صفحات ۱–۶۵۹
از
سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
تم خدا کے ہاتھ کا لگایا ہُو اپودا ہو۔ تم بڑھتے چلے جاؤ گے یہاں تک کہ تم زمین کے چاروں طرف پھیل جاؤ گے
(فرمودہ 26؍دسمبر 1956ء بر موقع جلسہ سالانہ بمقام ربوہ)
تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
’’اللہ تعالیٰ کا بے حد و حساب شکر ہے کہ اس سال پھر اس نے ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی تعلیم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کے لئے غور کرنے اور قربانی کرنے کا موقع دیا۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کا مزید احسان یہ ہے کہ اس دوران میں بعض ایسے حالات پیش آئے کہ دشمن نے خوب خوشیاں منائیں اور بغلیں بجائیں کہ اب احمدیت کا خاتمہ ہو جائے گا، اب احمدیت کی دیواروں کے نیچے سے خود اس کی گندی نالیوں نے اس کی دیواروں کے گرانے کے سامان پیدا کر دیئے ہیں اور احمدیت کی حفاظتی دیواریں احمدیت کی اپنی نالیوں کی وجہ سے گر جائیں گی۔ اور اخباروں نے باقاعدہ شور مچایا کہ خلیفہ ثانی کی جماعت اب اُس سے بغاوت کر رہی ہے۔ اب وہ اخبار نویس کہاں ہیں؟ وہ ذرا دیکھیں کہ یہ بغاوت کر رہے ہیں یا عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں؟ اگر دشمنوں میں ذرا بھی تخم دیانت ہے اور جھوٹ کے گند پر منہ مارنے سے اُن کو ذرا بھی شرم آتی ہے، اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی بھی اُن کو نسبت حاصل ہے، اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کے غلاموں کی بھی اتباع کی اُن کو توفیق ہے تو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ وہ جماعت آگے سے بہت زیادہ قربانی کرنے پر آمادہ ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ والا جذبہ ان کے اندر موجود ہے جو کہ اُحد کے موقع پر
انہوں نے دکھایا تھا۔ اُحد کے موقع پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر مشہور ہوئی اور ابو سفیان نے خوشی کے نعرے لگائے اور کہا کہاں ہیں محمدؐ؟ مطلب اُس کا یہ تھا کہ آپ فوت ہو گئے ہیں اگر زندہ ہوں گے تو یہ بولیں گے اور پھر ہم دوبارہ لوٹ کر حملہ کر دیں گے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ خاموش رہو۔ پھر انہوں نے کہا کہاں ہے ابو بکر؟ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا اور وہ چُپ رہے۔ پھر اُس نے کہا کہاں ہیں عمرؓ؟ حضرت عمرؓ کھڑے ہو گئے اور کہا کہ عمر تیرا سر توڑنے کے لئے موجود ہے مگر چونکہ دشمن اُس وقت بڑے جتھے میں تھا اور اسلامی لشکر کے پاؤں اُکھڑ گئے تھے اور بظاہر اُسے ایک شکست نصیب ہوئی تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کو بھی منع کر دیا۔ فرمایا اب بھی جواب نہ دیں۔۱
ہماری جماعت بھی آج اُحد کے رنگ میں یہاں موجود ہے اور ابو سفیان کے مثیلوں کو اور ابو جہل کے چیلوں کو کہہ رہی ہے کہ ہم تمہارا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ دشمن یہ خیال کرتا ہے کہ تم ایک کمزور جماعت ہو، دشمن یہ سمجھتا ہے کہ اُس کے پاس جتھا ہے، دشمن یہ سمجھتا ہے کہ اُس کے پاس طاقت ہے، دشمن یہ سمجھتا ہے کہ جب وہ حملہ کرے گا تو تم ایک چڑیا کی طرح اس کے قابو میں آ جاؤ گے۔ مگر وہ یہ نہیں دیکھتا کہ آسمان سے خدا سب قسم کی حفاظت کے سامان لے کر اُتر رہا ہے۔ وہ ان جتھوں کو توڑ دے گا، وہ ان جماعتوں کو کچل ڈالے گا، وہ ان تمام نظاموں کو جو خدائی سلسلہ کے مخالف کھڑے ہیں پارہ پارہ کر دے گا اور ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ اور ایسا ذلیل کرے گا کہ سات پشت تک ان کی اولادیں ان پر لعنت کریں گی۔
پس ہم اپنے خدا کا شکر یہ ادا کرتے ہیں کہ جس نے ہمیں اس کا نام بلند کرنے اور اس کے سلسلہ کی عظمت قائم کرنے کے لئے پھر اس جگہ پر جمع ہونے کی توفیق دی اور دشمن کا منہ کالا کرنے کی ہم کو ہمت بخشی۔ اور کیا عورتیں اور کیا بچے اور کیا مرد آج مرکز احمدیت میں لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ کہتے ہوئے داخل ہو رہے ہیں۔ اور وہ دشمن جو یہ کہتا تھا کہ احمدیت پارہ پارہ ہو گئی اللہ تعالیٰ نے اُس کو ذلیل کر دیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے یہی امید ہے اور اس کے وعدوں پر ہم کو اعتبارِ کامل ہے کہ قیامت تک یہی جماعت دشمنانِ احمدیت کو کچلتی چلی جائے گی اور قیامت تک جماعت اپنا سر اونچا رکھے گی اور احمدیت پر جانثار ہونے کے لئے اپنے آپ کو کھڑا کرے گی اور دُشمن ہمیشہ ان کے مقابلہ میں خائب وخاسر رہے گا۔ یہ موجودہ جماعت بھی اور ان کی اولادیں بھی اور اولادوں کی اولادیں بھی قیامت تک احمدیت اور اسلام کے جھنڈے کو بالا رکھیں گی۔ اور جس طرح ابوسفیان نے جب کہا کہ لَنَا الْعُزّٰی وَلَا عُزّٰی لَکُمْ اے مسلمانو! ہمارے لئے عُزّٰی بت ہے جو ہمارے ساتھ ہے تمہارے ساتھ کوئی نہیں ۔ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب جواب کیوں نہیں دیتے؟ پہلے تم جب آدمیوں کا نام لیا جا رہا تھا تو جواب دینے کے لئے تیار تھے اب خدا کی بے عزتی کی جاتی ہے اب کیوں نہیں جواب دیتے؟ تو صحابہؓ نے کہا یا رسول اللہ! کیا کہیں؟ فرمایا زور سے کہو لَنَا مَوْلٰی وَلَا مَوْلٰی لَکُمْ خدا ہمارے ساتھ ہے تمہارے ساتھ کوئی خدا نہیں۔ تو قیامت تک اِنْشَاءَ اللہُ احمدیوں کی نسل اس کے محض فضل اور کرم سے باوجود ہماری کوتاہیوں اور غفلتوں کے کہ ہم اپنی اولادوں کی صحیح تربیت نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دے گا کہ وہ احمدیت اور اسلام کا جھنڈا اونچا رکھیں گے اور تمام عیسائی دنیا اور تمام غیر مذاہب کو پُکار کر کہیں گے کہ لَنَا مَوْلٰی وَلَا مَوْلٰی لَکُمْ خدا ہمارے ساتھ ہے اور تمہارے ساتھ کوئی خدا نہیں ہے۔
اب میں بیٹھنے کے بعد دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو عظیم الشان برکات کا موجب بنائے اور قیامت تک اس سے بہت بڑے بڑے اجتماع کرنے کی ہم کو توفیق عطا فرمائے جن میں ہم خدا تعالیٰ کا نام بلند کریں ، جن میں ہم اسلام کی سچی تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔ اور دشمنانِ احمدیت ان اجتماعوں کو دیکھ کر اپنے اندر شرمندہ بھی ہوں اور افسردہ بھی ہوں تا کہ اُن کو نظر آئے کہ خدا ان لوگوں کے ساتھ ہے جن کو ہم نے سمجھا تھا کہ 1953ء میں مار ڈالا تھا وہ 1956ء میں اس سے بھی زیادہ زور آور ہیں ، اور اگلے سالوں میں اس سے بھی زیادہ طاقتور ہوں گے۔ چنانچہ دیکھ لو۔ میں سات آٹھ دن سے کہہ رہا تھا کہ میں بیالیس سال زمانۂ خلافت میں دیکھتا آیا ہوں کہ جب کبھی دشمن نے حملہ کیا تو خدا نے ہماری مدد کی اور خدا تعالیٰ نے ہمیں اور اونچا کیا۔ پس اب جب کہ دشمن نے کہا ہے کہ احمدیت کمزور ہو گئی ہے اور احمدیوں میں بغاوت ہو گئی ہے میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ احمدیوں کے اخلاص میں اور بھی ترقی بخشے گا اور وہ زیادہ زور سے آئیں گے۔ تو میں نے بار بار منتظمین کو توجہ دلائی مگر باوجو د اس کے انہوں نے اپنی طرف سے تو کوشش کی مگر پھر بھی خدا کے اندازے کو نہ پہنچے اور آج رات بارہ بجے وہ حالت تھی کہ عورتوں کی رہائش گاہ میں تل رکھنے کی جگہ نہ تھی اور عورتیں سردی میں بچے لئے پھرتی تھیں کہ کوئی جگہ ہمیں نہیں مل رہی۔ اور رپورٹ سے پتا لگتا ہے کہ پچھلے سال سے اس دفعہ ڈیودھے آدمی اِس وقت تک آچکے ہیں۔ پچھلے سال رات کے کھانے پر اُنیس ہزار اور کچھ سو تھے اور اس سال رات کے کھانے پر ستائیس ہزار سے زیادہ تھے۔ گویا ڈیودھے کے قریب تعداد تھی یا ڈیودھے سے بھی کچھ زیادہ تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے اور یہ فضل اور احسان جب تک آپ لوگوں کے دلوں میں ایمان قائم رہے گا اللہ تعالیٰ اسے بڑھاتا چلا جائے گا۔ تم خدا کا لگایا ہوا پودا ہو، تم بڑھتے چلے جاؤ گے اور پھیلتے چلے جاؤ گے۔ اور جیسا کہ وہ قرآن کریم میں فرماتا ہے تمہاری جڑیں زمین میں مضبوط ہوتی جائیں گی اور تمہاری شاخیں آسمان میں پھیلتی چلی جائیں گی۔ یہاں تک کہ تم میں لگنے والے پھلوں کو جبریل آسمان پر بیٹھا ہوا کھائے گا اور اس کے ماتحت فرشتے بھی آسمان پر سے کھائیں گے اور خدا تعالیٰ عرش پر تعریف کرے گا کہ میرا لگایا ہوا پودا کتنا شاندار نکلا ہے۔ اِدھر زمین میں اس کی جڑیں پھیل گئی ہیں اور اُدھر آسمان میں میرے عرش کے پاس اس کی شاخیں ہل رہی ہیں اَصۡلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ(14:25)۳ اس کی جڑیں زمین میں پھیلی ہوئی ہوں گی اور اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہوں گی۔ تو اِدھر تو تم خدا تعالیٰ کے فضل سے زمین میں اس طرح پھیلو گے کہ جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے ایک دن وہ آئے گا کہ دنیا میں میرے ماننے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہو جائے گی اور دوسرے لوگ جس طرح چھوٹی قومیں تھوڑی تھوڑی ہوتی ہیں اسی طرح وہ بھی چھوٹی قومیں بن کر رہ جائیں گے۔ اور وَّفَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ(14:25) کے معنی یہ ہیں کہ تم صرف زمین میں پھیلو گے ہی نہیں بلکہ ذکرِ الٰہی اتنا بلند کرو گے کہ آسمان کے فرشتے اس کو سن کر ناچنے لگ جائیں گے اور خوش ہوں گے کہ ہمارے خدا کا ذکر زمین پر بھی اُسی طرح ہونے لگ گیا ہے جس طرح کہ ہم آسمان پر کرتے ہیں۔ تب آسمان پر بھی فرشتے ہوں گے اور زمین پر بھی فرشتے ہوں گے۔ آسمان کے فرشتوں کا نام جبریل اور اسرافیل وغیرہ ہوگا اور زمین کے فرشتوں کا نام احمدی ہوگا کیونکہ وہ زمین کو بھی خدا کے ذکر سے بھر دیں گے جس طرح کہ آسمان کو فرشتوں نے خدا کے ذکر سے بھرا ہوا ہے۔ پس یہ تو ہونے والا ہے اور ہو کر رہے گا اِنْشَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی۔ صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ایمانوں کو سلامت رکھیں اور اپنی اولادوں کے دلوں میں ایمان پختہ کرتے چلے جائیں۔ اگر اس تربیت کے کام کو ہم جاری رکھیں تو یقیناً دنیا میں اسلام اور احمدیت کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ یہ عیسائی حکومتیں جو آج ناز اور نخرے کے ساتھ اپنے سر اٹھا اٹھا کر چل رہی ہیں اور چھاتیاں نکال نکال کر چل رہی ہیں یہ اسلام کے آگے سر جھکائیں گی۔ اور یہی لنگوٹی پوش احمدی اور دھوتی پوش احمدی جو یہاں بیٹھے ہیں ان کے آگے امریکہ کے کروڑ پتی آ کر سر جھکائیں گے اور کہیں گے کہ ہم ادب سے تم کو سلام کرتے ہیں کہ تم ہمارے روحانی باپ ہو۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جو نہ صرف ہمارا باپ تھا بلکہ ہمارے خدا کے بیٹے مسیحؑ کا بھی باپ تھا تم اُس کے فرزند ہو اور ہم تمہارے بیٹے ہیں۔ پس تم نے ہمیں اپنے باپ سے اور ہمارے خدا کے بیٹے کے باپ سے روشناس کرایا ہے اس لئے تم ہم کو خاندانِ الوہیت میں واپس لانے والے ہو۔ تم ہم آوارہ گردوں کو پھر گھر پہنچانے والے ہو۔ اس لئے ہم تمہارے آگے سر جھکاتے ہیں اور تم سے برکتیں چاہتے ہیں کیونکہ تمہارے ذریعہ سے اسلام ہم تک پہنچا ہے۔ سو یہ دن آنے والے ہیں اِنْشَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی۔
میں اپنی اس مختصر سی تقریر کے ختم کرنے سے پہلے عورتوں کو بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ رات کو ان کو تکلیف پہنچی ہے اور بعض ان میں سے شکوہ بھی کرنے لگیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ ان کو شکوہ کا حق نہیں تھا شکوہ کا حق ہمارا تھا۔ ہمارا حق تھا کہ ہم خدا سے کہتے کہ الٰہی! ہم اپنا فرض ادا نہیں کر سکے تُو ہم کو معاف کر۔ ان کو شکایت کا حق نہیں تھا ان کو تو خوش ہونا چاہیے تھا کہ اللہ میاں تیرے کتنے احسان ہیں پھر تُو ہمیں اتنا لایا کہ جماعت کا مرکز ہمارے ٹھہرانے کا انتظام نہیں کر سکا۔ تو یہ تو جماعت کی ترقی کی علامت ہے۔ ان کو اس پر خوش ہونا چاہیے تھا۔ ہمیں رونا چاہیے تھا کہ ہم خدا تعالیٰ کے فضلوں کا اندازہ نہیں لگا سکے اور ہم نے جو اندازہ لگایا تھا وہ غلط ہو گیا۔ ان کو ہنسنا چاہیے تھا کہ دیکھو خدا تعالیٰ ہمیں اتنی تعداد میں لایا ہے کہ یہ مرکز والے باوجود ساری کوششوں کے ہمارا انتظام کرنے سے محروم رہ گئے۔ اور ہمارے افسروں کو چاہیے تھا کہ وہ روتے کہ باوجود خدا تعالیٰ کے فضلوں کے بار بار دیکھنے کے پھر بھی ہم اس کا اندازہ لگانے سے قاصر رہے اور پھر بھی خدا کے مہمانوں کو ہم آرام نہیں پہنچا سکے۔ میں سات آٹھ دن سے برابر کہہ رہا تھا کہ دیکھو خدا تعالیٰ کی غیرت اس وقت بھڑکی ہوئی ہے۔ باغیوں کی بغاوت کی وجہ سے خدا تعالیٰ عرش پر غصہ سے بھرا ہوا بیٹھا ہے اور وہ ضرور ان کو نمونہ دکھائے گا اور نشان دکھائے گا اس لئے تیار ہو جاؤ کہ خدا تعالیٰ اب برکت کے دروازے کھولنے والا ہے اور ہزاروں ہزار آدمی پچھلے سال سے زائد آئے گا۔ چنانچہ اس وقت تک بھی قریباً نو ہزار آدمی زیادہ آ چکا ہے۔ اب اگلے دنوں میں اور بھی امید ہے۔ ابھی تو ستائیس کی تاریخ کو لوگ زیادہ آیا کرتے ہیں۔ پس ستائیس بھی ہے، اٹھائیس بھی ہے۔ اور پھر ابھی کیا ہے پھر جن کو خدا تعالیٰ زندہ رکھے گا اگلا سال بھی ہے جبکہ اس سے بھی زیادہ لوگ آئیں گے۔ اور ہر دفعہ دشمن روسیاہ ہوگا اور ہر دفعہ دشمن شرمندہ ہوگا کہ جس جماعت کو ہم مارنا چاہتے تھے وہ پھر زندہ ہو کر نکل رہی ہے۔ پس ایک طرف تو میں منتظمین کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ پورے زور سے خدا تعالیٰ کے فضلوں کا اندازہ کر کے ایسا انتظام کیا کریں کہ آئندہ مہمانوں کو تکلیف نہ ہو اور مہمانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر ایک دن تکلیف بھی ہو تو وہ اس بات پر خوش ہوا کریں کہ دیکھو ہمارا خدا کتنا شاندار ہے کہ دشمن کی مخالفت کے باوجود ہم کو بڑھا رہا ہے۔ پس اگر تکلیف ہو تو تمہیں اَلْحَمْد کرنی چاہیے اور خدا تعالیٰ کے ذکر میں بڑھنا چاہیے۔ اور جو منتظم ہیں ان کو شرمندہ ہونا چاہیے اور ان کو خدا تعالیٰ سے عاجزانہ معافی مانگنی چاہیے کیونکہ ان کا قصور ہے اور تمہارے لئے برکتوں اور رحمتوں کی علامت ہے۔ مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں کُل سات سَو آدمی آئے تھے۔ اب ایک ایک بلاک میں کئی کئی ہزار بیٹھا ہے۔ اُس وقت آپ کی زندگی کا آخری سال تھا اور کُل سات سو آدمی جلسہ پر آیا اور انتظام اتنا خراب ہوا کہ رات کے تین بجے تک کھانا نہ مل سکا اور آپؐ کو الہام ہوا کہ يٰٓاَيُّهَا النَّبِیُّ اَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَرَّ ۴؎ اے نبی! بھوکے اور پریشان حال کو کھانا کھلاؤ۔ چنانچہ صبح معلوم ہوا کہ مہمان تین بجے رات تک لنگر خانہ کے سامنے کھڑے رہے اور ان کو کھانا نہیں ملا۔ پھر آپ نے نئے سرے سے فرمایا کہ دیگیں چڑھاؤ اور ان کو کھانا کھلاؤ۔ تو دیکھو سات سو آدمیوں کی یہ حالت ہوئی مگر اُن سات سو آدمیوں کا یہ حال تھا کہ
جب آپ سیر کے لئے نکلے تو سات سو آدمی ساتھ تھا، ہجوم بہت تھا، آنے والے بےچاروں نے کبھی یہ نظارہ تو دیکھا نہ تھا، باہر تو دو سو آدمی بھی لوگوں کو کسی روحانی بزرگ کے گرد جاتا ہوا نظر نہ آتا تھا۔ میلوں میں بےشک جاتے ہیں لیکن روحانی نظاروں میں نہیں جاتے۔ اس لئے اُن کے لئے عجیب چیز تھی، لوگ دھکے کھا رہے تھے۔ حضرت صاحب ایک قدم چلتے تھے تو ٹھوکر کھا کر آپ کے پیر سے جُوتی نکل جاتی تھی۔ پھر کوئی احمدی ٹھہرالیتا کہ حضور! جُوتی پہن لیجئے اور آپ کے پیر میں جُوتی ڈال دیتا۔ پھر آپ چلتے تو پھر کسی کا ٹھڈّا لگتا اور جُوتی پَرے جا پڑتی۔ پھر وہ کہتا کہ حضور! ٹھہر جائیے جُوتی پہنا دوں۔ اسی طرح ہو رہا تھا تو ایک زمیندار دوست نے دوسرے زمیندار دوست سے پوچھا ’’او تُوں مسیح موعود دا دست پنجہ لے لیا ہے؟‘‘ یعنی کیا تُو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مصافحہ کر لیا ہے؟ وہ کہنے لگا ’’ایتھے دست پنجہ لین دا کیہڑا ویلا ہے، نیڑے کوئی نہیں ہون دیندا‘‘ یعنی یہ مصافحہ کرنے کا کونسا موقع ہے یہاں تو کوئی قریب بھی نہیں آنے دیتا۔ اس پر وہ جو عاشق زمیندار تھا وہ اس کو دیکھ کر کہنے لگا تجھے یہ موقع پھر کب نصیب ہو گا۔ بے شک تیرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں پھر بھی لوگوں کے درمیان میں سے گزر جا اور مصافحہ کر آ۔
تو کُجا وہ وقت ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کُجا یہ وقت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اب ہماری کم سے کم پچاس یا سو یا اس سے بھی زیادہ جماعت موجود ہے جس میں ہزار سے زیادہ آدمی ہیں۔ قریباً ستر اسیّ ہزار یا لاکھ تو صرف سیالکوٹ میں موجود ہے۔ کوئی بیس ہزار کے قریب لائل پور میں ہے۔ اسی طرح جھنگ اور سرگودھا کے علاقے جو ملتے ہیں اُن میں بھی جماعت بیس ہزار کے قریب جا پہنچی ہے۔ کیونکہ صرف ربوہ کی ہی اب گیارہ بارہ ہزار آبادی ہو گئی ہے۔ یہ کو رد یہہ 5 جس کی تصویر اب بھی اپنے ایمان بڑھانے کے لئے دفتروں میں جا کر دیکھ لیا کرو محض ایک جنگل تھا اور تین چار خیمے لگے ہوئے تھے۔ اس میں ہم آ کے بسے۔ ابھی ساری دنیا اُجڑی پھر رہی ہے اور خدا نے ہم کو ایک مستقل وطن دے دیا ہے۔ ہم اس جگہ پر اکٹھے ہوئے اور تین سال کے اندر اندر پکی عمارتیں بن گئی ہیں۔ آج سے پانچ چھ سال پہلے جب جلسہ ہوا تھا تو اُس وقت ہم کچے مکانوں میں رہتے تھے۔ پھر اس کے بعد تمام کوٹھیاں ہی کوٹھیاں
کراچی اور لاہور کی طرح کی بن گئی ہیں اور یہ ساری عمارتیں اتنی جلدی بن گئی ہیں کہ سارے پاکستان میں اتنی جلدی کسی جگہ پر نہیں بنیں ۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ۔ سو دعائیں کرو اللہ تعالیٰ سے کہ وہ اپنے فضل کو بڑھاتا چلا جائے اور ہمیں زیادہ سے زیادہ اس فضل کا مستحق بنائے ۔
پھر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایک دوست نے آج مصافحہ کرتے وقت اِس خیال سے کہ سارے احمدی مل رہے ہیں مجھے بھی احمدی نہ سمجھ لیں کہا کہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ میں غیر احمدی ہوں ۔ مجھے دل میں ہنسی آئی کہ ہم میں تو خدا نے وہ کشش رکھی ہے کہ ہمارے ہاتھ جس کے جسم کو چُھو جائیں ناممکن ہے کہ وہ اور اس کی اولادیں غیر احمدی رہ جائیں ۔ میں نے دل میں کہا کہ آج تو یہ بے چارہ کچھ شرمندہ ہے کہ اتنے احمدیوں میں مَیں ایک غیر احمدی آیا ہوں اور کسی دن اِس کا سارے کا سارا خاندان احمدی بن کے آئے گا اور کہے گا حضور ! ہمارے خاندان کا ایک ہزار آدمی احمدی ہے۔
اسی طرح مجھے ملاقاتوں میں آج ایک دوست نے بتایا کہ ایک دوست تشریف لائے ہوئے ہیں جو اپنی قوم میں رئیس ہیں ، احمدیت کی بہت سی کتب بھی انہوں نے پڑھی ہیں لیکن ان کے دل میں یہ شبہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انگریزوں کی تعریف کی ہے ۔ میں مختصر طور پر ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ پہلی تعریف تو قرآن نے کروائی ہے ۔ انگریز آخر فرعون سے تو بدتر نہیں لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب خدا تعالیٰ نے فرعون کی طرف بھیجا تو فرمایا اے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون ! تم دونوں فرعون کے پاس جانا تو فَقُوۡلَا لَہٗ قَوۡلًا لَّیِّنًا(20:45) دونوں اس کے ساتھ بڑے ادب اور احترام کے ساتھ باتیں کرنا ۔ تو یہ تو قرآن کا سبق ہے ۔ اگر مرزا صاحب اس پر عمل نہ کرتے تو پھر آپ لوگ کہتے کہ مرزا صاحب نے قرآن کی تعلیم پر عمل نہیں کیا ۔ اب جو قرآن کی تعلیم پر عمل کیا ہے تو آپ لوگ کہتے ہیں کہ ایسا کیوں کیا ہے ۔ پھر دوسرا اعتراض آپ لوگ یہ کرتے کہ حضرت مسیح ناصریؑ کے سامنے ایک روپیہ پیش کیا گیا اور لوگوں نے کہا کہ قیصر ہم سے ٹیکس وصول کرنا چاہتا ہے کیا ہم دیں یا نہ دیں ؟ گاندھی جی نے تحریک کی تھی کہ گورنمنٹ کو ٹیکس نہ دو ۔ انہوں نے بھی یہی چالاکی کی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور ان کو کہا کہ قیصر ہم سے ٹیکس مانگتا ہے دیں کہ نہ دیں ؟ انہوں نے کہا کہ وہ کونسا
روپیہ تم سے مانگتا ہے؟ انہوں نے روپیہ دکھایا؟ اُس پر قیصر کی تصویر تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے وہ خدا کو دو۔۷ اس طرح اُن کو جواب دیا اور ٹلا دیا۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام انگریزوں کو بُرا کہتے تو پھر آپ کے علماء کہتے کہ یہ اچھا مسیح ہے کہ مسیح نے تو کہا تھا کہ جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو۔ اور یہ اس کے خلاف کر رہا ہے۔
پھر یہ کہ قرآن میں عیسائیوں کی تعریف آئی ہے پہلے ان آیتوں کو کیوں نہیں نکالتے؟ مرزا صاحب پر غصہ ہے قرآن پر غصہ کیوں نہیں آتا۔ قرآن میں عیسائیوں کی تعریف آئی ہے کہ ان کے دل روحانیت سے بھرے ہوئے ہیں اور ان کی آنکھوں سے خدا کی محبت میں آنسو بہتے ہیں۔ پھر انگریزوں نے کعبہ پر حملہ کبھی نہیں کیا مگر حبشہ کی حکومت نے مکہ پر حملہ کیا تھا جس کو سورۃ فیل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصۡحٰبِ الۡفِیۡلِ(105:2)۸ یہ اصحاب الفیل حبشہ کے گورنر کے سپاہی تھے وہاں اُس وقت ابرہہ گورنر تھا۔ اس ابرہہ نے لشکر کے ساتھ مکہ پر حملہ کیا تھا لیکن باوجود اس کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہؓ کو بلایا اور کہا کہ تم کو اَب مکہ میں بڑی تکلیفیں ہیں تم کیوں نہیں اس ملک میں چلے جاتے جو ایک عادل اور نیک بادشاہ کا ملک ہے؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! کون سا؟ فرمایا حبشہ۔ تو حبشہ کا بادشاہ وہ تھا جس کے وائسرائے نے کعبہ پر حملہ کیا تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو عادل اور نیک کہا۔ اگر تم کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے شک اس کو عادل اور نیک کہا تھا پر آخر میں وہ مسلمان ہو گیا تھا گو پہلے عیسائی تھا۔ تو میں ان کو جواب دیتا ہوں کہ اِنْشَاءَ اللّٰہ انگریز بھی مسلمان ہو جائیں گے۔ احمدی مبلغ اس لئے باہر نکلے ہوئے ہیں کہ انگریزوں اور امریکنوں اور دوسرے لوگوں کو مسلمان بنائیں۔ آپ لوگ صرف اعتراض کرنا جانتے ہیں۔ آپ یہ اعتراض کر رہے ہیں کہ مسیح موعودؑ نے انگریزوں کی تعریف کیوں کی۔ اور احمدی مبلغ انگریزوں اور یورپین لوگوں کے منہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھجوا رہے ہیں۔
مجھے یاد ہے کوئی 1920ء کی بات ہے ایک دوست نے ایک انگریز نَو مسلم کے متعلق مجھے لکھا کہ اُس نے کہا مجھے اسلام سے اتنی عداوت تھی کہ میں جب رات کو سوتا تھا تو
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دے کر سوتا تھا مگر اب کسی رات مجھے نیند نہیں آتی جب تک میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیج لوں۔ تو اب بتاؤ کہ وہ قابلِ قدر ہے جس کی قوم دنیا میں جارہی ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجوا رہی ہے یا وہ گاندھی قابلِ قدر ہے جس کے چیلے آج چار کروڑ مسلمانوں کو ہندوستان میں دُکھ دے رہے ہیں؟ دیکھو کس کی پالیسی ٹھیک نکلی۔ جنہوں نے انگریزوں کا مقابلہ کیا تھا وہ گاندھی اور اس کے چیلے تھے وہ تو آج بھی ہندوؤں کی تعریف کر رہے ہیں اور ہندو اُن کو مار رہے ہیں لیکن مسیح موعودؑ جس کو کہا جاتا ہے کہ اس نے انگریزوں کی تعریف کی اس کے چیلے ہر جگہ پر مسیحؑ کی ابنیت اور خدائی کا بطلان کر رہے ہیں اور عیسائیوں کو مسلمان کر رہے ہیں۔
مجھے یاد ہے میں بچہ تھا سیالکوٹ میں جلسہ ہوا جس میں حضرت صاحبؓ کی تقریر ہوئی۔ بڑا ہجوم کر کے مسلمان آئے اور انہوں نے کہا کہ پتھر پھینکو اور ان کو خوب مارو۔ اُس وقت مسٹر بٹی ایک انگریز ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس تھا بعد میں وہ شاید لاہور میں سپرنٹنڈنٹ پولیس ہو گیا تھا، وہ بھی انتظام کے لئے آیا ہوا تھا۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تقریر شروع کی اور لوگوں نے پتھر برسانے شروع کئے تو اُس کو غصہ آ گیا۔ وہ جگہ جہاں جلسہ ہو رہا تھا سرائے تھی، اُس کی ایک بڑی سی دیوار تھی۔ اُس دیوار پر وہ کُود کر چڑھ گیا اور کہنے لگا اے مسلمانو! بے غیرتو! بے حیاؤ! تمہیں شرم نہیں آتی وہ تو ہمارے خدا کو مار رہا ہے تم کیوں اس کے خلاف ہو؟ غصہ تو مجھے آنا چاہیے تھا جس کے خدا کو وہ مار رہا ہے تمہیں تو خوش ہونا چاہیے تھا کہ انگریزوں کے خدا کو اس نے مار دیا ہے لیکن بجائے اس کے تم اس پر پتھر پھینک رہے ہو اور میں اس کی حفاظت کے لئے آیا ہوں۔
تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انگریزوں کی خوشامد کر کے کیا لیا؟ انگریزوں کے خدا کو تو مار دیا۔ مسلمانوں نے اس خدا کو آسمان پر چڑھایا تھا۔ مرزا صاحبؑ نے آسمان سے اتار کے کشمیر میں دفن کر دیا اور ابھی کہتے ہیں کہ انگریزوں کی خوشامد کی۔ دیکھو جو بچے کو خوش کرنا چاہے تو وہ اس کے باپ کی تعریف کرتا ہے۔ اگر واقع میں آپ انگریزوں کی خوشامد کرنا چاہتے تو عیسیٰؑ کی تعریف کرتے مگر انہوں نے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جو جھوٹی عزت عیسائیوں نے بنا لی تھی
اُس کی دھجیاں بکھیر دیں اور مسلمانوں نے فتویٰ لگایا کہ یہ عیسیٰؑ کی ہتک کرتا ہے۔ عجیب متضاد خیال ہیں۔ ایک طرف یہ الزام کہ عیسائیوں کی خوشامد کرتے ہیں اور دوسری طرف علماء کا یہ الزام کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہتک کرتا ہے۔ اَب دونوں میں سے کس کو سچا مانیں؟ اُن کو سچا مانیں جو کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کی ہتک کرتا ہے یا ان کو سچا مانیں جو کہتے ہیں کہ عیسائیوں کی خوشامد کرتا ہے۔ وہ خوشامد کیا تھی؟ یہی تھی کہ اُن کی ملکہ کو اسلام کی تبلیغ کی۔ اور پھر آپ نے عربی میں ایک قصیدہ شائع کیا اور اس میں دعا کرتے ہوئے لکھا کہ اے خدا !ان عیسائیوں کی دیواریں گرادے، ان کے قلعے گرادے، ان کی گڑھیاں ۲ گرادے اور ان کے اوپر آسمان سے وہ عذاب مسلط کر کہ ان کے در و دیوار ہل جائیں۔ اگر یہ تعریف ہوتی ہے تو تم بھی ذرا کسی مولوی کو کہو کہ وہ اب یہی اعلان کرے جب کہ پاکستان کی گورنمنٹ ہے۔ لیکن کسی کو جرأت نہیں۔ صرف اُن باتوں کو لیتے ہیں جن باتوں کو سمجھنے کی قابلیت نہیں اور ان باتوں کو نہیں لیتے جو تعریف کی مستحق تھیں۔ آخر کسی قوم کی تعریف کیا اس طرح ہوسکتی ہے؟ کیا یہ بھی کوئی تعریف ہوتی ہے کہ خدایا !ان پر غضب نازل کر۔ خدایا !ان کے قلعوں کی دیواریں توڑ دے۔ اے خدا !ان پر ایسی قوم کو حاکم بنادے جو ان کو ذلیل اور رسوا کردے؟ تو انہوں نے تو انگریزی حکومت کے تباہ ہونے کی دعا کی ہے انگریزوں کی تعریف کرنے کے کیا معنے ہوئے۔ اگر انگریزوں کی تعریف کی ہے تو اس طرح کی ہے جس طرح نجاشی کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعریف کی تھی۔ جس طرح مکہ کے بعض سرداروں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعریف کی تھی لیکن نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی اعتراض کرتا ہے اور نہ مسیح ناصری پر اعتراض کرتا ہے جس نے قیصر کی تعریف کی۔ بس لے دے کے ایک مرزا صاحب کی جان رہ گئی ہے جنہوں نے اپنی ساری زندگی اسلام کی خدمت میں صَرف کردی۔ بس ان کی زبانیں اس پر چل جاتی ہیں اس لئے کہ احمدی تھوڑے ہیں۔ مگر یہ تھوڑے نہیں رہیں گے یہ بڑھیں گے اور پھلیں گے اور اُس وقت تم کو نظر آئے گا کہ تم تھوڑے ہو اور احمدی زیادہ ہیں۔
اس کے بعد میں دعا کروں گا۔ آج کل اپنی بیماری کی وجہ سے میرے دل پر اتنا اثر ہے کہ جب کوئی جنازہ آتا ہے یا مسجد میں جنازہ پڑھاتا ہوں تو اُس جنازہ میں اپنے آپ کو بھی اور پیچھے
جو لوگ کھڑے ہوتے ہیں اُن کو بھی شامل کرلیتا ہوں اور پھر ساری جماعت کو شامل کرتا ہوں۔ مُردوں کو بھی اور زندوں کو بھی کہ کبھی تو وہ مریں گے ہی اور کہتا ہوں کہ اے خدا! سب مُردوں کو بھی بخش اور ہم زندوں کو بھی بخش دے کہ ہم بھی کسی دن مر کے تیرے سامنے حاضر ہونے والے ہیں۔ تُو مجھ کو بھی اور میرے پیچھے جو جنازہ پڑھ رہے ہیں ان کو بھی اور وہ ساری جماعت جو سارے پاکستان یا ہندوستان یا ہندوستان سے باہر پھیلی ہوئی ہے اور امریکہ اور یورپ میں پھیلی ہوئی ہے اُن سب کو معاف کر اور ان سب کے لئے اپنے فرشتوں کو حکم دے کہ جب وہ مریں تو وہ ان کے استقبال کے لئے آئیں اور ان کو عزت کے ساتھ تیری جنت میں داخل کریں۔ اور کوئی وقت ایسا نہ آئے جب وہ گھبرائیں۔ ہر لحظہ اور ہر سیکنڈ تُو ان کے ساتھ رہیو اور مرنے کے وقت جو اکیلا ہونے اور تنہائی کا وقت آتا ہے وہ ان پر کبھی نہ آئے بلکہ ہمیشہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح یہ کہتے رہیں کہ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا(التوبة: ۴۰)۱۰۔ خدا ہمارے ساتھ ہے، ہم اکیلے کوئی نہیں۔ ہمارے بیوی بچے اگر چُھٹ گئے ہیں تو بیوی بچوں میں کیا طاقت تھی خدا ہم کو مل گیا ہے اور وہ ہمارے ساتھ ہے اور ہمارا سب سے زیادہ قریبی اور سب سے زیادہ ہمارا محبوب ہے۔ تو ہمیشہ ہر جنازہ میں مَیں ساری جماعت کو شامل کر لیتا ہوں جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی ایک دفعہ جنازہ پڑھایا تو فرمایا آج ساری جماعت جو پیچھے جنازہ پڑھ رہی تھی میں نے ان سب کا بھی جنازہ پڑھ دیا ہے۔ تو میں نے اس سنت کو دیکھ کر کہا کہ اب تو جماعت بڑی پھیل گئی ہے، اب تو اتنی جماعت نہیں رہی جو پیچھے کھڑی ہوتی۔ وہ زمانہ تو ایسا تھا کہ تھوڑے احمدی تھے اس لئے اب مجھے چاہیے کہ دنیا میں جہاں جہاں بھی احمدی ہیں اُن ساروں کو جنازہ میں شامل کر لیا کروں تاکہ جب بھی وہ مریں یہ جنازہ کی دعائیں ان کے کام آئیں اور اللہ تعالیٰ ان کا مددگار ہو اور اگلے جہان میں ان کو سکھ اور چین نصیب ہو اور اس دنیا میں ان کی اولاد دین کی خدمت کرنے والی ہو اور دنیا میں چاروں طرف پھیل کر اسلام کی روشنی کو پھیلائے۔
کل کی تقریر کے متعلق میں نے یہ تجویز کی ہے اور آئندہ کے لئے بھی اِنْشَاءَ اللّٰہُ اِس پر عمل کیا جائے گا کہ ایسی تقریروں کا امتحان لیا جائے گا اور ان پر انعام مقرر ہوا کرے گا۔ سو چونکہ تقریر دیر سے چھپتی ہے اس لئے میری یہ تجویز ہے کہ تقریر سے پہلے تمام دوست عام طور پر اور
احمدی دوست خصوصاً پنسل اور کاغذ لیتے آئیں اور نوٹ کر لیں تاکہ جب وہ گھر جائیں تو ان کو چھپنے کا انتظار نہ کرنا پڑے بلکہ اپنے نوٹوں کی مدد سے اسے یاد کر لیں اور جب امتحان ہو تو اس کا امتحان دیں۔ جب وہ امتحان دیں گے تو جوان میں سے فرسٹ نکلے گا اُس کو ہم ایک کتاب تذکرہ کی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہاموں کی کتاب ہے اور ایک تفسیر کی جلد انعام دیں گے۔ اور جو سیکنڈ نکلے گا اُس کو ایک تفسیر کی جلد اور ایک سیر روحانی کی جلد دیں گے۔ اسی طرح جو تھرڈ نکلے گا اُس کو یا کوئی تفسیر کی جلد یا صرف سیر روحانی کی جلد دی جائے گی۔ اس طرح ہر سال الگ الگ انعام مقرر ہوتے چلے جائیں گے۔ اس سال میں نے یہ اعلان کر دیا ہے سو جو دوست لکھنا چاہتے ہیں وہ کل اپنے ساتھ پنسل اور کاغذ لے آئیں اور مختصر نوٹ لکھ لیں تاکہ ان کو یاد کر سکیں اور جب جنوری یا فروری میں امتحان لیا جائے تو اُس وقت وہ صحیح طور پر جواب دے سکیں اور ان کو انتظار نہ کرنا پڑے کہ تقریر چھپے گی تو ہم امتحان دیں گے اور مضمون ان کے ذہن نشین ہوتا چلا جائے گا۔
جب پہلے زمانہ میں قادیان میں مَیں نے یہ کہا تھا تو دوست لکھا کرتے تھے۔ رات کے وقت جلسہ گاہ میں عجیب نظارہ ہوتا تھا۔ چاروں طرف دوست اپنے ساتھیوں کو موم بتیاں پکڑا دیتے تھے اور ان کی روشنی میں بیٹھے ہوئے نوٹ لکھتے تھے۔ اب تو خدا تعالیٰ کے فضل سے بجلی کی روشنی بھی آ گئی ہے۔ اول تو میں بیمار ہوں لمبی تقریر نہیں کر سکتا لیکن اگر رات بھی ہو گئی تو بجلی کی روشنی میں دوست نوٹ لکھ سکتے ہیں۔ پھر فروری، مارچ میں جب امتحان ہو گا تو اُس وقت ان کو اس کا جواب دینا ہو گا۔
قادیان میں جلسہ سالانہ کے بعد جب لوگ جاتے تھے تو مجھے کئی دوستوں نے سنایا کہ ہم گھروں میں جا کر اپنی جماعتوں کو وہ تقریریں سناتے تھے تو اس طرح جماعتوں کو بڑی جلدی تقریریں پہنچ جاتی تھیں۔ اب بھی میں چاہتا ہوں کہ وہ طریق جاری ہو جائے تاکہ جب آپ لوگ جائیں تو اپنے گھروں میں ان نوٹوں کے ذریعہ سے وہ تقریر سنائیں اور کہیں کہ یہ تقریر ہم سن کے آئے ہیں۔ چاہے ہم نے ساری نہیں لکھی پر جتنی لکھی ہے وہ تم سن لو۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ کتاب پیچھے پہنچے گی اور تقریر پہلے پہنچ جائے گی۔ اور ان لوگوں کو بھی زیادہ سے زیادہ واقفیت ان خیالات سے ہوتی جائے گی جو اُن کا امام اِس وقت اُن تک پہنچانا چاہتا ہے۔ اور پھر انعام کی جو عزت ہے اور سلسلہ کی کتابوں میں جو برکت ہے وہ بھی ان کو نصیب ہو جائے گی۔
اب میں دعا کر دیتا ہوں۔ باہر سے مختلف مشنوں کی تاریں آئی ہوئی ہیں۔ امریکہ سے بھی، یورپ سے بھی اور مشرقی ایشیا سے بھی۔ اسی طرح انڈونیشیا اور سنگاپور وغیرہ سب جگہ سے تاریں آئی ہیں۔ اور بورنیو سے بھی تار آئی ہے کہ ہمیں بھی دعاؤں میں یاد رکھا جائے۔ ہندوستان سے بھی تاریں آئی ہیں اس لئے اپنے ہندوستان کے دوستوں کو بھی دعاؤں میں یاد رکھو۔ انڈونیشیا کی جماعت کو بھی یاد رکھو اور افریقہ کی جماعتوں کو بھی جو مل کر پاکستان کے دوسرے نمبر پر بن جاتی ہیں کیونکہ کئی ممالک ہیں اگر ان کی ساری جماعتیں جمع کی جائیں تو غالباً پاکستان سے دوسرے نمبر پر ہوں۔ تیسرے نمبر پر انڈونیشیا ہے اور چوتھے نمبر پر یورپ اور امریکہ کی جماعتیں اور مڈل ایسٹ کی جماعتیں مل کر بنتی ہیں۔ ان سب جماعتوں کی طرف سے تاریں آئی ہیں۔ سو سب کے لئے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے اور نصرت کرے۔ اور اس جلسہ میں بوجہ دُوری کے جو شامل نہیں ہو سکے خدا تعالیٰ اس جلسہ کی برکات اُن کو بھی دے۔ اور اللہ تعالیٰ رات کو جو اپنے فرشتے تم پر اتارے وہ اُن پر بھی اتارے اور اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں وہ آ جائیں اور دن دونی اور رات چوگنی ترقی کا نظارہ دیکھیں۔ اور خدا کرے کہ جو ہمارے ملک میں جماعت ہے اس سے بھی ہزاروں گنا زیادہ وہاں جماعتیں ہوں۔ اور ہماری جماعت جو یہاں ہے وہ اتنی بڑھ جائے کہ ہندوستان اور پاکستان کے چپّہ چپّہ پر پھیل جائے اور اس طرح اُن ممالک میں بھی جماعتیں پھیل جائیں۔ انڈونیشیا سے تار آئی ہے کہ ہمارا جلسہ سماٹرا میں قرار پایا تھا مگر سماٹرا میں بغاوت ہو گئی ہے اور وہاں کے فوجی گورنر نے حکومت خود سنبھال لی ہے۔ اس لئے ہمیں جلسہ ملتوی کرنا پڑا بلکہ حالات ایسے خطرناک تھے کہ تار میں یہ بھی لکھا ہے کہ ہم جہاز میں اُس وقت سماٹرا جانے کے لئے سوار تھے اس وقت تک ہم سب خیریت سے ہیں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم کو آئندہ بھی خیریت سے رکھے۔ سو ان کے لئے بھی جو آئے ہیں۔ اور ان بھائیوں کیلئے بھی جو نہیں آئے یا نہیں آ سکے۔ اور اپنی مستورات کے لئے بھی کہ جن کو بچوں کی وجہ سے رات کو زیادہ تکلیف پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو اور بھی مضبوط کرے اور یہ تکلیف بجائے ان کے لئے ٹھوکر کا موجب ہونے کے ان کے ایمان میں زیادتی کا موجب ہو اور اللہ تعالیٰ اس جلسہ کے بعد ہم کو اتنی جلدی مزید ترقی بخشے کہ لاکھوں لاکھ لوگ احمدیت میں داخل ہوں۔ اور وہ دن آجائے کہ دشمن کو احمدیوں کی طرف غرور کے ساتھ انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے بلکہ وہ استعجاب اور حیرت کے ساتھ احمدی جماعت کی ترقی کو دیکھے۔ اور اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم زیادہ ہوں تو ہمارے دل میں بھی تکبر پیدا نہ ہو۔ ہم یہ خیال نہ کریں کہ ہم زیادہ اور طاقتور ہیں بلکہ ہم یہ سمجھیں کہ ہم کو زیادہ جھکنے کا حکم ہے، زیادہ خدمت کا حکم ہے اور چپے چپے پر دنیا کے ہر غریب اور امیر کی ہم خدمت کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ ہم سب کو سچا مومن بنائے۔ صرف ظاہری مومن نہ بنائے۔ اور جتنا ہم بڑھتے جائیں اتنا ہی ہمارا سر خدا تعالیٰ کے آگے اور اس کے بندوں کی خدمت کے لئے جھکتا چلا جائے۔
ایک کشمیر کے دوست کہتے ہیں کہ کشمیر کیلئے بھی دعا کرو کہ کشمیر پر خدا تعالیٰ فضل کرے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لکھا ہے کہ پہلا آدم آیا اور شیطان نے اسے جنت سے نکال دیا۔ اب دوسرا آدم آیا ہے تاکہ لوگوں کو پھر جنت میں داخل کرے۱۱ تو پہلا مسیحؑ کشمیر میں دفن ہوا تھا اب دعا کرو کہ دوسرا مسیحؑ کشمیر میں زندہ ہو۔ آمین
دعا کے بعد فرمایا:۔
’’اب میں جاتا ہوں پیچھے جلسہ شروع ہوگا۔ دوست دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے کام کی توفیق دے۔ اس سردی میں میری طبیعت پچھلے سال سے بھی بہت زیادہ خراب ہوگئی تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ جو مضمون میں نے انتخاب کئے وہ اتنے لمبے ہو گئے کہ ان کی لمبائی کا خیال کر کے بھی دل کو گھبراہٹ ہوتی ہے۔ آخر دوستوں نے کہا کہ اپنے نفس پر جبر کر کے آپ صرف نوٹ پڑھ کر سنا دیں۔ پس دوست دعا کریں کہ دو دن جو باقی ہیں اور اس کے بعد بھی اللہ تعالیٰ مجھے ایسی صحت عطا کرے کہ میں اپنے خیالات کو اچھی طرح آپ لوگوں کے سامنے ادا کر سکوں۔ اور آپ لوگوں کو توفیق دے کہ آپ ان خیالات کو قبول کر سکیں اور ان پر عمل کر سکیں۔ اور خدا تعالیٰ کوئی بات میرے منہ سے ایسی نہ نکلوائے جو سچی نہ ہو۔ اور جب ہر سچ وہ نکلوائے تو کوئی بات ایسی نہ نکلوائے جو آپ کے دل میں جا کر نہ بیٹھ جائے اور فرشتے اس کو آپ کے دلوں میں مستحکم طور پر قائم نہ کر دیں۔ اور پھر ہر سچی بات جو وہ میرے منہ سے نکلوائے اس سچ پر عمل کرنے کی ہمیشہ ہمیش جماعت کو توفیق عطا فرمائے۔‘‘ (الفضل 17 مارچ 1957ء)
1: بخارى كتاب الجهاد و السير باب مَا يُكْرَہ مِنَ التَّنَازُعِ وَ الاِخْتِلَافِ فِي الْحرب و عقوبة مَن عَصَى اِمَامَهُ حدیث نمبر 3039 صفحہ 501، 502 الطبعة الثانية مطبوعہ ریاض 1999ء
2: بخارى كتاب الجهاد والسير باب ما يُكْرَه مِنَ التَّنَازُعِ وَالْاِخْتِلَافِ فِي الحرب و عقوبة من عصى امامه حدیث نمبر 3039 صفحہ 501، 502 الطبعة الثانية مطبوعہ ریاض 1919ء میں ” اَللّٰهُ مَوْلَانَا وَ لَا مَوْلٰى لَكُمْ “ کے الفاظ ہیں۔
3: ابراھیم: 25
4: تذکرہ صفحہ 63۔ ایڈیشن چہارم 2004ء
5: کورد یہہ / ردہ : پس ماندہ گاؤں ، کم آباد اور معمولی درجہ کا گاؤں ، شہر سے دور اور بے رونق ۔ اجاڑ گاؤں جو روشنیوں سے محروم ہو ۔ (اردو لغت تاریخی اصول پر ۔ جلد 15 صفحہ 338 اردو لغت بورڈ کراچی جون 1994ء)
6: طٰهٰ: 45
7: متی باب 22 آیت 21 پاکستان بائبل سوسائٹی لاہور 2011ء
8: الفيل: 2
9: گڑھیاں (گڑھی) گڑھ کی تصغیر چھوٹا قلعہ ۔ (اردو لغت تاریخی اصول پر ۔ جلد 16 صفحہ 65۔ اردولغت بورڈ کراچی جون 1994ء)
10: التوبة : 40
11: حاشیہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 307
از سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
(فرمودہ 27؍ دسمبر 1956ء بموقع جلسہ سالانہ بمقام ربوہ)
تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ ’’آج کی تقریر عام طور پر عام مسائل پر ہوا کرتی تھی لیکن اس دفعہ فتنہ کی وجہ سے مجھے اس تقریر کے لئے بھی ایک ایسا موضوع چننا پڑا جو اِس زمانہ میں جماعت احمدیہ کے لئے اس وجہ سے کہ اس کا تعلق خلافتِ احمدیہ سے ہے اور جماعت احمدیہ میں جو لوگ شامل نہیں ان کے لئے اس لیے کہ اِس میں ایک اسلامی موضوع بیان ہوا ہے نہایت اہمیت رکھنے والا ہے۔ اور دوسرے اس لئے بھی میں نے اسے چنا ہے کہ اگر وہ ہمارے اندر فتنہ پیدا ہونے سے خوش ہوتے ہیں تو اور بھی خوش ہوجائیں اور ساری تفصیل اُن کو معلوم ہو جائے۔ لیکن اس کی تفصیلات اتنی ہوگئی ہیں کہ میں حیران ہوں کہ اس مضمون کو کس طرح بیان کروں۔ بعض دوستوں نے مشورہ دیا ہے کہ اس کے بعض حصوں میں مَیں صرف نوٹ پڑھ کر سنا دوں۔ پہلے میری عادت تھی کہ باریک نوٹ چھوٹے کاغذ پر آٹھ یا بارہ صفحے کے لکھے ہوئے ہوتے تھے، حد سے حد سولہ صفحے کے، بعض بہت لمبی لمبی پانچ پانچ چھ چھ گھنٹہ کی تقریریں ہوئیں تو اُن میں چوبیس صفحہ کے بھی نوٹ ہوتے تھے، لیکن وہ ایسے صفحے ہوتے ہیں کہ ایک فل سکیپ سائز کے کاغذ کے آٹھ صفحے بنتے ہیں۔ مگر اِس دفعہ یہ نوٹ بہت لمبے ہوگئے ہیں۔ دوستوں نے مشورہ دیا ہے کہ میں وہ نوٹ ہی پڑھ کر سنا دوں، گو بعض دوسروں نے کہا ہے کہ آپ پڑھ کر سنا ہی نہیں سکتے، جب پڑھ کے سنانے لگیں گے تو کچھ نہ کچھ اپنی باتیں شروع کر دیں گے اِس طرح تقریر لمبی ہو جائے گی۔ گو یہ ہوسکتا ہے کہ بعض حصے جو رہ جائیں اُن کو بعد میں شائع کر دیا جائے مگر مناسب یہی ہے کہ احباب جو جمع ہوئے ہیں اُن تک مضمون میری زبان سے پہنچ جائے۔ اِس لئے جہاں بھی ایسا موقع آیا کہ مجھے معلوم ہوا کہ مضمون لمبا ہو رہا ہے تو میں صرف نوٹ پڑھ کے سنا دوں گا تا کہ اِس جلسہ میں یہ تقریر ختم ہوجائے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا ؕ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا ؕ وَمَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ(24:56)
اِس آیت کے متعلق تمام پچھلے مفسرین اِس بات پر متفق ہیں کہ یہ آیت خلافتِ اسلامیہ کے متعلق ہے۔ اِسی طرح صحابہ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْنَ اور کئی خلفائے راشدین بھی اِس کے متعلق گواہی دیتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اپنی کتابوں میں اِس آیت کو پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ آیت خلافت اسلامیہ کے متعلق ہے۔ اِس آیت میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اے خلافتِ حقہ اسلامیہ پر ایمان رکھنے والے مومنو! (چونکہ یہاں خلافت کا ذکر ہے اس لئے اٰمَنُوْا میں ایمان لانے سے مراد ایمان بالخلافت ہی ہوسکتا ہے۔ پس یہ آیت مبائعین کے متعلق ہے، غیر مبائعین کے متعلق نہیں۔ کیونکہ وہ خلافت پر ایمان نہیں رکھتے) اے خلافتِ حقہ اسلامیہ کو قائم رکھنے اور اس کے حصول کے لئے کوشش کرنے والو! تم سے اللہ ایک وعدہ کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم تم میں سے زمین میں اُسی طرح خلفاء بناتے رہیں گے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کو خلفاء بنایا۔ اور ہم اُن کے لئے اِسی دین کو جاری کریں گے جو ہم نے اُن کے لئے پسند کیا ہے۔ یعنی جو ایمان اور عقیدہ اُن کا ہے وہی خدا کو پسندیدہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ وعدہ کرتا ہے کہ وہ اسی عقیدہ اور طریق کو دنیا میں جاری رکھے گا۔ اور اگر اُن پر کوئی خوف آیا تو ہم اُس کو تبدیل کر کے امن کی حالت لے آئیں گے۔ لیکن ہم بھی اُن سے اُمید کرتے ہیں کہ وہ ہمیشہ توحید کو دنیا میں قائم کریں گے اور شرک نہیں کریں گے۔ یعنی
مشرک مذاہب کی تردید کرتے رہیں گے اور اسلام کی توحیدِ حقہ کی اشاعت کرتے رہیں گے۔ خلافت کے قائم ہونے کے بعد خلافت پر ایمان لانے والے لوگوں نے خلافت کو ضائع کر دیا تو فرماتا ہے مجھ پر الزام نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ میں نے ایک وعدہ کیا ہے اور شرطیہ وعدہ کیا ہے۔ اس خلافت کے ضائع ہونے پر الزام تم پر ہوگا۔ میں اگر پیشگوئی کرتا تو مجھ پر الزام ہوتا کہ میری پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ مگر میں نے پیشگوئی نہیں کی بلکہ میں نے تم سے وعدہ کیا ہے اور شرطیہ وعدہ کیا ہے کہ اگر تم مومن بالخلافت ہو گے اور اس کے مطابق عمل کرو گے تو پھر میں خلافت کو تم میں قائم رکھوں گا۔ پس اگر خلافت تمہارے ہاتھوں سے نکل گئی تو یاد رکھو کہ تم مومن بالخلافت نہیں رہو گے کافر بالخلافت ہو جاؤ گے۔ اور نہ صرف خلفاء کی اطاعت سے نکل جاؤ گے بلکہ میری اطاعت سے بھی نکل جاؤ گے اور میرے بھی باغی بن جاؤ گے۔
میں نے اس مضمون کا ہیڈنگ ”خلافتِ حقہ اسلامیہ“ اس لئے رکھا ہے کہ جس طرح موسوی زمانہ میں خلافتِ موسویہ یہود یہ دو حصوں میں تقسیم تھی ایک دَور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تھا اور ایک دَور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لے کر آج تک چلا آرہا ہے۔ اسی طرح اسلام میں بھی خلافت کے دو دَور ہیں۔ ایک دَور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد شروع ہوا اور اُس کی ظاہری شکل حضرت علیؓ پر ختم ہو گئی۔ اور دوسرا دَور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اول سے شروع ہوا۔ اور اگر آپ لوگوں میں ایمان اور عملِ صالح قائم رہا اور خلافت سے وابستگی پختہ رہی تو اِنْشَاءَ اللّٰہ یہ دَور قیامت تک قائم رہے گا۔
جیسا کہ مذکورہ بالا آیت کی تشریح میں میں ثابت کر چکا ہوں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ایمان بالخلافت قائم رہا اور خلافت کے قیام کے لئے تمہاری کوشش جاری رہی تو میرا وعدہ ہے کہ تم میں سے (یعنی مومنوں میں سے اور تمہاری جماعت میں سے) میں خلیفہ بناتا رہوں گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے متعلق احادیث میں تصریح فرمائی ہے۔ آپؐ فرماتے ہیں ” مَا كَانَتْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا تَبِعَتْهَا خِلَافَةٌ “۲کہ ہر نبوت کے بعد خلافت ہوتی ہے اور میرے بعد بھی خلافت ہوگی۔ اس کے بعد ظالم حکومت ہوگی۔ پھر جابر حکومت ہوگی یعنی غیر قومیں آ کر مسلمانوں پر حکومت کریں گی جو زبردستی مسلمانوں سے حکومت چھین لیں گی۔ اس کے بعد فرماتے ہیں کہ پھر خلافت عَلٰی مِنْھَاجِ النُّبُوَّةِ ہوگی۔ یعنی جیسے نبیوں کے بعد خلافت ہوتی ہے ویسی ہی خلافت پھر جاری کردی جائے گی۔۳
نبیوں کے بعد خلافت کا ذکر قرآن کریم میں دو جگہ آتا ہے۔ ایک تو یہ ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خلافت اس طرح دی کہ کچھ ان میں سے موسیٰ علیہ السلام کے تابع نبی بنائے اور کچھ اُن میں سے بادشاہ بنائے۴۔ اب نبی اور بادشاہ بنانا تو خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے ہمارے اختیار میں نہیں۔ لیکن جو تیسرا امر خلافت کا ہے اور اس حیثیت سے کہ خدا تعالیٰ بندوں سے کام لیتا ہے ہمارے اختیار میں ہے۔ چنانچہ عیسائی اس کے لئے انتخاب کرتے ہیں اور اپنے میں سے ایک شخص کو بڑا مذہبی لیڈر بنا لیتے ہیں جس کا نام وہ پوپ رکھتے ہیں۔ گو پوپ اور پوپ کے متبعین اب خراب ہو گئے ہیں مگر اس سے یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ پھر اُن سے مشابہت کیوں دی؟ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ(24:56) جس طرح پہلے لوگوں کو میں نے خلیفہ بنایا تھا اسی طرح میں تمہیں خلیفہ بناؤں گا۔ یعنی جس طرح موسیٰ علیہ السلام کے سلسلہ میں خلافت قائم کی گئی تھی اُسی طرح تمہارے اندر بھی اُس حصہ میں جو موسوی سلسلہ کے مشابہہ ہو گا میں خلافت قائم کروں گا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت براہِ راست چلے گی۔ پھر جب مسیح موعودؑ آ جائے گا تو جس طرح مسیح ناصریؑ کے سلسلہ میں خلافت چلائی گئی تھی اُسی طرح تمہارے اندر بھی چلاؤں گا۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ موسیٰؑ کے سلسلہ میں مسیحؑ آیا اور محمدی سلسلہ میں بھی مسیح آیا مگر محمدی سلسلہ کا مسیح پہلے مسیح سے افضل ہے اس لئے وہ غلطیاں جو انہوں نے کیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسیح محمدی کی جماعت نہیں کرے گی۔ انہوں نے خدا کو بھلا دیا اور خدا تعالیٰ کو بھلا کر ایک کمزور انسان کو خدا کا بیٹا بنا کر اسے پوجنے لگ گئے۔ مگر محمدی مسیح نے اپنی جماعت کو شرک کے خلاف بڑی شدت سے تعلیم دی۔ بلکہ خود قرآن کریم نے کہہ دیا ہے کہ اگر تم خلافت حاصل کرنا چاہتے ہو تو پھر شرک کبھی نہ کرنا اور میری خالص عبادت کو ہمیشہ قائم رکھنا۔
جیسا کہ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ(24:56) میں اشارہ کیا گیا ہے۔ پس اگر جماعت اس کو قائم رکھے گی تبھی وہ انعام پائے گی۔ اور اس کی صورت یہ بن گئی ہے کہ قرآن کریم نے بھی شرک کے خلاف اتنی تعلیم دی کہ جس کا ہزارواں حصہ بھی انجیل میں نہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی شرک کے خلاف اتنی تعلیم دی ہے جو حضرت مسیح ناصری کی موجود تعلیم میں نہیں پائی جاتی۔ پھر آپ کے الہاموں میں بھی یہ تعلیم پائی جاتی ہے۔ چنانچہ آپ کا الہام ہے خُذُوا التَّوْحِیْدَ التَّوْحِیْدَ يَا اَبْنَاءَ الْفَارِسِ کہ اے مسیح موعود اور اُس کی ذرّیت! توحید کو ہمیشہ قائم رکھو۔ سو اس سلسلہ میں خدا تعالیٰ نے توحید پر اتنا زور دیا ہے کہ اس کو دیکھتے ہوئے اور قرآنی تعلیم پر غور کرتے ہوئے یہ یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے توحیدِ کامل احمدیوں میں قائم رکھے گا۔ اور اس کے نتیجہ میں خلافت بھی ان کے اندر قائم رہے گی اور وہ خلافت بھی اسلام کی خدمت گزار ہوگی۔ حضرت مسیح ناصری کی خلافت کی طرح وہ خود اس کے اپنے مذہب کو توڑنے والی نہیں ہوگی۔
میں نے بتایا ہے کہ جس طرح قرآن کریم نے کہا ہے کہ خلیفے ہوں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ میرے بعد خلیفے ہوں گے۔ پھر مُلْكًا عَاضًّا ہوگا۔ پھر ملک جبریہ ہوگا۔ اور اُس کے بعد خِلَافَةٌ عَلٰی مِنْھَاجِ النُّبُوَّةِ ہوگی۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنّت میں الوصیت میں تحریر فرمایا ہے کہ:۔ ’’اے عزیزو! جب کہ قدیم سے سنَّتِ اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلاوے۔ سو اَب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔ اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں۔ کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا دیکھنا بھی ضروری ہے اور اُس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے
کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔‘‘۶
یعنی اگر تم سیدھے رستہ پر چلتے رہو گے تو خدا کا مجھ سے وعدہ ہے کہ جو دوسری قدرت یعنی خلافت تمہارے اندر آوے گی وہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگی۔
عیسائیوں کو دیکھو گو جھوٹی خلافت ہی سہی 1900 سال سے وہ اس کو لئے چلے آ رہے ہیں۔ مگر مسلمانوں کی بدقسمتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خلافت کو ابھی 48 سال ہوئے تو کئی بلیاں چھچھڑوں کی خوابیں دیکھنے لگیں اور خلافت کو توڑنے کی فکر میں لگ گئیں۔
پھر فرماتے ہیں کہ:۔ ’’تم خدا کی قدرتِ ثانیہ کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دُعا کرتے رہو۔‘‘۷
سو تم کو بھی چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کے ماتحت دعائیں کرتے رہو کہ اے اللہ! ہم کو مومن بالخلافت رکھیو اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دیجیو۔ اور ہمیں ہمیشہ اس بات کا مستحق رکھیو کہ ہم میں سے خلیفے بنتے رہیں۔ اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے تاکہ ہم ایک جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو کر اور ایک صف میں کھڑے ہو کر اسلام کی جنگیں ساری دنیا سے لڑتے رہیں اور پھر ساری دنیا کو فتح کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں گرا دیں۔ کیونکہ یہی ہمارے قیام اور مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض ہے۔
یہ جو میں نے ’’قدرتِ ثانیہ‘‘ کے معنے خلافت کے کئے ہیں یہ ہمارے ہی نہیں بلکہ غیر مبائعین نے بھی اس کو تسلیم کیا ہوا ہے۔ چنانچہ خواجہ کمال الدین صاحب لکھتے ہیں:۔
’’حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جنازہ قادیان میں پڑھا جانے سے پہلے آپ کے وصایا مندرجہ رسالہ الوصیۃ کے مطابق حسب مشورہ معتمدین صدر انجمن احمدیہ موجودہ قادیان و اقرباء حضرت مسیح موعودؑ بہ اجازت حضرت (اماں جان) کُل قوم نے جو قادیان میں موجود تھی اور جس کی تعداد اُس وقت بارہ سو تھی والا مناقب حضرت حاجی الحرمین شریفین جناب حکیم نور الدین صاحب سَلَّمَہٗ کو آپ کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا۔ اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ...... یہ خط بطور اطلاع کُل سلسلہ کے ممبران کو لکھا جاتا ہے۔“ الخ۸
یہ خط ہے جو انہوں نے شائع کیا۔ اس میں مولوی محمد علی صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب اور ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب وغیرہ کا بھی انہوں نے ذکر کیا ہے کہ معتمدین میں سے وہ اس موقع پر موجود تھے۔ اور انہوں نے حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت کی۔ سو ان لوگوں نے اس زمانہ میں یہ تسلیم کر لیا کہ یہ جو ”قدرتِ ثانیہ“ کی پیشگوئی تھی یہ ”خلافت“ کے متعلق تھی کیونکہ الوصیۃ میں سوائے اس کے اور کوئی ذکر نہیں کہ تم ”قدرتِ ثانیہ“ کے لئے دعائیں کرتے رہو۔ اور خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ مطابق حکم الوصیۃ ہم نے بیعت کی۔ پس خواجہ صاحب کا اپنا اقرار موجود ہے کہ الوصیۃ میں جو پیشگوئی کی گئی تھی وہ ”خلافت“ کے متعلق تھی اور ”قدرتِ ثانیہ“ سے مراد ”خلافت“ ہی ہے۔ پس حضرت خلیفہ اوّل کے ہاتھ پر خواجہ کمال الدین صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں کا بیعت کرنا اور اسی طرح میرا اور تمام خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا بیعت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ تمام جماعت احمدیہ نے بالاتفاق خلافتِ احمدیہ کا اقرار کر لیا۔ پھر حضرت خلیفہ اوّل کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اوّل کے تمام خاندان اور جماعت احمدیہ کے نانوے فیصدی افراد کا میرے ہاتھ پر بیعت کر لینا اس بات کا مزید ثبوت ہوا کہ جماعت احمدیہ اس بات پر متفق ہے کہ ”خلافت احمدیہ“ کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔
چونکہ اس وقت حضرت خلیفہ اوّل کے خاندان میں سے بعض نے اور اُن کے دوستوں نے خلافتِ احمدیہ کا سوال پھر اُٹھایا ہے اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ اس مضمون کے متعلق پھر کچھ روشنی ڈالوں اور جماعت کے سامنے ایسی تجاویز پیش کروں جن سے خلافت احمدیہ شرارتوں سے محفوظ ہو جائے۔ میں نے اس سے پہلے جماعت کے دوستوں کے مشورہ کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ خلیفہٴ وقت کی وفات کے بعد جماعت احمدیہ کی مجلس شوریٰ دوسرا خلیفہ چنے۔ مگر موجودہ فتنہ نے بتا دیا ہے کہ یہ طریق درست نہیں۔ کیونکہ بعض لوگوں نے یہ کہا کہ ہم خلیفہ ثانی کے مرنے کے بعد بیعت میاں عبدالمنان کی کریں گے اور کسی کی نہیں کریں گے۔ اس سے پتا لگا کہ ان لوگوں نے یہ سمجھا کہ صرف دو تین آدمی ہی اگر کسی کی بیعت کر لیں تو وہ خلیفہ ہو جاتا ہے۔ اور پھر اس سے یہ بھی پتا لگا کہ جماعت میں خلفشار پیدا ہو سکتا ہے۔ چاہے وہ خلفشار پیدا کرنے والا غلام رسول نمبر 35 جیسا آدمی ہو اور خواہ وہ ڈاہڈا جیسا گمنام آدمی ہی ہو۔ وہ دعویٰ تو یہی کریں گے کہ خلیفہ چُنا گیا ہے۔ سو جماعتِ احمدیہ میں پریشانی پیدا ہو گی۔ اس لئے وہ پرانا طریق جو طُولِ عمل والا ہے میں اس کو منسوخ کرتا ہوں اور اُس کی بجائے میں اُس سے زیادہ قریبی طریقہ پیش کرتا ہوں۔
بیشک ہمارا دعویٰ ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے مگر اس کے باوجود تاریخ کی اس شہادت کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ خلیفے شہید بھی ہو سکتے ہیں۔ جس طرح حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ شہید ہوئے۔ اور خلافت ختم بھی کی جاسکتی ہے جس طرح حضرت حسنؓ کے بعد خلافت ختم ہو گئی۔ جو آیت میں نے اس وقت پڑھی ہے اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں خلافت قائم رکھنے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ مشروط ہے کیونکہ مندرجہ بالا آیت میں یہی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ خلافت پر ایمان لانے والوں اور اس کے قیام کے لئے مناسبِ حال عمل کرنے والے لوگوں سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ ان میں خلافت کو قائم رکھے گا۔ پس خلافت کا ہونا ایک انعام ہے پیشگوئی نہیں۔ اگر پیشگوئی ہوتا تو حضرت امام حسنؓ کے بعد خلافت کا ختم ہونا نَعُوْذُ بِاللّٰهِ قرآن کریم کو جھوٹا قرار دیتا۔ لیکن چونکہ قرآن کریم نے اس کو ایک مشروط انعام قرار دیا ہے اس لئے اب ہم یہ کہتے ہیں کہ چونکہ حضرت امام حسنؓ کے زمانہ میں عام مسلمان کامل مومن نہیں رہے تھے اور خلافت کے قائم رکھنے کے لئے صحیح کوشش انہوں نے چھوڑ دی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس انعام کو واپس لے لیا اور باوجود خلافت کے ختم ہو جانے کے قرآن سچا رہا جھوٹا نہیں ہوا۔ وہی صورت اب بھی ہو گی۔ اگر جماعتِ احمدیہ خلافت کے ایمان پر قائم رہی اور اس کے قیام کے لئے صحیح جدوجہد کرتی رہی تو اس میں بھی قیامت تک خلافت قائم رہے گی۔ جس طرح عیسائیوں میں پوپ کی شکل میں اب تک قائم ہے گو وہ بگڑ گئی ہے۔ میں نے بتا دیا ہے کہ اس کے بگڑنے کا احمدیت پر کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔ مگر بہرحال اس فساد سے اتنا پتا لگ جاتا ہے کہ شیطان ابھی مایوس نہیں ہوا۔ پہلے تو شیطان نے پیغامیوں کی جماعت بنائی۔ لیکن بیالیس سال کے انتظار کے بعد
اس باسی کڑھی میں پھر اُبال آیا اور وہ بھی لگے مولوی عبدالمنان اور عبدالوہاب کی تائید میں مضمون لکھنے۔ اور ان میں سے ایک شخص محمد حسن چیمہ نے بھی ایک مضمون شائع کیا ہے کہ ہمارا نظام اور ہمارا اسٹیج اور ہماری جماعت تمہاری مدد کے لئے تیار ہے۔ شاباش! ہمت کر کے کھڑے رہو۔ مرزا محمود سے دبنا نہیں۔ اس کی خلافت کے پردے چاک کر کے رکھ دو۔ ہماری مدد تمہارے ساتھ ہے۔ کوئی اس سے پوچھے کہ تم نے مولوی محمد علی صاحب کو کیا مدد دے لی تھی؟ آخر مولوی محمد علی صاحب بھی تو تمہارے لیڈر تھے۔ خواجہ کمال الدین صاحب بھی لیڈر تھے اُن کی تم نے کیا مدد کر لی تھی جو آج عبدالمنان اور عبدالوہاب کی کر لو گے۔ پس یہ باتیں محض ڈھکوسلے ہیں۔ ان سے صرف ہم کو ہوشیار کیا گیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ مطمئن نہ ہو جانا اور یہ نہ سمجھنا کہ خدا تعالیٰ چونکہ خلافت قائم کیا کرتا ہے اس لئے کوئی ڈر کی بات نہیں ہے۔ تمہارے زمانہ میں بھی فتنے کھڑے ہو رہے ہیں اور اسلام کے ابتدائی زمانہ میں بھی فتنے کھڑے ہوئے تھے۔ اس لئے خلافت کو ایسی طرز پر چلاؤ جو زیادہ آسان ہو۔ اور کوئی ایک دو لفنگے اُٹھ کر اور کسی کے ہاتھ پر بیعت کر کے یہ نہ کہہ دیں کہ چلو خلیفہ مقرر ہو گیا ہے۔
پس اسلامی طریق پر جو کہ میں آگے بیان کروں گا آئندہ خلافت کے لئے میں یہ قاعدہ منسوخ کرتا ہوں کہ شوریٰ انتخاب کرے۔ بلکہ میں یہ قاعدہ مقرر کرتا ہوں کہ آئندہ جب کبھی خلافت کے انتخاب کا وقت آئے تو صدر انجمن احمدیہ کے ناظر اور ممبر اور تحریک جدید کے وکلاء اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان کے زندہ افراد اور اب نظر ثانی کرتے وقت میں یہ بات بھی بعض دوستوں کے مشورہ سے زائد کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابہ بھی جن کو فوراً بعد تحقیقات صدر انجمن احمدیہ کو چاہئے کہ صحابیت کا سرٹیفکیٹ دے دے اور جامعۃ المبشرین کے پرنسپل اور جامعہ احمدیہ کا پرنسپل اور مفتی سلسلہ احمدیہ اور تمام جماعتہائے پنجاب اور سندھ کے ضلعوں کے امیر اور مغربی پاکستان اور کراچی کا امیر اور مشرقی پاکستان کا امیر مل کر اس کا انتخاب کریں۔
اسی طرح نظر ثانی کرتے وقت میں یہ امر بھی بڑھاتا ہوں کہ ایسے سابق امراء جو دو دفعہ کسی ضلع کے امیر رہے ہوں گو انتخاب کے وقت بوجہ معذوری کے امیر نہ رہے ہوں وہ بھی اس لسٹ میں شامل کئے جائیں۔ اسی طرح ایسے تمام مبلغ جو ایک سال تک غیر ملک میں کام کر آئے ہیں اور بعد میں سلسلہ کی طرف سے اُن پر کوئی الزام نہ آیا ہو۔ ایسے مبلغوں کی لسٹ شائع کرنا مجلسِ تحریک کا کام ہوگا۔ اسی طرح ایسے مبلغ جنہوں نے پاکستان کے کسی ضلع یا صوبہ میں رئیس التبلیغ کے طور پر کم سے کم ایک سال کام کیا ہو۔ ان کی فہرست بنانا صدر انجمن احمدیہ کے ذمہ ہوگا۔
مگر شرط یہ ہوگی کہ اگر وہ موقع پر پہنچ جائیں۔ سیکرٹری شوریٰ تمام ملک میں اطلاع دے دے کہ فوراً پہنچ جاؤ۔ اس کے بعد جو نہ پہنچے اس کا اپنا قصور ہوگا اور اس کی غیر حاضری خلافت کے انتخاب پر اثر انداز نہیں ہوگی۔ نہ یہ عذر سنا جائے گا کہ وقت پر اطلاع شائع نہیں ہوئی۔ یہ ان کا اپنا کام ہے کہ وہ پہنچیں۔ سیکرٹری شوریٰ کا کام اُن کو لانا نہیں ہے۔ اس کا کام صرف یہ ہوگا کہ وہ ایک اعلان کر دے۔ اور اگر سیکرٹری شوریٰ کہے کہ میں نے اعلان کر دیا تھا تو وہ انتخاب جائز سمجھا جائے گا۔ ان لوگوں کا یہ کہہ دینا یا ان میں سے کسی کا یہ کہہ دینا کہ مجھے اطلاع نہیں پہنچ سکی اس کی کوئی وقعت نہیں ہوگی نہ قانوناً نہ شرعاً۔ یہ سب لوگ مل کر جو فیصلہ کریں گے وہ تمام جماعت کے لئے قابل قبول ہوگا۔ اور جماعت میں سے جو شخص اس کی مخالفت کرے گا وہ باغی ہوگا۔ اور جب بھی انتخابِ خلافت کا وقت آئے اور مقررہ طریق کے مطابق جو بھی خلیفہ چُنا جائے میں اُس کو ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر اس قانون کے ماتحت وہ چنا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اُس کے ساتھ ہوگا۔ اور جو بھی اُس کے مقابل میں کھڑا ہوگا وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو ذلیل کیا جائے گا اور تباہ کیا جائے گا۔ کیونکہ ایسا خلیفہ صرف اس لئے کھڑا ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کو پورا کرے کہ خلافت اسلامیہ ہمیشہ قائم رہے۔ پس چونکہ وہ قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باتوں کو پورا کرنے کے لئے کھڑا ہوگا اس لئے اُسے ڈرنا نہیں چاہیے۔
جب مجھے خلیفہ چنا گیا تھا تو سلسلہ کے بڑے بڑے لیڈر سارے مخالف ہوگئے تھے اور خزانہ میں کُل اٹھارہ آنے تھے۔ اب تم بتاؤ اٹھارہ آنے میں ہم تم کو ایک ناشتہ بھی دے سکتے ہیں؟ پھر خدا تعالیٰ تم کو کھینچ کر لے آیا۔ اور یا تو یہ حالت تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات پر صرف بارہ سو آدمی جمع ہوئے تھے اور یا آج کی رپورٹ یہ ہے کہ ربوہ کے آدمیوں کو
ملا کر اس وقت جلسہ مردانہ اور زنانہ میں پچپن ہزار تعداد ہے۔ آج رات کو تینتالیس ہزار مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا ہے۔ بارہ ہزار ربوہ والے ملائے جائیں تو پچپن ہزار ہو جاتا ہے۔ پس عورتوں اور مردوں کو ملا کر اس وقت ہماری تعداد پچپن ہزار ہے۔ اُس وقت بارہ سو تھی۔ یہ پچپن ہزار کہاں سے آئے؟ خدا ہی لایا۔ پس میں ایسے شخص کو جس کو خدا تعالیٰ خلیفہ ثالث بنائے ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر کھڑا ہو جائے گا تو منّان، وہاب اور پیغامی کیا چیز ہیں اگر دنیا کی حکومتیں بھی اس سے ٹکر لیں گی تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔ جماعت احمدیہ کو حضرت خلیفہ اول کی اولاد سے ہرگز کوئی تعلق نہیں۔ جماعت احمدیہ کو خدا کی خلافت سے تعلق ہے۔ اور وہ خدا کی خلافت کے آگے اور پیچھے لڑے گی اور دنیا میں کسی شریر کو جو کہ خلافت کے خلاف ہے خلافت کے قریب بھی نہیں آنے دے گی۔
اب یہ دیکھ لو۔ ابھی تم نے گواہیاں سن لی ہیں کہ عبدالوہاب احراریوں کو مل کر قادیان کی خبریں سنایا کرتا تھا اور پھر تم نے یہ بھی سن لیا ہے کہ کس طرح پیغامیوں کے ساتھ ان لوگوں کے تعلقات ہیں۔ سو اگر خدانخواستہ ان لوگوں کی تدبیر کامیاب ہو جائے تو اس کے معنے یہ تھے کہ بیالیس سال کی لڑائی کے بعد تم لوگ احراریوں اور پیغامیوں کے نیچے آجاتے۔ تم بظاہر اس کو چھوٹی بات سمجھتے ہو لیکن یہ چھوٹی بات نہیں۔ یہ ایک بہت بڑی بات ہے۔ اگر خدانخواستہ ان کی سکیم کامیاب ہو جاتی تو جماعت احمدیہ مبائعین ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی۔ اور اس کے لیڈر ہوتے مولوی صدر الدین اور عبدالرحمٰن مصری۔ اور ان کے لیڈر ہوتے مولوی داؤد غزنوی اور عطاء اللہ شاہ بخاری۔ اب تم بتاؤ کہ مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری اور داؤد غزنوی اگر تمہارے لیڈر ہو جائیں تو تمہارا دنیا میں کوئی ٹھکانہ رہ جائے؟ تمہارا ٹھکانہ تو تبھی رہتا ہے جب مبائعین میں سے خلیفہ ہو اور قرآن مجید نے شرط لگائی ہے مِنْكُمْ کی یعنی وہ مبائعین میں سے ہونا چاہیے۔ اس پر کسی غیر مبائع یا احراری کا اثر نہیں ہونا چاہیے۔ اگر غیر مبائع کا اور احراری کا اثر ہو تو پھر وہ نہ مِنْكُمْ ہو سکتا ہے نہ خلیفہ ہو سکتا ہے۔
پس ایک تو میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ جب بھی وہ وقت آئے آخر انسان کے لئے کوئی دن آنا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ابھی میں نے حوالہ سنایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اپنی موت کی خبر دی اور فرمایا پریشان نہ ہو کیونکہ خدا تعالیٰ دوسری قدرت ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ سو دوسری قدرت کا اگر تیسرا مظہر وہ ظاہر کرنا چاہے تو اُس کو کون روک سکتا ہے۔ ہر انسان نے آخر مرنا ہے۔ مگر میں نے بتایا ہے کہ شیطان نے بتا دیا ہے کہ ابھی اس کا سر نہیں کچلا گیا۔ وہ ابھی تمہارے اندر داخل ہونے کی اُمید رکھتا ہے۔ ”پیغامِ صلح“ کی تائید اور محمد حسین چیمہ کا مضمون بتاتا ہے کہ ابھی مارے ہوئے سانپ کی دُم ہل رہی ہے۔ پس اُس کو مایوس کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آئندہ یہ نہ رکھا جائے کہ ملتان اور کراچی اور حیدر آباد اور کوئٹہ اور پشاور سب جگہ کے نمائندے جو پانچ سو کی تعداد سے زیادہ ہوتے ہیں وہ آئیں تو انتخاب ہو۔ بلکہ صرف ناظروں اور وکیلوں اور مقررہ اشخاص کے مشورہ کے ساتھ اگر وہ حاضر ہوں خلیفہ کا انتخاب ہوگا۔ جس کے بعد جماعت میں اعلان کر دیا جائے گا اور جماعت اس شخص کی بیعت کرے گی۔ اس طرح وہ حکم بھی پورا ہو جائے گا کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور وہ حکم بھی پورا ہو جائے گا کہ وہ ایسا مومنوں کے ہاتھ سے کرتا ہے۔ درحقیقت خلافت کوئی ڈنڈے کے ساتھ تو ہوتی نہیں۔ مرضی سے ہوتی ہے۔ اگر تم لوگ ایک شخص کو دیکھو کہ وہ خلافِ قانون خلیفہ بن گیا ہے اور جماعت اس کے ساتھ نہ ہو تو آپ ہی اُس کو نہ آمدن ہوگی نہ کام کر سکے گا ختم ہو جائے گا۔ اسی لئے یہ کہا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ چیز اپنے اختیار میں رکھی ہے لیکن بندوں کے توسط سے رکھی ہے۔ اگر صحیح انتخاب نہیں ہوگا تو تم لوگ کہو گے کہ ہم تو نہیں مانتے۔ جو انتخاب کا طریق مقرر ہوا تھا اُس پر عمل نہیں ہوا۔ تو پھر وہ آپ ہی ہٹ جائے گا۔ اور اگر خدا نے اُسے خلیفہ بنایا تو تم فوراً اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہو جاؤ گے جس طرح 1914ء میں رائے بدلنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ اور جوق در جوق دوڑتے ہوئے اُس کے پاس آؤ گے اور اُس کی بیعتیں کرو گے۔ مجھے صرف اتنا خیال ہے کہ شیطان کے لئے دروازہ نہ کھلا رہے۔ اس وقت شیطان نے حضرت خلیفہ اول کے بیٹوں کو چُنا ہے جس طرح آدم کے وقت میں اُس نے درختِ حیات کو چُنا تھا۔ اُس وقت بھی شیطان نے کہا تھا کہ آدم! میں تمہاری بھلائی کرنا چاہتا ہوں۔ میں تم کو اس درخت سے کھانے کو کہتا ہوں کہ جس کے بعد تم کو وہ بادشاہت ملے گی جو کبھی خراب نہیں ہوگی۔ اور ایسی زندگی ملے گی جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔ سواب بھی لوگوں کو شیطان نے اسی طرح دھوکا دیا ہے کہ
لو جی! حضرت خلیفہ اول کے بیٹوں کو ہم پیش کرتے ہیں۔ گو آدم کو دھوکا لگنے کی وجہ موجود تھی تمہارے پاس کوئی وجہ نہیں۔ کیونکہ حضرت خلیفہ اول کے بیٹے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بیٹوں کو تباہ کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔ کیونکہ ان کا دعویٰ یہی ہے کہ یہ اپنے خاندان میں خلافت رکھنا چاہتے ہیں۔ خلافت تو خدا اور جماعت احمدیہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر خدا اور جماعت احمدیہ خاندانِ بنو فارس میں خلافت رکھنے کا فیصلہ کریں تو یہ حضرت خلیفہ اول کے بیٹے کون ہیں جو اس میں دخل دیں۔ خلافت تو بہرحال خدا تعالیٰ اور جماعت احمدیہ کے اختیار میں ہے۔ اور خدا اگر ساری جماعت کو اس طرف لے آئے گا تو پھر کسی کی طاقت نہیں کہ کھڑا ہو سکے۔ پس میں نے یہ رستہ بتا دیا ہے۔ لیکن میں نے ایک کمیٹی بھی بنائی ہے جو عیسائی طریقۂ انتخاب پر غور کرے گی کیونکہ قرآن شریف نے فرمایا ہے کہ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ(24:56) جس طرح اس نے پہلوں کو خلیفہ بنایا تھا اُسی طرح تم کو بنائے گا۔ سو میں نے کہا عیسائی جس طرح انتخاب کرتے ہیں اُس کو بھی معلوم کرو۔ ہم نے اُس کو دیکھا ہے گو پوری طرح تحقیق نہیں ہوئی وہ بہت سادہ طریق ہے۔ اس میں جو بڑے بڑے علماء ہیں اُن کی ایک چھوٹی سی تعداد پوپ کا انتخاب کرتی ہے اور باقی عیسائی دنیا اُسے قبول کر لیتی ہے۔ لیکن اس کمیٹی کی رپورٹ سے پہلے ہی میں نے چند قواعد تجویز کر دیئے ہیں جو اس سال کی مجلسِ شوریٰ کے سامنے پیش کر دیئے جائیں گے تاکہ کسی شرارتی کیلئے شرارت کا موقع نہ رہے۔ یہ قواعد چونکہ ایک ریزولیوشن کی صورت میں مجلسِ شوریٰ کے سامنے علیحدہ پیش ہوں گے اس لئے اس ریزولیوشن کے شائع کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں نے پُرانے علماء کی کتابیں پڑھیں تو اُن میں بھی یہی لکھا ہوا پایا ہے کہ تمام صحابہؓ اور خلفاءؓ اور بڑے بڑے ممتاز فقیہہ اس بات پر متفق ہیں کہ یہ خلافت ہوتی تو اجماع کے ساتھ ہے لیکن یہ وہ اجماع ہوتا ہے کہ يَتَيَسَّرَ اِجْتِمَاعُهُمْ جن اربابِ حلّ وعقد کا جمع ہونا آسان ہو۔ یہ مراد نہیں کہ اتنا بڑا اجماع ہو جائے کہ جمع ہی نہ ہو سکے اور خلافت ہی ختم ہو جائے بلکہ ایسے لوگوں کا اجتماع ہو گا جن کا جمع ہونا آسان ہو۔ سو میں نے ایسا ہی اجماع بنا دیا ہے جن کا جمع ہونا آسان ہے۔ اور اگر ان میں سے کوئی نہ پہنچے تو میں نے کہا ہے کہ اُس کی غلطی سمجھی جائے گی۔ انتخاب بہرحال تسلیم کیا جائے گا۔ اور ہماری جماعت اس انتخاب کے پیچھے چلے گی۔ مگر جماعت کو میں یہ حکم نہیں دیتا بلکہ اسلام کا بتایا ہوا طریقہ بیان کر دیتا ہوں تاکہ وہ گمراہی سے بچ جائیں۔
ہاں جہاں میں نے خلیفہ کی تجویز بتائی ہے وہاں یہ بھی شریعت کا حکم ہے کہ جس شخص کے متعلق کوئی پروپیگنڈا کیا جائے وہ خلیفہ نہیں ہو سکتا یا جن لوگوں کے متعلق پروپیگنڈا کیا جائے وہ خلیفہ نہیں ہو سکتے۔ یا جس کو خود تمنا ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اُس کو وہ مقام نہ دیا جائے۔ تو حضرت خلیفہ اوّل کی موجودہ اولاد بلکہ بعض پوتوں تک نے چونکہ پروپیگنڈا میں حصہ لیا ہے اس لئے حضرت خلیفہ اوّل کے بیٹوں یا اُن کے پوتوں کا نام ایسے انتخاب میں ہرگز نہیں آسکے گا۔ ایک تو اس لئے کہ انہوں نے پروپیگنڈا کیا ہے اور دوسرے اس لئے کہ اس بناء پر اُن کو جماعت سے خارج کیا گیا ہے۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک خواب بھی بتاتی ہے کہ اس خاندان میں صرف ایک ہی پھاٹک خلافت کی جانی ہے۔ اور ”پیغامِ صلح“ نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ اس سے مراد خلافت کی پھاٹک ہے۱۰۔ پس میں نفی کرتا ہوں حضرت خلیفہ اوّل کی اولاد کی اور ان کے پوتوں تک کی یا تمام ایسے لوگوں کی جن کی تائید میں پیغامی یا احراری ہوں یا جن کو جماعتِ مبائعین سے خارج کیا گیا ہو۔ اور اثبات کرتا ہوں مِنْكُمْ کے تحت آنے والوں کا یعنی جو خلافت کے قائل ہوں۔ چاہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جسمانی ذرّیت ہوں یا روحانی ذرّیت ہوں۔ تمام علماء سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعودؑ کی روحانی ذرّیت ہیں اور جسمانی ذرّیت تو ظاہر ہی ہوتی ہے انکا نام خاص طور پر لینے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اپنے بیٹوں کو خلیفہ بنانا چاہتا ہے۔ اب روحانی ذرّیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دس لاکھ ہے اور جسمانی ذرّیت میں سے اِس وقت صرف تین فرد زندہ ہیں ایک داماد کو شامل کیا جائے تو چار بن جاتے ہیں۔ اتنی بڑی جماعت کیلئے میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ان میں سے کوئی خلیفہ ہو۔ اس کا نام اگر یہ رکھا جائے کہ میں اپنے فلاں بیٹے کو کرنا چاہتا ہوں تو ایسے قائل سے بڑا گدھا اور کون ہو سکتا ہے۔ میں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذرّیت جسمانی کے چار افراد اور دس لاکھ اس وقت تک کی روحانی ذرّیت کو خلافت کا مستحق قرار دیتا ہوں (جو ممکن ہے میرے مرنے تک دس کروڑ ہو جائے) سو جو شخص کہتا ہے کہ اس دس کروڑ میں سے جو خلافت پر ایمان رکھتے ہوں کسی کو خلیفہ چُن لو اس کے متعلق یہ کہنا کہ وہ اپنے کسی بیٹے کو خلیفہ بنانا چاہتا ہے نہایت احمقانہ دعویٰ ہے۔ میں صرف یہ شرط کرتا ہوں کہ مِنْكُمْ کے الفاظ کو مدّ نظر رکھتے ہوئے کوئی خلیفہ چُنا جائے۔ اور چونکہ حضرت خلیفہ اوّل کی نسل نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ پیغامیو ں کے ساتھ ہیں اور پیغامی ان کے ساتھ ہیں اور احراری بھی ان کے ساتھ ہیں اور غزنوی خاندان جو کہ سلسلہ کے ابتدائی دشمنوں میں سے ہے اُن کے ساتھ ہے اس لئے وہ مِنْكُمْ نہیں رہے۔ ان میں سے کسی کا خلیفہ بننے کے لئے نام نہیں لیا جائے گا۔ اور یہ کہہ دینا کہ ان میں سے خلیفہ نہیں ہو سکتا یہ اس بات کے خلاف نہیں کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب خلیفہ خدا بناتا ہے تو ان کے منہ سے وہ باتیں جو خلافت کے خلاف ہیں کہلوائیں کس نے؟ اگر خدا چاہتا کہ وہ خلیفہ بنیں تو اُن کے منہ سے یہ باتیں کیوں کہلواتا؟ اگر خدا چاہتا کہ وہ خلیفہ بنیں تو اُن کی یہ باتیں مجھ تک کیوں پہنچا دیتا؟ جماعت تک کیوں پہنچا دیتا؟ یہ باتیں خدا کے اختیار میں ہیں اس لئے ان کے نہ ہونے سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ خلیفہ خدا ہی بناتا ہے۔ اور جماعت احمدیہ مبائعین میں سے کسی کا خلیفہ ہونا بھی بتاتا ہے کہ خدا خلیفہ بناتا ہے۔ دونوں باتیں یہی ثابت کرتی ہیں کہ خدا ہی خلیفہ بناتا ہے۔ بہرحال جو بھی خلیفہ ہو گا وہ مِنْكُمْ ہو گا۔ یعنی وہ خلافت احمدیہ کا قائل ہو گا اور جماعت مبائعین میں سے نکالا ہوا نہیں ہو گا۔ اور میں یہ بھی شرط کرتا ہوں کہ جو بھی خلیفہ چُنا جائے وہ کھڑے ہو کر یہ قسم کھائے کہ میں خلافتِ احمدیہ پر ایمان رکھتا ہوں اور میں خلافت احمدیہ کو قیامت تک جاری رکھنے کے لئے پوری کوشش کروں گا۔ اور اسلام کی تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کیلئے انتہائی کوشش کرتا رہوں گا۔ اور میں ہر غریب اور امیر احمدی کے حقوق کا خیال رکھوں گا۔ اور اگر میں بدنیتی سے کہہ رہا ہوں یا اگر میں دانستہ ایسا کرنے میں کوتاہی کروں تو خدا کی مجھ پر لعنت ہو۔ جب وہ یہ قسم کھا لے گا تو پھر اُس کی بیعت کی جائے گی اس سے پہلے نہیں کی جائے گی۔ اسی طرح منتخب کرنے والی جماعت میں سے ہر شخص حلفیہ اعلان کرے کہ میں خلافت احمدیہ کا قائل ہوں اور کسی ایسے شخص کو ووٹ نہیں دوں گا جو جماعت مبائعین میں سے خارج ہو یا اس کا تعلق غیر مبائعین یا غیر احمدیوں سے ثابت ہو۔ غرض پہلے مقررہ اشخاص اُس کا انتخاب کریں گے۔ اس کے بعد وہ یہ قسم کھائے گا کہ میں خلافتِ احمدیہ حقہ پر ایمان رکھتا ہوں اور میں ان کو جو خلافتِ احمدیہ کے خلاف ہیں جیسے پیغامی یا احراری وغیرہ باطل پر سمجھتا ہوں۔
اب ان لوگوں کو دیکھ لو۔ ان کے لئے کس طرح موقع تھا۔ میں نے مری میں خطبہ پڑھا اور اس میں کہا کہ صراطِ مستقیم پر چلنے سے سب باتیں حل ہو جاتی ہیں۔ یہ لوگ بھی صراطِ مستقیم پر چلیں۔ اور اس کا طریق یہ ہے کہ پیغامی میرے متعلق کہتے ہیں کہ یہ حضرت خلیفہ اول کی ہتک کر رہا ہے۔ یہ اعلان کر دیں کہ پیغامی جھوٹے ہیں۔ ہمارا پچھلا بیس سالہ تجربہ ہے کہ پیغامی ہتک کرتے چلے آئے ہیں۔ اور مبائعین نہیں کرتے رہے۔ مبائعین صرف دفاع کرتے رہے ہیں۔ مگر باوجود اس کے ان کو توفیق نہیں ملی اور یوں معافی نامے چھاپ رہے ہیں۔ ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے یہ اعلان کیا تو ہمارا اڈہ جو غیر مبائعین کا ہے اور ہمارا اڈہ جو احراریوں کا ہے وہ ٹوٹ جائے گا۔ سو اگر اڈہ بنانے کی فکر نہ ہوتی تو کیوں نہ یہ اعلان کرتے۔ مگر یہ اعلان کبھی نہیں کیا۔ چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے مجھے سنایا کہ عبدالمنان نے اُن سے کہا ہم اس لئے لکھ کر نہیں بھیجتے کہ پھر جرح ہوگی کہ یہ لفظ کیوں نہیں لکھا، وہ لفظ کیوں نہیں لکھا۔ حالانکہ اگر دیانتدار ی ہے تو بیشک جرح ہو حرج کیا ہے۔ جو شخص حق کے اظہار میں جرح سے ڈرتا ہے تو اس کے صاف معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ حق کو چھپانا چاہتا ہے اور حق کے قائم ہونے کے مخالف ہے۔
غرض جب تک شوریٰ میں معاملہ پیش ہونے کے بعد میں اور فیصلہ نہ کروں اوپر کا فیصلہ جاری رہے گا۔
تمہیں خوشی ہو کہ جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت چلی تھی واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ تمہارے اندر بھی اُسی طرح چلے گی۔ مثلاً حضرت ابوبکرؓ کے بعد حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے۔ میرا نام عمرؓ نہیں بلکہ محمود ہے مگر خدا کے الہام میں میرا نام فضل عمر رکھا گیا اور اُس نے مجھے دوسرا خلیفہ بنا دیا۔ جس کے معنے یہ تھے کہ یہ خدائی فعل تھا۔ خدا چاہتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خلافت بالکل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کی خلافت کی طرح ہو۔ میں جب خلیفہ ہوا ہوں تو ہزارہ سے ایک شخص آیا۔ اُس نے کہا کہ میں نے خواب دیکھی تھی کہ میں حضرت عمرؓ کی بیعت کر رہا ہوں تو جب میں آیا تو آپ کی شکل مجھے نظر آئی۔ اور دوسرے میں نے حضرت عمرؓ کو خواب میں دیکھا کہ اُن کے بائیں طرف سر پر ایک داغ تھا۔ میں جب انتظار کرتا ہوا کھڑا رہا آپ نے سر کھجلا یا اور پگڑی اُٹھائی تو دیکھا کہ وہ داغ موجود تھا۔ اس لئے میں آپ کی بیعت کرتا ہوں۔ پھر ہم نے تاریخیں نکالیں تو تاریخوں میں بھی مل گیا کہ حضرت عمرؓ کو بائیں طرف خارش ہوئی تھی اور سر میں داغ پڑ گیا تھا۔ سو نام کی تشبیہہ بھی ہو گئی اور شکل کی تشبیہہ بھی ہو گئی۔ مگر ایک تشبیہہ نئی نکلی ہے۔ وہ میں تمہیں بتاتا ہوں اس سے تم خوش ہو جاؤ گے۔ وہ یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے جب اپنی عمر کا آخری حج کیا تو اُس وقت آپ کو یہ اطلاع ملی کہ کسی نے کہا ہے حضرت ابوبکرؓ کی خلافت تو اچانک ہو گئی تھی یعنی حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ نے آپ کی بیعت کر لی تھی۔ پس صرف ایک یا دو بیعت کر لیں تو کافی ہو جاتا ہے اور وہ شخص خلیفہ ہو جاتا ہے۔ اور ہمیں خدا کی قسم! اگر حضرت عمرؓ فوت ہو گئے تو ہم صرف فلاں شخص کی بیعت کریں گے اور کسی کی نہیں کریں گے۔ 11 جس طرح غلام رسول نمبر 35 اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ خلیفہ ثانی فوت ہو گئے تو ہم صرف عبد المنان کی بیعت کریں گے۔ دیکھو! تو یہ بھی حضرت عمرؓ سے مشابہت ہو گئی۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بھی ایک شخص نے قسم کھائی تھی کہ ہم اور کسی کی بیعت نہیں کریں گے فلاں شخص کی کریں گے۔ اس وقت بھی غلام رسول نمبر 35 اور اس کے بعض ساتھیوں نے یہی کہا ہے۔ جب حضرت عمرؓ کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے یہ نہیں کیا جیسے مولوی علی محمد اجمیرے نے شائع کیا تھا کہ آپ پانچ وکیلوں کا ایک کمیشن مقرر کریں جو تحقیقات کرے کہ بات کون سی سچی ہے۔ حضرت عمرؓ نے ایک وکیل کا بھی کمیشن مقرر نہیں کیا اور کہا میں کھڑے ہو کر اس کی تردید کروں گا۔ بڑے بڑے صحابہؓ اُن کے پاس پہنچے اور انہوں نے کہا حضور ! یہ حج کا وقت ہے اور چاروں طرف سے لوگ آئے ہوئے ہیں ، ان میں بہت سے جاہل بھی ہیں ان کے سامنے اگر آپ بیان کریں گے تو نہ معلوم کیا کیا باتیں باہر مشہور کریں گے۔ جب مدینہ میں جائیں تو پھر بیان کریں۔ چنانچہ جب حضرت عمرؓ حج سے واپس آئے تو مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر کھڑے ہو گئے اور کھڑے ہو کر کہا کہ اے لوگو! مجھے خبر ملی ہے کہ تم میں سے کسی نے کہا ہے کہ ابوبکرؓ کی بیعت تو ایک اچانک واقعہ تھا اب اگر عمر مر جائے تو ہم سوائے فلاں شخص کے کسی کی بیعت نہیں کریں گے۔ پس کان کھول کر سن لو کہ جس نے یہ کہا تھا کہ ابوبکرؓ کی بیعت اچانک ہوگئی تھی اُس نے ٹھیک کہا ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس جلد بازی کے فعل کے نتیجہ سے بچا لیا۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ تم میں سے کوئی شخص ابوبکرؓ کی مانند نہیں جس کی طرف لوگ دُور دُور سے دین اور روحانیت سیکھنے کیلئے آتے تھے۱۲۔ پس اس وہم میں نہ پڑو کہ ایک دو آدمیوں کی بیعت سے بیعت ہو جاتی ہے اور آدمی خلیفہ بن جاتا ہے۔ کیونکہ اگر جمہور مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی شخص نے کسی کی بیعت کی تو نہ بیعت کرنے والے کی بیعت ہوگی اور نہ وہ شخص جس کی بیعت کی گئی ہے وہ خلیفہ ہو جائے گا بلکہ دونوں اس بات کا خطرہ محسوس کریں گے کہ سب مسلمان مل کر ان کا مقابلہ کریں اور ان کا کیا کرایا اکارت ہوجائے گا۔ حالانکہ ابوبکرؓ کی بیعت صرف اس خطرہ سے کی گئی تھی کہ مہاجرین اور انصار میں فتنہ پیدا نہ ہو جائے۔ مگر اس کو خدا تعالیٰ نے قائم کر دیا۔ پس وہ خدا کا فعل تھا۔ نہ کہ اس سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ کوئی ایک دو شخص مل کر کسی کو خلیفہ بنا سکتے ہیں۔
پھر علامہ رشید رضا نے احادیث اور اقوال فقہاء سے اپنی کتاب ”الخلافۃ“ میں لکھا ہے کہ خلیفہ وہی ہوتا ہے جس کو مسلمان مشورہ سے اور کثرتِ رائے سے مقرر کریں۔ مگر آگے چل کر وہ علامہ سعد الدین تفتازانی مصنف شرح ”المقاصد“ اور علامہ نووی وغیرہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت کا جمع ہونا وقت پر مشکل ہوتا ہے۔ پس اگر جماعت کے چند بڑے آدمی جن کا جماعت میں رسوخ ہو کسی آدمی کی خلافت کا فیصلہ کریں اور لوگ اُس کے پیچھے چل پڑیں تو ایسے لوگوں کا اجتماع سمجھا جائے گا اور سب مسلمانوں کا اجتماع سمجھا جائے گا اور یہ ضروری نہیں ہوگا کہ دنیا کے سب مسلمان اکٹھے ہوں اور پھر فیصلہ کریں۱۳۔ اسی بناء پر میں نے خلافت کے متعلق مذکورہ بالا قاعدہ بنایا ہے جس پر پچھلے علماء بھی متفق ہیں۔ محدثین بھی اور خلفاء بھی متفق ہیں۔ پس وہ فیصلہ میرا نہیں بلکہ خلفائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور صحابہ کرامؓ کا ہے اور تمام علمائے اُمت کا ہے جن میں حنفی، شافعی، وہابی سب شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بڑے آدمی سے مراد یہ ہے کہ جو بڑے بڑے کاموں پر مقرر ہوں جیسے ہمارے ناظر ہیں اور وکیل ہیں۔ اور قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی مومنوں کی جماعت کو مخاطب کیا گیا ہے وہاں مراد ایسے ہی لوگوں کی جماعت ہے نہ کہ ہر فردِ بشر۔ یہ علامہ رشید کا قول ہے کہ وہاں بھی یہ مراد نہیں کہ ہر فردِ بشر بلکہ مراد یہ ہے کہ ان کے بڑے بڑے آدمی۱۴۔ پس صحابہؓ، احادیث رسول اور فقہائے امت اس بات پر متفق ہیں کہ خلافت مسلمانوں کے اتفاق سے ہوتی ہے مگر یہ نہیں کہ ہر مسلمان کے اتفاق سے بلکہ اُن مسلمانوں کے اتفاق سے جو مسلمانوں میں بڑا عہدہ رکھتے ہوں یا رسوخ رکھتے ہوں۔ اور اگر ان لوگوں کے سوا چند اوباش مل کر کسی کی بیعت کر لیں تو نہ وہ لوگ مبائع کہلائیں گے اور نہ جس کی بیعت کی گئی ہے وہ خلیفہ کہلائے گا۔۱۵
اب خلافتِ حقہ اسلامیہ کے متعلق میں قرآنی اور احادیثی تعلیم بھی بتا چکا ہوں اور وہ قواعد بھی بیان کر چکا ہوں جو آئندہ سلسلہ میں خلافت کے انتخاب کیلئے جاری ہوں گے۔ چونکہ انسانی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔ نہ معلوم میں اُس وقت تک رہوں یا نہ رہوں اس لئے میں نے اوپر کا قاعدہ تجویز کر دیا ہے تا کہ جماعت فتنوں سے محفوظ رہے۔“
(ناشر الشركۃ الاسلامیہ لمیٹڈ ربوہ مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس ربوہ)
دوسرے حصہ تقریر ”نظام آسمانی کی مخالفت اور اُس کا پس منظر“ بیان کرنے سے قبل متفرق امور کی بابت حضور نے فرمایا:-
”تقریر سے پہلے میں چند باتیں تمہیدی طور پر سلسلہ کے کام کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں۔ ایک بات تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کل میں نے کہا تھا کہ تقریر کا امتحان لیا جائے گا۔ میرے پاس بعض لڑکیوں کی طرف سے یہ شکایت پہنچی ہے کہ سننے والے مردوں میں تو علماء بھی ہوں گے ہمارا ان کے ساتھ کیا مقابلہ ہے اس لئے آپ مختلف گروپ مقرر کریں۔ چنانچہ ان کی یہ بات مجھے ٹھیک معلوم ہوئی۔ اس لئے اب میں نئے گروپ یہ مقرر کرتا ہوں کہ چار امتحان ہوں گے۔ ایک 25 سال سے نیچے کی عمر والے مردوں کا اور ایک 25 سال سے اوپر والے مردوں کا۔ اسی طرح ایک 25 سال سے نیچے عمر والی لڑکیوں کا اور ایک 25 سال سے اوپر عمر والی عورتوں کا۔ اس طرح کوئی شکایت نہیں رہے گی اور ہر عمر اور طبقہ کے آدمی اپنے اپنے میدان میں آسکیں گے اور ہر ایک کو اس میں تین انعام ملیں گے۔ گویا اس طرح 12 انعام ہوجائیں گے۔ 6 عورتوں کے ہوجائیں گے اور 6 مردوں کے ہوجائیں گے۔
دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ عام طور پر ہمارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تحریک جدید میں صرف پانچ سات مبلغ کام کر رہے ہیں اس لئے جماعت والے سمجھتے نہیں کہ یہ لاکھوں لاکھ چندہ ہم سے کیوں مانگا جاتا ہے۔ میں نے آج مبلغین کی لسٹ بنوائی ہے۔ دیکھو انگلستان میں دو مبلغ کام کر رہے ہیں، سوئٹزر لینڈ میں ایک مبلغ کام کر رہا ہے۔ جرمنی میں دو مبلغ کام کر رہے ہیں۔ ہالینڈ میں دو مبلغ کام کر رہے ہیں۔ سکینڈے نیویا میں ایک کام کر رہا ہے۔ سپین میں ایک کام کر رہا ہے۔ امریکہ میں پانچ کام کر رہے ہیں جن میں سے ایک جرمن بھی ہے۔ ٹرینیڈاڈ میں ایک کام کر رہا ہے۔ گریناڈا جو ٹرینیڈاڈ کے پاس ایک جزیرہ ہے اس میں ایک مبلغ ہے جو انگریز ہے۔ سیرالیون میں آٹھ مبلغ کام کر رہے ہیں جن میں پاکستانی پانچ ہیں اور مقامی تین ہیں۔
گولڈ کوسٹ میں اٹھہتر مبلغ کام کر رہے ہیں۔ جن میں سے پاکستانی پانچ ہیں اور مقامی تہتر ہیں۔ نائیجیریا میں چھ مبلغ کام کر رہے ہیں۔ مشرقی افریقہ میں بیس مبلغ کام کر رہے ہیں جن میں پاکستانی سات ہیں اور مقامی تیرہ ہیں۔ شام میں ایک کام کر رہا ہے۔ مصر میں ایک پاکستانی ہے۔ اسرائیل میں ایک پاکستانی ہے۔ ماریشس میں دو پاکستانی ہیں مقامی ایک ہے۔ لبنان میں ایک پاکستانی ہے۔ سیلون میں دو مبلغ ہیں جن میں سے ایک پاکستانی ہے اور ایک مقامی ہے۔ برما میں ایک پاکستانی ہے۔ سنگاپور میں تین مبلغ ہیں جن میں سے پاکستانی دو ہیں اور مقامی ایک ہے۔ برٹش نارتھ بورنیو میں دو مبلغ کام کر رہے ہیں جو دونوں پاکستانی ہیں۔ انڈونیشیا میں دس مبلغ کام کر رہے ہیں جن میں سے چار پاکستانی ہیں اور مقامی چھ ہیں۔ مسقط میں ایک ہے جو پاکستانی ہے۔ لائبیریا میں ایک ہے جو پاکستانی ہے۔ ڈچ گی آنا میں ایک ہے جو پاکستانی ہے۔ یہ سارے 155 ہیں۔
ان میں وہ مبلغین شامل نہیں جو باہر کام کرتے تھے لیکن اِس وقت چھٹی پر ہیں ایسے مبلغین کی تعداد 23 ہے۔ ان ساروں کو ملا کر یہ لسٹ 178 کی بن جاتی ہے۔ آپ لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ پانچ چھ آدمی ہیں اور باہر تنگ سے تنگ اور ادنیٰ سے ادنیٰ گزارہ بھی بیس پونڈ ماہوار میں ہوتا ہے۔ اگر دس پونڈ بھی فرض کر لیں تو 178 مبلغین کا خرچ 1780 پونڈ بن جاتا ہے اور اگر بیس پونڈ خرچ ہو تو 3560 پونڈ بن جاتا ہے۔ مشنوں کے کرائے اور ان کے دَوروں کے اخراجات اور لٹریچر کی اشاعت یہ ساری رقم مل کر کم سے کم بارہ ہزار پونڈ بن جاتی ہے۔ اور پھر مرکزی اخراجات علیحدہ ہیں اور آنے جانے کے کرائے الگ ہیں۔ یہ سارا خرچ ملا کر قریباً بیس ہزار پونڈ بنتا ہے اور بیس ہزار پونڈ تین لاکھ روپیہ کے قریب بن جاتا ہے۔ اور پھر قرآن مجید کی اشاعت ہے اور دوسری اشاعتیں ہیں یہ ساری مل کر پانچ چھ لاکھ روپیہ سالانہ کا خرچ بن جاتا ہے۔ آپ لوگ خیال کر لیتے ہیں پانچ چھ مبلغ ہیں۔ پانچ چھ مبلغ نہیں بلکہ ہمارے مبلغ خدا کے فضل سے 178 ہیں جو اِس وقت کام کر رہے ہیں اور ابھی بہت سے مبلغ تیار ہو رہے ہیں۔ اگر یہ نئے مبلغ باہر ملکوں میں گئے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے پانچ سات سو مبلغ کام کرنے والے ہو جائیں گے اور ابھی انڈیا کے مبلغ ہم نے نہیں لئے۔ یہ سارے ملا کر ایک بہت بڑی تعداد بن
اس سال سلسلہ نے مگبورکا میں جو سیرا لیون میں ایک جگہ ہے ایک شاندار مسجد تعمیر کی ہے جس پر پانچ سو پاؤنڈ خرچ ہو چکا ہے یعنی سات ہزار روپیہ۔ اور ابھی تین سو پاؤنڈ اور خرچ ہوگا اور اس طرح دس ہزار روپیہ خرچ ہو جائے گا۔
مشرقی افریقہ میں دارالسلام میں ایک عالیشان مسجد تعمیر ہو رہی ہے اور دارالتبلیغ تعمیر ہو رہا ہے۔ انڈونیشیا میں پاڈانگ میں ایک مسجد تیار ہو رہی ہے جس پر اڑھائی تین لاکھ روپیہ خرچ کا اندازہ ہے۔ اسی طرح جاوا، سماٹرا، سولا ویسی 16 (سیلبس) میں چار نئی مساجد قائم کی گئی ہیں۔ جرمنی میں ہیمبرگ میں مسجد کے لئے زمین خریدی جا چکی ہے پلان کی منظوری آ جائے تو کام شروع ہو جائے گا۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی گورنمنٹ ہم کو ایکسچینج دے۔ ابھی تک انہوں نے منظور نہیں کیا۔ جب وہ منظور ہو جائے گا تو وہ کام بھی شروع ہو جائے گا۔ اس مسجد پر ڈیڑھ لاکھ روپیہ کے قریب خرچ ہوگا (جس میں سے چوبیس ہزار جمع ہو چکا ہے) سوا لاکھ کے قریب ابھی اور روپیہ چاہیے۔
عورتوں نے ہالینڈ کی مسجد کا چندہ اپنے ذمہ لیا تھا مگر اس پر بجائے ایک لاکھ کے جو میرا اندازہ تھا ایک لاکھ چوہتر ہزار روپیہ خرچ ہوا۔ اٹھہتر ہزار اُن کی طرف سے چندہ آیا تھا گویا ابھی چھیانوے ہزار باقی ہے۔ پس عورتوں کو بھی میں کہتا ہوں کہ وہ چھیانوے ہزار روپیہ جلد جمع کریں تاکہ مسجد ہالینڈ ان کی ہو جائے۔
مسجد ہالینڈ کا نقشہ بن کر آ گیا ہے جس میں بجلی بھی لگی ہوئی ہے اور مسجد خوب نظر آ جاتی ہے۔ لجنہ اماء اللہ نے اس کا بھی چندہ رکھا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ دو آنے کا ٹکٹ ضرور لیں۔ زیادہ کی توفیق ہو تو زیادہ کا ٹکٹ لے کر مسجد دیکھ لیں جس کا نقشہ بن کر آیا ہے اور انہوں نے اس کے اندر بجلی کا بھی انتظام کیا ہوا ہے۔ بجلی سے اندر روشنی ہو جاتی ہے اور پتا لگ جاتا ہے کہ وہ کیسی شاندار مسجد ہے۔ مگر ہمارے پروفیسر ٹلٹاک جو جرمنی کے ایک پروفیسر ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ ہیمبرگ کی مسجد کا جو ہمارے ذہن میں نقشہ ہے وہ ہالینڈ کی مسجد سے زیادہ شاندار ہوگا۔
نئے مشن بھی ہم خدا کے فضل سے کھول رہے ہیں اور ان کے ساتھ مبلغ بھی بڑھیں گے۔
مثلاً مشرقی افریقہ سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ جنوبی روڈیشیا (یہ افریقہ کے ساحل پر ایک بہت بڑا علاقہ ہے) اور نیاسا لینڈ (Nyasaland) اور بلجیئن کانگو 17 میں ہمارے سواحیلی اخبار اور سواحیلی ترجمہ قرآن مجید بھجوائے گئے تھے وہاں لوگ بکثرت احمدیت کی طرف مائل ہو رہے ہیں اور بلجیئن کانگو کے متعلق یہ اطلاع ملی ہے کہ وہاں سینکڑوں احمدی ہو چکے ہیں اور ان ملکوں کے لوگوں نے مبلغین کا مطالبہ کیا ہے۔
فلپائن جو امریکہ کے ماتحت ایک علاقہ ہے اور نہایت اہم ہے پہلے یہاں مسلمان آبادی تھی سارا علاقہ مسلمان تھا اور ترکوں اور عربوں کے ماتحت تھا (اب آزاد ہو چکا ہے) سپین نے اس کو فتح کیا اور جس طرح سپین نے اپنے ملک سے مسلمانوں کو نکال دیا تھا اُسی طرح فلپائن پر حملہ کر کے اُس نے اِس کو فتح کیا اور تلوار کے نیچے گردنیں رکھ کر سب سے اقرار کروایا کہ ہم مسلمان نہیں عیسائی ہیں۔ تمہاری غیرت کا تقاضا تھا کہ تم وہاں جاؤ۔ سپین کے متعلق بھی تمہاری غیرت کا تقاضا تھا۔ ہم نے وہاں مبلغ بھجوایا لیکن پاکستانی گورنمنٹ زور دے رہی ہے کہ اس مبلغ کو واپس بُلا لو کیونکہ سپینش گورنمنٹ کہتی ہے کہ ہم یہاں تبلیغ کی اجازت نہیں دے سکتے۔ حالانکہ ان کو چاہیے تھا کہ وہ سپین گورنمنٹ کو کہتے کہ تم کو یہ کوئی حق نہیں کہ تم ہمارے مبلغ کو نکالو۔ ہمارے ملک میں بیسیوں عیسائی مبلغ ہیں اگر تم اسے نکالو گے تو ہم بھی تمہارے مبلغوں کو نکال دیں گے۔ لیکن بجائے اس کے انہوں نے مغربی پاکستان کی گورنمنٹ کو لکھا اور مغربی پاکستان کی گورنمنٹ نے مجھے لکھا کہ اس مبلغ کو واپس بلالو۔ سپینش گورنمنٹ پسند نہیں کرتی۔ اِدھر فلپائن کے جو لوگ ہیں وہ بھی چونکہ نئے عیسائی ہیں پہلے مسلمان تھے ان میں بھی تعصب زیادہ ہے۔ ان کے ہاں بڑی کوشش کی گئی کہ کسی طرح وہاں مبلغ جائے لیکن وہاں سے اجازت نہیں مل سکی۔ جب کبھی ویزا کے لئے کوشش کی جاتی ہے وہ انکار کر دیتے ہیں۔ مگر ہمارا خدا حکومتوں سے بڑا خدا ہے۔ فلپائن گورنمنٹ یا امریکن گورنمنٹ اگر وہاں جانے سے روکے گی تو بنتا کیا ہے۔ اللہ نے ایسا سامان کر دیا کہ پچھلے سال جاپان میں ایک مذہبی انجمن بنی۔ اُس نے مجھے چٹھی لکھی کہ اپنا کوئی مبلغ بھجوائیں۔ میں نے خلیل ناصر صاحب جو واشنگٹن کے مبلغ ہیں ان کو وہاں بھجوا دیا۔ وہ وہاں گئے تو وہاں سے ان کو موقع لگا کہ وہ واپسی میں کچھ دیر فلپائن ٹھہر جائیں۔ جب وہ فلپائن ٹھہرے تو فلپائن کے کئی لوگ اُن سے آ کر ملے اور انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ابھی بعض جگہوں پر اسلام کا نام باقی ہے اور مسلمان جنگلوں میں رہتے ہیں۔ آپ ہمارے ہاں مبلغ بھیجیں تو ہم آپ کی مدد کریں گے اور اسلام پھیلائیں گے۔ انہوں نے مجھے لکھا ہم نے کوشش شروع کی لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ گورنمنٹ ویزا دینے سے انکار کرتی رہی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے سامان کیا۔ وہ لوگ جو خلیل ناصر صاحب سے ملے تھے اُن میں سے ایک پر اثر بہت زیادہ ہو گیا تھا۔ اُس نے خط لکھا کہ میں زندگی وقف کر کے اسلام پھیلانا چاہتا ہوں اور ربوہ آنا چاہتا ہوں کیا آپ میرے لئے انتظام کریں گے؟ ہم نے اس کو فوراً لکھ دیا کہ بڑی خوشی سے آؤ یہ تو ہماری دلی خواہش ہے چنانچہ جس ملک میں سے تلوار کے زور سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کو نکالا گیا تھا ہم اُس ملک کو دلائل کے ذریعہ سے پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی گود میں لا کر دم لیں گے۔
وہ جس نے ہمیں لکھا تھا اس کو کوئی مشکل پیش آئی اس لئے وہ تو نہ آسکا مگر اس کے ذریعہ ایک اور احمدی ہوا۔ وہ احمدی کسی فرم میں ملازم تھا۔ وہ وہاں سے بورنیو آ گیا۔ وہاں ڈاکٹر بدر الدین احمد صاحب جو خان صاحب فرزند علی صاحب کے بیٹے ہیں اور مفت تبلیغ کر رہے ہیں، ڈاکٹری بھی کرتے ہیں اور تبلیغ بھی کرتے ہیں ان سے ملا اور وہاں اس نے اسلام سیکھنا شروع کیا۔ اب اُس کا خط آیا ہے کہ میں بڑی کوشش کر رہا ہوں کہ فرم مجھے چھوڑ دے تو میں آجاؤں۔ پھر اس کے کہنے پر کچھ اور لٹریچر فلپائن بھیجا گیا۔ پہلے وہاں سے سولہ بیعتیں آئی تھیں۔ اس ضمن میں ایک کالج کے ایک سٹوڈنٹ نے وہاں کے مسلمانوں کی جو انجمن تھی اسے تبلیغ شروع کر دی۔ ان میں سے کسی کو لٹریچر پسند آ گیا اور اس نے آگے تبلیغ شروع کر دی۔ پہلے 16 بیعتوں کی اطلاع آئی تھی اس کے بعد 27 بیعتیں آئیں گویا 43 ہوگئیں۔ اس کے بعد پھر 18 بیعتیں آئیں۔ یہ سارے مل کر 61 ہو گئے۔ اور اب اطلاع آئی ہے کہ اور لوگ بھی تیار ہیں۔ بلکہ انہوں نے لکھا ہے کہ جتنے کالج کے لڑکے ہیں یہ سارے مسلمان ہو جائیں گے اور احمدی بن جائیں گے۔ تو فلپائن گورنمنٹ نے ہمارا راستہ روکا تھا لیکن خدا نے کھول دیا ہے اور جہاں ایک مسلمان کو بھی جانے کی اجازت نہیں تھی وہاں 61 آدمی بیعت کر چکا ہے اور کالج کے باقی سٹوڈنٹ کہتے ہیں کہ ہمیں جلدی بیعت فارم بھیجو۔ ابھی انہوں نے 100 بیعت فارم کے متعلق لکھا ہے کہ جلدی بھیجو سب لڑکے تیار ہو رہے ہیں۔ اب جس ملک کے کالج کے لڑکے مسلمان ہو جائیں گے سیدھی بات ہے کہ وہ بڑے بڑے عہدوں پر مقرر ہوں گے اور جہاں جائیں گے اسلام کی تبلیغ کریں گے کیونکہ اسلام چیز ہی ایسی ہے کہ جو ایک دفعہ کلمہ پڑھ لیتا ہے پھر وہ چپ نہیں رہ سکتا۔
میرے دوست پروفیسر ٹلٹاک اِس وقت یہاں بیٹھے ہیں جب میں بیماری میں علاج کرانے کے لئے گیا تو ہیمبرگ میں بھی گیا۔ مولوی عبداللطیف صاحب جو ہمارے مبلغ ہیں وہ ان کو لائے اور کہنے لگے یہ پروفیسر ٹلٹاک ہیں ان کو اسلام کا بڑا شغف ہے۔ یہ کیل (KIEL) میں یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔ آپ کا ذکر سن کر کیل سے آئے ہیں مگر کہتے ہیں میں نے الگ بات کرنی ہے۔ میں نے کہا بڑی خوشی سے الگ بلا لو اور لوگ چلے جائیں۔ چنانچہ وہ آگئے۔ انہوں نے تھوڑی دیر بات کی اور پھر کہنے لگے میں نے بیعت کرنی ہے۔ میں نے کہا بہت اچھا کر لیجئے۔ میں نے پوچھا کہ اسلام سمجھ لیا ہے؟ کہنے لگے ہاں میں نے سمجھ لیا ہے۔ مگر کسی کو پتا نہ لگے میں بڑا مشہور آدمی ہوں۔ میں نے کہا بہت اچھی بات ہے۔ ہمیں آپ کو مشہور کرنے کا کیا شوق ہے۔ آپ کی خدا سے صلح ہو گئی کافی ہے۔ چنانچہ اس کے بعد پاس کے کمرہ میں کچھ جرمن دوست نماز پڑھنے کے لئے آئے تھے۔ میں نماز پڑھانے کے لئے اُس کمرہ میں گیا۔ جب نماز پڑھ کے میں نے سلام پھیرا تو دیکھا کہ صف کے آخر میں وہ پروفیسر ٹلٹاک بیٹھے ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ میرا کسی کو پتا نہ لگے۔ میں نے مولوی عبداللطیف صاحب سے کہا کہ پروفیسر صاحب سے ذرا پوچھو کہ آپ تو کہتے تھے کہ میرے اسلام کا کسی کو پتا نہ لگے اور آپ تو سارے جرمنوں کے سامنے نماز پڑھ رہے ہیں تو اب تو پتا لگ گیا۔ کہنے لگے میں نے پوچھا تھا۔ یہ کہنے لگے میں نے سمجھا کہ یہاں ان کے آنے کا کیا واسطہ تھا، خدا انہیں میری خاطر لایا ہے تو اب خلیفہ کے پیچھے نماز پڑھنے کا موقع جو خدا نے مجھے میسر کیا ہے یہ ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے چنانچہ نماز پڑھ لی۔ اب یا تو وہ وہاں کہتے تھے کہ میرا اسلام ظاہر نہ ہو اور یا یہاں آ کے بیٹھے ہوئے ہیں۔“
اس موقع پر دوستوں نے حضور کی خدمت میں درخواست کی کہ پروفیسر ٹلٹاک صاحب انہیں دکھلا دئیے جائیں۔ چنانچہ پروفیسر صاحب سٹیج پر تشریف لے آئے اور حضور نے فرمایا:
”یہ پروفیسر ٹلٹاک صاحب ہیں جو جرمنی سے آپ لوگوں کو دیکھنے آئے ہیں اور آپ ان کو دیکھنے آئے ہیں۔
دوسری خوشخبری یہ ہے کہ پروفیسر ٹلٹاک صاحب یہ خبر لائے ہیں کہ جرمنی میں چار شہروں میں جماعتیں قائم ہوگئی ہیں۔ ایک بیعت پیچھے الفضل میں شائع ہوئی ہے۔ تازہ اطلاع یہ آئی ہے کہ اس نَومسلم کی بیوی نے بھی بیعت کر لی ہے۔ سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ پیغامیوں نے منافقین کو کہا تھا کہ ہمارا سٹیج تمہارے لئے ہے، ہماری تنظیم تمہارے لئے ہے۔ آج ہی جس وقت میں چلنے لگا ہوں تو مولوی عبداللطیف صاحب کی چٹھی پہنچی کہ ایک جرمن جو پیغامیوں کے ذریعہ سے مسلمان ہوا تھا وہ میرے پاس آیا اور میں نے اس کو تبلیغ کی اور وہ بیعت کا خط آپ کو بھجوارہا ہے۔ تو اُن کی وہ تنظیم خدا نے ہمیں دے دی۔ جس طرح ابوجہل کا بیٹا عکرمہؓ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مل گیا تھا اسی طرح پیغامیوں کا کیا ہوا نَومسلم ہمیں مل چکا ہے۔ آج ہی اس کی بیعت کا خط آگیا ہے۔
وکالتِ تبشیر نے کہا ہے کہ باہر سے متواتر لٹریچر کی مانگ آرہی ہے۔ میں نے عزیزم داؤداحمد کو جسے انگریزی کا اچھا شوق ہے ولایت میں کچھ عرصہ پڑھنے کے لئے رکھا تھا اور وہ انگریزی پڑھ کے آیا ہے۔ میں نے تحریک کو کہا کہ اس کو ترجمہ پر لگا دو تو انہوں نے کہا ہمارے پاس گنجائش نہیں ہے۔ گویا اُدھر تو لوگ کہہ رہے ہیں کہ اسلام کے لئے ہمیں لٹریچر چاہیے اور اِدھر وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس گنجائش نہیں یہ کیا؟ تم فاقے رہ جاتے اور لٹریچر شائع کرتے۔ یہ وکالت والوں کی غلطی ہے وہ بجٹ کو صحیح طور پر تقسیم نہیں کرتے۔ اگر صحیح طور پر تقسیم کریں تو ہمارے پاس بڑی گنجائش ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم ساری دنیا کو لٹریچر سے بھر سکتے ہیں۔
تازہ رپورٹ سے پتا لگتا ہے کہ پیغامی جو کچھ یہاں کرتے رہے ہیں وہ دوسرے ملکوں میں بھی انہوں نے کرنا شروع کر دیا ہے۔ رشید ہمارا مبلغ ڈچ گی آنا میں گیا۔ وہاں بھی پیغامیوں کا زور تھا۔ پہلے اطلاع آئی تھی کہ دوسو پیغامیوں نے بیعت کر لی ہے اور وہ احمدی ہو گئے ہیں۔ اب
پرسوں اترسوں دوسری اطلاع آئی ہے کہ دو سو نہیں چار سو تک تعداد پہنچ چکی ہے۔ اب اس کے بعد رشید صاحب کی اطلاع آئی ہے کہ ایک اور خاندان احمدی ہو رہا ہے جس کے آٹھ افراد ہیں۔ اسی طرح انہوں نے لکھا ہے کہ عبدالعزیز جرمن بخش جو ہمارے ہاں تعلیم پا رہے ہیں اور ڈچ گی آنا کے ہیں اُن کا بہنوئی سخت متعصب پیغامی ہے۔ اس نے ایک عورت کو بہت سی لالچ دی اور بہت سا روپیہ دیا کہ اس مبلغ کی دعوت کر اور زہر ملا کر اس کو مار دے لیکن حُسنِ اتفاق ہے خدا اُس کا حافظ تھا، اس کی باتیں اپنی بیوی سے کرتے ہوئے اُس کی ہمسائی نے سن لیں۔ اُس ہمسائی نے ایک دوسری ہمسائی کو بتا دیا۔ اس کا خاوند بھی احمدی تھا اُس نے آ کر اس کو بتا دیا کہ یہ آپ کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ سارے علاقہ میں بات پھیل گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ غیر احمدی بھی تُھوتُھو کر رہے ہیں کہ تم لوگ اپنے مبلغوں کو مرواتے ہو۔ پس دعائیں کرتے رہا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمارے مبلغین کی حفاظت فرمائے۔ ایک ایک آدمی ہم بیس بیس سال میں تیار کرتے ہیں۔ اگر یہ زہر دے کر مار دیں تو ہماری بیس سال کی محنت ضائع ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کا حافظ و ناصر ہو اور جہاں وہ جائیں اُن کے ہاتھوں پر ہزاروں لاکھوں آدمی اسلام قبول کریں۔
پھر میں احباب کو ادھر توجہ دلاتا ہوں کہ میں نے پچھلے سال بھی کہا تھا کہ ریویو آف ریلیجنز کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش تھی کہ دس ہزار اس کی اشاعت ہونی چاہیے۔ اب سنا ہے کہ تیرہ سَو کی اشاعت ہوئی ہے۔ مگر کجا دس ہزار اور کجا تیرہ سَو ، میں سمجھتا ہوں کہ بجائے تحریک کرنے کے ہمیں اب عملی قدم اٹھانا چاہیے اس لئے میں ایڈیٹر صاحب ریویو کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ فی الحال تیرہ سَو کی بجائے تین ہزار تین سَو چھپوانا شروع کر دیں گے۔ اگلے سال تک ہم کوشش کریں گے کہ دس ہزار ہو جائے۔ سو تین ہزار تین سَو چھپوانا شروع کر دیں اور قیمت گرا دیں۔ جو ہندوستانی انگریزی ریویو خریدیں اُن کو دو روپیہ میں وہ دے دیا کریں اور جو غیر ملکی خریدیں اُن سے وہ صرف ڈاک کا خرچ لے لیا کریں۔ اگلے سال ہم اس کو دس ہزار کر دیں گے۔ اس طرح دو ہزار پرچہ بڑھے گا۔ اس کے لئے کچھ تو ہندوستانی خریداروں سے قیمت آ جائے گی ، کچھ باہر والے خریداروں سے قیمت آ جائے گی۔ باقی زیادہ چھپنے کی وجہ سے قریباً بارہ ہزار کا خرچ رہ جائے گا۔ تحریک جدید اور انجمن کو میں مجبور کروں گا کہ وہ چھ ہزار دیں اور چھ ہزار جماعت سے چندہ کی تحریک کروں گا۔ ہماری جماعتیں اب خدا کے فضل سے اتنی بڑھی ہوئی ہیں کہ افریقہ کے جو نئے حبشی ہیں اُن میں سے ایک شخص نے پندرہ سو پاؤنڈ مسجد کے لئے دے دیا یعنی بیس ہزار روپیہ۔ حالانکہ وہ شخص ایسا تھا جو پہلے کہتا تھا کہ دریا رُخ بدل لے تو بدل لے مگر میں نہیں مسلمان ہونے کا۔ وہ شخص مسلمان ہوتا ہے اور اپنی خوشی سے پندرہ سو پاؤنڈ یعنی بیس ہزار روپیہ لا کر دے دیتا ہے۔ اُس ملک میں تو لوگ غریب ہیں۔ ہماری جماعت میں یہاں بڑے بڑے امیر ہیں ان سے چھ ہزار یا دس ہزار یا بیس ہزار سالانہ لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ خواہش پوری کرنا کہ ریویو کی دس ہزار اشاعت ہو جائے کون سا مشکل امر ہے۔ پس اس سال وہ تین ہزار اشاعت کر دیں۔ اگلے چھ مہینے تک ہم اسے چھ ہزار کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن وہ ایک مینیجر مقرر کریں جو قیمتیں وصول کرے۔ اس سے پہلے ان سے غفلت ہوتی رہی ہے اور قیمتیں صحیح نہیں وصول ہوئیں۔ اگلے جلسہ سالانہ تک ہم اِنْشَاءَ اللّٰہُ دس ہزار شائع کریں گے۔ کچھ لوگوں سے قیمت وصول کریں گے، کچھ جماعت سے وصول کریں گے، کچھ صدر انجمن احمدیہ اور تحریک سے وصول کریں گے۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خواہش کو ہم اگلے سال خدا چاہے تو ضرور پورا کر دیں گے۔ اس سال اس خواہش میں قدم بڑھانے کے لئے ہم تیسرا حصہ ادا کرتے ہیں اور چھ مہینہ تک ہم اِنْشَاءَ اللّٰہُ نصف سے زیادہ کر دیں گے اور خدا تعالیٰ زندہ رکھے اور توفیق دے تو اگلے سال اِنْشَاءَ اللّٰہُ ہم دس ہزار کی خواہش پوری کر دیں گے۔ اور کوشش کریں گے کہ اس سے اگلے سال حضرت صاحب کی خواہش سے دُگنی تعداد ہو جائے یعنی بیس ہزار ہو جائے۔ اس طرح بڑھاتے بڑھاتے ہمارا پروگرام یہ ہوگا کہ حضرت صاحب نے دس ہزار کہا تھا، ہم لاکھ تک اِس کی خریداری پہنچا دیں۔“
اس موقع پر حضور نے اعلان فرمایا کہ:۔
”محمد صدیق صاحب کلکتہ والے لکھتے ہیں کہ رسالہ ریویو انگریزی کے لئے یک صد رسالہ کا چندہ مبلغ دو صد روپیہ میں اپنی طرف سے دینے کا وعدہ کرتا ہوں۔ خدا تعالیٰ نے ان کو توفیق دی ہے۔ اِنْشَاءَ اللّٰہُ ثواب ہوگا۔ میری نیت بھی چندہ دینے کی ہے اور اِنْشَاءَ اللّٰہُ اِس سے زیادہ ہی دوں گا۔
پھر قرآن شریف کے ترجمہ کے متعلق میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اُردو کا ترجمہ تیار ہوگیا ہے۔ اور ایک جِلد تفسیر کی بھی تیار ہوگئی ہے جس کا پانچ سو صفحہ اِنْشَاءَ اللّٰہُ شوریٰ تک چھپ جائے گا۔ تفسیر لمبی ہوگئی ہے میں نے چھوٹی رکھنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن غالباً سورۃ طٰہٰ یا سورۃ الانبیاء تک پانچ سو صفحے پورے ہوجائیں گے۔
الشرکۃ الاسلامیہ والے کہتے ہیں کہ ہم نے کتابیں چھاپی ہیں۔ ضرورت الامام، رازِ حقیقت، نشانِ آسمانی، آسمانی فیصلہ، کشف الغطاء، دافع البلاء، ستارہ قیصریہ۔ اس کی سفارش کرو حالانکہ میں تو اس کو بے شرمی سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی لکھی ہوئی کتاب ہو اور میں سفارش کروں۔ کیا کسی غلام کے منہ سے یہ زیب دیتا ہے کہ اپنے آقا کی کتاب کی سفارش کرے؟ اور کرے بھی اُن کے پاس جو اپنے آپ کو فدائی کہتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو لکھا ہے کہ جس شخص نے میری کتابیں کم سے کم تین دفعہ نہیں پڑھیں میں نہیں سمجھتا کہ وہ احمدی ہے18۔ تو اب ہماری جماعت تو دس لاکھ ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ پس تین دفعہ اگر وہ کتابیں پڑھیں بلکہ ایک ایک کتاب بھی خریدیں اور تین سال وہی پڑھ لیں تو پھر آگے اولاد بھی ہوتی ہے تب بھی دس لاکھ کتاب لگ جاتی ہے۔ لیکن انہوں نے جن کتابوں کی لسٹ مجھے دی ہے وہ ساری کی ساری شاید کوئی بیس ہزار ہیں تو ایسی کتابوں کے لئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی لکھی ہوئی ہیں جن کی صدیوں تک اور نظیر نہیں ملے گی یہ کہنا کہ میں سفارش کروں یہ ان کی اپنی کمزوری ہے۔ کیوں نہیں وہ جماعت کو کہتے؟ جماعت تو اپنی جانیں حضرت صاحبؑ پر قربان کرنے کے لئے تیار ہے مگر صحیح طور پر کام نہیں کیا جاتا۔ یامین صاحب تو اپنا کیلنڈر بیچ لیتے ہیں مگر ان سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابیں بھی نہیں بیچی جاتیں۔
اسی طرح ریسرچ والوں نے کہا ہے کہ ان کی مصنوعات کے متعلق یاد دہانی کرائی جائے۔ لوگوں کو چاہیے کہ جو جماعت کی طرف سے چیزیں بنتی ہیں اُن کو زیادہ لیا کریں۔ اخلاص تو یہ ہوتا ہے کہ چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کے والد صاحب نے مجھے سنایا کہ میں سارا سال اپنے کپڑوں کے متعلق کوشش کرتا رہتا ہوں کہ نہ بنواؤں اور جب قادیان آتا ہوں تو سید احمد نور کی
دُکان سے خریدتا ہوں۔ گو مہنگا ہوتا ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ ایک مہاجر کا گزارہ چل جائے گا میرا کیا حرج ہے۔ تو دیکھو مخلص آدمی تو ایسا کرتا ہے۔ چودھری صاحب نے بتایا ہے کہ وہ بنواتے بھی مرزا مہتاب بیگ صاحب سے تھے جو قادیان میں درزی تھے اور احمدی مہاجر تھے۔ تو دیکھو مخلص لوگ تو ایسا کرتے ہیں کہ باہر کے شہر میں کپڑے سستے ملتے ہیں لیکن خریدتے نہیں۔ کہتے تھے قادیان جائیں گے تو ایک مہاجر سے خریدیں گے اور بنوائیں گے بھی ایک مہاجر سے۔ تو اگر ہماری جماعت کے لوگ توجہ کریں کہ سلسلہ کی طرف سے جو چیزیں بنتی ہیں اُن کو خریدیں تو بڑی ترقی ہو سکتی ہے۔ مثلاً شائنو بُوٹ پالش ہے جس کی تعریف اتنی کثرت سے ہو رہی ہے کہ باٹا کمپنی نے بھی پچیس ہزار ڈبیہ کا آرڈر دیا ہے حالانکہ وہ کروڑ پتی کمپنی ہے۔ پھر نائٹ لائٹ ہے جو بڑی قیمتی چیز ہے۔ کف ایکس ہے۔ ’’سن شائن گرائپ واٹر‘‘ ہے۔ ڈاکٹروں کو بھی چاہیے کہ لے جائیں اور تجربہ کریں۔ اور اگر مفید ہیں تو سرٹیفکیٹ دیں۔ جھوٹے سرٹیفکیٹ ہم نہیں مانگتے سچے سرٹیفکیٹ مانگتے ہیں۔ پھر سٹر ولیکس فروٹ سالٹ ہے۔ ’’بامیکس‘‘ سر درد کی دوا ہے۔ تو اگر جماعت کے لوگ سلسلہ کی مصنوعات کی طرف توجہ کریں تو یقیناً تھوڑے دنوں میں باہر ملکوں میں پھیل سکتی ہیں۔ سفارش تو لغو سی چیز ہے میں تو ان کو کہا کرتا ہوں کہ تم اچھی طرح اشتہار نہیں دیتے ورنہ مجھے قادیان میں ایسی دکانیں معلوم ہیں کہ ایک شخص سے حضرت خلیفہ اول نے چھ پیسے میں دکان نکلوائی لیکن جب وہ قادیان سے نکلا ہے تو اُس کے گھر کی قیمت بیس ہزار تھی اور ہزاروں ہزار کی اس کی دُکان تھی۔ اور ایسے بھی دوست مجھے ربوہ میں معلوم ہیں کہ جنہوں نے چھ ہزار سے کام شروع کیا تھا اور اس وقت پختہ مکانات اُن کے پاس ہیں اور دوائیں وغیرہ ملا کر اُن کا کوئی پینتیس چالیس ہزار کا سرمایہ ہے۔ تو جو دیانتداری سے کام کرے خدا تعالیٰ اُس کو برکت دیتا ہے۔ پس سفارش کرنے کا کیا فائدہ ہے۔
اِسی طرح تشحیذ الاذہان ایک نیا رسالہ نکلنے والا ہے اور بھی بعض رسالے ہیں۔ ’’المصلح‘‘ کراچی والے نکالتے ہیں۔ میں کہتا ہوں مجھ سے نہ کہلواؤ ایسے اعلیٰ کام کرو اور ان کی ایسی شکل بناؤ کہ لوگ آپ ہی لیں۔ کسی شخص نے کہا ہے
صورت بہ بیں حالت مپرس
ارے میاں ! اس کا حال کیا پوچھتے ہو ، اس کی شکل دیکھ لو۔ تو تم بھی اپنے آپ کو ایسا بناؤ کہ تمہارے رسالے دیکھ کر لوگ خود بخود خرید لیں۔ یہ کہنا کہ اس کو میری سفارش سے لوگ خریدیں یہ غلط ہے۔ میں اگر حضرت صاحبؓ کے رسالہ کی سفارش کرتا ہوں تو ثواب کے لئے ورنہ میں ریویو کی بھی سفارش نہ کرتا کیونکہ ریویو کی سفارش کرنا تمہاری ہتک ہے۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ مجھے تو حضرت صاحبؓ کے قول کا پاس ہے تمہیں نہیں۔ میں یہ ہتک نہیں کرنا چاہتا۔ میں صرف اس لئے کہہ دیتا ہوں کہ مجھے ثواب مل جائے۔“
اس موقع پر حضور نے ڈچ گی آنا سے آئی ہوئی وہ تصویر دکھائی جس میں وہ تمام احمدی دوست بیٹھے ہیں جو پہلے پیغامی ہوا کرتے تھے۔ سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔
”ترکی سے ایک خط ایک دوست سیبر صاحب کا آیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ ”میں نے آپ کا لکھا ہوا ترجمۃ القرآن کا دیباچہ پڑھا ہے۔ یہ دیباچہ ایک نہایت ہی عالمانہ کتاب ہے جو خاص خدائی تائید کے ماتحت لکھی گئی ہے۔ اس کا مطالعہ بہت سے امور کے متعلق میرے شبہات دور کرنے کا موجب ہوا ہے۔“ نیز اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”یہ میری دلی خواہش ہے کہ احمدیت نے جو قابلِ تعریف مثال قائم کی ہے میں دوسرے مسلمانوں کو بھی اس کی پیروی کرتے ہوئے دیکھوں۔“۱۹
اس سے قبل ایک امریکن فوجی افسر نے دیباچہ انگریزی ترجمۃ القرآن کے پڑھنے کے بعد لکھا تھا کہ اس میں سے سوانح آنحضرت صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کا حصہ میں نے پڑھا ہے میرے نزدیک آپ (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم) جیسا کامل انسان اس دنیا میں کبھی پیدا نہیں ہوا۔ میں بہت بیوقوف ہوں گا اگر اس دیباچہ میں آپ کے حالات پڑھنے کے بعد اسلام پر ایمان نہ لاؤں۲۰۔ اب یہ شخص احمدی ہو چکا ہے اور ان کا نام ناصر احمد رکھا گیا ہے۔ وکالت تبشیر اب سوانح آنحضرت صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے حصہ کو ہالینڈ سے چھپوانے کا انتظام کر رہی ہے۔ سنہالی (Sinhali) زبان کے متعلق میرا رؤیا آپ لوگ پڑھ چکے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے اس رؤیا کے مطابق سنہالی کتابیں شائع کرنے کا موقع دیا اور وزراء نے اور گورنر نے وہ کتابیں لیں اور وزیر تعلیم خود ہمارے جلسہ میں آیا جس میں وہ کتاب پیش کی گئی تھی۔
اس کے بعد میں ایک اور خوشخبری سناتا ہوں کہ کچھ دن ہوئے مجھے خواب آئی کہ جنوبی ہندوستان میں خدا کے فضل سے ہندوؤں میں تبلیغ پھیلنی شروع ہوگئی ہے اور اتنی پھیل گئی ہے کہ جنوبی ہندوستان کے لوگوں نے دلّی کی حکومت کو لکھا ہے کہ آپ لوگوں کا سلوک احمدیوں سے اچھا نہیں ہے یا تو اپنا رویہ بدلیں ورنہ ہم اس پر کوئی مناسب کارروائی کریں گے۔ وہ زمانہ بھی آئے گا اِنْشَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔ لیکن فی الحال ہندوؤں کی تو نہیں مسلمانوں کی خبر آئی ہے۔ ایک دوست کا خط آیا ہے کہ یہاں ایک علاقہ ہے جس میں ڈیڑھ لاکھ مسلمان ہیں ان میں کثرت کے ساتھ لوگ احمدی ہونا چاہتے ہیں۔ تو یہ بھی اللہ تعالیٰ نے ایک نیا راستہ کھولا ہے۔
پھر یہ بھی اطلاع آئی ہے کہ لکشادیپ (Lakshadweep) مالدیپ کے جزائر میں سے ایک جزیرہ میں احمدیہ جماعت قائم ہوئی ہے اور وہاں دارالتبلیغ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس ذریعہ سے ان جزائر میں بھی جماعت پھیل جائے گی۔ غرض اللہ تعالیٰ خود اِن علاقوں میں جہاں ہم نہیں جاسکتے کام کررہا ہے۔ چنانچہ ایک سکھ رئیس کی بیعت آئی ہے جس نے خواب کے ذریعہ سے بیعت کی ہے اور اسلام قبول کیا ہے۔ وہ مشرقی پنجاب کا رہنے والا ہے۔ اس نے خواب دیکھی اور خواب کے ذریعہ سے بیعت کی ہے۔
جرمنی سے ایک پادری کے مسلمان ہونے کی خبر آئی ہے جس نے اپنی زندگی بھی وقف کی ہے۔ وہ یہاں آ کر دینِ اسلام سیکھے گا۔
امریکہ سے ایک تازہ خبر آئی ہے۔ لکھا ہے کہ یہاں بھی ایک پادری مسلمان ہوا ہے۔ اور ایک نئے شہر میں جہاں پہلے جماعت نہیں تھی احمدی ہوگئے ہیں جس سے وہاں بھی جماعت بننے کا امکان ہے تو اللہ تعالیٰ ہر جگہ جماعتیں قائم کررہا ہے۔
میں نے شروع میں کہا تھا دیکھو! خدا تعالیٰ نے کس طرح وہ بات پوری کی......... میں نے کہا تھا کہ قرآن نے بتایا ہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے نظامِ دین سے الگ ہو جائے گا تو اس کی جگہ ایک جماعت آئے گی۔ دیکھو ان لوگوں کے نکلنے کے بعد خدا نے کئی ہزار نیا احمدی ہم کو دیا ہے اور ایسے ایسے لائق آدمی ہم کو دیئے ہیں جیسے یونیورسٹیوں کے پروفیسر اور پادری وغیرہ کہ جن کے مقابلہ میں ان کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ یہ بھی خبر آئی ہے کہ انڈونیشین زبان میں
18 پاروں کا ترجمہ ہو چکا ہے۔ یوگنڈا زبان میں مشرقی افریقہ کی جماعت نے پہلا پارہ شائع کیا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے سواحیلی ترجمہ شائع کیا تھا باقی ترجمہ وہ کر رہے ہیں۔
اب میں پہلا حصہ مختصر طور پر بیان کرنے کے بعد جو خلافت کے انتخاب کے متعلق اور خلافتِ حقہ اسلامیہ کے قیام کے متعلق تھا دوسرا مضمون لیتا ہوں۔ مگر اس سے پہلے ایک بات یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری جماعت میں زمیندار زیادہ ہیں اس لئے میں نے صدر انجمن احمدیہ کو مجبور کیا ہے کہ وہ ایک افسر رکھیں جو جماعتوں کو زمینداری کے متعلق تعلیم دے۔ انہوں نے آدمی رکھا ہے جس کو ابھی چند مہینے ہوئے ہیں۔ لائل پور اور سیالکوٹ کا اس نے دورہ کیا ہے لیکن چھ مہینے کے اندر زراعت کا نتیجہ نہیں نکل سکتا اس لئے اس کا نتیجہ اِنْشَاءَ اللّٰہ اگلے سال آپ کے سامنے پیش ہوگا کہ جماعت نے کیا کام کیا ہے۔ مگر میں نے پہلے بھی توجہ دلائی تھی کہ زمیندار اگر ایک ایک کنال خدا کے نام پر بونا شروع کر دیں تو ان کا چندہ کئی گنا زیادہ ہو جائے ۔ ہر زمیندار ہمارے ملک میں چار پانچ ایکڑ بولیت اہے۔ اگر اس میں سے ایک کنال خدا کے نام کی ہو اور اس کی ساری آمدن خدا کے نام ہی جائے تو دیکھو اس میں بھی برکت ہوگی اور پاس کی کھیتی میں بھی برکت ہوگی۔ مگر افسوس ہے کہ جماعت نے اس طرف پوری توجہ نہیں کی۔
یہ میں کہہ چکا ہوں کہ آج کا جو مضمون ہے یعنی ”نظامِ آسمانی کی مخالفت اور اس کا پس منظر“ اس کے متعلق یہ نوٹ کر لیں کہ اس کا امتحان ہوگا جو احمدی ہیں اُن کو تو یہ فائدہ ہو جائے گا کہ انہیں واقفیت ہو جائے گی۔ اور جو ہزاروں ہزار غیر احمدی ہمارے جلسہ میں بیٹھے ہیں اُن کو یہ پتا لگ جائے کہ جماعت میں جو فتنہ ہے اس کی حقیقت کیا ہے۔ پس اُن کا علم تاریخی ہو جائے گا اور آپ لوگوں کا علم ایمانی ہو جائے گا اُس وقت تک آپ لوگ تیار ہو جائیں۔“
(الفضل 9، 10 مارچ 1957ء)
اس کے بعد حضور نے ”نظام آسمانی کی مخالفت اور اس کا پس منظر“ پر تقریر کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا:۔
سورۃ اعلیٰ کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی۔ وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی۔ بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔ وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی۔ اِنَّ ھٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰی صُحُفِ اِبۡرٰہِیۡمَ وَمُوۡسٰی(87:19-20) 21۔ یعنی جو شخص پاک ہوتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے اور نمازیں پڑھتا ہے وہ بھی کامیاب ہو جاتا ہے۔ لیکن اے قرآنِ کریم کے مخاطب! تم لوگ دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دیتے ہو یعنی دنیا کو دین پر مقدم کرتے ہو حالانکہ دین دنیا پر مقدم ہے اور قائم رہنے والا ہے۔ یہی بات پہلی کتابوں میں بھی لکھی ہوئی ہے۔ ابراہیمؑ کی کتاب میں بھی لکھی ہے اور موسیٰؑ کی کتاب میں بھی یہی بات لکھی ہے۔
ان آیات سے جو میں نے پڑھی ہیں ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جو وحی نازل ہوئی تھی ان دونوں میں یہ کہا گیا تھا کہ اے لوگو! آخرت یعنی دین کو دنیا پر مقدم کرو۔ دنیا کو دین یعنی آخرت پر مقدم نہ کرو۔ ورنہ تمہارا الٰہی نظام سے ٹکراؤ ہو جائے گا اور تم حق کو نہیں پاسکو گے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی یہی پُرانی تعلیم سکھائی گئی اور آپ نے اپنی بیعت میں یہ الفاظ رکھے کہ:
’’میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا‘‘
درحقیقت یہی تعلیم ہے جس کے نہ ماننے کی وجہ سے نظامِ آسمانی کی مخالفت کی جاتی ہے یعنی رقابت یا لالچ یا بغض کی وجہ سے۔
چنانچہ آدمؑ کو دیکھ لو شیطان نے اُس کے لائے ہوئے نظام کی مخالفت کی۔ اِس مخالفت کی وجہ کیا تھی؟ قرآنِ کریم اسے یوں بیان فرماتا ہے قَالَ مَا مَنَعَکَ اَلَّا تَسۡجُدَ اِذۡ اَمَرۡتُکَ ؕ قَالَ اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡہُ ۚ خَلَقۡتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ قَالَ فَاہۡبِطۡ مِنۡہَا فَمَا یَکُوۡنُ لَکَ اَنۡ تَتَکَبَّرَ فِیۡہَا فَاخۡرُجۡ اِنَّکَ مِنَ الصّٰغِرِیۡنَ قَالَ اَنۡظِرۡنِیۡۤ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ قَالَ اِنَّکَ مِنَ الۡمُنۡظَرِیۡنَ قَالَ فَبِمَاۤ اَغۡوَیۡتَنِیۡ لَاَقۡعُدَنَّ لَہُمۡ صِرَاطَکَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِہِمۡ وَعَنۡ اَیۡمَانِہِمۡ وَعَنۡ شَمَآئِلِہِمۡ ؕ وَلَا تَجِدُ اَکۡثَرَہُمۡ شٰکِرِیۡنَ(7:13-18)
لَمَنۡ تَبِعَکَ مِنۡہُمۡ لَاَمۡلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنۡکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ(7:19) 22 یعنی اے شیطان! جب میں نے کہا تھا کہ اس آدم کی خاطر اس کی پیدائش کی خوشی میں میرے آگے سجدہ کرو تو تم نے کیوں سجدہ نہیں کیا؟ یا میں نے کہا تھا کہ آدم کی فرمانبرداری کرو تو تم نے کیوں فرمانبرداری نہیں کی؟ تو اُس نے جواب دیا میں نے اِس لئے ایسا نہیں کیا کہ میں اس سے اچھا ہوں (قَالَ اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡہُ(38:77)) یعنی میری نافرمانی کی وجہ رقابت تھی ۔ مجھے تُو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے گیلی مٹی سے پیدا کیا ہے (خَلَقۡتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ(38:77)) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کو آدم سے یہی بُغض تھا کہ میں تو اس سے اعلیٰ ہوں پھر اس کو مجھ پر فضیلت کیوں دی گئی۔ یہی بُغض ابلیس کے ساتھیوں کو آدمؑ کے ساتھیوں سے تھا یعنی دنیا کو دین پر مقدم کرنا ساری مخالفت کا باعث تھا۔ وہ یہ نہیں دیکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو بڑھایا ہے بلکہ وہ یہ دیکھتے تھے کہ ہم پر اس کو فضیلت دے دی گئی ہے۔ چنانچہ اس کے آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اے شیطان! میرے نظام سے باہر نکل جا (قَالَ فَاہۡبِطۡ مِنۡہَا(7:14)) کیونکہ تیرا کوئی حق نہیں تھا کہ میری جماعت میں شامل ہوتے ہوئے تکبر کرتا اور میرے مقرر کردہ خلیفہ سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتا (فَمَا یَکُوۡنُ لَکَ اَنۡ تَتَکَبَّرَ فِیۡہَا(7:14)) پس نکل جا، کیونکہ ذلّت تیرے نصیب میں ہے (فَاخۡرُجۡ اِنَّکَ مِنَ الصّٰغِرِیۡنَ(7:14)) اُس نے کہا الٰہی! جب تک یہ قوم ترقی کرے اور دنیا پر غالب آجائے، مجھے ڈھیل دے اور موقع دے کہ میں ان کو خراب کروں (قَالَ اَنۡظِرۡنِیۡۤ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ(7:15)) اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ہاں ان کی ترقی کے زمانہ تک میں تجھے ڈھیل دوں گا (قَالَ اِنَّکَ مِنَ الۡمُنۡظَرِیۡنَ(7:16)) اس پر شیطان نے کہا کہ مجھے بھی تیری ہی ذات کی قسم! کہ چونکہ تُو نے اپنے نظام کو تباہی سے بچانے کیلئے مجھے ہلاکت میں ڈالا ہے اس لئے میں بھی تیرے نظام پر چلنے والوں کی تباہی کے لئے تیرے سیدھے راستہ پر ڈاکوؤں کی طرح بیٹھوں گا (قَالَ فَبِمَاۤ اَغۡوَیۡتَنِیۡ لَاَقۡعُدَنَّ لَہُمۡ صِرَاطَکَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ(7:17)) پھر میں اُن کے پاس کبھی تو اُن کے لیڈروں کے ذریعہ سے آؤں گا (ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ(7:18)) اور کبھی اُن کے چھوٹے لوگوں کے ذریعہ سے آؤں گا (وَ مِنْ خَلْفِهِمْ) اور کبھی دینی دلیلیں دے دے کر ورغلاؤں گا (وَعَنۡ اَیۡمَانِہِمۡ(7:18)) اور کبھی دنیوی طور پر اُن کو ورغلاؤں گا کہ اگر تم نے ان تعلیموں پر عمل کیا تو حکومت مخالف ہو جائے گی۔ (وَعَنۡ شَمَآئِلِہِمۡ(7:18)) اور تُو اِن میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا (وَلَا تَجِدُ اَکۡثَرَہُمۡ شٰکِرِیۡنَ(7:18)) یعنی تُو دیکھ لے گا کہ اِن میں سے اکثر تیری نعمتِ خلافت پر شکر گزار نہیں ہیں بلکہ اکثر اِن میں سے شبہات میں پڑ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تیری اِن لافوں کی پروا نہیں کرتا۔ تُو میرے نظامِ جماعت سے نکل جا۔ تجھے ہمیشہ گنہگار قرار دیا جائے گا اور تجھے حقیر سمجھا جائے گا اور تجھے جماعتِ حقہ اسلامیہ سے دھتکارا جائے گا۔ (قَالَ اخۡرُجۡ مِنۡہَا مَذۡءُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا(7:19)) اور جو اِن لوگوں میں سے تیری اتباع کریں گے اُن سب کو میں جہنم میں جھونک دوں گا یعنی ناکام اور حسرتوں کا شکار بنا دوں گا (لَمَنۡ تَبِعَکَ مِنۡہُمۡ لَاَمۡلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنۡکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ(7:19))۔
اِس ارشاد پر صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے پورا عمل کیا جو ہمیشہ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ کہتے آئے ہیں۔ باقی جماعتوں میں سے کچھ لوگوں نے اِس پر عمل تو کیا ہے لیکن اِس کو اہم اصل قرار دے کر اسے یاد نہیں رکھا۔
اِن آیتوں سے صاف ظاہر ہے کہ مخالفینِ نظامِ الٰہی کو اپنے آپ سے جُدا کر دینا خدائی حکم ہے اور یہ خدا کا وعدہ ہے کہ وہ ناکام و نامراد رہیں گے۔ چنانچہ جس وقت یہ فتنہ☆ شروع ہوا ہے بہت سے جماعت کے مخلصین نے مجھے لکھا کہ آپ خواہ مخواہ ان کو موقع کیوں دیتے ہیں، کیوں نہیں انہیں جماعت سے خارج کر دیتے۔ بعض کمزور ایسے بھی تھے جنہوں نے یہ لکھنا شروع کیا کہ آخر حضرت خلیفہ اوّل کی اولاد ہے۔ اِس پر مجھے مولوی رحیم بخش صاحب کا واقعہ یاد آ گیا۔ 1914ء میں جب مولوی محمد احسن صاحب نے لاہوریوں کے لالچ دلانے پر اشتہار شائع کیا کہ میں نے ہی میاں محمود کو خلیفہ بنایا تھا اور میں ہی ان کو خلافت سے اتارتا ہوں تو جماعت نے اُس وقت یہ ریزولیوشن پیش کیا کہ ان کو جماعت سے نکالا جائے۔ مولوی رحیم بخش صاحب سیالکوٹ کے ایک بڈھے صحابی تھے وہ کھڑے ہو گئے اور بڑے زور سے کہنے لگے کہ ایسا ریزولیوشن پاس نہ کرو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو فرشتہ قرار دیا ہے۔ میں نے کھڑے ہو کر کہا کہ مولوی صاحب! آپ کا کیا منشاء ہے کہ جو کہتا ہے کہ خلافت توڑ دو اُس کو
جماعت سے نہ نکالیں؟ تو کہنے لگے اگر ایسا ہے تو پھر اس کو جماعت سے نکال دو۔
تو وہ لوگ جو آج بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ حضرت خلیفہ اوّل کی اولاد ہے اُن سے میں کہتا ہوں کہ یہ تو حضرت خلیفہ اول کی اولاد ہے اور مولوی محمد احسن کے متعلق حضرت صاحب نے کسی خط میں لکھا ہے کہ یہ جو حدیث میں آیا تھا کہ مسیح موعودؑ دو فرشتوں پر اُترے گا اُن میں سے ایک مولوی محمد احسن بھی ہیں۔ اُس وقت تو جماعت نے اتنی ہمت کی کہ مولوی محمد احسن کو جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرشتہ قرار دیا تھا انہوں نے کہا کہ خلیفہ کے سامنے اگر فرشتہ بھی کھڑا ہوتا ہے تو نکالو اُسے ۔ حضرت خلیفہ اوّل بھی یہی کہا کرتے تھے کہ اگر تم فرشتے بھی بن جاؤ تو خلیفہ پر اعتراض کرنے پر تم پکڑے جاؤ گے۔ لیکن آج بعض کمزور دل کہتے ہیں کہ یہ حضرت خلیفہ اوّل کی اولاد ہیں ان کو کچھ نہ کہو۔ جماعت کو تباہ ہونے دو، مرزا صاحب کے سلسلہ کو تباہ ہونے دو، محمد رسول اللہﷺ کے مشن کو نقصان پہنچنے دو، قرآن کریم کی تعلیم کو غلط ہونے دو، اسلام کو کمزور ہونے دو۔ پر حضرت خلیفہ اوّل کی اولاد کو کچھ نہ کہو۔ گویا حضرت خلیفہ اوّل کی اولاد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ معزز ہے۔ وہ قرآن سے بھی زیادہ معزز ہے۔ وہ اسلام سے بھی زیادہ معزز ہے۔ وہ مسیح موعودؑ سے بھی زیادہ معزز ہے۔ وہ مسیح موعودؑ کے خاندان سے بھی زیادہ معزز ہے۔ وہ مسیح موعودؑ کے الہامات سے بھی زیادہ معزز ہے۔ ان کو کچھ نہ کہو سلسلہ کو تباہ ہونے دو۔ قرآن کریم کی تعلیم کو غلط ہونے دو۔ خلافت کو مٹنے دو۔ خدا کے کلام کو غلط ثابت ہونے دومگر یہ کام نہ کرو۔ تو کچھ لوگوں نے تو یہ کہا۔ چنانچہ مری میں جب ایک صاحب کو پتا لگا کہ میں ایک اشتہار لکھ رہا ہوں تو کہنے لگے نہ، نہ، نہ، نہ۔ آپ نے 25 سال ان کو معاف کیا ہے اب بھی معاف کر دیجئے۔ میں نے کہا مجھے 25 سال معاف کرنے کی سزا ہی تو مل رہی ہے۔ اگر میں ان کو 25 سال معاف نہ کرتا اور 1926ء میں ہی ان کو کیڑے کی طرح باہر نکال کے پھینک دیتا تو آج ان کو یہ کہاں ہمّت ہوتی۔ یہ ”مولانا“ بنے ہمارے وظیفے کھا کھا کے۔ یہ طبیب بنے سلسلہ سے وظیفے لے لے کر۔ اور اب ان کو یہ جرأت پیدا ہوگئی کہ کہہ دیا کہ ”حضرت مولانا“ نے مسند احمد بن حنبلؒ کی تبویب کی ہے۔ حالانکہ مسند احمد بن حنبلؒ کی تبویب کا کچھ حصہ حضرت خلیفہ اول نے کیا ہوا تھا۔ وہ فہرست لائبریری سے مولوی عبدالمنان نے عاریۃً لی اور واپس نہ کی اور اِس کے اوپر کتاب لکھی اور وہ بھی جامعہ احمدیہ کے پروفیسروں اور طالبعلموں کی مدد سے۔ اور پھر اس کے بعد کہہ دیا کہ یہ عظیم الشان کام میں نے کیا ہے۔ جب یہ ہوا تو ہمارے مولویوں کو غیرت پیدا ہوئی اور انہوں نے مجھے کہا کہ اس کتاب کو چھوڑیں ہم لکھ دیں گے۔ میں نے کہا بشرطیکہ جلسہ سے پہلے لکھ دو۔ چنانچہ بارہ دن ہوئے وہ مجھے اطلاع دے چکے ہیں کہ مسند احمد بن حنبلؒ کی تبویب اُس سے زیادہ مکمل جس کا دعویٰ مولوی عبدالمنان کرتے ہیں ہم تیار کرچکے ہیں۔ اور اس لئے گو اس کی چھپوائی پر بڑی رقم خرچ ہو گی مگر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کو جزو جزو کر کے شائع کر دیا جائے تاکہ پہلے اجزاء کی قیمت سے اس کے آخری اجزاء چھاپے جاسکیں اور حضرت خلیفہ اول کی خواہش پوری ہوجائے۔ خود میں نے بھی اس کے متعلق ۱۹۴۴ء میں ایک تقریر کی ہوئی ہے اور تبویب کے متعلق بعض باتیں بیان کی ہوئی ہیں۔ میں نے کہہ دیا ہے کہ ان کو بھی تبویب میں مدنظر رکھا جائے تاکہ وہ بہت زیادہ مفید ہو سکے۔ اِس بیماری کے بعد کئی باتیں مجھے اب تک پرانے زمانہ کی بھی یاد ہیں مگر کئی باتیں قریب کی بھولی ہوئی ہیں۔ مجھے بالکل یاد نہیں تھا کہ ۱۹۴۴ء میں مَیں نے مسند احمد بن حنبلؒ پڑھ کے اس کے متعلق تقریر کی ہوئی ہے کہ اس میں ان ان اصلاحوں کی ضرورت ہے۔ اب ایک مبلغ آیا اور کہنے لگا کہ آپ کی تو اس پر بڑی اعلیٰ درجہ کی ایک تقریر ہے جو ”الفضل“ میں چھپ چکی ہے۔ چنانچہ اس نے وہ تقریر سنائی۔ پھر مجھے یاد آیا کہ میں نے اس کتاب کو خوب اچھی طرح غور سے پڑھا ہوا ہے۔
حضرت آدمؑ کے بعد پھر نئے دَورِ روحانی کے آدم حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے جن سے آگے اسحاقی اور اسمعیلی دور چلنا تھا۔ اسحاقؑ کی نسل سے موسوی سلسلہ کی بنیاد پڑنی تھی اور اسمعیلؑ کی نسل سے محمدی سلسلہ کی بنیاد پڑنی تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں بھی پھر وہی آدمؑ والی حکایت دُہرائی گئی۔ چنانچہ شیطان نے پھر ایک نئے حملہ کی تجویز کی۔ یہودی کتب میں لکھا ہے اور اشارۃً قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد فوت ہو گئے اور اُن کے چچا جو ایک بُت خانہ کے مجاور تھے اُن کے متولّی بنے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے بچپن سے ہی توحید پر قائم کر دیا تھا جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بچپن سے ہی توحید پر قائم کر دیا تھا۔ جب انہوں نے بتوں کی مخالفت شروع کی تو چچا کے بیٹوں نے اپنے باپ کے پاس اُن کی شکایت کر دی اور لوگوں کو بھی یہ بتایا کہ یہ لڑکا بتوں کی حقارت کرتا ہے۔ چنانچہ لوگ جوق در جوق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس بحث کے لئے آنے شروع ہوئے۔ اور جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اُن کو شرمندہ کرنے کے لئے اُن کے بعض بتوں کو توڑ دیا تو انہوں نے اِس حسد کی بناء پر جس کی وجہ سے ابلیس نے آدمؑ کا مقابلہ کیا تھا پبلک میں شور مچادیا کہ ابراہیمؑ کو لاؤ اور اُس کو آگ میں جلا دو۔ جس کی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا تھے، یہ ہجرت اُن کو مہنگی نہیں پڑی بلکہ مفید پڑی۔ جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت اُن کو مہنگی نہیں پڑی بلکہ مفید پڑی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہجرت کے بعد کنعان اور حجاز کا ملک بخشا گیا۔ اور محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکالے جانے کے بعد پہلے مدینہ اور پھر ساری دنیا ملی۔ پس ان دونوں بزرگوں یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی وجہ بھی وہی رقابت کی روح تھی جو کہ آدمؑ کی مخالفت کی وجہ تھی۔ اور جو رقابت کہ خلافتِ احمدیہ کی مخالفت کی وجہ بنی۔ بظاہر اسے دینی سوال بنا دیا گیا ہے لیکن اس کا باعث درحقیقت رقابت اور بُغض تھا۔ اور یہ واقعہ اُسی طرح کا ہے جس طرح ابلیس نے حوا سے کہا تھا کہ اگر تم شجرۂ ممنوعہ کو چکھو گے تو تمہارے تقویٰ کی روح بڑی بلند ہو جائے گی اور ”تم خدا کی مانند نیک و بد کے جاننے والے بن جاؤ گے“۔۲۳ لیکن حقیقتاً اس کی غرض یہ تھی کہ آدمؑ اور حوا کو جنت سے نکالا جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت میں اِس رقابت نے دوسری دفعہ جو صورت اختیار کی وہ مندرجہ ذیل ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آخری عمر میں جب اُن کا پلوٹھا بیٹا اسماعیلؑ ہاجرہ کے بطن سے پیدا ہوا اور اس کے بعد ان کی پہلی بیوی سارہ کے بطن سے اسحاقؑ پیدا ہوا تو سارہ چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ماموں کی بیٹی تھیں اُن کو خیال تھا کہ میں خاندانی ہوں اور ہاجرہ باہر کی ہے اس لئے وہ اپنا درجہ بڑا سمجھتی تھیں۔ اتفاقاً حضرت اسماعیلؑ جو بچے تھے حضرت اسحاقؑ کی کسی
حرکت یا کسی اور وجہ سے قہقہہ مار کر ہنس پڑے۔ سارہ نے سمجھا کہ اس نے میری اور میرے بچہ کی حقارت کی ہے اور قہقہہ مارا ہے۔ شاید یہ بھی خیال کیا کہ یہ اس بات پر خوش ہے کہ یہ بڑا بیٹا ہے اور یہ وارث ہوگا اور اسحاقؑ وارث نہیں ہوگا۔ تب انہوں نے غصہ میں آ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ یہ لڑکا مجھ پر قہقہے مارتا ہے، اس کو اور اس کی ماں کو گھر سے نکال دو۔ کیونکہ میں یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ میرے بیٹے کے ساتھ یہ تیرا وارث ہو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پہلے تو اس بات کو بُرا منایا اور اس کام سے رُکے مگر خدا تعالیٰ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے ظاہر کرنا چاہتا تھا اُس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وحی کی کہ جو کچھ تیری بیوی سارہ کہتی ہے وہی کر۲۴۔ چنانچہ خدا کے حکم کے ماتحت حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت ہاجرہ اور اسماعیلؑ کو وادئ حرم میں چھوڑ گئے۔ اور سارہ اور اسحاقؑ کے سپرد کنعان کا علاقہ کر دیا گیا اور اسماعیلؑ کی نسل نے مکہ میں بڑھنا شروع کیا۔ اور وہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھرانے میں پیدا ہو گئے۔ مگر یہ رقابت یہیں ختم نہیں ہوگئی بلکہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش پر ان کی ماں سے کہا تھا، اُسی طرح ہوا کہ:۔
’’اس کا ہاتھ سب کے خلاف اور سب کے ہاتھ اُس کے خلاف ہوں گے۔‘‘۲۵
یعنی ایک زمانہ تک اسماعیلی نسل تھوڑی ہوگی اور اسحاقؑ کی نسل زیادہ ہوگی۔ اور وہ سب کے سب مل کر اسماعیلی سلسلہ کی مخالفت کریں گے اور کوشش کریں گے کہ وہ کامیاب نہ ہوں۔
قرآن کریم میں اس کا ذکر یوں آتا ہے : وَدَّ کَثِیۡرٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَوۡ یَرُدُّوۡنَکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ اِیۡمَانِکُمۡ کُفَّارًا ۚۖ حَسَدًا مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِہِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الۡحَقُّ(2:110)۲۶ الخ یعنی اہلِ کتاب میں سے بہت سے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اسماعیلی نسل یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اُسے چھوڑ کر پھر کافر ہو جائیں۔ اور یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی قصور کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے اپنے دلوں سے پیدا شدہ بُغض کی وجہ سے ہے اور رقابت کی وجہ سے ہے۔ وہ سارہ اور ہاجرہ کی لڑائی کو دو ہزار سال تک لمبا لے جانا چاہتے ہیں۔
پھر علاوہ اس آیت کے بعض اور آیتیں بھی ہیں جو اس مضمون پر دلالت کرتی ہیں۔ مثلاً سورۃ آل عمران رکوع 8 آیت 73، 74 میں فرماتا ہے وَقَالَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ(3:73) اٰمِنُوۡا بِالَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡہَ النَّہَارِ وَاکۡفُرُوۡۤا اٰخِرَہٗ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ وَلَا تُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّا لِمَنۡ تَبِعَ دِیۡنَکُمۡ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡہُدٰی ہُدَی اللّٰہِ ۙ اَنۡ یُّؤۡتٰۤی اَحَدٌ مِّثۡلَ مَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ اَوۡ یُحَآجُّوۡکُمۡ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡفَضۡلَ بِیَدِ اللّٰہِ ۚ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ(3:73-74) یعنی اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کہا کہ جو لوگ محمد رسول اللہ پر ایمان لائے ہیں یعنی مسلمان ہوئے ہیں اُن پر جو کچھ نازل ہوا ہے اے یہودیو! اُس پر صبح کے وقت ایمان لے آیا کرو اور شام کے وقت پھر مرتد ہو جایا کرو تاکہ تم کو دیکھ کر اور لوگ بھی مُرتد ہو جائیں (جیسے آج کل پیغامِ صلح شائع کر رہا ہے کہ دیکھو مَنان وہاب باہر آگئے ہیں ۔ اے ربوہ سے آزاد ہونے والو! بڑھو، بڑھو ہمارا نظام تمہارے ساتھ ہے۔ یہی یہودی کہا کرتے تھے) کہ تم حقیقی طور پر امن اُس کو دو جو تمہارے دین کا پیرو ہو۔ تُو کہہ کہ حقیقی ہدایت تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے اور وہ یہ ہے کہ کسی کو وہی کچھ دیا جائے جیسا کہ اے بنی اسرائیل! تم کو دیا گیا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ تم سے تمہارے رب کے حضور میں بحث کریں گے۔ پھر تُو اُن سے کہہ دے کہ فضلِ کامل تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اُس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کو اپنا فضلِ کامل دے دیا۔ اُس کو مل گیا۔ جب تمہارے نبیوں کو دے رہا تھا تو اُن کو مل گیا۔ وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہت وسعت والا اور بہت جاننے والا ہے۔
اِسی طرح سورۃ نساء رکوع 8 آیت 55 میں آتا ہے اَمۡ یَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰی مَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۚ فَقَدۡ اٰتَیۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ وَاٰتَیۡنٰہُمۡ مُّلۡکًا عَظِیۡمًا(4:55) یعنی کیا یہ یہودی اس بات پر حسد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو اپنے فضل سے کچھ حصہ دے دیا ہے؟ اگر ایسا ہو گیا ہے تو بگڑا کیا؟ پھر بھی تو آلِ ابراہیمؑ کو یعنی اسماعیلؑ کی اولاد ہی کو کتاب اور حکمت بخشی گئی اور ان کو بہت بڑا ملک عطا فرمایا گیا۔ یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی آلِ ابراہیمؑ میں سے ہیں اور موسوی سلسلہ بھی آلِ ابراہیمؑ میں سے ہے۔ پس موسوی سلسلہ کو جو کتاب ملی وہ بھی آلِ ابراہیمؑ کو ملی اور محمدؐ رسول اللہ کو جو کتاب اور حکمت ملی وہ بھی آلِ ابراہیمؑ کو ملی۔ اور جو ملک موسیٰؑ کی قوم کو ملا وہ بھی آلِ ابراہیمؑ کو ملا اور جو ملک محمدؐ رسول اللہ کو ملے گا وہ بھی آلِ ابراہیمؑ کو ملے گا۔
ان دونوں آیتوں سے ظاہر ہے کہ شیطان نے جو نظامِ الٰہی کے خلاف رقابت کا مادہ بنو اسحاق کے دل میں پیدا کیا تھا وہ حضرت اسماعیلؑ کی زندگی تک ختم نہیں ہوا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ تک لمبا ہوتا گیا۔ اور جس طرح پہلے اُس نے حضرت اسماعیلؑ کو اُن کی وراثت سے محروم کرنا چاہا تھا اسی طرح دو ہزار سال بعد اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی وراثت سے محروم کرنا چاہا۔ لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے اور وہ یہ ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ قریب آیا اور شیطان نے دیکھا کہ اب پُرانا حسد ختم ہو جائے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو اسماعیل کے دشمنوں کو کچل ڈالیں گے اور ان پر غالب آجائیں گے تو اُس نے ایک نئے بُغض کی بنیاد ڈالی جو محمدؐ رسول اللہ کے بعد بھی فتنہ پیدا کرتا چلا جائے۔ چنانچہ اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پردادا عبد مناف کے ایک بیٹے عبدالشمس تھے۔ عبد مناف کے ایک اور چھوٹے بیٹے ہاشم تھے۔ اور عبدالشمس کا بیٹا اُمَیّہ تھا۔ عبد مناف کے مرنے کے بعد قرعہ ڈالا گیا اور باوجود چھوٹا ہونے کے ہاشم کو وارث قرار دیا گیا۔ اور مسافروں کو چاہِ زمزم سے پانی پلانا اور حاجیوں کی خدمت کرنا جو سب سے بڑا عہدہ سمجھا جاتا تھا وہ اُسے دیا گیا۔ اسی طرح غیر حکومتوں کے پاس وفد بھجوانے کا جو کام تھا اور ان کی سرداری کرنے کا عہدہ بھی ان کے سپرد ہوا۔ عبدالشمس کے بیٹے اُمَیّہ کو یہ بات بُری لگی۔ شیطان نے اُس کے دل میں ڈالا کہ یہ عہدہ ہاشم کے پاس کیوں جائے۔ اور اُس نے قوم میں مقبولیت حاصل کرنے کے لئے ہاشم کے کاموں کی نقل شروع کر دی۔ یعنی مسافروں کو زم زم سے پانی بھی پلاتا تھا اور بہت کچھ دادودہش 27 بھی کرتا تھا تاکہ عوام میں مقبول ہو جائے۔ قریش نے جب یہ بات دیکھی تو انہوں نے سمجھا کہ یہ خاندان آپس کے مقابلہ میں تباہ ہو جائے گا۔ اور یہ دیکھتے ہوئے کہ امیہ ضدی ہے انہوں نے ہاشم سے اصرار کیا کہ کوئی ثالث مقرر کر کے فیصلہ کروالو۔ مگر اوّل تو ہاشم چونکہ امیہ سے عمر میں بڑے تھے اور ریاست کا حق ان کو مل چکا تھا انہوں نے انکار کر دیا کہ میں فیصلہ ثالثی نہیں کراتا۔ مگر آخر ساری قوم نے خاندان کو تباہی سے بچانے کے لئے امیہ اور ہاشم پر ثالثی کے لئے زور دیا۔ آخر ہاشم بھی مان گئے اور امیہ بھی مان گئے۔ اور امیہ نے خزاعہ قبیلہ کے ایک کاہن کو ثالث تجویز کیا۔ ہاشم نے بھی اُسے مان لیا۔ اس کاہن کے پاس جب فیصلہ گیا تو اُس نے ہاشم کے حق میں فیصلہ کیا۔ اور فیصلہ کے مطابق امیّہ کو مکہ سے دس سال کی جلاوطنی قبول کرنی پڑی۔ اور وہ شام چلے گئے۔ اس تاریخ سے بنو ہاشم اور بنو امیّہ میں حاسدانہ لڑائی شروع ہو گئی۲۸
محاضرات میں شیخ محمد خضریؒ بھی اس رقابت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:۔ ’’ہاشم اور اس کے بھتیجے اُمَیّہ کے درمیان مفاخرت اور مقابلہ شروع ہو گیا کیونکہ ہاشم مال کی وجہ سے اور قومی ضروریات کو پورا کرنے کی وجہ سے قوم کا سردار تھا اور امیّہ مال اور اولاد والا تھا۔ چنانچہ وہ اپنے چچا سے مفاخرت اور مقابلہ کرتا تھا اور اس وجہ سے دونوں خاندانوں اور ان کی اولادوں میں رقابت رہی یہاں تک کہ اسلام ظاہر ہو گیا۔‘‘۲۹
دائرۃ المعارف یعنی عربی انسائیکلوپیڈیا میں لکھا ہے کہ بنو امیّہ اور بنو قریش پہلے ایک ہی قبیلہ کے افراد تھے اور سب اپنے آپ کو عبد مناف کی طرف منسوب کرتے تھے۔ لیکن بنو امیّہ کا خاندان بڑا تھا اور اُن کے پاس مال زیادہ تھا اس لئے باوجود اس کے کہ بنو ہاشم کے پاس سرداری تھی وہ ان سے ہر بات میں بڑھنے کی کوشش کرتا اور مقابلہ کرتا رہتا تھا۔ اسی طرح اُن کی اولاد میں بھی رقابت چلتی گئی۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑائیوں میں بھی اس لئے کہ آپ ہاشم کی اولاد تھے عام طور پر ابوسفیان جو عبدالشمس کی اولاد میں سے تھا سردار ہو کر آیا کرتا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تو بنو امیّہ شکست کھا گئے لیکن آپ کی وفات کے بعد اس فتنہ نے سر اٹھانا شروع کیا اور شیطان نے اپنا ہتھیار اور لوگوں کو چُن لیا۔ چنانچہ جب حضرت علیؓ خلیفہ ہوئے تو معاویہ بن ابوسفیان نے جو بنو امیّہ میں سے تھے آپ کے مقابلہ کے لئے لشکر جمع کیا۔۳۰
غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے زمانہ میں بھی اور حضرت علیؓ کے زمانہ میں بھی شیطان نے وہی حربہ نظامِ حقہ کے خلاف استعمال کیا جو اوّل دن سے وہ نظامِ حقہ کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے یعنی حسد اور بُغض اور لالچ کا۔ درمیان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قُرب کی وجہ سے یہ حربہ زیادہ کامیاب نہ ہوا مگر حضرت علیؓ کے زمانہ میں یہ حربہ پھر زور پکڑ گیا اور آج تک شیعہ سُنّی کی شکل میں یہ جھگڑا چل رہا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں پھر شیطان نے ایک اَور رنگ میں اس کی بنیاد رکھی۔ آپ کی خلافت میں پہلا جھگڑا جو زیادہ شدت سے ظاہر نہیں ہوا حضرت خلیفہ اوّل کے خلیفہ بننے کے وقت ہوا۔ یہ جھگڑا بھی درحقیقت وہی ابلیس والے جھگڑے کی طرز پر تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک انجمن مقبرہ بہشتی کی بنائی تھی اور اُس میں حضرت خلیفہ اوّل کو صدر بنایا تھا اور مولوی محمد علی صاحب اس کے سیکرٹری تھے۔ دوسرے ممبروں میں سے خواجہ کمال الدین صاحب، ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب مولوی محمد علی صاحب کے ساتھ تھے۔ چھوٹے چھوٹے معاملات میں اختلاف ہوتا تو حضرت خلیفہ اوّل کی رائے ایک طرف ہوتی اور مولوی محمد علی صاحب کی پارٹی کی رائے دوسری طرف ہوتی۔ اس لئے مولوی محمد علی صاحب کی پارٹی میں حضرت خلیفہ اوّل کے خلاف بُغض پیدا ہوجاتا۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے تو اُس وقت کے حالات کی وجہ سے خواجہ کمال الدین صاحب بہت ڈر گئے اور لاہور میں جہاں وفات ہوئی تھی مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے حضرت خلیفہ اوّل کی خلافت کا اعلان کردیا اور خواجہ صاحب نے ڈر کر مان لیا۔ جب قادیان پہنچے تو خواجہ صاحب نے سوچا کہ حضرت خلیفہ اوّل ضرور خلیفہ بنیں گے اور اپنی ہوشیاری کی وجہ سے خیال کیا کہ اگر ان کی خلافت کا مسئلہ ہماری طرف سے پیش ہو تو ان پر ہمارا اثر رہے گا اور وہ ہماری بات مانتے رہیں گے۔ چنانچہ انہوں نے آپ کی خلافت کے متعلق ایک اعلان شائع کیا اور اس میں لکھا کہ الوصیۃ کے مطابق ایک خلیفہ ہونا چاہئے اور ہمارے نزدیک سب سے زیادہ مستحق اس کے حضرت مولوی نورالدین صاحب ہیں۔ اس اعلان کے الفاظ یہ ہیں:۔ ”حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جنازہ قادیان میں پڑھا جانے سے پہلے
آپ کے وصایا مندرجہ رسالہ الوصیۃ کے مطابق حسب مشورہ معتمدین صدر انجمن احمدیہ موجودہ قادیان واقرباء حضرت مسیح موعودؓ باجازت حضرت (اماں جان) کُلّ قوم نے جو قادیان میں موجود تھی اور جس کی تعداد اُس وقت بارہ سو تھی والا مناقب حضرت حاجی الحرمین شریفین جناب حکیم نورالدین صاحب سلمہٗ کو آپ کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا۔“۳۱ (میں نے بھی اسی قانون کے مطابق نیا نظام بنایا ہے۔ صرف تحریک کے وکلاء کو زائد کر دیا ہے۔ کیونکہ اب جماعت احمدیہ کے باہر پھیل جانے کی وجہ سے اس کا مرکزی نظام دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے)
اس اشتہار سے پہلے حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت کے وقت مولوی محمد علی صاحب نے اختلاف کا اظہار کیا جیسا کہ وہ خود اپنی کتاب ”حقیقتِ اختلاف“ میں لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نعشِ مبارک جب قادیان میں پہنچی تو
”باغ میں خواجہ کمال الدین صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ یہ تجویز ہوئی ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے جانشین حضرت مولوی نورالدین صاحب ہوں۔ میں نے کہا بالکل صحیح ہے اور حضرت مولوی صاحب ہی ہر طرح سے اس بات کے اہل ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ بھی تجویز ہوئی ہے کہ سب احمدی ان کے ہاتھ پر بیعت کریں۔ میں نے کہا اس کی کیا ضرورت ہے جو لوگ نئے سلسلہ میں داخل ہوں گے انہیں بیعت کی ضرورت ہے اور یہی الوصیۃ کا منشاء ہے۔ خواجہ صاحب نے کہا کہ چونکہ وقت بڑا نازک ہے ایسا نہ ہو کہ جماعت میں تفرقہ پیدا ہوجائے اور احمدیوں کے حضرت مولوی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر لینے سے کوئی حرج بھی نہیں۔ تب میں نے بھی اسے تسلیم کر لیا۔“۳۲
غرض خواجہ صاحب کے سمجھانے سے مولوی محمد علی صاحب حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت پر راضی ہو گئے اور اس طرح خلافتِ اولٰی کا قیام بغیر مخالفت کے ہو گیا۔ گو اس کے بعد اس فتنہ نے کئی اَور صورتوں میں سر اٹھایا۔ مگر خلافتِ اَولیٰ قائم ہوگئی اور ساری جماعت حضرت خلیفہ اول کے ہاتھ پر جمع ہوگئی۔ اب شیطان نے دیکھا کہ جو نئے جھگڑے کی بنیاد میں نے ڈالی تھی وہ بھی ختم ہو رہی ہے تو اُس نے ایک نئی طرح ڈالی۔ یعنی مولوی محمد علی صاحب کی پارٹی اور حضرت خلیفہ اول کے خاندان کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے بُغض پیدا کر دیا تا کہ یہ سلسلہ ابھی اَور لمبا چلتا چلا جائے اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے والا گروہ پھر دنیا کو دین پر مقدم کرنے والے گروہ کے ظلموں کا شکار ہو جائے۔
یہ بنیاد اس طرح پڑی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ دیکھ کر کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب کے ہاں پہلی بیوی کے بطن سے کوئی نرینہ اولاد نہیں ، لدھیانہ کے ایک بزرگ صوفی احمد جان صاحب کی ایک لڑکی سے جو اُن کی موجودہ زندہ اولاد کی والدہ تھیں نکاح کروایا۔ اِس واقعہ کی وجہ سے چاہئے تو یہ تھا کہ یہ دوسری بیوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان کے خاندان سے زیادہ تعلق رکھتیں جس طرح اُن کے بھائی پیر افتخار احمد صاحب مرحوم اور پیر منظور محمد صاحب مرحوم قاعدہ یسرنا القرآن کے موجد حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور اُن کے خاندان سے والہانہ عشق رکھتے تھے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ اِس بُغض کی بھی کچھ دنیوی وجوہات تھیں۔
اوّل یہ کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب کے ہاں اس بیوی سے بھی دیر تک کوئی نرینہ اولاد نہ ہوئی۔ اِس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جن کو شوق تھا کہ حضرت مولوی صاحب کے ہاں نرینہ اولاد ہو جائے 1896ء میں جبکہ حضرت مولوی نور الدین صاحب کو آپ نے نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کو قرآن پڑھانے کے لئے مالیر کوٹلہ بھجوایا تھا مولوی صاحب کے متعلق نواب صاحب مرحوم کو ایک خط لکھا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب کی مالیر کوٹلہ کی ایک سید خاندان کی لڑکی سے شادی کا انتظام کریں۔ گو یہ انتظام تو بعد میں رُک گیا مگر ایک خار دل میں بیٹھ گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی دوسری بیوی پر ایک اَور سوکن لانے کی کوشش کی ہے۔
دوسری وجہ اس بُغض کو بڑھانے کی ایک اَور پیدا ہوگئی اور وہ یہ تھی کہ میاں عبد السلام،
عبدالوہاب اور عبدالمنان کی والدہ نے اپنے خاندان کی ایک لڑکی فاخرہ نام کی پالی ہوئی تھی۔ اُدھر حضرت (اماں جان) نے اپنے وطن سے دُوری کی وجہ سے اپنی خالہ کے ایک بیٹے سید کبیر احمد کو تعلیم کے لئے قادیان بلایا ہوا تھا۔ جب حضرت خلیفہ اول مالیر کوٹلہ گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فیصلہ کیا کہ اِس بچے کو طب کی تعلیم دلوائی جائے اور اُس کو بھی اُن کے ساتھ ہی تعلیم کے سلسلہ میں مالیر کوٹلہ بھیج دیا گیا۔ کبیر احمد کا بیان تھا کہ حضرت خلیفہ اول کی دوسری بیوی نے اُس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ فاخرہ کا اس سے بیاہ کردیں گی لیکن بعض ایسے حالات کی وجہ سے جن کا حقیقی علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے سید کبیر احمد نے جو ہمارے خالہ زاد ماموں تھے زہر کھا کر خودکشی کر لی اور سارے کوٹلہ اور دہلی میں یہ مشہور ہو گیا کہ اس خودکشی کی وجہ حضرت خلیفہ اوّل کی دوسری بیوی تھیں۔ چنانچہ آج تک بھی کچھ لوگ جو نواب لوہارو کے خاندان کے یا ہمارے ننھیال کے زندہ ہیں یہی الزام لگاتے چلے آتے ہیں کہ کبیر احمد کو نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ اپنے خاندان کی بدنامی کے ڈر سے حضرت مولوی نور الدین صاحب نے زہر دے کر مروا دیا تھا۔ حالانکہ واقعہ یہ تھا کہ چونکہ وہ آپ سے طب پڑھتا تھا اور دوائیں اُس کے قبضہ میں تھیں اُس نے خود زہر نکال کر کھا لیا تھا۔ مگر غلط فہمی ان لوگوں کے دماغ میں ایسی جاگزیں ہو گئی تھی کہ میرے رشتہ کے ایک ماموں حافظ عبدالمجید صاحب سب انسپکٹر پولیس جن کو محمد امین بھی کہتے تھے 1936ء یا 1937ء میں مجھے ملنے کے لئے قادیان آئے اور باتوں باتوں میں کہنے لگے کہ ہمارے ایک بھائی کو حضرت مولوی نورالدین صاحب نے زہر دے کر مروا دیا تھا۔ میں نے غصہ سے اُن کو کہا کہ میں حضرت خلیفہ اوّل کے متعلق ایسی کوئی بات نہیں سن سکتا۔ اس پر وہ بھی غصہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ میں بھی اپنے بھائی کے واقعہ کو بھول نہیں سکتا اور چلے گئے۔ اس واقعہ کو اور اہمیت اِس طرح مل گئی کہ ہمارے ننھیال کا رشتہ نواب صاحب لوہارو سے تھا۔ یہ اتفاق کی بات ہے کہ اُس وقت نواب صاحب مالیر کوٹلہ کم سن تھے اور گورنمنٹ نے اُن کا نگران نواب صاحب لوہارو کو مقرر کر کے بھیجا ہوا تھا۔ جس وقت یہ کبیر کا واقعہ ہوا اُس وقت نواب صاحب لوہارو کوٹلہ میں تھے۔ پہلے تو کسی کو پتا نہیں تھا کہ یہ بھی اُن کے رشتہ دار ہیں۔ جس طرح نواب صاحب لوہارو مسمّٰی بہ فرخ مرزا میرے ماموں تھے۔ وہ کبیر کے بھی ماموں تھے۔ مگر
وہ چونکہ معمولی کمپونڈر اور طالب علم کی حیثیت میں گیا تھا پہلے تو پتا نہ لگا۔ اس کے مرنے پر جب اُن کو پتا لگا کہ ایک لڑکے نے خود کشی کی ہے اور وہ دلّی کا ہے تو انہوں نے کرید کی اور پتا لگا کہ یہ تو میرا بھانجا ہے۔ وہ چونکہ حاکم تھے انہوں نے فوراً کارروائی کی کہ اس کا پیٹ چاک کیا جائے اور زہر نکالا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ یہ زہر اتفاقی استعمال ہوا ہے یا جان بوجھ کر دیا گیا ہے۔ نواب محمد علی خاں صاحب جونواب مالیر کوٹلہ کے جو اُس وقت بچہ تھے ماموں تھے اور بعد میں میرے بہنوئی ہوئے۔ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بڑی بیٹی اُن سے بیاہی گئیں) اُن کو چونکہ قرآن پڑھانے کے لئے حضرت خلیفہ اول گئے تھے اور اُن کا ریاست میں رسوخ تھا انہوں نے فوراً کوشش کر کے راتوں رات کبیر کو دفن کرا دیا اور اِس طرح اس فتنہ کو دفع کیا۔ بیٹے کا مر جانا ماں کے لئے بڑے صدمہ کا موجب ہوتا ہے مگر یہ بُغض اتنا لمبا ہو گیا کہ حضرت (اماں جان) کی خالہ جو اکثر قادیان آتی رہتی تھیں اور قادیان میں بڑا لمبا عرصہ والدہ کے پاس رہتی تھیں انہوں نے ہم سے ملنا جلنا چھوڑ دیا۔ چنانچہ 1909ء یا 1911ء میں ہم ایک دفعہ دلّی گئے تو حضرت (اماں جان) بھی ساتھ تھیں۔ چونکہ انہیں اپنی خالہ سے بڑی محبت تھی وہ اپنی اماں کی بھاوج کے ہاں ٹھہریں۔ اُن کو سارے "بھابی جان" "بھابی جان" کہتے تھے۔ اب اُن کے بچے کراچی میں ہیں۔ اُن کے گھر میں ہی ہم جا کر ٹھہرتے تھے۔ اُس وقت بھی ان کے گھر میں ہی ٹھہرے۔ بلکہ اُن کا ایک لطیفہ بھی مشہور ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1891ء میں دلّی گئے تو آپ کے خلاف بڑا جلسہ ہوا اور شور پڑا۔ لوگوں نے کہا کہ اس کو قتل کر دو۔ مولویوں نے وعظ کیا کہ جو اس کو قتل کر دے گا وہ جنتی ہو گا۔ ہماری وہ بھابی بڑی مخالف تھیں مگر آخر رشتہ دار تھیں۔ ایک دن اُن کی نوکر آئی اور آ کر کہنے لگی۔ بی بی! دعا کرو میرا بچہ بچ جائے، وہ صبح چُھری تیز کر رہا تھا۔ کوئی قادیان سے آیا ہے جو رسول اللہﷺ کی ہتک کرتا ہے اُس کو مارنے گیا ہے۔ وہ کہنے لگیں کمبخت! چُپ کر۔ وہ تو میری بھانجی کا خاوند ہے۔ مگر بہرحال اُن کے گھر میں خالہ بھی ٹھہری ہوئی تھیں۔ اماں جان نے پرانی محبت کی وجہ سے اُن سے خواہش کی کہ مجھے ملا دو۔ بھابی جان نے انکار کر دیا کہ وہ تو کہتی ہیں میں اُس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔ پھر ہماری ایک اور بہن تھی اُن کی بیٹی بعد میں حکیم اجمل خان صاحب مرحوم کے بھائی
سے بیاہی گئی تھیں۔ حضرت (اماں جان) نے اُن سے کہا وہ چھوٹی بچی تھیں اُن کو تو ان باتوں کا پتا نہیں تھا۔ انہوں نے پردہ اُٹھا کے کہا کہ وہ مصلّٰی پر بیٹھی دعا کر رہی ہیں دیکھ لو۔ امّاں جان نے جا کر جھانکا تو اُسی وقت انہوں نے کھڑکی کھولی اور ہمسایہ میں چلی گئیں اور وہاں سے ڈولی منگا کر کسی اَور رشتہ دار کے پاس چلی گئیں۔ غرض اتنا اُن کے اندر بُغض تھا کہ انہوں نے ہم سے ملنا بالکل چھوڑ دیا۔ اُن کے رشتہ دار اب بھی کراچی میں ہیں۔ لاہور میں بھی لوہار و خاندان کے افراد ہیں۔ نوابزادہ اعتزاز الدین جو پاکستان میں انسپکٹر جنرل پولیس تھے وہ بھی نواب لوہارو کے بیٹے تھے۔ اَور بیٹے بھی ہیں۔ بعض اُن کی اولاد میں سے فوج میں کرنل ہیں۔ اُن کے ایک بھائی صمصام مرزا لاہور میں ہیں۔ ان لوگوں سے جب بھی بات کرو وہ ہم پر ہنستے ہیں کہ تم بیوقوف ہو۔ مولوی صاحب نے اُسے مروا دیا تھا۔ تم بیوقوفی میں یونہی اپنے مذہبی عقیدہ کے ماتحت سمجھتے ہو کہ نہیں مروایا تھا آپ مر گیا تھا۔ اُس نے خود کشی کوئی نہیں کی اُس کو مروا دیا گیا تھا۔ غرض یہ واقعہ حضرت خلیفہ اوّل کے خاندان کے دلوں میں بُغض کو بڑھانے کا ایک دوسرا سبب بن گیا۔
اس کے بعد حضرت خلیفہ اوّل کی وفات پر خلافتِ ثانیہ کے انتخاب کا وقت آیا تو مولوی محمد علی صاحب کے اختلاف کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ اقتدار اُن کے ہاتھ سے نکل جاتا تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ اُن کی پہلی بیوی مرحومہ جو نہایت ہی نیک عورت تھیں (میرا یہ مطلب نہیں کہ ان کی موجودہ بیوی نیک نہیں ہے مگر وہ پہلی بیوی میری بہن بنی ہوئی تھیں اور اُن کو میں ذاتی طور پر جانتا تھا۔ اس لئے میں نے اُن کے متعلق اپنی رائے بیان کر دی ہے۔ وہ مجھ سے بہت ہی محبت کرتی تھیں۔ فاطمہ بیگم اُن کا نام تھا۔ مولوی محمد علی صاحب کی جب شادی ہوئی میں بہت چھوٹا سا تھا۔ دس سال کا ہوں گا کہ وہ آتے ہی میری بہن بن گئیں۔ ہمیشہ میرا سر دیکھنا، جوئیں نکالنی، بہت ہی محبت کرتی تھیں اور کہتیں یہ میرا بھائی ہے۔ اور میں اُنہیں بہن کہا کرتا تھا) وہ نومبر 1908ء میں فوت ہوئیں۔ مجھے اُس وقت کسی کام کے لئے حضرت خلیفہ اوّل نے باہر بھیجا ہوا تھا۔ میں جب واپس آیا تو مجھے مرحومہ کی وفات کا علم ہوا۔ میں نے اُسی وقت ایک ہمدردی سے پُر خط مولوی محمد علی صاحب کو
لکھا۔ مولوی محمد علی صاحب نے اس کے جواب میں مجھے لکھا کہ آپ کے خط کا تو میں ممنون ہوں مگر مجھے افسوس ہے کہ حضرت (اماں جان) میری بیوی کی لاش دیکھنے نہیں آئیں (حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لاش دیکھنے کے لئے عورتوں کو باہر جانے سے منع کیا ہوا ہے) یہ صدمہ ایسا ہے کہ میں زندگی بھر اسے نہیں بھول سکتا۔ یہ گویا دوسری بنیاد مولوی محمد علی صاحب کے دل میں شیطان نے رکھ دی کہ اب زندگی بھر مخالفت کرتے رہو۔ بلکہ اس واقعہ کا اجمالی ذکر مولوی محمد علی صاحب نے خود ریویو آف ریلیجنز میں بھی کیا ہے۔ اور یہ الفاظ لکھے ہیں کہ: ’’اگر کسی نے میرا محسن ہونے کے باوجود بجائے اظہارِ غم و ہمدردی کے کسی گزشتہ رنج کا اظہار اس وفات کے وقت کیا تو یہ شاید میرے لئے سبق تھا کہ دنیا کے کسی گھر کو اپنا گھر سمجھنا غلطی ہے۔‘‘۳۳ گویا خود اُن کی اپنی تحریر بھی اس بارہ میں موجود ہے۔ غرض مولوی محمد علی صاحب نے اس صدمہ کے نتیجہ میں بُغض کو انتہا تک پہنچا دیا۔ اور جیسے انہوں نے کہا تھا کہ میں مرنے تک یہ صدمہ نہیں بھول سکتا مرنے تک اس واقعہ کو یاد رکھا اور خاندانِ مسیح موعودؑ کا بُغض اپنے دل سے نہیں نکالا۔ چنانچہ حضرت خلیفہ اوّل کی وفات پر خلافتِ ثانیہ کے انتخاب پر بھی اُنہوں نے بغاوت کی اور اس طرح بُغض و حسد کے لمبا کرنے کا سلسلہ انہوں نے جاری کر دیا۔ تاکہ آدمؑ کے زمانہ کا بُغض جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ تک آیا تھا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ کا بُغض جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک آیا تھا اور آپؐ کے دادا ہاشم بن عبد مناف کے زمانہ کا بُغض جو پہلے ابو سفیان اُموی کے زمانہ تک آیا تھا اور پھر یزید بن معاویہ اور امام حسینؓ کے زمانہ تک آیا تھا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ تک بھی ممتد ہو جائے۔ غضب یہ ہوا کہ اکبر شاہ خان نجیب آبادی مشہور مؤرخ جو پہلے مبائعین میں تھے اور پھر بھاگ کر لاہور آگئے تھے، انہوں نے مضمون لکھا کہ آرائیں قوم جس میں سے مولوی محمد علی صاحب تھے بنو امیہ میں سے ہے۳۴۔ گویا انہوں نے کہا کہ وہ بنو امیہ کا بغض پھر بنو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جاری ہونا چاہیے۔ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت سلمانؓ فارسی کے خاندان کے متعلق فرمایا ہے کہ ’’سَلْمَانُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْتِ‘‘(35) کہ سلمان فارسیؓ جن کے خاندان سے بلحاظ فارسی الاصل ہونے کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا خاندان ملتا ہے ہمارے خاندان میں سے ہیں۔ گویا مسیح موعودؑ نہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند تھے بلکہ اس حدیث کے ماتحت ایک رنگ میں آپ کے جسمانی فرزند بھی تھے۔ تو پیغامِ صلح میں اکبر شاہ خان نجیب آبادی نے مضمون شائع کیا کہ مولوی محمد علی صاحب بنو امیہ میں سے ہیں۔ گویا بنو امیہ اور حضرت علیؓ کا جو بغض تھا وہ اور لمبا ہو جائے گا ختم نہیں ہوگا۔ غرض انہوں نے ثابت کر دیا کہ بنو عبد مناف یعنی اولادِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بنو امیہ کی لڑائی کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ اور وہ احمدیوں میں بھی جاری رہے گا۔
غیر مبائعین نے اس لڑائی کو نئی روح بخشنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ حضرت خلیفہ اوّل کی بیوی اور اُن کے بچوں کو یہ کہنا شروع کیا کہ اگر حضرت خلیفہ اوّل کا بیٹا عبدالحی مرحوم خلیفہ ہو جاتا تو ہم بیعت کر لیتے۔ چنانچہ ہم اِس کے ثبوت میں مولوی عبدالوہاب صاحب کا ہی ایک مضمون پیش کرتے ہیں۔ اب وہ جتنا چاہیں جھوٹ بول لیں مگر یہ اُن کا مضمون چھپا ہوا ہے۔ انہوں نے 1937ء میں غیر مبائعین کے بعض اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے الفضل میں لکھا کہ: ’’مولوی عبدالباقی صاحب بہاری ایم۔اے نے بتایا کہ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کی وفات کے بعد خلافتِ ثانیہ کے زمانہ میں خلافت کے چند دشمن حضرت مولوی عبدالحی صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ اگر آپ خلیفہ بن جاتے تو ہم آپ کی اطاعت کرتے۔ مولوی عبدالحی صاحب نے باوجود بچپن کے اُن کو جو جواب دیا وہ اس قابل ہے کہ سلسلہ کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے۔ انہوں نے فرمایا کہ یا تو آپ کو آپ کے نفس دھوکا دے رہے ہیں یا آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اگر میں خلیفہ بنتا تب بھی آپ میری اطاعت نہ کرتے۔ اطاعت کرنا آسان کام نہیں۔ میں اَب بھی تمہیں حکم دوں تو تم ہرگز نہ مانو۔ اس پر اُن میں سے ایک نے کہا کہ آپ ہمیں حکم دیں پھر دیکھیں کہ ہم آپ کی فرمانبرداری کرتے ہیں یا نہیں؟ مولوی عبدالحی صاحب نے کہا اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ جاؤ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی بیعت کرلو۔ یہ بات سن کر وہ لوگ بغلیں جھانکنے لگے اور کہنے لگے یہ تو نہیں ہو سکتا۔“36
اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے عبدالحی مرحوم کو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی سے پیدا ہوا تھا اس فتنہ سے بچا لیا لیکن اُن کی والدہ اور ان کے چھوٹے بھائیوں کے دل میں یہ خار کھٹکتا رہا۔ چنانچہ جب میں نے امتۃ الحی مرحومہ سے اس لئے شادی کی کہ حضرت خلیفہ اول کی روح خوش ہو جائے کیونکہ ایک دفعہ انہوں نے بڑے صدمہ سے ذکر کیا تھا کہ میری بڑی خواہش تھی کہ میرا جسمانی رشتہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہو جائے مگر وہ پوری نہیں ہوئی۔ جس پر میں نے آپ کی وفات کے بعد اور خلیفہ بننے کے بعد امتۃ الحی مرحومہ سے شادی کی۔ تو پیغامیوں نے والدہ عبدالوہاب اور والدہ عبدالمنان کو یہ کہنا شروع کیا کہ یہ رشتہ مرزا محمود احمد نے اپنی خلافت کو مضبوط کرنے کے لئے کیا تھا۔ حالانکہ اگر میں پہلے کرتا تب تو یہ اعتراض ہوتا کہ خلافت لینے کے لئے کیا ہے۔ لیکن اوّل تو یہ سوال ہے کہ خلافت حضرت مولوی نور الدین صاحب کی تو نہیں تھی خلافت حضرت مسیح موعودؑ کی تھی۔ اگر باپ سے بیٹے کو حق پہنچتا ہے تو میں مسیح موعودؑ کا بیٹا تھا۔ پھر تو مولوی صاحب بھی خلیفہ نہیں رہتے۔ پھر تو خلیفہ مجھے ہونا چاہیے تھا۔ دوسرے خلیفہ میں پہلے ہو چکا تھا رشتہ بعد میں ہوا۔ بہر حال عبدالحی مرحوم تو اس فتنہ میں نہ آیا جیسا کہ اُس کی وفات کے موقع کے حالات سے ظاہر ہے جو میں نے ایک خط میں چودھری فتح محمد صاحب کو لکھے تھے جو اُس وقت انگلینڈ میں مبلغ تھے اور جو خط انہوں نے مولوی عبدالرحیم صاحب درد کو محفوظ رکھنے کے لئے دے دیا تھا اور اُن کے مرنے کے بعد اُن کے بیٹے لطف الرحمن نے مجھے اُن کے کاغذات میں سے نکال کر بھیج دیا وہ خط یہ ہے:
’’برادرم مکرم چودھری صاحب! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ
پہلے خط کے بعد پھر قریباً تین ہفتہ سے خط نہ لکھ سکا جس کا باعث ترجمہ قرآن کا کام ہے۔ مولوی شیر علی صاحب کو کہا ہوا ہے کہ ہر ہفتہ خط جانا چاہیے نہ معلوم جاتا ہے یا نہیں۔
پچھلے ہفتہ ایک سخت حادثہ ہو گیا اور وہ بھی خط لکھنے میں روک رہا۔ عزیز میاں عبدالحی کو دو ہفتہ بخار رہا اور گو سخت تھا لیکن حالت مایوسی کی نہ تھی مگر پچھلی جمعرات کو یکلخت حالت بگڑ گئی اور ایک رات اور کچھ حصہ دن کا بیہوش رہ کر عصر کے قریب اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(2:157) (اُس وقت ایک ڈاکٹر ہیرالال صاحب کو میں نے لاہور سے بلایا تھا۔ اُس کا خیال تھا کہ ان کو ٹائیفائیڈ تھا مگر بیماری کی وقت پر تشخیص نہیں کی گئی اور اب مرض آخری مرحلہ پر پہنچ چکا ہے۔)
قریباً اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچ چکے تھے اور اب کے ففتھ ہائی کا امتحان دینا تھا۔ سال ڈیڑھ سال سے شبانہ روز جسم و علم میں ترقی تھی اور اب خاصا جوان آدمی معلوم ہوتے تھے۔ ذہن نہایت تیز اور رَسا تھا مگر منشاء الٰہی کے مقابلہ میں انسان کا کچھ بس نہیں چل سکتا اور اُس کے ہر ایک فعل میں حکمت ہوتی ہے۔ اور جیسا کہ مجھے ان کی وفات کے بعد معلوم ہوا یہ واقعہ بھی اللہ تعالیٰ کی ہی حکمتوں کے ماتحت تھا ورنہ کئی فتنوں کا اندیشہ تھا۔ مرحوم بوجہ کم سن ہونے کے بہت سے فتنہ پردازوں کے دھوکے میں آ جاتا تھا۔ میں آخری دنوں میں اپنے گھر میں ہی انہیں لے آیا تھا (اُن کی بہن امتہ الحی مرحومہ کی خواہش سے) اور حیران تھا کہ وہ ہر وقت والدہ صاحبہ اور میرے پاس بیٹھے رہنے پر مُصر تھا (یہ نظارہ اب تک میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ وہ امتہ الحی مرحومہ کے دالان میں ہی رہتے تھے۔ میں آخر کام کرنے والا آدمی تھا۔ ہر وقت قرآن کریم کی تفسیر کا کام اور دوسرا کام ہوتا تھا۔ جب میں نیچے جاتا تو آدمی آتا کہ عبدالحی بلاتا ہے اور کہتا آپ بیٹھیں، حضرت (اماں جان) بیٹھیں۔ میری اماں کو یہاں سے اُٹھا دیں میری جان نہیں نکلے گی۔ میری جان تکلیف سے نکلے گی۔ میری ماں کو یہاں سے ہٹا دیں۔ غرض وہ ہر وقت والدہ صاحبہ اور میرے پاس بیٹھے رہنے پر مُصر تھا) اور بار بار کہتا تھا کہ آپ میرے پاس بیٹھے رہیں۔ مجھے اس سے تسلّی ہوتی ہے۔ اور اس کے برخلاف اگر اپنی والدہ پاس آتیں تو اُن کو ہٹا دیتا تھا اور اصرار کرتا تھا کہ میرے پاس سے ہٹ جاؤ۔ معلوم ہوتا ہے کہ وفات سے پہلے اُس کے دل کے دروازے اللہ تعالیٰ نے کھول دیئے تھے اور ایک پاک دل کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملا۔ مجھے اُس سے ایسی محبت تھی جیسے ایک سگے بھائی سے ہونی چاہیے۔ اور اس کا باعث نہ صرف حضرت مولوی صاحب کا اس سے محبت رکھنا تھا بلکہ یہ بھی وجہ تھی کہ اُسے خود بھی مجھ سے محبت تھی۔ بوجہ نا تجربہ کاری کے بعض متفنی لوگوں کے فریب میں آجانا بالکل اور بات ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولوی صاحب کے باقی بچوں کو نیک اور پاک عمر عطا فرمائے اور جس طرح آپ کا وجود نافع الناس تھا آپ کی اولاد بھی دعائم الملۃ ۳۷ ہو۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ۔ (لیکن میری اس دعا کو انہوں نے ضائع کر دیا ہے اور خود اپنے لئے تباہی کا بیج بویا ہے) خاکسار مرزا محمود احمدؓ
غرض عبدالحئی مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ میں مبتلا ہونے سے بچا لیا مگر حضرت خلیفہ اول کے باقی لڑکوں کے دلوں میں یہ خیال کھٹکتا چلا گیا کہ خلافت ہمارا حق تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک بیٹے نے اس کو چھین لیا ہے اور یہ حق پھر ہم کو واپس لینا چاہیے۔ چنانچہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی جو تقریباً اتنے ہی پُرانے احمدی ہیں جتنے پُرانے حضرت خلیفہ اول تھے۔ غالباً اُن کے دو تین سال بعد آئے۔ اور پھر انہوں نے سلسلہ کی خدمت میں بڑا روپیہ خرچ کیا ہے۔ ان کی شہادت ہے کہ:
”1914ء میں حضرت خلیفہ اوّل کی وفات کے بعد پیغامیو ں نے قادیان میں ریشہ دوانیوں کا مرکز حضرت خلیفہ اوّل کے گھر کو بنایا۔مختلف اوقات میں لاہور سے جاسوس آتے رہے اور اکابر بھی۔اور سازش یہ کی گئی کہ اس خاندان میں ایک برائے نام خلیفے کا انتظام کیا جائے۔جسے کچھ عرصہ بعد تر کی خلافت کی طرح معزول کر دیا جائے۔کیونکہ ان کا تجربہ بتاتا تھا کہ اس خاندان کے افراد اس قسم کے سنہری خواب دیکھ رہے ہیں۔“
خود مجھے بھی یاد ہے کہ ایک دفعہ اپنے بچوں کو لے کر حضرت خلیفہ اول کی بیوی جو میری ساس تھیں میرے پاس آئیں اور بیٹھ کے کہنے لگیں کہ ہماری یہاں کوئی قدر نہیں۔پیغامی میرے پاس آتے ہیں، بڑے روپے دیتے ہیں، تحفے لاتے ہیں اور کہتے ہیں لاہور آ جاؤ ہم بڑی قدر کریں گے۔ میں نے کہا بڑی خوشی سے جائیے آپ کو یہ خیال ہو گا کہ شاید آپ کی وجہ سے مجھے خلافت ملی ہے۔مجھے پروا نہیں۔ آپ چلے جائیے اور اپنی بھڑاس نکالیے۔پھر جا کر آپ کو تھوڑے دنوں میں ہی پتا لگ جائے گا کہ جو کچھ سلسلہ آپ کی مدد کرتا ہے وہ اس کا دسواں حصہ بھی مدد نہیں کریں گے۔چنانچہ وہ پھر نہ گئیں گو درمیان میں جماعت کی وفاداری کی وجہ سے اُن کا یہ خیال دبتا رہا مگر پھر بھی یہ چنگاری سُلگتی رہی۔ چنانچہ 1918ء، 1919ء میں دارحضرت خلیفہ اوّل میں مجھے زہر دینے کا منصوبہ کیا گیا۔اس کے متعلق برکت علی صاحب لائق لدھیانوی جو خود اُن کے ہم وطن ہیں اور جن کے شاگرد اس وقت پاکستان میں بڑے بڑے عُہدوں پر ہیں اور اب بھی مجھے خط لکھتے رہتے ہیں کہ ہمارے اُستاد بڑے نیک تھے اُن کا پتا بتائیں۔اُن کی شہادت ہے کہ 1918ءمیں
”لاہور کے بعض معاندین نے حضرت اقدس کو زہر دینے کی سازش کی اِس طریق پر کہ اماں جی مرحومہ کے گھر میں حضور کی دعوت کی جائے اور دعوت کا اہتمام لاہوری معاندین کے ہاتھ میں ہو مگر ایک بچے نے جو اُن کی سرگوشیاں سن رہا تھا ساری سکیم فاش کر دی۔“
1918ء، 1919ء میں جیسا کہ میاں فضل محمد خان صاحب شملوی کی گواہی سے ظاہر ہے میاں عبدالسلام صاحب، مولوی محمد علی صاحب سے شملہ میں ملے اور اُن سے نذرانہ وصول کیا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’1915ء کے قریب یا دو تین سال بعد میاں عبدالسلام صاحب عمر جبکہ وہ صرف ساتویں جماعت میں پڑھتے تھے حضرت مولوی غلام نبی صاحب کے ساتھ جبکہ وہ گرمی کی چھٹیوں میں تفریح کے لئے ٹوٹی کنڈی میں آ کر ٹھہرے۔ اس دوران میں مولوی عبدالسلام صاحب غیر مبائعین سے بھی بلا تکلّف مل لیتے تھے۔ مجھے یہ بہت بُرا معلوم ہوتا تھا۔ میرے دل میں صاحبزادہ ہونے کے سبب سے جو احترام تھا کم ہو گیا۔ پھر اسی عید کے موقع پر مجھے یاد نہیں کہ بڑی تھی یا چھوٹی میاں عبدالسلام صاحب مولوی محمد علی صاحب سے عید کا نذرانہ لے آئے اور ان کی گود میں بیٹھ آئے۔ جب اس روئیداد کا علم ہوا تو خان صاحب برکت علی صاحب نے جو اُس وقت جماعت کے سیکرٹری تھے اُن کو تنبیہہ کی کہ وہ مخالفین کے پاس کیوں گئے ایسا نہ چاہیے تھا۔ تو مولوی عبدالسلام صاحب بجائے نصیحت حاصل کرنے کے بہت بگڑے اور کہا کہ آپ کو ہمارے کسی قسم کے تعلقات پر گرفت کرنے کا حق نہیں۔ (یعنی ہم چاہے احراریوں سے ملیں چاہے پیغامیوں سے ملیں تم کون ہوتے ہو جو ہمیں روکو) مولوی عمر الدین صاحب بڑی تجسّس کے انسان تھے۔ مولوی صاحب مولوی عبدالسلام صاحب کی بہت دلجوئی کرتے۔ اسی دوران میں مولوی عبدالسلام صاحب عمر نے مولوی عمر الدین سے کسی گفتگو کے دوران میں یہ کہا کہ میں نے خلیفۃ المسیح الثانی کے (نَعُوْذُ بِاللّٰهِ) قابلِ اعتراض دستی خطوط اُڑائے ہوئے ہیں جو میرے پاس محفوظ ہیں۔ (اب اگر اس خاندان میں تخم دیانت باقی ہے تو وہ میرے خط شائع کرے ورنہ میں کہتا ہوں کہ اگر اس خاندان کے افراد نے یہ بات کہی ہے تو لَعْنَتُ اللہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ) مولوی عمرالدین نے یہ بات ٹوٹی کنڈی کے دوستوں کو بتائی۔ میں اس بناء پر سخت رنجیدہ اور متنفر ہوا۔ عمر بھر اگرچہ مولوی عبدالسلام صاحب بڑے تپاک سے ملتے تھے اور معانقہ سے ملتے تھے مگر میرے دل میں بڑی قبض محسوس ہوتی تھی۔ بعد میں یہ بھی افواہاً سنتا رہا کہ لاہوری جماعت حضرت خلیفہ اوّل کے گھر والوں کو اپنے ساتھ ملانے کی جدوجہد کرتی رہتی ہے اور لاہوری لوگ مالی مدد سے تالیف کرتے رہتے ہیں۔ میری ساری ہی عمر ان سے متنفر گزری ہے۔“۳۸
1926ء میں میاں عبدالوہاب کی طرف سے مجھ پر عبدالحی مرحوم کو زہر دینے اور عیش پرستی کرنے کا الزام لگایا گیا۔ اس بارہ میں ملک عزیز احمد صاحب رضاعی رشتہ دار حضرت خلیفہ اوّل و اتالیق میاں عبدالوہاب صاحب (جن کو ان کی ماں نے اتالیق مقرر کیا تھا) کی گواہی ہے کہ:
”1926ء میں میاں عبدالوہاب نے حضور پر مندرجہ ذیل الزام لگائے:۔ 1۔ میاں عبدالحی کو زہر دے دی۔ 2۔ آپا امتہ الحی صاحبہ کی شادی سیاسی نوعیت سے کی گئی (یعنی خلیفہ بننے کے لئے۔ گویا خلیفہ پہلے بن گئے شادی بعد میں ہوئی ۔) 3۔ آپ معاذ اللہ عیش پرست ہیں۔ اور کہا آپ قادیان سے باہر رہتے ہیں آپ کو حالات کا کیا پتا ہو۔“
اس کے علاوہ میری اپنی شہادت ہے کہ 1926ء، 1927ء میں مباہلہ والے جب گند اُچھال رہے تھے تو علی محمد اجمیر ی اور عبدالوہاب مل کر وہاں گئے اور اُن کو ایک خط لکھ کر بھجوایا کہ آپ خلیفہ ثانی کے متعلق جو چاہیں لکھیں ہمارے خلاف کچھ نہ لکھیں۔ انہوں نے خط لکھ کر ایک لڑکے کو دے دیا کہ آپ تسلّی رکھیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اُس لڑکے نے جو مدرسہ احمدیہ میں پڑھتا تھا وہ خط مع جواب لا کر مجھے دے دیا۔ مولوی علی محمد اجمیر ی نے مجھے لکھا ہے کہ وہ تو بے شک گئے تھے مگر میاں عبدالوہاب اُس میں شامل نہ تھے۔ مگر میرا حافظہ اس کی تردید کرتا ہے۔ مدرسہ احمدیہ کے لڑکوں نے جو اُس وقت ہوشیاری سے مباہلہ والوں کے مکان کی نگرانی کرتے تھے مجھے بتایا کہ انہوں نے ان دونوں کو ان کے مکان کے سامنے کھڑا دیکھا تھا اور انہوں نے ایک خط زاہد کی طرف ایک لڑکے کے ہاتھ بھجوایا (زاہد مولوی عبدالکریم مباہلہ والے کا چھوٹا بھائی تھا) اور اس لڑکے نے مجھے لا کر دے دیا۔
اسی طرح اس کی تردید مرزا عبدالحق صاحب امیر جماعت سابق صوبہ پنجاب کے ایک لڑکے مرزا محمد طاہر کے خط سے بھی ہوتی ہے جو زاہد کے بھانجے ہیں۔ اور جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ:
’’میاں عبدالوہاب اور زاہد کے آپس میں "فتنہ مستریان" سے پہلے بڑے گہرے تعلقات تھے (میں بھی اِس کا ذاتی گواہ ہوں۔ زاہد چونکہ چھوٹا ہوتا تھا ہمارے گھر میں آیا کرتا تھا۔ میری بیویاں اس سے پردہ نہیں کرتی تھیں۔ اس کی بہن بھی ہمارے گھر میں رہتی تھی اس لئے مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ زاہد سے میاں عبدالوہاب کے بڑے گہرے تعلقات تھے اور میاں عبدالوہاب اس سے اکثر ملتا رہتا تھا)
پھر مرزا محمد طاہر لکھتے ہیں کہ:
’’زاہد سے میاں عبدالوہاب نے حضور کے خلاف باتیں کی تھیں جس پر زاہد بھی حضور کے خلاف ہو گیا۔ زاہد کو اب شکایت یہ تھی کہ جس آدمی نے پہلے حضور کے خلاف باتیں کی تھیں اور فتنہ کی اصل جڑ ھ تھی وہ تو حضرت خلیفہ اول کا لڑکا ہونے کی وجہ سے بچ گیا اور وہ پھنس گیا۔‘‘
اسی طرح ڈاکٹر محمد منیر صاحب سابق امیر جماعت احمدیہ امرتسر کی شہادت سے بھی ظاہر ہے کہ 1927ء، 1928ء میں میاں عبدالمنان اور مولوی علی محمد اجمیری ان سازشوں میں شریک تھے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:۔
"غالباً 1927ء یا 1928ء میں جب مباہلہ والوں کا فتنہ زور پر تھا ایک دن اس سلسلہ میں مباہلہ والوں نے ایک اشتہار حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی ہجو میں بڑی موٹی موٹی سُرخیوں کے ساتھ شائع کیا جس میں حضور کے اخلاق پر ذاتی حملے کئے ہوئے تھے۔ اُس دن مولوی علی محمد صاحب اجمیری اور میاں عبدالمنان صاحب عمر اور میں (راقم) اکٹھے جارہے تھے کہ بازار میں اس قسم کا ایک اشتہار ہمیں بھی ملا۔ میں تو اُسے پڑھ کر دم بخود ہو کر رہ گیا۔ میرے ہاتھ سے یہ اشتہار مولوی علی محمد صاحب اجمیری نے لے لیا اور میاں عبدالمنان صاحب اور مولوی علی محمد صاحب اجمیری نے اس کو اکٹھا دیکھنا شروع کیا لیکن جُوں جُوں وہ اشتہار کو پڑھتے جاتے تھے وہ ساتھ ساتھ عبارت پڑھتے اور ہنستے جاتے تھے۔ مجھے اُن کا یہ فعل طبعاً بُرا معلوم ہوا کیونکہ اپنے کسی بھی عزیز اور قابلِ عزت اور احترام بزرگ کے متعلق ایسے گندے الفاظ پڑھ کر کوئی بھی شریف آدمی ہنسنے کی بجائے نفرت اور غصہ کے جذبات کا اظہار کرتا مجھ سے اُن کی یہ حرکت گوارا نہ ہوئی اور میں نے اُن سے یہ اشتہار چھین لیا اور کہا کہ یہ ہنسی کا کونسا موقع ہے۔ اشتہار پڑھ کر ہمارے دل رنجیدہ ہیں اور آپ کو ہنسی آتی ہے۔ جس پر وہ خاموش ہوگئے۔ ممکن ہے اُن کی ہنسی اس اشتہار کے لکھنے والے کے متعلق حقارت کی ہنسی ہو لیکن جو اثر اُس وقت مجھ پر ہوا وہ یہی تھا کہ میں نے اُنکی ہنسی کو اس قدر بُرا منایا کہ اُس کا اثر اب تک میری طبیعت پر رہا اور محو نہیں ہوا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ اب جبکہ موجودہ فتنہ منافقین کا اُٹھا ہے تو میرے اُس تاثّر کی تصدیق ہوگئی ہے کہ اُس وقت کی مولوی علی محمد صاحب اجمیری اور میاں عبدالمنان صاحب کی ہنسی ایک نفرت، بدگمانی اور حقارت کا بیج تھا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی ذات کے متعلق جو آج ایک مکروہ اور بد نما درخت کی شکل بن کر جماعت کے سامنے ظاہر ہو گیا ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(2:157)
خاکسار ڈاکٹر محمد منیر امرتسریؒ
غرض جو بات مجھے یاد تھی اُس کی تصدیق ڈاکٹر محمد منیر صاحب کی شہادت سے بھی ہوگئی اور مرزا محمد طاہر صاحب ابن مرزا عبدالحق صاحب کی شہادت سے بھی ہوگئی جو کہ زاہد کا بھانجا ہے۔
۱۹۲۹ء میں مولوی محمد اسماعیل غزنوی نبیرہ ۳۹؎ حضرت خلیفہ اوّل اور بھانجا میاں عبدالوہاب و عبدالمنان نے (جس کی خط و کتابت عبدالمنان کے کاغذوں میں جنہیں وہ اورینٹل کمپنی میں جس کا وہ پریذیڈنٹ بنایا گیا تھا چھوڑ کر چلا گیا تھا مل گئی ہے) میاں عبدالسلام و عبدالوہاب سے مل کر ایک میٹنگ کی اور اس میں بقول ایک معتبر شاہد کے خلافتِ ثانیہ کے خلاف جھوٹے الزام لگانے کی سکیم بنائی۔ مجھے وقت پر یہ خبر مل گئی اور میں نے شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور درد صاحب مرحوم کو مقرر کیا کہ وہ مخبر کے ساتھ مل کر خفیہ طور پر ان کی سکیم سنیں۔ چنانچہ عرفانی صاحب کی شہادت ہے کہ ان لوگوں نے آپس میں باتیں کیں کہ جتنے مالی الزام خلیفہ ثانی پر لگائے گئے ہیں ان میں سے کوئی بھی کارگر ثابت نہیں ہوا اور نہ ان کا کوئی ثبوت ملتا ہے اس لئے اب ان پر اخلاقی الزام لگانے چاہئیں۔
مخبر کا بیان ہے کہ اخلاقی الزام کی تشریح بھی انہوں نے کی تھی کہ مولوی عبدالسلام صاحب کی ایک بیوی جو حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی لڑکی تھیں اور اپنے والد کی طرف سے کئی دفعہ دعا کے خط لے کر میرے پاس آیا کرتی تھیں اُن کو بھیجا جائے جب اُن کے لئے خلیفہ ثانی دروازہ کھول دیں تو باقی پارٹی کمرہ میں گھس جائے۔ اور شور مچادے کہ ہم نے ان کو ایک غیر محرم عورت کے ساتھ دیکھا ہے اور تمام لوگوں کو کمرہ میں اکٹھا کرلیں۔
ہم اس مخبر کی روایت کی قطعی تصدیق نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ایک راوی ہے ہاں صرف شیخ یعقوب علی صاحب کی گواہی کی تصدیق کر سکتے ہیں کیونکہ اس کے ایک وہ بھی راوی ہیں اور دوسرا راوی مخبر بھی ہے۔ اس پارٹی کے ممبر جن کی سازش شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے سنی شیخ صاحب کے بیان کے مطابق میاں عبدالسلام صاحب، میاں عبدالوہاب صاحب اور مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی تھے۔
1930ء میں میر محمد اسحاق صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ میاں منان کہتے ہیں کہ ہمارے خاندان کو گرانے کی کوشش کی جاتی ہے اور ہماری جائیداد کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔
ابھی وہ ہزاروں آدمی زندہ ہے جو قادیان میں جانے والا ہے انہوں نے حضرت خلیفہ اوّل کا کچا مکان دیکھا ہوا ہے اس کے مقابلہ میں حضرت صاحب نے ہم کو ورثہ میں پانچ گاؤں اور قادیان کا شہر دیا تھا۔ گویا حضرت خلیفہ اوّل کی جائیداد ہماری جائیداد کا بیس ہزارواں حصہ بھی نہ تھی۔ اب کیا وہ بیس ہزارواں حصہ جائیداد بھی ہم نے کھانی تھی؟
1930ء میں چودھری ابوالہاشم صاحب نے مجھے اپنی مرحومہ بیٹی کا جو مولوی عبدالسلام صاحب کی بیوی تھیں ایک خط بھجوایا جو بنگالی میں تھا۔ اور اس میں لکھا تھا کہ خاندانِ حضرت خلیفہ اوّل میں ہر وقت خلافتِ ثانیہ سے بغاوت کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ وہ خط میرے پاس محفوظ نہیں رہا۔ شاید قادیان میں ہی رہ گیا ہے۔
ستمبر 1930ء میں پیغامیوں کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا کہ ناصر احمد کو ولی عہد مقرر کرنے کا پروپیگینڈا کیا جا رہا ہے۔۴۰
1956ء کی مجلسِ مشاورت کے وقت بھی یہی بات میاں عبدالمنان نے کہی۔ چنانچہ چودھری انور حسین صاحب ایڈووکیٹ و امیر جماعت احمدیہ شیخوپورہ تحریر کرتے ہیں کہ :۔
”گزشتہ مشاورت کے موقع پر مجھے میاں عبدالرحیم احمد کے مکان پر رہنے کا اتفاق ہوا۔ شیخ بشیر احمد صاحب، ڈاکٹر محمد یعقوب خان صاحب بھی وہیں مقیم تھے۔ میاں عبدالمنان اکثر اس مکان پر رہتے تھے اور ناشتہ اور کھانے کے وقت بھی وہیں ہوتے تھے۔ میں مشاورت کی مالی سب کمیٹی کا ممبر تھا اور میاں عبدالمنان بھی اس سب کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوتے تھے۔ اس اجلاس میں مَیں اور مولوی عبدالمنان اکٹھے ہی گئے۔ رستہ میں میاں عبدالمنان نے کہا کہ لاکھوں کا بجٹ مالی سب کمیٹی کے سامنے رکھا ہی نہیں جاتا۔ اس کا حساب کتاب جماعت کے سامنے لایا ہی نہیں جاتا۔ میری دریافت پر میاں عبدالمنان نے کہا کہ یہ جماعتی کاروبار یا تجارت کے متعلق ہے۔ میں اس پر چوکس ہوا۔ مالی سب کمیٹی کا اجلاس آدھی رات کے قریب ختم ہوا اور واپس ہوئے۔ غالباً دوسرے دن دوپہر کے وقت میاں عبدالمنان نے پھر ایسی ہی گفتگو شروع کی اور کہا کہ باہر سے آنے والے لوگوں کو کیا معلوم کہ یہاں کیا ہو رہا ہے، یہاں سخت پارٹی بازی ہے۔ پھر مکرم میاں ناصر احمد صاحب کے متعلق ولی عہد کے لفظ کہے اور پھر کہا کہ وہ کوکین استعمال کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ قطعاً غلط ہے اور وہ بضد رہا۔ میری طبیعت پر اس گفتگو کا یہ اثر تھا کہ میں نے محسوس کیا کہ یہاں قیام کرنے میں مَیں نے غلطی کی ہے اور میرا یہ احساس تھا کہ اگر کوئی دوست مجھے یہاں ملنے کے لئے بھی آئے اور تھوڑا وقت بھی ٹھہرے تو وہ بھی بُرا اثر قبول کریں گے۔
خاکسار محمد انور حسین 14/09/1956ء“
پھر محمد یوسف صاحب بی۔ ایس۔سی سابق افسر کویت کی گواہی ہے کہ 1931ء میں مولوی عبدالوہاب عمر خلیفہ ثانی پر گندے الزامات لگاتے رہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:۔ ”میں نے 1929ء میں بیعت کی تھی۔ اس کے ایک دو سال بعد یا اسی دوران میں میرے والد صاحب مجھے مولوی ظفر اقبال صاحب (سابق پرنسپل اورینٹل کالج لاہور) کے پاس لے گئے (جن کے والد احمدی تھے اور جو ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب جو لاہور کے مشہور سرجن ہیں اُن کے بڑے بھائی ہیں) اور انہیں کہا کہ میرا بیٹا احمدی ہو گیا ہے اسے سمجھایا کریں۔ میں بہرحال والد صاحب کے کہنے پر مولوی ظفر اقبال صاحب سے ملتا رہا۔ انہوں نے سلسلہ کے متعلق کبھی کوئی بات نہیں کی البتہ ایک دفعہ مجھے کہنے لگے کہ بڑے مرزا صاحب تو یقیناً بڑے اچھے آدمی تھے لیکن آپ کے
موجودہ امام پر کئی گندے الزامات ہیں اور یہ کہ میں آپ کو اس کے ثبوت میں عینی شاہد دے سکتا ہوں۔ میں نے کہا کہ مولوی صاحب! آپ کو وہ بات کہنے کا اسلام مجاز نہیں بناتا جس کے آپ عینی شاہد نہیں۔ جب آپ کی بات ہی اصول کے خلاف ہے تو عینی شاہد مہیا کرنے کے لئے مطالبہ کرنا غلط ہے۔ یہ بات یہیں ختم ہو گئی۔
میرا ہمیشہ سے یہی تأثر رہا ہے کہ وہ عینی شاہد جس کا مولوی صاحب ذکر کرتے تھے میاں عبدالوہاب عمر تھے۔ میں حتمی طور پر یہ بات نہیں کہہ سکتا لیکن کئی باتوں اور حالات کی وجہ سے میرا تأثر یہی رہا ہے۔
خاکسار محمد یوسف 1956ء/11/11“
اس کی تصدیق شیخ محمد اقبال صاحب مالک بوٹ ہاؤس کوئٹہ کی شہادت سے بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ شیخ صاحب لکھتے ہیں:۔
”چودھری برکت علی مرحوم جو مکتبہ اردو اور ماہنامہ ”ادب لطیف“ لاہور کے مالک تھے گرمیاں گزارنے اکثر کوئٹہ آتے رہتے تھے۔ ان کے ہمراہ ایک اور غیر احمدی دوست ہوا کرتے تھے جو محکمہ تعلیم پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ ہر دو اصحاب میرے ایک غیر احمدی نوجوان کے گھر اکثر آتے رہتے تھے جو محکمہ ریل میں آفیسر ہیں۔ وہیں میری اُن سے کبھی کبھار ملاقات ہوتی۔ چودھری صاحب مرحوم سے مذہبی گفتگو کا سلسلہ اکثر چلا کرتا تھا۔ وہ مجلس احرار کے سرگرم رُکن تھے اور اُن کی باتوں سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ احراریوں کی سرگرمیوں میں باقاعدگی سے حصہ لیتے اور ان کی بڑی مالی امداد
بھی کرتے تھے۔ احمدیت کے خلاف گوناگوں تعصب رکھتے۔ اُن کے لہجہ میں طنز کا پہلو نمایاں ہوتا اور بار بار کہتے کہ ہمیں کیا بتاتے ہو، ہم تو آپ کی جماعت کے اندرون سے اچھی طرح واقف ہیں۔
غالباً 1943ء کی گرمیوں کا ذکر ہے کہ دورانِ گفتگو میں حسبِ معمول چودھری برکت علی نے متذکرہ بالا ہر دو غیر احمدی احباب کی موجودگی میں مجھے مخاطب کرتے ہوئے طنزاً کہا کہ تم ابھی بچے ہو تمہیں ابھی اپنی جماعت کے اندرون کا علم نہیں ہوا۔ تمہاری جماعت کے سرکردہ لوگ ہم سے پوشیدہ ملتے رہتے ہیں اور اہل قادیان کے اندرونی حالات ہم کو بتاتے رہتے ہیں۔ جس سے "مرزائیت کی سچائی" ہم پر خوب واضح ہوچکی ہے۔ میں نے ان سے کہا اگر آپ جھوٹ بول کر اپنا ایمان ضائع نہیں کر رہے ہیں تو مجھے اُن سرکردہ احمدیوں کے نام بتائیں جو آپ کو پوشیدہ ملتے ہیں۔ اور اگر بہت سی راز کی باتوں سے آپ پر سچائی آشکار ہوچکی ہے تو چند ایک ہمیں بھی بتائیں تاکہ ہم اس سچائی سے محروم نہ رہ جائیں۔ لیکن وہ اس سوال سے کتراتے اور نام نہ بتاتے۔ صرف اتنا کہتے کہ وہ لوگ تمہاری جماعت میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ لیکن ان سے بہت بے انصافی کا برتاؤ ہوا ہے، وہ قادیان میں بہت تنگ ہیں، ان کے حقوق کو پامال کیا گیا ہے اور اپنی تنگ دستی اور پریشانیوں کی ہم سے شکایت کرتے ہیں اور ہم سے مالی امداد بھی طلب کرتے رہتے ہیں۔ پھر کچھ توقف کے بعد کہنے لگے کہ وہی لوگ ہمیں بتاتے ہیں کہ قادیان بھر میں دو شخص بھی ایسے نہیں ملیں گے جو دل سے موجودہ خلیفہ سے خوش ہوں۔ ڈر کے مارے گو ظاہر طور پر اب تک مخالفت نہیں ہوئی لیکن جہاں بھی موقع ملتا ہے لوگ خفیہ مجالس کر کے موجودہ خلیفہ کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔“
(آج کل بھی وہ ”نوائے پاکستان“ میں اعلان کر رہے ہیں کہ جماعت کا اکثر حصہ خلیفہ ثانی سے بیزاری کا اظہار کر رہا ہے۔ وہ کذاب اور جھوٹا یہاں آ کر دیکھے اور جتنے لوگ یہاں بیٹھے ہیں ان کا دسواں حصہ ہی اپنی طرف دکھا دے۔ دسواں نہیں ہزارواں حصہ ہی دکھا دے۔ ہمارے اندازہ کے مطابق اس وقت جلسہ میں عورتوں اور مردوں کی تعداد ساٹھ ہزار ہے وہ ساٹھ آدمی ہی مبائعین میں سے اپنے ساتھ دکھا دے) پھر کہا:۔
’’اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ حال میں قادیان میں ایک جلسہ عام ہوا ہے جس میں اہلِ قادیان نے متفقہ طور پر خلیفہ صاحب کی اقتداء کے خلاف نکتہ چینی کی ہے اور صدائے احتجاج بلند کی ہے (لَعْنَتُ اللّٰهِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ)
میں خاموشی سے سنتا رہا۔ اس کے بعد چودھری صاحب کہنے لگے کہ تمہاری جماعت کے بزرگوں کے ذاتی کیریکٹر کے متعلق بھی ہمیں اطلاعات ملتی رہتی ہیں اور کچھ بزرگوں کے خلاف الزام بھی لگائے۔ اس پر میری غیرت نے اور کچھ سننا گوارا نہیں کیا اور میں نے نہایت جوش میں دوسرے ہر دو غیر احمدی احباب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دوستو! ہمارا اپنا مکان قادیان میں ہے اور میں اور میرا خاندان ایک لمبے عرصہ تک وہاں مقیم رہے ہیں۔ ہم بھی وہاں کے تمام حالات سے واقف ہیں لیکن میں عینی شاہد ہونے کی حیثیت سے چودھری صاحب کے تمام الزامات اور غلط واقعات کی تردید کرتا ہوں اور اس کے جواب میں یہی کہتا ہوں کہ لَعْنَتُ اللّٰهِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔ اور اب میں یہ کہتا ہوں کہ اگر چودھری صاحب ان نام نہاد سرکردہ احمدیوں کا نام نہیں بتائیں گے جو نہ صرف منافق ہیں اور خفیہ طور پر احرار سے ملتے ہیں بلکہ اپنے کذب اور جھوٹ کو ’راز کی باتیں‘ بتا کر ان کے عوض جماعت کے شدید دشمنوں کے سامنے کاسئہ گدائی لئے پھرتے ہیں تو میں یہ کہنے پر مجبور ہوں گا کہ یہ سب کذب اور افتراء چودھری صاحب جیسے اور ان جیسے دیگر دشمنانِ احمدیت کے اپنے گھڑے ہوئے ہیں اور خواہ مخواہ احمدیوں کو بدنام کرتے پھرتے ہیں۔ اِس پر یک لخت چودھری برکت علی صاحب نے کہا کہ ”وہ آپ کے خلیفہ اول کے لڑکے مولوی عبدالوہاب ہیں۔“ حضور! مجھے اُس وقت ہرگز یقین نہیں آیا تھا کہ مولوی عبدالوہاب صاحب کے متعلق جو باتیں چودھری برکت علی نے کی ہیں وہ سچ ہیں بلکہ یہی سمجھتا رہا کہ ان پر افتراء کیا جا رہا ہے۔ اور چونکہ تحقیق کے بغیر کسی پر عائد شدہ الزام کو پھیلانا اسلام میں ممنوع ہے میں آج تک خاموش رہا ہوں۔ آج تیرہ سال کے بعد اس واقعہ کو حلفیہ طور پر بیان کر کے اپنے فرض سے سبکدوش ہوتا ہوں۔“41
ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ 1931ء، 1932ء میں احمدیہ ہوسٹل کی رہائش کے زمانہ میں میاں عبدالوہاب احمدیہ بلڈنگس میں جاتے اور مولوی محمد علی صاحب سے ملا کرتے تھے اور اُن سے امداد بھی لیتے تھے۔ جیسا کہ ملک عبدالرحمن صاحب خادم کی گواہی سے ظاہر ہے جو ہمارے پاس محفوظ ہے اور جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ :۔
”اگرچہ 1926ء سے لے کر آج تک مولوی عبدالوہاب صاحب کو ایک مرتبہ بھی منافقانہ خیالات کے میرے سامنے اظہار کی جرأت نہیں ہوئی لیکن میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ اُن کی یہ بیماری نئی نہیں بلکہ جس زمانہ میں ہم کالج میں پڑھتے اور احمدیہ ہوسٹل لاہور میں رہتے تھے تو وہ اُن دنوں بھی احمدیہ بلڈنگ میں جاتے اور مولوی محمد علی صاحب سے ملا کرتے تھے اور ان سے مالی امداد بھی لیا کرتے تھے حالانکہ صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے ان کو بہت کافی مالی امداد باقاعدہ ملتی تھی۔ یہ 1931ء، 1932ء کی بات ہے۔“
اِسی کی تائید شیخ محمد اقبال صاحب تاجر کوئٹہ کے بیان سے بھی ہوتی ہے جس کو ابھی بیان کیا گیا ہے اور جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ مکتبہ اردو اور ماہنامہ "ادب لطیف" لاہور کے مالک چودھری برکت علی مرحوم نے اُن سے کہا کہ تمہاری جماعت کے سرکردہ لوگ ہم سے پوشیدہ ملتے رہتے ہیں اور اہلِ قادیان کے اندرونی حالات ہم کو بتاتے رہتے ہیں۔ جب میں نے اصرار کیا کہ بتائیں وہ کون لوگ ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ تمہاری جماعت میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں مگر "وہ قادیان میں بہت تنگ ہیں ، ان کے حقوق کو پامال کیا گیا ہے اور اپنی تنگدستی اور پریشانیوں کی ہم سے شکایت کرتے ہیں اور ہم سے مالی امداد بھی طلب کرتے رہتے ہیں۔" اور آخر میں مولوی عبدالوہاب کا نام لیا۔۴۲
اِن گواہیوں سے ظاہر ہے کہ مولوی عبدالوہاب صاحب اپنی تنگدستی اور پریشانیوں کی غیروں سے شکایت کرتے رہے اور یہ پروپیگنڈا کرتے رہے کہ اُن کی کوئی مالی امداد نہیں کی جاتی۔ حالانکہ یہ بالکل جھوٹ تھا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام 1908ء میں فوت ہوئے تھے اور حضرت خلیفہ اول 1914ء میں فوت ہوئے۔ گویا حضرت خلیفہ اول کی وفات پر بیالیس سال اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر اڑتالیس سال گزر چکے ہیں جو حضرت خلیفہ اوّل کی وفات کے عرصہ سے یقیناً زیادہ ہے۔ اس عرصہ میں سلسلہ کی طرف سے جو دونوں خاندانوں کو امداد دی گئی ہے اُس کا میں نے حساب نکلوایا ہے جو پچیس سال گزشتہ کا مل چکا ہے کیونکہ کچھ ریکارڈ قادیان رہ گیا ہے۔ اس سے پتا لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کو 25 سال کے عرصہ میں نوے ہزار ایک سو بیس روپیہ دیا گیا۔ اور حضرت خلیفہ اول کے خاندان کو جو بہرحال حضرت مسیح موعودؑ کے خادم تھے اس عرصہ میں نوے ہزار دوسونوے روپیہ ملا ہے۔ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے جن کے افراد زیادہ تھے حضرت خلیفہ اوّل کے خاندان کو ایک سوسستر روپیہ زیادہ ملا۔ اور ابھی وہ رقمیں الگ ہیں جو میں دیتا رہا۔ مگر با وجود اس کے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل کے خاندان کو گرایا جا رہا ہے اور ان کی مدد نہیں کی جا رہی۔
جب اس کے ساتھ یہ بات بھی ملائی جائے کہ اس پچیس سال میں میں نے چندے کے طور پر پینتالیس ہزار کی رقم دی ہے اور پچھلے سال قریباً ڈیڑھ لاکھ کی زمین انجمن کو دی ہے تو اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کو ایک کوڑی بھی نہیں ملی بلکہ انہوں نے بغیر کوئی پیسہ لئے صدر انجمن احمدیہ کی خدمت کی ہے اور اس کو ایک بڑی بھاری رقم دی ہے۔ اور اس کے علاوہ تحریک جدید کو میں نے تین لاکھ روپیہ دیا ہے۔
۱۹۳۶ء میں کیپٹن نواب دین صاحب دارالفضل ربوہ کی گواہی کے مطابق شیخ محمد سعید صاحب نے جو آجکل صوبیدار میجر کے عہدہ سے ریٹائر ہو کر لاہور میں مقیم ہیں اُن کے پاس بیان کیا کہ ڈلہوزی میں میاں عبدالوہاب شیخ مولا بخش صاحب لائلپوری اور ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کی اُن مجالس میں موجود ہوتے تھے جن میں وہ خلیفہ ثانی پر گندے الزامات لگاتے تھے اور ان لوگوں کی ہاں میں ہاں ملایا کرتے تھے۔
۱۹۴۰ء میں شیخ عبدالرحیم صاحب پراچہ کی گواہی کے مطابق مولوی حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی کے والد مولوی محمد زکریا صاحب نے یہ انکشاف کیا کہ مولوی عبدالوہاب صاحب ان کے ایجنٹ اور مخبر ہیں۔ چنانچہ پراچہ صاحب لکھتے ہیں :۔
’’بہت عرصہ ہوا احمدیہ ہوسٹل لاہور مزنگ کے علاقہ میں نواب صاحب بہاولپور کی کوٹھی میں جس کا نام مجھے یقینی طور پر یاد نہیں رہا (غالباً ’الفیض‘ تھا) میرے بڑے بھائی میاں فضل کریم صاحب پراچہ بی۔اے ایل ایل بی سپرنٹنڈنٹ ہوسٹل تھے۔ حضور لاہور تشریف لائے تو ہوسٹل میں ہی قیام فرمایا۔ میں بھی لاہور میں تھا۔ ایک دن حضور باہر تشریف لے گئے اور حضور کے کمرہ میں کوئی نہ تھا تو مولوی عبدالوہاب اُس کمرہ میں گئے اور حضور کے کاغذات دیکھنے لگ گئے۔ بھائی فضل کریم صاحب نے دیکھ لیا اور انہوں نے اُن سے بہت سختی کی اور حضور کی خدمت میں بھی بعد میں عرض کر دیا۔ اب مجھے یاد نہیں اُس وقت میں ہوسٹل میں تھا یا بعد میں بھائی صاحب نے بتایا وہ بہت غصے میں تھے اور کہتے تھے ان کا پیغامیوں سے تعلق ہے اور اس ضمن میں تلاشی لے رہے تھے۔ انہوں نے مولوی عبدالوہاب کی سخت بے عزتی کی جو مجھے ناگوار گزری کیونکہ بھائی صاحب نے حضور سے عرض کر دیا تھا اور حضور نے ستّاری سے کام لیا۔ مجھے محض حضرت خلیفہ اولؓ کے مقام اور بھیروی اور ہمارے بزرگوں کے محسن ہونے اور اکثر بھیرہ کے لوگوں کے اُن کے ذریعہ جماعت میں داخل ہونے کی وجہ سے بھائی صاحب پر افسوس ہوا کہ حضور نے تو ستّاری کی اور وہ ان کو ننگا کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ جنگ سے پہلے اور جنگ شروع ہونے کے زمانہ میں جو اغلباً 1937ء، 1938ء اور 1939ء تھا میں کاروبار کے سلسلہ میں شملہ جاتا رہا۔ پہلی دفعہ وہاں میں مسلم یا دہلی مسلم ہوٹل میں (صحیح نام یاد نہیں) ٹھہرا۔ اور پھر دوسری مختلف جگہوں پر ٹھہرا۔ میرا قالین کا کاروبار تھا اور قالین کے ایرانی بیوپاری مال لے کر اس ہوٹل میں ٹھہرتے تھے جس کی وجہ سے اکثر اس ہوٹل میں جانا پڑتا تھا۔ ہوٹل کے مالک دہلی میں ریلوے اسٹیشن پر مسلم ریفرشمنٹ روم کے کنٹریکٹر بھی تھے۔ اور ان کا منیجر منظور حسین یا احمد ہوتا تھا مجھے سنہ صحیح یاد نہیں مگر مندرجہ بالا اوقات کے دوران میں ایک دن اس ہوٹل کے کھانے کے کمرے میں چائے یا کھانا کھارہا تھا تو وہاں ایک سفید ریش معمّر مولوی صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اب یاد نہیں کہ مولوی عبدالوہاب صاحب وہاں مجھ سے پہلے بیٹھے ہوئے تھے یا بعد میں آئے اُن سے وہاں ملاقات ہوئی۔ میں اپنے ساتھی کے ساتھ مصروف رہا۔ مولوی عبدالوہاب صاحب فارغ ہو کر چلے گئے اور میں وہاں بیٹھا رہا۔ منیجر ہوٹل منظور صاحب جن سے میری بے تکلّفی تھی آ کر پاس ہی بیٹھ گئے۔ اُن سفید ریش مولوی صاحب نے جو نہیں جانتے تھے کہ میں احمدی ہوں (مگر منظور صاحب کو میرا اچھی طرح علم تھا) مولوی عبدالوہاب صاحب کا ان کے چلے جانے کے بعد ذکر شروع کر دیا کہ یہ فلاں آدمی ہیں اور یہ ہمیں خبریں دیتے ہیں اور
ہمیں انہی لوگوں سے مرزائیوں کے راز معلوم ہوتے ہیں۔ اور کہا کہ (مجھے صحیح یاد نہیں آج یا کل) یہ چودھری افضل حق کے پاس بھی آئے تھے۔ (اُن دنوں چودھری افضل حق صاحب شملہ میں تھے) اور بھی گفتگو ہوئی مگر اب اتنا عرصہ گزرنے کے بعد یاد نہیں مگر وہ الفاظ یا مفہوم جن سے مولوی صاحب کا احراریوں سے تعلق ظاہر ہوتا تھا اور پھر خلیفہ اوّل کی اولاد کس طرح بھول سکتے ہیں سخت صدمہ ہوا۔ میں نے کسی رنگ میں بعد میں مولوی صاحب سے خود چودھری افضل حق صاحب سے ملاقات کی تصدیق بھی کروائی۔ پیغامیو ں سے ان کے تعلقات کا کئی دفعہ سن چکا تھا۔ مگر یہ الفاظ رنج دہ تھے۔ منظور صاحب نے میرے ساتھ تعلقات کی وجہ سے اُن سفید ریش مولوی صاحب کو یہ نہ بتایا کہ یہ احمدی ہیں بلکہ مسکراتے رہے اور انہیں نہ ٹوکا۔ جب وہ مولوی صاحب چلے گئے تو مجھے بتایا کہ یہ مولوی صاحب مولوی حبیب الر حمٰن صاحب لدھیانوی احراری لیڈر کے والد ہیں۔ بعد میں دوسروں سے بھی تصدیق ہوگئی کہ یہ مولوی حبیب الر حمٰن صاحب کے والد ہیں کیونکہ پھر کئی دفعہ ملنے کا موقع ملا۔
میں اِن الفاظ پر جو مولوی حبیب الر حمٰن صاحب کے والد نے کہے تھے حرف بحرف حلف نہیں اٹھا سکتا مگر میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مولوی حبیب الر حمٰن صاحب کے والد صاحب نے جن کا نام مجھے یاد نہیں اس مفہوم کے الفاظ کہے تھے کہ مولوی عبد الوہاب صاحب احراریوں کے مُخبر ہیں اور آج یا کل بھی (شملہ میں) چودھری افضل حق صاحب کے پاس آئے تھے۔
پراچہ صاحب نے جلسہ سالانہ پر شہادت دیتے ہوئے بتایا کہ جب الفضل میں میرا یہ خط شائع ہوا تو اُس وقت مجھے اُن سفید ریش معمّر مولوی صاحب کا جو وہاں بیٹھے ہوئے تھے نام یاد نہیں تھا اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ ان کا نام مولوی محمد زکریا تھا اور میں خود بھی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ مجھے یاد آگیا اور میرے حافظہ نے کام دیا کہ ان کا نام مولوی محمد زکریا تھا۔ اور مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ مولوی حبیب الرحمن صاحب احراری لیڈر کے والد ہیں۔
1946ء میں محمد عبد اللہ صاحب ظفروال ضلع سیالکوٹ کی گواہی کے مطابق میاں عبدالمنان صاحب نے مجھ پر اپنی جائیداد غصب کرنے کا الزام لگایا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:۔ ’’ہمارے ایک معزز غیر احمدی دوست نے (جو علاقہ مجسٹریٹ کے ریڈر ہیں) مجھے بتایا کہ مولوی منان میرے واقف ہیں۔ پارٹیشن سے پہلے جب کبھی میں ان کے ہاں جایا کرتا وہ حضور کے خلاف سخت غیظ وغضب کا اظہار کرتے ہوئے کہتے کہ دیکھو جی! کمائی ہمارے باپ کی اور کھا یہ رہے ہیں (گویا مسیح موعودؑ کی کمائی ہی نہیں۔ کمائی حضرت خلیفہ اولؓ کی تھی۔ اگر جسمانی لو تب بھی حضرت خلیفہ اولؓ کی کمائی ہم سے ہزارواں حصہ بھی نہیں تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ورثہ میں پانچ گاؤں اور ایک شہر قادیان کا ملا تھا اور خلیفہ اولؓ کو اُن کے باپ کی طرف سے ایک کچا کوٹھا بھی نہیں ملا تھا) ہمیں کوئی پوچھتا بھی نہیں اور ان کے محل بن رہے ہیں۔‘‘
1950ء میں میاں عبدالسلام نے یہ کہا کہ عبدالباسط اُن کے بڑے بیٹے کو زہر دیا گیا ہے۔ وہ لائل پور میں پڑھتا تھا اور میں نے جماعت لائل پور سے گواہی منگوائی ہے وہ کہتے ہیں کہ میونسپل کمیٹی میں اُن کا ریکارڈ موجود ہے اور میونسپل کمیٹی کی سند موجود ہے کہ اُس نے خودکشی کی تھی۔ بلکہ وہ کہتے ہیں کہ بعد میں جب ہم نے جنازہ نہ پڑھا کیونکہ خودکشی کرنے والے کا جنازہ جائز نہیں ہوتا تو میاں عبدالمنان نے آ کر کہا کہ عبدالباسط نے خودکشی نہیں کی بلکہ کسی نے اس کو زہر دے دیا ہے اور اُس کی موت میں مختلف لوگوں کا ہاتھ ہے۔ اور اس کے بعد میاں عبدالسلام اور عبدالمنان دونوں نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح یہ بات ثابت ہوجائے کہ اس نے خودکشی نہیں کی بلکہ اُسے زہر دیا گیا ہے۔ چنانچہ چودھری رشید احمد صاحب بٹ جو سکھر میں ہیں اور مولوی عبدالسلام صاحب کی زمینوں کے قریب رہتے ہیں ان کی بھی یہی گواہی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:۔
”میری مولوی عبدالسلام مرحوم سے پہلی ملاقات جنوری 1950ء میں بمقام کنڈیارو ہوئی جبکہ ہمارا تعارف چودھری ہدایت اللہ صاحب پریذیڈنٹ جماعت کنڈیارو نے کرایا۔ اس سے پہلے حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے لڑکوں کے نام تو جانتا تھا مگر ان میں سے میرا کوئی واقف نہ تھا۔ اس دوران میں مولوی صاحب موصوف اس قسم کی باتیں کرتے رہے جس سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ ان کو سلسلہ عالیہ احمدیہ کے موجودہ نظام سے دلچسپی نہیں ہے (یہ تو ظاہر ہی ہے مگر میاں بشیر احمد صاحب کو مولوی عبدالسلام صاحب کا بیٹا خود کہہ گیا ہے کہ میں خلافت سے بدظن ہوں۔ اور کہہ گیا ہے کہ آپ تو بڈھے ہو گئے ہیں، آپ کے ساتھ تو مستقبل کوئی نہیں۔ میں جوان آدمی ہوں میرے سامنے بڑا مستقبل ہے میں نے اس کی فکر کرنی ہے۔ گویا وہ بھی خلافت کا خواب دیکھ رہا ہے)
سیّدی!۔ غالبًا سب سے پہلے ایسی بات جو مولوی صاحب موصوف نے مجھ سے کی وہ یہ تھی کہ میرا بڑا لڑکا جو زہر دے کر ہلاک کیا گیا تھا وہ دراصل مرزا خلیل احمد کی وجہ سے ہوا تھا کیونکہ وہ دونوں کمیونسٹ ہو چکے تھے۔ حضرت صاحب نے اپنے لڑکے کو بچا لیا اور مجھے یہ کہہ کر اَب اگر تم کیس کرو گے تو مسیح موعودؑ کے خاندان کی بے عزتی ہو گی حالانکہ میر محمد اسماعیل صاحب مرحوم نے مجھے بہت کہا تھا کہ کیس کرو مگر میں نے اس واسطے نہیں کیا کہ مجھے حضرت صاحب نے بُلا کر منع کیا تھا (جھوٹ ہے لَعْنَتُ اللّٰهِ عَلَى الْكَاذِبِیْنَ) بہرحال میرا لڑکا (یعنی مولوی عبدالسلام کا حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کا پوتا) مسیح موعودؑ کے پوتے کے لئے قربان ہو گیا۔ اس دوران میں مولوی صاحب نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ جس وقت یہ کیس ہوا اُس وقت خلیل کی الماری اشتراکی لٹریچر سے بھری ہوئی تھی جس کو خود حضرت صاحب نے جلایا (یہ بھی جھوٹ ہے۔ البتہ یہ ٹھیک ہے کہ بعض کمیونسٹ جو ہمارے دشمن تھے انہوں نے خلیل کے نام کمیونسٹ لٹریچر بھیجنا شروع کر دیا تھا)
میں نے مولوی صاحب سے جواباً کہا۔ مجھے یہ علم نہیں نہ حضور کے علم میں یہ باتیں ہیں۔‘‘
عبدالباسط نے درحقیقت خودکشی کی تھی جس کی تائید میں جماعت احمدیہ لائلپور نے مولوی عبیداللہ صاحب قریشی، شیخ محمد یوسف صاحب، ڈاکٹر محمد طفیل صاحب، شیخ نذر محمد صاحب، میاں محمد شفیع صاحب، کمانڈر عبداللطیف صاحب، چودھری عبدالرحمن صاحب، ڈاکٹر چودھری عبدالاحد صاحب اور شیخ عبدالقادر صاحب مربی لاہور کی گواہیاں میرے پاس بھجوا دی ہیں۔ جن میں انہوں نے کہا ہے کہ تحقیقات ہوئی اور پولیس بھی آئی اور پھر سارا واقعہ لکھا کہ اس طرح وہ کمیونسٹ دوستوں کے پاس سے آیا اور کہنے لگا میں ذرا غسل خانہ میں جانا چاہتا ہوں۔ وہاں گیا تو تھوڑی دیر کے بعد ہم کو آواز آئی۔ ہم نے جب جھانکا تو دیکھا کہ زمین پر گرا پڑا تھا اور قے کی ہوئی تھی۔ پھر ہم نے اس کی جیب میں ہاتھ ڈالا تو اس میں سے رُقعہ نکلا کہ میں نے خود زہر کھایا ہے کسی پر الزام نہ لگایا جائے۔ چنانچہ وہ رقعہ پولیس میں دیا گیا۔ اس نے تحقیقات کی اور میونسپل کمیٹی نے سرٹیفکیٹ دے دیا کہ سِیُوسائڈ (SUICIDE) ہے، دفن کر دیا جائے۔ اس وجہ سے پولیس نے کوئی مزید کارروائی نہ کی۔
خلیل کا واقعہ ستمبر 1941ء کا ہے۔ 1941ء میں بعض احراریوں نے کمیونسٹوں سے مل کر خلیل احمد کو کمیونسٹ لٹریچر بھیجنا شروع کیا اور دوسری طرف گورنمنٹ کو اطلاع دی کہ اس کے پاس کمیونسٹ لٹریچر آتا ہے اور یہ کمیونسٹ ہے۔ مجھے اس سازش کا پتا لگ گیا اور میں نے فوراً ڈاکخانہ کو لکھ دیا کہ خلیل کی ڈاک مجھے دی جایا کرے خلیل کو نہ دی جایا کرے۔ میری غرض یہ تھی کہ یہ الزام نہ لگائیں کہ ڈاک کے ذریعہ اُس کے پاس لٹریچر آتا ہے۔ جب وہ لٹریچر میرے پاس آئے گا تو میں اسے تلف کر دوں گا اور گورنمنٹ کو کوئی بہانہ نہیں ملے گا۔ پولیس نے پھر بھی شرارت کی اور اس کے بعد جب میں ڈلہوزی گیا تو وہاں ڈاکیا کو ساتھ ملا کر ایک بیرنگ پیکٹ خلیل کو دلوا دیا۔ چونکہ میں نے اُسے منع کیا تھا وہ فوراً میرے پاس لے آیا اور میں نے وہ درد صاحب کے سپرد کیا اور درد صاحب کے ہاتھ سے پولیس سب انسپکٹر چھین کر لے گیا۔ میں نے فوراً گورنر کو تار دلا دیا کہ اس طرح پولیس آئی ہے اور درد صاحب کے ہاتھ سے ایک ٹریکٹ چھین کر لے گئی ہے۔ ہمیں نہیں پتا اس میں کیا ہے۔ مگر اس کا منشا یہ ہے کہ خلیل کو زیر الزام لائے کیونکہ وہ خلیل کے نام آیا تھا۔ اس پر گورنمنٹ نے تحقیقات کی اور پولیس کی شرارت اُس پر ظاہر ہوگئی اور وہ ہیڈ کانسٹیبل جو اُس وقت سب انسپکٹر کا کام کر رہا تھا اُس کو ڈی گریڈ کیا گیا۔ اور ڈلہوزی سے بدل کر شکر گڑھ کے ایک چھوٹے سے تھانہ میں بھیج دیا گیا۔ اُس وقت نہ ہمیں معلوم تھا کہ عبدالباسط بھی کمیونسٹ اثر کے نیچے ہے اور نہ ہم اس کے لئے کوئی کوشش کر سکتے تھے۔ کیونکہ وہ لائلپور میں پڑھتا تھا اور لائلپور کالج کے کمیونسٹ لڑکوں سے ملا کرتا تھا اور ہماری حفاظت سے باہر تھا۔
پھر یہ مخالفت اتنی لمبی کی گئی کہ 1950ء، 1951ء کی گواہیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ میاں عبدالمنان کی خلافت کا پروپیگنڈا شروع کر دیا گیا۔ چنانچہ عزیزہ بیگم صاحبہ اہلیہ مولوی محمد صادق صاحب مبلغ سیرالیون جو محبوب علی صاحب مرحوم آف مالیر کوٹلہ کی دختر ہیں لکھتی ہیں کہ: ”1950ء یا 1951ء کا واقعہ ہے کہ میرا خالہ زاد بھائی منور شاہ ولد فضل شاہ (ساکن نواں پنڈ احمد آباد مضافات قادیان کا ہے۔ اور اس وقت گوٹھ لالہ چرنجی لال نمبر 385 تحصیل میر پور خاص ضلع تھر پارکر سندھ میں رہائش رکھتا ہے) انہی دنوں میں یعنی 1950ء، 1951ء میں جب کہ مرزا شریف احمد صاحب کی دکان بندوقوں والی میں ملازم تھا ربوہ میں میرے پاس ملنے کو آیا۔ اتفاقاً ایک دن باتوں باتوں میں یہ ذکر کیا کہ ایک گروہ نو جوانوں کا ایسا ہے جو کہتا ہے کہ موجودہ خلیفہ کے بعد اگر خلافت پر مرزا ناصر احمد صاحب کو جماعت نے بٹھایا تو ہماری پارٹی میں سے کوئی بھی اسے نہیں مانے گا۔ ہم تو میاں عبدالمنان صاحب عمر کو خلیفہ مانیں گے۔ میں نے اُسے بُرا منایا اور جھڑک کر کہا کہ وہ خبیث کون کون ہیں؟ اس پر غصے میں آ کر کہنے لگا کہ دیکھنا ! اُس وقت تم لوگوں کا ایمان بھی قائم نہیں رہے گا۔ یہ کہہ کر اُسی وقت وہ میرے گھر سے باہر چلا گیا۔ میں اس کی وجہ سے دل میں گڑھتی رہی مگر سمجھ نہیں آتی تھی کہ اس کا ذکر حضور سے کیونکر کروں۔ اب حضور کا ارشاد پڑھ کر میں نے یہ بیان مولوی عبداللطیف صاحب بہاول پوری کولکھوا دیا۔ میں خدا کو حاضر ناظر جان کر حلفیہ کہتی ہوں کہ یہ بیان صحیح ہے۔ الفاظ میں کمی بیشی ہو تو الگ امر ہے مگر مفہوم یہی تھا۔“۴۴
اسی طرح چودھری بشارت احمد صاحب لاہوری کی گواہی ہے۔ جس میں وہ کہتے ہیں کہ غلام رسول نمبر 35 نے بھی یہی کہا کہ ہم تو میاں عبدالمنان صاحب عمر کی بیعت کریں گے۔۴۵
اور مولوی محمد صدیق صاحب شاہد مربی راولپنڈی کی بھی یہی گواہی ہے کہ اللہ دتھا نے کہا کہ اب تو لاہوریوں کی نظر حضرت خلیفہ اوّل کی اولاد پر زیادہ پڑتی ہے اور وہ میاں عبدالمنان صاحب کی زیادہ تعریف کر رہے ہیں اور ان کے نزدیک وہ زیادہ قابل ہیں۔۴۶
چنانچہ ”پیغام صلح“ کی تائید سے بھی ظاہر ہو گیا ہے کہ بات سچ ہے۔ اسی طرح عنایت اللہ صاحب انسپکٹر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ لکھتے ہیں:۔
”ڈاکٹر محمد شفیع صاحب نثار پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ طالب آباد نے بتایا کہ آج سے دو سال قبل گوٹھ رحمت علی تھل برانچ پر مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی (یہ حضرت خلیفہ اول کے نواسے اور عبدالوہاب اور عبدالمنان کے بھانجے ہیں) کے ایک پروردہ شخص بشیر احمد نے کہا کہ جماعت احمدیہ کی خلافت کا حق مولوی نور الدین صاحب کے بعد اُن کی اولاد کا تھا۔ لیکن میاں محمود احمد صاحب نے (نَعُوْذُ بِاللہِ) ظلم سے ان کا حق غصب کر کے خلافت پر قبضہ کر لیا ہے۔ اب ہم لوگ (یعنی خاندان حضرت خلیفہ اوّل اور ان کے غیر احمدی رشتہ دار) اس کوشش میں ہیں کہ خلافت کی گدّی مولوی صاحب کی اولاد کو ملے۔ اور اب ”حق بحقدار رسید“ کے مطابق جلد ہی یہ معاملہ طے ہو کر رہے گا۔“۴۷
یعنی حق حضرت خلیفہ اوّل کا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد نے خواہ مخواہ بیچ میں دخل دے دیا۔ چنانچہ ہمارے پاس بعض ٹریکٹ ایسے پہنچے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل کے غیر احمدی رشتہ داروں نے مختلف کارٹونوں کے ذریعہ سے اس کے لئے پروپیگنڈا بھی شروع کر دیا ہے اور یہ اشتہارات کثرت کے ساتھ جماعت میں شائع کئے جائیں گے۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اس وقت ایک ٹریکٹ چالیس ہزار چھپا ہے اور کثرت سے ایسے ٹریکٹ جماعت میں شائع کئے جائیں گے۔
مہاشہ محمد عمر صاحب کی رپورٹ بھی اسی کی تائید کر رہی ہے کہ اب تک مخالفت بڑھائی جا رہی ہے۔
وہ کہتے ہیں :۔ ’’میں بتاریخ 24/12/1956 کو جلسہ سالانہ کے لئے ڈھاکہ سے ربوہ آ رہا تھا۔ جب میں امرتسر ریلوے سٹیشن پر گاڑی سے اُترا تو ایک نوجوان مجھے ملا۔ اس نے کہا۔ کیا آپ ربوہ جا رہے ہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ اِس پر اُس نے کہا کہ اگر آپ کو ہماری خدمات کی ضرورت ہو تو ہم حاضر ہیں۔ کیونکہ ہماری ڈیوٹی لگی ہے کہ جلسہ پر آنے والے احمدیوں کو سہولت کے ساتھ پہنچا دیں۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور بازار چلا گیا۔ جب ہم بس میں سوار ہوئے تو وہ بھی ہمارے پاس آ کر لاہور کے لئے اُس بس میں بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ آپ لوگوں کے لئے کھانے وغیرہ کا انتظام حضرت مولوی عبدالمنان صاحب نے رتن باغ میں کیا ہے اور وہ بڑے متقی ہیں آپ وہاں تشریف لے چلیں۔ میں نے پوچھا آپ کا نام کیا ہے؟ اس نے کہا کہ میرا نام ارشد ہے (ممکن ہے اس نے اپنا نام غلط بتایا ہو ہمارے علم میں اس کا نام خالد ہے) اور میں حضرت مولوی عبدالمنان صاحب کا بھانجا ہوں اور مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی کا لڑکا ہوں۔ میں خدا کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ یہ میں درست کہہ رہا ہوں۔‘‘ (مہاشہ محمد عمر)
گویا جیسے شیطان نے کہا تھا کہ قَالَ اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡہُ(38:77) 48 کہ میں آدم سے بہتر ہوں اسی
طرح اسماعیل غزنوی کے بیٹے نے ہمارے بنگالی مہمانوں کو ورغلانے کے لئے کہا کہ منان صاحب کی دعوت کھاؤ جو جماعت میں تقویٰ میں سب سے افضل ہے۔
پھر 1953ء میں مولوی عبدالمنان صاحب نے سلسلہ کے مخالف وہابیوں سے ایک خفیہ ساز باز کی۔ چنانچہ ہمیں ایک فائل اورینٹل (ORIENTAL) کمپنی کے دفتر سے ملا ہے جس کے چیئرمین مولوی عبدالمنان صاحب تھے۔ خدا تعالیٰ نے ان کی عقل ایسی ماری کہ وہ اپنے کئی خطوط وہاں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ چنانچہ ایک خط اُن میں مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی کا ملا ہے جو ان کے سوتیلے بھانجے ہیں اور غزنوی خاندان میں سے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شدید دشمن رہا ہے۔ اور جس کی مخالفت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کئی کتابیں لکھی ہیں۔ اس میں وہ لکھتے ہیں:۔
”جو امانت آپ کے پاس پڑی ہے ضرورت ہے کہ وہ محفوظ ترین طریق سے میرے پاس پہنچ جائے۔ یا تو ان 100 جیپوں میں سے کسی ایک پر جو لاہور آ رہی ہوں اشیاء بھجوا دیں (معلوم ہوتا ہے سازشی طور پر یہاں سے لاہور تک ایک جال تنا ہوا تھا) یا کسی معتبر آدمی کے ہاتھ جسے میں کرایہ بھی ادا کر دوں گا۔ یا اگر آپ صالحہ بیگم زوجہ میر محمد اسحاق صاحب مرحوم کی خبر لینے کے لئے آئیں (وہ 1952ء میں لاہور علاج کے لئے گئی تھیں) تو آپ اپنے ساتھ لیتے آئیں۔ مگر کسی کے ہاتھ بھجوائیں تو بے خطا بھجوائیں ضائع نہ ہو۔“
اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ 1953ء سے مولوی عبدالمنان اور سلسلہ کے مخالف وہابیوں میں خفیہ ساز باز جاری تھی۔
ایک خط اس فائل میں اللہ رکھا کا مولوی عبدالمنان کے نام ملا ہے اس میں اس نے خواہش کی ہے کہ آپ اپنے لنگر خانہ میں مجھے ملازمت دلوا دیں۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے:۔ ”آپ اپنے لنگر خانہ میں مجھے ملازمت دلوا دیں (گویا سلسلہ کا لنگر خانہ جلسہ کے کام پر مقرر کرنے کی وجہ سے اب میاں عبدالمنان کا ہو گیا) مگر جلسہ سالانہ سے پہلے کسی اچھی جگہ پر لگا دیں،،
اب اللہ رکھا کا تازہ خط پکڑے جانے پر اس خاندان نے شور مچایا ہے کہ اللہ رکھا کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ وہ خط تو اماں جی کی وفات پر محض ہمدردی کے خط کے جواب میں تھا۔ حالانکہ یہ خط بتاتا ہے کہ اللہ رکھا سے پرانے تعلقات چل رہے تھے۔ بلکہ قادیان سے ایک درویش نے جو کہ لنگر خانہ کا افسر تھا لکھا ہے کہ میں لنگر خانہ کے سٹور میں سویا ہوا تھا کہ رات کو میں نے دیکھا کہ اللہ رکھا آیا، اس کی آنکھیں کمزور ہیں اور اسے اندھراتا کی شکایت ہے جس کی وجہ سے اسے رات کو ٹھیک طور پر نظر نہیں آتا۔ اس نے آ کر ادھر اُدھر دیکھا مگر اندھیرے کی وجہ سے مجھے دیکھ نہ سکا۔ اس کے بعد وہ وہاں سے سامان اٹھا کر بازار میں بیچنے کے لئے لے گیا۔ میں نے اس کو راستہ میں پکڑ لیا۔ پھر اور لوگ بھی جمع ہو گئے اور اس کو ملامت کی۔ جب تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ وہ سامان بیچ کر میاں عبدالوہاب کی ایجنٹی کرتا ہے اور ان کو روپیہ لا کر دیتا ہے وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
چونکہ راوی ایک ہی ہے اس لئے ہم اس کی شہادت کی قطعی طور پر تصدیق نہیں کر سکتے جب تک کہ کئی راوی نہ مل جائیں۔
اسی طرح اللہ رکھا کا ایک خط مولوی عبدالمنان کے نام ملا ہے۔ اس میں لکھا ہے۔
”جناب مولوی اسماعیل کے ساتھ جس آدمی کے متعلق آپ کے سامنے ذکر فرمایا تھا (اپنے آپ کو فرمایا لکھتا ہے) اس کو جناب مولوی (صاحب) سے ملا دیا۔ بعد میں کوشش کی کہ آپ کی بھی ملاقات ہووے مگر آپ کو موقع نہ ملا۔ اگر موقع ملتا تو آپ ضرور اس کے خیال کا پتا کرتے اور جو مال اس کے پاس تھا دیکھتے۔ اگر اس قابل ہوتا کہ موجودہ وقت کے مطابق شائع کرنا مناسب حال ہوتا تو آپ بات کر لیتے۔“
گویا اُس وقت بھی بقول اللہ رکھا ہمارے خلاف ٹریکٹ لکھوائے جا رہے تھے اور مولوی عبدالمنان مولوی اسماعیل صاحب غزنوی سے مل کر مشورے کرتا تھا۔ اس خط سے بالکل واضح ہو گیا ہے کہ اللہ رکھا مولوی اسماعیل غزنوی اور مولوی عبدالمنان میں سالہا سال سے ایک سازش جاری تھی اور یہ محض غلط بیانی ہے کہ اماں جی کی وفات پر کسی ہمدردی کے خط پر اس سے تعلق پیدا ہوا۔ یہ سازش عام نہیں تھی بلکہ سلسلہ کے خلاف لٹریچر شائع کرنے کی سازش تھی جس میں غیر احمدی بھی شامل تھے۔
ہماری جماعت کے لوگ چونکہ عموماً باہر کے لوگوں سے واقف نہیں ہوتے اس لئے وہ سمجھتے نہیں کہ مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی کون ہیں؟ مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی حضرت خلیفہ اوّل کی پہلی بیٹی کے بیٹے ہیں۔ جب آپ وہابی تھے تو آپ نے وہابی تعلق کی وجہ سے مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی رحمۃ اللہ علیہ جو نہایت بزرگ اور ولی اللہ تھے اور افغانستان سے ہجرت کر کے آئے تھے اُن کے بیٹے مولوی عبد الواحد سے اپنی لڑکی امامہ کا بیاہ کر دیا۔ امامہ کے بطن سے تین بچے پیدا ہوئے۔ ایک آمنہ بڑی لڑکی پیدا ہوئی دوسرے محمد ابراہیم بیٹا پیدا ہوا اور تیسرے محمد اسماعیل پیدا ہوا جو اب مولوی اسماعیل غزنوی کہلاتا ہے۔ ابراہیم غزنوی بچپن میں میرے ساتھ کھیلا ہوا ہے۔ حضرت خلیفہ اوّل کے پاس جو اس کے نانا تھے آیا کرتا تھا۔ بہت نیک اور شریف لڑکا تھا۔ یعنی وہ اپنے چھوٹے بھائی کی بالکل ضد تھا۔ گو میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ بڑا ہوتا تو احمدی ہوتا یا باپ کے اثر کے نیچے نہ ہوتا مگر بہر حال وہ ایک نیک لڑکا تھا۔ اس خاندان کی سلسلہ سے عداوت بہت پرانی ہے۔ مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی جو ملہم تھے انہوں نے ایک خواب دیکھی تھی جو حافظ محمد یوسف صاحب نے جو امرتسر کے ایک عالم تھے اور مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کے مریدوں میں سے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پہنچادی۔ وہ خواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابوں میں چھپی ہوئی ہے۔ وہ خواب یہ تھی کہ قادیان میں خدا تعالیٰ کا نُور اُترا مگر میری اولاد اس سے محروم رہی۴۹جب یہ خواب شائع ہوئی تو مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کی اولاد کو غصہ لگا اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف بڑے بڑے فتوے دیئے۔
اِس وقت اس خاندان کے لیڈر مولوی داؤد غزنوی ہیں جو 1953ء کے ایجی ٹیشن میں جس میں سینکڑوں احمدی مارے گئے تھے لیڈر تھے۔ یہ مولوی داؤد غزنوی مولوی عبد الجبار کے بیٹے ہیں جو مولوی عبد الواحد کے بڑے بھائی تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے
مولوی عبدالجبار کے ایک بھائی احمد بن عبداللہ غزنوی کا فتویٰ اپنے متعلق کتابوں میں نقل کیا ہے کہ وہ کیسا بدگو آدمی تھا۔ اس نے جو فتویٰ دیا تھا وہ کتاب البریہ صفحہ 120 پر درج ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ
’’قادیانی کے حق میں میرا وہ قول ہے جو ابن تیمیہ کا قول ہے جیسے تمام لوگوں سے بہتر انبیاء علیہم السلام ہیں ویسے ہی تمام لوگوں سے بدتر وہ لوگ ہیں جو نبی نہ ہوں اور نبیوں سے مشابہہ بن کر نبی ہونے کا دعویٰ کریں۔ ۔۔۔۔ یہ (یعنی مسیح موعودؑ) بدترین خلائق ہے (یعنی چوہڑوں چماروں سے بھی بدتر ہے) تمام لوگوں سے ذلیل تر آگ میں جھونکا جائے گا (یعنی جہنم میں پڑے گا)۔50
یہ تو ایک بھائی کا فتویٰ تھا۔ اب مولوی اسماعیل غزنوی کے باپ (مولوی عبدالواحد غزنوی) کا فتویٰ سن لو جس کے ساتھ مل کر منان کوششیں کر رہا ہے اور جس کا بیٹا بنگال کے وفد کو لینے کے لئے بارڈر پر گیا تھا۔
مولوی عبدالواحد بن عبداللہ غزنوی کا فتویٰ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اشاعۃ السنۃ جلد 13 میں صفحہ 202 پر شائع کیا ہے۔ یہ دو بھائیوں نے مل کر فتویٰ دیا تھا۔ ایک مولوی عبدالواحد نے جو مولوی اسماعیل غزنوی کے باپ ہیں اور ایک ان کے دوسرے بھائی مولوی عبدالحق نے۔ اس میں لکھا ہے کہ:۔
’’یہ مسئول عنہ شخص (یعنی حضرت مسیح موعودؑ) اپنی ابتدائی حالت میں اچھا معلوم ہوتا تھا۔ دین کی نصرت میں ساعی تھا۔ اللہ تعالیٰ اس کا مددگار تھا۔ دن بدن فَيُوْضَعُ لَهُ الْقَبُوْلُ فِي الْاَرْضِ کا مصداق بنتا جاتا تھا۔ لیکن اس سے اس نعمت کی قدردانی نہ ہوئی۔ نفس پروری و زمانہ سازی شروع کی۔ زمانہ کے رنگ کو دیکھ کر اس کے موافق کتاب وسنت میں تحریف و الحاد و یہودیت اختیار کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو ذلیل کیا فَيُوْضَعُ لَهُ الْبُغْضَاءُ فِي الْاَرْضِ کا مصداق بن گیا۔‘‘51
یعنی اب دنیا میں لوگ اس سے بُغض کریں گے۔ اب تم دیکھ لو کہ مولوی عبدالواحد کا قول سچا نِکلا کہ لوگ اس سے بُغض کر رہے یا لوگ بیٹھے ہوئے اس پر درود اور سلام بھیج رہے اور اس کے لئے دعائیں کر رہے ہیں۔
پھر اس کا ایک اَور بھائی مولوی عبدالحق غزنوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق لکھتا ہے:۔
’’دجّال ہے، مُلحد ہے، کاذب ہے، روسیاہ ہے، بدکار ہے، شیطان ہے، لعنتی ہے، بے ایمان ہے، ذلیل ہے، خوار ہے، خستہ خراب ہے، کافر ہے، شقی سرمدی ہے (یعنی قیامت تک شقی ہے) لعنت کا طوق اس کے گلے کا ہار ہے، لعن طعن کا جُوت اُس کے سر پر پڑا، بے جا تاویل کرنے والا ہے، مارے شرمندگی کے زہر کھا کر مر جاوے گا، بکواس کرتا ہے، رسوا ہے، ذلیل ہے، شرمندہ ہوا ہے۔ اللہ کی لعنت ہو۔ جھوٹے اشتہارات شائع کرنے والا ہے۔ اس کی سب باتیں بکواس ہیں۔‘‘۵۲
اور اس کا ہیڈنگ بھی کیسا پاکیزہ رکھا ہے۔ اشتہار کا نام ہے ’’ ضَرْبُ النِّعَالِ عَلٰی وَجْہِ الدَّجَّالِ ‘‘ یعنی حضرت مسیح موعودؑ دجال ہیں اور میں انکے منہ پر جوتیاں مارتا ہوں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ’’حجۃ اللہ‘‘ کتاب کے صفحہ 7 پر اس کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ عبدالحق غزنوی نے مجھے ایک خط میں گالیاں دیتے ہوئے لکھا ہے۔
’’دس ہزار تیرے پر لعنت‘‘ پھر لعنت لعنت کئی دفعہ لکھا ہے اور آخر میں لکھا ہے ’’ عشرة الف مائة ‘‘ یعنی دس لاکھ دفعہ لعنت اس پر نازل ہو۔
پھر یہی مولوی عبدالحق غزنوی (مولوی اسماعیل غزنوی کا چچا) حضرت صاحب کے متعلق لکھتا ہے:۔
’’کافر، اکفر ہے مرزا۔ دجّال ہے مرزا۔ شیطان ہے مرزا۔ فرعون ہے مرزا۔ قارون ہے مرزا۔ ہامان ہے مرزا۔ ارڑ پو پو۵۳ ہے مرزا۔ وادی کا وحشی ہے مرزا۔ کتا ہے جو ہانپ رہا ہے۔ یہ جنگلی کتا ہے۔‘‘۵۴
پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی تصنیف کتاب البریہ میں اس کے خاندان کی گالیاں لکھی ہیں۔ اور لکھا ہے کہ انہوں نے میری نسبت لکھا ہے کہ:۔
’’ان امور کا مدعی رسولِ خدا کا مخالف ہے۔۔۔۔۔ان لوگوں میں سے ہے جن کے حق میں رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ آخر زمانہ میں دجّال کذّاب پیدا ہوں گے ان سے اپنے آپ کو بچاؤ، تم کو گمراہ نہ کردیں اور بہکا نہ دیں۔ اس (قادیانی) کے چوزے (یعنی آپ لوگ بشمولیت حضرت مولوی نورالدین صاحب جو منان کے باپ اور مولوی اسماعیل غزنوی کے نانا اور اس گالیاں دینے والے کے بھائی کے خسر تھے) ہنود اور نصاریٰ کے مخنث ہیں۔‘‘۵۵
گو یا جب مولوی عبدالواحد غزنوی کا پوتا بارڈر پر آپ لوگوں کو یہ کہنے گیا تھا کہ منان تقویٰ میں سب سے زیادہ ہے تو اس کے معنے یہ تھے کہ ہند و اور نصاریٰ کا مخنث سب سے زیادہ ہے کیونکہ جب احمدی ہنود اور نصاریٰ کے مخنث ہیں تو اگر منان احمدی ہے اور وہ احمدیوں میں سب سے بڑا ہے تو پھر وہ ہندوؤں اور عیسائیوں کا سب سے بڑا مخنث ہے۔
چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کہتے ہیں کہ مولوی عبدالواحد کا ایک الگ فتویٰ بھی ہے جو اُس نے عدالت میں لکھوایا تھا کہ مرزا قادیانی کافر ہے اور اس کے مرید سب کافر ہیں۔ اور جو کوئی ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ اب مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی اور مولوی داؤد صاحب غزنوی اور خالد صاحب (ابن مولوی محمد اسماعیل صاحب) جنہوں نے بارڈر پر جا کر بنگالی وفد کے سامنے کہا تھا کہ مولوی منان سب سے بڑے متقی ہیں بتائیں کہ آیا وہ کافر ہیں یا نہیں؟ اور آیا ان کے کفر میں شک کرنے والا بھی کافر ہے یا نہیں؟ جیسا کہ ان کے دادا نے کہا تھا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہاں تک لکھا ہے کہ مولوی اسماعیل غزنوی کی ماں یعنی حضرت خلیفہ اول کی بڑی بیٹی کی وفات بھی میرے مباہلہ کے نتیجہ میں ہوئی۔ مولوی عبدالحق غزنوی نے جو مولوی عبدالواحد غزنوی کا چھوٹا بھائی تھا پیشگوئی کی تھی کہ میرے گھر بیٹا پیدا ہوگا اور مرزا صاحب ابتر مریں گے۔ حضرت صاحب کہتے ہیں تم نے تو کہا تھا کہ تمہارے گھر بیٹے پیدا ہوں گے اور ہمارے ہاں کوئی نہیں ہوگا لیکن خدا نے میرے گھر میں دو اور بیٹے دے دیئے۔
’’اور وہ دونوں پیشگوئیاں جو صدہا انسانوں کو سنائی گئی تھیں پوری ہوگئیں۔ اب بتلاؤ کہ تمہاری وہ پیشگوئیاں کہاں گئیں۔ ذرا جواب دو کہ اس فضول گوئی کے بعد کس قدر لڑکے پیدا ہوئے۔ ذرا انصاف سے کہو کہ جب کہ تم منہ سے دعویٰ کر کے اور اشتہار کے ذریعہ سے لڑکے کی شہرت دے کر پھر صاف نامراد اور خائب و خاسر رہے۔ کیا یہ ذلّت تھی یا عزّت تھی؟ اور اس میں کچھ شک نہیں کہ مباہلہ کے بعد جو کچھ قبولیت مجھ کو عطا ہوئی وہ سب تمہاری ذلّت کا موجب تھی۔‘‘56
پھر فرماتے ہیں اس نے میرے خلاف دعائیں کیں۔ اُس کی دعاؤں کا کیا انجام ہوا اور میری دعاؤں کا کیا انجام ہوا۔
’’اب وہ کس حالت میں ہے اور ہم کس حالت میں ہیں۔ دیکھو اس مباہلہ کے بعد ہر ایک بات میں خدا نے ہماری ترقی کی اور بڑے بڑے نشان ظاہر کئے۔ آسمان سے بھی اور زمین سے بھی۔ اور ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے دیا۔ اور جب مباہلہ ہوا تو شاید چالیس آدمی میرے دوست تھے اور آج ستر ہزار کے قریب ان کی تعداد ہے۔ (اور اب خدا کے فضل سے وہ دس لاکھ کے قریب ہے اور تھوڑے ہی دنوں میں دس کروڑ سے بھی زیادہ ہو جائے گی اِنْشَاءَ اللّٰہُ)‘‘57
پھر فرماتے ہیں:۔
’’لطف تب ہو کہ اوّل قادیان میں آؤ اور دیکھو کہ ارادت مندوں کا لشکر کس قدر اِس جگہ خیمہ زن ہے۔ اور پھر امرتسر میں عبدالحق غزنوی کو کسی دکان پر یا بازار میں چلتا ہوا دیکھو کہ کس حالت میں چل رہا ہے۔‘‘58
پھر فرماتے ہیں کہ تمہارے مباہلے کا نتیجہ یہ نکلا کہ تمہارے بھائی کا بھی خانہ ویران ہو گیا۔ ۵۹
تمہارے بھائی مولوی عبدالواحد کا بھی خانہ برباد ہو گیا یعنی مولوی اسماعیل غزنوی کے باپ کا جس کی بیوی حضرت خلیفہ اول کی بڑی بیٹی تھی اور فرماتے ہیں یہ میرے مباہلہ کا نتیجہ تھا۔
غرض یہ خاندان ، سلسلہ کا پرانا دشمن ہے۔ ان کے دادا نے پیشگوئی کی ہوئی ہے کہ ان کو نورِ قادیان یعنی صداقتِ احمدیت نصیب نہیں ہوگی اور ہمیشہ اس کے دشمن رہیں گے۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ اب منان اور عبدالوہاب سے انہوں نے اس فتنہ کے موقع پر خاص یارانہ گانٹھا ہے جس کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی مرحوم رحمۃ اللہ علیہ کی پیشگوئی کے مطابق مولوی عبدالمنان اور مولوی عبدالوہاب بھی احمدی نہیں رہے کیونکہ اگر ان میں احمدیت رہتی تو مولوی عبداللہ صاحب غزنویؒ کی پیشگوئی کے مطابق ان کے پوتے اور ان کے پڑپوتے ان کی دوستی اور ان کی حمایت نہ کرتے۔ مگر چونکہ وہ ان کی حمایت میں ہیں معلوم ہوا کہ ان لوگوں میں بھی احمدیت باقی نہیں رہی۔ اگر باقی ہے تو پھر مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کی پیشگوئی جھوٹی جاتی ہے حالانکہ وہ ایک راست باز انسان تھے۔
دسمبر 1954ء میں مولوی عبدالوہاب صاحب نے لاہور میں کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصّلوٰۃ والسّلام نے اپنی اولاد کیلئے صرف دنیوی ترقیات کے لئے دعا فرمائی ہے مگر حضرت خلیفہ اوّل نے اپنی اولاد کو خدا کے سپرد کر دیا۔ چنانچہ ڈاکٹر عبدالقدوس صاحب نواب شاہ سندھ کی شہادت ہے کہ:۔
”عاجز دسمبر 1954ء کے قافلہ کے ساتھ جو کہ جلسہ سالانہ پر قادیان جانے والا تھا لاہور جودھامل بلڈنگ گیا۔ رات جو دھامل بلڈنگ میں گزاری۔ صبح نماز فجر باجماعت پڑھنے کے بعد بیٹھے تھے کہ مولوی عبدالوہاب صاحب آگئے اور پوچھا کہ جماعت ہوگئی ہے؟ بتانے پر کہ جماعت ہوچکی ہے انہوں نے خود اکیلے ہی نماز پڑھ لی۔ مولوی عبدالوہاب صاحب کہنے لگے (جیسے کہ درس دیا جاتا ہے) کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اولاد کیلئے دنیاوی ترقیات کے لئے دعا فرمائی ہے جیسے
دے ان کو عمر و دولت
پھر کہا کہ آپ دیکھیں حضور کی اولاد دنیا کے پیچھے لگ کر پریشانیوں اور تکلیفوں میں مبتلا ہے کیونکہ دنیا کے پیچھے لگ کر انسان سکونِ قلب حاصل نہیں کر سکتا۔“
ان کا یہ درس یا تقریر بتاتی ہے کہ ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کوئی ایمان نہیں رہا ورنہ وہ حضرت خلیفہ اوّل کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ترجیح نہ دیتے ۔ پھر ان کی بات بھی غلط ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لئے دنیا نہیں مانگی بلکہ دین مانگا ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔
کر ان کو نیک قسمت دے ان کو دین و دولت
کر ان کی خود حفاظت ہو ان پہ تیری رحمت
دے رُشد اور ہدایت ، اور عُمر اور عزت
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ
شیطان سے دُور رکھیو! اپنے حضور رکھیو!
جاں پُر ز نور رکھیو! دل پُر سرور رکھیو!
ان پر میں تیرے قرباں رحمت ضرور رکھیو!
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ
یہ تینوں تیرے بندے رکھیو نہ ان کو گندے
کر دُور ان سے یا ربّ! دنیا کے سارے پھندے
چنگے رہیں ہمیشہ کریو نہ ان کو مندے
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِیْ
اے میری جاں کے جانی ! اے شاہِ دو جہانی!
کر ایسی مہربانی ، ان کا نہ ہووے ثانی
دے بخت جاودانی! اور فیض آسمانی
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
اے واحد و یگانہ! اے خالقِ زمانہ
میری دعائیں سن لے اور عرضِ چاکرانہ
تیرے سپرد تینوں! دیں کے قمر بنانا
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ 60
مولوی عبدالوہاب کے خیال میں رُشد اور ہدایت اور دین اور فیضِ آسمانی اور دین کا قمر ہونا یہ سب دنیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کو تو دنیا سوجھی مگر حضرت خلیفہ اوّل کو جو اُن کے غلام تھے دین سوجھا۔
پھر مولوی عبدالوہاب کا یہ کہنا کہ :۔ ’’حضور کی اولاد دنیا کے پیچھے لگ کر پریشانیوں اور تکلیفوں میں مبتلا ہے کیونکہ دنیا کے پیچھے لگ کر انسان سکونِ قلب حاصل نہیں کرسکتا۔‘‘ یہ بھی ان کے خاندان کے نظریہ کی رُو سے غلط ہے۔ کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ مولوی عبدالمنان آخری وقت میں جاتے ہوئے اِدھر سلسلہ کا روپیہ ناجائز طور پر استعمال کر رہے تھے اور اُدھر دوسرے احمدیوں سے روپیہ منگوارہے تھے۔ چنانچہ تحریک جدید اور اورینٹل کارپوریشن کے روپیہ میں انہوں نے جو ناجائز تصرف کیا اُس کے متعلق چودھری احمد جان صاحب وکیل المال تحریک جدید کی شہادت ہے کہ :۔
’’میاں عبدالمنان صاحب عمر جو تحریک جدید میں نائب وکیل التصنیف اور اورینٹل کارپوریشن کے چیئرمین تھے گذشتہ سال مجلس تحریک جدید نے سات رہائشی کوارٹروں اور مسجد کی تعمیر کا کام ان کے سپرد کیا اور ان تعمیرات کے لئے 27000 روپے کا بجٹ منظور کیا جس میں سے میاں عبدالمنان صاحب نے 26998 روپے خزانہ تحریک جدید سے برآمد کرائے۔ اس میں سے 23843 روپے کوارٹروں کی تعمیر پر خرچ ہوئے۔ باقی رقم انہوں نے نہ تحریک جدید کو واپس کی نہ مسجد بنوائی۔ بلکہ کم وبیش 3700 روپے بصورت سامان تعمیر وغیرہ اورینٹل کمپنی کی طرف منتقل کئے اور وہاں سے اپنی ذاتی دکانوں کی تعمیر پر خرچ کر لئے۔ اورینٹل کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے کمپنی کی دکانوں اور پریس کی عمارت بنانے کے لئے ساڑھے بارہ ہزار روپے تک خرچ کرنے کی میاں عبدالمنان کو منظوری دی۔ انہوں نے کمپنی کی عمارت کے ساتھ ہی اپنی سات عدد دکانات بھی تعمیر کیں اور بورڈ کی اجازت کے بغیر اپنی ذاتی اور کمپنی کی تعمیرات کا نہ صرف حساب اکٹھا رکھا بلکہ 623 روپے کی قلیل رقم کے سوا اپنی دکانوں کا سارا خرچ کمپنی کے فنڈز میں سے کیا جس کے نتیجہ میں ان تعمیرات پر اٹھارہ ہزار روپے کے قریب مجموعی خرچ ہوا جس میں تحریک جدید کی منتقل شدہ رقم بھی شامل ہے۔ اس میں سے ان کی اپنی دکانوں کا خرچ ساڑھے دس ہزار روپے اور باقی قریباً ساڑھے سات ہزار روپے کمپنی کی عمارت کا خرچ ہے۔ اس طرح (اگر وکیل المال صاحب کی رپورٹ صحیح ہے تو) میاں عبدالمنان صاحب تحریک جدید اور کمپنی کا دس ہزار روپیہ ناجائز طور پر اپنے تصرف میں لائے جو بعد میں 14؍اکتوبر کو ان سے وصول کر لیا گیا۔“
اسی طرح چودھری ظہور احمد صاحب آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ کی شہادت ہے کہ :۔ ”میں نے صدر انجمن احمدیہ کے آڈیٹر کی حیثیت سے جب جلسہ سالانہ 1953ء کے حسابات کی پڑتال کی تو مجھے معلوم ہوا کہ صدر انجمن احمدیہ کے منظور شدہ قواعد کے ماتحت جو رقم یا تو محکمہ کے سیف (SAFE) میں نقد موجود ہونی چاہئے تھی یا صدر انجمن احمدیہ کے صیغہ امانت میں جلسہ سالانہ کی امانت میں جمع موجود ہونی ضروری تھی اُس میں سے مبلغ 1899 روپے 1 آنہ 3 پائی کم تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جبکہ مولوی عبدالمنان صاحب افسر جلسہ سالانہ تھے۔ جب مولوی عبدالمنان صاحب جلسہ سالانہ کے کام سے تبدیل کئے گئے تو یہ تمام کی تمام رقم کلرک غلام احمد صاحب کے نام پیشگی ظاہر کی گئی جو اُس وقت محرر جلسہ سالانہ تھے۔
میں نے اس معاملہ میں مزید چھان بین کی اور متعلقہ کارکنانِ دفتر کے بیانات لئے اور پرانا ریکارڈ دیکھا تو معلوم ہوا کہ 1949ء میں 500 روپے کی رقم مولوی عبدالمنان صاحب نے لی تھی۔ اس رقم میں سے مختلف وقتوں میں انہوں نے کچھ رقم واپس کی اور ابھی تک 179 روپے 12 آنے 6 پائی اس پانسو کی رقم میں سے ان کے تصرف میں ہیں اور باوجود بار بار کے مطالبات کے یہ رقم ابھی واپس نہیں ہوئی۔ اسی طرح اسی زمانہ میں 50 روپے دفتر جلسہ سالانہ کی نقدی میں سے پیشگی کا نام دے کر غلام رسول چک 35 کو دلائے گئے۔ یہ رقم بھی با وجود مطالبات کے واپس نہیں ملی۔ اس کے علاوہ 87 روپے 8 آنے مولوی علی محمد صاحب اجمیر ی کو دلائے گئے۔ یہ رقم بھی واپس نہیں ہوئی۔
اس تحقیقات سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس 1899 روپے 1 آنہ 3 پائی کی رقم کا بیشتر حصہ مولوی عبدالمنان صاحب یا ان کے احباب نے لیا ہوا تھا لیکن تمام رقم ایک ماتحت کارکن کے نام پیشگی دکھائی ہوئی تھی۔
خاکسار ظہور احمد آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ“
پھر علاوہ ان بدعنوانیوں کے جو کہ مالی معاملات کے متعلق اورینٹل کمپنی میں مولوی عبدالمنان صاحب نے کی ہیں یا سلسلہ کے روپیہ سے جلسہ سالانہ کے کام میں کی ہیں انہوں نے یہ بھی کوشش شروع کر دی تھی کہ کچھ روپیہ جمع کرلیں تا کہ وقت ضرورت کام آئے جس سے ان کی
نیتوں کا پتا لگتا ہے۔ چنانچہ ان کا ایک خط پکڑا گیا ہے جس کا فوٹو ہمارے پاس موجود ہے۔ انہوں نے افریقہ میں ایک احمدی دوست کو لکھا کہ میں تمہارے لڑکے کی شادی کرانے لگا ہوں تم پانسو پونڈ (جو آج کل کے لحاظ سے سات ہزار روپیہ بنتا ہے) بھیج دو۔ یہ خط اس دوست نے اپنے ایک دوست کو جو پاکستان میں ہیں بھیج دیا اور اس نے فوٹو لے کر ہمیں بھجوا دیا۔ وہ خط یہ ہے۔
’’ربوہ مکرم و محترم چودھری صاحب 17/1/1956ء اَلسَّلَامُ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰہِ آپ کا خط موصول ہوا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ چودھری منصور احمد اور ان کی والدہ بفضلہٖ تعالیٰ بخیریت ہیں۔ پرسوں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سے منصور احمد صاحب کی ملاقات ہوئی تھی آج ابھی ابھی حضرت ......... خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی ملاقات کے بعد واپس آئے ہیں۔ حضور منصور احمد سے آپ کے اور آپ کے کاروبار کے متعلق دریافت فرماتے رہے۔
عزیز کی شادی کے سلسلہ میں ایک جگہ تجویز کی گئی ہے۔ لڑکی بی۔اے پاس ہے اور اس وقت بی ٹی میں لاہور کالج میں پڑھ رہی ہے۔ لڑکے کے دادا نہایت مخلص اور سلسلہ کے فدائی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ والد آجکل قادیان میں مقیم ہیں۔ لڑکی تعلیم یافتہ اور مخلص ہے۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو یہ رشتہ پسند ہے۔ لڑکی کے ایک چچا یہاں سلسلہ کے مبلّغ ہیں۔ دوسرے چچا مولوی صالح محمد صاحب پیچھے سلسلہ کی طرف سے انگلستان بھجوائے گئے تھے۔ آج کل مغربی افریقہ گولڈ کوسٹ ان کا تبادلہ ہو گیا ہے۔
دادا کا نام فضل احمد صاحب ہے اور والد کا عبد الرحیم۔ لڑکی کا ایک بھائی یہاں رہتا ہے۔ کالج میں زیر تعلیم ہے اور تبلیغ کی ٹریننگ لے رہا ہے ان کی ذات راجکمار یا راجپوت ہے۔ میرے خیال میں رشتہ موزوں ہے۔ منصور احمد اور عزیزہ نسیم کو پسند ہے۔
شادی کے اخراجات کے سلسلہ میں میرا ذاتی نکتہ نگاہ یہ ہے کہ معمولی سے اخراجات کافی ہوتے ہیں۔ اسلام میں تکلّفات نہیں اور یہاں بھی عام حالات میں زیادہ اخراجات کی ضرورت نہ تھی۔ لیکن اس وقت صورت حال یہ ہے کہ لڑکی نے اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر ہزاروں میل دور جانا ہے پھر وہاں کے حالات بھی لڑکی والوں کے سامنے نہیں ہیں۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ابھی باقی عزیزوں کے رشتے بھی کرنے ہیں اور ضرورت ہے کہ پہلی شادی کے بعد راستے کھل جائیں اور کئی لوگوں کی نظریں اس پہلی شادی پر ہیں اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں کیا خرچ ہوتا ہے اس سے وہ مالی اور دوسرے حالات کا اندازہ کریں گے اور میرے سامنے یہ حقیقت بھی ہے کہ سونا اور کپڑا افریقہ میں یہاں پاکستان کے مقابلہ میں سستا ہے۔
ان تمام حالات کو دیکھ کر میری رائے یہ ہے کہ شادی کے تمام اخراجات کے لئے پانصد پونڈ (یعنی آجکل کے لحاظ سے سات ہزار روپیہ) کافی ہوں گے۔ علاوہ حق مہر کے۔ یہ روپیہ بذریعہ ڈرافٹ بھجوانے کی ضرورت نہیں آپ یہ روپیہ وہاں کی جماعت میں میرے نام پر جمع کرا دیں اور رسید مجھے بھجوا دیں میں یہ روپیہ یہاں منصور احمد کی والدہ کو ادا کر دوں گا تا وہ اپنی نگرانی میں زیور کپڑا وغیرہ پر صَرف کریں۔ پس آپ ڈرافٹ بینک نہ بھجوائیں بلکہ وہاں میرے نام پر رقم جمع کروا دیں۔ میں یہاں اس کے مطابق رقم ادا کرا دوں گا۔
مہر اندازاً لڑکے کی ایک سال کی آمد کے برابر ہونی چاہئے جو میرے خیال میں آٹھ ہزار روپیہ ہو گی۔
خاکسار عبدالمنان عمر (دستخط)“
غرض انہوں نے اِدھر سلسلہ کا کچھ مال اِدھر اُدھر استعمال کیا اور کچھ لوگوں سے منگواتے رہے۔
یہ جو عبدالقدوس صاحب نواب شاہ کی گواہی ہے کہ میاں عبدالوہاب صاحب نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لئے دنیا مانگی اور ہمارے باپ نے ہمارے لئے دین مانگا ، اس کی مزید شہادت لاہور کی مجلس خدام الاحمدیہ نے بھجوائی ہے کہ ایک احمدی سے ایک پیغامی نے آکر کہا کہ میاں منان کہتے ہیں کہ ہم تو چُپ کر کے بیٹھے ہیں کیونکہ ہمارے باپ نے ہمیں خدا کے سپرد کیا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اولاد کو دنیا کے سپرد کیا تھا۔ یہ جوش نکال لیں۔ سال، دو سال ، پانچ سال خوب جوش نکالیں پھر ٹھنڈے ہو جائیں گے۔ یہ شہادت بھی ہمارے پاس محفوظ ہے۔
اب تم جو مبائعین کی جماعت ہو اور جنہوں نے لکھا تھا کہ قیامت تک ہم خلافت احمدیہ کو قائم رکھیں گے تم بتاؤ کہ کیا مولوی عبدالمنان کے قول کے مطابق دو تین سال میں ٹھنڈے پڑ جاؤ گے یا قیامت تک تمہاری اولادیں خلافت احمدیہ کا جھنڈا کھڑا رکھیں گی؟“
اس پر چاروں طرف سے آوازیں آئیں کہ ہم قیامت تک خلافت احمدیہ کا جھنڈا کھڑا رکھیں گے۔
’’اکتوبر 1955ء میں جب صوفی مطیع الرحمٰن صاحب شدید ذیابیطس سے فوت ہوئے تو رشید احمد صاحب بٹ ضلع نواب شاہ سندھ کی گواہی کے مطابق میاں عبدالسلام نے کہا کہ صوفی مطیع الرحمٰن صاحب کا علاج نہیں کروایا گیا اس لئے مر گئے۔ حالانکہ ان کو ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور سینکڑوں روپیہ سلسلہ نے ان پر خرچ کیا تھا۔
میاں محمد عبداللہ صاحب سابق انجینئر ایران حال نواب شاہ سندھ لکھتے ہیں کہ میاں وہاب نے ایک دفعہ کہا کہ حضرت صاحب کی مجلسِ عرفان میں رکھا ہی کیا ہے۔
پھر 1955ء کے شروع کے متعلق ملک صاحب خاں صاحب نون ریٹائرڈ ڈپٹی کمشنر بیان کرتے ہیں کہ جب میاں عبدالمنان صاحب کا مکان دوسری جگہ بننے لگا تو میں نے بھیرہ کے تعلقات کی وجہ سے ان سے کہا کہ میاں صاحب! میں نے تو آپ کی صحبت حاصل کرنے کے لئے آپ کے قریب مکان بنایا تھا مگر آپ اب کہیں اور چلے ہیں۔ تو اس پر میاں عبدالمنان صاحب آگے بڑھے اور میرے سینہ کی طرف ہاتھ بڑھا کر ہلایا اور کہا ملک صاحب! آپ گھبرائیں نہیں۔ ہم جہاں بھی جائیں گے آپ کو ساتھ لے کر جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں اُس وقت تو میں اس کا مطلب نہ سمجھا لیکن گھبرا گیا اور بعد میں جب یہ فتنہ پیدا ہوا تو میں باقاعدہ اخبار میں دیکھتا تھا کہ اس میں میاں عبدالمنان کا نام بھی آتا ہے یا نہیں۔ جب میں نے ان کا نام پڑھا تو استغفار پڑھا کہ ان کی یہی غرض تھی کہ مجھے بھی اس فتنہ میں ملوث کریں۔
ملک صاحب سرگودھا کے مشہور خاندان ٹوانہ اور نون میں سے ہیں اور ڈپٹی کمشنر رہ چکے ہیں۔ گوجرانوالہ سے ریٹائر ہوئے۔ ملک فیروز خاں صاحب نون جو اس وقت وزیر خارجہ ہیں اُن کے بھتیجے ہیں۔ چنانچہ ملک صاحب کا اصل خط اس شہادت کے سلسلہ میں ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ ملک صاحب لکھتے ہیں:۔
’’سرگودھا میرے آقا! سَلَّمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی 17/9/ء1956 اَلسَّلَامُ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهٗ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت کاملہ اور عمر خضر عطا فرمائے۔ اٰمِیْنَ ثُمَّ اٰمِیْنَ۔ چونکہ حضور پُرنور امامُ الوقت اور خلیفۂ وقت ہیں اللہ تعالیٰ کی نصرت حضور کی تائید میں ہے اور اِنْشَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی ہمیشہ رہے گی اور دشمنان خائب و خاسر اور منہ کی کھائیں گے۔ اِنْشَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی ضرور ضرور۔ میں ایک واقعہ حضور کی خدمتِ بابرکت میں گوش گزار کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ گواہ ہے کہ اس میں ذرّہ بھر بھی شک و شبہ نہیں بلکہ عین اصل واقعہ ہے۔ جب میں نے ربوہ والے مکان کی جگہ کے متعلق حضور پُرنور کے پاس شکایت کی اور حضور نے اپنے ساتھ کچے مکانوں میں مجھے اور ناظر متعلقہ (جو اُس وقت غالباً عبدالرشید صاحب تھے) کو بلایا۔ میں نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھے شکایت نہیں ہے۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ ایک تو حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے بہت زور دیا کہ یہی جگہ لے لوں اور دوسرے یہ کہ
پسرانِ حضرت خلیفہ اول میرے ہمسایہ تھے۔ یہ بات میرے واسطے بہت ہی خوشی و تسلّی کی ہوئی۔ گو میں بذاتِ خود اس جگہ کو پسند نہیں کرتا تھا۔ خیر مکان بنایا، بن گیا۔ جب ناظر صاحبان کے مکان مکمل ہوئے تو میاں عبدالمنان صاحب اس نئے مکان میں چلے گئے اور جب میں ربوہ گیا تو مجھے معلوم ہوا۔ اتفاق سے منان صاحب مجھے ملے۔ میں نے کہا واہ مولوی صاحب! آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے تو اس نے ذرا آگے آ کر ذرا آہستہ آواز میں دایاں ہاتھ اٹھا کر میرے سینہ کے برابر کر کے کہا۔ ”تسلّی رکھو’جدے جاواں گے تہانوں نال لے جاواں گے۔‘ “ اُس وقت میں نے بہتیرا زور لگایا مگر مجھے اِس مہمل بات کی سمجھ نہ آئی جو متواتر میرے دل میں چبھتی رہی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی شان مَیں وجہ نہیں بتلا سکتا کہ کیوں میرا اُنس و کشش و محبت اُن سے دن بدن کم ہوتی گئی حتّٰی کہ جب اماں جی کی وفات ہوئی ڈاک خانہ کے پاس کھڑے کھڑے ہی میں نے منان سے اظہارِ افسوس کیا اور ان کے مکان تک بھی نہ گیا۔ نوبت بایں جا رسید والا معاملہ ہوا کہ جب دو دفعہ منان صاحب میرے سامنے آئے تو میں نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ بھی اُن سے نہیں کی۔ میں نہیں بتلا سکتا کہ کونسی غیبی طاقت اندر ہی اندر کام کر رہی تھی۔ جب میں نے یہ فتنہ پڑھا تو ہر پرچہ الفضل کو اوّل سے آخر تک پڑھتا رہا اور خاص توجہ اس طرف تھی کہ منان صاحب کا بھی کہیں ذکر ہے حتّٰی کہ اُن کے خیالات کے متعلق اطلاع آمدہ امریکہ سے میرا وہ پُرانا مُعمّہ حل ہوا کہ :۔
”’جدے جاواں گے تہانوں نال لے جاواں گے۔‘ “ کا کیا مدّعا تھا۔
اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر تحریر کرتا ہوں کہ اس میں ذرّہ بھر بھی جھوٹ نہیں۔
نوٹ۔ میں نے اس کا ذکر بہت دن ہوئے محترم جناب مرزا عبدالحق صاحب سے کیا تھا۔
والسلام حضور کا ادنیٰ خادم صاحب خان نون“
اِسی طرح مولوی محمد احمد صاحب جلیل کی شہادت ہے کہ :۔
”1۔ چند سال قبل جب میاں عبدالمنان صاحب جامعہ احمدیہ میں پڑھایا کرتے تھے میں کسی کام کی غرض سے انہیں ملنے کے لئے اُن کے مکان پر گیا۔ دورانِ گفتگو میں انہوں نے اپنے جامعہ میں تقرر پر عدمِ اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس رجیم (REGIME) میں ہمارے لئے (یا یہ کہا کہ میرے لئے) کوئی جگہ نہیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ میری طبیعت پر ان کے متعلق یہ اثر پیدا ہوا کہ وہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے قائم کردہ نظام سے شاکی اور سخت غیر مطمئن ہیں۔ 2۔ تحریک جدید کے ایک کوارٹر کی تعمیر میں قواعد میونسپل کمیٹی کی خلاف ورزی پر سیکرٹری کمیٹی صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب کی شکایت پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے مجلس تحریک جدید کو جرمانہ کیا تھا اس کے متعلق مجھ سے بات کرتے ہوئے میاں عبدالمنان صاحب نے کہا کہ نہ کمیٹی کا کوئی ایسا قاعدہ ہے جس کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور نہ قواعد کی رُو سے یہ جرمانہ ہوسکتا ہے یہ سب طاقت اور اقتدار کا نتیجہ ہے۔ 3۔ ایک دفعہ میرا ایک معاملہ جس کا حضرت میاں شریف احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب سے تعلق تھا اس کے متعلق بات کرتے
ہوئے ان دونوں حضرات کے متعلق یہ لفظ میاں عبدالمنان صاحب نے کہے کہ دیکھو! کس طرح ان لوگوں کا خون سفید ہو گیا ہے۔
4۔ میاں عبدالمنان صاحب جب امریکہ گئے تو امریکہ جانے کی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی طرف سے اجازت ملنے کے متعلق میری بیوی سے ذکر کرتے ہوئے امتہ الرحمن صاحبہ اہلیہ میاں عبدالمنان صاحب نے حضور کے متعلق یہ کہا کہ انہوں نے اجازت تو دے دی ہے مگر اس بابل دا کی اعتبار ہے کہ ڈولے پاکے بھی کڈھ لئے۔“
خاکسار محمد احمد جلیل،،
اِس فتنہ کو مزید ہوا شیطان نے اس طرح دی کہ خدام الاحمدیہ میں جب ناصر احمد افسر تھا تو اُس نے حمید ڈاڈھا کو سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا اور اُس نے اس کو سزا دینی چاہی۔ اِس پر وہ اس کے مخالف ہو گیا۔ چنانچہ حافظ عبداللطیف صاحب اور اخوند فیاض احمد صاحب کی شہادتیں اس بارہ میں ہمارے پاس محفوظ ہیں جنہوں نے لکھا ہے کہ یہ اُسی وقت سے مرزا ناصر احمد صاحب کے خلاف بُغض وعِناد کا اظہار کرتار ہتا تھا۔
پھر چونکہ جلسہ سالانہ کا کام کئی سال تک میاں عبدالمنان کے سپرد ہوتا رہا ہے اس لئے وہ سلسلہ کے روپیہ میں سے اپنے ان ایجنٹوں کو پیشگیاں بھی دیتے رہے۔ چنانچہ ریکارڈ سے مولوی علی محمد اجمیری کے نام 87 روپے 8 آنے، حمید ڈاڈھا کے نام 35 روپے اور غلام رسول چک نمبر 35 کے نام 50 روپے پیشگی دیئے جانے ثابت ہیں۔ اِس طرح نفرت اور لالچ دونوں جذبات اکٹھے ہو گئے اور ان لوگوں نے میاں عبدالمنان کی تائید میں پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ جس طرح بعض منافقوں نے حضرت عمرؓ کی زندگی میں پروپیگنڈا شروع کیا تھا کہ جب حضرت عمرؓ فوت ہوں گے تو ہم فلاں کی بیعت کریں گے۔ لیکن وہ بھی خائب وخاسر رہے اور یہ بھی خائب وخاسر رہیں گے اور اللہ تعالیٰ خلافت احمدیہ کی خود حفاظت کرے گا اور جماعت کی خود راہنمائی کرے گا اور وہ کبھی ان منافقوں یا پیغامیوں کے چیلوں یا احراریوں کے چیلوں کو قریب بھی نہیں آنے دے گا۔
جب 1955ء میں مجھ پر فالج کا حملہ ہوا تو یہ بُغض اور زیادہ زور سے ظاہر ہونے لگا جیسا کہ شیخ نصیر الحق صاحب کی گواہی سے ظاہر ہے جو ذیل میں درج کی جاتی ہے۔
شیخ صاحب لکھتے ہیں:۔
’’سیدنا و امامنا حضرت ……… المصلح الموعود خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ جب حضور لاہور سے کراچی تشریف لے گئے دوسرے دن شام کو آپ کی خیریت سے کراچی پہنچنے کی اطلاع حاصل کرنے کے لئے سمن آباد سے رتن باغ پہنچا۔ میرے ساتھ میری چھوٹی بیوی بھی تھی۔ انہیں رتن باغ ٹھہرا کر چونکہ یہاں اطلاع کوئی نہیں ملی تھی میں جودھامل بلڈنگ میں گیا۔ لوگ مغرب کی نماز ادا کر چکے تھے اور حضور کی خیریت سے کراچی پہنچنے کے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔ میں مزید حالات معلوم کرنے کے لئے سید بہاول شاہ صاحب کی طرف متوجہ ہوا۔ انہوں نے تار کا ذکر کیا کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ حضور بخیریت تمام کراچی پہنچ گئے ہیں۔ جب میں واپس رتن باغ کو لوٹنے لگا تا اپنی بیوی کو ساتھ لے کر گھر سمن آباد چلا جاؤں مولوی عبدالوہاب صاحب نے مجھے آواز دی کہ حاجی صاحب! ٹھہر جائیں میں بھی چلتا ہوں۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ حاجی صاحب! آپ نے دیکھا کہ قوم کا کتنا روپیہ خرچ ہو رہا ہے؟ میں نے عرض کیا مولوی صاحب! حضرت صاحب تو فرما چکے ہیں کہ میں اپنا خرچ خود برداشت کروں گا پھر اعتراض کیسا؟ فرمانے لگے آگے تو سنو! میں نے کہا فرمائیے۔ کہنے لگے کہ دیکھو
اب خلیفہ تو (نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذَالِكَ) اپنا دماغ کھو چکا ہے وہ اس قابل نہیں کہ خلیفہ رکھا جاسکے۔ میں بجبْر خاموش رہا تا سارا ماجرا سُن سکوں اور جو گفتگو یہ کرنا چاہتے ہیں وہ رہ نہ جائے۔ میں نے کہا مولوی صاحب! بھلا یہ تو بتائیے کہ اب اور کون خلیفہ ہوسکتا ہے؟ کہنے لگے کہ میاں بشیر احمد صاحب اور چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کیا کم ہیں۔ اب میں نہیں رہ سکا تو میں نے کہا مولوی صاحب! آپ تو ایک بہت بزرگ ہستی کے فرزند ہیں آپ کو اتنا بھی علم نہیں کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرا خلیفہ نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ حضور کو جلد صحت عطا فرمائے۔ مولوی صاحب فرمانے لگے کہ بھئی اب تو یہ ممکن ہی نہیں۔ میں نے یہ بھی کہا کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرا خلیفہ بنانا تو کجا خیال کرنا بھی گناہ ہے چہ جائیکہ آپ ایسی باتیں کر رہے ہیں اور میرے لئے یہ امر نہایت تکلیف دہ ہو گیا ہے۔۔۔۔ پھر فرمانے لگے سنو سنو! میں نے عرض کیا کہ چونکہ میں نے سمن آباد جانا ہے اور نیلا گنبد سے بس لینی ہے اس لئے کچھ اور کہنا ہے تو چلتے چلتے بات کیجئے۔ کہنے لگے دیکھو یہ جو مضامین آج کل چھپ رہے ہیں انہیں میاں بشیر احمد صاحب درست کر کے پریس کو بھیجتے ہیں۔ وہ خود تو لکھ ہی نہیں سکتے۔ پھر یہ عجیب بات ہے کہ انہی میاں صاحب کو حضرت صاحب اپنے کمرہ میں سُلاتے ہیں۔ میں اس مُعمّہ کو نہیں سمجھ سکا۔ اسکے علاوہ بھی اور کئی ایسی باتیں کہیں جو میں بھول گیا۔۔۔۔۔۔
میں نے اگلے دن سارا واقعہ چودھری اسد اللہ خان صاحب کو ہائی کورٹ میں جا کر سنایا۔ انہوں نے فرمایا لکھ دو۔ میں نے وہیں بیٹھ کر لکھ دیا جو مجھے اُس وقت یاد تھا۔ چودھری صاحب نے فرمایا کہ آپ مولوی صاحب کے سامنے بھی یہی بیان دیں گے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو لکھ دیا ہے، آپ میرے ساتھ جودھامل بلڈنگ چلیں اور انہیں
میری موجودگی میں پڑھا دیں۔ چنانچہ ہم دونوں گئے۔ مولوی صاحب اپنی دکان میں موجود نہ تھے ہم انتظار کرتے رہے۔ کچھ دیر کے بعد مولوی صاحب تشریف لے آئے۔ میرا خط چودھری صاحب نے مولوی صاحب کو پڑھایا۔ مولوی صاحب کا رنگ زرد ہو گیا۔ کچھ سکتے کے بعد فرمانے لگے نہیں میں نے نہیں کہا۔ چودھری صاحب نے فرمایا لکھ دیجئے۔ کہنے لگے اچھا لکھ دیتا ہوں چنانچہ ان کے دفتر کا کاغذ لے کر مولوی صاحب نے لکھا کہ میں نے ہرگز کوئی ایسی بات نہیں کی جس کے متعلق حاجی صاحب نے لکھا ہے۔ چودھری صاحب فرمانے لگے کیا آپ اب بھی مُصِر ہیں؟ میں نے کہا ہاں! اور مجھے یہ کاغذات دیجئے۔ میں اس پر مزید لکھتا ہوں۔ چنانچہ میں نے یہ الفاظ لکھے کہ مجھے سخت صدمہ ہوا کہ مولوی صاحب ایک ایسی بزرگ ہستی کی اولاد ہیں جو ہمارے خلیفہ اوّل رہ چکے ہیں انہوں نے صریح جھوٹ بول کر مجھے ہی نہیں بلکہ حضرت خلیفہ اول کی روح کو بھی تکلیف پہنچائی ہے۔ مجھے ان سے یہ توقع نہ تھی کہ انکار کریں گے۔ مجھے معاً خیال ہوا کہ اگر احمدیت کا یہی نمونہ ہے تو غیر از جماعت لوگوں پر اس کا کیا اثر ہو گا۔ چنانچہ یہ دونوں تحریریں جناب چودھری اسد اللہ خاں صاحب اپنے ساتھ لے گئے۔‘‘
(خط مورخہ 1956ء-7-29)
اسی طرح میاں غلام غوث صاحب ہیڈ کلرک میونسپل کمیٹی ربوہ کی گواہی بھی قابلِ ذکر ہے۔ وہ لکھتے ہیں:۔
’’تقریباً تین چار ماہ کا عرصہ گزرا ہے تاریخ یاد نہیں حضرت ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب آنریری سیکرٹری میونسپل کمیٹی ربوہ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں مکرم مولوی عبدالمنان صاحب انچارج صیغہ تالیف وتصنیف تحریک جدید ربوہ کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت میاں منور احمد صاحب کے دستخطوں کی شناخت کروں جو انہوں نے کسی غلط تعمیر کے سلسلہ میں کمیٹی کے قواعد کے تحت مولوی عبدالمنان صاحب کو دیئے تھے۔ چنانچہ فدوی وہاں گیا اور مولوی عبدالمنان صاحب نے فرمایا کہ دیکھو یہ دونوں نوٹس موجود ہیں اور دستخط میاں منور احمد صاحب کے ہیں۔ ان دونوں میں کتنا تفاوت ہے۔ ان میں سے کونسا صحیح ہے اور کون سا غلط؟ (اُس وقت میرے ساتھ والی کرسی پر چودھری بشیر احمد صاحب نائب وکیل المال تحریکِ جدید بھی تشریف فرما تھے اور ہم دونوں مولوی عبدالمنان صاحب کے سامنے بیٹھے تھے) بندہ نے عرض کیا کہ چونکہ میں شروع سے کمیٹی میں حضرت میاں منور احمد صاحب کے ماتحت کام کر رہا ہوں مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ دونوں دستخط حضرت میاں منور احمد صاحب کے ہیں۔ گو ایک چھوٹا ہے اور ایک بڑا لیکن دستخط انہی کے ہیں۔ چونکہ اس کا مضمون ذرا مطابق قواعد مقرر الفاظ میں تھا اور زیادہ تر بحث مولوی عبدالمنان صاحب کے مضمون پر تھی غصہ سے بھرے ہوئے الفاظ میں آپ تقریر فرماتے رہے۔ آخر میں اُن کے منہ سے حسبِ ذیل الفاظ ظاہر ہوئے:۔
”میاں منور احمد وغیرہ اس لئے سختی کرتے ہیں اور ناجائز کرتے ہیں کہ وہ حضرت صاحب کے لڑکے ہیں یعنی خلیفہ صاحب کے۔ جس وقت ڈنڈا میرے ہاتھ میں آیا میں سب کو سیدھا کر دوں گا یا دیکھوں گا۔“
اُس وقت بندہ خاموش ہو کر واپس چلا آیا کیونکہ میاں صاحب بہت غصے میں تھے۔ بندہ نے اُسے SERIOUS نہیں لیا۔ البتہ جب دفتر کمیٹی میں پہنچا تو وہاں چودھری عبداللطیف صاحب اوورسیئر اور چودھری عنایت احمد صاحب اکاؤنٹنٹ و محمد الیاس چپڑاسی موجود تھے۔ میں نے ہنسی کے طور پر چودھری عبداللطیف صاحب اوورسیئر سے کہا کہ آپ نے میاں عبدالمنان صاحب سے ٹکر لی ہے اب خبردار ہو جاؤ وہ آپ سب کو سیدھا کر دیں گے کیونکہ وہ خلافت کے خواب دیکھ رہے ہیں (میں نے ان کے الفاظ سے یہی مفہوم سمجھا تھا کہ وہ خلافت کے خواب دیکھ رہے ہیں) چنانچہ اُس وقت یہ بات ہنسی مذاق میں آئی گئی ہو گئی۔ اب ہنگامی واقعات کی رونمائی پر چودھری عنایت احمد اور چودھری عبداللطیف صاحب نے مجھ سے کہا کہ لو بھائی تمہارا بیان کس قدر حقیقت کا انکشاف کر رہا تھا۔ اب ہم تمہارے بیان کو جو آج سے چار ماہ قبل تم نے ظاہر کیا تھا حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمتِ اقدس میں پیش کرنے لگے ہیں۔ میں نے کہا بیشک کوئی بات نہیں۔ میں نے سچی بات کہی تھی جو سُنی تھی۔ مجھے الہام تو ہوا نہیں تھا کہ چار ماہ بعد کیا واقعہ پیش آنے والا ہے۔
خاکسار غلام غوث 9/8/1956ء“
چودھری عبداللطیف صاحب اوورسیئر بھی گواہی دیتے ہیں کہ:۔ ”عرصہ قریباً اڑھائی تین ماہ کا ہوا ہے کہ ایک دن خاکسار ملک حفیظ الرحمٰن صاحب واقفِ زندگی نقشہ نویس (جو حضرت خلیفہ اول کے رضاعی رشتہ دار ہیں اس لئے ان کے بھی رشتہ دار ہیں) کے کوارٹر پر اُن کے پاس بیٹھا ہوا تھا میڈیم کوارٹر تحریکِ جدید جو میاں عبدالمنان صاحب کی زیر نگرانی تعمیر ہو رہا تھا کے خلافِ نقشہ تعمیر ہونے پر بات ہوئی۔ حفیظ صاحب نے بتایا کہ میاں صاحب موصوف ان کے پاس جی۔ ٹی۔ پی بائی لاز پر مشورہ کرنے
آئے تھے۔ اِسی طرح تعمیر کی اور باتیں بھی ہوئیں۔ پھر حفیظ صاحب نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چند روز ہوئے میاں عبدالرحیم احمد صاحب کی کوٹھی پر ایک دعوت تھی۔ اُس میں ہمارے خاندان کے حضرت خلیفہ اول کے خاندان سے تعلقات کی بناء پر میں بھی مدعو تھا۔ ڈاکٹر عبدالحق صاحب اور میاں نعیم احمد صاحب بھی شامل تھے۔ میاں عبدالمنان صاحب مجھے مخاطب کر کے باتیں کرتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ کہتے "کیا حفیظ صاحب ایسا نہیں؟ کیا حفیظ صاحب ایسا نہیں؟۔" (یعنی خلاف باتیں کرتے تھے)
میاں عبدالرحیم احمد صاحب کبھی آتے اور کبھی جاتے تھے۔ جب آتے تو میاں عبدالمنان صاحب کو مخاطب کر کے کہتے "میاں صاحب! اِس شریف آدمی کا ایمان کیوں خراب کرتے ہیں؟" یہ باتیں حفیظ صاحب نے بیان کرنے کے بعد خاکسار کو کہا "چودھری صاحب! آپ اپنی نمازوں میں سلسلہ کی ترقی کے لئے خاص طور پر دعائیں کیا کریں۔ آئندہ آنے والے ایام مجھے بہت خطرناک نظر آ رہے ہیں۔
میرے پوچھنے پر کہ میاں عبدالمنان صاحب کیا باتیں کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ وہ باتیں بتانے والی نہیں بہت خطرناک ہیں۔‘‘
اس کے بعد چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کی سفارش سے میاں عبدالمنان صاحب کو امریکہ جانے کا موقع ملا اور اس پروپیگنڈا نے اور شدت پکڑ لی اور یہ کہا جانے لگا کہ ساری جماعت میں میاں عبدالمنان جیسا کوئی لائق آدمی نہیں۔ انہوں نے مسند احمد کی تبویب جیسا عظیم الشان کام کیا ہے۔ حالانکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ تبویب کا ایک حصہ خود حضرت خلیفہ اول نے کیا ہوا تھا اور ان کا قلمی نسخہ لائبریری میں موجود تھا۔ 5 جون 1950ء کو مولوی عبدالمنان نے یہ فہرست لائبریری سے مستعار لی اور کچھ لوگوں کی مدد سے اس میں کچھ زیادتی کر کے اسے اپنی طرف منسوب کر لیا۔ پس کچھ حصہ اس کام کا خود حضرت خلیفہ اوّل کر چکے تھے باقی حصہ
مولوی عبدالمنان نے کیا۔ لیکن وہ حصہ بھی خود نہیں کیا بلکہ جب وہ جامعہ احمدیہ میں پروفیسر تھے تو دوسرے استادوں اور لڑکوں کی مدد سے کیا تھا۔ بلکہ شاہد کلاس کے ایک طالب علم محمود احمد مختار نے مجھے لکھا ہے کہ اس کا دیباچہ انہوں نے اردو میں لکھا تھا۔ پھر مولوی محمد احمد صاحب ثاقب کے ذریعہ سے مجھے دیا کہ میں اس کا عربی میں ترجمہ کروں۔ پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ علامہ احمد محمد شاکر مصری جو اخوان المسلمین کے بانی بنّا ر خاندان میں سے ہیں انہوں نے اس کتاب کا انڈیکس تیار کیا ہوا ہے اور اس کی چودہ جلدیں چھپ چکی ہیں جو میری لائبریری میں موجود ہیں۔ اسی طرح احمد عبدالرحمٰن کی تبویب "الفتح الربانی" کی پانچ مجلدات بھی چھپی ہوئی ہیں۔
ہمارے پاس منڈی بہاؤالدین سے مولوی محمد ارشاد صاحب بشیر کی شہادت آئی ہے کہ وہاں پیغامی یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ مولوی منان صاحب نے ساری حدیثیں جمع کی ہیں یعنی وہ جو تبویب تھی اس کا نام ساری حدیثیں جمع کرنا رکھا ہے اس لئے میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس کام کی کیا حقیقت ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ حدیثوں کی کتابیں کئی قسم کی ہیں۔ ایک مسند کہلاتی ہیں جن میں راوی کے نام کے لحاظ سے حدیثیں جمع کی جاتی ہیں خواہ وہ کسی مضمون کی ہوں۔ مثلاً حضرت ابوبکرؓ کی حدیثیں ایک جگہ، حضرت عمرؓ کی ایک جگہ، وَهَلُمَّ جَرًّا۔ مسند احمد حنبلؒ بھی اسی بناء پر مسند کہلاتی ہے۔ اور بخاری وغیرہ چونکہ مضمونوں کی بناء پر لکھتے ہیں اس لئے ان کو جامع کہتے ہیں۔ جیسے جامع بخاری۔ جامع مسلم۔ جامع ابی داؤد اور جامع ابن ماجہ۔ سُنن ابن ماجہ بھی اس کا نام مشہور ہے۔ اسی طرح جامع ترمذی۔ اگر وہ بہت اعلیٰ کتابیں ہوں تو انہیں صحیح کہہ دیتے ہیں۔ جیسے صحیح بخاری۔ ایک تیسری قسم کی حدیثوں کی کتابیں وہ ہیں جن میں براہِ راست حدیثیں درج نہیں کی گئیں بلکہ حدیث کی پہلی کتب میں سے ضروری حدیثیں اکٹھی کر لی گئی ہیں۔ ان میں ابن تیمیہ کی منتقیٰ ہے۔ سیوطی کی جامع الصغیر ہے۔ ہمارے ملک میں عام طور پر مشکوٰۃ اور بلوغ المرام مشہور ہیں۔ مسند احمد بن حنبلؒ پہلی قسم کی کتابوں میں سے ہے جس میں انہوں نے حدیثیں نقل کی ہیں۔ مگر انہوں نے یہ حدیثیں راویوں کے نیچے دی ہیں مضمون وار نہیں۔ حضرت خلیفہ اول کی خواہش تھی کہ مضمون وار بھی ان کو جمع کیا جائے تاکہ مضمون نکالنا آسان ہو۔ پس یہ تو جھوٹ ہے
کہ میاں منان نے حدیثیں جمع کی ہیں۔ مگر یہ صحیح ہے کہ جامعہ احمدیہ کے استادوں اور طالب علموں کی مدد سے اور کچھ حضرت خلیفہ اول کے کام کی مدد سے بخاری کے باب لے کر ان کے ماتحت مسند احمد بن حنبلؒ کی حدیثیں انہوں نے مضمون وار جمع کر دی ہیں۔ یہ کام ایسا ہی ہے جس طرح کہ ڈکشنری میں سے لفظ نکالنے۔ ہر ایک محنتی طالب علم یہ کام کر سکتا ہے۔ اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے حضرت خلیفہ اوّل کی خواہش کے مطابق میں نے علماء کو مقرر کر دیا ہے اور وہ کتاب مکمل ہو چکی ہے۔ اب وہ جامع کی شکل میں زیادہ مکمل صورت میں موجود ہے۔ حضرت خلیفہ اوّل کی خواہش بعض اور اصلاحات کی بھی تھی جن کو میں نے 1944ء کی مجلسِ عرفان میں بیان کیا تھا۔ اس کے متعلق بھی میں نے ہدایت دے دی ہے کہ ان کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔
وہ احمدی جن سے روپیہ جمع کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ جماعت کے فتنے پر اُسے خرچ کیا جائے وہ مولوی ابراہیم صاحب بقاپوری کے لڑکے ہیں۔ اور اسی طرح افریقہ کا ایک دوست ہے جو بچ گیا۔ اس کے بیٹے نے کہہ دیا کہ میں ایسا خرچ کرنا نہیں چاہتا۔ ان سے میں کہتا ہوں کہ تمہاری تو وہی مثل ہے کہ ”تیری جُوتی تیرے ہی سر“ تم سے ہی روپیہ لے کے تمہارے ہی خلاف استعمال کیا جانے والا تھا لیکن خدا نے تمہیں بچا لیا۔
یہ فتنہ اب بیٹوں سے نکل کر پوتوں تک بھی جا پہنچا ہے۔ چنانچہ میاں سلطان علی صاحب ولد فتح محمد صاحب سندھ سے لکھتے ہیں کہ:۔
”میں خدا کو حاضر ناظر جان کر ایمان سے کہتا ہوں کہ گزشتہ سال شروع سردی میں میرے ساتھ عبدالواسع عمر پسر مولوی عبدالسلام عمر اور دوسرے دو آدمی مولوی عبدالسلام عمر کی بستی نور آباد سے گوٹھ سلطان علی کو شام کے وقت آ رہے تھے۔ باتوں باتوں میں میاں عبدالواسع نے کہا کہ اگر انسان نیک ہو تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہ بھی مانا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ جس پر میں نے جواب دیا کہ اس طرح تو حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہ مانا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ پھر دو تین باتیں تبلیغی طور پر میں نے اور دوسرے ساتھیوں نے کیں پھر میاں صاحب چُپ ہو گئے۔
جس سے معلوم ہوا کہ اُن پر کچھ اثر ہوا ہے۔ پھر کچھ دنوں کے بعد میں نے مولوی عبد السلام صاحب عمر سے عبد الواسع کے متعلق کہا کہ میں نے ایسی بات سنی ہے اور مجھے افسوس ہوا ہے۔ تو مولوی صاحب نے کہا کہ نئی روشنی کا اثر نوجوانوں میں ہو گیا ہے۔“
ایک اور احمدی دوست عبدالرحیم صاحب کی شہادت ہے کہ مولوی عبد السلام صاحب نے جواب میں کہا کہ وہ ابھی بچہ ہے حالانکہ اُس وقت وہ ایم اے کر چکا تھا۔
اِسی طرح امتۃ الرحمن بنت مولوی شیر علی صاحب زوجہ میاں عبدالمنان صاحب عمر کا خط کسی نے بھیجا ہے جو مولوی عبد السلام کے لڑکے واسع کے نام ہے۔ اس خط کو کسی نے پکڑ کر بھیج دیا۔ وہ ہمارے پاس موجود ہے۔ اس میں اس نے لکھا ہے کہ:۔
”میری رائے میں تو آپ لوگوں کا جلد ہی آ جانا بہتر تھا لیکن دیکھئے آپ کے چچا کی کیا رائے ہے۔“
یعنی میری رائے تو یہ ہے کہ جلدی سے ربوہ آ جاؤ مگر منان ابھی امریکہ میں ہے وہ آ جائے تو پتا لگے گا کہ اس کی کیا رائے ہے۔ پھر لکھا ہے:۔
”لوگ یکے بعد دیگرے آپ لوگوں کے ماحول میں آویں گے۔“
یعنی ربوہ آ جائیں۔ ساری جماعت ٹوٹ کر آپ کے گرد جمع ہو جائے گی۔
پھر لکھا ہے:۔
”کہا کچھ جاتا ہے بتایا کچھ جاتا ہے۔ خطبوں کو اگر حسبِ سابق منشی ہی دیا کریں تو زیادہ بہتر ہے۔ کشتی نوح سے زیادہ اہم ان کے خطبے ہیں۔“
اِسی طرح امتۃ الرحمٰن زوجہ میاں عبدالمنان صاحب عمر نے ستمبر 1956ء میں اپنے جیٹھ کے بچوں کو لکھا کہ:۔
”ہمارے بزرگ دادا کو یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے تو کبھی بھی اپنی اولاد کو خدا کے سپرد نہ کیا تھا۔“
(اس خط کا عکس ہمارے پاس محفوظ ہے اور اُن کے بھائی دیکھ سکتے ہیں۔)
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات عبدالوہاب اور عبدالمنان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کہی تھی۔ مولوی شیر علی صاحب جیسے مخلص کی اس ناخلف بیٹی کو وہاب اور منان کی تو وہ بات بُری نہ لگی جو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف کہی تھی لیکن وہ بات بُری لگی جو جواب کے طور پر مبائعین نے حضرت خلیفہ اول کی اولاد کے متعلق کہی تھی۔
اب اخبار ”پیغام“ کے 5 دسمبر کے پرچہ میں سید تصدق حسین صاحب بغداد کا ایک خط چھپا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ "پیغام صلح" میں
”مولوی عبدالمنان صاحب عمر کا مکتوب فتنہ قادیان اور منافقین کو سمجھنے کے لئے اخوانِ ربوہ کو بصیرت کا کام دے گا۔“
ہم نے ”پیغام صلح“ کے سب پرچے دیکھ مارے ہیں ان میں وہ مضمون نہیں۔ مگر ہم کو ایک ٹریکٹ ملا ہے جس کے نیچے ”حقیقت پسند پارٹی“ لکھا ہوا ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ ان کا جتھا پیغامیوں کے ساتھ ہے اور پیغامی ان ٹریکٹوں کو جو "حقیقت پسند پارٹی" چھاپ رہی ہے اپنے آدمیوں کو دنیا میں چاروں طرف یہ کہہ کر بھجوا رہی ہے کہ میاں عبدالمنان نے لکھے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ یہ اُن کے یارِ غار ہیں ان کو پتا ہو گا کہ میاں عبدالمنان نے یہ ٹریکٹ لکھے ہیں۔ ورنہ وہ شخص جو ان کی جماعت کا بغداد میں لیڈر ہے یہ کیوں لکھتا کہ میاں عبدالمنان کا ٹریکٹ مل گیا ہے۔
غرض آدمؑ کے زمانہ سے لے کر اس وقت تک دین کو دنیا پر مقدم نہ کرنے کی وجہ سے نظامِ الٰہی کے خلاف بغاوتیں ہوتی چلی آئی ہیں اور آج کا پیغامی جھگڑا یا حضرت خلیفہ اول کے خاندان کا فتنہ بھی اِسی وجہ سے ہے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خدا تعالیٰ کے حکم سے اپنی جماعت
سے یہ عہد لینا کہ "میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا" اسی وجہ سے تھا۔ مگر افسوس کہ باوجود حضرت خلیفہ اول کے ہوشیار کر دینے کے ان کی اولاد اس فتنہ میں پھنس گئی۔ حالانکہ حضرت خلیفہ اول کی شہادت کو خود عبدالمنان نے 1945ء کے رسالہ فرقان میں شائع کیا تھا۔ اور پھر یہ شہادت الفضل 11؍دسمبر 1956ء میں بھی چھپ چکی ہے اور اس کے متعلق جلسہ سالانہ پر ایک ٹریکٹ بھی شائع ہوا ہے۔ دوست اسے دیکھ چکے ہوں گے۔ اس میں انہوں نے حضرت خلیفہ اول کا ایک نوٹ شائع کیا ہے جو دسمبر 1912ء کا لکھا ہوا ہے کہ مصلح موعود تیس سال کے بعد ظاہر ہوگا۔ چنانچہ 1944ء میں خدا تعالیٰ نے مجھے رؤیا دکھائی کہ تم مصلح موعود ہو۔ اس مضمون میں انہوں نے لکھا ہے کہ:۔
’’فرقان کے پچھلے شمارہ میں مَیں نے بڑے دردمند دل کے ساتھ ابتدائی چند صفحات قلمبند کئے تھے اور میں حد درجہ اس کا آرزومند تھا کہ کسی طرح ہمارے یہ بچھڑے ہوئے بھائی پھر ہم میں آ ملیں۔ اور اپنی طاقتوں کو باہمی آویزش میں ضائع نہ کریں بلکہ آپس میں مل کر متحدہ رنگ میں اکنافِ عالم میں اسلام کو پھیلانے اور پاک محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو بلند کرنے کیلئے خرچ کرسکیں کہ یہی اِس دور میں ہمارا اولین فرض اور ہماری زندگیوں کا بہترین مقصد ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اسی دردمندانہ جذبہ کی وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس احسان سے نوازا کہ میں آج اپنے بچھڑے ہوئے بھائیوں کے سامنے اِس آواز کی تائید میں جو گزشتہ پرچہ میں حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ الودود کے دامن سے اپنے دامن کو وابستہ کرلینے کے متعلق بلند کی گئی تھی۔ حضرت علامہ حاجی الحرمین سیّدنا نورالدین صدیق ثانی کی ایک زبردست شہادت کو پیش کرسکوں۔‘‘
وہ پیغامیوں کو تو 1945ء میں کہتا ہے کہ بچھڑے ہوئے بھائیو مل جاؤ اور اپنے آپ کو کہتا ہے کہ بھاگ جاؤ مبائعین کے پاس سے۔ چلے جاؤ ابلیس کی گود میں اور جماعت احمدیہ کے اتحاد کو چاک چاک کر دو۔ پھر آگے لکھتا ہے:۔
’’اے مُقَلِّبَ الْقُلوب خدا! تُو اس برادرانہ جنگ کو ختم فرما اور اپنے پیارے مسیح کے ان خادموں کو جو تیرے اس رسول کی تخت گاہ سے کٹ گئے ہیں انہیں اس پر مخلصانہ غور کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ان کے دلوں کو کھول دے اور اس طرح پھر سے انہیں لے آ کہ ہم سب مصلح موعود کی زیرِ ہدایت پہلو بہ پہلو کندھے سے کندھا جوڑے اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ(الفتح: ۳۰)۶۱ کا مصداق بنیں۔‘‘
سو تم تو منان کی تحریک کے مطابق بن گئے مگر وہ خود اس نعمت سے محروم ہو گیا۔ وہی شخص جو حضرت خلیفہ اول کی پیشگوئی ظاہر کر رہا تھا کہ انہوں نے پیشگوئی کی تھی کہ تیس سال کے بعد مصلح موعود ظاہر ہو گا سو وہ ظاہر ہو گیا ہے۔ وہی آج اپنے باپ کو جھوٹا کہہ رہا ہے اور اس کے دوست پیغامی کہتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول کی ہتک ہم کر رہے ہیں۔ ہتک ہم کرتے ہیں جو آپ کے بیان کی تائید کرتے ہیں یا ہتک ان کا بیٹا کرتا ہے اور پیغامی کرتے ہیں جو اپنے باپ کو اور اپنے پہلے خلیفہ کو جس کی انہوں نے بیعت کی تھی جھوٹا کہتے ہیں؟ اگر وہ توبہ نہ کریں گے تو خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکائیں گے اور نہ اجمیر ی اور نہ پیغامی، نہ محمد حسن چیمہ، نہ غلام رسول نمبر 35 ان کی مدد کرسکیں گے۔ کیونکہ خدا کی گرفت آدمیوں کے ذریعہ سے ظاہر نہیں ہوتی بلکہ قانونِ قدرت کے ذریعہ سے ظاہر ہوتی ہے۔ اور قانونِ قدرت حکومتوں کے ماتحت بھی نہیں وہ محض خدا تعالیٰ کے ماتحت ہے۔ اور خدا تعالیٰ نے مجھے پہلے سے خبر دی ہوئی ہے اور وہ الفضل 7؍ستمبر 1956ء میں چھپ بھی چکی ہے کہ اب تو پیغامی اور ان کے ساتھی کہہ رہے ہیں کہ ہم تمہاری مدد کریں گے لیکن فرشتوں نے آسمان پر چکر کھاتے ہوئے قرآن کی وہ آیتیں پڑھیں جو منافق یہودیوں کو کہا کرتے تھے کہ اگر تم سے لڑائی کی گئی تو ہم تمہارے ساتھ مل کر لڑیں گے اور اگر تم کو نکالا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے۔ خدا تعالیٰ کہتا ہے نہ یہ لڑیں گے، نہ نکلیں گے جھوٹے ہیں۔
اِسی طرح خدا تعالیٰ نے مجھے فرشتوں کے ذریعہ سے بتایا کہ یہی حال ان کا ہوگا۔ پہلے پیغامی اور احراری کہیں گے کہ ہم تمہاری مدد کریں گے لیکن بعد میں نہ وہ مدد کریں گے نہ ساتھ دیں گے بلکہ سب بھاگ جائیں گے کیونکہ خدا کے غضب کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا☆
☆چنانچہ جلسہ سالانہ کے بعد ”نوائے پاکستان“ 17 جنوری 1957ء میں ان کے ایک ہمدرد نے ایک مضمون شائع کیا ہے جس سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو مجھے خبر دی تھی وہ بڑی شان سے پوری ہوگئی ہے۔
اس مضمون میں جو ”حقیقت پسند پارٹی سے چند گزارشات“ کے زیر عنوان شائع ہوا ہے لکھا ہے:۔
(الف) ”حزبِ مخالف نے اگرچہ حقیقت پسند پارٹی کے نام سے اپنی جماعت الگ بنانے کا اعلان کر دیا ہے مگر ہیں وہ بڑے پریشان کیونکہ قادیانی خلافت نے تو منافق، غدار، ملحد اور دونوں جہان میں خائب وخاسر کا الزام دے کر اپنے سے ان کو عضوِ فاسد کی طرح کاٹ دیا ہے۔“
(ب) ”لاہوری حضرات ان کو دوسرے قادیانیوں کی طرح ہی سمجھتے ہیں۔ ان میں باہمی عقیدہ و خیال کا کوئی فرق نہیں ہے صرف تھوڑا سا خلافتی اختلاف ہے۔ اس بناء پر وہ ان کو اپنے قریب تک نہیں پھٹکنے دیتے۔“
(ج) ”مرزائیت کی حالت میں مسلمانوں کا اُن سے ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ یہ اسلام کے ایک بنیادی واساسی عقیدہ کے منکر ہیں۔ مسلمان کافر کی ذمّی ہونے کی حیثیت سے حفاظت وصیانت تو کر سکتا ہے مگر مرتد کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ بلکہ مرتد کی سزا اسلام میں نہایت سنگین ہے اس اعتبار سے یہ معاشرہ سے بالکل کٹ چکے ہیں۔“
(د) ” ضَاقَتۡ عَلَیۡہِمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ(9:118)۶۲ کا سا اِن کا حال ہے۔ سرزمینِ پاکستان باوجود اپنی وسعت وفراخی کے اِن پر تنگ ہوگئی ہے۔ کیا وہ ملک بدر ہو جائیں؟ آخر جائیں تو کہاں جائیں۔ فرض کر لیجئے کہ ان میں سے ایک آدمی کسی مکان پر صرف اکیلا ہی رہتا ہے، زندگی میں ہزاروں حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں اگر وہ بھی کسی حادثہ کا
غرض یہ پسِ منظر ہے آسمانی نظام کا ، تم آسمانی نظام کے سپاہی ہو اور شیطان اب نئی شکل میں ، نئے جُبّہ میں آ کر اور احراریوں کی اور غیر مبائعین کی مدد سے اور منان اور وہاب کا نام لے کر اور عبد السلام کے بیٹوں کا نام لے کر تمہارے اندر داخل ہونا چاہتا ہے اور تم کو جنت سے نکالنا چاہتا ہے۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ پہلا آدمؑ آیا تھا اور شیطان نے اُس کو جنت سے نکال دیا تھا۔ اب میں دوسرا آدم بن کے آیا ہوں تا کہ لوگوں کو پھر جنت میں داخل کروں۔۶۳
پس تم دوسرے آدم کی اولاد ہو۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق جنتِ خلافت سے دشمن تم کو نہیں نکال سکے گا۔ شیطان ناکام رہے گا اور منہ کی کھائے گا اور سانپ کی طرح زمین چاٹتا رہے گا۔ لیکن خدا کی جنت میں تم جاؤ گے جو اس کے سچے پَیرو ہو۔ کیونکہ تم نے آدمِ ثانی کو قبول کیا ہے اور آدمِ ثانی کو خدا نے اس لئے بھیجا ہے کہ پھر آدمِ اوّل کے وقت نکلے ہوئے لوگوں کو دوبارہ جنت میں داخل کرے۔
میری اِس تقریر سے یہ بات روزِ روشن کی طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ جو فتنہ شیطان نے آدمؑ کے وقت اٹھایا تھا اور جس آگ کو وہ پہلے ابراہیمؑ کے وقت تک جلاتا چلا گیا تھا اور پھر بنو اسماعیلؑ اور بنو اسحقؑ کی لڑائی کی شکل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب زمانہ تک بھڑکاتا چلا گیا تھا اور پھر اُمّیہ اور ہاشم کی لڑائی کی شکل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک بھڑکاتا چلا گیا تھا اور پھر حضرت امام حسینؓ اور یزید کی لڑائی کی صورت میں وہ آپ کے بعد بھی بھڑکاتا چلا گیا تھا اور پھر آخری زمانہ یعنی دورِ حاضر میں مسیح محمدی اور ابناء مولوی عبد اللہ صاحب غزنویؒ مرحوم کی لڑائی کی صورت میں اُس نے بھڑکانا شروع کردیا تھا اور اب پیغامیوں اور مبائعین اور ابنائے مسیح موعودؑ اور ابنائے مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کی لڑائی کی شکل میں اس کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ بات حرف بحرف صحیح ہے اور اس تمام جنگ کی بنیاد لالچ یا بُغض پر ہے کوئی دینی رُوح اس کے پیچھے نہیں ہے۔“ (ناشرالشرکۃ الاسلامیہ لمیٹڈ ربوہ)
ہے جو BORNEO اور MALUKU ISLANDS کے درمیان واقع ہے اور یہ دنیا کا گیارھواں بڑا جزیرہ ہے۔ (Wikipedia, Under the topic of SULAWESI)
17: بلجین کانگو (Belgian Congo) بادشاہ KING LEOPOLO II کے دور 1908ء-1960ء میں موجودہ ملک جمہوریہ کانگو کا یہ رسمی نام تھا۔ (Wikipedia, Under the topic of Belgian Congo )
18: سیرت المہدی جلد اول حصہ دوم صفحہ 365 میں ”حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص ہماری کتابوں کو کم از کم تین دفعہ نہیں پڑھتا اس میں ایک قسم کا کبر پایا جاتا ہے“ کے الفاظ ملتے ہیں۔
19: یہ مفصل خط الفضل یکم دسمبر 1956ء میں شائع ہوا۔ صفحہ 1-8
20: یہ مفصل خط الفضل 21 دسمبر 1955ء میں شائع ہوا۔ صفحہ 3
21: الاعلیٰ: 15 تا 20
22: الاعراف : 13 تا 19
23: پیدائش باب 3 آیت 5 صفحہ 11 پاکستان بائبل سوسائٹی لاہور 2011ء
24: پیدائش باب 21 آیت 12 صفحہ 26 پاکستان بائبل سوسائٹی لاہور 2011ء
25: پیدائش باب 16 آیت 12 صفحہ 21 پاکستان بائبل سوسائٹی لاہور 2011ء
26: البقرة : 110
27: دادودِہش : بخشش وعطا ۔ فیاضی ، سخاوت ، خیرات (اردو لغت تاریخی اصول پر جلد 8 صفحہ 908 کراچی 1987ء)
28: تاریخ الکامل لابن اثیر جلد 2 صفحہ 16، 17 مطبوعہ بیروت 1965ء
29: محاضرات جلد اوّل شیخ محمد خضری صفحہ 36، 37۔ مصر 1382 ہجری
30: دائرة المعارف جلد اوّل صفحہ 622
31: بدر 2؍جون 1908ء صفحہ 1 32: حقیقت اختلاف حصہ اوّل صفحہ 31 ایڈیشن دوم۔ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور 33: ریویو آف ریلیجنز دسمبر 1908ء صفحہ 480 34: پیغام صلح 17؍دسمبر 1914ء صفحہ 2 35: تاریخ طبری جلد 2 صفحہ 91، 92 مطبوعہ بیروت 2012ء 36: الفضل 4؍اگست 1937ء صفحہ 4 37: دعائم المِلّة: (دِعامۃ) وہ ستون یا بنیاد جس پر عمارت کھڑی ہو (لسان العرب جلد اول زیر لفظ الدِّعَامَة بیروت 2005ء) قوم کا سردار (المنجد) 38: الفضل 16؍ستمبر 1956ء صفحہ 4 39: نبیرہ: بیٹے یا بیٹی کا بیٹا۔ پوتا یا نواسہ (اردو لغت تاریخی اصول پر جلد 19 صفحہ 754۔ مطبوعہ کراچی 2003ء 40: پیغام صلح 30 ستمبر 1930ء 41: الفضل 17؍اکتوبر 1956ء صفحہ 4 42: الفضل 17؍اکتوبر 1956ء صفحہ 4 43: الفضل 2؍اکتوبر 1956ء صفحہ آخر 44: الفضل 22؍اگست 1956ء صفحہ 3 45: الفضل 30؍جولائی 1956ء صفحہ 4 46: الفضل 29؍جولائی 1956ء صفحہ 1 47: الفضل 4؍اکتوبر 1956ء صفحہ 4 48: ص: 77 49: اشتہار معیار الاخیار مورخہ 16 جون 1899ء، مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 395 50: کتاب البریہ صفحہ 120 روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 148
51: اشاعة السنۃ جلد 13 نمبر 7 صفحہ 202 52: کتاب البریہ صفحہ 121 روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 149 53: ارڈ پوپو : نجومی، لاف زن، ضدی، ہٹیلا، احمق (پنجابی اردو لغت مرتبہ حسین بخاری صفحہ 112 لاہور 1989ء) 54: حجۃ اللہ صفحہ 7 روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 155 55: کتاب البریہ صفحہ 120 روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 148 56: تحفہ غزنویہ صفحہ 19 روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 549 57: نزول المسیح صفحہ 32 روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 410 58: نزول المسیح صفحہ 32، 33 روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 410 59: تحفہ غزنویہ صفحہ 19 روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 549 60: درثمین اردو زیر عنوان محمود کی آمین صفحہ 36، 37 61: الفتح: 30 62: التوبة: 118 63: خطبہ الہامیہ حاشیہ متعلقہ بالخطبة الالهامية۔ ما الفرق بین آدم والمسیح الموعود۔ روحانی خزائن جلد 16۔ صفحہ 307-308 64: نوائے پاکستان 17 جنوری 1957ء صفحہ 4
از
سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد
خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
(فرمودہ 28؍دسمبر 1956ء بموقع جلسہ سالانہ بمقام ربوہ)
تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد اصل مضمون سیرِ روحانی پر تقریر کرنے سے قبل بعض امور کی طرف احباب کو توجہ دلاتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔
’’تقریر سے پہلے میں کچھ اعلانات کرنا چاہتا ہوں۔ ایک تو یہ ہے کہ ربوہ میں ہم نے ایک ہزار ایکڑ زمین خریدی تھی جو اس کی آبادی کے لئے اس طرح فروخت کی گئی کہ اس میں دو حصے صدر انجمن احمدیہ کے تھے اور ایک حصہ تحریک جدید کا تھا اور اس طرح ان دونوں صیغوں کے کام چلے ورنہ ربوہ میں نہ کالج بن سکتے نہ سکول بن سکتے نہ یہ دفاتر بن سکتے نہ یہ عمارتیں بن سکتیں۔ گویا روپیہ تو آپ لوگوں نے ہی دیا مگر زمین لے کر دیا۔ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت سے مکان بن چکے ہیں اور اب جماعت کے لوگ پریشان ہیں کہ انہیں اور زمین نہیں ملتی۔ میں نے احتیاطاً یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے بندے جو بھی انتظام کریں گے وہ تھوڑا ہی ہو گا اس لئے زمین بہرحال پِک جائے گی اور آخر کار ضرورت پیش آئے گی۔ ربوہ کے ساتھ سرحد پر ملتی ہوئی زمینیں خریدنے کے لئے ناظم جائیداد کو حکم دیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے ایک کافی مقدار میں سکنی زمین کنالوں کی صورت میں خرید لی۔ قریباً دو ہزار مرلے میں نے بھی خریدی۔ لیکن میں نے یہ حکم دیا ہوا تھا کہ چونکہ یہاں سلسلہ کا کام ہونا ہے اس لئے افراد کو خریدنے کی اجازت نہیں سوائے اس صورت کے کہ وہ انجمن سے اجازت لیں اور انجمن سے وعدہ کریں کہ اگر انہوں نے اسے سکنی زمین کر کے بیچا تو جس قیمت پر زمین خریدی ہے اور جس پر بیچی ہے اس کے
درمیان میں جتنی رقم آئے اس سے آدھی رقم وہ سلسلہ کو دیں گے۔ اور میں نے بھی اس شرط سے زمین خریدی ہے۔ جب وہ بکے گی تو جو رقم آئے گی جس قیمت پر میں نے اس کو خریدا ہے اس کے اور فروخت کے درمیان جو فاصلہ ہو گا اس کی آدھی رقم میں سلسلہ کو اس کے کاموں کے لئے دوں گا۔ اب مجھے رپورٹ پہنچی ہے کہ جو زمین خریدی گئی تھی وہ ختم ہو گئی ہے صرف پندرہ کنال باقی ہے۔ اس لئے جو نئی زمین ہے اس کے بیچنے کی اجازت دی جائے۔ چنانچہ میں نے اجازت دے دی ہے کہ فی الحال 100 کنال وہ بیچ دیں اور 100 کنال چار سو روپے کنال پر بیچیں۔ پس جو دوست لینا چاہتے ہیں وہ دیکھ لیں۔ پیچھے یہ حالت ہوتی ہے کہ آج تک لوگ میرے پاس آتے ہیں اور حسرت سے کہتے ہیں کہ پہلے جب سو روپیہ کنال تھی تو ہم نے نہ لی۔ اُس وقت اگر ہم بیس پچیس کنال خرید لیتے تو ہماری کوٹھیاں بن جاتیں۔ میں نے کہا تم نے خدا پر اتنا توکل نہیں کیا اس لئے نہیں ملی تو اَب جو چاہیں 100 کنال تک لے سکتے ہیں۔ پھر بعد میں شکوہ نہ پیدا ہو۔ پہلے بھی میں نے 100 کنال کہی تھی اور اس کے لئے ایک تاریخ مقرر کی تھی اس کا مطلب یہ تھا کہ 100 کنال اس تاریخ تک۔ یہ مطلب نہیں تھا کہ اس تاریخ تک 100 کنال اگر بک جائے تب بھی یہی قیمت لی جائے گی۔ اب بھی یہ ہو گا کہ دو مہینے کی ہم مہلت دیں گے لیکن اگر دو مہینے کے اندر اندر 100 کنال بک گئی تو اس کے بعد وہ رعایت ختم ہو جائے گی ہم دو مہینے کا لفظ نہیں سنیں گے۔ دو مہینے صرف اس میعاد کے لئے رکھے ہیں کہ اگر 100 کنال نہ بکے تب بھی ہم کچھ زمین دو مہینے کے بعد دے دیں گے اور قیمت چاہیں تو بڑھا دیں گے۔ لیکن دو مہینے تک 100 کنال تک کی قیمت صرف چار سو روپیہ کنال رہے گی۔ اگر دو مہینے کے اندر 100 کنال بک گئی اور کوئی اور گاہک آئے تو پھر بیچنے والوں کو حق ہو گا کہ وہ چار سو کی بجائے پانچ سو، چھ سو، سات سو اور آٹھ سو وصول کریں۔ تو اَب دو مہینے تک 100 کنال زمین خریدنے کا آپ لوگوں کو حق ہے۔ میں نے اپنی زمین ابھی روکی ہوئی ہے تاکہ انجمن کی کچھ زمین بک جائے اور ان کا قدم جم جائے اور تجارت کا رُخ اُدھر ہو جائے۔ جب تک انجمن کی زمین بک نہ جائے اُس وقت تک میں اپنی زمین
فروخت نہیں کروں گا۔ پس اس وقت جو دوست لینا چاہیں وہ محلہ دارالیمن (الف) میں بھی لے سکتے ہیں۔ اس میں 15 کنال ابھی باقی ہے مگر اس کی قیمت زیادہ ہے۔ اس کی قیمت 562 روپے آٹھ آنے ہے۔ لیکن آئندہ جو زمین ہو گی اور جو کالج کی طرف ہے یعنی کالج سے ذرا پرے ہے وہ زمین 100 کنال تک چار سو روپیہ فی کنال فروخت کریں گے۔ جو دوست اس سے فائدہ اٹھانا چاہیں وہ دفتر میں جا کر اپنے لئے کوئی ٹکڑا ریزرو کر لیں۔ کچھ دنوں کی مہلت تو وہ آخر دیں گے ہی مگر پہلے کی طرح نہیں ہوگا۔ پہلے یہ تھا کہ لوگوں نے قیمتیں بھی قسط وار دیں اور پھر مکان بھی نہ بنائے اور لمبا کرتے چلے گئے۔ اب کے جو زمین لے گا یا تو مدت مقررہ کے اندر جو تین مہینے کی ہوگی یا چھ مہینے کی ہوگی وہ مکان بنائے گا یا آگے انجمن کی اجازت لے کر کسی اچھے آدمی کے پاس فروخت کر دے گا۔ دونوں کی اجازت ہے۔ یہ بھی اجازت ہے کہ مثلاً اگر کسی کے پاس کچھ روپیہ ہو فرض کرو چار ہزار روپیہ ہے تو دس کنال خرید لے اور پھر اور چھ مہینے سال کے بعد جب اس کی قیمت سات سو یا آٹھ سو ہوجائے تو بیچ دے اسے قریباً دوگنا روپیہ مل جائے گا۔
دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ علم انعامی جو ہر سال خدام الاحمدیہ کو ملا کرتا ہے اس کے لحاظ سے اس دفعہ اول انعام حاصل کرنے والی مجلس خدام الاحمدیہ کراچی ہے۔ قائد کراچی آئیں اور سرٹیفکیٹ مجھ سے لے لیں۔ اس کے بعد عَلَمْ اُنہیں دفتر سے مل جائے گا۔ دوسرے نمبر پر شہری مجالس میں سے کوئٹہ رہا ہے۔ میں نے فرق کر دیا تھا کہ شہری الگ رہیں اور دیہاتی الگ رہیں۔ جیسے کل امتحان میں فرق کر دیا ہے کہ 25 سال سے اوپر کی عورتوں اور مردوں کا الگ امتحان ہوگا اور 25 سال سے نیچے کی عورتوں اور لڑکوں کا الگ امتحان ہو گا۔ دیہاتی مجالس میں سے کرونڈی ضلع خیر پور ڈویژن کی انجمن خدام میں فرسٹ (FIRST) رہی ہے سو اُن کے قائد آئیں اور سرٹیفکیٹ مجھ سے لے لیں۔ غرض شہری مجالس میں سے اول کراچی رہی ہے اور دوم کوئٹہ رہا ہے اور دیہات میں سے اول مجلس خدام الاحمدیہ کرونڈی رہی ہے اور دوم کے متعلق کہتے ہیں کہ اس سال کوئی
انعام مقرر نہیں کیا گیا ، آئندہ سال شروع ہوگا۔
میرا کل کا مضمون کچھ مہا جال سا تھا ۔ ایک لمبی تاریخ بیان کرنی تھی جس میں سینکڑوں واقعات تھے اور سینکڑوں شہادتیں تھیں۔ اس لئے باوجود اس کے کہ کئی دن ذہن میں میں انہیں دُہراتا رہا پھر بھی بیان کرتے وقت بہت سی باتیں ذہن سے نکل گئیں۔
ایک بات جو کل میں کہنی چاہتا تھا اور جو خوشی کی خبر ہے مگر میں بھول گیا وہ یہ ہے کہ ہندوستان میں ایک کتاب امریکن کتاب کا ترجمہ کر کے شائع کی گئی تھی اور اس کا ترجمہ کرنے والے بھارت کے ایک صوبہ کے گورنر مسٹر منشی بمبئی والے تھے۔ اس میں کچھ نامناسب الفاظ تھے ۔ مسلمانوں نے سمجھا کہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی گئی ہے چنانچہ وہاں اتنی شورش ہوئی اور اتنا فساد ہوا کہ سینکڑوں مسلمان مارے گئے اور ہزاروں جیل خانوں میں گئے ۔ آج تک وہ مقدمے چل رہے ہیں اور آج تک مسلمان گرفتاریوں کی سزا بھگت رہے ہیں ۔ اُدھر کی شورش کو دیکھ کر جبکہ گورنمنٹ نے اُدھر توجہ نہ کی تو پاکستان گورنمنٹ نے اس کتاب کو ضبط کر لیا گو اس کے بعد ہندوستانی گورنمنٹ نے بھی وہ کتاب ضبط کر لی۔ میں نے اس پر خطبہ پڑھا اور کہا کہ یہ ضبط کرنے والا طریق ٹھیک نہیں تب تو ان لوگوں کے دلوں میں شُبہ پیدا ہوگا کہ ہماری باتوں کا جواب کوئی نہیں ۔ واقع میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے ہی ہوں گے تبھی کتاب ضبط کرتے ہیں ، اس کا جواب نہیں دیتے ۔ اصل طریق یہ تھا کہ اس کا جواب دیا جاتا اور امریکہ اور ہندوستان میں شائع کرایا جاتا۔
میرے اس خطبہ کے بعد ہندوستان سے خصوصاً بمبئی سے رپورٹ آئی کہ ترجمہ کرانے کی ضرورت نہیں یہاں زیادہ تر انگریزی پڑھے ہوئے لوگوں میں اس کا چرچا ہے۔ اس لئے جو انگریزی کتاب امریکہ کے لئے چھپے وہی ہندوستان میں بھیج دی جائے اور وہ انگریزی دان طبقہ میں تقسیم کی جائے ۔ اگر ضرورت سمجھی جائے تو بعد میں اس کا اردو ترجمہ بھی ہو جائے ۔ چودھری ظفر اللہ خاں صاحب اب امریکہ سے آئے ہیں وہ کہتے ہیں میں نے کتاب پڑھی ہے اس کے متعلق کئی غلط فہمیاں ہیں۔ وہ کتاب درحقیقت ایک تحقیقی رنگ میں لکھی ہوئی کتاب ہے۔ وہ شخص اسلام کا دشمن نہیں ہے۔ اس لئے جو میری تجویز تھی کہ اس کا تحقیقی جواب بھی دیا جائے اور پھر الزامی جواب بھی دیا جائے۔ عیسائیوں کو بھی اور ہندوؤں کو بھی۔ ان کی رائے یہ ہے کہ نرمی کے ساتھ تحقیقی جواب دیا جائے لیکن الزامی جواب نہ دیا جائے۔ کیونکہ لکھنے والے کے دل کی بدنیتی کوئی نہ تھی۔ اور چونکہ ہندوستان میں بھی دوستوں نے کہا ہے کہ اردو کی ضرورت نہیں انگریزی کی ہے اس لئے ایک ہی کتاب کافی ہوجائے گی جس میں تحقیقی جواب ہوں گے۔ تحقیقی جواب جیسے عیسائیوں کے لئے کافی ہوتے ہیں اُسی طرح ہندوؤں کے لئے، اُسی طرح زرتشتیوں کے لئے اور اُسی طرح یہودیوں کے لئے بھی کافی ہوتے ہیں۔ پس تحقیقی جواب کے ساتھ وہ کتاب شائع ہوگی اور مجھے اطلاع آچکی ہے کہ وہ لکھی جاچکی ہے۔ مگر خدا تعالیٰ کا ہمارے ساتھ وہی معاملہ ہے جو ایک بڈھے ایرانی کے ساتھ ہوا تھا۔
ایک بڈھا ایرانی ایک دفعہ ایک درخت لگا رہا تھا ساٹھ سال میں کہیں جا کے وہ پھل دیتا تھا۔ بادشاہ وہاں سے گزرا۔ بادشاہ نے اس کو درخت لگاتے جو دیکھا تو کہا اس بڈھے کو بلاؤ۔ جب وہ بڈھا پاس آیا تو کہا میاں بڈھے! تم یہ درخت لگا رہے ہو پتا ہے یہ ساٹھ سال کے بعد پھل دیتا ہے تم تو اُس وقت تک مر جاؤ گے تمہیں اس درخت کے لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ بڈھے نے کہا بادشاہ سلامت! آپ بھی عجیب ہیں میرے باپ دادا بھی اگر یہی سوچتے تو میں کہاں سے پھل کھاتا۔ میرے باپ دادوں نے درخت لگایا تو میں نے پھل کھایا میں لگاؤں گا تو میرے پوتے پڑپوتے کھائیں گے۔ بادشاہ کو بات پسند آگئی اس نے کہا زِہْ! بادشاہ نے وزیرِ خزانہ کو حکم دیا ہوا تھا کہ جب میں کسی بات پر زِہْ کہوں تو فوراً تین ہزار اشرفی کی تھیلی اس کے آگے رکھ دیا کرو۔ بادشاہ نے کہا زِہْ۔ وزیر نے فوراً تین ہزار کی تھیلی اس کے آگے رکھ دی۔ جب اس کے آگے تین ہزار اشرفی کی تھیلی رکھی گئی تو اُس نے کہا بادشاہ سلامت! اب بتائیے آپ تو کہتے تھے کہ تُو ساٹھ سال کے بعد کہاں پھل کھائے گا چھوٹے چھوٹے درخت ہوں تو وہ بھی اگر جلدی پھل دینے والے ہوں تو کم سے کم چار پانچ سال کے بعد پھل دیتے ہیں مگر مجھے تو
دیکھئے ایک منٹ کے اندر پھل مل گیا۔ بادشاہ کو یہ بات اور بھی پسند آئی اور اس نے پھر کہا زِہ۔ اور وزیرِ خزانہ نے پھر تین ہزار کی تھیلی اس کے سامنے رکھ دی۔ جب وہ دوسری تھیلی رکھی گئی تو کہنے لگا بادشاہ سلامت! دیکھئے آپ کی کتنی غلطی تھی۔ آپ کہہ رہے تھے کہ ساٹھ سال کے بعد اس نے پھل دینا ہے اور اُس وقت تک تُو بچے گا کہاں مگر دیکھئے لوگوں کو تو سال میں ایک دفعہ پھل ملتا ہے اور میرے درخت نے ایک منٹ میں دو دفعہ پھل دے دیئے۔ بادشاہ نے کہا زِہ۔ وزیر نے پھر تیسری تھیلی رکھ دی۔ بادشاہ کہنے لگا کہ چلو ورنہ یہ بڈھا خزانہ لُوٹ لے گا۔ تو اللہ تعالیٰ کا بھی ہمارے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہوتا ہے۔ ہندوستانی گورنمنٹ نے وہ کتاب ضبط کی اور ہندوستانیوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کمزور ہے۔ ان پر ایک امریکن نے حملہ کیا اور مسلمان جواب نہیں دے سکے۔ آخر شور مچایا اور گورنمنٹ کو کتاب ضبط کرنی پڑی۔ اِدھر پاکستان گورنمنٹ نے کتاب ضبط کی پاکستان کے عیسائی بڑے خوش ہوئے، پاکستان کے ہندو خوش ہوئے کہ دیکھو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کمزور ہے ان کے حملوں کا جواب کوئی نہیں۔ کتاب ضبط کر کے جواب دے رہے ہیں۔ لیکن جو میں نے تدبیر کی تھی وہ ایسی کارگر نکلی کہ ہماری کتاب ابھی چھپی نہیں اور کتاب کو چھاپنے والی فرم کا معافی نامہ پہلے آگیا ہے اور وہ یہ ہے:
Henry and Dana Thomas c/o Hanover House Publishers 575 Madison Avenue New York, N.Y. December 6,1956.
We have just received your letter from our publishers. With regard to the statements made about the Prophet Mohammed in the living Biographies of
Religious leaders, we were terribly shocked and saddened that there have been misunderstanding of our attitude and feeling about Mohammed. We have always believed that the teachings of the Prophet are one of the world's basic manifestations of democracy and that the tenets of the Muslim faith are a direct progenitor of the philosophy of Abraham Lincon.
Despite the Fact that the book was written fifteen years ago under the direction of a book editor who conceived of the Project as a Humanized, Romanticized approach to biography for a westernized gudience we have not had the slightest intention of detracting from the philosophical stature of Mohammed and that is why we have been so distressed our any Misunderstanding that might have arisen.
We wish you Godspeed on your new work on the Prophet Mohammed and if you mention our book would you please convey to your readers how saddened we have been over any adverse reaction and would you convey that we are the last people in the world who are critical of the very great contributions of the muslim faith.
sincerely,
(signed) Henry and Dana Thomas."
اس کا ترجمہ یہ ہے: منجانب (مسٹر) ہنری تھامس و (مسز) ڈانا تھامس معرفت ھینوور ہاؤس پبلشرز نمبر 575 میڈیسن ایوینیو۔ نیویارک 6؍دسمبر 1956ء ہمیں اپنی کتاب کے ناشرین کی معرفت آپ کا خط ملا (یعنی ہمارے مبلغ کا) نبی اکرمؐ کے متعلق کتاب ”مذہبی راہنماؤں کی سوانح عمریاں“ میں ہمارے مضمون کے متعلق عرض ہے کہ یہ معلوم کر کے کہ نبی اکرمؐ کے متعلق ہمارے اندازِ تحریر و احساسات کے متعلق بعض غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں ہمیں بہت رنج اور افسوس ہوا۔ ہمارا ہمیشہ سے یہ اعتقاد رہا ہے کہ نبی اکرمؐ کی تعلیم دنیا میں جمہوریت کی بنیادی مظہر ہے اور کہ مذہبِ اسلام کے اصول امریکی سابق پریزیڈنٹ (جس کو وہ قریباً نبیوں کی طرح سمجھتے ہیں) ابراہیم لنکن کی فلاسفی کا براہِ راست منبع و ماخذ ہیں (یعنی ہم ابراہیم لنکن کو اپنا لیڈر سمجھتے ہیں اور بڑا بزرگ سمجھتے ہیں مگر ہمارا یقین ہے کہ ابراہیم لنکن نے جو امن کی تعلیم پھیلائی تھی وہ براہِ راست اس نے محمد رسول اللہ سے حاصل کی تھی خود نہیں بنائی تھی) اس امر کے باوجود کہ ہمارے مضمون کو جسے ہم نے کتاب کے ایڈیٹر کی زیرِ ہدایت تحریر کیا تھا لکھے پندرہ سال ہو گئے ہیں اور کتاب لکھوانے میں مرتّب کا منشاء و مقصد سوانح عمری کی تحریر میں مغربی تہذیب میں رنگین قارئین و ناظرین کے مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانیت کی نہج پر افسانوی رنگ دینا تھا (یعنی ہم نے قصے کے رنگ میں لکھی تھی جس سے یورپ کے لوگ زیادہ فائدہ اٹھا سکیں) یہ امر کبھی ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ہم کسی صورت میں محمدؐ کے اعلیٰ عالمانہ مقام کی بے قدری یا تخفیف کریں۔ اس وجہ سے ان غلط فہمیوں پر جن کا واقع ہونا ہمیں بتایا جا رہا ہے ہمیں نہایت درجہ غم اور افسردگی ہے۔ نبی اکرمؐ کے متعلق جو کتاب آپ
تحریر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس میں ہم آپ کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں۔ اگر آپ ہماری کتاب کا ذکر فرما دیں تو ہم ممنون ہوں گے۔ آپ اپنے ناظرین تک ہمارا یہ پیغام بھی پہنچا دیں کہ ہماری کتاب کے متعلق ناموافق اور مخالف ردِّعمل پر ہمیں کتنا افسوس ہوا ہے۔ اور کیا آپ یہ بھی انہیں پہنچا دیں گے کہ مذہبِ اسلام سے دنیا کو جو بڑی نعمت عطا ہوئی ہے اس کی عیب جوئی یا تنقید میں آپ ہمیں تمام دنیا کے لوگوں سے آخری فرد پائیں گے۔
آپ کے بہی خواہ ہنری اینڈ ڈانا تھامس
پس دیکھو ان کی ضبطی کا نتیجہ تو خبر نہیں کب نکلے گا۔ ہمارے جواب کا نتیجہ خدا نے فوراً نکال دیا اور کتاب کے چھاپنے والی فرم کی طرف سے معذرت آگئی۔ اور نہ صرف معذرت آئی بلکہ یہ بھی آئی کہ اپنی کتاب میں بھی ہماری معذرت چھاپ دیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے بلکہ ہم سب سے آخر میں وہ لوگ ہوں گے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی بات سن سکیں یا برداشت کر سکیں۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے میری ایک حقیر کوشش کو اتنی جلدی کامیابی بخشی۔ سارے ہندوستان کے مسلمانوں اور پاکستان کے مسلمانوں کے شور سے ان کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگی لیکن میرے اس خطبہ کے نتیجہ میں جب ان کو پتا لگا کہ کتاب لکھی جا رہی ہے تو انہوں نے فوراً معذرت کردی اور لکھوایا کہ ہماری معذرت کتابوں میں بھی چھاپ دی جائے اور اپنی جماعت کو بتایا جائے کہ ہمارے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت عزت ہے۔ بلکہ ابراہیم لنکن جس کو ہم نبیوں کا مقام دیتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ وہ بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شاگرد تھا اور اس نے جو کچھ سیکھا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا ہے۔
ایک بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے دوست پروفیسر ٹلٹاک جو آئے ہوئے ہیں جرمن قوم کی طرح ان کے دل میں بھی اشتیاق ہے کہ وہ درّہ خیبر اور اس کا ملحقہ علاقہ
دیکھیں۔ ہم نے انتظام کیا ہے کہ کوئی دوست ان کو وہاں لے جائے۔ پشاور کی جماعت یہاں بیٹھی ہے ان کو بھی میں پیغام دیتا ہوں کہ وہ جا کر کوئی مناسب انتظام کریں اور جب ان کو اطلاع ملے کہ وہ آ رہے ہیں تو اُس وقت اُن کے لئے درّہ خیبر کے دیکھنے کا مناسب انتظام کریں۔ کیونکہ جرمن لوگوں میں جنگی قوم ہونے کی وجہ سے پٹھانوں کا ملک دیکھنے کا بڑا شوق ہوتا ہے۔ چنانچہ جب کنزے صاحب مسلمان ہو کر آئے تھے تو وہ بھی کوئی چھ مہینے جا کر پشاور رہے تھے۔ یہ قدرتی اشتیاق ہے۔ ان کے دل پر اثر بھی ہوگا کہ ہمارے بھائی کس طرح اپنے بیرونی بھائیوں کی قدر کرتے ہیں اس لئے جماعت پشاور جا کر ان کے دیکھنے کا مناسب انتظام کرے۔ بلکہ اردگرد ہمارے بعض احمدی بھی ہیں جن کا علاقہ پر اچھا اثر ہے پس ان کے اردگرد جو پٹھان ہیں وہ ان میں تحریک کریں۔ میں جب گیا تھا تو انہوں نے دعوت بھی کی تھی اور پھر ایک شخص تو جس سے ہمارے دوست ڈرتے تھے کہ حملہ نہ کر دے بندوق لے کر ناچنے لگ گیا اور مجھے کہنے لگا کہ میں تو آپ کو چائے پی کر جانے دوں گا۔ میں نے کہا ہمارے پاس وقت نہیں۔ کہنے لگا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ آپ چلے جائیں اور ہماری ذلت ہو۔ بڑی مصیبت سے اُس سے چھٹکارا حاصل کیا۔ تو اُن لوگوں میں تحریک کر کے ان کو انٹروڈیوس (INTRODUCE) کر دیں تاکہ ان کی دل جوئی ہو اور ان پر یہ اثر ہو کہ پاکستانی لوگ جرمن مسافروں کے ساتھ ہمدردی اور محبت رکھتے ہیں اور احمدیہ جماعت اپنے نَو مسلموں کو اپنا بھائی سمجھتی ہے۔
اس کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ منافقوں کی طرف سے جو حملے کئے گئے ہیں اور جو جھوٹ بولے گئے ہیں ان میں سے ایک بات ایسی تھی جو سچی تھی۔ میں آج اس کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی نہ کوئی آدمی ان کا دفتروں میں موجود ہے۔ وہ جو کہتے ہیں کہ جماعت میں بے انتہا بیزاری پیدا ہو رہی ہے یہ تو غلط ہے۔ وہ یہاں دیکھ سکتے ہیں اور ان کا اگر کوئی آدمی یہاں ہو تو دیکھ کر شرمندہ ہو سکتا ہے لیکن کوئی آدمی ہے جو دفتروں میں رہنے والا بھی ہے۔ کیونکہ ایک سچی بات ان کو پتا لگ گئی اور وہ یہ کہ ’نوائے پاکستان‘‘ میں میرے متعلق چھپا تھا کہ خزانہ سے ان کے نام بڑا اوور ڈرا (OVERDRAW) ہوا ہوا ہے۔ یہ بات ٹھیک تھی۔ وہ واقعہ یہ ہے کہ جب میں بیمار ہوا اور باہر گیا تو اپنی زمینوں کا انتظام وغیرہ کرنے کے لئے چونکہ کئی ہزار روپیہ ماہوار تو وہاں کے مینیجروں اور عملہ وغیرہ کی تنخواہ ہوتی ہے میں اپنے پیچھے اپنے داماد ناصر سیال کو انتظام کے لئے مقرر کر گیا۔ وہ بچہ اور نا تجربہ کار تھا اس نے غلطی کی وجہ سے بجٹ کو اپنے قابو میں نہ رکھا اور خرچ بڑھتا گیا۔ میں احتیاطاً خزانہ کے افسر کو کہہ گیا تھا کہ مہربانی کر کے اس کو اووَر ڈرا کر دیں اگر ضرورت پیش آئے۔ اور یہ بنکوں کا قاعدہ ہے جو پرانے گاہک ہوتے ہیں اُن کو اووَر ڈرا کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ سرکاری بنک بھی ہمیں اووَر ڈرا کر دیتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے منظور کر لی اور ان کو رقم دیتے گئے۔ سو یہ بات ٹھیک تھی کہ اوور ڈرا میرے نام پر تھا کیونکہ میں ہی اس کا ذمہ دار تھا۔ ناصر سیال میری طرف سے منتظم تھا لیکن اصل ذمہ دار تو میں ہی تھا پس وہ اووَر ڈرا ہوا ہوا تھا۔ میں اُس وقت چپ کر کے بیٹھا رہا کہ پہلے یہ قرضہ ادا ہو جائے پھر کچھ کہوں گا۔ چنانچہ جلسہ سے پہلے وہ ساری رقم ادا کرنے کے بعد میں نے امانت کے افسر سے یہ تحریر لے لی ہے کہ ایک ایک پیسہ ادا ہو چکا ہے اور اب کوئی رقم آپ کے ذمہ باقی نہیں رہی۔ اس لئے آج میں اس کو بیان کر دیتا ہوں کہ یہ سچا واقعہ تھا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں اووَر ڈرا تھا مگر چونکہ میں ان کا پرانا امانت دار ہوں اور جب کبھی میرے ذمہ کوئی رقم ہوئی میں نے بلا چون و چرا ان کو ادا کر دی ہے اس لئے میری بیماری کی حالت میں اور سفر کی حالت میں انہوں نے منظور کر لیا کہ ناصر سیال کے کہنے پر وہ اووَر ڈرا دے دیں گے۔ مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے جس دن میں آیا اُسی دن سے میں نے اپنے بچوں کو کہنا شروع کیا کہ اپنے سارے خرچ روکو مگر قرضہ ادا کرو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ سے پہلے وہ سب قرض ادا ہو گیا اور افسر صاحب امانت کی تحریر میرے پاس آگئی کہ اب ایک پیسہ بھی آپ کی امانت پر اووَر ڈرا نہیں ساری کی ساری واپس ہو چکی ہے۔
ایک بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاکستان میں لوگوں کو ایک بڑی مصیبت پڑی ہوئی ہے اور وہ کشمیر کا مسئلہ ہے۔ کشمیر کے مسئلہ میں آج تک پاکستان حیران بیٹھا ہے اور پاکستانی، گورنمنٹ سے بھی زیادہ حیران بیٹھے ہیں۔ یہ سب کو نظر آ رہا ہے کہ جب تک
کشمیر نہ ملا پاکستان محفوظ نہیں رہ سکتا اور یہ بھی سب کو نظر آرہا ہے کہ کرنا کرانا کسی نے کچھ نہیں۔ سب حیران ہیں۔ پاکستان کی نظر امریکہ پر ہے اور امریکہ کی نظر روس پر ہے کہ اگر کسی وقت پاکستان نے اِدھر ہلچل کی تو روس اپنی فوجیں افغانستان میں داخل کر دے گا یا گلگت میں داخل کر دے گا۔ اِس حیرت میں پاکستانی گورنمنٹ کچھ نہیں کرتی۔ میں اپنی جماعت کو ایک تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج جب دعائیں ہوں گی تو کشمیر کے متعلق بھی دعائیں کریں۔ دوسرے میں ان کو یہ تسلی بھی دلانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سامان نرالے ہوتے ہیں۔ میں جب پارٹیشن کے بعد آیا تھا تو اُس وقت بھی میں نے تقریروں میں اِس طرف اشارہ کیا تھا مگر گورنمنٹ نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ اب نظر آرہا ہے کہ وہی باتیں جن کو میں نے ظاہر کیا تھا وہ پوری ہو رہی ہیں۔ یعنی پاکستان کو جنوب اور مشرق کی طرف سے خطرہ ہے لیکن ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں کہ ہندوستان کو شمال اور مشرق کی طرف سے شدید خطرہ پیدا ہونے والا ہے۔ اور وہ خطرہ ایسا ہو گا کہ باوجود طاقت اور قوت کے ہندوستان اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گا اور روس کی ہمدردی بھی اس سے جاتی رہے گی۔ سو دعائیں کرو اور یہ نہ سمجھو کہ ہماری گورنمنٹ کمزور ہے یا ہم کمزور ہیں۔ خدا کی انگلی اشارے کر رہی ہے اور میں اسے دیکھ رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے گا کہ روس اور اس کے دوست ہندوستان سے الگ ہو جائیں گے۔ ☆ اور اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے گا کہ امریکہ یہ محسوس کرے گا کہ اگر میں نے جلدی قدم نہ اٹھایا تو میرے قدم نہ اٹھانے کی وجہ سے روس اور اس کے دوست بیچ میں گھس آئیں گے۔ پس مایوس نہ ہو اور خدا تعالیٰ پر توکّل رکھو۔ اللہ تعالیٰ کچھ عرصہ کے اندر ایسے سامان پیدا کر دے گا۔ آخر دیکھو یہودیوں نے تیرہ سو سال انتظار کیا اور پھر فلسطین میں آگئے۔ مگر آپ لوگوں کو تیرہ سو سال انتظار نہیں کرنا پڑے گا ممکن ہے تیرہ بھی نہ کرنا پڑے ممکن ہے دس بھی نہ کرنا پڑے اور اللہ تعالیٰ اپنی برکتوں کے نمونے تمہیں دکھائے گا۔
ایک بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کل میں نے ریویو آف ریلیجنز کے متعلق تحریک کی تھی۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کو جلدی منظّم صورت میں کر دیا جائے۔ کل میں نے ریویو والوں کو کہا تھا کہ وہ تیرہ سو کی بجائے تینتیس سو چھپوانا شروع کریں۔ دوسو روپیہ کلکتہ کے ایک دوست سیٹھ محمد صدیق صاحب نے سو کاپی کے لئے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ دو ہزار انجمن لے رہی ہے۔ دو ہزار ایک سو ہو گیا۔ گیارہ سو کا میں وعدہ کرتا ہوں۔ گیارہ سو پرچہ کا دو روپے کے حساب سے بائیس سو بنتا ہے۔ سو میں وعدہ کرتا ہوں کہ اِنْشَاءَ اللّٰہُ اس سال میں یہ بائیس سو دے دوں گا اور پھر جماعت میں تحریک کر کے کوشش کروں گا کہ چھ مہینہ تک اس کی تعداد پانچ ہزار تک پہنچ جائے۔ مگر ریویو آف ریلیجنز کے افسروں کو چاہئے کہ وہ ایک منیجر فروخت مقرر کریں۔
ہمارے ہاں طریق یہ ہے کہ اللہ توکّل پر کام ہوتا ہے۔ حضرت خلیفہ اول ہمیشہ ہنسا کرتے تھے کہ مسلمان بھی عجیب ہے۔ مسلمان کے نزدیک اللہ کا نام ہے صفر۔ اور اس کی دلیل یہ دیا کرتے تھے کہ جب کسی مسلمان سے پوچھو کہ تمہارے گھر میں کیا ہے تو کہتا ہے اللہ ہی اللہ ہے۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ کچھ نہیں ہے۔ تو ہمارے لوگ بھی جب کام کرتے ہیں بس اللہ ہی اللہ کرتے ہیں یعنی کام کوئی نہیں کرنا بس اللہ پر ہی رہنا ہے یہ طریق غلط ہے۔
امریکہ سے ایک رسالہ ”ریڈرز ڈائجسٹ“ آتا ہے۔ قریباً دس یا بارہ ملین یعنی سوا کروڑ چھپتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم انتظام کریں تو ہمارا رسالہ نہ پھیل سکے جبکہ ہم اس کے سب سٹی چیوٹ (Substitute) بھی دیں اور اپنے پاس سے رقم دیں اور تھوڑی قیمت پر لوگ لینے کے لئے تیار ہو جائیں۔ تو اس کے لئے ایک بیچنے والا منیجر ہونا چاہیے جو اس بات کی کوشش کرے کہ چھ مہینہ کے اندر اندر پانچ ہزار تک خریداری ہو جائے ۔ اور سال کے اندر اندر اس کی دس ہزار خریداری ہو جائے اور پھر بڑھتی چلی جائے یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو خواہش تھی اس سے دُگنی تگنی چوگنی پانچ گنی دس گنی بیس گنی سو گنی پوری کرنے کے ہم قابل ہو جائیں۔ پس اِدھر تو جماعتیں اپنی جگہوں پر جا کے دوستوں میں تحریک کر کے وعدہ کریں کہ ہم دو روپیہ فی رسالہ کے حساب سے اتنے رسالوں کی قیمت دینے کے لئے تیار ہیں۔ کچھ دو روپیہ کے لحاظ سے خریداروں سے وصول ہو جائے گا اور کچھ باہر کے لوگوں کی طرف سے جو ان کا پیکنگ کا خرچ ہے وہ وصول ہو جائے گا۔
امیر جماعت کراچی کہتے ہیں کہ پانچ سو کاپی جماعت کراچی اپنے ذمہ لیتی ہے یعنی ایک ہزار روپیہ، گویا گیارہ سو کاپی میں نے لی تھی ، پانچ سو انہوں نے لی سولہ سو ہوگئی۔ دو ہزار انجمن لے گئی چھتیس سو ہوگئی۔ ایک سو پرچہ کلکتہ کے ایک دوست نے لیا سینتیس سو ہوگئی۔ محمد بشیر صاحب سہگل جو ڈھاکہ کے ہیں وہ کہتے ہیں کہ پچاس کاپیاں میں بھی لوں گا۔ اِس طرح ساڑھے سینتیس سو ہوگئی اب پانچ ہزار ہونے میں صرف ساڑھے بارہ سو کی کمی رہ گئی ہے جس کا پورا کرنا ساری جماعت کے لئے کوئی مشکل امر نہیں کیونکہ اکیلے میں نے گیارہ سو پرچہ لیا ہے۔
ایک بات میں یہ کہنی چاہتا تھا کہ حضرت خلیفہ اول کی خلافت کے خلاف جب حملے ہوئے تو حضرت خلیفہ اول نے فرمایا تھا کہ مغرور مت ہو میرے پاس خالد ہیں جو تمہارا سر توڑیں گے۔ مگر اُس وقت سوائے میرے کوئی خالد نہیں تھا صرف میں ہی ایک شخص تھا۔ چنانچہ پرانی تاریخ نکال کر دیکھ لو صرف میں ہی ایک شخص تھا جس نے آپ کی طرف سے دفاع کیا اور پیغامیوں کا مقابلہ کیا اور ان سے چالیس سال گالیاں سنیں۔ لیکن باوجود اس کے کہ ایک شخص ان کی طرف سے دفاع کرنے والا تھا پھر بھی اللہ تعالیٰ نے اس کی زبان میں برکت دی اور ہزاروں ہزار آدمی مبائعین میں آ کر شامل ہو گئے۔ جیسا کہ آج کا جلسہ ظاہر کر رہا ہے۔ مگر یہ نہ سمجھو کہ اب وہ خالد نہیں ہیں اب ہماری جماعت میں اس سے زیادہ خالد موجود ہیں! چنانچہ شمس صاحب ہیں، مولوی ابوالعطاء ہیں، عبدالرحمٰن صاحب خادم ہیں۔ یہ لوگ ایسے ہیں کہ جو دشمن کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں اور دیں گے اِنْشَاءَ اللہُ تَعَالٰی۔ اور اللہ تعالیٰ ان کی قلم میں اور ان کے کلام میں زیادہ سے زیادہ برکت دے گا یہاں تک کہ یہ اُس بت خانہ کو جو پیغامیوں نے تیار کیا ہے چکنا چُور کر کے رکھ دیں گے۔
اب میں اپنے مضمون سیر روحانی کے ایک حصہ کو بیان کرتا ہوں۔ ”سیر روحانی“ کے بہت سے ٹکڑے میں بیان کر چکا ہوں۔ اب صرف تین باقی ہیں۔ ایک قرآنی باغات، ایک قرآنی لنگر اور ایک قرآنی کتب خانے۔ یہ تین مضمون خدا چاہے ہو جائیں تو پھر وہ سارا لیکچر مکمل ہو جائے گا۔ آج میں باغات کا مضمون لیتا ہوں۔“
(الفضل 12، 15؍ مارچ 1957ء)
”پیشتر اس کے کہ میں اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کروں اور اُن باغات کے مقابلہ میں جو میں نے اپنے سفرِ حیدرآباد میں دیکھے تھے اُن روحانی باغات کا ذکر کروں جو قرآنِ کریم نے پیش کئے ہیں میں تمہیدی طور پر بعض امور کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کا میرے اس مضمون کے ساتھ تعلق ہے۔
یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام کی بنیاد توحیدِ خالص پر ہے اور سورۃ الاخلاص اِس توحید کا معیار ہے۔ قرآن کریم اس بات پر زور دیتا ہے کہ سوائے خدا تعالیٰ کے سب چیزیں جوڑا جوڑا ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ خدا تعالیٰ خالق ہے اور باقی چیزیں مخلوق ہیں کیونکہ اَحَد وہی ہو سکتا ہے جو جوڑا نہ ہو۔ جو جوڑا ہو اُس کا مخلوق ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ سورۃ الذّٰرِیٰت رکوع 3 آیت 50 میں آتا ہے۔ وَمِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَیۡنِ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ(51:50) یعنی جتنی چیزیں ہم نے پیدا کی ہیں ان سب کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے تاکہ تم اس سے نصیحت حاصل کرو۔ یعنی دُنیوی چیزوں کو جوڑا جوڑا پیدا کرنے سے یہ غرض ہے کہ تم سوچو کہ جب ہر چیز جوڑا ہے تو معلوم ہوا کہ ہر چیز مخلوق ہے اور اس کا کوئی خالق ہے۔ اور جب خدا جوڑا نہیں تو معلوم ہوا کہ اللہ اَحَد ہے، اللہ صَمَد ہے۔ وہ لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَلَمۡ یُوۡلَدۡ(112:4) ہے۔ جو شخص کسی کا بیٹا ہوتا ہے وہ جوڑا ہوتا ہے اور اس کا ایک باپ اور ایک ماں ہوتی ہے۔ اور جس کے ہاں کوئی بیٹا ہو اُس کی ایک بیوی بھی ہوتی ہے۔ غرض جو بیٹا جنے یا کسی کا بیٹا ہو وہ اَحَد نہیں ہو سکتا۔ عیسائیت جو حضرت مسیحؑ کے ابن اللہ ہونے پر ناز کرتی ہے درحقیقت وہ
دوسرے لفظوں میں مسیحؑ کو ابن اللہ ہونے سے جواب دیتی ہے۔ کیونکہ اگر وہ ابن اللہ ہے تو وہ جوڑا ہے خالق نہیں۔ وہ منفرد نہیں، وہ محتاج ہے ایک باپ کا جو اُس کو وجود میں لایا ہے۔ وہ محتاج ہے ایک ماں کا جو اس کو وجود میں لائی ہے۔ اور جب وہ مخلوق ہوا تو وہ محتاج ہے بیوی کا بھی تاکہ وہ اولاد پیدا کرے اور اگر وہ بیوی کا محتاج نہیں تو مخنّث ہے جو ذلیل ہوا کرتا ہے۔
پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ہر چیز کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے تاکہ تم اس سے نصیحت حاصل کرو۔ ایک نصیحت تو یہ حاصل کرو کہ جب ساری مخلوق کو دیکھو کہ وہ جوڑا جوڑا ہے تو سمجھ جاؤ کہ وہ مخلوق ہے اور خدا نے پیدا کی ہے۔ دوسرے تم سمجھ لو کہ جو جوڑا نہیں وہ خالق ہے اور وہ ایک ہی ہے اور وہی سچا اَحَد ہے اور کوئی اَحَد نہیں ہوسکتا اس لئے وہ مخلوق بھی نہیں ہوسکتا اور اِس طرح توحید کامل پر قائم ہوجاؤ۔
مخلوق کے بارے میں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے سب کو جوڑا جوڑا بنایا ہے یہ علم بھی قرآن کریم سے پہلے کسی کو معلوم نہیں تھا۔ سارا وید پڑھ جاؤ، ساری بائبل پڑھ جاؤ، ساری انجیل پڑھ جاؤ، ساری زَند اَوَستا پڑھ جاؤ، یونان کے فلاسفروں کی کتابیں پڑھ جاؤ، ہندوستان کے فلاسفروں کی کتابیں پڑھ جاؤ، چین کے کنفیوشس نبی کی کتابیں پڑھ جاؤ، شنٹوازم جو جاپان کا مذہب ہے اُس کی کتابیں پڑھ جاؤ، غرض بدھوں کی کتابیں پڑھو، یہودیوں کی پڑھو، عیسائیوں کی پڑھو، ہندوؤں کی پڑھو، یونانیوں کی پڑھو، کسی مذہب کی کتاب پڑھو، یہ نکتہ تمہیں کہیں نظر نہیں آئے گا کہ ہر چیز کا جوڑا ہے۔ صرف قرآن کریم ایک کتاب ہے جو کہتی ہے کہ ہم نے ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے۔ اور یہ جوڑے اِس لئے پیدا کئے ہیں تاکہ ان کی حکمت سے تمہیں خدا کی توحید کی طرف توجہ ہو۔ یہ علم جو قرآن کریم سے پہلے کسی کو نہیں تھا حتّٰی کہ الہامی کتابوں میں بھی نہیں تھا، نہ ویدوں میں تھا، نہ بدھ کی پُستکوں 2 میں تھا، نہ یونانیوں کی کتابوں میں تھا، نہ ایرانیوں کی کتابوں میں تھا، نہ یہودیوں کی کتابوں میں تھا، نہ عیسائیوں کی کتابوں میں تھا۔ اِس بارہ میں بہت ہی محدود علم عربوں کو حاصل تھا۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ محدود علم بھی حاصل نہیں تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن کریم خدا کی کتاب ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ ہر چیز کا جوڑا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ بعض درختوں کے بھی جوڑے ہیں۔ اگر قرآن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لکھا ہوا ہوتا تو اس میں تو جوڑے کا ذکر ہی نہیں ہونا چاہئے تھا۔ اور اگر ہوتا تو یہ ہوتا کہ یہ سب فضول باتیں ہیں کوئی چیز جوڑا جوڑا نہیں۔ مگر قرآن میں لکھا ہوا ہے کہ ہر چیز کو خدا تعالیٰ نے جوڑے کی شکل میں پیدا کیا ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسا کہ میں آگے ثابت کروں گا اس کا کوئی علم نہیں تھا۔ اب اگر یہ ثابت ہو جائے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم نہیں تھا کہ ہر چیز کا جوڑا جوڑا ہے تو پھر آیت کس نے لکھ دی۔ صاف ثابت ہے کہ یہ عالَم الغیب خدا نے لکھی ہے جس سے محمّد رسول اللہ بھی سیکھتے تھے اور ہم بھی سیکھتے ہیں۔ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لکھی ہوئی ہوتی تو اُن کو بھی علم ہوتا۔ اور اگر اُن کو علم ہوتا تو وہ بات نہ ہوتی جو میں آگے بیان کرنے لگا ہوں۔
حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں ایک کھجوروں کے باغ کے پاس سے گزرے۔ آپ نے دیکھا کہ باغ والے نَر کھجور سے کچھ چیز لے کر مادہ کھجور سے ملا رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا ایسا کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! اس کے بغیر پھل اچھا نہیں آتا۔ یعنی کھجور میں بھی نر اور مادہ ہے اور اگر ان کو آپس میں نہ ملایا جائے تو جیسے نَر مادہ سے نہ ملے تو بچہ پیدا نہیں ہوتا اسی طرح اگر نر کھجور کو مادہ کھجور سے نہ ملایا جائے تو اس کا پھل بھی پیدا نہیں ہوتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی بات سُن کر یہ نہیں فرمایا کہ ٹھیک ہے قرآن میں بھی یہی آتا ہے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھل تو خدا تعالیٰ پیدا کرتا ہے اُس نے جو پیدا کرنا ہے وہ تو کرے گا ہی جو نہیں پیدا کرے گا وہ کس طرح ہو جائے گا۔ چونکہ وہ بڑے اطاعت گزار لوگ تھے انہوں نے آپ کی بات سن کر یہ کام کرنا چھوڑ دیا۔ جب پھل کا موسم آیا تو کھجوروں کو پھل نہ لگا، یا بہت کم لگا۔ اُن لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر عرض کیا کہ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! آپ کی نصیحت پر عمل کر کے ہم تو مارے گئے۔ آپ نے تلقِیح سے یعنی نر درخت کو مادہ درخت سے ملانے سے منع کیا تھا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارا پھل بہت ہی کم آیا۔ آپ نے فرمایا کہ اِس فن کے تم ماہر ہو میں ماہر نہیں ہوں، مجھے اس حقیقت کا کیا علم تھا، تم کو چاہئے تھا کہ میری بات نہ مانتے۔
اِس حدیث سے معلوم ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو جو قرآن کریم میں قاعدہ کے طور پر بیان کی گئی تھی اپنے کسبی علم کے ذریعہ سے نہیں جانتے تھے یہ محض الہامی علم تھا۔ پس اس واقعہ سے ہر عقلمند خواہ کسی ملک کا رہنے والا ہو، کسی مذہب کا ماننے والا ہو سمجھ سکتا ہے کہ قرآن کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بنایا ہوا نہیں تھا۔ ورنہ وہ بات جو وہ جانتے نہیں تھے اس میں لکھتے کس طرح؟ قرآن کریم عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ خدا کا اُتارا ہوا تھا اس لئے اس میں علاوہ روحانی علوم کے مادی علوم بھی ایسے بیان کئے گئے جن کو محمدؐ رسول اللہ تو بالکل نہیں جانتے تھے مگر دنیا بھی نہایت محدود رنگ میں اُن سے واقف تھی۔ جیسے عربوں میں یہ علم تھا کہ کھجور میں نَر و مادہ ہوتا ہے مگر باوجود اس کے کہ گزشتہ تیرہ سَو سال میں مسلمانوں نے دُنیوی علوم میں بڑی ترقی کی ہے اور باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں یہ آیت موجود تھی انہوں نے اس مسئلہ میں کوئی ترقی نہیں کی کیونکہ خدا تعالیٰ یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ تیرہ سَو سال بعد سائنس نے جو دریافت کی ہے وہ قرآن کریم میں پہلے سے موجود تھی۔
اب سائنس دان کہتے ہیں کہ صرف کھجور میں ہی نرو مادہ نہیں بلکہ اور درختوں میں بھی ہیں۔ مثلاً پپیتا میں بھی ہیں۔ پپیتا کے درخت میں بھی ایک نر پپیتا ہوتا ہے اور ایک مادہ پپیتا۔ میرے سندھ کے باغ میں بہت سے پپیتے لگے ہوئے ہیں۔ کیونکہ وہاں پپیتے بہت ہوتے ہیں اور ہم بھی لگواتے ہیں۔ ایک دفعہ میں نے دیکھا تو درختوں پر پھل نہیں تھا۔ میں نے کہا پھل کیوں نہیں؟ وہ کہنے لگے غلطی سے سب مادہ درخت لگ گئے ہیں نر کوئی نہیں لگا اس لئے ہوا نر درخت میں سے نُطفہ لا کر مادہ پر نہیں گر اتی اور اس وجہ سے پھل نہیں لگتا۔ اب ہم نر درخت لگائیں گے تو پھر پھل لگے گا۔ غرض اب سائنٹیفک تحقیق سے بھی ثابت ہو گیا ہے کہ پپیتا میں بھی نر و مادہ ہے بلکہ بہت سی سبزیوں اور تر کاریوں میں بھی وہ نر و مادہ کے قائل ہو گئے ہیں بلکہ بعض سائنس دان تو تحقیق میں اتنے بڑھ گئے ہیں کہ وہ دھاتوں میں بھی نر و مادہ کے قائل ہو گئے ہیں۔ ایک سائنس دان کی کتاب میں نے پڑھی ، اُس میں لکھا تھا کہ ٹین 4 بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک ٹین نَر ہوتا ہے اور ایک مادہ ہوتا ہے اور یہ بھی ایک دوسرے پر اثر کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اثر کو قبول کر کے ایک نئی شکل بدل لیتے ہیں۔ مگر سائنس دان تو یہ کہتے ہیں کہ نباتات میں نر و مادہ ہوتا ہے اور دھاتوں میں بھی نر و مادہ ہوتا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ اس سے بھی اوپر جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ ہم نے ہر چیز میں جوڑا بنایا ہے اور چیز کے لفظ کے نیچے سب نباتات بھی آ جاتی ہے، جمادات بھی آ جاتی ہے ، حیوانات بھی آ جاتے ہیں۔ بلکہ اس سے بڑھ کر ذرّاتِ عالم اور مجموعہء ذرّاتِ عالم بھی آ جاتے ہیں۔
چنانچہ دیکھ لو! جہاں بہت سے مذاہب اور فلسفیوں نے صرف اس دنیا کی زندگی کو ایک حقیقت قرار دیا ہے اسلام نے مذکورہ بالا اصل کے مطابق دو جہان قرار دیئے ہیں یعنی جہانوں میں بھی جوڑا بتایا ہے۔ ایک یہ دنیا ہے اور ایک اگلا جہان ہے ، یہ بھی جوڑا ہے۔ ساری بائبل پڑھ کے دیکھ جاؤ صرف کہیں کہیں اشارے نظر آئیں گے کہ مرنے کے بعد دوسری زندگی ہے لیکن واضح طور پر حیات بَعْدَ الْمَوْت کا بائبل میں کوئی ذکر نہیں۔ حضرت مسیحؑ نے بھی ایک مُردہ سا اشارہ بائبل سے نکالا کہ اس میں مرنے کے بعد کی زندگی کا ذکر ہے۔ مگر قرآن کو پڑھ جاؤ ہر جگہ اگلے جہان کا ذکر نظر آئے گا۔ میں نے کئی یورپین لوگوں کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ قرآن پڑھ کر متلی ہونے لگ جاتی ہے، ہر جگہ اگلے جہان کا ہی ذکر ہے۔ حالانکہ اگلے جہان کا ذکر قرآن اس لئے کرتا ہے کہ قرآن دعویدار ہے کہ ہم نے ہر چیز کو جوڑا پیدا کیا ہے۔ اگر قرآن اگلے جہان پر زور نہ دیتا تو لوگ کہتے یہ جہان تو ایک ہو گیا۔ آپ جو کہتے ہیں کہ ہر چیز کا جوڑا ہے تو پھر اس کا جوڑا کونسا ہے؟ قرآن نے پیش کر دیا کہ اس کا جوڑا اگلا جہان ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں صاف طور پر آتا ہے کہ وَلِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ(5) جو شخص اپنے ربّ کی شان سے ڈرتا ہے اُس کو دو جنتیں ملیں گی ۔ ایک اِس دنیا میں ایک اگلے جہان میں۔ سو دو زندگیوں کا اِس آیت میں بھی ذکر آ گیا۔ یوں دونوں زندگیوں کا الگ بھی ذکر آتا ہے مگر اس آیت سے بھی نکلتا ہے کہ دو زندگیاں ہیں۔
اِسی طرح اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو دعا سکھائی ہے کہ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّفِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ(6) اے خدا! ہم ہر چیز کے جوڑے کے قائل ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک یہ دنیا ہے اور ایک اگلا جہان ہے۔ تُو ہم کو اس دنیا میں بھی آرام بخشیو اور سُکھ دیجئیو اور اگلے جہان میں بھی سُکھ دیجئیو ۔ اور اگلے جہان میں بھی ہم کو پتا ہے کہ پھر جوڑا ہے، ایک دوزخ ہے اور ایک جنت ہے۔ گویا جوڑا وہاں بھی ختم نہیں ہوتا۔ تُو ہم کو اس جوڑے میں سے جو دوزخ والا حصہ ہے اُس سے بچائیو۔ اور اس جوڑے میں سے جو جنت والا حصہ ہے وہ عطا کیجئیو ۔ بلکہ پھر آگے چل کر اس دنیا کو بھی جوڑا بتایا ہے اور اگلے جہان کو بھی جوڑا بتایا ہے۔ اِس دنیا کے متعلق فرماتا ہے کہ ایک عُسر کی دنیا ہے اور ایک یُسر کی دنیا ہے۔ ایک نُور کی دنیا ہے ایک ظلمت کی دنیا ہے۔ یعنی ایک زندگی اس دنیا میں ایسی ہے جو تکلیف اور دُکھ کی زندگی ہے اور ایک زندگی راحت کی زندگی ہے۔ اسی طرح ایک زندگی نور کی ہے اور ایک تاریکی کی ۔ یہ دونوں اس دنیا کی زندگی کے جوڑے ہیں۔ چنانچہ فرماتا ہے فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا(7) یعنی یاد رکھ تنگی کے ساتھ ایک بڑی کامیابی مقدر ہے۔ ہاں یقیناً اس تنگی کے ساتھ ایک بڑی کامیابی مقدر ہے۔ اِسی طرح فرماتا ہے اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوۡرَ(8) یعنی سب تعریف اللہ کی ہے جس نے ایک ظلماتی دنیا پیدا کی ہے اور ایک نوری دنیا پیدا کی ہے۔ ظلماتی دنیا ظاہری لحاظ سے رات ہوتی ہے کیونکہ رات کا کام بھی نرالا ہے اور دن کا کام بھی نرالا ہے۔ اور نورانی دنیا دن ہوتا ہے اور روحانی طور پر ظلماتی دنیا کفر کی دنیا ہوتی ہے اور نورانی دنیا ایمان اور اسلام کی دنیا ہوتی ہے۔
پھر اگلے جہان کے متعلق بھی ایک نار اور ایک جنت کی زندگی بتاتا ہے۔ فرماتا ہے۔ بَلٰی مَنۡ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَّاَحَاطَتۡ بِہٖ خَطِیۡٓــَٔتُہٗ فَاُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ(9) یعنی وہ لوگ جو برائیوں میں ملوث ہوں گے اور اُن کے گناہ اُن کا چاروں طرف سے احاطہ کرلیں گے وہ دوزخ میں جائیں گے اور وہ اس میں رہتے چلے جائیں گے۔ لیکن جولوگ ایمان لائے اور انہوں نے مناسبِ حال اعمال کئے وہ جنت میں جائیں گے اور وہ اُس میں ہمیشہ رہتے چلے جائیں گے۔
غرض قرآن کریم نے خدائی مخلوق میں ہر جگہ جوڑا جوڑا تسلیم کیا ہے بلکہ قرآن کریم سے پتا لگتا ہے کہ صرف درختوں میں ہی جوڑا نہیں بلکہ پھلوں میں بھی جوڑا ہوتا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ وَہُوَ الَّذِیۡ مَدَّ الۡاَرۡضَ وَجَعَلَ فِیۡہَا رَوَاسِیَ وَاَنۡہٰرًا ؕ وَمِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیۡہَا زَوۡجَیۡنِ اثۡنَیۡنِ(10) یعنی خدا ہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا ہے اور اُس میں پہاڑ بنائے ہیں اور نہریں بنائی ہیں اور ہر قسم کے میوے لگائے ہیں۔ مگر وہ تمام قسم کے میوے بھی جوڑا جوڑا ہیں۔ گویا صرف کھجور کا درخت ہی جوڑا نہیں بلکہ کھجور کو جو پھل لگتا ہے وہ بھی جوڑا جوڑا ہے اور اس میں بھی نر اور مادہ ہوتا ہے۔ آجکل کے سائنس دانوں کے مقابلہ میں یہ زراعت کا کتنا وسیع علم ہے جو قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے۔ آج کے سائنس دان اس کے ہزارویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے۔
پھر فرماتا ہے یُغۡشِی الَّیۡلَ النَّہَارَ(11) دیکھو ہم نے دن اور رات کا بھی جوڑا بنایا ہے۔ رات دن پر اور دن رات پر سوار ہوتا چلا جاتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اس آیت میں زمین کا تو ذکر کیا گیا ہے مگر آسمان کا نہیں۔ یہ تو کہا ہے کہ ہم نے زمین کو پھیلایا ہے مگر آسمان جو زمین کا جوڑا ہے اُس کا ذکر چھوڑ دیا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ دو متقابل چیزوں میں سے ایک کا ذکر کر دیا جائے تو دوسری کو چھوڑ دیا جاتا ہے کیونکہ ہر عقل اس کا آپ ہی قیاس کر لیتی ہے۔ عرب کہتے ہیں کہ اگر دو متقابل چیزیں ہوں اور ایک چیز کا ذکر کر کے دوسری کو چھوڑ دیا جائے تو عقلِ انسانی اُس کو آپ ہی نکال لیتی ہے۔ یہ قاعدہ میں اپنے پاس سے بیان نہیں کر رہا بلکہ لُغت کے امام ثعالبی نے اپنی کتاب فِقْہُ اللُّغَةِ میں اسے بیان کیا ہے۔ ثعالبی وہ شخص ہیں جو ابن جنّی 12 کے شاگرد تھے اور ابن جنّی اِمَامُ اللُّغَةِ سمجھے جاتے تھے۔ وہ زبان کے بہت بڑے ماہر تھے۔ اُن کی کتاب ایسی بے نظیر ہے کہ جس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔ اس کتاب میں انہوں نے اشتقاق وغیرہ پر بحث کی ہے جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے منن الرحمٰن لکھی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ عربی زبان اُمُّ الْاَلْسِنَہ ہے۔ گو انہوں نے اس کا اپنی کتاب میں ایک ناقص نقشہ کھینچا ہے مگر بہرحال کچھ نہ کچھ نقشہ تو کھینچا ہے۔ پس اس جگہ پر زمین و آسمان کو جوڑا بتایا گیا ہے اور پھلوں کو بھی جوڑا جوڑا بتایا گیا ہے۔ پھلوں کے جوڑے میں صرف دنیاوی جوڑوں کی طرف اشارہ نہیں بلکہ اِس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ روحانی سلسلوں میں جو پھل پیدا ہوتے ہیں یعنی نبی کی روحانی اولاد چلتی ہے وہ بھی جوڑا جوڑا ہوتی ہے۔
اب میں اپنے اصل مضمون یعنی باغات کو لیتا ہوں۔ جتنے باغات میں نے اپنے سفرِ حیدر آباد میں دیکھے تھے وہ سب ایک ایک تھے مگر قرانِ کریم نے جن باغات کو پیش کیا ہے وہ جوڑا ہیں۔ چنانچہ قرانِ کریم میں جنت کا ایک نام نہیں بلکہ چار نام آئے ہیں۔ جَنَّتِ عَدْنٍ 13، جَنَّتُ الْمَاْوٰی 14، جَنَّتِ النَّعِیْمِ 15 اور جَنَّتُ الْفِرْدَوْسِ 16۔ گویا جنتوں کو صرف جوڑا ہی نہیں بتایا بلکہ دو جوڑے (یعنی چار) بتایا ہے۔ اور اِس طرح اُس چیز کو جس کو غیر فانی قرار دیا گیا تھا توحید کے راستہ سے ہٹا کر توحید کی دلیل بنا دیا ہے۔ کیونکہ جنت کے متعلق کہا گیا تھا کہ وہ عدن ہے اور خُلْد ہے یعنی دائمی طور پر رہنے والی ہے۔ اور چونکہ غیر فانی چیز میں خدائی پائی جاتی ہے اِس لئے شُبہ ہوسکتا تھا کہ شاید جنت میں بھی خدائی پائی جاتی ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے بتایا کہ نہیں وہ بھی جوڑا ہے۔ اور چونکہ وہ جوڑا ہے اس لئے اُسے بھی خدا تعالیٰ کے مقابل میں کھڑا نہیں کیا جاسکتا اور اس کے اندر کوئی خدائی نہیں پائی جاتی۔ اِسی طرح وہ چیز جو خدا تعالیٰ کی احدیت میں شُبہ پیدا کرسکتی تھی اُس کو بھی جوڑا بنا کر خدا تعالیٰ کی احدیت کو پھر قائم کردیا ہے۔ اور وہی چیز جو توحید میں شبہ ڈال سکتی تھی اُس کو توحید کی دلیل بنا دیا ہے۔ پھر اگلی دنیا میں جن جنتوں کا ذکر کیا ہے اُن میں سے ہر ایک جنت کو پھر جوڑا قرار دیا گیا ہے گویا اس طرح چار جنتوں کو آٹھ جنتیں بنا دیا ہے۔ چنانچہ سورہ رحمن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَجَنَا الۡجَنَّتَیۡنِ دَانٍ(17) یعنی اگلے جہان کی ہر جنت جَنَّتِ نَعِیْم ہو یا جَنَّتِ مَأْوٰی، جَنَّتِ فِرْدَوْس ہو یا جَنَّتِ عَدْن۔ اس کے بھی دو دو حصے ہوں گے اور اس کے ہر حصہ کا پھل جھکا ہوا ہوگا۔ اوّل تو جَنَّتِ نَعِیْم اکیلی نہیں۔ جَنَّتِ نَعِیْم کے ساتھ جَنَّتِ عَدْن بھی ہے۔ اور پھر جَنَّتِ مَأْوٰی بھی ہے اور جَنَّتِ فِرْدَوْس بھی ہے۔ گویا چار جنتیں ہیں۔ مگر وہ چاروں جنتیں آگے پھر دو دو جنتیں ہیں اور ان کے ہر حصہ کا پھل جھکا ہوا ہوگا اور مؤمن کو آسانی سے مل جائے گا۔
پھر اس دنیا کی جنتوں کا جہاں ذکر فرماتا ہے وہاں بھی اُس کو جوڑا کی شکل میں ظاہر کرتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں جہاں ایک قوم کے باغوں کا ذکر آتا ہے وہاں بھی اُس کو دو باغ قرار دیا ہے۔ فرماتا ہے وَبَدَّلۡنٰہُمۡ بِجَنَّتَیۡہِمۡ جَنَّتَیۡنِ ذَوَاتَیۡ اُکُلٍ خَمۡطٍ وَّاَثۡلٍ وَّشَیۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِیۡلٍ(18) یعنی عاد کی قوم کے پاس بھی دو جنتیں تھیں۔ ہم نے ان جنتوں کو تباہ کردیا اور اُس کی جگہ نہایت بُرے پھل والے درخت لگا دیئے جو بدمزہ تھے، کڑوے تھے اور کھٹے تھے۔ خَمْطٍ کے معنے ایسی چیز کے ہوتے ہیں جو کھٹی اور کڑوی ہو۔ یعنی وہ ایسے پھل دینے لگے جو کڑوے بھی تھے اور کھٹے بھی۔ یہاں بھی درحقیقت روحانی پھل مراد ہیں کیونکہ عاد اور ثمود کی تباہی کے بعد جن کے پھل سخت کڑوے اور بدمزہ ہو چکے تھے حضرت ابراہیمؑ آئے تھے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اِن لوگوں کی جنتوں کو تباہ کر دیا اور اس کی جگہ نہایت بُرے پھل والے دو باغ اِن کو دیئے۔ یعنی اچھے پھل والے باغ ابراہیمؑ کو مل گئے اور بُرے پھل والے باغ عاد کو مل گئے۔
سورۃ الکہف میں اللہ تعالیٰ موسوی قوم کے متعلق بھی فرماتا ہے۔ وَاضۡرِبۡ لَہُمۡ مَّثَلًا رَّجُلَیۡنِ جَعَلۡنَا لِاَحَدِہِمَا جَنَّتَیۡنِ مِنۡ اَعۡنَابٍ وَّحَفَفۡنٰہُمَا بِنَخۡلٍ وَّجَعَلۡنَا بَیۡنَہُمَا زَرۡعًا کِلۡتَا الۡجَنَّتَیۡنِ اٰتَتۡ اُکُلَہَا وَلَمۡ تَظۡلِمۡ مِّنۡہُ شَیۡئًا ۙ وَّفَجَّرۡنَا خِلٰلَہُمَا نَہَرًا(18:33-34) یعنی تُو اِن کے سامنے اُن دو شخصوں کی حالت بیان کر جن میں سے ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ دیئے تھے اور انہیں ہم نے کھجور کے درختوں سے ہر طرف سے گھیر رکھا تھا اور ہم نے ان دونوں کے درمیان کچھ کھیتی بھی پیدا کی تھی۔ ان دونوں باغوں نے اپنا اپنا پھل خوب دیا اور اس میں سے کچھ بھی کم نہ کیا اور اُن کے درمیان ہم نے ایک نہر بھی جاری کی ہوئی تھی۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دو جنتیں عطا فرمائیں اور ان دونوں جنتوں میں فاصلہ رکھا اور چونکہ یہ باغ کنارہ کی طرف جاتے جاتے کمزور پڑ گئے اس لئے ایک باغ اور دوسرے باغ کے درمیان کھیتیاں بنا دی گئیں۔ چنانچہ موسوی باغ اور عیسوی باغ کے درمیان داؤد کے اتباع کا زمانہ آیا۔ اسی کی طرف اس میں اشارہ ہے کہ موسیٰ کا باغ چلے گا اور جاتے جاتے داؤد کے زمانہ کے بعد اس میں تنزّل شروع ہو جائے گا اور وہ کھیتیاں بن جائے گا۔ چنانچہ فرماتا ہے وَّجَعَلۡنَا بَیۡنَہُمَا زَرۡعًا(18:33) ہم نے ان دونوں باغوں کے درمیان کچھ کھیتی بھی پیدا کی تھی۔ یعنی ایک طرف عیسوی باغ تھا اور ایک طرف موسوی باغ اور ان کے درمیان ہم نے کھیتی پیدا کر دی۔ یعنی داؤد کی نسل پر وہ زمانہ آیا جبکہ بخت نصر
نے یہودیوں کو تباہ کر دیا۔ اُن کے مَعْبد گرا دیئے اور انہیں قید کر کے لے گیا۔ پس اُن اتباع کا جو زمانہ تھا یا حزقی ایل اور دانی ایل کا زمانہ تھا وہ کھیتیوں کا زمانہ تھا۔ یعنی اُن کی مثال ایک کھیتی کی سی تھی نہ کہ باغ کی جو کہ غَنَمُ الْقَوْمِ کے چر جانے کے خطرہ میں ہوتی ہے۔ یعنی جب قوم کمزور پڑ جاتی ہے تو دشمن قومیں اس کو لُوٹ سکتی ہیں۔ اسی کو قرآنِ کریم میں دوسری جگہ بیان کیا گیا ہے کہ نَفَشَتۡ فِیۡہِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ(20)۔ پس کی ہمسایہ قوموں کے جو جانور تھے اور بھیڑیں وغیرہ تھیں وہ اس کھیتی میں چر گئیں۔ یعنی ارد گرد جو بخت نصر کا علاقہ یا رومی علاقہ تھا انہوں نے آ کر موسوی کھیتی کو اپنے آگے رکھ لیا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا گیا تھا کہ درمیان میں نہر ہو گی۔ یعنی آخری زمانہ اور موسوی زمانہ کے درمیان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کیا جائے گا۔ چنانچہ موسوی قوم کی دو ترقیوں کے درمیان حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے اور انہوں نے موسوی باغ کے لئے نہر کا کام دیا۔
یہی سلسلہ دُہرانے کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وعدہ فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا(21) اے مکہ والو! ہم نے تمہاری طرف بھی ایک رسول تمہارا نگران بنا کر بھیجا ہے جس طرح فرعون کی طرف موسیٰؑ کو رسول بنا کر بھیجا تھا۔ یعنی محمدؐ رسول اللہ مثیلِ موسیٰؑ ہیں۔ اور موسیٰؑ کی قوم کے حالات ایک رنگ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی پیش آئیں گے۔ یعنی ان کو بھی دو باغ ملیں گے۔ اور موسیٰؑ کی طرح اُن کے زمانہ نبوت میں بھی ایک باغ تو وہ ہو گا جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت بغیر کسی اور مامور کی مدد کے چلے گی۔ لیکن آخر میں اسلام کے تنزل کا دَور آ جائے گا اور وہ کھیتیوں کی طرح رہ جائے گا۔ تب اللہ تعالیٰ موسوی سلسلہ کی طرح ایک مسیحِ محمدی بھیجے گا جس کی اُمت دوسرے باغ کی حیثیت رکھے گی۔ لیکن ہوگی وہ بھی محمدؐ رسول اللہ کی اُمت اور اس کا باغ بھی محمدؐ رسول اللہ کا باغ ہی کہلائے گا۔ لیکن اس فرق سے کہ چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موسیٰ سے افضل ہیں موسوی سلسلہ کے دوسرے حصہ کی بنیاد جس مسیح سے پڑی تھی وہ مستقل نبی تھا۔ مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے باغ کی بنیاد جس مسیح سے پڑے گی وہ امتی نبی ہوگا۔ یعنی وہ خود بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں ہوگا اور اُس کے ماننے والے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہی ہوں گے۔ پس اُس کی کوئی جُدا اُمت نہیں ہوگی بلکہ اُس کے ماننے والے اُس کے مرید کہلائیں گے۔ جیسا کہ جماعتِ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مرید کہلاتی ہے لیکن امت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کہلاتی ہے۔
چنانچہ اس کا ثبوت کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں سے اُمّتی نبی آتے رہیں گے سورۃ نساء رکوع 9 آیت 70 سے ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیۡقِیۡنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا(4:70) یعنی اے لوگو! یاد رکھو ہمارے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا درجہ ہے کہ جو کوئی اللہ کی اطاعت کرے وَالرَّسُوْلَ اور اس رسول یعنی محمدؐ رسول اللہ کی اطاعت کرے، فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ وہ اُن لوگوں میں شامل ہو جائے گا جن پر خدا تعالیٰ نے انعام کیا۔ وہ کون لوگ ہیں؟ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیْنَ وہ نبی اور صدیق اور شہداء اور صالحین ہیں۔ یعنی آپؐ کی اُمت میں داخل ہونے والے آپؐ کے فیض سے مستفیض ہو کر اور آپؐ کے نور سے منور ہو کر اور آپؐ کی روشنی کو حاصل کر کے اور آپؐ کے درس سے سبق سیکھ کر نبیوں اور صدیقوں اور شہداء اور صالحین کے مقام کو پہنچیں گے۔ لیکن فرماتا ہے یہ درجے صرف محمدؐ رسول اللہ کی اُمت میں مل سکتے ہیں کسی غیر کو حاصل نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ الرَّسُوْلَ کی اطاعت یعنی محمدؐ رسول اللہ کی اطاعت سے ہی نبی اور صدیق وغیرہ بن سکتے ہیں۔ قرآن کریم کی دوسری آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دوسرے نبیوں کی اطاعت کر کے انسان صدیق، شہید اور صالح بن سکتا ہے مگر نبی نہیں بن سکتا۔ مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کر کے نبی، صدیق، شہید اور صالح سب درجے حاصل کر سکتا ہے۔
پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو باغ مل گئے۔ ایک باغ مسیح موعودؑ کے ظہور سے پہلے زمانہ میں اور ایک باغ مسیح موعودؑ کے ظہور کے بعد کے زمانہ میں۔ چنانچہ پہلے زمانہ میں دُنیاوی لحاظ سے وہی باغ آپ کو ملا جو موسیٰؑ کی اُمت کو دُنیوی لحاظ سے ملا تھا۔ یعنی فلسطین اور کشمیر کا علاقہ۔ فلسطین میں بھی بڑے باغات ہیں۔ میں نے 1924ء میں جب سفر کیا تو فلسطین بھی گیا تھا۔ میں ریل میں دمشق سے بیروت آیا۔ جب بیروت کے قریب پہنچے تو میں نے دیکھا کہ ریل شہر کے اندر داخل ہو رہی ہے اور ہر گھر میں باغیچے لگے ہوئے ہیں۔ اور دمشق میں میں نے دیکھا کہ گھر گھر میں نہریں جاری تھیں اور ہر گھر میں باغ لگا ہوا تھا۔ اسی طرح کشمیر کا حال ہے کہ وہاں چپے چپے پر باغ ہے۔ کچھ خود رَو اور کچھ مغل بادشاہوں کے لگائے ہوئے۔ پس قرآن کہتا ہے کہ دُنیوی لحاظ سے محمدؐ رسول اللہ کو وہی باغ ملے گا جو موسیٰؑ کی اُمت کو ملا۔ جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلسطین کا اپنے نیک بندوں کو وارث بنائے گا یعنی مسلمانوں کو۔ پھر اللہ تعالیٰ یہودیوں کو فلسطین سے نکال کر کشمیر میں لایا اور اُس نے کشمیر کے لوگوں کو مسلمان بنایا۔ چنانچہ شیخ ہمدان ایران سے آئے اور اُن کے ذریعہ سے سارا کشمیر مسلمان ہو گیا۔
یہ خبر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موسوی باغ مل جائے گا اس کا ذکر انجیل میں حضرت مسیحؑ نے بھی کیا ہے۔ انجیل میں آتا ہے:۔ ’’پھر وہ انہی تمثیلوں میں کہنے لگا کہ ایک شخص نے انگور کا باغ لگایا۔ اور اُس کی چاروں طرف کھیرا اور کولھو کی جگہ کھودی اور ایک بُرج بنایا اور اسے باغبانوں کو سپرد کر کے پردیس گیا۔ پھر موسم میں اُس نے ایک نوکر کو باغبانوں کے پاس بھیجا تاکہ وہ باغبانوں سے انگور کے باغ کے پھل میں سے کچھ لے۔ انہوں نے اُسے پکڑ کے مارا اور خالی ہاتھ بھیجا (چونکہ یہ مثال ایک روحانی سلسلہ کی ہے اس لئے باغ کے مالک سے مراد خدا تعالیٰ ہے) اُس نے دوبارہ ایک اَور نوکر کو اُن کے پاس بھیجا۔ انہوں نے اُس پر پتھر پھینکے، اُس کا سر پھوڑا اور بے حُرمت کر کے پھیر بھیجا۔ پھر اُس نے ایک اَور کو بھیجا۔ انہوں نے اُسے قتل کیا۔ پھر اَور بہتیروں کو۔ اُن میں سے بعض کو پیٹا اور بعض کو مار ڈالا۔ اب اُس کا ایک ہی بیٹا تھا (یعنی خود مسیحؑ) جو اُس کا پیارا تھا آخر کو اُس نے اُسے بھی اُن کے پاس یہ کہہ کے بھیجا کہ وہ میرے بیٹے سے دبیں گے۔ لیکن ان باغبانوں نے آپس میں کہا یہ وارث ہے آؤ ہم اسے مار ڈالیں تو میراث ہماری ہو جائے گی۔ اور انہوں نے اسے پکڑ کے قتل کیا (اس میں مسیح کے صلیب پر لٹکائے جانے کی پیشگوئی تھی) اور انگور کے باغ کے پَرے پھینک دیا (یعنی فلسطین سے نکالا اور نصیبین بھیج دیا جہاں سے وہ کشمیر چلا گیا) پس باغ کا مالک کیا کہے گا؟ وہ آوے گا اور اُن باغبانوں کو ہلاک کر کے انگوروں کا باغ اَوروں کو دے گا (یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئیں گے اور اُن باغبانوں کو یعنی یہودیوں کو وہاں سے نکال دیں گے اور اپنی اُمت کو دے دیں گے)۔“
اِس جگہ خود مسیحؑ نے محمدؐ رسول اللہ کے روحانی بادشاہ ہونے کا اعلان کیا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا مظہر اور موسیٰؑ کو محض ایک کارندہ ثابت کیا ہے۔ اِس پیشگوئی سے ظاہر ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ فلسطین اور اُمتِ موسویہ کا باغ محمدؐ رسول اللہ کے حوالے کر دے گا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو باغ مل جائیں گے۔ دو مادی اور دو روحانی۔ مادی فلسطین اور کشمیر اور روحانی مسیح موسوی کی اُمت اور مسیح محمدی کے متبع۔
اب دونوں مادی باغوں کو دیکھ لو۔ کشمیر میں بھی خدا کے فضل سے جو لوگ اس عزم کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں کہ ہم نے سارا ملک ہی مسلمان بنانا ہے وہ احمدی ہیں اور فلسطین میں بھی ایک ہی جماعت بیٹھی ہے اور وہ احمدی ہیں۔ یہ چیز بتاتی ہے کہ یہ پیشگوئی جو محمدؐ رسول اللہ کے ہاتھ میں فلسطین اور کشمیر لانے والی ہے احمدیوں کے ہاتھ سے ہی پوری ہوگی۔ پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے متعلق فرمایا تھا کہ اگر میرے زمانہ میں دس یہودی بھی مسلمان ہو جائیں تو سارے یہودی مسلمان ہو جائیں گے۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صرف ایک یہودی عالم مسلمان ہوا دو بھی نہیں ہوئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی مبلغ جو یہودی فلسطین کو اسلامی فلسطین بنانے کے لئے وہاں موجود ہیں ان کے ذریعہ سے اس وقت تک تین یہودی مسلمان ہو چکے ہیں۔ اُن میں سے ایک بڑا مستشرق پروفیسر ہے، ایک ڈاکٹر ہے اور ایک تاجر پیشہ ہے اور ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ یہودی قوم کو پھر مسلمان بنائے گا اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ بگوش ہو جائیں گے اور بجائے اس کے کہ مسلمانوں کو توپیں اور بندوقیں لے کر فلسطین پر حملہ کرنا پڑے یہودی آگے بڑھ کر اپنے دروازے کھولیں گے اور کہیں گے کہ اے مسلمانو! ہم بھی تمہارے مسلمان بھائی ہیں آ جاؤ۔
غرض اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے کام لے کر تم لوگ جو کہ نہایت غریب سمجھے جاتے ہو اور جن کے کپڑوں کو دیکھ کر بعض شہری امراء تو حقارت کی نگاہ سے اپنے منہ پرے پھیر لیتے ہیں تمہارے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ مقدر ہے کہ مسیح موعودؑ کے ذریعہ سے تم موسوی باغ پر قبضہ کرو اور اُسے محمدؐ رسول اللہ کے حوالے کرو۔ محمدؐ رسول اللہ کا مادی باغ کشمیر اس وقت ہندوؤں کے قبضہ میں ہے اور فلسطین یہودیوں کے قبضہ میں ہے مگر خدا تعالیٰ احمدیوں کے ذریعہ سے یہ دونوں باغ پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس دلائے گا۔ اسی طرح دونوں روحانی باغ بھی محمدؐ رسول اللہ کو مل جائیں گے یعنی مسیح موسوی کی اُمت بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیروؤں کے ذریعہ سے دوبارہ فتح کی جائے گی اور اسلام لائے گی اور پھر محمدؐ رسول اللہ کا باغ بن جائے گی اور مسیح محمدیؐ کے متبع جو ہیں وہ تو ہیں ہی شروع سے محمدؐ رسول اللہ کے۔ کہتے ہیں۔ ’’کس دی گولی تے کس دے گئے۔‘‘ ہم تو ہیں ہی محمدؐ رسول اللہ کے غلام اور آپ کے باغ کے بُوٹے۔ ہم تو ہر وقت آپؐ ہی کی ملکیت ہیں۔ کبھی آپؐ کے حلقۂ اطاعت سے باہر گئے ہی نہیں۔ موسوی سلسلہ کے لوگ یعنی یہودی وغیرہ بے شک نکلے اور باہر گئے مگر اُن کو بھی ہم محمدؐ رسول اللہ کے دروازہ پر لائیں گے اور ہم تو ہیں ہی آپ کے دروازہ پر بیٹھے ہوئے۔ اس دروازہ کو ہم نے کبھی نہیں چھوڑا نہ چھوڑیں گے اِنْشَاءَ اللّٰہُ تَعَالیٰ۔ بلکہ مسیح ناصریؑ کی اُمّت جو عیسائی ہے اور حضرت موسیٰؑ کی براہِ راست اُمت جو یہودی ہے ان دونوں کے باغوں میں سے بھی روحانی پودے نکال نکال کر ہم محمدؐ رسول اللہ کے باغ میں لگاتے رہیں گے یہاں تک کہ محمدؐ رسول اللہ کا باغ آباد ہو جائے گا اور موسیٰؑ کا باغ بھی محمدؐ رسول اللہ کے باغ میں شامل ہو جائے گا۔
محاورہ زبان میں بھی جسمانی یا روحانی اولاد درخت کہلاتی ہے۔ چنانچہ پنجابی والے تو خوب جانتے ہیں کہ جب کسی عورت کا بچہ مر جاتا ہے اور وہ بَین ڈالتی ہے تو کہتی ہے’’ہائے میرا باغ اُجڑ گیا، ہائے میرا بُوٹا کسے نے پٹ لیا۔‘‘ تو ہمارے ملک میں بچے اور اولاد کو بھی بُوٹا اور باغ ہی کہتے ہیں۔ مگر لطیفہ یہ ہے کہ لوگ باغ لگاتے رہے اور باغ محمدؐ رسول اللہ کو مل گئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کوشش کر کے یہودی بنائے اور اُن کو فلسطین میں قائم کیا۔ خدا نے محمدؐ رسول اللہ کو بنایا فلسطین دے دیا۔ موسیٰؑ کی قوم ہجرت کر کے کشمیر آئی اور کشمیر بنایا خدا نے محمدؐ رسول اللہ کو دے دیا اور اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لگایا ہوا باغ بھی محمدؐ رسول اللہ کو ہی مل گیا۔ دنیا کے کناروں تک احمدی مبلغ تبلیغ کرتے ہیں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھوا کر لوگوں کو اپنے ساتھ ملاتے ہیں۔ یعنی جو درخت بھی اُن کو ملتا ہے وہ لا کر محمدؐ رسول اللہ کے چمن میں لگا دیتے ہیں۔ موسیٰؑ کے باغ میں تو صرف ایک بڑا درخت پیدا ہوا تھا جس کا نام داؤدؑ تھا۔ مگر محمدؐ رسول اللہ کے چمن کا ایک درخت یعنی مسیح موعودؑ دعویٰ کرتا ہے کہ میں ہی محمدؐ رسول اللہ کے چمن کا داؤد نامی درخت نہیں بلکہ مجھ سے اور بیج بھی نکلنے والے ہیں جن سے بہت سے داؤد پیدا ہوں گے اور محمدؐ رسول اللہ کے چمن میں ہزاروں داؤدی شجر پیدا ہو جائیں گے۔ چنانچہ آپؐ فرماتے ہیں۔
’’ اِک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے‘‘
23
یعنی میں محمد رسول اللہؐ کے باغ کا ایک درخت ہوں جو خود ہی داؤد نہیں بلکہ میرے اندر جو پھل لگ رہے ہیں وہ بھی داؤد ہیں۔ یعنی میں ہی داؤد نہیں بلکہ میرے ماننے والے مریدوں میں سے بھی ہزاروں داؤد پیدا ہوں گے۔
اور پھر فرماتے ہیں:۔
میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار 24
اگر موسیٰ اور عیسیٰ کو بنی اسرائیل کی تعداد پر فخر ہے تو میرے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ محمدؐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے شمار نسلیں دے گا۔ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا باغ دنیا میں چپہ چپہ پر پھیل جائے گا۔ زمین کا کوئی گوشہ نہیں ہو گا جس میں محمدؐ رسول اللہ کا باغ نہ لگا ہوا ہو۔ اور دنیا کا کوئی انسان نہیں ہو گا جس کے دل میں محمدؐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی کلی نہ کھلی ہوئی ہو۔
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی یہی نمونہ اللہ تعالیٰ نے دکھایا اور لوگوں کے لگائے ہوئے درخت آپؐ کے چمن میں لا کر لگا دیئے۔ چنانچہ ابو جہل کے باغ کا انگور کا درخت عکرمہؓ وہاں سے اُکھیڑ کر آپؐ کے باغ میں لا کر لگا دیا گیا۔ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی خیال کا اظہار فرماتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ جنت سے انگور کا ایک خوشہ لایا۔ جب میں نے اُس سے پوچھا کہ یہ خوشہ کس کے لئے ہے؟ تو اس نے کہا ابو جہل کے لئے۔ اس پر میں گھبرا گیا کہ کیا خدا کا رسول اور اُس کا دشمن دونوں جنت میں ہوں گے؟ مگر جب عکرمہؓ ابو جہل کا بیٹا مسلمان ہوا تو میں نے سمجھا کہ یہ اِس خواب کی تعبیر ہے۔ ۲۵ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے انگور کا خوشہ تو ابو جہل کے گھر میں آنا تھا مگر اُس وقت آنا تھا جب اُس کے باغ میں سے عکرمہؓ کے انگور کا درخت اُکھیڑ کر محمدؐ رسول اللہ کے باغ میں لگایا جانا تھا۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے مشہور دشمن ولید اور عاص بن وائل تھے۔ ولید کا بیٹا خالدؓ تھا۔ وہ ولید کے چمن سے اُکھیڑ کر محمدؐ رسول اللہ کے چمن میں لگا دیا گیا اور آج عالمِ اسلام خالدؓ بن ولید جیسے بہادر جرنیل کے کارناموں پر فخر کرتا ہے۔ وہ بُوٹا تھا محمدؐ رسول اللہ کے ایک شدید دشمن کا۔ لیکن اُس نے پھل تب دینے شروع کئے جب اُسے محمدؐ رسول اللہ کے باغ میں آ کر لگایا گیا۔ اِس سے پہلے وہ مکہ کے ایک نمبردار کا بیٹا تھا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ میں لگنے کے بعد روم اور کسرٰی کے بادشاہ اُس کے سائے میں بیٹھنے لگ گئے۔ اِسی طرح اور بھی بہت سی مثالیں اُس زمانہ کے لوگوں کی ملتی ہیں۔
اِس کے علاوہ آپؐ کے باغ کے کچھ درخت وہ تھے جو براہِ راست آپؐ نے لگائے تھے جیسے ابو بکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ۔ ابو بکرؓ کے خاندان کی ایسی ادنیٰ حالت تھی کہ اُن کے خلیفہ ہونے پر کوئی شخص دوڑا دوڑا گیا اور جا کر اُس نے آپ کے باپ کو اطلاع دی۔ ابو قحافہؓ اُن کا نام تھا، وہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اُن کو کہنے لگا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں لوگ بڑے گھبرائے اور انہوں نے کہا اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیا بنے گا؟ وہ کہنے لگا اُن کے بعد ایک خلیفہ مقرر ہو گیا ہے۔ لوگوں نے کہا کون خلیفہ ہوا ہے؟ اُس نے کہا ابوبکرؓ! ابوبکرؓ کا باپ اپنے آپ کو اتنا ادنیٰ سمجھتا تھا کہ ابو قحافہؓ کہنے لگا کون ابوبکر؟ اُس نے کہا ابوبکرؓ تمہارا بیٹا۔ وہ کہنے لگا ہیں! میرے بیٹے کو عربوں نے سردار مان لیا ہے؟ کیا مکہ کے قریش اور بنو ہاشم اور بنو عبد شمس نے میرے بیٹے کی بیعت کر لی ہے؟ یہ کس طرح ہوسکتا ہے؟ ابھی تک اُس کا ایمان کمزور تھا۔ اُس نے کہا سب نے کر لی ہے۔ ہر اک نے آگے آگے بڑھ کر بیعت کی۔ عمرؓ خطاب نے بھی کی، عثمانؓ نے بھی کی اور باقی صحابہؓ نے بھی کی اور مہاجرین نے بھی کی اور انصار نے بھی کی۔ جب اُس نے یہ سنا تو اُس پر اتنا اثر ہوا کہ اُس کے دل کی جو کمزوریٔ ایمان تھی وہ دُور ہوگئی۔ اور کہنے لگا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔ اگر محمدؐ رسول اللہ کے بعد لوگوں نے میرے بیٹے کی بیعت کر لی ہے اور محمدؐ رسول اللہ کا اتنا اثر ہے اور اتنی برکت ہے تو پھر اُن کے خدا کا رسول ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ 26
لیکن اِدھر تو یہ حالت تھی کہ باپ اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں تھا کہ میرا بیٹا خلیفہ ہوسکتا ہے اور اُدھر یہ حالت تھی کہ ابوبکرؓ آرام سے ایک کچی کوٹھڑی میں مدینہ میں بیٹھے ہوئے تھے لیکن قیصر اپنے محل میں اُن کے نام سے کانپ رہا تھا اور کسریٰ اپنے محل میں ایران میں بیٹھا ہوا ہزار ہزار میل پر کانپ رہا تھا۔ ابوبکرؓ ابوقحافہؓ کا بیٹا جس کو مکہ میں بھی کوئی عظمت حاصل نہیں تھی وہ مدینہ کی کچی کوٹھڑی میں بیٹھا تھا لیکن قیصر قسطنطنیہ میں ایک بڑے پکّے محل میں بیٹھا ہوا تھا اور کسریٰ ایران میں ایک بڑے پکّے محل میں بیٹھا ہوا تھا لیکن ابوبکرؓ کا نام آتا تھا تو کانپ جاتے تھے۔ یہی حال عمرؓ کا تھا، یہی حال عثمانؓ کا تھا، یہی حال حضرت علیؓ کا تھا۔
حضرت عمرؓ کا سایہ تو اتنا بڑھا کہ لکھا ہے ایک دفعہ روم کے بادشاہ کے سر میں سخت دَرد ہوئی کسی علاج سے فائدہ نہ ہوتا تھا۔ رومی بادشاہ کو کسی نے کہا کہ آپ نے علاج تو بہت کر دیکھے اب ذرا عمرؓ سے کچھ تبرّک منگوائیے، سنا ہے اُس کی چیزوں میں بڑی برکت ہے۔ شاید اس تبرّک کی برکت سے آپ کی درد ہٹ جائے۔ وہ تھا تو مخالف اور اُس کی فوجیں عمرؓ کی فوجوں کے ساتھ لڑ رہی تھیں مگر مرتا کیا نہ کرتا۔ سر درد کی برداشت نہ ہوئی۔ آخر حضرت عمرؓ کے پاس سفیر بھیجا کہ اپنا کوئی تبرّک بھیجیں۔ حضرت عمرؓ نے بھی سمجھا کہ میرا کیا تبرّک ہے یہ تو محمّد رسول اللہ کا تبرّک ہے اور خدا اس کو محمّد رسول اللہ کی قوم سے لڑنے کی وجہ سے ذلیل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اپنی پُرانی ٹوپی جس پر دو دو اُنگل میل چڑھی ہوئی تھی وہ دے دی کہ جاؤ اور یہ ٹوپی اُس کو دے دو۔ جو تبرّک لینے آیا تھا وہ سفیر اُس کو لے گیا۔ بادشاہ کو بڑی بُری لگی اور اُس نے اُسے حقیر سمجھا۔ وہ ریشمی ٹوپیاں اور سونے کے تاج پہننے والا بادشاہ بھلا حضرت عمرؓ کی دو دو اُنگل میل والی چکنی چپٹی ٹوپی سر پر رکھنے سے کتنا گھبراتا ہوگا۔ اُس نے کہا پھینکو اس کو میں نہیں پہن سکتا۔ مگر تھوڑی دیر بعد جو درد کا دورہ ہوا تو کہنے لگا لے آنا ٹوپی۔ وہ ٹوپی رکھی تو سر کا درد دُور ہو گیا اور خدا نے فضل کر دیا۔ جب درد کو ایک دن آرام رہا تو پھر دل میں کچھ خیال آیا کہ میرے جیسا بادشاہ ایسی غلیظ ٹوپی پہنے۔ کہنے لگا پھینکو پرے اس کمبخت کو۔ انہوں نے پھر پھینک دی مگر پھر درد ہو گئی۔ پھر اپنے درباریوں سے منتیں کرنے لگا کہ خدا کے واسطے وہ ٹوپی لانا میں مرا جا رہا ہوں۔ پھر سر پر ٹوپی رکھی تو آرام آ گیا۔ بہرحال وہ ٹوپی لینے پر مجبور ہوا اور اُس کو سر پر رکھتا رہا۔۲۷
اب دیکھو حضرت عمرؓ کا درخت جو محمّد رسول اللہ نے لگایا تھا اُس کا کیسا لمبا سایہ تھا۔ عمرؓ مدینہ میں بیٹھا ہوا تھا اور روم کے بادشاہ پر اُس کا سایہ تھا۔ چنانچہ بادشاہِ روم کو بھی اُس کے نیچے بیٹھنے سے آرام آیا۔ عمرؓ کیا تھے؟ محمّد رسول اللہ کے باغ کا ایک درخت ہی تھے۔ اور روم کا بادشاہ کیا تھا؟ مسیحؑ اور موسیٰ کے باغ کا ایک درخت تھا۔ عام درختوں کے اندر تو یہ بات پائی جاتی ہے کہ بڑے درختوں کے نیچے اگر اُن کو لگایا جائے تو وہ سُوکھنے لگ جاتے ہیں مگر محمّد رسول اللہ کے باغ کا درخت عمرؓ ایسا با برکت تھا کہ مسیحؑ اور موسیٰ کے باغ کا درخت جب اُس کے نیچے لگایا گیا یعنی روم کے بادشاہ کے سر پر اُس کی ٹوپی رکھی گئی تو بجائے سُوکھنے کے سرسبز و شاداب ہونے لگ گیا۔ وہ برکتوں والا زمانہ تو گزر گیا مگر پھر بھی محمدی باغ میں ایسے ایسے درخت لگے کہ دنیا کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ میں ایک گندا پودا پیدا ہوا جس کا نام یزید ہے۔ یزید یزید ہی تھا مگر آخر محمدؐ رسول اللہ کے باغ کا پودا کہلاتا تھا۔ اُس کے گھر میں ایک بیٹا پیدا ہوا تو اُس نے اُس کا نام بھی اپنے باپ کے نام پر معاویہ رکھا۔ مگر ایسے گندے باپ کا بیٹا محمدؐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کی وجہ سے اور اُن کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے ایسا پھلا پھولا کہ اس کے واقعہ کو پڑھ کر لطف محسوس ہوتا ہے۔
تاریخ میں لکھا ہے کہ جب یزید کی موت کا وقت آیا تو اُس نے اپنے بیٹے معاویہ کو خلیفہ مقرر کیا۔ لوگوں سے بیعت لینے کے بعد وہ اپنے گھر چلا گیا اور چالیس دن تک باہر نہیں نکلا۔ پھر ایک دن وہ باہر آیا اور منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے کہنے لگا کہ میں نے تم سے بیعت تو لے لی ہے مگر اس لئے نہیں کہ میں اپنے آپ کو تم سے بیعت کا زیادہ اہل سمجھتا ہوں بلکہ اس لئے کہ میں چاہتا تھا کہ تم میں تفرقہ پیدا نہ ہو اور اُس وقت سے لے کر اب تک میں گھر میں یہی سوچتا رہا کہ اگر تم میں کوئی شخص لوگوں سے بیعت لینے کا اہل ہو تو میں یہ امارت اُس کے سپرد کر دوں اور خود بری الذمہ ہو جاؤں۔ مگر باوجود بہت غور کرنے کے مجھے تم میں کوئی ایسا آدمی نظر نہیں آیا اس لئے اے لوگو! یہ اچھی طرح سن لو کہ میں اس منصب کے اہل نہیں ہوں اور میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میرا باپ اور میرا دادا بھی اس مَنصب کے قابل نہیں تھے۔ میرا باپ یزید حسینؓ سے درجہ میں بہت کم تھا۔ اور اُس کا باپ یعنی معاویہ حسنؓ، حسینؓ کے باپ یعنی حضرت علیؓ سے کم درجے والا تھا اور اس کے بعد بہ نسبت میرے دادا اور باپ کے حسنؓ اور حسینؓ خلافت کے زیادہ حقدار تھے اس لئے میں اِس امارت سے سبکدوش ہوتا ہوں۔ اب یہ تمہاری مرضی پر منحصر ہے کہ جس کی چاہو بیعت کرلو۔ اُس کی ماں اُس وقت پردہ کے پیچھے اُس کی تقریر سن رہی تھی۔ جب اُس نے بیٹے کے یہ الفاظ سنے تو کہا کمبخت! تُو نے اپنے خاندان کی ناک کاٹ دی ہے اور اُس کی تمام عزت خاک میں ملا دی ہے۔ وہ سن کر کہنے لگا کہ جو سچی بات تھی وہ میں نے کہہ دی ہے اب آپ کی جو مرضی ہو مجھے کہیں۔ چنانچہ اس کے بعد وہ اپنے گھر میں بیٹھ گیا اور تھوڑے دن گزرنے کے بعد وفات پا گیا۔۲8 تعجب ہے کہ یہ تاریخ شیعوں کی لکھی ہوئی ہے مگر باوجود اس کے افسوس ہے کہ شیعہ اصحاب نے اُس مُردار جھاڑی یعنی یزید کو تو یاد رکھا جو یزید بن معاویہ کہلاتی ہے مگر محمدؐ رسول اللہ کے اُس خوشنما پودے کو یاد نہ رکھا جو معاویہ بن یزید کہلاتا ہے۔ حالانکہ لوگ اپنے باپ کے باغ کی تعریفیں کیا کرتے ہیں مگر اس میں جو اتفاقاً ایک بُرا پودا یزید کا نکل آیا تھا اُس کو تو شیعہ یاد رکھتے ہیں مگر یزید کے گھر میں جو بیٹا معاویہ پیدا ہوا اور جس نے اتنے فخر سے اور عَلَى الْاِعْلَان کہا کہ حسنؓ و حسینؓ میرے باپ سے بھی اچھے تھے اور میرے دادا سے بھی اچھے تھے اور علیؓ میرے دادا سے اچھے تھے اور وہ خلافت کے زیادہ مستحق تھے اُس بیچارے کا نام بھی کوئی نہیں لیتا۔ حالانکہ چاہئے تھا کہ محرّم کے موقع پر بجائے یزید کے معاویہ کا ذکر کیا جاتا کیونکہ یزید کے ذریعہ سے تو صرف اتنا ہی پتا لگتا ہے کہ ایک گندی جھاڑی محمدؐ رسول اللہ کے باغ میں تھی مگر معاویہ بن یزید کے ذریعہ سے یہ پتہ لگتا ہے کہ محمدؐ رسول اللہ کے باغ میں ایک گندی جھاڑی نکلی تھی مگر اس کے بیجوں سے پھر خدا نے ایک شاندار درخت پیدا کر دیا۔
بے شک ایسی مثالیں شاذ و نادر ہوتی ہیں مگر پھر بھی محمدؐ رسول اللہ کے باغ میں ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد عمرؓ بن عبدالعزیز بھی ایک ایسا ہی پودا آپؐ کے باغ میں پیدا ہوا اور پھر مادی باغوں سے علیحدہ ہو کر روحانی باغوں نے اپنی نشوونما شروع کر دی۔ محمدی باغوں میں ایک پودا حسن بصریؒ کا لگا، ایک جنید بغدادیؒ کا لگا، ایک سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک شبلی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک ابراہیم ادھم رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک محی الدین صاحب ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک بہاؤالدین صاحب نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک معین الدین صاحب چشتی رحمۃ اللہ کا لگا، ایک سلیم چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک قطب الدین صاحب بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک فریدالدین صاحب شکر گنج رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک نظام الدین صاحب اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک حضرت باقی باللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک مجدد صاحب سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک خواجہ میر ناصر رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک خواجہ میر درد رحمۃ اللہ علیہ کا لگا، ایک سید احمد صاحب بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا لگا اور سب سے آخر میں باغِ محمدؐی کی حفاظت کرنے والے درخت مسیح موعودؑ کا پودا لگا جس کو خود مسلمانوں نے بدقسمتی سے کاٹ کر چاہا کہ محمّدی باغ میں لوگ گھس جائیں، بکریاں اور بھیڑیں گھس جائیں اور محمّدی باغ کو تباہ کردیں۔ مگر وہ پودا اس شان کا تھا کہ اُس نے کہا:۔
اے آنکہ سُوئے من بدویدی بصد تبر
از باغبان بترس کہ مَن شاخِ مثمرم
او شخص! جو کہ سَو کلہاڑے لے کر میرے کاٹنے کے لئے دوڑا آرہا ہے میرے باغبان خدا سے یا محمد رسول اللہ سے ڈر کہ میں وہ شاخ ہوں جس کو پھل لگے ہوئے ہیں۔ اگر تُو مجھے کاٹے گا تو محمد رسول اللہ کا پھل کٹ جائے گا اور نتیجہ یہ ہوگا کہ محمد رسول اللہ کا باغ بے ثمر رہ جائے گا۔ پس تُو مجھے نہیں کاٹ رہا تُو محمد رسول اللہ کے باغ کو اُجاڑ رہا ہے اور خدا کبھی برداشت نہیں کرے گا کہ محمد رسول اللہ کا باغ اُجڑے وہ ضرور اس کی حفاظت کرے گا۔
چنانچہ آسمان سے اللہ تعالیٰ مسیح موعودؑ کی حفاظت کے لئے اُترا اور باوجود مولوی عبدالجبار، مولوی عبدالحق، مولوی احمد بن عبداللہ غزنوی، مولوی عبدالواحد بن عبداللہ غزنوی، مولوی محمد حسین بٹالوی، مولوی ثناء اللہ امرتسری اور اَور سینکڑوں ہزاروں مولویوں اور مولوی نذیر حسین دہلوی کے فتووں اور دیوبندیوں کے جوش کے اور جمعیۃ العلماء کی تمام طاقتوں کے اور 1953ء کا فساد پیدا کرنے والے علماء کی کوششوں کے، باوجود اس کے کہ سب نے اکٹھا ہو کر حملہ کیا اللہ تعالیٰ سینہ سپر ہو کر کھڑا ہو گیا کہ میں محمد رسول اللہ کے باغ کو نہیں اُجڑنے دوں گا۔ یہ تو باڑ ہے محمدؐ رسول اللہ کے باغ کی ۔ مسیح موعودؑ کو تم ایک انسان سمجھتے ہو مگر فرمایا میں جانتا ہوں کہ یہ محمدؐ رسول اللہ کے باغ کی باڑ ہے اس کے کٹنے سے محمدؐ رسول اللہ کا باغ اُجڑتا ہے اور محمدؐ رسول اللہ میرا محبوب ہے۔ میں اپنے محبوب کی وفات کے بعد اُس کے باغ کو دشمنوں کو اُجاڑنے نہیں دوں گا۔ تم مولوی ہو یا عالم ہو یا لیڈر ہو میں تمہاری کیا پروا کرتا ہوں۔ میں محمدؐ رسول اللہ کی جوتیوں کے برابر بھی تم کو نہیں سمجھتا۔ محمدؐ رسول اللہ کے باغ یعنی اُس کی امت کی حفاظت کے لئے میں اس کو زندہ رکھوں گا اور یہ ایک اَور جماعت کھڑی کرے گا۔ جس طرح کیلے کے ساتھ اَور کیلے پیدا ہو جاتے ہیں اسی طرح تم تو کہتے ہو کہ اس کے جو مرید ہیں وہ شیطان ہیں اور ابلیس کے فرزند ہیں مگر میں بتاؤں گا کہ یہ ملائکہ ہیں جو محمدؐ رسول اللہ کے باغ کی حفاظت کے لئے آئے ہیں۔
غرض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی تدبیر سے مسیح موعودؑ اور پھر اُن کی جماعت کے ذریعہ سے محمدؐ رسول اللہ کے باغ کی باڑ کاٹے جانے سے بچ گئی۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ اس اُمت کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے جس کے اوّل میں ہوں اور آخر میں مسیح موعودؑ۔۳۰ یعنی میرے باغ کے ایک طرف باڑ میں ہوں اور ایک طرف مسیح موعودؑ۔ نہ خدا مجھے کٹنے دے گا کہ میرا باغ اُجڑے، نہ خدا مسیح موعودؑ کو کٹنے دے گا کہ میرا باغ اُجڑے۔ ہم دونوں کے کاٹے جانے سے باغِ محمَّدی اُجڑتا ہے اور یہ باغ خدا کا لگایا ہوا ہے خدا اپنے لگائے ہوئے باغ کو اُجڑنے نہیں دے گا۔ میں بھی باڑ ہوں اس باغِ محمَّدی کی اور مسیح موعودؑ بھی باڑ ہے اس باغِ محمَّدی کی۔ نہ وہ مجھے کٹنے دے گا اور نہ وہ مسیح موعودؑ کو کٹنے دے گا۔ وہ باغِ محمَّدی کو آباد رکھنے کے لئے اُس کی باڑ کو سلامت رکھے گا اور قیامت تک وہ باغ چلے گا اور اس کو کوئی نہیں کاٹ سکے گا۔
اَب دیکھو ایک طرف دُنیاوی بادشاہوں کے باغ ہیں، وہ کتنے چھوٹے ہیں اور کتنی کم عمر کے ہیں۔ دوسری طرف قرآنی محمَّدی باغ ہیں۔ پھر ایک باغ نہیں دو باغ ہیں اور ان کی عمر اتنی لمبی ہے کہ محمدؐ رسول اللہ سے لے کر قیامت تک ممتد ہے۔ پس کُجا وہ دُنیوی بادشاہوں کے باغ جو میں نے 1938ء میں دیکھے تھے اور کُجا یہ محمَّد رسول اللہ کا باغ جس کا ذکر میں آج 1956ء میں کر رہا ہوں۔ اِن دونوں کا مقابلہ کر کے بے اختیار منہ سے نکلتا ہے۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ بڑی برکت والا ہے ہمارا خدا جس نے محمَّد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان بھیجا جس نے قیامت تک کے لئے دنیا کی ہدایت کا بیڑا اُٹھا لیا۔ پھر بڑی برکت والا ہے وہ خدا جس نے مسیح موعودؑ جیسا غلام محمَّد رسول اللہ کو دیا جس نے محمَّد رسول اللہ کا باغ جب اُجڑ کے کھیتی بننے لگا تھا پھر اس کو باغ کی شکل میں تبدیل کر دیا۔ اور اُس کے پودوں کو دنیا کے کناروں تک پھیلا دیا تاکہ وہ ہر ملک میں جائیں، ہر قوم میں جائیں، ہر جگہ پر جا کے وہاں کے عیسیٰؑ کے باغ کے پودوں کو نکال نکال کر محمَّد رسول اللہ کے باغ میں لگائیں اور موسیٰؑ کے باغ کے پودوں کو اُکھیڑ اُکھیڑ کر محمَّد رسول اللہ کے باغ میں لگائیں، یہاں تک کہ دنیا کے چپے چپے میں محمَّد رسول اللہ کا باغ لگ جائے اور نہ عیسیٰؑ کا باغ رہے نہ موسیٰؑ کا باغ رہے، وہ ساری اُجاڑ بستیاں بن جائیں۔ آباد بستی اور ہرا باغ صرف محمَّد رسول اللہ کا ہو جو قیامت تک چلتا چلا جائے۔‘‘
(ناشر الشرکۃ الاسلامیہ لمیٹڈ ربوہ مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس ربوہ)
سیر روحانی کے موضوع پر تقریر کرنے کے بعد حضور نے فرمایا:۔
’’اب میں دعا کروں گا آپ بھی رستہ میں دعائیں کرتے جائیں کہ اللہ تعالیٰ احمدیت کو دن دُگنی اور رات چوگنی ترقی دیتا چلا جائے اور محمَّد رسول اللہ کا باغ اور اس کے بعد جو اس کو دوسری زندگی مسیح موعودؑ نے بخشی ہے وہ باغ قیامت تک آباد ہوتا چلا جائے اور مسیحیوں کی طرح وہ دن نہ لائے کہ ہم موسیٰؑ کا باغ مسیحؑ کے حوالے کر دیں بلکہ ہم مسیحؑ کے باغ کو بھی محمَّد رسول اللہ کے حوالے کریں۔ اور کبھی کوئی شیطان اور خنّاس ایسا پیدا نہ ہو جو ہمارے دل میں یہ وسوسہ ڈالے کہ مسیح موعودؑ جو محمَّد رسول اللہ کا غلام تھا وہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ محمَّد رسول اللہ کا ہمسر تھا بلکہ ہمیشہ ہم اس کو غلام ہی سمجھتے رہیں اور ہمیشہ اس کے کام کو
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام اور اس کی جماعت کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سمجھتے رہیں اور محمد رسول اللہ کے مقابلہ میں اس کو ایک ادنیٰ غلام اور ایک چھوٹا شاگرد ہی سمجھتے رہیں جس کے ذریعہ سے خدا نے محمد رسول اللہ کی عظمت قائم کی ہے۔ ہم یقین رکھیں کہ مسیح موعودؑ کو جو کچھ ملا ہے محمد رسول اللہ کے طفیل ملا ہے۔ اور ہم کو جو مسیح موعودؑ سے ملا ہے وہ بھی محمد رسول اللہ کا ہی انعام ہے۔ جو ہمارا ہے وہ مسیح موعودؑ کا ہے جو مسیح موعودؑ کا ہے وہ محمد رسول اللہ کا ہے اور ہر چیز سمٹ کر آخر محمد رسول اللہ کے ہاتھوں میں جاتی ہے اور ہر بوٹا اُکھیڑا جا کر آخر محمد رسول اللہ کے باغ میں لگتا ہے۔ سو یہ دعائیں رستہ میں کرتے چلے جاؤ۔ دعا کے بعد میں رخصت کروں گا۔ رستہ میں بھی دعائیں کرتے چلے جانا کہ اللہ تعالیٰ اپنی برکتوں سے ہماری حفاظت کرے اور اپنے دین اسلام کی حفاظت کرے اور اس کی ترقی کے پھر سامان پیدا کرے۔ اور اللہ تعالیٰ پھر اپنی برکت اور رحمت سے قادیان ہم کو واپس دلائے تاکہ وہ جو اصل مرکز ہے ہم پھر وہاں جائیں۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ ربوہ میں زمین نہ خریدو۔ دیکھو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ بسایا تھا پھر مدینہ بھی آباد رہا اور مکہ بھی۔ تو یہ کبھی نہ وہم کرنا کہ ربوہ اُجڑ جائے گا۔ ربوہ کو خدا نے برکت دی ہے، ربوہ کے چپّہ چپّہ پر اَللّٰهُ اَکْبَرُ کے نعرے لگے ہیں، ربوہ کے چپّہ چپّہ پر محمد رسول اللہ پر درود بھیجا گیا ہے۔ خدا اس زمین کو کبھی ضائع نہیں کرے گا جس پر نعرہ تکبیر لگے ہیں اور محمد رسول اللہ پر درود بھیجا گیا ہے۔ یہ بستی قیامت تک خدا تعالیٰ کی محبوب بستی رہے گی اور قیامت تک اس پر برکتیں نازل ہوں گی۔ اس لئے یہ کبھی نہیں اُجڑے گی، کبھی تباہ نہیں ہو گی بلکہ محمد رسول اللہ کا نام ہمیشہ یہاں سے اونچا ہوتا رہے گا اور قادیان کی اتباع میں یہ بھی محمد رسول اللہ کا جھنڈا دنیا میں کھڑا کرتی رہے گی اِنْ شَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔“
اس کے بعد حضور کے ارشاد پر مکرم پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے وہ تاریں پڑھ کر سنائیں جو دنیا کے مختلف ممالک اور پاکستان کے اطراف و جوانب سے آئی تھیں اور جو دعا اور مبارک باد کے پیغامات پر مشتمل تھیں۔ تاریں سنائے جانے کے بعد حضور نے ارشاد فرمایا۔
’’باہر کے پیغاموں سے آپ نے دیکھ لیا ہو گا کہ چاہے ایک ایک دو دو ہی سہی مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے محمدی باغ کا پودا مغرب سے مشرق تک سب جگہ لگا دیا ہے۔ کیا امریکہ اور کیا یورپ اور کیا مڈل ایسٹ اور کیا انڈونیشیا اور کیا بورنیو اور کیا ملایا اور کیا فلپائن اور کیا سپین اور کیا جرمنی اور کیا سکنڈے نیویا گو یا اوپر کے برف پڑنے والے علاقوں اور نیچے کے برف پڑنے والے علاقوں اور مغرب و مشرق میں سب جگہ پر خدا تعالیٰ نے اس پودے کو لگا دیا ہے۔ آپ کو کافر کہنے والے مولوی آخر تیرہ سو سال سے کہاں تھے؟ انہوں نے صرف کافر ہی بنائے ہیں۔ لیکن جس کو کافر اور اکفر اور دجال کہا جاتا ہے اُس نے محمّد رسول اللہ پر درود پڑھنے والے لوگ بحر منجمد شمالی سے لے کر بحر منجمد جنوبی تک پیدا کر دیئے ہیں۔ ہر جگہ پر اسلام کا جھنڈا گاڑنا اگر کافر ہی کا کام ہے تو اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم میں دو چار کافر ایسے اور بنادے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود فرماتے ہیں
بعد از خدا بعشق محمّد مخمّرم
خدا کے عشق کے بعد مجھے محمّد رسول اللہ کا عشق ہے۔
گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم 31
اگر خدا کے بعد محمّد رسول اللہ سے عشق کرنا کفر ہے تو مجھے خدا کی قسم! میرے جیسا کافر کوئی نہیں۔
تو اگر دنیا میں اسلام کی تبلیغ کرنا اور لوگوں میں قربانی کی ایسی روح پیدا کر دینا کفر ہے تو پھر سب سے بڑے کافر ہم ہیں۔ لوگ کہیں گے کہ مبلغ گئے اور انہوں نے تبلیغ کی۔ مرزا صاحب نے کیا کیا؟ میں کہتا ہوں کہ اگر خدا چاہتا تو تم دوسرے لوگوں کے اندر کیوں نہ یہ جوش پیدا کر دیتے ۔ آخر مسیح موعودؑ نے جو لوگوں کے دلوں میں جوش پیدا کیا ہے تم کیوں نہیں پیدا کرتے؟ تمہارے لوگ باہر غیر ممالک میں کیوں نہیں جاتے؟ اب کچھ لوگ جانے لگے ہیں مگر دنیوی اغراض کے لئے۔ ایک تبلیغی پارٹی بنی ہے، گورنمنٹ کے افسر اس کے ساتھ ہیں، گورنمنٹ کی امداد ان کی حاصل ہے۔ ان کو ایکسچینج مل جاتا ہے
ہمارے مبلغوں کو نہیں ملتا۔ ورنہ اگر ہمارے مبلغوں کو ملتا تو اب تک ہمارے مبلغوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو جاتی جتنی کل میں نے بیان کی تھی۔
امریکہ میں ایک پاکستانی جرنیل گیا۔ اُس کی بیوی احمدی تھی۔ ایک دن وہ ہوٹل میں کھانا کھا رہے تھے کہ ہمارا مبلغ پہنچا۔ ہم مبلغوں کو خرچ بہت کم دیتے ہیں۔ اس کے سیدھے سادے کپڑے تھے۔ ان کو بُرا لگا کہ مَیں جرنیل اور بڑا آدمی ہوں، پاکستان کا اِس ملک میں نمائندہ ہوں، میرے کپڑے اچھے ہیں، میری بیوی کے کپڑے اچھے ہیں اور یہ جو اس کا پیر بھائی ہے اس کے کپڑے گندے ہیں تو اُس کی بیوی نے بتایا کہ وہ میری طرف دیکھ کر ہنس کر کہنے لگا دیکھو! وہ تیرا پیر بھائی جا رہا ہے۔ مطلب یہ کہ تم اتنے ذلیل ہو۔ وہ کہنے لگی خدا نے میری عزت رکھ لی۔ معاً اُس کے فقرہ کے بعد تبلیغی جماعت کے مُلّا آئے جن کے پائنچے اوپر گھٹنوں تک چڑھے ہوئے تھے اور انہوں نے ہاتھ میں ڈونے 32 لے کر ان کے اندر کھانا ڈالا ہوا تھا اور ان کے ہاتھ میں طہارت کے لئے مٹی کے لوٹے تھے۔ پھر انہوں نے کھا کھا کے میزوں کے نیچے کاغذ پھینکنے شروع کئے۔ میں نے اسے کہا یہ تمہارے پیر بھائی ہیں۔ وہ کہنے لگی میرا خاوند اتنا شرمندہ ہوا کہ پھر ایک لفظ بھی اس کے منہ سے نہ نکلا۔
تو دیکھو یہ اللہ تعالیٰ کا ہی فضل ہے۔ تم نے سنا ہے امریکہ سے بھی تاریں آئی ہیں، سکنڈے نیویا سے بھی آئی ہیں۔ ایک طرف بحیرہ منجمد شمالی کے قریب ہے اور روس سے بھی اوپر ہے مگر وہاں سے بھی تاریں آئی ہیں۔ پھر ہالینڈ سے بھی آئی ہیں۔ پھر جرمنی سے بھی آئی ہیں بلکہ جرمنی کا ایک نمائندہ یہاں بیٹھا ہے جو یونیورسٹی میں پروفیسر ہے اور بڑا قابل آدمی ہے۔ پھر سوئٹزر لینڈ سے بھی آئی ہیں۔ دمشق سے بھی آئی ہیں۔ بیروت سے بھی آئی ہیں۔ سپین سے بھی آئی ہیں۔ لندن سے بھی آئی ہیں۔ پھر نیچے چلے جاؤ تو پاکستان کو چھوڑ کر ہندوستان سے آئی ہیں۔ اور پھر جنوبی ہند تک سے آئی ہیں۔ پھر ملایا سے آئی ہیں۔ پھر اس سے پرے جا کے انڈونیشیا سے آئی ہیں۔ پھر اس سے اوپر جاپان کے پاس اور فلپائن کے پاس جا کر بورنیو سے آئی ہیں۔ غرض مشرق اور مغرب میں کوئی گوشہ نہیں
جہاں لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ مرزا صاحب کے طفیل نہیں پڑھا گیا۔ اور مولوی ابھی تک یہی کہتے چلے جاتے ہیں کہ کافر، اکفر، اس کے ماننے والے دجّال۔ وہ دجّال جو اسلام کو مارنے آیا تھا مرزا صاحب کا کتنا کمال ہے کہ اس دجّال کو کلمہ پڑھوانے پر مقرر کر دیا۔ آخر یہ کتنی بڑی شان ہے کہ دجّال کا کام تو یہ لکھا تھا کہ وہ کلمہ لوگوں سے چھڑوائے گا مگر مرزا صاحب نے وہ دجّال پیدا کئے کہ انہوں نے دنیا بھر میں لوگوں سے کلمہ پڑھوا دیا۔
پس دعائیں کرو اُن تمام مبلغین کے لئے جو باہر ہیں کیونکہ وہ آپ لوگوں کا کام کرتے ہیں۔ آپ لوگ اپنے بیوی بچوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ بے شک مال دیتے ہیں مگر مال کا کچھ حصہ۔ اور وہ لوگ ایسے ہیں جو اپنا بہت سا مال بھی دیتے رہے ہیں اور پھر چھوٹی نوکریوں اور چھوٹے گزاروں پر جا رہے ہیں۔ ایسے تنگ گزاروں پر جا رہے ہیں کہ غیروں کو بھی دیکھ کر رحم آتا ہے۔ ایک پاکستانی فوج کا میجر باہر کسی جگہ پر پاکستان کی طرف سے گیا۔ اس نے مجھے خط لکھا اور بعد میں مجھے کوئٹہ میں خاص طور پر ملا۔ کہنے لگا میں نے آپ کا فلاں مبلغ دیکھا ہے، وہ بڑی اعلیٰ خدمت کرتا ہے مگر اُس کے کپڑے اور اُس کے کھانے ایسے ردّی تھے کہ مجھے شرم آتی تھی کہ وہ اسلام پھیلانے کے لئے آیا ہے اور اتنی غربت میں ہے۔ تو میں آپ سے درخواست کرنے آیا ہوں کہ آپ اپنے مبلغ کو اتنا روپیہ تو دیا کریں کہ جس سے وہ کھانا کھا سکے اور کپڑے پہن سکے۔ تو ایسی تنگی میں وہ لوگ گزارہ کرتے ہیں مگر پھر بھی ان پر ایک ہی دُھن سوار ہے اور رات دن یہ جنون ہے کہ دنیا کلمہ پڑھنے لگ جائے۔
ان کی حالت اُس میراثن کی سی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں آئی۔ اُس کا بیٹا عیسائی ہو گیا تھا اور وہ مسلول تھا۔ وہ اسے حضرت صاحب کے پاس قادیان میں تبلیغ کے لئے لائی مگر اُس پر اثر نہ ہوا اور وہ رات کو بھاگا۔ وہ اُسی رات کو گئی اور اُس کو پکڑ کر لائی۔ میں نے دیکھا حضرت صاحب چارپائی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ پیروں پر آ کر لوٹتی تھی اور بے تحاشا روتی تھی اور کہتی تھی حضور! میں آپ سے کوئی دولت
نہیں مانگتی ، کوئی روپیہ نہیں مانگتی۔ میں آپ سے یہ بھی نہیں کہتی کہ میرا یہ لڑکا پھر تندرست ہو جائے ۔ اگر اچھا ہو جائے تو خدا کا فضل ہے۔ میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ یہ کلمہ پڑھ کے مرے ، یہ محمدؐ رسول اللہ کا باغی ہو کر نہ مرے ۔ یہ میرا اکلوتا بیٹا ہے۔ میں آپ سے یہ درخواست کرتی ہوں کہ آپ دعا کریں یہ بچ جائے ۔ لیکن اگر نہیں بچ سکتا تو نہ بچے ۔ میری صرف اتنی خواہش ہے کہ یہ ایک دفعہ کلمہ پڑھ لے پھر بے شک اس کی جان نکل جائے ۔ تو وہی جوش جو اس میراٹن کے اندر تھا وہ ہمارے مبلغوں کے اندر بھی ہے۔ بھو کے مرتے ہیں ، لوگوں سے گالیاں سنتے ہیں ، تکلیفیں اٹھاتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ یہی کہتے ہیں کہ جب تک دنیا بھر سے ہم محمدؐ رسول اللہ کا کلمہ نہ پڑھوا لیں ہم بس نہیں کرنے کے۔
میڈرڈ یعنی سپین میں ہمارا مبلغ ہے اور سپین کی گورنمنٹ اسلام کی تبلیغ کی اجازت نہیں دیتی ۔ وہ خرچ بھی کوئی نہیں لیتا ۔ اِرد گِرد پھیری کر کے اپنا اور اپنی بیوی بچوں کا گزارہ کرتا ہے اور تبلیغ کرتا ہے ۔ اب خدا کے فضل سے وہاں سات آدمی مسلمان ہو چکے ہیں لیکن ہماری گورنمنٹ کی یہ عنایت ہے کہ میرے نام گورنمنٹ کا نوٹس آیا کہ اس مبلغ کو بلا لو سپین کی حکومت ناپسند کرتی ہے۔ حالانکہ ان کو سپین کی گورنمنٹ کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ اس ملک میں عیسائیت کا کئی سو مبلغ کام کر رہا ہے اگر تم نے اس سے یہ سلوک کیا تو ہم ان مبلغوں کو بھی یہاں سے نکال دیں گے ورنہ اسلام کا ایک مبلغ جو تمہارے ملک میں گیا ہے اس کو اجازت دو۔ تو ایسی دشمنیوں کے باوجود اور تکلیفوں کے باوجود ہمارے آدمی کام کر رہے ہیں ۔ پس دعائیں کرو ان لوگوں کے لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کی زبانوں میں برکت دے ۔ ان کے حوصلوں میں برکت دے ۔ ان کی تبلیغ میں برکت دے اور لاکھوں لاکھ آدمی خدا کے فضل سے اسلام میں داخل ہوں ۔
اِدھر یہ بھی دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ تم کو توفیق دے کہ تم نمازوں کے پابند ہو۔ تم ذکرِ الٰہی کے پابند ہو۔ تمہاری محبتِ الٰہی روز بروز بڑھتی رہے۔ تمہاری محبتِ رسولؐ ترقی کرے ۔ تم اسلام کے سچے نمونہ بنو ۔ تمہیں دیکھ کر دشمن بھی محمدؐ رسول اللہ کا کلمہ پڑھنے لگ جائے ۔ اور
کہے کہ جس محمدؐ رسول اللہ نے یہ بچے جنے ہیں دھن ہے وہ باپ جس نے یہ بچے جنے ہیں۔ جھوٹ تمہارے قریب نہ آئے۔ فریب تمہارے قریب نہ آئے۔ چوری چکاری تمہارے قریب نہ آئے۔ دغا بازی تمہارے قریب نہ آئے۔ خیانت تمہارے قریب نہ آئے۔ تم ایمان اور اسلام کے اعلیٰ درجہ کے نمونے ہو جاؤ اور عرش پر تمہارا پیدا کنندہ تم کو دیکھ کر خوش ہو جائے۔
پس اپنے لئے بھی دعائیں کرو۔ مبلغوں کے لئے بھی کرو۔ اور پھر یہ دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ جس اخلاص اور ایمان سے تم کو یہاں لایا ہے اس سے زیادہ اخلاص اور ایمان لے کر تم اپنے گھروں کو جاؤ۔ اور وہ سارا سال بڑھتا رہے۔ اور جب اگلے سال تم پھر آؤ (بلکہ اور بھی زیادہ آؤ) تو اُس وقت تمہارا ایمان اِس سے کئی گنے زیادہ بڑھا ہوا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے بچوں اور تمہاری اولادوں کو صاحبِ کشف اور صاحبِ الہام بنائے اور ان کے ایمان مضبوط کرے۔ اور ہمیشہ ہمیش غیر متزلزل ایمان لے کر تم قیامت تک محمدؐ رسول اللہ کے جھنڈے کو کھڑا رکھو۔ خدا تعالیٰ تمہارے لیڈروں اور علماء کو بھی توفیق دے کہ وہ پچھلے علماء کی طرح (گو ان میں سے بعض تو بڑے نیک تھے) کفر بازی میں اپنی عمریں ضائع نہ کریں بلکہ وہ ہمیشہ ہمیش تم کو اسلام کی تبلیغ پر لگائے رکھیں۔ آپ بھی تبلیغ اسلام کریں اور دنیا میں اسلام کو روشن کرنے میں لگے رہیں۔ اور اللہ تعالیٰ مجھے بھی توفیق دے کہ میں آپ لوگوں کی خدمت کرتا رہوں۔ اِسی طرح اسلام کی خدمت کر سکوں اور محمدؐ رسول اللہ کی خدمت کر سکوں۔
اُس کا بڑا فضل ہے کہ اس بیماری میں جبکہ کل کا مضمون گویا ایسا علمی نہیں تھا مگر پھر بھی چونکہ بڑا پیچ دار تھا مجھے کئی دن حوالوں کو ترتیب دینے میں بڑی محنت کرنی پڑی گو پھر بھی کچھ رہ گئے۔ اس کی وجہ سے طبیعت پریشان تھی اور میں ڈرتا تھا کہ شاید میں جلسہ نبھا نہ سکوں لیکن خدا کا فضل ہو گیا کہ جلسہ کی آخری تقریر بھی ختم ہو گئی۔ اب جو تھوڑا سا ملاقاتوں کا کام باقی رہ گیا ہے خدا تعالیٰ اُس کی بھی توفیق دے۔ اور مجھے صحت دے تاکہ میں قرآن شریف کی تفسیر جلدی سے لکھ لوں اور اس کا ترجمہ جلدی سے شائع کر سکوں۔ اور
مجھے توفیق دے کہ آپ لوگوں کے لئے دعائیں کرتا رہوں اور خدا تعالیٰ میری دعاؤں کو سنے اور آپ لوگوں کے ایمان اور اخلاص میں برکت دے اور آپ محمدؐ رسول اللہ کا شاندار پودا بنیں۔ وہ حیات کا پودا جو کہ بائبل کے رُو سے آدم کے زمانہ میں جنت کے وسط میں لگایا گیا تھا۔ علم وعرفان میں آپ ترقی کریں اور قرآن کو سمجھیں اور قرآن پر عمل کریں۔ اور خدا سے آپ راضی ہوں اور خدا آپ سے راضی ہو اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ۔
اب میں دعا کرتا ہوں ۔ جو دعائیں میں نے کی ہیں وہ بھی اور جن لوگوں نے باہر سے دعاؤں کی خواہشیں کی ہیں اُن کے لئے بھی دعا کریں ۔ اسی طرح اپنے لئے بھی کریں، اپنے گھر والوں کے لئے کریں ، اور جو احمدی یہاں نہیں آسکے اور اُن کے دل آنے کے لئے چاہتے تھے اُن کے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اُن کو بھی ہماری سب دعاؤں میں شریک کرے۔‘‘
(الفضل 14؍مارچ 1957ء)
1 :الاخلاص: 2تا 4 2 :پُستکوں: پُستک : کتاب ، صحیفہ ، پوتھی ، گرنتھ (فیروز اللغات اردو جامع صفحہ 296 فیروز سنز لاہور) 3 :مسلم کتاب الفضائل باب وجوب امتثال مَا قَالَہٗ شرعًا حدیث نمبر 6127 صفحہ 1039 الطبعة الثانیة مطبوعہ ریاض 2000ء 4 :ٹِین: (Tin) ایک سفید نرم دھات (فیروز اللغات اردو جامع صفحہ 435 فیروز سنز لاہور) 5 :الرحمٰن: 47 6:البقرة: 202 7:الم نشرح: 6، 7 8:الانعام: 2 9 :البقرة: 82، 83 10:الرعد: 4 11:الرعد: 4 12 : ابن جنّی: ابوالفتح عثمان بن جنّی۔ علم نحو کے ماہر 13 :التوبة: 72 14:السجدة: 20 15:یونس: 10 16 :الكهف: 108 17:الرحمٰن: 55 18:سبا: 17 19 :الكهف: 33، 34 20:الانبياء: 79 21:المزّمّل: 16 22 :مرقس باب 12۔ آیت 1 تا 9۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور 1870ء 23 :درثمین اُردو صفحہ 131۔ شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ
24: دُرّثمین اُردو صفحہ 123۔ شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ
25: السیرة الحلبية جلد 3 صفحہ 106، 107 مطبوعہ مصر 1935ء
26: اسد الغابه فی معرفة الصحابه جلد 3 صفحہ 37 زیر عنوان عبداللہ بن عثمان بن عامر (ابوبکر صدیقؓ) مطبوعہ بیروت لبنان 2001ء
27: فتوح الشام للواقدی ذکر فتح عزاز جلد 1 صفحہ 301 دارالکتب العلمیہ 1997ء
28: تاریخ الخمیس جلد 2 صفحہ 301۔ بیروت 1283ھجری۔ ذکر خلافۃ معاویۃ بن یزید بن معاویہ
29: دُرّثمین فارسی صفحہ 106 شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ
30: کنز العمال جلد 14 صفحہ 269۔ حدیث نمبر 38682 الطبعة الاولىٰ مطبوعہ دمشق 2012ء
31: دَونے:(دَونا) پتوں سے بنایا ہوا پیالہ۔ پتل جس میں دکاندار پھول، مٹھائی، دہی رکھ کر دیتے ہیں۔ (اردو لغت تاریخی اصول پر۔ جلد 9 صفحہ 729۔ اردو لغت بورڈ کراچی دسمبر 1988ء)
32: دُرّثمین فارسی صفحہ 112 شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
(فرمودہ 20 فروری 1957ء بمقام احمدیہ ہال کراچی)
تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ’’الٰہی تقدیر جب دنیا میں کوئی خاص تغیر پیدا کرنا چاہتی ہے تو بنی نوع انسان کی مخالفانہ کوششیں اور تدابیر اس کی مشیت کے پورا ہونے میں کوئی روک پیدا نہیں کر سکتیں اور آخر وہی ہوتا ہے جو خدا چاہتا ہے اور اس کی بات پوری ہو کر رہتی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہی سلوک چلا آ رہا ہے۔ 1908ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فوت ہوئے اور حضرت خلیفہ اول کی بیعت ہوئی تو میری عمر اُس وقت 19 سال کی تھی بنانے کو تو جماعت کے بڑے لوگوں نے حضرت خلیفہ اول کو خلیفہ بنا دیا تھا مگر دوسرے ہی دن انہوں نے آپ کے خلاف منصوبے شروع کر دیئے۔ اُس وقت ان لوگوں کی سازشوں اور منصوبوں کا مجھے ہی مقابلہ کرنا پڑا اور 1908ء سے لے کر 1914ء تک یہ جنگ جاری رہی۔
حضرت خلیفہ اول کے ہاتھ پر بیعت کر لینے اور ایک ہاتھ پر اکٹھا ہو جانے کے بعد ان لوگوں میں یہ جرأت تو نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ سامنے آ سکیں اس لئے کبھی ’’اظہارِ حقیقت‘‘ کے نام پر اظہار کی بجائے اخفاء سے کام لیا جاتا اور بغیر نام کے ان ٹریکٹوں کو شائع کر کے حضرت خلیفہ اول کی مخالفت پر جماعت کو اکسایا جاتا اور کبھی ’’پیغامِ صلح‘‘ کے نام سے جس کو خود حضرت خلیفہ اول نے ’’پیغامِ جنگ‘‘ قرار دیا تھا صلح کی بجائے جنگ کی آگ کو بھڑکایا جاتا۔ گویا جس طرح انہوں نے اپنے ٹریکٹوں کا نام ’’اظہارِ حقیقت‘‘ رکھا مگر
در حقیقت ان میں اخفاءِ حقیقت ہوتا اسی طرح انہوں نے اپنے اخبار کا نام ”پیغام صلح“ رکھا مگر در حقیقت وہ پیغام جنگ تھا۔ یہ لڑائی 1908ء سے شروع ہو کر 1914ء تک جاری رہی۔
1914ء میں اللہ تعالیٰ کی مشیّت کے ماتحت جب حضرت خلیفہ اول کی وفات ہوئی اور جماعت کی باگ ڈور میرے ہاتھ میں آئی تو چاروں طرف سے یہ آوازیں آنی شروع ہو گئیں کہ ایک بچہ کو خلیفہ بنا دیا گیا ہے ، اب یہ جماعت تباہ ہو جائے گی۔ مگر واقعات نے بتا دیا کہ گو ایک بچہ کے ہاتھ میں جماعت کی باگ ڈور آئی مگر ”ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات“ اس بچہ کے خلیفہ بنتے ہی دوسرے سال دنیا کے تمام غیر ملکوں میں تبلیغی مشن جانے شروع ہوئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وہ پیشگوئی پوری ہونے لگی کہ میں اس لڑکے کے ذریعہ دنیا کے کناروں تک تیرا نام پہنچاؤں گا۔ چنانچہ پہلا مشن سیلون گیا ۔ پھر ماریشس بھیجا گیا۔ کچھ عرصہ بعد انڈونیشیا میں ہمارا مشن قائم ہوا۔ پھر افریقہ میں مشن بھیجا گیا۔ اس کے بعد یورپ اور امریکہ میں ہمارے تبلیغی مشن قائم ہوئے۔ چنانچہ اس وقت ہمارے دوسو کے قریب مبلغ غیر ممالک میں اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کر رہے ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو بلند کر رہے ہیں مگر جب جماعت مطمئن ہو گئی کہ ہماری بنیادیں مضبوط ہو گئی ہیں تو پھر خدا نے ایک اور فتنہ پیدا کر کے بتا دیا کہ میری مدد سے ہی سب کچھ ہوا تھا اور آئندہ بھی جو کچھ ہو گا میری مدد سے ہی ہو گا ۔ چنانچہ وہی شخص جس کی خلافت کے استحکام کے لئے میں نے اپنی بلوغت اور جوانی کا زمانہ خرچ کیا تھا اُسی کے بیٹے کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ اب پھل پک گیا ہے ہم اس پھل کو کھائیں گے۔ مگر جو پھل خدا تعالیٰ کے باغ کا ہو وہ وہی کھا سکتا ہے جس کو وہ خود کھلانا چاہے۔ کوئی دوسرا شخص اسے نہیں کھا سکتا کیونکہ وہ خدا کی چیز ہے اور وہی حق رکھتا ہے کہ وہ جس کو چاہے دے۔ وہ جس کو اپنے باغ کا پھل دے دیتا ہے دنیا کا کوئی شخص اُس سے وہ پھل چھین نہیں سکتا۔ اور جس کو وہ پھل نہیں دینا چاہتا دنیا کا کوئی شخص اس پھل کو حاصل نہیں کر سکتا۔
میں نے بتایا ہے کہ میری خلافت کے ابتداء سے ہی بیرونی ملکوں میں تبلیغی مشن جانے شروع ہو گئے تھے لیکن ان لوگوں کی مخالفت پر ایک سال گزر گیا ہے یہ غیر ملک چھوڑ ایک چھوٹے سے چھوٹا گاؤں ہی دکھا دیں جس میں انہوں نے اپنا مشن قائم کیا ہو۔ صرف پکی پکائی کھانے کا شوق ہے جو ان لوگوں کے عمل سے ظاہر ہوا۔ لیکن بات وہی ہو رہی ہے جو خدا نے چاہی تھی اور جو خدا کے منشاء کے ماتحت دنیا میں قائم کی گئی ہے۔
اِس پیشگوئی کے متعلق ربوہ میں جب بھی مجھ سے علماء نے پوچھا میں نے اُن سے یہی کہا کہ تم سارے جھگڑے جانے دو تم پیغامیوں سے صرف یہ پوچھو کہ آیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں کسی بیٹے کی خبر تھی یا نہیں؟ یہ بحث نہ کرو کہ میری تھی یا کسی اور کی۔ تم صرف یہ پوچھو کہ آیا کسی بیٹے کی خبر دی گئی تھی یا نہیں دی گئی تھی؟ اور پھر کیا تمہارے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کوئی بھی بیٹا ہے؟ اگر اس بیٹے سے جسمانی بیٹا مراد لو تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کوئی بھی بیٹا تم سے نہیں ملا۔ اور اگر روحانی بیٹا مراد لو تو اُن کی بھی اِسی طرف اکثریت ہے۔ آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کے کوئی معنے تو کرنے پڑیں گے۔ یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ اس سے جسمانی بیٹا مراد ہے اور وہ فلاں نہیں بلکہ فلاں بیٹا ہے مگر اس صورت میں بھی کسی نہ کسی کو اس پیشگوئی کا مصداق ماننا پڑے گا۔ پس ہم کہتے ہیں کہ اگر ظاہری بیٹوں میں سے کوئی بیٹا مراد ہے تو تم کوئی بیٹا ہی مان لو مگر وہ سارے کے سارے جماعتِ مبائعین میں ہی شامل ہیں تمہارے ساتھ ان میں سے کوئی بھی نہیں۔ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ بیٹا جو آپ کی زندگی میں آپ پر ایمان نہیں لایا تھا وہ بھی حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد مبائعین میں ہی شامل ہوا۔ غیر مبائعین کی طرف نہیں گیا۔ اور اگر کہو کہ اس سے روحانی بیٹے مراد ہیں تو تم یہ دیکھو کہ ان روحانی بیٹوں کی اکثریت کس طرف ہے؟ آخر روحانی بیٹے ایک دو تو نہیں ہو سکتے لازماً ہمیں یہی دیکھنا پڑے گا کہ جو لوگ شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائے ان کی اکثریت کس طرف ہے۔ سو وہ اکثریت بھی جماعتِ مبائعین کو ہی حاصل ہے۔ چنانچہ اُن کی شدید مخالفت اور بڑے بڑے آدمیوں کے رُعب اور اثر کے باوجود اکثر لوگ اِسی طرف آئے اور پھر ہمیشہ خدا تعالیٰ نے ہماری ہی تائید فرمائی۔ چنانچہ جب یہ فتنہ اٹھا تو مری میں ایک کرنل مجھے ملنے کے لئے آیا اور کہنے لگا کہ میں آپ کو یہ بتا دینا
چاہتا ہوں کہ 1953ء میں جو فسادات ہوئے تھے اُنہی فسادات کے پھر آثار پیدا ہو رہے ہیں۔ مگر اِس دفعہ فوج آپ کی مدد نہیں کرے گی کیونکہ فوج مارشل لاء کی وجہ سے بدنام ہو چکی ہے۔ اس لئے آپ ابھی سے کوئی تدبیر سوچ لیں۔ میں نے انہیں ہنس کر کہا کہ اُس وقت ہم نے کون سی تدبیر کر لی تھی؟ اُس وقت بھی خدا نے ہی تدبیر کی تھی اور اب بھی وہی کرے گا۔ اِس پر وہ کہنے لگا فیتھ اِز بلائنڈ (Faith is blind) یعنی ایمان اندھا ہوتا ہے۔ چونکہ آپ کے دل میں ایمان اور یقین ہے اس لئے آپ سمجھتے ہیں کہ اس دفعہ بھی اللہ تعالیٰ آپ کے بچاؤ کا کوئی نہ کوئی سامان پیدا کر دے گا۔ اس کے کچھ دنوں بعد یوپی کے ایک دوست نے مجھے لکھا کہ فلاں کرنل صاحب جو آپ سے بھی ملنے کے لئے گئے تھے اُن سے میں ملا تو انہوں نے اس فتنہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک چھوٹی سی بات کو انہوں نے بہت بڑھا دیا ہے۔ اللہ رکھا کی بھلا حیثیت ہی کیا ہے وہ ایک بے حقیقت شخص ہے مگر آپ نے اس کی تردید کر کے اسے بلا ضرورت شہرت دے دی ہے۔ اگر آپ اس کی تردید نہ کرتے اور اس چھوٹی سی بات کو نہ بڑھاتے تو اچھا ہوتا۔ میں نے انہیں لکھا کہ میری طرف سے آپ کرنل صاحب کو کہہ دیجئے کہ ابھی چند ہفتے ہوئے آپ میرے پاس آئے تھے اور کہتے تھے کہ کوئی تدبیر کر لیں۔ کیونکہ پھر 1953ء والے فسادات کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔ اس پر میں نے تدبیر کرنی شروع کی تو آپ کہتے ہیں میں نے ایک چھوٹی بات کو بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے مجھے جواب میں لکھا کہ آپ کا خط آنے پر میں اس دوست کو ملا تھا اور آپ کے جواب کا ان سے ذکر کیا تھا وہ کہتے ہیں کہ اب مجھے اپنی غلطی محسوس ہوگئی ہے۔ مجھے خوب یاد ہے کہ میں نے ان سے یہ بات کہی تھی۔ اس کے بعد جب اللہ رکھا کے متعلق انہوں نے اعلان کیا تو میں نے سمجھا کہ انہوں نے یہ اعلان کر کے غلطی کی ہے مگر جب میں نے دیکھا کہ لاہور کے تمام اخبارات اور پیغامی اس کی تائید میں کھڑے ہوگئے ہیں تو میں نے سمجھا کہ اس سے زیادہ عقلمندی اور کوئی نہیں تھی کہ انہوں نے وقت پر اس شرارت کو بھانپ لیا اور اس فتنہ کو بے نقاب کر دیا۔ اب میری طرف سے انہیں خط لکھ دیں کہ میں اپنی غلطی کو مان گیا ہوں درحقیقت آپ نے وہی بات کی تھی جو میں آپ کو کہہ آیا تھا مگر بجائے اس کے کہ مَیں خوش ہوتا میں نے اُلٹا اعتراض کر دیا۔
غرض یہ اللہ تعالیٰ کا کام تھا کہ اس نے میرے ہاتھ سے اس فتنہ کو بے نقاب کر دیا۔ ورنہ ممکن تھا کہ میں بھی یہ سمجھ لیتا کہ یہ ایک حقیر چپڑاسی ہے اس کی کسی بات کو کیا اہمیت دینی ہے۔ مگر بعد میں جب دوستوں کی طرف سے خطوط پر خط آنے شروع ہوئے اور سینکڑوں گواہیاں ملنی شروع ہوئیں اور جماعت کے لوگوں نے ان کے خطوط پکڑ پکڑ کر مجھے بھجوانے شروع کر دیئے تو پھر پتا لگا کہ اللہ رکھا کے پیچھے کیا چیز تھی۔ چنانچہ آج ہی ایک رسالہ ملا ہے جو ان منافقین کی تائید میں غزنویوں کی طرف سے شائع کیا گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں جب جماعت احمدیہ بہت تھوڑی سی تھی کیا کر لیا تھا جو آج کر لیں گے جبکہ ہماری جماعت اُس وقت سے سینکڑوں گنے زیادہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ عبدالحق غزنوی کو امرتسر کے بازاروں میں چلتا ہوا دیکھو تو تمہیں معلوم ہو کہ اس کی کیا حیثیت ہے اور پھر قادیان میں آ کر دیکھو کہ یہاں کس قدر رجوعِ خلائق ہے اور کتنا ارادت مندوں کا لشکر یہاں ڈیرہ جمائے بیٹھا ہے۔ تو جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں جب آپ کے ساتھ صرف چند آدمی تھے غزنوی خاندان جماعت احمدیہ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکا تو اب جبکہ جماعت اُس وقت سے ہزاروں گنا زیادہ ہے یہ لوگ اسے کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس سلسلہ کے ساتھ خدا ہے اور وہ ہمیشہ ہماری جماعت کی تائید کرتا چلا آیا ہے۔ چنانچہ 1953ء میں جب فسادات ہوئے اور جماعت احمدیہ کو مٹانے کے لئے حملہ کیا گیا تو میں نے اُس وقت اعلان کیا کہ اے دوستو! گھبراؤ نہیں بے شک فتنہ بڑا ہے مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ خدا آ رہا ہے نہیں وہ دوڑا چلا آ رہا ہے۔ چنانچہ معاً بعد لاہور میں مارشل لاء نافذ ہو گیا اور امن قائم ہو گیا۔ پس ہمارا کام شروع سے خدا تعالیٰ کے سپرد ہے اور وہی آئندہ بھی اپنی مدد کو جاری رکھے گا اور دشمنوں کے حملوں کو ناکام کرے گا۔ وہ خدائے قادر ہے اور جب وہ اپنی قدرت نمائی پر آتا ہے تو دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی
طاقت بھی اس کی قدرت نمائی کو روک نہیں سکتی۔ ہمارا کام شروع سے یہی رہا ہے کہ مخالف کے سامنے ہم اپنی زبان بند کر لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے کہتے ہیں کہ اے خدا! جماعت کو تُو نے ترقی دیتے دیتے اس مقام پر پہنچایا ہے کہ اب وہ دنیا کے اکثر ممالک میں پھیل چکی ہے مگر ابھی اس کی آئندہ ترقی کے متعلق تیرے بہت بڑے وعدے باقی ہیں جن کے پورا ہونے کا ہم انتظار کر رہے ہیں۔ وہ پیشگوئیاں ہم نے اپنے پاس سے بنا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کان میں نہیں ڈالیں بلکہ اے خدا! تُو نے اُس پر الہاماً نازل کی تھیں اور اُس نے ان پیشگوئیوں کا دنیا میں اعلان کیا تھا۔ وہ تیرا ایک راستباز بندہ تھا اگر وہ پیشگوئیاں غلط ہوئیں تو اے خدا! مسیح موعودؑ کا کچھ نہیں بگڑتا جو کچھ بگڑتا ہے وہ تیرا بگڑتا ہے۔ کیونکہ اس کے نتیجہ میں لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو جائے گا کہ خدائے زمین و آسمان بھی نَعُوْذُ بِاللّٰهِ جھوٹ بول سکتے ہیں کیونکہ خدا ان سے ہم کلام ہوتا تھا اور اس نے ان سے جو کچھ کہا وہ جھوٹا ثابت ہوا۔ اور چونکہ خدا کو اپنی عزت کا پاس ہے وہ یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتا کہ لوگ اسے کاذب اور مفتری کہیں۔ انسان اگر جھوٹ بولتا ہے تو مجبوری سے بولتا ہے۔ وہ کہتا ہے اگر میں جھوٹ نہ بولتا تو کیا کرتا جھوٹ بولے بغیر میں فلاں کام نہیں کر سکتا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کو کوئی مجبوری نہیں۔ قیامت کے دن اگر جھوٹ بولنے پر اللہ تعالیٰ کسی کو سزا دے گا تو وہ کہہ سکتا ہے کہ خدایا! میں مجبور تھا۔ میں نے اپنے حالات سے مجبور ہو کر جھوٹ بولا لیکن خدا تعالیٰ کے لئے ایسی کوئی مجبوری نہیں۔ پس اگر خدا تعالیٰ کے وعدے پورے نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ پر زیادہ الزام عائد ہوتا ہے اور وہ چھوٹے سے چھوٹا الزام بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ وہ یہی چاہتا ہے کہ میری عظمت اور میری توحید اور میری تفرید دنیا میں قائم ہو اور اس غرض کو پورا کرنے کے لئے سوائے جماعت احمدیہ کے دنیا میں اور کوئی جماعت کام نہیں کر رہی۔ لوگوں کے پاس مال بھی ہے۔ ان کے پاس طاقت بھی ہے۔ ان کے پاس ذرائع اور اسباب بھی ہیں۔ ان کے پاس حکومت بھی ہے لیکن کوئی نہیں جو خدا کے نام کو بلند کر رہا ہو اور اُس کے دین کی اشاعت کے لئے کوشش کر رہا ہو۔ صرف جماعت احمدیہ ہی ہے جس کے افراد غریب ہوتے ہوئے، کنگال ہوتے ہوئے، کمزور اور ناطاقت ہوتے ہوئے جو کچھ بچتا ہے خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے دے دیتے ہیں یہاں تک کہ اپنے بچوں کے بچے ہوئے ٹکڑے بھی وہ خدا تعالیٰ کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں۔ اگر کمزور اور ناطاقت اور غریب اور کنگال ہوتے ہوئے وہ خدا کے لئے ایسی قربانی کرتے ہیں تو کیا خدا ہی نَعُوْذُ بِاللّٰہِ ایسا بے غیرت ہے جو انہیں ذلت میں چھوڑ کر اپنے عرش پر جا بیٹھے گا؟ کیا کسی انسان کی عقل میں یہ بات آسکتی ہے کہ خدا بے غیرت ہو؟ جس طرح یہ بات کسی انسانی عقل میں نہیں آسکتی کہ خدا بے غیرت ہو اسی طرح یہ بھی کسی انسانی عقل میں نہیں آسکتا کہ دین کی ایسی خدمت کرنے والے لوگوں کو چھوڑ کر وہ آسمان پر چلا جائے گا اور وہ اُس وقت تک آسمان پر نہیں جائے گا جب تک وہ ان کو تخت پر نہ بٹھا دے اور ان کے ذریعہ دنیا کے کونے کونے میں اشاعتِ اسلام نہ ہوجائے اور ان کے دشمنوں کو ان کے دروازوں پر نہ لے آئے۔ جب وہ وقت آئے گا کہ احمدیت دنیا میں چاروں طرف پھیل جائے گی اور احمدیوں میں اتنا زور پیدا ہوجائے گا کہ وہ اپنے بل اور طاقت پر اسلام کو پھیلا سکیں اُس وقت ممکن ہے کہ خدا کہے کہ چند روز تم بھی کھیل کود لو۔ لیکن جب تک وہ وقت نہیں آتا اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ رہے گا اور وہ تمہیں کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں چھوڑے گا۔
میں نے کئی دفعہ کہا ہے کہ ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ایسا ہی سلوک ہے جیسے ماں باپ کا اپنے بچوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ماں باپ بعض دفعہ میز یا کوئی اور چیز اٹھانا چاہتے ہیں تو بچے کو کہتے ہیں کہ تم بھی میز اٹھاؤ اور وہ بھی اپنا ہاتھ میز کے نیچے رکھ دیتا ہے اور خوش ہوتا ہے کہ میں کام کر رہا ہوں۔ اسی طرح ہمارے سب کام خدا کر رہا ہے۔ مگر بچے کی طرح ہم بھی نہایت ادنیٰ اور حقیر قربانیاں کر کے خوش ہوجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ہم کام کر رہے ہیں حالانکہ ہم نہیں کر رہے ہمارا خدا سب کچھ کر رہا ہے۔ لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جس وقت میز اٹھائی جارہی ہوتی ہے تو بچہ ہی خوش نہیں ہوتا ماں باپ بھی خوش ہوتے ہیں کہ ہمارا بچہ ہمارے کام میں شریک ہے۔ اس طرح جب تم خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے کھڑے ہوتے ہو تو صرف تم ہی خوش نہیں ہوتے بلکہ خدا بھی تمہارے کام پر خوش ہوتا ہے۔
پس یقین رکھو کہ جب تک تم ان باتوں پر قائم رہو گے اور دین کے لئے قربانیاں کرتے چلے جاؤ گے کوئی شخص تمہارا بال بھی بیکا نہیں کر سکے گا۔ اور اگر کوئی شخص تم پر حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھے گا تو خدا کے فرشتے تمہارے دائیں بھی ہوں گے اور بائیں بھی ہوں گے اور آگے بھی ہوں گے اور پیچھے بھی ہوں گے۔ جو کچھ مدینہ کے انصار نے بدر کے موقع پر کہا تھا وہی خدا کے فرشتے تم سے کہیں گے۔ جس طرح انہوں نے کہا تھا کہ یا رسول اللہ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔۱ اسی طرح جبریل اور اس کے ساتھی تم سے کہیں گے کہ اے خدا کے دین کی خدمت کرنے والو! ہم تمہارے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن تم تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ فرشتے کبھی مر نہیں سکتے اس لئے دشمن بھی کبھی تم تک نہیں پہنچ سکتا۔ صحابہ مر سکتے تھے اور وہ دشمن کے حملہ سے غافل بھی ہو سکتے تھے۔ چنانچہ اُحد کی جنگ میں دشمن ان کو نقصان پہنچاتے ہوئے آگے نکل آیا۔ مگر تمہارے لئے وہ زمانہ نہیں آ سکتا تم ہمیشہ خدا تعالیٰ کی گود میں رہو گے اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے تمہاری حفاظت کرتے رہیں گے اور اسلام کی اشاعت ہمیشہ تمہارے ہاتھوں سے ہوتی رہے گی۔ اور یہ سلسلہ بڑھتا چلا جائے گا اور ترقی کرتا چلا جائے گا اور تمہاری طاقت اور عزت اور شہرت میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جائے گا یہاں تک کہ تم ساری دنیا میں پھیل جاؤ گے۔ اور وہ لوگ جو آج تم پر اعتراض کرتے ہیں اور تمہیں حقیر اور ذلیل قرار دیتے ہیں وہ اُس وقت جب کہ تم دنیا میں غالب ہو گے تم سے کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنی عزت اور شہرت میں سے کچھ حصہ دو۔ اُس وقت تمہیں ذلیل سمجھنے والا تمہاری گداگری کرے گا اور تم پر ظلم کرنے والا تمہارے رحم کا طالب ہوگا اور تمہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھنے والا تمہاری عزت کا اقرار کرے گا اور اپنے گذشتہ فعل پر شرمندہ اور نادم ہو گا۔ یہ
خدا کی تقدیر ہے جو پوری ہو کر رہے گی۔
قضائے آسمان است ایں بہرحالت شود پیدا
پس خدا تعالیٰ پر ایمان رکھو اور یقین رکھو کہ تم دنیا پر غالب آنے والے ہو۔ بے شک تم اِس وقت کمزور اور ناطاقت سمجھے جاتے ہو مگر وہ دن زیادہ دور نہیں کہ خدا کی رحمت نئی نئی شکلوں میں ظاہر ہوگی اور تمہیں اُس کی قدرت کے وہ نمونے دکھائے گی جو تمہارے وہم اور گمان میں بھی نہیں ہیں۔
بدقسمت ہے وہ انسان جو مایوس ہو جاتا اور مشکلات کے وقت ہمت ہار کر بیٹھ جاتا ہے ایسا انسان خدا تعالیٰ کی رحمت سے کبھی حصہ نہیں پاسکتا۔ اُس کی رحمت سے حصہ پانے کے لئے ضروری ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی مدد پر کامل یقین اور بھروسہ رکھے۔ بے شک تمام کام خدا تعالیٰ کی مدد سے ہی سرانجام پاتے ہیں مگر وہ یہ بھی دیکھنا چاہتا ہے کہ میرا بندہ کتنا صبر کرتا ہے پھر یکدم اُس کی رحمت کے ایسے دروازے کھلتے ہیں کہ انسان حیران ہو جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ یہ رحمتیں اور برکتیں تو میرے وہم اور گمان میں بھی نہیں تھیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی برکتیں اور اُس کی رحمتیں آ رہی ہیں تم اُن دنوں کا انتظار کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری مصیبتوں کی رسیاں کاٹ ڈالے گا اور وہ چیزیں جن کو تم حاصل نہیں کر سکتے اُن کو خدا آپ تمہارے لئے مہیا کر دے گا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ابھی ایسا ہو جائے گا یا ایک گھنٹہ کے بعد یا ایک دن کے بعد یا ایک ہفتہ کے بعد یا دو ہفتہ کے بعد یا ایک مہینہ کے بعد یا دو مہینہ کے بعد ایسا ہو جائے گا مگر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آسمان ٹل سکتا ہے، زمین ٹل سکتی ہے، سورج ٹل سکتا ہے، چاند ٹل سکتا ہے، ستارے ٹل سکتے ہیں، دنیا اِدھر سے اُدھر ہو سکتی ہے مگر خدا کا یہ وعدہ کبھی نہیں ٹل سکتا کہ وہ تمہیں ایسی برکتیں دے گا اور تم پر اپنے ایسے انعام نازل کرے گا کہ دشمن سے دشمن بھی یہ اقرار کرنے پر مجبور ہوگا کہ تم ایک مبارک وجود ہو اور وہ لوگ جو آج تم پر ہنسی کرتے ہیں کل شرمندہ ہوں گے اور تم سے معافیاں مانگیں گے۔ آج تو وہ کہتے ہیں کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہو مگر کل یہی لوگ کہیں گے کہ آپ اسلام کے بہت بڑے خدمت گزار ہیں۔ آپ لوگ
ہمارے ساتھ وہی سلوک کریں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دشمنوں سے کیا تھا۔ اور مجھے یقین ہے کہ تم بھی اُس وقت غرور میں نہیں آؤ گے ، تکبر میں مبتلا نہیں ہو گے بلکہ تم کہو گے کہ ٹھیک ہے ہم بھی تمہیں یہی کہتے ہیں کہ لَا تَثۡرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ(12:93)۲ جاؤ آج تم پر کوئی ملامت اور سرزنش نہیں بلکہ تم انہیں بھائیوں کی طرح اپنے سینہ سے لگاؤ گے اور کہو گے کہ جو سبق اس نے ہم کو دیا تھا وہ ہم کو اچھی طرح یاد ہے مگر تم اس سبق کو بھول گئے اور تم ہمارے متعلق یہ کہتے رہے کہ یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہیں حالانکہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق اور آپ کے کامل غلام تھے۔ تم وہ کام کرتے رہے جو ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے کیا مگر ہم وہ کام کریں گے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے کیا اور عفو اور محبت اور پیار کا سلوک اپنے دشمنوں سے کریں گے۔ اب میں دعا کر دیتا ہوں ۔ سب دوست میرے ساتھ دعا میں شریک ہوں۔‘‘ (الفضل 8؍مارچ 1957ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهُٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
(فرمودہ 24؍ فروری 1957ء بمقام ”دارالصدر“ ہاؤسنگ سوسائٹی کراچی)
تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:-
’’جو رپورٹ اِس وقت قائد صاحب نے پڑھی ہے اس میں انہوں نے نوجوانوں کی اصلاح کے جو ذرائع اور طریق بیان کئے ہیں میرے نزدیک مرکز کو چاہیے کہ وہ ان سے دوسری مجالس کو بھی آگاہ کرے۔ بہت سی مجالس ایسی ہوتی ہیں جو حیران ہوتی ہیں کہ ہم اصلاح کے کیا طریق اختیار کریں۔ ان کو یہ بتانا کہ ہم نوجوانوں کی اصلاح کے لئے کیا کیا ذرائع اختیار کر سکتے ہیں ایک مفید بات ہے۔ انہوں نے جو طریق اس وقت بیان کئے ہیں وہ سب کے سب مفید ہیں لیکن اس کے علاوہ انہیں ایک اور طریق بھی اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم کمزور خدام کو دعاؤں کی تحریک کرتے رہتے ہیں یہ بھی اچھا ہے مگر میرے نزدیک انہیں کمزور خدام کی اصلاح کے لئے ایک یہ طریق بھی اختیار کرنا چاہیے کہ چند جوشیلے خدام مل کر اُن کے گھروں پر جائیں اور انہیں کہیں کہ آؤ ہم سب مل کر دعا کریں کہ ہم میں جو کمزور ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اپنی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جو کمزور اس دعا میں ان کے ساتھ شامل ہو جائے گا وہ اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کرے گا۔ پس ہمیشہ کمزوروں کے گھروں پر جاؤ اور ان کو کہو کہ آؤ ہمارے ساتھ مل کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرو۔ اِس طرح آہستہ آہستہ خود اُن کو اپنا نفس نصیحت کرنا شروع کر دے گا۔ پھر جب آپ لوگ ان ہی کمزور خدام سے کہیں گے کہ آؤ اب ہمارے ساتھ مل کر دوسرے خدام کے گھروں پر چلو تا کہ ہم ان کے لئے بھی دعا کریں تو سب سے پہلے ان کو بھی اپنی اصلاح کی طرف توجہ پیدا ہو گی اور اس طرح کام پہلے سے بہتر ہو جائے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جماعت احمدیہ کراچی کے 580 خدام میں سے صرف 46 خدام ایسے ہیں جنہوں نے تحریک جدید میں حصہ نہیں لیا۔ باقی سب اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ بے شک ایک خوشی کی بات ہے لیکن خدمت سلسلہ کا کام ایسا ہے کہ 46 کی نفی بھی بہت بُری لگتی ہے۔ انہیں چاہیے تھا کہ ان کے اندر خدمت دین کا ایسا احساس ہوتا کہ ایک کی بھی نفی نہ ہوتی۔ 46 کی نفی بتاتی ہے کہ ابھی ہم نے جماعت کے بہت سے افراد کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلانی ہے۔ اس وقت ہماری جماعت دس لاکھ تک پہنچ چکی ہے 580 خدام میں سے 46 کا کمزور ہونا بتاتا ہے کہ قریباً دو سو میں سے ایک فرد ایسا ہے جو تحریک جدید میں حصہ نہیں لے رہا۔ اب اگر دو سو کو چھیالیس سے ضرب دی جائے تو 92 سو بنتا ہے۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ ہماری جماعت میں نو ہزار دو سو آدمی ایسا ہے جو چندہ نہیں دے رہا۔ اور اگر وہ واقع میں اس طرف توجہ نہیں کر رہا تو یہ کتنی خطرناک بات ہے۔ اگر یہ نو ہزار دو سو آدمی بھی حصہ لینے لگے تو یورپ میں کئی مسجدیں تعمیر ہو جائیں اور کئی نئے مشن کھل جائیں۔ مگر اس کا علاج بھی دعا ہی ہے۔ یہ میں مان نہیں سکتا کہ جماعت میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جو تبلیغ کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ اور اگر وہ ضرورت کو سمجھتے ہوئے بھی چندہ میں حصہ نہیں لیتا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ اُس کے دل پر زنگ لگ گیا ہے اور دل کا زنگ دور کرنے کے لئے بھی دعا کی ہی ضرورت ہے۔ پس دعاؤں میں شامل کر کے کمزور خدام کی غیرت کو بھڑکایا جائے۔ ہم نے دیکھا ہے بعض ایسے آدمی جو چندہ دینے میں بڑے سست تھے جب انہیں سمجھایا گیا تو وہ بڑی بڑی قربانی کرنے والے بن گئے۔ ایک دوست جو اب بہت مخلص ہیں اور جنہیں اپنی پرانی بات کا ذکر بہت بُرا لگتا ہے اور کہتے ہیں کہ کسی نے آپ کے پاس غلط رپورٹ کر دی تھی اُن کے متعلق شروع میں مجھے پتا لگا کہ وہ سلسلہ کی طرف توجہ رکھتے ہیں۔ اس پر میں نے مولوی شیر علی صاحب اور حافظ روشن علی صاحب کو ان کے پاس بھیجا۔ انہوں نے سنایا کہ ہم نے ان کو کہا کہ بیعت کر لیجئے۔ وہ کہنے لگے بیعت تو میں کر لوں گا مگر باقاعدہ چندہ نہیں دوں گا۔ میں نے کہا تھوڑا تھوڑا چندہ ہی دینا شروع کر دیں۔ پھر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو آپ خود ہی بڑھا دیں گے۔ چنانچہ انہوں نے
تھوڑا تھوڑا چندہ دینا شروع کر دیا مگر پھر اخلاص میں اتنے بڑھ گئے کہ انہوں نے بہت زیادہ قربانی شروع کر دی ۔ اب تو وہ پنشنر ہیں اور ان کا چندہ تھوڑا ہو گیا ہو گا مگر جب وہ ملازم تھے تو دو ہزار روپیہ باقاعدہ تحریک جدید کا چندہ دیتے تھے ۔ میں نے ایک دفعہ حساب لگایا تو مجھے معلوم ہوا کہ چندہ دینے میں وہ میرے بعد دوسرے نمبر پر تھے حالانکہ چودھری ظفر اللہ خان صاحب بھی بڑی قربانی کرنے والے ہیں ۔ تو شروع میں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تھوڑے سے چندہ پر کفایت کرتے ہیں لیکن چونکہ ان کے دل میں احساس ہوتا ہے کہ ہم نے اسلام کی خدمت کرنی ہے اس لئے وہ اپنی قربانیوں میں بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شروع میں صرف اتنا کہا تھا کہ سال میں ایک پیسہ دے دیا کرو مگر اب دیکھ لو سال میں ایک پیسہ دینے والے اپنی ماہوار آمد پر فی روپیہ ایک آنہ سے ڈیڑھ آنہ تک چندہ دیتے ہیں ۔ ایک پیسہ کے حساب سے ہمارا چندہ پندرہ سولہ ہزار بنتا ہے لیکن چندہ چودہ پندرہ لاکھ روپیہ آتا ہے تو قربانی کی جو نسبت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ابتدا میں تجویز فرمائی تھی اس میں اب کئی گنا ترقی ہوگئی ہے یہ تمام برکت عمل کی ہے ۔ جب انسان عملِ صالح کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نیکیوں میں اور زیادہ قدم بڑھانے کی توفیق دے دیتا ہے ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالۡعَمَلُ الصَّالِحُ یَرۡفَعُہٗ(35:11)۱ کہ عملِ صالح انسان کو اونچا کرتا چلا جاتا ہے ۔ جب انسان خدا تعالیٰ کی راہ میں ایک قدم چلتا ہے تو دوسرا قدم اٹھانے کے لئے فرشتے اسے آپ دھکا دے دیتے ہیں ۔
حضرت معاویہؓ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ ایک دفعہ صبح کی نماز کے لئے نہ اٹھ سکے اور ان کی نماز باجماعت رہ گئی ۔ اس کا انہیں اتنا صدمہ ہوا کہ وہ سارا دن روتے رہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں سے کہا کہ میرے اس بندے کو نماز رہ جانے کا بڑا افسوس ہوا ہے اسے سو نماز باجماعت کا ثواب دے دو ۔ دوسرے دن صبح کے وقت انہوں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ ایک شخص انہیں جگا رہا ہے وہ اسے دیکھ کر ڈر گئے کیونکہ وہ بادشاہ تھے اور باہر پہرہ لگا ہوا تھا وہ حیران ہوئے یہ شخص اندر کس طرح آگیا ہے۔ اس نے ان کی حیرت کو دیکھ کر کہا کہ میں شیطان ہوں اور تمہیں نماز کے لئے جگانے آیا ہوں۔ وہ کہنے لگے کہ شیطان تو نماز سے روکا کرتا ہے تُو مجھے نماز کے لئے کیوں جگا رہا ہے؟ اُس نے کہا بات اصل میں یہ ہے کہ میرے روکنے کی اصل غرض تجھے نیکی اور ثواب سے محروم رکھنا تھی مگر تم اتنا روئے کہ خدا نے کہا کہ اسے ایک سو نماز باجماعت کا ثواب دے دیا جائے۔ پس میں نے سمجھا کہ اب اسے ثواب سے روکنے کا یہی طریق ہے کہ اسے نماز کے لئے جگا دیا جائے۔ اس طرح کم از کم اسے ایک نماز کا ہی ثواب ملے گا زیادہ ثواب نہیں لے سکے گا۔
تو جب کوئی شخص نیک کام کرتا ہے تو اس کا قدم آگے بڑھتا ہے۔ اب خواہ معاویہؓ کے پاس جبریلؑ آتا اور کہتا کہ معاویہؓ اُٹھو اور نماز پڑھو اور خواہ شیطان نے کہا بات ایک ہی ہوگئی۔ مگر شیطان کے کہنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ حدیث حل ہوگئی کہ میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے 2 اور وہ جو بات بھی میرے دل میں ڈالتا ہے نیک ہوتی ہے۔ حضرت معاویہؓ کو بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیابت میں یہ بات حاصل ہوگئی اور شیطان نے انہیں نماز کے لئے جگا دیا۔ اگر تم دعائیں کرو گے اور دوسروں کو نیک تحریکیں کرو گے تو آہستہ آہستہ تمہارے کمزور خدام میں بھی تغیر پیدا ہونا شروع ہو جائے گا۔
پس کمزوروں کو اپنی اجتماعی دعاؤں میں شریک کرو اور ان سے کہو کہ اب تحریکِ جدید کا نیا دور شروع ہے جس میں ماہوار آمد کا بیس فیصدی چندہ دینا ضروری ہوتا ہے تم اگر بیس فیصدی نہیں دے سکتے تو نصف فیصدی ہی دے دو۔ فی روپیہ ایک پیسہ ہی دے دو، ہم تم سے اسی قدر چندہ لے لینا غنیمت سمجھتے ہیں۔ مگر ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ جس طرح پہلے لوگوں نے ایک آنہ سے مد شروع کی تھی اور پھر سینکڑوں روپیہ دینے لگ گئے اُسی طرح تم بھی اپنی قربانیوں میں ترقی کرتے چلے جاؤ گے۔ چنانچہ جب تحریک جدید کا آغاز ہوا تو پہلے سال میں نے 930 روپیہ دیا۔ اس کے بعد بڑھاتے بڑھاتے دسویں سال میں نے دس ہزار روپیہ دیا جو اب تک برابر ہر سال دیتا چلا آ رہا ہوں۔ مگر اب میں محسوس کرتا ہوں کہ دس ہزار روپیہ بھی کم ہے۔ شروع میں زمینوں کی جتنی آمد ہوتی تھی وہ ساری خرچ ہو جاتی تھی مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ کام منظّم ہو جانے کی وجہ سے آمد بڑھ گئی ہے اور مجھے احساس ہوتا ہے کہ اپنا چندہ بڑھانا چاہیے۔
غرض جب بھی کوئی انسان نیکی کی طرف اپنا قدم بڑھاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے مزید قدم اٹھانے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔ یہ تحریک بائیس سال سے جاری ہے اور اب تک دو لاکھ ستر ہزار روپیہ میں تحریکِ جدید میں دے چکا ہوں۔ اسی طرح ایک مخلص دوست نے ایک دفعہ مجھے بہت بڑا نذرانہ دے دیا۔ میں نے سمجھا کہ اتنا بڑا نذرانہ مجھے اپنی ذات پر استعمال کرنے کی بجائے سلسلہ کے لئے استعمال کرنا چاہیے چنانچہ میں نے وہ سارے کا سارا نذرانہ اسلام کی اشاعت کے لئے دے دیا مگر اس کے باوجود میری نیت یہی ہے کہ میں اپنے چندہ کو بڑھا دوں۔ میں اب تک صرف اس لئے رُکا رہا کہ ولایت جانے کی وجہ سے مجھ پر قرض زیادہ ہو گیا تھا جس کا اُتارنا ضروری تھا بلکہ اب جبکہ جماعت نے ہیمبرگ کی مسجد کے لئے چندہ جمع کرنے میں سُستی دکھائی ہے میں سوچ رہا ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھے توفیق دے تو میں اکیلا ہی اپنے خرچ پر مغربی ممالک میں ایک مسجد بنوا دوں تا کہ اسلام کا جھنڈا ہمیشہ بلند ہوتا رہے۔
اب آخر میں میں دعا کر کے آپ لوگوں کو رخصت کرتا ہوں کیونکہ بیماری کی وجہ سے میں زیادہ نہیں بول سکتا۔‘‘ (الفضل 13؍مارچ 1957ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
(فرمودہ 13؍اکتوبر 1957ء بمقام ربوہ)
تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی:۔
اس کے بعد فرمایا:۔ ’’یہ چند آیتیں جو میں نے سورۃ النّٰزِعٰت کی پڑھی ہیں ان میں مومنوں کو ان کے فرائض بتائے گئے ہیں اور انہیں اُن ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عائد ہوتی ہیں۔ یوں تو منہ سے انسان مومن کہلا سکتا ہے کیونکہ منہ سے مومن کہلانا کوئی مشکل امر نہیں بلکہ کہنے کو تو مسیلمہ کذاب بھی اپنے آپ کو نبی کہا کرتا تھا اور اَسود عنسی بھی اپنے آپ کو نبی کہا کرتا تھا۔ سجاح بھی اپنے آپ کو نبی کہا کرتی تھی مگر کُجا مسیلمہ کذاب کا اپنے آپ کو نبی کہنا، اَسود عنسی اور سجاح کا اپنے آپ کو نبی کہنا اور کُجا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے آپ کو نبی کہنا دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ مسیلمہ کذاب نے بھی اپنے آپ کو نبی کہا اسی طرح اَسود عنسی اور سجاح نے بھی اپنے آپ کو نبی کہا مگر انسانی قلوب میں اتنا تغیر بھی پیدا نہ ہوا جتنا تغیر ایک تالاب میں چھوٹی سی کنکری پھینکنے سے پیدا ہوتا ہے۔ مگر جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا دعویٰ کیا تو زمین ہل گئی۔ صرف عرب کی زمین ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کی زمین ہلی اور اس میں
ایک ایسا زلزلہ پیدا ہوا جو آدم سے لے کر اُس وقت تک نہیں آیا تھا۔ جیسا کہ انہی آیات میں جو میں نے ابھی پڑھی ہیں اس زلزلہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُﶠ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُﶡ تُو اُس دن کو یاد کر جس دن یہ زمین کانپ اٹھے گی اور پھر یہ زمین صرف یک دفعہ نہیں ہلے گی بلکہ بار بار ہلتی چلی جائے گی چنانچہ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وَالنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا(79:2) کی مصداق قوم عطا کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے سرزمینِ عرب کو ہلانے کا فیصلہ کیا تو بدر کی جنگ ہوئی، اُحد کی جنگ ہوئی، احزاب کی جنگ ہوئی اور ان کے درمیان اور بیسیوں جنگیں لڑی گئیں اور آخر مکہ فتح ہو گیا۔ غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زمین ایک دفعہ نہیں ہلی بلکہ ہلتی چلی گئی کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ مجھ پر ایسا بوجھ لاد دیا گیا ہے جس کے اٹھانے کی مجھ میں طاقت نہیں۔ اس لئے وہ کانپتی تھی اور بار بار کانپتی تھی۔
یہ زمانہ بھی جس میں سے ہم گزر رہے ہیں ایسا ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں اسلام کی خدمت کا کام جماعت احمدیہ کے سپرد کیا ہے اور یہ کام اتنا عظیم الشان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم نے اپنی امانت آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں کے سپرد کرنی چاہی مگر انہوں نے اس کے اٹھانے سے بڑی گھبراہٹ کا اظہار کیا 2 اِس جگہ اَبَيْنَ کے معنے محض انکار کے نہیں بلکہ ایسی گھبراہٹ کے ہیں جس میں اگر انسان کی اپنی مرضی کا دخل ہو تو وہ ضرور انکار کر دے۔ غرض وہی چیز جس کے اٹھانے سے زمین و آسمان اور پہاڑوں نے بڑی گھبراہٹ کا اظہار کیا تھا اب اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے ماتحت آپ کے سپرد کی گئی ہے۔ اور جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلنے والا ایک شخص اس زمانہ میں آپ کا بروز کہلایا ہے اسی طرح آپ کے صحابہ کے نقشِ قدم پر چلنے والی جماعت آپ کے صحابہ کی بروز کہلائی ہے۔ جس طرح دنیا کی حالت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی اُسی طرح اس زمانہ میں بھی ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی زمین و آسمان اور پہاڑوں نے آپ کی تعلیم کا حامل بننے سے بڑی گھبراہٹ کا اظہار کیا تھا اور اس زمانہ میں بھی جو بوجھ آپ
لوگوں کے سپرد کیا گیا ہے اس کے متعلق کوئی بے وقوف ہی دعویٰ کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ میں اسے اٹھاؤں گا۔ ہاں سمجھدار اور عقل مند انسان اِنْشَاءَ اللہ کہہ کر اور ڈرتے ہوئے دل کے ساتھ کہتا ہے کہ میں اسے اٹھاتا ہوں کیونکہ بغیر اس کے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس بوجھ کے اٹھانے کی توفیق دے اور مدد کرے میں خود اسے نہیں اٹھا سکتا۔ زمین و آسمان کے باشندے اپنی طاقت سے نہ اس بوجھ کو پہلے اٹھا سکتے تھے اور نہ اپنی طاقت سے اب اٹھا سکتے ہیں۔ دیکھ لو مسلمانوں نے کچھ عرصہ کی جدوجہد کے بعد کس طرح اس بوجھ سے آزاد ہونے کی کوشش کی۔ اسی حالت کا خطرہ اب آپ لوگوں کے لئے بھی ہے۔ ممکن ہے کچھ وقت تبلیغ کرنے کے بعد جماعت کے بڑے اور چھوٹے سُست ہو جائیں اور وہ اس بوجھ کو اتارنے کی کوشش کریں اور تبلیغ کا کام چھوڑ دیں۔ آج تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی برکت سے بڑے فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم ہر جگہ تبلیغ کا کام کر رہے ہیں۔ اگر کوئی پوچھے کہ یورپ میں کون تبلیغ کر رہا ہے؟ تو آپ لوگ کہتے ہیں ہم۔ اگر کوئی پوچھے کہ افریقہ میں کون تبلیغ کر رہا ہے؟ تو آپ لوگ کہتے ہیں ہم۔ اگر کوئی پوچھے کہ فلپائن میں کون تبلیغ کر رہا ہے؟ تو آپ لوگ کہتے ہیں ہم۔ اگر کوئی پوچھے کہ انڈونیشیا میں کون تبلیغ کر رہا ہے؟ تو آپ لوگ کہتے ہیں ہم۔ اگر کوئی پوچھے کہ سیلون میں کون تبلیغ کر رہا ہے؟ تو آپ لوگ کہتے ہیں ہم۔ اگر کوئی پوچھے کہ امریکہ میں کون تبلیغ کر رہا ہے؟ تو آپ لوگ کہتے ہیں ہم۔ اگر کوئی پوچھے کہ برٹش گی آنا، فرنچ گی آنا اور ڈچ گی آنا میں کون تبلیغ کر رہا ہے؟ تو آپ لوگ کہتے ہیں ہم۔ لیکن اگر خدانخواستہ ہم سے تبلیغ میں کوتاہی ہوئی اور ہم نے اپنے اس فرض کو ادا کرنا چھوڑ دیا تو ہماری وہی حالت ہوگی جس کا ایک پوربیا نے مظاہرہ کیا تھا۔
کہتے ہیں کہ جب کوئی پوربیا مر جاتا ہے تو اس کے سارے رشتہ دار اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد اس کی بیوی بَین کرتی ہے اور کہتی ہے کہ مرنے والے کا فلاں فلاں قرضہ کون ادا کرے گا یا اس سے فلاں نے جو قرض لیا تھا اسے کون وصول کرے گا؟ ایک دفعہ ایک پوربیا مرا تو اُس کے تمام رشتہ دار جمع ہوئے۔ اُس کی بیوی نے بَین کرتے ہوئے کہا اس نے فلاں سے اتنا روپیہ لینا تھا وہ اب کون لے گا؟ اس پر ایک پوربیا کُود کر آگے آگیا اور کہنے لگا اری ہم ری ہم۔ بیوی نے پھر کہا اُس نے فلاں مکان فلاں کو دیا تھا وہ اب واپس کون لے گا؟ تو وہی پوربیا کہنے لگا اری ہم ری ہم۔ اسی طرح اُس عورت نے وہ ساری رقوم گنوائیں جو مرنے والے نے دوسروں سے لینی تھیں اور وہی پوربیا جواب میں کہتا رہا اری ہم ری ہم۔ اِس کے بعد اس عورت نے کہا ارے مرنے والے نے فلاں کی اتنی رقم دینی تھی وہ اب کون دے گا؟ تو وہ پوربیا پیچھے ہٹ گیا اور کہنے لگا ارے میں ہی بولتا جاؤں یا کوئی اَور بھی بولے گا۔
یہی پوربیا والا حال تمہارا بھی نہ ہو۔ اب تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں تبلیغ کا جوش دیا ہے اور جماعت ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کر رہی ہے اور اس وقت یہ حالت ہے کہ اگر کوئی کہے کہ انڈونیشیا میں کون تبلیغ کر رہا ہے؟ تو تم کہتے ہو کہ ارے ہم رے ہم۔ اگر کوئی کہے کہ ملایا میں کون تبلیغ کر رہا ہے؟ تو تم کہتے ہو ارے ہم رے ہم۔ لیکن اگر جماعت پر سُستی کا وقت آیا تو تم کہو گے کوئی اَور بھی بولے کیا ہم اکیلے ہی بولتے چلے جائیں۔ یہ سارا بوجھ اب تک ہم نے ہی اٹھایا ہوا تھا اب کوئی اَور بھی تو اٹھائے، اب کوئی اَور بھی تو جرمنی جائے اور اسلام کی تبلیغ کرے۔ مگر یاد رکھو دلہن ہمیشہ دولہا کے گھر ہی بسا کرتی ہے ہمسایہ کے گھر میں نہیں بسا کرتی۔ یا یوں کہو کہ دولہا کے گھر دلہن ہی بسا کرتی ہے ہمسائی نہیں بسا کرتی۔ مساجد کا کام ہماری دلہن ہے اور اس نے ہمارے ہی گھر آنا ہے کسی اَور کے گھر نہیں جانا۔ یہ ہماری بے غیرتی ہوگی کہ یہ کام کسی اَور کے گھر چلا جائے۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں آسمانی بادشاہت کو دلہن سے تشبیہہ دی ہے ۳؎ مگر عیسائیوں نے تو غفلت سے کام لیا اور چرچ کو شیطان کے سپرد کر دیا۔ یا دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ دلہن کو دولہا کے سوا کسی اور کے سپرد کر دیا لیکن ہمارا کام یہ ہے کہ ہم مساجد کو ہمیشہ خدا تعالیٰ کے لئے آباد رکھیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ مساجد اس لئے ہیں کہ ان میں میرا ذکر بلند ہو پس جب ہم مساجد بناتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم دلہن کو اس کے دولہا کے سپرد کرتے ہیں اور جب مساجد بنانے میں کمزوری دکھاتے ہیں تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ہم دلہن کو دولہا کے پاس پہنچانے میں سُستی سے کام لیتے
ہیں۔ دنیا میں دیکھ لو۔ اگر کسی کی دلہن کو غیر کے سپرد کر دیا جائے تو کتنا اندھیر مچ جائے۔ اگر تم کسی کی بیوی اٹھا کر کسی اَور کے سپرد کر دو تو تمہارے خلاف اغوا کا کیس بن جائے گا۔ عدالت میں مقدمہ چلے گا اور تمہیں قید کی سزا ہوگی اور دنیا میں جو تمہاری رسوائی ہوگی وہ الگ ہے۔ اِسی طرح اس کام میں سستی کرنا یعنی مساجد نہ بنانا اور چرچ بننے دینا ایسی آفت ہے کہ ساری دنیا تم پر تھو کے گی اور تمہاری طرف دیکھ کر تھو تھو کرے گی اور وہی لوگ جو اِس وقت تمہاری تعریف کرتے ہیں تمہیں بُرا بھلا کہنے لگ جائیں گے۔ مثلاً ہالینڈ اور جرمنی وغیرہ کے لوگ جو اِس وقت ہمارے احسان مند ہیں کہ ہم نے انہیں خدائے واحد کی طرف بلایا اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ احمدیوں پر رحم کرے کہ انہوں نے ہمیں خدا تعالیٰ کا دین سکھایا اگر ہم نے مساجد بنانے میں سُستی کی تو وہ کہیں گے کہ انہوں نے روشنی دکھا کر پھر اندھیرا کر دیا۔ اگر ہم اندھیرے میں ہی رہتے تو شاید ہم اسے برداشت کر لیتے لیکن اب انہوں نے روشنی دکھا کر اندھیرا کر دیا جو ہمارے لئے برداشت کرنا ناممکن ہے کیونکہ روشنی کے بعد اگر اندھیرا ہو جائے تو انسان سخت تکلیف محسوس کرتا ہے۔ پس تم اُس دن سے بچو۔ اگر تبلیغ میں کمی واقع ہوئی تو تم پر بڑی مصیبتیں آئیں گی۔ لیکن اگر تم دعاؤں میں لگے رہو تو ممکن ہے کہ آپ لوگوں کو قیامت تک خدمتِ اسلام کی توفیق ملتی چلی جائے۔ آخر صحابہ کرامؓ کو بھی 1300 سال تک تبلیغ کرنے کا موقع ملا ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کے متبعین کو تو 1900 سال تک تبلیغ کا موقع ملا ہے۔ بظاہر دنیا کی جو حالت ہے اس میں مزید 1900 سال کی زندگی کی گنجائش نظر نہیں آتی۔ اگر دنیا اپنے اندرونی حالات کی وجہ سے جیسا کہ حساب دان کہتے ہیں یا بیرونی اثرات کی وجہ سے جو ایٹم یا ہائیڈروجن بم کی وجہ سے پیدا ہو گئے ہیں ہلاک ہو گئی تو آپ لوگوں سے کوئی سوال کرنے والا زندہ ہی نہیں رہے گا۔ لیکن اگر سوال کرنے والے زندہ رہے تو 1900 سال تک تو عیسائی لوگ آپ لوگوں پر اعتراض کر سکتے ہیں اور وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم تو حضرت مسیح علیہ السلام کا جُوا 1957ء تک اٹھاتے چلے آئے لیکن تم ایک ہزار سال تک بھی یہ کام جاری نہ رکھ سکے۔ ہاں اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لائے ہوئے مشن کو آپ 1900 سال تک لے جائیں تو کم سے کم اتنا تو ہو سکتا ہے کہ آپ عیسائیوں کے سامنے سر اٹھا سکیں لیکن فخر اس بات میں ہے کہ آپ تبلیغ کے کام کو قیامت تک جاری رکھیں۔ اس میں کوئی کمزوری نہ آنے دیں۔ پس آپ لوگ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں، محنت کریں اور اپنے فرض کو پوری طرح ادا کریں اور یاد رکھیں کہ اس فرض کا ادا کرنا مصیبت نہیں بلکہ آپ لوگوں کے لئے فخر کا موجب ہے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب صحابہ کرامؓ کو آپؐ کی خدمت کا موقع ملتا تھا یا اسلام کی خدمت کا موقع ملتا تھا تو وہ اسے مصیبت خیال نہیں کرتے تھے بلکہ فخر محسوس کرتے تھے کہ ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت کا موقع ملا ہے یا خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کا موقع ملا ہے اور اس غرض کے لئے وہ بڑی سے بڑی قربانی کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگِ اُحد کے لئے تشریف لے گئے تو ابتدا میں اسلامی لشکر کو فتح حاصل ہو گئی تھی لیکن بعد میں مسلمانوں سے غلطی ہوئی جس کے نتیجہ میں کفار نے مسلمانوں پر پُشت کی طرف سے حملہ کر دیا اور اتنا سخت حملہ کیا کہ ان کے قدم اکھڑ گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گڑھے میں گر گئے اور لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ آپؐ شہید ہو گئے ہیں۔ اُحد مدینہ سے قریب ہی واقع ہے اس لئے وہاں سے بھاگ کر لوگ مدینہ پہنچے اور انہوں نے وہاں یہ خبر پھیلا دی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔ یہ خبر سن کر مدینہ کے مرد، عورتیں اور بچے دیوانہ وار اُحد کی طرف بھاگے تاکہ آپؐ کی آخری بار زیارت کر سکیں۔ اکثر لوگوں کو تو آپؐ کی سلامتی کی خبر راستہ میں ہی مل گئی اور وہ رُک گئے مگر ایک عورت دیوانہ وار آگے بڑھتے ہوئے اُحد مقام تک پہنچ گئی۔ اُحد کی جنگ میں اس عورت کا باپ، خاوند اور بھائی تینوں مارے گئے تھے اور بعض روایتوں میں ہے کہ ایک بیٹا بھی مارا گیا تھا۔ جب وہ دیوانہ وار اُحد کی طرف جا رہی تھی تو لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سلامتی کا علم ہو چکا تھا اور لشکر کے تمام افراد نے آپؐ کو زندہ دیکھ لیا تھا اس لئے صحابہؓ آپؐ کی ذات کے متعلق مطمئن تھے لیکن اس عورت کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی علم نہیں تھا وہ دوڑ کر ایک صحابیؓ کے پاس پہنچی اور پوچھا کہ بتاؤ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ چونکہ وہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مطمئن تھے اس لئے انہوں نے کہا بی بی! مجھے بڑا افسوس ہے کہ تیرا باپ اس جنگ میں مارا گیا ہے۔ اس عورت نے کہا میں تجھ سے اپنے باپ کے متعلق نہیں پوچھتی مجھے یہ بتاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس پر اسی صحابی نے کہا بی بی! مجھے بڑا افسوس ہے کہ تیرا خاوند بھی اس جنگ میں مارا گیا ہے۔ اس عورت نے کہا تم بھی عجیب آدمی ہو میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سوال کرتی ہوں اور تم مجھے میرے باپ اور میرے خاوند کی موت کی خبر دیتے ہو۔ اس نے کہا بی بی! مجھے بڑا افسوس ہے کہ تیرا بھائی بھی اس جنگ میں مارا گیا ہے۔ اُس نے کہا خدا کیلئے تم مجھے یہ بتاؤ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو خدا تعالیٰ کے فضل سے خیر سے ہیں۔ اس عورت نے کہا اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تو مجھے اپنے باپ اور بھائی اور خاوند کی موت کی کوئی پرواہ نہیں۔ پھر اس نے کہا مجھے بتاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہاں؟ اس پر اُس صحابیؓ نے آپؐ کی طرف انگلی کا اشارہ کیا اور کہا کہ آپؐ وہ ہیں۔ اس پر وہ عورت آپؐ کی طرف بھاگ کر گئی اور اُس نے آپ کے دامن کو پکڑ لیا اور کہا یا رسول اللہ! آپ نے یہ کیا کیا؟ یہ فقرہ بظاہر بے معنی تھا لیکن در حقیقت یہ غلط نہیں تھا۔ بلکہ عورتوں کے محاورہ کے مطابق بالکل درست تھا اور اس کا مطلب یہ تھا کہ یا رسول اللہ! آپ جیسا وفادار انسان ہم کو یہ صدمہ پہنچانے پر کس طرح راضی ہو گیا؟ پھر اس عورت نے کہا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں۔ جب آپ سلامت ہیں تو کسی اور کی موت کی ہمیں کیا پرواہ ہو سکتی ہے۔۴؎
تو دیکھو ان لوگوں میں اس قدر اخلاص، جوش اور ایمان تھا کہ ہر خدمت جو وہ اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کرتے تھے اس میں اپنی عزت اور رُتبہ محسوس کرتے تھے چنانچہ اسی قسم کی فدائیت کی ایک اور مثال بھی تاریخ سے ملتی ہے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ شہداء کو دفن کر کے مدینہ واپس لوٹے تو عورتیں اور بچے شہر سے باہر استقبال کے لئے نکل آئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی باگ حضرت سعدؓ بن معاذ نے پکڑی ہوئی تھی۔ اُحد میں ان کا ایک بھائی بھی مارا گیا تھا۔ شہر کے پاس انہیں اپنی بوڑھی ماں جس کی نظر کمزور ہو چکی تھی ملی تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ! میری ماں۔ یا رسول اللہ! میری ماں۔ آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ کی برکتوں کے ساتھ آئے۔ بڑھیا آگے بڑھی اور اس نے اپنی کمزور اور پھٹی ہوئی آنکھوں سے اِدھر اُدھر دیکھا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل نظر آجائے۔ آخر اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ پہچان لیا اور خوش ہوگئی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مائی! مجھے تمہارے بیٹے کی شہادت پر تم سے ہمدردی ہے۔ اس پر اُس عورت نے کہا یا رسول اللہ! میں نے آپ کو سلامت دیکھ لیا تو گویا میں نے مصیبت کو بھون کر کھا لیا۔۵ ایسے موقع پر عموماً ہر عورت چاہتی ہے کہ کوئی شخص آئے اور اس سے ہمدردی کرے لیکن اس عورت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمدردی کا اظہار کیا تو اس نے کہا یا رسول اللہ! آپ میرے بیٹے کا کیا ذکر کرتے ہیں آپؐ سلامت واپس آگئے ہیں تو مجھے کسی چیز کی پروا نہیں۔ آپ یوں سمجھیں کہ میں نے مصیبت کو بھون کر کھا لیا ہے تو صحابہؓ خدا تعالیٰ کی راہ میں جانیں دینا اپنی خوش قسمتی خیال کرتے تھے۔
ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو کسی کام کے لئے باہر بھیجا۔ بعد میں جنگ تبوک کا واقعہ پیش آ گیا۔ یہ جنگ نہایت خطرناک تھی۔ رومی حکومت اُس وقت ایسی ہی طاقتور تھی جیسے آج کل امریکہ اور روس کی حکومتیں ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک چھوٹی سی فوج لے کر اتنی بڑی حکومت کے مقابلہ میں جانا پڑا۔ مدینہ میں بہت تھوڑے مسلمان تھے اور پھر اِرد گرد کے لوگ بھی اکٹھے نہیں تھے لیکن اگر وہ اکٹھے ہوتے بھی تو قیصر روما کے مقابلہ میں ان کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام لوگ جنگ کے لئے چلیں۔ جب اسلامی لشکر روانہ ہو گیا تو وہ صحابی جنہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر کام کے لئے بھیجا ہوا تھا واپس آئے۔ جوان آدمی تھے۔ نئی نئی شادی ہوئی ہوئی تھی۔ ایک عرصہ کی جدائی کے بعد جب وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے تو انہوں نے اپنی بیوی کو صحن میں بیٹھے ہوئے دیکھا۔ وہ سیدھے اُس کی طرف گئے اور اُس سے بغلگیر ہونا چاہا مگر بیوی نے اُن کی محبت کا جواب دینے کی بجائے ان کے سینہ پر زور سے دوہتڑ مارا اور پیچھے دھکا دے کر کہا خدا کا رسولؐ تو میدانِ جنگ میں گیا ہوا ہے اور تمہیں اپنی بیوی سے پیار سوجھ رہا ہے۔ خدا کی قسم! جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بخیریت واپس نہیں آجاتے میں تمہاری شکل تک نہیں دیکھوں گی۔ وہ صحابیؓ اُسی وقت گھر سے نکل کھڑے ہوئے اور مدینہ سے تین منزل کے فاصلہ پر اسلامی لشکر سے جاملے اور پھر اُسی وقت گھر واپس آئے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دوسرے صحابہ کے ساتھ مدینہ واپس لوٹے۔ غرض یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ہر خطرہ کے موقع پر اپنی جان کو بلا دریغ خطرہ میں ڈال دیا۔ کوئی تکلیف اور دُکھ انہیں نہیں پہنچا جسے انہوں نے تکلیف اور دُکھ جانا ہو بلکہ جب بھی کوئی خدمت کا موقع آتا وہ اپنی جان بخوشی پیش کر دیتے۔
حضرت عثمانؓ بن مظعون کے متعلق تاریخ میں آتا ہے کہ ان کے باپ ایک بہت بڑے رئیس تھے۔ وہ مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے تھے۔ وہاں جب یہ افواہ پہنچی کہ مشرکینِ مکہ مسلمان ہو گئے ہیں تو وہ واپس آگئے واپسی پر اُن کے باپ کے ایک دوست رئیس نے انہیں پناہ دے دی۔ جب انہوں نے مسلمانوں کو مظالم سہتے دیکھا تو انہوں نے اس پناہ کو واپس کر دیا۔ اُس رئیس نے کہا دیکھو! تم میری پناہ واپس نہ کرو اگر تم میری پناہ واپس کرو گے تو مکہ والے تمہیں تنگ کریں گے۔ عثمانؓ بن مظعون نے کہا جب میرے سامنے مسلمان غلاموں اور غریب مسلمانوں کو مار پڑتی ہے تو انہیں دیکھ کر مجھے بڑی شرم آتی ہے اور میرا دل مجھے ملامت کرتا ہے کہ تیرا بُرا ہو۔ تیرے بھائی تو اسلام کی وجہ سے تکلیف اٹھا رہے ہیں اور تم کسی رئیس کی پناہ میں رہ کر مزے کر رہے ہو تم اپنی پناہ واپس لے لو تا میرا دل مجھے آئندہ کے لئے ملامت نہ کرے۔ اس رئیس نے جواب دیا اگر تمہاری یہی مرضی ہے تو میں واپس لے لیتا ہوں۔ چنانچہ اس رئیس نے خانہ کعبہ میں جا کر اعلان کر دیا کہ آج میں عثمان بن مظعون کی پناہ واپس لیتا ہوں۔ مکہ میں یہ قاعدہ تھا کہ جب کوئی شخص کسی کو پناہ دیتا تھا تو اُس شخص کو جو بھی تکلیف دیتا اُسے پناہ دینے والے کے
قبیلے سے لڑنا پڑتا تھا۔ لیکن جب وہ اپنی پناہ واپس لے لیتا تو یہ قید اُٹھ جاتی۔ عرب کا ایک مشہور شاعر لبید گزرا ہے وہ بعد میں اسلام بھی لے آیا اور اُس نے 170 سال کی عمر پائی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی وہ ایک لمبے عرصہ تک زندہ رہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں اس سے شعر سنا کرتے تھے اور صحابہؓ میں سے بھی جس کسی کو کوئی رتبہ ملتا وہ اُسے بلاتے، اس سے شعر سنتے اور اُسے انعام دیتے۔ جب حضرت عثمانؓ بن مظعون نے پناہ واپس کر دی تو ایک دن لبید مکہ میں آیا اور اس نے ایک محفل میں شعر سنانے شروع کئے۔ حضرت عثمانؓ بن مظعون بھی وہاں پہنچ گئے۔ محفل میں بڑے بڑے رؤساء بیٹھے ہوئے تھے اور سب لوگ لبید کو داد دے رہے تھے۔ شعر پڑھتے پڑھتے لبید نے یہ مصرع پڑھا کہ اَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللّٰهَ بَاطِلٌ یعنی اے لوگو! اچھی طرح سن لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز تباہ ہونے والی ہے۔ اِس پر حضرت عثمانؓ بن مظعون کہنے لگے ’صَدَقْتَ‘ لبید تُو نے سچ کہا ہے۔ لبید کو یہ بات بہت بُری لگی کہ وہ اتنا بڑا شاعر ہے اور یہ نو عمر نوجوان اُسے داد دے رہا ہے۔ لیکن اُس نے زبان سے کچھ نہ کہا اور یہ دوسرا مصرع پڑھ دیا کہ وَ كُلُّ نَعِيْمٍ لَا مَحَالَةَ زَائِلٌ یعنی ہر نعمت آخر تباہ ہو جانے والی ہے۔ حضرت عثمانؓ بن مظعون پھر بول پڑے اور کہنے لگے ’كَذَبْتَ ‘ تُو نے جھوٹ بولا ہے۔ جنت کی نعمتیں کبھی تباہ نہیں ہوں گی۔ لبید کو اس بات سے آگ لگ گئی اور اُس نے کہا۔ مکہ والو ! تم کب سے بداخلاق ہوگئے ہو؟ پہلے تو اس نوجوان نے مجھے داد دی اور پھر اس نے مجھے جھوٹا کہا۔ میں اس کے باپ کے برابر ہوں۔ اس کے لئے مجھے جھوٹا کہنا جائز نہیں تھا۔ کیا تم اپنے بڑوں کی ہتک کرنے لگ گئے ہو؟ مکہ والوں نے چونکہ اُسے خود بلایا ہوا تھا اس لئے اُس کی اس تقریر سے اشتعال پیدا ہو گیا اور ایک نوجوان نے غصہ میں حضرت عثمانؓ بن مظعون کی آنکھ پر مُکّا مارا۔ جس سے ان کی ایک آنکھ پھوٹ گئی۔ انہیں پناہ دینے والا شخص وہیں موجود تھا۔ اُس نے یہ نظارہ دیکھا تو کہنے لگا عثمان! کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم میری پناہ واپس نہ کرو۔ مکہ والے تمہیں تنگ کریں گے لیکن تم نے میری بات نہ مانی اور پناہ واپس کر دی اب تم نے اس کا نتیجہ دیکھ لیا کہ تمہاری ایک آنکھ ضائع ہو گئی ہے۔ حضرت عثمانؓ بن مظعون نے کہا آخر ہوا کیا خدا کی قسم! میری تو دوسری آنکھ بھی چلّا چلّا کر کہہ رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے رستے میں مجھے بھی پھوڑ دو۱؎۔ یہ ان لوگوں کی کیفیت تھی جو اسلام کی راہ میں دکھ اٹھانے میں ایک فخر اور لذت محسوس کرتے تھے۔
یہی طریق آپ لوگوں کا ہونا چاہئے۔ اگر آپ لوگوں کو کوئی دکھ پہنچے تو رویا چلّایا نہ کریں۔ جماعت کے بعض دوست ایسے ہیں کہ اگر انہیں کوئی گالی بھی دے دے تو وہ مجھے لکھنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہم بہت سے مصائب میں مبتلا ہیں اور تحقیق پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ کہیں جا رہے تھے کہ رستہ میں آواز آئی کہ مرزائی بڑے کافر ہیں۔ لیکن حضرت عثمانؓ بن مظعون کی آنکھ نکل جاتی ہے، تکلیف سے وہ نڈھال ہو رہے ہوتے ہیں لیکن کہتے ہیں خدا کی قسم! میری تو دوسری آنکھ بھی اس بات کا انتظار کر رہی ہے کہ کوئی دشمن اسے بھی پھوڑ دے۔ حضرت عثمانؓ بن مظعون کے اس شاندار فقرہ کا یہ اثر تھا کہ جب آپ فوت ہوئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ پھر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے حضرت ابراہیم فوت ہوئے تو آپ نے فرمایا جا اپنے بھائی عثمانؓ بن مظعون کے پاس۔ گویا آپ نے حضرت عثمانؓ بن مظعون کو اپنا بیٹا قرار دیا اور اُن کی یاد کو ایک لمبے عرصہ تک قائم رکھا۔
تو دین کی راہ میں جو مصائب آئیں ان کا نتیجہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ لوگ ہمت ہار کر بیٹھ جائیں بلکہ ان کے نتیجہ میں اور زیادہ زور سے کام کرنا چاہیے۔ سورۃ نازعات جس کی چند آیات میں نے ابھی پڑھی ہیں اللہ تعالیٰ نے یہی بیان فرمایا ہے کہ مومن وہی ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنا سارا زور لگا دیتا ہے اور جس کام میں وہ لگا ہوا ہوتا ہے اس میں وہ غرق ہو جاتا ہے۔ اگر واقع میں کوئی ایسی جماعت ہو تو اس کو کیا پتا لگ سکتا ہے کہ اس کے اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ دنیا میں ہمیں کئی لوگ ایسے نظر آتے ہیں کہ جن کے
سامنے اُن کے گھروں کو آگ لگ جاتی ہے تو انہیں اس کا علم تک نہیں ہوتا اور وہ دوسروں سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہو گیا ۔ اِس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ کسی اور کام میں اتنے محو ہوتے ہیں کہ انہیں کسی دوسری چیز کا علم ہی نہیں ہوتا۔ یہ محویت مختلف لوگوں میں مختلف رنگوں میں دکھائی دیتی ہے۔
ڈاکٹر ڈانسن جنہوں نے انگریزی میں لغت لکھنی شروع کی تھی ان کے متعلق ان کے ایک دوست جو مشہور مصنف ہیں لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اُس جگہ گیا جو ڈاکٹر ڈانسن کو بہت پسند تھی اور میں نے دیکھا کہ بارش ہو رہی ہے اور ڈاکٹر ڈانسن اپنا ہاتھ باہر نکالے کھڑا ہے۔ میں نے اُس سے کہا۔ ڈاکٹر! یہ تم کیا کر رہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں شام کے بعد سے یہاں کھڑا ہوں اور روزانہ یہاں آ کر کھڑا ہوتا ہوں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے ایک دفعہ کوئی غلطی کی تو میرے باپ نے مجھے سزا کے طور پر یہاں کھڑا کیا تھا۔ میں نے اس سزا کو بہت بُرا محسوس کیا اور سزا قبول کرنے کی بجائے میں کہیں باہر چلا گیا۔ اب جب میں بڈھا ہو گیا ہوں تو مجھے یاد آتا ہے کہ اگر میں اپنے باپ کی بات مان لیتا تو اچھا تھا میں اس غلطی کا کفارہ ادا کرنے کے لئے روزانہ یہاں آتا ہوں۔ تو دیکھو جن لوگوں کے دلوں میں احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے کوئی غلطی کی ہے یا یہ کہ ان کا کوئی فعل خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں غلطی کہلائے گا تو وہ اس کا کفارہ ادا کرتے ہیں۔ آپ لوگوں کو بھی اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو خدا تعالیٰ سے دعا کیا کریں کہ وہ اسے دور کرے۔ لیکن اس تکلیف کے وقت دوسروں کو بلانا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو مارے تو وہ محلہ والوں کو بلانا شروع کر دے۔ اگر وہ بچہ ماں کے مارنے کی وجہ سے روتا ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر وہ کہتا ہے محلہ والو! دوڑو اور مجھے میری ماں سے بچاؤ تو یہ درست نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر تمہیں کوئی بات تکلیف دیتی ہے تو خدا تعالیٰ کے آگے گڑگڑاؤ اور اُس سے دعا کرو لیکن اگر کسی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور وہ دوسروں کے آگے واویلا شروع کر دیتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ لوگوں میں خدا تعالیٰ کا شکوہ کرتا ہے اور اُس کی رضا پر راضی رہنا پسند نہیں کرتا۔ صحیح طریق یہی ہوتا ہے کہ وہ اس تکلیف کو برداشت کرے اور خدا تعالیٰ کے سامنے اس کے ازالہ کے لئے دعا کرتا رہے۔
غرض سورۃ نازعات میں خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ مومن وہی ہے جو اپنے کام میں اس طرح محو ہو جائے کہ اسے اپنے گرد و پیش کا بھی علم نہ رہے۔ گرد و پیش سے ہٹ کر اپنے کام میں محو ہو جانے والا ہی سچا مومن اور اصل صداقت کو کھینچ لانے والا ہوتا ہے۔ لیکن جو شخص قرآن کریم پڑھتا ہے اور اس کا دماغ کسی اور طرف متوجہ ہوتا ہے وہ سورۃ نازعات میں بیان کردہ صداقت پر عمل نہیں کرتا۔ سورۃ نازعات پر وہی شخص عمل کرتا ہے جو نماز پڑھتا ہے یا دعا کرتا ہے یا قرآن کریم پڑھتا ہے تو اس میں اتنا غرق ہو جاتا ہے کہ اُسے یہ علم تک نہیں ہوتا کہ اُس کے گرد و پیش کیا ہو رہا ہے۔ اگر یہ کیفیت کسی کو نصیب نہیں ہوتی تو اُس کی وہی حالت ہوتی ہے جو ایک دنیا دار ملاّں کی تھی۔
کہتے ہیں حضرت باوانانک رحمۃ اللہ علیہ سفر کرتے ہوئے ایک جگہ پہنچے تو نماز ہو رہی تھی۔ وہ بھی نماز میں شامل ہو گئے۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد نماز توڑ کر بیٹھ گئے۔ حضرت بابا نانکؒ روحانی آدمی تھے اور امام الصلوٰۃ کوئی دنیا دار آدمی تھا۔ جب نماز ہو چکی تو کسی نے دریافت کیا کہ آپ نے نماز کیوں توڑ دی تھی؟ انہوں نے کہا۔ مولوی صاحب نماز پڑھاتے پڑھاتے پہلے جہلم کی طرف چلے گئے، پھر گجرات کی طرف چلے گئے، پھر انہوں نے بھینس خریدی اور اس کا دودھ بیچا۔ پھر اور بھینسیں خریدیں اور ان کا دودھ بیچا اور آخر ان کی آمد سے ایک محل تیار کیا۔ میں ایک کمزور انسان ہوں۔ میں ان کے پیچھے پیچھے کیسے چلتا۔ میں تو تھک کر الگ ہو گیا۔ حقیقت یہ تھی کہ جب امام نماز پڑھا رہا تھا تو اس کے دل میں خیال آیا کہ کل عید کا دن ہے لوگ مجھے عیدی دیں گے۔ میں اس سے ایک بھینس خریدوں گا مگر اچھی بھینس یہاں سے نہیں مل سکتی اس لئے کہیں باہر جاؤں گا۔ چنانچہ پہلے جہلم کا خیال آیا۔ پھر سوچا کہ ممکن ہے جہلم میں اچھی بھینس نہ ملے بہتر ہے کہ گجرات چلیں وہاں سے امید ہے کہ اچھی سی بھینس مل جائے گی۔ پھر اس کی آمد سے ایک اور بھینس خریدوں گا۔ جب بہت سی بھینسیں جمع ہو جائیں گی تو ان کی آمد سے ایک کوٹھی تیار کروں گا۔ وہ نماز پڑھا رہا تھا اور یہ خیالات اُس کے دماغ میں چکر لگا رہے تھے حضرت باوانانکؒ پر اپنی روحانیت کی وجہ سے امام الصلوٰۃ کے یہ خیالات منکشف ہو گئے اور انہوں نے نماز توڑ دی اور کہا کہ میں بوڑھا آدمی ہوں میں کہاں کہاں سفر کرتا پھروں۔
پس اپنے اندر اخلاص پیدا کرو اور سچائی کے پھیلانے کے لئے پورے ثبات اور محویت سے کام لو۔ ہر شخص نے مرنا ہے اور اس کے مرنے کے بعد اسلام کا جو حال ہوگا اس کا کسی کو علم نہیں۔ لیکن اگر آنے والا غلبہ ہمیں دنیا میں ہی نظر آجائے تو اس سے ہمارے دل کو بہت تقویت حاصل ہوگی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو لوگوں نے کہا تھا کہ اپنے بیٹے یوسفؑ کے غم میں پاگل ہو گیا ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو تو اپنے بیٹے کا غم تھا اور مجھے اسلام کا غم ہے۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ابھی تو صرف لندن، ہیمبرگ جرمنی اور ہیگ میں ہی مساجد تعمیر ہوئی ہیں مگر جلد ہی فرینکفورٹ جرمنی میں ایک مسجد تعمیر ہوگی۔ وئنز برگ (WEINSBERG) جرمنی میں ایک مسجد تعمیر ہوگی۔ نیورمبرگ جرمنی میں ایک مسجد تعمیر ہوگی۔ روم میں ایک مسجد تعمیر ہوگی۔ نیپلز میں ایک مسجد تعمیر ہوگی۔ تین مساجد سکینڈے نیویا میں بنیں گی۔ تم کہو گے یہ بڈھا سٹھیا گیا ہے ابھی یورپ میں صرف تین مساجد بنی ہیں اور یہ آٹھ مساجد اور بنا رہا ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ میں تقریر کرتا ہوا مساجد کی تعداد کم کر گیا ہوں۔ اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو میں پچاس مساجد یورپ میں بنواؤں گا تاکہ وہاں ہر بڑے شہر میں مسجد موجود ہو۔ باوانانکؒ تو ایک دنیا دار ملاّں کے پیچھے کھڑے ہوگئے تھے جس کی وجہ سے وہ اس کا ساتھ نہ دے سکے لیکن تم ایک ایسے آدمی کے پیچھے لگے ہوئے ہو جس کو یورپ میں اسلام پھیلانے اور مساجد تعمیر کرنے کا شوق ہے بلکہ پچاس مساجد بھی کم سے کم اندازہ ہے میرا خیال تو اس سے بھی بلند جایا کرتا ہے۔ پچاس مساجد پر ایک کروڑ روپیہ لگتا ہے جو اس وقت ہمارے پاس موجود نہیں۔ لیکن اگر تم اپنے رشتہ داروں کو تبلیغ کرکے انہیں احمدیت میں داخل کرو تو ایک کروڑ روپیہ کا مہیا ہونا کوئی مشکل امر نہیں۔ مثلاً صدر انجمن احمدیہ کا سالانہ بجٹ پچھلے سال بارہ لاکھ تھا۔ اس سال وہ پچاس ساٹھ لاکھ ہو جائے اور اور دو تین سال کے اندر اس کی مقدار تین کروڑ ہو جائے تو ایسی صورت میں اگر ہم 1/3 حصہ بھی مساجد کی تعمیر کے لئے رکھیں تو ایک کروڑ روپیہ ہر سال نکل سکتا ہے
اور ہر سال پچاس مساجد تعمیر کی جاسکتی ہیں۔ اور اگر ہم ہر سال پچاس مساجد تعمیر کرسکیں تو پانچ سال کے عرصہ میں اڑھائی سو مساجد بن سکتی ہیں۔ اگر اڑھائی سو مساجد یورپ میں تعمیر ہو جائیں تو اس کے چپہ چپہ پر خدا تعالیٰ کی تکبیر کی صدا بلند ہوسکتی ہے۔ اب کوئی مبلغ باہر سے آتا ہے یا یہاں سے جاتا ہے تو تم اَللّٰهُ اَکْبَرُ کے نعرے لگاتے ہو لیکن ان نعروں میں وہ زور نہیں پایا جاتا جو اُس اَللّٰهُ اَکْبَرُ کی آواز میں ہوگا جو یورپ کی مساجد سے بلند ہوگی اور سب عیسائی بھی زور سے کہیں گے کہ اَللّٰهُ اَکْبَرُ۔ جب ان مساجد سے مؤذن اَللّٰهُ اَکْبَرُ کی صدا بلند کریں گے اور ان کے ساتھ ساتھ قصبات والے بھی اَللّٰهُ اَکْبَرُ کہیں گے تو بیک وقت سارا یورپ اَللّٰهُ اَکْبَرُ کی آوازوں سے گونج اٹھے گا اور عیسائی اپنی زبان سے کہیں گے کہ اب عیسائیت کمزور ہو گئی ہے۔ اور یہ بات تو میں نے پانچ مساجد کے متعلق بیان کی ہے لیکن جب یورپ میں اڑھائی سو مساجد تعمیر ہو جائیں گی تو یورپ کے سارے کناروں تک نعرہ ہائے تکبیر کی صدائیں بلند ہوں گی۔ اور وہ نعرہ ہائے تکبیر ایسے ہوں گے کہ ایک مسجد کی آواز دوسری مسجد تک پہنچے گی اور پھر قریب کے علاقہ میں پھیلتی جائے گی اور یورپ والے کہیں گے کہ اب اسلام غالب آگیا ہے اور وہ اسلام کے مقابلہ میں اپنے ہتھیار پھینک دیں گے۔ اُن کا سارا غرور جاتا رہے گا اور وہ خود اقرار کریں گے کہ اب اسلام غالب آچکا ہے۔ تب وہ زمانہ آ جائے گا جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ
’’قومیں اسلام میں داخل ہوں گی‘‘۸
پھر ہم امریکہ کی طرف متوجہ ہوں گے اور وہاں ہزار دو ہزار مساجد بنائیں گے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ آواز در آواز پھیلتی چلی جائے گی۔ تم دیکھ لو ربوہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے لیکن یہاں جب مسجد مبارک میں مؤذن کی آواز بلند ہوتی ہے تو وہ سارے شہر میں پھیلتی ہے اور جب دوسری مساجد سے بھی اذان کی آوازیں اٹھتی ہیں تو پورے شہر کے اندر زندگی اور بیداری کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔ اسی طرح جب یورپ اور امریکہ کی ہزاروں مساجد میں اذانیں ہوں گی تو عیسائی سمجھ لیں گے کہ اب عیسائیت مرگئی اور پھر یہ نور آہستہ آہستہ تمام دنیا میں پھیلا تو چکر کھا کر جاپان ، فلپائن اور انڈونیشیا سے ہوتا ہوا پاکستان آئے گا۔ پہلے لوگ کہتے تھے کہ انگریزی سلطنت پر سورج نہیں ڈوبتا لیکن اب یہ بات عملاً احمدیت پر بھی صادق آتی ہے۔ اب احمدیت پر بھی سورج غروب نہیں ہوتا لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اذانوں پر بھی سورج غروب نہ ہو۔“ (الفضل سالانہ نمبر 26؍دسمبر 1957ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
(فرمودہ 26؍ اکتوبر 1957ء بموقع اجتماع لجنہ اماء اللہ ربوہ)
تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی۔
اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانۡحَرۡ اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الۡاَبۡتَرُ(1)
اس کے بعد فرمایا:۔
یہ سورۃ جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے محمد رسول اللہ! ہم نے یقیناً تجھے کوثر عطا فرمایا ہے۔ سو تُو اس عظیم الشان نعمت کے شکریہ کے طور پر اپنے ربّ کی کثرت سے عبادت کر اور ہر قسم کی قربانیوں کیلئے تیار رہ۔ اور یقین رکھ کہ تیرا دشمن ہی نرینہ اولاد سے محروم ثابت ہوگا۔ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں نرینہ اولاد زندہ نہیں رہی اس لئے قریش مکہ آپؐ کی تحقیر کیلئے آپؐ کو ابتر کہا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس سورۃ میں دشمنوں کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اُن کا یہ اعتراض بالکل غلط ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتر نہیں بلکہ ان کا دشمن ہی ابتر ثابت ہوگا اور وہی اولاد نرینہ سے محروم رہے گا۔ اب جہاں تک جسمانی اولادِ نرینہ کا سوال ہے بیشک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کوئی نرینہ اولاد زندہ نہیں رہی جس سے آپؐ کی جسمانی نسل چلتی۔ مگر جہاں تک روحانی اولاد کا سوال ہے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اولاد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی اور اتنی کثرت کے ساتھ ملی کہ اس کی نظیر دنیا کے کسی نبی میں بھی نظر نہیں آتی۔ اسی چیز کا ذکر آیت خاتم النبیین میں کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ گو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی نرینہ اولاد نہیں جس کے آپ باپ کہلا سکیں مگر خدا تعالیٰ آپ کی روحانی اولاد کو قیامت تک جاری رکھے گا جو ہمیشہ آپ کے کام کو جاری رکھے گی اور آپ کے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاتی رہے گی۔ جس کے مقابلہ میں صرف جسمانی اولاد کا میسر آجانا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔
دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جسمانی اولاد بعض اوقات انسان کیلئے ہزاروں دقتوں اور مصیبتوں کا موجب ہو جاتی ہے اور بجائے اس کے کہ اس کی اولاد کی وجہ سے باپ کی عزت ہو اس کی ذلت اور رسوائی ہوتی ہے۔ پس صرف جسمانی اولاد کا میسر آجانا کوئی بڑی کامیابی نہیں۔ ہاں اگر کسی کو روحانی اولاد مل جائے اور وہ اس کے نام اور کام کو دنیا میں پھیلائے تو یہ اس کی بہت بڑی کامیابی کہلائے گی۔ اور ایسا شخص ہر عقلمند انسان کی نگاہ میں صاحبِ اولاد کہلائے گا۔ پس خدا تعالیٰ مشرکین کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے اِس سورۃ میں فرماتا ہے کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں نرینہ اولاد نہیں تو اس کی وجہ سے آپ ابتر نہیں کہلا سکتے کیونکہ جسمانی اولاد کے متعلق یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ باپ کی عزت کا موجب ہو بلکہ بسا اوقات وہ ان کی ذلت کا موجب بھی ہو سکتی ہے۔ اس لئے ہم آپ کو روحانی بیٹے عطا کریں گے جو آپ کے نام کو روشن کرنے والے اور آپ کے کام کو جاری رکھنے کا باعث ہوں گے اور آپ کے مقابل پر آپ کا دشمن اس قسم کی اولاد سے ہمیشہ کیلئے محروم رہے گا۔
دشمن کے ہاں روحانی بیٹے نہ ہونے کا ثبوت تو اس بات سے مل جاتا ہے۔ کہ روحانی بیٹا وہی ہوتا ہے جو اپنے باپ کے مذہب پر چلے۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بڑے دشمنوں میں سے ابو جہل، عاص بن وائل اور ولید بن مغیرہ وغیرہ ہی تھے۔ یہ لوگ آپ کو دکھ دیا کرتے تھے۔ اسی طرح آپ کا ایک اور دشمن ابوسفیان تھا جو ایک لمبا عرصہ آپ کے خلاف لڑتا رہا لیکن فتح مکہ کے بعد وہ مسلمان ہو گیا۔ ان سب دشمنوں میں سے ابوسفیان کا تو یہ حال ہوا کہ وہ نہ صرف خود اپنی آخری عمر میں اسلام لے آیا بلکہ اس کا بیٹا معاویہؓ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور نہ صرف ایمان لایا بلکہ اس نے حضرت علیؓ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔
اور جس شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہونے کا دعویٰ کیا ہو اُس کی خلافت کے متعلق چاہے کتنے ہی شکوک ہوں بہرحال اس سے اتنا تو واضح ہو جاتا ہے کہ اس نے آپ کا روحانی فرزند ہونا تسلیم کیا ہے۔ پھر اسی معاویہؓ کی نسل نے گیارہ سو سال تک ہسپانیہ میں اسلام کی حکومت قائم رکھی۔ اور یہ حکومت اتنی عظیم الشان تھی کہ ایک وقت سارا یورپ اس سے ڈرتا تھا۔ گویا حضرت معاویہؓ نے نہ صرف خود اسلام کی خدمات بجالائیں بلکہ اس کی اولاد کے ذریعہ بھی اسلام کو عروج نصیب ہوا۔
ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کی بیوی اُمّ حبیبہؓ نے جو ابوسفیان کی بیٹی تھیں اپنے بھائی معاویہؓ کا سر اپنی گود میں رکھا ہوا ہے اور اسے پیار کر رہی ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر آپ شرما گئیں اور انہوں نے حضرت معاویہؓ کو الگ کر دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اُمّ حبیبہ! کیا تم معاویہ سے پیار کر رہی تھیں؟ انہوں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ! معاویہ میرا بھائی ہے۔ آپ نے فرمایا جو تمہیں پیارا ہے وہ ہمیں بھی پیارا ہے۔
اس طرح گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہؓ کو ایک رنگ میں اپنا بیٹا قرار دے دیا۔ یہ تو اسلام کے ایک دشمن کا حال ہوا۔ یعنی ابوسفیان جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر وقت لڑتا رہتا تھا اُس کی ایک بیٹی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئی اور اُس کے بیٹے معاویہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رنگ میں اپنا بیٹا قرار دے دیا۔ پھر وہ آپ پر ایمان بھی لایا۔ اور نہ صرف آپ کی زندگی میں بلکہ بعد میں بھی اسلام کی بڑی خدمات بجالایا۔
پھر ابوجہل جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا شدید دشمن تھا اُس کی یہ حالت ہوئی کہ خود اُسی کی اولاد نے چاہا کہ وہ اپنی بہن حضرت علیؓ سے بیاہ دیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہ دی۔ آپ نے فرمایا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام دوسری شادی کی اجازت دیتا ہے لیکن میں پسند نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی بیٹی اور اس کے دشمن کی بیٹی ایک گھر میں اکٹھی ہوں۔ میں دوسری شادی میں روک نہیں بنتا۔ علیؓ کو اختیار ہے کہ اگر وہ چاہے تو میری بیٹی کو طلاق دے دے اور دوسری شادی کر لے اور چاہے تو ابو جہل کی بیٹی سے رشتہ کا خیال ترک کر دے۔ بہر حال ابو جہل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شدید ترین دشمن تھا اور اس کا بیٹا عکرمہؓ (جو بعد میں مسلمان ہو گیا تھا) مخالفت میں اتنا بڑھا ہوا تھا کہ جب مکہ فتح ہوا تو اس نے یہ برداشت نہ کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بادشاہ ہوں اور وہ آپ کی رعیت کہلائے۔ چنانچہ وہ حبشہ کی طرف بھاگ گیا۔ اُس کی بیوی زیادہ شریف تھی اور دل سے مسلمان تھی۔ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا عکرمہ آپ کا رشتہ دار نہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں وہ میرا رشتہ دار ہے۔ اس نے کہا یا رسول اللہ! کیا یہ بات آپ کو اچھی لگتی ہے کہ عکرمہ یہاں نہ رہے؟ جب غیر حاکم تھے تو وہ مکہ میں رہتا تھا لیکن اب آپ جو اس کے رشتہ دار ہیں حاکم بن گئے ہیں تو وہ بھاگ کر حبشہ چلا گیا ہے۔ آپ نے فرمایا وہ کیوں حبشہ چلا گیا ہے؟ عکرمہ کی بیوی نے جواب دیا اُسے خبر ملی تھی کہ آپ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا ہے۔ یا رسول اللہ! جہاں آپ نے اپنے باقی دشمنوں کو معاف کر دیا ہے عکرمہ کو بھی معاف فرما دیں۔ آپ نے فرمایا ہم معاف کرتے ہیں۔ وہ واپس آ جائے تو ہم اسے کچھ نہیں کہیں گے۔ عکرمہ کی بیوی نے کہا یا رسول اللہ! وہ بڑا با غیرت انسان ہے شاید اس کے واپس آ جانے کے بعد آپ اُس سے امید رکھیں کہ وہ اسلام لے آئے وہ اسلام نہیں لائے گا۔ آپ نے فرمایا میری طرف سے اُسے اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت ہے۔ وہ عورت بڑی ہمت والی تھی وہ اپنے خاوند کی تلاش میں گئی۔ عکرمہ مکہ سے بھاگ کر حبشہ کی طرف جا رہا تھا۔ جب ساحل سمندر پر عرب کو ہمیشہ کیلئے چھوڑنے کی نیت سے بیٹھا ہوا تھا تو پراگندہ سر پریشان حال بیوی گھبرائی ہوئی وہاں پہنچی تو اس نے کہا میرے چچا کے بیٹے! (عرب عورتیں اپنے خاوند کو چچا کا بیٹا کہا کرتی تھیں) اتنے شریف اور رحمدل انسان چھوڑ کر تم کہاں جا رہے ہو؟ یہ جگہ جہاں سے حبشہ کو جہاز جاتے تھے مکہ سے 70 میل کے فاصلہ پر تھی۔ عکرمہ نے کہا تم میرے پیچھے بھاگ کر کیوں آ گئی ہو کیا تم سمجھتی ہو کہ میری ساری دشمنیوں کے باوجود محمد مجھے معاف کر دیں گے؟ بیوی نے کہا ہاں میں محمد سے مل کر آئی ہوں۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ میں نے
عکرمہ کو معاف کر دیا ہے۔ وہ اگر چاہے تو مکہ واپس آجائے اور یہاں امن سے رہے اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ بلکہ میں نے تو آپ سے یہ عہد بھی لے لیا ہے کہ تم اپنے دین پر قائم رہنا چاہو تو قائم رہو تمہیں اسلام قبول کرنے کے لئے مجبور نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ عکرمہ واپس آگیا۔ اس کی بیوی اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ کا بھتیجا واپس آگیا ہے۔ پھر عکرمہ نے اسے اشارہ کیا کہ اب مجھے بولنے دو۔ چنانچہ عکرمہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا۔ میری بیوی میرے پیچھے گئی تھی اور اس نے مجھے بتایا ہے کہ آپ نے میری ساری دشمنیوں کے باوجود مجھے معاف کر دیا ہے اور اب آپ مجھے قتل نہیں کریں گے۔ کیا یہ سچ ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں تمہاری بیوی سچ کہتی ہے۔ پھر عکرمہ نے کہا اس نے مجھے یہ بھی بتایا ہے کہ آپ نے مجھے اجازت دے دی ہے کہ اگر چاہوں تو اپنے مذہب پر قائم رہوں مجھے اسلام قبول کرنے کے لئے نہیں کہا جائے گا؟ آپ نے فرمایا تمہاری بیوی نے ٹھیک کہا ہے۔ اس پر عکرمہ نے بے اختیار کہا۔ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَ رَسُوْلُهٗ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عکرمہ! یہ کیا؟ اس نے کہا یا رسول اللہ! میں نے اور میرے باپ نے جو دشمنیاں آپ سے کیں ان کے ہوتے ہوئے آپ نے مجھے معاف کر دیا ہے اور جو شخص شدید دشمنوں کو معاف کر سکتا ہے اور پھر ان کو یہ اجازت بھی دیتا ہے کہ وہ اگر چاہیں تو اپنے مذہب پر قائم رہیں وہ نبی کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ یا رسول اللہ! میں تو سیاسی طور پر مکہ واپس آیا تھا لیکن جب آپ نے اپنے منہ سے فرما دیا کہ آپ مجھے نہ صرف قتل نہیں کریں گے بلکہ اپنے دین پر قائم رہنے کی بھی اجازت دیں گے تو مجھے یقین ہو گیا کہ آپ سچے ہیں اور خدا تعالیٰ کے رسول ہیں۔ یا رسول اللہ! آپ مجھے اپنا ہاتھ دیں کہ میں آپ کی بیعت کروں۔ چنانچہ عکرمہ نے آپ کا ہاتھ پکڑا اور بیعت کر لی۔
پھر بعد میں اس نے ایمان میں اتنی ترقی کی کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جنگ یرموک میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کی جانیں خطرہ میں تھیں اور مسلمان کثرت سے مارے جا رہے تھے تو اسلامی کمانڈر انچیف حضرت ابو عبیدہؓ بن الجراح نے کہا کہ میں
چاہتا ہوں کہ کچھ ایسے بہادر نکل آئیں جو تعداد میں اگرچہ تھوڑے ہوں لیکن وہ سر دھڑ کی بازی لگا کر رومی فوج پر رعب ڈال دیں۔ حضرت عکرمہؓ آگے نکلے اور انہوں نے حضرت ابو عبیدہؓ سے درخواست کی کہ مجھے اپنی مرضی کے مطابق کچھ آدمی چن لینے دیں میں ان آدمیوں کو ساتھ لے کر دشمن کے قلب لشکر پر حملہ کروں گا اور کوشش کروں گا کہ ان کے جرنیل کو مار دوں۔ اُس وقت رومی لشکر کا جرنیل خوب زور سے لڑ رہا تھا اور بادشاہ نے اُس سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں فتح حاصل کر لے تو وہ اپنی لڑکی کی شادی اُس سے کر دے گا اور اپنی آدھی مملکت اس کے سپرد کر دے گا۔ اس لالچ کی وجہ سے وہ بڑے جوش میں تھا۔ اور اپنی ذاتی اور شاہی فوج لے کر میدان میں اترا ہوا تھا اور اس نے سپاہیوں سے بڑی رقوم کا وعدہ کیا ہوا تھا۔ چنانچہ رومی سپاہی بھی جان توڑ کر لڑ رہے تھے۔ جب رومی لشکر نے مسلمانوں پر حملہ کیا تو وہ جرنیل لشکر کے قلب میں کھڑا تھا۔ حضرت عکرمہؓ نے قریباً چار سو آدمیوں کو لے کر لشکر کے قلب پر حملہ کیا اور ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے اس جرنیل پر حملہ کر کے اُسے نیچے گرا دیا۔ مقابلہ میں لاکھوں کا لشکر تھا اور یہ صرف چار سو مسلمان تھے اس لئے مقابلہ آسان نہ تھا۔ اس جرنیل کو تو انہوں نے مار دیا اور اس کے مر جانے کی وجہ سے لشکر بھی تتر بتر ہو گیا۔ مگر دشمن اُن آدمیوں پر ٹوٹ پڑا اور سوائے چند ایک کے سارے کے سارے شہید ہو گئے 3 ان آدمیوں میں سے 12 شدید زخمی تھے۔ جب مسلمان لشکر کو فتح ہوئی تو ان لوگوں کی تلاش شروع ہوئی۔ ان 12 زخمیوں میں حضرت عکرمہؓ بھی شامل تھے۔ ایک مسلمان سپاہی آپ کے پاس آیا آپ کی حالت خراب تھی۔ اس نے کہا عکرمہ میرے پاس پانی کی چھاگل ہے تم کچھ پانی پی لو۔ آپ نے منہ پھیر کر دیکھا تو پاس ہی حضرت عباسؓ کے بیٹے فضلؓ پڑے ہوئے تھے۔ وہ بھی بہت زخمی تھے۔ عکرمہؓ کہنے لگے میری غیرت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ جن لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس وقت مدد کی جب میں آپ کا شدید مخالف تھا وہ اور ان کی اولاد تو پیاس کی وجہ سے مر جائے اور میں پانی پی کر زندہ رہوں پہلے انہیں پانی پلاؤ۔ اگر کچھ بچ جائے تو پھر میرے پاس لے آنا۔ چنانچہ وہ مسلمان فضلؓ کے پاس گیا۔ انہوں نے اگلے زخمی کی طرف اشارہ کیا اور کہا پہلے انہیں پلاؤ وہ مجھ سے زیادہ مستحق ہے۔ وہ اُس زخمی کے پاس گیا تو اُس نے اگلے زخمی کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ وہ مجھ سے زیادہ مستحق ہے پہلے اسے پلاؤ۔ اس طرح وہ جس سپاہی کے پاس جاتا وہ اسے دوسرے کی طرف بھیج دیتا اور کوئی پانی نہ پیتا۔ جب وہ آخری زخمی کے پاس پہنچا تو وہ فوت ہو چکا تھا۔ جب عکرمہؓ کی طرف لوٹا تو وہ بھی دم توڑ چکے تھے۔ اس طرح باقی زخمیوں کا حال ہوا۔ جس کے پاس بھی وہ گیا وہ فوت ہو چکا تھا4۔
اب دیکھو اس قسم کا اخلاص دکھانے والا لڑکا ابو جہل کا لڑکا نہیں ہو سکتا وہ یقیناً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی بیٹا تھا۔ پھر جس شخص کیلئے حضرت عکرمہؓ نے اخلاص دکھایا وہ ابو جہل کا لڑکا یا قریبی عزیز نہ تھا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ دار اور عزیز تھا۔ پھر انہوں نے یہ قربانی کفار اور مشرکین کے لیے نہیں کی بلکہ انہوں نے یہ قربانی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کے لئے کی۔ غرض عکرمہؓ جو ابو جہل کی جسمانی نسل میں سے تھا ابو جہل کا بیٹا ثابت نہ ہوا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لڑکا ثابت ہوا۔ اس نے آپ کی بیعت کر لی تھی اور اس کے بعد اس نے اسلام کیلئے غیر معمولی قربانیاں کیں۔ حدیث بھی اس بات پر گواہ ہے۔ چنانچہ حضرت عکرمہؓ کے ایمان لانے سے سالہا سال پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اسلام لانے کی پیشگوئی فرمائی تھی جو پوری ہوئی۔ احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ آرہا ہے اور اس کے ہاتھ میں انگوروں کا ایک خوشہ ہے۔ میں نے پوچھا یہ خوشہ کس کے لئے ہے؟ اُس فرشتے نے کہا یہ خوشہ جنت کے انگوروں کا ہے اور آپ کے رب نے یہ خوشہ آپ کیلئے بھجوایا ہے۔ میں بہت خوش ہوا مگر میں نے دیکھا اُس فرشتے کے پاس ایک اور خوشہ بھی ہے۔ میں نے دریافت کیا یہ خوشہ کس کیلئے ہے؟ اس نے کہا یہ ابو جہل کے لئے ہے۔ اس پر میں سخت حیران ہوا کہ یہ کیا بات ہے کہ جنت سے خدا تعالیٰ کے رسول کیلئے بھی انگوروں کا خوشہ آتا ہے اور اُس کے دشمن ابو جہل کے لئے بھی خوشہ آتا ہے۔ خدا تعالیٰ کا رسول اور اس کا دشمن برابر کیسے ہوئے؟ لیکن جب عکرمہؓ ایمان لایا تو میں نے سمجھا کہ وہ خوشہ دراصل عکرمہؓ کے لئے تھا5۔ خدا تعالیٰ نے بیٹے کی جگہ باپ کا نام ظاہر کیا جیسا کے خوابوں کا طریق ہے۔ اس طرح بتا دیا کہ عکرمہؓ ایک دن اسلام قبول کر کے جنت کے انعامات کا مستحق ہو جائے گا۔ تو دشمن کہتا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ ابتر ہیں ، ان کی نرینہ اولاد نہیں۔ لیکن واقعات نے ثابت کر دیا کہ دراصل ابتر آپ کے دشمن ہی تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی جسمانی اولادوں کو اسلام میں داخل کر کے آپ کے قدموں میں ڈال دیا اور انہوں نے بعد میں آپ کے لائے ہوئے دین اور آپ کے نام کو بلند کرنے کیلئے عظیم الشان قربانیاں کیں۔
پھر دیکھو ولید آپ کا کس قدر دشمن تھا مگر اس کا بیٹا خالدؓ آپ پر ایمان لایا۔ پھر ساری عمر وہ آپ پر اور آپ کے لائے ہوئے دین پر اپنی جان نثار کرتا رہا۔ حضرت خالدؓ بھی ایک زمانہ میں اسلام کے شدید دشمن تھے لیکن بعد میں خدا تعالیٰ نے انہیں ہدایت دے دی اور انہوں نے اسلام کے لئے بڑی بھاری قربانیاں کیں۔ انہوں نے رومی سلطنت کو شکست دے کر شام کو اسلام کے لئے فتح کیا۔ حضرت عمرو بن عاصؓ جن کے دادا اوائل اسلام میں شدید دشمن تھے وہ بھی اسلام لائے اور انہوں نے مصر اور فلسطین کو اسلام کے لئے فتح کیا اور ایسا فتح کیا کہ لوگوں کو ماننا پڑا کہ مصر اسلام کا ایک مضبوط اڈا تھا۔ عتبہ اور شیبہ کی اولادوں کا نام مجھے یاد نہیں۔ لیکن بہرحال یہ بات ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی جسمانی اولادیں اُن سے چھین کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی تھیں اور وہ اولادیں بھی بجائے اپنے ماں باپ کا نام بلند کرنے کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی بلندی کا موجب بنیں۔ حالانکہ مشرکین مکہ کی مخالفت کا یہ حال تھا کہ ایک دفعہ ان کی تکالیف سے تنگ آکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اب آپ طائف کی طرف جائیں گے اور وہاں کے لوگوں کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچائیں گے۔ چنانچہ آپ طائف تشریف لے گئے اور آپؐ کے غلام حضرت زید بن حارثہؓ آپ کے ہمراہ تھے لیکن اہلِ طائف نے خدا تعالیٰ کے پیغام کو ٹھکرا دیا اور آپؐ کے پیچھے کتے لگا دیئے۔ لڑکوں کو اکسایا اور انہوں نے جھولیوں میں پتھر بھر کے آپ پر پتھراؤ کرنا شروع کر دیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہر سے نکال دیا6۔ چنانچہ آپ پھر مکہ کی طرف واپس لوٹے لیکن عرب کے دستور کے مطابق
لڑائی کی وجہ سے مکہ چھوڑ دینے کے بعد آپؐ مکہ کے باشندے نہیں رہے تھے ۔ اب مکہ والوں کا اختیار تھا کہ وہ آپؐ کو مکہ میں آنے دیتے یا نہ آنے دیتے۔ اس لئے مکہ میں آنے کے لئے ضروری تھا کہ وہاں کا کوئی رئیس آپؐ کو پناہ دے۔ آپؐ نے حضرت زید بن حارثہؓ کو مکہ کے ایک رئیس مطعم بن عدی کے پاس بھیجا اور فرمایا تم اسے کہو کہ محمدؐ تم سے پناہ مانگتا ہے اور وہ مکہ کے دروازہ پر کھڑا ہے اگر تم پناہ دو گے تو وہ شہر میں داخل ہو سکے گا ورنہ وہ وہیں سے لوٹ جائے گا۔ مطعم باوجود شدید دُشمن ہونے کے ایک شریف الطبع انسان تھے اُس نے کہا مکہ کی اس سے زیادہ بدبختی اور کیا ہو گی کہ محمدؐ جیسا آدمی اسے چھوڑ کر باہر چلا جائے ایسا کبھی نہیں ہو سکتا میں اور میرے ساتوں بیٹے مارے جائیں گے لیکن محمدؐ مکہ میں ہی رہے گا۔ پھر اس نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور انہیں کہا میرے بیٹو!۔ محمدؐ نے مجھ سے پناہ مانگی ہے اور وہ اس وقت شہر کے دروازے پر کھڑا ہے میں وہاں چلتا ہوں تم اپنی تلواریں سونت لو اور میرے ساتھ چلو اور شہر میں اعلان کرتے جاؤ کہ مطعم نے محمدؐ کو پناہ دی ہے اگر کسی کو جرأت ہو تو وہ ہم سے لڑے۔ اگر محمدؐ کو کوئی معمولی زخم بھی آیا تو تم میں سے کوئی فرد زندہ بچ رہا تو میں زندگی بھر اس کی شکل نہیں دیکھوں گا۔ چنانچہ وہ شہر کے دروازے پر گیا اور وہ رئیس تھا اور شہر والوں پر اُس کا رعب تھا پھر اُس کے ساتوں بیٹے تلواریں سونتے ہوئے اس کے ساتھ تھے اس لئے کسی شخص کو ان کی مخالفت کی جرأت نہ ہوئی اور وہ اپنی حفاظت میں محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کو آپؐ کے گھر لے آئے۔ جب آپؐ اپنے مکان میں داخل ہو گئے تو مطعم بن عدی نے آپؐ سے دریافت کیا کہ آیا اسے اپنے گھر جانے کی اجازت ہے؟ آپؐ نے فرمایا آپ کا شکریہ اب آپ اپنے گھر جا سکتے ہیں 7 لیکن ایک دن ایسا آیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہی کفار کی اولادوں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا کے ڈال دیا۔ ولید کتنا سخت مخالف تھا لیکن اس کا بیٹا خالد اسلام لے آیا اور اس نے فلسطین اور شام کو فتح کیا اور رومی لشکر کو شکست دی۔ پھر عاص کتنا سخت دشمن تھا لیکن اس کا بیٹا عمروؓ آپؐ پر ایمان لے آیا اور اس نے اسلام کے لئے کئی لڑائیاں کیں اور مصر فتح کیا۔ پھر ابوجہل جو آپؐ کے متعلق سخت بُغض رکھتا تھا اُس کا بیٹا عکرمہؓ اسلام میں داخل ہوا اور اس نے اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کی حفاظت کی خاطر اپنی جان کو قربان کر دیا۔ غرض اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانۡحَرۡ اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الۡاَبۡتَرُ(108:2-4) میں ایک نہایت زبردست پیشگوئی بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں نرینہ اولاد کوئی نہیں اس لئے آپ کا نام دنیا سے مٹ جائے گا مگر یہ جھوٹے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کی اولاد نرینہ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دے گا اور وہ ہمیشہ آپ کے نام کو بلند کرنے کا موجب رہے گی۔ گویا اس سورۃ میں اس بات کی پیشگوئی کی گئی تھی کہ آئندہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روحانی اولاد دی جائے گی۔
تم بھی اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ(108:2) کا نظارہ دیکھ رہی ہو۔ چنانچہ اس وقت جو تم یہاں بیٹھی ہو تم بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد ہو اور تم اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ(108:2) کا نظارہ دیکھ رہی ہو۔ اس ضلع کو دیکھ لو جب ہم یہاں آئے تو یہاں صرف چار پانچ احمدی تھے لیکن اب چنڈ بھروانہ اور منگلا وغیرہ میں دو ہزار کے قریب احمدی ہو گئے ہیں۔ اٹھارہ انیس ہزار احمدی لائل پور ضلع میں ہیں اور ساٹھ ہزار کے قریب احمدی سیالکوٹ میں ہیں۔
جب 1891ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قادیان میں جلسہ کیا اُس میں صرف 75 احمدی شامل ہوئے تھے اور اس پر آپ بڑے خوش تھے لیکن 1892ء میں جب پہلا سالانہ جلسہ ہوا تو اس پر 327 افراد آئے۔ 8؎ گویا ایک سال کے عرصہ میں جلسہ سالانہ پر آنے والوں کی تعداد 75 سے بڑھ کر 327 ہوگئی۔ اسی طرح ہر سال ہماری جماعت بڑھتی چلی گئی۔ اب دیکھ لو جھنگ اور سرگودھا کے اضلاع میں ہی پانچ چھ ہزار احمدی بستا ہے اور یہ تعداد پہلی تعداد سے بہت زیادہ ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے ہمیں کثرت عطا فرما رہا ہے۔ جس کی طرف اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ(108:2) میں اشارہ کیا گیا ہے۔ بےشک کوثر کے ایک معنی ایسے بیٹے کے بھی ہیں جو اپنے اندر خیر کثیر رکھتا ہو اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں لیکن کوثر سے مراد جماعت کی کثرت بھی ہے اور اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ(108:2) کے
معنے یہ ہیں کہ تیری جماعت میں مخلص اور تبلیغ کا جوش رکھنے والے لوگ کثرت سے پیدا کئے جائیں گے۔ چنانچہ دیکھ لو احمدیت نے کیسے نامساعد حالات میں سے گزر کر ترقی کی ہے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فوت ہوئے تو جلسہ سالانہ پر آنے والوں کی تعداد 750 تھی۔ اُس سال آپ شام کے وقت سیر کیلئے تشریف لے گئے تو آپ کی جُوتی بھیڑ کی وجہ سے آپ کے پاؤں سے نکل جاتی تھی۔ آپ سیر سے واپس تشریف لائے تو فرمایا اب جماعت کو اس قدر ترقی حاصل ہوگئی ہے کہ اس سال جلسہ پر 750 آدمی آئے ہیں۔ لیکن اب خدا تعالیٰ کے فضل سے خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے سالانہ اجتماع پر ہی آنے والوں کی تعداد 750 سے زیادہ ہوتی ہے اور جلسہ سالانہ پر تو اس سے کئی گنا زیادہ لوگ آتے ہیں۔ پچھلے سال جلسہ سالانہ پر ساٹھ ہزار آدمی آیا تھا اگر اس سال آنے والوں کی تعداد کچھ کم بھی ہوجائے تب بھی پچاس پچپن ہزار افراد کے آنے کی امید کی جاتی ہے۔ پھر غیر ممالک میں جلسہ سالانہ پر جس قدر لوگ آتے ہیں اگر اُن سب کو شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ میں نے پچھلے جلسہ سالانہ پر اعلان کیا تھا کہ فلپائن سے 61 بیعتیں آچکی ہیں اب وہاں سے اطلاع آئی ہے کہ بیعت کرنے والوں کی تعداد 500 تک پہنچ چکی ہے اور یہ سب لوگ عیسائی تھے۔ پہلے فلپائن سپین والوں نے فتح کیا تھا پھر امریکہ نے لڑائی کی اور فلپائن کو فتح کرلیا بلکہ فلپائن کے ساتھ اس نے کیوبا پر بھی قبضہ کرلیا۔ جس جرنیل نے فلپائن کو فتح کیا وہ پُرتگیز تھا۔ تاریخوں میں لکھا ہے کہ فتح کے بعد اس جرنیل نے فلپائن کے ایک مقام پر اپنی تلوار لٹکا دی اور حکم دے دیا کہ جو شخص اپنی جان بچانا چاہتا ہے وہ اس تلوار کے نیچے سے گزرتا جائے اور اعلان کرتا جائے کہ وہ عیسائی ہے لیکن جو عیسائیت کا اقرار نہیں کرے گا اسے مار ڈالا جائے گا۔ چنانچہ جو شخص یہ فقرہ کہتا تھا اُسے کچھ نہیں کہا جاتا تھا اور جو شخص نہیں کہتا تھا اُسے وہیں تلوار سے قتل کر دیا جاتا تھا۔ اس طرح سارا ملک ایک دن میں عیسائی ہو گیا۔ پس فلپائن کا ملک ہمارے لئے نہایت قیمتی ہے کیونکہ وہ ہمارے باپ دادا کا ورثہ ہے۔ سینکڑوں سال تک وہ مسلمان رہا اور پھر اسے جبراً عیسائی بنالیا گیا۔ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں اسلام سرعت کے ساتھ پھیل رہا ہے اور ایک خط کے ذریعہ یہ اطلاع ملی ہے کہ وہاں اس وقت 500 آدمی مسلمان ہو چکے ہیں اور ایک نوجوان یہاں پڑھنے کے لئے بھی آرہا ہے۔
اسی طرح جرمنی کے ملک کو دیکھ لو کسی وقت یہ حال تھا کہ بڑے بڑے فلاسفروں اور دشمنِ اسلام لوگوں نے اسلام کے خلاف جو کتابیں لکھیں ان میں جرمن لوگ بھی شامل تھے لیکن اِس وقت وہاں اسلام پھیل رہا ہے۔ ایک مسجد بن چکی ہے اور دوسری مسجد کے لئے زمین خریدی جا چکی ہے اور امید ہے کہ 1958ء میں وہ بھی بن جائے گی اور 1959ء تک ان مساجد کی تعداد تین تک پہنچ جائے گی۔ ان ممالک میں پہلے مسلمانوں سے دشمنی کا سلوک کیا جاتا تھا لیکن اب وہ اسلام کی طرف رغبت کر رہے ہیں اور اسلام میں داخل ہونے والے ترقی کر رہے ہیں۔ یہ انقلاب نہایت قلیل عرصہ میں ہوا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ کی بات ہے کہ جرمن لوگ اسلام کی مخالفت کرتے تھے۔ یہ مخالفت دوسری جنگِ عظیم تک چلتی چلی گئی۔ اسلام سے رغبت کا زمانہ 1945ء کے بعد آیا ہے گویا صرف بارہ سال کا عرصہ ہوا ہے جب خدا تعالیٰ نے جرمنوں کے دلوں کو اسلام کی طرف پھیر دیا اور وہ اس سے رغبت کرنے لگے۔
پس اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانۡحَرۡ اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الۡاَبۡتَرُ(108:2-4) میں کوثر سے مراد ایک تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تجھے مسیح موعود جیسا ایک عظیم الشان روحانی فرزند عطا کریں گے جو کثرت سے خزانے لٹائے گا۔ احادیث میں بھی پیشگوئی کی گئی تھی کہ مسیح موعود خزانے لٹائے گا مگر لوگ اسے قبول نہیں کریں گے9۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سینکڑوں کتابیں اسلام کی تائید میں لکھیں اور دینی حقائق اور معارف کے خزانے لوگوں کے سامنے رکھے مگر لوگوں نے ان کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اگر ان خزانوں سے ظاہری مال و دولت مراد ہوتی تو اس کے قبول نہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کیونکہ جس کسی کو بھی روپیہ دو وہ فوراً لے لیتا ہے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مسجد میں تشریف رکھتے تھے۔ ایک غیر احمدی آیا اور اس نے کہا کہ اگر
آپ سچے ہیں تو مجھے دس ہزار روپیہ دیں۔ آپ ہنس پڑے اور فرمایا تمہیں مولویوں نے بھیجا ہوگا کہ مرزا صاحب سے جا کر روپیہ مانگو حالانکہ جو خزانے مسیح موعودؑ نے آ کر لُٹانے تھے اس سے ظاہری مال و دولت مراد نہیں تھی ۔ کیونکہ روپیہ پیسہ تو کوئی واپس نہیں کرتا۔ ابھی آپ کے ہاتھ پر میں ایک روپیہ بھی رکھوں تو دیکھتا ہوں کہ آپ کس طرح لُٹاتے ہیں۔ دراصل وہ خزانے جو مسیح موعود نے آ کر تقسیم کرنے تھے وہ روحانی اور علمی خزانے تھے۔ اور ایسے خزانے بھی بڑی کثرت سے تقسیم کئے ہیں مگر افسوس ہے کہ لوگ انہیں قبول نہیں کرتے ۔ تو کوثر سے مراد ایک تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں کہ وہ صاحبِ خیر کثیر ہیں۔ ایک کوثر سے مراد تم ہو جنہیں اللہ تعالیٰ نے بڑی کثرت بخشی ہے۔ پہلے تم اپنے اپنے علاقوں میں ایک ایک دو دو تھیں ۔ لیکن اب وہاں سینکڑوں احمدی پائے جاتے ہیں۔ ایک خاتون ابھی لاہور سے آئی تھیں وہ کہنے لگیں کہ لاہور میں پہلی احمدیہ مسجد ہمارے محلہ میں تھی۔ میں نے کہا یہ مسجد تو قریشی محمد حسین صاحب مرحوم مفرح عنبری والوں کی برکت سے بنی تھی۔ انہوں نے 17 مرلہ زمین میں مسجد بنائی تھی جو اُس وقت کی ضروریات کے لحاظ سے بہت کافی تھی۔ پھر جماعت نے اُس پر چوبارہ بنا لیا پھر لوگوں نے گلیوں میں نماز پڑھنی شروع کر دی۔ اس طرح سات آٹھ سو نمازی اُس مسجد میں آجاتا۔ ایک دفعہ میں وہاں نماز پڑھا کر باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ تمام گلی میں لوگوں کے سائیکل پڑے ہوئے ہیں۔ لیکن اب اللہ تعالیٰ نے جماعت لاہور کو توفیق دی کہ انہوں نے محمد نگر میں پانچ کنال زمین اور خرید لی ہے۔ گویا یہ زمین پہلی مسجد سے چھ گنا زیادہ ہے۔ اب اس جگہ میں تین ہزار نمازی آ سکتا ہے۔ پھر اس زمین کے ساتھ ایک اور زمین بھی جس کا رقبہ 21 کنال ہے مل رہی ہے۔ وہ جس آدمی کی ملکیت ہے وہ کہتا ہے یہ زمین بھی لے لو۔ اگر وہ زمین بھی مل گئی اور اس میں مسجد بن گئی تو اس میں بارہ تیرہ ہزار آدمی نماز پڑھ سکے گا۔ اب دیکھ لو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ پہلے جو مسجد تھی اُس میں چار پانچ سو آدمی نماز پڑھ سکتا تھا۔ پھر چوبارہ بنا لیا گیا تو مسجد میں زیادہ آدمیوں کی گنجائش ہوگئی ۔ اب جو زمین مسجد کے لئے خرید کی گئی ہے وہ پانچ کنال ہے اور ایک کنال 5,445 فٹ کی ہوتی ہے۔ گویا یہ جگہ 27,220 فٹ ہے اور ایک
آدمی 9 فٹ میں نماز پڑھ سکتا ہے۔ اس طرح یہ مسجد تین ہزار افراد کے لئے کافی ہوگی اور اگر ساتھ والی 21 کنال زمین مل گئی تو وہ اس سے بھی پانچ گنا زیادہ ہوگی۔ یہ کوثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے جماعت کو دیا ہے۔ کہاں یہ حالت تھی کہ لاہور میں صرف میاں چراغ الدین صاحب کا خاندان احمدی ہوا تھا یا اب لاہور میں ہزاروں کی جماعت موجود ہے اور ایک کی بجائے دو مسجدیں بن چکیں ہیں۔ یہ ایک معجزہ ہے جو تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہو۔ دوسرے لوگ خواہ کتنا مذاق کریں مگر تم میں سے ہر ایک عورت کہہ سکتی ہے کہ میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ معجزہ دیکھا ہے کہ ایک وقت تھا ہمارے علاقہ میں کوئی احمدی نہیں تھا یا تھا تو ایک آدھ تھا مگر اب ہم وہاں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ایک شخص پیرا نامی تھا جو نیم پاگل سا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس رہا کرتا تھا۔ اور آپ اسے کھانا وغیرہ دے دیا کرتے تھے۔ آپ بعض اوقات اسے بٹالہ بلٹیاں چھڑانے کیلئے بھیج دیا کرتے تھے۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی عادت تھی کہ وہ بٹالہ اسٹیشن پر روزانہ جاتے اور اگر انہیں کوئی ایسا آدمی مل جاتا جو کہتا میں نے قادیان جانا ہے تو وہ اُس کے پیچھے پڑ جاتے اور مکہ کے مخالفوں کی طرح کہتے میں تو مرزا صاحب کا بچپن کا دوست ہوں مجھ سے پوچھو بات کیا ہے۔ اس نے تو محض ایک دکان بنائی ہوئی ہے۔ اگر ایمان بچانا ہو تو واپس چلے جاؤ۔ وہاں تمہیں کفر و الحاد اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ ایک دن حسبِ عادت مولوی صاحب اسٹیشن پر گئے تو اُس دن اتفاقاً انہیں قادیان جانے والا کوئی شخص نہ ملا۔ پیرا بلٹی چھڑانے گیا ہوا تھا وہ الگ بیٹھا ہوا تھا کہ مولوی محمد حسین اُسے جاملے۔ پیرے نے واپس آکر بتایا کہ میں بلٹی کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے پیرے! سناؤ تم نے قادیان میں کیا دیکھا ہے کہ وہاں بیٹھے ہو مفت میں تمہارا ایمان خراب ہو رہا ہے۔ میں نے انہیں جواب دیا کہ مولوی صاحب! میں پڑھا ہوا تو نہیں ہوں میں نے ایک چیز دیکھی ہے جو آپ کو بتا دیتا ہوں۔ میں اکثر بلٹیاں چھڑانے بٹالہ آیا کرتا ہوں اور
میں نے دیکھا ہے کہ آپ روزانہ اسٹیشن پر آتے ہیں اور لوگوں کو بہکاتے ہیں۔ شاید آپ کی یہاں آتے جاتے کئی جوتیاں بھی گھس گئی ہوں گی لیکن لوگ پھر بھی برابر قادیان جاتے ہیں اور مرزا صاحب سے ملتے ہیں حالانکہ وہ اپنے کمرہ میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن لوگ خود بخود اُن کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں اور آپ لوگوں کی منتیں کرتے ہیں اور آپ کی بات کوئی نہیں مانتا۔ اور لوگ پیدل بھی، یکوں پر سوار ہو کر بھی یہاں سے بارہ تیرہ میل دور ایک معمولی گاؤں میں دھکے کھانے جاتے ہیں اور مرزا صاحب کی بیعت کر لیتے ہیں۔ اب آپ ہی بتائیں میں آپ کو مانوں یا مرزا صاحب کو مانوں؟ اس پر مولوی صاحب ہنس کر کہنے لگے مرزا صاحب نے اپنے مریدوں کو بہت چالاک بنا دیا ہے ہر بات کا جواب ان کے پاس پہلے سے تیار ہوتا ہے۔ اب یہ نشان ہے جو تم نے دیکھا۔ لوگ چاہے کتنی مخالفت کریں لیکن تم اس نشان کا انکار نہیں کر سکتیں۔
ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس ایک امریکن اور اس کی بیوی ملنے کے لئے آئے۔ مسجد مبارک کے نیچے ایک کمرہ ہوتا تھا جس میں انہیں بٹھایا گیا۔ اُن دنوں پروفیسر علی احمد صاحب مرحوم جو میری لڑکی امتہ الرشید کے خسر تھے بہار سے آئے ہوئے تھے۔ اُس زمانے میں قادیان میں انگریزی جاننے والے نہیں ملتے تھے۔ اتفاق سے اُس دن مولوی محمد علی صاحب مرحوم بھی باہر تھے۔ پروفیسر علی احمد صاحب نے بتایا کہ میں انگریزی جانتا ہوں میں ترجمان کا کام کرلوں گا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آپ کو اپنے پاس بٹھا لیا اور آپ ترجمانی کا کام کرتے رہے۔ اُس امریکن نے سوال کیا کہ کیا آپ نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جواب دیا ہاں یہ بات ٹھیک ہے کہ میں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس امریکن نے کہا پھر پہلا مسیح تو معجزے دکھایا کرتا تھا آپ نے کیا معجزہ دکھایا ہے؟ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا میرے ہاتھ پر اب تک کئی معجزات ظاہر ہو چکے ہیں اور اس وقت بھی میں ایک معجزہ پیش کرتا ہوں اور وہ آپ اور آپ کی بیوی ہیں۔ اس امریکن نے کہا ہم دونوں کیسے معجزہ ہو سکتے ہیں ہم تو عیسائی ہیں اسلام کو ماننے والے نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا آپ
میری فلاں کتاب لے جائیں اور کسی سے پڑھوا کر دیکھیں اس میں ایک الہام چھپا ہوا ہے کہ يَأْتِيْكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ يَأْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ۱۰ یعنی دنیا کے ہر گوشہ سے لوگ تیری زیارت کے لئے آئیں گے۔ اب امریکہ بھی دنیا کا ایک گوشہ ہے جہاں سے آپ دونوں آئے ہیں۔ آپ کو یہاں قادیان میں کیا دلچسپی تھی؟ اگر آپ کو محض سیر کے لئے کسی شہر میں جانا ہوتا تو آپ بمبئی، کلکتہ وغیرہ بڑے شہروں میں جا سکتے تھے لیکن آپ یہاں آئے اور صرف میری ملاقات کی نیت سے یہاں آئے اور اس الہام میں یہی بتایا گیا تھا کہ دنیا کے چاروں گوشوں سے لوگ کثرت سے یہاں آئیں گے کہ رستے ٹوٹ جائیں گے اور ان میں گڑھے پڑ جائیں گے۔ آپ نے یہاں آتے ہوئے دیکھا ہوگا کہ بٹالہ سے قادیان تک کا رستہ کتنا خراب ہے۔ اور یہ خبر مجھے اللہ تعالیٰ نے چالیس سال پہلے دے دی تھی۔ اب اگر تم دونوں امریکہ سے یہاں میری ملاقات کیلئے آئے ہو تو تم دونوں ایک معجزہ ہو۔
یہی حال تمہارا ہے تم میں سے ہر عورت کہہ سکتی ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کا ایک زندہ نشان ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اپنے رشتہ دار بھی آپ کے مخالف تھے لیکن اب دنیا کے کناروں تک آپ کا نام پھیل چکا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں یہ علاقہ جس میں ہمارا مرکز ہے اس میں کوئی احمدی نہیں تھا۔ آپ کی وفات کے قریب عرصہ میں یہاں صرف ایک احمدی تھا۔ لیکن اب ضلع جھنگ میں ہزاروں احمدی موجود ہیں۔ 1952ء میں جبکہ ہم ہجرت کر کے یہاں آگئے تھے اس علاقے کے صرف پانچ، چھ احمدی تھے لیکن اب دو تین ہزار احمدی ہو چکا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت میں داخل ہونے والے ایسے آسودہ حال لوگ ہیں کہ حیرت آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان مال داروں کو احمدیت کی طرف ہدایت دے دی۔ ملاقات کے وقت ہر شخص جو اس علاقہ کا آتا ہے اُس سے دریافت کیا جائے کہ تمہاری کتنی زمین ہے؟ تو وہ کہتا ہے 10 مربعے یا 20 مربعے یا 40 مربعے۔ اور اس وقت مربع کی قیمت پچاس، ساٹھ ہزار روپیہ ہے۔ بہت کم لوگ ایسے ہیں جن کے پاس
آٹھ مربعے سے کم زمین ہوتی ہے۔ اگر ٹوٹل کیا جائے تو میرے خیال میں یہاں ایک ہزار مربع جماعت کا ہو گیا ہے۔ گویا پانچ کروڑ کی جائیداد صرف اس ضلع میں پیدا ہو گئی ہے اور یہ انقلاب ایک تھوڑے سے عرصہ میں ہوا ہے۔ صرف تین سال کی بات ہے کہ جب یہ انقلاب ہوا۔ اب دیکھ لو یہ معجزہ ہے یا نہیں؟
پہلے اس علاقہ میں جس میں احمدی ہیں ایک پیر منور الدین صاحب تھے وہ قادیان بھی گئے تھے۔ واپس آ کر انہوں نے اپنے مریدوں کو کہنا شروع کیا کہ مرزا صاحب کی بات سچی معلوم ہوتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یقیناً وفات پا گئے ہیں۔ مگر جب اُن کے مرید جماعت میں داخل ہونے لگے تو انہیں ہماری جماعت سے بُغض پیدا ہو گیا کیونکہ ہماری وجہ سے ان کی آمدن کم ہو گئی۔ کجا تو ان کی یہ حالت تھی کہ اس علاقہ میں ان کی بڑی عزت اور قدر کی جاتی تھی اور کجا یہ کہ جب ان کے تمام مرید احمدی ہو گئے تو انہیں رہنے کے لئے کوئی جگہ نہیں مل رہی تھی۔ آخر ایک دوست صالح محمد صاحب نے انہیں اپنے بنگلہ میں ٹھہرایا اور پھر وہ اپنے وطن واپس چلے گئے۔ غرض اللہ تعالیٰ احمدیت کی تائید میں ہمیشہ نشانات دکھاتا چلا آیا ہے۔ مگر ان نشانات سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو تعصب کو اپنے دل سے دور کر دیتے ہیں اور خدا اور اس کے رسول کو ہر بات پر مقدم رکھتے ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دوست تھے جن کا نام میاں نظام الدین تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بھی تعلق رکھتے تھے اور مولوی محمد حسین بٹالوی سے بھی ان کے دوستانہ تعلقات تھے انہیں حج کرنے کا بہت شوق تھا اور کئی حج انہوں نے کئے ہوئے تھے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دعویٰ کیا تو اُن دنوں بھی وہ حج پر گئے ہوئے تھے۔ اُن کا ایک لطیفہ مجھے خوب یاد ہے۔ انہیں چائے پینے کی بہت عادت تھی۔ ایک دفعہ ایک دوست نے اُن سے سوال کیا کہ میاں صاحب! آپ کو چائے پینے کی بہت عادت ہے آپ حج کے لئے بھی جاتے ہیں تو کیا کرتے ہیں وہاں تو چائے نہیں ملتی۔ انہوں نے جواب دیا چائے میں ہوتا کیا ہے۔ صرف گرم پانی اور پتی۔ گرم پانی وہاں اکثر مل جاتا ہے باقی پتی ہی رہتی ہے سو وہ میں ساتھ رکھتا ہوں۔ پہلے پتی پھانک لیتا ہوں اور اوپر سے گرم پانی پی لیتا ہوں اس طرح چائے کی عادت پوری ہو جاتی ہے۔
بہر حال میاں نظام الدین صاحب جب حج سے واپس آئے تو انہیں معلوم ہوا کہ مولوی محمد حسین صاحب کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کوئی جھگڑا ہو گیا ہے۔ وہ فوراً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ کیا آپ کا مولوی محمد حسین صاحب سے کوئی جھگڑا ہو گیا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کوئی دنیوی جھگڑا تو نہیں ہاں انہوں نے ایک سچی بات کا انکار کر دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں اور ہم لکھتے ہیں کہ وہ فوت ہو گئے ہیں اس بات پر آپس میں اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ میاں نظام الدین صاحب کہنے لگے اگر قرآن کریم سے ثابت ہو جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں تو کیا پھر بھی آپ یہی عقیدہ رکھیں گے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہم قرآن کریم کے خلاف کوئی بات کس طرح کہہ سکتے ہیں۔ اگر قرآن کریم سے یہ ثابت ہو جائے کہ حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں تو ہم اپنے عقیدہ کو چھوڑنے کیلئے تیار ہیں۔ میاں نظام الدین صاحب کہنے لگے میں پہلے ہی کہتا تھا کہ مرزا صاحب قرآن کریم کے خلاف کوئی بات نہیں کہہ سکتے ضرور کوئی غلط فہمی ہوگئی ہے۔ اچھا! اگر میں پچاس آیات ایسی لے آؤں جن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت ہوتی ہو تو کیا آپ مان لیں گے؟ آپ نے فرمایا میاں نظام الدین! قرآن کریم تو خدا تعالیٰ کی کتاب ہے اور اس کا ہر لفظ قابل عمل ہے پچاس آیات کا کیا سوال ہے اگر آپ ایک آیت بھی ایسی لے آئیں تو میں مان لوں گا۔ اس پر وہ کہنے لگے اچھا! میں پچیس آیات تو ضرور لے آؤں گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پھر فرمایا کہ میاں صاحب! میں تو ایک آیت بھی مان لوں گا کیونکہ قرآن کریم کی ایک آیت کا انکار کرنے والا بھی کافر ہے۔ یہ کہہ کر وہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے پاس گئے۔ وہ اُن دنوں لاہور میں چینیوں والی مسجد میں رہتے تھے وہاں چالیس پچاس اور آدمی بیٹھے تھے۔ اُن دنوں حضرت خلیفۃ المسیح الاول ایک ماہ کی رخصت پر جموں سے لاہور تشریف لائے ہوئے تھے اور وہاں اُن کی مولوی محمد حسین بٹالوی سے بحث جاری تھی۔ مولوی محمد حسین صاحب کہتے تھے کہ وفات مسیح کے مسئلہ پر حدیث سے بحث
ہونی چاہئے اور حضرت خلیفۃ اول فرماتے تھے قرآن کریم سے بحث ہونی چاہئے ۔ آخر بہت دنوں کی بحث کے بعد حضرت خلیفہ اول نے اتنا مان لیا اچھا بخاری بھی پیش کی جاسکتی ہے۔ مولوی محمد حسین صاحب میں مبالغہ کرنے کی عادت تھی وہ بڑے فخر سے اپنے آدمیوں میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ میں نے نورالدین کو یوں رگیدا اور اس طرح پچھاڑا اور آخر اُس سے منوا لیا کہ حدیث بھی پیش کی جاسکتی ہے۔ اتنے میں مولوی نظام الدین صاحب وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا مولوی صاحب! ان باتوں کو چھوڑیئے میں نے مرزا صاحب کو قابو کر لیا ہے اور اُن سے یہ اقرار لے لیا ہے کہ اگر میں قرآن کریم کی دس آیات ایسی پیش کر دوں جن سے حیاتِ مسیح ثابت ہوتی ہو تو وہ وفاتِ مسیح کے عقیدہ سے توبہ کر لیں گے۔ اس لئے آپ جلدی سے مجھے دس آیات لکھ دیں پھر میں مرزا صاحب کو شاہی مسجد میں لا کر اُن سے توبہ کراؤں گا۔ مولوی محمد حسین صاحب جو بڑے فخر سے یہ بات بیان کر رہے تھے کہ میں نے مولوی نورالدین کو یوں رگیدا اور یوں پچھاڑا اور آخر اسے حدیث کی طرف لے آیا یہ سنتے ہی سخت برہم ہو گئے اور کہنے لگے تجھے کس جاہل نے کہا تھا کہ اس مسئلہ میں دخل دیتا۔ میں اتنے دنوں کی بحث کے بعد مولوی نورالدین کو بڑی مشکل سے بخاری کی طرف لایا تھا۔ اب تُو اس بحث کو پھر قرآن کریم کی طرف لے گیا ہے۔ وہ جوش میں یہ فقرہ کہنے لگے مگر جب میاں نظام الدین صاحب نے یہ بات سنی تو ان پر سکتہ کی سی کیفیت طاری ہو گئی۔ وہ تھوڑی دیر بالکل خاموش کھڑے رہے اور پھر کہنے لگے اچھا مولوی صاحب! پھر جدھر قرآن ہے اُدھر ہی میں ہوں۔ اور یہ کہہ کر وہ واپس آ گئے۔ اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کر لی۔ جس طرح میاں نظام الدین صاحب نے یہ کہا تھا کہ جدھر قرآن ہے اُدھر ہی میں ہوں۔ اس طرح تمہیں بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی برکت سے یہ موقع دیا ہے کہ تم کہہ سکو کہ جدھر قرآن ہے اُدھر ہی ہم ہیں۔ احادیث بے شک سچی ہیں لیکن قرآن کریم کے مقابلہ میں ان کا مرتبہ کم ہے۔ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کی سچائی پر ہم قسم بھی کھا سکتے ہیں لیکن کسی حدیث کے متعلق ہم قسم کھا کر نہیں کہہ سکتے کہ وہ ضرور سچی ہے۔
دیکھو! بعض اوقات ذرا سی عقل سے کام لینے سے کام بن جاتا ہے۔ جب اُمّ طاہر بیمار تھیں اور لاہور میں زیر علاج تھیں تو ہم شیخ بشیر احمد صاحب کے مکان پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ اُن دنوں ایک مولوی صاحب رات کے وقت میرے پاس آئے اور کہنے لگے میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ آپ کی جماعت بہت تھوڑی ہے۔ زیادہ سے زیادہ اس کی تعداد دس لاکھ ہو گی لیکن دوسرے مسلمان تو کروڑوں کی تعداد میں ہیں اگر آپ دوسرے مسلمانوں سے مل کر کام کرتے تو کام زیادہ ہوتا۔ میں نے کہا آپ رات کے وقت میرے پاس آئے ہیں۔ میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ آپ نے یہ تکلیف کیوں اٹھائی ہے کیونکہ جہاں تک تعداد کا سوال ہے ہم خود تسلیم کرتے ہیں کہ مسلمان کروڑوں کی تعداد میں ہیں لیکن اس کے باوجود اگر آپ کے دل میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ احمدی آپ کے ساتھ ملیں تو اس لئے کہ احمدی کام کرنے والے ہیں۔ اگر دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل جائیں تو شاید زیادہ کام ہو سکے۔ لیکن آپ نے کبھی یہ سوچا بھی ہے کہ یہ لوگ جو کام کرنے والے ہیں کہاں سے آئے ہیں؟ یہ آپ لوگوں سے ہی نکل کر آئے ہیں مگر احمدی جماعت میں داخل ہوتے ہی کام کرنے والے وجود بن گئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب میں کوئی ایسی تاثیر ہے کہ جو شخص اس جماعت کے ساتھ مل جاتا ہے وہ کام کرنے لگ جاتا ہے اور آپ لوگوں سے جو شخص ملتا ہے وہ ناکارہ ہو جاتا ہے۔ آپ اس جماعت سے چھ ہزار گنا زیادہ ہیں مگر پھر بھی آپ لوگ وہ کام نہیں کر رہے جو یہ جماعت کر رہی ہے۔ اگر آپ سوچتے تو در حقیقت آپ کو مجھ سے یہ کہنا چاہیے تھا کہ آپ اپنی جماعت کو تاکید کر دیں کہ وہ ہمارے ساتھ نہ ملیں ورنہ وہ بھی ویسے ہی سست اور ناکارہ ہو جائیں گے جیسے عام مسلمان سست ہیں اور اسلام کی اشاعت کا کام رک جائے گا۔ اس پر مولوی صاحب کہنے لگے یہ درست ہے میرا فرض یہی تھا کہ میں آپ سے کہتا کہ آپ نے علیحدہ جماعت قائم کر کے مسلمانوں پر بڑا احسان کیا ہے ورنہ اگر یہ بھی ہمارے ساتھ ملے رہتے تو ان کے اندر وہی بے حسی رہتی جو ہم میں پائی جاتی ہے۔
اب دیکھو یہ ایک غیر احمدی کی اپنی شہادت ہے اور تم اس شہادت کا نمونہ ہر جگہ
پیش کر سکتی ہو۔ اخباروں میں عموماً چھپتا رہتا ہے کہ ہماری مساجد کہاں کہاں ہیں۔ اِس وقت ساری دنیا میں مسلمانوں کی تعداد کا اندازہ ایک ارب کے قریب ہے لیکن تم جو پاکستان میں چھ ہزار میں سے ایک ہو اور دنیا کے لحاظ سے چھ لاکھ میں سے ایک ہو تم نے ہالینڈ میں ایک شاندار مسجد بنائی ہے۔ اس مسجد کی تصویریں تم اپنے پاس رکھو بلکہ مرکز کو چاہیے کہ وہ ان تصاویر کو عورتوں میں پھیلائیں اور پھر یہ تصویریں تم دوسرے مسلمانوں کے سامنے پیش کر کے کہو کہ تم 1953ء میں ہمیں مارنے کیلئے آتے تھے لیکن تمہیں کسی غیر ملک میں مسجد بنانے کی توفیق نہیں ملی اگر ملی ہے تو اسی جماعت کی عورتوں کو ملی ہے جسے تم کافر اور گمراہ کہتے ہو۔ حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے دنیا میں گھر بناتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کے لئے جنت میں گھر بناتا ہے۔ 11 ہم نے ہیگ میں مسجد بنالی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے مطابق ہمارے متعلق آپ کی شہادت موجود ہے کہ جنت میں اپنا گھر ہو گا لیکن تمہارے پاس اس کی کونسی شہادت ہے کہ تمہارا جنت میں گھر ہوگا۔ تمہارے سامنے چھ سو سال تک یورپ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں، اس نے اسلام کے خلاف کتابیں لکھیں اور تمہارے بیٹوں کو پڑھائیں اور انہیں ملحد بنایا لیکن تمہیں اس بات کی توفیق نہ ملی کہ تم یورپ میں خدائے واحد کا نام بلند کرتے اور اس کی عبادت کیلئے مسجدیں بناتے۔ مگر ہم نے تمہاری اولادوں کو صحیح معنوں میں مسلمان بنایا اور پھر انہیں دینی تعلیم دلائی اور انہیں اسلام کے لئے زندگیاں وقف کرنے کی تحریک کی۔ اور پھر ہم نے انہیں یورپ بھیج دیا اور انہوں نے وہاں مساجد بنانی شروع کر دیں۔ کسی نے ہیگ میں مسجد بنائی تو کسی نے لندن میں خدا تعالیٰ کے گھر کی بنیاد رکھی ہے۔ اس کے بعد کوئی ہنوور میں مسجد بنائے گا تو کوئی فرینکفورٹ میں بنائے گا۔ اور اسی طرح ہر ملک میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مساجد بنتی چلی جائیں گی۔ غرض ہمارے ذریعہ سے اسلام کا بول بالا ہوگا۔ ہمارے ذریعہ سے غیر ممالک میں مساجد بنیں گی اور ہمارے ذریعہ سے خدائے واحد کا نام دنیا کے کناروں تک پھیلے گا۔ لیکن مسلمانوں سے کچھ بھی نہیں ہو سکا۔ ان سے تو مغلیہ سلطنت کا آخری تاجدار ظفر ہی اچھا رہا جس نے یہ شعر کہا کہ
الٰہی خانۂ انگریز گر جائے
یہ گر جائے گھر یہ گر جائے گھر یہ گر جائے
وہ سخت کمزور اور ناطاقت تھا اور انگریزوں کی قید میں تھا اور اُن سے وظیفہ لے کر گزارہ کرتا تھا لیکن ایک شعر میں اُس نے چار دفعہ یہ دعا کی کہ الٰہی! خانۂ انگریز گر جائے۔ گو اُس نے ہوشیاری یہ کی کہ الفاظ ایسے رکھے کہ جن سے انسان کا ذہن دوسری طرف بھی منتقل ہوسکتا ہے۔ اس نے سوچا اگر کوئی انگریز پوچھے گا تو میں کہہ دوں گا کہ میں نے تو یہ کہا ہے کہ
الٰہی خانۂ انگریز گر جا
یہ گر جا گھر یہ گر جا گھر یہ گر جا
لیکن اصل میں اُس کا منشاء یہ تھا کہ الٰہی! خانۂ انگریز گر جائے۔ الٰہی! یہ گھر گر جائے یہ گھر گر جائے یہ گھر گر جائے۔ اس سے پتا لگتا ہے کہ اُس کے دل میں کتنی زبردست خواہش تھی کہ عیسائیوں کے گرجے گر جائیں اور مسلمان ترقی کریں اور اس طرح خدائے واحد کا نام تمام دنیا میں پھیل جائے۔ لیکن مسلمانوں میں اتنی بھی ہمت نہیں کہ وہ عیسائیت کا گھر گرانے کیلئے کوئی عملی قدم اٹھائیں اور کفر و شرک سے بھرے ہوئے ممالک میں خدا تعالیٰ کا گھر بنانے کے لئے جدوجہد کریں۔ صرف ہماری جماعت ہی ہے جو یہ کام کر رہی ہے۔ اور یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں سچے راستہ پر قائم کیا ہوا ہے۔“ (الفضل 17؍اکتوبر 1957ء)
7؎: السيرة الحلبية جلد2 صفحہ 63 مطبوعہ بیروت 2012ء 8؎: آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 629، 630 9؎: بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب نُزُولِ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ حدیث نمبر 3448 صفحہ 581 الطبعة الثانية مطبوعہ ریاض 1999ء 10؎: تذکرہ صفحہ 39 ایڈیشن چہارم 2004ء 11؎: بخاری کتاب الصلوٰۃ باب مَنْ بَنَی مَسْجِدًا حدیث نمبر 450 صفحہ 78 الطبعة الثانية مطبوعہ ریاض 1999ء
از
سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدخلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
(فرمودہ ۲۶؍ اکتوبر ۱۹۵۷ء بمقام ربوہ)
تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی:۔
اس کے بعد فرمایا:۔
’’یہ آیات جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے ہم اب تک ان کے صرف ایک ہی مفہوم پر زور دیتے رہے ہیں حالانکہ ان کے اندر بعض اَور مضامین بھی پائے جاتے ہیں۔ گزشتہ مفسرین تو ان آیات کے یہ معنے کرتے رہے ہیں کہ اس جگہ فرشتوں کا ذکر ہے کیونکہ فرشتہ کے لئے مؤنث کا صیغہ استعمال کرتے ہیں اور یہاں چونکہ سارے صیغے مؤنث کے استعمال کئے گئے ہیں اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں فرشتوں کا ذکر ہے۔ لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ آیات فرشتوں پر چسپاں ہی نہیں ہو سکتیں۔ اس لئے کہ وَالنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا(79:2) ان میں ہے ہی نہیں۔ غَرْقًا کے معنے اگر جسمانی غرق کے سمجھیں تو فرشتے کون سے تالاب میں غوطہ مارا کرتے ہیں۔ اور اگر اس کے معنے روحانی سمجھیں تو غَرْقًا کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ علوم میں محو ہو کر نئے نئے نکتے نکالتے ہیں اور فرشتوں کے متعلق تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہیں جن باتوں کا علم دیا جانا ضروری تھا اُس کا انہیں شروع سے علم دے دیا گیا ہے۔ اور جنہیں شروع سے علم دے دیا گیا ہو انہوں نے محو کیا ہونا ہے انہیں تو محو ہونے کے بغیر ہی علم مل چکا ہے۔ چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام کے واقعہ میں خود فرشتے کہتے ہیں کہ ہم تو اُتنا ہی جانتے ہیں جتنا آپ نے ہمیں سکھایا ہے۲اور جو اُتنا ہی جانتے ہیں جتنا انہیں خدا تعالیٰ نے سکھایا ہے انہیں فقہ اور دوسرے مسائل اور علوم میں غرق ہو کر نئے نئے نکتے نکالنے کی کیا ضرورت ہے۔ انہیں تو خود خدا تعالیٰ نے سب کچھ سکھا دیا ہے۔ پس یہ آیات فرشتوں پر صادق آ ہی نہیں سکتیں ۔ ہمارے نزدیک اس جگہ صحابہؓ کی جماعت کا ذکر ہے اور چونکہ جماعت کے لئے بھی مؤنث کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لئے وَالنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا(79:2) کے معنے یہ ہوئے کہ ہم شہادت کے طور پر صحابہ کی اُن جماعتوں کو پیش کرتے ہیں جو اسلام کی تعلیم میں محو ہو کر وہ وہ مسائل نکالتی ہیں جو اسلام کی سچائی کو روزِ روشن کی طرح ثابت کر دیتے ہیں۔ مگر چند دن ہوئے مجھے اللہ تعالیٰ نے سمجھایا ہے کہ ان آیات کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ ہم اُن عورتوں کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو وَالنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا(79:2) کی مصداق ہیں اور اسلام کی تعلیم پر غور کر کے ان سے نئے نئے نکتے نکالتی ہیں اور اسلام کی تعلیم میں انہماک پیدا کرتی ہیں۔ اس لئے کہ اسلام نے ان پر رحم کیا ہے اور اسلام ہی وہ مذہب ہے جس میں عورتوں کے حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اور بتایا گیا ہے کہ عورت کے ماں ہونے کے لحاظ سے کیا حقوق ہیں۔ بیٹی ہونے کے لحاظ سے کیا حقوق ہیں۔ بیوی ہونے کے لحاظ سے کیا حقوق ہیں۔ ترکہ میں اس کے کیا حقوق ہیں اور اس طرح تمدنی زندگی میں اس کے کیا حقوق ہیں۔ اسی وجہ سے احمدیت میں شامل ہو کر عورتیں جس قدر قربانی اور ایثار سے کام لے رہی ہیں اس کی مثال اور کسی قوم میں نہیں ملتی۔ چنانچہ دیکھ لو مسجد ہیگ (ہالینڈ) صرف عورتوں نے بنائی ہے۔ اگرچہ ہیمبرگ (جرمنی) کی مسجد مردوں نے اپنے روپیہ سے بنائی ہے مگر اس کا پورا چندہ ابھی تک وہ ادا نہیں کر سکے لیکن ہیگ کی مسجد کا تمام چندہ عورتیں ادا کر چکی ہیں صرف اس کا تھوڑا سا حصہ باقی ہے۔
یہ قربانی صرف احمدی عورتوں میں پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں کا اور کوئی فرقہ نہیں جس کی عورتیں اس طرح اشاعتِ اسلام کا کام کر رہی ہوں۔ اہلِ حدیث کو لے لو، حنفیوں کو لے لو، حنبلیوں کو لے لو، مالکیوں کو لے لو۔ ان میں کہیں ایسی عورتیں نظر نہیں آتیں جو اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر اور اسلام کی محبت میں غرق ہو کر اس کی اشاعت کے لئے کوشش کر رہی ہوں۔ صرف احمدیوں میں ہی یہ بات نظر آتی ہے کہ ان کی عورتیں غیر ملکوں میں تبلیغ کے لئے چندے دیتی ہیں اور بعض دفعہ تو اتنی غریب عورتیں چندہ دیتی ہیں کہ ہمیں لیتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔
مجھے یاد ہے پچھلے سال میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک سنار لڑکا جو چنیوٹ میں رہتا ہے آیا اور اس نے سونے کے کڑے میرے ہاتھ میں لا کر رکھ دیئے اور کہا کہ میری ماں کہتی ہے کہ یہ کڑے میں نے کسی خاص مقصد کے لئے رکھے ہوئے تھے۔ اب میں چاہتی ہوں کہ آپ انہیں بیچ کر کسی دینی کام میں لگا لیں۔ چنانچہ میں نے انہیں بیچ کر رقم مسجد ہیگ میں دے دی۔ میرا خیال ہے کہ وہ چار پانچ سو کے ہوں گے۔ یہ چیز ہے جو صرف احمدی عورتوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کی مثال نہ حنفیوں میں پائی جاتی ہے، نہ مالکیوں میں پائی جاتی ہے، نہ حنبلیوں میں پائی جاتی ہے، نہ شافعیوں میں پائی جاتی ہے۔ اسی طرح روحانی فرقوں کو لے لو تو نہ چشتیوں میں پائی جاتی ہے، نہ سہروردیوں میں پائی جاتی ہے اور نہ قادریوں میں پائی جاتی ہے صرف احمدیوں میں پائی جاتی ہے۔ غرض روحانی فرقوں کے لحاظ سے بھی احمدی عورتیں تمام روحانی فرقوں کی عورتوں پر فضیلت رکھتی ہیں اور دوسرے فرقوں کے لحاظ سے بھی جو فقہی اختلاف کی وجہ سے قائم ہوئے ہیں احمدی عورتیں سب سے مقدم ہیں۔
ہاں اگر غیروں کو لیا جائے تو ہم ان کے مقابلے میں ابھی کمزور ہیں یعنی عیسائیوں کی عورتوں نے عیسائیت کی خاطر بہت زیادہ قربانی کی ہے۔ بے شک ہماری عورتوں نے بھی قربانی کی ہے اور وہ تبلیغ کا کام کرتی ہیں مگر قربانی کے لحاظ سے ابھی وہ ان سے کم ہیں۔ مثلاً چین میں ایک دفعہ عیسائیوں کے خلاف بغاوت ہوئی۔ وہاں اُن دنوں
ایک عورت تبلیغ کا کام کر رہی تھی۔ چینیوں نے حملہ کر کے اُس عورت کو مار ڈالا اور اُس کے گوشت کے کباب کھائے۔ جب یہ خبر انگلستان پہنچی تو انگلستان میں اعلان کیا گیا کہ چین میں ہماری ایک عورت مبلغ تھی چینیوں نے اسے مار دیا ہے اور اُس کے گوشت کے کباب بنا کر کھائے ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ اس کی جگہ کام کرنے کے لئے کوئی اور عورت اپنا نام پیش کرے۔ شام تک بیں ہزار عورتوں کی طرف سے تار آگئے کہ ہم وہاں جانے کے لئے تیار ہیں۔ ہمیں وہاں بھجوا دیا جائے ۔ یہ نمونہ تو ہم میں ابھی نظر نہیں آتا بلکہ ہمیں شرم آتی ہے کہ اِس کام میں عیسائی ہم پر فوقیت رکھتے ہیں شاید اس لئے کہ اُن کو انیس سو سال ہو گئے ہیں اور ہمیں ابھی اتنے سال نہیں ہوئے مگر بہرحال جوانی میں زیادہ جوش ہونا چاہیے ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ عنقریب ہماری عورتیں ان سے بھی زیادہ جوش دکھلائیں گی ۔
بعض مثالیں بے شک ہماری جماعت میں اچھی ملتی ہیں مثلاً ایک دفعہ ایک غیر ملکی طالب علم یہاں آیا۔ اس نے کہا کہ میری شادی یہاں کرا دیں۔ میں نے کسی خطبہ یا مجلس میں ذکر کیا کہ اس طرح ایک غیر ملکی کی خواہش ہے تو ایک لڑکی آئی اور اُس نے کہا کہ میں تیار ہوں آپ میرا نکاح اس غیر ملکی سے کر دیں۔ اس کے بعد اُس کی بہن آئی اور میری بیوی سے کہنے لگی کہ میری بہن تو منہ پھٹ ہے وہ خود آ کر کہہ گئی ہے لیکن میں نے ابھی تک اس کا اظہار نہیں کیا تھا حالانکہ میں تین چار سال سے اس بات کے لئے تیار ہوں کہ میری کسی غیر ملکی سے شادی کر کے مجھے باہر بھیج دیا جائے۔ آخر ان میں سے ایک بہن کی اُس سے شادی ہو گئی اور اب وہ دلّی میں ہے۔ ابھی کل ہی اُس کے ہاں لڑکی پیدا ہونے کی خبر چھپی ہے۔ صالح الشبیبی ہمارے ایک غیر ملکی احمدی نوجوان ہیں۔ پچھلے سال ان سے اس کی شادی ہوئی اور اب ان کے ہاں دلّی میں لڑکی پیدا ہوئی ہے۔ تو اس قسم کی مثالیں تو احمدیوں میں پائی جاتی ہیں۔ لیکن یہ زیادہ شاندار مثال ہے کہ ایک عورت ماری گئی اور اُس کے کباب کھائے گئے اور جب اخباروں میں اعلان کیا گیا کہ اُس کی جگہ لینے کے لئے اور عورتیں اپنے آپ کو پیش کریں تو شام تک بیں ہزار عورتوں کی تاریں آگئیں کہ ہم وہاں جانے کے لئے تیار ہیں۔ بہرحال اس سے ملتی جلتی بعض کمزور مثالیں تو ہم میں پائی
جاتی ہیں لیکن زیادہ شاندار اور اچھی مثالیں اُن میں پائی جاتی ہیں۔
اِسی طرح ہمارا ایک مبلغ افریقہ گیا تھا واپس آ کر ایک لڑکی سے اُس نے شادی کرنی چاہی۔ اُس کی پہلے ایک شادی ویسٹ افریقہ میں ہو چکی تھی۔ اب ایک غیر ملکی مبلغ سے شادی کرنا جبکہ اُس کی ایک بیوی پہلے موجود ہو اور جبکہ اُس ملک میں اتنا رواج ہو کہ لوگ ڈیڑھ ڈیڑھ سو بیویاں کرتے ہوں بڑی قربانی چاہتا ہے مگر وہ لڑکی راضی ہو گئی۔ چنانچہ اب وہ افریقہ پہنچ چکی ہے۔ اس نے بڑی محبت سے اپنی سوکن کے بچوں کو یہاں پالا۔ وہ مبلغ افریقہ سے یہاں آیا تھا اور اپنی ایک پہلی بیوی کو بھی یہاں لایا تھا اور دو بچے بھی ساتھ تھے۔ وہ لڑکی اپنے خاوند کی پہلی بیوی کا بھی خیال رکھتی رہی اور اس کے بچوں کا بھی خیال رکھتی رہی۔ گو ان میں سے ایک بچہ بعد میں بھاگ گیا۔ اب وہ میرے ایک بھتیجے کی بیوی کے ساتھ مل کر انگلستان کے رستہ سے اپنے خاوند کے پاس پہنچ گئی ہے۔ تو اس قسم کی مثالیں تو ہم میں موجود ہیں مگر اُس شان کی نہیں جس شان کی عیسائیوں میں پائی جاتی ہیں۔ مجھے چاہیے تھا کہ میں عورتوں کے جلسہ میں یہ تقریر کرتا مگر اتفاقاً مردوں کا جلسہ آ گیا اس لئے میں مردوں کے جلسہ میں یہ تقریر کرتے ہوئے اُنہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی عورتوں کو سمجھاؤ اور اُنہیں کہو کہ تم کو بھی عیسائی عورتوں کی طرح قربانی پیش کرنی چاہیے۔ جیسا کہ میں نے مثال دی ہے کہ ایک عورت کو مار دیا گیا اور اس کے گوشت کے کباب بنا کر کھائے گئے مگر اُس کے قائم مقام کے لئے اعلان کیا گیا تو شام تک بیس ہزار عورتوں نے اپنا نام پیش کر دیا کہ وہ اپنی بیویوں اور بیٹیوں کو سمجھائیں کہ تم بھی اپنے اندر اسی قسم کا اخلاص اور ایمان پیدا کرو۔
کل بیماری کی وجہ سے مجھ سے ایک غلطی ہو گئی اور وہ یہ کہ مجھے کل کے خطبہ جمعہ میں تحریک جدید کے نئے سال کی مالی قربانیوں کا اعلان کرنا چاہیے تھا مگر اس کا اعلان کرنا بھول گیا سو آج میں نئے سال کے چندہ تحریک جدید کا اعلان کرتا ہوں اور دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ غیر ممالک میں اسلام کی اشاعت کا واحد ذریعہ ہمارے پاس تحریک جدید ہی ہے۔ میں نوجوانوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور اپنی زندگیاں اسلام کی خدمت کے لئے وقف کریں اور اپنے آپ کو دینی تعلیم حاصل کر کے اس قابل بنائیں کہ
انہیں غیر ملکوں میں بھیجا جاسکے۔ اور جماعت کو میں تحریک کرتا ہوں کہ اگر ہمارے مبلغ بڑھتے گئے اور مسجدیں بڑھتی گئیں تو ہمارا خرچ بھی بڑھتا چلا جائے گا۔ ایک مسجد پر دو لاکھ روپیہ خرچ آتا ہے اور میری سکیم پچاس مسجدیں بنانے کی ہے۔ گویا ایک کروڑ روپیہ کی صرف غیر ملکی مساجد کے لئے ضرورت ہے۔
تم یہ نہ سمجھو کہ ہماری جماعت غریب ہے۔ میں نے ایک رؤیا دیکھی ہے جس سے خدا تعالیٰ نے مجھے تسلی دلائی ہے کہ یہ غربت عارضی ہے اور ایسے سامان پیدا ہونے والے ہیں کہ جن کے نتیجہ میں جماعت کو خدا تعالیٰ بہت کچھ مال دے گا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ زمینداروں کا ایک بہت بڑا گروہ ہے۔ وہ زمیندار ایسے ہیں جو مربعوں کے مالک ہیں۔ وہ راجہ علی محمد صاحب کے پاس آئے اور اُن سے انہوں نے مصافحہ کیا اور پھر ایک طرف چلے گئے۔ میں اُن کو دیکھ کر کہتا ہوں کہ اب خدا تعالیٰ چاہے گا تو یہ ساٹھ ہزار ہوجائیں گے اور ان میں سے ہر شخص سال میں ایک ایک سو روپیہ بھی مساجد کے لئے دے تو ساٹھ لاکھ روپیہ ہو جائے گا اور ساٹھ لاکھ سے بیس مساجد بن سکتی ہیں۔ اِس رؤیا سے میں نے سمجھ لیا کہ اب خدا تعالیٰ اپنے فضل سے زمینداروں میں ہماری جماعت پھیلانا چاہتا ہے اور وہ بھی ایسے زمینداروں میں جو کم سے کم ایک سو روپیہ سالانہ مساجد کے لئے دے سکیں۔ مثلاً ہمارے ہاں مربعوں کے ٹھیکوں کی آمد تین تین چار چار ہزار روپیہ ہے اور زمینداروں کا خرچ بہت کم ہوتا ہے۔ اگر وہ خود کام کریں تو تین چار ہزار کی بجائے وہ چھ سات ہزار روپیہ کما سکتے ہیں اور اس میں سے ایک سو روپیہ مساجد کے لئے دینا کوئی بڑی بات نہیں۔ چنانچہ میں خواب میں کہتا ہوں کہ اب یہ لوگ ساٹھ ہزار ہوجائیں گے اور اگر ایک ایک سو روپیہ بھی یہ لوگ مساجد کے لئے دیں تو ساٹھ لاکھ ہوجائے گا۔ اس کے بعد یکدم وہ آدمی تو میری نظروں سے غائب ہو گئے لیکن جانوروں کا ایک جھنڈ اُڑتا ہوا میرے سر پر سے گزرا۔ وہ جانور مُرسی معلوم ہوتے ہیں جیسے مرغابیاں ہوتی ہیں۔ یہ جانور ایک خاص ترتیب کے ساتھ چلتے ہیں میری نظر اُن جانوروں پر پڑی اور میں نے کہا اللہ تعالیٰ بھی کیسی قدرتوں والا ہے اُس نے ایسے جانور پیدا کئے ہیں کہ وہ ہیں تو انسانوں سے ادنیٰ مگر ان کی تنظیم انسانوں سے اعلیٰ ہے۔ اگر کوئی ایسا ذریعہ نکلے کہ ہم انسانوں میں بھی ان مرغابیوں والی تنظیم پیدا کر سکیں تو دنیا کو فتح کرنا ہمارے لئے کتنا آسان ہو جائے ۔
گو یا اس خواب کے دو حصے تھے ۔ پہلا حصہ زمینداروں والا تھا اور دوسرا حصہ جانوروں والا ہے۔ وہ مرغابیاں ہیں یا کوئی اور جانور ہیں میں نہیں جانتا مگر ہیں فصلی جانور ۔ وہ اس ترتیب سے اڑتے جارہے ہیں کہ ایک آگے ہے اور دوسرے پیچھے ہیں۔ یہ بات عام طور پر مگوں ، سرخابوں ، کونجوں اور مرغابیوں میں پائی جاتی ہے۔ میں نے انہیں دیکھ کر کہا کہ کیسا قادر خدا ہے کہ ہم تو آج پیدا ہوئے ہیں لیکن یہ خصلت اور صفت ان میں آدم علیہ السلام کے زمانہ سے پائی جاتی ہے اور ابتدا سے اس نے جانوروں کے دماغ میں ایسا علم بھر دیا ہے کہ جس کے ماتحت وہ ہمیشہ ایک تنظیم کے ساتھ اُڑتے ہیں۔ اگر انسانوں کے اندر بھی ہم یہ تنظیم پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو جماعت احمدیہ با وجود تھوڑے ہونے کے ساری دنیا پر غالب آسکتی ہے۔ اس وقت بھی ہماری تنظیم ہی ہے جس کی وجہ سے گو ہماری جماعت بالکل غریب ہے مگر پھر بھی اس کا سالانہ چندہ تحریک جدید اور صدر انجمن احمدیہ کو ملا کر پچھلے سال پچاس لاکھ کے قریب تھا اور ہمیں امید ہے کہ یہ چندہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھتا چلا جائے گا۔ تھوڑے عرصہ میں ہی تحریک جدید اور صدر انجمن احمدیہ کا سالانہ چندہ پینسٹھ لاکھ روپیہ ہو جائے گا۔ میں تو اپنے ذہن میں یہ سوچا کرتا ہوں کہ اگر ہماری جماعت کا سالانہ چندہ تین کروڑ ہو جائے تو ہم پاکستان کے گوشہ گوشہ میں اپنے مبلغ پھیلا سکتے ہیں کیونکہ تین کروڑ سے پچیس لاکھ روپیہ ماہوار بنتا ہے۔ اور پچیس لاکھ روپیہ ماہوار کے معنے یہ ہیں کہ اگر ہر مبلغ کی ماہوار تنخواہ ایک سو روپیہ بھی ہو تو ہم پچیس ہزار مبلغ رکھ سکتے ہیں اور پچیس ہزار مبلغ پاکستان کے گوشہ گوشہ میں پھیلایا جا سکتا ہے۔
غرض آج میں تحریک جدید کے نئے سال کے لئے جماعت سے مالی قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہوں۔ اب الفضل اور تحریک جدید کے کارکنوں کا فرض ہے کہ وہ اس اعلان کو بار بار پھیلائیں اور اس کی اشاعت کریں۔ ہر دوست کو چاہیے کہ وہ کوشش کرے کہ پچھلے سال اُس نے جو کچھ چندہ دیا تھا اس سال اس سے کچھ نہ کچھ بڑھا کر دے۔ پچھلے سالوں
میں چونکہ چندے تھوڑے تھے میں نے زیادہ سختی کی تھی اور کہا تھا کہ ہر شخص اپنے گزشتہ سال کے چندہ سے ڈیوڑھا دے۔ مگر اب میں اِس قید کو ہٹاتا ہوں کیونکہ لوگوں نے خود اپنی مرضی سے چندوں کو زیادہ کر دیا ہے۔ اب میں یہ کہتا ہوں کہ کوئی شخص اپنے پچھلے سال کے چندہ سے کم نہ دے اور اگر زیادہ دے سکے مثلاً دس فیصدی زیادہ دے سکے یا پندرہ فیصدی زیادہ دے سکے یا بیس فیصدی زیادہ دے سکے تو یہ اُس کی مرضی ہے اور اُس کا یہ فعل اسے مزید ثواب کا مستحق بنا دے گا۔ جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انسان نوافل کے ذریعہ ہی خدا تعالیٰ کا قُرب حاصل کرتا ہے۳ کیونکہ نفل انسان اپنی مرضی سے ادا کرتا ہے اور فرض حکم کے ماتحت ادا کرتا ہے۔ ابھی ہماری شوریٰ کے آنے میں جب نئے سال کا بجٹ تیار ہوتا ہے پانچ ماہ باقی ہیں۔ پانچ ماہ تک یہ چندہ جمع کرتے چلے جائیں اور اس کی تحریک دوستوں کو بار بار کریں تاکہ پانچ ماہ کے بعد اس سال کا چندہ پچھلے سال کے چندہ سے بھی زیادہ ہو جائے اور ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے سارے یورپ میں مساجد بنا سکیں اور افریقہ اور انڈونیشیا وغیرہ میں بھی اپنے مبلغ بڑھا سکیں۔ یہی ذریعہ ہماری کامیابی کا ہے۔ اِس وقت غیر فرقوں پر اگر ہمیں کوئی فضیلت حاصل ہے تو یہی ہے کہ ہمارے مبلغ غیر ملکوں میں پائے جاتے ہیں اور اُن کے نہیں پائے جاتے۔ اِس کا اتنا اثر ہے کہ پرسوں مجھے کویت سے ایک جرمن کا خط ملا اُس نے لکھا ہے کہ میں دیر سے اسلام کی طرف مائل ہوں لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں اسلام کی تعلیم کہاں سے حاصل کروں۔ یہاں ایک موسیٰ نامی شخص ہیں۔ (موسیٰ کوئی غیر احمدی ہیں غالباً بمبئی کی طرف کے ہیں کیونکہ اس علاقہ میں ایسے نام رکھے جاتے ہیں) اُن کو پتا لگا کہ مجھے اسلام کی طرف رغبت ہے تو انہوں نے کہا اگر تُو اسلام سیکھنا چاہتا ہے تو ربوہ چلا جا اور تُو کہیں نہیں سیکھ سکتا۔ پس میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے لئے کوئی انتظام کریں۔ مجھ سے موسیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ خرچ میں دوں گا۔ میں نے اُسے لکھا ہے کہ خرچ کا سوال نہیں۔ ہمیں صرف یہ ضرورت ہے کہ تم اپنی طبیعت کو کم خرچ کرنے کی عادت ڈالو کیونکہ وہی مبلغ کامیاب ہو سکتا ہے جسے کم خرچ کرنے کی عادت ہو۔ مسٹر گنزے یہاں سے تعلیم حاصل کر کے گئے
ہیں اور اب وہ شکاگو (امریکہ) میں ہمارے مبلغ ہیں۔ ان کو ہم جو گزارہ دیتے تھے تم بھی اگر آؤ تو وہی وظیفہ ہم تمہیں دے دیں گے۔ اپنے لڑکوں کو ہم چالیس روپے دیتے ہیں اور دوسروں کو ساٹھ۔ اسی طریق کے مطابق اگر تم گزارہ کر سکو تو یہاں آ جاؤ۔ تعلیم حاصل کر کے چلے جانا اور اپنے ملک میں تبلیغ کرنا۔ ہمیں موسیٰ کے روپیہ کی ضرورت نہیں ہم خود تم کو وظیفہ دینے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن اگر تم یہ کہو کہ میرا چھ ہزار روپیہ میں گزارہ ہوتا ہے تو اس کی ہمیں توفیق نہیں کیونکہ ہم نے تو باہر سے کئی لوگوں کو بلوا کر انہیں تعلیم دلانی ہے۔ اگر ہم پچاس آدمی بھی منگوائیں اور چھ ہزار روپیہ ماہوار ہر ایک کا خرچ دیں تو تین لاکھ روپیہ بن جاتا ہے اور اس کی ہمیں توفیق نہیں۔ ابھی اُس کا جواب تو نہیں آیا لیکن اگر وہ یہاں آ گیا اور پھر جرمنی سے بھی ایک پادری آ رہا ہے تو یہ دو ہو جائیں گے۔ پھر ایک اور نوجوان آسڑیلیا کا ہے۔ اسے کچھ عربی بھی آتی ہے۔ وہ بچپن میں تیونس چلا گیا تھا اور مدت تک وہیں رہا کوئی پندرہ بیس سال وہاں رہ کر آسڑیلیا واپس آیا ہے۔ اس نے بھی لکھا ہے کہ میں اپنے آپ کو وقف کرنا چاہتا ہوں۔ اگر وہ بھی آ گیا تو تین بن جائیں گے۔ پھر ایک شخص فلپائن سے آ رہا ہے وہاں کی گورنمنٹ اس کے رستہ میں روکیں ڈال رہی ہے اس لئے وہ ابھی تک نہیں آسکا لیکن اگر وہ آ گیا تو چار ہو جائیں گے۔
نیویارک سے اطلاع آئی ہے کہ ایک حبشی جو پہلے پادری تھا وہ بھی آنا چاہتا ہے اگر وہ آ گیا تو پانچ ہو جائیں گے۔ غرض اِس وقت تک ہمارے پاس قریباً دس ممالک کے لوگوں کی درخواستیں پڑی ہوئی ہیں کہ ہم یہاں آنا چاہتے ہیں بلکہ اب تو بھارت بھی غیر ملک ہی ہے۔ بھارت سے بھی درخواستیں آتی رہتی ہیں۔ تھوڑے دن ہوئے ایک سکھ کی چٹھی آئی تھی کہ میں دین سیکھنا چاہتا ہوں اس کا انتظام کر دیں۔ غرض اللہ تعالیٰ دنیا میں چاروں طرف اسلام کی اشاعت کے لئے رستے کھول رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری جماعت قربانیوں کے میدان میں ہمیشہ آگے ہی آگے اپنا قدم بڑھاتی چلی جائے تا کہ ہر جگہ اسلام کو کامیابی کے ساتھ پھیلایا جا سکے۔
بے شک دنیا ہماری مخالف ہے مگر کامیابی الٰہی سلسلہ کے لئے ہی مقدر ہوتی ہے۔
مخالفانہ تدبیریں سب خاک میں مل جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر دنیا میں غالب آ کر رہتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَکَرُوۡا وَمَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَاللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ(3:55) کہ انسانوں نے بھی اسلام کو شکست دینے کی بڑی تدبیریں کیں اور ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے بھی اسلام کو فتح دینے کی تدبیریں کیں لیکن وَاللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ(3:55) اللہ تعالیٰ کو بڑی تدبیریں کرنی آتی ہیں۔ اور آخر اللہ تعالیٰ کی تدبیریں ہی جیتی ہیں۔ دیکھ لو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دشمن نے کتنی تدابیر کیں لیکن بالآخر اسلام فاتح ہوا، مکہ فتح ہو گیا، سارا عرب فتح ہو گیا اور کفار کی تدابیر کسی کام نہ آئیں کیونکہ وہ انسانی تدبیریں تھیں۔ بے شک کفار نے مسلمانوں پر بیسیوں حملے کئے۔ مدینہ کے دائیں بھی اور اُس کے بائیں بھی۔ خود مدینہ پر بھی اور اُن مسلمانوں پر بھی جو مدینہ کے رستہ میں آباد ہو گئے تھے۔ مگر کفار کی ساری کوششیں بے کار ہو گئیں اور آخر حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں کسریٰ اور قیصر دونوں کی حکومتیں ٹوٹ کر چُور چُور ہو گئیں۔ پھر ولید بن عبدالملک کے زمانہ میں اسلامی جرنیل طارق نے سپین کو فتح کیا اور یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے زیادہ دُور کی بات نہیں بلکہ اُس وقت ابھی بعض صحابہؓ زندہ موجود تھے۔ پھر معاویہ بن یزید کے ایک لڑکے عبدالرحمٰن نے دمشق میں جا کر اُندلس میں اُموی سلطنت کی بنیاد ڈالی اور اس کے بعد گیارہ سو سال تک مسلمان اُندلس پر حکمران رہے۔ تو جس خدا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نشان دکھائے تھے وہ خدا ہمارے زمانے میں بھی موجود ہے۔ وہ بوڑھا نہیں ہو گیا۔ وہ ویسا ہی جوان اور طاقتور ہے جیسے پہلے تھا۔ صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ ہمارے اندر ایمان ہو۔ ہم نے بھی سپین کو نظر انداز نہیں کیا۔
چنانچہ دوسری جنگِ عظیم کے معاً بعد ہم نے اپنے مبلغ کرم الٰہی ظفر کو سپین بھجوا دیا تھا۔ میرے بچے طاہر اور محمود جو ولایت گئے ہوئے تھے واپس آتے ہوئے سپین بھی گئے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ سپین کے نَو مسلم بہت زیادہ مخلص ہیں۔ وہ خوب سوچ سمجھ کر اسلام قبول کرتے ہیں اور پھر اس پر اپنی جانیں فدا کرتے ہیں۔
مجھے بھی اس کا ایک نمونہ لندن میں نظر آیا تھا۔ 1954ء سے قبل کا ایک سپینش نَو مسلم
ڈاکٹر لندن کے قیام کے دوران میں مجھے ملا۔ وہ اِس وقت لندن سے سو میل کے فاصلہ پر کسی جگہ پریکٹس کرتا ہے۔ اُس نے جب سنا کہ میں لندن میں آیا ہوں تو وہ مجھے وہاں ملنے کے لئے آیا۔ اُس نے مجھے بتایا کہ کرم الٰہی ظفر نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے کہ اس نے ہمیں اسلام جیسی نعمت دی۔ پھر میں نے وہاں چھوٹے درجہ کی ڈاکٹری پاس کی تھی اُس نے مجھے تحریک کی کہ میں لندن چلا جاؤں اور وہاں اپنی تعلیم کو مکمل کروں۔ چنانچہ میں اُس کی تحریک کے مطابق لندن آ گیا۔ یہاں آ کر میں نے اپنی تعلیم کی تکمیل کی اور اس وقت میری پریکٹس بڑی اچھی ہے۔ میں لندن سے سو میل کے فاصلہ پر کام کرتا ہوں اس لئے میں روزانہ لندن نہیں آ سکتا۔ اِس سے بھی پتا لگتا ہے کہ ان لوگوں میں اخلاص پایا جاتا ہے اور وہ قربانی کرنے والے ہیں۔ میرا پہلے تو یہ ارادہ تھا کہ کرم الٰہی ظفر کو روم بھجوا دیا جائے۔ اب بچوں کی شہادت کی وجہ سے یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ کرم الٰہی ظفر کو سپین میں ہی رہنے دیں اَور روم میں کسی اَور مبلغ کو بھجوا دیں۔ پہلے چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کی یہ تجویز تھی کہ میڈرڈ والے روم کی زبان کو خوب سمجھتے ہیں۔ اگر کرم الٰہی ظفر مرکز پر بوجھ ہوں تو انہیں روم بھجوا دیا جائے۔ یہ وہاں جا کر بھی سپین والوں کو تبلیغ کر سکیں گے۔ لیکن اب چونکہ پتا لگا ہے کہ سپین والے نَومسلم بڑے مخلص اور ترقی کرنے والے ہیں اس لئے اب یہی ارادہ ہے کہ کرم الٰہی ظفر کو وہیں رہنے دیں اور روم میں کسی اَور مبلغ کو بھجوا دیا جائے۔ صرف اخراجات میں تخفیف کر دی جائے لیکن ہم پہلے بھی اپنے مبلغوں کو بہت کم خرچ دیتے ہیں۔ چنانچہ ملایا سے مجھے ایک غیر احمدی دوست نے ایک دفعہ خط لکھا کہ آپ اپنے مبلغوں کو اتنا خرچ تو دیں کہ جس سے وہ شریفانہ طور پر کھانا کھا سکیں اور اچھا لباس پہن سکیں۔ بعد میں وہ مجھے کوئٹہ میں ملا تو اس نے کہا کیا آپ کو میرا خط مل گیا تھا؟ میں نے کہا مل گیا تھا پھر اس نے دریافت کیا کہ کیا آپ نے میرے اس خط پر عمل بھی کیا؟ میں نے کہا ہم غریب لوگ ہیں ہم اس پر کیا عمل کریں۔ اس نے کہا میں نے ملایا سے خط تو لکھ دیا تھا لیکن میں نے نیت کر لی تھی کہ میں واپس جاؤں گا تو ذاتی طور پر بھی آپ سے ملوں گا اور زبانی عرض کروں گا کہ آپ کے مبلغ بڑی جانفشانی سے کام کر رہے ہیں لیکن آپ اُنہیں کھانے پینے اور رہائش کے لئے اتنے اخراجات تو دیں جن سے وہ شریفانہ طور پر گزارہ کرسکیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ وہ فقیروں کی طرح رہتے ہیں۔ اُن کے کپڑے پھٹے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ معمولی تنوروں سے روٹی لے کر کھاتے ہیں۔ جس کا دیکھنے والوں پر اچھا اثر نہیں ہوتا۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس کے باوجود ہمیں روم اور سپین میں اخراجات پر کنٹرول کرنا پڑے گا۔ لیکن اگر اس سال تحریک جدید کا چندہ بڑھ جائے تو ہوسکتا ہے کہ بعد میں ہم مبلغوں کے اخراجات کو بڑھا دیں تاکہ وہ زیادہ عمدگی کے ساتھ کام کرسکیں۔
اب میں تقریر کو ختم کرتا ہوں۔ اور دعا کر دیتا ہوں۔ دعا کے بعد میں چلا جاؤں گا تاکہ دوسرا پروگرام شروع کیا جاسکے۔“
اس کے بعد حضور نے فرمایا:
”میں نے کئی دفعہ کہا ہے کہ دوست اپنے بچوں کا بھی چندہ لکھوایا کریں اور ساتھ ہی انہیں بتا دیا کریں کہ یہ تحریک جدید کا چندہ ہے تاکہ انہیں ساری عمر یاد رہے اور وہ اپنی اولادوں کو بھی اس کی نصیحت کرتے رہیں۔ چاہے وہ چندہ دو آنے ہی کیوں نہ ہو یا ایک آنہ ہی کیوں نہ ہو مگر بہرحال اُنہیں بتا دیا کریں کہ ہم نے تمہاری طرف سے بھی تحریک جدید کا چندہ لکھوا دیا ہے اب تم بھی اس تحریک کے ایک مجاہد ہو۔“
اِس موقع پر ایک دوست کے سوال کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ :
”پانچ روپیہ چندہ کی شرط تو اُس شخص کے لئے ہے جو منفرد ہو جس کا کوئی بچہ نہیں۔ وہ اگر پانچ روپے سے کم دے تو ہم نہیں لیں گے لیکن اگر اپنے چندہ کے ساتھ بچوں کی طرف سے بھی کچھ چندہ لکھوا دیا جائے تو چاہے وہ کتنا ہی تھوڑا ہو ہم اُسے منظور کرلیں گے۔“ (الفضل 7 نومبر 1957ء)
از سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
(فرمودہ 26؍دسمبر 1957ء بمقام ربوہ)
تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ ’’تفسیر صغیر کے متعلق مفصّل باتیں تو اِنْشَاءَ اللہ کل ہی کی جائیں گی مگر چونکہ دوست اس سے ایک دو دن کی دُوری بھی برداشت نہیں کر سکتے اور انہوں نے شکایت کی ہے کہ تفسیر صغیر انہیں آج ہی کیوں نہیں دی گئی۔ اس لئے میں اس کی تقسیم کا اعلان کر دیتا ہوں۔ میں نے مولوی نور الحق صاحب کو اس بات کے لئے مقرر کر دیا ہے اور میں نے انہیں ہدایت دے دی ہے کہ جتنی جتنی جلدیں کسی جماعت نے مانگی ہیں ان کے علیحدہ علیحدہ بنڈل بنا کر تیار رکھیں۔ جماعتیں اپنا اپنا نمائندہ مقرر کر دیں اور وہ نمائندہ ان کے پاس جا کر اپنی جمع شدہ رقم کے مطابق تفسیر صغیر کی جلدیں ان سے حاصل کرے۔ پھر جماعتیں چاہیں تو اپنے افراد میں یہیں تقسیم کر دیں اور چاہیں تو اپنے اپنے شہر میں واپس جا کر تقسیم کر دیں۔ بڑی درخواستوں میں سے کراچی کی جماعت کی درخواست ہے۔ اگر وہ آج ہی اپنا کوئی نمائندہ مقرر کر دیں تو تفسیر صغیر انہیں آج ہی مل جائے گی۔ کراچی کے بعد ربوہ کی جماعت ہے۔ کچھ جلدیں تو مولوی محمد صدیق صاحب پہلے لے چکے ہیں اور باقی اب مولوی نور الحق صاحب سے لے سکتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ پورا زور لگایا گیا ہے لیکن چونکہ کتاب حجم میں زیادہ ہو گئی تھی اس لئے وہ پوری تعداد میں چھپ کر تیار نہیں ہوئی۔ اصل میں تو ہم نے پانچ ہزار جلدوں کا آرڈر دیا تھا لیکن اب تک صرف تین ہزار کی تعداد میں چھپ کر ملی ہے۔ بہرحال جتنی تعداد میں تفسیر صغیر تقسیم ہو سکی وہ کر دیں گے۔ جلدی میں کچھ غلطیاں بھی رہ گئی ہیں ان کے متعلق ہر جلد کے ساتھ اغلاط نامہ لگا دیا گیا ہے۔ بعد میں اگر کوئی زیادتی اغلاط نامہ میں ہوئی تو اس کا بھی اعلان کر دیا جائے گا۔ وہ بھی دوست اس کے ساتھ لگا لیں۔ اس طرح دو تین ماہ میں کتاب مکمل ہو کر سب دوستوں تک پہنچ جائے گی۔ اور اُسی تعداد میں پہنچ جائے گی جس تعداد میں دوستوں نے خواہش کی ہے۔
اِس کے علاوہ ایک اور کتاب بھی تیار ہے۔ میں نے پچھلے سال جلسہ سالانہ پر تبویب مسند احمد بن حنبل کا اعلان کیا تھا۔ اس کی ایک جلد چھپ کر آ گئی ہے جس کی قیمت چھ روپیہ فی نسخہ ہے۔ وہ کتاب بھی دوستوں کو مولوی نورالحق صاحب سے مل سکتی ہے۔ پھر ایک کتاب تاریخ احمدیت کی بھی چھپ چکی ہے۔ اس کے متعلق مفصل طور پر تو میں کل بیان کروں گا لیکن اگر کوئی دوست یہ کتاب لینی چاہتے ہوں تو وہ لے سکتے ہیں۔ اس کتاب کا نام ”فسادات ۱۹۵۳ء کا پس منظر“ ہے جو ملک فضل حسین صاحب نے لکھی ہے۔ اس کی قیمت ایک روپیہ ہے۔ تاریخ احمدیت کی ابھی اور جلدیں بھی چھپنی ہیں۔ میں نے اس کا اعلان آج سے پانچ سال قبل کیا تھا مگر کچھ تو میری بیماری کی وجہ سے، کچھ ملک فضل حسین صاحب کی بیماری کی وجہ سے اور کچھ اُن لوگوں کی سُستی کی وجہ سے جو اس کام پر مقرر کئے گئے تھے اس میں دیر ہو گئی۔ اب اس کا ایک حصہ شائع ہوا ہے جس کا ذکر میں نے کر دیا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اصل تاریخ ۱۹۵۳ء سے نہیں بلکہ ۱۸۸۰ء سے شروع ہوتی ہے۔ اس کے متعلق سنا ہے کہ مولوی دوست محمد صاحب نے ایک کتاب تیار کی ہوئی ہے جو جلد ہی شائع کر دی جائے گی۔ مگر اس کے بعد ہمیں یہ سلسلہ بڑھانا پڑے گا۔ ہمیں پہلے ۱۹۰۸ء سے ۱۹۱۴ء تک کی تاریخ کو لانا پڑے گا۔ ۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے وفات پائی اور ۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفہ اول فوت ہوئے اور پیغامیت کا زور پڑا۔ پھر ۱۹۱۴ء سے ۱۹۳۱ء تک کی تاریخ کو لانا پڑے گا کیونکہ ۱۹۳۱ء میں کشمیر موومنٹ ہوئی اور اس میں احرار نے اپنا سارا زور لگایا بلکہ ۱۹۳۱ء نہیں اس حصہ کو ۱۹۳۴ء تک بڑھانا پڑے گا۔ جب احرار نے قادیان پر حملہ کیا اور تحریک جدید کا قیام عمل میں لایا گیا۔ پھر اسے ۱۹۳۴ء سے ۱۹۵۳ء تک لانا پڑے گا تب کہیں سلسلہ کی تاریخ پوری ہو گی۔
بہر حال ملک فضل حسین صاحب نے باوجود بیماری کے جس قدر حصہ تیار کیا تھا وہ چھپ کر آ گیا ہے لیکن جو اعلان میں نے کیا تھا وہ تاریخ احمدیت کے متعلق تھا۔ تاریخِ احرار کے متعلق نہیں تھا۔ اور جو حصہ اب چھپا ہے یہ صرف تاریخِ احرار پر مشتمل ہے۔ پس تاریخِ احمدیت اسکے علاوہ ہے اور اس کا پہلا دَور 1880ء سے شروع ہوتا ہے جب براہین احمدیہ شائع ہوئی۔ پھر 1891ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مسیحیت کا دعویٰ کیا ہے تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے کفر کا فتویٰ لگایا۔ وہ سارے ہندوستان میں پھرے اور انہوں نے علماء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف اُکسایا۔ یہ سارے تاریخِ احمدیت کے ہی حصے ہیں ان کو چھوڑ کر صرف فسادات 1953ء کا پس منظر لے لینا میرے نزدیک اس مقصد کو ہرگز پورا نہیں کرتا جس کے لئے میں نے اس کتاب کا اعلان کیا تھا۔ اب یہ تاریخ بعد میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے شائع کی جائے گی۔ ایک حصہ 1908ء سے 1914ء تک ہوگا کیونکہ اس عرصہ میں سلسلہ کے اندر رخنہ اندازیاں شروع ہوئیں اور پیغامیت کی بنیاد پڑنی شروع ہوئی۔ جس کا اظہار 1914ء میں جا کر ہوا۔ دوسرا حصہ 1914ء سے 1934ء تک کے حالات پر مشتمل ہوگا جس میں پیغامیت کو شکست ہوئی۔ احمدیت مضبوطی سے قائم ہوئی اور احرار نے بھی سر نکالنا شروع کیا۔ پھر 1934ء سے 1953ء آئے گا یا صرف پارٹیشن تک اس جلد کو رکھا جائے گا کیونکہ پارٹیشن میں بھی ہماری جماعت نے بہت کچھ خدمات ادا کی ہیں۔ جن کا کافی ذخیرہ ہمارے پاس موجود ہے۔ پھر پارٹیشن سے لے کر اب تک جو خدمات سلسلہ نے کی ہیں اور اُسے جو ترقیات حاصل ہوئی ہیں انہیں لیا جائے گا تب کہیں تاریخِ احمدیت مکمل ہوگی۔ اور چونکہ یہ لمبا کام ہے اس لئے غالباً 1960ء تک مکمل ہو سکے گا۔ پہلا جلسہ سالانہ 1891ء میں ہوا تھا اور براہین احمدیہ 1880ء میں شائع ہونا شروع ہوئی تھی۔ پس 1880ء سے لے کر 1960ء تک کے عرصہ کو مدنظر رکھتے ہوئے تاریخِ احمدیت 80 سال پر مشتمل ہے مگر اسے محض 1953ء میں مقیّد کر دیا گیا ہے۔ بہرحال مجھے بتایا گیا ہے کہ پہلا حصہ مولوی دوست محمد صاحب مکمل کر چکے ہیں اور بعد کا جو حصہ ہے اسے بھی جلد مکمل کر لیا جائے گا۔
اس کے لئے ملک فضل حسین صاحب کو ہی یا اور کسی دوست کو مقرر کیا جائے گا۔
اب میں نے کتابوں کا ذکر کر دیا ہے۔ ’1953ء کے فسادات کا پس منظر‘ چھپ کر تیار ہے اور یہ تاریخِ احمدیت کی ایک کڑی ہے۔ تبویب مسند احمد بن حنبل کی ایک جلد بھی چھپ کر تیار ہوگئی ہے اور اس میں ایسی اصلاحات مدّنظر رکھی گئی ہیں کہ مصر سے جو تبویب شائع ہوئی ہے اور جس کے لئے سعودی عرب کی طرف سے دس ہزار پونڈ دیا گیا تھا وہ بھی اس کے مقابلہ میں بالکل ہیچ ہے۔ ہماری اس کتاب کی قیمت چھ روپیہ ہے اور غالباً یہ کام بیس جلدوں میں مکمل ہوگا اور اس طرح پوری کتاب کی قیمت 120 روپیہ ہوگی۔ لیکن اس کے مقابلہ میں مصر کی شائع شدہ تبویب مسند احمد بن حنبل کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ اس کی ایک جلد کی قیمت قریباً پندرہ روپے ہے اور اس کی چودہ جلدیں ہیں۔ یہ کتاب ٹائپ میں چھپی ہے اور اورینٹل ریلیجن اینڈ پبلشنگ کارپوریشن کے پریس میں شائع ہوئی ہے۔ اس تبویب میں وہ ساری حدیثیں الگ کر دی گئی ہیں جو امام احمد بن حنبل کے بعض کمزور شاگردوں نے ان کی مسند میں شامل کر دی تھیں۔ اسی طرح اگر کوئی حدیث کسی اور جگہ آگئی ہو مثلاً امام بخاریؒ نے اُس کا ذکر اپنی صحیح میں کر دیا ہو یا کسی اور کتاب میں درج ہو تو اُس کا حوالہ بھی دے دیا گیا ہے۔ غرض ہماری یہ کوشش مصری کوشش سے دس بیس گنا زیادہ فائدہ بخش ہے اور قیمت اس سے بہت کم ہے۔
اب میں دعا کر دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس جلسہ کو مبارک کرے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے ہمارا پہلا جلسہ سالانہ 1891ء میں ہوا تھا اور اب 1957ء ہے گویا ہمارا یہ جلسہ ستاسٹھواں جلسہ ہے مگر الفضل کے اعلان میں اسے گیارھواں جلسہ سالانہ قرار دیا گیا ہے۱ حالانکہ یہ گیارھواں نہیں بلکہ ستاسٹھواں جلسہ سالانہ ہے۔ 56 سال کو اتنی جلدی اڑا دینا کوئی عقل کی بات نہیں۔ لوگ تو فخر کیا کرتے ہیں کہ ہمارے خاندان نے فلاں جگہ پر اتنے زیادہ عرصہ تک حکومت کی ہے لیکن الفضل کے اعلان کی رو سے معیارِ عزت یہ ہے کہ ہم نے اتنے کم جلسے کئے ہیں حالانکہ وہ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے تھے کہ قادیان کے جلسوں کو شامل کر کے اوپر موٹے حروف میں ’67 واں جلسہ‘ لکھتے اور نیچے باریک قلم سے لکھ دیتے کہ پاکستان میں آ کر یہ گیارہواں جلسہ سالانہ ہے۔ اس طرح دو تاریخیں بن جاتیں اور لوگوں کے ذہنوں میں قائم رہتیں۔ لیکن ستاسٹھویں کو چپکے سے اُڑا دینا کسی عقل کے ماتحت نہیں۔ بہرحال یہ جلسہ ستاسٹھواں جلسہ ہے۔ اور اگر بیعت کے اعلان کو لیا جائے جو دسمبر ۱۸۸۸ء میں ہوا تھا اور جس پر مارچ ۱۸۸۹ء میں پہلی بیعت ہوئی تو ہماری جماعت کے قیام پر 69 سال گزر چکے ہیں۔ اس عرصہ میں ہم اتنی دشمنیوں سے گزرے ہیں کہ گویا ہم نے تلواروں کے نیچے اپنا سر رکھا اور اس طرح 69 سال گزار دیئے۔ اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے ایمانوں میں روز افزوں زیادتی ہوئی اور ہوتی چلی جا رہی ہے۔ چنانچہ آج سے ایک سال قبل ایک احمدی میں جتنی طاقت تھی آج اُس سے دس گنا زیادہ طاقت اُس میں موجود ہے۔ اگر ایک سال پہلے ایک احمدی دو مخالفوں کا مقابلہ کر سکتا تھا تو آج ایک احمدی بیس مخالفوں کا مقابلہ کر سکتا ہے بلکہ اب تو ہماری عورتیں بھی ایسی ہیں جو مردوں سے زیادہ دلیر ہیں۔
ضلع جھنگ میں چنڈ بھروانہ اور منگلا کے لوگ نئے احمدی ہوئے ہیں۔ وہاں کی ایک عورت یہاں آیا کرتی ہے۔ وہ جب بیعت کرنے کے لئے ربوہ آئی تو مہمان خانہ میں ٹھہری۔ رات کو اُس کی بیٹی بھی آ گئی۔ اُس نے کہا اماں ! تُو نے مجھے کس قبیلہ میں بیاہ دیا ہے وہ تو احمدیت کی بڑی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ میں بہتیرے تبلیغ کرتی ہوں مگر وہ سنتے ہی نہیں۔ اُس کی ماں کہنے لگی بیٹی ! تُو میری جگہ آ جا اور اپنے باپ اور بھائیوں کا کھانا پکا میں تیرے سسرال جاتی ہوں اور میں دیکھتی ہوں کہ وہ کس طرح مخالفت کرتے ہیں اور احمدیت کی تبلیغ نہیں سنتے۔ تو اب ہماری عورتیں بھی ایسی ہیں جو کہتی ہیں کہ ہم دیکھیں گے کہ لوگ ہماری تبلیغ کیسے نہیں سنتے۔
اس عورت کو پچھلے سال لجنہ اماء اللہ نے تقریر کرنے کے لئے کھڑا کر دیا۔ نئی احمدی ہے اور جوش زیادہ ہے۔ جوش میں آ کر اس نے اردو میں تقریر شروع کر دی۔ تقریر اپنے لحاظ سے تو بہت عمدہ تھی لیکن چونکہ وہ اردو نہیں جانتی تھی اس لئے لجنہ اماء اللہ کو اس سے التجا کرنی پڑی کہ بی بی ! تُو پنجابی میں ہی تقریر کر ہم پنجابی سمجھ لیں گے۔
اس سال وہ چند ماہ قبل ربوہ میں آئی تو کالج چلی گئی۔ وہاں کوئی جلسہ ہو رہا تھا اور ایک بی اے کی سٹوڈنٹ لڑکی تقریر کر رہی تھی۔ وہ لڑکی کچھ ہچکچا رہی تھی۔ یہ عورت اُسے کہنے لگی بیٹی! تُو ڈرتی کیوں ہے؟ دلیری سے تقریر کر۔ تو جس قوم کو خدا تعالیٰ نے ایسی بہادر عورتیں دی ہوئی ہوں اس کے مردوں کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔
مجھے یاد ہے 1953ء کے فسادات کے دوران میں ضلع سیالکوٹ کی ایک عورت پیدل ربوہ پہنچی اور اس نے ہمیں بتایا کہ ہمارا گاؤں دوسرے علاقہ سے کٹ چکا ہے اور مخالفوں نے ہمارا پانی بند کر دیا ہے۔ اگر ہم پانی لینے جاتے ہیں تو وہ ہمیں مارتے ہیں۔ اُس وقت ایک فوجی افسر یہاں رخصت پر آیا ہوا تھا اُس کو میں نے ایک مقامی دوست کے ساتھ وہاں بھیجا تاکہ وہ وہاں جا کر احمدیوں کی امداد کرے۔ اب دیکھو کتنی بڑی ہمت کی بات ہے کہ جہاں مرد قدم نہ رکھ سکے وہاں ایک عورت نے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔ اُس وقت مرد اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے ڈرتے تھے مگر وہ عورت سیالکوٹ سے پیدل سمبڑیال کی طرف گئی۔ وہاں سے گوجرانوالہ کی طرف آئی اور پھر گوجرانوالہ سے کسی نہ کسی طرح یہاں پہنچی اور ہمیں جماعت کے حالات سے آگاہ کیا۔ اور ہم نے یہاں سے ان کو امداد کے لئے آدمی بھجوائے۔ تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری عورتیں مردوں سے زیادہ دلیر ہیں۔
مجھے یاد ہے ایک دفعہ قادیان میں غیر احمدی علماء نے جلسہ کیا۔ پولیس اور گورنمنٹ ان کی تائید میں تھی۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اور احمدیوں کو بُرا بھلا کہا اور پولیس نے بھی عوام کے ساتھ مل کر جماعت کے خلاف نعرے لگائے جس کی وجہ سے مولوی ثناء اللہ صاحب اور بھی دلیر ہو گئے۔ قادیان کے قریب ہی ایک گاؤں بھینی بانگر ہے۔ اُس جگہ کی ایک عورت وہاں سے گزری۔ اُس نے گالیاں سنیں تو کھڑی ہوگئی اور پنجابی میں بلند آواز سے کہنے لگی ’’تیرے دادے داڑھی بگیا تُو مرزا صاحب نوں گالیاں کیوں دینا ایں‘‘ کیونکہ اُس وقت جماعت کو صبر و تحمل کی بار بار تلقین کی گئی تھی اس لئے جماعت کے جو دوست وہاں کھڑے تھے وہ اس عورت کے پیچھے پڑ گئے اور اسے کہنے لگے بی بی! تُو نہ بول۔ بعد میں پولیس نے اس عورت کو دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ مجھے پتا لگا تو میں نے جماعت پر بڑی خفگی کا اظہار کیا اور میں نے کہا تم نے بڑی کمینگی کی کہ تم مرد ہو کر چُپ ہو گئے تمہیں تو اس موقع پر اپنی غیرت کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا اور اُس عورت پر کسی شخص کو ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے تھی۔ تو خدا تعالیٰ کے فضل سے پرانے زمانہ سے ہی جماعت میں ایسی دلیر اور مخلص عورتیں موجود رہی ہیں۔ کسی زمانہ میں یہ نمونہ ابتدائی مسلمانوں میں پایا جاتا تھا لیکن اب اس کا نمونہ احمدیت جو حقیقی اسلام ہے پیش کر رہی ہے۔
اس نمونہ کو یاد رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ ہمارے اندر ایسے لاکھوں نمونے پیدا کرے۔ اور اب اگر جماعت لاکھوں کی ہے تو جلد ہی کروڑوں کی ہو جائے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ اسے کروڑوں سے اربوں تک پہنچا دے۔ اور خدا کرے کہ ہمارے رُشد و اصلاح کے نتیجہ میں سارا پاکستان احمدیت کی تعلیم کو قبول کر لے۔ اور پھر خدا کرے کہ ہندوستان ہمارے رُشد و اصلاح کا اثر قبول کر لے۔ پھر انڈونیشیا اور ملایا قبول کر لیں۔ پھر تمام مصر، ایران، عراق، ترکی، جرمنی اور امریکہ قبول کر لیں۔ اور ان سب کی آبادی اگر ملائی جائے تو وہ ایک ارب سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ پھر روس کو خدا تعالیٰ اسلام کے قبول کرنے کی توفیق دے دے تو جماعت اربوں تک پہنچ جائے گی۔ صرف دوستوں کو اِس طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر افسوس ہے کہ جماعت اس طرف پوری توجہ نہیں کرتی۔ ورنہ اگر سچائی پیش کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ لوگ اس کی طرف توجہ نہ کریں۔
کل ہی ایک غیر احمدی کے تاثرات الفضل میں شائع ہوئے ہیں 2 جو اُس نے میری کتاب ”دعوة الامیر“ کے متعلق شمس صاحب کو لکھے ہیں۔ اس میں وہ غیر احمدی دوست لکھتے ہیں کہ اس کتاب کے پڑھنے سے میری آنکھیں کھل گئیں اور میں سمجھتا ہوں کہ واقعی یہ ایک راہ دکھانے والی کتاب ہے۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ یہ چیزیں لوگوں تک پہنچائی جائیں تو وہ متاثر نہ ہوں۔ صرف جماعت سُستی کر رہی ہے۔ اگر آپ لوگوں میں سے ہر شخص یہ اقرار کرے کہ وہ اگلے سال کے ختم ہونے سے پہلے کم سے کم ایک سَو آدمیوں کو سلسلہ کا لٹریچر پڑھا دے گا تو یہ کوئی مشکل امر نہیں اور نہ ہی اس پر کوئی خرچ ہوتا ہے۔ تم میں سے
ہر شخص جو کوئی کتاب اپنے ساتھ لے جائے وہ کسی کو پڑھنے کے لئے دے دے۔ وہ پڑھ لے تو اس سے واپس لے کر کسی دوسرے کو دے دے۔ پھر اس سے واپس لے کر کسی تیسرے شخص کو دے دے۔ سال میں 360 دن ہوتے ہیں۔ اگر تیسرے دن بھی کسی سے کتاب واپس لی جائے تو 360 دن میں ایک سو افراد کو سلسلہ کا لٹریچر پڑھایا جا سکتا ہے۔ بلکہ اگر کوئی چار دن کے بعد بھی کتاب واپس دے تب بھی سَو سے زیادہ لوگوں کو سلسلہ کا لٹریچر پڑھایا جا سکتا ہے کیونکہ کتاب پڑھنے میں کسی کو تین دن لگیں گے، کسی کو چار دن لگیں گے اور کوئی شخص دو دن میں ہی کتاب ختم کر لے گا۔ اگر ایسا کیا جائے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے اِس وقت جو جماعت دس لاکھ کے قریب ہے وہ دس کروڑ بن جائے گی۔ قادیان والوں کو بھی میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہمارے اِدھر آ جانے کی وجہ سے وہاں کی جماعت کی تعداد بہت کم ہوگئی ہے گو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت کی تعداد وہاں اب بڑھ رہی ہے۔ لیکن اگر وہ کوشش کریں تو تھوڑے عرصہ میں ہی قادیان کا جلسہ سالانہ اِس جلسہ سے بھی زیادہ شان سے ہو سکتا ہے۔ اگر ان کی کوشش سے ہندوستان میں لاکھ ڈیڑھ لاکھ احمدی ہو جائے جس میں سے ساٹھ ستر ہزار آدمی وہاں جلسہ سالانہ پر آ جائیں تو وہاں بھی اسی شان سے جلسہ کیا جا سکتا ہے۔ یہاں پچھلے سال جلسہ سالانہ پر آنے والوں کی تعداد ساٹھ ہزار سے زیادہ تھی اس سال امید ہے کہ میری کل کی تقریر میں آنے والوں کی تعداد ستر ہزار تک پہنچ جائے گی۔ قادیان میں سب سے زیادہ تعداد خلافت جوبلی کے موقع پر آئی تھی جو چالیس ہزار تھی مگر دوسرے سالوں میں بھی بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوتے رہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب جو اُن دنوں افسر جلسہ سالانہ تھے بڑے خوش خوش میرے پاس آئے اور کہنے لگے دیکھئے اللہ تعالیٰ نے کیسا فضل کیا ہے۔ میں نے خوراک کی پرچیاں اور ریلوے کے ٹکٹ خوب گنوائے ہیں اور اُن سے معلوم ہوا ہے کہ جلسہ سالانہ پر آنے والوں کی تعداد اکتیس ہزار کے قریب ہے اور یہاں رات کو پہلے دن کی کارروائی میں شامل ہونے کے لئے جو صرف دعائیہ ہے تینتیس ہزار افراد آگئے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آخری جلسہ پر سات سَو احمدی
قادیان آئے تھے اور حضرت خلیفہ اوّل کے آخری جلسہ پر آنے والوں کی تعداد غالباً گیارہ بارہ سو تھی اور اِس تعداد پر اُس زمانہ میں بڑی خوشی کا اظہار کیا گیا تھا لیکن اب یہ حال ہے کہ اِس سال جب شروع شروع میں 2300 مہمانوں کے آنے کی اطلاع ملی اور ابھی جلسہ سالانہ میں تین دن باقی تھے تو ہمارے ہاں بہت افسوس کیا گیا کہ اتنے کم آدمی آئے ہیں اور ابھی ربوہ کی گلیاں خالی نظر آرہی ہیں۔ آج جب آنے والوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ہے تب لوگوں نے کہنا شروع کیا ہے کہ اب ربوہ کی گلیوں میں رونق معلوم ہوتی ہے۔ لیکن جب تک مہمانوں کی تعداد 2300 تک تھی عام طور پر یہ کہا جاتا تھا کہ ربوہ کی گلیاں خالی نظر آتی ہیں آج یہاں کے لوگوں نے مانا ہے کہ ربوہ کی گلیوں میں مہمان نظر آتے ہیں۔ کل اور پرسوں یہ تعداد اِنْشَاءَ اللّٰہُ اور بھی بڑھ جائے گی۔ تو دیکھو اللہ تعالیٰ نے کس قدر فضل جماعت پر کیا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں آخری جلسہ سالانہ پر جب سات سو احمدی آئے تو مجھے یاد ہے انتظام اتنا کمزور تھا اور روپیہ کی اتنی کمی تھی کہ لنگر خانہ میں جو کھانا پکایا گیا وہ بہت کم لوگوں کو کفایت کر سکا اور اکثر مہمان بھوکے رہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو الہام ہوا کہ يٰٓاَيُّهَا النَّبِیُّ اَطْعِمُوا الْجَآئِعَ وَالْمُعْتَرَّ کہ اے نبی! وہ لوگ جو بھوکے ہیں اور شدتِ بھوک کی وجہ سے تکلیف پارہے ہیں تُو انہیں کھانا کھلا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ نے اور دیگیں پکوائیں اور ان کو کھانا کھلایا۔ تو اُس وقت جماعت کی مالی حالت ایسی کمزور تھی کہ سات سو افراد کے کھانے کا انتظام بھی پورے طور پر نہیں کیا جاسکتا تھا اور اب ستر ہزار افراد کا انتظام بھی بڑے آرام سے چل رہا ہے۔ ہاں بعض اوقات ایسا ہو جاتا ہے کہ مہمان اگر دیر سے پہنچیں تو اُن کو نئے سرے سے کھانا تیار کر کے بھیجنے میں کچھ دیر لگ جاتی ہے۔ لیکن کجا ستر ہزار اور کجا سات سو۔ جب سات سو مہمان جلسہ سالانہ پر آئے تو اُس وقت تو یہ حالت تھی کہ خدا تعالیٰ کو الہام کرنا پڑا کہ اے نبی! بھوکوں اور تکلیف زدوں کو کھانا کھلاؤ۔ چنانچہ آپ نے نئی دیگیں پکوائیں اور مہمانوں کو کھانا کھلایا۔ لیکن اب ہم اس سے سو گنا زیادہ افراد کو بہت زیادہ آسانی اور آرام سے کھانا کھلا رہے ہیں۔
مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام 1907ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر باہر سیر کے لئے تشریف لے گئے تو جلسہ پر آنے والے مہمان بھی آپؑ کے ساتھ چل پڑے۔ رستہ میں لوگوں کے پاؤں کی ٹھوکریں لگنے کی وجہ سے آپؑ کی جوتی بار بار اُتر جاتی اور کوئی مخلص آگے بڑھ کر آپؑ کو جوتی پہنا دیتا۔ جب بار بار ایسا ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کھڑے ہو گئے اور آپؑ نے فرمایا معلوم ہوتا ہے کہ اب ہماری زندگی ختم ہونے کے قریب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کی جو ترقی مقدر کی ہے وہ اُس نے ہمیں دکھا دی ہے۔ اب کجا یہ کہ سات سو احمدی جلسہ سالانہ پر آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خیال کیا کہ اب ہماری جماعت کی ترقی اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے اور ہمارا کام ختم ہو گیا ہے اور کجا یہ کہ اب جلسہ سالانہ پر ستر ہزار آدمی آجاتا ہے گویا ہماری جماعت کی تعداد اُس زمانہ کی تعداد سے سو گنا بڑھ گئی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ لوگوں کو ایک بات سے غلطی لگی ہے اور وہ یہ کہ مفتی محمد صادق صاحب بعض دفعہ جماعت کی تعداد کے متعلق ایک اندازہ لگا لیتے اور اعلان کر دیتے کہ اب جماعت کی تعداد اتنے لاکھ ہو گئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگر اب ہم اپنی تعداد دس لاکھ بتاتے ہیں تو مخالف کہتے ہیں کہ تمہاری تعداد گر رہی ہے تم تو آج سے کئی سال پہلے دس لاکھ سے بھی اوپر تھے۔ لیکن جلسہ سالانہ پر آنے والوں کی تعداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری تعداد کم نہیں ہوئی بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے روز بروز بڑھ رہی ہے۔ اس سے پتا لگتا ہے کہ جماعت کی تعداد کا غلط اندازہ لگانا ایک وقت پر جا کر تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔
جب میں پہلی دفعہ 1924ء میں ولایت گیا تو وہاں کے ایک اخبار نے میری آمد کی خبر شائع کرتے ہوئے لکھا کہ یہاں ہندوستان کے بیس کروڑ لوگوں کا لیڈر آیا ہے۔ میں نے اُسے لکھا کہ بیس کروڑ نہ کہو دو لاکھ کہو۔ چنانچہ اس نے تردید کردی۔ لیکن پہلی دفعہ اُس نے ہندوستان کے سب ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کو ملا کر مجھے بیس کروڑ کا لیڈر بنا دیا تھا۔ میں نے کہا میں تو صرف احمدیوں کا سردار ہوں باقی مسلمانوں کا نہیں۔ اور احمدیوں کی تعداد بیس کروڑ نہیں بلکہ بیس کروڑ تو عیسائیوں کے نزدیک کُل دنیا کے مسلمان ہیں۔ گو
مسلمان مصنف مسلمانوں کی تعداد چالیس کروڑ بتاتے ہیں۔ درحقیقت اب ہماری تعداد پاکستان اور ہندوستان میں دس لاکھ ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے روز بروز بڑھ رہی ہے۔ بہرحال دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ایمانوں کو بڑھاتا جائے اور غیر احمدیوں کے دلوں کو کھولے۔ اور بجائے اس کے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دیں اور آپؑ کی ہتک کریں وہ آپؑ کی تعریف کرنے لگ جائیں اور ان کو پتا لگ جائے کہ اس زمانہ میں یورپ اور ایشیا بلکہ ساری دنیا کی نجات حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ سے ہے جو اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو پھیلانے کے لئے دنیا میں مبعوث ہوئے ہیں۔
میں نے ایک خواب دیکھا تھا جو میں نے اس سال انصار اللہ کے اجتماع میں دوستوں کو سنا دیا تھا، میں نے دیکھا کہ زمینداروں کا ایک بہت بڑا گروہ ہے ، وہ زمیندار ایسے ہیں جو مربعوں کے مالک ہیں۔ وہ راجہ علی محمد صاحب کے پاس آئے اور ان سے انہوں نے مصافحہ کیا اور پھر ایک طرف چلے گئے۔ میں ان کو دیکھ کر کہتا ہوں کہ اب خدا تعالیٰ چاہے گا تو یہ ساٹھ ہزار ہو جائیں گے اور ان میں سے ہر شخص اگر سال میں ایک ایک سو روپیہ بھی مساجد کے لئے دے تو ساٹھ لاکھ روپیہ ہو جائے گا اور ساٹھ لاکھ سے بیسیوں مساجد بن سکتی ہیں۔ اس وقت صدر انجمن احمدیہ کا کُل بجٹ بارہ لاکھ ہے لیکن اس خواب سے پتا لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ دن جلد آنے والا ہے جب ہمارا چندہ ساٹھ لاکھ ہو جائے گا۔ اور اگر صدر انجمن احمدیہ کے بجٹ کے ساتھ تحریک جدید کے بجٹ کو بھی ملایا جائے تو جماعت کا کُل بجٹ ایک کروڑ بیس لاکھ روپیہ ہو جاتا ہے۔ اور اگر ایسا ہو جائے تو بہاول پور اور خیر پور کی آمد سے بھی ہمارا سالانہ بجٹ بڑھ جائے گا۔ اور اگر خدا تعالیٰ نے مزید ترقی دی تو پاکستان کی آمد سے بھی صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کی آمد زیادہ ہو جائے گی بلکہ ہم تو اس امید میں ہیں کہ امریکہ، روس، انگلینڈ، جرمنی اور فرانس کی آمد کو اگر ملا لیا جائے تب بھی صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کی آمد اس سے زیادہ ہو تاکہ یورپ اور امریکہ میں ہم پانچ چھ ہزار مساجد سالانہ تعمیر کرا سکیں۔
اب میں دعا کر دیتا ہوں کہ جو لوگ جلسہ سالانہ پر آئے ہیں خدا تعالیٰ انہیں بڑی بڑی برکتوں کا وارث بنائے اور جو پیچھے گھروں میں رہ گئے ہیں اور جلسہ پر نہیں آسکے۔ خدا تعالیٰ ان پر بھی بڑی بڑی برکتیں نازل کرے اور جو لوگ یہاں آنے والوں کی خدمت کر رہے ہیں ان پر بھی خدا تعالیٰ بڑی بڑی برکتیں نازل کرے۔ اس دفعہ موسم کچھ ٹھیک نہیں رہا اس لئے میری طبیعت بھی خراب رہی۔ موسم بڑی جلدی جلدی بدلتا رہا ہے اور اس تبدیلی کی وجہ سے سارے پنجاب پر اثر پڑ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے جو وبائیں پھیلی ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ یہاں آنے والوں کو ان بلاؤں سے پوری طرح محفوظ رکھے اور اس سردی میں جو بچے اور نوجوان خدمت کر رہے ہیں اُن کو بھی ہر قسم کی وباؤں سے پوری طرح بچائے۔ اور جب جلسہ پر آنے والے واپس جائیں تو جیسا کہ میں نے گذشتہ خطبہ میں بیان کیا تھا خدا کرے کہ وہ فرشتے نظر آئیں اور دنیا میں دس لاکھ احمدی نہ ہوں بلکہ دس لاکھ فرشتہ ہو اور تمہیں پتا ہے کہ اُحد کے موقع پر صرف ایک فرشتہ نظر آیا تھا۔ ۴مگر اس فرشتہ نے ہی تین ہزار کفار کو بھگا دیا تھا۔ اگر تم سب لوگ فرشتے بن جاؤ۔ تو تمہاری طاقت اتنی بڑھ جائے گی کہ تم میں سے ہر احمدی تین تین ہزار غیر احمدیوں کا مقابلہ کر سکے گا۔“ (الفضل 8؍جنوری 1958ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
(فرمودہ 27؍ دسمبر 1957ء بموقع جلسہ سالانہ بمقام ربوہ)
تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ ’’سب سے پہلے مجالس خدام الاحمدیہ میں سے اوّل اور دوم رہنے والوں کا اعلان کیا جاتا ہے۔ مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس سال کی پڑتال پر شہری مجالس میں سے مجلس خدام الاحمدیہ کراچی بہترین کام کرنے والی قرار پائی ہے اور مجلس خدام الاحمدیہ راولپنڈی دوم رہی ہے۔ اسی طرح دیہاتی مجالس میں سے مجلس خدام الاحمدیہ کرونڈی خیر پور ڈویژن اوّل اور مجلس خدام الاحمدیہ چک نمبر 98 (ضلع سرگودھا) دوم رہی ہے۔ ان مجالس کے قائدین یا ان کے نمائندے مرکزی دفتر سے اپنی سندات حاصل کرلیں۔ اسی طرح مجلس انصار اللہ مرکزیہ کی طرف سے اعلان کیا جاتا ہے کہ مجلس انصار اللہ ملتان شہر حُسنِ کارکردگی کے سلسلہ میں اس سال اوّل رہی ہے۔ مجلس انصار اللہ ملتان شہر کے زعیم، مرکزی دفتر سے انعامی عَلَم حاصل کرلیں۔ تفسیر صغیر اور سلسلہ کے دوسرے کاموں کے سلسلہ میں مَیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل سُنّت تو یہ ہے کہ اچھا کام کرنے والوں کو خطابات دیئے جائیں۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالدؓ بن ولید کو سَیْفٌ مِنْ سُیُوْفِ اللّٰهِ کا خطاب عطا فرمایا تھا1 لیکن چونکہ خطابات کا کام غور وفکر چاہتا ہے اور میں نے اس پر ابھی غور نہیں کیا اس لئے فِی الْحَال میں نے یہ تجویز کیا ہے کہ اس سال جماعت کی طرف سے کسی قدر کام کرنے والوں کی دل جوئی اور ان کے کام کی خوشنودی کے طور پر کچھ رقم انعام کے طور پر تقسیم کر دی جائے۔‘‘
اس کے بعد حضور نے سات احباب 2 کو اپنے دستِ مبارک سے انعامی تھیلیاں عطا فرمائیں۔ اور ہدایت فرمائی کہ:
”جب کسی دوست کو انعام دیا جائے تو باقی دوست بَارَكَ اللّٰهُ لَكُمْ کہیں کہ اللہ تعالیٰ اس میں آپ کے لئے برکت ڈالے اور انعام لینے والا جَزَاكُمُ اللّٰهُ کہے کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اس دعا کی بہترین جزا عطا فرمائے۔“
اس کے بعد فرمایا:
”پچھلے سال میں نے کہا تھا کہ رسائلِ خلافت کا امتحان لیا جائے گا اور اس میں اوّل دوم سوم رہنے والوں کو انعام دیا جائے گا۔ میں نے کہا تھا کہ اس امتحان میں جو اوّل نکلے گا اُس کو تذکرہ (مجموعہ الہامات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام) اور تفسیر کبیر کی ایک جلد ملے گی۔ اور جو دوم رہے گا اس کو تفسیر کبیر کی ایک جلد اور سیر روحانی کی ایک جلد ملے گی۔ اور سوم رہنے والے کو سیر روحانی کی ایک جلد دی جائے گی۔ سو دورانِ سال میں امتحان لیا گیا اور اس میں انصار اللہ میں سے مرزا برکت علی صاحب آف قادیان حال پشاور اوّل، شیخ عبدالقادر صاحب مربی سلسلہ احمدیہ لاہور دوم اور ڈاکٹر محمد دین صاحب چکوال سوم رہے ہیں۔ خدام الاحمدیہ میں سے نذیر احمد صاحب سیالکوٹی لاہور چھاؤنی اوّل، مولوی محمد سلطان صاحب اکبر بی۔اے ضلع سرگودھا دوم اور مرزا منور احمد صاحب ربوہ اور عبدالمنان صاحب ناہید کیمبل پور سوم رہے ہیں۔ لجنہ اماء اللہ میں سے محمودہ بیگم احمد صاحبہ کراچی اوّل، قدسیہ بیگم صاحبہ بنت چودھری عبدالحمید صاحب روہڑی دوم اور عائشہ محمودہ بیگم صاحبہ کیمبل پور سوم رہی ہیں۔ عورتوں کے انعامات عورتوں کے جلسہ گاہ میں بھیجے جا رہے ہیں انہیں وہاں تقسیم کر دیا جائے اور مردوں کے انعامات میں تقسیم کرتا ہوں۔“
اس کے بعد حضور نے اپنے دستِ مبارک سے اوّل، دوم اور سوم رہنے والوں کو انعامات عطا فرمائے۔ اس کے بعد فرمایا:۔
”سب سے پہلے تو میں جماعت کو سلسلہ کے لٹریچر کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ دوست اس
طرف خاص طور پر توجہ کریں کیونکہ لٹریچر کی طرف توجہ کئے بغیر سلسلہ ترقی نہیں کر سکتا۔ سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دوست الفضل کی طرف توجہ کریں۔ پھر ریویو آف ریلیجنز کی اشاعت کی طرف بھی توجہ کریں۔ پچھلے سال جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے ریویو آف ریلیجنز کی اشاعت بڑھانے کے سلسلہ میں ایک تجویز پیش کی تھی مگر وہ تجویز ناکام رہ گئی۔ جو چندہ میں نے کروا دیا تھا یا جو صدر انجمن احمدیہ انہیں امداد کے طور پر روپیہ دیتی تھی اُس پر انہوں نے اپنے کام کا انحصار رکھا ہے اور خریداری بڑھانے کے طرف کوئی توجہ نہیں کی۔ جب میں نے پوچھا کہ ریویو آف ریلیجنز کی خریداری کتنی ہے؟ تو مجھے بتایا گیا کہ ایک ہزار پرچہ تو تحریکِ جدید لیتی ہے اور ساڑھے سات ہزار روپیہ دیتی ہے۔ اور سات ہزار روپیہ صدر انجمن احمدیہ گرانٹ کے طور پر دیتی ہے اور مستقل خریدار صرف 270 ہیں۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ موجودہ عملہ بالکل ناکام رہا ہے اور ہمیں اس بات پر غور کرنا پڑے گا کہ کیوں نہ اس عملہ کو بدل کر کسی نئے آدمی کو اس کام پر مقرر کیا جائے۔ بہرحال چونکہ پچھلے سال کوئی کام نہیں ہوا اس لئے اس سال میں ریویو آف ریلیجنز کے متعلق کوئی نئی تجویز پیش نہیں کرتا۔ اگر انہوں نے کوئی کام کیا ہوتا تو میں اس سال یہ تجویز پیش کرتا کہ اس کام کو مزید بڑھایا جائے کیونکہ اصل تجویز یہ تھی کہ ریویو کی اشاعت کو بڑھاتے بڑھاتے ہم اس کے خریداروں کی تعداد کو دس ہزار تک پہنچا دیں۔ لیکن اب یہ حالت ہے کہ باوجود اس کے کہ سات ہزار روپیہ صدر انجمن احمدیہ گرانٹ کے طور پر دیتی ہے اور ایک ہزار پرچہ تحریکِ جدید خرید لیتی ہے اور انیس سو روپیہ کی رقم دو دو روپیہ فی خریدار کے حساب سے جماعت دیتی ہے پھر بھی اس رسالہ کی مستقل خریداری 270 افراد تک ہی محدود ہے۔ اگر کام کی یہی رفتار رہی تو ہمیں اس رسالہ کی خریداری دس ہزار تک پہنچانے کے لئے سو سال کی مدت درکار ہوگی اور اس کو ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ پس ہمارے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ ہم اس رسالہ کو مفت تقسیم کریں یا بند کر دیں۔ فی الحال ریویو آف ریلیجنز کے متعلق میں نے ہدایت دے دی ہے کہ آئندہ جس قدر رقم صدر انجمن احمدیہ بطور امداد دیتی ہے اس کے بدلہ میں اتنے ہی پرچے اسے دے دیئے جائیں اور جتنی رقم تحریکِ جدید دیتی ہے اس کے بدلہ میں اتنے پرچے تحریک جدید کو دیئے جائیں اور عملہ ریویو جو خریدار بنائے وہ پرچے منیجر ریویو بھجوائے۔
اس کے بعد میں اس سال کے کام پر ریویو کرتا ہوں۔ اس سال خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک تو تفسیرِ صغیر یعنی قرآن کریم کا اردو بامحاورہ ترجمہ اور مختصر تفسیر شائع کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ یہ اس سال کا کارنامہ ہے۔ جو دوست اس تفسیر کو پڑھیں گے وہ اِنْ شَاءَ اللّٰہُ اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ یہ کام صرف 3 ماہ میں ہوا ہے یعنی مئی کے آخر میں یہ کام شروع ہوا تھا اور اگست کے شروع میں یہ کام مکمل ہو گیا تھا۔ دوسرے علماء جو ہماری جماعت سے تعلق نہیں رکھتے وہ اس کا مقابلہ اگر دوسری تفسیروں سے کریں خواہ وہ انگریزی میں ہوں یا عربی زبان میں تو اُن کو پتا لگے گا کہ یہ تفسیر خدا تعالیٰ کے فضل سے ان پر ہر لحاظ سے غالب ہے۔ اور گو یہ تفسیر صغیر ہے مگر اس میں بعض مضامین ایسے آ گئے ہیں جو تفسیر کبیر میں بھی نہیں۔ ملک غلام فرید صاحب جو انگریزی تفسیر القرآن لکھ رہے ہیں انہوں نے لکھا کہ مجھے ایک نسخہ تفسیر صغیر کا جلد بھجوا دیا جائے تاکہ میں انگریزی تفسیر القرآن کے مسودہ میں مناسب جگہوں پر اصلاح کر لوں یا اضافہ کرنے کی ضرورت ہو تو اضافہ کر لوں چنانچہ اُن کو کتاب بھجوادی گئی ہے۔
گو شروع میں صرف ایک ہزار کاپی کی اشاعت کا اعلان ہوا تھا مگر اس وقت تک خدا تعالیٰ کے فضل سے تین ہزار چھ سو کی درخواست آ چکی ہے مگر پریس اتنی تعداد میں تفسیر چھاپ نہیں سکا اس لئے جن لوگوں کی خریداری کے لئے درخواستیں آئی ہوئی ہیں انہیں باری باری اور آہستہ آہستہ تفسیر دے دی جائے گی۔
خدا تعالیٰ کے فضل سے اس تفسیر میں اکثر مضامین آ گئے ہیں۔ پہلے خیال تھا کہ اس کے 1200 صفحات ہوں گے مگر بعد میں مضمون لمبا ہو گیا۔ چنانچہ اب اصل تفسیر کے 1320 صفحات ہیں اور 34 صفحات ضمیمہ کے ہیں۔ جو نوٹ لمبے ہو گئے ہیں انہیں تفسیر کے آخر میں بطور ضمیمہ لگا دیا گیا ہے۔ پھر 112 صفحات کی فہرست مضامین بھی جسے انگریزی میں انڈیکس کہتے ہیں کتاب کے شروع میں لگا دی گئی ہے۔ یہ انڈیکس اتنا وسیع ہے کہ پہلے
تمام انڈیکسوں سے اعلیٰ ہے اور ان سے بہت زیادہ مضامین اس میں آگئے ہیں۔
ترجمہ کے متعلق یہ خیال رکھا گیا ہے کہ وہ با محاورہ ہو۔ اس سے پہلے تمام تراجم قریباً تحت اللفظ ہوتے تھے۔ یعنی عربی زبان میں جس لفظ کا جو مقام ہوتا تھا اُس کو بیان کر دیا جاتا تھا لیکن اُس میں یہ نقص ہوتا تھا کہ اردو جاننے والا جس کو قرآن کریم سمجھانا مقصود ہوتا تھا اس کے معنی اچھی طرح سمجھ سکتا تھا لیکن با محاورہ ترجمہ سے ہر اُردو جاننے والا قرآن کریم کا مفہوم آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ اس لئے ہم نے با محاورہ ترجمہ کیا ہے اور عربی زبان کے لحاظ سے جو مقام کسی لفظ کا تھا اُسے ترجمہ کے نیچے نوٹ میں ظاہر کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن کریم کے مختصر مضامین بھی درج کر دیئے ہیں۔ اس طرح ترجمہ با محاورہ بھی ہو گیا ہے۔ تحت اللفظ بھی ہو گیا ہے اور تفسیر بھی ساتھ آگئی ہے۔ غرض یہ تفسیر گو مختصر ہے مگر ایسی مکمل ہے کہ بعض مضامین اس میں ایسے آگئے ہیں کہ وہ تفسیر کبیر میں بھی نہیں آئے۔ اب جو شخص تفسیر کبیر کی طرح ان نوٹوں کو پھیلانا چاہے گا وہ انہیں پھیلا سکے گا اور جو شخص انہیں پھیلانے کی قابلیت نہیں رکھتا وہ قرآن کریم کے مفہوم سے واقف ہو جائے گا۔
دوسری چیز جو خدا تعالیٰ نے ہمیں دی ہے وہ یہ ہے کہ پچھلے سال میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر ایک تقریر میں کہا تھا کہ گو ہم نے اب تک فلپائن میں اپنا کوئی مبلغ نہیں بھیجا مگر تاہم وہاں 72 افراد سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے ہیں۔ اب اطلاع آئی ہے کہ وہاں سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے والوں کی تعداد 200 تک پہنچ گئی ہے۔ ان لوگوں میں سکولوں اور کالجوں کے طالب علم اور گورنمنٹ کے بعض بڑے بڑے افسر جیسے محکمہ تعلیم کے افسران اور اسی طرح بعض دوسرے محکموں کے افسر شامل ہیں۔ بعض سکول اور کالج ایسے ہیں جن کے طلباء کی ایک بڑی تعداد احمدیت میں داخل ہو چکی ہے۔ پس کیا بلحاظ کمیت اور کیا بلحاظ کیفیت دونوں لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں فلپائن میں فتح عظیم بخشی ہے۔
فلپائن کوئی معمولی ملک نہیں بلکہ بڑا اہم ملک ہے۔ اس کو ابتداء میں مسلمانوں نے فتح کیا تھا بہت قدیم زمانہ میں مسلمان سیلون آئے۔ سیلون سے انڈونیشیا گئے اور انڈونیشیا
سے جا کر انہوں نے فلپائن فتح کیا۔ بعد میں اس پر سپین نے قبضہ کر لیا۔ اور پھر سپین سے یہ ملک امریکہ نے چھین لیا اور سپین والوں نے مسلمانوں کو بالجبر عیسائی بنایا۔ چنانچہ ایک جگہ پر تلوار لٹکا دی گئی اور اعلان کر دیا گیا کہ جو مسلمان اس کے نیچے سے گزرتے ہوئے عیسائیت کا اقرار کرے گا اُس کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ لیکن جو عیسائیت کا اقرار نہیں کرے گا اُس کی گردن اسی تلوار سے اڑا دی جائے گی۔ اِس طرح فلپائن کے سارے مسلمان باشندوں کو ایک ہی دن میں عیسائی بنا لیا گیا۔ پس فلپائن کوئی معمولی ملک نہیں بلکہ اس کی حیثیت سپین سے دوسرے نمبر پر ہے۔ اس جگہ ہمارے سلسلہ کا پھیل جانا بڑی برکت کا موجب ہے۔ خصوصاً اس لئے بھی کہ اس ملک کی رومن کیتھولک حکومت ہمارے مبلغوں کو نہ صرف وہاں جانے نہیں دیتی بلکہ وہاں کے نو مسلموں کو پڑھنے کے لئے ربوہ بھی نہیں آنے دیتی۔ اب خبر آئی ہے کہ برابر تین سال کے جھگڑے کے بعد حکومت نے ایک نو مسلم کو ربوہ آنے کی اجازت دی ہے اور اس کے متعلق بھی یہ یقین نہیں کہ وہ یہاں آ بھی سکے گا یا نہیں۔ بہرحال اس ملک کی یہ کیفیت ہے کہ ہمارے آدمیوں کو اُدھر جانے نہیں دیا جاتا اور اُدھر کے آدمیوں کو اِدھر نہیں آنے دیا جاتا تا کہ کہیں عیسائیت میں رخنہ نہ پیدا ہو جائے۔
پھر یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ فلپائن کے ایسے علاقہ کے لوگ احمدیت میں داخل ہوئے ہیں جو سارے فلپائن پر غالب ہیں۔ پچھلی جنگِ عظیم میں جاپانیوں کا مقابلہ انہی لوگوں کی مدد سے کیا گیا تھا۔ یہ لوگ جنگل میں رہتے ہیں اور ہم تو اس فعل کو ناجائز سمجھتے ہیں مگر چونکہ وہ اپنے پہلے مذہب کے پیرو ہیں اس لئے وہ رائفلیں لے کر جنگل سے نکل آتے ہیں اور جو عیسائی انہیں نظر آئے اُسے گولی مار دیتے ہیں۔ گویا ان کی مثال قبائلی پٹھانوں کی طرح ہے جو نہی انہیں کوئی عیسائی نظر آتا ہے وہ اسے گولی مار دیتے ہیں اور پھر جنگل میں چھپ جاتے ہیں۔ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے اسی علاقہ میں احمدیت پھیل رہی ہے اور وہاں ایسے مخلص پیدا ہو گئے ہیں جو دوسرے احمدیوں کی نگرانی کرتے رہتے ہیں اور ہمیں اطلاع دیتے رہتے ہیں کہ فلاں احمدی میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے۔ اس کی اصلاح کی جائے یا اسے جماعت سے خارج کیا جائے۔
اب میں آئندہ سال کا پروگرام بتاتا ہوں آئندہ سال کے لئے ہمارا یہ پروگرام ہے کہ مسند احمد بن حنبل کی تبویب کو مکمل کیا جائے ۔ ملک سیف الرحمن صاحب اور ان کے ساتھ کام کرنے والوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ آئندہ نومبر تک اس کتاب کو مکمل کر دیں گے۔ چونکہ اس کام کے لئے علمِ حدیث کی پوری مہارت کی ضرورت تھی اس لئے یہ کام سلسلہ کے علماء کے سپرد کیا گیا تھا۔ لیکن با وجود اس کے کہ سلسلہ سے ہزاروں روپے لے کر انہوں نے تعلیم حاصل کی تھی اور سینکڑوں روپے ماہوار دے کر ہم نے ان کو حدیث کا علم سکھانے کے لئے ماہرینِ حدیث مقرر کئے تھے پھر بھی ان میں سے بعض کی لالچ اور حرص غیر احمدی مولویوں سے کم ثابت نہیں ہوئی لیکن اس کے باوجود میرا ارادہ ہے کہ آئندہ سال اس کتاب کو ان سے مکمل کرایا جائے گا۔ اِنْشَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰی ٰ
اس کے علاوہ میرا یہ بھی ارادہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو اسلام کی اردو انسائیکلو پیڈیا بھی تیار کرائی جائے ۔ میرا اندازہ ہے کہ یہ کتاب دو ہزار صفحات پر مشتمل ہوگی اور جس طرح تفسیر صغیر کے بعد قرآن کریم کی مختصر تفسیر اور با محاورہ ترجمہ کے لئے کسی اور کتاب کی کم ہی ضرورت پیش آئے گی اسی طرح اس انسائیکلو پیڈیا کے بعد اسلام کے متعلق حوالہ جات نکالنے کے لئے کسی اور کتاب کی بہت کم ضرورت پیش آئے گی۔
اب میں ایک نئی قسم کے وقف کی تحریک کرتا ہوں۔ میں نے اس سے پہلے ایک خطبہ جمعہ میں بھی اس کا ذکر کیا تھا اور اُس وقت بہت سے لوگوں نے بغیر تفصیلات سنے اپنے آپ کو پیش کر دیا تھا۔ میں نے اُن کو کہہ دیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی اور میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر تقریر میں اس نئے وقف کی تفصیلات بیان کر دیں تو ان تفصیلات کو سن کر اگر تم میں ہمت پیدا ہوئی تو پھر تم اپنے آپ کو پیش کر دینا۔
میری اِس وقف سے غرض یہ ہے کہ پشاور سے لے کر کراچی تک ہمارے معلمین کا جال پھیلا دیا جائے اور تمام جگہوں پر تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر یعنی دس دس پندرہ پندرہ میل پر ہمارا معلم موجود ہو اور اُس نے مدرسہ جاری کیا ہوا ہو یا دُکان کھولی ہوئی ہو اور وہ سارا سال اُسی علاقہ کے لوگوں میں رہ کر کام کرتا رہے ۔ اور گو یہ سکیم بہت وسیع ہے مگر میں نے خرچ کو مدّ نظر رکھتے ہوئے شروع میں صرف دس واقفین لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ممکن ہے بعض واقفین افریقہ سے لئے جائیں یا اور غیر ملکوں سے بھی لئے جائیں مگر بہر حال ابتدا دس واقفین سے کی جائے گی اور پھر بڑھاتے بڑھاتے ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔
اس سکیم کی تفصیل یہ ہے کہ ہم اس سکیم کے واقفِ زندگی کو چالیس سے ساٹھ روپیہ تک ماہوار الاؤنس دیں گے۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ انتہائی الاؤنس کو مدّ نظر رکھتے ہوئے بھی اس سکیم کا خرچ دس معلّمین پر صرف 7200 روپے سالانہ ہوا کرے گا۔ مگر کچھ امداد ہم زمینداروں سے بھی لیں گے۔ اور وہ اس طرح کہ جہاں جماعتیں زیادہ ہوں گی وہاں ہم کوشش کریں گے کہ وہ آٹھ، دس ایکڑ زمین اس سکیم کے لئے وقف کر دیں۔ اُس مقام پر ہم اپنے نئے واقفِ زندگی کو ٹھہرائیں گے جو اُس زمین میں باغ لگائے گا اور اُس باغ میں اپنا مکان بنائے گا۔ اس مکان کے بنانے میں وہ اس علاقہ کے احمدیوں سے کوئی مدد نہیں لے گا ہاں مزدوری وغیرہ کی مدد لے گا یا پرانے درخت تحفہ کے طور پر قبول کرے گا جن سے چھتیں اور دروازے بن سکیں۔ پھر بعض واقفین کو اگر ممکن ہو سکا تو ہم کمپونڈری بھی سکھا دیں گے اور کچھ رقم دواؤں کیلئے بھی دیدیں گے اور ان سے جو آمد ہو گی وہ ہم انہی پر خرچ کریں گے۔ ان سے خود کچھ نہیں لیں گے۔ اسی طرح ہم بعض واقفین زندگی کو کہیں گے کہ وہاں سکول کھول دیں جو ابتدا میں چاہے پرائمری تک ہی ہوں اور اُن میں مدرسہ احمدیہ کا نصاب جو اُردو میں ہو گا پڑھانا شروع کر دیں تاکہ اُس علاقہ میں دو تین سال کے اندر اندر مزید معلّمین پیدا ہو جائیں۔ اگر ان سکولوں میں علاقہ کے مناسب حال کوئی فیس بھی لگا دی جائے تو وہ ہم نہیں لیں گے بلکہ وہ فیس بڑے اور چھوٹے استادوں میں تقسیم کر دی جائے گی۔ ہاں ہمارا دیا ہوا عطیہ اُس میں ملا لیا جائے گا تا کہ تمام استادوں کو معقول رقم مل جائے۔ ہمارا یہ بھی ارادہ ہے کہ بعض واقفین کو اُس علاقہ میں جن میں ان کا تقرر کیا جائے ۔ روزمرہ کی ضرورت کی چیزوں کی دُکانیں کھلوا دیں اور جہاں دس دس میل تک کوئی حکیم اور طبیب نہ ہو وہاں عطاری کی دُکان کھلوا دیں۔ جس میں عرق بادیان، عرقِ گاؤ زبان اور خشک دوائیں جیسے بنفشہ، لَسوڑیاں اور کالی مرچ وغیرہ رکھوائی جائیں۔ ان دکانوں کو چلانے کے لئے روپیہ ہم اس سکیم سے دیں گے۔
اس سکیم کو چلانے کے لئے اُن دوستوں سے جو تعاون کے لئے تیار ہوں چھ روپیہ سالانہ چندہ لیا جائے گا جسے پھیلا کر یعنی آٹھ آنہ ماہوار کے حساب سے بھی دیا جاسکتا ہے۔ اس طرح صرف دس ہزار آدمی مل کر اس سکیم کو پانچ چھ گنا تک وسیع کر سکتے ہیں۔ اور پھر اس سکیم کو اور بھی پھیلایا جاسکتا ہے۔ اگر خدا چاہے اور ہمیں ایک لاکھ آدمی اس سکیم میں چندہ دینے والا مل جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ قریباً ایک ہزار معلم رکھا جاسکتا ہے۔ اور جو ابتدائی سکیم میں نے بتائی ہے اس سے سَو گنا کام کیا جاسکتا ہے۔ پس میں جماعت کے دوستوں سے کہتا ہوں کہ وہ جتنی قربانی کرسکیں اس سلسلہ میں کریں اور اپنے نام اس سکیم کے لئے پیش کریں۔ اگر ہمیں ہزاروں معلم مل جائے تو پشاور سے کراچی تک کے علاقہ کو ہم دینی تعلیم کے لحاظ سے سنبھال سکتے ہیں اور ہر سال دس دس بیس بیس ہزار اشخاص کی تعلیم وتربیت ہم کرسکیں گے۔ بہرحال دوست اس سکیم کو نوٹ کرلیں۔ اس کے لئے اپنے نام پیش کریں اور اس سلسلے میں اگر کوئی مفید بات ان کے ذہن میں آئے تو اس سے بھی اطلاع دیں۔ میں نے مختصراً اس سکیم کو بیان کردیا ہے کہ ہم ایسے واقفین کو40 سے 60 روپیہ ماہوار تک دیں گے۔ اگر ہوسکا تو کمپونڈری کی تعلیم دلائیں گے۔ علاقہ کے زمینداروں کو تحریک کریں گے کہ وہ آٹھ دس ایکڑ زمین اس سکیم کے لئے وقف کردیں۔ اس زمین میں ہم باغ لگوا دیں گے۔ بعض علاقوں میں بڑے بڑے زمیندار احمدی ہیں اُن کے لئے اس قدر زمین وقف کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ پھر واقفِ زندگی اس زمین سے اِس قدر پیداوار کرسکتا ہے جو اُسے کفایت کرسکے۔ اب تو ایسے طریق نکل آئے ہیں جن پر عمل کرکے تھوڑی زمین سے بھی زیادہ پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔ امریکہ میں ایک ایک ایکڑ سے اتنی پیداوار لی جاتی ہے کہ ہمارے ملک میں اتنی پیداوار بیس ایکڑ زمین سے بھی حاصل نہیں ہوتی۔ مثلاً امریکہ سے مجھے مکئی کا ایک نمونہ آیا تھا۔ اس مکئی کے متعلق فرم والوں نے لکھا تھا کہ اس سے فی ایکڑ سال میں ہم پچاس سے سو من تک
پیداوار حاصل کرتے ہیں لیکن ہم ایک ایکڑ سے صرف بیس پچیس من پیدا کرتے ہیں۔ اگر اتنی پیداوار ہمارے ملک میں بھی ہونے لگ جائے تو یہ آٹھ ایکڑ زمین بتیس ایکڑ کے برابر ہو جائے گی۔ پھر اگر ہم اس میں گندم بوئیں تو اور زیادہ آمد ہو گی۔ اگر گنا بوئیں تو آمد اور بھی بڑھ جائے گی۔ پشاور کی طرف گنا عام بویا جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں تھوڑی تھوڑی زمین سے بھی بڑی آمد پیدا کی جاتی ہے اور معمولی معمولی زمیندار بھی بڑے دولت مند ہوتے ہیں۔ وہاں زمین کی بڑی قدر ہے۔
مجھے یاد ہے ایک دفعہ اس علاقہ کی ایک لڑکی جو بڑی مخلص احمدی ہے میرے پاس آئی۔ اس کے باپ نے جو بڑا زمیندار تھا اپنی زمین میں سے لڑکوں کے ساتھ اپنی اس لڑکی کو بھی حصہ دے دیا تھا۔ اُس نے مجھے بتایا کہ میرے باپ نے مجھے دوسو پچھتر جریب زمین دے دی ہے۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ اُسے ایک سوینتیس ایکڑ زمین مل گئی تھی۔ پس اگر زمینیں رکھنے والے دوست آٹھ آٹھ دس دس ایکڑ زمین اس سکیم کے لئے وقف کریں تو ہمارا واقفِ زندگی بڑی عمدگی سے گزارہ کرسکتا ہے۔ چک منگلا اور چنڈ بھروانہ کی طرف جو احمدی ہوئے ہیں اُن میں سے بالعموم جو احمدی یہاں آتا ہے وہ کہتا ہے میری زمین 8 مربعے ہے۔ دوسرا کہتا ہے میری زمین سولہ مربعے ہے۔ تیسرا کہتا ہے میری زمین 40 مربعے ہے۔ 8 مربعوں سے کم تو مجھے کسی نے بھی زمین نہیں بتائی۔ اور جس احمدی کے پاس 8 مربعے زمین ہو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ دوسو ایکڑ کا مالک ہے اور جس کے پاس 40 مربعے زمین ہے اس کے پاس ایک ہزار ایکڑ زمین ہے اور اس قدر زمین میں سے آٹھ ایکڑ اس سکیم کے لئے وقف کر دینا کونسی مشکل بات ہے۔
یہ علاقہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقی کر رہا ہے اور یہی وہ بہادر لوگ ہیں جن کی ایک عورت کی مثال کل میں نے اپنی افتتاحی تقریر میں بیان کی تھی۔ وہ بیعت کرنے یہاں آئی ہوئی تھی کہ شام کو اُس کی بیٹی بھی یہاں آ گئی۔ اُس نے کہا اماں ! تُو نے مجھے کہاں بیاہ دیا ہے۔ وہ لوگ تو میری بات سنتے ہی نہیں۔ تُو نے مجھے جو کتابیں دی تھیں میں انہیں پڑھ کر سناتی ہوں تو وہ سنتے ہی نہیں۔ میں احمدیت پیش کرتی ہوں تو وہ ہنسی اور مذاق کرتے ہیں
اور مجھے پاگل قرار دیتے ہیں۔ وہ عورت کہنے لگی بیٹی! تُو میری جگہ آ کر اپنے والد بھائیوں اور دوسرے عزیزوں کی روٹی پکا۔ میں تیرے سسرال جاتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ کون میری بات نہیں سنتا۔ میں ان سب کو احمدی بنا کر ہی دم لوں گی۔ شاید یہی عورت جلسہ سالانہ سے چند ماہ قبل یہاں آئی۔ اس کے پاس ایک بچہ تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے وہ ربوہ نہیں آتا تھا۔ میں اُس کا بچہ اٹھا لائی ہوں کہ وہ اس بچہ کی وجہ سے تو ربوہ آئے گا۔ مجھے کسی نے بتایا تھا کہ اس کا وہ بھائی احمدیت کے قریب ہے لیکن چودھری فتح محمد صاحب نے جن کے سپرد یہ علاقہ ہے بتایا ہے کہ وہ احمدی ہو گیا ہے اور اس وقت جلسہ سالانہ پر آیا ہوا ہے۔‘‘
اِس موقع پر چودھری فتح محمد صاحب کے کہنے پر وہ دوست کھڑے ہو گئے اور سب حاضرینِ جلسہ نے انہیں دیکھا۔
’’تو دیکھو یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا فضل ہے کہ یا تو وہ بھائی ربوہ آتا نہیں تھا اور اس کی بہن اس کا بچہ اٹھا لائی کہ شاید وہ اس بچہ کی وجہ سے ربوہ آ جائے اور یا اب وہ احمدی ہو گیا ہے اور اس وقت جلسہ سالانہ پر آیا ہوا ہے۔‘‘
اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ:
’’عورتوں نے مجھے بتایا ہے کہ پچھلے سال جلسہ سالانہ کے انتظامات میں بعض باتیں ایسی تھیں جو اچھی تھیں مگر اس سال وہ نظر نہیں آئیں۔ مثلاً انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ پچھلے سال اُس سڑک کو جو جلسہ گاہ سے میرے گھر کی طرف جاتی ہے پندرہ بیس خدام مقرر کر کے تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ ایک طرف سے عورتیں گزرتی تھیں اور ایک طرف سے مرد گزرتے تھے اور درمیان میں سے موٹریں گزرتی تھیں لیکن اس سال یہ انتظام نہیں ہے۔ تعجب ہے کہ انتظام میں ہر سال ترقی ہونی چاہیے تھی مگر اس کے خلاف اس انتظام میں خرابی پیدا ہو گئی ہے۔ بجائے اس کے کہ اس سال پہلے سے بھی زیادہ اچھا انتظام کیا جاتا اور خدام کی تعداد میں اضافہ کر دیا جاتا تا وہ اس سڑک کو ہی نہیں بلکہ دوسری سڑکوں کو بھی تین حصوں میں پھاڑ کر اس قسم کا انتظام کر دیتے اس انتظام کو سرے سے ہی اُڑا دیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں عورتوں کو تکلیف ہوئی ہے۔
میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے دلوں میں پختہ عزم کر لو کہ تم نے احمدیت کو مضبوط کرنا ہے اور قربانی کے لئے تیار رہنا ہے۔ دیکھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کس قدر قربانی کیا کرتے تھے۔ چند صحابہؓ دُشمن کے مقابلہ میں چلے جاتے تھے اور ان کے پرّے کے پرّے اڑا دیتے تھے۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں قیصر کو بار بار شکست ہوئی تو اُس نے ایک دربار منعقد کیا اور اس میں اپنے ساتھیوں کو اُبھارا کہ تم پوری ہمت اور جوش سے مسلمانوں کا مقابلہ کرو۔ اُس زمانہ میں قیصر کی حکومت ویسی ہی تھی جیسے آج کل امریکہ اور روس کی حکومتیں ہیں۔ چنانچہ قیصر کی طرف سے اس کا ایک جرنیل ایک بڑا بھاری لشکر لے کر مسلمانوں کے مقابلہ پر آیا۔ اسلامی سپہ سالار حضرت ابوعبیدہؓ بن الجراح نے صحابہؓ کو مشورہ کے لئے جمع کیا اور کہا آپ لوگ بتائیں قیصر روما کے لشکر کا کیسے مقابلہ کیا جائے؟ اُس وقت حضرت خالدؓ نے کہا میرا مشورہ تو یہ ہے کہ ساٹھ ہزار کے لشکر کے مقابلہ میں ہماری طرف سے صرف 60 آدمی جائیں تاکہ اگر ہمیں فتح حاصل ہو تو دشمن پر ہمارا رُعب بیٹھ جائے۔ پھر انہوں نے کہا آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اپنی مرضی کے ساٹھ آدمی چُن لوں۔ میں ان سپاہیوں کے ساتھ قلبِ لشکر پر حملہ کردوں گا اور ہمارے مدّنظر صرف یہ بات ہو گی کہ ہم دُشمن کے سپہ سالار کو قتل کردیں۔ چنانچہ حضرت ابوعبیدہؓ کی رضامندی سے حضرت خالدؓ نے 60 آدمی چُن لئے اور انہیں کہہ دیا کہ اسلامی لشکر اس وقت خطرہ میں ہے تمہارا فرض ہے کہ تم دشمن کے اندر نیزہ کی طرح گھستے جاؤ اور سپہ سالار پر حملہ کردو۔ اگر تم اس حملہ میں کامیاب ہو گئے اور تم نے سپہ سالار کو مار دیا تو اسلام کی فتح یقینی ہے۔ چنانچہ ان 60 سپاہیوں نے اتنی تیزی اور شدّت سے دشمن کے قلب پر حملہ کیا کہ سارا لشکر بھاگ گیا۔ اس حملہ میں کچھ صحابہؓ زخمی ہو کر گر گئے۔ ان میں حضرت عکرمہؓ، حضرت فضل بن عباسؓ اور بعض دوسرے صحابہؓ بھی شامل تھے۔
تاریخ میں آتا ہے کہ حضرت عکرمہؓ سخت زخمی پڑے تھے کہ ایک صحابی نے دیکھا کہ وہ شدتِ پیاس کی وجہ سے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر رہے ہیں۔ وہ جلدی سے ان کے پاس گئے اور کہنے لگے بھائی! تم بہت پیاسے معلوم ہوتے ہو میرے پاس پانی کی ایک چھاگل ہے تم اس سے کچھ پانی پی لو تا تمہاری زندگی تازہ ہوجائے۔ حضرت عکرمہؓ نے اپنے دائیں طرف دیکھا تو حضرت فضل بن عباسؓ بھی زخمی پڑے تھے اور وہ بھی شدتِ پیاس کی وجہ سے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر رہے تھے۔ انہوں نے اس صحابی کو کہا مجھے نظر آرہا ہے کہ اِس وقت میرا ایک اور ساتھی پانی کا حاجتمند ہے۔ اس لئے تمہیں خدا کی قسم! پہلے انہیں پانی پلاؤ پھر میرے پاس آنا۔ چنانچہ حضرت عکرمہؓ کے قسم دینے پر وہ صحابی حضرت فضلؓ کے پاس گئے لیکن انہوں نے بھی اپنے ایک اور ساتھی کی طرف اشارہ کرکے کہا پہلے اُسے پانی پلاؤ پھر میرے پاس آنا۔ اُس زخمی نے اگلے ساتھی کی طرف اشارہ کیا۔ اسی طرح وہ صحابی چھاگل لے کر سات زخمیوں کے پاس گئے جو وہاں پڑے تھے لیکن اُن ساتوں میں سے ہر ایک نے اپنے دوسرے ساتھی کو پانی پلانے کے لئے کہا۔ جب وہ صحابی آخری زخمی کے پاس گئے تو وہ فوت ہو چکے تھے اور جب وہ حضرت عکرمہؓ کے پاس واپس آئے تو وہ بھی فوت ہو چکے تھے۔ 3
اسی طرح تاریخ میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجد کے قریب کے علاقہ کے بعض لوگ آئے اور انہوں نے درخواست کی کہ ان کے ساتھ تبلیغ کے لئے بعض مسلمانوں کو بھجوا دیا جائے۔ آپ نے ان کے ساتھ 70 حفاظ بھجوا دیئے۔ جب یہ لوگ وہاں پہنچے تو انہوں نے سازش کر کے ان مسلمانوں پر حملہ کر دیا اور دو آدمیوں کے سوا جو اونٹوں کو چرانے کے لئے باہر چلے گئے تھے باقی سب کو شہید کر دیا۔ جب وہ واپس آئے اور انہوں نے دیکھا کہ ان کے سب ساتھی میدان میں شہید ہو چکے ہیں تو ان میں سے ایک نے تو یہ کہتے ہوئے کہ جہاں ہماری جماعت کا سردار شہید ہوا ہے میں اس جگہ کو نہیں چھوڑ سکتا تنِ تنہا کفار پر حملہ کر دیا اور لڑتا ہوا مارا گیا۔ اور دوسرے کو گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں ایک قسم کی بناء پر جو قبیلہ کے ایک سردار نے کھائی ہوئی تھی اُسے چھوڑ دیا گیا۔ ان حفاظ میں جنہیں شہید کیا گیا تھا حضرت ابوبکرؓ کے غلام عامرؓ بن فہیرہ بھی تھے یہ عامرؓ بن فہیرہ وہی تھے جو ہجرت کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ تھے۔
جب انہیں ایک شخص نے گلے کے پاس نیزہ مارا اور وہ نیچے گرے تو گرتے وقت ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَةِ۴ خدائے کعبہ کی قسم! میں اپنی مراد کو پہنچ گیا۔ اُس وقت اس قبیلہ میں باہر کا ایک مہمان بھی آیا ہوا تھا جسے قبیلہ کے لوگ حملہ کے وقت اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ اس نے بعد میں بتایا کہ جب میں نے انہیں فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَةِ کہتے سُنا تو میں سخت حیران ہوا اور میں نے کسی شخص سے پوچھا کہ یہ شخص تو مر گیا ہے اور پھر مرا بھی اپنے وطن اور عزیزوں سے دُور ہے اسے تو مرتے وقت ہائے میری ماں یا ہائے میری بیوی وغیرہ کہنا چاہیے تھا اس نے فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَةِ کے الفاظ کیوں کہے اس نے مجھے بتایا کہ مسلمان ایسے ہی پاگل ہوتے ہیں۔ جب وہ خدا کی راہ میں مارے جاتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ وہ شخص کہتا ہے کہ اس بات کا میرے دل پر اتنا اثر ہوا کہ میں مدینہ پہنچا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ اسلام کیا چیز ہے؟ آپؐ نے مجھے بتایا تو میں نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سالہا سال تک زندہ رہا۔ مسلمان اسے ملتے اور کہتے کہ ستر حفاظ کی شہادت کا واقعہ سُناؤ تو وہ سارا واقعہ بیان کرتا اور ساتھ ہی کہتا کہ مجھے جب کبھی اس واقعہ کا خیال آتا ہے تو میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اب بھی جبکہ میں نے یہ واقعہ سنایا ہے میری پیٹھ پر سے کپڑا اُٹھا کر دیکھ لو میرے بال کھڑے ہیں۔ مجھ پر جس چیز کا اثر ہوا وہ یہ تھا کہ ایک شخص اپنے وطن سے دُور، اپنے بیوی بچوں اور عزیزوں سے دُور، دُشمن کے علاقہ میں مارا جاتا ہے اور وہ مرتے ہوئے ہائے میرا وطن ہائے میری ماں ہائے میری بیوی یا ہائے میرے بچے نہیں کہتا بلکہ کہتا ہے۔ فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَةِ خدائے کعبہ کی قسم! میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا۔ یہ الفاظ اُسی وقت زبان سے نکل سکتے ہیں جب کسی سچائی پر انسان کا مستحکم یقین ہو۔ پس میں تو اس واقعہ کو دیکھ کر مسلمان ہو گیا تھا اور سمجھ گیا تھا کہ اسلام سچا ہے۔ ۵
تو یاد رکھو کہ اگر تمہارے اندر ایمان پیدا ہو جائے اور تقویٰ اور اخلاص کو لے کر تم کھڑے ہو جاؤ تو دنیا تمہارے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اگر تم ہر قسم کی قربانیوں
کے لئے تیار رہو اور احمدیت کو مضبوط کرنے کے لئے کوشاں رہو اور اپنے اختلافات کو مٹا کر متحد ہو جاؤ تو کوئی وجہ نہیں کہ خدا تعالیٰ تمہیں اپنے نیک مقاصد میں کامیاب نہ کرے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ تم ہمت کر کے کھڑے ہو جاؤ اور عزم کر لو کہ تم نے احمدیت کو مضبوط کرنا ہے۔ اور پھر اس کام میں لگ جاؤ تو اِنْشَاءَ اللّٰهُ فتح و نصرت تمہارے قدم چومے گی اور دشمن کی مخالفت کے باوجود احمدیت پھیلتی چلی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ وقت بھی آجائے گا جب سب دنیا میں احمدی ہی احمدی ہو جائیں گے۔
ایک ضروری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے مسجد ہالینڈ کی تعمیر کے لئے عورتوں میں ایک لاکھ پندرہ ہزار روپیہ کی تحریک کی تھی۔ جس میں سے ننانوے ہزار روپیہ عورتیں اس وقت تک دے چکی ہیں۔ لیکن جو اندازہ وہاں سے آیا تھا وہ ایک لاکھ چونتیس ہزار روپے کا تھا اور عملاً اب تک ایک لاکھ چھتر ہزار روپیہ خرچ ہو چکا ہے۔ تحریک جدید کا ریکارڈ کہتا ہے کہ عورتیں ننانوے ہزار روپیہ دے چکی ہیں اور پھر مسجد لندن جو بنی تھی وہ بھی عورتوں کے چندہ سے ہی بنی تھی۔ دراصل عورتوں نے برلن میں مسجد تعمیر کرنے کے لئے چندہ جمع کیا تھا۔ میں نے اس چندہ کی تحریک کی تو عورتوں نے اپنے زیور اتار اتار کر یہ چندہ جمع کر دیا۔ چنانچہ اس روپیہ سے مسجد برلن کے لئے زمین خرید لی گئی۔ لیکن حکومت کی طرف سے بعض کڑی شرائط لگا دی گئی تھیں جن کی وجہ سے ہم نے وہ زمین بیچ دی اور جو روپیہ ملا اس سے لندن میں مسجد تعمیر کر دی۔ اس مسجد پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپیہ خرچ آیا تھا پھر اس کے ساتھ دو مکان سواساتھ ہزار پونڈ میں خریدے گئے۔ سواساتھ ہزار پونڈ کے معنے یہ ہیں کہ آجکل کے حساب سے ان مکانات پر ستانوے ہزار روپیہ خرچ آ چکا ہے اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ مسجد پر بھی خرچ آیا تھا۔ گویا عورتیں دو لاکھ سینتالیس ہزار روپیہ پہلے بھی دے چکی ہیں اور ننانوے ہزار روپیہ مسجد ہالینڈ کے لئے دے چکی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود تحریک جدید والے عورتوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ انہیں چھہتر ہزار روپیہ اور دیں حالانکہ اگر مسجد لندن اور وہاں کے مکانات جو عورتوں کے چندہ سے ہی بنے ہیں فروخت کئے جائیں تو اس رقم سے مسجد ہالینڈ کا سارا قرض ادا ہو سکتا ہے بلکہ وہاں ایک اور مسجد بھی بنائی جاسکتی ہے۔
میں نے وکالتِ مال کے شعبہ بیرون کے انچارج چودھری شبیر احمد صاحب کو بلایا اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ایسا ریکارڈ ہے جس سے معلوم ہو کہ جب ہیگ سے ایک لاکھ چونتیس ہزار روپے کا تخمینہ آیا تھا تو میں نے عورتوں سے اس قدر چندہ کرنے کی اجازت دی ہو کیونکہ عورتوں کا حق تھا کہ چندہ لینے سے پہلے ان سے پوچھ لیا جاتا کہ کیا وہ یہ چندہ دے بھی سکتی ہیں یا نہیں؟ انہوں نے کہا افسوس ہے کہ اُس وقت ہم سے غلطی ہوئی اور ہم نے حضور سے دریافت نہ کیا کہ آیا مزید رقم بھی عورتوں سے جمع کی جائے یا نہ کی جائے؟ ہمارے پاس ایسا کوئی ریکارڈ نہیں جس کی رُو سے زیادہ رقم اکٹھا کرنے کی منظوری لی گئی ہو۔ میں نے کہا میں یہ مان لیتا ہوں کہ آپ نے ایک لاکھ چونتیس ہزار روپیہ کے جمع کرنے کی منظوری مجھ سے نہ لی لیکن جب وہ رقم ایک لاکھ پچھتر ہزار بن گئی تو پھر تو آپ نے مجھ سے منظوری لینی تھی کیا آپ نے مجھ سے منظوری لی؟ انہوں نے پھر یہی جواب دیا کہ ہم نے اس کے متعلق بھی حضور سے کوئی منظوری نہیں لی اور ہمارے پاس کوئی ایسا کاغذ نہیں جس میں یہ لکھا ہو کہ عورتوں سے ایک لاکھ چونتیس ہزار یا ایک لاکھ پچھتر ہزار روپیہ جمع کرنا منظور ہے۔ اس لئے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ لجنہ اماء اللہ اس سال صرف چھتیس ہزار روپیہ چندہ کرکے تحریک جدید کو دے دے اور باقی روپیہ تحریک جدید خود ادا کرے۔ لجنہ اماء اللہ چھتیس ہزار روپے سے زیادہ نہیں دے گی اور مسجد ہالینڈ ہمیشہ کے لئے عورتوں کے نام پر ہی رہے گی۔ اگر مسجد لندن کو بھی ملا لیا جائے تو عورتیں تین لاکھ چھیالیس ہزار روپیہ ادا کر چکی ہیں۔ اور اگر ہیمبرگ جرمنی کی مسجد پر اس کا قیاس کیا جائے تو وہ چودہ لاکھ کا شہر ہے اور ہیگ سے بڑا ہے لیکن وہاں صرف ایک لاکھ بیس ہزار روپیہ خرچ آیا ہے۔ اب فرینکفورٹ میں مسجد کی زمین لی جارہی ہے اور اندازہ ہے کہ وہاں مسجد کی تعمیر پر اس سے بھی کم خرچ آئے گا۔
دیکھو اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت پر کتنا فضل کیا ہے۔ منارۃ المسیح کی تعمیر کے لئے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تحریک کی تو صرف دس ہزار روپیہ کی تحریک کی تھی اس پر میر حسام الدین صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بڑے
بے تکلف تھے آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے منارہ کی تعمیر پر ایک لاکھ روپیہ سے کم خرچ نہیں آئے گا اور پھر موجودہ بنیادوں پر تعمیر نہیں ہوسکتا۔ ہمارے نانا جان مرحوم میر ناصر نواب صاحب مینار بنوارہے تھے انہوں نے کہا میں نے بڑی اچھی بنیاد رکھی ہے اس پر مینار بن جائے گا۔ میر حسام الدین صاحب کہنے لگے پھر مجھ سے تو یہ کام نہیں ہوسکتا آپ کسی اور سے بنوالیں۔ نانا جان کہنے لگے میں یہ مینار بنوادوں گا اور ان ہی بنیادوں پر بنواؤں گا جو رکھی گئی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام میر حسام الدین صاحب سے فرمانے لگے میر صاحب! پھر آپ کا تو یہ منشاء ہے کہ ہم منارہ ہی نہ بنائیں۔ ایک لاکھ روپیہ تو ہمارے پاس نہیں۔ اب دیکھو اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام صرف دس ہزار روپیہ ساری جماعت سے مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک لاکھ روپیہ نہیں لیکن اب یہ حالت ہے کہ ہم اپنی عورتوں سے ایک لاکھ روپیہ کی اپیل کرتے ہیں تو وہ اکٹھا کردیتی ہیں۔ بہرحال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا میر صاحب! آپ کی رائے کو مانا جائے تو پھر منارۃ المسیح نہیں بن سکتا اس لئے میں یہ کام میر ناصر نواب صاحب کے سپرد کرتا ہوں۔ چنانچہ بعد میں میر صاحب مرحوم نے ہی منارہ کی تعمیر شروع کروائی لیکن یہ کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں نہ ہو سکا بلکہ کچھ مدت تک میرے زمانہ خلافت میں بھی ملتوی رہا۔ اس پر میں نے دوبارہ چندہ جمع کیا اور تحریک کی کہ جو دوست ایک ایک سو روپیہ چندہ دیں گے اُن کے نام منارۃ المسیح پر لکھے جائیں گے اور تعمیر کا کام میں نے ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کے سپرد کیا۔ انہوں نے اجمیر سے سنگ مرمر منگوا کر اس پر پلستر کروایا۔ خیال تھا کہ یہ پلستر زیادہ دیر تک نہیں رہے گا لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ پلستر چڑھ گیا اور 1947ء میں جب ہم یہاں آئے تو اُس وقت تک بھی بہت تھوڑا پلستر ٹوٹا تھا۔
اِس موقع پر حضور نے اعلان فرمایا کہ
’’این انٹر پریٹیشن آف اسلام (An Interpretation of Islam) ایک کتاب ہے جو پہلے ایک اٹالین پروفیسر نے جو عورت تھی لکھی تھی اور اس کا ترجمہ بھی امریکہ میں ایک اٹالین پروفیسر نے کیا تھا۔ اس کتاب کا دیباچہ چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے لکھا ہے۔ اس کتاب میں اسلام کی جو تعریف کی گئی ہے۔ وہ آج تک کسی عیسائی مصنف نے نہیں کی۔ ڈیڑھ روپیہ اس کی قیمت ہے۔ اس کو شائع کرنے والا محکمہ چاہتا ہے کہ میں اس کے خریدنے کی سفارش کردوں۔ درحقیقت یہ کتاب ہمارے ہاں تو زیادہ مفید بھی نہیں۔ کراچی، کویت، امریکہ اور یورپین ممالک میں مفید ہو سکتی ہے۔ ان جگہوں پر جو دوست اسلام کی خدمت کرنا چاہیں وہ یہ کتاب خریدیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ مغربی پاکستان میں صرف کراچی ہی ایسی جگہ ہے جہاں اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ۔ کراچی سے کئی بار مجھے غیر احمدیوں نے لکھا ہے کہ ہمیں انگریزی لٹریچر دیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں بھی ایک طبقہ ایسا ہے جس کو انگریزی لٹریچر پڑھنے کی عادت ہے اور ان میں اس کتاب کی اشاعت کی جاسکتی ہے۔ پس جن لوگوں کو یورپین اور انگریزی جاننے والے لوگوں میں اسلام کی تبلیغ کا شوق ہو وہ یہ کتاب خریدیں قیمت بھی زیادہ نہیں ہے۔ درحقیقت ایسی چیزیں آہستہ آہستہ بکتی ہیں جلسہ سالانہ کے دنوں میں نہیں بکتیں۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر تو لوگوں کو تحریک ہی کی جاسکتی ہے اور اس تحریک کو زندہ رکھنا محکمہ کا کام ہوتا ہے۔ یہ کتاب دیر سے چھپی ہوئی ہے چاہیے تھا کہ محکمہ اس کے متعلق لوگوں کو بار بار تحریک کرتا رہتا۔ ایک مداری اگر بندر کے تماشا کے لئے ڈگڈگی بجا کر لوگوں کو اکٹھا کر لیتا ہے تو آپ لوگ اسلام کی ایک کتاب بیچنے کے لئے لوگوں کو کیوں آمادہ نہیں کر سکتے۔ اگر آپ لوگ اس کا ڈھنڈورا پیٹتے تو ہزاروں مسلمان تھے جو اُچھل کر آگے آجاتے اور کہتے عیسائیوں کو مسلمان بنانے کا ایک حربہ ہمارے ہاتھ آگیا ہے۔
آج ہی آپ لوگوں نے مسٹر بشیر احمد آرچرڈ کا لیکچر سنا ہے انہوں نے بتایا ہے کہ عیسائیوں میں ان کی تبلیغ کس طرح کامیاب ہو رہی ہے اور جزائر شرق الہند میں احمدیت کی طرف توجہ کی جارہی ہے۔ بہرحال یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو اس نے ہم پر کیا ہے۔ اور یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہی ایک برکت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تھا۔
آرہا ہے اس طرف احرارِ یورپ کا مزاج
نبض پھر چلنے لگی مُردوں کی ناگہ زندہ وار 6
چنانچہ دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ پیشگوئی کس طرح پوری ہوئی کہ ایک عیسائی پروفیسر نے اسلام کی تائید میں ایک کتاب لکھی ہے اور وہ بھی ایک عورت ہے اور عورتیں بالعموم متعصب ہوا کرتی ہیں۔
مجھے یاد ہے ایک دفعہ مشن کالج لاہور کی کچھ پروفیسر عورتیں قادیان آئیں۔ میں جب احمدیت کے متعلق باتیں کرنے لگا تو ان میں سے دو تو بڑے شوق سے سنتی رہیں لیکن ایک نے دوسری عورتوں سے کہا کہ ہم یہ باتیں برداشت نہیں کر سکتیں چلو چلیں۔ اسی طرح سویڈن سے ایک عورت قادیان میرے پاس آئی وہ ناروین تھی اور بڑے لمبے قد کی عورت تھی۔ اس نے بھی تھوڑی سی باتیں سنیں اور پھر کہنے لگی۔ میں یہ باتیں نہیں سن سکتی اسلام تو تلوار سے پھیلا ہے پھر اٹھ کر چلی گئی اور اُسی وقت قادیان سے واپس آ گئی۔
تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہمارے اِس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ پیشگوئی کہ
آرہا ہے اس طرف احرارِ یورپ کا مزاج
بڑی شان سے پوری ہو رہی ہے۔ یہ توجہ تو چند سال ہوئے پیدا ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کے متعلق پیشگوئی کوئی پچاس سال قبل کی تھی۔ آپ 1908ء میں فوت ہوئے اور اب 1957ء ہے۔ تو یہ الٰہی تصرف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے منہ سے جو الفاظ نکلوائے وہ اب پورے ہو رہے ہیں۔ دراصل یہ الٰہی سنت ہے کہ وہ اپنے انبیاء کے منہ سے نکلی ہوئی باتوں کو پورا کر دیتا ہے بلکہ بعض دفعہ وہ یہ سلوک انبیاء کے علاوہ اپنے بعض دوسرے بندوں سے بھی کرتا ہے اور ان کی زبان سے نکلی ہوئی باتوں کو پورا کر دیتا ہے۔ بہرحال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خواہش تھی کہ امریکہ میں اسلام کی اشاعت ہو اور یہ خواہش خدا تعالیٰ نے ایک رنگ میں آپ کی زندگی میں ہی پوری کر دی اور وہ اس طرح کہ ایک شخص مسٹر ویب مسلمان ہو گیا۔ یہ شخص امریکہ کا پہلا مسلمان تھا۔ سب سے پہلے یہ شخص فلپائن میں سفیر بن کر آیا۔ وہاں سے بعض متمول ہندوستانی مسلمانوں نے اسے روپیہ بھیج کر ہندوستان بلوایا اور مختلف شہروں میں
اس کے لیکچر کروائے۔ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں بھی لکھا کہ میں اسلام کی تبلیغ کرنا چاہتا ہوں آپ میری مدد کریں۔ آپ نے اسے لکھا کہ ہم سے جو مدد ہوسکی ہم کریں گے۔ لیکن جب وہ ہندوستان پہنچا اور اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملنے کی خواہش کی تو دوسرے مسلمانوں نے اسے روکا اور کہا کہ اگر تم قادیان گئے تو لوگ تمہیں چندہ نہیں دیں گے۔ چنانچہ وہ قادیان نہ آیا اور واپس چلا گیا۔ مگر وہ آخروقت تک اسلام پر بڑی مضبوطی سے قائم رہا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے قریب اُس نے مفتی محمد صادق صاحب کو لکھا کہ اب میں پچھتاتا ہوں کہ میں اُس وقت قادیان کیوں نہ چلا گیا۔
اِسی طرح ایک اور شخص پروفیسر ریگ تھا وہ بھی اسلام لے آیا۔ اس کا اصلی وطن تو انگلستان تھا مگر وہ بہت دیر تک آسٹریلیا میں ملازم رہا۔ بعد میں وہ ہندوستان میں آیا اور یہاں علمِ نجوم کے متعلق لیکچر بھی دیتا رہا۔ اس کو بھی مفتی محمد صادق صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں لائے تھے۔ اُس نے کہا مجھے یہ معلوم کر کے بڑی خوشی ہوئی کہ آپ کا مذہب سائنس کے مطابق ہے۔ میں آپ کی بیان کردہ باتوں کو تسلیم کرتا ہوں اور اپنے ملک میں واپس جا کر بھی اسلام کی تبلیغ کروں گا۔ یہ سب کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خواہشات کا ظہور تھا۔ آپ نے فرمایا تھا
آ رہا ہے اس طرف احرارِ یورپ کا مزاج
نبض پھر چلنے لگی مُردوں کی ناگہ زندہ وار
اور خدا تعالیٰ نے ان الفاظ کو اسی رنگ میں پورا کر دیا۔ یہ ایک نشان ہے جو ہمارے لئے اِزدیادِ ایمان کا موجب ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت اتنا ہو گیا ہے کہ مجھے اپنی تقریر ختم کرنی چاہئے کیونکہ کمزوری کی وجہ سے ابھی لمبی تقریر کرنا میرے لئے مشکل ہے اور پھر کل بھی میں نے تقریر کرنی ہے اور اس میں حسبِ سابق ایک علمی مضمون بیان کرنا ہے۔ اس لئے مجھے اپنے جسم میں کچھ طاقت باقی رکھنی چاہیے تاکہ مَیں وہ تقریر کر سکوں۔‘‘ (الفضل 14، 16، 19، 23؍ فروری 1958ء)
2: (i) مکرم ملک سیف الرحمن صاحب (مسند احمد بن حنبل کی تبویب کے سلسلہ میں) -/300 روپے۔ (ii) مکرم مولوی جلال الدین صاحب شمس (تفسیر صغیر کی طباعت کے سلسلہ میں) -/300 روپے۔ (iii) مکرم مولوی نورالحق صاحب (تفسیر صغیر کے کام کے سلسلہ میں) -/300 روپے۔ (iv) خاکسار محمد یعقوب (انچارج شعبہ زود نویسی) تفسیر صغیر کے کام کے سلسلہ میں -/170 روپے۔ (v) مکرم منشی عبد الحق صاحب کاتب (تفسیر صغیر کی کتابت کے سلسلہ میں) -/150 روپے۔ (vi) مکرم منشی محمد اسماعیل صاحب کاتب (تفسیر صغیر کی کتابت کے سلسلہ میں) -/150 روپے (vii) مکرم منشی انور احمد صاحب سنگساز (تفسیر صغیر کی سنگسازی کے سلسلہ میں) -/150 روپے
3: الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب جلد3 صفحہ 191 مطبوعہ بیروت 1995ء
4: بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الرَّجِیع (الخ) حدیث نمبر 4091 صفحہ 693 الطبعۃ الثانیۃ مطبوعہ ریاض 1999ء
5: سیرت ابن ہشام الجزء الثانی صفحہ 971 مطبوعہ دمشق 2005ء
6: درثمین اُردو صفحہ 130 مطبوعہ نظارت اشاعت ربوہ
از سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
(فرمودہ 28؍دسمبر 1957ء بمقام ربوہ)
تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد ’’سیر روحانی‘‘ کے اہم موضوع پر تقریر کرنے سے قبل حضور نے احبابِ جماعت کو بعض ضروری امور کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:-
’’میری زندگی میں کئی دَور ایسے گزرے ہیں جن میں خدا تعالیٰ نے مجھ سے ایسے کام لئے ہیں جو اس طرف اشارہ کرتے تھے کہ آنے والا مصلح دین میں ہی ہوں گا۔
اوّل تو وہ وقت آیا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فوت ہوئے۔ اُس وقت میری عمر صرف 19 سال کی تھی اور میں نے دیکھا کہ کئی بڑے بڑے پرانے احمدی کہتے پھرتے تھے کہ بے وقت موت ہوگئی ہے اب تو اس سلسلہ میں داخل رہنا بڑا مشکل ہے۔ لاہور کے ایک ڈاکٹر تھے مگر ڈاکٹر سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب یا ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ تھے وہ اور ڈاکٹر تھے اور کسی وقت اُن میں اتنا اخلاص ہوتا تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو جو ڈیرہ غازیخان کی رہنے والی تھی خود قادیان میں لا کر رکھا ہوا تھا تاکہ وہ حضرت صاحب کی خدمت کرے۔ وہ شاعرہ بھی تھی اور عجیب قسم کے ہنسی والے شعر بناتی تھی جن میں مولویوں کی ہنسی اُڑاتی تھی اور پھر روزانہ اپنی کاپی لا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سناتی تھی کہ میں نے یہ شعر کہے ہیں۔ پھر وہ لاہور چلے گئے۔ اُن کی لڑکی بھی باقاعدہ سند یافتہ ڈاکٹر تھی اور بیوی بھی ڈاکٹری کا کام کرتی تھی لیکن وہ امتحان میں پاس نہیں ہوسکی تھی۔ میں لاہور میں ایک دفعہ اُن کے گھر بھی گیا تھا۔ انہوں نے بھینس رکھی ہوئی تھی اور بڑے خوش تھے کہ اُنہیں لاہور میں جگہ مل گئی ہے۔ غرض وہ ایسا نازک وقت تھا
کہ ایسے پرانے مخلص لوگ بھی جو قادیان میں کئی کئی مہینے اپنی بیویوں کو اس لئے رکھتے تھے کہ وہ حضرت صاحب کی خدمت کریں اور ان کی ڈائری ہم کو بھیجا کریں وہ یہ کہنے لگ گئے تھے کہ اب تو احمدیت میں رہنا بڑا مشکل ہے۔
جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فوت ہوئے ہیں اُس وقت میں باہر اپنی بڑی بیوی کو لینے کے لئے گیا ہوا تھا جو اپنی والدہ سے ملنے کے لئے مجھ سے چھٹی لے کر گئی ہوئی تھیں۔ مگر اچانک حضرت صاحبؑ کی وفات ہوگئی اور میں ایک ٹمٹم لے کر اور اس میں ان کو سوار کرا کے واپس لایا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہو چکے تھے۔ اُس وقت اس ڈاکٹر کی یہ بات سن کر کہ اب احمدیت میں کون رہ سکتا ہے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سرہانے کھڑا ہوا۔ حضرت (اماں جان) تو اپنی ہمت کے مطابق یہ کہتی جاتی تھیں کہ اے خدا! ہمارا آسرا ان پر نہیں تھا تجھ پر تھا۔ یہ مر گئے ہیں مگر تو زندہ ہے۔ اُمید ہے کہ تُو ہمارا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔ اور میرے دل میں اُس وقت جوش اٹھا اور میں نے کہا کہ اے خدا! مجھے یقین ہے کہ مسیح موعودؑ سچا تھا۔ اب یہ فوت ہو گیا ہے اور اب بظاہر اس کے مشن اور اس کی تعلیم کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں۔ میں بچہ ہوں پر، اے میرے خدا! میں تیری قسم کھا کے کہتا ہوں کہ اگر ساری دنیا نے اس سے منہ موڑ لیا تو میں اس سے منہ نہیں موڑوں گا اور میں اُس وقت تک چین نہیں لوں گا جب تک کہ ساری دنیا کو اس کے قدموں میں لا کر نہ ڈال دوں۔
یہ پہلا فعل تھا جس کو دیکھ کر اب پتا لگتا ہے کہ درحقیقت اس سے میرے مصلح موعود ہونے کی طرف اشارہ ہوتا تھا۔ گو میں نے اُس وقت اس سے یہ اشارہ نہیں سمجھا۔
دوسری دفعہ پھر یہ بات اس طرح ظاہر ہوئی کہ میں 1913ء میں شملہ گیا۔ وہاں میرے بہنوئی نواب محمد علی خان صاحب اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لے کر گئے ہوئے تھے۔ جماعت شملہ نے مجھے کہا کہ یہاں آپ ایک تقریر کریں۔ اس تقریر کے نوٹ میں نے لکھے اور پھر اس خیال سے کہ اس جلسہ کے متعلق اشتہار بھی چھاپ دیں میں نے ارادہ کیا کہ ایک اشتہار چھپوا لیا جائے۔ مگر جس پریس میں بھی میں گیا انہوں نے تعصب کی وجہ سے اشتہار چھاپنے سے انکار کر دیا۔ آخر میں نے ایک دستی پریس خریدا تاکہ اُس پر اشتہار چھاپ لیا جائے اور شہر میں تقسیم کر دیا جائے کہ فلاں وقت جلسہ ہو گا۔ حافظ روشن علی صاحب مرحوم میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ بھی اس کام میں میرے ساتھ شریک ہو گئے۔ میں نے چاہا کہ پانچ سات سو یا ایک ہزار اشتہار نکل جائے تا کہ لوگوں کو توجہ پیدا ہو مگر چونکہ یہ لمبا کام تھا اس لئے کام کرتے کرتے رات کے ساڑھے بارہ بج گئے۔ جب رات کے ساڑھے بارہ بجے تو حافظ صاحب کہنے لگے کہ آپ کو تو معلوم نہیں کیا ہو گیا ہے کہ آپ اس کام کو چھوڑتے ہی نہیں۔ میں تو اب سوتا ہوں۔ یہ کہہ کر انہوں نے زمین پر سر رکھا اور سر رکھتے ہی اُن کے خراٹوں کی آواز آنے لگ گئی۔ میں نے سمجھا کہ شاید مذاق کر رہے ہیں مگر جب ٹٹولا تو سچ مچ سوئے ہوئے تھے۔ بہرحال دوسرے دن وہ اشتہار لوگوں میں بانٹا گیا۔
اُنہی دنوں میں نے خواب میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ میرے سامنے آیا ہے اور اس نے مجھے کہا ہے کہ تیرے راستہ میں بڑی مشکلات ہیں۔ اُس وقت روٴیا میں مجھے نظر آیا کہ ایک پہاڑی ہے جس میں ایک راستہ بنا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا کہ تم اس راستہ پر نیچے کی طرف چلے جاؤ۔ وہ تمہاری منزلِ مقصود ہے۔ لیکن راستہ میں تم کو بڑی بڑی بلائیں ملیں گی۔ کبھی تو کٹے ہوئے سر تمہارے سامنے آئیں گے جن کے ساتھ دھڑ نہیں ہوگا، کبھی دھڑ تمہارے سامنے آئیں گے اور ان کے سر نہیں ہوں گے۔ وہ بلائیں تمہیں آکر ڈرائیں گی اور بعض دفعہ تم کو اپنی طرف بلائیں گی اور کہیں گی کہ ادھر آؤ مگر تم نے اُن کی باتوں کا جواب نہیں دینا۔ تم اپنا کام کرتے چلے جانا اور یہ کہتے چلے جانا کہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ، خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔ چنانچہ یہ ایک عجیب بات ہے کہ میری پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بالکل یہی الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ جب اس پیشگوئی کی شہرت کامل درجہ پر پہنچ گئی:
’’تب خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے 12 جنوری 1889ء کو مطابق 9 جمادی الاول 1306ھ میں بروز شنبہ محمود پیدا ہوا۔‘‘۱
اور پھر آج تک میں جو بھی مضمون لکھتا ہوں اس کے اوپر اس خواب کے مطابق یہ ضرور لکھتا ہوں کہ:
’’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ‘‘
چنانچہ آج بھی جو نوٹ میرے پاس ہیں اُن پر بھی لکھا ہوا ہے کہ ’’خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ۔
اب دیکھو یہ 1913ء کا واقعہ ہے۔ جس پر چوالیس سال گزر چکے ہیں مگر چوالیس سال میں مَیں نے کبھی اس طریق کو نہیں چھوڑا بلکہ اس کے بعد جو بھی میں نے تحریر لکھی یا تقریر کے نوٹ تیار کئے اُس کے اوپر میں نے یہ ضرور لکھا کہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ۔ ’’ هُوَ النَّاصِرُ ‘‘ میں اس لئے لکھا کرتا ہوں کہ خواجہ میر دردؔ جن کا میں نواسہ ہوں ان کے والد خواجہ محمد ناصر صاحب کو خدا تعالیٰ نے الہاماً بتایا تھا کہ جو شخص اپنی کسی تحریر کی پیشانی پر هُوَ النَّاصِرُ لکھے گا اللہ تعالیٰ اُس تحریر کو مقبولیت عطا فرمائے گا۔ 2
اسی طرح جب ان پر آسمانی انوار کا دروازہ کھولا گیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا کہ ’’یہ ایک خاص نعمت تھی جو خانوادۂ نبوت نے تیرے واسطے محفوظ رکھی ہوئی تھی۔ اس کی ابتداء تجھ سے ہوئی ہے اور انجام اس کا مہدی موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ہوگا۔‘‘ 3
یعنی آخری زمانہ میں مسیح موعودؑ ظاہر ہوگا اور تیرا خاندان اس کے خاندان میں مل جائے گا۔ چنانچہ حضرت اماں جان جو حضرت خواجہ میر درد کے خاندان میں سے تھیں جب ان کی شادی غیر معمولی حالات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہوئی تو خواجہ میر درد صاحب مرحوم کا خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے آ کر مل گیا۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت سید احمد صاحب بریلویؒ کو تیرھویں صدی کا مجدّد قرار دیا ہے۔ 4 اور ہمارے نانا جان صاحب مرحوم کی ایک بہن بھوپال میں ایک مولوی صاحب سے بیاہی گئی تھیں جو سید احمد صاحب بریلویؒ کے مرید تھے اور جن کو انہوں نے اپنا خلیفہ بنا کر بھوپال میں بھیجا تھا اور کہا تھا کہ وہاں جا کر حدیث کو رائج کرو۔ مجھے جو خوابیں آئی تھیں میں نے انکی غلط تعبیر کی تھی۔ میں نے سمجھا تھا کہ شاید میں ہی مہدی موعود ہوں مگر معلوم ہوتا ہے میں مہدی موعود نہیں اور چونکہ میرا وقت
اب قریب آ گیا ہے اس لئے تم ہندوستان میں واپس جاؤ۔ چنانچہ انہوں نے اِس غرض کے لئے تین آدمی بھیجے تھے۔ ایک کو بہاولپور بھیجا۔ ایک صاحب کو جن کے شاگردوں میں مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی بھی تھے جو اہلحدیث کے مشہور لیڈر تھے بنگال کی طرف بھیجا کیونکہ بنگال سے انہیں بہت مدد آتی تھی۔ اور ایک کو بھوپال بھیجا۔ اس سے پتا لگتا ہے کہ خدائی نوشتوں میں یہ پہلے سے مقدر تھا کہ اِدھر سے خواجہ میر درد صاحب کے ساتھ یہ سلسلہ مل جائے اور اُدھر سے حضرت نانا جان صاحب مرحوم کی بہن کے ذریعہ سے تیرھویں صدی کے مجدد سے یہ سلسلہ جا ملے اور اِس طرح وہ بات پوری ہو جائے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تحریر فرمائی تھی کہ خدا تعالیٰ نے سیّد احمد صاحب بریلویؒ کو میرے لئے الیاس کے رنگ میں بھجوایا تھا 5 چونکہ انہوں نے جن لوگوں کو اپنا خلیفہ بنا کر ہندوستان بھیجا تھا اُن میں سے ایک خواجہ میر درد صاحبؒ کی نواسی کے خاوند تھے اس لئے دونوں طرف سے یہ رشتہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان سے آ کر مل گیا۔ بہرحال جیسا کہ میں نے بتایا ہے مجھے رؤیا میں کہا گیا کہ تم اس پہاڑی پر چلے جاؤ۔ جب میں چلا تو مجھے اس طرح کی شکلیں نظر آنے لگیں کہیں بڑے بڑے ہاتھیوں کی شکل جیسے آدمی دکھائی دیتے تھے۔ بعض کا منہ تو آدمیوں کا سا ہوتا تھا لیکن جسم ہاتھی کا۔ پھر کہیں اونٹ دکھائی دیتے جن کے ہاتھ پیر آدمیوں والے ہوتے اور جسم اونٹ والا۔ پھر آگے کوئی آدمی ملتا تو میں دیکھتا کہ اُس کا دھڑ تو ہے لیکن سر غائب ہے اور وہ شکلیں مجھے اپنی طرف بلاتیں اور کہتیں کہ جنگل میں آ جاؤ مگر مجھے خدا تعالیٰ کا بتایا ہوا فقرہ یاد رہا اور میں یہ کہتا چلا گیا کہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ اور میں نے اُن کی کسی بات کا جواب نہ دیا یہاں تک کہ چلتے چلتے میں اس جنگل کے پار گزر گیا۔ جب میں جنگل سے پار گزرا تو آگے اترائی آ گئی۔ جب میں اُترائی پر آیا تو میں نے دیکھا کہ سامنے پہاڑی پر خدا تعالیٰ بیٹھا ہوا ہے۔ میں نے خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہی کہا کہ خدایا! آپ کا احسان ہے کہ آپ مجھے خیر و عافیت سے یہاں لے آئے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ دیکھو! مسیح موعود میرا نبی ہے اس پر یقین رکھو۔ اور اگر چاہو تو پھر اس پہاڑی پر واپس چلے جاؤ۔ مگر میں نے کہا میں واپس نہیں جانا چاہتا میں اَب یہیں رہوں گا۔ غرض اُس وقت خدا تعالیٰ کے منہ سے میں نے سنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میرے نبی ہیں۔
یہ دوسرا موقع تھا جس میں خدا تعالیٰ نے مجھے عملی طور پر مصلح موعود ہونے کی طرف ”خدا کے فضل اور رحم“ کے الفاظ کے ساتھ توجہ دلائی لیکن میں نے پھر بھی مصلح موعود ہونے سے انکار ہی کیا۔ خواجہ کمال الدین صاحب نے بار بار لکھا کہ اگر تم مصلح موعود ہو تو قسم کھا جاؤ میں مان لوں گا 6؎ مگر میں نے کہا جب تک خدا مجھے نہیں کہے گا میں نے قسم نہیں کھانی۔ جب خدا مجھے صاف لفظوں میں کہے گا کہ تُو مصلح موعود ہے تب میں اپنے آپ کو مصلح موعود کہوں گا۔ ورنہ جب تک خدا مجھے نہیں کہے گا میں اپنے آپ کو مصلح موعود نہیں کہوں گا۔
چنانچہ 1944ء میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ تم مصلح موعود ہو۔ اس پر میں نے ایک جلسہ ہوشیار پور میں جا کر کیا جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مصلح موعود کی پیشگوئی بتائی گئی تھی۔ اور دوسرا جلسہ لاہور میں کیا جہاں مجھ پر اس پیشگوئی کے متعلق یہ انکشاف ہوا تھا کہ میں ہی اس کا مصداق ہوں۔ اور تیسرا جلسہ لدھیانہ میں کیا جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پہلی بیعت لی تھی۔ اور چوتھا جلسہ دلّی میں کیا کیونکہ دلّی میں حضرت خواجہ میر درد صاحب والی پیشگوئی پوری ہوئی تھی اور میر دردؒ کی اولاد مہدی کے ساتھ آ کر مل گئی تھی اور دونوں ایک ہو گئے تھے۔
تیسرا نشان اُس وقت ظاہر ہوا جب حضرت خلیفہ اوّل فوت ہوئے یعنی ایک نشان تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد ظاہر ہوا اور دوسرا نشان ایک اور طرح پر حضرت خلیفہ اوّل کی وفات پر ظاہر ہوا۔ حضرت خلیفہ اول کی بیماری میں میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں جمعہ پڑھا کے نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کے گھر کی طرف جا رہا ہوں اور گاڑی میں بیٹھا ہوا ہوں کہ مجھے پتا لگا کہ حضرت خلیفہ اوّل فوت ہو گئے ہیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ میں اُس دن جمعہ کی نماز پڑھا کر نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کی شِکرم 7؎ میں ان کی کوٹھی کی طرف جا رہا تھا کہ راستہ میں مجھے اطلاع ملی کہ حضرت خلیفہ اوّل فوت ہو گئے ہیں۔ نواب صاحب کو ہی حضرت خلیفہ اوّل نے اپنی وصیت لکھ کر دی تھی اور اُنہی کے کمرہ میں پڑھوائی تھی اور پھر اُنہوں کو آپ نے یہ وصیت دے دی کہ اسے اپنے قبضہ میں رکھو بعد میں کام آئے گی۔ چنانچہ بعد میں ہم نے اسے چھپوا دیا۔ اُس وقت مولوی محمد علی صاحب بھی وہاں بھاگتے ہوئے پہنچے کہ شاید ریوڑیاں بٹ رہی ہوں گی میں بھی اپنا حصہ لے لوں۔ جس وقت وہ وہاں پہنچے اُس وقت اُن کے ساتھ کوئی اَور دوست بھی تھے شاید شیخ رحمت اللہ صاحب تھے یا ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب تھے یہ مجھے یاد نہیں۔ بہرحال خواجہ کمال الدین صاحب نہیں تھے کیونکہ وہ اُس وقت ولایت گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے آ کر مجھے بلوایا اور کہا کہ مولوی محمد علی صاحب آپ سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نکلا تو قادیان سے کھارے کی طرف جو سڑک جاتی ہے اُس کی طرف وہ مجھے لے گئے اور تھوڑی دور جا کر کہنے لگے کہ میاں صاحب! جماعت کے لئے بڑا نازک وقت ہے۔ میں نے کہا مولوی صاحب! بالکل ٹھیک بات ہے بڑا نازک وقت ہے۔ کہنے لگے مولوی صاحب (یعنی حضرت خلیفہ اوّل) تو بڑے بزرگ آدمی تھے اُن کی بیعت ہم نے کر لی اب آگے کیا بنے گا؟ میں نے کہا مولوی صاحب کی بیعت ہم نے محض بزرگ ہونے کی وجہ سے نہیں کی تھی بلکہ اس لئے کی تھی کہ جماعت کا ایک ہاتھ پر اتحاد رہے۔ وہ ضرورت تو اب بھی موجود ہے۔ اس لئے اگر مولوی صاحب فوت ہو گئے ہیں تو کسی اور کے ہاتھ پر ہم جمع ہو جائیں گے۔ بہتر یہ ہے کہ جماعت کے آگے یہ معاملہ پیش کر دیا جائے اور وہ جس کو چُنے اُس کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے۔ مولوی محمد علی صاحب کہنے لگے کہ آپ یہ بات اس لئے کہہ رہے ہیں کہ آپ کو پتا ہے کہ جماعت کس کو چُنے گی۔ میں نے کہا اگر آپ کے نزدیک جماعت مجھے چُنے گی تو پھر آپ کو کیا اعتراض ہے؟ لیکن بہرحال اگر آپ کے دل میں ایسا گندا شبہ ہے تو میں کھڑے ہو کر آپ کا نام پیش کر دوں گا اور کہوں گا کہ مولوی محمد علی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر لو۔ پھر جو میرے ساتھی اور دوست ہیں وہ ضرور آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لیں گے اور جھگڑا ختم ہو جائے گا آپ خلیفہ ہو جائیں گے۔ چنانچہ اس کے بعد میں نے اپنے سارے خاندان کے لوگوں کو جمع کیا۔ ان میں نواب محمد علی خان صاحب اور میاں بشیر احمد صاحب اور غالباً ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب بھی تھے۔ ان
سب کو جمع کر کے میں نے کہا کہ دیکھو! یہ جماعت کے لئے بڑے فتنے کا وقت ہے۔ اگر اس وقت ہم قائم نہ رہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جماعت قیامت تک کے لئے بکھر جائے گی۔ پھر میں نے ان سے ذکر کیا کہ میں نے مولوی محمد علی صاحب کے سامنے یہ بات پیش کی تھی کہ میں آپ کا نام لے دوں گا اور جماعت آپ کی بیعت کر لے گی۔ اور گو انہوں نے انکار کر دیا ہے مگر پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ اگر اب بھی میں ان کا نام لے دوں اور آپ لوگ میری تائید میں ہوں تو ساری جماعت ادھر ہی چلی جائے گی۔ اس لئے آپ لوگ مجھے مشورہ دیں کہ میں کیا کروں؟ اور کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ میں مولوی محمد علی صاحب سے کہہ دوں کہ میں آپ کا نام پیش کرتا ہوں؟
مجھے یاد ہے کہ اُس وقت سب سے پہلے نواب محمد علی خان صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا بالکل ٹھیک بات ہے۔ ہمیں کسی خاص شخص کی خلافت سے غرض نہیں۔ ہمیں تو جماعت کے اتحاد سے غرض ہے۔ آپ ان کا نام پیش کر دیں۔ ہم سب لوگ آپ کی تائید کریں گے۔ لیکن نانا جان صاحب مرحوم نے کچھ ہچکچاہٹ ظاہر کی اور کہا کہ ہم ایسے شخص کی بیعت کس طرح کر سکتے ہیں۔ مگر میں نے کہا آپ نہ کریں میں تو کر لوں گا۔ اور جب میں کر لوں گا تو پھر آپ کوئی اور آدمی تلاش کر لیں۔ آپ کو آخر مجھ پر ہی امید ہے مگر میں نے بہرحال مولوی محمد علی صاحب کی بیعت کر لینی ہے پھر آپ جو چاہیں کریں۔ اس پر وہ بھی دب گئے۔ مگر خدا کی قدرت ہے تھوڑی دیر کے بعد ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا کہ مسجد نور میں بہت سے لوگ جمع ہیں اور آپ کو بلا رہے ہیں۔ میں وہاں گیا اور میں نے یہی سمجھا ہوا تھا کہ میں کوشش کروں گا کہ لوگ مولوی محمد علی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔ لیکن جب خدا تعالیٰ نے کام مجھ سے لینا تھا تو مولوی محمد علی صاحب کس طرح کھڑے ہو جاتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب میں وہاں پہنچا تو مجھے مولوی محمد احسن صاحب مرحوم نے کہا کہ ہاتھ بڑھائیے اور بیعت لیجئے۔ مجھے بیعت کے الفاظ بھی یاد نہیں تھے۔ میں نے کہا مجھے تو بیعت کے الفاظ یاد نہیں ۔ مولوی سید سرور شاہ صاحب آگے بڑھے اور انہوں نے کہا کہ لفظ مجھے یاد ہیں میں کہتا جاؤں گا آپ دُہراتے جائیے۔ اب پہلے تو مولوی محمد علی صاحب نے انکار کیا تھا لیکن اُس وقت کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے میں بھی تقریر کرنا چاہتا ہوں۔ پہلے میری بات بھی سن لیجئے۔ مگر تمام احمدیوں نے شور مچا دیا کہ ہم نہیں سننا چاہتے بیٹھ جاؤ بیٹھ جاؤ۔ اور اتنا شور مچا کہ مولوی محمد علی صاحب نے سمجھا کہ شاید یہ لوگ مجھے ماریں گے اور وہ ڈر کر بیٹھ گئے۔ غرض جماعت نے میری بیعت کر لی۔
اِس کے بعد انہوں نے لاہور میں جا کر شورش شروع کر دی اور ایسے ایسے جھوٹ بولے کہ جن کا خیال کر کے بھی شرم آتی ہے۔ مثلاً میں ایک دفعہ بڑی مسجد میں جہاں حضرت خلیفہ اول درس دیا کرتے تھے قرآن کریم کا درس دے رہا تھا کہ یہ بھی اِس طرف سے کسی کام کے لئے گزرے اور بعد میں کہہ دیا کہ مجھے پتا لگ گیا ہے کہ میرا اب قادیان میں رہنا ناممکن ہے کیونکہ مجھے لڑکوں نے پتھر مارے اور مجھے ذلیل کر کے میری کوٹھی تک دباتے آئے۔ میں نے کہا مجھے نام بتائیے میں ابھی اُن لڑکوں کو بلواتا ہوں اور انہیں سزا دیتا ہوں۔ پھر میں نے اپنے طور پر لڑکوں کو تحقیق کے لئے بلوایا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے تو کوئی پتھر نہیں مارے۔ پھر میں نے مولوی محمد علی صاحب سے پوچھا کہ لڑکے تو انکار کرتے ہیں۔ وہ کہنے لگے انہوں نے پتھر نہیں مارے تھے بلکہ ایک لڑکے کو میں نے یہ کہتے سنا تھا کہ آؤ مولوی محمد علی صاحب کو روڑا ماریں۔ گویا بات صرف اتنی تھی مگر اس کے لئے بھی میں خود اُن کے مکان پر چل کر گیا اور میں نے کہا کہ میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ لڑکوں کی طرف سے معذرت کروں اور آپ سے خود واقعہ سنوں کہ بات کیا ہوئی ہے۔ اُس وقت انہوں نے مجھے یہ بات بتائی مگر میری معذرت سننے کے بعد بھی کہنے لگے کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اب میرا قادیان میں رہنا مناسب نہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کا یہ دیار محبوب ہے اِس کو نہ چھوڑیں اور جس قسم کی حفاظت آپ کہتے ہیں اس قسم کی حفاظت کا میں ذمہ دار ہوں۔ یا جس قسم کا اعلان آپ چاہتے ہوں اُس قسم کا اعلان میں جماعت کے سامنے کرنے کے لئے تیار ہوں مگر آپ قادیان کو نہ چھوڑیں۔ کیونکہ قادیان آپ کے اور ہمارے محبوب کا دیار ہے۔ اس پر پہلے تو وہ کہنے لگے کہ بہت اچھا میں نہیں جاؤں گا۔ مگر چوتھے دن پتا لگا کہ نہ صرف آپ گئے بلکہ ہماری لائبریری کی کتابیں بھی لے کر بھاگ گئے۔ یہ پہلی چوری تھی جوان سے سرزد ہوئی کہ جتنی کتابیں لائبریری کی اُن کے پاس رہتی تھیں تاکہ قرآن کریم کے ترجمہ میں ان سے مدد لے سکیں وہ ساری لے کر بھاگ گئے۔
قاضی امیر حسین صاحب میرے پاس آئے۔ وہ میرے استاد بھی تھے اور حضرت خلیفہ اول کے بہت دوست تھے۔ کہنے لگے احمدیوں میں بڑا جوش ہے آپ مجھے جانے کی اجازت دیں۔ میں نہر پر سے اُن سے کتابیں چھین کر لے آتا ہوں۔ میں نے کہا قاضی صاحب! اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر ایک شخص دین کو چھوڑ کر چلا گیا ہے تو اُس نے تو اتنی بڑی چیز چھوڑی ہے اس کے مقابلہ میں اگر ایک دو ہزار کی کتابیں ہم نے کھو بھی دیں تو کیا نقصان ہوا۔ اُس نے تو دیارِ محبوب چھوڑا ہے، جماعت چھوڑی ہے، ہم نے صرف چند کتابیں چھوڑی ہیں اس لئے آپ نہ جائیں۔ انہیں یہ بات ناگوار معلوم ہوئی اور چونکہ وہ میرے استاد تھے کہنے لگے میاں! آپ کو سلسلہ کے مال کا درد نہیں؟ میں نے کہا آپ کو سلسلہ کی عزت کا درد نہیں؟ اچھا بہرحال میں ہی ہوں۔ اس طرح یہ تیسرا موقع تھا جس میں خدا تعالیٰ نے یہ ظاہر کیا کہ وہ مجھ سے کام لینا چاہتا ہے۔ اور جو شخص بھی میرے مقابلہ میں کھڑا ہو اللہ تعالیٰ اُس کو ذلیل اور ناکام رکھنا چاہتا ہے اور خود اس کے ہاتھ سے ہی ذلّت کے سامان کر دیتا ہے۔
دیکھو! اگر مولوی محمد علی صاحب اُس وقت مان جاتے اور میں کھڑے ہو کر اعلان کر دیتا کہ ساری جماعت مولوی محمد علی صاحب کی بیعت کر لے تو یقیناً اُس وقت لوگوں کے دلوں کی ایسی دردناک حالت تھی اور دل اتنے ڈرے ہوئے تھے کہ وہ میری بات کا انکار نہ کرتے۔ پھر انہیں مجھ سے محبت بھی تھی کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فوت ہوئے ابھی تھوڑے ہی سال ہوئے تھے۔ پس اس محبت کی وجہ سے اور ادھر حضرت خلیفہ اوّل کی وفات کی وجہ سے دل بہت ڈرے ہوئے تھے۔ دوسرے میرے ساتھ جماعت کی محبت کی ایک نئی وجہ یہ بھی پیدا ہوگئی تھی کہ 1912ء میں میں حج کر کے واپس آیا تو اگلے سال یعنی 1913ء میں میں نے ’’الفضل‘‘ جاری کیا۔ یہ اخبار بھی بڑا مقبول ہوا اور اس کی وجہ سے بھی لوگوں کو میرے ساتھ خاص محبت تھی۔ اور کچھ اس وجہ سے بھی اسے مقبولیت ہوئی کہ اس میں کچھ مضامین حضرت خلیفہ اول نے بھی لکھے تھے جن میں پیغامیوں کو بُرا بھلا کہا گیا تھا۔ اور ایک جگہ پر تو آپ نے یہ الفاظ تحریر فرمائے تھے کہ ”ہزار ملامت پیغام پر جس نے اپنی چٹھی شائع کر کے ہمیں پیغامِ جنگ دیا اور نفاق کا بھانڈا پھوڑ دیا ۔“
پس میں اگر کہہ دیتا کہ مولوی محمد علی صاحب کی بیعت کر لی جائے تو سب لوگ مولوی محمد علی صاحب کی بیعت کر لیتے مگر خدا تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ یہ کام ان سے نہ لے بلکہ مجھ سے لے۔ سو خدا تعالیٰ نے مجھ کو ہی کھڑا کیا اور وہ ناکام رہے۔ یہ تیسری مثال ہے اس بات کی کہ مصلح موعود کے لئے خدا تعالیٰ نے متواتر نشان دکھائے اور اس کی انگلی بار بار اس طرف اُٹھتی تھی کہ میں ہی وہ شخص ہوں جس سے خدا تعالیٰ یہ کام لینا چاہتا ہے۔ اور پھر میرے عمل نے بھی اس بات کو ثابت کر دیا۔
آج مولوی محمد علی صاحب کی تفسیر قرآن بھی موجود ہے اور میری تفسیر بھی۔ ان کی تفسیر تین جلدوں میں ہے اور اس کے 1995 صفحات ہیں اور میری تفسیر قرآن اب تک 3366 صفحات تک مکمل ہو چکی ہے اور 1354 صفحہ کی اب تفسیر صغیر چھپی ہے۔ اگر یہ تفسیر کبیر مکمل ہو جائے تو میرا خیال ہے کہ وہ سات ہزار صفحہ کی کتاب ہو جائے گی اور مولوی صاحب کی اس کے مقابلہ میں صرف بیس سو صفحہ کی کتاب ہو گی۔ پھر اگر دوسری کتابیں دیکھی جائیں جیسے دعوۃ الامیر وغیرہ ہیں اور ان کے صفحات بھی اس میں شامل کئے جائیں تو میری تفسیر کے غالباً بیس ہزار سے زیادہ صفحے ہو جائیں گے اور مولوی صاحب کی کتابیں ان کے مقابلہ میں رکھی جائیں تو وہ بالکل ہیچ نظر آئیں گی۔
پھر مبلغین کو دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے مجھے یورپ میں تبلیغِ اسلام کی ایسی توفیق دی کہ شیخ محمد طفیل صاحب جو غیر مبائعین کے مبلغ ہیں اور آجکل ایمسٹرڈم (Amsterdam) (ہیگ) میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک دفعہ ”پیغامِ صلح“ میں مضمون لکھا کہ اس وقت مغربی دنیا میں ہالینڈ، جرمنی، سپین اور سوئٹزرلینڈ میں مبائعین کے مبلغ کام کر رہے ہیں اور سب ہی پڑھے لکھے مخلص نوجوان ہیں اور سات آٹھ سال ان ممالک میں رہنے کی وجہ سے مغربی زبانوں سے بھی كَمَا حَقُّهٗ واقف ہو چکے ہیں اور ان میں تحریر و تقریر کی کافی مہارت پیدا کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈچ، جرمن اور انگریزی زبان میں ان کے پاس لٹریچر بھی اچھا خاصا موجود ہے۔ غرض اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ سپین میں میں نے کرم الٰہی ظفر کو بھجوایا۔ فرانس میں ملک عطاء الرحمن کو بھجوایا۔ ہالینڈ میں حافظ قدرت اللہ اور غلام احمد بشیر کو بھجوایا۔ پھر مولوی ابو بکر ایوب انڈونیشین کو بھجوایا۔ اسی طرح شیخ ناصر کو سوئٹزرلینڈ میں بھجوایا، ابراہیم خلیل کو اٹلی، سسلی اور فری ٹاؤن بھجوایا، شیخ رشید احمد کو ڈچ گی آنا میں بھجوایا اور خلیل ناصر امریکہ میں کام کر رہے ہیں۔ پہلے مفتی محمد صادق صاحب کام کرتے تھے۔ پھر ماسٹر محمد دین صاحب کام کرتے رہے۔ پھر صوفی مطیع الرحمن صاحب بھجوائے گئے۔ اب خلیل ناصر کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح امریکہ میں اور بھی بہت سے مبلغ کام کر رہے ہیں۔ غرض اُن کی کتابوں سے زیادہ کتابیں لکھنے کی مجھے توفیق ملی اور پھر ان کتابوں کے ساتھ مبلغ بھیجنے کی جو ضرورت تھی جن کے بغیر کتابیں کوئی کام نہیں دے سکتیں خدا تعالیٰ نے مجھے اس کو پورا کرنے کی بھی توفیق دی۔ کیونکہ یورپین لوگ اسلام سے ناواقف ہیں جب تک اُن کو کوئی سمجھانے والا نہ ہو صرف کتاب اُن کے آگے رکھ دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔ مگر ہمارے مبلغین نے ان کتابوں کے ذریعہ سے جیسا کہ آپ نے مسٹر بشیر احمد آرچرڈ کا لیکچر سنا ہے یا ملک عزیز احمد صاحب سے سنا ہے وہاں کے حالات ہی بدل دیئے ہیں۔ ہمارے مبلغ نے صدرِ انڈونیشیا مسٹر سوکارنو کو قرآن شریف پیش کیا تھا جس کا فوٹو بھی چھپ گیا تھا۔ جب قرآن شریف انہیں پیش کیا گیا تو انہوں نے کھڑے ہو کر اُسے لیا۔ اس کو چوما اور پھر اسے سر پر رکھا۔ ہمارا مبلغ بھی اُس وقت اُن کے سامنے کھڑا تھا اس کے بعد انہوں نے خود ہی خواہش کی کہ اس کی فہرستِ مضامین بھی چھاپئے ۔ چنانچہ وہ فہرستِ مضامین اب تفسیر صغیر کے ساتھ لگ گئی ہے۔ جب اس کا انگریزی میں ترجمہ ہو کر غیر ممالک میں جائے گا تو پھر لوگوں کو پتا لگے کہ مولوی محمد علی صاحب کا انڈیکس اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔“ (الفضل 20؍ فروری 1958ء)
اس کے بعد فرمایا:
”آج عورتوں کی طرف سے شکایت پہنچی ہے کہ آٹا نہایت گندا تھا اور روٹیاں کچی تھیں۔ شروع میں جب مَیں نے کھانے کے انتظامات کا معائنہ کیا ہے تو مجھے بتایا گیا تھا کہ کوئلہ اب کے ہم کو امریکن مل گیا ہے جس کی وجہ سے بہت ہی اچھی روٹی پکے گی اور گندم بھی ہم نے شروع میں جمع کر لی تھی۔ اس لئے اعلیٰ درجہ کی گندم ہم کو ملی ہے اور اس سال کا کھانا نہایت اعلیٰ درجہ کا ہوگا۔ اور ہم نے گوشت کیلئے بھی ایسے لوگوں سے ٹھیکہ کیا ہے جو بڑے دیانتدار ہیں اور جن سے ہم نے ضمانتیں لی ہیں اس لئے وہ وفاداری سے اچھا گوشت دیں گے۔ اور ہم نے آلو بھی جمع کر لئے ہیں پہلے شلغم ڈالا جاتا تھا مگر شلغم اس علاقہ میں اچھا نہیں ہوتا۔ وہ جانوروں کو چرانے والا ہوتا ہے اس لئے عورت مرد اس کو اٹھا کر باہر پھینک دیتے تھے۔ مگر اب کے ہم نے آلو جمع کئے ہیں جن کو باہر پھینکنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ گندم اچھی جمع کر لی ہے اور کوئلہ امریکن منگوا لیا ہے اس لئے اس دفعہ ہمارے کھانے کو ”خصوصی امتیاز“ حاصل ہوگا۔ لیکن پچھلے سال جب ”خصوصی امتیاز“ حاصل نہیں تھا تب تو مجھے کوئی شکایت نہیں پہنچی۔ لیکن اس سال جبکہ کھانے کو ”خصوصی امتیاز“ حاصل تھا میرے پاس شکایت آئی ہے کہ بہت سی عورتوں نے کھانا نہیں کھایا اور انہوں نے کہا ہے کہ گندم خراب ہے اور روٹی کچی پکی ہے۔ جہاں تک روٹی کچی پکی پکنے کا سوال ہے اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس دفعہ ایسے نان پزوں کو ٹھیکہ دیا گیا ہے جو پورے ماہر نہیں تھے۔ اور جہاں تک گندم کا سوال ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس کے متعلق غلط فہمی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے خیال میں سمجھا کہ ہم نے جو ادھر اُدھر سے گندم لے لی ہے وہ اچھی ہے حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ اس سال سارے پنجاب میں کہیں اچھی گندم نہیں ہوئی۔ خود ہمارے گھر میں دو مہینے ایسی روٹی پکتی رہی ہے جس کے متعلق شکایت تھی کہ آٹا نہایت گندا ہے۔ میری اپنی زمینوں پر سے میرے لڑکے نے گندم بھیجی تو اس کے متعلق بھی گھر والوں نے کہہ دیا کہ یہ بہت خراب ہے۔ پھر اس نے بازار سے لے کر بھیجی تو پھر انہوں نے کہہ دیا کہ خراب ہے۔ پھر بیج کے لئے جو خاص طور پر گندم رکھی گئی تھی وہ منگوائی گئی تو وہ بھی خراب تھی۔ پس جبکہ اس سال گندم اچھی ہوئی ہی نہیں تو جلسہ کے کارکن کہاں سے اچھی گندم منگواتے۔ یہاں کثرت سے زمیندار بیٹھے ہیں وہ اس بات کو خوب سمجھتے ہیں کہ
اچھی گندم اِس سال پیدا ہی نہیں ہوئی۔ جس زمانہ میں گندم پیدا ہو رہی تھی اُن دنوں بے وقت بارشیں شروع ہوگئیں اور فصلیں سڑگئیں ۔ پہلے سندھ میں مئی کے مہینہ میں گندم کاٹ لیا کرتے تھے مگر اس سال جولائی کے آخر تک نہیں کٹی کیونکہ بارشوں کی وجہ سے موسم لمبا ہوتا چلا گیا۔ یہی حال ربوہ میں بھی رہا۔ پس جو چیز ہوئی ہی نہیں اس کے لئے شکایت کرنی بے جا ہے۔ اس کے لئے تو دعا کرو کہ یہ عذاب جو ہمارے ملک پر کئی سال سے آیا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دور فرمائے۔
اب حالت یہ ہے کہ جو نئی گندم بوئی گئی ہے اس کے متعلق بھی گورنمنٹ کی رپورٹیں یہ ہیں کہ بہت کم گندم پیدا ہوگی ۔ ادھر امریکہ نے کہہ دیا ہے کہ ہم پہلے 9 کروڑ ٹن گندم پاکستان کو دیتے رہے ہیں مگر اب کے سال ہم نہیں دیں گے کیونکہ ہم نے بہت کوشش کی کہ پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا کریں مگر پاکستان پھر بھی اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہوا۔ اس لئے اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اگلے سال ہم مدد نہیں دیں گے۔ پس امریکہ سے جو گندم آنے کی امید تھی وہ بھی ختم ہوئی اور گو امریکن گندم خراب ہوتی تھی مگر پیٹ تو بھر جاتا تھا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری گورنمنٹ چین سے، روس سے، مصر سے، ٹرکی سے اور ایران سے گندم منگوانے کی کوشش کرے گی مگر چین ، مصر اور ٹرکی اتنی گندم مہیا نہیں کر سکتے جتنی امریکہ مہیا کرسکتا ہے بلکہ امریکہ سے تیسرا حصہ بھی مہیا نہیں کر سکتے۔ اگر اس نے 9 کروڑ ٹن مہیا کی تھی تو یہ ایک کروڑ ٹن بھی بمشکل مہیا کرسکیں گے۔ اور جب اپنے ملک میں گندم نہیں ہوگی تو لازمی بات ہے کہ اگلا سال ہمارے ملک کے لئے نہایت تکلیف کا موجب ہوگا سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اعلیٰ درجہ کی بارشیں نازل کرے اور ہماری فصل کے اندر ایسی برکت رکھ دے کہ زمین اپنے اندر سے سونا نکال کر باہر پھینک دے اور ہمارے زمینداروں کی جو بُری حالت اِس سال ہوئی ہے خدا تعالیٰ اس کو بدل کر نیک حالت میں تبدیل کر دے اور آئندہ سے ایسی برکتوں کا زمانہ شروع ہو جائے کہ یہ جو روزانہ طوفان آتے ہیں اور بے وقت بارشیں ہوتی ہیں اور فصلیں خراب ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ اس کو دور فرما دے۔“
اس کے بعد ”سیرِ روحانی“ جیسے اہم موضوع پر تقریر کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا:۔ ”میری آج کی تقریر جو ”سیرِ روحانی“ کے سلسلہ میں ہے اس کا آج پندرھواں مضمون ہے۔ اس تقریر کے کُل سولہ مضمون تھے جن میں سے چودہ ختم ہوچکے ہیں اور پندرھواں آج بیان ہوجائے گا۔ اس کے بعد صرف ایک مضمون رہ جائے گا جو اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی تو اگلے سال ہوجائے گا۔ اس تقریر کا خیال تو مجھے ایک وقتی جذبہ کے ماتحت آیا تھا لیکن یہ اتنی مقبول ہوئی کہ بہت سے لوگوں نے مجھے لکھا ہے کہ یہ تو اسلامک انسائیکلو پیڈیا ہے، ہمیں جس مضمون کی ضرورت ہوتی ہے ہم اس سے نکال لیتے ہیں اور پڑھ کر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ’دیباچہ قرآن‘ اور ’احمدیت‘ اور ’سیرِ روحانی‘ یہ کتابیں عام طور پر بڑی مقبول ہوئی ہیں۔ وہ دو مضمون جو باقی رہ گئے ہیں لنگرخانے اور کتب خانے ہیں۔ میں آج لنگرخانے کا مضمون لیتا ہوں۔
اس مضمون کی تحریک مجھے اس طرح ہوئی کہ جب میں سفرِ دکن سے واپس آیا تو راستہ میں ہم دِلّی میں ٹھہرے۔ میرے ساتھ اُس وقت میری چھوٹی بیوی مریم صدیقہ اور میری ہمشیرہ مبارکہ بیگم اور میری بیٹی امتۃ القیوم تھیں۔ جب ہم دلّی میں آئے تو میں نے کہا کہ ہم ان کو بھی سیر کرا لائیں۔ چنانچہ مختلف مقامات کی میں نے انہیں سیر کروائی۔ ایک دن ہم اوکھلا بند دیکھنے گئے جہاں ذاکر حسین صاحب نے اپنا کالج کھولا ہوا ہے۔ انہوں نے ایک دفعہ کسی آدمی کے ہاتھ مجھے پیغام بھجوایا تھا کہ آپ ضرور آئیں اور مجھے ملیں۔ چنانچہ میں ان کے کالج میں چلا گیا۔ وہ تو اُس وقت بمبئی چلے گئے تھے جرمنی کا کوئی پروفیسر ان کا قائم مقام تھا۔ اس نے مجھ سے باتیں کیں اور کہا کہ یہ بڑی اچھی سیر گاہ ہے اسے آپ پھر کر دیکھیں۔ چنانچہ وہاں ہم نے تغلق کا مقبرہ دیکھا۔ جب اس مقبرہ سے ہم باہر نکلے تو تغلق آباد کے قلعہ کو دیکھنے کے لئے چلے گئے۔ یہ قلعہ ایک بلند جگہ پر واقع ہے اور خاصا اوپر چڑھ کر اس میں داخل ہونا پڑتا ہے میں اپنی بیوی اور بچی کو لے کر اس پر چڑھ گیا۔ جب میں اس کی چوٹی پر چڑھا تو مجھے ساری دلّی نظر آنے لگ گئی کیونکہ وہ ایسی جگہ پر ہے جہاں سے ساری دلّی کے پرانے آثار نظر آتے تھے۔ جب میں اس پر کھڑا ہوا تو مجھے قطب صاحب کی
لاٹ بھی نظر آئی، فیروز شاہ تغلق کی لاٹ بھی نظر آئی، شاہی قلعہ بھی نظر آیا، مسجدیں بھی نظر آئیں۔ مقبرے بھی نظر آئے۔ غرض آثارِ قدیمہ کی بہت سی چیزیں اُس وقت میں نے دیکھیں۔ اور کچھ چیزیں ایسی تھیں جو حیدرآباد سے میں دیکھتا چلا آرہا تھا۔ جب میں نے ان چیزوں کو دیکھا تو میں نے کہا کہ یہ تو ساری دنیا جمع ہوگئی ہے۔ پھر میں کھڑے ہوئے انہی پر غور کرتے کرتے ایسا محو ہوا کہ مجھے کوئی ہوش ہی نہ رہی اور میں اسی محویت کے عالم میں وہاں دیر تک کھڑا رہا۔ یہاں تک کہ میری بہن نے نیچے سے آواز دی کہ جلدی آئیں دیر ہو رہی ہے اور دھوپ تیز ہوتی جاتی ہے۔ مگر میں اُس وقت بالکل بے بس ہو رہا تھا۔ پھر میری بیٹی نے بھی آواز دی کہ ابا جان آ جائیں آپ کب تک دیکھتے رہیں گے۔ اُس وقت یکدم میرے دل میں خیال گزرا کہ یہ کیا ذلیل دنیوی چیزیں ہیں ان سے بہتر چیزیں تو خود قرآن میں موجود ہیں۔ اور اُس وقت بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔ ”میں نے پالیا۔ میں نے پالیا“ جب میں نے کہا میں نے پالیا میں نے پالیا، تو میری لڑکی نے کہا ابا جان آپ نے کیا پالیا؟ میں نے کہا میں یہاں نہیں بتا سکتا۔ جلسہ سالانہ پر میں ساری جماعت کے سامنے بتاؤں گا کہ میں نے کیا پایا ہے۔ چنانچہ اُسی سال سے یہ مضمون چلا آ رہا ہے اور ہر سال ایک ایک یا دو دو مضمون بیان ہو جاتے ہیں۔ اب اگلے سال صرف ایک مضمون رہ جائے گا۔ اس کے بعد پھر فضائل القرآن کا مضمون شروع ہو جائے گا۔ اگر اس کے کچھ نوٹ ہمارے مولوی یعقوب صاحب نے محفوظ رکھے ہوئے ہیں تو پھر فضائل القرآن پیش کئے جائیں گے۔ وہ فضائل القرآن براہین احمدیہ کے اصول پر ہیں یعنی ان میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح قرآن کریم مختلف رنگوں میں دوسری کتابوں پر فضیلت رکھتا ہے بہرحال آج میں لنگر خانے کا مضمون لے رہا ہوں۔“
(الفضل 25 فروری 1958ء)
’’پندرھویں چیز جو 1938ء کے سفرِ دکن میں مَیں نے دیکھی اور جس نے میرے دل کو متاثر کیا وہ شاہی لنگر خانے تھے جو غرباء کیلئے جاری کئے گئے تھے۔ مَیں نے دیکھا کہ بادشاہوں کے محلات کے ساتھ ہی غریبوں کے لئے لنگر بنائے گئے تھے تاکہ وہ بھوکے نہ رہیں اور صبح و شام وہاں سے کھانا حاصل کر کے اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال سکیں۔ میرے لئے یہ بات بڑی خوشی کا موجب ہوئی اور مجھے اُن کے انتظام کی تعریف کرنی پڑی۔ لیکن جب مَیں نے سوچا اور غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ بادشاہوں نے یہ لنگر تو جاری کر دئیے تھے لیکن غریب اُن سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے تھے۔ اکثر امراء یا اوسط درجہ کے لوگ اُن کو دھکے دے کر پیچھے ہٹا دیتے تھے اور خوراک خود استعمال کر لیتے تھے۔ دوسرے مَیں نے دیکھا کہ ان لنگر خانوں میں جو لانگری مقرر ہوتے تھے بعض دفعہ وہ جنس خود اُڑا لیتے تھے اور بادشاہ کی لنگر جاری کرنے کی خواہش خاک میں مل جاتی تھی۔
لیکن اس کے مقابلہ میں مَیں نے دیکھا کہ قرآنی لنگر ان تمام نقائص سے پاک تھا اور پھر قرآنی لنگر میں اتنی انواع کے کھانے تھے کہ شاہی لنگر اُس کے مقابلہ میں بالکل ہیچ نظر آتے تھے۔ مگر ظاہر ہے کہ قرآنی لنگر میں روٹیاں نہیں ملتیں بلکہ قرآن کے ذریعہ روحانی تعلیم دنیا کو بانٹی جاتی ہے۔ پس قرآن کریم کے روحانی لنگر کے اندر انواع و اقسام کے کھانوں کی موجودگی کے صرف اتنے ہی معنے ہیں کہ قرآن کریم نے ایسی کامل تعلیم پیش کی ہے جس کے مقابلہ میں دنیا کا کوئی روحانی لنگر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہ دعویٰ ایسا ہے جو خود قرآن کریم نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم کے روحانی لنگر کے اندر انواع و اقسام کے کھانوں کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے وَکُلَّ شَیۡءٍ فَصَّلۡنٰہُ تَفۡصِیۡلًا(9) یعنی ہم نے قرآن کریم میں ہر روحانی امر کو جس کی دنیا کو ضرورت تھی اچھی طرح کھول کر بیان کر دیا ہے۔ گویا قرآن کے روحانی لنگر میں انواع واقسام کے کھانے بٹ رہے ہیں جن کی مثال بادشاہوں کے لنگر خانوں میں تو کیا پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی نہیں پائی جاتی۔
اِسی طرح قرآن میں مختلف انواع واقسام کی روحانی تعلیم کے پائے جانے کا ذکر دوسری جگہ اِس طرح کیا گیا ہے کہ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ یَعۡلَمۡ(10) یعنی اس قرآن کے ذریعہ سے انسان کو وہ کچھ سکھایا گیا ہے جو پہلی کتبِ سماویہ کے ذریعہ نہیں سکھایا گیا تھا۔ گویا قرآن شریف کو نہ صرف دُنیوی لنگروں پر فضیلت ہے بلکہ سب آسمانی لنگروں پر بھی فضیلت ہے۔ چنانچہ اس کی مثال کے طور پر میں فرعون کے واقعہ کو پیش کرتا ہوں۔
قرآن کریم میں جو موسٰی اور فرعون کے قریباً بائیس سَو سال بعد آیا ہے اُس میں یہ لکھا ہے کہ فرعون کا جسم فرعونیوں کے سمندر میں غرق ہونے کے وقت بچا لیا گیا تھا۱۱صرف اس کی رُوح لے لی گئی تھی تاکہ وہ آئندہ عذاب اُٹھائے مگر بائبل جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اُس زمانہ میں اُتری تھی جس زمانہ میں فرعون ڈوبا تھا اُس میں یہ سچائی کہیں بیان نہیں کی گئی۔ اب غور کرو کہ بائیس سَو سال کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو ایک اُمّی اور ان پڑھ تھے وہ تو اس مضمون کو بیان کرتے ہیں کہ آج سے بائیس سوسال پہلے جب موسٰیؑ مصر سے بھاگے تھے اور فرعون نے اُن کا تعاقب کیا تھا تو خدا نے فرعون کو سمندر میں تو غرق کر دیا تھا لیکن اُس کی لاش کو محفوظ رکھا گیا تھا تاکہ وہ آئندہ آنے والے لوگوں کے لئے عبرت اور نصیحت کا موجب بنے مگر بائبل اس بات کو بیان نہیں کرتی حالانکہ وہ اُسی زمانہ کی کتاب ہے جس زمانہ میں فرعون غرق ہوا۔ اب تاریخ کو دیکھو تو وہ اسی بات کی تائید کرتی ہے جو قرآن کریم نے بیان کی ہے۔ چنانچہ جو پُرانی ممیاں نکلی ہیں
اُن میں فرعونِ موسیٰ کی ممی بھی نکلی ہے۔ مصریوں کو ایسی دوائیں معلوم تھیں کہ جب وہ میّت کے اندر وہ دوائیں ٹیکہ کے ذریعہ پہنچا دیتے تو لاشیں کئی کئی سَو سال تک محفوظ رہتی تھیں۔ اب انگریزوں نے بھی ایسی دوائیں نکال لی ہیں لیکن تجربہ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یورپ نے جو دوائیں ایجاد کی ہیں اُن کی وجہ سے لاشیں صرف تیس چالیس سال تک محفوظ رہتی ہیں اس کے بعد خراب ہونا شروع ہو جاتی ہیں مگر مصریوں کی کئی کئی ہزار سال کی ممیاں مل گئی ہیں۔ اُن کو کئی ایسے نسخے معلوم تھے کہ جن کی وجہ سے کئی کئی ہزار سال تک لاشیں محفوظ رہتی تھیں۔ فرعونِ موسیٰ کی ممی پر ہی پینتیس سَو سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور وہ ممیاں جو فرعونِ موسیٰ سے بھی کئی کئی ہزار سال پہلے کی ملی ہیں اُن کو لے لیا جائے تو پھر پانچ چھ ہزار سال سے وہ لاشیں محفوظ چلی آ رہی ہیں مگر یورپین لوگوں نے ابھی تک صرف تیس چالیس سال تک کے لئے لاش کو محفوظ رکھنے کا علاج نکالا ہے اس سے زیادہ نہیں۔ بہرحال ہمیں تو صرف اُس فرعون کی ممی سے غرض ہے جو فرعونِ موسیٰ کہلاتا ہے اور اُس کے متعلق موسیٰ کے بائیس سَو سال بعد قرآن نے یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی لاش کو محفوظ رکھنے کا وعدہ فرمایا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو اُس کو خیال آیا کہ معلوم ہوتا ہے موسیٰ سچا ہی تھا اور میں اس کی مخالفت کر کے غلطی کرتا رہا۔ چنانچہ اُس نے ڈوبتے وقت کہا کہ میں ایمان لاتا ہوں کہ سوائے اُس خدا کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اَور کوئی خدا نہیں۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے فرعون سے کہا کہ اب ایمان لاتے ہو جب کہ تم مرنے لگے ہو۔ اب تو صرف یہی ہے کہ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ(10:93)۱۲ ہم تیرے جسم کو نجات دیں گے تاکہ تُو آنے والے لوگوں کے لئے نشان ہو۔ چنانچہ اُس کی لاش محفوظ رہی۔ مگر وہ لاش تو اِس زمانہ میں ملی ہے جبکہ قرآن کے نزول پر بھی چودہ سَو سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے آج سے چودہ سَو سال پہلے خبر دے دی تھی کہ فرعونِ موسیٰ کی لاش محفوظ ہے اور اگر اس میں بائیس سَو سال کا پہلا عرصہ بھی شامل کر لیا جائے تو پینتیس سَو سال سے یہ پیشگوئی پوری ہوتی چلی آ رہی ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اِس ممی کے نام کے متعلق اختلاف ہے لیکن یہ اختلاف صرف اتنا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس فرعون کے زمانہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے اُس کا نام رعمسیِس تھا اور جس فرعون کے زمانہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر لائے اُس کا نام منفتح تھا مگر لاشیں دونوں کی مل گئی ہیں۔ ایک کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ رعمسیِس کی لاش ہے اور ایک کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ منفتح کی لاش ہے۔ اب خواہ رعمسیِس کی لاش کو فرعونِ موسیٰ کی لاش سمجھ لو یا منفتح کی لاش کو زمانۂ موسیٰ کے فرعون کی لاش کہو بات تو وہی رہی جو قرآن نے کہی تھی اور پتا لگ گیا کہ جو کچھ قرآن نے کہا تھا وہ سچ تھا۔ فرعونِ موسیٰ کی لاش محفوظ رہی اور وہ اب تک محفوظ چلی آرہی ہے۔
دوسری مثال کے طور پر میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ پیش کرتا ہوں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ کے کافر بھی اُن کو کافر کہتے تھے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَا کَفَرَ سُلَیۡمٰنُ وَلٰکِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ کَفَرُوۡا(13) یعنی سلیمانؑ نے ہرگز کفر نہیں کیا بلکہ اس کے دشمن جو خدا سے دُور تھے وہ سلیمانؑ کو کافر کہہ کے خود کافر ہو گئے تھے۔
اس آیت میں تمہارے لئے بھی ایک بڑا بھاری نکتہ ہے اور وہ یہ کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ صرف شریعت والے نبی کا انکار کفر ہوتا ہے دوسرے نبیوں کا انکار کفر نہیں ہوتا مگر حضرت سلیمانؑ کو نہ یہودی صاحبِ شریعت مانتے ہیں اور نہ مسلمان صاحبِ شریعت مانتے ہیں۔ سب کہتے ہیں کہ وہ غیر شرعی نبی تھے۔ مگر خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ وَلٰكِنَّ الشَّيٰطِيْنَ كَفَرُوْا جو لوگ اُس کے دشمن تھے اور کہتے تھے کہ اس نے کفر کیا ہے وہ خود کافر تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ غیر شرعی انبیاء کا انکار بھی کفر ہی ہوتا ہے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے منکرین بھی اگر کہیں کہ مرزا صاحب تو شریعت لانے والے نبی نہیں تھے پھر اُن کے منکر کافر کس طرح ہو گئے تو وہ اِس بہانہ سے بچ نہیں سکتے۔ مولوی محمد علی صاحب ہمیشہ زور دیا کرتے تھے کہ شریعت والے نبی کا انکار ہی کفر ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ اس آیت میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ وَمَا کَفَرَ سُلَیۡمٰنُ وَلٰکِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ کَفَرُوۡا(2:103) سلیمانؑ نے کفر نہیں کیا تھا بلکہ اس کے دشمنوں نے اُس کو کافر کہہ کے خود کفر کیا۔ پس جو شخص کسی سچے فرستادہ یا اُس کے ماننے والوں کو کافر کہتا ہے وہ قرآن کریم کی رُو سے خود کافر ہو جاتا ہے۔ بلکہ اگر ان الفاظ پر زیادہ وسیع نظر سے غور کیا جائے تو درحقیقت اس کے یہ معنے بنتے ہیں کہ کوئی کافر کہے یا نہ کہے پھر بھی صرف انکار سے وہ کافر ہو جاتا ہے۔
اب میں بتاتا ہوں کہ قرآن کریم نے تو یہ کہا ہے کہ سلیمانؑ نبی تھا کافر نہیں تھا مگر بائبل جو سلیمانؑ کے وقت کی لکھی ہوئی ہے وہ کیا کہتی ہے؟ بائبل کی کتاب ”سلاطین“ میں لکھا ہے:۔ ”جب سلیمانؔ بڑھا ہو گیا تو اُس کی بیویوں نے اُس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کر لیا اور اُس کا دل خداوند اپنے خدا کے ساتھ کامل نہ رہا۔“ 14
گو یا قرآن کریم تو بائیس سَو سال بعد میں آنے کے باوجود کہتا ہے کہ سلیمانؑ نے کوئی کفر نہیں کیا لیکن بائبل اُس زمانہ کی کتاب ہو کر کہتی ہے کہ سلیمانؔ بڑھا ہو گیا تو اس کی بیویوں نے اُس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کر لیا اور اُس کا اپنے خدا سے کامل تعلق نہ رہا۔ اِس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم کا روحانی کھانا کتنا مزیدار ہے اور بائبل کا کھانا کتنا خراب اور بدمزہ ہے۔ وہ اپنے زمانہ کے متعلق لوگوں کو ایک خبر دیتی ہے اور جیسا کہ میں آگے چل کر ثابت کروں گا حضرت سلیمانؑ پر یہ جھوٹا اتہام لگاتی ہے کہ اُس کی مشرک بیویوں نے اُس کا دل خدا تعالیٰ کی طرف سے پھیر دیا اور وہ غیر معبودوں کی عبادت کرنے لگا۔ پھر لکھا ہے:۔ ”خداوند سلیمانؔ سے ناراض ہوا۔“ 15 گویا سلیمانؑ نے صرف کفر ہی نہیں کیا بلکہ اس حد تک کفر کیا کہ اللہ تعالیٰ اس کا مخالف ہو گیا اور وہ سلیمانؑ سے ناراض ہوا۔ ”کیونکہ اُس کا دل خداوند اسرائیل کے خدا سے پھر گیا تھا۔“ 16
اور باوجو د اِس عظیم الشان نشان کے پھر گیا تھا کہ اُس نے ’’دو بار دکھائی دے کر اس کو اِس بات کا حکم کیا تھا کہ وہ غیر معبودوں کی پیروی نہ کرے۔ پر اُس نے وہ بات نہ مانی جس کا حکم خداوند نے دیا تھا۔‘‘ 17 قرآن تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے۔ عام مسلمان جس پر قرآن نازل نہیں ہوا وہ بھی اگر قرآن کی تعمیل نہ کرے تو کافر ہو جاتا ہے۔ مگر سلیمانؑ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ اتنا کج راہ اور اتنا خطرناک کافر تھا کہ دو دفعہ خدا اُس پر ظاہر ہو اور دو دفعہ خدا نے ظاہر ہو کر اُسے کہا کہ غیر معبودوں کی پرستش نہ کرنا مگر پھر بھی وہ اپنی بیویوں کے حُسن اور اُن کی زیبائش کو دیکھ کر خدا تعالیٰ سے اتنا پھر ا کہ غیر معبودوں کے لئے اُس نے مسجدیں بنائیں اور اُن کے آگے سجدہ کرنے لگ گیا۔
مگر تاریخی شہادتوں سے پتا لگتا ہے کہ جو قرآن نے بات کہی تھی وہی ٹھیک ہے اور جو بائبل نے کہی تھی وہ غلط ہے۔ چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ خود عیسائی محققین نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ بائبل میں حضرت سلیمانؑ پر یہ جھوٹا الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے غیر معبودوں کی پرستش کی اور خدائے واحد کو چھوڑ دیا۔ چنانچہ انسائیکلو پیڈیا ببلیکا جو بڑے بڑے پادریوں اور یہودی علماء نے لکھی ہے اور جس میں نہ صرف پُرانی تاریخی کتب کا نچوڑ آ گیا ہے بلکہ نئی علمی تحقیقات بھی اُس میں شامل ہیں اُس میں لکھا ہے کہ:۔ ’’یہ بات تو صحیح ہے کہ حضرت سلیمانؑ کی بہت سی بیویاں تھیں کچھ اسرائیلی اور کچھ غیر اسرائیلی۔ لیکن نہ تو انہوں نے اُن سب کے لئے قربان گاہیں بنائی تھیں اور نہ انہوں نے اپنی بیویوں کے دیوتاؤں کی عبادت کو کبھی خدا تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ ملایا تھا۔ آپ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے انکار کا کبھی تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔‘‘ 18
گویا تاریخ نے خود تسلیم کر لیا کہ بیشک حضرت سلیمانؑ کی کئی بیویاں تھیں کچھ یہودی اور کچھ غیر یہودی مگر یہ غلط ہے کہ انہوں نے سب کے لئے بُت خانے بنائے۔ اور پھر یہ بھی جھوٹ ہے کہ انہوں نے کبھی کسی بُت کو سجدہ کیا ہو۔ اب دیکھو بائبل تو یہ کہتی ہے کہ انہوں نے بتوں کو سجدے کئے اور قرآن کہتا ہے کہ نہیں کئے۔ اور آج کا محقق یہودی اور آج کا محقق عیسائی کہتا ہے کہ بائبل جھوٹ کہتی ہے۔ ہمارے ملک کی ایک مثل ہے۔ کہتے ہیں ۔ ”جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے ۔ “ اگر صرف قرآن یہ بات کہتا تو عیسائی اور یہودی کہتے کہ ہم کو جھٹلانے کے لئے ایسا کہا گیا ہے مگر خدا نے خود عیسائی اور یہودی علماء کی زبان سے یہ بات کہلوادی۔ پس اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ محقق تو تمہارے اپنے بزرگ ہیں۔ اگر ان بزرگوں نے اپنے بزرگوں کو جھوٹا قرار دیا ہے تو تم اس کے ذمہ دار ہو ہم ذمہ دار نہیں۔ نہ ان یہودی پادریوں کو ہم نے پڑھایا تھا اور نہ عیسائی پادریوں کو ہم نے پڑھایا، تمہارے اپنے باپ دادوں نے ان کو پڑھایا تھا۔ پس اگر جھوٹے ہیں تو تمہارے اپنے باپ دادا جھوٹے ہیں، تمہاری کلیسیا جھوٹی ہے یا یہودیوں کی مذہبی انجمن جھوٹی ہے۔ ہمارا قرآن تمہارے علماء کے اقرار کے ساتھ سچا ثابت ہو گیا اور ظاہر ہو گیا کہ سلیمانؑ نے کبھی غیر معبودوں کی پرستش نہیں کی تھی۔
پھر اُسی ’سلاطین‘ میں جس میں حضرت سلیمانؑ پر کفر کا الزام لگایا گیا ہے لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت سلیمانؑ کو الہاماً کہا کہ:۔ ”میں نے ایک عاقل اور سمجھنے والا دل تجھ کو بخشا۔“ 19 اب کیا عاقل اور سمجھنے والا دل شرک کیا کرتا ہے؟ پھر لکھا ہے کہ :۔ ”ایسا کہ تیری مانند نہ تو کوئی تجھ سے پہلے ہؤا اور نہ کوئی تیرے بعد تجھ سا برپا ہوگا۔“ 20 گویا بائبل حضرت سلیمانؑ کو اتنی عظمت دیتی اور اُسے ایسا بے نظیر آدمی قرار دیتی ہے کہ نہ تو ہزاروں سال پہلے اس جیسا کوئی آدمی ہؤا اور نہ ہزاروں سال بعد اُس جیسا کوئی
اَور پیدا ہوگا۔ لیکن ساتھ ہی اِس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ وہ کافر تھا۔ کیا ایسی کتاب کو ہم مذہبی کتاب کہہ سکتے ہیں؟ اس کتاب کے مصنّفوں کو تو پاگل خانہ میں داخل کرنا چاہئے تھا جنہوں نے ایسی متضاد باتیں لکھ دیں۔
اسی طرح لکھا ہے :۔
’’سلیمان خداوند سے محبت رکھتا اور اپنے باپ داؤد کے آئین پر چلتا تھا‘‘۔21
اگر سلیمانؑ خدا تعالیٰ سے محبت رکھتا تھا اور اپنے باپ داؤد کے طریق پر چلتا تھا تو پھر اُس کو مُشرک کہنا اور بتوں کی فرمانبرداری کرنے والا قرار دینا کونسی معقول بات ہے۔ کتاب وہی ہے اور اُس میں یہ باتیں لکھی ہیں ۔ ان حوالہ جات سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ بائبل کا الزام جھوٹا ہے اور سچ وہی ہے جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے اور جس کی رو سے حضرت سلیمانؑ شروع سے لے کر آخر تک نہایت اعلیٰ درجہ کے مؤمن اور نبی قرار پاتے ہیں۔
غرض قرآن کریم نے ایسی باتیں بیان کی ہیں جن سے پہلی کتب کُلّیۃً خالی ہیں اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ قرآن کریم ایسی سچائیوں سے پُر ہے جن میں کوئی الہامی کتاب اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی اور قرآن کریم کے ذریعہ جو انواع و اقسام کی روحانی غذائیں دی گئی ہیں وہ اتنی اعلیٰ ہیں کہ اُن کی نظیر دنیا کی کسی الہامی کتاب سے پیش نہیں کی جاسکتی۔
حقیقت یہ ہے کہ دُنیوی کھانے خواہ وہ کتنے ہی اعلیٰ درجہ کے ہوں اور دُنیوی نَعماء خواہ وہ کتنی ہی بلند پایہ ہوں رُوحانی کھانوں اور روحانی نعمتوں کے مقابلہ میں ایک بالکل ادنیٰ اور بے حقیقت چیز ہوتی ہیں۔ اور دنیا کے سمجھدار اور نیک فطرت لوگوں نے بھی اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ جسمانی کھانا ایک ادنیٰ چیز ہے۔ اصل چیز روحانی کھانا ہی ہے یعنی دین کی باتیں سُننا اور اُس پر عمل پیرا ہونا۔
میں اس کی مثال کے طور پر ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔ ۱۹۰8ء میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام لاہور میں ٹھہرے ہوئے تھے لاہور کے بڑے بڑے احمدیوں نے وہاں کے بااثر لوگوں کی ایک دعوت کی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی شامل ہوئے اور آپ نے اُن معززین کے سامنے ایک تقریر فرمائی لیکن اتفاقاً تقریر کچھ لمبی ہوگئی۔ خلیفہ رجب دین صاحب مرحوم جو خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کے خسر تھے اور دعوتوں کا انتظام کرنے میں بڑی مشق رکھتے تھے انہوں نے پیچھے سے آکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کہنا شروع کیا کہ حضور! بڑی دیر ہوگئی ہے ، کھانا ٹھنڈا ہورہا ہے اور بڑے بڑے معززین آئے ہوئے ہیں ۔ اس پر میاں فضل حسین صاحب مرحوم کہ وہ بھی مدعوین میں سے تھے کھڑے ہوگئے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مخاطب کر کے کہا کہ حضور! دنیاوی کھانے تو ہم روز ہی کھاتے ہیں ہم تو یہاں آپ کے ہاتھ سے روحانی کھانا کھانے آئے ہیں سو آپ تقریر جاری رکھیں اور ہمیں اس سے محروم نہ کریں۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تقریر جاری رکھی اور تمام غیر احمدی احباب بیٹھے سنتے رہے۔
میاں فضل حسین صاحب بڑے عقلمند اور سمجھدار آدمی تھے۔ مسلمانوں کے لیڈر تھے اور ابھی اُن کی جوانی کا وقت تھا جس میں بھوک زیادہ لگتی ہے مگر مجھے یاد ہے وہ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے بڑے جوش سے کہا کہ آپ تقریر جاری رکھیں یہ روحانی کھانا ہمیں کب نصیب ہوتا ہے۔ جسمانی کھانا تو ہم اپنے گھروں میں کھا ہی لیتے ہیں ہم جو آپ کے پاس آئے تھے تو روحانی کھانا کھانے آئے تھے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ دین کی باتیں عقلمندوں کے نزدیک روحانی کھانا ہوتی ہیں ۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے ساتھ دل کو ایمانی تقویت حاصل ہوتی ہے۔ حضرت مسیح ناصریؑ بھی فرماتے ہیں کہ :۔
’’انسان صرف روٹی سے نہیں بلکہ خدا کے کلام سے جیتا ہے۔‘‘۲۲
پس یہ بات کہ روحانی غذا ہی اصل غذا ہوتی ہے اور جسمانی غذا اس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی اس کی حضرت مسیحؑ کے کلام سے بھی تصدیق ہوگئی اور میاں فضل حسین صاحب
کے واقعہ سے بھی تصدیق ہوگئی۔ میاں فضل حسین ایک دُنیوی لیڈر تھے اور حضرت مسیحؑ دینی لیڈر تھے دونوں نے بتا دیا کہ روحانی کھانا ہی اصل کھانا ہوتا ہے۔
اِس نقطہ نگاہ سے جب مَیں نے قرآنی لنگر کا بادشاہی لنگروں سے مقابلہ کیا تو مَیں نے دیکھا کہ قرآنی لنگر کا کھانا نہ تو لوگ ناجائز استعمال کر سکتے تھے اور نہ لانگری اُس کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرسکتا تھا۔ جبکہ بادشاہی لنگروں کی یہ کیفیت تھی کہ وہ جاری تو غرباء کے لئے کئے جاتے تھے مگر کھانا آسودہ حال لوگ آ کے کھا جاتے تھے اور کچھ لانگری کھا جاتا تھا اور غریب بھوکے مرتے تھے۔ چنانچہ مجھے نظر آیا کہ قرآنی لنگر کی حفاظت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ایک خاص ارشاد فرمایا ہے جس میں کھلے طور پر یہ بتا دیا گیا ہے کہ قرآنی لنگر میں کوئی چوری نہیں ہوسکتی۔ اور اگر کوئی چوری کرنے کی کوشش کرے تو وہ فوراً پکڑا جاتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے یَعۡلَمُ خَآئِنَۃَ الۡاَعۡیُنِ وَمَا تُخۡفِی الصُّدُوۡرُ(المؤمن: ۲۰) یعنی وہ آنکھ کے اشارے کو بھی سمجھتا ہے اور دلوں کے مخفی خیالات کو بھی سمجھتا ہے۔ پس جو لوگ قرآنی لنگر سے چوری کرنا چاہتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوتے بلکہ پکڑے جاتے ہیں۔ عام طور پر قاعدہ ہے کہ چور یہ دیکھ کر کہ کوئی دیکھتا نہیں ایک دوسرے کو آنکھ مارتے ہیں کہ چیز اُٹھا لو، کوئی خطرے کی بات نہیں۔ لیکن قرآن فرماتا ہے کہ ہمارے لنگر میں اگر کوئی کسی کو آنکھ مارے تو ہم اُسے وہیں پکڑ لیتے ہیں اور اُسے وہ چیز اُٹھانے نہیں دیتے۔ بلکہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دل کی مخفی باتوں کو بھی جانتا ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص اپنے دل میں یہ خیال مخفی رکھ کر آئے کہ میں قرآنی لنگر سے کوئی چیز چُراؤں گا تو وہ بھی پکڑا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ اُس کے دل کی حالت کو جانتا ہے اور مالک اپنے خزانہ کو کبھی چور کے ہاتھ میں نہیں جانے دیتا۔ خدا تعالیٰ نے اپنے لنگر خانہ کو جن لوگوں کے لئے مخصوص کیا ہے وہی اس سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں دوسرا قریب بھی نہیں جاسکتا۔ پس جیسے بادشاہی لنگر کو لانگری کھا جاتے ہیں ویسا قرآنی لنگر میں نہیں ہوسکتا۔ جب کوئی قرآنی لنگر میں چوری کرنے لگے تو فوراً خدا تعالیٰ کے فرشتے اُس کو روکنے کیلئے آگے بڑھتے ہیں اور
اُسے پکڑ لیتے ہیں۔ قرآن کریم میں اِسی مضمون کے متعلق ایک اور آیت بھی ہے جس میں عجیب پیرایہ میں اس مضمون کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا یَسَّمَّعُوۡنَ اِلَی الۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰی وَیُقۡذَفُوۡنَ مِنۡ کُلِّ جَانِبٍ دُحُوۡرًا وَّلَہُمۡ عَذَابٌ وَّاصِبٌ اِلَّا مَنۡ خَطِفَ الۡخَطۡفَۃَ فَاَتۡبَعَہٗ شِہَابٌ ثَاقِبٌ(24) یعنی قرآنی لنگر جو روحانی باتوں پر مشتمل ہے اُس کے متعلق بعض دفعہ دشمنانِ اسلام چاہتے ہیں کہ اُس کی کچھ باتیں پہلے سے سن لیں اور پھر اُن کو بگاڑ کر مسلمانوں کو شرمندہ کریں۔ مگر فرماتا ہے لَا یَسَّمَّعُوۡنَ اِلَی الۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰی(37:9) ایسے شیطان جو دشمنانِ اسلام ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ کوئی بات اُن کو معلوم ہو جائے چاہے نجوم کے ذریعہ سے یا قرآن کریم پر غور کر کے وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے بلکہ جب بھی وہ ایسا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَیُقۡذَفُوۡنَ مِنۡ کُلِّ جَانِبٍ(37:9) فوراً خدائی فرشتے آ جاتے ہیں اور چاروں طرف سے ان کو مار پڑتی ہے۔ دُحُوْرًا اور پھر مار بھی ایسی پڑتی ہے کہ وہ مار کھا کر وہاں کھڑے نہیں رہ سکتے بلکہ دُور چلے جاتے ہیں۔ گویا مار اُن کو دُور لے جانے کے لئے پڑتی ہے اور اس لیے پڑتی ہے کہ انہیں بھگا کر زمین کے کناروں تک لے جایا جائے کیونکہ اگر وہ پاس ہوں تو پھر بھی امکان ہوتا ہے کہ شاید کچھ بھنبھناہٹ سن لیں اور یہ پھر لوگوں کو جا کر دھوکا دیں۔ وَّلَہُمۡ عَذَابٌ وَّاصِبٌ(37:10) اور پھر اُن کو پرے ہی نہیں کیا جاتا بلکہ طرح طرح کے عذاب اُن پر نازل کئے جاتے ہیں جو ہمیشہ اُن کے ساتھ لگے رہتے ہیں۔ یعنی اتنے خطرناک عذاب نازل ہوتے ہیں کہ دشمن سے دشمن بھی اور اُن کا گہرا دوست بھی مان لیتا ہے کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو رہا ہے۔ اِلَّا مَنۡ خَطِفَ الۡخَطۡفَۃَ(37:11) ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص بندر کی طرح جھپٹا مار کر کوئی حقیر سی غذا اُٹھا کر لے جائے۔ پس اگر بندر کی طرح وہ ایک آدھ لقمہ اُٹھا کر لے جائے تو یہ ہو سکتا ہے مگر خدا تعالیٰ اُس کا بھی ازالہ کر دیتا ہے اور اُس سے اُسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا کیونکہ ایک چھوٹا سا لقمہ جس سے پیٹ بھی نہ بھرتا ہو اُس سے کسی قوم نے کیا فائدہ اُٹھانا ہے۔ پس اگر وہ قرآنی تعلیم میں سے کوئی بات اُڑا بھی لیں تو وہ بہت ہی حقیر ہو گی۔ ایسی حقیر کہ قرآن کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکے گی اور بہر حال قرآن ہی اس پر غالب آئے گا۔
جسمانی اور رُوحانی لنگر کا مقابلہ کرتے ہوئے مَیں نے یہ بھی دیکھا کہ جسمانی لنگر تو کب کے خاموش ہو چکے ہیں لیکن قرآنی لنگر کے ہمیشہ زندہ رہنے کی پیشگوئی قرآن کریم میں مذکور ہے۔ چنانچہ اُس نے فرمایا اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانۡحَرۡ اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الۡاَبۡتَرُ(108:2-4) اے محمّدؐ رسول اللہ! ہم تجھے ایک ایسے روحانی بیٹے کی بشارت دیتے ہیں جو بڑا ہی سخی ہوگا۔ پس چاہئے کہ تُو اُس کے پیدا ہونے کی خوشی میں اپنے ربّ کے فضل کی وجہ سے اُس آنے والے روحانی بچے کے لئے بہت دعائیں کرتا رہ اور کثرت سے اُس کی پیدائش کی خوشی میں قربانیاں کرتا کہ ایک وسیع لنگر جاری ہو جائے اور لاکھوں کروڑوں آدمی اُس سے فائدہ اُٹھائیں اور یقین رکھ کہ تیرا دشمن ہمیشہ نرینہ اولاد سے محروم رہے گا۔
عربوں میں رواج تھا کہ وہ بچہ کی پیدائش پر بہت قربانیاں کرتے تھے۔ لڑکی کو تو وہ زندہ دفن کر دیتے تھے۔ اُس پر قربانیاں کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، صرف نرینہ اولاد پر وہ قربانیاں کیا کرتے تھے۔ پس فرمایا کہ تیرے ہاں ایک زمانہ میں ایک ایسا بیٹا پیدا ہو گا جو امّتی نبی ہوگا اور نَر ہوگا کیونکہ عورت نبی نہیں ہوتی۔ اس کی خوشی میں تُو قربانیاں کر یعنی دُنیوی لنگر بھی جاری کر اور اُس کی تسبیح و تحمید بھی کر۔ یعنی روحانی لنگر بھی جاری کر۔ اور یقین رکھ کہ تیرا دشمن ہمیشہ اس دنیا میں بے اولاد رہے گا۔
حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت پر مرد کو یہ فضیلت ہے کہ مردوں میں سے تو کامل مومن ہو سکتے ہیں جو دوسروں پر حکومت کرنے کے اہل ہوں لیکن عورتوں میں سے کوئی ایسی عورت نہیں ہو سکتی جو تمام مردوں پر حکومت کرنے کی قابلیت رکھتی ہو۔ آجکل مساوات پر بڑا زور دیا جاتا ہے لیکن یہ دعویٰ کبھی کسی عیسائی پادری نے نہیں کیا کہ عورت تمام مردوں پر حکومت کر سکتی ہے۔ مثلاً ملکہ کو ہی لے لو، اُس کو گھر میں خاوند کے ماتحت چلنا پڑتا ہے اور چاہے اُسے تخت پر ہی لا کر بٹھائیں گھر میں وہ خاوند کے ماتحت ہوتی ہے۔
بے شک بعض عورتیں ایسی بھی ہوئی ہیں جنہوں نے شادی نہیں کی لیکن شادی نہ کرنے سے اُن کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ڈرتی تھیں کہ مرد آ گیا تو ہم پر حکومت کرے گا۔ مثلاً رضیہ سلطانہ نے جو غلام خاندان میں سے تھی ابتدا میں شادی نہیں کی مگر آخر وہ بے شادی کے نہ رہ سکی۔ اسی طرح یورپ میں بعض حکومتیں ہیں جن کی شہزادیوں نے شادی نہیں کی مگر اُن کا شادی نہ کرنا صاف بتاتا ہے کہ وہ ڈرتی تھیں کہ اگر شادی کی تو مرد کے تابع رہنا پڑے گا۔ ملکہ وکٹوریہ کی شادی البرٹ وکٹر سے ہوئی تھی۔ اور میں نے ملکہ کی ہسٹری میں پڑھا ہے کہ وہ روٹھ جاتا تھا تو وہ دروازے بند کر لیتا تھا اور ملکہ معظمہ ساری دنیا کی بادشاہ ہو کر اُس کی منتیں کیا کرتی تھی اور کہتی تھی کہ دروازہ کھول دو تم جو کچھ کہو میں وہی کروں گی۔
غرض یہ جو پیشگوئی تھی کہ محمد رسول اللہ کا دشمن ہمیشہ اَبْتَر یعنی بے اولاد رہے گا اِس کے پورا ہونے کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا دشمن ابو جہل تھا اور ابو جہل کا بیٹا عکرمہؓ تھا۔ ابو جہل کمبخت وہ تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ نبوت کیا تو ایک دفعہ آپ صفا پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اُس نے زور سے آپ کے منہ پر تھپڑ مارا۔ امیر حمزہؓ جو آپؐ کے چچا تھے اُس وقت باہر شکار کے لئے گئے ہوئے تھے۔ جب وہ شکار سے واپس آئے تو اُن کے گھر کی ایک لونڈی جس نے پردہ کے پیچھے سے یہ تمام نظارہ دیکھا تھا بڑے غصہ سے اُن کو دیکھ کر کہنے لگی، تجھ کو شرم نہیں آتی کہ تُو تیر کمان لٹکائے فوجی بنا پھرتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ بڑا بہادر ہے، مَیں نے دیکھا کہ آج تیرے بھتیجا کے منہ پر ابو جہل نے بڑے زور سے تھپڑ مارا اور وہ سر ڈالے بیٹھا تھا۔ خدا کی قسم! اُس نے ابو جہل کو کوئی لفظ نہیں کہا تھا اور اُس کا کوئی قصور نہیں تھا۔ وہ سر جھکائے چُپ کر کے بیٹھا تھا اور اپنے خیالات میں مگن تھا کہ وہ آیا اور اُس نے تھپڑ مارا اور پھر بعد میں بھی محمدؐ نے کچھ نہیں کہا۔ وہ دایہ تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتی تھی۔ اُس نے کہا کہ محمدؐ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے چلا گیا۔ اگر تم میں غیرت اور شرم ہے تو جاؤ اور جا کر بدلہ لو۔ حضرت حمزہؓ یہ سُنتے ہی سیدھے خانہ کعبہ میں گئے کیونکہ اُن لوگوں میں رواج تھا کہ شام کے وقت سارے رؤساء وہاں اکٹھے ہو جاتے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ ابو جہل جو سردارانِ مکہ میں سے سمجھا جاتا تھا وہ مسند پر بیٹھا ہوا ہے اور اُس کے اِردگرد مکہ کے تمام رؤساء بیٹھے ہوئے ہیں۔ حضرت حمزہؓ جب وہاں پہنچے تو انہوں نے کمان اُٹھا کر زور سے اُس کے منہ پر ماری اور کہا کہ مجھے پتا لگا ہے کہ تُو نے آج محمدؐ کے منہ پر تھپڑ مارا ہے اور اُس نے نہ پہلے کچھ کہا تھا اور نہ بعد میں کچھ کہا۔ اب اگر تم میں کچھ ہمت ہے اور کوئی بہادری تم میں پائی جاتی ہے تو آ اور میرے ساتھ لڑ کر دکھا پھر تجھے پتا لگے گا۔ محمدؐ جو کسی پر ہاتھ نہیں اُٹھاتا تیری ساری بہادری اُسی پر چلتی ہے۔ جو مقابلہ کرنے والے اور سپاہی لوگ ہیں اُن سے تُو لڑ کے دکھا پھر ہم مانیں گے کہ تُو بہادر ہے۔ اس پر سارے رؤساء کھڑے ہو گئے اور انہوں نے حضرت حمزہؓ کو پکڑ لیا اور مارنے لگے کہ اُس نے ہمارے لیڈر کو مارا ہے۔ مگر اُس وقت خدا تعالیٰ نے ابو جہل کے دل پر ایسا رُعب ڈالا کہ وہ اُن سے کہنے لگا۔ نہیں نہیں! اسے کچھ نہ کہو اصل میں آج مجھ سے ہی کچھ زیادتی ہو گئی تھی اور غلطی میری ہی تھی۔ میں نے محمدؐ پر بلاوجہ ظلم کر دیا، اُس نے مجھے کچھ نہیں کہا تھا۔ نہ پہلے نہ بعد میں۔ اس لئے حمزہؓ اپنے بھتیجے کی تائید میں جو کچھ کہتا ہے سچ کہتا ہے اِسے مت مارو۔26 چنانچہ وہ لوگ رُک گئے۔ تو ابو جہل اپنی قوم کا سردار تھا اور ہمیشہ لوگوں سے کہتا رہتا تھا کہ محمدؐ (رسول اللہ) اگر کوئی بات کہا کریں تو کبھی نہ مانا کرو۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعوٰی نبوت سے پہلے ایک دفعہ حِلف الفضول میں شامل ہو گئے تھے ۔یہ ایک مجلس تھی جو فضل نامی تین چار آدمیوں نے قائم کی اور انہوں نے ایک دوسرے سے قسمیں لی تھیں کہ جب کوئی مظلوم مکہ میں آئے اور وہ ہم سے مدد مانگے تو ہم اُس کی ضرور مدد کریں گے۔ جب یہ مجلس قائم ہوئی تو انہوں نے آپؐ کو بھی اُس میں شامل ہونے کی دعوت دی، آپ بڑے شوق سے شامل ہو گئے۔ اس کے بعد دعوٰی نبوت
کے زمانہ میں ایک شخص باہر سے آیا اور کہنے لگا ابو جہل نے مجھ سے مدت ہوئی قرض لیا تھا مگر اب وہ دیتا نہیں۔ آپؐ حلف الفضول میں شامل رہ چکے ہیں آپؐ مجھ کو میرا قرض دلائیں۔ آپؐ نے فرمایا اچھا میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔ چنانچہ آپؐ گئے، ابو جہل کا دروازہ بند تھا، آپؐ نے دستک دی۔ ابو جہل آیا اور اُس نے دروازہ کھولا اور آپؐ کو دیکھ کر ذرا پیچھے ہٹ گیا اِس خیال سے کہ میں اِس کا اتنا بڑا دشمن ہوں اِس کو میرے دروازہ پر آنے کی جرأت کس طرح ہوئی؟ آپؐ نے فرمایا تم نے اِس کا کچھ قرض دینا ہے؟ وہ انکار نہ کر سکا اور کہنے لگا ہاں مَیں نے اِس سے قرض لیا ہُوا ہے مگر اب تک مجھے اُس کے ادا کرنے کا موقع نہیں ملا۔ آپؐ نے فرمایا کہ موقع کا سوال نہیں تم مالدار آدمی ہو فوراً اِس کا قرض ادا کر دو۔ وہ اندر گیا اور جتنا روپیہ قرضہ تھا اُتنا ہی روپیہ اُسے لا کر دے دیا۔۲۷
جب وہ اپنے معمول کے مطابق کعبہ میں آیا تو سب مکہ کے لوگوں نے اُسے کہا کہ تم بڑے ذلیل آدمی ہو۔ ہمیں تو یہ کہا کرتے تھے کہ اِس کی بات نہ مانو اور آج کسی غیر جگہ نہیں بلکہ اپنے گھر پر جب اُس نے تم کو کہا کہ اس کا قرض ادا کر دو تو تم نے فوراً اس کا قرض ادا کر دیا اور ڈر گئے۔ اِس سے پتا لگتا ہے کہ تم ہم کو غلط راستہ پر چلاتے ہو ورنہ خود تم میں کوئی ہمت نہیں۔ اُس نے کہا۔ خدا کی قسم! اگر تم میری جگہ ہوتے تو تم بھی اُسی طرح قرضہ ادا کر دیتے۔ انہوں نے پوچھا کیا ہوا تھا؟ وہ کہنے لگا جب میں نے دروازہ کھولا اور مجھے پتا لگا کہ محمدؐ (رسول اللہ) ہیں تو میں نے دیکھا کہ ایک وحشی اونٹ آپؐ کے دائیں بازو پر کھڑا ہے اور ایک وحشی اونٹ آپؐ کے بائیں بازو پر کھڑا ہے اور دونوں نے اپنے سر آگے کئے ہوئے ہیں اور وہ مجھے کاٹنا چاہتے ہیں۔ میں اُن وحشی اونٹوں کو دیکھ کر اتنا ڈرا کہ اُسی وقت روپیہ لا کر اُس کے حوالے کر دیا۔۲۸ اب یہ ایک خدائی معجزہ تھا مگر اِس سے پتا لگ سکتا ہے کہ ابو جہل کتنا خبیث دشمن تھا۔ ایسے دشمن کے گھر میں عکرمہ پیدا ہوا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں باوجود یہ کہنے کے کہ تُو اَبْتَرُ نہیں تیرا دشمن اَبْتَرُ ہے اُس زمانہ تک کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوا۔ بعد میں ایک لڑکا پیدا ہوا جو فوت بھی ہو گیا۔ مگر جب یہ بات ہو رہی تھی آپؐ کے ہاں کوئی بیٹا نہیں تھا۔
جب عکرمہؓ بڑا ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو عکرمہؓ بھاگ کے سمندر کے اُس کنارہ کی طرف چلا گیا جہاں سے کشتیاں حبشہ کو جاتی تھیں۔ اُس کی بیوی تین چار مہینے انتظار کرتی رہی کہ وہ آ جائے تو میں کوشش کر کے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی لے دوں کیونکہ وہ اُن لوگوں میں سے تھا جو مسلمانوں پر سخت ظلم کیا کرتے تھے اور اُن کو مروایا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایسے لوگ خواہ بیت اللہ میں بھی پناہ لیں ان کو نہ بخشا جائے۔ عکرمہؓ بھی ڈر کے بھاگ گیا تھا کہ شاید مجھے بھی قتل کیا جائے گا۔
جب تین چار مہینے ہو گئے اور وہ واپس نہ آیا تو اُس کی بیوی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ آخر خاوند کی محبت ہوتی ہے اور آ کر عرض کیا کہ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! کیا یہ اچھا ہے کہ آپ کا رشتہ دار بھائی آپ کے ماتحت آپ کے اپنے ملک میں زندگی گزارے یا یہ اچھا ہے کہ آپ کا رشتہ دار بھائی بھاگ کر کسی غیر ملک میں چلا جائے اور غیر ملکیوں کی پناہ میں اپنی عمر گزارے؟ آپؐ نے فرمایا نہیں اگر ہمارا بھائی ہے تو پھر ہماری پناہ میں وہ اپنی عمر گزارے تو یہ زیادہ اچھا ہے۔ وہ کہنے لگی۔ کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں جا کر اُسے لے آؤں؟ آپؐ نے فرمایا جاؤ۔ وہ کہنے لگی میں جاتی تو ہوں مگر آپ جانتے ہیں عکرمہؓ بڑا غیرت مند ہے اگر اُسے یہ پتا لگا کہ آپ اُس کا دین بدلوائیں گے تو پھر اُس نے نہیں آنا۔ یہ بھی وعدہ کیجیئے کہ وہ بُت پرست رہ کر آپ کے پاس آئے گا اور یہاں مکہ میں رہے گا اور پھر اُسے مارنا نہیں اور دوسرے اُسے مجبور نہیں کرنا کہ وہ بُت پرستی چھوڑ دے۔ آپؐ نے فرمایا مجھے منظور ہے۔ چنانچہ وہ عکرمہؓ کو واپس بلانے کے لئے چلی گئی۔ عکرمہؓ اپنی بیوی کو دیکھ کر کہنے لگا تم کہاں؟ وہ کہنے لگی تُو جو آ گیا تھا میں کیا کرتی۔ وہ کہنے لگا تُو جانتی نہیں میں آنے پر مجبور
تھا۔ اگر میں وہاں رہتا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مروا دینا تھا۔ عربوں میں رواج تھا کہ عورتیں اپنے خاوند کو چچا کا بیٹا کہا کرتی تھیں۔ اِس دستور کے مطابق اُس نے کہا۔ اے میرے چچا کے بیٹے! تجھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سمجھنے میں غلطی لگی ہے محمدؐ رسول اللہ بڑی شان کا آدمی ہے تیرے بھاگنے کے بعد میں اُن کے پاس گئی تھی اور مَیں نے اُن سے پوچھا تھا کہ عکرمہؓ اگر واپس آجائے اور آپ اُسے چھوڑ دیں تو یہ زیادہ اچھا ہے یا یہ اچھا ہے کہ وہ کسی غیر ملک میں جا کر دوسروں کی پناہ میں رہے؟ اِس پر محمدؐ رسول اللہ نے مجھے کہا کہ نہیں اگر وہ میرے پاس آ کر رہے تو یہ زیادہ اچھا ہے۔ میں اُس کے ساتھ حسنِ سلوک کروں گا۔ عکرمہؓ کہنے لگا خدا کی قسم! اپنے باپ دادا کے مذہب کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ اُس نے کہا میں یہ بات بھی پوچھ چکی ہوں۔ میں نے خود کہا تھا کہ وہ بڑا غیرت مند ہے اپنے باپ دادا کے مذہب کو کبھی نہیں چھوڑے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ وہ بے شک بُت پرستی پر قائم رہے میں اُسے کچھ نہیں کہوں گا۔ کہنے لگا۔ یہ اتنی بڑی بات ہے کہ مجھے اس پر یقین نہیں آ سکتا۔ میں تیرے کہنے پر مکہ میں تو واپس چلا جاتا ہوں مگر میں خود اس بارہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں گا۔ اگر انہوں نے تصدیق کی تو پھر میں کہوں گا کہ بات ٹھیک ہے۔
چنانچہ وہ مکہ میں واپس آیا اور اپنی بیوی کو ساتھ لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا۔ آپؐ کو اطلاع ہوئی تو آپؐ نے اُسے بُلا لیا۔ جب وہ پہنچا تو کہنے لگا اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) میں نے اپنی بیوی سے سنا ہے کہ آپ نے یہ کہا تھا کہ اگر عکرمہ واپس آجائے تو اُسے کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ آپؐ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ کہنے لگا جناب میں نے اپنی بیوی سے یہ بھی سنا ہے کہ اگر میں اپنے دین پر قائم رہنا چاہتا ہوں اور آپ کو نہ مانوں تو پھر بھی مجھے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا اُس نے ٹھیک کہا ہے۔ یہ بھی میں نے اُسے کہا تھا۔ یہ بات سُنتے ہی اُس کی آنکھیں کھل گئیں اور کہنے لگا۔ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ عکرمہ! تُو نے تو میرے بڑے بڑے معجزات دیکھے تھے مگر پھر بھی تُو ایمان نہ لایا آج تُو نے کیا دیکھا ہے جس کی وجہ سے تُو نے کلمۂ شہادت پڑھ لیا ہے اور کفر چھوڑ دیا ہے؟ وہ کہنے لگا۔ اتنی بڑی مہربانی جو آپ نے مجھ پر کی ہے یہ نبی کے سوا اور کوئی کر ہی نہیں کرسکتا۔ پس اِس مہربانی اور امن کے بعد یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ میں آپ کو جھوٹا کہتا اور اپنے باپ دادا کے دین پر قائم رہتا اس لئے میں آپ پر ایمان لے آیا ہوں۔۲۹
اب دیکھو! عکرمہؓ ابوجہل کا بیٹا تھا اور اُس کی نرینہ اولاد تھی بلکہ کہتے ہیں کہ اُس کی پیدائش پر کئی سو اونٹ ذبح کئے گئے تھے اور وہ اپنے وجود سے ظاہر کرتا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹے ہیں اور میرا باپ سچا ہے کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی اور ابوجہل کے تھی۔ لیکن آخر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا۔ اور جب وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا تو قرآن کریم کی یہ پیشگوئی پوری ہوگئی کہ اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانۡحَرۡ اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الۡاَبۡتَرُ(108:2-4) یعنی اے محمدؐ رسول اللہ! ہم نے تجھے خیرِ کثیر بخشی ہے یعنی بڑی اُمّت بھی بخشی ہے جو ہمیشہ تیری اطاعت گزار اور فرمانبردار رہے گی اور تیری روحانی اولاد میں سے ایک ایسا انسان بھی کھڑا کیا جائے گا جو اپنے اندر خیرِ کثیر رکھتا ہوگا۔
دراصل کوثر کے معنے خیرِ کثیر کے ہیں اور جہاں اس میں مسیح موعود کی پیشگوئی کی گئی ہے وہاں تمام امتِ مسلمہ کو بھی آپؐ کے بیٹوں میں شمار کیا گیا ہے۔ آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی تو فرمایا ہے کہ سَلْمَانُ مِنَّا اَهْلَ الْبَیْتِ۳۰کہ سلمان بھی میرے اہل بیت میں سے ہیں۔ اور سلمان آپؐ کے اہل بیت میں شامل ہوسکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ جو شخص آج خاص طور پر نیکی کرے وہ آپؐ کی اولاد میں شامل نہ سمجھا جائے۔ وہ بھی شامل ہے۔ ہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ ایک خاص فضیلت حاصل ہے کہ آپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ موعود بیٹے ہیں جن کی پیشگوئی پہلے نبیوں نے بھی کی ہوئی ہے ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں جتنے مسلمان ہیں اگر وہ اخلاص کے ساتھ کام کریں تو وہ بھی آپؐ کے بیٹے ہیں۔
غرض عکرمہؓ کے بیعت کر لینے کی وجہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو صاحبِ اولادِ نرینہ ہو گئے مگر ابو جہل بے اولاد رہ گیا۔
اِسی قسم کی اور بھی بہت سی مثالیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً عمروؓ بن العاص بن وائل نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی حالانکہ عاص بھی بڑا دشمن تھا اور وائل بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا دشمن تھا۔ مگر با وجود اس کے کہ باپ اور دادا دونوں مخالف تھے عمروؓ بن العاص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور پھر اتنے دشمن گھرانے میں سے ہوتے ہوئے عمروؓ نے اسلام کے لئے مصر فتح کیا۔ اور پھر مصر پر ہی اکتفاء نہ کیا بلکہ اسلامی حکومت کو مدینہ سے نکال کر افریقہ تک پہنچا دیا۔ عمروؓ بن العاص کی زندگی میں ہی اسلامی مبلغ سپین کی سرحدوں تک پہنچ گئے تھے۔ گویا انہوں نے اسلام کو مدینہ سے نکالا اور یورپ کی سرحدوں تک جا پہنچایا۔ آج ہم فخر کرتے ہیں کہ ہمارے مبلغ باہر گئے ہوئے ہیں لیکن ہمارے مبلغ اِس زمانہ میں گئے ہیں جب ہوائی جہاز چل رہے ہیں اور عمروؓ بن العاص نے اُس زمانہ میں اسلام کو مدینہ سے ہسپانیہ تک پہنچا دیا تھا جبکہ اونٹوں کا سفر ہوتا تھا اور راستہ میں پانی بھی نہیں ملتا تھا۔
تیسری مثال خالدؓ بن ولید کی ہے۔ ان کے باپ دادا بھی اسلام کے سخت مخالف تھے۔ لیکن انہوں نے اسلام قبول کیا اور سارے عرب اور ایران و فلسطین اور شام میں اسلام کو پھیلایا اور اس طرح اپنے وجود سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحبِ اولادِ نرینہ بنا دیا۔ لیکن اپنے باپ دادوں کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن تھے اولادِ نرینہ سے محروم کر دیا کیونکہ وہ اُن کے مسلک سے باہر ہو گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلک کے تابع ہو گئے۔
غرض ایسی ہزاروں مثالیں ملتی ہیں جن کے ذریعہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں روحانی اولاد چلتی چلی جاتی ہے اور معنوی طور پر اُن کے عقیقے ہوتے رہتے ہیں یعنی اسلام خوشیاں مناتا ہے اور قرآنی لنگر سے دنیا فائدہ اٹھاتی رہتی ہے۔
اِس کی ایک اور شاندار مثال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک حج کا واقعہ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہو گئے اور آپ حج کے لئے تشریف لے گئے تو آپ کو حج کی مبارکباد دینے کیلئے بعد میں کچھ لوگ آئے جن میں مکہ کے رؤساء کے لڑکے بھی شامل تھے۔ حضرت عمرؓ نے ان کا مناسب اعزاز کیا اور ان کو اپنے خیمہ میں جگہ دی اور اپنے قُرب میں بٹھایا۔ مگر تھوڑی دیر کے بعد ہی ایک غلام صحابیؓ آپ کی ملاقات کے لئے آ گیا۔ آپ نے اُن رؤساء کے لڑکوں سے فرمایا کہ ذرا پیچھے ہو جاؤ اور غلام صحابیؓ سے کہا کہ آگے آ کر بیٹھ جاؤ۔ اِس کے بعد دوسرا غلام صحابیؓ آ گیا تو آپ نے اُن سے پھر کہا کہ اُوپر سے ہٹ جاؤ اور اس غلام کو آگے بٹھا لیا۔ پھر ایک اور غلام آ گیا تو پھر آپ نے اُن سے کہا کہ پیچھے ہٹ جاؤ اور اُس غلام کو کہا کہ آگے آ جاؤ۔ انہوں نے یہ نظارہ دیکھا تو وہ وہاں سے اُٹھے اور باہر چلے گئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ دیکھ لیا تم نے آج عمرؓ نے ہماری کیسی ذلت کی ہے۔ اُن میں سے ایک بڑا سنجیدہ اور سمجھدار نوجوان تھا اُس نے کہا عمرؓ نے ہماری ہتک نہیں کی، ہمارے باپ دادوں نے ہماری ہتک کی ہے۔ جس وقت ہمارے باپ دادا تلواریں لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خون بہانے کے لئے آگے بڑھ رہے تھے اُس وقت اِن غلاموں نے اپنے سینے اُن تلواروں کے آگے کر دیئے اور اپنی جانیں قربان کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچا لیا۔ آج عمرؓ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہے اگر وہ اِس طرح نہ کرتا تو پھر وہ اِس کا خلیفہ بھی نہ رہتا۔ پس جو کچھ اُس نے کیا ہے وہ عین وفا شعاری اور وفاداری کا طریق تھا۔ 31پس دیکھو کہ خدا تعالیٰ نے کس طرح قرآنی لنگر کو روحانی طور پر بھی اور جسمانی طور پر بھی ظاہر کیا۔ آخر انہوں نے کہا کہ اِس ذلّت کا کوئی علاج بھی ہے یا نہیں؟ اُس نے کہا کہ اِس کا علاج عمرؓ ہی بتا سکتے ہیں، چلو عمرؓ کے پاس چلیں اور اُن سے پوچھیں کہ جو ہو گیا سو ہو گیا۔ ہمارے باپ دادوں نے شرارتیں کیں اور وہ ختم ہو گئیں، اب ہم ان کو بدل نہیں سکتے مگر آپ ہمیں بتائیں کہ ہم سے اِس ذلّت کا داغ کس طرح دُور ہو سکتا ہے۔ چنانچہ وہ واپس گئے حضرت عمرؓ اُن کو دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ وہ کیوں آئے ہیں۔ آپ نے فرمایا اے بچو! میں تمہارے باپ دادا کو جانتا ہوں۔ وہ مکہ کے رئیس تھے اور مکہ اُن کے قدموں کے پیچھے چلتا تھا۔ مجھے پتا ہے کہ جو کچھ آج میں نے تمہارے ساتھ سلوک کیا ہے اِس سے تمہارے دلوں کو زخم پہنچا ہو گا مگر میں مجبور تھا میرا آقا بھی ان غلاموں کو دوسروں پر فضیلت دیا کرتا تھا اور ان کو آگے بٹھاتا تھا اِس لئے میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہو کر اس کی خلاف ورزی کس طرح کر سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب باتیں درست ہیں ہم تو صرف یہ دریافت کرنے آئے ہیں کہ آخر اس ذلّت کا کوئی علاج بھی ہے یا نہیں؟ ان کا سوال سن کر حضرت عمرؓ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ نے شام کی طرف ہاتھ اُٹھا دیا جس میں اِس طرف اشارہ تھا کہ شام چلے جاؤ اور اُس جہاد میں شامل ہو جاؤ جو روم کے بادشاہ کے خلاف مسلمان کر رہے ہیں۔ اِس پر وہ لڑکے فوراً اُٹھ کر باہر آ گئے اور گھوڑوں پر سوار ہو کر شام کی طرف چلے گئے اور تاریخ بتاتی ہے کہ وہ سب کے سب اسلام کی تائید میں لڑتے ہوئے وہیں مارے گئے اور اُن میں سے کوئی بھی زندہ واپس نہ آیا۔
اب دیکھو قرآن کریم کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے کیسے کیسے دشمنوں کے بیٹے چھین کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے اور آپ کا لنگر جاری کر دیا۔ جس وقت یہ لوگ عیسائیوں کو مارتے ہوں گے تو ہر عیسائی کے مرنے پر جہاں اُن کو فتح نصیب ہوتی تھی وہاں محمدؐ رسول اللہ کا لنگر بھی جاری ہوتا تھا اور آپ کی برکات ساری دنیا پر پھیلتی جاتی تھیں۔
پھر قرآنی لنگر کی ایک اور مثال سورۃ الذّٰریت سے ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اُس میں کامل مومنوں یعنی اِتباعِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے کہ وَفِیۡۤ اَمۡوَالِہِمۡ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ(الذاریات: ۲۰) یعنی اِن کے مالوں میں ایسے لوگوں کا بھی حق ہے جو مانگ سکتے ہیں اور اُن کا بھی حق ہے جو نہیں مانگ سکتے۔ یعنی یا تو وہ گونگے ہیں یا اِن کو مانگتے ہوئے شرم آتی ہے کہ ہمارا اِس سے غریب ہونا ظاہر ہوتا ہے اور یا جانور ہیں کہ وہ مانگنے اور بولنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے۔ گویا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لنگر اتنا وسیع ہے کہ سائل اور غیر سائل سب اس سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ بادشاہوں کے لنگر تو ایسے تھے کہ لوگ اُن لنگروں میں جا کر روٹی مانگتے تھے تو پھر انہیں روٹی ملتی تھی اور اگر کوئی پرے کھڑا ہو جاتا تو اس کو کوئی پوچھتا بھی نہیں تھا۔ مگر یہاں محمدؐ رسول اللہ کے لنگر کے متعلق فرماتا ہے کہ آپؐ کے متبعین کے ذریعہ سے جو لنگر جاری کیا گیا ہے اُس میں اُن لوگوں کا بھی حق رکھا گیا ہے جو کہ بول سکتے ہیں اور اُن لوگوں کا بھی حق رکھا گیا ہے جو بول نہیں سکتے۔ یعنی بولنے سے بالکل محروم ہیں یا شرم کے مارے نہیں بولتے کہ ہماری کمزوری اور غربت لوگوں پر ظاہر ہوگی۔ اور جانوروں کا بھی حق رکھا گیا ہے۔ اب دیکھو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لنگر کتنا وسیع ہے اور بادشاہوں کا لنگر کتنا محدود ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ اور آپ کے تمام اتباع کے اموال میں خدا تعالیٰ نے سائل اور محروم سب کا حق رکھا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلمان آجکل اپنی عملی کمزوری کی وجہ سے اس آیت پر عمل نہ کریں مگر قرآن نے اس کی ہدایت دے دی ہے اور جو سچا مسلمان ہو گا وہ ضرور اس پر عمل کرے گا۔ جھوٹے کا تو سوال ہی نہیں، جھوٹا تو خود ہی اپنی عاقبت خراب کرتا ہے۔
مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد ایک دن میاں اروڑے خان صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بہت ہی مقرب صحابیؓ تھے اور نائب تحصیلدار تھے قادیان آئے۔
اُس زمانہ میں آپ کپور تھلہ میں تھے اور تنخواہیں بہت کم ملا کرتی تھیں۔ شروع میں نائب تحصیلدار کی پندرہ روپے تنخواہ ہوتی تھی مگر اس کے باوجود وہ ہمیشہ ہر اتوار کو قادیان آتے اور روپیہ دو روپے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نذرانہ دیتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد جب وہ آئے تو اُس وقت وہ تحصیلدار ہو چکے تھے اور تنخواہیں بھی زیادہ ہوگئی تھیں۔ میں نے دیکھا کہ تین یا چار اشرفیاں انہوں نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھیں۔ انہوں نے وہ اشرفیاں میرے ہاتھ پر رکھیں اور پھر چیخیں مار کر رونے لگ گئے۔ میں حیران ہوا کہ یہ روتے کیوں ہیں۔ مگر جب روتے روتے ذرا ہوش آئی تو کہنے لگے کہ
’’ساری عمر خواہش رہی کہ میں اونہاں دے ہتھ وچ سوناں رکھاں پر کدی توفیق نہ ملی۔ جدوں کچھ پیسے جمع ہوندے سن میں پیدل چل کے کپور تھلہ توں اونہاں نوں ویکھن آ جاندا ساں یاں ریل وچ آندا ساں تاں کرایہ لگداسی۔ پر جدوں سونا ملیا ہے تے اوہ ہُن نہیں...‘‘
اُن کا یہ فقرہ ایسا دردناک تھا کہ مجھ پر بھی رقّت آ گئی۔ میں نے اُن کو چُپ کرانے کیلئے انہیں تسلّی دینے کی کوشش کی مگر اُن کی جو مذبوح حرکت تھی اُس کو دیکھتے ہوئے درحقیقت میری کوشش بالکل بے کار اور بے سُود تھی۔ یہ اَمۡوَالِہِمۡ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ(51:20) کا ایک نظارہ تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اُن لوگوں میں سے تھے جو لوگوں سے مانگتے نہیں تھے اور ایسے لوگ بھی محروم ہی ہوتے ہیں۔ مگر انہیں ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں نذرانہ پیش کریں اور خواہش بھی یہ تھی کہ سونا دیں مگر کہنے لگے۔
’’جدوں جیندے سن تے سونا نہیں ہتھ آیا۔ سونا ہتھ آیا تے اوہ ہن نہیں۔ ہُن میں کی کراں۔‘‘
یعنی جب آپؑ زندہ تھے تو مجھے سونا میسر نہ آیا اور جب سونا ملا تو آپؑ فوت ہو چکے ہیں۔ اب میں کروں تو کیا کروں۔
پھر میں نے بتایا ہے کہ یہ لنگر انسانوں سے لے کر جانوروں تک کے کام آتا ہے ۔ بادشاہی لنگر تو بمشکل انسانوں کو کھانا دے سکتے ہیں مگر یہ لنگر انسانوں اور پرندوں سب کو نفع پہنچا رہا ہے اور قیامت تک نفع پہنچائے گا۔ قیامت تک نفع پہنچانے کی ایک مثال یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ دیکھا کہ کسی صحابیؓ نے فاختہ کا ایک بچہ پکڑ لیا ہے اور وہ فاختہ بیقراری سے اِدھر اُدھر اُڑ رہی ہے۔ آپؐ نے اُسے فرمایا یاد رکھو! کبھی کسی جانور کو اُس کے بچہ کے ذریعہ سے دُکھ نہ دو۔ جس طرح انسان کی ماں کو دُکھ پہنچتا ہے اُسی طرح جانور کی ماں کو بھی دُکھ پہنچتا ہے۔ پس کسی جانور کو اُس کے بچہ کی وجہ سے دُکھ نہ دو۔۳۳ تو دیکھو وہ جو حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ(51:20) فرمایا تھا خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی تصدیق کر دی اور قیامت تک کے لئے حکم دے دیا کہ جانوروں سے بھی حسنِ سلوک کرو۔ اب جو اس کی خلاف ورزی کرے گا وہ محمدؐ رسول اللہ کا مخالف ہو کر کرے گا۔ ورنہ محمدؐ رسول اللہ کا کامل متبع کبھی ایسا نہیں کرے گا کہ کسی فاختہ یا کبوتر کا انڈہ یا بچہ لے کر چلا جائے اور وہ پرندہ تڑپتا پھرے کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کسی بچہ کے ذریعہ سے اُس کی ماں کو دُکھ نہ پہنچاؤ ، اب یہ قیامت تک کیلئے احسان ہے۔ کیونکہ محمد رسول اللہ کی اُمت کے متعلق خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وہ قیامت تک زندہ رہے گی۔ اور جب وہ قیامت تک زندہ رہے گی تو جانوروں پر احسان یا شرم و حیا کی وجہ سے سوال نہ کرنے والوں پر جو احسان کرنے کا حکم ہے یہ بھی قیامت تک چلے گا۔ غرض دنیا کے بادشاہوں کے لنگر تو ختم ہو گئے۔ کوئی دو سو سال تک رہا، کوئی سَو سال رہا، کوئی پچاس سال رہا، کوئی بیس سال رہا مگر محمدؐ رسول اللہ کا لنگر ساڑھے تیرہ سَو سال سے چل رہا ہے اور قرآن کہتا ہے کہ قیامت تک چلے گا پس اس لنگر کی مثال دنیا میں اور کہیں نہیں مل سکتی۔
اسی طرح سورۃ الکوثر میں جس لنگر کی خبر دی گئی تھی اُس میں کوثر سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل متبع مسیح موعود مراد تھا۔ چنانچہ اس کا لنگر دیکھ لو آج تک جاری ہے۔ اس جلسہ پر آنے والے بھی فائدہ اُٹھا رہے ہیں اور
سارا سال بھی لنگر جاری رہتا ہے۔ پس مبارک ہو کہ آپ سب لوگوں کو اس موعود لنگر سے فائدہ اُٹھانے کا موقع ملا ہے۔ مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وقت میں جب پُرانے صحابہؓ آیا کرتے تھے تو لنگر سے روٹیاں لے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ اِن میں بڑی برکت ہے ہم تو سارا سال کوئی بیماری ہو اپنے بچوں اور بیویوں کو یہی روٹیاں پانی میں گھول کر پلا دیتے ہیں اور وہ بیماریاں دُور ہو جاتی ہیں۔ اگر احمدی اپنے ایمان پر قائم رہے تو یہ لنگر بھی ہمیشہ قائم رہے گا اور کبھی نہیں مٹے گا کیونکہ اس کی بنیاد خدا کے مسیح موعودؑ نے قائم کی ہے جس کو خدا تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ تین سو سال کے اندر تیری جماعت ساری دنیا پر غالب آجائے گی اور تین سَو سال میں یہ لنگر ربوہ میں نہیں رہے گا بلکہ تین سَو سال کے بعد ایک لنگر امریکہ میں بھی ہوگا ، ایک انڈیا میں بھی ہوگا ، ایک جرمنی میں بھی ہوگا ، ایک روس میں بھی ہوگا ، ایک چین میں بھی ہوگا ، ایک انڈونیشیا میں بھی ہوگا ، ایک سیلون میں بھی ہوگا ، ایک برما میں بھی ہوگا ، ایک شام میں بھی ہوگا ، ایک لبنان میں بھی ہوگا ، ایک ہالینڈ میں بھی ہوگا ، غرض دنیا کے ہر بڑے ملک میں یہ لنگر ہو گا۔
قرآنی لنگر کی ایک اور مثال پاکستانیوں اور ہندوستانیوں کے سامنے ہر سال آتی رہتی ہے اور وہ اس طرح کہ عرب جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وطن تھا وہاں سے سینکڑوں لوگ پاکستان یا ہندوستان آئے ہیں اور مسلمان صرف اُن کے عرب ہونے کی وجہ سے اُن کی خوب خاطریں کرتے اور کھانے کھلاتے ہیں۔ یہ بھی محمدؐی لنگر ہے جو آج تک آپؐ کی قوم کے لئے جاری چلا آرہا ہے اور سارا سال کھلا رہتا ہے۔ بیشک یہ لنگر لوگوں کے گھروں میں کھلتا ہے مگر کھلتا محمدؐ رسول اللہ کی وجہ سے ہے۔ آخر عربوں کو جو لوگ عزت دیتے ہیں کیوں دیتے ہیں؟ ہمیں تو یاد ہے کہ پُرانے زمانہ میں عرب اور سیّد یہ دونوں اپنے عرب اور سیّد ہونے پر بڑا فخر کیا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے ایک دن حضرت اماں جان چار پائی پر بیٹھی تھیں کہ ایک سیّدانی مانگنے کو آگئی اور کہنے لگی میں سیّدانی ہوں میری مدد کرو۔ پھر کہنے لگی مجھے پیاس لگی ہے کسی کو کہو کہ مجھے پانی پلا دے۔ آپ نے کسی خادمہ کو کہا کہ اسے پانی پلا دو، اُس نے کٹورہ لیا اور کھنگال کے پانی بھر کے دے دیا۔ وہ بڑے غصہ سے کٹورہ پھینک کر کہنے لگی۔’تینوں نہیں پتا میں سیّدانی ہوں۔ سیدانی نوں امتی دے کٹورے وچہ پانی پلانی ایں ۔‘ خیر اُس نوکرانی نے ہنس کر کہا کہ۔’ایہہ امتی نہیں ایہہ بھی سیّدانی ہیں۔‘ اب یہ سیّد کی عزت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ہی تھی ورنہ انہیں کون پوچھتا تھا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لنگر تھا کہ جس نے آپؐ سے تعلق قائم کیا وہ معزز ہو گیا۔ دیکھ لو۔ حضرت امام حسنؓ اور حسینؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے تھے۔ حضرت امام حسینؓ کوفہ کے پاس جنگ میں مارے گئے تو زیاد نے حکم دیا کہ ان کا سر کاٹ کر یزید کے پاس بھیجا جائے۔ اُس نے سمجھا کہ مجھے انعام ملے گا۔ جب یزید کے دربار میں اُن کا سر گیا تو یزید کے دل میں جیسا کہ اُس کی بعض باتوں سے پتا لگتا ہے اہلِ بیت کا کچھ نہ کچھ ادب تھا مگر اُس وقت اپنی فاتحانہ شان کو دیکھ کر کہ میری فوجیں فاتح ہوئی ہیں ، اُس نے سوٹی لمبی کی اور اُن کے دانتوں پر دو تین دفعہ ماری۔ مرنے کے بعد عام طور پر انسان کے ہونٹ کھنچ جاتے ہیں۔ اُس وقت ایک صحابیؓ بھی اُس مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے وہ غصہ سے کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے۔ ’او بے شرم! ہٹا لے اپنی سوٹی۔ میں نے محمّدؐ رسول اللہ کو ان ہونٹوں پر بوسہ دیتے دیکھا ہے اور جن ہونٹوں کو محمّدؐ رسول اللہ نے بوسہ دیا تھا تیرے جیسے خبیث کی کیا حیثیت ہے کہ اس کو سوٹی مارے۔‘۳۴پھر دیکھ لو خدا تعالیٰ نے اِس کا کس طرح انتقام لیا۔
یزید کے مرنے کے بعد اُس کا بیٹا معاویہ بن یزید تخت پر بیٹھا۔ جسے اُس نے نامزد کر دیا تھا کہ میرے بعد یہ خلیفہ ہو۔ جب وہ تخت پر بٹھا دیا گیا تو وہ گھر گیا اور دروازے بند کر کے بیٹھ گیا۔ اس کے بعد اُس نے باہر کہلا بھیجا کہ یہ خلافت مسلمانوں کی امانت ہے میرے باپ کا کوئی حق نہیں تھا کہ وہ خلیفہ بناتا۔ یہ تمہاری امانت ہے تم جس کو چاہو خلیفہ بنالو۔ پھر اُس نے سب مسلمانوں کو جمع کر کے ایک تقریر کی اور کہا کہ خلافت پر میرا کوئی حق نہیں۔ تم کہتے ہو کہ میں خلیفہ ہوں کیونکہ میرے باپ نے مجھے خلیفہ بنایا ہے حالانکہ میرے باپ سے وہ شخص بہتر تھا جس کو میرے باپ نے مارا۔ اور میرے دادا سے وہ شخص بہتر تھا جس سے اُس نے جنگ کی اور مجھ سے بیسیوں اَور لوگ تم میں بہتر موجود ہیں ان لوگوں کے ہوتے ہوئے میں کیسے خلیفہ بن سکتا ہوں؟ تمہیں اختیار ہے جس کو چاہو خلیفہ بنالو۔ جب وہ تقریر کے بعد واپس آیا تو اُس کی ماں اُسے کہنے لگی کہ اے معاویہ! تُو نے اپنے خاندان کو بٹہ لگا دیا ہے۔ معاویہ نے کہا۔ اماں! میں نے بٹہ نہیں لگایا۔ میں نے اپنے خاندان کی عزّت کو قائم کر دیا ہے۔۳۵ اب دیکھو وہ اس صحابیؓ کا نمونہ تھا اور یہ خود یزید کے خاندان کا نمونہ ہے جس سے پتا لگتا ہے کہ محمدؐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمک خواری کا اُن پر کتنا اثر تھا۔ یزید کے اپنے بیٹے نے باپ کی ذلّت کی اور اُس کی خلافت پر لعنت ڈالی اور کہا کہ یہ خلافت خاندانِ نبویؐ کا حق ہے میں اسے نہیں لے سکتا۔
قرآنی لنگر کی ایک مثال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں بھی پائی جاتی ہے۔ گو آپ چھ گاؤں کے مالک تھے مگر طبیعت میں فروتنی تھی اور آپ نے اپنی ساری جائداد اپنے بڑے بھائی کی بیوہ کے سپرد کی ہوئی تھی تا کہ اُس کے دل سے بیوگی کا صدمہ کم ہو جائے۔ وہ اگرچہ بعد میں احمدی ہو گئیں مگر شروع میں اُن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بڑا بُغض تھا کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ یہ کوئی بڑا کام نہیں کر رہا بلکہ مسجد کا ملاّں بن گیا ہے اور ایک رئیس خاندان میں سے ہونے کی وجہ سے اُن کو یہ بُرا لگتا تھا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ مسجد کے ملاّں نہیں بنے تھے بلکہ آپ قرآنی لنگر سے استفادہ کرنے کے لئے دنیا سے علیحدہ ہو گئے تھے۔ مگر ظاہری حالت یہ تھی کہ اپنی بڑی بھاوج کے بُغض کی وجہ سے جب کبھی کوئی مہمان دین سیکھنے کے لئے آپ کے پاس آتا تو بھاوج کا نخست۳۶ سے بھیجا ہوا تھوڑا سا کھانا بھی آپ مہمان کو کھلا دیتے تھے اور خود ایک پیسہ کے چنے بھنوا کر کھا لیتے تھے۔
مجھے یاد ہے اُس وقت ہماری سیڑھیاں اُن کے گھر کے پاس سے گزرا کرتی تھیں۔ ایک دن میں اُن سیڑھیوں پر چڑھ رہا تھا کہ انہوں نے مجھے آواز دی کہ محمود! ٹھہر جا۔ میں اُن کی آواز سن کر بھاگا کیونکہ ہم سمجھتے تھے کہ یہ ہماری دشمن ہیں اور بھاگ کر کوٹھے پر چڑھ گیا۔ اِس پر وہ کہنے لگیں۔ ’’جیہو جیھا کاں اوہوجیہی کوکو۔‘‘ یعنی جیسا ان کا باپ خراب ہے ویسا ہی بیٹا خراب ہے۔ اتنا بُغض تھا ان کے دل میں۔ مگر پھر اُن کی یہ حالت ہوئی کہ یا تو وہ کہا کرتی تھیں۔ ’’جیہو جیھا کاں اوہوجیہی کوکو‘‘ اور یا پھر عین اُن کی موت کے وقت میں اُن کی خبر لینے کے لئے گھر پہنچا۔ کہنے لگیں اُن کو بُلا دو۔ میری جان نہیں نکلے گی جب تک وہ نہ آ جائیں۔ میں گیا تو چارپائی پر انہیں لٹایا ہوا تھا۔ میں زمین پر ہی بیٹھ گیا۔ میرے زمین پر بیٹھنے پر جھٹ اپنے پیر انہوں نے نیچے کرنے شروع کر دیئے اور کہا کہ زمین پر نہ بیٹھو میں چارپائی پر نہیں لیٹ سکتی۔ اب یا تو وہ وقت تھا کہ ’’جیہو جیھا کاں اوہوجیہی کوکو‘‘ کہتی تھیں اور یا پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تو اُن کے ظلم سہتے ہوئے گزر گئے اور ’’کوکو‘‘ کا ادب شروع ہو گیا۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پیٹ کی بیماری سے فوت ہوئے تھے اور اسہال کی آپ کو شکایت تھی۔ آپ کی وفات کے بعد مجھے خیال آیا کہ ممکن ہے متواتر چنے کھانے کی وجہ سے آپ کی صحت خراب ہوگئی ہو۔ اب تو وہ زمانہ گزر گیا لیکن اگر ہم اُس زمانہ میں ہوتے تو اپنی جانیں قربان کر کے بھی آپ کے لئے کھانا مہیا کرتے اور چنے نہ کھانے دیتے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں ماش کی دال کھا رہا تھا کہ مجھے دال کھاتے ہوئے حضرت خلیفہ اوّل نے دیکھ لیا اور فرمانے لگے۔ میاں! دال بھی کوئی کھانے کی چیز ہوتی ہے۔ خبردار! پھر کبھی دال نہ کھانا۔ مگر اpageدھر خدا کا مسیح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) ایسا تھا کہ اٹھائیس تیس سال اس کی زندگی کے ایسے گزرے ہیں جن میں وہ روزانہ پیسے کے چنے بھنوا کر کھا لیتا تھا اور اپنا کھانا لوگوں کو کھلا دیتا جو دین سیکھنے کے لئے آتے تھے۔
جب بعد میں اللہ تعالیٰ کے فضل آپ پر نازل ہونے شروع ہوئے اور قرآنی لنگر نے آپ کے لئے اپنے دروازے کھول دیئے تو آپ نے فرمایا۔
لُفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ کَانَ اُکْلِیْ
وَ صِرْتُ الْیَوْمَ مِطْعَامَ الْاَھَالِیْ
۳۷کہ اے لوگو! میری حالت پر غور کرو۔ کبھی تو ایسا تھا کہ میری بھاوج گھر کے بچے ہوئے ٹکڑے مجھے بھیجا کرتی تھی لیکن قرآنی لنگر کی برکتوں کی وجہ سے آج بہت سے خاندان میرے ذریعہ سے پل رہے ہیں۔ اس میں اشارہ ہے اُن مہاجرین کی طرف جو اپنا وطن چھوڑ کر قادیان آگئے تھے۔ یا جو آج اپنا وطن چھوڑ کر سینکڑوں مہاجروں کی صورت میں یہاں بس رہے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا قائم کردہ لنگر اُن کو پال رہا ہے۔ غرض آج بھی وہی قرآنی لنگر جاری ہے اور آپ لوگ سارا سال بھی اور جلسہ کے دنوں میں بھی اس قرآنی لنگر سے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ سے جاری ہوا تھا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ وہ مسیح موعودؑ جو ہزاروں ایکڑ زمین اور چھ گاؤں کا واحد مالک ہونے کے باوجود آپ لوگوں کی خاطر غریب بن گیا تھا تا کہ قرآنی لنگر کی کوئی روٹی آپ کے لئے بھی لے آوے آپ کے لئے بڑا بھاری نمونہ ہے۔ اگر آپ اس زندگی پر غور کریں تو یقیناً آپ نہایت آسانی کے ساتھ ولی اللہ بن سکتے ہیں۔
پھر قرآن کریم نے اس لنگر کو اتنا وسیع کر دیا ہے کہ کفار کو بھی دعوت دی ہے کہ اس لنگر کو جاری رکھیں ورنہ انہیں سزا سے ڈرایا ہے۔ چنانچہ سورۃ الماعون میں آتا ہے اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یُکَذِّبُ بِالدِّیۡنِ فَذٰلِکَ الَّذِیۡ یَدُعُّ الۡیَتِیۡمَ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡنِ فَوَیۡلٌ لِّلۡمُصَلِّیۡنَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنۡ صَلَاتِہِمۡ سَاہُوۡنَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ یُرَآءُوۡنَ(107:2-7)۳۸ یعنی کیا تجھے اس شخص کا حال معلوم نہیں جو دین اسلام کے احکام کو جھٹلاتا ہے۔ یہی وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دے کر اپنے گھر سے نکال دیتا ہے۔ یعنی ڈرتا ہے کہ کہیں یتیم کو کھانے میں سے کچھ حصہ نہ دینا پڑے اور اُسے اپنے لنگر سے محروم رکھنا چاہتا ہے۔ اور نہ صرف آپ یتیموں کو کھانے سے محروم رکھتا ہے بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی غریب کو کھانا کھلانے کی تحریص نہیں دلاتا۔ پس یاد رکھ کہ ایسا آدمی کبھی سچی عبادت نہیں کرسکتا بلکہ اُس کی عبادت دکھاوے کی ہوتی ہے۔ اور ایسا شخص یہی نہیں کہ عالیشان دعوتوں سے غریبوں کو محروم رکھتا ہے بلکہ چھوٹی چھوٹی چیزیں اُدھار دینے سے بھی روکتا رہتا ہے اور اِس طرح خدائی لنگر کو ہمیشہ کے لئے بند کرنا چاہتا ہے سو اس کے لئے ایک بہت بڑا عذاب مقدر ہے۔
ایک مثال قرآن کے لنگر کی اِس آیت میں بیان کی گئی ہے کہ لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَلٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَالۡمَلٰٓئِکَۃِ وَالۡکِتٰبِ وَالنَّبِیّٖنَ ۚ وَاٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَالۡیَتٰمٰی وَالۡمَسٰکِیۡنَ وَابۡنَ السَّبِیۡلِ ۙ وَالسَّآئِلِیۡنَ وَفِی الرِّقَابِ(39)
اِس جگہ بِرّ کا لفظ آیا ہے جس کے معنے بہت بڑی نیکی کے ہوتے ہیں۔ مگر چونکہ یہ مصدر ہے اور عربی زبان میں مصدر بمعنی فاعل بھی آ جاتا ہے اور بمعنی مفعول بھی، اس لئے اِس آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ بڑا نیکی کرنے والا وہ نہیں ہے جو صرف مشرق اور مغرب کی طرف منہ پھیر کر ظاہری نماز پڑھ لیتا ہے بلکہ بڑا نیکی کرنے والا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل متبع وہ ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور ملائکہ پر اور کتب سماویہ پر اور سارے نبیوں پر ایمان لاتا ہے اور اپنے مال کو باوجود تنگی کے اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے غریبوں میں تقسیم کرتا رہتا ہے۔ یعنی قرآنی لنگر کی یاد میں دُنیاوی لنگر کو قائم رکھتا ہے۔ پس جس کو خدا تعالیٰ توفیق دے اُسے اس لنگر کو ہمیشہ جاری رکھنا چاہئے ۔ ورنہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قیامت کے دن اُسے سخت عذاب دیا جائے گا۔ لوگ یوں تو دعائیں مانگتے رہتے ہیں کہ یا اللہ! عذاب قبر سے بچائیو۔ یا اللہ! دوزخ کے عذاب سے بچائیو لیکن کام وہ کرتے ہیں جو دوزخ کے عذاب کو لانے والے ہوتے ہیں۔ یعنی
غریبوں کو کھانا نہیں کھلاتے اور لوگوں کو یہ نہیں کہتے کہ جب کبھی غرباء کو کوئی ضرورت ہو تو اُن کی ضرورت کو پورا کر دیا کرو۔ اسی طرح گھر میں سے کبھی ہنڈیا، کبھی کڑچھا، کبھی چمٹا، کبھی پھکنی ایسی ہی عام استعمال میں آنے والی چیزیں انہیں دیتے رہا کرو۔ تا کہ غریبوں کو سہارا ہو۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت اماں جان سے یہاں تک فرمایا کرتے تھے کہ تمہارے پاس جو زیور ہیں وہ غریبوں کو بھی پہننے کے لئے دیتی رہا کرو کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو زیور استعمال ہوتا رہے اُس پر زکوٰۃ نہیں۔ یعنی زکوٰۃ کی اصل غرض تو یہ ہے کہ صدقہ ہو۔ جب وہ پہننے کی وجہ سے گھسے گا اور غریبوں کو فائدہ پہنچے گا تو اصل غرض پوری ہو جائے گی پس ہمیشہ آپؐ یہ تحریک فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی غریب گھرانے میں شادی ہو تو اپنے زیور اُن کو دے دیا کرو تاکہ وہ اپنی بہو یا بیٹی کو پہنا دیں اور اس ذریعہ سے کچھ مدت تک وہ اپنی عزت اور شہرت کو قائم رکھ سکیں۔ اب یہ ایک نہایت ہی آسان راستہ ہے کیونکہ زیور کا کچھ دنوں کے لئے کسی کو دے دینا کوئی بڑی بات نہیں بلکہ ایسی چھوٹی بات ہے کہ آسانی سے ہر عورت اس پر عمل کر سکتی ہے۔ مگر عمل کرنا مشکل ہے۔ عام طور پر عورتیں اتنا کام بھی نہیں کر سکتیں۔ اگر وہ اتنا کام ہی کر لیا کریں تو اُن کے ہاتھ دوزخ کی آگ سے بچ جائیں۔ جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ چندے کی تحریک کی اور فرمایا عورتو! تم بھی چندے دو۔ ایک عورت نے اپنا ایک کنگن اُتار کر پھینک دیا اور کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! یہ میری طرف سے چندہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا۔ اے عورت! تیرا دوسرا ہاتھ کہتا ہے کہ مجھے بھی دوزخ سے بچا۔ اُس نے فوراً اپنا دوسرا کنگن بھی اُتار کر آپؐ کی طرف پھینک دیا اور کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! یہ بھی لے لیں ۴۰ غرض ان لوگوں میں اس حد تک اخلاص پایا جاتا تھا۔
ہماری عورتوں نے ایک موقع پر جب برلن مسجد بنی تھی ایک مہینے کے اندر اندر
ایک لاکھ چالیس ہزار روپیہ جمع کر دیا تھا۔ پھر بعد میں اُس کو بیچا گیا کیونکہ حکومت کی طرف سے ایسی شرطیں لگا دی گئی تھیں کہ جن کو ہم پورا نہیں کر سکتے تھے۔ مثلاً کہا گیا کہ جو مسجد بنے وہ تین منزلہ بنے اور اتنا روپیہ اس پر خرچ ہو۔ مولوی مبارک علی صاحب جو اُس وقت ہمارے وہاں مبلغ تھے انہوں نے لکھا کہ یہ شرائط ہم پوری نہیں کر سکتے۔ میں نے کہا اچھا زمین بیچ دو۔ چنانچہ جو روپیہ آیا اُس سے ہم نے لندن میں مسجد بنائی۔
اب میں دعا کر دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کا حافظ و ناصر ہو اور خیریت سے آپ لوگ جائیں اور اللہ تعالیٰ کی برکات آپ کے ساتھ ہوں اور کسی قسم کے شر کی خبر آپ گھر جا کر نہ سنیں بلکہ برکت اور رحمت کی خبریں سنیں۔ اور نہ وہاں جا کر آپ کو کوئی تکلیف ہو اور ہر قسم کی راحت اور امن آپ کو حاصل ہو۔ اور ہر قسم کا رحم اور فضل آپ لوگوں پر نازل ہوتا رہے اور اللہ تعالیٰ آپ کو اگلے سال پھر خوشی اور خُرَّمی 41 کے ساتھ جلسہ سالانہ پر آنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اِس دفعہ بارشوں کی کمی کی وجہ سے زمینداروں کو بہت نقصان پہنچا ہے اور اس وجہ سے اُن کے یہاں آنے میں بہت سی مشکلات حائل تھیں ۔ اللہ تعالیٰ آئندہ ان کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ اِس سال سے بہت بڑھ چڑھ کر آئیں ۔ اور اُن پر بہت بڑی برکتیں نازل ہوں اور دشمن کا منہ کالا ہو۔ اور اُسے پتا لگے کہ احمدیہ جماعت ہر سال آگے سے ترقی کر رہی ہے۔
پھر باہر کے مبلّغین کے لئے بھی اور جنہوں نے دعاؤں کے لئے تاریں دی ہیں اُن کے لئے بھی اور باہر کے ملکوں میں جو ہماری جماعتیں قائم ہیں اُن کے لئے بھی دعائیں کرو ۔ اِسی طرح عورتوں کیلئے بھی اور مردوں کیلئے اور نئی اولاد کے لئے بھی دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اُن سب کو مؤمن بنائے اور مؤمن بنا کر اپنی رحمت کے سایہ میں اُن کو رکھے۔ اور خود ان کا مُعَلّم بنے ہماری تعلیم پر ان کو نہ چھوڑے بلکہ وہ آپ ان کو تعلیم دے کر اس قابل بنائے کہ وہ احمدیت کی خدمت کریں اور ہمیشہ اسلام کا جھنڈا اونچا رکھیں۔‘‘
(الناشر الشركة الاسلامیہ لمیٹڈ ربوہ مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس ربوہ)
1: تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 219
2: میخانہ درد صفحہ 92 مطبوعہ 1344ھ
3: میخانہ درد صفحہ 26 مطبوعہ 1344ھ
4: تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 194
5: ضمیمہ تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 296 حاشیہ
6: اندرونی اختلافاتِ سلسلہ احمدیہ کے اسباب صفحہ 73
7: شِکرم: ایک قسم کی چار پہیوں والی گاڑی (فیروز اللغات اردو جامع صفحہ 845 فیروز سنز لاہور)
8: پیغام صلح 21 جولائی 1954ء صفحہ 7
9: بنی اسرائيل : 13
10: العلق : 6
11: فَالۡیَوۡمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَکَ اٰیَۃً ؕ وَاِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ(یونس : 93)
12: یونس: 93
13: البقرة : 103
14: سلاطین 1 باب 11 آیت 4 برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور 1943ء
15: سلاطین 1 باب 11 آیت 9 برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور 1943ء
16: سلاطین 1 باب 11 آیت 9 برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور 1943ء
17: سلاطین 1 باب 11 آیت 9، 10 برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور 1943ء
18: انسائیکلوپیڈیا ببلیکا زیر لفظ سلیمان جلد 3 صفحہ 4689 مطبوعہ امریکہ 1907ء
19: سلاطین 1 باب 3 آیت 12 برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور 1943ء
20: سلاطین 1 باب 3 آیت 12 برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور 1943ء
21: سلاطین 1 باب 3 آیت 3 برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور 1943ء 22: متی باب 6 آیت 4 نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور 1870ء (مفہوماً) 23: المؤمن : 20 24: الصّٰفّٰت : 9 تا 11 25: الکوثر : 2 تا 4 26: سیرت ابن ہشام الجزء الاول صفحہ 98 ، 99 مطبوعہ مصر 1295ھ 27: سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 135 ، 136 مطبوعہ مصر 1295ھ 28: سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 135 ، 136 مطبوعہ مصر 1295ھ 29: السیرۃ الحلبیۃ الجزء الثالث صفحہ 106 مطبوعہ مصر 1935ء 30: تاریخ طبری جلد 2 صفحہ 91 ، 92 مطبوعہ بیروت 2012ء 31: اسد الغابة الجزء الثانی صفحہ 372 مطبوعہ ریاض 1285ھ 32: الذّٰریت : 20 33: ابوداؤد کتاب الجهاد باب فی كراهية حرق العدوّ بالنَّارِ حدیث نمبر 2675 صفحہ 386 الطبعة الاولىٰ مطبوعہ ریاض 1999ء 34: تاریخ ابن اثیر جلد 4 صفحہ 45 مطبوعہ بیروت 2009ء (مفہوماً) 35: تاریخ الخمیس جلد 2 صفحہ 217 مطبوعہ بیروت 1283ھ 36: خست: بخل، کنجوسی، کمینگی (فیروز اللغات اردو جامع صفحہ 590 فیروز سنز لاہور) 37: آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 596 38: الماعون : 2 تا آخر 39: البقرة : 178 40: ابوداؤد كتاب الزکوٰة باب الكنز ما هو و زكوة الحلى حدیث نمبر 1563 صفحہ 230 الطبعة الاولىٰ مطبوعہ ریاض 1999ء میں اس بات کا ذکر ہے کہ عورت نے بات سن کر فوراً دونوں زیور اتار دیے۔ 41: خُرَّمِیْ: خوشی، شادمانی، فرحت (فیروز اللغات اردو جامع صفحہ 589 فیروز سنز لاہور)
از سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
’’آج انصار اللہ کے سالانہ اجتماع کی تقریب ہے۔ میں اس موقع پر آپ سے دو باتیں کہنی چاہتا ہوں۔ ایک تو میں اس بارہ میں آپ سے خطاب کرنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے فرائض کی طرف توجہ کریں۔ آپ کا نام انصار اللہ سوچ سمجھ کر رکھا گیا ہے۔ پندرہ سے چالیس سال تک کی عمر کا زمانہ جوانی اور اُمنگ کا زمانہ ہوتا ہے اس لئے اس عمر کے افراد کا نام خدام الاحمدیہ رکھا گیا ہے تا کہ وہ خدمتِ خلق کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ وقت صَرف کریں۔ اور چالیس سال سے اوپر عمر والوں کا نام انصار اللہ رکھا گیا ہے۔ اس عمر میں انسان اپنے کاموں میں استحکام پیدا کر لیتا ہے۔ اور اگر وہ کہیں ملازم ہو تو اپنی ملازمت میں ترقی حاصل کر لیتا ہے اور وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے سرمایہ سے دین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکے۔
پس آپ کا نام انصار اللہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ جہاں تک ہو سکے آپ دین کی خدمت کی طرف توجہ کریں۔ اور یہ توجہ مالی لحاظ سے بھی ہوتی ہے اور دینی لحاظ سے بھی ہوتی ہے۔ دینی لحاظ سے بھی آپ لوگوں کا فرض ہے کہ عبادت میں زیادہ سے زیادہ وقت صَرف کریں اور دین کا چرچا زیادہ سے زیادہ کریں تا آپ کو دیکھ کر آپ کی اولادوں میں بھی نیکی پیدا ہو جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قرآن کریم میں یہی خوبی بیان کی گئی ہے کہ آپ اپنے اہل وعیال کو ہمیشہ نماز وغیرہ کی تلقین کرتے رہتے تھے۔ یہی اصل خدمت آپ لوگوں کی ہے۔ آپ خود بھی نماز اور ذکر الٰہی کی طرف توجہ کریں اور اپنی اولادوں کو بھی نماز اور ذکرِ الٰہی کی طرف توجہ دلاتے رہیں۔ جب تک جماعت میں یہ روح بیدار ہے اور لوگوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فرشتوں کا تعلق قائم رہے اور اپنے اپنے درجہ کے مطابق کلامِ الٰہی ان پر نازل ہوتا رہے اُسی وقت تک جماعت زندہ رہتی ہے۔ کیونکہ اس میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی آواز سن کر اسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ اور جب یہ چیز مٹ جاتی ہے اور لوگ خدا تعالیٰ سے بے تعلق ہو جاتے ہیں تو اُس وقت قومیں بھی مرنے لگ جاتی ہیں۔ پس آپ لوگوں کو ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور اپنی اولادوں کو بھی ذکرِ الٰہی کی تلقین کرتے رہنا چاہئے۔ اور اگر کوئی بشارت آپ پر نازل ہو تو ڈرنا نہیں چاہئے اسے اخبار میں اشاعت کے لئے بھیج دینا چاہئے۔ اصل میں تو یہ انبیاء کا ہی کام ہوتا ہے کہ وہ اپنی رؤیا و کشوف کو شائع کریں۔ لیکن انبیاء اور غیر انبیاء میں یہ فرق ہوتا ہے کہ انبیاء میں تحدّی پائی جاتی ہے اور غیر انبیاء میں تحدّی نہیں پائی جاتی۔ غیر انبیاء کے لئے یہی حکم ہے کہ وہ انکسار کے مقام کو قائم رکھیں ۔ اور بے شک خدا تعالیٰ کی تازہ وحی کی جو بارش اُن پر نازل ہو اُس کا لوگوں کے سامنے ذکر کریں لیکن لوگوں کو یہ نہ کہیں کہ تم ہماری بات ضرور مانو۔ ہاں نبی کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں سے کہے کہ تم میری باتیں مانو نہیں تو تمہیں سزا ملے گی۔ لیکن غیر نبی کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ ایمان کی زیادتی کے لئے خواب بیان کر دیتا ہے لیکن وہ کسی سے یہ نہیں کہتا کہ تم میری بات ضرور مانو۔ وہ سمجھتا ہے کہ جب میں غیر نبی ہوں تو اگر خدا تعالیٰ نے میری بات کسی سے منوانی ہے تو وہ خود اُس کے لئے کوئی صورت پیدا کر دے گا مجھے اِس پر زور دینے کی ضرورت نہیں۔ لیکن نبی اپنا حق سمجھتا ہے کہ وہ وحی پر زور دے کیونکہ وہ یقین رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ اُس سے ایسے رنگ میں کلام کرتا ہے جس رنگ میں وہ کسی اور سے نہیں کرتا۔ اس لئے اگر کوئی شخص میری بات نہیں مانے گا تو اس کو سزا ملے گی اور اسی وجہ سے وہ تحدّی کرتا ہے۔ لیکن دوسرا شخص ایسا نہیں کرسکتا۔ پس جس شخص کو کوئی روٴیا یا کشف ہو اُسے وہ کشف یا روٴیا اخبار میں چھپوانے کے لئے بھیج دینا چاہئے۔ آگے الفضل والوں کا کام ہے کہ وہ اسے شائع کریں یا نہ کریں۔
یہ بھی غلط طریق ہے کہ بعض لوگ مجھے کہہ دیتے ہیں کہ الفضل ہمارا مضمون شائع نہیں کرتا۔ وہ بیشک نہ چھاپے تم چپ کر رہو۔ کیونکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کا منشاء نہیں کہ وہ چھپے۔ لیکن اس میں خود الفضل والوں کا اپنا فائدہ بھی ہے کیونکہ اس سے جماعت کے اندر ایک بیداری پیدا ہوتی ہے۔ اگر کسی شخص کو کوئی روٴیا یا کشف یا الہام ہوتا ہے اور وہ شائع ہوجائے تو دوسروں کے اندر بھی یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم توجہ کریں تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیں بھی کوئی روٴیا یا کشف یا الہام ہوجائے گا۔ اس طرح الفضل سلسلہ کی ایک خدمت کرے گا۔ وہ جماعت کے اندر بیداری پیدا کرنے کا موجب ہوگا۔ لیکن اگر وہ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ خود گرفت کرے گا آپ لوگوں کا صرف اتنا کام ہے کہ آپ اُسے اس طرف توجہ دلائیں۔ لیکن اگر الفضل نہ چھاپے تو پھر اسے خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیں اور اصرار نہ کریں کہ الفضل ہماری خواب شائع کرے۔ ایڈیٹر آزاد ہوتا ہے اُس کی مرضی ہے کہ کوئی چیز شائع کرے یا نہ کرے۔ اگر وہ اپنے فرائض کو ادا نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ خود اس سے سمجھ لے گا۔ آپ اُس پر داروغہ نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو قرآن کریم میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی فرماتا ہے کہ تم ان لوگوں پر داروغہ نہیں ہو۱ پھر تم داروغہ کہلانے والے کہاں سے آگئے۔
بہر حال آپ انصار اللہ کے مقام کو قائم رکھنے کی کوشش کریں۔ اور انصار اللہ کے معنے یہی ہیں کہ وہ روپیہ سے بھی دین کی خدمت کریں اور روحانی طور پر بھی دین کی خدمت کریں۔ میں نے بتایا ہے کہ روحانی طور پر دین کی خدمت یہی ہے کہ آپ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کریں اور اگر اُس کی طرف سے بارش کا کوئی چھینٹا آپ پر بھی پڑ جائے تو ان چھینٹوں کو لوگوں تک بھی پہنچائیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وحی تو الگ رہی خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی ہر چیز کی قدر کرتے تھے۔ ایک دفعہ بارش ہوئی تو آپ باہر نکل آئے اور اپنی زبان باہر نکال لی اُس پر بارش کا ایک قطرہ پڑا تو آپ نے فرمایا یہ خدا کی رحمت کا تازہ نشان ہے2 تو قرآن کریم تو الگ رہا آپ نے بارش کے ایک قطرہ کو بھی خدا تعالیٰ کا تازہ نشان قرار دیا۔ اب اگر کسی شخص پر خدا تعالیٰ کا اتنا فضل ہو جاتا ہے کہ اسے کوئی کشف ہو جاتا ہے یا کوئی الہام ہو جاتا ہے تو وہ تو یقینی طور پر خدا تعالیٰ کا تازہ نشان ہے پھر وہ تحدیثِ نعمت کیوں نہ کرے۔ تحدیثِ نعمت بھی خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کا ایک طریق ہے۔
دوسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ اب تحریکِ جدید کے نئے سال کے اعلان کا وقت آ گیا ہے۔ ہمارے ذمہ بہت بڑا کام ہے اور ہم نے تمام غیر ممالک میں مساجد بنانی ہیں۔ اِس وقت ہمارے ملک کی ایکسچینج کی حالت پوری طرح مضبوط نہیں مگر اللہ تعالیٰ ہمیشہ فضل کرتا رہا ہے اور ہمارے کام چلتے رہے ہیں۔ کیونکہ ہماری باہر کی بعض جماعتیں اب مضبوط ہو گئی ہیں۔ مثلاً افریقہ کی جماعتیں وغیرہ۔ اور وہ پاکستان کے قوانین کے ماتحت نہیں اس لئے ان لوگوں نے مساجد کی خاطر جو جماعت کو پونڈ اور ڈالر دیئے ہیں اُن سے کسی حد تک کام چلتا رہا ہے۔ مگر وہ جماعتیں ابھی کم ہیں وہ زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتیں۔ ان کا بوجھ بٹانے کا طریق یہی ہے کہ یہاں کا بوجھ یہاں کی جماعتیں اٹھا لیں اور اُن کو اس بوجھ سے فارغ کر دیا جائے تاکہ وہ غیر ملکوں میں مسجدیں بنائیں۔ امریکہ میں عام طور پر حبشی لوگ مسلمان ہیں اور حبشیوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کی سمجھ کم ہوتی ہے۔ لیکن امریکہ میں ایک مسجد بنی ہے جس کے لئے ایک حبشی مرد اور اس کی بیوی نے اپنا مکان اور جائیداد وقف کر دی تھی اور پھر انہوں نے کچھ اَور روپیہ بھی دیا۔ اسی طرح کچھ چندہ دوسرے لوگوں نے بھی دیا بہرحال وہ مسجد بن گئی ہے۔ اگر امریکہ کے حبشی لوگ جو اسلام سے بہت دور رہے ہیں اور اب قریب عرصہ میں اسلام میں داخل ہوئے ہیں انہیں اتنی توفیق مل گئی ہے کہ وہ مساجد کے لئے اپنی جائیدادیں وقف کر دیں تو کیا وجہ ہے کہ جو پرانے مسلمان چلے آتے ہیں وہ یہ کام نہ کریں۔ مغربی افریقہ میں بھی روپیہ بہت ہے۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں ہمارے کچھ چیفس ایسے ہیں جن کی زمینوں میں ہیروں اور سونے کی کانیں نکل آئی ہیں اور ہزاروں ہزار پونڈ انہیں بطورِ نفع مل جاتا ہے۔ اگر ہمارے مبلغ ان میں تحریک جاری رکھیں اور وہ مساجد بنانے کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لیں یا کم سے کم دو دو تین تین مسجدیں مشرقی اور مغربی افریقہ والے بنا دیں تو پاکستان کی پونڈ جمع کرنے کی دقّت دور ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ان ملکوں میں پونڈ کثرت سے پایا جاتا ہے لیکن ہمارے ملک میں پونڈ کثرت سے نہیں پایا جاتا۔ ہمارے ملک کی جو چیزیں ہیں اُن کے بیچنے کے لئے انہیں دوسری قوموں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے مگر بعض غیر ملکوں میں جن میں پونڈ پایا جاتا ہے ایسی چیزیں ہیں جن کا کوئی مقابلہ نہیں۔ مثلاً مغربی افریقہ میں سارا پونڈ ہیروں اور سونے کے ذریعہ سے آتا ہے اور ہیروں اور سونے میں کوئی اور قوم ان کا مقابلہ نہیں کرتی اس لئے لازماً ان کے پاس بہت سا پونڈ بچ جاتا ہے اور اس سے ہمیں مدد مل سکتی ہے۔
پھر ہماری جماعت فلپائن میں بھی پیدا ہو گئی ہے اور ترقی کر رہی ہے۔ اگرچہ وہ ترقی آہستہ آہستہ ہو رہی ہے لیکن بہر حال ہو رہی ہے۔ پچھلے سال وہاں سے بیعت کا ایک خط آیا مجھے افسوس ہے کہ وہ گھر میں پڑا رہا۔ میں تو بیماری کی وجہ سے خط نہیں پڑھ سکتا اس لئے وہ کہیں پڑا رہا۔ اب کہ وہ خط نکلا تو معلوم ہوا کہ وہ بیعت ایک گورنر کی تھی مگر اِدھر خط ملا اور اُدھر معلوم ہوا کہ وہ بیچارہ قتل بھی ہو گیا ہے۔ اب اس کے خط کے ملنے کا یہی فائدہ ہوا ہے کہ وکیل التبشیر نے کہا ہے کہ ہم اُس کے بیوی بچوں کو ہمدردی کا خط لکھ دیتے ہیں۔ پہلے ہم سمجھتے تھے کہ گورنر کہاں سے آ گیا کوئی ڈپٹی کمشنر ہو گا۔ مگر اب وہاں سے جو طالبعلم آیا ہوا ہے اس نے کہا ہے کہ ہمارے ہاں بڑے بڑے جزیرے ہیں اُن جزیروں پر گورنر مقرر ہوتا ہے، ڈپٹی کمشنر نہیں ہوتا۔ اس نے بتایا کہ بیعت کا خط لکھنے والا گورنر ہی تھا مگر وہ تو اب شہید ہو گیا ہے اب اُس کی جگہ ایک نائب گورنر نے بیعت کر لی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس علاقہ میں بھی ترقی ہوئی ہے۔ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو امریکہ اور فلپائن وغیرہ علاقوں میں جماعت کو اور بھی ترقی ہو جائے گی اور اس طرح ڈالر کی آسانی ہو جائے گی۔ امریکہ میں تبلیغ کا یہ اثر بھی ہے کہ دوسرے کئی ملکوں میں بھی ہماری تبلیغ کا اچھا اثر پڑ رہا ہے۔ چنانچہ مولوی نور الحق صاحب انور جو حال ہی میں امریکہ سے آئے ہیں انہوں نے
بتایا کہ مصر کا جو وائس قونصل تھا اُس کے جبڑے میں درد تھی ۔ اُس نے آپ کو دعا کے لئے خط لکھا تھا لیکن اُس کو آپ کا جواب نہیں پہنچا۔ میں نے دفتر والوں سے خط نکالنے کے لئے کہا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں وہ خط نہیں ملا۔ لیکن اب پرسوں یا اترسوں اس کا دوسرا خط آیا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ غالباً میرا پہلا خط نہیں پہنچا اب میں دوسرا خط لکھ رہا ہوں ۔ میرے جبڑے میں درد ہے آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ صحت دے☆۔ یہ امریکہ میں تبلیغ کا ہی اثر ہے۔ ہم امریکہ میں تبلیغ کرتے ہیں تو مصری اور شامی بھی متاثر ہوتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہی جماعت ہے جو اسلام کی خدمت کر رہی ہے اور اس طرح قدرتی طور پر انہیں ہماری جماعت کے ساتھ ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے۔ پہلی شامی حکومت کی سختیوں کی وجہ سے ہمارے مبلغ منیر الحصنی صاحب کا خط آیا تھا کہ اس نے ہماری جماعت کے بعض اوقاف میں دخل اندازی کی تھی لیکن اب انہوں نے لکھا ہے کہ جو نئے قوانین بنائے گئے ہیں اُن میں کچھ گنجائش معلوم ہوتی ہے۔ ان کے مطابق میں دوبارہ نالش کرنے لگا ہوں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک الہام ہے کہ يَدْعُوْنَ لَكَ اَبْدَالُ الشَّامِ ؎ ابدالِ شام تیرے لئے دعائیں کرتے ہیں۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ شام میں جماعت پھیلے گی۔ پس دوستوں کو دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ وہاں جماعت کے لئے سہولت پیدا کرے اور وہاں جماعت کو کثرت کے ساتھ پھیلائے تا ابدالِ شام پیدا ہوں۔ اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تو ہیں نہیں يَدْعُوْنَ لَكَ کے یہی معنے ہیں کہ وہ جماعت کے لئے دعائیں کریں گے اور ابدال نام بتاتا ہے کہ ان کی دعائیں سنی جائیں گی۔
ابدال کے معنے ہیں کہ ان کے اندر بڑی عظیم الشان تبدیلی پیدا ہو جائے گی اور خدا تعالیٰ کے مقرب ہو جائیں گے۔ پس اس کے لئے بھی دعاؤں میں لگے رہنا چاہئے کہ شام میں جو مشکلات ہیں اللہ تعالیٰ انہیں دور کرے۔ وہاں مضبوط جماعت پیدا ہو اور ایسے ابدال
پیدا ہوں جو رات دن اسلام اور احمدیت کے لئے دعائیں کرتے رہیں۔ ہمیں پونڈ مہیا کرنے میں شام کا بھی بڑا دخل ہے۔ شام میں بھی ڈالر اور پونڈ کا زیادہ رواج ہے اور وہاں سے ہمیں کچھ مدد مل جاتی ہے۔ بہر حال اگر سعودی عرب میں جماعت پھیلے، اسی طرح امریکہ اور آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اور فلپائن میں ہماری جماعت پھیلے تو ڈالر مل سکتا ہے۔ اسی طرح اگر مشرقی اور مغربی افریقہ اور انگلینڈ میں جماعت پھیلے تو پونڈ جمع ہو جاتا ہے۔ یہ پونڈ اور ڈالر ہمیں اپنے لئے نہیں چاہئیں ۔ خدا تعالیٰ کے لئے اور اُس کے گھر کی تعمیر کے لئے ہمیں ان کی ضرورت ہے۔ پس دعائیں کرتے رہیں کہ خدا تعالیٰ ان ممالک میں جماعتیں قائم کرے اور ان میں ایسا اخلاص پیدا کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے گھر سارے ممالک میں بنائیں۔ یہاں تک کہ دنیا کے چپے چپے سے اَللّٰهُ اَکْبَرُ کی آواز آنے لگ جائے اور جو ملک اب تک تثلیث کے پھیلانے کی وجہ سے بدنام تھا وہ اب اپنے گوشہ گوشہ سے یہ آواز بلند کرے کہ مسیح تو کچھ بھی نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ ہی سب سے بڑا ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو یہ دینِ اسلام کی بڑی بھاری فتح ہے اور ہمارے لئے بھی یہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے حصول کا بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص تو وہاں تبلیغ کے لئے جا نہیں سکتا چند مبلغ گئے ہوئے ہیں۔ باقی لوگ یہ کر سکتے ہیں کہ ان کی روپیہ سے مدد کریں اور دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا فضل چاہیں تا کہ وہ ان پر اپنے فرشتے اتارے اور ان کی باتوں میں اثر پیدا کرے۔
ہمارا ایک طالب علم جرمنی گیا ہوا تھا۔ اس کا کل ہی ایک خط آیا ہے کہ ایک پادری کی بیٹی میرے زیر تبلیغ تھی جو بہت حد تک احمدیت کی طرف مائل ہوگئی ہے لیکن اسے باپ سے ڈر ہے کہ وہ اس کی مخالفت نہ کرے کیونکہ وہ پادری ہے۔ میں نے لکھا ہے کہ پادری تو بہت مسلمان ہو چکے ہیں۔ اس لڑکی کو سمجھاؤ کہ وہ ہماری کتابیں پڑھے اور اپنے باپ کو بھی سمجھائے۔ وہ بھی انشاء اللہ مسلمان ہو جائے گا۔ اس وقت تک یورپ میں دو پادری مسلمان ہو چکے ہیں۔ اب اگر یہ احمدی ہو گیا تو تین ہو جائیں گے۔ ایک شخص جو باقاعدہ پادری تو نہیں لیکن اس نے پادری کی تعلیم حاصل کی ہوئی ہے وہ انگلینڈ میں احمدیت میں داخل ہوا ہے۔ اس کا باپ یہودی مذہب کا عالم تھا۔ جب اس نے اپنے باپ سے ذکر کیا تو اس نے جواب دیا کہ مجھے تو اسلام سچا نظر نہیں آتا لیکن اگر تمہیں سچا نظر آئے تو میں تمہیں روکتا نہیں تم بے شک اسلام قبول کر لو۔ جن لوگوں کے دلوں میں سچائی کی قدر و قیمت کا احساس ہوتا ہے اگر وہ خود اسلام قبول نہ کریں تو اپنی اولادوں کو اس کے قبول کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ آہستہ آہستہ رستہ کھول دیتا ہے۔ پس آپ لوگ دعائیں کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ یورپ اور امریکہ میں اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے رستہ کھولے۔ اور ہماری جو سکیم ہے کہ یورپ میں ہماری کئی مساجد ہوں ، امریکہ کی ہر ریاست میں کئی مساجد ہوں اس کو خدا تعالیٰ جلد سے جلد پورا کرے۔ اسی طرح سپین کے لئے بھی دعا کریں کہ وہ اسلام کی ابتدائی فتوحات میں شامل تھا مگر اب وہاں جبری طور پر عیسائیت کو پھیلا دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ اس علاقہ میں اسلام کی نصرت کے سامان پیدا کرے تا بنو امیہ کے زمانہ میں جو اسلام وہاں داخل ہوا تھا اور پھر وہاں سے نکال دیا گیا تھا خدا تعالیٰ اسے احمدیت کے ذریعہ پھر وہاں دوبارہ قائم کر دے۔“
دعا کے بعد فرمایا :۔
”آئندہ کے لئے یاد رکھو کہ بیماری کی وجہ سے میرے پاؤں کانپتے ہیں۔ اس لئے تقریر کے وقت کوئی چھوٹی سی میز ہونی چاہئے جس پر میں سہارا لے سکوں۔ خالی سوٹی پر سہارا لینے سے بعض اوقات کام نہیں بنتا۔ میز کے ساتھ میں زیادہ دیر کھڑا ہو سکتا ہوں اور بول بھی زیادہ سکتا ہوں۔ اس سال مجھے کمزوری زیادہ ہے۔ گو عقلاً ثابت ہوتا ہے کہ یہ وہم ہے۔ اس لئے کہ میں پہلے سمجھتا تھا کہ شاید یہ کمزوری بڑھاپے کی وجہ سے ہے لیکن یہ تو چند ماہ سے فرق پڑا ہے اور چند مہینوں میں عمر میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اس لئے ڈاکٹروں کی رائے مجھے صحیح معلوم ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اصل میں کمزوری نہیں ہے صرف وہم ہے۔ ملنے والے بھی کہتے ہیں کہ آپ کی صحت اچھی معلوم ہوتی ہے مگر مجھے کمزوری نظر آتی ہے۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹروں کی رائے صحیح ہے کہ مجھے بیماری نہیں۔ مگر بہرحال جو خرابیاں ہیں وہ تو ہیں ہی۔ اس لئے ضروری ہے کہ تقریر کے وقت کوئی چھوٹی میز ہو جس پر سہارا لے سکوں۔ کیونکہ خالی سوٹی سے دل پر دہشت رہتی ہے اور خیال ہوتا ہے کہ میں کہیں گر نہ جاؤں۔
باقی دعائیں تو میں نے آپ لوگوں کے لئے بھی کر دی ہیں اور سلسلہ کے لئے بھی کر دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں قبول فرمائے اور آپ لوگ خیر و عافیت سے گھر جائیں اور اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے دلیرانہ کوشش کریں تا کہ خدا تعالیٰ آپ کی کوششوں میں برکت دے اور سلسلہ کی مالی حالت اور تحریک جدید جو غیر ملکوں میں تبلیغ کو وسیع کرنے کے لئے ہے اس کی مالی حالتوں میں زیادہ سے زیادہ ترقی ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے لوگوں کو پہلے سے زیادہ قربانی کرنے کی توفیق دے۔ اور پچھلے سال ہمارے ملک میں فصلِ ربیع کی جو تباہی آئی تھی آئندہ اس سے خدا تعالیٰ محفوظ رکھے۔ پھر نئی فصلوں میں بھی برکت دے تا کہ زمینداروں کے پچھلے نقصان دور ہو جائیں اور آئندہ کے لئے وہ اور قربانی کرنے کیلئے تیار ہو جائیں۔ ہماری جماعت میں زمیندار ہی زیادہ ہیں اور ان کی مالی کمزوری کا بجٹ پر اثر پڑتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان پر اپنے فضلوں کی بارش نازل کرے اور اپنی تازہ بشارتوں یعنی الہاموں اور کشوف اور خوابوں کے ذریعہ سے ان کے ایمانوں کو تقویت دے تا کہ وہ اپنی آئندہ نسلوں کے ایمان کو زیادہ مضبوط بنا سکیں۔
میں نے دیکھا ہے کہ جن لوگوں کو سچی خوابیں آتی ہیں ان کی اولادیں کہتی ہیں کہ ہمارے دادا کو ایسی خواب آئی تھی۔ پھر ان کی اولاد کہتی ہے کہ ہمارے پڑدادا کو ایسی خواب آئی تھی۔ غرض تین تین پشت تک اس کا اثر جاتا ہے۔ اگر ہمارے دوست اس طرف توجہ کریں اور پھر اپنی اولاد کو بھی اس طرف توجہ دلاتے رہیں تو ان کی کم سے کم تین چار پشتیں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ اور پھر اگلی نسل بھی ایسی ہو جائے تو چھ پشتیں محفوظ ہو گئیں۔ پھر ایک اور اگلی نسل بھی ایسی ہو جائے تو نو پشتیں محفوظ ہو گئیں ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اُن کی رحمت 1300 سال تک تو محفوظ رہی اور تیرہ سو سال میں بڑے بھاری تغیر آ جاتے ہیں۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ قیامت تک ہی ہماری نسل محفوظ ہو جائے کیونکہ احمدیت خدا تعالیٰ کا آخری جلال ہے۔ اس آخری جلال کو کم سے کم قیامت تک قائم رہنا چاہئے تاکہ ہمیشہ لوگوں میں روحانیت اور ہدایت کی طرف توجہ کے سامان پیدا ہوتے رہیں۔ اگر یہ سامان مٹ گئے تو اور کوئی ذریعہ ہدایت کا دنیا میں نہیں رہے گا۔ غرض میں نے یہ دعائیں کی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت پر بشارتیں نازل کرتا رہے تا اس پر نئے سے نئے فضل نازل ہوتے رہیں اور ان کا ایمان روز بروز تازہ ہوتا چلا جائے۔‘‘ (الفضل 6؍نومبر 1958ء)
از سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِیْمِ
تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا تو انسان کے لئے ہمیشہ ہی ضروری ہے مگر اس زمانہ میں اس کے فضلوں اور احسانات کو دیکھتے ہوئے اس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے اُتنا ہی کم ہے۔ میں اب ضعیف اور بوڑھا ہو چکا ہوں۔ جوانی کی عمر میں جب میں صرف 26 سال کا تھا مجھے خلیفہ منتخب کیا گیا تھا اور اگر میں زندہ رہا تو جنوری میں مَیں 69 سال کا ہو جاؤں گا۔ گویا میری خلافت پر 45 سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور اتنے لمبے عرصہ تک کام کرنے کی توفیق مجھے خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی ملی ہے۔ لیکن پھر بھی ایک وہ زمانہ تھا جب میں بغیر سوچے سمجھے تقریر کے لئے کھڑا ہو جاتا تھا اور گھنٹوں تقریر کرتا چلا جاتا تھا اور اب میرا خطبہ بعض دفعہ پانچ سات منٹ کا ہوتا ہے۔ بعض دفعہ 20 منٹ کا ہوتا ہے۔ بعض دفعہ 25 منٹ کا ہوتا ہے اور بعض دفعہ آدھ گھنٹے کا ہوتا ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ورنہ اس عمر میں جو مجھے بیماری کا حملہ ہوا ہے یہ بڑا تکلیف دہ ہے۔ اس کے اثرات کی وجہ سے پہلے مجھے یہ وہم ہو گیا تھا کہ بیماری بڑھ رہی ہے مگر جب میں نے یورپ کے اُس ڈاکٹر کو لکھا جس نے میرا علاج کیا تھا تو اس نے لکھا کہ بیماری بڑھ نہیں رہی بلکہ یہ ایک اتفاقی امر ہے اور روماٹزم۱(RHEUMATISM) یعنی وجع المفاصل کی تکلیف ہے ورنہ یہ درست نہیں کہ آپ کا مرض بڑھ رہا ہے۔ مرض جو ہونا تھا وہ ہو چکا ہے مگر اس کے علاوہ عمر کا تقاضا بھی ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ کسی شخص نے ایک
بڑی عمر کے آدمی کو کوئی بات صفائی سے کہہ دی ۔ اس پر اُس بڑی عمر کے آدمی نے اُسے گالی دے دی ۔ وہ کہنے لگا یہ عمر کا تقاضا ہے جب اس نے کہا کہ عمر کا تقاضا ہے تو اُس نے اور گالی دی۔ وہ کہنے لگا یہ بھی عمر کا تقاضا ہے ۔ اس پر اُس نے اور گالی دے دی۔ وہ کہنے لگا یہ بھی عمر کا تقاضا ہے۔ جب اُس نے تین دفعہ یہی کہا تو وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا تم باز نہیں آتے ۔ تو انسانی عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ کمزوری بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کا ہی فضل ہوتا ہے کہ اس کمزوری کے باوجود انسان تھوڑا بہت کام کر سکتا ہے۔ اب یہ حالت ہے کہ کھڑا ہونا بھی میرے لئے مشکل ہوتا ہے ۔ بیٹھنا بھی مشکل ہوتا ہے اور رات کو لیٹنا بھی میرے لئے مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ احسان رہا ہے کہ باوجود بیماری کے حملہ کے اور اس پر ایک لمبی مدت گزر جانے کے مجھے قرآن کریم نہیں بھولا ۔ میں جب بھی قرآن کریم کی کوئی آیت پڑھتا ہوں اس کے نئے نئے معارف میرے دل میں آتے جاتے ہیں ۔ اور پھر اس سال تو قرآن کریم کے کثرت سے پڑھنے کی اتنی توفیق ملی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ملی ۔ یعنی باوجود بیماری کی تکلیف کے اس سال جون سے لے کر اس وقت تک 24 ، 25 دفعہ میں قرآن کریم ختم کر چکا ہوں ۔
اِس وقت میں جلسہ کے افتتاح کے لئے آیا ہوں ۔ تقریریں بعد میں ہوں گی ۔ ہمارے خاندان کے بعض نکاح ہیں وہ بھی بعد میں ہوں گے ۔ اس وقت تو میں خدا تعالیٰ کا شکر یہ ادا کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ احسان کیا ہے کہ اس نے ہمیں اسلام کی خدمت کے لئے اور اپنی باتیں سننے کے لئے جمع کر دیا ہے وہ ہماری اس خدمت کو قبول فرمائے اور اپنے فرشتوں کو اتارے کہ وہ ہماری مدد کریں اور اسلام کی اشاعت دنیا میں کریں۔ ہم کمزور ہیں اور ہمارے کندھوں پر وہ کام لاد دیا گیا ہے جس کو سرانجام دینے کی ہم میں طاقت نہیں ۔ وہ محض خدا اور اس کے فرشتے ہی کر سکتے ہیں ۔
مغربیت دنیا میں ایسی غالب آ چکی ہے کہ خود ہمارے بعض احمدی نوجوان بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں ۔ خصوصاً سرکاری عہدوں پر جو لوگ ہیں ان پر بہت زیادہ اثر ہو رہا ہے اور ان میں سے بعض لوگوں کے اہل خانہ پردہ چھوڑ رہے ہیں ۔ میں نے پچھلے دنوں
اعلان کیا تھا کہ ایسے لوگ جن کی بیویاں پردہ چھوڑ رہی ہیں وہ چاہے کتنے ہی معزز ہوں اُن سے عدمِ تعلق کا اظہار کیا جائے۔ اس پر مجھے افریقہ کے ایک پریذیڈنٹ نے رپورٹ کی کہ ایک مجلس میں بعض ایسے لوگ جمع تھے جن کی بیویوں نے پردہ چھوڑا ہوا تھا۔ میں نے اُن سے مصافحہ نہیں کیا۔ اس پر وہ ناراض ہو گئے اور جماعت کے مبلغوں نے کہا کہ تم نے غلطی کی ہے۔ میں نے انہیں لکھا کہ آپ نے جو کچھ کیا درست کیا۔ آپ میرے خطبہ کو صحیح سمجھے ہیں اور مبلغ غلط سمجھے ہیں۔ ہاں غیر ملکوں میں جہاں پردہ کا رواج نہیں ہے وہاں عدمِ تعلق کے ساتھ ساتھ سمجھانے کی بھی کوشش کرنی چاہئے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے فَذَکِّرۡ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّکۡرٰی(87:10) 2 یعنی نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت ہمیشہ فائدہ بخش ثابت ہوتی رہی ہے۔ پس دوسروں پر صرف پریذیڈنٹی کا رُعب ہی نہ جماؤ بلکہ اخلاص، خدمت اور پیار سے انہیں اسلام کی طرف واپس لاؤ۔ محض رُعب سے کام نہیں چلتا بلکہ اخلاص، خدمت اور پیار سے کام چلتا ہے۔ غرض میں نے انہیں لکھا کہ بات تو آپ نے سمجھ لی ہے اور صحیح طور پر سمجھ لی ہے لیکن صحیح طریقِ استعمال یہی ہے کہ عدمِ تعلق کے ساتھ ساتھ اخلاص، خدمت اور قربانی کے ساتھ دوسروں کی اصلاح کی بھی کوشش کی جائے۔
اِسی طرح ہماری جماعت میں تنظیم بھی محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی پیدا ہوئی ہے جس کے ہمیشہ خوشکن نتائج ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ مجھے یاد ہے ایک زمانہ میں جب میں جوان تھا قادیان میں مخالفوں کا جلسہ ہوا۔ انہوں نے اپنی تقریروں میں کہا کہ ہم بہشتی مقبرہ پر حملہ کریں گے اور احمدیوں کی قبریں کھود دیں گے۔ میں نے حفاظت کے لئے باہر سے آدمی منگوائے ہوئے تھے۔ وہ زمیندار اور اَن پڑھ تھے۔ رات کو میں یہ دیکھنے کے لئے باہر گیا کہ یہ لوگ کیسا پہرہ دے رہے ہیں۔ میرے ساتھ مولوی ذوالفقار علی خانصاحب گوہر مرحوم تھے۔ اچانک ایک زمیندار دوڑتا ہوا آیا اور اُس نے مجھے کمر سے پکڑ لیا اور کہنے لگا۔ میں آگے نہیں جانے دوں گا۔ کچھ دوست کہنے لگے یہ خلیفۃ المسیح ہیں۔ وہ کہنے لگا میں نہیں جانتا کہ یہ خلیفۃ المسیح ہیں۔ میری ڈیوٹی یہ ہے کہ میں نے اس جگہ سے آگے کسی کو جانے نہیں دینا جب تک اس کو پاس ورڈ معلوم نہ ہو یا اس نے ڈیوٹی کا بلّا نہ لگایا ہوا
ہو۔ میں نے اُن دوستوں کو جنہوں نے یہ کہا تھا کہ یہ خلیفۃ المسیح ہیں ڈانٹا اور کہا کہ اس شخص نے جو کچھ کیا ہے درست کیا ہے۔ اس کی ڈیوٹی ہی یہی تھی کہ کسی کو آگے نہ گزرنے دے۔ پھر اس پہریدار نے مجھے کہا پاس ورڈ مقرر ہے وہ مجھے بتائیں۔ خیر اُس کا افسر دوڑا ہوا آیا اور اُس نے پاس ورڈ بتایا۔ تب پہریدار نے کہا اب آپ اندر جاسکتے ہیں۔ میں نے اس شخص کی تعریف کی اور کہا یہ اس قابل ہے کہ اسے انعام دیا جائے۔ اس نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ تو ڈیوٹی کی ادائیگی اور تنظیم بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی ہماری جماعت میں آئی ہے۔ مگر پھر بھی بعض دفعہ بعض لوگ غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ مثلاً آج ہی ملاقات میں میں نے دیکھا ہے کہ باوجود اس کے کہ میں دیر سے جماعت کو سمجھا رہا ہوں کہ میں اب بوڑھا ہو گیا ہوں اور ضعیف ہو گیا ہوں پھر بھی بعض لوگ اظہارِ عقیدت کی وجہ سے اپنے گھٹنے میرے آگے ٹیک دیتے ہیں اور مجھے آگے کو کھینچتے ہیں۔ ایک شخص نے تو میرے پاؤں پر اپنا گھٹنہ رکھ دیا جس کی وجہ سے مجھے کوئی دو گھنٹہ درد رہی۔ وہ پاؤں گو بیماری سے متاثر نہیں ہے مگر شاید یہ بیماری کا اثر ہے کہ اگر میرے دائیں طرف بھی جو بیماری سے متاثر نہیں ہے چوٹ لگے تو وہ بائیں طرف جو بیماری سے متاثر ہے اثر کر جاتی ہے۔ چنانچہ اس کے بعد میرے لئے ایک قدم چلنا بھی مشکل ہو گیا اور اب بھی میں بڑی مشکل سے یہاں پہنچا ہوں۔ میری انگلیوں میں کھچاوٹ ہوتی تھی اور کانٹے سے چبھتے تھے۔ تو ملاقات کے وقت بہت احتیاط کرنی چاہئے۔ ملاقات کرانے والوں کو بھی میں نے کئی دفعہ سمجھایا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنی اصلاح نہیں کرتے۔ میں نے انہیں بتایا تھا کہ مجھے بائیں طرف بیماری کا حملہ ہوا ہے اگر تم ملاقات کرنے والوں کو میری بائیں طرف سے گزارو گے تو میں انہیں دیکھ نہیں سکوں گا کیونکہ بائیں طرف مجھے بیماری کا حملہ ہوا ہے اور بائیں آنکھ سے اچھی طرح دیکھ نہیں سکتا اس لئے ملاقات کرنے والوں کو میری دائیں طرف سے لانا چاہئے۔ لیکن باوجود میرے سمجھانے کے وہ ملاقات کرنے والوں کو میری بائیں طرف سے ہی لاتے تھے۔ آخر میری آنکھیں تو کمزور ہیں ملاقات کرنے والے کی آنکھیں تو کمزور نہیں ہوتیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں نے اسے نہیں پہچانا اس لئے وہ اور زیادہ عقیدت کا
اظہار کرتا ہے کہ مجھے پہچان لیں۔ اگر ملاقات کرنے والے کو دائیں طرف سے لایا جائے تو اُسے میرے چہرے سے پتا لگ جائے گا کہ میں نے اسے کچھ نہ کچھ پہچان لیا ہے۔ یوں تو میں کئی کئی سو صفحہ دن میں پڑھ لیتا ہوں مگر اس سال آنکھوں میں کچھ ایسی کمزوری پیدا ہو گئی ہے کہ میں چہرہ پہچانتا ہوں تو محض اُس کی شیپ (Shape) کی وجہ سے پہچانتا ہوں ورنہ چہرے کے اعضاء مجھے نظر نہیں آتے۔ میں صرف اندازہ لگا کر پہچان لیتا ہوں کہ اس شکل کا فلاں شخص ہوتا تھا۔ تو دوستوں کو چاہئے کہ ملاقات کے وقت بہت احتیاط سے کام لیں کیونکہ اب میری نظر بھی کمزور ہے اور صحت بھی کمزور ہے۔ یہ عقیدت کے اظہار کا طریق نہیں۔ میں زجر نہیں کرتا مگر شریعت اس کو گستاخی اور بداخلاقی قرار دیتی ہے۔ مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بعض لوگ آتے تھے اور وہ بہت اونچی آواز سے باتیں کرتے تھے۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ بے ادبی ہے اور اس سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے۳اسی طرح قریب آکر اور گھٹنے ٹیک کر بیٹھ جانا یہ بھی گستاخی ہے بلکہ ڈر ہے کہ اس کا اثر ایمان پر بھی نہ جا پڑے۔
اب میں دعا کر دیتا ہوں دوست بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس جلسہ کو بہت برکت والا کرے اور ہمارا یہاں جمع ہونا صرف پاکستان کی جماعت کے لئے ہی برکت والا نہ ہو بلکہ ہمارے یہاں جمع ہونے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ امریکہ، انگلینڈ اور یورپ کے دوسرے ممالک میں بھی برکتیں نازل کرے اور ہر جگہ پر اسلام کی اشاعت ہو جائے۔
سیرالیون (ویسٹ افریقہ) کی جماعت نے لکھا ہے کہ ہم بھی یہاں سالانہ جلسہ کر رہے ہیں دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہمارے جلسہ سالانہ کو قبول فرمائے۔ چار چار پانچ پانچ سو میل سے لوگ جلسہ میں شرکت کے لئے آرہے ہیں۔ وہ لوگ ہمارے جلسہ پر آنے والوں سے تو کم ہیں مگر وہ جماعتیں ابھی نئی نئی قائم ہوئی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں جماعت ترقی کر رہی ہے اور اب وہ جلسہ سالانہ منعقد کر رہے ہیں۔ دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کے جلسہ کو بابرکت کرے اور دور دور کے لوگوں کو احمدیت کی طرف توجہ پیدا ہو۔ وہاں اگرچہ جماعت کی تعداد کم ہے مگر ملک کے وزراء بھی ہمارے جلسوں میں شریک ہوتے ہیں۔ اب بھی انہوں نے اطلاع دی ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی نے چار طالب علم یہاں بھیجے ہیں اور
انہیں کہا ہے کہ احمدیت کا مطالعہ کرو اور دیکھو کہ وہ افریقہ میں کس طرح بڑھ رہی ہے۔ وہ طالب علم مسجد میں بھی آئے اور انہوں نے مطالعہ کے لئے بعض کتب بھی لیں۔ اسی طرح وہاں ہماری مسجد کا افتتاح ہوا تو اس تقریب میں ملک کا وزیر اعظم بھی شامل ہوا۔ اسی طرح ملکہ الزبتھ لیگوس میں آئیں تو وہاں انہوں نے سب سے مقدم ہمارے مبلغ کو ہی کیا جس نے انہیں قرآن شریف پیش کیا جو انہوں نے بڑے اعزاز سے قبول کیا اور واپس جا کر شکریہ کا خط لکھا۔ غرض غیر ملکوں میں تعصب کم ہے۔
اس وقت بھی ہمارے جلسہ پر ایک امریکن عورت آئی ہوئی ہے۔ وہ مجھے ملی اور کہنے لگی خلیل احمد ناصر میرا واقف ہے اُس کے نام مجھے کوئی پیغام دے دیں۔ وہ ٹیپ ریکارڈ ر لائی ہوئی ہے۔ میں نے کہا میں اکیلے ناصر کے نام کیوں پیغام دوں گا میں ساری جماعت کے نام پیغام دوں گا تا کہ وہ سب اس سے فائدہ اٹھائیں۔ کہنے لگی اچھی بات ہے آپ ساری جماعت کے نام پیغام دے دیں چنانچہ وہ مجھ سے ٹیپ ریکارڈر پر سورۃ فاتحہ پڑھوا کر اور پیغام لے کر چلی گئی اور اس وقت وہ لاہور کے امریکن ہسپتال میں بیمار پڑی ہوئی ہے۔
اسی طرح امریکہ سے رسالہ لائف کا ایک نمائندہ ٹیپ ریکارڈر لے کر افریقہ گیا اور ہمارے مبلغ نے لکھا کہ وہ یہاں سے میری تقریر ریکارڈ کر کے ساتھ لے گیا ہے۔ وہ کہتا تھا کہ میں یہ تقریر امریکہ جا کر لوگوں کو سناؤں گا۔ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیرونیجات میں ترقی کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں کے لوگوں کے دلوں سے بھی بُغض اور کینہ کو کم کرے اور انہیں صداقت پر غور کرنے اور سمجھنے کی توفیق بخشے تاکہ ان کے دل کی گرہیں کھل جائیں اور کل تک جو ہمارے مخالف تھے ہمارے بھائی بن جائیں۔ اب میں دعا کر دیتا ہوں سب دوست میرے ساتھ دعا میں شامل ہو جائیں۔‘‘ (الفضل 24 جنوری 1959ء)
(۲۷؍ دسمبر ۱۹۵۸ء)
از
سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
(خطاب فرمودہ جلسہ سالانہ ۲۷؍ دسمبر ۱۹۵۸ء بمقام ربوہ)
تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا، ’’گو میری طبیعت اس دفعہ علیل ہے اور میں بہت زیادہ کمزور ہو گیا ہوں لیکن اس کے باوجود سابق طریق کے مطابق میں نے اپنی دو تقریریں اس جلسہ کے موقع پر رکھی ہیں۔ ایک ۲۷؍ دسمبر کی جو عام باتوں پر مشتمل ہوتی ہے اور دوسری ۲۸؍ دسمبر کی جو ’سیرِ روحانی‘ کی آخری کڑی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے زندہ رکھا اور اُس نے توفیق دی تو کل وہ بیان ہو جائے گی۔ پچھلے سال قرآن کریم کی تفسیرِ صغیر میں نے لکھی تھی تفسیر تو مکمل ہوگئی مگر اس کی وجہ سے جو محنت مجھے کرنی پڑی اس سے صحت بہت گر گئی۔ چنانچہ برابر ڈیڑھ سال سے میں بیمار چلا آتا ہوں۔ اب تو چلنا پھرنا بھی دوبھر ہو گیا ہے۔ یہ تفسیر ایک بہت بڑا ذریعہ لوگوں پر حق کھولنے کا ہو رہی ہے۔ کثرت سے غیر احمدیوں کے خطوط آ رہے ہیں جو تفسیر مانگتے ہیں یا اس کے پڑھنے پر تعریف کرتے ہیں۔ اس سال میں نے تفسیرِ کبیر کی دو جلدیں لکھوائی ہیں۔ درحقیقت اصل مصالحہ تو میری صحت کے زمانہ کا لکھا ہوا میرے قرآن کے حاشیہ پر موجود تھا مگر نظرثانی کے وقت میں نے اصلاح کر دی اور مضمون کو بڑھا دیا۔ دوستوں کو اس سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے۔ میں اس کوشش میں ہوں کہ تفسیرِ کبیر کے باقی حصے بھی مکمل ہو جائیں لیکن چونکہ وہ لمبی تفسیر ہے اور میری صحت کمزور ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے تفسیرِ صغیر لکھوا دی تاکہ قرآن کریم کی مکمل تفسیر ہو جائے۔ بہرحال جو دوست تفسیرِ کبیر کی اشاعت میں حصہ لیں گے وہ اللہ تعالیٰ کے
نزدیک قرآن کریم کی اشاعت میں حصہ لینے والوں میں شامل ہو کر ثواب کے مستحق ہوں گے یہ دونوں جلدیں الشرکۃ الاسلامیہ نے شائع کی ہیں جس میں جماعت کے دوستوں کا روپیہ لگا ہوا ہے۔ اب تک یہ کمپنی نفع پیدا نہیں کر سکی مگر امید ہے کہ آہستہ آہستہ دوستوں کی کوشش سے نفع آنے لگ جائے گا۔ بعض پرانی تفسیریں بھی ابھی تک موجود ہیں یعنی اُن کی بعض کاپیاں ابھی قابلِ فروخت ہیں وہ بھی دوست وہاں سے لے سکتے ہیں۔
اِس سال سلسلہ کی تاریخ جو 1880ء تک کی ہے شائع ہو چکی ہے۔ میں نے بیماری کے باوجود اس کو ایک نشست میں ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ میری خواہش تھی کہ اب تک کی ساری تاریخِ احمدیت چھپ جاتی لیکن ابھی صرف 1880ء تک کی تاریخ چھپی ہے۔ دوست اس سے فائدہ اٹھائیں۔ یہ کام سلسلہ کے چندہ سے ہی کیا گیا ہے۔
اس کے بعد میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش تھی کہ ریویو آف ریلیجنز دس ہزار کی تعداد میں شائع ہوا کرے لیکن اب تک با وجود پوری کوشش کے اس کی قریباً ایک ہزار کی اشاعت ہوئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ با وجود صدر انجمن احمدیہ اور تحریکِ جدید کی اعانت کے اس کا اتنی کم تعداد میں شائع ہونا اس کے عملہ کی غفلت کی علامت ہے۔ میں آئندہ سال کے لئے مولوی جلال الدین صاحب شمس اور چودھری ظہور احمد صاحب ایڈیٹر صدر انجمن احمدیہ کی کمیٹی مقرر کرتا ہوں کہ وہ ہر ماہ میرے پاس رپورٹ کیا کریں کہ ریویو آف ریلیجنز کی ترقی کے لئے کیا کوشش کی جارہی ہے۔
سلسلہ کے آرگن الفضل کے متعلق بھی میں ہمیشہ توجہ دلاتا رہا ہوں۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس نے بہت ترقی کی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اب بھی اس کی اشاعت اُتنی نہیں ہوئی جتنی ہونی چاہئے ۔ جماعت کی تعداد خدا تعالیٰ کے فضل سے پندرہ لاکھ سے بھی اوپر چلی گئی ہے مگر ابھی تک الفضل کی اشاعت تین ہزار کے قریب ہی ہے حالانکہ چاہئے تھا آہستہ آہستہ یہ تعداد بہت بڑھ جاتی۔ بڑی مشکل یہ ہے کہ ہر غریب آدمی سالانہ قیمت اکٹھی نہیں دے سکتا۔ اس کے لئے جو مقامی ایجنٹ ہوتے ہیں وہ بڑی مدد دیتے ہیں۔ ڈیڑھ آنہ روزانہ دینا پڑتا ہے اور اتنی رقم بہت سے لوگ آسانی سے مہیا کر سکتے ہیں۔ لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض مقامی ایجنٹس الفضل کے ساتھ دیانت دارانہ برتاؤ نہیں کرتے رہے۔ یہ بات ہماری جماعت کے اصول کے خلاف ہے۔ ہماری جماعت ہمیشہ دیانت میں اول درجہ پر رہی ہے۔
میں نے پہلے بھی کئی بار قصہ سنایا ہے کہ چنیوٹ کے علاقہ کا ایک غریب آدمی تھا اب تو وہ فوت ہو گیا ہے۔ جب وہ احمدی ہوا تو اُس کے رشتہ دار جو چوری کے عادی تھے ایک دفعہ بھینس چُرا کر لائے۔ بھینس اندر بندھی ہوئی تھی۔ بھینس کے مالک کھوج لگاتے ہوئے آئے اور ان سے کہنے لگے ہمیں ہماری بھینس واپس دے دو۔ اس کے باپ اور بھائیوں نے کہا ہم آپ کی بھینس چُرا کر نہیں لائے۔ بھینس کے مالکوں نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے بھینس کا کھوج تمہارے گھر تک آیا ہے۔ لیکن چوروں نے پھر بھی انکار کیا اور کہا ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے تمہاری بھینس نہیں چُرائی۔ مالکوں نے کہا ہمیں تمہاری قسم کا اعتبار نہیں۔ مغلا احمدی ہے وہ اگر کہہ دے کہ تم ہماری بھینس نہیں لائے تو ہم واپس چلے جائیں گے۔ مغلا کے باپ اور بھائی اُسے اندر لے گئے اور وہاں جا کر اسے خوب مارا اور کہا تم باہر جا کر کہہ دو کہ ہمارے پاس بھینس نہیں۔ لیکن اس نے کہا بھینس اندر بندھی ہے پھر میں کیسے کہہ دوں کہ تم بھینس چُرا کر نہیں لائے۔ انہوں نے اسے پھر مارا اور کہا کہ تمہارا کیا حرج ہے تم کہہ دو کہ ہمارے پاس بھینس نہیں۔ اور سمجھا کہ اب مار کھا کر وہ ہمارے منشاء کے مطابق گواہی دے دے گا۔ لیکن جب وہ اسے باہر لائے اور کہا بتاؤ کیا ہم ان کی بھینس چُرا کر لائے ہیں؟ تو اُس نے کہا ہاں وہ اندر کھڑی ہے۔
غرض احمدیوں کی دیانت دیر سے مشہور چلی آئی ہے مگر الفضل کے بعض ایجنٹوں نے اس پر دھبہ لگا دیا ہے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملنے کے لئے ایک شخص آیا اور لوگوں نے کہا حضور! یہ شخص بڑا مخلص ہے اس کے پاس آنے کا کرایہ نہیں تھا مگر پھر بھی یہ اپنے شوق کی وجہ سے بغیر ٹکٹ کے ہی آ گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی پگڑی میں روپے باندھا کرتے تھے آپ نے جھٹ اپنی پگڑی کا کنارہ کھولا اور اُس میں سے ایک روپیہ نکال کر اس شخص کو دیا اور فرمایا کہ اب آپ ٹکٹ لے کر جائیں کیونکہ گورنمنٹ کی چوری بھی ویسی ہی ہے جیسے کسی فرد کی چوری۔ آپ سمجھتے ہوں گے کہ گورنمنٹ بڑی مالدار ہے اگر میں نے اس کی چوری کر لی تو کیا ہوا ۔ لیکن کسی غریب آدمی کی چوری کرنا اور گورنمنٹ کی چوری کرنا خدا تعالیٰ کے نزدیک دونوں برابر ہیں ۔ اب یہ روپیہ لیں اور جاتی دفعہ اس کا ٹکٹ خرید لینا۔
میں ہر سال جماعت کی تبلیغی سرگرمیوں کے کچھ نہ کچھ واقعات بیان کیا کرتا ہوں ۔ اس سال فلپائن میں خدا تعالیٰ نے ہمیں ایک جماعت دے دی ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جس میں حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں مسلمان پہنچے۔ بعد میں جب اسے سپین اور پرتگال نے فتح کیا تو انہوں نے ملک کو جبراً عیسائی بنا لیا اور تلواریں گردنوں پر رکھ کر کہا کہ جو شخص بپتسمہ نہیں لے گا ہم اُسے قتل کر دیں گے۔ چنانچہ لوگ ڈر گئے اور انہوں نے عیسائیت اختیار کر لی ۔ اب سارا ملک عیسائی ہے۔ سپین اور پرتگال کی طرح فلپائن کے عیسائی بھی رومن کیتھولک ہیں جو بہت متعصب ہوتے ہیں ۔ میری خواہش تھی کہ سپین اور فلپائن میں دوبارہ اسلام کی اشاعت کی جائے۔ میں نے تحریک جدید کو جس کے سپرد غیر ملکوں میں تبلیغ کا کام ہے توجہ دلائی اور انہوں نے پچھلے سال کے شروع سے ہی فلپائن میں تبلیغ شروع کر دی ۔ فلپائن کی گورنمنٹ کیونکہ رومن کیتھولک پادریوں کے ماتحت ہے اس لئے اس کی طرف سے تبلیغ میں روکیں ڈالی گئیں اور ہمارے مبلغ کو وہاں جانے کی اجازت نہ دی گئی ۔ قاعدہ یہ ہے کہ جس حکومت سے کوئی شخص باہر جائے پاسپورٹ وہ دیتی ہے ۔ اور جس حکومت میں جانا ہو اگر اس کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہو کہ اس ملک میں ویزہ کی ضرورت نہیں تو جانے والے کو علاوہ اپنے ملک سے پاسپورٹ لینے کے اُس ملک کا ویزہ بھی لینا پڑتا ہے لیکن فلپائن گورنمنٹ ویزہ دینے سے انکار کر دیتی تھی۔ نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ ہمارے آدمی وہاں نہیں پہنچ سکتے تھے ۔ چونکہ بیرونی ممالک کی تبلیغ کا کام تحریک جدید کے سپرد ہے اس لئے انہوں نے اس طرف توجہ کی اور فلپائن میں لٹریچر بھیجنا شروع کر دیا اور اس کے ذریعہ بعض لوگوں کے دلوں میں احمدیت سے دلچسپی پیدا ہوگئی۔ جب اس طرح میدان کچھ ہموار ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ایک اَور سامان پیدا کر دیا۔ اور وہ یہ کہ برٹش بورنیو میں ہمارے ایک نہایت مخلص دوست ڈاکٹر بدر الدین صاحب کام کر رہے ہیں وہ خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کے بڑے لڑکے ہیں اور احمدیت کے عاشقِ صادق ہیں۔ چندہ بھی بڑا دیتے ہیں اور تبلیغ بھی بڑی کرتے ہیں ان میں قربانی کا بڑا جوش ہے۔ وہ اب بھی یورپ کے ملکوں کو سوسو پونڈ بھجوا دیتے ہیں تاکہ وہاں مساجد تعمیر کی جائیں اور مبلّغوں کو اخراجات مہیا کئے جائیں۔ باوجود اس کے کہ وہاں کے انگریز گورنر نے علماء سے مل کر احمدیوں کے خلاف ایک بڑا محاذ کھڑا کر دیا تھا ڈاکٹر صاحب نے دلیری سے گورنر اور دوسرے لوگوں کا مقابلہ کیا اور اس علاقہ کے بعض لوگوں کو جہاں گورنر چاہتا تھا کہ احمدیت نہ پھیلے اپنے پاس بلا کر تبلیغ کی۔ خدا تعالیٰ نے ان کی تبلیغ میں برکت ڈالی اور اس کے نتیجہ میں وہاں کے کچھ لوگ احمدی ہو گئے جن کی معرفت انہوں نے اس علاقہ میں مسجد اور جماعت بنانے کی کوشش کی۔
ایک علاقہ کے ڈپٹی کمشنر نے ہمارے ایک مبلغ محمد سعید انصاری کو جو یہاں سے گئے ہوئے ہیں اپنے علاقہ میں تبلیغ سے باز رکھنے کی کوشش کی اور انہیں دھمکی دی کہ میں تمہیں گرفتار کر لوں گا ہم نے انگلستان کی حکومت سے احتجاج کیا۔ چونکہ اُس ملک میں ظاہری طور پر رواداری بہت ہے اس لئے وہاں کی حکومت نے گورنر سے جواب طلب کیا اور دریافت کیا کہ احمدی مبلغ کے رستہ میں کیوں روکیں پیدا کی جا رہی ہیں؟ گورنر نے عام قاعدہ کے مطابق ڈپٹی کمشنر سے رپورٹ مانگی اور چونکہ اُس نے خود غلطی کی تھی اس لئے لازماً اُس نے اپنے بچاؤ کے لئے جھوٹ بولا۔ کہہ دیا کہ میں نے انصاری صاحب کو تبلیغ سے نہیں روکا بلکہ انصاری صاحب نے ملک میں بغاوت پھیلانے کی کوشش کی تھی اور میری ہتک کی تھی اس لئے میں نے انہیں تنبیہہ کی ہے۔ انگریزی دستور کے مطابق گورنر نے اس جواب کو صحیح تسلیم کیا اور وہ جواب انگلستان کی حکومت کو بھجوا دیا۔ اس پر حکومتِ انگلستان نے ہمارے پاس معذرت کر دی۔ ہم نے اپنے مبلغ کو سمجھا دیا کہ حکومت کے افسروں سے نرمی سے برتاؤ کرنا چاہئے کیونکہ آخر اختیار اُن کے پاس ہے۔ اس وجہ سے اس علاقہ میں کچھ نرمی تو ہوئی مگر ہمارے مبلغ کو تبلیغ میں بہت سی دقتیں پیش آگئیں۔ لیکن ہم نے صبر سے
کام لیا اور آہستہ آہستہ اپنی تبلیغ کو جاری رکھا۔ جس میں ڈاکٹر بدرالدین صاحب کا بہت کچھ دخل تھا۔ چنانچہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے اس علاقہ میں ایک جماعت گو بڑی نہیں قائم ہوگئی ہے۔
فلپائن جو بہت سے جزیروں کا مجموعہ ہے اس کا ایک جزیرہ برٹش بورنیو کے بالکل قریب ہے۔ جہاں ڈاکٹر بدرالدین صاحب رہتے ہیں ان کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ فلپائن والے ربوہ سے تو مبلغ آنے نہیں دیتے لیکن میں جو یہاں ایک ڈاکٹر کی حیثیت رکھتا ہوں اگر وہاں چلا جاؤں تو شاید میرے رستہ میں کوئی روک نہ ڈالی جائے۔ چنانچہ وہ اپنی پریکٹس کا نقصان کر کے وہاں گئے اور کچھ مہینے فلپائن میں تبلیغ کے لئے وقف کئے ۔ کچھ لوگ تو پہلے ہی لٹریچر کے ذریعہ احمدیت کی طرف مائل ہو چکے تھے اور کچھ لوگوں کو ڈاکٹر بدرالدین صاحب نے احمدی کیا اور اس کے نتیجہ میں وہاں کی جماعت تین سو سے زیادہ ہوگئی۔ اس جماعت کے پریذیڈنٹ وہاں کے ہی ایک دوست ہیں جن کا نام حاجی ابّا ہے جو بڑی قربانی اور تبلیغ کرنے والے ہیں۔ ان کے ذریعہ وہاں اعلیٰ طبقہ کے لوگوں میں تبلیغ ہو رہی ہے۔ پچھلے سال وہاں ایک جزیرہ کا گورنر احمدی ہو گیا تھا مگر چونکہ اس علاقہ میں شورش بہت ہے اس لئے چند ماہ ہوئے اُسے قتل کر دیا گیا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(2:157) مگر اللہ تعالیٰ نے کچھ دنوں کے بعد ایک ڈپٹی کمشنر کو احمدی کر دیا۔
اب ڈاکٹر بدرالدین صاحب نے لکھا ہے کہ حاجی ابّا صاحب کو ربوہ بلوا کر کچھ مدت دینی تعلیم دی جائے تاکہ وہ واپس آ کر اس ملک میں تبلیغ کو زیادہ وسیع کر سکیں۔ چنانچہ میں نے تحریک جدید کو ہدایت دے دی ہے کہ ان کو یہاں بلانے کا انتظام کیا جائے۔ مگر تحریک جدید والوں نے مجھے اطلاع دی ہے کہ حاجی ابّا صاحب نے لکھا ہے کہ چونکہ میں سرکاری ملازم ہوں میں ربوہ نہیں آ سکتا۔ میں ایک اور نوجوان کو تیار کر کے بھجوا رہا ہوں۔ جونہی اس کا پاسپورٹ بن گیا میں اسے پاکستان بھجوا دوں گا۔ اس عرصہ میں فلپائن کا ایک مخلص احمدی اسامہ نامی (باوجود گورنمنٹ کی روکوں کے) فلپائن سے بھاگ کر برطانوی بورنیو میں آ گیا اور وہاں سے ملایا ہوتا ہوا ربوہ پہنچ گیا اور اب یہاں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ اس کی صحت کچھ خراب ہے تحریکِ جدید اس کا علاج لاہور میں کرا رہی ہے دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اسے شفاء بھی دے اور پھر اپنے ملک میں کام کرنے کی توفیق بھی دے☆بڑی خوشی کی بات یہ ہے کہ وہاں کے زنانہ کالج کی کئی لڑکیاں بھی احمدی ہوگئی ہیں اور جونو جوان احمدی ہوئے ہیں اُن کا بیشتر حصہ یونیورسٹی کے طالب علموں کا ہے۔ اور ان میں سے ایک اور نوجوان جیسا کہ حاجی ابّا صاحب نے لکھا ہے ربوہ آنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن حکومت روک پیدا کر رہی ہے۔ خدا کرے کہ وہ یہاں پہنچنے میں کامیاب ہو جائے اور یہاں پہنچ کر اپنے ملک میں تبلیغ کرنے کے لئے کامیاب مبلغ بن جائے۔ اِس وقت تک وہاں احمدیوں کی تعداد خدا تعالیٰ کے فضل سے 351 تک پہنچ گئی ہے اور اس سال 54 افراد کی نئی بیعت آئی ہے۔
امریکہ میں زیادہ تر حبشی لوگ مسلمان ہو رہے ہیں اور ان میں سے بعض نہایت ہی مخلص ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس سال اپنی سالانہ کانفرنس میں تبلیغ کرنے اور وصیت کی تحریک کو ہر احمدی تک پہنچانے کا اقرار کیا ہے۔ خدا تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہو اور احمدیت کو جلد تر اس ملک میں پھیلائے۔ اس وقت تک کچھ سفید آدمی بھی احمدیت میں داخل ہوئے ہیں جن کی تعداد 13 ہے۔ ان میں سے ایک کینیڈا کا ریٹائرڈ فوجی افسر ہے کینیڈا ، امریکہ کا وہ حصہ ہے جو انگریزوں سے وابستہ ہے۔ ایک عورت جو سفید فام لوگوں میں سے احمدی ہوئی ہے اور نہایت مخلص اور تبلیغ کا جنون رکھتی ہے اس نے ہمارے مبلغ شکر الٰہی صاحب سے شادی کر لی ہے۔ اس کے والدین ابھی احمدی نہیں ہوئے۔ دوست دعا کریں کہ وہ بھی احمدی ہو جائیں اور اس کے خاندان میں امن قائم ہو جائے ۔ ایک جہازوں کا کمانڈر بھی احمدی ہوا ہے۔ اس طرح آہستہ آہستہ سفید فام لوگوں میں بھی احمدیت پھیلنے لگ گئی ہے۔ ایک حبشی نوجوان وہاں کی ایک اعلیٰ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل
کر رہا ہے۔ امید ہے کہ جب وہ تعلیم سے فارغ ہو گا تو اپنے ملک میں تبلیغ کا بہت بڑا ذریعہ ثابت ہوگا۔
انگلستان میں گو سب سے پہلے تبلیغ شروع ہوئی تھی مگر وہاں بہت کم لوگ احمدی ہوئے ہیں۔ اب موجودہ امام مسجد لندن مولود احمد خان صاحب کے ذریعہ سے تعلیم یافتہ طبقہ میں تبلیغ شروع ہو گئی ہے اور چند بیعتیں بھی آئی ہیں۔ اب تازہ اطلاع یہ آئی ہے کہ ایک نوجوان جو پچھلے سفر میں مجھے بھی ملا تھا ایک پاکستانی احمدی مرتد نے اسے ورغلانے کی کوشش کی۔ اس نے مرکزِ انگلستان میں خط لکھا کہ فلاں پاکستانی نوجوان نے مجھے ورغلانے کی کوشش کی تھی۔ اگر میں نے سوچ سمجھ کر احمدیت قبول نہ کی ہوتی تو یہ شخص مجھے ورغلانے میں ضرور کامیاب ہو جاتا۔ لیکن میں اس کی تمام باتوں کو لغو سمجھتا ہوں۔ اب ایک نیا مبلغ بھی انگلستان بھیج دیا گیا ہے جو امید ہے پہنچ چکا ہوگا۔ میرا منشاء ہے کہ انگلستان میں دو اور مقامات پر جن کے جنوباً اور شمالاً ہر جگہ اسلام کا اثر ہو مساجد تعمیر کی جائیں۔ میں نے اس کے متعلق مولود احمد صاحب کو ہدایت بھجوادی ہے مگر مولود صاحب جہاں تبلیغ میں نہایت ہی اعلیٰ ثابت ہوئے ہیں وہاں مساجد کی تعمیر کے سلسلہ میں ان کی ذہانت بالکل ناکام رہی ہے۔ چھوٹے چھوٹے کاموں پر بھی وہ بہت دیر لگا دیتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں جرمنی کے مبلغ چودھری عبداللطیف صاحب نہایت کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف ہمبرگ میں مسجد بنائی ہے بلکہ فرینکفورٹ میں بھی جو جرمنی کا بڑا شہر ہے مسجد کے لئے زمین خرید لی ہے اور ان کا جو تازہ خط آیا ہے اس میں لکھا ہے کہ میں یہاں سے مسجد بنوانے کے لئے فرینکفورٹ جا رہا ہوں۔ سوئٹزر لینڈ میں شیخ ناصر احمد صاحب کام کر رہے ہیں انتظامی لحاظ سے وہ بھی مولود صاحب کی طرح بہت کمزور ہیں لیکن تبلیغی لحاظ سے بڑے اعلیٰ درجہ کے ہیں۔ ان کے ذریعہ سے سوئٹزر لینڈ کے ساتھ ملتے ہوئے جزیرہ اور آسٹرین علاقہ میں اسلام کی تبلیغ ہو رہی ہے اور کئی لوگ اسلامی تعلیم سے دلچسپی لے رہے ہیں۔ مسٹر کنزے نے جو جرمنی کے سب سے پہلے مسلمان ہیں لکھا ہے کہ وہ اس سال جلسہ سالانہ پر آنا چاہتے ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ یہاں پہنچ گئے ہیں اور جلسہ میں
موجود ہیں۔ لطیف صاحب نے ان کی تعریف کی ہے اور لکھا ہے کہ تبلیغ میں یہ بہت اچھے ہیں۔ مگر جرمن لوگوں کی درخواست آئی ہے کہ ہمیں پاکستانی مبلغ بھیجیں۔ چنانچہ لطیف صاحب کی مدد کے لئے ہم ایک نیا مبلغ بھجوارہے ہیں۔
سیکنڈے نیو یا جو روس سے ملتا ہوا یورپین علاقہ ہے جرمنی، ہالینڈ اور بیلجئیم کے شمال مشرق میں واقع ہے اور انگلستان کے شمال مشرق میں اس علاقہ کی ایک حکومت فن لینڈ کہلاتی ہے کئی لاکھ ترک اس علاقہ میں سینکڑوں سال سے بس رہا ہے۔ یہ لوگ گو احمدی نہیں ہوئے مگر انہوں نے احمدی مبلغ کو بلا کر تقریریں کرائی ہیں۔ دوسری حکومت اس علاقہ کی سویڈن کہلاتی ہے چونکہ یہ لوگ مالدار ہیں اور متعصب عیسائی ہیں اس لئے وہاں کی رہائش بڑی مہنگی ہے۔ ہمارا ارادہ تھا کہ سویڈن میں مسجد بنائیں لیکن ایک جرمن نومسلم نے لکھا ہے کہ میں نے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایک جگہ تجویز کی ہے بہتر ہوگا کہ وہاں مسجد بنائی جائے۔ اس کے متعلق ہم نے وہاں کے مبلغ کمال یوسف صاحب کو جو میرے سالے کے لڑکے ہیں ہدایت کر دی ہے کہ وہ اسے دیکھ کر رپورٹ کریں۔ اگر وہ مناسب جگہ ہو تو اسے خرید لیا جائے اور مغربی افریقہ کی جماعت کو مسجد کی تعمیر کیلئے تحریک کی جائے۔ چونکہ ہمارے ملک کی ایکسچینج کی حالت اچھی نہیں اور حکومت پونڈ باہر نہیں جانے دیتی اس لئے مسجدوں کی تعمیر میں دقت پیش آ سکتی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ فضل کیا ہے کہ اس نے ہمیں مشرقی اور مغربی افریقہ میں ایسی جماعتیں دے دی ہیں جن میں سے بعض بہت مالدار ہیں۔ مغربی افریقہ میں بعض چیف ایسے ہیں جن کی زمینوں میں سے ہیرے کی کانیں نکلی ہیں اور مشرقی افریقہ میں احمدیت کی مدد کی تحریک اللہ تعالیٰ نے بعض سکھوں کے دلوں میں پیدا کر دی ہے۔ چنانچہ یوگنڈا کے علاقہ میں ایک بڑا شہر جنجہ ہے وہاں ایک مسجد کی تعمیر کے لئے ایک سکھ تاجر نے بہت سا سامان دیا ہے اور ساتھ ہی اس نے وعدہ کیا ہے کہ یوگنڈا میں جتنی مساجد بھی بنائی جائیں گی میں ان کے لئے لوہا، لکڑی اور سیمنٹ مہیا کرنے میں پوری مدد دوں گا۔ یہ نوجوان سکھ گل قوم میں سے ہے جو قادیان کے گرد بستی ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ وہ بیرونی ملکوں میں مساجد کی تعمیر کے
سلسلہ میں غیر مسلموں کے دلوں میں بھی امداد کی تحریک کر رہا ہے۔ گو وہ جماعتیں امیر ہیں لیکن اتنی امیر نہیں کہ سارے علاقوں میں مساجد تعمیر کر سکیں۔ ایک نوجوان مشرقی افریقہ سے آیا تھا۔ اس نے کہا کہ اس سکھ نوجوان نے اتنی مدد کی ہے کہ ہمارا دل چاہتا ہے کہ مسجد کا افتتاح اس سے کروایا جائے۔ میں نے اس کے متعلق شیخ مبارک احمد صاحب سے جو وہاں کے رئیس التّبلیغ ہیں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہاں غیر مسلموں کے متعلق اتنا تعصب ہے کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہماری تبلیغ کے رستہ میں بڑی مشکلات پیش آ جائیں گی۔ چنانچہ سوچ کر ہم نے یہ تجویز نکالی کہ مسجد کا افتتاح تو احمدی مبلغ کرے مگر افتتاحی تقریب کا صدر اس سکھ کو بنا دیا جائے تا کہ وہ اسلام کے اور زیادہ قریب آ جائے اور اس کا دل بھی خوش ہو جائے کہ اس کی قدر کی گئی ہے۔
اس جلسہ کے موقع پر ماریشس کی جماعت کا ایک نمائندہ بھی آیا ہوا ہے۔ جس نے ابھی میری اجازت سے اپنی جماعت کی طرف سے ایڈریس پڑھا ہے۔ یہ جماعت میری خلافت کے ابتدا میں قائم ہوئی تھی۔ اب وہاں کئی فتنے پیدا ہو رہے ہیں اور ماریشس کے احمدی ان کا مقابلہ کر رہے ہیں مگر چونکہ حکومت بھی مخالف ہے اس لئے کچھ دقتیں پیدا ہو رہی ہیں☆ماریشس سے پہلے سیلون میں جماعت قائم ہوئی تھی اور سیلون کے مبلغ یعنی حافظ صوفی غلام محمد صاحب کو ہی میں نے ماریشس بھجوایا تھا۔ سیلون میں بھی بعض فتنے پیدا ہو رہے ہیں اور تامل بولنے والے ہندوستانی بڑی مخالفت کر رہے ہیں جو وہاں کثرت سے ہیں۔ گو ملک کے اصلی باشندوں کی زبان سنہالیز ہے۔ مجھے ایک خواب میں بتایا گیا تھا کہ سنہالیز زبان کی طرف توجہ کرو۔ چنانچہ اس زبان میں ہمارے مبلغ نے وہاں لٹریچر شائع کیا۔ پہلے یہ خیال کیا گیا تھا کہ زبان کا نام سنگھالی ہے مگر بعد میں پتا لگا کہ اس کا نام جیسا کہ خواب میں بتایا گیا تھا سنگھالی نہیں سنہالیز ہے۔ وہاں کے اصلی باشندے بھی یہی زبان بولتے ہیں۔ اور چونکہ ہماری پالیسی یہ ہے کہ اصل باشندوں کی تائید کی جائے اس لئے میں نے مبلغ کو تاکید کی تھی کہ سنہالیز زبان میں لٹریچر شائع کیا جائے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اصل باشندے تو ہماری تائید میں ہو گئے مگر تامل بولنے والے ہندوستانی جو اکثریت میں ہیں ہمارے خلاف ہو گئے اب پیغام آیا ہے کہ دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ یہاں کی مشکلات دور کرے اور جماعت کو مسجد بنانے کی توفیق دے ۔
اس امر کا ذکر کر دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ قادیان جانے میں پاکستانی احمدیوں کے لئے بڑی مشکلات ہیں ۔ پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر کئی سو آدمی قادیان چلا جاتا تھا لیکن چند سال سے ہندوستان کی حکومت نے ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ چنانچہ اس سال بھی احمدی وہاں نہیں جا سکے ۔ مگر حال ہی میں ہندوستان کی حکومت نے پاکستانی حکومت کی وساطت سے لکھا ہے کہ اب وہ ویزا دینے کے لئے تیار ہے ۔ چونکہ قادیان کا جلسہ سالانہ اب گزر چکا ہے اس لئے حکومتِ ہندوستان کے ویزا دینے سے اب کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا ۔ ہندوستان کی اس تنگ دلی پر ہمیں بہت افسوس ہے ۔ اس سال پاکستان گورنمنٹ نے سینکڑوں سکھوں کو ویزا دیا تھا اور وہ ننکانہ دیکھ کر گئے ہیں ۔ اسی طرح اگر ہر سال جلسہ سالانہ پر احمدی قادیان جائیں تو ہندوستان کی 45 کروڑ آبادی کی حکومت ہے اُس کا وہ نقصان ہی کیا کر سکتے ہیں بلکہ قادیان کی ارد گرد کی سکھ آبادی احمدیوں کی تائید میں ہے ۔ اگر علاقہ کے لوگ احمدیوں سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے تو حکومت باوجود اتنی بڑی ہونے کے کیوں محسوس کرتی ہے ۔ ایک سکھ نے جو بڑا اثر رکھتا ہے اور وہ کانگرس کا بھی ممبر رہ چکا ہے لکھا ہے کہ میں کوشش کر رہا ہوں کہ جلسہ کے موقع پر مجھے پاکستان آنے کی اجازت مل جائے ۔ اگر میں پاکستان آیا تو ربوہ آنے کی کوشش کروں گا ۔ وہ اپنی قوم میں بھی اور کانگرس میں بھی بااثر آدمی ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کا دل کھول دے تو ممکن ہے کہ وہ کوشش کر کے احمدیوں کے متعلق حکومت کے رویہ کو بدل دے ۔ احمدی جماعت سیاسی جماعت کبھی نہیں ہوئی ۔ وہ ساری دنیا میں صرف مذہبی کام کرتی ہے ۔ زیادہ تر احمدی پاکستان میں رہتے ہیں مگر یہاں بھی کبھی اس نے کسی سیاسی پارٹی سے تعلقات قائم نہیں کئے ۔ انہیں صرف اپنے اصول کے مطابق حکومت سے تعاون کرنا آتا ہے ۔
اس موقع پر مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا۔1953ء میں جبکہ سارے پنجاب میں فساد تھا حکومت کے پاس رپورٹیں کی جاتی تھیں کہ احمدیوں نے اپنے بچاؤ کے لئے بڑا سامان رکھا ہوا ہے اس لئے گورنمنٹ کی طرف سے کبھی کبھی سی آئی ڈی کے افسر ربوہ آ جاتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک سی آئی ڈی کا افسر آیا۔ ایک پٹھان لڑکے کو اُس نے دیکھا کہ وہ بیوقوف سا ہے اور اس کی تعلیم اچھی نہیں ہے اس لئے اُس نے خیال کیا کہ اس نوجوان سے بات معلوم ہو جائے گی۔ چنانچہ اُس نے اسے کہا کہ تم مجھے وہ جگہ دکھاؤ جہاں تم نے لڑائی کا سامان رکھا ہوا ہے۔ اس لڑکے نے کہا تم میرے ساتھ آجاؤ۔ چنانچہ اس لڑکے نے اس سی آئی ڈی کے افسر کو ساتھ لیا اور ایک مسجد میں لے گیا۔ وہاں قرآن کریم کا درس ہو رہا تھا۔ اس لڑکے نے کہا یہ ہماری لڑائی کی تیاری ہے۔ اس افسر نے کہا یہ کیا تیاری ہے میں نے تو پوچھا تھا کہ وہ جگہ دکھاؤ جہاں تمہارے ہتھیار پڑے ہوئے ہیں۔ وہ لڑکا اُسے پھر ایک اور مسجد میں لے گیا وہاں بھی قرآن کریم کا درس ہو رہا تھا۔ اس افسر نے کہا تم نے پھر غلطی کی ہے تم مجھے وہ جگہ بتاؤ جہاں تم نے مقابلہ کے لئے سامان جمع کیا ہوا ہے۔ تم لوگ کمزور ہو اس لئے تم نے مقابلہ کے لئے ضروری تیاری کی ہوگی۔ وہ لڑکا کہنے لگا اچھا آؤ میں تمہیں اور جگہ دکھاؤں جہاں ہمارا فوجی سامان پڑا ہے۔ وہ افسر خوش ہو گیا اور اس کے ساتھ ہو لیا۔ چنانچہ وہ پھر اسے ایک اور مسجد میں لے گیا۔ وہاں بھی قرآن کریم کا درس ہو رہا تھا۔ وہ افسر کہنے لگا تم مجھے پھر ایسی جگہ لے آئے ہو جہاں قرآن کریم کا درس ہو رہا ہے۔ اس لڑکے نے کہا ہمیں تو یہی فوجی سامان دیا جاتا ہے اور یہ میں نے تمہیں دکھا دیا ہے باقی رہا ظاہری سامان سو ہمیں تو یہ سبق دیا جاتا ہے کہ سر جھکاؤ اور مار کھاؤ۔ یہ کہہ کر اُس نے اپنے سر سے ٹوپی اُتاری اور اپنے سر پر چپت مار کر سر جھکا لیا اور کہا کہ ہمیں تو بس یہی سکھایا جاتا ہے کہ مخالف کے آگے اپنا سر جھکا دو۔ وہ افسر کہنے لگا اس طرح تو لوگ تمہیں مار دیں گے وہ پٹھان لڑکا کہنے لگا پھر کیا ہو گا ہمیں شہادت ہی نصیب ہو گی اور کیا ہو گا۔ اس پر وہ افسر مایوس ہو کر چلا گیا۔
وہ افسر سمجھتا ہو گا کہ شاید یہ لڑکا بہت بیوقوف ہے لیکن تھا وہ بڑا عقلمند۔ دین کے لئے
مارا جانا عزت کی بات ہوتی ہے ذلت نہیں ہوتی قرآن کے ذریعہ مقابلہ کرنا ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ تلوار اور بندوق قرآن کریم کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ جس کے ساتھ قرآن ہے اس کے ساتھ سب کچھ ہے۔ اور جس کے ساتھ قرآن نہیں ساری دنیا کے توپ خانے، ہوائی جہاز اور گولہ بارود بھی اُس کے پاس موجود ہوں تو اُسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ جس کے پاس قرآن کریم ہے اور جس کے پاس خدا ہے اُسے دنیا کے کسی توپ خانے، ہوائی جہاز، بندوقوں اور تلواروں کی ضرورت نہیں کیونکہ دنیوی توپ خانے، بندوقیں اور تلواریں خدا تعالیٰ کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔
اِس زمانہ میں ہوائی جہاز، توپیں اور بندوقیں ہیں لیکن کسی زمانہ میں صرف تلوار اور نیزہ سے ہی کام لیا جاتا تھا اور سپاہیوں کی کثرت اور تنظیم کے ساتھ دنیا پر حکومت کی جاتی تھی۔ اُس زمانہ میں ایران کے ایک بادشاہ کو مدینہ کے یہودیوں نے ورغلایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذہب پھیلتا جا رہا ہے اور یہ عربوں کو اُکسا کر ان پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔ اس سے وہ دھوکا میں آ گیا اور اس نے یمن کے گورنر کو لکھا کہ تم کچھ آدمی مدینہ بھیج کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کر کے میرے پاس بھیج دو۔ گورنر نے کچھ آدمی مدینہ بھیجے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے آئیں۔ وہ آدمی وہاں گئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گورنرِ یمن کا پیغام دے دیا۔ آپ نے فرمایا ابھی کچھ ٹھہرو ہم پھر جواب دیں گے۔ چنانچہ تین دن آپ خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہے اور ان سپاہیوں کو ٹلاتے رہے۔ تیسرے دن سفیروں نے جواب پر پھر اصرار کیا۔ اُس وقت تک آپ پر وحی نازل ہو چکی تھی اور حقیقتِ حال بتائی جا چکی تھی۔ آپ گھر سے باہر نکلے اور سفیروں کو بلایا اور فرمایا جاؤ اور اپنے گورنر سے کہہ دو کہ میرے خدا نے مجھے بتایا ہے کہ اُس نے آج رات ایران کے بادشاہ کو مروادیا ہے۔ جب گورنرِ یمن کے سفیروں نے یہ بات سنی تو انہوں نے نادانی سے یہ سمجھا کہ انہیں پتا نہیں ایران کے بادشاہ کی کیا حیثیت ہے۔ اگر اس کو یہ جواب پہنچا تو وہ سارے عرب کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا اس لئے انہوں نے کہا آپ اپنے آپ پر، اپنے قبیلہ پر اور اپنے ملک پر رحم کریں۔ گورنر نے وعدہ کیا ہے کہ اگر بغیر مزاحمت کے
آپ ساتھ آجائیں تو وہ بادشاہ کے پاس رحم کی درخواست کرے گا۔ لیکن آپ نے فرمایا تم جاؤ اور میں نے جو کچھ کہا ہے وہ گورنر تک پہنچا دو۔ چنانچہ وہ لوگ واپس چلے گئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام گورنر یمن تک پہنچا دیا۔ وہ عقلمند آدمی تھا اس نے جب یہ جواب سنا تو کہنے لگا اگر یہ بات درست ثابت ہوئی تو یقیناً وہ خدا تعالیٰ کا سچا نبی ہے۔ اور اگر اس نے یہ بات اپنے پاس سے کہی ہے تو پھر خدا ہی عرب پر رحم کرے۔ میں کچھ دیر انتظار کروں گا اور ایران کی تازہ خبروں کو دیکھ کر فیصلہ کروں گا۔ گورنر کا دربار سمندر کے سامنے تھا۔ چند دنوں کے بعد ایران کا ایک جہاز آیا اور یمن کے ساحل پر اس نے لنگر ڈال دیا۔ اس جہاز سے ایک افسر اتر کر آیا اور اس نے گورنر کو بادشاہِ ایران کا ایک خط دیا۔ گورنر نے جب اُس حکم نامہ کو دیکھا تو لفافہ پر ایک نئے بادشاہ کی مہر تھی پرانے بادشاہ کی مہر نہیں تھی۔ اُس نے سفیروں کی طرف دیکھ کر کہا مدینہ والا آدمی سچا نبی معلوم ہوتا ہے۔ لفافہ پر دوسرے بادشاہ کی مہر ہے۔ یہ کہہ کر اس نے لفافہ کھولا۔ اس میں ایران کے نئے بادشاہ کا حکم نامہ تھا اور اس میں لکھا تھا کہ ہمارا باپ چونکہ سخت ظالم تھا اس لئے آج رات ہم نے اسے مار دیا ہے اور خود بادشاہ بن گئے ہیں۔ اس لئے اب تم ہماری اطاعت کا اپنے افسروں سے اقرار لو۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ ہمارے باپ نے تمہیں حکم دیا تھا کہ مدینہ کے مدعیِ نبوت کو گرفتار کر کے میرے پاس بھجوا دو۔ میں اس ظالمانہ حکم کو بھی منسوخ کرتا ہوں 1؎۔ اب مدینہ کے مدعی کو کچھ نہ کہو۔ گورنر یمن پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ وہ فوراً ایمان لے آیا اور اس پر ایسی پختگی سے قائم رہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب عرب میں ارتداد پھیلا اور یمن کے علاقہ میں بھی اس کا اثر پہنچا تو اس گورنر نے بڑے اخلاص سے ارتداد کا مقابلہ کیا اور حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کر لی۔ اُس زمانہ میں ایران کی حکومت امریکہ کی موجودہ حکومت سے زیادہ طاقت ور تھی لیکن خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو سنا اور ایران کے بادشاہ کو اس کے بیٹے کے ہاتھوں مروا دیا اور بتا دیا کہ سب طاقتوں سے بڑی طاقت میں ہوں۔
پچھلے سال جلسہ سالانہ پر میں نے تحریک کی تھی کہ دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں
کسی نیک صورت سے قادیان دلوا دے مگر کراچی کے ایک اخبار نے میری اس تقریر کی غلط رپورٹ شائع کر دی اور لکھا کہ ہم قادیان کو تلوار کے زور سے فتح کرنا چاہتے ہیں ۔ اور ہائی کمشنر آف انڈیا نے یہ شکایت کی کہ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ جماعت احمدیہ کے ہندوستان کے متعلق بد ارادے ہیں حالانکہ یہ بات بدیہی طور پر غلط تھی ۔ تلوار تو ہمارے ہاتھ میں ہے ہی نہیں اس لئے ہم تلوار کے زور سے قادیان کو کس طرح فتح کر سکتے ہیں ۔ تلوار تو پاکستان کی حکومت کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہمارے ماتحت نہیں ہم اس کے ماتحت ہیں ۔ اس حکومت کے فیصلہ کرنے والے اور لوگ ہیں ۔ قادیان کے دروازے اگر کھلے تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کھولے گا اور خدا تعالیٰ اپنے کام فرشتوں کے ذریعہ کیا کرتا ہے جنہیں نہ تلواروں کی ضرورت ہے اور نہ انسانی مدد کی ضرورت ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ پاکستان پر مہربان ہو گا اور اس پر فضل کرنا چاہے گا تو وہ علاقے جہاں سے لوگ ہجرت کر کے آئے ہیں پاکستان کو دلوا دے گا ۔ مگر یہ کب ہوگا خدا تعالیٰ کو ہی معلوم ہے ۔ بہر حال خدا تعالیٰ جلد یا بدیر ہندوستان کی حکومت کو سمجھ دے دے گا کہ وہ ہندوستان کی جماعت احمدیہ کے ساتھ سختی نہ کرے جو بہت پُر امن جماعت ہے ۔ اور پاکستان کے ساتھ بھی جھگڑا نہ کرے کیونکہ پاکستان زور سے کام نہیں لینا چاہتا بلکہ دلیل اور عقل سے کام لینا چاہتا ہے۔
اب میں زراعت کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔ غلہ کی زیادتی کا تعلق اتنا سیاست سے نہیں جتنا مذہب سے ہے ۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہ غلہ کم پیدا ہو رہا ہے اور زرِ مبادلہ بے حد خرچ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے دونوں ملک ”غلہ زیادہ اگاؤ“ پر زور دے رہے ہیں۔ مگر غلہ کے زیادہ ہونے کا تعلق آسمانی تدبیروں سے ہے زمینی تدبیروں سے نہیں۔ جماعت احمدیہ کی کثرت چونکہ پاکستان میں ہے اس لئے ہماری جماعت کے زمینداروں کو بھی ”غلہ زیادہ پیدا کرو“ کی کوشش میں گورنمنٹ کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے کیونکہ اگر ملک کی اقتصادی حالت اچھی ہوگی تو جماعت کو بھی اس کا فائدہ پہنچے گا۔ مگر جیسا کہ میں نے کہا ہے اس کوشش کا تعلق آسمانی تدبیروں سے زیادہ ہے ۔ پس ظاہری تدبیر کے علاوہ ہماری جماعت کو دعا سے بھی بہت کام لینا چاہئے تا خدا تعالیٰ ہمارے ملک پر رحم کرے اور اپنے فضل سے اس کی فصلوں میں برکت دے تاکہ ہمارے ملک کی مصیبت دور ہو اور اس کی وجہ سے ہی ہماری مصیبت بھی دور ہو۔
قرآن کریم میں زراعت کے متعلق ایک اصول بیان فرمایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنۡۢبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِیۡ کُلِّ سُنۡۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ ؕ وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ(2:262) 2؎ اس آیت میں زراعت میں ترقی کے امکانات پر بحث کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ بعض حالات میں یہ ممکن ہے کہ ایک دانہ سات بالیں نکالے اور ہر بالی میں ایک سو دانہ ہو۔ یعنی ایک دانہ 700 گنا ہو جائے۔ پھر اس پر بس نہیں اللہ تعالیٰ چاہے تو اس سے بھی زیادہ بڑھا دے۔ اس اصول کے مطابق دیکھا جائے تو چونکہ ہمارے ملک میں عام طور پر فی ایکڑ 30 سیر بیج ڈالا جاتا ہے اگر ایک دانہ سے 700 دانہ تک کی پیداوار ہو تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ایک ایکڑ سے 30x700 یعنی 21000 سیر اناج پیدا ہوگا اور یہ 525 من بنتے ہیں۔ گویا قرآنی اصول کے مطابق 525 من فی ایکڑ پیداوار ہوسکتی ہے اور آیت ظاہر کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے اور بھی بڑھا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی اوسط سارے پاکستان میں پیدا ہونے لگ جائے اور جو زیادتی کا وعدہ ہے وہ نہ بھی پورا ہو تب بھی پاکستان کی کاشت ہونے والی زمین کے لحاظ سے 24، 25 ارب من صرف گندم پیدا ہوسکتی ہے۔ چاول وغیرہ اس کے علاوہ ہیں۔ اگر اتنا ہی ان کو سمجھ لیا جائے تو پچاس ارب من غلہ سالانہ پیدا ہوسکتا ہے۔ مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں کو ملا کر ہمارے ملک کی کُل آبادی آٹھ کروڑ ہے۔ اور حساب کی رو سے صرف چھ من گندم سالانہ فی کس خرچ ہوتی ہے۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ ہمیں سالانہ اڑتالیس کروڑ من غلہ کی ضرورت ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں 50 ارب من غلہ پیدا ہوسکتا ہے جو ضرورت سے سَو گنے سے بھی زیادہ ہے اور 8 ارب آدمیوں کے لئے کافی ہوسکتا ہے۔ گویا پاکستان جس کی آبادی کُل آٹھ کروڑ ہے اس کو سارا سال خوراک دے کر اتنا غلہ اور چاول بچ سکتا ہے کہ غیر ملکوں میں بھیج کر اس سے کروڑوں کروڑ پونڈ زرمبادلہ کمایا جائے۔ مگر ضرورت یہ ہے کہ سچے طور پر محنت کی جائے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کی جائیں اور جن ملکوں نے زراعت میں ترقی کی ہے ان کی نقل کی جائے ۔ ہمارا زمیندار محنت سے جی چراتا ہے ورنہ وہ ایک دو ایکڑ کا مالک ہو کر بھی بڑے اعلیٰ درجہ پر اپنے خاندان کو پال سکتا ہے۔
مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں قادیان میں سیر کے لئے گیا۔ میرے ساتھ اَور بھی بعض دوست تھے ہم بسراواں کی طرف جا رہے تھے ۔ عام طور پر مجھے اپنے کھیتوں کا بھی پتا نہیں ہوتا کہ کہاں ہیں ۔ چنانچہ ایک گواہی میں مجھ سے میرے ایک رشتہ دار نے ایک ایسے کھیت کے متعلق سوال کیا جہاں سے میں اکثر گزرا کرتا تھا اور پوچھا کہ وہ کہاں ہے؟ میں نے کہا مجھے تو علم نہیں۔ اِس پر اُس کا وکیل ہنس پڑا ۔ اُس کا مطلب یہ تھا کہ گویا میں جھوٹ بول رہا ہوں ۔ اس نے کہا کیا آپ جلسہ پر جاتے ہوئے اس رستہ سے نہیں گزرتے؟ میں نے کہا ہاں میں اسی رستہ سے گزرتا ہوں۔ اُس نے کہا پھر آپ کو اس کھیت کا علم کیوں نہیں؟ میں نے کہا مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں۔ میں نے زمین کا کام اپنے بھائی کے سپرد کیا ہوا ہے خود مجھے علم نہیں کہ میری زمین کہاں ہے ۔ بلکہ ممکن ہے میرے بھائی کو بھی اس کھیت کا علم نہ ہو کیونکہ وہ بھی سارا دن دین کے کاموں میں لگے رہتے ہیں لیکن بہر حال مجھے تو بالکل پتا نہیں ۔ وکیل نے عدالت کو کہا کہ دیکھئے! اُس کا مطلب یہ تھا کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے ۔ وہ وکیل غیر احمدی ہے اور اب تک زندہ ہے بعد میں مجھے ملا تو کہنے لگا مجھے آپ کے حالات کا علم نہیں تھا اس لئے میں نے اس قسم کا سوال کر دیا ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ جو کچھ آپ نے کہا تھا وہ بالکل ٹھیک تھا کیونکہ آپ اس طرف توجہ ہی نہیں کرتے بلکہ دین کے کاموں میں ہی لگے رہتے ہیں ۔ تو بسراواں جاتے ہوئے میں ایک کھیت کے پاس سے گزرا۔ میں نے اسے دیکھ کر کہا کہ یہ کھیت کسی سکھ کا معلوم ہوتا ہے ۔ میرے ساتھی کہنے لگے آپ کو یہ کس طرح پتا لگ گیا کہ یہ کھیت کسی سکھ کا ہے؟ میں نے کہا اچھا کسی زمیندار کو بلاؤ اور اس سے پوچھو۔ چنانچہ ایک زمیندار کو بلایا گیا اور اُس سے دریافت کیا گیا کہ یہ کھیت کس کا ہے ۔ تو اس نے بتایا کہ یہ کھیت فلاں سکھ کا ہے ۔ پھر میں نے کہا یہ ساتھ والا کھیت کسی مسلمان کا ہے ۔ اور اس زمیندار نے اس بات کی بھی تصدیق کی ، ساتھ والے کہنے لگے آپ کو یہ کس طرح پتا لگ گیا کہ یہ کھیت کسی سکھ کا ہے اور ساتھ والا کسی مسلمان کا ہے؟ میں نے کہا مجھے پتا ہے کہ سکھ محنت کرتا ہے اور مسلمان اپنے کھیت میں سارا دن حُقّہ پیتا رہتا ہے اس لئے مسلمان کی فصل خراب ہوتی ہے اور سکھ کی فصل اچھی ہوتی ہے۔ چنانچہ اس تجربہ کے ماتحت جب میں نے عمدہ فصل دیکھی تو میں نے سمجھ لیا کہ یہ کسی سکھ کا کھیت ہے۔ اور جب میں نے اس کے ساتھ ہی ایک ردّی فصل دیکھی تو میں نے سمجھا کہ یہ کسی مسلمان کا کھیت ہوگا۔ چنانچہ اس کی تصدیق بھی ہوگئی۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمارا زمیندار محنت سے جی چُراتا ہے اور حُقّہ وغیرہ میں زیادہ وقت صَرف کرتا ہے۔
میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ ہمارا مزدور عمارت بناتے ہوئے اینٹ اٹھاتا ہے تو اُس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ گویا اُس کی کمر ٹوٹی ہوئی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ جا کر ایک اینٹ کو اٹھاتا اور پھر اُسے پھونک مار مار کر صاف کرتا ہے۔ پھر ٹوکری میں بڑے اطمینان سے رکھتا ہے۔ پھر دوسری اینٹ اٹھاتا ہے اور اس کے ساتھ بھی یہی کچھ کرتا ہے۔ اور پھر کوئی آدھ گھنٹہ میں ایک ٹوکری اٹھا کر معمار کے پاس پہنچتا ہے۔ جب میں 1924ء میں انگلستان گیا تو ایک دن میں حافظ روشن علی صاحب سے میں نے کہا کہ کیا آپ نے یہاں کوئی عمارت بنتے دیکھی ہے؟ کہنے لگے ہاں دیکھی ہے۔ میں نے کہا کیا اس جگہ میں اور ہمارے ملک میں کوئی فرق ہے؟ کہنے لگے اس ملک میں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا کسی عمارت کو آگ لگی ہوئی ہے اور یہ لوگ اسے بجھانے کے لئے جا رہے ہیں لیکن ہمارے ملک میں مزدور کیا اور معمار کیا سب اس طرح کام کرتے ہیں کہ گویا انہوں نے افیون کھائی ہوئی ہے۔
اگر زمیندار محنت سے کام کریں تو ایک ایکڑ کا مالک بھی بڑی اچھی طرح اپنے خاندان کو پال سکتا ہے۔ مختلف ممالک میں پیداوار کا جو اندازہ لگایا گیا ہے اس کے مطابق یورپ کے ملکوں میں اٹلی کی آمد سب سے کم ہے لیکن وہاں بھی 1400 روپیہ فی ایکڑ آمد ہے۔ ہالینڈ میں تین ہزار روپے فی ایکڑ آمد ہے اور جاپان میں چھ ہزار فی ایکڑ آمد ہے۔ چونکہ ساری زمین کا 1/3 حصہ زیر کاشت لایا جاتا ہے اس لئے اٹلی کے لحاظ سے ساری مملوکہ زمین پر 450 روپے فی ایکڑ آمد ہونی چاہئے۔ اور ہالینڈ کی آمد کے حساب سے
ساڑھے سات سو روپیہ فی ایکڑ آمدنی ہونی چاہئے۔ اور جاپان کے لحاظ سے دو ہزار روپیہ فی ایکڑ آمد ہونی چاہئے۔ تم سمجھ لو کہ اگر ہمارے ملک کے زمیندار اٹلی ، ہالینڈ اور جاپان کے زمینداروں جتنی محنت کریں تو ہمارا ملک کس قدر مالدار ہوسکتا ہے۔ اور ہماری جماعت کی تبلیغی کوششیں کتنی وسیع ہوسکتی ہیں۔ اگر ہمارے ملک کی پیداوار اٹلی جتنی بھی ہو تو جماعت کی موجودہ مقدار کے لحاظ سے ہمارا سالانہ چندہ اسی لاکھ یا ایک کروڑ کے قریب ہو جاتا ہے۔ اور جوں جوں جماعت بڑھتی جائے گی چندہ بھی بڑھتا جائے گا۔ اور ایک کروڑ سالانہ کی آمد پر ہم اسلام کو ساری دنیا پر غالب کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو سکتے ہیں۔ پھر بڑی سہولت تو یہ ہے کہ اگر اس قدر پیداوار بڑھ جائے تو پاکستان کے پاس زر مبادلہ اس قدر بڑھ جائے گا کہ وہ ہمیں مبلغوں کو بھیجنے کے لئے زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ دے سکے گا اور ان کی تبلیغ بڑی وسیع ہو جائے گی۔ اور اگر باہر والے بھی کوشش کریں تو اُن کی مدد سے یورپ کے ہر بڑے شہر میں مساجد بن سکتی ہیں۔ اور یورپ جو اَب تثلیث کا گڑھ ہے آئندہ توحید کا علمبردار ہو جائے گا۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حکومت کی بجائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم ہو جائے گی۔ اور واحد خدا کی تبلیغ اِس طرح روس میں کامیاب ہو جائے گی جس طرح آج کل دہریت کی تبلیغ کامیاب ہورہی ہے۔
زراعت کی زیادہ پیداوار کے لئے کھاد کی ضرورت پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ خصوصًا مصنوعی کھاد پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ دو سال ہوئے امریکہ سے کچھ ماہرین زراعت آئے تھے۔ میں نے پاکستان کے بعض ماہرین زراعت کو اُن کے پاس بھیجا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے ملک میں مصنوعی کھاد غلط طریق پر استعمال کی جاتی ہے۔ ہمارا تجربہ یہ ہے کہ اگر مصنوعی کھاد میں نباتاتی یا حیوانی کھاد زیادہ مقدار میں نہ ملائی جائے تو مصنوعی کھاد سے زمین خراب ہو جاتی ہے اور پیداوار ترقی نہیں کرتی۔ اور امریکہ کا پرانا تجربہ یہ بھی ہے کہ نباتاتی کھاد کے لئے برسیم کی بجائے جس پر ہمارے ملک میں زور دیا جاتا ہے سورج مکھی کی کاشت پر زور دیا جائے۔ اور جب سورج مکھی کی فصل کچھ بڑی ہو جائے تو ہل کے ذریعہ زمین میں دفن کیا جائے تاکہ اس میں نباتاتی کھاد پہنچ جائے۔ اُس وقت مصنوعی کھاد
کی ایک دو ٹوکریاں بھی ڈال دی جائیں تو وہ بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔ برسیم بے شک بہت اعلیٰ قسم کی کھاد ہے لیکن برسیم کا زیادہ مقدار میں پیدا کرنا بڑی محنت چاہتا ہے۔ وہ صرف چند کنال میں بوئی جا سکتی ہے اس لئے اگر وہ برسیم سے دس حصے کم بھی فائدہ دیتی ہو تب بھی چونکہ ہزاروں ہزار ایکڑ میں بوئی جا سکتی ہے اس لئے ملک کو حقیقی فائدہ برسیم کی نسبت کئی سو گنے زیادہ پہنچ سکتا ہے۔ پس ہماری جماعت کو سورج مکھی کے بونے کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ یہ عام طور پر جون میں بوئی جاتی ہے۔ اور پھر جب اس کے پودے زمین سے کچھ اوپر نکل آئیں تو اسے زمین میں دفن کر دینا چاہئے اور اپنے وقت پر تھوڑی سی مصنوعی کھاد بھی ڈال دینی چاہئے۔ امریکہ کے لوگ سورج مکھی سے نہ صرف کھاد کا کام لیتے ہیں بلکہ اس سے مرغی خانے اور ڈیری فارم بھی چلاتے ہیں۔ مرغیاں اس کے بیج کے کھانے سے انڈے زیادہ دیتی ہیں اور گائے اسے کھائے تو اس کا دودھ بڑھ جاتا ہے۔ میں آئندہ کے لئے یہ بھی اعلان کر دینا چاہتا ہوں کہ ہر سال جو جماعت ’’غلہ زیادہ اگاؤ‘‘ کی مہم میں فرسٹ آئے گی جلسہ سالانہ پر اس کے نام کا اعلان کیا جائے گا تا کہ دوسری جماعتوں میں بھی شوق پیدا ہو۔
اب میں تحریکِ جدید اور وقفِ جدید کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ تحریکِ جدید کو قائم ہوئے 25 سال ہو چکے ہیں لیکن وقفِ جدید کو قائم ہوئے ابھی ایک سال ہوا ہے وقفِ جدید میں شامل ہونے والوں کی درخواستیں برابر چلی آ رہی ہیں مگر ابھی یہ تعداد بہت کم ہے۔ وقفِ جدید میں شامل ہونے والے لوگ کم سے کم ایک ہزار ہونے چاہئیں۔ اگر دس بیس ہزار ہوں تو اور بھی اچھا ہے۔ اگر ہماری جماعت کے زمیندار اپنی آمدنیں بڑھائیں تو وقفِ جدید کے چندے بھی بڑھ جائیں گے اور وہ مزید آدمی رکھ سکیں گے۔ اس وقت 80 آدمی کام کر رہے ہیں۔ پچھلے سال 70 ہزار کے وعدے آئے تھے جس میں سے اکثر حصہ وصول ہو چکا ہے اور یہ صیغہ اپنا کام عمدگی سے کر رہا ہے۔ اور ترقی ہوئی تو اس کا کام اور بھی بڑھ جائے گا۔ اس تحریک کے ذریعہ اس سال 400 بیعتیں آئی ہیں جبکہ اصلاح و ارشاد کے ذریعہ صرف 54 بیعتیں آئی ہیں۔ پس یہ نہایت مبارک کام ہے۔ چونکہ وقفِ جدید میں پرائمری اور مڈل پاس لڑکے بھی لئے جاسکتے ہیں اس لئے ہماری جماعت جو باقی سب جماعتوں سے تعلیم میں بہت زیادہ ہے وہ آسانی کے ساتھ اس تعلیم والے دس پندرہ ہزار مبلغ پیش کرسکتی ہے۔ امید ہے کہ جماعت کے افراد اس طرف خاص توجہ کریں گے اور ملک کی جہالت کو دور کرنے میں مدد کریں گے۔
مجھے بعض لوگوں کی درخواستیں آتی ہیں لیکن ان میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ میں اپنا لڑکا جس کی عمر اڑھائی سال کی ہے وقفِ جدید میں پیش کرتا ہوں۔ حالانکہ جو بچہ اڑھائی سال کا ہے اور جو بولتا بھی نہیں اس نے تبلیغ کیا کرنی ہے یا تعلیم کیا دینی ہے۔ بے شک ہم نے تعلیم کا معیار کم رکھا ہے لیکن عمر کم نہیں کی۔ بڑا آدمی ہو تو چاہے وہ پرائمری پاس ہی ہو کام کرسکتا ہے لیکن جو شخص اپنا اڑھائی سال کا بچہ وقف کرتا ہے وہ دین پر جھوٹا احسان کرتا ہے۔ امید ہے کہ جماعت کے افراد اس طرف خاص توجہ کریں گے اور ملک کی جہالت کو دور کرنے میں مدد کریں گے۔
اِسی طرح ملک کی بیماریوں کے دور کرنے میں بھی مدد کریں گے کیونکہ وقف جدید کے واقفین اپنے علاقہ میں تعلیم بھی دیتے ہیں اور بیماروں کا دیسی اور ہومیو پیتھک علاج بھی کرتے ہیں۔ گو حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ہمیں کافی ڈاکٹر مل گئے ہیں لیکن ہمارے ملک کی آبادی کے لحاظ سے ان کی تعداد ابھی کافی نہیں۔ چنانچہ میرے پاس کئی احمدی ڈاکٹروں کے خط آتے ہیں کہ ہماری عمر ریٹائر ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے لیکن محکمہ ہمیں ریٹائر نہیں کرتا۔ جس سے پتا لگتا ہے کہ ابھی محکمہ کے پاس کافی ڈاکٹر نہیں۔ اگر کافی ڈاکٹر ہوں تو ریٹائر ہونے کی عمر تک پہنچنے پر انہیں ریٹائر کیوں نہ کرے۔ یورپ کے بعض ملکوں میں فی سَو آدمی ایک معالج ہوتا ہے۔ ہمارے ملک کی آبادی آٹھ کروڑ ہے۔ اس لحاظ سے ہمارے پاس تو ایک لاکھ معالج ہونا چاہئے۔ انگلستان میں سب سے کم معالج ہیں۔ وہاں دو ہزار پر ایک معالج ہے۔ پس انگلستان کے لحاظ سے بھی ہمارے پاس چالیس ہزار معالج ہونا چاہئے۔ ہومیو پیتھک اور دیسی طب میں یہی فائدہ ہے کہ ایک تو علاج سستا ہو جاتا ہے دوسرے کثرت سے معالج مہیا ہو سکتے ہیں۔ امریکہ میں ہومیو پیتھک معالج
کثرت سے ہیں۔ ہمارے ملک میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ ڈاکٹری پاس لوگ ہی علاج کر سکتے ہیں۔ یہ درست نہیں۔ مجھے ہومیوپیتھک کا شوق ہے اور میں محض خدمتِ خلق کے طور پر بیس سال سے مفت علاج کر رہا ہوں۔ اور میرے کتب خانہ میں اتنی کتابیں ہیں جو بڑے بڑے ڈاکٹروں کے کتب خانوں میں بھی نہیں ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ مری میں ایک صاحب جو پہلے معمولی کمپاؤنڈر (COMPOUNDER) تھے اور ہومیوپیتھی کی پریکٹس کرتے تھے انہوں نے میرا علاج کیا اور اس سے مجھے بہت فائدہ ہوا۔ بڑے بڑے ڈاکٹروں نے میرا علاج کیا تھا لیکن میں اکڑوں نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ لیکن ان صاحب نے میرا علاج کیا اور میں اکڑوں بیٹھنے لگ گیا۔ وہ معمولی کمپاؤنڈر تھے لیکن کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد بڑے اچھے ڈاکٹر بن گئے ہیں۔ یہاں تک کہ لاہور کے بعض کالجوں کے پاس شدہ ڈاکٹر ہیں اُن سے بھی زیادہ ان کی دوائی مؤثر ہوتی تھی۔ ہمارے ربوہ میں بھی ایک صاحب ہومیوپیتھک کی پریکٹس کرتے ہیں۔ وہ معمولی کلرک تھے لیکن ہومیوپیتھک کی پریکٹس میں انہوں نے بڑی مشق کر لی ہے۔ بہر حال جماعت کو چاہئے کہ تحریکِ جدید اور وقفِ جدید کی طرف خاص توجہ کرے۔
اسی طرح واقفین کو چاہئے کہ وہ تفسیریں لے کر پڑھیں۔ تفسیرِ صغیر اور تفسیرِ کبیر بھی۔ اور لوگوں میں پھیلائیں تاکہ قرآن کریم سے لوگوں کا تعلق پیدا ہو۔ قرآن کریم ہی ایک ایسی چیز ہے جو دلوں میں نور پیدا کرتی ہے۔ اگر آپ لوگ قرآن پھیلائیں گے تو احمدیت کی دشمنی لوگوں کے دلوں سے خود بخود کم ہو جائے گی۔ وہ جب پڑھیں گے کہ قرآن میں لکھا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ بھی سختی نہ کرو تو کیا انہیں خیال نہیں آئے گا کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ کیوں کرتے ہیں؟ ہماری جماعت شکایت کیا کرتی ہے کہ لوگ ہم پر سختی کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو قرآن سے واقف نہیں کیا۔ اگر وہ تفسیرِ صغیر وغیرہ اپنے پاس رکھیں اور لوگوں کو پڑھنے کے لئے دیں تو آہستہ آہستہ لوگوں میں قرآن سیکھنے کا شوق پیدا ہو جائے گا۔
مجھے یاد ہے پچھلی جنگ میں ہمارے ایک دوست عراق گئے۔ انہوں نے ایک غیر احمدی
کرنیل کو تفسیر کبیر پڑھنے کے لئے دی۔ انہوں نے جب واپس لی تو وہ کہنے لگا مجھے یہ کتاب دے دو اور سو روپیہ لے لو۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں اُس نے سو روپیہ مجھے دے دیا اور میں نے تفسیر کبیر کے لئے قادیان لکھ دیا۔ لیکن مجھے معلوم ہوا کہ تفسیر کبیر کی وہ جلد ختم ہو چکی ہے۔ پس ہمارے دوست اگر تبلیغ کے لئے یہ طریق استعمال کریں تو بڑا مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر ایسا نہ کریں کہ وہ تفسیر کبیر کی اُن دو جلدوں کا جو ان کے پاس ہیں سو سو روپیہ مجھ سے مانگنا شروع کر دیں۔ میں نے پچھلے سال جلسہ پر ذکر کیا تھا کہ پندرہ سال پہلے ایسا ہوا تھا لیکن ایک دوست نے جھٹ اپنی تفسیر مجھے بھیج دی اور کہا کہ ایک سو روپیہ مجھے دے دیں۔ میں نے کہا یہ تو پندرہ سال پہلے کی بات ہے اب تو مجھے پتا بھی نہیں کہ وہ صاحب کہاں ہیں۔ کہنے لگا کچھ کم روپے دے دیں۔ میں نے کہا میں نے تو تفسیر خریدنی نہیں میرے پاس تفسیر موجود ہے۔ میں نے تو صرف یہ کہا تھا کہ ایک غیر احمدی افسر پر اس کا اس قدر اثر ہوا تھا کہ اُس نے سو روپیہ دے کر اس کتاب کو خریدنا چاہا۔ جاؤ اور عراق سے اُس آدمی کو تلاش کرو شاید وہ آدمی مل جائے اور تفسیر لے لے میں کیوں لوں؟ بعد میں وہ پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو لکھتے ہیں کہ کچھ روپیہ ہی مجھے دے دیں۔ ساٹھ ہی دے دیں، چالیس ہی دے دیں۔ بہرحال جو شخص ان کتابوں کو پڑھتا ہے اُس پر اثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ میں نے یہاں تک بھی کہا تھا کہ اگر کوئی غیر احمدی کتاب خرید کر پڑھنا چاہے تو اُسے نصف قیمت میں دے دو۔ بہرحال بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے تفسیر کبیر پڑھی اور بعد میں اس کے متعلق بڑی اچھی رائے کا اظہار کیا۔ تفسیر کبیر کا تو ہر ایک کے لئے پڑھنا مشکل ہے لیکن تفسیر صغیر سے تھوڑی سی محنت کے بعد پورا قرآن پڑھا جا سکتا ہے اس لئے اس کی طرف توجہ بہت مفید ہو سکتی ہے۔ یہ تبلیغ کے لئے بہترین ذریعہ ہے۔ زبانی تبلیغ کرنے بیٹھو تو بعض اوقات لڑائی ہو جاتی ہے اور فتنہ پیدا کرنا اسلام کے خلاف ہے۔ لیکن اگر تم کسی کو کتاب پڑھنے کے لئے دے دو تو وہ گھر میں بیٹھ کر ہی اسے پڑھے گا۔ اور اگر وہ گھر میں بیٹھا ہوا وہ کتاب پڑھے گا تو وہ بیوی سے تو نہیں لڑے گا اور نہ تم سے لڑائی کر سکے گا اس لئے یہ طریق بہت مفید ہے۔ دوسرے قرآن میں یہ برکت ہے کہ وہ دوسرے پر
حضرت خلیفۃ المسیح اول سنایا کرتے تھے کہ قادیان میں ایک دفعہ ایک رئیس آیا جو شراب کا عادی تھا۔ میں نے اسے بہت سمجھایا کہ شراب چھوڑ دو مگر وہ کہتا تھا کہ مجھ سے شراب چھوڑی نہیں جاتی۔ اس نے کہا مجھے حضرت صاحب سے ملا دو۔ چنانچہ میں نے اس کی ملاقات کا انتظام کروا دیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسے مسجد مبارک کے ساتھ والے کمرہ دارالفکر میں لے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وہ باہر نکلا تو اُس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ آپ فرماتے تھے میں نے کہا تمہیں کیا ہوا؟ کہنے لگا آپ نے مجھے اتنی نصیحت کی تھی لیکن مجھ پر کوئی اثر نہ ہوا لیکن مرزا صاحب نے صرف چند لفظ کہے تو میری چیخیں نکل گئیں اور آج سے میں نے عہد کر لیا ہے کہ آئندہ کبھی شراب نہیں پیؤں گا۔ حضرت خلیفہ اول فرمانے لگے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام میں جو اثر ہو سکتا تھا وہ میرے کلام میں کہاں ہو سکتا تھا۔
اور یہ سچی بات ہے کہ جو فرق حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اول کے کلام میں تھا اُس سے لاکھوں گنا فرق آپ لوگوں کے کلام اور قرآن کریم میں پایا جاتا ہے۔ آپ لوگ اگر کسی کو وعظ ونصیحت کریں گے تو اتنا اثر نہیں ہو سکتا لیکن اگر قرآن اسے پڑھنے کے لئے دیں گے تو اس پر بہت زیادہ اثر ہوگا۔ غرض لوگوں تک حق پہنچانے اور ان کے دل نرم کرنے کا یہ سب سے بہتر ذریعہ ہے۔ قرآن کریم میں حُبّ وطن کا بھی ذکر آتا ہے۔ تہذیب وتمدن کا بھی ذکر آتا ہے۔ اپنے ہمسایوں پر رحم کرنے کا بھی ذکر آتا ہے۔ غیر مذاہب کے لوگوں سے ہمدردی کرنے کا بھی ذکر آتا ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص قرآن پڑھے اور پھر دوسرے پر سختی کرے۔ ابھی ایک جگہ ایک احمدی کو سزا ملی ہے۔ چھوٹا افسر جو سزا دینے والا تھا وہ مخالف تھا۔ اس کی اپیل ایک اور اعلیٰ افسر کے پاس گئی تو اس نے کہا کیا مرزائی ہی سزا دینے کے لئے رہ گئے ہیں؟ عیسائی بھی تبلیغ کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے تبلیغ کی تو کیا ہوا؟ گویا یہ فطرت کی آواز تھی جو اس کے دل سے آئی۔ ممکن ہے اس نے قرآن کریم پڑھا ہوا ہو اور اُس پر یہ اثر ہو کہ اگر عیسائیوں اور یہودیوں سے بھی
حُسْنِ سلوک کرنے کا حکم ہے تو غریب مرزائی کو کیوں سزا دی جائے ۔ تو یہ تبلیغ کا ایک نہایت ہی کامیاب ذریعہ ہے اس کی طرف خاص توجہ کرنی چاہئے ۔
میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ ہمارے ایک دوست شیر محمد یکہ بان ہوتے تھے ۔ وہ کاٹھ گڑھ کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے ایک سو سے زیادہ احمدی کیا تھا۔ ان کی تبلیغ کا یہ طریق تھا کہ وہ الحکم منگوایا کرتے تھے وہ اَن پڑھ تھے لیکن الحکم جیب میں ڈالے رکھتے تھے اور جو آدمی پڑھا لکھا یکہ میں بیٹھتا اُسے کہتے بھائی جی! مجھے یہ اخبار پڑھ کر سنائیں ۔ وہ شخص الحکم پڑھنا شروع کرتا اور اُس پر اثر ہونا شروع ہو جاتا۔ اور یا تو وہ سخت مخالف ہوتا تھا اور یا پھر گھر پہنچ کر لکھتا مجھے پتا لکھوا دو میں نے بھی یہ اخبار منگوانا ہے اس میں بہت اچھی باتیں ہیں۔ وہ پھر تھوڑے دنوں کے بعد آتا اور کہتا میری بیعت کا خط لکھ دو۔ اس طرح انہوں نے سو سے زیادہ احمدی کئے ۔ اگر الحکم دلوں پر اثر کر سکتا ہے تو قرآن سے تو یقیناً بہت زیادہ فائدہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ ایسی برکت دے گا کہ لوگوں کے دل بالکل صاف ہو جائیں گے ۔ اور جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے آج جو تمہارے دشمن ہیں کل وہ تم پر جان قربان کرنے لگ جائیں گے ۔ اور اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری خود حفاظت فرمائے گا ۔
قادیان کے قریب راجپورہ میں ہماری کچھ زمین تھی ۔ ایک دفعہ میں وہ زمین دیکھنے گیا وہاں ایک عیسائی ہمارے تعاقب میں پہنچ گیا ۔ وہ اس نیت سے راجپورہ گیا کہ مجھے مار ڈالے لیکن وہاں سے وہ ناکام واپس آیا اور گھر آ کر اسے پتا لگا کہ اُس کی بیوی بدکار ہے اس نے اسے مار دیا اور اس کے نتیجہ میں پھانسی کے تختہ پر لٹکایا گیا۔ عدالت میں اس نے بتایا کہ راجپورہ میں مرزا صاحب کو مارنے گیا تھا لیکن جب میں وہاں گیا تو ان کے ایک محافظ ( یحییٰ خان مرحوم ) بندوقیں صاف کر رہے تھے ۔ میں نے خیال کیا کہ میرے پاس تو ایک بندوق ہے اور ان کے پاس کئی بندوقیں ہیں میں یہاں سے بچ کر نہیں جاؤں گا ۔ چنانچہ میں وہاں سے بھاگ آیا۔ گھر آیا تو مجھے پتا لگا کہ میری بیوی بدکار ہے۔ اس پر میں نے اسے مار دیا ورنہ مارنے میں مرزا صاحب کو گیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ جب حفاظت کرتا
ہے تو وہ آپ ہی آپ سامان پیدا کر دیتا ہے۔
میں دارالحمد میں رہتا تھا اور ایک دن میرا ایک لڑکا میرے پاس آیا اور کہنے لگا ایک آدمی باہر آیا ہوا ہے اور وہ کہتا ہے میں نے ضروری ملاقات کرنی ہے۔ میں جب باہر آیا تو دیکھا کہ ایک لڑکا کھڑا تھا۔ اُس نے کہا میں آپ سے ملنے آیا ہوں میرے پاس عبدالاحد پٹھان جو اب قادیان میں رہتے ہیں کھڑے تھے انہوں نے جھٹ اُس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا اس نے آپ کو مارنے کے لئے خنجر چھپایا ہوا ہے۔ میں نے کہا تمہیں کیسے پتا لگا؟ اس نے کہا میں پٹھان ہوں اور ہم میں دستور ہے کہ ہم خنجر اپنے نیفے میں چھپا کر رکھتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ یہ لڑکا ایک خاص طرز پر اپنی ٹانگ ہلاتا تھا۔ میں نے سمجھ لیا کہ اس کے نیفے میں ضرور کوئی چیز ہے۔ چنانچہ میں نے ہاتھ مارا تو مجھے اک سخت سی چیز محسوس ہوئی اور میں نے اسے پکڑ لیا۔ تو اللہ تعالیٰ بچانے پر آئے تو بڑے بڑے دشمنوں کو بھی ناکام کر دیتا ہے۔ یہ انسان کی غلطی ہوتی ہے کہ وہ سمجھتا ہے میری تدبیروں سے ہوگا حالانکہ انسان میں یہ طاقت نہیں کہ وہ کسی کا دل بدل سکے۔ ہاں اللہ تعالیٰ دوسروں کے دل بدل سکتا ہے۔ دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کیسے کیسے دشمن تھے مگر بعد میں وہ آپ کے بڑے جاں نثار ثابت ہوئے۔
مجھے یاد ہے کہ لکھنؤ میں ایک عرب آیا۔ لوگ اس کی بڑی خاطر تواضع کرتے تھے کہ یہ بغداد شریف سے آیا ہے۔ میاں چٹو اہل قرآن کے لیڈر ہوتے تھے۔ وہ اسے قادیان لے آئے۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بات کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن شریف میں یوں لکھا ہے اور آپ نے ق کو پنجابی لہجہ میں ادا کیا۔ اس پر عرب کہنے لگا آپ کو کس نے مسیح بنایا ہے آپ تو ق بھی نہیں بول سکتے۔ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہیدؓ اُس وقت مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے اسے مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فوراً اُن کا ہاتھ پکڑ لیا۔ پاس ہی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بیٹھے ہوئے تھے آپ نے انہیں فرمایا کہ ان کا دوسرا ہاتھ بھی پکڑ لیں اور جب تک مجلس برخاست نہ ہو جائے ان کا ہاتھ نہ چھوڑیں۔ چنانچہ انہوں نے آپ کا ہاتھ پکڑے رکھا۔ بعد میں اس نے میاں چٹو کے ساتھ دھوکا بازی کی اور انہوں نے اسے گھر سے نکال دیا۔ حکیم محمد حسین صاحب قریشی جو ہماری جماعت کے ایک بڑے مخلص دوست تھے میاں چٹو کے پوتے تھے۔ میاں چٹو مولوی عبد اللہ صاحب چکڑالوی کے معتقد تھے مگر بعد میں انہیں پتا لگا کہ اس میں کوئی اخلاقی نقص ہے۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ جس شخص کے اخلاق خراب ہیں اسے یہ حق کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرے چنانچہ وہ ان سے الگ ہو گئے۔
تو اللہ تعالیٰ دلوں کو پھیرتا رہتا ہے اور کچھ کا کچھ بنا دیتا ہے پس خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہنا چاہئے اور اُسی پر ساری امیدیں رکھنی چاہئیں کیونکہ اس سے زیادہ مہربان اور طاقت ور اور کوئی نہیں۔ اسی طرح جماعت کو تحریکِ جدید کی طرف بھی خاص توجہ کرنی چاہئے۔ اگر اس کا چندہ بڑھ جائے تو ہمیں دنیا کے ہر ملک میں مسجد بنانے کی توفیق مل جائے گی اور اس طرح ہم اسلام کا جھنڈا دُنیا کے ہر کونہ میں گاڑ سکیں گے۔ غیر ممالک میں اشاعتِ اسلام کا کام تحریکِ جدید کے سپرد ہے اور یہ کام اتنا وسیع ہے کہ جماعت کی خاص توجہ کے بغیر اسے کامیابی سے چلانا مشکل ہے۔ اسلام کو دنیا میں پھر سے غالب کرنے کا کام جماعت احمدیہ کے سپرد ہے اس لئے اسے اس سلسلہ میں ہمیشہ مالی اور جانی قربانیوں میں پورے جوش سے حصہ لینا چاہئے تا کہ ہم اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور سرخرو ہو سکیں۔ اب میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں۔ کل انشاء اللہ دوسری تقریر ہو گی۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو اور آپ کو زیادہ سے زیادہ جلسہ سے مستفیض ہونے کی توفیق بخشے۔‘‘ (الفضل 3؍اپریل 1959ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ نَحۡمَدُهٗ وَ نُصَلِّیۡ عَلٰی رَسُوۡلِهِ الۡكَرِيۡمِ
(فرمودہ 28؍دسمبر 1958ء بموقع جلسہ سالانہ بمقام ربوہ)
تشہد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد ”سیر روحانی“ کے اہم موضوع پر تقریر کرنے سے قبل حضور نے احباب جماعت کو بعض ضروری امور کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا۔
’’کل دعاؤں کا جو اعلان کیا گیا تھا اُس میں ایک اعلان خان بہادر دلاور خان صاحب کی صحت کے متعلق بھی کیا جانا تھا جو غلطی سے رہ گیا سو آج میں اُن کی صحت کے لئے بھی دوستوں سے دعا کی درخواست کرتا ہوں۔ خان بہادر دلاور خان صاحب فالج کے شدید حملہ سے بیمار ہیں اور انہوں نے اپنی بیٹی کو جلسہ سالانہ کے موقع پر یہاں اس لئے بھجوایا ہے کہ جاؤ اور میرے لئے دوستوں سے دعا کراؤ۔ گو انہیں فالج سے تو افاقہ ہے مگر ابھی اُن کی زبان کام نہیں کرتی۔ خان بہادر دلاور خان صاحب کی زندگی بھی عجیب ہے۔ آپ بچے ہی تھے جب احمدی ہوئے مگر بعد میں ان پر غیر مبائعین کا اثر ہو گیا اور وہ ان کے ساتھ ملنے جلنے لگے۔ چنانچہ آپ اور خان بہادر مولوی غلام حسن خان صاحب مرحوم پشاوری جو میاں بشیر احمد صاحب کے خسر تھے ایک دفعہ ڈلہوزی میں میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ جماعت احمدیہ کے دونوں فریقوں میں جو کش مکش جاری ہے یہ جس حد تک بھی بند ہو سکے بند ہونی چاہئے۔ اس سے قبل سید عبدالجبار شاہ صاحب سابق بادشاہ سوات بھی دو تین مرتبہ قادیان میں اس بارہ میں مجھ سے ملاقات کر چکے تھے۔ جب انہوں نے اس بات پر بار بار زور دیا کہ کیا کوئی ایسی صورت نہیں ہوسکتی کہ مبائعین اور غیر مبائعین میں اتفاق ہو جائے؟ تو میں نے انہیں کہا کہ صلح کے دو ہی طریق ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ
سارے معاملات میں متحد ہو جانا۔ یہ اتحاد عقائد کے کُلّی فیصلہ کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ جب دینی امور میں اختلاف ہو تو بغیر اس کے کہ عقائد میں اتحاد ہو جائے اتحاد کُلّی نہیں ہو سکتا۔ اس بات کو انہوں نے بھی تسلیم کیا۔ دوسری صورت میں نے یہ بتائی کہ ایک اتحاد جزوی ہوتا ہے اس میں ساری طاقت اور قوت کو کسی ایک جگہ صَرف نہیں کیا جاتا بلکہ فریقین الگ الگ بھی رہتے ہیں اور مشترک مقاصد میں متحد بھی ہو جاتے ہیں۔ مخصوص عقائد کے لئے علیحدہ انتظام ہوتا ہے لیکن جن امور میں اتحاد ہوتا ہے اُن میں مل جاتے ہیں۔ اس کے متعلق میں نے انہیں کہا کہ پہلا کام یہ ہونا چاہئے کہ سخت کلامی کو چھوڑ دیا جائے اور جواباً بھی کوئی ایسا کلمہ اپنی تحریرات میں استعمال نہ کیا جائے جس سے کسی پر ادنیٰ سے ادنیٰ حملہ بھی ہوتا ہو۔ جب یہ ہو جائے تو پھر متحدہ امور میں ملنے کے لئے طبائع راغب ہو سکتی ہیں۔ جب یہی امور میں نے مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری اور خان بہادر دلاور خان صاحب کے سامنے بھی بیان کئے تو انہوں نے بغیر کسی اختلاف کے ان امور سے اتفاق کیا اور مولوی غلام حسن خان صاحب نے کہا میں سمجھتا ہوں اب صلح ہو جائے گی۔ آپ مولوی محمد علی صاحب کی دعوت کریں اور مولوی صاحب آپ کی دعوت کریں۔ چنانچہ اس تحریک کے مطابق میں نے مولوی محمد علی صاحب کی دعوت کر دی اور وہ میرے ہاں آگئے اور پھر انہوں نے میری دعوت کی اور میں اُن کے ہاں چلا گیا۔ اس کے بعد میں نے ایک اعلان لکھا جس میں مَیں نے تمام ایڈیٹران و نامہ نگاران اور مصنّفینِ سلسلہ کو توجہ دلائی کہ خواہ ایسے حالات بھی پیش آجائیں جن میں فریقِ لاہور کے متعلق الزامی جواب نہ دینے سے نقصان پہنچنے کا امکان ہو تب بھی آئندہ تین ماہ تک انہیں کوئی الزامی جواب نہ دیا جائے۔ اور ان کے خلاف اخبار میں کسی قسم کا سخت لفظ استعمال نہ کیا جائے۔ اور نہ کوئی ایسا کلمہ استعمال کیا جائے جس سے کسی پر ادنیٰ سے ادنیٰ حملہ بھی ہوتا ہو۔ اور میں نے لکھا کہ اگر دوسرے فریق کا رویہ درست رہا تو بعد میں اس اعلان کی مدت کو بڑھا دیا جائے گا۔
مولوی غلام حسن خان صاحب یہ اعلان مولوی محمد علی صاحب کے پاس لے گئے اور انہوں نے اس اعلان کو پسند کیا۔ چنانچہ مولوی محمد علی صاحب نے بھی ایک اعلان لکھا اور
میں نے یہ دونوں اعلان الفضل میں شائع کرا دیئے۔ مگر اس کے بعد معاہدہ کی پہلی سہ ماہی کے آخری حصہ میں ہی پیغامِ صلح میں ہمارے خلاف نہایت سخت اور دل آزار مضامین شائع ہوئے۔ دوسری سہ ماہی میں اس سے زیادہ اور تیسری سہ ماہی میں اس سے بھی زیادہ دل آزار مضامین شائع ہونے شروع ہو گئے۔ میں نے سید عبدالجبار شاہ صاحب سابق والیٔ سوات کو لکھا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے پہلے ہی مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری کو لکھ دیا تھا کہ یہ غلطی ہوئی ہے۔ اور پھر انہوں نے مل کر مولوی محمد علی صاحب کو توجہ دلائی کہ آپ کا معاہدہ تو ٹوٹ گیا۔ مولوی محمد علی صاحب نے کہا یہ مضامین میرے تو نہیں دوسرے لوگوں کے ہیں اور اُن پر میرا زور نہیں چل سکتا۔ میں نے کہا اگر یہ بات ہے تو پھر میں بھی اس معاہدہ کی پابندی سے جماعت کو آزاد کرتا ہوں۔ لیکن ساتھ ہی میں نے کہا کہ باوجود اس کے کہ اب معاہدہ منسوخ ہو چکا ہے پھر بھی ہمارے اخبار نویسوں کو ان کی ذاتیات کے خلاف لکھنے کی اجازت نہیں ہوگی صرف اصولی باتوں کے متعلق وہ مضامین لکھ سکتے ہیں۔ اور اگر کسی نے ان کی ذاتیات کے خلاف کچھ لکھا تو میں اُسے اُسی طرح پکڑوں گا جس طرح معاہدہ کے وقت پکڑتا۔
غرض خان بہادر دلاور خان صاحب جیسا کہ میں نے بتایا ہے درمیان میں کچھ کمزور ہو گئے تھے لیکن بعد میں احمدیت پر پختہ ہو گئے۔ سر عبدالقیوم صاحب جو پیر صاحب کوٹھے والوں کی اولاد میں سے تھے ان کی بہن کی لڑکی سے خان بہادر خان صاحب بیاہے گئے تھے ان کے بھائی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب چونکہ مبالغ احمدی ہو گئے تھے اس لئے سر عبدالقیوم صاحب ان کو اچھا نہیں سمجھتے تھے لیکن اپنی بہن کی بڑی عزت کرتے تھے۔ میں ایک دفعہ شملہ گیا ہوا تھا اور ہم اسمبلی ہال کے برآمدہ میں کھڑے تھے کہ وہ آ کر میرے پاس کھڑے ہو گئے۔ چونکہ وہ ڈپلومیسی کے بڑے عادی تھے اور سیاست کے بہت سے عُہدوں پر کام کرتے رہے تھے اور حکومت کی طرف سے سیاسی کاموں کی سرانجام دہی کے لئے انگلستان بھی جاتے رہتے تھے اس لئے میرے پاس آ کر کہنے لگے میاں صاحب! میں آپ سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا فرمائیے۔ کہنے لگے آپ کو صاحبزادہ عبداللطیف صاحب پر بہت
اعتبار ہے لیکن میں آپ کو بتاتا ہوں کہ دلاور خان کی اور ان کی بحث ہوئی اور دلاور خان صاحب نے ان کو بالکل ساکت کر دیا۔ میں نے کہا جس شخص کے متعلق آپ کا یہ خیال ہے کہ اس نے صاحبزادہ عبداللطیف کو ساکت کر دیا تھا اس کی تو بیعت کا خط آگیا ہے۔ کہنے لگے ہیں! دلاور خان صاحب کی بیعت کا خط آیا ہے؟ میں نے کہا ہاں اُن کی بیعت کا خط آیا ہے۔ انہوں نے کہا بڑے تعجب کی بات ہے۔ انہوں نے تو صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کا منہ بند کر دیا تھا۔ میں نے کہا یہ تو دلاور خان صاحب کے خط سے ہی ظاہر ہو گیا ہے معلوم ہوتا ہے صاحبزادہ عبداللطیف صاحب نے شرافت کی اور وہ چپ ہو گئے لیکن دلاور خان صاحب دل میں ان کے دلائل کے قائل ہو گئے۔ بعد میں دلاور خان صاحب نے احمدیت میں بڑی ترقی کی اور تحریک جدید میں بھی بہت بڑی بڑی رقوم دیتے رہے۔ خان بہادر دلاور خان صاحب کی ایک لڑکی جو کیپٹن اسلم صاحب مرحوم سے بیاہی ہوئی تھیں ان کی بیٹیوں میں سے سب سے زیادہ احمدیت کی شیدائی ہیں۔ ان کا نام آفتاب بیگم ہے ان کی خواہش ہے کہ ان کے باپ خان بہادر دلاور خان صاحب کی صحت کے لئے دعا کا اعلان کر دیا جائے۔
سو احباب ان کی صحت کے لئے دعا کریں۔ ملتان کی جماعت کی بھی خواہش ہے کہ ان کے لئے دعا کی جائے۔ وہ مسجد تعمیر کر رہے ہیں۔ وہ درخواست کرتے ہیں کہ ان کی اس کام میں کامیابی کے لئے دعا کی جائے۔
فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے درخواست کی ہے کہ اس کی مصنوعات سلسلہ کی مصنوعات ہونے کے علاوہ بہت عمدہ بھی ہیں اس لئے احمدی دوست ان مصنوعات کے پھیلانے میں مدد کریں۔ میں نے پچھلے سال بھی اس طرف توجہ دلائی تھی ان کی بڑی مشہور چیز تو شائنر بوٹ پالش ہے پھر کف ایکس اور با میکس ہیں۔ اسی طرح سن شائن گرائپ واٹر ہے۔ اشتہار تو چھپتے رہتے ہیں دوستوں کو ان کے ذریعہ ان کے فوائد کا علم ہو سکتا ہے۔
ابھی ثاقب صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک نظم پڑھی ہے جس کا ایک مصرعہ یہ ہے
رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے1
مجھے اِس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی کا ایک واقعہ یاد آگیا۔ میں ابھی بچہ تھا کہ حضرت صاحب کسی گواہی کے لئے ملتان تشریف لے گئے۔ میں نے اصرار کیا اور مجھے بھی آپ اپنے ساتھ لے گئے۔ واپسی پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام چند دنوں کے لئے لاہور میں ٹھہر گئے۔ ایک دفعہ آپ بعض دوستوں کے ساتھ لاہور میں سے گزر رہے تھے کہ کسی نے آپ کو پیچھے سے زور سے دھکا دیا۔ اور آپ گر گئے۔ خدا تعالیٰ مغفرت فرمائے شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بڑی محبت تھی وہ اگرچہ غیر مبائع ہو گئے تھے مگر جب وہ مرض الموت سے بیمار ہوئے تو میں نے خاں صاحب مولوی ذوالفقار علی خاں صاحب گوہر رامپوری مرحوم کو ان کے پاس عیادت کے لئے بھیجا۔ انہوں نے کہا میری طرف سے میاں صاحب کو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہہ دیں اور کہہ دیں کہ میں دل سے آپ کو مانتا ہوں۔ میں نے ایک دفعہ رؤیا میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے کسی نے خواجہ کمال الدین صاحب کو بُرا بھلا کہا۔ مولوی محمد علی صاحب کو بُرا بھلا کہا۔ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو بُرا بھلا کہا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خاموش رہے۔ لیکن جب اس نے شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم کو بُرا بھلا کہا تو آپ نے فرمایا نہیں نہیں اس کو بُرا نہ کہو وہ تو بڑا مخلص انسان ہے۔ چنانچہ وفات کے وقت اللہ تعالیٰ نے انہیں توبہ کی توفیق دے دی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ان سے بہت محبت کرتے تھے اور وہ سیٹھ عبد الرحمٰن اللہ رکھا صاحب کے بعد جماعت میں سب سے زیادہ قربانی کرنے والے تھے۔ آگے اُن کی اولاد احمدیت میں کمزور ہو گئی ہے لیکن اب اِس جلسہ پر مہمانوں کے ٹھہرانے کے لئے جو خیمے وغیرہ لگے ہوئے ہیں یہ ان کے ایک پوتے نے کرایہ پر دیئے ہیں۔ پہلے تو ان کا انگلش وئیر ہاؤس تھا جو انگریزی فرنیچر اور لباس کی بڑی زبردست فرم تھی مگر اب ان کے ایک بیٹے نے خیموں اور قناتوں کی دکان نکالی ہے۔ ان کا بیٹا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ہم نے خیموں وغیرہ کے کرایہ پر دینے کا کام شروع کیا ہے۔ جلسہ سالانہ پر خیموں کا سامان آپ ہم سے کیوں نہیں لیتے؟ میں نے ناصر احمد جو افسر جلسہ سالانہ ہیں کو لکھا کہ یہ پرانا احمدی خاندان ہے خیمے وغیرہ انہی سے لیں ۔ بلکہ یہ اگر کچھ زیادہ پیسے مانگیں تب بھی زیادہ پیسے دے دیں ۔ چنانچہ انہیں ٹھیکہ دے دیا گیا اور یہ خیمے اور قناتیں سب انہی نے مہیا کی ہیں ۔
بہر حال میں بتا رہا تھا کہ لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک دن جا رہے تھے کہ ایک آدمی نے آپ کو پیچھے سے دھکا دے دیا اور آپ گر گئے ۔ شیخ رحمت اللہ صاحب ساتھ تھے ان کو غصہ آ گیا اور وہ پیچھے مڑ کر اُس شخص کو مارنے لگے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دیکھ لیا اور فرمایا اس کو مت مارو ۔ اس نے جو کچھ کیا ہے سچ سمجھ کر کیا ہے ۔ وہ دراصل مدعی نبوت تھا آپ نے فرمایا اس نے سمجھا ہے کہ ہم ظالم ہیں اور اس کا حق مار رہے ہیں اس لئے اس نے دھکا دے دیا ۔ اگر یہ ہمیں سچا سمجھتا تو ایسا کیوں کرتا ۔ بعد میں اس شخص کے بھائی نے بیعت کر لی ۔ پیغمبر سنگھ اس کا نام تھا اور بڑا اخلاص رکھتا تھا ۔ وہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں جب بھی قادیان آیا کرتا تھا ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ میرا بھائی بعد میں ساری عمر شرمندہ رہا اور کہتا تھا کہ مجھ سے بڑی سخت غلطی ہوئی کہ میں نے حضرت مرزا صاحب کو دھکا دے دیا ۔ آپ میرے بھائی کے لئے دعا کریں کہ خدا اسے معاف کرے ۔ اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی گستاخی کی تھی ۔
ایک دفعہ وہ دو آدمی میرے پاس لائے اور کہنے لگے میری جسمانی اولاد تو کوئی نہیں انہیں میری روحانی اولاد سمجھ لیں ۔ میں نے ان کو تبلیغ کی ہے اور اب یہ آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں ۔ غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا عمل بھی یہی تھا کہ
رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے ۔
ہماری جماعت میں ایک دوست عبداللہ پروفیسر تھے وہ تاش وغیرہ کے تماشے دکھایا کرتے تھے اور لوگ انہیں پروفیسر کہا کرتے تھے ، وہ بہت جوشیلے تھے ، گورداسپور میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر مقدمہ چلا اور مشہور ہوا کہ مجسٹریٹ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قید کی سزا دے گا تو انہیں غصہ آ گیا اور انہوں نے پتھر اٹھا لئے اور کہنے لگے ان پتھروں سے میں اس مجسٹریٹ کا سر پھوڑ دوں گا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس کا علم ہوا تو آپ نے ایک آدمی مقرر کیا اور اسے ہدایت کی کہ وہ پروفیسر صاحب کو پکڑے رکھے اور اُس وقت تک نہ چھوڑے جب تک کہ ہم عدالت کے احاطہ سے باہر نہ نکل جائیں۔ مجسٹریٹ نے آپ کو صرف جرمانہ کی سزا دی جو نواب محمد علی خاں صاحب نے مرزا خدا بخش صاحب مرحوم کے ذریعہ سے فوراً ادا کر دیا۔ پھر یہ پروفیسر صاحب لاہور چلے گئے۔ وہاں جا کر انہوں نے اپنی طبیعت کے مطابق لوگوں پر کچھ سختی کی تو خواجہ کمال الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس شکایت کی اور کہا کہ پروفیسر صاحب بڑی سختی کرتے ہیں اس سے تو لوگوں میں جوش پیدا ہو جائے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کو بلایا اور فرمایا دیکھئے! ہمارا یہ مقصد نہیں کہ ہم دوسروں پر سختی کریں بلکہ خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ دوسرے لوگ اگر سختی بھی کریں تو ہم اُن سے نرمی کریں۔ وہ چپ کر کے سنتے رہے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خاموش ہوئے تو وہ کہنے لگے بس بس رہنے دیجئے۔ میں یہ بات نہیں مان سکتا۔ آپ کے پیر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر کوئی گالی دے تو آپ فوراً اُس سے مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں لیکن اگر کوئی میرے پیر کو گالی دے تو آپ کہتے ہیں صبر کرو یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ تو حضرت مسیح موعودؓ ہمیشہ یہ نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ دوستوں کو نرمی کا طریق اختیار کرنا چاہئے اور کسی سے سختی نہیں کرنی چاہئے۔‘‘
(الفضل 3 جنوری 1959ء)
اِس کے بعد حضور نے ”سیرِ روحانی“ کے موضوع پر تقریر فرمائی جو اس موضوع کے آخری عنوان ”کُتب خانوں“ سے متعلق تھی فرمایا:۔
”1938ء میں نے سیرِ روحانی کے موضوع پر اپنی تقاریر کا سلسلہ شروع کیا ہُؤا ہے اور اِس کا آخری حصہ باقی ہے۔ اِس تقریر کے 16 اہم عنوانات تھے جن کے متعلق مَیں نے اپنے خیالات کے اظہار کا وعدہ کیا تھا۔ چنانچہ پندرہ عنوانات پر مَیں اپنے خیالات کا اظہار کر چکا ہوں اور آج اس کے آخری حصہ کے متعلق اپنے خیالات کو ظاہر کرنا چاہتا ہوں۔
اِس تقریر کی تحریک مجھے اِسی ملک سے شروع ہوئی ہے جس ملک کی وجہ سے ہندوستان میں اسلام کا وقار بڑھا تھا اور جس ملک کی وجہ سے ہندوستان میں اسلام کا وقار کم ہُؤا یعنی حیدر آباد دکن۔ جب تک اورنگ زیب نے حیدر آباد دکن فتح نہیں کیا تھا اُس وقت تک ہندوستان میں مغلوں کی حکومت صرف الہ آباد تک تھی اور باقی ہندوستان مغلیہ سلطنت سے باہر تھا مگر اورنگ زیب نے بڑی جانفشانی کے ساتھ اور لمبا عرصہ دارالخلافہ سے باہر رہ کر اس ملک کو اسلام کے لئے فتح کیا اور اس طرح اسلام کی بنیاد جنوبی ہندوستان میں رکھی اور سارا ہندوستان اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہو گیا۔ مگر افسوس ہے کہ پھر یہیں سے تباہی آئی کیونکہ مرہٹے بھی اِسی علاقہ کے قریب سے نکلے ہیں۔ پھر وہی حیدر آباد جس کے فتح کرنے کے بعد اسلام کو ایک بہت بڑی طاقت حاصل ہوئی تھی اِسی ملک نے انگریزوں سے مل کر میسور کے مسلم بادشاہ سلطان حیدر علی ٹیپو پر حملہ کیا اور ان کو شکست دلائی۔ اُن کی شہادت کے بعد اسلام کی طاقت بالکل کمزور ہو گئی ۔ وہ حقیقت میں اسلام کا آخری تاجدار تھا اور اپنے دل میں اسلام کی ایسی سچی محبت رکھتا تھا کہ جس کی نظیر نہیں پائی جاتی۔ اُس زمانہ میں جب دنیا کی خبریں پہنچنی مشکل تھیں اُس کو پتا لگا
کہ نپولین بہت طاقتور ہو گیا ہے۔ اس پر اُس نے نپولین کو لکھا کہ آپ ہندوستان آئیں تو میں اپنی فوجیں لے کر آپ کی مدد کیلئے نکلوں گا تا کہ ہم یہاں پھر اسلام کو قائم کریں۔ مگر نپولین ترکوں کے علاقہ سے گزر سکتا تھا اور تُرکوں نے اُسے راستہ دینے سے انکار کر دیا اس لئے وہ یہاں آنے سے رہ گیا اور انگریزوں نے اُس پر فتح حاصل کر لی۔ اس طرح فرانسیسی جو اُس کے ساتھ تھے ہار گئے۔ وہ شخص ایسا بہادر تھا کہ جب انگریز قلعہ کی دیواروں کے اندر داخل ہو گئے تو اُس کا ایک وزیر دوڑتا ہوا اُس کے پاس آیا اور اُس نے کہا فلاں دروازہ سے آپ باہر نکل جائیے ، دشمن قلعہ کے اندر داخل ہو گیا ہے۔ لیکن بجائے اس کے کہ وہ اپنی جگہ چھوڑتا اور اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا اُس نے کہا۔ میں اُن لوگوں میں سے نہیں جو بھاگ کر اپنی جان بچانا چاہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ گیدڑ کی ایک سو سال کی زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی زیادہ اچھی ہے۔ میں گیدڑ کی طرح بھاگنا نہیں چاہتا بلکہ میں شیر کی طرح مقابلہ کروں گا۔ چنانچہ وہ دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گیا۔ گویا مسلمانوں کو آخری شکست بھی وہیں ہوئی جس کی وجہ سے اسلام کا نام ہندوستان سے مٹ گیا۔ اُس کے مرنے کے بعد مرہٹے بہت طاقت پکڑ گئے اور انہوں نے سارے ملک کو تاخت و تاراج 2 کر دیا۔ بعد میں احمد شاہ ابدالی نے ایک دفعہ پھر انہیں شکست دی اور اِس طرح اسلام کا بجھتا ہوا چراغ ایک دفعہ پھر ٹمٹما اُٹھا۔
جیسا کہ میں کئی دفعہ بتا چکا ہوں میں نے اِس ملک کا سفر کیا تھا، میرے ساتھ میری ایک بیٹی امتہ القیوم تھیں، ایک میری بیوی مریم صدیقہ تھیں اور ایک میری بہن مبارکہ بیگم تھیں۔ ہم کراچی سے بمبئی اور بمبئی سے حیدر آباد گئے اور وہاں ہم نے بہت سے آثار قدیمہ دیکھے۔ قلعے بھی دیکھے، لائبریریاں بھی دیکھیں، مقابر بھی دیکھے، دیوانِ خاص اور دیوانِ عام بھی دیکھے، غرض بہت سے آثارِ قدیمہ ہمارے دیکھنے میں آئے ۔ جب ہم واپس آئے تو دہلی میں ہم نے باقی آثار دیکھے۔ وہاں لال قلعہ بھی دیکھا، قطب صاحب کا مینار بھی دیکھا ، شیر شاہ کی لاٹ بھی دیکھی، جنتر منتر بھی دیکھا۔ ان چیزوں کو دیکھ کر میری طبیعت پر بڑا اثر ہوا کہ مسلمان کسی وقت کتنے طاقتور تھے اور اِس وقت وہ کتنے کمزور اور ناتواں ہیں۔ یہ 1938ء کی بات ہے جبکہ ابھی انگریز حاکم تھے، بھارت کی حکومت ابھی قائم نہیں ہوئی تھی۔ مگر انگریزوں نے غدر کے واقعات سے دھوکا کھا کر مسلمانوں کو ذلیل کرنا شروع کر دیا تھا اور عملی طور پر ہندوستان کے بادشاہ ہندو تھے۔ میرے دل پر اس کا بڑا اثر تھا۔ میں ایک دن سیر کرنے کے لئے نکلا تو غیاث الدین تغلق کے مقبرہ کے سامنے ایک ٹیلہ تھا، میں اپنی بیوی، بہن اور لڑکی کو لے کر اُس ٹیلہ پر چڑھ گیا۔ وہاں سے لال قلعہ بھی نظر آتا تھا، فیروز شاہ کی لاٹ بھی نظر آتی تھی، قطب صاحب کا مینار بھی سامنے تھا اور پیچھے تغلق بادشاہوں کی قبریں تھیں جو کسی وقت ہندوستان پر حکمران رہ چکے تھے ان کو دیکھ کر میرے دل پر یہ اثر ہوا کہ کُجا وہ حالت تھی کہ مسلمانوں کی شان و شوکت حیدرآباد تک پھیلتی چلی گئی تھی اور میں سارے علاقہ میں اُن کی شوکت کے آثار دیکھتا چلا آرہا ہوں اور کُجا یہ حالت ہے کہ مسلمانوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔
بیشک اِس میں مسلمانوں کا اپنا بھی قصور تھا مگر پھر بھی یہ ایک نہایت دردناک حالت تھی۔ چنانچہ 1927ء میں لاہور کا ایک انگریز ڈپٹی کمشنر جو کسی زمانہ میں گورداسپور بھی رہ آیا تھا اور ہماری جماعت کی بہت تعریف کیا کرتا تھا اُس کے پاس ایک فساد کے موقع پر جبکہ سکھوں نے لاہور کے کچھ مسلمانوں کو جو مسجد سے نماز پڑھ کر نکل رہے تھے مار دیا تھا، میں نے خانصاحب ذوالفقار علی خانصاحب کو بھیجا اور کہا کہ آپ تو مسلمانوں کے بڑے خیر خواہ تھے لیکن اس فساد میں ہندوؤں نے مسلمانوں پر ظلم کیا ہے اور آپ نے اُلٹا مسلمانوں کو پکڑ لیا ہے۔ وہ کہنے لگا میں آپ کو کیا بتاؤں کہ مسلمان کتنے بیوقوف ہیں۔ میں واقع میں مسلمانوں کا خیر خواہ تھا مگر جو کچھ میرے ساتھ گزرا وہ آپ کو معلوم نہیں۔ میں گورداسپور سے ملتان جا کر لگا، وہاں میں نے مسلمان لیڈروں کو بلوایا اور کہا کہ میں نے جو پُرانے فائل دیکھے ہیں اُن سے پتا لگتا ہے کہ ہندوؤں نے مسلمانوں پر بڑے بڑے ظلم کئے ہیں مگر میں بحیثیت ڈپٹی کمشنر گورنمنٹ کا ملازم ہوں اور کسی کو یہ پتا نہیں لگنا چاہئے کہ میں نے یہ بات تمہیں بتائی ہے۔ اگر تم کسی کو نہ بتاؤ تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تم اِس اِس قسم کے میمورنڈم (MEMORANDUM) بھجواؤ۔ میں وہ میمورنڈم گورنمنٹ کے پاس بھجوا دوں گا اور اُنہیں لکھوں گا کہ مسلمانوں پر اِس اِس قسم کے ظلم ہو رہے ہیں ان کی مدد کرنی چاہئے۔ اُس ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ وہ لیڈر بڑا پختہ وعدہ کر کے گئے لیکن شام ہوئی تو انہوں نے ہندوؤں کو بتا دیا کہ ہمیں ڈپٹی کمشنر صاحب نے یہ یہ باتیں بتائی ہیں۔ چنانچہ دوسرے دن ہندوؤں کا ایک وفد میرے پاس آیا اور اُس نے شکایت کی کہ صاحب! ہم تو آپ کو اپنا مائی باپ کہتے ہیں آپ مائی باپ ہو کر مسلمانوں کو ہمارے خلاف کرنے لگے ہیں۔ اِس پر میں اتنا شرمندہ ہوا کہ اس کی حد نہیں۔ اِس کے بعد جب میں لاہور آیا تو یہاں یہ حالت تھی کہ اس فساد کی وجہ سے ایک بڑے لیڈر کو مسلمانوں نے میرے پاس بھجوایا کہ تم جا کر ڈپٹی کمشنر کو بتاؤ کہ مسلمانوں پر سختی ہو رہی ہے۔ مجھے پتا لگ گیا کہ مسلمان فلاں شخص کو میرے پاس بھیج رہے ہیں۔ لیکن جب وہ میرے پاس آیا تو کہنے لگا۔ میں نے فلاں رشتہ دار کی سفارش آپ کے پاس کی تھی وہ کام ابھی ہُوا ہے یا نہیں ہُوا؟ اور اِدھر میلا رام کے بیٹے رام سرن داس نے اپنی مل کے متعلق مجھ سے وقت لیا ہُوا تھا وہ ملنے آیا تو میں نے کہا۔ سنائیے رائے صاحب! آپ کی مل کا کیا حال ہے؟ تو اُس نے پگڑی اُتار کر میرے پاؤں پر رکھ دی اور رونے لگ گیا اور کہنے لگا۔ میری قوم تباہ ہو رہی ہے اور آپ میری مل کا حال پوچھ رہے ہیں۔ اب دیکھو! مسلمانوں نے اس فساد کے سلسلہ میں اپنے لیڈر کو میرے پاس بھیجا تو بجائے اپنا اصل مقصد بیان کرنے کے وہ مجھ سے کہنے لگا میں نے ایک شخص کی آپ کے پاس سفارش کی تھی اُس کا کیا بنا؟ اور اِدھر وہ ہندو جس نے فساد سے پہلے کا وقت مقرر کیا ہُوا تھا وہ آیا اور میں نے دریافت کیا کہ رائے صاحب! آپ کی مل کا کیا حال ہے؟ تو اُس نے پگڑی اُتار کر میرے پاؤں پر رکھ دی اور رو کر کہنے لگا کہ میری قوم تباہ ہو رہی ہے اور آپ میری مل کا حال پوچھ رہے ہیں۔ مل کیا چیز ہے اس پر قوم مقدم ہے۔ تو اُس ڈپٹی کمشنر نے خانصاحب ذوالفقار علی خان صاحب سے کہا کہ جب یہ حال ہے تو میں کیا کروں۔ میں نے مجبوراً ہندوؤں کی مدد کی ہے کیونکہ ہمیں یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ ہمارا بچاؤ ہو۔ وہ ڈپٹی کمشنر ہم سے بعد میں بھی تعلق رکھتا رہا۔ چنانچہ 1934ء میں احرار کے فتنہ کے وقت جب مجھے نوٹس دیا گیا کہ تم نے باہر سے احمدیوں کو نہیں بلوایا تو چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے مجھے سنایا کہ وہ اپنی کوٹھی سے آ رہا تھا کہ اُس نے مجھے دیکھ کر ٹھہرا لیا اور کہنے لگا سناؤ قادیان کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا۔ ہمیں سخت افسوس ہے ہم نے اگر کچھ کیا ہوتا اور پھر ہمارے امام کو گورنمنٹ نوٹس دیتی تو کوئی بات تھی لیکن ہم نے تو کچھ بھی نہیں کیا، ہمارے امام کو کیوں نوٹس دیا گیا ہے؟ اِس پر وہ غصہ میں آ گیا اور کہنے لگا میں نہیں جانتا جس جماعت نے چالیس سال گورنمنٹ کی خدمت کی ہے اُس نے اگر کچھ کیا بھی ہوتا تب بھی یہ نوٹس نہیں دینا چاہئے تھا، یہ گورنمنٹ کی غلطی ہے۔ بعد میں وہ وائسرائے کے ملٹری سیکرٹری ہو کر چلے گئے اور وہیں سے ریٹائر ہوئے۔
غرض اُس زمانہ میں عملی طور پر ہندوؤں کی ہی حکومت تھی۔ جب کشمیر میں فسادات ہوئے تو اُس وقت لارڈ ولنگڈن وائسرائے تھے۔ میں کشمیر کمیٹی بنانے کے بعد اُن سے ملا تو میں نے اُن سے کہا آپ کشمیر میں دخل کیوں نہیں دیتے؟ وہ کہنے لگے دخل کیوں دیں؟ آپ نہیں جانتے اگر ہم نے دخل دیا تو کشمیر کا راجہ کتنا ناراض ہو گا؟ اُس وقت حیدر آباد میں انگریز افسر مقرر تھے میں نے کہا اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہندوؤں کے خیر خواہ ہیں۔ حیدر آباد میں جہاں ایک مسلمان حکمران ہے آپ نے انگریز افسر بھجوائے ہوئے ہیں مگر کشمیر میں جہاں ایک ہندو راجہ ہے آپ نے کوئی انگریز افسر نہیں بھجوایا۔ اِس پر وہ اور باتیں کرنے لگ گئے۔ بہرحال گو بھارت کی حکومت حال ہی میں قائم ہوئی ہے لیکن انگریزوں کے زمانہ میں بھی اصل حاکم بھارت ہی تھا اور وہ ہر جگہ قابض تھا۔
غرض اس سفر میں ایک طرف تو مسلمانوں کی گذشتہ شان و شوکت کے تمام آثار میری آنکھوں کے سامنے تھے اور دوسری طرف مجھے مسلمانوں کی موجودہ بے کسی اور انتہائی بے بسی دکھائی دے رہی تھی۔ میں ان حالات پر خاموشی سے غور کرنے لگا اور سوچتا رہا اور کافی دیر خاموش کھڑا رہا۔ میری ہمشیرہ مبارکہ بیگم نے مجھے آواز بھی دی کہ اب دھوپ تیز ہوگئی ہے واپس آ جائیں مگر میں اپنے خیالات میں ہی محو رہا۔ آخر میں نے کہا۔
’’میں نے پالیا۔ میں نے پالیا۔‘‘
میری لڑکی امتۃ القیوم بیگم کہنے لگیں اباجان! آپ نے کیا پالیا؟ میں نے کہا میں نے جو پانا تھا وہ پالیا۔ اُس وقت خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ یہ تمام آثارِ قرآنِ کریم میں زیادہ شان کے ساتھ موجود ہیں۔ تمہیں ان آثارِ قدیمہ پر افسوس کرنے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم میں جو آثارِ قدیمہ پائے جاتے ہیں اُن کے سامنے ان آثارِ قدیمہ کی کچھ بھی وقعت نہیں۔ میری لڑکی نے کہا آپ مجھے بھی بتائیں کہ آپ نے کیا پالیا؟ مگر میں نے کہا میں اِس وقت تمہیں نہیں بتاؤں گا جلسہ سالانہ کے موقع پر میں ساری جماعت کو بتاؤں گا وہاں تم بھی سن لینا۔ چنانچہ 1938ء کے جلسہ پر میں نے ’’سیرِ روحانی‘‘ کے موضوع پر پہلا لیکچر دیا تھا اور اب یہ اِس سلسلہ کی آخری تقریر ہے۔ جب میں نے اِس سلسلۂ تقاریر کو شروع کیا تو اُس وقت میں جوان تھا اور میری صحت مضبوط تھی مگر اب میں کمزور ہوں اور زیادہ دیر تک بول نہیں سکتا۔ مگر بہرحال خدا تعالیٰ نے مجھے جس قدر توفیق دی میں اِس مضمون کو مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔
آج کی تقریر میں مَیں اُن کتب خانوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں کیونکہ اس سفر میں مَیں نے بادشاہوں کے کتب خانے بھی دیکھے تھے اور میں ان سے بہت متاثر ہُوا تھا۔
سب سے پہلے میں اس بات کو بیان کرتا ہوں کہ قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میرے اندر ہر قسم کے کتب خانے موجود ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم کی سورۃ البیّنہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَمۡ یَکُنِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَالۡمُشۡرِکِیۡنَ مُنۡفَکِّیۡنَ حَتّٰی تَاۡتِیَہُمُ الۡبَیِّنَۃُ رَسُوۡلٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً فِیۡہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ(98:2-4) یعنی اہلِ کتاب اور
مکہ کے مشرک کبھی بھی اپنی شرارتوں سے باز نہیں آسکتے تھے جب تک اِن کے پاس کوئی بڑی دلیل نہ آتی۔ لیکن دلیل کئی قسم کی ہوتی ہے۔ ایک دلیل وہ ہوتی ہے جو خارجی ہوتی ہے اور ایک دلیل اندرونی ہوتی ہے۔ یہ لوگ باہر کی دلیل کو کبھی قبول نہیں کر سکتے تھے اس لئے اُن کے اندر ایک رسول آنا چاہئے تھا اور رسول بھی ایسا آنا چاہئے تھا جو ریفارمر (REFORMER) ہی نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ شریعت بھی ہو۔ یَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً(98:3) اور اُن کو وہ تمام کتب پڑھ کر سنائے جو اُن کے باپ دادوں کے زمانہ میں نازل ہوئی تھیں مگر اُن میں جو حشو و زوائد پائے جاتے تھے وہ اُن میں سے نکال دے۔ فِیۡہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ(98:4)۔ اور ایسی کتاب پڑھ کر سنائے جس میں تمام سابقہ کتب کی قائم رہنے والی تعلیمیں موجود ہوں اور پہلی کتابوں میں سے جو باتیں منسوخ ہو گئی ہوں وہ اس میں موجود نہ ہوں تب جا کر اُن کی اصلاح ہو سکتی ہے۔
غرض قرآن کریم وہ کتاب ہے جس میں وہ تمام تعلیمیں موجود ہیں جو منسوخ نہیں ہوئیں۔ کوئی قائم رہنے والی چیز چاہے وہ وید میں ہو، ژند آوستا میں ہو، تورات میں ہو ایسی نہیں کہ وہ قرآن کریم میں موجود نہ ہو۔ اور کوئی سچی یا قائم رہنے والی تعلیم ایسی نہیں جو وید، ژند آوستا، تورات یا اناجیل میں موجود ہو اور اس میں حشو 4 مل گیا ہو اور اُس کا ازالہ قرآن کریم نے نہ کیا ہو۔
یہاں یہ امر بھی یا د رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم حجم کے لحاظ سے بہت چھوٹی سی کتاب ہے جو وید اور تورات سے ہی چھوٹی نہیں بلکہ اناجیل سے بھی چھوٹی ہے۔ ایسی کتاب کا دعویٰ کرنا کہ میرے اندر تمام سابقہ کتب موجود ہیں اور اُن کے حشو و زوائد کو میں نے دُور کر دیا ہے بتاتا ہے کہ اِس کے اندر تمام سابقہ کتب بالتفصیل موجود نہیں بلکہ اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ اس کے اندر تمام اصولوں کو بیان کر دیا گیا ہے۔ کیونکہ اگر ساری سابقہ کُتب سماوی اور تمام علوم اس کتاب میں بالتفصیل بیان ہوتے تو قرآن اتنی بڑی کتاب ہو جاتی کہ آسمان کی فضا کو بھی بھر دیتی مگر یہ تو جیب میں آجاتی ہے۔ بلکہ آج ایک دوست نے مجھے تحفہ بھیجا ہے وہ ایک ٹھپہ ہے جس پر کسی کاریگر نے ایک ہی طرف سارا قرآن کریم لکھ دیا ہے۔ لیکن اگر بڑے حجم والے قرآن کریم بھی دیکھے جائیں تو وہ چھ سات سو صفحات میں ختم ہو جاتے ہیں لیکن بائبل اور اناجیل اس سے بہت بڑی ہیں۔ بہرحال قرآن کریم نے جو کچھ کہا ہے کہ اس میں تمام سماوی اور الہامی کتب موجود ہیں دین کو قائم رکھنے والی تمام تعلیمیں موجود ہیں، اسی طرح تمام ضروری علوم موجود ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام کتب اور علوم اپنی پوری تفصیل کے ساتھ قرآن کریم میں موجود ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم میں اُن تمام سچائیوں کے اصول بیان کر دیئے گئے ہیں اور اُن میں جو غلطیاں اور زوائد تھے اُن کی اصلاح کر دی گئی ہے۔
مثال کے طور پر میں اس بات کو لیتا ہوں کہ بائبل میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دنوں میں پیدا کیا ہے اور ساتویں دن آرام کیا حالانکہ تمام سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ زمین و آسمان چھ دنوں میں پیدا نہیں ہوئے بلکہ وہ اس عرصہ کو چھ یوم سے بھی آگے لے جاتے ہیں۔ قرآن کریم میں اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے ”یَوْمَ“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور عربی زبان میں ”یَوْمَ“ کے معنے ”دن“ کے نہیں ہوتے بلکہ وقت کے ہوتے ہیں۔ پس قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ زمین و آسمان چھ وقتوں یا چھ درجوں میں پیدا کئے گئے ہیں۔ گویا قرآن کریم میں زمین و آسمان کی پیدائش کے دن بیان نہیں کئے گئے بلکہ چھ درجے بیان کئے گئے ہیں۔ دنوں کے لحاظ سے بعض لوگوں نے اُن کا شمار جمعہ سے کیا ہے اور بعض لوگوں نے ہفتہ سے اُن کا شمار کیا ہے اور بعض نے اس کے بعد اتوار سے شمار کیا ہے۔ یہودی لوگ ہفتہ کو ”سبت“ مانتے ہیں اور مسلمان جمعہ کو ”سبت“ شمار کرتے ہیں جو آرام کا دن ہے اور عیسائیوں اور ہندوؤں میں ”سبت“ اتوار کا دن ہے۔ ”سبت“ درحقیقت ہفتہ کا ہی دن تھا مگر جب رومی بادشاہ عیسائیت میں داخل ہوا تو اُس نے پادریوں کی ایک کونسل بٹھائی اور اُس کے سامنے یہ مسئلہ رکھا کہ رومی لوگ نہ تو ایک خدا کو مانیں گے کیونکہ وہ تثلیث کے قائل ہیں اور نہ وہ ”سبت“ ہفتہ کو مانیں گے اس لئے یہاں عیسائیت کا پھیلنا مشکل ہے۔
اس پر پادریوں نے کہا کہ ہمیں تو عیسائیت کی اشاعت سے غرض ہے ہم تین خدا مان لیتے ہیں۔ مسیح ، رُوح القدس اور خدا۔ اور آپ بے شک ہفتہ کی بجائے اتوار کی تعطیل کا اعلان کردیں۔ چنانچہ عیسائیوں میں اتوار کی تعطیل ہونے لگ گئی۔ مسلمانوں میں جمعہ کی تعطیل ہوتی رہی کیونکہ قرآن کریم میں جمعہ کے دن کو ترجیح دی گئی ہے۔ اور یہودیوں میں ہفتہ کے دن کو آرام کا دن قرار دیا گیا ہے اور تورات میں اس کا وضاحت سے ذکر ہے۔ چنانچہ اُس میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا اور ساتویں دن اُس نے آرام کیا۔۵ بعض اردو کے نسخوں میں مترجموں نے لوگوں کے اعتراض کے ڈر سے ’’آرام کیا‘‘ کی جگہ ’’فراغت پائی‘‘ یا ’’فارغ ہوا‘‘ کے الفاظ لکھ دیئے ہیں۔ لیکن دوسرے نسخوں میں ’’آرام کیا‘‘ کے الفاظ ہی موجود ہیں۔ اور اسی بناء پر ہفتہ کے دن کو یہود میں مقدس قرار دیا گیا ہے۔۶
لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ بات تو ٹھیک ہے کہ زمین و آسمان کو چھ وقتوں یا درجوں میں پیدا کیا گیا ہے مگر یہ بات غلط ہے کہ ساتویں دن خدا تعالیٰ کو آرام کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ خدا تعالیٰ سورۃ ق میں فرماتا ہے کہ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ٭ۖ وَّمَا مَسَّنَا مِنۡ لُّغُوۡبٍ(50:39)۷ یعنی ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے چھ وقتوں میں پیدا کیا ہے اور ہمیں کوئی تھکان محسوس نہیں ہوئی۔ یعنی بائبل کا یہ بیان تو درست ہے کہ زمین و آسمان کو چھ وقتوں میں پیدا کیا گیا لیکن یہ بات درست نہیں کہ اس کے بعد ہم تھک گئے۔ ہم نہ تھکے اور نہ ہمیں آرام کی ضرورت پیش آئی۔ کیونکہ ہمارا پیدائش کا طریق ایسا ہے کہ ہم تھک ہی نہیں سکتے۔
ایک دوسری جگہ اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ۬ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوۡمٌ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَمَا خَلۡفَہُمۡ ۚ وَلَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ(2:256) وَلَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا ۚ وَہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ(256)۸ فرماتا ہے اللہ وہ ذات ہے جس کے سوا پرستش کا اور کوئی مستحق نہیں۔ وہ اپنی ذات میں کامل حیات والا ہے اور دوسروں کو حیات عطا کرنے والا ہے اور اپنی ذات میں قائم اور ہر ایک چیز کو قائم رکھنے والا ہے۔ نہ اُسے اونگھ آتی ہے اور نہ وہ نیند کا محتاج ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اُسی کا ہے۔ کون ہے جو اُس کی اجازت کے بغیر اُس کے حضور سفارش کرے؟ جو کچھ اُن کے سامنے ہے یعنی اُن کا مستقبل اور جو کچھ اُن کے پیچھے ہے یعنی اُن کی نظروں سے غائب ہے وہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ اس کی مرضی کے سوا اس کے علم کے کسی حصہ کو بھی نہیں پاسکتے۔ اُس کا علم تمام زمین و آسمان پر حاوی ہے۔ اور زمین و آسمان کی حفاظت اُس پر کوئی بوجھ نہیں بلکہ وہ نہایت آسانی کے ساتھ ان دونوں کا انتظام چلا رہا ہے۔ اور وہ بڑی بلند شان رکھنے والا اور بڑی عظمت اور جبروت کا مالک ہے۔ اب جس ہستی نے ”کُنْ“ کہہ کر ساری دنیا کو پیدا کیا ہو اور اُس پر نہ اونگھ آئے نہ نیند، نہ زمین و آسمان کی حفاظت کا کام اُس کیلئے بوجھ ہو اُس کے لئے کسی تھکان کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے۔
ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ پیدائشِ عالَم کے متعلق فرماتا ہے اِنَّمَاۤ اَمۡرُہٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیۡئًا اَنۡ یَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ(83)۹ یعنی اللہ تعالیٰ کا پیدائشِ عالَم کے معاملہ میں یہ طریق ہے کہ جب وہ کسی چیز کے متعلق چاہتا ہے کہ ہو جائے تو وہ صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے اور ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہاں یَکُوْنُ کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جو اپنے اندر اِستمرار کے معنے رکھتا ہے۔ پس اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ ”کُنْ“ کہتا ہے اور چیز تیار ہو جاتی ہے بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ ہوتی چلی جاتی ہے۔ یعنی انسان کا طریق یہ ہے کہ جس چیز کو پیدا کرتا ہے محنت سے کرتا ہے اور اس میں یہ طاقت نہیں ہوتی کہ وہ جس چیز کو چاہے پیدا کر دے بلکہ یا تو وہ نمونہ دیکھ کر اُس جیسی چیز بناتا ہے اور یا بڑی محنت سے کوئی چیز ایجاد کرتا ہے۔ پھر وہ جس چیز کو بناتا ہے وہ صرف ایک ہی ہوتی ہے۔ اُس میں تناسل کا سلسلہ نہیں ہوتا۔ لیکن خدا تعالیٰ بغیر نمونہ کے پیدا کرتا ہے اور پھر پیدا کرتا
چلا جاتا ہے۔ مثلاً موٹر انسان کی پیدا کی ہوئی ہے مگر ابھی تک کسی نے نہیں سنا کہ موٹر نے کبھی بچہ دیا ہو۔ اسی طرح ریل ہے یہ انسان کی ایجاد ہے مگر کسی نے نہیں سنا ہو گا کہ ریل نے بچہ دیا ہے اور اب ایک کی بجائے دس ریلیں بن گئی ہیں۔ مگر خدا تعالیٰ کی پیدائش دیکھ لو وہ ہوتی چلی جاتی ہے۔ اُس نے صرف ایک آدم پیدا کیا تھا مگر اب اربوں آدمی موجود ہیں گویا اُس کی نسل پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔ اسی طرح ایک مسیح اُس نے پیدا کیا مگر اب اَور مسیح پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں اور قیامت تک ہوتے چلے جائیں گے۔ اسی طرح ایک ابراہیم اس نے پیدا کیا تھا مگر اس کے بعد ابراہیم پر ابراہیم پیدا ہوتے چلے گئے اسی لئے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ کا ایک نام ’’فاطر‘‘ بھی آتا ہے۔
فاطر کے معنے ہیں بغیر نمونہ کے پیدا کرنے والا۔ چنانچہ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ كُنْتُ لَا اَدْرِىْ مَا فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ حَتّٰى اَتَانِىْ اَعْرَابِیَّانِ یَخْتَصِمَانِ فِیْ بِئْرٍ ـ فَقَالَ اَحَدُهُمَا اَنَا فَطَرْتُهَا اَیْ اِبْتَدَأْتُهَا یعنی میں قرآن کریم میں فاطر کا لفظ پڑھا کرتا تھا لیکن مجھے پتا نہیں چلتا تھا کہ فاطر کیا ہوتا ہے یعنی جب خالق کہہ دیا تو پھر فاطر کیا ہوا۔ یہاں تک کہ ایک دن میرے پاس دو اعرابی آئے جو ایک کنویں کے بارے میں جھگڑ رہے تھے۔ ایک کہہ رہا تھا میرا کنواں ہے اور دوسرا کہہ رہا تھا یہ میرا کنواں ہے۔ اُن میں سے ایک نے کہا میں نے اسے فطر کیا تھا۔ اور اس سے مراد یہ تھی کہ میں نے اسے پہلے کھودا تھا۔ بعد میں اس نے قبضہ کر لیا۔ اُس دن مجھے فاطر کے حقیقی معنوں کا علم ہوا اور میں سمجھ گیا کہ فاطر اس کو کہتے ہیں جو نئے سرے سے ایجاد کرے اور بغیر نمونہ کے ایجاد کرے۔ اور اعرابی کا یہ کہنا کہ ’’اَنَا فَطَرْتُهَا‘‘ اس کے معنے یہ تھے کہ پہلے اس علاقہ میں کوئی کنواں نہیں تھا۔ پہلے پہل میں نے ہی کنواں کھودا تھا۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اس اعرابی کے استعمال کی وجہ سے مجھے ’’فاطر‘‘ کے معنے سمجھ آئے اور مجھے معلوم ہوا کہ اس کے معنے ابتدا کرنے کے ہیں پس کُنۡ فَیَکُوۡنُ(36:83) سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جن چیزوں کو پیدا کرتا ہے اُن میں تناسل کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور اس قسم کی اَور چیزیں پیدا ہوتی چلی جاتی ہیں اور وہ ختم نہیں ہو جاتیں۔ مثلاً اُس نے سورج اور چاند پیدا کئے ہیں اور اب نئے نئے سورج اور چاند پیدا ہو رہے ہیں جیسا کہ علمِ ہیئت سے ثابت ہے۔ اُس نے صرف ایک پہاڑ اور صرف ایک دریا ہی پیدا نہیں کیا بلکہ اُس کے بنائے ہوئے پہاڑوں اور دریاؤں سے نئے نئے پہاڑ اور دریا نکلتے جا رہے ہیں۔ اُس نے صرف ایک انسان پیدا نہیں کیا تھا بلکہ اُس کی نسل سے کروڑوں اور اربوں انسان پیدا ہو گئے ہیں۔ اُس نے ایک ابراہیمؑ ہی پیدا نہیں کیا بلکہ پہلے ابراہیم کی مثال میں ہزاروں ابراہیم پیدا ہو رہے ہیں۔ اُس نے ایک نوحؑ ہی پیدا نہیں کیا بلکہ حضرت نوح علیہ السلام کی مثال میں ہزاروں اور نوحؑ پیدا ہو رہے ہیں۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سارے انبیاء کا نمونہ تھے اور اُن کے وجود میں سارے انبیاء زندہ ہو گئے تھے۔ بلکہ آپؐ نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ آخری زمانہ میں مہدی آخرالزمان کے زمانہ میں سارے انبیاء زندہ ہو جائیں گے۔
چنانچہ شیعوں کے امام باقرؓ ”بحارالانوار“ میں فرماتے ہیں کہ امام مہدی کہے گا اے لوگو! اگر تم میں سے کوئی ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ کو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ سن لے کہ میں ہی ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ ہوں۱۱ آجکل تو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کہا ہے
میں کبھی آدمؑ کبھی موسیٰؑ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیمؑ ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
لیکن امام باقرؓ فرماتے ہیں کہ آخری زمانہ میں مہدی کہے گا کہ اے لوگو! تم میں سے جو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کو دیکھنا چاہتا ہو وہ سن لے کہ مَیں ہی ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ ہوں۔
اور اگر تم میں سے کوئی حضرت موسیٰؑ اور حضرت یوشعؑ کو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ سن لے کہ میں ہی موسیٰؑ اور یوشعؑ ہوں۔ اور اگر تم میں سے کوئی عیسیٰؑ اور شمعونؑ کو دیکھنا چاہتا ہے تو سن لے کہ میں ہی عیسیٰؑ اور شمعونؑ ہوں۔ اور اگر تم میں سے کوئی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علیؓ کو دیکھنا چاہتا ہے تو سن لے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علیؓ میں ہی ہوں ۔
قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق وضاحت سے فرماتا ہے کہ آپؐ حضرت موسیٰؑ کے مظہر ہیں چنانچہ فرمایا اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا(73:16) یعنی اے لوگو! ہم نے تمہاری طرف اسی طرح ایک رسول تمہارا نگران بنا کر بھیجا ہے جس طرح ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔ اسی طرح سورۃ یوسف کے آخر میں بھی یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت یوسفؑ کے مثیل ہیں 14۔ چنانچہ جب آپؐ نے مکہ فتح کیا اور آپ کے سامنے وہ تمام مجرم پیش ہوئے جنہوں نے آپؐ کو مکہ سے نکال دیا تھا اور وہ تیرہ سال تک آپؐ پر اور آپؐ کے صحابہؓ پر بے انتہاء ظلم کرتے رہے تھے تو آپؐ نے اُن سے پوچھا کہ بتاؤ اب تم سے کیا سلوک کیا جائے؟ تو وہ لوگ گو آپؐ کے منکر تھے لیکن قرآن کریم سُن سُن کر اُن کو اتنا پتا لگ گیا تھا کہ آپؐ مثیل یوسفؑ بھی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے کہا آپؐ ہم سے وہی سلوک کریں جو یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا اور چونکہ آپؐ مثیلِ یوسف تھے اس لئے جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے فرمایا تھا کہ جاؤ میں تم سب کو معاف کرتا ہوں، اسی طرح آپؐ نے بھی مشرکین مکہ سے فرمایا کہ لَا تَثۡرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ(12:93) 15 آج تم پر کسی قسم کی گرفت نہیں۔ گویا آپؐ نے عملاً وہی مثال پیش کی جو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے معاملہ میں پیش کی تھی۔ حالانکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی تو اُن کے باپ کی نسل میں سے تھے لیکن مکہ والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے باپ کی نسل میں سے نہیں تھے اور نہ ہی اُن سے آپؐ کا دودھ کا کوئی تعلق تھا۔ جس سے پتا چلتا ہے کہ آپ صرف حضرت یوسف علیہ السلام کے مثیل ہی نہیں تھے بلکہ اُن سے بھی بڑھ کر تھے۔ صرف مثال کے طور پر چند مثالیں پیش کی گئی ہیں ورنہ حقیقتاً آپؐ سب انبیاء کے مثیل تھے۔ آپؐ مثیلِ آدمؑ بھی تھے کیونکہ آپؐ کے ذریعہ ایک نئی نسل چلی۔ حضرت آدم علیہ السلام کو صرف اتنی فضیلت حاصل ہے کہ اُن کے ذریعہ سے اَور بشر پیدا ہوئے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے آدم ہوئے کہ آپؐ کے ذریعہ سے ایک ایسی نسل چلی جو تمام انسانوں سے ممتاز تھی جیسے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد تمام جانوروں سے ممتاز تھی۔ کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ دین تھا جو دینِ فطرت تھا اور آپؐ کو ایسی تعلیم ملی تھی جس میں ساری دنیا کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حکم تھا۔ اسی طرح آپؐ مثیلِ نوحؑ بھی تھے کیونکہ آپؐ کی قوم پر بھی ایسا ہی طوفان آیا جیسے نوح علیہ السلام کی قوم پر آیا تھا اور اس سے وہی بچے جو آپؐ کی کشتی میں بیٹھے تھے۔
اب میں کتب خانوں کی مناسبت سے سب سے پہلے تاریخ کو لیتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ دنیا میں بہت سی تاریخ کی کتابیں موجود ہیں پھر بھی قرآن کریم نے جو تاریخ پیش کی ہے اس کی مثال دنیا کی کوئی تاریخی کتاب پیش نہیں کر سکتی۔
اِس بارہ میں میں سب سے پہلے تاریخ وحی ورسالت کو لیتا ہوں۔ قرآن کریم نے اصولی طور پر یہ بات بیان کی ہے کہ مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ(35:25) 16 یعنی دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی ہدایت دینے والا نہ آیا ہو۔ اسی طرح فرماتا ہے وَّلِکُلِّ قَوۡمٍ ہَادٍ(13:8) 17 ہر ایک قوم میں کوئی نہ کوئی ہادی گزرا ہے۔ نذیر کے معنے نبی کے بھی ہوتے ہیں مگر نذیر کے لغوی معنے ڈرانے والے کے ہوتے ہیں۔ یعنی جب قوم سوئی ہوئی ہوتی ہے تو وہ انہیں آ کر ہوشیار کرتا ہے 18۔ اس کے معنے زیادہ تر ریفارمر (REFORMER) کے بھی سمجھے جا سکتے ہیں۔ مگر ہادی کے معنوں میں نبوت زیادہ واضح ہے اور یوں قرآنی محاورہ کے مطابق بھی اور لُغت کے لحاظ سے بھی نذیر کے معنے نبی کے بھی ہوتے ہیں۔ غرض قرآن کریم نے بتایا ہے کہ دنیا کی ہر قوم میں کوئی نہ کوئی نبی یا کم از کم کوئی ریفارمر ضرور آیا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان میں حضرت کرشنؑ اور رام چندر جی کو نبیوں کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے اور ان کا نام اوتار رکھا جاتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا کہ كَانَ فِی الْھِنْدِ نَبِیًّا اَسْوَدَ اللَّوْنِ اِسْمُهُ كَاھِناً یعنی ہندوستان میں ایک سیاہ فام نبی گزرے ہیں جن کا نام کنہیا یعنی کرشن تھا۔ اب دیکھو کہ ہندو کہتے ہیں کہ مسلمان ہمارے دشمن ہیں لیکن قرآن کہتا ہے وَّلِکُلِّ قَوۡمٍ ہَادٍ(13:8)۔ ہندوستان میں بھی ہمارے بعض بزرگ بندے گزرے ہیں۔ اور جب ہندوستان میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بھائی گزرا ہے تو اُس کی اولاد کے ہم دشمن کیسے ہو سکتے ہیں۔ مسلمان ہرگز ہندوؤں کے دشمن نہیں کیونکہ ہندو حضرت کرشنؑ اور رام چندر جیؑ کی اولاد ہیں۔ یا کم سے کم اُن کی اُمت ہیں اور اُن کے ماننے والے ہیں اور ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تمام انبیاء آپس میں بھائی بھائی ہوتے ہیں۔ ۱۹؎ پس کرشنؑ اور رام چندر جیؑ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھتیجوں کے ہم دشمن کیسے ہو سکتے ہیں۔ جو لوگ ہمارے آقا کے بھتیجے ہوں گے نہ ہمارا آقا اُن کا دشمن ہو گا اور نہ ہم اُن کے دشمن ہوں گے۔ یہ محض غلط فہمی اور ضدّ ہے ورنہ مسلمان جو قرآن کریم کو سمجھتا ہے وہ نہ کسی ہندو کا دشمن ہو سکتا ہے اور نہ اس کی عداوت اس کے اندر پیدا ہو سکتی ہے۔
پُرانے زمانہ میں دلّی کے ایک بزرگ گزرے ہیں اُن کے ایک مرید نے ایک دفعہ کہا کہ ہمارا یہ خیال غلط ہے کہ کرشن جی اور رام چندر جی ہندوستان کے نبی تھے اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک آگ جل رہی ہے اور کرشن جی تو اُس کے اندر جل رہے ہیں اور رام چندر جی اُس کے کنارے کھڑے ہیں۔ وہ بزرگ کہنے لگے تم نے اِس خواب کی تعبیر غلط سمجھی ہے۔ آگ کے معنے محبّتِ الٰہی کی آگ کے ہیں اور اِس خواب میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ بتایا ہے کہ حضرت کرشنؑ خدا تعالیٰ کی محبت میں بہت بڑھے ہوئے تھے اور رام چندر جیؑ اُن سے کم درجہ رکھتے تھے۔ اب دیکھو پُرانے زمانہ کے
اولیاء بھی یہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان میں حضرت کرشنؑ اور حضرت رام چندرؑ خدا تعالیٰ کے نبی گزرے ہیں اور محبتِ الٰہی کی آگ نے اُن کا احاطہ کیا ہوا تھا۔
اِسی طرح چین میں کنفیوشسؑ کو پیش کیا جاتا ہے گو چینی زبان میں آپ کا نام نبی کی بجائے کچھ اور رکھا گیا ہے اور آپ کو زیادہ تر اُستاد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے مگر اسی کو عربی زبان میں ”نذیر“ اور ”ہادی“ کہتے ہیں۔ اِسی طرح برما اور سیلون میں حضرت بدھ علیہ السلام کو پیش کیا جاتا ہے کہ وہ خدا رسیدہ انسان تھے اور خدا کا کلام اُن پر نازل ہوتا تھا۔ گو بدھ علیہ السلام بہار میں پیدا ہوئے ہیں مگر بہر حال جن قوموں نے انہیں مانا وہ اُن کے لئے ہادی ہی تھے۔ ہندوستان نے بھی ایک دفعہ اُن کو مان لیا تھا لیکن بعد میں آپ کے ماننے والوں کو اُس نے ملک سے نکال دیا۔ چنانچہ اُن میں سے بعض تبت چلے گئے، بعض برما چلے گئے، کچھ سیلون یا جاپان چلے گئے۔
غرض قرآن کریم نے اس ایک آیت میں ہی تمام مذہبی تاریخِ عالم بیان کر دی اور سب تاریخوں پر روشنی ڈال دی۔ اب اگر ایک عیسائی یا ہندو چین جاتا ہے اور وہاں کنفیوشس کا ذکر سنتا ہے تو وہ اپنی کتاب کے بچاؤ کی فکر میں پڑ جاتا ہے کیونکہ اس نے انجیل اور وید میں پڑھا ہوتا ہے کہ خدا صرف عیسائیوں اور ہندوؤں کا خدا ہے باقی قوموں کا خدا نہیں۔ لیکن اگر کوئی مسلمان غیر قوموں میں جاتا ہے اور وہاں اُن کے ہادیوں کا ذکر سنتا ہے تو بجائے کوئی فکر کرنے کے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میری کتاب کی سچائی ظاہر ہو گئی۔ مجھے تاریخِ عالم میں تلاش کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ خود اِن قوموں نے میرے سامنے اپنے ہادی پیش کر دیئے اور میری کتاب کی سچائی ظاہر کر دی۔ چین والے کنفیوشسؑ کو پیش کرتے ہیں، برما اور سیلون والے بدھ علیہ السلام کو پیش کرتے ہیں تو ہندو کو فکر پڑ جاتی ہے، عیسائی کو فکر پڑ جاتی ہے، یہودی کو فکر پڑ جاتی ہے کہ یہ کیا ہوا ہمیں تو بڑی مشکل پیش آ گئی۔ لیکن ایک مسلمان جہاں کہیں جاتا ہے اُسے کوئی فکر نہیں ہوتی۔ اُس کے سامنے کنفیوشسؑ کا نام پیش کیا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ۔ اُس کے سامنے زرتشت کا نام پیش کیا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ۔ کرشن کا نام آتا ہے تو کہتا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ۔ رام چندر جی کا نام آتا ہے تو کہتا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ۔ بدھ کا نام آتا ہے تو کہتا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ۔ کیونکہ وہ سمجھتا ہے میری کتاب میں یہی لکھا ہے کہ ہر قوم میں ہادی آئے ہیں مجھے کوئی تلاش نہیں کرنی پڑی۔ ہندوؤں نے آپ ہی پیش کر دیا ہے کہ ہمارے اندر کرشن اور رام چندر جی وغیرہ آئے ہیں، بُدھوں نے آپ ہی پیش کر دیا ہے کہ ہمارے اندر بدھ گزرے ہیں، عیسائیوں نے آپ ہی پیش کر دیا ہے کہ ہمارے اندر حضرت عیسیٰ علیہ السلام گزرے ہیں، یہودیوں نے آپ ہی پیش کر دیا ہے کہ ہمارے اندر موسیٰ علیہ السلام گزرے ہیں، یونانیوں نے آپ ہی پیش کر دیا ہے کہ ہمارے اندر سقراط گزرا ہے۔
عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یونان میں کوئی نبی نہیں گزرا اور گو یہ ہمارا کام نہیں کہ ہم وہاں کے کسی نبی کو تلاش کرتے پھریں مگر چونکہ قرآن کریم نے اصولی طور پر کہہ دیا ہے کہ ہر قوم میں کوئی نہ کوئی نبی گزرا ہے اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یونان میں بھی نبی آیا ہے اور سقراط کے متعلق تاریخ کہتی ہے کہ وہ کہا کرتا تھا مجھ پر فرشتے اُترتے ہیں اور مجھ سے باتیں کرتے ہیں۔ اُس وقت کی حکومت نے جو بت پرست تھی اُس کے قتل کی تاریخ مقرر کر دی۔ اُس کے ایک شاگرد نے یہ پیشکش کی کہ آپ یہاں سے بھاگ جائیں۔ تو سقراط نے جواب دیا کہ مجھے تو فرشتوں نے بتایا ہے کہ تیری موت اِس طرح واقع ہوگی۔ میں اِس موت سے کس طرح بھاگ سکتا ہوں۔20
پھر مذہبی تاریخ کے ضمن میں قرآن کریم نے یہ عظیم الشان انکشاف کیا کہ سمندر میں ڈوبتے وقت فرعون نے توبہ کر لی تھی اور وہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کے ربّ پر ایمان لے آیا تھا۔ اور یہ کہ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ کہا تھا کہ فَالۡیَوۡمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَکَ اٰیَۃً(10:93) 21 یعنی تُو بہت آخری وقت میں ایمان لایا ہے اگر تُو پہلے ایمان لاتا تو ہم تیرے جسم اور روح دونوں کو بچا لیتے مگر تُو چونکہ ڈوبتے وقت ایمان لایا ہے اس لئے ہم اِس وقت تجھ پر یہ احسان تو نہیں کر سکتے کہ ہم تیری روح کو بچائیں کیونکہ موت کے وقت تیرا ایمان لانا کافی نہیں ۔ اب ہم تجھ سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ تیرے جسم کو بچا لیا جائے گا تا تیرا نشان قائم رہے اور خدا تعالیٰ کی قدرت کو ظاہر کرتا رہے ۔ چنانچہ اب انیسویں صدی میں آثارِ قدیمہ کی تحقیق کرنے والوں کو فرعون کی لاش مل گئی ہے اور اُسے مصر کے عجائب گھر میں مَیں نے خود دیکھا ہے ۔ بعد میں اِس لاش کو لندن لے جایا گیا تھا لیکن اب سنا ہے کہ پھر مصر آگئی ہے ۔ پس یہ زبردست ثبوت اِس بات کا ہے کہ قرآن کریم میں جو تاریخِ عالَم پائی جاتی ہے دنیا کی کوئی تاریخ اِس کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ بائبل کا دعویٰ ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت کی تاریخ بیان کرتی ہے لیکن وہ فرعون کے جسم کے بچائے جانے کے متعلق بالکل خاموش ہے مگر قرآن کریم جو موسیٰ علیہ السلام کے دو ہزار سال بعد آیا اُن واقعات کو بیان کرتا ہے جو بائبل میں مذکور نہیں اور تاریخ اُن واقعات کی تصدیق کرتی ہے ۔ یہ ثبوت ہے اِس بات کا کہ قرآن کریم کو نازل کرنے والا وہ خدا ہے جس سے زمین و آسمان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں۔
پھر قرآن کریم میں انبیاء کی تاریخ کے علاوہ قوموں کی تاریخ بھی بیان ہوئی ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ عادِ قوم کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ اِرَمَ ذَاتِ الۡعِمَادِ الَّتِیۡ لَمۡ یُخۡلَقۡ مِثۡلُہَا فِی الۡبِلَادِ(الفجر: ۷ تا ۹) کیا تجھے معلوم ہے کہ تیرے ربّ نے عاد سے کیا معاملہ کیا تھا؟ یعنی عادِ ارم سے جو بڑی بڑی عمارتوں والے تھے اور جن کی مانند کوئی قوم ان ملکوں میں پیدا ہی نہیں کی گئی تھی ۔
اِس آیت میں قومِ عاد کی اس خصوصیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ بڑے بڑے محلات بناتی تھی جن کو ستونوں پر کھڑا کیا جاتا تھا ۔ چنانچہ ’’بعل‘‘ انہی لوگوں کا دیوتا تھا اور ’’بعلبک‘‘ انہی لوگوں کا بسایا ہوا شہر تھا جو لبنان کی سرحد پر واقع ہے ۔ مَیں 1955ء میں جب بیمار ہوا اور لندن گیا تو چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کے ساتھ بعلبک بھی گیا تھا ۔ جرجی زیدان جو بڑا سخت عیسائی مؤرخ ہے وہ بھی اپنی کتاب ’’اَلْعَرَبُ قَبْلَ الْاِسْلَام‘‘ میں یہ لکھنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ عادِ قوم کے متعلق تاریخ کی سینکڑوں صفحات کی کتابیں اِس سے زیادہ معلومات بیان نہیں کر سکیں جتنی معلومات قرآن کریم نے چند مختصر الفاظ میں بیان کر دی ہیں۔ میں نے خود عادِ قوم کا بعلبک میں محل دیکھا ہے جو ایک سَو پچاس ستونوں پر بنا ہُوا ہے اور اُن ستونوں پر کئی بڑے بڑے کمرے اور برآمدے بنے ہوئے ہیں۔ اور قرآن کریم نے بھی یہی بتایا تھا کہ وہ ستونوں پر اپنی عمارتیں کھڑی کیا کرتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے اُن دنوں فنِ تعمیر اپنے عروج پر تھا۔ گویا قرآن کریم میں علمِ تاریخ کے علاوہ علمِ تعمیر بھی آ گیا۔
اِسی طرح قومِ ثمود کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَاَنَّہٗۤ اَہۡلَکَ عَادَا ۣالۡاُوۡلٰی وَثَمُوۡدَا۠ فَمَاۤ اَبۡقٰی(53:51-52) 23 یعنی اُس خدا نے پہلی عادِ قوم کو ہلاک کیا تھا اور پھر ان کے بعد ثمود کو بھی اُس نے ہلاک کیا اور عذاب نے ان کا کچھ بھی نہ چھوڑا۔ اِس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ثمود، عادِ قوم میں سے نکلے تھے۔ چنانچہ نئے آثار جو اب اُردن میں پائے گئے ہیں وہ ثمود کے ہی معلوم ہوتے ہیں کیونکہ وہ آثار کسی متمدن قوم کے ہی ہیں۔ پس تاریخِ عالم کو بھی قرآن کریم نے اپنے اندر خلاصۃً بیان کر دیا ہے۔
اِسی طرح دنیا میں ایک علم نیچرل ہسٹری (Natural History) کا پایا جاتا ہے۔ جس کے ماتحت شہد کی مکھیوں اور چیونٹیوں وغیرہ کے متعلق بڑی وسیع تحقیق کی گئی ہے۔ اس علم پر قرآن کریم نے بھی روشنی ڈالی ہے اور شہد کی مکھی کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے۔ اور بتایا ہے کہ ہم نے خود اس کے ظرف کے مطابق اس کی طرف وحی کی کہ پہاڑوں یا درختوں یا عرشوں پر اپنا گھر بنا اور پھر ہر قسم کے پھلوں میں سے تھوڑا تھوڑا لے کر کھا اور لوگوں کے لئے شہد تیار کر 24۔ اِسی طرح اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ شہد کی مکھیاں بھی مختلف قسم کی ہیں۔ اُن میں سے بعض پہاڑوں میں چھتے بناتی ہیں، بعض درختوں پر چھتے بناتی ہیں اور بعض عرشوں پر جو انگوروں وغیرہ کے لئے تیار کئے جاتے ہیں چھتے بناتی ہیں۔ اور پھر مکھی اُس استعدادِ باطنی سے کام لے کر جو خدا تعالیٰ نے اس کے اندر پیدا کی ہے مختلف پھلوں اور پھولوں وغیرہ سے غذا حاصل کرتی اور شہد تیار کرتی ہے جو مختلف رنگوں اور مختلف اقسام کا ہوتا ہے مگر با وجود مختلف اقسام ہونے کے ان سب میں یہ بات مشترک طور پائی جاتی ہے کہ شہد لوگوں کے لئے شفاء کا موجب ہوتا ہے اور مختلف قسم کے امراض کو دُور کرنے کے کام آتا ہے۔۲۵
اِسی طرح علم نباتات بھی ایک علم ہے جس پر ہزاروں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ قرآن کریم نے اس علم کے متعلق سب سے پہلے یہ انکشاف فرمایا کہ تمام نباتات میں نرومادہ کا وجود پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاَنۡۢبَتۡنَا فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍۭ بَہِیۡجٍ(50:8)۲۶ہم نے زمین میں ہر قسم کے خوبصورت جوڑے اُگائے ہیں۔
جب یہ آیت نازل ہوئی ہے تو عربوں میں صرف اتنا علم پایا جاتا تھا کہ کھجور میں نر و مادہ ہوتا ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن پر قرآن نازل ہوا انہیں اتنا علم بھی نہیں تھا۔ چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں سے گزرے تو آپؐ نے دیکھا کہ کچھ لوگ کھیتوں میں کام کر رہے ہیں اور وہ ایک جگہ سے کوئی چیز لاتے ہیں اور دوسری پر لگا دیتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا یَارَسُوْلَ اللّٰہ! ہم نر کھجور کا مادہ کھجور سے پیوند کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اِس کا کیا فائدہ جو پھل لگنا ہے وہ تو آپ ہی لگ جائے گا۔ انہوں نے یہ بات سن کر نر اور مادہ درختوں کو آپس میں ملانا ترک کر دیا۔ دوسرے سال وہ لوگ آپؐ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہ! ہماری فصل تو بہت کم ہوئی ہے کیونکہ ہم آپؐ کے کہنے پر پیوند لگانے سے رُک گئے تھے۔ آپؐ نے فرمایا تم کیوں رُک گئے تھے؟ میں تو ایک انسان ہوں اور مجھے علمِ غیب حاصل نہیں۔ اگر تمہارے تجربہ سے یہ بات ثابت تھی تو تم نے میری بات نہیں ماننی تھی۔۲۷
پھر قرآن کریم نے صرف نباتات کے نرومادہ ہونے کا ہی ذکر نہیں کیا بلکہ فرمایا۔ وَمِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَیۡنِ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ(51:50)۲۸ہم نے ہر چیز کے نر و مادہ بنائے ہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ اب انسان کے نرومادہ کا تو سب کو علم ہے،
جانوروں کے نر و مادہ کا بھی علم ہے، زراعت کے متعلق بھی اب بہت حد تک پتا لگ گیا ہے کہ درختوں اور نباتات میں نر و مادہ کا وجود پایا جاتا ہے۔ چنانچہ عام طور پر یہ قانون بتایا جاتا ہے کہ باغوں میں شہد کی مکھیاں پالنی چاہئیں اور اُس کی وجہ یہ ہے کہ شہد کی مکھی نر کا پھول لے کر مادہ کے پھول سے ملا دیتی ہے اور اس کے نتیجہ میں پھل زیادہ ہوتا ہے۔ ہمارے علاقہ میں تو اس کا رواج کم ہے لیکن پشاور کی طرف چلے جاؤ تو بڑے بڑے خاندانوں نے اپنے باغات میں شہد کی مکھیاں پالی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں باغ زیادہ لگائے جاتے ہیں اور اُن میں پھل زیادہ آتا ہے۔ بلکہ تازہ سائنٹیفک تحقیقات سے تو یہاں تک ثابت ہے کہ جمادات میں بھی بعض قسمیں ایسی ہیں جن میں نر و مادہ کا وجود پایا جاتا ہے۔ چنانچہ بعض سائنسدانوں نے ثابت کیا ہے کہ ٹین ۲۹ میں بھی نر و مادہ پایا جاتا ہے۔
پھر نیچرل ہسٹری والے بیان کرتے ہیں کہ انسان بندر سے بنا ہے۔ چنانچہ ڈارون نے اِس تھیوری کو پیش کیا کہ پہلے دنیا میں چھوٹے جانور بنے۔ پھر اُس سے بڑے جانور بنے اور پھر اُن جانوروں میں سے کسی جانور سے ترقی کر کے انسان بنا مگر وہ جانور جس سے انسان بنا اب ملتا نہیں۔ ہاں اتنا پتا چلتا ہے کہ اس جانور کی اعلیٰ قسم بندر ہے۔ گویا اس کے نزدیک انسانی ارتقاء بندروں کی قسم کے ایک جانور سے ہوا ہے۔ مگر بعض دوسرے محققین کہتے ہیں کہ گو انسان نے ارتقائی قانون کے ماتحت ہی ترقی کی ہے مگر وہ حیوانات کی نسل سے بہت پہلے سے جُدا ہو چکا تھا اور اُسی وقت سے آزادانہ ترقی کر رہا ہے۔ چونکہ دنیا اس بارہ میں صحیح علم کی سخت محتاج تھی اس لئے قرآنی کتب خانہ نے اس اہم موضوع کے متعلق بھی روشنی ڈالی اور فرمایا کہ مَا لَکُمۡ لَا تَرۡجُوۡنَ لِلّٰہِ وَقَارًا وَقَدۡ خَلَقَکُمۡ اَطۡوَارًا(71:14-15)۳۰ یعنی اے لوگو! تمہیں کیا ہو گیا کہ تم خدا تعالیٰ کے متعلق وقار کا خیال نہیں رکھتے۔ وقار کے معنے عام طور پر سنجیدگی کے سمجھے جاتے ہیں حالانکہ وقار کے معنے ہوتے ہیں حکمت کے ساتھ کام کرنا۔ پس مَالَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلّٰهِ وَقَارًا کے یہ معنے ہیں کہ تمہیں کیا ہو گیا کہ تم خدا تعالیٰ کے متعلق یہ خیال کرتے ہو کہ وہ یونہی بغیر حکمت کے کام کرتا ہے حالانکہ وہ ہر کام حکمت کے ساتھ کرتا ہے۔ وَقَدۡ خَلَقَکُمۡ اَطۡوَارًا(71:15) اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اُس نے تم کو درجہ بدرجہ مختلف تبدیلیوں میں سے گزارتے ہوئے پیدا کیا ہے تاکہ تمہاری پیدائش میں کوئی نقص نہ رہے۔ اگر وہ بغیر کسی حکمت کے کام کرتا تو مختلف دَوروں میں سے وہ انسان کو کیوں گزارتا۔ وہ اُسے یکدم پیدا کر دیتا۔ مگر اُس نے انسان کو یکدم پیدا نہیں کیا بلکہ قدم بقدم کئی دَوروں میں سے گزارتے ہوئے پیدا کیا ہے۔ کبھی اُس پر عدم کا دَور تھا، کبھی وہ ایک وجود تو تھا مگر بغیر دماغ کے، کبھی نُطفہ سے اُس کی پیدائش ہونے لگی اور پھر آخر میں اُس پر وہ دَور آیا جبکہ اُس کا دماغ کامل ہو گیا اور وہ صحیح معنوں میں انسان کہلانے لگ گیا۔
پھر قرآنِ کریم زمین و آسمان کی پیدائش کے متعلق فرماتا ہے اَوَلَمۡ یَرَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ کَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰہُمَا ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ(21:31)۔31 یعنی کیا کفار نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے پھر ہم نے اُن کو کھول دیا اور ہم نے پانی سے ہر چیز کو زندہ کیا۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ اب جو سورج، چاند اور زمین الگ الگ ہے پہلے ایک وجود کی شکل میں الگ الگ جُڑے ہوئے تھے، پھر علیحدہ علیحدہ کر دیئے گئے اور سورج، چاند اور زمین بن گئے اور یہی حقیقت آجکل کے سائنسدان پیش کرتے ہیں۔
اسی طرح پہلے عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ صرف ایک نظامِ شمسی کام کر رہا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں بتایا کہ اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَہُنَّ(65:13)۔32 یعنی اللہ تعالیٰ وہی ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے ہیں اور زمینیں بھی آسمانوں کے عدد کے مطابق پیدا کی ہیں۔ عربی میں سَبْعَ کا لفظ مبالغہ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ پس اِس لفظ کے ذریعہ سے یہ بتایا گیا ہے کہ بہت سے آسمان اور زمینیں پیدا کی گئیں ضروری نہیں کہ وہ سات ہی ہوں ۔
اب میں یہ بتاتا ہوں کہ قرآن کریم میں تاریخِ انبیاء بھی بیان کی گئی ہے اور تمام انبیاء کو ان الزامات سے پاک قرار دیا گیا ہے جو مختلف قوموں نے اُن پر عائد کئے۔
مثلاً بائبل میں حضرت لوط علیہ السلام کے متعلق آتا ہے:۔ ’’اور لوطؔ صُغر سے اپنی دونوں بیٹیوں سمیت نکل کر پہاڑ پر جا رہا کیونکہ صُغر میں رہنے سے اُسے دہشت ہوئی۔ اور وہ اور اُس کی دونوں بیٹیاں ایک غار میں رہنے لگیں ۔ تب پلوٹھی نے چھوٹی سے کہا کہ ہمارا باپ بوڑھا ہے اور زمین پر کوئی مرد نہیں جو تمام جہان کے دستور کے موافق ہمارے پاس اندر آئے۔ آؤ ہم اپنے باپ کو مئے پلائیں اور اُس سے ہم بستر ہوں تاکہ اپنے باپ سے نسل باقی رکھیں۔ سو انہوں نے اُسی رات اپنے باپ کو مئے پلائی اور پلوٹھی اندر گئی اور اپنے باپ سے ہم بستر ہوئی۔ پر اُس نے اُس کے لیٹنے اور اُٹھتے وقت اُسے نہ پہچانا۔ اور دوسرے روز ایسا ہوا کہ پلوٹھی نے چھوٹی سے کہا کہ دیکھو کل رات کو میں اپنے باپ سے ہم بستر ہوئی آؤ آج رات بھی اُس کو مئے پلائیں اور تُو بھی جا کے اُس سے ہم بستر ہو تاکہ اپنے باپ سے نسل باقی رکھیں۔ سو اُس رات بھی انہوں نے اپنے باپ کو مئے پلائی اور چھوٹی اُٹھ کے اُس سے ہم بستر ہوئی اور اُس نے اُس کے لیٹنے اور اُٹھتے وقت اُسے نہ پہچانا۔ سولوؔط کی دونوں بیٹیاں اپنے باپ سے حاملہ ہوئیں اور بڑی ایک بیٹا جنی اور اُس کا نام موآب رکھا اور چھوٹی بھی ایک بیٹا جنی اور اس کا نام بنی عمی رکھا۔‘‘۳۳
یہ وہ گندی تاریخ ہے جو دنیا کے کُتب خانوں نے پیش کی اور جسے پڑھ کر شریف انسان کا دل لرزنے لگ جاتا ہے مگر جب قرآنی کتب خانہ کو دیکھا جائے تو ہمیں اس میں یہ لکھا ہوا نظر
آتا ہے وَلُوۡطًا اٰتَیۡنٰہُ حُکۡمًا وَّعِلۡمًا وَّنَجَّیۡنٰہُ مِنَ الۡقَرۡیَۃِ الَّتِیۡ کَانَتۡ تَّعۡمَلُ الۡخَبٰٓئِثَ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمَ سَوۡءٍ فٰسِقِیۡنَ وَاَدۡخَلۡنٰہُ فِیۡ رَحۡمَتِنَا ؕ اِنَّہٗ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ(21:75-76)۳۴یعنی ہم نے لوطؑ کو حکم بھی دیا اور علم بھی۔ اور ہم نے اُس کو ایسی بستی سے نجات دی جو نہایت ہی گندے کام کرتی تھی۔ گویا بائبل تو کہتی ہے کہ اپنی بستی سے نکل کر خود لوطؑ علیہ السلام نے ہی گندے کام کرنے شروع کر دیئے تھے اور قرآن کریم کہتا ہے کہ لوطؑ کی قوم فسق و فجور میں مبتلا تھی۔ لوطؑ کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا تھا اور وہ ہمارے نیک بندوں میں سے تھا۔ اِس طرح قرآن کریم نے تاریخِ انبیاء بھی بیان کر دی اور بائبل میں جو جھوٹی باتیں داخل ہوگئی تھیں اُن کا بھی رَدّ کر دیا۔
ہاں قرآن کریم نے حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کے متعلق یہ بیان فرمایا ہے کہ وہ عذاب کا شکار ہوگئی تھی۔ چنانچہ فرماتا ہے فَنَجَّیۡنٰہُ وَاَہۡلَہٗۤ اَجۡمَعِیۡنَ اِلَّا عَجُوۡزًا فِی الۡغٰبِرِیۡنَ(26:171-172)۳۵ یعنی ہم نے لوطؑ کو اور اُس کے تمام اہلِ کو بچا لیا تھا سوائے ایک بوڑھی عورت کے جو غابرین سے تھی۔ غَبَرَ کے معنی عربی زبان میں حِقْد یعنی کینہ کے ہوتے ہیں۔۳۶ پس یہ لفظ استعمال کر کے قرآن کریم نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی میں بڑھیا ہونے کے باوجود ناجائز شر باقی تھا اور وہ آپ کے متعلق کینہ اور بُغض رکھتی تھی۔ اس کا تعلق اُن لوگوں کے ساتھ تھا جو حضرت لوط علیہ السلام کے مخالف تھے اِس لئے وہ عذاب سے نہ بچائی گئی۔ اب دیکھو! حضرت لوط علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی ہیں لیکن قرآن کریم اُن کی براءت کرتا ہے۔ گویا دادا تو وہ کسی اور قوم کا ہے لیکن اُس کی طرف سے لڑائی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کر رہے ہیں۔ حضرت لوطؑ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے اور عرب اپنے آپ کو حضرت اسماعیلؑ کی نسل قرار دیتے تھے۔ حضرت لوطؑ سے اُن کا کوئی تعلق نہیں تھا لیکن یہودی قوم کا حضرت لوط علیہ السلام سے قریبی رشتہ ہے مگر انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام پر الزام لگا دیا اور کہا وہ بدکار تھا۔ لیکن قرآن کریم نے کہا کہ حضرت لوط علیہ السلام ایک بزرگ اور خدا رسیدہ انسان تھے اور اُن پر یہ محض جھوٹا الزام لگایا گیا ہے۔
پھر قرآن کریم نے حضرت داؤد علیہ السلام کی عزت کی بھی حفاظت کی۔ آپ پر بھی بائبل یہ نہایت گندہ الزام لگاتی ہے کہ آپ نے (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ) اوریاہ کی بیوی کے ساتھ زنا کیا اور اوریاہ کو جنگ میں بھجوا کر مروا دیا اور پھر اس سے شادی کرلی چنانچہ اس میں لکھا ہے :۔
’’ایک دن شام کو ایسا ہوا کہ داؤد اپنے بچھونے پر سے اُٹھا اور بادشاہی محل کی چھت پر ٹہلنے لگا اور وہاں سے اُس نے ایک عورت کو دیکھا جو نہا رہی تھی اور وہ عورت نہایت خوبصورت تھی۔ تب داؤد نے اس عورت کا حال دریافت کرنے کو آدمی بھیجے۔ انہوں نے کہا کیا وہ اوریاہ کی جورو نہیں؟ اور داؤد نے لوگ بھیج کے اس عورت کو بُلا لیا۔ چنانچہ وہ اس کے پاس آئی اور وہ اُس سے ہم بستر ہوا۔‘‘۳۷
لیکن قرآن کریم نے بائبل کے اِس الزام کی تردید کی ہے اور حضرت داؤد علیہ السلام کو نیک اور خدا تعالیٰ کا پاک بندہ قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے وَاذۡکُرۡ عَبۡدَنَا دَاوٗدَ ذَا الۡاَیۡدِ ۚ اِنَّہٗۤ اَوَّابٌ(38:18)۳۸وَاِنَّ لَہٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰی وَحُسۡنَ مَاٰبٍ(38:41)۳۹یعنی ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو بڑی طاقت کا مالک تھا اور خدا تعالیٰ کی طرف بار بار جھکتا تھا۔ وہ ہمارا مقرب تھا اور اُسے ہمارے پاس بڑا اچھا ٹھکانہ ملے گا۔
ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا پیارا بندہ ایسے ظالمانہ افعال کا مرتکب نہیں ہوسکتا جو بائبل بیان کرتی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ بائبل جس طرح یہودیوں کے ہاتھ میں ہے اسی طرح عیسائیوں کے ہاتھ میں بھی ہے۔ اور انجیل میں لکھا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام حضرت عیسیٰؑ کے دادا تھے۔ گویا جس کو وہ خدا مانتے ہیں اُس کے دادا کو وہ زانی کہتے ہیں۔ لیکن قرآن کریم جو حضرت مسیح علیہ السلام کی خدائی کا منکر ہے اور جس کے متعلق عیسائی کہتے ہیں کہ یہ ہمارا دشمن ہے وہ کہتا ہے کہ داؤد کے متعلق ایسے الزامات مت لگاؤ وہ تو خدا تعالیٰ کا ایک نیک اور مقرب بندہ تھا۔
اِسی طرح بائبل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق لکھا ہے کہ :۔ ’’جب سلیمان بوڑھا ہُؤا تو اُس کی جورؤں نے اُس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کیا اور اُس کا دل خداوند اپنے خدا کی طرف مائل نہ تھا جیسا اس کے باپ داؤد کا دل تھا۔‘‘
پھر لکھا ہے کہ :۔ ’’اُس کا دل خداوند اسرائیل کے خدا سے جو اُسے دو بار دکھائی دیا برگشتہ ہُؤا ۔ اس لیے خداوند سلیمان پر غضبناک ہُؤا کہ اُس نے اُسے حکم دیا تھا کہ وہ اجنبی معبودوں کی پیروی نہ کرے پر اُس نے خداوند کے حکم کو یاد نہ رکھا۔‘‘ گویا بائبل حضرت سلیمان علیہ السلام پر یہ الزام لگاتی ہے کہ وہ اپنے خدا سے برگشتہ ہو گئے تھے اور اس طرح انہوں نے کفر کیا تھا۔
لیکن قرآن کریم فرماتا ہے کہ جب ملکہ سبا حضرت سلیمان علیہ السلام کے بُلانے پر اُن کے پاس آئی تو حضرت سلیمانؑ نے اُسے غیر معبودوں کی عبادت کرنے سے روکا گویا قرآن تو یہ کہتا ہے کہ ملکہ سبا جو اُن کی آخری بیوی تھی اُسے بھی انہوں نے غیر معبودوں کی عبادت کرنے سے روکا لیکن بائبل کہتی ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے کہنے پر خداوند تعالیٰ سے برگشتہ ہو گئے تھے۔ یہ کتنا بڑا فرق ہے جو بائبل اور قرآن میں پایا جاتا ہے۔
اِسی طرح قرآن کریم حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے وَمَا کَفَرَ سُلَیۡمٰنُ وَلٰکِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ کَفَرُوۡا یُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحۡرَ(2:103) یعنی جو لوگ کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے بُت پرستی کی تھی اور وہ کافر ہو گئے تھے وہ غلط کہتے ہیں بلکہ درحقیقت ایسا الزام لگانے والے خود کافر ہیں کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے نبی پر اتنا بڑا اتہام لگاتے ہیں۔ پس قرآن کریم نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی صحیح تاریخ بیان کر دی ہے حالانکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا نہیں تھے بلکہ حضرت داؤد کے بیٹے ہونے کی وجہ سے حضرت مسیح علیہ السلام کے دادا تھے۔ یا بائبل میں اُن کا صحیفہ شامل ہونے کی وجہ سے وہ بنی اسرائیل کے بزرگ تھے اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد آئے تھے لیکن قرآن کریم اُن کی عزت کی حفاظت کرتا ہے اور خود اُن کے اپنے پوتے پڑپوتے انہیں خدا تعالیٰ سے برگشتہ اور بُت پرست قرار دیتے ہیں۔
پھر قرآن کریم نے حضرت ہارون علیہ السلام کی عزت کی بھی حفاظت کی۔ بائبل میں لکھا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام طُور پہاڑ پر تشریف لے گئے اور اُن کے بعد اُن کی قوم نے بچھڑا بنا لیا تو حضرت ہارون علیہ السلام بھی اُن کے اِس فعل میں اُن کے ساتھ شریک ہو گئے تھے۔ چنانچہ لکھا ہے :۔
’’اور جب لوگوں نے دیکھا کہ موسیٰ نے پہاڑ سے اُترنے میں دیر لگائی تو وہ ہارون کے پاس جمع ہو کر اُس سے کہنے لگے کہ اُٹھ ہمارے لئے دیوتا بنا جو ہمارے آگے آگے چلے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ اس مردِ موسیٰ کو جو ہم کو ملکِ مصر سے نکال کر لایا ، کیا ہو گیا۔ ہارون نے اُن سے کہا۔ تمہاری بیویوں اور لڑکوں اور لڑکیوں کے کانوں میں جو سونے کی بالیاں ہیں اُن کو اُتار کر میرے پاس لے آؤ۔ چنانچہ سب لوگ اُن کے کانوں سے سونے کی بالیاں اُتار اُتار کر اُن کو ہارون کے پاس لے آئے اور اُس نے اُن کو ان کے ہاتھوں سے لے کر ایک ڈھالا ہوا بچھڑا بنایا جس کی صورت چھینی سے ٹھیک کی۔ تب وہ کہنے لگے۔ اے اسرائیل ! یہی تیرا وہ دیوتا ہے جو تجھ کو مُلک مصر سے نکال کر لے آیا۔‘‘۴۴
غرض بائبل کہتی ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پہاڑ سے آنے میں دیر ہو گئی تو اُن کی قوم حضرت ہارونؑ کے پاس گئی اور کہا کہ موسیٰؑ ہمیں خدا کی باتیں سنایا کرتا تھا لیکن پتا نہیں وہ کہاں چلا گیا ہے اب ہم خدا کے بغیر رہ گئے ہیں۔ تُو اُٹھ اور ہمارے لئے خدا بنا جو ہمارے آگے آگے چلے۔
ہندوؤں کی طرح اُن میں بھی ایک رواج تھا کہ جب وہ کہیں جاتے تو بُت سامنے رکھ لیتے ۔ میں نے خود دیکھا ہے میرے ماموں میر محمد اسمعیل صاحب مرحوم کی شادی تھی اُن کے خسر سکندر راؤ میں رہتے تھے ، میں بھی شادی میں اُن کے ساتھ گیا تھا ۔ وہاں ہندوؤں کا کوئی جلوس نکل رہا تھا ۔ میں نے دیکھا کہ ہندوؤں نے ایک رتھ میں بُت رکھا ہوا ہے اور سب لوگ اُس کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں ۔ یہودی بھی چونکہ بُت پرست قوم سے نکل کر آئے تھے اس لئے اُن میں بھی غالباً یہی دستور تھا کہ وہ بُت کو چلتے وقت آگے آگے رکھتے تھے اور اس طرح خیال کرتے تھے کہ اُن پر عذاب نازل نہیں ہوگا ۔ چنانچہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیر ہوئی تو بائبل کے بیان کے مطابق بنی اسرائیل حضرت ہارون علیہ السلام کے پاس گئے اور انہوں نے سونے کا ایک بچھڑا ڈھال کر بنایا اور کہا اے بنی اسرائیل! یہی تمہارا خدا ہے جو تمہیں مصر سے نکال کر لایا تھا ۔ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذَالِكَ ۔ حالانکہ حضرت ہارون علیہ السلام خدا تعالیٰ کے نبی تھے اور وہ اتنا بڑا شرک کر ہی نہیں سکتے تھے ۔ پھر وہ اِس بات کو بھی جانتے تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر لائے تھے تو آپ نے فرعون سے بحث کی تھی کہ میں اپنی قوم کو بتوں کی پرستش سے ہٹا کر خدائے واحد کی عبادت کی طرف لانا چاہتا ہوں ۔ اتنے بڑے واقعہ کی موجودگی میں وہ یہ کہہ بھی کس طرح سکتے تھے کہ یہی وہ تمہارا خدا ہے جو تمہیں ملک مصر سے نکال کر لایا تھا ۔
پھر لکھا ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے بچھڑے کے لئے ایک قربان گاہ بنائی اور انہیں کہا کہ یہ بچھڑا ہی تمہارا خدا ہے۔ بائبل کے الفاظ اِس بارہ میں یہ ہیں :۔
’’یہ دیکھ کر ہارون نے اُس کے آگے ایک قربان گاہ بنائی اور اُس نے اعلان کر دیا کہ کل خداوند کے لئے عید ہوگی ۔ اور دوسرے دن صبح سویرے اُٹھ کر انہوں نے قربانیاں چڑھائیں اور سلامتی کی قربانیاں گزرانیں ۔ پھر اُن لوگوں نے بیٹھ کر کھایا پیا اور اُٹھ کر کھیل کود میں لگ گئے ۔‘‘45
گویا انہوں نے خداتعالیٰ کے دوبارہ مل جانے پر بڑی خوشی منائی لیکن قرآن کریم کہتا ہے یہ بات بالکل غلط ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے بچھڑا بنایا تھا۔ وہ ہارونؑ نے نہیں بلکہ سامری نے بنایا تھا ورنہ ہارون علیہ السلام نے تو بڑے زور سے اپنی قوم کو شرک سے روکا تھا اور توحید پر قائم رہنے کی تلقین کی تھی۔ چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔ وَلَقَدۡ قَالَ لَہُمۡ ہٰرُوۡنُ مِنۡ قَبۡلُ یٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِہٖ ۚ وَاِنَّ رَبَّکُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ وَاَطِیۡعُوۡۤا اَمۡرِیۡ(20:91) ۧ یعنی حضرت ہارونؑ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی واپسی سے قبل اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم! بچھڑے کے ذریعہ تمہیں آزمائش میں ڈالا گیا ہے۔ اگر حضرت ہارون علیہ السلام نے خود بچھڑا بنایا ہوتا تو ایسا کیوں کہتے؟ انہوں نے کہا رَبَّکُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ وَاَطِیۡعُوۡۤا اَمۡرِیۡ(20:91) تمہارا ربّ رَحْمٰن ہے۔ اِس بچھڑے نے تمہاری کیا مدد کرنی ہے وہ تو پیدائش سے پہلے بھی تمہاری مدد کرتا رہا ہے۔ چنانچہ دیکھ لو انسان بعد میں پیدا ہوا ہے اور پانی پہلے پیدا ہو چکا تھا۔ اسی طرح اور ہزاروں اشیاء ہیں جو پیدائش سے پہلے صفتِ رحمانیت کے ماتحت پیدا ہو چکی تھیں۔ پس تم میری اتباع کرو اور میرے حکم کے پیچھے چلو، شرک مت کرو۔
قرآن کریم میں یہ بیان کردہ حقیقت اتنی واضح ہے کہ انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا جس کو انگلستان کے بڑے بڑے عالموں نے مل کر لکھا ہے اُس میں بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ ہارون علیہ السلام کے شرک کرنے کا واقعہ غلط ہے اور اِس سے مضمون نگار استدلال کرتا ہے کہ بائبل میں دوسرے لوگوں نے اور بھی کئی باتیں ملا دی ہیں اور کئی واقعات اُن کی طرف سے بڑھا دیئے گئے ہیں۔ ؎
اب دیکھو یہ کتنی عجیب بات ہے کہ قرآن کریم ایک تاریخ بیان کرتا ہے اور یہودیوں اور عیسائیوں کے باپ کو بَری قرار دیتا ہے حالانکہ وہ عیسائی اور یہودی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (نَعُوْذُ بِاللہ) کذّاب کہتے ہیں۔ غرض قرآن کریم ایک گالی دینے والے کے باپ کی براءت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ مشرک نہیں تھا مشرک ایک اور شخص تھا جس کا نام سامری تھا۔
پھر حضرت مسیح علیہ السلام کی تاریخ بھی قرآن کریم نے بیان کی ہے۔ انجیل میں تو صرف اتنا آتا ہے کہ:۔ ’’مسیح اُن کے دیکھتے ہوئے اوپر اُٹھایا گیا اور بدلی نے اُسے اُن کی نظروں سے چُھپا لیا۔‘‘48 مگر کیا بدلی کے پیچھے چلے جانے سے مراد آسمان پر چلے جانا ہوتا ہے؟ ہزاروں آدمی روزانہ پہاڑوں پر بدلی کے پیچھے جاتے اور پھر واپس آجاتے ہیں اور کوئی شخص اُن کے متعلق نہیں کہتا کہ وہ آسمان پر چلے گئے ہیں۔ غرض یہ ایک نہایت ہی غیر معقول بات ہے جو انجیل نے بیان کی ہے۔ مگر قرآن کریم اِس سارے واقعہ کو ایک علمی اور تاریخی رنگ دیتا ہے اور اُن کے بدلی میں نظروں سے غائب ہونے کے بعد کی تاریخ بھی بیان کرتا ہے چنانچہ فرماتا ہے وَّاٰوَیۡنٰہُمَاۤ اِلٰی رَبۡوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیۡنٍ(المؤمنون: 51) 49 یعنی واقعہ صلیب کے بعد ہم نے حضرت مسیحؑ اور اُس کی ماں کو ایک اونچی جگہ یعنی پلیٹیو (PLATEAU) پر پناہ دی۔ ربوہ سے مراد پہاڑی نہیں بلکہ اونچی جگہ ہے۔ ہم نے ربوہ کا نام بھی جو احمدیت کا موجودہ مرکز اور ضلع جھنگ میں واقع ہے اِسی لئے ربوہ رکھا ہے کہ یہ اونچی جگہ ہے۔ غرض قرآن کریم بتاتا ہے کہ ہم نے مسیحؑ اور اُس کی ماں کو ایک ایسی جگہ پناہ دی جو اونچی تھی اور بہتے ہوئے پانیوں والی تھی اور ٹھہرنے کے قابل تھی یعنی وہ جگہ سطح زمین سے بلند تھی اور وہاں چشمے بھی بہتے تھے۔ چنانچہ قدیم ہندوؤں اور بدھوں کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ شہزادہ یوز آسف جو خدا تعالیٰ کا نبی تھا مغرب سے آیا اور کشمیر کی پہاڑیوں میں رہا اور اُس کے ہاتھوں اور پیروں پر زخم تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لٹکایا گیا تو آپ کے ہاتھوں اور پاؤں پر میخیں لگانے کی وجہ سے زخم ہو گئے تھے جن کو مُندمل کرنے کے لئے ایک مرہم ایجاد کی گئی جس کا نام طب کی مختلف کتابوں میں مرہمِ رُسُل یا مرہمِ حوارِیّین بیان کیا گیا ہے۔ پھر کہیں جا کر وہ زخم درست ہوئے۔ اِس کے بعد آپ کشمیر کی طرف آگئے۔ چنانچہ افغانستان کے بارڈر پر جو قبائل بستے ہیں وہ اب تک یہی کہتے ہیں کہ ہم بنی اسرائیل ہیں گویا مسیح کے حواری۔ متی نے انجیل میں ایک نامکمل بات بیان کر دی لیکن قرآن کریم نے اُن حالات کو مکمل کر دیا اور بتا دیا کہ صرف اتنی بات نہیں کہ وہ واقعہ صلیب کے بعد بدلیوں میں چُھپ کر غائب ہوگئے تھے بلکہ صلیب سے بچنے کے بعد وہ کشمیر میں آگئے تھے اور اسرائیلی قبائل کو ایک لمبے عرصہ تک تبلیغ کرتے رہے۔
پھر دنیا میں تاریخِ مِللِ قدیمہ پر بھی بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں بہت کچھ رطب و یابس بھرا پڑا ہے مگر قرآن کریم اِس تاریخ کو بھی صحیح رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ چنانچہ اِس کی مثال کے طور پر وہ یہ بیان کرتا ہے کہ فرعون نے ایک دفعہ ہامان سے کہا کہ فَاَوۡقِدۡ لِیۡ یٰہَامٰنُ عَلَی الطِّیۡنِ فَاجۡعَلۡ لِّیۡ صَرۡحًا لَّعَلِّیۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤی اِلٰہِ مُوۡسٰی ۙ وَاِنِّیۡ لَاَظُنُّہٗ مِنَ الۡکٰذِبِیۡنَ(القصص: ۳۹) یعنی اے ہامان! تُو اپنے پتھیروں کو لگا دے تاکہ وہ اینٹیں تیار کریں، پھر اُن اینٹوں کو پکوا کر اونچا محل تیار کر وشاید میں اُس محل پر کھڑے ہو کر موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں اور مَیں تو اُسے جھوٹا ہی سمجھتا ہوں۔
اِس آیت میں مصریوں کے ایک قومی عقیدہ کو بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ مرنے کے بعد رُوحیں آسمان پر چلی جاتی ہیں اور پھر اونچی جگہ پر اُترتی ہیں۔ اِس اثر کے ماتحت فرعون نے خیال کیا کہ خدا تو ہے ہی نہیں۔ موسیٰ جو کہتا ہے کہ خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ روحوں سے باتیں کرتا ہے۔ میں بھی ایک اونچا محل تیار کر کے اُن رُوحوں تک جاؤں تا حقیقت کا پتا لگ سکے۔ چنانچہ اُس نے ہامان کو حکم دیا کہ وہ ایک اونچا محل تیار کرائے تا کہ وہ اُس کی چوٹی پر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کی حقیقت معلوم کر سکے۔
غرض اِس آیت میں مصریوں کے ایک قدیم عقیدہ کا ذکر کیا گیا ہے جس کو بڑی مشکل سے اب کہیں آثارِ قدیمہ والوں نے معلوم کیا ہے۔ مصری اپنی اِن روایات کی وجہ سے
اونچی اونچی عمارتیں بناتے تھے جیسے اہرامِ مصر ہیں اور جن میں سے ایک ابوالہول شیر کی شکل کا ہے۔ آخر ان بلند عمارتوں کے بنانے کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔ وہ وجہ یہی تھی کہ وہ عقیدہ رکھتے تھے کہ مُردوں کی رُوحیں آسمان پر چلی جاتی ہیں اور بعد میں اونچی جگہوں پر اُترتی ہیں۔ اور چونکہ نیچی جگہوں میں اُترنے میں دیر لگتی ہے اس لئے وہ لوگ اپنی عمارتوں کو اونچا رکھتے تھے اور اس طرح چاہتے تھے کہ اُن کے اَسلاف کی رُوحیں دنیا میں اُن کے پاس آتی رہیں۔
پھر وہ یہ عقیدہ بھی رکھتے تھے کہ رُوحیں کھاتی پیتی ہیں۔ چنانچہ جب وہ مُردوں کو دفن کرتے تھے تو اُن کی قبروں کے پاس کھانے پینے کا سامان بھی رکھتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ جب روحیں زمین پر آتی ہیں تو انہیں یہاں آرام بھی کرنا چاہئے اور سونا بھی چاہئے اور یہ روایت اب تک اُن میں چلی آتی ہے۔ چنانچہ پاکستان کا ایک ایمبیسیڈر (AMBASSADOR) وہاں گیا تھا۔ اُس نے ہمارے ایک دوست سے بیان کیا کہ مصر میں ہماری ایمبیسی (EMBASSY) کا ایک آدمی مر گیا۔ ہم نے مصری حکومت کو لکھا کہ ہمیں ایک قبر کی جگہ دے دیں تو مصری حکومت نے کہا ہم ذرا انتظام کر لیں۔ چنانچہ انہوں نے ایک بڑا کمرہ بنایا اُس میں کھانے پینے کا سامان رکھا اور ایک ریڈیو رکھا اور پھر کہا اب آپ اپنے آدمی کی نعش کو دفن کرنے کے لئے لے آئیں۔ وہ ایمبیسیڈر ہنس کر کہنے لگا کہ معلوم ہوتا ہے ابھی تک مصریوں پر رُوحوں کا قبضہ ہے۔
پھر تربیت کا مضمون ایسا ہے جس پر بڑے بڑے علماء اور فلاسفروں نے بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں کیونکہ تربیت کے بغیر دنیا میں نہ اولاد ترقی کر سکتی ہے اور نہ قوم ترقی کر سکتی ہے۔ قرآن کریم نے بھی تربیت کے اصول نہایت عمدگی سے بیان کئے ہیں۔ چنانچہ سب سے پہلے اولاد کی تربیت کا سوال آتا ہے۔ اولاد کی تربیت کے متعلق قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے کا واقعہ آتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دکھایا گیا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ اس پر انہوں نے اپنے بیٹے کو حکم نہیں دیا کہ میں نے خواب میں یوں دیکھا ہے اِس لئے تم ذبح ہونے کے لئے تیار ہو جاؤ بلکہ آپ نے اپنے بیٹے کو بُلایا اور کہا اے میرے بیٹے! میں نے رات کو خواب میں دیکھا ہے کہ میں تم کو ذبح کر رہا ہوں۔ فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰی(37:103) اب تُو سوچ کر مجھے اپنی رائے دے۔ یہ نہیں کہا کہ مجھے خواب آئی ہے تُو لیٹ جا تا کہ میں تجھے ذبح کروں بلکہ فرمایا کہ تُو مجھے اپنی رائے دے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کے اندر خودداری کی رُوح پیدا کرنا قرآنی اصول ہے۔ جو لوگ اپنی اولاد کے اندر خودداری کی رُوح پیدا نہیں کرتے وہ اپنی اولاد کو ہی نہیں بلکہ قوم کو بھی ترقی سے روک دیتے ہیں۔ کیونکہ قوم کی آئندہ ترقی اولاد کے اندر خودداری کی رُوح قائم رکھنے پر منحصر ہے۔ ڈسپلن (DISCIPLINE) پیدا کرنا اور چیز ہے لیکن خودداری کی رُوح بالکل اَور چیز ہے۔ خودداری کے نہ ہونے کے یہ معنے ہیں کہ فطرت کو مار دیا گیا ہے۔ اور ڈسپلن کے معنی یہ ہیں کہ خودداری کو منظّم کیا جائے۔ اور اسلام ڈسپلن کے خلاف نہیں۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ ڈسپلن قائم کیا جائے مگر وہ اِس بات کے خلاف ہے کہ خودداری کی رُوح کو کچل دیا جائے۔ اگر خودداری کی رُوح کو کچل دیا جائے تو قوم تباہ ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اس مضمون پر (قادیان میں) میں نے ایک لیکچر دیا تھا۔ بعض لوگ باتوں کو بڑی عمدگی سے یاد رکھتے ہیں۔ اگلا جلسہ آیا تو ایک شخص اپنا بیٹا ساتھ لایا اور اُس کے متعلق کہنے لگا کہ آپ نے یہ بات پیش کی ہے۔ میں نے کہا۔ آپ اس بچے کو ’آپ‘ کہہ رہے ہیں۔ اُس نے کہا آپ نے ہی تو ایسا کرنے کی تلقین کی تھی۔ آپ نے کہا تھا کہ بچوں کے ساتھ ادب سے بات کرنی چاہئے کیونکہ بچے ماں باپ کی نقل کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ نے انگریزوں کی مثال بھی دی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو مدر (MOTHER) کہتے ہیں تا کہ بچہ بھی مدر کہنے لگ جائے۔ اُن کا نقطۂ نگاہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو وائف (WIFE) کہیں گے تو چونکہ بچہ ماں باپ کی نقل کرتا ہے اس لئے وہ بھی اپنی ماں کو وائف کہے گا۔ پس وہ اپنی بیوی کو مدر (MOTHER) کہتے ہیں تا کہ بچے کے دل میں بھی اپنے ماں باپ کے متعلق ادب کا جذبہ پیدا ہو۔
پھر جمہوریت ایک ایسا علم ہے جس پر ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی
ہیں کیونکہ اس زمانہ میں جب بادشاہت ختم ہونے لگی تو جمہوریت پر زور دینا شروع کر دیا گیا۔ قرآن کریم نے بھی اس کا ذکر فرمایا ہے۔ جمہوریت کا بڑا اصل، مشورہ ہے۔ دیکھو ہر نبی اپنی امت کا افسر ہوتا ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب نبیوں کے سردار ہیں۔ آپؐ فرماتے ہیں کہ اگر موسیٰ اور عیسیٰ بھی میرے زمانہ میں زندہ ہوتے تو اُن کو بھی میری اتباع کرنی پڑتی۔۵۲اب دیکھو جس نبی کی اتباع کی ضرورت دوسرے انبیاء کو بھی ہے اُس کو مشورہ کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے۔ مگر خدا تعالیٰ قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے کہ وَشَاوِرۡہُمۡ فِی الۡاَمۡرِ(3:160)۵۳ یعنی اہم معاملات میں اپنی جماعت سے مشورہ کر لیا کر۔
اسی طرح مؤمنوں کی ایک صفت قرآن کریم میں یہ بیان کی گئی ہے کہ وَاَمۡرُہُمۡ شُوۡرٰی بَیۡنَہُمۡ(42:39)۵۴ وہ جب کبھی کوئی کام کرتے ہیں تو مشورہ سے کرتے ہیں۔ لیکن بعض لوگوں نے فتنہ پیدا کرنے کے لئے اس سے بھی ناجائز فائدہ اُٹھایا ہے۔ چنانچہ خارجیوں نے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغاوت کی تو انہوں نے اس آیت کو ایک چیلنج کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا ہمیں کسی خلیفہ کی ضرورت نہیں۔ اَلْحُكْمُ لِلّٰهِ۵۵وَالْاَمْرُ شُوْرٰی بَيْنَنَا۵۶ حکم تو خدا تعالیٰ کا چلے گا اور ہم آپس میں مشورہ کر کے حکومت کریں گے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا تو آپ نے فرمایا۔ كَلِمَةُ حَقٍّ اُرِيْدَ بِهَا بَاطِلٌ۵۷ یعنی بات تو بڑی سچی ہے لیکن اسے بری نیت سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ غرض مؤمنوں کا یہ طریق ہے کہ وہ ہر اہم معاملہ کو باہمی مشورہ سے طے کرتے ہیں اور ڈکٹیٹر شپ سے کام نہیں لیتے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا طریق عمل یہ تھا کہ آپؐ ہر اہم معاملہ میں صحابہؓ سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ جنگ بدر کے موقع پر آپؐ نے مشورہ لیا تو صحابہؓ میں سے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! ہمیں موسیٰ کی جماعت کی طرح نہ سمجھیں۔ جنہوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ فَاذۡہَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوۡنَ(5:25)۵۸ جا تُو اور تیرا ربّ دونوں لڑتے پھرو۔ ہم تو یہیں بیٹھیں گے بلکہ يَا رَسُوْلَ اللّٰہ! اگر جنگ ہوئی تو ہم آپؐ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے۔ اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہیں آئے گا آپؐ تک نہیں پہنچ سکے گا۔۵۹ پھر عرب پانی سے بہت ڈرتے تھے مگر حضرت مقدادؓ نے کہا اگر آپ ہماری قوم کو حکم دیں کہ سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دو تو يَا رَسُوْلَ اللّٰہ! ہم فوراً اپنے گھوڑے سمندر میں ڈال دیں گے اور اس بات کی ذرہ بھی پرواہ نہیں کریں گے کہ ہم بچتے ہیں یا نہیں بچتے۔۶۰
پھر جنگِ اُحد کے موقع پر بھی آپؐ نے صحابہؓ کو اکٹھا کیا اور اپنی خواب کا ذکر کیا کہ آپؐ نے گائیں ذبح ہوتی دیکھی ہیں۔ جس کی تعبیر یہ ہے کہ کوئی ابتلاء پیش آئے گا۔ مگر باوجود اس خواب کے آپؐ نے صحابہؓ سے مشورہ کیا۔ آپؐ کا خیال تھا کہ اگر مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کی گئی تو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ لیکن صحابہؓ کے مشورہ پر آپؐ مدینہ سے باہر نکل پڑے اور لڑائی ہوئی اور نقصان بھی ہوا اور اِس طرح آپؐ کی خواب پوری ہو گئی۔۶۱
اِسی طرح قرآن کریم میں ملکہ سبا کا ذکر آتا ہے۔ ملکہ سبا گو مشرکہ تھی لیکن اُس کے واقعہ کا ذکر کر کے مسلمانوں کو توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ کوئی کام نہیں کرتی تھی جب تک کہ ملک کے سرداروں کے ساتھ مشورہ نہیں کر لیتی تھی۔ چنانچہ جب اُس کے پاس حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط پہنچا تو اُس نے کہا۔ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِیۡ فِیۡۤ اَمۡرِیۡ ۚ مَا کُنۡتُ قَاطِعَۃً اَمۡرًا حَتّٰی تَشۡہَدُوۡنِ(27:33)۶۲ یعنی اے میری قوم کے سردارو! میری اِس پیش آمدہ مصیبت میں مجھے مشورہ دو کیونکہ میں کوئی کام نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس حاضر ہو کر مشورہ نہ دو۔ اِن آیات میں مسلمانوں کو توجہ دلائی گئی ہے کہ جب ایک کافر عورت بھی حکومتی معاملات میں احتیاط سے کام لیتی تھی تو تم تو مسلمان ہو اور تمہارے لئے قرآن کریم میں حکم بھی ہے کہ مشورہ کیا کرو۔ پس تمہیں بھی ہر معاملہ میں باہم مشورہ کرنا چاہئے۔
اِسی طرح قرآن کریم فرعون کا ذکر کرتا ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ ایک جابر بادشاہ تھا مگر اُس کی حکومت میں بھی کوئی نہ کوئی رنگ جمہوریت کا پایا جاتا تھا۔ چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق فیصلہ کرنے کے لئے اُس نے اپنے سرداروں کو جمع کیا اور انہیں کہا فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ(7:111) تم موسیٰ اور ہارونؑ کے بارہ میں کیا مشورہ دیتے ہو؟ یعنی ایک جابر بادشاہ جو تلوار لے کر لوگوں کی گردنیں اڑا دیتا تھا وہ بھی کہتا ہے کہ اے میری قوم کے لوگو! مجھے مشورہ دو کہ میں موسیٰ کے ساتھ کیا معاملہ کروں۔ چنانچہ درباریوں نے کہا۔ اَرۡجِہۡ وَاَخَاہُ وَابۡعَثۡ فِی الۡمَدَآئِنِ حٰشِرِیۡنَ(26:37) موسیٰ اور ہارونؑ کو کچھ مدت تک ڈھیل دو۔ اور اِس مدت میں شہروں کی طرف آدمی بھیجواؤ جو قابل آدمیوں کو مقابلہ کے لئے جمع کریں۔ غرض قرآن کریم نے فرعون جیسے جابر بادشاہ کا ذکر کر کے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ حکومت بغیر مشورہ کے نہیں ہونی چاہئے۔ جب کافر حکومتیں بھی اپنے معاملات میں مشورہ لیتی ہیں تو مسلمانوں کو تو بدرجہ اولیٰ اس کا پابند ہونا چاہئے۔ جب وہ لوگ جنہیں مشورہ کا حکم نہیں دیا گیا مشورہ لیتے ہیں تو جن لوگوں کو مشورہ کا حکم دیا گیا ہے وہ مشورہ کیوں نہ لیں۔
پھر سیاست کے متعلق بھی کئی کتابیں لکھی گئی ہیں اور قرآن کریم نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ سیاست یہی ہوتی ہے کہ مناسب موقع پر مناسب کام کیا جائے اور موقع کے مطابق لوگوں سے سلوک کیا جائے۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ جنگ حنین کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں میں انعامات تقسیم کئے تو ایک شخص نے اعتراض کیا کہ هٰذِهِ الْقِسْمَةُ مَا عُدِلَ فِیْهَا وَمَا أُرِیْدَ بِهَا وَجْهُ اللهِ یعنی یہ ایسی تقسیم ہوئی ہے کہ اِس میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا اور نہ اس میں خدا تعالیٰ کی رضا کو مدّ نظر رکھا گیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بڑے غیور تھے۔ وہ یہ اعتراض سن کر فوراً تلوار سونت کر کھڑے ہوگئے اور عرض کیا۔ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مَعَاذَ اللهِ اَنْ يَّتَحَدَّثَ النَّاسُ اَنّ اَقْتُلُ اَصْحَابِیْ یعنی میں اس بات سے خدا تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں کہ لوگ میرے متعلق آپس میں یہ باتیں کرتے پھریں کہ یہ اپنے ساتھیوں کو مارتا پھرتا ہے۔ یعنی کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جس سے غیر قوموں میں یہ چرچا شروع ہو جائے کہ یہ لوگ ظلم کر رہے ہیں۔ صحابہؓ تو حقیقت جانتے تھے لیکن مصر اور قسطنطنیہ کے لوگوں کو اس کا کیا علم تھا ، وہ تو یہ باتیں کر سکتے تھے کہ یہ لوگ ظلم کر رہے ہیں اس لئے آپؐ نے فرمایا کہ کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جس سے غلط قسم کا چرچا شروع ہو جائے ۔ بیشک مسلمان اس کے متعلق کوئی بات نہ کریں لیکن اگر رومی یا ایرانی ایسی باتیں کریں تو وہ بھی بُری بات ہے۔ اس سے انسان کی بدنامی ہو جاتی ہے۔ پس آپؐ نے اُس شخص سے درگزر کیا اور اُسے معاف فرما دیا۔
پھر قرآن کریم میں تمدّن کے اصولوں کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ تمدّن کے بڑے اصولوں میں سے ایک اصل یہ ہے کہ اگر کوئی مجلس ہو رہی ہو تو کوئی انسان اس سے بلا اجازت نہ جائے۔ قرآن کریم اس بارہ میں ہدایت دیتے ہوئے فرماتا ہے اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَرَسُوۡلِہٖ وَاِذَا کَانُوۡا مَعَہٗ عَلٰۤی اَمۡرٍ جَامِعٍ لَّمۡ یَذۡہَبُوۡا حَتّٰی یَسۡتَاۡذِنُوۡہُ(24:63)۔ 67 یعنی وہی لوگ مؤمن کہلا سکتے ہیں جو اللہ اور اُس کے رسولؐ پر ایمان لاتے ہیں اور جب کسی قومی کام کے لئے رسولؐ کے پاس بیٹھے ہوں تو وہ نہیں جاتے جب تک اُس سے اجازت نہ لے لیں۔ اس لئے میں نے حکم دیا ہوا ہے کہ مجلسِ مشاورت کے اجلاس سے کوئی نمائندہ حوائج ضروریہ وغیرہ کے لئے جانا چاہے تو وہ اجازت لے کر جائے۔ انگریزوں کا طریق یہ ہے کہ اگر کوئی شخص پارلیمنٹ سے جائے تو وہ ایک اور آدمی کو ساتھ لے جائے۔ مگر یہ غلط طریق ہے۔ صحیح طریق یہی ہے کہ اگر کوئی باہر جانا چاہے تو سپیکر سے اجازت لے لے۔ یا اگر وہ دیکھے کہ میری غیر حاضری کی وجہ سے میری پارٹی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے تو وہ باہر ہی نہ جائے۔
اسی طرح کتابوں کا ایک اور سلسلہ بھی ہے اور وہ تاریخِ تمدّن کا سلسلہ ہے۔ قرآن کریم میں اِس تاریخ کا بھی ذکر آیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ تمدّن کن
دَوروں میں سے گزرا ہے اور کس طرح اس کا ارتقاء عمل میں آیا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَحَمَلۡنٰہُ عَلٰی ذَاتِ اَلۡوَاحٍ وَّدُسُرٍ(54:14)۶۸ یعنی ہم نے نوحؑ کو تختوں اور کیلوں سے بنی ہوئی کشتی پر سوار کیا۔
اِس آیت میں قرآن کریم نے کشتیوں کی ایک لمبی تاریخ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ چنانچہ کشتیوں کی تاریخ بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ پہلے زمانہ میں لوگ کشتیاں بنانا نہیں جانتے تھے وہ ایک بڑا سا درخت لے کر اُس کو درمیان سے کھود لیتے تھے اور اِس گڑھے میں بیٹھ کر درخت کو پانی میں ڈال دیتے تھے۔ اب تک بغداد میں ایسی کشتیاں پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ پاکستان بننے سے قبل ایک ہندوستانی وہاں گیا تھا اُس نے اُس کشتی پر بہت مذاق اُڑایا اور کہا کہ چونکہ وہ کشتی نیچے سے گول ہوتی ہے اس لئے جب میں اُس پر بیٹھا تو ایک طرف حرکت کرنے سے دوسری طرف سے کشتی اُٹھ جاتی تھی اور چکر کھانے لگتی تھی۔ اِس پر میں نے اُس آدمی سے جو میرے ساتھ تھا کہا۔ اے شیخ ! میری کشتی تو چکر کھا رہی ہے۔ اُس نے سمجھا کہ یہ کہتا ہے اَور چکر دو۔ چنانچہ اُس نے کشتی کو اَور چکر دینا شروع کر دیا اور جب کشتی کنارہ پر لگی تو میں بیہوش ہو کر گر پڑا۔ ہوش آنے پر میں نے کہا تُو نے تو بڑی حماقت کی ہے۔ اُس نے کہا آپ نے تو خود ہی کہا تھا کہ کشتی کو اَور چکر دو۔ اِس میں میرا کیا قصور ہے۔ تو وہ کشتیاں اب بھی پائی جاتی ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ جو ترقی ہوئی تو تختوں والی کشتیاں بن گئیں۔ اُس وقت سریش وغیرہ کے ساتھ تختوں کو جوڑا جاتا تھا۔ لیکن وہ تختے بعض دفعہ کھل بھی جاتے تھے۔ پھر کیل نکلے تو اُن کے ساتھ کشتیاں جوڑی جانے لگیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ تک تمدن اتنا ترقی کر چکا تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی جماعت کو ایسی کشتی میں سوار کیا جو ذَاتِ اَلۡوَاحٍ وَّدُسُرٍ(54:14) تھی۔ گُھدا ہوا درخت نہیں تھا بلکہ وہ کشتی باقاعدہ بنی ہوئی تھی اور اُس میں میخیں بھی لگی ہوئی تھیں۔ غرض اِس آیت میں قرآن کریم نے کشتیوں کی ایک لمبی تاریخ کی طرف اشارہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں کیلوں والی کشتیاں بننے لگی تھیں۔ بیچ میں ایک ایسا زمانہ بھی آیا کہ گیلیوں۶۹ کو باندھ کر چلایا کرتے تھے ۔ مجھے یاد ہے کہ اِس قسم کی کشتیاں دریائے بیاس میں بھی چلا کرتی تھیں مگر اُن میں یہ نقص ہوتا تھا کہ چھوٹی جگہوں میں آکر وہ پھنس جاتی تھیں ۔
اِسی طرح اِس کی ایک اور مثال سورۃ یوسف سے بھی ملتی ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام جب قید میں تھے تو آپ کے دو ساتھی آپ سے خوابوں کی تعبیر دریافت کرنے کے لئے آئے۔ آپ نے ان کو وعظ کرتے ہوئے فرمایا لَا یَاۡتِیۡکُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِہٖۤ اِلَّا نَبَّاۡتُکُمَا بِتَاۡوِیۡلِہٖ قَبۡلَ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمَا(12:38)۷۰ یعنی اِس وقت کا کھانا ابھی نہیں آئے گا کہ میں تمہیں اِس کے آنے سے پہلے اس خواب کی حقیقت بتا دوں گا۔
اِس سے ظاہر ہے کہ فراعنہ مصر کے زمانہ میں خصوصیت سے حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں قیدیوں کو قید خانہ میں کھانا دیا جاتا تھا۔ جو لوگ پھانسی کے مستحق ہوتے تھے انہیں بھی کھانا دیا جاتا تھا۔ اسلامی خلفاء کے زمانہ میں بھی یہی طریق رائج رہا۔ لیکن افسوس کہ درمیانی عرصہ میں مسلمان اسے بھول گئے اور اسلامی ممالک میں یہ رواج ہو گیا کہ قیدیوں کو جیل خانہ سے باہر بھیک مانگنے کے لئے بھیج دیا جاتا تھا۔ مجھے ایک احمدی افسر نے بتایا کہ وہ ایسے ہی ملک میں قید ہو گئے تھے کہ ظہر کے بعد ہمیں قید خانہ سے باہر نکال دیا جاتا تھا اور کہا جاتا کہ بھیک مانگ لاؤ۔ جب ہم بھیک مانگ لاتے تو اچھا اچھا کھانا جیلر نکال لیتا اور خراب کھانا ہمیں دے دیتا۔ بہرحال تمدّن کے لحاظ سے ضروری ہے کہ قیدیوں کو بھی کھانا دیا جائے بلکہ اب تو لوگوں کی یہ رائے ہو گئی ہے کہ اگر زمیندار چاہیں کہ قیدی اُن کے کھیت میں کام کریں تو انہیں چھوڑ دینا چاہئے۔ قید خانہ میں بند رہنے کی وجہ سے رشتہ داروں کی محبت کم ہو جاتی ہے اور اخلاق کمزور ہو جاتے ہیں۔ لوگ اسلام پر غلامی کا اعتراض کرتے ہیں لیکن اسلام کا یہ قانون ہے کہ جنگی قیدی کو کسی کے سپرد کر دو کہ وہ اُس سے کام لے اور باہر رہنے کی وجہ سے اُس قیدی کے رشتہ دار اُسے ملتے رہیں اور اُسے یہ محسوس نہ ہو کہ وہ دنیا سے بالکل الگ ہو گیا ہے۔
اب میں بتاتا ہوں کہ قرآن کریم میں دہریت کا ردّ بھی موجود ہے۔ دہریت کے متعلق قریب زمانہ میں امریکہ اور یورپ کے ممالک میں بہت سی کتابیں لکھی جا چکی ہیں لیکن قرآن کریم نے اِس کا ردّ فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ یہ خیال کرنا کہ اِس دنیا کا کوئی خالق نہیں بالکل غلط بات ہے۔ چنانچہ فرمایا تَبٰرَکَ الَّذِیۡ بِیَدِہِ الۡمُلۡکُ ۫ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرُ ۣالَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡغَفُوۡرُ الَّذِیۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ؕ مَا تَرٰی فِیۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ؕ فَارۡجِعِ الۡبَصَرَ ۙ ہَلۡ تَرٰی مِنۡ فُطُوۡرٍ ثُمَّ ارۡجِعِ الۡبَصَرَ کَرَّتَیۡنِ یَنۡقَلِبۡ اِلَیۡکَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّہُوَ حَسِیۡرٌ(67:2-5)۷۱ یعنی بہت برکت والا ہے وہ خدا جس کے ہاتھ میں بادشاہت ہے اور جو ہر چیز پر قادر ہے۔ اُس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا ہے تا کہ دیکھے کہ تم میں سے کون اچھا عمل کرتا ہے اور وہ غالب اور بخشنے والا ہے۔ اُس نے ساتوں آسمان بھی پیدا کئے ہیں اور اُن میں موافقت اور مطابقت بھی پیدا کی ہے۔ اے مخاطب! تُو کوئی اختلاف اللہ تعالیٰ کی پیدائش میں نہیں دیکھے گا۔ پس تُو اپنی آنکھ کو لوٹا، کیا تجھے کوئی رخنہ یا کمی نظر آتی ہے؟ پھر دوبارہ اپنی نظر کو لوٹا کر دیکھ تیری نظر تھکی ہوئی اور ماندہ ہو کر لوٹے گی اور خدا تعالیٰ کی پیدائش میں تجھے نقص نظر نہیں آئے گا۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ تمام کائنات اتفاقاً پیدا ہوگئی ہے اور اتفاقی طور پر مادہ کے ملنے سے یہ سب کچھ بن گیا ہے۔ اور پھر وہ سائنس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ دنیا آپ ہی آپ پیدا ہوگئی ہے اس کی کُل چلانے والا کوئی نہیں۔ ان کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں دیا ہے کہ اتفاقی طور پر جُڑنے والی چیزوں میں کبھی ایک سلسلہ اور نظام نہیں ہوگا بلکہ بے جوڑ پن ہوتا ہے۔ مختلف رنگوں سے تصویر بنتی ہے لیکن کیا اگر مختلف رنگ ایک کاغذ پر پھینک دیں تو اُس سے تصویر بن جائے گی؟ اینٹوں سے مکان بنتا ہے لیکن کیا اینٹیں ایک دوسری پر پھینک دی جائیں تو مکان بن جائے گا؟ بفرضِ محال اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ بعض کام اتفاقاً ہو جاتے ہیں تو بھی نظامِ عالَم کو دیکھ کر کوئی آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ سب کچھ آپ ہی آپ ہو گیا ہے۔ مانا کہ خود بخود مادہ پیدا ہو گیا اور مانا کہ مادہ سے خود بخود زمین پیدا ہوگئی۔ مانا کہ انسان بھی خود بخود پیدا ہو گیا۔
لیکن انسان کی پیدائش پر غور تو کرو کہ کیا ایسی کامل پیدائش خود بخود ہو سکتی ہے؟ دنیا میں عام طور پر کسی صنعت کی خوبی سے اس کے صنّاع کا پتا لگتا ہے۔ ایک عمدہ تصویر دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ کسی اچھے مصوّر نے یہ تصویر بنائی ہے۔ ایک عمدہ تحریر دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریر کسی اچھے کاتب نے لکھی ہے۔ اور جس قدر ربط بڑھتا جائے بنانے والے کی خوبی ظاہر ہوتی ہے۔ پھر کس طرح تصوّر کیا جا سکتا ہے کہ ایسی منظّم دنیا خود بخود پیدا ہو گئی ہے۔
قرآن کریم میں زرتشتی مذہب کے اصولوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ زرتشتیوں کے نزدیک ایک نُور کا خدا ہوتا ہے اور ایک تاریکی کا خدا ہوتا ہے اور ان دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ تاریکی کا خدا نور پیدا نہیں کر سکتا اور نُور کا خدا تاریکی پیدا نہیں کر سکتا۔ اگر نُور کا خدا تاریکی پیدا کرے اور تاریکی کا خدا نور پیدا کر دے تو اس کا مطلب ہے کہ دنیا تباہ ہو جائے۔ ان کے مقابلہ میں عیسائی تین خداؤں کو مانتے ہیں اور ہندو ہزاروں دیوتاؤں کو مانتے ہیں۔ قرآن کریم نے زرتشتی مذہب کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور اس کے غلط اصولوں کی تردید کی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوۡرَ ۬ؕ ثُمَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ یَعۡدِلُوۡنَ(6:2)۷۲ یعنی سب تعریفوں کا مستحق خدا تعالیٰ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا ہے اور پھر اُس نے اندھیروں اور نور کو پیدا کیا ہے لیکن اس کے باوجود کافر لوگ اُس کے ساتھ شریک بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نُور کا خدا اور ہے اور تاریکی کا خدا اور ہے۔ چنانچہ زرتشتیوں کا بھی یہی خیال تھا کہ اہرمن ظلمت کا خدا ہے اور یزدان نور کا خدا ہے۔۷۳
خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ عقیدہ اس لئے غلط ہے کہ دنیا میں بعض چیزیں نور کے ماتحت پائی جاتی ہیں اور بعض چیزیں ظلمت کے ماتحت پائی جاتی ہیں۔ نور اور ظلمت علیحدہ علیحدہ چیزیں نہیں بلکہ ایک ہی زنجیر کی دو کڑیاں ہیں اور دونوں چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ خدا ایک ہے۔ اگر ظلمت یہ ثابت کرتی کہ خدا تعالیٰ میں کوئی نقص ہے تو بے شک ایک اور خدا یزدان کی ضرورت ہوتی لیکن یہاں یہ صورت نہیں۔ یہاں تو ظلمت بھی خدا تعالیٰ کی تعریف کرتی ہے اور نُور بھی خدا تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے۔ چنانچہ دوسری جگہ آتا ہے قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیۡکُمُ الَّیۡلَ سَرۡمَدًا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ مَنۡ اِلٰہٌ غَیۡرُ اللّٰہِ یَاۡتِیۡکُمۡ بِضِیَآءٍ ؕ اَفَلَا تَسۡمَعُوۡنَ قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیۡکُمُ النَّہَارَ سَرۡمَدًا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ مَنۡ اِلٰہٌ غَیۡرُ اللّٰہِ یَاۡتِیۡکُمۡ بِلَیۡلٍ تَسۡکُنُوۡنَ فِیۡہِ ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ(28:72-73)۷۴ فرماتا ہے ظلمت اور نور دونوں کا وجود انسان کے لئے ضروری ہے۔ نہ نور کے بغیر وہ زندہ رہ سکتا ہے اور نہ ظلمت کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے۔ انسان دن کو کام کر کے تھک جاتا ہے اور رات کو نیند کے ذریعہ آرام حاصل کر کے پھر ترو تازہ ہو جاتا ہے۔ اِس لئے اگر خدا تعالیٰ رات کو لمبا کر دیتا تو کوئی انسان کام نہ کر سکتا۔ اِسی طرح اگر وہ دن کو لمبا کر دیتا تو کوئی شخص آرام نہ کر سکتا۔ پس نور اور ظلمت دونوں چیزیں انسانی بقا کے لئے ضروری ہیں اور ان کو دو خداؤں کی پیدائش کہنا غلط ہے۔
پھر عِلم الاخلاق بھی ایک اہم علم ہے اور اس پر کئی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ قرآن کریم نے اِس علم کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ(6:109)۷۵ یعنی تم اُن معبودوں کو جن کو کفار خدا تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں گالیاں نہ دو۔ ورنہ وہ جہالت کی وجہ سے خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے لگ جائیں گے۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ کسی قوم کے قابل عزت بزرگوں کے حق میں کوئی بُری بات نہیں کہنی چاہئے ورنہ اُن کے دل دُکھیں گے اور چونکہ وہ اخلاق سے عاری ہیں اس لئے وہ جواب میں اللہ تعالیٰ کو گالیاں دینے لگ جائیں گے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اِنَّ مِنْ اَكْبَرِ الْكَبَائِرِ اَنْ یَّلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَیْهِ۔ قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ كَیْفَ یَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَیْهِ؟ قَالَ یَسُبُّ الرَّجُلُ اَبَا الرَّجُلِ فَیَسُبُّ اَبَاهُ وَ یَسُبُّ اُمَّهٗ۔۷۶ یعنی کسی شخص کو نہیں چاہیے کہ وہ اپنے ماں باپ کو گالیاں دے۔ صحابہؓ نے عرض کیا یَارَسُوْلَ اللہ! اپنے ماں باپ کو کون گالیاں دیتا ہے؟ آپؐ نے
فرمایا جو شخص دوسرے کے ماں باپ کو گالیاں دیتا ہے وہ گویا اپنے ماں باپ کو گالیاں دیتا ہے کیونکہ دوسرا شخص جوش میں آ کر اس کے ماں باپ کو گالیاں دینے لگ جائے گا۔
غرض اللہ تعالیٰ نے عِلْمُ الْاَخْلَاق کا بھی ذکر فرما دیا ہے۔ عیسائی بڑا ناز کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ تم دوسرے کیلئے بھی وہی بات پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو۔ حالانکہ قرآن کریم بھی کہتا ہے کہ دوسروں کے بتوں وغیرہ کو گالیاں نہ دو۔ ورنہ اگر تم اُن کے معبودوں کو گالیاں دو گے تو وہ جواباً تمہارے خدا کو گالیاں دیں گے اور پھر تمہیں اِس پر چڑنے یا بُرا منانے کا کوئی حق نہیں ہو گا کیونکہ ابتدا تمہاری طرف سے ہوئی ہو گی۔ لیکن اگر ابتدا دوسروں کی طرف سے ہوئی ہو اور وہ تمہارے معبود کو گالیاں دیں تو پھر بیشک وہ ظالم ہوں گے لیکن اگر پہل تمہاری طرف سے ہو اور تم کسی کے معبود کو گالیاں دو اور وہ جواباً تمہارے خدا کو بھی گالیاں دینے لگ جائے تو تمہیں اس پر چڑنے کا کوئی حق نہیں ہو گا کیونکہ اسے جواب دینے والا سمجھا جائے گا ظلم کرنے والا نہیں سمجھا جائے گا۔ چنانچہ احادیث میں آتا ہے ایک دفعہ ایک صحابیؓ نے ایک یہودی کے سامنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسے طور پر ذکر کیا کہ آپؐ کی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت ثابت ہوتی تھی۔ اِس سے بہرحال اس یہودی کو تکلیف ہوئی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپؐ نے فرمایا لَا تُخَیِّرُوْنِیْ عَلٰی مُوْسٰی۔ 77 مجھے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اس طرح فضیلت نہ دیا کرو کہ اس سے کوئی جھگڑا پیدا ہو جائے۔
عِلْمُ الْاِنْسَان بھی ایک نہایت ضروری علم ہے جس کو انگریزی میں ANTHROPOLOGY کہتے ہیں اور لوگوں نے اس علم پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ قرآن کریم نے بھی اس پر بحث کی ہے اور اس نے ابوالبشر کا نام آدم رکھا ہے۔ یعنی وہ پہلا انسان تھا جس نے سطحِ زمین پر رہنا شروع کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آدم سے پہلے جو لوگ تھے وہ غاروں میں چُھپ کر رہتے تھے تاکہ کہیں شیر اور بھیڑیے اُنہیں کھا نہ جائیں۔ پھر جب تمدّن نے ترقی کی اور حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ لوگوں نے ایک دوسرے کی مدد کرنی شروع کر دی تو لوگ غاروں سے باہر نکل آئے اور انہوں نے سطح زمین پر رہنا شروع کر دیا۔ اور سب سے پہلا انسان آدم تھا جس نے زمین کی سطح پر رہنا شروع کیا۔ گویا پہلا کیومین (CAVEMAN) جو زمین پر رہنا شروع ہوا آدم تھا بلکہ قرآن کریم نے اس کا نام آدم رکھ کر ہی یہ بات واضح کر دی ہے کہ وہ CAVE یعنی غار کو چھوڑ کر باہر نکل آیا تھا اور اُس نے سطح زمین پر مل جُل کر رہنا شروع کر دیا تھا۔ چنانچہ اَدِیْمُ الْاَرْضِ کے معنے عربی زبان میں سطح زمین کے ہوتے ہیں۔۷۸ گویا آدم کے معنے ہوئے غاروں سے نکل کر سطح زمین پر رہنے والا شخص۔ اِسی طرح اَدِیْم کے معنے اوّلیت کے بھی ہیں۔۷۹ گویا آدم کے لفظ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ موجودہ نسل کا پہلا انسان آدم تھا۔ اِسی طرح اَدَمَ کے معنے ہوتے ہیں صَارَ لَهُمْ اُسْوَةً۔۸۰ وہ اُن کے لئے نمونہ ہو گیا۔ یعنی آدم علیہ السلام لوگوں کے لئے ایک نمونہ تھے اور انہوں نے آپ کے نقش قدم پر چلنا شروع کر دیا تھا۔
عیسائیوں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ چونکہ حضرت آدم علیہ السلام نے گناہ کیا تھا اِس لئے انسان کی فطرت میں گناہ کا مادہ پایا جاتا ہے لیکن یہ بات غلط ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے کوئی گناہ کیا تھا۔ اُن سے صرف ایک اجتہادی لغزش ہوئی تھی اور پھر اس لغزش پر بھی انہوں نے توبہ کی۔ اگر عیسائیوں کا کُلّیہ صحیح تسلیم کر لیا جائے تو انسان کی فطرت میں توبہ کا مادہ ہونا چاہئے تھا نہ کہ گناہ کا۔ کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام لوگوں کے لئے نمونہ تھے اور وہ اُنہیں کے نقش قدم پر چلتے تھے۔ گناہ تو حوا نے کیا تھا اور حوا نے ہی بائبل کی رُو سے حضرت آدم کو پھسلایا تھا۔ پھر آدم سے سلسلۂ گناہ کس طرح چل پڑا جبکہ آدم نے اپنی ایک اجتہادی غلطی پر توبہ بھی کی تھی۔
اِسی طرح اَدَمَ کے ایک معنے اَلَّفَ وَوَفَّقَ کے ہیں۔۸۱ یعنی اُس نے فساد دُور کیا اور باہم موافقت پیدا کی۔ ان معنوں میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے ہی تہذیب و تمدّن کی بنیاد رکھی تھی اور انہوں نے ہی تمدّن کو صحیح معنوں میں دنیا میں قائم کیا تھا۔ اس میں فرشتوں کے اُس سوال کا جواب بھی آ جاتا ہے جو انہوں نے کیا تھا کہ اَتَجۡعَلُ فِیۡہَا مَنۡ یُّفۡسِدُ فِیۡہَا وَیَسۡفِکُ الدِّمَآءَ(2:31)۔۸۲ یعنی کیا تُو اس میں ایسا شخص پیدا کرے گا جو اُس میں فساد کرے گا اور لوگوں کا خون بہائے گا؟ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ہم نے تو آدمؑ کو پیدا ہی اِس لئے کیا ہے کہ وہ دنیا سے فساد دُور کرے۔ خلیفہ ہونا تو الگ چیز ہے اِس کی پیدائش ہی فساد کو دُور کرنے والی تھی۔
دوسری مثال اِس کی حضرت نوح علیہ السلام کی ہے۔ بائبل سے پتا لگتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے باپ بڑے نیک آدمی تھے۔ انہوں نے الہامِ الٰہی سے نوحؑ کا نام نوح رکھا تھا جس کے معنے ہیں نوحہ کرنے والا۔ اِس میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ دنیا میں اُن کے زمانہ میں ایک عالمگیر عذاب آئے گا جس سے وہ خود تو بچ جائیں گے مگر اُن کی قوم تباہ ہو جائے گی اور وہ اپنی قوم کے تباہ ہونے پر نوحہ کریں گے۔ قرآن کریم نے بھی اِس کی تصدیق کی ہے اور حضرت نوح علیہ السلام کے نام کا ذکر کر کے اِس توجیہہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔
قرآن کریم میں آئندہ زمانہ کی تاریخ بھی بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے قُلۡ لِّلۡمُخَلَّفِیۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ اِلٰی قَوۡمٍ اُولِیۡ بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ تُقَاتِلُوۡنَہُمۡ اَوۡ یُسۡلِمُوۡنَ(48:17)۸۳ دوسری کتابیں تو صرف پچھلا حال بیان کرتی ہیں لیکن قرآن کریم ایسی کتاب ہے جو آئندہ زمانہ کا حال بھی بیان کرتی ہے۔ چنانچہ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اے مسلمانو! آئندہ زمانہ میں رومیوں اور ایرانیوں کے ساتھ تمہاری جنگیں ہوں گی اور وہ عرب جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سُستی دکھائی تھی وہ اپنے دھبے دھو سکیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ یا تو وہ وقت تھا کہ رومی اور ایرانی مسلمانوں کو بڑا حقیر سمجھتے تھے اور قابل التفات ہی نہیں سمجھتے تھے اور یا پھر وہ زمانہ آیا کہ ایران اور روم دونوں نے مسلمانوں پر حملہ کیا اور اس بات سے خائف ہو گئے کہ مسلمان اُن کے ملک میں نہ گھس آئیں۔ لیکن اِس آیت کے مطابق حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مسلمانوں نے ان دونوں ملکوں پر فتح حاصل کی اور وہ عرب جو پہلے کمزوریاں دکھا رہے تھے انہوں نے بھی بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ان دونوں ملکوں کو انہوں نے تباہ کر کے رکھ دیا۔ اور اس طرح قرآن کریم میں جو آئندہ زمانہ کی تاریخ بیان کی گئی تھی وہ حقیقت بن کر ظاہر ہو گئی۔
اس کی مثال میں ایک اور پیشگوئی بھی بیان کی جاسکتی ہے اور وہ یاجوج ماجوج کے متعلق ہے۔ قرآن کریم میں آتا ہے کہ آخری زمانہ میں یاجوج اور ماجوج غالب آجائیں گے اور ساری دنیا پر چھا جائیں گے۔ جس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں ظاہر ہوئے اُس وقت یورپ بالکل وحشی تھا اور اس کے باشندے کھالیں پہنا کرتے تھے۔ لیکن آج دیکھو ان کی حکومت کس قدر بڑھ گئی ہے اور وہ کس طرح ساری دنیا پر غالب آگئے ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اس کے متعلق پیشگوئی کرتے ہوئے فرماتا ہے وَحَرٰمٌ عَلٰی قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَاۤ اَنَّہُمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ حَتّٰۤی اِذَا فُتِحَتۡ یَاۡجُوۡجُ وَمَاۡجُوۡجُ وَہُمۡ مِّنۡ کُلِّ حَدَبٍ یَّنۡسِلُوۡنَ(21:96-97)۸۴ یعنی ہر ایک بستی جسے ہم نے ہلاک کیا ہے اُس کے لئے یہ فیصلہ کر دیا گیا ہے کہ اُس کے بسنے والے لوٹ کر اس دنیا میں نہیں آئیں گے۔ یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کے لئے دروازہ کھول دیا جائے گا اور وہ ہر پہاڑی اور ہر سمندر کی لہر پر سے پھلانگتے ہوئے ساری دنیا میں پھیل جائیں گے تو اُس وقت مُردہ قوموں میں بھی بیداری پیدا ہو جائے گی اور اُن میں بھی زندگی کی حرکت پیدا ہونے لگ جائے گی۔
اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ آخری زمانہ میں یاجوج اور ماجوج جس سے مراد روس اور انگلستان ہیں، ساری دنیا پر چھا جائیں گے اور یہ دونوں قومیں سمندر کی لہروں پر سے ہوتے ہوئے اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے پھاندتے ہوئے ساری دنیا میں پھیل جائیں گی۔ قرآن کریم نے حدب کا لفظ استعمال کیا ہے اور عربی زبان میں حدب کے معنے اونچے ٹیلوں کے بھی ہیں اور موج کے بھی ہیں۔۸۵ گویا اس آیت میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ قومیں سمندر میں سے ہوتے ہوئے بھی ساری دنیا پر پھیل جائیں گی اور پہاڑوں سے بھی آئیں گی اور دنیا میں پھیل جائیں گی۔ چنانچہ روس پہاڑوں پر سے ہو کر چین پر قابض ہو گیا اور انگریز اور امریکہ سمندر سے آ رہے ہیں اور اس تاریخ کو جو قرآن کریم نے آئندہ زمانہ کی بیان کی تھی پورا کر رہے ہیں۔
اِسی طرح قرآن کریم نے بنی اسرائیل کے متعلق واقعات بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تورات میں ان کے متعلق پیشگوئی تھی کہ ان پر دو دفعہ تباہی آئے گی اور وہ بیت المقدس سے نکالے جائیں گے۔ چنانچہ اُن کی پہلی تباہی نبوکدنضر بادشاہ کے حملہ سے ہوئی اور دوسری تباہی ٹائیٹس رومی کے ذریعہ سے ہوئی جو مسیحؑ کے صلیب کے واقعہ کے 70 سال بعد یہودیوں پر حملہ آور ہوا تھا۔ اِن واقعات کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَّقُلۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ لِبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اسۡکُنُوا الۡاَرۡضَ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ جِئۡنَا بِکُمۡ لَفِیۡفًا(17:105)۸۶ یعنی فرعون کے سمندر میں ڈوب مرنے کے بعد ہم نے بنی سرائیل کو کہہ دیا تھا کہ تم فلسطین میں جا کر آباد ہو جاؤ۔ لیکن ایک وقت کے بعد تم کو فلسطین سے نکلنا پڑے گا اور پھر خدا تعالیٰ تم کو واپس لائے گا۔ پھر تم نافرمانی کرو گے اور تم پر دوسری دفعہ عذاب آئے گا۔ پھر تم جلاوطن رہو گے یہاں تک کہ تمہاری مثیل قوم یعنی مسلمانوں کی تباہی کے متعلق جو دوسری خبر ہے اُس کا وقت آ جائے گا۔ اُس وقت پھر تم کو مختلف ملکوں سے جمع کر کے ارضِ مقدس میں اکٹھا کر دیا جائے گا۔ پس اس آیت میں بنی اسرائیل کے فلسطین پر قابض ہونے کی پیشگوئی تھی جو اب پوری ہو چکی ہے۔ میں نے جب پہلی تفسیر کبیر جو سورۃ یونس سے لے کر سورۃ کہف تک کی تفسیر پر مشتمل ہے لکھی تھی تو میں نے اُس میں استدلال کیا تھا کہ ان آیات میں بنی اسرائیل کے فلسطین پر قابض ہونے کے متعلق پیشگوئی کی گئی ہے۔ ایک دفعہ میں شملہ گیا اور چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کے ہاں مہمان ٹھہرا۔ اُن کے ہاں اُس وقت خان علی قلی خاں بھی بطور مہمان ٹھہرے ہوئے تھے (جو لیفٹیننٹ جنرل حبیب اللہ خاں صاحب کے والد تھے) انہوں نے چودھری ظفر اللہ خاں صاحب سے تفسیر کبیر مطالعہ کے لئے مانگی۔ پارٹیشن کے بعد انہوں نے مجھے لکھا کہ جب میں نے آپ کی تفسیر میں یہ پڑھا کہ بنی اسرائیل ایک وقت میں پھر فلسطین پر قابض ہو جائیں گے تو مجھے بوجہ پٹھان ہونے کے سخت غصہ آیا کیونکہ ہم تو بنی اسرائیل کے دشمن ہیں اور آپ نے لکھا تھا کہ بنی اسرائیل فلسطین پر قابض ہو جائیں گے۔ لیکن جب امریکہ اور انگریزوں کی مدد سے بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہو گئے تو مجھے بڑی خوشی ہوئی اور میں نے کہا کہ قرآن کریم سچا ثابت ہو گیا کیونکہ یہ واقعہ قرآن کریم کی اس آیت کی عملی تفسیر ہے۔
پھر قرآن کریم میں جغرافیہ کا علم بھی بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قومِ سبا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اُن کا ملک بہت آباد تھا اور اُن کے ملک سے فلسطین تک بستیاں ہی بستیاں چلی جاتی تھیں لیکن اس ملک کے رہنے والوں نے خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا اور انہوں نے کہا رَبَّنَا بٰعِدۡ بَیۡنَ اَسۡفَارِنَا وَظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَجَعَلۡنٰہُمۡ اَحَادِیۡثَ وَمَزَّقۡنٰہُمۡ کُلَّ مُمَزَّقٍ(سبا: ۲۰)۸۷ یعنی اے ہمارے رب! ہمارے سفروں کو لمبا کردے اور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا پس ہم نے اُن کا نام مٹا دیا اور اُن کو قدیم زمانہ کے افسانے بنا دیا اور انہیں تباہ کرکے ذرّہ ذرّہ کر دیا۔ گویا سبا قوم کی ناشکری کے باعث اُن پر تباہی آگئی اور اُن کا سارا ملک تباہ ہو کر ویران ہو گیا۔ قرآن کریم کے اس بیان کی تصدیق اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام ایک بہت بڑے لشکر کو لے کر یمن آئے اور وہ بآسانی وہاں پہنچ گئے اور اُن کو کوئی تکلیف نہ ہوئی۔ لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے قبل ابرہہ نے یمن کے لشکر کے ساتھ مکہ پر حملہ کیا تو واپسی پر اُس کا لشکر راستہ کھو جانے کی وجہ سے بالکل تباہ ہو گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت تک وہ سب بستیاں تباہ ہو چکی تھیں۔ اِن دونوں واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں قومِ سبا کا جو جغرافیہ بیان کیا گیا ہے کہ اُن کے علاقہ سے فلسطین تک بستیاں ہی بستیاں چلی جاتی تھیں وہ بالکل درست ہے۔ اِس طرح اُس نے سبا کی تباہی کے متعلق جو کچھ ذکر کیا ہے وہ بھی ٹھیک ہے۔ غرض قرآن کریم کے اندر جو عظیم الشان کتب خانے موجود ہیں اُن کی مثال دنیا کے کسی کتب خانہ میں نہیں پائی جاتی۔ پھر دُنیوی کتب خانے تباہ بھی ہو جاتے ہیں لیکن قرآنی کتب خانہ وہ ہے جس کی دائمی حفاظت کا خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہوا ہے۔ پس کجا دُنیوی بادشاہوں کے کتب خانے اور کجا یہ روحانی کتب خانہ جو زمانہ کی ہر دست بُرد سے کلّی طور پر محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ چلا جائے گا۔
اب میں دعا کر دیتا ہوں کہ ہمارے دوست جو یہاں آئے ہیں خیر و عافیت سے واپس جائیں۔ اُن کے گھروں میں بھی امن قائم رہے اور یہاں بھی امن رہے اور راستہ میں بھی کوئی تکلیف نہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ اُن کی آئندہ عمر میں، اُن کے مالوں اور اولاد میں برکت ڈالے اور اُن کو ترقیات عطا فرمائے۔ اور اسلام کا خادم بنائے اور اُن کے ذریعہ سے ساری دنیا پر اسلام کا جھنڈا لہرانے لگ جائے۔
اللہ تعالیٰ آپ کا اور آپ کے خاندانوں کا قیامت تک حافظ و ناصر ہو اور اسلام آپ کے ذریعہ سے اور آپ کی اولادوں کے ذریعہ سے قیامت تک بڑھتا رہے۔ اور دنیا سے شرک اور بدعت مٹ جائے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت پھر دنیا میں قائم ہو جائے اور ایسی مضبوطی سے قائم ہو کہ اُسے کوئی مٹانے کی جرأت نہ کر سکے۔‘‘
(ناشر الشرکۃ الاسلامیہ لمیٹڈ ربوہ)
10 : تفسیر کبیر فخر الدین رازی جلد6 صفحہ 372 مطبوعہ قاہرہ 2012ء
11 : بحار الانوار جلد 53 صفحہ 9 مطبوعہ بیروت 1983ء
12 : درثمین اردو صفحہ 131
13 : المزمل:16
14 : لَا تَثۡرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ(یوسف:93)
15 : السیرۃ الحلبیۃ جلد 3 صفحہ 89 مطبوعہ مصر 1935ء، سیرت ابن ہشام جلد 2 صفحہ 219 مطبوعہ مصر 1295ھ
16 : فاطر:25
17 : الرعد:8
18 : اقرب الموارد جلد 2 صفحہ 1288 مطبوعہ بیروت 1889ء
19 : بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب قول اللہ تعالیٰ وَاذْکُرْ فی الکتاب مریم (الخ) حدیث نمبر 3443 صفحہ 580 الطبعة الثانية مطبوعہ ریاض 1999ء
20 : سقراط: 470سال قبل مسیح یونان کے مشہور شہر ایتھنز میں پیدا ہوا۔ دنیائے فلسفہ کے عظیم اور جلیل المرتبت معلم جس نے پانچویں صدی قبل مسیح میں یونان میں مغربی فلسفہ کی بنیاد رکھی۔ فطرتاً نہایت اعلیٰ اخلاقی و روحانی اوصاف کا حامل ، حق پرست اور منصف مزاج استاد تھا۔ اخیر عمر دیوتاؤں کے حقیقی وجود سے انکار کیا جس کی پاداش میں ایتھنز کی عدالت نے 399 قبل مسیح میں اسے موت کی سزا دی (آزاد دائرۃ المعارف وکی پیڈیا زیر لفظ سقراط)
21 : یونس:93 22: الفجر : 7 تا 9 23: النجم: 51، 52
25 : النحل: 69، 70
26 : ق : 8 27 : مسلم كتاب الفضائل باب وجوب امتثال مَا قاله شرعًا (الخ) حديث نمبر 6127 صفحہ 1039 الطبعة الثانية مطبوعہ ریاض 2000ء 28 : الّٰذرِيت : 50 29 : ٹین : (TIN) ایک سفید نرم دھات (فیروز اللغات اردو جامع صفحہ 435 فیروز سنز لاہور) 30 : نوح : 14 ، 15 31 : الانبياء : 31 32 : الطلاق : 13 33 : پیدائش باب 19 آیت 30 تا 38 نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور 1870ء 34 : الانبياء : 75 ، 76 35 : الشعراء : 171 ، 172 36 : اقرب الموارد جلد 2 صفحہ 858 مطبوعہ بیروت 1889ء 37 : 2 سموئیل باب 11 آیت 2 تا 4 ۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور 1870ء 38 : ص : 18 39 : ص : 26 40 : 1۔ سلاطین باب 11 آیت 4 ۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور 1870ء 41 : 1۔ سلاطین باب 11 آیت 9 ، 10 ۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور 1870ء 42 : وَصَدَّہَا مَا کَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ اِنَّہَا کَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ کٰفِرِیۡنَ(النمل: 44) 43 : البقرة : 103 44 : خروج باب 32 آیت 1 تا 4 ، برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور 1943ء 45 : خروج باب 32 آیت 5 ، 6 ، برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور 1943ء 46 : طٰهٰ : 91 47 : انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا جلد 4 صفحہ 1004 زیر لفظ Calf the Golden وجلد 18 صفحہ 895 زیر لفظ MOSES مطبوعہ نیویارک 1910ء ، 1911ء 48 : اعمال باب 1 آیت 9 نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور 1870ء 49 : المؤمنون : 51 50 : القصص : 39
52 : اليواقيت والجواهر الجزء الثانى صفحہ 342 مطبوعات بیروت 1997ء
53 : ال عمران: 160
54 : الشورىٰ: 39
55 : تاریخ ابن اثیر جلد 3 صفحہ 170 مطبوعہ بیروت 2009ء میں ” لَا حُکْمَ اِلَّا لِلّٰهِ “ کے الفاظ ہیں۔
56 : تاریخ ابن اثیر جلد 3 صفحہ 166 مطبوعہ بیروت 2009ء میں ” اَلْاَمْرُ شُوْرٰی بَعْدَ الْفَتْحِ “ کے الفاظ ہیں۔
57 : تاریخ کامل لابن اثیر جلد 3 صفحہ 335 مطبوعہ بیروت 1965ء
58 : بخاری کتاب المغازی باب قول الله تعالىٰ اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ (الخ) حدیث نمبر 3952 صفحہ 668 الطبعة الثانیة مطبوعہ ریاض 1999ء
59 : بخاری کتاب المغازی باب قول الله تعالىٰ اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ (الخ) حدیث نمبر 3952 صفحہ 668 الطبعة الثانیة مطبوعہ ریاض 1999ء
60 : سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 675 مطبوعہ دمشق 2005ء کے مطابق دوسری تقریر سعد بن معاذ انصاری کی ہے۔
61 : السيرة الحلبية جلد 2 صفحہ 477 تا 479 مطبوعہ بیروت 2012ء
62 : النمل: 33
63 : الشعراء: 36
64 : الشعراء: 37
65 : السيرة الحلبية الجزء الثالث صفحہ 139، 140 مطبوعہ مصر 1939ء
66 : السيرة الحلبية الجزء الثالث صفحہ 139، 140 مطبوعہ مصر 1939ء
67 : النور: 63
68 : القمر: 14
69 : گیلیوں : گیلی۔ تنے کی کاٹی ہوئی گول لکڑی (فیروز اللغات اردو جامع صفحہ 1138 فیروز سنز لاہور)
70 : یوسف: 38 71 : الملک: 2 تا 5 72 : الانعام: 2 73 : دبستانِ مذاہب اردو ترجمہ صفحہ 135، 136 مطبوعہ لاہور 2002ء 74 : القصص: 72، 73 75 : الانعام: 109 76 : بخاری کتاب الادب باب لا یسب الرجل والدیہ حدیث نمبر 5973 صفحہ 1046 الطبعة الثانیة مطبوعہ ریاض 1999ء 77 : بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب وفاة موسیٰ (الخ) حدیث نمبر 3408 صفحہ 572 الطبعة الثانیة مطبوعہ ریاض 1999ء 78 : لسان العرب جلد 1 صفحہ 97 مطبوعہ بیروت 1988ء 79 : اقرب الموارد جلد 1 صفحہ 7 مطبوعہ بیروت 1889ء 80 : اقرب الموارد جلد 1 صفحہ 6 مطبوعہ بیروت 1889ء 81 : اقرب الموارد جلد 1 صفحہ 6 مطبوعہ بیروت 1889ء 82 : البقرة: 31 83 : الفتح: 17 84 : الانبیاء: 96، 97 85 : اقرب الموارد جلد 1 صفحہ 169 مطبوعہ بیروت 1889ء 86 : بنی اسرائیل: 105 87 : سبا: 20
از سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
یہ تاریخی پیغام پہلے مؤرخہ 23؍اکتوبر 1959ء کو خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع کے افتتاحی اجلاس میں محترم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے پڑھ کر سنایا اور پھر اگلے روز 24؍اکتوبر کو حضور نے بنفس نفیس مقامِ اجتماع میں تشریف لا کر خود یہ پیغام پڑھا اور اس میں درج شدہ تاریخی عہد دوبارہ خدام سے دُہروایا۔
”اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ خدام الاحمدیہ کے نوجوانوں کو میں اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ انسان دنیا میں پیدا بھی ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں لیکن قومیں اگر چاہیں تو وہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہ سکتی ہیں۔ پس تمہیں اپنی قومی حیات کے قیام اور استحکام کے لئے ہمیشہ کوشش کرنی چاہئے اور نسلاً بعد نسلٍ اسلام اور احمدیت کو پھیلانے کی جدوجہد کرتے چلے جانا چاہئے۔ اگر مسیح موسوئی کے پیرو آج ساری دنیا میں پھیل گئے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ مسیح محمدیؐ جو اپنی تمام شان میں مسیح موسوئی سے افضل ہے اس کی جماعت ساری دنیا میں نہ پھیل جائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو اس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا بھی کی ہے اور فرمایا ہے کہ
پھیر دے میری طرف اے سارباں جگ کی مہار
۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس دعا اور خواہش کو پورا کرنے کے لئے جدوجہد کرنا آپ لوگوں میں سے ہر ایک پر فرض ہے اور آپ لوگوں کو یہ جدوجہد ہمیشہ جاری رکھنی چاہئے یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔
یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ قیامت تک جدوجہد کرنا صرف ایک خیالی بات ہے۔ بلکہ حقیقتاً یہ آپ لوگوں کا فرض ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر عائد کیا گیا ہے کہ قیامت تک آپ لوگ اسلام اور احمدیت کا جھنڈا بلند رکھیں ۔ یہاں تک کہ دنیا میں اسلام اور احمدیت عیسائیت سے بہت زیادہ پھیل جائے اور تمام دنیا کی بادشاہتیں اسلام اور احمدیت کے تابع ہو جائیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ مجھے ایک دفعہ عالَمِ کشف میں وہ بادشاہ دکھائے بھی گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے اور جن میں سے بعض ہندوستان کے تھے ، بعض عرب کے، بعض فارس کے ، بعض شام کے ، بعض روم کے اور بعض دوسرے ممالک کے۔ اور مجھے بتایا گیا کہ یہ لوگ تیری تصدیق کریں گے اور تجھ پر ایمان لائیں گے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے اور ان پیشگوئیوں کے مطابق روس ، جرمنی ، امریکہ اور انگلستان کے بادشاہ یا پریذیڈنٹ احمدی ہو جائیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ساری دنیا میں احمدیت پھیل جائے گی اور اسلام کے مقابلہ میں باقی تمام مذاہب بے حقیقت ہو کر رہ جائیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج کل دنیا کے اکثر ممالک میں بادشاہتیں ختم ہو چکی ہیں مگر پریذیڈنٹ بھی بادشاہوں کے ہی قائمقام ہیں۔ پس اگر مختلف ملکوں کے پریذیڈنٹ ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں تو یہ پیشگوئی پوری ہو جاتی ہے۔ مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ متواتر اور مسلسل جدوجہد کی جائے اور تبلیغ اسلام کے کام کو ہمیشہ جاری رکھا جائے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نوحؑ بھی قرار دیا گیا ہے۲ اور حضرت نوحؑ کی عمر جیسا کہ قرآن کریم نے بتایا ہے ساڑھے نو سو سال تھی۳ جو درحقیقت ان کے سلسلہ کی عمر تھی ۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے
بروز تھے جو تمام نبیوں سے افضل تھے اور حضرت نوحؑ بھی ان میں شامل تھے۔ پس اگر نوحؑ کو ساڑھے نو سو سال عمر ملی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز اور آپ کے غلام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تو ساڑھے نو ہزار سال عمر ملنی چاہئے اور اس عرصہ تک ہماری جماعت کو اپنی تبلیغی کوششیں وسیع سے وسیع تر کرتے چلے جانا چاہئے۔
میں اس موقع پر وکالت تبشیر کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بیرونی مشنوں کی رپورٹیں باقاعدگی کے ساتھ شائع کیا کرے تاکہ جماعت کو یہ پتا لگتا رہے کہ یورپ اور امریکہ میں اسلام کی اشاعت کے لئے کیا کیا کوششیں ہو رہی ہیں اور نو جوانوں کے دلوں میں اسلام کے لئے زندگیاں وقف کرنے کا شوق پیدا ہو۔ مگر جہاں یورپ اور امریکہ میں تبلیغ اسلام ضروری ہے وہاں پاکستان اور ہندوستان میں اصلاح و ارشاد کے کام کو وسیع کرنا بھی ہمارے لئے ضروری ہے جس سے ہمیں کبھی غفلت اختیار نہیں کرنی چاہئے۔
دنیا میں کوئی درخت سرسبز نہیں ہوسکتا جس کی جڑھیں مضبوط نہ ہوں۔ پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم پاکستان اور ہندوستان میں بھی جماعت کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ کی مثال ایک ایسے درخت سے دی ہے جس کا تنا مضبوط ہو اور اُس کے نتیجے میں اُس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہوں۴؎۔ یعنی ایک طرف تو سچے مذہب کے پیرو اپنی کثرتِ تعداد کے لحاظ سے ساری دنیا میں پھیل جائیں اور دوسری طرف خدا تعالیٰ اس کے ماننے والوں کو اتنی برکت دے کہ آسمان تک ان کی شاخیں پہنچ جائیں۔ یعنی ان کی دعائیں کثرت کے ساتھ قبول ہونے لگیں اور ان پر آسمانی انوار اور برکات کا نزول ہو۔ یہی وَّفَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ(14:25)۵؎ کے معنی ہیں۔ کیونکہ جو شخص آسمان پر جائے گا وہ خدا تعالیٰ کے قریب ہو جائے گا اور چونکہ خدا تعالیٰ کا کوئی جسمانی وجود نہیں اس لئے اس کے قریب ہونے کے یہی معنے ہو سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس کی دعائیں سنے گا۔ حدیثوں میں بھی آتا ہے کہ مومن جب رات کو تہجد کے وقت دعائیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان دعاؤں کو قبولیت کے لئے آسمان سے اتر آتا ہے۶؎۔
پس ضروری ہے کہ تمام جماعت کے اندر ایسا اخلاص پیدا ہو کہ اس کی دعائیں خدا تعالیٰ سننے لگ جائے اور پاتال تک اس کی جڑیں چلی جائیں۔ اور دنیا کا کوئی حصہ ایسا نہ رہے جس میں احمدی جماعت مضبوط نہ ہو۔ اور احمدی جماعت کا کوئی حصہ ایسا نہ ہو جس کی دعائیں خدا تعالیٰ کثرت کے ساتھ قبول نہ کرے۔ پس تبلیغ بھی کرو اور دعائیں بھی کرو تا کہ خدا تعالیٰ احمدیت کو غیر معمولی ترقی عطا فرمائے۔
سکھوں کو دیکھو ان کا بانی نبی نہیں تھا مگر پھر بھی وہ بڑے پھیل گئے اور اب بھی ان میں اتنا جوش ہے کہ وہ ذرا ذرا سی بات پر لڑنے مرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ تمہارا بانی تو نبی تھا اور اپنی تمام شان میں مسیح موسوی سے بڑھ کر تھا۔ پھر اگر مسیح موسوی کی امت ساری دنیا میں پھیل گئی ہے تو مسیحِ محمدی جو ان سے بڑے تھے ان کی جماعت کیوں ساری دنیا میں نہیں پھیل سکتی۔
اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے متعلق یہ بھی فرمایا ہے کہ
اک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے
مَیں ہُوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار 7
اور جالوت اُس شخص کو کہتے ہیں جو فسادی ہو اور امنِ عامہ کو برباد کرنے والا ہو۔ پس اس کے معنے یہ ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے اللہ تعالیٰ دنیا میں امن قائم فرمائے گا اور ہر قسم کے فتنہ و فساد اور شرارت کا سدّ باب کر دے گا۔
پس تبلیغِ اسلام کو ہمیشہ جاری رکھو اور نظامِ خلافت سے اپنے آپ کو پورے اخلاص کے ساتھ وابستہ رکھو۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے الوصیت میں تحریر فرمایا ہے کہ میں خدا کی ایک مجسّم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اَور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔8
اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ بھی لکھا ہے کہ :۔ ’’ تمہارے لئے دوسری قدرت کا دیکھنا بھی ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا 9۔“
سو تم قیامت تک خلافت کے ساتھ وابستہ رہو تا کہ قیامت تک خدا تعالیٰ کے تم پر بڑے بڑے فضل نازل ہوتے رہیں۔
حضرت مسیح ناصریؑ سے آپ کا مسیحؑ بہت بڑا تھا مگر عیسائیوں میں اب تک پوپ جو پطرس کا خلیفہ کہلاتا ہے چلا آرہا ہے اور یورپ کی حکومتیں بھی اس سے ڈرتی ہیں۔ نپولین جیسا بادشاہ ایک دفعہ پوپ کے سامنے گیا اور وہ گاڑی میں بیٹھنے لگا تو اُس وقت قاعدہ کے مطابق پوپ کو مقدم رکھنا ضروری تھا۔ مگر نپولین نے یہ ہوشیاری کی کہ وہ دوسری طرف سے اُسی وقت اندر جا کر بیٹھ گیا جس وقت پوپ بیٹھا تھا اور اِس طرح اُس نے چاہا کہ وہ پوپ کے برابر ہو جائے۔ اگر عیسائیوں نے اپنی مُردہ خلافت کو اب تک جاری رکھا ہوا ہے تو آپ لوگ اپنی زندہ خلافت کو کیوں قیامت تک جاری نہیں رکھ سکتے۔
بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ اِلَّا عَلٰی اَشْرَارِ النَّاسِ 10 یعنی قیامت ایسے لوگوں پر ہی آئے گی جو اشرار ہوں گے اخیار نہیں ہوں گے۔ مگر آپ لوگوں کی ترقی چونکہ خدائی پیشگوئیوں کے ماتحت ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو خدا تعالیٰ نے خَیْرُ الْاُمَم قرار دیا ہے اس لئے اگر آپ قیامت تک بھی چلے جائیں گے تو خدا تعالیٰ آپ کو نیک ہی رکھے گا اور اخیار میں ہی شامل فرمائے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی فرماتے ہیں
ہم ہوئے خیرِ اُمَم تجھ سے ہی اے خیرِ رُسُل
تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے 11
مگر ضروری ہے کہ اس کے لئے دعائیں کی جائیں کہ خدا تعالیٰ ہماری جماعت میں ہمیشہ صالح لوگ پیدا کرتا رہے اور کبھی وہ زمانہ نہ آئے کہ ہماری جماعت صالحین سے خالی ہو یا صالحین کی ہماری جماعت میں قلت ہو۔ بلکہ ہمیشہ ہماری جماعت میں صالحین کی اکثریت ہو جن کی دعائیں کثرت کے ساتھ قبول ہوتی ہوں اور جن کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا وجود اس دنیا میں بھی ظاہر ہو۔
میں اِس وقت تمام خدام سے تبلیغِ اسلام کے متعلق ایک عہد لینا چاہتا ہوں۔ تمام خدام کھڑے ہو جائیں اور اس عہد کو دہرائیں ۔
اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ ہم اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم اسلام اور احمدیت کی اشاعت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے اپنی زندگیوں کے آخری لمحات تک کوشش کرتے چلے جائیں گے اور اس مقدس فرض کی تکمیل کے لئے ہمیشہ اپنی زندگیاں خدا اور اس کے رسولؐ کے لئے وقف رکھیں گے اور ہر بڑی سے بڑی قربانی پیش کر کے قیامت تک اسلام کے جھنڈے کو دنیا کے ہر ملک میں اونچا رکھیں گے۔ ہم اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ ہم نظامِ خلافت کی حفاظت اور اس کے استحکام کے لئے آخر دم تک جدوجہد کرتے رہیں گے اور اپنی اولاد در اولاد کو ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے اور اس کی برکات سے مستفیض ہونے کی تلقین کرتے رہیں گے تاکہ قیامت تک خلافت احمدیہ محفوظ چلی جائے اور قیامت تک سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ اسلام کی اشاعت ہوتی رہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہرانے لگے۔ اے خدا! تُو ہمیں اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اللّٰهُمَّ آمِیْنَ۔ اللّٰهُمَّ آمِیْنَ۔ اللّٰهُمَّ آمِیْنَ۔
یہ عہد جو اِس وقت آپ لوگوں نے کیا ہے متواتر چار صدیوں بلکہ چار ہزار سال تک جماعت کے نوجوانوں سے لیتے چلے جائیں۔ اور جب تمہاری نئی نسل تیار ہو جائے تو پھر اُسے کہیں کہ وہ اس عہد کو اپنے سامنے رکھے اور ہمیشہ اسے دہراتی چلی جائے۔ اور پھر وہ نسل یہ عہد اپنی تیسری نسل کے سپرد کر دے۔ اور اس طرح ہر نسل اپنی اگلی نسل کو اس کی تاکید کرتی چلی جائے۔ اسی طرح بیرونی جماعتوں میں جو جلسے ہوا کریں اُن میں بھی مقامی جماعتیں خواہ خدام کی ہوں یا انصار کی یہی عہد دہرایا کریں یہاں تک کہ دنیا میں احمدیت کا غلبہ ہو جائے اور اسلام اتنا ترقی کرے کہ دنیا کے چپہ چپہ پر پھیل جائے۔ مجھے بھی ایک دفعہ خدا تعالیٰ کی طرف سے رؤیا میں دکھایا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ کا نور ایک سفید پانی کی شکل میں دنیا میں پھیلنا شروع ہوا ہے یہاں تک کہ پھیلتے پھیلتے وہ دنیا کے گوشے گوشے اور اس کے کونے کونے تک پہنچ گیا۔ اُس وقت مَیں نے بڑے زور سے کہا کہ احمدیوں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتے ہوئے ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ انسان یہ نہیں کہے گا کہ اے میرے ربّ ، اے میرے ربّ ! تُو نے مجھے کیوں پیاسا چھوڑ دیا؟ بلکہ وہ یہ کہے گا کہ اے میرے ربّ ! اے میرے ربّ ! تُو نے مجھے سیراب کر دیا یہاں تک کہ تیرے فیضان کا پانی میرے دل کے کناروں سے اُچھل کر بہنے لگا۔
پس اللہ تعالیٰ پر توکل رکھو اور ہمیشہ دین کے پھیلانے کے لئے قربانیاں کرتے چلے جاؤ۔ مگر یاد رکھو کہ قومی ترقی میں سب سے بڑی روک یہ ہوتی ہے کہ بعض دفعہ افراد کے دلوں میں روپیہ کا لالچ پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ طوعی قربانیوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ تمہارا فرض ہے کہ تم ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر توکل رکھو۔ وہ تمہاری غیب سے مدد کرے گا اور تمہاری مشکلات کو دور کر دے گا۔ بلکہ تمہارے لئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ سامان بھی کیا ہوا ہے کہ اُس نے ایک انجمن بنا دی ہے جو تمام مبلغین کو باقاعدہ خرچ دیتی ہے۔ مگر گزشتہ زمانوں میں جو مبلغین ہوا کرتے تھے اُن کو کوئی تنخواہیں نہیں دیتا تھا۔ بعض دفعہ ہندوستان میں ایران سے دو دو سو مبلغ آیا ہے مگر وہ سارے کے سارے اپنے اخراجات خود برداشت کرتے تھے اور کسی دوسرے سے ایک پیسہ بھی نہیں لیتے تھے۔
پس اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت بجا لاؤ اور لالچ اور حرص کے جذبات سے بالا رہتے ہوئے ساری دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا بلند کرنے کی کوشش کرو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الوصیّت میں تحریر فرمایا ہے کہ مجھے اس بات کا غم نہیں کہ یہ اموال کیونکر جمع ہوں گے اور ایسی جماعت کیونکر پیدا ہو گی جو ایمانداری کے جوش سے یہ مردانہ کام دکھلائے۔ بلکہ مجھے یہ فکر ہے کہ ہمارے زمانہ کے بعد وہ لوگ جن کے سپرد ایسے مال کئے جائیں وہ کثرتِ مال کو دیکھ کر ٹھوکر نہ کھائیں اور دنیا سے پیار نہ کریں ۱۲۔ سو مَیں دعا کرتا ہوں کہ ایسے امین ہمیشہ اس سلسلہ کو ہاتھ آتے رہیں جو خدا کے لئے کام کریں۔
پس لالچ اور حرص کو کبھی اپنے قریب بھی مت آنے دو اور ہمیشہ احمدیت کو پھیلانے کی جدوجہد کرتے رہو۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مصلح موعود کے متعلق الہیٰ بشارات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ
بشارت دی کہ اِک بیٹا ہے تیرا
جو ہو گا ایک دن محبوب میرا
کروں گا دور اُس مہ سے اندھیرا
دکھاؤں گا کہ اِک عالَم کو پھیرا
بشارت کیا ہے اک دل کی غذا دی
فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْذَ الْاَعَادِیْ 13
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں غیر معمولی تغیرات پیدا فرمائے گا۔ جن کے نتیجہ میں ہماری جماعت اتنی ترقی کرے گی کہ ساری دنیا کے لوگ اس میں داخل ہونے شروع ہو جائیں گے۔
اسی طرح اس شہادت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دشمنوں کو رسوا اور ناکام کرے گا اور ہمیں کامیابی اور غلبہ عطا فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو اور وہ ہمیشہ اسلام کے غلبہ اور احمدیت کی ترقی کے لئے آپ کو رات دن کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے یہاں تک کہ ساری دنیا میں احمدیت پھیل جائے۔ اور کیا عیسائی اور کیا یہودی اور کیا دوسرے مذاہب کے پیرو سب کے سب احمدی ہو جائیں۔ لیکن جب تک وہ وقت نہیں آتا تمہیں کم از کم پاکستان اور ہندوستان میں تو اپنے آپ کو پھیلانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کرشن کا اوتار بھی قرار دیا گیا ہے اور آپ کا الہام ہے کہ ”ہے کرشن رو در گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے“ 14
پس اگر دنیا نہیں تو کم سے کم ہندوستان کے ہندوؤں کو تو اسلام اور احمدیت میں داخل کرلو تاکہ اَصۡلُہَا ثَابِتٌ(14:25) کی مثال تم پر صادق آجائے اور وَّفَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ(14:25)۵ بھی اس کے نتیجے میں پیدا ہو جائے۔ آجکل ہندوستان میں خدا تعالیٰ کے فضل سے لوگوں کو احمدیت کی طرف بڑی رغبت پیدا ہو رہی ہے اور بڑے بڑے مخالف بھی احمدیت کے لٹریچر سے متاثر ہو رہے ہیں اور زیادہ اثر ان پر ہماری تفسیر کی وجہ سے ہوا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس اثر کو بڑھا دے تو لاکھوں لوگ ہماری جماعت میں داخل ہو سکتے ہیں۔ بے شک ہم میں کوئی طاقت نہیں لیکن ہمارے خدا میں بہت بڑی طاقت ہے۔ پس اُسی سے دعائیں کرو اور ہمیشہ اسلام کے جھنڈے کو دنیا کے تمام مذاہب کے جھنڈوں سے بلند رکھنے کی کوشش کرو۔‘‘ (الفضل ۲۸؍اکتوبر ۱۹۵۹ء)
10 : مسلم کـــتـــاب الـــفـــتـــن بــــاب قــــرب السَّــــاعَـة حدیث نمبر 7402 صفحہ 1279 الطبعة الثانية مطبوعه رياض 2000ء میں ” لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَىٰ شِرَارِ النَّاسِ “ کے الفاظ ہیں۔
11 : درّثمین اردو صفحہ 17
12 : الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 319
13 : درّثمین اردو صفحہ 50
14 : تذکرہ صفحہ 312 ایڈیشن چہارم 2004ء
15 : ابراھیم 25
(فرمودہ 22و24 جنوری 1960ء بر موقع جلسہ سالانہ ربوہ)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّىْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
نوٹ: افتتاحی خطاب جو قریباً پون گھنٹہ جاری رہا تا حال نہیں مل سکا۔ روزنامہ الفضل میں جو خلاصہ شائع ہوا وہ بدریں طور ہے۔
’’حضور نے کرسی پر بیٹھے بیٹھے احباب جماعت کو ایک ایمان افروز خطاب سے نوازا جس میں حضور نے اس امر پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ پھر جلسہ سالانہ کے مبارک موقع پر احباب جماعت کو ربوہ میں جمع ہونے اور خدائے واحد کے نام کی تقدیس بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ نیز حضور نے احباب جماعت کو نہایت اہم اور زریں ہدایات سے نوازتے ہوئے انہیں تلقین فرمائی کہ وہ اپنی نسلوں کے اندر اسلام اور احمدیت کی محبت پیدا کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ساری دنیا پر لہرانے لگے۔‘‘ (الفضل 28؍جنوری 1960ء صفحہ 1)
تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔
’’آج سب سے پہلے میں دوستوں کو یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس سال تفسیر کبیر کی ایک اَور جلد شائع ہو گئی ہے جو سورۃ فرقان اور سورۃ شعراء کی تفسیر پر مشتمل ہے۔ دوستوں کو چاہئے کہ وہ اس تفسیر کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں خریدیں اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ اگر اس وقت دوستوں نے تفسیر نہ خریدی تو بعد میں انہیں اس تفسیر کے نایاب ہونے پر افسوس ہوگا۔ جیسا کہ سورۃ یونس سے کہف تک کی تفسیر کے ختم ہونے پر دوستوں کو اس کا تجربہ ہو چکا ہے۔
مجھے یاد ہے ایک دفعہ عراق سے ایک دوست نے خط لکھا کہ میں نے آپ کی تفسیر ایک غیر احمدی کو پڑھنے کے لئے دی۔ کچھ عرصہ کے بعد اس کی تبدیلی ہوگئی تو میں نے اُس سے کتاب مانگی۔ اُس نے کہا کہ یہ کتاب میں نہیں دے سکتا۔ تم میرے پاس فروخت کر دو۔ آخر سَو روپے کو اُس غیر احمدی نے تفسیر کی کتاب خرید لی۔ اسی طرح ایک اَور دوست کی چٹھی آئی کہ مجھے اگر آپ پچاس روپے تک تفسیر کی کتاب خرید دیں تو میں روپیہ بھیجنے کے لئے تیار ہوں۔ اور پچیس پچیس روپیہ تک تو قادیان میں یہ کتاب عام فروخت ہو رہی تھی۔ اسی طرح حال ہی میں ہندوستان کے ایک مشہور رسالہ کے ایڈیٹر نے تفسیر کی ایک جلد پڑھ کر لکھا کہ یہ کتاب میں نے ایک احمدی دوست سے مستعار لی ہے جسے مجھ کو واپس کرنا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تفسیر مجھ سے کبھی جدا نہ ہو۔ پس اس تفسیر کا ہر گھر میں موجود ہونا ضروری ہے اور اسے ابھی سے خرید لینا چاہئے۔ اگر موجودہ تفسیر کی خریداری کی طرف جلد توجہ نہ کی گئی تو پھر اس تفسیر کا ملنا بھی اُسی طرح مشکل ہو جائے گا جس طرح پچھلی
تفسیر کا ملنا مشکل ہو گیا تھا۔
یہ تفسیر خدا تعالیٰ کے فضل سے قرآنی علوم و معارف کا ایک بہت بڑا خزانہ ہے اور جس قدر مستشرقین یورپ کی طرف سے اسلام پر اعتراضات کیے جاتے ہیں ان میں سے اکثر اعتراضات کا اس میں لطیف پیرایہ میں جواب دے دیا گیا ہے۔ اگر اس تفسیر کو پڑھ لیا جائے تو اسلام اور احمدیت کے متعلق کئی قسم کے نئے علوم حاصل ہوتے ہیں۔ اور انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس پر کیا ذمہ داریاں ہیں اور اسلام کی اشاعت اور دشمنانِ دین کے حملوں کے دفاع کے لئے اسے کیا طریق اختیار کرنا چاہئے۔
یہ تفسیر الشرکۃ الاسلامیہ والوں نے شائع کی ہے۔ اسی طرح تفسیر کی کچھ پہلی جلدیں بھی ان کے پاس موجود ہیں۔ دوستوں کو چاہئے کہ وہ اس کتاب کو جلد خرید لیں ایسا نہ ہو کہ کتاب ختم ہو جائے اور پھر انہیں افسوس ہو۔
اسی طرح اس سال ادارۃ المصنّفین نے تاریخ احمدیت کا دوسرا حصہ بھی شائع کر دیا ہے۔ گذشتہ سال اس کا پہلا حصہ شائع ہوا تھا۔ دوستوں کو چاہئے کہ وہ اس کتاب کو بھی خریدیں اور پڑھیں تاکہ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے واقعات کا علم ہو۔
اگر کتابیں تو چھپتی جائیں مگر فروخت نہ ہوں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔ پس دوستوں کو اس سال کے نئے لٹریچر سے جو مختلف اداروں کی طرف سے شائع ہوا ہے فائدہ اٹھانا چاہئے ۔ اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس کی اشاعت میں حصہ لینا چاہئے۔
اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کو اس غرض کے لئے قائم کیا ہے کہ دنیا میں اسلام اور احمدیت کی اشاعت کی جائے ۔ اور دنیا کے چپہ چپہ پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم کی جائے۔ یہی ہمارے تمام کاموں کا نقطۂ مرکزی ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کام کو ہمیشہ جاری رکھیں۔ یہاں تک کہ دنیا کا کوئی ملک اور کوئی گوشہ ایسا نہ ہو جہاں اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہ پہنچ جائے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 610ء میں دعویٰ نبوت فرمایا تھا اور 632ء میں آپؐ نے وفات پائی۔ گویا آپؐ نے دعویٰ نبوت کے بعد صرف 23 سال عمر پائی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس قلیل مدت میں ہی آپؐ کے کام اور کلام میں عظیم الشان برکت ڈالی۔ اور جو غیر معمولی کامیابی اس نے آپؐ کو بخشی وہ کسی اور نبی کو میسر نہیں آئی۔
احادیث میں لکھا ہے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر جب مدینہ کی حفاظت کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھدوانی شروع کی تو اچانک ایک پتھر ایسا آگیا جو کسی طرح ٹوٹنے میں نہیں آتا تھا۔ صحابہؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی تو آپ خود وہاں تشریف لے گئے اور کدال پکڑ کر زور سے اسے پتھر پر مارا۔ اس کے نتیجہ میں اس پتھر میں سے ایک روشنی نمودار ہوئی اور آپؐ نے فرمایا اَللّٰهُ اَکْبَرُ اور صحابہؓ نے بھی بلند آواز سے آپؐ کے ساتھ نعرہ تکبیر بلند کیا۔ پھر دوبارہ آپؐ نے کدال مارا تو پھر ایک روشنی نمودار ہوئی اور آپؐ نے فرمایا اَللّٰهُ اَکْبَرُ۔ اس پر صحابہؓ نے پھر بڑے زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ اس کے بعد آپؐ نے تیسری مرتبہ کدال مارا اور پھر اس پتھر میں سے روشنی نکلی اور آپؐ نے فرمایا اَللّٰهُ اَکْبَرُ اور ساتھ ہی صحابہؓ نے بھی نعرہ تکبیر بلند کیا۔ اور پتھر ریزہ ریزہ ہو گیا۔ جب پتھر ٹوٹ چکا تو صحابہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپؐ نے تین دفعہ اَللّٰهُ اَکْبَرُ کیوں کہا؟ آپؐ نے فرمایا کہ جب پہلی مرتبہ میں نے کدال مارا اور پتھر میں سے روشنی نکلی تو مجھے قیصر روم کے محلّات دکھائے گئے اور اُن کی کنجیاں میرے سپرد کی گئیں۔ پھر دوسری دفعہ کدال مارا اور روشنی نکلی تو مجھے مدائن کے سفید محلّات دکھائے گئے اور مملکتِ فارس کی کنجیاں مجھے دی گئیں۔ پھر تیسری دفعہ کدال مارا اور اس میں سے روشنی نمودار ہوئی تو مجھے صنعاء کے دروازے دکھائے گئے اور مملکتِ یمن کی کنجیاں میرے سپرد کی گئیں۱؎۔ چنانچہ انہی پیشگوئیوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے خلفاء راشدین کے زمانہ میں قیصر و کسریٰ کو زبردست شکست دی اور شاہانِ ایران اور یمن کی سرزمین پر اسلام کا جھنڈا لہرانے لگا۔ مگر افسوس کہ بعد میں مسلمانوں نے تبلیغ اور آپؐ کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے میں کوتاہی سے کام لیا اور اسلام کی اشاعت رک گئی ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ آج دنیا بھر میں مسلمان
عیسائیوں، ہندوؤں اور بدھوں وغیرہ سے بہت زیادہ نہ ہوتے۔ فطرتِ صحیحہ کے مطابق تعلیم کی اشاعت اگر زور سے کی جاتی تو یقیناً وہ انسانوں کو کھینچ لیتی۔ مگر افسوس کہ تبلیغِ اسلام کو انہوں نے فراموش کر دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دنیا میں کمزور ہوتے چلے گئے۔ اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اس غفلت کا ازالہ کریں اور ساری دنیا کو اسلام کی طرف کھینچ کر لے آئیں۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر قریباً چودہ سو سال گزر چکے ہیں مگر ابھی تک اسلام دنیا میں اقلیت ہے۔ عیسائیت کو 1959 سال گزر گئے مگر دنیا میں جتنی عیسائیت پھیلی ہے اُس کو دیکھتے ہوئے کہنا پڑتا ہے کہ عیسائیوں نے زیادہ وفاداری سے کام لیا ہے۔ مسلمان اب تک بھی صرف عرب، شام اور ایران میں ہی زیادہ ہیں ورنہ ہندوستان میں وہ کم ہیں۔ روس میں وہ کم ہیں، جاپان میں وہ کم ہیں، آسٹریلیا میں وہ کم ہیں۔ تھائی لینڈ میں وہ کم ہیں، جرمنی میں وہ کم ہیں، ناروے اور سویڈن میں وہ کم ہیں، فرانس میں وہ کم ہیں، سپین میں وہ کم ہیں، امریکہ میں وہ کم ہیں، فلپائن میں وہ کم ہیں حالانکہ فلپائن میں اسلام بڑی دیر سے قائم ہو چکا ہے۔
اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اس غفلت کا علاج کریں۔ اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کو برتری بخشی ہے ہم اُسے دنیا میں بھی برتر کر کے چھوڑیں۔ یہاں تک کہ تمام مذاہب یہ اقرار کرنے پر مجبور ہوں کہ اسلام کا مقابلہ ہم نہیں کر سکتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا نور ساری دنیا میں پھیل جائے۔
اللہ تعالیٰ کا فضل اور اُس کا احسان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس زمانہ میں تبلیغِ اسلام کی آگ لوگوں کے دلوں میں پھر بھڑکائی اور آپ نے اپنے انفاسِ قدسیہ سے ایک ایسی جماعت پیدا کر دی جو اسلام کو تمام دنیا میں پھیلانے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔ مگر اس کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ابھی سارا ہندوستان باقی ہے، سارا انگلستان باقی ہے، سارا روس باقی ہے، سارا فرانس باقی ہے، سارا اسکنڈے نیویا باقی ہے، سارا جرمنی باقی ہے، سارا آسٹریلیا باقی ہے۔ اس کوتاہی کا علاج ہم نے کرنا ہے اور ہم نے ہی ساری دنیا کو حلقہ بگوشِ اسلام بنانا ہے۔ پس ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی کوششوں کو
تیز سے تیز تر کرتے چلے جائیں اور اسلام کے غلبہ کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ مسیحِ محمدی مسیحِ موسوی سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہے 2؎۔ پس اگر مسیح موسوی کی امت 1959 سال سے دنیا پر غالب چلی آرہی ہے تو ہم امید کرتے ہیں کہ مسیحِ محمدی کے ماننے والوں کو کم از کم چار ہزار سال تک دنیا پر غلبہ حاصل رہے گا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ غلبہ عطا کر دے تو یہ اس کا احسان ہے، بہرحال تبلیغِ اسلام کا کام ہماری زندگیوں تک محدود نہیں بلکہ ہم سب کے مرنے کے بعد بھی ہزاروں سال تک جاری رہے گا۔ اس عرصہ میں ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت باقی تمام فرقوں اور مذہبوں پر چھا جائے گی اور اسلام دنیا میں کامل طور پر غالب آجائے گا۔
میں اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام اولاد کو خواہ وہ آپ کے بیٹے ہیں یا پوتے اور نواسے یہ ہدایت کرتا ہوں کہ وہ میرے سامنے اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اس بات کا اقرار کریں کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو خدمتِ دین میں لگائے رکھیں گے اور اپنی آئندہ نسلوں کو بھی احمدیت کی تبلیغ کی طرف توجہ دلاتے رہیں گے اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رکھیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ مگر چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر سچے دل سے ایمان لانے والے تمام احمدی بھی خواہ کسی جگہ کے رہنے والے ہوں آپ کے روحانی بیٹے ہیں اس لئے جماعت احمدیہ کے تمام دوستوں کو چاہئے کہ وہ بھی اس عہد میں شامل ہوں۔
میں اس وقت عہد کے الفاظ دہراؤں گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے تمام افراد اور آپ کے روحانی بیٹے کھڑے ہو جائیں اور اس عہد کو دہرائیں۔ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ ہم اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم اسلام اور احمدیت کی اشاعت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے اپنی زندگیوں کے آخری لمحات تک کوشش کرتے چلے جائیں گے۔ اور اس مقدس فرض کی تکمیل کے لئے ہمیشہ اپنی زندگیاں خدا اور اس کے رسولؐ کے لئے وقف رکھیں گے۔ اور ہر بڑی سے بڑی قربانی پیش کر کے قیامت تک اسلام کے جھنڈے کو دنیا کے ہر ملک میں اونچا رکھیں گے۔
ہم اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ ہم نظامِ خلافت کی حفاظت اور اس کے استحکام کے لئے آخر دم تک جدوجہد کرتے رہیں گے اور اپنی اولاد در اولاد کو ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے اور اس کی برکات سے مستفیض ہونے کی تلقین کرتے رہیں گے تاکہ قیامت تک خلافتِ احمدیہ محفوظ چلی جائے اور قیامت تک سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ اسلام کی اشاعت ہوتی رہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہرانے لگے۔ اے خدا! تُو ہمیں اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ۔
یہ اقرار جو اس وقت آپ لوگوں نے کیا ہے اگر اس کے مطابق قیامت تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جسمانی اور روحانی اولاد اشاعتِ اسلام کے کام میں مشغول رہے تو یقیناً احمدیت تمام دنیا پر چھا جائے گی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہرانے لگے گا۔
دیکھو! حضرت مسیحؑ کے زمانہ پر 1959 سال گزر چکے ہیں مگر مسیحی اب تک اپنے مذہب پر قائم ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر تو ابھی بہت تھوڑی مدت گزری ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1908ء میں فوت ہوئے اور اب 1960ء ہے۔ گویا آپ کی وفات پر ابھی صرف 52 سال گزرے ہیں۔ اسی طرح یہودیوں کو لو تو اُن کے زمانہ پر تین ہزار چار سو سال گزر چکے ہیں مگر پھر بھی وہ یہودیت پر قائم ہیں اور اُن کے استقلال کو دیکھ کر عیسائی بھی ان کی مدد کر رہے ہیں۔ چنانچہ جب نہر سویز کا جھگڑا پیدا ہوا اور مسلمانوں نے یہودیوں کو روکا تو انگریزوں نے جو عیسائی ہیں یہودیوں کی مدد کی۔ آپ لوگ تو محمدی مسیح کے تابع ہیں اور محمد رسول اللہ موسیٰؑ سے اور آپ کا موعود خلیفہ مسیح موعود مسیح ناصری سے بہت بڑھ کر تھا۔ اگر آج ساری دنیا میں مسیح ناصری کی حکومت قائم ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کیوں قائم نہیں ہو سکتی۔ جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ لَوْ کَانَ مُوْسٰی وَ عِیْسٰی حَیَّیْنِ لَمَا وَسِعَھُمَا اِلَّا اتِّبَاعِیْ۳
یعنی اگر موسیٰؑ اور عیسیٰؑ زندہ ہوتے تو انہیں میری اتباع کے بغیر کوئی چارہ نہ ہوتا۔ اگر موسیٰؑ اور عیسیٰؑ جیسے نبیوں کو بھی محمد رسول اللہ کی اطاعت کے بغیر چارہ نہ تھا تو اُن کی امتوں پر آپؐ کی اطاعت کیوں لازمی نہ ہوگی۔
پس آپ کو ہمت دکھانی چاہئے اور پھر دعائیں بھی کرنی چاہئیں کیونکہ محض ہمت سے کچھ نہیں بنتا۔ اصل چیز دعا ہی ہے۔ پس دعائیں کرو اور پھر دعائیں کرو اور پھر دعائیں کرو۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے چپے چپے پر احمدیت پھیلا دے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ پیشگوئی پوری ہو جائے اور اسلام دنیا پر اتنا غالب آجائے گا کہ باقی لوگ حقیر اور ذلیل ہو کر رہ جائیں گے۔
اگر چار پانچ ہزار سال تک آپ لوگ اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے کوشش کرتے رہیں تو امید ہے کہ دنیا کے چپے چپے پر احمدیت پھیل جائے گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الوصیت میں تحریر فرمایا ہے کہ تبلیغ اسلام کا کام صرف ایک نسل کا نہیں بلکہ ہم سب کے مرنے کے بعد بھی جاری رہے گا۴؎ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر ابھی صرف 52 سال ہوئے ہیں اور صرف پہلی نسل گزر رہی ہے۔ اگر موسیٰؑ کی امت تین ہزار چار سو سال تک اپنے مذہب پر قائم رہ سکتی ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کیوں اس سے زیادہ عرصہ تک اسلام پر قائم نہیں رہ سکتی۔
پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے داؤدؑ بھی قرار دیا ہے بلکہ آپؐ فرماتے ہیں:
اک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے
میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار5؎
اس کے معنے یہ ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد میں بھی حضرت داؤدؑ کی شان جیسے آدمی پیدا ہوں گے اور دنیا میں ہر جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روحانی اور جسمانی اولاد پھیل جائے گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو وفات پا چکے ہیں۔ اب یہ ہم لوگوں کا جو اُن کی جماعت میں سے ہیں کام ہے کہ ہم آپ کے نام اور اسلام کو دنیا کے کناروں تک پہنچائیں۔ یہاں تک کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا موسیٰؑ اور
ان کے خلیفہ مسیح ناصری کے نام لیواؤں سے ہزاروں گنا بڑھ جائیں۔
میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اس بات کی توفیق عطا فرمائے اور سستیوں اور غفلتوں سے بچائے اور سچا مسلمان اور سچا احمدی بنائے ۔ اور قیامت تک آپ لوگوں کو عزت بخشے اور قیامت تک احمدیت چلتی چلی جائے۔ اور اگر آپ لوگ اپنے ایمانوں پر قائم رہیں گے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوتے رہیں گے تو یقیناً خدا تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا۔ اور قیامت تک خدا تعالیٰ آپ کو اونچا رکھے گا۔ کیونکہ خاتم النبیین کے معنے ہم نبیوں کی مہر کے کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ قیامت تک صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی زمانہ ہے۔ بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ اِلَّا عَلٰی اَشْرَارِ النَّاسِ۶ یعنی قیامت بُرے لوگوں پر آئے گی۔ مگر میں یہ نہیں چاہتا کہ آپ اَشْرَارُ النَّاسِ بنیں بلکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ لوگ ہمیشہ اخیار نام کے مستحق رہیں۔ اور اگر آپ لوگ توبہ واستغفار میں مشغول رہیں تو جس خدا نے اپنے رسول کو یہ خبر دی تھی وہ اسے اشرار کی بجائے اخیار میں بھی بدل سکتا ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ قیامت تک آپ لوگوں کے ذریعہ سے نیکی کا سلسلہ قائم رہے اور قیامت اشرار پر نہیں بلکہ اخیار پر آئے۔ آخر آپ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے امتِ محمدیہ کے متعلق قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ(3:111)۷ پس اس آیت کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اشرار الناس نہیں ہوگی بلکہ وہ قیامت تک اَخْیَارُ النَّاسِ ہی ہوگی۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی فرماتے ہیں:
ہم ہوئے خیرِ اُمَم تجھ سے ہی اے خیرِ رُسُل
تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے 8
مگر اس غرض کے لئے ضروری ہے کہ آپ لوگ اپنی طاقتوں کو لوگوں کے فائدہ کے لئے استعمال کریں اور اپنی شان نہ بڑھائیں بلکہ بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچائیں۔ کیونکہ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ(3:111) کے معنے یہ ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت تمام انسانوں کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے اور اگر تم سارے انسانوں کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے تو کم سے کم
اپنی جماعت کی ترقی کے لئے تو کوشش کرو۔ پھر آپ کو خدا تعالیٰ اس بات کی بھی توفیق عطا فرما دے گا کہ آپ تمام بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے کام کریں۔ میں نے خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کا قیام اِسی غرض کے لئے کیا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے جہاں جہاں کام کر رہے ہیں لوگوں کے دلوں میں جماعت کی عزت بڑھ رہی ہے۔
پس دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اتنا بڑھائے کہ دنیا کے تمام مذاہب کے پیرو اس کی عظمت کو تسلیم کرنے لگیں اور ہندوؤں اور سکھوں میں بھی اسلام پھیلنا شروع ہو جائے اور وہ بھی کثرت کے ساتھ اسلام میں داخل ہونے لگیں۔
حضرت مسیح کے واقعۂ صلیب پر 1959 سال گزر چکے ہیں اور عیسائیت اب تک پھیل رہی ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو مسیحؑ کے استاد حضرت موسیٰ سے بھی بڑے تھے ان کے ماننے والے بھی کم ہیں۔ اگر آپ لوگ کمرِ ہمت کس لیں اور عیسائیوں اور یہودیوں اور ہندوؤں کی طرف توجہ شروع کر دیں تو یقیناً امتِ محمدیہ اپنی کثرتِ تعداد میں امتِ عیسویہ اور امتِ موسویہ دونوں سے بڑھ جائے گی۔
تاریخ میں لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک یہودی اپنے ایک بھائی کے ساتھ آپ کے پاس آیا اور آپ سے گفتگو کرتا رہا۔ جب وہ آپ سے باتیں کر کے واپس لوٹا تو دوسرے بھائی نے اُس سے پوچھا کہ بتاؤ تمہارا اس کے متعلق کیا خیال ہے؟ وہ کہنے لگا یہ ہے تو وہی جس کی موسیٰ نے خبر دی تھی مگر جب تک دم میں دم ہے ہم نے ماننا نہیں۔ پس ضد کی اور بات ہے۔ لیکن اگر خدا دلوں کو بدلنا چاہے تو بدل سکتا ہے۔ سو تبلیغ بھی کرو اور دعائیں بھی کرو تا کہ جو لوگ عیسائیوں اور یہودیوں میں سے محض ضد کی وجہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتے وہ بھی آپ کو ماننے لگ جائیں۔ اسی طرح ہندوؤں اور سکھوں میں سے بھی جو لوگ ضد کی وجہ سے انکار پر مُصر ہیں وہ بھی سچائی کو ماننے لگ جائیں اور ہم قیامت کے دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہہ سکیں کہ اے خدا کے مقدس رسول! تیری لائی ہوئی تعلیم تو سب تعلیموں سے بہتر تھی مگر مسلمانوں کی غفلت کی وجہ سے عیسائیت دنیا میں غالب تھی۔ اور تیرے ماننے والے عیسائیوں اور مشرکوں کے تابع تھے۔ ہمیں خدا نے ہمت اور توفیق بخشی کہ ہم نے خدائے پاک کا نام اور اس کی سچی تعلیم دنیا میں پھیلائی اور ہزاروں لاکھوں عیسائیوں اور ہندوؤں کو کھینچ کر اسلام کی طرف لے آئے۔ یہ محض خدا تعالیٰ کا احسان تھا ورنہ ہماری مقدرت نہ تھی کہ ایسا کر سکتے۔ اے خدا کے مقدّس رسولؐ! جس طرح خدا تعالیٰ کی بادشاہت آسمان پر ہے اُسی طرح ہم نے تیری دعاؤں کی برکت سے اور تیرے دل کے درد کی برکت سے اُس کو دنیا میں قائم کیا اور اب ساری دنیا شرک سے متنفّر اور توحیدِ کامل کی عاشق ہے۔ ہم تجھ سے صرف اتنا چاہتے ہیں کہ تُو اپنے خدا سے یہ عرض کر کہ ان غریب اور کمزور بندوں نے تیرے اور میرے نام کو دنیا میں قائم کیا اور سچائی کی طرف لوگوں کو کھینچ لائے اب تُو بھی ان کو بخش دے اور ان کے گناہوں سے درگزر فرما۔ اگر کمزور اور ناطاقت ہوتے ہوئے انہوں نے اتنی بڑی قربانی کی ہے تو اے خدا! تُو تو غفور و رحیم اور طاقتور خدا ہے تُو ان کو کیوں عزت نہیں بخش سکتا۔ تیری شان یہی ہے اور تیرا مقام یہی ہے اس سے تھوڑا دینا تیری شان کے خلاف ہے۔ پس ان کی کوششوں کو بار آور کر اور انہیں رتبہ اور بڑائی بخش۔ کیونکہ یہ تیری شان کے مطابق ہے اور ان کی خدمات کا یہی تقاضا ہے۔ مسیح موعود کو تُو نے اسی لئے مبعوث کیا تھا اور اس کی جماعت نے یہ کام کر کے دکھا دیا۔ پس میرے تخت کے نیچے مسیح موعود کا تخت بچھا اور اس کو اور اس کے اتباع کو عزت بخش۔ اگر ان لوگوں نے کمزور اور بے بس ہوتے ہوئے یہ قربانیاں کی ہیں تو اے خدا! تُو رحمان اور رحیم ہوتے ہوئے اور قادرِ مطلق ہوتے ہوئے اس سے لاکھوں گنا زیادہ انعام انہیں کیوں نہیں دے سکتا۔
یہ مقصد ہے جو ہماری جماعت کو ہمیشہ اپنے مدّنظر رکھنا چاہئے اور اپنی نسلوں درنسلوں کو قیامت تک یہ فرض یاد دلاتے رہنا چاہئے۔
اسی طرح آئندہ خلفاء کو بھی وصیت کرتا ہوں کہ جب تک دنیا کے چپّہ چپّہ میں اسلام نہ پھیل جائے اور دنیا کے تمام لوگ اسلام قبول نہ کر لیں اُس وقت تک اسلام کی تبلیغ میں وہ کبھی کوتاہی سے کام نہ لیں۔ خصوصاً اپنی اولاد کو میری یہ وصیت ہے کہ وہ قیامت تک اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھیں اور اپنی اولاد در اولاد کو نصیحت کرتے چلے جائیں کہ انہوں نے اسلام کی تبلیغ کو کبھی نہیں چھوڑنا اور مرتے دم تک اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھنا ہے۔
اِسی مقصد کو پورا کرنے اور اسلام کے نام کو پھیلانے کے لئے میں نے تحریکِ جدید جاری کی ہے جو پچیس سال سے جاری ہے اور جس کے ماتحت آج دنیا بھر کے تمام اہم ممالک میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے تبلیغی مشن قائم ہیں اور لاکھوں لوگوں تک خدا اور اس کے رسول کا نام پہنچایا جا رہا ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تبلیغی مراکز کو وسیع کرنے اور مبلّغین کا جال پھیلانے میں ہمیں خدا تعالیٰ نے بڑی بھاری کامیابی عطا کی ہے۔ مگر ابھی اس میں مزید ترقی کی بڑی گنجائش ہے اور ابھی ہمیں ہزاروں واقفینِ زندگی کی ضرورت ہے جو دنیا کے چپے چپے پر اسلام کی تبلیغ کریں۔ ہماری جماعت اب خدا تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں کی ہے اور لاکھوں کی جماعت میں ساٹھ ہزار واقفینِ زندگی کا میسر آنا کوئی مشکل امر نہیں۔ اور اگر ایک آدمی سو احمدی بنائے تو ساٹھ ہزار واقفینِ زندگی کے ذریعہ ساٹھ لاکھ احمدی ہو سکتا ہے۔ پھر ساٹھ لاکھ میں سے چار پانچ لاکھ مبلّغ بن سکتا ہے۔ اور چار پانچ لاکھ مبلّغ چار پانچ کروڑ احمدی بنا سکتا ہے۔ اور چار پانچ کروڑ احمدی اگر زور لگائے تو وہ اپنی تعداد کو چار پانچ ارب تک پہنچا سکتا ہے جو ساری دنیا کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ لیکن دوستوں کو یہ امر بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے کرشن بھی قرار دیا ہے اور آپ کا الہام ہے کہ ’’ہے کرشن رُودر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے 9؎۔‘‘ اس الہام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کرشن اور رُودر گوپال قرار دیا گیا ہے۔ رُودر کے معنے ہوتے ہیں درندوں اور سُوروں کو قتل کرنے والا۔ اور گوپال کے معنے ہوتے ہیں گائیوں کو پالنے والا۔ یعنی نیک طبع لوگوں کی خدمت کرنے والا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ مسیح موعود ایک طرف تو دلائل اور نشانات سے اپنے دشمنوں کو ہلاک کرے گا
اور دوسری طرف اپنے انفاسِ قدسیہ سے نیک اور پاک لوگوں کی روحانی تقویت اور ان کے ایمانوں کی زیادتی کا موجب ہوگا۔
احادیث میں بھی مسیح موعود کے متعلق آتا ہے کہ يَقْتُلُ الْخِنْزِيْرَ وَ يَكْسِرُ الصَّلِيْبَ 10 یعنی مسیح موعود خنزیری طبع لوگوں کو جو سیدھا حملہ کرتے ہیں اپنے دلائل اور نشانات سے ہلاک کرے گا اور عیسائیت کے زور کو توڑ دے گا۔
دلّی میں ایک بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں۔ انہوں نے ایک دفعہ کشف میں دیکھا کہ حضرت کرشنؔ آگ کے اندر جل رہے ہیں اور حضرت رام چندر جیؔ اس کے کنارہ پر کھڑے ہیں۔ وہ بزرگ یہ نظارہ دیکھ کر گھبرا گئے اور چونکہ وہ حضرت کرشنؔ اور حضرت رام چندرؔ دونوں کو بزرگ اور خدا رسیدہ انسان سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے کسی اور بزرگ سے اس کی تعبیر پوچھی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت کرشنؔ کو آگ کے اندر دیکھنے کی تعبیر ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے عشق میں بہت بڑھے ہوئے تھے اور حضرت رام چندرؔ کو کنارہ پر دیکھنے کی تعبیر ہے کہ اُن کے دل میں اُتنا عشق نہیں تھا جتنا حضرت کرشنؔ کے دل میں تھا۔
بہر حال اس الہام سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دل میں خدا تعالیٰ کی بے انتہا محبت تھی کیونکہ آپ کو الہام میں کرشن قرار دیا گیا ہے۔ اور اس بزرگ کے کشف اور تعبیر میں یہی بتایا گیا ہے کہ حضرت کرشنؔ خدا تعالیٰ کی محبت میں بہت بڑھے ہوئے تھے۔ اور اس الہام میں آپ کو گوپال قرار دے کر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہندوؤں میں جو لوگ نیک طبع اور شریف ہوں گے اُن کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت کے لوگ مدد کریں گے۔ گائے سؤر کی طرح حملہ نہیں کرتی اور پھر وہ گوشت نہیں کھاتی بلکہ سبزی کھاتی ہے۔ پس آپ کو گوپال کہہ کر اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو لوگ گائے کی سی طبیعت رکھنے والے ہوں گے یعنی نرم مزاج اور نیک اور شریف لوگ ہوں گے خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کی جماعت اُن کی مدد کرے گی اور اُن سے ہمدردی رکھے گی۔ ابھی تو دنیا میں عیسائیت کا غلبہ ہے اور ہماری اتنی بھی تعداد نہیں کہ ہم ہندوؤں پر غالب آجائیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کا کرشن نام رکھنا بتاتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہندوؤں پر بھی غالب آجائیں گے اور يَكْسِرُ الصَّلِیْبَ بتاتا ہے کہ ہم ساری دنیا کے عیسائیوں سے بھی بڑھ جائیں گے۔
پس جو لوگ ہجرت کے بعد پاکستان آگئے ہیں وہ پاکستان میں احمدیت کو پھیلانے کی کوشش کریں۔ اور جو لوگ ہندوستان میں رہتے ہیں وہ ہندوستان میں اسلام پھیلانے کی کوشش کریں۔ اور بیرونی ممالک کے مبلغین یورپ اور امریکہ میں اسلام پھیلانے کی کوشش کریں یہاں تک کہ ساری دنیا احمدی ہو جائے کیونکہ ہم خدا تعالیٰ کے غلام ہیں کسی ملک یا قوم کے طرفدار نہیں۔
لطیفہ مشہور ہے کہ کسی راجہ نے ایک دن بینگن کا بھرتہ کھایا جو اُسے بڑا مزیدار معلوم ہوا اور اُس نے دربار میں آکر تعریف کی کہ بینگن بڑا مزیدار ہوتا ہے۔ اس پر ایک درباری کھڑا ہو گیا اور اُس نے بینگن کے فوائد گنوانے شروع کر دیئے اور کہا کہ حضور! طب کی کتابوں میں اس کا یہ فائدہ بھی لکھا ہے اور وہ بھی لکھا ہے۔ اور آخر میں کہنے لگا جناب! اس کی شکل بھی تو دیکھیں کہ کیسی پاکیزہ ہے۔ جب یہ بیل سے لٹکا ہوا ہو تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی صوفی منش بزرگ سبز جامہ پہن کر گوشۂ تنہائی میں خدا تعالیٰ کی عبادت کر رہا ہے۔ مگر پھر چند دن راجہ نے مسلسل بینگن کھائے تو اُسے بواسیر کی شکایت ہو گئی۔ اور اس نے دربار میں آ کر کہا کہ ہم تو سمجھتے تھے کہ بینگن اچھی چیز ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اچھی چیز نہیں ہے۔ اس پر وہی درباری کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا حضور! بینگن بھی کوئی کھانے کی چیز ہے۔ طبّی کتابوں میں اس کی یہ خرابی بھی لکھی ہے اور وہ خرابی بھی لکھی ہے۔ اور پھر کہنے لگا حضور! اس کی شکل بھی تو دیکھیں کہ کیسی منحوس ہے۔ یہ بیل سے لٹکا ہوا یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کسی چور کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر اور اس کا منہ کالا کر کے اسے پھانسی پر لٹکایا ہوا ہو۔ کسی نے اسے کہا کہ کمبخت! پہلے تو تُو نے اس کی اتنی تعریف کی تھی اور آج اتنی مذمت کر رہا ہے۔ وہ کہنے لگا میں راجہ کا نوکر ہوں بینگن کا نوکر نہیں۔ ہم بھی خدا کے نوکر ہیں کسی بندے یا قوم کے نوکر نہیں۔ جدھر ہمارا خدا ہو گا اُدھر ہی ہم ہوں گے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک صحابی میاں نظام الدین صاحب ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے جب شروع شروع میں سنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کہتے ہیں حضرت عیسیٰؑ فوت ہو گئے ہیں تو چونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پرانے دوستوں میں سے تھے وہ قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کہنے لگے کہ قرآن کریم سے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا ثابت ہے آپ یہ کس طرح کہتے ہیں کہ وہ فوت ہو گئے ہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اگر قرآن کریم سے ثابت ہو جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو میں مان لوں گا۔ میاں نظام الدین صاحب کہنے لگے اگر میں سَو آیتیں ایسی لا دوں جن سے ثابت ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو کیا آپ مان لیں گے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ میاں صاحب! سَو آیت کا کیا سوال ہے آپ ایک آیت بھی لے آئیں تو میں مان لوں گا اور اپنے عقیدہ سے توبہ کرلوں گا۔ میاں نظام الدین صاحب کہنے لگے اچھا اگر سَو نہیں تو میں دس آیتیں تو ضرور نکلواؤں گا۔ چنانچہ وہ مولوی محمد حسین صاحب کے پاس بٹالہ گئے۔ وہاں سے پتا لگا کہ مولوی صاحب لاہور گئے ہوئے ہیں۔ چنانچہ وہ لاہور گئے۔ اُن دنوں حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ قادیان آنے کے لئے لاہور آئے ہوئے تھے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اشتہار دینے شروع کئے تھے کہ میرے ساتھ وفات و حیاتِ مسیح پر مباحثہ کر لو اور شرائطِ مناظرہ طے ہو رہی تھیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ فرماتے تھے کہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں صرف قرآن کریم پیش کیا جائے اور مولوی محمد حسین صاحب کہتے تھے کہ حدیثیں پیش کی جائیں۔ آخر حضرت خلیفہ اول نے بحث کو چھوٹا کرنے کے لئے فرمایا چلو بخاری کی احادیث پیش کر دی جائیں۔ اس پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بڑے خوش ہوئے اور انہوں نے سمجھا کہ میری فتح ہوئی ہے۔ جب میاں نظام الدین صاحب لاہور پہنچے تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اہلحدیث کی مسجد میں اپنے دوستوں میں بیٹھے تھے اور کہہ رہے تھے کہ دیکھو! ایک طرف سے مرزا صاحب کا پہلوان نورالدین نکلا اور دوسری طرف سے اہلحدیث کے پہلوان کے طور پر میں کھڑا ہوا۔ میں نے کہا حدیث اُس نے کہا قرآن۔ میں نے کہا حدیث اُس نے کہا قرآن۔ اور دونوں اس پر اصرار کرتے رہے۔ آخر میں نے اُسے یوں پچھا اور یوں رگیدا اور اس طرح گرایا کہ اُسے ماننا پڑا۔ اور کہنے لگا کہ بخاری بھی پیش کر سکتے ہو۔ اتنے میں میاں نظام الدین صاحب جا پہنچے اور کہنے لگے جانے دیں اِس بحث کو۔ میں تو مرزا غلام احمد صاحب کو بھی جو مولوی نور الدین صاحب کے سردار ہیں منوا آیا ہوں۔ مولوی محمد حسین صاحب نے کہا کیا منوا آئے ہو؟ میاں نظام الدین نے کہا مرزا صاحب تو کہتے تھے کہ ایک آیت ہی کافی ہے لیکن میں کہہ آیا ہوں کہ حیاتِ مسیح کے ثبوت میں میں دس آیات لکھوا کر لا دیتا ہوں۔ اس لئے آپ جلدی سے مجھے حیاتِ مسیح کے ثبوت میں قرآن کریم کی دس آیتیں لکھ دیں۔
مولوی محمد حسین صاحب تو فخر کر رہے تھے کہ میں نے مولوی نور الدین کو یوں پچھا اور یوں پچھاڑا اور یوں دلیلیں دیں آخر وہ حدیث کی طرف آگئے۔ میاں نظام الدین صاحب کی بات سن کر انہیں غصہ آ گیا اور وہ کہنے لگے بے وقوف کہیں کا۔ میں مہینہ بھر نور الدین کے ساتھ بحث کرتا رہا اور آخر اُسے اس طرف لایا کہ حدیث پیش کی جائے گی اور تُو پھر بحث کو قرآن کی طرف لے گیا ہے۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا یہ فقرہ میاں نظام الدین صاحب کو اس طرح چُبھا کہ وہ اُسی وقت کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے اچھا مولوی صاحب! پھر جدھر قرآن اُدھر میں۔ اگر قرآن مرزا صاحب کے ساتھ ہے تو میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں۔ اور یہ کہہ کر وہ واپس آگئے اور قادیان آ کر بیعت کر لی۔
پس ہم بھی اُدھر ہی ہوں گے جدھر قرآن ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ نے اسلام کو تمام دنیا کے لئے نازل کیا ہے اس لیے ساری دنیا میں ہی اسلام کی اشاعت کرنا ہمارا فرض ہے۔ کسی خاص قوم یا ملک تک ہماری مساعی محدود نہیں رہنی چاہئیں۔ لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس وقت مقدم ہندوستان ہے جس میں ہمارا اصل مرکز ہے اور جس کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کرشن قرار دیا گیا ہے۔ جس درخت کا تنا مضبوط ہوتا ہے اُس کی شاخیں بھی وسیع ہوتی ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصۡلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ(14:25) یعنی کلمہ طیبہ کی مثال ایک ایسے درخت کی سی ہے جس کا تنا مضبوط ہو اور اُس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہوں۔ پس آپ لوگ پہلے پاکستان اور ہندوستان کو احمدی بنائیں اور جب یہ لوگ احمدی ہو گئے تو خود بخود چندے بھی دیں گے اور غیر ملکوں میں بھی اسلام کی اشاعت کے لئے اپنے آدمی بھجوانا شروع کر دیں گے۔ اور وَّفَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ(14:25) کے مطابق آپ لوگ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کریں گے اور آپ کی دعائیں کثرت سے قبول ہونے لگیں گی۔
پس ہندوستان میں بھی تبلیغِ اسلام کو وسیع کرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔ آج ہندوستان میں جو کروڑوں مسلمان پائے جاتے ہیں یہ کہیں باہر سے نہیں آئے بلکہ خود ہندوؤں میں سے ہی نکل کر آئے ہیں۔ ورنہ جو مسلمان باہر سے ہندوستان میں آئے تھے وہ بہت قلیل تھے۔
پس ہمارا فرض ہے کہ ہم ہندوستان میں بھی تبلیغِ اسلام پر زور دیں۔ اس ملک کی ترقی اور عظمت کے قیام کے لئے مسلمانوں نے آٹھ سو سال تک کوشش کی ہے اور ہندوستان کے چپہ چپہ پر ان محبّانِ وطن کی لاشیں مدفون ہیں جنہوں نے اس کی ترقی کے لئے اپنی عمریں خرچ کر دی تھیں۔ پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اسلام کے خوبصورت اصول پیش کر کے ہندوؤں اور سکھوں کو بھی اپنا جزو بنانے کی کوشش کریں۔ جب تک ہم ہندوؤں میں تبلیغ نہیں کریں گے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرشن ثابت نہیں ہو سکتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جس طرح مسیح اور مہدی قرار دے کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ آپ کی جماعت کو مسیحیوں پر بھی غلبہ ملے گا اور مسلمانوں کو بھی آپ کے ذریعہ ہدایت حاصل ہوگی اسی طرح آپ کو کرشن قرار دے کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ہندوؤں میں بھی آپ کی تعلیم کی قبولیت پھیلے گی۔ چنانچہ جو دوست قادیان میں رہتے ہیں انہوں نے بتایا ہے کہ ہندوؤں اور سکھوں میں اور اسی طرح مسلمانوں میں بھی احمدیت کی طرف بڑی رغبت پیدا ہو رہی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ایک دفعہ الہام ہوا کہ
”پھر ایک دفعہ ہندو مذہب کا اسلام کی طرف زور کے ساتھ رجوع ہوگا۔‘‘12
اور یہ ظاہر ہے کہ جب اُن کا اسلام کی طرف رجوع ہوگا تو چونکہ احمدیت اسلام سے جدا نہیں اس لئے لازماً وہ لوگ احمدیت کو قبول کریں گے اور بجائے دشمن ہونے کے قادیان کو آباد کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہماری عمریں تو محدود ہیں، ہماری اصل تمنا یہی ہے کہ اسلام اور احمدیت دنیا میں پھیلے اور ہمیں خدا تعالیٰ کے وعدوں سے یہ امید ہے کہ ہماری عمروں میں ہی اسلام دنیا کے کناروں تک پھیل جائے گا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بتایا گیا تھا کہ مصلح موعود کے زمانہ میں اسلام بہت ترقی کرے گا۔ مگر اس کے لئے یہ ضروری شرط ہے کہ آپ لوگ اپنے ایمانوں کو مضبوط کرتے جائیں اور اپنی اولادوں کے اندر بھی اس کو راسخ کرتے جائیں تاکہ آپ کی ترقی آپ کی ترقی نہ ہو بلکہ اسلام کی ترقی ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کی ترقی ہو۔‘‘
اسی طرح آپؐ نے فرمایا:
’’دو دفعہ ہم نے رؤیا میں دیکھا کہ بہت سے ہندو ہمارے آگے سجدہ کرنے کی طرح جھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اوتار ہیں اور کرشن ہیں اور ہمارے آگے نذریں دیتے ہیں۔13
اس سے پتا لگتا ہے کہ ہندوؤں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت قائم ہو جائے گی اور سارا ہندوستان آپ کے کرشن ہونے کے لحاظ سے اور ساری دنیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہونے کے لحاظ سے آپ کے تابع ہو جائے گی۔ پس ہمارا فرض ہے کہ ہم ایک طرف تو یورپ اور امریکہ والوں کو بتائیں کہ اسلام سچا مذہب ہے اور اس کے قبول کرنے میں ہی تمہاری نجات ہے اور دوسری طرف ہندوؤں میں تبلیغِ اسلام پر زور دیں اور انہیں اسلام میں داخل کرنے کی کوشش کریں اور اُس وقت تک صبر نہ کریں جب تک ساری دنیا کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا کر نہ ڈال دیں۔
اِسی غرض کے لئے میں نے جماعت میں تحریکِ جدید کے علاوہ وقفِ جدید کی تحریک بھی جاری کی ہوئی ہے تاکہ سارے پاکستان میں ایسے معلمین کا جال بچھ جائے جو لوگوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کریں اور انہیں اسلام اور احمدیت کی تعلیم سے روشناس کریں۔
مگر یہ کام صحیح طور پر تبھی ہو سکتا ہے جب کم از کم ایک ہزار معلّم ہوں اور ان کے لیے اخراجات کا اندازہ بارہ لاکھ روپے ہے۔ بارہ لاکھ روپیہ کی رقم مہیا کرنا جماعت کے لئے کوئی مشکل امر نہیں۔ کیونکہ اگر دولاکھ افرادِ جماعت چھ روپے سالانہ فی کس کے لحاظ سے چندہ دیں تو بارہ لاکھ بن جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ ہماری جماعت تو اس سے کہیں زیادہ ہے۔
پچھلے سال جماعت کی طرف سے صرف ستر ہزار روپے کے وعدے ہوئے تھے اور اس سال بھی اتنے ہی وعدے ہوئے جس سے صرف 90 معلّمین رکھے جا سکے۔ اس سال پچھلے سال سے زیادہ اچھا کام ہوا ہے۔ چنانچہ مشرقی پاکستان میں بھی کام شروع ہو گیا ہے اور وہاں بھی ایک انسپکٹر اور چار معلّم مقرر کئے جا چکے ہیں۔ پچھلے سال ان معلّمین کی تعلیم و تربیت اور خدمتِ خلق کا جذبہ دیکھ کر پانچ سو نئے افراد نے بیعت کی تھی اس سال چھ سو اٹھائیس افراد نے بیعت کی ہے۔
پس میں احبابِ جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ اس تحریک کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کی طرف پوری توجہ کریں اور اس کو کامیاب بنانے میں پورا زور لگائیں اور کوشش کریں کہ کوئی فردِ جماعت ایسا نہ رہے جو صاحبِ استطاعت ہوتے ہوئے اس چندہ میں حصہ نہ لے۔
یہ امر یاد رکھو کہ قوم کی عمر انسان کی عمر سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ پس آپ لوگ ایسی کوشش کریں کہ آپ کے زمانہ میں تمام دنیا میں احمدیت پھیل جائے۔ ابھی تو ایک نسل بھی نہیں گزری کہ ہندوستان میں ہمارے سلسلہ کے شدید ترین مخالف بھی احمدیت کی خوبیوں کے قائل ہوتے جا رہے ہیں۔ اور مَیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک ادنیٰ خادم ہوں میری تفسیر کی وہ بہت تعریف کرتے ہیں۔ یہ انقلاب جو پیدا ہو رہا ہے محض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعاؤں کی وجہ سے ہوا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دعا کی تھی کہ
پھیر دے میری طرف اے ساربانِ جگ کی مہار
14
اور اللہ تعالیٰ نے احمدیت کی طرف لوگوں کی توجہ پھیرنی شروع کر دی اور ہمیں یقین ہے کہ اس دعا کے مطابق ایک دن ساری دنیا احمدیت میں داخل ہو جائے گی۔ دنیا کی آبادی اِس وقت دو ارب سے زیادہ ہے اور اگلے بیس پچیس سال میں وہ تین ارب ہو جائے گی اور پھر تعجب نہیں کہ کئی سال میں وہ اِس سے بھی زیادہ ہو جائے۔ مگر دنیا کی آبادی خواہ کتنی بڑھ جائے اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہی ہے کہ وہ احمدیت کو ترقی دے گا اور اسے بڑھائے گا یہاں تک کہ ساری دنیا میں احمدیت پھیل جائے گی۔ بشرطیکہ جماعت اپنی تبلیغی سرگرمیاں ہندوستان میں بھی اور یورپ میں بھی جاری رکھے اور وکالتِ تبشیر اور اصلاح و ارشاد کے محکموں کے ساتھ پورا تعاون کرے۔ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت لاکھوں کی ہے اور لاکھوں کی جماعت میں سے بیس پچیس ہزار مبلغ یورپ کے لئے اور پچاس ساٹھ ہزار مبلغ ہندوستان اور پاکستان کے لئے آسانی کے ساتھ مل سکتا ہے۔ پس چاہئے کہ اپنی نسل میں احمدیت کی تبلیغ کا جوش پیدا کرتے چلے جائیں۔
عیسائیت کو دیکھ لو حضرت مسیحؑ کے واقعہ صلیب پر 1959 سال گزر چکے ہیں مگر عیسائی اب تک اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے چلے جاتے ہیں۔ اگر مسلمان بھی تلوار کے جہاد پر زور دینے کی بجائے تبلیغ پر زور دیتے تو وہ عیسائیوں سے بہت زیادہ پھیل جاتے۔ عیسائی اگر ایک ارب تھے تو وہ دس ارب ہوتے۔ مگر وہ چالیس کروڑ صرف اس وجہ سے رہے کہ انہوں نے غلطی سے جہاد صرف تلوار کا جہاد سمجھ لیا اور تبلیغ کے جہاد کو فراموش کر دیا۔ لیکن حضرت مسیح ناصریؑ نے لوگوں سے یہ کہا کہ اگر کوئی شخص تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تم اپنا دوسرا گال بھی اُس کی طرف پھیر دو15۔ اور اگر کوئی تمہیں ایک میل تک بیگار میں لے جانا چاہے تو تم دو میل تک اُس کے ساتھ چلے جاؤ16۔ یہ ایسی تعلیم تھی جو دوسروں کے دلوں میں گھر کر لیتی تھی۔ اگر آپ لوگ بھی نرمی اور محبت اور حلم اور آشتی پر زور دیں تو دنیا میں آپ کی جماعت عیسائیوں سے بہت زیادہ پھیل جائے گی۔ کیونکہ آپ کے ساتھ دلائل ہیں اور خدا کا فضل ہے۔ پس اگر دلائل کے بغیر اُن کو اتنی کامیابی ہوئی ہے تو دلائل کی وجہ سے آپ کو تو اُن کے مقابلہ میں چار گنا ترقی ملنی چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام 1908ء میں فوت ہوئے تھے اور آپ کی وفات پر ابھی صرف 52 سال گزرے ہیں۔ اگر آپ تبلیغِ اسلام کرتے چلے جائیں تو یقیناً ایک دن دنیا کے چپے چپے پر احمدیت پھیل جائے گی اور ساری دنیا کے لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔
اب میں دعا کر دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس جلسہ میں شامل ہونے والوں پر اپنے بڑے بڑے فضل نازل فرمائے اور ان کے مقاصد کو پورا فرمائے۔ ان کے ارادوں میں برکت دے ، انہیں دین کی ترقی اور اس کی اشاعت کے لئے اپنی اور اپنی اولادوں کی زندگیاں وقف کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ایسا فضل کرے کہ وہ اس جلسہ سے پوری طرح فائدہ اٹھائیں تا کہ جب وہ اپنے گھروں کو واپس جائیں تو وہ روحانی لحاظ سے ایک تبدیل شدہ انسان نظر آئیں ۔ ان میں پہلے سے زیادہ نیکی پائی جاتی ہو، پہلے سے زیادہ ایثار پایا جاتا ہو اور پہلے سے زیادہ سلسلہ سے وابستگی اور اخلاص پایا جاتا ہو۔ اور پھر اللہ تعالیٰ ایسا فضل فرمائے کہ وہ قیامت تک ہماری جماعت کو اس سے بھی بڑے بڑے اجتماع کرنے کی طاقت بخشے تا کہ ہم سب کے سب احمدیت کی دن دونی اور رات چوگنی ترقی دیکھیں اور خدا اور اس کے رسول کی آواز دنیا کے کونہ کونہ میں پہنچ جائے ۔“ (الفضل 16، 17 فروری 1960ء)
10: بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب نزول عِیسیٰ ابن مریم (الخ) حدیث نمبر 3448 صفحہ 581 الطبعة الثانية مطبوعہ ریاض 1999ء میں ’ يَكْسِرُ الصَّلِيْبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيْرَ ‘ کے الفاظ ہیں۔
11: ابراہیم: 25
12: تذکرہ صفحہ 247 ایڈیشن چہارم 2004ء ناشر نظارت اشاعت ربوہ
13: تذکرہ صفحہ 343 ایڈیشن چہارم 2004ء ناشر نظارت اشاعت ربوہ
14: درّثمین اردو صفحہ 128 ناشر نظارت اشاعت ربوہ
15: متی باب 5 آیت 39 صفحہ 928 پاکستان بائبل سوسائٹی لاہور 2011ء
16: متی باب 5 آیت 41 صفحہ 928 پاکستان بائبل سوسائٹی لاہور 2011ء
از
سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ نَحۡمَدُهُ وَ نُصَلِّىۡ عَلٰى رَسُوۡلِهِ الۡكَرِيۡمِ
(فرمودہ 26؍دسمبر 1960ء بموقع جلسہ سالانہ ربوہ)
تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ ’’اللہ تعالیٰ کا بے انتہاء شکر ہے کہ اس نے ہماری جماعت کے افراد کو ایک بار پھر اپنے ذکر کو بلند کرنے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے یہاں جمع ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے اس عظیم الشان احسان کو دیکھتے ہوئے اُس کے حضور جس قدر بھی سجداتِ شکر بجالائیں کم ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے اس اجتماع کو ہر لحاظ سے بابرکت بنائے اور اس میں شمولیت اختیار کرنے والے تمام مردوں اور عورتوں کو ان کے اخلاص اور محبت کی جزائے خیر عطا فرمائے۔ اور انہیں اس امر کی توفیق بخشے کہ وہ اس جلسہ سے پوری طرح فائدہ اٹھائیں اور اپنے اندر ایک نیک اور پاک تبدیلی پیدا کریں تاکہ جب وہ واپس جائیں تو دنیا ان کے نیک عزائم اور اعلیٰ اخلاق اور اسلام کے لئے فدائیت اور جاں نثاری کے جذبات کو دیکھ کر پکار اٹھے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو اس دنیا کے لئے حقیقی امن اور سلامتی کا موجب ہیں اور ان کے دلوں میں بھی یہ تڑپ پیدا ہوجائے کہ وہ جماعت احمدیہ کے مرکز میں آئیں اور اُن غلط فہمیوں کو دور کریں جو ہمارے متعلق ان میں پائی جاتی ہیں۔ دوستوں کو یہ امر اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارا یہ جلسہ تمام مروّجہ جلسوں اور اجتماعوں سے بالکل مختلف رنگ رکھتا ہے۔ آپ لوگ یہاں کسی نمائش کے لئے اکٹھے نہیں ہوئے ۔ کوئی کھیل یا تماشا دیکھنے کے لئے نہیں آئے بلکہ صرف اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے ایک منادی کی آواز آپ لوگوں نے سنی اور اس پر دوڑتے اور لَبَّيْكَ کہتے ہوئے آپ زمین کے چاروں اطراف سے اس کے اردگرد اکٹھے ہوگئے۔ گویا آپ لوگ وہ روحانی پرندے ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا تھا کہ انہیں پہاڑوں کی چوٹیوں پر رکھ دو اور پھر انہیں آواز دو تو وہ تیری طرف تیزی کے ساتھ اڑتے چلے آئیں گے۔ آپ لوگ بھی اِس زمانہ کے مامور کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ اور آپ ہی وہ خوش قسمت وجود ہیں جنہیں فضائے آسمانی کی بلندیوں میں پرواز کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور ان ایام کو ضائع مت کرو۔
یہ جلسہ کوئی دنیوی میلہ نہیں بلکہ یہ خدا اور اُس کے رسولؐ کے ساتھ تمہارا ملاپ پیدا کرنے کا ایک ذریعہ ہے جو بانیٔ سلسلۂ احمدیہ نے تمہارے لئے تجویز کیا ہے۔ پس اس امر کی اہمیت کو کبھی نظر انداز نہ ہونے دو۔ اور دعاؤں اور ذکر الٰہی میں ہر وقت مشغول رہو اور اپنے اوقات کا صحیح استعمال کرو۔
اگر آپ لوگ اسلامی اجتماعات پر غور کریں تو آپ کو نہایت آسانی سے یہ امر معلوم ہوسکتا ہے کہ تمام اسلامی اجتماعات کی رُوحِ رواں صرف ذکرِ الٰہی اور دعا اور اِنَابَت اِلَی اللہ ہی ہے۔ نماز ہے تو وہ دعا اور ذکر الٰہی پر مشتمل ہے۔ جمعہ ہے تو وہ بھی وعظ و نصیحت اور دعا اور ذکرِ الٰہی پر مشتمل ہے۔ عیدین کی نمازیں ہیں تو اُن میں بھی اٹھتے بیٹھتے ذکرِ الٰہی کی تاکید ہے۔ یہی نسخہ ہے جو ہر اجتماع کو بابرکت بناتا ہے۔ پس اس نسخہ کو کبھی مت بھولو اور اپنے لئے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کے لئے اور اسی طرح اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے رات دن دعائیں کرتے رہو۔ اور پھر یہ بھی دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ اس عظیم الشان مقصد کو جلد سے جلد پورا فرمائے جس کے لئے ہمیں کھڑا کیا گیا ہے اور خدا تعالیٰ ہمیں اپنی موت تک اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور پھر ہماری اولا د در اولا د کو بھی یہ توفیق بخشے کہ وہ قیامت تک اس جھنڈے کو اونچا رکھتی چلی جائے یہاں تک کہ ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے۔
احادیث میں آتا ہے کہ جنگِ اُحد کے موقع پر ایک صحابیؓ شدید زخمی ہوئے۔ وہ نزع کی حالت میں تھے کہ ایک اَور صحابیؓ ان کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ اگر آپ نے اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کے نام کوئی پیغام دینا ہو تو مجھے دے دیں۔ وہ کہنے لگے میرے عزیزوں کو میری طرف سے اَلسَّلَامُ عَلَیْكُمْ کہنا اور انہیں یہ پیغام دے دینا کہ جب تک ہم زندہ رہے ہم اپنی جانیں قربان کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے رہے۔ اب ہم اس دنیا سے جا رہے ہیں اور یہ امانت تمہارے سپرد کر رہے ہیں۔ اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم اپنی جانیں قربان کر دو مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی آنچ نہ آنے دو1۔ آج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جسدِ عنصری کے ساتھ اس دنیا میں موجود نہیں مگر اُن کا لایا ہوا دین آج بھی زندہ ہے۔ اُن کا لایا ہوا قرآن آج بھی موجود ہے۔ اور وہ دین ہم سے اُنہی قربانیوں کا مطالبہ کر رہا ہے جن قربانیوں کا صحابہؓ سے مطالبہ کیا گیا تھا۔ پس ہمارا فرض ہے کہ ہم بھی اپنی جانیں دے دیں مگر اسلام کے جھنڈے کو کبھی نیچا نہ ہونے دیں اور ہم اپنی اولاد در اولاد سے بھی یہ کہتے چلے جائیں کہ اپنی ذمہ داریوں کو مت بھولنا ورنہ خدا کے حضور تم جوابدہ ہو گے۔
حقیقت یہ ہے کہ سلسلہ کی عظمت کو قائم رکھنا اور سلسلہ کی اشاعت میں حصہ لینا کسی ایک فرد کا کام نہیں بلکہ یہ نَسْلًا بَعْدَ نَسْلٍ ایک لمبے زمانہ سے تعلق رکھنے والا کام ہے اسی وجہ سے میں نے جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ اپنے اپنے خاندانوں میں سے کم سے کم ایک ایک فرد کو دین کے لئے وقف کرو۔ تاکہ تمہارا خاندان اس نیکی سے محروم نہ رہے اور تم سب اس ثواب میں دائمی طور پر شریک ہو جاؤ۔ مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت نے اس کی طرف پوری توجہ نہیں کی حالانکہ یہ ایک نہایت ہی ضروری امر ہے جس پر ہماری جماعتی اور مذہبی حیات کا انحصار ہے۔
میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اسے صرف اپنے اندر ہی ایمان پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگلی نسل کو بھی دین کا جاں نثار خادم بنانے کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ دنیا میں کوئی شخص یہ پسند نہیں کر سکتا کہ وہ تو عالم بن جائے مگر اُس کا بیٹا جاہل رہے یا وہ تو امیر بن جائے مگر اُس کا لڑکا کنگال رہے۔ پھر نہ معلوم لوگ اپنی اگلی نسل کو دین کے راستہ پر قائم رکھنے کے لیے کیوں مضطرب نہیں ہوتے اور کیوں وہ دیوانہ وار اس کے لئے جدوجہد نہیں کرتے۔
یہ امر یاد رکھو کہ ہمارے سپرد خدا تعالیٰ نے ایک بہت بڑی امانت کی ہے۔ اِس زمانہ میں جبکہ ایمان ثریا پر جا چکا تھا اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ پھر اسلام کو زندہ کیا اور اُس نے آپ لوگوں کے ذریعہ اسے دنیا کے کناروں تک پہنچایا بلکہ اسے تمام ادیان پر غالب کرایا۔ اب آپ لوگوں کا فرض ہے کہ اپنی اگلی نسل کو بھی اس امانت کا اہل بنائیں۔ اور اُس کے اندر دین سے شغف اور محبت پیدا کریں تاکہ وہ بھی نمازوں اور دعاؤں اور ذکرِ الٰہی کی پابند ہو اور دین کے لئے ہر قسم کی قربانیوں سے کام لینے والی ہو۔ مگر یہ کام ہم اپنے زور سے نہیں کر سکتے صرف خدا ہی ہے جو اصلاحِ نفس کے سامان پیدا کیا کرتا ہے۔ پس اپنے لئے بھی دعائیں کرو اور اپنی اولادوں کے لئے بھی دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں میں سچا ایمان پیدا کرے۔ اور انہیں دین کی ایسی محبت عطا کرے کہ کوئی دنیوی تعلق اس کے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکے تاکہ ہماری زندگی ہی پُرمسرت نہ ہو بلکہ ہماری موت بھی خوشی کی موت ہو۔
ہمارے سلسلہ کو قائم ہوئے اب 72 سال کا طویل عرصہ ہو چکا ہے اور یہ صدی اب ختم ہونے کے قریب پہنچ رہی ہے مگر ابھی تک ہماری جماعت کی تعداد بہت کم ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کے فضل سے صدر انجمن احمدیہ کے مربیوں، تحریکِ جدید کے مبلغوں اور وقفِ جدید کے معلّموں اور پھر انفرادی جدوجہد کے ذریعہ ہر سال بیعتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے مگر پھر بھی دنیا کی آبادی کو دیکھتے ہوئے ہماری تعداد ابھی ایسی نہیں جس پر اطمینان کا اظہار کیا جا سکے۔ اس لئے ہمیں بہت زیادہ فکر اور توجہ کے ساتھ اپنی کوششوں کا جائزہ لینا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ ہماری زندگیوں میں ہی دنیا میں احمدیت پھیل جائے۔ بے شک ہم کمزور اور بے سامان ہیں مگر ہمارا خدا بڑا طاقتور ہے اس لئے ہمیں اُسی سے دعائیں کرنی چاہئیں کہ الٰہی! تیری مدد آسمان سے کب نازل ہو گی؟ تُو آسمان سے اپنے ملائکہ کی فوج نازل فرما تا کہ وہ سعید دلوں پر اُتریں اور انہیں اسلام اور احمدیت کا والہ وشیدا بنا دیں اور ہم اپنی زندگیوں میں ہی وہ دن دیکھ لیں جبکہ اسلام دنیا پر غالب آجائے۔ اور یورپ اور امریکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل ہو جائے۔ بے شک آج عیسائیت کی ترقی کو دیکھ کر انسان حیران ہوتا ہے اور اس کے واہمہ میں بھی نہیں آسکتا کہ اسلام ایک دن دنیا پر غالب آئے گا مگر دعا اور صرف دعا ہی وہ ہتھیار ہے جس سے یہ مہم ایک دن کامیاب ہو گی ۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے مطابق اسلام دنیا پر غالب آئے گا اور کفر میدان میں دم توڑ رہا ہوگا ۔
میں دوستوں کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ انہیں اپنی دعاؤں میں قادیان کو بھی یاد رکھنا چاہئے ۔ قادیان ہمارا مقدس مذہبی مرکز ہے جہاں بار بار جانا ہماری جماعت کے تمام افراد کے لئے ضروری ہے۔ پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعائیں بھی کریں کہ وہ اپنے فضل سے قادیان کے رستے تمام احمدیوں کے لئے کھولے اور ہمیشہ کے لئے کھولے ۔ اور وہ مشکلات جو اس وقت ہماری راہ میں حائل ہیں اُن کو دور فرمائے اور اپنی برکتوں اور رحمتوں سے مالا مال کرے ۔
ان چند کلمات کے ساتھ میں جلسہ سالانہ کا افتتاح کرتا ہوں اور آپ لوگوں کے لئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو خیریت کے ساتھ رکھے اور ان بابرکت ایام سے صحیح طور پر فائدہ اٹھانے اور اپنے اندر نیک اور پاک تبدیلی پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اب میں دعا کروں گا سب دوست میرے ساتھ مل کر دعا کر لیں ۔“
(الفضل 31 دسمبر 1960ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
(۲۸؍دسمبر ۱۹۶۰ء بموقع جلسہ سالانہ ربوہ)
حضور بوجہ علالت جلسہ گاہ تشریف نہ لا سکے حضور کی ہدایت پر آپ کی یہ تقریر مکرم مولانا جلال الدین صاحب شمس نے پڑھ کر سنائی:۔
’’اللہ تعالیٰ کا فضل اور اُس کا احسان ہے کہ اس نے ہماری جماعت کے مردوں اور عورتوں کو پھر اس مقدس اجتماع میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے جو اعلاءِ کلمۃ اللہ کی غرض سے 1891ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قائم فرمایا تھا۔ سب سے پہلا جلسہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ہوا اُس میں صرف 75 آدمی شریک ہوئے تھے اور آخری جلسہ جو 1907ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی میں ہوا اُس میں 700 افراد شریک ہوئے تھے۔ لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے جلسہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد ستر اسی ہزار تک پہنچ چکی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ تعداد اِنْشَاءَ اللّٰہُ بڑھتی چلی جائے گی اور قیامت تک اسلام اور احمدیت کا جھنڈا ہماری جماعت کے افراد کے ذریعہ دنیا کے تمام ملکوں میں بلند ہوتا رہے گا۔
یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کے سپرد ایک بہت بڑا کام کیا ہے۔ ہم نے ساری دنیا میں اسلام کی اشاعت کرنی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پھیلانی ہے اور ہم نے ساری دنیا میں اور ہمیشہ کے لئے نیکی اور تقویٰ کی روح کو قائم کرنا ہے اور یہ کام بغیر ایک لمبی اور مستقل جدوجہد کے سرانجام نہیں دیا جا سکتا۔ پس
ضروری ہے کہ ہمارا ہر فرد اپنی ان ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے جو خدا اور اس کے رسول کی طرف سے اس پر عائد ہیں ان سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرے اور اپنے اوقات کو زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت میں صَرف کرے۔ تاکہ جب وہ خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو تو اُس کا سر اپنی غفلتوں اور کوتاہیوں کی بناء پر ندامت اور شرمندگی سے نیچا نہ ہو۔ بلکہ وہ فخر کے ساتھ کہہ سکے کہ میں نے اپنے اُس فرض کو ادا کر دیا ہے جو مجھ پر اپنے رب کی طرف سے عائد کیا گیا تھا۔
ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ اپنے فرائض کو ادا کرنے کا اپنے اندر اس قدر احساس رکھتے تھے کہ ایک دفعہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں کے مقابلہ کے لئے شام کی طرف اپنا لشکر روانہ فرمایا تو آپؐ نے فرمایا کہ میں زید بن حارثہؓ کو اس لشکر کا کمانڈر مقرر کرتا ہوں۔ لیکن اگر زیدؓ اس جنگ میں شہید ہو جائیں تو جعفرؓ بن ابی طالب کمانڈر ہوں گے۔ اور اگر جعفرؓ بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہؓ بن رواحہ کمانڈر ہوں گے۔ اور اگر عبداللہ بن رواحہؓ بھی شہید ہو جائیں تو پھر مسلمان خود کسی کو منتخب کر کے اپنا افسر بنا لیں 1۔ جب آپؐ یہ ہدایات دے رہے تھے تو اُس وقت ایک یہودی بھی پاس بیٹھا آپؐ کی باتیں سن رہا تھا۔ آپ جب اپنی بات ختم کر چکے تو وہ یہودی وہاں سے اٹھا اور سیدھا حضرت زیدؓ کے پاس پہنچا اور اُن سے کہنے لگا کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سچے نبی ہیں تو تم اس جنگ سے کبھی زندہ واپس نہیں آؤ گے کیونکہ انہوں نے کہا ہے کہ اگر زیدؓ جنگ میں مارے جائیں تو جعفرؓ کو کمانڈر بنا لینا۔ اور اگر جعفرؓ بھی مارے جائیں تو عبداللہؓ بن رواحہ کو کمانڈر بنا لینا۔ اور اگر عبداللہؓ بن رواحہ بھی مارے جائیں تو پھر کسی اور کو اپنا افسر بنا لینا۔ اِس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تم تینوں مارے جاؤ گے۔ حضرت زیدؓ نے جواب دیا کہ ہم مارے جائیں یا زندہ رہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہر حال سچے نبی ہیں۔ 2
آخر واقعہ بھی اسی طرح ہوا کہ جب لڑائی ہوئی تو یہ تینوں صحابہؓ یکے بعد دیگرے شہید ہو گئے۔ حضرت عبداللہؓ بن رواحہ کے متعلق ذکر آتا ہے کہ جب وہ کمانڈر مقرر ہوئے تو انہوں نے اسلامی جھنڈا اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ اُس وقت میدانِ جنگ کی یہ حالت تھی
کہ دُشمن کی تعداد ایک لاکھ کے قریب تھی اور مسلمان صرف تین ہزار تھے۔ جب عبداللہؓ بن رواحہ دشمن کے مقابلہ کے لئے آگے بڑھے تو لڑتے لڑتے ان کا دایاں ہاتھ کٹ گیا۔ اِس پر انہوں نے جھٹ اپنے دوسرے ہاتھ میں جھنڈے کو تھام لیا۔ اور جب ان کا دوسرا ہاتھ بھی کٹ گیا تو انہوں نے جھنڈے کو اپنی رانوں میں دبا لیا۔ اس کے بعد کفار نے ان کی ایک ٹانگ بھی کاٹ دی۔ اُس وقت چونکہ وہ مجبور تھے اور جسم کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا جہاں جھنڈے کو وہ سنبھال کر رکھ سکتے اس لئے انہوں نے زور سے آواز دی کہ اب میں جھنڈے کو نہیں سنبھال سکتا اس لئے دیکھنا اسلام کا جھنڈا سرنگوں نہ ہونے پائے۔ یہ سن کر حضرت خالدؓ بن ولید آگے بڑھے اور انہوں نے جھنڈا اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ یہ لشکر ابھی مدینہ نہیں پہنچا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ ان تمام واقعات کی خبر دے دی اور آپؐ نے صحابہؓ کو بتایا کہ جب اسلامی لشکر کفار کے مقابلہ میں کھڑا ہوا اور زیدؓ لڑتے لڑتے شہید ہو گئے تو زیدؓ کی جگہ جعفرؓ کو کمانڈر مقرر کیا گیا۔ اور جب جعفرؓ شہید ہو گئے تو عبداللہؓ بن رواحہ کو کمانڈر مقرر کیا گیا اور جب عبداللہؓ بن رواحہ بھی شہید ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ اب وہ جھنڈا سَیْفٌ مِنْ سُیُوْفِ اللّٰہ یعنی حضرت خالد بن ولید کے ہاتھ میں آگیا ہے اور وہ اسلامی لشکر کو حفاظت کے ساتھ واپس لا رہے ہیں3۔
اب دیکھو حضرت عبداللہؓ بن رواحہ کی قربانی کس قدر عظیم الشان تھی عام طور پر کسی شخص کے پاؤں میں کانٹا بھی چبھ جائے یا اُس کی ایک انگلی پر بھی زخم آجائے تو وہ بے چین ہو جاتا ہے۔ مگر ان کا پہلے ایک بازو کٹ گیا تو انہوں نے اپنے دوسرے بازو میں جھنڈے کو پکڑ لیا اور جب دوسرا بازو بھی کٹ گیا تو اُسے رانوں میں تھام لیا۔ اور جب ایک ٹانگ بھی کٹ گئی تو اُس وقت انہوں نے آواز دی کہ دیکھنا اسلام کا جھنڈا سرنگوں نہ ہونے پائے۔ اِس فدائیت اور جاں نثاری کی کیا وجہ تھی؟ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے دلوں میں یہ یقین رکھتے تھے کہ خدا نے ہمیں ایک عظیم الشان کام کے لئے پیدا کیا ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کے لئے اپنی موت تک جدوجہد کرتے چلے جائیں۔ جب یہ یقین اور ایمان کسی جماعت کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ خدا تعالیٰ کے لئے ہر قسم کی مشکلات کو دیوانہ وار
برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔ اور پھر خدا تعالیٰ کی غیرت بھی یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ وہ تو خدا تعالیٰ کے لئے اپنی جانیں قربان کریں اور خدا تعالیٰ اُن کی تائید نہ کرے۔
کونٹ ٹالسٹائے جو روس کا مشہور مصنف گزرا ہے اُس کے ایک دادا کے متعلق ذکر آتا ہے کہ وہ شہنشاہِ روس کی ڈیوڑھی کا دربان تھا۔ ایک روز بادشاہ نے ملکی حالات پر غور کرنے کے لیے قلعہ کے دروازہ پر ٹالسٹائے کو کھڑا کیا اور کہا کہ آج خواہ کوئی شخص آئے اُس کو اندر نہ آنے دیا جائے کیونکہ آج میں ملک کے لئے ایک بہت بڑی سکیم سوچ رہا ہوں۔ ٹالسٹائے پہرے پر کھڑا ہو گیا اور بادشاہ ایک بالا خانہ پر بیٹھ کر سکیم سوچنے لگ گیا۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ بادشاہ کو شور کی آواز سنائی دی اور وہ اُدھر متوجہ ہو گیا۔ واقعہ یہ ہوا کہ شاہی خاندان کا ایک شہزادہ کسی کام کے لئے بادشاہ سے ملنے گیا مگر دربان نے اُسے اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ بادشاہ نے حکم دیا ہے کہ آج کوئی شخص اندر نہ آئے۔ دربان کا یہ کہنا تھا کہ شہزادہ طیش میں آ گیا اور اُس نے خیال کیا کہ ایک معمولی نوکر کی کیا حیثیت ہے کہ وہ اتنی گستاخی کرے اور مجھے اندر جانے سے روکے۔ اُس نے کوڑا اٹھایا اور دربان کو مارنا شروع کر دیا۔ دربان بیچارہ سر جھکا کر مار کھاتا رہا۔ جب شہزادے نے سمجھا کہ اب اسے کافی سزا مل چکی ہے تو اس نے پھر اندر جانا چاہا۔ مگر دربان پھر سامنے آگیا اور کہنے لگا میں آپ کو اندر نہیں جانے دوں گا۔ شہزادے کو خیال آیا کہ شاید دربان مجھے پہچان نہیں سکا۔ اس لئے اس نے دربان سے کہا تم جانتے ہو میں کون ہوں؟ دربان نے کہا ہاں میں جانتا ہوں۔ آپ شاہی خاندان کے فلاں شہزادہ ہیں۔ یہ سن کر شہزادے کو اور غصہ آیا کہ باوجود جاننے کے کہ میں شہزادہ ہوں پھر بھی یہ مجھے روکنے کی جرأت کر رہا ہے۔ چنانچہ اُس نے پھر اسے مارنا شروع کیا۔ بادشاہ یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ آخر بادشاہ نے زور سے آواز دی کہ ٹالسٹائے! ادھر آؤ! یہ سن کر ٹالسٹائے بادشاہ کے پاس پہنچا اور اس کے پیچھے پیچھے شہزادہ بھی غصے سے بھرا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچ گیا۔ اور جاتے ہی کہا اس نالائق نے آج مجھے اندر آنے سے روکا ہے۔ بادشاہ نے ٹالسٹائے سے پوچھا کیا تم نے شہزادے کو اندر آنے سے روکا تھا؟ اس نے جواب دیا ہاں حضور میں نے
روکا تھا۔ بادشاہ نے کہا کیا تم جانتے تھے کہ یہ شہزادہ ہے؟ ٹالسٹائے نے کہا ہاں حضور مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ شہزادہ ہیں۔ بادشاہ نے کہا پھر تم نے اسے کیوں روکا؟ ٹالسٹائے نے کہا چونکہ حضور کا حکم تھا اس لئے میں نے انہیں اندر داخل نہیں ہونے دیا۔ اس کے بعد بادشاہ نے شہزادہ سے پوچھا کہ کیا تم کو اس دربان نے بتایا تھا کہ یہ بادشاہ کا حکم ہے کہ کوئی شخص اندر نہ آئے؟ شہزادے نے کہا ہاں حضور بتایا تھا۔ یہ سن کر بادشاہ غصہ میں آگیا اور اس نے کہا ٹالسٹائے! یہ لوکوڑا اور اس شہزادے کو اُتنے ہی کوڑے مارو جتنے اس نے تم کو مارے تھے۔ شہزادے نے کہا اے بادشاہ! روس کے قانون کے مطابق یہ مجھے نہیں مار سکتا کیونکہ میں فوجی افسر ہوں اور کوئی غیر فوجی فوجی کو نہیں مار سکتا۔ بادشاہ نے کہا ٹالسٹائے! میں تم کو بھی فوجی افسر بناتا ہوں تم کوڑا لو اور اس کو سزا دو۔ شہزادے نے کہا روس کے قانون کے مطابق یہ اب بھی مجھے نہیں مار سکتا کیونکہ میں جرنیل ہوں اور یہ جرنیل نہیں ۔ بادشاہ نے کہا ٹالسٹائے! میں تم کو بھی جرنیل بناتا ہوں۔ شہزادے نے کہا بادشاہ! قانونِ روس کے مطابق یہ اب بھی مجھے نہیں مار سکتا کیونکہ میں شاہی خاندان کا شہزادہ ہوں۔ بادشاہ نے کہا ٹالسٹائے! میں تم کو بھی کونٹ بناتا ہوں تم اس کو سزا دو۔ چنانچہ اُسی وقت ٹالسٹائے کونٹ ٹالسٹائے بن گیا۔ اور بادشاہ نے اس کے ہاتھوں سے شہزادہ کو سزا دی۔
اب دیکھو بادشاہ نے ٹالسٹائے کو ایک حکم دیا اور جب ٹالسٹائے نے اُس کی بجا آوری کے لئے مار کھائی تو بادشاہ کی غیرت جوش میں آگئی اور اُس نے نہ صرف ٹالسٹائے کا بدلہ لیا بلکہ اُسے ایک عام آدمی سے کونٹ بنا دیا۔ اسی طرح جو لوگ خدا تعالیٰ کے لئے قربانیاں کرتے ہیں اور اس کے احکام کی بجا آوری کے لئے ہر قسم کی تکالیف برداشت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اُن کے متعلق بھی اپنی غیرت کا اظہار کرتا ہے اور کہتا ہے اے غریبو! کمزورو! اور مفلسو! تم نے چونکہ میری خاطر ماریں کھائی تھیں اور میری خاطر صعوبتیں برداشت کی تھیں اس لئے اب میں بھی تمہیں دنیا پر غلبہ دوں گا اور تمہیں اُن انعامات سے حصہ دوں گا جو تمہارے واہمہ اور گمان میں بھی نہیں آسکتے۔ ضرورت صرف اِس امر کی ہے کہ اپنے اندر ایمان اور اخلاص پیدا کیا جائے ۔ جب کسی جماعت کے قلوب میں حقیقی ایمان پیدا ہو جاتا
ہے تو دنیا کی کوئی مخالفت اُن کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتی۔ وہ بے شک دنیوی لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں مگر انہیں آسمان سے ایک بہت بڑی طاقت عطا کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ انہیں روحانی مقاصد میں کامیاب کر دیتا ہے۔
ہماری جماعت کے افراد کو بھی یہ عہد کر لینا چاہئے کہ خواہ ہم پر کتنی بڑی مشکلات آئیں اور خواہ ہمیں مال اور جانی لحاظ سے کتنی بڑی قربانیاں کرنی پڑیں پھر بھی جو کام ہمارے آسمانی آقا نے ہمارے سپرد کیا ہے ہم اس کی بجا آوری میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کریں گے اور خدائی امانت میں کوئی خیانت نہیں کریں گے۔ ہمارے سپرد اللہ تعالیٰ نے یہ کام کیا ہے کہ ہم اس کی بادشاہت کو دنیا میں قائم کریں۔ اور یہ اتنا بڑا اعزاز ہے کہ اس کو دیکھتے ہوئے ہمارا فرض ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اُس سے عاجزانہ طور پر عرض کریں کہ اے ہمارے آقا! دنیا میں بڑے بڑے بادشاہ موجود تھے، بڑے بڑے سیاستدان موجود تھے، بڑے بڑے مدبّر موجود تھے، بڑے بڑے نواب اور رؤساء موجود تھے، بڑے بڑے فلاسفر اور بڑے بڑے دانشور اور علماء موجود تھے مگر تُو نے ان سب کو نظر انداز کرتے ہوئے ہم غریبوں اور بیکسوں کو چنا اور اپنی بیش بہا امانت ہمارے سپرد کر دی۔ اے ہمارے آقا! ہم تیرے اس احسان کو کبھی بھلا نہیں سکتے اور تیری اس امانت میں کبھی خیانت نہیں کر سکتے۔ ہم تیری بادشاہت کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے شہروں اور ویرانوں میں پھریں گے۔ ہم تیرے نام کو بلند کرنے کے لئے دنیا کے کونے کونے میں جائیں گے اور ہر دُکھ اور مصیبت کے وقت میں سینہ سپر ہو کر کھڑے ہو جائیں گے۔ اگر ہم یہ عزم کر لیں اور دین کے لئے متواتر قربانی کرتے چلے جائیں تو یقیناً اللہ تعالیٰ ہمیں ضائع نہیں کرے گا اور اسلام اور احمدیت کو دنیا میں غالب کر دے گا۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم سخت کمزور اور ناطاقت ہیں مگر ہمارے خدا میں بہت بڑی طاقت ہے۔ اور خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جب اُس کے بندے اُس کی راہ میں خوشی سے موت قبول کر لیتے ہیں تو خدا تعالیٰ انہیں دائمی حیات عطا کر دیتا ہے۔ اور لوگوں کے قلوب ان کی قربانیوں کو دیکھ کر صاد ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ گویا ان کا خون جماعت کی
روئیدگی کے لئے کھاد کا کام دیتا ہے جس سے وہ بڑھتی اور ترقی کرتی ہے۔ پس ہماری جماعت کے ہر بچے، ہر نوجوان، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہمارے سپرد اللہ تعالیٰ نے اپنی بادشاہت کو دنیا میں قائم کرنے کا جو اہم کام کیا ہے اس سے بڑھ کر دنیا کی اور کوئی امانت نہیں ہو سکتی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ اپنے گھروں کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں۔ بعض لوگ بھیڑوں بکریوں کے گلے کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں۔ بعض لوگ گورنمنٹ کے خزانہ کا پہرہ دیتے ہوئے مارے جاتے ہیں اور بعض لوگ فوجوں میں بھرتی ہو کر اپنے ملک کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں۔ لیکن جو چیز اللہ تعالیٰ نے ہمارے سپرد کی ہے اُس کے مقابلہ میں دنیا کی بادشاہتیں بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتیں بلکہ ان کو اس سے اتنی بھی نسبت نہیں جتنی ایک معمولی کنکر کو ہیرے سے ہو سکتی ہے۔ پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اسلام اور احمدیت کی اشاعت میں سرگرمی سے حصہ لو اور اس غرض کے لئے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو خدمتِ دین کے لئے وقف کرو۔ تاکہ ایک کے بعد دوسری نسل اور دوسری کے بعد تیسری نسل اس بوجھ کو اٹھاتی چلی جائے اور قیامت تک اسلام کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہراتا رہے۔
اس عظیم الشان مقصد کی سرانجام دہی کے لئے میں نے بیرونی ممالک کے لئے تحریک جدید اور اندرونِ ملک کے لئے صدر انجمن احمدیہ اور وقفِ جدید کے ادارے قائم کئے ہوئے ہیں۔ دوستوں کو ان اداروں کے ساتھ پورا پورا تعاون کرنا چاہئے اور نوجوانوں کو سلسلہ کی خدمت کے لئے آگے آنے کی تحریک کرنی چاہئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں سادھو اور بھکاری تک بھی اپنے ساتھی تلاش کر لیتے ہیں۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اگر تم اس عظیم الشان کام کے لئے دوسروں کو تحریک کرو تو تمہارا کوئی اثر نہ ہو۔ اس وقت اسلام کی کشتی بھنور میں ہے اور اس کو سلامتی کے ساتھ کنارے تک پہنچانا ہمارا کام ہے۔ اگر ہم اس کی اہمیت کو سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھانے کی کوشش کریں تو ہزاروں نوجوان خدمتِ دین کے لئے آگے آ سکتے ہیں۔ ہمیں اِس وقت ہر قسم کے واقفین کی ضرورت ہے۔ ہمیں گریجوایٹوں کی بھی ضرورت ہے اور کم تعلیم والوں کی بھی ضرورت ہے تاکہ ہم ہر طبقہ تک
اسلام کی آواز پہنچا سکیں۔ اگر تم اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سمجھ لو گے تو یقیناً اس کشتی کو سلامتی کے ساتھ نکال کر لے جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں ابدی حیات عطا فرمائے گا۔ تمہارے بعد بڑے بڑے فلاسفر پیدا ہوں گے، بڑے بڑے علماء پیدا ہوں گے، بڑے بڑے صوفیاء پیدا ہوں گے، بڑے بڑے بادشاہ آئیں گے مگر یاد رکھو خدا تعالیٰ نے جو شرف تمہیں عطا فرمایا ہے بعد میں آنے والوں کو وہ میسر نہیں آ سکتا۔ جیسے عالمِ اسلام میں بڑے بڑے بادشاہ گزرے ہیں مگر جو مرتبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک چھوٹے سے چھوٹے صحابیؓ کو بھی ملا وہ ان بادشاہوں کو نصیب نہیں ہوا۔ ان بادشاہوں اور نوجوانوں کو بیشک دنیوی دولت ملی مگر اصل چیز تو صحابہؓ ہی کے حصہ میں آئی۔ باقی لوگوں کو تو صرف چھلکا ہی ملا۔ یہ تقسیم بالکل ویسی ہی تھی جیسے غزوہ حنین کے بعد جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں میں اموالِ غنیمت تقسیم کئے تو ایک انصاری نوجوان نے بیوقوفی سے یہ فقرہ کہہ دیا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال مکہ والوں کو دے دیا گیا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع پہنچی تو آپؐ نے تمام انصار کو جمع کیا اور فرمایا اے انصار! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے ایک نوجوان نے یہ کہا ہے کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مالِ غنیمت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کو دے دیا ہے۔ انصار نہایت مخلص اور فدائی انسان تھے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کر اُن کی چیخیں نکل گئیں اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ہم ایسا نہیں کہتے۔ ہم میں سے ایک بیوقوف نوجوان نے غلطی سے یہ بات کہہ دی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انصار! اگر تم چاہتے تو تم یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے فتح و کامرانی بخشی اور اسے عزت کے ساتھ اپنے وطن میں واپس لایا۔ مگر جب جنگ ختم ہو گئی اور مکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضہ میں آ گیا تو مکہ والے تو بکریوں اور بھیڑوں کے گلے ہانک کر اپنے گھروں میں لے گئے اور انصار خدا کے رسول کو اپنے گھر میں لے آئے۔۴
اِسی طرح بیشک صحابہؓ کے بعد آنے والوں کو بڑی بڑی دولتیں ملیں، حکومتوں پر انہیں
قبضہ ملا مگر جو روحانی دولت صحابہؓ کے حصہ میں آئی وہ بعد میں آنے والوں کو نہیں ملی۔ پس خدمتِ دین کے اِس اہم موقع کو جو تمہیں صدیوں کے بعد نصیب ہوا ہے ضائع مت کرو اور اپنے گھروں کو خدا تعالیٰ کی برکتوں سے بھرلو۔
میں نے اپنی خلافت کے ابتدائی ایام میں جب کام شروع کیا تھا تو میرے ساتھ صرف چند ہی نوجوان رہ گئے تھے اور وہ لوگ جو اپنے آپ کو قابل اور ہوشیار سمجھتے تھے سب لاہور چلے گئے تھے۔ اور ہمارے متعلق خیال کرتے تھے کہ یہ کم علم اور نا تجربہ کار لوگ ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھو کہ وہی لوگ جن کو وہ نا تجربہ کار سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے انہی سے ایسا کام لیا کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے۔ اُس وقت میری عمر چھبیس سال تھی۔ میاں بشیر احمد صاحب کی عمر اکیس ساڑھے اکیس سال تھی۔ اِسی طرح ہمارے سارے آدمی بیس اور تیس سال کے درمیان تھے۔ مگر ہم سب نے کوشش کی اور محنت سے کام کیا تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم نے جماعت کے کام کو سنبھال لیا۔ اِسی طرح اب بھی نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ سلسلہ کی خدمت کا تہیّا کرلیں اور دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کریں۔ اگر کسی نے صرف بی اے یا ایم اے کر لیا اور دینی تعلیم سے کورا رہا تو ہمیں اس کی دنیوی تعلیم کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ غیر مبائعین کے الگ ہونے کے بعد میرے ساتھ جتنے نوجوان رہ گئے تھے وہ کالجوں میں بھی پڑھتے تھے مگر وقت نکال کر دینی تعلیم بھی حاصل کرتے تھے۔ چنانچہ چودھری فتح محمد صاحب سیال اور صوفی غلام محمد صاحب اپنے پرائیویٹ اوقات میں دینی تعلیم بھی حاصل کرتے تھے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے ایم اے اور بی اے بھی کرلیا اور دینی تعلیم بھی مکمل کرلی۔ میں سمجھتا ہوں اگر اب بھی ہم پوری طرح اس طرف توجہ دیں تو چند سال کے بعد ہی ہمیں ایسے مخلص نوجوان ملنے شروع ہوجائیں گے جو انجمن اور تحریک کے کاموں کو سنبھال سکیں گے۔ پس سلسلہ کی ضروریات اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کرو اور اپنے حوصلوں کو بلند کرو۔ اگر انسان کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے ہی اپنے حوصلہ کو گرا دے اور سمجھے کہ میں کچھ نہیں کرسکتا تو یہ اُس کی غلطی ہوتی ہے۔ بیشک ایک انسان میں یہ طاقت نہیں کہ وہ دنیا کو ہلا سکے لیکن وہ ہلانے کا ارادہ تو کر سکتا ہے۔ اگر تم اپنے حوصلوں کو بلند کرو گے اور سُستی اور غفلت کو چھوڑ کر اپنے اندر چستی پیدا کرو گے تو تھوڑے عرصہ میں ہی تم میں سے کئی نوجوان ایسے نکلیں گے جو پہلوں کی جگہ لے سکیں گے۔ میں نے تحریکِ جدید میں نو جوانوں کو لگا کر دیکھا ہے وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھا کام کر رہے ہیں بلکہ شروع میں میں جن کے متعلق سمجھتا تھا کہ ممکن ہے وہ اس کام کے اہل ثابت نہ ہو سکیں انہوں نے بھی جب محنت کی تو اپنے کام کو سنبھال لیا اور اب وہ خوب کام کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اُن کے اندر عزم تھا اور انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ہر ممکن کوشش کے ساتھ دین کی خدمت کریں گے۔ آئندہ بھی ہماری جماعت کے نوجوانوں کو اپنی زندگیاں وقف کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ کیونکہ ہمیں اب سلسلہ کی ضروریات کے لئے بہت سے نئے آدمیوں کی ضرورت ہے۔ اور یہ ضرورت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ اِس وقت ہمیں ایسے نوجوان درکار ہیں جن کو ہم انگلستان، امریکہ اور دوسرے یورپین ممالک میں بھیج سکیں۔ اسی طرح افریقہ وغیرہ کے لئے ہمیں سینکڑوں آدمیوں کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد ان کی جگہ نئے آدمی بھیجنے اور انہیں واپس بلانے کے لئے ہمیں اور آدمیوں کی ضرورت ہوگی اور یہ سلسلہ اسی طرح ترقی کرتا چلا جائے گا۔ پس نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ خدمتِ دین کے لئے آگے آئیں اور اپنے دوستوں اور ساتھیوں میں بھی وقف کی تحریک کو مضبوط کریں۔ ہمارے کاموں نے بہرحال بڑھنا ہے لیکن انہیں تکمیل تک اسی صورت میں پہنچایا جا سکتا ہے جب زیادہ سے زیادہ نوجوان خدمتِ دین کے لئے آگے آئیں۔
ان نصائح کے ساتھ میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل سے ہمارے کاموں میں برکت ڈالے اور وہ بوجھ جسے ہمارے کمزور اور ناتواں کندھے نہیں اٹھا سکتے اُسے خود اٹھا لے اور ہمیں اپنی موت تک اسلام اور احمدیت کی خدمت کی توفیق عطا کرتا چلا جائے۔ ہم کمزور اور بے بس ہیں لیکن ہمارا خدا بڑا طاقتور ہے۔ اُس کے صرف كُنْ کہنے کی دیر ہوتی ہے کہ زمین و آسمان میں تغیرات پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس لئے آؤ ہم اللہ تعالیٰ سے ہی دعا کریں کہ وہ ہم پر اپنا فضل نازل فرمائے، ہمیں اپنی رضا اور محبت کی راہوں پر چلائے اور ہمارے مردوں اور عورتوں اور بچوں کو اس امر کی توفیق بخشے کہ وہ دین کی خدمت کے لئے زیادہ سے زیادہ قربانیوں سے کام لیں اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں منافقت سے بچائے، اُن کے ایمانوں کو مضبوط کرے، ان کے دلوں میں اپنا سچا عشق پیدا کرے اور انہیں دین کی بے لوث خدمت کی اس رنگ میں توفیق بخشے جس رنگ میں صحابہؓ کرام کو ملی اور اللہ تعالیٰ ان کی آئندہ نسلوں کو بھی دین کا سچا خادم اور اسلام کا بہادر سپاہی بنائے اور انہیں ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔“
(الفضل 7؍جنوری 1961ء)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
(سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی املاء کردہ یہ افتتاحی تقریر مؤرخہ 26؍دسمبر 1961ء کو حضورؐ کی زیر ہدایت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے پڑھ کر سنائی)
” اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھُوَ النَّاصِرُ
اللہ تعالیٰ کا بے حد و بے حساب شکر ہے کہ اُس نے محض اپنے فضل سے ہماری جماعت کے دوستوں کو اس امر کی توفیق عطا فرمائی کہ وہ اپنی عمروں میں سے ایک اور سال کے اختتام پر دینِ اسلام کی تقویت اور اعلائے کلمۃ اللہ کی غرض سے اُس مرکزی اجتماع میں شریک ہوں جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اُس کے مامور و مرسل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آج سے 70؍سال قبل رکھی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو قائم کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو دنیا خواہ کتنا زور لگائے وہ اُسے مٹانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ دشمن اس کے خلاف شور بھی مچاتے ہیں، منافق اس کے متعلق اعتراضات بھی کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے کام ہمیشہ ترقی کرتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہی بات جسے انہونی قرار دیا جاتا ہے ایک حقیقت بن کر ظاہر ہو جاتی ہے۔ اور وہی جماعت جسے حقارت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے آخر اپنے دلائل اور براہین کی رو سے تمام دنیا پر غالب آ جاتی ہے۔
یہی سنت اِس زمانہ میں ہماری جماعت کے ساتھ بھی کام کر رہی ہے۔ ہر دن جو ہم پر طلوع کرتا ہے وہ ہمیں زیادہ سے زیادہ کامیابیوں اور عروج سے ہمکنار کرتا چلا جاتا ہے
اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ یہ سلسلہ اسی طرح ترقی کرتا چلا جائے گا یہاں تک کہ اس کے ماننے والے لاکھوں سے کروڑوں اور پھر کروڑوں سے اربوں ہو جائیں گے اور اُس صداقتِ ازلی کا شکار ہو جائیں گے جو اِس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے۔
پس یہ ترقی تو ایک لازمی چیز ہے اور یقیناً یہ ایک دن ہو کر رہے گی لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جب کسی مومن کو اللہ تعالیٰ کا کلام پورا کرنے کا کوئی موقع میسر آجائے تو یہ اس کے لئے انتہائی خوشی کا موجب ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اسے اپنے کلام کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ بنا کر اس کے لئے بھی اپنی رحمت اور بخشش کا سامان پیدا کر دیا ہے۔ دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ الٰہی پیشگوئیاں جن وجودوں سے پوری ہوتی ہیں یا جن مادی نشانات کے ذریعہ اس کی جلوہ نمائی ہوتی ہے قرآن کریم نے انہیں شعائر اللہ قرار دیا ہے اور شعائر اللہ کی عظمت ملحوظ رکھنا تقویٰ اللہ میں شامل ہے۔ اور چونکہ ہمارا یہ جلسہ جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت رکھی گئی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے نشانوں میں سے ایک بہت بڑا نشان ہے اس لئے یہ بھی شعائر اللہ میں سے ہے۔ اور ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اس کی عظمت کو پوری طرح ملحوظ رکھے اور اس کی برکات سے صحیح رنگ میں مستفیض ہونے کی کوشش کرے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی بات ہے کہ امریکہ کا ایک شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ملاقات کے لئے قادیان میں آیا اور اس نے کہا کہ آپ مجھے اپنی صداقت کا کوئی نشان دکھائیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسے فرمایا آپ خود میری صداقت کا ایک نشان ہیں۔ اُس نے کہا یہ کس طرح؟ آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے اُس وقت جب مجھے قادیان سے باہر کوئی بھی نہیں جانتا تھا الہاماً بتایا تھا کہ يَأْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ ۱؎ یعنی اللہ تعالیٰ دور دراز علاقوں سے تیرے پاس آدمی بھیجے گا اور وہ اتنی کثرت سے آئیں گے کہ جن راستوں پر وہ چلیں گے اُن میں گڑھے پڑ جائیں گے۔
اب آپ بتائیں کہ کیا میرے دعویٰ سے قبل آپ میرے واقف تھے؟ اس نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا پھر آپ جو یہاں میرا دعویٰ سن کر آئے ہیں تو الہیٰ تصرف کے ماتحت ہی آئے ہیں۔ پس آپ خود میری صداقت کا ایک نشان ہیں۔
اسی طرح آپ لوگ جو یہاں جمع ہوئے ہیں آپ میں سے بھی ہر فرد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک زندہ نشان ہے۔ کجا وہ زمانہ تھا کہ قادیان میں جب پہلا سالانہ جلسہ ہوا تو اُس میں صرف 75 آدمی شریک ہوئے اور کجا یہ زمانہ ہے کہ آج خدا تعالیٰ کے فضل سے نصف لاکھ سے زیادہ مخلصین اس جلسہ میں شریک ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے اور دنیا کے سامنے اس امر کا کھلے بندوں اعلان کر رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ کہا تھا وہ پورا ہو گیا۔
مگر سلسلہ کی یہ عظیم الشان ترقی جہاں ہمارے دلوں کو خوشی سے لبریز کر دیتی ہے وہاں غم و اندوہ کی ایک دردناک تلخی بھی اس میں ملی ہوئی ہے۔ کیونکہ یہ خوشی جس مقدس انسان کے طفیل ہمیں میسر آئی وہ آج اس دنیا میں موجود نہیں ہے۔ خود میرے احساسات کی تو یہ حالت ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے سلسلہ کی خدمت کی اور اس دنیا سے گزر گئے وہ مجھے آج تک نہیں بھولے۔ میری نظر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات آج بھی اسی طرح تازہ ہے جس طرح اُس دن تھی جس دن آپ کا وصال ہوا۔ پھر میری نظر میں حضرت خلیفہ اول کی وفات آج بھی اُسی طرح تازہ ہے جس طرح اُس دن تھی جب آپ کا انتقال ہوا۔ کیونکہ میرے نزدیک وہ شخص جو اپنے کسی احسان کرنے والے کو بھول جاتا ہے وہ پرلے درجہ کا محسن کش ہے۔ صبر کے یہ معنے نہیں کہ انسان اپنے محسنوں کو بھول جائے۔ بلکہ صبر کے یہ معنی ہیں کہ کوئی صدمہ انسان کو اس کے اصل فرائض سے غافل نہ کر دے اور اس کی ہمت اور طاقت کو پست نہ کر دے۔ ورنہ کسی صدمہ کا بھلا دینے کا نام صبر نہیں بلکہ احسان فراموشی ہے۔ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا اندوہناک سانحہ نہیں دیکھا مگر مجھے تو وہ دن بھی آج تک نہیں بھولا۔ آج تک آپؐ کی وفات کے حالات میں نے کبھی نہیں پڑھے کہ میری آنکھیں فرطِ جذبات سے پُرنم نہ ہوگئی ہوں اور مجھے اُسی طرح درد و کرب محسوس نہ ہوا ہو جس طرح آپ کا زمانہ پانے والے مخلصین کو ہوا تھا۔ میں نے جب کبھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ واقعہ پڑھا ہے کہ آپ نے جب پہلی مرتبہ چکی سے پسے ہوئے باریک آٹے کی روٹی کھائی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کر کے آپ کے آنسو بہہ پڑے تو اُس وقت میری آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگ جاتے ہیں۔ ایک عورت کہتی ہے میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ یہ بات کیا ہے کہ اتنی عمدہ روٹی کھا کر بھی آپ کے آنسو بہہ رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا جب میں نے اس روٹی کا ایک لقمہ اپنے منہ میں ڈالا تو مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یاد آگئے کیونکہ آپ کے زمانہ میں چکیاں نہیں تھیں ہم صرف سِل بٹہ پر غلہ گوٹ کر اور پھونکوں سے اس کے چھلکے اڑا کر روٹی پکا لیا کرتے تھے۔ مجھے خیال آیا کہ اگر اُس وقت بھی چکیاں ہوتیں اور میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ملائم اور باریک آٹے کی روٹی کھلاتی تو آپ کو کتنی راحت پہنچتی۔ میری حالت بھی ایسی ہی ہے۔
سلسلہ کی کوئی ترقی اور کوئی فتح نہیں جو ایک رنگ میں میرے لئے غم کا نیا سامان پیدا نہیں کرتی کیونکہ اُس وقت مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ آج اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام زندہ ہوتے تو جو فتوحات اور کامیابیاں ہمیں حاصل ہو رہی ہیں ان کے پھول ہم آپ کے قدموں میں جا کر ڈال دیتے۔ مگر خدا تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ لوگ جو اپنا خون بہا کر اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں ہلکان کر کے خدائی کھیت میں بیج ڈالتے ہیں وہ پھل کاٹتے وقت اس دنیا میں موجود نہیں ہوتے۔ لیکن ہمارا دل ان کو کب بھلا سکتا ہے۔ ہم اُن کی یاد کو کس طرح فراموش کر سکتے ہیں۔ ایک ایک کام جو ہمارے سلسلہ میں ہو رہا ہے۔ ایک ایک علمی مسئلہ جو حل ہو رہا ہے، ایک ایک فیضانِ الٰہی جو ہم پر نازل ہو رہا ہے۔ اُنہی کی دعاؤں اور برکتوں اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔ پھر کون ایسا تنگ دل اور احسان فراموش انسان ہو سکتا ہے۔ جو کھیت تو کاٹ کر لے آئے، پھل تو اکٹھے کر لے مگر اُن لوگوں کو یاد نہ کرے جنہوں نے کھیت میں بیج ڈالا اور پھلدار پودے لگائے۔ بے شک وہ اُس وقت خوش ہو رہا ہوگا جب وہ پھل توڑ رہا اور کھیت کاٹ رہا ہوگا۔ مگر اس کے ساتھ ہی اگر وہ خوشی سے ہنس رہا ہوگا تو دوسری طرف اس کی آنکھیں غم سے آنسو بھی بہا رہی ہوں گی کیونکہ وہ خیال کرے گا کہ جو خوشی مجھے آج حاصل ہو رہی ہے اس کا اصل حق دار وہی تھا جس نے کھیت بونے اور پودے لگانے میں اپنی زندگی خرچ کر دی۔
مجھے یاد ہے 1924ء میں جب میں لندن گیا اور میں نے وہاں مسجد کی بنیاد رکھی تو اُس وقت میری یہ کیفیت تھی کہ میرے آنسو تھمنے میں ہی نہیں آتے تھے کیونکہ اُس وقت وہ نظارہ میری آنکھوں کے سامنے پھر گیا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر یہ اعلان فرمایا تھا کہ:
’’دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔‘‘
جب یہ الہام پا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا کے مقابلہ میں کھڑے ہوئے ۔ اُس دنیا کے مقابلہ میں جس کا ایک ایک فرد آپ کے خون کا پیاسا تھا۔ آپ کو لالچی، حریص، خود غرض اور کیا کچھ کہہ رہا تھا تو اُس وقت آپ کی کیا حالت ہوگی۔ آپ اس مخالفت کو دیکھ کر دنیا سے متنفر ہوں گے مگر خدا تعالیٰ نے کہا کہ اُٹھ اور دنیا میں میرے نام کی منادی کر اور اُسے کہہ دے کہ حَانَ اَنْ تُعَانَ وَ تُعْرَفَ بَيْنَ النَّاسِ۔ وہ وقت آگیا ہے کہ خدا تیری مدد کرے اور تجھے دنیا میں لازوال شہرت عطا کرے۔ اُس وقت آپ کو بار بار یہ خیال آتا ہوگا کہ میں تو کسی شخص سے ملنا بھی نہیں چاہتا مگر میرا خدا مجھے کہتا ہے کہ جا اور لوگوں کو بُلا۔ پس آپ نے خدا تعالیٰ کے حکم کو قبول کر کے وہ موت اختیار کی جس سے بڑھ کر انبیاء کے لئے اور کوئی موت نہیں ہوتی۔ آپ گوشۂ تنہائی سے نکل کر دنیا کے سامنے جا کھڑے ہوئے اور دنیا سے وہ سب کچھ کہلوایا جو پہلے نبیوں کو کہا جاتا رہا ہے۔ کبھی کہا گیا یہ حریص ہے، یہ مال و دولت جمع کرنا چاہتا ہے اور اپنی دکانداری چلانا چاہتا ہے۔ کبھی دنیا آپ کی باتوں پر ہنستی اور کہتی کیسی پاگلانہ باتیں کر رہا ہے۔ کبھی آپ کو مفسد اور فتنہ پرداز
قرار دے کر طرح طرح کے دکھ دیئے جاتے ۔ کبھی آپ پر قسم قسم کے غلط اور جھوٹے الزام لگا کر کوشش کی جاتی کہ کسی کو آپ کی بات تک سننے نہ دی جائے ۔ سوچو اور غور کرو کہ وہ کیسی تلخ گھڑیاں تھیں ۔ کیسا سخت زمانہ تھا جو آپ پر گزرا۔ لیکن جب اُن دنوں کی دعاؤں اور کوششوں کے نتیجہ میں وہ بابرکت دن آئے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے نام کو دنیا میں عزت و احترام کے ساتھ پھیلا دیا۔ کامیابیوں اور فتوحات کے دروازے کھول دیئے تو وہ اپنے مالکِ حقیقی کے پاس پہنچ چکا تھا اور انعامات سے اور لوگ لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔ اِس قسم کے جذبات اور خیالات نے میرے دل کو قابو میں نہ رہنے دیا اور جب بھی ہمارے سلسلہ کو کوئی فتح حاصل ہوئی اُس میں جہاں میں خوش ہوا کہ خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہوا وہاں میں غمگین بھی ہوا کہ اس وقت وہ ہستیاں نہیں ہیں جو ان فتوحات کی بانی ہیں اور جو اس بات کی مستحق ہیں کہ ہم ان کے حضور اپنے اخلاص اور عقیدت کے سچے جذبات کا اظہار کریں ،
بہر حال ہم میں سے کوئی شخص اس امر سے انکار نہیں کر سکتا کہ خدا تعالیٰ کے مسیح کے ہاتھوں زمین میں ایک بیج بویا گیا اور وہ بیج ہر قسم کی مخالفانہ ہواؤں کے باوجود بڑھا اور پھولا اور پھلا یہاں تک کہ آج اُسی بیج سے ایک ایسا شاندار درخت پیدا ہو چکا ہے جس کی شاخیں آسمان تک پھیلی ہوئی ہیں اور جس پر ہزار ہا آسمانی پرندوں نے بسیرا کیا ہوا ہے ۔ مگر ابھی ضرورت ہے کہ ہم اپنے کام کو اور بھی وسیع کریں اور خدا تعالیٰ کے جلال اور اس کے جمال کے اظہار کیلئے اس مقدس مشن کی تکمیل میں اپنی عمریں صرف کر دیں جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس دنیا میں مبعوث ہوئے تھے ۔
مجھے سب سے پہلے یہ خیال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر آیا تھا ۔ جب آپ نے وفات پائی تو میں نے دیکھا کہ بعض لوگوں کے چہروں کی رنگت اڑ گئی اور ان کی زبانوں سے یہ الفاظ نکل گئے کہ اب کیا ہوگا۔ اس وقت میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نعش کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ عہد کیا کہ اے خدا! اگر ساری جماعت بھی خدانخواستہ مرتد ہو جائے تو جس کام کے لئے خدا کا یہ پیارا دنیا میں آیا تھا اُس کے لئے میں اپنی جان تک قربان کر دوں گا ۔ میں اپنی زندگی کی بہترین گھڑیوں میں سے وہ گھڑی سمجھتا ہوں جب خدا تعالیٰ نے مجھے اس عہد کی توفیق عطا فرمائی اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری جماعت کے ہر فرد کو بھی یہی توفیق عطا فرمائے اور اسے دین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کی اہلیت بخشے۔ یہی وہ مقصد ہے جس کو جماعت کے سامنے بار بار پیش کرنے کے لئے اس جلسہ کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ پس آپ لوگ جو اس جلسہ میں شمولیت کے لئے باہر سے تشریف لائے ہیں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ حکمت کی ایک بات بھی بعض دفعہ انسان کی نجات کا موجب ہو جاتی ہے اس لئے ہر بات جو یہاں بیان کی جائے اُسے آپ پورے غور اور توجہ کے ساتھ سنیں اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں کیونکہ کوئی نہیں کہہ سکتا کونسی بات اس کے لئے نجات کا موجب بننے والی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جن سے ہزاروں احادیث مروی ہیں وہ بیان کیا کرتے تھے کہ چونکہ میں بہت دیر کے بعد اسلام لایا تھا اور دوسرے لوگوں نے مجھ سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی باتیں سن لی تھیں اس لئے میں نے یہ عہد کر لیا کہ اب میں آپؐ کے دروازہ سے نہیں ہلوں گا۔ چنانچہ وہ ہر وقت مسجد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دروازہ پر بیٹھے رہتے تا کہ جب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم باہر تشریف لائیں تو وہ آپؐ کی باتیں سننے کے لئے مسجد میں موجود ہوں۔ اس طرح بعض دفعہ انہیں سات سات وقت کا فاقہ ہو جاتا مگر وہ اس خیال سے نہیں اٹھتے تھے کہ ممکن ہے کہ جس وقت میں جاؤں اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئیں اور جو کچھ آپ فرمائیں میں اُس کے سننے سے محروم رہ جاؤں۴؎آپ لوگوں کو بھی اپنے اندر عشق کا یہی جذبہ اور یہی رنگ پیدا کرنا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ جو کچھ آپ کو سنایا جائے اُسے غور سے سنیں اور نیکی کی باتوں کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کریں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے ہیں اور پھر وہاں سے اُٹھ کر ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس شخص نے ابھی کیا کہا تھا؟۵؎قرآن کریم ایسے منافقوں پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتا ہے کیونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے فائدہ نہیں اٹھاتے تھے۔ آپ لوگوں کو چاہئے کہ اس نقص کو کبھی اپنے قریب بھی
نہ آنے دیں اور توجہ اور انہماک کے ساتھ دین کی باتیں سنیں اور اپنے اوقات کا صحیح استعمال کریں تا کہ یہ گھڑیاں جو سال بھر کے بعد خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کو عطا کی ہیں ضائع نہ ہوں بلکہ آپ ان سے پورا پورا فائدہ حاصل کر کے جائیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے فضل اور عفو اور ستاری کو کام میں لاتے ہوئے ہم سے اپنی بخشش اور رحمت کا سلوک کرے اور ہماری جماعت کے تمام مردوں اور عورتوں اور بچوں کو زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت کی توفیق بخشے کیونکہ جو کچھ ہوگا اُسی کے فضل اور احسان سے ہوگا۔ ہماری تمام کوششیں صرف ایک بیج کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لیکن اس بیج کو بڑھانا اور ترقی دینا اور اس سے پھل پیدا کرنا ہمارے ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے اُسی کے آستانہ پر ہم جھکتے ہیں اور اُس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس اجتماع کو ہر لحاظ سے بابرکت کرے اور اسے جماعت کے اندر ایک نیا ایمان اور نیا اخلاص اور نیا جوش پیدا کرنے کا موجب بنائے اور ہمیشہ اس کے فضل ہماری جماعت کے شامل حال رہیں۔ اٰمِیْن اَللّٰھُمَّ اٰمِیْن۔“ (الفضل 2؍جنوری 1962ء)
از سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
(سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی املاء کردہ یہ تقریر مورخہ 28 دسمبر 1961ء کو حضور کی زیر صدارت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے پڑھ کر سنائی۔)
’’اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ وَذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ فَتَقَبَّلَہَا(3:37-38) اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(1:2-7)
احباب کو معلوم ہے کہ میری طبیعت ایک لمبے عرصہ سے ناساز چلی آرہی ہے جس کی وجہ سے اب میرے جسم میں ایسی طاقت نہیں کہ میں سابق دستور کے مطابق کوئی لمبی تقریر کر سکوں۔ مگر اس لئے کہ جماعت کے دوست اس سردی کے موسم میں سخت تکلیف اٹھا کر دور دور سے تشریف لائے ہوئے ہیں میں نے مناسب سمجھا کہ میں احباب کی توجہ کے لئے چند باتیں بیان کر دوں۔
مجھے 1914ء میں جب اللہ تعالیٰ نے خلافت کے مقام پر کھڑا کیا تو اُس وقت جماعت کی یہ حالت تھی کہ غیر مبایعین عَلَی الْاِعْلَان کہہ رہے تھے کہ پچانوے فیصد ی جماعت اُن کے ساتھ ہے اور صرف پانچ فیصدی جماعت نے ابھی خلافت تسلیم کی ہے۔ اُن دنوں مخالفت کا ایک دریا تھا جو اُمڈا چلا آ رہا تھا۔ انجمن کا خزانہ خالی پڑا تھا اور بڑے بڑے کارکن جن کا
صدر انجمن احمدیہ پر قبضہ رہ چکا تھا مجھے گرانے اور ناکام کرنے کے درپے تھے۔ اُس وقت خدا ہی تھا جو میری تائید کے لئے اُٹھا اور اس نے دوسرے ہی ہفتہ مجھ سے وہ ٹریکٹ لکھوایا جس کا یہ عنوان تھا کہ
’’کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے‘‘
اور جہاں جہاں یہ ٹریکٹ پہنچا متردّد جماعتوں کے دل صاف ہو گئے اور سنبھل گئے اور وہ تاروں اور خطوط کے ذریعہ میری بیعت کرنے لگیں۔
پھر خدا نے مجھے انہی دنوں غیر مبایعین کے متعلق الہاماً بتایا کہ لَيُمَزِّقَنَّهُمْ یعنی وہ ان لوگوں کی جمعیت کو منتشر کر دے گا۔ چنانچہ تھوڑے ہی دنوں میں دنیا نے یہ عظیم الشان انقلاب اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہی جو اپنے آپ کو پچانوے فیصدی کہا کرتے تھے پانچ فیصدی رہ گئے اور جنہیں پانچ فیصدی کہا جاتا تھا وہ پچانوے فیصدی بن گئے۔ یہ فوج آخر کہاں سے آئی؟ بعض نادان یہ خیال کرتے ہیں کہ چونکہ اس وقت میرے ساتھ جماعت زیادہ ہے اس لئے میں ترقی کر رہا ہوں۔ مگر میں کہتا ہوں جب ان کے دعوے کے مطابق میرے ساتھ صرف پانچ فیصدی جماعت تھی تو اُس وقت کون تھا جس نے مجھے پانچ سے پچانوے فیصدی تک جماعت کو لے جانے کی توفیق بخشی۔ پھر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ میں نے اس عرصہ دراز میں صرف غیر مبایعین کا ہی مقابلہ نہیں کیا بلکہ میں نے عیسائیوں کا بھی مقابلہ کیا ہے، میں نے ہندوؤں کا بھی مقابلہ کیا ہے اور میں نے غیر احمدی مسلمانوں کا بھی مقابلہ کیا ہے اور وہ کروڑوں کی تعداد میں تھے۔ اگر انسانوں پر ہی میری طاقت کا انحصار ہوتا تو کروڑوں مخالفوں کے مقابلہ میں میری ہستی ہی کیا تھی۔ مگر وہ کروڑوں ہونے کے باوجود مجھے خدا کے فضل سے ناکام نہ کر سکے اور ہر دن جو مجھ پر چڑھا وہ میری کامیابیوں کو زیادہ سے زیادہ روشن کرتا چلا گیا۔ اسی طرح جب تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد اندرونی منافقوں نے سر نکالا اور جماعت میں انہوں نے فتنہ پیدا کرنا چاہا تو اُس وقت بھی صرف خدا ہی تھا جس نے میری مدد کی اور میں احمدیت کی کشتی کو پُر خطر چٹانوں میں سے گزارتے ہوئے اسے ساحلِ کامیابی پر لے گیا۔
آج بھی ایسے بیسیوں لوگ زندہ ہوں گے جو یہ جانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب وفات پا گئے تو انہی غیر مبایعین کے سرکردہ اصحاب نے جو اُس وقت صدر انجمن احمدیہ پر قابض تھے یہ فیصلہ کیا کہ سلسلہ کا جو روپیہ علماء تیار کرنے پر خرچ ہو رہا ہے یہ بے فائدہ ہے۔ مدرسہ احمدیہ کو بند کر دینا چاہئے اور صرف ہائی سکول میں دینیات کی تعلیم رکھ کر گزارہ کرنا چاہئے۔ چنانچہ انہوں نے تمام جماعتوں کو ایجنڈا بھیجا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد پہلے جلسہ کے موقع پر ہی جب تمام جماعتوں کے نمائندے اکٹھے ہوئے انہوں نے مسجد مبارک میں ایک جلسہ کیا اور ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری اور تیسری کے بعد چوتھی تقریر کی اور کہا کہ اب ہمیں کسی نئے مسئلہ کی ضرورت نہیں کہ علماء تیار کرنا ہمارے لئے ضروری ہو۔ بہتر ہے کہ مدرسہ احمدیہ کو بند کر دیا جائے اور لڑکوں کو وظائف دے کر سکولوں اور کالجوں میں بھیجا جائے اور انہیں ڈاکٹر اور وکیل بنایا جائے۔ ان تقریروں کا ایسا اثر ہوا کہ قریباً تمام جماعت اُدھر چلی گئی اور اُن میں اِس قدر جوش بھر گیا کہ میں سمجھتا ہوں اگر مدرسہ احمدیہ کوئی آدمی ہوتا تو وہ اُس کا گلا گھونٹ دیتے۔ ابھی یہ تقریریں ہو ہی رہی تھیں کہ میں بھی وہاں جا پہنچا۔ اُس وقت میری عمر بیس سال کی تھی۔ ساری جماعت ایک طرف تھی اور چونکہ بہت سی تقریریں ہو چکی تھیں اِس لئے لوگ اِس بات پر زور دے رہے تھے کہ اب مزید تقریروں کی ضرورت نہیں۔ اس بات کا فیصلہ کر دیا جائے کہ مدرسہ احمدیہ کو بند کیا جاتا ہے۔ جب میں نے اُس مجلس کی یہ حالت دیکھی تب میرے نفس نے مجھے کہا کہ اگر آج تُو نے کچھ نہ کہا اور اس موقع پر نہ بولا تو پھر کب بولے گا۔ چنانچہ میں تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہو گیا۔ اُس وقت مجھے بعض آوازیں بھی آئیں کہ اب تقریریں بہت ہو چکی ہیں مگر میں نے اُن آوازوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور میں نے کھڑے ہو کر کہا کہ آپ نے جو کچھ فیصلہ کیا ہے یہ آپ کے خیال میں ٹھیک ہو گا۔ مگر ایک چیز ہے جو اے جماعت احمدیہ کے لوگو! میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اور وہ یہ کہ ہمارے کام آج ختم نہیں ہو جائیں گے بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں سال تک ان کا اثر چلتا چلا جائے گا۔ اور دنیا کی نگاہیں ان پر ہوں گی۔ اور اگر ہم کسی کام کو چھپانا بھی چاہیں گے تو وہ نہیں چھپے گا بلکہ تاریخ کے صفحات پر ان واقعات کو نمایاں حروف میں لکھا جائے گا۔ اس نقطۂ نگاہ کو مدّ نظر رکھتے ہوئے میں آپ کی توجہ اس امر کی طرف پھیرنا چاہتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الموت سے بیمار ہوئے تو آپؐ نے اپنی وفات سے کچھ دن پہلے ایک لشکر رومی حکومت کے مقابلہ کے لئے تیار کیا اور حضرت اسامہ بن زیدؓ کو اس کا سردار مقرر فرمایا1۔ ابھی یہ لشکر روانہ نہیں ہوا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی اور سوائے مکہ اور مدینہ اور طائف کے سارے عرب میں بغاوت رونما ہوگئی۔ اُس وقت بڑے بڑے جلیل القدر صحابہؓ نے مل کر مشورہ کیا کہ اس موقع پر اسامہؓ کا لشکر باہر بھیجنا درست نہیں کیونکہ اِدھر سارا عرب مخالف ہے اُدھر عیسائیوں کی زبردست حکومت سے لڑائی شروع کر دی گئی تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلامی حکومت درہم برہم ہو جائے گی۔ چنانچہ انہوں نے ایک وفد حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خدمت میں روانہ کیا اور درخواست کی کہ یہ وقت سخت خطرناک ہے اگر اسامہؓ کا لشکر بھی عیسائیوں کے مقابلہ کے لئے چلا گیا تو مدینہ میں صرف بچے اور بوڑھے رہ جائیں گے اور مسلمان عورتوں کی حفاظت نہیں ہو سکے گی۔ اے ابوبکر! ہم آپ سے التجا کرتے ہیں کہ آپ اس لشکر کو روک لیں اور پہلے عرب کے باغیوں کا مقابلہ کریں۔ جب ہم انہیں دبا لیں گے تو پھر اسامہ کے لشکر کو عیسائیوں کے مقابلہ کے لئے روانہ کیا جا سکتا ہے۔ اور چونکہ اب مسلمان عورتوں کی عزت اور عصمت کا سوال بھی پیدا ہو گیا ہے اور خطرہ ہے کہ دشمن کہیں مدینہ میں گھس کر مسلمان عورتوں کی آبرو ریزی نہ کرے اس لئے آپ ہماری اس التجا کو قبول فرماتے ہوئے جیشِ اسامہ کو روک لیں اور اسے باہر نہ جانے دیں۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب وہ اپنی منکسرانہ حالت کا اظہار کرنا چاہتے تو اپنے آپ کو اپنے باپ سے نسبت دے کر بات کیا کرتے تھے۔ کیونکہ ان کے باپ غریب آدمی تھے اور چونکہ ان کے باپ کا نام ابوقحافہ تھا اس لئے اس موقع پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ کیا ابوقحافہ کا بیٹا خلافت کے مقام پر فائز ہونے کے بعد پہلا کام یہ کرے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو آخری مہم تیار کی تھی اسے روک دے؟ پھر آپ نے فرمایا خدا کی قسم! اگر کفار مدینہ کو فتح کر لیں اور مدینہ کی گلیوں میں مسلمان عورتوں کی لاشیں کُتے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں اس لشکر کو نہیں روکوں گا جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کرنے کے لئے تیار کیا تھا۔ یہ لشکر جائے گا اور ضرور جائے گا۔
یہ مثال بیان کرنے کے بعد میں نے دوستوں سے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد آپ لوگوں کا بھی یہ پہلا اجتماع ہے۔ آپ لوگ غور کریں اور سوچیں کہ آئندہ تاریخ آپ کو کیا کہے گی۔ تاریخ یہ کہے گی کہ حضرت ابوبکرؓ نے ایسے خطرہ کی حالت میں جبکہ تمام عرب باغی ہو چکا تھا اور جبکہ مدینہ کی عورتوں کی حفاظت کے لئے بھی کوئی مناسب سامان اُن کے پاس نہ تھا اتنا بھی پسند نہ کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک تیار کئے ہوئے لشکر کو روک لیں بلکہ آپ نے فرمایا کہ اگر مسلمان عورتوں کی لاشیں کُتے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو منسوخ نہیں کروں گا۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی وفات سے اڑھائی سال پہلے دسمبر 1905ء کے جلسہ سالانہ پر تمام جماعت کے دوستوں سے مشورہ لینے کے بعد جس دینی مدرسہ کو قائم فرمایا تھا اور جس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ وہ عبدالکریم صاحب سیالکوٹی اور مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کی یادگار ہوگا اور سلسلہ کی ضروریات کے لئے علماء تیار کرنے کا کام اس کے سپرد ہوگا اسے مسیح موعودؑ کی جماعت نے آپ کے وفات پانے کے معاً بعد توڑ کر رکھ دیا۔ کیونکہ جس طرح جیشِ اسامہ کی تیاری کا کام خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اُسی طرح مدرسہ دینیات کا اجراء خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی آخری عمر میں فرمایا تھا۔ پس دنیا کیا کہے گی کہ ایک مامور کی وفات کے بعد تو اُس کے متبعین نے اپنی عزتوں کا برباد ہونا پسند کر لیا مگر یہ برداشت نہ کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم باطل ہو لیکن دوسرے مامور کے متبعین نے باوجود اس کے کہ ان کے سامنے کوئی حقیقی خطرہ نہ تھا اس کے ایک جاری کردہ کام کو اس کی وفات کے معاً بعد بند کر دیا۔ جب میں نے یہ کہا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمام لوگوں کے قلوب کو میری طرف پھیر دیا اور بعض کی تو رقّت کی وجہ سے چیخیں نکل گئیں اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم ہرگز یہ رائے نہیں دیتے کہ مدرسہ احمدیہ بند ہونا چاہئے۔ ہم اسے جاری رکھیں گے اور مرتے دم تک بند نہیں ہونے دیں گے۔ تب خواجہ کمال الدین صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنے طریق کے مطابق کہا کہ دوستوں کو غلط فہمی ہوئی ہے ہمارا مطلب بعینہٖ وہی تھا جو میاں صاحب نے بیان کیا ہے۔ یہ خواجہ صاحب کا عام طریق تھا کہ جب وہ دیکھتے کہ اُن کی کسی بات کو لوگوں نے پسند نہیں کیا تو کہتے کہ دوستوں کو غلط فہمی ہوگئی ہے۔ چنانچہ پھر انہوں نے اس غلط فہمی کو دور کرنے کیلئے ایک تقریر بھی کی مگر آخر میں کہا کہ اس پر مزید غور کرلیا جائے۔ ابھی ہم کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔ بعد میں ہم خط و کتابت کے ذریعہ مشورہ حاصل کرلیں گے۔ انہوں نے سمجھا کہ شاید اسی طرح جماعت کی رائے اُن کی تائید میں ہوجائے۔ چنانچہ کچھ وقفہ کے بعد انہوں نے پھر تمام جماعتوں سے رائے طلب کی مگر جماعت نے یہی لکھا کہ وہی فیصلہ ٹھیک ہے جو ہم قادیان میں کر کے آئے تھے۔ اب بتاؤ اُس وقت کون تھا جس نے میری مدد کی؟ مجھے تو کہنے والے یہی کہتے تھے کہ اب کسی اور تقریر کی ضرورت نہیں بہت تقریریں ہوچکی ہیں اور معاملہ بالکل صاف ہے مگر خدا نے میری ہر میدان میں تائید کی اور مجھے ہر جگہ مظفر و منصور کیا۔ بے شک غیر مبایعین ہمیشہ مجھ پر اعتراضات کرتے رہتے ہیں مگر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اسلام کے لئے کس کا وجود مفید ثابت ہوا ہے۔ کیا میرا یا اُن کا؟
انہوں نے تو یہی کیا کہ وہ شخص جو اسلام کی خدمت کر رہا ہے، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور دنیا میں پھیلا رہا ہے، جو قرآن کریم کی عظمت عالم میں قائم کر رہا ہے اُس پر رکیک اور بے بنیاد حملے کر دیئے۔ اِس قسم کے حملوں سے بھلا کونسا مقدس انسان بچا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی متعدد اعتراضات لوگوں نے کئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بھی لوگوں نے کئی اعتراضات کئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی اعتراض کرنے والوں نے اعتراض کئے۔ پس اس قسم کی باتوں سے کیا بنتا ہے۔ دیکھنے والی بات تو یہ ہے کہ اسلام کو فائدہ کس کے ذریعہ پہنچ رہا ہے۔ اگر کوئی شخص واقعہ میں یہ سمجھتا ہے کہ میں نے
اسلام کے غلبہ اور اس کی اشاعت کے لئے جس قدر کام کئے ہیں وہ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ لغو ہیں اور اسلام کو ان کی بجائے کسی اور رنگ میں کام کرنے سے زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے تو میں اُسے کہتا ہوں کہ تم میدان میں آؤ اور کام کر کے دکھاؤ۔ اگر تمہارا کام اچھا ہوا تو دنیا خود بخود تمہارے پیچھے چلنے لگ جائے گی۔ آخر دنیا میں کوئی اسلام سے محبت رکھنے والی جماعت ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو تمہیں ماننا پڑے گا کہ جو شخص بھی اسلام کی خدمت کرے گا وہ اُسی کے پیچھے چلے گی۔ پھر اس میں کونسی مشکل بات ہے۔ وہ اسلام کی مجھ سے بہتر خدمت کر کے دکھاویں دنیا خود بخود اُن کے پیچھے چل پڑے گی۔ لیکن اگر ایک جماعت ایسی ہو جو صرف اعتراض کرنا ہی جانتی ہو تو اُسے یاد رکھنا چاہئے کہ یہ دنیا لاوارث نہیں ہے۔ اس دنیا کا ایک زندہ اور طاقتور خدا ہے۔ وہ مجھ پر اعتراضات کر سکتے ہیں، وہ میرے خلاف ہر قسم کے منصوبے کر سکتے ہیں، وہ مجھے لوگوں کی نگاہ سے گرانے اور ذلیل کرنے کے لئے جھوٹے الزام لگا سکتے ہیں مگر وہ ان حملوں کے نتیجہ میں میرے خدا کے زبردست ہاتھ سے نہیں بچ سکتے۔ لیکن میں اسی خدا کے فضلوں پر بھروسہ رکھتے ہوئے کہتا ہوں کہ میرا نام دنیا میں ہمیشہ قائم رہے گا اور گو میں مر جاؤں گا مگر میرا نام کبھی نہیں مٹے گا۔ یہ خدا کا فیصلہ ہے جو آسمان پر ہو چکا کہ وہ میرے نام اور میرے کام کو دنیا میں قائم رکھے گا۔ اور ہر شخص جو میرے مقابلہ میں کھڑا ہو گا وہ خدا کے فضل سے ناکام رہے گا۔ دنیا میں جھوٹ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب مبعوث ہوئے تو دنیا نے آپ پر اعتراضات کئے اور کہا کہ یہ جھوٹا ہے۔ فریبی ہے۔ مکار ہے۔ ضال ہے۔ دجال ہے۔ اور اس نے کوشش کی کہ آپ کے نام کو مٹا دے مگر آج ستر اسی سال کے بعد اُس نے دیکھ لیا کہ جس کے نام کو مٹانے کے لئے اُس نے اپنی انتہائی کوششیں صَرف کر دی تھیں اُس کا نام اکنافِ عالم میں پھیل گیا اور ہر دن جو چڑھتا ہے وہ آپ کے نام کو اور زیادہ روشن کر دیتا ہے۔ اسی طرح میں کہتا ہوں میں بھی ایک انسان ہوں مگر بعض انسان ایسے مقام پر کھڑے کر دیئے جاتے ہیں کہ گو اُن کی لیڈری کی عمر تھوڑی ہو، گو اُن کی جسمانی زندگی چند سال کی ہو مگر اُن کے نام کی زندگی ہزاروں سال کی ہوتی ہے اور دنیا کے لوگ اگر کوشش کرتے کرتے مر بھی جائیں تب بھی وہ اُن کے نام کو مٹا نہیں سکتے۔ اس کی مثالیں ہمیں روحانی پیشواؤں میں بھی دکھائی دیتی ہیں اور دنیوی بادشاہوں میں بھی نظر آتی ہیں۔ سکندر جس کے ذکر سے آج تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں بیس سال کی عمر میں بادشاہ ہوا تھا اور بتیس سال کی عمر میں مر گیا۔ گویا صرف بارہ سال اسے بادشاہت کے لئے ملے مگر تئیس سو سال گزر گئے ہیں اور آج بھی ساری دنیا سکندر کو جانتی اور بچہ بچہ کی زبان پر اُس کا نام آتا ہے۔ اسی طرح خدا نے مجھے اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ خواہ مخالف مجھے کتنی بھی گالیاں دیں ، مجھے کتنا بھی بُرا سمجھیں بہرحال دنیا کی کسی بڑی سے بڑی طاقت کے بھی اختیار میں نہیں کہ وہ میرا نام اسلام کی تاریخ کے صفحات سے مٹا سکے۔ آج نہیں آج سے چالیس پچاس بلکہ سو سال کے بعد تاریخ اِس بات کا فیصلہ کرے گی کہ میں نے جو کچھ کہا تھا یہ صحیح کہا تھا یا غلط۔ میں بیشک اُس وقت موجود نہیں ہوں گا مگر جب اسلام اور احمدیت کی اشاعت کی تاریخ لکھی جائے گی تو مسلمان مؤرخ اس بات پر مجبور ہو گا کہ وہ اس تاریخ میں میرا بھی ذکر کرے۔ اگر وہ میرے نام کو اس تاریخ میں سے کاٹ ڈالے گا تو احمدیت کی تاریخ کا ایک بڑا حصہ کٹ جائے گا۔ ایک بہت بڑا خلاء واقع ہو جائے گا جس کو پُر کرنے والا اُسے کوئی نہیں ملے گا۔ پس مجھے ان کے اعتراضات کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ گالیوں اور بد زبانیوں سے میں ڈرتا ہوں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دشمن کہا کرتے تھے کہ تم کابل چلو تو تمہیں پتا لگے کہ تم سے کیا سلوک ہوتا ہے۔ مگر ان باتوں سے کیا بن گیا؟ اگر بندوں پر ہی میری نگاہ ہوتی تو بیشک مجھے گھبراہٹ ہو سکتی تھی مگر جس نے خدا تعالیٰ کے جلال اور جمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو اور جس نے اُس کے سینکڑوں نشانات کا مشاہدہ کیا ہو وہ دنیا پر نگاہ ہی کب رکھ سکتا ہے۔ مجھے تو میرے خدا نے اُس وقت جبکہ خلافت کا سوال تک بھی نہیں تھا اور جبکہ میں قریباً پندرہ سولہ سال کا تھا الہام کے ذریعہ یہ بتا دیا تھا کہ
اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَةِ
یعنی وہ لوگ جو تیرے متبع ہیں وہ تیرے نہ ماننے والوں پر قیامت تک غالب رہیں گے۔ پس یہ صرف آج کی بات نہیں بلکہ جو شخص بھی میری بیعت کا سچا اقرار کرے گا وہ خدا کے فضل سے قیامت تک میرے نہ ماننے والوں پر غالب رہے گا۔ یہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی ہے جو پوری ہوئی اور ہوتی رہے گی۔ زمانہ بدل جائے گا، حالات بدل جائیں گے، حکومتیں بدل جائیں گی اور میں بھی اپنے وقت پر وفات پا کر اپنے خدا کے حضور حاضر ہو جاؤں گا مگر خدا تعالیٰ کی یہ بتلائی ہوئی بات کبھی نہیں بدلے گی کہ میرے ماننے والے ہمیشہ میرے نہ ماننے والوں پر غالب رہیں گے۔
پھر میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہماری جماعت کو قائم ہوئے 70 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 1889ء میں اعلانِ بیعت کیا تھا جس پر 73 سال ہو چکے ہیں۔ اور اگر دعویٰ مجدّدیت کے ابتداء سے اس عرصہ کو شمار کیا جائے تو 80 سال ہو چکے ہیں۔ بیشک اس عرصہ میں ہم نے ترقی بھی کی، جماعت بھی بڑھی، تعلیم و تربیت کے ادارے بھی ہم نے قائم کئے، لٹریچر بھی ہم نے شائع کیا، اخبارات بھی جاری کئے، غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کیا مگر باوجود اس کے ابھی ہم اُس مقام پر نہیں پہنچے جس مقام پر پہنچنا خدائی جماعتوں کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ نہ ہماری تعداد اتنی ہو چکی ہے کہ ہم اس کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگا سکیں کہ آئندہ اتنے سال میں ہماری جماعت ساری دنیا پر غالب آجائے گی۔ یہ تو ہم کہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ خدا ایسا کرے گا مگر جو کام بندوں کے سپرد ہوتے ہیں اُن کے متعلق یہ دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ ان کی تکمیل میں بندوں نے کتنا حصہ لیا ہے۔
میں نے جماعت کو بارہا بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی جماعت کے سپرد کوئی کام کرتا ہے تو پہلے سے اُس نے انسانی طاقتوں کا اندازہ کر لیا ہوتا ہے اور وہی کام اُس کے سپرد کیا جاتا ہے جو اُس کی طاقت کے اندر ہو۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی جماعت کے سپرد کوئی کام کیا ہو اور وہ اس کو سرانجام دینے کی اہلیت اپنے اندر نہ رکھتی ہو۔ پس تمہارے سپرد اللہ تعالیٰ کا یہ کام کرنا کہ تم دنیا میں اسلام کا نور پھیلاؤ ظاہر کرتا ہے کہ تم میں اس کام کی اہلیت موجود ہے۔ اور اگر تم اخلاص اور قربانی سے کام کرو تو یقیناً اس فرض کو سرانجام دے سکتے ہو۔ مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگ معمولی معمولی عذرات کی بناء پر اس اہم فریضہ کی ادائیگی میں تساہل سے کام لینے لگ جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود بھی ثواب سے محروم رہتے ہیں اور دنیا کی ظلمت بھی دور نہیں ہوتی۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو شخص اس کام میں حصہ لے گا اُسے اپنے وقت کو بھی قربان کرنا پڑے گا، اپنا مال بھی قربان کرنا پڑے گا، اپنے آرام اور آسائش کو بھی قربان کرنا پڑے گا۔ لیکن دنیا کا کونسا کام ہے جس کے لئے کوئی قربانی نہیں کی جاتی۔ اور اگر بغیر کسی قربانی کے ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہونا چاہیں تو اللہ تعالیٰ سے ہم ثواب کے کس طرح امیدوار ہو سکتے ہیں۔ میں نے اسی بات کو مدّ نظر رکھتے ہوئے جماعت کے دوستوں کو کئی بار تحریک کی کہ ہر فرد کو سال بھر میں کم از کم ایک شخص کو راہِ راست پر لانے کا عہد کرنا چاہئے مگر باجود اس کے کہ صرف ایک شخص کو اور وہ بھی سال بھر میں اسلامی انوار کا گرویدہ بنانے کا عہد کرنا تھا پھر بھی بہت کم دوست اس میں شریک ہوئے۔ حالانکہ اگر صحیح کوشش سے کام لیا جائے تو انسان سال بھر میں دس دس بیس بیس بلکہ سو سو افراد کو بھی حق کا شکار کر سکتا ہے۔ ہماری جماعت کی تعداد اس وقت دس لاکھ سے کم نہیں۔ اگر ایک شخص سال بھر میں دس افراد کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرے تو صرف ایک سال میں ہماری تعداد ایک کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ اور یہ کوئی مشکل امر نہیں۔ سیالکوٹ کے ایک دوست تھے جب میں نے یہ تحریک کی تو پہلے سال انہوں نے کہا کہ میں ایک احمدی بناؤں گا۔ دوسرے سال دو احمدی بنانے کا عہد کیا۔ تیسرے سال تین احمدی بنانے کا عہد کیا۔ چوتھے سال چار احمدی بنانے کا عہد کیا۔ اسی طرح ہوتے ہوتے دس بارہ احمدی بنانے لگ گئے۔ پھر ایک دفعہ میں نے زیادہ زور دیا تو وہ یہ عہد کر کے گئے کہ میں سو احمدی بناؤں گا۔ چنانچہ میں نے دیکھا کہ اس کے بعد برابر اُن کی چٹھیوں میں ذکر ہوتا تھا کہ یہ میرا دسواں احمدی ہے، یہ بیسواں احمدی ہے، یہ چالیسواں احمدی ہے، یہ ساٹھواں یا سترواں احمدی ہے، اور اس طرح انہوں نے سو کی تعداد پوری کر دی۔ اگر اس روح کے ساتھ کام کرنے والے دس ہزار آدمی بھی ہماری جماعت میں پیدا ہو جائیں اور ان میں سے ہر شخص سال میں صرف دس افراد کی زیادتی کا موجب بن جائے تو سال بھر میں ایک لاکھ اور دوسرے سال میں دس لاکھ نئے افراد ہماری جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں۔ مگر اس کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے اندر اشاعتِ اسلام کی ایک آگ پیدا کی جائے اور رات دن یہ مقصد اپنے سامنے رکھا جائے کہ ہم نے دنیا بھر کو اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل کرنا ہے۔
پھر میں نے دیکھا ہے کہ جب بعض لوگ دوسروں کو سمجھائیں گے تو اُن میں سنجیدگی نہیں ہو گی۔ کسی نے مذاق کر دیا تو خود بھی مذاق کر دیں گے۔ ان میں یہ سنجیدگی کہ دوسرا شخص بھی توجہ دینے اور یہ سمجھنے پر مجبور ہو کہ یہ شخص میری ہدایت کے غم میں مرا جا رہا ہے پائی نہیں جاتی۔ نوجوان سیروں کو جائیں گے۔ مجالس میں قہقہے لگائیں گے۔ دوستوں سے گپیں ہانکنے میں اپنا وقت ضائع کر دیں گے۔ مگر دنیا کے ظلمت کدہ کو منور کرنے کی طرف ان کی توجہ نہیں ہو گی۔ اگر ہماری جماعت میں ایک دیوانگی ہوتی تو دس لاکھ یا ایک کروڑ کا بھی سوال نہیں اب تک ہماری جماعت دس کروڑ تک پہنچ چکی ہوتی۔ پس میں آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے دلوں میں تبدیلی پیدا کرو۔ مخالف کی تبدیلی اتنی ضروری نہیں جتنی تمہاری اپنی تبدیلی ضروری ہے۔ مخالف آج مانے یا کل اگر تمہارے اپنے اندر درد پیدا ہو جائے تو وہ خود بخود مائل ہونا شروع ہو جائے گا۔ پس ہماری جماعت کے دوستوں کو اپنا مطمح نظر بلند کرنا چاہئے اور خواہ سفر ہو یا حضر ان کے مدنظر صرف یہی بات ہونی چاہئے کہ ہمارا کام لوگوں کو حقیقی اسلام کی طرف بلانا اور انہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلقہ بگوش بنانا ہے۔ اس اہم فرض کی ادائیگی کا آسان طریق میں نے بتا دیا ہے کہ آپ لوگوں میں سے ہر شخص یہ عہد کرے کہ وہ سال بھر میں کم از کم ایک بھولی بھٹکی روح کو آستانہ الٰہی کی طرف کھینچ لانے کا موجب بنے گا۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں اب ہمیں اس سے بھی آگے قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اور ہماری جماعت کے ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ ایک کی بجائے کم از کم دس نئے افراد کو احمدیت میں شامل کرنے کی کوشش کرے۔ اگر کسی سال وہ اپنے اس عہد کو پورا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے تو کم سے کم اس کا اتنا فائدہ تو ضرور ہو گا کہ اُسے اپنے نفس میں شرم محسوس ہوتی رہے گی اور وہ کوشش کرے گا کہ میں دوسرے سال ہی اپنی اس کوتاہی کا ازالہ کروں۔ اور نہ صرف گذشتہ کمی کو پورا کروں بلکہ پہلے سے دُگنے آدمیوں کو پیغامِ حق پہنچا کر اللہ تعالیٰ کے حضور سرخرو ہو جاؤں۔
پس یہ چیز نہایت اہم ہے اور ہماری جماعت کے افراد کو اسے ایسا ہی ضروری سمجھنا چاہئے جیسے چندہ کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ چندے سے بھی زیادہ زور دوستوں سے یہ عہد لینے اور پھر اس عہد کو پورا کروانے پر صرف کرنا چاہئے ۔ کیونکہ چندہ تو بسا اوقات گھر کے تمام افراد میں سے صرف ایک شخص دیتا ہے جو کمانے والا ہوتا ہے لیکن اشاعتِ حقّہ ایک ایسی چیز ہے جو کسی ایک شخص کا نہیں بلکہ جماعت کے ہر فرد کا فرض ہے۔ اور پھر آجکل تو خصوصیت سے اس پر زور دینے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان میں مسلمانوں کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر عیسائیوں نے اپنی مذہبی سرگرمیوں میں بہت اضافہ کر دیا ہے۔
آپ لوگ اُس عظیم الشان انسان کی جماعت میں شامل ہیں جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے كَاسِرُ الصَّلِیب قرار دیا ہے اور آپ لوگوں کی تبلیغِ اسلام کے مخالف تک معترف ہیں۔ چنانچہ مصر کے ایک مشہور اخبار ’الفتح‘ نے بھی ایک دفعہ لکھا کہ جماعتِ احمدیہ کے تبلیغی مراکز یورپ، امریکہ اور افریقہ میں قائم ہو چکے ہیں جو اپنے علم اور کام کے لحاظ سے تو عیسائی مشنوں کے برابر ہیں لیکن کامیابی اور لوگوں کے قلوب فتح کرنے کے لحاظ سے عیسائی پادریوں کو ان سے کوئی نسبت ہی نہیں کیونکہ اُن کے پاس اسلام کی صداقتیں اور اس کے پُر حکمت معارف ہیں۔ پس آپ لوگوں کی ذمہ داریاں دوسرے مسلمانوں سے بہت زیادہ ہیں۔ اور عیسائیت کا مقابلہ کرنے کا حقیقی فرض درحقیقت آپ کے کندھوں پر ہی عاید ہوتا ہے۔ اس لئے جہاں دوسرے مسلمانوں کو سمجھانا اور انہیں احمدیت کی غرض و غایت سے واقف کرنا اور ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنا آپ کا فرض ہے وہاں عیسائیت کے فتنہ کو دور کرنے کے لئے بھی اپنے اپنے علاقہ میں منتظم کوشش کرنا اور مسلمانوں کے پسماندہ اور غیر تعلیم یافتہ طبقہ کو عیسائیت کے اثر سے بچانا بھی آپ کے اہم فرائض میں شامل ہے۔
میں سمجھتا ہوں عیسائیوں میں یہ حرکت بھی اسی لئے پیدا ہوئی ہے کہ ہماری جماعت
آسمانی نوروں کو پھیلانے میں سُستی سے کام لے رہی ہے۔ اگر مسلمان اس تعلیم سے واقف ہوتے جو احمدیت پیش کرتی ہے تو ان کا ایک حصہ عیسائیت کا شکار ہی کس طرح ہوسکتا تھا۔ سو آپ لوگ دوسروں کو بھی اسلامی تعلیم سے آگاہ کریں اور خود بھی مسائل سے گہری واقفیت پیدا کریں۔ یہی اصل عزت ہے جو انبیاء کی جماعتوں کو حاصل ہوتی ہے کہ ایمان لانے کے بعد وہ نہایت جوش اور اخلاص کے ساتھ دین کی باتیں سیکھنے لگ جاتے ہیں۔ اور پھر وہ اس میں اس قدر ترقی کر جاتے ہیں کہ مخالف مذاہب کا بڑے سے بڑا عالم بھی اُن سے بات کرے تو وہ شرمندہ ہو جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ان سے دینی مسائل پر بحث کرنا کوئی آسان کام نہیں۔
میں جب جوان تھا مجھے ڈلہوزی میں ایک پادری سے گفتگو کرنے کا موقع ملا اور میں نے اُس سے تثلیث اور کفّارہ پر بحث کی۔ جب وہ میرے سوالات کا جواب دینے سے عاجز آگیا تو کہنے لگا کہ سوال تو ہر بے وقوف کرسکتا ہے مگر جواب دینے کے لئے عقلمند آدمی ہونا چاہئے۔ میں نے کہا میں تو آپ کو عقلمند سمجھ کر ہی آیا تھا۔
غرض عیسائیت کا مقابلہ کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ لوگ اپنے فرائض کی ادائیگی کی طرف توجہ دیں اور لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کریں۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ دوسروں کے سامنے بات پیش کرنے کا طریق ایسا ہونا چاہئے جس سے محبت اور پیار ظاہر ہو۔ اور اگر کوئی شخص اپنی ناسمجھی کی وجہ سے آپ کو بُرا بھلا بھی کہے تو مسکراتے چلے جاؤ اور نرمی اور انکسار اور حُسن اخلاق سے کام لو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو خود بخود اُن کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ یہ تو بالکل اور قسم کے انسان ہیں۔ ہم بُرا بھلا کہہ رہے ہیں اور یہ مسکرا رہے ہیں۔ ہم سختی کر رہے ہیں اور یہ محبت اور پیار میں بڑھتے جا رہے ہیں۔ تب وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہوں گے کہ یہ لوگ زمینی نہیں بلکہ آسمانی ہیں اور وہ بھی تمہارے کندھوں کے ساتھ اپنا کندھا ملا کر اسلام کی خدمت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی بلندی کے لئے کفر کے مقابلہ میں کھڑے ہو جائیں گے۔
پس اے میرے عزیزو! تم آسمانی آبِ حیات کی متلاشی اقوام کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں حوضِ کوثر پر لے جاؤ اور انہیں گندی زیست سے نجات دلانے اور اُن کے اندر ایمان کی حرارت پیدا کرنے کے لئے کافوری اور زنجبیلی جام پلاؤ اور اس سانپ کا سر ہمیشہ کے لئے کچل دو جس نے آدم کی ایڑی پر ڈسا تھا اور اُسے جنتِ ارضی سے نکال دیا تھا۔ اس وقت ہماری جماعت میدانِ جہاد میں کام کر رہی ہے۔ اور وہی فوج دشمن کا دلیری سے مقابلہ کر سکتی ہے جس کی صفوں میں انتشار نہ ہو۔ قرآن کریم نے اس کی اہمیت پر بڑا زور دیا ہے اور بتایا ہے کہ مومنوں کی جماعت جب دشمنوں کے مقابلہ میں سینہ سپر ہوتی ہے تو اس کی کیفیت بُنۡیَانٌ مَّرۡصُوۡصٌ(61:5) کی سی ہوتی ہے۔ یعنی وہ ایک ایسی دیوار کی طرح ہوتے ہیں جس کی مضبوطی کے لئے اُس پر سیسہ پگھلا کر ڈالا گیا ہو۳؎۔ پس اختلافات کو کبھی اپنے قریب بھی نہ آنے دو۔ ہر شخص جو کسی جماعت میں تفرقہ کا بیج بوتا اور جماعتی اتحاد کو نقصان پہنچاتا ہے وہ احمدیت کا بدترین دشمن ہے۔ اور تمہیں اُسی طرح تباہی کے گڑھے میں گرانا چاہتا ہے جس طرح گزشتہ دور میں مسلمان صدیوں تک تنزّل کا شکار رہے۔ تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اسی لئے مبعوث فرمایا ہے کہ دنیا ایک ہاتھ پر اکٹھی ہو۔ پس ہر شخص جو اتحاد میں رخنہ اندازی کرتا ہے، ہر شخص جو اس سکیم کے راستہ میں روک بنتا ہے وہ خدائی ناراضگی کا نشانہ بنتا ہے۔
مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ رؤیا کے ذریعہ بھی اس کی طرف توجہ دلائی تھی۔ چنانچہ میں نے ایک شخص کو جسے میں کوئی بادشاہ یا رئیس سمجھتا ہوں اور جو میرے سامنے بیٹھا تھا رؤیا میں کہا کہ
’’دیکھو جو شخص ایسے نازک وقت میں بھی اتحاد کے لئے کوشش نہیں کرتا وہ قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گردن اُونچی کس طرح کر سکے گا۔‘‘
جب میں نے یہ فقرہ کہا تو میرے دل میں بہت زیادہ جوش پیدا ہو گیا اور رقّت کے ساتھ میرے گلے میں پھندا پڑ گیا اور میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں نے اپنے سامنے کے شخص کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
’’جب تم لوگوں میں سے کوئی شخص اپنے بیٹے کے پھٹے ہوئے کپڑے دیکھتا ہے تو اُس کے دل میں سوز و گداز پیدا ہو جاتا ہے اور رقت پیدا ہو جاتی ہے اور اُس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ مگر تمہیں یہ خیال نہیں آتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی طرف منسوب ہونے والوں کا تفرقہ دیکھتے ہوں گے تو اُن کو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی۔ جو شخص ایسے وقت میں بھی باہمی اتحاد کی طرف قدم نہیں اٹھاتا یقیناً وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گردن اٹھا کے کھڑا نہیں ہو سکے گا۔‘‘
پس اتحاد کی اہمیت کو سمجھو، اشاعتِ اسلام کا فرض اپنے سامنے رکھو اور دعاؤں، عبادت اور ذکرِ الٰہی پر زور دو تاکہ آسمان سے خدا تعالیٰ کے فرشتے تمہاری مدد کے لئے نازل ہوں اور جو کام تمہارے کمزور ہاتھ نہیں کر سکتے وہ فرشتوں کی مدد سے آسانی کے ساتھ ہونے لگیں۔
یہ امر یاد رکھو کہ کوئی حقیقی فتح فرشتوں کی مدد کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔ آخر وہ آسمان سے زمین پر کیوں آئیں۔ وہ اُسی وقت زمین پر آتے ہیں جب بنی نوع انسان کا ایک طبقہ انتہائی جوش کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا نام بلند کر رہا ہو۔ پس اگر تم دعاؤں اور ذکرِ الٰہی پر زور دو گے تو خدا تعالیٰ کے فرشتے بیتاب ہو کر تمہاری طرف دوڑے چلے آئیں گے۔ اور کہیں گے کہ جب یہ خدا کے کمزور بندے ہو کر اس قدر کوشش کر رہے ہیں تو ہم خدا کے فرشتے ہو کر کیوں نہ کام کریں۔ اور جب خدا تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے تمہاری مدد کے لئے اتر آئیں گے تو تمہاری فتح میں کوئی شبہ ہی نہیں رہ سکتا۔ پھر جس میدان میں بھی تم لڑو گے تمہارے ساتھ فرشتے بھی لڑیں گے اور جب تمہارے ساتھ خدا تعالیٰ کے فرشتے ہوں گے تو تمہارے مقابل پر کون ٹھہر سکتا ہے۔
اب میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اسلام کے لئے سچی اور مستقل قربانی کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے اندر ایسے لوگ زیادہ سے زیادہ پیدا فرمائے جو اسلام اور احمدیت کے انوار پھیلانے کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ وہ دن جلد لائے جب اسلام کا جھنڈا ساری دنیا میں اپنی پوری شان کے ساتھ لہرانے لگ جائے۔ اسی طرح میں دعا کرتا ہوں کہ ہمارے وہ مربی جو پاکستان میں کام کر رہے ہیں اور وہ مبلّغ جو پاکستان سے باہر غیر ممالک میں اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ اُن سب کا حافظ و ناصر ہو اور اُن کو اپنی خاص تائید اور نصرت سے بہرہ ور فرمائے۔ اور خواہ ہمارا مبلّغ کسی ملک میں اکیلا اور تن تنہا پھر رہا ہو پھر بھی اللہ تعالیٰ اپنی نُصرت اور تائید سے اُسے ایسی طاقت بخشے کہ وہ دنیا کے بڑے سے بڑے انسان کو بھی اپنے علم اور اپنی روحانیت سے مغلوب کر سکے۔
پھر اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے چھوٹوں اور بڑوں، ہمارے مردوں اور عورتوں، ہمارے بچوں اور بوڑھوں، ہمارے بیماروں اور تندرستوں غرض سب کو اپنی پناہ میں لے لے۔ اپنا فضل ان کے شاملِ حال رکھے، اپنی برکات اُن پر نازل کرے، اپنے رحم اور کرم سے اُن کو نوازے اور ہماری جماعت کو اپنے خاص فضل سے ایک عرصہ دراز تک جو حیرت انگیز اور معجزانہ طور پر دراز ہو دنیا میں اپنا نام روشن کرنے اور دین کا جھنڈا بلند کرنے کا موجب بنا دے۔ اٰمِيْنَ يَا رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ۔
(دستخط) مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی 1961-12-28ء“ (الفضل 3؍جنوری 1962ء)
از
سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
(یہ پیغام 26؍دسمبر 1962ء کو جلسہ سالانہ کے افتتاحی اجلاس میں حضور کی زیر ہدایت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے پڑھ کر سنایا)
’’ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ
برادرانِ جماعت احمدیہ!
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ
اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اُس نے ہمیں اپنی زندگیوں میں ایک بار پھر آپس میں ملنے اور اپنے ذکر کو بلند کرنے کے لئے اس اجتماع میں شامل ہونے کی توفیق بخشی۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل سے آپ لوگوں کا یہاں آنا مبارک کرے اور جس مقصد کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس جلسہ کی بنیاد رکھی ہے اس کو پورا کرنے کی آپ کو توفیق عطا فرمائے۔
آپ لوگ یاد رکھیں کہ ہمارا یہ جلسہ دنیوی میلوں کا رنگ نہیں رکھتا بلکہ خالص دینی مقاصد کو ترقی دینے اور باہمی اخوت اور محبت بڑھانے کے لئے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے اس لئے ان ایام کو ضائع نہ کریں بلکہ ان سے ایسے رنگ میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں کہ جب آپ واپس جائیں تو آپ اپنے دلوں میں محسوس کریں کہ آپ کے ایمان اور آپ کے اخلاص اور آپ کے علم اور آپ کے عمل میں ایک نمایاں ترقی ہوئی ہے اور آپ کی روحانیت اور باطنی پاکیزگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر آپ اس جلسہ سے یہ فائدہ اٹھالیں تو یقیناً آپ کامیاب ہو گئے۔ اور اگر آپ لوگ اپنے اندر کوئی تغیر محسوس نہ کریں تو آپ کو
اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ جس شخص کے دو دن بھی نیکی کے لحاظ سے برابر رہے وہ گھاٹے میں رہا۔ اور آپ کے لئے تو جلسہ کے تین دن رکھے گئے ہیں۔ اگر ان تین دنوں میں بھی آپ کے اندر کوئی تغیر پیدا نہ ہو تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ آپ کتنے بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔ پس یہ ایام بہت زیادہ فکر کے ساتھ بسر کریں اور اٹھتے بیٹھتے دعاؤں اور ذکر الٰہی پر زور دیں۔ تقریروں سے فائدہ اٹھائیں اور سلسلہ کی ضروریات کا علم حاصل کر کے ان میں حصہ لینے کی کوشش کریں۔
مجھے افسوس ہے کہ میں بیماری کی وجہ سے جلسہ میں شامل نہیں ہو سکا لیکن میرا یہ پیغام ہے جو آپ لوگ یاد رکھیں کہ دنیا کی نجات اس وقت آپ لوگوں سے وابستہ ہے اس لئے اشاعتِ اسلام اور اشاعتِ احمدیت کی ہمیشہ کوشش کرتے رہیں اور اپنے نمونہ سے لوگوں کے دلوں کو احمدیت کی طرف مائل کریں۔ جس طرح ہر مغز اپنے ساتھ ایک قشر رکھتا ہے اسی طرح اشاعتِ اسلام کا کام بھی جہاں ظاہری جدوجہد سے تعلق رکھتا ہے جو اس کا ایک جسم ہے وہاں اس کا مغز اور اس کی روح وہ اخلاص اور تَبَتُّل اِلَی اللّٰہ ہے جو ایک سچے مومن کے اندر پایا جاتا ہے اور جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی تائید آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ جس طرح قربانیوں کا گوشت اور خون خدا تعالیٰ کو نہیں پہنچتا بلکہ دل کا اخلاص اور تقویٰ خدا تعالیٰ تک پہنچتا ہے اسی طرح صرف ظاہری جدوجہد خدا تعالیٰ کے حضور مقبول نہیں ہوتی بلکہ وہ جدوجہد مقبول ہوتی ہے جس میں تقویٰ اور اخلاص اور روحانیت کی چاشنی بھی موجود ہو۔ اور جس شخص کے اندر سچا اخلاص اور تقویٰ پایا جائے اُس کے جوارح پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے اور وہ دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جاتا ہے۔ جب لوگ اسے دیکھتے ہیں تو وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ بظاہر دیکھنے میں تو یہ شخص بھی ہماری طرح ہی ہے لیکن اس کے اخلاق ہم سے اعلیٰ ہیں۔ اس کی عادات ہم سے بہتر ہیں۔ اس کے اندر نماز اور روزہ اور دعاؤں اور صدقات کا زیادہ شغف پایا جاتا ہے اور یہ ہر قسم کے رذائل سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر یہ شخص اپنے اندر ایک نیک اور پاک تغیر پیدا کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے تو ہم کیوں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے وہ بھی احمدیت کو قبول کر لیتے ہیں۔ کیونکہ فطرتی طور پر ہر انسان پاکیزگی کا خواہشمند ہے صرف بیرونی علائق اور روکیں ہی ہیں جو اسے خدا تعالیٰ سے دُور رکھتی ہیں لیکن جب کوئی نیک نمونہ اس کے سامنے آتا ہے تو اس کی خوابیدہ فطرت بیدار ہو جاتی ہے اور وہ بھی دنیوی علائق کو توڑ کر اللہ تعالیٰ کے آستانہ کی طرف جھک جاتا اور اس سے سچا تعلق پیدا کر لیتا ہے۔ پس احمدیت پھیلانے کے لئے اپنا نیک نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کرو اور ان کی ہدایت سے کبھی مایوس نہ ہو۔ تمام دل اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور وہ جب چاہے تغیر پیدا کر دیتا ہے۔
دیکھو فتح مکہ تک تمام عرب کفر و شرک میں گرفتار تھا مگر اِدھر مکہ فتح ہوا اور اُدھر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دل کھول دئیے اور وہ جوق در جوق اسلام میں شامل ہونے لگ گئے۔ یہاں تک کہ وہ ہندہ بنت عتبہ جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہؓ کا کلیجہ تک نکلوایا تھا وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئی۔ اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے یہ اقرار لیا کہ کہو ہم شرک نہیں کریں گی تو ہندہ جو ایک دلیر عورت تھی فوراً بول اٹھی کہ یا رسول اللہ! کیا اب بھی ہم شرک کریں گی؟ آپ اکیلے اور بے یار و مددگار تھے، کوئی جماعت آپ کے ساتھ نہ تھی، کوئی ہتھیار آپ کے پاس نہ تھے اور دوسری طرف سارا مکہ تھا اور بڑے بڑے سردار آپ کے مقابلہ میں تھے مگر آپ کا خدا جیتا اور ہمارے بُت ہار گئے، کیا اتنا بڑا نشان دیکھنے کے بعد بھی ہم بت پرستی کر سکتی ہیں؟۱ اب دیکھو ہندہ بنت عتبہ کتنی شدید دشمن تھی مگر پھر کس طرح ایک دن سچے دل سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئی۔
اسی طرح ایک اور شخص کا واقعہ ہے جو غزوہ حنین سے تعلق رکھتا ہے۔ جب حنین کی جنگ ہوئی تو مکہ کے ہزاروں نو مسلم بھی اس جنگ میں شریک ہو گئے۔ مگر چونکہ ایمان ابھی اُن کے دلوں میں راسخ نہ تھا اس لئے جب دشمن نے تیروں کی بوچھاڑ کی تو سب سے پہلے مکہ کے نو مسلم میدانِ جنگ سے بھاگے اور اُن کے بھاگنے کی وجہ سے صحابہؓ کی سواریوں کے قدم بھی اکھڑ گئے اور انہوں نے بھی میدانِ جنگ سے بھاگنا شروع کر دیا۔ جب صحابہؓ نے یہ حالت دیکھی تو انہوں نے بڑی سختی سے اپنی سواریوں کو روکنا شروع کیا مگر وہ اتنی خوف زدہ تھیں کہ ذرا باگ ڈھیلی ہوتی تو وہ پھر پیچھے کو دوڑ پڑتیں۔
اِس جنگ میں ایک وقت ایسا آیا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد صرف چند صحابہ رہ گئے۔ اُس وقت ایک شخص جو دل سے کافر تھا اور صرف اس لئے جنگ میں شامل ہوا تھا کہ مجھے موقع ملا تو میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دوں گا اس نے جب دیکھا کہ اس افراتفری کی وجہ سے میدان خالی پڑا ہے تو اُس نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور اپنی تلوار کھینچ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھنے لگا۔ وہ شخص خود بیان کرتا ہے کہ جب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونا شروع ہوا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے اور آپ کے درمیان آگ کا ایک شعلہ بھڑک رہا ہے اور قریب ہے کہ وہ مجھے بھسم کر دے۔ اتنے میں مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنائی دی کہ شیبہ! میرے قریب ہو جاؤ۔ جب میں آپ کے قریب گیا تو آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینہ پر پھیرا اور فرمایا اے خدا! شیبہ کو ہر قسم کے شیطانی خیالات سے نجات دے۔ شیبہ کہتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پھیرنا تھا کہ تمام شیطانی خیالات یکدم میرے دل سے نکل گئے اور یا تو میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی نیت سے آگے بڑھا تھا اور یا یہ کیفیت ہوئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ پیارے نظر آنے لگے۔ پھر آپ نے فرمایا شیبہ! آگے بڑھو اور دشمن سے لڑو۔ تب میں آگے بڑھا اور میں نے دشمن سے لڑائی شروع کر دی اور میں اتنے جوش کے ساتھ لڑا کہ خدا کی قسم! اگر اُس وقت میرا باپ بھی میرے سامنے آتا تو میں اُس کے پیٹ میں اپنا خنجر گھونپ دیتا اور اس کے مارنے سے قطعاً دریغ نہ کرتا۲۔
پس مشکلات کو دیکھ کر کبھی گھبراؤ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے احمدیت کی فتح مقدر کر رکھی ہے۔ اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے ایک وقت آئے گا کہ خدا اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادۃ برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامراد رکھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔۳
بے شک لوگ ہمیں پیغامِ حق پہنچانے کی وجہ سے تنگ کر سکتے ہیں ، ہمیں گالیاں دے سکتے ہیں ، ہمیں اپنے مظالم کا نشانہ بنا سکتے ہیں لیکن وہ ہمارے سلسلہ کو نہیں مٹا سکتے کیونکہ خدا اس کی دائمی زندگی کا عرش سے فیصلہ کر چکا ہے۔ اور جو چیز خدا نے ہمیں دے دی اُسے کوئی انسان ہم سے چھیننے کی طاقت نہیں رکھتا۔ پس احمدیت کو پھیلانے کی جدوجہد جاری رکھو اور اپنی نسلوں در نسلوں کو وصیت کرتے چلے جاؤ کہ انہوں نے احمدیت کو ساری دنیا میں پھیلانا ہے۔ بے شک یہ بہت بڑا کام ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس وقت ہماری جماعت کے ہاتھوں سے یہ کام لینا چاہتا ہے۔ پس مبارک ہے وہ جس نے یہ کام سرانجام دیا اور افسوس اُس پر جو اس کام کے لئے آگے نہ بڑھا اور اس نے یہ قیمتی موقع ضائع کر دیا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ لوگوں کو اس بابرکت اجتماع سے ہر رنگ میں فائدہ اٹھانے اور اپنے اندر ایک نیک اور پاک تغیر پیدا کرنے کی توفیق بخشے تا کہ اسلام کی اشاعت کا کام جو صرف ہماری زندگیوں تک محدود نہیں بلکہ قیامت تک آنے والی نسلوں تک ممتد ہے وہ پوری شان کے ساتھ سرانجام پائے اور ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے وارث ہوں ۔ اٰمِيْنَ يَا رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی 1962ء-12-25“ (الفضل یکم جنوری 1963ء)
(یہ پیغام 28؍دسمبر 1962ء کو جلسہ سالانہ کے اختتامی اجلاس میں حضور کی زیر ہدایت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے پڑھ کر سنایا)
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھُوَ النَّاصِرُ
برادرانِ جماعت احمدیہ!
اَلسَّلَامُ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهٗ
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جب 1908ء میں انتقال ہوا تو اُس وقت میری عمر صرف بیس سال کے قریب تھی۔ اُس وقت میں نے دیکھا کہ جماعت کے بعض دوستوں کے قدم لڑکھڑا گئے اور اُن کی زبانوں سے اس قسم کے الفاظ نکلے کہ ابھی تو بعض پیشگوئیاں پوری ہونے والی تھیں مگر آپ کی وفات ہوگئی ہے۔ اب ہمارے سلسلہ کا کیا بنے گا؟
جب میں نے یہ الفاظ سنے تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ایک جوش پیدا کیا۔ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نعش کے سرہانے کھڑا ہوگیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے اُسی کی قسم کھا کر یہ عہد کیا کہ اے میرے رب! اگر ساری جماعت بھی اس ابتلاء کی وجہ سے کسی فتنہ میں پڑ جائے تب بھی میں اکیلا اس پیغام کو جو تُو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ بھیجا ہے دنیا کے کناروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا اور اُس وقت تک چین نہیں لوں گا جب تک کہ میں ساری دنیا تک احمدیت کی آواز نہ پہنچا دوں۔
اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے محض اپنے فضل سے مجھے اس عہد کو پورا کرنے کی
توفیق عطا فرمائی اور میں نے آپ کے پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے اپنی تمام زندگی وقف کر دی جس کا نتیجہ آج ہر شخص دیکھ رہا ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک میں ہمارے مشن قائم ہو چکے ہیں اور ہزار ہا لوگ جو اس سے پہلے شرک میں مبتلا تھے یا عیسائیت کا شکار ہو چکے تھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور سلام بھیجنے لگ گئے ہیں۔ لیکن ان تمام نتائج کے با وجود یہ حقیقت ہمیں کبھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ دنیا کی اِس وقت اڑھائی ارب کے قریب آبادی ہے اور ان سب کو خدائے واحد کا پیغام پہنچانا اور انہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ بگوشوں میں شامل کرنا جماعت احمدیہ کا فرض ہے۔
پس ایک بہت بڑا کام ہے جو ہمارے سامنے ہے اور بڑا بھاری بوجھ ہے جو ہمارے کمزور کاندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ اتنے اہم کام میں اللہ تعالیٰ کی معجزانہ تائید اور نصرت کے سوا ہماری کامیابی کی کوئی صورت نہیں۔ ہم اس کے عاجز اور حقیر بندے ہیں اور ہمارا کوئی کام اس کے فضل کے بغیر نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر آن اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں اور دعائیں کرتے رہیں کہ وہ ہمارے راستہ سے ہر قسم کی مشکلات کو دور کرے اور ہمیں کامیابی کی منزل تک پہنچا دے۔
بے شک ہم اس وقت دنیا کے مقابلہ میں آٹے میں نمک کی حیثیت بھی نہیں رکھتے لیکن اگر ہم صبر اور ہمت اور استقلال سے کام لیں گے اور دعاؤں میں لگے رہیں گے اور کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں ایک تغیر پیدا کر دے گا اور وہی لوگ جو اس وقت ہمیں اپنے مخالف دکھائی دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو صداقت کی طرف کھینچ لائے گا۔
تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اس وقت اسلام کا جھنڈا خدا تعالیٰ نے تمہارے ہاتھ میں دیا ہے اور تم پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد کی ہے۔ پس جس طرح صحابہؓ نے اپنی موت تک اسلام کے جھنڈے کو سرنگوں نہیں ہونے دیا اسی طرح تمہارا بھی فرض ہے کہ تم اسلام کا جھنڈا ہمیشہ بلند رکھو اور نہ صرف اپنے اخلاق اور عادات میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا کرو بلکہ آئندہ نسلوں کو بھی اسلامی رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کرو۔
اگر اس زمانہ میں بھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قرب کا زمانہ ہے کوئی شخص احمدی کہلاتے ہوئے اس تعلیم پر نہیں چلتا جو اسلام نے دنیا کے سامنے پیش کی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کیا عذر پیش کر سکے گا؟ بندوں کے سامنے تو تم ہزار عذر کر سکتے ہو مگر خدا تعالیٰ کے سامنے جب اولین و آخرین جمع ہوں گے تم اس بات کا کیا جواب دو گے کہ تم نے کیوں خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل نہ کیا اور کیوں اپنی آئندہ نسلوں کی اصلاح کی کوشش نہ کی؟ اور اگر خدا کے سامنے پیش کرنے کے لئے تمہارے پاس کوئی عذر نہیں تو تم کیوں اپنے دلوں کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کرتے جس کے بغیر کوئی کامیابی اور فتح حاصل نہیں ہو سکتی۔
پس میں تمام دوستوں سے کہتا ہوں کہ اپنی تعلیم و تربیت کی طرف خاص توجہ کرو۔ اپنے بچوں کی تربیت کی طرف توجہ کرو۔ اپنی جماعت کی تربیت کی طرف توجہ کرو۔ اپنے اخلاق کی اصلاح کرو۔ قرآن کریم کے درس ہر جگہ جاری کرو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھو اور پھر ان کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرو اور تبلیغ پر زور دو۔
مجھے حیرت آتی ہے جب میں جماعت کے بعض دوستوں کے متعلق سنتا ہوں کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں اور جماعتی اتحاد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ میں ایسے تمام دوستوں کو کہتا ہوں کہ اے بھائیو! کیا وعظ ونصیحت صرف دوسروں کے لئے ہی ہے تمہارے لئے نہیں؟ کیا یہ جائز ہے کہ تم چھوٹی چھوٹی باتوں میں اپنے حقیقی مقصد کو فراموش کردو اور جماعت کی کمزوری اور اس کی بدنامی کا موجب بنو میں تمہیں قرآنی الفاظ میں ہی کہتا ہوں کہ اے مومنو! کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ تمہارے دل خدا تعالیٰ کے خوف سے بھر جائیں اور تم دوسروں کے لئے ٹھوکر کا موجب بننے کی بجائے اسلام اور احمدیت کی طرف راغب کرنے کا موجب بنو؟
ان مختصر کلمات کے ساتھ میں آپ کو رخصت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ آپ لوگوں نے ان ایام میں جو مفید باتیں سنی ہیں اللہ تعالیٰ ان پر آپ سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کے دلوں میں وہ نورِ ایمان پیدا کرے جو احمدیت پیدا کرنا چاہتی ہے اور جماعت کی ترقی کے راستے کھولے۔ یہ امر اچھی طرح یاد رکھو کہ اسلام اور احمدیت کی خدمت ایک عظیم الشان نعمت ہے جو خدا تعالیٰ نے صدیوں کے بعد آپ لوگوں کو عطا فرمائی ہے۔ پس اس نعمت کی قدر کرو اور اپنے آپ کو اسلام اور احمدیت کا سچا اور حقیقی پیرو بناؤ۔ اسی طرح آئندہ نسلوں کو بھی نیک اور پاک ماحول میں رکھو۔ انہیں دعاؤں اور ذکر الٰہی کا عادی بناؤ اور انہیں ان کی دینی ذمہ داریوں سے ہمیشہ آگاہ کرتے رہو تاکہ قیامت کے دن ہم خدا تعالیٰ کے سامنے سرخرو ہوسکیں اور ہمارا سر اس فخر سے اونچا ہو کہ ہم نے ساری دنیا کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دیا ہے۔ اے خدا! تُو ایسا ہی کر۔ اٰمِیْنَ یَا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ۔ خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی ۱۹۶۲-۱۲-27ء (تاریخ احمدیت جلد 21 صفحہ 563 تا 565)
از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
(یہ پیغام 26؍دسمبر 1963ء کو جلسہ سالانہ کے افتتاحی اجلاس میں حضور کی زیر ہدایت مکرم مولانا جلال الدین صاحب شمس نے پڑھ کر سنایا)
” اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ برادرانِ جماعت احمدیہ! اَلسَّلَامُ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ
میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے آپ لوگوں کو اِس سال پھر یہ توفیق عطا فرمائی کہ آپ اس کے مامور کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے دنیوی علائق اور زنجیروں کو توڑ کر اپنی روحانی اور علمی ترقی کے لئے مرکزِ سلسلہ میں تشریف لائے۔ یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہے کہ آپ نے اس کے مامور کو مان لیا اور پھر اس کی طرف سے جو آواز اٹھی اُسے آپ نے سنا اور اُس پر عمل کیا۔
بے شک ہمارا یہ جلسہ دوسرے دنیوی جلسوں سے مشابہت رکھتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسے اُن سے ایک نمایاں امتیاز حاصل ہے۔ وہ لوگ محض دنیوی ترقی اور مفاد سے تعلق رکھنے والی سکیموں کے ماتحت اکٹھے ہوتے ہیں لیکن آپ لوگوں کا یہ اجتماع خالص روحانی ہے جس سے کوئی دنیوی غرض وابستہ نہیں بلکہ آپ صرف اس لئے اکٹھے ہوئے ہیں کہ خدا اور اُس کے رسول کی باتیں سن کر اپنے ایمانوں کو تازہ کریں اور اُس کے دین کی خدمت کا ایک ولولہ اپنے اندر پیدا کر کے واپس جائیں۔ پس آپ لوگوں کی مشابہت دنیا دار لوگوں سے نہیں بلکہ آپ اُن صحابہ کرامؓ سے مشابہت رکھتے ہیں جو غزوہ حنین میں اپنی سواریوں کی
گردنیں کاٹ کر خدا کے رسول کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد جمع ہو گئے تھے۔
آپ لوگ جانتے ہیں کہ غزوہ حنین میں دشمنوں کے تیر اندازوں نے اسلامی لشکر پر اپنے تیروں کی بوچھاڑ کی تو اُس وقت مکہ کے نو مسلم بڑے بڑے دعووں کے ساتھ اگلی صفوں میں جا رہے تھے۔ وہ تیروں کی بوچھاڑ کی تاب نہ لا کر پیچھے کی طرف بھاگے اور ان کے بھاگنے کی وجہ سے صحابہؓ کی سواریاں بھی بدک گئیں اور وہ بھی پیچھے کی طرف دوڑنے لگیں۔ یہاں تک کہ میدان خالی ہو گیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اپنے چند صحابہؓ کے ساتھ کھڑے رہ گئے۔ اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباسؓ سے فرمایا کہ عباس! تم زور سے آواز دو کہ اے وہ صحابہؓ جنہوں نے حدیبیہ کے دن درخت کے نیچے بیعت کی تھی اور اے وہ لوگو جو سورہ بقرہ کے زمانہ سے مسلمان ہو خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔ صحابہؓ کہتے ہیں ہمارے کانوں میں یہ آواز آئی تو ہمیں یوں محسوس ہوا کہ جیسے حشر کا دن ہے اور صُو را سرافیل پھونکا جا رہا ہے۔ اُس وقت ہم میں سے جس کی سواری مڑ سکی اُس نے موڑ لی اور جس کی سواری نے مڑنے سے انکار کیا اُس نے تلوار سے اُس کی گردن کاٹ دی۔ اور خود دوڑتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو گیا۔۱
اِس زمانہ میں بھی اسلامی لشکر اعداء کے نرغہ میں گھرا ہوا ہے اور آج بھی کفر کا ہر سپاہی اسلام پر تیروں کی بوچھاڑ کر رہا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اظلال کے ذریعہ مسلمانوں کو آواز دے رہے ہیں کہ اے مومنو! تمہاری سواریاں کہاں جا رہی ہیں؟ آؤ اور میرے ارد گرد جمع ہو جاؤ۔ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہے کہ آپ نے صحابہؓ کی طرح اپنے دنیوی علائق کی سواریوں کی گردنیں کاٹیں اور اسلام کے جھنڈے کو بلند کرنے کے لئے اس کے مرکز میں جمع ہو گئے۔ پس میں آپ لوگوں کو اس قربانی کی توفیق ملنے پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آئندہ بھی آپ کو سلسلہ کی ترقی کے لئے ہر قسم کی قربانی کی توفیق دے، آپ کے عمل میں برکت ڈالے اور آپ کو نیکی اور تقویٰ کی صلاحیتوں سے ہمیشہ بہرہ ور رکھے۔
مجھے ایک دفعہ جلسہ سالانہ پر آنے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہاماً یہ دعا سکھائی گئی تھی کہ اَللّٰھُمَّ زِدْ فَزِدْ عَلٰی نَهْجِ الصَّلَاحِ وَ الْعِفَّةِ یعنی اے خدا! آنے والے تو آئیں گے مگر تُو انہیں توفیق عطا فرما کہ وہ نیکی اور اخلاص اور عفت کے راستوں پر چلتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں اور تیری رضا حاصل کریں۔ پس تقویٰ اور عفت کے راستوں پر قدم ماریں اور اِن ایام کو دعاؤں اور ذکرِ الٰہی میں بسر کریں اور آپس میں اخوت اور محبت بڑھانے کی کوشش کریں کہ اسی میں خدا اور اُس کے رسول کی خوشنودی ہے اور اسی میں ہماری جماعت کی ترقی وابستہ ہے۔
میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ لوگوں کو اِس اجتماع کی برکات سے بہرہ ور فرمائے اور ابدالآباد تک اُس کی تائید اور نصرت آپ کے شاملِ حال رہے۔ اٰمِیْنَ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ۔
خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی 1963ء-12-25‘‘ (الفضل یکم جنوری 1964ء)
(سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا یہ پیغام مورخہ 28؍دسمبر 1963ء کو حضور کی ہدایت کے مطابق مکرم مولانا جلال الدین صاحب شمس نے پڑھ کر سنایا)
” اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ
برادرانِ جماعت احمدیہ!
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُهُ
اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو اپنے خاص فضل سے یہاں تین دن دعاؤں اور ذکرِ الٰہی میں بسر کرنے اور خدا اور اُس کے رسولؐ کی باتیں سننے کی جو توفیق عطا فرمائی ہے اُس کا یہ احسان تقاضا کرتا ہے کہ اب آپ پہلے سے بھی زیادہ دعاؤں اور اِنابت اِلی اللہ پر زور دیں اور سلسلہ کی اشاعت اور اسلام کی ترقی کے لئے والہانہ جدوجہد سے کام لیں اور اس بارہ میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کریں۔
یہ امر یاد رکھیں کہ وہی شاخ سرسبز رہ سکتی ہے جس کا اپنے درخت کے ساتھ پیوند ہو۔ ورنہ اگر ایک تازہ شاخ کو درخت سے کاٹ کر پانی کے تالاب میں بھی ڈال دیا جائے تو وہ کبھی سرسبز نہیں رہ سکتی۔ پس مرکز کے ساتھ اپنے تعلقات کو استوار رکھو اور اسلام اور احمدیت کی اشاعت پر بہت زور دو اور اپنی آئندہ نسل کی درستی کا فکر کرو۔ مجھے نظر آرہا ہے کہ جماعت کو اپنی آئندہ نسل کی درستی کا خاص فکر نہیں اور یہ ایک نہایت ہی خطرناک بات ہے۔ چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ تحریکِ جدید کے دَورِ اوّل میں تو بڑی کثرت کے ساتھ لوگوں نے حصہ لیا مگر نئے دَور میں شامل ہونے والوں کی تعداد اُن کی نسبت کے لحاظ سے بہت کم ہے۔ اور پھر جو لوگ وعدہ کرتے ہیں وہ وقت کے اندر اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کرتے حالانکہ اشاعتِ اسلام کا کام کسی ایک نسل کے ساتھ وابستہ نہیں بلکہ قیامت تک اس نے جاری رہنا ہے۔
پس اپنے اندر صحیح معرفت پیدا کرو اور اپنی آئندہ نسلوں کو اسلام کا بہادر سپاہی بنانے کی کوشش کرو۔ اور اس نکتہ کو کبھی مت بھولو کہ قربانی اپنا پھل تو ضرور لاتی ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر قربانی کا پھل قربانی کرنے والا ہی کھائے۔ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ ساری قربانیوں کا پھل وہ خود ہی کھائے اُس سے زیادہ نادان اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ایک وَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ میں رکھا مگر اُس کا پھل ایک مدتِ دراز کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں ظاہر ہوا اور دنیا اس پھل کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔ پھر تم کیوں یہ خیال کرتے ہو کہ تمہاری قربانیوں کا بدلہ تمہیں آج ہی ملنا چاہئے۔ اگر تمہاری نسل کسی وقت بھی تمہاری قربانیوں سے فائدہ اٹھا لے تو حقیقتاً تمہاری قربانیوں کا پھل تمہیں مل گیا۔ پس اپنے ذہنوں میں جلا اور اپنے فکر میں بلندی پیدا کرو اور قربانیوں کے میدان میں ہمیشہ آگے کی طرف قدم بڑھاؤ۔ اگر تم ایسا کرو گے تو خدا تعالیٰ اپنی تائیدات سے تمہیں اس طرح نوازے گا کہ تم دنیا کے میدان میں ایک فٹ بال کی حیثیت نہیں رکھو گے بلکہ تم اُس برگزیدہ انسان کا ظِل بن جاؤ گے جس کے متعلق آسمانی نوشتوں میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ کونے کا پتھر ہوگا جس پر وہ گرے گا وہ بھی چکنا چُور ہوگا اور جو اُس پر آ گرا وہ بھی چکنا چُور ہوگا۔۲
میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے مردوں اور ان کی عورتوں اور ان کے بچوں اور ان کے بوڑھوں کو اپنے فرائض کے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور انہیں اپنے فضل سے وہ طاقت بخشے جس سے وہ اسلام کو تمام ادیانِ باطلہ پر غالب کر دیں۔ اے خدا! تُو ایسا ہی کر۔ اٰمِیْنَ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ۔
خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی ’‘28-12-1963ء (الفضل 2 جنوری 1964ء)
از سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
24؍ فروری 1957ء کو ”دارالصدر“ واقع ہاؤسنگ سوسائٹی کراچی میں مجلس خدام الاحمدیہ کا ایک اہم اجتماع منعقد ہوا۔ اس موقع پر قائد کراچی چودھری عبدالمجید صاحب کی درخواست پر حضور نے اپنے قلم مبارک سے مندرجہ ذیل تحریر مجلس کراچی کو عنایت فرمائی۔
’’اپنے فرائض کو سمجھو اور اپنی زندگی پر غور کرتے رہو کہ وہ نہایت محدود ہے۔ لیکن کام جو آپ لوگوں کے سپرد کیا گیا ہے ہزاروں سال کا ہے لیکن اسے سترّ اسیّ سال میں ختم نہ کیا گیا تو اس کا پورا ہونا یا تو ناممکن ہو جائے گا یا جتنی بھی فتح حاصل کی گئی بیکار اور ضائع ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہم کو اُس دن سے محفوظ رکھے۔ آمین
والسلام خاکسار مرزا محمود احمد‘‘
(تاریخ احمدیت جلد 19 صفحہ 434 ناشر نظارت اشاعت ربوہ)
24؍ فروری 1957ء کو حضور نے مجلس خدام الاحمدیہ حلقہ مارٹن روڈ کے دفتر کا معائنہ فرمایا اور مرزا نذیر احمد صاحب زعیم حلقہ کی درخواست پر حسب ذیل تحریر رقم فرمائی
’’مجھے بتایا گیا ہے کہ اس حلقہ کے خدام نے غرباء کی خدمت میں بہت حصہ لیا ہے۔ میں نے بھی سامان خصوصاً گھی پگھلاتے ہوئے دیکھا ہے جو بعد میں تقسیم کیا جائے گا محنت اور نفاست قابلِ تعریف ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہت زیادہ خدمت کی توفیق دے اور اخلاص اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی کی تڑپ دل میں پیدا کر دے۔
خاکسار مرزا محمود احمد 24-2-1957ء (تاریخ احمدیت جلد 19 صفحہ 435 ناشر نظارت اشاعت ربوہ)
مؤرخہ 2؍مارچ 1957ء کو حضور نے اپنی قیام گاہ ”دارالصدر“، کراچی میں کارکنان شعبہ مال جماعت احمدیہ کراچی کو پیغام تحریر فرمایا:۔ ”برادران!
اَلسَّلَامُ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُٗ
آپ جب تاریخ میں حضرت خالدؓ اور سعدؓ اور عمر بن معدی کربؓ اور ضرارؓ کے حالات پڑھتے ہوں گے تو آپ کے دل میں خواہش ہوتی ہوگی کہ کاش! ہم بھی اُس زمانہ میں ہوتے اور خدمت کرتے۔ مگر اس وقت آپ کو بھول جاتا ہے کہ ہر سخن وقتے و ہر نکتہ مقامے دارد۔ اِس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے جہاد بالسیف کی جگہ جہاد تبلیغ اور جہاد بالنفس کا دروازہ کھولا ہے۔ اور تبلیغ ہو نہیں سکتی جب تک روپیہ نہ ہو۔ کیونکہ تبلیغ بغیر روپیہ کے نہیں ہو سکتی۔ پس آپ لوگ اِس زمانہ میں مجاہد ہیں اور وہی ثواب جو پہلوں کو ملا آپ کو مل سکتا ہے اور مل رہا ہے۔ پس اپنے کام کو خوش اسلوبی سے کریں اور دوسروں کو سمجھائیں تاکہ آپ سب لوگ مجاہد فی سبیل اللہ ہو جائیں۔ آمین
والسلام خاکسار مرزا محمود احمد“ (الفضل 28؍مارچ 1957ء)
غانا کی آزاد مملکت بننے پر 2؍مارچ 1957ء کو وزیر اعظم ڈاکٹر کوامی نکروما کے نام مبارکباد اور دعا کا جو پیغام بذریعہ تار ارسال فرمایا اُس کا ترجمہ درج ذیل ہے۔ ’’میں اپنی اور جماعت احمدیہ کی طرف سے جو تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہے آپ کو اور آپ کے ملک کے عوام کو حصولِ آزادی کی تقریب پر مبارک باد دیتا ہوں اور آپ کے ملک کی مسلسل اور ہر آن بڑھنے والی خوشحالی اور ترقی کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتا ہوں ۔ آپ کے ملک کے ساتھ میر الگاؤ اور دلچسپی محض رسمی نہیں ہے بلکہ خلوص پر مبنی ہے کیونکہ آپ کے ملک کے قریباً ایک لاکھ باشندے احمدی ہیں اور وہاں کے بہت سے طلباء سلسلہ احمدیہ کے مرکز میں تعلیم پا رہے ہیں ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ مستقبل قریب میں جماعت احمدیہ آپ کے ملک کے طول وعرض میں اور بھی سرعت کے ساتھ پھیلے گی ۔ اور ہر شعبۂ زندگی میں اس ملک کو آگے بڑھانے اور ترقی دینے میں نمایاں حصہ لے گی ۔ اِنْشَاءَ اللہُ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی اور آپ کے ملک کی مدد فرمائے ۔ آمین امام جماعت احمد یہ ربوہ‘‘
(تاریخ احمدیت جلد 19 صفحہ 450 ناشر نظارت اشاعت ربوہ)
ٹانگانیکا (مشرقی افریقہ) میں ایک عظیم الشان احمدیہ مسجد کی تعمیر پر سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے 19/03/1957 کو ایک بصیرت افروز پیغام بذریعہ تار ارسال فرمایا جس کا ترجمہ درج ذیل ہے۔ ’’مسجد کا نام اَلسَّلَام رکھا جائے۔ مسجد کی عزت و حرمت ہمیشہ برقرار رکھو۔ اس میں ہمیشہ نماز باجماعت ادا کرتے رہو۔ اور زیادہ سے زیادہ افراد کو اسلام اور احمدیت میں شامل کرنے کی کوشش کرو۔ تا کہ اس مسجد کی رونق میں اضافہ ہوتا چلا جائے۔ حتیٰ کہ تمہیں اس سے بھی بڑی مسجد بنانے کی ضرورت محسوس ہو۔ یاد رکھو کہ کوئی مسجد مسجد نہیں کہلا سکتی جب تک کہ وہ زیادہ سے زیادہ نمازیوں کو اپنی طرف نہ کھینچے اور مزید مسجدیں بنانے کی محرک نہ ہو۔ خدا کرے کہ یہ مسجد بھی ایسی ہی ثابت ہو۔ میں یوگنڈا کے علاقہ میں بھی مسجد کی تعمیر کی خوشخبری سننے کا منتظر ہوں۔ خلیفۃ المسیح ربوہ‘‘ (الفضل 20 مارچ 1957ء)
’’برادرانِ اہلِ جرمنی اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ میں ہمبرگ کی مسجد کے افتتاح کی تقریب میں شمولیت کے لئے اپنے بیٹے مرزا مبارک احمد کو بھجوا رہا ہوں۔ افتتاح کی تقریب تو اِنْشَاءَ اللّٰهُ عزیزم چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب ادا کریں گے مگر مرزا مبارک احمد میرے نمائندے کے طور پر اس میں شامل ہوں گے۔ میرا ارادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مدد کرے تو یکے بعد دیگرے جرمنی کے بعض اور شہروں میں بھی مساجد کا افتتاح کیا جائے۔ امید ہے کہ مرزا مبارک احمد مولوی عبداللطیف صاحب سے مل کر ضروری سکیمیں اس کے لئے بنا کر لائیں گے تا کہ جلدی مساجد بنائی جاسکیں۔ خدا کرے کہ جرمن قوم جلد اسلام قبول کرے اور اپنی اندرونی طاقتوں کے مطابق جس طرح وہ یورپ میں مادیات کی لیڈر ہے روحانی طور پر بھی لیڈر بن جائے۔ فی الحال اتنی بات تو ہے کہ ایک جرمن نومسلم زندگی وقف کر کے امریکہ میں تبلیغ اسلام کر رہا ہے۔ مگر ہم ایک مبلغ یا درجنوں نومسلموں پر مطمئن نہیں بلکہ چاہتے ہیں کہ ہزاروں لاکھوں مبلغ جرمنی سے پیدا ہوں اور کروڑوں جرمن باشندے اسلام کو قبول کریں۔ تا اسلام کی اشاعت کے کام میں یورپ کی لیڈری جرمن قوم کے ہاتھ میں ہو۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ
خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی،، (الفضل 26 جون 1957ء)
’’اخبار’’نوجوان‘‘ کے لیے مجھ سے مضمون طلب کیا گیا ہے۔ جب میں اچھا تھا تو دن میں دو دوسو کالم بھی لکھ لیتا تھا۔ میری کتاب ’’احمدیت یعنی حقیقی اسلام‘‘ جو نہایت ہی مفید کتاب ہے اور یورپ اور امریکہ میں بہت مقبول ہے اس کا حجم پانچ صد صفحہ کا ہے۔ یہ کتاب صرف تین دن میں لکھی گئی تھی ۔ اب عمر اور بیماری کی وجہ سے میرے لیے پرانے کام کا سواں حصہ بھی کرنا ممکن نہیں ہے مگر بہر حال چونکہ ایک دوست نے خواہش کی ہے اُن کی خواہش کے احترام میں یہ چند سطور لکھ رہا ہوں ۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو فطرت صحیحہ دے کر پیدا کیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فِطۡرَتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا(30:31)۱۔اے لوگو! اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ فطرت کو اختیار کرو، جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے یعنی انسان کو اپنے کاموں میں رہنمائی کے لیے زیادہ تر اپنے دل کی طرف نگاہ رکھنی چاہیے کہ کیا اس کا دل اسے مجرم قرار دیتا ہے یا بری۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے ہیں کہ اِسْتَفْتِ قَلْبَكَ وَلَوْ اَفْتَاكَ الْمُفْتُوْنَ یعنی اپنے دل سے فتویٰ لے اور اسی پر عمل کر خواہ ہزاروں مفتی اس کے خلاف فتویٰ دیتے ہوں۔ پس اسی اصول کے ماتحت انسان کو چاہئے کہ اپنے دل سے فتویٰ لینے کی عادت ڈالے اور محض مولویوں کے فتووں پر اسے نہیں جانا چاہئے ۔ اگر اس کا دل کہے کہ جو کچھ تُو کرتا ہے اگر یہی کام تیرا ہمسایہ کرے تو تجھے خوشی پہنچے گی اور تُو اُس پر عیب نہیں لگائے گا تو اسی صورت میں اس کام کے کرنے میں تجھے کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر اُس کا دل یہ کہے کہ اگر میرا ہمسایہ یہ کام کرے گا تو میں اسے بہت برا سمجھوں گا تو سمجھ لے کہ وہ کام درحقیقت برا ہے۔ پس اس اصول پر انسان اپنی زندگی کو سنوار سکتا ہے۔ چاہئے کہ وہ اس اصول کو ہمیشہ یاد رکھے کیونکہ خدا تعالیٰ کا حکم بھی یہی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم بھی یہی ہے۔
مرزا محمود احمد (خلیفۃ المسیح الثانی)‘‘ (تاریخ احمدیت جلد 19 صفحہ 728 ناشر نظارت اشاعت ربوہ)
سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے 23 ؍اگست 1957ء کو سالانہ امریکن کنونشن کے موقع پر جماعت احمدیہ کے نام حسبِ ذیل پیغام ارسال فرمایا۔ ’’برادرانِ جماعت احمدیہ امریکہ
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَكَاتُهٗ
سید جواد علی صاحب نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ سالانہ امریکن کنونشن کے موقع پر میں جماعت ہائے احمدیہ امریکہ کے نام پیغام بھجواؤں۔ اس سال جماعت امریکہ میں کچھ نئے فتنے اٹھے ہیں خصوصاً نیویارک میں۔ لیکن وہاں جماعت نے نہایت اخلاص کا نمونہ دکھایا ہے۔ عزیزم محمد صادق صاحب کے ذریعہ جماعت کے ہر فرد نے اپنے دستخطوں سے وفاداری کا یقین دلایا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ بھی یقین کے ساتھ اس بات پر قائم ہوں گے کہ آپ نے خلیفہ کی بیعت کی ہے کسی مبلغ کے ہاتھ پر نہیں، خواہ کوئی حالات پیش آئیں آپ احمدیت کے ساتھ وفاداری پر قائم رہیں گے۔
امریکہ میں جماعت احمدیہ 1920ء سے قائم ہے گویا 36 سال اس کو قائم ہوئے ہو گئے ہیں۔ اتنا ہی عرصہ اسے ویسٹ افریقہ میں قائم ہوئے ہو گیا۔ ویسٹ افریقہ کے مختلف ملکوں میں جماعت ایک لاکھ ہو گئی ہے لیکن امریکہ کے متعلق جب آپ کے مبلغوں سے رپورٹ لی جاتی ہے وہ حد سے حد تمام امریکہ میں پانچ صد کی اطلاع دیتے ہیں حالانکہ مفتی صاحب کے زمانہ میں جس کو 36 سال گزر چکے ہیں یہ جماعت سات ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ اس قسم کا تنزل حیرت انگیز ہے۔ اس وقت امریکہ کی جماعت کم از کم پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک ہونی چاہئے تھی اور اس کا چندہ وہاں کی آمدن کے لحاظ سے کوئی آٹھ لاکھ ڈالر سالانہ ہونا چاہئے تھا لیکن چندہ بمشکل چھ سات ہزار ڈالر ہوتا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ یا تو جماعت مرتد ہو رہی ہے یا چندے اپنی آمد کے مطابق نہیں دیتی۔ حال میں ایک مبلغ کا خط مجھے ملا کہ ایک عورت یہاں سے بدل گئی ہے اُس کا 60 ڈالر ماہوار چندہ تھا۔ اگر ایک عورت 60 ڈالر ماہوار دے سکتی ہے تو اوسط 30 ڈالر ماہوار کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ اگر جماعت کے افراد پچاس ہزار ہوں تو پندرہ لاکھ ڈالر ماہوار ہوں گے۔ اگر جماعت کے ایک لاکھ آدمی ہوں تو تیس لاکھ ڈالر کی آمدنی ہونی چاہئے۔ اگر اتنی آمد ہو تو ہم خدا کے فضل سے امریکہ کو چالیس پچاس مبلغ بھجوا سکتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں امریکہ کی جماعت نہایت منظم ہو سکتی ہے۔ آپ کا ملک ایک اہم ملک ہے آپ کی ہی قوم کے لوگ ویسٹ افریقہ میں جماعت احمدیہ میں داخل ہو رہے ہیں جن کی تعداد سارے ملکوں کو ملا کر ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔
میں آپ کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ خلیفہ سے تعلق رکھنا مبلغ سے تعلق رکھنے سے بہت اعلیٰ ہے۔ ہر احمدی کو دوسرے تیسرے مہینے براہِ راست خلیفہ کے نام خط لکھنا چاہئے جو اَب نہیں لکھا جاتا۔ اور جو احمدی دوسرے مہینے بھی خط نہیں لکھتے میں سمجھتا ہوں کہ وہ احمدیت میں کمزور ہیں۔ سب دوست اگر براہِ راست خط لکھیں گے تو میں بھی ان کو جواب دوں گا۔ درمیانی واسطوں کا تعلق کبھی مضبوط نہیں ہوتا۔ ہمارے ملک میں مثل ہے کہ خط آدھی ملاقات ہوتا ہے۔ آپ پاکستان سے ہزاروں میلوں پر رہتے ہوئے اور جماعت احمدیہ کا ممبر ہوتے ہوئے اگر دو مہینے میں ایک دفعہ اپنے خلیفہ سے آدھی ملاقات کی خواہش نہیں رکھتے تو آپ کی احمدیت کس کام کی ہے۔ ایسی عقیدت سے تو دنیا کی کمزور سے کمزور جماعت بھی کوئی خوشی محسوس نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کو اپنے فرائض کو سمجھنے کی توفیق دے۔
مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی 1957ء-8-23‘‘
(تاریخ احمدیت جلد 19 صفحہ 477، 478 ناشر نظارت اشاعت ربوہ)
حضرت مصلح موعودؓ نے پاکستان کے مشہور جنرل اور ممتاز مصنف محمد اکبر خاں کی کتاب ’’حدیثِ دفاع‘‘ پر حسبِ ذیل تبصرہ سپردِ قلم فرمایا:۔
’’یہ چند سطور میجر جنرل محمد اکبر خاں صاحب کی کتابوں پر اظہارِ رائے کے طور پر لکھی جاتی ہیں۔ میجر جنرل محمد اکبر خاں صاحب کرنل کمانڈنٹ رائل پاکستان آرمی سروس کور پاکستان کی مخصوص شخصیتوں میں سے ہیں کیونکہ وہ صرف پاکستانی جرنیل ہی نہیں بلکہ علمی مذاق بھی رکھتے ہیں اور خصوصًا ایسا علمی مذاق جو اسلام کی ایسی تعلیمات کے متعلق تجسس رکھتا ہے جو فوجی ٹیکٹس (TACTICS) کے متعلق ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے ان کی کتاب ’’حدیثِ دفاع‘‘ میرے دیکھنے میں آئی۔ اس کے بعد کرنل الٰہی بخش صاحب جو لاہور کے مشہور فزیشن (PHYSICIAN) ہیں ان سے طبی مشورہ لینے کے لیے میں گیا تو انہوں نے بتایا کہ آپ صرف ایک کتاب کا ذکر کرتے ہیں مگر وہ اس وقت تک کئی کتا بیں لکھ چکے ہیں جو اپنی ذات میں نہایت مفید ہیں تب مجھے جنرل صاحب موصوف کی دوسری کتابوں کا تجسس پیدا ہوا اور آج میں ان کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوں ’’حدیثِ دفاع‘‘ جو غالباً جرنیل صاحب کی پہلی کتاب ہے۔ فوجی امور سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے معلومات کا ایک گراں قدر ذخیرہ ہے کیونکہ اس میں انہوں نے جنگ کے متعلق اسلامی احکام اور صحابہؓ کے اعمال کو روشن کیا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ہر مسلمان جس کو اسلام کی خوبیوں کو معلوم کرنے کا شوق ہوگا وہ اس کتاب کو پڑھ کر نہ صرف اسلام کے متعلق اپنی معلومات کو بڑھائے گا بلکہ اسلام کی عظمت کا پہلے سے بھی زیادہ قائل ہو جائے گا۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ یہ کتاب تبلیغ اسلام میں بھی کام آسکتی ہے اور اگر اس کتاب کا انگریزی میں ترجمہ ہو جائے تو انگریزی جاننے والے ملکوں میں غیر مسلموں کو اسلام سے روشناس کرانے میں ایک نہایت اعلیٰ ذریعہ ثابت ہوگی۔
دوسری کتاب یا کم از کم وہ دوسری کتاب جو مجھے ملی ہے جنرل صاحب کی تصنیف ’’اسلحۂ جنگ‘‘ ہے۔ یہ کتاب ’’حدیث دفاع‘‘ کی طرح براہِ راست تو اسلام پر کوئی روشنی نہیں ڈالتی لیکن فوج کے ساتھ تعلق رکھنے والے زمانۂ حال کے ہتھیاروں سے پبلک کو بہت عمدہ طور پر روشناس کراتی ہے۔ اس سے پتا لگتا ہے کہ پرانے زمانے میں جنگ کے جیتنے کے لیے جو آلات ایجاد ہوئے تھے موجودہ زمانہ میں اُن کو ترقی دے کر ایک ایسی شکل مل گئی ہے کہ دونوں میں موازنہ کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ پہلے ایشیا جنگی ہتھیاروں میں ترقی کر رہا تھا مگر اب یورپ کی توجہ اس طرف ہوگئی ہے۔ بلکہ امریکہ بھی اس دوڑ میں آگے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے جرمنی کی اُن کوششوں کا بھی ذکر کیا ہے جو پچھلی جنگ جیتنے کے لیے اس نے کی تھیں اور ایسی باتیں لکھی ہیں جن سے پاکستان کی حکومت فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ چونکہ جرنیل صاحب دوسری عالمگیر جنگ میں بھی شامل رہے ہیں اس لیے ان کو نئے ہتھیاروں کا بھی خاص علم ہے جس سے فائدہ اٹھانا ان کی قوم اور ان کی حکومت کا فرض ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں نئے ہتھیاروں کے متعلق بڑی بحث کی ہے۔ غالباً ایچ بم اور ایٹم بم کے متعلق وہ کچھ نہیں لکھ سکے اس لیے کہ یہ دونوں بم آج تک امریکہ کے فوجی محکمے کا راز رہے ہیں اور امریکہ نے آج تک حلیفوں کو بھی اس راز سے آگاہ نہیں کیا لیکن آہستہ آہستہ وہ راز پھیل رہا ہے اور اب شاید چند سال کی دیر لگے گی جس میں یہ راز عالمگیر سائنس بن جائے گا اور سب دنیا اس سائنس سے فائدہ اٹھانے لگ جائے گی۔ خدا کرے جس طرح ایٹمی ہتھیاروں سے امن کے زمانے میں فائدہ اٹھانے کے لیے جو انجمن بنائی گئی ہے اس میں عزیزم پروفیسر عبد السلام کو جو پاکستان میں کام کرنے کا موقع ملا ہے اس طرح جنگی کاموں میں ایٹمی طاقت کے استعمال کے متعلق جو انجمنیں بنائی جائیں اُن میں مزید پاکستانی سائنسدانوں کو کام کرنے کا موقع دیا جائے اور پاکستان بھی ایسا ہی مضبوط ہو جائے جیسا کہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں ۔
میں ان مختصر الفاظ پر اپنے ریویو کو ختم کرتا ہوں اور پھر کہتا ہوں کہ ہمارے اہلِ ملک کو علمی امور سے تغافل کرنا چھوڑ دینا چاہیئے بلکہ ان علوم سے واقفیت پیدا کرنے کے لیے ہر چھوٹے بڑے کو اپنے مطالعہ کو وسیع کرنا چاہیے جس میں میجر جنرل محمد اکبر خاں کی کتابیں ”حدیثِ دفاع“ اور ”اسلحۂ جنگ“ بہت مُمِد ثابت ہوں گی“
دستخط مرزا محمود احمد“ (تاریخ احمدیت جلد 19 صفحہ 505، 506 ناشر نظارت اشاعت ربوہ)
”میں قرآن کریم کے ترجمہ کے ختم ہونے پر پہلے ایک اعلان الفضل میں شائع کرا چکا ہوں۔ اس کے بعد جب اس کا پہلا ہزار چھپ گیا تو اس کا بھی جماعت میں اعلان کیا جا چکا ہے۔ اس کے بعد خیال ہوا کہ تفسیر سے پہلے انڈیکس یعنی فہرست مضامین قرآنی بھی لگا دی جائے تاکہ اس کے مطالعہ کے بعد ہر احمدی کی آنکھوں کے سامنے قرآن کریم کے سارے مطالب آ جائیں۔ اس طرح سے یہ کتاب جو 1200 صفحات میں چھپنی تھی وہ 1466 صفحات میں چھپی ہے۔
نیز جابہ میں رہ کر کام کرنے کی وجہ سے اس کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔ اس وجہ سے 16 روپے فی جلد کی بجائے قیمت 18 روپے فی جلد کر دی گئی۔ مگر جن کے نام
پہلے ہزار میں آئے ہیں اُن کو بہر حال کتاب 16 روپے فی جلد کے حساب سے ملے گی۔ بعض لوگ بڑی جماعت میں شامل ہونے کی وجہ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں کیونکہ جن کی جماعت نے زیادہ تعداد کا آرڈر بھجوایا ہو گا اُس جماعت کو بہت سا کمیشن ملے گا۔ وہ اپنے کمیشن میں سے کچھ حصہ اگر خریداروں کو دے دیں تو امید ہے کہ 16/8 روپے یا 17/8 روپے تک وہ بھی قرآن کریم کو اپنی جماعت کے لوگوں میں تقسیم کر سکیں گے۔
اب صرف یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم سارے کا سارا مع ترجمہ وتفسیر صغیر نیز 112 صفحات کی فہرست مضامین جلد سمیت خدا تعالیٰ کے فضل سے تیار ہو چکی ہے اور مجھے مل چکی ہے۔ لیکن میرا ارادہ ہے کہ تقسیم اِنْشَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰی جلسہ سالانہ کے موقع پر ہی کی جائے۔ اُس وقت تک غالباً دو ہزار کتاب تیار ہو چکے گی۔ باقی جوں جوں تیار ہوتی جائے گی جماعتوں کو اُن کے آرڈروں کی ترتیب کے لحاظ سے تقسیم ہوتی رہے گی۔ لیکن چونکہ لوگوں میں گھبراہٹ پائی جاتی ہے اس لئے اُن کے دلوں کے اطمینان کے لئے ابھی سے یہ اعلان شائع کیا جاتا ہے۔
جماعت میں شوق تو اتنا ہے کہ بعض لوگ دُور دُور سے آ کر ربوہ میں بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے تعلق کی وجہ سے پریس میں جا کر تفسیر پڑھ لیتے ہیں اور اس طرح سے اپنے دل کو تسکین دے لیتے ہیں۔
خلیفۃ المسیح الثانی “13-11-1957ء (الفضل 15؍ نومبر 1957ء)
’’بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ وَ عَلٰی عَبْدِہِ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھُوَ النَّاصِرُ برادرانِ جماعتِ احمدیہ! اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُہٗ
میں نے اس سال 27 دسمبر کو ارشاد و اصلاح کی ایک اہم تجویز پیش کی تھی جس کے دو حصے تھے ایک وقف اور ایک چندہ۔ چندہ میں نے کہا تھا گو لازمی نہیں لیکن ہر احمدی کوشش کرے کہ چھ روپے چندہ سالانہ یکمشت یا بارہ اقساط میں دیا کرے۔ ہماری جماعت میں آسانی سے ایک لاکھ آدمی ایسا پیدا ہو سکتا ہے۔ اور اگر وہ ایسا کریں تو رشد و اصلاح کی تحریک کو ہم بڑی آسانی کے ساتھ ڈھاکہ سے کراچی تک اور کراچی سے ملتان اور لاہور ہوتے ہوئے راولپنڈی کے راستہ سے پشاور اور ہزارہ کی وادیوں میں پھیلا سکتے ہیں۔ وقف کی تحریک گو دیر سے شروع ہوئی مگر خدا کے فضل سے شروع ہو گئی ہے۔ میرے اس خطبہ کے بعد پانچ درخواستیں آ چکی ہیں جن میں سے دو مولوی فاضل اور میٹرک ہیں اور ایک معمولی تعلیم کا آدمی ہے۔ میں نے جلسہ میں بتایا تھا کہ ہم پانچویں جماعت کے آدمی کو بھی اس کام کے لئے لے سکتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ ایسا نوجوان کسی زیادہ تعلیم یافتہ آدمی کے ساتھ لگا دیا جائے گا۔ مدرسہ احمدیہ میں جو اردو کا کورس شروع ہے اس کے مکمل ہونے میں ابھی پانچ سال لگیں گے جس کے بعد اِنْ شَاءَ اللّٰہُ پچاس طالب علم ہمیں مل جائیں گے۔ پرائمری پاس ہماری جماعت میں اب بھی پچاس ساٹھ ہزار آدمی موجود ہے لیکن وہ آگے نہیں بڑھ رہا اور سستی دکھا رہا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کو چیلنج کر رہا ہے کہ اُس کو بدل کر اُس کی جگہ اور آدمی پیدا کرے۔ مگر چندہ کا معاملہ جو وقف سے بہت سستا تھا اس کے لئے ایک درخواست بھی نہیں آئی۔ حالانکہ ایک لاکھ آدمی کی درخواست کی ضرورت تھی۔
یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے اور ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ میرے دل میں چونکہ خدا تعالیٰ نے یہ تحریک ڈالی ہے اس لئے خواہ مجھے اپنے مکان بیچنے پڑیں، کپڑے بیچنے پڑیں، میں اس فرض کو تب بھی پورا کروں گا۔ اگر جماعت کا ایک فرد بھی میرا ساتھ نہ دے خدا تعالیٰ اُن لوگوں کو الگ کر دے گا جو میرا ساتھ نہیں دے رہے اور میری مدد کے لئے فرشتے آسمان سے اُتارے گا۔
پس میں اتمامِ حجت کے لئے ایک بار پھر اعلان کرتا ہوں تاکہ مالی امداد کی طرف بھی لوگوں کو توجہ ہو اور وقف کی طرف بھی لوگوں کو توجہ ہو۔ مجھے اس کام کے لئے ایک ایسے چُست آدمی کی بھی ضرورت ہے جو سارے پنجاب کا دورہ کر کے ان نئے سکولوں کا معائنہ کر کے رپورٹ کرتا رہے اور انسپکٹر تعلیم کے طور پر کام کرے۔ اگر کوئی اس کام کا اہل ہو تو وہ بھی اپنے آپ کو پیش کرے۔ اس کام کے لئے ایسا آدمی کافی ہے جو ایف۔ اے پاس ہو یا مولوی فاضل اور انٹرنس پاس ہو اور ادھیڑ عمر کا ہو۔ میں امید رکھتا ہوں کہ اگلے تین ہفتہ میں جماعت ان دونوں کاموں کو پورا کر دے گی۔ میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کے معزز زمیندار کراچی سے لے کر پشاور تک اپنے اپنے گاؤں کے اردگرد دس ایکڑ زمین اس سکیم کے لئے وقف کر دیں گے۔ اس میں یہ واقفین کھیتی باڑی کریں گے اور اس سے اس سکیم کو چلانے میں مدد دیں گے۔ اس کی پیداوار سب ان کی ہوگی۔
مرزا محمود احمد (خلیفۃ المسیح الثانی) ربوہ 5 جنوری 1958ء (الفضل 7 جنوری 1958ء)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ‘‘ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ
برادرانِ جماعتِ احمدیہ!
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُهُ
جو وعدے وقفِ جدید کی امداد کے لئے آرہے ہیں اُن سے پتا لگتا ہے کہ شاید 6 روپے سالانہ چندہ انتہائی حد ہے۔ مگر یہ بات غلط ہے۔ اتنی بڑی سکیم کو چلانے کے لئے لاکھوں روپے کی ضرورت ہوگی۔ مگر وہ تو آہستہ آہستہ ہوگا۔ سردست تو قدم بہ قدم چلا جائے گا۔ جیسے تحریکِ جدید کا کام قدم بہ قدم چلا ہے۔ لیکن دوستوں کی اطلاع کے لئے میں یہ شائع کرتا ہوں کہ جس کی توفیق 12 روپے سالانہ کی ہو وہ 12 روپے سالانہ دے سکتا ہے۔ جس کی توفیق 50 روپے سالانہ دینے کی ہو وہ 50 روپے سالانہ دے سکتا ہے۔ دوستوں کو ہدایت دینے کے لئے یہ بات کافی تھی کہ میرا چندہ چھ سو شائع ہوچکا ہے۔ اور چھ سو چھ سے سو گنے زیادہ ہے۔ پس جن کو توفیق تھی وہ 12 روپے لکھوا سکتے تھے، 25 روپے لکھوا سکتے تھے، 50 لکھوا سکتے تھے، 100 لکھوا سکتے تھے۔ میرا ارادہ ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے توفیق دے تو بجائے چھ سو کے چھ ہزار یا اس سے بھی زیادہ دوں۔ پہلی تحریک کے وقت میں بھی میں نے چندہ یکدم نہیں بڑھایا تھا پہلے سال میں نے تین سو دیا تھا۔ اس سال گیارہ ہزار لکھوایا ہے ممکن ہے اللہ تعالیٰ توفیق دے تو میرا اس تحریک کا چندہ چوبیس پچیس ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہو جائے اور ساری جماعت کا مل کر چھ سات لاکھ ہوجائے۔ جس سے امید ہے کہ ہم اِنْشَاءَ اللّٰہ کراچی سے لے کر پشاور تک جال رُشد و اصلاح کا پھیلا سکیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت دے اور نیک کاموں میں بڑھ بڑھ کر حصہ لینے کی توفیق دے۔ اور آپ کے مالوں میں برکت دے تاکہ آپ بڑھ بڑھ کر دین کے کاموں میں حصہ لیں۔
یہ بھی میں اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ جہاں امیر آدمی بہت زیادہ دے سکتے ہیں وہاں چھ غریب آدمی مل کر ایک ایک روپیہ ڈال کر چھ روپے پورے کر سکتے ہیں۔
خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی 13 جنوری 1958ء (الفضل 15 جنوری 1958ء)
’’پچھلے سال اکتوبر میں جابہ سے واپسی پر میری بیماری کی تکلیف کچھ اس طرح بڑھ گئی تھی کہ معلوم ہوتا تھا کہ جیسے فالج میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن ڈاکٹروں کی رائے تھی کہ یہ فالج کی وجہ سے نہیں بلکہ بار بار موسم کی تبدیلی کی وجہ سے ہے۔ اُس وقت تو طبیعت بہت گھبرا گئی تھی اور میں ڈرتا تھا کہ جلسہ میں بھی شامل ہو سکوں گا یا نہیں۔ مگر اس کے بعد اس حالت میں افاقہ ہو گیا۔ لیکن جنوری کے آخر میں متعدد بار نقرس کا جو میری پرانی بیماری ہے شدید دورہ ہوا۔ پرسوں اس کا دورہ اتنا شدید ہوا اور دائیں ٹانگ پر ہوا کہ مجھے یہ وہم پڑ گیا کہ شاید میری دائیں طرف بھی فالج گر رہا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ فالج اگر ہوتا تو ضروری تھا کہ ایک وقتی بے ہوشی آتی۔ چونکہ وہ آپ کو نہیں ہوئی اس لئے یہ فالج نہیں ہے بلکہ نقرس ہی ہے۔ چنانچہ نقرس کا علاج شروع کیا گیا۔ اور 3 فروری کی صبح سے کسی قدر افاقہ معلوم ہوتا ہے۔ اگر موسم میں خوشگوار تبدیلی رہی اور اللہ تعالیٰ کا فضل شاملِ حال رہا تو امید ہے کہ تین چار دن تک یہ بیماری بھی ہٹ جائے گی۔ اور پھر پرانی صحت عَوْد کر آئے گی۔ جس سے مراد میری آج سے پندرہ سال پہلے والی صحت نہیں بلکہ وہ صحت مُراد ہے جو ولایت سے واپسی والے سال تھی اور جو 1956ء میں مری میں تھی۔ اگر وہی مکمل صحت حاصل ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ میری زندگی ایک بے معنی لفظ نہ بن جائے گی بلکہ خدا تعالیٰ مجھ سے ایسے کام لیتا رہے گا جس سے عالَم اسلام کو فائدہ پہنچتا رہے ۔
خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی 1958ء-2-3 (الفضل 5؍ فروری 1958ء)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ برادرانِ جماعت احمدیہ راولپنڈی آپ کے امیر نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ میں ’’خلافت ڈے‘‘ پر کچھ الفاظ کہوں جو ٹیپ ریکارڈر کے ذریعہ ریکارڈ کر لئے جائیں اور پھر جماعت کو سنا دیئے جائیں ۔ ’’خلافت ڈے‘‘ میں خلافت کے متعلق میرا کچھ کہنا تو میرے خیال میں مناسب نہیں ہے اس لئے کہ خلافت کے متعلق بات کرنے کا تعلق جماعت سے ہے خود خلیفہ سے نہیں کیونکہ اپنے متعلق بات کہنی آداب کے خلاف ہوتی ہے۔ مگر خلافت کے ساتھ تعلق رکھنے والی ایک بات ایسی ہے جو میں کہہ سکتا ہوں اور مجھے کہنی چاہئے بلکہ زور سے کہنی چاہئے اور وہ یہ کہ خلافت خدا تعالیٰ کی قائم کردہ چیز ہے اور قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب تک سچی خلافت رہے سچا دین بھی جماعت میں قائم رہتا ہے۔ اور سچے دین کا قائم رکھنا اور (دین حق) کو دنیا میں غالب کرنا یہ ہر سچے مومن کا فرض ہے۔ پس اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ (دین حق) کے لئے اور دین کے استحکام کے لئے اور دین کی درستی اور
اصلاح کے لئے میں آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ہمیشہ اپنی زندگیوں کو خلافتِ احمدیہ کے استحکام اور قیام کے لئے خرچ کریں اور اس کام کے لئے اگر جان کی بازی بھی لگانی پڑے تو اس سے دریغ نہ کریں کیونکہ یہی ایک ذریعہ ہے جو قرآن کریم کے قول کے مطابق (دینِ حق) کو مستحکم بنا سکتا ہے اور دین کی اشاعت اطرافِ عالم میں کروا سکتا ہے۔ اور آپ لوگوں نے جو احمدیت قبول کی ہے تو اسی لئے کی ہے کہ (دینِ حق) کو دنیا میں مستحکم کریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت اور خدائے واحد کی حکومت کو دنیا میں قائم کریں۔ اس مقصد میں کوئی ذراسی بھی کوتاہی ہوئی تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ آپ نے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا اور اپنے دعوؤں کو خود جھٹلا دیا ہے اور کافر اسی پر خوش ہوں گے اور خدا تعالیٰ اس پر ناراض ہوگا۔ مگر نہ کافروں کی خوشی دنیوی طور پر آپ کے لئے برداشت کے قابل ہوسکتی ہے اور نہ خدا کی ناراضگی دینی طور پر آپ کے لیے قابلِ برداشت ہوسکتی ہے۔ آپ کی کامیابی اسی میں ہے کہ کافر آپ کی شان و شوکت کو دیکھ کر اور آپ کی خدمت کو دیکھ کر اور (دینِ حق) کی اشاعت کو دیکھ کر دل میں کڑھے اور اللہ تعالیٰ آپ کے ظاہر و باطن کو دیکھ کر خوش ہو اور ہمیشہ اس کے فرشتے آپ کی مدد کے لئے اور آپ کی نصرت کے لئے دنیا میں اترتے رہیں۔ اور جس شخص کو خدا اور اس کے فرشتوں کی مدد حاصل ہو ظاہر ہے کہ وہ اور اس کی قوم ہمیشہ بالا ہی رہے گی۔ کبھی نیچی نہیں ہوسکتی۔ پس یہ میرا پیغام ہے جو میں آپ کو پہنچاتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ اس کو توجہ سے سنیں گے اور اس پر عمل کریں گے۔“
(تاریخ احمدیت جلد 20 صفحہ 106 ناشر نظارت اشاعت ربوہ)
”مری 16 جولائی 1958ء۔ میں انڈونیشیا کے احمدی مردوں اور عورتوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حضور ان کی کانفرنس کی کامیابی کے لئے دعا کرتا ہوں۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت نے اپنی تبلیغی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا نہیں کیا ورنہ اس وقت تک جماعت کے افراد کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز ہو چکی ہوتی۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ اپنے طریقہ کار میں اصلاح کرتے ہوئے اپنے آپ کو خدائے تعالیٰ اور مخلوق کے سچے خادم ثابت کریں گے۔ خدا تعالیٰ آپ کے ملک کو برکت دے اور ہمیشہ صحیح راستے کی طرف اس کی رہنمائی فرماتا رہے۔
(خلیفۃ المسیح الثانی)“
(تاریخ احمدیت جلد نمبر 20 صفحہ 118 ناشر نظارت اشاعت ربوہ)
”خدام الاحمدیہ کراچی کی طرف سے درخواست کی گئی ہے کہ میں اُن کے سالانہ جلسہ کے لئے کوئی پیغام بھیجوں۔ خدام الاحمدیہ کو ایک ہی پیغام ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھیں اور بنی نوع انسان کی خدمت میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں۔ میں مرکزی خدام الاحمدیہ کے ایک سالانہ جلسہ میں یہ تقریر کر چکا ہوں کہ خدام الاحمدیہ کے یہ معنے نہیں کہ یہ احمدیت کے خادم ہیں بلکہ یہ کہ احمدیوں میں سے بنی نوع انسان کے یہ خادم ہیں۔ اُس اپنی تقریر کو میں پھر یاد دلاتا ہوں اور کراچی کے خدام سے کہتا ہوں کہ وہ پاکستان کے مرکز میں بستے ہیں جہاں تمام دنیا کے آدمی آتے ہیں اور جہاں خدمت کا بہترین موقع ان کو مل سکتا ہے۔ وہ اس طرف توجہ کریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو یاد رکھیں کہ سچا مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور جس کی زبان سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۳۔ خالی مسلمان کہلانے سے کچھ نہیں بنتا۔ بلکہ اصل مسلمان وہ ہے جو دنیا کو امن بخشے۔ پس دنیا کو
امن بخشنے کی کوشش کریں۔ لڑائی جھگڑوں سے بچیں۔ بغیر کسی مذہب اور ملّت کا خیال کئے ہر مذہب اور ملّت کے آدمیوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کریں۔
خاکسار مرزا محمود احمد (خلیفۃ المسیح الثانی)“ (الفضل 7؍اکتوبر 1958ء)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَ عَلٰی عَبْدِهِ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ برادرانِ جماعت احمدیہ ہندوستان (بھارت) اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُهٗ ‘
قادیان جلسہ سالانہ ہو رہا ہے اور افسوس ہے کہ ابھی ہم باہر ہیں۔ ہم اس جلسہ سالانہ میں شمولیت کی توفیق نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ سے دست بدعا ہیں کہ وہ کوئی ایسے برکت والے سامان پیدا کرے کہ ہم بھی آپ لوگوں کے ساتھ مل کر اپنا جلسہ منایا کریں اور اپنے بھائیوں کی ملاقات سے خوش ہو سکا کریں۔
آپ لوگوں کو یاد رکھنا چاہیئے کہ آپ کی ذمہ داریاں دنیا کی سب جماعتوں سے زیادہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کا مامور آپ کے ملک میں بھیجا ہے اور اس نے ساری عمر آپ کے ملک میں کام کیا۔ اسی طرح حضرت خلیفہ اول بھی آپ کے ملک میں ہوئے اور خلیفہ ثانی کی عمر کا بہت سا حصہ آپ کے ملک میں گزرا۔ مقبرہ بہشتی بھی آپ کے ملک میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بہت سی بشارتیں آپ کے ملک کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں جن کے پورا ہونے میں تعویق تو ہو سکتی ہے لیکن وہ ٹل نہیں سکتیں ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کا کلام ٹلا نہیں کرتا ۔
مجھے خدا تعالیٰ نے خاص طور پر بتایا کہ جنوبی ہند اور سکھوں ، ہندوؤں میں احمدیت زیادہ ترقی کرے گی ۔ اس لئے میں آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جنوبی ہند کی طرف اور سکھوں اور ہندوؤں کی طرف خاص توجہ کریں ۔ ہندو قوم کیونکہ توہم پرست قوم ہے اس کے نتیجہ میں ان کے دلوں میں تصوف اور روحانیت کی طرف بہت میلان پیدا ہو گیا ہے ۔ پس آپ دعاؤں اور ذکرِ الٰہی کی عادت ڈالیں تاکہ آپ پر بھی خدا تعالیٰ کے تازہ بہ تازہ فضل نازل ہوتے رہیں اور ان افضال کی وجہ سے ہندو اور سکھ قوم اور مسلمانوں کا وہ حصہ جو کرامت کی طرف زیادہ توجہ کرتا ہے آپ کی طرف مائل ہوں اور جلد سے جلد احمدیت قبول کریں ۔
اگر آپ روحانیت کے حاصل کرنے کی کوشش کریں تو آپ کو بڑی جلدی اس میں کامیابی حاصل ہو گی ۔ مجھے بھی جوانی کا زمانہ یاد ہے کہ جب میں نیا نیا خلیفہ ہوا تھا میرے سامنے ایک دفعہ ایک فرشتہ آیا اور اس نے خدا تعالیٰ کا پیغام دیا کہ اے قادیان کی جماعت ! تجھے مبارک ہو کہ خلافت کی تازہ بہ تازہ برکات تجھ پر نازل ہو رہی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کے فرشتے آپ پر برکات نازل کرنے کے لئے اتر رہے ہیں تو آپ اگر ذرا بھی توجہ کریں تو دونوں طرف کی رغبت کی وجہ سے فرشتوں میں اور آپ میں جلد ہی میلان ہو جائے گا اور آپ اللہ تعالیٰ سے ایسے نشانات دیکھیں گے جو دنیا میں اور کسی کو نظر نہیں آتے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور جلد قادیان اور ربوہ کے لوگوں کے ملنے کی صورت پیدا کرے ۔ آمین
فقط والسلام خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی “6-10-1958ء (تاریخ احمدیت جلد 20 صفحہ 168، 169 ناشر نظارت اشاعت ربوہ)
’’برادران جماعت احمدیہ سیرالیون اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ میں نے سنا ہے کہ آپ کی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ احباب تو چاروں طرف سے آئیں گے ہی مگر خالی احباب کا جمع ہونا مفید نہیں ہوتا جب تک ان کے اندر للہیت اور اخلاص پیدا نہ ہو۔ پس آپ لوگ اس کا انتظام کریں کہ مبلغین للہیت کے پیدا کرنے کی تلقین کریں اور جماعت جس جوش کے ساتھ آئے اُس سے سینکڑوں گنا زیادہ جوش کے ساتھ واپس جائے تاکہ ملک کے چپہ چپہ میں احمدیت پھیل جائے۔ آپ کا ملک بہت وسیع ہے ابھی اس میں اشاعتِ حق کی بہت ضرورت ہے۔ جلدی اس طرف توجہ کریں اور ملک کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کریں تاکہ آپ لوگ اسلامی دنیا میں مفید عنصر ثابت ہو سکیں۔ خالی سیرالیون اسلامی دنیا میں کوئی نقش نہیں چھوڑ سکتا ہے جب کہ پہلے وہ ایک عقیدہ پر قائم نہ ہو اور پھر باقی مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملا کر (دینِ حق) کی خدمت کرے۔ پس اس مقصد کو آپ کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور اس کیلئے جدوجہد کرتے رہنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔ آمین۔
والسلام خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی یکم دسمبر 1958ء‘‘
(تاریخ احمدیت جلد 20 صفحہ 174، 175 ناشر نظارت اشاعت ربوہ)
تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔
”اے احباب کراچی!
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَكَاتُهٗ ‘
چونکہ میں اس دورہ میں بیماری سے دوچار رہا ہوں اس لئے یہاں کراچی آکر مجھے یہ موقع نہیں ملا کہ میں آپ لوگوں سے ملوں یا آپ لوگوں کو اپنے سے ملنے کا موقع دوں۔ دوستوں نے خواہش کی ہے کہ میں ٹیپ ریکارڈ پر کچھ الفاظ کہہ دوں اور وہ آپ کو سنا دئیے جائیں۔ سب سے پہلے میں آپ سے معذرت کرتا ہوں کہ کراچی میں آنے کے باوجود آپ کو وہ موقع نہیں ملا جو میزبان کو اپنے مہمان سے ملنے ملانے کا ملتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو میں پہلے ہی بیمار تھا پھر بشیر آباد سے واپسی پر مجھے کار کا ایک حادثہ پیش آیا جس کی خبر الفضل میں چھپ چکی ہے۔ اس حادثہ سے پہلے تو یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ بس اب خاتمہ ہی ہے۔ جو دوست میرے پیچھے پیچھے آرہے تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ جب یکدم آپ کی موٹر گری تو ہمارا دل دہل گیا کہ پتا نہیں کیا ہو گیا ہے۔ مگر جب آپ کار سے باہر نکلے تو آپ کو دیکھ کر ہمیں تسلی ہوگئی کہ آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے صحیح و سلامت ہیں۔ پہلے خیال تھا کہ نخاع کٹ گیا ہے لیکن ڈاکٹروں نے دیکھنے کے بعد بتایا کہ ایسا نہیں ہوا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو آپ کھڑے نہیں ہو سکتے تھے لیکن میں کار سے باہر نکلا اور سہارا لے کر کھڑا ہو گیا۔
ناصر آباد جا کر میرے دائیں پاؤں پر نقرس کا شدید حملہ ہوا لیکن علاج کی وجہ سے جلد ہی افاقہ ہو گیا۔ پہلے تو چارپائی کے ساتھ ہی پاٹ رکھنا پڑتا تھا لیکن دوسرے تیسرے دن میں دوسرے کمرہ میں پاٹ کے ساتھ چلا جاتا تھا۔ پھر ایک دن ہم باغ میں سیر کے لئے بھی گئے لیکن جب ہم محمود آباد گئے تو چونکہ وہاں کی آب وہوا میں رطوبت زیادہ تھی اس لئے وہاں مجھ پر نقرس کا دوبارہ حملہ ہوا جو برابر ریل میں بھی کراچی پہنچنے تک جاری رہا۔ یہاں
پہنچ کر باوجود اس کے کہ جماعت کے ڈاکٹروں اور شہر کے دوسرے چوٹی کے ڈاکٹروں سے علاج کرایا گیا ابھی تک کوئی افاقہ نہیں ہوا اور اِس وقت تک برابر اتنا درد ہے کہ میں نہ تو رات کو سو سکتا ہوں نہ دن کو آرام سے لیٹ سکتا ہوں۔ اِس لئے میں مجبور ہوں کہ آپ سے مل نہیں سکا اور اِس طرح میں نے آپ کے دل کو رنج پہنچایا ہے۔ امید ہے کہ آپ لوگ اس کا ازالہ دعا سے کریں گے۔ کیونکہ ہمارا اصل معالج خدا تعالیٰ ہی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں۔ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَہُوَ یَشۡفِیۡنِ(26:81) کہ جب میں اپنی بیوقوفیوں کی وجہ سے بیمار ہوتا ہوں تو اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل سے شفا دیتا ہے۔ تو حقیقت یہی ہے کہ بیماریاں ہماری اپنی بیوقوفی سے آتی ہیں لیکن شفا خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوتی ہے۔ ورنہ ڈاکٹر دیکھتے رہ جاتے ہیں اور انہیں پتا نہیں لگتا کہ کیا بیماری ہے۔ مجھے بھی کل یہاں کے ایک چوٹی کے ڈاکٹر نے جن کی یورپ میں بھی شہرت ہے کہا ہم آپ کی مرض کا خاطر خواہ علاج نہیں کر سکتے کیونکہ عمر کے زیادہ ہونے کی وجہ سے آپ کا جسم بیماری کا مقابلہ نہیں کرتا۔ حالانکہ عمر کی زیادتی محض انسانی کم عقلی کا بہانہ ہے۔ ورنہ ایک دفعہ گجرات کا ایک شخص میری بیعت کرنے کے لئے آیا تو اس نے مجھے بتایا کہ اس وقت میری عمر 118 سال کی ہے اور میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ میں جوان تھا۔ تو انسان اپنی کوتاہی کی وجہ سے بہانے بناتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ حکیموں اور ڈاکٹروں کو عقل دے تو انہیں علاج سوجھ جاتا ہے اور اگر خدا تعالیٰ انہیں عقل نہ دے تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔
حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا کام تو محض قارورہ سونگھنا ہے ورنہ علاج تو اللہ تعالیٰ ہی سمجھاتا ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ سرگودھا کا ایک رئیس میرے پاس آیا۔ وہ اپنے آپ کو بہت بڑا رئیس سمجھتا تھا۔ میں نے اسے بیماری کا معمولی سا علاج بتایا تو اس نے برا منایا اور سمجھا کہ گویا میں نے اُس کی ہتک کی ہے۔ پھر وہ غصہ سے کہنے لگا کہ آخر آپ لوگ پیشاب ہی سونگھنے والے ہیں۔ تو حقیقت یہی ہے کہ طبیبِ حقیقی خدا تعالیٰ ہی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ علمِ طب محض ظنی ہے اور طبیب کو کچھ پتا نہیں ہوتا کہ مرض کیا ہے۔ وہ محض تک مارتا ہے جو بعض اوقات صحیح بھی ہو جاتی ہے۔
میرا علاج وہی ہو رہا ہے جو جوانی کی عمر میں ہوتا تھا اور اس سے فائدہ ہو جاتا تھا، لیکن اب اس علاج سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ کل ہی مجھ سے ڈاکٹر نے کہہ دیا کہ یہ عمر کا تقاضا ہے۔ لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک شخص بیعت کے لئے میرے پاس قادیان آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ اس کی عمر 118 سال کی ہے اور وہ لاہور سے پیدل چل کر آیا ہے۔ اور قادیان لاہور سے تقریباً 70 میل دور تھا۔ پس اگر خدا تعالیٰ طاقت دے اور وہ بڑی قدرتوں کا مالک ہے تو 118 سال کی عمر کا آدمی بھی 70 میل چل لیتا ہے میرا تو ابھی سترھواں سال شروع ہوا ہے اور میں اس کے شروع میں ہی اتنا کمزور ہو گیا ہوں کہ اس کی کوئی حد نہیں۔ جب میں پڑھتا ہوں یا سنتا ہوں کہ میرے زمانہ میں اسلام دنیا کے کناروں تک پہنچ گیا ہے تو میں شرمندہ ہو کر خدا تعالیٰ سے کہتا ہوں کہ یہ محض ان کی حُسنِ ظنی ہے ورنہ حق یہ ہے کہ میں وہ فرض پورا نہیں کر سکا جو تُو نے میرے سپرد کیا تھا۔ اگر میں وہ فرض پورا کر لیتا تو اب تک اسلام دنیا کے کناروں تک پھیل چکا ہوتا۔ یہ میری غفلت اور کوتاہیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ ابھی دنیا کے صرف چند ملکوں میں ہی تبلیغ ہوئی ہے۔ میں 1914ء میں خلیفہ ہوا تھا لیکن تحریک جدید جس کے ماتحت مبلغین باہر جاتے ہیں اس کی ابتداء 1934ء میں ہوئی۔ گویا میں نے 20 سال غفلت میں گزار دئیے یعنی 20 سال بعد جا کر کہیں مجھے ہوش آئی کہ ابھی بہت کام باقی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس عرصہ میں یورپ اور دیگر ممالک میں مساجد تعمیر کی گئیں، جماعتیں قائم ہوئیں اور بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہوئے۔ لیکن اگر یہ تحریک 20 سال قبل شروع کی جاتی تو شاید جماعت کی تعداد اور بھی بڑھ جاتی۔ بہر حال میں جماعت سے ان کی اس تکلیف کی وجہ سے ہمدردی کرتے ہوئے جَزَاكُمُ اللّٰهُ کہتا ہوں۔ ایک خدمت ایسی ہوتی ہے کہ باتیں کرنے یا سننے سے اس کا کسی قدر بدلہ خدمت کرنے والے کو مل جاتا ہے لیکن آپ کو ایسی خدمت کی توفیق ملی ہے جو بغیر معاوضہ کے تھی۔ میں ابھی تک اس کا کوئی معاوضہ نہیں دے سکا۔ شاید اللہ تعالیٰ فضل کرے اور آپ کو اس خدمت کا بدلہ دے دے۔ پس میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ کو اس خدمت کا بدلہ دے اور ادھر مجھے صحت دے اور اسلام کی خدمت کی توفیق دے کہ میں اور آپ سب اسلام کی ترقی اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔
پھر خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں قادیان بھی دے۔ ہم اپنی زندگی میں قادیان جائیں
اور ہم میں سے جو لوگ مستحق ہیں اُن کو اللہ تعالیٰ بہشتی مقبرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قرب میں جگہ دے۔ خدا تعالیٰ کا قرب تو ہمیں ہر جگہ نصیب ہے۔ فَاَیۡنَمَا تُوَلُّوۡا فَثَمَّ وَجۡہُ اللّٰہِ(2:116) جہاں بھی ہم جائیں خدا تعالیٰ موجود ہے لیکن خدا تعالیٰ کو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ دیکھا ہے اس لئے ہمارا دل تڑپتا ہے کہ جہاں ہمیں خدا تعالیٰ کا ظاہری قرب نصیب ہے وہاں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ظاہری قرب بھی نصیب ہو۔ آپ کا قرب باطنی تو ہر ایمان والے کو حاصل ہے لیکن قادیان بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے والے کو آپ کا ظاہری قرب بھی مل جائے گا۔ تو اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ظاہری اور باطنی دونوں قرب عطا فرمائے۔ اور پھر صرف ہمیں ہی عطا نہ فرمائے بلکہ دنیا کے سب لوگوں کو عطا فرمائے کیونکہ سب لوگ ہمارے دادا حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ اور ایک دادا کی اولاد میں کوئی فرق نہیں ہوتا بلکہ وہ سب آپس میں بھائی بھائی ہوتے ہیں۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ۔‘‘ (الفضل 4؍اپریل 1959ء)
سیدنا حضرت مصلح موعود نے 4؍مئی 1959ء کو نظام سلسلہ کی نگرانی کے لئے حسب ذیل اعلان تحریر فرمایا جو حضور کے ارشاد کی روشنی میں ربوہ کی بیوت الذکر میں پڑھ کر سنایا گیا:۔
’’تمام احباب جماعت کی اطلاع کے لئے اعلان کیا جاتا ہے (بعد میں اخبار میں بھی شائع کر دیا جائے گا) کہ گو ہماری جماعت میں اب تک خدا تعالیٰ کے فضل سے دیانتداری چل رہی ہے لیکن پھر بھی چونکہ پچھلی اسلامی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ایک وقت میں آ کر نہایت دیانتدار قوم میں بھی بعض بددیانت لوگ پیدا ہو گئے تھے لہٰذا اس امر کی نگرانی کے لئے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جس شخص کو کسی افسر کے متعلق ایسی شکایت ہو کہ اس نے اعلیٰ درجہ کی دیانتداری سے کام نہیں لیا وہ مجھے آ کر بتائے تاکہ جرح کر کے میں اپنی تسلی کروں۔ میں بوجہ بیماری ملاقاتیں کم کرتا ہوں لیکن جو شخص ایسی رپورٹ دینا چاہے وہ دفتر میں آ کر ملاقات کے لئے نام لکھوائے اور ساتھ یہ بھی لکھوائے کہ ملاقات برائے اصلاحِ جماعت ہے ایسے آدمی کو میں ضرور بلوا لیا کروں گا مگر میں یہ وعدہ نہیں کرتا کہ اس کی بات کو ضرور مان لوں گا میں تحقیقات کروں گا اور اس پر جرح کروں گا۔ اگر (دینِ حق) کے قواعد کے مطابق اس کی بات میں کوئی نیم سچائی بھی نظر آئی تو افسر متعلقہ سے بازپُرس کروں گا اور اگر تحقیقات سے بات سو فیصدی سچی ثابت ہوئی تو افسر متعلقہ کو اِنْشَاءَ اللہُ سزا دوں گا اور خدا کے فضل سے اس بات کی بھی کبھی پروا نہیں کروں گا کہ وہ بڑا آدمی بڑا ہے یا چھوٹا۔
اس اعلان کے ذریعہ میں خدا کے سامنے بری ہوتا ہوں اب اگر کوئی شخص ایسی شکایت نہیں لاتا تو خدا تعالیٰ کے سامنے وہ مجرم ہے میں مجرم نہیں۔ اور اگر اس کی غفلت کی وجہ سے جماعت میں کوئی خرابی پیدا ہوئی تو اللہ تعالیٰ کے سامنے وہی شخص سزا کا مستحق ہوگا۔
مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی 1959ء-5-4“
(تاریخ احمدیت جلد 20 صفحہ 332، 333 ناشر نظارت اشاعت ربوہ)
”اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ“
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ
اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ
ہم دوسرے انسانوں سے الگ قسم کے انسان نہیں تھے مگر اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے خبر دی کہ مسیح موعود شاہی خاندان میں پیدا ہو گا 6؎ اور اُس کے ذریعہ سے پھر اسلامی بادشاہت قائم ہو گی 7؎۔ اس کی وجہ سے با وجود نہایت نالائق
ہونے کے ہم نے ایک لمبی سُکھ کی زندگی بسر کی اور اللہ تعالیٰ کی بشارتوں کے مطابق شاہی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ہماری اس میں کوئی خوبی نہیں تھی۔ ہم ذلیل تھے اُس نے ہمیں دین کا بادشاہ بنا دیا۔ ہم کمزور تھے ہمیں اس نے طاقتور کر دیا اور اسلام کی آئندہ ترقیوں کو ہم سے وابستہ کر دیا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کے طفیل ہمیں اس قابل بنایا کہ ہم خدا تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو دنیا کے کناروں تک پھیلائیں۔ یہ وہ مشکل کام تھا جس کو بڑے بڑے بادشاہ نہ کر سکے لیکن خدا تعالیٰ نے ہم غریبوں اور بے بسوں کے ذریعہ سے یہ کام کروا دیا۔ اور اس بات کو سچا کر دکھایا کہ سُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ (یعنی پاک ہے وہ خدا جس نے اسلام کے دشمنوں کو ذلیل کر دیا) مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت تک اسلام کو برتری بخشتا رہے گا اور مجھے امید ہے کہ میری اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد ہمیشہ اسلام کے جھنڈے کو اونچا کرتی رہے گی اور اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی قربانی کے ذریعے سے اسلام کے جھنڈے کو ہمیشہ اونچارکھے گی۔ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچائے گی۔ مَیں اس دعا میں ہر احمدی کو شامل کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کا حافظ و ناصر ہو اور ان کو اس مشن کے پورا کرنے کی توفیق دے۔ وہ کمزور ہیں لیکن ان کا خدا ان کے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ خدا ہو اُسے انسانوں کی طاقت کا کوئی ڈر نہیں ہوتا۔ دنیا کی بادشاہتیں ان کے ہاتھ چومیں گی اور دنیا کی حکومتیں ان کے آگے گریں گی بشرطیکہ نبیوں کے سردار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق یہ لوگ نہ بھولیں اور اسلام کے جھنڈے کو اونچارکھنے کی کوشش کرتے رہیں۔ خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہو، ہمیشہ ان کی مدد کرتا رہے اور ہمیشہ ان کو سچا راستہ دکھاتا رہے۔ بے شک وہ کمزور ہیں۔ تعداد کے لحاظ سے بھی اور روپے کے لحاظ سے بھی اور علم کے لحاظ سے بھی۔ لیکن اگر وہ خدائے جبار کا دامن مضبوطی سے پکڑیں گے تو خدا تعالیٰ کی پیشگوئیاں ان کے حق میں پوری ہوں گی۔ اور دینِ اسلام کے غلبہ کے ساتھ ان کو بھی غلبہ ملے گا۔ اس دنیا میں بھی اور اگلی دنیا میں بھی۔ خدا تعالیٰ ایسا ہی کرے اور قیامت کے دن نہ وہ شرمندہ ہوں نہ ان کی وجہ سے حضرت مسیح موعودؑ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شرمندہ ہوں۔ نہ خدا تعالیٰ شرمندہ ہو
کہ اس نے ایسی نالائق جماعت کو کیوں چنا۔ یہ خدا تعالیٰ کا لگایا ہوا آخری پودا ہے جو اس پودے کی آبیاری کرے گا خدا تعالیٰ قیامت تک اُس کے بیج بڑھاتا جائے گا اور وہ دونوں جہان میں عزت پائے گا۔ اِنْشَاءَ اللّٰهُ تعالٰی۔
اے عزیزو! 1914ء میں خدا تعالیٰ نے اپنے دین کی خدمت کا بوجھ مجھ پر رکھا تھا اور میری پیدائش سے بھی پہلے حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ میری خبر دی تھی۔ میں تو ایک حقیر اور ذلیل کیڑا ہوں یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اس نے مجھے نوازا اور میرے ذریعہ سے اسلام کو دنیا میں قائم کیا۔ جس خدا نے میرے جیسے حقیر انسان کے ذریعہ سے دنیا میں اسلام کو قائم کیا میں اُسی خدائے قدوس کا دامن پکڑ کر اُس سے التجا کرتا ہوں کہ وہ اسلام کو برتری بخشے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو اگلے جہان میں ساری دنیا کے سردار ہیں اس جہان میں بھی ساری دنیا کا سردار بنائے بلکہ اُن کے خدام کو بھی ساری دنیا کا بادشاہ بنائے۔ مگر نیکی اور تقویٰ کے ساتھ نہ کہ ظلم کے ساتھ۔ توحید دنیا سے غائب ہے خدا کرے کہ پھر توحید کا پرچم اونچا ہو جائے اور جس طرح خدا غالب ہے اُسی طرح اس کا جھنڈا بھی دنیا میں غالب رہے اور اسلام اور احمدیت دنیا میں توحید اور تقویٰ اور اسلام کی عظمت پھر دنیا میں قائم کر دیں اور قیامت تک قائم رکھتے چلے جائیں۔ یہاں تک کہ وہ وقت آجائے کہ خدا کے فرشتے آسمان سے نازل ہو کر خدا کے بندوں کی روحوں کو بلند کر کے آسمان پر لے جائیں اور ان میں ایک ایسا مضبوط رشتہ قائم کر دیں جو ابد تک نہ ٹوٹے۔ اٰمِیْنَ ثُمَّ اٰمِیْنَ۔
بادشاہت سب خدا کا حق ہے مگر افسوس ہے کہ انسان نے اپنی جھوٹی طاقت کے گھمنڈ میں اس بادشاہت کو اپنے قبضہ میں کر رکھا ہے اور خدا کے مسکین بندوں کو اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ خدا تعالیٰ اس غلامی کی زنجیروں کو توڑ دے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد اور مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد کو نیکی پر ہمیشہ قائم رکھے اور اعتدال کے راستہ سے پھرنے نہ دے۔ اُس سے یہ بات بعید نہیں گو انسان کی نظر میں یہ بات بڑی مشکل معلوم ہوتی ہے۔ میں اُس کے بندوں کی باگ اُسی کے ہاتھ میں دیتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ وہ مجھ سے زیادہ ان کا خیر خواہ ثابت ہو گا اور قریب کی قیامت بلکہ دور کی قیامتوں کے موقع پر سچے مسلمانوں کی سرخروئی اور اعزاز کا موجب ہو گا۔ میں اپنے لڑکوں، لڑکیوں اور بیویوں کو بھی اُس کے سپرد کرتا ہوں۔ میری نرینہ اولاد موجود ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے سوا انسان کچھ نہیں کر سکتا اس لئے میں اولاد در اولاد اور بیویوں اور اُن کے وارثوں کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کرتا ہوں جس کی حوالگی سے زیادہ مضبوط حوالگی کوئی نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام تھا
سپردم بتو مایہ خویش را
تُو دانی حساب کم و بیش را
ہم نے اس الہام کی سچائی کو 51 سال تک آزمایا ہے اور خدا تعالیٰ سے یقین رکھتے ہیں کہ وہ دنیا کے آخر تک اس الہام کی سچائی کو ظاہر کرتا رہے گا۔ اُس کا کلام ہمیشہ سچا ہی ثابت ہوتا رہے گا۔ اصل عزت وہی ہے جو مرنے کے بعد انسان کو ملے گی۔ لیکن پھر بھی اس دنیا میں نیکی کا بیج قائم رکھنے سے انسان دعاؤں کا مستحق بن جاتا ہے اور اپنے پرائے اس کی بلندی کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ یہ خوبی کا مقام بھلایا نہیں جاسکتا۔ اور میں اپنے خاندان کے مردوں عورتوں کے لئے خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو یہ مقام ہمیشہ عطار کھے۔ اور اسی طرح میرے بھائیوں اور بہنوں کی اولاد کو بھی۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی پیدا نہیں ہوا نہ آگے پیدا ہو گا۔ آپ کو خدا تعالیٰ نے اس دنیا میں اور اگلے جہان میں بھی سردار مقرر کیا ہے۔ خدا کرے آپؐ کی یہ سرداری تا ابد قائم رہے۔ اور ہم قیامت کے دن درود پڑھتے ہوئے آپؐ کے نشان والا جھنڈا لے کر آپؐ کے سامنے حاضر ہوں۔ اور اپنے خدا سے بھی کہیں کہ اے خدا! تُو نے جس انسان کی عزت کو اپنی عزت قرار دیا تھا ہم اس کی عزت قائم کر کے آئے ہیں۔ ہم پر بھی رحم کر اور اپنے فضلوں کا وارث بنا۔ اٰمِیْنَ ثُمَّ اٰمِیْنَ۔
میری نعش، میری اماں جان کی نعش اور میری بیویوں کی نعشوں کو قادیان پہنچانا تمہارا فرض ہے۔ میں نے ہمیشہ تمہاری خیر خواہی کی تم بھی میری خواہش پوری کرنا۔ اللہ تعالیٰ تمہارا حافظ و ناصر ہو اور تمہیں عزت بخشے۔
میں ساری جماعت احمدیہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی زندگیوں کو خدا اور رسولؐ کے لئے وقف کریں اور قیامت تک اسلام کے جھنڈے کو دنیا کے ہر مُلک میں اونچا رکھیں۔ خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہو، ان کی مدد کرے اور اپنی بشارتوں سے ان کو نوازے۔ میں امید کرتا ہوں کہ یورپ کے نئے احمدی اپنی جان اور مال سے ایشیا کے پُرانے احمدیوں کی مدد کریں گے اور تبلیغ کے فریضہ کو ادا کرتے رہیں گے یہاں تک کہ اسلام ساری دنیا پر غالب آجائے۔ اگر لینن کے متبعین نے چند سال میں ساری دنیا پر اپنا سکّہ جما لیا تھا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین یہ کام کیوں نہیں کر سکتے۔ صرف عزم اور ارادہ کی پختگی کی ضرورت ہے۔ خدا تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہو۔ وہ کبھی ظلم نہ کریں اور ہمیشہ خدا تعالیٰ کے بندوں کے سامنے عجز و انکسار کے ساتھ سر جھکائیں تاکہ خدا تعالیٰ اور اس کے بندوں کی مدد ان کو ملتی رہے اور اسلام کا سر ہمیشہ اونچا رہے اور قیامت کے دن خدا کا آخری نبیؐ بلکہ خدائے واحد خود نہایت شوق سے اپنے ہاتھ پھیلا کر ان کی ملاقات کے لئے آگے بڑھے۔ اور وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے خدا تعالیٰ کی برکات کے وارث ہوں۔ میں احمدیت اور اس کے آثار کو بھی خدا کے سپرد کرتا ہوں۔ وہی ان کا بھی محافظ ہو اور ان کی عزت کو قیامت تک قائم رکھے۔ اٰمِیْنَ ثُمَّ اٰمِیْنَ
اے دوستو! میری آخری نصیحت یہ ہے کہ سب برکتیں خلافت میں ہیں۔ نبوت ایک بیج بوتی ہے جس کے بعد خلافت اُس کی تاثیر کو دنیا میں پھیلا دیتی ہے۔ تم خلافتِ حقّہ کو مضبوطی سے پکڑو اور اس کی برکات سے دنیا کو متمتع کرو تا خدا تعالیٰ تم پر رحم کرے اور تم کو اس دنیا میں بھی اونچا کرے اور اُس جہان میں بھی اونچا کرے۔ تامرگ اپنے وعدوں کو پورا کرتے رہو اور میری اولاد اور حضرت مسیح موعودؑ کی اولاد کو بھی اُن کے خاندان کے عہد یاد دلاتے رہو۔ احمدیت کے مبلغ اسلام کے سچے سپاہی ثابت ہوں اور اس دنیا میں خدائے قدوس کے کارندے بنیں۔
کیا ہمارا خدا اتنی طاقت بھی نہیں رکھتا جتنا کہ حضرت مسیح ناصریؑ رکھتے تھے؟ مسیح ناصریؑ تو ایک نبی تھے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام نبیوں کے سردار تھے۔ خدا تعالیٰ ان کی سرداری کو دونوں جہان میں قائم رکھے اور ان کے ماننے والوں کا جھنڈا کبھی نیچا نہ ہو اور وہ اور ان کے دوست ہمیشہ سر بلند رہیں۔ اٰمِیْنَ ثُمَّ اٰمِیْنَ میں یہی نصیحتیں پاکستان سے باہر کے احمدیوں کو بھی کرتا ہوں۔ وہ بھی خدا تعالیٰ کے ایسے ہی محبوب ہیں جیسے پاکستان میں رہنے والے احمدی۔ اور جب تک وہ اسلام کو اپنا مطمح نظر قرار دیں گے خدا تعالیٰ ان کو بھی اور اسلام کو بھی دنیا میں بلند کرتا چلا جائے گا اِنْ شَاءَ اللّٰہُ۔ خدا کرے احمدیوں کے ذریعہ سے کبھی دنیا میں ظلم کی بنیاد قائم نہ ہو۔ بلکہ عدل، انصاف اور رحم کی بنیاد قائم ہوتی چلی جائے۔ اور ہمیشہ خدا تعالیٰ کے فرشتے ان کے دائیں بھی کھڑے ہوں اور بائیں بھی کھڑے ہوں اور کوئی شخص ان کی طرف نیزہ نہ پھینکے جسے خدا تعالیٰ کے فرشتے آگے بڑھ کر اپنی چھاتی پر نہ لے لیں۔ اٰمِیْنَ ثُمَّ اٰمِیْنَ آدم اوّل کی اولاد کے ذریعہ سے بالآخر دنیا میں بڑا ظلم قائم ہوا اب خدا کرے آدم ثانی یعنی مسیح موعودؑ کی اولاد کے ذریعہ سے یہ ظلم ہمیشہ کے لئے مٹا دیا جائے۔ اور سانپ یعنی ابلیس کا سر کچل دیا جائے اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت اسی طرح دنیا میں بھی قائم ہو جائے جس طرح آسمان پر ہے۔ اور کوئی انسان دوسرے انسان کو نہ کھائے اور کوئی طاقت ور انسان کمزور انسان پر ظلم اور تعدّی نہ کرے۔ اٰمِیْنَ ثُمَّ اٰمِیْنَ
مرزا محمود احمد 17 مئی 1959ء (الفضل 20 مئی 1959ء)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق انسان کو ہمیشہ کے لئے قائم رکھتا ہے۔ مسیح موسوئی کو گزرے ہوئے 1900 سال ہو چکے مگر اللہ تعالیٰ نے اُن کو وہ طاقت بخشی کہ آج تک کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ دہریہ یورپ بھی مجبور ہے کہ ان کا نام عزت سے لے ورنہ وہ ڈرتا ہے کہ اس کی طاقت ٹوٹ جائے گی اور باوجود دہریت کے غلبہ کے وہ مجبور ہے کہ مسیحؑ کا نام ادب سے لے۔ پس میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خدا تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا کریں اور مسیح محمدی سے مضبوط رشتہ قائم کریں اور نیکی کو اپنا شعار بنائیں تب قیامت تک اللہ تعالیٰ ان کو غلبہ بخشے گا اور قیامت تک کوئی طاقت ان کو ہلا نہیں سکے گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے ’’جے تُوں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو‘‘8 پس ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم رکھو خدا تعالیٰ تمہیں دین اور دنیا میں غلبہ بخشے گا اور کوئی طاغوتی طاقت تمہیں شکست نہیں دے سکے گی۔ اور دلوں میں اتحاد پیدا کرو اور ساری دنیا کے احمدیوں اور مسلمانوں کو ایک نقطہ پر جمع رکھو۔ اسلام کے اتحاد سے ہی خدا تعالیٰ کی شان ظاہر ہوگی اور اسلام کے اتحاد سے ہی خدا کی حکومت دنیا میں قائم ہوگی۔ خدا کرے حضرت مسیح موعودؑ کی نسل ہمیشہ ہمیش کے لئے خدا کی حکومت کو دنیا میں قائم رکھے اور طاغوتی حکومتوں کو ہمیشہ کے لئے کچل ڈالے۔ اٰمِیْنَ اللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ مسیح موعودؑ اللہ تعالیٰ کا آخری نشان ہے۔ اگر شیطان اس کے ہاتھ سے مارا گیا تو پھر شیطان کبھی سر نہیں اٹھائے گا کیونکہ شیطان کا سر کچلے جانے پر اور کوئی چیز نہیں جو دنیا میں شیطان کو قائم رکھے۔ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ میں یہ برکت حضرت مسیح موعودؑ کو بخشی
ہے کہ ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی بادشاہت اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی قائم ہو۔
میں وصیت کرتا ہوں کہ احمدی جماعت ہمیشہ شیطان کا سر کچلنے کے لئے مستعد رہے اور دنیا کے چاروں کونوں تک اسلام کو پھیلائے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہو۔ ان کے کام میں برکت دے اور ان کی نیتوں کو صاف رکھے۔ اور وہ کسی پر ظلم کرنے والے نہ بنیں بلکہ ہمیشہ عدل اور رحم اور انصاف کو قائم رکھیں اور ان کا یہ طریق عیسائیوں کے طریق کی طرح زبانی نہ ہو بلکہ حقیقی ہو۔ وہ عیسائیوں کی طرح آپس میں اس طرح نہ لڑیں جیسے دو جانور لڑتے ہیں بلکہ دنیا میں اسلامی اتحاد کو اور آسمان پر خدا کی توحید کو قائم رکھیں۔ آدم اول کے بعد دنیا نے بڑے گناہ کئے خدا کرے آدمِ ثانی یعنی مسیح موعودؑ کے ذریعہ سے ایسی دنیا قائم ہو جو قیامت تک خدا تعالیٰ کے نام کو روشن رکھے۔
مرزا محمود احمد ”19-5-1959ء“ (الفضل 21؍مئی 1959ء)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ برادران! اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُهٗ اب تحریک جدید کے نئے سال کا وقت آ گیا ہے ہماری جماعت کا چندہ پہلے سے ہزاروں گنا بڑھ جانا چاہئے اور اگر آپ ہمت کریں اور تبلیغ کریں تو یقیناً بڑھ جائے گا۔ اگر پہلے ایک لاکھ ہوتا تھا تو اب ایک کروڑ ہونا چاہئے ۔ پس میں تحریک کرتا ہوں کہ آپ آئندہ سال تحریک کے لئے اپنے وعدے لکھوائیں اور اپنے شہروں میں جا کر تمام احمدیوں سے لکھوائیں تاکہ تحریک جدید کا چندہ نہ صرف کروڑ بلکہ کروڑوں ہو جائے۔ خدا تعالیٰ آپ کے مالوں میں برکت دے گا اور جماعت کو بھی بڑھائے گا کیونکہ روپیہ بھی خدا تعالیٰ کے پاس ہے اور طاقتیں بھی خدا تعالیٰ کے پاس ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوۡلُ بَیۡنَ الۡمَرۡءِ وَقَلۡبِہٖ(9)۔ یعنی وہ انسان کے خیال سے بھی زیادہ قریب ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ خیال انسان کے کتنا قریب ہے مگر خدا تعالیٰ اس سے بھی زیادہ قریب ہے۔ پس خدا تعالیٰ سے دعائیں بھی کیجئے کہ خدا ساری دنیا کے دلوں کو احمدیت کی طرف پھیر دے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’پھیر دے میری طرف اے ساربانِ جگ کی مہار‘‘10
عیسائیت کو 1959 سال ہو گئے مسیح محمدی کا زمانہ اس سے بڑا ہو گا۔ آپ کی جماعت میں اِنْشَاءَ اللّٰہ کئی گنا زیادہ آدمی ہوگا اور اللہ تعالیٰ آپ کو اُس وقت تک زندگی دے گا جب تک احمدیت دنیا کے چپہ چپہ پر پھیل چکی ہو گی اور دنیا کے تمام اموال احمدیت پر قربان ہو رہے ہوں گے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ دعا ہزاروں گنا زیادہ شان و شوکت سے پوری ہوگی کہ
پھیر دے میری طرف اے سارباں جگ کی مُہار
پس اپنے چندوں کو بڑھاؤ اور خدا کی رحمت کو کھینچو کیونکہ جتنا تم چندہ دو گے اُس سے ہزاروں گنے زیادہ تمہیں ملے گا۔ اور دنیا کی ساری دولت کھینچ کر تمہارے قدموں میں ڈال دی جائے گی۔ جس کے متعلق تمہارا فرض ہو گا کہ سلسلہ احمدیہ کے لئے خرچ کرو۔ تاکہ دنیا کے چپہ چپہ پر مبلغ بھیجے جاسکیں۔ اور ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے اور دنیا کی ساری حکومتیں اسلام میں داخل ہو جائیں۔ آپ کو یہ بات بڑی معلوم ہوتی ہوگی مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑی نہیں۔ پس میں اس اعلان کے ذریعہ تحریک جدید کے نئے سال کا آغاز کرتا ہوں۔
مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی 1959-11-1ء (الفضل 3 نومبر 1959ء)
خدا تعالیٰ پر توکل سب سے اہم چیز ہے۔ جو کچھ خدا کر سکتا ہے بندہ نہیں کر سکتا۔ خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہو کہ وہ ایسا راستہ کھولے جس سے آپ کی اور جماعت کی تکلیفیں دور ہوں۔ اس میں سب طاقتیں ہیں۔ جہاں بندہ کی عقل نہیں پہنچتی اُس کا علم پہنچتا ہے۔ خواہ ایک ٹکڑا ہو صدقہ بہت دیا کرو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جہاں دعائیں نہیں پہنچتی صدقہ بلاؤں کو رد کر دیتا ہے۔ صدقہ کا لفظ بھی بتاتا ہے کہ تعلق باللہ سچا ہے۔ پس تعلق باللہ کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ جو کام آپ نہیں کر سکتے وہ خدا کر دے۔
رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِیْنَ۔ رَبِّ كُلُّ شَیْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِیْ۔
کثرت سے پڑھا کریں۔
رَبِّ اِنَّكَ تَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ وَاَنْتَ اَعْلَمُ مِنِّیْ مِنْ خَفَاءِ نَقَائِصِیْ فَأَنْزِلْ عَلَیَّ فَضْلَكَ وَ رَحْمَتَكَ وَاَزِلْ عَنْ طَرِیْقَتِیْ كُلَّ عَوَائِقَ لَا تَقْرِنِیْ بَعْدِیْ وَ اَنْتَ اَعْلَمُ مِنِّیْ مِنْ حَالِیْ۔“
مرزا محمود احمد 13؍دسمبر 1959ء“ (تاریخ احمدیت جلد 20 صفحہ 402، 403 ناشر نظارت اشاعت ربوہ)
’’بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِیْمِ وَعَلٰی عَبْدِهِ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھُوَ النَّاصِرُ
اے برادرانِ اسلام!
اَلسَّلَامُ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَكَاتُهُ
آج 1959ء یعنی بیسویں صدی آدھی سے زیادہ گزر گئی ہے۔ اسلامی صدی اس سے بھی زیادہ گزر گئی ہے مگر آپ کو ابھی تک انتظار ہے کہ مسیح آئے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ خدا تعالیٰ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد بھیجے گا۱۱۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہر حال صادق و مصدوق ہیں اور آپ کی طرف کوئی جھوٹ کسی صورت میں منسوب نہیں ہوسکتا۔ پس میں خدا تعالیٰ کی ہر بات پر ایمان لاتے ہوئے کہتا ہوں کہ آپ لوگ خدا تعالیٰ کی بات مان لیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لے آئیں۔ اسی میں آپ کا بھلا، اسی میں آپ کے لئے برکت ہے۔ خدا تعالیٰ نے اپنے عمل اور اپنی بشارت سے بتا دیا ہے کہ احمدیت کی برکت سے اسلام یورپ میں پھیل رہا ہے۔ پس اب بھی وقت ہے کہ مان لیں اور خدا کے قُرب کا موقع ضائع نہ کریں۔ مرنے کے بعد ایمان فائدہ نہ دے گا۔ پس دوڑیں اور خدا تعالیٰ کی رسیّ کو پکڑ لیں اور اپنا دونوں جہانوں میں بھلا کریں۔
خدا تعالیٰ آپ کو توفیق دے کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اُمّت بنیں اور آپؐ کے اقوال کی پیروی کریں ورنہ خدا تعالیٰ غنی ہے اُسے بندوں کی پرواہ نہیں۔ محتاج انسان ہے وہ محتاج نہیں۔ پس دوڑیں اور خدا کے بھیجے ہوئے مامور پر ایمان لائیں۔ یاد رکھیں آپ کی بھلائی اِسی میں ہے۔ اگر آپ ایمان نہ لائیں گے تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ خدا زمین کے ہر ذرّے سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو اسلام کا بول بالا کریں گے۔ اپنی عمر ضائع نہ کریں۔ آپؐ کا دین کی بات کو نہ ماننا اور مسیح موعود علیہ السلام کو نہ ماننا آپ کے اپنے لئے نقصان دہ ہے۔ دن تھوڑے رہ گئے ہیں جلد سے جلد ایمان لا کر اپنا بھلا کریں۔ خدا تعالیٰ آپ کو ایمان عطا فرمائے اور دین و دنیا میں ایمان بخشے۔ میں بوڑھا اور بیمار ہوں مگر آپ کے لئے دعاؤں میں مشغول ہوں۔ آپ میرے ماں کی طرف سے اور باپ کی طرف سے کوئی رشتہ دار نہیں مگر مجھے آپ سے ایسی محبت ہے جیسی اپنے عزیزوں سے۔ میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں خدا تعالیٰ آپ کو دین و دنیا میں نوازے اور ایمان عطا فرمائے۔ اگر آپ ایمان لے آئے تو آپ کا مقام ثُریّا سے بلند ہوگا۔
مجھے یقین ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان کا راستہ جلد کھل جائے گا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مرکز ہے۔ وہ لوگ جو ایمان اُس وقت تک لا چکے ہوں گے اُن پر اُس کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں گی اور وہ جو بعد میں ایمان لانے کی کوشش کریں گے اُن کو یہ مقام حاصل نہیں ہوگا۔ امتحان لینا خدا کا کام ہے آپ کا کام نہیں۔ پس آپ خدا کا امتحان نہ لیں کہ یہ سخت محرومی کا رستہ ہے۔ شکر کریں تا کہ خدا تعالیٰ آپ کو کامیاب کر دے۔ میں دعا کرتا ہوں خدا تعالیٰ آپ کو جلد ایمان لانے کی توفیق دے۔ آپ کے رُکے رہنے سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت میں فرق نہیں پڑے گا بلکہ آپ کی اپنی ہی بد نصیبی ہوگی۔ خدا آپ کی مدد کرے۔ آپ کو ابتلاؤں اور ٹھوکروں سے بچائے اور میں اپنی زندگی میں دیکھ لوں کہ آپ کو ایمان عطا ہو گیا۔
خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ(3:32)۱۲ آپ منہ سے محبوبِ سُبحانی محبوبِ سُبحانی کرتے ہیں مگر تعجب ہے کہ ایک نہر آپ کے سامنے رواں دواں ہے اور آپ اس سے فائدہ نہیں اُٹھاتے ۔ آپ خود ہی اس سے فیض اٹھا کر محبوبِ سُبحانی بن سکتے ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر موسیٰؑ اور عیسیٰ عَلَيْهِمَا السلام زندہ ہوتے تو اُن کو بھی میری اتباع کے بغیر چارہ نہ تھا۱۳۔ اپنے آپ کو خواہ مخواہ حقیر نہ سمجھو۔ خدا تعالیٰ نے آپ کو بڑا بنایا ہے حقیر نہیں بنایا۔ جلد آؤ کہ میرا خدا آپ کا انتظار کر رہا ہے۔ آپ کے لئے زمین اور آسمان اپنے خزانے اُگلنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ آپ اگر اس سے فائدہ نہ اُٹھائیں گے تو اس میں آپ کی اپنی ہی محرومی ہے۔ خدا آپ کے ساتھ ہو۔ اٰمِیْنْ
والسلام خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ۔ ربوہ ’‘29-12-1959ء (رسالہ خالد فروری 1960ء)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھُوَ النَّاصِرُ برادرانِ جماعت! اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُہٗ
خدا تعالیٰ کے فضل سے وقفِ جدید کا تیسرا سال شروع ہو رہا ہے۔ پہلے بھی میں آپ لوگوں کو برابر تحریک کرتا رہا ہوں کہ وقفِ جدید کو مضبوط بنانا ضروری ہے لیکن اب تو کام کی وسعت کی وجہ سے اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ پس جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مالوں میں ترقی دی ہے وہاں آپ کو سلسلہ کی ترقی کے لئے بھی دل کھول کر چندہ دینا چاہئے تا اللہ تعالیٰ سارے پاکستان اور سارے ہندوستان میں اسلام اور احمدیت کو پھیلا دے۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو توفیق دے کہ آپ وقت کی آواز کو سنیں اور کانوں میں روئی نہ ڈالے رکھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں
آسماں بارد نشاں الوقت میگوید زمیں
ایں دو شاہد از پئے تصدیق من استادہ اند 14
خدا کرے کہ آپ آسمان کی آواز کو سنیں اور زمین کی آواز کو بھی سنیں تا کہ آپ کو سرفرازی حاصل ہو۔ یاد رکھو جو شخص وقت پر خدا کی آواز کو نہیں سنتا وہ بد بخت ہوتا ہے۔ وہ دن آگئے ہیں کہ جب ساری دنیا احمدیت کے ذریعہ اسلام میں داخل ہوگی۔ اگر اس میں آپ کا حصہ نہیں ہوگا تو کتنی بدبختی ہوگی۔
تبلیغ کرنا ہر احمدی کا فرض ہے نہ معلوم آپ اس میں کتنا حصہ لیتے ہیں لیکن اِس زمانہ میں تبلیغ کا بڑا ذریعہ اشاعتِ دین کے لئے چندہ دینا ہے اس لئے آپ لوگوں کا فرض ہے کہ وقف جدید کے چندہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی کو ظلم کرتا دیکھے تو اُس کو ہاتھ سے روک دے۔ لیکن اگر وہ یہ طاقت نہیں رکھتا تو ظلم کو دل سے بُرا سمجھے 15۔ اس لئے کم از کم آپ کے دل میں تو یہ خواہش پیدا ہونی چاہئے کہ آپ اسلام کے لئے قربانی کریں۔ جب آپ دل میں خواہش کریں گے تو آپ کو خدا کے فضل سے عمل کی توفیق بھی مل جائے گی۔
میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو سچا ایمان بخشے اور آپ کو بڑھ چڑھ کر قربانیوں کی توفیق عطا کرے تا ہم میں سے بوڑھے سے بوڑھا شخص بھی اسلام اور احمدیت کی ترقی کو دیکھ سکے۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ۔“ (الفضل 31؍دسمبر 1959ء)
”تبلیغ پر زور دیں۔ بہت مدت سے وہاں تبلیغ جاری ہے اور اِس وقت تک سارا ملک احمدی ہو جانا چاہئے تھا۔ آپ کا علاقہ اسلام کے پھیلنے کے لئے بہت مفید ہے۔ آپ کو تبلیغ کی طرف بہت توجہ کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنا فرض ادا کرنے کی توفیق دے اور آپ کی زبان میں اثر پیدا کرے۔ اٰمِیْن“ (الفضل 16؍ستمبر 1960ء)
’’ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھُوَ النَّاصِرُ ممبرات لجنہ اماء اللہ! اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُهُ
ہمیں قادیان سے آئے ہوئے 13 سال ہو چکے ہیں اور اب وہاں جانے کے دن قریب معلوم ہوتے ہیں۔ تمہیں بھی چاہیے کہ اپنے اخلاص اور قوتِ عمل کو بڑھاؤ تا کہ جب بھی
قادیان میں تمہارا جانا مقدر ہے وہ با برکت ثابت ہو۔ قادیان ہمارا اصل مرکز ہے اور وہی برکت پائے گا جو قادیان سے روحانی رنگ میں اتصال رکھے گا۔
عیسائیوں کو انیس سو سال گزر چکے ہیں مگر اب تک وہ ہمت کر رہے ہیں اور ساری دنیا پر چھائے ہوئے ہیں۔ تم کو تو انیس ہزار سال تک دنیا پر روحانی رنگ میں قبضہ رکھنا چاہیے کیونکہ مسیحِ محمدی اپنی ساری شان میں مسیحِ ناصری سے بڑھ کر ہے۔ خدا تعالیٰ تم کو توفیق دے اور تمہاری ہمتوں میں برکت دے اور تم ہمیشہ خدا تعالیٰ کے قرب میں جگہ پاؤ۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ لَوْ كَانَ مُوْسٰی وَ عِيْسٰی حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا اِلَّا اتِّبَاعِیْ۱۶۔ یعنی اگر موسیٰ اور عیسیٰ بھی زندہ ہوتے تو اُن کیلئے میری اتباع کے بغیر کوئی چارہ نہ ہوتا۔ پس تمہارا آقا تو عیسیٰ اور موسیٰ سے بھی بڑھ کر ہے۔ تمہیں چاہئے کہ جب تم قادیان جاؤ تو اُس وقت تک کروڑوں احمدی ہو چکا ہو۔ اور اپنی نسلوں کو سکھاؤ کہ وہ احمدیت کو بڑھائیں اور ترقی دیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ماؤں کے قدموں کے نیچے جنت ہوتی ہے ۱۷۔ اس کے یہی معنے ہیں کہ ماں اگر چاہے تو اپنے بچوں کو جنتی بنا سکتی ہے۔ سو اے احمدی عورتو! اپنی اولاد کو جنتی بنانے کی کوشش کرو اور ان کو یہ تعلیم دو کہ احمدیت کو دنیا میں پُر امن طریق پر پھیلا کر دم لیں۔ صرف پنجاب میں نہیں بلکہ ساری دنیا میں۔
تمہیں قادیان سے آئے ہوئے تیرہ سال ہو رہے ہیں چاہئے تھا کہ اس تیرہ سال کے عرصہ میں تم جماعت کو کئی گنا بڑھا دیتیں ۔ بیشک عورت مردوں کی طرح کام نہیں کر سکتی مگر اپنے خاوندوں اور بیٹوں کو ترغیب دے سکتی ہے۔ عیسائی عورتیں اپنی زندگی وقف کر کر کے ساری عمر دین کا کام کرتی ہیں تم کو بہر حال عیسائیوں سے بڑھ کر نمونہ دکھانا چاہئے اور قیامت تک اسلام اور احمدیت کے جھنڈے کو بلند رکھنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو اور وہ تمہیں اپنے فرائض کو صحیح رنگ میں ادا کرنے کی توفیق بخشے۔ تمہیں احمدیت کا سچا خادم بنائے اور تمہیں اپنی برکات سے ہمیشہ بہرہ ور فرماتا رہے۔‘
(مصباح دسمبر 1960ء صفحہ 2 ، 3)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھُوَ النَّاصِرُ برادران جماعت احمدیہ! اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ مجھ سے خواہش کی گئی ہے کہ میں تحریک جدید کے نئے مالی سال کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے دوستوں کو اس تحریک میں زیادہ سے زیادہ جوش اور اخلاص کے ساتھ حصہ لینے اور اپنے وعدوں کو پچھلے سالوں سے بڑھا کر پیش کرنے کی طرف توجہ دلاؤں۔ تحریک جدید کوئی نئی یا عارضی چیز نہیں بلکہ قیامت تک قائم رہنے والی چیز ہے۔ اس لئے مجھے ہر سال اس کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن چونکہ مجھے کہا گیا ہے کہ میں اس بارہ میں اعلان کروں اس لئے میں تحریک جدید کے نئے مالی سال کے آغاز کا اعلان کرتا ہوں اور دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اور زیادہ سے زیادہ مالی قربانی کا نمونہ دکھائیں تاکہ تبلیغ کا کام قیامت تک جاری رہے۔ یہ امر یاد رکھو کہ ہماری جماعت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت ہے۔ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام قیامت تک جاری رہے گا۔ پس ہمیں بھی سمجھ لینا چاہئے کہ ہمارے سپرد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشاعتِ اسلام کا جو کام کیا گیا ہے وہ قیامت تک جاری رہنے والا ہے۔ اور ہمیں قیامت تک آپ کے جھنڈے کو بلند رکھنے کے لئے ہر قسم کی قربانیوں سے کام لینا پڑے گا۔ بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قیامت اشرارُ الناس پر آئے گی لیکن لوگ نیکی پر قائم رہیں تو خدا تعالیٰ اس کو بدل بھی سکتا ہے اور بالکل ممکن ہے کہ قیامت
اَشْرَارُ النَّاسِ پر نہیں بلکہ اَخْیَارُ النَّاسِ پر آئے ۔ یہ تو امت کے اختیار میں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایسا اچھا بنائے کہ خدا تعالیٰ اپنی تقدیر کو بدل دے اور قیامت آنے کے وقت بھی دنیا میں اچھے لوگ ہی ہوں بُرے نہ ہوں ۔ اور چونکہ اِس زمانہ میں دنیا کی ہدایت کے لئے خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو کھڑا کیا ہے اور ہماری جماعت نے قیامت تک اسلام اور احمدیت کو پھیلاتے چلے جانا ہے اس لئے ہماری خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا فضل کرے کہ قیامت اچھے لوگوں پر ہی آئے اور ہماری جماعت کے افراد کبھی بگڑیں نہیں بلکہ ہمیشہ نیکی اور تقویٰ پر قائم رہیں ۔ سلسلہ سے پورے اخلاص کے ساتھ وابستہ رہیں ۔ اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کرتے رہیں ۔ اور اپنے نیک نمونہ سے دوسروں کی ہدایت کا موجب بنیں ۔ مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ لوگ بھی اپنا اچھا نمونہ دکھائیں اور دوسروں کو بھی اپنے عملی نمونہ اور جدوجہد سے نیک بنانے کی کوشش کریں تا کہ قیامت اَشْرَارُ النَّاسِ پر نہیں بلکہ اَخْیَارُ النَّاسِ پر آئے اور ہمیشہ آپ لوگ دین کی خدمت میں لگے رہیں ۔ جو خدا تقدیریں بناتا ہے وہ اپنی تقدیروں کو بدل بھی سکتا ہے ۔ اگر آپ لوگ اپنے اندر ہمیشہ نیکی کی روح قائم رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے فعل کے ساتھ اپنی تقدیر کو بھی بدل دے گا۔ اور قیامت تک نیک لوگ دنیا میں قائم رہیں گے جو خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرتے رہیں گے۔
پس کوشش کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو قیامت تک لئے چلا جائے اور اخیار کی صورت میں لے جائے نہ کہ اشرار کی صورت میں ۔ اور ہر سال جو ہماری جماعت پر آئے وہ زیادہ سے زیادہ نیک لوگوں کی تعداد ہمارے اندر پیدا کرے اور ہماری قربانیوں کے معیار کو اور بھی اونچا کر دے ۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو اور وہ آپ کو اس تحریک میں پورے جوش اور اخلاص کے ساتھ حصہ لینے کی توفیق بخشے اور ہمیشہ آپ کو خدمتِ دین کی توفیق عطا فرماتا رہے ۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنْ “ (الفضل یکم نومبر 1960ء)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ‘خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ برادرانِ بھارت! اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهٗ ہمیں قادیان سے گئے ہوئے تیرہ سال ہو گئے ہیں اور تیرہ سال کا عرصہ کوئی معمولی عرصہ نہیں ہوتا۔ یہ زمانہ اپنی صعوبتوں اور مشکلات کے لحاظ سے ایک بڑا لمبا اور پُر فتن دور تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو اس امر کی توفیق عطا فرمائی کہ آپ نے ہر قسم کی مشکلات کے باوجود اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھا اور حضرت مسیح موعودؑ کے لائے ہوئے پیغام کو لوگوں کے کانوں تک پہنچایا۔ مجھے امید ہے اللہ تعالیٰ آئندہ بھی آپ لوگوں کیلئے ہمیشہ خیر و برکت کے سامان پیدا کرتا چلا جائے گا اور وہ مشکلات جو ابھی پائی جاتی ہیں ان کو بھی دور فرما دے گا۔
یہ امر یاد رکھو کہ قادیان ہمارا مرکز اور خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے اور مرکز میں رہنے والوں اور مقدس مقامات کی زیارت کی غرض سے باہر سے آنے والوں پر بڑی بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اسلام کا عملی نمونہ بنیں اور اپنی عبادتوں اور دعاؤں اور بلند اخلاق کے ذریعہ دوسروں کیلئے بھی ہدایت اور رہنمائی کا موجب بنیں اور کوئی ایسی حرکت نہ کریں جو کسی کمزور انسان کیلئے ٹھوکر کا موجب ہو۔ پس اپنی ان تمام ذمہ داریوں کو احسن طریق پر ادا کرو جو خدا اور اس کے رسول کی طرف سے تم پر عائد ہیں۔ اور حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئیوں کے پورا ہونے پر یقین رکھو۔ یہودی قوم اسلام کی شدید دشمن ہے مگر میں اُسے داد دیتا ہوں کہ اس نے 2300 سال صبر کیا اور آخر اپنا مقدس مرکز پا لیا۔ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے افراد کو بھی اس امر کی توفیق عطا فرمائے
کہ وہ دعاؤں سے کبھی غافل نہ ہوں اور ہمیشہ اپنے روحانی مرکز میں روحانی اور علمی برکات کیلئے جمع ہوتے رہیں۔ ہمارا خدا قادرِ مطلق خدا ہے اور وہ جو چاہے کر سکتا ہے اور ہم اس سے خیر و برکت کی امید رکھتے ہیں۔ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کی امت اور حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت ہیں۔ ہمارا حق یہودیوں سے بہت زیادہ ہے بشرطیکہ ہم استقلال دکھائیں اور اپنے نیک اخلاق سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو کھینچنے والے بنیں۔ سو دعائیں کرو اور پھر دعائیں کرو اور پھر دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ قادیان کے دروازے تمام احمدیوں کیلئے کھول دے اور جو روکیں پائی جاتی ہیں ان کو دور فرما دے اور ہماری عمروں کو اتنا بڑھا دے کہ ہم اپنی زندگی میں قادیان میں آباد ہو جائیں۔ اور نہ صرف قادیان کے در و دیوار کو دیکھیں بلکہ وہاں کے انوار اور برکات سے بھی فائدہ اٹھائیں اور ساری جماعت کے دلوں کو ٹھنڈک پہنچے۔ مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ساری جماعت دعاؤں میں لگ جائے اور خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچ لائے۔ وہ جو چاہے کر سکتا ہے اس کے راستہ میں کوئی چیز روک نہیں بن سکتی۔ جو روک بنے گا خود اپنا نقصان کرے گا۔ سو دعائیں کرو اور پھر دعائیں کرو اور پھر دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ ہم کو پھر اکٹھا کر دے اور اپنے فضل سے ہماری جھولی بھر دے۔ وہ احکم الحاکمین بھی ہے اور ارحم الراحمین بھی ہے۔ اس کے رحم کی کوئی انتہاء نہیں اور نہ اس کی طاقت کی کوئی انتہا ہے۔ صرف انسان کی اپنی غلطی ہوتی ہے کہ وہ اُس سے منہ موڑ لیتا اور اُس کے فضل سے ناامید ہو جاتا ہے۔
احادیث میں آتا ہے کہ ایک جنگ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ ایک عورت جس کا بچہ کھویا گیا تھا دیوانہ وار اِدھر اُدھر پھر رہی ہے۔ وہ ایک ایک بچہ کو اٹھاتی اور سینہ سے لگاتی اور پیار کرتی اور پھر اسے چھوڑ کر اپنے بچے کی تلاش میں دوڑ پڑتی۔ وہ اسی حالت میں تھی کہ اسے اپنا بچہ مل گیا اور وہ نہایت اطمینان اور آرام کے ساتھ اس کو لے کر بیٹھ گئی۔ رسول کریم ﷺ نے صحابہؓ کو مخاطب کیا اور فرمایا کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر اس عورت سے یہ کہا جائے کہ اپنے بچہ کو آگ میں ڈال دے تو یہ عورت اسے آگ میں ڈالنے کیلئے تیار ہو جائے گی؟ صحابہؓ نے عرض کیا کہ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ آپؐ نے
فرمایا تم نے اس عورت کی محبت کا جو نظارہ دیکھا ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے اس سے بھی زیادہ محبت رکھتا ہے اور جب اس کا کوئی کھویا ہوا بندہ اسے واپس مل جاتا ہے تو اسے اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی اس عورت کو اپنے بچے کے ملنے سے ہوئی ہے۱۹۔ پس اُس ارحم الراحمین خدا پر امید رکھو۔ وہ عمریں بھی بڑھا سکتا ہے اور زمانہ کی طنابیں بھی کھینچ سکتا ہے۔ وہ اپنی قدرت اور رحمت سے ہمیں قادیان میں بسا سکتا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ خدا تعالیٰ قادیان کو ہمیشہ اس شعر کا مصداق رکھے اور جلد ہی وہ وقت لائے کہ ہم سب کے سب کہہ اٹھیں
زمینِ قادیاں اب محترم ہے
ہجومِ خلق سے ارضِ حرم ہے
وہ خدا جس نے یہودیاں پر رحم کیا اور انہیں فلسطین میں لا کر بسا دیا وہ ہم پر بھی رحم کرسکتا ہے۔ ہم غریب اور کمزور ہیں۔ ہم 2300 سال تک صبر نہیں کر سکتے۔ ہمارے لئے 13، 14 سال بھی بہت ہیں اس کے بعد امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس تفرقہ کو مٹادے گا اور دونوں ملکوں کو صلح اور محبت اور پیار کے ساتھ رہنے کی توفیق بخشے گا۔ ہماری تو خواہش ہے کہ خدا تعالیٰ قادیان کو اتنا بڑھائے کہ وہ بیاس تک پھیل جائے اور ہماری عارضی جدائی دور ہو جائے اور ہمارا چہرہ خوشی سے پُر نور ہو جائے۔ ابھی قادیان نے بہت ترقی کرنی ہے مگر اس کیلئے خدا ہی سامان کرسکتا ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ اس لئے آؤ ہم خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرے اور ہمیں اسلام اور احمدیت کے پھیلانے کیلئے آخر دم تک جدوجہد کرنے کی توفیق بخشے۔ وہ احکم الحاکمین بھی ہے اور ارحم الراحمین بھی ہے۔ اس سے بعید نہیں کہ وہ ہماری تمام مشکلات کا خاتمہ کر دے۔ ایک غزوہ میں صحابہؓ کے اونٹ بدک گئی تھے تو رسول کریم ﷺ نے صحابہؓ سے فرمایا رِفْقًا بِالْقَوَارِيْرِ۔۲۰ یعنی شیشوں کا بھی خیال رکھو اور عورتوں کی طرف توجہ کرو تاکہ انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ مگر ہم تو اس وقت عورتوں سے بھی کمزور تر ہیں۔ اگر صحابہؓ سے یہ کہا گیا تھا کہ عورتوں کا خیال رکھیں تو خدا تعالیٰ سے یہ کیوں عرض نہیں کیا جاسکتا کہ وہ عورتوں سے بھی کمزور تر لوگوں کا خیال رکھے اور ان کا حقیقی اور دائمی مرکز ان کو پھر دلا دے اور سینکڑوں سال کے لئے ان کو وہاں بسا دے اور پُر امن اور روحانی ذرائع سے تمام دنیا کے احمدیوں کو وہاں کھینچ کھینچ کر لائے اور ایک لمبے عرصہ تک ان کو خوشیاں دکھائے۔ اُس کی طاقت میں سب کچھ ہے لیکن ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ایسا ہی کرے اور آپ لوگوں کو نیکی اور تقویٰ کے ساتھ اپنی تمام زندگی بسر کرنے کی توفیق بخشے۔ خدا تعالیٰ کا فضل جذب کرنے اور اس کی رحمت کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے ضرورت ہے کہ آپ لوگ نیکی پر ثبات اختیار کریں اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعاؤں اور گریہ وزاری سے کام لیں۔ خدا تعالیٰ ہر ایک کی سنتا ہے۔ بعض دفعہ چھوٹے بچوں کی دعا سنی جاتی ہے۔ بعض دفعہ عورتوں کی دعا سنی جاتی ہے اور بعض دفعہ مردوں کی دعا سنی جاتی ہے۔ نینوہ کے لوگوں پر جب عذاب آیا اور انہوں نے اس کے آثار دیکھے تو ان کے مرد اور عورتیں اور بچے سب میدان میں جمع ہوگئے اور انہوں نے بلبلا بلبلا کر دعائیں کرنی شروع کر دیں۔ مردوں نے ٹاٹ کے کپڑے پہن لیے اور عورتوں نے اپنے دودھ پیتے بچوں کو الگ پھینک دیا اور انہیں دودھ پلانا بند کردیا اور اس قدر دعائیں کیں کہ آخر اللہ تعالیٰ کا فضل جوش میں آگیا اور اس نے آنے والا عذاب ان سے دور کردیا۔ اگر قادیان کی عورتیں بھی اپنے بچے پھینک کر دعاؤں میں لگ جائیں اور مرد بھی دعاؤں اور گریہ وزاری سے کام لیں تو ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا فضل نازل فرما دے گا اور ہماری تمام مشکلات کو دور کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو اور وہ ہمیشہ آپ کو اسلام اور احمدیت کا جھنڈا بلند رکھنے کی توفیق بخشے۔ نیکی اور تقویٰ میں دوسروں کیلئے نمونہ بنائے اور احمدیت کا سچا اور مخلص خادم بننے کی توفیق عطا کرے۔ آمِیْن اَللّٰھُمَّ آمِیْن مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی ۱۹۶۰ء۔۱۱۔۲۳ء
(تاریخ احمدیت جلد 20 صفحہ 731 تا 734 ناشر نظارت اشاعت ربوہ)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ برادرانِ جماعت احمدیہ! اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ
وقفِ جدید کی تحریک پر تین سال گزر چکے ہیں اور اب نئے سال کے آغاز سے اس تحریک کا چوتھا سال شروع ہو رہا ہے۔ میں نے ابتداء میں ہی جماعت کے دوستوں کو نصیحت کی تھی کہ انہیں وقفِ جدید کا سالانہ بجٹ بارہ لاکھ تک پہنچانا چاہئے تا کہ اس کے ذریعہ کم سے کم ایک ہزار ایسے معلّم رکھے جاسکیں جو اسلام اور احمدیت کی تعلیم لوگوں تک پہنچائیں اور اُن غلط فہمیوں کو دُور کریں جو ہمارے متعلق ان کے دلوں میں پائی جاتی ہیں۔ مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک وقفِ جدید کا بجٹ ستر اسیّ ہزار کے اردگرد ہی چکر لگا رہا ہے اور اس میں سے بھی کچھ وعدے ایسے ہوتے ہیں جن کی وصولی میں دفتر کو مشکلات پیش آ جاتی ہیں۔ میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں اِس غفلت کا ازالہ کرنا چاہئے اور نہ صرف اپنے وعدوں کو پورا کرنا چاہئے بلکہ انہیں کوشش کرنی چاہئے کہ جماعتوں کی طرف سے نئے سال کے وعدے گزشتہ سال سے اضافہ کے ساتھ پیش ہوں کیونکہ جب تک وقفِ جدید کی مالی حالت مضبوط نہیں ہو گی ہم معلّمین کی تعداد بھی بڑھا نہیں سکتے۔ اس وقت صرف ساٹھ معلّم کام کر رہے ہیں لیکن صحیح طور پر کام چلانے کے لئے ہمیں کم سے کم ایک ہزار معلّمین کی ضرورت ہے اور ایسا تبھی ہوسکتا ہے جبکہ مالی لحاظ سے وقفِ جدید کو مضبوط بنایا جائے۔ پس دوست ہمت سے کام لیں اور وقفِ جدید کو ترقی دیں۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس تحریک میں کام کرنے والوں کے ذریعہ جماعت کی تعداد میں ہر سال ترقی ہو رہی ہے۔ اور اگر کام بڑھ جائے اور وقفِ جدید کی مالی حالت بہتر ہو جائے تو اس میں اَور بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ پس دوست اس تحریک کو کامیاب بنائیں اور نئے سال کے آغاز سے پہلے سے بھی زیادہ ہمت اور جوش کے ساتھ اس میں حصہ لیں۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو اور وہ آپ کو اپنے فرائض کے سمجھنے اور ان ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر عائد کی گئی ہیں۔
والسلام خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی ۱۹۶۰-۱۲-۲۷ء (الفضل یکم جنوری ۱۹۶۱ء)
"My message is the God may enable you to become Ansarullah in true sense of the term Khalifatul Masih Rabwah"
ترجمہ: میرا پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو صحیح معنوں میں انصاراللہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
خلیفۃ المسیح ربوہ (رسالہ انصاراللہ مارچ 1961ء)
’‘اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ ‘‘
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھُوَ النَّاصِرُ
برادرانِ جماعت!
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُهٗ
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت وصیت کا نظام قائم فرمایا تھا اور جماعت کے دوستوں کو ہدایت فرمائی تھی کہ وہ اشاعتِ اسلام کے لئے اپنے مالوں اور جائیدادوں کو اُس کی راہ میں پیش کریں تاکہ انہیں مرنے کے بعد جنتی زندگی حاصل ہو۔ اس تحریک میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اب تک ہزاروں لوگ حصہ لے چکے ہیں مگر ابھی ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی پائی جاتی ہے جنہوں نے وصیت نہیں کی اور یہ ایک افسوسناک امر ہے۔ میں اس پیغام کے ذریعہ تمام جماعتوں کے امراء اور پریزیڈنٹوں اور مربیانِ سلسلہ کو خاص طور پر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ غیر موصی اصحاب کو وصیت کرنے اور موصی اصحاب کو اپنی قربانیوں میں اور بھی اضافہ کرنے کی طرف بار بار توجہ دلاتے رہیں۔ اگر ہر وصیت کرنے والا کم از کم ایک نئے شخص سے ہی وصیت کروانے میں کامیاب ہو جائے تو ہمارے بجٹ میں ہزاروں لاکھوں روپیہ کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اور اگر امراء اور جماعتوں کے پریزیڈنٹ اور سلسلہ کے مربی بھی اس تحریک کی اہمیت کو سمجھیں تو چند دنوں میں ہی سلسلہ کی مالی حالت میں غیر معمولی ترقی ہو سکتی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ جو دوست ابھی موصی نہیں وہ وصیت کرنے اور موصی اصحاب دوسروں سے زیادہ سے زیادہ وصیتیں کروانے کی خاص طور پر کوشش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اپنے فرائض کے سمجھنے اور اس نظامِ وصیت میں شامل ہونے کی توفیق بخشے جو اعلائے کلمہ اسلام کے لئے جاری کیا گیا ہے۔
والسلام خاکسار مرزا محمود احمد ”5-3-1961ء“ (الفضل 6 مارچ 1961ء)
”برادرانِ ماریشس!
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُهُ
عید کا دن خوشی کا دن ہوتا ہے اور مسلمانوں کی خوشی اسی میں ہے کہ اسلام ترقی کرے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دنیا کے کناروں تک پھیلے۔ اس لئے میرا پیغام یہی ہے کہ اسلام اور احمدیت کے پھیلانے کی کوشش کرو تاکہ تمہیں حقیقی خوشی نصیب ہو اور عید کا دن یونہی نہ گزر جائے بلکہ حقیقی خوشی کے ساتھ گزرے۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کی مدد کرے اور اِس خوشی کے حاصل کرنے کا صحیح طریقہ آپ لوگوں کو سکھائے۔ ماریشس کا احمدیت سے بہت پرانا تعلق ہے۔ اِس ملک میں سب سے پہلے حافظ صوفی غلام محمد صاحب تبلیغ کے لئے گئے تھے اور اُن کے بعد اور کئی دوسرے مبلغ جاتے رہے۔ پس آپ لوگ کوشش کریں کہ آپ پر حقیقی عید کا دن آئے اور آپ اسلام اور احمدیت کو دنیا کے کناروں تک پھیلا دیں۔
خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی“ (الفضل 18 مارچ 1961ء)
ترجمہ: ”انڈونیشیا کی جماعت بڑی پرانی ہے اور مولوی رحمت علی صاحب کے زمانہ میں قائم ہوئی تھی۔ میں آپ لوگوں کو آپ کے اس لمبا عرصہ استقلال سے رہنے پر مبارکباد دیتا ہوں اور خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کی امداد کرے اور آپ کو تعداد میں بڑھائے۔“
دستخط حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (الفضل 3؍اکتوبر 1961ء صفحہ 4)
”جملہ افراد جماعتِ احمدیہ کو بار بار تبلیغ کی طرف توجہ دلاتے رہنے کی ضرورت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت جماعت کی تعداد آج کی تعداد کا 1/100 حصہ بھی نہ تھی لیکن بیعت کی تعداد آج کل کی نسبت سے کئی گنا زیادہ تھی۔ جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس موجودہ رفتار سے تو تین سو سال تک بھی دنیا میں کوئی انقلاب پیدا نہیں ہوسکتا۔ اور اب تک تو اس قدر معجزات ظاہر ہو چکے ہیں اور اس قدر صداقتِ سلسلہ ظاہر ہوچکی ہے کہ تھوڑی سی توجہ دلانے سے لوگ صداقت کو قبول کرنے کیلئے آمادہ ہیں۔
کام لینے والوں اور کام کرنے والوں کی باہمی کوشش سے ہی جلدی ترقی ہوسکتی ہے کام کرنے والوں کو تو ثواب ملے گا ہی لیکن جو افسران اور ذمہ دار احباب اس طرف توجہ دلائیں گے ان کو بھی مُفت میں ثواب مل جائے گا۔ اس لئے افسران کو چاہئے کہ بار بار لوگوں سے ان کی کوششوں کے متعلق رپورٹیں بھی حاصل کرتے رہیں اس سے بھی توجہ قائم رہتی ہے کیونکہ دنیا کے دلوں کو فتح کرنا کسی ایک شخص کا کام نہیں ہے باہم مل کر کام کرنے سے ہی یہ مقصد حاصل ہوسکتا ہے۔
خدا کا نور جس قوم میں ظاہر ہوتا ہے اس کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اور اس قوم کا فرض ہو جاتا ہے کہ وہ دوسرے سب لوگوں کو اس نُور سے منور کرے اور جب تک ساری دنیا پر اسلام کا غلبہ نہ ہو جائے اُس کو چین نہیں آنا چاہئے۔
اِس زمانہ میں تو بعض ہماری جتنی تعداد رکھنے والی قوموں نے بھی انقلاب پیدا کر دیا ہے۔ اگر جماعت کو بار بار اس کا فرض یاد دلایا جاتا رہے تو جماعت احمدیہ بھی ہر قسم کی قربانی کرنے لگ جائے گی۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سردار تھے ان کی قوم جس قدر کوشش عیسائیت کو پھیلانے کے لئے کر رہی ہے ہمارا فرض ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن اسلام کو پھیلانے کے لئے ان لوگوں سے کئی گنا زیادہ کوشش کریں۔
روزہ اور دعا کے ذریعہ روحانی طاقت بڑھتی ہے ان روحانی ذرائع کو بھی اختیار کر کے اپنی روحانی طاقتوں کو زیادہ کرو۔
تحریک جدید کے افریقہ اور امریکہ کے مشنوں کو توجہ دلائی جائے کہ افریقہ اور امریکہ کی حبشی اقوام کی طرف بھی خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ یہ پیشگوئی ہے کہ آخری زمانہ میں حبشی قومیں اسلام کی طرف رجوع کریں گی اور خانہ کعبہ کو پھر تعمیر کریں گی۲۱؎۔ امریکہ کے حبشی باشندے بھی مذہب کے لئے مال و جان کی قربانیاں پیش کرنے کے لیے بالکل تیار ہیں اس لئے اسلام کی ترقی اس زمانہ میں افریقہ اور امریکہ کے حبشیوں سے وابستہ معلوم ہوتی ہے۔
احباب جماعت کو یہ بھی چاہئے کہ دو دو چار چار دوست مل کر مشترکہ طور پر الفضل کے خریدار بنیں تاکہ الفضل میں شائع ہونے والے مضامین اور ایمان افروز ارشادات سے فائدہ اٹھا سکیں جو ایمان کی تازگی کا موجب ہوتے ہیں۔“
(الفضل 23؍ستمبر 1961ء)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ‘‘ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھُوَ النَّاصِرُ برادران!
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ
عزیزم مرزا وسیم احمد ناظر دعوۃ وتبلیغ قادیان نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ میں بھارت کے اُن احمدی احباب کے لئے جو قادیان کی مقدس سرزمین میں جلسہ سالانہ کے موقع پر جمع ہو رہے ہیں کوئی پیغام ارسال کروں۔ سو سب سے پہلے میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے محض اپنے فضل سے آپ لوگوں کو اپنی زندگیوں میں ایک بار پھر اس امر کی توفیق عطا فرمائی کہ آپ اُس کے قائم کردہ روحانی مرکز میں جمع ہوں اور اس کے فیوض وبرکات سے مستفیض ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری جماعت کے تمام مردوں اور عورتوں اور بچوں کو اُن کے اس اخلاص کی جزائے خیر عطا فرمائے اور انہیں دین و دنیا میں اپنی برکات اور انوار سے متمتع کرے۔ آمین۔
اے عزیزو! بے شک جسمانی لحاظ سے ہم اس وقت آپ سے دُور ہیں مگر ہمارے دل آپ کے قریب ہیں اور ہمارے قلوب میں بھی وہی جذبات موجزن ہیں جو آپ کے دلوں میں پائے جاتے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہندوستان میں اپنے دین کے جھنڈے کو بلند رکھنے اور آستانۂ حبیب پر دھونی رما کر بیٹھنے کی توفیق عطا فرمائی۔ مگر اے عزیزو! ابھی کام کا ایک وسیع میدان آپ لوگوں کے سامنے پڑا ہے جس کے لئے بے انتہاء خدمات اور قربانیوں کی ضرورت ہے۔ مالی قربانیوں کی بھی اور وقت کی قربانیوں کی بھی۔ اس لئے ہمت سے کام لو اور اپنا قدم ہمیشہ آگے بڑھانے کی کوشش کرو۔ اور غیر مسلم شرفاء کو اپنے عملی نمونہ سے اور لٹریچر کی اشاعت کے ذریعہ بھی اسلامی خوبیوں سے آگاہ کرتے رہو۔ اور ہمیشہ ان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھو اور ایسے بلند اخلاق کا مظاہرہ کرو کہ وہ تمہیں انسانوں کی صورت میں خدا تعالیٰ کے فرشتے سمجھنے لگ جائیں۔
یہ امر یاد رکھو کہ ہم لوگ کسی سوسائٹی کے ممبر نہیں جو محدود مقاصد کے لئے قائم کی جاتی ہے بلکہ ہم ایک مذہب کے پیرو ہیں۔ اور مذہب تعلق باللہ اور شفقت علیٰ خلق اللہ کے مجموعہ کا نام ہوتا ہے۔ پس جس طرح تعلق باللہ کے بغیر کوئی قوم مذہب سے سچا تعلق رکھنے والی قرار نہیں دی جاسکتی اسی طرح شفقت علیٰ خلق اللہ کے بغیر بھی کوئی مذہب سچا مذہب نہیں کہلا سکتا۔ اور شفقت علیٰ خلق اللہ کے دائرہ میں ایک ہندو اور سکھ وغیرہ بھی اُسی طرح داخل ہے جس طرح ایک مسلمان۔ پس میں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے ہمسایوں یعنی ہندو اور سکھ اصحاب سے ہمیشہ اچھے تعلقات رکھو اور اُن کی خوشی میں اپنی خوشی اور اُن کی تکلیف میں اپنی تکلیف محسوس کرو۔ یہی وہ تعلیم ہے جو اسلام نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہمیں دی ہے اور جس کی وجہ سے اسلام کو دنیا کے تمام مذاہب پر فوقیت حاصل ہے۔ اسلام کوئی قومی مذہب نہیں بلکہ ایک عالمگیر مذہب ہے جو دنیا کے تمام افراد کو اپنے دائرہ ہدایت میں شامل کرتا ہے۔ پس جس طرح مسلمان ہمارے بھائی ہیں اُسی طرح ہندو اور سکھ بھی انسانیت کے وسیع حلقہ میں ہمارے بھائی ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان سے برادرانہ تعلقات رکھیں اور اُن سے لطف و مدارات کا سلوک کریں۔ اگر کوئی شخص اپنی نادانی کی وجہ سے ہم سے عناد رکھتا ہے تو یہ اُس کا ایک ذاتی فعل ہے جس کا وہ خود ذمہ دار ہے۔ ہماری طرف سے کسی کی دلآزاری نہیں ہونی چاہئے اور نہ کسی کو تکلیف پہنچانے کا خیال ہمارے دلوں میں آنا چاہئے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم بدی سے نفرت رکھیں لیکن بد کی اصلاح کے لئے اُس سے محبت اور پیار کا سلوک کریں کیونکہ آخر وہ ہمارا بھائی ہے اور اُس کی اصلاح ہمارے لئے خوشی کا موجب ہے۔
پنجاب میں جن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق طاعون کا مرض بڑے زور سے پھیلا ہوا تھا اور لاکھوں لوگ لقمہ اجل ہو رہے تھے اُن دنوں مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ مجھے بیت الدعا سے یعنی
اُس کمرہ سے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعاؤں کے لئے مخصوص کیا ہوا تھا اِس طرح دردوکرب کے ساتھ رونے اور چیخنے چلانے کی آوازیں آئیں جیسے کوئی عورت دردِ زہ کی شدت سے کراہ رہی ہو۔ میں نے کان لگا کر سُنا تو مجھے محسوس ہوا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز ہے۔ پھر میں نے اور توجہ کے ساتھ کان لگائے تو مجھے معلوم ہوا کہ آپؐ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کر رہے ہیں اور آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہیں کہ اے خدا! تیری پیشگوئی پوری ہوئی اور طاعون دنیا میں آگئی۔ مگر اے میرے رب! اب دنیا طاعون سے مرتی چلی جا رہی ہے۔ اگر سب لوگ مر گئے تو تجھ پر ایمان کون لائے گا۔ پس دنیا کی تباہی میں ہماری خوشی نہیں بلکہ دنیا کی نجات اور خوشحالی میں ہماری خوشی ہے۔ پس تقویٰ اور خداترسی پر زور دو۔ دشمنوں تک سے ہمدردی کرو۔ بددعائیں کرنے والوں کو دعائیں دو اور بدخواہی کرنے والوں کی خیرخواہی کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو جیسا کہ قرآن کریم نے بتایا ہے جو آج تمہارا دشمن ہے وہ کل تمہارے صبر اور حسنِ سلوک اور نیکی کے نتیجہ میں تمہارا گہرا دوست بن جائے گا۔ پس سکھوں اور ہندوؤں سے اچھے تعلقات رکھو۔
سکھوں کا تو اس لحاظ سے بھی ہمارے ساتھ تعلق ہے کہ جس طرح ہم توحید کے قائل ہیں اُسی طرح وہ بھی توحید کے قائل ہیں۔ پس تمام غیرمسلم شرفاء سے برادرانہ تعلقات مضبوط کرو اور انہیں اسلام اور احمدیت کی خوبیوں سے روشناس کرتے رہو۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں بھی کرو کہ وہ ہماری مدد کرے اور آسمان سے اپنی رحمت کے فرشتے ہماری تائید کے لئے نازل کرے۔ ہم عاجز اور بےکس ہیں۔ جو کچھ ہو گا اُسی کی تائید اور نصرت سے ہو گا۔ پس دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ اسلام اور احمدیت کو پھیلائے۔ دعائیں کرو کہ وہ ہمارے حقیر کاموں میں ایسی برکت پیدا فرمائے کہ ان کے نتائج دنیا کے لئے حیران کن ثابت ہوں اور ساتھ ہی کوشش اور جدوجہد سے کام لو۔ اور تمام دنیا کو ایک مرکز پر جمع کرنے کی کوشش کرو اور اسلام اور احمدیت کے پھیلانے کا پروگرام ہمیشہ وسیع سے وسیع تر کرتے چلے جاؤ۔
یہ امر یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے مامور کے ذریعہ دنیا میں اُسی وقت اپنی آواز بلند کیا کرتا ہے جب چاروں طرف کفر اور شیطانی قوتوں کے حملے ہو رہے ہوں اور روحانی امن اور چین دلوں سے مفقود ہو چکا ہو۔ پس جس طرح کسی خوفناک جنگل میں شیروں اور درندوں کے حملہ سے وہی بھیڑیں محفوظ رہ سکتی ہیں جو گڈریے کی بانسری پر دوڑتی ہوئی اُس کے پاس آجائیں اسی طرح اِس زمانہ میں بھی وہی لوگ شیطانی حملوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دامن سے وابستہ ہوں اور آپ کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں۔ پس میں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اشاعتِ اسلام کا فرض ہمیشہ یاد رکھو اور اپنی اولاد در اولاد کو یاد کراتے چلے جاؤ اور اپنے اعمال میں نیک تغیر پیدا کرو تاکہ خدا کا جلال دنیا پر ظاہر ہو اور وہ منشاء پورا ہو جس کے لئے اس نے ہماری جماعت کو قائم فرمایا ہے۔ بے شک یہ ایک مشکل اور کٹھن کام ہے لیکن استقلال اور دعاؤں سے کام لینے کے نتیجہ میں آسمان کے دروازے آپ لوگوں کے لئے کُھل جائیں گے اور دنیا جن باتوں کو آج ناممکن سمجھتی ہے وہ کل ایک حقیقت بن کر ان کے سامنے ظاہر ہو جائیں گی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ لوگوں کے اس اجتماع کو ہر لحاظ سے بابرکت اور نتیجہ خیز بنائے اور آپ کو اپنے فضل سے اس روحانی لذّت اور سرور سے حصہ بخشے جس کے لئے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اس مقدس اجتماع کی بنیاد رکھی ہے۔ اور مرکزِ سلسلہ سے مخلصانہ وابستگی اور اشاعتِ اسلام کے لئے ہر قسم کی قربانیوں کی توفیق آپ کو عطا فرمائے۔ اٰمِيْنَ اَللّٰھُمَّ اٰمِيْنَ۔
خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی “22-11-1961 (الفضل 10 جنوری 1962ء)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَـحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ وَ عَلٰی عَبْدِهِ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھُوَ النَّاصِرُ برادران ! اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُہٗ
اپنے روحانی مرکز سے جُدا ہوئے اتنی دیر ہوگئی ہے کہ اب طبیعت بہت گھبراتی ہے مگر ہم خدا تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ایک دن ہمیں اپنا روحانی مرکز دلوا دے گا مگر ہمیں خود بھی جدوجہد کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ دنیا کفر کے اندھیروں میں پڑی ہوئی ہے اور ہمیں خدا کا نور ملا ہے ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ دنیا کو خدا کے نور کی طرف لائیں اور جو خدا نے ہم کو دیا ہے اسے دنیا تک پہنچائیں ۔ دنیا خدا سے دور ہوتی جا رہی ہے اور پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ میری مدد کے لئے آؤ۔ اب یہ ہمارا فرض ہے کہ خدا تعالیٰ کے اچھے خادموں کی طرح اس کی آواز کو سنیں اور اس تک خدا کا پیغام پہنچائیں۔
سو آگے آؤ اور لوگوں کو دین کی طرف لاؤ کہ اس سے بہتر موقع پھر کبھی نہیں ملے گا۔ مسیح نے جو تعلیم دی تھی اسلام کی تعلیم کے آگے عُشْرِ عَشِیْر بھی نہ تھی مگر عیسائیوں نے اپنی جدوجہد سے اسے دنیا میں پھیلا دیا۔ اگر ہم اس سے ہزارواں حصہ بھی کوشش کریں تو دنیا کے چپہ چپہ پر اسلام کا چشمہ پھوٹ پڑے اور اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ(7:173) 22 کے مقابلہ میں بَلٰی 23 کی آوازیں آنے لگیں ۔ سو اٹھو اور کمرِ ہمت کس لو۔ عیسائی جھوٹ کے لئے اتنا زور لگا رہے ہیں کیا تم سچائی کے لئے زور نہیں لگا سکتے ؟ خدا تعالیٰ اپنی نصرت کے سامان پیدا کر رہا ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ تم بھی سچے خادموں کی طرح آگے آؤ اور اپنے ایمان کو اپنے عمل
سے ثابت کرو۔ دنیا ہزاروں سال سے پیاسی بیٹھی ہے اور اس کے پیاس بجھانے والے چشمہ کی نگرانی تمہارے سپرد ہے۔ کیا تم آگے نہیں بڑھو گے اور دنیا کی پیاس نہیں بجھاؤ گے؟ اٹھو اور آگے آؤ اور خدا تعالیٰ کے ثواب کے مستحق بنو۔ دنیا میں پھیل جاؤ اور اسلام کی تعلیم کو دنیا کے گوشہ گوشہ میں پھیلا دو۔ خدا تعالیٰ تمہاری مدد کرے اور دنیا کی آنکھیں کھولے اور انہیں اسلام کی طرف لائے۔ اسلام ہی سارے نوروں کا جامع اور ساری صداقتوں کا سرچشمہ ہے۔ اس سرچشمہ کے پاس خاموش نہ بیٹھو بلکہ دنیا میں اس کا پانی تقسیم کرو۔ جس کے پاس چھوٹی سی چیز بھی ہوتی ہے وہ اُسے دنیا کو دکھاتا پھرتا ہے تمہارے پاس تو ایک خزانہ ہے۔ ایک بڑھیا کے متعلق مشہور ہے کہ اُس کے پاس ایک انگوٹھی تھی اسے لے کر کھڑی ہو جاتی اور ہر ایک کو دکھاتی۔ تمہارے پاس تو خدا کا نور ہے تم کیوں نہیں اسے ساری دنیا کو دکھاتے اور دنیا کے سامنے پیش کرتے۔ جاؤ اور دنیا کو اسلام کی طرف پھیر کے لاؤ اور اسلام کی صداقت کو دنیا پر ظاہر کرو۔ خدا تمہاری مدد کرے اور ہر میدان میں تمہیں فتح دے۔ اگر تم خدا کے لئے نکلو گے تو وہ ضرور تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں دنیا کا بادشاہ اور امام بنا دے گا۔ یہ خدا کا کام ہے کیسے ہوسکتا ہے کہ تم خدا کے کمزور بندے ہو کر اُس کا کام کرو اور وہ قادرِ مطلق ہو کر اپنا کام نہ کرے۔ پس خدا کا نام لے کر کھڑے ہو جاؤ اور دنیا کو خدا کے نور سے منور کر دو۔ یقیناً وہ تمہاری مدد کرے گا اور دنیا کو تمہارے قدموں میں لا کر ڈال دے گا۔ تم تو مفت کا ثواب کماؤ گے اور کام سارا خدا کرے گا۔
صرف اتنی ضرورت ہے کہ ایک دفعہ ہمت کر کے کھڑے ہو جاؤ اور اپنے سچے غلام ہونے کا ثبوت دو۔ خدا تمہارے ساتھ ہو اور تمہیں خدمتِ اسلام کی توفیق دے۔
میں تو بیمار ہوں دعا ہی کر سکتا ہوں۔ دنیا سچائی کی پیاسی ہے تم اگر جاؤ گے تو یقیناً کامیاب ہو جاؤ گے۔ ایک پیاسے کو اگر کوئی پانی کا پیالہ دے تو کس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ اُس کو ردّ کر دے۔ پس اپنے بھائیوں کی پیاس بجھانے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ تمہارا کچھ نہیں بگڑتا ان کو سب کچھ مل جاتا ہے۔ خدا تمہارے ساتھ ہو اور تمہیں نیکی کی توفیق دے اور ہم ایک دن دیکھ لیں کہ ساری دنیا میں خدا تعالیٰ کا نور پھیل گیا ہے۔
مجھے اپنی جوانی میں ایک دفعہ ایک پادری سے تثلیث کے متعلق بات کرنے کا موقع ملا۔ میں نے اُسے کہا آپ کی میز پر یہ پنسل پڑی ہے اگر میں آپ کو اسے اٹھانے کو کہوں اور آپ اپنے نوکروں کو آوازیں دینے لگ جائیں کہ آؤ ہم مل کر یہ پنسل اٹھائیں۔ اُس نے کہا ہم پاگل تھوڑی ہیں؟ میں نے کہا لیکن آپ کی جو باتیں ہیں اُن سے پتا لگتا ہے کہ پاگل ہیں۔ جو کام خدا اکیلا کر سکتا ہے اُس کے لئے تین خداؤں کی کیا ضرورت ہے۔ وہ اکیلا سارا کام کرے گا۔
تمہاری تکلیف بہت چھوٹی ہے خدا کا انعام بہت بڑا ہے۔ تم تو اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کو تھوڑے دنوں کے لئے چھوڑو گے مگر خدا تمہیں دائمی جنت دے گا۔ پس اٹھو اور ہمت کرو۔ خدا تمہارے ساتھ ہو اور دنیا کے ہر میدان میں تمہیں فتح دے۔ اٰمِیْنَ ثُمَّ اٰمِیْنَ
بکوشید اے جواناں تا بدیں قوت شود پیدا
بہار و رونق اندر روضہ ملّت شود پیدا
خاکسار مرزا محمود احمد ”28-11-1961ء (الفضل 30؍ نومبر 1961ء)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ
برادرانِ جماعت!
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُهٗ
چار سال ہوئے میں نے پاکستان کے دیہات وقصبات میں ارشاد و اصلاح کا کام وسیع کرنے کے لئے وقفِ جدید کی تحریک جاری کی تھی جو خدا تعالیٰ کے فضل سے اب آہستہ آہستہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہو رہی ہے۔ چنانچہ دفتر کی رپورٹوں سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ 1961ء میں جو وقفِ جدید کا چوتھا سال تھا ہماری جماعت کے دوستوں نے گذشتہ تمام سالوں سے بڑھ کر قربانی کا مظاہرہ کیا اور چندہ کو قریباً ایک لاکھ روپے تک پہنچا دیا۔ میرے لئے یہ امر بڑی خوشی کا موجب ہے کہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے بیداری سے کام لے رہی ہے مگر کام کی اہمیت اور اس کی وسعت کو دیکھتے ہوئے ابھی آپ لوگوں کو اپنی قربانیوں کا معیار اور بھی بلند کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دیہاتی جماعتوں کی تربیت اور عیسائیت کا مقابلہ لاکھوں روپیہ کے خرچ کا متقاضی ہے۔ پس میں جماعت کے افراد کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس بارہ میں دعاؤں سے بھی کام لیں اور زیادہ سے زیادہ مالی قربانیاں بھی پیش کریں تا کہ صحیح اسلامی تعلیم سے لوگوں کو روشناس کیا جائے اور عیسائیت کا زور توڑا جائے۔
مجھے بتایا گیا ہے کہ وقفِ جدید کے ماتحت اب اچھوت اقوام تک بھی اسلام کا پیغام پہنچانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے اور اس کے امید افزا نتائج پیدا ہو رہے ہیں۔ پس جس طرح اس تحریک کے چوتھے سال جماعت نے قربانی کا ایک اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے اسی طرح اب وقفِ جدید کے پانچویں سال میں بھی وہ اپنے ایمان اور اخلاص کا شاندار نمونہ دکھائیں اور اپنے وعدے گذشتہ سالوں سے اضافہ کے ساتھ پیش کریں۔
مجھے امید ہے کہ یہ تحریک جس قدر مضبوط ہو گی اُسی قدر خدا تعالیٰ کے فضل سے صدر انجمن احمدیہ اور تحریکِ جدید کے چندوں میں بھی اضافہ ہو گا کیونکہ جب کسی کے دل میں نُورِ ایمان داخل ہو جائے تو اُس کے اندر مسابقت کی روح پیدا ہو جاتی ہے اور وہ نیکی کے ہر کام میں حصہ لینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔
میں نے جن دنوں یہ تحریک کی تھی اُس وقت میں نے جماعت کے دوستوں کو توجہ دلائی تھی کہ انہیں وقفِ جدید کا سالانہ چندہ چھ لاکھ روپیہ تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے مگر یہ ایک ابتدائی اندازہ تھا۔ چنانچہ اس کے دو سال بعد میں نے وقفِ جدید کا بجٹ 12؍لاکھ روپیہ تک لے جانے کی تحریک کی مگر ابھی وقفِ جدید کا چندہ صرف ایک لاکھ روپیہ تک پہنچا ہے۔ دوستوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اِس کمی کو جلد سے جلد پورا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ قوت اور وسعت کے ساتھ تبلیغِ اسلام کے کام کو جاری رکھا جا سکے۔
اِن مختصر کلمات کے ساتھ میں اللہ تعالیٰ پر توکّل کرتے اور اُسی سے دعا کرتے ہوئے وقفِ جدید کے پانچویں سال کے آغاز کا اعلان کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے دوستوں کو ہمیشہ اپنی قربانیوں کا معیار زیادہ سے زیادہ اونچا لے جانے کی توفیق عطا فرمائے اور وہ دن ہمارے قریب تر آ جائے جبکہ اسلام ساری دنیا میں پھیل جائے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مقدس روح آسمان پر یہ دیکھ کر خوش ہو جائے کہ جماعت احمدیہ نے اُس فرض کو ادا کر دیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر عائد کیا گیا تھا۔
خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی “3-1-1962ء (الفضل 5؍ جنوری 1962ء)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ برادرانِ جماعت! اَلسَّلَامُ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهٗ ایک گزشتہ مجلسِ شوریٰ میں مَیں نے فیصلہ کیا تھا کہ ہر سال ایک ہفتہ وصیت منایا جایا کرے تا کہ وصایا میں اضافہ ہو اور تا اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے لوگوں کے اندر زیادہ سے زیادہ قربانی کا جذبہ پیدا ہو۔ نظارت بہشتی مقبرہ اس فیصلہ کی تعمیل ہر سال کرتی رہی ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس سال بھی ہفتہ وصیت منانے کے لئے 12 سے 18 مارچ کے ایام مقرر کئے گئے ہیں۔ سیکرٹری صاحب بہشتی مقبرہ نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ اس موقع پر میں بھی جماعت کو کوئی پیغام دوں۔
میں دوستوں سے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وصیت کی اہمیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے رسالہ الوصیت میں اچھی طرح واضح کر دی ہے۔ اس کے بعد مَیں نے بھی اپنے خطبات اور تقریروں اور تحریروں میں اس کی طرف بارہا توجہ دلائی ہے مگر جیسا کہ مجھے بتایا گیا ہے اب تک وصیت کرنے والوں کی تعداد قریباً ساڑھے سولہ ہزار تک پہنچی ہے جو جماعت کی موجودہ تعداد کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔ اگر نظارت بہشتی مقبرہ کثرت سے اس بارہ میں الوصیت اور میری تقریروں اور تحریروں کو شائع کرے تو امید ہے کہ وصایا کی کمی بہت جلد دور ہو جائے گی اور سلسلہ کی مالی حالت بھی پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائے گی کیونکہ اس کی مضبوطی کا وصایا کی زیادتی کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔
پس میں اس کے ذریعہ جماعت کے ہر فرد کو جس کا گزارہ ماہوار آمدن یا جائیداد پر ہے نظامِ وصیت میں شامل ہونے کی تحریک کرتا ہوں اور ہر مرکزی اور مقامی جماعت کے عہدیداروں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اس طرف خاص طور پر توجہ کریں۔
اس غرض کیلئے مناسب ہوگا کہ ہر جماعت میں سیکرٹری وصایا مقرر کئے جائیں جو اس تحریک کو چلاتے رہیں۔ اسی طرح امراء اور مربیانِ سلسلہ کو بھی چاہئے کہ وہ اس تحریک کو زندہ رکھنے کی کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو اور وہ ہمیشہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے آپ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ قربانیوں کی توفیق عطا فرمائے۔
والسلام خاکسار مرزا محمود احمد ”21-2-1962ء“ (الفضل 23 فروری 1962ء)
”پاکستان کو پہلے سے بڑھ کر پُرمسرت اور خوشحال تر بنانے کی مساعی میں میری دعائیں اور نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی برکت سے نوازے اور اس تعلق میں آپ کی مساعی کو بابرکت فرمائے۔
مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ“ (الفضل 13 جون 1962ء)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ‘‘ خدام الاحمدیہ!
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ
آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ آپ اسلام اور احمدیت کے خدام ہیں اس لئے آپ پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ آپ کو اپنے اخلاق وغیرہ ایسے بنانے چاہئیں کہ بجائے خادم بننے کے آپ دنیا کے مخدوم بن جائیں۔ دنیا حق کی متلاشی ہے۔ تبلیغ کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ آپ کو چاہئے کہ اسلام کی تبلیغ میں لگے رہیں تا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ساری دنیا میں پھیل جائے اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارا مقدس مرکز قادیان ہمیں جلد واپس دلا دے۔‘‘
(الفضل 23؍اکتوبر 1962ء)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ممبرات لجنہ اماءاللہ!
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ
لجنہ کا اجتماع شروع ہے میں بیماری کی وجہ سے تقریر نہیں کر سکتا لیکن آپ تک یہ پیغام پہنچاتا ہوں کہ آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ عورتوں کے بھی فرائض ہوتے ہیں۔ اگلی نسل ان کی تربیت سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے کوشش کرو کہ اگلی نسل مضبوط ہو اور اسلام کو دنیا میں پھیلائے۔ اِس وقت عیسائیت کا غلبہ ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے نبی اور دنیا کے نجات دہندہ ہیں اس لئے اسلام کو پھیلانے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کو دنیا میں قائم کرنے کی تمہیں پوری کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے۔‘‘ (الفضل 23؍اکتوبر 1962ء)
’’ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ انصاراللہ! اَلسَّلَامُ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ مجھے افسوس ہے کہ میں بیماری کی وجہ سے آپ کے جلسہ میں شرکت نہیں کر سکتا لیکن آپ کو آپ کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ تبلیغ کریں، تبلیغ کریں، تبلیغ کریں یہاں تک کہ حق آ جائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور اسلام ساری دنیا میں پھیل جائے اور دنیا میں صرف محمدؐ رسول اللہ کی حکومت ہو۔ اِسی کام کی طرف میں آپ کو بلاتا ہوں۔ اب دیکھنا ہے کہ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ(3:53)۔ تحریکِ جدید کے نئے سال کا بھی اعلان کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو قربانیوں کی توفیق دے۔ اٰمِیْنَ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی‘‘ (الفضل 30؍اکتوبر 1962ء)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ
برادرانِ جماعت احمدیہ بھارت!
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُهُ
میری خلافت کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے کہ میں نے ایک دفعہ کشفی طور پر دیکھا کہ ایک شخص جس کا نام مجھے عبدالصمد بتایا گیا کھڑا ہے اور وہ یہ کہہ رہا ہے کہ ’’مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت۔ تم پر خلافت کی برکتیں یا رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔‘‘
یہ الہام گو عمومی رنگ میں ہماری ساری جماعت پر ہی چسپاں ہو سکتا ہے مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جہاں تک موجودہ حالات کا تعلق ہے صرف آپ کی جماعت ہی وہ غریب جماعت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے درویشانہ رنگ میں خدمتِ سلسلہ کی توفیق عطا فرمائی اور نامساعد حالات میں بھی آپ لوگ خدائے واحد کا نام بلند کرتے رہے۔ پس آپ لوگ یقیناً خوش قسمت ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے لئے چُن لیا۔ اور پھر مزید خوشی کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس بات کی بھی بشارت دے دی کہ وہ اس درویشانہ خدمت کے نتیجہ میں آپ لوگوں کو خلافت کی برکات سے خاص طور پر حصہ عطا فرمائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جہاں یہ الہام آپ لوگوں کے لئے بڑی بھاری بشارت کا حامل ہے وہاں اس سے آپ لوگوں کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے جن سے عہدہ برآ ہونے کی صرف وہی صورت ہے جس کی طرف عبدالصمد نام میں اشارہ کیا گیا ہے۔ صمد کے معنی اُس ذات کے ہوتے ہیں جو کسی کی محتاج نہ ہو، لیکن کوئی دوسرا وجود اُس سے غنی نہ ہو۔ یعنی کوئی وجود ایسا نہ ہو جو اُس کی مدد کے بغیر قائم رہ سکے۔ اسی طرح صمد کے معنی ہمیشہ قائم رہنے والے اور نہایت بلند شان والے کے بھی ہوتے ہیں۔ اور یہ تمام معانی توحیدِ کامل کا مفہوم اپنے اندر رکھتے ہیں کیونکہ موجودات میں سے کوئی وجود ایسا نہیں جو بلندی اور عظمت میں اس کا مقابلہ کر سکے۔ پس عبدالصمد نام میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ آپ لوگوں کو اپنا حقیقی ملجاء اور ماویٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہی سمجھنا چاہئے اور اسی پر کامل توکل اور بھروسہ رکھنا چاہئے۔
حقیقت یہ ہے کہ اِس وقت آپ لوگوں کے سپرد اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عظیم الشان کام سپرد کیا گیا ہے وہ اُسی صورت میں سرانجام دیا جا سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرتِ شاملِ حال ہو۔ ورنہ اس کے انجام پانے کی اور کوئی صورت نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق بڑھاؤ اور دعاؤں اور ذکرِ الٰہی پر خصوصیت سے زور دو۔ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ اسلام اور احمدیت کو ساری دنیا میں پھیلائے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا کے تمام ممالک میں بڑی شان اور عظمت سے لہرائے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ ایک دن ایسا ہی ہو گا۔ بےشک دنیا ان باتوں کو ناممکن سمجھتی ہے لیکن ہم نے خدا تعالیٰ کے نشانات کو بارش کی طرح برستے دیکھا ہے اور ہم نے اُس کی قدرتوں اور جلال کا بارہا مشاہدہ کیا ہے۔ اس لئے ہمیں یہ یقین ہے کہ احمدیت اور اسلام بڑھیں گے اور پھیلیں گے اور پھولیں گے اور ایک دفعہ پھر ساری دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا بڑی شان کے ساتھ گاڑا جائے گا۔ یہ آسمانی فیصلہ ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ آسمان پر خدا تعالیٰ کی انگلی اسلام اور احمدیت کی کامیابی کی بشارت لکھ چکی ہے اور جو فیصلہ آسمان پر ہو جائے زمین اُسے بدلنے کی طاقت نہیں رکھتی۔
پس اس مقصد کے حصول کے لئے پہلے سے بھی زیادہ ہمت اور زیادہ استقلال اور زیادہ چستی کے ساتھ دینِ اسلام کی خدمت میں لگ جاؤ اور اپنے اندر ایک روحانی انقلاب پیدا کرو۔ نمازوں میں خشوع وخضوع کی عادت ڈالو۔ دعاؤں اور ذکرِ الٰہی پر زور دو۔ صدقہ وخیرات کی طرف توجہ رکھو۔ سچائی سے کام لو۔ دیانت اور امانت میں اپنا اعلیٰ نمونہ دکھاؤ اور عدل اور انصاف اپنا شیوہ بناؤ۔ یہ اوصاف اپنے اندر پیدا کر لو تو تم دیکھو گے کہ خدا تعالیٰ کی نصرت اور اس کی معجزانہ تائید تمہاری طرف دوڑتی چلی آئے گی
اور خدا تعالیٰ ایک دن ساری دنیا کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دے گا۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ لوگوں کے اس اجتماع کو ہر لحاظ سے خیر و برکت کا موجب بنائے ۔ اور آپ کے مردوں اور عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں میں وہ تغیر پیدا کرے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پیدا کرنا چاہتے تھے ۔ اور آپ لوگوں کو اسلام اور احمدیت کا سچا اور حقیقی خادم بننے کی توفیق بخشے ۔ اٰمِیْنَ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ
خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی 13-12-1962ء (الفضل 10 جنوری 1963ء)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھُوَ النَّاصِرُ
برادرانِ جماعت! اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُهٗ
وقفِ جدید کو مضبوط کرو۔ ہمت کرو ، خدا برکت دے گا۔ اسلام کو دنیا کے کناروں تک پھیلا دو۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے یہی بتایا تھا کہ میرے زمانہ میں احمدیت پھیلے گی۔ وقفِ جدید کا کام بہت پھیل رہا ہے ۔ چندہ ضرورت سے بہت کم ہے۔ بغیر دفتر کے کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اس سال وقفِ جدید کا دفتر بھی بنے گا۔ دوستوں کو چاہئے کہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے اور کام میں برکت دے۔ اٰمِیْنَ خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی ”20-12-1962ء“ (الفضل 25؍دسمبر 1962ء)
”دفتر وقف جدید کی طرف سے ہفتہ وقف جدید 3؍ستمبر سے 7؍ستمبر 1963ء تک منایا جا رہا ہے۔ یہ تحریک بہت مبارک ہے اس لئے سب دوستوں کو اس میں حصہ لینا چاہئے۔ جن دوستوں نے وعدے کئے ہیں وہ ادا کریں اور جنہوں نے تا حال حصہ نہیں لیا وہ حصہ لے کر خدا کی رحمت اور اس کے فضل کے وارث ہوں۔ ”26-8-1963ء“ (خطباتِ وقف جدید صفحہ 88)
” اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ برادرانِ جماعت! اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُهٗ میں نے آپ لوگوں کو بار ہا توجہ دلائی ہے کہ ہماری جماعت کے قیام کا مقصد صرف یہی ہے کہ ہم اسلام کو ساری دنیا میں پھیلائیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت دنیا کے کونے کونے میں قائم کر دیں۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک جماعت نے اس بارہ
میں اپنے فرض کو صحیح طور پر محسوس نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں عیسائیت نے اسلام کے خلاف اپنے حملہ کو تیز کر دیا ہے اور وہ لوگ اس کے لئے لاکھوں روپیہ خرچ کر رہے ہیں۔ لیکن مسلمان کہلانے والے جن کے نبیؐ کی زبان پر خدا تعالیٰ نے یہ الفاظ جاری کئے کہ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا(7:159)۔ اے لوگو میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور جن کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَتَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ(3:111) تم سب سے بہترین امت ہو جن کو تمام بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے، تم نیکی کو دنیا میں پھیلاتے اور بدی سے لوگوں کو باز رکھتے ہو وہ سُستی اور غفلت کا شکار ہو رہے ہیں۔ لیکن دوسروں کا کیا گلہ اگر آپ لوگ ہی اپنے فرض کو صحیح رنگ میں ادا کرتے تو میں سمجھتا ہوں آج دنیا میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنے والے کہیں نظر نہ آتے بلکہ ساری دنیا پر اسلام کی حکومت ہوتی اور تمام دل نگین محمدؐ سے منقش ہوتے اور بجائے گالیوں کے اس مقدس انسان پر درود اور سلام بھیجا جاتا۔ اب بھی وقت ہے کہ اپنی پچھلی سُستی کا کفارہ ادا کرو، اپنی غفلتوں کو ترک کرو اور اُس دروازہ کی طرف دوڑو جس کے سوا تمہارے لئے کہیں پناہ نہیں۔ اور ایک پختہ عہد اور نہ ٹوٹنے والا اقرار اس بات کا کرو کہ تم اپنے مال اور اپنی جانیں اور اپنی ہر ایک چیز اشاعتِ اسلام کے لئے قربان کرنے پر تیار رہو گے اور اِس مقدس فرض کی ادائیگی کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دو گے۔ یہی وہ سچا اور حقیقی جواب ہے جو غیرمسلموں کے مقابلہ میں ہماری طرف سے دیا جا سکتا ہے۔ یہ امر یاد رکھو کہ ہماری عزت ہمارے اعلیٰ درجہ کے لباسوں اور بڑی بڑی جائیدادوں میں نہیں ہے یہ لباس تو چُوڑھے اور چمار بھی پہن لیتے اور بڑی بڑی جائیدادیں پیدا کر لیتے ہیں۔ ہماری عزت اسی میں ہے کہ ہم اپنی زندگیاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے مطابق بنائیں اور رات دن آپؐ کے پیغام کی اشاعت کریں تاکہ ہماری شکلوں کو دیکھ کر ہی لوگ پکار اٹھیں کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ہیں اور ان کی موجودگی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنا ہمارے لئے ناممکن ہے۔ دشمن
اس لئے حملہ کرتا ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نَعُوْذُ بِاللّٰہ ابتر خیال کرتا ہے۔ لیکن اگر اُسے معلوم ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کروڑوں بیٹے دنیا میں موجود ہیں اور اگر اسے معلوم ہو کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ساری جان اور اپنے سارے دل سے پیار کرتے ہیں اور ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ اس پاکبازوں کے سردار کی جوتیوں کی خاک پر بھی فدا ہے تو پھر اُس کی کیا طاقت ہے کہ وہ آپ پر حملہ کر سکے۔
پس تبلیغ کے لئے اپنے آپ کو وقف کرو اور اسلام کی اشاعت پر زور دو تا کہ وہ لوگ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتے ہیں وہ آپ پر درود اور سلام بھیجنے لگیں۔ مکہ کے لوگوں کی گالیاں آخر کس طرح دور ہوئیں؟ اسی طرح کہ وہ اسلام کو قبول کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے لگے۔ پس اب بھی یہی علاج ہے اور یہی وہ تدبیر ہے جس سے ہر شریف الطبع انسان اسلام کی خوبیوں کا قائل ہو جائے گا۔ اور ہر شریر الطبع انسان مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر مرعوب ہو جائے گا۔ میں امید کرتا ہوں کہ تمام جماعتوں کے امراء اور سیکرٹریان اس تحریک کے پہنچتے ہی اپنے اپنے علاقہ کے احمدیوں کو پوری طرح اس میں حصہ لینے کی تلقین کریں گے اور صدر انجمن احمدیہ اس کی نگرانی اور انتظام کرے گی اور ان سے غیر مسلموں میں تبلیغ اسلام کرنے کے لئے اپنے اوقات وقف کرنے کا مطالبہ کریں گے۔ ہر احمدی کو سال میں کم از کم ایک ہفتہ غیر مسلموں میں تبلیغ کے لئے وقف کرنا چاہئے۔ بے شک اس کے لئے انہیں ایک لمبی قربانی سے کام لینا پڑے گا۔ لیکن یہی قربانیوں کی رات ہے جو ایک خالص خوشی کا دن اُن پر چڑھائے گی اور دنیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ پھر زندگی کا سانس لینے لگ جائے گی کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی لئے آئے ہیں کہ وہ دنیا کو زندہ کریں۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے اُن کے حق میں گواہی دیتا ہے کہ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِیۡبُوۡا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحۡیِیۡکُمۡ(8:25) 26۔ اے مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہو جب کہ وہ تمہیں زندہ کرنے کے لئے بلاتا ہے۔ پس دنیا کی زندگی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو قبول کرنے میں ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم احیاءِ دین اور اشاعتِ اسلام کے کام کو اس زور سے اختیار کریں کہ دنیا کے کونہ کونہ سے لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ کی آوازیں آنے لگیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ لوگوں کو اس امر کی سچی توفیق عطا فرمائے اور قیامت تک اسلام کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہراتا رہے۔
والسلام خاکسار مرزا محمود احمد ۸۔۹۔۱۹۶۳ء (الفضل ۱۰؍ ستمبر ۱۹۶۳ء)
حضرت مرزا بشیر احمد صاحب قمر الانبیاء کے المناک حادثۂ ارتحال پر حضرت مصلح موعود کی خدمت اقدس میں مخلصینِ جماعت کی طرف سے بکثرت تعزیتی تار اور خطوط موصول ہوئے جن کے جواب میں حضور نے حسبِ ذیل مکتوب تحریر فرمایا:۔
’’ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ
مکرمی!
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُهٗ
عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب کی وفات پر آپ نے جس گہری ہمدردی اور غم کے جذبات کا اظہار بذریعہ تار کیا ہے میں اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل سے آپ کو اس کی بہترین جزاء عطا فرمائے اور دین و دنیا میں ہر قسم کی مکروہات سے بچا کر خیر و برکت سے متمتع کرے۔
عزیز مجھ سے چھوٹے تھے مگر اللہ کی مشیت کے ماتحت وہ پہلے اٹھا لئے گئے۔ دل ان کی وفات سے زخم خوردہ ہے مگر اللہ تعالیٰ کی رضا ہمیں ہر چیز پر مقدم ہے اور اُسی کے آستانہ پر جھکنے سے ہماری نجات ہے۔ اگر مومن اس قسم کے ابتلاؤں میں ثابت قدمی دکھائے اور خدا تعالیٰ کی رضا کی راہ پر پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے چلنے لگے تو وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ سست ہو جائے تو اپنے پہلے مقام کو بھی کھو بیٹھتا ہے۔ پس ابتلاؤں کا آنا مومنوں کیلئے بڑے فکر کا موجب ہوتا ہے اور جماعت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ابتلاؤں کے وقت پہلے سے بھی زیادہ جوش اور ہمت کے ساتھ خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے کھڑی ہو جائے اور اپنی آئندہ نسلوں کی درستی کی فکر کرے۔ ہم میں سے کون ہے جس نے ایک دن اپنے رب کے حضور حاضر نہیں ہونا پھر کیوں ہم اپنے فرض سے غافل رہیں؟ ہمیں ہمیشہ اپنے دلوں کو ٹٹولتے رہنا چاہئے اور اچھے قائم مقام اور اعلیٰ درجہ کی نیک نسلیں چھوڑنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
اللہ تعالیٰ آپ کے اور آپ کے تمام اعزہ و متعلقین کے ساتھ ہو۔
خاکسار مرزا محمود احمد 29 ستمبر 1963ء“
(تاریخ احمدیت جلد 22 صفحہ 106 ناشر نظارت اشاعت ربوہ)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ(1:1) خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ
برادران جماعت احمدیہ!
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ
آپ لوگ جو اپنے سالانہ اجتماع میں شمولیت کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں میں آپ سب کیلئے اللہ تعالیٰ کے حضور دُعا کرتا ہوں کہ وہ آپ لوگوں کے ایمان اور اخلاص میں ترقی دے اور آپ کو اور آپ کی آئندہ نسلوں کو بھی خدمتِ دین کی ہمیشہ زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرماتا رہے۔
انصار اللہ کی تنظیم درحقیقت اسی غرض کیلئے کی گئی ہے کہ آپ لوگ خدمتِ دین کا پاک اور بے لوث جذبہ اپنے اندر زندہ رکھیں اور وہ امانت جسے آپ نے اپنے بچپن اور جوانی میں سنبھالا، اُسے ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھا اس کی اب پہلے سے بھی زیادہ نگہداشت کریں اور اپنے بچوں اور نوجوانوں کو بھی اپنے قدم بقدم چلانے کی کوشش کریں۔ بیشک ان کی تنظیمیں الگ ہیں لیکن اطفال احمدیہ آخر آپ کے ہی بچے ہیں اور خدام بھی کوئی علیحدہ وجود نہیں آپ لوگوں کے ہی بیٹے اور بھائی ہیں۔ پس جس طرح ہر باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت کرے اسی طرح انصار اللہ کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی جماعت کے بچوں اور نوجوانوں کے حالات اور ان کے اخلاق کا جائزہ لیتے رہیں ۔ اور اگر خدانخواستہ ان میں کوئی کمزوری دیکھیں تو نرمی اور محبت کے ساتھ اس کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ اور اپنی ظاہری جدوجہد کے ساتھ ساتھ دعاؤں سے بھی اللہ تعالیٰ کی تائید اور اُس کی نصرت کو جذب کریں ۔ اور سب سے بڑھ کر اپنا نیک نمونہ ان کے سامنے پیش کریں تا کہ ان کی فطرت کا مخفی نور چمک اٹھے اور دین کیلئے قربانی اور فدائیت کا جذبہ ان میں ترقی کرے۔ اگر جماعت کے یہ تینوں طبقات اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھنے لگ جائیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری قومی زندگی ہمیشہ قائم رہ سکتی ہے۔ افراد بیشک زندہ نہیں رہ سکتے لیکن قوم اگر اپنے آپ کو روحانی موت سے محفوظ رکھنا چاہے تو وہ محفوظ رکھ سکتی ہے۔ پس کوشش کرو کہ خدا تمہیں دائمی روحانی حیات بخشے۔ کوشش کرو کہ تم اپنے پیچھے نیک اور پاک نسلیں چھوڑ کر جاؤ تا کہ جب تمہاری موت کا وقت آئے تو تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور تمہاری زبان اللہ تعالیٰ کی حمد کر رہی ہو۔
تمہیں یہ امر بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ ہر زمانہ میں حالات کے بدلنے کے ساتھ خدمتِ دین کے تقاضے بھی بدل جایا کرتے ہیں۔ اِس زمانہ میں عیسائیت کا فتنہ سب سے بڑا فتنہ ہے جس کے استیصال کیلئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا اور کسرِ صلیب کا کام آپ کے سپرد فرمایا۔ پس اس زمانہ میں سب سے بڑی نیکی خدائے واحد کے نام کی بلندی اور کفر و شرک کی بیخ کنی کرنا ہے۔ جس کے لئے جماعت کو مالی اور جانی ہر قسم کی قربانیوں سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ میں نے اس امر کو دیکھتے ہوئے ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے دوستوں سے کہا تھا کہ پاکستان میں عیسائیت کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر شخص کو سال بھر میں کم از کم ایک ہفتہ وقف کرنا چاہئے۔ مجھے معلوم نہیں کہ جماعت نے عملی رنگ میں اس کا کیا جواب دیا اور صدر انجمن احمدیہ نے اس کی نگرانی کے لئے کیا کوشش کی۔ لیکن اگر ابھی تک ہماری جماعت نے اس کی طرف پوری توجہ نہ کی ہو تو میں ایک دفعہ پھر آپ لوگوں کو اس فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ عیسائیت کا فتنہ کوئی معمولی فتنہ نہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آدم سے لے کر اب تک کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں آیا جس نے اپنی امت کو دجال کے فتنہ سے نہ ڈرایا ہو۲۷۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اتنے بڑے فتنہ کے ہوتے ہوئے ہماری جماعت کس طرح آرام کی نیند سو سکتی ہے اور کس طرح چھوٹی چھوٹی باتوں میں وہ اپنے قیمتی وقت کو ضائع کر سکتی ہے۔ جب کسی کے گھر میں آگ لگ جاتی ہے تو لوگ بیٹھ کر گپیں ہانکنے نہیں لگ جاتے بلکہ پاگلانہ طور پر اِدھر اُدھر دوڑنے اور آگ پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر یہی احساس ہماری جماعت کے اندر بھی موجود ہو تو کفر و شرک کی آگ جو اس وقت دنیا کو جلا کر خاکستر کر رہی ہے اُس کو بجھانے کیلئے آپ لوگوں کے اندر کیوں بے تابی پیدا نہ ہو۔ پس میں آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ وقت کی نزاکت کو سمجھو اور اس جہاد کی طرف آؤ جس سے بڑا جہاد اس زمانہ میں اور کوئی نہیں۔ آج ایک بہت بڑی روحانی جنگ دنیا میں لڑی جا رہی ہے اور اسلام کے مقابلہ میں ایک بڑا بھاری فتنہ سر اٹھائے ہوئے ہے۔ ہماری تو راتوں کی نیند بھی اس فکر میں اُڑ جانی چاہئے اور ہمیں اپنے تمام پروگرام اس نقطہ کے اردگرد مرکوز کرنے چاہئیں۔ بیشک تزکیۂ نفس بھی ایک بڑی ضروری چیز ہے اور دعاؤں اور ذکر الٰہی سے کام لینا بھی ہر مومن کا فرض ہے مگر تبلیغ اسلام ایک نہایت وسیع اور عالمگیر نیکی ہے جس میں حصہ لینے والا تزکیۂ نفس اور دعاؤں اور ذکر الٰہی کی دولت سے بھی محروم نہیں رہے گا۔ پس دجالی فتنہ کے مقابلہ کے لئے اجتماعی کوشش کرو۔ اپنے اموال کی ہمیشہ قربانی کرتے رہو اور اپنے اوقات کو اس غرض کے لئے وقف کرو تاکہ اسلام دنیا میں غالب آئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت دنیا کے کونہ کونہ میں قائم ہو۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ لوگوں کے اس اجتماع کو ہر لحاظ سے خیر و برکت کا موجب بنائے اور آپ کو اپنی ذمہ داریوں کے سمجھنے اور وقت کے تقاضوں کو صحیح رنگ میں شناخت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ لوگوں میں ایسا جذب روحانی اور اخلاص پیدا کرے کہ آپ لاکھوں لاکھ لوگوں کو احمدیت میں داخل کرنے کا موجب بن جائیں تاکہ قیامت کے دن ہم شرمندہ نہ ہوں بلکہ اللہ تعالیٰ ہماری کمزوریوں اور خطاؤں کو معاف فرماتے ہوئے اپنی رحمت کی چادر میں ہمیں چھپالے اور اپنے دین کے سچے اور جاں نثار خادموں میں شامل کرے۔ اے خُدا! تُو ایسا ہی کر۔
والسلام خاکسار مرزا محمود احمدؓ (الفضل 3 نومبر 1963ء)
”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ وَ عَلٰی عَبْدِهِ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھُوَ النَّاصِرُ
برادران! اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُهُ
جیسا کہ احباب کو علم ہے مولوی دوست محمد صاحب شاہد میری ہدایت کے ماتحت تاریخ احمدیت جمع کر رہے ہیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہ خدا کے فضل سے انہوں نے اس کا چوتھا حصہ بھی مکمل کر لیا ہے۔ استاذی المکرّم حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح الاول کے بلند مقام اور آپ کے عظیم الشان احسانات کا کم از کم تقاضا یہ ہے کہ جماعت کا ہر فرد آپ کے زمانہ کی تاریخ کی اشاعت میں پورے جوش وخروش سے حصہ لے۔ اسے خود بھی پڑھے اور دوسروں کو بھی پڑھائے۔ بلکہ میں تو یہ بھی تحریک کروں گا کہ جماعت کے وہ مخیّر اور مخلص دوست جوسلسلہ کے کاموں میں ہمیشہ ہی نمایاں حصہ لیتے رہے ہیں تاریخ احمدیت کے مکمل سیٹ اپنی طرف سے پاکستان اور ہندوستان کی تمام مشہور لائبریریوں میں رکھوا دیں تا اس صدقہ جاریہ کا ثواب اُنہیں قیامت تک ملتا رہے اور وہ اور ان کی نسلیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وارث ہوتی رہیں۔ اٰمِیْنَ
والسلام خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی 4-12-1963ء“ (الفضل 10؍دسمبر 1963ء)
”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ وَ عَلٰی عَبْدِهِ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ درویشان قادیان! اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُهٗ تم لوگ قادیان جو احمدیت کا مرکز ہے اس میں بیٹھے ہو تم خوش قسمت ہو۔ میں اس سے محروم ہوں۔ دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اسلام کی خدمت کی توفیق دے۔ آمین مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی 13؍دسمبر 1963ء“ (تاریخ احمدیت جلد 22 صفحہ 197، 198 ناشر نظارت اشاعت ربوہ)
”برادرانِ کرام!
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ
وقفِ جدید کا ساتواں سال شروع ہو رہا ہے۔ میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ پہلے سے زیادہ قربانی کر کے وقفِ جدید کو مضبوط کریں۔
خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی“ (الفضل 2؍جنوری 1964ء)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ وَ عَلٰى عَبْدِهِ الْمَسِيْحِ الْمَوْعُوْدِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ
برادران!
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ
تحریکِ جدید کا نیا سال شروع ہو رہا ہے۔ دوست قربانی کریں اور پچھلے سال سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہو اور ان کی مدد کرے۔ اٰمِیْنْ والسلام
خاکسار دستخط (مرزا محمود احمد) خلیفۃ المسیح الثانی،، (الفضل 4 نومبر 1964ء)
’’تمہارا نام ’’انصار اللہ‘‘ ہے۔ تم نے اپنے اس نام کی عزت کا خیال ہمیشہ رکھنا ہے۔ خدا تعالیٰ تمہیں حقیقی معنوں میں انصار اللہ بنائے۔ اٰمِیْن‘‘ (الفضل 15 نومبر 1964ء)
”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ وَ عَلٰی عَبْدِهِ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھُوَ النَّاصِرُ مجھے یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ مجلس خدام الاحمدیہ احمدیت کے دائمی مرکز قادیان کی یاد میں جلسوں کا انعقاد کر رہی ہے۔ میں اِس موقع پر خدام کو نصیحت کرتا ہوں کہ اخلاص سے کام کرو اللہ تعالیٰ تمہارے اخلاص کو برکت دے گا۔ خاکسار مرزا محمود احمد‘‘ (الفضل 17 نومبر 1964ء)
تاریخ احمدیت کے پانچویں حصہ سے متعلق حضور فرماتے ہیں کہ:۔
’’ادارۃ المصنفین ربوہ کی طرف سے تاریخِ احمدیت کا پانچواں حصہ شائع کیا جا رہا ہے۔ سلسلہ کی تاریخ سے واقفیت رکھنا ہر احمدی کے لئے ضروری ہے۔ احباب کو چاہئے کہ اس کا مطالعہ کریں اور اس کی اشاعت میں حصہ لیں۔
والسلام خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی‘‘ (الفضل 18؍دسمبر 1964ء)
’’اللہ تعالیٰ آپ سب کا قادیان میں جمع ہونا مبارک کرے۔ میرا پیغام آپ کے لئے یہی ہے کہ اپنے نمونے سے دنیا کو احمدیت کی طرف کھینچیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو۔‘‘ (تاریخ احمدیت جلد 22 صفحہ 552 ناشر نظارت اشاعت ربوہ)
’’برادرانِ جماعت احمدیہ!
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ
وقف جدید کے نئے مالی سال کا آغاز ہو رہا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ احباب اس تحریک میں پہلے سے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے اور اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو پہلے سے بھی تیز کریں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق عطا فرمائے۔
خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی ”28-12-1964ء“ (الفضل 2؍جنوری 1965ء)
’’فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں صدر پاکستان راولپنڈی صدر پاکستان منتخب ہونے پر از راہِ نوازش میری طرف سے انتہائی پُر خلوص مبارکباد قبول فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بے پایاں فضل و رحم سے آپ کو طاقت اور ہمت عطا فرمائے تا کہ آپ اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے میں اپنی مساعی کو عزم و اعتماد کے ساتھ جاری رکھ سکیں۔ وہ آپ کو قوم کی خدمت بجا لانے کی توفیق بخشے اور اُسی کے فضل سے آپ تحفظ و خوشحالی کی جانب قوم کی راہ نمائی کرنے میں کامیاب ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کا رہبر ہو اور آپ کو اپنی تائید و نصرت سے نوازے۔ اور اُن سب پر اپنا فضل نازل فرمائے جو پاکستان اور اسلامی دنیا کی فلاح و بہبود کی جدوجہد میں بے لوثی اور للّٰہیت کے جذبہ کے ماتحت آپ کے ہاتھ مضبوط کرنے میں کوشاں ہوں۔
مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ‘‘ (الفضل 5؍جنوری 1965ء)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ کتاب تفہیمات ربانیہ کا دوسرا ایڈیشن کافی اضافہ کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ میں نے 1930ء میں پہلی طبع کے وقت بھی احباب جماعت کو تحریک کی تھی۔ یہ ایک مفید کتاب ہے۔ اس میں مخالفین کے اعتراضات کے مدلّل جوابات دیئے گئے ہیں۔ دوستوں کو چاہئے کہ اس کتاب کی کثرت سے اشاعت کریں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ والسلام خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی 11-1-1965ء‘‘ (الفضل 14 جنوری 1965ء)
ترجمہ’’ربوہ مؤرخہ 6 ستمبر 1965ء بخدمت فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں صدر پاکستان۔ راولپنڈی ’’مجھے یہ معلوم کر کے انتہائی قلق اور صدمہ ہوا ہے کہ بھارتی حکومت نے بغیر کسی وجہِ اشتعال کے بزدلانہ طور پر ہماری مقدس سرزمین پر جارحانہ حملہ کیا ہے۔ امتحان و آزمائش کے موجودہ وقت میں پوری کی پوری قوم یک جان ہو کر فردِ واحد کی طرح آپ کے پیچھے ہے۔ میں اپنی طرف سے اور جماعت احمدیہ کی طرف سے آپ کو دل و جان کے ساتھ مکمل تعاون اور مدد کا یقین دلاتا ہوں۔ اِس نازک موقع پر ہم ہر مطلوبہ قربانی بجالانے کا عہد کرتے ہیں۔
میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے بے پایاں فضل کے نتیجہ میں اپنی خاص رہنمائی سے آپ کو نوازے اور ہم سب کو اپنے وطنِ عزیز کا دفاع کرنے کی طاقت و ہمت عطا فرمائے یہاں تک کہ ہم اُس کے فضل سے کُلّی طور پر فتحیاب ہوں اور ہمارے کشمیری بھائی آزادی سے ہمکنار ہوں۔ اٰمِیْنَ
پاکستان پائندہ باد مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ (الفضل ۹؍ ستمبر ۱۹۶۵ء)
”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھُوَ النَّاصِرُ
احباب جماعت!
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُهُ
آپ کو علم ہے کہ ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کر دیا ہے اور پاکستان میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ میں پاکستان کے تمام احمدیوں کو یہ ہدایت دیتا ہوں کہ وہ اپنی شاندار روایات کو قائم رکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے ہر طرح تعاون کریں اور استحکامِ پاکستان کے لئے ہر قسم کی قربانیاں بشاشت کے ساتھ پیش کرتے ہوئے حُبِّ الوطنی کا ثبوت دیں اور اپنے ربّ رحیم سے دعائیں بھی کرتے رہیں کہ ہمارا وہ مہربان خدا حق و صداقت اور انصاف کی فتح کا دن ہمیں جلد تر دکھائے۔
کوئی احمدی مرد اور عورت اپنے شہر، قصبہ یا گاؤں کو ہرگز نہ چھوڑے سوائے اس کے کہ حکامِ وقت دفاعی مصالح کے پیشِ نظر اُن مقامات کو خالی کروانا چاہتے ہوں۔
دُعاؤں اور قربانیوں کے ساتھ اپنے محبوب وطن کو مستحکم اور ناقابلِ تسخیر بنا دیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔
والسلام مرزا بشیر الدین محمود احمدؒ (الفضل 10؍ستمبر 1965ء)
حضرت مصلح موعود کے کاغذات میں سے حضور کے اپنے قلم سے لکھی ہوئی بچوں کے لئے دعا الفضل میں اشاعت کے لئے بھجوا رہی ہوں ممکن ہے پہلے کبھی شائع بھی ہو چکی ہو۔ ماں باپ کو چاہئے کہ بچوں کو یہ دعا یاد کروائیں۔ (مریم صدیقہ)
’’اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ
اے ہمارے پیدا کرنے والے خدا! ہم اقرار کرتے ہیں کہ تُو ایک ہے تیرے سوا کوئی خدا نہیں۔ ہم تیرے رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے ہیں اور تیرے مامور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ احمد قادیانی علیہ السلام پر یقین رکھتے ہیں۔ تُو ہمارے دل میں اپنی محبت پیدا کر اور اپنے حکموں پر چلنے کی ہمیں توفیق دے۔ ہمیں دین کا علم سکھا اور قرآن جو تیری کتاب ہے پڑھا۔ ہمارے دل میں ماں باپ کا ادب ڈال۔ ہم اپنے بھائیوں، بہنوں اور دوسرے رشتہ داروں سے پیار کریں۔ اور ہمیں گالیاں دینے، لڑنے، بے وجہ غصّہ کرنے، چوری کرنے، جھوٹ بولنے، بے شرمی کی باتیں کرنے سے بچا۔ ہم دلیر ہوں ڈرپوک نہ ہوں۔ ہمیں علم سیکھنے کی توفیق دے۔ ہم نکمّے اور سُست نہ ہوں۔ ہم اپنے سے غریبوں اور کمزوروں پر رحم کرنے والے ہوں۔ ہم حریص اور لالچی نہ ہوں۔ اے اللہ! ہمارے بزرگوں پر رحم کر۔ احمدی جماعت کے امام پر اپنا فضل کر اور اُن کے حُکموں کے ماتحت ہمیں بھی دین کے کام کرنے کی توفیق دے۔ اور اسلام کو دوسرے دینوں پر غالب کر۔ اے اللہ! ہماری عمروں اور صحتوں میں بھی برکت دے اور تُو ہمیشہ ہم سے محبت کیا کر۔ اٰمِیْن‘‘
(الفضل 26؍دسمبر 1970ء)
11: ابو داؤد کتاب الملاحم باب مَا يُذْكَر فِی قَرْنِ الْمِائَة حدیث نمبر 4291 صفحہ 602 الطبعة الثانية مطبوعہ ریاض 1999ء 12: آل عمران: 32 13: اليواقيت وَالْجواهر جلد 2 صفحہ 22 مطبوعہ مصر 1351ھ 14: درثمین فارسی صفحہ 140 شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ 15: مسلم کتاب الایمان باب بيان كون النَّهى عن الْمُنْكر (الخ) حدیث نمبر 177 صفحہ 42 الطبعة الثانية مطبوعہ ریاض 2000ء 16: اليواقيت والجواهر جلد 2 صفحہ 22 مطبوعہ مصر 1351ھ 17: موضوعات کبیر ملّا علی قاری صفحہ 35 مطبوعہ دہلی 1315ھ 18: مسلم کتاب الفتن باب قُرْبِ السَّاعَةِ (الخ) حدیث نمبر 7402 صفحہ 1297 الطبعة الثانية مطبوعہ ریاض 2000ء میں ’لَاتَقُوْمُ السَّاعَةُ اِلَّا عَلٰی شِرَارِ النَّاسِ‘ کے الفاظ ہیں۔ 19: بخاری کتاب الادب باب رحمة الولد و تقبیلہ و معانقتہ حدیث نمبر 1050 صفحہ 5999 الطبعة الثانية مطبوعہ ریاض 1999ء 20: اسد الغابة الجزء الاول صفحہ 171 مطبوعہ بیروت 2006ء الطبعة الاولىٰ 21: النسائی کتاب مناسک الحج باب بناء الْکَعْبَة حدیث نمبر 2903 تا 2907 صفحہ 399، 400 الطبعة الاولىٰ مطبوعہ ریاض 1999ء۔ 22: الاعراف: 173 23: الاعراف: 173 24: الاعراف: 159 25: آل عمران: 111 26: الانفال: 25 27: بخاری کتاب الفتن باب ذكر الدَّجال حدیث نمبر 7127 صفحہ 1227 الطبعة الثانية مطبوعہ ریاض 1999ء