلیل اور قول میں فرق ہے دلیل پر زور دینا چاہئے۔ لوگ دلیل کو نہیں سمجھتے مسلمان آریوں سے بات کرتے ہوئے کہہ دیتے ہیں قرآن میں یوں آیا ہے آریوں کے لئے قرآن حجت نہیں۔ تم رویہ دلیل کو پیش کرنے کا اختیار کرو تا جماعت احمدیہ میں یہ رنگ آجائے۔ دلائل سے فیصلہ کرو عقلی دلائل بھی ہوں اور نقلی بھی۔ دلیل ایسی نہ ہو کہ حضرت مولوی نور الدین اتنے بڑے عالم تھے وہ بھلا مرزا صاحبؒ کو ماننے میں غلطی کر سکتے تھے۔ پس چونکہ انہوں نے مرزا صاحبؒ کو مان لیا اس لئے حضرت صاحب سچے ہیں۔ ایسی دلیل نہیں ہونی چاہئے بلکہ دلیل سے بات کرو تاکہ جماعت میں دلائل سے ماننے کا رنگ پیدا ہو۔ اگر جماعت میں دلائل سے ماننے کا رنگ پیدا ہو جائے گا تو پھر وہ کسی شخص کے جماعت سے نکلنے پر گھبرائیں گے نہیں۔ سچی اتباع پیدا کرو۔ جھوٹی اتباع نہ ہو آریوں کے سامنے قرآن شریف دلیل کے طور پر پیش کرو۔۔ اس طرح پیش نہ کرو کہ تم مانتے ہو۔

ایک اور دھوکا بھی لگتا ہے کہ بعض پھر دعویٰ کے لئے بھی دلیل مانگتے ہیں۔ دعویٰ پڑھو تو کہتے ہیں دلیل دو۔ جہاں دعویٰ کا اثبات ہو وہاں دعویٰ خود دلیل ہوتا ہے۔ مثلاً حضرت صاحبؒ کی نسبت کوئی پوچھے کہ مرزا صاحب نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو ہم دعویٰ پڑھ دیں گے۔ اور اس کی دلیل دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس نے دعویٰ مانگا ہے۔ لاہوریوں اور ہمارے درمیان حضرت صاحبؒ کا دعویٰ ہی دلیل ہے۔

جب بحث کرو تو مد مقابل کی بات کو سمجھو کہ وہ کیا کہتا ہے۔ مثلاً تناسخ کی بات شروع ہوئی ہو۔ تو فوراً تناسخ کے رد میں دلائل دینے نہ شروع کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے لےکر چھوٹے سے چھوٹے مسئلے میں بھی اختلاف آتا ہے۔ اب اگر تم اس کے برخلاف دلیلیں دینے لگ پڑو اور آخر میں وہ کہہ دے کہ آپ تو میری بات سمجھے ہی نہیں تو تقریر بے فائدہ جائے گی۔ اس کی بات سمجھو کہ آیا وہ وہی تو نہیں کہتا جو تمہارا بھی عقیدہ ہے۔ بغیر خیالات معلوم کئے بات نہ کرو۔ تناسخ کے متعلق بات کرو تو پوچھو کہ تمہارا تناسخ سے کیا مطلب ہے۔ اس کی ضرورت کیا پیش آئی۔ غرض ایسے سوالات کر کے پہلے اس کی اصل حقیقت سے آگاہ ہو اور پھر

بات کرو۔ اس طرح اول تو اس کے دعویٰ میں ہی اور نہیں تو پھر دلیلوں میں ہی تمہیں آسانی پیدا ہو جائے گی۔ کوئی گورنمنٹ اپنے دشمن کو اپنا قلعہ نہیں دکھاتی۔ قانون بنے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی کوشش کرے تو پکڑا جاتا ہے۔ کیونکہ کمزور موقعہ معلوم کر کے پھر اس پر آسانی سے حملہ ہو سکتا ہے۔ اس لئے پہلے کمزور موقعے معلوم کرو اور پھر حملہ کرو۔

تھوڑے وقت میں بہت کام کرنا سیکھو۔ تھوڑے وقت میں بہت کام کرنا ایسا گر ہے کہ انسان اس کے ذریعے سے بڑے بڑے عہدے حاصل کرتا ہے۔ انسان محنت کرتا ہے اور ایک وائسرائے بھی۔ مزدور آٹھ آنے روز لیتا ہے وائسرائے ہزاروں روپیہ روز۔ کیا وجہ؟ وہ تھوڑے وقت میں بہت کام کرتا ہے۔ اس کا نام لیاقت ہے۔ دوسرا طریق دوسروں سے کام لینے کا ہے۔ بڑے بڑے عہدے دار خود تھوڑا کام کرتے ہیں دوسروں سے کام لیتے ہیں۔ وہ تو خوب تنخواہیں پاتے ہیں لیکن ایک محنتی مزدور آٹھ آنہ ہی کماتا ہے۔ یہ لیاقت کام کرنے کی لیاقت سے بڑی ہے۔ پس جتنی لیاقت کام کروانے کی ہو گی اتنا بڑا ہی عہدہ ہو گا۔ محمد رسول اللہ ﷺ کو کیوں سب سے بڑا درجہ ملا ہے۔ محنت کرنے میں تو لوگ جو سالہا سال غاروں میں رہتے تھے آپؐ سے بڑھے ہوئے تھے۔ آپؐ میں کام لینے کی لیاقت تھی۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ نے انسان میں ایک طاقت رکھی ہے۔ بہت جگہ سیکرٹری ہوتے ہیں خود محنتی ہوتے ہیں لوگوں سے کام لینا نہیں جانتے پھر لکھتے ہیں لوگ مانتے نہیں۔ دوسری جگہ سیکرٹری ہوتا ہے وہ خود تھوڑا کام کرتا ہے۔ لیکن لوگوں سے کام لیتا ہے اور خوب لیتا ہے تمام انتظام ٹھیک رہتا ہے۔ ہمیشہ اپنے کاموں میں خود کام کرنے اور کام لینے کی طاقت پیدا کرو۔ ایسے طریق سے لوگوں سے کام لو کہ وہ اسے بوجھ نہ سمجھیں۔ بہت لوگ خود محنتی ہوتے ہیں جب تک وہ وہاں رہتے ہیں کام چلتا رہتا ہے لیکن جب وہ وہاں سے ہٹتے ہیں کام بھی بند ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے سلسلے جو ہوتے ہیں جب نبی مر جاتا ہے تو وہ سلسلہ مٹتا نہیں بلکہ اس کے آگے کام کرنے والے پیدا ہو گئے ہوتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ نبی ایک جماعت کام کرنے والی تیار کر جاتا ہے۔ پس تمہارے سپرد بھی یہی کام ہوا ہے۔ یہ ایک مشق ہوتی ہے خوب مشق کرو لوگوں میں کام کرنے کی روح پھونک دو۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں صحابہؓ میں کام کرنے کی ایک روح پھونکی گئی تھی۔ ہر دو مہینے کے بعد کوفے کا گورنر بدلتا تھا حضرت عمرؓ فرماتے تھے اگر کوفے والے مجھے روز گورنر بدلنے کے لئے کہیں تو میں روز بھی بدل سکتا ہوں۔ ایسے رنگ میں کام کرو کہ لوگوں کے اندر ایک روح پھونک دو۔ کبھی مت سمجھو کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو مانتے نہیں۔ عرب کی زمین کیسے شریروں کی تھی پھر کیسے شریفوں کی بن گئی۔ یہ بات غلط ہے کہ وہ مانتے نہیں۔ تم ایک دفعہ سناؤ دو دفعہ سناؤ آخر مانیں گے۔ یہ اس شخص کی اپنی کمزوری ہوتی ہے جو کہتا ہے مانتے نہیں۔

اپنے کام کی پڑتال کرتے رہو

ہمیشہ اپنے کام کی پڑتال کرو کیا کامیابی ہوئی۔ تمہارے پاس ایک رجسٹر ہونا چاہئے اس میں لکھا ہوا ہو کہ فلاں جگہ گئے وعظ فلاں مضمون پر کیا اس اس طبقے کے لوگ شامل ہوئے فلاں فلاں وجوہات پر مخالفت کی گئی فلاں فلاں بات لوگوں نے پسند کی۔ یہ رجسٹر آئندہ تمہارے علم کو وسیع کرنے والا ہوگا۔ تم سوچو گے کیوں مخالفت ہوئی۔ اہم مسائل کا تمہیں پتہ لگ جائے گا ان پر آئندہ غور کرتے رہو گے۔ اگر تم وہاں سے بدل جاؤ گے تو پھر تمہارے بعد آنے والے کے کام آئے گا۔ آج کل اس بات کو نہ سوچنے کی وجہ سے مسلمان گرے ہوئے ہیں۔ ایک استاد تمام عمر فلسفہ پڑھاتا ہے وہ کبھی ان باتوں کو نوٹ نہیں کرتا کہ فلاں بات پر فلاں لڑکے نے سوال کیا اس کا اس طرح جواب ہوا۔ فلاں بات کی اس طرح تجدید یا تردید ہونی چاہئے۔ وہ جتنا تجزیہ حاصل کر چکا ہوتا ہے جب مر جاتا ہے تو پھر دوسرے کو جو اس کی جگہ آتا ہے از سر نو تجزیہ کرنا پڑتا ہے۔ یورپ کے علوم کی ترقی کا باعث یہی بات ہوئی کہ ایک کچھ نئی معلومات حاصل کرتا ہے اور انہیں نوٹ کرتا ہے اس کے بعد آنے والا پھر وہی معلومات حاصل نہیں کرتا وہ ان نوٹوں سے آگے فائدہ اٹھاتا ہے۔ تم بھی اس طرح کرو کہ ہر سال کے بعد نتیجہ نکالو۔ کون سی نئی باتیں پیدا ہوئیں کون سی باتیں مفید ثابت ہوئی ہیں ۔ جب یہ رپورٹ دوسرے مبلغ کے ہاتھوں میں جائے گی تو وہ اپنی بناء زیادہ مضبوط کرے گا۔

استقلال

کبھی اپنی جگہ نہیں چھوڑنی چاہئے۔ یہ خیال کر کے کہ اگر یہ یوں نہیں مانتا تو اس طرح مان لے گا۔ اس میں وہ تو نہ ہارا تم ہار گئے کہ تم نے اپنی بات کو ناکافی سمجھ کر چھوڑ دیا۔ تم نے اپنا دین چھوڑ کر دوسرے کو منوا بھی لیا تو کیا فائدہ۔ بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ غیر احمدی وفاتِ مسیحؑ پر چڑتے ہیں۔ چلو وفاتِ مسیحؑ چھوڑ کر اور باتیں منواتے ہیں یہ غلط ہے۔ وفاتِ مسیحؑ مان جائیں تو پھر آگے پیش کرو۔ ترتیب سے پیش کرو۔ ملمع سازی سے پیش نہ کرو ملمع سازی سے پیش کرنے کا یہ نتیجہ ہو گا کہ جب اس پر بات کھلے گی تو یا وہ تم سے بدظن ہوں گے اور یا پھر تمہارے مذہب سے۔ جن جن باتوں پر خدا نے تمہیں قائم کیا ہے ان کو پیش کرو۔ اگر لوگ نہ مانیں تو تمہارا کام پیش کرنا ہے منوانا نہیں وہ اللہ کا کام ہے۔ محمد رسول اللہ کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فَذَکِّرۡ ۟ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَکِّرٌ لَسۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِمُصَۜیۡطِرٍ(الغاشیہ: ۲۲-۲۳)

جماعت میں کیا احساس پیدا کرو

جماعت میں ایک احساس پیدا کرو۔ وہ احمدیوں کی محبت پر دوسرے رشتہ داروں کی محبت کو قربان کر دیں ایسی محبت احمدی لوگوں سے ہونی چاہئے کہ رشتہ داری کی محبت سے بھی بڑھ جائے۔ حق کی تائید ہونی چاہئے یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اگر احمدی کے مقابل میں رشتہ دار آگیا ہے تو رشتہ دار کی طرف داری اختیار کر لی جائے ہماری قوم ہماری جماعت احمدیت ہے۔ پھر اس بات کا احساس پیدا کرنا بھی ضروری ہے کہ دین کا اب سب کام ہم پر ہے جب یہ کام ہم پر ہے تو ہم نے دنیا کے کتنے مفاسد کو دور کرنا ہے۔ پھر اس کے لئے کتنی بڑی قربانی کی ضرورت ہے۔ اس بات کو پیدا کرو کہ ہر ایک آدمی مبلغ ہے صحابہؓ سب مبلغ تھے۔ اگر ہر ایک آدمی مبلغ ہو گا تب اس کام میں کچھ آسانی پیدا ہو گی اس لئے ہر ایک احمدی میں تبلیغ کا جوش پیدا کرو۔ پھر مالی امداد کا احساس پیدا کرو۔ اگرچہ ہماری جماعت کا معیار تو قائم ہو گیا ہے کہ فضول جگہوں میں جو روپیہ خرچ کیا جاتا ہے مثلاً بیاہ شادیوں میں وہ اب دین کے کاموں میں خرچ ہوتا ہے۔ لیکن یہ احساس پیدا ہونا چاہئے کہ ضروریات کو کم کر کے بھی دین کی راہ میں روپیہ خرچ کیا جائے۔ جماعت کا اکثر حصہ سست ہے۔ کچھ لوگ ہیں جو بہت جوش رکھتے ہیں۔ لیکن یہ بات پوشیدہ نہیں کہ آخر میں سارا بوجھ انہیں لوگوں پر پڑ کر ان لوگوں میں سستی آنی شروع ہو جائے گی۔ تو ایک حصہ پہلے ہی سست ہوا دوسرا پھر اس طرح سست ہو گیا تو یہ اچھی بات نہیں اس لئے چاہئے کہ جماعت کو ایک پیمانہ پر لایا جائے۔ جماعت کی یہ حالت ہے کہ اخبار میں چندے کے متعلق نکلے تو کان ہی نہیں دھرتے۔ ہاں علیحدہ خط کی انتظار میں رہتے ہیں۔ لیکن اگر کسی شخص کا لڑکا گم ہوا ہو اور اخبار میں نکل جائے تو جس کے ہاں ہوتا ہے وہ اسے وہیں روک لیتا ہے خط کی انتظار نہیں کرتا۔ انکے دلوں میں ایسا جوش پیدا کرو کہ جونہی یہ دین کے لئے آواز سنیں فوراً دوڑ پڑیں۔ پہلے مبلغ اپنی زندگی میں یہ احساس پیدا کریں۔

مسائل کے متعلق غور کرو!

جب کوئی اعتراض پیش آوے پہلے خود اس کے حل کرنے کی کوشش کرو۔ فوراً قادیان لکھ کر نہ بھیج دو۔ خود سوچنے سے اس کا جواب مل جائے گا۔ اور بیسیوں مسائل پر غور ہو جائے گی جواب دینے کا مادہ پیدا ہو گا۔ ہم سے پوچھو گے تو ہم تو جواب بھیج دیں گے لیکن پھر یہ فائدے تمہیں نہ ملیں گے۔ اس لئے جب اعتراض ہو خود اس کو حل کرو جب حل کر چکو تو پھر تبادلہ خیالات ہونا چاہئے۔ اس سے ایک اور ملکہ پیدا ہو گا۔ جو آپ ہی سوچے اور پھر اپنے سوچے پر ہی بیٹھ جائے۔ اس کا ذہن کند ہو جاتا ہے۔ لیکن تبادلہ خیالات سے ذہن تیز ہوتا ہے۔ ایک بات ایک نے نکالی ہوتی ہے ایک اور دوسرے نے اس طرح پھر سب اکٹھی کر کے ایک مجموعہ ہو جاتا ہے۔

دو مبلغ جہاں ملیں تو لغو باتیں کرنے کی بجائے وہ ان مسائل پر گفتگو کریں۔

خدا تعالیٰ سے تعلق ہو۔ دعا ہو۔ توکل ہو۔

قادیان آنے کی تاکید کرتے رہو

لوگوں کو قادیان بار بار آنے کے لئے اور تعلق پیدا کرنے کے لئے کوشاں رہو۔ جب تک کسی شاخ کا جڑ سے تعلق ہوتا ہے وہ ہری رہتی ہے۔ لیکن شاخ کا جڑ سے تعلق ٹوٹ جانا اس کے سوکھ جانے کا باعث ہوتا ہے۔ موجودہ فتنے میں نوے فیصدی ایسے لوگ ہیں جو اسی وجہ سے کہ ان کا تعلق قادیان سے نہ تھا فتنے میں پڑے۔ بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ قادیان میں کچھ کام نہیں رہا روپیہ جاتا ہے اور وہ لوگ بانٹ کر کھا لیتے ہیں۔ اس لئے لوگوں کو قادیان سے تعلق رکھنے کے لئے کوشش کرتے رہو۔ اپنے کاموں کی رپورٹ ہر سہ ماہی پر بھیجو۔ اس کے دوسری طرف میں نے زائد نوٹ لکھوا دیئے ہیں ان کے متعلق بھی لکھو۔

یہ بھی یاد رکھو کہ شہروں میں بھی ہماری جماعت میں وفاداری کا اثر لاہوریوں کی دیکھا دیکھی کم نہ ہو جائے۔ ہمیشہ جہاں جاؤ ان کے فرائض انہیں یاد دلاتے رہو۔ سیاست میں پڑنا ایک زہر ہے جب آدمی اس میں پڑتا ہے دین سے غافل ہو جاتا ہے۔ سیاست میں پڑنا امن کا مخل ہوتا ہے اور امن کا نہ ہونا تبلیغ میں روک ہوتا ہے۔ میں لاہوریوں سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا کہ میں سیاست میں پڑنے سے ڈرتا ہوں سیاست صداقت کے خلاف‘ احسان کے خلاف‘ شریعت کے احکام کے خلاف ہے یہ ایسا زہر ہے کہ جس جماعت میں اس زہر نے اثر کیا ہے پھر وہ ترقی نہیں کر سکی۔ اس پر بڑا زور دو اس وقت سیاست کی ایک ہوا چل رہی ہے۔ یہ تبلیغ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ بعض لوگ اس سلسلے میں اس لئے نہیں داخل ہوتے کہ اس نے وفاداری کی تعلیم دی ہے۔ پس تم سیاست میں پڑنے سے لوگوں کو روکو۔ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی تعلیم دو۔

تقویٰ کے حصول کے ذرائع

(حضرت مصلح موعود خلیفۃ المسیح الثانی کی تقریر سے لئے ہوئے نوٹوں کی بناء پر تیار کیا گیا۔ اکمل)

تقویٰ کی تعریف

اللہ تعالیٰ سورہ مائدہ میں فرماتا ہے۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاسۡمَعُوۡا ؕ وَاللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ(المائده : ۱۰۹) اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ اچھی طرح اس کے احکام کی فرمانبرداری کرو۔ اور اللہ نافرمان لوگوں کو کامیاب نہیں کرتا۔ اس آیت سے ظاہر ہے کہ تقویٰ فرمانبرداری کا نام ہے۔

فرمانبرداری کس طرح پیدا ہو

اور فرمانبرداری محبت کی وجہ سے کی جاتی ہے یا خوف کی وجہ سے۔ محبت حسن و احسان کے مطالعہ سے پیدا ہو گی اور خوف جلال کے مطالعہ سے۔ چونکہ انسانی فطرت میں بھی دو باتیں ہیں اس لئے سورہ فاتحہ میں ان دونوں سے کام لیا گیا ہے۔ فرماتا ہے۔ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ(1:2-3) یہ تمام احسان یاد دلا کر کہ ایک پہلو سے یہی حسن بھی ہے۔ لوگوں کو اپنی فرمانبرداری کی طرف متوجہ کیا ہے۔ چونکہ بعض طبائع بجز خوف دلانے کے فرمانبرداری نہیں کرتیں۔ اس لئے ان کے لئے فرمایا۔ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ(1:4) یعنی جزاء و سزا کا بھی میں مالک ہوں۔

تقویٰ انبیاءؑ کی بعثت سے

الغرض فرمانبرداری کامل محبت یا کامل خوف پر ہے۔ اور اس کے لئے اللہ نے دو سامان مقرر کئے ہیں ایک آسمانی ایک زمینی۔ آسمانی سامان جس سے لوگوں میں فرمانبرداری یا تقویٰ پیدا ہو وہ انبیاءؑ کی بعثت ہے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب دیکھا کہ تقویٰ کی روح دنیا سے گم ہو چلی ہے تو انہوں نے اپنے مولیٰ کے حضور گڑ گڑا کر دعا کی۔ رَبَّنَا وَابۡعَثۡ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ وَیُزَکِّیۡہِمۡ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ(2:130) (البقره : ۱۳۰) اے ہمارے رب ان میں ایک رسول انہی میں سے مبعوث کر۔ جو ان پر تیری آیتیں پڑھ کرسناوے اور ان کو کتاب و حکمت سکھائے اور ان کا تزکیہ کرے تحقیق تو عزیز و حکیم ہے۔ یہ دعا قبول ہوئی اور ایک رسول مبعوث ہوا جس نے اکھڑے اکھڑے قوم میں فرمانبرداری کی روح پیدا کر دی۔ انبیاء کا ہاتھ خدائے قدوس کے ہاتھ میں ہوتا ہے اس لئے جو ان سے تعلق پیدا کرتا ہے وہ بھی پاک کیا جاتا ہے۔ ان کی مثال بجلی کی بیٹری سی ہے کہ جس کا ذرا بھی تعلق اس کے ساتھ ہوا وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہا۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ ہزاروں ٹمپرنس سوسائٹیاں اتنے سالوں سے کام کر رہی ہیں ان کا کوئی قابل ذکر فائدہ نہیں۔ مگر محمد رسول اللہ ﷺ کے دربار سے ایک آواز اٹھتی ہے اور تمام بلا استثناء شراب کے مٹکے لنڈھا دیتے ہیں۔ مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ دنیا کے ادنیٰ نفع کے لئے دین کو متاثر کرنے پر تیار ہیں مگر انہی مسلمانوں میں سے ”عبداللطیف“ ایک نبی کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتا ہے اور پھر دین پر اپنی جان تک قربان کر دیتا ہے۔ امیر کابل کی طرف سے ایماء ہوتا ہے کہ صرف ظاہر داری کے لئے کہہ دو میں مرزا کو مسیح نہیں مانتا مگر وہ سنگسار ہونا پسند کرتا ہے اور یہ کلمہ زبان پر نہیں لاتا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس لئے کہ وہ آسمانی ذریعہ سے پاک کیا گیا۔

دوسرا ذریعہ زمینی ہے۔ جس سے مراد انسان کا اپنی طرف سے مجاہدہ ہے۔ اس وقت روح انسانی کی حالت اس گھوڑے کی طرح ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ سدھایا جاتا ہے۔ اس لئے فرماتا ہے۔ وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(العنکبوت: ۷۰) جو ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں۔ ہم انہیں رستے دکھا دیتے ہیں۔ ان مجاہدات میں سے چند کا ذکر اس جگہ کیا جاتا ہے اول صحبت صادقین۔ صادقین کی صحبت ایسی ہے کہ اس کے ذریعہ انسان پاک کیا جاتا ہے۔ صحبت کا اثر ایک مانی ہوئی بات ہے۔ لوگ اکسیر کو تلاش کرتے پھرتے ہیں میرے نزدیک دنیا میں اگر کوئی اکسیر ہے تو صحبت صادقین۔ مبارک وہ جو اس سے فائدہ حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ(التوبہ: ۱۱۹) یعنی اے مؤمنو! تقویٰ اختیار کرو۔ اور اس تقویٰ کے حصول کا ذریعہ کیا ہے۔ یہ کہ تم صادقوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ صادقوں میں ایک برقی اثر ہوتا ہے۔ جس سے گناہوں کے جراثیم مارے جاتے ہیں۔ صادق خدا کے حضور ایک عزت رکھتا ہے۔ اس کے طفیل صادق سے تعلق رکھنے والا بھی باریاب ہو جاتا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ اپنے ایک بھانجے پر اس لئے ناراض ہوئیں کہ وہ ان کے بہت صدقہ کرنے کا شاکی تھا۔ آپ نے حکم فرما دیا کہ ہمارا بھانجہ کبھی ہمارے گھر میں نہ آئے۔ ایک روز چند صحابہؓ کبار نے باریابی کی اجازت چاہی جو انہیں دی گئی۔ ان میں صدیقہؓ کے بھانجے بھی شامل تھے۔ اور وہ بھی اندر چلے گئے۔ دیکھا صادقوں کی صحبت نے کیا فائدہ دیا۔ اسی طرح دیکھا گیا ہے کہ اچھی جنس کے ساتھ ادنیٰ جنس مل کر بک جاتی ہے۔

دوسرا ذریعہ نفس کا محاسبہ ہے۔ یعنی ہر روز تم اپنے کاموں پر ایک تنقیدی نظر کرو۔ اور دیکھو کہ تمہاری حرکت دنیا کی طرف ہے یا دین کی طرف اور آیا کوئی کام اللہ کی نافرمانی کا تو نہیں کیا اور پھر اس کی اصلاح کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلۡتَنۡظُرۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ(الحشر: ۱۹) اے مومنو! تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ اور وہ تقویٰ یوں حاصل ہو گا کہ ہر جان نظر کرتی رہے کہ اس نے کل کے لئے کیا کیا اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے خبر رکھنے والا ہے۔ جو شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا نگرانِ حال ہے۔ اور اپنے اعمال پر نظر ثانی کرتا ہے اور دیکھتا رہتا ہے کہ میں نے روزِ فردا کے لئے کیا تیاری کی ہے وہ متقی بن جاتا ہے۔

تیسرا ذریعہ گناہوں پر پشیمانی یعنی توبہ ہے۔ اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَهٗ(ابن ماجہ کتاب الزہد باب ذکر التوبہ) جو شخص اپنے گناہوں پر پشیمانی کا اظہار کرتا ہے۔ وہ ان کے بد نتائج سے محفوظ رہتا ہے۔ اور آئندہ کے لئے نیکی و تقویٰ کے واسطے اپنے آپ کو تیار کرتا ہے اور شیطان کے مزید حملوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ حضرت معاویہؓ کی نمازِ فجر قضاء ہو گئی اس پر ان کو اس قدر پریشانی ہوئی اور اس قدر وہ خدا کے حضور روئے اور چلائے کہ انہیں ایک نماز کے بدلے دس نمازوں کا ثواب ملا۔ دوسرے روز کسی نے انہیں اٹھایا پوچھا تو کون؟ کہا میں تو شیطان ہوں۔ انہوں نے تعجب کیا کہ نماز کے لئے شیطان بیدار کرے۔ اس نے کہا۔ اگر میں نہ اٹھاؤں تو آپ ایک نماز کے بدلے دس نمازوں کا ثواب پائیں۔ غرض تم اپنی کسی لغزش پر اس قدر پشیمانی ظاہر کرو کہ تمہارا شیطان مسلمان ہو جائے۔

چوتھا ذریعہ۔ تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا رہے۔ حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص رات بھر سوچتا رہے اور کہے کہ ابن عمر میرا کام کر دے گا۔ تو خواہ مخواہ میری توجہ اس طرف ہوگی۔ اسی طرح جو انسان اللہ تعالیٰ کو اپنا سہارا ہر امر میں ٹھہراتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر خاص توجہ کرتا ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ کی توجہ ہو وہ کیوں فرمانبردار نہ بنے گا۔

پانچواں ذریعہ

حصولِ تقویٰ کا استخارہ ہے۔ یعنی ہر روز اپنے کاموں کے لئے استخارہ کرے۔ اور اپنے مولیٰ سے دعا کرے کہ جو کام نیک اور تیری مرضی کے مطابق ہیں ان کی توفیق عطا ہو۔ اور جو تیری مرضی کے موافق نہیں ان سے مجھے ہٹا لے۔ اگر ہر روز ایسا نہ کر سکے تو ہفتہ میں ایک بار تو ضرور ہی کرے۔

چھٹا ذریعہ

یہ کہ دعاؤں میں لگا رہے۔ جو شخص اپنے اللہ سے دعا کرتا رہے اللہ اسے اپنی رضامندی کی راہیں دکھاتا ہے اور گمراہ ہونے سے بچاتا ہے۔

ساتواں ذریعہ

لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ(ابراہیم: ۸) سے ظاہر ہے کہ جس نعمتِ باری تعالیٰ پر ہم شکر کریں گے وہ بڑھ بڑھ کر دی جائے گی۔ پس انسان اگر کوئی نیکی کرے تو اسے چاہئے کہ بہت بہت شکر بجا لائے تاکہ اور نیکیوں کی توفیق ملے اور وہ متقی بن جائے۔

آٹھواں ذریعہ۔

سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ۔ پڑھتا رہے۔ اس میں یہ سر ہے کہ جو کسی کی تعریف کرے وہ ممدوح چاہتا ہے کہ یہ بھی ایسا ہی بن جائے۔ نبی کریم ﷺ نے لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ پر زور دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو وحدہٗ لا شریک ثابت کیا تو خدا نے فرمایا اے نبی! ہم نے تجھے بھی دنیا میں فرد بنا دیا۔ جو اللہ اکبر کہہ کے خدا کی دل و جان اور اپنے عمل سے بڑائی بیان کرے اسے اللہ بڑا بنا دے گا۔ اور جو اس کی تسبیح کرے گا خدا اسے پاک بنا دے گا۔ اور جو اس کا حامد بنے گا وہ محمود ہو جائے گا۔

نواں ذریعہ۔

نمازوں سے اپنی اصلاح کرے۔ کیونکہ فرماتا ہے۔ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡکَرِ(العنکبوت: ۴۶) نماز ناپسندیدہ کاموں سے روکتی ہے۔ نماز معراج المؤمنین یعنی مؤمنوں کو ترقیاتِ روحانی دینے والی ہے۔ پس نمازیں بہت پڑھو تاکہ تقویٰ حاصل ہو اور تم میں فرمانبرداری کی روح پیدا ہو جائے۔

دسواں ذریعہ۔

اللہ تعالیٰ کے جلال و جمال کا معائنہ کرتا رہے۔ جلال کے متعلق فرماتا ہے اَوَلَمۡ یَہۡدِ لَہُمۡ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ یَمۡشُوۡنَ فِیۡ مَسٰکِنِہِمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ ؕ اَفَلَا یَسۡمَعُوۡنَ(السجدہ: ۲۷) یعنی کیا یہ بات ان کو ہدایت نہیں دیتی کہ اس سے پہلے کئی قوموں کو ہم نے ہلاک کیا اور یہ ان کے مکانوں کے کھنڈروں میں چلتے پھرتے ہیں اس میں بہت سے نشان ہیں کیوں نہیں سنتے۔ جب تم دیکھو گے کہ خدا تعالیٰ کے نافرمانوں کا انجام یہ

ہو گا۔ اور جس سازوسامان دنیوی کے لئے خدا کو ناراض کیا اس کا انجام یہ ہے۔ تو لامحالہ فرمانبرداری کی طرف توجہ ہو گی۔ اور جمال یعنی انعامات کے متعلق اس کے ساتھ ارشاد ہوتا ہے۔ اَوَلَمۡ یَرَوۡا اَنَّا نَسُوۡقُ الۡمَآءَ اِلَی الۡاَرۡضِ الۡجُرُزِ فَنُخۡرِجُ بِہٖ زَرۡعًا تَاۡکُلُ مِنۡہُ اَنۡعَامُہُمۡ وَاَنۡفُسُہُمۡ ؕ اَفَلَا یُبۡصِرُوۡنَ(السجدہ: ۲۸) کیا نہیں غور کرتے کہ ہم پانی کو خشک زمین کی طرف بہاتے ہیں پھر اس سے کھیتی پیدا کرتے ہیں۔ جس سے ان کے چوپائے اور یہ خود کھاتے ہیں کیا بصارت سے کام نہیں لیتے۔ آدمی انعامات الٰہی کا مطالعہ کرے۔ اور اس کے احسانات اپنے روئیں روئیں پر دیکھے تو اپنے مولیٰ و محسن پر قربان ہونے کو جی چاہے۔ تِلۡکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ(2:197)

نجات کی حقیقت

(ایک عیسائی کے استفسار پر پُر معارف تقریر)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمده و نصلی علیٰ رسولہ الکریم

نجات کی حقیقت

از افاضات سیدنا حضرت مصلح موعود خلیفۃ المسیح الثانی

مؤرخہ ۲۵۔ مارچ ۱۹۱۶ء کو ایک عیسائی صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے حضور عرض کی کہ میں آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ آپ مجھے اصلی اور حقیقی نجات دہندہ کا پتہ بتائیں آج تک میں جسکو اپنے لئے نجات دہندہ اور راہنما سمجھتا رہا ہوں۔ معلوم ہوا ہے کہ وہ بجائے نجات دلانے کے مجھے کسی اور طرف لے جا رہا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ یسوع مسیح جس کی نسبت میرا اعتقاد ہے کہ اس نے ہمارے لئے دکھ اٹھائے۔ مصیبتیں سہیں۔ حتیٰ کہ مارا گیا کہ ہم نجات پائیں اس سے اچھا مجھے کوئی نجات دہندہ بتایا جائے۔ حضور اس وقت ڈاک دیکھنے کے لئے تشریف لائے تھے اسی وقت یہ تقریر فرمائی۔

(ایڈیٹر)

عیسائی فلسفہ نجات

حضور نے فرمایا۔ نجات کے متعلق مسیحی مذہب اور اسلام میں جو اختلاف ہے۔ میں پہلے اس کو بتاتا ہوں۔ مسیحی مذہب میں نجات کے متعلق یہ عقیدہ ہے کہ آدم نے گناہ کیا اس لئے وہ ورثہ کے طور پر سب انسانوں میں آگیا۔ جس طرح باپ کی دولت ورثہ میں سب بیٹوں کو آتی ہے اسی طرح آدم جو سب کا باپ ہے۔ اس کا گناہ اس کی اولاد میں یعنی انسان میں آگیا۔ اس سے کوئی انسان بچ نہیں سکتا۔ اور جب تک اس سے بچنے کی کوشش کرے گا۔ اس وقت تک اس سے کئی گناہ سرزد ہو جائیں گے۔ کیونکہ خدا کی شریعت اس لئے آتی ہے کہ سب پر پورا پورا عمل کیا جائے۔ اگر کسی نے ایک حکم بھی توڑ دیا تو ضرور ہے کہ وہ سزا پائے۔ اور اگر خدا کسی ایسے گنہگار کو سزا نہ دے تو ظالم ٹھہرتا ہے لیکن خدا کا رحم چاہتا ہے کہ بخش دے کیونکہ وہ ماں باپ سے زیادہ محبت اور پیار کرنے والا ہے۔ اس لئے اس نے یہ تجویز کی کہ ایک بے گناہ کو جو اپنے اندر الوہیت کی شان بھی رکھتا تھا پکڑ کر صلیب پر چڑھا دیا۔ اور جس طرح ایک قرضدار کا قرضہ اگر کوئی اور ادا کر دے تو ادا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ہمارے گناہوں کی سزا یسوع مسیح نے اٹھالی۔ اور ہم بخشے گئے۔ اس طرح خدا کا عدل بھی قائم رہا۔ اور محبت بھی پوری ہو گئی یہ مسیحیوں کا اعتقاد ہے۔

اسلامی فلسفہ نجات

اس کے مقابلہ میں اسلام کہتا ہے کہ ہر ایک انسان کی نجات اپنے اعمال کے ذریعہ ہوگی۔ جب تک کوئی انسان خود نیکی اور تقویٰ نہ اختیار کرے گا۔ گناہوں اور بدیوں اور عیبوں سے نہ بچے گا۔ نجات کا مستحق نہیں ہو سکے گا۔

اسلام کا مطمح نظر عیسائیت سے بلند تر ہے

اس کے علاوہ عیسائیت اور اسلام کے دعویٰ ہی میں بہت بڑا فرق ہے۔ اور وہ یہ کہ اسلام صرف نجات کی طرف نہیں بلاتا۔ یہ مسیحی اور دیگر مذاہب مثلاً بدھ وغیرہ کا آئیڈیا ہے۔ اور اسلام کا مطمح نظر اس سے بہت ہی بلند ہے۔ جس کے مقابلہ میں نجات کچھ چیز ہی نہیں۔ نجات کے معنی تو دکھ اور تکالیف سے بچ جانے کے ہوتے ہیں لیکن انسان کی فطرت میں نہ صرف دکھ سے بچنے کی خواہش ہے بلکہ آرام اور سکھ حاصل کرنے کی بھی تمنا ہے۔ وہ انسان جو کسی ایسی زمین پر بیٹھا ہو جہاں کانٹے نہ ہوں وہ دکھ سے بچا ہوا ہو گا۔ مگر وہ انسان جو گدیلے والی کرسی پر بیٹھا ہو گا وہ نہ صرف دکھ سے بچا ہو گا۔ بلکہ آرام بھی پا رہا ہو گا۔ اسی طرح ایک انسان کے پیٹ میں درد نہیں۔ آنکھیں نہیں دکھتیں تو وہ سکھ میں ہے۔ مگر ایسا ہو سکتا ہے کہ اس کی صحت ایسی نہ ہو کہ اسے فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہو۔ تو دکھ سے بچنا علیحدہ بات ہے اور راحت اور آرام محسوس کرنا علیحدہ۔ اسلام یہی پیش کرتا ہے۔ کیونکہ جب انسانی فطرت میں آرام حاصل کرنے کی بھی خواہش ہے۔ اور یہ دکھ سے بچ جانے کے علاوہ بات ہے تو کیوں نہ یہی انسان کو حاصل ہو۔ دیکھئے ایک بے علم انسان ہے۔ اس کو اس بات سے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہو گی کہ میں فلاں کتاب نہیں پڑھ سکتا۔ لیکن جو شخص علم حاصل کر لے گا۔ اس کے لئے یہ نہیں ہوگا۔ کہ اس کا کوئی دکھ یا تکلیف دور ہو جائے گی۔ بلکہ اسے سکھ مل جائے گا۔ پس پڑھنا اس لئے اچھا نہیں کہ انسان دکھ سے بچ جاتا ہے بلکہ اس لئے اچھا ہے کہ اس کی وجہ سے آرام حاصل ہوتا ہے۔ پھر دیکھئے دنیا میں لوگ دولت جمع کرنے کے لئے بڑی بڑی کوششیں کرتے ہیں۔ لیکن اگر کسی کو پیٹ بھر کر کھانے کو اور حسب ضرورت کپڑا پہننے کو مل جائے تو اس طرف سے اس کے لئے کوئی دکھ باقی نہیں رہتا۔ لیکن کوئی اس بات پر قناعت نہیں کرتا۔ کیوں؟ اس لئے کہ ہر ایک سمجھتا ہے زیادہ مال سے زیادہ آرام حاصل ہوگا۔ تو انسان کی فطرت میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے پیدا کرنے والے نے (ابھی اسبات پر بحث نہیں کی کہ کونسا مذہب سچا ہے۔ اس لئے کسی مذہب کا پیدا کرنے والا ہو) یہ بھی خواہش رکھ دی ہے کہ انسان آرام حاصل کرے۔

وہی قول حق ہے جس کی تائید میں خدا کا فعل ہے

چونکہ یہ بات ہر ایک انسان میں پائی جاتی ہے۔ اس لئے معلوم ہوا ہے کہ یہ خدا کا فعل ہے اس کے ساتھ خدا کے قول کو پرکھ لو۔ خدا نے آنکھیں پیدا کی ہیں کہ انسان دیکھا کرے۔ لیکن اگر کوئی مذہب یہ کہے کہ آنکھوں سے نہیں بلکہ کانوں سے دیکھا کرو۔ تو ہم فوراً کہہ دیں گے کہ یہ غلط بات ہے۔ کیونکہ خدا نے دیکھنے کی طاقت آنکھوں میں رکھی ہے نہ کہ کانوں میں۔ تو مذہب کی ہر ایک بات کے پرکھنے کے لئے خدا تعالیٰ کے فعل کو دیکھنا چاہئے۔ جس قول (یعنی مذہب کے حکم) کی فعل یعنی قانونِ قدرت تائید کرے۔ اس کو قبول کرلینا چاہئے اور جس کی تردید کرے۔ اسے غلط قرار دیکر چھوڑ دینا چاہئے۔

فطرتِ حقہ کے مطابق کونسا مذہب ہے؟

اب ہم اس بات کو دیکھتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں یہ رکھ دیا ہے کہ وہ نہ صرف دکھ سے بچنا چاہتا ہے۔ بلکہ سکھ بھی حاصل کرنا چاہتا ہے تو جو مذہب ان دونوں باتوں کے متعلق جو احکام بیان کرتا ہے وہ انسان کی فطرت کے مطابق ہے۔ اور جو صرف دکھ سے بچنے کے متعلق بتاتا ہے۔ مگر آرام حاصل کرنے کی نسبت بالکل خاموش ہے۔ وہ فطرت کے مطابق نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس مذہب کا بیان کرنے والا فطرتِ انسان سے واقف نہیں ہے۔ خدا نے جو طاقت انسان میں رکھی ہے۔ اس کے لئے سامان بھی ضرور پیدا کئے ہیں۔ مثلاً معدہ میں ہضم کرنے کی طاقت ہے تو خوراک بھی پیدا کی گئی ہے۔ دیکھنے کے لئے آنکھیں ہیں تو روشنی بھی بنائی گئی ہے۔ سننے کے لئے کان ہیں تو ہوا بھی رکھی گئی ہے۔ اسی طرح روح میں بھی طاقتیں ہیں اور ان کے لئے بھی سامان ہیں۔

اسلام نہ صرف نجات دلاتا ہے بلکہ مفلح بناتا ہے

روح میں یہ کشش ہے کہ وہ نہ صرف دکھ سے بچے بلکہ آرام بھی حاصل کرے۔ لیکن جو مذہب اسے صرف دکھ سے بچاتا ہے وہ اس کے آدھے حصہ کو پورا کرتا ہے۔ کیونکہ اس کے دو مطالبے ہیں ایک دکھ سے بچنا۔ اور دوسرا آرام حاصل کرنا۔ عیسائیت صرف نجات یعنی دکھ سے بچانے کا وعدہ کرتی ہے۔ اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص دشمن کے مقابلہ کے لئے جائے تو اسے کہا جائے کہ کوئی فکر نہ کرو تم اس کے ضرر سے بچ جاؤ گے لیکن اصل میں یہ اس کے لئے اتنی خوشی کی بات نہیں ہوگی جتنی یہ ہوسکتی ہے کہ تم نہ صرف دشمن کے ضرر سے بچ جاؤ گے بلکہ اس پر کامیابی بھی حاصل کرلو گے۔ کیونکہ صرف دکھ سے بچنا کوئی ایسی بات نہیں ہے جو انسان کے لئے کامل خوشی کا موجب ہو سکے۔ اسلام نے یہی آخری درجہ یعنی دکھوں اور تکلیفوں سے بچ کر کامیاب اور بامراد ہونے کا رکھا ہے۔ اور اس کا نام فلاح قرار دیا ہے یعنی مظفر و منصور اور غالب ہو کر اپنی راحت و آرام کے سامان مہیا کرلینا۔ پس اسلام نہ صرف یہ بتاتا ہے کہ تم دکھوں سے بچو بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ تم اس طرح آرام حاصل کرسکتے ہو۔ یہ اسلام اور مسیحیت میں پہلا اور سب سے بڑا فرق ہے۔ عیسائیت کے لیکچرار اپنے سارے زور اور قوت سے لوگوں کو نجات کی طرف بلاتے ہیں۔ لیکن قرآن کریم ابتداء میں ہی فرماتا ہے۔ اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنۡ رَّبِّہِمۡ ٭ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ(2:6)۱؎اسلام کے احکام پر چلنے والے ہدایت اور ہر قسم کے روحانی مدارج کے حاصل کرنے والے ہوں گے۔ اور اس کے علاوہ وہی اپنے مقصد اور مدعا میں کامیاب اور بامراد ہو جائیں گے۔ یہ درجہ دکھ درد سے مخلصی حاصل کرنے سے بہت اعلیٰ ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مسیحی مذہب میں بھی آرام حاصل کرنے کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے مگر اس پر زور نہیں دیا جاتا۔ اسکو ایک ضمنی بات سمجھا جاتا ہے۔ اور اصل مقصد نجات کو قرار دیا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بائبل کے مرتب کرنے والوں کی نظر وسیع نہ تھی۔ یا بعد میں لوگوں نے اس میں تغیر و تبدل کر دیا۔ یہ تو ایک بڑا فرق ہوا۔

عیسائیت اور اسلام میں پہلا فرق

اب میں یہ بتاتا ہوں کہ عیسائیت کی نجات کے مقابلہ میں اسلام میں نجات بھی ہے مگر یہ فلاح سے ادنیٰ درجہ رکھتی ہے۔ جس طرح ایک کالج میں ایم۔اے‘ بی۔اے‘ ایف۔اے اور انٹرنس کے درجہ ہوتے ہیں۔ یعنی کوئی اعلیٰ اور کوئی ادنیٰ اسی طرح انسانی مدارج کے اسلام میں بھی درجہ ہیں۔ اور نجات بھی ایک درجہ ہے مگر ادنیٰ اس لئے گو اسلام اور عیسائیت اس بات میں تو متفق ہیں کہ نجات ہوتی ہے۔ مگر اسلام اس کو ادنیٰ درجہ قرار دیتا ہے۔ اور عیسائیت سب سے اعلیٰ درجہ۔

دوسرا مابہ الامتیاز

پھر اسلام اور عیسائیت میں بھی فرق ہے کہ مسیحیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ نجات انسان کے اعمال سے نہیں ہوتی۔ بلکہ صرف خدا کے فضل سے ہو سکتی ہے۔ کیونکہ کوئی انسان تمام اعمال کو بجا نہیں لاسکا۔ اسی لئے خدا نے اپنے بیٹے کو دنیا کے گناہوں کے بدلے قتل کیا۔ تاکہ وہ نجات پائیں۔ اسلام اس بات میں تو متفق ہے کہ نجات خدا کے فضل سے ہوتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ ہر ایک چیز کا ایک باعث ہوتا ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی چیز ہو اور اس کا کوئی باعث نہ ہو۔ گو بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی چیز کا باعث معلوم نہیں ہو سکتا۔ مگر ہوتا ضرور ہے اور پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس باعث کا کوئی اور باعث ہو۔ مثلاً ایک شخص ایک مزدور کو چار آنے یومیہ پر نوکر رکھتا ہے۔ وہ مزدور سارے دن میں جس قدر بھی محنت اور مشقت سے کام کرے۔ اسی قدر وہ اپنے فرض کو اچھی طرح ادا کرنے والا ہوگا۔ اور اگر سستی سے کام لیگا تو بد دیانتی کرے گا مگر بہت اچھی طرح کام کرنے سے اس کا یہ حق نہیں ہوگا کہ زیادہ مزدوری مانگے۔ ہاں اگر وہ ایک دن کی بجائے ڈیڑھ دن لگائے تو اس کا حق ہوگا کہ چار آنے کی بجائے چھ آنے طلب کرے۔ لیکن اگر اسپر خوش ہو کر کام کرانے والا ایک دن کی محنت کرنے پر چار آنے کی بجائے آٹھ آنے دیدے۔ تو یہ زائد چار آنے اسکی مزدوری نہیں ہوگی۔ بلکہ دینے والے کا اس پر رحم اور فضل ہوگا۔ لیکن یہ فضل کیوں اس پر ہوا؟ کسی اور پر کیوں نہ ہو گیا۔ اس لئے کہ اس نے کچھ محنت کی تھی۔ اس محنت نے فضل کو کھینچا ہے۔ گو یہ فضل اس محنت کا نتیجہ نہیں کیونکہ اس کا نتیجہ تو صرف چار آنے ہے۔ لیکن اس نے اس فضل کو حاصل کرایا ہے اسی طرح اسلام نجات کے متعلق کہتا ہے کہ وہ ہوگی تو خدا کے فضل سے۔ مگر خدا کے فضل کو کھینچنے والے اس کے اعمال ہی ہوں گے۔ دنیا کے تمام کاروبار میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ گو ایک بات دوسرے کے نتیجہ میں نہیں ہوتی۔ مگر اس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مثلاً گورنمنٹ فوج کے آدمیوں کو جو تنخواہ دیتی ہے وہ انہیں اس زیادہ سے زیادہ کوشش کے معاوضہ میں دیتی ہے جو وہ لڑائی میں کر سکتے ہیں۔ مگر پھر بھی جو لڑائی میں خاص جرأت اور دلیری دکھاتا ہے۔ اس کو کئی قسم کے انعام دیئے جاتے ہیں۔ حالانکہ جب ملازم رکھا جاتا ہے۔ تو اس وقت یہ اقرار لیا جاتا ہے کہ گورنمنٹ کے لئے جان دینی پڑی تو بھی دریغ نہ کروں گا۔ آپ جانتے ہیں پھر گورنمنٹ کیوں انعام دیتی ہے۔ اس لئے کہ وہ کسی کی خدمت سے خوش ہو جاتی ہے پس گورنمنٹ کا انعام سپاہی کی خدمت کا معاوضہ نہیں ہوتا لیکن ہوتا خدمت ہی کی وجہ سے ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کا نجات دینا ہے۔ انسان اعمال کرتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ انسان میں کمزوریاں ہیں۔ لیکن جب وہ اپنی طرف سے پورے زور اور کوشش سے اعمال کرتا ہے۔ تو اس کے اعمال خدا تعالیٰ کے رحم اور فضل کو کھینچ لیتے ہیں۔ اور وہ نجات پا جاتا ہے۔ دنیا کے کاروبار میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب کوئی شخص خاص ہمت اور کوشش سے کام کرتا ہے تو اپنے کام کرانے والے انسان کے رحم کو حاصل کر لیتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کوئی کام کرے اور اس کے رحم کو نہ پا سکے۔

نجات کے لئے اعمال ضروری ہیں

پس ہمارے نزدیک اعمال ضروری ہیں۔ کیونکہ ان کے ذریعہ فضل حاصل ہوتا ہے۔ اور خدا کے فضل سے نجات ہوتی ہے۔ اور جب تک اعمال نہ ہوں نجات ہو نہیں سکتی۔ دیکھو ایک انسان کسی پر کیوں رحم کرتا ہے۔ اس لئے کہ اس کو دکھ اور مصیبت میں دیکھتا ہے یعنی اس شخص کا دکھ اس کے رحم کو کھینچتا ہے تو ہر بات کے لئے کوئی نہ کوئی ذریعہ ہوتا ہے خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کا پہلا ذریعہ اعمال ہیں اسی لئے اسلام نے اعمال پر بہت زور دیا ہے۔ لیکن نجات خدا کے فضل پر ہی رکھی ہے۔

نجات کے لئے اعمال پر بھروسہ ٹھیک نہیں!

آنحضرت ﷺ؎ سے پوچھا گیا۔ کہ آپ کی نجات تو اعمال کی وجہ سے ہو گی۔ آپ نے فرمایا۔ نہیں میری نجات بھی خدا کے فضل سے ہو گی۔ آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر اور کوئی شخص درجہ نہیں رکھتا۔ جب آپ فرماتے ہیں کہ میری نجات خدا کے فضل سے ہو گی۔ تو اور کون ہے جو اپنے اعمال پر بھروسہ رکھ سکے۔ ہاں فضل کے لئے اعمال کا ہونا ضروری ہے۔ اور اسی تھیوری کو اسلام پیش کرتا ہے۔ اس سے آپ عیسائیت کی تھیوری کا مقابلہ کر کے دیکھ لیں کہ کون غلط اور کون درست ہے۔

مسیحی مذہب والوں کو اعمال کے متعلق کیا دھوکا لگا

مسیحی مذہب کا دعویٰ ہے کہ انسان کو اس لئے نجات حاصل نہیں ہو سکتی کہ انسان گنہگار ہے اور شریعت کے احکام کو پورا نہیں کر سکتا۔ کیونکہ شریعت کے ایک چھوٹے سے چھوٹے حکم کی خلاف ورزی کرنا بھی گناہ ہے اور کوئی انسان نہیں ہے جو تمام احکام کو پورا کر سکے۔ پس جبکہ کوئی انسان ایسا نہیں کر سکتا۔ تو ضرور ہے کہ جو گناہ اس سے سرزد ہوں۔ ان کی اسے سزا ملے۔ جس طرح گورنمنٹ کے اگر کسی حکم کی خلاف ورزی کی جائے تو وہ سزا دیتی ہے اسی طرح جو کوئی خدا کے کسی حکم کی خلاف ورزی کرے گا وہ ضرور سزا پائے گا۔ اس سے ثابت ہوا کہ شریعت پر چل کر کوئی نجات نہیں پا سکتا۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ عیسائی مذہب والوں کو یہ دھوکا لگا ہے۔ اور انہوں نے تمام شریعت پر عمل کرنا انسان کی نجات کے لئے اصل قرار دیکر یہ سمجھ لیا ہے کہ چونکہ کوئی انسان شریعت کی ساری شرائط کو پورا نہیں کر سکتا۔ اس لئے خدا اسے نجات بھی نہیں دیتا لیکن اسلام یہ نہیں کہتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ خدا کو کسی کے عبادت کرنے یا نہ کرنے کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ کی ذات اس سے مستغنی ہے۔ کسی کی عبادت کرنے یا شریعت پر چلنے سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اور کسی کی عبادت نہ کرنے یا شریعت کے احکام پر عمل نہ کرنے سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ ساری دنیا اگر دن رات اس کی تقدیس اور تحمید میں لگی رہے تو اس کا کچھ بڑھ نہیں جاتا۔ اور اگر ساری دنیا گندی اور بدکار ہو جائے تو اس کی شان میں کچھ کمی نہیں آسکتی۔ پس خدا ئے تعالیٰ نے شریعت اس لئے نہیں بھیجی کہ اس سے اس کا فائدہ ہے بلکہ اس لئے کہ انسان اس کے محتاج ہیں۔ اگر کوئی اس پر عمل کرے گا تو وہ اعمال اس کو فائدہ دیں گے۔ تو خدا تعالیٰ کا شریعت کو بھیجنے سے صرف یہی مقصد نہیں کہ لوگ اس کے ہر ایک حکم پر عمل کریں بلکہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ انسان خدا تعالیٰ تک پہنچ جائے یعنی اعمال کے ذریعہ وہ استعداد پیدا کرنی مقصود ہے جس سے انسان کی روح ایسی پاک ہو جائے کہ اس کا تعلق خدا تعالیٰ سے ہو سکے۔

قوانین سلطنت و شریعت میں مشابہت قائم کرنا غلطی ہے

اس لئے ہم خدا تعالیٰ کی شریعت کو گورنمنٹ کے قوانین سے تشبیہ نہیں دے سکتے۔ کیونکہ گورنمنٹ کا مدعا صرف قوانین پر عمل کرانا ہوتا ہے تاکہ امن قائم رہے۔ اگر لوگ چوری کریں‘ ڈاکے ڈالیں‘ رہزنی کریں تو گورنمنٹ ہی نہیں رہ سکتی۔ مگر ساری دنیا کے شریعت چھوڑ دینے اور اس کے بالکل برعکس کرنے سے خدا خدا ہی رہتا ہے۔ اس کی شان اور پاکیزگی میں ذرہ بھر بھی فرق نہیں آسکتا۔ اس لئے قوانینِ سلطنت اور شریعت میں مشابہت ہی غلط ہے۔ گورنمنٹ اس بات کی محتاج ہے کہ لوگ اس کے قوانین پر چلیں۔ لیکن خدا محتاج نہیں ہے کہ لوگ شریعت پر عمل کریں۔ خدا تعالیٰ نے تو اپنے رحم اور فضل سے شریعت کے احکام اس لئے نازل فرمائے ہیں کہ اگر تم ان پر عمل کرو گے تو خدا تعالیٰ سے تمہارا تعلق ہو جائے گا۔

شریعت کی مشابہت یونیورسٹی کے کورس سے صحیح ہے

شریعت کی مشابہت یونیورسٹی کے کورس سے دی جا سکتی ہے۔ یونیورسٹی میں مثلاً کسی مصنف کی تاریخی کتاب پڑھائی جاتی ہے۔ لیکن اس کے پڑھانے کا یہ مقصد نہیں ہوتا کہ اس خاص شخص کی لکھی ہوئی تاریخ پڑھی جاوے۔ بلکہ یہ ہوتا ہے کہ پڑھنے والے میں ایک حد تک تاریخ دانی کی قابلیت پیدا ہو جائے یہی وجہ ہے کہ کتابیں بدل دی جاتی ہیں۔ اور جو مفید اور مناسب سمجھی جاتی ہیں انہیں پڑھایا جاتا ہے پھر یونیورسٹی امتحان کے لئے کچھ سوال مقرر کرتی ہے لیکن کوئی طالب علم ایسا نہیں ہوتا جو تمام سوالوں کے تمام و کمال جواب دے سکے۔ تاہم ہر سال ہزاروں طلباء پاس ہوتے ہیں۔ حالانکہ ان میں سے ہر ایک نے کچھ نہ کچھ غلطیاں کی ہوتی ہیں۔ ان کے پاس ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یونیورسٹی کی غرض ان سے سارے سوال پورے کرانا نہیں بلکہ ایک حد تک استعداد پیدا کرنا ہے۔ جب کسی میں اس حد تک استعداد پیدا ہو جاتی ہے تو وہ پاس کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح شریعت ہے۔ خدا تعالیٰ نے کچھ احکام بیان فرمائے ہیں۔ تاکہ ان کے ذریعہ انسان میں خدا سے تعلق پیدا کرنے کی استعداد پیدا ہو جائے۔ چنانچہ نماز پڑھنے کا حکم اس لئے نہیں کہ اٹھائے بٹھائے بلکہ اس لئے ہے کہ پاکیزگی پیدا ہو۔ روزہ رکھنے کا اس لئے ارشاد نہیں کہ بھوکا رکھا جائے۔ بلکہ اس لئے ہے کہ تقویٰ حاصل ہو۔ اسی طرح تمام دوسرے احکام کے متعلق ہے۔ جب کوئی انسان ان پر اس وقت تک عمل کر لیتا ہے کہ اس میں استعداد پیدا ہو جاتی ہے تو وہ پاس ہو جاتا ہے جس طرح یونیورسٹی میں ۴۰ یا ۶۰ یا ۸۰ فیصدی نمبر پاس ہونے کے لئے رکھے ہوتے ہیں اور اتنے نمبر حاصل کرنے والا پاس ہو جاتا ہے اسی طرح شریعت کے احکام کے متعلق بھی استعداد دیکھی جاتی ہے۔

عیسائی صاحبان یہ تو کہتے ہیں کہ کیا شریعت کے جس حکم پر انسان عمل نہیں کرتا وہ خدا کی طرف سے نہ تھا۔ لیکن یہ نہیں کہتے کہ کیا امتحان کے جس سوال کو طالب علم حل نہیں کرتا۔ وہ یونیورسٹی کی طرف سے نہیں تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ جس طرح یونیورسٹی باوجود بعض سوالات کے حل نہ کئے جانے کے قابلیت کی ایک حد کو دیکھ کر پاس کر دیتی ہے۔ اسی طرح شریعت کے سب احکام کو پورا نہ کرنے کی حالت میں بھی جبکہ انسان ایک خاص حد تک استعداد پیدا کر لے نجات پا سکتا ہے۔ ہاں جسطرح زیادہ نمبر حاصل کرنے والا اعلیٰ درجہ پر پاس ہوتا ہے اسی طرح شریعت کے احکام کے ذریعہ زیادہ استعداد پیدا کرنے والا اعلیٰ مرتبہ پر ہوتا ہے۔

اگر نجات میں شریعت کا تعلق نہیں تو پھر عیسائی مدارج کیوں مانتے ہیں۔

اور خدائے تعالیٰ کے حضور اسی لحاظ سے مدارج ہیں۔ اور مدارج کو مسیحی صاحبان بھی مانتے ہیں چنانچہ انبیاء کے درجوں میں فرق کرتے ہیں۔ مسیحی صاحبان جو درجہ حضرت ابراہیمؑ کو دیتے ہیں وہ کسی اور نبی کو نہیں دیتے۔ لیکن نجات کو اگر اعمال کے لحاظ سے نہ مانا جائے تو پھر مدارج میں بھی فرق نہیں ہونا چاہئے۔ اسلام نے اعمال کے مطابق ہی مدارج قرار دیئے ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم میں آیا ہے۔ وَالۡوَزۡنُ یَوۡمَئِذِ ۣالۡحَقُّ ۚ فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ بِمَا کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَظۡلِمُوۡنَ(الاعراف: ۹-۱۰) یعنی قیامت کے دن ہر ایک کے اعمال کا وزن دیکھا جائے گا۔ اگر کسی نے اس حد تک عمل کئے ہوں گے۔ کہ اس میں خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کی استعداد پیدا ہو گئی ہوگی۔ تو اس کی چھوٹی چھوٹی فروگذاشتوں کو معاف کر دیا جائے گا۔ جس طرح یونیورسٹی بھی باوجود تمام سوالات کے حل نہ کرنے کے پاس کر دیتی ہے اس سے ثابت ہو گیا کہ اگر شریعت کے تمام احکام پر باوجودیکہ اپنی طرف سے پوری پوری کوشش کی جائے۔ عمل نہ ہو سکے۔ تو انسان نجات پا سکتا ہے۔

ہم اس بات کے قائل نہیں کہ انسان تمام شریعت پر عمل نہیں کر سکتا۔

لیکن ہم تو اس بات کو قبول ہی نہیں کرتے کہ انسان تمام احکام پر عمل نہیں کر سکتا۔ عیسائی صاحبان تعزیرات ہند پر عمل کرتے ہیں یا نہیں ضرور کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا آزاد پھرنا اس بات کا ثبوت ہے اگر وہ اس پر عمل نہ کرتے تو سزا پاتے۔ لیکن قرآن کریم تو اس سے بہت چھوٹا ہے۔ پھر اس پر کیوں عمل نہیں ہو سکتا۔ پس یہ کہنا کہ شریعت کے تمام احکام پر عمل نہیں ہو سکتا، غلط ہے اور عیسائی صاحبان اس کے متعلق اس طرح دھوکا دیتے ہیں کہ کسی سے پوچھتے ہیں۔ کیا آپ نیک ہیں وہ آگے کسرِ نفسی اور انکسار سے کہتا ہے۔ جی نہیں میں تو گنہگار ہوں عیسائی کہہ دیتے ہیں۔ دیکھو یہ خود اقرار کرتا ہے کہ میں گنہگار ہوں اس سے ثابت ہوا کہ کوئی انسان گناہوں سے پاک نہیں ہو سکتا۔ حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ جب حضرت مسیحؑ کو بھی کہا گیا تھا کہ ”اے نیک استاد! میں کیا کروں تاکہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بنوں۔ یسوع نے اس سے کہا تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے۔ کوئی نیک نہیں مگر ایک یعنی خدا“ (لوقا باب ۱۸۔ آیت ۱۸، ۱۹) اور بات بھی یہی ٹھیک ہے۔ کیونکہ اصل نیک جس میں کوئی کسی قسم کی بدی اور نقص نہ ہو سوائے خدا کے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ لیکن ہر ایک انسان میں کمزوریاں ہیں مثلاً عالم الغیب نہ ہونا وغیرہ۔ اس لئے اصل نیکی کا اطلاق پورے طور سے خدا تعالیٰ پر ہی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہئے کہ دنیا میں کوئی انسان نہ نیک ہوا ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ انسان جو نیک ہو وہ انکسار کی وجہ سے کہتا ہے کہ مَیں نیک نہیں ہوں کیونکہ وہ ڈرتا ہے کہ غرور اور تکبر جو انسان کی ہلاکت کا موجب ہے اس میں میں گرفتار نہ ہو جاؤں۔ اور اس کا یہ اقرار بدی سے بچنے کے لئے ہوتا ہے نہ کہ بدی کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے۔ ورنہ ہزار ہا انبیاءؑ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم ہر ایک قسم کی بدی اور برائی سے پاک ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو شخص اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے مقابلہ پر کرتا ہے۔ اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دیا ہوتا ہے۔ دیا بھی روشن ہوتا ہے لیکن سورج کے مقابلہ پر اس کی روشنی کچھ چیز نہیں ہے۔ یہی بات انسانوں میں ہے ورنہ بہت سے لوگ ایسے ہوئے ہیں جو شریعت کے احکام پر پورے پورے عمل کرنے والے تھے اور اب بھی ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان شریعت کے احکام پر عمل کر سکتا ہے۔ واقعہ میں شریعت کا کوئی حکم ایسا نہیں ہے جس پر عمل نہ ہو سکتا ہو۔ کیا زنا ایسا ہے جس سے انسان بچ نہیں سکتا یا چوری یا ڈاکہ، جھوٹ، قتل، چغلی وغیرہ ایسے ہیں جن سے بچنا ناممکن ہے۔ ہرگز نہیں اگر انسان کے دل میں خدا کا خوف ہو۔ تو ضرور بچ سکتا ہے عیسائی صاحبان کے پاس صرف انسان کا انکسار اور کسرِ نفسی اسبات کا ثبوت ہے کہ کوئی انسان گناہوں سے بچ نہیں سکتا لیکن یہ ایک غلط دلیل ہے۔ دیکھو اگر کسی کو یہ کہا جائے کہ تم گناہوں سے بالکل پاک ہو تو فروتنی کے لحاظ سے کہے گا کہ میں ایک گنہگار بندہ ہوں لیکن اگر اسے یہ کہا جائے کہ کیا تم تعزیراتِ ہند پر پورا پورا عمل کرتے ہو تو وہ یہی جواب دے گا کہ ہاں میں ضرور کرتا ہوں اور کبھی یہ نہیں کہے گا کہ میں اس کے خلاف کرتا ہوں۔ کیوں؟ اس لئے کہ یہ کہنے سے وہ شرمندہ نہیں ہوتا وہ جانتا ہے کہ تعزیرات انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین ہیں اور انسان کوئی ایسی ہستیاں نہیں ہیں جن کے مقابلہ میں یہ کہنا ناروا ہو لیکن شریعت کے احکام کے متعلق جواب دیتے ہوئے اس کے پیش نظر خدا تعالیٰ ہوتا ہے۔ اس لئے وہ انکسار اور عاجزی سے جواب دیتا ہے۔

یہ بات غلط ہے کہ انسانوں کو گناہ ورثہ میں ملا

باقی رہا یہ کہ گناہ انسان کو ورثہ میں ملا ہے۔ اس لئے وہ گناہوں سے پاک ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ بھی غلط ہے اگر انسانوں کو ورثہ میں گناہ ملا تھا تو حضرت آدم میں کہاں سے آگیا تھا اگر اس میں اپنے طور پر آگیا تھا تو اب بھی یہ کیوں نہ مانیں کہ باقی انسانوں میں بھی اپنے طور پر آتا ہے۔

وراثتًا گناہ پر سزا دینا ظلم ہے

پھر اگر انسان میں گناہ ورثہ کے طور پر آیا تھا۔ تو اس کا ذمہ دار انسان نہیں قرار پاسکتا۔ مثلاً ایک شخص حرام زادہ ہے کیا وہ اس لئے دوزخ میں ڈالا جاسکتا ہے کہ اس کی ماں نے زنا کیا تھا اور وہ پیدا ہوا تھا ہرگز نہیں کیونکہ اس کا کوئی قصور نہیں ہے۔ قصور اس کی ماں کا ہے۔ پس جو چیز ماں باپ کی طرف سے ورثہ میں ملے۔ اس کی وجہ سے کوئی انسان مستوجب سزا نہیں ہو سکتا اور جب کوئی اس طرح مستوجب سزا نہیں ہو سکتا تو تمام انسان نجات یافتہ ہوئے کیونکہ ان کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔ گناہ تو انہیں ورثہ میں ملا ہے اور تمام انسانوں کی نجات اس صورت میں ہو نہیں سکتی جبکہ یہ مانا جائے کہ گناہ ورثہ میں نہیں آیا بلکہ ہر ایک انسان خود کرتا ہے۔ پس عیسائیت کا یہ مسئلہ سرے سے ہی باطل ہے۔

مشاہدہ سے یہ بات بھی غلط ثابت ہو رہی ہے کہ کفارہ سے موروثی گناہ بخشا جاتا ہے۔

پھر عیسائی صاحبان کے سامنے جب ہم یہ پیش کرتے ہیں کہ انسان خود گناہ کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ایسے گناہ جو انسان خود کرتا ہے ان سے تو بچ سکتا ہے۔ لیکن ورثہ کا گناہ سوائے کفارہ پر ایمان لانے کے نہیں بخشا جاسکتا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ بات بھی ضرور غلط ہے۔ جس گناہ کو ورثہ میں آنا قرار دیا جاتا ہے۔ وہ حضرت آدم نے کیا تھا جس کی یہ سزا تجویز ہوئی تھی کہ۔

”خداوند خدا نے سانپ سے کہا۔ اس واسطے کہ تو نے یہ کیا ہے۔ تو سب مویشیوں اور میدان کے سب جانوروں سے ملعون ہوا تو اپنے پیٹ کے بل چلے گا۔ اور عمر بھر خاک کھائے گا اور میں تیرے اور عورت کے اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان دشمنی ڈالوں گا۔ وہ تیرے سر کو کچلے گی اور تو اس کی ایڑی کو کاٹے گا۔ اس نے عورت سے کہا کہ میں تیرے حمل میں تیرے درد کو بہت بڑھاؤں گا اور درد سے تو لڑکے جنے گی اور اپنے خسم کی طرف تیرا شوق ہو گا اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا اور آدم سے کہا اس واسطے کہ تو نے اپنی جورو کی بات سنی اور اس درخت سے کھایا جس کی بابت میں نے تجھے حکم کیا کہ اس سے مت کھانا زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی اور تکلیف کے ساتھ تو اپنی عمر بھر اس سے کھائے گا اور وہ تیرے لئے کانٹے اور اونٹ کٹارے اگائے گی اور تو کھیت کی نبات کھائے گا تو اپنے منہ کے پسینے کی روٹی کھائے گا۔“ (پیدائش باب ۳ آیت ۱۴ تا ۱۹ مطبوعہ ۱۹۲۲ء)

اب ہم دیکھتے ہیں کہ اگر یہ سزائیں کفارہ پر ایمان لانے سے مٹ جاتی ہیں۔ تب تو کفارہ ٹھیک ہے ورنہ اس بات کے ثبوت کے لئے کہ ورثہ کا گناہ کفارہ کے ماننے سے معاف ہو جاتا ہے کوئی بھی نہیں ہے۔ اس گناہ کی وجہ سے سانپ کو یہ سزا دی گئی تھی کہ ”تو اپنے پیٹ کے بل چلے گا اور عمر بھر خاک کھائے گا اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان دشمنی ڈالوں گا وہ تیرے سر کو کچلے گی اور تو اس کی ایڑی کو کاٹے گا۔“

چونکہ سانپ کے لئے عیسائی صاحبان کفارہ کا ماننا کسی طرح نہیں بتا سکتے۔ اس لئے اس کی سزا تو کبھی دور ہو ہی نہیں سکتی۔ باقی رہا مرد اور عورت۔ عورت کو یہ سزا ملی تھی کہ ”میں تیرے حمل میں درد کو بہت بڑھاؤں گا اور درد سے تو لڑکے جنے گی اور اپنے خسم کی طرف تیرا شوق ہو گا اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا۔“ اگر کفارہ پر ایمان لاتے ہی عورت کی یہ تمام سزائیں معاف ہو جاتیں۔ تو ہم سمجھتے کہ یہ عقیدہ درست ہے لیکن اس وقت تک کوئی عیسائی عورت ان تکلیفوں سے بچ نہیں سکتی۔ اس لئے کس طرح مان لیا جائے کہ کفارہ ٹھیک ہے اسی طرح مرد کو جو سزا ملی ہے وہ بھی کسی مرد کے کفارہ کو مان لینے سے دور نہیں ہو سکتی پس جب کفارہ کے ذریعہ اس جہان کی سزائیں معاف نہیں ہو سکتیں تو دوسرے جہاں کی کہاں ہو سکیں گی۔ مسیحیت کے نزدیک نجات پانے کی یہی علامتیں ہیں۔ مگر یہ کسی عیسائی کے عمل سے پوری نہیں ہوتیں۔ اس لئے کفارہ باطل ہو گیا اور جب کفارہ باطل ہوا تو اس کا نتیجہ یعنی نجات بھی باطل ہو گئی۔

جب مسیحؑ جان دینے پر رضامند نہ تھے۔ تو کفارہ کس طرح ہوا؟

پھر حضرت مسیحؑ کے متعلق بائبل میں آتا ہے کہ۔ ”اس وقت اس نے ان سے کہا۔ میری جان نہایت غمگین ہے یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے تم یہاں ٹھہرو اور میرے ساتھ جاگتے رہو پھر تھوڑا آگے بڑھا اور منہ کے بل گر کر یہ دعا مانگی۔ اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے“۔؎(متی باب ۲۶، آیت ۳۸-۳۹ مطبوعہ ۱۹۲۲ء) اس سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح کو مجبوراً صلیب پر چڑھایا گیا ہے۔ باقی رہا یہ کہنا کہ روح تو مستعد ہے مگر جسم کمزور ہے تو جسم کو بچ جانا چاہئے تھا۔ کیونکہ وہ تو صلیب پر لٹکنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ مگر سزا اسی کو دی گئی۔ اب اگر حضرت مسیح کو چار و ناچار صلیب پر لٹکایا جانا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ گناہوں کے لئے کفارہ ہو گیا تو ہر ایک قوم کہہ سکتی ہے کہ ہمارا فلاں انسان جو قتل کیا گیا تھا وہ ہمارے لئے کفارہ ہوا تھا۔ اس لئے یہ کوئی دلیل نہیں ہو سکتی۔ اور جب تک کسی بات کے متعلق دلائل نہ ہوں اس وقت تک وہ قابل قبول نہیں ہو سکتی۔

قربانی اور کفارہ میں فرق ہے

پھر مسیحی صاحبان جب کوئی دلیل نہیں دے سکتے تو ہم پر اعتراض کیا کرتے ہیں کہ تمہارے ہاں بھی تو قربانی ہے۔ اگر بکرا وغیرہ ذبح کرنے سے گناہ معاف ہو سکتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ خداوند یسوع مسیحؑ کی قربانی ہمارے گناہوں کو معاف نہیں کر سکتی۔ لیکن یہ اعتراض کرتے وقت وہ قربانی اور حضرت مسیح کے صلیب پر دیئے جانے کے فرق کو مد نظر نہیں رکھتے۔ ہم اگر کسی جانور کی قربانی کرتے ہیں تو یہ نہیں کہتے کہ اس نے ہمارے گناہ اٹھا لئے ہیں۔ اور ان گناہوں کی سزا میں اسے ذبح کیا جا رہا ہے۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے مال کا کچھ حصہ اس طریق سے خدا تعالیٰ کی رضاء کے لئے الگ کر کے خدا تعالیٰ سے ہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے گناہ معاف کر دے۔ میں اس بات کو اور واضح کر دیتا ہوں۔ جو چیز قربانی دی جاتی ہے وہ ہمارا مال ہوتا ہے۔ دوسرے ہم اسے خدا تعالیٰ کے لئے اپنے سے جدا کرتے ہیں۔ تیسرے خدا تعالیٰ سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے اس فعل کی وجہ سے جو اس کی رضامندی کے لئے کیا گیا ہے ہمارے گناہ معاف کر دے گا۔ مگر یسوع مسیح کے مصلوب ہونے میں ان میں سے کوئی بات بھی نہیں پائی جاتی۔ (۱) نہ تو وہ ان لوگوں کا مال ہے جو اس کی قربانی پر اپنے گناہوں کا معاف ہونا سمجھے بیٹھے ہیں۔ (۲) نہ وہ اس کو قربانی کرنے والے ہیں۔ قربانی کا فائدہ تو اسی کو ہوتا ہے جو کرتا ہے نہ کسی اور کو۔ یسوع مسیح کو قربانی کرنے والے تو یہود ہیں۔ ان کی نسبت تو کہا جاتا ہے کہ وہ دوزخ میں جائیں گے۔ اور عیسائی صاحبان کہتے ہیں کہ ان کی قربانی کی وجہ سے ہم نجات پاجائیں گے۔

یسوع مسیح خدا کا بیٹا ہے۔ عیسائیوں کا اس پر کوئی حق نہیں۔ یہودی اس کو صلیب پر چڑھانے والے ہیں نہ کہ عیسائی اس لئے انہیں کو اس قربانی کا فائدہ ہونا چاہئے لیکن عیسائی صاحبان بالکل الٹی بات کہتے ہیں کہ ان کی موت پر ایمان لانے سے ہم نجات پاجائیں گے پس جو نجات کا طریق مسیحی صاحبان پیش کرتے ہیں وہ کسی طرح بھی درست نہیں ہو سکتا۔

شریعت رحمت ہے نہ کہ لعنت

ہاں اسلام نے جو طریق بتایا ہے۔ اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے۔ میں نے بتایا ہے اسلام نے شریعت کے احکام اس لئے بیان کئے ہیں تا انسان ان پر چل کر آرام پائے اور مشکلات سے بچ جائے اور یہ ایسے ہی ہیں جیسے کہ ریل والوں نے بنا دیا ہے کہ جو کوئی کسی سٹیشن پر وقت مقررہ پر پہنچ کر جہاں کا ٹکٹ لے گا۔ گاڑی پر سوار ہو کر وہاں ہی پہنچ جائے گا۔ اب اگر کوئی شخص روئے اور چلائے کہ یہ میرے لئے مصیبت ہے کہ میں ریل پر سوار ہو کر فلاں جگہ پہنچ جاؤں گا تو وہ بے وقوف ہے۔ یہی بات شریعت کی ہے شریعت تو تب لعنت ہوتی جبکہ اس میں ایسے احکام ہوتے جو انسان کو دکھ اور تکلیف میں ڈال دیتے۔ مگر اسلام میں کوئی ایسا حکم نہیں ہے جو انسان کے لئے بجائے نفع کے نقصان کا باعث ہو۔ کیا چوری کرنا بہت عمدہ کام تھا۔ جس سے منع کیا گیا ہے یا زنا کرنا بہت اچھا فعل تھا۔ جس سے روکا گیا ہے۔ یا جھوٹ بولنا بہت اچھی بات تھی جس سے باز رکھا گیا ہے۔ ہرگز نہیں یہی حال تمام احکام کا ہے شریعت تو ایک ہدایت نامہ اور گائڈ بک ہے۔ جن باتوں سے خدا تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ اگر وہ خود ہی نہ بتا دیتا تو مدتوں کے تجربہ اور نقصان اٹھانے کے بعد لوگ اس نتیجہ پر پہنچتے کہ یہ باتیں بری ہیں۔ انہیں نہیں کرنا چاہئے مگر خدا تعالیٰ نے انسانوں پر انعام کر کے خود بتا دیا۔ افسوس! کہ عیسائی صاحبان نے خدا کے اس انعام کو لعنت قرار دے دیا مگر خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم کر کے شریعت کے قوانین اور احکام بطور گُر کے بتا دیئے ہیں۔ چونکہ انسان میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ ہر ایک بات کے متعلق خود نیک نتیجہ نکال لے۔ اس لئے خود خدا نے بتا دیا اگر ایسا نہ ہوتا تو انسان بہت دکھ اور نقصان اٹھاتے اور وہ بعض ایسی باتوں کو کر بیٹھتے جن سے انہیں دکھ اور تکلیف کے علاوہ نقصان بھی پہنچتا اور بعض ایسی باتوں کو کرتے ہی نہ جو ان کے لئے مفید اور فائدہ مند ہوتیں۔

اسلام خدا کا عرفانِ کامل بخشتا اور اس طرح انسان کو گناہوں سے نجات دلاتا اور مفلح بناتا ہے۔

اسلام نے نہ صرف ہر ایک مفید اور نقصان رساں بات کو بیان کر دیا ہے بلکہ اچھی باتوں پر عمل کرنے اور بری باتوں سے بچنے کا طریق بھی بتا دیا ہے کیونکہ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کسی انسان کو ایک چیز کے مضرات اور نقصان بتا دینے اس بات کے لئے کافی نہیں ہوتے کہ وہ اس کو استعمال کرنے سے رک بھی جائے کیونکہ جب تک وہ اس فعل کو کر نہیں لیتا۔ اس وقت تک اس کی نگاہ میں اس کے نقصانات پوشیدہ ہوتے ہیں اور ایسی حالت میں اسے باز رکھنے کی ایک اور طاقت کی بھی ضرورت ہے۔ دیکھو ایک چھوٹا بچہ آگ میں ہاتھ ڈالتا ہے اور اس کا ہاتھ جل جاتا ہے لیکن اگر اس کا باپ یا ماں سامنے ہو تو آگ میں ہاتھ نہیں ڈالے گا۔ کیوں؟ اس لئے کہ آگ جو تکلیف اسے پہنچاتی ہے وہ اس کی نظر سے پوشیدہ ہے اور اس کی نسبت کافی علم نہیں رکھتا مگر باپ یا ماں کے ہاتھ کو مارنے کے لئے اٹھتا دیکھتا ہے اس لئے باز رہتا ہے۔ تو جو بات پوشیدہ ہو اس سے انسان کو کم خوف ہوتا ہے۔ خواہ اس کی نسبت اسے علم بھی کیوں نہ ہو اور جو ظاہر ہو اس سے زیادہ ڈرتا ہے۔ دیکھو ایک چور چوری کرتا ہے لیکن اگر اسے یہ معلوم ہو کہ پولیس مین سامنے کھڑا ہے تو کبھی چوری نہیں کرتا۔ اسی طرح اگر کوئی ایسا مذہب ہے جو خدا تعالیٰ کو سامنے دکھا دیتا ہے۔ تو وہی انسان کو گناہوں سے نجات بھی دلا سکتا ہے۔ اسپر چلنے والے انسان کو جب تک کامل معرفت نہیں ہوتی۔ اس وقت تک وہ گناہ کرتا ہے لیکن جوں جوں اس کی معرفت بڑھتی جاتی ہے۔ وہ گناہوں سے بچتا جاتا ہے۔ اور جب وہ معرفت میں کامل ہو جاتا ہے تو گناہوں سے بالکل بچ جاتا ہے۔ ایسا مذہب صرف اسلام ہی ہے۔ اسلام اول خدا تعالیٰ کی ہستی کو دلائل سے ثابت کرتا ہے۔ پھر ہر زمانہ میں اسلام پر چلنے والے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ایسے نشانات دکھلاتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہے۔ تمام انبیاء آکر یہی کرتے رہے ہیں کہ ایسے نشانات دکھلاتے رہے جن سے زندہ خدا کا ثبوت ملتا رہا ہے چونکہ حضرت مسیح کے بعد مسیحیت میں یہ کام کسی سے نہ ہو سکا اور ایسے لوگ پیدا ہونے بند ہو گئے اس لئے کفارہ کا مسئلہ نکالا گیا۔ مگر خدا تعالیٰ کے زندہ دکھانے کا اصل طریق یہی ہے کہ نبی آتے رہیں اور وہ آکر اسی طرح لوگوں کو نجات دلائیں۔

کفارہ کے مسئلہ سے پہلے بھی لوگ نجات پاتے رہے

کیا حضرت موسیٰؑ کے وقت جبکہ کفارہ نہیں تھا۔ نجات نہیں ہو سکتی تھی۔ اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت موسیٰؑ بھی حضرت مسیحؑ کے کفارہ پر ایمان رکھتے تھے اس لئے نجات پا گئے۔ تو میں کہوں گا کہ وہ مجھ پر ایمان رکھتے تھے۔ اس لئے نجات پا گئے۔ اس بات کا ثبوت کہ حضرت موسیٰؑ حضرت مسیحؑ کے کفارہ پر ایمان رکھتے تھے۔ عیسائیوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے اس لئے ان کا کہنا اور میرا کہنا دونوں برابر ہیں مگر عیسائی صاحبان مانتے ہیں کہ حضرت ابراہیمؑ ، حضرت موسیٰؑ ، حضرت یعقوبؑ ، حضرت اسحٰقؑ وغیرہ انبیاء نجات یافتہ تھے۔ حالانکہ ان کے وقت کوئی کفارہ نہ تھا۔ پس معلوم ہوا کہ انکی نجات شریعت کی وجہ سے ہوئی نہ کہ کفارہ سے اور ان کی شریعت کا یہی مقصد تھا کہ زندہ خدا کو پیش کریں۔

اسلام نے وہی طریق نجات بتایا جو کُل نبیوں نے سنایا

اب بھی یہی بات اسلام بتاتا ہے۔ اول۔ دلائل کے ساتھ خدا تعالیٰ کا ثبوت دیتا ہے اور جب کوئی مان جائے اور اسلام کے احکام پر عمل کرنا شروع کر دے تو خدا کو دیکھ بھی لیتا ہے۔ خدا کی مدد اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ آئندہ کی باتیں اسے بتاتا ہے اور وہ گناہوں سے بچ جاتا ہے اور جب گناہوں سے بچ گیا تو نجات پا گیا اور صرف نجات ہی نہیں بلکہ فلاح پا گیا۔ اسلام یہ طریق گناہوں کے معاف ہونے کا بتلاتا ہے۔

گناہ معاف کرنے سے خدا غیر منصف نہیں ٹھہرتا

عیسائی صاحبان کہتے ہیں۔ جس طرح ایک مجسٹریٹ ملزم کو رہا کرنے سے غیر منصف ٹھہرتا ہے۔ اسی طرح اگر خدا کسی کے گناہ معاف کر دے تو وہ غیر منصف ٹھہرتا ہے لیکن ایک مجسٹریٹ اور خدا میں بہت بڑا فرق ہے۔ اگر کوئی ملزم مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوتا ہے تو اس نے اس کا قصور نہیں کیا ہوتا۔ بلکہ گورنمنٹ کا کیا ہوتا ہے اس لئے اسے نہیں چھوڑ سکتا لیکن ہر ایک گناہ جو انسان کرتا ہے۔ وہ خدا کا ہوتا ہے اس لئے وہ معاف کر سکتا ہے۔ پھر یہ بھی غلط بات ہے کہ عدالتیں کسی مجرم کو معاف نہیں کرتیں۔ کئی جرائم ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے کرنے والوں کو بعض وجوہات سے معاف کر دیا جاتا ہے۔ ابھی تھوڑے ہی دنوں کی بات ہے کہ عدالت نے کچھ ملزموں کو پھانسی کی سزا دی تھی لیکن وائسرائے نے انکی یہ سزا عبور دریائے شور سے بدل دی ہے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایسا نہیں ہوا ہرگز نہیں۔ پھر عدالتیں اس لئے ملزم کو رہا نہیں کرتیں کہ انہیں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ ملزم سچی توبہ کر رہا ہے یا صرف اس سزا سے بچنے کے لئے کرتا ہے۔ اب اگر اسے چھوڑ دیا جائے تو وہ پھر جا کر جرم شروع کر دے۔ لیکن خدا تعالیٰ تو چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی جانتا ہے جو شخص اس کے سامنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے اس کی نسبت وہ خوب جانتا ہے کہ یہ آئندہ گناہوں سے بچے گا یا نہیں؟ اس لئے اگر وہ کسی کو بخش دیتا ہے۔ تو اس پر کوئی اعتراض نہیں آتا۔ پس اسلام یہی تعلیم دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ سچی توبہ کو قبول کرتا ہے۔

دلوں اور کانوں پر مہر کا کیا مطلب

(حضور یہاں تک بیان فرما چکے تو اس عیسائی۱؎ صاحب نے سوال کیا کہ قرآن کچھ لوگوں کی نسبت کہتا ہے کہ خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر کر دی ہے۔ ایسے لوگ کس طرح نجات پاسکتے ہیں۔ حضور نے اس کے متعلق فرمایا کہ) قرآن کریم میں یہ کسی جگہ نہیں آیا کہ کوئی انسان برا پیدا کیا گیا ہے۔ یہ جو دلوں اور کانوں پر مہر کے متعلق آیا ہے۔ یہ اور بات ہے دیکھئے انسان کے ہاتھ میں طاقت ہے کہ کوئی چیز پکڑ لے لیکن ہندوؤں میں بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے ہاتھ کو سُکھا دیتے ہیں اور اس میں پکڑنے کی بالکل طاقت نہیں رہتی۔ یہ کس کا قصور ہے سُکھانے والے کا مگر اس کے ہاتھ کو سُکھایا کس نے خدا نے اگر خدا نہ چاہتا تو ہاتھ نہ سوکھتا مگر اس کا قانون ہی یہی ہے کہ جو اس کی نعمت کی بے قدری کرتا ہے اس سے چھین لیتا ہے۔ جو آپ نے کہا ہے یہ ایسے لوگوں کے متعلق ہے جو کہ اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَوَآءٌ عَلَیۡہِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَہُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَعَلٰی سَمۡعِہِمۡ(2:7-8)۲؎ کہ تحقیق وہ لوگ جو کافر ہوئے در آنحالیکہ برابر ہوا ڈرانا یا نہ ڈرانا وہ توجہ ہی نہیں کرتے۔ پس جبکہ وہ توجہ ہی نہیں کرتے تو انکے دلوں اور کانوں پر مہر لگ گئی۔ جن لوگوں کا ذکر پہلے ہے انہیں کے دل اور کانوں کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مہر لگ گئی ہے۔ خدا تعالیٰ نے ہر ایک انسان میں روحانی طاقتیں رکھی ہوئی ہیں لیکن اگر کوئی ان سے کام نہیں لیتا اور ان کو ضائع کر دیتا ہے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے پس وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی باتوں پر غور نہیں کرتے اور اس کی باتوں کو سنکر بھی عمل نہیں کرتے۔ انکی یہ طاقتیں ماری جاتی ہیں۔ پھر ان کو ڈرانا یا نہ ڈرانا برابر ہوتا ہے۔ تو ایسے لوگ خود گمراہ ہوتے ہیں نہ یہ کہ ان میں ہدایت پانے کی طاقت ہی نہیں رکھی جاتی۔

سیرت مسیح موعودؑ

(حضرت بانیِ جماعت احمدیہ کے مختصر حالاتِ زندگی)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم نحمده و نصلی علیٰ رسوله الکریم

دیباچہ

چونکہ احمدیہ جماعت کی روز مرہ ترقی اور اطراف عالم میں پھیلنے والی لہر کو دیکھ کر بہت سے لوگوں کو جو اس کے حالات سے واقف نہیں۔ خیال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس کے حالات سے آگاہ ہوں۔ لیکن بوجہ مجبوری کے وہ مفصل کتب کو نہیں دیکھ سکتے اس لئے میں نے چاہا کہ ایک ایسا رسالہ لکھ دوں جس میں مختصر طور پر اس سلسلہ اور اس کے بانی کے حالات درج ہوں تاکہ طالبان حق کے لئے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ماتحت راہنما کا کام دے اور مزید تحقیق کے لئے ان کے دلوں میں تحریک پیدا کرے اور آسمانی بادشاہت میں داخل ہونے والوں کے لئے راستہ صاف کرے۔ اس مختصر ٹریکٹ میں مندرجہ ذیل امور پر روشنی ڈالی جاوے گی۔

احمدؐ بانی سلسلہ احمدیہ کے حالات۔ اس کی سیرت۔ اس کا دعویٰ اور دلائل۔ اس کی مشکلات۔ اس کی پیش گوئیاں۔ اس کا کام۔ اسکے بعد اس کے قائم کردہ سلسلہ کے حالات۔

بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم نَحمَدُہٗ وَ نُصَلِّی عَلٰی رَسُولِہِ الكَرِیم

احمدؑ قادیانی اور آپ کے خاندانی حالات

احمدؑ جو سلسلہ احمدیہ کے بانی تھے ، آپ کا پورا نام غلام احمد تھا اور آپ قادیان کے باشندے تھے۔ جو بٹالہ ریلوے اسٹیشن سے گیارہ میل امرت سر سے چوبیس میل اور لاہور سے ستاون میل جانب مشرق پر ایک قصبہ ہے۔ آپ قریباً ۱۸۳۶ء یا ۱۸۳۷ء میں اسی گاؤں میں مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کے ہاں جمعہ کے دن پیدا ہوئے اور آپ کی ولادت توام تھی۔ یعنی آپ کے ساتھ ایک لڑکی بھی پیدا ہوئی تھی جو تھوڑی ہی مدت کے بعد فوت ہو گئی۔

پیشتر اس کے کہ میں آپ کے حالات بیان کروں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مختصراً آپ کے خاندان کے بھی کچھ حالات بیان کر دیئے جائیں۔

آپ کا خاندان اپنے علاقہ میں ایک معزز خاندان تھا۔ اور اس کا سلسلہ نسب برلاس سے جو امیر تیمور کا چچا تھا ملتا ہے اور جب کہ امیر تیمور نے علاقہ کش پر بھی جس پر اس کا چچا حکمران تھا قبضہ کر لیا تو برلاس خاندان خراسان میں چلا آیا اور ایک مدت تک یہیں رہا۔ لیکن دسویں صدی ہجری یا سولہویں صدی مسیحی کے آخر میں اس خاندان کا ایک ممبر مرزا ہادی بیگ بعض غیر معلوم وجوہات کے باعث اس ملک کو چھوڑ کر قریباً دو سو آدمیوں سمیت ہندوستان میں آگیا اور دریائے بیاس کے قریب کے علاقہ میں اس نے اپنا ڈیرہ لگایا۔ اور بیاس سے نو میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں بسایا اور اس کا نام اسلام پور رکھا۔ (یعنی اسلام کا شہر) چونکہ آپ ایک نہایت قابل آدمی تھے دہلی کی حکومت کی طرف سے اس علاقہ کے قاضی مقرر کئے گئے اور اس عہدہ کی وجہ سے آپ کے گاؤں کا نام بجائے اسلام پور کے اسلام پور قاضی ہو گیا یعنی اسلام پور جو قاضی کا مقام ہے۔ اور بگڑتے بگڑتے اسلام پور کا نام تو مٹ گیا اور صرف قاضی رہ گیا۔ جو پنجابی تلفظ

میں قادی بن گیا۔ اور آخر اس سے بگڑ کر اس گاؤں کا نام قادیان ہو گیا۔ غرض مرزا ہادی بیگ صاحب نے خراسان سے آکر بیاس کے پاس ایک گاؤں بسا کر اس میں بودوباش اختیار کی اور اسی جگہ پر ان کا خاندان ہمیشہ قیام پذیر رہا۔ اور باوجود دہلی پایہ تخت حکومت سے دور رہنے کے اس خاندان کے ممبر مغلیہ حکومت کے ماتحت معزز عہدوں پر مأمور رہے۔ اور جب مغلیہ خاندان کو ضعف پہنچا اور پنجاب میں طوائف الملوکی پھیل گئی تو یہ خاندان ایک آزاد حکمران کے طور پر قادیان کے اردگرد کے علاقہ پر جو قریباً ساٹھ میل کا رقبہ تھا حکمران رہا۔ لیکن سکھوں کے زور کے وقت رام گڑھیا سکھوں نے بعض اور خاندانوں کے ساتھ مل کر اس خاندان کے خلاف جنگ شروع کی۔ اور گو ان کے پڑدادا نے تو اپنے زمانہ میں ایک حد تک دشمن کے حملوں کو روکا لیکن آہستہ آہستہ مرزا صاحب کے دادا کے وقت اس ریاست کی حالت ایسی کمزور ہوگئی کہ صرف قادیان جو اس وقت ایک قلعہ کی صورت میں تھا اور اس کے چاروں طرف فصیل تھی ان کے قبضہ میں رہ گیا اور باقی سب علاقہ ان کے ہاتھوں سے نکل گیا اور آخر بعض گاؤں کے باشندوں سے سازش کر کے سکھ اس گاؤں پر بھی قابض ہو گئے اور اس خاندان کے سب مرد و زن قید ہو گئے۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد سکھوں نے ان کو اس علاقہ سے چلے جانے کی اجازت دے دی۔ اور وہ ریاست کپور تھلہ میں چلے گئے اور وہاں قریباً سولہ سال رہے۔ اس کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ کا زمانہ آگیا اور انہوں نے سب چھوٹے چھوٹے راجوں کو اپنے ماتحت کر لیا اور اس انتظام میں حضرت مرزا صاحب کے والد کو بھی ان کی جاگیر کا بہت کچھ حصہ واپس کر دیا۔ اور وہ اپنے بھائیوں سمیت مہاراجہ کی فوج میں ملازم ہو گئے۔ اور جب انگریزی حکومت نے سکھوں کی حکومت کو تباہ کیا۔ تو ان کی جاگیر ضبط کی گئی مگر قادیان کی زمین پر ان کو مالکیت کے حقوق دیئے گئے۔

آپ کا خاندانی تذکرہ تاریخوں میں

ان مختصر حالات کے لکھنے کے بعد سرلیپل گریَفن کی کتاب پنجاب چیفس کا وہ حصہ جو حضرت مرزا صاحب کے خاندان کے متعلق ہے ہم لکھ دینا مناسب سمجھتے ہیں۔

’’شہنشاہ بابر کے عہد حکومت کے آخری سال یعنی ۱۵۳۰ء میں ایک مغل مسمّٰی ہادی بیگ باشندہ سمرقند اپنے وطن کو چھوڑ کر پنجاب میں آیا اور ضلع گورداسپور میں بودوباش اختیار کی۔ یہ کسی قدر لکھا پڑھا آدمی تھا اور قادیان کے گردونواح کے ستر مواضعات کا قاضی یا مجسٹریٹ

مقرر کیا گیا۔ کہتے ہیں کہ قادیان اس نے آباد کیا اور اس کا نام اسلام پور قاضی رکھا جو بدلتے بدلتے قادیان لہ ہو گیا۔ کئی پشتوں تک یہ خاندان شاہی عہد حکومت میں معزز عہدوں پر ممتاز رہا اور محض سکھوں کے عروج کے زمانہ میں یہ افلاس کی حالت میں ہو گیا تھا۔ گل محمد اور اس کا بیٹا عطا محمد رام گڑھیا اور کنھیا مسلوں سے جن کے قبضے میں قادیان کے گرد و نواح کا علاقہ تھا ہمیشہ لڑتے رہے۔ آخر کار اپنی تمام جاگیر کو کھو کر عطا محمد بیگوال میں سردار فتح سنگھ اہلو والیہ کی پناہ میں چلا گیا اور ۱۲؍سال تک امن و امان سے زندگی بسر کی۔ اس کی وفات پر رنجیت سنگھ نے جو رام گڑھیا مسل کی تمام جاگیر پر قابض ہو گیا تھا غلام مرتضیٰ کو قادیان واپس بلا لیا۔ اور اس کی جدی جاگیر کا ایک بہت بڑا حصہ اسے واپس دے دیا۔ اس پر غلام مرتضیٰ اپنے بھائیوں سمیت مہاراجہ کی فوج میں داخل ہوا اور کشمیر کی سرحد اور دوسرے مقامات پر قابل قدر خدمات انجام دیں۔

نونہال سنگھ ‘ شیر سنگھ اور دربار لاہور کے دَور دَورے میں غلام مرتضیٰ ہمیشہ فوجی خدمت پر مامور رہا۔ ۱۸۴۱ء میں یہ جرنیل ونچورا کے ساتھ منڈی اور کلو کی طرف بھیجا گیا اور ۱۸۴۳ء میں ایک پیادہ فوج کا کمیدان بنا کر پشاور روانہ کیا گیا۔ ہزارہ کے مفسدے میں اس نے کارہائے نمایاں کئے۔ اور جب ۱۸۴۸ء کی بغاوت ہوئی تو یہ اپنی سرکار کا نمک حلال رہا اور اس کی طرف سے لڑا۔ اس موقعہ پر اس کے بھائی غلام محی الدین نے بھی اچھی خدمات کیں۔ جب بھائی مہاراج سنگھ اپنی فوج لئے دیوان مولراج کی امداد کے لئے ملتان کی طرف جا رہا تھا تو غلام محی الدین اور دوسرے جاگیرداران لنگر خاں ساہیوال اور صاحب خاں ٹوانہ نے مسلمانوں کو بھڑکایا اور مصر صاحب دیال کی فوج کے ساتھ باغیوں سے مقابلہ کیا اور ان کو شکست فاش دی۔ ان کو سوائے دریائے چناب کے کسی اور طرف بھاگنے کا راستہ نہ تھا جہاں چھ سو سے زیادہ آدمی ڈوب کر مر گئے۔

الحاق کے موقع پر اس خاندان کی جاگیر ضبط کی گئی۔ مگر ۷۰۰؍روپیہ کی پنشن غلام مرتضیٰ اور اس کے بھائیوں کو عطا کی گئی۔ اور قادیان اور اس کے گردونواح کے مواضعات پر ان کے حقوق مالکانہ رہے۔ اس خاندان نے غدر ۱۸۵۷ء کے دوران میں بہت اچھی خدمات کیں۔ غلام مرتضیٰ نے بہت سے آدمی بھرتی کئے اور اس کا بیٹا غلام قادر جنرل نکلنسن صاحب بہادر کی فوج میں اس وقت تھا جب کہ افسر موصوف نے تریمو گھاٹ پر نمبر ۴۶ نیٹو انفنٹری کے باغیوں کو

جو سیالکوٹ سے بھاگے تھے نہ تیغ کیا۔ جنرل نکلسن صاحب بہادر نے غلام قادر کو ایک سند دی جس میں یہ لکھا ہے کہ ۱۸۵۷ء میں خاندان قادیان ضلع گورداسپور کے تمام دوسرے خاندانوں سے زیادہ نمک حلال رہا۔

غلام مرتضیٰ جو ایک لائق حکیم تھا۔ ۱۸۷۶ء میں فوت ہوا۔ اور اس کا بیٹا غلام قادر اس کا جانشین ہوا۔ غلام قادر حکام مقامی کی امداد کے لئے ہمیشہ تیار رہتا تھا اور اس کے پاس ان افسران کے جن کا انتظامی امور سے تعلق تھا بہت سے سرٹیفکیٹ تھے۔ یہ کچھ عرصہ تک گورداسپور میں دفتر ضلع کا سپرنٹنڈنٹ رہا۔ اس کا اکلوتا بیٹا کم سنی میں فوت ہو گیا اور اس نے اپنے بھتیجے سلطان احمد کو متبنّٰی کر لیا۔ جو غلام قادر کی وفات یعنی ۱۸۸۳ء سے خاندان کا بزرگ خیال کیا جاتا ہے۔ مرزا سلطان احمد نے نائب تحصیلداری سے گورنمنٹ کی ملازمت شروع کی اور اب اکسٹرا اسسٹنٹ ہے۔ یہ قادیان کا نمبردار بھی ہے۔ نظام الدین کا بھائی امام الدین جو ۱۹۰۴ء میں فوت ہوا، دہلی کے محاصرے کے وقت ہاڈسن ہورس (رسالہ) میں رسالدار تھا۔ اس کا باپ غلام محی الدین تحصیلدار تھا۔

یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ غلام احمد جو غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا مسلمانوں کے ایک مشہور مذہبی فرقہ احمدیہ کا بانی ہوا۔ یہ شخص ۱۸۳۷ء میں پیدا ہوا اور اس کو تعلیم نہایت اچھی ملی۔ ۱۸۹۱ء میں اس نے بموجب اسلام مہدی یا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ چونکہ یہ ایک عالم اور منطقی تھا۔ اس لئے دیکھتے ہی دیکھتے بہت سے لوگ اس کے معتقد ہو گئے۔ اور اب احمدیہ جماعت کی تعداد پنجاب اور ہندوستان کے دوسرے حصوں میں تین لاکھ کے قریب بیان کی جاتی ہے۔ مرزا عربی۔ فارسی اور اردو کی بہت سی کتابوں کا مصنف تھا۔ جن میں اس نے جہاد کے مسئلہ کی تردید کی۔ اور یہ گمان کیا جاتا ہے کہ ان کتابوں نے مسلمانوں پر اچھا اثر کیا ہے۔ مدت تک یہ بڑی مصیبت میں رہا کیونکہ مخالفین مذہب سے اس کے اکثر مباحثے اور مقدمے رہے۔ لیکن اپنی وفات سے پہلے جو ۱۹۰۸ء میں ہوئی اس نے ایک رتبہ حاصل کر لیا۔ کہ وہ لوگ بھی جو اس کے خیالات کے مخالف تھے اس کی عزت کرنے لگے۔ اس فرقہ کا صدر مقام قادیان ہے جہاں انجمن احمدیہ نے ایک بہت بڑا سکول کھولا ہے اور چھاپہ خانہ بھی ہے جس کے ذریعہ سے اس فرقہ کے متعلق خبروں کا اعلان کیا جاتا ہے۔ مرزا غلام احمد کا خلیفہ ایک مشہور حکیم مولوی نور الدین ہے جو چند سال مہاراجہ کشمیر کی ملازمت میں رہا ہے۔

اس خاندان کے سالم موضع قادیان پر جو ایک بڑا موضع ہے حقوق مالکانہ ہیں۔ اور نیز تین ملحقہ مواضعات پر بشرح پانچ فیصدی حقوق تعلق داری حاصل ہیں۔“۔؎

پیدائش حضرت اقدسؑ، زمانہ طفولیت و تذکرہ والد بزرگوار

حضرت مرزا صاحبؑ کے خاندان کے مختصر حالات لکھنے کے بعد ہم آپ کے حالات بیان کرنے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جیسا کہ شروع میں بیان کیا گیا ہے۔ آپ ۱۸۳۶ء یا ۱۸۳۷ء میں پیدا ہوئے تھے جو کہ آپ کے والد کے عروج کا زمانہ تھا۔ کیونکہ اس وقت ان کو جاگیر کے بعض مواضع اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوجی خدمت کی وجہ سے اچھی عظمت حاصل تھی۔ لیکن منشائے الٰہی یہ تھا کہ ایک ایسے رنگ میں پرورش پائیں جس میں آپ کی توجہ خدا تعالیٰ کی طرف ہو۔ اس لئے آپ کی پیدائش کے تین ہی سال بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفات کے ساتھ ہی سکھ حکومت پر زوال آگیا۔ اور اس زوال کے ساتھ آپ کے والد صاحب بھی مختلف تفکرات میں مبتلا ہو گئے۔ اور آخر الحاق پنجاب کے موقعہ پر ان کی جائیداد ضبط ہو گئی اور باوجود ہزاروں روپیہ خرچ کرنے کے وہ اپنی جاگیر واپس نہ لے سکے۔ جس کا صدمہ ان کے دل پر آخر دم تک رہا۔ چنانچہ خود حضرت مرزا صاحبؑ اپنی ایک کتاب میں تحریر فرماتے ہیں۔ کہ ”میرے والد صاحب اپنی ناکامی کی وجہ سے اکثر مغموم اور مہموم رہتے تھے انہوں نے پیروی مقدمات میں ستر ہزار کے قریب روپیہ خرچ کیا تھا جس کا انجام آخر کار ناکامی تھی۔ کیونکہ ہمارے بزرگوں کے دیہات مدت سے ہمارے قبضہ سے نکل چکے تھے اور ان کا واپس آنا ایک خام خیال تھا۔ اسی نامرادی کی وجہ سے حضرت والد صاحب مرحوم ایک نہایت عمیق گرداب غم اور حزن اور اضطراب میں زندگی بسر کرتے تھے۔ اور مجھے ان حالات کو دیکھ کر ایک پاک تبدیلی پیدا کرنے کا موقعہ حاصل ہوتا تھا۔ کیونکہ حضرت والد صاحب کی تلخ زندگی کا نقشہ مجھے اس بے لوث زندگی کا سبق دیتا تھا جو دنیاوی کدورتوں سے پاک ہے۔ اگرچہ مرزا صاحب کے چند دیہات ملکیت باقی تھے۔ اور سرکار انگریزی کی طرف سے کچھ انعام سالانہ مقرر تھا۔ اور ایام ملازمت کی پنشن بھی تھی۔ مگر جو کچھ وہ دیکھ چکے تھے اس لحاظ سے وہ سب کچھ ہیچ تھا۔ اس وجہ سے وہ ہمیشہ مغموم اور محزون رہتے تھے کہ جس قدر میں نے اس پلید دنیا کے لئے سعی کی ہے اگر میں وہ سعی دین کے لئے کرتا۔ تو آج شاید قطب وقت یا غوث وقت ہوتا۔ اور اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔

عمر بگذشت و نماند است جز ایامے چند

بہ کہ در یاد کے صبح کنم شامے چند

اور میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ اپنا بنایا ہوا شعر رقت کے ساتھ پڑھتے اور وہ یہ ہے

از درے تو اے کے ہر بے کسے

نیست امیدم کہ بروم نا امید

اور کبھی درددل سے اپنا یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔

بآبِ دیدہ عشاق و خاکپائے کسے

مرادے است کہ درخوں تپد بجائے کسے

حضرتِ عزت جلشانہٗ کے سامنے خالی ہاتھ جانے کی حسرت روز بروز آخری عمر میں ان پر غلبہ کرتی گئی تھی۔ بارہا افسوس سے کہا کرتے تھے کہ دُنیا کے بیہودہ خرخشوں کے لئے میں نے اپنی عمر ناحق ضائع کردی۔“

بچپن ہی میں عبادت الٰہی کا شوق

اس تحریر سے جو حضرت مرزا صاحبؑ نے اپنے والد کی اس حالت کے متعلق لکھی ہے۔ جس میں آپ کے زمانہ طفولیت اور جوانی کے وقت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسے رنگ میں آپ کی تربیت فرمائی تھی کہ جس کی وجہ سے دنیا کی محبت آپ کے دل میں پیدا ہی نہ ہونے پائی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے والد اور بڑے بھائی کی دنیاوی حالت اس وقت بھی ایسی تھی کہ وہ دنیاوی لحاظ سے معزز و ممتاز کہلاتے تھے۔ اور حکام ان کا ادب و لحاظ کرتے تھے۔ لیکن پھر بھی ان کا دنیا کے پیچھے پڑنا اور اپنی ساری عمر اس کے حصول کے لئے خرچ کر دینا لیکن پھر بھی ان کا اس حد تک ان کو حاصل نہ ہونا جس حد تک کہ وہ اس پر خاندانی حق خیال کرتے تھے اس پاک دل کو جو اپنے اندر کسی قسم کی میل نہ رکھتا تھا یہ بتا دینے کے لئے کافی تھا کہ دنیا روزے چند و آخرت با خداوند۔ چنانچہ اس نے اپنی بچپن کی عمر سے اس سبق کو ایسا یاد کیا کہ اپنی وفات تک نہ بھلایا۔ اور گو دنیا طرح طرح کے خوبصورت لباسوں میں اس کے سامنے آئی اور اس کو اپنے راستہ سے ہٹا دینے کی کوشش کی لیکن اس نے کبھی اس طرف التفات نہ کی۔ اور اس سے ایسی جدائی اختیار کی کہ پھر اس سے کبھی نہ ملا۔

غرض مرزا صاحبؑ کو اپنی بچپن کی عمر سے ہی اپنے والد صاحب کی زندگی میں ایک ایسا تلخ نمونہ دیکھنے کا موقع ملا کہ دنیا سے آپ کی طبیعت سرد ہو گئی۔ اور جب آپ بہت ہی بچے تھے تب بھی آپ کی تمام تر خواہشات رضائے الٰہی کے حصول میں ہی لگی ہوئی تھیں۔ چنانچہ آپ کے

سوانح نویس شیخ یعقوب علی صاحب آپ کے بارہ میں ایک عجیب واقعہ جو آپ کی نہایت بچپن کی عمر کے متعلق ہے تحریر کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب آپ کی عمر نہایت چھوٹی تھی تو اس وقت آپ اپنی ہم سن لڑکی کو جس سے بعد میں آپ کی شادی بھی ہو گئی کہا کرتے تھے کہ ”نامرادے دعا کر کہ خدا میرے نماز نصیب کرے۔“

اس فقرہ سے جو نہایت بچپن کی عمر کا ہے پتہ چلتا ہے۔ کہ نہایت بچپن کی عمر سے آپ کے دل میں کیسے جذبات موجزن تھے۔ اور آپ کی خواہشات کا مرکز کس طرح خدا ہی خدا ہو رہا تھا۔ اور ساتھ ہی اس ذہانت کا پتہ چلتا ہے جو بچپن کی عمر سے آپ کے اندر پیدا ہو گئی تھی۔ کیونکہ اس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت بھی آپ تمام خواہشات کا پورا کرنے والا خدا تعالیٰ کو ہی سمجھتے تھے اور عبادت کی توفیق کا دینا بھی اس پر موقوف جانتے تھے۔ نماز پڑھنے کی خواہش کرنا اور اس خواہش کو پورا کرنے والا خدا تعالیٰ کو ہی جاننا اور پھر جس گھر میں پرورش پاکر جس کے چھوٹے بڑے دنیا کو ہی اپنا خدا سمجھ رہے تھے ایک ایسی بات ہے جو سوائے کسی ایسے دل کے جو دنیا کی ملوثی سے ہر طرح پاک ہو اور دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر دینے کے لئے خدا تعالیٰ سے تائید یافتہ ہو نہیں نکل سکتی۔

حصول تعلیم کا زمانہ

جس زمانہ میں آپ پیدا ہوئے ہیں وہ نہایت جہالت کا زمانہ تھا اور لوگوں کی تعلیم کی طرف بہت ہی کم توجہ تھی۔ اور سکھوں کے زمانہ کی بات تو یہاں تک مشہور ہے کہ اگر کسی کے نام کسی دوست کا کوئی خط آجاتا تو اس کے پڑھوانے کے لئے اسے بہت مشقت اور محنت برداشت کرنی پڑتی تھی۔ اور بعض دفعہ مدت تک خط پڑا رہتا تھا۔ اور بہت سے رؤساء بالکل اَن پڑھ تھے۔ لیکن خدا تعالیٰ نے چونکہ آپ سے بہت بڑا کام لینا تھا اس لئے آپ کی تعلیم کا اس نے آپ کے والد کے دل میں شوق پیدا کر دیا۔ اور باوجود ان دنیاوی تفکرات کے جن میں وہ مبتلا تھے انہوں نے اس جہالت کے زمانہ میں بھی اپنی اولاد کو اس زمانہ کے مناسب حال تعلیم دلانے میں کوتاہی نہ کی۔ چنانچہ جب آپ بچہ ہی تھے تو آپ کے والد نے ایک استاد آپ کی تعلیم کے لئے ملازم رکھا جن کا نام فضل الٰہی تھا۔ ان سے حضرت مرزا صاحبؑ نے قرآن مجید اور فارسی کی چند کتب پڑھیں۔ اس کے بعد دس سال کی عمر میں فضل احمد نام ایک استاد ملازم رکھے گئے یہ استاد نہایت نیک اور دیندار آدمی تھا۔ اور جیسا کہ حضرت مرزا صاحب خود تحریر فرماتے ہیں۔ آپ کو نہایت محنت اور محبت سے تعلیم دیتا تھا۔ اس استاد سے حضرت صاحبؑ نے صرف و نحو کی بعض کتب پڑھیں اس کے بعد سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں مولوی گل علی شاہ آپ کی تعلیم کے لئے ملازم رکھے گئے۔ ان سے نحو، منطق اور حکمت کی چند کتب آپ نے پڑھیں۔ اور فن طبابت کی چند کتب اپنے والد صاحب سے جو ایک نہایت تجربہ کار طبیب تھے پڑھیں۔ اور یہ تعلیم ان دنوں کے لحاظ سے جن میں آپ تعلیم پا رہے تھے بہت بڑی تعلیم تھی۔ لیکن درحقیقت اس کام کے مقابلہ میں جو آپ نے کرنا تھا کچھ بھی نہ تھی۔ چنانچہ ہم نے بعض وہ آدمی دیکھے ہیں جو آپ کے ساتھ ان استادوں سے پڑھتے تھے جن کو آپ کے والد صاحب نے آپ کی تعلیم کے لئے ملازم رکھا تھا وہ نہایت معمولی لیاقت کے آدمی تھے اور ان کو ایک معمولی خواندہ آدمی سے زیادہ وقعت نہیں دی جا سکتی۔ اور جو استاد آپ کی تعلیم کے لئے ملازم رکھے گئے تھے وہ بھی کوئی بڑے عالم نہ تھے۔ کیونکہ اس وقت علم بالکل مفقود تھا۔ اور فارسی اور عربی کی چند کتب کا پڑھ لینے والا بڑا عالم خیال کیا جاتا تھا۔ پس جن حالات کے ماتحت اور جن استادوں کی معرفت آپ کی تعلیم ہوئی وہ ایسے تھے کہ ان کی وجہ سے آپ کو کوئی ایسی تعلیم نہیں مل سکتی تھی جو اس کام کے لئے آپ کو تیار کر دیتی جس کے کرنے پر آپ نے مبعوث ہونا تھا۔ ہاں اس قدر اس تعلیم کا نتیجہ ضرور ہوا۔ کہ آپ کو فارسی اور عربی پڑھنی آگئی اور فارسی میں اچھی طرح سے اور عربی میں قدرے قلیل آپ بولنے بھی لگ گئے تھے۔ اس سے زیادہ آپ نے کوئی تعلیم نہیں حاصل کی۔ اور دینی تعلیم تو باقاعدہ طور پر کسی استاد سے حاصل نہیں کی۔ ہاں آپ کو مطالعہ کا بہت شوق تھا۔ اور آپ اپنے والد صاحب کے کتب خانہ کے مطالعہ میں اس قدر مشغول رہتے تھے کہ بارہا آپ کے والد صاحب کو ایک تو اس وجہ سے کہ آپ کی صحت کو نقصان نہ پہنچے اور ایک اس وجہ سے کہ آپ اس طرف سے ہٹ کر ان کے کام میں مددگار ہوں آپ کو روکنا پڑتا تھا۔

ملازمت کے حالات اور مسیحیوں سے مباحثات

جب آپ تعلیم سے فارغ ہوئے اس وقت گورنمنٹ برطانیہ کی حکومت پنجاب میں مستحکم ہو چکی تھی۔ غدر کا پُر آشوب زمانہ بھی گزر چکا تھا۔ اور اہلِ ہند اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ اب اس گورنمنٹ کی ملازمت ہی میں تمام عزت ہے اس لئے مختلف شریف خاندانوں کے نوجوان اس کی ملازمت میں داخل ہو رہے تھے۔ ایسے حالات کے ماتحت اور اس بات کو معلوم کر کے کہ حضرت مرزا صاحبؑ کی طبیعت زمینداری کے کاموں میں بالکل نہیں لگتی اپنے والد صاحب کے مشورہ سے آپ سیالکوٹ بحصول ملازمت تشریف لے گئے اور وہاں ڈپٹی کمشنر صاحب کے دفتر میں ملازم ہو گئے۔ مگر اکثر وقت علمی مشاغل میں ہی گذرتا اور ملازمت سے فراغت کے اوقات میں یا تو آپ خود مطالعہ کرتے یا دوسرے لوگوں کو پڑھاتے تھے یا مذہبی مباحث میں حصہ لیتے تھے۔ اور اس وقت بھی آپ کی پرہیزگاری اور تقویٰ کا اتنا اثر تھا کہ باوجود اس کے کہ آپ بالکل نوجوان تھے۔ اور صرف اٹھائیس سال کی عمر تھی۔ مگر بوڑھے بوڑھے آدمی مسلمانوں میں سے بھی اور ہندوؤں میں سے بھی آپ کی عزت کرتے تھے لیکن آپ کی عادت اس وقت بھی خلوت پسندی کی تھی اپنے مکان سے باہر کم جاتے اور اکثر وقت وہیں گزارتے۔ مسیحی مشن ان دنوں پنجاب میں نیا نیا آیا تھا۔ اور مسلمان ان کے حملوں سے ناواقف تھے اور اکثر مسیحیوں سے شکست کھاتے۔ لیکن حضرت مرزا صاحبؑ سے جب کبھی بھی مسیحیوں کی گفتگو ہوئی۔ ان کو نیچا دیکھنا پڑا۔ چنانچہ پادریوں میں سے جو لوگ حق پسند تھے وہ باوجود اختلاف مذہبی کے آپ کی بہت عزت کرتے۔ چنانچہ آپ کا سوانح نگار لکھتا ہے۔ ریورنڈ بٹلر ایم۔ اے جو سیالکوٹ کے مشن میں کام کرتے تھے اور جن سے حضرت صاحبؑ کے بہت سے مباحثات ہوتے رہتے تھے۔ جب ولایت واپس جانے لگے تو خود کچہری میں آپ کے پاس ملنے کے لئے چلے آئے۔ اور جب ڈپٹی کمشنر صاحب نے پوچھا کہ کس طرح تشریف لائے ہیں تو ریورنڈ مذکور نے کہا کہ صرف مرزا صاحب کی ملاقات کے لئے۔ اور جہاں آپ بیٹھے تھے وہیں سیدھے چلے گئے اور کچھ دیر بیٹھ کر واپس چلے گئے۔ یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب کہ گورنمنٹ برطانیہ کی نئی نئی فتح کو پادری لوگ اپنی فتح کی علامت قرار دیتے تھے۔ اور ان میں تکبر اس قدر سرایت کر گیا تھا کہ ان دنوں میں جو کتب اسلام کے خلاف لکھی گئی ہیں ان کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پادری صاحبان نے اس وقت شاید یہ خیال کر رکھا تھا کہ چند ہی روز میں تمام مسلمانوں کو پکڑ کر بزورِ شمشیر گورنمنٹ مسیحی بنا لے گی۔ اور وہ اسلام اور بانیِ اسلام کے خلاف سخت سے سخت الفاظ استعمال کرنے سے بھی نہ رکتے تھے۔ حتیٰ کہ بعض دانا یورپین صاحبان کو بھی ان تصانیف کو دیکھ کر لکھنا پڑا کہ ان تحریروں کی وجہ سے اگر دوبارہ ۱۸۵۷ء کی طرح غدر ہو جائے تو کوئی تعجب نہیں۔ اور یہ حالت اس وقت تک قائم رہی جب تک کہ مسیحی پادریوں کو یہ یقین نہ ہو گیا کہ ہندوستان میں حکومت انگلستان کی ہے نہ کہ پادریوں کی۔ اور یہ کہ کوئین وکٹوریہ کی گورنمنٹ بزورِ شمشیر دینِ مسیحی پھیلانے کی ہرگز روادار نہیں اور وہ کبھی پسند نہیں کرتی کہ کسی مذہب کی ناجائز طور پر دل آزاری کی جائے۔ غرض اس وقت مسیحیوں اور مسلمانوں سے تعلقات نہایت کشیدہ تھے۔ اور پادریوں کے اخلاق ان دنوں میں صرف انہیں لوگوں تک محدود ہوتے تھے جو ان کی باتوں کی تصدیق کریں۔ مگر جو آگے سے جواب دے بیٹھیں ان کے خلاف ان کا جوش بڑھ جاتا تھا۔ لیکن باوجود اس کے کہ حضرت مرزا صاحب دین میں غیور تھے اور مذہبی مباحثات میں کسی سے نہ دبتے تھے ریورنڈ بٹلر آپ کی نیک نیتی اور اخلاص اور تقوٰی کو دیکھ کر متاثر تھے۔ اور باوجود اس بات کو محسوس کرنے کے کہ یہ شخص میرا شکار نہیں ہاں ممکن ہے کہ میں اس کا شکار ہو جاؤں۔ اور باوجود اس طبعی نفرت کے جو ایک صید کو صیاد سے ہوتی ہے وہ دوسرے مذہبی مناظرین کی نسبت مرزا صاحب سے مختلف سلوک کرنے پر مجبور ہوئے۔ اور جاتے وقت کچہری میں ہی آپ سے ملنے کے لئے آگئے اور آپ سے ملے بغیر جانا پسند نہ کیا۔

علیحدگی ملازمت اور پیروی مقدمات

قریباً چار سال آپ سیالکوٹ میں ملازم رہے لیکن نہایت کراہت کے ساتھ۔ آخر والد صاحب کے لکھنے پر فوراً استعفاء دے کر واپس آگئے اور اپنے والد صاحب کے حکم کے ماتحت ان کے زمینداری مقدمات کی پیروی میں لگ گئے لیکن آپ کا دل اس کام پر نہ لگتا تھا۔ چونکہ آپ اپنے والدین کے نہایت فرمانبردار تھے اس لئے والد صاحب کا حکم تو نہ ٹالتے تھے۔ لیکن اس کام میں آپ کا دل ہرگز نہ لگتا تھا۔ چنانچہ ان دنوں کے آپ کو دیکھنے والے لوگ بیان کرتے ہیں کہ بعض اوقات کسی مقدمہ میں ہار کر آتے تو آپ کے چہرہ پر بشاشت کے آثار ہوتے تھے اور لوگ سمجھتے کہ شائد فتح ہو گئی ہے۔ پوچھنے پر معلوم ہوتا کہ ہار گئے ہیں۔ جب وجہ دریافت کی جاتی تو فرماتے کہ ہم نے جو کچھ کرنا تھا کر دیا منشائے الٰہی یہی تھا اور اس مقدمہ کے ختم ہونے سے فراغت تو ہو گئی ہے یاد الٰہی میں مصروف رہنے کا موقعہ ملے گا۔ یہ زمانہ آپ کا عجیب کشمکش کا زمانہ تھا۔ والد صاحب چاہتے تھے کہ آپ یا تو زمینداری کے کام میں مصروف ہوں یا کوئی ملازمت اختیار کریں اور آپ ان دونوں باتوں سے متنفر تھے۔ اور اس لئے اکثر طعن و تشنیع کا شکار رہتے تھے جب تک آپ کی والدہ صاحبہ زندہ رہیں آپ پر ایک سپر کے طور پر رہیں۔ لیکن ان کی وفات کے بعد آپ اپنے والد صاحب اور بھائی صاحب کی ملامت کا اکثر نشانہ ہو جاتے۔ اور بعض دفعہ لوگ سمجھتے تھے کہ آپ کا دنیاوی کاموں سے متنفر ہونا سستی کی وجہ سے ہے۔ چنانچہ آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ بعض دفعہ آپ کے والد نہایت افسردہ ہو جاتے تھے اور کہتے تھے کہ میرے بعد اس لڑکے کا کس طرح گزارہ ہو گا۔ اور اس بات پر ان کو سخت رنج تھا کہ یہ اپنے بھائی کا دست نگر رہے گا۔ اور کبھی کبھی وہ آپ کے مطالعہ پر چڑ کر آپ کو ملاں بھی کہہ دیا کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ یہ ہمارے گھر میں ملاں کہاں سے پیدا ہو گیا ہے۔ لیکن باوجود اس کے خود ان کے دل میں بھی آپ کا رعب تھا اور جب کبھی وہ اپنی دنیاوی ناکامیابی کو یاد کرتے تھے تو دینی باتوں میں آپ کے استغراق کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ اور اس وقت فرماتے تھے کہ اصل کام تو یہی ہے جس میں میرا بیٹا لگا ہوا ہے۔ لیکن چونکہ ان کی ساری عمر دنیا کے کاموں میں گذری تھی اس لئے افسوس کا پہلو غالب رہتا تھا۔ مگر حضرت مرزا صاحبؑ اس بات کی بالکل پرواہ نہ کرتے تھے بلکہ کسی وقت قرآن و حدیث اپنے والد صاحب کو بھی سنانے کے لئے بیٹھ جاتے تھے۔ اور یہ ایک عجیب نظارہ تھا کہ باپ اور بیٹا دو مختلف کاموں میں لگے ہوئے تھے اور دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کو شکار کرنا چاہتا تھا۔ باپ چاہتا تھا کہ کسی طرح بیٹے کو اپنے خیالات کا شکار کرے اور دنیاوی عزت کے حصول میں لگاوے اور بیٹا چاہتا تھا کہ اپنے باپ کو دنیا کے خطرناک پھندہ سے آزاد کر کے اللہ تعالیٰ کی محبت کی لَو لگا دے۔ غرض یہ عجیب دن تھے جن کا نظارہ کھینچنا قلم کا کام نہیں۔ ہر ایک شخص اپنی اپنی طاقت کے مطابق اپنے دل کے اندر ہی اس کا نقشہ کھینچ سکتا ہے۔ ان دنوں آپ کے سامنے پھر ملازمت کا سوال پیش ہوا۔ اور ریاست کپور تھلہ کے محکمہ تعلیم کا افسر بنانے کی تجویز ہوئی لیکن آپ نے نامنظور کر دیا۔ اور اپنے والد صاحب کے ہموم و غموم کو دیکھ کر اس بات کو ہی پسند فرمایا کہ جس تنگی سے بھی گذارہ ہو گھر پر ہی رہیں اور ان کے کاموں میں جہاں تک ہو سکے ہاتھ بٹائیں۔ گو جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے آپ کا دل اس کام کی طرف بھی راغب نہ تھا لیکن آپ اپنے والد صاحب کے حکم کے ماتحت اور ان کے آخری ایام کو جہاں تک ہو سکے بآرام کرنے کے لئے اس کام میں لگے ضرور رہتے تھے۔ گو فتح و شکست سے آپ کو دلچسپی نہ تھی۔

ایک مقدمہ میں نشان الٰہی

حضرت مسیح موعودؑ گو اس زمانہ میں اپنے والد صاحب کی مدد کے لئے ان کے دنیاوی کاموں میں لگے ہوئے تھے لیکن آپ کا دل کسی اور طرف تھا اور دست در کار دل بایار کی مثال بنے ہوئے تھے۔ مقدمات سے ذرا فارغ ہوتے تو خدا تعالیٰ کی یاد میں مشغول ہو جاتے ۔ اور ان سفروں میں جو آپ کو ان

دنوں مقدمات میں کرنے پڑتے آپ ایک وقت کی نماز بھی بے وقت نہ ہونے دیتے بلکہ اپنے اوقات پر نماز ادا کرتے بلکہ مقدمات کے وقت بھی نماز کو ضائع نہ ہونے دیتے ۔ چنانچہ ایک دفعہ تو ایسا ہوا ۔ کہ آپ ایک ضروری مقدمہ کے لئے جس کا اثر بہت سے مقدمات پر پڑتا تھا ۔ اور جس کے آپ کے حق میں ہو جانے کی صورت میں آپ کے بہت سے حقوق محفوظ ہو جاتے تھے ۔ عدالت میں تشریف لے گئے اس وقت کوئی ضروری مقدمہ پیش تھا اس میں دیر ہوئی اور نماز کا وقت آگیا ۔ جب آپ نے دیکھا کہ مجسٹریٹ تو اس مقدمہ میں مصروف ہے اور نماز کا وقت تنگ ہو رہا ہے تو آپ نے اس مقدمہ کو خدا کے حوالے کیا ۔ اور خود ایک طرف جا کر وضوء کیا اور درختوں کے سایہ تلے نماز پڑھنی شروع کر دی ۔ جب نماز شروع کر دی تو عدالت سے آپ کے نام پر آواز پڑی آپ آرام سے نماز پڑھتے رہے اور بالکل اس طرف توجہ نہ کی ۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو یقین تھا کہ مقدمہ میں فریق مخالف کو یکطرفہ ڈگری مل گئی ہوگی کیونکہ عدالت ہائے کا قاعدہ ہے کہ جب ایک فریق حاضر عدالت نہ ہو تو فریق مخالف کو یکطرفہ ڈگری دی جاتی ہے ۔ اسی خیال میں عدالت میں پہنچے ۔ چنانچہ جب عدالت میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ مقدمہ کا فیصلہ ہو چکا ہے ۔ لیکن چونکہ فیصلہ عدالت معلوم کرنا ضروری تھا جا کر دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ مجسٹریٹ نے جو ایک انگریز تھا کاغذات پر ہی فیصلہ کر دیا اور ڈگری آپ کے حق میں دی ۔ اور اس طرح خدا تعالیٰ نے آپ کی طرف سے وکالت کی ۔ غرض آپ ان دنیاوی کاموں میں اس طرح مشغول تھے جس طرح ایک شخص سے کوئی ایسا کام کرایا جائے جس کے کرنے پر وہ راضی نہ ہو حالانکہ وہ کام خود آپ کے نفع کا تھا کیونکہ آپ کے والد صاحب کی جائداد کا محفوظ ہونا در حقیقت آپ کی جائداد کا محفوظ ہونا تھا کیونکہ آپ ان کے وارث تھے ۔ پس آپ کا باوجود عاقل و بالغ ہونے کے اس کام سے بیزار رہنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ دنیا سے بکلی متنفر تھے اور خدا تعالیٰ ہی آپ کا مقصود تھا ۔

محنت اور جفاکشی کی عادت

باوجود اس کے کہ آپ دنیا سے ایسے متنفر تھے آپ سُست ہرگز نہ تھے بلکہ نہایت محنت کش تھے اور خلوت کے دلدادہ ہونے کے باوجود مشقت سے نہ گھبراتے تھے ۔ اور بارہا ایسا ہوتا تھا کہ آپ کو جب کسی سفر پر جانا پڑتا تو سواری کا گھوڑا نوکر کے ہاتھ آگے روانہ کر دیتے اور آپ پیادہ پا بیس پچیس کوس کا سفر طے کر کے منزلِ مقصود پر پہنچ جاتے بلکہ اکثر اوقات آپ پیادہ ہی سفر کرتے تھے اور سواری پر کم چڑھتے تھے۔ اور یہ عادت پیادہ چلنے کی آپ کو آخر عمر تک تھی۔ ستر سال سے متجاوز عمر میں جب کہ بعض سخت بیماریاں آپ کو لاحق تھیں اکثر روزانہ ہوا خوری کے لئے جاتے تھے اور چار پانچ میل روزانہ پھر آتے۔ اور بعض اوقات سات میل پیدل پھر لیتے تھے۔ اور بڑھاپے سے پہلے کا حال آپ بیان فرمایا کرتے تھے کہ بعض اوقات صبح کی نماز سے پہلے اٹھ کر (نماز کا وقت سورج نکلنے سے سوا گھنٹہ پہلے ہوتا ہے) سیر کے لئے چل پڑتے تھے۔ اور وڈالہ تک پہنچ کر (جو بٹالہ سڑک پر قادیان سے قریباً ساڑھے پانچ میل پر ایک گاؤں ہے) صبح کی نماز کا وقت ہوتا تھا۔

مکالمہ الٰہیہ کا آغاز

آپ کی عمر تقریباً چالیس سال کی تھی۔ جب کہ ۱۸۷۶ء میں آپ کے والد صاحب یک دفعہ بیمار ہوئے اور گو ان کی بیماری چنداں خوفناک نہ تھی لیکن حضرت مسیح موعودؑ کو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام بتایا۔ کہ وَ السَّمَاءِ وَ الطَّارِقِ (تذکرہ صفحہ ۲۴ ایڈیشن چہارم) یعنی رات کے آنے والے کی قسم تو کیا جانتا ہے کہ کیا ہے رات کو آنے والا۔ اور ساتھ ہی تفہیم ہوئی کہ اس الہام میں آپ کے والد صاحب کی وفات کی خبر دی گئی ہے جو کہ بعد مغرب واقعہ ہو گی۔ گو حضرت صاحب کو اس سے پہلے ایک مدت سے رویا ئے صالحہ ہو رہے تھے جو اپنے وقت پر نہایت صفائی سے پورے ہوتے تھے اور جن کے گواہ ہندو اور سکھ بھی تھے۔ اور اب تک بعض ان میں سے موجود ہیں۔ لیکن الہامات میں سے یہ پہلا الہام ہے جو آپ کو ہوا اور اس الہام کے ذریعہ سے گویا خدا تعالیٰ نے اپنی محبت کے ساتھ آپ کو بتایا کہ تیرا دنیاوی باپ فوت ہوتا ہے لیکن آج سے میں تیرا آسمانی باپ ہوتا ہوں۔ غرض پہلا الہام جو حضرت مسیح موعودؑ کو ہوا۔ وہ یہی تھا جس میں آپ کو آپ کے والد صاحب کی وفات کی خبر دی گئی تھی۔ اس خبر پر بالطبع آپ کے دل میں رنج پیدا ہونا تھا۔ چنانچہ آپ کو اس خبر سے صدمہ پیدا ہوا۔ اور دل میں خیال گذرا کہ اب ہمارے گزارے کی کیا صورت ہو گی۔ جس پر دوسری دفعہ پھر الہام ہوا اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہر طرح سے تسلی دی۔ اس واقعہ کو میں اس جگہ خود حضرت مسیح موعودؑ کے الفاظ میں لکھ دینا مناسب سمجھتا ہوں۔ آپ تحریر فرماتے ہیں۔

آپ کے والد کی وفات اور الٰہی تصرفات

”جب مجھے یہ خبر دی گئی کہ میرے والد صاحب آفتاب غروب ہونے کے بعد فوت ہو جائیں گے۔ تو بموجب مقتضائے بشریت کے مجھے اس خبر کے سننے سے درد پہنچا۔ اور چونکہ ہماری معاش کے اکثر وجوہ انہی کی زندگی سے وابستہ تھے اور وہ سرکار انگریزی کی طرف سے

پنشن پاتے تھے۔ اور نیز ایک رقم کثیر انعام کی پاتے تھے۔ جو ان کی حیات سے مشروط تھی۔ اس لئے یہ خیال گذرا کہ ان کی وفات کے بعد کیا ہو گا۔ اور دل میں خوف پیدا ہوا۔ کہ شاید تنگی اور تکلیف کے دن ہم پر آئیں گے۔ اور یہ سارا خیال بجلی کی چمک کی طرح ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں دل میں گذر گیا تب اسی وقت غنودگی ہو کر یہ دوسرا الہام ہوا۔ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے۔ اس الہام الٰہی کیساتھ ایسا دل قوی ہو گیا کہ جیسے ایک سخت درد ناک زخم کسی مرہم سے ایک دم میں اچھا ہو جاتا ہے۔۔۔ جب مجھ کو الہام ہوا کہ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ تو میں نے اسی وقت سے سمجھ لیا کہ خدا مجھے ضائع نہیں کرے گا۔ تب میں نے ایک ہندو کھتری ملاوامل نام کو جو ساکن قادیان ہے اور ابھی تک زندہ ہے (انکی ۱۹۵۱ء میں وفات ہوئی۔ مرتب کنندہ) وہ الہام لکھ کر دیا اور سارا قصہ اسکو سنایا اور اس کو امرتسر بھیجا کہ تا حکیم مولوی محمد شریف کلانوری کی معرفت اسکو کسی نگینہ میں کھدوا کر اور مہر بنوا کر لے آوے۔ اور میں نے اس ہندو کو اس کام کے لئے محض اس غرض سے اختیار کیا کہ تا وہ اس عظیم الشان پیش گوئی کا گواہ ہو جاوے۔ چنانچہ مولوی صاحب موصوف کے ذریعہ سے وہ انگشتری بصرف مبلغ پانچ روپیہ تیار ہو کر میرے پاس پہنچ گئی۔ جو اب تک میرے پاس موجود ہے۔ جس کا نشان یہ ہے“۔ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۱۹، ۲۲۰)

اَللّٰهُ الیس بکافہٖ عبدہٗ

غرض جس دن حضرت صاحب کے والد صاحب نے وفات پائی تھی۔ اس دن مغرب سے چند گھنٹے پہلے ان کی وفات کی اطلاع آپ کو دی گئی۔ اور بعد میں خدا تعالیٰ نے تسلی فرما دی کہ گھبراؤ نہیں۔ اللہ تعالیٰ خود ہی تمہارا انتظام فرماوے گا۔ جس دن یہ الہامات ہوئے اسی دن شام کو بعد مغرب آپ کے والد صاحب فوت ہو گئے اور آپ کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔

بعض مشکلات پر آپ کا استقلال

آپ کے والد صاحب کی جائداد کچھ مکانات اور دکانات بٹالہ، امرتسر اور گورداسپور میں تھی۔ اور کچھ مکانات اور دکانیں اور زمین قادیان میں تھی۔ چونکہ آپ دو بھائی تھے۔ اس لئے شرعاً و قانوناً وہ جائداد آپ دونوں کے حصہ میں آتی تھی۔ چونکہ آپ کا حصہ آپ کے گذارہ کے لئے کافی تھا لیکن آپ نے اپنے بڑے بھائی سے وہ جائداد تقسیم نہیں کرائی اور جو کچھ وہ دیتے اس

پر گذارہ کر لیتے اور اس طرح گویا والد کے قائم مقام آپ کے بڑے بھائی ہو گئے۔ لیکن چونکہ وہ ملازم تھے اور گورداسپور رہتے تھے۔ اس لئے ان دنوں آپ کو بہت تکلیف ہو گئی حتیٰ کہ ضروریات زندگی کے حاصل کرنے میں بھی آپ کو بہت تکلیف ہوتی تھی۔ اور یہ تکلیف آپ کو آپ کے بھائی کی وفات تک برابر رہی۔ اور یہ گویا آپ کے لئے آزمائش کے سال تھے اور آپ نے ان آزمائش کے دنوں میں صبر و استقلال سے کام لیا۔ وہ آپ کے درجہ کی بلندی کی بیّن علامت ہے کیونکہ باوجود اس کے کہ آپ کا اپنے والد صاحب کی متروکہ جائداد پر برابر کا حصہ تھا پھر بھی آپ نے ان کی دنیا کی رغبت دیکھ کر ان سے اپنا حصہ طلب نہ کیا اور محض کھانے اور کپڑے پر کفایت کی۔ گو آپ کے بھائی بھی اپنی طبیعت کے مطابق آپ کی ضروریات کے پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے اور آپ سے ایک حد تک محبت بھی رکھتے تھے اور کسی قدر ادب بھی کرتے تھے لیکن باوجود اس کے چونکہ وہ دنیا داری میں بالکل منہمک تھے اور حضرت صاحب دنیا سے بالکل متنفر تھے اس لئے وہ آپ کو ضرورت زمانہ سے ناواقف اور سست سمجھتے تھے اور بعض دفعہ اس بات پر اظہار افسوس بھی کرتے تھے کہ آپ کسی کام کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ چنانچہ ایک دفعہ کسی اخبار کے منگوانے کے لئے آپ نے ان سے ایک نہایت قلیل رقم منگوائی تو انہوں نے باوجود اس کے کہ آپ کی جائداد پر قابض تھے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ اسراف ہے۔ کام تو کچھ کرتے نہیں اور یونہی بیٹھے کتب و اخبار کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔ غرض آپ کے بھائی صاحب بوجہ دنیا داری میں کمال درجہ کے مشغول ہونے کے آپ کی ضروریات کو نہ خود سمجھ سکتے تھے اور نہ ان کو پورا کرنے کی طرف متوجہ تھے جس کی وجہ سے آپ کو بہت کچھ تکلیف پہنچی۔ مگر اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ آپ کے بھائی بھی اکثر قادیان سے باہر رہتے تھے اور ان کے پیچھے ان کے منتظمین آپ کے تنگ کرنے میں خاص طور پر کوشاں رہتے۔

آپ کا مجاہدہ ، ایثار اور خدمتِ اسلام

انہی ایام میں آپ کو بتایا گیا کہ الٰہی انعامات کے حاصل کرنے کے لئے کچھ مجاہدہ کی بھی ضرورت ہے اور یہ کہ آپ کو روزے رکھنے چاہئیں۔ اس حکم کے ماتحت آپ نے متواتر چھ ماہ کے روزے رکھے۔ اور بارہا ایسا ہوتا تھا کہ آپ کا کھانا جب گھر سے آتا تو آپ بعض غرباء میں تقسیم کر دیتے اور جب روزہ کھول کر گھر سے کھانا منگواتے تو وہاں سے صاف جواب ملتا۔ اور آپ صرف پانی پر یا اور کسی ایسی ہی چیز پر وقت گزار لیتے ۔ اور صبح پھر آٹھ پہرہ ہی روزہ رکھ لیتے ۔ غرض یہ زمانہ آپ کے لئے ایک بڑے مجاہدات کا زمانہ تھا۔ جسے آپ نے نہایت صبر و استقلال سے گزارا۔ سخت سے سخت تکالیف کے ایام میں بھی اشارۃً اور کنایۃً کبھی جائداد میں سے اپنا حصہ لینے کی تحریک نہیں کی۔

نہ صرف روزوں کے دنوں میں بلکہ یوں بھی آپ کی ہمیشہ عادت تھی کہ ہمیشہ کھانا غرباء میں بانٹ دیتے تھے۔ اور بعض دفعہ ایک چپاتی کا نصف جو ایک چھٹانک سے زیادہ نہیں ہو سکتا آپ کے لئے بچتا اور آپ اسی پر گزارہ کرتے تھے۔ بعض دفعہ صرف چنے بھنوا کر کھا لیتے اور اپنا کھانا سب غرباء کو دے دیتے۔ چنانچہ کئی غریب آپ کے ساتھ رہتے تھے اور دونوں بھائیوں کی مجلسوں میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ ایک بھائی کی مجلس میں سب کھاتے پیتے آدمی جمع ہوتے تھے اور دوسرے بھائی کی مجلس میں غریبوں اور محتاجوں کا ہجوم رہتا تھا جن کو وہ اپنی قلیل خوراک میں شریک کرتا تھا اور اپنی جان پر ان کو مقدم کر لیتا تھا۔

انہی ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدمت اسلام کے لئے کوشش شروع کی اور مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ میں اخبارات میں مضامین لکھنے شروع کئے۔ جن کی وجہ سے آپ کا نام خود بخود گوشۂ تنہائی سے نکل کر میدانِ شہرت میں آگیا لیکن آپ خود اسی گوشۂ تنہائی میں ہی تھے اور باہر کم نکلتے تھے۔ بلکہ مسجد کے ایک حجرہ میں جو صرف ۶ × ۵ فٹ کے قریب لمبا اور چوڑا تھا رہتے تھے اور اگر کوئی آدمی ملنے کے لئے آجاتا تو مسجد سے باہر نکل کر بیٹھ جاتے یا گھر میں آکر بیٹھتے رہتے۔ غرض اس زمانہ میں آپ کا نام تو باہر نکلنا شروع ہوا لیکن آپ باہر نہ نکلے بلکہ اسی گوشۂ تنہائی میں زندگی بسر کرتے۔

ان مجاہدات کے دنوں میں آپ کو کثرت سے الہامات ہونے شروع ہو گئے اور بعض امورِ غیبیہ پر بھی اطلاع ملتی رہی۔ جو اپنے وقت پر پورے ہو جاتے۔ اور آپ کے ایمان کی زیادتی کا موجب ہوتے۔ اور آپ کے دوست جن میں بعض ہندو اور سکھ بھی شامل تھے ان باتوں کو دیکھ دیکھ کر حیران ہوتے۔

اشتہار کتاب ”براہین احمدیہ“

پہلے تو آپ نے صرف اخبارات میں مضامین دینے شروع کئے۔ لیکن جب دیکھا کہ دشمنانِ اسلام اپنے حملوں میں بڑھتے جاتے ہیں اور مسلمان ان کے حملوں کی تاب نہ لا کر پسپا ہو رہے ہیں تو آپ

کے دل میں غیرتِ اسلام نے جوش مارا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے الہام و وحی کے ماتحت مأمور ہو کر ارادہ کیا کہ ایک ایسی کتاب تحریر فرمائیں جس میں اسلام کی صداقت کے وہ اصول بیان کئے جائیں جن کے مقابلہ سے مخالف عاجز ہوں اور آئندہ ان کو اسلام کے مقابلہ کی جرأت نہ ہو۔ اور اگر وہ مقابلہ کریں تو ہر ایک مسلمان ان کے حملہ کو رد کر سکے۔ چنانچہ اس ارادہ کے ساتھ آپ نے وہ عظیم الشان کتاب لکھنی شروع کی جو ”براہین احمدیہ“ کے نام سے مشہور ہے اور جس کی نظیر کسی انسان کی تصانیف میں نہیں ملتی۔ جب ایک حصہ مضمون کا تیار ہو گیا تو اس کی اشاعت کے لئے آپ نے مختلف جگہ پر تحریک کی۔ اور بعض لوگوں کی امداد سے جو آپ کے مضامین کی وجہ سے پہلے ہی آپ کی لیاقت کے قائل تھے اس کا پہلا حصہ جو صرف اشتہار کے طور پر تھا شائع کیا گیا۔ اس حصہ کا شائع ہونا تھا کہ ملک میں شور پڑ گیا اور گو پہلا حصہ صرف کتاب کا اشتہار تھا لیکن اس میں بھی صداقت کے ثابت کرنے کے لئے ایسے اصول بتائے گئے تھے کہ ہر ایک شخص جس نے اسے دیکھا اس کتاب کی عظمت کا قائل ہو گیا اس اشتہار میں آپ نے یہ بھی شرط رکھی تھی کہ اگر وہ خوبیاں جو آپ اسلام کی پیش کریں گے وہی کسی اور مذہب کا پیرو اپنے مذہب میں دکھا دے یا ان سے نصف بلکہ چوتھا حصہ ہی اپنے مذہب میں ثابت کر دے تو آپ اپنی سب جائداد جس کی قیمت دس ہزار روپے کے قریب ہو گی اسے بطور انعام کے دیں گے۔ (یہ ایک ہی موقعہ ہے جس میں آپ نے اپنی جائداد سے اس وقت فائدہ اٹھایا اور اسلام کی خوبیوں کے ثابت کرنے کے لئے بطور انعام مقرر کیا تاکہ مختلف مذاہب کے پیرو کسی طرح میدانِ مقابلہ میں آ جائیں اور اس طرح اسلام کی فتح ثابت ہو) یہ پہلا حصہ ۱۸۸۰ء میں شائع ہوا۔ پھر اس کتاب کا دوسرا حصہ ۱۸۸۱ء میں اور تیسرا حصہ ۱۸۸۲ء میں اور چوتھا حصہ ۱۸۸۴ء میں شائع ہوا۔ گو جس رنگ میں آپ کا ارادہ کتاب لکھنے کا تھا وہ درمیان میں ہی رہ گیا۔ کیونکہ اس کتاب کی تحریر کے درمیان میں ہی آپ کو بذریعہ الہام بتایا گیا کہ آپ کے لئے اشاعتِ اسلام کی خدمت کسی اور رنگ میں مقدر ہے۔ لیکن جو کچھ اس کتاب میں لکھا گیا وہی دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھا اور اس کتاب کی اشاعت کے بعد آپ کے دوست دشمن سب کو آپ کی قابلیت کا اقرار کرنا پڑا۔ اور مخالفینِ اسلام پر ایسا رعب پڑا کہ ان میں سے کوئی اس کتاب کا جواب نہ دے سکا۔ مسلمانوں کو اس قدر خوشی حاصل ہوئی کہ وہ بلا آپ کے دعویٰ کے آپ کو مجدد تسلیم کرنے لگے اور اس وقت کے بڑے بڑے علماء آپ کی لیاقت کا لوہا مان

گئے۔ چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو اس وقت تمام اہل حدیث وہابی فرقہ کے سرگروہ تھے اور وہابی فرقہ میں ان کو خاص عزت حاصل تھی اور اسی وجہ سے گورنمنٹ کے ہاں بھی ان کی عزت تھی۔ انہوں نے اس کتاب کی تعریف میں ایک لمبا آرٹیکل لکھا اور بڑے زور سے اس کی تائید کی۔ اور لکھا کہ تیرہ سو سال میں اسلام کی تائید میں ایسی کتاب کوئی نہیں لکھی گئی۔

کثرت الہام اور غیب کی خبریں اور آپ کے بھائی صاحب کی وفات

اس کتاب میں حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے بعض الہامات بھی لکھے ہیں۔ جن میں سے بعض کا بیان کر دینا یہاں مناسب ہو گا کیونکہ بعد کے واقعات سے ان کے غلط یا درست ہونے کا پتہ لگتا ہے۔ ”دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسکو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا۔ اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“سهيَأْتِيْكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ يَأْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ “ (تذکرہ صفحہ ۵۰ ایڈیشن چہارم) ”بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“ (تذکرہ صفحہ ۱۰ ایڈیشن چہارم)

یہ وہ الہامات ہیں جو براہین احمدیہ ۱۸۸۴ء میں شائع کئے گئے تھے۔ جب کہ آپ دنیا میں ایک کسمپرس آدمی کی حالت میں تھے۔ لیکن اس کتاب کا نکلنا تھا کہ آپ کی شہرت ہندوستان میں دور دور تک پھیل گئی۔ اور بہت لوگوں کی نظریں مصنف براہین احمدیہ کی طرف لگ گئیں کہ یہ اسلام کا پشتی بان ہو گا اور اسے دشمنوں کے حملوں سے بچائے گا۔ اور یہ خیال ان کا درست تھا لیکن خدا تعالیٰ اسے اور رنگ میں پورا کرنے والا تھا۔ اور واقعات یہ ثابت کرنے والے تھے کہ جو لوگ ان دنوں اس پر جان فدا کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے وہی اس کے خون کے پیاسے ہو جائیں گے۔ اور ہر طرح اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ اور آپ کی قبولیت کسی انسانی امداد کے سہارے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے زبردست حملوں کے ذریعہ مقدر تھی۔

۱۸۸۴ء میں آپ کے بھائی صاحب بھی فوت ہو گئے اور چونکہ وہ لاولد تھے اس لئے ان کے وارث بھی آپ ہی تھے۔ لیکن اس وقت بھی آپ نے ان کی بیوہ کی دلدہی کے لئے جائداد پر قبضہ نہ کیا۔ اور ان کی درخواست پر نصف حصہ تو مرزا سلطان احمد صاحب کے نام پر لکھ دیا۔ جنہیں آپ کی بھاوج نے رسمی طور پر متبنّٰی قرار دیا تھا۔ آپ نے تبنیت کے سوال پر تو صاف لکھ دیا کہ اسلام میں جائز نہیں۔ لیکن مرزا غلام قادر مرحوم کی بیوہ کی دلدہی اور خبرگیری کے لئے اپنی جائداد کا نصف حصہ بخوشی خاطر دے دیا اور باقی نصف پر بھی خود قبضہ نہ کیا۔ بلکہ مدت تک آپ کے رشتہ داروں ہی کے قبضہ میں رہا۔

خلقِ خدا کا رجوع۔ دوسری شادی۔ اعلانِ دعوٰی حقّہ

بھائی صاحب کی وفات کے ڈیڑھ سال بعد آپ نے الہام الٰہی کے ماتحت دوسری شادی دہلی میں کی۔ چونکہ براہین احمدیہ شائع ہو چکی تھی اب کوئی کوئی شخص آپ کو دیکھنے کے لئے آنے لگا تھا۔ اور قادیان جو دنیا سے بالکل ایک کنارہ پر ہے مہینہ دو مہینے کے بعد کسی نہ کسی مہمان کی قیام گاہ بن جاتی تھی۔ اور چونکہ لوگ براہین احمدیہ سے واقف ہوتے جاتے تھے آپ کی شہرت بڑھتی جاتی تھی۔ اور یہ براہین احمدیہ ہی تھی جسے پڑھ کر وہ عظیم الشان انسان جس کی لیاقت اور علمیت کے دوست دشمن قائل تھے اور جس حلقہ میں وہ بیٹھتا تھا خواہ یورپینوں کا ہو یا دیسیوں کا اپنی لیاقت کا سکہ ان سے منواتا تھا آپ کا عاشق و شیدا ہو گیا۔ اور باوجود خود ہی ہزاروں کا معشوق ہونے کے آپ کا عاشق ہونا اس نے اپنا فخر سمجھا۔ میری مراد استاذی المکرم حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب سے ہے۔ جو براہین احمدیہ کی اشاعت کے وقت جموں میں مہاراجہ صاحب کے خاص طبیب تھے۔ انہوں نے وہاں ہی براہین احمدیہ پڑھی اور ایسے فریفتہ ہوئے کہ تادم مرگ حضرت صاحبؓ کا دامن نہ چھوڑا۔

غرض براہین احمدیہ کا اثر رفتہ رفتہ بڑھنا شروع ہوا۔ اور بعض لوگوں نے آپ کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ بیعت لیں۔ لیکن آپ نے بیعت لینے سے ہمیشہ انکار کیا اور یہی جواب دیا کہ ہمارے سب کام خدائے تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ حتیٰ کہ ۱۸۸۸ء کا دسمبر آگیا۔ جب کہ آپ کو الہام کے ذریعے لوگوں سے بیعت لینے کا حکم دیا گیا۔ اور پہلی بیعت ۱۸۸۹ء میں لدھیانہ کے مقام پر میاں احمد جان نامی ایک مخلص تھے ان کے مکان پر ہوئی۔ اور سب سے پہلے حضرت مولانا مولوی نورالدین نے بیعت کی اور اس دن چالیس کے قریب آدمیوں نے بیعت کی۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ کچھ لوگ بیعت میں شامل ہوتے رہے۔ لیکن ۱۸۹۱ء میں ایک اور تغیر عظیم ہوا۔ یعنی حضرت مرزا صاحب کو الہام کے ذریعے بتایا گیا کہ حضرت مسیح ناصری جن کے دوبارہ آنے کے مسلمان اور مسیحی دونوں قائل ہیں فوت ہو چکے ہیں۔ اور ایسے فوت ہوئے ہیں کہ پھر واپس نہیں آسکیں گے۔ اور یہ کہ مسیح کی بعثت ثانیہ سے مراد ایک ایسا شخص ہے جو ان کی خو بو پر آوے اور وہ آپ ہی ہیں۔ جب اس بات پر آپ کو شرح صدر ہو گیا اور بار بار الہام سے آپ کو مجبور کیا گیا۔ کہ آپ اس بات کا اعلان کریں تو آپ کو مجبوراً اس کام کے لئے اٹھنا پڑا۔ قادیان میں ہی آپ کو یہ الہام ہوا تھا آپ نے گھر میں فرمایا کہ اب ایک ایسی بات میرے سپرد کی گئی ہے کہ اب اس سے سخت مخالفت ہو گی اس کے بعد آپ لدھیانہ چلے گئے اور مسیح موعود ہونے کا اعلان ۱۸۹۱ء میں بذریعہ اشتہار شائع کیا گیا۔

علمائے زمانہ کی شدید مخالفت اور مباحثہ دہلی کی کیفیت

اس اعلان کا شائع ہونا تھا کہ ہندوستان بھر میں شور پڑ گیا۔ اور اس قدر مخالفت ہوئی۔ کہ الامان! وہی علماء جو آپ کی تائید کرتے تھے آپ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ مولوی محمد حسین بٹالوی جنہوں نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں آپ کی تائید میں زبردست آرٹیکل لکھے تھے۔ انہوں نے ہی آپ کے خلاف زمین و آسمان سر پر اٹھا لیا۔ اور لکھا کہ میں نے ہی اس شخص کو چڑھایا تھا اور اب میں ہی اسے گراؤں گا یعنی میری ہی تائید سے ان کی عظمت قائم ہوئی تھی۔ اب میں اتنی مخالفت کروں گا کہ یہ لوگوں کی نظروں سے گر جائیں گے اور بد نام ہو جائیں گے۔ مولوی صاحب مع بعض دیگر علماء کے لدھیانہ بھی پہنچے اور مباحثہ کا چیلنج دیا جو حضرت مسیح موعودؑ نے منظور بھی فرما لیا۔ لیکن مباحثہ میں فریق مخالف نے اس قسم کی کج بحثیاں شروع کیں۔ کہ کچھ فیصلہ نہ ہو سکا اور جب ڈپٹی کمشنر صاحب نے دیکھا کہ ایک فتنہ عظیم برپا ہے اور قریب ہے کہ کوئی صورت غدر کی پیدا ہو جائے۔ تو انہوں نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو ایک خاص حکم کے ذریعے لدھیانہ سے اسی دن چلے جانے پر مجبور کیا۔ اس پر بعض دوستوں کے مشورہ سے کہ شاید ایسا حکم آپ کے متعلق بھی جاری ہو۔ آپ لدھیانہ سے امرت سر تشریف لے آئے اور آٹھ دن وہاں رہے۔ لیکن بعد میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب نے دریافت کرنے پر بتایا کہ آپ کے متعلق کوئی حکم نہ تھا۔ جس پر آپ پھر لدھیانہ تشریف لے گئے اور پھر وہاں ہفتہ بھر کے قریب رہے۔ اور پھر قادیان تشریف لے آئے اس کے بعد کچھ مدت قادیان رہ کر پھر لدھیانہ تشریف لے گئے۔ جہاں کچھ مدت رہے اور وہاں سے دہلی تشریف لے گئے جہاں آپ ۲۸؍ ستمبر ۱۸۹۱ء کی صبح کو پہنچے۔ چونکہ دہلی اس زمانہ میں تمام ہندوستان کا علمی مرکز سمجھا جاتا تھا وہاں کے لوگوں میں پہلے سے ہی آپ کے خلاف جوش پھیلایا جاتا تھا۔ آپ کے وہاں پہنچتے ہی وہاں کے علماء میں ایک جوش پیدا ہوا۔

اور انہوں نے آپ کو مباحثہ کے چیلنج دینے شروع کئے۔ اور مولوی نذیر حسین صاحب جو تمام ہندوستان کے علماء اہلحدیث کے استاد تھے ان سے مباحثہ قرار پایا۔ مسجد جامع مقام مباحثہ قرار پائی۔ لیکن مباحثہ کی یہ سب قرارداد مخالفین نے خود ہی کرلی۔ کوئی اطلاع آپ کو نہ دی گئی۔ عین وقت پر حکیم عبدالمجید خاں صاحب دہلوی اپنی گاڑی لے کر آگئے اور کہا کہ مسجد میں مباحثہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ فساد کے موقعہ پر ہم نہیں جاسکتے جب تک پہلے سرکاری انتظام نہ ہو پھر مباحثہ کے لئے ہم سے مشورہ ہونا چاہئے تھا۔ اور شرائط مباحثہ طے کرنی تھیں۔ آپ کے نہ جانے پر اور شور ہوا۔ آخر آپ نے اعلان کیا کہ مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی جامع مسجد میں قسم کھالیں کہ حضرت مسیحؑ قرآن کریم کے رو سے زندہ ہیں اور اب تک فوت نہیں ہوئے اور اس قسم کے بعد ایک سال تک کسی آسمانی عذاب میں مبتلا نہ ہوں تو میں جھوٹا ہوں اور میں اپنی کتب کو جلا دوں گا اور اس کے لئے تاریخ بھی مقرر کردی۔ مولوی نذیر حسین صاحب کے شاگرد اس سے سخت گھبرائے اور بہت روکیں ڈالنی شروع کردیں۔ لیکن لوگ مصر ہوئے کہ اس میں کیا حرج ہے کہ مرزا صاحب کا دعویٰ سن کر قسم کھا جائیں۔ کہ یہ جھوٹا ہے اور لوگ اس وقت کثرت سے جامع مسجد میں اکٹھے ہو گئے۔ حضرت صاحب کو لوگوں نے بہت روکا کہ آپ نہ جائیں سخت بلوہ ہو جائے گا۔ لیکن آپ وہاں گئے اور ساتھ آپ کے بارہ دوست تھے۔ (حضرت مسیح کے بھی بارہ ہی حواری تھے۔ اس معرکۃ الآراء موقعہ پر آپ کے ساتھ یہ تعداد بھی ایک نشان تھی) جامع مسجد دہلی کی وسیع عمارت اندر اور باہر آدمیوں سے پُر تھی۔ بلکہ سیڑھیوں پر بھی لوگ کھڑے تھے۔ ہزاروں آدمیوں کے مجمع میں سے گذر کر جبکہ سب لوگ دیوانہ وار خون آلود نگاہوں سے آپ کی طرف دیکھ رہے تھے۔ آپ اس مختصر جماعت کے ساتھ محراب مسجد میں جا کر بیٹھ گئے۔ مجمع کے انتظام کے لئے سپرنٹنڈنٹ پولیس مع دیگر افسران اور قریباً سو کانسٹیبلوں کے آئے ہوئے تھے۔ لوگوں میں سے بہتوں نے اپنے دامنوں میں پتھر بھرے ہوئے تھے اور ادنیٰ سے اشارے پر پتھراؤ کرنے کو تیار تھے۔ اور مسیح ثانی بھی پہلے مسیح کی طرح فقیہوں اور فریسیوں کا شکار ہو رہا تھا۔ لوگ اس دوسرے مسیح کو سولی پر لٹکانے کی بجائے پتھروں سے مارنے پر تلے ہوئے تھے۔ اور گفتگوئے مباحثہ میں تو انہیں ناکامی ہوئی۔ مسیح کی وفات پر بحث کرنا لوگوں نے قبول نہ کیا۔ قسم بھی نہ کسی نے کھائی نہ مولوی نذیر حسین صاحب کو کھانے دی۔ خواجہ محمد یوسف صاحب پلیڈر علی گڑھ نے حضرت صاحب سے آپ کے عقائد لکھائے اور سنانے چاہے۔ لیکن چونکہ مولویوں نے لوگوں کو یہ سنا رکھا تھا کہ یہ شخص نہ قرآن کو مانے نہ حدیث کو نہ رسول کریمؐ کو۔ انہیں یہ فریب کھل جانے کا اندیشہ ہوا اس لئے لوگوں کو اکسا دیا۔ پھر کیا تھا؟ ایک شور برپا ہو گیا۔ اور محمد یوسف صاحب کو وہ کاغذ سنانے سے لوگوں نے باز رکھا۔ افسر پولیس نے جب دیکھا کہ حالت خطرناک ہے تو پولیس کو مجمع منتشر کرنے کا حکم دیا۔ اور اعلان کیا کہ کوئی مباحثہ نہ ہو گا لوگ تتر بتر ہو گئے۔ پولیس آپ کو حلقہ میں لے کر مسجد سے باہر لے گئی سو دروازہ پر گاڑیوں کے انتظار میں کچھ دیر ٹھہرنا پڑا۔ لوگ وہاں جمع ہو گئے اور اشتعال میں آکر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔ اس پر افسران پولیس نے گاڑی میں سوار کرا کر آپ کو روانہ کیا۔ اور خود مجمع منتشر کرنے میں لگ گئے۔ اسکے بعد مولوی محمد بشیر صاحب کو دہلی کے لوگوں نے بھوپال سے بلوایا اور ان سے مباحثہ ہوا جس کا تمام حال چھپا ہوا موجود ہے۔

ڈپٹی عبداللہ آتھم سے مباحثہ کے حالات

کچھ دن کے بعد آپ واپس قادیان تشریف لے آئے۔ چند ماہ کے بعد ۱۸۹۲ء میں پھر ایک سفر کیا پہلے لاہور گئے وہاں مولوی عبدالحکیم کلانوری سے مباحثہ ہوا وہاں سے سیالکوٹ اور وہاں سے جالندھر اور پھر وہاں سے لدھیانہ تشریف لائے لدھیانہ سے پھر قادیان تشریف لے آئے۔ اس کے بعد ۱۸۹۳ء میں حضور کا مباحثہ مسیحیوں سے قرار پایا اور مسیحیوں کی طرف سے ڈپٹی عبداللہ آتھم مباحث مقرر ہوئے۔ یہ مباحثہ امرتسر میں ہوا اور پندرہ دن تک رہا اور جنگ مقدس کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ اس مباحثہ میں بھی جیسا کہ ہمیشہ آپ کے مخالفین کو زک ہوتی رہی ہے مسیحی مناظرین کو سخت زک ہوئی اور اس کا نہایت مفید اثر ہوا۔ اس مباحثہ کے پڑھنے سے (یہ مباحثہ تحریری ہوا تھا اور طرفین آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کے پرچہ کا جواب دیتے تھے اور وہ اصل تحریریں ایک کتاب کی صورت میں شائع کی گئی ہیں) معلوم ہوتا ہے کہ مسیحی مباحث آپ کے زبردست استدلال سے تنگ آ جاتا تھا اور بار بار دعوٰی بدلتا جاتا تھا اور بعض جگہ تو مسیحیوں کی طرف سے ناروا سخت کلامی تک کی گئی ہے۔ آپ نے اس جدید علم کلام کو پیش کیا کہ ہر ایک فریق اپنے مذہب کی صداقت کے دعاوی اور دلائل اپنی مسلمہ کتب سے ہی پیش کرے۔ اس مباحثہ میں ایک عجیب واقعہ گزرا جس میں دوست دشمن آپ کی خداداد ذہانت بلکہ الٰہی تائید کے قائل ہو گئے اور وہ یہ کہ گو بحث اور امور پر ہو رہی تھی مگر مسیحیوں نے آپ کو شرمندہ کرنے کے لئے ایک دن کچھ لولے لنگڑے اور اندھے اکٹھے کئے اور عین دورانِ مباحثہ میں آپ کے سامنے لا کر کہا کہ آپ مسیحؑ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ تو لولے لنگڑے اور اندھوں کو اچھا کیا کرتے تھے پس آپ کا دعویٰ تب ہی سچا ہو سکتا ہے جب کہ آپ بھی ایسے مریضوں کو اچھا کر کے دکھلائیں اور دور جانے کی ضرورت نہیں مریض حاضر ہیں۔ جب انہوں نے یہ بات پیش کی سب لوگ حیران رہ گئے اور ہر ایک شخص محوِ حیرت ہو کر اس بات کا انتظار کرنے لگا کہ دیکھیں کہ مرزا صاحب اس کا کیا جواب دیتے ہیں؟ اور مسیحی اپنی اس عجیب کارروائی پر بہت خوش ہوئے کہ آج ان پر نہایت سخت حجت تمام ہوئی اور بھری مجلس میں کیسی خجالت اٹھانی پڑی ہے۔ لیکن جب آپ نے اس مطالبہ کا جواب دیا تو ان کی ساری خوشی مبدل بہ افسوس و ندامت ہو گئی اور فتح شکست سے بدل گئی اور سب لوگ آپ کے جواب کی برجستگی و معقولیت کے قائل ہو گئے۔ آپ نے فرمایا کہ اس قسم کے مریضوں کو اچھا کرنا تو انجیل میں لکھا ہے ہم تو اس کے قائل ہی نہیں بلکہ ہمارے نزدیک تو حضرت مسیحؑ کے معجزات کا رنگ ہی اور تھا تو انجیل کا ردعویٰ ہے کہ وہ ایسے بیماروں کو جسمانی رنگ میں اچھا کرتے تھے اور اسی طرح ہاتھ پھیر کر نہ کہ دعا اور دوا سے۔ لیکن اسی انجیل میں لکھا ہے کہ اگر تم میں ذرّہ بھر بھی ایمان ہو تو تم لوگ اس سے بڑھ کر عجیب کام کر سکتے ہو۔ پس ان مریضوں کا ہمارے سامنے پیش کرنا آپ لوگوں کا کام نہیں بلکہ ہمارا کام ہے۔ اور اب ہم ان مریضوں کو جو آپ لوگوں نے نہایت مہربانی سے جمع کر لئے ہیں آپ کے سامنے پیش کر کے کہتے ہیں کہ براہِ مہربانی انجیل کے حکم کے ماتحت اگر آپ لوگوں میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہے تو ان مریضوں پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ اچھے ہو جاؤ۔ اگر یہ اچھے ہو گئے تو ہم یقین کر لیں گے کہ آپ لوگ اور آپ کا مذہب سچا ہے ورنہ جو دعویٰ آپ لوگوں نے خود کیا ہے اسے بھی پورا نہ کر سکیں تو پھر آپ کی صداقت پر کس طرح یقین کیا جا سکتا ہے۔ اس جواب کا ایسا اثر ہوا کہ مسیحی بالکل خاموش ہو گئے۔ اور کچھ جواب نہ دے سکے اور بات ٹال دی۔

تعطیلِ جمعہ کی کوشش اور مذاہبِ عالم کا عظیم الشان جلسہ

اس کے بعد انہی دنوں ایک دفعہ فیروز پور تشریف لے گئے۔ ان تمام سفروں میں ہر جگہ آپ کو دق کیا گیا اور لوگوں نے آپ کو بڑا دکھ دیا اور جو کچھ تحریر کے ذریعے شائع کیا گیا اس کی تو کوئی حد ہی نہیں۔ جہاں آپ جاتے وہیں لوگ مل کر آپ کو دکھ دیتے۔

یکم جنوری ۱۸۹۶ء کو آپ نے اسلامی عظمت کے اظہار اور زبردست اسلامی شعار نماز جمعہ کے عام رواج کے لئے ایک کوشش کا آغاز فرمایا یعنی گورنمنٹ ہند سے تعطیل جمعہ کی تحریک کی کارروائی شروع کی۔ بدقسمتی سے مسلمانوں میں جمعہ کے متعلق جو ان کے لئے مسیح موعودؑ کا ایک زبردست عملی نشان تھا۔ ایسی غلط فہمیاں پیدا ہو گئی تھیں کہ بعض شرائط کو ملحوظ رکھ کر جمعہ کی فرضیت پر ہی بحث چھڑ چکی تھی اور عملی طور پر جمعہ بہت جگہ متروک ہو گیا تھا۔ آپ نے اس کو زندہ کیا اور چاہا کہ گورنمنٹ جمعہ کی تعطیل منظور فرمائے۔ اس بارہ میں جو میموریل گورنمنٹ کی خدمت میں بھیجنا آپ نے تجویز فرمایا اس کی تیاری سے پہلے ہی مولویوں نے اپنی عادت کے موافق مخالفت کی اور اس کام کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہا۔ حضرت مسیح موعودؑ یہ کام محض للّٰہیت سے کر رہے تھے آپ کو کسی تحسین و داد کی تمنا نہ تھی آپ کا مدعا تو اس اہم دینی خدمت کا انجام پانا تھا خواہ کسی کے ہاتھ سے ہو۔ آپ نے کل کام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی درخواست پر ان کے سپرد کر دینے کا اعلان کر دیا کہ وہ جمعہ کی تعطیل کے لئے خود کوشش کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں تو کریں۔ مگر افسوس انہوں نے اس مفید کام کو اس راہ سے روک دیا۔ مگر آپ کی یہ تحریک الٰہی تحریک تھی آخر خدا تعالیٰ نے آپ ہی کی جماعت کے ذریعہ اس کو پورا کیا۔

۱۸۹۶ء کے اواخر میں چند لوگوں نے مل کر لاہور میں ایک مذہبی کانفرنس منعقد کرنے کا ارادہ کیا اور اس کے لئے تمام مذاہب کے پیروان کو شامل ہونے کی دعوت دی جنہوں نے بڑی خوشی سے اس بات کو قبول کیا۔ بحث میں شرط تھی کہ کسی مذہب پر حملہ نہ کیا جاوے اور حسبِ ذیل مضامین پر مختلف مذاہب کے پیروان سے مضامین لکھنے کی درخواست کی گئی۔ (۱) انسان کی جسمانی، اخلاقی اور روحانی حالتیں۔ (۲) انسان کی زندگی کے بعد کی حالت۔ (۳) دنیا میں انسان کی ہستی کی اصل غرض کیا ہے اور وہ کس طرح پوری ہو سکتی ہے۔ (۴) کَرم یعنی اعمال کا اثر دنیا اور عاقبت میں کیا ہوتا ہے۔ (۵) علم گیان و معرفت کے ذرائع کیا کیا ہیں؟ اس کانفرنس کا مجوز حضرت کی خدمت میں بھی قادیان حاضر ہوا۔ اور آپ نے ہر طرح ان

کی تائید کا وعدہ کیا بلکہ اصلی معنوں میں اس کانفرنس کی بنیاد خود حضرت مسیح موعودؑ نے ہی رکھی تھی۔ جو شخص بعد میں کانفرنس کا مجوز قرار پایا قادیان آیا تو حضرت نے یہ تجویز پیش کی تھی۔ چونکہ آپ کی غرض دنیا کو اس صداقت سے آگاہ کرنا تھا جو آپ لیکر آئے تھے اور آپ کا ہر کام نمود و نمائش سے بالا تر ہوتا تھا۔ اس لئے آپ نے اس شخص کو اس تحریک میں سعی کرنے پر آمادہ کیا اور اس کا پہلا اشتہار قادیان ہی میں چھاپ کر شائع کرایا۔ اپنے ایک مرید کو مقرر کیا کہ وہ ہر طرح ان کی مدد کرے اور خود بھی مضمون لکھنے کا وعدہ کیا۔ جب آپ مضمون لکھنے لگے تو آپ سخت بیمار ہو گئے اور دستوں کی بیماری شروع ہو گئی۔ لیکن اس بیماری میں بھی آپ نے ایک مضمون لکھا اور جب آپ وہ مضمون لکھ رہے تھے تو آپ کو الہام ہوا کہ ”مضمون بالا رہا“ یعنی آپ کا مضمون اس کانفرنس میں دوسروں کے مضامین سے بالا رہے گا۔ چنانچہ آپ نے قبل از وقت ایک اشتہار کے ذریعہ یہ بات شائع کر دی کہ میرا مضمون بالا رہے گا۔ اجلاساتِ کانفرنس ۲۶۔۲۷۔۲۸؍دسمبر ۱۸۹۶ء کو مقرر تھے۔ جلسہ کے انتظام کے لئے چھ ماڈریٹر صاحبان مقرر تھے جن کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں۔

(۱) رائے بہادر پر تول چندر صاحب جج چیف کورٹ پنجاب (۲) خان بہادر شیخ خدا بخش صاحب جج سمال کا ز کورٹ لاہور۔ (۳) رائے بہادر پنڈت رادھا کشن کول پلیڈر چیف کورٹ سابق گورنر جنرل جموں۔ (۴) حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب طبیب شاہی (۵) رائے بہادر بھوانی داس صاحب ایم اے ایکسٹرا سیٹلمنٹ۔ آفیسر جہلم (۶) سردار جواہر سنگھ صاحب سیکرٹری خالصہ کالج کمیٹی لاہور۔

اس کانفرنس کے لئے مختلف مذاہب کے مشہور علماء نے مضامین تیار کئے تھے اس لئے لوگوں میں اس کے متعلق بڑی دلچسپی تھی اور بہت شوق سے حصہ لیتے تھے اور یہ جلسہ ایک مذہبی دنگل کا رنگ اختیار کر گیا تھا۔ اور ہر مذہب کے پیرو اپنے اپنے قائم مقاموں کی فتح دیکھنے کے خواہشمند تھے۔ اس صورت میں تمام پرانے مذاہب جن کے پیرو کثرت سے پیدا ہو چکے ہیں بالکل محفوظ تھے کیونکہ ان کی داد دینے والے لوگ جلسہ گاہ میں کثرت سے پائے جاتے تھے۔ لیکن مرزا صاحب کا مضمون ایک ایسے جلسہ میں سنایا جانا تھا جس میں دوست برائے نام تھے اور سب دشمن ہی دشمن تھے۔ کیونکہ اس وقت تک آپ کی جماعت دو تین سو سے زیادہ نہ تھی اور اس جلسہ میں تو شائد پچاس سے زائد آدمی بھی شامل نہ ہوں گے۔ آپؐ کی تقریر ۲۷؍دسمبر کو ڈیڑھ بجے سے ساڑھے تین بجے تک تھی۔ آپؐ خود تو وہاں نہ جاسکے تھے لیکن آپؐ نے اپنے ایک مخلص مرید مولوی عبدالکریم صاحب کو اپنی طرف سے مضمون پڑھنے پر مقرر کیا تھا۔ جب انہوں نے تقریر شروع کی تو تھوڑی ہی دیر میں ایسا عالم ہوگیا کہ گویا لوگ بت بنے بیٹھے ہیں اور وقت کے ختم ہونے تک لوگوں کو معلوم ہی نہ ہوا کہ کس قدر عرصہ تک آپؐ بولتے رہے ہیں۔ وقت ختم ہونے پر لوگوں کو سخت تشویش ہوئی کیونکہ آپ کے مضمون کا ابھی پہلا سوال بھی ختم نہ ہوا تھا۔ اور اس وقت لوگوں کی خوشی کی کوئی انتہاء نہ رہی جب کہ مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی نے جن کا لیکچر آپ کے بعد تھا اعلان کیا کہ آپ کے مضمون کا وقت بھی حضرت صاحب کو ہی دیا جائے چنانچہ مولوی عبدالکریم صاحب آپ کا لیکچر پڑھتے چلے گئے حتیٰ کہ ساڑھے چار بج گئے جب کہ جلسہ کا وقت ختم ہونا تھا۔ لیکن اب بھی پہلا سوال ختم نہ ہوا تھا اور لوگ مصر تھے کہ اس لیکچر کو ختم نہ کیا جائے۔ چنانچہ منتظمین جلسہ نے اعلان کیا کہ بلا لحاظ وقت کے یہ مضمون جاری رہے۔ جس پر ساڑھے پانچ بجے تک سنایا گیا تب جاکر پہلا سوال ختم ہوا۔ مضمون کے ختم ہوتے ہی لوگوں نے اصرار کیا کہ اس مضمون کے ختم کرنے کے لئے جلسہ کا ایک دن اور بڑھایا جائے۔ چنانچہ ۲۸؍تاریخ تک کے پروگرام کے علاوہ ۲۹؍ تاریخ کو بھی جلسہ کا انتظام کیا گیا اور اس روز چونکہ بعض اور مذاہب کے قائم مقاموں نے بھی وقت کی درخواست کی تھی اس لئے کارروائی جلسہ صبح کو بجائے ساڑھے دس بجے کے ساڑھے نو بجے سے شروع ہونے کا اعلان کیا گیا اور سب سے پہلے آپ ہی کا مضمون رکھا گیا اور گو پہلے دنوں میں لوگ ساڑھے دس بجے بھی پوری طرح نہ آتے تھے لیکن آپ کے پہلے دن کے لیکچر کا یہ اثر تھا کہ ابھی نو بھی نہ بجے تھے کہ ہر مذہب و ملت کے لوگ جوق در جوق جلسہ گاہ میں جمع ہونے شروع ہو گئے اور عین وقت پر جلسہ شروع کیا گیا۔ اس دن بھی گو آپ کے مضمون کے لئے اڑھائی گھنٹے دیئے گئے تھے لیکن تقریر کے اس عرصہ میں ختم نہ ہو سکنے کی وجہ سے منتظمین کو وقت اور دینا پڑا۔ کیونکہ تمام حاضرین یک زبان اس تقریر کے جاری رکھنے پر مصر تھے۔ چنانچہ ماڈریٹر صاحبان کو وقت بڑھانا پڑا۔ غرض دو روز کے قریباً ساڑھے سات گھنٹوں میں جا کر یہ تقریر ختم ہوئی اور تمام لاہور میں ایک شور پڑ گیا اور سب لوگوں نے تسلیم کیا کہ مرزا صاحب کا مضمون بالا رہا۔ اور ہر مذہب و ملت کے پیرو اس کی خوبی کے قائل ہوئے۔ جلسہ کی رپورٹ

مرتب کرنے والوں کا اندازہ ہے کہ آپ کے لیکچروں کے وقت حاضرین کی تعداد بڑھتے بڑھتے سات آٹھ ہزار تک ترقی کر جاتی تھی غرض یہ لیکچر ایک عظیم الشان فتح تھی جو آپ کو حاصل ہوئی اور اس دن آپ کا سکہ آپ کے مخالفوں کے دلوں میں اور بھی بیٹھ گیا اور خود مخالف اخبارات نے اس بات کو تسلیم کیا کہ آپ کا مضمون کانفرنس میں بالا رہا۔ یہ مضمون وہی ہے جس کا انگریزی ترجمہ ٹیچنگز آف اسلام یورپ اور امریکہ میں خاص طور پر قبولیت حاصل کر چکا ہے۔

۱۸۹۷ء کے آغاز کے ساتھ عیسائی دنیا پر اتمام حجت کے لئے ایک اور طریق پیش کیا۔ اور حضرت مسیح علیہ السلام کی حقیقی شخصیت کے ثابت کرنے کے لئے عیسائیوں کے غلط عقائد کی اصلاح کی خاطر چہل روزہ دعوت مقابلہ کا اعلان کیا۔ اگرچہ اس مقابلہ میں دوسرے اہلِ مذاہب بھی شامل تھے مگر عیسائی بالخصوص مخاطب تھے۔ اس کے ساتھ ایک ہزار روپیہ کا انعام بھی اس شخص کے لئے مقرر تھا جو یسوع کی پیش گوئیوں کو حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئیوں اور نشانوں سے قوی تر دکھا سکے۔ مگر کسی کو جرأت اور حوصلہ نہ ہوا۔

واقعہ قتل لیکھرام اور مقدمہ ڈاکٹر مارٹن کلارک

۱۸۹۷ء میں لیکھرام نامی ایک آریہ ۶؍ مارچ کو آپ کی ایک پیش گوئی کے مطابق مارا گیا اور اس پر آریوں میں سخت شور برپا ہوا۔ اور بعض شریروں نے طرح طرح سے احمدیوں کو اور پھر ان کے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی دکھ دینا شروع کیا۔ اور حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف تو سخت ہی شور برپا ہوا اور کھلے لفظوں میں آپ پر قتل کا الزام لگایا گیا اور فوراً آپ کی تلاشی لی گئی کہ شائد کوئی سراغ قتل کا مل جاوے لیکن اللہ تعالیٰ نے دشمن کو ہر طرح ناکام رکھا اور باوجود اس کے کہ ہر طرح آپ پر الزام لگانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن پھر بھی کامیابی نہ ہوئی اور آپ اس الزام سے بالکل پاک ثابت ہوئے۔

مئی ۱۸۹۷ء میں ایک عظیم الشان واقعہ کا آغاز ہوا جو تاریخ میں ایک نشان کے طور پر رہے گا۔ حسین کامی سفیر روم اپنی متعدد درخواستوں کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں قادیان حاضر ہوا حضرت نے اپنی خداداد فراست اور الہامی اطلاع پر اسے اشارۃً اس کی اپنی حالت اور ٹرکی پر آنے والے مصائب سے اطلاع دی۔ کیونکہ سفیر مذکور نے سلطنت روم کی نسبت ایک خاص دعا کی تحریک کی تھی۔ جس پر آپ نے اس کو صاف فرما دیا کہ سلطان کی سلطنت کی حالت اچھی نہیں ہے اور میں کشفی طریقہ سے اس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں۔

ان باتوں سے سفیر مذکور ناراض ہو کر چلا گیا اور لاہور کے ایک اخبار میں گندی گالیوں کا ایک خط چھپوایا جس سے مسلمانانِ ہند و پنجاب میں شور مچ گیا۔ مگر بعد میں آنے والے واقعات نے اس حقیقت کو کھول دیا۔ اس کے ضمن میں بہت سی پیش گوئیاں پوری ہو گئیں۔ خود سفیر مذکور حضرت کے مشہور الہام اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ کا نشانہ بنا۔ کیونکہ وہ ایک سنگین الزام میں ماخوذ ہو کر سزایاب ہوا۔ اور جس اخبار نے نہایت زور سے اس مضمون کی تائید کی تھی اور اسے چھاپا تھا وہ بھی سزا سے نہ بچا اور سلطنتِ ٹرکی کی جو حالت ہے وہ ہر شخص پر عیاں ہے۔

اسی سن کی یکم اگست کو آپ کے خلاف ڈاکٹر مارٹن کلارک نام ایک مسیحی پادری نے مقدمہ سازشِ قتل مسٹر اے ۔ ای مارٹینو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کی عدالت میں دائر کیا۔ اور بیان کیا کہ مرزا صاحب نے عبد الحمید نام ایک شخص کو میرے قتل کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ اول تو ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر نے آپ کے نام وارنٹ گرفتاری جاری کیا لیکن بعد میں ان کو معلوم ہوا کہ بوجہ غیر ضلع ہونے کے یہ بات ان کے اختیار سے باہر ہے۔ پس مقدمہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب بہادر ضلع گورداسپور کی عدالت میں منتقل کیا جن کا نام ایم ڈبلیوڈگلس ہے اور جو اس وقت جزائر انڈمان کے چیف کمشنری سے پنشن یاب ہو کر ولایت میں ہیں آپ کے سامنے بھی عبد الحمید نے یہی بیان کیا کہ مجھے مرزا صاحب نے مارٹن کلارک صاحب کے قتل کے لئے بھیجا تھا اور کہا تھا کہ ایک بڑے پتھر سے ان کو مار دو۔ لیکن چونکہ اس بیان میں جو اس نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کے سامنے دیا تھا اور اس میں جواب ان کے سامنے دیا۔ کچھ فرق تھا۔ اس لئے آپ کو کچھ شک پڑ گیا اور آپ نے بڑے زور سے اس امر کی تحقیقات شروع کی۔ اور چار ہی پیشیوں میں ۲۷ دن کے اندر مقدمہ کا فیصلہ کر دیا۔ اور باوجود اس کے کہ آپ کے مقابلہ پر ایک مسیحی جماعت تھی۔ بلا تعصب حضرت مسیح موعودؑ کے حق میں فیصلہ دیا اور آپ کو صاف بری کر دیا بلکہ اجازت دی کہ اپنے مخالفین کے خلاف مقدمہ دائر کریں۔ لیکن آپ نے ان کو معاف کر دیا۔ اور ان پر کوئی مقدمہ نہ کیا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب اپنے فیصلہ میں تحریر فرماتے ہیں۔

”ہم نے اس کا بیان سنتے ہی اس کو بعید از عقل سمجھا۔ کیونکہ اول تو اس کا بیان جو ہمارے سامنے ہوا اس بیان سے مختلف تھا۔ جو امرت سر کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب بہادر کے سامنے ہوا۔ علاوہ ازیں اس کی وضع قطع ہی شبہ پیدا کرنے والی تھی۔ دوسرے ہم نے اس کے بیانات میں یہ عجیب بات دیکھی کہ جس قدر عرصہ وہ بٹالہ میں مشن کے ملازموں کے پاس رہا اس کا بیان مفصل اور طویل ہوتا گیا۔ چنانچہ اس نے ایک بیان ۔۱۲۔ اگست کو دیا اور ایک ۱۳۔ اگست کو اور دوسرے دن کے بیان میں کئی تفصیلات بڑھ گئیں۔ جو پہلے دن کے بیان میں نہ تھیں۔ چونکہ اس سے ہمیں شبہ پیدا ہوا کہ یا تو اسے کوئی سکھلاتا ہے یا اسے بہت کچھ معلوم ہے جسے وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا اس لئے ہم نے صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس کو کہا جو ایک یورپین آفیسر تھے کہ اس کو مشن کے قبضہ سے نکال کر اپنی تحویل میں رکھو۔ اور پھر بیان لو۔ انہوں نے اسے مشن کمپونڈ سے نکال لیا۔ اور جب آپ نے اس سے بیان لیا تو بلا کسی وعدہ معافی کے وہ رو کر پاؤں پر گر گیا اور بیان کیا کہ مجھ سے ڈرا کر یہ سب کچھ کہلوایا گیا ہے میں اپنی جان سے بیزار ہوں اور خود کشی کے لئے تیار تھا اور در حقیقت جو کچھ میں نے مرزا صاحب کے خلاف بیان کیا وہ عبدالرحیم، وارث الدین اور پریم داس عیسائیوں کی سازش اور ان کے سکھانے سے کہا ہے۔ مرزا صاحب نے نہ مجھ کو بھیجا اور نہ میرا ان سے کوئی تعلق تھا۔ چنانچہ جو دقت ایک دن کے بیان میں آتی دوسرے دن یہ مجھے سکھا دیتے اور مرزا صاحب کے جس مرید کی نسبت میں نے بیان کیا تھا کہ اس نے بعد از قتل مجھے پناہ دینی تھی اس کی شکل سے بھی میں واقف نہیں نہ اس کا نام سنا تھا۔ انہوں نے خود ہی اس کا نام اور پتہ مجھے یاد کرا دیا۔ اور اس ڈر سے کہ میں بھول نہ جاؤں میری ہتھیلی پر پنسل سے نام لکھ دیا کہ اس وقت دیکھ لینا اور یہ بھی کہا کہ جب پہلے مجھ سے مرزا صاحب کے خلاف بیان لکھوایا تو ان عیسائیوں نے خوش ہو کر کہا کہ اب ہماری دل کی مراد بر آئی (یعنی اب ہم مرزا صاحب کو پھنسائیں گے)۔“

یہ تمام تفصیل لکھ کر مجسٹریٹ صاحب بہادر نے آپ کو بری کیا۔ اس مقدمہ پر آپ کے مخالف اس قدر خوش تھے کہ ایک آریہ وکیل نے بلا اجرت اس میں مسیحیوں کی طرف سے پیروی کی اور مسلمان مولوی بھی آپ کے خلاف گواہی دینے آئے۔ غرض مسیحی، ہندو اور مسلمان مل کر آپ پر حملہ آور ہوئے اور بعض ناجائز طریق بھی اختیار کئے گئے۔ لیکن خداتعالیٰ نے کپتان ڈگلس کو پیلا طوس سے زیادہ ہمت اور حوصلہ دیا۔ انہوں نے ہر موقعہ پر یہی کہا کہ میں بے ایمانی نہیں کر سکتا۔ اور یہ نہیں کیا کہ اپنے ہاتھ دھو کر مسیح موعودؑ کو اس کے دشمنوں کے ہاتھ میں دے دیتے بلکہ انہوں نے آپ کو بری کیا اور اس طرح رومن حکومت پر برٹش راج کی برتری ثابت کردی۔

انہیں دنوں میں آپؐنے ’’ اَلصُّلْحُ خَیْرٌ ‘‘ کے نام سے ایک اشتہار شائع کر کے مسلمان علماء کے آگے تجویز پیش کی کہ وہ آپ کی مخالفت سے باز آجائیں اور آپ کو دشمنوں کا مقابلہ کرنے دیں۔ اور اس کے لئے دس سال کی مدت مقرر کی ۔ کہ اس معیاد کے اندر اگر میں جھوٹا ہوں تو خود تباہ ہو جاؤں گا اور اگر سچا ہوں تو تم عذاب سے بچ جاؤ گے جو سچوں کی مخالفت کے سبب خدائے تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔ لیکن مسلمانوں نے اس کو قبول نہ کیا اور دشمنانِ اسلام سے مقابلہ کرنے کی بجائے اپنے سے ہی مقابلہ پسند کیا۔

اکتوبر ۱۸۹۷ء میں آپ کو ایک شہادت پر ملتان جانا پڑا۔ وہاں سے شہادت دیکر جب واپس تشریف لائے تو کچھ دنوں لاہور بھی ٹھہرے یہاں جن جن گلیوں سے آپ گذرتے ان میں لوگ آپ کو گالیاں دیتے اور پکار پکار کر برے الفاظ آپ کی شان میں زبان سے نکالتے۔ میری عمر اس وقت آٹھ سال کی تھی اور میں بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ تھا۔ میں اس مخالفت کی جو لوگ آپ سے کرتے تھے وجہ تو نہیں سمجھ سکتا تھا اس لئے یہ دیکھ کر مجھے سخت تعجب آتا کہ جہاں سے آپ گذرتے ہیں لوگ آپ کے پیچھے کیوں تالیاں پیٹتے ہیں سیٹیاں بجاتے ہیں؟ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ ایک ٹنڈا شخص جس کا ایک پونچا کٹا ہوا تھا اور بقیہ ہاتھ پر کپڑا بندھا ہوا تھا نہیں معلوم ہاتھ کے کٹنے کا ہی زخم باقی تھا یا کوئی نیا زخم تھا وہ بھی لوگوں میں شامل ہو کر غالباً مسجد وزیر خاں کی سیڑھیوں پر کھڑا تالیاں پیٹتا اور اپنا کٹا ہوا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارتا تھا اور دوسروں کے ساتھ مل کر شور مچا رہا تھا کہ ’’ہائے ہائے مرزا نٹھ گیا‘‘ (یعنی میدان مقابلہ سے فرار کر گیا) اور میں اس نظارہ کو دیکھ کر سخت حیران تھا۔ خصوصاً اس شخص پر اور دیر تک گاڑی سے سر نکال کر اس شخص کو دیکھتا رہا۔ لاہور سے حضرت صاحب سیدھے قادیان تشریف لے آئے۔

اسی سال ملک پنجاب میں طاعون پھوٹا۔ اور جب کہ تمام مذہبی آدمی ان تدابیر کے سخت مخالف تھے جو گورنمنٹ نے انسدادِ طاعون کے متعلق نافذ کی تھیں آپ نے بڑے زور سے ان کی تائید کی اور اپنی جماعت کو آگاہ کیا کہ ان تدابیر کو اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اسلام کا حکم ہے کہ ہر قسم کی تدابیر جو حفظانِ صحت کے متعلق ہوں ان پر عمل کیا جائے اور اس طرح

آپ نے امن عامہ کے قیام میں بہت بڑا کام کیا۔ کیونکہ اس وقت لوگوں میں عام طور پر یہ بات پھیلائی جاتی تھی کہ گورنمنٹ خود ہی طاعون پھیلاتی ہے اور جو تدابیر اس کے انسداد کی ظاہر کی جاتی ہیں وہ درحقیقت اس وباء کو پھیلانے والی ہیں اور اسلام کے بھی خلاف ہیں۔ چنانچہ علماء نے بڑے زور کے ساتھ فتویٰ دے دیا تھا کہ طاعون کے دنوں میں گھر سے نکلنا سخت گناہ ہے۔ اور اس طرح ہزاروں جاہلوں کی موت کا باعث ہو گئے۔ چوہے مارنے کی گولیاں تقسیم کی گئیں تو انہی کو باعث طاعون قرار دیا گیا۔ پنجرے دیئے گئے تو ان پر اعتراض کیا گیا۔ غرض اس وقت شورش برپا تھی اور بعض جگہ حکام سرکار پر حملے بھی ہوئے۔ ایسے وقت میں آپ کے اعلان اور آپ کی جماعت کے عمل کو دیکھ کر دوسرے لوگوں کو بھی ہدایت ہوئی اور آپ نے مسلمانوں کو آگاہ کیا کہ طاعون کے دنوں میں گھروں سے باہر نکلنا اور بستی سے باہر رہنا اسلام کی رو سے منع نہیں بلکہ منع صرف یہ بات ہے کہ ایک شہر سے بھاگ کر دوسرے شہر میں جائے کیونکہ اس سے بیماری کے دوسرے شہروں میں پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

قانون سڈیشنپر گورنمنٹ کو میموریل اور تجاویز

یہ ایام مذہبی بحث مباحثہ کے سب خطرناک ہو رہے تھے اور ۱۸۹۷ء اور ۱۸۹۸ء خاص طور پر ممتاز تھے۔ آپس کی مخالفت سخت بڑھ رہی تھی اور سیاسی مفسدہ پرداز اس مذہبی دشمنی سے فائدہ اٹھا کر گورنمنٹ کے خلاف لوگوں کو اکسانے میں مشغول تھے اور اسی شرارت کو محسوس کر کے گورنمنٹ نے ۱۸۹۷ء میں سڈیشن کا قانون بھی پاس کیا تھا۔ لیکن باوجود اس قانون کے ہندوستان امن سے فساد کی طرف منتقل ہو رہا تھا اور اس قانون کا کوئی عمدہ نتیجہ نہ نکلا تھا۔ کیونکہ ہندوستان ایک مذہبی ملک ہے اور یہاں کے لوگ جتنے مذہب کے معاملہ میں جوش میں آسکتے ہیں اتنے سیاسی امور میں نہیں آتے۔ لیکن اس قانون میں مذہبی لڑائی جھگڑوں کا سد باب نہیں کیا گیا تھا اور نہ اس کی ضرورت گورنمنٹ اس وقت محسوس کرتی تھی۔ مگر جس بات کو مدبّرانِ حکومت سمجھنے سے قاصر تھے حضرت مسیح موعودؑ ایک گوشۂ تنہائی میں بیٹھے اسے دیکھ رہے تھے۔ چنانچہ ستمبر ۱۸۹۷ء میں ایک میموریل تیار کر کے لارڈ ایلجن بہادر وائسرائے ہند کی خدمت میں ارسال کیا اور اسے چھاپ کر شائع بھی کر دیا۔ اس میں آپ نے ہز ایکسیلینسی کو بتلایا کہ فتنہ و فساد کا باعث اصلی مذہبی جھگڑے ہیں ان کے نتیجہ میں جو شورش لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے اسے بعض شریر گورنمنٹ کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

پس قانون سڈیشن میں سخت کلامی کو بھی داخل کرنا چاہئے اور اس کے لئے آپ نے تین تجاویز پیش کیں۔

(۱) اول یہ کہ ایک قانون پاس کر دینا چاہئے کہ ہر ایک مذہب کے پیرو اپنے مذہب کی خوبیاں تو بیشک، بیان کریں لیکن دوسرے مذہب پر حملہ کرنے کی ان کو اجازت نہ ہوگی۔ اس قانون سے نہ تو مذہبی آزادی میں فرق آوے گا اور نہ کسی خاص مذہب کی طرفداری ہوگی۔ اور کوئی وجہ نہیں کہ کسی مذہب کے پیرو اس بات پر ناخوش ہوں کہ ان کو دوسرے مذاہب پر حملہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی۔

(۲) اگر یہ طریق منظور نہ ہو تو کم سے کم یہ کیا جائے کہ کسی مذہب پر ایسے حملے کرنے سے لوگوں کو روک دیا جائے جو خود ان کے مذہب پر پڑتے ہوں یعنی اپنے مخالف کے خلاف وہ ایسی باتیں پیش نہ کریں جو خود ان کے ہی مذہب میں موجود ہوں۔

(۳) اگر یہ بھی ناپسند ہو تو گورنمنٹ ہر ایک فرقہ سے دریافت کر کے اس کی مسلمہ کتب مذہبی کی ایک فہرست تیار کرے اور یہ قانون پاس کر دیا جائے کہ اس مذہب پر ان کتابوں سے باہر کوئی اعتراض نہ کیا جائے۔ کیونکہ جب اعتراضات کی بنیاد صرف خیالات یا جھوٹی روایات پر ہو جنہیں اس مذہب کے پیرو تسلیم ہی نہیں کرتے تو پھر ان کے رو سے اعتراض کرنے کا نتیجہ باہمی بغض و عداوت ترقی کرنے کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔

اگر اس تحریک پر گورنمنٹ اس وقت عمل کرتی تو جو فتنے اور فساد ہندوستان میں پچھلے دنوں نمودار ہوئے وہ کبھی نہ ہوتے۔ لیکن گورنمنٹ نے اس موقعہ پر اس ضرورت کو محسوس نہ کیا اور اس کے مدبران سلطنت کی آنکھ ان جراثیم کی بڑھنے والی طاقت کو نہ دیکھ سکی جنہیں اس نبیؐ وقت نے ان کی ابتدائی حالت میں دیکھ لیا تھا۔ مگر ۱۹۰۸ء میں پورے دس سال بعد گورنمنٹ کو مجبوراً یہ قانون پاس کرنا پڑا کہ ایک مذہب کے لوگوں کو دوسرے مذہب پر حملہ کرنا اور ناروا سختی کرنی درست نہیں اور اگر کوئی ایسا کرے تو اس پمفلٹ یا مضمون کے چھاپنے والے پریس یا اخبار کی ضمانت لی جائے یا اسے ضبط کیا جائے۔ لیکن یہ قانون اس قدر عرصہ کے بعد پاس ہوا کہ اس کا وہ اثر اب نہیں ہو سکتا جو اس وقت ہو سکتا تھا۔ دراصل ہندوستان کے سارے فتنے کی جڑ مذہبی جھگڑا ہے جو بعض شریروں کی عجیب پیچ در پیچ سازشوں کے ساتھ گورنمنٹ کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ اور جب کسی مذہب کے پیروؤں کی سب سے پیاری چیز (ان کے مذہب) پر گندے الفاظ میں حملہ کیا جاوے تو جاہل عوام کو گورنمنٹ سے بدظن کرنے کے لئے اس قدر کہہ دینا کافی ہے کہ سارا قصور گورنمنٹ کا ہے جس کے ماتحت ہمیں اس قدر دکھ دیا جاتا ہے۔ اور وہ لوگ اس ظالم کا پیچھا چھوڑ کر محسن گورنمنٹ کے سر ہو جاتے ہیں۔

۱۸۹۸ء میں ایک عیسائی مرتد نے حضرت نبی کریم کی ازواجِ مطہرات کے خلاف ایک نہایت دل آزار کتاب شائع کی جس سے مسلمانوں میں ایک جوش پیدا ہو گیا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے دیکھا کہ یہ ملک کے امن پر اثر انداز ہو گا۔ لاہور کی ایک انجمن نے گورنمنٹ کے حضور اس کتاب کی ضبطی کے لئے میموریل بھیجنے کی تیاری کی لیکن آپ نے منع فرمایا کہ اس کا نتیجہ مفید نہ ہو گا اور مشورہ دیا کہ اس کا ایک زبردست جواب لکھا جائے۔ مگر انجمن والوں نے اس مشورہ کی قدر نہ کی جس پر آخر انہیں اس طرح ناکام رہنا پڑا جیسے آپ نے ان کو قبل از وقت بتلا دیا تھا۔ خود حضرت نے اس میموریل کی اعلانیہ مخالفت کی کیونکہ اصولی طور پر اس میموریل کا انجام بصورت منظوری یہ ہونا چاہئے تھا کہ اسلام کا ضعف ہو۔ آپ نے جواب دینے کے طریق کو مقدم کیا اور گورنمنٹ نے آپ کے میموریل کو قدر کی نظر سے دیکھا۔ اس طرح پر آپ نے مسلمانوں کے ایک جائز حق کی حفاظت کی جو انہیں تبلیغ اسلام اور اپنے مذہب کے خلاف لکھنے والوں کے جواب دینے کا تھا۔

جماعت کی شیرازہ بندی اور مخالفین کی ناکامی

اسی سال آپ نے اپنی جماعت کے شیرازہ کو مضبوط کرنے اور خصوصیاتِ سلسلہ کے قائم رکھنے کے لئے جماعت کے تعلقاتِ ازدواج اور نظامِ معاشرت کی تحریک کی اور جماعت کو ہدایت فرمائی کہ احمدی اپنی لڑکیاں غیر احمدیوں کو نہ دیا کریں۔

اسی سال گورنمنٹ کو بھی آپ نے نشان بینی کی دعوت دی دراصل اس ذریعے سے آپ کو عُمّالِ حکومت تک اپنی تبلیغ کامل طور سے پہنچا دینا مقصود تھا جو علیٰ وجہ الاتم پورا ہو گیا۔

۱۸۹۸ء میں آپ نے اپنی جماعت کے بچوں کے لئے ایک ہائی سکول کی بنیاد رکھی جس میں اپنی جماعت کے طلباء چاروں طرف سے آکر پڑھیں۔ جس کی غرض یہ تھی کہ دوسرے سکولوں کے اثرات سے محفوظ رہیں پہلے سال یہ سکول صرف پرائمری تک تھا لیکن ہر سال ترقی کرتا چلا گیا اور ۱۹۰۳ء میں میٹریکولیشن کے امتحان میں اس کے لڑکے شامل ہوئے۔

۱۸۹۹ء میں آپ پر ایک اور مقدمہ حفظ امن کے متعلق آپ کے دشمنوں نے قائم کیا۔ لیکن اس میں بھی آپ کے دشمن سخت ذلیل اور ناکام ہوئے اور آپ کو کامیابی حاصل ہوئی۔

۱۹۰۰ء میں آپ نے عیسائی مذہب پر ایک اتمام حجت کیا۔ یعنی آپ نے لاہور کے بشپ صاحب کو خدائی فیصلہ کی دعوت دی۔ مگر باوجودیکہ ملک کے نامی اخبارات نے تحریک کی مگر بشپ صاحب اس مقابلہ میں نہ آسکے۔

۱۹۰۱ء میں مردم شماری ہونے والی تھی اس لئے ۱۹۰۱ء کے اواخر میں آپ نے اپنی جماعت کے نام ایک اعلان شائع کیا کہ ہماری جماعت کے لوگ کاغذات مردم شماری میں اپنے آپ کو احمدی لکھوائیں۔ گویا اس سال آپ نے اپنی جماعت کو احمدی کے نام سے مخصوص کر کے دوسرے مسلمانوں سے ممتاز کر دیا۔

اسی سال آپ کے بعض مخالف رشتہ داروں نے آپ کو اور آپ کی جماعت کو دکھ دینے کے لئے مسجد کے دروازہ کے آگے ایک دیوار کھینچ دی۔ جس کے سبب نمازیوں کو بہت دور سے پھیرا کھا کر آنا پڑتا تھا اور اس طرح بہت تکلیف اور حرج ہوتا تھا۔ جب انہوں نے کسی طرح نہ مانا تو مجبور ہو کر جولائی ۱۹۰۱ء میں آپ کو عدالت میں نالش دائر کرنی پڑی۔ اور اگست سن مذکور میں وہ مقدمہ آپ کے حق میں فیصل ہوا اور دیوار گرائی گئی اور خرچہ مقدمہ بھی آپ کے مخالفوں پر پڑا۔ لیکن آپ نے ان کو معاف کر دیا۔

۱۹۰۲ء میں آپ نے ولایت میں تبلیغ اسلام کے لئے ایک ماہوار رسالہ نکالنے کا حکم دیا جو ریویو آف ریلیجنز کے نام سے بفضل خدا اب تک جاری ہے۔ اس کا ایک ایڈیشن انگریزی اور ایک اردو میں نکلتا ہے۔ اس ریویو کے ذریعہ سے امریکہ اور یورپ میں نہایت احسن طور پر تبلیغ اسلام ہو رہی ہے اور اس کے زبردست مضامین کی دوست دشمن نے تعریف کی ہے۔ ابتداء میں علاوہ دیگر ممبران سلسلہ کے خود حضرت مسیح موعودؑ بھی اس رسالہ میں مضمون دیا کرتے تھے جو دراصل اردو میں لکھے جاتے تھے پھر ان کا ترجمہ انگریزی رسالہ میں شائع ہوتا تھا۔ ان مضامین کا پڑھنے والوں پر نہایت گہرا اثر پڑتا تھا۔ اور یہی مضامین تھے جنہوں نے ریویو کی عظمت پہلے ہی سال میں قائم کر دی تھی۔

اسی سال عید الاضحٰی کے موقعہ پر جو حج کے دوسرے دن ہوتی ہے الہام الٰہی کے ماتحت ایک تقریر آپ نے فی البدیہہ عربی زبان میں کی۔ اس وقت ایک عجیب حالت آپ پر طاری تھی اور

آپ کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور چہرہ سے نور ٹپکتا تھا اور نہایت پر رعب ہیبت تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے غنودگی کے عالم میں ہیں۔ یہ تقریر ایسی لطیف اور اس کی زبان ایسی بے مثل ہے کہ بڑے بڑے عربی دان اس کی نظیر لانے سے قاصر ہیں اور اس کے اندر ایسے ایسے حقائق و معارف بیان ہوئے ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے یہ تقریر خطبہ الہامیہ کے نام سے چھپ کر شائع ہو چکی ہے اور سب کی سب عربی زبان میں ہے۔

اسی زمانہ میں آپ نے اپنی جماعت کو عربی سکھانے کے لئے ایک نہایت لطیف تجویز فرمائی جو یہ تھی کہ نہایت فصیح اور آسان عبارت میں کچھ جملے بنائے جنہیں لوگ یاد کر لیں اور اس طرح آہستہ آہستہ ان کو عربی زبان پر عبور حاصل ہو جائے۔ اور ان فقرات میں یہ خوبی رکھی گئی تھی کہ وہ ایسے امور کے متعلق ہوتے تھے جن سے انسان کو روز مرہ کام پڑتا ہے اور جن میں ایسی اشیاء کے اسماء اور ایسے فعل استعمال کئے جاتے تھے جو انسان روز مرہ بولتا ہے۔ کچھ اسباق اس سلسلہ کے نکلے لیکن بعد میں بعض زیادہ ضروری امور کی وجہ سے یہ سلسلہ رہ گیا۔ تاہم آپ اپنی جماعت کے واسطے ایک راہ نکال گئے جس پر چل کر کامیابی ہو سکتی ہے۔ آپ کا منشاء یہ تھا کہ ہر ایک ملک کی اصل زبان کے علاوہ عربی زبان بھی مسلمانوں کے واسطے مادری زبان ہی کی طرح ہو جائے اور عورت مرد سب اسے سیکھیں تاکہ آئندہ نسلوں کے لئے اس کا سیکھنا آسان ہو اور بچے بچپن میں ہی اپنی مادری زبان کے علاوہ عربی زبان سیکھ لیں اور یہ ارادہ تھا جس کے پورا ہوئے بغیر اسلام اپنی جڑوں پر پوری طرح نہیں کھڑا ہو سکتا۔ کیونکہ جو قوم اپنی دینی زبان نہیں جانتی وہ کبھی اپنے دین سے واقف نہیں ہو سکتی۔ اور جو قوم اپنے دین سے واقف نہیں وہ کبھی اپنے دشمنانِ دین کے حملوں سے محفوظ نہیں رہ سکتی اور جو قومیں دین سے واقف ہونے کے لئے صرف ترجموں پر قناعت کرتی ہیں وہ نہ دین سے واقف رہتی ہیں نہ ان کی کتاب سلامت رہتی ہے۔ کیونکہ ترجمہ آہستہ آہستہ لوگوں کو اصل کتاب کے مطالعہ سے غافل کر دیتا ہے اور چونکہ ترجمہ اصل کتاب کا قائم مقام نہیں ہو سکتا اس لئے آخر کار وہ جماعت کہیں سے کہیں نکل جاتی ہے۔ آپ کے اس ارادہ کو پورا کرنے کی طرف آپ کی جماعت کی توجہ لگی ہوئی ہے۔ اور انشاء اللہ تعالیٰ ایک دن کامیابی ہو جائے گی۔

اس سال حضرت مسیح موعودؑ نے بعض پیش گوئیوں کی بناء پر کہ مسیح دمشق کے مشرق کی جانب ایک سفید منارہ سے اترے گا ایک منارہ کی بنیاد رکھی تاکہ وہ پیش گوئی لفظاً بھی پوری ہو جائے گو اس پیش گوئی کے حقیقی معنی یہی تھے کہ مسیح موعودؑ کھلے کھلے دلائل اور براہین کے ساتھ آئے گا۔ اور تمام دنیا پر اس کا جلال ظاہر ہو گا اور اس کو بہت بڑی کامیابی ہو گی کیونکہ علم تعبیر الرؤیا میں منارے سے مراد وہ دلائل ہیں جن کا انسان انکار نہ کر سکے۔ اور بلندی پر ہونے کے معنی ایسی شان حاصل کرنے کے ہیں جو کسی کی نظر سے پوشیدہ نہ رہے۔ اور مشرق کی طرف آنے سے مراد ایسی ترقی ہوتی ہے جسے کوئی نہ روک سکے۔

۱۹۰۲ء کے آخر میں حضرت مسیح موعودؑ پر ایک شخص کرم دین نے ازالہ حیثیت عرفی کا مقدمہ کیا اور جہلم کے مقام پر عدالت میں حاضر ہونے کے لئے آپ کے نام سمن جاری ہوا۔ چنانچہ آپ جنوری ۱۹۰۲ء میں وہاں تشریف لے گئے۔ یہ سفر آپ کی کامیابی کے شروع ہونے کا پہلا نشان تھا۔ کہ گو آپ ایک فوجداری مقدمہ کی جواب دہی کے لئے جا رہے تھے لیکن پھر بھی لوگوں کے ہجوم کا یہ حال تھا کہ اس کا کوئی اندازہ نہیں ہو سکتا۔ جس وقت آپ جہلم کے اسٹیشن پر اترے ہیں اس وقت، وہاں اس قدر انبوہ کثیر تھا کہ پلیٹ فارم پر کھڑے ہونے کی جگہ نہ رہی تھی بلکہ سٹیشن کے باہر بھی دو رویہ سڑکوں پر لوگوں کی اتنی بھیڑ تھی کہ گاڑی کا گذرنا مشکل ہو گیا تھا۔ حتیٰ کہ افسران ضلع کو انتظام کے لئے خاص اہتمام کرنا پڑا اور غلام حیدر صاحب تحصیلدار اس سپیشل ڈیوٹی پر لگائے گئے۔ آپ حضرت صاحبؓ کے ساتھ نہایت مشکل سے راستہ کراتے ہوئے گاڑی کو لے گئے کیونکہ شہر تک برابر ہجوم خلائق کے سبب رستہ نہ ملتا تھا۔ اہل شہر کے علاوہ ہزاروں آدمی دیہات سے بھی آپ کی زیارت کے لئے آئے تھے۔ قریباً ایک ہزار آدمی نے اس جگہ بیعت کی اور جب آپ عدالت میں حاضر ہونے کے لئے گئے تو اس قدر مخلوق کارروائی مقدمہ سننے کے لئے موجود تھی کہ عدالت کو انتظام کرنا مشکل ہو گیا۔ دور دور میدان تک لوگ پھیلے ہوئے تھے۔ پہلی ہی پیشی میں آپ بری کئے گئے اور مع الخیر واپس تشریف لے آئے۔

جماعت کی ترقی اور کرم دین والے مقدمہ کا طول پکڑنا

۱۹۰۳ء سے آپ کی ترقی حیرت انگیز طریق سے شروع ہو گئی اور بعض دفعہ ایک ایک دن میں پانچ پانچ سو آدمی بیعت کے خطوط لکھتے تھے اور آپ کے پیرو اپنی تعداد میں ہزاروں لاکھوں تک پہنچ گئے۔ ہر قسم کے لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور یہ سلسلہ بڑے زور سے پھیلنا شروع ہو گیا اور پنجاب سے نکل کر دوسرے

صوبوں اور پھر دوسرے ملکوں میں بھی پھیلنا شروع ہو گیا۔

اسی سال جماعت احمدیہ کے لئے ایک دردناک حادثہ پیش آیا کہ کابل میں اس جماعت کے ایک برگزیدہ ممبر کو صرف مذہبی مخالفت کی وجہ سے سنگسار کیا گیا۔

مقدمات کا سلسلہ جو جہلم میں شروع ہو کر بظاہر ختم ہو گیا تھا پھر بڑے زور سے شروع ہو گیا۔ یعنی کرم دین نے پہلے وہاں آپ کے خلاف مقدمہ کیا تھا اسی نے پھر گورداسپور میں آپ پر ازالہ حیثیت عرفی کی نالش دائر کر دی۔ اس مقدمہ نے اتنا طول پکڑا کہ جسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے اس مقدمہ کی کارروائی کے دوران میں ایک مجسٹریٹ بدل گیا اور اس کی پیشیاں ایسے تھوڑے تھوڑے وقفہ سے رکھی گئیں کہ آخر مجبور ہو کر آپ کو گورداسپور کی ہی رہائش اختیار کرنی پڑی۔

اس مقدمہ کو اس قدر طول دیا گیا تھا کہ صرف تین چار الفاظ پر گفتگو تھی۔ کرم دین نے آپ کے خلاف ایک صریح جھوٹ بولا تھا۔ آپ نے اس کی نسبت اپنی کتاب میں کذاب کا لفظ لکھا۔ جس کے معنی عربی زبان میں جھوٹا بھی ہیں اور بہت جھوٹا بھی۔ اسی طرح ایک لفظ لئیم ہے جس کے معنی کمینہ ہیں۔ لیکن کبھی ولدالزنا کے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اس کا زور اس بات پر تھا کہ مجھے بہت جھوٹا اور ولدالزنا کہا گیا ہے۔ حالانکہ اگر ثابت ہے تو یہ کہ میں نے ایک جھوٹ بولا ہے۔ اس پر عدالت میں ان الفاظ کی تحقیقات شروع ہوئی اور بعض اس قسم کے اور باریک سوال پیدا ہو گئے جن پر ایسی لمبی بحث چھڑی کہ دو سال ان مقدمات میں لگ گئے۔ دوران مقدمہ میں ایک مجسٹریٹ کی نسبت مشہور ہوا کہ اس کے ہم مذہبوں نے کہا ہے کہ مرزا صاحب اس وقت خوب پھنسے ہوئے ہیں ان کو سزا ضرور دو خواہ ایک دن کی قید کیوں نہ ہو۔ جن دوستوں نے یہ بات سنی سخت گھبرائے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوئے اور نہایت ڈر کر عرض کیا کہ حضور ہم نے ایسا سنا ہے۔ آپ اس وقت لیٹے ہوئے تھے۔ یہ بات سنتے ہی آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور ایک ہاتھ کے سہارے سے ذرا اٹھ بیٹھے اور اٹھ کر بڑے زور سے فرمایا کہ کیا وہ خدا تعالیٰ کے شیر پر ہاتھ ڈالنا چاہتا ہے؟ اگر اس نے ایسا کیا تو وہ دیکھ لے گا کہ اس کا کیا انجام ہوتا ہے۔ نہ معلوم یہ خبر سچی ہے یا جھوٹی لیکن اس مجسٹریٹ کو انہیں دنوں وہاں سے بدل دیا گیا اور باوجود کوشش کے فوجداری اختیارات اس سے لے لئے گئے اور کچھ مدت کے بعد اس کا عہدہ بھی کم کر دیا گیا۔ اس کے بعد مقدمہ ایک اور مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوا۔

اس نے بھی نہ معلوم کیوں اس کو بہت لمبا کیا۔ اور گو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں تو آپ کو کرسی ملتی تھی لیکن اس مجسٹریٹ نے باوجود آپ کے سخت بیمار ہونے کے آپ کو کرسی نہ دی اور بعض دفعہ سخت پیاس کی حالت میں پانی پینے تک کی اجازت نہ دی۔ آخر ایک لمبے مقدمہ کے بعد آپ پر دو سو روپیہ جرمانہ کیا۔ اس پر سیشن جج صاحب امرت سر مسٹر ہنری صاحب کی عدالت میں جو ایک یورپین تھے اس فیصلہ کی نگرانی کی گئی۔ اور جب انہوں نے مقدمہ کی مثل دیکھی تو سخت افسوس ظاہر کیا کہ ایسے لغو مقدمہ کو مجسٹریٹ نے اس قدر لمبا کیوں کیا؟ اور کہا کہ اگر یہ مقدمہ میرے پاس آتا تو میں ایک دن میں اسے خارج کر دیتا۔ کرم دین جیسے انسان کو جو لفظ مرزا صاحب نے استعمال کئے اگر ان سے بڑھ کر بھی کہے جاتے تو بالکل درست تھا۔ جو کچھ ہوا نہایت ناواجب ہوا۔ اور انہوں نے دو گھنٹے کے اندر آپ کو بری کر دیا اور جرمانہ معاف کر دیا۔ اور اس طرح دوسری دفعہ ایک یورپین حاکم نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ خدا تعالیٰ حکومت انہی لوگوں کے ہاتھ میں دیتا ہے جن کو وہ اس قابل سمجھتا ہے۔

اس مقدمہ کا فیصلہ جنوری ۱۹۰۵ء میں ہوا۔ اور اس فیصلہ کے ساتھ خدا تعالیٰ نے جو وحی آپ پر کئی سال پیشتر مقدمہ کے انجام کی نسبت کی تھی پوری ہوئی۔

اس مقدمہ کی کارروائی کو ایک جگہ بیان کرنے کے لئے میں آپ کے دو ضروری سفر چھوڑ گیا ہوں۔ جن میں سے آپ کا پہلا سفر تو لاہور کی طرف تھا جو دورانِ مقدمہ میں ماہ اگست ۱۹۰۴ء میں ہوا۔ اس دفعہ آپ لاہور میں پندرہ دن رہے۔ اس سفر میں بھی چاروں طرف سے لوگ آپ کی زیارت کے لئے جوق در جوق آئے اور اسٹیشن پر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی اور اس تمام عرصہ میں ایک شور پڑا رہا۔ آپ کی قیام گاہ کے نیچے صبح سے شام تک برابر ایک مجمع رہتا۔ مخالف آن آن کر گالیاں دیتے اور شور مچاتے۔ حتیٰ کہ بعض شریروں نے تو زنانہ مکان میں گھسنے کی بھی کوشش کی جنہیں زبردستی باہر نکالا گیا۔ لاہور کے دوستوں کی درخواست پر آپ کا لیکچر مقرر ہوا جو چھاپا گیا اور ایک وسیع ہال میں وہ لیکچر مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے پڑھ کر سنایا۔ آپ بھی پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ قریباً سات آٹھ ہزار آدمی تھے۔ اس لیکچر کے ختم ہونے پر لوگوں نے درخواست کی کہ آپ کچھ زبانی بھی بیان فرمائیں۔ اس پر آپ اسی وقت کھڑے ہو گئے اور آدھ گھنٹے تک ایک مختصر سی تقریر فرمائی۔ چونکہ یہ ایک تجربہ شدہ بات تھی کہ آپ جہاں جاتے ہر مذہب و ملت کے لوگ آپ کے خلاف جوش دکھلاتے خصوصاً مسلمان کہلانے والے اس لئے افسران پولیس نے اس دفعہ بہت اعلیٰ انتظام کیا ہوا تھا۔ دیسی پولیس کے علاوہ یورپین سپاہی بھی انتظام کے لئے لگائے گئے تھے۔ جو تلواریں ہاتھ میں لئے تھوڑے تھوڑے فاصلہ سے کھڑے ہوئے تھے۔ چونکہ پولیس افسروں کو معلوم ہو گیا تھا کہ بعض جہلاء جلسہ گاہ سے باہر فساد پر آمادہ ہیں اس لئے انہوں نے آپ کی واپسی کے لئے خاص انتظام کر رکھا تھا اور چند سوار کچھ فاصلہ پر آگے آگے چلے جاتے تھے اور پیچھے آپ کی گاڑی تھی۔ گاڑی کے پیچھے پھر کچھ پولیس کے جوان تھے اور ان کے پیچھے پھر پولیس کے سوار جن کے پیچھے پیادہ پولیس۔ اس طرح بڑی حفاظت سے آپ کو گھر پہنچایا گیا۔ اور منصوبہ بازوں کو اپنی شرارت میں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ وہاں سے آپ واپس گورداسپور تشریف لے آئے۔

اواخر اکتوبر ۱۹۰۴ء میں آپ گورداسپور کے مقدمات سے گونہ فراغت پا کے قادیان آگئے۔

۲۷۔ اکتوبر کو سیالکوٹ تشریف لے گئے۔ کیونکہ وہاں کے دوستوں نے باصرار وہاں تشریف لے جانے کی درخواست کی تھی۔ اور عرض کیا تھا کہ آپ اپنی ابتدائی عمر میں یہاں کئی سال رہے ہیں پس اب بھی جب کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو عظیم الشان کامیابی عطا فرمائی ہے ایک دفعہ اس طرف قدم رنجہ فرما کر اس زمین کو برکت دیں۔ یہ سفر بھی آپ کی کامیابی کا بیّن ثبوت تھا۔ کیونکہ ہر ایک سٹیشن پر آپ کی زیارت کے لئے اس قدر مخلوق آتی تھی کہ سٹیشن کے حکام کو انتظام کرنا مشکل ہو جاتا تھا اور لاہور کے سٹیشن پر تو اس قدر ہجوم ہوا کہ پلیٹ فارم ٹکٹ ختم ہو گئے اور سٹیشن ماسٹر کو بلا ٹکٹ ہی لوگوں کو اندر آنے کی اجازت دینی پڑی۔ جب آپ سیالکوٹ پہنچے تو سٹیشن سے آپ کی قیام گاہ تک جو میل بھر کے فاصلہ پر تھی برابر لوگوں کا ہجوم تھا۔ شام کے وقت ٹرین سٹیشن پر پہنچی۔ تو سواری گاڑیوں میں چڑھتے چڑھاتے دیر لگ گئی اور آپ کی گاڑی ابھی تھوڑی دور ہی چلنے پائی تھی کہ اندھیرا ہو گیا ہجومِ خلائق کے سبب اور رات پڑ جانے سے اندیشہ ہوا کہ کہیں بعض لوگ گاڑیوں کے نیچے نہ آجائیں۔ چنانچہ پولیس کو اس بات کا خاص انتظام کرنا پڑا کہ آپ کے آگے آگے راستہ صاف رہے۔ سیالکوٹ کے ایک رئیس اور آنریری مجسٹریٹ پولیس کے ساتھ اس کام پر تھے۔ ان کو بڑی مشکل اور سختی سے راستہ کرانا پڑتا تھا اور گاڑی نہایت آہستہ آہستہ چل سکتی تھی۔ گاڑی کی کھڑکیاں کھول دی گئی تھیں بازاروں اور گلیوں میں لوگ علاوہ دو رویہ کھڑے ہونے کے دوکانوں کے برآمدے بھی بھرے ہوئے تھے۔ اور بعض تو جگہ نہ ملنے کی وجہ سے کھڑکیوں کے چھجوں پر چڑھھے بیٹھے تھے۔ تمام چھتوں پر ہندوؤں اور مسلمانوں نے آپ کی شکل دیکھنے کے لئے ہنڈیاں اور لیمپ جلا رکھے تھے اور چھتیں عورتوں اور مردوں سے بھری پڑی تھیں۔ آپ کی گاڑی کے قریب آنے پر مشعلیں آگے کر کر کے آپ کی شکل دیکھتے تھے اور بعض لوگ آپ پر پھول پھینکتے تھے۔ سیالکوٹ آپ نے پانچ روز قیام فرمایا اور علاوہ تبلیغ کے جو آپ گھر پر ملنے والوں کو کرتے رہے آپ کا ایک پبلک لیکچر بھی وہاں ہوا۔ جس وقت لیکچر کا اعلان ہوا اسی وقت سیالکوٹ کے علماء نے بڑے زور سے اعلان کیا کہ کوئی شخص مرزا صاحب کا لیکچر سننے نہ جائے اور یہ بھی فتویٰ دے دیا کہ جو شخص آپ کا لیکچر سننے جائے گا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ یہ ایک زبردست ہتھیار اس وقت سے علماء ہند کے پاس ہے جس کے ذریعے سے وہ جاہل مسلمانوں پر اپنی حکومت قائم رکھتے ہیں اور جس کے لئے جھوٹی سچی کوئی بھی دلیل ان کے پاس نہیں اور اس اعلان کو ہی کافی خیال نہ کیا گیا بلکہ جس مکان میں آپ کا لیکچر تھا اس کے مقابل چند مخالف مولویوں نے اپنے لیکچروں کا اعلان کر دیا تاکہ لوگ آپ کے لیکچر میں شامل نہ ہونے پائیں اور باہر کے باہر ہی رک جائیں۔ علاوہ ازیں کچھ آدمی لیکچر گاہ کے دروازہ پر مقرر کر دیئے گئے کہ اندر جانے والوں کو روکیں اور بتائیں کہ آپ کے لیکچر میں جانا گناہ ہے۔ اور بعض تو اس حد تک بڑھے کہ آنے والوں کو پکڑ پکڑ کر دوسری طرف لے جاتے تھے۔ مگر باوجود اس کے لوگ بڑی کثرت سے آئے اور جس وقت لوگوں نے سنا کہ آپ لیکچر گاہ میں تشریف لے آئے ہیں تو مخالف علماء کا لیکچر چھوڑ کر وہاں بھاگ آئے اور اس قدر شوق سے لوگوں نے حصہ لیا کہ سرکاری ملازم بھی باوجود تعطیل کا دن نہ ہونے کے لیکچر میں شامل ہوئے۔ یہ لیکچر بھی چھپا ہوا تھا اور مولوی عبدالکریم صاحب نے پڑھ کر سنایا تھا۔ دورانِ لیکچر میں بعض لوگوں نے شور مچانا چاہا۔ پولیس افسر نے جو ایک یورپین صاحب تھے۔ نہایت ہوشیاری سے ان کو روکا اور ایک بڑی لطیف بات فرمائی کہ تم مسلمانوں کو ان کے لیکچر پر گھبرانے کی کیا وجہ ہے تمہاری تو یہ تائید کرتے ہیں اور تمہارے رسول اللہﷺ کی عظمت قائم کرتے ہیں۔ ناراض ہونے کا حق تو ہمارا تھا کہ جن کے خدا (مسیح) کی وفات ثابت کرنے پر یہ اس قدر زور دیتے ہیں۔ غرض افسران پولیس کی ہوشیاری کے باعث کوئی فتنہ فساد نہ ہوا۔ اس لیکچر میں ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ نے پہلی مرتبہ اپنے آپ کو اہلِ ہنود پر اتمامِ حجت کرنے کے لئے پبلک میں بحیثیت کرشنؑ پیش کیا۔

جب لیکچر ختم ہو کر گھر کو واپس آنے لگے تو پھر بعض لوگوں نے پتھر مارنے کا ارادہ کیا لیکن پولیس نے اس مفسدہ کو بھی روکا۔ لیکچر کے بعد دوسرے دن آپ واپس تشریف لے آئے اور اس موقعہ پر بھی پولیس کے انتظام کی وجہ سے کوئی شرارت نہ ہو سکی۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ ہمیں دکھ دینے کا کوئی موقعہ نہیں ملا۔ تو بعض لوگ شہر سے کچھ دور باہر جا کر ریل کی سڑک کے پاس کھڑے ہو گئے اور چلتی ہوئی ٹرین پر پتھر پھینکے لیکن اس کا نتیجہ سوائے کچھ شیشے ٹوٹ جانے کے اور کیا ہو سکتا تھا؟

مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات اور سفر دہلی کے حالات

۱۱۔ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو آپ کے نہایت مخلص مرید مولوی عبد الکریم صاحب جو مختلف موقعوں پر آپ کے لیکچر سنایا کرتے تھے ایک لمبی بیماری کے بعد فوت ہوئے۔ اور آپ نے قادیان میں ایک عربی مدرسہ کھولنے کا ارشاد فرمایا جس میں دین اسلام سے واقف علماء پیدا کئے جائیں تاکہ فوت ہونے والے علماء کی جگہ خالی نہ رہے۔ مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات سے چند روز بعد دہلی تشریف لے گئے اور وہاں قریباً پندرہ دن رہے۔ اس وقت دہلی گو پندرہ سال پہلے کی دہلی نہ تھی جس نے دیوانہ وار شور مچایا تھا۔ لیکن پھر بھی آپ کے جانے پر خوب شور ہوتا رہا اس پندرہ دن کے عرصہ میں آپ نے دہلی میں کوئی پبلک لیکچر نہ دیا۔ لیکن گھر پر قریباً روزانہ لیکچر ہوتے رہے جن میں جگہ کی تنگی کے سبب دو ڈھائی سو سے زیادہ آدمی ایک وقت میں شامل نہیں ہو سکتے تھے۔ ایک دو دن لوگوں نے شور بھی کیا اور ایک دن حملہ کر کے گھر پر چڑھ جانے کا بھی ارادہ کیا۔ لیکن پھر بھی پہلے سفر کی نسبت بہت فرق تھا۔ اس سفر سے واپسی پر لدھیانہ کی جماعت نے دو دن کے لئے آپ کو لدھیانہ میں ٹھہرایا اور آپ کا ایک پبلک لیکچر نہایت خیر و خوبی سے ہوا۔ وہاں امرتسر کی جماعت کا ایک وفد پہنچا کہ آپ ایک دو روز امرتسر بھی ضرور قیام فرمائیں جسے حضرت نے منظور فرمایا۔ اور لدھیانہ سے واپسی پر امرتسر میں اتر گئے۔ وہاں بھی آپ کے ایک عام لیکچر کی تجویز ہوئی۔ امرتسر سلسلہ احمدیہ کے مخالفین سے پُر ہے اور مولویوں کا وہاں بہت زور ہے۔ ان کے اکسانے سے عوام الناس بہت شور کرتے رہے جس دن آپ کا لیکچر تھا اس روز مخالفین نے فیصلہ کر لیا کہ جس طرح ہو لیکچر نہ ہونے دیں۔ چنانچہ آپ لیکچر ہال میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ دروازہ پر مولوی بڑے بڑے جبے پہنے ہوئے لمبے لمبے ہاتھ مار کر آپ کے خلاف وعظ کر رہے ہیں اور بہت سے لوگوں نے اپنے دامنوں میں پتھر بھرے ہوئے ہیں۔ آپ لیکچر گاہ میں اندر تشریف لے گئے اور لیکچر شروع کیا لیکن مولوی صاحبان کو اعتراض کا کوئی موقعہ نہ ملا جس پر لوگوں کو بھڑکائیں۔ پندرہ بیس منٹ آپ کی تقریر ہو چکی تھی کہ ایک شخص نے آپ کے آگے چائے کی پیالی پیش کی کیونکہ آپ کے حلق میں تکلیف تھی۔ اور ایسے وقت میں اگر تھوڑے تھوڑے وقفہ سے کوئی سیال چیز استعمال کی جائے تو آرام رہتا ہے۔ آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ رہنے دو لیکن اس نے آپ کی تکلیف کے خیال سے پیش کر ہی دی اس پر آپ نے بھی اس میں سے ایک گھونٹ پی لیا۔ لیکن وہ مہینہ روزوں کا تھا مولویوں نے شور مچا دیا کہ یہ شخص مسلمان نہیں کیونکہ رمضان شریف میں روزہ نہیں رکھتا۔ آپ نے جواب میں فرمایا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیمار یا مسافر روزہ نہ رکھے۔ بلکہ جب شفا ہو یا سفر سے واپس آئے تب روزہ رکھے اور میں تو بیمار بھی ہوں اور مسافر بھی۔ لیکن جوش میں بھرے ہوئے لوگ کب رکتے ہیں شور بڑھتا گیا اور باوجود پولیس کی کوشش کے فرو نہ ہو سکا۔ آخر مصلحتاً آپ بیٹھ گئے اور ایک شخص کو نظم پڑھنے کے لئے کھڑا کر دیا گیا۔ اس کے نظم پڑھنے پر لوگ خاموش ہو گئے تب پھر آپ کھڑے ہوئے تو پھر مولویوں نے شور مچایا اور جب آپ نے لیکچر جاری رکھا تو فساد پر آمادہ ہو گئے اور سٹیج پر حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھے۔ پولیس نے روکنے کی کوشش کی لیکن ہزاروں آدمیوں کی رَو ان کے روکے نہ رکتی تھی۔ اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سمندر کی ایک لہر ہے جو آگے ہی بڑھتی چلی آتی ہے۔ جب پولیس سے اس کا سنبھالنا مشکل ہو گیا تب آپ نے لیکچر چھوڑ دیا۔ لیکن پھر بھی لوگوں کا جوش ٹھنڈا نہ ہوا۔ اور انہوں نے سٹیج پر چڑھ کر حملہ آور ہونے کی کوشش جاری رکھی اس پر پولیس انسپکٹر نے آپ سے عرض کی کہ آپ اندر کے کمرہ میں تشریف لے چلیں اور فوراً سپاہی دوڑائے کہ بند گاڑی لے آئیں۔ پولیس لوگوں کو اس کمرہ میں آنے سے روکتی رہی اور دوسرے دروازہ کے سامنے گاڑی لا کر کھڑی کر دی گئی آپ اس میں سوار ہونے کے لئے تشریف لے چلے۔ آپ گاڑی میں بیٹھنے لگے تو لوگوں کو پتہ لگ گیا کہ آپ گاڑی میں سوار ہو کر چلے ہیں۔ اس پر جو لوگ لیکچر ہال میں باہر کھڑے تھے وہ حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھے اور ایک شخص نے بڑے زور سے ایک بہت موٹا اور مضبوط سوٹا آپ کو مارا۔ ایک مخلص مرید پاس کھڑا تھا وہ جھٹ آپ کو بچانے کے لئے آپ کے اور حملہ کرنے والے کے درمیان میں آگیا چونکہ گاڑی کا دروازہ کھلا تھا۔ سوٹا اس پر رک گیا اور اس شخص کے بہت کم چوٹ آئی ورنہ ممکن تھا کہ اس شخص کا خون ہو جاتا۔ آپ کے گاڑی میں بیٹھنے پر گاڑی چلی لیکن لوگوں نے پتھروں کا مینہ برسانا شروع کر دیا۔ گاڑی کی کھڑکیاں بند تھیں ان پر پتھر گرتے تھے تو وہ کھل جاتی تھیں ہم انہیں پکڑ کر سنبھالتے تھے۔ لیکن پتھروں کی بوچھاڑ کی وجہ سے ہاتھ چھوٹ چھوٹ کر وہ گر جاتی تھیں۔ لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے کسی کے چوٹ نہیں آئی صرف ایک پتھر کھڑکی میں گزرتا ہوا میرے چھوٹے بھائی کے ہاتھ پر لگا۔ چونکہ پولیس گاڑی کے چاروں طرف کھڑی تھی۔ بہت سے پتھر اسے لگے۔ جس پر پولیس نے لوگوں کو وہاں سے ہٹایا اور گاڑی کے آگے پیچھے بلکہ اس کی چھت پر بھی پولیس مین بیٹھ گئے۔ اور دوڑا کر گاڑی کو گھر تک پہنچایا۔ لوگوں میں اس قدر جوش تھا کہ باوجود پولیس کی موجودگی کے وہ دور تک گاڑی کے پیچھے بھاگے۔ دوسرے دن آپ قادیان واپس تشریف لے آئے۔

وفات کی پیشگوئی، سلسلہ کا نظام اور صدر انجمن کا قیام

دسمبر ۱۹۰۵ء میں آپ کو الہام ہوا کہ آپ کی وفات قریب ہے۔ جس پر آپ نے ایک رسالہ الوصیت لکھ کر اپنی تمام جماعت میں شائع کر دیا۔ اور اس میں جماعت کو اپنی وفات کے قرب کی خبر دی اور ان کو تسلی دی اور الہام الٰہی کے ماتحت ایک مقبرہ بنائے جانے کا اعلان فرمایا۔ اور اس میں دفن ہونے والوں کے لئے یہ شرط مقرر کی کہ وہ اپنی تمام جائداد کا دسواں حصہ اشاعت اسلام کے لئے دیں اور تحریر فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بشارت دی ہے کہ اس مقبرہ میں صرف وہی دفن ہو سکیں گے جو جنتی ہوں گے۔ اور ان اموال کی حفاظت کے لئے جو اس مقبرہ میں دفن ہونے کے لئے لوگ بغرض اشاعت اسلام دیں گے ایک انجمن مقرر فرمائی۔ اس انتظام کے علاوہ یہ بھی پیش گوئی کی کہ جماعت کی حفاظت اور اس کو سنبھالنے کے لئے خدا تعالیٰ خود میری وفات کے بعد اس طرح انتظام کرے گا جس طرح کہ پہلے نبیوں کے بعد کرتا رہا ہے اور ایسے لوگوں کو کھڑا کرتا رہے گا جو جماعت کی نگرانی اسی طرح کریں گے جس طرح کہ آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے کی تھی۔ سلسلہ کی ضروریات تعلیمی و تبلیغی کے لئے الوصیت کی اشاعت تک مدرسہ اور میگزین کی انتظامی کمیٹیاں تھیں۔ اور مقبرہ بہشتی کے لئے ایک جدید انجمن تجویز ہوئی۔ مگر خدام کی درخواست پر ۱۹۰۶ء کے دسمبر میں آپ نے اس انجمن کی بجائے جسے وصیتوں کے اموال کی حفاظت کے لئے مقرر کیا تھا ایک ایسی انجمن قائم کر دی جس کے سپرد دینی اور دنیاوی تعلیم کے مدارس ریویو آف ریلیجنز مقبرہ بہشتی وغیرہ سب متفرق کام کر دیئے ۔ اور مختلف انجمنوں کی بجائے ایک ہی صدر انجمن قائم کردی۔

۱۹۰۷ء میں ستمبر کے مہینے میں آپ کا لڑکا مبارک احمد اس پیشگوئی کے مطابق جو اس کی پیدائش کے وقت ہی چھاپ کر شائع کر دی گئی تھی ساڑھے آٹھ سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔ اسی سال صدر انجمن کی مختلف شہروں میں شاخیں قائم کرنے کی تجویز کی گئی۔ دو مرد اور ایک عورت امریکن آپ سے ملنے کے لئے آئے جن سے دیر تک گفتگو ہوئی۔ اور انہیں مسیحؑ کی بعثت ثانیہ کی حکمت اور اصلیت سمجھائی۔ اس سال پنجاب میں کچھ ایجیٹیشن پیدا ہو گیا۔

اس پر آپ نے اپنی جماعت کو گورنمنٹ کا ہر طرح وفادار رہنے کی تاکید فرمائی اور مختلف جگہ پر آپ کی جماعت نے اس شورش کے فرو کرنے میں بلا کسی لالچ کے خدمت کی۔

دسمبر میں آریوں نے لاہور میں ایک مذہبی کانفرنس منعقد کی۔ اور سب مذاہب کے لوگوں کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ لیکن یہ شرط رکھی کہ کسی مذہب کے پیروؤں کو دوسرے مذہب پر حملہ کرنے کی اجازت نہ ہو گی۔ اور خود بھی اس شرط کی پابندی کا اقرار کیا آپ سے بھی اس میں شامل ہونے کی درخواست کی گئی تو آپ نے اسی وقت کہہ دیا کہ مجھے تو اس تجویز میں دھوکے کی بو آتی ہے۔ لیکن پھر بھی حجت پوری کرنے کے لئے ایک مضمون لکھ کر اس میں پڑھنے کے لئے بھیج دیا۔ اس مضمون میں آپ نے بڑے زور سے آریوں کو صلح کی دعوت دی اور نہایت نرمی سے صرف اسلام کی خوبیاں ان کے سامنے پیش کیں۔ ہماری جماعت کے قریباً پانچ سو آدمی ٹکٹ خرید کر اس کانفرنس میں شامل ہوتے رہے اور ہمارے باعث دوسرے مسلمان بھی شامل ہوتے رہے لیکن جب آریوں کی باری آئی تو انہوں نے نہایت گندے طور پر ہمارے نبی کریم ﷺ کو گالیاں دیں اور برے سے برے الفاظ حضورؐ کی نسبت استعمال کئے۔ لیکن ہم آپ کی تعلیم کے ماتحت خاموشی سے ان کے لیکچروں کو سنتے رہے اور کسی نے اٹھ کر اتنا بھی نہیں کہا کہ ہم سے وعدہ خلافی کی گئی ہے۔

۲۱/ مارچ ۱۹۰۸ء میں سر ولسن صاحب بہادر فنانشل کمشنر صوبہ پنجاب قادیان تشریف لائے چونکہ یہ پہلا موقعہ تھا کہ پنجاب کا ایک ایسا معزز اعلیٰ عہدیدار قادیان آیا آپ نے تمام جماعت کو ان کے استقبال کرنے کا حکم دیا۔ اور اپنی سکول گراؤنڈ میں ان کا خیمہ لگوایا اور ان کی

دعوت بھی کی۔ چونکہ آپ کی نسبت آپ کے مخالفین نے مشہور کر رکھا تھا کہ آپ درپردہ گورنمنٹ کے مخالف ہیں کیونکہ افسران بالا سے باوجود اپنے قدیم خاندانی تعلقات کے کبھی نہیں ملتے۔ آپ نے عملی طور پر اس اعتراض کو دور کر دیا۔ اور فنانشل کمشنر صاحب سے ملاقات کے لئے خود تشریف لے گئے اس وقت آپ کے ساتھ سات آٹھ آدمی آپ کی جماعت کے بھی تھے صاحب ممدوح نے نہایت تکریم کے ساتھ اپنے خیمہ کے دروازے پر حضرت مسیح موعودؑ کو ریسیو (Receive) کیا۔ اور آپ سے مختلف امور آپ کے سلسلہ کے متعلق دریافت کرتے رہے لیکن اس تمام گفتگو میں ایک بات خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ ان دنوں میں مسلم لیگ نئی نئی قائم ہوئی تھی۔ اور حکام انگریزی اس کی کونسٹی ٹیوشنپر ایسے خوش تھے کہ ان کے خیال میں کانگریس کے نقائص دور کرنے میں یہ ایک زبردست آلہ ثابت ہوگی۔ اور بعض حکام رؤساء کو اشارتاً اس میں شامل ہونے کی تحریک بھی کرتے تھے۔ فنانشل کمشنر صاحب بہادر نے بھی برسبیل تذکرہ آپ سے مسلم لیگ کا ذکر کیا اور اس کی نسبت آپ کی رائے دریافت کی۔ آپ نے فرمایا میں اسے پسند نہیں کرتا۔ فنانشل کمشنر نے اس کی خوبی کا اقرار کیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ راہ خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اسے کانگریس پر قیاس نہ کریں اس کا قیام تو ایسے رنگ میں ہوا تھا کہ اس کا اپنے مطالبات میں حد سے بڑھ جانا شروع سے نظر آرہا تھا۔ لیکن مسلم لیگ کی بنیاد ایسے لوگوں کے ہاتھوں اور ایسے قوانین کے ذریعے پڑی ہے کہ یہ کبھی کانگریس کا رنگ اختیار کر ہی نہیں سکتی۔ اس پر آپ کے ایک مرید خواجہ کمال الدین نے جو وولنگ مشن کے بانی اور رسالہ مسلم انڈیا کے مالک ہیں۔ سرولسن کی تائید کی اور کہا کہ میں بھی اس کا ممبر ہوں اس کے ایسے قواعد بنائے گئے ہیں کہ اس کے گمراہ ہونے کا خطرہ نہیں۔ مگر دونوں کے جواب میں حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ مجھے تو اس سے بو آتی ہے کہ ایک دن یہ بھی کانگریس کا رنگ اختیار کر لے گی۔ میں اس طرح سیاست میں دخل دینے کو خطرناک سمجھتا ہوں۔ یہ گفتگو تو اس پر ختم ہوئی۔ لیکن ہر ایک سیاسی واقعات کا مطالعہ کرنے والا جانتا ہے کہ آپ کا خیال کس طرح لفظ بلفظ پورا ہوا۔

اسی سال ۲۶؍اپریل کو بوجہ والدہ صاحبہ کی بیماری کے آپ کو لاہور جانا پڑا جس دن قادیان سے چلنا تھا۔ اس رات کو الہام ہوا ” مباش ایمن از بازیٔ روزگار “ یعنی حوادث زمانہ سے بے خوف مت ہو۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ آج یہ الہام ہوا ہے کہ جو کسی خطرناک حادثہ پر دلالت

کرتا ہے۔ اتفاق سے اسی رات میرے چھوٹے بھائی مرزا شریف احمد بیمار ہو گئے۔ لیکن جس طرح سے ہو سکا روانہ ہوئے۔ جب بٹالہ پہنچے جو قادیان کا سٹیشن تھا تو وہاں سے معلوم ہوا کہ بوجہ سرحدی شورش کے گاڑیاں کافی نہیں اس لئے گاڑی ریزرو نہیں ہو سکی۔ وہاں دو تین دن انتظار کرنا پڑا۔ آپ نے اپنے گھر میں فرمایا کہ ادھر الہام متوحش ہوا ہے۔ ادھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے روکیں پڑ رہی ہیں۔ بہتر ہے کہ یہیں بٹالہ میں کچھ عرصہ کے لئے ٹھہر جائیں۔ آب و ہوا تبدیل ہو جائے گی علاج کے لئے کوئی لیڈی ڈاکٹر یہیں بلالی جائے گی۔ لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ نہیں لاہور ہی چلو۔ آخر دو تین دن کے انتظار کے بعد آپ لاہور تشریف لے گئے۔ آپ کے پہنچتے ہی تمام لاہور میں ایک شور پڑ گیا اور حسب دستور مولوی لوگ آپ کی مخالفت کے لئے اکٹھے ہو گئے۔ جس مکان میں آپ اترے ہوئے تھے اس کے پاس ہی ایک میدان میں آپ کے خلاف لیکچروں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ جو روزانہ نماز عصر سے لیکر رات کے نو دس بجے تک جاری رہتا۔ ان لیکچروں میں گندی سے گندی گالیاں آپ کو دی جاتیں اور چونکہ آپ کے مکان تک پہنچنے کا یہی راستہ تھا آپ کی جماعت کو سخت تکلیف ہوتی۔ لیکن آپ نے سب کو سمجھا دیا کہ گالیوں سے ہمارا کچھ نہیں بگڑتا تم لوگ خاموش ہو کے پاس سے گزر جایا کرو ادھر دیکھا بھی نہ کرو۔ چونکہ اس دفعہ لاہور میں کچھ زیادہ رہنے کا ارادہ تھا اس لئے جماعت کے احباب چاروں طرف سے اکٹھے ہو گئے تھے اور ہر وقت ہجوم رہتا تھا اور لوگ بھی آپ سے ملنے کے لئے آتے رہتے تھے۔

چونکہ رؤسائے ہند بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ساری دنیا کے رؤساء دین سے نسبتاً غافل ہوتے ہیں اس لئے آپ نے ان کو کچھ سنانے کے لئے یہ تجویز فرمائی کہ لاہور کے ایک غیر احمدی رئیس کی طرف سے جو آپ کا بہت معتقد تھا رؤساء کو دعوت دی اور دعوت طعام میں کچھ تقریر فرمائی۔ تقریر کسی قدر لمبی ہو گئی۔ جب گھنٹے کے قریب وقت گزر گیا تو ایک شخص نے ذرا گھبراہٹ کا اظہار کیا۔ اس پر بہت سے لوگ بول اٹھے کہ کھانا تو ہم روز کھاتے ہیں لیکن یہ کھانا (غذائے روح) تو آج ہی میسر ہوا ہے آپ تقریر جاری رکھیں۔ دو اڑھائی گھنٹے تک آپ کی تقریر ہوتی رہی۔ اس تقریر کی نسبت لوگوں میں مشہور ہوا کہ آپ نے اپنا دعوٰی نبوت واپس لے لیا۔ لاہور کے اردو روزانہ اخبار عام نے بھی یہ خبر شائع کر دی۔ اس پر آپ نے اسی وقت اس کی تردید فرمائی اور لکھا کہ ہمیں دعوٰی نبوت ہے اور ہم نے اسے کبھی واپس نہیں لیا۔

ہمیں صرف اس بات سے انکار ہے کہ ہم کوئی نئی شریعت لائے ہیں۔ شریعت وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے۔

آپ کو ہمیشہ دستوں کی شکایت رہتی تھی۔ لاہور تشریف لانے پر یہ شکایت زیادہ ہوگئی۔ اور چونکہ ملنے والوں کا ایک تانتا رہتا تھا اس لئے طبیعت کو آرام بھی نہ ملا۔ آپ اسی حالت میں تھے کہ الہام ہوا۔ اَلرَّحِیْلُ ثُمَّ الرَّحِیْلُ یعنی کوچ کرنے کا وقت آگیا۔ پھر کوچ کرنے کا وقت آگیا۔ اس الہام پر لوگوں کو تشویش ہوئی۔ لیکن فوراً قادیان سے ایک مخلص دوست کی وفات کی خبر پہنچی اور لوگوں نے یہ الہام اس کے متعلق سمجھا اور تسلی ہوگئی۔ لیکن آپ سے جب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ نہیں یہ سلسلہ کے ایک بہت بڑے شخص کی نسبت ہے۔ وہ شخص اس سے مراد نہیں۔ اس الہام سے گھبرا کر والدہ صاحبہ نے ایک دن فرمایا کہ چلو واپس قادیان چلیں۔ آپ نے جواب دیا کہ اب واپس جانا ہمارے اختیار میں نہیں۔ اب اگر خدا ہی لے جائے گا تو جا سکیں گے۔ مگر باوجود ان الہامات اور بیماری کے آپ اپنے کام میں لگے رہے اور اس بیماری میں ہی ہندوؤں اور مسلمانوں میں صلح و آشتی پیدا کرنے کے لئے آپ نے ایک لیکچر دینے کی تجویز فرمائی اور لیکچر لکھنا شروع کر دیا اور اس کا نام پیغامِ صلح رکھا۔ اس سے آپ کی طبیعت اور بھی کمزور ہو گئی اور دستوں کی بیماری بڑھ گئی۔ جس دن یہ لیکچر ختم ہونا تھا۔ اس رات الہام ہوا۔

مکن تکیہ بر عمر ناپائیدار

یعنی نہ رہنے والی عمر پر بھروسہ نہ کرنا۔ آپ نے اسی وقت یہ الہام گھر میں سنا دیا اور فرمایا کہ ہمارے متعلق ہے۔ دن کو لیکچر ختم ہوا اور چھپنے کے لئے دے دیا گیا۔ رات کے وقت آپ کو دست آیا اور سخت ضعف ہو گیا۔ والدہ صاحبہ کو جگایا۔ وہ اٹھیں تو آپ کی حالت بہت کمزور تھی۔ انہوں نے گھبرا کر پوچھا کہ آپ کو کیا ہوا ہے۔ فرمایا وہی جو میں کہا کرتا تھا یعنی (بیماریِ موت) اس کے بعد پھر ایک اور دست آیا اس سے بہت ضعف ہو گیا۔ فرمایا مولوی نور الدین صاحب کو بلواؤ (مولوی صاحب جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے بہت بڑے طبیب تھے) پھر فرمایا کہ محمود (مصنف رسالہ ہٰذا) اور میر صاحب (آپ کے خسر) کو جگاؤ۔ میری چارپائی آپ کی چارپائی سے تھوڑی ہی دور تھی مجھے جگایا گیا۔ اٹھ کر دیکھا تو آپ کو کرب بہت تھا۔ ڈاکٹر بھی آگئے تھے۔ انہوں نے علاج شروع کیا لیکن آرام نہ ہوا۔ آخر انجکشن کے ذریعہ بعض ادویات دی گئیں۔

اس کے بعد آپ سو گئے جب صبح کا وقت ہوا۔ اٹھے اور اٹھ کر نماز پڑھی۔ گلا بالکل بیٹھ گیا تھا۔ کچھ فرمانا چاہا لیکن بول نہ سکے۔ اس پر قلم دوات طلب فرمائی لیکن لکھ بھی نہ سکے قلم ہاتھ سے چھٹ گئی۔ اس کے بعد لیٹ گئے اور تھوڑی دیر تک غنودگی سی طاری ہو گئی اور قریباً ساڑھے دس بجے دن کے آپ کی روح پاک اس شہنشاہ حقیقی کے حضور حاضر ہو گئی جس کے دین کی خدمت میں آپ نے اپنی ساری عمر صرف کر دی تھی۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ۔ بیماری کے وقت ایک ہی لفظ آپ کی زبان مبارک پر تھا اور وہ لفظ اللہ تھا۔

آپ کی وفات کی خبر بجلی کی طرح تمام لاہور میں پھیل گئی۔ مختلف مقامات کی جماعتوں کو تاریں دے دی گئیں اور اسی روز شام یا دوسرے دن صبح کے اخبارات کے ذریعے کل ہندوستان کو اس عظیم الشان انسان کی وفات کی خبر مل گئی۔ جہاں وہ شرافت جس کے ساتھ آپ اپنے مخالفوں سے برتاؤ کرتے تھے ہمیشہ یاد رہے گی۔ وہاں وہ خوشی بھی کبھی نہیں بھلائی جا سکتی جس کا اظہار آپ کی وفات پر آپ کے مخالفوں نے کیا۔ لاہور کی پبلک کا ایک گروہ نصف گھنٹے کے اندر ہی اس مکان کے سامنے اکٹھا ہو گیا جس میں آپ کا جسم مبارک پڑا تھا۔ اور خوشی کے گیت گا گا کر اپنی کور باطنی کا ثبوت دینے لگا۔ بعضوں نے تو عجیب عجیب سوانگ بنا کر اپنی خباثت کا ثبوت دیا۔

آپ کے ساتھ جو محبت آپ کی جماعت کو تھی۔ اس کا حال اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ بہت تھے جو آپ کی نعش مبارک کو صریحاً اپنی آنکھوں کے سامنے پڑا دیکھتے تھے۔ مگر وہ اس بات کو قبول کرنے کے لئے تو تیار تھے کہ اپنے حواس کو مختل مان لیں لیکن یہ باور کرنا انہیں دشوار و ناگوار تھا کہ ان کا حبیب ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہو گیا ہے۔ پہلے مسیحؑ کے حواریوں اور اس مسیحؑ کے حواریوں کی اپنے مرشد کے ساتھ محبت میں یہ فرق ہے کہ وہ تو مسیحؑ کے صلیب سے زندہ اتر آنے پر حیران تھے اور یہ اپنے مسیحؑ کے وصال پر ششدر تھے۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ مسیحؑ زندہ کیونکر ہے اور ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ مسیحؑ فوت کیونکر ہوا۔ آج سے تیرہ سو سال پہلے ایک شخص جو خاتم النّبیّنؐ ہو کر آیا تھا۔ اس کی وفات پر نہایت سچے دل سے ایک شاعر نے یہ صداقت بھرا ہوا شعر کہا تھا کہ

كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ فَعَمِیْ عَلَيْكَ النَّاظِرُ

مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ اَحَاذِرُ

ه۲؎

ترجمہ : کہ تو میری آنکھ کی پتلی تھا۔ تیری موت سے میری آنکھ اندھی ہو گئی۔ اب تیرے بعد کوئی شخص پڑا مرا کرے ہمیں اس کی پرواہ نہیں۔ کیونکہ ہم تو تیری ہی موت سے ڈر رہے تھے۔

آج سے تیرہ سو سال کے بعد اس نبی کے ایک غلام کی وفات پر پھر وہی نظارہ چشم فلک نے دیکھا کہ جنہوں نے اسے پہچان لیا تھا۔ ان کا یہ حال تھا کہ یہ دنیا ان کی نظروں میں حقیر ہو گئی اور ان کی تمام تر خوشی اگلے جہان میں ہی چلی گئی۔ بلکہ اب تک کہ آٹھ سال گذر چکے ہیں۔ ان کا یہی حال ہے۔ اور خواہ صدی بھی گذر جائے۔ مگر وہ دن ان کو کبھی نہیں بھول سکتے۔ جب کہ خدا تعالیٰ کا پیارا رسولؐ ان کے درمیان چلتا پھرتا تھا۔

درد انسان کو بیتاب کر دیتا ہے اور میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کا ذکر کر کے کہیں سے کہیں چلا گیا۔ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ ساڑھے دس بجے آپ فوت ہوئے اسی وقت آپ کے جسم مبارک کو قادیان میں پہنچانے کا انتظام کیا گیا اور شام کی گاڑی میں ایک نہایت بھاری دل کے ساتھ آپ کی جماعت لاش لیکر روانہ ہوئی۔ اور آپ کا الہام پورا ہوا۔ جو قبل از وقت مختلف اخبارات میں شائع ہو چکا تھا۔ کہ ”ان کی لاش کفن میں لپیٹ کر لائے ہیں“ بٹالہ پہنچ کر آپ کا جنازہ فوراً قادیان پہنچایا گیا اور قبل اس کے کہ آپ کو دفن کیا جاتا۔ قادیان کی موجودہ جماعت نے (جن میں کئی سو قائم مقام باہر کی جماعتوں کا بھی شامل تھا) بالاتفاق آپ کا جانشین اور خلیفہ حضرت مولوی حاجی نور الدین صاحب بھیروی کو تسلیم کر کے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور اس طرح الوصیت کی وہ شائع شدہ پیش گوئی پوری ہوئی کہ جیسے آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت ابوبکرؓ کھڑے کئے گئے تھے میری جماعت کے لئے بھی خدا تعالیٰ اسی رنگ میں انتظام فرمائے گا۔ اس کے بعد خلیفہ وقت نے آپ کا جنازہ پڑھا اور دوپہر کے بعد آپ دفن کئے گئے۔ اور اس طرح آپ کا وہ الہام کہ ”ستائیس کو ایک واقعہ (ہمارے متعلق) جو دسمبر ۱۹۰۷ء میں ہوا اور مختلف اخبارات میں شائع ہو چکا تھا پورا ہوا۔ کیونکہ ۲۶۔ مئی کو آپ فوت ہوئے اور ۲۷ تاریخ کو آپ دفن کئے گئے اور اس الہام کے ساتھ ایک اور الہام بھی تھا جس سے اس الہام کے معنی واضح کر دیئے گئے تھے۔ اور وہ الہام یہ تھا ”وقت رسید“ یعنی تیری وفات کا وقت آگیا ہے۔

آپ کی وفات پر انگریزی اور دیسی ہندوستان کے سب اخبارات نے باوجود مخالفت کے اس بات کا اقرار کیا کہ اس زمانہ کے آپ ایک بہت بڑے شخص تھے۔

پیغام صلح کے چند الزامات کی تردید

(تصنیف لطیف)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

پیغام صلح کے چند الزامات کی تردید

(حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے قلم مبارک سے)

۱۰۔ ستمبر ۱۹۱۶ء

آج مغرب کے قریب مجھے ایڈیٹر الفضل نے پیغام کا ایک تازہ پرچہ جس پر ایک دو جگہ نشان لگا ہوا تھا بھیجا یہ تو مجھے معلوم تھا کہ غیر مبائعین ہم پر طرح طرح کے الزامات لگانے کے عادی ہیں لیکن اس پرچہ کو پڑھ کر تو بہت ہی حیرت ہوئی۔ ایک شخص مصطفیٰ خاں نامی نے اس قدر گالیوں اور بد زبانی سے کام لیا ہے کہ میں حیران ہوں کہ کیا شرافت اس شخص کے پاس بھی نہیں پھٹکی۔ وہ مجھے جانور قرار دیتا ہے اور لکھتا ہے کہ اسے کسی چڑیا گھر میں یا عجائب گھر میں رکھنا چاہئے۔ پھر میری کتاب حقیقتہ النبوۃ کے زمانۂ تصنیف کی طرف اشارہ کر کے لکھتا ہے کہ تعجیل کارِ شیاطین بود اور اس طرح مجھے شیطان بتاتا ہے۔ اسی طرح کے اور بہت سے حملے اس نے کئے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ یہ لوگ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ آخر میں ایک جماعت کا امام ہوں اور وہ مجھے خلیفہ یقین کرتی ہے۔ کیا اسی قسم کے لفظ اگر شیعہ حضرت ابوبکرؓ کی نسبت استعمال کریں تو وہ اسے جائز رکھیں گے۔ اور اس پر اظہارِ ناراضگی نہ کریں گے اگر کہیں کہ وہ خلیفہ برحق تھے۔ تو میں کہتا ہوں کہ شیعوں کے نزدیک تو خلیفہ برحق نہیں۔ اگر ان لوگوں کے لئے جو کسی خلیفہ کو خلیفہ نہ سمجھیں ۔ اسے گالیاں دینا جائز ہوتا ہے۔ تو پھر کیوں شیعوں کا حضرت ابوبکرؓ کو گالیاں دینا جائز نہیں۔ تمہارے جی میں جو حملے آئیں کرو لیکن گالیوں سے تو بچو کہ خود یہ تمہارے اخلاق کو بگاڑ دیں گی اور تم عذاب الٰہی میں گرفتار ہو جاؤ گے۔ مولوی محمد علی صاحب تو خلیفہ نہیں۔ نہ کسی جماعت کے امام۔ ایک انجمن کے پریذیڈنٹ ہیں جن کو امیر کا نام دے دیا گیا ہے لیکن کیا تم پسند کرو گے کہ چڑیا گھر والے فقرہ کے جواب میں میری جماعت کے لوگ بھی چڑیا گھر کے کسی جانور کے نام سے انکو پکارا کریں۔ مثلاً خنزیر ان کا نام رکھ دیں یا کتا یا گدھا اور کسی ایسے ہی نام سے انکو یاد کیا کریں یا خواجہ کمال الدین صاحب کو کہ جنہوں نے ام الالسنہ نامی کتاب کی تیاری کے متعلق فخر کیا ہے کہ صرف تین ہفتہ میں تیار ہو گئی۔ انکی نسبت پسند کرتے ہیں کہ تعجیل کارِ شیطان بود کے مقولہ کے ماتحت شیطان کا لفظ استعمال کیا کریں۔ اگر نہیں تو ایک لاکھو ں آدمیوں کی جماعت کے دل اس طرح نہ دکھاؤ کہ یہ بات دین و دنیا میں تمہاری بربادی کا باعث ہو گی۔ اور ان الفاظ کے لکھنے والے کو میں صرف اسقدر کہتا ہوں کہ ایسے گھر بھی ہیں جہاں جانوروں کی طرح انسان بند رکھے جاتے ہیں توبہ کر کہ خدا کا غضب تجھے اس گھر میں داخل نہ کرے۔ وہ گھر پاگل خانہ اور جیل خانہ ہیں اپنے ہاتھوں اپنا ٹھکانا وہاں مت بنا کہ تیری شوخی کا جواب میرے خدا کے پاس موجود ہے۔

اب میں ان الزامات کی نسبت کچھ لکھنا چاہتا ہوں جو اس پرچہ میں مجھ پر لگائے گئے ہیں۔ کیونکہ ان میں سے بعض مالی خیانت کے متعلق ہیں۔ اور میں انکا جواب دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ کیونکہ وہ میری ذاتی خوبیوں یا کمزوریوں کے متعلق نہیں۔ بلکہ ایسے الزامات ہیں جن میں جماعت کے اموال کی خیانت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ گو حسب عادت اس جملہ میں بھی مضمون نگار نے اپنا پہلو بچانے کے لئے صریح الفاظ میں حملہ نہیں کیا۔ بلکہ ایک تو اسے افواہ کا نام دیا ہے۔ دوسرے خیانت کا لفظ لکھنے سے پہلو تہی کی ہے۔ لیکن کسی کے مال کی نسبت اخبار میں یہ سوال کرنا کہ وہ کہاں سے آیا ہے صاف دلالت کرتا ہے کہ لکھنے والا اسے جائز ذریعہ سے آیا ہوا اقرار نہیں دیتا۔

چونکہ میں ان الزامات کے جواب خدا کے فضل اور رحم سے دینے لگا ہوں۔ اس لئے اس موقعہ پر میں یہ بھی پسند کرتا ہوں کہ اسی اخبار میں جو ایک اور حملہ مجھ پر کیا گیا ہے۔ اس کا جواب بھی دے دوں۔ اور وہ مباہلہ سے فرار کے متعلق ہے۔ میں نے اپنے بعض خطبات میں مباہلہ کے لئے آمادگی ظاہر کی ہے۔ اور اب بھی اعلان کرتا ہوں کہ میں اپنے عقائد کے متعلق مباہلہ کے لئے ہر وقت تیار ہوں لیکن جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ مباہلہ صرف ایسے ہی آدمی سے ہو سکتا ہے جو میری طرح کسی جماعت کا امام ہو یا امام تو نہ ہو لیکن کوئی جماعت اسے اپنا قائم مقام مقرر کر دے یا وہ اسقدر وجاہت رکھتا ہو کہ میرے نزدیک اس کے ساتھ مباہلہ کا اثر کسی

جماعت پر پڑے گا۔ اس کے سوا میں مباہلہ نہیں کر سکتا۔ قرآن کریم نے رسول کریمؐ کو ایک جماعت کے مقابلہ میں مباہلہ کرنے کے لئے فرمایا ہے۔ کہیں نہیں آیا کہ ہر ایک فرد جو اٹھ کر کہے کہ مباہلہ کر لو اس سے مباہلہ کیا جائے۔ پس قرآن کریم کی آیت سے بھی یہی استدلال ہوتا ہے کہ مباہلہ تو ایک جماعت کے ساتھ ہونا چاہئے یا کسی ایسے شخص سے جو ایک جماعت کا قائم مقام ہو جیسا کہ خود آنحضرت کو اس غرض کے لئے پیش کرنا ظاہر کرتا ہے۔ پس محمد یامین داتوی کو میرے مقابلہ کے لئے پیش کرنا عبث ہے اس نے اگر مباہلہ کرنا ہے تو میری جماعت کے کئی لوگ اس سے مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہیں وہ ان سے مباہلہ کر لے۔ چنانچہ میاں بدر بخش صاحب نے تو اسے چیلنج بھی دیا تھا لیکن اس وقت تک اس نے ان سے مباہلہ نہیں کیا اگر کہو کہ بدر بخش کے مباہلہ کا جماعت پر کیا اثر ہو گا تو میں کہتا ہوں کہ محمد یامین کے مباہلہ کا جماعت پر کیا اثر ہو گا۔ پس جبکہ تمہاری طرف سے ایسا شخص پیش ہے جسکے مباہلہ کا اثر تمہاری جماعت پر کچھ نہیں تو ہماری طرف سے بھی اگر کوئی ایسا ہی آدمی آگے آتا ہے تو تمہیں کیا عذر ہو سکتا ہے۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب بمعہ ممبران اشاعت اسلام انجمن کے ایک دستخطی تحریر شائع کر دیں کہ محمد یامین ہماری طرف سے مباہلہ کرنے کا مجاز ہے۔ اگر مباہلہ کے نتیجہ میں یہ ہلاک ہو جائے اور عذاب الٰہی میں گرفتار ہو جائے تو ہم سب لوگ اس کو اپنی شکست خیال کریں گے اور آئندہ توبہ کر کے تمہاری بیعت میں شامل ہو جائیں گے۔ تو میں بھی اپنی جماعت کے کسی آدمی کی نسبت ایسی ہی تحریر شائع کر دوں گا اور لکھ دوں گا کہ اگر اس شخص پر بعد مباہلہ عذاب الٰہی نازل ہو اور یہ ہلاک ہو جائے تو میں خلافت سے علیحدہ ہو جاؤں گا اور اپنے عقائد سے توبہ کر لوں گا۔ اور میں نے جو مولوی محمد علی صاحب کے ساتھ دوسرے ممبران انجمن کی شمولیت کی شرط لگائی ہے تو صرف اس لئے کہ ان کی جماعت انہیں واجب الاطاعت امام نہیں مانتی۔ بلکہ انجمن کو اصل حاکم مانتی ہے۔ میری جماعت مجھے واجب الاطاعت امام مانتی ہے۔ اور اگر تم لوگ اس بات کے لئے آمادہ نہیں تو پھر مولوی محمد علی صاحب کو میرے مقابلہ میں لاؤ۔ میں ان سے مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں اور اگر کہو کہ وہ تو دو مسلمانوں میں مباہلہ کو جائز نہیں سمجھتے تو میں کہتا ہوں کہ میں نے بھی تو ان سے مباہلہ کرنے کی رضامندی اسی خیال کے ماتحت ظاہر کی تھی کہ وہ ہم کو کافر کہہ کر خود کافر ہو گئے ہیں کیونکہ میں نے جہاں تک ان کی تحریرات کو سمجھا ہے میں ان سے یہی مطلب سمجھا ہوں کہ وہ ہمیں کافر سمجھتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سب منکر کافر نہیں مگر میرے نزدیک سب کافر ہیں اور وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ حدیث کی رو سے مسلم کو کافر کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے پس جبکہ میں ان کے مسلمہ مسلمانوں کو کافر سمجھتا ہوں تو ان کے نزدیک کافر ہوں اور اس صورت میں ان کو مجھ سے مباہلہ کرنے میں کیا اعتراض ہو سکتا ہے اور اگر کہو کہ نہیں باوجود تمہارے غیر احمدیوں کو کافر کہنے کے پھر بھی کسی نہ کسی طریق سے وہ تم کو مسلمان ہی خیال کرتے ہیں تو میرا یہ جواب ہے کہ تب پھر میرا مباہلہ کا چیلنج بھی نہیں۔ کیونکہ وہ تو اسی خیال پر ہے کہ وہ مجھے کافر خیال کرتے ہیں۔

شائد اس جگہ کسی کو خیال گزرے کہ مولوی محمد علی صاحب اگر کافر نہیں کہتے اور ان سے مباہلہ نہیں ہو سکتا تو کیوں محمد یامین سے مباہلہ نہیں کر لیا جاتا۔ اس کا ایک جواب تو میں پہلے دے آیا ہوں۔ دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ احمدیوں میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو مولوی محمد علی صاحب کو کافر یقین کرتے ہیں تو کیا مولوی محمد علی صاحب ان سے مباہلہ کریں گے۔ اگر وہ ایسے لوگوں سے مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہیں تو میں ایسے اشخاص مباہلہ کے لئے پیش کر سکتا ہوں جب وہ ان لوگوں سے جو انکو کافر سمجھتے ہیں مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہونگے تو میں بھی محمد یامین سے مباہلہ کرنے کے لئے آمادہ ہو جاؤنگا کیونکہ اس دو طرفہ مباہلہ میں وہ بات بھی حل ہو جائے گی کہ ایسے اشخاص میں مباہلہ ہو جن کا اثر کسی جماعت پر پڑتا ہے۔ شاید مولوی صاحب اس جگہ پر یہ سوال اٹھائیں کہ گو بعض لوگ مجھے کافر کہیں لیکن میں تو ان کو کافر نہیں کہتا۔ میں وسعتِ حوصلہ سے کام لیتا ہوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو مولوی صاحب یہ کہہ نہیں سکتے۔ کیونکہ وہ بارہا اعلان کر چکے ہیں کہ حدیث کی رو سے صرف وہ اہل قبلہ کافر ہو سکتے ہیں جو دوسرے کو کافر کہیں۔ پس اس عقیدہ کے رکھتے ہوئے اگر مولوی صاحب اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں تو ان لوگوں کو انہیں کافر سمجھنا پڑے گا اور اگر وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں سمجھتے تو یہ اور بات ہے ہر شخص اپنے عقائد کا ذمہ دار ہے۔ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ دوسرے محمد یامین کی نسبت میرا بھی یہی دعویٰ ہے کہ میں اسے کافر نہیں سمجھتا۔ اور میرے پاس اس کی دلیل بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ میں اسے ایک قسم کا مجنون سمجھتا ہوں اور ایک قسم سے میری یہ مراد ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے نہیں کہ جو بالکل پاگل ہو جاتے ہیں لیکن اسے مینیا ہے جیسا کہ اس کے اہل وطن بھی شہادت دیتے ہیں چنانچہ سید سرور شاہ صاحب داتوی جو غیر مبائعین میں سے ہیں انہوں نے اپنے ایک خط میں اسی خیال کا اظہار کیا ہے۔

غرض مباہلہ کے متعلق جو پہلو بھی لو ہمارا پہلو بھاری رہتا ہے اور ہم مباہلہ سے ہرگز انکاری نہیں بلکہ اس کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔ اگر مولوی محمد علی صاحب مباہلہ سے ڈرتے ہیں اور یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ باوجود ان کے مسلمان بھائیوں کو کافر کہنے کے میں پھر بھی مسلمان کا مسلمان ہی ہوں اس لئے وہ مجھ سے مباہلہ نہیں کر سکتے تو خواجہ کمال الدین صاحب نے صریح طور پر ہم پر کفر کا فتویٰ دیا ہے اور اپنے متعدد لیکچروں میں ہم سے اصولی اختلاف ہونے کا اعلان کیا ہے انکو میرے مقابلہ میں لے آؤ اور مباہلہ کے لئے تیار کرو۔ میں ان سے مباہلہ کرنے کے لئے بھی تیار ہوں کیونکہ ان کی نسبت بھی میں جانتا ہوں کہ ایک جماعت میں ان کو رسوخ حاصل ہے۔ پس ان کے مباہلہ کا اثر ایک جماعت پر پڑ سکتا ہے۔ اب ان تمام باتوں کے بعد آپ لوگ مولوی محمد علی کی طرح یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم بددعا کیوں کریں۔ اگر ہماری دعائیں خدا تعالیٰ کے حضور اتنی ہی قبول ہیں تو دعا ہی کیوں نہ کریں کہ آپکو ہدایت ہو کیونکہ اس قول سے آپ میری بات پر اعتراض نہیں کریں گے بلکہ قرآن کریم پر اعتراض کریں گے کیونکہ مباہلہ اگر ایسا ہی فضول ہے تو قرآن کریم نے رسول کریمؐ کو اسکی تلقین کیوں کی۔ کیا نعوذ باللہ رسول کریم ﷺ کی دعائیں قبول نہیں ہوتی تھیں کہ مخالفوں کو تباہی کے لئے مباہلہ کا حکم دیا۔ پس جبکہ رسول کریم ﷺ جیسا انسان جسکی دعائیں خاص طور پر قبول ہوتی تھیں۔ کسی ضرورت کے لئے بجائے اپنے مخالفوں کی ہدایت کی دعائیں کرنے کے ان سے مباہلہ کرنے پر مجبور ہوا تھا تو آپ لوگوں کی دعائیں اس برگزیدۂ خدا سے زیادہ قبولیت کا درجہ نہیں رکھتیں کہ اب آپ مباہلہ کے ہتھیار سے مستعفی ہو گئے ہیں اور بجائے اس کے کہ اپنے مخالف سے مباہلہ کر کے فیصلہ کریں آپ یہ کر سکتے ہیں کہ دعا کر کے اسے راہِ ہدایت پر لے آئیں۔ (یہ پہلو جو میں نے بیان کیا ہے۔ مولوی صاحب کی تحریر کا ایک پہلو ہے کیونکہ ان کی تحریر کے دوسرے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ مباہلہ ہم کیوں کریں۔ اگر ہماری دعائیں ایسی ہی قبول ہوتی ہیں تو کیوں نہ تمہارے لئے دعا کریں کہ تم کو ہدایت ہو یعنی ہماری دعائیں تو قبول ہی نہیں ہوتیں تو ہمیں مباہلہ کرنے کی کس طرح جرأت ہو۔ اگر دعائیں قبول ہوتیں تو بجائے مباہلہ کے تمہارے لئے دعا کرتے)

میں آخر میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ اگر کوئی ایسا شخص جو کسی جماعت کا لیڈر نہ ہو یا جو کسی جماعت میں مسلّم اثر نہ رکھتا ہو تو وہ اس طرح کر سکتا ہے کہ اپنی طرف سے اعلان مباہلہ کر دے جیسا کہ حضرت صاحب نے اپنے مخالفوں کو اجازت دی تھی کہ اگر وہ چاہیں تو اپنی طرف سے اعلان مباہلہ کر دیں اور میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یقین رکھتا ہوں کہ ایسا شخص بھی اگر توبہ نہ کرے گا تو عذاب الٰہی سے محفوظ نہیں رہے گا۔ لیکن دو طرفہ مباہلہ میں تب ہی کر سکتا ہوں جبکہ میرے مقابلہ میں کوئی ایسا شخص ہو جو یا تو کسی جماعت کا لیڈر ہو یا مثلِ لیڈر کے ہو۔ ان واضح اور آسان طریقوں کے معلوم کرنے کے بعد بھی اگر آپ لوگ مقابلہ سے جی چرائیں تو ہماری طرف سے آپ پر حجت ہو چکی ہے پھر آپ کا معاملہ خدا سے ہو گا اور راستی پسند طبائع خود فیصلہ کر لیں گی کہ کون حق پر ہے اور کون فریب کے ساتھ اپنی جان بچانا چاہتا ہے۔

مباہلہ کے متعلق جو اعتراض مجھ پر کیا گیا ہے اس کا جواب دینے کے بعد میں الزامات کے جواب دینے کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جن کو پیغامِ صلح نے سوالات کے رنگ میں شائع کیا ہے۔

اوّل۔ یہ الزام ہے کہ باوجود انجمن کی مالی حالت کے کمزور ہونے کے اور تخفیف کے سوال کے درپیش ہونے کے کیا میں نے عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔ اے کو ایک سو روپیہ ماہوار پر ہائی سکول کا پرنسپل مقرر کیا ہے۔

سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کام کی زیادتی کی وجہ سے اس وقت انجمن کے سامنے مالی مشکلات ہیں اور اس کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ کے مخلصین سے چندوں کی تحریکیں بھی کی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت ہندوستان اور باہر کے بلاد میں تبلیغِ اسلام و سلسلہ احمدیہ زور شور سے جاری ہے اور اس کا لازمی نتیجہ اخراجات کی زیادتی ہے جس کے لئے جماعت کو واقف رکھنے کے لئے اور انہیں ان ضروریات کے پورا کرنے کی طرف توجہ دلانے کے لئے وقتاً فوقتاً تحریکوں کا کیا جانا ضروری ہوتا ہے اور اس پر بھی ہمیشہ غور ہوتا رہتا ہے کہ ایسی مدّاتِ خرچ جن کو بند کرنے سے چنداں نقصان نہیں ہوتا ان کو بند کر دیا جائے لیکن پھر بھی یہ بات نہیں کہ اس وقت ان دنوں سے زیادہ مالی مشکلات ہیں جو اس وقت تھیں جبکہ مولوی محمد علی صاحب نے اس کام کو ترک کر کے لاہور کی اقامت اختیار کرلی تھی اس وقت بھی مالی حالت ویسی ہی ہے بلکہ اس سے عمدہ ہے جیسی کہ اس وقت تھی لیکن چونکہ اخراجاتِ تبلیغ زیادہ ہوگئے ہیں۔ اس لئے تنگی معلوم ہوتی ہے اور وہ تنگی بھی کوئی تنگی نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے مجھے ایک ایسی مخلص جماعت عطا فرمائی ہے جو دین کے لئے اپنے اموال کو پانی کی طرح بہا دینے میں دریغ نہیں رکھتی اور خدا تعالیٰ سے مجھے یقین ہے کہ یہ تنگی کی حالت بہت جلد جاتی رہے گی۔ باقی رہا یہ سوال کہ ایسے وقت میں عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب کو کیوں سو روپیہ ماہوار پر سکول کا پرنسپل مقرر کیا گیا ہے تو بات یہ ہے کہ ہیڈ ماسٹر نے یہ تجویز میرے سامنے پیش کی تھی کہ پرنسپل کی ایک اسامی سکولوں میں ہوتی ہے اور اس کی ایڈ بھی ملتی ہے۔ یہاں بشیر احمد صاحب کو اگر اس پر مقرر کر دیا جائے تو امید ہے کہ سکول کو بہت فائدہ ہو گا اور انتظام میں بھی تقویت ہو جائے گی لیکن میں نے ان کی اس تجویز کو منظور نہیں کیا اور یہی جواب دیا کہ اس وقت خرچ کی آگے ہی زیادتی ہو رہی ہے۔ ایک ایسے خرچ کو بڑھانا جو خواہ مفید ہی ہو لیکن ضروری نہیں میں پسند نہیں کرتا۔ اس کے بعد ہیڈ ماسٹر صاحب نے یہ تجویز کی کہ چونکہ میری صحت خراب رہتی ہے اس لئے میاں بشیر احمد صاحب کو ہیڈ ماسٹر مقرر کر دیا جائے اور مجھے کسی اور کام پر لگا دیا جائے یا مدرسہ میں ہی بحیثیت استاد کام لیا جائے تا بوجھ کی کمی سے میری صحت میں ترقی ہو لیکن میں نے اس بات سے بھی اس بناء پر انکار کر دیا کہ اگر انکو کام زیادہ ہے تو حسبِ قاعدہ مدارس استاد پورے رکھیں اور اپنے اتنے گھنٹے خالی رکھیں جتنے کہ سرکاری طور پر خالی رکھنے کا انکو حکم ہے (اس وقت وہ کمال دیانت داری اور اخلاص کی وجہ سے اپنی جان پر ظلم کر کے اس قدر گھنٹے پڑھاتے ہیں کہ انتظامی امور کا بار پڑ کر ان کی صحت کو صدمہ پہنچ گیا) لیکن میں پسند نہیں کرتا کہ ایک سابق اور تجربہ کار کارکن کو درجہ میں کم کر کے اس کی جگہ اور شخص مقرر کر دیا جائے ہاں اگر استاد کی ضرورت ہے تو میاں بشیر احمد کو سکول میں لگا لیا جائے لیکن ان کے لئے کوئی نیا عہدہ نہ نکالا جائے اور اس بات کو میں نے بار بار دہرایا کہ ان کے لئے نیا عہدہ نہ نکالا جائے۔ ہاں اگر واقعہ میں ضرورت ہو تو میں پسند کرتا ہوں کہ بجائے باہر کسی مقام پر ملازمت کرنے کے وہ یہیں رہیں۔ اس پر ایک دوست نے ان دوستوں میں سے جن کے زیر غور یہ معاملہ تھا مجھے اطلاع دی کہ سکول میں اس وقت استاد کی ضرورت ہے اور اگر اجازت ہو تو ان کو سکول میں لگایا جائے جس پر میں نے اجازت دی اور سکول کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ گو اس وقت دوسری مدات میں تنگی ہے لیکن سکول میں نہیں ہے۔ کیونکہ سکول میں اب اس قدر طلباء تعلیم پاتے ہیں کہ جن کی فیسوں اور سرکاری ایڈ سے جماعت کا چندہ ملکر اسکے اخراجات کے لئے کافی ہوتا ہے بلکہ بعض وقت ضرورت سے بڑھ جاتا ہے اور چونکہ اس میں سرکاری مدد ملتی ہے اس لئے اس کے سٹاف کو مضبوط رکھنا نہایت ضروری ہے اور پچھلے دنوں

سکول سے تین گریجوایٹ باہر چلے گئے ہیں۔ قاضی عبد اللہ صاحب بی۔اے بی ٹی۔ صوفی غلام محمد صاحب بی اے ٹرینڈ۔ ماسٹر عبد الرحمن صاحب بی۔اے ٹرینڈ۔ پس ان تین استادوں کے جانے کے بعد سکول کے سٹاف کو مضبوط کرنا نہایت ضروری تھا۔ پس اگر اس صورت میں بجائے اس کے کہ کوئی استاد باہر سے منگوایا جاتا۔ عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب کو ہی سکول میں لگا لیا جائے تو اس میں کون سی قباحت ہے۔ اگر کوئی استاد باہر سے آتا تو کیا اس کا بوجھ نہ ہوتا یا وہ مفت کام کرتا اور کھانے پینے سے بالکل مستغنی ہوتا۔ اگر اس شخص نے بھی باہر سے آکر تنخواہ لینی تھی تو کیوں میاں بشیر احمد صاحب کو ہی جو سکول میں دو تین سال سے کچھ وقت کے لئے کام کرتے ہیں اس کام پر نہ لگایا جاتا۔ اپنے لیڈروں سے دریافت کرو حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے بعد حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول نے مسجد مبارک کے پاس کے کمرہ میں جہاں اس وقت مولوی محمد علی صاحب رہتے تھے۔ اجلاس صدر انجمن کے دوران میں آکر فرمایا تھا کہ حضرت مسیح موعودؑ کا ایک الہام ہے کہ آپ کے خاندان کو اڑھائی سو روپیہ ماہوار خرچ کے لئے دیا جائے۔ جس پر آپ کے فرمانے کے مطابق عمل ہوتا تھا۔ عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب کو نوے روپے ملتے تھے اب اگر سو روپیہ ملتا ہے تو تینتیس روپیہ گورنمنٹ کی ایڈ ملے گی جس صورت میں انجمن کو صرف ستاسٹھ روپے دینے پڑتے ہیں۔ اگر اس پہلی رقم کو مدّنظر رکھا جائے جو الہام کے ماتحت ان کو ملتی تھی تو صرف سات روپیہ زیادہ ہر مہینہ میں انجمن کو دینے پڑتے ہیں کیونکہ ساٹھ روپے اس الہام کے ماتحت دیئے جاتے تھے تو اب انجمن کے خزانہ سے صرف سات روپے زیادہ دینے پڑے۔ پس اس سات روپیہ کی زیادتی سے انجمن کے سر پر کس قدر بوجھ پڑ جاتا ہے جس کے لئے تم کو اسقدر شور کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اور کیا تم خیال کرتے ہو کہ اگر عزیزم میاں بشیر احمد صاحب کہیں باہر جا کر ملازمت کرتے تو انکو اس قدر تنخواہ کی ملازمت نہ مل سکتی تھی؟ ہمارا خاندان خدا تعالیٰ کے فضل سے دنیاوی طور پر بھی معزز ہے اور گورنمنٹ کی خدمات نیک کرتا رہا ہے جس کے صلہ میں ہمارے خاندان کے آدمیوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ماتحت ملازمتیں مل سکتی ہیں۔ ابھی دو سال ہوئے ہیں کہ مرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اے کو ای۔اے۔سی کے لئے نامزد کیا گیا تھا لیکن بوجہ بعض عذرات کے اس وقت امتحان میں شامل نہ ہو سکے تو چونکہ انکی عمر زیادہ ہو گئی تھی وہاں تو ان کو نہ لیا گیا لیکن تحصیلدار نامزد کیا گیا کہ جس عہدہ کی تنخواہ بھی معقول ہے پس عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب کو اگر سکول میں سو روپیہ ماہوار دیا گیا تو

زیادہ تنخواہ نہیں وہ باہر اچھی ملازمت کر سکتے تھے وہ ایم۔اے پاس ہیں اور ذہین و ہوشیار ہیں جوڈیشل سروس کے علاوہ کالج کی نوکری بھی کر سکتے ہیں اور پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے ابھی اس وقت جبکہ انجمن کی حالت موجودہ حالت سے بہت کمزور تھی ریویو کی ایڈیٹری کے لئے سو روپیہ ماہوار پر ہی قادیان آئے تھے گو ایک مدت تک ان کے حسابات میں بیس روپیہ ماہوار تنخواہ دکھائی جاتی رہی ہے۔ غرض یہ الزام جو پیغام صلح نے لگایا ہے اس کا ایک حصہ تو جھوٹ ہے اور دوسرا حصہ کوئی الزام نہیں اگر عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب اس جگہ کام کرنا منظور کریں تو اس میں انجمن کا نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہے اور بہت کم خرچ پر اس کو ایک نہایت لائق استاد مل جاتا ہے۔ اور یہاں کی رہائش کو منظور کرنا ان کی قربانی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ اپنی لیاقت اور خاندانی خدمات کی وجہ سے عمدہ سے عمدہ ملازمت حاصل کر سکتے ہیں جہاں ان کو ہزار بارہ سو روپیہ ماہوار تک ترقی کرنے کی امید ہو سکتی ہے۔ اور ان کے سکول میں تقرر پر اعتراض کرنے کا باعث سوائے کینے کے اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ اس کے باوجود نہیں لگائے جاتے تو کوئی اور لگایا جاتا یا سکول کو بند کر دیا جائے اور تمام گھروں کو چلے جائیں۔

دوسرا الزام یہ ہے کہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے امرتسر اور اجنالہ کے درمیان موٹر ایجنسی قائم کی ہے سو یہ الزام مجھ پر نہیں خلیفہ صاحب پر ہے میں اس کی نسبت صرف اس قدر کہہ سکتا ہوں کہ یہ بات میں نے اب پیغام میں دیکھی ہے ڈاکٹر صاحب اگر قادیان میں ہوتے تو اس کا جواب وہ خود دیتے وہ اس وقت ڈلہوزی ایک ضروری کام پر گئے ہوئے ہیں وہاں سے واپسی پر وہ خود جواب دیں گے میں اس وقت بحکم آیت اِذَا جَآءَ كُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْۤا اور لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡہُ(24:13) صرف اس قدر کہہ سکتا ہوں کہ اصل جواب تو وہ خود دیں گے مگر میں اس الزام کو سراسر جھوٹ اور افتراء یقین کرتا ہوں اور زیادہ سے زیادہ اگر حسنِ ظنی سے کام لوں تو کہہ سکتا ہوں کہ شاید کوئی اور رشید الدین ہو جس نے وہ ایجنسی قائم کی ہو اور تم نے اس سے خلیفہ صاحب کو سمجھ لیا ہو لیکن زیادہ قرینِ قیاس تو یہی ہے کہ یہ بات تم نے اپنی طرف سے افتراء کر کے اڑائی ہے۔

تیسرا الزام مجھ پر یہ لگایا گیا ہے کہ کیا میں نے اٹھارہ ہزار روپیہ کی کوئی زمین خریدی ہے اور اگر کوئی ایسی زمین خریدی ہے تو وہ روپیہ کہاں سے آیا۔ امر اول کا جواب یہ ہے کہ بے شک میں نے اپنے خاندان کے چند افراد سمیت اٹھارہ ہزار کی زمین خریدی ہے لیکن غیر مبائعین کا اس پر خوش ہونا اور یہ خیال کرنا کہ ہمیں اعتراض کا ایک موقع مل گیا درست نہیں بلکہ باوجود اس واقعہ کے پھر بھی ان کو اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ گو یہ زمین اٹھارہ ہزار روپیہ کو خریدی گئی ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ایک لحاظ سے یہ زمین مفت ہی آئی ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ مرزا محمد اکرم بیگ صاحب نے اپنی مملوکہ اراضی واقعہ قادیان میں سے پچھلے سال ۷۵ گھماؤں اراضی ایک سکھ رئیس کے پاس فروخت کی تھی چونکہ قادیان میں اس وقت تک سب ملکیت اراضی یا ہمارے خاندان کے پاس ہے یا مرزا اکرم بیگ صاحب کے پاس کہ ان کا بھی ہمارے خاندان کی ایک شاخ سے رشتہ داری کا تعلق ہے ایک غیر مذہب کے شخص کے پاس زمین کا فروخت ہو جانا ہماری جماعت کے لئے بہت سی تکالیف کا باعث تھا۔ چنانچہ اسی دن سے کہ یہ زمین فروخت ہوئی قادیان کے سکھوں اور ہندوؤں میں ایک جوش پیدا ہو گیا تھا اور ان میں سے بعض بلاوجہ ہماری جماعت کو تکلیف دینے لگ گئے تھے اور موقعہ تلاش کر کر کے فساد کھڑا کرتے تھے کیونکہ ان کو یہ دلیری ہو گئی تھی کہ اب ہم بطور رعایا کے نہیں بلکہ قادیان کی ملکیت میں ہمارا بھی حصہ ہے۔ اور اب یہاں ایک ہندو مالک بھی ہے۔ اس سے پہلے ان لوگوں کو فساد سے روکنے کا ایک باعث یہ بھی تھا کہ ہندوؤں کا قادیان کی زمینوں پر مالکانہ قبضہ نہ تھا۔ اور وہ بطور مزارعہ یا موروثی زمینوں پر قابض تھے۔ چنانچہ جب کبھی حضرت مسیح موعودؑ کے وقت ان لوگوں نے فساد کیا بھی تو حکام نے اس امر کی بناء پر ان کو بہت کچھ ملزم کیا اور وہ ہمیشہ شرمندہ ہوتے رہے لیکن اب صورت معاملہ کے بدل جانے کی وجہ سے بعض لوگوں کو فساد کا موقعہ مل گیا تھا۔ جس وقت یہ زمین فروخت ہوئی ہے اسی وقت خدا تعالیٰ نے میرے دل میں یہ بات ڈال دی تھی کہ اس قسم کا خطرہ پیدا ہونا اس فروخت سے ممکن ہے۔ اسی طرح جماعت کی ضروریات کے لئے زمینوں کے ملنے میں بھی یہ سودا بعض وجوہات سے روک ثابت ہونے والا تھا پس سب باتوں پر غور کر کے میں نے جماعت کے بعض دوستوں سے تحریک کی کہ چونکہ ہمیں حق شفعہ حاصل ہے ہم اس زمین کو خرید لیتے ہیں۔ پھر دوست ہم سے آگے خرید لیں۔ ایک حصہ ہم لے لیں گے تاکہ حق شفعہ بھی قائم رہے اور زیادہ حصہ مختلف دوست اصل قیمت پر ہم سے خرید لیں۔ لیکن شرط یہ ہوگی کہ روپیہ پیشگی دیں کیونکہ ہمارے پاس روپیہ نہیں کہ پہلے اسے چھڑوائیں اور پھر فروخت کریں۔ اس پر بعض دوستوں نے روپیہ جمع بھی کروایا اور قریباً اڑھائی ہزار روپیہ جمع ہوا لیکن چونکہ یہ زمین مکانات کے تو قابل نہ تھی صرف زراعت کے کام آسکتی تھی۔ اور تھوڑی تھوڑی زمین پر زراعت کرنے والوں کو کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا تھا اس لئے اس طرف بہت کم لوگوں کی توجہ ہوئی اسے بھی لوگوں نے اپنی ضروریات کے لئے واپس لینا شروع کر دیا۔ اور کل چار سو روپیہ باقی رہ گیا۔ ادھر تو زمینداری کے لئے زمین خریدنے کے لئے لوگ تیار نہ تھے یا کم سے کم مجھ سے کسی نے درخواست نہیں کی بلکہ پہلا جمع شدہ روپیہ بھی واپس لے رہے تھے ادھر قادیان کے امن کا یہ حال تھا کہ بعض لوگ پے درپے شرارت کرتے اور فتنہ کھڑا کر رہے تھے۔ اور اس میں اس زمین کی فروخت بھی ایک وجہ تھی اس لئے مجھے بہت فکر ہوئی کہ جس طرح ہو سکے یہ زمین واپس لی جائے اور میں نے یہ تجویز کی کہ اگر اس کے لئے یوں روپیہ جمع نہیں ہو سکتا تو ہم اپنی پہلی اراضی کا ایک حصہ یا کل جیسی ضرورت ہو گروی رکھ کر روپیہ حاصل کریں اور اس زمین کو چھڑوا لیں۔ چنانچہ اسی امید پر شیخ ممتاز احمد صاحب بیرسٹر ایٹ لاء گورداسپور کو جو باوجود غیر احمدی ہونے کے مجھ سے اس قدر اخلاص اور شرافت رکھتے ہیں کہ تم غیر مبائعین سے ان کو نسبت دینا بھی میں انکی ہتک سمجھتا ہوں میں نے کہلا بھیجا کہ وہ اس سکھ سردار سے اس زمین کے متعلق سودا کریں اور کوشش کریں کہ رقم تحریر شدہ سے وہ کچھ کم کر دیں کیونکہ جیسا کہ مجھے معتبر ذرائع سے معلوم ہوا تھا زمین کی اصل قیمت پندرہ ہزار تھی۔ لیکن حق شفعہ کے خوف سے اسکی قیمت پونے انیس ہزار لکھوائی گئی تھی۔ اس گفتگو سے صرف اس قدر کامیابی ہوئی کہ خریدار زمین نے ساڑھے سات سو روپیہ کم کر کے اٹھارہ ہزار روپیہ پر زمین بلا مقدمہ واپس کر دینے کا وعدہ کیا۔ اب میعاد شفعہ میں وقت تھوڑا رہ گیا تھا اور روپیہ کا اب تک کوئی انتظام نہ ہوا تھا اس لئے میں نے پھر شیخ مختار احمد صاحب بیرسٹر ایٹ لاء کو کہلا بھیجا کہ وہ بھی کوشش کریں کہ ہماری جدی زمینوں کا کوئی حصہ رہن ہو جائے اور اسی روپیہ سے اس اراضی کی قیمت ادا کر دی جائے لیکن ان کو بھی اس کوشش میں کامیابی نہ ہوئی اور انہوں نے مجھے کہلا بھیجا کہ آپ کسی طرح چھ ہزار روپیہ کا بندوبست کر دیں میں بقیہ بارہ ہزار کچھ عرصہ کے لئے آپ کو قرض لے دوں گا چنانچہ اس تحریک پر میں نے پھر کوشش کی اور ایک تو والدہ صاحبہ کو تحریک کی کہ وہ اپنا زیور فروخت کر کے اس زمین کی خرید میں حصہ لیں چنانچہ گو والدہ صاحبہ نے وہ زیور بہ نیت حج رکھا ہوا تھا لیکن اس خیال سے کہ یہ ضرورت بھی ایک دینی ضرورت ہے اور اس امید پر کہ بعد میں آہستہ آہستہ زمین فروخت کر کے پھر روپیہ واپس مل جائے گا اس بات کو منظور فرمالیا اور ساڑھے بائیس سو روپیہ ان سے ملا۔ اسی طرح اپنی دونوں بیویوں کو بھی میں نے تحریک کی اور انہوں نے اپنے زیور فروخت کر کے اور کوئی اڑھائی سو روپیہ اپنے مہروں سے ڈال کر پندرہ سو روپیہ دیا۔ باقی ساڑھے بائیس سو روپیہ میں نے بعض ایسی امانتوں میں سے جن کے رکھنے والوں نے مجھے اجازت دی ہوئی ہے کہ میں جہاں چاہوں ان کا روپیہ خرچ کر سکتا ہوں۔ اور وہ اپنی ضرورت کے وقت لے لیں گے دیا اور اس طرح چھ ہزار روپیہ پورا کر کے گورداسپور بھیجا گیا۔ زیور لاہور اور امرتسر میں فروخت ہوا چاہو تو ان دونوں کے پتہ اور ان آدمیوں کے نام بھی لکھے جا سکتے ہیں کہ جہاں اور جنکی معرفت وہ زیور فروخت ہوا۔ زیور کے علاوہ جو ساڑھے بائیس سو روپیہ دیا گیا وہ بھی ایک چیک کے ذریعہ جو ڈاکٹر فضل کریم صاحب ممباسہ کا تھا اور میرے پاس انہوں نے بطور امانت بھیجا تھا اور اجازت دی تھی کہ میں اسے ضرورت پر خرچ کر سکتا ہوں لاہور سے ہی منگوا لیا تھا اس کی نسبت بھی لاہور سے ہی پتہ لیا جا سکتا ہے بقیہ بارہ ہزار روپیہ کے متعلق شیخ مختار احمد صاحب بیرسٹر جو اس وقت اپنے بھائی شیخ محمد عمر صاحب کے ساتھ (جو امرتسر کے ایک مشہور وکیل ہیں) شملہ گئے ہوئے ہیں دریافت کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایک ماہ کے وعدہ پر یہ روپیہ دیا ہے جس کی میعاد ستمبر کے اخیر میں ختم ہوتی ہے اور اس عرصہ میں وعدہ کے مطابق رقم ادا کر دینے کا خدا تعالیٰ نے یہ بندوبست فرمادیا ہے کہ جماعت کے چند مخلصین نے کچھ عرصہ کے لئے یہ رقم بطور قرض دینے کا وعدہ کیا ہے چنانچہ میاں نبی بخش صاحب سوداگر پشمینہ نے جو حضرت مسیح موعودؑ کے نہایت دیرینہ مخلصین میں سے ہیں اس روپیہ میں سے جس قدر روپیہ کی ضرورت ہو چند ماہ کے لئے ادا کر دینے کا وعدہ کیا ہے اور ساڑھے تین ہزار روپیہ وہ بھیج بھی چکے ہیں میاں محمد طفیل و میاں فضل حق صاحبان بٹالہ نے ایک ہزار روپیہ اس کام کے لئے دیا ہے اور شیخ رحمت اللہ صاحب سب ڈویژنل افسر پشاور نے دو ہزار روپیہ بھیجنے کے متعلق تحریر فرمایا ہے اور ان میں سے سوائے ایک کے باقی وہ دوست ہیں جنہوں نے بلا میری طرف سے اشارہ کے ابتداءً خود اس کام میں حصہ لینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اور گو بعد میں ان سے میں نے خط و کتابت کی۔ لیکن ابتداء انہوں نے خود کی اور اپنے اخلاص کا ثبوت دیا ہے۔ اس قرضہ کی ادائیگی کے لئے بھی میں ساتھ کے ساتھ کوشش کر رہا ہوں اور ایک سکھ زمیندار نے وعدہ کیا ہے کہ وہ نو ہزار روپیہ تک کی زمین گروی رکھ لیں گے اسی طرح بعض

ہماری زمینیں جو ایسی جگہ پر واقع ہیں جہاں مکانات بن سکتے ہیں انکو فروخت کر کے ہم چند ماہ کے اندر اندر یہ قرضہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ماتحت اتار سکتے ہیں۔ چنانچہ پچھلے سال بھی ان زمینوں میں سے ایک حصہ چھ ہزار چار سو روپیہ کو ترجمۃ القرآن کی چھپوائی اور بعض اور دینی ضروریات کے لئے اور بعض اپنی ضروریات کے لئے ہم نے فروخت کیا ہے پس اب بھی کچھ حصہ فروخت کر کے اس قرضہ کو ہم اتار سکتے ہیں۔

اس سب بیان کو پڑھ کر آپ لوگوں کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ اس اٹھارہ ہزار کے سودے میں اگر نقد روپیہ کو مدّنظر رکھیں تو ہمارا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوا پس اس پر آپ کا اچھلنا کودنا بالکل درست نہیں شاید آپ نے خیال کیا ہو گا کہ اس طرح مولوی محمد علی صاحب پر سے اٹھارہ ہزار روپیہ کی خیانت کا الزام دور ہو جائے گا جو ان پر ترجمہ قرآن پر قبضہ کر لینے اور کتب انجمن پر تصرف کر لینے سے عائد ہوتا ہے لیکن یہ درست نہیں۔ کیونکہ ہمارا یہ سودا بالکل جائز ذرائع سے ہوا ہے اور اس میں کسی کا ایک پیسہ بھی نہیں ہے خدا تعالیٰ نے خود اس جماعت کو بعض فتن سے بچانے کے لئے اپنے فضل سے اس سودے کا سامان کر دیا۔

آخر میں اس قدر اور لکھ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں ان لوگوں کو قابل خطاب نہیں سمجھتا۔ لیکن چونکہ یہ زمانہ دنیا کو دین پر مقدم کرنے کا زمانہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ زمانہ کے اس میلان کو دیکھ کر بیعت میں دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا اقرار لیا کرتے تھے اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ ان اعتراضات کا جو مالی معاملات کے متعلق ہیں جواب دیدوں تاکہ کسی آدمی کو ٹھوکر نہ لگے اور وہ بدظنی سے اپنے آپ کو ہلاکت کے گڑھے میں نہ گرالے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے ایک ایک بات واضح کر کے لکھدی ہے تاکہ ہماری جماعت کے کمزور طبع لوگ بھی اس وہم میں مبتلا نہ ہوں کہ ان کے اموال میں خیانت کی جاتی ہے۔ میرے پاس جو روپیہ چندہ کا آتا ہے میں اسے فوراً دفتر محاسب میں بھیج دیتا ہوں۔ اور اس سال سے تو میں نے ایک کاپی بنا چھوڑی ہے کہ جس پر درج کر کے محاسب کے دفتر سے رسید بھی لے لیتا ہوں۔ تا میرا دامن ہر ایک الزام سے پاک رہے جس شخص نے میرے پاس کوئی رقم بھیجی ہے وہ اس کا مطالبہ مجھ سے جب چاہے کر سکتا ہے میں اسے اس کا حساب دکھانے کے لئے تیار ہوں گو یہ میرا حق نہیں کیونکہ میں لوگوں کو نہیں کہتا کہ تم میرے پاس روپیہ بھیجو وہ کیوں براہِ راست انجمن میں نہیں بھیجتے۔ ہاں جس رقم کو میں اپنے نام بھیجنے کو لکھوں اس کے متعلق ہر ایک شخص کا حق ہے کہ مجھ سے اپنی رقم کے متعلق تسلی کروالے لیکن کسی کے ابتلاء میں آجانے کے خوف سے میں نے ایک کاپی میں اندراج کا بھی انتظام کر چھوڑا ہے۔ جس پر دفتر محاسب کے دستخط ہوتے ہیں کہ ہمیں فلاں فلاں شخص کی طرف سے اس قدر روپیہ پہنچ گیا۔ اور اس کے ذریعہ سے ہر ایک شخص اپنے مال کے متعلق جو میرے نام بھیجتا ہے تسلی کر سکتا ہے۔

میں کسی کے مال کا بھوکا نہیں نہ خلافت کا بار کسی کے اموال کے لالچ سے میں نے اپنے سر اٹھایا ہے خلافت سے پہلے بھی لوگ مجھے نذریں دیتے تھے بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت زیادہ آسودگی سے گزارہ کرتا تھا کیونکہ اس وقت میرے ذمے کوئی بوجھ نہیں تھا اب کئی حاجتمندوں کی خبرگیری مجھے کرنی پڑتی ہے جن کی مدد انجمن نہیں کر سکتی۔ میرے واقف جانتے ہیں کہ اس وقت میرے اخراجات اس وقت کی نسبت زیادہ وسیع ہوتے تھے میں تبلیغ کے لئے جاتا تھا اور کبھی میں نے ایک پیسہ کسی سے اپنے کرایہ وغیرہ کے لئے نہیں لیا۔ بلکہ اگر کوئی کچھ دیتا تھا تو اسے یا تو واپس کر دیتا یا ان ساتھ کے مبلغین پر خرچ کر دیتا جن کا خرچ انجمن کے ذمہ ہوتا تھا اور سال بھر میں یہ رقم اچھی خاصی ہو جاتی تھی مجھ پر کبھی اس کا بوجھ نہیں ہوا تھا لیکن پچھلے سال بیماری کے لئے جو مجھے لاہور جانا پڑا تو اس کے اخراجات میں سے اب تک کچھ روپیہ میرے ذمہ باقی ہے اسی طرح میں اپنے گھر کے اخراجات کو دیکھتا ہوں کہ انہیں بھی آگے کی نسبت بہت تنگی میں رکھتا ہوں۔ میں ہمیشہ خلافت سے پہلے علاوہ ان کے مقررہ خرچ کے خاص کپڑے وغیرہ بنوا کر دیتا رہتا تھا لیکن اس دن سے آج تک میں مقررہ خرچ کے علاوہ ان کو کچھ نہیں دے سکا حتیٰ کہ ایک دن میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ تم نے مدت سے مجھے تحفہ کچھ نہیں دیا میں کوئی قیمتی چیز طلب نہیں کرتی بلکہ کوئی نہایت معمولی سی قیمت کی چیز میرے دل کو خوش کرنے کے لئے بنوا دو میں نے ان کا عندیہ معلوم کرنے کے لئے کہا کہ بتلاؤ کیا بنوادوں اور میں نے معلوم کرنا چاہا کہ ان کی خواہش کہاں تک جاتی ہے تو انہوں نے یہ کہا کہ میں زیادہ نہیں مانگتی ایک سادہ انگوٹھی مجھے بنوا دو یہ بات سن کر میرے دل نے مجھے شرمندہ کیا کہ بے شک دوسرے مستحقین کی خبرگیری کرنا بھی ثواب ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے لیکن وَ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ کا بھی ارشاد ہے تیری بیوی کا بھی تجھ پر کچھ حق ہے۔ غرض میں نہ صرف تمہارے اموال کے متعلق ممکن سے ممکن احتیاط برتتا ہوں بلکہ جو کچھ مجھے خدا تعالیٰ دیتا ہے اس میں سے ایک متعد بہ حصہ مستحق امداد لوگوں پر خرچ کر دیتا ہوں اور مجھے اس بات سے بھی انکار نہیں جو

کچھ لوگ مجھے تحفہ دیتے ہیں اس میں سے اپنے نفس پر بھی استعمال کرتا ہوں اور میں اس سے شرمندہ نہیں کیونکہ میرے آقا حضرت محمد ﷺ بھی تحائف قبول کرتے اور خیبر کی فتح سے پہلے آپ کا گزارہ زیادہ تر انہی تحائف پر تھا۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود بھی ہدایا کو قبول کرتے تھے لیکن اس سے زیادہ میں تمہارے اموال پر ہرگز تصرف نہیں کرتا۔ جس غرض کے لئے کوئی شخص مجھے روپیہ دیتا ہے اسی کے لئے جمع کروا دیتا ہوں اور اگر میری مرضی پر چھوڑ دے تو میں اس روپیہ کو اکثر تو اشاعت و صدر انجمن میں ۱۔ اور ۲۔ کی نسبت سے تقسیم کر دیتا ہوں ورنہ جس مد میں زیادہ ضرورت ہو وہاں جمع کروا دیتا ہوں اور بعض لوگ جو مجھے اس لئے روپیہ بھیجتے ہیں کہ میں خود جہاں چاہوں اس کو خرچ کردوں تو ان روپوں کو مناسب ضروریات پر خرچ کر دیتا ہوں لیکن سوائے اس روپیہ کے جو مجھے میری ذات کے لئے لوگ دیتے ہیں ہرگز ایک پیسہ بھی اپنے استعمال میں نہیں لاتا اور جو شخص مجھے اس قابل خیال کرتا ہے اس پر حرام ہے کہ کبھی ایک پیسہ بھی وہ مجھے دے۔ میں حریص نہیں خدا تعالیٰ نے مجھے بہت وسیع دل دیا ہے پھر وہ خود میری ضروریات کو پورا کرتا ہے بارہا ایسا ہوتا ہے کہ سخت تنگی کے وقت جب مجھے نظر نہیں آتا کہ میں خرچ کہاں سے دوں اور قرض لینے کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ فوراً کسی ایسے ذریعہ سے جو میرے واہمہ میں بھی نہیں ہوتا مجھے رزق بھیج دیتا ہے۔ بعض دفعہ ہندوؤں اور سکھوں سے روپیہ بھجوا دیتا ہے بعض دفعہ رؤیا کے ذریعہ کسی کو تحریک کر دیتا ہے چنانچہ ابھی چند ماہ ہی ہوئے ہیں کہ میرے کوٹ کے پھٹ جانے پر میری بیوی نے کہا کہ کوٹ پھٹ گیا ہے میں نے کہا دیکھو تو سہی خدا تعالیٰ خود بندوبست کرے گا اس کے چند دن بعد خان بہادر شیخ محمد حسین صاحب بی اے جج سمال کاز کورٹ کانپور کا ایک خط اور کوٹ کا کپڑا ملا جس میں انہوں نے تحریر فرمایا کہ ایک خواب کی بناء پر وہ یہ کوٹ کا کپڑا میرے لئے بھیجتے ہیں وہ ایک معزز عہدہ دار اور راستباز انسان ہیں ان سے دریافت کیا جا سکتا ہے کہ آیا یہ واقعہ درست ہے یا نہیں۔ روپیہ کے متعلق تو ایسے بہت سے تجارب ہوئے ہیں کہ ضرورت کے وقت بعض لوگوں کو رؤیا ہوئی اور انہوں نے روپیہ بھیج دیا قلبی تصرفات کی مثالیں اس سے بھی زیادہ ہیں پس جبکہ خدا تعالیٰ خود میرا کفیل اور مجھ سے زیادہ میری فکر رکھتا ہے تو مجھے کسی کے روپیہ کی کیا لالچ ہو سکتی ہے۔ لالچ اور حرص تو اسے ہوتی ہے جسے خطرہ ہوتا ہے کہ مجھے ضرورت کے وقت روپیہ کہاں سے ملے گا جبکہ میرا سہارا خدا تعالیٰ ہے اور وہ میرے رزق کا ذمہ دار ہے اور غیر معمولی ذرائع سے

حتیٰ کہ غیر احمدیوں، ہندوؤں، سکھوں اور پھر خوابوں کے ذریعہ سے مجھے رزق پہنچاتا ہے تو مجھے اپنے رزق کے لئے کیا فکر ہو سکتی ہے جو شخص مجھ پر اعتراض کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ سے ڈرے کہ وہ نہیں مرے گا جب تک کہ اس پر بھی یہ الزام نہ لگایا جائے ۔ میرا ضمیر اس معاملہ میں صاف ہے اور جس وقت بھی فرشتہ موت میرے پاس آجائے میں اس یقین کے ساتھ جان دے سکتا ہوں کہ خیانت یا سلسلہ احمدیہ کے اموال میں کسی قسم کی بے احتیاطی کے بغیر میں نے اس سلسلہ کے اموال کی حفاظت کی ہے اور اس دنیا کو چھوڑنا ہرگز میرے اوپر بوجھ نہیں کیونکہ میں اس دن کو عید کا دن سمجھتا ہوں جبکہ ایمان کے اوپر میرا خاتمہ ہو اور ان ذمہ داریوں سے سبکدوش کیا جاؤں پس اس دنیا کا محب نہیں بلکہ اس سے نفرت کرنے والا ہوں اور وہی شخص اس دنیا کی محبت کا الزام مجھ پر لگا سکتا ہے جس کا دل خود اس گند میں ملوث ہے میرے لئے یہ بس ہے کہ میرا خدا مجھ سے راضی ہے میرے مخالفین کے ناپاک حملوں نے نہ پہلے میرا کچھ بگاڑا اور نہ اب بگاڑ سکتے ہیں خدا تعالیٰ کی مرضی پوری ہوئی اور ہوگی اور اسی کے فضل سے دنیا کے چاروں کناروں پر مجھے اور میرے اتباع کو غلبہ حاصل ہو گا اور وہ لوگ جو دشمنی کی آگ میں جل رہے یا منافقانہ طور پر میرے ساتھ ہو کر پھر ان دشمنوں کے ساتھ شامل ہیں آہستہ آہستہ ناکامی و نامرادی کا منہ دیکھیں گے۔ ذلت ان کے استقبال کے لئے ہاتھ بڑھائے کھڑی ہے اور رسوائی ان کو بغل گیر کرنے کے لئے ہاتھ پھیلائے کھڑی ہے ابھی کچھ ہی دن ہوئے ۔ محمد مصطفیٰ تمثیلی طور پر تشریف فرما ہوئے اور آپ نے مجھے فرمایا ہم تیری مشکلات کو دیکھتے ہیں اور ان کو دور کر سکتے ہیں لیکن ایک دو (یا دو تین کہا) سال تک صبر کی آزمائش کرتے ہیں محمد مصطفیٰ کی روح میری مدد کے لئے جوش مار رہی ہے۔ کیونکہ میرے دشمنوں نے مجھے جو اس وقت اس کا سب سے زیادہ عاشق اور سب سے زیادہ محبت رکھنے والا ہوں اور سب سے زیادہ اس کی عظمت کے قائم کرنے کا خواہشمند ہوں اس لئے محمد رسول اللہ کی ہتک کرنے والا قرار دیا کہ میں نے کیوں اس کی حقیقی عظمت کو قائم کیا اور اس کے اس درجہ کو دنیا کے سامنے پیش کیا جو اس کی عظمت کا اظہار کرنے والا ہے۔ پس وہی پاک وجود بے تاب ہے کہ میری نصرت کے لئے آئے ۔ اس سے پہلے وہ اس گھاٹی سے گزرتا ہوا مجھے دیکھنا چاہتا ہے جس میں سے گزرنے کے بغیر کسی شخص نے قرب الٰہی حاصل نہیں کیا پس میرے دن عید ہیں اور راتیں لیلۃ القدر ہیں کہ محمد رسول اللہ کو بھی میری فکر ہے اور میں اپنے دشمنوں کے حملوں پر گھبراتا نہیں کیوں کہ جس قدر سخت وہ حملہ کریں گے اتنی ہی جلدی مجھے اس محبوبِ رب العالمین کی روحِ مبارک سے فیضانِ خاص حاصل کرنے کا اور دُعائے خاص سے حصہ لینے کا موقعہ ملے گا۔ پس اے میرے دشمنو! تم حملہ کرو اور جس قدر چاہو کرو مجھے جس کی پرواہ تھی وہ مجھ سے خوش ہے میں تمہارا بھی شکر گزار ہوں کہ اگر تمہارے بے رحمانہ حملے نہ ہوتے تو ایک غلام کو یہ فخر ہرگز حاصل نہ ہوتا کہ مالک اس کے گھر تشریف لاتا اور ایک خادم کو یہ رتبہ کس طرح نصیب ہوتا کہ آقا اس کی آنکھوں کو اپنے نور سے روشن کرتا۔ وَاٰخِرُ دَعۡوٰٮہُمۡ اَنِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(10:11)

متفرق امور

(تقریر بر موقع جلسہ سالانہ ۱۹۱۶ء)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

تقریر حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی

(جو ۲۷؍دسمبر ۱۹۱۶ء کے سالانہ جلسہ پر ہوئی)

اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ۞ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۞

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ وَلَقَدۡ فَتَنَّا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَلَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا وَلَیَعۡلَمَنَّ الۡکٰذِبِیۡنَ اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السَّیِّاٰتِ اَنۡ یَّسۡبِقُوۡنَا ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ مَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ اللّٰہِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ لَاٰتٍ ؕ وَہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ وَمَنۡ جَاہَدَ فَاِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفۡسِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُکَفِّرَنَّ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَلَنَجۡزِیَنَّہُمۡ اَحۡسَنَ الَّذِیۡ کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ(العنکبوت: ۱ تا ۸)

میں نے قرآن کریم کی کچھ آیتیں آپ لوگوں کے سامنے پڑھی ہیں۔ عام مسلمانوں میں رسول کریم ﷺ سے بُعد اور دوری کی وجہ سے قرآن کریم کی عظمت نہیں رہی اور اس وجہ سے انہوں نے عام طور پر سمجھ لیا ہے کہ قرآن کریم ایک جادو اور ٹونے کی کتاب ہے اس لئے جس طرح ایک مشرک اور بت پرست کچھ بنے بنائے لفظ اور گھڑے گھڑائے فقرے پڑھتا ہے اور نہیں جانتا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور نہیں سمجھتا کہ ان کے کہنے کی کیا غرض ہے اور ان الفاظ کا کیا مطلب ہے اسی طرح آج کل کے مسلمان کرتے ہیں۔ انہوں نے سمجھ رکھا ہے کہ قرآن کریم جادو اور ٹونے کے لئے آیا تھا اس لئے اس کی کوئی آیت لکھ کر باندھ لینا یا عمدہ عمدہ غلافوں میں لپیٹ کر گھر میں رکھ چھوڑنا کافی ہے۔ میں نے یہ آیات اس رنگ میں نہیں پڑھیں

کیونکہ میں قرآنِ کریم کو جادو یا ٹونے کی کتاب نہیں سمجھتا بلکہ خدا تعالیٰ کا کلام سمجھتا ہوں۔ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا مکتوب ہے جو بندوں کی طرف بھیجا گیا ہے اور اس شہنشاہ کا جو بادشاہوں کا بادشاہ اور شہنشاہوں کا شہنشاہ ہے اپنی مخلوق اور مملوک کی طرف اعلان نکلا ہے۔ پس اس کی ایک یا دو آیتیں پڑھنا یا اس کا کوئی حصہ سنانا یا پڑھنا یہ نہیں کہ جادو یا ٹونے کے طور پر ہے بلکہ اس کی غرض اور مدعا یہ ہے کہ اس کا مطلب سمجھو اور اس پر عمل کرو۔ میں نے دیکھا ہے گلیوں میں بعض ڈھنڈورا دینے والے جب کسی معمولی سی بات کا ڈھنڈورا دیتے ہیں مثلاً یہی کہ کوئی دوکان نیلام ہوتی ہے تو لوگ گھروں سے باہر نکل کر یا کھڑکیاں کھول کر بڑے غور سے اس آواز کو سنتے اور سمجھتے ہیں۔ اور اگر بادشاہ یا کسی بڑے حاکم کی طرف سے اعلان ہو تو اس کے معلوم کرنے کے لئے اس بے تابی سے دوڑے جاتے ہیں کہ گویا ان کی زندگی کا دارومدار ہی اس کے معلوم کرنے پر ہے۔ مگر افسوس اور بہت افسوس کہ اس شہنشاہوں کے شہنشاہ کی طرف سے ایک اعلان آتا ہے جو ان کا ضامن اور مالک ہے۔ لیکن بہت کم ہیں جو اس کے سمجھنے اور سمجھ کر عمل کرنے کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ میں نے جو قرآنِ کریم کی آیات اس وقت پڑھی ہیں جادو اور ٹونے کے رنگ میں نہیں پڑھیں۔ میں نے ایک دفعہ رؤیا دیکھی کہ ایک اعلان ہے جو اسی طرح کا ہے جس طرح کا بادشاہوں کی طرف سے شائع ہوتا ہے اور دو صفحہ ہے پہلے تو اس اعلان کے مجھے الفاظ بھی یاد تھے لیکن اب مفہوم ہی یاد رہ گیا ہے۔ اس میں لکھا تھا کہ اے لوگو جبکہ تم دنیا کے ادنیٰ ادنیٰ حاکموں کی طرف سے شائع ہونے والے اعلان کی طرف فوراً توجہ کرتے ہو اور اس وقت تک تمہیں چین نہیں آتا جب تک کہ معلوم نہیں کر لیتے کہ کیا اعلان ہو رہا ہے تو میں جو تمام حاکموں کا حاکم ہوں میری طرف سے جو اعلان شائع ہوا ہے اس کی طرف تم کیوں توجہ نہیں کرتے۔ گویا خدا تعالیٰ نے یہ اعلان میرے پاس بھیجا ہے کہ میں اسے شائع کر دوں۔ اسی طرح مجھے ایک اور رؤیا دکھایا گیا کہ وہ بھی خدا تعالیٰ کے کلام کی عظمت اور شان کے متعلق ہی تھا۔ اس رؤیا میں مجھے انگریزی کا ایک فقرہ بتایا گیا میں تو بہت انگریزی نہیں جانتا اس لئے شاید اس کے یاد رکھنے میں مجھ سے غلطی ہوگئی ہو۔ مگر وہ ایسا شاندار ہے کہ اب تک مجھے یاد ہے اور کم سے کم اس کے اکثر الفاظ وہی ہیں۔ جو مجھے رؤیا میں سنائے گئے کوئی میرے کان میں کہتا ہے

Hearken I tell thee in thy ears that the earth would be shaken for three to one they dont care for me for a thread.

”three to one“ کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح شرط میں جس کو زیادہ یقین ہوتا ہے۔ وہ اپنی بات کی تائید میں دوسرے کی تھوڑی رقم کے مقابلہ میں زیادہ رقم شرط کے طور پر رکھنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنی بات پر زور دینے کے لئے اس فقرہ کو استعمال فرماتا ہے۔ لیکن اس رؤیا کے دیکھنے کے وقت مجھے اس جملہ کے معنی معلوم نہ تھے۔ میں اس وقت سفر میں تھا۔ جب یہاں آیا تو انگریزی خواں احباب سے اس کے معنی پوچھے انہوں نے کہا کہ ہمیں تو معلوم نہیں۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد میں نے یہی محاورہ ایک انگریزی اخبار میں پڑھا۔ ولایت میں گھوڑوں پر شرط لگاتے ہیں کہ اگر ہمارے گھوڑے سے فلاں گھوڑا جیت گیا تو ہم ایک کے مقابلہ میں تین دیں گے یا اس طرح کچھ اور۔ غرض اس رؤیا کا مطلب یہ کہ میرے کان میں آواز آئی کہ سُن میں تیرے کان میں تجھے ایک بات بتاؤں۔ اور وہ یہ کہ زمین ہلائی جائے گی۔ (یہ سات آٹھ سال کا رؤیا ہے ممکن ہے اس سے مراد موجودہ جنگ ہی ہو) کیونکہ لوگ میرے کلام کو بالکل چھوڑ چکے ہیں۔ اور میں اس بات پر شرط لگانے کے لئے بھی تیار ہوں کہ اگر کوئی میرے مقابلہ میں ایک چیز پیش کرے۔ تو میں اس سے تگنی پیش کر دوں گا کہ لوگ میری اتنی بھی پرواہ نہیں کرتے جتنی تاگے کی۔ تو میں نے یہ آیتیں رسم کے طور پر نہیں پڑھیں۔ میں تو بیمار ہوں۔ اور ایک ایک منٹ بلکہ ایک ایک سیکنڈ کے بعد کھانسی آتی ہے۔ اور قریباً ایک ماہ سے یہی حالت ہے۔ پس میں جو اس حالت میں آپ لوگوں کے سامنے کھڑا ہوا ہوں بلاوجہ کھڑا نہیں ہوا۔ بلکہ میں ایک بات کہنی چاہتا ہوں۔ مگر اس سے پہلے چند ایک اور باتیں ہیں جو بیان کر دیتا ہوں ان کے بیان کرنے کے بعد ان آیات کا مطلب اور منشاء بتاؤں گا۔

چند متفرق باتیں

پہلی بات جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اسے غیرت سمجھو یا اس احساس کا نتیجہ کہ ہر ایک انسان چاہتا ہے کہ میں بری کیا جاؤں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی جب کہا گیا کہ قید خانہ سے نکل آؤ تو انہوں نے کہا جب تک میرے الزام دور نہ ہوں میں نہیں نکلتا۔ وہ بات یہ ہے کہ پچھلے سالانہ جلسہ پر میں نے آپ لوگوں کے ساتھ کچھ وعدے کئے تھے۔ مثلاً کہا تھا کہ قرآن کریم کے پاروں کے ترجمے شائع کئے جائیں گے، دوم یہ کہ قرآن کریم کے اسباق تیار ہوں گے، سوم یہ کہ مختلف مسائل کے متعلق چھوٹے چھوٹے ٹریکٹ لکھے جائیں گے۔ مگر ایک سال گذر گیا ہے اور ان میں سے کوئی بات بھی پوری نہیں ہو سکی۔ اس کی وجہ کچھ تو یہ ہے کہ اس سال میں خود بہت عرصہ بیمار رہا ہوں۔ گو یہ دن بھی ضائع نہیں گئے اور اس عرصہ میں مجھے کئی ایک علمی تحقیقاتوں کا موقعہ مل گیا۔ جو اگر میری صحت اچھی ہوتی تو شاید کسی اور وقت پر ملتوی کرنی پڑتیں۔ خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ ہے۔ میں یہ بتانا چاہتا تھا کہ میں پچھلے سال بہت بیمار رہا ہوں اور اس ماہ کے ابتداء سے تو کھانسی بھی شروع ہو گئی ہے۔ اس حالت میں میں لکھنے کا تو کام کچھ کر بھی سکتا ہوں۔ لیکن بولنے کے وقت کھانسی شروع ہو جاتی ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہوئی اور دوسری یہ کہ گذشتہ ستمبر میں میں نے ایک رؤیا دیکھی تھی۔ جو یہاں کے لوگوں کو اسی وقت بتا دی گئی تھی کہ قادیان میں سخت تپ ہوگا۔ جو اپنے اندر طاعون کی طرح کا زہر رکھتا ہوگا۔ چونکہ خداتعالیٰ نے ہماری جماعت کے متعلق طاعون سے حفاظت کرنے کا وعدہ فرمایا ہوا ہے۔ اس لئے اس کو تپ سے بدل دے گا کیونکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ بیماریاں اور جانوں اور مالوں کا اتلاف بھی مؤمنین کے متعلق سنت اللہ ہے اس لئے خدا تعالیٰ جس نے چونکہ طاعون سے محفوظ رکھنے کا وعدہ فرمایا ہوا ہے۔ اس کی بجائے تپ نازل کرے گا تاکہ اس طرح کرنے سے نہ تو اس وعدہ کے خلاف ہو۔ اور نہ وہ غلط ٹھہرے اور نہ ہی قرآن کریم کی بیان کردہ سنت کے خلاف ہو۔ یہ رؤیا میں نے انہی دنوں لوگوں کو سنا دی تھی۔ اس کے بعد ایسا تپ آیا کہ قریباً ہر ایک مرد و عورت پر اس کا حملہ ہوا۔ اور جس گھر کے آٹھ آدمی تھے۔ وہ آٹھوں ہی بیمار ہو گئے۔ اور اس قدر شدید بخار ہوتا کہ ایک سو سات درجہ تک پہنچ جاتا۔ ان دنوں ہر گھر میں بیماری پڑ گئی۔ اور اس مرض کی وجہ سے کام کرنے والے لوگ بھی یا تو خود بیمار رہے یا بیماروں کے تیمار دار بنے رہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت کچھ آرام ہو گیا ہے اور کام ہو رہا ہے۔ اس لئے امید کی جا سکتی ہے کہ اگلے سال اسباق اور ترجمۃ القرآن تیار ہو جائے گا۔ اب کے جو ترجمہ کیا گیا ہے۔ وہ پہلے سے بھی زیادہ وسیع مطلب پر مشتمل ہے۔ اس ترجمہ کا بہت سا حصہ تو ہو چکا ہے اور ارادہ ہے کہ اس جزو میں سورہ بقرہ ختم کر دی جائے۔ یہ ترجمہ انشاء اللہ عنقریب چھپ کر آپ لوگوں کو پہنچ جائے گا۔ دوسری بات جو میں کہنی چاہتا ہوں یہ ہے کہ ایک تازہ شور برپا ہوا ہے اور وہ مولوی محمد احسن صاحب کے رسالہ اور اشتہارات کے متعلق ہے۔ مجھے سخت حیرت ہوئی۔ مولوی محمد احسن صاحب کا ایک تازہ اشتہار دیکھ کر اور میں حیران ہوں کہ انسان کسی کی مخالفت اور عداوت کی وجہ سے تقویٰ کو کیوں چھوڑ دیتا ہے۔ مولوی محمد احسن صاحب اس اشتہار میں لکھتے ہیں:

”میں نے محض اتحاد جماعت قائم رکھنے کی خاطر یہی مناسب سمجھا کہ ہم سب لوگ صاحبزادہ محمود احمد صاحب کی بیعت کرلیں تاکہ وحدت قومی قائم رہے مجھے اس وقت تک علم نہ تھا کہ صاحبزادہ صاحب کے عقائد میں کوئی فساد واقع ہو چکا ہے“۔

لیکن میں بڑے زور سے کہتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ یہ انہوں نے بالکل غلط لکھا ہے میں ان کے لئے ایک ہزار روپیہ انعام رکھتا ہوں کہ وہ اسی طرح کی قسم کھا کر بیان کریں جس طرح کی قسم حضرت مسیح موعودؑ نے تریاق القلوب میں بیان فرمائی ہے کہ انہیں اس وقت جبکہ انہوں نے میری بیعت کی تھی۔ میرے عقائد کا علم نہ تھا۔ کیا وہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں اپنے عقائد پر مجھ سے گفتگو نہیں کرتے رہے۔ ضرور کرتے رہے ہیں۔ اور اب جھوٹ کہتے ہیں کہ انہیں میرے عقائد کا علم نہ تھا۔ میں ان کو اس قسم کے اٹھانے کے لئے اس لئے کہتا ہوں کہ وہ اپنی جان کو قسم کے معاملہ میں لانے کے متعلق یوں لکھتے ہیں:

”میری موت اس مقابلہ کے ماتحت نہیں ہوگی۔ کیونکہ میں اسی سے متجاوز ہو گیا ہوں میں اپنی موت کو ایک نعمت غیر مترقبہ اعتقاد کرتا ہوں (رسالہ القول المجید صفحہ ۸۸)

یعنی یہ کہ آپ موت کے ساتھ بہت محبت رکھتے ہیں۔ گویا اسے نعمت غیر مترقبہ سمجھتے ہیں۔ اس لئے مباہلہ کے لئے سامنے نہیں آتے۔ حالانکہ یہ غلط ہے۔ قرآن کریم تو یہود کی نسبت کہتا ہے:

قُلۡ اِنۡ کَانَتۡ لَکُمُ الدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ عِنۡدَ اللّٰہِ خَالِصَۃً مِّنۡ دُوۡنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ وَلَنۡ یَّتَمَنَّوۡہُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ ؕ وَاللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ وَلَتَجِدَنَّہُمۡ اَحۡرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ ۚۛ وَمِنَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا ۚۛ یَوَدُّ اَحَدُہُمۡ لَوۡ یُعَمَّرُ اَلۡفَ سَنَۃٍ ۚ وَمَا ہُوَ بِمُزَحۡزِحِہٖ مِنَ الۡعَذَابِ اَنۡ یُّعَمَّرَ ؕ وَاللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ(البقرہ: ۹۵ تا ۹۷) کہ ان کو چیلنج دو کہ مباہلہ کر لیں۔ لیکن وہ قبول نہیں کریں گے۔ کیونکہ انہیں دنیا سے بہت محبت ہے۔ مگر ہم کو یہ سنایا جاتا ہے کہ میں اس لئے مباہلہ نہیں کرتا کہ مجھے موت سے محبت ہے۔ اب یا تو قرآن کریم کو (نعوذ باللہ) جھوٹا کہا جائے گا۔ یا اس کو جو کہتا ہے کہ مجھے موت سے محبت ہے۔ لیکن قرآن کریم تو کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ اس خدا کا کلام ہے۔ جو سب سچوں سے زیادہ سچا ہے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ وہ خوب جانتے ہیں کہ اگر میں مباہلہ کے لئے مقابلہ پر آیا تو ہلاک ہو جاؤں گا۔ مولوی محمد علی صاحب تو مباہلہ کو جائز ہی نہیں سمجھتے۔ اور اس طرح وہ اپنا پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں۔ لیکن مولوی محمد احسن صاحب تو جائز

سمجھتے ہیں۔ پھر وہ کیوں خود اس کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ خیر۔ اگر وہ اپنے آپ کو پیش کرنے سے ڈرتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ وہ یہ نہ کہیں کہ میں مباہلہ کرتا ہوں بلکہ اپنے بچوں کو پیش کر کے مباہلہ کر لیں۔ ان کے لڑکوں کی عمر مجھ سے چھوٹی ہے۔ اور مجھ سے صحت بھی اچھی ہے۔ پھر میں اکیلا ہوں۔ اور وہ پانچ ہیں۔ ان پانچوں کو میرے مقابلہ پر رکھ کر قسم کھا جائیں کہ ان کو میری بیعت کرنے کے وقت میرے عقائد کا علم نہ تھا۔ مگر میں ابھی کہہ دیتا ہوں کہ چونکہ ان لوگوں کے دلوں میں یہ بات بڑی مضبوطی سے گڑی ہوئی ہے کہ اگر میرے مقابلہ پر آئیں گے تو ہلاک ہو جائیں گے۔ اس لئے وہ مقابلہ کے لئے کبھی تیار نہیں ہوں گے اور ادھر ادھر کی باتیں بنا کر بچنا چاہیں گے۔ کیسے غضب کی بات ہے کہ جب حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے خواجہ صاحب کے اس مضمون پر دستخط کر دیئے جو میرے مقابلہ پر لکھا گیا تھا۔ (حضرت خلیفہ اول نے دستخط کرنے کے متعلق مجھے بتایا تھا کہ خواجہ صاحب نے آ کر کہا تھا کہ میرا اور میاں صاحب کا ایک ہی مذہب ہے) تو اس وقت مولوی محمد احسن صاحب مجھ سے اس بات پر بحث کرتے رہے کہ مولوی صاحب نے یہ سخت کمزوری دکھائی ہے کہ خواجہ صاحب کے مضمون پر دستخط کر دیئے ہیں۔ اور میں انہیں جواب دیتا رہا۔ اور اسی کے متعلق مولوی صاحب نے مجھے یا نواب صاحب کو ایک خط لکھا تھا۔ جس میں لکھا تھا کہ مولوی صاحب کے گھوڑے پر سے گرنے کی پیشگوئی ہے۔ وہ ان کے دستخط کرنے سے پوری ہو گئی۔ اور مولوی صاحب نے ارتداد کر لیا۔ اس کا میں نے ان کو یہ جواب دیا تھا کہ جب یہ الہام لفظاً پورا ہو گیا ہے۔ یعنی مولوی صاحب واقعہ میں گھوڑے پر سے گر گئے ہیں۔ تو پھر وہ معنی نہیں لئے جا سکتے۔ جو آپ نے لئے ہیں۔ یہ تو حضرت خلیفہ اول کی بات ہے۔ میری بیعت کرنے کے بعد کا ایک خط ہمارے پاس موجود ہے۔ جو مولوی محمد احسن صاحب کے بیٹے کا ان کی طرف سے لکھا ہوا ہے۔ اس میں وہ لکھتا ہے۔ ”بحضور جناب خلیفۃ المسیح والمہدی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب فضل عمر دامَ اِقْبَالُكُمْ وَ اِجْلَالُكُمْ۔ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ مرحمت نامہ نے صدور فرما کر اعزازِ دارین بخشا۔ رسالہ اِنَّہٗ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ وَّمَا ہُوَ بِالۡہَزۡلِ(86:14-15) کو خاکسار نے جناب والد صاحب کو سنایا۔ دعاوی صادقہ اور مصدقہ سن کر ایسے خوش ہوئے کہ عوارض لاحقہ متعلقہ پیری و دیگر امراض کو فراموش کر دیا اور کہنے لگے کہ الحمد للّٰہ میں نے وہ وقت پا لیا کہ جس کا میں سالہا سال سے منتظر تھا۔“

ان الفاظ میں مولوی صاحب نے جس رسالہ کو پڑھ کر یہ کہا ہے کہ ”الحمد للہ میں نے وہ وقت پالیا کہ جس کا میں سالہا سال سے منتظر تھا“ وہ وہی میرا رسالہ القول الفصل ہے۔ جس میں میں نے ان تینوں مسلوں کے متعلق اپنا عقیدہ ظاہر کیا ہے۔ جن سے مولوی صاحب نے اس تازہ اشتہار میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

یعنی (۱) نبوت مسیح موعودؓ (۲) کفر و اسلام (۳) اسمہ احمد کی پیشگوئی کے مصداق حضرت مسیح موعودؑ ہیں۔

مولوی صاحب نے اپنے خط میں ان عقائد کے صحیح ہونے کی صرف شہادت ہی نہیں دی۔ بلکہ اس رسالہ سے ان کی وہ امید بر آئی ہے جس کے وہ سالہا سال سے منتظر تھے۔ لیکن کیسے تعجب اور حیرانی کی بات ہے کہ اب انہی مسائل کے متعلق وہ لکھتے ہیں کہ مجھے ان کا علم نہ تھا۔ مولوی محمد احسن صاحب کے جس خط کا میں نے ذکر کیا ہے وہ اصل خط بھی ہم دکھا سکتے ہیں۔ پھر اسی خط میں انہوں نے القول الفصل جس میں مسئلہ کفر و اسلام۔ نبوت مسیح موعودؑ اور اسمہ احمد کی بحث ہے کا جواب لکھنے والوں کے متعلق لکھا ہے کہ:

”یہاں پر آلِ فرعون لاہوریوں کی نسبت جناب والد صاحب کی طرف سے لکھتا ہوں۔ خارجاً معلوم ہوا کہ اس رسالہ الفصل کو ایک شیطان نے یہ کہا کہ مصنف رسالہ شریر ہے‘ کذاب ہے‘ چالباز ہے‘ میں سارے پردے اس کے کھولوں گا۔ یہ قول تو اس کا ایک ادنیٰ ہے۔ اس کا تو وہی حال ہے جو فرعون کا تھا وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ذَرُوۡنِیۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰی وَلۡیَدۡعُ رَبَّہٗ ۚ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اَنۡ یُّبَدِّلَ دِیۡنَکُمۡ اَوۡ اَنۡ یُّظۡہِرَ فِی الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ(المؤمن: ۲۷) قَالَ فِرۡعَوۡنُ مَاۤ اُرِیۡکُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰی وَمَاۤ اَہۡدِیۡکُمۡ اِلَّا سَبِیۡلَ الرَّشَادِ(المؤمن: ۳۰) انشاء اللہ تعالیٰ اگر بالآخر توبہ نہ کی تو غرق طوفان ضلالت میں ہو جاوے گا“۔

ان الفاظ میں مولوی صاحب نے اس میرے رسالہ کا جواب لکھنے والے اور لاہوریوں یعنی غیر مبائعین کو فرعون قرار دیا ہے۔ اب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اگر وہ فرعون نہیں ہیں تو پھر مولوی صاحب پر سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقٌ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے والی حدیث کے مطابق کیا فتویٰ لگتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ مولوی صاحب اگر اس کا جواب دیں تو یہی دیں گے کہ اس وقت مجھ سے غلطی ہو گئی کہ میں نے ان لوگوں کو فرعون کہا اور غرق طوفان ضلالت بنایا۔ مگر یہ کیسے غضب کی بات ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ مجھے صاحبزادہ صاحب کے عقائد معلوم نہیں تھے اس لئے بیعت کی تھی۔ اپنی غلطی کا اقرار کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں کچھ ہتک ہوتی ہے۔ آپ صاحبان میں سے کئی لوگ ایسے ہوں گے کہ جنہوں نے پہلے بیعت نہیں کی تھی لیکن جب ان کو غلطی معلوم ہوئی تو بیعت کرلی۔ کیا اس سے ان کی ہتک ہوگئی۔ پھر کیا حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے عقیدے پہلے اور نہیں تھے اور پھر انہوں نے ان کو چھوڑ کر آنحضرت ﷺ کو قبول نہیں کرلیا تھا کیا حضرت عمرؓ رسول کریم ﷺ کو قتل کرنے کی نیت سے گھر سے نہیں نکلے تھے لیکن اپنی غلطی کو معلوم کر کے آنحضرتؐ کے غلام بن گئے۔ تو غلطی کا اقرار کرنا شان کو بڑھانے والی بات ہے نہ کہ کم کرنے والی۔ پس اگر مولوی محمد احسن صاحب یہ کہتے ہیں کہ پہلے میرے عقائد بھی وہی تھے جو مبائعین کے ہیں لیکن اب مجھے اپنی غلطی معلوم ہوگئی ہے اس لئے میں ان کو چھوڑتا ہوں تو ہم کبھی ان کی دیانت اور امانت پر الزام نہ لگاتے۔ لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ مجھے میاں صاحب کے عقائد معلوم ہی نہ تھے اب معلوم ہوئے ہیں اس لئے میں علیحدہ ہوتا ہوں اور یہ جھوٹ ہے۔ پھر دیکھئے جس دن حضرت خلیفہ اول فوت ہوئے ہیں اس سے دوسرے ہی دن جناب نواب صاحب کے مکان پر چند آدمی مشورہ کے لئے جمع ہوئے تو وہاں مولوی محمد علی صاحب نے کہا کہ ہمارا اور میاں صاحب کا عقائد میں اختلاف ہے۔ یہ حضرت مسیح موعودؑ کے نہ ماننے والوں کو کافر کہتے ہیں اور ہم نہیں کہتے۔ یہ حضرت مسیح موعودؑ کو ایسا ہی نبی سمجھتے ہیں جیسے دوسرے نبی پھر ہم کس طرح ان کی بیعت کرسکتے ہیں۔ اس مجلس میں مولوی محمد احسن صاحب بھی موجود تھے۔ وہ قسم کھا کر بتلائیں کہ کیا یہ باتیں اس وقت مولوی محمد علی صاحب نے کہی تھیں یا نہیں۔ اگر کہی تھیں اور مولوی محمد احسن صاحب کو اس وقت میرے یہ عقائد معلوم نہ تھے تو انہوں نے مولوی محمد علی صاحب کو کیوں نہ کہا کہ تم یہ غلط کہہ رہے ہو ان کے تو یہ عقائد نہیں ہیں۔ بلکہ اس وقت تو انہوں نے مولوی محمد علی صاحب کو یہی کہا تھا کہ ہمارے ساتھ بحث کر کے ان باتوں کا فیصلہ کرلو کہ کس کے عقائد درست اور صحیح ہیں۔ پھر اسی مجلس میں ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب جوش میں آکر بول اٹھے تھے کہ ہاں واقعہ میں ہم حضرت مسیح موعودؑ کو نبی سمجھتے ہیں اور ایسا ہی نبی سمجھتے ہیں جیسا کہ پہلے تھے اور کیوں نہ سمجھیں جبکہ حضرت مسیح موعودؑ نے خود لکھ دیا ہے کہ ؎

منم مسیح زمان و منم کلیم خدا

منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

اُس وقت مولوی محمد احسن صاحب نے ان کو کیوں نہ روکا کہ یہ کیا کر رہے ہو یہ تو ہمارے عقائد نہیں۔ بلکہ الٹی ان کی تائید کی۔ پھر میں نے بیعت لیتے وقت جو تقریر کی تھی اس میں بھی میں نے اپنے عقائد بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ

”میرے پیارو! میرا وہ محبوب آقا سید الانبیاء ایسی عظیم الشان شان رکھتا ہے کہ ایک شخص اس کی غلامی میں داخل ہو کر کامل اتباع اور وفاداری کے بعد نبیوں کا رتبہ حاصل کر سکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ آنحضرت ہی کی ایسی شان اور عزت ہے کہ آپ کی سچی غلامی میں نبی پیدا ہو سکتا ہے یہ میرا ایمان ہے اور پورے یقین سے کہتا ہوں“۔

میری اس تقریر کے وقت مولوی محمد احسن صاحب بھی موجود تھے اس وقت وہ کیوں نہ بول پڑے۔ لیکن درست بات یہ ہے کہ جو کچھ میرے عقائد ہیں۔ وہ ان کو اس وقت بھی خوب اچھی طرح معلوم تھے اور وہ خود بھی ان کے ساتھ متفق تھے اور اب جو انہوں نے اعلان کیا ہے وہ بالکل غلط ہے۔ پھر ان کے اشتہار میں ایک اور لطیفہ ہے جس کو دیکھ کر مجھے افسوس بھی ہوا اور خوشی بھی۔ افسوس تو اس لئے کہ وہ کیسی لغو اور بیہودہ باتیں کرنے لگ گئے ہیں اور خوشی اس لئے کہ ان کے اس اشتہار سے میری حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ ایک اور مماثلت ثابت ہو گئی۔ اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب دعویٰ کیا تو محمد حسین صاحب بٹالوی نے لکھا کہ میں نے مرزا کو بڑھایا تھا اور میں ہی اس کو گھٹاؤں گا۔ لیکن خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کے لئے وہ نشانات دکھلائے کہ آپ بہت زیادہ بلند ہو گئے اور وہ بالکل گر گیا۔ مولوی محمد احسن صاحب نے بھی اسی کی طرح میرے متعلق اعلان کیا ہے کہ

”صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب بوجہ اپنے عقائد فاسدہ پر مصر ہونے کے میرے نزدیک ہرگز اب اس بات کے اہل نہیں کہ وہ حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت کے خلیفہ یا امیر ہوں۔ اور اس لئے میں اس خلافت سے جو محض ارادی ہے سیاسی نہیں صاحبزادہ صاحب کو اپنی طرف سے عزل کر کے عنداللہ و عند الناس اس ذمہ داری سے بری ہوتا ہوں۔ جو میرے سر پر تھی“

عجیب بات ہے کہ یہ انہی مولوی محمد احسن صاحب کی طرف سے اعلان شائع ہوا ہے جنہوں نے مجھے لکھا تھا کہ

”میں یقین کامل سے کہتا ہوں کہ حقیقت آپ کی خلافت کی ثابت شدہ صداقت ہے اور منکرین اس کے بڑے خطا کار ہیں“

کیا اب ان کے نزدیک میری خلافت ثابت شدہ صداقت نہیں رہی۔ اور پھر ان کا کیا اختیار ہے کہ ایک ثابت شدہ صداقت سے مجھے معزول کر کے بڑے خطا کار سے بھی کچھ زیادہ اور بنیں۔ کیونکہ ”بڑے خطا کار“ تو انہوں نے میری خلافت کے منکروں کو خود قرار دیا ہے لیکن وہ تو مجھے خلافت سے معزول کر رہے ہیں۔ میں کہتا ہوں خلیفہ اگر خدا بناتا ہے اور واقعہ میں خدا ہی بناتا ہے تو مولوی محمد احسن چھوڑ دنیا کی کوئی طاقت ایسی نہیں ہے جو اسے معزول کر سکے۔ ہاں میں یہ مان لیتا ہوں کہ مولوی محمد احسن نے جو مجھے خلافت دی تھی۔ اس سے میں معزول ہوتا اور اعلان کرتا ہوں کہ جس کسی نے ان کی دی ہوئی خلافت سمجھ کر میری بیعت کی تھی وہ اپنی بیعت فسخ کرنے میں آزاد ہے۔ یوں تو ہر ایک اپنے عقائد کے رکھنے میں آزاد ہے لیکن میں خود ایسے لوگوں کو کہتا ہوں کہ وہ بیعت فسخ کرلیں۔ لیکن جس کسی نے خدا تعالیٰ کی دی ہوئی خلافت کے لئے اسی کے تصرف کے ماتحت بیعت کی تھی اس کے سامنے اگر ساری دنیا بھی محمد احسن بن کر اعلان کرے تو وہ کبھی فسخ نہیں کرے گا۔ اور پھر جس قدر دنیا کے انسان ہیں ان کے خون کے ایک ایک قطرہ سے محمد احسن ہی محمد احسن بن جائیں اور دنیا کے چاروں طرف سے آکر مجھے خلافت سے معزول کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے۔ میں تو محمد احسن کی دی ہوئی خلافت پر لعنت بھیجتا ہوں۔ وہ اپنی خلافت کو گھر رکھیں میں نے نہ ان سے خلافت لی ہے اور نہ وہ مجھے معزول کر سکتے ہیں۔ باقی رہا یہ کہ اُس وقت کھڑے ہو کر انہوں نے تقریر کرتے ہوئے میرا نام پیش کر دیا تھا اس سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انہوں نے مجھے خلیفہ بنایا تھا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے بعد حضرت عثمانؓ کا نام خلیفہ بننے کے لئے پیش کیا تھا لیکن جب ان کو کہا گیا کہ آپ کو خلافت سے معزول کیا جاتا ہے تو انہوں نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے عبا پہنائی ہے اگر ساری دنیا مل کر بھی مجھے کہے کہ اتار دو تو میں نہیں اتاروں گا۔ اسی طرح میں کہتا ہوں کہ ایک مولوی محمد احسن کیا اگر ساری دنیا بھی مجھے کہے کہ تجھے خلافت سے معزول کیا جاتا ہے تو میں وہی جواب دوں گا جو حضرت عثمانؓ نے دیا تھا۔ یہ تو خدا تعالیٰ کی گرفت تھی کہ اس نے مولوی محمد احسن کو پکڑ کر میری تائید کرا دی اور یہ بھی میری صداقت کا ایک نشان ہے۔ ہاں ان کی دی ہوئی خلافت پر نہ میں قائم تھا اور نہ معزول ہوتا ہوں۔ لیکن اگر کسی نے ان کی دی ہوئی خلافت کے خیال سے میری بیعت کی تھی تو میری طرف سے آزادی ہے کہ اپنی بیعت فسخ کر دے۔ میری طرف سے

آزادی میں نے اس لئے کہا ہے کہ اگر کوئی اس طرح کی بیعت فسخ کرے گا تو میرے نزدیک اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ پس ان لوگوں کو میں پھر کہتا ہوں کہ جنہوں نے مولوی محمد احسن صاحب کی دی ہوئی خلافت سمجھ کر میری بیعت کی تھی وہ آزاد ہیں اور چلے جائیں (چاروں طرف سے بڑے زور کے ساتھ آوازیں آئیں کہ ہم نے خدا تعالیٰ کی دی ہوئی خلافت سمجھ کر بیعت کی تھی۔ مولوی احسن کے لئے نہیں کی تھی) لیکن اگر آپ لوگوں نے خدا تعالیٰ کے لئے کی تھی اور اسی خانہ خدا میں کی تھی یا باہر سے خطوط کے ذریعہ کی تھی تو پھر کوئی انسان آپ لوگوں میں سے پھر نہیں سکتا اور یقیناً نہیں پھر سکتا اور جو پھرے گا وہ دیکھ لے گا کہ ایک کے جانے سے خدا تعالیٰ جماعت در جماعت ہم میں شامل کر دے گا۔ اور ہماری تائید میں اس قدر نشانات دکھلائے گا کہ دنیا حیران رہ جائے گی۔ اور اگر وہ غیر احمدیوں کی طرح قرآن کریم کی آیتوں کا انکار نہ کرتے جائیں تو اور بات ہے لیکن اس آیت کا ان کے پاس کیا جواب ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَوَلَمۡ یَرَوۡا اَنَّا نَاۡتِی الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُہَا مِنۡ اَطۡرَافِہَا(الرعد: ۴۲) کہ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو کم کرتے آتے ہیں اس کی اطراف سے۔ یعنی ان میں چاروں طرف سے لوگوں کو داخل کرتے جاتے ہیں۔ کیا خدا تعالیٰ کی یہ عملی شہادت ہماری صداقت کی دلیل نہیں ہے۔ کیا ان چند ایک کے نکالے جانے کے بعد خدا تعالیٰ نے چاروں طرف سے ہزار ہا نئے ہم میں داخل نہیں کئے۔ اور کیا ہندوستان سے باہر ،سیلون ،نائیجیریا ،انگلینڈ اور ماریشس میں ہماری نئی جماعتیں نہیں قائم ہو گئیں۔ اور اس خطۂ زمین میں جہاں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کا نام لینا ستم قاتل ہے۔ اور جہاں کہ آزادی کے نعرے مارے جاتے ہیں اس میں رہنے والے لوگ بھی ہماری بیعت میں داخل نہیں ہو گئے ہیں (جس کے معنی پیچ دینے کے ہیں) اس بات کے ہوتے ہوئے کیا ہو سکتا ہے کہ وہ ہم پر غالب آجائیں۔ ہرگز نہیں۔ وہ دن بدن مغلوب ہوتے جائیں گے اور ایک دن وہ آئے گا جبکہ ان کا عدم و وجود برابر ہو جائے گا۔ اگر ان میں سے کسی کا خیال ہے کہ وہ کامیاب ہو جائیں گے تو یہ ایک باطل خیال ہے۔

مولوی محمد احسن صاحب کے ان میں شامل ہونے کے متعلق مجھے خدا تعالیٰ نے پہلے ہی خبر دے دی تھی۔ ایک سال کا عرصہ ہوا مجھے بتایا گیا تھا کہ ایک شخص محمد احسن نامی نے قطع تعلق کر لیا ہے۔ پھر ابھی چند ہی دن ہوئے جبکہ مولوی محمد احسن ابھی امروہہ میں ہی تھے اور میری طرف فضل عمر فضل عمر کر کے انکی طرف سے خط آ رہے تھے۔ اور مجھے لکھتے تھے کہ مجھ میں اور آپ میں جو اختلاف ہے وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ صحابہؓ میں ہوتا تھا۔ اور پھر یہ بھی لکھا تھا کہ خدا تعالیٰ نے آپ کا نام اولوالعزم رکھا ہے امید ہے کہ آپ مجھ سے اس اختلاف کی وجہ سے ناراض نہیں ہوں گے۔ انہی دنوں میں میں نے رؤیا میں دیکھا تھا کہ مولوی محمد احسن صاحب کی نسبت خط آیا ہے کہ مر گئے ہیں۔ اور مرنے کی ایک تعبیر مرتد ہونا بھی ہے۔ میں نے یہ رؤیا لوگوں کو سنا دی تھی اور اسبات کے کئی ایک گواہ اس وقت بھی موجود ہوں گے۔ پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں ہی میرے چھوٹے بھائی میاں شریف احمد نے ایک رؤیا دیکھی تھی جو حضرت صاحب کو سنائی گئی تھی کہ ایک شخص ہے جس کا نام محمد احسن ہے اس کی قبر بازار میں بنی ہوئی ہے۔ حضرت صاحب کو جب یہ خواب سنائی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اس نام کا کوئی شخص مرتد ہو جائے گا۔ گلی میں قبر کے ہونے کی تعبیر مرتد یا منافق ہے۔

میں نے جس رؤیا میں دیکھا تھا کہ ان کے مرنے کا خط آیا ہے۔ اسی میں میں نے یہ بات سن کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خبر کی۔ اس وقت میرے آنسو نکل آئے اور میں نے کہا افسوس ان کا انجام اچھا نہ ہوا۔ اگر اس رؤیا میں ان کے مرنے سے جسمانی مرنا مراد ہوتا تو حضرت مسیح موعودؑ مجھے بتلاتے نہ کہ میں آپ کو اس کی خبر کرتا۔ پس اس سے بھی معلوم ہوا کہ ان کا پھر جانا ہی مراد تھا۔

سو مجھ پر کس قدر خدا کا فضل ہے کہ اس نے ان کے پھرنے کی قبل از وقت اطلاع دے دی تھی۔ پھر میں نے ایک رؤیا دیکھی تھی جو خطبہ جمعہ میں بیان کر دی تھی اور اخبار الفضل میں چھپ چکی ہے کہ مجھے دو آدمی دکھائے گئے جو مرتد ہو چکے ہیں۔ اس وقت مولوی محمد احسن صاحب کے متعلق وہم و گمان بھی نہ تھا۔ پس میں انسان پرست نہیں ہوں کہ کسی انسان کے پھر جانے کو خیال میں لاؤں۔ بلکہ خدا پرست ہوں اور ہمیشہ سے میرا بھروسہ خدا ہی پر رہا ہے۔ اس وقت جبکہ ابھی میری عمر انیس سال کی تھی اور یہ کوئی بڑی عمر نہیں عام طور پر اس عمر میں لوگ کھیلتے پھرتے ہیں۔ اس وقت جب حضرت مسیح موعودؑ فوت ہوئے تو میرے دل میں خیال آیا کہ آپ کی بہت سی پیشگوئیاں ایسی ہیں جن پر لوگوں کو ابتلاء آ سکتا ہے اور میں نے سوچا کہ اگر آپ کے بعد خدانخواستہ ارتداد کا سلسلہ شروع ہو گیا تو کیا ہوگا۔ یہ خیال میرے دل میں آیا ہی تھا کہ میرے دل سے یہ آواز نکلی کہ اگر ساری جماعت بھی مرتد ہو جائے تو میں کچھ پرواہ نہیں کروں گا اور اس صداقت کو لے کر جو حضرت مسیح موعودؑ لائے ہیں میں اکیلا ہی کھڑا ہو جاؤں گا اور تمام دنیا میں پھیلا دوں گا۔

اس میں شک نہیں کہ میری صحت اچھی نہیں رہتی اور میں جسم کا کمزور ہوں مگر خدا تعالیٰ نے مجھے بہت مضبوط اور بہادر دل دیا ہے۔ ہاں رحم اور شفقت کا مادہ بھی مجھ میں بہت زیادہ ہے۔ اس لئے جہاں تک ہو سکے میں درگزر کرتا اور اصلاح کا موقعہ دیتا ہوں۔ چند ہی دن ہوئے کہ میں نے اپنی طرف سے مفتی محمد صادق صاحب کو ایک خط دے کر مولوی محمد احسن صاحب کی طرف لاہور روانہ کیا تھا جس میں ان کو بہت نرمی سے سمجھایا گیا تھا۔ پس میں نے اپنی طرف سے ان کے معاملہ میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہر رنگ اور ہر طریق سے ان کی دلداری کی ہے۔ جب مجھے ابتداء میں ان کے متعلق معلوم ہوا تو چار پانچ آدمی امروہہ ان کے پاس بھیجے لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ اور بالآخر جو مقدر میں تھا وہ ہو گیا۔ لیکن یہ بھی میری صداقت کے لئے ایک نشان ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ اس طرح دکھانا چاہتا ہے کہ جو کام ہو رہا ہے وہ خدا ہی کرارہا ہے نہ کہ کسی انسانی مدد اور تائید سے چل رہا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں لوگوں کا خیال تھا کہ یہ سلسلہ آپ ہی سے تعلق رکھتا ہے جب آپ نہ رہیں گے تو یہ بھی نہیں رہے گا۔ لیکن جب آپ فوت ہو گئے اور یہ سلسلہ پہلے سے بھی زیادہ بڑھنے لگا تو بعض نے کہا کہ ہم جو کہتے تھے کہ مولوی نور الدین صاحب مرزا صاحب کو کتابیں لکھ کر دیتے اور وہ شائع کرتے تھے۔ یہ بات صحیح نکلی کیونکہ اب مرزا صاحب کے بعد مولوی صاحب ہی اس کام کو چلا رہے ہیں۔ جب یہ فوت ہو گئے تو پھر اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ چنانچہ خواجہ غلام الثقلین نے یہی لکھا تھا۔ لیکن کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال تھا کہ اس جماعت میں جو انگریزی خواں ہیں ان کی وجہ سے کام چل رہا ہے۔ خدا تعالیٰ نے ان دونوں قسم کے لوگوں کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے یہ نشان دکھلایا کہ ایک ہی وقت میں ادھر حضرت مولوی صاحب کو وفات دے کر سلسلہ سے جدا کر لیا اور ادھر ان انگریزی خوانوں کو جن پر لوگوں کی نظریں پڑتی تھیں جدا کر دیا تاکہ ثابت کر دے کہ یہ خدا تعالیٰ کا سلسلہ ہے اور وہی اس کو چلا رہا ہے۔ لیکن پھر بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ اس وقت یہ سلسلہ مٹ جانا تھا لیکن مولوی محمد احسن نے خلافت کو قائم کر کے پھر بچا لیا ہے۔ جب یہ خیال پیدا ہوا تو خدا تعالیٰ نے کہا کہ لو ہم اس کو بھی علیحدہ کر دیتے ہیں اس طرح شرک کی یہ لات بھی ٹوٹ گئی۔ لوگوں نے اس سلسلہ کو قائم رکھنے والی چار لاتیں بنائی تھیں۔ ایک حضرت

مسیح موعودؑ کی نسبت خیال تھا کہ ان کی ہوشیاری سے سلسلہ چل رہا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے آپ کو وفات دینے کے بعد سلسلہ کو قائم رکھ کر بتا دیا کہ گو یہ ہمارا نبی اور رسول ہے مگر یہ سلسلہ اس کا نہیں ہمارا اپنا ہے۔ دوسرے مولوی نور الدین صاحب کی نسبت خیال تھا کہ ان کی وجہ سے اس سلسلہ کا قیام ہے مگر خدا تعالیٰ نے ان کی وفات کے بعد بھی اس سلسلہ کو قائم رکھ کر دکھا دیا کہ گو وہ ہمارا پیارا مقرب بندہ تھا مگر یہ سلسلہ اس کا بھی نہیں میرا اپنا ہے۔ تیسرے بعض انگریزی خوانوں کی نسبت خیال تھا کہ ان کی تدابیر سے اس سلسلہ کو شہرت حاصل ہوئی ہے مگر خدا تعالیٰ نے ان کے الگ ہونے کے بعد سلسلہ کو برقرار رکھ کر سمجھا دیا کہ ان کو عزت اور رتبہ اس لئے حاصل ہوا تھا کہ یہ میرے سلسلہ میں داخل ہوئے تھے نہ کہ ان کی وجہ سے سلسلہ کو تقویت حاصل ہوئی تھی۔ چوتھے مولوی محمد احسن کی نسبت بعض لوگوں کا خیال تھا کہ ان کی شخصیت کی وجہ سے یہ جماعت پراگندہ ہونے سے محفوظ رہی ہے سو ان کو بھی علیحدہ کر کے ثابت کر دیا کہ اس سلسلہ کا سہارا کسی انسان پر نہ تھا۔ اب اگر مولوی صاحب توبہ کریں اور اپنی غلطی سے آگاہ ہو کر پھر اس سلسلہ میں شامل ہو جائیں تو بھی دنیا نے تو دیکھ ہی لیا ہے کہ ان کے نہ ہونے سے اس سلسلہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا ۔ ہماری تو یہی دعا ہے کہ خدا تعالیٰ ان کو ہدایت پانے کی توفیق عطا فرمائے۔

اب میں کچھ اور بیان کرنا چاہتا ہوں۔ بعض دوستوں نے مجھے بتایا ہے کہ غیر مبائعین بعض لوگوں کو میرے عقائد کے متعلق دھوکا دیتے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ جبکہ میں اپنے عقائد کو اپنی کتابوں میں نہایت واضح طور پر لکھ چکا ہوں تو پھر کیوں دھوکا لگتا ہے تاہم مختصر طور پر اس وقت کچھ بیان کر دیتا ہوں۔

پہلی بات میری طرف یہ منسوب کی جاتی ہے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو آنحضرت ﷺ کے برابر سمجھتا ہوں۔ اس میں شک نہیں کہ ظلیت کے لحاظ سے حضرت مسیح موعودؑ میں آنحضرت ﷺ کے تمام کمالات آگئے ہیں مگر درجہ کے لحاظ سے آپ کو آنحضرت ﷺ کے برابر کہنا میں کفر سمجھتا ہوں۔ دیکھو تصویر میں وہ باتیں آجاتی ہیں جو اصل میں ہوتی ہیں۔ مثلاً ہاتھ ‘ ناک ‘ کان ‘ سر ‘ آنکھیں وغیرہ وغیرہ مگر پھر بھی تصویر تصویر ہی ہے اور اصل اصل ہی۔ پس میرا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس قدر رسول کریم ﷺ کے نقش قدم پر چلے کہ وہی ہو گئے لیکن کیا استاد اور شاگرد کا ایک مرتبہ ہو سکتا ہے۔

گو شاگرد علم کے لحاظ سے استاد کے برابر بھی ہو جائے تاہم استاد کے سامنے زانوئے ادب خم کر کے ہی بیٹھے گا۔ یہی نسبت آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعودؑ میں ہے۔ ہم اگر آپ کو آنحضرت ﷺ کا کامل ظل اور بروز مانتے ہیں تو ساتھ ہی یہ بھی یقین اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ آپ کا تعلق رسول کریم ﷺ سے خادم اور غلام کا ہے۔ ہاں یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کچھ رسول کریم ﷺ کے ذریعہ ہوا تھا وہی مسیح موعودؑ نے ہمیں دکھلا دیا۔ اس لحاظ سے برابر بھی کہا جا سکتا ہے مگر یہ نہیں کہ آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک شان اور ایک درجہ ہے۔ بلکہ شاگرد اور استاد، آقا اور غلام کی نسبت ہے۔ البتہ حضرت مسیح موعودؑ آپ کی کامل اتباع اور پوری پیروی سے ایسے صاف ہوئے کہ آنحضرت ﷺ کے تمام کمالات اپنے اندر اخذ کر لئے۔

کوئی کہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ کے تمام کمالات اپنے اندر نقل کر لئے ہیں تو پھر آپ کے درجہ اور شان کی کیا خصوصیت رہی۔ مگر ایسا کہنے والے کو یاد رکھنا چاہئے کہ نقل کرنا بھی خاص شان اور درجہ رکھتا ہے۔ ایک قصہ مشہور ہے کہ چین کے مصوّر مانی اور بہزاد کے لئے کسی نے انعام مقرر کیا تھا کہ جو تم میں سے اعلیٰ تصویر بنائے گا اسے دیا جائے گا۔ اس کے لئے ایک دیوار بنا کر ایک طرف ایک کو اور دوسری طرف دوسرے کو بٹھا دیا گیا۔ ایک تو تصویر بنانے میں مشغول ہو گیا اور دوسرا یونہی بیٹھا رہا۔ انعام مقرر کرنے والا شخص روز آ کر دیکھتا اور اسے کہتا کہ تم کب بناؤ گے دوسرا تو بنا رہا ہے۔ وہ کہہ دیتا کہ آپ وقت مقررہ پر تصویر دیکھ لینا میں جب چاہوں گا بنالوں گا۔ وقت مقررہ پر جب دیکھا گیا تو جس طرح کی تصویر ایک نے بنائی تھی ہو بہو اسی طرح کی دوسرے نے بھی بنالی۔ اور انعام دینے والے کے لئے مشکل پڑ گئی کہ کس کو انعام دے کیونکہ دونوں کی تصویریں ایک ہی طرح کی تھیں۔ اس کام نہ کرنے والے نے کس طرح ہو بہو اسی طرح کی تصویر بنا لی۔ اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے چھیلتے چھیلتے دیوار کو اس قدر پتلا کر لیا تھا کہ دوسرے کی تصویر کا عکس اس پر پڑنے لگا اور اس سے اس نے تصویر بنالی۔

یہ ایک مثال ہے۔ لیکن کیا اس سے عکس کو دیکھ کر تصویر بنانے والے کی قابلیت کا پتہ نہیں لگتا۔ پس اس لحاظ سے کہ حضرت مسیح موعودؑ آنحضرت ﷺ کے کامل مظہر تھے۔ آپ کو عین محمدؐ لکھا گیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ نے آنحضرت ﷺ سے الگ ہو کر

نبوت کا دعویٰ کیا اور آپ عین محمدؐ بن گئے۔ بلکہ یہ کہ آنحضرت ﷺ میں جو خوبیاں تھیں وہی آپ کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری سے آپ میں بھی آگئیں۔ پس جہاں آنحضرتؐ اور مسیح موعودؑ مقابلہ پر آئیں گے۔ وہاں رسول کریم آقا کے درجہ پر اور مسیح موعودؑ خادم کے درجہ پر کھڑے ہوں گے۔ اور جہاں الگ الگ نام لیا جائے گا۔ وہاں حضرت مسیح موعودؑ کو آنحضرت ﷺ کے تمام کمالات حاصل کرنے کی وجہ سے عین محمدؐ بھی کہہ سکیں گے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ حضرت مسیح موعودؑ کی ان تحریرات کے ہوتے ہوئے جن میں آپ نے اپنے درجہ کو صاف طور پر بیان فرما دیا ہے۔ پھر کیوں دھوکا لگتا ہے۔ پہلے علماء نے بھی لکھا ہے کہ مسیح موعودؑ کا جھنڈا آنحضرت ﷺ کے جھنڈے سے نیچے ہوگا۔ اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ وائسرائے کے تخت پر بھی بادشاہ لکھا ہوتا ہے اور اس جگہ بچھایا جاتا ہے جہاں بادشاہ کا تخت ہوتا ہے۔ مگر جہاں بادشاہ اور وائسرائے اکٹھے ہوں وہاں وائسرائے کا تخت نیچے رکھا جائے گا۔

پس اس لحاظ سے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ آنحضرت ﷺ سے حاصل کیا۔ آپ خادم ہیں اور آنحضرت ﷺ آقا اور اس لحاظ سے کہ آپ نے آنحضرت ﷺ کے تمام کمالات اخذ کرلئے عین محمدؐ۔ اس بات پر اگر ساری دنیا بھی ہماری مخالف ہو جائے تو ہمیں اس کی کیا پرواہ ہے جبکہ حضرت مسیح موعودؑ نے خود لکھ دیا ہے کہ ؎

آنچہ داد است ہر نبی راجام

داد آں جام را مرا بہ تمام

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

من بعرفان نہ کمترم زکسے

کم نیم زاں ہمہ بروئے یقیں

ہر کہ گوید دروغ ہست لعیں

یعنی تمام نبیوں کو جو کچھ دیا گیا ہے۔ وہ سب کچھ ملا کر مجھے دیا گیا ہے۔ اس سے آنحضرت ﷺ ہی کی بلند شان معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ تمام نبیوں کے جامع تھے۔ تب ہی تو مسیح موعودؑ بھی آپ کے ذریعہ تمام انبیاء کے کمالات کے جامع ہو گئے۔ جَرِیُّ اللهِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ کے بھی یہی معنی ہیں کہ تمام انبیاء کے اصل جامع تو آنحضرت ﷺ ہی تھے۔ لیکن حضرت مسیح موعودؑ نے بھی اپنا سینہ آنحضرت ﷺ کی اتباع کی وجہ سے ایسا صاف کیا کہ آپ کی پوری تصویر اپنے اندر کھینچ لی۔ اور دیکھنے والے کے لئے کوئی فرق نہیں رہا۔ مگر پھر بھی آپ خادم اور آنحضرت ﷺ آقا ہی ہیں۔

نبوت مسیح موعودؑ کے متعلق میرا یہی عقیدہ ہے اور اسی کو میں نے شائع کیا ہے۔ اور اب بھی دعا کرتا ہوں کہ اسی عقیدہ پر خدا تعالیٰ مجھے وفات دے۔

مسئلہ کفر و اسلام

باقی رہا کفر و اسلام کا مسئلہ اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ میرے نزدیک وہ لوگ جنہوں نے مسیح موعودؑ کا نام سن کر آپ کو قبول کیا اور وہ لوگ جنہوں نے سنا ہی نہیں برابر ہیں۔ لیکن یہ غلط ہے۔ مؤمن ماننے والے کو کہتے ہیں اور کافر انکار کرنے والے کو یہ دو گروہ ہیں۔ آگے نہ ماننے والے کئی قسم کے ہیں وہ سب برابر نہیں ہو سکتے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ گورنمنٹ اعلان کرے کہ تمام لوگ ایک جگہ جمع ہوں کچھ لوگ تو اس اعلان کو سن کر جمع ہو جائیں۔ اور کچھ باوجود اعلان کے سننے کے شرارت سے جمع نہ ہوں۔ اور کچھ ایسے ہوں کہ جو اعلان کی بے علمی کی وجہ سے جمع نہ ہو سکیں۔ اس پر جب گورنمنٹ حکم دے گی کہ جو لوگ جمع نہیں ہوئے ان کو پکڑ کر لایا جائے۔ تو ان پکڑ کر لائے ہوئے لوگوں میں ہی وہ بھی شامل ہوں گے جو لاعلمی کی وجہ سے نہیں آسکے۔ ہاں آگے یہ فیصلہ گورنمنٹ کرے گی کہ جو شرارت سے نہیں آئے ان کو سزا دی جائے اور جو لاعلمی کی وجہ سے نہیں آئے ان کو چھوڑ دیا جائے۔ اسی طرح یہ فیصلہ کرنا بھی خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ جن لوگوں نے حضرت مسیح موعودؑ کو نہیں مانا ان میں سے کن کو سزا دے اور کن کو چھوڑ دے۔ لیکن وہ سب شامل تو نہ ماننے والوں میں ہی ہوں گے اس لئے ان کا نام بھی ایک ہی رکھا جائے گا۔

ہاں خدا تعالیٰ ظالم نہیں کہ وہ کسی کو اس لئے سزا دے کہ تم نے مسیح موعودؑ کا نام کیوں نہیں سنا اور کیوں نہیں مانا۔ پس یہ مجھ پر افتراء ہے کہ میں حضرت مسیح موعودؑ کے قبول نہ کرنے والے سب لوگوں کو ایک ہی جیسا سمجھتا ہوں۔ میرا تو یہ عقیدہ ہے کہ دنیا میں دو گروہ ہیں۔ ایک مؤمن دوسرا کافر اس لئے جو حضرت مسیح موعودؑ پر ایمان لانے والے ہیں وہ مؤمن ہیں اور جو ایمان نہیں لائے خواہ ان کے ایمان نہ لانے کی کوئی وجہ ہو وہ کافر۔ ہاں جسطرح ایمان والوں کے مدارج ہیں اسی طرح ایمان نہ لانے والوں کے بھی کئی درجے ہیں۔ بعض وہ جنہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کا مقابلہ کیا اور آپ پر کفر کے فتوے لگائے۔ بعض وہ جنہوں نے مقابلہ کیا مگر کم کیا۔ بعض وہ جنہوں نے کچھ بھی مقابلہ نہیں کیا مگر راست باز نہ سمجھا۔ بعض وہ جنہوں نے حسن ظنی سے کام لیا مگر بیعت میں شامل نہ ہوئے۔ بعض وہ جن تک آپ کا نام ہی نہیں پہنچا۔ ان میں خدا تعالیٰ فیصلہ کرے گا۔ ہاں اتنا میں کہہ سکتا ہوں کہ ایسے لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کا نام تک نہیں سنا ان کو اگر خدا تعالیٰ مسیح موعودؑ کے نہ ماننے کی سزا دے تو یہ ان پر ظلم ہوگا۔ مگر خدا تعالیٰ کبھی ایسا نہیں کرے گا۔

اسمُہٗ احمد کے متعلق

پھر میرے متعلق کہا جاتا ہے کہ میں آنحضرت ﷺ کو احمدؐ نہیں مانتا یہ بھی غلط ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ رسول کریم ﷺ سب سے بڑے احمد ہیں اگر آپؐ احمد نہ ہوتے تو پھر حضرت مسیح موعودؑ بھی احمد نہ ہوتے۔ مگر سوال تو ایک آیت کے متعلق ہے کہ اس میں کون سے احمد کا ذکر ہے۔ اور یہ ایسی بات ہے کہ میں آواز دوں عبد اللہ ادھر آؤ۔ تو اس نام کے دو شخص میرے پاس آجائیں۔ ان میں سے ایک کو میں کہہ دوں کہ تم چلے جاؤ میرے بلانے سے تمہارا بلانا مراد نہیں تھا بلکہ اس دوسرے کا تھا۔ تو کیا میرے اس قول سے کوئی یہ مراد لے سکتا ہے کہ میں نے اس کے عبد اللہ نام ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ یا کوئی اور شخص ہو کہ جس کا نام عبد اللہ نہ ہو لیکن وہ اللہ کا بندہ ہونے کی حیثیت سے عبد اللہ کہنے پر بول پڑے اور اسے کہا جائے کہ عبد اللہ سے مراد ہماری نام عبد اللہ ہے نہ کہ عبد اللہ کے معنی۔ تو کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ اس قول کے قائل نے اس شخص کے اللہ کا بندہ ہونے سے انکار کر دیا۔ ہرگز نہیں۔ یہی بات اس پیشگوئی کے متعلق ہے۔ میں کہتا ہوں اور یہی میری تحقیق ہے کہ رسول کریم ﷺ کا اسم ذات احمد نہیں تھا۔ بلکہ آپؐ کے والدین نے آپ کا نام محمد ﷺ رکھا تھا۔ البتہ احمدؐ آپ کا خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسا ہی خطاب تھا جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ابراہیمؑ، موسیٰؑ، داؤدؑ کہا گیا ہے۔ کیا کوئی احمدی کہہ سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ ابراہیمؑ موسیٰؑ نہیں تھے۔ ہاں یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ آپؑ کے نام نہیں تھے۔ اور کیا یہ کہنے والا آپ کی تکذیب کرتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ پس رسول کریم ﷺ کے متعلق میں بھی کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کا نام احمدؐ رکھا تھا۔ ماں باپ نے نہیں رکھا۔ آپ کا نام احمد رکھنے کے متعلق ہمارے سامنے ایسی حدیثیں پیش کی جاتی ہیں کہ جن کا کچھ اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ ہم ان کے مقابلہ میں صحیحین کی حدیثیں دکھا سکتے ہیں جن میں محمد ﷺ آپ کا نام بتایا گیا ہے۔ مسلم میں ایک حدیث ہے۔ ایک شخص آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آپؐ کو محمدؐ محمدؐ کر کے پکارنے لگا۔ ایک صحابی نے اسے مارا کہ محمد کیوں کہتا ہے رسول اللہؐ کیوں نہیں کہتا۔ اس نے کہا میں وہی نام پکارتا ہوں جو اسکے اہل نے اس کا رکھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں میرے اہل نے میرا نام محمدؐ ہی رکھا ہے۳

اس حدیث سے ایک اور بات بھی معلوم ہوتی ہے۔ اور وہ یہ کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا نام آپ کے دادا نے اور رکھا تھا اور والدہ نے اور۔ لیکن اس حدیث میں آپ نے یہ کہا ہے کہ میرے اہل نے میرا نام محمدؐ رکھا ہے۔ یعنی سارے رشتہ داروں نے یہی نام رکھا ہے۔ نہ کہ کسی نے کچھ۔ اور کسی نے کچھ یہ آپ کا نام احمد نہ ہونے کے متعلق ایک ایسی شہادت ہے۔ جسے مخالف بھی مانتے ہیں۔ اور رسول کریم ﷺ کی اپنی زبانی ہے۔

اس کے مقابلہ میں ہمارے سامنے ایسی حدیثیں پیش کی جاتی ہیں۔ جن کے متعلق محدثین کہہ چکے ہیں کہ وضعی ہیں۔ اگر ہم ان کو وضعی قرار دیتے۔ تو کہا جا سکتا تھا کہ اپنے خلاف ہونے کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ لیکن ان کو تو پہلے لوگ بھی وضعی قرار دے چکے ہیں۔ واقدی کے متعلق امام بخاری لکھتے ہیں کہ وہ کذاب تھا۔ پھر اس حدیث کے بیان کرنے والا وہ شخص ہے جس نے مرنے کے وقت کہا تھا کہ میں نے تین ہزار حدیثیں خود بنائی ہیں ایسے شخص کی بیان کی ہوئی حدیث کیا وقعت رکھتی ہے۔

پس میرا مذہب یہ ہے کہ صفت احمدیت کے لحاظ سے رسول کریم ﷺ احمدؐ ہیں۔ اور آپ سے بڑھ کر اور کوئی احمدؐ نہیں گزرا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے بھی اعجاز المسیح میں اس بات کو تسلیم کیا ہے۔

تو آنحضرت ﷺ کی صفت احمدؐ تھی۔ آپ کے والدین نے آپ کا نام احمدؐ نہ رکھا تھا۔ ہاں خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو اسی طرح احمد کہا گیا۔ جس طرح حضرت مسیح موعودؑ کو داؤدؑ اور سلیمانؑ، موسیٰؑ اور ابراہیمؑ کہا گیا۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کو حاشرؐ، عاقبؐ، ماحیؐ کہا گیا۔ (بخاری کتاب المناقب باب ماجاء فی اسماء رسول اللہ) پس میری طرف بات غلط طور پر منسوب کی جاتی ہے کہ میں آنحضرت ﷺ کو احمد نہیں سمجھتا۔ اور یہ بھی غلط ہے کہ میں کہتا ہوں کہ اس آیت میں آنحضرت ﷺ کا ذکر نہیں ہے۔ کیونکہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ آنحضرت ﷺ کے کامل ظل ہیں۔ تو جو کچھ ظل ہے۔ ضرور ہے کہ اصل بھی ہو۔ اور اس کے لئے ضروری ہے کہ آنحضرت ﷺ احمدؐ ہوں۔ تو پھر مسیح موعودؑ احمد ہوں۔

غیر احمدی کو لڑکی دینا

پھر ایک بات غیر احمدیوں کو لڑکی دینے کے متعلق ہے اس کے متعلق جو روایت پیش کی جاتی ہے۔ وہ حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ کا واقعہ نہیں۔ اور نہ ہی آپ سے اس کے متعلق مشورہ لیا گیا۔ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کو یہ کہا تھا کہ میرے رشتہ دار کہتے ہیں کہ ایک لڑکی کا تم نے قادیان میں نکاح کر دیا ہے۔ تو دوسری لڑکی ہمیں دے دو۔ اگر میں نے نہ دی تو وہ ناراض ہو جائیں گے۔ آپ نے فرمایا ہاں دے دو۔ لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ آپ کو یہ بھی علم تھا کہ جس لڑکے سے اس لڑکی کا نکاح ہونا ہے وہ غیر احمدی ہے۔ بعد میں جب آپ کو اس بات کا علم ہوا۔ تو آپ نے ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ صاحبہ کو کہا کہ ڈاکٹر صاحب کو کہہ دیں کہ یہ نسبت انہوں نے کیوں کی ہے۔ پھر فرمایا اچھا تم ابھی ان سے نہ کہنا میں حقیقتہ الوحی دوں گا وہ اس لڑکے کو پڑھنے کے لئے دی جائے اگر وہ اس کے بعد احمدی ہو جائے تو اس سے نکاح کیا جائے ورنہ نہیں۔ مگر بعد میں آپ کو یہ بات یاد نہ رہی۔

اس روایت کی حقیقت تو میں نے بیان کر دی ہے۔ لیکن اس کے علاوہ ہمارے پاس ایسی گواہیاں موجود ہیں۔ جو اس مسئلہ کو بالکل صاف کر دیتی ہیں۔ چنانچہ ایک شخص فضل الرحمن نام ہیلان ضلع گجرات کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ سے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار غیر احمدیوں کے ہاں اپنی لڑکی کا رشتہ کرنے کی اجازت مانگی لیکن آپ نے اجازت نہ دی۔ آپ کی وفات کے بعد جب اس نے رشتہ کر دیا تو حضرت خلیفہ اول نے اس کو اپنی جماعت سے نکال دیا اور وہ وہاں کے احمدیوں کا امام تھا اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے روک دیا۔ حضرت مولوی صاحب نے اپنی زندگی میں اسے داخل سلسلہ نہیں کیا۔ اب میں نے اس کی درخواستِ توبہ قبول کر لی ہے اور بیعت کرائی ہے۔

غیر احمدیوں کا جنازہ

پھر غیر احمدی کے جنازہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ فلاں غیر احمدی کا جنازہ حضرت مسیح موعودؑ نے پڑھایا تھا۔ ممکن ہے آپ نے کسی کی درخواست پر پڑھایا ہو۔ لیکن کوئی خدا کی قسم کھا کر کہہ دے کہ میں نے حضرت مسیح موعودؑ کو یہ کہا تھا کہ فلاں غیر احمدی فوت ہو گیا ہے آپ اس کا جنازہ پڑھ دیں۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ کو کہا گیا کہ فلاں کا جنازہ پڑھ دیں۔ اور آپ نے یہ سمجھ کر کہ وہ احمدی ہو گا پڑھ دیا۔ اس طرح ہوا ہو گا۔ میرے متعلق تو سب جانتے ہیں کہ میں کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں سمجھتا۔ لیکن مجھے بھی اسی طرح کی ایک بات پیش آئی تھی۔ اور وہ یہ کہ یہاں ایک طالب علم ہے اس نے مجھے کہا کہ میری والدہ فوت ہو گئی ہے اس کا جنازہ پڑھ دیں۔ میں نے پڑھ دیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ غیر احمدی تھی۔ وہ لڑکا مجھ سے اپنی والدہ کے لئے دعا بھی کراتا رہا کہ وہ

احمدی ہو جائے لیکن اس وقت مجھے یاد نہ رہا۔ اس طرح اگر مسیح موعودؑ نے کسی کا جنازہ پڑھ دیا تو وہ ہمارے لئے حجت نہیں ہے۔ ہاں اگر چند معتبر آدمی حلفیہ بیان کریں کہ ہم نے حضرت مسیح موعودؑ کو کہا تھا کہ فلاں غیر احمدی فوت ہو گیا ہے۔ آپ اس کا جنازہ پڑھ دیں۔ اور پھر آپ نے پڑھ دیا تو ہم مان لیں گے۔ کیا کوئی ایسے شاہد ہیں۔

پس جب تک کوئی اس طرح نہ کرے۔ یہ بات ثابت نہیں ہو سکتی کہ آپ نے کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز قرار دیا ہے۔ اور ہمارے پاس غیر احمدی کا جنازہ نہ پڑھنے کے متعلق ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔ اور وہ یہ کہ یہاں حضرت مسیح موعودؑ کے اپنے بیٹے کی لاش لائی گئی۔ اور آپ کو جنازہ پڑھنے کے لئے کہا گیا۔ تو آپ نے انکار کر دیا۔ پھر سرسید کے جنازہ پڑھنے کے متعلق مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کا خط موجود ہے کہ آپ نے اس کا جنازہ نہیں پڑھا۔ کیا وہ آپ کو کافر کہتے تھے ہرگز نہیں ان کا تو مذہب ہی یہ تھا کہ کوئی کافر نہیں ہے۔ جب ان کے جنازہ کے متعلق خط لکھا گیا تو جیسا کہ مولوی عبدالکریم صاحب مندرجہ ذیل خط میں ایک دوست کو تحریر فرماتے ہیں کہ آپ نے اس پر خفگی کا اظہار فرمایا:

”متوفی (کی) خبر وفات سن کر خاموش رہے۔ ہماری لاہوری جماعت نے متفقاً زور شور سے عرضداشت بھیجی کہ وہاں جنازہ پڑھا جائے اور پھر نوٹس دیا جائے کہ سب لوگ جماعت کے ہر شہر میں اسی تقلید پر جنازہ پڑھا جائے اور اس سے نوجوانوں کو یقین ہو گا کہ ہمارا فرقہ صلح کُل فرقہ ہے۔ اس پر حضرت صاحب کا چہرہ سرخ ہو گیا فرمایا اور لوگ نفاق سے کوئی کارروائی کریں تو بچ بھی جائیں مگر ہم پر تو ضرور غضب الٰہی نازل ہو۔ اور فرمایا ہم تو ایک محرک کے تحت میں ہیں بے اسکی تحریک کے کچھ کر نہیں سکتے۔ نہ ہم کوئی کلمہ بد اسکے حق میں کہتے ہیں اور نہ کچھ اور کرتے ہیں۔ تفویض الی اللہ کرتے ہیں۔ فرمایا جس تبدیلی کے ہم منتظر بیٹھے ہیں اگر ساری دنیا خوش ہو جائے اور ایک خدا خوش نہ ہو تو کبھی ہم مقصود حاصل نہیں کر سکتے“ (الفضل ۲۸؍مارچ ۱۹۱۵ء)

پس ہم کس طرح کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز سمجھ سکتے ہیں۔

شک کا ازالہ کرنا چاہئے

ایک اور بات میں بیان کر دینا چاہتا ہوں۔ اور وہ یہ ہے کہ بعض لوگوں میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ اگر ان کے دل میں کسی مسئلہ کے متعلق کوئی شک ہو تو اسے اپنے دل میں ہی دبانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ بہت خراب نکلتا ہے۔ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ شک ایک بیج کی طرح ہوتا ہے اگر اس کو اپنے دل سے نکال نہ دیا جائے تو پھر اتنا بڑھ جاتا ہے کہ پھر اس کا اکھیڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پس جس وقت کوئی شک پیدا ہو اسی وقت اس کے اکھیڑنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

میں آپ سب لوگوں کو ایک نصیحت کرتا ہوں اور اگر آپ لوگ اس کو مانیں گے تو بہت فائدہ میں رہیں گے اور وہ یہ کہ اگر کسی کے دل میں کوئی شک پیدا ہو تو اس کو چھپایا نہ جائے بلکہ پیش کیا جائے۔ کیونکہ چھپانا بہت نقصان پہنچاتا ہے اور بیان کرنا بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ شک کو چھپایا کیوں جاتا ہے۔ دنیاوی باتوں کے متعلق تو مجھ سے مشورہ لیا جاتا ہے اور دعا کرائی جاتی ہے۔ لیکن جب ہمارے دشمنوں کی طرف سے ان کے دلوں میں کسی قسم کے شکوک ڈالے جاتے ہیں۔ تو اس وقت مجھے نہیں لکھتے اور ان کا ازالہ نہیں کراتے۔ شاید اسے شرم سمجھتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات یہ شرم بے شرمی ہو جاتی ہے۔ اُمّ المومنین عائشہؓ کہتی ہیں کہ میرے سامنے آنحضرت ﷺ سے ایک عورت نے آکر پوچھا کہ کیا اگر عورت کو احتلام ہو جائے تو نہائے۔ عائشہؓ کہتی ہیں مجھے یہ سن کر بہت شرم آئی اور میں نے اس کو اپنی طرف کھینچ کر کہا یہ تو نے کیا کہا۔ عورتوں کو بدنام کر دیا تجھے یہ کہتے ہوئے شرم نہیں آئی۔ آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا دین کی باتوں میں شرم نہیں ہوتی۔۵ تو آپ لوگوں کو بھی دین کے معاملہ میں شرم نہیں کرنی چاہئے۔ اگر کسی کے دل میں کوئی شک پیدا ہو یا اس سے کوئی ایسی بات پوچھی جائے جس کا اسے جواب نہ آتا ہو تو وہ مجھے لکھ دے۔ جلسہ کے موقعہ پر اس قسم کی ہزاروں باتوں کے متعلق اگر بتایا جائے تو پھر اور کام کس طرح ہوں۔ کیونکہ وقت بہت کم ہوتا ہے۔ اس لئے آپ لوگوں کو چاہئے کہ دوسرے ایام میں ان باتوں کا ازالہ کروائیں۔ یہاں آکر تسلی کریں اور اگر ایسی ضرورت ہو کہ یہاں سے کوئی آدمی بھیجا جائے تو وہ بھی ہم بھیج دیا کریں گے۔ کیا دین کوئی ایسی حقیر چیز ہے کہ جس کی کچھ پرواہ نہیں ہونی چاہئے اور ردی کی طرح پھینک دینا چاہئے۔ غالب کہتا ہے۔

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا

ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے

اس میں اس نے اپنے جام کی تعریف یہ کی ہے کہ اگر ایک ٹوٹ گیا تو اور لے آئیں گے۔ یہی حال اس وقت لوگوں نے ایمان کا کر رکھا ہے۔ ایمان کی عظمت دل میں نہیں رہی۔ سمجھتے ہیں کہ ایک عقیدہ چھوڑا تو دوسرا اختیار کر لیں گے۔ دوسرا چھوڑا تو تیسرا اختیار کر لیں گے۔ لیکن آپ لوگ یاد رکھیں کہ ایمان بڑی اعلیٰ اور قیمتی چیز ہے۔ اس کی آپ لوگوں کو خاص طور پر حفاظت اور قدر کرنا چاہئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول شک کو آم کی گٹھلی سے اس طرح تشبیہ دیا کرتے تھے کہ ایک وقت ہوتا ہے جبکہ چھوٹے چھوٹے بچے اکھیڑ کر پیپیاں بنا لیتے ہیں۔ لیکن ایک وقت وہ بھی آتا ہے کہ اگر بیسیوں آدمی مل کر دھکا دیں تو بھی وہ ہل نہیں سکتا۔ پس جب شک جڑھ پکڑ جائے اور مضبوط ہو جائے تو پھر اس کا دور کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ایسا زنگ لگ جاتا ہے جو صاف نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ(2:8) اس وقت خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کی ہلاکت اور تباہی کا فیصلہ کر چکا ہوتا ہے۔ پس پیشتر اس کے کہ کسی کے دل میں شک پیدا ہو کر بڑھے اور پیشتر اس کے کہ اس کو ہلاکت اور تباہی کی طرف لے جائے ۔ بہتر بلکہ ضروری ہے کہ اپنے شک و شبہ سے مجھے اطلاع دی جائے یا ان لوگوں سے ملا جائے۔ جن کو خدا تعالیٰ نے ازالہ شکوک کی قابلیت بخشی ہے۔ پس آپ لوگوں کو میری یہ نصیحت ہے کہ اگر آپ کے سامنے کوئی ایسا سوال پیش کیا جائے ۔ جس کا آپ کو جواب نہ آتا ہو یا کوئی آپ کے دل میں کسی قسم کا شبہ اور وسوسہ ڈالے تو بجائے اس کے کہ اس کو چھپاؤ فوراً ظاہر کر دو۔ کیا ایسا ہوتا ہے کہ کسی کے دل میں کوئی مرض ہو یا تپ چڑھا ہو تو وہ اسے چھپائے اور کسی کو نہ بتائے ۔ ہر گز نہیں۔ بلکہ وہ تو بھاگتا ہوا طبیب کے پاس جائے گا۔ پس جب درد اور تپ کے لئے جسمانی طبیبوں کے پاس لوگ جاتے اور اپنی بیماری کھول کھول کر بتا کر علاج چاہتے ہیں۔ اور اس کے لئے روپیہ اور وقت صرف کرتے ہیں۔ تو پھر کیا وجہ ہے جب ان کے ایمان میں کوئی نقص پیدا ہو یا ان کے دل میں شیطان کوئی شبہ ڈالے اور دھوکا دینا چاہے تو اس کے دور کرنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔ میں آپ لوگوں کو دردِ دل سے نصیحت کرتا ہوں کہ جس کو کوئی شبہ ہو وہ مجھے اطلاع دے میں اس کو جواب پہنچا دوں گا اور وہ اس سے ازالہ کر لے۔

بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی ناواقف کے سامنے شبہ پیش کیا جاتا ہے مگر اس کے تسلی بخش جواب نہ دینے کی وجہ سے شبہ اور بھی مضبوط ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو میں کہتا ہوں کہ وہ اپنے شکوک میرے سامنے کیوں پیش نہیں کرتے اور کیوں مجھ سے جواب نہیں پوچھتے انہوں نے میری بیعت کسی فائدہ کے لئے ہی کی ہے اگر وہ مجھ سے ایسی باتوں میں فائدہ نہیں اٹھاتے تو ان کی بیعت کس غرض کے لئے ہوئی ۔ انہوں نے میری بیعت اسی لئے کی ہے کہ جماعت قائم رہے اور جماعت میں کسی قسم کا فتنہ نہ ہو۔ پس جب کوئی شخص ان کے دل میں کوئی وسوسہ یا شبہ ڈالتا ہے تو وہ کیوں مجھ سے اس کا ازالہ نہیں کرواتے۔ خلیفہ کا وجود ایک حجت اور اصل ہے ان کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا(النور: ۵۶) پس تم لوگ اس روحانی کھانا سے فائدہ اُٹھاؤ اور اپنے دین کو مضبوط کرو۔ لیکن اگر کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا تو اسکی ایسی ہی مثال ہے ایک شخص جنگل میں کھانے اور پانی کے لئے تڑپ تڑپ کر جان توڑ رہا ہو حالانکہ کھانا اور پانی اس کے پاس رکھا ہوا ایسا انسان واقعہ میں سخت بدقسمت ہے۔ اگر کوئی ہم سے اپنے شکوک کا ازالہ کروانے کی کوشش کرے۔ پھر خواہ وہ دور نہ ہوں وہ قیامت کے دن کہہ سکتا ہے کہ اے خدا میں تیرے مقرر کردہ خلیفہ کے پاس ان شکوک کو لے کر گیا تھا مگر وہاں بھی دور نہ ہو سکے۔ لیکن جو شخص بجائے میرے پاس آنے کے ایسے لوگوں سے ازالہ چاہتا ہے۔ جو ان کے دور کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے وہ حق سے اور زیادہ دور ہو جاتا ہے۔ اس کو خدا تعالیٰ پوچھے گا کہ کیوں تم نے خلیفہ سے نہ پوچھا اور اس سے فائدہ نہ اٹھایا اس لئے آؤ اب تمہیں اسکی سزا دی جائے۔

پس اپنے ایمان کی فکر کرو۔ اور ہر ایک بات کے متعلق مجھ سے پوچھو اسی میں تمہارا فائدہ ہے۔ا؎

۲؎یہ مکمل تقریر ۲۱؍مارچ ۱۹۱۴ء کے الفضل میں چھپ چکی ہے۔ (مرتب کنندہ)

جماعت احمدیہ کے فرائض اور اس کی ذمہ داریاں

(تقریر بر موقع جلسہ سالانہ ۱۹۱۶ء)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

جماعت احمدیہ کے فرائض اور اس کی ذمہ داریاں

(تقریر بر موقع جلسہ سالانہ ۲۷؍ دسمبر ۱۹۱۶ء)

اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

وہ مضمون جو آج میں آپ لوگوں کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں احمدیہ جماعت کے فرائض اور اس کی ذمہ داریوں پر ہے۔ مگر اسکے بیان کرنے سے پیشتر ایک صاحب کا جن کی رخصت آج تک ہی ہے اور وہ آج چلے جائیں گے ان کا نکاح پڑھائے دیتا ہوں۔ (نکاح پڑھایا گیا۔ اس کے بعد حضور نے ایک غیر احمدی کے سوال کا جواب دیا۔ جنہوں نے لکھا تھا کہ میں کل سے مسئلہ نبوت کے متعلق جو تقریریں ہوئی ہیں سن رہا ہوں میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جب رسول کریم کے متعلق خاتم النبیّن آگیا ہے تو پھر آپ کے بعد کس طرح کوئی نبی آسکتا ہے)۔ حضور نے فرمایا کہ اگر انہوں نے مفصل جواب سننا ہو تو مغرب کے بعد اپنے کمرہ کے منتظم کو کہہ دیں وہ انہیں میر محمد اسحاق صاحب یا حافظ روشن علی صاحب کے پاس پہنچا دیں گے۔ وہ انہیں خاتم النبیّن کے معنی سمجھا دیں گے۔ اور یہ بھی بتا دیں گے کہ آنحضرت کے بعد کس طرح کوئی نبی آسکتا ہے۔ مختصر طور پر اس کا یہ جواب ہے کہ خاتم النبیّن کے معنی ہیں نبیوں کی مہر اور مہر تصدیق کرنے کیلئے ہوتی ہے۔ یعنی جس نبی کے متعلق آنحضرت نے اپنی طرف سے مہر لگا دی ہے وہ سچا ہے۔ پس جس کو نبی کریم نے کہا ہے کہ نبی ہے۔ وہی سچا نبی ہے اسکے علاوہ کوئی نبی سچا نہیں ثابت ہو سکتا۔ مثلاً حضرت یحیٰؑ اور حضرت زکریاؑ کے ماننے والے دنیا میں موجود نہیں ہیں اور بائبل میں جس طریق سے ان کا ذکر ہے اس کی رو سے وہ نبی نہیں ہو سکتے۔ لیکن چونکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ نبی ہیں اس لئے ہم ان کو نبی مانتے ہیں۔ پس یہ آنحضرت کی انکے متعلق مہر ہو گئی کہ آپ کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے ان کو قرآن کریم میں نبی قرار دیا۔ یہی معنی ہیں خاتم النبیّن کے۔ خدا تعالیٰ آنحضرت کے متعلق فرماتا ہے

مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ(الاحزاب: ۴۱) کہ محمد تم میں سے کسی کا جسمانی باپ نہیں ہے۔ لیکن اللہ کا رسول ہے۔ اور صرف رسول ہی نہیں بلکہ خاتم النبیّین ہے۔ یعنی اس کی تصدیق سے پہلے نبیوں کی نبوت ثابت ہوتی ہے اور اس کی تصدیق سے بعد والوں کی ہو گی۔ پہلے انبیاء کے متعلق دیکھ لیجئے۔ اگر ان کا علم آنحضرتؐ کے ذریعہ نہ ہو تو ان کی نبوت کا ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ مثلاً حضرت عیسیٰؑ، حضرت نوحؑ، حضرت زکریاؑ اور دوسرے انبیاء کے متعلق جو کچھ بائبل کہتی ہے اس سے ان کا نبی ہونا تو الگ رہا ایک متقی انسان ہونا بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ لیکن چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہہ دیا ہے کہ وہ نبی ہیں اس لئے ہم ان کو نبی مانتے ہیں۔ یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر کی تصدیق ہے۔ اور آئندہ بھی جس کے متعلق آپؐ کی تصدیق ہو گی وہ نبی ہو گا۔

یہ مختصر سے معنی ہیں خاتم النبیّین کے۔ اور بھی کئی معنی ہیں اور کسی معنی کے رو سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ لیکن چونکہ مجھے اس وقت تقریر کرنی ہے۔ اس لئے میں کچھ اور نہیں بیان کروں گا۔ حافظ صاحب یا میر صاحب خوب کھول کر سمجھا دیں گے۔ کوئی صاحب ان کو مغرب کے بعد ان میں سے ایک کے پاس پہنچا دیں۔

اب میں اپنے مضمون کی طرف آتا ہوں۔ میں نے آپ لوگوں کو بتا دیا ہے کہ آج میری تقریر کس مضمون پر ہو گی۔ کل بھی میری تقریر ہو گی اگر اللہ تعالیٰ نے زندگی بخشی اور صحت و توفیق دی۔ تو کل ایک ایسا مضمون بیان کروں گا جو میرے نزدیک نہایت ضروری اور اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ وہ کسی کی سمجھ میں آئے گا یا نہیں اور کوئی اس کی اہمیت کو سمجھے گا یا نہیں لیکن میرے نزدیک وہ مضمون اس قسم کا ہے کہ ہماری ساری جماعت کو اس کی بہت بڑی ضرورت ہے اس وقت میں جو کچھ بیان کروں گا وہ بھی نہایت ضروری ہے لیکن کل جو بیان کروں گا گو اس کی ظاہر طور پر اہمیت معلوم نہیں ہوتی لیکن دراصل وہ نہایت ضروری اور اہم ہے اور اس کا کثیر حصہ ایسا ہے کہ اس سے پہلے کسی کتاب اور کسی تصنیف میں نہیں ملے گا۔ قرآن کریم اور حدیث کے متعلق میں نہیں کہتا ان میں تو سب کچھ ہے اور میں بھی انہی سے اخذ کر کے بیان کروں گا۔ میرا مطلب یہ ہے کہ دوسرے مصنّفین نے ان سے اخذ کر کے اس وقت تک کہیں بیان نہیں کیا۔ ورنہ جو دینی مضامین ہیں وہ قرآن کریم اور احادیث سے ہی لے کر بیان کئے جاتے ہیں۔ میں تو نبوت کا دعویٰ نہیں کرتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ لیکن آپ نے بھی اپنی طرف سے کوئی بات نہیں بتائی۔ بلکہ قرآن اور حدیث سے ہی اخذ کر کے سب کچھ بتایا ہے۔ میں بھی وہ باتیں قرآن کریم اور احادیث سے ہی اخذ کر کے بتاؤں گا۔ اور وہ ایسی باتیں ہیں جو خدا تعالیٰ نے مجھے بتائی ہیں اور جو تعلق باللہ اور ایمان مضبوط اور تازہ کرنے کے لئے نہایت ضروری ہیں۔ لیکن ان میں سے بہت سی ایسی ہیں جو پہلے کسی نے نہیں بیان کیں۔ بلکہ مجھے خدا تعالیٰ نے سمجھائی ہیں۔ میں نے اہل علم لوگوں کی کتابوں کو دیکھا ہے مجھے تو وہ باتیں کہیں نظر نہیں آئیں ممکن ہے کسی نے بیان کی ہوں لیکن میری نظر سے نہیں گزریں ،آج ہی ان کے متعلق کیوں ذکر کر رہا ہوں اس لئے کہ میں نے ابتدائے خلافت سے یہ طریق رکھا ہوا ہے کہ جو باتیں میرے نزدیک خاص طور پر ضروری ہوں۔ ان کو میں جلسہ کے آخری دن میں بیان کیا کرتا ہوں اور اسکی وجہ یہ ہے کہ کئی لوگ آخری دن تک یہاں نہیں ٹھہرتے بلکہ پہلے ہی چلے جاتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ جو مخلص ہوں گے وہ آخری دن تک ٹھہریں گے اور میری باتوں کو بھی سنیں گے۔ اس لئے میں عمدہ ایسی باتوں کو آخری دن بیان کرتا ہوں تاکہ جو محبت اور شوق سے نہیں ٹھہرتے اور چلے جاتے ہیں ان کو میں بھی نہ سناؤں۔ پس اس دفعہ بھی وہ باتیں میں آخری دن بیان کروں گا اور جو کوئی اس دن ٹھہرے گا فائدہ اٹھائے گا۔

اب میں اپنے مضمون کی طرف آتا ہوں۔ یہ مضمون بھی بڑا ضروری اور اہم ہے کیونکہ اس میں جماعت احمدیہ کے فرائض اور اس کی ذمہ داریاں بیان کی جائیں گی۔ عجیب اتفاق ہے کہ آج میر حامد شاہ صاحب نے جو نظم پڑھی ہے اسی کے متعلق میرا مضمون ہے۔ یہ خدا تعالیٰ ہی کا تصرف ہوتا ہے۔ مجھ سے بھی کئی دفعہ ایسا ہوا ہے۔ ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے مجھے خطبہ جمعہ پڑھنے کے لئے فرمایا۔ وہ جمعرات کا دن تھا۔ اسی دن شام کے وقت میرے دل میں ایک تحریک ہوئی اور وہ یہ کہ میں یہاں کی جماعت کے سامنے اس آیت پر خطبہ پڑھوں کہ وَقَالَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِی اتَّخَذُوۡا ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ مَہۡجُوۡرًا(الفرقان: ۳۱) اور یہ خیال ایسا غالب ہوا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا نماز میں ہی میری توجہ اس طرف پھر گئی۔ اور اس آیت کے متعلق مجھے بہت وسیع مطالب القاء کے طور پر سمجھائے گئے۔ میں بڑا حیران ہوا کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ دوسرے دن میں نے خطبہ کے لئے تیاری کی۔ عام طور پر میری یہ عادت نہ تھی اور نہ اب ہے کہ خطبہ کے لئے تیاری کر کے جاؤں۔ بعض دفعہ تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ خطبہ کے ابتداء میں جن کلمات کا پڑھنا مسنون ہے ان کے پڑھتے ہوئے بھی مجھے علم نہیں ہوتا کہ آج میں کیا بیان کروں گا اور کوئی بات ذہن میں نہیں ہوتی۔ لیکن اس وقت اللہ خود بخود ہی زبان پر کلمات جاری کر دیتا ہے اور میں خطبہ پڑھ لیتا ہوں۔ مگر اس دن چونکہ مجھے خاص طور پر تحریک ہوئی تھی اس لئے میں نے ارادہ کیا کہ خطبہ کی تیاری کر کے جاؤں۔ جب میں مسجد میں جانے کے لئے چھوٹی مسجد کی ان سیڑھیوں پر سے اترا جو ہمارے گھر کے ساتھ پیوستہ ہیں۔ تو دیکھا کہ حضرت مولوی صاحب مسجد کو جا رہے ہیں۔ آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا کہ آج آپ کہاں تھے۔ پچھلے دو گھنٹہ کے اندر میں آپ کے بلانے کے لئے کئی آدمی بھیج چکا ہوں۔ میں نے کہا حضور میں تو اندر ہی تھا۔ کہنے لگے مجھے صبح سے تحریک ہو رہی ہے اور میں چاہتا تھا کہ آپ کو بلا کر بتلاؤں کہ اس بات پر خطبہ پڑھنا۔ اس کے بعد آپ مجھے خطبہ کا مضمون بتانے لگے اور بتاتے بتاتے مسجد اقصیٰ کے ساتھ جو ہندوؤں کا مکان ہے اس کے پاس آکر کہنے لگے کہ پھر اس کے متعلق کوئی آیت سوچ لو پھر خود ہی کہہ دیا کہ یہی آیت پڑھ لینا کہ وَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِی اتَّخَذُوۡا ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ مَہۡجُوۡرًا(25:31)۔ میں حضرت مولوی صاحب کا بہت ادب کرتا تھا مگر اس وقت بے اختیار میری ہنسی نکل گئی اور میں نے کہا یہی آیت میں نے بھی آج سوچی ہوئی تھی۔ اسی طرح کا توارد اب بھی ہوا ہے۔ کل میر حامد شاہ صاحب جب آئے تو انہوں نے مجھے کہا کہ میں جلسہ میں ایک نظم سنانا چاہتا ہوں۔ آپ پہلے سن لیں کوئی اس پر اعتراض نہ کرے۔ میں نے کہا سنائیے جب وہ سنا چکے تو میں نے کہا کہ میں بھی دعا کرنے کے بعد سوچ رہا تھا کہ کس مضمون پر تقریر کروں تو فوراً ہی مضمون میرے ذہن میں آیا جو آپ نے اس نظم میں باندھا ہے۔

میں نے ظہر سے پہلے کچھ آیات آپ لوگوں کے سامنے پڑھی تھیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ہوشیار کیا ہے۔ فرماتا ہے۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ(1:1)۔ اے انسان تو اس اللہ کا نام لے کر شروع کر جو رحمن اور رحیم ہے۔ یعنی تیرا وہ خدا ہے جس نے کچھ سامان انسان کی محنت اور مشقت کے بغیر پیدا کر دیئے ہوئے ہیں۔ دیکھو ایک زمیندار زمین میں بیج ڈالتا ہے بڑی محنت اور مشقت کرتا ہے اور پھر چھ ماہ یا کچھ کم و بیش عرصہ کے بعد جا کر غلہ کاٹتا ہے مگر زمین اور زمین میں جو اگانے کی طاقت ہے اس میں اس کا کچھ دخل اور تصرف نہیں ہے۔ زمین کو جوتنا۔ اس میں بیج ڈالنا اور کنوئیں یا نہر سے پانی کھینچ کر دینا تو اس کا کام ہے مگر زمین میں جو پیدا کرنے کی طاقت ہے اس پر اس کا کچھ اختیار نہیں ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت رحمانیت کے ماتحت اس میں رکھی ہوئی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ میں دو صفتیں ہیں۔ ایک یہ کہ انسان پر بغیر اس کی کسی محنت کے بعض فضل کرتا ہے۔ اور دوسری یہ کہ جب انسان بغیر محنت کے دی ہوئی چیزوں کو کام میں لاتا ہے۔ تو اس کے نتیجہ میں اس پر اور انعام کرتا ہے۔ یہ احسان اس کی صفت رحیمیت کے ماتحت ہوتے ہیں۔

چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ دو صفتیں ہیں۔ یعنی ایک یہ کہ بغیر انسان کی محنت کے اسے کچھ دیتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ جب انسان اس پر عمل کر کے کمال کو پہنچ جاتا ہے تو اسے انعام دیتا ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی ہر ایک سورۃ کے ابتداء میں بسم اللہ الرحمن الرحیم رکھ دیا ہے تاکہ انسان اس طرف متوجہ ہو۔ یہ جو اگلی سورۃ میں پڑھنے لگا ہوں اس کے حاصل کرنے کے لئے میں نے کوئی محنت نہیں کی بلکہ یہ محض خدا تعالیٰ کے فضل و کرم اور احسان و مروّت سے اس کی صفت رحمانیت کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور اگر میں اس پر عمل کروں گا۔ تو خدا تعالیٰ کی دوسری صفت جو رحیمیت ہے اس کے ماتحت مجھ پر بڑے بڑے انعام ہوں گے۔ اور پھر اس سے یہ بتایا ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے رحمن ہو کر اس قدر احسان اور فضل کیا ہے تو جب میں اس کی صفت رحیمیت کے ماتحت آجاؤں گا تو وہ رحیم ہو کر کس قدر کرے گا۔ کیونکہ جو بغیر محنت کرنے کے اس قدر دیتا ہے وہ محنت کرنے پر کیوں بے انتہاء نہ دے گا۔

دراصل خدا تعالیٰ کی صفات رحمانیت اور رحیمیت ایک پھر کی کی طرح ہیں۔ پہلے خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت کا ظہور ہوتا ہے اور جب کوئی شخص اس صفت سے فائدہ اٹھاتا ہے تو پھر صفت رحیمیت اس کو خدا تعالیٰ سے جاکر ملا دیتی ہے پھر خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت جلوہ گر ہوتی ہے۔ پھر یہ اس سے اپنے آپ کو وابستہ کرتا ہے۔ اور پھر اٹھایا جا کر خدا تعالیٰ کے اور بھی قریب کیا جاتا ہے۔ گویا رحمانیت اور رحیمیت کنوئیں کے چکر کی طرح چلتی رہتی ہیں کہ پہلے ایک ظاہر ہوتی ہے پھر دوسری پھر پہلی اور اس کے بعد پھر دوسری جس طرح کنوئیں کی ٹنڈیں اوپر سے خالی آتی ہیں پھر بھر کر اوپر چلی جاتی ہیں۔ پھر خالی ہو کر آتی ہیں۔ پھر بھر کر چلی جاتی ہیں۔ اسی طرح صفت رحیمیت کا ظہور ہوتا ہے۔ پھر اس کے ساتھ انسانی اعمال وابستہ ہو جاتے ہیں اور بلند ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور میں پیش ہو کر خلعت قبولیت پاتے ہیں۔ ہر سورۃ کے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم رکھ کر اللہ تعالیٰ نے اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ایک فضل میرا رحیمیت کے ماتحت آتا ہے۔ اسی کو مضبوط پکڑ لوگے اور کام میں لاؤ گے تو یہ تم کو اٹھا کر میرے قریب کر دے گا۔ اور تم صفت رحیمیت کا مزا چکھو گے۔ اسی امر کی طرف اشارہ ہے کہ آیت وَ وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا(3:104) یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف اپنی رحیمیت کا رسّا پھینکا ہے اس کو خوب اچھی طرح مضبوط پکڑ لو تا اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو اور اس کی صفت رحیمیت کے انعامات سے حصہ پاؤ۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کے بعد اللہ تعالیٰ اس سورۃ میں فرماتا ہے۔ الٓـمّٓ۔ میں اللہ بہت جاننے والا ہوں۔ یعنی یہ نہیں کہ تم مجھے دھوکا دے لوگے مجھے ہرگز تم دھوکا نہیں دے سکتے کیونکہ دھوکا ناواقف اور جاہل کھایا کرتے ہیں۔ مثلاً میں یہاں لیکچر دے رہا ہوں میری نسبت کوئی شخص کسی دوسرے شہر میں جا کر کہے کہ میں قادیان کے سالانہ جلسہ پر گیا تھا وہاں میں نے دیکھا کہ وہ قرآن کے خلاف باتیں بیان کر رہا تھا اور آنحضرت ﷺ کی ہتک کرتا تھا۔ اس کے اس قول کو ایک ایسا شخص تو شاید مان لے جو اس جلسہ میں موجود نہ تھا کیونکہ اس کو کیا معلوم کہ میں نے جو کچھ بیان کیا قرآن کریم کے مطابق بیان کیا اور رسول کریم ﷺ کی عظمت ظاہر کرتا تھا۔ مگر تم میں سے اگر کسی کے سامنے وہ یہ بات کہے تو تم کبھی نہیں مانو گے اور اسے فوراً کہہ دو گے کہ تو جھوٹ بک رہا ہے۔ کیونکہ تمہیں اس کا علم ہے۔

تو جب خدا تعالیٰ نے یہ سنا دیا کہ اے لوگو میں نے تمہیں کچھ سامان اپنی صفت رحمانیت کے ماتحت دیئے ہیں اگر تم ان پر عمل کرو گے تو میری صفت رحیمیت کے ماتحت آجاؤ گے۔ تو ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ اگر تم چاہو کہ مجھے دھوکا دے کر انعام حاصل کر لو اور رحمانیت کے ماتحت دیئے ہوئے سامان پر عمل کئے بغیر صرف منہ سے یہ کہہ کر کہ ہم نے ان پر عمل کر لیا ہے ان انعامات کے وارث بننا چاہو جو رحیمیت کے ماتحت حاصل ہوتے ہیں۔ تو یہ کبھی نہیں ہو سکے گا کیونکہ میں بہت بڑا جاننے والا ہوں۔ جب معمولی طور پر جاننے والا دھوکہ نہیں کھا سکتا تو میں جو بہت بڑا جاننے والا ہوں میں کس طرح دھوکا کھا سکتا ہوں۔ پس کسی کا یہ خیال درست نہیں کہ صرف منہ سے کہہ کر انعامات حاصل کر لے گا۔

دیکھو! گورنمنٹ ایک قسم کے کاغذ بنا کر شائع کرتی ہے۔ اور ان کی مختلف قیمتیں رکھتی ہے۔ کوئی دس روپیہ کا کوئی بیس کا کوئی سو کا۔ اس کاغذ کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ جس وقت بھی کوئی چاہے اس کو دے کر روپیہ لے سکتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص اس طرح کرے کہ اپنی

طرف سے ایک کاغذ بنا کر پیش کر دے اور امید رکھے کہ گورنمنٹ کو دے کر اس سے روپیہ وصول کرلوں گا۔ تو یہ خواہش پوری نہیں ہو سکے گی۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے انعام آیا ہے اگر تم اس کو قبول کر کے اس پر عمل کرو گے تو اور زیادہ انعام پاؤ گے۔ اگر یونہی انعام حاصل کرنا چاہو تو یاد رکھو کہ اللہ بڑا جاننے والا ہے وہ کبھی دھوکا نہیں کھا سکتا اور نہ ہی تمہارے فریب میں آ سکتا ہے۔ چنانچہ آگے اس مضمون کی تشریح فرما دی کہ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ(العنكبوت: ۳) کیا لوگوں نے یہ سمجھ چھوڑا ہے کہ وہ آزمائش میں نہ ڈالے جائیں گے صرف یہ کہہ دینے پر کہ ہم ایمان لے آئے۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ جب معمولی جاننے والوں اور ادنیٰ بصارت رکھنے والوں کو کوئی دھوکا نہیں دے سکتا حالانکہ آنکھ کبھی دھوکا بھی کھا جاتی ہے تو پھر اس خدا کو جو ہر ایک پوشیدہ سے پوشیدہ باتوں کو جانتا اور نہاں در نہاں چیزوں کا علم رکھتا ہے کس طرح دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ پس جب تک تم کو جو انعام ملا ہے اس کو چمٹ کر مضبوطی سے نہ پکڑ لو گے اس وقت تک خدا تعالیٰ تک نہ پہنچ سکو گے اور انعامات کے وارث نہ بن سکو گے جو صرف زبان سے ایمان لانے کا اقرار کرنے سے نہیں بلکہ عمل کر کے دکھانے سے حاصل ہوتے ہیں۔

پھر فرمایا۔ وَلَقَدۡ فَتَنَّا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ(العنكبوت: ۴) اول تو یہی سمجھ لو کہ میں بہت بڑا جاننے والا ہوں اس لئے تم مجھے کبھی دھوکا نہیں دے سکتے۔ لیکن شاید کوئی کہے کہ خدا چونکہ چشم پوش ہے اس لئے ہم سے چشم پوشی کر دے گا۔ فرمایا یہ نہیں ہوگا۔ وَلَقَدۡ فَتَنَّا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ(29:4) ان لوگوں سے جو آج ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں وہی معاملہ ہو گا جو ان سے پہلے زمانہ کے لوگوں سے ہوا۔ ہم چشم پوش ہیں اور ضرور ہیں لیکن اس معاملہ میں چشم پوشی نہیں کی جاسکتی۔ ان سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں ان کو یہ دیکھ لیں۔ کیا صرف انکے زبانی کہہ دینے سے خدا تعالیٰ نے ان کی بات مان لی تھی۔ ہرگز نہیں بلکہ ان کو ہم نے آزمائش میں ڈالا تھا۔ فَلَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا وَلَیَعۡلَمَنَّ الۡکٰذِبِیۡنَ(العنكبوت: ۴) اللہ تعالیٰ ضرور ان لوگوں کو جان لے گا جو اپنے دعویٰ میں سچے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جان لے گا جو جھوٹے ہیں۔

پس اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کی ضرور ضرور آزمائش کروں گا۔ اور یہ میری بات بلاشک و بلاریب اٹل ہے۔ میں اس کو ضرور عمل میں لاؤں گا۔ یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں جو یہ بات ازل سے چلی آتی ہے کہ فلاں شخص اپنے دعویٰ ایمان میں جھوٹا ہو گا اور فلاں شخص سچا اس کو اللہ تعالیٰ ظاہر کر دے گا۔ اور جو علم اس کو آئندہ کی نسبت تھا اب واقعہ کے ہو جانے پر ماضی کا علم ہو جائے گا۔ اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کے جھوٹے اور سچے کے جاننے کا کیا مطلب ہوا۔ کیا وہ پہلے ان کو نہیں جانتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ تو پہلے ہی ہر ایک بات کو جانتا ہے۔ چنانچہ اس نے پہلے ہی بتا دیا ہے۔ کہ المؔ۔ میں بڑا جاننے والا ہوں۔ لیکن پہلے خدا تعالیٰ یہ جانتا ہے کہ ایسا ہو گا۔ اور جب اسی طرح ہو جاتا ہے تو وہ یہ جان لیتا ہے کہ اس طرح ہو گیا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ ہم کہیں کہ کل زید لاہور جائے گا۔ یہ بھی اس کے جانے کے متعلق علم ہے لیکن جب وہ چلا بھی جائے تو اس علم کی تصدیق بھی ہو جائے گی۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے یہ تو معلوم ہے کہ فلاں شخص منہ سے تو کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ اترا ہے میں اس پر ایمان لاتا ہوں۔ اور اس کے دل میں یہ بات نہیں۔ یا یہ امر واقعہ کے خلاف ہے۔ لیکن اس پر ایسے واقعات اور حالات گزریں گے کہ جس سے یہ امر جو پوشیدہ تھا ظاہر بھی ہو جائے گا اور اس کا عمل اللہ تعالیٰ کے علم کی تصدیق کر دے گا۔

آج ہی میں نے آپ لوگوں کو بتایا تھا کہ قرآن کریم کوئی جادو اور ٹونے کی کتاب نہیں ہے بلکہ عمل کرنے کے لئے ہے اور عمل کر کے انعامات حاصل کرنے کے لئے ہے۔ پس کیا ہو سکتا ہے کہ کسی کے صرف یہ کہہ دینے سے کہ میں اس پر ایمان لاتا ہوں وہ انعامات کا مستحق ہو جائے۔ ہرگز نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کی آزمائش کیا کرتا ہے۔ اور اس طرح سچے اور جھوٹے کو ظاہر کر دیتا ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ کی یہ سنت خاص طور پر اس وقت پوری ہوتی ہے جبکہ کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے۔ کیونکہ اس نبی پر جو لوگ ایمان لاتے ہیں۔ ان سے وہ یہ اقرار لیتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو تیرے ہاتھ پر کامل طور سے بیچ دیتے ہیں۔ یہ پہلا امتحان اور پہلی آزمائش ہوتی ہے جو سچے اور جھوٹے میں امتیاز کر دیتی ہے۔ اس کے بعد اس نبی کے خلفاء کے ہاتھ پر جو لوگ ان کی بیعت میں داخل ہوتے ہیں ان کو بھی یہی کہا جاتا ہے کہ تم اپنے آپ کو بیچ دو اور غلام بن جاؤ۔

اس اقرار کے بعد جب وہ لوگ عملی طور پر بھی پکے اتریں تب جا کر پکے مؤمن کہلا سکتے ہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ سورۃ توبہ میں فرماتا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ اشۡتَرٰی مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ وَاَمۡوَالَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ ؕ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَیَقۡتُلُوۡنَ وَیُقۡتَلُوۡنَ ۟ وَعۡدًا عَلَیۡہِ(9:111)

حَقًّا فِی التَّوۡرٰٮۃِ وَالۡاِنۡجِیۡلِ وَالۡقُرۡاٰنِ ؕ وَمَنۡ اَوۡفٰی بِعَہۡدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسۡتَبۡشِرُوۡا بِبَیۡعِکُمُ الَّذِیۡ بَایَعۡتُمۡ بِہٖ ؕ وَذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ(التوبہ : ۱۱۱)

فرمایا ہم نے نبیوں کے ذریعہ جو تعلیم بھیجی ہے اور اس تعلیم پر عمل کرنے پر جو انعام مقرر کئے ہیں وہ کن لوگوں کے لئے ہیں۔ کیا ان کے لئے جو صرف منہ سے کہہ دیں گے کہ ہم ایمان لے آئے اور عمل کر کے نہیں دکھائیں گے۔ نہیں بلکہ ان کے لئے جو ہمارے ہاتھ اپنی جان اور مال بیچ دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے ہمارا یہ عہدنامہ ہو چکا ہے کہ ہم تمہیں ہر ایک اس تکلیف اور مصیبت سے جو ہلاک اور ذلیل کر دینے والی ہوگی بچائیں گے۔ ہاں تکلیفیں اور مصیبتیں آئیں گی ضرور تاکہ تمہاری آزمائش ہو۔ لیکن ان میں بالآخر ہم تم کو اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کامیاب کریں گے۔ مگر اس کے لئے ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ تم اپنی جانوں اور مالوں کو ہمارے سپرد کر دو۔ یہ بندہ اور خدا میں سودا ہوتا ہے۔ فرمایا ہم یہ وعدہ کن لوگوں سے پورا کریں گے۔ ان سے جو ہم سے خرید و فروخت کرتے ہیں۔ ہم یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ان کو دنیا میں ہر ایک ذلت اور ہلاکت سے بچائیں گے۔ اور آخرت میں اعلیٰ مدارج پر پہنچائیں گے۔ اور بندہ کہتا ہے کہ میں اپنی جان اور مال خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے دریغ نہیں کروں گا یہ بندہ اور خدا میں بیع ہوئی اور کیا ہی عجیب و غریب بیع ہے۔ دنیا میں تو یہ بیع ہوتی ہے کہ ایک چیز دے کر دوسری لے لی جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ چونکہ لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ(42:12) ہے۔ اس لئے اس کی بیع بھی بے مثل ہے کیونکہ دنیا میں تو یہ ہوتا ہے کہ ایک جوتی دیتا ہے اور روپیہ لیتا ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ کو دیکھئے خود بندہ کو جان اور مال دیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ یہ ہمارے ہاتھ بیچ دو۔ ایک شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے۔ تھا وہ شرابی مگر بات نہایت لطیف کہہ گیا ہے۔ کہتا ہے ؎

جاں دی دی ہوئی اسی کی تھی

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

ہم نہیں جانتے کہ اس نے کس کو مخاطب کر کے یہ کہا ہے۔ لیکن ہم حسنِ ظنی سے کام لے کر خیال کرتے ہیں کہ اس نے خدا تعالیٰ کی نسبت کہا ہے۔ کہتا ہے۔ اگر ہم نے اس کو جان بھی دے دی تو بھی اس کے احسان کا بدلہ نہیں ادا کریں گے کیونکہ جان بھی تو اسی کی دی ہوئی ہے۔ واقعہ میں یہ بالکل درست اور صحیح بات ہے کہ اگر انسان خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان بھی دے دے۔ تو بھی اس کے احسانات کا کچھ بھی بدلہ نہیں ادا کر سکتا۔ کیونکہ جان خود خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔ خدا تعالیٰ کی بیع کو دیکھو۔ انسان کو اپنی شفقت اور ذرّہ نوازی سے پیدا کرتا ہے اور اپنے احسانات اور انعامات کے اس پر دروازے کھول دیتا ہے پھر کہتا ہے۔ آؤ ہم تم بیع کریں۔ اس وقت سب سے پہلی بات یہ سامنے آتی ہے کہ کیا بندہ کی بھی کوئی چیز ہے کہ جسے وہ خدا تعالیٰ کو دے گا اور اس کے معاوضہ میں کچھ لے گا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایسی کوئی شئے نہیں۔ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ خدا تعالیٰ کا ہی دیا ہوا ہے۔ لیکن باوجود اس کے خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ آؤ مجھ سے بیع کرلو اور جو کچھ میں نے تم کو دیا ہے وہ مجھے دے دو اور اس کے بدلہ میں بہت اعلیٰ درجہ کے انعامات تم کو دوں گا۔ دیکھئے انسانی جان ہوتی ہی کیا چیز ہے اور اس کی ہستی ہی کیا ایک بوند ہوتی ہے جس سے انسان پیدا ہوتا ہے۔ پھر دنیاوی مال و دولت کیا وقعت رکھتی ہے۔ دس بیس لاکھ یا کروڑ دو کروڑ روپیہ ہے۔ اسے دے کر خدا تعالیٰ سے جو کچھ ملتا ہے۔ وہ جنت ہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں اپنے آپ کو تمہیں دے دوں گا۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مؤمن کے روزے کی جزاء میں ہوں۳؎۔ تو خدا تعالیٰ خود انسان کو سب کچھ دیتا ہے۔ اور پھر کہتا ہے کہ آؤ سودا کرلیں۔ اور سودا اس طرح کرتا ہے کہ نہایت ادنیٰ چیزیں لے کر ان کے بدلہ میں ابدی اور بیش بہا چیزیں دیتا ہے۔ اور یہاں تک فرماتا ہے کہ میں جو آقا ہوں میں بھی پھر تیرا ہو جاؤں گا۔

خدا کوئی چیز خرید کر لے نہیں لیتا

پھر اس بیع میں ایک اور بہت بڑی خوبی ہے۔ اور وہ یہ کہ جو چیز خدا تعالیٰ بندہ سے بیع میں لیتا ہے۔ وہ لے نہیں لیتا۔ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی انسان نے اپنی جان کو خدا تعالیٰ کے ہاتھ بیع کر دیا ہو۔ اور خدا تعالیٰ نے اسے آسمان پر اٹھا لیا ہو۔ یا یہ کہ کسی نے خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنے مال کی بیع کی ہو اور خدا نے اس کی تمام دولت اور جائیداد وغیرہ کو اس سے اس طرح لے لیا ہو۔ جس طرح ہم جب کوئی چیز خریدتے ہیں تو اسے اپنے گھر لے جاتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ جان و مال خود دے کر پھر خریدتا ہے۔ اور اس کے بدلہ میں ابدی انعامات دیتا ہے۔ اور پھر بھی یہ کہتا ہے کہ ان بیچی ہوئی چیزوں کو اپنے پاس ہی رکھو اور اپنے فائدہ اور نفع کے لئے خرچ کرو۔ لیکن اتنا یاد رکھو کہ جب ہماری طرف سے یہ آواز آئے کہ ہمارے راستہ میں خرچ کرو تو اس وقت ان میں سے کچھ دے دیا کرو۔ پھر یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ جب تم ہماری تمام و کمال خریدی ہوئی چیزوں میں سے کچھ ہمارے لئے خرچ کرو گے تو اس پر میں تمہیں اور انعام دوں گا۔

پس جب کوئی بندہ خدا تعالیٰ کے کسی نبی یا اس کے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے تو گویا وہ اقرار کرتا ہے کہ میری جان اور میرا مال میرے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہو گئے۔ مگر خدا تعالیٰ اس سے یہ چیزیں لے نہیں لیتا بلکہ اسی کے پاس رہنے دیتا ہے۔ اور جب وہ ان میں سے کچھ حصہ خدا کی راہ میں لگاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس پر اور انعام کرتا ہے۔ یہ ہے وہ بیع جو خدا تعالیٰ مؤمنین سے کرتا ہے۔ کیا کوئی اور بیع اس کے مقابلہ میں پیش کی جا سکتی ہے۔ ہرگز نہیں۔ کیونکہ یہ بے مثل ہے۔ لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز آتی ہے اور اس بات کے امتحان کا وقت آتا ہے کہ کون اس کے راستہ میں خرچ کرتا ہے اور کون نہیں کرتا۔ تو اکثر لوگ اس میں پاس ہونے کی کوشش نہیں کرتے اور یہ نہیں سمجھتے کہ ہماری جان اور ہمارا مال ہمارے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ ہم بیچ چکے ہیں اور ہمارے پاس اس نے بطور امانت کے یہ چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔ اور بہت ہیں جو کہہ دیتے ہیں کہ کیا ہماری اپنی ضرورتیں اور حاجتیں تھوڑی ہیں کہ خدا کی راہ میں ان کو خرچ کریں۔ لیکن اس سے زیادہ بے شرمی اور بے حیائی کی اور کیا بات ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر دیکھو کہ تم زید کو ایک چیز خرید کر دو۔ اور کہو کہ اس کو تم اپنے پاس رکھو اور استعمال بھی کرو۔ اگر کبھی ہمیں اس کی ضرورت ہوئی تو تم سے لے لیں گے۔ مثلاً تم زید کو ایک مکان خرید کر دو کہ تم اس میں رہو۔ جب کبھی ہمیں اس کی ضرورت ہوئی اس وقت خالی کر دینا پھر کسی وقت تم اسے جا کر کہو کہ ہم تم سے سارا مکان تو خالی نہیں کرواتے البتہ ایک کمرہ کی ضرورت ہے وہ خالی کر دو۔ لیکن وہ آگے سے یہ کہے کہ یہ مکان تو پہلے ہی میری ضروریات کی نسبت کم ہے پھر میں آپ کو ایک کمرہ کس طرح خالی کر دوں۔ کیا اس کے اس جواب کو تم پسند کرو گے۔ یا کوئی اور عقلمند انسان پسند کرے گا۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ تم بھی اور دوسرے بھی اس پر لعنت بھیجیں گے۔ اور اس سے نفرت کا اظہار کریں گے۔ لیکن اکثر لوگ ایسا ہی معاملہ خدا تعالیٰ سے کرتے ہیں لیکن نہ ان کا نفس ان کو ملامت کرتا ہے نہ دوسرے لوگ ان کو ملامت کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ امر نہایت ہی قابل نفرت اور مستحق ملامت ہے۔

پھر اس سے بھی بڑھ کر قابل ملامت اور لائق نفرین یہ بات ہے کہ اگر مالک مکان مکان میں رہنے والے کو یہ بھی کہے کہ تم ایک کمرہ خالی کر دو اس کا میں تمہیں کرایہ بھی دے دوں گا۔ لیکن پھر بھی وہ نہ مانے۔ اور اللہ تعالیٰ اسی طرح فرماتا ہے کیونکہ وہ فرماتا ہے۔ جب میں اپنی رکھائی ہوئی امانت میں سے کچھ لوں گا۔ تو اس کے بدلہ میں اور بھی بہت کچھ دوں گا۔ مگر پھر بھی بہت لوگ ایسے ہیں جو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے دریغ کرتے ہیں۔

آپ لوگ اپنے دلوں کو ٹٹولیں اور غور کریں کہ کیا آپ کے دل کے کسی گوشہ سے بھی یہ آواز آتی ہے کہ تمہیں ایسے وقت میں جبکہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی ضرورت ہو۔ یہی جواب دینا چاہئے کیا آپ کے پوشیدہ سے پوشیدہ خیالات میں سے کوئی بھی خیال اس بات کی تائید کرتا ہے کہ کسی سے ایک چیز خریدی جائے۔ اور وہ اسے ہی بطور امانت رکھنے کے لئے دے دی جائے۔ لیکن کسی وقت اس کا حصہ مانگا جائے اور اس کی بھی اسے قیمت پیش کی جائے۔ مگر وہ دینے سے انکار کر دے۔ اگر نہیں تو پھر بھی بات اس بیع کے متعلق کیوں پیشِ نظر نہیں رکھتے۔ جو آپ میں اور اللہ تعالیٰ میں ہو چکی ہے۔ اس کے لئے یا تو یہ کہو کہ ہم نے بیع ہی نہیں کی۔ یا یہ کہو بیع تو کی تھی لیکن اس پر قائم نہیں۔ اور ان فانی چیزوں کو دے کر ابدی انعام کو نہیں لینا چاہتے لیکن جو شخص یہ اقرار کرتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے بیع کی ہوئی ہے۔ اور میں اس پر قائم بھی ہوں۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے مال اور جان دینے کے لئے آواز آتی ہے۔ تو عذر کرتا ہے اس کا تو اولین اور سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ اس آواز کو قبول کرے اور بڑی خوشی سے اپنی جان اور مال کو خدا کی راہ میں لگا دے۔

خدا کی راہ میں جان و مال لگانے کے طریق

یہاں سوال ہوتا ہے کہ اگر کوئی جان اور مال کو خدا کی راہ میں لگانا چاہے تو کس طرح لگا سکتا ہے۔ اس کے جواب میں میں تین طریق بتاتا ہوں جو قرآن کریم سے معلوم ہوتے ہیں۔ (۱) انسان اپنے عقائد کو درست کرے۔ یعنی خدا تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت رکھے۔ (۲) اپنے اعمال کا ایک حصہ تو جس طرح چاہے عمل میں لائے مگر وہ باتیں جن کے کرنے کے متعلق خدا تعالیٰ نے ہدایات بتائی ہیں۔ ان کے مطابق کرے۔ اور جن کے کرنے سے روکا ہے ان سے رک جائے۔ (۳) جو بیع اس نے خدا تعالیٰ کے ساتھ کی ہے۔ اسی کے کرنے کے لئے دوسروں کو کہے۔ اور بتائے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے انعامات کے وارث بن جاؤ گے۔

تائید الٰہی کے حصول کا طریق

یہ تین طریق خدا تعالیٰ کی راہ میں جان اور مال خرچ کرنے کے ہیں۔ مذہب اسلام جو خدا تعالیٰ کا سچا اور پاک مذہب ہے۔ اس میں داخل ہونے کا یہی فائدہ ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے انسان کی تائید کرتا ہے۔ جہنم سے بچاتا ہے اور انعام دیتا ہے۔ لیکن یہ غرض تب پوری ہو سکتی ہے۔ جبکہ انسان بیع میں پورا اترے۔ کیونکہ ایک تاجر اس وقت کسی چیز کی قیمت حاصل کرسکتا ہے۔ جبکہ خریدار کو وہ چیز دے بھی۔ لیکن اگر یہ کہے میں چیز تو نہیں دوں گا مجھے یونہی قیمت دے دو تو یہ اس کی جہالت اور نادانی ہوگی۔ اسی طرح اگر ایک بندہ یہ امید رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہر ایک مشکل اور مصیبت میں میری تائید کرے۔ اور اپنے انعامات کا وارث بنائے۔ تو اسے چاہئے کہ وہ چیز بھی خدا تعالیٰ کو دے جس کے عوض میں اسے یہ کچھ حاصل ہو سکتا ہے ورنہ وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کیا اگر کوئی سوداگر اس طرح کرے کہ خریداروں سے اپنے مال کا سودا تو کرلے لیکن انہیں مال نہ دے بلکہ اپنے ہی گھر رکھ لے تو وہ قیمت حاصل کرسکتا ہے۔ ہرگز نہیں اسی طرح اگر کوئی انسان خدا تعالیٰ کے ساتھ جان اور مال کا سودا کر کے اگر ان کو خدا کی راہ میں صرف نہیں کرتا تو وہ بھی ان کا معاوضہ حاصل نہیں کر سکتا۔ اور کس قدر افسوس ہے اس انسان پر جو اللہ تعالیٰ کے اس قدر فضلوں اور احسانوں کے ہوتے ہوئے اور ایسی اعلیٰ درجہ کی بیع کے کرنے کے بعد بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان اور مال خرچ کرنے سے گریز کرے اور خدا تعالیٰ کی آواز پر کان نہ دھرے ایسا انسان ہرگز اس بات کا حقدار نہیں ہے کہ وہ کہے کہ میں نے خدا تعالیٰ سے جان و مال کا سودا کرلیا ہے۔ کیونکہ اس کا صرف زبانی کہنا اور عمل کر کے نہ دکھانا اسے کوئی فائدہ اور نفع نہیں پہنچا سکتا۔

بیعت کی غرض اور فوائد

ہماری جماعت کے لوگ سوچیں اور غور کریں کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے آگے اپنی جان اور مال کے بیچنے کا ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ دوسری دفعہ حضرت خلیفہ اول کے ذریعہ اور تیسری دفعہ میرے ذریعہ اقرار کیا ہے۔ ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے حضرت خلیفہ اول اور میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور بعضوں نے صرف میرے ہی ہاتھ پر۔ بیعت کے معنی ہیں بیچنے کے اور یہ سب لوگ اس بات پر خوش ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سلسلہ میں داخل ہوگئے۔ لیکن میں پوچھتا ہوں کہ ان کے خوش ہونے کی کیا وجہ ہے۔ کیا یہ نہیں کہ جس طرح ایک تاجر پندرہ روپیہ کی چیز خرید لاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اب میں اس کو بیس روپیہ پر بیچوں گا اس لئے وہ خوش ہوتا ہے۔ اسی طرح تم بھی خوش ہو کہ تم نے خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک عمدہ سودا کیا ہے اور اس کے بدلہ میں تمہیں بڑے بڑے انعام ملیں گے۔ لیکن ذرا غور تو کرو کہ جن چیزوں کا تم نے خدا تعالیٰ سے سودا کیا ہے۔ ان کو اگر تم باوجود خدا تعالیٰ کے طلب کرنے کے اس کی راہ میں خرچ کرنے کے بغیر اپنے مصرف میں لے آئے۔ تو پھر تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کی قیمت کیونکر ملے گی۔ تم نے اپنے مال اور اپنی جانیں خدا تعالیٰ کے لئے بیع کردی ہوئی ہیں۔ لیکن جب ان میں سے کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے تمہیں کہا جاتا ہے اور تم نہیں کرتے تو بتلاؤ کہ تم نے اس بیع کو عملاً فسخ کردیا یا نہیں اور جب بیع فسخ ہو گئی تو پھر خریدار تم کو ان کی قیمت کیوں دے گا۔ ہرگز نہیں دے گا۔ پس اس بات پر خوشی کرنا بے فائدہ اور لغو ہے کہ ہم نے خدا سے بیع کی ہوئی ہے۔ اگر ہماری جماعت کے لوگ اس بات پر خوش ہیں کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے حضور اپنی جان اور مال کو بیچ دیا ہے اور وہ امید رکھتے ہیں کہ اس کے بدلہ میں انہیں جنت حاصل ہوگی تو وہ سوچیں کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز آتی ہے کہ اپنے مال اور جان کا کچھ حصہ میرے لئے میری راہ میں خرچ کرو تو وہ کیوں بڑی خوشی سے اس آواز کا جواب نہیں دیتے۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگر ان میں سے کوئی خدا تعالیٰ کی آواز پر اپنے مال اور جان میں سے خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتا تو اس کی بیع فسخ ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر خرچ کرتا ہے تو پھر جس قدر بھی خوش ہو تھوڑا ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسا کرنے والوں کو میں بہت بڑے انعام دیتا ہوں۔ پس جب خدا تعالیٰ اس کے بدلہ میں بڑا انعام دینے کا وعدہ کرتا ہے تو وہ بہت ہی بڑا ہو گا کیونکہ جس چیز کو بڑے بڑا کہیں وہ بہت ہی بڑی ہوتی ہے۔ مثلاً کسی کو ایک بڑا امیر کہے کہ میں تمہیں بڑا انعام دوں گا تو یہ نہ ہو گا کہ وہ کوئی پانچ دس روپے انعام دے گا بلکہ بہت بڑی رقم دے گا۔ لیکن اگر کوئی غریب بڑے انعام کے دینے کا وعدہ کرے تو اس کا ایک روپیہ دینا بھی بڑا انعام سمجھا جائے گا تو چونکہ خدا تعالیٰ بہت بڑا ہے۔ اس لئے جسے وہ بڑا فرماتا ہے۔ اس کی بڑائی کو انسان سمجھ بھی نہیں سکتا۔ چنانچہ اللہ خود فرماتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ مجھے خدا کی طرف سے یہ انعام ملے گا۔ لیکن کوئی جان اس کو نہیں جان سکتی۔ جو خدا تعالیٰ نے انسان کے دینے کے لئے اس کی نظر سے پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔ حتیٰ کہ آنحضرت ﷺ بھی نہیں جانتے تھے کہ آپ کو کیا اور کس قدر بڑا انعام ملے گا۔ پس خدا تعالیٰ کے انعام کا کوئی بڑے سے بڑا انسان بھی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ جب یہ صورت ہے تو جس انسان نے خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنی جان اور مال کا سودا کیا ہے۔ وہ جس قدر بھی خوشی کا اظہار کرے تھوڑا ہے اور جس قدر بھی اپنی حالت پر خوش ہو کم ہے مگر جس نے خدا تعالیٰ کے ساتھ عملاً بیع نہیں کی۔ اس کے لئے خوشی اور شادمانی کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کو تو افسوس اور ماتم کرنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے اس کو انعام حاصل کرنے کے لئے موقعہ دیا تھا لیکن اس نے کچھ نہ حاصل کیا۔

جماعت کو ضروری اور قیمتی نصائح

پس جو لوگ بیعت کا مفہوم اور مطلب سمجھتے ہیں۔ ان کو میں سناتا ہوں۔ مگر اس لئے نہیں کہ وہ سن کر کہہ دیں کہ بڑا مزیدار لیکچر تھا بلکہ اس لئے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور عملی طور پر ثابت کر دیں کہ خدا تعالیٰ کے حضور انہوں نے اپنی جان اور مال کو بیچ دیا ہوا ہے۔ اگر وہ میری باتوں کو سن کر ان پر عمل کریں گے۔ تو بڑے بڑے انعامات پائیں گے اور اگر نہیں کریں گے تو انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ ان باتوں کے سننے میں انہوں نے جو وقت صرف کیا ہو گا۔ وہ ضائع کیا ہو گا۔ پس میں جو کچھ کہتا ہوں اس کو گوشِ ہوش سے سنو اور میں صرف تمہیں ہی نہیں بلکہ اپنے نفس کو بھی کہتا ہوں۔ اگر تم نے خدا تعالیٰ سے سودا کیا ہوا ہے اور اپنی جان اور مال کو خدا کے لئے دینے کو ہر وقت تیار ہو اور اس کے بدلہ میں ہلاک کرنے والے عذاب سے بچنا اور جنت حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اول ایمان کی درستی کرو دوم اعمال کو درست بناؤ۔ سوم دوسروں کو حق اور صداقت پہنچاؤ۔ اگر کوئی یہ باتیں نہیں کرتا۔ تو اس کا کوئی حق نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ کے انعامات کی امید رکھے۔ پس اے دوستو! سنو اور بڑے غور سے سنو کہ زمانہ گذرتا جاتا ہے اور موت قریب آرہی ہے۔ ہم آج کی صبح کے وقت موت کے قریب تھے۔ اب اس سے زیادہ قریب ہو گئے ہیں۔ اور جس وقت یہ لیکچر ختم ہو گا۔ اس وقت اور بھی زیادہ قریب ہو جائیں گے۔ موت اس شیر کی طرح ہے جو ہماری طرف منہ کھولے بھاگتا چلا آ رہا ہو۔ وہ ہر گھڑی اور ہر لحظہ ہمارے قریب اور نزدیک ہو رہی ہے۔ اس لئے ہمیں فرصت تھوڑی اور کام بہت ہے۔ اور ہم نہیں جانتے کہ اس لیکچر کے ختم ہونے تک کون زندہ رہے گا۔ اور کس کو موت آ دَبائے گی۔ حتیٰ کہ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ سانس جو اس وقت آیا ہے اس کے بعد بھی کوئی آئے گا یا نہیں۔ اس لئے نہایت ضروری ہے اور اس میں ایک سیکنڈ کی بھی دیر نہیں کرنی چاہئے کہ ہم اس بات کا عہد اور پختہ عہد کر لیں کہ ہم اپنی جان اور مال خدا کی راہ میں دینے کو ہر وقت تیار ہیں۔ تاکہ اگر اس وقت جان نکل جائے۔ تو ہم کہہ سکیں کہ ہم نے خدا تعالیٰ کے ساتھ سچی اور پکی بیع کی تھی اور اس پر شرح صدر سے قائم تھے۔ پس اپنے دلوں میں تبدیلی کرو اور فوراً کرو تاکہ خدا تعالیٰ کے حضور انعام پانے کے مستحق ٹھہر سکو۔ ورنہ صرف منہ سے کہہ دینے سے کہ ہم احمدی ہو گئے ہیں کچھ نہیں ملے گا۔

مؤمن کے لئے آزمائش ضروری ہے

خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ(العنکبوت: ۳) کیا لوگ سمجھتے ہیں کہ ایمان لانے کا صرف زبانی اقرار کر لینے سے وہ چھوڑ دیئے جائیں گے اور خدا ان کی آزمائش نہیں کرے گا۔ یہ درست نہیں ہے۔ خدا ضرور ان کی آزمائش کرے گا۔

ناس میں تمام انسان شامل ہیں۔ اس لئے وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ صرف زبانی اقرار کر لینا اور عمل کر کے نہ دکھانا کافی ہے وہ سوچیں کہ کیا وہ آدمی ہیں یا نہیں۔ اگر آدمی ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم کسی آدمی کو بھی بغیر آزمائش کے نہیں چھوڑتے اس لئے ان کی بھی ضرور آزمائش ہوگی۔ پس تم لوگ اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔ خدا تعالیٰ کے احکام کو قبول کرو اور ان پر عمل کر کے دکھاؤ اسی میں تمہاری کامیابی اور اسی میں تمہاری ترقی ہے۔ اس کے متعلق بجائے اس کے کہ میں کچھ بیان کروں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہی حکم تمہیں سنائے دیتا ہوں۔ جس سے تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ جس بیع کا تم کو دعویٰ ہے وہ کس طرح پوری ہو سکتی ہے اور اس کے متعلق کیا شرائط ہیں۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں

”واضح رہے کہ صرف زبان سے بیعت کا اقرار کرنا کچھ چیز نہیں ہے جب تک دل کی عزیمت سے اس پر پورا پورا عمل نہ ہو پس جو شخص میری تعلیم پر پورا پورا عمل کرتا ہے۔ وہ اس میرے گھر میں داخل ہو جاتا ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ کی کلام میں یہ وعدہ ہے اِنِّیْ اُحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ۔ یعنی ہر ایک جو تیرے گھر کی چار دیواری کے اندر ہے میں اس کو بچاؤں گا۔ (بہت لوگ کہتے ہیں کہ روپیہ پاس ہو تو قادیان میں مکان بنائیں میں کہتا ہوں۔ وہ گھر بیٹھے ہی قادیان میں مکان بنا سکتے ہیں وہاں ہی رہتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ کے گھر میں رہ سکتے ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں) اس جگہ یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہی لوگ میرے گھر کے اندر ہیں جو میرے اس خاک و خشت کے گھر میں بود و باش رکھتے ہیں۔ بلکہ وہ لوگ بھی جو میری پوری پیروی کرتے ہیں

میرے روحانی گھر میں داخل ہیں۔ پیروی کرنے کے لئے یہ باتیں ہیں (یہ عقیدہ بتایا) کہ وہ یقین کریں کہ ان کا ایک قادر اور قیوم اور خالق الکل خدا ہے۔ جو اپنی صفات میں ازلی ابدی اور غیر متغیر ہے۔ نہ وہ کسی کا بیٹا نہ کوئی اس کا بیٹا۔ وہ دکھ اٹھانے اور صلیب پر چڑھنے اور مرنے سے پاک ہے وہ ایسا ہے کہ باوجود دور ہونے کے نزدیک ہے۔ اور باوجود نزدیک ہونے کے وہ دور ہے۔ اور باوجود ایک ہونے کے اس کی تجلیات الگ الگ ہیں۔ انسان کی طرف سے جب ایک نئے رنگ کی تبدیلی ظہور میں آوے۔ تو اس کے لئے وہ ایک نیا خدا بن جاتا ہے (یعنی رحمٰن سے رحیم بن جاتا ہے) اور ایک نئی تجلی کے ساتھ اس سے معاملہ کرتا ہے۔ اور انسان بقدر اپنی تبدیلی کے خدا میں بھی تبدیلی دیکھتا ہے۔ مگر یہ نہیں کہ خدا میں کچھ تغیر آجاتا ہے۔ بلکہ وہ ازل سے غیر متغیر اور کمال تام رکھتا ہے۔ لیکن انسانی تغیرات کے وقت جب نیکی کی طرف انسان کے تغیر ہوتے ہیں۔ تو خدا بھی ایک نئی تجلی سے اس پر ظاہر ہوتا ہے اور ہر ایک ترقی یافتہ حالت کے وقت جو انسان سے ظہور میں آتی ہے خدا تعالیٰ کی قادرانہ تجلی بھی ایک ترقی کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔ وہ خارق عادت قدرت اسی جگہ دکھلاتا ہے جہاں خارق عادت تبدیلی ظاہر ہوتی ہے۔ (یعنی معمولی تبدیلی نہیں بلکہ ایسی کہ انسان خود بھی حیران ہو جائے کہ میں پہلے کیا تھا اور اب کیا بن گیا ہوں) خوارق اور معجزات کی یہی جڑھ ہے۔ یہ خدا ہے۔ جو ہمارے سلسلہ کی شرط ہے۔ اس پر ایمان لاؤ اور اپنے نفس پر اور اپنے آراموں پر اور اپنے کل تعلقات پر اس کو مقدم رکھو اور عملی طور پر بہادری کے ساتھ اس کی راہ میں صدق و وفا دکھلاؤ۔ دنیا اپنے اسباب اور اپنے عزیزوں پر اس کو مقدم نہیں رکھتی۔ مگر تم اس کو مقدم رکھو۔ تا تم آسمان پر اس کی جماعت لکھے جاؤ (بعض لوگ یہاں بیعت کا کارڈ لکھ دینا کافی سمجھتے ہیں اور اپنے اندر تبدیلی نہیں پیدا کرتے۔ ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس طرح کرنے سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بیعت دراصل وہی ہے کہ جس کے کرنے سے آسمان پر نام لکھا جائے)

رحمت کے نشان دکھلانا قدیم سے خدا کی عادت ہے۔ مگر تم اس حالت میں اس عادت سے حصہ لے سکتے ہو کہ تم میں اور اس میں کچھ جدائی نہ رہے۔ اور تمہاری مرضی اسکی مرضی اور تمہاری خواہشیں اس کی خواہشیں ہو جائیں۔ اور تمہارا سر ہر ایک وقت اور ہر ایک حالت مراد یابی اور نامرادی میں اس کے آستانہ پر پڑا رہے (یعنی یہ نہیں ہونا چاہئے کہ جب کوئی انعام اور ترقی ہوئی۔ تو سُبْحَانَ اللّٰہِ کہنے لگ گئے۔ اور جب کوئی ابتلاء یا تکلیف ہوئی ۔ تو ناشکری کرنے لگ گئے) تا جو چاہے سو کرے اگر تم ایسا کرو گے تو تم میں وہ خدا ظاہر ہو گا۔ جس نے مدت سے اپنا چہرہ چھپا لیا ہے۔ کیا کوئی تم میں ہے جو اس پر عمل کرے اور اس کی رضا کا طالب ہو جائے ۔ اور اس کی قضاء و قدر پر ناراض نہ ہو۔ سو تم مصیبت کو دیکھ کر اور بھی قدم آگے رکھو کہ یہ تمہاری ترقی کا ذریعہ ہے (بعض لوگوں کو جب کوئی ابتلاء آتا ہے ۔ تو وہ احمدیت کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ابتلاء ان کی ترقی کے لئے آتے ہیں) اور اسکی توحید زمین پر پھیلانے کے لئے اپنی تمام طاقت سے کوشش کرو اور اس کے بندوں پر رحم کرو اور ان پر زبان یا ہاتھ یا کسی تدبیر سے ظلم نہ کرو اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو اور کسی پر تکبر نہ کرو گو اپنا ماتحت ہو اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔ غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤ تا قبول کئے جاؤ۔ بہت ہیں جو حلم ظاہر کرتے ہیں مگر وہ اندر سے بھیڑیئے ہیں۔ بہت ہیں جو اوپر سے صاف ہیں مگر اندر سے سانپ ہیں۔ سو تم اس کی جناب میں قبول نہیں ہو سکتے ۔ جب تک ظاہر و باطن ایک نہ ہو۔ بڑے ہو کر چھوٹوں پر رحم کرو نہ ان کی تحقیر۔ اور عالم ہو کر نادانوں کو نصیحت کرو نہ خود نمائی سے ان کی تذلیل۔ اور امیر ہو کر غریبوں کی خدمت کرو۔ نہ خود پسندی سے ان پر تکبر۔ ہلاکت کی راہوں سے ڈرو۔ خدا سے ڈرتے رہو۔ اور تقویٰ اختیار کرو اور مخلوق کی پرستش نہ کرو اور اپنے مولیٰ کی طرف منقطع ہو جاؤ اور دنیا سے دل برداشتہ رہو۔ اور اسی کے ہو جاؤ اور اسی کے لئے زندگی بسر کرو۔ اور

اس کے لئے ہر ایک ناپاکی اور گناہ سے نفرت کرو۔ کیونکہ وہ پاک ہے۔ چاہئے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی۔ اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا۔ دنیا کی لعنتوں سے مت ڈرو کہ وہ دھوئیں کی طرح دیکھتے دیکھتے غائب ہو جاتی ہیں۔ اور وہ دن کو رات نہیں کر سکتیں۔ بلکہ تم خدا کی لعنت سے ڈرو جو آسمان سے نازل ہوتی اور جس پر پڑتی ہے اس کی دونوں جہانوں میں بیخ کنی کر جاتی ہے۔ تم ریاکاری کے ساتھ اپنے تئیں بچا نہیں سکتے۔ کیونکہ وہ خدا جو تمہارا خدا ہے اس کی انسان کے پاتال تک نظر ہے۔ کیا تم اس کو دھوکا دے سکتے ہو۔ پس تم سیدھے ہو جاؤ اور صاف ہو جاؤ اور پاک ہو جاؤ اور کھرے ہو جاؤ اگر ایک ذرّہ تیرگی تم میں باقی ہے تو وہ تمہاری ساری روشنی کو دور کر دے گی۔ اور اگر تمہارے کسی پہلو میں تکبر ہے یا ریاء ہے یا خود پسندی ہے یا کسل ہے تو تم ایسی چیز نہیں ہو کہ جو قبول کے لائق ہو۔ ایسا نہ ہو کہ تم صرف چند باتوں کو لے کر اپنے تئیں دھوکا دو کہ جو کچھ ہم نے کرنا تھا کر لیا ہے۔ کیونکہ خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ہستی پر پورا پورا انقلاب آوے۔ اور وہ تم سے ایک موت مانگتا ہے جس کے بعد وہ تمہیں زندہ کرے گا۔ تم آپس میں جلد صلح کرو اور اپنے بھائیوں کے گناہ بخشو۔ کیونکہ شریر ہے وہ انسان کہ جو اپنے بھائی کے ساتھ صلح پر راضی نہیں وہ کاٹا جائے گا۔ کیونکہ وہ تفرقہ ڈالتا ہے تم اپنی نفسانیت ہر ایک پہلو سے چھوڑ دو اور باہمی ناراضگی جانے دو۔ اور سچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلل کرو۔ تا تم بخشے جاؤ۔ نفسانیت کی فربہی چھوڑ دو کہ جس دروازے کے لئے تم بلائے گئے ہو۔ اس میں سے ایک فربہ انسان داخل نہیں ہو سکتا۔ کیا ہی بد قسمت وہ شخص ہے۔ جو ان باتوں کو نہیں مانتا۔ جو خدا کے منہ سے نکلیں۔ اور میں نے بیان کیں تم اگر چاہتے ہو کہ آسمان پر تم سے خدا راضی ہو۔ تو تم باہم ایسے ایک ہو جاؤ۔ جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی (میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے لوگوں میں بعض اوقات ذرا ذرا سی بات پر رنجش ہو جاتی ہے) تم میں سے زیادہ بزرگ

وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے۔ اور بد بخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشتا۔ سو اس کا مجھ میں حصہ نہیں۔ خدا کی لعنت سے بہت خائف رہو کہ وہ قدوس اور غیور ہے۔ بدکار خدا کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ متکبر اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ ظالم اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ خائن اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ اور ہر ایک جو اس کے نام کے لئے غیرت مند نہیں اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ وہ جو دنیا پر کتوں یا چیونٹیوں یا گدھوں کی طرح گرتے ہیں اور دنیا سے آرام یافتہ ہیں وہ اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتے۔ ہر ایک ناپاک آنکھ اس سے دور ہے۔ ہر ایک ناپاک دل اس سے بے خبر ہے وہ جو اس کے لئے آگ میں ہے وہ آگ سے نجات دیا جائے گا وہ جو اس کے لئے روتا ہے وہ ہنسے گا۔ وہ جو اس کے لئے دنیا سے توڑتا ہے وہ اس کو ملے گا۔ تم سچے دل سے اور پورے صدق سے اور سرگرمی کے قدم سے خدا کے دوست بنو تا وہ بھی تمہارا دوست بن جائے۔ تم ماتحتوں پر اور اپنی بیویوں پر اور اپنے غریب بھائیوں پر رحم کرو تا آسمان پر تم پر بھی رحم ہو۔ تم سچ مچ اس کے ہو جاؤ تا وہ بھی تمہارا ہو جائے۔ دنیا ہزاروں بلاؤں کی جگہ ہے جن میں سے ایک طاعون بھی ہے۔ سو تم خدا سے صدق کے ساتھ پنجہ مارو تا وہ یہ بلائیں تم سے دور رکھے۔ کوئی آفت زمین پر پیدا نہیں ہوتی جب تک آسمان سے حکم نہ ہو۔ اور کوئی آفت دور نہیں ہوتی جب تک آسمان سے رحم نازل نہ ہو۔ سو تمہاری عقلمندی اسی میں ہے کہ تم جڑہ کو پکڑو نہ شاخ کو۔ تمہیں دوا اور تدبیر سے ممانعت نہیں ہے مگر ان پر بھروسہ کرنے سے ممانعت ہے۔ اور آخر وہی ہو گا جو خدا کا ارادہ ہو گا۔ اگر کوئی طاقت رکھے تو توکّل کا مقام ہر ایک مقام سے بڑھ کر ہے۔ اور تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔ جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے۔ وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔ جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے۔ ان کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔ نوع انسان کے

لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفٰے ۔ سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبی کے ساتھ رکھو۔ اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو۔ تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ۔ اور یاد رکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہوگی۔ بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے۔ نجات یافتہ کون ہے وہ جو یقین رکھتا ہے کہ خدا سچ ہے۔ اور محمد اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے۔ اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے۔ اور نہ قرآن کے ہم مرتبہ کوئی اور کتاب ہے۔ اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبیؐ ہمیشہ کے لئے زندہ ہے۔ اور اس کے ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے خدا نے یہ بنیاد ڈالی ہے کہ اس کے افاضہٴ تشریعی اور روحانی کو قیامت تک جاری رکھا اور آخر کار اس کی روحانی فیض رسانی سے اس مسیح موعودؑ کو دنیا میں بھیجا جس کا آنا اسلامی عمارت کی تکمیل کے لئے ضروری تھا۔ کیونکہ ضرور تھا کہ یہ دنیا ختم نہ ہو۔ جب تک کہ محمدی سلسلہ کے لئے ایک مسیح روحانی رنگ کا نہ دیا جاتا۔ جیسا کہ موسوی سلسلہ کے لئے دیا گیا تھا۔ اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ(1:6-7) موسیٰؑ نے وہ متاع پائے جس کو قرون اولیٰ کھو چکے تھے۔ اور حضرت محمد نے وہ متاع پائے۔ جس کو موسیٰؑ کا سلسلہ کھو چکا تھا۔ اب محمدی سلسلہ موسوی سلسلہ کے قائم مقام ہے۔ مگر شان میں ہزار ہا درجہ بڑھ کر۔ مثیل موسیٰؑ موسیٰؑ سے بڑھ کر اور مثیل ابن مریمؑ ابن مریمؑ سے بڑھ کر۔ اور وہ مسیح موعود نہ صرف مدت کے لحاظ سے آنحضرت کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا۔ جیسا کہ مسیح ابن مریم موسیٰؑ کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا تھا۔ بلکہ وہ ایسے وقت میں آیا جب کہ مسلمانوں کا وہی حال تھا جیسا کہ مسیح ابن مریم کے ظہور کے وقت یہودیوں کا حال تھا۔ سو وہ میں ہی ہوں۔“۔

یہ ہے وہ تعلیم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی جماعت کو دی ہے۔ پس اگر آپ لوگ خدا تعالیٰ کے انعامات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس پر عمل کریں۔ اور میں خاص طور پر نصیحت کرتا ہوں کہ آپ لوگ ضرور اس پر عمل کریں۔ قرآن کریم کو پڑھیں اور اس کے احکام کو مانیں۔ یہ جھگڑے جو ہم میں پیدا ہو گئے ہیں۔ یہ عارضی ہیں ان کے جلد سے جلد دور کرنے کی کوشش کریں۔ اور تمام دنیا میں حضرت مسیح موعودؑ کی تعلیم کو پہنچا دیں۔ مگر اس بات کو خوب اچھی طرح یاد رکھیں کہ اگر آپ لوگوں نے خود اس پر عمل نہ کیا تو خواہ تمہارے ذریعے ہزاروں اور لاکھوں اس پر عمل کر کے جنت میں پہنچ جاویں تمہیں کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ پس جو تم نے بیعت کرتے وقت اقرار کیا ہے اس کو عملی طور پر پورا کر کے دکھا دو۔ تاکہ خدا تعالیٰ بھی تم پر وہ انعامات نازل کرے جن کا اس نے تم سے وعدہ کیا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ امت محمدیہ کے لئے باعث فضیلت یہی بات ہے کہ وہ دوسروں کی اصلاح کرے۔ پس تم لوگ اس فضیلت کو حاصل کرو۔ اور ایمان اور عقائد کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ نے جو تعلیم دی ہے اسے پیش نظر رکھو۔ قرآن کریم اور حدیث میں ایمان اور عقائد کے متعلق سب باتیں موجود ہیں۔ لیکن حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ سے پہلے ان میں بہت سی غلط باتیں مل گئی تھیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ان کو دور کر کے اصل تعلیم آپ لوگوں کے سامنے رکھ دی ہے۔ پس تمہیں چاہئے کہ کوئی صبح تم پر ایسی نہ چڑھے اور کوئی شام تم پر ایسی نہ گزرے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی تعلیم تمہارے پیش نظر نہ ہو۔

تیسری بات

جو میں آپ لوگوں کو پہنچانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَتَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ(اٰل عمران: ۱۱۱) اے امت محمدیہ کے لوگو کہ تم سب امتوں پر فضیلت رکھتے ہو۔ کیوں؟ اس لئے کہ تمہارے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو پیغام آیا ہے اس کو تمام دنیا کی طرف پہنچا دو۔ لوگوں کو نیکی سکھاؤ اور بدیوں سے روکو۔ اس کے لئے خدا تعالیٰ نے دو طریق رکھے ہیں۔ ایک یہ کہ ایک ایسی جماعت ہو جو رات دن اسی کام میں لگی رہے۔ چنانچہ فرمایا وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ وَیَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَیَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ(3:105)۔

(آل عمران: ۱۰۵) تم میں سے ایک ایسی جماعت ہو جو رات دن خیر کی طرف لوگوں کو بلانے میں لگی رہے۔ نیکی کا حکم کرے۔ اور برائی سے روکے۔ یہ لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔

اس آیت میں تمام کے تمام لوگ مراد نہیں۔ بلکہ ایک خاص جماعت ہے۔ کیونکہ اگر سارے دن رات اسی طرف لگ جائیں تو پھر ان کے دوسرے کام کون کرے اور ان کے دنیاوی کام کیونکر چلیں۔ اس لئے فرمایا ہے کہ تم میں ایک ایسی جماعت ہو جو اپنی زندگی‘ اپنی عزت‘ اپنی آبرو‘ اپنی جان‘ اپنا مال خدا کی راہ میں لگائے رہنے کے لئے علیحدہ ہو جائے۔ اور وہ ہر وقت اسی کام میں لگی رہے کہ اللہ کا نام دنیا میں پہنچائے۔ دوسرا طریق یہ بتایا ہے کہ سب مسلمان حتی المقدور تبلیغ اسلام کریں۔ جیسا کہ کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ(3:111) میں اشارہ فرمایا ہے۔ کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم مسلمان سب امتوں سے بہتر ہو۔ کیونکہ تم لوگوں کو اسلام کی طرف جو سب دینوں سے خوب تر ہے لوگوں کو بلاتے ہو۔ پس اس آیت میں مسلمانوں کا فرض ہی تبلیغ رکھا گیا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے دو گروہ قرار دیئے ہیں۔ ایک وہ جو اپنا سارا وقت اسی کام میں صرف کریں اور دوسرے وہ جو کچھ وقت صرف کریں۔ لیکن جب پہلا گروہ اپنا سارا وقت اسی میں صرف کرے گا اور بالکل خدا کی راہ میں لگ جائے گا تو یہ بھی ضروری ہو گا کہ دوسرا گروہ اس کی ضروریات کو پورا کرے ان کی کھانے پہننے اور زندگی بسر کرنے کی حاجتوں کو پورا کرے۔ آنحضرت ﷺ کے وقت تو جانیں مانگی جاتی تھیں۔ اور جب وہ خدا کی راہ میں اپنی جانوں کو قربان کر دیتے تھے تو اللہ تعالیٰ کے حضور میں بڑے بڑے مدارج پاتے تھے۔ لیکن اب چونکہ زمانہ بدل گیا ہے تلوار کا جہاد نہیں رہا اس لئے قربانی کا مطالبہ بھی بدل گیا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ پر نادان اور جاہل لوگوں نے یہ اعتراض کیا تھا کہ آپ نے اسلام کو تلوار کے ذریعہ پھیلایا ہے۔ اگر دلائل اور براہین کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا تو کبھی نہ پھیلتا۔ یورپ کے مصنفین خصوصاً اس اعتراض کو بار بار پیش کرتے اور اسے بڑا اہم سمجھتے ہیں۔ بے شک قرآن کریم‘ احادیث اور صحیح تاریخ اس کے خلاف گواہی دینے کے لئے موجود ہے مگر عملی شہادت چونکہ سب سے بڑی ہوتی ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کا ایک مظہر اور بروز دنیا میں بھیجا اور اس کا کام یہ رکھا کہ اس وقت جبکہ اسلام مٹ گیا ہے دلائل اور براہین کے ذریعہ اس کو زندہ کرے۔ تاکہ یہ ثابت ہو جائے کہ

جب ایک خادم اسلام کو دلائل کے ساتھ پھیلا سکتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ آقا نہ پھیلا سکا ہو۔ اسی طرح عملی طور پر ثابت کر کے خدا تعالیٰ نے اس اعتراض کو دور کیا ہے۔ غرض خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہو چکا ہے کہ اب اسلام دلائل اور براہین کے ذریعہ پھیلے۔ اس لئے آپ لوگوں کو اس کے پھیلانے میں خاص کوشش اور ہمت سے کام لینا چاہئے۔ یہ مت سمجھو کہ آسانی سے پھیل سکے گا۔ آنحضرتؐ نے فرمایا ہے کہ دجال کا فتنہ سب فتنوں سے بڑا ہو گا اور تمام نبی اپنی امتوں کو اس فتنہ سے ڈراتے آئے ہیں۔ پھر آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر ایمان ثریا پر بھی چلا جائے گا تو وہاں سے بھی واپس لے آیا جائے گا۔ یہ پیشگوئی ہے اس بات کے متعلق کہ اس زمانہ میں ایمان دنیا سے اٹھ جائے گا اور اس وقت دنیا میں ایسی تاریکی اور ظلمت ہو گی جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ اس سے سمجھ لو کہ تمہارا کام کس قدر اہم اور کس قدر طاقت اور کوشش کو چاہتا ہے۔ یہ مت سمجھو کہ تم میں اور غیر احمدیوں میں حیات مسیحؑ کا مسئلہ ہی مابہ النزاع ہے۔ بلکہ وہ اسلام جو آنحضرت ﷺ کے ذریعہ دنیا کو دیا گیا تھا۔ وہ ایسے رنگ میں پیش کیا جاتا ہے کہ لوگ اس سے نفرت کرنے لگ گئے ہیں۔ پس یہ کوئی معمولی کام نہیں بلکہ بہت بڑا ہے۔ وہ بیرونی مفاسد تو الگ رہے جن کے مٹانے کے لئے ہماری جماعت کھڑی کی گئی ہے۔ مسلمان کہلانے والوں کی عملی حالت کو ہی دیکھ لو کہ کس قدر گری ہوئی ہے۔ میں اگر آپ لوگوں کے سامنے ان کی عملی حالت کو پیش کر دوں تو میرے الفاظ وہ اثر نہیں کر سکتے۔ جو آپ کو اپنے محلے کے لوگوں اپنی بستی کے بسنے والوں اور اپنے علاقہ میں رہنے والوں کو دیکھ کر ہو سکتا ہے۔ آپ اپنے محلہ کے لوگوں اپنے ہمسایوں اور اپنے واقف کاروں کو دیکھیں۔ کیا وہ واقعہ میں مسلمان ہیں ، کیا وہ نمازیں پڑھتے ، زکوٰۃ دیتے، اور روزے رکھتے اور حج کرتے ہیں؟ کیا وہ اخلاق سے پیش آتے بدیوں سے بچتے ہیں؟ کیا یہ درست نہیں کہ ملک کے جیل خانوں میں کثرت سے مسلمان ہی بھرے ہوئے ہیں۔ کیا یہ صحیح نہیں کہ بدکاریوں اور بدافعالیوں کے اڈوں پر مسلمانوں کے ہی جمگھٹے رہتے ہیں۔ اور کیا یہ واقعہ نہیں کہ عیاشی اور بے دینی میں مسلمان سب سے بڑھے ہوئے ہیں۔ ان کے گدی نشینوں کی یہ حالت ہے کہ دین سے اس قدر دور ہو چکے ہیں کہ نہ دین کو جانتے ہیں اور نہ سیکھتے ہیں۔ مریدوں سے بیعت لے کر ان سے ٹیکس وصول کرنا ان کا کام رہ گیا ہے۔ مسلمانوں کے امراء، صوفیاء، تاجروں ، ملازموں اور زمینداروں کی حالت سخت خراب ہے۔ انہیں جھوٹ سے پرہیز نہیں، بدکاریوں سے نفرت

نہیں، خدا پر ایمان نہیں، محمدؐ مصطفیٰ سے تعلق نہیں، قرآن کریم کو ہاتھ میں لے کر عدالتوں میں خدا تعالیٰ کی قسمیں آٹھ آٹھ آنے پر کھاتے ہیں کہ فلاں بات سچی ہے حالانکہ وہ بالکل جھوٹی ہوتی ہے۔

پس مسلمانوں کی حالت جو آنکھوں سے دیکھنے سے معلوم ہوتی ہے اس کو تقریر میں بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ لوگ ان کو دیکھ کر اندازہ لگائیں کہ ان کا کہاں تک اسلام پر عمل ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اسلام مٹ چکا ہے اور کسی نے سچ کہا ہے کہ مسلماناں درگور و مسلمانی درکتاب یعنی مسلمان دین کی طرف سے ایسا مردہ ہو چکے ہیں کہ گویا قبروں میں پڑے ہیں۔ اور اسلام قرآن کریم میں بند پڑا ہے۔ بہت تھوڑے ہیں جن کا تھوڑا بہت دین سے تعلق ہے۔ مگر عام طور پر سب بے دین ہو چکے ہیں۔ ان کے امراء خراب ہیں، ان کے غرباء خراب ہیں، ان کے زمیندار خراب ہیں، ان کے مولوی خراب ہیں۔ ان کے مفتی خراب ہیں۔ حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ ایک مولوی نے ایک عورت کا نکاح ایک جگہ پڑھا کر پھر دوسرے دن دوسری جگہ پڑھایا۔ حضرت خلیفہ اول نے اس کو کہا مولوی صاحب میں نے آپ کے متعلق ایک بات سنی ہے جس سے مجھے بڑا رنج ہوا ہے۔ اس نے پوچھا کیا؟ آپ نے بتایا کہ میں نے سنا ہے آپ نے ایک عورت کا نکاح دو جگہ پڑھا دیا ہے۔ یہ سن کر اس نے کہا مولوی صاحب باتیں بنانی آسان ہیں اور اصل واقعات سے ناواقف رہ کر رائے دینا سہل ہے۔ اگر آپ کو وہ حالات معلوم ہوتے جن سے مجبور ہو کر میں نے یہ کام کیا ہے تو کبھی آپ مجھ پر افسوس نہ کرتے۔ حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ مجھے اس کی یہ بات سن کر اس پر رحم آگیا اور میں نے سمجھا کہ اس پر کوئی بڑی ہی مصیبت آئی ہوگی اور شاید جان جانے کا خطرہ ہو گا تب اس نے ایسا کیا ہے۔ میں نے کہا اچھا بتائیے تو سہی کیا بات ہوئی ۔ تو وہ پنجابی زبان میں کہنے لگا۔ مولوی صاحب انہاں چڑی جیڈا روپیہ جے کڈ کے رکھ دتا تے میں کی کردا۔ یعنی چڑیا کے برابر روپیہ جو انہوں نے نکال کر سامنے رکھ دیا تو میں نکاح نہ پڑھتا تو اور کیا کرتا۔ معلوم ہوتا ہے اس کی نگاہ میں روپیہ کی بہت ہی عظمت ہو گی جب ہی تو اس نے چڑیا جتنا کہا ہے ۔ ورنہ ہم نے کبھی دیکھا نہیں کہ کوئی روپیہ اتنا بڑا ہو۔ حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ مجھے اس کی یہ بات سن کر سخت حیرت ہوئی کہ اس شخص کی دینی حس کس قدر مسخ ہو چکی ہے۔ میں نے اس کی حالت کو دیکھ کر کہا واقعہ میں تو مولوی صاحب آپ مجبور تھے اگر نکاح نہ کرتے تو اور کیا کرتے۔

یہ ہے ان کے مولویوں کی حالت۔ ایک سجادہ نشین کی نسبت حضرت خلیفہ اول فرماتے کہ آپ کی نسبت لوگ کفر کا فتویٰ جو تیار کرنے لگے تو اس پر اس کے دستخط کروانے کا بھی انہوں نے ارادہ کیا۔ آپ اس کے پاس گئے اور جا کر کہا کہ میں نے سنا ہے آپ بھی میرے خلاف فتویٰ پر دستخط کرنے لگے ہیں اگر آپ نے ایسا کیا تو یاد رکھئے کہ میرے مرید آپ کو سلام نہیں کریں گے۔ اس نے کہا تم اپنے مریدوں کو جا کر کہہ دو کہ میں دستخط نہیں کروں گا وہ مجھے سلام کرنا ترک نہ کریں۔ جب لوگ اس کے پاس فتویٰ دستخط کرانے کے لئے لے گئے۔ تو اس نے کہا کہ بھئی فقیروں کا دروازہ بہت اونچا ہوتا ہے اس میں سے ہر ایک آ سکتا ہے اس لئے میں تو دستخط نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد وہ سجادہ نشین صاحب خاص طور پر اس گلی میں سے گزرے جس میں حضرت مولوی صاحب رہتے تھے تاکہ معلوم کریں کہ ان کے معتقد انہیں سلام کرتے ہیں یا نہیں۔ اور ایک آدمی کو آگے بھیج دیا کہ جا کر اطلاع دو کہ میں اس طرف سے گزرنے لگا ہوں۔ حضرت مولوی صاحب نے اپنے ہم خیال اور دوست اہلحدیث کو کہلا بھیجا کہ اس کو سلام کر دیں کہ خوش ہو جاویں گے اور خود بھی آگے بڑھ کر اسے سلام کیا۔ اس نے آپ سے کہا مولوی صاحب میں نے آپ کے خلاف فتویٰ پر دستخط نہیں کئے۔ اب تو آپ کے مرید مجھے سلام کرنا ترک نہیں کریں گے۔ اس قدر انہیں سلام کروانے کا شوق تھا۔

میری عمر کوئی دس گیارہ برس کی ہو گی کہ میں امرتسر گیا۔ اور دیکھا کہ ایک مولوی صاحب بڑی لمبی داڑھی والے جبہ پہنے اور عصا ہاتھ میں لئے جا رہے تھے اور ان کے پیچھے پیچھے ایک شخص جو اپنے لباس سے کسی دفتر کا چپڑاسی معلوم ہوتا تھا ہاتھ جوڑتا اور منتیں کرتا جا رہا تھا اور کہتا جاتا تھا کہ مولوی صاحب مجھ پر رحم کیجئے میں بہت مفلس اور غریب ہوں۔ مولوی صاحب تھوڑی دور چل کر اس کی طرف مڑ کر دیکھتے اور کہہ دیتے ہٹ دور ہو اور کوئی گالی بھی نکال دیتے۔ آخر کار اس بیچارہ نے تھک کر اس مولوی صاحب کا پیچھا چھوڑا۔ میں نے اس سے پوچھا کیا بات ہے۔ اس نے کہا کہ میں ایک دفتر میں آٹھ روپیہ کا چپڑاسی ہوں میں نے اپنی شادی کے لئے کچھ روپیہ جمع کیا تھا اور اس شخص کو مولوی اور دیندار سمجھ کر امانتاً رکھنے کے لئے دیا ہوا تھا۔ اب جو میری شادی ہونے لگی ہے اور میں اس سے وہ روپیہ مانگتا ہوں تو بات تک نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ میں تجھے جانتا ہی نہیں۔

غرض اس قسم کی ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں مثالیں ہیں جو پیش کی جاسکتی ہیں

اور ہر جگہ یہی حالت ہے۔ اور بعض علاقے تو ایسے ہیں کہ وہاں کے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ اسلام چیز کیا ہے۔ ایک دوست نے لکھا کہ یہاں کے لوگ آج کل کوئی جانور ذبح نہیں کر سکتے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے مولوی نے ان کو ذبح کرنے کے لئے جو چھری پڑھ کر دی ہوئی تھی وہ گم ہو گئی ہے۔ اب پھر جب وہ کوئی چھری پڑھ کر دے گا تب ذبح کریں گے۔

کئی لوگ ہمارے پاس بیعت کرنے کے لئے ایسے بھی آتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ کسی نشان کے ذریعہ اس سلسلہ کی صداقت سمجھا دیتا ہے لیکن کلمہ شہادت نہیں پڑھ سکتے۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر رقت آجاتی ہے کہ اسلام کی کیا حالت ہے۔ چونکہ یہ لوگ انہی لوگوں میں سے آتے ہیں جو اسلام کو بالکل فراموش کر چکے ہیں اس لئے ان کی یہ حالت ہوتی ہے۔

کسی نے لطیفہ کے طور پر لکھا ہے کہ کسی پٹھان نے ایک ہندو کو پکڑ کر کہا کہ مسلمان بنو اور کلمہ پڑھو ورنہ ابھی جان سے مار دوں گا اس نے کہا۔ میں کلمہ نہیں جانتا۔ پٹھان نے کہا جلدی پڑھو ورنہ میں قتل کر دوں گا۔ آخر کار ہندو نے مجبور ہو کر کہا اچھا تم پڑھاؤ میں پڑھتا جاؤں گا۔ پٹھان نے کہا کم بخت تیری قسمت ہی خراب ہے کلمہ مجھے بھی نہیں آتا ورنہ آج تجھے میں مسلمان بنا دیتا۔ کہنے والے نے تو یہ قصہ کہا ہے مگر اس وقت مسلمانوں کی حالت اسی قسم کی ہو رہی ہے کہ میرے پاس ایسے لوگ بھی آئے ہیں جن کو میں نے کئی کئی منٹ میں صرف کلمہ پڑھایا ہے۔ حضرت مولوی صاحب کے وقت یہاں ایک عورت بیعت کرنے کے لئے آئی۔ مولوی صاحب نے اس سے پوچھا جانتی ہو۔ محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کون تھے کہنے لگی۔ کوئی ہوں گے ہمیں ان کا کیا پتہ ہے۔ اب تو وہ دین سے خوب واقف ہے۔ لیکن اس وقت اس کی حالت کیسی دردناک تھی۔ یہاں ایک شخص ہوتا تھا اس سے حضرت مولوی صاحب نے پوچھا تمہارا کیا مذہب ہے۔ وہ کہنے لگا میرا وہی مذہب ہے جو ہمارے گاؤں کے نمبردار کا ہے۔ کیا ہی رونے کا مقام ہے۔ جب میں حج کو گیا تو ہمارے ساتھ ایک شخص جس کا نام عبد الوہاب تھا اور بہت بوڑھا وہ بھی حج کو جا رہا تھا۔ میں نے منیٰ میں اس سے پوچھا کہ تمہارا کیا مذہب ہے تو کہنے لگا کہ گھر میں جا کر اپنے مولوی سے لکھوا کر آپ کو بھیج دوں گا۔ میری اس سے پوچھنے کی یہ مراد تھی کہ تم کس فرقہ کے ہو۔ اس کے متعلق جب پھر میں نے پوچھا تو کہنے لگا میرا مذہب رَحْمَتُہ اللہ ہے۔ میں حیران رہ گیا۔ پھر کہنے لگا جلدی نہ کرو اچھی طرح سوچ لینے دو۔ میں نے کہا اچھا سوچ لو۔ تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا میرا مذہب اعظم علیہ ہے۔ اسی طرح اس کے کبھی کوئی اور کبھی کوئی

لفظ بولنے سے میں نے یہ سمجھا کہ وہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کہنا چاہتا ہے مگر کہہ نہیں سکتا۔ مکہ میں جا کر وہ بیمار ہو گیا اور اس کے پاس خرچ بھی نہ تھا۔ لیکن وہ مدینہ جانا چاہتا تھا میں نے سمجھایا کہ وہاں نہ جاؤ کہیں راستہ میں ہی مر جاؤ گے۔ لیکن وہ کہتا کہ میرے بیٹوں نے مجھے کہا ہُوا ہے کہ جب تک تم مدینہ نہ جاؤ گے تمہارا حج نہیں ہوگا اس لئے میں ضرور جاؤں گا۔ معلوم نہیں وہ گیا یا نہ گیا۔ لیکن اس کی اسلام سے واقفیت کو دیکھو۔ کہ حج کو گیا اور اسلام کی خبر تک نہیں۔

پھر ہندوستان میں ایسے علاقے موجود ہیں جہاں کے لوگ کہلاتے تو مسلمان ہیں لیکن اپنے گھروں میں بت رکھے ہوئے ہیں اور صبح اٹھ کر ان کے آگے سجدہ کرتے ہیں۔

یہ حالت ہے آج کل کے مسلمانوں کی۔ اور یہ مت سمجھو کہ ایران، مصر اور عرب کے لوگوں کی اس سے اچھی ہوگی۔ ہندوستان کے رہنے والوں کی حالت ان سے ہزار درجہ اچھی ہے۔ میں نے مصر کے شہر پورٹ سعید کی جامع مسجد میں دیکھا ہے کہ امام نماز پڑھا رہا تھا اور اس کے پیچھے کوئی دس پندرہ آدمی کھڑے تھے۔ میں نے اپنے گائیڈ سے پوچھا کہ کیا اسی قدر مسلمان یہاں نماز پڑھتے ہیں تو کہنے لگا کہ جمعہ کے دن بہت سے آجاتے ہیں۔ اس وقت نمازیوں کو دیکھنا چاہئے۔ وہاں کے بڑے بڑے مشہور و معروف مولوی شراب پیتے اور اس سے کوئی پرہیز نہیں کرتے۔ شیخ عبد الرحمن صاحب جب مصر میں تھے۔ تو انہوں نے مجھے لکھا تھا کہ ایک بڑے عالم نے میری باتوں سے متاثر ہو کر شراب چھوڑنے کا ارادہ کیا ہے اور اب وہ طریق پوچھتا ہے کہ کس طرح چھوڑوں۔

غرض مسلمانوں کی عملی حالت یہ ہے اور اس کی تصدیق تم اپنے گاؤں اپنے شہروں اور اپنے محلوں کے لوگوں کو دیکھ کر کر سکتے ہو۔ باقی رہے ان کے اعتقادات ان کے متعلق میں مختصراً بتاتا ہوں۔ ان کو سن کر رونا آتا ہے۔

قرآن کریم جس خدا کو پیش کرتا ہے وہ ایسا خدا ہے کہ جس کی طرف کوئی بدی منسوب نہیں کی جا سکتی۔ وہ سب نقصوں اور عیبوں سے پاک اور ہر قسم کی کمزوریوں سے منزہ ہے اور قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی(87:2) اے مسلمانو! اپنے رب کی تسبیح کرو۔ مگر آج وہ حالت ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی نسبت وہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ جن کو سن کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔

قرآن کریم میں بہت بڑا زور خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر دیا گیا ہے۔ مگر باوجود اس کے آج مسلمانوں میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو کہتا ہے کہ جس قدر مخلوق ہے وہ سب خدا ہی خدا ہے۔ مسلمانوں، فقیروں اور صوفیوں میں چلے جاؤ یہی کہیں گے کہ ہر ایک چیز خدا ہے اور ہر ذرہ خدا ہے اس کو وہ وحدت الوجود کا مسئلہ کہتے ہیں۔ لیکن اس سے تو ایمان بالکل ضائع ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک ایک چور اور بدکار انسان بھی خدا ہے، نجاست اور پاخانہ بھی خدا ہے، اینٹ اور پتھر بھی خدا ہے۔ لیکن میں پوچھتا ہوں کہ سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی(87:2) کا بھی مفہوم اور یہی منشاء ہے؟ اصل بات یہ ہے جسے قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔ اور ابتدائی زمانہ کے صوفیاء بھی اسی کو مانتے تھے کہ ہر ایک چیز اور ہر ایک ذرہ میں خدا تعالیٰ جلوہ گر ہے۔ لیکن اس زمانہ کے صوفیوں نے اپنی نادانی اور جہالت کی وجہ سے اس کے یہ معنی کر لئے ہیں کہ ہر ایک چیز خدا ہے۔ مگر درست یوں ہے کہ ہر ایک چیز میں خدا کا جلوہ نظر آتا ہے۔ یعنی ہر ایک چیز اور ہر ذرہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر دلالت کرتا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ بھی فرماتے ہیں؎

چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بیکل ہوگیا

کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمالِ یار کا

چاند جمالِ یار کا مظہر تو ہے مگر خدا نہیں تھا۔ خدا تعالیٰ نے بھی قرآن کریم میں اس بات کو اس طرح بیان فرمایا کہ اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ وَالۡفُلۡکِ الَّتِیۡ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِمَا یَنۡفَعُ النَّاسَ وَمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا وَبَثَّ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ دَآبَّۃٍ ۪ وَّتَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَیۡنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ(البقرہ: ۱۶۵) یعنی زمین و آسمان کی ہر ایک چیز خدا تعالیٰ پر دلالت کرتی ہے۔ مگر عقلمندوں کے نزدیک اور انہیں کے لئے یہ نشانیاں ہیں۔ آج کل کے مسلمانوں کو دیکھو۔ وہ گندی سے گندی چیز کو خدا بنا رہے ہیں۔ اور یہ عقیدہ اس قدر پھیلا ہوا ہے کہ لاکھوں لاکھ انسان اس عقیدہ کے پابند ہیں۔ پھر خدا تعالیٰ کے شریک کمزور اور ناتواں انسان قرار دیئے جاتے ہیں۔ قرآن کریم کہتا ہے۔ اللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ(البقرہ: ۲۵۶) مگر آج مسلمان کہتے ہیں کہ اور بھی اللہ ہیں۔ کیا مسلمانوں میں سے وہ لوگ نہیں ہیں جو بغداد کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں اور اسے پیر جیلانی کی نماز کہتے ہیں۔ اور پھر کیا ایسے لوگ نہیں ہیں جو ان کو خدا سے بھی بڑھ کر طاقت اور قدرت رکھنے والا سمجھتے ہیں۔ کشمیر میں میں نے دیکھا ہے کہ اگر کوئی چھوٹی کشتی لے جا رہے ہوتے تو زور لگاتے وقت لا الہ الا اللہ کہتے اور اگر بڑی ہوتی تو پیر دستگیر کہتے۔ گویا انہوں نے خدا اور پیر دستگیر کا یہ اندازہ لگایا ہوا تھا کہ چھوٹی کو تو خدا پار کر سکتا ہے مگر بڑی کے لئے پیر دستگیر کی مدد کی ضرورت ہے۔ پھر میں نے ایک نظارہ دیکھا کہ ایک بڑی کشتی کو کھینچ رہے تھے۔ لیکن وہ کھنچتی نہ تھی۔ اس پر انہوں نے لا الہ الا اللہ کہہ کر زور لگایا مگر نہ چلی۔ پھر یا شیخ ہمدان کہہ کر زور لگاتے رہے اس میں بھی انہیں کامیابی نہ ہوئی۔ اس کے بعد جب پیر دستگیر کہہ کر زور لگانے لگے تو تمام مرد عورت اور بچے جو کشتی میں بیٹھے ہوئے تھے سب ان کے ساتھ مل کر زور لگانے لگ گئے تاکہ اگر اب نہ چلی تو پیر دستگیر کی ہتک ہو گی۔ گویا ان کو خدا کی ہتک کی تو کوئی پرواہ نہ تھی مگر پیر دستگیر کی ہتک کو گوارا نہ کر سکتے تھے۔ پھر مسلمانوں نے یہاں تک باتیں بنائی ہوئی ہیں کہ کسی کے لڑکے کی فرشتہ جان نکال کر لے گیا تھا کہ اتنے میں پیر دستگیر آ گئے۔ اس شخص نے ان کو کہا کہ میرا لڑکا زندہ کر دیجئے۔ اس وقت عزرائیل آسمان پر چڑھ رہا تھا انہوں نے اس کو کہا کہ اس لڑکے کی روح کو چھوڑ دو تاکہ یہ زندہ ہو جائے۔ لیکن اس نے کہا کہ مجھے چھوڑنے کا حکم نہیں ہے اس لئے میں نہیں چھوڑ سکتا۔ جب اس نے یہ کہا تو انہوں نے ایک لاٹھی دے ماری جس سے اس کا گھٹنا ٹوٹ گیا اور اس سے زنبیل لے لی جس میں اس نے روحیں بند کی ہوئی تھیں اور سب کو چھوڑ دیا۔ اس سے اس دن کے تمام مرنے والے زندہ ہو گئے۔ عزرائیل نے جا کر خدا تعالیٰ کو یہ بات بتائی اور کہا کہ آج میرے ساتھ اس قسم کا واقعہ پیش آیا اس کا انسداد ہو جانا چاہئے۔ اس پر خدا تعالیٰ نے کہا چپ چپ اس کے متعلق کوئی بات نہ کرنا اگر وہ آج تک کے تمام مردوں کو زندہ کر دے تو پھر میں نے اور تم نے اس کا کیا بگاڑ لینا ہے۔

اس سے دیکھ لیجئے کہ ان کے نزدیک خدا تعالیٰ کی کیا شان ہے۔ اور پیر دستگیر کی کیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے ایک استاد مولوی عبدالقیوم نام ریاست بھوپال میں رہتے تھے بڑے باغیرت اور دیندار تھے۔ ایک دفعہ عید کے موقع پر وہاں کے ریذیڈنٹ نے بیگم صاحبہ بھوپال کو کہا کہ میں آپ کی نماز دیکھنا چاہتا ہوں اس لئے خاص طور پر عید گاہ کو سجایا گیا اور خاص اہتمام کیا گیا۔ عید کے دن جب مولوی عبدالقیوم صاحب نماز پڑھانے کے لئے گئے تو اس وقت تک ریذیڈنٹ اور بیگم صاحبہ نہیں آئی تھیں لیکن وقت ہو گیا تھا۔ مولوی صاحب نے حاضرین کو نماز پڑھا دی۔ نماز پڑھا چکنے کے بعد بیگم صاحبہ آئیں اور پوچھا مولوی صاحب آپ نے یہ کیا کیا کہ ہمارے آنے سے پہلے ہی نماز پڑھا دی۔ اور اس پر بہت غصہ کا اظہار کیا۔ مولوی صاحب نے کہا نہیں بیگم صاحبہ! میں نے تو نماز نہیں پڑھائی۔ والیۂ بھوپال نے کہا کہ سب لوگ گواہی دیتے ہیں کہ آپ پڑھا چکے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں میں نے خدا تعالیٰ کی نماز پڑھائی ہے۔ آپ کی نماز کے لئے یونہی انتظار کر رہا تھا تشریف لائیے اب پڑھا دیتا ہوں۔ انہی مولوی صاحب نے رؤیا میں ایک شکل دیکھی کہ اس کے جسم پر کیڑے پڑے ہوئے تھے اور ہڈیاں نکلی ہوئی تھیں اور بڑا بدصورت تھا انہوں نے اس سے پوچھا تم کون ہو۔ اس نے کہا میں خدا ہوں۔ انہوں نے کہا ہمیں تو قرآن نے بڑا خوبصورت اور بڑی اعلیٰ صفتوں والا خدا بتایا ہوا ہے۔ تم کس طرح خدا ہو سکتے ہو۔ اس نے جواب دیا میں وہ خدا نہیں ہوں جس کا ذکر قرآن میں ہے بلکہ میں بھوپال کا خدا ہوں۔ تو وہ خدا جو بڑا ہی خوبصورت اور بڑے ہی جمال والا ہے بڑی ہی شان و شوکت رکھتا ہے اور ایسا ہے کہ اس کی صفات کو سن کر انسان کا دل چاہتا ہے کہ اس کے رستہ میں اپنے جسم کو ریزہ ریزہ کر دے وہ اس وقت کے لوگوں کے خیالات کے مطابق مولوی صاحب کو اس شکل میں نظر آیا۔ مگر آج مسلمان جو خدا پیش کرتے ہیں وہ بھی کچھ کم نہیں۔ منہ سے اس کی تقدیس کی جاتی ہے مگر واقعہ میں جو تفصیلات اس کی صفات اور اس کے کاموں کے متعلق بیان کی جاتی ہیں ان سے وہ نہایت بھیانک اور خوفناک خدا معلوم ہوتا ہے۔ پھر یہی نہیں خدا تعالیٰ کے کمزور بندوں کو خدا بنایا جا رہا ہے۔ پھر ایک ایسی جماعت جو کہتی ہے کہ ہم مشرک نہیں بلکہ موحد ہیں۔ لیکن انہوں نے یہ کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو وضعی اور جھوٹی حدیثوں کے نیچے چھپا دیا ہے۔ یہ لوگ اگر ایک گڑھے سے نکلے تھے تو دوسرے میں جا گرے ہیں۔ پھر اور عقائد میں ہزارہا قسم کی خرابیاں ہیں۔ اور ان کو رسائل اور کتب میں ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ ایک مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ خدا جھوٹ نہیں بول سکتا۔ دوسرے کہتے ہیں نہیں وہ شخص جو یہ کہتا ہے وہ خدا کی قدرت کا منکر ہے اس لئے وہ کافر ہے۔ پہلے صاحب کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں لکھا ہے کہ خدا سچ بولتا اور سب سچوں سے زیادہ سچا ہے اس لئے وہ جھوٹ نہیں بول سکتا۔ تم قرآن کریم کو نہیں مانتے اس لئے کافر ہو۔ حالانکہ یہ بحث ہی لغو ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ قدرت کے معنی طاقت رکھنے کے ہیں اور طاقت کا کمال یہ ہے کہ صاحب طاقت میں کوئی عیب اور کوئی نقص نہ ہو۔ جھوٹ بولنا ایک نقص ہے اس لئے قادر ہونا اور جھوٹ بولنا یکجا جمع ہی نہیں ہو سکتے۔ لیکن مسلمان ہیں کہ ان لغو بحثوں

میں پڑے ہوئے ہیں۔

پھر مسلمانوں کے فلسفی کہتے ہیں کہ خدا کو قادر سمجھنا ہی لغو ہے۔ خدا علت ہے اور مجبور ہے کہ پیدا کرے۔ اس لئے یہ چیزیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ یہ لوگ مثال میں یہ بات پیش کرتے ہیں کہ آگ کا کام جلانا ہے جو اس میں انگلی ڈالے گا۔ اس کی انگلی کو وہ ضرور جلائے گی۔ اسی طرح کا خدا ہے وہ مجبور ہے کہ پیدا کرے۔ اس لئے چیزوں کی پیدائش ہوتی رہتی ہے۔ کیا ایسے خدا سے کوئی عقلمند محبت کر سکتا ہے جو آپ ہی آپ بلا ارادہ اور بلا منشاء کے کام کرنے پر مجبور ہے۔ کیونکہ کسی کو انعام یا سزا دینا تو اس کے اختیار میں ہی نہ ہو اور جب یہ نہ ہو تو اس سے محبت یا خوف کیسا۔

پھر کہتے ہیں کہ اب خدا کسی سے کلام نہیں کر سکتا۔ جو کچھ اس نے بولنا تھا وہ بول چکا ہے۔ گویا اب اس کے بولنے کی صفت معطل ہو چکی ہے۔

غرض اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں جو ان کے عقائد میں داخل ہو چکی تھیں۔ اور قرآن کریم نے جو کچھ بتایا تھا وہ ان کے اعتقادات میں داخل نہیں رہا تھا۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا۔ آپ نے آکر اسلام کو ان تمام نقصوں اور عیبوں سے پاک کیا جو ان لوگوں نے اس کی طرف منسوب کر دیئے تھے۔ اور بتایا کہ خدا ایک ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور نہ اس سے مقابلہ کر سکتا ہے۔ اور یہ کہ خدا جو کچھ کرتا ہے اپنے ارادہ سے کرتا ہے مجبور ہو کر نہیں کرتا۔ ہر ایک انسان جو کچھ کرتا ہے وہ اس سے پوچھا جائے گا۔ مگر خدا سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ خدا تعالیٰ علت نہیں بلکہ وہ اپنے فضل اور احسان سے سب کام کرتا ہے اور یہ کہ اس کی طرف جھوٹ منسوب کرنا ہی غلط ہے۔ اور یہ بحث ہی فضول ہے اور یہ کہ اسکے کلام کرنے کی صفت اب بھی معطل نہیں ہوئی بلکہ جاری ہے۔

غرض اس زمانہ میں حضرت مسیح موعودؑ نے ہی اسلام کو صاف اور شفاف کر کے پیش کیا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کے اس حکم کو پورا کر کے دکھلا دیا ہے کہ سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی(الاعلیٰ: ۲) اب لوگ سمجھیں کہ ہم میں اور غیر احمدیوں میں وفاتِ مسیحؑ کا ہی اختلاف نہیں۔ خدا تعالیٰ کے متعلق بھی اختلاف ہے۔ وہ اس خدا کو نہیں مانتے جو قرآن نے پیش کیا ہے۔ پھر قرآن کریم کے بارہ میں اختلاف ہے۔ وہ اس رنگ میں اس کو نہیں مانتے جو کہ اصلی اور درست ہے۔ پھر آنحضرت ﷺ میں بھی اختلاف ہے وہ اس شان میں آپؐ کو نہیں مانتے جو

آپؐ کی ہے۔ لیکن تم نے ان سے اصل خدا، اصل قرآن اور حقیقی نبی کریمؐ منوانا ہے۔ کیا یہ کوئی چھوٹا کام ہے۔ آپ لوگوں نے ہزاروں اور لاکھوں انسانوں کے سامنے اپنا مال اور اپنی جانیں خرچ کر کے بتانا ہے کہ خدا کی اصل شان کیا ہے، قرآن کریم کی صحیح تعلیم کیا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل حقیقت کیا ہے اور پھر جو عیب، جو نقص اور جو کمزوریاں وہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں ان کو دور کرنا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے کلام قرآن کریم پر کئی قسم کے اعتراض کئے جاتے ہیں۔ اکثر کہتے ہیں کہ اس میں ایسے واقعات بیان کئے گئے ہیں جو غلط ہیں۔ اکثر کہتے ہیں کہ اس میں کوئی ربط نہیں۔ گویا جس طرح ایک نادان بچہ کے ہاتھ سے کاغذ پر سیاہی کے گرنے سے بے ترتیب چھینٹے پڑ جاتے ہیں نعوذ باللہ اسی طرح خدا تعالیٰ نے یہ بے ترتیب سی باتیں بتا دی ہیں حالانکہ یہ اتنا بڑا نقص ہے کہ کسی سمجھدار انسان میں بھی نہیں پایا جاتا پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ میں پایا جاتا ہو۔

پھر قرآن کے متعلق سمجھ رکھا ہے کہ یہ مُردوں کی قبروں پر پڑھنے کے لئے ہے۔ گویا یہ زندوں کے لئے نازل نہیں ہوا تھا۔ مُردوں کے لئے ہوا تھا۔ پھر قرآن کی آیت کے ناسخ و منسوخ نے قیامت برپا کر دی۔ کسی نے کوئی آیت منسوخ کر دی اور کسی نے کوئی۔ اور جس آیت کا مطلب نہ سمجھ آیا یا جو اپنی منشاء کے خلاف معلوم ہوئی اس کے متعلق کہہ دیا کہ یہ منسوخ ہے۔ پھر بعض نے یہاں تک کہہ دیا کہ قرآن دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں اتارا گیا بلکہ حضرت علیؓ پر اتارا گیا تھا لیکن جبرائیل غلطی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دے گئے۔ یہ بھی بہت بڑا حملہ ہے۔ کیونکہ اگر (نعوذ باللہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس قابل نہ تھے کہ آپ پر خدا کا کلام اترتا تو پھر خدا نے اس غلطی کی اصلاح کیوں نہ کی۔ پھر بعض نے کہا کہ قرآن کے دس پارے ہی غائب ہیں۔ اس سے تو قرآن کا کوئی حکم بھی قابل عمل نہ رہا کیونکہ ممکن ہے کہ جو قرآن کا حصہ غائب ہے اس میں کسی حکم کی کوئی تشریح ہو۔ پھر بعضوں نے کہا کہ قرآن خدائی کلام ہی نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے خیالات ہیں۔ بعض نے کہا یہ عقل کے خلاف ہے۔

یہ تو خدا تعالیٰ کے کلام کے متعلق ان کے اعتقاد ہوئے۔ ان کے علاوہ خدا تعالیٰ کے نبیوں میں سے کوئی نبی ایسا نہ چھوڑا جس پر کوئی نہ کوئی گندے سے گندہ الزام نہ لگایا ہو۔ سورۃ یوسف میں جہاں آتا ہے کہ حضرت یوسف کے بھائیوں نے ان کے چھوٹے بھائی پر سے چوری کا الزام دور کرتے ہوئے خود حضرت یوسفؑ پر بھی الزام لگا دیا کہ اس کا بھائی (یوسف) بھی پہلے

چوری کرچکا ہے تو ایسے بعض مفسرین نے ایسے واقعات لکھنے شروع کر دیئے ہیں کہ واقعہ میں حضرت یوسفؑ نے نعوذ باللہ چوری کی تھی۔ انہوں نے اپنی پھوپھی کا کرتہ چرایا تھا۔ تو نبیوں پر کوئی نہ کوئی الزام ضرور لگاتے ہیں۔ اور صاف کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ پاک تھے اور کوئی نبی بَری نہیں تھا۔ حتیٰ کہ رسول کریم ﷺ پر بھی انہوں نے الزام لگائے ہیں۔ ان کی کتابوں میں لکھا ہوا موجود ہے کہ آنحضرت ﷺ حضرت زینبؓ پر عاشق ہوگئے تھے کیونکہ انہوں نے ان کو ننگا نہاتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ ڈرپوک تھے۔ آپ کے بعد حضرت علیؓ شیرِ خدا خلافت لینے کے مستحق تھے۔ لیکن آپ نے ابوبکرؓ سے ڈر کر نہ بنایا۔

پھر ملائکہ کی نسبت کہتے ہیں کہ اس دنیا میں دو فرشتے آئے تھے اور وہ ایک کنچنی پر عاشق ہوگئے اور اس سے زنا کیا۔ وہ کنچنی تو ستارہ بن کر آسمان پر جاچکی اور وہ دونوں ایک کنویں میں لٹکا دیئے گئے۔

غرض اسلام کا کوئی عقیدہ اور کوئی بات ایسی نہیں رہی جس کو انہوں نے بالکل مسخ نہ کردیا ہو۔

پھر جزاء و سزا کے متعلق ان کا یہ عقیدہ ہے اور اس کو آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا خواہ کوئی کس قدر گناہ کرے لیکن لا الہ الا اللہ کہنے سے جنت میں چلا جائے گا۔

پھر جنت کا نقشہ ایسا برا کھینچتے ہیں کہ سن کر شرم آجاتی ہے ہم نے ایک دفعہ ندوۃ العلماء کا جلسہ دیکھا۔ اس میں ایک مولوی صاحب نماز کی فضیلت پر لیکچر دے رہے تھے جسے سن کر انگریزی خوان اور شریف آدمی شرم کے مارے اپنے منہ پر رومال رکھ رہے تھے۔ مولوی صاحب نے نماز کی ضرورت اور فضیلت صرف یہ بیان کی کہ نماز کے بدلہ میں جنت ملے گی اور جنت وہ مقام ہوگا جس میں اس اس طرح عورتوں سے تعلق کا موقعہ ملے گا اس جماع میں خاص قسم کی لذت اور سرور ہو گا وغیرہ وغیرہ۔ پورا ڈیڑھ گھنٹہ انہی باتوں کی تشریح اور توضیح کرنے میں اس کا صرف ہوا۔

یہ حالت ہے مسلمانوں کے علماء کی۔ اسی لئے خدا تعالیٰ نے مسیح موعودؑ کو بھیجا کہ جن کے متعلق یہ پیشگوئی تھی کہ لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَيَّا لَنَا لَہٗ رَجُلٌ أَوْ رِجَالٌ مِّنْ هٰٓؤُلَاءِ۳ یہاں میں ایک ضمنی بات بتاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ

اسی پیشگوئی میں ہماری صداقت کا بھی ثبوت ہے۔ جو کہ آنحضرت کی زبانی ہے۔ یہ پیشگوئی دو طرح پر آئی ہے ایک میں رَجُلٌ کا لفظ آیا ہے اور دوسری میں رِجَالٌ کا اب ہم کہتے ہیں رسول کریم نے فرمایا ہے کہ جب ایمان اٹھ جائے گا اور عقائد بگڑ جائیں گے تو خدا تعالیٰ ایک فارسی النسل انسان کو کھڑا کرے گا۔ جو اگر ایمان آسمان پر بھی چلا جائے گا تو واپس لے آئے گا۔ اور دوسری جگہ فرمایا ہے کہ ایسا شخص ایک نہیں ہو گا بلکہ کئی ہوں گے۔ اب یہ بات تو سب لوگ مانتے ہیں کہ اس زمانہ کی طرح پہلے کبھی ایمان ثریا پر نہیں گیا اور کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو یقینی طور پر دعویٰ کر سکے کہ میں فارسی النسل ہوں۔ مگر حضرت مسیح موعودؑ کو الہام کے ذریعہ بتایا گیا ہے اور صرف آپ ہی نے فارسی النسل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ پس ہم کہتے ہیں تمام دنیا پر اس وقت وہ کون سا خاندان ہے۔ جو یقینی طور پر کہتا ہے کہ میں فارسی النسل ہوں۔ ہمارے سوا کوئی بھی نہیں۔ اور رسول کریم فرماتے ہیں کہ ایمان کے لانے والے کئی ایک ہوں گے۔ اس لئے معلوم ہوا کہ ہمارے خاندان کے دوسرے لوگ بھی اس پیشگوئی میں شامل ہیں۔ موجودہ اختلاف کے زمانہ میں اگر یہ ہوتا کہ حضرت مسیح موعودؑ کے لڑکوں میں سے بعض ایک طرف ہوتے اور بعض دوسری طرف تو غیر مبائعین کہہ سکتے تھے کہ ہم بھی حق پر ہیں کیونکہ ہم بھی ابنائے فارس میں سے ہیں۔ لیکن خدا کی منشاء کے ماتحت حضرت مسیح موعودؑ کی تمام اولاد ہماری طرف ہی ہے۔ اور اس کے متعلق رسول کریم نے پہلے ہی فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ ایمان کو قائم کرنے والے ہوں گے نہ کہ نقصان پہنچانے والے اس سے معلوم ہوا کہ ہم حق پر ہیں۔

خیر یہ تو ایک ضمنی بات تھی۔ لیکن میں نے آپ لوگوں کو جو کچھ سنایا ہے اس سے آپ نے معلوم کر لیا ہو گا کہ ہمارا کام کوئی چھوٹا سا کام نہیں ہے۔ اگر کسی ایک آدمی کے یا ایک شہر یا ایک علاقہ کے لوگوں کے عقائد خراب ہوتے تو کوئی بڑی بات نہ تھی۔ لیکن یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نسبت ، فرشتوں کی نسبت ، قرآن کریم کی نسبت ، آنحضرت کی نسبت ، نبیوں کی نسبت ، حشر و نشر کی نسبت اور قیامت کی نسبت سب عقائد بگڑے ہوئے ہیں۔ اور ساری دنیا کے مسلمانوں کے ایمان میں تزلزل آ چکا ہے اور ان کو درست کرنا ہمارا فرض ہے۔ کیا اتنے بڑے کام کے ہوتے ہوئے ہم سستی اور غفلت سے کام لے سکتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ جتنا بڑا کام ہے اتنی ہی زیادہ ہمیں تیاری کرنی چاہئے۔ دیکھو جس آدمی کو

دس کوس جانا ہوتا ہے وہ اپنے سفر کے لئے کم تیاری کرتا ہے۔ لیکن جس کو دور دراز جانا ہو وہ بہت زیادہ کرتا ہے۔ پھر دیکھو اگر کبھی سرحد پر ضرورت پڑے ۔ تو ہماری گورنمنٹ چند سو آدمیوں کو بھیج دیتی ہے اور انہیں کو دیکھ کر فتنہ پرداز بھاگ جاتے ہیں ۔ مگر آج جبکہ جرمن وغیرہ کے ساتھ مقابلہ ہے تو کس قدر تیاری کی جاتی ہے ۔ اور برٹش حکومت کے دانا کس قدر زور و شور سے سامانِ جنگ تیار کر رہے ہیں۔ تمام انگلینڈ ایک کارخانہ کی طرح بن گیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس بڑے دشمن کے لئے بڑی تیاری کی ضرورت ہے۔ پس آپ لوگ سن لیں اور خوب غور سے سن لیں کہ ہمارا مقابلہ بھی کوئی چھوٹا سا مقابلہ نہیں بلکہ بہت بڑا ہے کیونکہ اس زمانہ میں اس شیطان کا آخری حملہ ہے جس نے حضرت نوحؑ، حضرت موسیٰؑ حضرت عیسیٰؑ اور آنحضرت ﷺ کے مقابلہ کے لئے اپنا لشکر بھیجا تھا۔ اب وہ پوری تیاری اور مکمل سامان کے ساتھ حملہ آور ہوا ہے۔ اور یہ بات دل میں رکھ کر آیا ہے کہ یا مار دوں گا یا مر جاؤں گا۔ اس لئے یہ ایک ایسی جنگ ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ روحانی اور جسمانی سلسلے ایک ہی طرح چلتے ہیں ۔ جس طرح یہ موجودہ جسمانی جنگ اس قسم کی ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسی نہیں ہوئی۔ اس طرح ہماری روحانی جنگ بھی ایسی ہی ہے جس کی نظیر پہلے کسی زمانہ میں نہیں مل سکتی۔ آپ کی ایک مٹھی بھر جماعت ہے جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جاؤ اور جاکر شیطان اور اسکے لشکر کو ہلاک کرو۔ یعنی لوگوں کے عقائد کو درست کرو اور اپنے ان بھائیوں کو جو شیطان کی قید میں پھنسے ہوئے اور اس کی فوج میں بھرتی ہو چکے ہیں ان کو چھڑاؤ اور اپنے ساتھ شامل کرو۔ تم لوگوں نے چونکہ اپنا سب کچھ خدا تعالیٰ کے ہاتھ بیچ دیا ہے اس لئے تمہیں خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کی رہائی کے لئے بھیجا ہے جو شیطان کے ہاتھ میں بک چکے ہیں۔ پس غور کر لو۔ اس کے لئے تمہیں کس قدر تیاری کرنی چاہئے۔ اس کام میں تمہیں اپنے رات دن صرف کرنے پڑیں گے ، اپنی عزت و آبرو قربان کرنی پڑے گی ، اپنا آرام و آسائش چھوڑنی پڑے گی ، اور اپنا مال اور جان دینی پڑے گی اور جب تک یہ سب مراحل طے نہ کرو گے تمہیں کامیابی نہیں ہو سکے گی۔ کیونکہ شیطان کا یہ آخری حملہ اور موجودہ جنگ کی طرح بڑا خطرناک حملہ ہے۔ پہلے زمانہ میں جو لڑائیاں ہوتی تھیں ان میں بہت جلدی فیصلہ ہو جاتا تھا۔ نپولین کی لڑائیوں کے حالات پڑھنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ چند گھنٹہ کے عرصہ میں ان کا فیصلہ ہو جاتا تھا۔ لیکن آج کیسی خطرناک جنگ ہو رہی ہے۔ باوجود اس کے کہ جرمن کے مقابلہ

میں ہماری گورنمنٹ بہت وسیع سامان رکھتی ہے مگر پھر بھی اس کو یک لخت شکست نہیں دی جا سکتی۔ یہی حال روحانی جنگ کا ہے۔ اس لئے یاد رکھو کہ تمہیں اس مقابلہ میں اچانک اور جھٹ پٹ فتح نہیں حاصل ہو جائے گی بلکہ تمہیں ایک ایک صوبہ ، ایک ایک علاقہ ، ایک ایک شہر ، ایک ایک گاؤں ، ایک ایک گلی ، ایک ایک گھر ، ایک ایک کونے بلکہ ایک ایک فٹ اور ایک ایک انچ زمین کے لئے لڑنا ہوگا اور شیطان سے مقابلہ کر کے اسے شکست دینی پڑے گی تب جا کر فتح کا منہ دیکھو گے اور خدا تعالیٰ کے حضور میں سُرخرو ہو گے اور اس کے محبوب اور پیارے ہو جاؤ گے اور اس کے انعامات کے وارث ٹھہرو گے۔ پس اپنی کمروں کو کس لو اور سینوں کو تان لو اور آج ہی سے نئے انسان بن جاؤ۔ آج کے دن کی شام تم کو وہ انسان نہ دیکھے جو صبح نے دیکھا اور کل کی صبح تمہیں اس حالت میں نہ پائے جس حالت میں آج کی شام نے پایا۔ ہر لحظہ اور ہر گھڑی تمہارے اندر نیا جوش اور نیا ولولہ پیدا کرے۔ اور ہر منٹ تمہارے اندر اور زیادہ ہمت پیدا کرے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ موجودہ جنگ میں قومیں کس طرح اپنی بہادری اور شجاعت دکھا رہی ہیں۔ جرمن ہمارا دشمن ہی سہی مگر ہماری گورنمنٹ اس کے متعلق کہتی ہے ، کہ وہ اپنے ملک کی ہر ایک چیز کو کام میں لے آیا ہے اور کوئی چیز اس نے ایسی نہیں چھوڑی جس کا انتظام سرکاری ہاتھوں میں نہ ہو ملک کے تمام زر و مال اور دوسری اشیاء پر اس نے قبضہ کر لیا ہے اور سب ملک کو ایک گھرانہ کی صورت میں بنا دیا ہے۔ سب کو پکی پکائی روٹی ملتی ہے۔ پھر ان میں قربانی کی ایسی ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے کچھ دن ہوئے ایک امریکن نے لکھا تھا کہ ایک اسی برس کی بڑھیا تھی اور اس کا ایک ہی لڑکا تھا جو میدان جنگ میں مارا گیا تھا جب اس کے مرنے کی خبر آئی تو وہ بڑھیا بلائی گئی۔ اور اس کے بیٹے کی وفات کی خبر اسے سنائی گئی۔ وہ یہ خبر سن کر جب واپس آرہی تھی تو اس کے پاؤں لڑکھڑا رہے تھے اور اس کا رنگ زرد ہو رہا تھا۔ لیکن جونہی اس نے دیکھا کہ لوگ سامنے کھڑے ہیں تو کمر اکڑاتی اور یہ کہتی ہوئی چلی گئی کہ اگر میرا بیٹا مارا گیا ہے تو کیا ہوا ملک کے لئے مارا گیا ہے۔

ہماری گورنمنٹ کی رعایا میں تو اس سے بھی بڑھ کر مثالیں پائی جاتی ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا اخباروں میں شائع ہوا تھا کہ ایک عورت کے آٹھ بچے تھے جن میں سے سات لڑائی پر گئے ہوئے تھے اور بعض مر بھی چکے تھے۔ لیکن جب اعلان ہوا کہ سب قابل جنگ نوجوان بھرتی کئے جائیں تو اس عورت نے اپنا آٹھواں لڑکا بھی پیش کر دیا۔ جس علاقہ میں وہ رہتی تھی اس کے

آفیسر نے لکھا کہ اس کے لڑکے کو نہیں لینا چاہئے کیونکہ یہی اس کے کھانے پینے کا انتظام کرتا ہے۔ مگر اس عورت نے کہا کہ اگر گورنمنٹ کو اس کی ضرورت ہے تو مجھے اس کے دینے میں بھی کوئی عذر نہیں ہے جس وقت مرضی ہو لے لیا جائے۔

یہ وہ قربانی کا جذبہ ہے جو قوموں کو کامیاب کیا کرتا ہے۔ اگر ہماری گورنمنٹ کی رعایا اس طرح نہ کرتی تو اس کی کوئی عزت نہ ہوتی۔ مگر جو لوگ غیرت مند ہوتے ہیں وہ اسی طرح کیا کرتے ہیں اور انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم اپنی عزت کے لئے سب کچھ قربان کرنے کے لیئے تیار ہیں۔ پس میں آپ لوگوں کو کہتا ہوں کہ جس طرح ہماری گورنمنٹ کو ایک بے مثال جنگ میں شامل ہونا پڑا اسی طرح ہم بھی ایک بے مثال جنگ کر رہے ہیں۔ اور جس طرح ہماری گورنمنٹ ایک جسمانی جنگ کر رہی ہے اور اس لئے لڑ رہی ہے کہ کمزوروں اور ضعیفوں کو بچاوے اسی طرح ہمیں بھی خدا تعالیٰ نے اس کام کے لئے کھڑا کیا ہے کہ روحانی بیکسوں ، ناداروں اور ضعیفوں کی حفاظت کریں اور ان کو ہلاکت سے بچاویں اور جو خدا تعالیٰ سے بچھڑ چکے ہیں انہیں خدا تعالیٰ سے ملاویں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آپ لوگ وہ قربانیاں نہیں کرتے جو آپ کو کرنی چاہئیں۔ اور کیا وجہ ہے کہ اس انجمن کے ممبر میرے کان کھا جاتے ہیں کہ لوگ ہماری اپیلوں پر توجہ نہیں کرتے اور چندہ نہیں بھیجتے۔ کیا آپ لوگ اس بات کے مدعی نہیں ہیں کہ ہم نے خدا تعالیٰ کے ہاتھ اپنا سب مال بیچ دیا ہے اور اس کے بدلہ میں جنت لے لی ہے۔ اگر ہیں تو جب آپ سے خدا کے لئے مال مانگے جاتے ہیں۔ تو ان کے دینے سے کیوں دریغ کیا جاتا ہے۔ پھر کیا تم اس بات کے مدعی نہیں ہو کہ ہم نے اپنی جانوں کو خدا تعالیٰ کے سپرد کر دیا ہوا ہے۔ اگر ہو تو جب تمہارے سپرد کوئی دین کا کام کیا جاتا ہے تو اس کے کرنے میں کیوں سستی دکھاتے ہو۔ جب تم نے اپنا مال اور اپنی جان خدا تعالیٰ کے آگے بیچ دی ہے تو کیوں ضرورت کے وقت اس بیع پر قائم نہیں رہتے۔ دیکھو میں ایک بیمار آدمی ہوں اور مجھ پر بہت بڑے بڑے بوجھ ہیں۔ تمہاری روحانیت کا خیال، تمہاری تربیت کا فکر، تمہاری دینی اور دنیاوی مشکلات کے دور کرنے کی کوشش کرنا، کیا میرے لئے کوئی معمولی کام ہے۔ اگر کسی کے ایک بچہ کو کوئی تکلیف ہو یا کسی مصیبت میں ہو تو اسے آرام نہیں آتا مگر میرے تو لاکھوں بچے ہیں کوئی کسی تکلیف میں ہوتا ہے کوئی کسی میں۔ کوئی کسی مشکل میں ہوتا ہے کوئی کسی میں۔ اس سے آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ میری ہر گھڑی اور ہر لحظہ کس مصیبت اور کس رنج میں گزرتی ہے۔ لیکن باوجود اس کے اس وقت مجھے کس قدر دکھ اور تکلیف ہوتی ہے جب مجھے یہ سنایا جاتا ہے کہ فلاں کام اخراجات کے نہ ہونے کی وجہ سے بند ہو گیا ہے۔ اور فلاں بات کی تحریک کی گئی تھی لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔

میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں اور اس کو خوب اچھی طرح سن لو پھر کبھی تم کو نصیب نہیں ہوگا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ سب سے بہتر تھا۔ مگر وہ گذر گیا۔ اس کے بعد حضرت خلیفہ اول کا زمانہ آیا مگر وہ بھی نہ رہا۔ اب میرا زمانہ ہے اور میں بھی انسان ہوں یہ بھی نہیں رہے گا۔ مگر میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ میرے بعد اگر کسی غیر مامور انسان سے تمہارا معاملہ پڑا تو مجھ جیسا نہیں ملے گا۔ اور جس قدر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے بُعد ہوتا رہے گا اسی قدر فرق ہوتا رہے گا۔ مجھے تمہارے لئے ایسا دل دیا گیا ہے جو تمہارے درد تمہاری مصیبت اور تمہاری تکلیف کو تم سے زیادہ محسوس کرتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ نے تمہیں ایک ایسا انسان دیا ہے جو ہر وقت تمہارے کاموں میں تمہارا ہاتھ بٹانے کے لئے تیار ہے۔ اور بلا کسی اجر اور امید کے صرف خدا کے لئے دن رات تمہاری بہتری اور بھلائی میں صرف کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ کے حضور تمہارے لئے عجز اور نیاز سے دعائیں کرتا ہے۔ یہ میں اس لئے نہیں کہتا کہ تم پر احسان جتاؤں۔ میرا تم میں سے کسی پر احسان نہیں ہے بلکہ اس لئے کہتا ہوں کہ جب اس قدر مجھ پر بوجھ ہے اور پھر آپ لوگ بھی ہر معاملہ میں مجھ سے دعا کرانی چاہتے ہو اور جب خدا تعالیٰ میری دعائیں سنتا اور اکثر سنتا ہے تو اس پر خوش ہوتے ہو تو پھر بتلاؤ کہ میں ان کاموں کو اس حالت میں کس طرح پورا کر سکتا ہوں جب دن رات مجھے یہ سنایا جاتا ہے کہ روپیہ نہیں۔

پس آج سے تم لوگ اس بات کا فیصلہ کر لو کہ اس عہد پر پختہ طور سے قائم رہو گے۔ جو تم نے خدا تعالیٰ کے ساتھ کیا ہے اور اپنے مال اور جان کو خدا کی راہ میں دینے سے ذرا بھی دریغ نہیں کرو گے۔ اور اگر اس طرح نہیں کرنا تو کہہ دو کہ ہم نے خدا سے کوئی عہد نہیں کیا تاکہ خدا تعالیٰ اور قوم کو چن لے اور اس سے اپنا کام لے۔ لیکن یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ اپنا کام کرے گا اور ضرور کرے گا اور اسلام کو تمام دینوں پر غالب کرے گا۔ مگر افسوس ہو گا ان لوگوں پر جو اس فتح میں شامل نہیں ہوں گے اور مبارک ہوں گے وہ لوگ جن کے ذریعہ یہ فتح حاصل ہوگی۔ میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس وقت تک اپنے خاص انعامات کا تم کو وارث نہیں بنائے گا جب تک تم اپنی جان اور مال اس کی راہ میں نہ لگا دو گے۔ اور اس زمانہ میں جو سب سے بڑا کام تمہارے سپرد کیا گیا ہے اس کو سر انجام نہیں دو گے۔ اس زمانہ کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَاِذَا الۡجَنَّۃُ اُزۡلِفَتۡ(التکویر: ۱۴) کہ اس وقت جنت قریب کر دی جائے گی یعنی تھوڑی سی کوشش سے بھی جنت حاصل ہو سکے گی۔ پس یہ مت سمجھو کہ تمہاری کوششیں اور تدبیریں تمہارا مال اور جان صرف کرنا ضائع جائے گا بلکہ ہر ایک قدم جو تم خدا کے لئے اٹھاؤ گے وہ تمہیں خدا تعالیٰ کے قریب کر دے گا۔ اس کے بدلہ میں خدا تعالیٰ تمہاری طرف آنے کے لئے دو قدم اٹھائے گا۔ اس لئے جس قدر کوشش کر سکتے ہو کر لو اور جس قدر ہمت دکھا سکتے ہو دکھالو تاکہ خدا تعالیٰ کے بڑے انعامات کے وارث بن جاؤ۔ ورنہ یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے دو قسم کے ابتلاء آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے بھی فرمایا ہے کہ پہلے تو خدا تعالیٰ اس قسم کے ابتلاء لاتا ہے جن میں انسان خود ہی اپنے آپ کو سزا دے لے۔ مثلاً قربانی کرنے کا حکم یا عبادت کرنے، زکوٰۃ دینے، حج کرنے کے احکام، ان میں وقت جان اور مال خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اور یہ ایسا ہی ہوتا ہے جس طرح استاد شاگرد کو کہتا ہے کہ تم اس قدر سبق یاد کر لانا۔ لیکن اگر وہ خود بخود یاد کر کے نہ لائے تو پھر کہتا ہے کہ میرے سامنے بیٹھ کر یاد کرو۔ اسی طرح خدا تعالیٰ بھی پہلے ایسے ابتلاء مقرر کرتا ہے جن سے انسان خود اپنا امتحان کر لے۔ اگر اس طرح کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے عذاب سے بچا لیتا ہے۔ اور اگر نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ خود سزا دیتا ہے۔ اور جانتے ہو کہ دوسرے کی چوٹ بہت سخت محسوس ہوتی ہے۔ مثلاً ایک شخص کسی کو کہے کہ فلاں غلطی کے بدلے تم اپنے آپ کو خود ہی تھپڑ مارلو۔ اگر خود مارے گا تو اسے اتنی تکلیف نہیں ہوگی جتنی کہ دوسرے کے مارنے سے۔ اسی طرح اگر انسان اپنے آپ کی خود آزمائش کر لے تو اسے اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنی کہ خدا تعالیٰ کے کرنے سے۔ تم لوگ خدا تعالیٰ کے ابتلاؤں کو اپنے اوپر آپ وارد کر لو۔ کیونکہ جو ایسا نہیں کرے گا اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے لاٹھی گرے گی اور اس کو چُور چُور کر دے گی۔ ہماری جماعت کو وہ نمونہ دکھانا چاہئے جو صحابہؓ نے دکھایا تھا اور اپنے مال اور جان کو خدا کی راہ میں دینے سے ذرا بھی دریغ نہیں کیا تھا۔ آپ لوگ بھی جب تک اسی طرح نہ کریں گے خدا تعالیٰ کے انعامات کے وارث نہیں ہو سکیں گے۔ اس میں شک نہیں کہ ہماری جماعت میں سے بہت سے ایسے ہیں جو صحابہؓ کا نمونہ دکھاتے ہیں۔ مگر ایک گروہ ایسا ہے جو سست ہے اور یہ گروہ اپنی تعداد کے لحاظ سے کم

نہیں بلکہ بہت بڑا ہے۔ لیکن جس طرح جسمانی جنگ میں اگر ایک آدمی بھی سستی کرتا ہے۔ تو سمجھا جاتا ہے کہ فتح کو شکست سے بدلنے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح اسلام کی اشاعت میں اگر کوئی سستی سے کام لیتا ہے تو اپنے ذمہ بہت بڑا جرم لیتا ہے۔ حالانکہ اسلام اس وقت یہ نہیں کہتا کہ اپنے خون سے میری آبیاری کرو بلکہ یہ کہتا ہے کہ اپنے وقت اور اپنے مال کو میری اشاعت میں صرف کرو۔ لیکن کس قدر افسوس ہے اس انسان پر جو اس میں بھی سستی دکھاتا ہے۔

پس اے دوستو! اپنے نفوس کی اصلاح کرو۔ آپ نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ ہم خدا کی راہ میں اپنے مال و جان کو خرچ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اور خدا کی فوج میں داخل ہو چکے ہیں اس لئے تمہاری ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ دیکھو ایک ایسا شخص جو فوج میں ملازم نہیں ہے اگر کسی فوجی آفیسر کو سلام نہ کرے تو اسے کوئی نہیں پوچھتا۔ لیکن اگر کوئی سپاہی کسی آفیسر کو سلام نہ کرے تو فوراً اس کا کورٹ مارشل کر کے اسے سزا دی جاتی ہے۔ آپ لوگ خدا تعالیٰ کی فوج کے سپاہی ہیں اور خدا تعالیٰ نے آپ کو اپنی فوج میں داخل کر لیا ہے اس لئے سب مل کر کام کرو۔ اس دنیاوی جنگ نے آپ کو بتا دیا ہے کہ مقابلہ کے وقت بڑے انتظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ پس ایک انتظام کے ماتحت اکٹھے ہو کر کام کرو۔ آپس میں لڑائی جھگڑے نہ کرو۔ ایک معمولی سی بات طول دینے سے بہت دور چلی جاتی ہے اور کئی انسانوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیتی ہے۔ اس لئے کوشش کرو کہ تم میں کوئی ایسی بات پیدا ہی نہ ہو۔

میرے پیارو! اتنی عقل تو وحشی جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے کہ جب وہ دشمن کو دیکھتے ہیں تو اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت علیؓ کے وقت صحابہؓ میں جو لڑائیاں ہوئیں اس وقت عیسائیوں کے بادشاہ نے چاہا کہ مسلمانوں پر حملہ کرے۔ اس کو سب وزراء نے مشورہ دیا کہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کا یہ بہت عمدہ موقعہ ہے لیکن اس کے پادری نے کہا کہ نہیں ہرگز حملہ نہیں کرنا چاہئے کبھی کامیابی نہیں ہوگی۔ ان کے متعلق میں تمہیں بتاتا ہوں۔ دو کتے لاؤ جب کتے لائے گئے تو کچھ عرصہ انہیں بھوکا رکھ کر گوشت ڈالا وہ آپس میں لڑنے لگ گئے۔ اس پر اس نے ان پر شیر چھوڑا شیر کو دیکھ کر ان دونوں نے لڑائی بند کر دی اور شیر پر پل پڑے۔ اس نے کہا یہی حالت مسلمانوں کی ہے اگر ان پر حملہ کیا گیا تو اسی طرح اکٹھے ہو کر وہ مقابلہ کریں گے۔

وہ دشمن تھا اس لئے اس نے گندی مثال دی ہے۔ لیکن جو کچھ اس کا خیال تھا وہ صحیح تھا۔ چنانچہ جب حضرت معاویہؓ کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے کہلا بھیجا کہ اگر تم نے حملہ کیا تو سب سے پہلے میں وہ شخص ہوں گا جو علیؓ کی طرف سے تمہارے مقابلہ کے لئے کھڑا ہوں گا۔

میں نے بتایا ہے کہ اس پادری نے مسلمانوں کو ایک گندی مثال سے تشبیہ دی تھی کیونکہ وہ ان کا دشمن تھا مگر میں کہتا ہوں کیا اس میں کچھ شک ہے کہ کتے بھی جو ذلیل مخلوق ہے دشمن کے مقابلہ کے وقت اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ایسے انسان جن کو اشرف المخلوقات بنایا گیا ہے اور جو اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کے ایک نبی کو مان کر اُولِی الْاَلْبَابِ میں داخل ہو گئے ہیں۔ اور جنہوں نے اس چشمہ سے پانی پیا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بہا ہے۔ اور ایسے وقت میں اسلام کی مدد کے لئے کھڑے ہوئے جبکہ اسپر نہایت خطرناک وقت آیا ہوا ہے۔ وہ اگر آپس میں لڑنا شروع کر دیں تو کس قدر افسوس کی بات ہے۔ ان لوگوں کو جانے دو جو اختلاف کر کے ہم سے الگ ہو گئے ہیں مگر تم بھی جنہوں نے ایک امام کی بیعت کی ہوئی ہے اور ایک سلک میں منسلک ہو دنیاوی معاملات میں آپس میں لڑائی جھگڑا کرو تو کیسا رونے کا مقام ہے۔ ابھی میں نے آپ لوگوں کو حضرت مسیح موعودؑ کی تعلیم سنائی ہے۔ اس پر عمل کرو۔ اور اگر تم میں کوئی اختلاف ہوتا ہے تو اس کو عمدگی سے دور کرو۔ اگر کوئی تکلیف پہنچاتا ہے تو اسے برداشت کرو۔ بعض اوقات بہت معمولی معمولی باتوں پر اختلاف ہو جاتا ہے کہ فلاں کو کیوں سیکرٹری بنایا گیا ہے۔ فلاں پریذیڈنٹ کیوں بن گیا۔ کیا موجودہ زمانہ اس قسم کے اختلاف کرنے کا ہے۔ ان لوگوں کو دیکھو جن کا مذہب ہمارے نزدیک سچا نہیں اور جو محض دنیا کی عزت اور توقیر کے لئے مر رہے ہیں ان میں بڑے بڑے جرنیل ہوتے ہیں مگر ضرورت کے وقت انہیں دوسروں کے ماتحت کر دیتے ہیں۔ مگر اتنا بھی نہیں پوچھتے کہ اس طرح کیوں کیا گیا ہے۔ ابھی فرانس میں ایک ایسے شخص کو کمانڈر انچیف بنایا گیا ہے جو قریب زمانہ میں ہی کرنل تھا۔ مگر کسی نے اس کے خلاف ذرا بھی آواز نہیں اٹھائی آپ لوگوں کو ایسے موقعہ پر جبکہ ہر چہار طرف سے دشمن حملہ آور ہو رہا ہے۔ چھت پھاڑ کر اور دروازے توڑ کر تم پر یورش کر رہا ہے اپنے جھگڑے اور اپنے اختلاف کیونکر سوجھتے ہیں۔ خدا کے لئے سوچو اور اپنے فرائض کو سمجھو۔ اور اگر تم میں کوئی ایسے لوگ ہیں جن میں بعض کمزوریاں ہیں تو ان کی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرو۔ ایک دوسرے کے بھائی بھائی بن جاؤ۔ اور آپس میں ایسی محبت اور الفت دکھاؤ کہ دیکھنے والے سگے بھائیوں سے بھی زیادہ تم میں الفت دیکھیں۔ اپنے دلوں کو بغض اور حسد سے پاک کرلو اور آئینہ کی طرح بنالو۔ پھر خدا کی راہ میں اپنے مالوں کو بے دریغ خرچ کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ اپنے اوقات کو خدا کے لئے لگا دو۔ کیونکہ یہی وہ ذریعہ ہے جس سے تم کامیاب اور فاتح ہو سکتے ہو اور اسی ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا حاصل کر سکتے ہو۔ پس میری اس نصیحت کو یاد رکھو اور اس پر عمل کرو۔ میں نہیں جانتا کہ اگلے سال میری جگہ کون کھڑا ہو گا۔ میری صحت تو اچھی نہیں رہتی۔ پھر بعض دوستوں نے میرے متعلق متوحش خوابیں بھی دیکھی ہیں۔ خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اگلے سال تک کیا ہو گا مگر میں جو کچھ کہتا ہوں اس کو یاد رکھو اور اس موقعہ سے فائدہ اٹھاؤ جو خدا تعالیٰ نے تمہیں دے رکھا ہے۔ اگر خدا کے دیئے ہوئے موقعہ کو ضائع کر دیا جائے تو پھر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے۔ پس قبل اس کے کہ تم خدا کے عتاب کے مورد بنو اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ اور اپنے عہدوں کو پورا کر کے دکھا دو۔ آج جس کسی کا کسی بھائی سے کینہ ہو وہ دل سے نکال دے۔ اگر کسی پر غصہ ہے تو ترک کر دے۔ اگر کسی سے ناراضگی ہے تو صلح کر لے۔ اور اگر کسی سے تکلیف پہنچی ہے تو معاف کر دے اور سب کو اپنا بھائی سمجھے۔ تم میں سے ہر ایک کا یہ فرض ہے کہ ایک ہو کر کام کرو اگر کوئی ست ہے تو اس کی مدد کرو۔ اور ہر وقت تمہارے مدّ نظر دین ہونا چاہئے۔ اسی کے لئے اپنا سب کچھ صرف کر دو۔ دیکھو تم سے پہلی جماعتیں جنہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں سب کچھ دے دیا اور اس کے لئے تکلیفیں برداشت کیں مصیبتیں جھیلیں وہ ضائع نہیں ہوئیں بلکہ بڑے بڑے انعاموں کی وارث بنیں ہیں۔ اب انہیں انعاموں کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اس لئے اٹھو اور جھولیاں بھر لو۔ خدا تعالیٰ رحمٰن ہے۔ جب اس نے بغیر تمہاری محنت کے یہ سب چیزیں زمین، آسمان، چاند، سورج، تمہارا جسم، عقل اور فہم پیدا کیا ہے تو سمجھ لو کہ جب وہ رحیمیت کا جلوہ دکھائے گا اس وقت تم پر کس قدر انعام نازل کرے گا۔

پس اللہ کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ اور جو موقعہ تمہیں نصیب ہے اس سے فائدہ اٹھاؤ جو لوگ یہاں آج بیٹھے ہیں وہ یہاں سے نہ اٹھیں مگر اپنے اندر تبدیلی پیدا کر کے۔ اور جو لوگ اپنے گھروں میں ہیں ان کو بتا دیں کہ تبدیلی کر لیں۔ اس وقت اسلام کی حالت بہت درد ناک ہو رہی ہے۔ بڑے، چھوٹے، عالم، جاہل، امیر، غریب سب بگڑ چکے ہیں اور ہر طرف سے دشمن حملہ آور ہو رہے ہیں۔ تاریخ دان تاریخ کی آڑ میں، منطق دان منطق کے پردہ میں، فلسفہ دان فلسفہ کی ٹٹی کے پیچھے، سائنس دان سائنس کے ذریعہ سے ، علمِ آثارِ قدیمہ کے ماہر مٹے مٹائے نشانات کو لے کر اور ہیئت دان ہیئت کے ذریعہ سے اسلام پر حملہ کر رہے ہیں۔ غرضیکہ شیطان نے تمام ذرائع سے حملہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ پس ایسے موقعہ پر اگر ہم آپس میں اتفاق اور اتحاد قائم نہ رکھیں اور جان اور مال کو خدا کی راہ میں صرف کرنے کے لئے ایسے تیار نہ ہو جائیں کہ یا تو فتح حاصل کریں گے یا موت سے بغل گیر ہو جائیں تو فتح کی کیا امید ہو سکتی ہے۔

میں اب آپ لوگوں کے لئے اور اپنے لئے دعا کرتا ہوں۔ اور اس نیت سے کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق دے۔ اگر آپ لوگ بھی یہی ارادہ کر کے دعا کریں گے تو خدا تعالیٰ ضرور تمہاری مدد کرے گا۔ ہاں میں پھر کہتا ہوں کہ اگر کوئی تم سے لڑائی جھگڑا کر تا یا تم پر سختی کرتا ہے تو اسے برداشت کرو۔ اس کا جواب نہ دو کیونکہ اس طرح جھگڑا بڑھتا اور فتنہ پھیلتا ہے۔ مجھے لکھو میں خود اس کا انتظام کروں گا۔ پھر تم لوگ اپنی اپنی مقامی جماعت کے سیکرٹری اور پریذیڈنٹ کی مدد کرو۔ کمزوروں کو اپنے ساتھ ملا کر زور دار بناؤ۔ اور سستوں کی سستی دور کر کے دین کے کام میں شامل کر لو۔ جب اس طرح کرو گے تو خدا تعالیٰ کے انعامات کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے۔ اور خدا تعالیٰ کے انعام اس قدر وسعت رکھتے ہیں کہ کوئی انسان ان کا اندازہ نہیں کر سکتا۔

آپ لوگوں کو تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بڑی بڑی امیدیں دلائی ہیں۔ وہ سب پوری ہو جائیں گی۔ پھر اس سے بڑھ کر تمہیں اور کیا چاہئے کہ وہی انعام جو صحابہ کرامؓ کو حاصل ہوئے تھے وہی تم کو مل جائیں گے۔ پس تمہارے لئے روحانی بادشاہت کے دروازے کھلے ہیں ان میں داخل ہونے کی کوشش کرو۔ اور خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے اس کے حاصل کرنے کا انتظام کرو۔ پس چاہئے کہ ہر ایک احمدی مبلغ ہو۔ کیونکہ اس زمانہ میں تم ہی خیرِ امت ہو۔ اگر تم میں سے کوئی تبلیغ نہیں کرتا تو وہ اس امت کا فرد نہیں کہلا سکتا۔ بلکہ یہود اور نصارٰی میں سے ہو گا۔ اسی طرح خیرِ امت کی یہ بھی علامت ہے کہ اس میں سے ایک خاص گروہ ہو جو دن رات تبلیغ میں ہی لگا رہے اور اس کے اخراجات دوسرے لوگ برداشت کریں۔ پس تم لوگ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے نہ اپنے مالوں اور نہ جانوں سے دریغ کرو تاکہ آج سے بعد دشمن کو تم پر حملہ کرنے کا موقعہ نہ ملے۔ اور نہ دین کے کام رکتے جائیں۔ خدا نے اپنے کام تو کرنے ہیں اور ضرور کرے گا۔ مگر ہمارے لئے یہ ثواب حاصل کرنے کا موقعہ ہے اس لئے اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ پس اپنے پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کی مدد کرو اور کام کرنے والوں پر اعتراض نہ کرو۔ اپنے اندر اطاعت اور فرمانبرداری کی عادت ڈالو۔ اطاعت کرنا غلامی نہیں ہوتی بلکہ حقیقی آزادی یہی ہوتی ہے۔ آزادی کیا ہوتی ہے یہی کہ تمام لوگ قانون کی اطاعت کرتے ہوں۔ بتلاؤ سرحد میں آزادی ہے یا گورنمنٹ کے علاقہ میں بلاشبہ گورنمنٹ کے علاقہ میں ہی آزادی ہے کیونکہ اس میں قانون کی پابندی کی جاتی ہے۔ تو اصل آزادی اطاعت میں ہوتی ہے۔ ہاں جو اطاعت اندھا دھند کی جائے تو غلامی ہوتی ہے۔ لیکن آپ لوگوں نے خدا کے فضل و کرم سے ایسا نہیں کیا اس لئے تمہارا کسی کی اطاعت کرنا غلامی نہیں کہلا سکتا۔ پس اس بات کی پرواہ نہ کرو کہ کون سیکرٹری اور کون پریذیڈنٹ ہے بلکہ اپنے اعمال کی اصلاح کرو۔ جو باقاعدہ نمازیں نہیں پڑھتے وہ نمازیں پڑھیں۔ جو زکوٰۃ نہیں دیتے وہ زکوٰۃ دیں۔ جو باوجود استطاعت کے حج نہیں کرتے وہ حج کریں۔ پھر تم میں سے ہر ایک مبلغ ہو اور دوسروں کو تبلیغ کرے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ شاید ہماری بات کوئی نہ مانے اس لئے ہم تبلیغ نہیں کرتے۔ میں ایسے لوگوں کو کہتا ہوں کہ اگر تمہارے پاس صداقت ہے اور ضرور ہے تو کیا اس میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ دوسروں کے دلوں کو جذب کرے ضرور کرسکتی ہے۔ اگر تم ہمت اور کوشش سے کام لو۔ پھر بعض یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے جو دین کی خدمت کرنی تھی کرلی ہے اور جو کچھ سیکھنا تھا سیکھ لیا ہے۔ ایک دفعہ میں نے خواجہ کمال الدین صاحب کو ایک بات کے متعلق کہا کہ چونکہ آپ یہاں آکر کچھ سیکھتے اور سمجھتے نہیں اس لئے آپ کو دھوکا لگا ہوا ہے تو اس نے کہا کہ ہم نے جو کچھ سیکھنا تھا سیکھ چکے ہیں اور یہاں پڑھنے کے لئے نہیں آتے۔ آپ لوگوں نے دیکھ لیا اس کا کیا انجام ہوا۔ پس اس بات کو یاد رکھو کہ جو موقعہ بھی ملے اس میں دین کے سیکھنے کی کوشش کرو۔ دیکھو رسول کریم ﷺ کو علم کے بڑھانے کی ضرورت ہے تو اور کون ہے جو اس سے مستغنی ہوچکا ہے۔ پس تم آگے سے آگے بڑھو اگر فاتح بننا چاہتے ہو۔ کیونکہ فاتح لوگ آگے ہی آگے بڑھتے ہیں ایک مقام پر کھڑے نہیں ہوتے۔ اسلام بھی چونکہ ایک فاتح مذہب ہے اس لئے اپنے پیروؤں کا کھڑا رہنا پسند نہیں کرتا اور یہ دعا سکھاتا ہے کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ(1:6) یعنی اے ہمارے خدا ہمیں آگے ہی آگے بڑھا۔ نیچر سے بھی اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ جو چلنے والی چیز کھڑی ہو جاتی ہے وہ گرنا اور مٹنا شروع ہو جاتی ہے۔ روحانیت میں بھی چونکہ یہی قانون کام کرتا ہے اس لئے اسلام کہتا ہے کہ یا تو آگے چلو یا گر جاؤ تم کھڑے نہیں رہ سکتے۔ گویا ایک حملہ اور ایک دھاوا ہو رہا ہے۔ اس میں اگر کوئی کھڑا ہو گا تو کچلا جائے گا۔ پس تم یہ مت سمجھو کہ اب ہمیں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جو ایسا خیال کرے گا وہ گر جائے گا۔ اس لئے ہر دم اور ہر گھڑی آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاؤ اور جو قربانیاں آج سے پہلے کر چکے ہو آج ان سے بڑھ کر کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ کل ان سے اور پرسوں ان سے بڑھ کر۔ اور ہر دم بڑھتے ہی جاؤ کیونکہ جو قوم کھڑی ہو جاتی ہے وہ گر جاتی ہے۔ دیکھ لو مسلمان جس دن کھڑے ہوئے اسی دن سے گرنے شروع ہو گئے۔ اور جب گرنے شروع ہوئے تو ناامید ہو گئے۔ اور جب ناامید ہوئے تو مٹ گئے۔ تمہارے لئے ناامید ہونے اور سستی دکھانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ کیا تم وہ قوم ہو جو اپنی ترقی اور کامیابی کے لئے اپنی ہمت اور کوشش صرف کر چکی ہے۔ ہرگز نہیں تمہاری تو عمر ابھی چند سال کی ہے۔ تم نے کہاں کسی سے مقابلہ کیا ہے۔ اور کب کسی دشمن سے شکست کھائی ہے کہ ناامید ہو جاؤ۔ وہ مسلمان جنہوں نے شکست کھائی اور ناامید ہو چکے ہیں وہ وہ ہیں جو حق پر قائم نہیں رہے۔ مگر ہم تو خدا کے فضل سے اس تعلیم پر چل رہے ہیں جو خدا تعالیٰ نے دی ہے۔ پھر دوسرے مسلمانوں کی حالت ہم سے بالکل مختلف ہے۔ کیوں کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے ایک بشیر اور نذیر کا مقابلہ اور تکذیب کی ہے اور خدا تعالیٰ یہ فیصلہ کر چکا ہے جو کوئی اس کا مقابلہ کرے گا وہ مٹا دیا جائے گا۔ اور اس کے مقابلہ کی رَو میں جو دیوار مکان جو شہر اور جو دیار آئے گا وہ اکھیڑا جائے گا۔ لیکن ہم تو وہ قوم ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ کے اس برگزیدہ کی اطاعت کی ہے جس کی فتح کا ڈنکا خدا تعالیٰ نے بجانا ہے۔ پس ہم تو ایک ایسی قوم ہیں جس نے گویا ابھی دشمن سے مقابلہ شروع ہی نہیں کیا اور ہمیں اپنی طاقت آزمائی کا موقعہ ہی نہیں ملا۔ پھر ہم وہ قوم ہیں جس کو کامیاب اور فتح مند کرنے کا خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہوا ہے۔ پھر ہمارے چہرے کیوں زرد ہوں اور ہمارے اعضاء کیوں سُست ہوں اور ہمارے دل کیوں ناامید ہوں۔ حضرت عمرؓ کی نسبت ایک عجیب واقعہ لکھا ہے ایک موقعہ پر ایک شخص سر ڈالے ہوئے چلا جا رہا تھا۔ آپ نے اس کی ٹھوڑی کے نیچے مکا مارا اور کہا۔ او کم بخت کیا اسلام بند ہو گیا ہے کہ تو اس طرح مغموم اور غمگین شکل بنائے جا رہا ہے۔ میرے دوستو! یاد رکھو کہ ہماری کامیابی کے لئے خدا تعالیٰ آسمان پر صور پھونک رہا ہے اور ہماری تائید کے لئے فرشتے نازل ہو رہے ہیں۔ اس لئے تمہارے چہروں پر فرحت کے آثار ہونے چاہئیں۔ اور خوشی اور

چستی سے کام کرنا چاہئے۔ تمہاری کسی حرکت میں سستی اور غفلت نہ ہو۔ اور اس فتح اور نصرت کے وقت شکست خوردہ لوگوں کی سی شکل نہ بناؤ۔ کیونکہ یہ بد شگونی ہے اور خدا کے غضب کا مورد بنا دیتی ہے۔ حضرت مسیح موعود کی پیشگوئیوں سے پتہ لگتا ہے کہ تم ضرور فاتح ہو گے اور جو تمہارے مقابلہ پر آئے گا شکست کھائے گا۔ پس تم امید والے دل، بھروسہ اور توکل والے جوش اور چستی و ہوشیاری والے اعضاء لے کر نکلو اور دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھر جاؤ۔ کس قدر افسوس آتا ہے ان لوگوں پر جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے علاقہ کے لوگ ہماری باتیں نہیں سنتے اس لئے ہم تبلیغ کس کو کریں۔ ایسے لوگوں کو میں کہتا ہوں کہ وہ کبھی نا امید نہ ہوں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَلَا تَایۡـَٔسُوۡا مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡکٰفِرُوۡنَ(یوسف: ۸۸) مؤمن کو کبھی نا امید نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ نا امید ہونا کافر کی علامت ہے۔ پس اگر اپنی کوشش اور سعی کا فی الحال نتیجہ نہیں دیکھتے تو نا امید نہ ہو۔ بلکہ پہلے سے بھی بڑھ کر ہمت دکھاؤ اور یقین رکھو کہ آج تم میں سے وہ جو الف ب نہیں جانتے ایک وقت آئے گا جبکہ دنیا کے ادیب ان کے سامنے آکر زانوئے ادب خم کریں گے۔ اور ان سے علم سیکھیں گے۔ کیونکہ آپ کو وہ علم دیا گیا ہے جو خدا تعالیٰ نے نازل کیا ہے۔ پس اپنے حوصلے بلند کرو اور سستی کو ترک کر دو نا امیدی کا خیال تک نہ لاؤ۔ اگر تمہیں اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین ہو گا اور کوشش و سعی سے کام لو گے تو بہت جلدی دیکھ لوگے کہ بہت سے ایسے لوگ جو اسلام کے خلاف بڑی بڑی تقریریں کرتے اور اسے جھوٹا قرار دیتے ہوں گے وہ اس کو سچا مان لیں گے۔ اور ہر جگہ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ اور اَللّٰهُ اَكْبَرُ کی آواز بلند کرتے پھریں گے اور دنیا پر صداقت اور راستی پھیل جائے گی۔ یہ دن دور نہیں بلکہ قریب ہیں۔ پس گھبراؤ نہیں۔ ابتلاء آئیں گے اور ایسے آئیں گے کہ قریب ہو گا بہت لوگ مرتد ہو جائیں لیکن کامیاب تم ہی ہو گے۔ تم نے ان ابتلاؤں سے گھبرانا نہیں اور نہ ہی حوصلوں کو پست ہونے دینا ہے۔ جب تم اللہ تعالیٰ کے لئے کھڑے ہو جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ خود تمہاری مدد کرے گا اور جب اللہ تمہارا مددگار ہو جائے گا تو کسی کی طاقت نہیں ہو گی کہ تمہارا مقابلہ کر سکے۔ اس لئے اٹھ کھڑے ہو اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جانوں کو بے دریغ صرف کر دو۔ جب ایسا کرو گے تو وہ سب کچھ اپنی آنکھوں دیکھ لو گے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔ اب میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں آپ لوگ آمین کہتے جائیں۔

دعا

اے ہمارے قادر مطلق خدا! اے ہمارے خالق و مالک خدا! اے ہمارے رازق و محافظ خدا! اے اسلام کو بھیجنے والے خدا! اے رسول کریم کو مبعوث کرنے والے خدا! اے قرآن کریم ایسی پاک کتاب دینے والے خدا! اے وہ خدا جس نے محمد کے ذریعہ دنیا میں صداقت بھیجی اور آپ کے فرمانبرداروں کو اس کے پھیلانے کی توفیق بخشی۔ اے وہ خدا جس نے ہمیں اس صداقت کے قبول کرنے کی توفیق دی۔ اے وہ خدا جس نے حضرت مسیح موعودؑ کا زمانہ ہمیں عطا کیا۔ اے وہ خدا جس نے حضرت مسیح موعودؑ کی غلامی کی ہمیں توفیق بخشی۔ اے وہ خدا جس نے اسلام کی صداقت پھیلانے کا کام ہمارے سپرد کیا، ہم تیرا ہی واسطہ دے کر تیرے ہی دربار میں عرض کرتے ہیں کہ تو ہمیں ہمت اور طاقت بخش تاکہ ہم اس کام کو کر سکیں۔ ہم کمزور اور ناتواں ہیں اور ہمارا دشمن قوی اور طاقتور ہے۔ اے خدا! جو تمام سامانوں اور ہتھیاروں کے پیدا کرنے والا ہے تو ہی ہم کمزوروں کو سامان عطا کر۔ ہمیں سہارا دے اور ہمارے دلوں کو مضبوط کر دے اور ہمیں دشمنوں کے مقابلہ سے بھاگنے سے بچا۔ اے شہنشاہوں کے شہنشاہ! ہمارا دشمن ہماری بے سروسامانی کو دیکھ کر ہنستا اور ہمیں شکست دینا چاہتا ہے تو ہی اس کو شکست دے اور ہمارے سامنے سے بھگا دے۔ تیری تائید اور نصرت سے اسلام کی فتح کا جھنڈا لہرائے۔ اور تیری مدد سے اسلام سب پر غالب ہو۔ اے میرے بادشاہ! تیرے نام کی عظمت اور شوکت دنیا میں قائم ہو۔ اور تیری طرف جو نقص اور کمزوریاں منسوب کی جاتی ہیں وہ دور ہو جائیں۔ اے میرے قادر مطلق خدا! تیرے بھیجے ہوئے حضرت محمد کا دنیا کلمہ پڑھے اور تیرے فرستادہ حضرت مسیح موعودؑ کو قبول کرے۔ اے میرے خدا! ہمارے دلوں سے بغض، حسد، کینہ، اور دشمنی نکال دے۔ اے میرے خدا! ہماری کمزوریوں اور نقصوں کو دور کر دے۔ اے میرے خدا! ہمیں قرآن کریم پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ اور اے میرے خدا! تو نے جو وعدے حضرت مسیح موعودؑ سے کئے ہیں ان کا ہم کو مستحق بنا۔ اور اے میرے خدا! ان وعدوں کو ہم پر پورا کر دے۔

رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ رَبَّنَاۤ اِنَّکَ مَنۡ تُدۡخِلِ النَّارَ فَقَدۡ اَخۡزَیۡتَہٗ ؕ وَمَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیۡ لِلۡاِیۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ فَاٰمَنَّا ٭ۖ رَبَّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَکَفِّرۡ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدۡتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَلَا تُخۡزِنَا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ(3:192-195)

اِنَّکَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ(اٰل عمران: ۱۹۲ تا ۱۹۵) اے ہمارے رب! ہر قسم کی ذلت اور رسوائی سے ہمیں محفوظ رکھ اور جس طرح ہماری ابتداء بخیر کی ہے اسی طرح انجام بھی بخیر کر۔ اے ہمارے رب! ہر وقت اپنے فضل اور رحم کے نیچے رکھ اور ہر وقت کرم کی نظر سے دیکھ۔ کیونکہ جو تیرے دروازہ سے دھتکارا جائے اسے کسی جگہ عزت نہیں مل سکتی۔ اور جسے تو عزت دے اسے کوئی ذلیل نہیں کر سکتا اے ہمارے رب! دنیا کی عزت، دنیا کا مال، دنیا کی دولت، دنیا کا آرام، دنیا کی آسائش، دنیا کے تعلقات، دنیا کے رشتہ دار غرضیکہ دنیا کی کوئی چیز بھی تجھ تک پہنچنے کے لئے ہمارے راستہ میں روک نہ ہو۔ اور ہم سب کچھ تیرے لئے قربان کر دینے کی توفیق پائیں۔ آمین

ذکرِ الٰہی

(تقریر بر موقع جلسہ سالانہ ۱۹۱۶ء)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

نحمده ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

بسم الله الرحمن الرحیم

ذکرِ الٰہی

(تقریر جلسہ سالانہ ۲۸؍دسمبر ۱۹۱۶ء)

اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَ رَسُوْلُهٗ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ ۝ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۝ الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى ۝ وَالَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى ۝ وَالَّذِيْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى ۝ فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰى ۝ سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰى ۝ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ؕ اِنَّهٗ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَمَا يَخْفٰى ۝ وَ نُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرٰى ۝ فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى ۝ سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَّخْشٰى ۝ وَ يَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَى ۝ الَّذِيْ يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰى ۝ ثُمَّ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَ لَا يَحْيٰى ۝ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى ۝ وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى ۝ بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا ۝ وَالْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى ۝ اِنَّ هٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى ۝ صُحُفِ اِبْرٰهِيْمَ وَ مُوْسٰى ۝(سورۃ الاعلٰی)

ذکرِ الٰہی کے اس مضمون کی اہمیت کس قدر ہے

آج میرا مضمون جیسا کہ میں نے کل بتایا تھا ایک ایسے امر کے متعلق ہے جس کی نسبت میرا یقین ہے کہ وہ نہایت ہی ضروری ہے۔ اور یہ محض قیاس اور استنباط پر ہی نہیں بلکہ اس کے متعلق قرآن کریم کی آیات کا بھی فیصلہ اور حکم ہے۔ شاید بعض لوگ اس کو سن کر کہہ دیں کہ یہ تو معمولی بات ہے اور ہم پہلے سے ہی اس کو جانتے ہیں۔ لوگوں کے دلوں کا حال تو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔ مگر میں موجودہ حالات کے لحاظ سے کہہ سکتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اس مضمون میں بہت سی باتیں ایسی بیان کی جائیں گی جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے اور جن کو میں نے کسی کتاب میں بھی نہیں دیکھا۔

چونکہ مضمون ایسا عام ہے کہ اس کے ہیڈنگ کو سن کر اکثر لوگ کہہ دیں گے کہ یہ تو معمولی اور پہلے کا جانا ہوا ہے۔ اس لئے میں اس کے سنانے سے قبل یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ مضمون نہایت ضروری اور اہم ہے اس لئے اس کو غور سے سنئے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو میں اس میں بہت سی باتیں ایسی بیان کروں گا کہ اگر آپ لوگ نوٹ کر کے ان پر عمل کریں گے تو خدا تعالیٰ ان کو تمہارے لئے بہت خیر اور خوبی کا موجب بنائے گا۔ مگر پیشتر اس کے کہ میں اصل مضمون کو شروع کروں ایک اور بات سنا دینا چاہتا ہوں جو یہ ہے۔

جلسہ پر آکر فائدہ اٹھانا چاہئے

بعض لوگ جو جلسہ میں شامل ہونے کے لئے آتے ہیں وہ اِدھر اُدھر پھر کر اپنا وقت گزار دیتے ہیں یہ بہت بری بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو روپیہ اس لئے نہیں دیا کہ ضائع کریں۔ اگر انہوں نے یہاں آکر بے کار ہی پھرنا تھا تو ان کو یہاں آنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ جو لوگ یہاں آتے ہیں وہ تکلیف اٹھا کر اور روپیہ خرچ کر کے اس لئے آتے ہیں کہ کچھ سنیں اور فائدہ اٹھائیں۔ لیکن مجھ تک یہ شکایت پہنچی ہے کہ لیکچراروں کے لیکچر دینے کے وقت کئی لوگ اٹھ کر اس لئے چلے جاتے ہیں کہ یہ باتیں تو ہم نے پہلے ہی سنی ہوئی ہیں۔ ایسے لوگوں کو میں کہتا ہوں کہ اگر ان کی یہ بات درست ہے کہ جو بات سنی ہوئی ہو اسے پھر نہیں سننا چاہئے تو پھر انہیں قرآن کریم بھی بار بار نہیں پڑھنا چاہئے اور ایک دفعہ پڑھ کر چھوڑ دینا چاہئے۔ اسی طرح نماز اور روزہ کے متعلق بھی کرنا چاہئے۔ لیکن یہ درست نہیں ہے۔ پس اگر کوئی ایسی بات سنائی جا رہی ہو جو پہلے بھی سنی ہو۔ تو اسے بھی پورے شوق اور دلی توجہ کے ساتھ سننا چاہئے کیونکہ اس طرح بھی بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اور وہ بات پورے طور سے قلب پر نقش ہو جاتی ہے۔ پھر اگر مجلس سے ایک اٹھتا ہے تو دوسرا بھی اس کو دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور تیسرا بھی۔ اسی طرح بہت سے لوگ اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں جو بہت بری بات ہے۔ ہاں اگر کسی کو اٹھنے کی سخت ضرورت ہو۔ مثلاً پیشاب یا پاخانہ کرنا ہو تو وہ اٹھے اور باہر چلا جائے۔ مگر چاہئے کہ اپنی حاجت کو پورا کر کے بہت جلدی واپس چلا آئے تاکہ یہاں جس غرض اور مدعا کے لئے آیا ہے وہ اسے حاصل ہو سکے۔ اور جس نفع اور فائدہ کے لئے جلسہ میں شامل ہوا ہے وہ حاصل کر سکے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص کسی نیک مجلس میں بیٹھتا ہے تو بغیر اس کے کہ وہاں کی باتیں سنے اور ان پر عمل کرے یوں بھی اسے فائدہ ہو جاتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے۔ ایک مجلس میں کچھ آدمی بیٹھے تھے خدا تعالیٰ نے فرشتوں سے پوچھا کہ میرے فلاں بندے کیا کر رہے تھے۔ (رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق اس لئے سوال نہیں کیا کہ وہ جانتا نہ تھا بلکہ خدا تعالیٰ اصل واقعہ کو خوب جانتا تھا) انہوں نے کہا ذکر الٰہی کر رہے تھے۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا جو کچھ انہوں نے مانگا میں نے ان کو دیا۔ فرشتوں نے کہا ان میں ایک ایسا آدمی بھی بیٹھا تھا جو ذکر الٰہی نہیں کرتا تھا یونہی بیٹھا تھا۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا ان کے پاس بیٹھنے والا شقی نہیں ہو سکتا میں اس کو بھی انعام و اکرام دوں گا۔ (بخاری کتاب الدعوات باب فضل ذکر اللہ) مطلب یہ کہ نیکوں کی صحبت میں جو بیٹھتا ہے خواہ ایک وقت اسے ہدایت نصیب نہ ہو لیکن دوسرے وقت میں ضرور حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ باوجود خلوص دل سے ایسی مجلس میں بیٹھنے کے وہ کافر ہی رہے۔ ہاں جو ایک آدھ دفعہ بیٹھ کر پھر نہیں آتا اور کافر ہی رہتا ہے اس کے لئے یہ بات نہیں ہے۔ تو آپ لوگ بہت حد تک مجلس میں بیٹھے رہنے کی کوشش کریں۔ اور اگر کسی کو کوئی سخت ضرورت ہو تو اس کو پورا کر کے جلدی واپس آجائے۔

دعا کے طریق بیان کرنے سے اللہ تعالیٰ نے اور زیادہ انکشاف کردیا

میں نے پچھلے دنوں دعا کے متعلق کچھ خطبات کہے تھے۔ اور ان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس قسم کے مضامین بیان ہوئے تھے کہ جن سے بہت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ میرے پاس کئی ایک خطوط آئے ہیں۔ جن میں لکھا ہوا تھا کہ ان سے بہت فائدہ ہوا ہے۔ ان کے متعلق مجھے ایک شخص نے لاہور سے خط لکھا تھا اس کا نام نہیں پڑھا گیا تھا معلوم ہوتا ہے خدا تعالیٰ نے اس کے متعلق ستاری سے کام لیا۔ اس نے لکھا کہ آپ نے یہ کیا کردیا کہ آپ نے وہ طریق بتا دیئے جو پوشیدہ در پوشیدہ چلے آتے تھے اور جن میں صوفیاء کوئی ایک آدھ برسوں خدمتیں لینے کے بعد بتاتے تھے۔ آپ نے تو بھانڈا ہی پھوڑ دیا اس کے ساتھ ہی اس نے یہ بھی لکھا کہ آپ بھی ایسا کرنے پر مجبور تھے کیونکہ آپ کو اپنی جماعت سے بہت محبت ہے اسی لئے ان کو یہ طریق بتا دیئے ہیں۔ اس کے متعلق میں کہتا ہوں کہ میں نے صرف اسی لئے وہ طریق نہیں بتائے تھے کہ مجھے اپنی جماعت سے محبت ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مجھے محبت ہے اور ایسی محبت ہے کہ اور کسی کو اپنے متعلقین سے بھی کیا ہوگی۔ مگر میں نے وہ طریق اس لئے بھی بتائے کہ میں جانتا ہوں کہ وہ خدا جس نے مجھے وہ بتائے تھے ایسا خدا ہے کہ اس کا دیا ہوا مال جس قدر زیادہ خرچ کیا جائے اسی قدر زیادہ بڑھتا اور بڑے بڑے انعامات کا باعث بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے جس قدر طریق بتائے تھے ان کو بتا کر اپنا گھر خالی نہیں کیا بلکہ اور زیادہ بھر لیا تھا۔ پھر مجھے یقین تھا کہ ان کے بتانے سے مجھے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ کیونکہ علم کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو خرچ کرنے سے گھٹے۔ بلکہ ایسی چیز ہے کہ جو خرچ کرنے سے بڑھتی ہے لیکن اگر مجھے یہ بھی یقین ہوتا تو جس طرح صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر ہماری گردن پر تلوار رکھ دی جائے اور ہمیں رسول کریم ﷺ کی کوئی ایسی بات یاد ہو جو کسی کے سامنے بیان نہ کی جا چکی ہو۔ تو پیشتر اس کے کہ تلوار ہماری گردن کو کاٹے وہ بیان کر دیں گے۔ (بخاری کتاب العلم باب العلم قبل القول والعمل) اسی طرح میں بھی کہتا ہوں کہ اگر بیان کرتے کرتے تمام طریق ختم ہو جاتے تو بھی میں ضرور سب کو بیان کر دیتا۔ چنانچہ اس وقت جس قدر ہو سکے میں نے بیان کئے۔ اور میرے دل میں یونہی خیال گزرا کہ دعا کے متعلق جس قدر طریق تھے میں نے سارے کے سارے بیان کر دیئے ہیں۔ لیکن جب میں نماز کے بعد گھر آیا اور دعا کرنے لگا تو خدا تعالیٰ نے اتنے طریق مجھے سمجھائے جو پہلے کبھی میرے وہم و گمان میں بھی نہیں آئے تھے۔ اب بھی میں جس مضمون پر بولنا چاہتا ہوں اس کے متعلق جہاں تک مجھ سے ہو سکا۔ نوٹ لکھ کر لایا تھا۔ لیکن راستہ میں ہی آتے آتے خدا تعالیٰ نے اور بہت سی باتیں سوجھا دیں۔ تو میں نے دعا کے طریق بتائے تھے جو بہت ضروری تھے۔

اس مضمون پر عمل کرنے سے دعا خود بخود مقبول ہو گی

لیکن اب جو کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں وہ طریقِ دعا سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ اگر اس کو آپ لوگ اچھی طرح سمجھ لیں اور اس پر عمل کریں تو آپ کی دعا خود بخود قبول ہو جائے گی۔

گذشتہ سال اس مضمون کو بیان نہ کر سکنے میں حکمت

پچھلے سال اسی مضمون پر بیان کرنے کا میرا ارادہ تھا

لیکن ایک دوسرا مضمون جو شروع کیا کہ وہ بھی ضروری تھا تو یہ رہ گیا۔ اس میں خدا تعالیٰ کی حکمت ہی تھی اور وہ یہ کہ اب جو میں اس کے متعلق نوٹ لکھنے لگا۔ تو گذشتہ سال کے نوٹ ان کے مقابلہ میں ایسے معلوم ہونے لگے۔ جیسے استاد کے مقابلہ میں شاگرد کے لکھے ہوتے ہیں۔ کیونکہ پہلے کی نسبت اب بہت زیادہ باتیں مجھے سمجھائی گئی ہیں۔ غرض آج میں اس مضمون پر جو ذکرِ الٰہی کے متعلق ہے۔ آپ لوگوں کو کچھ سنانا چاہتا ہوں۔ اور اس موقعہ پر اس لئے سنانا چاہتا ہوں کہ اکثر لوگ اخباریں تو پڑھتے نہیں۔ اس لئے کسی اور موقعہ پر بتائی ہوئی بات صرف انہی لوگوں تک پہنچتی ہے جو اخبار پڑھتے ہیں ؎ دعاؤں کے متعلق جو طریق میں نے بتائے تھے۔ چھپ کر شائع ہو چکے ہیں۔ لیکن آپ لوگوں میں سے بہت سے ایسے بھی ہوں گے۔ جنہیں آج معلوم ہوا ہو گا کہ دعا کے متعلق بھی میں نے کچھ بتایا تھا۔ تو ذکرِ الٰہی کے متعلق بیان کرنے کے لئے یہ موقعہ میں نے اس لئے چنا ہے کہ اس موقعہ پر بیان کرنے سے کئی ہزار انسان سن لے گا۔ اور ان کے ذریعہ بات آگے نکل جائے گی۔

ذکرِ الٰہی کے مضمون کی تقسیم

اس مضمون میں جو باتیں میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہیں (۱) ذکرِ الٰہی یا ذِکْرُ اللہ سے کیا مراد ہے؟ ذکرِ الٰہی کی ضرورت کیا ہے؟ ذکر الٰہی کی قسمیں کتنی ہیں؟ ذکرِ الٰہی میں کیا احتیاطیں برتنی ضروری ہیں؟ ذکرِ الٰہی کے سمجھنے میں لوگوں نے کیا غلطیاں کھائی ہیں؟ جو لوگ کہتے ہیں کہ نماز پڑھتے وقت ہماری توجہ قائم نہیں رہتی اور شیطان وسوسے ڈال دیتا ہے ان کے لئے شیطان کو بھگانے اور توجہ کو قائم رکھنے کے کیا طریق اور کیا ذرائع ہیں؟

یہ وہ حصے ہیں اس مضمون کے جن پر آج میں اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو کچھ بیان کروں گا۔ ان سرخیوں کو سن کر آپ لوگوں نے سمجھ لیا ہو گا کہ یہ اس قسم کا مضمون نہیں ہے۔ جو کسی خاص قسم کے لوگوں سے تعلق رکھتا ہے۔ بلکہ ہر ایک انسان خواہ وہ ادنیٰ ہوں یا اعلیٰ، امیر ہو یا غریب، چھوٹا ہو یا بڑا‘ ہر ایک سے تعلق رکھتا ہے۔ پس آپ لوگ اگر مجھ سے کوئی ایسی بات سنیں۔ جو معمولی معلوم ہو تو اسے ترک نہ کریں۔ کیونکہ جب آپ اسے تجربہ میں لائیں گے تو آپ پر ثابت ہو جائے گا کہ وہ معمولی نہ تھی۔ بلکہ نہایت عظیم الشان نتائج پیدا کرنے والی تھی۔

ذکرِ الٰہی کس کو کہتے ہیں

ذکر کے معنی ہیں یاد کرنے کے۔ ذِکْرُ اللہ کے یہ معنی ہوئے کہ خدا تعالیٰ کو یاد کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ کے یاد کرنے کے طریقوں کو ذکر ذکر اللہ کہتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات کو سامنے رکھنا اور ان کو زبان سے بار بار یاد کرنا اور ان کا دل سے اقرار کرنا اور اس کی طاقتوں اور قدرتوں کا معائنہ کرنا ذکر اللہ ہے۔

مضمون کی اہمیت

یہ مضمون کتنا اہم اور ضروری ہے۔ اس کے متعلق مختصر الفاظ میں یہ کہوں گا کہ بڑا ہی اہم ہے۔ شاید کوئی خیال کرے کہ چونکہ اس پر میں نے لیکچر دینا شروع کیا ہے اس لئے اس کو بڑا اہم کہتا ہوں۔ لیکن میں اس لئے نہیں کہتا۔ بلکہ اس لئے کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اسے بڑا کہا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَذِکۡرُ اللّٰہِ اَکۡبَرُ(العنکبوت: ۴۶) کہ اللہ کا ذکر تمام امور سے بڑا اور تمام عبادتوں سے بڑھ کر ہے۔ پس جب خدا تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ ذکر اللہ سب سے بڑا ہے۔ تو یہ میرا قول نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہے کہ یہ مضمون سب سے بڑا اور اہم ہے۔

اب سوال ہوتا ہے کہ اگر یہ مضمون سب سے بڑا اور اہم ہے تو اس کی طرف سب سے زیادہ توجہ کرنے کا حکم بھی چاہئے۔ اس کے لئے جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ بڑی کثرت سے اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ لوگ اللہ کے ذکر کی طرف توجہ کریں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَاذۡکُرِ اسۡمَ رَبِّکَ بُکۡرَۃً وَّاَصِیۡلًا(الدهر: ۲۶) اے میرے بندے! اپنے رب کو صبح اور شام یاد کیا کر۔ پھر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جس مجلس میں خدا تعالیٰ کا ذکر ہو رہا ہو۔ اس کو چاروں طرف سے ملائکہ گھیر لیتے اور خدا کی رحمت نازل کرتے ہیں۔ میں نے یہ مضمون اس لئے بھی سالانہ جلسہ پر بیان کرنے کے لئے رکھا کہ جب کئی ہزار لوگ دور دراز سے جمع ہوں گے تو ان سب کے سامنے بیان کروں گا تاکہ سب پر فرشتے رحمت اور برکت نازل کریں۔ پھر وہ لوگ جب اپنے گھروں کو جائیں گے تو یہ باتیں اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ اور جو لوگ یہاں نہیں آئے ان کو سنا دیں گے۔ اور اس طرح ساری جماعت میں برکت پھیل جائے گی۔ پس میں نے اس غرض کے لئے بھی آج کا دن اس مضمون کے بیان کرنے کے لئے چنا۔ میں نے ابھی بتایا ہے کہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جس مجلس میں خدا تعالیٰ کا ذکر ہو رہا ہو اس کے ارد گرد فرشتے اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اللہ کی رحمت اور برکت لا کر بیٹھنے والوں پر ڈالتے ہیں۔ پس جب ذکر الٰہی ایک ایسی اعلیٰ چیز ہے کہ اس کے سننے کے لئے فرشتے بھی اکٹھے ہو جاتے ہیں اور سننے والوں پر رحمت نازل کرتے ہیں۔ تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ کیسی اہم چیز ہے۔ اور پھر جو فرشتوں کا استاد ہو گا اس کی وہ کس قدر قدر کریں گے۔ کیونکہ جو ذکر کرے گا اس کے پاس فرشتے جمع ہوں گے اور جتنا زیادہ کرے گا اتنے ہی زیادہ فرشتے آئیں گے اور اسے نیک کاموں کی تحریکیں کریں گے۔ فرشتوں کا آنا کوئی خیالی بات نہیں بلکہ یقینی ہے۔ میں نے خود فرشتوں کو دیکھا ہے اور ایک دفعہ تو بہت بے تکلفی سے باتیں بھی کی ہیں۔ تو ذکر کرنے والے کے پاس ملائکہ آتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ان کی دوستی اور تعلق ہو جاتا ہے۔؎ پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُلۡہِکُمۡ اَمۡوَالُکُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُکُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ(المنافقون: ۱۰) یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذۡکُرُوا اللّٰہَ ذِکۡرًا کَثِیۡرًا وَّسَبِّحُوۡہُ بُکۡرَۃً وَّاَصِیۡلًا(الاحزاب: ۴۲) اے مومنو! تم کو مال اور اولاد اللہ کے ذکر سے نہ روک دے۔ تم اللہ کا ذکر کرنے میں کسی رکاوٹ کی پرواہ نہ کرو اور کوئی کام تمہارا ایسا نہ ہو جس کو کرتے ہوئے اللہ کے ذکر کو چھوڑ دو۔ اللہ کا ذکر کثرت سے کرو اور صبح اور شام اس کی تسبیح بیان کرو۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں اور ابو موسیٰ ؓ اشعری کی روایت ہے مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُهُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ لَا يَقْعُدُ قَوْمٌ يَّذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ(بخاری کتاب الدعوات باب فضل ذکر اللہ) کہ اس شخص کی مثال جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اور جو نہیں کرتا ایسی ہی ہے جیسے زندہ اور مُردہ کی۔ یعنی وہ جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے وہ زندہ ہوتا ہے اور جو نہیں کرتا وہ مُردہ۔

اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ذکر اللہ کس قدر اہم اور ضروری ہے۔ پھر ترمذی میں روایت ہے ابی درداءؓ کہتے ہیں کہ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَلَاۤ اُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ اَعْمَالِكُمْ وَ اَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيْكِكُمْ وَ اَرْفَعِهَا فِيْ دَرَجَاتِكُمْ وَ خَيْرٍ لَّكُمْ مِّنْ اِنْفَاقِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَ خَيْرٍ لَّكُمْ مِنْ اَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوْا اَعْنَاقَهُمْ وَ يَضْرِبُوْا اَعْنَاقَكُمْ قَالُوْا بَلٰى قَالَ ذِكْرُ اللّٰهِ۔(ترمذی ابواب الدعوات باب ماجاء فی فضل الذکر) رسول کریم ﷺ نے صحابہؓ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ـــــــ کیا میں تمہیں ایک ایسی بات نہ بتاؤں جو سب سے بہتر اور سب سے پسندیدہ ہو اور سونے چاندی کے خرچ کرنے سے بھی بہتر ہو اور اس سے بہتر ہو کہ کوئی جہاد کے لئے جائے اور دشمنوں کو قتل کرے اور خود بھی شہید ہو جائے۔ صحابہؓ نے کہا فرمائیے آپ نے کہا وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔ ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ذکر الٰہی کا درجہ بہت بلند ہے۔ صحابہؓ نے کہا یا رسول اللہ کیا جہاد سے بھی اس کا درجہ بلند ہے۔ آپ نے فرمایا۔ ہاں اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ وجہ یہ کہ ذکر الٰہی جہاد کی ترغیب دیتا ہے۔

ذکرِ الٰہی کی طرف توجہ کی کمی کی وجہ

یہ ہے ذکر الٰہی کی اہمیت اور ضرورت۔ لیکن ذکر الٰہی کے بعض حصے ایسے ہیں کہ جن کی طرف ہماری جماعت کی توجہ نہیں اور اگر ہے تو بہت کم ہے۔ میری فطرت میں خدا تعالیٰ نے بچپن سے ہی سوچنے اور غور کرنے کا مادہ رکھا ہے۔ میں اسی وقت سے کہ میں نے ہوش سنبھالا ہے اس بات کو سوچتا رہا ہوں اور اب بھی اس کی فکر ہے کہ ہماری جماعت میں ذکر اللہ کی جو کمی ہے اسے دور کیا جائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دعا پر بہت بڑا زور دیا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہماری جماعت دعا سے بہت کام لیتی ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ نے ذکر الٰہی پر بھی بہت زور دیا ہے۔ لیکن اس کی طرف جیسی کہ توجہ کرنی چاہئے اس وقت تک ایسی نہیں کی گئی۔ ایک بہت بڑی وجہ تو یہ ہے کہ انگریزی تعلیم نے کچھ خیالات بدل دیئے ہیں اور یوروپین تعلیم کے اثر سے لوگ خیال کرتے ہیں کہ یونہی خدا کا نام لینے سے کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی الگ بیٹھ کر کہتا رہے کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یا خدا قدوس ہے، علیم ہے، خبیر ہے، قادر ہے، خالق ہے، تو اس سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ کچھ نہیں اس لئے اس طرح کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری جماعت کے لوگ بھی چونکہ انگریزی تعلیم سے شغل رکھتے ہیں اس لئے وہ بھی اس اثر کے نیچے آگئے ہیں۔ دوسرے ہماری جماعت میں وہ لوگ ہیں جو زمیندار طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ لوگ پہلے ہی نہ جانتے تھے کہ ذکر الٰہی کیا چیز ہے اور اس کا کیا فائدہ ہے اس لئے جب تک ان سب کو اچھی طرح نہ بتلایا جائے اور عمدہ طریق سے نہ سمجھا دیا جائے اس وقت تک اس طرف توجہ نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں ذکر اللہ کم ہے۔ نماز بھی ذکر اللہ ہی ہے۔ جس کی ہماری جماعت میں خدا کے فضل سے پوری پوری پابندی کی جاتی ہے۔ مگر اس کے سوا اور بھی ذکر اللہ ہیں جن کا ہونا ضروری اور لازمی ہے۔ ان کے متعلق گو میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ وہ ہماری جماعت میں ہیں ہی نہیں لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ کم ہیں۔ اور بعض لوگ ان پر عمل نہیں کرتے اور یہ بھی بہت بڑا نقص ہے۔ دیکھو اگر کسی کی شکل خوبصورت ہو مگر اس کی آنکھ یا کان یا ناک خراب ہو تو کیا اسے خوبصورت کہا جائے گا۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ اسے سب لوگ بد صورت ہی کہیں گے۔ اسی طرح اگر ہماری جماعت کے بعض لوگ ذکر اللہ کے بعض طریق کو عمل میں نہیں لاتے تو ان کی ایسی ہی مثال ہے جیسا کہ ایک شخص نے بڑا قیمتی

لباس ،کوٹ ،قمیص ،صدری اور پاجامہ پہنا ہو مگر پاؤں میں جوتا نہ رکھتا ہو یا سر پر پگڑی نہ ہو۔ گو اس کا تمام لباس اچھا ہوگا مگر ایک پگڑی یا جوتے کے نہ ہونے سے اس میں نقص ہو گا۔ اور اعلیٰ درجہ کے لوگ پسند نہیں کرتے کہ ان کی کسی بات میں نقص ہو۔ پس جب تمام طریقوں سے ذکر اللہ نہ کرنا ایک نقص ہے اور پھر جب ہم یہ بھی ثابت کر دیں گے کہ نماز کے علاوہ بعض دوسرے طریقوں سے ذکر اللہ کرنے کا بھی خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے چاہے ان کی حکمت کسی کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے اور رسول کریم ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا ہے تو ضروری ہے کہ روحانیت کا کمال حاصل کرنے کے لئے ان طریقوں پر بھی عمل کیا جاوے۔ ہماری جماعت میں نوافل کے ادا کرنے کی طرف پوری توجہ نہ ہونے کی یہ بھی وجہ ہے کہ ان لوگوں نے ذکر اللہ کے اس طریقِ ذکر کے فوائد کو سمجھا نہیں۔ وہ فرائض کو ادا کر کے سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے کام پورا کر لیا۔ حالانکہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں اور خود نہیں فرماتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ لَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ .... فَكُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ وَ بَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ وَ يَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَ رِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا۔(بخاری کتاب الرقاق باب التواضع) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نوافل سے میرا بندہ مجھ سے اس قدر قریب ہو جاتا ہے کہ میں اس کے کان ہو جاتا ہوں جس سے کہ وہ سنتا ہے۔ اور میں اس کی آنکھیں ہو جاتا ہوں جس سے کہ وہ دیکھتا ہے۔ اور میں اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں جس سے کہ وہ پکڑتا ہے اور میں اس کے پاؤں ہو جاتا ہوں جس سے کہ وہ چلتا ہے۔

اس سے آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے نوافل کا کتنا بڑا درجہ رکھا ہے اور نوافل پڑھنے والے کے لئے کتنا بڑا مقام قرار دیا ہے۔ گویا ان کے ذریعہ خدا تعالیٰ انسان کو اس حد تک پہنچا دیتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی صفات اپنے اندر لے لیتا ہے۔ پس نوافل کوئی معمولی چیز نہیں ہیں۔ مگر افسوس کہ بہت لوگ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان میں بہت کمزوری اور سستی ہے اس لئے وہ کم سے کم ریاضت کو عمل میں لانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ جو اپنے بندوں کی کمزوریوں سے واقف اور ان پر بہت بڑا رحم کرنے والا ہے اس نے کچھ تو فرائض مقرر کر دیئے ہیں اور کچھ نوافل۔ فرائض تو اس لئے کہ اگر کوئی شخص ان کو پورا کر لے گا تو اس پر کوئی الزام نہیں آئے گا۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے آکر اسلام کے متعلق پوچھا آپ نے فرمایا۔ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ فَقَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ صِيَامُ رَمَضَانَ قَالَ هَلْ عَلَىَّ غَيْرُهُ قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ قَالَ وَ ذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكوةَ قَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ قَالَ فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَ هُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَ لَا أَنْقُصُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ۔(بخاری کتاب الایمان باب الزکوة من الاسلام) رسول کریم ﷺ نے اس کو فرمایا کہ دن رات میں پانچ نمازیں ہیں۔ اس نے کہا کیا ان کے سوا اور بھی ہیں۔ رسول کریم نے فرمایا نہیں۔ لیکن اگر تو نفل کے طور پر پڑھے۔ پھر رسول کریم نے فرمایا۔ ماہِ رمضان کے روزے۔ اس نے کہا۔ کیا ان کے سوا اور بھی ہیں۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ مگر جو تُو نفل کے طور پر رکھے۔ پھر آپ نے فرمایا۔ اسلام میں زکوٰۃ بھی فرض ہے۔ اس نے کہا کیا اسکے سوا اور بھی ہے آپ نے فرمایا نہیں۔ مگر جو تو نفل کے طور پر دے۔ یہ سن کر وہ شخص یہ کہتا ہوا چلا گیا۔ کہ خدا کی قسم! میں نہ ان میں زیادتی کروں گا نہ کمی۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ شخص کامیاب ہو گیا اگر اس نے سچ کہا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو انسان فرائض کو پوری طرح ادا کرلے وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ مگر محتاط اور دور اندیش انسان صرف فرائض کی ادائیگی پر ہی نہیں رہتا بلکہ وہ نوافل میں بھی قدم رکھتا ہے تاکہ اگر فرائض کے ادا کرنے میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو وہ اس طرح پوری ہو جائے۔ مثلاً دن رات میں پانچ نمازیں ادا کرنا فرض ہے۔ ایک ایسا شخص جو یہ نمازیں تو ادا کرتا ہے مگر نوافل نہیں پڑھتا ، ممکن ہے کہ اس کی ایک نماز ایسی ادا ہوئی ہو جو اس کی کسی غلطی کی وجہ سے ردی ہو گئی ہو اور قیامت کے دن اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ ایک دفعہ مسجد میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص نے آ کر نماز پڑھی۔ آپ نے اسے فرمایا پھر پڑھ اس نے پھر پڑھی۔ آپ نے فرمایا پھر پڑھ۔ اس نے پھر پڑھی تیسری دفعہ آپ نے فرمایا پھر پڑھ اس نے پھر پڑھی۔ جب آپ نے چوتھی دفعہ اسے پڑھنے کے لئے کہا۔ تو اس نے کہا یا رسول اللہ خدا کی قسم اس سے زیادہ مجھے نماز نہیں آتی آپ بتائیں کس طرح پڑھوں۔ آپؐ نے فرمایا تم نے جلدی نماز پڑھی ہے اس لئے قبول نہیں ہوئی آہستہ پڑھو۔ (بخاری کتاب صفة الصلوة باب وجوب القراءة للامام والمأموم)(بخاری کتاب صفة الصلوة باب وجوب القراءة للامام والمأموم) تو بعض اوقات ایسے نقص ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے نماز قبول نہیں ہوتی۔ لیکن وہ شخص جو فرض نماز کے ساتھ نوافل بھی ادا کرتا ہے اس کی اگر کوئی نماز قبول نہ ہو تو نوافل اس کو کام دے سکیں گے اور اس کمی کو پورا کر دیں گے۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ کوئی شخص ایسا امتحان دینے کے لئے جائے جس میں پاس ہونے کے لئے صرف پچاس نمبر حاصل کرنے کی شرط ہو اور وہ جا کر اتنے سوال حل کر آئے ۔ جن کے پچاس ہی نمبر ہوں اور یقین کر لے کہ میں پاس ہو جاؤں گا۔ یہ اس کی غلطی ہوگی کیونکہ ممکن ہے کہ اس کا کوئی سوال غلط نکل آئے اور اسے پورے پچاس نمبر حاصل نہ ہو سکیں اور وہ فیل ہو جائے۔ اسی لئے جو ہوشیار اور سمجھدار طالب علم ہوتے ہیں وہ ایسا نہیں کرتے ۔ بلکہ انہیں جو سوال آتے ہوں وہ بھی اور جو نہ آتے ہوں وہ بھی سارے کے سارے حل کر آتے ہیں کہ شاید سب کے نمبر مل ملا کر پاس ہو سکیں ۔ پھر اگر کوئی سفر میں چلے اور اندازہ کر لے کہ مجھے اس قدر خرچ درکار ہوگا اور اسی قدر اپنے ساتھ لے لے تو بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کا اندازہ غلط نکلتا ہے اور اسے سخت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ اس لئے ہوشیار اور عقلمند لوگ اندازہ سے کچھ زیادہ لے کر چلتے ہیں تا کہ اتفاقی اخراجات کے وقت تکلیف نہ ہو۔ تو نوافل اتفاقی اخراجات کی طرح ہوتے ہیں اور نہایت ضروری ہیں اس لئے ان کو ادا کرنے کی طرف خاص توجہ کرنی چاہئے۔

دوسری وجہ ہماری جماعت کے لوگوں کی ذکر الٰہی کی طرف پوری توجہ نہ کرنے کی یہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے ان نام کے صوفیاء کے رد میں جو اس زمانہ میں پیدا ہو گئے اور جنہوں نے مختلف قسم کی بدعات پھیلا رکھی ہیں بہت کچھ لکھا ہے۔ اور ان کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ تمہارے طوطے کی طرح وظائف پڑھنے کا کچھ نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ تم مصلوں پر بیٹھے کیا کر رہے ہو جبکہ اسلام پر چاروں طرف سے حملے ہو رہے ہیں تم کیوں اٹھ کر جواب نہیں دیتے۔ اس طریق سے حضرت مسیح موعودؑ نے ان لوگوں کی مذمت کی ہے اور واقعہ میں یہ لوگ مذمت کے ہی قابل تھے۔ لیکن بعض لوگوں نے اس سے یہ غلطی کھائی ہے کہ انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ شاید بیٹھ کر خدا تعالیٰ کا ذکر کرنا ہی لغو ہے۔ حالانکہ اس طرح ذکر کرنا لغو نہیں ہے بلکہ اس کی تو غرض یہ ہے کہ خدا کی تقدیس اور تحمید ہو مگر وہ لوگ چونکہ صرف گھروں میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے اور باہر نکل کر جہاں کہ خدا تعالیٰ کی مذمت ہو رہی تھی کچھ نہیں کرتے تھے اس لئے ان کو حضرت مسیح موعودؑ نے ڈانٹا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر تم لوگ واقعہ میں خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو اس کی تقدیس اور تحمید بیان کرتے ہو تو جس طرح گھروں میں بیٹھ کر اس کی پاکی بیان کرتے اور اس کی حمد کرتے ہو اسی طرح گھروں سے باہر نکل کر بھی کرو۔ چونکہ انہوں نے سستی اور کاہلی کی وجہ سے باہر نکل کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چھوڑ دیا تھا اس لئے ان کو ڈانٹا گیا ہے کہ یہ تو منافقت ہے۔ کیونکہ اگر تمہارے دلوں میں خدا تعالیٰ کی سچی محبت اور عشق ہوتا تو کیا وجہ ہے کہ جب مخالفین خدا تعالیٰ پر حملہ کرتے ہیں اس وقت تم باہر نکل کر ان کا دفعیہ نہیں کرتے۔ اور کیا وجہ ہے کہ جس طرح تم لوگ گوشوں اور کونوں میں خدا تعالیٰ کو پاک بیان کرتے ہو اسی طرح پبلک سٹیجوں پر نہیں کرتے۔

موجودہ صوفیاء کا ذکرِ الٰہی

پھر ان کو ڈانٹنے کا یہ بھی باعث ہوا کہ ہر کہ گیرد علتے علت شود کے مطابق ذکر اللہ کو ان صوفیاء اور گدی نشینوں نے ایسے رنگ میں استعمال کیا کہ بگاڑ کر کچھ کا کچھ بنا دیا۔ اور اسلام نے جس رنگ میں پیش کیا تھا اس کا نام و نشان بھی باقی نہ رہنے دیا۔ چنانچہ اب ذکر اللہ کیا ہے یہ کہ دل سے آواز نکال کر سُر تک لے جائی جائے اور اس زور سے چیخا جائے کہ سارے محلہ پر آرام حرام کر دیا جائے اور ارد گرد کے سب لوگوں کی عبادت خراب کر دی جائے۔ اس کو وہ قلب پر ضرب لگانا کہتے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک دل ایک ایسی چیز ہے کہ جس میں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو زور سے گھسیڑا جاتا ہے۔ اسی طرح بعض نے یہ طریق نکال رکھا ہے کہ شعر سنتے اور قوالیاں کراتے اور کنچنیاں نچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ذکر الٰہی کی مجلس گرم ہو رہی ہے۔ پھر دل بہلاتے ہیں کہ اس میں سے اللہ اللہ کی آواز آئے۔ غرض عجیب عجیب باتیں ایجاد کر لی گئی ہیں۔ کہیں دل بہلائے جاتے ہیں کہیں قلب پر چوٹ لگائی جاتی ہے کہیں روح سے آواز نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہ سب نام انہوں نے اپنے آپ ہی رکھ لئے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ ہم قلب سے ذکر بلند کرتے ہیں اور وہ عرش پر سجدہ کر کے واپس آتا ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ ہم جسم کے ہر عضو سے اللہ اللہ کی آواز نکالتے ہیں۔ یہ اور اسی قسم کی اور بہت سی بدعات انہوں نے ایجاد کر لی ہیں۔ بعض ایسے بھی ہیں جو قرآن کریم کی کوئی آیت پڑھتے اور ناچتے ہیں۔ بعض یوں ذکر کرتے ہیں کہ ایک شخص کچھ اشعار وغیرہ پڑھتا ہے اور دوسرے ناچتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وجد آ گیا اور غشی طاری ہو گئی۔ پھر مجلس میں بیٹھے بیٹھے یک لخت بہت اونچی آواز سے اللہ اللہ کہہ کر کود پڑتے ہیں۔ تو اس قسم کے عجیب عجیب ذکر نکالے گئے ہیں۔ حالانکہ ان کو مذہب اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اس سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ذکر الٰہی کوئی بری چیز ہے ہاں یہ کہنا چاہئے کہ یہ بدعتیں جو ان لوگوں نے پیدا کر لی ہیں یہ بری ہیں۔ مگر ان لوگوں کو کچھ پرواہ نہیں ہے حالانکہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ(نسائی کتاب صلوٰة العیدین کیف الخطبة للعیدین) ہر ایک نئی بات جو دین میں پیدا کی جائے وہ گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کے بنائے ہوئے ذکر خدا تعالیٰ کے قریب لے جانے والے نہیں بلکہ بہت دور کر دینے والے ہیں۔ چنانچہ جب سے اس قسم کے ذکر نکلے ہیں اسی وقت سے مسلمان خدا تعالیٰ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ چونکہ یہ سب باتیں بدعت ہیں اور جب خدا تعالیٰ اور آنحضرت ﷺ کی بتائی ہوئی باتوں کے خلاف کیا جائے گا تو ضرور ہے کہ اس سے روحانیت کمزور ہو اس لئے مسلمانوں میں سے روحانیت مٹ رہی ہے۔ دوسرے یہ کہ ان بدعتوں میں ایک خاص بات ہے جس کی وجہ سے بظاہر لذت اور سرور محسوس ہوتا ہے۔ مگر چونکہ وہ ساری لذت اور سرور بناؤٹی ہوتا ہے اس لئے حقیقی لذت سے غافل ہو کر بناؤٹی کے پیچھے لگ جاتا ہے تو ہلاک ہو جاتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ ایک شخص کے پیٹ میں درد ہو۔ لیکن وہ بجائے اس کے کہ اس کا علاج کرے افیم کھا کر سو رہے۔ اس کا عارضی نتیجہ تو یہ ہو گا کہ بے ہوش ہو جانے کی وجہ سے اسے آرام محسوس ہو گا مگر دراصل وہ ہلاک ہو رہا ہو گا اور ایک وقت آئے گا جبکہ وہی درد اس کو ہلاک کر دے گا۔

اصل بات یہ ہے کہ آج کل جس کا نام لوگوں نے ذکر رکھا ہوا ہے وہ ایک علم ہے جسے علم الترب کہتے ہیں اور انگریزی میں مسمریزم۔ اور ایک دوسرا علم ہے جس کا نام ہپناٹزم ہے جو فرانس کے ایک ڈاکٹر نے ایجاد کیا ہے۔ اس کا روحانیت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ خیال سے تعلق رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ نے خیال میں ایک ایسی طاقت رکھی ہے کہ جب خاص طور پر اسے ایک طرف متوجہ کیا جاتا ہے تو اس میں ایک خاص اثر پیدا ہو جاتا ہے۔ اور اس کے ذریعہ قلب میں لذت اور سرور بھی پیدا کیا جاسکتا ہے۔ لیکن وہ لذت ایسی ہی ہوتی ہے جیسی کہ افیم، کوکین، یا بھنگ پی کر حاصل ہوتی ہے حالانکہ دراصل وہ لذت نہیں ہوتی بلکہ صحت کو خراب کر دینے والی بیہوشی ہوتی ہے۔ اسی طرح جب اجتماع خیال سے اعصاب پر اثر ڈالا جاتا ہے تو ایک قسم کی غنودگی طاری ہو جاتی ہے جس سے لذت محسوس ہوتی ہے۔ اور یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ اللہ کہنے کی لذت ہے حالانکہ اس وقت اگر وہ رام رام بھی کہیں تو بھی ویسی ہی لذت محسوس ہو۔ لکھا ہے کہ ایک بزرگ کشتی میں بیٹھے کہیں جا رہے تھے انہوں نے ذکر کرنا شروع کیا اور اس زور سے کیا کہ دوسرے لوگ جو ہندو تھے وہ بھی اللہ اللہ کرنے لگ گئے۔ لیکن وہیں ایک ہندو سادھو بیٹھا تھا۔ اس کی زبان پر اللہ اللہ جاری نہ ہوا۔ وہ اس پر اپنی خاص توجہ ڈالنے لگے۔ مگر ڈال ہی رہے تھے کہ ان کے منہ سے بے اختیار رام رام نکلنا شروع ہو گیا۔ کیونکہ اس سادھو نے ان پر رام رام جاری کرنے کی توجہ کرنی شروع کر دی۔ یہ دیکھ کر وہ سخت حیران ہوئے اور اسی دن سے اس طرح ذکر کرنے سے توبہ کی کیونکہ انہیں معلوم ہو گیا کہ یہ ایک علم ہے نہ کہ ذکر کا اثر۔ کیونکہ اگر اللہ کہنے کا ہی یہ اثر ہوتا کہ دوسروں کی زبان سے بھی بے اختیار جاری ہو جاتا تو پھر رام رام کیوں جاری ہوتا۔ تو ان لوگوں کی حالت ایسی ہی ہوتی ہے کہ کوئی شخص جنگل میں جا رہا ہو اور سخت بھوکا ہو کہ اسے ایک تھیلی مل جائے جس میں دانے سمجھ کر خوش ہو رہا ہو لیکن دراصل اس میں ٹھیکریاں پڑی ہوں۔ یہی حالت اس انسان کی ہوتی ہے جو اس قسم کے طریقوں پر چلتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر رہا ہوں۔ حالانکہ اصل میں ایک نشہ ہوتا ہے۔ جس میں وہ مخمور ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میں خاص مقام پر پہنچ گیا ہوں لیکن اس کا قلب ویسے کا ویسا ہی گندہ اور ناپاک ہوتا ہے جیسا کہ پہلے تھا۔ تو یہ افیم وغیرہ کی طرح ایک نشہ ہوتا ہے ہماری جماعت کے ایک مخلص شخص ہمیشہ مجھے کہا کرتے تھے کہ اس طرح کرنے سے بڑا مزا آتا ہے میں ان کو بھی کہتا کہ جس طرح افیم اور کوکین سے مزا آتا ہے۔ اسی طرح اس سے بھی آتا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ایسے ذکروں سے روحانی صفائی نہیں ہوتی بلکہ وہ جو کہتے ہیں کہ ہمارا ذکر عرش تک پہنچتا ہے ان میں بھی روحانی صفائی نہیں ہوتی۔ اس پر انہوں نے سنایا کہ یہ بات بالکل درست ہے۔ ایک شخص تھا جو کہتا تھا کہ میں نے سب درجے طے کر لئے ہیں مگر باوجود اس کے لوگوں سے غلہ اور دانے مانگتا پھرتا تھا۔ میں اس کی نسبت خیال کرتا تھا کہ جب یہ اس مقام پر پہنچا ہوا ہے تو پھر کیوں لوگوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرتا پھرتا ہے۔

لالچی پیر کا قصہ

حضرت مسیح موعودؑ ایک شخص کی نسبت فرماتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو خاص درجہ تک پہنچا ہوا سمجھتا تھا۔ مگر ایک دفعہ ایک مرید کے ہاں گیا اور جا کر کہا۔ لاؤ میرا ٹیکس (یعنی نذرانہ)۔ قحط کا موسم تھا۔ مرید نے کہا کچھ ہے نہیں۔ معاف کیجئے۔ پیر صاحب بہت دیر تک لڑتے جھگڑتے رہے اور آخر کوئی چیز بکوائی اور روپیہ لے کر جان چھوڑی۔ تو اس قسم کی کمزوریاں اور گند ان لوگوں میں دیکھے جاتے ہیں جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔

بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کی آواز اور خیالات میں بھی ایک قسم کا اثر رکھا ہوا ہے۔ مثلاً اگر انسان ہر وقت کسی بات کے متعلق سوچتا رہے کہ یوں ہو گیا تو اس کے خیال میں اسی قسم کا نقشہ کھنچ جاتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی شخص یہ خیال کر لیتا ہے کہ میرے دل سے اللہ اللہ نکل رہا ہے تو بیٹھے بیٹھے وہ اس قسم کی آواز سننا شروع کر دیتا ہے کہ گویا اس کا دل ہی بول رہا ہے۔ حالانکہ اگر درحقیقت اس کا دل ہی بولتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ پاک نہیں ہو جاتا۔ پھر ہندوؤں میں مسلمانوں کی نسبت بھی بہت زیادہ لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو نہ صرف اپنا ہی دل بلاتے ہیں بلکہ دوسروں کے دلوں کو بھی بلا لیتے ہیں۔

میرا ارادہ ہے کہ اس کے متعلق میں ایک کتاب لکھوں اور بتاؤں کہ نبیوں اور شعبدہ بازوں میں کیا فرق ہوتا ہے۔ یہ ایک معمولی علم ہے لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنی اصلاح سے غافل ہو جاتا ہے کیونکہ وہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ تک پہنچ گیا ہوں حالانکہ وہ نہیں پہنچا ہوتا۔ اگر کوئی شخص کسی مقام پر پہنچنا چاہے اور کسی اور ہی جگہ پہنچ کر سمجھ لے کہ جہاں مجھے جانا تھا وہاں پہنچ گیا ہوں تو وہیں بیٹھ جائے گا۔ جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ سخت نقصان اٹھائے گا۔ اسی طرح اس قسم کے عمل کرنے والے بھی غلطی سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم اصل مقام پر پہنچ گئے ہیں حالانکہ اس سے کوسوں دور ہوتے ہیں اور ایک افیمی کی طرح نشہ میں پڑے ہوتے ہیں۔

پس اس قسم کے ذکر و اذکار لغو تھے جن سے حضرت مسیح موعودؑ نے روکا۔ اور ان کے کرنے والوں کی مذمت کی ہے۔ کیونکہ جب ہندو اور عیسائی بھی یہی بات کر سکتے ہیں تو یہ ذکر اللہ کس طرح کہلا سکتے ہیں۔

باقی رہا اونچی آواز سے ذکر کرنا یا راگ وغیرہ سننا۔ سو میں نے بتایا ہے کہ انسان کے اعصاب میں ایک خاص طاقت رکھی گئی ہے۔ اثر قبول کرنے اور اثر پہنچانے کی اور اعصاب پر اثر جن دروازوں سے ہوتا ہے ان میں سے ایک کان بھی ہے جو اچھی آواز سے متاثر ہوتے ہیں۔ انسان تو انسان حیوان بھی اچھی آواز سے اثر پذیر ہوتے ہیں۔ مثلاً سانپ کے سامنے بین بجائی جائے تو وہ لوٹنے لگتا ہے۔ لیکن کیا اس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اس پر روحانیت کا کوئی خاص اثر ہوا ہے۔ ہرگز نہیں۔ اسی طرح اگر گانا سننے سے کوئی ناچنے لگتا ہے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی روحانیت پر اثر ہوا ہے۔ بلکہ یہ کہ اس کے احساسات نے ایک ایسا اثر قبول کیا ہے جس کا روحانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پس اگر کوئی شخص گانے وغیرہ کو روحانیت پر اثر ڈالنے والا سمجھتا ہے تو یہ اس کی غلطی ہے اور نادانی ہے۔ کیونکہ جس طرح ایک سانپ بین پر مست ہوتا ہے اسی طرح گانے اور بجانے پر آج کل کے صوفی ناچتے ہیں۔ پھر یہ ایک بدعت ہے کہ اونچی اور بلند آواز سے کوئی ذکر کیا جائے۔ ایک دفعہ رسول کریم ﷺ جارہے تھے کہ چلتے چلتے صحابہؓ نے زور سے کہا۔ اللہ اکبر اللہ اکبر اس پر آپ نے فرمایا۔ اِرْ بَعُوْا عَلٰی اَنْفُسِكُمْ فَاِ نَّكُمْ لَا تَدْعُوْنَ اَصَمَّ وَ لَا غَائِبًا اِنَّهٗ مَعَكُمْ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ(بخاری کتاب الجہاد باب ما یکرہ من رفع الصوت فی التکبیر) ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ان کو فرمایا تم لوگ اپنے نفوس پر رحم کرو۔ آہستہ آہستہ کیوں نہیں کہتے جس کو تم پکارتے ہو وہ نہ بہرہ ہے اور نہ غائب بلکہ وہ خوب سنتا اور تمہارے قریب اور تمہارے ساتھ ہے۔

لیکن آج کل کے صوفیاء کو دیکھو جہاں ان کی مجلس ذکر ہو وہ محلہ گونج اٹھتا ہے۔ اور اس کو وہ بڑا نیکی کا کام سمجھتے ہیں حالانکہ شریعت کے خلاف ہو رہا ہوتا ہے پھر اشعار و مزامیر ذکر پر رقص و سرور، چیخ مارنا، اونچی آواز سے ذکر کرنا، گرنا، سر ہلانا، وغیرہ میں سے کوئی بات بھی رسول کریم ﷺ سے ثابت نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ بھی اشعار سنتے تھے مگر یہ کہیں سے ثابت نہیں ہوا کہ آپ ﷺ اشعار ذکر الٰہی کے طور پر سنا کرتے تھے۔ آپؐ کا شعر سننا اس طرح ہوتا تھا کہ حسانؓ آئے اور آکر عرض کی یا رسول اللہ فلاں کافر نے آپ کے خلاف شعر کہے ہیں اور میں نے ان کا جواب لکھا ہے۔ اسے آپؐ سن لیتے یا یہ کہ ایک شخص کے قتل کا آپؐ نے حکم دیا ہوا تھا اس نے اجازت لے کر ایسے شعر پڑھے جن میں اپنی جان بخشی کی اس طرح درخواست کر دی کہ جب میں آپؐ کے پاس آنے لگا تو لوگوں نے مجھے کہا کہ رسول اللہ نے تیرے قتل کرنے کا حکم دیا ہوا ہے۔ اور وہ تجھے قتل کروا دیں گے۔ لیکن میں نے اس پر اعتبار نہ کیا اور سمجھا کہ جب ان کے پاس جارہا ہوں اور جاکر معافی مانگ لوں گا تو کیا پھر بھی قتل کیا جاؤں گا۔ یہ سن کر رسول کریم ﷺ نے اس پر اپنی چادر ڈال دی کہ کوئی اسے قتل نہ کر سکے۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ مجھے اپنی جان کا خوف نہیں تھا کہ میں نے اس طرح معافی مانگی ہے بلکہ یہ خوف تھا کہ میں اس کفر کی حالت میں ہی نہ قتل کر دیا جاؤں کیونکہ میں نے سمجھ لیا ہے کہ دین اسلام سچا مذہب ہے۔ تو رسول کریمؐ اس قسم کے شعر سنتے تھے۔

لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہو گیا کہ آپؐ کے سامنے قوالیاں پڑھی جاتیں یا ناچا جاتا تھا یا محبتِ الٰہی کے شعر پڑھے جاتے اور اس پر صحابہؓ رقص کرتے تھے۔ اور ان پر بیہوشی طاری ہوتی تھی۔ پس آج کل جو کچھ کیا جاتا ہے یہ سب بدعت ہے جو عام طور پر پھیل گئی ہے۔ پھر رسولِ کریم ﷺ اس طرح شعر سنتے تھے کہ کفار سے جنگ ہو رہی ہے ایک صحابیؓ جوش دلانے کے لئے کہتا ہے کہ آج یا تو ہم فتح پائیں گے یا جان دے دیں گے مگر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ پس یہ دلیل کہ چونکہ رسولِ کریمؐ شعر سنتے تھے اس لئے ہم بھی سنتے ہیں بالکل غلط اور بیہودہ ہے۔ پھر شعر سن کر جس قدر حرکتیں کی جاتی ہیں وہ سب کی سب خلافِ شرع ہیں۔ اسلام میں ان کا کوئی پتہ نہیں چلتا۔

ذکرِ الٰہی کرتے وقت کی پانچ حالتیں قرآنِ کریم سے

برخلاف ان کے قرآنِ کریم سے جو ذکرِ الٰہی کرنے کی حالت معلوم ہوتی ہے اس میں یہ کہیں نہیں کہ ذکرِ الٰہی کرتے ہوئے غشی آ جاتی ہے اور بیہوشی طاری ہو جاتی ہے۔ یا سننے والے سر مارنا اور اچھلنا شروع کر دیتے ہیں۔ بلکہ ذکرِ الٰہی کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ(الانفال: ۳) پھر فرماتا ہے۔ تَقۡشَعِرُّ مِنۡہُ جُلُوۡدُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ ۚ ثُمَّ تَلِیۡنُ جُلُوۡدُہُمۡ وَقُلُوۡبُہُمۡ اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ(الزمر: ۲۴) پھر فرماتا ہے اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُ الرَّحۡمٰنِ خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّبُکِیًّا(مریم: ۵۹) ذکرِ الٰہی کرنے والوں کی یہ حالتیں ہوتی ہیں۔ (۱) مؤمن جب ذکرِ اللہ کرتے ہیں تو ان کے دل ڈر جاتے اور ان میں خوف پیدا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا رب بڑی شان والا اور شوکت والا ہے۔ (۲) اقشعرار ہو جاتا ہے۔ یعنی خوف سے ان کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ (۳) کہ ان کے بدن ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور دل نرم ہو جاتے ہیں۔ (۴) وہ سجدہ میں گر جاتے ہیں۔ یعنی عبادت میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ (۵) رونے لگ جاتے ہیں۔ یہ پانچ حالتیں ہیں جو خدا تعالیٰ نے بتائی ہیں۔ اگر ناچنا کودنا بیہوش ہونا اور زور زور سے چیخنا بھی ہوتا تو خدا تعالیٰ ان کو بھی بیان کرتا اور فرما دیتا کہ مؤمن وہ ہوتے ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو اپنے کپڑے پھاڑ کر پرے پھینک دیتے ہیں۔ اور کودنے شور مچانے لگ جاتے ہیں۔ یا الٹے لٹک کر سر ہلانا اور حال کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تو ان میں سے کوئی ایک بات بھی بیان نہیں فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کا ذکرِ الٰہی سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔

خدا تعالیٰ کا کلام بھی کیسا پُر حکمت ہے کہ اس نے اس قسم کی سب حرکات کا اپنے کلام میں پہلے سے ہی رد کر دیا ہوا ہے۔ کوئی کہہ سکتا تھا کہ اگر یہ حالتیں قرآن کریم نے نہیں بیان کیں تو نہ سہی جو بیان کی ہیں یہ ان کے علاوہ ہیں۔ اول تو یہ کہنا ہی نادانی ہے۔ لیکن جب ہم قرآن کریم کی ان آیات کو دیکھتے ہیں جن میں ذکر الٰہی کے وقت کی حالت بتائی گئی ہے۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان میں ایسے الفاظ رکھ دیئے ہوئے ہیں جو ان تمام باتوں کا رد کر دیتے ہیں۔ جن کو آج کل جائز اور روا قرار دیا جاتا ہے۔ دیکھئے ان آیات میں وَجِلُ، اِقْشَعَرَارُ، تَلِیْنُ جُلُوْدُ کے الفاظ آئے ہیں۔ اور لغت کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وجل کے ایک معنی نرمی اور گھٹنے کے ہیں اور یہ سکون کو ظاہر کرتا ہے۔ مگر آج کل کے صوفی حرکت شروع کر دیتے ہیں جو اس کے خلاف ہے۔ پھر اِقْشَعَرَارُ بالوں کے اچانک خوف سے کھڑے ہو جانے کو کہتے ہیں یہ بھی سکون چاہتا ہے۔ کیونکہ اچانک خوف سے انسان کھڑے کا کھڑا رہ جاتا ہے نہ کہ حرکت کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اسی طرح سے تَلِیْنُ جُلُوْدُ بھی سکون پر دلالت کرتا ہے۔ حرکت کے لئے عربی میں طرب کا لفظ ہے جو کہ خوشی کے مارے اچھلنے کودنے کو کہتے ہیں اور قرآن کریم میں ذکر الٰہی کے موقعہ پر یہ لفظ کہیں نہیں آیا۔ اور لغت والے لکھتے ہیں کہ طرب خشوع و خضوع کے خلاف ہے۔ ادھر قرآن کریم بتاتا ہے کہ ذِکْرُ اللّٰہ کرنے کا نتیجہ خشوع و خضوع ہے۔ پس معلوم ہوا کہ ایسے موقع پر طرب نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ طرب خشوع و خضوع کی ضد میں واقعہ ہوا ہے۔ اس لئے ناچنا کودنا اور اچھلنا جو طرب ہے ہرگز ذکر اللہ کے نتیجہ میں نہیں پیدا ہو سکتا بلکہ اس کے نتیجہ میں تو خشوع، رونا اور عبادت کرنا اور ڈرنا ہوتا ہے اور یہی ہونا بھی چاہئے۔ کیونکہ اسلام عقل اور ہوش کو قائم کرنے والا اور سیدھی راہ پر چلانے والا ہے نہ کہ بیہوش اور نادان بنانے والا۔ مگر کودنا اچھلنا اور شور مچانا بے ہوشی اور کم عقلی کی وجہ سے ہوتا ہے اس لئے یہ اسلام کی تعلیم نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح غشی کا طاری ہونا بھی کوئی پسندیدہ بات نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے یہ تو جائز رکھا ہے کہ اگر کسی کا کوئی عزیز مر جائے تو اس پر روئے۔ مگر یہ جائز نہیں رکھا کہ وہ چیخ و پکار کرے اور غش پر غش کھاتا چلا جائے۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ نے ایک عورت کو جو اپنے بچے کی قبر پر اسی طرح کی بے صبری کی حرکات کرتی تھی فرمایا صبر کرو۔ اس نے کہا اگر تیرا بچہ مرتا تو تجھے پتہ لگتا کہ کس طرح صبر کیا جاتا ہے۔۳

یہ اس نے اپنی نادانی سے کہا۔ ورنہ آنحضرت ﷺ کے کئی بچے فوت ہو چکے تھے۔ تو شور و غشی نتیجہ ہوتی ہے بے صبری اور ناامیدی کا یا ضعفِ قلب کا۔ اگر ضعفِ قلب کی وجہ سے ہو تو بھی کوئی اچھی بات نہیں۔ حضرت جنیدؒ کے زمانہ کے ایک بزرگ کی نسبت لکھا ہے کہ ذکرِ الٰہی سن کر ان پر غشی طاری ہو جاتی تھی۔ شاگردوں نے اس کی وجہ پوچھی تو کہا کہ اب میں چونکہ بوڑھا اور کمزور ہو گیا ہوں اس لئے اس طرح ہوتا ہے۔ دیکھو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اب میں چونکہ اعلیٰ مقام اور اعلیٰ درجہ پر پہنچ گیا ہوں۔ اس لئے غش کھا جاتا ہوں بلکہ اس کو بڑھاپا یعنی کمزوری کی وجہ سے بتایا ہے۔ پھر اگر غشی مایوسی اور ناامیدی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ تو اس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَلَا تَایۡـَٔسُوۡا مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡکٰفِرُوۡنَ(یوسف: ۸۸) پس جو شخص غش کھاتا اور بے ہوش ہوتا ہے وہ اگر ناامیدی کی وجہ سے ایسا کرتا ہے تو کافر بنتا ہے اور اگر ضعفِ قلب کی وجہ سے غش کھاتا ہے تو بیمار ہے۔ اس کی نقل کرنا کوئی عقلمندی کی بات نہیں ہے۔

صحابہؓ کے وقت بھی یہ بات پیش ہوئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے اسماءؓ سے غشی کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا۔ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ پھر حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے لڑکے نے اپنی دادی کے پاس بیان کیا کہ میں ایک ایسی جگہ گیا تھا جہاں کچھ لوگ قرآن پڑھتے اور غش کھا کھا جاتے تھے۔ یہ سن کر ان کی پھوپھی اسماءؓ نے جو حضرت ابو بکرؓ کی صاحبزادی اور صحابیہ تھیں کہا اگر تم نے ایسا دیکھا تو وہ شیطانی کام ہے۔

ابن سیرینؒ خواب نامہ والے جو کہ ابو ہریرہؓ کے داماد تھے ان کے متعلق روایت ہے کہ ان کو کسی نے کہا فلاں آدمی اگر قرآن کریم کی کوئی آیت سنتا ہے تو بیہوش ہو کر گر جاتا ہے۔ انہوں نے کہا میں تب اس بات کو سچا سمجھوں کہ اسے ایک اونچی دیوار پر بٹھا دو اور ایک آیت نہیں بلکہ سارا قرآن سناؤ اور پھر وہ گر پڑے۔

آج کل بھی جن کی نسبت کہا جاتا ہے کہ حال کھیلتے اور آپے سے باہر ہو جاتے ہیں ان کو دیکھا گیا ہے کہ وہ مجلس میں جب حال کھیلتے ہیں تو اس جگہ گرتے ہیں جہاں دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ بیٹھے ہیں تاکہ چوٹ نہ لگے۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ وہ کوٹھے سے نیچے گر جائیں۔ یا اور کسی ایسی جگہ گریں جہاں سخت چوٹ لگ سکے سوائے اس کے کہ کبھی غلطی سے ایسا ہو جاوے۔

یہ سب باتیں ممنوع ہیں

غرض یہ سب قسمیں ممنوع اور ناجائز ہیں۔ اور ان کو جس قدر بھی برا کہا جائے درست ہے کیونکہ یہ روحانیت تباہ کرنے اور انسانوں کو بندر اور ریچھ بنانے والی باتیں ہیں۔ اسلام تو انسان کو فرشتے بنانے آیا تھا لیکن اس طرح انسان بندر بن جاتے ہیں۔ پس یہ باتیں لغو اور فضول ہیں اور ان کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

حقیقی ذکر اللہ چار ہیں

اور جو واقعہ میں ذکر اللہ ہیں اور جن کا قرآن کریم میں بڑے زور سے حکم دیا گیا ہے وہ ذکر اور ہیں۔ اور وہ چار طرح کے ہیں۔ ان کا چھوڑنا بہت بڑے ثواب سے محروم رہنا ہے اس لئے ان کو کبھی ترک نہیں کرنا چاہئے۔ ان میں سے پہلا ذکر نماز ہے (۲) قرآن کریم کا پڑھنا (۳) اللہ تعالیٰ کی صفات کا بیان تکرار سے اور ان کا اقرار کرنا اور ان کی تفصیل اپنی زبان سے بیان کرنا (۴) جس طرح خدا تعالیٰ کی صفات کو علیحدہ اور گوشے میں بیان کرنا اسی طرح لوگوں میں بھی ان کا اظہار کرنا۔

یہ وہ چار ذکر ہیں۔ جو قرآن کریم سے ثابت ہیں اور جن کا کرنا روحانیت کے لئے نہایت ضروری بلکہ لازمی ہے۔

اب میں اس بات کا ثبوت دیتا ہوں کہ ان اذکار کو قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔ نماز کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّنِیۡۤ اَنَا اللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِیۡ ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکۡرِیۡ(طٰهٰ: ۱۵) اے انسان میں ہی تیرا خدا ہوں اور میرے سوا تیرا کوئی معبود نہیں۔ پس میری ہی عبادت کر اور میرے ہی ذکر کے لئے نماز کو قائم کر۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ جہاں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے مومنو! میرا ذکر کرو تو اس کے ایک معنی یہ ہوئے کہ اے مومنو! نماز پڑھو۔ پھر فرماتا ہے فَاِنۡ خِفۡتُمۡ فَرِجَالًا اَوۡ رُکۡبَانًا ۚ فَاِذَاۤ اَمِنۡتُمۡ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ کَمَا عَلَّمَکُمۡ مَّا لَمۡ تَکُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ(البقرہ: ۲۴۰) نماز پڑھنے کی تاکید کرنے کے بعد کہتا ہے کہ اگر تمہیں دشمنوں سے کسی قسم کا خوف ہے تو خواہ پیادہ ہو یا گھوڑے پر سوار ہو اسی حالت میں نماز پڑھ لو۔ اور جب تم امن میں ہو جاؤ تو خدا تعالیٰ کا ذکر اسی طرح کرو جس طرح اس نے سکھایا ہے اور جسے تم پہلے نہیں جانتے تھے۔ اس آیت میں نماز کا نام ذکر اللہ رکھا ہے۔ اس کے متعلق اور بھی آیتیں ہیں۔ مگر اس وقت میں انہیں پر بس کرتا ہوں۔ دوسرا ذکر قرآن کریم ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ(الحجر: ۱۰) کہ ہم نے ہی ذکر اتارا ہے اور ہم ہی اس

کے محافظ ہیں۔ قرآنِ کریم کے نازل کرنے کو ذکر کا نازل کرنا قرار دیا ہے۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ جہاں خدا تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ اذۡکُرُوا اللّٰہَ(33:42) تو اس کے ایک یہ معنی بھی ہیں کہ قرآن پڑھا کرو۔ پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَہٰذَا ذِکۡرٌ مُّبٰرَکٌ اَنۡزَلۡنٰہُ ؕ اَفَاَنۡتُمۡ لَہٗ مُنۡکِرُوۡنَ(الانبیاء : ۵۱) اس آیت میں بھی قرآنِ کریم کو پیش کر کے فرمایا ہے کہ ہم نے تمہارے لئے یہ ذکر نازل کیا ہے کیا پھر بھی تم اس کا انکار کرتے ہو۔

تیسرا ذکر صفاتِ الٰہیہ کا بیان ان کا تکرار اور ان کا اقرار ہے۔ اب میں اس کا ثبوت قرآنِ کریم سے دیتا ہوں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نماز میں جو صفاتِ الٰہیہ بیان کی جاتی ہیں وہی کافی ہیں۔ لیکن یہ غلط ہے نماز کے علاوہ بھی ذکرِ الٰہی ہوتا ہے اور اس کا ثبوت قرآنِ کریم سے ملتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَاِذَا قَضَیۡتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِکُمۡ(النساء : ۱۰۴) کہ جب تم نماز پڑھ چکو تو اللہ کا ذکر کرو۔ کھڑے ہونے کی حالت میں بھی بیٹھنے کی حالت میں بھی۔ اور لیٹے ہونے کی حالت میں بھی۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکر نماز کے علاوہ ہے کیونکہ نماز میں ہی اگر صفاتِ اللہ کا بیان کرنا کافی ہوتا تو پھر خدا تعالیٰ یہ کیوں فرماتا فَاِذَا قَضَیۡتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِکُمۡ(4:104) کہ جب تم نماز پڑھ چکو۔ تو پھر اللہ کا ذکر کرو۔ کھڑے ہو کر ، بیٹھ کر ، لیٹ کر۔ پھر فرماتا ہے رِجَالٌ ۙ لَّا تُلۡہِیۡہِمۡ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَاِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَاِیۡتَآءِ الزَّکٰوۃِ ۪ۙ یَخَافُوۡنَ یَوۡمًا تَتَقَلَّبُ فِیۡہِ الۡقُلُوۡبُ وَالۡاَبۡصَارُ(النور : ۳۸) اس آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگ محمد () کے ساتھی ہیں کہ ان کو خرید و فروخت اللہ کے ذکر کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے سے نہیں روکتی کیونکہ وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جبکہ آنکھیں اور دل منقلب ہو جائیں گے۔ یہاں نماز کے علاوہ ایک ذکرِ اللہ بیان فرمایا ہے۔

چوتھا ذکر یہ فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کو علی الاعلان لوگوں کے سامنے بیان کیا جائے۔ اس کا ثبوت یہ ہے یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ قُمۡ فَاَنۡذِرۡ وَرَبَّکَ فَکَبِّرۡ وَثِیَابَکَ فَطَہِّرۡ وَالرُّجۡزَ فَاہۡجُرۡ وَلَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَکۡثِرُ(المدثر ۲-۸) ان آیات میں رسولِ کریم کو حکم دیا گیا ہے کہ کھڑا ہو جا اور تمام لوگوں کو ڈرا دے۔ اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی بڑائی لوگوں کے سامنے بیان کرنا چاہئے۔ یہ تو ہوئے وہ ذکر جن کے کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔

ذکر کی دو اور قسمیں

اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ ان کے کرنے کے طریق کیا ہیں۔ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ ان ذکروں کی دو قسمیں ہیں۔ ایک فرائض دوسرے نوافل۔ یہاں فرائض کے متعلق کچھ بیان کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ خدا کے فضل سے ہماری جماعت کے لوگ فرائض کو تو ادا کرتے ہیں۔ باقی رہے نوافل ان کے متعلق کچھ بتانے کی ضرورت ہے۔ لیکن چونکہ یہ مضمون لمبا ہے سردست میں اسکو چھوڑتا ہوں اور یہ بتاتا ہوں کہ قرآن کس طرح پڑھنا چاہئے۔ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ انسان روزانہ پڑھنے کے لئے قرآن کریم کا ایک حصہ مقرر کرلے کہ اتنا ہر روز پڑھا کروں گا۔ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ کبھی قرآن کریم اٹھایا اور کسی قدر پڑھ لیا۔ بلکہ باقاعدگی اور مقرر اندازہ سے پڑھنا چاہئے۔ بے قاعدہ پڑھنے سے یعنی کبھی پڑھا اور کبھی نہ پڑھا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ پس قرآن کریم کے متعلق چاہئے کہ اس کا ایک حصہ مقرر کرلیا جائے اور اس کو ہر روز پورا کیا جائے وہ حصہ خواہ ایک پارہ ہو یا آدھا یا دو یا تین یا چار پارے ہوں۔ اس کو روزانہ پڑھا جائے اور اس کے پورا کرنے میں کوتاہی نہ کی جائے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو سب سے زیادہ وہ عبادت پسند ہے کہ جس پر انسان دوام اختیار کرے اور جس میں ناغہ نہ ہونے دے۔ کیونکہ ناغہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے شوق نہیں ہے اور شوق اور دلی محبت کے بغیر قلب کی صفائی نہیں ہوتی۔

میں نے دیکھا ہے کہ جب کبھی کسی تصنیف میں مشغول ہونے یا کسی اور وجہ سے قرآن کریم نہ پڑھا جائے تو دل تکلیف محسوس کرتا اور دوسری عبادتوں میں بھی اس کا اثر محسوس ہوتا ہے ؎ اول تو قرآن کریم روزانہ پڑھنا چاہئے۔ دوم چاہئے کہ قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھا جائے اور اس قدر جلدی جلدی نہ پڑھا جائے کہ مطلب ہی سمجھ میں نہ آئے۔ ترتیل کے ساتھ پڑھنا چاہئے تاکہ مطلب بھی سمجھ میں آئے اور قرآن کریم کا ادب بھی ملحوظ رہے۔ سوم جہاں تک ہو سکے قرآن کریم پڑھنے سے پہلے وضو کر لیا جائے گو میرے نزدیک بے وضو پڑھنا بھی جائز ہے۔ ہاں بعض علماء نے بے وضو تلاوتِ قرآن کو ناپسند کیا ہے۔ میرے نزدیک اس طرح پڑھنا ناجائز نہیں مگر مناسب یہی ہے کہ اثر اور ثواب کو زیادہ کرنے کے لئے وضو کر لیا جائے۔

ایک دوست پوچھتے ہیں کہ اگر قرآن کریم سمجھ میں نہ آئے تو کیا کیا جائے۔ ایسے لوگوں کو چاہئے کہ قرآن کریم کا ترجمہ پڑھنے کی کوشش کریں۔ لیکن اگر سارا ترجمہ نہ آتا ہو تو اس طرح کرنا چاہئے کہ کسی قدر قرآن کریم کا ترجمہ سیکھ لیا جائے اور جب روزانہ منزل پڑھیں تو ساتھ ہی اس حصہ کو بھی پڑھ لیں جس کا ترجمہ جانتے ہوں۔ کوئی کہے کہ پھر منزل پڑھنے کا کیا فائدہ جبکہ اس کے معنی سمجھ میں نہیں آتے۔ اس کے متعلق یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب کوئی کام نیک نیتی اور اخلاص سے کیا جاتا ہے تو خدا تعالیٰ ضرور اس کا اجر دیتا ہے۔ اس لئے جب کوئی خدا تعالیٰ کے لئے بغیر ترجمہ جاننے کے ہی پڑھے گا تو خدا تعالیٰ اس کے اخلاص اور نیت کو دیکھ کر ہی اسے ثواب پہنچا دے گا اور یہ بات بھی درست ہے کہ محض الفاظ کا بھی اثر ہوتا ہے۔ دیکھئے رسول کریم ﷺ نے حکم دیا ہے کہ جب بچہ پیدا ہو تو اس کے کان میں اذان کہی جاوے۔ حالانکہ اس وقت بچہ بالکل کچھ جاننے اور سمجھنے کے قابل نہیں ہوتا۔ مگر داشتہ آید بکار کے مطابق اس کا اثر ضرور ہوتا ہے۔

دیگر اذکار

قرآن کریم کی تلاوت کے علاوہ دیگر اذکار تسبیح اور تحمید جنہیں انسان اکیلا بیٹھ کر کرے یا مجالس میں۔ اس ذکر کی بھی ایک قسم فرض ہے جیسا کہ جانور کے ذبح کرتے وقت تکبیر پڑھنا اگر اس وقت تکبیر نہیں پڑھی جائے گی۔ تو جانور حرام ہو جائے گا۔ اور دوسری قسم نفل ہے جو دوسرے اوقات میں ورد کی صورت میں پڑھی جاتی ہے اور ان کو رسول کریم ﷺ نے بہت وسیع کیا ہے۔ یعنی آپ نے ہر موقعہ پر اللہ تعالیٰ کا ذکر رکھا ہے۔ مثلاً جب کھانا کھانے بیٹھو تو بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ لو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر کوئی نہیں پڑھے گا تو اس کا پیٹ نہیں بھرے گا۔ بلکہ یہ ہے کہ جس غرض کے لئے کھانا کھایا جاتا ہے وہ اس طرح پورے طور پر حاصل ہو جائے گی۔ یعنی روحانیت کو اس سے بہت فائدہ پہنچے گا۔ پھر ہر کام کے شروع کرنے کے وقت بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھنے کا حکم ہے۔ تاکہ اس کام میں برکت ہو۔ اور جب اس کو ختم کر لیا جائے ۔ تو اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ پڑھا جائے ۔ تاکہ اس کام میں برکت ہو۔ اسی طرح اگر کوئی نیا کپڑا پہنے یا کوئی اور نئی چیز استعمال کرے تو الحمد للہ کہہ کر اس کا شکریہ ادا کرے۔ ہر رنج اور مصیبت کے وقت اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(2:157) پڑھنا چاہئے۔ اگر کوئی بات اپنی طاقت اور ہمت سے بالا پیش آئے تو لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ کہنا چاہئے۔ غرض یہ ذکر ان باتوں کے متعلق ہیں جو روزانہ پیش آتی رہتی ہیں۔ ہر ایک انسان کو دن میں یا خوشی ہو گی یا رنج پس اگر خوشی ہو تو اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کہے اور اگر رنج ہو تو اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ پڑھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِکُمۡ(4:104) اور آنحضرت ﷺ نے ہر حالت کے متعلق ذکر مقرر فرما دیئے ہیں اس لئے ان کے کرنے سے انسان ہر حالت میں خدا تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہتا ہے۔ مثلاً ایک شخص جو دفتر میں بیٹھا کام کر رہا ہو وہ اگر اپنے متعلق کوئی خوشخبری سُنے تو الحمد للہ کہے۔ اگر چلتے ہوئے اسے خوشی کی بات معلوم ہو تو بھی الحمد للہ کہے۔ اگر لیٹے ہوئے خوشی کی بات سنے تو اسی حالت میں الحمد للہ کہے۔ اس طرح خود بخود قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِکُمۡ(4:104) اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا رہے گا۔ پھر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ(ترمذی کتاب الدعوات باب ماجاء ان دعوة المسلم مستجابة) (جابر سے ترمذی میں روایت ہے کہ سب سے بہتر اور افضل ذکر یہ ہے کہ اس بات کا اقرار کیا جائے کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ باقی اذکار کی بھی مختلف فضیلتیں ہیں۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِیْمِ کی نسبت فرمایا ہے۔ كَلِمَتَانِ خَفِیْفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَانِ حَبِیْبَتَانِ اِلَى الرَّحْمٰنِ(بخاری کتاب التوحید باب قول اللہ تعالیٰ و نضع الموازین القسط و ترمذی ابواب الدعوات باب ماجاء فی فضل التسبیح والتکبیر......) (کہ دو کلمے ایسے ہیں کہ جو زبان سے کہنے میں چھوٹے ہیں مگر جب قیامت کے دن وزن کئے جائیں گے تو ان کا اتنا بوجھ ہو گا کہ ان کی وجہ سے نیک اعمال کا پلڑا بہت بھاری ہو جائے گا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کو بہت ہی پسند ہیں۔ یہ بھی بہت اعلیٰ درجہ کا ذکر ہے۔ حتّٰی کہ ایک دفعہ جب حضرت مسیح موعودؑ بیماری کے سخت دورہ میں تہجد کے لئے اٹھے اور غش کھا کر گر گئے اور نماز نہ پڑھ سکے تو الہام ہوا کہ ایسی حالت میں تہجد کی بجائے لیٹے لیٹے یہی پڑھ لیا کرو۔ تو یہ بھی بہت فضیلت رکھنے والا ذکر ہے۔ حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کثرت سے اس کو پڑھتے تھے۔

ان دو ذکروں کو رسول کریم ﷺ نے افضل بتایا ہے۔ مگر ایک اور ذکر بھی افضل ہے گو اس کے متعلق رسول کریم ﷺ کا کوئی ارشاد محفوظ نہیں۔ مگر عقل بتاتی ہے کہ وہ بھی بہت اعلیٰ درجہ کا ہے اور وہ قرآن کریم کی آیات کا ذکر ہے۔ اگر ان کو ذکر کے طور پر پڑھا جائے تو دوہرا ثواب حاصل ہو گا۔ ایک تلاوت کا اور دوسرے ذکر کا۔ یہ تو میں نے ذکر بتلائے ہیں۔ اب ان کے متعلق احتیاطیں بتاتا ہوں۔

ذکر کرنے کے متعلق احتیاطیں

پہلی احتیاط یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ کبھی اتنا ذکر نہ کرو کہ دل ملول ہو جائے (۲) ایسے وقت میں ذکر نہیں کرنا چاہئے جبکہ دل مطمئن نہ ہو۔ مثلاً ایک ضروری کام کرنا ہے اس وقت کوئی اگر ذکر کرنے کے لئے بیٹھ جائے تو اس کی توجہ ذکر کی طرف نہ ہوگی۔ اور اس طرح خدا تعالیٰ کے کلام کی بے قدری ہوگی۔ اور انسان گناہگار ٹھہرے گا۔ تو ذکر کرنے کے لئے پہلی احتیاط یہ کرنی چاہئے کہ ذکر اس قدر لمبا عرصہ نہ کرے کہ دل ملول ہو جاوے اور دوسری یہ کہ ایسے وقت میں ذکر کے لئے نہ بیٹھے جبکہ دل کسی اور خیال میں منہمک ہو۔ اور بجائے ثواب حاصل کرنے کے گناہگار ٹھہرے۔ بلکہ اختصار کے ساتھ اور توجہ کے قائم ہونے کے وقت کرے۔ ایک دفعہ رسول کریم ﷺ گھر تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ سے ایک عورت باتیں کر رہی تھی۔ آپؐ نے فرمایا کیا کہہ رہی ہو۔ حضرت عائشہؓ نے کہا یہ سنا رہی ہے کہ میں اس قدر عبادت کرتی ہوں اور اس طرح کرتی ہوں۔ آپؐ نے سن کر فرمایا یہ کوئی خوبی کی بات نہیں ہے کہ اس قدر زیادہ عبادت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسی عبادت کو پسند کرتا ہے جس پر دوام اختیار کیا جا سکے۔ (مشکوٰۃ کتاب الایمان باب القصد فی العمل) اللہ تعالیٰ زیادہ عبادت سے ملول نہیں ہوتا۔ بلکہ بندہ خود ملول ہو جاتا ہے اور جب ملول ہو جاتا ہے تو پھر اس کی عبادت کسی کام کی نہیں رہتی۔ پس اگر کوئی حد سے زیادہ بڑھتا ہے تو اس پر مصیبت پڑ جاتی ہے۔ عبداللہؓ بن عمرو بن عاص کے متعلق آیا ہے وہ ایک طاقت ور انسان تھے ساری رات نماز پڑھتے اور دن کو روزہ رکھتے اور سارے قرآن کریم کی تلاوت ایک دن میں کرتے۔ آنحضرت ﷺ کو جب معلوم ہوا تو آپؐ نے فرمایا کہ یہ جائز نہیں ہے۔ رات کا چھٹا یا تیسرا یا زیادہ سے زیادہ آدھا حصہ نماز پڑھنی چاہئے۔ اور روزہ زیادہ سے زیادہ ایک دن رکھنا چاہئے۔ اور ایک دن افطار کرنا چاہئے۔ اور قرآن کریم تین دن سے کم عرصہ میں ختم نہیں کرنا چاہئے۔ (بخاری کتاب الصوم باب حق الجسم فی الصوم) اس کے متعلق عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ نے بہت کوشش کی کہ اس سے زیادہ کے لئے اجازت مل جائے۔ لیکن آپؐ نے اجازت نہ دی۔ وہ اسی پر عمل کرتے رہے۔ لیکن جب بوڑھے ہو گئے۔ تو بہت افسوس ظاہر کرتے کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے اقرار تو کر لیا تھا لیکن اب کر نہیں سکتا۔ تو حد سے زیادہ بڑھنا مشکلات میں ڈال دیتا ہے۔ ذکر بھی ایک بہت اچھی چیز ہے۔ مگر دیکھو جس طرح پلاؤ اگر زیادہ کھا لیا جائے تو وہ بدہضمی

کر دیتا ہے۔ اسی طرح ذکر کا حد سے زیادہ بڑھانا بھی نفس پر ایسا بوجھ ہو جاتا ہے کہ وہ ذکر سے متنفر ہو جاتا ہے۔ پس آہستہ آہستہ نفس پر بوجھ ڈالنا چاہئے اور اس قدر ڈالنا چاہئے جس کو برداشت کر سکے۔

تیسری احتیاط یہ کرنی چاہئے کہ ابتداء میں اگر طبیعت ذکر کی طرف متوجہ نہ ہو۔ تو بھی دل کو مضبوط کر کے انسان کرتا رہے اور پختہ ارادہ کرلے کہ ضرور پورا کروں گا اور نیت کرلے کہ شیطان کتنا ہی زور لگائے میں اس کی بات ہرگز ہرگز نہیں مانوں گا۔ اگر انسان اس طرح ارادہ کرلے تو ضرور طبیعت کو منوا لیتا ہے۔ کہتے ہیں رائے ٹیکن ایک مشہور وکیل تھا اس کے مقابلہ میں ایک اور وکیل آیا۔ اس نے سمجھا کہ رائے ٹیکن مقدمہ جیت جائے گا۔ اس نے یہ چالاکی کی کہ مجسٹریٹ کے ساتھ باتیں کرتے کرتے کہہ دیا کہ رائے ٹیکن کا دعویٰ ہے کہ خواہ کوئی مجسٹریٹ کتنا ہی ہوشیار ہو میں اس سے منوا لیتا ہوں۔ یہ سن کر مجسٹریٹ نے ارادہ کر لیا کہ رائے ٹیکن جو کچھ کہے گا میں ہرگز اسے نہیں مانوں گا۔ چنانچہ جب مقدمہ پیش ہوا۔ تو جو بات رائے ٹیکن پیش کرے مجسٹریٹ اسی کا انکار کر دے۔ اور آخر کار دوسرے وکیل کے حق میں ہی فیصلہ کر دیا۔ تو جب انسان یہ ارادہ کر لیتا ہے کہ میں فلاں کا اثر ہرگز نہیں قبول کروں گا تو وہ اس پر قابو نہیں پا سکتا۔ پس ابتدائی حالت میں ذکر کرنے کے وقت ایسی ہی حالت بنانی چاہئے۔

چوتھی احتیاط یہ ہے کہ ذکر کرتے وقت کسی تکلیف کی حالت میں نہیں ہونا چاہئے مثلاً فرش پر بیٹھے ہوئے کوئی چیز چبھتی ہو یا اور اسی قسم کی کوئی تکلیف ہو اس کو دور کر کے ذکر میں مشغول ہونا چاہئے۔

پانچویں یہ کہ ایسی حالت بنانی چاہئے کہ مجھے جو کچھ حاصل ہو گا اسے قبول کر لوں گا۔ اگر ابتداء میں بے توجہی ہو۔ تو بھی کسی نہ کسی وقت ذکر طبیعت میں داخل ہو جائے گا۔

چھٹی یہ کہ ذکر تضرع اور خشیت سے کیا جائے۔ اگر خشیت پیدا نہ ہو۔ تو ایسی صورت بنالے جس سے خشیت ظاہر ہوتی ہے۔ کیونکہ بعض باتیں جو ابتداء میں مصنوعی طور پر اختیار کی جاتی ہیں۔ آہستہ آہستہ اسی طرح ہو جاتی ہیں۔ پس جب کوئی تضرع پیدا کرنے کی کوشش کرتا اور رونے کی طرز بناتا ہے تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ واقعہ میں ایک وقت اس میں تضرع پیدا ہو جاتا ہے۔ ایک پروفیسر کے متعلق لکھا ہے کہ وہ بڑا ہی نرم دل تھا لیکن بعد میں بڑا سخت دل ہو گیا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ ایک دن جو نرمی کے باعث اسے تکلیف ہوئی تو اس نے ارادہ کر لیا کہ اب میں سخت ہو جاؤں گا۔ اس کے لئے اس نے سختی والی شکل بنالی گو دل میں وہی نرمی تھی۔ تاہم ظاہر طور پر سخت اور درشت معلوم ہوتا تھا۔ ہوتے ہوتے یہ ہوا کہ اس کا دل بھی سخت ہو گیا۔ وہ پروفیسر اگرچہ اپنی عادت کو بدی کی طرف لے گیا مگر تم لوگ اگر نیکی کی طرف جانے کے لئے اس طرح کرو گے تو رفتہ رفتہ واقعہ میں تمہارے اندر خشوع پیدا ہو جائے گا۔ اور اگر ایک دن ایک سیکنڈ کے لئے بھی حقیقی خشیت پیدا ہو جائے گی تو دوسرے دن اس سے زیادہ عرصہ کے لئے پیدا ہو سکے گی۔ پس اگر اس کے لئے کوشش کرو گے تو ضرور کامیاب ہو جاؤ گے۔

ذکر کرنے کے اوقات

اب جبکہ یہ ثابت ہو گیا کہ ذکر کرنا بہت ضروری ہے جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَاِذَا قَضَیۡتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِکُمۡ(النساء: ۱۰۴) تو یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ کس کس وقت ذکر کرنا چاہئے۔ یوں تو ہر وقت ہی خدا تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہئے۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ کے متعلق عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں كَانَ رَسُوْلُ اللهِ يَذْكُرُ اللهَ عَلٰى كُلِّ اَحْيَانِهِ(ترمذی کتاب الدعوات باب ما جاء ان دعوة المسلم مستجابة)۔ رسول کریم ﷺ ہر وقت ہی خدا تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے۔ لیکن بعض خاص وقت قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں۔ اور وہ یہ ہیں اذۡکُرُوا اللّٰہَ ذِکۡرًا کَثِیۡرًا وَّسَبِّحُوۡہُ بُکۡرَۃً وَّاَصِیۡلًا(الاحزاب: ۴۲-۴۳) یاد کرو اللہ کو بRelevant اور اصیل کے وقت۔ یہ دونوں وقت بہت اعلیٰ درجہ کے ہیں۔ بكرة عربی میں پو پھوٹنے سے سورج نکلنے تک کو کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ معنی ہوئے کہ صبح کی نماز سے لے کر سورج کے نکلنے تک ذکر کرو۔ ایک یہ وقت ہوا اور دوسرا وقت اصیل ہے۔ لغت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصیل عصر سے لے کر سورج کے ڈوبنے تک کو کہتے ہیں۔ تیسرا چوتھا اور پانچواں وقت جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ فَاصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ قَبۡلَ طُلُوۡعِ الشَّمۡسِ وَقَبۡلَ غُرُوۡبِہَا ۚ وَمِنۡ اٰنَآیِٔ الَّیۡلِ فَسَبِّحۡ وَاَطۡرَافَ النَّہَارِ لَعَلَّکَ تَرۡضٰی(طٰهٰ: ۱۳۱) یعنی صبر کر ان باتوں پر جو یہ لوگ کہتے ہیں۔ اور تسبیح و تحمید کر اپنے رب کی سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے (ان دونوں وقتوں کا ذکر پہلے آچکا ہے) اور رات کے اوقات میں اور ان کی دونوں طرفوں میں تاکہ تیری خواہشات پوری ہوں۔ اس آیت میں علاوہ پہلے دو وقتوں کے سورج نکلنے کے بعد کا وقت اور رات کا پہلا اور پچھلا وقت بھی ذکر کے لئے مفید بتایا گیا ہے۔

چھٹا وقت ہر ایک نماز کے پڑھنے کے بعد کا ہے۔ رسول کریم ﷺ اس ذکر کو ہمیشہ جاری رکھتے تھے گویا سنت ہو گئی تھی۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ جب ہم دور ہوتے تھے۔ تو اَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنْكَ السَّلَامُ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ کے ذکر سے معلوم کرتے تھے کہ نماز ختم ہو گئی ہے۔ پس نماز کے بعد پڑھنے کے لئے ایک ذکر تو یہ ہے کہ اَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنْكَ السَّلَامُ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ پڑھا جاوے۔ دوسرے یہ کہ سُبْحَانَ اللّٰهِ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ تینتیس تینتیس دفعہ پڑھا جاوے اور اَللّٰهُ اَكْبَرُ چونتیس دفعہ پڑھا جاوے (ترمذی کتاب الدعوات باب ما جاء فی التسبيح والتكبير۔۔۔)۔ یہ ذکر کئی طریق پر مروی ہے۔ مگر سب سے زیادہ صحیح طریق یہی ہے کہ الگ الگ پہلے دونوں جملوں کو تینتیس تینتیس دفعہ کہے۔ اور تیسرے کو چونتیس دفعہ ؎۔ نماز کے بعد کا وقت ذکر کے لئے بہت ہی اعلیٰ درجہ کا ہے اس وقت ضرور ذکر کرنا چاہئے۔ بعض لوگ مجھے اور حضرت مولوی صاحب خلیفۃ المسیح الاول اور حضرت مسیح موعود کو دیکھ کر شائد سمجھتے ہوں کہ یہ نماز کے بعد ذکر نہیں کرتے۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول بھی ذکر کیا کرتے تھے اور میں بھی کرتا ہوں۔ ہاں اونچی آواز سے نہ وہ کہتے تھے اور نہ میں۔ دل میں کہتا ہوں۔ پس نماز کے بعد ضرور ذکر کرنا چاہئے۔

ذکر کے متعلق کچھ اور احتیاطیں بھی ہیں اور وہ یہ کہ سوائے ان موقعوں کے جو حدیث سے ثابت ہیں مجلس میں اونچی آواز سے ذکر نہ کیا جائے۔ بعض دفعہ اس طرح ریا پیدا ہو جاتا ہے۔ اور بعض دفعہ دوسرے لوگوں کو ذکر کرنے یا نماز پڑھنے میں تکلیف ہوتی ہے۔ پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جو بات نئی اختیار کی جائے وہ بوجھل معلوم ہوتی ہے۔ اور اس کے کرنے سے دل گھبراتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ذکر کرنے میں دل نہیں لگتا۔ لیکن کیا ایک ہی دن میں کوئی شخص کسی فن میں کامل ہو جاتا ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ آہستہ آہستہ اور کچھ مدت کے بعد ایسا ہوتا ہے۔ پس اگر ابتداء میں کسی کا دل نہ لگے اور اسے بوجھ سا معلوم ہو تو وہ گھبرائے نہیں۔ آہستہ آہستہ دل قبول کر لے گا لیکن شرط یہ ہے کہ ذکر کو قائم رکھا جائے۔ پھر بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں ذکر کرنے میں لذت بھی آجاتی ہے۔ مگر انہیں چاہئے کہ نفس کے لئے لذت نہ تلاش کریں۔ اور ذکر کرنے کے وقت یہ نیت نہ ہو کہ لذت حاصل ہو بلکہ عبادت سمجھ کر کرنا چاہئے۔ کیونکہ لذت اصل چیز نہیں ہے۔ اصل چیز عبادت ہے۔ اور عبادت اسی وقت قبول ہوتی ہے جبکہ عبادت سمجھ کر کی جائے۔

پھر بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں ذکر کرنے کے لئے کچھ دن تو قبض رہتی ہے اور کچھ دن طبیعت کھل جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کو بھی گھبرانا نہیں چاہئے۔ قبض ہر قسم کے لوگوں کو ہوتی ہے۔ ایک دفعہ ایک صحابیؓ رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور آکر کہا کہ حضور میں منافق ہوں۔ آپ نے فرمایا نہیں تم تو مسلمان ہو۔ اس نے کہا حضور جب میں آپ کے سامنے آتا ہوں تو جنت اور دوزخ میری آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں اور جب گھر جاتا ہوں تو پھر وہ حالت قائم نہیں رہتی۔ آپ نے فرمایا اگر وہی حالت ہر وقت قائم رہے تو مر جاؤ۔ (مسلم کتاب التوبۃ باب فضل دوام الذکر والفکر فی امور الاخرۃ) اصل بات یہ ہے کہ اگر ہر وقت ایک ہی حالت رہے۔ تو پھر بڑھنے اور ترقی کرنے کی طاقت سلب ہو جاتی ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ کبھی تو اصل حالت سے نیچے کر دیتا ہے تاکہ انسان کود کر پہلے سے بھی آگے بڑھ جائے۔ اور کبھی اوپر چڑھا دیتا ہے۔ ہاں قبض کے متعلق ایک خاص بات یاد رکھنی چاہئے اور وہ یہ کہ ایک قبض اچھی ہوتی ہے اور ایک بری۔ اور ان کا پتہ اس طرح لگ سکتا ہے کہ ذکر کرنے کے متعلق لذت آنے کا ایک درجہ مقرر کر لیا جائے مثلاً ایک درجہ ہے اس سے اوپر ۲‘ ۳‘ ۴‘ ۵ درجے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص دو درجہ پر ہے۔ اور قبض اسے لے جاتی ہے ایک درجہ پر۔ تو سمجھنا چاہئے کہ انعام دلانے والی قبض ہے۔ لیکن اگر تین درجہ پر ہو اور پھر قبض ہو۔ تو دیکھنا چاہئے اب قبض دو درجہ پر لے گئی ہے۔ یا ایک پر یا بالکل صفر پر۔ اگر دو درجہ پر ہو تو سمجھنا چاہئے کہ ترقی دلانے والی ہے اور اگر ایک پر یا صفر کے درجہ پر ہو تو پھر خطرے کا مقام ہے اس کے لئے خاص سعی اور کوشش کرنی چاہئے۔

ذکرِ نماز

اب میں نماز کے متعلق بتاتا ہوں۔ یہ سب سے زیادہ ضروری اور اہم ذکر ہے کیونکہ اس میں کبھی انسان کھڑا ہو کر ذکر کرتا ہے اور کبھی رکوع میں‘ کبھی سجدہ میں‘ کبھی بیٹھ کر‘ پھر نماز میں قرآن کریم پڑھتا ہے۔ اور اس کے علاوہ اور اوراد بھی کرتا ہے۔ پس نماز سب ذکروں کی جامع ہے۔ پہلے میں نے اس کے متعلق بیان کرنا اس لئے چھوڑ دیا تھا کہ بہت تفصیل چاہتی ہے۔ لیکن اب بیان کرتا ہوں۔

نماز کے تین حصے ہیں (۱) فرض (۲) سنن (۳) نفل۔ فرض اور سنن تو سب لوگ ادا کرتے ہیں باقی رہے نوافل ان کے ادا کرنے میں اکثر سستی کرتے ہیں۔ سنتوں کے متعلق تو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ اس لئے مقرر کی گئی ہیں کہ فرائض کے ادا کرنے میں جو کمی یا نقص رہ جائے اسے پورا کر دیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ناقص نماز قبول نہیں کرتا بلکہ کامل قبول کرتا ہے۔ اور اگر نقص ہو تو سنتوں میں سے پورا کر دیتا ہے مثلاً کسی نے ایک نماز پڑھی۔ مگر ایک رکعت میں اس کی توجہ قائم نہ رہی اور مختلف قسم کے وساوس پیدا ہوتے رہے اس لئے وہ رکعت قبول نہ ہو گی۔ اس کے بدلہ میں سنتیں رکھ دی جائیں گی تاکہ نماز مکمل ہو جائے۔ رسول کریم ﷺ چونکہ انسان کے قلب کی کیفیت کو خوب جانتے تھے اور سمجھتے تھے اس لئے آپؐ نے فرائض کے ساتھ سنتیں اپنی طرف سے لگا دیں تاکہ فرائض کی کمی کو پورا کر دیں اور یہ آپؐ نے اپنی امت پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔

نوافل کی فضیلت

اب نوافل باقی رہے وہ خدا تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ یعنی نجات کے علاوہ اعلیٰ مدارج حاصل کرنے کا موجب بنتے ہیں پس جو شخص خدا تعالیٰ کا قرب چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ نوافل پڑھنے پر بہت زور دے۔ پھر نوافل بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ بعض دن میں پڑھے جاتے ہیں اور بعض رات کو۔ جو رات کو پڑھے جاتے ہیں۔ ان کو تہجد کہتے ہیں اور یہ زیادہ اہم ہوتے ہیں اور ایسے اعلیٰ کہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کی فضیلت اس طرح بیان فرمائی ہے۔ اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِىَ اَشَدُّ وَطْئًا وَّ اَقْوَمُ قِيْلًا(المزمل : ۷) کہ انسان کے نفس کے درست کرنے کے لئے رات کا اٹھنا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ پس اگر کوئی شخص تجربہ کر کے دیکھے گا تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ کس طرح نفس کی بہت بڑی وسیع اصلاح ہو جاتی ہے اور خاص قوت اور طاقت حاصل ہوتی ہے۔ صحابہ کرامؓ ان پر خاص طور پر مداومت رکھتے تھے۔ اور رسول کریم ﷺ کو ان نوافل کا اتنا خیال تھا کہ باوجود ان کے نفل ہونے کے آپ رات کو پھر کر دیکھتے کہ صحابہؓ میں سے کون یہ نفل پڑھتا ہے اور کون نہیں پڑھتا۔ ایک دفعہ آپ کی مجلس میں عبداللہؓ بن عمرؓ کا ذکر آیا کہ وہ بہت اچھا ہے اس میں یہ خوبی ہے یہ صفت ہے تو آپؐ نے فرمایا کہ ہاں بڑا اچھا ہے بشرطیکہ تہجد پڑھے۳؎ چونکہ عبداللہ بن عمرؓ جوان تھے اور تہجد پڑھنے میں سستی کرتے تھے اس لئے آپ نے اس طرح ان کو اس طرف توجہ دلائی۔ پھر رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اس میاں اور بیوی پر رحم ہو کہ اگر رات کو میاں کی آنکھ کھلے تو اٹھ کر تہجد پڑھے اور بیوی کو جگائے کہ تو بھی اٹھ کر تہجد پڑھ۔ اور اگر بیوی نہ جاگے تو پانی کا چھینٹا اس کے منہ پر مارے اور جگائے۔ اسی طرح اگر بیوی کی آنکھ کھلے تو وہ بھی ایسا ہی کرے کہ خود تہجد پڑھے اور میاں کو جگائے اگر وہ نہ جاگے تو اسکے منہ پر چھینٹا مارے دیکھو ایک طرف تو رسول کریم ﷺ نے بیوی کے لئے میاں کا ادب کرنا نہایت ضروری قرار دیا ہے۔ اور دوسری طرف تہجد کے لئے جگانے کے واسطے اگر پانی کا چھینٹا بھی مارنا پڑے تو اس کو بھی جائز رکھا ہے۔ گویا رسول کریم ﷺ تہجد کو اس قدر ضروری سمجھتے تھے۔ یہ رسول کریم ﷺ کی طرف سے ہے۔ پھر قرآن کریم کہتا ہے کہ رات کا اٹھنا نفس کو سیدھا کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریمؐ صحابہؓ کو فرماتے کہ خواہ تہجد دو رکعت ہی پڑھو مگر پڑھو ضرور۔ پھر حدیثوں سے یہ بھی ثابت ہے کہ رات کے آخری حصہ میں اللہ تعالیٰ قریب آجاتا ہے۔ اور بہت زیادہ دعائیں قبول کرتا ہے اس لئے تہجد کا پڑھنا بہت ضروری اور بہت فائدہ مند ہے۔

تہجد کے لئے اٹھنے کے تیرہ طریق

اب سوال یہ ہے کہ تہجد پڑھنی تو ضرور چاہئے مگر رات کو اٹھیں کیونکر۔ اس کا ایک ادنیٰ طریق میں پہلے بتاتا ہوں اگرچہ اس میں نقصان بھی ہے مگر فائدہ بھی ہو سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آج کل الارم والی گھڑیاں مل سکتی ہیں ان کے ذریعہ انسان جاگ سکتا ہے۔ مگر میرا تجربہ ہے کہ یہ کوئی ایسا مفید طریق نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ چونکہ انسان کو بھروسہ ہو جاتا ہے کہ وہ مجھے وقت پر جگا دے گی اس لئے رات کو اٹھنے کی نیکی کی طرف جو توجہ اور خیال ہونا چاہئے وہ اس کو نہیں ہوتا۔ اگر اسے اٹھنے کا خیال ہوتا اور اسی خیال میں ہی اس کی آنکھ لگ جاتی تو گویا وہ ساری رات ہی عبادت کرتا رہتا۔ اس کے علاوہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر اٹھنے کو جی نہ چاہے تو انسان بجتے بجتے الارم کو بند کر دیتا ہے۔ لیکن اگر نیت اور ارادہ سے سوئے گا تو وقت پر ضرور اٹھ کھڑا ہوگا۔ پھر ایسے لوگ جو گھڑی کے ذریعہ اٹھتے ہیں وہ اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ نماز میں نیند آتی ہے۔ اس کی بھی وجہ یہی ہے کہ وہ گھڑی سے اٹھتے ہیں نہ کہ اپنے طور پر اس لئے یہ طریق کوئی مفید نہیں ہے۔ ہاں ابتدائی حالت کے لئے یا کسی خاص ضرورت کے وقت مفید ہوتا ہے۔

میرے نزدیک وہ طریق جن سے رات کو اٹھنے سے مدد مل سکتی ہے تیرہ ہیں۔ اگر کوئی شخص ان پر عمل کرے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسے ضرور کامیابی ہوگی۔ شروع میں تو ہر کام میں مشکلات ہوتی ہیں مگر آخر کار ضرور ان کے ذریعہ کامیابی ہوگی۔

یہ سب باتیں جو میں بیان کروں گا وہ قرآن اور حدیث سے ہی اخذ کی ہوئی بیان کروں گا نہ کہ اپنی طرف سے۔ مگر یہ خدا تعالیٰ کا مجھ پر خاص فضل ہے کہ یہ باتیں مجھ پر ہی کھولی گئی ہیں۔ اور اوروں سے پوشیدہ رہی ہیں۔ اگر وقت تنگ نہ ہوتا۔ تو میں قرآن کریم کی وہ آیات اور حدیثیں بھی بیان کر دیتا جن سے میں نے اخذ کی ہیں مگر اب صرف نتائج ہی بیان کروں گا۔

پہلا طریق یہ ہے

کہ اللہ تعالیٰ نے نیچر میں قاعدہ رکھا ہے کہ جس وقت میں کوئی چیز پیدا ہوئی ہو وہی وقت جب دوسری دفعہ آئے تو اس چیز میں پھر جوش پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کی مثالیں کثرت سے مل سکتی ہیں۔ مثلاً انسان کو جو بیماری بچپن میں ہوئی ہو وہی بیماری بڑھاپے میں جبکہ بچپن کی سی حالت ہو جاتی ہے عود کر آتی ہے۔ یہی بات درختوں اور پرندوں میں پائی جاتی ہے۔ اس قاعدہ سے رات کو اٹھنے میں اس طرح مدد مل سکتی ہے کہ عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد کچھ عرصہ ذکر کر لے۔ اس کا یہ فائدہ ہو گا کہ جتنا عرصہ وہ ذکر کرے گا صبح سے اتنا ہی قبل اس کی آنکھ ذکر کرنے کے لئے کھل جائے گی۔

دوسرا طریق یہ ہے

کہ عشاء کی نماز پڑھ لینے کے بعد کسی سے کلام نہ کرے۔ صل اللہ علیہ وسلم رسول کریم ﷺ نے بھی عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد کلام کرنے سے روکا ہے۔ گو یہ بھی ثابت ہے کہ بعض دفعہ آپؐ کلام کرتے رہے ہیں۔ مگر عام طور پر آپؐ نے منع فرمایا ہے۔ اس کا باعث یہ ہے کہ اگر عشاء کی نماز کے بعد باتیں شروع کر دی جائیں گی تو انسان زیادہ جاگے گا اور صبح کو دیر کر کے اٹھے گا۔ اور دوسرے یہ کہ اگر وہ باتیں دینی اور مذہبی نہ ہوں گی تو ان کی وجہ سے توجہ دین سے ہٹ جائے گی۔ اس لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عشاء کی نماز کے بعد بغیر کلام کئے سو جانا چاہئے تاکہ دینی خیالات پر ہی آنکھ لگے اور سویرے کھل جائے۔ دفتر کے کام یا اور کوئی ضروری فعل عشاء کی نماز کے بعد منع نہیں۔ مگر یہ ضروری ہے کہ سونے سے پہلے ذکر کر لے۔ یہ دوسرا طریق ہے۔

تیسرا طریق یہ ہے

کہ جب کوئی عشاء کی نماز پڑھ کر آئے اور سونے لگے تو خواہ اس کا وضو ہی ہے۔ تو بھی تازہ وضو کر کے چارپائی پر لیٹے۔ اس کا اثر قلب پر پڑتا ہے اور اس سے خاص قسم کی نشاط پیدا ہوتی ہے۔ اور جب کوئی تازہ وضو کی وجہ سے نشاط کی حالت میں سوئے گا تو وہ آنکھ کھلتے وقت بھی نشاط میں ہی ہو گا۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی روتا سوئے تو وہ چیخ مار کر اٹھ بیٹھتا ہے۔ اور اگر ہنستا سوئے تو اٹھتے وقت بھی اس کا چہرہ بشاش ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح جو وضو کر کے نشاط سے سوتا ہے وہ اٹھتا بھی نشاط سے ہی ہے۔ اور اس طرح اس کو اٹھنے میں مدد ملتی ہے۔

چوتھا طریق یہ ہے

کہ جب سونے لگے تو کوئی ذکر کر کے سوئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ رات کو ذکر کرنے کے لئے پھر اس کی آنکھ کھل جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ بھی سونے سے پہلے یہ ذکر کیا کرتے تھے کہ آیت الکرسی پھر تینوں قل ایک ایک دفعہ پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونکتے اور ہاتھ سارے جسم پر پھیرتے اور ایسا تین دفعہ کرتے تھے اور پھر دائیں طرف منہ کر کے یہ عبارت پڑھتے۔ اَللّٰھُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِیْٓ اِلَیْكَ وَوَجَّھْتُ وَجْھِیْٓ اِلَیْكَ وَفَوَّضْتُ اَمْرِیْٓ اِلَیْكَ رَغْبَةً وَّ رَھْبَةً اِلَیْكَ ؕ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَاٰ اِلَّآ اِلَیْكَ ؕ اٰمَنْتُ بِكِتٰبِكَ الَّذِیْٓ اَنْزَلْتَ وَ نَبِیِّكَ الَّذِیْٓ اَرْسَلْتَ(ترمذی کتاب الدعوات باب ما جاء فی الدعاء اذا اویٰ الی فراشہ)۔ اسی طرح ہر ایک مؤمن کو چاہئے۔ اور پھر چارپائی پر لیٹ کر دل میں سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ یا کوئی اور ذکر جاری رکھنا چاہئے حتیٰ کہ اس حالت میں آنکھ لگ جائے۔ کیونکہ جس حالت میں انسان سوتا ہے عام طور پر وہی حالت ساری رات اس پر گذرتی رہتی ہے۔ اس لئے جو شخص تسبیح و تحمید کرتے سوئے گا۔ گویا ساری رات اسی میں لگا رہے گا۔ دیکھو عورتیں یا بچے اگر کسی غم اور تکلیف میں سوئیں۔ تو سوتے سوتے جب کروٹ بدلتے ہیں۔ تو دردناک اور غمگین آواز نکالتے ہیں۔ کیونکہ اس غم کا جو سوتے وقت ان کو تھا ان پر اثر ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی تسبیح کرتے سوئے گا تو جب کروٹ بدلے گا اس کے منہ سے تسبیح کی آواز ہی نکلے گی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مؤمن وہ ہوتے ہیں کہ تَتَجَافٰی جُنُوۡبُہُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِعِ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا ۫ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ(السجدہ: ۱۷) یعنی ان کے پہلو بستروں سے اٹھے رہتے ہیں۔ اور وہ خوف اور طمع سے اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں۔ بظاہر تو یہ بات درست نہیں معلوم ہوتی کیونکہ آنحضرت ﷺ بھی سوتے تھے اور دوسرے سب مؤمن بھی سوتے ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ چونکہ وہ تسبیح کرتے کرتے سوتے ہیں اس لئے ان کی نیند نیند نہیں ہوتی بلکہ تسبیح ہی ہوتی ہے اور اگرچہ وہ سوتے ہیں مگر درحقیقت سوتے نہیں۔ ان کی کمریں بستروں سے الگ رہتی ہیں اور وہ خدا کی یاد میں مشغول ہوتے ہیں۔

پانچواں طریق یہ ہے

کہ سونے کے وقت کامل ارادہ کر لیا جائے کہ تہجد کے لئے ضرور اٹھوں گا۔ انسان کے اندر خدا تعالیٰ نے یہ طاقت رکھی ہے کہ جب وہ زور سے اپنے نفس کو کوئی حکم کرتا ہے تو وہ تسلیم کر لیتا ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کو تمام دانا مانتے آئے ہیں۔ پس تم سونے کے وقت پختہ ارادہ کر لو کہ تہجد کے وقت ضرور اٹھیں گے۔ اس طرح کرنے میں گو تم سو جاؤ گے مگر تمہاری روح جاگتی رہے گی کہ مجھے حکم ملا ہے کہ فلاں وقت جگانا ہے اور عین وقت پر خود بخود تمہاری آنکھ کھل جائے گی۔

چھٹا طریق

ایسا ہے کہ جس کے کرنے کی میں صرف ایسے ہی شخص کو اجازت دیتا ہوں جو یہ دیکھتا ہو کہ میرا ایمان خوب مضبوط ہے اور وہ یہ کہ وتروں کو عشاء کی نماز کے ساتھ نہ پڑھے بلکہ تہجد کے وقت پڑھنے کے لئے رہنے دے۔ عام طور پر یہ بات پائی جاتی ہے کہ انسان فرض کو خاص طور پر ادا کرتا ہے مگر نفل میں سستی کر جاتا ہے۔ پس جب نفلوں کے ساتھ واجب مل جائے گا تو اس کی روح کبھی آرام نہ کرے گی جب تک کہ اسکو ادا نہ کرے اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نفس سستی نہیں کرے گا۔ لیکن اگر وتر پڑھے ہوئے ہوں اور تہجد کے وقت آنکھ کھل بھی جائے تو نفس کہہ دیتا ہے کہ وتر تو پڑھے ہوئے ہیں نفل نہ پڑھے تو نہ سہی۔ مگر جب یہ خیال ہو گا کہ وتر بھی پڑھنے ہیں تو ضرور اٹھے گا اور جب اٹھے گا تو نفل بھی پڑھ لے گا۔ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے اس کے لئے شرط ہے کہ ایمان بہت مضبوط ہو۔ جب ایمان مضبوط ہو گا تو وتروں کے لئے ضرور اٹھے گا۔ ورنہ وتروں کے پڑھنے سے بھی محروم رہے گا۔

ساتواں طریق

بھی انہیں لوگوں کے لئے ہے جو روحانیت میں بہت بڑھے ہوئے ہیں۔ اور وہ یہ کہ عشاء کی نماز کے بعد نفل پڑھنے شروع کر دیں اور اتنی دیر تک پڑھیں کہ نماز میں ہی نیند آجائے اور اتنی نیند آئے کہ برداشت نہ کی جا سکے اس وقت سوئے۔ باوجود اس کے کہ اس میں زیادہ وقت لگے گا مگر سویرے نیند کھل جائے گی یہ روحانی ورزش ہوتی ہے۔

آٹھواں طریق

وہ ہے جس کا ہمارے صوفیاء میں رواج تھا میں نے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی مگر ہے مفید۔ اور وہ یہ ہے کہ جن دنوں میں زیادہ نیند آئے اور وقت پر آنکھ نہ کھلے ان میں نرم بستر ہٹا دیا جائے۔

نواں طریق

یہ ہے کہ سونے سے کئی گھنٹے پہلے کھانا کھا لیا جائے۔ یعنی مغرب سے پہلے یا مغرب کی نماز کے بعد فوراً۔ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کی روح چست ہوتی ہے مگر جسم سست کر دیتا ہے۔ جسم ایک طوق ہے جو روح کو چمٹا ہوا ہے جب یہ طوق بھاری ہو جائے تو پھر روح کو دبا لیتا ہے۔ اس لئے سونے کے وقت معدہ پُر نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس کا اثر قلب پر بہت پڑتا ہے اور انسان کو سست کر دیتا ہے۔

دسواں طریق

یہ ہے کہ جب انسان رات کو سوئے تو ایسی حالت میں نہ ہو کہ جنبی ہو یا اسے کوئی غلاظت لگی ہو۔ بات یہ ہے کہ طہارت سے ملائکہ کا بہت بڑا تعلق ہوتا ہے اور وہ گندے انسان کے پاس نہیں آتے۔ بلکہ دور ہٹ جاتے ہیں۔ اسی لئے رسول کریم ﷺ کے سامنے جب ایک بو دار چیز کھانے کے لئے لائی گئی تو آپؐ نے صحابہؓ کو فرمایا کہ تم کھا لو میں نہیں کھاتا۔ صحابہؓ نے کہا ہم بھی نہیں کھاتے۔ آپؐ نے فرمایا تم کھا لو میرے ساتھ تو فرشتے باتیں کرتے ہیں اس لئے میں نہیں کھاتا۔ کیونکہ انہیں ایسی چیزوں سے نفرت ہے۔

تو غلاظت کو ملائکہ بہت ناپسند کرتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول سناتے تھے کہ ایک دفعہ میں نے کھانا کھایا اور ہاتھ دھوئے بغیر سو گیا۔ رؤیا میں میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب آئے ہیں اور انہوں نے مجھے قرآن کریم دینا چاہا لیکن جب میں ہاتھ لگانے لگا تو کہا کہ ہاتھ نہ لگانا تمہارے ہاتھ صاف نہیں ہیں۔ تو بدن کے صاف ہونے کا قلب پر بہت اثر پڑتا ہے۔ صفائی کی حالت میں سونے والے کو ملائکہ آکر جگا دیتے ہیں لیکن اگر صفائی میں فرق ہو تو پاس نہیں آتے۔ یہ طریق جسم کی صفائی کے متعلق ہے۔

گیارہواں طریق

یہ ہے کہ بستر پاک و صاف ہو۔ بہت لوگ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے مگر یاد رکھنا چاہئے کہ بستر کی پاکیزگی روحانیت سے خاص تعلق رکھتی ہے اس لئے اس کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔

بارہواں طریق

ایسا ہے کہ عوام کو اس پر عمل کرنے کی وجہ سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہاں خاص لوگوں کے لئے نقصان دہ نہیں اور وہ یہ کہ میاں بیوی ایک بستر میں نہ سوئیں۔ رسول کریم ﷺ سوتے تھے لیکن آپؐ کی شان بہت بلند اور ارفع ہے۔ آپؐ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا تھا۔ مگر دوسرے لوگوں کو احتیاط کرنی چاہئے۔ بات یہ ہے کہ جسمانی شہوت کا اثر جتنا زیادہ ہو اسی قدر روحانیت کو بند کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت

اسلام نے کہا ہے کہ کھاؤ پیو مگر حد سے نہ بڑھو۔ کیوں نہ بڑھو اس لئے کہ شہوانی جذبہ زیادہ بڑھ کر روحانیت کو نقصان پہنچائے گا۔ پس وہ لوگ جو اپنے نفس پر قابو رکھتے ہیں وہ اگر اکٹھے سوئیں تو کوئی حرج نہیں ہوتا مگر عام لوگوں کو اس سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اور وہ لوگ جنہیں اپنے خیالات پر پورا پورا قابو نہ ہو ان کو اکٹھا نہیں سونا چاہئے۔ اس طرح ان کو شہوانی خیالات آتے رہیں گے۔ اور بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ سوتے سوتے جماع کرنے یا پیار کرنے لگ جاتے ہیں۔ اس طرح روحانیت پر برا اثر پڑتا ہے۔ اور اٹھنے میں سستی ہو جاتی ہے۔

تیرہواں طریق

ایسا اعلیٰ ہے کہ جو نہ صرف تہجد کے لئے اٹھنے میں بہت برآمد اور معاون ہے بلکہ اس پر عمل کرنے سے انسان بدیوں اور برائیوں سے بھی بچ جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ سونے سے پہلے دیکھنا چاہئے کہ ہمارے دل میں کسی کے متعلق کینہ یا بغض تو نہیں ہے اگر ہو تو اس کو دل سے نکال دینا چاہئے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ روح کے پاک ہونے کی وجہ سے تہجد کے لئے اٹھنے کی توفیق مل جائے گی خواہ اس قسم کے خیالات ان پر پھر قابو پا ہی لیں۔ لیکن رات کو سونے سے پہلے ضرور نکال دینے چاہئیں اور دل کو بالکل خالی کر لینا چاہئے۔ اس میں حرج ہی کیا ہے۔ اگر کوئی ایسے خیالات میں دنیاوی فائدہ سمجھتا ہے تو دل کو کہے کہ دن کو پھر یاد رکھ لینا رات کو سونے کے وقت کسی سے لڑائی تو نہیں کرنی کہ ان کو دل میں رکھا جائے۔ اول تو ایسا ہوگا کہ اگر ایک دفعہ اپنے دل سے کسی خیال کی جڑ ھ کاٹ دی جائے گی تو پھر وہ آئے گا ہی نہیں۔ دوسرے اس قسم کے خیالات رکھنے سے جو نقصان پہنچنا ہوتا ہے اس سے انسان محفوظ ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ثابت شدہ بات ہے کہ ایک چیز جس قدر زیادہ عرصہ دوسرے کے ساتھ رہتی ہے اسی قدر زیادہ اپنا اثر اس پر کرتی ہے۔ مثلاً اگر اسپنج کو پانی سے بھر کر کسی چیز پر جلدی سے پھیر کر ہٹالیا جائے تو وہ بہت تھوڑی گیلی ہوگی۔ لیکن اگر دیر تک اس پر رکھا جائے تو وہ بہت زیادہ بھیگ جائے گی۔ اسی طرح جو خیالات انسان کو دیر تک رہیں وہ اس کے دل میں بہت زیادہ جذب ہو جاتے ہیں اور سوتے وقت جن خیالات کو انسان اپنے دل میں رکھے ان کو اس کی روح ساری رات دہراتی رہتی ہے۔ دن میں اگر کوئی ایسا خیال ہو تو وہ اتنا نقصان دہ نہیں ہوتا جتنا رات کے وقت کا۔ کیونکہ ان میں دوسرے کاروبار میں مشغول ہونے کی وجہ سے وہ بھلا دیتا ہے لیکن رات کو بار بار آتا ہے۔ پس سوتے وقت اگر کوئی برا خیال ہو۔ تو اسے نکال دینا چاہئے تاکہ وہ دل میں گڑ نہ جائے۔

کیونکہ اگر گڑ گیا تو پھر اس کا نکلنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ پھر اگر رات کو جان ہی نکل جائے تو اس بدی کے خیال سے توبہ کرنے کا موقعہ بھی نہیں ملے گا۔ اس طرح نفس کو ڈرانا چاہئے ۔ اور جب ایک دفعہ خیال نکل جائے گا تو پھر اس سے نجات مل جائے گی۔ غرض سوتے وقت نفس میں برے خیالات نہیں رہنے دینے چاہئیں۔ جب اس طرح دل کو پاک و صاف کر کے کوئی سوئے گا تو تہجد کے وقت اٹھنے کی اسے ضرور توفیق مل جائے گی۔

نماز میں توجہ قائم رکھنے کے طریق

اب میں بتاتا ہوں کہ نماز میں کس طرح توجہ قائم رہ سکتی ہے۔ اس کے متعلق بہت لوگ ہمیشہ پوچھا کرتے ہیں آج میں اس کے طریق بتاتا ہوں۔ کچھ تو ایسے ہوں گے جنہیں آپ استعمال میں لاتے ہیں۔ مگر درحقیقت ان سے کام نہیں لیتے اور جو کام لیتے ہیں وہ ضرور فائدہ بھی اٹھاتے ہوں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ شریعت نے توجہ قائم رکھنے کے لئے نماز میں ہی کچھ قوانین بتا دیئے ہیں مگر ناواقفیت کی وجہ سے اکثر لوگ ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ ان کے علاوہ کچھ طریق میں ایسے بتاؤں گا جن سے لوگ عام طور پر ناواقف ہیں اور ان پر کاربند نہیں۔ حالانکہ ان پر عمل کرنے سے نماز میں توجہ قائم رہ سکتی ہے پہلی قسم کے طریقوں کے بیان کرنے سے پہلے میں اس قدر بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے انسان کے اندر ایک ایسا مادہ رکھا ہے کہ جب وہ کسی چیز کو استعمال کر رہا ہو اور ساتھ ساتھ اس کا فائدہ بھی سوچتا جائے اور اس پر یقین رکھے تو اسے بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ یورپ میں سینڈو ورزش کا استاد گذرا ہے وہ لکھتا ہے کہ صحت اور طاقت کے لئے ورزش کرو۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی خیال کرتے جاؤ کہ ہمارے بازو مضبوط اور پٹھے سخت ہو رہے ہیں۔ واقعہ میں ورزش سے بازو مضبوط ہوتے ہیں۔ مگر جب اس بات کو ورزش سمجھ کر کیا جائے کہ اس کا اثر جسم پر کیا پڑ رہا ہے تو اس اثر کو قبول کرنے کے لئے جسم اور بھی تیار ہو جاتا ہے۔ اور اگر یہ خیال نہ رکھا جاوے تو بہت سا اثر باطل ہو جاتا ہے اور فائدہ نسبتاً بہت کم ہو جاتا ہے۔

پہلا طریق

شریعتِ اسلام نے بھی توجہ قائم رکھنے کے کچھ قانون مقرر کئے ہوئے ہیں۔ ان میں سے پہلا قانون وضو ہے جو ہر ایک نماز پڑھنے والے کو کرنا پڑتا ہے اس میں یہ حکمت ہے کہ انسان کے خیالات اور جذبات کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کچھ ذرائع بنائے ہیں ان میں سے ایک اعصاب کا سلسلہ ہے۔ ان کے ذریعہ سے انسان کے

خیالات اور جذبات کا اثر دوسری چیزوں پر پڑتا ہے اور وہ ایک راستہ کے طور پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ آیۃ الکرسی پڑھ کر اپنے جسم پر پھونکتے تھے۔ کیا یہ لغو ہی تھا؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ خیالات کا اثر اعصاب کے ذریعہ، آواز کے ذریعہ، پھونک کے ذریعہ، خیالات سے منتقل ہوتا ہے۔ پس رسول کریم ﷺ ان تینوں طریق کو جمع کر لیتے۔ آیۃ الکرسی مُنہ سے پڑھتے پھر ہاتھوں پر پھونکتے پھر ہاتھ سارے جسم پر پھیر لیتے۔ غرض آواز، اعصاب، نظر اور پھونک وغیرہ خیالات کے باہر نکلنے کے راستے ہیں اسی وجہ سے دم کرنا بھی صلحاء سے ثابت ہے بلکہ رسول کریم ﷺ سے بھی مروی ہے۔ پس چونکہ اعصاب کے ذریعہ خیالات نکلتے اور پراگندہ ہو جاتے ہیں ان کو قابو میں رکھنے کے لئے آنحضرت ﷺ نے وضو کا حکم دیا ہے۔ اور چونکہ ان کے نکلنے کے بڑے بڑے مرکز ہاتھ پاؤں اور مُنہ ہیں۔ اور تجربہ کیا گیا ہے کہ جب ان پر پانی ڈالا جائے تو خیالات کی رَو جو ان سے نکل رہی ہوتی ہے وہ بند ہو جاتی ہے اور خیالات نکلنے رک جاتے ہیں۔ یہ ایک ثابت شدہ مسئلہ ہے۔ اور وضو کی اغراض میں ایک یہ غرض بھی ہے۔ وضو میں اور بھی کئی ایک حکمتیں ہیں لیکن ایک یہ بھی ہے کہ اس طرح خیالات کی رَو رک جاتی ہے اور جب رَو رک جاتی ہے تو سکون حاصل ہو جاتا ہے اور جب سکون حاصل ہو جاتا ہے تو توجہ قائم رہ سکتی ہے۔ پس وضو توجہ کے قائم رکھنے کے لئے ایک اعلیٰ درجہ کا ذریعہ ہے۔ لیکن جب وضو کرنے بیٹھو تو ساتھ ہی یہ بھی خیال رکھو کہ ہم ایسا پراگندہ خیالات کے روکنے کے لئے کر رہے ہیں۔ جب ایسا کرو گے تو نماز میں سکون حاصل ہو جائے گا اور خیالات تمہاری توجہ کو پراگندہ نہیں کر سکیں گے۔

دوسرا طریق

توجہ کے قائم کرنے کا وہ ہے جو شریعتِ اسلام نے مسجد میں نماز پڑھنے کو قرار دیا ہے۔ انسان کا خاصہ ہے کہ جب وہ ایک بات کو دیکھتا ہے تو اس سے اسے دوسری کا خیال پیدا ہو جاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص زید سے ملتا ہے تو اس کے لڑکے بکر کے متعلق بھی اس سے پوچھتا ہے۔ حالانکہ بکر اس کے سامنے نہیں ہوتا مگر زید کو دیکھ کر ہی اسے بکر بھی یاد آ جاتا ہے۔ تو انسان کے دماغ کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ جب ایک چیز اس کے سامنے آئے تو اس سے تعلق رکھنے والی دوسری چیزوں کی بھی اسے یاد آ جاتی ہے۔ پس اگر انسان ایک ایسی جگہ نماز ادا کرے جس کا نماز سے خاص تعلق نہ ہو تو اسے کوئی خاص بات یاد نہ آئے گی مگر جب ایسی جگہ نماز پڑھے گا جہاں صبح و شام خدا تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے۔ اور جو خدا کا گھر کہلاتی ہے تو اسے ضرور یہ خیال آئے گا کہ میں اس خدا کے حضور میں کھڑا ہوا ہوں جس کی عبادت کرنے کے لئے یہ جگہ بنائی گئی ہے اور مجھ پر فرض ہے کہ میں سچے دل سے اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کروں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھنے کے لئے ایک خاص جگہ مقرر کر چھوڑیں اور وہاں نماز پڑھنے کے علاوہ اور کوئی کام نہ کریں تاکہ وہاں نماز پڑھتے ہوئے یہ خیال آئے کہ یہ خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے کا مقام ہے؎۔ ممکن ہے کہ آپ میں سے بعض لوگوں کے دلوں میں مسجد میں جا کر بھی کبھی یہ خیال نہ آیا ہو۔ لیکن اب جبکہ مسجد میں نماز پڑھنے کی حکمت معلوم ہو گئی اور یہ خیال لے کر مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے گئے تو آپ کے خیالات فوراً رک جائیں گے اور سکون حاصل ہو جائے گا۔

تیسرا طریق

قبلہ کی طرف منہ کرنے کا جو حکم ہے وہ بھی توجہ کے قائم رکھنے کے لئے بہت ممد ہوتا ہے۔ مکہ معظمہ میں کئی ایک خصوصیتیں ہیں۔ اس جگہ ایک شخص نے اپنی بیوی اور بچہ کو بغیر دانہ پانی اور بغیر آبادی اور کسی حفاظت کے خدا کے حکم کے ماتحت چھوڑ دیا تھا اور چونکہ یہ کام خدا کے لئے اس نے کیا تھا خدا تعالیٰ نے اس کی نسل کو اس قدر بڑھایا کہ آسمان کے ستاروں کی طرح گنی نہیں جا سکتی پھر اس کی نسل میں سے کئی ایک نبی پیدا ہوئے اور آخر وہ انسان جو سب دنیا کی طرف نبی ہو کر آیا وہ بھی اسی کی نسل سے تھا۔ تو جب کوئی مکہ کی طرف منہ کر کے نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے اور اسے یہ حکمت بھی معلوم ہو کہ ادھر منہ کر کے نماز پڑھنا کیوں مقرر کیا گیا ہے تو اس پر فوراً حضرت اسمعیل علیہ السلام کے واقعہ کا اثر ہوتا ہے اور اس بات کی طرف توجہ پیدا ہو جاتی ہے کہ جس خدا کی عبادت میں کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں وہ بڑی شان اور بڑی قدرت والا ہے۔ جب اسے یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے تو اس کے پراگندہ خیالات دور ہو جاتے اور خدا تعالیٰ کے رعب اور جلال سے دب کر بیٹھ جاتے ہیں۔

چوتھا طریق

رسول کریم ﷺ نے اذان مقرر کی ہے۔ جب بلند آواز سے اللہ اکبر اللہ اکبر کہا جاتا ہے۔ تو گو اسی وقت نماز شروع نہیں ہو جاتی مگر نماز پڑھنے والوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ تم خوب سوچ سمجھ کر مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آجانا۔ کیونکہ تم نے بڑے عظیم الشان خدا کے حضور پیش ہونا ہے۔ پس جب کوئی اذان سنے گا تو اس پر خدا تعالیٰ کی عظمت اور شان کا خاص رعب پڑے گا اور اس کی وجہ سے نماز میں اس کی توجہ قائم رہے گی۔

رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اذان اس لئے دی جاتی ہے کہ شیطان کو بھگا دے اور حدیث میں آیا ہے کہ جب اذان ہوتی ہے تو شیطان دور بھاگ جاتا ہے۔ پس جب کوئی اس بات کو مدّ نظر رکھتا ہے کہ اذان میں جو مضمون بیان کیا جاتا ہے اس کی یہ غرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہیبت اور جلال کی طرف توجہ ہو تو اسے اس کی حکمت بھی یاد آجائے گی۔ جن لوگوں نے آج یہ حکمت سن لی ہے وہ جب اذان سنیں گے تو یہ بات یاد آجائے گی اور جب یاد آئے گی تو اثر بھی ہو گا اور یہ قاعدہ ہے کہ جب ایک خیال آئے تو دوسرے خیالات دور ہو جاتے ہیں۔ پس جب خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے خیالات پیدا ہوں گے ۔ تو دوسرے خیالات ہٹ جائیں گے اور توجہ قائم ہو جائے گی۔

پانچواں طریق

اقامت ہے۔ یہ بھی خدا تعالیٰ کی عظمت اور شوکت کی طرف متوجہ کرتی ہے اور اذان کے متعلق جو حکمت بیان کی گئی ہے وہی اس میں بھی ہے۔ اقامت کے متعلق بھی رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اس کی آواز سے شیطان بھاگ جاتا ہے (مسلم کتاب الصلوٰۃ باب فضل الاذان وھرب الشیطان عند سماعہ) اور اس کا مطلب یہی ہے کہ اس کے ذریعہ سے وساوس دور ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔

چھٹا طریق

صف بندی ہے۔ جسمانی باقاعدگی خیالات میں بھی باقاعدگی پیدا کر دیتی ہے اور انہیں منتشر نہیں ہونے دیتی۔ اور جب جسمانی طور پر قطار بندی کی جاتی ہے تو اندرونی جوش بھی ایک سلک میں منسلک ہو جاتے ہیں۔ پھر وہ شکل کیا ہی ہیبت ناک ہوتی ہے کہ سب لوگ خاموش اور چپ چاپ بادشاہوں کے بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ صفوں کو درست کرو ورنہ تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے (مسلم کتاب الصلوٰۃ باب تسویۃ الصفوف) درست صف کا کیا اثر ہوتا ہے۔ یہی کہ ظاہر کا اثر چونکہ باطن پر ہوتا ہے۔ اس لئے اگر ظاہری طور پر باقاعدگی نہ ہو تو باطنی باقاعدگی میں بھی فرق آجاتا ہے۔

ساتواں طریق

نماز پڑھنے کی نیت ہے۔ کیونکہ جب انسان اپنے نفس کو بتا دیتا ہے کہ اس کام کے لئے میں کھڑا ہونے لگا ہوں تو توجہ اس کی طرف ہی رہتی ہے۔ نیت سے یہ مراد نہیں کہ کہا جائے کہ پیچھے اس امام کے اتنی رکعت نماز منہ طرف کعبہ شریف وغیرہ وغیرہ بلکہ ذہن میں ہی نماز پڑھنے کی نیت کرنی چاہئے۔ ایک آدمی کی نسبت کہتے ہیں کہ اسے

نیت کرنے کا جنون ہو گیا تھا وہ اگر کسی پچھلی صف میں کھڑا ہوتا اور نیت کرتا کہ ”پیچھے اس امام کے“ تو اسے خیال آتا کہ میں امام کے پیچھے تو ہوں نہیں میرے آگے کوئی اور شخص ہے اس لئے وہ آگے جا کر کہتا پیچھے اس امام کے پھر اسے شک پڑتا کہ میں تو اب بھی امام کے پیچھے نہیں ہوں اس لئے وہ امام کے پیچھے جا کر کھڑا ہوتا اور پھر اس کو ہاتھ لگا کر کہتا کہ پیچھے اس امام کے۔

اس قسم کے وہم میں جو لوگ پڑے ہوئے ہیں وہ بھی غلطی کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ بہت برا ہوتا ہے۔ نیت کیا ہوئی گویا مصیبت ہو گئی۔ نیت دراصل قلب کی ہوتی ہے۔ مگر بعض لوگوں کو کھڑے ہوتے وقت پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کیا کرنے لگے ہیں۔ پس جب تم نماز پڑھنے لگو تو نماز پڑھنے کا خیال بھی کر لو اور سمجھو کہ کیا کرنے لگے ہو۔ جب یہ بات سمجھ لوگے تو اسی وقت سے تمہارے اندر خشیت پیدا ہونی شروع ہو جائے گی اور جب خشیت پیدا ہو جائے گی تو توجہ بھی قائم رہ سکے گی۔

آٹھواں طریق

نماز با جماعت ہے کہ اس طرح نماز پڑھتے ہوئے خدا تعالیٰ کی عظمت کی طرف متوجہ کرنے والے الفاظ انسان کے کان میں امام کی طرف سے ڈالے جاتے ہیں۔ اور جو انسان غفلت میں ہو اور دوسرے خیالات میں پڑ جائے اس کو ٹھکور دیا جاتا ہے۔ مثلاً جب اللہ اکبر کہا جاتا ہے تو گویا اس بات سے اسے آگاہ کیا جاتا ہے کہ دیکھو سنبھل کر کھڑے ہونا جس کے حضور میں کھڑے ہونے لگے ہو وہ بہت بڑا ہے۔ پھر جب کھڑے ہونے میں کچھ وقت گذر جاتا ہے اور کسی کے دل میں طرح طرح کے خیالات آنے لگتے ہیں تو پھر امام بلند آواز سے کہہ دیتا ہے اللہ اکبر اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔ پھر جب غفلت آنے لگتی ہے تو سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کی آواز کان میں ڈالی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی باتیں سنتا اور قبول کرتا ہے جو اس کی حمد کرتا ہے۔ اور اس طرح اسے متوجہ کیا جاتا ہے کہ اگر کچھ فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ کی حمد کرو ورنہ یونہی وقت ضائع ہو گا۔ غرض بار بار امام مقتدیوں کو توجہ دلاتا اور ہوشیار کرتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام کو مقتدیوں پر فضیلت ہے کیونکہ وہ ان کو بار بار متوجہ کرتا ہے کہ تم سب سے بڑے بادشاہ کے سامنے کھڑے ہو۔ ہوشیار ہو کر کھڑے رہنا۔

نواں طریق

یہ ہے کہ نماز کے ادا کرنے کو ایک ہی حالت میں نہیں رکھا گیا بلکہ مختلف طور پر رکھا ہے۔ اگر کوئی نماز پڑھتے ہوئے غافل ہو جائے یا دوسرے خیالات میں محو ہو جائے تو اس کا رکوع کرنا اور سجدہ میں جانا اس کو نماز کی طرف متوجہ کر دیتا ہے گو کوئی عادت کے طور پر ہی رکوع کرے یا سجدہ میں جائے تاہم حرکت ایک ایسی چیز ہے کہ غافل کو ہوشیار کر دیتی ہے۔ دوسرے مذاہب کی عبادتوں میں یہ بات نہیں ہے۔ یہ فضیلت صرف اسلام کو ہی حاصل ہے۔

دسواں طریق

فرائض سے پہلے اور بعد میں سنن کا پڑھنا ہے۔ نیچر کا یہ قاعدہ ہے کہ جب کوئی کام ہونے والا ہو تو اس کا کچھ اثر اس کے ظاہر ہونے سے پہلے اور کچھ بعد میں رونما ہو جاتا ہے۔ مثلاً جس وقت سورج چڑھنے لگے۔ تو گو وہ ابھی نکلا ہوا نہ ہو تو بھی روشنی پھیل جاتی ہے۔ اسی طرح اس کے ڈوبنے کے بعد بھی کچھ عرصہ روشنی رہتی ہے۔ لیکن جو کام خواہشات کے مطابق ہو یا اس میں کوئی لذت حاصل ہوئی ہو یا اس کے نہ ہونے میں نقصان کا اندیشہ ہو وہ دوسرے کام کے مقابلہ میں کم اثر رکھتا ہے اور اس پر غالب آ جاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص کوئی ایسا کام کر رہا ہو کہ جس میں اس کو کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آتا اور اس کام کے بعد اس نے کوئی ایسا کام کرنا ہے جس میں اسے خاص فائدہ کی امید ہے یا اس کے نہ ہونے پر کسی نقصان کا خطرہ ہے یا وہ کام اس کی خواہشات کے مطابق ہے تو جس کام میں یہ مشغول ہے اس کے کرتے وقت بھی دوسرے کام کے خیالات ہی غالب رہیں گے اور اسی کی طرف اس کی توجہ رہے گی۔ مثلاً ایک ملازم دفتر کا کام کر رہا ہو تو اگر دفتر سے فراغت کے بعد اسے کوئی اہم کام جو اس کا ذاتی ہے کرنا ہے تو دفتر کے وقت کے ختم ہونے سے ایک دو گھنٹہ پہلے ہی اس کے خیالات اس طرف متوجہ ہو جائیں گے۔ اور اگر دفتر کے کام میں کوئی اہم کام اس کی توجہ کو اپنی طرف کھینچنے کا باعث ہوا ہے تو دفتر سے فارغ ہو کر بھی راستہ میں اور پھر کچھ عرصہ تک گھر میں بھی اسی کی طرف اس کا خیال متوجہ رہے گا اور کچھ دیر کے بعد اس کے خیالات ان امور کی طرف متوجہ ہوں گے جن میں یہ اب مشغول ہے۔ اسی حکمت کی وجہ سے رسول کریم ﷺ نے فرائض سے پہلے اور بعد سنتیں مقرر فرمادی ہیں تاکہ اگر نماز پڑھنے سے پہلے کوئی خیالات ہوں تو وہ فرائض کو ناقص نہ کریں بلکہ سنتوں کی ادائیگی میں ان کو دبا کر انسان مطمئن ہو جاوے اور پھر فرائض کی طرف پوری طرح توجہ کر سکے۔ اسی طرح فرائض کے بعد بھی سنتیں مقرر کر دیں تاکہ اگر نماز کے بعد کوئی ضروری کام ہو تو فرائض کے خاتمہ سے پہلے اس کے خیالات دل میں آکر نماز کو خراب نہ کریں۔ بلکہ انسان اطمینان کے ساتھ نماز ادا

کر لے۔ کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے اسے خیالات عموماً اسی وقت ہی آکر ستاتے ہیں جبکہ پہلا کام ختم ہونے کو ہو اور دوسرے کے شروع کرنے کا ارادہ ہو۔ جب انسان یہ سمجھتا ہے کہ میں ابھی فارغ نہیں ہوا بلکہ ابھی سنتیں پڑھنی ہیں تو پھر اس کے خیالات دبے رہتے ہیں اور سنتوں کے مقرر کرنے کی حکمتوں میں سے یہ ایک بہت بڑی حکمت ہے۔ چنانچہ رسولِ کریم صلّٰی اللہ علیہ وسلّم نے اوقات کے اختلاف کی مناسبت سے سنتیں بھی مقرر کی ہیں۔ ظہر کی نماز کا وقت چونکہ دوسرے کاموں میں بڑی مصروفیت کا وقت ہوتا ہے اس لئے چار یا دو سنتیں پہلے اور دو یا چار بعد میں رکھ دیں۔ گویا فرضوں کی حفاظت کے لئے یہ دو سپاہی مقرر کر دیئے کہ ان میں جو خیالات آنا چاہیں انہیں روک دیں۔ عصر کی نماز سے پہلے سنتیں نہیں رکھیں ہاں نفل رکھے ہیں۔ کوئی چاہے پڑھے یا نہ پڑھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عصر کے وقت ایک لحاظ سے انسان دوسرے کاموں سے فارغ ہو جاتا ہے۔ دوسرے چونکہ سب کام ختم کرنے کا وقت ہوتا ہے اس لئے اس وقت تھوڑی نماز رکھی ہے۔ مگر عصر کے بعد سے مغرب تک ذکر رکھ دیا ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بتا آیا ہوں مغرب کی نماز سے پہلے سنتیں اس لئے نہیں رکھیں کہ وقت بہت تنگ ہوتا ہے ہاں بعد میں دو سنتیں رکھ دی ہیں۔ کیونکہ نمازِ مغرب کے بعد عام طور پر کھانا کھایا جاتا ہے اور اسی قسم کے کام ہوتے ہیں۔ یہ سنتیں ان مشاغل کے خیالات سے فرائض کی حفاظت کرتی ہیں۔ عشاء کی نماز سے پہلے سنن نہیں رکھیں کیونکہ اس نماز سے پہلے جو کام عام طور پر انسان کرتا ہے وہ ایسے نہیں ہوتے کہ ان کا اثر بعد میں بھی قائم رہے۔ مگر نوافل رکھ دیئے کہ اگر کوئی چاہے اور ضرورت ہو تو پڑھ لے مگر عشاء کے بعد چونکہ سونے کا وقت ہوتا ہے اور سارے دن کے کام کے بعد طبیعت آرام کی طرف متوجہ ہوتی ہے اس لئے بعد میں دو سنتیں اور تین وتر مقرر کر دیئے ہیں جن میں سے وتر پچھلے وقت میں بھی ادا کئے جاسکتے ہیں۔

صبح کی نماز سے پہلے دو سنتیں رکھی گئی ہیں کیونکہ نیند سے اٹھنے کی وجہ سے نماز میں غفلت نہ ہو۔ وہ سنتیں غفلت اور نیند کے خیالات کو روک دیتی ہیں۔ بعد میں سنتیں نہیں رکھیں کیونکہ بعد میں سورج نکلنے تک کے عرصہ میں کوئی خاص کام نہیں ہو سکتا ہاں ذکر رکھ دیا۔ یہ تو وہ ہیں جو شریعت نے نماز میں توجہ قائم رکھنے کے لئے نماز کے ساتھ وابستہ کر دیئے ہیں۔ لیکن ان سے فائدہ اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب انسان ان کو سمجھنے کی کوشش بھی کرے۔ اسی لئے میں نے ان کو بیان کیا ہے تاکہ آپ لوگ اس سے واقف ہوں اور فائدہ اٹھائیں اور انشآءاللہ تعالٰی

جو لوگ ان حکمتوں کو یاد رکھ کر ان کو عمل میں لائیں گے وہ ضرور فائدہ اٹھائیں گے۔ ہاں یہ بات خوب یاد رکھنی چاہئے کہ انسان کے جسم کے جس طرح جوڑ ہوتے ہیں۔ اسی طرح قیام رکوع سجود وغیرہ میں جو الفاظ کہے جاتے ہیں وہ نماز کے جوڑ ہیں۔ ان جوڑوں پر جو کلمات کہے جاتے ہیں ان کی طرف خاص توجہ رکھنی چاہئے۔ اگر ایسا کیا جائے گا تو نماز بہت مضبوط ہو جائے گی ورنہ گر جائے گی۔

اب میں وہ طریق نماز میں توجہ قائم رکھنے کے بتاتا ہوں جو نماز کی شرائط میں داخل نہیں ہیں اور نہ انہیں شریعت نے نماز کا جزو مقرر کیا ہے مگر کوئی ان طریق پر عمل کرے تو نماز میں توجہ قائم رہ سکتی ہے۔

گیارھواں طریق

اگر نماز پڑھتے ہوئے توجہ قائم نہ رہے تو آہستہ آہستہ لفظوں کو ادا کرو۔ انسانی دماغ کی بناوٹ اس قسم کی ہے کہ جو چیز اس میں بار بار داخل کی جائے اس کو وہ فوراً سامنے لے آتا ہے۔ اور جو کبھی کبھی اس کے سامنے آئے۔ اس کو مشکل سے سامنے لا سکتا ہے۔ مثلاً زید کو اگر ہر روز دیکھا جائے تو اس کا خیال کرنے میں فوراً اس کی شکل سامنے آجائے گی۔ لیکن اگر کبھی کبھی دیکھا ہو تو اس کا نام سننے یا لینے کے کچھ دیر بعد اس کی شکل ذہن میں آئے گی اور وہ بھی پوری طرح صاف نہ ہوگی۔ پھر دیکھو جو زبان بچپن میں سیکھی جائے اس زبان میں کوئی عبارت اگر انسان بولے یا سنے تو اس کے الفاظ کے ساتھ ہی معانی اس کے ذہن میں آجاتے ہیں۔ مثلاً اگر پانی کا لفظ ذہن میں آئے تو بلا کسی وقفہ کے پانی کی حقیقت بھی اس کے ذہن میں آجائے گی۔ یا اگر روٹی کا لفظ وہ کسی سے سنے تو بلا کسی دیر کے روٹی کے معنی اس کے ذہن میں حاضر ہو جائیں گے۔ مگر غیر زبان میں جس پر پوری طرح اختیار حاصل نہ ہو یہ بات نہیں ہوتی بلکہ الفاظ کے سننے کے بہت دیر بعد اس کے مطالب ذہن میں آتے ہیں۔ مثلاً انگریزی پڑھنے والے بچے ، جب تک وہ انگریزی کے پورے ماہر نہیں ہو جاتے جب وہ CAT اپنی کتاب میں پڑھیں گے تو اس لفظ کی حقیقت ان کے ذہن میں دیر بعد آوے گی۔ مگر بلی کہنے سے فوراً اس جانور کی تصویر ان کے ذہن میں آجاوے گی۔

اسی وجہ سے چونکہ سوائے عربی بولنے والے لوگوں کے عام طور پر مسلمان عربی زبان سے ناواقف ہوتے ہیں۔ نماز میں بہت سے لوگوں کی توجہ قائم نہیں رہتی کیونکہ توجہ تب قائم رہ سکتی ہے جبکہ مطالب بھی ذہن میں مستحضر ہوں۔ مگر بوجہ عربی سے ناواقفیت کے جس وقت وہ

عربی عبارتیں پڑھ رہے ہوتے ہیں ساتھ ساتھ ان کے معنی ان کے ذہن میں نہیں آتے بلکہ معنی اور لفظ آگے پیچھے ہو جاتے ہیں۔ مثلاً جب ایک شخص اِیَّاکَ نَعۡبُدُ(1:5) کہتا ہے تو اس کے ذہن میں اس جملہ کے معنی نہیں بلکہ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ(1:3) یا مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ(1:4) کے معنی آرہے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے پوری طرح توجہ قائم نہیں رہ سکتی اور نہ پوری طرح نماز کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے ان لوگوں کو جو عربی سے اچھی طرح واقفیت نہیں رکھتے اور اس پر ان کو اس قدر قدرت نہیں کہ مادری زبان کی طرح اس کے الفاظ کے ساتھ ساتھ معانی بھی ذہن میں مستحضر ہو جاویں ان کو چاہئے کہ جب وہ نماز پڑھنے لگیں تو جب تک اس فقرہ کے معنی جو وہ پڑھ رہے ہیں ذہن میں نہ آجاویں آگے نہ چلیں۔ مثلاً وہ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ(1:1) جب پڑھیں تو جب تک اس کے معنی اچھی طرح ذہن میں نہ آجاویں اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(1:2) نہ کہیں۔ اور جب تک اس آیت کے معنی ذہن میں نہ آجاویں الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ(1:3) نہ کہیں اور اسی طرح سب آیات کے متعلق کریں۔ کیونکہ اگر ایسا نہ کریں گے تو الفاظ کوئی اور ان کی زبان پر جاری ہوں گے اور معنی ذہن میں کوئی اور آتے ہوں گے۔ جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ خیالات میں انتشار پیدا ہو گا اور انتشار ہو گا تو توجہ نہ پیدا ہو سکے گی۔ جو لوگ عربی زبان جانتے ہیں وہ بھی اگر جلدی جلدی پڑھتے جائیں تو گو معانی ان کے ذہن میں فوراً آجاویں مگر دل میں جذب ہونے کا ان کو موقعہ نہ ملے گا اس لئے ان کو بھی چاہئے کہ قرآن آہستہ آہستہ پڑھیں اور وقفہ دے دے کر آگے بڑھیں۔

یہ بات قرآن میں ہی ضروری نہیں بلکہ وعظ و نصیحت میں بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔ ایک دفعہ ابو ہریرہؓ جلدی جلدی اور زور زور سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ حضرت عائشہؓ نے کہا یہ کون ہے اور کیا کر رہا ہے۔ انہوں نے اپنا نام بتایا اور کہا کہ میں آنحضرت ﷺ کی احادیث سنا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کیا رسول اللہ ﷺ بھی اسی طرح کلام کیا کرتے تھے یہ سن کر وہ خاموش ہو گئے۔ غرض رسول کریم ﷺ کی یہ سنت ہے کہ آپ نہ صرف قراءت میں بلکہ عام وعظ و نصیحت میں بھی آہستگی سے کام لیتے تھے۔ پس توجہ قائم رکھنے کے لئے آپ لوگ بھی اس حکم اور سنت پر عمل کریں اس طرح توجہ بڑی عمدگی سے قائم رہے گی۔ کیونکہ یہ گڑ بڑ نہ رہے گی کہ زبان پر کچھ اور ہے اور دل میں کچھ اور۔

بارہواں طریق

وہ ہے جو رسول کریم ﷺ نے بتایا ہے مگر اس میں اکثر لوگ کوتاہی کرتے ہیں۔ وہ طریق یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کوئی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہو تو اپنی نظر سجدہ کرنے کی جگہ کی طرف رکھے۔ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کھڑے ہو کر آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہماری توجہ قائم رہے گی حالانکہ توجہ آنکھیں کھلی رکھنے سے قائم رہ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کھڑے ہونے کے وقت سجدہ کرنے کی جگہ پر نظر ہونی چاہئے۔ حضرت شہاب الدین صاحب سہروردیؒ اپنی کتاب عوارف المعارف میں تحریر فرماتے ہیں کہ رکوع میں دونوں پاؤں کے درمیان نظر رکھنی چاہئے اور میرے نزدیک یہ درست ہے۔ اس طرح کرنے سے نظر کو بھی فائدہ پہنچتا ہے اور خشوع بھی زیادہ پیدا ہوتا ہے۔ نظر کے محدود کرنے میں ایک بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ انسان کی پیدائش میں خدا تعالیٰ نے یہ بات ودیعت کی ہے کہ اگر اس کی ایک حس کام کر رہی ہوتی ہے تو باقی حسیں بے حس ہو جاتی ہیں۔ مثلاً جس وقت آنکھیں کمال مصروفیت میں ہوں اس وقت کان بے حس ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ جس وقت آنکھیں پوری پوری طاقت کے ساتھ کسی چیز کے دیکھنے میں مشغول ہوں اس وقت اگر کوئی آواز دے تو وہ سنائی نہیں دے گی اور جب کان پورے طور پر کسی آواز کے سننے میں مصروف ہوں تو ناک کی سونگھنے کی قوت معطل ہو جائے گی۔ اور جب ناک پوری طاقت کے ساتھ کسی خوشبو کے سونگھنے میں لگا ہوا ہو گا تو کان اور آنکھیں اپنا کام کرنے سے معطل ہو جائیں گی۔ تو جب ایک حس کام میں لگ جاتی ہے اور اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے تو دوسری حسیں کام نہیں کرتیں۔ لیکن جب ساری حسیں بے کار ہوں اور کوئی بھی اپنے کام میں مشغول نہ ہو تو یہ نقص پیدا ہو جاتا ہے کہ مختلف خیالات جوش میں آجاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ کہ جب ایک حس کام کر رہی ہو تو دوسری حسوں سے تعلق رکھنے والے خیالات نہیں آتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حس دوسرے خیالات کے آنے کو روک دیتی ہے۔ پس نماز پڑھتے وقت جب آنکھیں اپنا کام کر رہی ہوں گی اور دیکھنے میں مشغول ہوں گی تو متفرق خیالات ذہن میں نہیں آئیں گے۔ یہ امر آج ایک طبعی تجربہ کے بعد معلوم ہوا ہے لیکن دیکھو اس طبعی حکمت کو مدنظر رکھ کر آج سے تیرہ سو سال پہلے رسول کریم ﷺ نے نماز پڑھتے وقت آنکھیں کھلی رکھنے کا ارشاد فرمایا ہوا ہے۔ پھر آپؐ نے یہ بھی مدنظر رکھا ہے کہ وہ کونسی حس ہے جو کام میں لگ جائے تو متفرق خیالات سے انسان بچ جائے گا۔ اگر ناک کی حس سے کام لیا جاتا تو اس کے لئے ضروری ہوتا کہ اول خوشبو کا انتظام کیا جاتا پھر ناک کی حس قید نہیں رکھی جا سکتی۔ متفرق لوگ جو نماز میں شامل ہوتے یا پاس سے گزرتے اگر کئی خوشبوئیں استعمال کرنے والے ہوتے تو توجہ بجائے قائم رہنے کے مختلف خوشبوؤں کی وجہ سے ایک طرف سے دوسری طرف پھرتی رہتی۔ ناک کی طرح کان کی حس بھی قید نہیں رکھی جاسکتی یعنی یہ بات انسان کے اختیار میں نہیں کہ جس بات کو چاہے سنے جس بات کے سننے سے چاہے انکار کر دے۔ بلکہ جس قدر آوازیں ایک وقت میں بلند ہوں سب کو سننے کے لئے انسان مجبور ہوتا ہے۔ بلکہ کئی آوازیں اگر یک لخت بلند ہو جاویں تو آدمی کوئی بھی بات نہیں سن سکتا۔ پس اگر کانوں کو کام کرنے دیا جائے تو وہ یا تو سب آوازوں کو سنیں گے یا بالکل کچھ بھی نہ سنیں گے۔ مگر بر خلاف ان حسوں کے آنکھیں انسان کے اختیار میں ہوتی ہیں ان کو یہ ایک جگہ پر رکھ سکتا ہے۔ اور جس چیز کو دیکھنا چاہے اس سے بلا تکلف نظر ہٹا سکتا ہے اور جس چیز کو دیکھنا چاہئے اس پر بلا تکلف نظر کو قائم رکھ سکتا ہے۔ پس رسول کریم ﷺ نے خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت نماز میں توجہ قائم رکھنے کے لئے اسی حس کو چنا اور حکم دیا کہ نماز میں اپنی نظر کو سجدہ کی طرف رکھا کرو۔ مگر ساتھ ہی حکم دیا کہ سجدہ کے مقام پر کوئی خوبصورت چیز نہ ہو بلکہ نظارہ میں اتحاد ہو۔ یعنی ایک ہی قسم کا ہو۔ جب ایک مسلمان اپنی نظر کو سجدہ کے مقام کی طرف رکھے گا۔ تو اول تو سجدہ کا خیال اس کے دل پر غالب آکر اس کو عبادت کے خیال میں مشغول رکھے گا۔ دوم اس طرح اس کی دوسری حسیں جن کا قاعدہ ہے کہ یا تو بالکل بند کی جاویں یا بالکل آزاد رہیں بند ہو جائیں گی۔ تیسرے یہ فائدہ ہو گا کہ چونکہ خیالات کو تحریک دلانے والے بیرونی امور ہی ہوتے ہیں۔ اور بیرونی امور کی اطلاع انسان حسوں کے ذریعہ سے پاتا ہے مگر آنکھیں چونکہ کام میں لگا دی گئی ہیں اس لئے دوسری حسیں ایک حد تک باطل ہو جاویں گی اور آنکھوں کے سامنے چونکہ کوئی ایسی چیز نہ ہو گی جو نماز کے علاوہ کوئی اور خیال پیدا کر سکے اس لئے نمازی کی توجہ نماز ہی کی طرف قائم رہے گی۔ رسول کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ ایک دفعہ با تصویر پردہ آپ کی نماز کی جگہ کے سامنے لٹکایا گیا تو آپ نے اسے ہٹوا دیا کہ اس سے توجہ قائم نہیں رہتی۔سه یہ حکم آپ نے اپنی امت کے فائدہ کے لئے دیا۔

تیرہواں طریق

جس طرح میں نے بتایا ہے کہ جب کوئی نماز کے لئے کھڑا ہو تو اس کی نیت اور قصد کر کے کھڑا ہو۔ اسی طرح اسے یہ بھی چاہئے کہ وہ ارادہ کرے کہ میں نماز میں کسی خیال کو نہیں آنے دوں گا۔ یوں تو ہر ایک جانتا ہے کہ خیال کو نہیں آنے دینا چاہئے لیکن پرانی بات بھول جایا کرتی ہے اس لئے جب نماز کے لئے کھڑا ہو تو اس وقت یاد کرلے کہ میں کسی اور خیال کو نماز میں نہیں آنے دوں گا۔

چودہواں طریق

جب مؤمن امام کے پیچھے نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہو۔ تو امام کی قراءت اسے جگاتی اور ہوشیار کرتی رہتی ہے۔ گویا امام اس کی حفاظت کر رہا ہوتا ہے۔ (اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ امام کے پیچھے نماز پڑھنے کی کس قدر ضرورت ہے) لیکن جس وقت اکیلا نماز پڑھنے لگے تو اس اعلیٰ درجہ کی بات پر عمل کرے جس پر رسول کریمﷺ، صحابہ کرامؓ اور صوفیائے عظامؒ کرتے تھے۔ اور وہ یہ کہ بعض آیتیں خاص طور پر خشیت اللہ پیدا کرنے والی ہوتی ہیں ان کو بار بار دہرائے۔ مثلاً سورۃ فاتحہ پڑھتے وقت اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ(1:5) بار بار کہے۔ حتیٰ کہ اگر اس کا نفس ادھر ادھر کے خیالات میں لگا ہو تو نفس کو شرم آجائے کہ منہ سے تو میں اللہ تعالیٰ کی غلامی اور بندگی کا دعویٰ کر رہا ہوں اور عملاً ادھر ادھر بھاگتا پھرتا ہوں۔

پندرہواں طریق

یہ طریق میں ایسے لوگوں کے لئے بتاتا ہوں جن کی نیت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔ جس طرح ایک بچہ کو تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد دودھ دینے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وہ زیادہ دیر تک بھوک برداشت نہیں کر سکتا اور اکٹھی غذا ہضم نہیں کر سکتا۔ اسی طرح بعض لوگوں کو جلدی جلدی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اس طرح کریں کہ جب کھڑے ہوں تو یہ نیت کرلیں کہ رکوع تک کوئی خیال نہیں آنے دیں گے اور جب رکوع میں جائیں تو کہیں کہ کھڑے ہونے تک کوئی خیال نہ آنے دیں گے۔ اسی طرح ہر حالت کے وقت نئی نیت کر لیا کریں۔ اس سے ان کو ایک ایسی طاقت حاصل ہو جائے گی جس سے ان کے پراگندہ خیالات دور ہو جائیں گے۔

سولہواں طریق

اگر انسان خیالات کے آگے گر جائے تو پھر وہ اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ لیکن اگر مقابلہ کرے اور کہے کہ ہرگز نہیں آنے دوں گا تو وہ رک جاتے ہیں۔ اس لئے چاہئے کہ خیالات کا خوب مقابلہ کیا جائے اور جب کوئی خیال آنے لگے تو فوراً اس کو روک دیا جائے۔ مثلاً کسی کو خیال آنے لگے کہ میرا بچہ بیمار پڑا ہے اب اس کی کیا حالت ہو گی تو فوراً یہ کہہ کر روک دے کہ اگر میں یہ خیال دل میں لاؤں گا تو بچہ اچھا نہیں ہو جائے گا اور اگر نہیں لاؤں گا تو زیادہ بیمار نہیں ہو جائے گا اس لئے میں یہ لاتا ہی نہیں۔ اسی طرح ہر ایک بات کے متعلق کرے حتیٰ کہ ایسے خیالات پر قابو حاصل ہو جاوے۔

سترہواں طریق

جب گھر میں نوافل پڑھے جائیں تو اس قدر اونچی آواز سے قراءت پڑھنی چاہئے کہ آواز کانوں تک پہنچتی رہے۔ اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ کان چونکہ کسی چیز سے تو بند نہیں کئے جاتے اس لئے کچھ نہ کچھ کام کرتے ہیں۔ جب آواز سے بھی خدا تعالیٰ کا ذکر ہو جاتا ہے تو پھر توجہ زیادہ قائم ہو جاتی ہے کیونکہ کان بھی ذکر الٰہی کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ اس طریق پر زیادہ تر رات کی نماز میں عمل کرنا چاہئے کیونکہ دن کے وقت جو میں ایک شور برپا ہوتا ہے اور کانوں سے اگر کام لیا جائے تو بجائے فائدہ کے بعض دفعہ توجہ بٹ جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔

اٹھارہواں طریق

یہ طریق اس حکمت کے ماتحت ہے کہ نیا خیال ہمیشہ نئی حرکت سے پیدا ہوتا ہے۔ وہ حرکتیں جو نماز میں کی جاتی ہیں—ان میں یہی خیال پیدا ہوتا ہے کہ عبادت کی جائے اس لئے ان سے کوئی حرج نہیں ہوتا۔ مگر اور حرکات کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ اور طرف توجہ چلی جاتی ہے۔ اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ضروری حرکت کے سوا نماز پڑھنے کی حالت میں کوئی حرکت نہیں کرنی چاہئے۔ واقعہ میں غیر ضروری حرکت کرنے سے خیالات پراگندہ ہو جاتے ہیں۔ مثلاً کسی نے یونہی کوٹ کو ہاتھ لگا دیا۔ ہاتھ لگاتے وقت اسے خیال آیا کہ یہ کوٹ تو پرانا ہو گیا ہے نیا بنوانا چاہئے۔ اس پر خیال آیا کہ کوٹ کے لئے روپیہ کہاں سے آئے تنخواہ تو بہت تھوڑی ہے پھر یہ کہ تنخواہ ملے ہوئے بھی دیر ہو گئی ہے۔ پھر اگر افسر کی غلطی سے تنخواہ میں دیر ہوئی ہوگی تو افسر کو برا بھلا کہے گا اور ان خیالات میں ہی محو ہو جائے گا کہ اب میں اس کے ساتھ یوں کروں گا پھر یوں کروں گا اسی طرح کرتے کرتے السلام علیکم و رحمۃ اللہ کی آواز آجائے گی اور وہ بھی سلام پھیر دے گا۔ تو چونکہ نئی حرکت ایک نیا خیال پیدا کر دیتی ہے اس لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ نماز میں کوئی نئی حرکت نہیں کرنی چاہئے۔ اور یہاں تک فرمایا کہ اگر سجدہ کے مقام پر کنکر پڑے ہوں تو ان کو بھی نہیں ہٹانا چاہئے اور اگر بہت تکلیف ہو تو ایک دفعہ ہٹا دینا چاہئے۔ پس نماز پڑھتے

ہوئے اس قسم کی حرکات سے بکلی بچنا چاہئے۔

انیسواں طریق

قیام اور رکوع اور سجدہ کی حالت میں چستی کی شکل رکھنی چاہئے۔ یعنی جب کھڑا ہو تو مضبوطی اور ہوشیاری سے کھڑا ہو۔ یہ نہیں کہ ایک ٹانگ پر بوجھ ڈال کر دوسری کو ڈھیلا چھوڑ دیا جائے۔ کیونکہ جب سستی اختیار کی جاتی ہے تو دشمن قبضہ پالیتا ہے۔ پھر ظاہری چستی کا اثر باطنی چستی پر بھی پڑتا ہے اسی لئے رسول کریم ﷺ نے حکم دیا ہے کہ تمام حرکات میں چست رہنا چاہئے۔

بیسواں طریق

بعض صوفیاء نے اس میں اسراف سے کام لیا ہے۔ اگرچہ میں اسراف کو پسند نہیں کرتا لیکن مؤمن فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

جنید بغدادیؒ ایک بڑے بزرگ گزرے ہیں۔ شبلیؒ ان کے شاگرد تھے جو بہت اخلاص اور خشیت اللہ رکھتے تھے۔ آپ ایک صوبہ کے گورنر تھے ایک دفعہ بادشاہ کے دربار میں جو آئے تو ایک بڑے سردار کو جس نے کوئی بہت بڑی خدمت کی تھی ان کے سامنے انعام کے طور پر خلعت دیا گیا اس سردار کو کچھ ریزش تھی اس لئے اس کے ناک سے پانی بہہ گیا۔ رومال لانا بھول گیا تھا۔ بادشاہ سے نظر بچا کر اسی خلعت سے اس نے ناک پونچھ لی۔ بادشاہ نے دیکھ لیا اور سخت غصے ہو کر کہا ہماری خلعت کی یہی قدر کی ہے۔ شبلیؒ کے دل میں چونکہ خشیتِ الٰہی تھی اس لئے ان کے قلب پر اس واقعہ کا ایسا اثر ہوا کہ بیہوش ہو گئے اور جب ہوش آیا تو کہا کہ میں گورنری سے استعفیٰ دیتا ہوں۔ بادشاہ نے وجہ پوچھی تو کہا کہ آپ نے اس سردار کو خلعت دی تھی جس کی اس نے بے قدری کی تو آپ اس پر اس قدر ناراض ہوئے ہیں۔ لیکن خدا نے جو مجھے بے شمار نعمتیں دی ہیں اگر میں ان کی ناقدری کروں گا اور ان کا شکریہ ادا نہ کروں گا تو مجھے کس قدر سزا ملے گی۔ اس کے بعد آپ جنیدؒ کے پاس گئے اور کہا کہ مجھے اپنا شاگرد بنا لیجئے۔ انہوں نے کہا میں تجھے شاگرد نہیں بناتا تو گورنر رہا ہے۔ اور اس حالت میں تُو نے مخلوقِ خدا پر کئی قسم کے ظلم کئے ہوں گے۔ انہوں نے کہا اس کا کوئی علاج بھی ہے۔ جنیدؒ نے کہا کہ جس علاقہ کے تم گورنر رہے ہو اس میں جاؤ اور ہر گھر میں جا کر کہو کہ اگر مجھ سے کسی پر کوئی ظلم ہوا ہے تو وہ بدلہ لے لے۔ چنانچہ انہوں نے اسی طرح کیا۔

آپ کے متعلق لکھا ہے کہ آپ جب نفل پڑھتے اور جسم میں کسی قسم کی سستی پاتے یا دل میں ایسے خیالات آتے جو ان کو دوسری طرف متوجہ کرنا چاہتے تو سونٹی لے کر اپنے جسم کو پیٹنا شروع کر دیتے حتیٰ کہ سوئی ٹوٹ جاتی اور پھر پڑھنا شروع کرتے ابتداء میں تو لکڑیوں کا گٹھا اپنے پاس رکھتے تھے۔ یہ غلو تھا اور میرے خیال میں اسلام اس کو پسند نہیں کرتا۔ لیکن یہ ان کے اپنے نفس کے متعلق معاملہ ہے اس لئے میں ان پر کوئی اعتراض بھی نہیں کرتا۔ ہاں میرے نزدیک نفس کو سزا دینے کا یہ طریق ہے کہ اگر کسی رکعت میں کوئی خیال پیدا ہو تو دیکھنا چاہئے کہ کس عبارت کے پڑھتے وقت وہ خیال پیدا ہوا ہے۔ جب یہ معلوم ہو جائے تو اسی جگہ سے پھر پڑھنا شروع کر دینا چاہئے۔ اس طرح کرنے سے جب نفس یہ دیکھ لے گا کہ یہ تو خدا تعالیٰ کی طرف ہی جھک رہا ہے اور میری نہیں مانتا تو انتشار پیدا کرنے سے رک جائے گا اور سکون حاصل ہو جائے گا۔

اکیسواں طریق

یہ طریق ایک لحاظ سے بہت بڑا اور بہت زیادہ کام میں آنے والا ہے اور وہ یہ کہ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ(المؤمنون: ۴) مومن کوئی لغو کام نہیں کیا کرتے۔ جن لوگوں کو لغو خیالات کی عادت ہوتی ہے انہیں کے دلوں میں نماز پڑھتے وقت دوسرے خیالات آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ اس طرح کریں کہ شروع دن سے ہی اس قسم کے خیالات نہ آنے دیں۔ تو ان کو انتشار کی حالت پیدا ہی نہیں ہوگی۔ لیکن اکثر لوگ شیخ چلی کی طرح خیالات میں پڑے رہتے ہیں۔ حالانکہ ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ ایسے خیالات جو محض قیاسی اور ظنی ہوں ان میں مشغول ہونے کے لئے نفس کو ہرگز اجازت نہیں دینی چاہئے۔ ہاں مفید اور فائدہ رساں باتوں کے متعلق سوچنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ خصوصاً ان امور پر سوچنا جو پہلے ہو چکے ہوں اور ان پر اب سوچنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا فکر کرنا تو حد درجہ کی جہالت ہے۔

یہ ایک ظاہر بات ہے کہ انسانی طاقتوں کو جس طرف لگایا جاوے وہ ادھر ہی متوجہ ہو جاتی ہیں۔ پس جب کوئی شخص نامعقول خیالات میں دماغ کو لگاتا ہے تو پھر وہ معقول باتوں کی طرف توجہ کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ پس لغو خیالات سے دماغ کو روک کر اعلیٰ اور مفید خیالات پر لگانا چاہئے۔ جب یہ کوشش کی جائے گی ہمیشہ مفید امور پر غور کرنے کی طرف طبیعت متوجہ ہوگی۔ اور ایک امر میں مشغول ہونے کی حالت میں دوسری طرف خیالات کو لگا دینا مفید نہیں، لغو ہے۔ الا ماشاء اللہ پس ایسے شخص کا دماغ جس نے اسے مفید باتوں پر غور کرنے کی عادت ڈالی ہے نماز کے وقت ادھر ادھر جائے گا ہی نہیں۔

بائیسواں طریق

یہ بھی ایک عظیم الشان طریق ہے اور روحانیت کے اعلیٰ کمال پر پہنچا دیتا ہے۔ رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا تھا کہ احسان کیا ہے۔ آپ نے فرمایا۔ اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ كَاَنَّكَ تَرَاهُ فَاِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَاِنَّهٗ يَرَاكَ(بخاری کتاب الایمان باب سؤال جبریل النبیؐ عن الایمان و الاسلام و الاحسان و علم الساعة) خدا تعالیٰ کی اس طرح عبادت کی جائے کہ گویا بندہ خدا کو دیکھ رہا ہے یا کم از کم یہ خیال ہو کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔ پس جب نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو تو یہی نقشہ اپنی آنکھوں کے سامنے جماؤ کہ گویا خدا تعالیٰ کے حضور کھڑے ہو اور وہ تمہیں سامنے دکھائی دے رہا ہے۔ کسی شکل میں نہیں بلکہ اپنے جلال اور عظمت کے ساتھ۔ اس طرح خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت دل میں بیٹھ جاتی ہے اور نفس سمجھ لیتا ہے کہ ایسے وقت میں اسے کوئی لغو حرکت نہیں کرنی چاہئے۔ پھر اگر خدا کو نہ دیکھ سکو تو کم از کم اتنا تو یقین ہو کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے اور میرے دل کے تمام خیالات کو پڑھ رہا ہے۔ انسان دیکھے کہ اس وقت جب کہ میں زبان سے الحمد للّٰہ کہہ رہا ہوں میرا دل بھی الحمد للّٰہ کہہ رہا ہے یا کسی اور خیال میں مشغول ہے۔ اور اگر دل کسی طرف متوجہ ہے تو اس کو ملامت کرے اور اپنی زبان کے ساتھ شامل کر لے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ بندہ جو دو رکعت بھی ایسی پڑھتا ہے کہ ان میں اپنے نفس سے کلام نہیں کرتا اس کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اب غور کرو کہ وہ انسان جس کو ہمیشہ ہی یہ حالت میسر ہو وہ کس قدر فضیلت حاصل کر لے گا۔ پس نماز میں خدا تعالیٰ کی طرف توجہ قائم رکھنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ پھر یہ طریق جو محض خدا تعالیٰ کے احسان اور فضل سے میں نے آپ لوگوں کو بتائے ہیں ان کو معمولی نہ سمجھنا چاہئے بلکہ ان کو پورے طور پر عمل میں لاؤ اور یاد رکھو کہ اگر عمل میں لاؤ گے تو بہت برکت پاؤ گے۔

نماز کے خاتمہ پر جو السلام علیکم کہا جاتا ہے اس میں بھی عجیب اشارہ ہے۔ اور اس میں توجہ کے قائم رکھنے کی طرف انسان کو متوجہ کیا گیا ہے۔ دیکھو السلام علیکم اس وقت کہا جاتا ہے جبکہ کوئی شخص کہیں سے آتا ہے۔ نماز ختم کرنے کے وقت جب ایک مؤمن السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہتا ہے تو گویا وہ یہ کہتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے حضور اپنی عبودیت کا اظہار کرنے کے لئے گیا تھا اب وہاں سے واپس آیا ہوں اور تمہارے لئے سلامتی اور رحمت لایا ہوں۔ مگر چونکہ وہ شخص تمام وقت وہیں موجود ہوتا ہے اس لئے اس کا یہی مطلب لیا جا سکتا ہے کہ اس کی روح اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر گری ہوئی تھی اور وہ عبادت میں ایسا مشغول تھا کہ گویا اس دنیا سے غائب تھا۔ غرض السلام علیکم کا کہنا نماز کے خاتمہ پر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مؤمن کو چاہئے کہ ہوشیار ہو کر اپنی نماز کی حفاظت کرے کیونکہ اس وقت وہ خدا تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوتا ہے۔ اسی لئے خدا تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے۔ وَہُمۡ عَلٰی صَلَاتِہِمۡ یُحَافِظُوۡنَ(الانعام: ۹۳) مؤمنوں کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ اپنی نمازوں کی خوب حفاظت کرتے ہیں۔ یعنی شیطان ان کی نمازوں کو خراب کرنا چاہتا ہے لیکن وہ اس کے حملوں سے اسے اچھی طرح بچاتے ہیں۔ پس ہر ایک کو چاہئے کہ اپنی نماز کی حفاظت کرے اور جب نماز پڑھنے کھڑا ہو تو یہ سمجھے کہ خدا کے حضور چلا گیا ہوں۔ اور جب نماز ختم کرے تو اپنے دائیں اور بائیں لوگوں کو بشارت دے کہ میں تمہارے لئے سلامتی لایا ہوں۔ لیکن اگر کوئی شخص خدا کے حضور نہیں جاتا بلکہ اپنے خیالات میں ہی مشغول رہتا ہے تو اسے سوچنا چاہئے کہ جب وہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہتا ہے تو کس قدر جھوٹ بولتا ہے۔ وہ لوگوں کو بتانا چاہتا ہے کہ میں خدا کے حضور سے آرہا ہوں حالانکہ وہ وہاں گیا ہی نہیں تھا۔ پس آپ لوگوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ پوری طرح اپنی نماز کی حفاظت کریں اور شیطان سے خوب مقابلہ کرتے رہیں جو آپ کو خدا کے حضور سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ اور یاد رکھیں کہ اگر آپ ساری نماز میں بھی اس سے مقابلہ کرتے رہیں گے اور اس کے آگے گریں گے نہیں تو خدا تعالیٰ آپ کو اپنے دربار میں ہی سمجھے گا۔ لیکن اگر گر جائیں گے تو خدا تعالیٰ بھی آپ کا ہاتھ چھوڑ دے گا۔ اس لئے آپ کو مقابلہ ضرور کرتے رہنا چاہئے۔ اگر اس طرح کریں گے تو آخر کار آپ ہی کامیاب ہوں گے۔

ذکر جہری

اس وقت تک میں نے تین قسم کے ذکروں کا بیان کیا ہے۔ اول نماز۔ دوم قرآن کریم۔ سوم وہ اذکار جو نماز کے علاوہ کئے جاتے ہیں لیکن علیحدگی میں کئے جاتے ہیں۔ اب ایک قسم کا ذکر باقی رہ گیا ہے اور وہ ذکر ہے جو مجالس میں کیا جاتا ہے۔ اس ذکر کے بھی دو طریق ہیں۔

اول یہ طریق

۔ کہ اپنے ہم مذہبوں کے ساتھ جہاں ملنے کا موقعہ ملے وہاں بجائے لغو اور بیہودہ باتوں کے خدا تعالیٰ کی طاقتوں‘ اس کے جلال اور اس کے احسانات کا ذکر کیا جاوے‘ اس کی آیات کا بیان ہو اس سے دل صاف ہوتا ہے اور قلب پر نہایت نیک اثر پڑتا ہے۔ رسول کریم ﷺ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ آپ گھر سے باہر تشریف لائے تو

دیکھا کہ مسجد میں کچھ لوگ نماز میں مشغول ہیں اور کچھ ایک حلقہ کئے بیٹھے ہیں اور دین کی باتیں کر رہے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں میں بیٹھ گئے جو حلقہ کئے بیٹھے تھے اور فرمایا کہ یہ کام اس سے افضل ہے جو دوسرے لوگ کر رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکرِ جہری بعض اوقات ذکرِ سِرّی پر فضیلت رکھتا ہے۔ بعض اوقات میں نے اس لئے کہا ہے کہ وہ بھی اپنے وقت پر ضروری ہوتا ہے۔ ہاں جس وقت لوگ جمع ہوں اس وقت ذکرِ جہری مفید ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کے ذریعہ دوسرے لوگوں کے تجربات سن کر اور اپنے ان کو سنا کر استفادہ اور افادہ کا زیادہ موقعہ ملتا ہے اور ایسے وقت میں علیحدہ ذکر کرنا بعض دفعہ باعثِ ریاء بھی ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم کا درس بھی اسی قسم کے اذکار میں داخل ہے اور اپنے ہم مذہبوں میں دین کے متعلق خطب و وعظ بھی اسی میں شامل ہیں۔

دوسری قسم

اس ذکر کی یہ ہے کہ جو مخالفوں کی مجالس میں کیا جاتا ہے۔ اسلام کے سوا باقی تمام مذاہب اللہ تعالیٰ کی صفات میں کچھ نہ کچھ کمی اور زیادتی کے مرتکب ہیں۔ پس ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کو اس کی اصلی شان اور شوکت میں ظاہر کرنا بھی ایک ذکر ہے۔ جیسے کہ سورہ مدثر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۙ قُمْ فَاَنْذِرْ ۫ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ(المدثر: ۲۔۴) لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرانے کے علاوہ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور تکبیر ذکر میں داخل ہے۔ پس غیر مذاہب کے لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی صفات کو بیان کرنا اور ان کے اثبات پر دلائل دینا بھی ذکر الٰہی میں شامل ہیں۔ سورۃ سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی(الاعلیٰ: ۲) میں بھی اسی ذکر کی طرف اشارہ کیا ہے اور صاف الفاظ میں فَذَکِّرۡ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّکۡرٰی(الاعلیٰ: ۱۰) کہہ کر اس کا نام صاف طور پر ذکر رکھا ہے۔

ذکر کے فوائد

اب میں ذکر کرنے کے کچھ فوائد بتاتا ہوں۔ سب سے بڑا فائدہ جو ذکر کرنے سے حاصل ہوتا ہے وہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ نیک کام ہے اس لئے دوسرے کاموں کی طرح اس سے خدا راضی ہو جاتا ہے۔ بلکہ اس سے خاص طور پر راضی ہوتا ہے کیونکہ جس قدر کوئی بڑا کام ہو اسی قدر اس کا بڑا انعام بھی دیا جاتا ہے۔ ذکر کے متعلق ایک جگہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ وَلَذِکۡرُ اللّٰہِ اَکۡبَرُ(29:46) کہ اللہ کا ذکر بہت بڑا ہے۔ اور دوسری جگہ فرماتا ہے۔ وَعَدَ اللّٰہُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیۡ(9:72) جَنّٰتِ عَدۡنٍ ؕ وَرِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکۡبَرُ(التوبہ: ۷۲) کہ سب سے بڑا انعام رضوان اللہ ہے۔ چونکہ اکبر کا انعام بھی اکبر ہی ہو سکتا ہے۔ اصغر نہیں۔ اس لئے ان دونوں اکبروں نے بتا دیا کہ رضوان اللہ کس کے بدلہ میں ملتی ہے۔ ذکر اللہ کے بدلہ میں اس آیت میں خدا تعالیٰ نے دوسرے انعامات کو بیان فرما کر وَرِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکۡبَرُ(9:72) سے بتلا دیا کہ رضوان کوئی اور نئی چیز ہے اور یہ سب سے اکبر ہے اور واقعہ میں بندہ کے لئے سب سے بڑا انعام یہی ہے کہ اللہ اس پر راضی ہو جائے۔ اس بڑے انعام کو حاصل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے فرما دیا کہ ذکر اللہ کرو گے تو یہ دوسرا اکبر جو رضوان اللہ ہے مل جائے گا۔

دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس سے اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَطۡمَئِنُّ قُلُوۡبُہُمۡ بِذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ(الرعد: ۲۹) قلوب کو ذکر سے طمانیت حاصل ہوتی ہے، کیوں؟ اس لئے کہ گھبراہٹ اس وقت پیدا ہوتی ہے جبکہ انسان یہ سمجھے کہ میں اس مصیبت سے ہلاک ہونے لگا ہوں اور اگر اسے یہ یقین ہو کہ ہر ایک مصیبت اور تکلیف کا علاج ہے تو وہ نہیں گھبرائے گا۔ پس جب کوئی شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اللہ غیر محدود طاقتیں رکھتا ہے اور ہر قسم کی تکلیفوں کو دور کر سکتا ہے تو اس کا دل کہتا ہے کہ جب میرا ایسا خدا ہے تو پھر مجھے کسی مصیبت سے گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ خود اس کو دور کر دے گا اس طرح اس کو اطمینان حاصل ہو جاتا ہے۔

تیسرا فائدہ یہ ہے کہ ذکر کرنے والے بندہ کو خدا تعالیٰ اپنا دوست بنا لیتا ہے اور اسی دنیا میں اسے اپنی بارگاہ میں یاد کرتا ہے۔ فَاذۡکُرُوۡنِیۡۤ اَذۡکُرۡکُمۡ وَاشۡکُرُوۡا لِیۡ وَلَا تَکۡفُرُوۡنِ(البقرہ: ۱۵۳) اے میرے بندو! تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا۔ خدا تعالیٰ کا یاد کرنا یہی ہے کہ اپنے حضور باریابی بخشتا ہے۔ جس طرح دنیا میں بادشاہ کا کسی کو یاد کرنا یہی ہوتا ہے کہ اس کو اپنے دربار میں بلاتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ بھی کرتا ہے۔

چوتھا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر انسان کو بدیوں سے روکتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ اُتۡلُ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ مِنَ الۡکِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ ؕ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡکَرِ ؕ وَلَذِکۡرُ اللّٰہِ اَکۡبَرُ ؕ وَاللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تَصۡنَعُوۡنَ(العنکبوت: ۴۶) رسول کریمؐ کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تجھ کو خدا نے جو کتاب دی ہے وہ لوگوں کو پڑھ کر سنا اور نماز کو قائم کر۔ نماز بدیوں اور برائیوں سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر کرنا بہت بڑا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔ جیسا کہ پہلے میں نے بتایا ہے نماز بھی ذکر اللہ ہے۔ اس سے ثابت ہو گیا کہ ذکر اللہ بدیوں اور برائیوں سے روکتا ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ ذکر اللہ ایک بڑی بھاری چیز ہے اس کو جب شیطان کے سر پر مارا جائے گا تو وہ مر جائے گا اور برائیوں کی تحریک نہیں کرے گا۔

پانچواں فائدہ یہ ہے کہ دل مضبوط ہوتا ہے مقابلہ کی طاقت پیدا ہوتی ہے انسان ہارتا نہیں بلکہ مقابلہ میں مضبوطی سے کھڑا رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِیۡتُمۡ فِئَۃً فَاثۡبُتُوۡا وَاذۡکُرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ(الانفال: ۴۶) اے مسلمانو جب کسی طاقت کے مقابلہ میں جاؤ اور وہ زبردست ہو تو اس کے لئے یہ کیا کرو کہ کثرت سے اللہ کا ذکر کرنا شروع کر دیا کرو۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہارے دشمن کے پاؤں اکھڑ جائیں گے اور تم اس پر فتح پا لو گے۔

چھٹا فائدہ یہ ہے کہ ذکر کرنے والا انسان اپنے ہر مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے بشرطیکہ وہ سچے دل سے ذکر کرتا ہو۔ اس کا ثبوت بھی اسی آیت سے نکلتا ہے۔ جو میں نے پانچویں فائدہ کے متعلق پڑھی ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَاذۡکُرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ(8:46)۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔

ساتواں فائدہ یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن سات آدمیوں کے سر پر خدا کا سایہ ہو گا۔ (سنن الترمذی ابواب الزهد باب ما جاء فی الحب فی اللہ) اور ان میں سے ایک ذکر کرنے والا ہو گا۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ ایسا خطرناک دن ہو گا کہ تمام نبی ڈرتے ہوں گے اور خدا تعالیٰ اس دن ایسا غضبناک ہو گا جیسا کبھی نہیں ہوا۔ کیونکہ تمام شریر لوگ اس کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔ سورج بہت قریب ہو جائے گا۔ ایسی حالت میں جس پر خدا تعالیٰ کا سایہ ہو گا سمجھ لینا چاہئے کہ وہ کیسا خوش قسمت ہو گا۔

آٹھواں فائدہ یہ ہے کہ ذکر کرنے والے کی دعا قبول ہو جاتی ہے۔ قرآن کریم میں جو دعائیں آئی ہیں ان سے پہلے ذکر یعنی تسبیح اور تحمید بھی آئی ہے۔ پہلی دعا سورۃ فاتحہ ہی ہے۔ اس کو بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ(1:1-4) سے شروع کیا ہے۔ اور اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ(1:5) کو درمیان میں رکھا ہے۔ جو آدھی خدا تعالیٰ کے لئے اور آدھی بندہ کے لئے ہے۔ پھر اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ(1:6) الْمُسْتَقِيْمَ ۙ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۙ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ فرمایا یہ دعا ہے۔ تو پہلے خدا تعالیٰ نے ذکر رکھا ہے اور بعد میں دعا۔ دنیا میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جب کوئی سوالی کسی کے پاس آتا ہے تو پہلے اس کی تعریف کرتا ہے اور پھر اپنا سوال پیش کرتا ہے۔ تو جب انسان خدا کے حضور جاتا ہے تو اسے پہلے خدا تعالیٰ کی قدرت اور اپنے عجز کا اقرار کر لینا چاہئے۔ حضرت یونس علیہ السلام نے بھی اپنے متعلق اسی طرح دعا کی ہے کہ لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ(الانبیاء: ۸۸) پہلے خدا تعالیٰ کی تسبیح بیان کی ہے اور پھر اپنی حالت پیش کی ہے۔ پھر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں مَنْ شَغَلَهُ ذِكْرِىْ عَنْ مَّسْئَلَتِىْ اَعْطَيْتُهُ اَفْضَلَ مَآ اُعْطِى السَّائِلِيْنَ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کوئی میرے ذکر میں لگا رہتا ہے اسے میں اس کی نسبت جو مانگتا رہتا ہے زیادہ دیتا ہوں۔ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ دعا نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ سورۃ فاتحہ جو ام القرآن ہے اس میں ذکر کے ساتھ دعا بھی ہے۔ اور قرآن کریم میں اور احادیث میں کثرت سے دعائیں سکھائی گئی ہیں۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ اس شخص سے جو ذکر نہ کرے اور دعا ہی کرے اس کو زیادہ دیا جاتا ہے جو دعا کے علاوہ ذکر بھی کرے اور دعا کے وقت میں سے بچا کر ذکر کے لئے وقت خرچ کرے۔

نواں فائدہ یہ ہے کہ گناہ معاف ہوتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو تکبیر و تحمید و تسبیح کرتا ہے۔ اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں گو مثل زبد البحر یعنی سمندر کی جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوں۔ (ترمذی ابواب الدعوات باب ما جاء فی الدعاء اذا اوى الى فراشه)

دسواں فائدہ یہ ہے کہ عقل تیز ہو جاتی ہے۔ اور ذاکر پر ایسے ایسے معارف اور نکات کھلتے ہیں کہ وہ خود بھی حیران ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَیَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ(آل عمران: ۱۹۱-۱۹۲) کہ زمین اور آسمان کی پیدائش اور دن اور رات کے اختلاف میں بہت سی نشانیاں ہیں مگر انہی لوگوں کے لئے جو عقل والے ہوں۔ پھر بتایا کہ عقل والے لوگ وہ ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے ذکر میں مشغول اور اس کے کاموں پر فکر کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔

گیارہواں فائدہ یہ ہے کہ تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے فَاِنْ ذَكَرَنِیْ فِیْ نَفْسِہٖ ذَكَرْتُہٗ فِیْ نَفْسِیْ وَ اِنْ ذَكَرَنِیْ فِیْ مَلَاءٍ ذَكَرْتُہٗ فِیْ مَلَاءٍ خَیْرٍ مِّنْہُمْ وَ اِنْ تَقَرَّبَ اِلَیَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ اِلَیْہِ ذِرَاعًا وَ اِنْ تَقَرَّبَ اِلَیَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ اِلَیْہِ بَاعًا وَ اِنْ اَتَانِیْ یَمْشِیْ اَتَیْتُہٗ ھَرْوَلَةً(بخاری کتاب التوحید باب قول اللہ تعالیٰ ویحذرکم اللہ نفسہٗ) آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ جب دل ہی دل میں میرا ذکر کرتا ہے تو میں بھی اپنے دل ہی دل میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔ مثلاً جب انسان کہتا ہے سبحان اللہ یعنی پاک ہے تو اے اللہ تو خدا تعالیٰ بھی اس بندہ کی نسبت کہتا ہے کہ تجھے بھی پاکی حاصل ہو۔ اور جب خدا تعالیٰ یہ کہہ دیتا ہے تو حاصل ہو ہی جاتی ہے۔ پھر فرماتا ہے جب بندہ لوگوں میں بیان کرتا ہے تو میں ان لوگوں سے بہتر جن میں وہ میرا ذکر کرتا ہے اس کا ذکر کرتا ہوں۔ یعنی متقیوں اور نیکوں میں اس کا ذکر بلند کرتا ہوں اور دنیا اقرار کرتی ہے کہ وہ متقی ہے۔

بارہواں فائدہ یہ ہے کہ محبت بڑھتی ہے کیونکہ انسان کا قاعدہ ہے کہ جس چیز سے ہر وقت اسے تعلق رہے اس سے انس پیدا ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ جس گاؤں یا شہر میں آدمی رہتا ہے اس سے بھی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ پس جب بندہ صبح و شام بلکہ ہر موقعہ پر خدا تعالیٰ کو بار بار یاد کرتا اور نام لیتا ہے تو آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ کی محبت اس کے دل میں بڑھتی جاتی ہے۔

یہ ہیں ذکر اللہ کے فوائد جو میں نے مختصر طور پر بیان کر دیئے ہیں۔ اور دعا کرتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اور مجھے بھی خدا تعالیٰ ان سے مستفید کرے۔ آمین

لے اور خاص کر اخبار الفضل کیونکہ اس میں حضور کے خطبات وغیرہ نہایت محنت اور کوشش سے مرتب کر کے بالترتیب شائع کئے جاتے ہیں۔ (مرتب کنندہ) ۲؎ (نوٹ) حضور یہاں تک فرما چکے تھے کہ کسی شخص نے سوال کیا کہ جن فرشتوں کو آپ نے دیکھا ہے ان کی شکل کیا تھی۔ اس کے متعلق آپ نے فرمایا کہ فرشتوں کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں۔ اور میں نے ان کو مختلف رنگوں میں دیکھا ہے اور بعض کے تو ایسے رنگ تھے۔ جو دنیا میں ہیں ہی نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ فرشتے اپنی اصلی شکل میں انسان کو دکھائی نہیں دے سکتے۔ اس لئے وہ کبھی کسی انسان کی شکل میں اور کبھی کسی اور شکل میں نظر آتے ہیں۔ ۳؎ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی یہاں تک فرما چکے تھے کہ کسی صاحب نے دریافت کیا کہ کیا جمعہ کے دن بھی قرآن پڑھنا چاہئے اگر پڑھنا چاہئے تو اس دن درس کیوں نہیں ہوتا۔ (قادیان میں جمعہ کے دن درس نہیں دیا جاتا) اس کے متعلق حضور نے فرمایا۔ جمعہ کے دن بھی قرآن کریم پڑھنا چاہئے۔ اور درس اس لئے نہیں ہوتا کہ وہ ایک قسم کی تعلیم ہے اور جمعہ کو مسلمانوں کے لئے چھٹی کا دن مقرر کیا گیا ہے۔ اس لئے تعلیمی کام چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔ دوسرے اس دن ایک اور عبادت بڑھا دی گئی ہے۔ اور وہ خطبہ ہے۔ وہی درس کا قائم مقام ہو جاتا ہے۔ ۴؎ کسی نے عرض کیا کہ کیا اس طرح پڑھنے کے لئے تسبیح رکھ لی جائے۔ اس کے متعلق حضور نے فرمایا کہ یہ بدعت ہے۔ ۵؎ (نوٹ) کسی صاحب نے سوال کیا کہ کیا اپنی بیوی سے بھی نہ کرے۔ حضور نے فرمایا کہ کسی خاص ضرورت کے بغیر کسی سے نہ کرے۔ خواہ بیوی ہی ہو۔ ۶؎ آیت الکرسی یہ ہے۔

اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ۬ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوۡمٌ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَمَا خَلۡفَہُمۡ ۚ وَلَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ۚ وَلَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا ۚ وَہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ(البقره: ۲۵۷)

تینوں قُل یہ ہیں

بسم الله الرحمن الرحيم قل هو الله احد الله الصمد لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا احد

بسم الله الرحمن الرحيم قل اعوذ برب الفلق من شر ما خلق و من شر غاسق اذا وقب ومن شر النفثت فى العقد ومن شر حاسد اذا حسد

بسم الله الرحمن الرحيم قل اعوذ برب الناس ملك الناس اله الناس من شر الوسواس الخناس الذى يوسوس فى صدور الناس من الجنة والناس

عید الاضحیٰ اور مسلمانوں کا فرض

(قربانی کی حقیقت اور اس کا فلسفہ)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمده ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ

هو الناصر

عید الاضحیٰ پر مسلمانوں کا فرض

عید الاضحیٰ قریب آرہی ہے اور ہر مسلمان کو اس سچی قربانی کی طرف متوجہ کر رہی ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنا دیتی ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کے لئے فنا ہوتے ہیں وہ دائمی بقا حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ آج سے چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے اکلوتے بیٹے کو خدا تعالیٰ کے لئے ذبح کرنا چاہا اور اپنے لئے ہمیشہ کی فنا کو قبول کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی ہمیشہ کے لئے آپ کے نام کو بلند کر دیا۔ کیا آج مختلف ممالک کے لوگوں کا اس یاد کو تازہ کرنا اور اس مثال کو سامنے رکھ کر اپنے وجود کو قربانی کے لئے پیش کرنا اس امر کا ثبوت نہیں کہ خدا تعالیٰ کی خاطر فنا ہونے والے ہمیشہ کی زندگی پاتے ہیں۔ پس عید الاضحیٰ کے موقعہ سے سبق حاصل کر کے مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنے آپ کو سچی قربانی کے لئے تیار کریں جو خدا کی رضا کے حصول کے لئے اپنے آپ کو فنا کر دینے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لَنۡ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوۡمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقۡوٰی مِنۡکُمۡ(الحج: ۳۸) یعنی قربانیوں کا گوشت اور خون اللہ تعالیٰ کے حضور میں ہرگز قبول نہ ہو گا بلکہ جس نیک نیت اور نیک ارادے سے تم کام کرتے ہو وہ اس کے حضور میں قبول ہو گا۔ پس چاہئے کہ مسلمان عید پر ظاہری قربانی پر زور دینے کی بجائے باطنی قربانی پر زور دیں تاکہ اسلام کو فائدہ ہو اور خدا تعالیٰ کا نور دنیا میں پھیلے۔ اے دوستو! اگر ساری دنیا کے بیل اور گائے ہم برسرِ میدان ذبح کر ڈالیں تو سوائے ایک ظاہری علامت کے اس کا اور کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ لیکن اگر ہم میں سے ایک شخص ابراہیم علیہ السلام والی قربانی کے لئے اس عید کے دن تیار ہو جائے تو وہ

ہزاروں مسلمانوں کو بیدار کرنے کا موجب ہو جائے گا۔ پس اخلاص اور محبت سے تمام ان لوگوں سے جو خواہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں لیکن اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں یہ استدعا کرتا ہوں کہ وہ اس عید کے دن بجائے ظاہر پر زور دینے کے باطن پر زیادہ زور دیں۔

قربانی ان کا حق ہے اور شریعت کا حکم۔ اس کا چھڑوانا تو نہ کسی کے لئے جائز ہے نہ مسلمان اسے چھوڑ سکتے ہیں۔ لیکن ایک بات ہے جسے مسلمان اختیار کر کے اسلام کے دشمنوں کو ایک زبردست شکست دے سکتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ اس دفعہ مسلمان ہر جگہ پر قربانی میں یہ امر مد نظر رکھیں کہ جہاں تک ہو سکے قربانی اس طرح کی جائے اور ایسی جگہوں پر کی جائے کہ ہندو صاحبان کے احساسات کو صدمہ نہ پہنچے۔ اسلام ہمیں ہر انسان کے احساسات کا احترام کرنے کا حکم دیتا ہے۔ پس چاہئے کہ اس وقت جب کہ بعض ہندو اپنی طرف سے ہر ایک طریقہ مسلمانوں کو اشتعال میں لانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں ہم ان پر ثابت کر دیں کہ ہم ان کے دھوکے میں آکر اسلام کی تعلیم کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم ان کے گندے سے گندے برتاؤ کے باوجود بھی ان کے احساسات کا خیال کریں گے۔ اور ایسا طریق اختیار نہ کریں گے کہ جس سے بے وجہ ان کو تکلیف پہنچے۔ میں تمام مسلمانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس موقعہ پر اسلامی وسعت حوصلہ سے کام لے کر ان راستوں کو قربانی کے جانور گزارنے کے لئے اختیار نہ کریں جن پر ہندو رہتے ہیں۔ اور قربانی کے گوشت کو بھی حتی الوسع پوشیدہ کر کے گزاریں تا ہندو صاحبان کو خواہ مخواہ تکلیف نہ ہو۔ اور تا ان کے دل اس بات کو دیکھ کر شرمائیں کہ جبکہ مسلمان ہمارے ادنیٰ احساسات کا خیال رکھتے ہیں ہمارے اپنے بھائی مسلمانوں کے شریف ترین جذبات کو ٹھیس لگانے کی کمینہ اور ذلیل حرکت سے بھی باز نہیں آتے۔ اے دوستو! ہم تمام بازاروں اور ہندو محلوں سے قربانی کے جانوروں کو باجوں کے ساتھ گذار کر اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ لیکن ہم اپنے وقت اور اپنے مال کو تبلیغ اسلام کے لئے وقف کر کے اسلام کو تو ہمیشہ کے لئے مضبوط کر سکتے ہیں۔ ہم اپنے اخلاق کو اعلیٰ بنا کر دشمنانِ اسلام کو شرمندہ کر سکتے ہیں اور خود ان کی نظروں میں انہیں حقیر بنا سکتے ہیں۔ پس عقلمندوں کی طرح دشمن سے بدلہ لو۔ اور اس کو اس راستہ سے پکڑو کہ جہاں سے وہ بھاگ نہ سکے۔ اور وہ راستہ اخلاق کا راستہ اور تبلیغ کا راستہ ہے۔ اپنی طاقت کو بے فائدہ باتوں میں ضائع کرنا عقلمندی نہیں۔ اور

چھوٹی باتوں پر وقت خرچ کرنا جب کہ بڑے کام ہمارا انتظار کر رہے ہوں نادانی ہے۔ پس اس دفعہ کی عید کو حقیقی عید بنانے کے لئے ابراہیمی قربانی کو قائم کرو۔ تا خداوند تعالیٰ کا فضل جوش میں آئے اور وہ برکتوں سے ہمارا گھر بھر دے۔ اور اس دن کو مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنے لئے وقف کر دو۔ اس دن جو وقت بھی عبادت سے بچے اسے بجائے بے فائدہ باتوں میں جوش دکھانے کے اپنے دوستوں کو اس بات کے سمجھانے میں خرچ کرو کہ وہ آج سے مسلمانوں کی بہبودی اور اپنی اور اپنی اولادوں کی زندگی کے لئے یہ عہد کر لیں کہ جہاں وہ ہندو اور دوسری قوموں کے جائز احساسات کا حتی الوسع احترام کر کے اسلام کی اعلیٰ تعلیم کا ثبوت دیں گے وہاں اسلام کی بہتری کے لئے کسی ہندو سے کھانے پینے کی چیزیں نہیں خریدیں گے۔ جب تک کہ وہ چھوت چھات کو ترک کر کے مسلمانوں کے ہاتھوں کا میٹھا ہوا کھانا علی الاعلان کھانا شروع نہ کریں۔ ہندوؤں نے چھوت چھات کے بہانے سے اس قدر روپیہ مسلمانوں سے وصول کیا ہے کہ اگر آج وہ روپیہ مسلمانوں کے پاس ہو تا تو ان کے گھر سونے کے ہوتے۔ لیکن آج وہ اس ظالمانہ تدبیر کی وجہ سے اپنی اولادوں کو تعلیم دینے تک سے محروم اور روٹی تک کے محتاج ہیں۔

پس جو شخص اسلام کا درد رکھتا ہے اسے چاہئے کہ بجائے قربانیوں کو بلاوجہ بازاروں میں پھرانے پر اپنا وقت خرچ کرنے کے وہ اپنا سب وقت اس پر خرچ کرے کہ اپنے محلہ اور اپنے قصبہ میں بلکہ ممکن ہو تو پاس کے قصبات میں جائے اور مسلمانوں کو بتائے کہ آج مسلمان ہندوؤں کے سامنے صرف ایک بیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جس طرح بیل جو کچھ کماتا ہے وہ اس کا مالک لے جاتا ہے۔ اور اس کے لئے صرف بھوسہ رہ جاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کا حال ہے کہ وہ جو کچھ کماتے ہیں اسے ایک طرف چھوت چھات اور دوسری طرف سود سے ہندو لے جاتے ہیں۔ اور مسلمانوں کے لئے صرف بھوسہ باقی رہ جاتا ہے۔ بلکہ بسا اوقات تو بھوسہ بھی باقی نہیں رہتا۔ پس چاہئے کہ مسلمان اگر واقعہ میں اسلام کا درد اپنے دل میں رکھتے ہیں تو اپنے مال کو اپنے پاس محفوظ رکھنے کی کوشش کریں۔ اور ایک طرف تو یہ عہد کریں کہ ہندو جن باتوں میں ان سے چھوت کرتے ہیں یہ بھی ان سے ان باتوں میں چھوت برتیں۔ اور دوسرے کسی ہندو ساہوکار سے سودی قرضہ نہ لیں۔ جو لوگ سود سے بچ سکیں انہیں تو خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت سود سے قطعاً بچنا چاہئے۔ لیکن جو لوگ پہلے سے سود میں مبتلا ہوں انہیں چاہئے کہ سرکاری بنک اپنے علاقہ میں کھلوا کر ان بنکوں سے سودی روپیہ لے لیں۔ تاکہ ان کے آئندہ سود کے پھندے سے نجات پانے کی توقع ہو سکے۔ اور ہندو بنئے کے ظالمانہ سود سے چھٹکارہ ہو۔ تیسری یہ بات تمام مسلمانوں کو ذہن نشین کرنی چاہئے کہ یہ وقت اسلام پر بہت نازک ہے اور تمام دشمنانِ اسلام متحد ہو کر اسلام پر حملہ کر رہے ہیں۔ پس چاہئے کہ مسلمان کہلانے والے لوگوں کے آپس میں خواہ کس قدر ہی اختلاف ہوں وہ اس حملہ کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہو جائیں اور وہ لوگ جو رسول کریم ﷺ کی تکذیب کے درپے ہیں ان کے مقابلہ میں اسلام کی حفاظت کے لئے سب ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں۔ ورنہ دشمن ایک ایک کر کے سب کو نقصان پہنچائے گا۔ اور پھر مسلمانوں سے کچھ کئے نہ بنے گا۔ وہ پچھتائیں گے لیکن پچھتانا نفع نہ دیگا۔ وہ روئیں گے اور رونا مفید نہ ہو گا۔ وہ فریاد کریں گے اور ان کی فریاد سننے والا کوئی نہ ہو گا۔ پس اس دن کے آنے سے پہلے انہیں اس عظیم الشان مصیبت کے دور کرنے کی فکر کرنی چاہئے جس کے برابر کوئی مصیبت ہندوستان کے مسلمانوں پر پچھلے چند سو سالوں میں نہیں آئی۔

چوتھی بات وہ لوگوں کے یہ ذہن نشین کریں کہ اسلام کی موجودہ مشکلات صرف اور صرف تبلیغ سے دور ہو سکتی ہیں۔ پس چاہئے کہ ہر ایک مسلمان اپنے آپ کو مبلغ سمجھے اور اپنے آس پاس کے غیر مذاہب کے لوگوں میں تبلیغ شروع کر دے۔ خصوصاً اچھوت اقوام میں کہ وہ ہزاروں سال سے ہندوؤں کے ظلم برداشت کرنے کے بعد آج بیدار ہو رہی ہیں۔ اور مسلمانوں کی طرف سے ایک ہمت بڑھانے والا کلمہ انہیں اسلام کے بالکل قریب کر سکتا ہے۔ پس چاہئے کہ ہر ایک مسلمان اچھوت اقوام کا خیال رکھے اور جہاں بھی ایسے آدمی پائے جائیں انہیں اسلام میں داخل کرنے کی کوشش کی جائے اور اگر کسی جگہ کے مسلمان خود کام نہ کر سکیں تو کم سے کم صیغہ ترقی اسلام قادیان ضلع گورداسپور کو حالات سے اطلاع دیں تاکہ وہ جہاں تک ہو سکے مقامی لوگوں کی مدد کر کے اشاعت اسلام میں ان کا ہاتھ بٹائے۔

اے دوستو! اگر بجائے قربانیوں کے راستوں پر زور دینے کے آپ لوگ عید کے دن کو مذکورہ بالا چار باتوں کے لئے وقف کر دیں۔ تو یقیناً آپ اسلام کی عظیم الشان خدمت کریں گے اور دشمنانِ اسلام کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائیں گے۔ پس عقلمندوں کی طرح اپنے اور اسلام کے فائدہ کو مد نظر رکھتے ہوئے قربانی کے معاملہ میں تو ہندوؤں کے احساسات کا حتی الوسع خیال رکھیں کہ اس معاملہ میں انہیں چڑانا اسلام کے لئے مفید نہیں بلکہ مضر ہے۔ لیکن

اتحادِ عمل، چھوت چھات، سود سے پرہیز اور تبلیغ کے متعلق مسلمانوں میں پراپیگنڈہ کر کے کام کی وہ روح مسلمانوں میں پھونک دیں کہ دشمن کو خود اپنے گھر کی فکر پڑ جائے۔

اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو موقعہ کی نزاکت کو سمجھنے اور اسلام کے حقیقی فوائد کی شناخت کی توفیق عطا فرمائے۔ وَاٰخِرُ دَعۡوٰٮہُمۡ اَنِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(10:11)۔

والسلام خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ قادیان (ضلع گورداسپور)


نوٹ: میں نے اس زمانہ کی ضروریات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک رسالہ ”آپ اسلام اور مسلمانوں کے لئے کیا کر سکتے ہیں“ شائع کیا ہے۔ مسلمان بھائیوں کو چاہئے کہ اس رسالہ کو خود بھی پڑھیں اور اپنے دوستوں میں بھی اس کے پڑھنے کی تحریک کریں۔ یہ رسالہ دو پیسے کا ٹکٹ بھیجنے پر صیغہ ترقیٔ اسلام قادیان سے مفت مل سکتا ہے۔ اور جو لوگ قیمتاً منگوانا چاہیں وہ علاوہ دو پیسے کے ٹکٹ ڈاک کے دو پیسے کے زائد ٹکٹ فی رسالہ بطور قیمت کے ارسال فرما سکتے ہیں یہ سب روپیہ ترقیٔ اسلام کے مفاد کے ماتحت خرچ ہوتا ہے۔

زندہ خدا کے زبردست نشان

(پیشگوئی زارِ روس کے پورا ہونے پر

زندہ خدا پر ایمان لانے کی تلقین)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم نحمده و نصلی علیٰ رسولہ الکریم

وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُہۡلِکَ الۡقُرٰی حَتّٰی یَبۡعَثَ فِیۡۤ اُمِّہَا رَسُوۡلًا یَّتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا ۚ وَمَا کُنَّا مُہۡلِکِی الۡقُرٰۤی اِلَّا وَاَہۡلُہَا ظٰلِمُوۡنَ(القصص: ۶۰)

زندہ خدا کے زبردست نشان

”دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ (براہین احمدیہ صفحہ ۵۵۷)

زارِ روس کی قابلِ رحم حالت کی خبر

ہندوستان کے نبی نے بارہ سال پہلے دی تھی

خدا تعالیٰ کی قدیم سنت چلی آتی ہے کہ جب کبھی دنیا فسق و فجور میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ اور خدا کو بھول جاتی ہے اور لوگوں کے اخلاق بگڑ جاتے ہیں اور حوصلے پست ہو جاتے ہیں اور روحانی پانی کے پیاسوں کے حلق میں کانٹے پڑ جاتے ہیں اور ہونٹ خشک ہو جاتے ہیں اور آنکھوں میں شدّتِ پیاس سے گڑھے پڑ جاتے ہیں تو وہ اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے نبی مبعوث فرماتا ہے اور ان کی اصلاح کے لئے رسول کھڑے کرتا ہے۔ جو روحانی پانی کے بادل ہوتے ہیں۔ جو ہر ایک اس زمین کو جو اپنے اندر پانی جذب کرنے کی قابلیت رکھتی ہے سیراب کر دیتے ہیں۔ اور پیاسوں کی پیاس بجھا دیتے ہیں۔ وہ ایک نور ہوتے ہیں جن کی مدد سے ظلمتوں میں پڑے ہوئے لوگ دیکھنے لگتے ہیں۔ وہ ایک آگ ہوتے ہیں جو حق کے دشمنوں کو جلا کر خاک کر دیتی ہے۔ وہ ایک بجلی ہوتے ہیں کہ جو سعادت مند انسانوں کے اندر آناً فاناً ایک ایسی طاقت بھر دیتے ہیں جس سے اندھے دیکھنے لگتے ہیں، لولے لنگڑے چلنے لگتے ہیں اور گونگے بولنے لگتے ہیں۔ غرض ان کی دوستی ہر قسم کے سموم کا تریاق اور ان کی دشمنی ایک سخت زہر ہوتی ہے۔ جس کے کھانے کے بعد کوئی انسانی تدبیر انسان کو ہلاکت سے بچا نہیں سکتی۔

موجودہ زمانہ میں لوگ روحانیت سے جس قدر دور چلے گئے ہیں اور بدیوں کا جو انتشار ہے اور گناہوں کی جو کثرت ہے وہ بزبانِ حال پکار کر کہہ رہی ہے کہ اگر کسی زمانہ میں کبھی کوئی نبی آیا ہے تو اس وقت ضرور نبی آنا چاہئے اور اگر کسی وقت کوئی مصلح مبعوث کیا گیا ہے تو اس زمانہ میں ضرور مبعوث ہونا چاہئے۔ اور پہلے انبیاءؑ کی پیشگوئیاں بھی بالاتفاق اس بات پر شہادت دے رہی ہیں کہ یہ وقت ایک نبی کی بعثت کا ہے۔ گو مختلف مذاہب میں ہزاروں باتوں کا اختلاف ہے۔ اور شائد ایسی ایک بات بھی نہ مل سکے جس میں تمام مذاہب متفق ہوں۔ لیکن اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ آخری زمانہ میں ایک نبی آئے گا۔ اور جو علامتیں اس کے زمانہ کی بتائی گئی ہیں وہ سب اس زمانہ میں پوری ہو رہی ہیں۔ لیکن افسوس کہ باوجود زمانہ کی حالت کے اقتضاء اور تمام مذاہب کی متفقہ شہادت کے لوگ اس بات کی طرف متوجہ نہیں ہوتے کہ اس زمانہ کے نبیؐ کی شناخت کریں۔ جو اللہ تعالیٰ نے عین ضرورت کے وقت آسمان سے اتارا ہے۔ کیا دنیا اس قسم کے نبیؐ کی منتظر ہے جو آسمان سے نازل ہو اور فرشتے اس کے ساتھ ہوں اور خدا تعالیٰ بلند آواز سے جو یک دفعہ تمام دنیا میں سنائی دے اس کی تصدیق کرے۔ جنت اس کے دائیں طرف اور دوزخ بائیں طرف ہو۔ قضاء و قدر کے فیصلے اس کے ہاتھ میں دیئے جائیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ خواہش کبھی میسر نہ آئے گی۔ نہ ایسا کوئی نبیؐ دنیا میں آیا ہے نہ آئندہ آئے گا۔ انسانوں کی ہدایت کے لئے انسان رسول ہی بھیجے جاتے ہیں۔ کیونکہ غیر جنس غیر جنس کے لئے نمونہ نہیں بن سکتی۔ اور نبیؐ دنیا میں نمونہ بن کر آتے ہیں۔ وہ آسمان سے نازل نہیں ہوا کرتے بلکہ زمین ہی پر دوسرے انسانوں کی طرح عورت کے پیٹ سے پیدا ہوتے ہیں۔ پس ایسا نبیؐ جو پہلے انبیاءؑ کی سنت پر نہ ہو کبھی نہیں آ سکتا۔ جو نبیؐ بھی آئے گا اسی طریق پر آئے گا جس پر پہلے زمانوں میں نبیؐ آتے رہے ہیں۔

اے سننے والو سنو! اور اے دیکھنے والو دیکھو! اور اے عقل و خرد رکھنے والو جان لو! کہ اسی قدیم سنت اللہ کے مطابق جو پہلے نبیوں کے وقتوں میں ظاہر ہوتی رہی اس زمانہ میں بھی وہ موعود نبی جس کا وعدہ ہندوؤں میں کرشن اور بدھوں میں میسودربھی۔ اور یہود و مسیحیوں اور مسلمانوں میں مسیح موعود کے نام سے کیا گیا تھا آ گیا ہے۔ اور خدا نے اس کے لئے ویسے ہی نشان دکھائے ہیں جیسا کہ وہ پہلے نبیوں کے ہاتھوں پر دکھاتا رہا ہے۔ اس نے دعائیں کیں اور خدا تعالیٰ نے اس کی دعاؤں کو قبول کیا۔ وہ مریض جن کی شفاء سے تمام طبی قواعد قاصر تھے اس کے ہاتھوں سے اچھے ہوئے۔ اور وہ اخبار جو اس نے قبل از وقت تمام دنیا میں شائع کی تھیں بعینہٖ پوری ہوئیں۔ حالانکہ غیب کی اخبار کثرت سے سوائے رسولوں کے اور کسی پر ظاہر نہیں ہوتیں۔ جیسا کہ تمام ادیان کا اتفاق ہے۔ قرآن فرماتا ہے فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(الجن: ۲۷، ۲۸) ”خدا تعالیٰ اپنے غیب پر غالب نہیں کرتا مگر جس کو چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے“ اسی طرح سے بائبل کہتی ہے ”جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی۔ بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے۔ تو اس سے مت ڈر۔“ (استثناء باب ۱۸ آیت ۲۲ مطبوعہ ۱۹۲۲ء)

اے صداقت کے طالبو! اور حق کے متلا شیو! میں کس طریق پر تم کو سمجھاؤں کہ وہ مسیح موعودؑ اور مہدیؑ اور کرشنؑ اور میسودربھی اور بدھ جس کا وعدہ مختلف مذاہب میں دیا گیا تھا۔ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی بانی سلسلہ احمدیہ کے وجود میں پورا ہو چکا ہے۔ اور اب قیامت تک ان پیشگوئیوں کا کوئی اور مصداق پیدا نہ ہوگا۔ میں کس طرح تمہارے دلوں میں یہ بات ڈالوں کہ خدا کے ماموروں کی شناخت ایک ایسی نعمت ہے جس کے مقابلہ میں کوئی دنیاوی نعمت نہیں ٹھہر سکتی۔ میں کن الفاظ میں تمہیں بتاؤں کہ جو شخص خدا سے جنگ کرتا ہے اس کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ اور یہ کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے رسولوں کا انکار کرتا ہے وہ در حقیقت خدا تعالیٰ کا انکار کرتا ہے۔ آہ میں کس بگل کے ذریعہ سے تمام دنیا کے سوئے ہوئے لوگوں کو جگاؤں تا وہ دیکھیں کہ خدا کا سورج نصف النہار پر آ گیا ہے۔ دنیا کا بیشتر حصہ خدا کے بعض گذشتہ نبیوں کے ماننے کا دعویدار ہے۔ مگر افسوس کہ ایسے بہت کم لوگ ہیں جنہوں نے کبھی اس بات پر غور کیا ہو کہ وہ ان نبیوں کو کیوں مانتے ہیں۔ اگر وہ اس بات پر غور کرتے تو جو دلائل وہ ان نبیوں کی صداقت کے معلوم کرتے ان ہی دلائل سے اس زمانہ کے رسول کی شناخت نہایت آسانی سے ان کو حاصل ہو جاتی۔ مگر افسوس کہ اس زمانہ میں حقیقی ایمان کی جگہ وراثتی ایمان نے لے لی ہے۔ اور اگر وہی نبیؑ جن کو مختلف اقوام مان رہی ہیں اس وقت انہی دلائل کے ساتھ جو ان کے ظہور کے وقت ان کو ملے تھے واپس آجائیں تو ان کے ماننے والے ان کا بھی مقابلہ کرنے لگیں یٰحَسۡرَۃً عَلَی الۡعِبَادِ ۚؑ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا کَانُوۡا بِہٖ(36:31) يَّسْتَہْزِءُوْنَ(یٰس: ۳۱)۔ اے افسوس بندوں پر کہ ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا مگر انہوں نے اس کی تحقیر کی اس سے ہنسی اور ٹھٹھا کیا۔

خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کی صداقت پر اس قدر نشان دکھائے ہیں اور اس قدر دلائل بھیجے ہیں کہ ؎کافی ہیں ماننے کو اگر اہل کوئی ہے۔“

جب ابھی دنیا میں کوئی شخص اس کو جانتا بھی نہ تھا۔ اس وقت اس نے اپنی کتاب براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ ۲۴۱ (جو ۱۸۸۳ء میں تمام ہندوستان میں شائع ہوئی) پر یہ الہام شائع کیا کہ ”يَأْتِيْكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ وَّ يَأْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ“ (یعنی دنیا کے دور دراز کونوں سے تیرے پاس تحفے اور آدمی آئیں گے) (روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۶۷) اور براہین احمدیہ حصہ چہارم کے صفحہ ۴۸۹ مطبوعہ ۱۸۸۴ء میں ایک یہ الہام بھی شائع کیا کہ ”فَحَانَ اَنْ تُعَانَ وَ تُعْرَفَ بَيْنَ النَّاسِ“ یعنی وہ وقت قریب آگیا ہے کہ تیری مدد کی جاوے اور تو لوگوں میں پہچانا جاوے ۔ (روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۸۱) اسی طرح ضمیمہ اخبار ریاض ہند امرتسر مطبوعہ یکم مارچ ۱۸۸۶ء میں منجملہ بہت سے الہاموں کے ایک یہ الہام شائع فرمایا۔ کہ ”خدا تیرے نام کو اس روز تک جو دنیا منقطع ہو جائے عزت کے ساتھ قائم رکھے گا۔ اور تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا“ (تذکرہ صفحہ ۱۴۱) اور ”میں تیری تبلیغ کو دنیا کے چاروں کونوں تک پہنچاؤں گا“ یعنی دنیا کے چاروں کونوں سے تیرے پاس تحفے اور آدمی آئیں گے۔ اور اب وقت آگیا ہے کہ تیری مدد کی جاوے اور تو لوگوں کے درمیان شہرت پا جاوے۔ خدا تعالیٰ تیری تعلیم کو تمام دنیا میں پھیلائے گا۔ چنانچہ واقعات نے ثابت کر دیا کہ یہ کلام اللہ تعالیٰ کا تھا۔ کیونکہ اس کے بعد لاکھوں آدمیوں نے اس کو قبول کیا اور یورپ و امریکہ ، افریقہ ، آسٹریلیا اور ایشیا کے تمام بلاد میں اس کا نام بلند ہوا ۔ اور ہر براعظم کے باشندوں میں سے سعید روحوں نے اس کی دعوت کو قبول کیا اور برابر قبول کرتی جاتی ہیں۔ اور باوجود ہر قسم کی مخالفت کے اس کی جماعت کی ترقی ہر روز پہلے کی نسبت زیادہ سُرعت سے ہو رہی ہے۔

اسی طرح اسی کتاب براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۹ پر آپ نے ہندوستان میں طاعون پھیلنے کی خبر دی تھی۔ چنانچہ اس پیشگوئی کے شائع ہونے کے قریبًا پندرہ سال بعد ہندوستان میں طاعون نمودار ہوا۔ اور اب تک ہر سال لاکھوں آدمی اس مرض میں گرفتار ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اور ابھی تک اس کے خاتمہ کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ جب یہ شروع ہی ہوا تھا اور ابھی بہت کم موتیں اس کے ذریعہ سے ہوئی تھیں ۔ اُس وقت آپ نے دوبارہ ایک مستقل اشتہار کے ذریعہ (جس کا عنوان ہی ”طاعون“ رکھا گیا تھا اور جو ۶؍فروری ۱۸۹۸ء کو لکھا گیا اور شائع کیا گیا) یہ روٴیا شائع کی کہ مجھے دکھایا گیا ہے کہ تمام پنجاب میں پودے لگائے گئے ہیں اور وہ اسی مرض کے ہیں۔ جس کے بعد تمام پنجاب میں سخت طاعون پھوٹ پڑا ۔ اسی طرح اس کے متعلق یہ الہام ہوا کہ ”موتاموتی لگ رہی ہے۔“ (دیکھو اشتہار الوصیت اشاعت ۲۷۔ فروری ۱۹۰۵ء اخبار الحکم جلد ۹ نمبر ۷ صفحہ ۱۱)

اسی طرح آپ نے چار اپریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کے متعلق قبل از وقت ان الفاظ میں خبر دی تھی کہ ”زلزلہ کا دھکا“ (دسمبر ۱۹۰۳ء) عَفَتِ الدِّيَارُ مَحَلُّهَا وَمُقَامُهَا۔ یعنی ایک ایسا سخت زلزلہ آئے گا کہ وہ عمارتوں کو بیخ و بُن سے اکھاڑ کر پھینک دے گا اور عارضی اور مستقل عمارتیں اپنی بنیاد سے اکھڑ کر گر جائیں گی۔ چنانچہ یہ الہام زلزلہ کے آنے سے قریباً ایک سال پہلے اخبار الحکم کی اشاعت ۳۱۔ مئی ۱۹۰۴ء اور البدر کی اشاعت ۲۴۔ مئی و یکم جون ۱۹۰۴ء میں شائع ہو چکا تھا چنانچہ اس الہام کے بعد چار اپریل کو جو زلزلہ وادی کانگڑہ میں آیا ۔ اس میں ۳۰ ہزار آدمی ہلاک ہوئے ۔ اور جو زخمی ہوئے ان کی تعداد اس سے بہت زیادہ تھی۔ گاؤں کے گاؤں اس طرح مٹ گئے کہ ان کا نام و نشان نہ رہا ۔ تمام پنجاب ایک سرے سے دوسرے تک ہل گیا۔ اور سینکڑوں میل پر جو شہر تھے ان میں بھی مال و جان کا نقصان ہوا ۔ اور پنجاب کے باہر بھی بنگال تک اس زلزلہ کے دھکے محسوس ہوئے ۔ غرض یہ زلزلہ ہندوستان کی تاریخ میں بالکل نرالا تھا۔

تقسیمِ بنگالہ کے موقعہ پر جب کہ تمام عہدہ داران حکومت اس بات پر مُصر تھے کہ یہ حکم بدلا نہیں جائے گا۔ اور وزرائے انگلستان بار بار اس کے اٹل ہونے کا اعلان کر رہے تھے۔ آپ نے ۱۹۰۶ء میں رسالہ ریویو آف ریلیجنز انگریزی و اُردو جلد ۵ نمبر ۲ پرچہ فروری ۱۹۰۶ء میں اور اخبارات بدر۔ الحکم و انڈین مرر کلکتہ میں اپنا یہ الہام شائع کیا۔ ”پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا‘ اب ان کی دلجوئی ہوگی۔“ (تذکرہ صفحہ ۵۹۶) چنانچہ پورے چھ سال بعد باوجود حکامِ وقت کے بار بار کے انکار کے بادشاہ جارج پنجم کی تاج پوشی کے وقت اس حکم کو منسوخ کیا گیا۔ اور یہ نشان زبردست طور پر پورا ہوا۔

امریکہ کے ایک شخص ڈوئی نامی نے جو شکاگو کا رہنے والا اور ایک بڑے فرقہ کا بانی تھا اور الیاس ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا جب ایک موقعہ پر اسلام کے خلاف بہت زہر اگلا تو آپ نے اس کے خلاف ایک اشتہار شائع کیا۔ اور اس کے متعلق خبر دی کہ وہ سخت عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ چنانچہ اس کے بعد اس کی بیوی اور اس کا بیٹا اس کے خلاف ہو گئے اور وہ حرام زادہ ثابت کیا گیا اور اس کے مریدوں نے اس کو چھوڑ دیا۔ آخر فالج میں مبتلا ہوا اور دیوانہ ہو کر مرا۔ اس قسم کے نشانات تو بہت سے ہیں۔ لیکن اس شخص کا اس لئے خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ وہ یورپ و امریکہ میں خاص شہرت رکھتا تھا اور دونوں براعظموں میں اس کے مرید پھیلے ہوئے تھے۔

ترکی حکومت کی بربادی اور سلطان عبدالحمید خاں کے اپنے امراء کے ہاتھوں دکھ پانے کے متعلق بھی آپ نے قبل از وقت ۲۴۔ مئی ۱۸۹۷ء کو ایک اشتہار کے ذریعہ خبر دی تھی جو نہایت واضح طور پر پوری ہوئی۔

ایرانی حکومت کے انقلاب کے متعلق بھی آپ نے اپنا یہ الہام ۱۵؍جنوری ۱۹۰۶ء کو شائع کیا کہ تزلزل در ایوانِ کسریٰ فتاد۔ شاہ ایران کا محل ہلایا گیا ہے (دیکھو ریویو آف ریلیجنز اُردو بابت جنوری ۱۹۰۶ء) چنانچہ تین سال کے بعد یہ الہام ایرانی بغاوت اور شاہِ ایران کے بھاگ جانے سے پورا ہوا۔

بلقان کی جنگ کی نسبت بھی آپ کے الہامات میں پہلے سے خبر دی گئی تھی۔ چنانچہ ۱۹۰۴ء میں یہ الہام آپ کا ریویو آف ریلیجنز اُردو بابت جنوری ۱۹۰۴ء میں شائع کیا گیا کہ غُلِبَتِ الرُّوۡمُ فِیۡۤ اَدۡنَی الۡاَرۡضِ وَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ غَلَبِہِمۡ سَیَغۡلِبُوۡنَ(30:3-4)۔ ترک اپنے پاس کے علاقہ میں مغلوب ہوں گے اور اپنے مغلوب ہونے کے بعد جلد پھر غالب ہو جائیں گے۔ چنانچہ قسطنطنیہ جو ترکوں کا دارالخلافہ ہے اس کے پاس ہی بلقانی طاقتوں سے ترکوں کو شکست ہوئی اور فوراً ہی ان کی آپس کی خانہ جنگی کے باعث ترکوں کو ایڈریانوپل کی فتح عظیم حاصل ہوئی۔ جس سے پیشگوئی کے دونوں پہلو خوارقِ عادت طور پر پورے ہوئے۔

موجودہ جنگ کے متعلق بھی آپ نے ان الفاظ میں یہ پیشگوئی ۱۹۰۵ء میں شائع فرمائی کہ ؎

اک نشان ہے آنیوالا آج سے کچھ دن کے بعد

جس سے گردش کھائیں گے دیہات و شہر و مرغزار

آئے گا قہرِ خدا سے خلق پر اک انقلاب

اک برہنہ سے نہ یہ ہوگا کہ تا باندھے ازار

یک بیک اک زلزلہ سے سخت جنبش کھائیں گے

کیا بشر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا بحار

اک جھپک میں یہ زمیں ہو جائے گی زیروزبر

نالیاں خوں کی چلیں گی جیسے آبِ رودبار

رات جو رکھتے تھے پوشاکیں برنگ یاسمن

صبح کر دے گی انہیں مثلِ درختانِ چنار

ہوش اڑ جائیں گے انساں کے پرندوں کے حواس

بھولیں گے نغموں کو اپنے سب کبوتر اور ہزار

ہر مسافر پر وہ ساعت سخت ہے اور وہ گھڑی

راہ کو بھولیں گے ہو کر مست و بے خود راہوار

خون سے مردوں کے کوہستان کے آبِ رواں

سرخ ہو جائیں گے جیسے ہو شرابِ انجلبار

مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن و انس

زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی باحالِ زار

اک نمونہ قہر کا ہو گا وہ ربانی نشان

آسماں حملے کرے گا کھینچ کر اپنی کٹار

ہاں نہ کر جلدی سے انکار اے سفیہہِ ناشناس

اس پہ ہے میری سچائی کا بھی دارومدار

وحی حق کی بات ہے ہو کر رہے گی بے خطا

کچھ دنوں کر صبر ہو کر متقی اور بردبار

یہ گماں مت کر کہ یہ سب بدگمانی ہے معاف

قرض ہے واپس ملے گا تجھ کو یہ سارا ادھار

اسی طرح یہ کہ ”کشتیاں چلتی ہیں تا ہوں کشتیاں“ (الہام ۱۱۔ مئی ۱۹۰۶ء۔ تذکرہ صفحہ ۶۱۵) یعنی جہاز کثرت سے ادھر ادھر چلیں گے تاکہ لڑائی ہو۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ جنگ میں جہازوں کا بہت بڑا دخل ہے کیونکہ ان کے ذریعہ سے مختلف علاقوں کی فوجوں کو جنگ کے مختلف میدانوں میں پہنچایا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نظیر تاریخ عالم میں بالکل نہیں ملتی۔ پھر آب دوز جہاز نہایت خطرناک تباہی کر رہے ہیں۔ اسی طرح بحری محاصرہ کے باعث جو اپنی نظیر آپ ہی ہے ہر وقت ہزاروں چھوٹے بڑے جہاز اس جنگ میں استعمال ہو رہے ہیں کہ ان کی مثال پہلے زمانہ میں ملنی تو الگ رہی ان سے دسواں حصہ بھی کبھی کسی پہلی جنگ میں جہازوں نے کام نہیں کیا۔ کشتی کا لفظ رکھ کر جو گو بڑے جہاز پر بھی بولا جاتا ہے مگر خصوصاً چھوٹے جہاز پر استعمال ہوتا ہے بوٹس (آبدوز کشتیوں) کے بے دردانہ حملہ کی طرف جو بحری محاربات میں سب سے زیادہ اہم ہے خاص طور پر اشارہ کیا گیا ہے۔

یہ نشانات ان ہزاروں نشانات میں سے نمونہ کے طور پر بیان کئے گئے ہیں جو خدا تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ دکھائے۔ اور یہ نشانات ایسے ہیں کہ جن کے معلوم کر لینے کے بعد حضرت مسیح موعودؑ کے دعوٰی کی صداقت میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ انسان کا کام نہیں کہ وہ اس طرح کثرت کے ساتھ آئندہ ہونے والے واقعات کی خبریں دے اور وہ نہایت صفائی سے اپنے وقت پر پوری ہوں۔

ایک یا دو یا تین ہوں تو انسان ان کو ڈھکو سلا یا قیاس کہہ سکتا ہے۔ لیکن اس کثرت سے بار بار پیشگوئیاں کرنا اور ان سب کا اپنے وقت پر پورا ہونا ایک ایسی بات ہے جو انسانی طاقت سے بالکل بالا ہے۔

مختلف مذاہب کے پیرو جب کہ اپنی کتب میں اپنے نبیوں کی پیشگوئیوں کا حال پڑھ کر ان پر ایمان لاتے ہیں اور ان سے ان کی صداقت پر استدلال کرتے ہیں حالانکہ ان کتب کی نسبت شبہ بھی ہو سکتا ہے کہ شائد وہ پیشگوئیاں بعد میں ملا دی گئی ہوں تو پھر کیوں ان کو ان پیشگوئیوں کے ظہور پر جن کی صداقت میں کوئی شبہ ہی نہیں مسیح موعودؑ کی صداقت کے اقرار سے انکار ہے۔ یہ زمانہ پریس کا زمانہ ہے۔ صرف زبانی روایت پر کسی بات کا دارومدار نہیں ہوتا حضرت مسیح موعودؑ کی جن پیشگوئیوں کا ذکر میں نے کیا ہے وہ قبل از وقت مختلف کتب اور اخبارات و رسائل میں شائع ہو چکی تھیں اس لئے کسی خطرناک سے خطرناک دشمن کو بھی یہ طاقت نہیں کہ وہ یہ بات کہہ سکے کہ یہ پیشگوئیاں بعد میں بنائی گئی ہیں۔ کیونکہ نہ صرف یہ کہ وہ قبل از وقت شائع ہو کر دوست و دشمن میں تقسیم ہو گئی تھیں بلکہ ان کے ثابت کرنے کا خدا تعالیٰ نے ایک اور بھی ذریعہ نکالا ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعودؑ ایک غیر مذہب کی حکومت کے ماتحت رہتے تھے اور اس گورنمنٹ کا یہ قاعدہ ہے کہ ہر کتاب یا رسالہ یا اشتہار یا اخبار جو شائع ہو اس کی ایک کاپی بغرض فائل گورنمنٹ کے دفتر میں بھیجی جائے۔ پس اس بات کا ثبوت کہ آیا واقعہ میں پیشگوئیاں قبل از وقت بھی کی گئی تھیں یا نہیں۔ خود گورنمنٹ کے کاغذات اور فائلوں سے

بھی مل سکتا ہے اور یہ ایک ثبوت ہے جس کو کوئی رد نہیں کر سکتا۔ پس ایسے نشانات اور ثبوتوں کے باوجود کیونکر ممکن ہے کہ ایک شخص حضرت مسیح موعودؑ کے دعوے کو توڑ کر دے اور ان پہلے انبیاء کے دعوؤں کو مان لے جن کی پیشگوئیوں کا سوائے حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ آیا واقعہ میں وہ قبل از وقت شائع بھی کی گئی تھیں کہ نہیں۔ پھر انہی پیشگوئیوں پر بس نہیں جو اس وقت تک پوری ہو چکی ہیں بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ متواتر نئے سے نئے نشانات آپ کی صداقت کے ثبوت میں اللہ تعالیٰ دکھاتا ہے۔ چنانچہ انہی دنوں میں آپ کی دو اور زبردست پیشگوئیاں پوری ہوئی ہیں ایک فتح عراق کے متعلق اور ایک زارِ روس کی علیحدگی کے متعلق۔ اول الذکر پیشگوئی کا ذکر ایک علیحدہ اشتہار میں کیا جاوے گا۔ اس وقت ثانی الذکر پیشگوئی کو دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ سعید روحوں کو اس سے نفع حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے حضرت مسیح موعودؑ نے موجودہ جنگ کی نسبت ایک پیشگوئی اردو کی نظم میں شائع فرمائی تھی اس پیشگوئی میں ایک یہ شعر بھی تھا۔

مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن و انس

زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی باحال زار

یعنی اس جنگ کا خوف تمام بڑے اور چھوٹے آدمیوں کے دلوں میں گھر کر لے گا اور اس وقت زارِ روس کی حالت بھی نہایت زار ہو جائے گی۔

یہ پیشگوئی براہین احمدیہ حصہ پنجم میں ۱۵؍اپریل ۱۹۰۵ء میں لکھی گئی (روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۵۲) جیسا کہ اس کے نیچے نوٹ درج ہے لیکن یہ کتاب بعض وجوہ سے ۱۹۰۸ء میں شائع ہوئی۔ اسی طرح ۱۹۱۴ء کے پرچہ ریویو آف ریلیجنز میں یہ پیشگوئی لفظ بلفظ مع ترجمہ انگریزی شائع کی گئی۔

اس پیشگوئی کے نیچے ایڈیٹر کی طرف سے جو نوٹ دیا گیا تھا اس میں اس حصہ پیشگوئی کی طرف خاص طور پر اشارہ کیا گیا تھا چنانچہ کہا گیا تھا کہ ؎؎

”اس پیشگوئی میں جو تفصیل دی گئی ہے وہ مختلف امور پر شامل ہے اور اس کی خطرناک تفاصیل ایسی ہیبت ناک ہیں کہ ان کو پڑھ کر انسان کے بدن پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور بدن کانپ اٹھتا ہے زارِ روس کے ذکر سے اس پیشگوئی میں ایک خاص دلچسپی پیدا ہو گئی ہے۔“

اس کے بعد ستمبر ۱۹۱۴ء کے پرچہ میں یہ پیشگوئی شائع کی گئی۔ اسی طرح جون ۱۹۱۵ء میں اور جنوری ۱۹۱۶ء میں یہ پیشگوئی شائع کی گئی۔ پیشگوئی جن واضح الفاظ میں ہے اس کے متعلق لکھنے کی ہمیں چنداں ضرورت نہیں۔ صاف الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ اس جنگ کے دوران میں زارِ روس ایک ایسی حالت میں مبتلا ہو گا جو بالکل ردی اور قابلِ رحم ہو گی۔ اردو کے الفاظ جو زار کی حالت کے اظہار کے لئے استعمال کئے گئے ہیں حالِ زار کے ہیں۔ جن کے معنے ایسی حالت کے ہیں جس میں سب سامان ہاتھ سے جاتے رہیں اور بغیر کسی دوسرے کے بتانے کے وہ حالت اپنی خرابی اور تباہی کو آپ بیان کرے۔

یہ پیشگوئی جس وقت کی گئی تھی اس وقت ان حالات کا جو آج ۱۹۱۷ء میں پیش آئے ہیں کوئی نام و نشان نہ تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ روس اس وقت جاپان سے برسرِ جنگ تھا لیکن اس وقت صلح کی کارروائی کی کوشش امریکہ کے ذریعہ شروع تھی اور پیشگوئی بتاتی ہے کہ

اک نشاں ہے آنے والا آج سے کچھ دن کے بعد

جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نشان اس تاریخ کے بعد آنے والا ہے۔ دوم اس پیشگوئی سے صاف ظاہر ہے کہ یہی وہ آفت ہو گی جو سب دنیا پر آوے گی اور جس کی مصیبت عام ہو گی۔ اس پیشگوئی کے الفاظ صاف بتاتے تھے کہ یہ واقعات اس وقت کے پیش آمدہ حالات کے علاوہ تھے اور بعد میں آنے والے تھے اور ایسے رنگ میں ظاہر ہونے والے تھے کہ ان کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں پائی جاتی۔ غرض یہ پیشگوئی ایسے وقت میں کی گئی تھی کہ جب قیاس سے ان واقعات کا علم نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ اس میں بتایا گیا تھا کہ زار کی حالت زار ہونے کا وہ وقت ہو گا جب کہ کل دنیا ایک عام مصیبت میں مبتلا ہو گی۔ اور

خون سے مُردوں کے کوہستان کے آبِ رواں

سرخ ہو جائیں گے جیسے ہو شرابِ انجلبار

اور؎

مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن و انس

اور یہ حالات ۱۹۱۴ء سے پہلے نہیں پیدا ہوئے بلکہ اس وقت بھی خود وہ لوگ بھی جن کے ہاتھ میں مخاصمین حکومتوں کی باگ ڈور تھی اس خطرناک حالت کا اندازہ نہیں کر سکتے تھے جو بعد کے واقعات سے پیدا ہو گئی۔ حتیٰ کہ برطانیہ کے بعض وزراء تک اس بات پر زور دے رہے تھے کہ ایک سال کے اندر یہ جنگ ختم ہو جائے گی اور یہ کہ دسمبر ۱۹۱۴ء میں سپاہی انگلستان میں آ کر عید منائیں گے۔ پس ۱۹۰۵ء میں ایک عظیم الشان جنگ کی خبر دینا اور پھر یہ بتانا کہ اس جنگ کے دوران میں زارِ روس ایک خطرناک مصیبت میں مبتلا ہو گا اور اس کا حال ایسا خراب اور خستہ ہو جائے گا کہ اپنی حالت کی آپ ترجمانی کرے گا ایک ایسی زبردست پیشگوئی ہے جس کی مثال بہت سے پہلے انبیاء کی پیشگوئیوں میں بھی نہیں مل سکتی۔ اور جو تاریخی ثبوت اس پیشگوئی کے قبل از وقت شائع ہونے کا موجود ہے وہ تو اپنی نظیر آپ ہی ہے۔

جس قدر بھی اس پیشگوئی کے الفاظ پر غور کیا جاوے، پھر زار کی طاقت اور رسوخ کو دیکھا جائے، پھر اس کی معزولی کے حالات کو دیکھا جائے اتنی ہی اس کی عظمت ظاہر ہوتی ہے زار کو جو رسوخ اس کے ملک میں حاصل تھا وہ اس کی تاریخ سے واقف لوگوں سے پوشیدہ نہیں اور جیسا کہ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کا فاضل مضمون نگار روس کے ہیڈنگ کے نیچے لکھتا ہے۔ جو شورش پسند لوگ تھے وہ بھی آہستہ آہستہ امن پسندی کی طرف آ رہے تھے۔ اور ڈوما کے قیام سے لوگوں کے جوش بہت کچھ دب گئے تھے۔ علاوہ ازیں زار کی حفاظت کے لئے کاسکس کی ایک بڑی فوج رکھی جاتی تھی جن پر زار کو بہت بھروسہ تھا۔ لیکن باوجو د زار کی اس طاقت کے اور ملک کی شورش پسند جماعتوں کے دب جانے کے ۱۲ مارچ کو یک لخت ایسا جوش نمودار ہوا کہ تین دن کے اندر اندر زار کو تخت سے دست بردار ہونا پڑا۔ اور ان کی شکستہ حالت کا اس سے علم ہو سکتا ہے کہ ان کو کئی پہلو بدلنے پڑے۔ اول اپنے وزراء کو اطلاع دی کہ انہوں نے جنرل ایوانوف کو انتظام دارالخلافہ کے لئے مقرر کر دیا ہے اس لئے وہ گھبرائیں نہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بغاوت ایسی جلدی اور تیزی سے پھیلی تھی کہ زار اس کے عمق کو معلوم نہیں کر سکے اور معمولی خیال کیا۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد جب ان کو معلوم ہوا کہ دارالخلافہ کی گارد تک علیحدہ ہو گئی ہے اور باقی سپاہ بھی باغیوں سے مل رہی ہے تو اپنے بھائی کے حق میں حقوقِ بادشاہت منتقل کرنے چاہے۔ لیکن جب دیکھا کہ لوگ اس پر بھی راضی نہیں ہوتے تو آخر اعلان کیا کہ ”ڈوما کے ساتھ متفق ہو کر ہم نے یہ دیکھا کہ ملک کی بہبودی کے لئے یہ بہتر ہے کہ ہم تاج سے دست بردار ہو جائیں اور اپنے اعلیٰ اختیار سے مستعفی ہو جاویں“ لیکن اس پر بات ختم نہ ہوئی قائم مقامانِ ملک نے مناسب سمجھا کہ زار کو نظر بند کیا جائے چنانچہ رپورٹر خبر دیتا ہے کہ ”زار کے اپنے محل پر پہنچنے سے پہلے ڈوما کے وکلاء میگیلو پہنچ گئے۔ انہوں نے جرنیل

امیگزین کے سامنے گرفتاری کا حکم پیش کر دیا اور اس نے زار کو جو کہ بادشاہی گاڑی کے اندر انتظار کر رہا تھا خبر دی ۔ ڈوما کے اس فیصلہ کے جواب میں جو کچھ زار نے جواب دیا وہ گویا پیشگوئی کے الفاظ ہی کی تشریح تھی کیونکہ اس نے کہا کہ ”مجھے جہاں بھی بھیجو وہاں جانے کے لئے تیار ہوں ۔ اور ہر ایک فیصلہ کے آگے سر تسلیم خم کرتا ہوں ۔ ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ اس کی حالت انتہائی مایوسی تک پہنچ گئی تھی اور پھر رپورٹر اس کی حالت کی نسبت لکھتا ہے ”جب وہ بادشاہی خیمہ میں پہنچا تو سابق زار روسی سپاہی کی وردی پہنے ہوئے تھا اس کا چہرہ متفکر نظر آتا تھا ۔“ گرفتاری کے بعد کی حالت اور بھی زار بتائی جاتی ہے ۔ چنانچہ رپورٹر اطلاع دیتا ہے کہ ”اخبارات زار کے بھائیوں سے روزانہ ملاقاتیں شائع کرتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ زار اور زارینہ درد انگیز علیحدگی کی حالت میں ہیں ۔ اور وہ ملک کے اصل حالات اور شاہی خاندان کی کیفیت سے بالکل بے خبر ہیں ۔“ یہ تمام حالات بتاتے ہیں کہ غیر معمولی طور پر زار کی حالت ایک زبردست بادشاہ کے بجائے ایک شکستہ حال انسان کی ہو گئی ۔ اور اس طرح خدا تعالیٰ کا وہ کلام پورا ہوا کہ ”زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی باحالِ زار“ مذکورہ بالا واقعات کے علاوہ اور واقعات بھی ہیں جو بتاتے ہیں کہ یہ پیشگوئی خاص شان کے ساتھ پوری ہوئی ۔ اول یہ کہ جیسا کہ بعد کی تاروں سے معلوم ہوتا ہے ۔ روس کے مدبروں نے اس بات کا فیصلہ کر دیا ہے کہ اب کوئی زار نہ ہو گا بلکہ ریپبلک حکومت ہو گی اگر وہ لوگ موجودہ زار کی جگہ کسی اور کو زار بنا دیتے تو شائد بعض معترض کہتے کہ اب زار ایک اور شخص ہے اور اس کی حالت زار نہیں لیکن آئندہ ریپبلک کا فیصلہ ہو جانے کے بعد اب کوئی زار نہیں ہو سکے گا ۔

دوم پیشگوئی کے الفاظ بتاتے ہیں کہ زار کی معزولی قتل کے سوا اور ذرائع سے ہو گی کیونکہ جو شخص قتل کیا جائے اس کا حال زار نہیں کہلا سکتا حالِ زار اسی شخص کا ہوتا ہے جو زندہ رہے اور پہلے کی نسبت اس کا حال خراب ہو جائے اور سب سامان جاتے رہیں ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ زار کو قتل کرنے کی بجائے زندہ گرفتار کیا گیا اور حکومت سے علیحدہ کیا گیا اور تمام دنیا نے اس کے حالِ زار کا اقرار کیا ۔

سوم یہ پیشگوئی ایسے رنگ میں پوری ہوئی ہے کہ اس کی اشاعت اچھی طرح سے کی جا سکتی ہے ۔ اور خدا تعالیٰ کی قدرت کا ثبوت ہے ورنہ اگر زار کو تکلیف جرمن کے ہاتھوں سے پہنچتی یا جو حکومت اس کی معزولی پر قائم ہوئی تھی وہ گورنمنٹ برطانیہ سے دوستانہ تعلقات نہ رکھتی تو اس پیشگوئی کے پورے ہونے پر اس کی اشاعت سیاسی امور کے خلاف ہوتی۔ مگر جو پیشگوئیاں شائع کی جاتی ہیں وہ لوگوں کی ہدایت کے لئے ہوتی ہیں اور خدا تعالیٰ خود ایسے سامان کر دیتا ہے کہ جب وہ پوری ہوں تب بھی ان کی اشاعت کثرت سے کی جائے۔ سو اس وقت زار کی معزولی کا جو گورنمنٹ برطانیہ کا حلیف تھا ایک ایسے رنگ میں واقع ہونا کہ جس کو شائع کرنا کسی مصلحت کے خلاف نہیں بناتا ہے کہ اس خبر کا دینے والا قادر خدا ہے جس نے اگر ایک خبر قبل از وقت بتا دی تھی تو اس کے شائع کرنے کے سامان بھی خود ہی کر دیئے ہیں۔ میں آخر میں تمام بنی نوع انسان کو جو خواہ کسی مذہب یا فرقہ کے پیرو ہوں یا کسی ملک کے باشندے ہوں اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ کیا یہ زبردست نشان اس بات کی کافی شہادت نہیں کہ جس کے ہاتھ پر ظاہر ہوا وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کے بھیجے ہوؤں میں ہے اگر نہیں تو کسی نبی کی صداقت کا بھی کوئی ثبوت نہیں۔ اے عزیزو! دنیا کے فسق و فجور کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے کہ پھر اسے راستی اور صداقت سے بھر دے اور اسے نیکی اور تقویٰ پر قائم کر دے۔ وہ مہربان خدا جو ہمیشہ گمراہی اور تاریکی کے زمانوں میں ہادی بھیجتا رہا ہے اور صداقت کا سورج چڑھاتا ہے اس کی رحمت نے تقاضا کیا کہ اس زمانہ کو بھی اپنی رحمت سے محروم نہ رہنے دے۔ پس اس نے اپنا رسول بھیج کر اپنے قرب کے دروازے کھول دیئے۔ جس کے دل میں اس کی محبت ہو اور جس کی روح اس کے آستانے پر گرنے کے لئے تڑپتی ہو وہ آگے بڑھے کہ اس کی خواہش کے پورا ہونے کا وقت آگیا ہے اور اس کی آرزو کے بر آنے کی گھڑی آگئی ہے۔ آہ! کیا داناؤں کی آنکھیں کھولنے کے لئے یہ بات کافی نہیں کہ اس وقت تمام کے تمام مذاہب اس نعمتِ عظمیٰ کے پانے سے محروم ہیں جس کی نسبت سب کو اقرار ہے کہ پہلے زمانہ میں ان کے بڑوں کو حاصل تھی۔ سب مذاہب کہتے ہیں کہ ان کے بڑوں کو الہام ہوتے تھے لیکن یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اب ان کو نہیں ہوتے۔ کیا کوئی سعید روح نہیں جو اس بات پر غور کرے کہ کیوں پہلے الہام کا دروازہ کھلا تھا اور اب نہیں۔ کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ مذاہب اس جادۂ ہدایت سے جس پر وہ پہلے قائم تھے دور ہٹ گئے ہیں۔ کیسے افسوس کی بات ہے کہ خدا پر الزام لگایا جاتا ہے۔ لیکن اپنی کمزوری کا اقرار نہیں کیا جاتا۔ یہ تو کہا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے بلاوجہ وحی کا دروازہ بند کر دیا ہے لوگ وہ تمام اعمال بجالاتے ہیں جو پہلے بجالاتے تھے لیکن خدا تعالیٰ ان کو وحی نہیں کرتا۔ لیکن یہ نہیں تسلیم کیا جاتا کہ خدا تعالیٰ تو فضل کرنے کے لئے اب

بھی تیار ہے مگر خود ہی اس کی رضا کی راہ کو چھوڑ گئے ہیں جس کی وجہ سے اس کے فضلوں سے محروم ہو گئے ہیں۔ ورنہ خدا تعالیٰ اب بھی بولتا ہے۔ چنانچہ اس نے اس زمانہ میں حضرت مرزا غلام احمدؑ مسیح موعودؑ سے کلام کیا ہے اور ان کی اتباع کرنے والے اور ہزاروں سے ہم کلام ہوا ہے۔

اے اہلِ ہند! آپ خواہ کسی قوم یا کسی مذہب یا کسی زبان کے بولنے والے ہیں۔ میں آپ کو اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ آپ لوگ اس نعمت الٰہی کی قدر کریں جو اس نے اپنے فضل سے آپ پر نازل فرمائی ہے۔ کسی ملک میں خدا تعالیٰ کا نبی آنا اس ملک کی کچھ کم عزت نہیں بلکہ یہ وہ انعام الٰہی ہے جس پر قومیں رشک کرتی ہیں۔ خوش ہو کہ خدا نے اس زمانہ کے لئے ملک ہند کو جو آپ لوگوں کا مسکن و وطن ہے چنا۔ مختلف ممالک کے لوگ اس نعمت کے حصول کے لئے سخت آرزو مند تھے اور ہر ایک شخص خواہش کرتا تھا کہ میرا ملک اس کا مورد ہو۔ لیکن خدا کے فضل نے اس نعمت کا سزاوار ہند کو قرار دیا۔ پس اہلِ ہند جس قدر بھی اس احسان پر خوش ہوں کم ہے۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی نادانی ہو سکتی ہے کہ خدا تعالیٰ کسی ملک کو انعام دے اور وہ اس کے لینے سے انکار کرے۔ پس حق کے قبول کرنے لئے دوڑو کہ اس میں آپ لوگوں کے لئے دینی و دنیاوی دونوں طرح کی عزت ہے۔ وہ دن آتے ہیں جب مسیح موعودؑ کے طفیل ہندوستان کا نام بلند کیا جائے گا۔ بلکہ وہ دن دروازہ پر ہے بلکہ اس کی پو پھٹ رہی ہے۔ پس غفلت شعار مت بنو۔ اور اس شخص کی طرح مت ہو جس کے گھر میں چشمہ پھوٹ رہا ہو اور چاروں طرف کے لوگ اس میں آکر خیمہ زن ہو رہے ہوں اور اُس سے سیراب ہو رہے ہوں لیکن وہ خود پیاسا تڑپ رہا ہو اور پانی پینے کی کوشش نہ کرے۔ مختلف ممالک کی سعادت مند روحیں خدا کے اس مامور کے دامن سے وابستہ ہو کر فیوض روحانی حاصل کر رہی ہیں۔ پس کس قدر افسوس ہے اس قوم پر جو قریب ہو کر بعید ہو اور پاس ہو کر دور ہو۔ گنگا آپ لوگوں کے گھروں میں بہہ رہی ہے اس کے متبرک پانی میں نہا کر اپنی ادناس کو دور کرو۔ کہ خدا کے نزدیک مادی پانی سے اپنے بدن کو صاف کرنے والا شخص پاک نہیں کہلاتا بلکہ وہ جو کہ روحانی پانی سے اپنے آپ کو پاک کرتا ہے۔

اے اہلِ ہند! اپنی عزت کا خیال ایک فطرتی امر ہے جو ہر انسان کے اندر پایا جاتا ہے گو اس عزت کے معیار میں فرق ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ تو ناجائز طور پر تمام عزت کی باتوں کو اپنی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو دیکھو ہر ایک مشہور آدمی کا مقبرہ یا کوئی اور متبرک شئے جو کسی غیر ملک میں پائی جاتی ہے اس کی نقل انہوں نے یہاں بنا رکھی ہے اور اس کو اصل قرار دیتے ہیں۔ ہندوؤں کا بھی یہی حال ہے۔ ایک ایک بزرگ کے مسکن و مولد کے کئی علاقے دعویدار ہیں کیونکہ وہ اس میں اپنی عزت پاتے ہیں۔ جب غلط اور بناؤٹی عزت کے لئے اس قدر کوشش کی جاتی ہے تو حقیقی اور سچی عزت کو کیوں چھوڑا جاتا ہے۔ خدا کے انعام کی قدر کرو کہ اس میں بھلا ہے اگر آپ لوگوں پر بڑا فضل ہوا ہے تو آپ بڑی ذمہ داری کے نیچے بھی ہیں جو خدا کے فضل کو رد کرتا ہے خدا تعالیٰ کا غضب اس پر بھڑک پڑتا ہے۔ پس اپنے دل میں خود فیصلہ کرو کہ ان دونوں میں سے کون سی شئے اس قابل ہے کہ اسے قبول کیا جائے آیا اس کا غضب یا فضل۔ خوب یاد رکھو خدا کا غضب برداشت کرنے کی کسی میں طاقت نہیں۔ پس اس کے فضل کو قبول کرو اور اس کے مامور اور اوتار پر ایمان لاؤ تا دونوں جہان میں سکھ پاؤ۔

اے یورپ و امریکہ کے لوگو! تم نے خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ مادی عالم کو اختیار کر کے بہت سے فوائد حاصل کئے ہیں اور علوم و فنون کے دروازے تم پر کھل گئے ہیں۔ کیا یہ تمہارے لئے کافی تحریص نہیں کہ اس کے عالمِ روحانی کی بھی سیر کرو تا اس سے بھی زیادہ کامیابی کا منہ دیکھو۔ تم خدا تعالیٰ کی قدرت کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کر رہے ہو اور اس جنگِ عالمگیر کی عظمت اور زارِ روس کی حالتِ زار کو ان لوگوں کی نسبت جو دوسرے ممالک کے رہنے والے ہیں زیادہ عمدگی سے سمجھ سکتے ہو۔ پس خدا کے نشانوں سے فائدہ اٹھاؤ تا خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنو۔ یاد رکھو کہ وہ اسلام جو پادریوں نے تمہارے سامنے پیش کیا ہے حقیقی اسلام نہیں بلکہ مسخ کر کے تمہارے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ حقیقی اسلام علومِ روحانی کا ایک ایسا بیش بہا ذخیرہ ہے کہ اس کا مقابلہ کوئی اور مذہب نہیں کر سکتا۔ حضرت مسیحؑ فرماتے ہیں کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ پس اسلام کو اس نظر سے نہ دیکھو جس سے کہ اسلام کے دشمن تم کو دکھانا چاہتے ہیں بلکہ اس نظر سے دیکھو جس سے کہ مسیحؑ تم کو دکھانا چاہتا ہے۔ اور غور کرو کہ اسلام کے پھل کیسے شیریں ہیں۔ اس وقت جب کہ سب مذاہب اپنی صداقت کا زندہ نمونہ پیش کرنے سے قاصر ہیں اسلام ہی ایک مذہب ہے کہ جو اپنی زندگی کا ثبوت دیتا ہے اور جس پر چل کر انسان خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہوتا ہے۔ پس اسلام کو قبول کرو اور اس نبیؐ پر جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں اور اسلام کی شریعت پر چل کر خدا سے اس رتبہ کو پایا ہے ایمان لاؤ تا تم خدا تعالیٰ کے سب احکام کے قبول کرنے والے اور اس کے سب نبیوں کے ماننے والے قرار پاؤ اور مسیح کی روح تم سے خوش ہو۔ کیونکہ جو اس کے مثیل کو قبول کرتا ہے وہی اس کو بھی قبول کرتا ہے اور جو اس کے مثیل کو رد کرتا ہے وہ درحقیقت اس کو رد کرتا ہے جس کے نام پر وہ آیا ہے۔

وَآخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

خاکسار مرزا محمود احمد قادیان ۴؍ اپریل ۱۹۱۷ء

خدا کے قہری نشان

(پیشگوئی زارِ روس پر استہزاء کرنیوالوں کو جواب)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم نَحمَدُہٗ وَ نُصَلِّی عَلٰی رَسُولِہِ الكَرِیم

”دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“

خدا کے قہری نشان

پرسوں بروز بدھ مجھے کچھ ٹریکٹ ملے جن میں حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئی متعلق زار پر کچھ اعتراض تھے اور تمسخر کیا گیا تھا۔

میں نے جب ان اشتہارات کو پڑھا تو میرے دل کو اس سے سخت صدمہ ہوا کہ اس وقت مسلمانوں کی حالت کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وہ اسلام کی فتح پر بجائے خوش ہونے کے ناراض ہوتے ہیں اور بجائے ایمان میں بڑھنے کے کفر کی طرف قدم اٹھاتے ہیں اور بجائے خدا تعالیٰ کے مامور کی شناخت کرنے کے دوسرے کے لئے بھی گمراہی کا موجب بنتے ہیں بلکہ اس پر فخر کرتے ہیں اور میرے دل سے اپنے رب کے حضور ایک فریاد اٹھی کہ اے خدا تُو ہی اس کا جواب ان نادانوں کو دے تاکہ یہ سمجھیں کہ ان کی بھلائی کس بات میں ہے اور ان کی ہلاکت کس امر میں۔

مجھے تعجب ہے کہ اس بات کے ثابت کرنے کے لئے حضرت مسیح موعودؑ نے جو ایک شدید آفت کی نسبت پیش گوئی کی تھی اس سے مراد یقیناً زلزلہ تھا۔ کاتب اشتہار نے دیانتداری سے کام نہیں لیا وہ براہین احمدیہ حصہ پنجم سے ایک حوالہ نقل کرتا ہے کہ ”پھر آپ خود سوچ لیں کہ یہ پیش گوئی گول مول کیسے ہوئی جب کہ صریح اس میں زلزلہ کا نام بھی موجود ہے اور یہ بھی موجود ہے کہ اُس میں ایک حصہ ملک کا نابود ہو جائے گا۔ اور یہ بھی موجود ہے کہ وہ میری

زندگی میں آئے گا۔“ صفحہ ۹۰ سطر ۹۔ (روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۲۵۱، ۲۵۲) لیکن یہ حوالہ جو اس نے نقل کیا ہے آئندہ پیش گوئی کے متعلق ہے ہی نہیں بلکہ سائل کے اس سوال کے جواب میں یہ تحریر لکھی گئی ہے کہ ۴۔ اپریل کا زلزلہ آپ کی پیش گوئی کے مطابق کس طرح کہلا سکتا ہے۔ چنانچہ سائل کا اگلا فقرہ خود اس امر کی تصدیق کرتا ہے۔ وہ لکھتا ہے ”جناب مقدس مرزا صاحب نے دوبارہ زلزلہ آنے کی خبر دی ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ مجھے علم نہیں دیا گیا کہ وہ کوئی زلزلہ ہے یا کوئی اور شدید آفت ہے اور مجھے علم نہیں دیا گیا کہ ایسا حادثہ کب ہو گا۔“ صفحہ ۹۱ یہ فقرہ صاف بتا رہا ہے کہ سائل کا پہلا سوال پہلے زلزلہ کے متعلق تھا جو پورا ہو چکا۔ اور دوسرا سوال آئندہ کی پیش گوئی کے متعلق تھا۔ اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آئندہ آنے والی خبر کے متعلق اسی وقت کہہ دیا گیا تھا کہ اس کی مراد زلزلہ کے سوا اور کوئی آفت شدیدہ بھی ہو سکتی ہے۔ اور جو جواب حضرت مسیح موعودؑ نے سائل کو دیا ہے اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ ضروری نہیں کہ زلزلہ ہی آئے بلکہ ممکن ہے کہ کوئی اور آفت شدیدہ ہو۔ چنانچہ جو حوالجاتِ کاتب اشتہار دیتا ہے وہ بھی بتا رہے ہیں کہ آپ نے اس بات کا اظہار کر دیا تھا کہ بعید نہیں کہ زلزلہ سے مراد کوئی اور آفت ہو۔ چنانچہ وہ ایک حوالہ براہین احمدیہ سے لکھتا ہے۔ ”ہم نے کب اور کسوقت اپنی پیشگوئیوں کے الفاظ کے یہ معنی کئے ہیں کہ ان سے مراد زلزلہ نہیں ہے بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ اکثر اور اغلب طور پر زلزلہ کے لفظ سے مراد زلزلہ ہی ہے۔“ یہ الفاظ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کو یہ خیال ضرور تھا کہ زلزلہ سے مراد کوئی اور آفت بھی ہو سکتی ہے چنانچہ اس بات کی تائید میں ہم کچھ اور حوالہ جات بھی نقل کرتے ہیں ضمیمہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۹۶ پر آپ تحریر فرماتے ہیں کہ ”تعجب کہ ہم بار بار کہے جاتے ہیں کہ ظن غالب کے طور پر زلزلہ سے مراد ہماری پیش گوئیوں میں زلزلہ ہی ہے اور اگر وہ نہ ہو تو ایسی خارق عادت آفت مراد ہے جو زلزلہ سے شدید مناسبت رکھتی ہو اور پورے طور پر زلزلہ کا رنگ اس کے اندر موجود ہو۔ پھر بھی معترض صاحب کی اس قدر الفاظ سے تسلی نہیں ہوتی۔“ اسی طرح براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱۲۰ پر فرماتے ہیں ”ممکن ہے یہ معمولی زلزلہ نہ ہو بلکہ کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نظارہ دکھلاوے جس کی نظیر کبھی اس زمانہ نے نہ دیکھی ہو اور جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے۔“ (روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۵۱ حاشیہ) ان عبارتوں کے پڑھنے سے ہر ایک صاحبِ دانش معلوم کر سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے آنے والی آفت کو یقینی طور پر کبھی بھی زلزلہ نہیں قرار دیا بلکہ ہمیشہ احتمال بتایا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسی آفت مراد ہو جس سے جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے۔ اب غور کر کے دیکھو کہ زلزلہ کے سوا وہ اور کونسی آفت ہے جس سے جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آسکتی ہے اور جس کو زلزلہ سے مشابہت تامہ ہوتی ہے کیا وہ جنگ ہی نہیں۔ خود قرآن کریم میں جنگ کو زلزلہ سے مشابہت دی گئی ہے جیسا کہ حضرت سلیمانؑ کے حملہ پر ملکہ سبا کا قول نقل فرماتا ہے کہ اِنَّ الۡمُلُوۡکَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡیَۃً اَفۡسَدُوۡہَا وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّۃَ اَہۡلِہَاۤ اَذِلَّۃً(النمل: ۳۵) یعنی جنگ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب ایک بادشاہ فاتحانہ طور پر دوسرے ملک میں داخل ہوتا ہے تو اوپر کے طبقہ کو نیچے کر دیتا ہے اور یہی حال زلزلہ شدید کا بیان فرماتا ہے جیسا کے حضرت لوطؑ کی قوم کی نسبت فرماتا ہے جَعَلۡنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا(ہود: ۸۳) کہ اس کے اوپر کے طبقہ کو نیچے کا طبقہ بنا دیا پس جنگ کو زلزلہ سے نہایت گہری مشابہت ہے کہ جسمانی لحاظ سے بھی اور طبقات مختلفہ کے لحاظ سے بھی اس کا فعل زلزلہ کی طرح ہوتا ہے خصوصاً اس زمانہ کی جنگیں کہ جن میں کثرت سے سرنگیں اڑائی جاتی ہیں وہ تو بالکل ہی زلزلہ کے رنگ میں ہوتی ہیں۔

اب رہا یہ اعتراض کہ حضرت مسیح موعودؑ نے لکھا ہے کہ وہ زلزلہ اس ملک میں آئے گا اور آپ کی زندگی میں آئے گا یہ دونوں اعتراض قلتِ تدبر کا نتیجہ ہیں پہلے اعتراض کا تو یہ جواب ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے یہ نہیں لکھا کہ وہ زلزلہ دوسرے ملک میں نہیں آئے گا۔ بلکہ صاف طور پر فرمایا ہے کہ وہ آفت شدیدہ دیگر ممالک میں بھی آئے گی چنانچہ آپ فرماتے ہیں ”اے یورپ! تو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا! تو بھی محفوظ نہیں اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔ میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں“ (حقیقۃ الوحی ؁ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۶۹) اسی طرح خود وہ اشعار جن میں موجودہ جنگ کی خبر ہے بتا رہے ہیں کہ یہ آفت عام ہو گی اور سب دنیا پر آئے گی۔ جیسا کہ فرماتے ہیں۔

مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن و انس

زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی باحالِ زار

پس جب کہ حضرت مسیح موعودؑ اس موعود آفت کا مورد تمام بنی نوع انسان کو اور خصوصاً زار روس کو جو ہندوستان سے سات ہزار میل پر رہتا ہے قرار دیتے ہیں تو یہ کہنا کہ وہ آفت

ہندوستان کے سوا اگر کسی اور جگہ بھی آئی تو اس سے پیش گوئی کی صداقت میں نقص آتا ہے کیسی جہالت کی بات ہے۔ ہاں یہ اعتراض اس وقت ہو سکتا تھا جبکہ ہندوستان اس سے بچا رہتا لیکن کیا یہ واقعہ ہے کہ ہندوستان اس آفت کے صدمہ سے محفوظ ہے۔ کیا ہزاروں لاکھوں ابنائے ہند دنیا کے دور دراز ملکوں میں زیر زمیں دبے ہوئے اس امر کی شہادت نہیں دے رہے کہ ہندوستان بھی اس آفت شدیدہ کے صدمے سے محفوظ نہیں اور اپنا پورا حصہ لے رہا ہے۔ اس اشتہار کے لکھنے والے کو اگر کوئی شبہ ہو تو وہ پنجاب کے علاقہ میں پھر کر دیکھے کہ قریباً ہر شہر اور ہر بستی اپنے ان عزیزوں پر ماتم کر رہی ہے۔ جو مختلف میدانوں میں دشمنانِ امن و صلح کی گولیوں کی نذر ہوئے۔ اور جنہوں نے اپنے محسن بادشاہ اور عزیز ملک کے لئے اپنے خونوں کو پانی کی طرح بہا دیا۔

ہاں وہ ان مصیبت زدہ ماؤں اور بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں اور بوڑھے باپوں سے سوال کرے جن کی آنکھوں کے نور اور سر کے سایہ اور بڑھاپے کے اعضاء جاتے رہے اور ہمیشہ کی لئے جاتے رہے تا اسے معلوم ہو کہ یہ ہنسی کا وقت نہیں بلکہ رونے کی گھڑی ہے اور تا اسے معلوم ہو کہ خدا کی باتیں کس طرح زبردست طور پر پوری ہوتی ہیں۔

اب رہا یہ سوال کہ حضرت مسیح موعودؑ نے لکھا ہے کہ وہ زلزلہ یا آفت شدیدہ آپ کی زندگی میں آئے گی تو اس کا یہ جواب ہے کہ بے شک حضرت مسیح موعودؑ نے ایسا ہی لکھا ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ کی حکمت کاملہ نے چاہا کہ اس کے برخلاف ہو اور وہ وقت بجائے حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی میں آنے کے آپ کے کسی اور موعود کے وقت میں آوے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ دعا الہاماً سکھائی کہ رَبِّ اَخِّرْ وَقْتَ ھٰذَا اے خدا تو اس آفت کے وقت کو پیچھے ڈال دے۔ اور پھر اس کا جواب یہ دیا کہ اَخَّرَهُ اللّٰهُ اِلٰی وَقْتٍ مُّسَمًّی یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو اس وقت تک جو بیان ہو چکا ہے پیچھے ڈال دیا۔ (تذکرہ صفحہ ۶۰۶۔ ایڈیشن چہارم)

پس اس الہام نے بتا دیا تھا کہ اب وہ زلزلہ آپ کے سامنے نہیں آئے گا۔ لیکن یہ بھی بتا دیا تھا کہ جو وقت بتایا گیا تھا اس کے اندر ہی آئے گا کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ وقت جو مقرر ہو چکا ہے اس تک ہم نے پیچھے کر دیا ہے۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے زلزلہ کی میعاد کے متعلق دو باتیں بیان کی ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کی زندگی میں ہو گا اور دوسری یہ کہ سولہ سال کے اندر ہو گا۔ پس جب کہ آپ کی زندگی کے متعلق الہام نے بتا دیا کہ اس میں یہ واقعہ نہیں ہوگا۔ اور پھر یہ بھی فرما دیا کہ جو وقت کہا گیا ہے اس کے اندر یہ واقعہ ہو گا تو معلوم ہو گیا کہ گو آپ کی زندگی میں یہ واقعہ نہ ہو گا مگر سولہ سال کے اندر ہو گا اور ایسا ہی ہوا۔ الہام کے دس سال کے بعد گیارھویں سال یہ الہام پورا ہوا۔

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے زلزلہ کے الہامات پر اپنے مکان کو چھوڑ کر باہر خیموں میں کچھ مدت رہائش کی اور یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ آپؐ کی مراد زلزلہ سے زلزلہ ہی تھا۔ تو یہ اعتراض درست نہیں کیونکہ جب کہ الفاظِ الہام میں زلزلہ کا ذکر تھا تو احتیاطاً ایسا کرنا ہرگز اس پیش گوئی کی عظمت میں کمی نہیں لاتا۔ یہ انبیاء کا طریق ہے کہ وہ الہام کو ہر طرح پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعہ حدیبیہ جو پیش آیا اسی قبیل سے تھا۔

ان الہامات کے متعلق یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعودؑ کو زلزلوں کے متعلق کئی الہامات ہوئے تھے۔ جن میں سے بعض ظاہر کرتے تھے کہ وہ زلزلہ اس ملک میں آئے گا۔ بعض ظاہر کرتے تھے کہ سب دنیا میں آئے گا۔ بعض ظاہر کرتے تھے کہ وہ آپ کی حیات میں آئے گا۔ اور درحقیقت یہ ایک زلزلہ نہ تھا بلکہ بہت سے زلزلے تھے۔ چنانچہ آپ کا یہ الہام کہ ”چمک دکھلاؤں گا تم کو اس نشاں کی پنج بار“ (۱۴؍مارچ ۱۹۰۶ء۔ تذکرہ صفحہ ۶۰۳) اس بات کا مظہر ہے کہ پانچ دفعہ اس قہری نشان کی سخت تجلی ہو گی اور بھی الہام تھے جو چھوٹے چھوٹے زلزلوں کی کثرت سے واقعہ ہونے کی خبر دیتے تھے مگر بہرحال پانچ دفعہ کا ذکر تو صاف الفاظ میں تھا۔ جن میں سے دو زلزلے تو حضرت صاحب کی زندگی میں آئے۔ ایک امریکہ میں اور ایک چلی میں آیا اور یہ زلزلے ان الہامات کے بعد واقعہ ہوئے۔ اور ایک میں ڈیڑھ ہزار آدمی ہلاک ہوئے اور دوسرے میں اڑھائی ہزار۔ اور جو زخمی ہوئے ان کی تعداد تو بہت زیادہ ہے۔ اور ان کے واقعہ ہونے کے بعد کئی لوگوں کو جو صداقت پسند تھے اور ان پیشگوئیوں سے واقف تھے ہدایت بھی ہوئی۔ پس زندگی میں بھی بعض زلزلے آئے اور لوگوں کو ان سے ہدایت بھی ہوئی۔ اور ایک آفت جو زلزلہ سے کمال مشابہ تھی الہامات کے مطابق آپ کی وفات کے بعد بھی آئی۔ جس کا اثر جیسا کہ پیش گوئی میں بتایا گیا تھا ساری دنیا پر پڑا۔ اور سب بڑے اور چھوٹے انسان اس سے متاثر ہوئے اور یورپ براعظموں میں سے اور زار افراد میں سے خصوصاً اس آفت عظیمہ کا مورد بنا۔ اور بہت لوگوں نے ان نشانات کو دیکھ کر ہدایت بھی حاصل کی لیکن جو جنم کے اندھے

ہیں وہ اس روحانی سورج کو کہاں دیکھ سکتے ہیں۔ ان کا حال تو ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ مہ نور مے فشاند و سگ بانگ می زند۔ یہ لوگ خوب یاد رکھیں کہ زلزلوں کالانا بھی خدا تعالیٰ کی طاقت سے باہر نہیں۔ چنانچہ اسی دن کہ میرے پاس یہ اشتہار پہنچا جس میں حضرت صاحب کی اس پیش گوئی سے استہزاء کیا گیا تھا اور جسے پڑھ کر میرے دل میں درد پیدا ہوا رات کے وقت ایک سخت دھکا آیا۔ اور گو اب تک تفصیلی حالات معلوم نہیں ہوئے مگر جہاں تک معلوم ہوا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ زلزلہ بھی سخت تھا۔ بلکہ بعض لوگوں کے خیال میں ۴۔ اپریل کے زلزلہ سے سخت محسوس ہوتا تھا۔ چنانچہ دھرم سالہ سے ایک صاحب لکھتے ہیں۔

”آج قریباً ۳ بج کر ۱۷ منٹ پر بوقت رات نہایت سخت زلزلہ آیا۔ اور قریباً نصف منٹ تک زمین برابر تھراتی رہی اور تمام مکان پھٹ گئے۔ اور اکثر مکان اور دکانات گر گئیں۔ اور ٹیلکہ چوبلہ کے تمام مکانات گر گئے اور باغیچہ ٹوا کے مکانات گر جانے سے ایک آدمی دب کر مر گیا اور کچھ زخمی ہوئے۔“

پھر لکھتے ہیں ”یہ زلزلہ ۴۔ اپریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ سے زیادہ ہوا۔“ یہ حال تو ابھی مجمل ہے جب تفصیلات شائع ہوں گی تو نہ معلوم کیا حال ظاہر ہوگا۔ مگر جس قدر بھی اس وقت تک معلوم ہو سکا ہے وہ بھی غافلوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ اور اس میں بھی دو نشان ہیں۔ ایک تو یہ کہ حضرت مسیح موعودؑ کی پیش گوئی کہ بار بار زلزلے آئیں گے پوری ہوئی اور دوسرے یہ کہ بعض دریدہ دہنوں کے اعتراضات کے جواب میں خدا تعالیٰ نے فوراً ہی اس الہام کو پورا کیا اور بتایا کہ نادانو! میرے پاس زلزلہ بھی ہے۔ اور اس ملک کے لوگ زلزلوں کے دھکے کھا کر اپنی شوخی چھوڑنا چاہتے ہیں تو میں اس کے لئے بھی تیار ہوں۔

یہ گمان مت کرو کہ زلزلے تو آیا ہی کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ گمان سخت خطرناک ہے بہت سی قومیں ایسا گمان کر کے ہلاک ہو چکی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِیۡ قَرۡیَۃٍ مِّنۡ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذۡنَاۤ اَہۡلَہَا بِالۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمۡ یَضَّرَّعُوۡنَ ثُمَّ بَدَّلۡنَا مَکَانَ السَّیِّئَۃِ الۡحَسَنَۃَ حَتّٰی عَفَوۡا وَّقَالُوۡا قَدۡ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّآءُ فَاَخَذۡنٰہُمۡ بَغۡتَۃً وَّہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ(الاعراف: ۹۵، ۹۶) یعنی ہم نے کبھی کوئی رسول کسی بستی کی طرف نہیں بھیجا کہ اس کے بھیجنے کے ساتھ ہی وہاں کے لوگوں کو مالی و بدنی مصائب میں گرفتار نہ کیا ہو۔ اور اس سے غرض ہماری یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگ خدا کے حضور عاجزی کریں۔ پھر ہم بدل دیا کرتے ہیں تکلیف کے بدلے آرام۔ یہاں تک کہ لوگ بڑھنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تکلیف بھی اور سکھ بھی دونوں ہمارے باپ دادا کو بھی پہنچا کرتے تھے۔ پھر ان دکھوں میں نبی کی صداقت کا کیا ثبوت ہے۔ پس ہم پکڑ لیتے ہیں ان کو اچانک اور وہ نہیں سمجھتے۔

پس یہ خیال ایک خطرناک خیال ہے اور ان لوگوں کا خیال ہے جو حق سے دور ہونے والے ہیں۔ حق یہی ہے کہ عام عذاب اسی وقت اور اسی زمانہ میں آتے ہیں جب پہلے کوئی رسول مبعوث ہو چکا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا(بنی اسرائیل: ۱۶) یعنی ہم کبھی عذاب نہیں بھیجا کرتے جب تک اس سے پہلے رسول نہ بھیج لیا کریں۔ پس یہ عذاب اس قابل نہیں کہ ان کو معمولی سمجھو۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس وقت خدا تعالیٰ کا کوئی رسول مبعوث ہو چکا ہے۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے کہ ان ایام کے زلازل معمولی نہیں۔ بلکہ ان کی کثرت اور شدت کی مثال پہلے زمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ حضرت مسیح موعودؑ نے براہین احمدیہ میں یہ الہام شائع کیا تھا کہ۔

”دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دیگا۔ اَلْفِتْنَةُ هُهنَا فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا قُوَّةُ الرَّحْمٰنِ لِعُبَيْدِ اللهِ الصَّمَدِ (روحانی خزائن جلد ۱ حاشیہ)۶۶۵ اور اس کے بعد خدا تعالیٰ کے حملے زلزلوں کے رنگ میں بھی جس قدر ہوئے ہیں اگر دوسرے عذابوں کو نظر انداز کر کے انہی کو دیکھا جائے تو وہ آنکھوں والوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا میں تین صدیوں کے دنیا کے بڑے بڑے زلزلوں کی فہرست اور تعدادِ اموات دی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کے زلزلوں کی نسبت وہ کس قدر حقیر تھے۔ ہم اس تین سو سال کے زلزلوں کو دو حصوں پر تقسیم کرتے ہیں۔ ایک براہین احمدیہ کے شائع ہونے کے بعد کا زمانہ اور ایک اس سے پہلے کا۔ تاکہ معلوم ہو کہ اس قلیل عرصہ میں کس قدر کثرت زلزلوں کی ہوئی اور کیسے سخت نقصان ہوئے ہیں اور اس سے پہلے کا کیا حال تھا وہ فہرست یہ ہے۔

تعدادِ اموات ملک زلزلہ کس سن میں آیا تعدادِ اموات ملک زلزلہ کس سن میں آیا ساٹھ ہزار سسلی ۱۶۹۳ء بائیس ہزار ایلیپیو ۱۸۲۲ء اٹھارہ ہزار لیا ۱۷۴۲ء دس ہزار کیلیبریا ۱۸۵۷ء

پچاس ہزار بسن ۱۷۵۵ء بارہ ہزار منڈوزا ۱۸۶۰ء ساٹھ ہزار کیلیبریا ۱۷۸۳ء پچیس ہزار پیرو اور ایکواڈور ۱۸۶۸ء انتالیس ہزار کیوٹو ۱۷۹۷ء بارہ ہزار کیراکس تین ہزار فیلا ۱۸۸۰ء

براہین احمدیہ کی اشاعت کے بعد کا زمانہ

دو ہزار اسمچیا ۱۸۸۳ء ڈیڑھ ہزار سان فرانسسکو ۱۹۰۶ء پینتیس ہزار کیرا کیٹوا ۱۸۸۳ء اڑھائی ہزار ویلپیریز و چلی ۱۹۰۶ چھبیس ہزار جاپان ۱۸۹۶ء ایک ہزار جمیکا ۱۹۰۷ء بیس ہزار مانٹ پیلی ۱۹۰۲ء تین لاکھ مینا اور کیلیبریا ۱۹۰۸ء پندرہ ہزار ہندوستان ۱۹۰۵ء

اس گنتی کو دیکھو کہ پہلے دو سو نوے سال میں تین لاکھ تیرہ ہزار اموات زلزلوں سے ہوئیں ہیں اور گیارہ زلزلے آئے ہیں۔ اور ان چھبیس سال میں چار لاکھ تین ہزار اموات ہوئی ہیں۔ اور دس زلزلے آئے ہیں۔ گویا ایک لاکھ کے قریب ان سے زیادہ (یعنی سخت زلزلے) اور اس کے بعد اٹلی کا زلزلہ جو ۱۹۱۴ء میں آیا ہے۔ اور ٹرکی کا زلزلہ شامل کیا جائے۔ تو قریباً ایک لاکھ اموات اور دو زلزلے اور زیادہ ہو جاتے ہیں۔ پس غور کرو کہ تین سو سال میں جس قدر زلازل دنیا میں آئے تھے انکی اموات کی تعداد سے حضرت مسیح موعودؑ کے الہام کے بعد جو زلازل آئے ہیں ان میں اموات کی تعداد زیادہ ہے۔ اور قلیل عرصہ میں بہت سے زلزلے آئے ہیں۔ پھر دیکھو کہ کس طرح حضرت کے اس الہام کے بعد جس خاص طور پر زلزلے آنے اور قریب آنے کا ذکر تھا متواتر چار سال یعنی پانچ چھ سات اور آٹھ میں زلزلے آئے ہیں۔ اور ان چار سال میں اموات کی جو تعداد ہے وہ بھی اس تین سو سال کی اموات سے زیادہ ہے۔ یعنی تین سو سال میں تین لاکھ تیرہ ہزار اموات ہوئی ہیں۔ اور ان چار سال کے عرصہ میں حضرت صاحب کے دعوے سے پہلے تین سو سال کے زلزلوں کی اموات سے سات ہزار آدمی زیادہ مرے ہیں۔ فَاعْتَبِرُوۡا يٰۤاُولِي الۡاَبۡصَارِ۔ آخر میں مَیں تمام طالبانِ حق سے عرض کرتا ہوں کہ اپنی جانوں اور اپنے مالوں پر رحم کرو۔ اور اس دریدہ دہنی سے باز آؤ جو خدا تعالیٰ کے مرسل کے مقابلہ میں کی جاتی ہے۔ خوب یاد

رکھو کہ اللہ تعالیٰ غیور ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کی کسی انسان میں طاقت نہیں۔ مسیح موعودؑ کی صداقت کے ثابت کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے لاکھوں نشانات دکھائے ہیں جن کو پڑھ کر دشمن بھی اقراری ہیں اور احرارِ یورپ بھی ان کی صداقت کا اقرار کر رہے ہیں۔ پس کیوں اپنے آپ کو ایسا بد قسمت بناتے ہو کہ دور دراز کے علاقوں کے لوگ تو اس نعمت الٰہی کو قبول کریں اور تم محروم رہو۔ اے مسلمان کہلانے والو! اور رسول کریم ﷺ کی محبت کے دم بھرنے والو! خدا کا خوف کرو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور نائب کا مقابلہ کرنے سے باز آؤ۔ کیا روزِ قیامت اس پاک رسولؐ کو منہ بھی دکھانا ہے یا نہیں؟ کیا اسلام کی عظمت تمہارا مدعا نہیں؟ کیا اسکی فتح تمہیں مقصود نہیں؟ اگر ہے تو خدارا سوچو کہ کیوں تم اسلام کی فتح اور اس کی عظمت کے اظہار کے وقت صرف اس لئے جوش میں آجاتے ہو کہ اس میں حضرت مرزا صاحب کی صداقت ظاہر ہوتی ہے۔ مرزا صاحب نے تمہارا کیا بگاڑا ہے کہ تم ان کی مخالفت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی ہتک برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہو۔ یاد رکھو کہ خدا کے وعدے پورے ہو کر رہتے ہیں۔ سورج نکل آیا ہے اور اب تاریکی سوائے بند مکانوں اور غاروں اور تنگ سوراخوں کے اور کہیں باقی نہیں رہ سکتی۔ پس یہ مت سمجھو کہ کسی کی کوشش سے یہ سلسلہ ہلاک یا تباہ ہو جائے گا۔ اس کی سچائی پھیلے گی اور ضرور پھیلے گی اور تمام ممالک میں اس کی اشاعت ہو گی۔ پس وقت کو پہچانو اور اسلام پر رحم کرو۔ نہیں بلکہ اپنی جانوں پر رحم کرو اور دوڑ کر اس حق کو قبول کرو جو تمہیں عزت دینے اور اسلام کو دیگر ادیان پر دلائل و براہین سے غالب کرنے کے لئے ظاہر ہوا ہے۔

وَآخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی قادیان دارالامان۔ ضلع گورداسپور ۱۲؍ مئی ۱۹۱۷ء

ترقی اسلام کے بارہ میں ارشاد

(فرمودہ ۱۲؍ ستمبر ۱۹۱۷ء)

بمقام شملہ

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

ترقیٔ اسلام کے متعلق

حضرت خلیفۃ المسیح کا ارشاد شملہ سے

تمام جماعت احمدیہ کے نام

برادران! اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُہٗ۔

میں آج آپ لوگوں کو ایک نہایت ضروری اور اہم امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو اس لحاظ سے اور بھی اہم ہے کہ اس کی طرف اس سے بہت پہلے آپ لوگوں کو توجہ دلائی جانی چاہئے تھی۔ مگر میں بوجہ بیماری معذور تھا اور ایک دو سطر کے لکھنے سے بھی مجھے سخت تکلیف ہو جاتی تھی۔ پس بوجہ اس کے کہ کام کرنے کا وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے بہت زیادہ ہمت اور کوشش کی ضرورت ہے۔

آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ اشاعت اسلام اور تبلیغ دین کا کام کس قدر اہم ہے اور یہ بھی کہ اس کام کے کرنے کا اہل اگر کوئی ہے تو وہ صرف آپ لوگ ہیں کیونکہ آپ لوگوں نے خدا تعالیٰ کے ایک مرسل کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر ایک نئی زندگی حاصل کی ہے اور ایک نئی روح آپ میں پھونکی گئی ہے۔ ورنہ باقی لوگ جو اس وقت دعوائے اسلام کرتے ہیں روحانی طور پر مردہ ہیں اور ایک مردہ دوسرے مردے کو کیا نفع دے سکتا ہے؟ خدا تعالیٰ کی قدرت نے مسیح موعودؑ کے ذریعہ سے آپ لوگوں میں نہ صرف زندگی کی روح ہی پھونکی ہے بلکہ زندہ کرنے کی طاقت بھی عطا فرمائی ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح اسرائیلی مُردے زندہ کیا کرتے تھے۔ مگر خدا تعالٰی نے ہمیں ایسا مسیحؑ عطا فرمایا ہے جو نہ صرف خود مردے زندہ کرتا تھا بلکہ اس کا مسیحی نفس جس میں پھونکا گیا وہ بھی مردے زندہ کرنے کی طاقت سے بھر گیا۔ چنانچہ تجربہ اس بات کا شاہد ہے کہ دشمنانِ اسلام کو اگر کوئی جماعت شکست دینے کے قابل ہوئی ہے اور ان کے باطل دلائل کو توڑنے پر قادر ہوئی ہے تو وہ یہی جماعت ہے۔ اگر اوہام پرستی اور باطل کی محبت کو دل سے نکالنے میں کوئی گروہ کامیاب ہوا ہے تو وہ یہی جماعت ہے۔ پس تبلیغ اسلام کے مقدس فرض کی بجا آوری کا کام اسی ایک جماعت کے متعلق ہو سکتا ہے۔ اور اسی کے متعلق ہے کیونکہ جیسا کہ خدا تعالٰی قرآن کریم میں فرماتا ہے ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَدِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ(الصف: ۱۰) مسیح موعودؑ کی بعثت کی غرض ہی یہی ہے کہ اسلام کو دیگر ادیان پر غالب کر دے اور جو مسیح موعودؑ کی بعثت کی غرض ہے وہی اس کی جماعت کے قیام کی غرض ہے کیونکہ مقتدی اپنے امام سے جدا نہیں ہو سکتا۔ پس جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صاف الفاظ میں فرماتا ہے۔ اس جماعت کا سب سے اہم فرض یہی ہے کہ وہ دیگر ادیان پر اسلام کو دلائل و براہین کے ذریعہ سے غالب کرے۔ کیونکہ تلوار کا غلبہ کوئی چیز نہیں۔ تلوار سے ایک انسان کے ظاہر کو تو بدلا جا سکتا ہے دل نہیں بدلا جا سکتا۔ دل پر قبضہ دلائل کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ اور جب تک دل نہ بدلے اس وقت تک منہ کا اقرار کوئی نفع نہیں دے سکتا۔ پس نہ تو عقل اس بات کو قبول کرتی ہے اور نہ قرآن کریم اس بات کو جائز قرار دیتا ہے جیسا کہ بعض نادان خیال کرتے ہیں لوگوں کو زبردستی اسلام پر قائم کیا جاوے۔ اسلام پہلے بھی اپنے بے نظیر حسن کے ذریعہ سے لوگوں کے دلوں کا فاتح ہوا تھا اور اب بھی اسی طرح لوگوں کے قلوب کو فتح کرے گا۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ جہاں تک ہو سکے اسلام کو اس کی اصلی خوبصورتی کے ساتھ دنیا پر ظاہر کریں۔ اور ہمارا ایسا کرنا کسی پر احسان نہیں بلکہ اپنے فرض کی ادائیگی ہے اور دنیا میں کوئی خوشی ادائیگی فرض کی خوشی سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ پرانے زمانہ میں اس فرض کی ادائیگی کے لئے جانوں کی قربانی کرنی پڑتی تھی کیونکہ لوگ تلوار کے ذریعہ مذہب کی اشاعت میں روکیں ڈالتے تھے۔ مگر آج کل ہر مذہب کے لئے آزادی ہے اس لئے پہلے لوگوں کی نسبت ہمارے لئے ایک آسانی ہے کہ صرف مالی قربانی سے ہم اس فرض سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ آسانی ہماری ذمہ داری کو بڑھا دیتی ہے۔ جو شخص باوجود آسانی اور سہولت کے اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے وہ اس شخص کی نسبت زیادہ مستحق سرزنش ہے جس کا

کام زیادہ اور بوجھ بھاری تھا۔ پس ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ خاص طور پر اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔ اور خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ جماعت کا ایک بڑا حصہ اس ذمہ داری کو سمجھتا اور اس کے پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ پچھلے جلسہ نے اس بات کو روزِ روشن کی طرح ثابت کر دیا ہے کہ ہماری جماعت کے لوگوں میں اللہ تعالیٰ نے وہ اخلاص رکھا ہے اور دین کی ایسی محبت بخشی ہے کہ جس کی نظیر صحابہؓ کے زمانہ کے سوا اور کہیں نہیں ملتی۔ پچھلے سالانہ جلسہ میں مَیں نے خاص طور پر جماعت کو متوجہ کیا تھا کہ وہ خزانہ جماعت کی حالت کو درست کرنے کی کوشش کرے۔ کیونکہ اس وقت سلسلہ کے کاموں کے متعلق روپیہ کی اس قدر کمی ہو گئی تھی کہ تین تین ماہ کی تنخواہوں کے بل بغیر ادائیگی کے پڑے تھے۔ اور سائر اخراجات کے بعض بل تو سوا سوا سال کے بھی موجود تھے جس کا روپیہ ادا نہیں کیا گیا تھا۔ اس تقریر کی طرف جماعت نے ایسی توجہ کی کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اب صدر انجمن کا بہت سا قرضہ اتر چکا ہے۔ اور تنخواہوں کے پچھلے بل ادا ہونے کے بعد اب ہر ماہ کے بل آسانی سے ادا ہو جاتے ہیں۔ اور جو قرضہ باقی ہے وہ بھی برابر ادا ہو رہا ہے۔ اور چونکہ مؤمن کا خاصہ ہے کہ وہ ہر دم قدم آگے ڈالتا ہے۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ احمدی جماعت اس کوشش میں کمی نہیں آنے دے گی۔ بلکہ آگے ہی آگے قدم بڑھائے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔

مگر جہاں یہ بات نہایت خوش کن ہے کہ صدر انجمن احمدیہ کا بہت سا قرضہ اس سال اتر چکا ہے اور بقیہ اتر رہا ہے وہاں میں اس بات پر افسوس کئے بغیر بھی نہیں رہ سکتا کہ جماعت نے انجمن ترقی اسلام کی مالی حالت کے درست کرنے کی طرف اس قدر توجہ نہیں کی جس قدر کرنی مناسب تھی۔ میں نے احباب سے جلسہ سالانہ کے موقع پر کہا تھا کہ ان انجمنوں کی مالی حالت کی کمزوری میری صحت اور میرے کام پر بد اثر ڈالتی ہے۔ کیونکہ جس شخص کے کانوں میں ہر وقت یہ آواز آوے کہ اس سلسلہ کے کاموں کو چلانے کے لئے جس کا کام خدا تعالیٰ نے اس کے سپرد کیا ہے روپیہ کی سخت تنگی ہے اور ہر ایک کام سخت خطرہ کی حالت میں ہے۔ وہ کب تندرست رہ سکتا ہے اور کب وہ ان زیادہ ضروری کاموں کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے جو جماعت کی حقیقی ترقی سے متعلق ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خلفاء پر صرف مالی انتظام کا ہی بوجھ نہیں اور امور بھی ان کی طبیعت پر بوجھ ڈالنے کا باعث ہوتے ہیں۔ مگر اس وقت جب کہ روپیہ پر بہت سے کاموں کا دارومدار ہے جماعت کی روحانی ترقی کے خیال کے بعد یہ بوجھ بھی ایک

بہت بڑا بوجھ ہے۔ پس میں اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنی جماعت کے احباب کو پھر اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ وہ انجمن ترقی اسلام کی مالی حالت کی درستی کی بھی فکر کریں۔ میں ان دنوں بیمار ہوں اور مجھے فکر ہے کہ میں اپنی زندگی میں جماعت کی ہر قسم کی حالت کو درست دیکھ لوں۔ شملہ آنے سے میری صحت میں ترقی معلوم ہوتی ہے لیکن پھر بھی طبیعت ابھی بہت کمزور ہے۔ چنانچہ تین چار دن سے پھر تپ کا دورہ ہے اور اس وقت بھی کہ میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں میں تپ محسوس کرتا ہوں۔ پس مجھے جلدی ہے کہ کسی طرح احمدی جماعت کے تمام کام میری زندگی میں تکمیل کے درجہ پر پہنچ جائیں اور اس کی طرف میں آپ لوگوں کو خاص طور پر متوجہ کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے مجھے ایک ایسی جماعت کا انتظام سپرد کیا ہے جس کی نسبت اگر میں یہ کہوں کہ وہ میری آواز پر کان نہیں رکھتی تو یہ ایک سخت ناشکری ہوگی۔ میری بات کی طرف توجہ کرنا تو ایک چھوٹی سی بات ہے۔ میں تو دیکھتا ہوں کہ بہت ہیں جو میرے اشارہ پر اپنی جان اور اپنا مال اور اپنی ہر ایک عزیز چیز کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰی ذٰلِكَ۔ اور اس اخلاص بھری جماعت کو مخاطب کرتے وقت میرا دل اس یقین سے پُر ہے کہ وہ فوراً اس نقص کو رفع کرنے کی کوشش کرے گی جس کی طرف میں نے ان کو متوجہ کیا ہے۔ مگر اس عام تحریک کے علاوہ بعض خاص ضروریات بھی ہیں جن کے لئے فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ تبلیغ ولایت کے اخراجات کے لئے فوراً ساڑھے نو ہزار روپیہ کی ضرورت ہے۔ یعنی اڑھائی ہزار روپیہ مکان کے لئے دو ہزار روپیہ پہلے قرضہ لے کر دیا گیا ہے۔ اس کی ادائیگی کے لئے ایک ہزار روپیہ ایک تیسرے آدمی کے سفر خرچ کے لئے جو وہاں کھانا پکانے اور دوسرے کاموں میں مدد کرنے کے لئے ضروری ہے (کیونکہ وہاں سو روپیہ ماہوار خرچ کرنے پر ملازم مل سکتا ہے۔ اور پھر اپنے آدمی جتنا مفید بھی نہیں ہو سکتا) اور چار ہزار روپیہ چھ ماہ کے خرچ کے لئے۔ اس ساڑھے نو ہزار روپیہ کے علاوہ دو ہزار روپیہ وفد ماریشس کے لئے اور ایک ہزار روپیہ ان وفود کے اخراجات کے لئے جو پچھلے دنوں بمبئی کشمیر اور سرحد پر بھیجے گئے ہیں درکار ہے۔ یہ کل رقم ساڑھے بارہ ہزار بنتی ہے اور دو ماہ کے اندر اس کا جمع ہو جانا ضروری ہے۔ پچھلے سال جب مفتی صاحب کو ولایت بھیجنے کی تجویز ہوئی تھی تو میں نے اخراجات ولایت مہیا کرنے کے لئے یہ تجویز کی تھی کہ چند مخلص اور ذی استطاعت احباب کو خاص خطوط کے ذریعہ اس بوجھ کو برداشت کرنے کی ترغیب دلائی تھی۔ چنانچہ ساٹھ ستر دوستوں نے اوسطاً ایک سو روپیہ فی کس دیا تھا اور اس طرح ساڑھے پانچ ہزار روپیہ کے قریب جمع ہو گیا تھا۔ مگر اب میں چاہتا ہوں کہ ذی استطاعت احباب کے علاوہ جماعت کے دوسرے لوگ بھی اس تحریک میں حصہ لیں۔ اور اس کے لئے میری یہ تجویز ہے کہ تمام جماعت کے لوگ جن تک یہ میرا اعلان کسی ذریعہ سے پہنچے علاوہ صدر انجمن احمدیہ اور ترقی اسلام کے ماہوار چندوں کے اپنے اخلاص اور خاص حالات کے لحاظ سے اپنی ایک ماہ کی آمدنی یا اسکا نصف یا اس کا تیسرا حصہ یا کم از کم اس کا چوتھا حصہ اس خاص چندہ میں دیں۔ ہاں سہولت کے لئے یہ کر سکتے ہیں کہ جس قدر چندہ وہ دینا چاہیں اس کو تین اقساط میں تین ماہ کے اندر ادا کر دیں۔ تمام جماعتوں کے سیکرٹریوں کو چاہئے کہ وہ میرے اس اعلان کو اپنی اپنی جماعتوں کو سنا کر اس تحریک کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں۔ اور اگر کسی جگہ باقاعدہ انجمنیں نہیں یا سیکرٹری سست ہے تو وہاں ہر ایک مخلص کا فرض ہے کہ وہ اپنے طور پر اس تحریک کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔ اور اللہ تعالیٰ سے جزائے نیک حاصل کرے۔ جہاں انجمن بھی ہے اور سیکرٹری بھی ہے وہاں بھی جماعت کے مخلص احباب کو سیکرٹری کا ہاتھ بٹانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ مرکزی طور پر اس تحریک پر عمل کرانے کے لئے میں نے ماسٹر عبدالمغنی صاحب سیکرٹری فنانشل کمیٹی کو مقرر کیا ہے۔ وہ تمام جماعتوں سے اس کے متعلق خط و کتابت کریں گے۔ تمام احمدی احباب ان کے کام کو آسان کرنے اور ان کی مدد کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ آج کل خدا تعالیٰ کے فضل کے حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ یہی ہے کہ اس کے دین کی مدد کی جاوے۔ وَاخِرُ دَعْونَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

خاکسار مرزا محمود احمد شملہ ۱۲۔ ستمبر ۱۹۱۷ء

زندہ مذہب

(اسلام کے زندہ مذہب ہونے کے

دلائل اور مذاہبِ عالم کو چیلنج)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

اسلام کے زندہ مذہب ہونے کا ثبوت

(حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی وہ تقریر جو حضور نے ۳۰؍ ستمبر ۱۹۱۷ء کو جماعت احمدیہ شملہ کے سالانہ جلسہ پر بمقام میسانک ہال فرمائی۔)

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡکُمۡ مَّوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوۡرِ ۬ۙ وَہُدًی وَّرَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ(یونس : ۵۸)

خدا کے متعلق کلام کرنے کا طریق

مذہب ایک ایسی معزز و مکرم شئے ہے کہ اس کے ذکر میں انسان کو بہت محتاط ہونا چاہئے۔ اگر کوئی خدا ہے اور خدا کے ہونے کے بعد کسی مذہب کی ضرورت ہے اور وہ لوگ جو عقل و سمجھ رکھتے ہیں اور انکو اس بات کے تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں کہ خدا ہے اور ضرور ہے تو پھر اس بات کے ماننے میں بھی کسی کو عذر نہیں ہو سکتا خواہ وہ عیسائی ہو یا موسائی، سناتی ہو یا آریہ، مسلمان ہو یا سکھ کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق جو کلام ہونا چاہئے اس میں سنجیدگی، خوف، ادب کو خاص طور پر مدنظر رکھنا چاہئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ معمولی سے معمولی انسانوں کے سامنے جو رتبہ میں ان سے کسی قدر ہی بڑے ہوتے ہیں کلام کرتے وقت ادب اور تہذیب کو مدنظر رکھتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر ایک ضلع کا افسر ہوتا ہے اس کے پاس جو لوگ جاتے ہیں تو کلام کرنے میں خاص احتیاط اور سنجیدگی پیدا کرتے ہیں اور اس کے بالا افسروں کے سامنے تو اور بھی متانت سے گفتگو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور کسی کی مجال نہیں ہوتی کہ گورنمنٹ کے کسی چھوٹے سے چھوٹے

افسر کے سامنے بھی بیہودگی برتے اور بے ادبی کو کام میں لائے بلکہ بہت احتیاط کی جاتی ہے۔ اور یہ بات ہم ادنیٰ سے ادنیٰ قوم کے انسان میں بھی دیکھتے ہیں کہ افسر کے سامنے ادب اور تہذیب کی علامات اور آثار ظاہر کرتا ہے۔ پس جب یہ بات ہے تو پھر وہ خدا جو بادشاہوں کا بادشاہ اور شہنشاہوں کا شہنشاہ ہے انسان کا خالق اور رازق ہے اور جس سے نہ صرف اسی دنیا میں تعلق ضروری ہے بلکہ مرنے کے بعد بھی واسطہ پڑنا ہے اس کے متعلق کلام ہو اور اس میں سنجیدگی و متانت نہ ہو ہنسی اور مخول سے بات کی جائے کیسے غضب کی بات ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ کی ہستی کا یقین ہو اور پھر وہ ایسا کرے ہرگز نہیں۔ مگر بہت لوگ ہیں جو چھوٹے چھوٹے افسروں کا تو بڑا ادب کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے معاملہ میں ادب کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ بحثیں ہوتی ہیں مباحثے کئے جاتے ہیں مگر ان سے یہ مدّنظر نہیں ہوتا کہ تحقیقِ حق کی جائے۔ صداقت کو حاصل کیا جائے بلکہ محض وقت گزارنا اور خوش طبعی اور مذاق کا سامان مہیا کرنا ہوتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہت لوگ ان کے بحث مباحثہ کو سنتے ہیں مگر کچھ فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ان کے کان میں تو آواز پڑتی ہے مگر دل میں داخل نہیں ہوتی۔ اس لئے یہ طریق نہایت لغو اور بیہودہ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے متعلق جو گفتگو ہو وہ ایسی ہونی چاہئے کہ جس میں حق کا حاصل کرنا مد نظر ہو اور باطل کو ترک کرنے کا ارادہ ہو۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خدا کا خوف پایا جاتا ہو۔ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ(الانفال: ۳) کہ سوائے ان کے اور کوئی خدا کو ماننے والا نہیں کہ جن کے سامنے جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل خوف سے بھر جائیں، رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور دل ڈر جائیں کہ ہمارے سامنے ایک ایسے عظیم الشان شہنشاہ کا ذکر آیا ہے جس کے متعلق ذرا سی بے احتیاطی کرنے سے بھی تباہی و بربادی کے کنویں میں گر جائیں گے۔ واقعہ میں خدا کے ذکر کے وقت انسان کے دل میں ایسا ہی خوف اور ڈر پیدا ہونا چاہئے۔ دیکھئے ایک انسان شیر یا سانپ سے نہیں کھیلتا کیونکہ وہ ڈرتا ہے کہ مارا جاؤں گا۔ اسی طرح ایک افسر سے ماتحت کبھی بے احتیاطی اور بدتہذیبی نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نقصان اٹھاؤں گا۔ اسی طرح اگر خدا کی ہستی کا پورا پورا یقین ہو تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس کے ذکر سے انسان کے دل میں ڈر نہ پیدا ہو۔

پس میں ان لوگوں کو جو یہاں موجود ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ایسا انسان جو خدا کے متعلق کچھ سنانے کے لئے کھڑا ہو۔ اس کی نسبت صرف یہ دیکھنا کہ کیسا بول سکتا ہے یا ایک عجوبہ کے طور پر لیکچر سننا ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے۔ اس لئے اپنے دل میں خوفِ خدا پیدا کر کے سننا اور صداقت کو قبول کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

زندہ اور مردہ مذہب کی تعریف

اس کے بعد میں اصل مضمون بیان کرتا ہوں۔ میرا مضمون ہے ”زندہ مذہب“ اس بات سے تو کسی کو انکار نہیں کہ زندگیاں مختلف ہوتی ہیں۔ ایک انسان کی زندگی ہوتی ہے۔ ایک درخت کی زندگی۔ انسان کی زندگی کو درخت کی زندگی پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔ اور درخت کی زندگی کو انسان کی زندگی کی طرح نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی طرح زندہ مذہب سے یہ مراد نہیں لی جا سکتی کہ وہ انسان کی طرح چلتا پھرتا بولتا چالتا کھاتا پیتا ہے۔ بلکہ جس طرح ہر چیز کی زندگی کا الگ مفہوم ہوتا ہے اسی طرح مذہب کی زندگی بھی ایک خاص مفہوم رکھتی ہے۔

ہماری زبان میں یہ محاورہ ہے کہ کوئی چیز جس غرض کے لئے بنائی گئی ہو جب تک اسے پورا کرے اس وقت تک وہ زندہ کہی جاتی ہے۔ اور جب نہ کرے اس وقت مردہ۔ اس لئے کوئی مذہب جب تک اپنی غرض اور غایت کو پورا کرتا ہے اس وقت تک زندہ کہا جا سکتا ہے اور جب نہ کرے مردہ۔ لیکن کسی مذہب کے متعلق زندہ اور مردہ کا فیصلہ کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ دیکھیں مذہب کی غرض کیا ہے؟ اسے کیوں اختیار کیا جاتا ہے؟ پس اگر جس غرض کے لئے کسی مذہب کو اختیار کیا جاتا ہے وہ پوری ہو جائے تو مذہب زندہ ہے اور اگر نہ پوری ہو تو مردہ۔

مذہب کی غرض

عربی زبان کے لحاظ سے تو اس کا فیصلہ نہایت آسان ہے کیونکہ اس میں مذہب کے معنی طریق اور راستہ کے ہیں۔ اور جس طرح دنیاوی رستے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانے کے لئے ہوتے ہیں اسی طرح وہ راستہ جو گمراہی اور بے دینی سے نکال کر خدا تک پہنچا دے اس کو مذہب کہتے ہیں۔ تو مذہب کے معنی راستہ کے ہیں اور اس کو اختیار کرنے کی غرض یہ ہے کہ انسان کو ظلمتوں، تاریکیوں، بدکاریوں اور گناہوں سے نکال کر خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرا دے۔ اس کی رضامندی حاصل ہو جائے۔ پس یہی ایک ایسی بات ہے کہ جس کی وجہ سے کسی مذہب کو قبول کیا جا سکتا ہے۔ ورنہ کیا ضرورت ہے کہ انسان اپنے اوپر کئی قسم کی پابندیاں ڈال لے۔ ایک مسلمان ہے اسے پانچ وقت نماز پڑھنی پڑتی ہے۔ سردیوں میں ٹھنڈے پانی سے وضو کیا جاتا ہے۔ وقت خرچ ہوتا ہے۔ رات کو نیند ترک کر کے عبادت کی جاتی ہے۔ اسی طرح ہندو‘ عیسائی‘ یہودی وغیرہ لوگ عبادات کرتے اور اپنے اوپر مذہبی قیود عائد کر لیتے ہیں۔ لیکن بلا کسی وجہ اور ضرورت کے کیا ضرورت ہے کہ لوگ خاص پابندیوں کے مقید ہوں اور ہر ایک کام اور ہر ایک چیز جس کو ان کا جی چاہے حاصل نہ کریں۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ ہر مذہب کا انسان سمجھتا ہے کہ اگر میں اپنے مذہبی اصولوں پر چلوں گا تو خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو جائے گا۔ اور اگر نہ چلوں گا تو خدا سے دور ہو جاؤں گا اور اس کی عنایات سے محروم رہوں گا۔ بہت دفعہ انسان چاہتا ہے کہ ایک چیز ناجائز طور پر حاصل کر لے۔ مگر چونکہ جانتا ہے کہ اول تو اس کا خمیازہ اسی دنیا میں اٹھالوں گا۔ اور اگر بچ رہا تو خدا ضرور سزا دے گا اور اپنے سے دور کر دے گا۔ اس وجہ سے وہ باز رہتا ہے۔ اسی طرح اور کئی باتیں ہیں جن کو انسان صرف اس لئے اختیار نہیں کرتا کہ خدا ناراض ہو جائے گا اور نتیجہ خطرناک نکلے گا۔ تو مذہب کی غرض یہ ہے کہ خدا کی محبت پیدا ہو‘ خدا کی رضا حاصل ہو اور انسان کو تاریکی اور ظلمت سے نکالے اور روشنی کی طرف لے جائے۔ پس زندہ مذہب وہی ہو گا جس میں یہ باتیں پائی جائیں۔ اور جس میں یہ باتیں پائی جائیں گی وہی مذہب قابل قبول ہو گا۔ کیوں؟ اس لئے کہ مذہب کو انہیں اغراض کے حاصل کرنے کے لئے قبول کیا جاتا ہے۔ رسم اور بناوٹ کے طور پر اختیار نہیں کیا جاتا۔ پس جس فائدہ کے لئے مذہب قبول کیا جاتا ہے جس میں وہ حاصل ہو وہی زندہ مذہب ہے اور باقی سب مردہ۔ اور اسی غرض اور فائدہ کو مدنظر رکھ کر وہ مذہب قبول کرنا چاہئے۔ جب وہ حاصل ہو جائے تو اس کے علاوہ اور کسی مذہب کی طرف دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں۔

غرض کا پورا کرنا

انسان کا قاعدہ ہے کہ جس غرض کے لئے کوئی چیز حاصل کرے وہ اگر اس سے پوری ہو جائے تو پھر دوسری کی طرف توجہ نہیں کرتا۔ مثلاً ایک انسان کو سردی سے بچنے کے لئے کپڑے کی ضرورت ہے۔ وہ کپڑا خریدنے کے لئے جب بازار جائے گا تو سب سے پہلے یہ دیکھے گا کہ کس کپڑے سے میری غرض پوری ہو سکتی ہے اور جو کپڑا سردی سے بچانے والا ہو گا اسے خرید لے گا۔ یہ نہیں کرے گا کہ ایک نہایت خوبصورت ریشمی کپڑے کو جو کہ بہت ہی باریک ہو سردی سے بچانے کی غرض سے خرید لے۔ ہاں یہ ہو گا کہ اگر اسے ایسا کپڑا جو خوبصورت بھی ہو اور سردی سے بھی بچائے مل جائے تو وہ اسے اس کپڑے پر جو صرف سردی سے بچائے اور خوبصورت نہ ہو ترجیح دے گا۔ تو مذہب کے قبول کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ کونسا مذہب، مذہب کی اصل غرض پوری کرتا ہے اور جو پوری کرے اسے اختیار کیا جائے گا۔ ہاں اگر دو تین مذاہب اس غرض کو پورا کریں تو پھر دیکھیں گے کہ اور باتیں کس مذہب میں دوسرے مذاہب سے اچھی اور عمدہ ہیں۔ لیکن اگر ایک ہی ایسا مذہب ہو جو اصل غرض کو پوری کرے تو پھر سوائے اس کے چارہ نہیں ہو گا کہ اسی کو اختیار کیا جائے اور باقیوں کو ترک کر دیا جائے۔ کیونکہ عقلمند اور دانا انسان کا کام زندہ مذہب اختیار کرنا ہے نہ کہ مردہ کو۔ اور ایک ایسا انسان جو کسی جگہ کا راستہ نہ جانتا ہو اور تھک کر چور ہو گیا ہو اسے کسی ایسی سواری کی ضرورت ہو گی جو اسے منزل مقصود پر پہنچا دے۔ یہ نہیں ہو گا کہ وہ کوئی مردہ گھوڑا یا گدھا وہاں پہنچنے کے لئے لے لے۔ کیونکہ وہ کہے گا کہ مردہ سواری تو میرے لئے اور زیادہ بوجھ اور تکلیف کا باعث ہو گی نہ کہ آرام دے گی۔ تو کوئی ایسا مذہب جو مذہب کی اصل غرض کو پورا نہیں کرتا۔ اس کا اختیار کرنا نہ کرنے سے بدتر ہے۔ کیونکہ وہ تو اور زیادہ گمراہی کا باعث ہو گا۔ اس لئے کسی مذہب کے قبول کرنے کے لئے ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ وہ اصل غرض کو پورا کرتا ہے یا نہیں۔ ہمارا مقصد مذہب کے اختیار کرنے سے خدا تعالیٰ تک پہنچنا اور بدیوں اور گناہوں سے نجات پانا ہے۔ اگر وہ حاصل ہو جاتا ہے تو ہم جان دینے کے لئے بھی تیار ہیں اور اگر وہ حاصل نہیں ہوتا تو پھر اس کے اختیار کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ پس کسی مذہب کے قبول کرنے کے لئے یہی نہیں دیکھنا چاہئے۔ کہ اس کی تعلیم ہمارے کانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے۔ بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ فوائد کس میں حاصل ہو سکتے ہیں۔ اور کس کی تعلیم ایسی ہے جس پر ہم عمل پیرا ہو سکتے ہیں۔

مذہب کی تحقیقات کے وقت کیا کرنا چاہئے

ہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دانا انسان چونکہ لغو اور بیہودہ باتوں میں اپنا وقت ضائع نہیں کیا کرتے۔ اس لئے مذہب کی تحقیقات کرنے کے وقت عقلمند انسان کو ان باتوں میں نہیں پڑنا چاہئے جن کا اس کی غرض اور مدعا سے کوئی تعلق نہ ہو۔ بلکہ اصل مقصد اور مدعا کو پیش نظر رکھ کر ان باتوں کی طرف توجہ کرنی چاہئے جو اس سے تعلق رکھتی ہوں اور جن سے وہ حاصل ہو سکتا ہو۔ تو عقلمند انسان کو اپنے مقصد اور مدعا کو دیکھنا چاہئے۔ مثلاً ایک پیاسا انسان ہو۔ اور وہ کسی سے پوچھے کہ مجھے بتایا جائے کہ پانی کہاں سے ملے گا جس سے میں پیاس بجھاؤں گا۔ تو اسے کہا جائے کہ امریکہ کے فلاں ملک میں ایک نہایت ٹھنڈے اور عمدہ پانی کا چشمہ ہے اس سے پانی پینے سے فوراً پیاس دور ہو جاتی ہے اور بڑا سرور حاصل ہوتا ہے۔ تو وہ ان سب باتوں کو لغو اور بیہودہ سمجھے گا۔ اور کہے گا کہ مجھے اس سے کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ میں تو یہاں پیاسا مر رہا ہوں اور آپ مجھے امریکہ کے کسی ملک کے چشمہ کا پتہ بتا رہے ہیں۔ مجھے تو یہاں کسی جگہ پانی کا پتہ بتانا چاہئے خواہ وہ کیسا ہی بدمزہ اور گرم کیوں نہ ہو تاکہ میں اپنی پیاس بجھا سکوں۔ ورنہ مجھے ان خیالی باتوں سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ جن کو میں عمل میں نہیں لا سکتا۔ یہی مثال مذہب کی ہے۔ ایک متلاشیِ حق کو کسی مذہب کی ایسی تعلیم بتائی جائے جو خواہ بظاہر کیسی ہی اعلیٰ اور اچھی کیوں نہ معلوم ہو لیکن وہ اسے اختیار نہ کر سکے۔ یا اس پر عمل کرنا اس کی طاقت میں نہ ہو۔ تو اس کے لئے بے فائدہ اور لاحاصل ہو گی۔ اور وہ اس کی طرف کبھی توجہ نہیں کرے گا۔ پس کسی مذہب کے اختیار کرنے کے لئے یہ دیکھنا بھی نہایت ضروری ہے کہ آیا اس میں کوئی ایسی باتیں تو نہیں پائی جاتیں جو ناقابلِ عمل ہیں اور جن کو عمل میں لانا ناممکن ہے۔ اگر کسی مذہب میں ایسی باتیں پائی جائیں تو اسے بھی زندہ نہیں کہا جائے گا بلکہ مردہ ہی کہا جائے گا۔ کیونکہ وہ ایسی باتیں بتاتا ہے جن پر عمل نہ ہو سکنے کی وجہ سے مذہب کی اصل غرض پوری نہیں ہو سکتی۔

مسیحی مذہب کی تعلیم

اب ہم دنیا کے بڑے بڑے مذاہب کو دیکھتے ہیں کہ ان کی کیا تعلیم ہے۔ اور اس پر عمل بھی ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اگر ہو سکتا ہے تو فبہا ورنہ وہ اس قابل نہیں کہ کوئی دانا انسان انہیں قبول کرے۔ اس بات کے لئے پہلے ہم مسیحی مذہب کو لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسی تعلیم پیش کرتا ہے کہ جس پر ہم عمل نہیں کر سکتے۔ گو بظاہر وہ بات بہت خوبصورت معلوم دیتی ہے۔ مگر کس کام کی۔ جب کہ اس کے ذریعہ ہماری غرض پوری نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ انجیل میں حضرت مسیحؑ کی طرف منسوب کر کے لکھا ہوا ہے کہ

”شریر کا مقابلہ نہ کرنا۔ بلکہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے۔ دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے۔ اور اگر کوئی تجھ پر نالش کر کے تیرا کرتہ لینا چاہے تو چوغہ بھی اسے لے لینے دے اور جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار میں لے جائے اس کے ساتھ دو کوس چلا جا۔“سہ

یہ تعلیم بظاہر بڑی عمدہ اور خوبصورت معلوم ہوتی ہے۔ اور جب ایک شخص سٹیج پر کھڑا ہو کر اس کی تفصیل بیان کرتا ہو گا تو قطع نظر اس کے کہ اس پر عمل بھی ہو سکتا ہے یا نہیں سامعین اس پر عش عش کرتے ہوں گے۔ اور بہت ہی اچھی تعلیم کہتے ہوں گے۔ لیکن کیا کوئی ہے جو اس پر عمل کر کے دکھا بھی سکے۔ جس زمانہ میں یہ تعلیم دی گئی تھی۔ اس وقت بے شک مفید ہو گی۔ مگر آج تو اس پر عمل کر کے کوئی قوم زندہ ہی نہیں رہ سکتی۔ کوئی انسان اپنے مال و دولت‘ عزت و آبرو کو نہیں بچا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مسیحی لوگ بھی اس تعلیم پر عمل نہیں کرتے۔ بلکہ اسی تعلیم پر عمل کرتے ہیں جو انتقام لینے کو روا رکھتی ہے۔ چنانچہ میں نے مصر کے ایک اخبار میں پڑھا تھا کہ ایک پادری بازار میں کھڑا لیکچر دیتا ہوا آنحضرت ﷺ کی سخت ہتک کر رہا تھا کہ ایک مسلمان نے اٹھ کر اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔ پادری آگے سے مقابلہ کرنے کے لئے کھڑا ہوا تو اس نے کہا۔ آپ یہ کیا کرنے لگے ہیں۔ دوسری گال بھی آگے کیجئے تا تمہاری تعلیم پر پورا عمل کروں۔ اور اس پر بھی تھپڑ ماروں۔ پادری صاحب نے کہا کہ اس وقت میں تمہاری ہی تعلیم پر عمل کروں گا اپنی پر نہیں کراؤں گا۔

تو گو عیسائیت کی یہ تعلیم اچھی نظر آئے مگر سوال یہ ہے کہ اس کا ہمیں فائدہ کیا؟ تعلیم تو وہی ہونی چاہئے جو کوئی فائدہ بھی پہنچا سکے۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ ایک گاڑی نہایت خوبصورت اور عمدہ بنی ہوئی ہو مگر اتنی اونچی ہو کہ کوئی انسان اس پر چڑھ ہی نہ سکے۔ جس طرح وہ گاڑی کسی کام کی نہیں ہے اسی طرح یہ تعلیم بھی بے فائدہ ہے۔ کیا اس سے ہماری روحانیت کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ یا کیا اس سے ہمارا تعلق خدا تعالیٰ سے ہو سکتا ہے۔ یا کیا اس سے ہم گناہوں اور بدیوں سے بچ سکتے ہیں۔ یا کیا اس سے ہم ظلمتوں اور تاریکیوں سے نکل سکتے ہیں۔ اگر نہیں تو اس کا فائدہ کیا۔ اور فائدہ ہو کس طرح جب کہ دنیا اس پر عمل ہی نہیں کر سکتی۔ چنانچہ اب موجودہ جنگ کے دوران میں ہی یورپ میں لوگوں نے مضمون لکھے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے کہ انجیل کی اس تعلیم پر کس طرح عمل کیا جا سکتا ہے۔ کیا جرمنی نے جب بیلجئم پر حملہ کیا تھا تو اسے فرانس بھی دے دیا جاتا۔ اگر نہیں تو ثابت ہو گیا کہ اس تعلیم پر عمل ہی نہیں کیا جا سکتا اور اگر کیا جائے تو ساری دنیا تباہ و برباد ہو جائے۔

ایک اور مذہب کی نا قابل عمل تعلیم

پس جس طرح انجیل کی یہ تعلیم بظاہر تو عمدہ نظر آتی ہے مگر اس پر عمل نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح ہمارے مقابلہ میں ایک اور مذہب ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں بھی ایسی تعلیم پائی جاتی ہے

جس پر عمل نہیں ہو سکتا۔ مثلاً اس میں مردہ جلانے کا جو طریق بتایا گیا ہے اس پر عمل نہیں ہو سکتا۔ وہ کہتا ہے کہ جس قدر مردہ کا وزن ہو اسی قدر مقدار میں گھی اس کے ساتھ جلانا چاہئے۔ یعنی اگر کوئی ڈھائی تین من کا مردہ ہو تو اتنا ہی گھی اس کے اوپر ڈال کر جلانا چاہئے۔ اس کے علاوہ صندل اور دیگر کئی ایک قیمتی چیزوں کو ساتھ جلانے کا حکم ہے۔ مگر ہر ایک انسان اس پر کہاں عمل کر سکتا ہے۔ غریبوں اور مفلسوں کے لئے تو اس پر عمل کرنا ناممکن ہے۔ اور ہو نہیں سکتا کہ وہ اپنے مردہ کو اس طریق سے جلا سکیں۔ حالانکہ بتایا جاتا ہے کہ یہ وید کا حکم ہے جس پر عمل کرنا ہر ایک کے لئے ضروری ہے۔ مگر دنیا میں تو غریب بھی بستے ہیں اور امیر بھی بلکہ غریبوں کی تعداد زیادہ ہے۔ لیکن غریب تو اس پر عمل نہیں کر سکتے۔ پھر کیا مذہب صرف امیروں کے لئے ہے۔ اگر صرف امیروں کے لئے ہے تو بیچارے غریب کہاں جائیں۔ لیکن زندہ مذہب تو ایسا ہونا چاہئے کہ جس پر سب امیر و غریب یکساں طور پر عمل کر سکیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس مذہب والوں کا کثیر حصہ اس پر عمل نہیں کر سکتا۔ اس لئے یہ بھی قابل قبول نہیں ہے۔ اسی طرح اس مذہب میں ہون کی جو عبادت قرار دی گئی ہیں۔ ایسے طریق بتائے گئے ہیں کہ ایک ایسا شخص جو چار پانچ آنے بمشکل روزانہ کماتا ہے وہ ان پر ہرگز عمل نہیں کر سکتا۔ اور اگر کرے تو پھر اس کے پاس کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں رہے گا۔ تو کسی مذہب کے وہی احکام قابل قبول ہو سکتے ہیں جس پر عمل کیا جا سکے۔ ورنہ یوں وہ خواہ کیسے ہی اچھے اور بھلے معلوم دیں کسی کام کے نہیں ہیں۔ یہ تو ہم مان لیں گے کہ تپیسا سے یہ فائدے ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی اقرار کر لیں گے کہ ہون سے ہوا صاف ہوتی ہے بادل آتے ہیں۔ اور یہ بھی ہم یقین کر لیں گے کہ کشمیر میں جو بارشیں ہوتی ہیں وہ اسی کانگڑی کی وجہ سے ہوتی ہیں جو وہاں جلائی جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس پر اس مذہب کے کتنے لوگ ہیں جو عمل کرتے ہیں یا کر سکتے ہیں۔ اگر وہ عمل ہی نہیں کر سکتے تو خواہ بظاہر وہ تعلیم کیسی ہی خوشنما نظر آئے اور اس کے کیسے ہی فوائد بتائے جائیں ہمارے لئے اس کا کیا فائدہ؟ ہمیں تو اس مذہب کی ضرورت ہے جو ہمارے کام آئے اور ہم اس کی تعلیم پر عمل کر کے فائدہ حاصل کر سکیں۔ اگر یہ نہیں تو ایسا مذہب اس شگوفہ کی طرح ہے جو ایک اونچی جگہ لٹکا دیا جائے اور بچہ کو کہا جائے کہ اس کو پکڑو۔ وہ بیچارہ اس کو کہاں پکڑ سکے گا۔ اور جب پکڑ نہیں سکے گا تو اس کے لئے وہ فضول ہے۔ پس ایک ایسا مذہب جس کے احکام پر ہم عمل نہیں کر سکتے وہ خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ممکن نہیں کہ خدا اپنے بندوں کو ایسی تعلیم دے جس پر وہ عمل نہ کر سکیں اور جو ان کی طاقت اور ہمت سے بڑھ کر ہو۔ دیکھئے ایک انجینئر مکان تعمیر کراتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کی دیواریں کتنی مضبوط اور کس قدر بوجھ سہار سکتی ہیں اس لئے وہ کبھی ایسا نہیں کرے گا کہ اتنے وزنی گاڈر ان پر رکھ دے جن کا بوجھ نہ سہار سکیں اور گر پڑیں۔ پس جب ایک انجینئر ایسا نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ جو انسان کی طاقت اور ہمت کو خوب جانتا ہے وہ کہاں ایسا کر سکتا ہے کہ اس پر اس قدر بوجھ رکھ دے جسے وہ اٹھا ہی نہ سکے اور دب کر رہ جائے۔ مگر یہ مذاہب بتاتے ہیں کہ ان میں ایسی تعلیم پائی جاتی ہے جس پر دنیا کا کثیر حصہ عمل نہیں کر سکتا بلکہ اس کے لئے عمل کرنا ناممکن ہے۔ پس یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ مذاہب خدا کی طرف سے نہیں ہیں اور جب خدا کی طرف سے نہیں ہیں تو زندہ مذہب بھی نہیں کہلا سکتے۔ بلکہ مردہ ہیں اور مردہ کو گلے ڈالنا کسی عقلمند انسان کا کام نہیں ہو سکتا۔

ایک اور طریق سے زندہ اور مردہ مذہب کی پہچان

یہ تو ایک طریق سے ثابت ہوا کہ جن مذاہب کو اسلام کے مقابلہ میں زندہ مذہب ہونے کا دعویٰ ہے وہ زندہ نہیں بلکہ مردہ ہیں اب ان کے مردہ ثابت کرنے کا ایک دوسرا طریق ہے۔ اور وہ یہ کہ ایک مذہب جو بجائے خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرانے اور اس سے قریب کرنے کے اس سے دور کر دے وہ بھی زندہ مذہب نہیں ہو سکتا۔ اس کے متعلق بھی جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے سوا باقی سب مذاہب بعض ایسی تعلیمیں رکھتے ہیں کہ جن پر عمل کرنے کا یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ مثلاً عیسائیت میں بتلایا گیا ہے کہ خدا کسی پر رحم نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی کے گناہ معاف کر سکتا ہے خواہ وہ کتنی ہی آہ و زاری کرے اور آئندہ گناہوں سے بچنے کا پورا پورا یقین دلائے۔ اس عقیدہ کی وجہ سے پھر یہ بات بنانی پڑی کہ خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو لوگوں کے گناہوں کے عوض قربان کر دیا اور اس طرح انہیں نجات دی۔ مگر یہ عقیدہ رکھ کر کوئی انسان گناہ سے نہیں بچ سکتا کیونکہ جب وہ یہ دیکھے گا کہ خدا میں اتنی بھی طاقت نہیں ہے کہ میرے گناہ بخش دے اور وہ مجھ پر باوجود میری سچی توبہ اور عاجزی کے اتنا بھی رحم نہیں کر سکتا کہ میری گذشتہ برائیوں کو ڈھانپ دے بلکہ سزا ہی دے گا تو پھر میرے لئے سوائے اس کے اور کیا چارہ ہے کہ جو جی چاہے کرتا رہوں۔ اور جہاں پہلے گناہوں کی سزا پاؤں وہاں ان کی بھی پالوں۔ پھر جب اسے یہ بتایا جائے گا کہ انسانوں کو نجات دینے کے لئے خدا نے ایک بے گناہ اور معصوم انسان کو قتل کر دیا۔ تو غور کرو کہ اس سے اس کے دل پر کیا اثر ہو گا اور خدا کی طرف سے اس کے دل میں کس قدر نفرت پیدا ہو جائے گی۔

پین ایک انگریز گزرا ہے جس نے فری تھنکر مذہب نکالا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ میں ایک دفعہ اپنے باپ کے ساتھ گرجا گیا۔ اور پادری صاحب سے سنا کہ خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو ہماری خاطر قربان کر دیا۔ میں بھی چونکہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا مجھے پادری صاحب کی یہ بات سن کر سخت نفرت اور خوف پیدا ہوا اور میں نے خیال کیا کہ اگر ایسا ہی سلوک مجھ سے میرا باپ کرے پھر کیا ہو۔ یہ خیال میرے دل میں ایسا بیٹھا کہ میں گرجا سے بجائے گھر جانے کے بھاگ کھڑا ہوا ۔ اور امریکہ چلا آیا۔ واقعہ میں ایسے خدا کو کوئی انسان ماننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔ جو اس قدر مجبور اور اتنا ظالمانہ فعل کرے۔ کیونکہ جب ہم انسان ہو کر دوسروں پر رحم کرتے ان کی غلطیوں کو معاف کرتے ان کو انعام دیتے اور اپنے قصور واروں کے قصور بخشتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ خدا اپنے گنہگار بندوں کو نہ بخشے اور اس کے لئے اسے اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان کرنا پڑے۔

اس بھیانک نظارہ کو اپنے سامنے رکھئے کہ ایک انسان ہے وہ اقرار کرتا ہے کہ مجھ سے فلاں گناہ ہو گیا۔ اس کے بعد اسے پشیمانی ہوئی مگر وہ جانتا ہے کہ خواہ میں کتنا ہی روؤں چیخوں اور خدا کے حضور ماتھا رگڑوں خدا اس گناہ کو معاف نہیں کرے گا اور میں اس کی سزا سے کسی صورت میں بھی نہیں بچ سکتا۔ اس سے اس کے دل میں خدا سے کتنی نفرت پیدا ہو گی۔ مگر اسلام کہتا ہے۔ فَمَنۡ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِ ظُلۡمِہٖ وَاَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰہَ یَتُوۡبُ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ(المائدہ: ۴۰) کہ جو گناہ کرنے کے بعد توبہ کرتا ہے اور صرف توبہ ہی نہیں کرتا بلکہ اصلاح کے لئے بھی کوشش کرتا ہے اس کے گناہ بخشے جاسکتے ہیں کیونکہ اللہ بخشنے والا رحیم ہے۔ یہ ہے وہ تعلیم جو انسان کو اپنی اصلاح کا موقع دیتی اور اسے نیکیاں کرنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

پھر اسلام کے مقابلہ میں ایک اور مذہب ہے جو اپنے زندہ ہونے کا دعویدار ہے۔ مگر وہ بھی کہتا ہے کہ پرمیشور کسی انسان کو ہمیشہ کی نجات نہیں دیتا بلکہ ایک مدت کے بعد بلاوجہ جونوں کے چکر میں ڈال دیتا ہے۔ اور اس کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ چونکہ انسان کے اعمال محدود ہوتے ہیں اور محدود اعمال کا بدلہ بھی محدود ہونا چاہئے نہ کہ غیر محدود۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ انسان کو محدود اعمال کرنے پر مجبور کس نے کیا ہے۔ اسی نے جس نے اسے مار دیا اور زندہ نہ رہنے دیا اور وہ پرمیشور ہے۔ اگر وہ انسان کو زندہ رہنے دیتا تو وہ اور عمل کرتا۔ پس جب خدا کے فعل سے انسان کے اعمال محدود رہتے ہیں تو پھر یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ چونکہ تم نے اعمال محدود کئے ہیں اس لئے نجات بھی محدود وقت کے لئے دی جاتی ہے۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے۔ ضرور ظلم ہے۔ کیونکہ انسان کو خود ہی تو مارا جاتا اور عمل کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔ مگر پھر اس کی سزا اس پر ڈالی جاتی ہے۔ اور بیچارے کو بلا وجہ جونوں کے چکر میں ڈالنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔ جب ایک عقلمند انسان اس پر غور کرے گا کہ انسان کو بلاوجہ اور بغیر اس کے قصور کے مکتی خانہ سے نکال کر تکالیف اور مصائب میں ڈال دیا جاتا ہے تو وہ کہے گا کہ عجیب خدا ہے جو خود ہی ہمیں نیک اعمال کے کرنے سے مار کر روک دیتا ہے اور پھر خود ہی کہتا ہے کہ چونکہ تم نے محدود اعمال کئے ہیں اس لئے محدود نجات دی جاتی ہے اور اس کے بعد پھر تمہیں جونوں کے چکر میں گردش کرنی ہے۔ کیا اس عقیدہ سے اس کے دل میں نفرت نہیں پیدا ہوگی۔ ضرور ہوگی۔ پھر اسی طرح جب وہ یہ خیال کرے گا کہ مجھ پر پرمیشور نے بلا کسی وجہ اور سبب کے قبضہ کر لیا ہے اور اپنے قواعد مجھ پر جاری کر دیئے ہیں تو وہ کہے گا کہ اس کا کیا حق تھا کہ ایسا کرتا۔ کیونکہ روح اور مادہ خود بخود موجود تھے اور ان کے ملنے سے میں بن گیا ہوں۔ ایسی حالت میں پرمیشور کا مجھ پر حکومت جتانا صریح ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔ ظالم اسی کو کہتے ہیں جو کمزوروں کو دبالے۔ اسی طرح پرمیشور نے کیا ہے۔ روح اور مادہ کمزور تھے ان پر اس نے قبضہ کر کے ہمیں تکلیف میں ڈال دیا ہے۔ اگر روح اور مادہ کو اپنی اصلی حالت میں رہنے دیا جاتا۔ تو نہ ہم بنتے اور نہ ان تکالیف اور مشکلات میں پڑتے۔ اور نہ جونوں کے چکر میں گردش کرتے۔

یہ اور اسی قسم کی اور باتیں ایسی ہیں کہ جو خدا تعالیٰ سے نفرت پیدا کرانے کا موجب بنتی ہیں۔ اس لئے جس مذہب میں یہ پائی جائیں وہ زندہ مذہب نہیں ہو سکتا۔

خدا کا قرب حاصل کرانے والا مذہب

اب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کون سا مذہب ہے جو خدا سے ملاتا اس کی محبت اور قرب حاصل کراتا، اس کے فضلوں کا وارث بناتا، اور برائیوں، گناہوں سے بچاتا ہے۔ اس کے لئے ہمیں ان بیہودہ اور لغو باتوں میں نہیں پڑنا چاہئے جن کا ہمارے مقصد اور مدعا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دیکھئے اگر ہمیں شملہ سے کالکا جانے کی ضرورت ہو تو ہم سٹیشن پر جا کر یہ تلاش کریں گے کہ کالکا جانے والی کون سی گاڑی ہے۔ نہ یہ کہ ہم وہاں یہ دریافت کرنے بیٹھ جائیں گے کہ اس گاڑی کو کس نے بنایا ہے۔ اس کی لکڑی کہاں سے منگوائی گئی ہے اور کیا لکڑی ہے اور اس پر کیا خرچ آیا ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اس کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔ اور ہماری غرض اور مقصد سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی طرح کسی زندہ مذہب کی تلاش کرتے ہوئے اس قسم کی باتوں میں پڑنا کہ دنیا کب بنی ، کیوں بنی ، کس چیز سے بنی وغیرہ وغیرہ غلطی اور نادانی ہے۔ کیونکہ ان باتوں کے پیچھے پڑنے کی ہمیں ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ان کا دریافت کرنا ہمیں کچھ فائدہ دے سکتا ہے۔ ہمارے اندر ایک تڑپ رکھی گئی ہے۔ ہمارے اندر ایک اضطرار پیدا کیا گیا ہے۔ ہمیں ایک درد دیا گیا ہے۔ ہم تو اس امر کا علاج چاہتے ہیں۔ ہمارے اندر خدا سے ملنے کے لئے جوش موجزن ہے۔ محبت بے چین کر رہی ہے۔ اور تڑپ بے آرام کئے دیتی ہے۔ اس لئے ہمیں تو وہ مذہب چاہئے جو خدا سے ملائے۔ اس کا قرب حاصل کرائے۔ اور اس کی خوشنودی کی نعمت عطا کرے۔ ہمیں اس سے کیا فائدہ اگر یہ معلوم ہو جائے کہ دنیا ایک ارب سال سے بنی ہے یا اس سے کیا نقصان ہے کہ ۶ ہزار سال سے اس کی ابتداء ہوئی ہے۔ اسی طرح اس سے ہمیں کیا فائدہ کہ دنیا ۲۰ لاکھ دفعہ بنی ہے۔ اور اس سے کیا نقصان کہ ایک ہی دفعہ بنی ہے۔ پھر اس سے کیا فائدہ کہ تمام دنیا کے لئے شروع سے لے کر اخیر تک ایک ہی کتاب نازل ہوئی ہے یا اس سے کیا نقصان کہ نئی نئی آتی رہی ہیں۔ پھر اس سے ہمیں کیا فائدہ کہ خدا نے اپنا پہلا کلام کہاں نازل کیا۔ اور اس سے کیا نقصان کہ اس کا ہمیں علم ہی نہیں۔ ہماری تو غرض ہی یہ ہے کہ خدا مل جائے۔ جس کے حاصل کرنے کے لئے ہم پیدا کئے گئے ہیں۔ اگر یہ غرض کسی مذہب کے ذریعہ پوری ہو جائے تو پھر کسی اور چیز کی ہمیں ضرورت ہی نہیں۔ وہی زندہ مذہب ہے اور اسی کو ہمیں اختیار کرنا چاہئے۔

اسلام ایک زندہ مذہب ہے

میں نے بتایا ہے کہ مذاہب کی غرض یہ ہے کہ خدا سے ملائے۔ اس کا قرب حاصل کرائے ، اس سے اتحاد کرا دے اور بدیوں اور گناہوں سے بچائے۔ جو ایسا کر دیتا ہے اسی کی ہمیں ضرورت ہے اور یہ صرف اسلام ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ چنانچہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ اس کے ذریعہ تمہاری بدیاں مٹائی جائیں گی۔ اور نیکیوں میں ترقی دی جائے گی خدا سے ملایا جائے گا اور اس کے فضلوں کا وارث بنا دیا جائے گا چنانچہ فرماتا ہے۔ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡکُمۡ مَّوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوۡرِ ۬ۙ وَہُدًی وَّرَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ(یونس: ۵۸) کہ اے مومنو! یہ تمہارے لئے ایسی تعلیم بھیجی گئی ہے جو تمہارے دلوں سے بدیوں کو مٹا دے گی اور اعلیٰ اخلاق پیدا کرے گی۔ اس کے بعد تمہیں خدا تک پہنچنے کا راستہ دکھلائے گی اور جو اس رستہ پر چلیں گے ان کو خدا کے فضلوں کا وارث بنا دے گی۔

پس جس مذہب میں یہ باتیں حاصل ہوں وہی زندہ مذہب ہو سکتا ہے دوسرا نہیں۔ اور اسی کو قبول کرنا چاہئے۔ اور وہ صرف اسلام ہے۔ اسی کا یہ دعویٰ ہے کہ وحی کا دروازہ اب بھی کھلا ہے جس کے ذریعہ خدا اپنے بندوں کے ساتھ اپنی محبت اور پیار کا اظہار کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔ اور ایسے انسانوں کو اپنے فضلوں کا وارث بناتا ہے اور بناتا رہے گا۔ یہی غرض مذہب کی ہے اور چونکہ اسلام اسے نہایت خوبی اور عمدگی کے ساتھ پورا کرتا ہے اس لئے اسی کو قبول کرنا چاہئے۔

کسی مذہب کے زندہ ہونے کا ثبوت

یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے۔ یہ دعویٰ ہے کہ اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے سے ایسا ہو جاتا ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا واقعہ میں ایسا ہوا بھی ہے کہ اسلام کی تعلیم پر عمل کر کے انسان خدا کو پالیتا اور اس کا مقرب بن جاتا ہے یا نہیں؟ تو معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ میں ایسا ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہوا ہے۔ چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر صدی اور ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ اپنے پیارے بندوں سے کلام کرتا رہا ہے۔ مگر اسلام کے سوا دوسرے مذاہب والے کہتے ہیں کہ خدا پہلے تو بندوں سے کلام کیا کرتا تھا مگر اب کسی سے نہیں کرتا۔ گویا خواہ وہ کتنی ہی کوشش کرے اب خدا سے اس کا تعلق اور اتحاد نہیں ہو سکتا اور نہ خدا اس سے بولتا ہے۔ لیکن اگر کسی مذہب کی صداقت کا یہی ثبوت ہو کہ کسی زمانہ میں خدا نے اس کے پیروؤں سے کلام کیا تھا اور اب نہیں کرتا۔ تو اس طرح تو ہر ایک مذہب والا کہہ سکتا ہے کہ ہمارا مذہب زندہ ہے اور خدا کا ہم سے ہی تعلق ہے۔ لیکن تعلق کے لئے کوئی ایسی علامت ہونی چاہئے جس سے دوسروں کو بھی یقین ہو سکے۔ مثلاً ایک شخص کسی کے دروازے پر جا کر دستک دے اور اندر سے کوئی جواب نہ آئے۔ مگر وہ کہے کہ مالک مکان اندر بیٹھا مجھ سے بڑا خوش ہو رہا ہے تو اسے کہا جائے گا کہ اس کے خوش ہونے کی کوئی علامت تو بتلاؤ۔ اندر سے آواز نہ آنا تو خوش ہونے کا نشان نہیں ہے بلکہ ناراضگی کا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی خدا تعالیٰ کو پکارتا ہے اور بڑے درد اور محبت کے ساتھ پکارتا ہے لیکن وہ آگے سے کوئی جواب نہیں دیتا تو اسے یہ نہیں کہا جائے گا کہ خدا اس سے بڑا خوش ہے بلکہ یہی کہا جائے گا کہ یا تو ناراض ہے اور یا کوئی ہے ہی نہیں۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ موجود ہو اور خوش بھی ہو لیکن جواب نہ دے۔ امریکہ میں ایک انگریز ہوا ہے اس نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں وہ لکھتا ہے کہ اگر کوئی خدا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ دنیا مصائب اور آلام، دکھ اور تکالیف سے تباہ اور برباد ہو رہی ہے مگر وہ اس کے بچانے کے لئے آگے نہیں بڑھتا۔ ایک ماں باپ جب دیکھتے ہیں کہ بچہ کو کوئی تکلیف ہے تو وہ ہمہ تن اس کے دور کرنے کی کوشش کرنی شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن خدا کو تو ماں باپ سے بھی زیادہ اپنے بندوں سے محبت اور الفت ہے وہ کیوں ان کے بچانے کی کوئی صورت نہیں کرتا۔ اور ان کو ایسی ترکیب نہیں بتاتا جس سے وہ ہلاک نہ ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کا انسانوں سے کوئی تعلق اور واسطہ ہی نہیں ہے۔ پھر وہ کہتا ہے اچھا اگر یہ مان لیا جائے۔ کہ سارے کے سارے انسان اس قابل نہیں کہ خدا ان سے تعلق رکھے تو پھر ساری دنیا میں کوئی تو ایسا انسان ہونا چاہئے جس سے تعلق ہو۔ لیکن کوئی بھی نظر نہیں آتا۔ اس لئے معلوم ہوا کہ کوئی خدا ہی نہیں ہے۔

یہ اس نے کیوں کہا؟ اس لئے کہ انسان کی فطرت گواہی دیتی ہے کہ خدا اس سے کلام کرے اور اسے اپنا مقرب بنائے۔

مگر اس فطرتی تقاضا کو سوائے اسلام کے اور کوئی مذہب پورا نہیں کرتا۔ قرآن ہی کہتا ہے۔ کہ جب انسان میں اعلیٰ اخلاق پیدا ہو جائیں اور وہ بدیوں سے دور ہو جائے تو اسے خدا تک لے جایا جاتا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(العنکبوت: ۷۰) کہ ہمارے راستہ میں جو کوئی کوشش اور سعی کرتا ہے اس کو ہم ان راستوں پر چلاتے ہیں جن پر چل کر وہ ہم تک پہنچ جاتا ہے۔ تو اسلام اس بات کا مدعی ہے کہ اسی دنیا میں مومن کے لئے ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ جن سے اسے اللہ کی محبت اور قرب حاصل ہو سکتا ہے۔ اور اسی کے حاصل کرنے کی انسان کو ضرورت ہے۔ اس لئے اسلام ہی اس قابل ہے کہ قبول کیا جائے۔

میں ایک ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہوں جو ابتدائے اسلام کے وقت مسلمان نہیں ہوئی بلکہ بعد میں آکر ہوئی ہے۔ اس لئے ہم نے اسلام اس لئے قبول نہیں کیا کہ ہمارا آبائی مذہب ہے۔ بلکہ ہماری غرض تو یہ ہے کہ جس میں خدا مل جائے اسے قبول کیا جائے۔ ہم تو اس کے لئے تیار ہیں کہ اگر ثابت کر دیا جائے کہ کوئی اور ایسا مذہب ہے جس میں خدا ملتا ہے تو اسی کو اختیار کر لیں۔ لیکن اسلام کے سوا اور کوئی ایسا دین نہیں ہے جس میں یہ بات حاصل ہو سکے۔ یہ صرف اسلام ہی کا دعویٰ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے ملا دیتا ہے۔ اور اس کا زندہ ثبوت بھی پیش کرتا ہے اس لئے یہی زندہ مذہب ہے۔

گذشتہ واقعات کو جانے دو کہ ہر ایک مذہب والا اپنے مذہب کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے اسی قسم کے واقعات سنانے کے لئے تیار ہے۔ اگر ہم کہیں کہ رسول کریم ﷺ کے دشمن تباہ و برباد ہو گئے اور آپ کامیاب و با مراد بن گئے تو دوسرے کہہ دیں گے کہ یہ کونسی بڑی بات ہے۔ ہمارے بزرگوں نے تھوڑی سی دیر میں ایک ہاتھ سے اپنے سارے دشمنوں کو تباہ کر دیا تھا۔ یا اگر ہم کہیں کہ ایسے موقعہ پر جہاں ظاہری سامان بالکل مخالف تھے خدا نے آنحضرت ﷺ کی وجہ سے بہت بڑی کامیابی عطا کی تو اس سے بڑھ کر سنا دیں گے۔ اس لئے اس قسم کی باتوں سے صاف طور پر فیصلہ نہیں ہو سکتا کہ کون سا مذہب زندہ ہے۔ اس لئے ہم یہ بتائیں گے کہ آج بھی اسلام میں وہ طاقت اور ہمت ہے جو پہلے تھی اور جب یہ ثابت ہو گیا تو یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ یہی زندہ مذہب ہے۔

اسلام کے زندہ مذہب ہونے کا ثبوت

پس میں اس وقت اسلام کے زندہ ہونے کا ثبوت پیش کروں گا۔ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے اسلام کی صداقت اور زندگی ظاہر کرنے کے لئے ایک انسان کو بھیجا جس کے ہم مرید اور ماننے والے ہیں۔ اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے بتائے ہوئے احکام پر عمل کر کے وہ درجہ حاصل کر لیا جو خدا تعالیٰ اپنے پیارے اور محبوب بندوں کو دیا کرتا ہے۔ اور انہوں نے خدا تعالیٰ سے ایسا تعلق پیدا کر لیا کہ خدا نے ان سے کلام کیا۔ اور ایسے صاف اور بین طور پر کلام کیا کہ کوئی عقلمند اور سمجھدار انسان اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ دیکھئے کوئی بڑے سے بڑا فلسفی اور بڑے سے بڑا قیافہ شناس یہ نہیں بتا سکتا کہ کل کیا ہو گا۔ لیکن ہمارے مرشد اور مقتدا حضرت مرزا صاحبؑ ایسے گزرے ہیں کہ جنہوں نے کئی سال پہلے بتا دیا کہ ایسا ہو گا چنانچہ ویسا ہی ہوا۔

حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا پہلا نشان

اکثر لوگ جانتے ہیں کہ ایک زمانہ آپ پر ایسا گزرا کہ آپ کے گاؤں کے لوگ بھی آپ کو نہ جانتے تھے اور آپ کے نام تک سے واقف نہ تھے کیونکہ آپ ایک حجرہ میں اکیلے رہتے تھے۔ پھر آپ چار سال سیالکوٹ میں رہے ہیں وہاں بھی چند ہی لوگ آپ کو جاننے والے تھے کیونکہ آپ وہاں اکیلے ہی رہتے تھے اور بہت کم لوگوں سے تعلق رکھتے تھے۔ کبھی کسی سنجیدہ اور متین آریہ یا عیسائی سے مذہبی گفتگو کرنے کے لئے چلے جاتے تھے۔ اور کوئی پندرہ یا بیں کے قریب آدمی تھے جو سیالکوٹ میں آپ کو جانتے تھے۔ آج کل لاء کالج لاہور کے جو پرنسپل ہیں ان کے والد لالہ بھیم سین صاحب آپ کے ساتھ اکثر ملتے جلتے رہتے تھے۔ ان کی شہادت ہے کہ آپ بالکل علیحدہ اور تنہائی میں رہتے تھے اور محویت کا یہ عالم تھا کہ جس سڑک پر متواتر چھ چھ ماہ گزرتے اس کو بھول جاتے کیونکہ آپ نیچی نظر کر کے چلا کرتے تھے۔ ایسی گمنامی کی حالت میں آپ نے اعلان کیا تھا اور خدا سے الہام پا کر کیا تھا کہ يَأْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ (تذکرہ صفحہ ۷۵۲) وہ وقت آگیا ہے جب کہ دنیا میں تیری شہرت کی جائے اور تیرے نام کو روشن کیا جائے۔ اس وقت دور دور سے تمہارے پاس چیزیں آئیں گی اور اس کثرت سے آئیں گی کہ رستے گھس جائیں گے ان میں گڑھے پڑ جائیں گے۔ پھر کہا گیا تھا ۔ يَأْتِيْكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ (تذکرہ صفحہ ۲۰۱) دور دور سے تیرے پاس لوگ آئیں گے اور ان کے آنے کی کثرت سے راستوں میں گڑھے پڑ جائیں گے۔

یہ کتنا بڑا دعویٰ ہے۔ کوئی انسان نہیں کہہ سکتا کہ کل تک میں زندہ بھی رہوں گا یا نہیں چہ جائیکہ وہ کہے کہ مجھے ایک بہت بڑی جماعت دی جائے گی اور اس قدر کامیابی ہو گی کہ میرا نام ساری دنیا میں پھیل جائے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو میں اسلام کو جھوٹا مذہب مان لوں گا۔ ہو سکتا ہے کہ ایک شریر انسان یونہی بڑ مار دے کہ میں دس من بوجھ اٹھالوں گا لیکن یہ کبھی نہیں کہے گا کہ اگر میں نہ اٹھا سکوں تو میرا گھر بار ضبط کر لیا جائے۔ تو ایک ایسے دعوے کے متعلق کوئی انسان شرط نہیں لگا سکتا جس کے صحیح اور درست ہونے میں اسے پورا پورا یقین نہ ہو۔ مگر حضرت مرزا صاحب نے صرف یہی اعلان نہیں کیا کہ ایسا ہو گا۔ بلکہ یہ بھی کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو مجھے جھوٹا اور کذاب سمجھا جائے اور کچھ وقعت نہ دی جاوے۔

اب یہ ایک ایسا دعویٰ ہے کہ جس کے پورا نہ ہونے پر ایک انسان اپنی عزت اور وقار کھونے کے لئے تیار ہے۔ لیکن اتنی جرأت سوائے اس کے اور کوئی نہیں کر سکتا جسے اپنے دعوے پر پورا پورا یقین ہو۔ چنانچہ دعویٰ پورا ہوا اور آپ کو ایسی شہرت حاصل ہوئی کہ دنیا کے دور دراز حصوں سے آپ کے ملنے کے لئے لوگ آئے حتیٰ کہ آپ کی وفات سے ایک سال پہلے امریکہ سے تین آدمی آئے ۔ ان میں سے ایک نے سوال کیا کہ آپ مسیح ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مسیح تو معجزے دکھایا کرتا تھا آپ کیا معجزہ دکھاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا میرے معجزے کو دیکھنے کے لئے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں تم خود ہی میرا معجزہ ہو۔ اس پر اس نے کہا یہ کس طرح۔ آپ نے فرمایا دیکھئے اس وقت جب کہ قادیان سے چل کر بھی لوگ میرے پاس نہ آتے تھے اس وقت میں نے اعلان کیا تھا کہ میرا نام دنیا میں مشہور کیا جاوے گا اور دور دور سے لوگ مجھے ملنے کے لئے آئیں گے۔ اب بتائیے آپ نے میرا نام امریکہ میں سنا یا نہیں اور میرے ملنے کے لئے آئے یا نہیں۔ یہ سن کر وہ خاموش ہو گیا۔

تو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں اسلام کی زندگی کے ثبوت میں حضرت مرزا صاحب کو پیش کیا ہے۔ اور اس کی دلیل یہ دی ہے کہ حضرت مرزا صاحب سے ان قوانین اور احکام پر چلنے کی وجہ سے جو اسلام نے بتائے ہیں خدا نے وعدہ کیا تھا کہ میں تجھے اتنی عزت دوں گا کہ تیرا نام ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔ اور لوگ دور دور سے تیرے پاس آئیں گے۔ چنانچہ اس وعدہ کے بعد بیس ہی سال میں خدا تعالیٰ نے آپ کو ایسی شہرت دی کہ دور دراز ممالک سے لوگ آپ کا پتہ صرف یہ لکھتے کہ ”انڈیا مرزا غلام احمد“ تو آپ کو خط پہنچ جاتے۔ پھر دنیا کے چاروں کونوں سے لوگ آپ کے ملنے کے لئے آئے۔ اور وہی لوگ جو انسانوں کو قتل کر دینا بہت معمولی بات سمجھتے تھے آپ کے پاس آئے۔ اور آپ کی بیعت میں داخل ہو کر باخدا انسان بن گئے۔ ہمارے ایک وہابی دوست سناتے تھے کہ میں ایک دفعہ سرحد کی طرف گیا تو ایک پٹھان کھیتی کرتا ہوا ملا۔ میں نے اسے السلام علیکم کہا۔ اس کا اس نے جواب تو کوئی نہ دیا مگر کام چھوڑ کر ایک طرف کو بھاگ کھڑا ہوا۔ دوسرے نے مجھے بتایا کہ یہاں سے جلدی چلے جاؤ وہ تمہارے مارنے کے لئے بندوق لینے گیا ہے۔ تو یہ ان لوگوں کی حالت تھی۔ اکثر تو دین سے ایسے ناواقف تھے کہ کلمہ تک نہیں پڑھ سکتے تھے۔ مشہور ہے کہ ایک دفعہ ایک ہندو کو کسی پٹھان نے پکڑ لیا اور کہا مسلمان ہو جا ورنہ جان سے مار ڈالوں گا۔ پہلے تو اس نے انکار کیا۔ لیکن جب دیکھا کہ جان کی خیر نہیں تو کہا میں مسلمان ہوتا ہوں مجھے کلمہ پڑھاؤ۔ اس نے کہا تم خود ہی پڑھو ہندو نے کہا مجھے تو نہیں آتا۔ اس پر پٹھان نے یہ کہہ کر کہ تمہاری قسمت ہی خراب ہے کلمہ مجھے بھی نہیں آتا چھوڑ دیا اور وہ چلا گیا۔ تو اس علاقہ کے لوگ اس قسم کے ہیں۔ مگر خدا تعالیٰ نے انہیں کو جو قتل و غارت ، لڑائی و جھگڑے ، شرارت و فتنہ میں لگے رہتے تھے لا کر حضرت مرزا صاحب کے آگے ڈال دیا۔ اور صرف ڈال ہی نہیں دیا۔ بلکہ ان کی بہت بڑی اصلاح بھی ہو گئی۔ کیونکہ حضرت مرزا صاحب کوئی اس قسم کے پیر نہ تھے جیسے آج کل کے مسلمانوں کے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہماری بیعت کر کے ہمارا نذرانہ ادا کر دو پھر جو تمہارا جی چاہے کرتے پھرو سب کچھ تمہیں معاف ہے۔ چنانچہ حضرت مولوی نور الدین صاحب جو حضرت مرزا صاحب کے پہلے خلیفہ تھے۔ ان کے ہاں ان کی بہن آئی تو انہوں نے کہا کہ تم اپنے پیر سے جا کر پوچھنا کہ تمہاری بیعت کرنے سے کیا فائدہ ہے۔ جب اس نے واپس جا کر پیر صاحب سے یہ سوال کیا تو پہلے تو انہوں نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے نور الدین نے تمہیں یہ سوال سکھایا ہے اس لئے اس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر بتا دیتا ہوں ہماری بیعت کرنے کا یہ فائدہ ہے کہ بیعت کے بعد جو تمہاری مرضی ہو وہ کرو۔ قیامت کے دن ہم جب کہہ دیں گے کہ یہ ہمارے مرید ہیں۔ تو پھر کوئی نہیں پوچھے گا اور تم سیدھی جنت میں چلی جاؤ گی۔

تو اس قسم کی بیعتیں ہیں جو مسلمانوں کے پیر کراتے ہیں۔ مگر حضرت مرزا صاحب کی بیعت ایسی نہ تھی۔ اس میں شرط تھی کہ ہر قسم کی بدکاری ، شرارت ، حسد ، کینہ ، بغض ، چوری وغیرہ افعالِ بد سے بچنا ہو گا۔ قرآن کریم کے کسی چھوٹے سے چھوٹے حکم کو نہیں توڑنا ہو گا۔ قتل و غارت ، لوٹ مار وغیرہ برائیوں کو چھوڑنا ہو گا۔ خدا کی عبادت سچے دل اور کامل فرمانبرداری سے کرنی ہوگی۔ خدا کی مخلوق کے ساتھ محبت اور الفت سے پیش آنا ہو گا۔ غریبوں ، مسکینوں اور محتاجوں کی مدد کرنی ہوگی۔ اپنی زبان یا ہاتھ سے خدا کی کسی مخلوق کو تکلیف نہیں پہنچانی ہوگی۔ ہر برے فعل سے بچنے اور اچھے عمل کرنے کے لئے تیار رہنا ہو گا۔ یہ وہ شرائط ہیں جو حضرت مرزا صاحب اپنے ہاتھ پر بیعت کرنے والے سے پوری کراتے تھے۔ لیکن باوجود ان کے موجودہ زمانہ کے لحاظ سے اس قدر مشکل اور کٹھن ہونے کے جب ان لوگوں نے جنہیں وحشی اور جاہل سمجھا جاتا تھا آپ کی بیعت کی تو انسان بن گئے۔ خود قرآن کریم پڑھا اور دوسروں کو سکھایا۔ کیا یہ حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا معمولی نشان ہے۔ پھر ہر علاقہ اور ہر ملک سے لوگ کھینچ کھینچ کر آپ کے پاس لائے گئے اور اس کثرت کے ساتھ لائے گئے کہ جن راستوں پر سے آئے وہ گھس گئے۔ آپ میں سے جو لوگ قادیان گئے ہیں انہوں نے دیکھا ہوگا کہ بٹالہ سے قادیان تک کی سڑک پر لوگوں کی کثرتِ آمدورفت کی وجہ سے کتنے کتنے بڑے گڑھے پڑ جاتے ہیں حالانکہ ہر سال ہزاروں روپوؤں کی مٹی گورنمنٹ ڈلواتی ہے۔ تو یہ حضرت مرزا صاحب کی پیش گوئی پوری ہو رہی ہے جو آپ نے اس وقت کی تھی جب کہ آپ کو کوئی جانتا بھی نہ تھا۔ پس اس پیش گوئی نے پورا ہو کر ثابت کر دیا کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے۔

حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا دوسرا نشان

پھر حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا ایک اور نشان دیکھئے۔ طاعون جس نے ہندوستان کے علاقوں کے علاقے تباہ و برباد کر دیئے ہیں۔ اس کے ہندوستان میں آنے سے پندرہ سال پہلے حضرت مرزا صاحب نے خبر دی تھی۔ پھر تین سال پہلے بہت کھول کر بتا دیا تھا کہ اپنی اصلاح کر لو ورنہ اس سے تباہ ہو جاؤ گے۔

پھر جب بمبئی میں پہلے پہل پھوٹی تو آپ نے بتایا کہ اب بھی موقع ہے کہ اصلاح کر لو ورنہ تمام ملک میں پھیل جائے گی۔ پھر جب جالندھر میں نمودار ہوئی تب آپ نے اس سے محفوظ رہنے کی ترکیب بتائی لیکن لوگوں نے توجہ نہ کی۔ جس کا نتیجہ جو کچھ ہوا وہ ظاہر ہی ہے اس کے بعد ایسے ایسے خطرناک حملے ہوئے اور ہو رہے ہیں کہ علاقوں کے علاقے تباہ و برباد ہو گئے ہیں۔ اور بّیس سال کے قریب اس کو آئے ہوئے ہو گئے ہیں۔ مگر ابھی تک جانے کا نام نہیں لیتی۔ یہ بھی ایک بہت بڑا ثبوت ہے حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا۔ اور جب آپ کی صداقت ثابت ہو گئی تو ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہو گیا کہ اسلام زندہ مذہب ہے کیونکہ اسی پر چل کر آپ نے یہ مرتبہ حاصل کیا۔

حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا تیسرا نشان

پھر ۱۹۰۵ء میں جو خطرناک زلزلہ آیا ہے اور جس سے بہت زیادہ جان و مال کا نقصان ہوا ہے۔ بڑی بڑی عمارتیں گری ہیں اور بّیس ہزار انسان صرف ہندوستان میں ہی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے آنے کی خبر بھی حضرت مرزا صاحب نے پیشتر سے دی ہوئی تھی۔ اس کے متعلق انسائیکلوپیڈیا آف بریٹینکا میں لکھا ہے کہ آج تک اس سے زیادہ سخت زلزلہ کبھی نہیں آیا۔ اسی طرح حضرت مرزا صاحب نے کہا تھا کہ میں نے دنیا کو اسلام کے زندہ مذہب ہونے کا ثبوت دے دیا ہے۔ اگر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا تو اس کی سزا میں ایسے زلزلے آئیں گے کہ جن کی نظیر پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملے گی۔ دیکھئے کتنا بڑا دعویٰ ہے یہ تو ہو سکتا ہے کہ کوئی کہہ دے کہ زلزلے آئیں گے کیونکہ آتے ہی رہتے ہیں۔ لیکن مرزا صاحب نے یہ نہیں کہا بلکہ ساتھ یہ شرط بھی لگادی ہے کہ ایسے خطرناک اور اس کثرت سے آئیں گے کہ دنیا میں ان کی مثال نہیں پائی جائے گی۔ چنانچہ انسائیکلوپیڈیا آف بریٹینیکا کے ۱۹۱۲ء کے ایڈیشن میں تمام ان زلزلوں کی فہرست دی گئی ہے جو ۱۹۱۲ء تک آئے۔ جس سے یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ ۱۶۰۰ء سے لے کر ۱۹۰۰ء تک جتنے زلزلے ساری دنیا میں آئے ہیں ان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد حضرت مرزا صاحب کی اس پیشگوئی سے لے کر ۱۹۱۲ء تک کے زلزلوں سے مرنے والوں کی نسبت بہت تھوڑی بنتی ہے۔ اور اس بارہ سال کے عرصہ میں پہلے تین سو سال کی مدت کی نسبت زلزلوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ اور ان میں ہلاک ہونے والے زیادہ ہیں۔ اب جو شخص ذرا بھی غور و فکر سے کام لے۔ اسے معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی یہ پیش گوئی کوئی ڈھکوسلا نہ تھی۔ اور نہ کسی انسان کی طاقت ہے کہ ایسی بات بتا سکے۔ یہ محض خدا تعالیٰ کا فعل ہے جو حضرت مرزا صاحب کے ذریعہ ظاہر ہوا۔ اور اسلام کے زندہ مذہب ہونے کا ثبوت قرار پایا۔ کیونکہ اس سے پتہ لگتا ہے کہ اسلام میں ایسے لوگ ہوتے رہتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے اور خدا ان سے کلام کرتا ہے۔ پس یہی مذہب اس قابل ہے کہ انسان قبول کرے۔

قابلِ قبول مذہب

دیکھئے کوئی انسان یہ پسند نہیں کرتا کہ اپنے باغ میں کوئی ایسا پودا رہنے دے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو یا جو کڑوے پھل لاوے۔ اسی طرح کسی عقلمند انسان کو وہ مذہب قبول نہیں کرنا چاہئے جس سے فائدہ نہ ہو یا جس کا نتیجہ تلخ نکلتا ہو۔ بلکہ اسی کو اختیار کرے جس کا کوئی فائدہ ہو۔ اور ایسا مذہب اس وقت سوائے اسلام کے اور کوئی نہیں ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان مذاہب میں بھی پہلے ایسے لوگ ہوئے ہیں جو خدا کے نبی اور پیارے تھے۔ مثلاً رام، کرشن وغیرہ اور عیسائیت میں بھی ہوئے ہیں۔ مگر اب سوائے اسلام کے اور کسی میں یہ بات باقی نہیں ہے کہ خدا سے تعلق کرا سکے۔ دیگر مذاہب کی بنیاد قصہ کہانیوں پر ہے۔ لیکن اسلام اپنی صداقت کے ثبوت میں گذشتہ روایات کو ہی پیش نہیں کرتا بلکہ مشاہدات پیش کرتا ہے۔ اس لئے بھی قابل قبول ہے۔ دیکھئے کوئی فقیر اس گھر پر کچھ مانگنے کے لئے نہیں جائے گا جہاں کسی زمانہ میں کروڑوں کروڑ روپے ملتے ہوں مگر اب کچھ نہ حاصل ہوتا ہو۔ لیکن اس کے بجائے اس گھر پر چلا جائے گا جہاں اسے آج ایک پیسہ ملنے کی امید ہو۔ پس وہ مذہب جو کسی زمانہ میں دیتے تھے خواہ وہ کتنا زیادہ ہی دیتے تھے۔ لیکن اب نہیں دیتے ان کا تو نام ہی نہیں لینا چاہئے۔ کیونکہ ہمیں تو ایک ایسے مذہب کی ضرورت ہے جو آج دے اور ہمارے موجودہ درد کی دوا کرے۔ ایک شاعر کہتا ہے۔

ابن مریم ہُوا کرے کوئی

میرے دل کی دوا کرے کوئی

پس ہمیں تو اس وقت ضرورت ہے۔ ورنہ یہ تو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ دوسرے مذاہب بھی کسی وقت زندہ تھے۔ ان میں بھی خدا کے پیارے اور محبوب لوگ ہوئے۔ ان پر چلنے والے بھی خدا سے کلام کرتے تھے۔ اور ان میں بھی نبی اور رسول بھیجے گئے۔ کیونکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ(فاطر: ۲۵) کہ کوئی امت ایسی نہیں گزری جس میں ہم نے نذیر نہ بھیجا ہو۔ اس لئے عیسوی، موسوی، زرتشتی وغیرہ سب مذاہب زندہ تھے۔ مگر اپنے اپنے وقت میں جب ان کا وقت گزر گیا تو وہ مردہ ہوگئے۔ اور ہمیں آج کسی مردہ مذہب کی ضرورت نہیں بلکہ زندہ کی ہے۔ اور وہ اسلام ہی ہے۔

حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا چوتھا نشان

پھر حضرت مرزا صاحب کی اور کئی ایک پیش گوئیاں ہیں جو نہایت صفائی کے ساتھ پوری ہوئیں۔ جب بنگالہ کی تقسیم ہوئی اور اس پر بڑا شور پڑا۔ میموریل بھیجے گئے، سٹرائیکس ہوئیں، فساد ہوئے۔ مگر گورنمنٹ نے ایک نہ مانی اور صاف جواب دے دیا کہ اس حکم کو بدلا نہیں جاسکتا۔ ایسے وقت میں جب کہ بنگالیوں کو یہ جواب مل چکا تھا اور وہ مایوس ہو چکے تھے۔ تو حضرت مرزا صاحب نے اپنی یہ پیش گوئی شائع کی کہ ”پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا اب ان کی دلجوئی ہوگی“ (تذکرہ صفحہ ۵۹۶) جب یہ پیش گوئی شائع ہوئی تو اور تو اور بنگالی اخباروں نے بھی اس پر ہنسی اڑائی۔ اور لکھا کہ ہمیں تو صاف جواب مل گیا ہے مگر یہ کہتے ہیں کہ دلجوئی ہوگی۔ اس کے علاوہ پنجاب کے اخباروں نے ہنسی اڑائی اور لکھا کہ مرزا صاحب پہلے تو صرف نبوت کا دعویٰ کرتے تھے اب سیاست دان بھی بننے لگے ہیں۔ مگر لوگوں کی یہ ہنسی اور مخالفت ثبوت تھا اس بات کا کہ کسی انسان کے وہم و قیاس میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ ایسا ہو گا۔ اور انسان کے نزدیک اس حکم کو بدلنا بالکل ناممکن تھا۔ لیکن ہمارے مکرم معظم بادشاہ سلامت ولایت سے چل کر یہاں ہندوستان میں آئے اور ان کے ہاتھوں یہ پیش گوئی پوری ہوئی اور اپنے الفاظ میں پوری ہوئی۔ یعنی نہ تو بنگالیوں کی خواہش کو ان کی مرضی کے مطابق پورا کیا گیا اور نہ ہی انہیں مایوس رکھا گیا۔ بلکہ دلجوئی کر دی گئی اور وہ اس طرح کہ مشرقی بنگال کو تو ساتھ ملا دیا گیا مگر صوبہ بہار کو جدا کر دیا گیا۔ تو یہ ثبوت تھا اس بات کا کہ اسلام زندہ مذہب ہے اور اس پر چلنے والوں کو خدا قبل از وقت خبر دیتا ہے۔ اور ان سے کلام کرتا ہے اور اپنی زندگی کے ثبوت اب بھی پیش کرتا ہے۔

زندہ مذہب کا ایک اور ثبوت

کسی مذہب کے زندہ ہونے کا ایک اور بھی ثبوت ہے اور وہ یہ کہ اس پر چلنے والوں کو خدا کی نصرت اور تائید حاصل ہو۔ دیکھئے جس کو کسی سے محبت ہو یا جس چیز سے پیار ہو وہ اس کی مدد کرتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کی خاطر جان تک دے دیتا ہے۔ بچہ کو اگر کوئی مارے تو ماں باپ کو بہت سخت تکلیف پہنچتی ہے۔ یہی حال اور تعلقات کا ہے اور جس قدر انسان کو کسی سے زیادہ تعلق ہوتا ہے اسی قدر زیادہ وہ اس کی مدد اور تائید کی کوشش کرتا ہے۔ تو محبت پیار اور تعلق کی کچھ علامتیں ہوتی ہیں۔ جن سے دوسروں کو اس کا پتہ لگتا ہے۔ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّا لَنَنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا(المؤمن: ۵۲) کہ جن کو ہم سے تعلق اور محبت ہوتی ہے ان کی ہم اسی دنیا میں مدد اور تائید کرتے ہیں۔ اس کے متعلق دوسرے مذاہب صرف قصے اور کہانیاں پیش کرتے اور کہتے ہیں کہ فلاں کے ساتھ خدا کی محبت تھی اور اس کی اس نے اس طرح مدد کی تھی۔ اس کے دشمنوں کو ہلاک و تباہ کیا اور اسے کامیابی عطا کی تھی۔ مگر ہم کہتے ہیں اس زمانہ میں تمہارے پاس خدا کی محبت کا کیا ثبوت ہے؟ اس کا جواب کوئی مذہب پیش نہیں کر سکتا اور صرف قصے پیش کرتا ہے مگر ہم قصوں کو کیا کریں۔ اس وقت جو مذہب ایک بھی ایسا آدمی نہیں پیدا کر سکتا جس کی خدا مدد کرتا ہو، جس سے اپنی محبت کا ثبوت دیتا ہو تو اس مذہب کا کیا فائدہ اور اس کے زندہ ہونے کا کیا ثبوت۔ مگر اسلام ہر زمانہ میں ایسے انسان پیدا کرتا رہا ہے اور اس زمانہ میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعودؑ کو پیدا کیا ہے اور خدا تعالیٰ نے ان کی تائید اور نصرت کر کے بتا دیا ہے کہ خدا کا ان سے تعلق تھا۔ کوئی کہے کہ وہ تو فوت ہو گئے ہیں اب اس کا کیا ثبوت ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اپنے رسولوں اور نبیوں ہی کی مدد نہیں کرتے بلکہ جو ان کے ماننے والے ہوتے ہیں ان کی بھی مدد کرتے ہیں۔ اس لئے اب ان کی جماعت موجود ہے جن سے خدا تعالیٰ اپنی محبت اور پیار کا ثبوت دے رہا ہے۔ اور اپنی مدد اور نصرت سے ہی ہر میدان میں کامیاب کرتا اور اس کے مخالفوں کو ذلیل و خوار کرتا ہے۔

حضرت مرزا صاحب کے لئے خدا تعالیٰ نے ایسے ایسے نشانات دکھلائے کہ جن کو دیکھ کر اسلام کے زندہ مذہب ہونے کا بہت بڑا ثبوت ملتا ہے۔ جب آپ نے دعویٰ کیا تو ساری دنیا نے مل کر آپ کی مخالفت میں زور لگایا۔ مگر آپ کے مخالفین ہر کوشش اور سعی میں ناکام اور نامراد رہے۔ اور آپ کے ساتھ نصرت اور تائید رہی۔ یہ ثبوت تھا اس بات کا کہ خدا کے پیارے اور محبوب بندوں کو خدا سے نصرت آتی ہے۔

دوستی اور محبت اس کو کہتے ہیں کہ دونوں میں ایسا تعلق ہو کہ ایک دوسرے کی بات مانیں۔ پس زندہ مذہب کا یہ بھی ایک ثبوت ہے کہ اس مذہب میں ایسے لوگ موجود ہوں جن کی باتیں خدا تعالیٰ مانے اور ایسے حالات میں مانے جب کہ ظاہری اسباب بالکل مخالف ہوں۔ اور یہ اس طرح کہ ان کی دعائیں قبول ہوتی ہوں اور یہ بات اسلام کے پیروان کو نصیب ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ دوسرے مذاہب کے پیروان کی دعائیں نہیں سنتا۔ خدا تعالیٰ تنگ دل نہیں کہ وہ سوائے ایک قوم کے باقی سب کی دعاؤں کو رد کر دے۔ اسلام خدا تعالیٰ کے متعلق بہت وسعت کی تعلیم دیتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ(البقرہ: ۱۸۷) کہ جب میرے بندے میرے متعلق سوال کریں تو ان کو کہہ دو کہ میں قریب ہی ہوں۔ اور پکارنے والے کی دعاؤں کو سنتا ہوں ”پکارنے والے“ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ صرف مسلمانوں ہی کی دعائیں نہیں سنتا بلکہ خواہ کوئی ہندو ہو یا عیسائی، سکھ ہو یا آریہ کوئی ہو جب وہ خدا کے حضور گڑگڑائے اور اپنی حالت زار پیش کر کے مدد چاہے تو خدا اس کی سنتا اور قبول کرتا ہے۔ پس یہاں دعا کے قبول ہونے کے متعلق بیان کرنے سے میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ مسلمانوں کے سوا اور کسی انسان کی دعا سنتا ہی نہیں بلکہ یہ مراد ہے کہ خدا تعالیٰ ایک سچے مسلمان کی دعائیں دوسرے لوگوں کی نسبت بہت زیادہ سنتا ہے۔ جس طرح کہ ایک سخی انسان گو اپنی سخاوت سے سب کو نفع پہنچاتا ہے مگر اس کے دوست اس سے بہت زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ فرق بھی ہے کہ جہاں ایک مسلمان اور غیر مسلمان میں مقابلہ ہو وہاں وہ مسلمان ہی کی سنے گا اور اس کے مقابلہ میں اگر ساری دنیا بھی کھڑی ہو جائے تو کبھی ان کی دعا قبول نہ کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے ساری دنیا کو چیلنج دیا مگر آج تک اسے قبول کرنے کی کسی کو جرأت نہ ہوئی۔ آپ نے کہا تھا کہ میں اسلام کی صداقت ثابت کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔ اس لئے دوسرے مذاہب والے جن کو اپنا اپنا مذہب سچا ہونے کا دعویٰ ہے آئیں اور مجھ سے مقابلہ کریں۔ اور وہ اس طرح کہ کچھ ایسے مریض لئے جائیں جن کی بیماری نہایت خطرناک ہو اور ان کو قرعہ کے ذریعہ تقسیم کر لیا جائے ان کے بعد ان کی صحت کے لئے دعا کی جائے اور پھر دیکھا جائے کہ کس کی دعا خدا قبول کرتا ہے اور کس کی رد۔ یعنی کس کی دعا سے زیادہ مریض اچھے ہوتے ہیں اور کس کی سے نہیں۔ اگر میری دعا سے زیادہ مریض اچھے ہو گئے تو معلوم ہو جائے گا کہ اسلام ہی زندہ مذہب ہے کیونکہ میں اسی پر چلتا ہوں اور اگر اس کے مقابلہ پر کسی اور مذہب کے پیرو کی دعا سے زیادہ اچھے ہو گئے تو وہی زندہ مذہب ثابت ہو جائے گا۔

لیکن آج تک اس مقابلہ کے لئے کوئی نہیں آیا حتیٰ کہ عیسائیوں کو حضرت مرزا صاحب نے بار بار اور کئی طریق سے اس طرف بلایا اور کہا کہ تمہاری کتاب میں تو لکھا ہے کہ اگر تم میں رائی کے برابر بھی ایمان ہو گا اور تم درخت کو کہو گے کہ چل تو وہ چل پڑے گا۔ پھر تم کیوں میرے مقابلہ پر نہیں آتے مگر وہ نہ آئے۔

جس وقت حضرت مرزا صاحب نے عیسائیوں کو بار بار مقابلہ پر بلایا۔ اس وقت پائینیر میں ایک مضمون نکلا تھا کہ ہمارے پادری صاحبان جو اتنی بڑی بڑی تنخواہیں لیتے ہیں وہ آج کیوں مقابلہ کے لئے نہیں نکلتے تاکہ عیسائیت کی صداقت ثابت ہو۔ مگر پھر بھی کوئی نہ نکلا۔

چیلنج

اب آپ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ حضرت مرزا صاحب تو وفات پا چکے ہیں۔ اب کس طرح مقابلہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ آپ کا سلسلہ مٹ نہیں گیا اب بھی آپ کی جماعت موجود ہے اور ہم لوگ اس مقابلہ کے لئے تیار ہیں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ آج بھی اسلام کی صداقت ظاہر کرنے اور اپنے پیارے بندوں کی اپنے نشانات سے تائید کرنے کے لئے اسی طرح موجود ہے جس طرح آنحضرت ﷺ کے وقت قہری اور مہری نشانوں سے تائید کرنے کے لئے موجود تھا اور جس طرح آنحضرت ﷺ کے بعد آپ کے صحابہؓ کے وقت تائید کرتا رہا۔ اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ اور آپ کے بعد ہمارے وقت میں بھی تائید کرے گا۔ اس لئے میں حضرت

مسیح موعودؑ کے بعد تمام دنیا کو چیلنج دیتا ہوں کہ اگر کوئی شخص ایسا ہے جسے اسلام کے مقابلہ میں اپنے مذہب کے سچا ہونے کا یقین ہے تو آئے اور آکر ہم سے مقابلہ کرے۔ مجھے تجربہ کے ذریعہ ثابت ہو گیا ہے کہ اسلام ہی زندہ مذہب ہے اور کوئی مذہب اس کے مقابلہ پر نہیں ٹھہر سکتا۔ کیونکہ خداتعالیٰ ہماری دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے۔ اور ایسے حالات میں قبول کرتا ہے جب کہ ظاہری سامان بالکل مخالف ہوتے ہیں۔ اور یہی اسلام کے زندہ مذہب ہونے کی بہت بڑی علامت ہے۔ اگر کسی کو شک و شبہ ہے تو آئے اور آزمائے۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ اگر کوئی ایسے لوگ ہیں۔ جنہیں یقین ہے کہ ہمارا مذہب زندہ ہے تو آئیں ان کے ساتھ جو خدا کا تعلق اور محبت ہے اس کا ثبوت دیں۔ اگر خدا کو ان سے محبت ہوگی تو وہ مقابلہ میں ضرور ان کی مدد اور تائید کرے گا۔ ایک کمزور اور ناتواں انسان اپنے پیاروں کو دکھ اور تکلیف میں دیکھ کر جس قدر اس کی طاقت اور ہمت ہوتی ہے مدد کرتا ہے تو کیا انہوں نے اپنے خدا کو ایک کمزور انسان سے بھی کمزور سمجھ رکھا ہے۔ جو ان کی مدد نہیں کرے گا۔ اگر نہیں تو میں ان کو چیلنج دیتا ہوں کہ مقابلہ پر آئیں تاکہ ثابت ہو کہ خدا کس کی مدد کرتا ہے اور کس کی دعا سنتا ہے۔ آپ لوگوں کو چاہئے کہ اپنی طرف سے لوگوں کو اس مقابلہ کے لئے کھڑا کریں۔ لیکن اس کے لئے یہ نہیں ہے کہ ہر ایک کھڑا ہو کر کہہ دے کہ میں مقابلہ کرتا ہوں بلکہ ان کو مقابلہ پر آنا چاہئے جو کسی مذہب یا فرقہ کے قائم مقام ہوں۔ اس وقت دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ خدا کس کی دعا قبول کرتا ہے۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ ہماری ہی دعا قبول ہوگی۔ افسوس ہے کہ مختلف مذاہب کے بڑے لوگ اس مقابلہ پر آنے سے ڈرتے ہیں اگر وہ مقابلہ کے لئے نکلیں تو ان کو ایسی شکست نصیب ہوگی کہ پھر مقابلہ کرنے کی انہیں جرأت ہی نہ رہے گی۔

ہمارا دعویٰ ہے کہ اسلام سچا ہے اور دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے مذہب سچے ہیں۔ اس کے فیصلے کا آسان طریق یہ ہے کہ مشاہدہ کر لیا جائے کہ کون سا مذہب سچا ہے۔ اور جب مشاہدہ ہو سکتا ہے تو پھر کیوں نہ اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ لیکن اس میدان میں صرف اسلام ہی کھڑا رہے گا۔ اور ہم اس کا ثبوت دینے کے لئے آج بھی تیار ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ خداتعالیٰ اسلام ہی کی تائید کرے گا۔

اب میں اپنے مضمون کو ختم کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ وہ لوگ جن کے دل میں حق کی تڑپ ہے اور جو ضد و ہٹ پر قائم نہیں ہیں خداتعالیٰ ان کو ہدایت کی توفیق دے۔ یہ دنیا چند روزہ ہے آخر خدا کے حضور حاضر ہونا ہے اس لئے اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی وہ نعمت حاصل ہو جو نہ صرف اس دنیا میں کام آئے بلکہ آخرت میں بھی فائدہ دے اور وہ اسلام ہے۔