فہرست

انوار العلوم جلد ۲۰

صفحات ۱–۶۰۸

اپنے فرائض کی ادائیگی میں رات دن منہمک رہو

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

اپنے فرائض کی ادائیگی میں رات دن منہمک رہو

(فرمودہ ۷؍اگست ۱۹۴۸ء بمقام کوئٹہ)

تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ اچھا کام تعریف کے قابل ہوتا ہے اور بُرا کام مذمت کے قابل ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی استاد اپنے شاگردوں کا دل بڑھانے کیلئے ان کے تھوڑے اور نامکمل کام کو بھی قابلِ تعریف ظاہر کرتا ہے اور کبھی وہ ان کے اندر نیا عزم پیدا کرنے کیلئے ان کے اچھے کاموں کو بھی قابلِ اعتراض اور قابلِ تنقید قرار دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے شاگرد اپنے کاموں کی طرف زیادہ توجہ کرنے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ عرفی یا انوری ان دونوں میں سے کسی ایک کے متعلق مجھے ایک واقعہ یاد ہے۔ وہ ذکر کرتا ہے کہ میں شعر کہا کرتا تھا اور اصلاح کے لئے استاد کے پاس لے جایا کرتا تھا مگر وہ بڑی سختی کے ساتھ ان پر تنقید کیا کرتا تھا۔ اتنی سخت تنقید کہ وہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتی تھی۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے اپنے متعلق احساس پیدا ہو گیا تھا کہ میں بڑا اچھا ادیب بن گیا ہوں لیکن میں نے متواتر دیکھا کہ میرا استاد برابر جرح کرتا چلا جاتا تھا۔ میں نے یہ خیال کر کے کہ یہ جرح نامناسب ہے اور تعصب پر مبنی ہے ایک دفعہ شرارت کر کے پرانی کاپیوں سے کچھ کاغذ اُکھیڑے اور ان کی جلد بنالی اور خط بدل کر کسی سے چند نظمیں ان پر نقل کرالیں اور اپنے استاد کے پاس لے گیا۔ میں نے کہا مجھے اپنے والد صاحب کی لائبریری میں سے پُرانے شاعروں کے کلام کے یہ اجزاء ملے ہیں۔ انہوں نے وہ نظمیں پڑھنی شروع کی ہی تھیں کہ بے تحاشہ تعریف کرنی شروع کر دی کہ یہ بڑا اعلیٰ درجہ کا کلام ہے اس نے بہت ہی عمدہ کہا ہے۔ وہ کہتا ہے جب میں نے یہ تعریفیں سنیں

تو کہا استاد جی! بس رہنے دیجئے ۔ میں نے دیکھ لیا ہے کہ آپ بلا وجہ مجھ پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ یہ میرے ہی شعر تھے جو میں پُرانے کاغذوں پر لکھ کر لے آیا ہوں اور میں نے یونہی آزمانے کے لئے یہ کہہ دیا تھا کہ یہ پُرانی نظمیں ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ جب میں نے یہ بات کہی تو میرے استاد کا چہرہ افسردہ ہو گیا اور اس نے کہا میں تو سمجھتا تھا کہ میں اپنے پیچھے ایک ایسا شاگرد چھوڑ جاؤں گا جس کا فارسی زبان میں کوئی مقابلہ نہیں کر سکے گا مگر آج تم نے یہ جرأت کی ہے تو اس کی وجہ سے اب تمہاری تمام ترقی ختم ہوگئی ہے۔ میں دشمنی کی وجہ سے تم پر تنقید نہیں کیا کرتا تھا بلکہ اس لئے تنقید کرتا تھا کہ تا تم زیادہ سے زیادہ کوشش کرو اور تمہارے مخفی جو ہر زیادہ سے زیادہ ظاہر ہوں۔ اگر میں کہہ دیتا کہ تم اچھے شاعر بن گئے ہو تو تم مزید محنت نہ کرتے یہ جرح ہی کا نتیجہ ہے کہ تم نے خوب زور لگایا اور محنت سے کام لیا اور اب تم صاحب کمال بن گئے ہو لیکن اب تمہاری ترقی ختم ہوگئی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ واقعہ یہی ہے کہ میں نے پھر اس سے زیادہ ترقی نہیں کی۔

پس تنقید کئی وجوہ سے ہوتی ہے۔ کبھی کام کرنے والے کی تعریف کی جاتی ہے کہ کم حوصلہ انسان سست نہ ہوجائے اور ہمت نہ ہار بیٹھے اور کبھی سخت تنقید کی جاتی ہے تا با حوصلہ آدمی زیادہ سے زیادہ اپنے دماغ پر زور ڈال کر اپنے مخفی جوہر کو باہر نکالنے کی کوشش کرے۔ یہ کام بہت ہی مشکل ہے۔ فطرت کا سمجھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ جیسے اس استاد نے غلطی کی اور اتنی سخت تنقید کی کہ جس سے شاگرد مایوس ہو گیا اور آخر اس نے دھوکا دیا جس کی وجہ سے وہ آئندہ ترقی حاصل نہ کر سکا۔ پس کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان غلط اندازہ لگاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ فلاں آدمی بہت بلند حوصلہ ہے۔ اس پر جتنی بھی تنقید کی جائے اتنی ہی وہ محنت کرے گا اور اس کے مخفی جو ہر ظاہر ہوں گے لیکن اس کا نتیجہ اُلٹ نکلتا ہے وہ کم حوصلہ اور کم ہمت ہوتا ہے اور اس تنقید کی وجہ سے وہ مایوس ہو جاتا ہے اور آئندہ ترقیوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ پھر بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ یہ کم حوصلہ اور کم ہمت ہے اس کی ہمت وحوصلہ بڑھانے کے لئے وہ اس کی تعریف شروع کر دیتا ہے لیکن وہ کم حوصلہ نہیں ہوتا اگر وہ اس پر تنقید کرتا تو اس کے مخفی جو ہر ظاہر ہوتے لیکن استاد نے اس کا اندازہ غلط لگایا اور کم حوصلہ سمجھ کر تعریف کردی۔ اس تعریف کی وجہ سے وہ

محنت اور مزید جدوجہد نہیں کرتا۔ اس لئے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتا اور ان اعلیٰ ترقیات سے محروم ہو جاتا ہے جن کا حصول اس کے لئے ممکن تھا۔ مگر ان خطرات کے درمیان بہرحال ایک تیسرا راستہ بھی ہے اور وہ یہ کہ انسان اچھے کام کی تعریف کرے اور بُرے کی مذمت کرے۔ بعض غلطیاں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ تھوڑی سی کوشش سے درست ہو جاتی ہیں اور اگر انہیں نظر انداز کیا جائے تو قومی ترقی رُک جاتی ہے۔

کوئٹہ میں مَیں پہلی دفعہ آیا ہوں۔ اگرچہ یہاں کے خدام میں سے بعض نے قادیان میں تعلیم پائی ہے اور بعض کے ماں باپ بھی وہاں رہتے تھے مگر پھر بھی ان کے کاموں پر مجھے تنقید کا اس طرح موقع نہیں ملا جیسے آج ملا ہے۔ میں جب سے یہاں آیا ہوں میں محسوس کرتا ہوں کہ یہاں کے خدام علمی حصے کی طرف بہت کم توجہ کرتے ہیں۔ مثلاً جس خادم نے تلاوت کی ہے اُس نے اِس امر کو ملحوظ نہیں رکھا کہ قرآن مجید صحیح طور پر پڑھا جائے۔ اگر وہ تھوڑی سی اس امر کی کوشش کرتے تو بڑی آسانی کے ساتھ صحیح طور پر تلاوت کر سکتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ انہوں نے بالعموم الف کو فتح کے ساتھ ادا کیا ہے۔ ان کی تلاوت میں ۵۰ یا ۶۰ فیصدی الف تھے جو انہوں نے فتح کے ساتھ ادا کئے ہیں۔ حالانکہ الف اور فتح الگ الگ چیزیں ہیں اور ان دونوں میں بہت فرق ہے۔ اسی طرح انہوں نے مدات کو بالعموم گرا دیا ہے۔ یعنی جہاں دو الف تھے وہاں انہوں نے ایک ہی الف پڑھا ہے اسی طرح اور باتیں بھی تھیں جنکی وجہ سے تلاوت ناقص ہوگئی۔

میں اس بات کا قائل نہیں کہ کوئی شخص اس بات میں لگا رہے کہ قاری کی طرح وہ قراءت کر سکے لیکن جو کام آسانی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے اسے کیوں چھوڑا جائے۔ یہ کوشش کرنا کہ ہم قاری کی طرح ہی ادا کریں درست نہیں کیونکہ اس کی طاقت ہمیں خدا نے نہیں بخشی۔ میری مرحومہ بیوی اُمّ طاہر بیان کیا کرتی تھیں کہ ان کے والد صاحب کو قرآن مجید کے پڑھنے پڑھانے کا بڑا شوق تھا۔ انہوں نے اپنے لڑکوں کو قرآن پڑھانے کے لئے استاد رکھے ہوئے تھے اور لڑکی کو بھی قرآن پڑھنے کے لئے ان کے سپرد کیا ہوا تھا۔ اُمّ طاہر بتایا کرتی تھیں کہ وہ استاد بہت مارا کرتے تھے اور ہماری انگلیوں میں شاخیں ڈال ڈال کر ان کو دباتے تھے مارتے

تھے پیٹتے تھے اس لئے کہ ہم ٹھیک طور پر تلفظ کیوں ادا نہیں کرتے ۔ ہم پنجابی لوگوں کا لہجہ ہی ایسا ہے کہ ہم عربوں کی طرح عربی کے الفاظ ادا نہیں کر سکتے ۔

لاہور میں ایک میاں چٹو رہا کرتے تھے وہ بعد میں چکڑالوی ہو گئے ان کے پاس ایک عرب آیا اور وہ اُس کو لے کر قادیان پہنچے ان دنوں صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید جو علاقہ خوست کے ایک بہت بڑے بزرگ تھے یہاں تک کہ امیر امان اللہ خاں کے دادا حبیب اللہ خاں کی رسم تاجپوشی بھی انہی سے کروائی گئی تھی ، وہ بھی قادیان میں آئے ہوئے تھے ۔ وہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے اور باتیں ہو رہی تھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دو تین دفعہ ض کا استعمال کیا۔ آپ کا لہجہ اگرچہ درست تھا لیکن لکھنو کے آدمی جیسے اسے ادا کرتے ہیں آپ ویسے ادا نہیں کر سکتے تھے دو چار دفعہ آپ نے یہ لفظ استعمال کیا تو وہ عرب جو کئی سال سے لکھنؤ میں رہتا تھا اور اردو بولتا تھا اس نے کہا آپ کو کس نے مسیح موعود بنایا ہے؟ آپ کو تو ض بھی صحیح طور پر ادا کرنا نہیں آتا ۔ صاحبزادہ صاحب بڑے عالم تھے اور آپ کو معلوم تھا کہ اس کی کیا حقیقت ہے ۔ وہ غصہ میں آگئے اور اسے مارنے کے لئے اپنا ہاتھ اُٹھایا۔ مولوی عبدالکریم صاحب نے دیکھ لیا۔ آپ نے اسے چھڑانے کی کوشش کی ۔ آپ چونکہ پٹھان اور طاقتور تھے اور مولوی عبدالکریم صاحب اکیلے اس میں کامیاب نہیں ہو سکتے تھے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کا دوسرا ہاتھ پکڑ لیا کیونکہ آپ کا خیال تھا کہ آپ اسے مار بیٹھیں گے ۔ اب دیکھو اس عرب نے یہ کیسی لغو حرکت کی ۔ ہر ملک کا الگ الگ لہجہ ہوتا ہے۔

عرب خود کہتے ہیں کہ ہم ناطقین بالضاد۱؎ہیں، ہندوستانی اسے ادا نہیں کر سکتے ۔ ہندوستان میں ض کو قریب ترین ادا کرنے والوں میں سے ایک میں ہوں لیکن میں بھی یہ نہیں کہتا کہ میں اسے بالکل صحیح ادا کرتا ہوں ۔ قریب ترین ہی ادا کرتا ہوں ۔ ہندوستانی لوگ اسے دواد یا ضاد پڑھتے ہیں لیکن اس کے مخارج اور ہیں پس جب عرب خود کہتا ہے کہ ہم ناطقین بالضاد ہیں اور کوئی اسے صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتا تو پھر اعتراض کی بات ہی کیا ہوئی ۔ جرمن لوگوں کو لے لو وہ گڈ اور گاڈ کے لفظوں کو ادا نہیں کر سکتے ۔ وہ یا گڈ کہیں گے یا گوٹھ کہیں گے ۔ پس میں یہ تو نہیں کہتا کہ ہم ان الفاظ کو ادا کرنے کا اہتمام کریں جن کے ادا کرنے کے ہم قابل نہیں یہ تو محض وقت کا ضیاع ہے لیکن الف ادا کرنا ہماری طاقت سے باہر نہیں۔ مد کو ادا کرنا ہماری طاقت سے باہر نہیں۔ اگر صحیح طور پر کوشش کی جائے تو قرآن کو ہم اپنے لہجہ کے لحاظ سے اچھی طرح ادا کر سکتے ہیں خصوصاً جبکہ گلا اچھا ہو۔

پھر تلاوت کے بعد جو نظم پڑھی گئی ہے وہ بھی اس دستور کے مطابق کہ عموماً پہلے چند اشعار ٹھیک پڑھے جاتے ہیں اور پھر غلطیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح انہوں نے بھی سات آٹھ اشعار تو ٹھیک پڑھے اور اس کے بعد غلطیاں شروع کر دیں جب جلسہ میں کوئی شخص تلاوت کرتا ہے یا نظم کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس چھوٹی سی عبارت کا مجلس میں پڑھ لینا کوئی مشکل امر نہیں ہوتا اور اگر وہ خود اسے صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتا تو کسی واقف زبان سے درست کروا لینا اس کے لئے کوئی مشکل نہیں ہوتا۔ یہ قدرتی بات ہے کہ ایسی صورت میں سننے والے بجائے فائدہ اُٹھانے کے لفظی غلطیوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور اس طرح فائدہ سے محروم ہو جاتے ہیں اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ خدام صحیح طور پر قرآن کریم پڑھنا سیکھیں اور اُردو کی عبارتوں کو بھی صحیح ادا کرنے کی کوشش کیا کریں۔

ایڈریس میں جن کاموں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے میں ان سے خوش ہوں کہ انہوں نے ان کاموں کے کرنے کی کوشش کی ہے لیکن میں ان کی توجہ اس طرف پھرانا چاہتا ہوں کہ جس کام کے لئے ہم کھڑے ہوئے ہیں وہ اتنا عظیم الشان ہے کہ اس کے لئے یہ کوششیں کافی نہیں ہوسکتیں۔ مخالف ہمارے مقصد کو نہیں سمجھتا تو وہ معذور ہے۔ اگر وہ ضد یا ناواقفیت کی وجہ سے ہماری مخالفت کرتا ہے تو کوئی اعتراض کی بات نہیں وہ تو اس پر غور ہی نہیں کرنا چاہتا یا اگر غور کرتا ہے تو تعصب کی وجہ سے وہ صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتا لیکن اگر ہم بھی اپنے مقصد کو نہ سمجھیں اور ہمارا بھی رویہ ایسا ہی ہو کہ ہم اپنے مقصد کو سمجھنے کی کوشش نہ کریں تو ہم پر یقیناً افسوس ہوگا۔ ہمارا دعویٰ ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہمارا دعویٰ سچا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نازک حالت کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا اور اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی جماعت کے ذریعہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کو پھر سے دنیا میں قائم کر دے۔ یہ مقصد ہے جس کے لئے ہمیں کھڑا کیا گیا ہے اور جس کی خدا تعالیٰ ہم سے امید کرتا ہے اور یہ معمولی چیز نہیں۔ ایک انسان کے لئے ایک انسان کی اصلاح بھی ناممکن ہے مگر ہم نے تمام دنیا کی اصلاح کرنی ہے۔ اسلام کے ماننے والوں میں سے کتنے ہیں جو خوشی سے ان احکام کو مانتے ہیں اور ان پر عمل کرنے کے لئے تیار ہیں۔ پھر جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم اسلام کے احکام پر عمل کرنے کے لئے تیار ہیں ان میں سے کتنے ہیں جو واقعہ میں عمل کرنے کے لئے تیار ہیں اور پھر جو عمل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ان میں سے کتنے ہیں جو ان پر عمل کر کے صحیح طور پر کامیاب ہوئے ہیں۔

پہلا سوال تو یہ ہے کہ وہ اسلام کے معنی ہی نہیں سمجھتے۔ ہر آدمی ایسی چیزوں اور عقائد کو جو رسم و رواج میں داخل ہیں الگ کر لیتا ہے اور کہتا ہے ان کو الگ کر لو باقی جو کچھ ہے وہ اسلام ہے۔ کچھ عورتیں پردہ کی قائل نہیں ہیں وہ اس کو الگ کر لیتی ہیں اور کہتی ہیں بھلا اللہ تعالیٰ کو چھوٹے چھوٹے امور میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے۔ پردہ کو الگ کر دو باقی جو کچھ ہے وہ اسلام ہے۔ ہمارے نوجوان جن کے لئے ڈاڑھی رکھنا مشکل ہے وہ کہہ دیتے ہیں یہ تو کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی، باقی جو کچھ ہے وہ اسلام ہے۔ سُود لینے والا کہہ دیتا ہے کہ بینکنگ تو نہایت ضروری چیز ہے اس لئے سُود کو چھوڑو، باقی جو کچھ ہے اسلام ہے۔ غرض جس حکم کو وہ نہیں مانتا اس کے نزدیک وہ اسلام نہیں، باقی امور اسلام میں داخل ہیں تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے۔ سُود بھی اسلام میں داخل نہیں، نمازیں بھی اسلام میں داخل نہیں، ڈاڑھیاں بھی اسلام میں داخل نہیں تو پھر کچھ بھی اسلام میں داخل نہیں۔

مَثَل مشہور ہے کہ کوئی بُزدل آدمی تھا اسے وہم ہو گیا تھا کہ وہ بہت بہادر ہے۔ وہ گودنے والے کے پاس گیا۔ پرانے زمانہ میں یہ رواج تھا کہ پہلوان اور بہادر لوگ اپنے بازو پر اپنے کیریکٹر اور اخلاق کے مطابق نشان کھدوا لیتے تھے۔ یہ بھی گودنے والے کے پاس گیا۔ گودنے والے نے پوچھا تم کیا گدوانا چاہتے ہو؟ اس نے کہا میں شیر گدوانا چاہتا ہوں۔ جب وہ شیر گودنے لگا تو اس نے سوئی چبھوئی۔ سوئی چبھونے سے درد تو ہونا ہی تھا وہ دلیر تو تھا نہیں اس نے کہا یہ کیا کرنے لگے ہو؟ گودنے والے نے کہا شیر گودنے لگا ہوں۔ اس نے پوچھا شیر کا کونسا حصہ گودنے لگے ہو؟ اس نے کہا دُم گودنے لگا ہوں۔ اس آدمی نے کہا شیر کی دُم اگر کٹ جائے تو کیا وہ شیر نہیں رہتا؟ گودنے والے نے کہا شیر تو رہتا ہے۔ کہنے لگا اچھا دُم چھوڑ دو اور دوسرا کام کرو۔ اس نے پھر سوئی ماری تو وہ بول اُٹھا۔ اب کیا کرنے لگے ہو؟ اس نے کہا اب دایاں بازو گودنے لگا ہوں۔ اس آدمی نے کہا اگر شیر کا لڑائی یا مقابلہ کرتے ہوئے دایاں ہاتھ کٹ جائے تو کیا وہ شیر نہیں رہتا؟ اس نے کہا شیر تو رہتا ہے۔ کہنے لگا پھر اس کو چھوڑ و اور آگے چلو۔ اسی طرح وہ بایاں بازو گودنے لگا تو کہا اسے بھی رہنے دو کیا اس کے بغیر شیر نہیں رہتا؟ پھر ٹانگ گودنی چاہی تب بھی اس نے یہی کہا۔ آخر وہ بیٹھ گیا۔ اس آدمی نے پوچھا کام کیوں نہیں کرتے۔ گودنے والے نے کہا اب کچھ نہیں رہ گیا۔ یہی آجکل اسلام کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے۔ لوگ اپنی مطلب کی چیزیں الگ کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ باقی جو کچھ ہے وہ اسلام ہے۔

ہمارے نانا جان فرمایا کرتے تھے کہ چھوٹی عمر میں میری طبیعت بہت چلبلی تھی۔ آپ میر درد کے نواسے تھے اور دہلی کے رہنے والے تھے۔ وہاں آم بھی ہوتے ہیں۔ آپ فرمایا کرتے تھے جب والدہ والد صاحب اور بہن بھائی صبح کے وقت آم چوسنے لگتے تو میں جو آم میٹھا ہوتا اس کو کھٹا کھٹا کہہ کر الگ رکھ لیتا اور باقی آم ان کے ساتھ مل کر کھا لیتا۔ جب آم ختم ہو جاتے تو میں کہتا میرا تو پیٹ نہیں بھرا۔ اچھا میں یہ کھٹے آم ہی کھا لیتا ہوں اور سارے آم کھا جاتا۔ ایک دن میرے بڑے بھائی جو بعد میں میر درد کے گدی نشین ہوئے انہوں نے کہا میرا بھی پیٹ نہیں بھرا میں بھی آج کھٹے آم چوس لیتا ہوں۔ فرماتے تھے میں نے بہتیرا زور لگایا مگر وہ باز نہ آئے۔ آخر انہوں نے آم چوسے اور کہا یہ آم تو بڑے میٹھے ہیں تم یونہی کہتے تھے کہ کھٹے ہیں۔ جس طرح وہ آم چوستے وقت میٹھے آم الگ کر لیتے تھے اور باقی دوسروں کے ساتھ مل کر چوس لیتے تھے اور بعد میں کھٹے کھٹے کہہ کر وہ بھی چوس لیتے تھے یہی حال آجکل کے مسلمانوں کا ہے۔ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ شریعت اسلامیہ کو نافذ کیا جائے ان کا اگر یہ حال ہو تو ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو اسلام کو جانتے ہی نہیں۔ وہ تو پھر ہڈیاں اور بوٹی کچھ بھی نہیں چھوڑیں گے۔

یہی وجہ ہے کہ عیسائیوں نے یہ لکھ لکھ کر کتابیں سیاہ کر ڈالی ہیں کہ اسلام کی تعلیم پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ کیا مصیبت ہے کہ انسان پورا ایک مہینہ روزے رکھتا جائے۔ اگر

معدہ خراب ہو جائے تب تو ہو کہ ایک آدھ دن کا روزہ رکھ لیا مگر متواتر ایک مہینہ روزہ رکھتے جانا کونسی عقل کی بات ہے۔ پھر یہ کام کا زمانہ ہے، رات اور دن کام کرنا ہوتا ہے اور دن میں کئی شفٹیں ہوتی ہیں اور روزانہ پانچ پانچ نمازوں کا پڑھنا اور پھر امام کے انتظار میں بیٹھے رہنا کونسی عقل کی بات ہے۔ بھلا اس طرح انڈسٹری کیسے چل سکتی ہے۔ یہ زمانہ تجارت کا ہے۔ بینکنگ کے علاوہ دوسرے مُلکوں سے ہم ضروری اشیاء کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔ تم کہتے ہو بینکنگ اڑا دو۔ اس طرح تو مُلک تباہ ہو جائے گا۔ پھر تجارت کیسے کی جائے گی۔ اسی طرح تم کہتے ہو انشورنس کو اُڑا دو۔ انسان جتنا کماتا ہے، کھا جاتا ہے۔ اگر اس کو اڑا دیا جائے تو مرنے والا تو مر گیا، یتیم بچوں کے لئے کچھ نہیں رہے گا اور اس طرح قوم پر ایک غیر معمولی بار پڑ جائے گا پھر عورتوں کی مدد کے بغیر مرد کام نہیں کر سکتا۔ عورتیں مردوں کے دوش بدوش چلتی ہیں اور وہ ان کی عزت کا خیال کر کے ان کے اکرام کے طور پر بڑی سے بڑی قربانی کر لیتا ہے۔ اگر عورتوں کو پردہ میں بٹھا دیا جائے تو پھر دنیا کا کام کیسے چلے گا۔ یہ صفائی کا زمانہ ہے صحت ٹھیک ہونی چاہئے ۔ تم کہتے ہو ڈاڑھیاں رکھو اس سے تو جوئیں پڑ جائیں گی اور میل بڑھ جائے گی، یہ بھی کوئی انسانیت ہے۔ جرمن والے تو ٹنڈ ہی کروا لیتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ہم پر انگریز حاکم تھے جس کے نتیجہ میں سروں کے بال محفوظ رہ گئے بلکہ بودے نکل آئے۔ اگر جرمن حاکم ہوتے تو وہ سر کے بال بھی اُڑا دیتے۔

غرض تمام اسلامی احکام جو اسلام پیش کرتا ہے۔ ان پر وہ اعتراض کرتے ہیں مثلاً ایک سے زیادہ شادیاں کرنا ہے۔ وہ کہتے ہیں یہ بھی کوئی انصاف کی بات ہے، مرد کو اگر زیادہ شادیاں کرنے کا حق ہے تو عورت کو کیوں نہیں۔ اسی طرح پہلے تو طلاق بھی بُری سمجھی جاتی تھی لیکن آجکل اسے بُرا نہیں سمجھا جاتا بلکہ ٹائمنز آف لندن میں ایک دفعہ میں نے ایک واقعہ پڑھا کہ امریکہ میں ایک عورت تھی جب وہ فوت ہوئی تو وہ ۱۷ خاوند کر چکی تھی۔ جن میں سے بارہ خاوند اس کے جنازے پر موجود تھے۔ پھر طلاق کی وجوہات بھی وہاں بہت معمولی ہوتی ہیں۔ ایک عورت نے لکھا کہ میں نے اپنے خاوند سے اس لئے طلاق لی کہ میں نے ایک ناول لکھا اور خاوند سے کہا کہ اس کو شائع کرنے کی اجازت دو۔ اس نے کہا میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ میں نے جج سے کہا میں ادبی عورت ہوں اور میرے کام میں میرا خاوند روک بنتا ہے اس لئے میں طلاق لینا چاہتی ہوں ۔ جج نے کہا ٹھیک ہے ، اس طرح تو ملک کا ادب خراب ہو جائے گا۔ غرض ساری باتیں ایسی ہی مضحکہ خیز نہیں مگر ایک زمانہ ایسا گذرا ہے کہ طلاق پر بڑا اعتراض کیا جاتا تھا اور طلاق کے بعد شادی کو فحش خیال کیا جاتا تھا۔ مگر اب وہی مسئلہ ہے جس پر دوسری قومیں بھی عمل کر رہی ہیں بلکہ اس میں حد سے زیادہ گذر گئی ہیں ۔ پھر قریب کی شادیاں ہیں ۔ عیسائی اور ہندو بھی اس پر اعتراض کرتے تھے۔ مگر اب مسودے تیار ہو رہے ہیں کہ اس کی اجازت ہونی چاہئے ۔ غرض اب غیر قومیں بھی اسلامی احکام کی فضیلت کو تسلیم کر رہی ہیں لیکن اسلام میں کوئی ایک حکم نہیں بلکہ ہزاروں احکام ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہے ۔ بھلا وہ لوگ جو ہر وقت سوٹ پہننے کے دلدادہ ہیں ، آجکل حج کیسے کر سکتے ہیں وہاں اَن سلے کپڑے پہننے پڑتے ہیں ان کو یہ لوگ کیسے برداشت کر سکتے ہیں یہ تو کہیں گے نَعُوْذُ بِاللّٰہِ یہ کیا بد تمیزی کی بات ہے۔

غرض یہ ساری باتیں ایسی ہیں کہ ان کو مسلمانوں میں بھی رائج کرنا مشکل ہے کجا یہ کہ ان کو یورپین ممالک میں رائج کیا جائے ۔ وہ تو چھوٹی سے چھوٹی باتوں پر بھی اعتراض کر دیتے ہیں ۔ ہمارے مبلّغ جب امریکہ میں گئے تو وہ وہاں دیسی لباس پہنا کرتے تھے۔ ایک دن دو عورتیں آئیں اور انہوں نے کہا ہم اسلام کے متعلق باتیں سننے آئی ہیں ۔ ہمارے مبلّغ شلوار پہنے باہر آگئے ۔ وہ کمرے میں داخل ہوئے ہی تھے کہ وہ عورتیں شور مچا کر بھاگیں کہ ہمارے سامنے یہ شخص ننگا آگیا ہے، ہماری ہتک ہے۔ مبلّغ نے کہا میں کیسے ننگا ہوں ، میں نے تو شلوار پہنی ہوئی ہے لیکن ان کے نزدیک یہ نائٹ ڈریس تھا اور رات کو ہی پہنا جاتا تھا اور ان کے نزدیک نائٹ ڈریس میں آدمی ننگا ہوتا ہے۔ غرض بہت شور ہوا، محلہ والے انہیں مارنے کو دوڑے۔ اتنے میں کوئی پادری آگئے اور انہوں نے کہا یہ تو ان کے ملک کا لباس ہے ان کے نزدیک ایسے شخص کو ننگا نہیں کہتے۔

میں جب انگلینڈ گیا تو میں نے چند گرم پاجامے سلوائے تھے مگر وہاں جا کر میں نے فیصلہ کیا کہ میں شلوار ہی پہنوں گا، میں ان کا لباس کیوں پہنوں ۔ ہمارے جو وہاں مبلّغ تھے وہ

بار بار کہتے تھے کہ لوگ ہمارے متعلق کیا کہتے ہوں گے۔ مگر میں نے کہا جب ہمارے ملک میں انگریز جاتا ہے تو کیا وہ شلوار پہنتا ہے؟ اگر وہ شلوار نہیں پہنتا تو میں پتلون کیوں پہنوں۔ وہ کہتے تھے عورتیں آتی ہیں تو بُرا مناتی ہیں کیونکہ اس لباس میں وہ آدمی کو ننگا سمجھتی ہیں۔ میں نے کہا میں تو کپڑے پہنے ہوئے ہوں اور مجھے کپڑے نظر آرہے ہیں۔ ایک دن سر ڈینی سن راس آئے جو لندن میں ایک کالج کے پرنسپل تھے۔ ان کے ساتھ دو اور بھی پروفیسر تھے۔ میں نے کہا۔ سر ڈینی سن راس! میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں اگر آپ بے تکلفی سے بتائیں۔ انہوں نے کہا پوچھ لیجئے۔ میں نے کہا جو لباس میں پہنے ہوئے ہوں، کیا آپ اور آپ کے دوست اسے بُرا تو نہیں مناتے؟ انہوں نے کہا سچ پوچھیں تو ہم بُرا مناتے ہیں۔ میں نے کہا آپ جب ہندوستان گئے تھے تو کیا آپ نے شلوار پہنی تھی اور اگر نہیں پہنی تھی تو کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ انگریز خود تو دوسروں کا لباس نہیں پہنتے مگر یہ حق رکھتے ہیں کہ دوسروں کو اپنا لباس پہننے پر مجبور کر دیں۔ کہنے لگے یہ بات ان لاجیکل تو ہے لیکن ہم بُرا ضرور مناتے ہیں۔ پھر میں نے کہا میں ایک اور سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ بُرا تو مناتے ہیں مگر آپ کس کے کیریکٹر کو مضبوط سمجھتے ہیں؟ آیا اس کے کیریکٹر کو جو آپ کی رَو میں بہہ جائے یا جو اپنے طریق پر قائم رہے کیونکہ جو اپنے طریق پر قائم رہے وہی بہادر ہے۔ کہنے لگے جو اپنے طریق پر قائم رہے وہی بہادر ہے۔ میں نے کہا بس مجھے اس تعریف کی ضرورت ہے دوسری کسی بات کی میں پرواہ نہیں کرتا۔

غرض ہم اسلام کی باتوں کو دوسروں سے نہیں منوا سکتے جب تک ہم ان پر عمل کرنے میں رات دن ایک نہ کر دیں اور دعائیں کر کے ہمارے ناک نہ رگڑے جائیں اور اپنی کوششوں کو بڑھا نہ دیں۔ جب تک ہم دوسروں کی باتوں کو برداشت نہیں کر سکتے اور اپنے اندر ایک قسم کی دیوانگی پیدا نہیں کر لیتے اُس وقت تک ہم کوئی عظیم الشان تغیر پیدا نہیں کر سکتے۔ آج تک کوئی بھی بڑا کام نہیں ہوا جس کے کرنے والے کو لوگوں نے پاگل نہ کہا ہو۔ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ کیا اور ایک بڑے مقصد کو لے کر دنیا کے سامنے کھڑے ہو گئے تو کیا کوئی یہ خیال بھی کر سکتا تھا کہ آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ دنیا کے سب لوگ کہتے تھے کہ یہ کام نہیں ہو سکتا یہ تو عقل کے خلاف ہے، بھلا اتنا بڑا تغیر دنیا میں کیسے پیدا ہو سکتا

ہے۔ ان کے نزدیک آپ نے قوم کی تمام رسوم کو چھوڑ کر ایک نیا طریق اختیار کر لیا تھا۔ ان کے اندر یہ احساس تھا کہ یہ کام نہیں ہو سکتا، اس لئے وہ آپ کو پاگل کہتے تھے لیکن آپ صرف منہ سے ہی نہیں کہتے تھے بلکہ جو کہتے تھے اس کے لئے پوری جدوجہد بھی کرتے تھے۔ جب ان کے کہنے کے بعد بھی آپ رات اور دن جدوجہد میں لگے رہے تو وہ کہتے یہ شخص پکا پاگل ہے مگر آپ برابر اس کے لئے اپنی زندگی کو لگاتے چلے گئے کیونکہ آپ کو یہ یقین تھا کہ یہ کام آپ کر کے چھوڑیں گے اور اس میں ضرور کامیاب ہوں گے۔

توحید کے مسئلہ کو لے لو جس کو آجکل بڑے فخر کے ساتھ تم لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہو اور تمہاری گردنیں ان کے سامنے بلند رہتی ہیں۔ تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ فطرتی مسئلہ ہے حالانکہ اس مسئلہ کو بھی وہ مجنونانہ خیال سمجھتے تھے۔ قرآن میں آتا ہے کہ اَجَعَلَ الۡاٰلِہَۃَ اِلٰـہًا وَّاحِدًا(ص: ۶)۱؎ وہ لوگ یہ خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ایک خدا ہو سکتا ہے، ان کے نزدیک تو کئی خدا تھے۔ ان کا یہ خیال تھا کہ آپؐ نے سارے خداؤں کو کوٹ کر ایک خدا بنا لیا ہے۔ ان کے ذہنوں میں ایک خدا کا مسئلہ آتا ہی نہیں تھا۔

بھیرہ کے ایک طبیب تھے جن کا نام الہ دین تھا۔ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پہلی کتب کو پڑھا ہوا تھا۔ وہ آپ کے بہت معتقد تھے لیکن احمدی نہیں ہوئے تھے۔ ان کے پاس ان کا ایک مریض احمدی چلا گیا اور اس نے تبلیغ شروع کر دی۔ آپ کے دعویٰ کا انہیں علم تھا وہ اپنے آپ کو بہت بڑا عالم سمجھتے تھے اور حضرت خلیفہ اول جن کے علم و فضل کا ہر ایک اقرار کرتا ہے وہ ان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ نور الدین کیا جانتا ہے، وہ تو صرف ابتدائی باتیں جانتا ہے۔ جب اس دوست نے انہیں تبلیغ کی تو کہنے لگے میاں جانے بھی دو کیا مرزا صاحب کی کتابوں کو تم مجھ سے زیادہ سمجھتے ہو۔ میں آپ کی کتابوں کو جتنا سمجھتا ہوں تم نہیں سمجھتے۔ میں نے آپ کی کتابوں کا گہرا مطالعہ کیا ہوا ہے۔ آپ بڑے عالم ہیں کیا وہ اتنی بڑی بیوقوفی کی بات کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ قرآن میں صاف لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ بھلا آپ جیسا عالم یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ زندہ نہیں۔ اصل میں تم نے کتابوں کو غور سے پڑھا نہیں۔ مجھے اصل بات کا پتہ ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ جب آپؐ نے براہین احمدیہ لکھی تو اس میں اسلام کی صداقت کو اتنے زبردست دلائل کے ساتھ ثابت کیا کہ آپؐ سے قبل ۱۳۰۰؍ سال تک کسی عالم سے ایسا نہیں ہو سکا تھا اور وہ ایسے دلائل تھے کہ ان کے سامنے عیسائی اور ہندو ٹھہر نہیں سکتے تھے۔ مگر مولویوں کی عقل ماری گئی اور بجائے خوش ہونے کے انہوں نے آپ پر کفر کے فتوے لگانے شروع کر دئیے۔ مرزا صاحب نے کہا اچھا اب میں تم سے اس کا بدلہ لیتا ہوں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر جانا سیدھی سادھی بات ہے لیکن اب میں اس کا انکار کرتا ہوں۔ اگر تم میں ہمت ہے تو تم اس سیدھی سادھی بات کو ثابت کر کے دکھا دو۔ پس یہ تو محض ان کی عقل کا امتحان لینے کے لئے مرزا صاحب نے کیا تھا۔ اگر یہ سب مولوی آپ سے جا کر معافی مانگ لیں تو آپ اسی قرآن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ثابت کر دیں۔ غرض جس طرح ان کے خیال میں حیاتِ مسیح کا مسئلہ ایک ثابت شدہ مسئلہ تھا اسی طرح مکہ والوں کے نزدیک کئی خداؤں کا ہونا ایک ثابت شدہ مسئلہ تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ محمد رسول اللہؐ نے سب خداؤں کا قیمہ کر کے ایک بنا لیا ہے۔ مگر پھر دیکھو آپؐ نے ان سے یہ مسئلہ منوا لیا یا نہیں۔ وہ جو سمجھتے تھے کہ کئی خدا ہیں ان کا یہ حال ہو گیا۔

جب مکہ فتح ہوا تو چند ایسے آدمی تھے جن کو معاف کرنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب نہ سمجھا ، اور ان کے قتل کا حکم صادر کر دیا۔ ان میں سے ایک ہندہ ابو سفیان کی بیوی بھی تھی۔ یہ وہی عورت ہے جس نے حضرت حمزہؓ کا مثلہ کروایا تھا۔ آپؐ نے مناسب سمجھا کہ اسے اس ظالمانہ فعل اور خلافِ انسانیت حرکت کی سزا دی جائے ۔ اُس وقت پردہ کا حکم نازل ہو چکا تھا۔ جب عورتیں بیعت کے لئے آئیں تو ہندہ بھی چادر اوڑھ کر ساتھ آ گئی اور اُس نے بیعت کر لی۔ جب وہ اس فقرہ پر پہنچی کہ ہم شرک نہیں کریں گی تو چونکہ وہ بڑی تیز طبیعت تھی اُس نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! ہم اب بھی شرک کریں گی؟ آپؐ اکیلے تھے اور ہم نے پوری طاقت اور قوت کے ساتھ آپ کا مقابلہ کیا۔ اگر ہمارے خدا سچے ہوتے تو آپ کیوں کامیاب ہوتے۔ وہ بالکل بیکار ثابت ہوئے اور ہم ہار گئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہندہ ہے؟ آپؐ اس کی آواز کو پہچانتے تھے، آخر رشتہ دار ہی تھی۔ ہندہ نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! اب میں مسلمان ہوچکی ہوں اب آپ کو مجھے قتل کرنے کا اختیار نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا ہاں اب تم پر کوئی گرفت نہیں ہوسکتی۔۳

غرض وہ قوم جو سمجھتی تھی کہ آپ نے سب خداؤں کو کوٹ کر ایک خدا بنالیا ہے ان میں اتنا تغیر پیدا ہوگیا کہ ہندہ جیسی عورت نے کہا کہ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ خدا ایک نہیں۔ اسی طرح ہم سمجھتے ہیں کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب تمام دنیا صداقت اسلام کی قائل ہوجائے گی۔ اب تو یہ حالت ہے کہ ایک مسلمان اپنی عملی کمزوریوں کی وجہ سے دوسروں کے سامنے شرمندہ ہوجاتا ہے لیکن ایک دن آئے گا جبکہ یورپین اقوام بھی ان احکام کو تسلیم کریں گی اَلنَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْكِھِمْ لوگ بادشاہوں کے مذہب کے تابع ہوتے ہیں بے شک کچھ لوگ وہ بھی ہوتے ہیں جو نقال ہوا کرتے ہیں۔ جیسے شروع شروع میں مسلمان آئے تو ہندو بھی فارسی بولنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ اسی طرح جیسا کوئی فیشن ہوجائے لوگ بھی وہی اختیار کرلیتے ہیں۔ اُس وقت ہندوؤں نے بھی داڑھیاں رکھ لی تھیں مگر جب انگریزوں کا زمانہ آیا تو داڑھی منڈوانا شروع کردی۔ چھوٹے کوٹ پہننے شروع کردیئے۔

جب اسلام غالب آئے گا تو ہر انسان اس بات میں فخر محسوس کرے گا کہ وہ اسلام کی تعلیم پر عمل کرے لیکن جب تک اسلام غالب نہیں آتا ہمیں بڑی بڑی قربانیاں کرنی پڑیں گی اور اپنے نفسوں کو مارنا ہوگا۔ جب تک ہم اپنے نفسوں کو مار کر موجودہ رسم و رواج کے خلاف اپنے آپ کو نہیں اُبھاریں گے، دریا کی دھار کے خلاف تیرنے کی کوشش نہیں کریں گے، ملامت کی تلوار کے نیچے، ہنسی اور مذاق کی تلوار کے نیچے، سیاسی لوگوں کے سیاسی اعتراضات کی تلوار کے نیچے، مذہبی اور فلسفی لوگوں کے اعتراضات کی تلوار کے نیچے اپنا سر رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اُس وقت تک اس عظیم الشان مقصد کے پورا کرنے کی ہمیں امید نہیں رکھنی چاہئے۔ دنیا میں آج تک کوئی قوم ایسی نہیں گذری جس نے صرف میٹھی میٹھی باتوں سے دنیا کو فتح کرلیا ہو۔ قومیں ہمیشہ مصیبتوں اور ابتلاؤں کی تلواروں کے سایہ تلے بڑھتی اور ترقی کرتی ہیں اور انہیں لوگوں کے اعتراضات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ پس اپنے آپ کو اِس فتح کا اہل بناؤ۔ جب تک آپ لوگ خدا اور اس کے رسولؐ کے دیوانے نہیں بن جاتے، جب تک موجودہ فیشن اور رسم و رواج کو کچلنے کے لئے تیار نہیں ہو جاتے اُس وقت تک اسلامی احکام کو ایک غیر مسلم کبھی بھی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔ انگلینڈ سے مجھے ایک غیر مسلمہ کا خط آیا۔ وہ احمدی تو ہو چکی ہے مگر تعلیم ابھی کم ہے۔ وہ ہمارے مبلّغ کے متعلق لکھتی ہے کہ جب میں ان کے لیکچر میں جاتی ہوں تو جو کچھ وہ کہتے ہیں میں سمجھتی ہوں کہ یہ ناممکن ہے ، اسے کیسے قبول کیا جا سکتا ہے مگر جب میں ان کے جوش اور ان کے چہرہ کی حالت دیکھتی ہوں تو مجھے یقین ہو جاتا ہے اور میرا دل تسلی پا جاتا ہے کہ آخر یہ ہو کر رہے گا۔ غرض جب لوگ ہمارے عزم کو دیکھ کر ہمارے اندر سنجیدگی اور جوش دیکھیں گے تو وہ انہیں خود بخود ماننے پر مجبور ہو جائیں گے۔ پس پہلے اپنے اندر جوش اور سنجیدگی پیدا کرنی چاہئے پھر ہم دوسروں کی توجہ کو بھی پھیر سکیں گے اور وہ سمجھ لیں گے کہ اسلام کی باتیں سچی ہیں اور وہ ان پر سچے دل سے غور کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے اور پھر اسلام اُس مقام پر پہنچ جائے گا جس پر آج سے تیرہ سو سال پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنچایا تھا۔ (الفضل ۱۱؍اکتوبر ۱۹۶۱ء)

دیباچہ تفسیر القرآن

از

سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی

اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔ ھُوَ النَّاصِرُ

دیباچہ تفسیر القرآن (انگریزی)

اس نئے ترجمہ اور تفسیری نوٹوں کو پیش کرتے ہوئے ہم یہ بتا دینا مناسب سمجھتے ہیں کہ اس کی غرض تجارتی نہیں ہے اور نہ صرف ایک جدید چیز کا پیش کرنا اصل مقصود ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت تک وہ اقوام جو عربی سے ناواقف ہیں ایک نئے ترجمہ کی محتاج ہیں اور ساری دنیا عربی دانوں کو بھی شامل کرتے ہوئے ایک نئے انداز کے تفسیری نوٹوں کی محتاج ہے اس کی وجوہ مندرجہ ذیل ہیں۔

انگریزی نئے ترجمہ اور نئی تفسیر کے لکھنے کی وجوہ

(۱) اس وقت تک قرآن کریم کے جس قدر انگریزی تراجم غیر مسلموں نے کئے ہیں وہ سب کے سب ایسے لوگوں نے کئے ہیں جو عربی زبان سے یا تو بالکل ناواقف تھے یا بہت ہی کم علم عربی زبان کا رکھتے تھے۔ اس وجہ سے قرآن کریم کا ترجمہ کرنا تو الگ رہا وہ اس کا مفہوم بھی اچھی طرح سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے اور بعض نے تو کسی اور زبان کے ترجمہ سے اپنی زبان میں ترجمہ کر دیا تھا جس کی وجہ سے مفہوم اور بھی حقیقت سے دُور جا پڑا تھا۔

(۲) مزید خرابی اُن تراجم میں یہ تھی کہ اُن کی بنیاد عربی لغت پر نہیں تھی بلکہ تفسیروں پر تھی اور تفسیر ایک شخص کی رائے ہوتی ہے جس کا کوئی حصہ کسی کے نزدیک قابل قبول ہوتا ہے اور کوئی حصہ کسی کے نزدیک۔ اور کوئی حصہ مصنف کے سوا کسی کے نزدیک بھی قابل قبول نہیں ہوتا۔ اس قسم کا ترجمہ ایک رائے کا اظہار تو کہلا سکتا ہے حقیقت کا آئینہ دار نہیں کہلا سکتا۔

اِن نقائص کو مدّنظر رکھتے ہوئے یہ ضرورت شدید طور پر محسوس ہوتی تھی کہ ایک ایسا ترجمہ قرآن کریم کا غیر عربی دان لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے جو :

(الف) عربی دان افراد کی کوشش اور محنت کا نتیجہ ہو اور :

(ب) جو لغتِ عربی پر مبنی ہو۔ چنانچہ یہ انگریزی ترجمہ جس کے بعد دوسری زبانوں کے تراجم اِنْشَاءَ اللّٰہُ جلد شائع کئے جائیں گے انہی دو اصول کے ماتحت شائع کیا جا رہا ہے۔

عربی زبان سے دوسری زبانوں میں ترجمہ کرنے میں ایک دِقّت

اِس میں کوئی شک نہیں کہ چونکہ عربی زبان ایک فلسفیانہ زبان ہے اور اِس کے تمام الفاظ معیّن حکمتوں کے ماتحت وضع کئے گئے ہیں اور اِس وجہ سے کہ ان کے مادے ابتدائی جذبات و مشاہداتِ انسانی کے اظہار کے لئے بنائے گئے ہیں اس لئے استعمال میں ان کے معنی بعض دفعہ نہایت وسیع ہی نہیں ہو جاتے بلکہ نہایت گہرے بھی ہو جاتے ہیں۔ دوسری زبانوں میں ان کا پورا ترجمہ کرنا قریباً ناممکن ہے اور جب تک کہ تفسیری نوٹوں میں ان معانی کی وسعت بیان نہ کی جائے صرف ترجمہ پورے مضمون کو ظاہر نہیں کر سکتا۔ اس لئے جو ترجمہ ہم پیش کر رہے ہیں اِن معنوں میں مکمل ترجمہ نہیں کہلا سکتا کہ انگریزی ترجمہ نے عربی عبارت کا پورا مفہوم یا قریباً پورا مفہوم بیان کر دیا ہے بلکہ وہ ترجمہ عربی عبارت کے مختلف مفہوموں سے صرف ایک مفہوم کو ظاہر کرنے والا قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے ہم نے :

(۱) مختصر نوٹ ترجمہ کے نیچے دیئے ہیں یہ نوٹ اِس وجہ سے کہ ایک مکمل تفسیر نہیں ہیں ان مختلف معانی کو جو ہمارے نزدیک کسی آیت کے ہیں مکمل طور پر تو نہیں ظاہر کرتے مگر کم سے کم ترجمہ کی محدودیت کا کسی قدر ازالہ کر دیتے ہیں۔

(۲) دوسرے پڑھنے والے کو ترجمہ میں بصیرت بخشنے کے لئے اور اس کے دل کو اِس بات پر مطمئن کرنے کے لئے کہ جو ترجمہ ہم نے کیا ہے وہ آزاد نہیں ہے بلکہ لغت اور وضعِ کلام کے مطابق ہے ہم نے ضروری الفاظ کے معانی ایسی کتبِ لغت سے جو نہ صرف مسلمانوں کے نزدیک بلکہ عربی بولنے والے غیر مذاہب کے لوگوں کے نزدیک بھی مسلّمہ ہیں حاشیہ میں دیئے ہیں تاکہ ایک عربی سے ناواقف آدمی بھی یہ معلوم کر سکے کہ جو ترجمہ ہم نے کیا ہے وہ خواہ کسی دوسرے کے نزدیک قابل قبول نہ ہو، مگر ہے عربی لغت کے عین مطابق۔ اور بغیر کسی قرآنی دلیل کے جس سے معلوم ہو کہ اس جگہ اس لفظ کو ان معنوں میں قرآن کریم نے استعمال نہیں کیا یا بغیر شواہد لغت عربیہ کے اسے ردّ کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں۔

تفسیری نوٹ لکھنے کی وجوہ

ترجمہ کے متعلق اس قدر تشریح کے بعد اب ہم تشریحی نوٹوں کے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ درجنوں تفسیریں قرآن کریم کی اس وقت تک لکھی جا چکی ہیں اور شاید ان کی موجودگی میں کسی نئی تفسیر کی ضرورت نہ سمجھی جائے لیکن ان تفسیروں کی موجودگی کے باوجود ہم نے یہ تفسیری نوٹ لکھے ہیں اس کی وجوہ مندرجہ ذیل ہیں:۔ (۱) جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے عربی زبان کے الفاظ وسیع معانی رکھتے ہیں لیکن ترجمہ میں صرف ایک ہی معنیٰ کا خیال رکھا جا سکتا ہے اس لئے ضروری تھا کہ نیچے نوٹ دیئے جاتے تاکہ بعض اور اہم معانی پر بھی روشنی پڑ جاتی۔ (۲) قرآن کریم کی تمام اہم اور مفصل تفسیریں جو اس وقت تک لکھی گئی ہیں عربی زبان میں ہیں اور ظاہر ہے کہ جو لوگ قرآن کریم کی عبارت کو نہیں سمجھ سکتے وہ اس کی تفاسیر سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ (۳) جو نوٹ تفسیری رنگ میں قرآن کریم کے تراجم کے حواشی میں غیر مسلم مترجموں نے لکھے ہیں وہ: (الف) مخالفینِ اسلام کی کتب سے متاثر ہو کر لکھے گئے ہیں۔ (ب) ان لوگوں کو عربی زبان کا یا تو بالکل علم نہ تھا یا بہت ہی کم علم تھا اس وجہ سے معتبر اور مفصل تفسیروں سے وہ فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ چنانچہ مغربی زبانوں میں جس قدر تراجم ہیں ان میں سے کسی ایک کے حواشی میں بھی قرآن کریم کی معتبر اور مفصل تفاسیر میں

سے کسی کا بھی حوالہ نہیں آتا، صرف ادنیٰ اور عوام الناس کی دلچسپی کے لئے لکھی ہوئی تفاسیر کا حوالہ آتا ہے اور اگر کسی بڑی تفسیر کا حوالہ ہوتا ہے تو کسی دوسری تفسیر سے نقل کیا ہوا ہوتا ہے خود اس کتاب کو پڑھ کر استفادہ کیا ہوا نہیں ہوتا۔

(۴) کسی علمی کتاب کو سمجھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ نہ صرف اُس زبان کا علم ہو جس میں وہ کتاب لکھی ہوئی ہے، نہ صرف اُن تفاسیر پر عبور ہو جو اُس زبان یا علم کے ماہروں نے لکھی ہیں بلکہ خود اُس کتاب کا بھی اس قدر گہرا مطالعہ ہو کہ اس کی اپنی اصطلاحات اور محاورات اور ان اصول کا علم حاصل ہو جائے جن کے گرد اُس کی تعلیم کی فروع چکر کھاتی ہیں۔ اگر یہ علم نہ ہو تو تفسیروں کی مدد سے بھی کوئی شخص صحیح ترجمانی نہیں کر سکتا۔ چونکہ یہ درجہ کسی مغربی مترجم یا شارح قرآن کو حاصل نہ تھا اس لئے ان کے نوٹ بعض دفعہ مضحکہ خیز حد تک جا پہنچتے ہیں۔

(۵) ہر زمانہ اپنے ساتھ نئے علوم لاتا ہے۔ ان علوم کی ہر علمی کتاب کی تعلیم ایک نئی تنقید کا شکار ہوتی ہے اور اس کے مطالب یا زیادہ واضح ہو جاتے ہیں یا زیادہ مشکوک ہو جاتے ہیں۔ قرآن کریم بھی اس کلیہ سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔ پس موجودہ زمانہ کے علوم کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی تفسیر ضروری تھی تا معلوم ہو سکے کہ وہ موجودہ علوم کی روشنی میں اپنی ہادیانہ شان کس حد تک قائم رکھ سکا ہے یا اس کی شان کس حد تک آگے سے بھی زیادہ روشن ہو گئی ہے۔

جب قرآن کریم کی پہلی تفاسیر لکھی گئیں اُس وقت عربی زبان میں مکمل بائبل موجود نہ تھی بلکہ اُس کے جن ٹکڑوں کے تراجم عربی زبان میں ہوئے تھے وہ بھی مفسرین کی دسترس سے باہر تھے اس وجہ سے پرانے مفسرین نے قرآن کریم کے ان مضامین کی طرف جن میں موسوی سلسلہ کی تاریخ کی طرف اشارہ ہے صرف اپنے علم کے مطابق روشنی ڈالی ہے، جو بعض دفعہ نہایت مایوس کن اور بعض دفعہ مضحکہ خیز ہو جاتی ہے۔ مغربی مصنفین ان کی غلطیوں کو قرآن کریم کی طرف منسوب کر کے ہنسی اُڑاتے ہیں حالانکہ ان مفسروں نے جو کچھ لکھا بائبل کو پڑھ کر نہیں لکھا بلکہ یہودی اور مسیحی علماء سے پوچھ کر لکھا تھا۔ بعض دفعہ اُن علماء نے بائبل کی بجائے اپنی روایات کی کتب سے انہیں مضمون بتادیئے اور بعض دفعہ ان کی ناواقفیت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ان سے تمسخر کیا۔ بیشک ان پر اعتبار کر کے ان مفسرین نے سادگی اور بے احتیاطی کا اظہار کیا لیکن اُس بات سے اُس زمانہ کے یہودی اور مسیحی علماء کی دیانت اور اُن کے تقویٰ پر جو زد پڑتی ہے وہ بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔ پس موجودہ مغربی مصنفین کو قرآن کریم کے مفسرین پر ہنسی اڑانے کی بجائے خود اپنے آباء کی دیانت پر ماتم کرنا چاہئے۔ اب جبکہ بائبل کے علوم ہر کس و ناکس کے لئے ظاہر ہو گئے ہیں اور عبرانی، لاطینی اور یونانی کتب بھی مسلم علماء کی دسترس میں ہیں اس لیے موقع پیدا ہو گیا ہے کہ نئے رنگ میں ان مضامین پر روشنی ڈالی جائے جو قرآن کریم میں موسوی سلسلہ اور بائبل کے متعلق بیان ہوئے ہیں۔

(۶) پرانے زمانہ میں مختلف مذاہب کے درمیان اعمال کے متعلق تعلیمی برتری کا مقابلہ بہت کم تھا، بلکہ رسم و رواج اور عقائد کی بحث تک علماء کی گفتگو محدود رہتی تھی۔ اس وجہ سے قرآن کریم کی وہ تعلیم جو اخلاقی، تعلیمی، اقتصادی، سیاسی اور تعامل باہمی کے امور کے متعلق تھی زیر بحث نہ آتی تھی۔ آج دنیا کی توجہ ان امور کی طرف زیادہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے قرآن کریم کی ایسی تفسیر پیش کی جائے جس میں ان اُمور کے متعلق جو اس کی تعلیم ہے اس پر زیادہ روشنی ڈالی جائے۔

(۷) قرآن کریم چونکہ الہامی کتاب ہے اس میں آئندہ زمانہ کی پیشگوئیاں بھی ہیں۔ جن کے متعلق صحیح روشنی اُسی وقت ڈالی جاسکتی ہے جبکہ وہ پوری ہو چکی ہوں۔ اس لئے بھی ضروری تھا کہ اِس زمانہ میں نئی تفسیر پیش کی جائے جو اِس وقت پوری ہو چکنے والی پیشگوئیوں کو ظاہر کرے۔

(۸) قرآن کریم کی تعلیم سب مذاہب اور فلسفوں پر حاوی ہے اور وہ سب مذاہب کی اچھی تعلیموں پر مشتمل ہونے کے علاوہ ناقص کا نقص بھی ظاہر کرتی ہے اور نامکمل کو مکمل بھی کرتی ہے۔ ابتدائی زمانۂ اسلام کے مفسرین کو چونکہ ان مذاہب اور ان فلسفوں کا علم نہ تھا وہ ان کے متعلق قرآنی تعلیم کو صحیح طور پر اخذ نہیں کر سکے۔ اب وہ سب پوشیدہ علوم ظاہر ہو چکے ہیں اور قرآن کریم کے وہ حصے جو ان کے متعلق ہیں اس کے عارفوں پر روشن ہو گئے ہیں پس اس زمانہ میں پرانی تفسیروں کی اس کمی کو پورا کرنا بھی ایک اہم ضرورت ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ وجوہاتِ مندرجہ بالا کی موجودگی میں یہ ترجمہ اور تفسیر جو ہم پیش کر رہے ہیں صرف نا قابلِ اعتراض ہی نہیں بلکہ ایک اہم ضرورت کو پورا کر رہا ہے، ہم اسے پورا کر کے اپنا حق ادا کر رہے ہیں۔

ہم اُمید کرتے ہیں کہ جو لوگ ہمارے پیش کردہ ترجمہ اور تفسیر کو غور سے پڑھیں گے اور تعصب سے آزاد ہو کر اِس کا مطالعہ کریں گے وہ اسلام کو ایک نئے زاویہ سے دیکھنے پر مجبور ہوں گے اور اُن پر ثابت ہو جائے گا کہ اسلام نقائص سے پُر مذہب نہیں جیسا کہ مغربی مصنفوں نے پیش کیا ہے بلکہ وہ روحانی علم کا ایک خوبصورت باغ ہے جس میں سیر کرنے والا ہر قسم کی خوشبو اور ہر قسم کے حسن کے نظارہ سے مستفیض ہوتا ہے اور وہ اُس آسمانی جنت کا ایک مکمل ارضی نقشہ ہے جس کا وعدہ سب مذاہب کے بانی دیتے چلے آئے ہیں۔

قرآن کریم کی ضرورت

آج سے قریباً سوا تیرہ سو سال پہلے جب قرآن کریم نازل ہوا دنیا میں اور بھی بہت سے مذاہب اور بہت سی کتابیں موجود تھیں۔ عرب کے ارد گرد عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید دونوں کے ماننے والے پائے جاتے تھے۔ خود بعض عرب بھی عیسائی ہو چکے تھے یا عیسائیت کی طرف رغبت رکھتے تھے۔ اسی طرح بعض عرب یہودیوں کے مذہب میں بھی شامل ہوتے رہتے تھے، چنانچہ مدینہ کا کعب بن اشرف یہودِ مدینہ کا سردار مشہور دشمنِ اسلام اور اس کا باپ ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔ کعب کا باپ طی قبیلہ سے تھا۔ یہود سے اسے ایسی عقیدت ہوئی کہ ابورافع بن ابی حقیق یہودی نے اس سے اپنی لڑکی کی شادی کر دی اور اس یہودی لڑکی کے بطن سے کعب پیدا ہوا۔

مکہ مکرمہ میں علاوہ عیسائی غلاموں کے خود مکہ کے بعض باشندے بھی عیسائیت کی طرف رغبت رکھتے تھے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی حضرت خدیجہؓ کے بھائی ورقہ بن نوفل نہ صرف یہ کہ عیسائی عقائد رکھتے تھے بلکہ انہوں نے کچھ عبرانی بھی سیکھی تھی اور وہ عبرانی اناجیل سے عربی میں ترجمہ کرتے تھے۔ بخاری میں لکھا ہے كَانَ امْرَأً قَدْ تَنَصَّرَ فِی الْجَاهِلِیَّةِ وَكَانَ يَكْتُبُ كِتَابَ الْعِبْرَانِیِّ فَيَكْتُبُ مِنَ الْاِنْجِیْلِ بِالْعِبْرَانِیَّةِ مَا شَاءَ اللّٰهُ اَنْ یَّكْتُبَ۷؎ یعنی ورقہ بن نوفل نے جاہلیت میں عیسائیت اختیار کر لی تھی اور وہ عبرانی سے عربی میں اناجیل کا ترجمہ کیا کرتے تھے۔

عرب کے دوسرے کنارے پر ایرانی آباد تھے اور وہ بھی ایک نبی اور ایک کتاب کے ماننے والے تھے۔ زرتشت نبی کی کتاب ژند اَوستا گو انسانی دستبرد کا شکار ہو چکی تھی لیکن تاہم لاکھوں انسانوں کا مرجع عقیدت بنی ہوئی تھی اور ایک زبردست حکومت اس کے قانون کی اتباع کی مدعی تھی۔ ہندوستان میں وید ہزاروں سالوں سے لوگوں کی عقیدت کا مرجع بنے ہوئے تھے اور کرشن جی کی گیتا اور بدھ کی تعلیم مزید برآں تھیں ۔ چین میں کنفیوشس ازم کا زور تھا اور بدھ مذہب بھی اپنے پاؤں پھیلا رہا تھا ان کتابوں اور ان تعلیموں کے ہوتے ہوئے کیا کسی نئی کتاب کی ضرورت تھی؟ یہ ایک سوال ہے جو قرآن کریم کے دیکھتے ہی ہر شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہے یا پیدا ہونا چاہئے۔ اس سوال کا جواب کئی رنگ سے دیا جاسکتا ہے۔

اوّل: کیا یہ اختلافِ مذاہب خود اس بات کی دلیل نہ تھا کہ ان سب مذاہب کو متحد کرنے کے لئے کوئی اور مذہب آنا چاہئے؟

دوم: کیا انسانی دماغ اسی طرح ارتقاء کی منزلوں کو طے کرتا ہوا نہیں جا رہا تھا جس طرح انسانی جسم نے کسی زمانہ میں ارتقاء کی منزلیں طے کی تھیں۔ پھر کیا جس طرح جسم کی ارتقائی منزلیں ایک مقام پر پہنچ کر ایک مستقل صورت اختیار کر گئیں اسی طرح کیا روح اور دماغ کے لئے بھی ضروری نہ تھا کہ وہ ارتقائی منزلیں طے کرتے ہوئے ایک ایسی منزل پر پہنچے جو انسانی پیدائش کا مقصود تھی؟

سوم: کیا پہلی کتب میں کوئی ایسا نقص تو نہیں آگیا تھا جس کی وجہ سے دنیا کو شدید طور پر ایک نئی کتاب کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی اور قرآن کریم اس ضرورت کو پورا کرنے والا تھا؟

چہارم: کیا سابق مذاہب اپنی تعلیم کو حتمی اور آخری قرار دے رہے تھے یا وہ خود بھی ایک ارتقاء کے قائل تھے اور روحانیت کی ترقی کے لئے ایک ایسے نقطہ کی خبر دے رہے تھے جس پر جمع ہو کر بنی نوع انسان کو انسانی پیدائش کا مقصد حاصل کرنا تھا؟

میرے نزدیک ان چاروں سوالوں کا جواب ہی اس سوال کو حل کر دے گا کہ قرآن کریم سے پہلے مختلف کتب اور مختلف مذاہب کی موجودگی میں قرآن کریم کی کیا ضرورت پیش آئی تھی۔ پس میں ان چاروں سوالوں کو باری باری لے کر جواب دیتا ہوں۔

پہلا سوال اور اس کا جواب

پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ اختلافِ مذاہب خود اس بات کی دلیل نہ تھا کہ ان سب مذاہب کو متحد کرنے کے لئے کوئی اور مذہب آنا چاہئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مذہب اوّل انسان کو خدا تعالیٰ سے ملانے کے لئے آتا ہے اور دوسری غرض اس کی شفقت علی خلق اللہ کی تکمیل ہوتی ہے۔

اسلام کے سوا باقی سب مذاہب قومی مذہب تھے یونیورسل نہ تھے

اسلام سے پہلے جتنے بھی مذاہب دنیا میں موجود تھے وہ سب ایک دوسرے سے مختلف بلکہ ایک دوسرے کو رَدّ کرنے والے تھے۔ بائبل دنیا کے خدا کو نہیں بلکہ بنی اسرائیل کے خدا کو پیش کرتی تھی، چنانچہ اس میں بار بار یہ ذکر آتا ہے کہ:

’’خداوند بنی اسرائیل کا خدا مبارک ہے جس نے تجھے بھیجا ہے کہ تُو آج کے دن میرا استقبال کرے۔‘‘۳؎

’’خداوند بنی اسرائیل کا خدا مبارک ہے جس نے آج کے دن ایک آدمی ٹھہرایا کہ میری ہی آنکھوں کے دیکھتے ہوئے تخت پر بیٹھے۔‘‘۴؎

’’خداوند اسرائیل کا خدا وند ابدالاباد مبارک ہو۔‘‘۵؎

’’خداوند اسرائیل کا خدا مبارک ہو جس نے اپنے ہاتھ سے وہ کلام کہ جس کو اپنے منہ سے میرے باپ داؤد سے کہا تھا پورا کیا۔‘‘۶؎

’’خداوند خدا اسرائیل کا خدا جو اکیلا ہے عجائب کام کرتا ہے۔‘‘۷؎

حضرت مسیحؑ بھی اپنے آپ کو صرف بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے مبعوث قرار دیتے تھے اور دوسری قوموں کے افراد کو دھتکار دیتے تھے۔ چنانچہ انجیل میں لکھا ہے:۔

’’تب یسوع وہاں سے روانہ ہو کے صور اور صیدا کی اطراف میں گیا اور دیکھو

ایک کنعانی عورت وہاں کی سرزمین سے نکل کر اسے پکارتی ہوئی چلی آئی کہ اے خُداوند داؤد کے بیٹے! مجھ پر رحم کر کہ میری بیٹی ایک دیو کے غلبہ سے بے حال ہے۔ اس نے کچھ جواب نہ دیا۔ تب اس کے شاگردوں نے پاس آ کر اس کی منت کی کہ اسے رخصت کر، کیونکہ وہ ہمارے پیچھے چلاتی ہے۔ اس نے جواب میں کہا میں اسرائیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔ پھر وہ آئی اور سجدہ کر کے کہا۔ اے خداوند! میری مدد کر۔ اس نے جواب دیا کہ مناسب نہیں کہ لڑکوں کی روٹی لے کر کتوں کو پھینک دیویں۔“۸؎

اِسی طرح حضرت مسیح نے اپنے حواریوں کو یہ تعلیم دی کہ:۔

”وہ چیز جو پاک ہے کتوں کو مت دو اور اپنے موتی سؤروں کے آگے مت پھینکو۔ ایسا نہ ہو کہ وے انہیں پامال کریں اور پھر کر تمہیں پھاڑیں۔“۹؎

ویدوں کے ماننے والوں میں وید اس حد تک ہندوستان کی اونچی ذاتوں کے ساتھ مخصوص کر دیے گئے تھے کہ گوتم جو تمام ہندو قوم اور سناتن دھرم کا تسلیم شدہ شارح قانون ہے لکھتا ہے کہ:

”شودر اگر وید کو سن لے تو راجہ سیسے اور لاکھ سے اس کے کان بھر دے۔ وید منتروں کا اچارن (تلاوت) کرنے پر اُس کی زبان کٹوا دے۔ اور اگر وید کو پڑھ لے تو اس کا جسم ہی کاٹ دے۔“۱۰؎

اِسی طرح خود وید میں غیر قوموں کے لئے جو تعلیم موجود ہے وہ نہایت ہی شدید اور سخت ہے۔ رگ وید میں ویدک دھرم کے مخالفین کو کتا قرار دیتے ہوئے یہ بددعا کی گئی ہے کہ:

”اے آگ دیوتا! تُو ان بُرے کتوں (مخالفین) کو دُور لے جا کر باندھ دے“۔۱۱؎

اتھرو وید میں بھی یہ تعلیم دی گئی ہے کہ غیر ویدک دھرمی لوگوں کو جکڑ کر اُن کے گھروں کو لُوٹ لینا چاہئے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ:۔

”اے ویدک دھرمی لوگو تم چیتے جیسے بن کر اپنے مخالفین کو باندھ لو اور پھر ان کے کھانے تک کی چیزیں زبردستی اُٹھا لاؤ۔“۱۲؎

اسی طرح ویدوں میں چاند، سورج، آگ، پانی اور اِندر سے یہاں تک کہ گھاس سے بھی یہ دعائیں کی گئی ہیں کہ غیر ویدک دھرمی لوگوں کو تباہ و برباد کر دیا جائے ۔ چنانچہ لکھا ہے کہ:

’’اے آگ! تُو ہمارے مخالفوں کو جلا کر راکھ کر دے۔‘‘۱۳؎

’’اے اِندر! تُو ہمارے مخالفوں کو چیر پھاڑ ڈال اور جو ہم سے نفرت رکھتے ہیں انہیں تتر بتر کر دے۔‘‘۱۴؎

’’اے مخالفو! تم سرکٹے ہوئے سانپوں کی طرح بے سر اور اندھے ہو جاؤ اس کے بعد پھر اِندر دیوتا تمہارے چیدہ چیدہ لوگوں کو تباہ کر دے۔‘‘۱۵؎

’’اے وبھ گھاس! تُو ہمارے مخالفوں کو جلا دے اور تباہ کر اور جس طرح تُو پیدا ہوتے وقت زمین کو چیر کر باہر نکل آتا ہے ویسے ہی تُو ہمارے مخالفوں کے سروں کو چیرتا ہوا اوپر کو نکل کر اُن کو تباہ کر کے زمین پر گرا دے۔‘‘۱۶؎

پھر ہندو دھرم میں یہ بھی تعلیم موجود ہے کہ غیر ویدک دھرمی لوگوں کے ساتھ بات چیت بھی نہ کرو۔۱۷؎

اگر کوئی ویدوں پر اعتراض کرے تو اُسے ملک سے باہر نکال دو یعنی حبس دوام کی سزا دو۔۱۸؎

کنفیوشس ازم اور زردشت مذہب بھی قومی مذہب تھے۔ اُنہوں نے کبھی بھی دنیا کو اپنا مخاطب نہ سمجھا نہ دنیا کو تبلیغ کرنے کی کوشش کی ۔ جس طرح ہندو مذہب کے مطابق ہندوستان خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کا ملک تھا اسی طرح کنفیوشس ازم کے مطابق چین آسمانی بادشاہت کا مظہر تھا اور زرتشتیوں کے نزدیک ایران آسمانی بادشاہت کا مظہر تھا۔ اس اختلاف کے ہوتے ہوئے یا تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ دنیا کے پیدا کرنے والے کئی خدا ہیں اور یا یہ ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے لئے اس اختلاف کو مٹا دینا ضروری تھا۔

خدا ایک ہے

اب زمانہ اس قدر ترقی کر چکا ہے کہ شاید مجھے اس بات کے متعلق کچھ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ اس دنیا کو پیدا کرنے والا اگر کوئی ہے تو وہ ایک ہی ہے۔ اسرائیلیوں، ہندوؤں، چینیوں اور ایرانیوں کا خدا عربوں، افغانوں، یورپینوں، منگولیوں اور سامی نسل کے لوگوں کے خدا سے کوئی مختلف خدا نہیں۔ اس دنیا میں ایک قانون جاری ہے۔ آسمان سے پاتال تک ایک ہی نظام کی کڑیاں ہمیں نظر آتی ہیں۔ درحقیقت سائنس کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ تمام طبیعیاتی اور میکینکل تغیرات ایک ہی سلسلہ کی کڑیاں ہیں اور یا تو بقول مادی علماء کے یہ ساری کائنات ایک قسم کی حرکت کا نتیجہ ہے اور یا پھر اس ساری کائنات کو بنانے والا ایک ہی ہاتھ ہے۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھنے کے بعد یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اسرائیلیوں کا خدا کون ہے اور عربوں کا خدا کون ہے اور ہندوؤں کا خدا کون ہے؟

اور اگر خدا ایک ہے تو پھر یہ مختلف مذاہب کیوں پیدا ہوئے؟ کیا وہ مذاہب صرف بنی نوع انسان کی دماغی اختراع سے تھے اس لئے ہر قوم نے اپنا اپنا خدا تجویز کر لیا؟ اگر نہیں تو پھر اس اختلاف کی وجہ کیا تھی؟ اور کیا پھر اس اختلاف کا ہمیشہ کے لئے جاری رہنا دنیا کے لئے مفید ہو سکتا تھا؟

مختلف ادیان کے انسانی دماغ کی اختراع نہ ہونے کی وجوہ

جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا یہ مذاہب بنی نوع انسان کی دماغی اختراع کا نتیجہ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں اور ہرگز نہیں اور اس کی وجوہ مندرجہ ذیل ہیں:۔

جو مذاہب دنیا میں قائم ہو گئے ہیں جب ہم ان کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو مندرجہ ذیل امور ہمیں نظر آتے ہیں۔

۱۔ تمام مذاہب کے بانی دُنیوی طور پر کمزور اور نادار قسم کے آدمی تھے اور کوئی طاقت ان کو حاصل نہ تھی مگر باوجود اس کے انہوں نے دنیا کے چھوٹے بڑوں کو مخاطب کیا اور وہ اور ان کے اتباع نہایت ادنیٰ حالت سے نکل کر اعلیٰ حالت تک پہنچ گئے۔ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ کوئی طاقتور ہستی ان کے پیچھے کام کر رہی تھی۔

پاکیزہ زندگی

۲۔ تمام کے تمام بانیانِ مذاہب ایسے ہیں کہ ان کی دعویٰ سے پہلے کی زندگی ان کے دشمنوں کے نزدیک بھی پاک تھی اب یہ کیونکر خیال کیا جا سکتا ہے کہ ایسے پاکیزہ لوگوں نے جو انسان تک پر جھوٹ نہیں بولتے تھے خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولنا شروع کر دیا۔

یقیناً ان کے دعویٰ سے پہلے کی پاکیزہ زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے دعویٰ میں سچے تھے۔ قرآن کریم نے خاص طور پر اس دلیل کو لیا ہے اور فرماتا ہے۔ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ(10:17) ۱۹؎ یعنی میں نے اپنی عمر تمہارے اندر گزاری ہے اور تم نے میری زندگی کو دیکھا ہے اور گواہی دی ہے کہ میں جھوٹ بولنے والا نہیں ہوں۔ پھر تم کس طرح سمجھتے ہو کہ آج میں خدا تعالیٰ کی ذات پر افتراء کرنے لگ گیا ہوں۔

اسی طرح فرماتا ہے۔ لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ(3:165) ۲۰؎ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر یہ بہت بڑا فضل اور انعام اور احسان کیا ہے کہ اس نے انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا ہے یہی مضمون ذیل کی آیت میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ لَقَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ(9:128) ۲۱؎ یعنی تمہاری طرف تمہیں میں سے ایک رسول آیا ہے یعنی کوئی ایسا شخص تمہارے سامنے رسالت کا دعویٰ نہیں کر رہا جس کے حالات زندگی سے تم نا آشنا ہو بلکہ ایسا شخص مدعیٔ ماموریت ہے جس کے حالات کو تم خوب جانتے ہو اور تمہیں معلوم ہے کہ اس کی زندگی کیسی پاکیزہ گزری ہے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے اور انبیاء کے متعلق بھی یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ وہ اپنی قوم ہی میں سے مبعوث کئے گئے تھے ۔ اور اُس قوم کے لوگ یہ عذر نہیں کر سکتے کہ ہم ان کے حالات سے واقف نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب دوزخی دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو اُن سے کہا جائے گا اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَتۡلُوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِ رَبِّکُمۡ وَیُنۡذِرُوۡنَکُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا(39:72) ۲۲؎ یعنی کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے وہ رسول نہیں آئے جو تم پر ہماری آیات پڑھا کرتے تھے اور تمہیں اِس دن کے عذاب سے ڈرایا کرتے تھے؟

اسی طرح فرماتا ہے۔

یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَقُصُّوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ وَیُنۡذِرُوۡنَکُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا(6:131)۲۳ یعنی اے جنوں اور انسانوں کے گروہ! کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے ایسے رسول نہیں آئے جو تمہیں ہمارے نشانات سے آگاہ کیا کرتے تھے اور اِس دن کے عذاب سے ڈرایا کرتے تھے؟

ایک اور جگہ فرماتا ہے۔

فَاَرۡسَلۡنَا فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ(23:33)۲۴ ہم نے ان لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جس کی تعلیم یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کرو۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

پھر فرماتا ہے وَیَوۡمَ نَبۡعَثُ فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیۡدًا عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ(16:90)۲۵ یعنی قیامت کے دن ہم ہر قوم کے خلاف خود اُنہی میں سے ایک رسول کھڑا کریں گے اس جگہ شہید سے مراد ہر وہ نبی ہے جو کسی قوم کی طرف مبعوث ہوا۔ یعنی قیامت کے دن وہ انبیاء اپنے نمونہ کو پیش کریں گے کہ کلام الٰہی نے اُن پر کیا اثر کیا۔ اِس طرح خدا تعالیٰ کفار کو شرمندہ کرے گا کہ ہمارا یہ نبی تو اِس کمال کو پہنچ گیا اور تم انکار کر کے تمام ترقیات سے محروم رہ گئے۔ اس جگہ تمام انبیاء کے متعلق یہ بتایا گیا ہے کہ وہ مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ(16:90) تھے یعنی ہر وہ قوم جس کی طرف وہ مبعوث کئے گئے ان میں سے ہر ایک کو جانتی تھی اور وہ ان لوگوں کی پاکیزگی اور طہارت کی شاہد تھی۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ بھی کئی مقامات پر فرمایا ہے کہ وَاِلٰی عَادٍ اَخَاہُمۡ ہُوۡدًا(7:66)۲۶وَاِلٰی ثَمُوۡدَ اَخَاہُمۡ صٰلِحًا(11:62)۲۷وَاِلٰی مَدۡیَنَ اَخَاہُمۡ شُعَیۡبًا(29:37)۲۸ یعنی عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ھود کو مبعوث کیا اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو مبعوث کیا اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو مبعوث کیا۔ گویا ھود، صالح اور شعیب سب کے سب اپنی قوم کی نظروں میں ایسا مقام رکھتے تھے کہ وہ ان کے حالات زندگی سے پوری طرح واقف تھے۔

اسی طرح حضرت صالح کے متعلق آتا ہے کہ جب انہوں نے خدا تعالیٰ کے احکام بیان فرمائے تو ان کی قوم نے کہا یٰصٰلِحُ قَدۡ کُنۡتَ فِیۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ ہٰذَاۤ اَتَنۡہٰنَاۤ اَنۡ نَّعۡبُدَ مَا یَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا(11:63) اے صالح! تُو تو اِس دعویٰ سے پہلے ہماری اُمیدوں کا مرکز تھا تُو نے یہ کیا کیا کہ تُو نے ہمیں اُس عبادت سے روک دیا جو ہمارے باپ دادا ایک مدت سے کرتے چلے آرہے تھے۔

اِسی طرح حضرت شعیبؑ کے متعلق اُن کی قوم نے کہا۔ یٰشُعَیۡبُ اَصَلٰوتُکَ تَاۡمُرُکَ اَنۡ نَّتۡرُکَ مَا یَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوۡ اَنۡ نَّفۡعَلَ فِیۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُاؕ اِنَّکَ لَاَنۡتَ الۡحَلِیۡمُ الرَّشِیۡدُ(11:88) اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے آباؤ اجداد کے طریقوں کو ترک کر دیں یا ہم اپنے اموال کی تقسیم میں تیری ہدایات کی تقلید کریں اور اپنی مرضی چھوڑ دیں۔ تُو تو بڑا حلیم اور رشید تھا تجھے کیا ہوا ہے کہ تُو ایسی غلط تعلیم دینے لگا۔

اِن آیات سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت صالحؑ ، حضرت شعیبؑ اور اسی طرح باقی تمام انبیاء کے متعلق قرآن کریم میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ وہ کوئی گمنام آدمی نہ تھے۔ ان کی اقوام ان کی زندگیوں پر شاہد تھیں اور ان کی نیکی ، تقویٰ اور عبادت پر گواہ تھیں اور یہ نہیں کہہ سکتی تھیں کہ کسی پوشیدہ حالات والے یا بدکار شخص نے قوم کو لُوٹنے کی تجویز کی ہے۔

بانیانِ مذاہب اور دُنیوی تعلیم

۳۔ تمام کے تمام بانیانِ مذاہب دُنیوی تعلیم کے لحاظ سے قریباً کورے تھے لیکن جو تعلیم اُنہوں نے لوگوں کی راہنمائی اور ہدایت کیلئے دی ہے وہ نہایت ہی اعلیٰ ، مناسب حال اور مناسب زمانہ ہے اور اُس پر چل کر ان کی قوم نے صدیوں تک تہذیب اور شائستگی میں دنیا کی راہنمائی کی ہے۔ یہ کس طرح خیال کیا جاسکتا ہے کہ جو شخص دُنیوی علوم سے بے بہرہ ہے وہ خدا تعالیٰ پر افتراء کر کے یکدم ایسی قدرت حاصل کر لیتا ہے کہ اس کی بتائی ہوئی تعلیم اُس زمانہ کی تعلیمات پر فائق ہو اور ان پر غالب آجائے ، یہ کام تو صرف ایک بالا ہستی کی تائید ہی سے ہو سکتا ہے۔

بانیانِ مذاہب زمانہ کی رَو کے خلاف تعلیم دیتے تھے

۴۔ جس قدر بانیانِ مذاہب گزرے ہیں ان کی تعلیم پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ ہی وہ زمانہ کی رَو کے خلاف رہی ہے۔ اگر ان کی تعلیمیں زمانہ کی رَو کے مطابق ہوتیں تو کہا جا سکتا تھا کہ وہ اپنی جماعت کے ذہنی ارتقاء کے نمائندے تھے لیکن وہ لوگ تو اپنے زمانہ کی تعلیم کو نہ صرف رَدّ کرتے تھے بلکہ اس کے خلاف ایک اور تعلیم بھی پیش کرتے تھے جس کی وجہ سے ملک میں ایک آگ لگ جاتی تھی لیکن باوجود اس کے ان کے مخاطب ان کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ یہ چیز بھی بتاتی ہے کہ وہ نمائندۂ انسان نہیں تھے بلکہ حقیقی مصلح اور خدا تعالیٰ کے نبی تھے۔

موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک خدا کی تعلیم کتنی عجیب چیز تھی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں جبکہ مادیت کچھ یہود کی دنیا پرستی کی وجہ سے اور کچھ رومی حکومت کے غلبہ کی وجہ سے فلسطین پر غالب آرہی تھی روحانیت پر زور دینا اور دنیا طلبی کے خلاف وعظ کرنا اور اُس وقت جبکہ یہود رومی کوڑوں کے نیچے تلملا رہے تھے اور انتقام کے جذبات ان کے دل میں پیدا ہو رہے تھے، انہیں عفوا ور رحم کی تعلیم دینا کتنی عجیب بات تھی۔ ہندوستان میں ایک طرف کرشنؑ کا لڑائی کی تعلیم دینا اور دوسری طرف مادیت سے دل ہٹا کر خدا تعالیٰ کے ساتھ لَو لگانے کی تعلیم دینا اُس زمانہ کے حالات کے کیسا خلاف تھا۔ زرتشتی تعلیم بھی جو انسانی زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی تھی ایران جیسے آزاد خیال لوگوں کیلئے کتنی ناقابلِ قبول تھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عرب میں پیدا ہو کر یہودیوں اور عیسائیوں کو دعوت دینا جبکہ مسیحیوں اور یہودیوں کے نزدیک ان کے مذہب کے سوا کہیں اور ہدایت نہیں پائی جاتی تھی اور مکہ والوں کو جو کہ شرک میں ڈوبے ہوئے تھے توحید کی تعلیم دینا اور جو اپنی نسلی برتری کے خیالات میں مگن تھے انہیں تمام بنی نوع انسان کے برابر ہونے کا پیغام پہنچانا، شراب میں مست اور جوئے میں غرق رہنے والوں کو شراب کی حرمت اور جوئے کی شناعت کی تعلیم دینا بلکہ زندگی کے ہر شعبے کے متعلق رائج الوقت خیالات اور اعمال کی مخالفت کرنا اور اس کی جگہ ایک نئی تعلیم پیش کرنا اور پھر اس میں کامیاب ہو جانا بتاتا ہے کہ آپ پہاڑ کی چوٹی سے پوری شدت کے ساتھ گرنے والے دریا کی مخالف سمت

میں تیر کر منزلِ مقصود تک پہنچ گئے اور یہ کام انسانی طاقت سے باہر ہے۔

بانیانِ مذاہب کے ذریعہ نشانات و معجزات کا ظہور

۵۔ جس قدر بانیانِ مذاہب گزرے ہیں سب کے ہاتھوں سے ایسے نشانات اور معجزات ظاہر ہوئے ہیں جن کا ظہور کسی انسان کے ہاتھوں سے نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلے تو ان میں سے ہر ایک نے اپنے دعویٰ کے ساتھ ہی یہ خبر بھی دے دی ہے کہ میری تعلیم پھیل کر رہے گی اور اس کے ساتھ ٹکرانے والا خود پاش پاش ہو جائے گا اور باوجود اس کے کہ دُنیوی لحاظ سے وہ بہت کمزور تھے، دُنیوی علوم کے لحاظ سے صفر تھے اور زمانہ کی رَو کے خلاف تعلیم دینے والے تھے اور باوجود اس کے کہ ان کی شدید ترین مخالفت کی گئی پھر بھی وہ غالب آئے اور ان کی بتائی ہوئی خبر پوری ہوئی۔ کون انسان قبل از وقت ایسی خبر دے سکتا ہے اور پھر کون سی انسانی طاقت اسے پورا کروا سکتی ہے۔

انبیاء کی ترقی اور دنیاوی لیڈروں کی ترقی میں فرق

اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض دوسرے انسانوں نے بھی غیر معمولی ترقیاں کی ہیں مگر یہاں سوال غیر معمولی ترقی کا نہیں بلکہ سوال اس بات کا ہے کہ ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے اپنی ترقی کا اعلان کیا اور اپنی اخلاقی زندگی اور موت کو اس پیشگوئی کے ساتھ وابستہ کر دیا اور پھر زمانہ کی رَو کے خلاف چلے۔ بیشک نپولین، ۳۱؎ ہٹلر، ۳۲؎ اور چنگیز خان ۳۳؎ نے بھی ادنیٰ حالت سے ترقی کی لیکن وہ زمانہ کی رَو کے خلاف نہ چلے تھے۔ انہوں نے کبھی یہ اعلان نہیں کیا کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ باوجود مخالفت کے تم جیت جاؤ گے۔ پھر ان کی کبھی شدید مخالفت نہیں ہوئی کیونکہ جس بات کا وہ اعلان کر رہے تھے ملک کے اکثر افراد خود اس کے خواہشمند تھے۔ ذرائع میں اختلاف ہو تو ہو مگر مقصود میں اختلاف نہیں تھا۔ اگر وہ ہار جاتے یا ہار گئے تو ان کی عظمت میں کوئی فرق نہیں آ سکتا۔ باوجود اس کے وہ قوم کے لیڈر بنے رہے اور یہی امید کرتے تھے کہ ہم ہی بنے رہیں مگر ذرا خیال تو کرو کہ اگر موسیٰ اور عیسیٰ اور کرشنؑ اور زرتشتؑ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ ناکام رہتے تو کیا وہ آئندہ نسلوں میں قوم کے ہیرو کے طور پر یاد کئے جا سکتے تھے؟

ان کی اپنی قومیں انہیں دھوکا باز اور دغا باز کہتیں ، تاریخیں ان کے ذکر کو نظر انداز کر دیتیں اور وہ ہمیشہ کیلئے بدنامی کے گڑھے میں گر جاتے ۔ پس ان کے دعویٰ میں اور نپولین اور ہٹلر وغیرہ کے دعویٰ میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور اُن کی کامیابیوں اور اِن کی کامیابیوں میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے۔

پھر ذرا ان لوگوں کے انجام کو بھی دیکھو۔ نپولین، ہٹلر اور چنگیز خان کو کتنے لوگ عقیدت اور محبت سے یاد کرتے ہیں۔ ہیرو تو وہ ہوتے ہیں جن کا قبضہ قوم کے ایک حصہ کے دماغوں پر بھی ہو لیکن کیا ان کے ہاتھوں اور پاؤں اور دلوں پر بھی ان لوگوں کا قبضہ ہے؟ مگر اِن دُنیوی لیڈروں کے مقابلہ پر دینی راہبر ایسے تھے کہ لاکھوں آدمی ہر زمانہ میں ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اُسی طرف آنکھ اُٹھائی ہے جس طرف اُٹھانے کے لئے ان لوگوں نے کہا تھا اور اُسی بات کو سنا ہے جس کے سننے کی ان لوگوں نے اجازت دی تھی اور وہی فقرات اپنی زبان پر لائے ہیں جن فقرات کے بولنے کی ان کی طرف سے ہدایت تھی اور ان کے ہاتھ اور پاؤں ان ہی کاموں کے لئے چلے ہیں جن کاموں میں حصہ لینے کی اُنہوں نے ترغیب دی تھی۔ کیا دوسرے قومی لیڈروں کے متعلق اِس مثال کا لاکھواں یا کروڑواں حصہ بھی ثابت کیا جا سکتا ہے؟ پس یہ لوگ یقیناً خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے اور ان کے لائے ہوئے مذہب یقیناً خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے۔

بانیانِ مذاہب کی تعلیم میں اختلاف کی وجہ

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سب خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے تو ان کی تعلیمات میں اختلاف کیوں تھا؟ کیا خدا تعالیٰ مختلف تعلیمیں دے سکتا ہے جبکہ کوئی عقلمند انسان بھی مختلف تعلیمیں نہیں دیا کرتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک ہی قسم کے حالات میں مختلف قسم کی تعلیمیں نہیں دی جاتیں بلکہ مختلف حالات میں مختلف تعلیمیں دینا ہی حکیم ، ہستیوں کا کام ہوتا ہے۔ آدم کے زمانہ میں تمام بنی نوع ایک ہی جگہ رہتے تھے اس لئے ان کے لئے ایک ہی قسم کی تعلیم کافی تھی۔ شاید نوحؑ تک بھی یہی حالت تھی مگر میں اس کے متعلق قطعی رائے نہیں رکھتا۔ بائبل کہتی ہے کہ بابل کے زمانہ تک تمام قومیں ایک ہی جگہ پر رہتی تھیں ۔ گو بائبل تاریخ کی کتاب نہیں لیکن ایک بات جو اس دعویٰ کی تائید میں مجھے تاریخ سے نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ دنیا کی تمام اقوام میں یہاں تک کہ بعض جزائر کے وحشی قبائل میں بھی طوفانِ نوحؑ کی خبر ملتی ہے۔ چونکہ ایسا طوفان جو ساری دنیا میں آیا ہو اور پھر ساری دنیا کو اس کے عالمگیر ہونے کا علم بھی ہو، یہ ایک غیر طبعی سا دعویٰ ہو گا اس لئے یہی بات قرینِ قیاس معلوم ہوتی ہے کہ دنیا کے کسی ایک مقام پر یہ طوفان آیا تھا جب کہ دنیا کی آبادی ایک جگہ پر تھی اور اس کے بعد لوگ اِدھر اُدھر پھیل گئے۔ پس گو بابل کے زمانہ تک دنیا کا ایک ہونا ثابت نہ ہو مگر نوحؑ کے زمانہ تک تو دنیا کا ایک ہونا ثابت ہوتا ہے۔

نوحؑ کے زمانہ کے بعد کسی وقت جب بنی نوع انسان متفرق ملکوں میں پھیل گئے اور وہ تعلیم جو نوحؑ نے دی تھی آہستہ آہستہ خراب ہونے لگی تو اس وجہ سے کہ آمد و رفت کے ذرائع محدود تھے اور ایک ملک کے نبی کی آواز دوسری جگہ نہیں پہنچتی تھی خدا تعالیٰ نے مختلف ملکوں میں اپنے نبی بھیجے تاکہ کوئی قوم اُس کی ہدایت سے محروم نہ رہ جائے اور اس سے اختلافِ مذاہب کی بنیاد پڑی۔ چونکہ بنی نوع انسان کی دماغی حالت ابھی تکمیل کو اور علم و عقل اپنے نقطۂ مرکزی کو نہ پہنچے تھے اس لئے ہر ملک اور اُس ملک کی دماغی حالت کے مطابق تعلیمات نازل ہوئیں۔ لیکن جب نسلیں ترقی کرتی گئیں اور غیر ممالک آباد ہونے شروع ہوئے اور آبادیوں کے فاصلے کم ہوتے چلے گئے اور ذرائع آمد و رفت میں ترقی ہوتی چلی گئی۔ کشتیوں نے جہازوں کی صورت اور جہازوں نے بادبانی جہازوں کی صورت اختیار کر لی۔ پاؤں پر چلنے والوں نے بیلوں پر، پھر اونٹوں، گدھوں، گھوڑوں پر چڑھنا شروع کیا پھر ہاتھیوں پر چڑھنا شروع کیا اور پھر آرام اور سہولت سے سفر کرنے کیلئے بیلوں، گھوڑوں اور گدھوں کو گاڑیوں میں جوتنا شروع کیا اور پھر ان گاڑیوں اور جہازوں نے سڑکوں اور سمندروں کے ذریعہ سے دُور دُور تک آمد و رفت کے سلسلہ کو جاری کیا۔

تمام بنی نوع کیلئے ایک کامل دین کا ظہور اور توحید پر زور

الغرض جب انسانی دماغ اِس حد تک پہنچ گیا کہ مختلف حالات کے متوازی تعلیمات کو سمجھ سکے اور موقع مناسب پر ان کا استعمال کر سکے۔ جب انسان باہمی میل جول کے بعد اس نتیجہ پر پہنچنے کے قابل ہوا کہ سب بنی نوع انسان ایک ہی ہیں اور سب کا پیدا کرنے والا ایک خدا ہے اور سب کو ہدایت دینے والا ایک ہادی ہے تب اللہ تعالیٰ نے ریگستانِ عرب کی بستی مکہ میں اپنا وہ آخری پیغام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا جس کی پہلی آیت یہ ہے اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(۳۴) یعنی وہ خدا تعالیٰ تمام تعریفوں کا مستحق ہے جو ہر قوم اور ہر ملک کی یکساں ربوبیت کرنے والا ہے اور اس کی ربوبیت کا پہلو کسی ایک قوم یا ایک ملک کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اور جس پیغام کا خاتمہ ان آیات پر ہوتا ہے قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِکِ النَّاسِ اِلٰہِ النَّاسِ(۳۵) یعنی تو کہہ میں اُس خدا کی پناہ طلب کرتا ہوں جو تمام بنی نوع انسان کا ربّ ہے ، جو تمام بنی نوع انسان کا بادشاہ ہے ، جو تمام بنی نوع انسان کا معبود ہے ، وہ شخص جس پر یہ کلام نازل ہوا وہ شخص یقیناً آدم ثانی تھا جس طرح آدم اوّل کے زمانہ میں ایک ہی کلام اور ایک ہی اُمت تھی اسی طرح اِس کے زمانہ میں بھی ایک ہی کلام اور ایک ہی اُمت ہو گئی۔ پس اگر اِس دنیا کا پیدا کرنے والا خدا ایک ہی ہے اور اگر وہ تمام اقوام اور تمام ممالک کے ساتھ یکساں تعلق رکھتا ہے تو ضروری تھا کہ کسی وقت تمام قومیں اور تمام افراد ایک نقطۂ مرکزی کی طرف جھکتے یا ایک نقطہ پر جمع ہونے کا سامان ان کے لئے پیدا کیا جاتا اور اِس ضرورت کو صرف قرآن کریم پورا کرتا ہے۔ قرآن کریم کے بغیر دنیا کی روحانی پیدائش بالکل بیکار ہو جاتی ہے کیونکہ دنیا اگر روحانی طور پر ایک نقطہ پر جمع نہیں ہوتی تو خدائے واحد کی واحدانیت کس طرح ثابت ہو سکتی ہے۔ شروع شروع میں دریاؤں کے کئی نالے ہوتے ہیں مگر دریا آخر ایک بڑے وسیع رستہ میں اکٹھا ہو کر بہہ چلتا ہے تب اس کی شان وشوکت ظاہر ہوتی ہے۔ موسیٰؑ عیسیٰؑ ، زرتشت ، کرشنؑ اور دوسرے انبیاء کی تعلیمات پہاڑی نالے تھے۔ اپنی اپنی جگہ وہ بھی مفید کام کرتے رہے تھے مگر ان نالوں کا ایک دریا میں مل جانا خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور بنی نوع انسان کی انتہائی ترقی پر پہنچنے کے لئے نہایت ضروری تھا۔

قرآن مجید کے سوا کسی نبی کی تعلیم سب قوموں کیلئے نہ تھی

اگر قرآن اِس غرض کو پورا نہیں کرتا تو کس نبی کی کتاب اِس غرض کو پورا کرتی ہے؟ کیا بائبل اِس غرض کو پورا کرتی ہے جو خدا کو بنی اسرائیل کے ساتھ مخصوص کر دیتی ہے؟ کیا زرتشت کی کتاب اِس ضرورت کو پورا کرتی ہے جو خدا کے نور کو ایرانیوں کے ساتھ وابستہ کر دیتی ہے؟ کیا وید اِس ضرورت کو پورا کرتے ہیں جو ویدوں کے سننے والے شُو دَر کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالنے کا ارشاد کرتے ہیں؟ کیا بدھ اِس ضرورت کو پورا کرتے ہیں جن کا ذہن ہندوستان کی چار دیواری سے باہر کبھی گیا ہی نہیں؟ ہاں! کیا مسیحؑ کی تعلیم اِس غرض کو پورا کرنے والی ہے جو خود کہتا ہے کہ:

”یہ مت خیال کرو کہ میں تورات یا نبیوں کی کتاب منسوخ کرنے آیا ہوں۔ میں منسوخ کرنے نہیں بلکہ پوری کرنے آیا ہوں۔ کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہرگز نہ مٹے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو۔“۔۳۶

اور موسیٰ اور گذشتہ نبیوں نے عالمگیر مذہب کے متعلق جو کچھ خیالات ظاہر کئے ہیں وہ میں اوپر لکھ ہی چکا ہوں۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ عیسائیت نے ساری دنیا کو تبلیغ کی ہے مگر یہ تبلیغ مسیحؑ کے ذہن میں تو نہ تھی۔ سوال اِس کا نہیں کہ دنیا کیا کرتی ہے۔ سوال اِس بات کا ہے کہ بھیجنے والے خدا کا منشاء کیا تھا اور اس منشاء کو مسیح کے سوا کون ظاہر کر سکتا ہے۔ مسیح خود کہتا ہے کہ:۔

”میں اسرائیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔“۔۳۷

اور کہ:

”ابن آدم آیا ہے کہ کھوئے ہوئے کو ڈھونڈ کے بچاوے۔“۔۳۸

پس مسیحؑ کی تعلیم سوائے بنی اسرائیل کے اور کسی کے لئے نہ تھی۔ کہا جاتا ہے کہ مسیحؑ نے دوسری اقوام کی طرف جانے کی بھی ہدایت کی تھی جیسے کہ اُس نے کہا:۔

”تم جا کر سب قوموں کو شاگرد کرو اور انہیں باپ، بیٹے اور روح القدس کے نام سے بپتسمہ دو“۔۳۹

مگر اس حوالہ سے یہ نتیجہ نکالنا کہ مسیحؑ نے بنی اسرائیل کے سوا اور قوموں کی طرف بھی جانے کی ہدایت کی تھی درست نہیں۔ کیونکہ مسیح خود کہتا ہے کہ:۔

”تم جو میرے پیچھے ہو لئے جب نئی خلقت میں ابن آدم جلال کے تخت پر بیٹھے گا تم بھی بارہ تختوں پر بیٹھو گے اور اسرائیل کے بارہ گروہوں کی عدالت ہو گی“۔۴۰

اس آیت سے ظاہر ہے کہ مسیحؑ کی حکومت تا ابد بنی اسرائیل کے بارہ گروہوں پر ہے نہ کہ دوسری قوموں پر۔ اسی طرح مسیحؑ کہتا ہے:۔ ’’میں بنی اسرائیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا‘‘۔۱؎

پھر اس نے ہدایت کی طالب عورت کو جو کہ اسرائیلی نہ تھی بلکہ کنعان کی رہنے والی تھی۔ کہا کہ: ’’مناسب نہیں کہ لڑکوں کی روٹی لے کر کتوں کے آگے پھینک دیویں‘‘۔۲؎

پھر وہ کہتا ہے۔ ’’غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا۔ بلکہ پہلے بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جاؤ‘‘۔۳؎

یہ خیال نہ کیا جائے کہ اس جگہ ’پہلے‘ کا لفظ ہے اور مطلب یہ ہے کہ پہلے اسرائیلی شہروں میں جاؤ اور پھر غیر اسرائیلی شہروں میں جانا کیونکہ اس جگہ خالی اسرائیلیوں کے شہروں میں پھرنا مراد نہیں بلکہ اسرائیلیوں کو مسیحی بنانا مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب تک اسرائیلی مسیحی نہ ہو جائیں کسی اور قوم کی طرف توجہ نہ کرنا اور خود مسیحؑ نے واضح کر دیا ہے کہ یہ کام مسیح ثانی کی آمد تک پورا نہ ہوگا۔ چنانچہ اس باب کی آیت ۲۳ میں لکھا ہے:۔ ’’جب وے تمہیں ایک شہر میں ستاویں تو دوسرے میں بھاگ جاؤ۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم اسرائیل کے سب شہروں میں نہ پھر چکو گے جب تک کہ ابن آدم نہ آئے گا‘‘۔۴؎

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی آیت میں بنی اسرائیل کے شہروں میں پھر جانا مراد نہیں کیونکہ یہ کام تو چند مہینوں میں ہو سکتا تھا بلکہ اس سے مراد بنی اسرائیل کا مسیحیت میں داخل ہونا ہے اور مسیحؑ فرماتے ہیں کہ اُن کی آمدِ ثانی تک یہ کام پورا نہیں ہوگا۔ پس مسیحؑ کی آمدِ ثانی تک غیر قوموں کو مخاطب کرنے میں مسیحی لوگ حق بجانب نہیں بلکہ مسیح کی تعلیم کے خلاف چلنے والے ہیں۔

پھر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے حواری بھی غیر اقوام میں اناجیل کی منادی کرنا جائز نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ چند رسولوں کے متعلق لکھا ہے:۔

”وے جو اس جور و جفا سے جو کہ استیفن کے سبب برپا ہوئی تتر بتر ہو گئے تھے۔ پھرتے پھرتے فینیکے وکپرس اور انطاکیہ میں پہنچے مگر یہودیوں کے سوا کسی کو کلام نہ سناتے تھے“۔۴۵

اسی طرح جب حواریوں نے سنا کہ پطرس نے ایک جگہ غیر قوموں میں انجیل کی منادی کی ہے تو وہ سخت ناراض ہوئے اور جب پطرس یروشلم میں آیا تو مختون اُس سے یہ کہہ کر بحث کرنے لگے کہ تو نامختونوں کے پاس گیا اور اُن کے ساتھ کھایا۔۴۶

پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی شخص بھی نہیں تھا جس نے ساری دنیا کو خطاب کیا ہو اور قرآن سے پہلے کوئی کتاب نہ تھی جس نے ساری دنیا کو مخاطب کرنے کا دعویٰ کیا ہو۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں جنہوں نے ساری دنیا کو مخاطب کر کے کہا کہ قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا(7:159)۴۷ یعنی اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ پس قرآن کریم کا آنا ان اختلافات کے مٹانے کے لئے جو وقتی اور قومی تعلیموں کی وجہ سے پیدا ہو گئے تھے ضروری تھا۔ اگر قرآن نہ آتا تو دنیا پر یہ بھی ثابت نہ ہوتا کہ دنیا کا پیدا کرنے والا ایک خدا ہے اور نہ یہ ثابت ہوتا کہ دنیا ایک خاص مقصود کو مدنظر رکھ کر پیدا کی گئی ہے۔ پس گذشتہ مذاہب کا اختلاف اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ وہ دنیا کو متحد کرنے والی آخری تعلیم کے رستہ میں روک نہیں بلکہ ان کا وجود ہی ایک ایسی تعلیم کا متقاضی ہے۔

دوسرا سوال اور اُس کا جواب

دوسرا سوال یہ ہے کہ انسانی دماغ اسی طرح ارتقاء کی منزلوں کو طے کرتے ہوئے نہیں جا رہا تھا جس طرح انسانی جسم نے کسی زمانہ میں ارتقاء کی منزلیں طے کی تھیں؟ پھر کیا جس طرح جسم کی ارتقائی منزلیں ایک مقام پر پہنچ کر ایک مستقل صورت اختیار کر گئیں اسی طرح کیا روح اور دماغ کیلئے بھی یہ ضروری نہ تھا کہ وہ ارتقائی منزلوں کو طے کرتے ہوئے ایک ایسی منزل پر پہنچتے جو انسانی پیدائش کا مقصود تھی؟

تمدن و تہذیب اور کلچر سے کیا مراد ہے؟

اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ مختلف ممالک کی تہذیب اور تمدن کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا پر تہذیب اور تمدن کے کئی دَور آئے ہیں اور بعض اُن میں سے اتنے شاندار گزرے ہیں کہ بادی النظر میں وہ دَور ہمارے موجودہ دَور کے بالکل مشابہہ معلوم ہوتے ہیں۔ اگر مکینیکل ترقی کو الگ کر دیا جائے تو پُرانا دَورِ تمدن موجودہ دَورِ تمدن کے بالکل مشابہہ معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح پرانا دَورِ تہذیب بھی موجودہ زمانہ کے دَورِ تہذیب کے بہت حد تک مشابہہ نظر آتا ہے۔ مگر زیادہ غور سے دیکھا جائے تو دو فرق ہمیں نمایاں نظر آتے ہیں لیکن پیشتر اِس کے کہ میں ان امتیازوں کا ذکر کروں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ تمدن یعنی سویلیزیشن اور تہذیب یعنی کلچر سے میری کیا مراد ہے۔ میرے نزدیک تمدن ایک خالص مادی نقطۂ نگاہ ہے۔ مادی ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی اعمال میں جو یکسانیت اور سہولت پیدا ہو جاتی ہے وہ میرے نزدیک تمدن کہلاتی ہے۔ انسانی اعمال کے نتیجہ میں جس قسم کی اور جس قدر پیداوار دنیا میں ہو اُس کو ایک دوسری جگہ پہنچانے کے لئے نقل و حرکت کے جتنے ذرائع موجود ہوں، مال کو سہولت کے ساتھ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کی طرف منتقل کرنے کے لئے جتنی تدبیریں کی گئی ہوں، تعلیم جتنی رائج ہو، صنعت و حرفت جتنی منظم کر لی گئی ہو، سائنس کی طرف قوم میں جتنا میلان پایا جاتا ہو اور مُلک میں امن کے قیام کے لئے جس حد تک فوجی تنظیم کی گئی ہو، یہ چیزیں لازمی طور پر انسان کے اعمال پر اثر ڈالتی ہیں اور ان میں جو ملک ترقی یافتہ ہو اُس کے افراد کی زندگی دوسری اقوام کے افراد کی زندگی سے نمایاں طور پر الگ نظر آتی ہے اور میرے نزدیک اسی کو تمدن یا سویلیزیشن کہتے ہیں۔ ایک زراعتی طور پر غیر تعلیم یافتہ ملک کے لوگوں کی غذا یقیناً زراعتی طور پر زیادہ ترقی یافتہ ملک کی نسبت مختلف ہوگی۔ زراعتی طور پر ترقی یافتہ ملک طبی طور پر تجویز کردہ اور زبان کے ذائقہ کے مطابق خوراک استعمال کرے گا اور اس کی خوراک میں بہتات ہوگی۔ مگر زراعت میں غیر ترقی یافتہ ملک کے لوگوں کی خوراک میں نہ طبی اصول مدنظر رکھے جا سکیں گے نہ ذائقہ کا سوال مدنظر ہوگا۔ قدرت نے جو غذا ان کے ملک میں پیدا کر دی ہے وہ اسی کے کھانے پر مجبور ہوں گے اور اس سے آگے ان کی نگاہ جا ہی نہیں سکے گی۔ اسی طرح ایک صنعت و حرفت میں پیچھے رہ جانے والا ملک صنعت و حرفت میں ترقی کر جانے والے ملک کا مقابلہ لباس اور مکان اور مکان کے فرنیچر میں بھی نہیں کر سکتا۔ مکانوں کی حفاظت اور نگہداشت میں بھی نہیں کر سکتا کیونکہ اُس ملک کے پاس اتنے کپڑے نہیں ہوں گے کہ اُس کے ماہر اس فکر میں لگ جائیں کہ وہ کپڑے کس کس شکل میں استعمال کئے جائیں۔ مختلف کوٹوں کی ساخت اور ان کے استعمال کے مواقع تو الگ رہے ان لوگوں کو تو کپڑے کی کمی کی وجہ سے خود کوٹ کا بھی خیال نہیں آ سکتا۔ بلکہ وہ لوگ تو کرتے کو بھی ایک عیاشی سمجھیں گے۔ بکروٹے کے چمڑے کے بوٹ تو الگ رہے اُن لوگوں کے لئے تو بھینس کے صاف شدہ چمڑے کے بوٹوں پر اصرار کرنا بھی ناممکن ہوگا۔ بلکہ ان کے لئے تو جوتی بھی ایک عیاشی کا خیال ہوگی اور وہ یا تو ننگے پاؤں پھرنے کو زندگی کا ایک معمول سمجھیں گے یا بالوں والے چمڑے تسموں کے ساتھ پیر میں باندھ کر یہ خیال کریں گے کہ ہم ایک نعمتِ عظمیٰ کے مالک ہو گئے ہیں۔ چونکہ میں یہ مضمون ضمناً لکھ رہا ہوں اس کی تفصیلات بیان نہیں کرتا لیکن ایک ادنیٰ تدبر سے یہ بات سمجھ میں آ سکتی ہے کہ زندگیوں کا یہ فرق محض زراعت، صنعت و حرفت، سائنس اور تعلیم کے فرق کا نتیجہ ہے۔ مگر فرق اتنا بڑا ہے کہ ایک قسم کی زندگی کے عادی لوگ دوسری قسم کی زندگی کے عادی لوگوں کے ساتھ مل کر بیٹھنا بھی برداشت نہیں کر سکیں گے۔ یہی چیز میرے نزدیک تمدن یعنی سویلایزیشن کہلاتی ہے اور اس کے اختلافات پر دنیا کی صلح اور دنیا کی جنگ کا بہت کچھ انحصار ہے۔ یہی تمدن آخر امپیریل ازم اور خواہشِ عالمگیری انسان کے دل میں پیدا کرتا ہے۔

دوسری چیز تہذیب یعنی کلچر ہے اس کو تمدن سے وہی نسبت ہے جو روح کو جسم سے ہے۔ تمدن مادی ترقی کا نتیجہ ہے اور تہذیب دماغی ترقی کا نتیجہ ہے۔ تہذیب یعنی کلچر اُن افکار اور اُن خیالات کا نتیجہ ہے جو کسی قوم میں مذہب یا اخلاق کے اثر کے نیچے پیدا ہوتے ہیں۔ مذہب ایک بنیاد قائم کرتا ہے اور مذہب کے پیرو اُس بنیاد پر ایک عمارت کھڑی کرتے ہیں۔ خواہ وہ بنیاد رکھنے والے کے خیالات سے کتنے بھی دُور چلے جائیں وہ بنیاد کو چھوڑ نہیں سکتے۔ جس شخص نے عمارت کی بنیاد رکھی ہو اُس کے نقشہ سے عمارت بنوانے والے کے نقشہ کو کتنا بھی اختلاف ہو پھر بھی وہ بنیاد کے کونوں اور زاویوں سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح دنیا میں مختلف مذاہب اور مختلف فلسفوں نے انسانی دماغ کو خاص خاص راستوں پر چلایا ہے اور اس کے نتیجہ میں افکار نے جو صورت اختیار کی ہے وہ اخلاق اور آرٹ کی نقل میں ایسی مخصوص نوعیتیں اختیار کر گئی ہے کہ دیکھنے والا مختلف مذاہب کے سچے پیروؤں کے اصولِ اخلاق اور آرٹ کے ظہور کو جدا جدا صورتوں میں دیکھتا ہے اور یہی چیز کلچر ہے۔

مختلف کلچر بھی قوموں میں اختلاف کا موجب ہیں

کلچر بھی قوموں میں اختلاف کرنے کا موجب ہوتی ہے۔ آج دنیا میں دہریت غالب ہے۔ آج دنیا میں وسعت خیالی کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ مگر باوجود اس کے ایک عیسائی کہلانے والے دہریہ اور ایک متعصب عیسائی میں جس سہولت کے ساتھ جوڑ اور اتفاق ہو جاتا ہے اس سہولت کے ساتھ اس عیسائی کہلانے والے دہریہ کا مسلمان کہلانے والے دہریہ سے یا ایک متعصب عیسائی کا ایک متعصب مسلمان سے اتفاق نہیں ہوتا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ زمانہ کے اختلاف میں پولیٹیکل خیالات کا بھی جو کہ تمدن یعنی سویلیزیشن کا نتیجہ ہیں بہت کچھ دخل ہے مگر کلچر کے اختلاف کا بھی اس سے کم دخل نہیں۔ مسلمان خواہ یورپ کا رہنے والا ہو جب اُسے ایشیائی مسلمان ملتا ہے تو جس طرح اس کے دل کی کلی کھل جاتی ہے اس طرح یورپ کے عیسائی کے ساتھ ملنے سے نہیں کھلتی۔ جس طرح یورپ کے ایک متعصب عیسائی کے دل کی کلی امریکہ کے ایک دہریہ عیسائی کے ساتھ مل کر کھل جاتی ہے اس طرح یورپ کے ایک مسلمان کے ساتھ مل کر نہیں کھلتی۔

کیا اس کی وجہ تعصبِ مذہب ہے؟ یقیناً نہیں۔ کیونکہ اگر تعصبِ مذہب اس کا باعث ہوتا تو چاہئے تھا کہ یہ تعصب ایک عیسائی کو مسلمان کی نسبت ایک دہریہ کا زیادہ مخالف بناتا لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ پس اصل وجہ یہی ہے کہ ایک عیسائی خواہ وہ دہریہ ہو گیا ہو مگر اُس کی تہذیب یا کلچر عیسائی ہے۔ اس کا فکر تو عیسائیت سے آزاد ہو گیا ہے مگر اُس کی طبیعت اور افعال عیسائیت کی تہذیب سے آزاد نہیں ہوئے۔ کیونکہ نسلوں کا اثر ایک دم مٹایا نہیں جاسکتا۔ ایک آرٹسٹ خواہ دہریہ ہو اس کی تصویریں ، اس کی میوزک اور اس کی تعمیر عیسائی کلچر سے جدا نہیں ہو سکتی اور اگر وہ جدا ہو گی تو ایک بھونڈی سی چیز نظر آئے گی جیسے گلاب کے باغ میں کیکر کا درخت لگا دیا جائے۔

اِس تشریح کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تمدن اور تہذیب کے دَور کبھی تو الگ الگ آتے ہیں اور کبھی ایک ہی وقت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یعنی کبھی کسی ملک میں تمدنی دَور آیا ہے لیکن تہذیبی دَور نہیں آیا اور کبھی تہذیبی دَور آیا ہے اور تمدنی دَور نہیں آیا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے روم اپنے اقتدار کی حالت میں ایک اچھے تمدن کا نمونہ پیش کرنے والا تھا لیکن اس کی کوئی تہذیب یا کلچر نہیں تھا۔ اُس کا آرٹ اور اُس کا فلسفہ مقررہ ابتدائی اصول کے تابع نہ تھا بلکہ ہر شخص کا ذہن آزادانہ طور پر کام کر رہا تھا۔ مسیحؑ کے زمانہ میں پہلی چند صدیوں میں عیسائیت نے کوئی تمدن تو دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا لیکن ایک اعلیٰ درجہ کی تہذیب اور کلچر پیش کیا۔ وہ بھی ایک اصول اور ایک خاص دائرہ کے اندر کام کرنے والے لوگ تھے مگر ان کے اصول اور ان کے دائرے مذہب کے تعیّن کردہ تھے۔ لیکن روم کے اصول اور دائرے مادیات کے مقرر کردہ تھے۔ پس ابتدائی روم تمدن کا ایک اعلیٰ نمونہ تھا اور ابتدائی عیسائیت کلچر کا ایک اعلیٰ نمونہ تھی۔ روم کے دوسرے دَورِ ترقی میں تمدن اور کلچر مل گئے۔ روم نے جب عیسائیت قبول کی تو اس میں تمدن بھی تھا اور تہذیب بھی تھی لیکن اس کا تمدن تہذیب کے تابع تھا جیسا کہ آجکل یورپ میں تمدن بھی ہے اور تہذیب بھی ہے مگر بوجہ مادیت کے غلبہ کے اُس کی تہذیب اُس کے تمدن کے تابع ہے۔

تہذیب وتمدن کے مختلف اَدوار

ہم تاریخِ عالَم کے ابتدائی دَوروں میں دیکھتے ہیں کہ جہاں جہاں مذہب نے اچھا فلسفہ، اخلاق اور اچھی تہذیب پیدا کی ہے وہ ہمارے زمانہ کے بہت قریب آگئی ہے اور جہاں جہاں مادیت نے عمدہ تمدن پیدا کیا ہے وہ تمدن ہمارے تمدن کے بہت قریب آگیا ہے، لیکن دو فرق نمایاں نظر آتے ہیں۔ اسلام سے پہلے کا تمدن اور ایک ہی جڑ کی شاخیں نظر نہیں آتیں یا اگر نظر آتی ہیں تو نامکمل صورت میں۔ یہودی مذہب میں بیشک تمدن کو تہذیب کے ساتھ ملانے کی کوشش کی گئی ہے اور تورات نے بہت حد تک سوسائٹی کے نظم و نسق کو اور اس کی مادی ترقی کو بھی مذہب کے دائرہ میں لانے کی کوشش کی ہے مگر بائبل کی یہ کوشش ابتدائی کوشش تو کہلا سکتی ہے کامیاب اور آخری کوشش نہیں کہلا سکتی۔ یہی حال ہندو مذہب اور زرتشتی مذہب کا ہے۔

ایک لچکدار تعلیم کی ضرورت

زندگی کی ہزاروں ضرورتوں کے متعلق قانون اخلاق کا وہ لچکدار فلسفہ جو ہر موقع اور ضرورت پر کام آسکے ان مذاہب میں مفقود ہے۔ ایک ٹھوس غیر لچکدار تعلیم نامکمل صورت میں تمدن کے متعلق پائی جاتی ہے لیکن وسیع انسانی دنیا کی غیر لچکدار تعلیم رہنمائی نہیں کرسکتی۔ انسان کو دوسرے حیوانات سے یہی تو امتیاز حاصل ہے کہ سب کے سب انسان بظاہر ایک بھی ہیں اور سب کے سب ایک دوسرے سے جدا بھی ہیں۔ دنیا کی تمام بھینسیں اور تمام شیر اور تمام چیتے اور تمام باز اور تمام مچھلیاں غرض نباتات خواہ از قسم حیوانات ہوں یا جمادات، خواہ حیوانات سمندری ہوں یا ہوائی ہوں یا خشکی کے ہوں اُن کی شکلیں بھی ایک ہیں اور اُن کے دماغ بھی ایک ہیں۔ اُن کی شکلیں بھی ایک قسم کا قانون چاہتی ہیں اور اُن کے دماغ بھی ایک قسم کا قانون چاہتے ہیں لیکن انسان اس بات میں منفرد ہے۔ تمام انسان ایک قسم کی شکل اور ایک قسم کے اعضاء لے کر پیدا ہوتے ہیں لیکن اُن کے دماغی افکار ایک دوسرے سے اتنے جدا ہوتے ہیں کہ بسا اوقات بیوی مشرق میں ہوتی ہے تو خاوند مغرب میں یا باپ مغرب میں ہوتا ہے تو بیٹا مشرق میں۔ ایسی ہستیوں کو جمع کرنے کے لئے یقیناً ایک لچکدار تعلیم کی ضرورت ہے جو اپنی لچک کے ساتھ اپنے قانون کی شدت کا ازالہ کردے اور ہر نوعیت کے خیالات کو ایک رسی میں باندھ دے۔

یہودی اور عیسائی کلچروں کے بعد ایک نئے کلچر کی ضرورت

دنیا میں جوں جوں ترقی ہوتی چلی گئی ہے ہمیں معلوم ہے کہ دنیا اس طرف آنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ موسیٰ ؑنے بنی اسرائیل کو ایک مذہب بھی دیا اور ایک تمدن بھی دیا مگر غیر لچکدار تمدن انسانی فطرت کو تسلی نہ دے سکا۔ جونہی بنی اسرائیل کے دماغوں میں نئے افکار اور نئے خیالات اور نئی اُمنگیں پیدا ہوئیں اور انہوں نے ایک نئے آسمان میں اڑنا شروع کر دیا، موسیٰ ؑکا تمدن ان سے بہت پیچھے رہ گیا۔ اس تمدن نے نئے زمانہ کے اسرائیلیوں کو اچھا شہری نہیں بنایا بلکہ یا تو باغی بنا دیا یا منافق شہری بنا دیا۔ مسیحؑ نے اس حالت کو دیکھا تو پکار اُٹھا کہ شریعت لعنت ہے کیونکہ اُس نے دیکھ لیا کہ موسوی شریعت نے غیر لچکدار ہونے کی وجہ سے انسانوں کو یا تو باغی بنا دیا یا منافق بنا دیا۔ مگر یہ اُس وقت نہیں ہوا جب

موسیٰؑ دنیا میں آئے تھے بلکہ اُس کے صدیوں بعد ایسا ہوا۔ موسوی تعلیم ایک بچے کا کوٹ تھا جو جوان ہو جانے کی صورت میں بنی اسرائیل کے جسم پر درست نہیں آ سکتا تھا۔ مسیحؑ نے ان مضحکہ خیز شکلوں کو دیکھا جو تنومند جوانوں کی شکل میں بچوں کے چھوٹے چھوٹے فراک پہنے پھر رہے تھے اور مسیحؑ کی فطرت نے اس سے بغاوت کی! نہیں بلکہ مسیح کے دل میں خدا کی آواز گونجی کہ۔ دیکھو یہ لوگ اُس حالت سے آگے نکل چکے ہیں جس حالت میں موسوی تعلیم کا وہ نقشہ ان کے لئے کافی ہو سکتا تھا جو بنی اسرائیل کے علماء نے موسیٰؑ کے زمانہ میں کھینچا تھا۔ اب ان کے لئے ایک نئے کوٹ کی ضرورت ہے مگر اس نے جو علاج ان کے لئے تجویز کیا یا زیادہ درست یہ ہے کہ جو علاج صدیوں بعد کے عیسائیوں نے مسیح کے منہ سے بیان کیا یہ تھا کہ شریعت لعنت ہے۔ وہ کھانا جو انسان معدہ کی طاقت کو نظر انداز کر کے کھاتا ہے یقیناً ایک لعنت ہوتا ہے۔ مگر اس قول سے بھی زیادہ اور کوئی احمقانہ قول نہیں کہ کھانا لعنت ہے۔ بچے کا کوٹ بڑے آدمی کے جسم پر یقیناً مضحکہ انگیز ہوتا ہے مگر بڑے کا کوٹ بچے کے جسم پر بھی تو مضحکہ انگیز ہوتا ہے۔ ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ بچے کا کوٹ بڑے انسان کے جسم پر مضحکہ انگیز ہے۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ بڑے آدمی کا کوٹ بچے کے جسم پر مضحکہ انگیز ہے مگر کوٹ کو مضحکہ انگیز تو کوئی بیوقوف ہی کہے گا۔ پس میرے نزدیک تو مسیحؑ کی طرف اِس قول کو منسوب کرنا ظلم ہے۔ یقیناً مسیحؑ نے یوں کہا ہو گا کہ موسوی تعلیم کی موجودہ تشریح آجکل کے زمانہ کے لوگوں کے لئے لعنت ہے۔ اگر اس نے ایسا کہا تو بالکل سچ کہا۔ مگر مسیحؑ کے اتباع نے اس فاضلانہ قول کو ایک احمقانہ شکل دے دی۔ مگر بہرحال خواہ مسیح نے وہ کہا جو میں سمجھتا ہوں کہ اُس نے کہا تھا اور خواہ وہ کہا جو عیسائیوں کے علمائے سابق نے غلطی سے سمجھا کہ اُس نے یہ کہا تھا۔ بہرحال یہ تو ثابت ہے کہ انسانی دماغ موسیٰؑ کے زمانہ سے ترقی کر کے آگے نکل چکا تھا اس کے لئے ایک نئی تعلیم کی ضرورت تھی ایک نئے اصول اخلاق کی ضرورت تھی۔ ایک نئے تمدن کی ضرورت تھی اور ایک نئی تہذیب کی ضرورت تھی لیکن جہاں موسوی علماء نے انسان کی گردن میں رسّہ لپیٹ کر اُس کو درخت کے ساتھ باندھ دیا تھا وہاں عیسوی تعلیم نے انسان کو تمام اخلاقی اور مذہبی قیود اور پابندیوں سے آزاد کر کے حیوان بنا دیا۔ موسوی قانون نے یہودی دماغ کو اپنے زمانہ سے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ سوائے اس کے کہ وہ باغی ہو یا منافق ہو اور عیسائی قانون نے انسان کو تمام اخلاقی ذمہ داریوں سے آزاد کر دیا اور اِس کے دماغ میں یہ بات ڈال دی کہ خدا کا قانون تیری اصلاح نہیں کر سکتا۔ تب انسان نے خدا کے کام کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور انسان نے اپنی نجات کے لئے اپنا رستہ آپ تلاش کرنا شروع کر دیا اور دنیا نے یہ عجیب نظارہ دیکھا کہ وہی مذہب جو نجات کے لئے خدا کی راہنمائی کو ضروری قرار دیتا تھا اس نے اپنی ترقی کے لئے خدا کی راہنمائی کو غیر ضروری قرار دے دیا۔ چونکہ ہمارے سامنے مختلف مذاہب میں سے مکمل کڑی صرف بنی اسرائیل کے مذہب کی ہے اس لئے میں نے اس کی مثال پیش کی ہے کیونکہ مسلسل کڑیوں سے ہی ارتقاء کا مسئلہ نکالا جا سکتا ہے اور اسرائیلی مذہب کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ انسانی دماغ پرانے زمانہ میں ارتقاء کی منزلیں طے کرتا چلا جا رہا تھا۔ اسی طرح دنیا کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ انسانی دماغ تمدن کے مختلف اَدوار میں سے گزرتا چلا آیا ہے، مگر پھر بھی اخوت انسانی کے نقطۂ مرکزی تک وہ کبھی نہیں پہنچ سکا۔ پس یہ دونوں شہادتیں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ جس طرح انسانی جسم نے پیدائشِ عالم کے ابتدائی دَور میں ارتقاء کی منزلیں طے کی تھیں اسی طرح انسانی دماغ بھی انسانی تاریخ کے ابتدائی اَدوار میں ارتقاء کی منزلیں طے کرتا چلا آیا تھا لیکن اسلام سے پہلے وہ کبھی بھی ارتقاء کی آخری منزل تک نہیں پہنچا۔ اپنی تمدنی ترقیوں کے اَدوار میں وہ کبھی بھی قومی اور نسلی امتیازوں سے بالا نہیں ہوا اور انسانی اخوت کا مسئلہ اُس کے ذہن میں نہیں آیا نہ اپنی تہذیبی ترقی کے اَدوار میں اُس نے شریعت اور قانون کے آخری نقطہ کو پایا۔ موسوی تعلیم نے تمدن اور تہذیب کو جمع کرنے کی کوشش کی مگر ایک عرصہ کے بعد وہ ناکام ہو گئی کیونکہ اس کا فیصلہ اس بارہ میں آخری فیصلہ نہ تھا۔ مسیحؑ نے تبدیلی کرنی چاہی مگر وہ تبدیلی اس بغاوت کے طوفان کے آگے خس و خاشاک کی طرح اُڑ گئی جو اُس وقت انسانوں کے دماغ میں پیدا ہو رہا تھا۔ مسیحؑ کی تعلیم کا صرف یہی حصہ باقی رہ گیا جو انجیل نے اس صورت میں پیش کیا ہے کہ شریعت ایک لعنت ہے۔ حالانکہ ہر سمجھ دار انسان سمجھ سکتا ہے کہ یہ فقرہ اپنی موجودہ شکل میں خود ایک بہت بڑی لعنت ہے جس نے انسان کو خدا تعالیٰ سے برگشتہ اور اس کی راہنمائی سے آزاد کر دیا ہے۔ پس ابھی مقامِ ارتقاء باقی تھا۔ انسانی تہذیب اور تمدن کے سابق تغیرات اس بات کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ تہذیب و تمدن بھی اُسی طرح مسئلہ ارتقاء کے ماتحت ہیں جس طرح انسانی جسم۔ اور ضرور ہے کہ دنیا ایک دن اسی طرح تمدن اور تہذیب کا آخری ارتقائی مقام دیکھے جس طرح انسانی جسم کی پیدائش نے ارتقاء کا آخری مقام دیکھا۔ اور یہ حقیقت اسلام سے پہلے مذاہب کی موجودگی میں بھی ایک اور مذہب کی ضرورت کو تسلیم کرواتی ہے اور اسی ضرورت کو پورا کرنے کا قرآن کریم مدعی ہے۔

تیسرے سوال کا جواب

تیسرا سوال جس کا مثبت میں جواب ملنے سے قرآن کریم کی ضرورت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے یہ ہے کہ کیا پہلی کتب میں کوئی ایسا نقص تو نہیں آگیا تھا جس کی وجہ سے ایک نئی کتاب کی ضرورت شدید طور پر دنیا کو محسوس ہو رہی تھی اور قرآن کریم اس ضرورت کو پورا کرنے والا تھا؟

سب سے پہلی چیز جو کسی کتاب کو صحیح معنوں میں مفید بنا سکتی ہے اور جس کی بناء پر اُس سے اچھے نتائج کی امید کی جا سکتی ہے وہ اُس کا بیرونی دست برد سے محفوظ ہونا ہے۔ الٰہی کتابوں کو انسانی کتابوں پر یہی فوقیت حاصل ہوتی ہے کہ اگر ہم کسی کتاب کو الٰہی کتاب تسلیم کر لیتے ہیں تو ہمیں اِس بات کی بھی تسلی ہو جاتی ہے کہ اِس کتاب کے ذریعہ سے ہم کسی قسم کی غلطی میں نہیں پڑیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ کے وجود پر ایمان اسی بات پر مشتمل ہے کہ وہ ایسی ہستی ہے جو نور ہی نور ہے اور اس میں ظلمت بالکل نہیں، ہدایت ہی ہدایت ہے اور اس میں گمراہی بالکل نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان اس یقین پر مشتمل نہ ہو تو پھر اس کی کوئی قیمت ہی باقی نہیں رہتی۔ اگر الٰہی کلام بھی غلطیوں سے پُر ہو سکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ انسان اپنی راہنمائی کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کو قبول کرے۔ پس الٰہی کتاب پر ایمان کی بنیاد اس یقین پر ہے کہ وہ غلطیوں سے پاک ہے۔ لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک کتاب الٰہی تو ہو لیکن بعد میں انسانی دست بُرد نے اُس کو خراب کر دیا ہو۔ اگر کسی الٰہی کتاب کے متعلق یہ ثابت ہو جائے کہ اس کے اندر انسانوں نے بھی کچھ اپنی طرف سے ملا دیا ہے تو پھر وہ کتاب انسانی ہدایت کے لئے بیکار ہو جائے گی اور اس کو پڑھنے والوں کے دلوں میں اس پر عمل کرنے کے لئے کبھی بھی وہ جوش پیدا نہ ہو گا جو جوش ایسے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے جو اس کتاب کو کُلّی طور پر شروع سے آخر تک خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھتے ہیں اور سمجھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

بائبل انسانی دست بُرد سے محفوظ نہیں ہے

جب اِس نقطۂ نگاہ سے ہم پہلی کتب کو دیکھتے ہیں تو وہ قطعی طور پر ہمارے لئے تسلی کا موجب ثابت نہیں ہوتیں ۔ عہد نامہ قدیم کے ماننے والے اس کو خدا تعالیٰ کی کتاب کہتے ہیں ، مسیحی بھی اسے خدائی کتاب قرار دیتے ہیں اور مسلمان بھی اسے خدا ہی کی طرف سے نازل شدہ کتاب قرار دیتے ہیں لیکن خدا کی طرف سے نازل ہونا اور بات ہے اور اُسی صورت میں آج تک موجود ہونا اور بات ۔ اور ان دونوں باتوں میں بڑا بھاری فرق ہے ۔ بیشک مذکورہ بالا تینوں قومیں اس بات پر متفق ہیں کہ عہد قدیم کے انبیاء سے خدا بولتا تھا لیکن عقیدۃً یہ تینوں قومیں اس بات پر متفق نہیں کہ موجودہ عہد نامہ قدیم وہی کلام ہے جو ان انبیاء پر نازل ہوا تھا اور نہ بیرونی اور نہ اندرونی شہادت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ موجودہ عہد نامہ قدیم وہی کلام ہے جو بنی اسرائیل کے انبیاء پر نازل ہوا تھا ۔ اسرائیلی تاریخ اس بات پر متفق ہے کہ نبوکدنضر کے زمانہ میں اسرائیلی صحف جلا دیئے گئے تھے اور برباد کر دیئے گئے تھے اور دوبارہ انہیں عزرا نبی نے لکھا۔ چنانچہ عزرا کی نسبت یہودی کتب میں لکھا ہے :۔

’’شریعت بھلا دی گئی تھی مگر عزرا نے پھر اسے دوبارہ قائم کیا‘‘۔

``It was forgotten but Ezra restored it``۔۴۸

پھر لکھا ہے ۔ عزرا نے تورات کو دوبارہ زندہ کیا اور اس میں اشورین حروف داخل کئے ۔

``Ezra established the text of pentateuch, introducing therein the Assyian of square characters``۔۴۹

اسی طرح لکھا ہے :۔ ’’اس نے تورات کے دوبارہ لکھنے کے وقت مسودے کے بعض لفظوں کی صحت کے متعلق شبہ ظاہر کیا اور ان پر نشان لگا دیئے اور کہا کہ اگر ایلیا نبی اِس عبارت کی تصدیق کرے تو یہ نشان غلط قرار دیئے جائیں اور اگر ان مشکوک سمجھی ہوئی عبارتوں کو مشکوک قرار دے تو جن الفاظ پر نشان لگا دیئے گئے ہیں انہیں آئندہ بائبل سے نکال دیا جائے ۔

``He showed his doubts concerning the correctness of some words of the text by placing points over them. Should Elijah, Said he, approve the text, the points will be disregarded, should he disapprove, the doubtful words will be removed from the text.‘۵۰

ان عبارات سے ظاہر ہوتا ہے کہ توریت جس شکل میں بھی اُس وقت موجود تھی خواہ وہ عزرا کی لکھی ہوئی تھی خواہ پہلے سے کوئی نسخے موجود تھے وہ مشکوک تھی اور اس کی عبارتوں اور الفاظ کی نسبت قطعی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور اُسی طرح محفوظ ہیں جس طرح نازل ہوئے تھے۔ عزرا کی لکھی ہوئی کتاب جو موجودہ بائبلوں میں سے خارج کر دی گئی ہے اور جو درحقیقت موجودہ بائبلوں سے کم قابل اعتبار نہیں ہے اور جسے یونانی کی کتاب عزرا کہا جاتا ہے پہلے زمانے میں عزرا اور نحمیاہ کی کتابوں سے بھی پہلے بائبل میں درج کی جاتی تھی۔ لیکن بعد کو جب اُس وقت کے پوپ نے جیروم سے جو عیسائیوں کا بہت بڑا پادری تھا بائبل کی تدوین کرائی تو اس نے عزرا کو اس بناء پر بائبل میں سے نکال دینے کا فیصلہ کر دیا کہ اس کا عبرانی نسخہ محفوظ نہیں۔ اس کتاب کو بعض مصنف عزرا کی کتاب ثالث قرار دیتے ہیں اور بعض ثانی قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ کتاب بائبل سے نکال دی گئی ہے لیکن پھر بھی اکثر حصہ یہودیوں اور مسیحیوں کا اس کو عزرا کی کتاب قرار دیتا ہے اور اس کتاب کے چودھویں باب میں لکھا ہے:

’’دیکھو اے خدا میں جاؤں گا جیسا کہ تُو نے مجھے حکم دیا تھا اور جو لوگ موجود ہیں میں اُن کو فہمائش کروں گا، لیکن جو لوگ بعد کو پیدا ہوں گے اُن کو کون فہمائش کرے گا۔ اس طرح دنیا تاریکی میں ہے اور جو لوگ اس میں رہتے ہیں بغیر روشنی کے ہیں کیونکہ تیرا قانون جل گیا۔ پس کوئی نہیں جانتا اُن چیزوں کو جو تُو کرتا ہے اور ان کاموں کو جو شروع ہونے والے ہیں لیکن اگر مجھ پر تیری مہربانی ہے تو تُو روح القدس کو مجھ میں بھیج اور میں لکھوں جو کچھ کہ دنیا میں ابتداء سے ہوا ہے اور جو کچھ تیرے قانون میں لکھا تھا تا کہ تیری راہ کو پاویں اور وہ لوگ جو اخیر زمانہ میں ہوں گے زندہ رہیں۔ اُس نے مجھ کو یہ جواب دیا کہ جا اپنے راستہ سے لوگوں کو اکٹھا کر اور اُن سے کہہ وہ چالیس دن تک تجھ کو نہ ڈھونڈیں۔ لیکن دیکھ تُو بہت سے صندوق کے تختے تیار کر اور زاریا، ڈبریا، سلیمیا، ایکانس اور عازیل پانچوں کو جو بہت تیزی سے لکھنے والے ہیں اپنے ساتھ لے اور یہاں آ اور میں تیرے دل میں سمجھ کی شمع روشن کروں گا جو نہ بجھے گی تا وقتیکہ وہ چیزیں پوری نہ ہوں جو تُو لکھنی شروع کرے گا۔‘‘۔

اِس باب کی آیت ۲۰ تا ۲۵ کے اصل الفاظ انگریزی زبان میں مندرجہ ذیل ہیں:۔ 20. Behold, Lord, I will go, as Thou hast commanded me, and reprove the people which are present but they that shall be born afterward, who shall admonish Them? Thus the world is set in darkness, and they That dwell therein are without light. 21. For Thy Iaw is burnt, therefore no man knoweth the things that are done of the works that shall begin. 22. But if I have found grace before thee. Send the Holy Ghost into me. And I shall write all that hath been done in the world since the beginning, which were written in thy law that men may find Thy Path, and that they which will live in the latter days may live. 23. And He answered me, saying, Go thy way, gather the people tohether, and say unto them, that they seek thee not for forty days. 24. But look thou prepare thee many box trees and take with thee, sarea, Dabria, Selemia, Ecanus, and Asiel these five which are ready to wrirte swiftly. 25. And come hither, and I shall light a candle of understanding in Thine heart which shall not be put out, till the things be performed which thou shalt begin to write.‘‘۵۱؎

غرض حضرت عزرا اور پانچ زود نویس چالیس روز تک دوسروں سے الگ تھلگ جا بیٹھے اور الہامی تائید سے انہوں نے چالیس دن میں دوسو چار کتابیں لکھیں ۔ چنانچہ اس باب کی چوالیسویں آیت میں لکھا ہے :۔

‘‘44. In forty days they wrote two hundred and four books.’’۵۲

اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ:۔ (الف) عزرا نبی کے وقت میں جو قریباً چار سو سال قبل مسیح تھا تورات اور دیگر انبیاء کی کتابیں جل گئی تھیں ۔ (ب) ان کا نسخہ اُس وقت موجود نہ تھا۔ (ج) عزرا نے دوبارہ وہ کتابیں لکھیں ۔

گویا یہ بتایا گیا ہے کہ وہ الہامی تھیں مگر مراد الہامی تائید ہے ۔ یہ مراد نہیں کہ ان کا ایک ایک نقطہ الہام تھا۔ کیونکہ یہودی تاریخ بتاتی ہے کہ خود عزرا نے بعض حصوں کے مشکوک ہونے کا اعتراف کیا تھا اور ان کا فیصلہ ایلیا پر اُٹھا رکھا تھا ۔ پس موجودہ تورات وہ تورات نہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی بلکہ وہ تورات ہے جو عزرا نے اپنے حافظہ سے لکھی تھی اور جس کے بعض حصوں کے متعلق خود عزرا کو بھی شبہ تھا بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ یوں سمجھنا چاہئے کہ وہ یہ تورات بھی نہیں ہے جو عزرا نے لکھی تھی کیونکہ عزرا نے ۲۰۴ کتابیں لکھی تھیں مگر ۲۰۴ کتابیں موجودہ بائبل میں ہمیں نہیں ملتیں ۔

عزرا کے حافظہ کے متعلق خود مسیحی مصنفوں کو بھی شبہات ہیں ۔ چنانچہ ریورنڈ آدم کلارک بائبل کے مشہور مسیحی مفسر اپنی تفسیر مطبوعہ ۱۸۹۱ء کے صفحہ ۱۶۸۱ پر ۱۔ تواریخ باب ۴ آیت ۷ کے ماتحت لکھتے ہیں:

’’اِس جگہ غلطی سے عزرا نے بیٹے کی جگہ پوتا لکھ دیا ہے ۔ ایسے اختلافوں میں تطبیق بے فائدہ ہے‘‘۔

علمائے یہود کہتے ہیں کہ عزرا کو معلوم نہ تھا کہ بعض بعض کے بیٹے ہیں یا پوتے ۔ جب یہودی اور عیسائی علماء کا عزرا کے حافظہ کے متعلق یہ خیال تھا تو یہودی اور عیسائیوں کے عوام الناس اور دوسری اقوام کے لوگ اس پر کیا تسلی پاسکتے ہیں اور جس کتاب کی سند ایسی ہو وہ روحانی معاملات میں کیونکر لوگوں کی تشفی کا موجب ہوسکتی ہے۔

اندرونی شہادت کہ موجودہ تورات اصلی تورات نہیں

اب میں بائبل کی اندرونی شہادت کو لیتا ہوں کہ وہ بھی اِس بات پر دلالت کرتی ہے موجودہ تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل شدہ کتاب نہیں ۔ اس بارہ میں سب سے اہم اور واضح وہ دلیل ہے جو استثناء باب ۳۴ میں حضرت موسیٰ کی وفات کو بیان کرتی ہے۔ اس آیت میں لکھا ہے:

’’سو خداوند کا بندہ موسیٰ خداوند کے حکم کے موافق موآب کی سر زمین میں مر گیا اور اُس نے اُسے موآب کی ایک وادی میں بیت فغور کے مقابل گاڑا، پر آج کے دن تک کوئی اُس کی قبر کو نہیں جانتا‘‘۔ ۵۳

یہ آیت صاف بتا رہی ہے کہ اس کا مضمون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سینکڑوں سال بعد استثناء میں بڑھایا گیا ہے بھلا کون عقلمند یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو الہام میں فرمایا ہو کہ آج تک تمہاری قبر کوئی نہیں جانتا۔ کیا کسی زندہ انسان سے ایسا کلام کیا جا سکتا ہے؟ اور پھر کیا ’’آج تک‘‘ کا لفظ اس بارہ میں خود سے کو مخاطب کر کے کہا جا سکتا ہے؟ پھر آیت ۸ میں لکھا ہے:

’’سو بنی اسرائیل موسیٰ کے لئے موآب کے میدانوں میں تیس دن تک رویا کئے اور ان کے رونے پیٹنے کے دن موسیٰ کے لئے آخر ہوئے‘‘۔ ۵۴

یہ آیت بھی بتاتی ہے کہ یہ موسیٰ کا کلام نہیں۔ موسیٰ کی کتاب میں بعد میں داخل کیا گیا ہے۔ پھر آیت ۱۰ میں لکھا ہے:

’’اب تک بنی اسرائیل میں موسیٰ کی مانند کوئی نبی نہیں آیا جس سے خداوند آمنے سامنے آشنائی کرتا‘‘۔

یہ آیت بھی بتاتی ہے کہ یہ حضرت موسیٰ کا الہام نہیں بلکہ ان کی وفات کے کئی سو سال بعد کسی نے یہ آیت حضرت موسیٰ کی کتاب میں داخل کی ہے ممکن ہے وہ عزرا ہی ہوں اور ممکن ہے کوئی اور ہی شخص ہوں۔

دوسری اندرونی دلیل اس بات کی کہ موجودہ تورات حضرت موسیٰ کے بعد لکھی گئی اور اُس میں دوسرے لوگوں کی تحریریں بھی شامل ہیں یہ ہے کہ پیدائش باب ۱۴ آیت ۱۴ میں لکھا ہے :۔ ’’جب ابرام نے سنا کہ میرا بھائی گرفتار ہوا تو اُس نے اپنے ساتھ سیکھے ہوئے تین سَو اٹھارہ خانہ زادوں کو لے کر دان تک ان کا تعاقب کیا‘‘۔ لیکن قاضیوں باب ۱۸ آیت ۲۷ تا ۲۹ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہر جس کا نام پیدائش میں ’’دان‘‘ آیا ہے پہلے لَیس کہلاتا تھا لیکن موسیٰ کے کوئی ۸۰ سال بعد اس شہر کو فتح کر کے اس کا نام ’’دان‘‘ رکھا گیا۔ چنانچہ لکھا ہے : ’’وہ میکاہ کی بنوائی ہوئی چیزوں کو اور اس کاہن کو جو اس کے ہاں تھا لے کر لَیس میں ایسے لوگوں کے پاس پہنچے جو امن اور چین سے رہتے تھے اور ان کو تہہِ تیغ کیا اور شہر جلا دیا اور بچانے والا کوئی نہ تھا۔ کیونکہ وہ صیدا سے دور تھا اور یہ لوگ کسی سے سروکار نہیں رکھتے تھے اور وہ شہر بیتِ رحوب کے پاس کی وادی میں تھا۔ پھر انہوں نے وہ شہر بنایا اور اس میں رہنے لگے اور اس شہر کا نام اپنے باپ ’’دان‘‘ کے نام پر جو اسرائیل کی اولاد تھا دان رکھا۔ لیکن پہلے اس شہر کا نام لَیس تھا‘‘۔ پس جو نام حضرت موسیٰ کے ۸۰ سال بعد رکھا گیا تھا وہ موسیٰ کی کتاب میں کس طرح آ سکتا تھا؟ اس حوالہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ کی کتاب میں ان کی وفات کے بعد دخل اندازی ہوتی رہی اور بعض لوگوں نے اپنے زمانہ کے خیالات اور افکار اس میں داخل کر دیئے۔ یہ تغیر و تبدل صرف موسیٰ کی کتابوں کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ دوسری کتابوں کا بھی یہی حال ہے۔ چنانچہ یشوع کی کتاب کے باب ۲۴ آیت ۲۹ میں لکھا ہے :۔ اور ایسا ہوا کہ بعد ان باتوں کے نون کا بیٹا یشوع خداوند کا بندہ جو ایک سَو دس برس کا بوڑھا تھا رحلت کر گیا۔ اسی طرح ایوب کی کتاب باب ۴۲ آیت ۱۷ میں لکھا ہے۔ ’’اور ایوب بوڑھا اور عمر دراز ہو کے مر گیا‘‘۔

ان حوالوں سے صاف ظاہر ہے کہ یشوع کی کتاب کو یشوع نے نہیں لکھا اور ایوب کی کتاب کو ایوب نے نہیں لکھا بلکہ بعد کے لوگوں نے سنی سنائی باتوں کی بناء پر لکھ دی تھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بائبل کے انبیاء نے تو الہی کلام ایک جگہ جمع کر دیا تھا مگر بعد میں مٹ گیا اور لوگوں نے اپنی یاد سے وہ کلام دوبارہ لکھا اور بہت سی باتیں اپنی طرف سے اس میں داخل کر دیں۔

کیا اِس قسم کی کتابیں جو نہ صرف تاریخی شواہد کی بناء پر بلکہ اپنی اندرونی شہادت کی بناء پر بھی مجروح اور غیر یقینی ہیں اور ان میں غلط واقعات بھی بیان ہو گئے ہیں، یہ ثابت نہیں کرتیں کہ دنیا کو موسیٰؑ اور ان کے بعد آنے والے نبیوں کی کتابیں تسلی نہیں دے سکتی تھیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت سے ہاتھ کھینچ لیا اور ایک ایسی کتاب کی امید دنیا کو لگا دی جو ہر قسم کی انسانی دستبرد سے پاک اور محفوظ ہو؟ اگر موسیٰؑ اور اس کے بعد آنے والے نبیوں کی کتابوں کے بگاڑ کے بعد بھی خدا تعالیٰ کسی ایسے کلام کی بنیاد نہ رکھتا جو یقینی اور محفوظ ہوتا تو ہمیں ماننا پڑتا کہ خدا تعالیٰ کو اپنے بندوں کی ہدایت اور راہنمائی کا کوئی فکر نہیں اور وہ ایمان کے بیج کو یقین اور اطمینان کی زمین میں بونے کی بجائے شک و شبہ اور بے اطمینانی کی زمین میں بونا چاہتا ہے اور اسے اتنا اعتبار بھی بخشنا نہیں چاہتا جتنا کفر کو حاصل ہے لیکن کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ کیا یہ امر خدا تعالیٰ کی شان کے شایاں ہے؟ اگر نہیں تو ہمیں یقیناً اُس کتاب کی تلاش کرنی پڑے گی جس نے منسوخ، محرف اور مبدل بائبل کی جگہ لی۔

بائبل کی متضاد باتیں

بائبل سے اور بھی ایسی اندرونی شہادتوں کا پتہ لگتا ہے جو اس بات پر روشنی ڈالتی ہیں کہ بائبل اپنی اصلی حالت میں محفوظ نہیں ہے۔ مثلاً:

۱۔ تورات کی پہلی کتاب پیدائش میں لکھا ہے۔ ”تب خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت اور اپنی مانند بناویں“۔۵۵

آگے چل کر لکھا ہے:۔ ”لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت سے نہ کھانا“۔۵۶

اب اِن دونوں حوالوں میں تطابق کی یہی صورت ہوسکتی ہے کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ نیک و بد کی پہچان خدا کو بھی نہیں کیونکہ آدم خدا کی مانند تھا اور خدا تعالیٰ کی صفات آدم میں پائی جاتی تھیں اور سب سے بڑی صفت نیک و بد کی پہچان ہی ہے کیونکہ سب صفتیں اس کے ماتحت ہی آتی ہیں۔ اگر آدم کو نیک و بد کی پہچان نہ تھی تو کوئی اچھی صفت بھی بطورِ خلق کے اس کے اندر نہیں پائی جاتی تھی کیونکہ نیک کام وہی ہوتا ہے جو ارادے اور علم کے ساتھ کیا جاتا ہے جس کام کے ساتھ ارادہ اور علم نہ ہو وہ نیک نہیں کہلا سکتا۔ جب آدم کو نیک و بد کی پہچان ہی نہ تھی تو آدم اصولِ اخلاق کے ماتحت نہ کسی بدی سے بچنے والا تھا اور نہ کسی نیکی کو بجالانے والا تھا۔ اسی طرح عملی طور پر اسے اچھی اور بُری باتوں کی کوئی تمیز نہ تھی۔ کیا خدا تعالیٰ کا وجود بھی یہودی اور مسیحی مذہب کے مطابق ایسا ہی ہے؟ کیا خدا کو اِس بات کا کوئی علم نہیں کہ نیکی کیا چیز ہے اور بدی کیا چیز ہے؟ اگر بدی اور نیکی کا اُس کو علم نہیں تو وہ نبیوں کو کیوں بھیجتا ہے؟ اور کیا خدا کی صفات نیکیوں کو قائم کرنے والی اور بدیوں کو مٹانے والی نہیں ہیں؟ اگر اس سوال کو ہم نظر انداز بھی کردیں کہ انسان کی پیدائش کی غرض ہی نیک و بد کی پہچان ہے اور اگر یہ پہچان اسے حاصل نہ ہو تو اس کے وجود کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ پھر یہ دیکھنا چاہئے کہ بغیر نیک و بد کی پہچان کے آدم خدا کی مانند ہو کس طرح گیا۔ اِس پہچان کے بغیر وہ خدا کی مانند ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ اگر وہ خدا کی مانند تھا تو یہ غلط ہے کہ اسے کہا گیا کہ تُو نیک و بد کی پہچان کے درخت سے نہ کھانا۔ اور اگر یہ درست ہے کہ اسے کہا گیا تھا کہ نیک و بد کی پہچان کے درخت سے نہ کھانا تو یہ غلط ہے کہ خدا نے اسے اپنی مانند بنایا۔

۲۔ پیدائش باب ۲، آیت ۱۷ میں لکھا ہے:۔ ’’جس دن تو اس نیک و بد کی پہچان کے درخت سے کھائے گا تو ضرور مرے گا‘‘۔ اسی طرح پیدائش باب ۲ آیت ۹ میں لکھا ہے:۔ ’’اور باغ کے بیچوں بیچ حیات کے درخت اور نیک و بد کی پہچان کے درخت کو زمین سے لگایا‘‘۔

اس آیت کے دو ہی معنی ہو سکتے ہیں یا تو یہ کہ ایک ہی درخت میں دائمی حیات بخشنے اور

نیک و بد کی پہچان دینے کی خاصیت تھی اور یا یہ کہ یہ دو درخت تھے۔ ایک میں حیات بخشنے کی طاقت تھی اور دوسرے میں نیک و بد کی پہچان دینے کی طاقت تھی۔ اگر اِس کے معنی یہ لئے جائیں کہ یہ دو درخت نہیں تھے بلکہ ایک ہی درخت تھا تو پیدائش باب ۲ آیت ۱۷ کا حوالہ جو اوپر لکھا جا چکا ہے کہ:

’’جس دن تو اس سے کھائے گا مر جائے گا۔‘‘

غلط ہو جاتا ہے۔ کیونکہ آیت ۹ تو اُسے حیات کا درخت قرار دیتی ہے موت کا نہیں۔ اور اگر یہ دو الگ الگ درخت تھے تو پھر یہ دونوں آیتیں متضاد ہیں۔ کیونکہ نیک و بد کی پہچان کے درخت سے کھانے سے موت کا آنا لازمی نہ تھا اس لیے کہ اگر آدمؑ حیات کے درخت سے کھا لیتے جیسا کہ بائبل سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے کھایا تو نیک و بد کی پہچان کے درخت سے کھانے کے باوجود اُن پر موت کیونکر آئی؟ اگر ایک درخت کے کھانے سے موت لازماً آنی تھی تو دوسرے درخت کا پھل کھانے سے حیاتِ جاودانی مل جانی تھی۔ ایسے شخص کا معاملہ تو کوئی عقل حل ہی نہیں کر سکتی کہ ایک درخت اسے ہمیشہ کے لئے زندہ رکھنا چاہتا ہے اور دوسرا درخت اُسے مار دینا چاہتا ہے۔

بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدمؑ اور ان کی بیوی نے حیات کے درخت کا پھل کھایا ہے کیونکہ پیدائش باب ۳ آیت ۲، ۳ میں لکھا ہے:۔

’’عورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل ہم تو کھاتے ہیں مگر اُس درخت کے پھل کو جو باغ کے بیچوں بیچ ہے خدا نے کہا کہ تم اُسے نہ کھانا اور نہ اُسے چھونا ایسا نہ ہو کہ مر جاؤ‘‘۔

اِن آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوائے نیک و بد پہچان کے درخت کے باقی سب درختوں کا پھل آدمؑ اور اس کی بیوی کھاتے تھے۔ اگر بائبل کی یہ بات درست ہے تو آدمؑ اور اس کی بیوی حیات کے درخت کا پھل بھی کھاتے تھے اور جب وہ حیات کے درخت کا پھل بھی کھاتے تھے تو اُن پر موت کس طرح آئی۔ لیکن عجیب بات ہے کہ باب ۳ کی آیت ۲۲ میں لکھا ہے کہ خدا نے فرشتوں سے کہا:۔

’’ایسا نہ ہو کہ آدم اپنا ہاتھ بڑھائے اور حیات کے درخت سے بھی کچھ لے کر کھائے اور ہمیشہ جیتا رہے۔‘‘

یہ آیت بتاتی ہے کہ آدمؑ نے حیات کے درخت سے کچھ نہ کھایا تھا۔ اب ہم نہیں کہہ سکتے کہ اِس آیت کا مضمون درست ہے جو بتاتی ہے کہ آدمؑ نے حیات کے درخت سے کچھ نہ کھایا تھا یا اِس باب کی آیت ۲ درست ہے جس میں آدم کی بیوی کا قول درج ہے کہ سوائے نیک و بد کی پہچان کے درخت کے باقی سب درختوں کا پھل آدم اور حوا کھاتے تھے۔ اور آیا یہ بات درست ہے کہ نیک و بد کی پہچان کے درخت کا پھل کھانے سے انسان ضرور مرتا ہے یا یہ بات درست ہے کہ حیات کے درخت کا پھل کھانے سے انسان کبھی نہیں مرتا۔

یہ سب متضاد باتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کلام میں ایسی باتیں نہیں آسکتیں۔ یقیناً یہ باتیں مختلف مصنّفین نے اپنے اپنے خیالات کے مطابق تورات میں درج کر دیں اور چونکہ اُن مصنّفین کے خیالات متضاد تھے اس لئے اُن کے پیش کردہ نظریے بھی متضاد تھے۔ اور جس کتاب میں متضاد باتیں آجائیں جو ایک ہی وقت میں اور ایک ہی انسان میں کسی صورت میں جمع نہ ہوسکیں اور وہ کتاب ان کو ایک ہی وقت اور ایک ہی انسان میں جمع کرتی ہو تو یقیناً وہ خدا کی کتاب تو الگ رہی ایک عقلمند انسان کی کتاب بھی کہلانے کی مستحق نہیں ہوسکتی۔ مگر موسیٰ علیہ السلام یقیناً خدا کے نبی تھے اور تورات یقیناً خدا کی نازل کردہ کتاب تھی پس یہ اختلاف بعد میں پیدا ہوا۔ نہ اس اختلاف سے خدا تعالیٰ پر کوئی الزام آتا ہے اور نہ موسیٰؑ پر۔ ہاں یہ ہم ضرور کہیں گے کہ خدا نے جب بائبل کی جگہ ایک اور کتاب نازل کرنے کا فیصلہ کرلیا تو بائبل کی حفاظت سے اُس نے ہاتھ کھینچ لیا اور وہ ایک محفوظ کتاب نہ رہی۔

۳۔ پیدائش باب ۲۲ آیت ۱۴ میں لکھا ہے:۔

’’اور ابراہام نے اُس مقام کا نام ’یہوواہ یزی‘ رکھا۔‘‘ چنانچہ یہ آج تک کہا جاتا ہے کہ خداوند کے پہاڑ پر دیکھا جائے گا۔‘‘۔

لیکن خروج باب ۲ آیت ۲، ۳ میں لکھا ہے۔

’’پھر خدا نے موسیٰ کو فرمایا اور کہا میں خداوند ہوں ’’یہوواہ‘‘۔ اور میں نے ابراہام اور اضحاق اور یعقوب پر خدا کے نام سے اپنے تئیں ظاہر کیا اور یہوواہ کے نام سے اُن پر ظاہر نہ ہوا۔“

اِن دونوں آیتوں کا تضاد ظاہر ہے۔ کتاب خروج کہتی ہے کہ یہوواہ کے نام سے پہلی بار موسیٰ کو روشناس کیا گیا۔ اس سے پہلے کسی نبی کو خصوصاً ابراہیمؑ۔ اسحاقؑ اور یعقوبؑ پر خدا تعالیٰ کا یہواہ نام ظاہر نہیں کیا گیا لیکن کتاب پیدائش کہتی ہے کہ ابراہیمؑ پر بھی اس نام کو ظاہر کیا گیا تھا اور اُس نے ایک پہاڑی کا نام ”یہوواہ یری“ رکھ دیا تھا۔

۴۔ گنتی باب ۳۳ آیت ۳۸ میں حضرت ہارون کے متعلق لکھا ہے:۔

”ہارون کاہن خداوند کے حکم کے مطابق کوہِ طُور پر گیا اور اس نے بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے کے پیچھے چالیسویں برس کے پانچویں مہینے کی پہلی تاریخ وفات پائی“۔

لیکن استثناء باب ۱۰ آیت ۶ میں لکھا ہے:۔

”تب بنی اسرائیل نے بیرات بنی یقعان سے موسیرہ کو کوچ کیا۔ وہاں ہارون کا انتقال ہوا اور وہیں گاڑا گیا“۔

ایک ہی شخص دو جگہ وفات نہیں پاسکتا۔ یقیناً یہ دو الگ الگ مؤرخوں کا کام ہے کہ اُنہوں نے بائبل میں اپنی اپنی تحقیق کو خدا تعالیٰ کا الہام قرار دے کر شامل کر دیا ہے۔

۵۔ نمبر ۱ سموئیل باب ۱۶ آیت ۱۰ تا ۱۳ سے ظاہر ہے کہ داؤد لیسی کا آٹھواں بیٹا تھا۔ چنانچہ لکھا ہے:۔

”لیسی نے اپنے سات بیٹوں کو سموئیل کے سامنے نکالا اور سموئیل نے لیسی سے کہا کہ خدا نے ان کو نہیں چنا ہے۔ پھر سموئیل نے لیسی سے پوچھا کہ تیرے سب لڑکے یہی ہیں؟ اس نے کہا سب سے چھوٹا ابھی رہ گیا ہے وہ بھیڑ بکریاں چراتا ہے۔ سموئیل نے لیسی سے کہا کہ اُسے بلا بھیج کیونکہ جب تک وہ یہاں نہ آجائے ہم نہیں بیٹھیں گے۔ سو وہ اُسے بلوا کر اندر لایا۔ وہ سرخ رنگ اور خوبصورت اور حسین تھا اور خداوند نے فرمایا اُٹھ اور اُسے مسح کر کیونکہ وہ یہی ہے۔ تب سموئیل نے تیل کا سینگ لیا اور اسے اس کے بھائیوں کے درمیان مسح کیا اور خداوند کی روح اُس دن سے آگے داؤد پر زور سے نازل ہوتی رہی۔ پھر سموئیل اُٹھ کر رامہ کو چلا گیا‘‘۔

مگر نمبر ۱ تواریخ باب ۲ آیت ۱۳ تا ۱۵ میں لکھا ہے کہ داؤد یسی کا ساتواں بیٹا تھا۔ چنانچہ لکھا ہے:۔ ’’اور یسی سے اُس کا پلوٹھا الیاب پیدا ہوا اور ابینداب دوسرا اور سمع تیسرا، نینیتل چوتھا، ردی پانچواں، عوصم چھٹا، داؤد ساتواں‘‘۔

یہ اختلاف بتاتا ہے کہ بائبل میں مختلف مؤرخوں نے اپنے اپنے خیالات داخل کر دیئے ہیں اور یہ موجودہ حالت میں محفوظ آسمانی کتاب نہیں کہلا سکتی۔

۶۔ نمبر ۲ سموئیل باب ۶ آیت ۲۳ میں لکھا ہے:۔ ’’سوساؤل کی بیٹی میکل مرتے دم تک بے اولاد رہی‘‘۔ مگر نمبر ۲ سموئیل باب ۲۱ آیت ۸ میں لکھا ہے:۔ ’’اور ساؤل کی بیٹی میکل کے پانچوں بیٹوں کو جو برزلی محولاتی کے بیٹے عدری ایل سے ہوئے تھے لے کر ان کو جبعونیوں کے حوالے کیا‘‘۔ ایک ہی کتاب میں ایک ہی جگہ اُسے بانجھ قرار دیا گیا ہے اور اُسی کتاب میں دوسری جگہ اس کے پانچ بیٹے قرار دیئے گئے ہیں۔

۷۔ نمبر ۲ تواریخ باب ۲۱ آیت ۱۹، ۲۰ میں لکھا ہے کہ یہورام بادشاہ ۳۲ سال کی عمر میں بادشاہ ہوا اور آٹھ برس اُس نے بادشاہت کی اور پھر دو سال بادشاہت سے معزول ہو کر ایک سخت بیماری کے اثر سے وفات پا گیا۔

گویا اس کی عمر ۴۲ سال کی تھی۔ لیکن اسی کتاب کے باب ۲۲ آیت ۱، ۲ سے معلوم ہوتا ہے کہ یروشلم کے باشندوں نے یہورام کے چھوٹے بیٹے اخزیاہ کو اُس کی جگہ بادشاہ بنایا کیونکہ اُس انبوہ نے جو عربوں کے ساتھ چھاؤنی میں آیا تھا سب بڑے بیٹوں کو قتل کیا تھا سو اخزیاہ بن یہورام یہوداہ کا بادشاہ ہوا۔ اخزیاہ بیالیس برس کی عمر میں بادشاہ ہوا۔

چونکہ اوپر کے حوالہ سے ثابت ہو چکا ہے کہ یہورام کی عمر اُس کی وفات کے وقت ۴۲ سال کی تھی اس لئے اس دوسرے حوالے کی بناء پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہورام بادشاہ کا سب سے چھوٹا

بیٹا اخزیاہ جب اپنے باپ کی وفات پر تخت پر بیٹھا تو اُس کی عمر بھی ۴۲ سال کی تھی۔ گویا وہ اپنے باپ کا ہم عمر تھا اور اس کے بڑے بھائی جن کو عربوں نے یہورام کے خلاف لڑائی میں مار دیا تھا وہ سب اپنے باپ سے بڑے تھے۔ کیا کوئی معقول انسان اس قسم کی لغو باتوں کو تسلیم کر سکتا ہے؟ بیالیس سال کی عمر میں باپ مارا جاتا ہے اور اُس کا سب سے چھوٹا بیٹا اُسی عمر کا اس کے بعد بادشاہ بن جاتا ہے!! یہ باتیں تو ایسی ہیں کہ کسی کمزور سے کمزور عقل والے انسان کی کتاب میں بھی نہیں پائی جاتیں کجا یہ کہ خدا کی نازل کردہ کتاب میں پائی جائیں۔ صاف ظاہر ہے کہ خدا کے الہام میں یہ باتیں نہ تھیں۔ نبیوں کے کلام میں یہ باتیں نہ تھیں۔ کسی ایک آدمی نے بھی یہ باتیں نہیں لکھیں۔ بلکہ کئی آدمیوں نے اپنے اپنے خیالات لکھ دیئے ہیں۔ کسی یہودی مؤرخ کا یہ خیال تھا کہ یہورام بیالیس سال کی عمر میں فوت ہوا اور اُس نے یہ بات لکھ دی۔ کسی دوسرے یہودی مؤرخ کا یہ خیال تھا کہ یہورام جب مرا اُس کی عمر سو سال تھی اور اُس وقت سب سے چھوٹا بیٹا بیالیس سال کا تھا اُس نے یہ بات درج کر دی کہ جب یہورام کا بیٹا تخت پر بیٹھا تو بیالیس سال کا تھا۔ اب یہ باتیں بظاہر متضاد نظر آتی ہیں، لیکن اصل بات یہ ہے کہ جس نے یہورام کو ۴۲ سال میں مارا ہے اُس کے خیال میں اخزیاہ کی عمر تخت نشینی کے وقت بیالیس نہیں تھی بلکہ شاید ۱۴، ۱۵ سال ہو۔ اور جس شخص نے یہ لکھ دیا کہ اخزیاہ کی عمر تخت نشینی کے وقت ۴۲ سال تھی اُس کی تحقیق میں یہورام کی عمر اُس کی وفات کے وقت ۴۲ سال یقیناً نہیں تھی لیکن سوال تو یہ ہے کہ ایسی کتاب انسان کی روحانیت کو کیا فائدہ پہنچا سکتی ہے اور وہ کس طرح یقین اور ایمان کے ساتھ اس کے مطالب پر غور کر سکتا ہے۔ اگر تو یہ کہا جاتا کہ تورات مجموعہ ہے لاکھوں یہودیوں کی تحقیقاتوں کا تو پھر بھی اِس کتاب کی کچھ قیمت باقی رہ جاتی۔ لیکن ایک طرف تو اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والا کلام کہا جاتا ہے اور دوسری طرف وہ ہزاروں ہزار افراد کی تحقیقاتوں کا مجموعہ نظر آتا ہے اور اس طرح ایک غلط نام دے دینے کی وجہ سے تھوڑی بہت عظمت جو اِسے حاصل ہو سکتی تھی وہ بھی جاتی رہی ہے۔ بھلا کون کہہ سکتا ہے کہ ایسی کتاب دنیا کی راہنمائی کا موجب ہو سکتی ہے اور کون کہہ سکتا ہے کہ اس کتاب کے بعد کسی اور کتاب کے آنے کی ضرورت نہیں تھی۔

بائبل کے ظالمانہ احکام

پھر صرف متضاد باتیں ہی نہیں ہمیں بائبل میں ظالمانہ احکام بھی نظر آتے ہیں جو ہرگز خدائے رحیم و کریم کی طرف منسوب نہیں کئے جاسکتے۔ مثلاً:

۱۔ خروج باب ۲۱ آیت ۲۰ ، ۲۱ میں لکھا ہے:۔ ’’اگر کوئی اپنے غلام یا لونڈی کو لاٹھیاں مارے اور وہ مار کھاتی ہوئی مر جائے تو اسے سزا دی جائے ۔ لیکن اگر وہ ایک دن یا دو دن جیئے تو اسے سزا نہ دی جائے اس لئے کہ وہ اس کا مال ہے۔‘‘

اس تعلیم میں غلاموں کے لئے کتنی سختی ہے۔ ایک ظالم اپنے غلام اور اپنی لونڈی کو لاٹھیوں سے مارتا ہے اور اتنا مارتا ہے کہ وہ غلام یا لونڈی ایک دو دن کے بعد مر جائے لیکن بائبل کہتی ہے اب وہ سزا کا مستحق نہیں کیونکہ غلام اور لونڈی اس کا مال ہیں۔ کیا یہ تعلیم اس قابل تھی کہ ہمیشہ کے لئے اسے قائم رکھا جاتا؟ کیا یہ تعلیم ایسی نہ تھی کہ اس کی جگہ پر وہ تعلیم لائی جاتی جو غلام اور لونڈیوں کے دستور مٹانے والی اور مالک کے ہاتھوں کو روکنے والی ہوتی ۔ یہ تعلیم اسلام ہی کے ذریعہ دنیا کو حاصل ہوئی چنانچہ اسلام نے جہاں غلامی کو مٹانے کے لئے قانون پاس کئے وہاں یہ اصول بھی مقرر کر دیا کہ جو غلام یا لونڈی لوگوں کے ہاتھ میں کسی وجہ سے باقی رہ گئے ہوں ان کو ہرگز مارا پیٹا نہ جائے ۔ احادیث میں آتا ہے ایک دفعہ ابو مسعود انصاریؓ اپنے غلام کو مار رہے تھے کہ انہیں پیچھے سے آواز آئی ۔ اے مسعود! جس قدر تجھ کو غلام پر قدرت حاصل ہے اس کے کہیں زیادہ خدا کو تجھ پر قدرت حاصل ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے مڑ کر دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے تھے اس پر ڈر کے مارے میرے ہاتھ سے کوڑا گر پڑا اور میں نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! یہ غلام خدا کے لئے آزاد ہے۔ آپ نے فرمایا اگر تُو اسے آزاد نہ کرتا تو آگ تیرا منہ جھلستی۔۷۵؎

اسی طرح ایک اور صحابی فرماتے ہیں ہم سات بھائی تھے اور ہمارے پاس ایک لونڈی تھی۔ ہم میں سے چھوٹے بھائی نے اُس کے منہ پر تھپڑ مارا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس لونڈی کو فوراً آزاد کر دیا جائے کیونکہ جو شخص اپنے غلام یا لونڈی کو مارتا ہے وہ اس کو رکھنے کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔ ۵۸؎ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا یہ حال تھا کہ جب آپ کی شادی کے موقع پر آپ کی بیوی نے اپنا مال اور غلام آپ کی خدمت میں پیش کر دیئے۔ تو آپ نے فرمایا میں کسی انسان کو اپنا غلام رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ یہ کہہ کر آپ نے سب غلام آزاد کر دیئے اور ساری عمر آپ نے کوئی غلام نہیں رکھا۔

۲۔ احبار باب ۲۰ آیت ۲۷ میں لکھا ہے کہ:۔ ”مرد یا عورت جس کا یار دیو ہے یا جادوگر ہے تو دونوں قتل کئے جاویں، چاہئے کہ تم اُن پر پتھراؤ کرو اور اُن کا خون اُنہی پر ہووے“۔ اسی طرح خروج باب ۲۲ آیت ۱۸ میں لکھا ہے کہ:۔ ”تُو جادوگروں کو جینے مت دئے“۔ یہ کیسی خلافِ عقل تعلیم ہے اور پھر ظالمانہ بھی۔ اگر جادوگر سے مراد یہاں ہتھکنڈے دکھانے والے لوگ ہیں تو وہ ایک معصوم پیشہ لوگ ہیں۔ انسان کی مشوش زندگی میں کبھی کبھی ہنسی اور مذاق کا وقت بھی آ جاتا ہے۔ اُس وقت یہ لوگ اپنی دیرینہ مشقوں کے ذریعہ سے لوگوں کی توجہات کو زیادہ سنجیدہ مسائل سے اپنے ہتھکنڈوں کی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ اس بے ضرر پیشہ کو قتل کا موجب قرار دینا انصاف کی تعلیم نہیں کہہ سکتے۔ اور اگر جادوگر سے مراد وہ روایتی جادوگر ہیں جو مرد کو بیل اور عورت کو چڑیا بنا دیتے ہیں تو یہ تعلیم نہ صرف احمقانہ ہے بلکہ ظالمانہ بھی۔ کیونکہ ایسے جادوگر نہ کبھی ہوئے اور نہ کبھی ہوں گے اور کسی کی طرف ایسے جادو منسوب کر کے قتل کر دینا ظالمانہ فعل ہے۔

استثناء باب ۷ آیت ۲ میں لکھا ہے:۔ ”جبکہ خدا وند تیرا خدا انہیں تیرے حوالہ کرے تو تُو اُنہیں ماریو اور حرم کیجیئو نہ تو ان سے کوئی عہد کر یو اور نہ ان پر رحم کریو“۔ ایک مغلوب دشمن کے متعلق یہ کیسی ظالمانہ تعلیم ہے۔ تمام دشمنوں کو قتل کر دینا، ان کے ساتھ کسی قسم کا عہد نہ کرنا اور ہر قسم کے رحم سے انہیں محروم کر دینا یہ ظلم بادشاہوں کا فعل تو ہو سکتا ہے خدائے رحیم و کریم کی تعلیم نہیں ہو سکتی۔ یقیناً یہ تعلیم موسیٰ کے بعد آنے والے سفاک یہودیوں کے دماغوں کا اختراع ہے اور موسیٰ کی کتاب میں داخل کر کے اُس کو بھی گندہ کر دیا ہے۔

بائبل کی خلافِ عقل باتیں

بائبل میں بعض ایسی باتیں ہیں جو بالکل خلافِ عقل ہیں۔ مثلاً: ۱۔ احبار باب ۱۱ آیت ۳ میں لکھا ہے ”خرگوش جگالی کرتا ہے۔“ ۲۔ اسی طرح گنتی باب ۲۲ آیت ۲۸ میں بلعام کی گدھی کے متعلق لکھا ہے کہ اس نے بلعام سے باتیں کیں۔ ۳۔ پیدائش باب ۴۶ آیت ۲۷، ۲۸ میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر میں آئے تھے تو ۷۰ تھے، لیکن ۲۱۵ سال کے بعد یعنی موسیٰ کے زمانہ میں ان کی تعداد اس قدر بڑھ گئی کہ عورتوں اور بچوں کو نکال کر چھ لاکھ کے قریب پہنچ گئے۔ چنانچہ خروج باب ۱۲ آیت ۳۷ میں لکھا ہے:۔ ’’اور بنی اسرائیل نے رعمیس سے ’’سکات‘‘ تک پیادے سفر کیا۔ ان کے مرد سوا لڑکوں کے چھ لاکھ کے قریب تھے‘‘۔ اگر مردوں کی تعداد کو ملحوظ رکھ کر عورتوں اور بچوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو کل تعداد ۲۵ لاکھ کے قریب پہنچ جاتی ہے مگر یہ سخت مبالغہ اور عقل کے خلاف بات ہے۔ ۲۱۵ سال میں ۷۰ آدمیوں کا ۲۵ لاکھ ہو جانا بالکل عقل کے خلاف بات ہے اور واقعہ کے بھی خلاف ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب مصر سے کنعان کی طرف ہجرت کی اور چالیس سال تک وہ جنگلوں میں پھرے تو کیا ۲۵ لاکھ آدمیوں کا روٹی کا انتظام چالیس پچاس سال تک ان جنگلوں میں ہو سکتا تھا؟ بیشک بعض زمانوں کے متعلق بائبل میں آتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کے لئے آسمان سے بٹیر اُتارے اور زمین میں ترنجبین پیدا کر دی لیکن بائبل کے بیان کے مطابق یہ خوراک سارے عرصے کے لئے مہیا نہیں ہوئی تھی۔ پھر دوسرے عرصہ میں اتنے آدمیوں کے لئے خوراک کہاں سے لاتے تھے؟ پھر بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ایک چشمہ سے پانی پی لیتے تھے۔ کیا کوئی عقل تسلیم کر سکتی ہے کہ ایک ایک چشمہ سے ۲۵ لاکھ آدمی پانی سے سیراب ہو سکتا ہے۔ جن علاقوں سے وہ گزرے ان میں ندیاں نہیں ہیں۔ کسی کسی جگہ پر چشمے ملتے ہیں اور چشمہ میں عام طور پر چند محدود فٹ پانی ہوتا ہے کیا اس سے ۲۵ لاکھ آدمی سیراب ہو سکتے ہیں؟ ایسی خلافِ عقل

بیان والی بائبل کس طرح بنی نوع انسان کے لئے تسلی کا موجب ہو سکتی ہے۔ بیشک وہ خدا کی طرف سے تھی، بیشک خدا کے نبیوں نے اسے لکھا تھا لیکن وہ مٹ چکی تھی۔ وہ مسخ ہو چکی تھی، وہ انسانی دست بُرد کا شکار ہو چکی تھی، ایسی کتاب کو اُس کے بگڑ جانے کے بعد بھی خدا تعالیٰ کا کلام کہنا دشمنوں کو خدا تعالیٰ پر اعتراض کرنے کا موقع دینا ہے۔ ضروری تھا کہ اس کے بعد ایک اور کتاب آتی جو انسانی دست بُرد سے پاک ہوتی اور ایسی خلافِ عقل باتوں سے محفوظ ہوتی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں قرآن نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَہُمۡ اُلُوۡفٌ حَذَرَ الۡمَوۡتِ(2:244) بنی اسرائیل جو فرعون کے ظلم سے ڈر کر بھاگے تھے اُن کی تعداد صرف چند ہزار تھی اور یہی بات صحیح اور درست ہے ورنہ ۲۵؍ لاکھ یہودی فلسطین کے چھوٹے چھوٹے قبائل سے ڈر کس طرح سکتے تھے۔ فلسطین کی آبادی تو اپنی شان و شوکت کے زمانہ میں بھی ۲۵۔۳۰؍ لاکھ سے نہیں بڑھی۔ آجکل بھی اس کی آبادی ۱۳۔۱۴؍ لاکھ ہے اور اس میں اور زیادتی کرنے کے خلاف عرب سختی سے احتجاج کر رہے ہیں۔ پرانے زمانہ میں جبکہ خوراک اِدھر اُدھر پہنچانے کے سامان مفقود تھے غیر زرعی علاقوں میں بڑی آبادی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ موسیٰؑ کے وقت میں یقیناً سارے فلسطین کی آبادی چند ہزار افراد پر مشتمل ہو گی۔ چنانچہ بنی اسرائیل اور ان کے دشمنوں کی لڑائیوں میں ہمیشہ سینکڑوں اور ہزاروں افراد کا ہی پتہ لگتا ہے۔ اگر موسیٰؑ کے ساتھ ۲۵؍ لاکھ آدمی فلسطین میں سے آئے تھے تو سفر کا زمانہ تو الگ رہا حکومت کے زمانہ میں بھی خوراک کا انتظام نہ ہو سکتا تھا اور لڑائی کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ یہ لوگ تو اپنے کندھوں کے دھکوں سے ہی ان چند ہزار افراد سے فلسطین کو خالی کر سکتے تھے جو اُن سے پہلے وہاں بس رہے تھے۔

۴۔ اسی طرح تورات میں لکھا ہے:۔ ’’جب لوگوں نے دیکھا کہ موسیٰ پہاڑ سے اُترنے میں دیری کرتا ہے تو وہ ہارون کے پاس جمع ہوئے اور اسے کہا کہ اُٹھ ہمارے لئے معبود بنا جو ہمارے آگے آگے چلے کیونکہ یہ مرد موسیٰ جو ہمیں مصر کے ملک سے نکال لایا ہے ہم نہیں جانتے کہ اسے کیا ہوا۔ ہارون نے انہیں کہا کہ زیور سونے کے جو تمہاری جوروؤں اور تمہارے بیٹوں اور تمہاری بیٹیوں کے کانوں میں ہیں توڑ توڑ کے مجھ پاس لاؤ۔ چنانچہ سب لوگ زیور جو اُن کے پاس تھے توڑ توڑ کر ہارون کے پاس لائے اور اس نے ان کے ہاتھوں سے لیا اور ایک بچھڑا ڈھال کر اس کی صورت چھینی سے درست کی اور انہوں نے کہا کہ اے اسرائیل! یہ تمہارا معبود ہے جو تمہیں مصر کے ملک سے نکال لایا اور جب ہارون نے یہ دیکھا تو اس کے آگے ایک قربانگاہ بنائی اور ہارون نے یہ کہہ کر منادی کی کہ کل خداوند کے لئے عید ہے اور وے صبح کو اُٹھے اور سوختنی قربانیاں چڑھائیں اور سلامتی کی قربانیاں گزاریں اور لوگ کھانے پینے کو بیٹھے اور کھیلنے کو اُٹھے‘‘۔

لیکن یہ بات کسی انسان کی عقل میں نہیں آسکتی۔ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ جس سے خدا کلام کرے وہ شرک کرنے لگ جائے۔ ایک ہاتھی کو دیکھنے والا اسے چوہا نہیں قرار دے سکتا۔ ایک سورج کو دیکھنے والا اسے موم کی شمع نہیں قرار دے سکتا۔ ایک انسان کو دیکھنے والا اسے مچھر نہیں قرار دے سکتا۔ پھر یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ خدا کو دیکھنے والا اور اس سے باتیں کرنے والا نبی ایک سونے کے بنے ہوئے بت کو خدا قرار دیدے۔ ہم ایک پاگل سے بھی تو اس قسم کی امید نہیں کر سکتے۔ پھر خدا کے ایک نبی سے اس قسم کی امید کس طرح کر سکتے ہیں۔

دوسرے یہودی تو معذور تھے۔ نہ اُنہوں نے خدا کو دیکھا تھا نہ اس سے باتیں کی تھیں۔ انہوں نے موسیٰ اور ہارون کی باتیں سنی تھیں اور اس پر ایمان لے آئے۔ اسی طرح ان سے سامری نے جو کچھ کہا اُنہوں نے مان لیا۔ مگر ہارون کو کیا ہو گیا تھا؟ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ جس نے خدا کو دیکھا ہو اور اس سے باتیں کی ہوں وہ سامری کے دھوکے میں آجائے اور خود اپنے ہاتھ سے ایک سونے کا بچھڑا بنا کر اسے خدا قرار دینے لگے؟ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ دلوں کے بھید جاننے والے خدا نے اس شخص کو بنی اسرائیل کی اصلاح کیلئے چنا ہو جو موقع پر اتنا بزدل اور کمزور ثابت ہوا ہو؟ ایک عام بادشاہ کی تعریف کرنے والے مؤرخین لکھا کرتے ہیں کہ اس نے اچھے جرنیل چنے اور یہ اس کے کمال کی علامت ہے۔ حالانکہ کوئی بادشاہ اپنے جرنیلوں کے دلوں کو نہیں پڑھ سکتا۔ لیکن بائبل کہتی ہے کہ خدا خدا بھی ہے اور غیب دان بھی ہے اور سب انسانوں سے خواہ وہ بادشاہ ہوں یا غیر بادشاہ زیادہ عالم اور زیادہ جاننے والا بھی ہے مگر

ساتھ ہی وہ ہم سے یہ منوانا چاہتی ہے کہ ہارون کو خدا نے ایک نبی کے مقام پر کھڑا کیا اور دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا اور اُس سے باتیں کیں اور اپنا وجود اُس پر ظاہر کیا مگر جب سامری نے اس کے آگے شرک کی تعلیم پیش کی تو اس کے ساتھیوں کے کہنے پر اس نے ایک سونے کا بچھڑا بنایا اور لوگوں کے سامنے رکھ دیا اور کہا یہ تمہارا خدا ہے۔ وہ قوم کے ڈر کے مارے خدا کو بھول گیا، اپنے دین کو بھول گیا، اپنی ذمہ داری کو بھول گیا، اپنے علم کو بھول گیا اور جاہلوں اور نادانوں کی طرح ایک بے جان کھلونے کے سامنے اپنے ماتھے کو رگڑنے لگا۔ بائبل میں دست اندازی کرنے والے مصنّف خود بیوقوف ہوں گے لیکن یہ ان کی انتہائی جسارت تھی کہ وہ بعد میں آنے والے لوگوں کو بھی اپنے جیسا بے وقوف سمجھتے تھے۔ یقیناً اُن کی دست بُرد کے بعد ایک ایسی کتاب کی ضرورت تھی جو تورات کی ان لغویات کا پول کھول دے اور دنیا کو بتا دے کہ ہارونؑ شرک کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔ چنانچہ وہ کتاب قرآن کریم کی صورت میں نازل ہوئی اور اس نے یہ اعلان کیا کہ ہارونؑ نے ہرگز شرک نہ کیا تھا بلکہ اس نے اپنی قوم کو شرک سے روکا تھا۔ چنانچہ فرماتا ہے۔ وَلَقَدۡ قَالَ لَہُمۡ ہٰرُوۡنُ مِنۡ قَبۡلُ یٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِہٖ ۚ وَاِنَّ رَبَّکُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ وَاَطِیۡعُوۡۤا اَمۡرِیۡ(طٰہٰ: ۹۱) یقیناً ہارون نے موسیٰ کے پہاڑ سے واپس آنے سے بھی پہلے بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھا کہ اس بچھڑے کے ذریعہ سے تم گمراہی میں مبتلا کر دیئے گئے ہو اور تمہارا ربّ وہ ہے جس نے تمہاری پیدائش سے بھی پہلے تمہاری زندگی کی راحت کے سامان مہیا کر دیئے ہیں (اور یہ بچھڑا تمہاری آنکھوں کے سامنے بنایا گیا ہے) پس میری اتباع کرو اور میرا حکم مانو (اور شرک میں مبتلا نہ ہو) کیا کوئی عقلمند دنیا میں یہ کہہ سکتا ہے کہ موسیٰؑ پر نازل ہونے والی کتاب جب صداقتوں اور سچائیوں کو جھٹلانے لگے اور خلافِ عقل باتیں بیان کرنے لگے تو اُس وقت کسی ایسی کامل کتاب کی ضرورت نہ تھی جو آئے تو موسیٰؑ کے دو ہزار سال بعد لیکن سچائیاں اس طرح بیان کرے کہ گویا موسیٰؑ کے وقت میں اور اس کے ساتھ موجود تھی۔

۵۔ پیدائش باب ۱۹ آیت ۲۶ میں لکھا ہے کہ لوط کی بیوی نے لوط کے ساتھ شہر سے بھاگتے ہوئے پیچھے پھر کر دیکھا اور وہ نمک کا کھمبا بن گئی۔ تورات کی یہ بات جنوں اور پریوں کے کسی افسانہ میں مذکور ہوتی تو یہ اس کا ٹھیک مقالہ ہوتا۔ مگر خدا کے کلام میں ایسی باتوں کا کیا دخل۔ قرآن کریم نے کس صفائی کے ساتھ حقیقت کو بیان کر دیا ہے فرماتا ہے کَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِیۡنَ(7:84)۶۲؎لوط کی بیوی کھمبا ومبا کوئی نہیں بنی بلکہ اس نے لوط کے ساتھ جانا پسند نہ کیا کیونکہ وہ خدا کی محبت پر اپنے رشتہ داروں کی محبت کو ترجیح دیتی تھی۔ غرض ایسی بیسیوں باتیں ہیں جو ہیں تو موسیٰ کے زمانہ کی لیکن تورات ان کو غلط بیان کرتی ہے۔ مگر قرآن کریم نے دو ہزار سال کے بعد آکر اُن کی اصلاح کی ہے اور ایسی اصلاح کی ہے کہ عقلِ سلیم اُن کی سچائی تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔

بائبل کی خلافِ اخلاق باتیں

پھر بائبل میں بعض ایسی خلافِ اخلاق باتیں بھی درج ہیں جن کی نسبت کوئی یہ یقین نہیں کر سکتا کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کہی گئی ہوں یا خدا کے نبیوں نے ایسا کام کیا ہوگا۔ ۱۔ پیدائش باب ۹ میں لکھا ہے کہ نوحؑ نے انگور کا ایک باغ لگایا اُس کی مے پی کر نشہ میں آیا اور اپنے ڈیرے کے اندر اپنے آپ کو ننگا کیا اور اس کے بیٹے حام نے اُس کی عریانی کا تماشہ دیکھا اور پھر جا کے اپنے بھائیوں کو خبر دی۔ ۶۳؎ کیا کوئی عقلمند آدمی اس بات کو باور کر سکتا ہے کہ وہ نوح جس کی نسبت آتا ہے:۔

”نوح اپنے قرنوں میں صادق اور کامل تھا اور نوح خدا کے ساتھ چلتا تھا“۔۶۴؎

وہ ننگا ہو کر اپنے بچوں کے سامنے آجائے گا؟ اور کیا یہ بات کوئی عقلمند انسان مان سکتا ہے کہ نوح ننگا ہوا اور بُرا بھلا حام کو کہا جائے؟ ایک ننگے پر نظر ڈالنے والا انسان آخر اُس کو ننگا نہیں تو اور کیا دیکھے گا۔ پس حام کا اس میں کیا قصور تھا کہ اُس نے نشہ سے چور اپنے باپ کو دیکھ لیا۔ مگر بائبل کہتی ہے کہ نوح نے کہا:۔

”کنعان ملعون ہو“ ۶۵؎

حالانکہ کنعان کا کوئی بھی قصور نہ تھا۔ دیکھنے والا کنعان کا باپ حام تھا۔ حام کے خلاف تو نوح نے ایک لفظ بھی نہیں کہا مگر کنعان پر لعنت کر دی جس کا کوئی قصور نہ تھا۔ کیا اس لئے کہ حام اُس کا بیٹا تھا اور کنعان اُس کا پوتا تھا؟ پس اِس قسم کے اعمال نہایت ہی اخلاق سوز ہیں اور خدا تعالیٰ کے ایک نبی کی طرف ایسی باتیں منسوب کرنا نہایت ہی شرمناک امر ہے۔ ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ باتیں یقیناً موسیٰ سے خدا تعالیٰ نے نہیں کہیں نہ موسیٰ نے اپنی کتاب میں لکھی ہیں۔ نبیوں کو چور اور بٹ مار کہنے والے یہودی علماء نے یہ باتیں اپنے گناہوں کو چھپانے کے لئے موسیٰ کے کلام میں داخل کر دیں اور اس بات کو ضروری بنا دیا کہ پھر خدا تعالیٰ ایک کامل کتاب دنیا میں اُتارے جو اِس قسم کی بیہودہ اور لغو اور مفتریانہ باتوں سے پاک ہو اور وہ قرآن کریم ہے۔

۲۔ پیدائش باب ۱۹ آیت ۳۰ تا ۳۵ میں لکھا ہے کہ: ’’لوط اپنی دونوں بیٹیوں سمیت اپنے شہر سے نکل کر ایک غار میں رہنے لگا۔ تب پلوٹھی نے چھوٹی سے کہا کہ ہمارا باپ بوڑھا ہے اور زمین پر کوئی مرد نہیں ہے جو تمام جہان کے دستور کے موافق ہمارے پاس اندر آوے۔ آؤ ہم اپنے باپ کو مے پلاویں اور اس سے ہم بستر ہوویں تاکہ اپنے باپ سے نسل باقی رکھیں سو اُنہوں نے اُسی رات اپنے باپ کو مے پلائی اور پلوٹھی اندر گئی اور اپنے باپ سے ہم بستر ہوئی۔ پر اُس نے لیٹتے اور اُٹھتے وقت اُسے نہ پہچانا اور دوسرے روز ایسا ہوا کہ پلوٹھی نے چھوٹی سے کہا کہ دیکھ کل رات میں اپنے باپ سے ہم بستر ہوئی آؤ آج رات بھی اس کو مے پلاویں اور تُو بھی جا کر اُس سے ہم بستر ہو کہ ہم اپنے باپ سے نسل باقی رکھیں۔ سو اُس رات بھی اُنہوں نے اپنے باپ کو مے پلائی اور چھوٹی اُٹھ کے اُس سے ہم بستر ہوئی اور اس نے اُٹھتے اور بیٹھتے وقت اُسے نہ پہچانا‘‘۔

کیا یہ تعلیم واقعہ کے لحاظ سے ممکن اور اخلاق کے لحاظ سے قابل برداشت ہے؟ مگر تورات خدا تعالیٰ کے ایک نبی کی نسبت ایسی کہانی بیان کرنے سے دریغ نہیں کرتی۔ لیکن تورات سے مراد اِس جگہ وہ تورات نہیں جو خدا نے موسیٰ پر نازل کی تھی بلکہ یہ وہ تورات ہے جو بنی اسرائیل کے علماء نے اُس وقت لکھی جب اُنہیں حضرت لوط کی حقیقی یا نام نہاد اولاد موآب یا بنی عمون سے اختلاف پیدا ہو گیا تھا اور بنی اسرائیل کا ایمان اتنا کمزور ہو چکا تھا اور دل اتنے سخت ہو چکے تھے کہ اُنہوں نے موآب اور بنی عمون کو ملعون کرنے کے لئے خدا کے نبی حضرت لوط پر حملہ کیا اور خدا کی کتاب میں ایسی گندی باتیں لکھیں جن کو خدا تعالیٰ کے نبیوں کی نسبت کوئی شخص سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہوسکتا۔ کیا عیسائی اور یہودی دنیا خدا کے نبیوں کی نسبت ایسی باتیں سن سکتی ہے؟ اگر سن سکتی ہے تو یہ اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ ایک ایسی پاک اور منزہ کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی جو اس قسم کے ذہنوں کا علاج کرتی۔

۳۔ تورات میں لکھا ہے اگر کئی بھائی ایک جا رہتے ہوں اور ایک ان میں سے بے اولاد مر جائے، تو اُس مرحوم کی جورو کا بیاہ کسی اجنبی سے نہ کیا جائے بلکہ اس کے شوہر کا بھائی اس سے خلوت کرے اور اُسے اپنی جورو کرلے اور بھاوج کا حق اُسے ادا کرے اور یوں ہوگا کہ اُس کا پلوٹھا جو اس سے پیدا ہو تو اس کے مرحوم بھائی کے نام پر قائم ہوگا تاکہ اس کا نام اسرائیل میں سے مٹ نہ جائے۔۶۶؎

اگر کسی اور شخص کی اولاد کے ذریعہ سے کسی شخص کا نام قائم رہ سکتا ہے تو بھائیوں کی اولاد کے ہونے کی صورت میں کیا ضرورت ہے کہ اس کے بھائیوں کے نطفہ سے اس کی بیوی کے ہاں بھی کوئی بیٹا پیدا ہو۔ اگر بھائیوں کا بیٹا اس کا بیٹا ہوسکتا ہے تو پھر اس کی بیوی سے بدکاری کروانے کا فائدہ ہی کیا ہے۔ بائبل یہی کہہ دیتی کہ بھائیوں کے بیٹوں میں سے ایک بیٹا مرنے والے کی طرف منسوب کر دیا جائے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ چونکہ یہودی علماء نے حضرت لوط پر ایک گندہ الزام لگایا تھا خدا نے ایسی تعلیم ان کے ہاتھوں سے تورات میں لکھوا دی تاکہ لوط پر جھوٹا الزام لگانے والے یہودی سارے کے سارے خود اُس گند میں مبتلا ہو جائیں جو کام اُنہوں نے حضرت لوط کی طرف منسوب کیا تھا۔ یقیناً عہد نامہ قدیم کی یہ خرابیاں اس بات کی بیّن دلیل تھیں کہ دنیا کو اس قسم کی کامل کتاب کی ضرورت تھی جو عیبوں اور نقصوں سے پاک ہو اور وہ کتاب قرآن کریم ہے۔

موجودہ اناجیل کی حالت

میں اوپر بتا چکا ہوں کہ عہد نامہ قدیم ظاہری اور باطنی دونوں طور پر محرف و مبدل ہو چکا ہے اور اس کی تعلیم اور اس کی روشنی سے کسی انسان کا ہدایت پانا ناممکن ہے۔ اب میں عہد نامہ جدید کو لیتا ہوں ۔

(۱) عہد نامہ جدید کا کوئی وجود نہیں ہے جو کتابیں عہد نامہ جدید کے نام سے ہمارے سامنے پیش کی جاتی ہیں، وہ ہرگز نہ مسیح کے اقوال پر مشتمل ہیں اور نہ ان کے حواریوں کے اصل اقوال پر۔ مسیح یہودی النسل انسان تھے اور ان کے حواری بھی یہودی النسل تھے۔ اس لئے اگر مسیح کا کوئی قول اپنی اصل شکل میں محفوظ ہوسکتا ہے تو وہ عبرانی زبان میں۔ اور اگر ان کے حواریوں کا کوئی قول اپنی شکل میں محفوظ ہوسکتا ہے تو وہ بھی عبرانی زبان میں ہی محفوظ ہوسکتا ہے۔ لیکن انجیل کا کوئی نسخہ پرانی عبرانی زبان میں محفوظ نہیں ہے بلکہ اناجیل تمام کی تمام یونانی زبان میں ہیں۔ عیسائی پادری اس عظیم الشان نقص کو چھپانے کے لئے کہہ دیا کرتے ہیں کہ اُس زمانہ میں لوگوں کی زبان یونانی ہوگئی تھی لیکن کیا ایسا ہونا ممکن ہے؟ قومیں اپنی زبان آسانی سے نہیں چھوڑا کرتیں بلکہ وہ اپنی زبان کو ایسا ہی قیمتی ورثہ سمجھتی ہیں جیسا کہ جائیداد و املاک کو مشرقی یورپ کی درجنوں قومیں روس کے ماتحت تین تین چار چار سو سال سے چلی آئیں ہیں لیکن اب تک ان کی زبانیں موجود ہیں۔ الجزائر اور مراکش پر فرانس اور سپین کا قبضہ ایک لمبے عرصے سے چلا آیا ہے، مگر باوجود اس کے وہاں کے لوگوں کی زبان عربی ہے۔ ان قوموں کو بھی نظر انداز کر دو خود یہودیوں کو ہی لے لو۔ حضرت مسیحؑ کے زمانہ پر ساڑھے اُنیس سَو سال گزر جانے کے بعد بھی انہوں نے اپنی زبان پوری طرح نہیں چھوڑی۔ اب بھی یورپ اور امریکہ کے مختلف ممالک کے رہنے والے یہودی یِدّش (YIDDISH) زبان بولتے ہیں جو مختلف ممالک کی بگڑی ہوئی یہودی زبان ہے۔ اگر اُنیس سو سال کی رہائش جو کلی طور پر دوسری اقوام کے ماحول میں گزری ہے وہ بھی یہودیوں کی زبان نہیں مٹا سکی تو ایک قلیل عرصہ کی اطالوی صحبت یہود کی زبان کو کس طرح بدل سکتی ہے؟ یاد رکھنا چاہئے کہ اطالوی حکومت فلسطین میں حضرت مسیحؑ سے صرف چالیس سال پیشتر شروع ہوئی تھی اور یہ اتنا لمبا عرصہ نہیں جس میں کوئی قوم اپنی زبان کو چھوڑ دے۔ لیکن اس کے علاوہ یہ باتیں بھی یاد رکھنے کے قابل ہیں کہ:۔

ا۔ تاریخی قومیں اپنی زبان کو کبھی نہیں چھوڑا کرتیں اور یہودی ایک تاریخی قوم ہے۔

ب۔ یہودیوں کا مذہب عبرانی زبان میں تھا اس لئے اس زبان کو چھوڑنا ان کے لئے بالکل ناممکن تھا۔

ج۔ یہودی لوگ تہذیب و شائستگی کے لحاظ سے اپنے آپ کو اطالوی قوم سے کم نہیں سمجھتے تھے بلکہ بالا سمجھتے تھے اس لئے بھی یہودی اپنی زبان کے چھوڑنے پر تیار نہیں ہو سکتے تھے۔

د۔ یہودی قوم آئندہ کی حکومت کی امیدوار تھی، جو قومیں آئندہ کے متعلق امیدیں کھو بیٹھتی ہیں اُن کا دل بھی کمزور ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ وہ اپنی زبان کی حفاظت سے بے پروا ہو جاتی ہیں۔ لیکن حضرت مسیحؑ کے زمانہ میں تو یہودی یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ جلد یہودیوں کا بادشاہ ظاہر ہو گا اور وہ پھر دوبارہ یہودی حکومت قائم کرے گا۔ پس یہ کس طرح ممکن ہو سکتا تھا کہ اُس زمانہ میں وہ اپنی زبان کو ترک کر دیتے۔

ہ۔ اُس زمانہ کے یہودی مصنّفوں کی کتابیں اصل یا بگڑی ہوئی یہودی زبان میں ہیں۔ اگر ان لوگوں کی زبان بدل چکی تھی تو چاہئے تھا کہ اُس صدی یا اُس کے قریب کی لکھی ہوئی کتابیں اصل عبرانی یا بگڑی ہوئی عبرانی زبان کی بجائے کسی اور زبان میں ہوتیں۔

و۔ پرانی اناجیل کے نسخے یونانی زبان میں ملتے ہیں لیکن حضرت مسیحؑ کے وقت میں ابھی تک اطالوی شہنشاہیت دو ٹکڑوں میں تقسیم نہیں ہوئی تھی۔ اس کا مرکز ابھی روم میں ہی تھا اور رومی زبان اور یونانی زبان میں بہت کچھ فرق ہے اگر اطالوی حکومت کا کوئی اثر یہودیوں کی قوم پر پڑا بھی تھا تو اس کے نتیجہ میں اطالوی الفاظ عبرانی میں داخل ہونے چاہئیں تھے نہ کہ یونانی۔ لیکن اناجیل کے پرانے نسخے یونانی زبان میں پائے جاتے ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اناجیل اُس وقت لکھی گئیں جبکہ رومی ایمپائر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی تھی اور اس کے مشرقی مقبوضات یونانی ایمپائر کے حصہ میں آگئے تھے اور یونانی زبان نے بھی عیسائیت اور اس کے لٹریچر پر اثر انداز ہونا شروع کر دیا تھا۔

ز۔ جتنے فقرے اناجیل میں اپنی اصل شکل میں محفوظ ہیں وہ سب کے سب عبرانی زبان میں ہیں مثلاً ھوشعنا ۶۷؎ ایلی ایلی لما سبقتانی ۶۸؎ ربّی ۶۹؎ تلیثا قومی ۷۰؎

ح۔ اعمال باب ۲ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیحؑ کے صلیب پر لٹکائے جانے کے بعد تک یہودی لوگ عبرانی زبان میں باتیں کرتے تھے۔ چنانچہ لکھا ہے:۔

’’تب وے سب روحِ مقدس سے بھر گئے اور غیر زبانیں جیسے روح نے انہیں بولنے کی قدرت بخشی بولنے لگے اور خدا ترس یہودی ہر ایک قوم میں سے جو آسمان کے تلے ہے یروشلم میں آرہے ہیں۔ سو جب یہ آواز آئی تو بھیڑ لگ گئی اور سب دنگ ہوگئے کیونکہ ہر ایک نے انہیں اپنی اپنی بولی بولتے سنا اور سب حیران ہوئے اور تعجب کر کے آپس میں کہنے لگے دیکھو کیا یہ سب جو بولتے ہیں جلیلی نہیں! پس کیونکر ہم میں سے اپنے اپنے وطن کی بولی سنتا ہے۔ ہم پارتھی اور میدی اور عیلامی اور رہنے والے مسوپوتامیہ، یہودیہ اور کپدکیہ۔ پُطس اور آسیہ کے فرُوگیہ اور پمفولیہ۔ مصر اور لیبیا کے اس حصہ کے جو قرینی کے علاقہ میں ہے اور رومی مسافر یہودی اور یہودی مرید۔ کریتی اور عرب کے ہو کے ہم اپنی اپنی زبانوں میں انہیں خدا کی بڑی باتیں بولتے سنتے ہیں اور سب حیران ہوئے اور گھبرا کے ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ یہ کیا ہوا چاہتا ہے اوروں نے ٹھٹھے سے کہا کہ یہ نئی مَے کے نشہ میں ہیں۔“؎

اِس حوالہ سے ثابت ہے کہ اُس وقت تک فلسطین کے لوگوں کی زبان عبرانی تھی اور غیر زبانوں کی بولیاں بولنا اُن کے لئے ایک غیر معمولی بات تھی۔ جو نام اوپر گنائے گئے ہیں اِن میں صاف طور پر رومیوں کا ذکر آتا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اُس زمانہ میں رومی زبان فلسطین کی زبان نہیں تھی اور اس میں باتیں کرنا لوگوں کے لئے ایک اچنبھے کی بات تھی۔ اس بات سے قطع نظر کر کے کہ یہ واقعہ کس حد تک صحیح ہے اس حوالہ سے اس بات کا تو یقینی طور پر ثبوت مل جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب کے واقعہ کے بعد بھی یہودیوں کی زبان عبرانی ہی تھی۔ غیر زبانیں جاننے والے اُن میں بہت ہی کم پائے جاتے تھے۔ حتّٰی کہ جب مسیح کے حواریوں نے بعض غیر زبانوں میں باتیں کیں جن میں رومی زبان بھی شامل تھی تو لوگوں نے اُن پر یہ الزام لگا دیا کہ وہ مَے کے نشہ میں بکواس کر رہے ہیں۔ اگر سارے ملک کی زبان رومی یا یونانی ہوتی تو کس طرح ہو سکتا تھا کہ عوام الناس ان زبانوں کو نہ سمجھ سکتے اور ان کی تقریروں کو بے معنی قرار دے کر انہیں شراب کے نشہ میں مخمور سمجھ لیتے۔

مندرجہ بالا تمام دلائل سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کے حواریوں کی زبان عبرانی تھی لاطینی یا یونانی نہیں تھی۔ پس جو اناجیل یونانی یا لاطینی میں ہمارے سامنے پیش کی جاتی ہیں وہ یقیناً حضرت مسیحؑ کے بہت عرصہ بعد لکھی گئی ہیں اور اُس زمانہ میں لکھی گئی ہیں جبکہ عیسائیت رومیوں میں پھیل گئی تھی بلکہ رومن شہنشاہیت دو ٹکڑے ہو کر اٹلی اور یونان کی حکومتوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔

اِس قسم کی کتابیں جو سو یا دو سَو سال بعد غیر معلوم مصنفوں نے لکھی تھیں اور زبردستی حضرت مسیح اور ان کے حواریوں کی طرف منسوب کر دی گئی تھیں اُن سے انسان کی روحانیت کو کیا فائدہ پہنچ سکتا تھا۔ ضرور تھا کہ ان کے ہوتے بھی نیا آسمانی صحیفہ نازل ہو جو اِس قسم کی خرابیوں سے پاک ہو اور انسان اِس یقین سے اس پر غور کر سکے کہ یہ پاک اور صاف کلام میرے پیدا کرنے والے کا تھا۔

دوسری دلیل:

انجیل میں حضرت مسیح ناصری صاف طور پر بیان فرماتے ہیں کہ میں پُرانی کتابوں کو منسوخ کرنے نہیں بلکہ قائم کرنے آیا ہوں۔ چنانچہ متی میں لکھا ہے:۔

’’یہ خیال مت کرو کہ میں تورات یا نبیوں کی کتاب منسوخ کرنے کو آیا، میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں۔ کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ تورات کا ہرگز نہ مٹے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو۔‘‘۲؎

اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ناصری کا اصل کام یہودیوں کو دوبارہ موسوی مذہب پر قائم کرنا تھا، مگر انجیل کی موجودہ شکل ہمیں بتاتی ہے کہ موسوی شریعت اس کے ذریعہ سے بالکل منسوخ کر دی گئی ہے یہ امر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اناجیل درحقیقت وہ نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پیش کی تھیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم یقیناً وہی ہو گی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام دنیا میں لائے تھے۔ صرف ایسے امور جو فقیہوں اور فریسیوں نے موسوی شریعت میں اپنی طرف سے داخل کر کے اسے بگاڑ دیا تھا، مٹا دیئے گئے ہوں گے۔ لیکن انجیل فقیہوں اور فریسیوں کے احکام کو نہیں مٹاتی بلکہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بعد آنے والے نبیوں کے احکام کو بھی مٹاتی ہے۔ اس طرح اس کا ایک حصہ اس کے دوسرے حصہ کو باطل قرار دیتا ہے اور ظاہر ہے کہ جس کتاب کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو باطل قرار دے، وہ کتاب کسی ایک مصنف کی لکھی ہوئی نہیں ہو سکتی یا کسی معقول مصنف کی لکھی ہوئی نہیں ہو سکتی۔ چونکہ کہا جاتا ہے کہ یہ کتابیں حضرت مسیح کے حواریوں کی لکھوائی ہوئی ہیں اس لئے یہ تو کہنا مشکل ہے کہ ان کتابوں کے مصنف معقول آدمی نہیں تھے۔ خدا تعالیٰ کے نبیوں کے خاص حواری معقول ہوا کرتے ہیں۔ پس ایک ہی صورت رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ حواریوں نے اصل میں کوئی انجیل نہیں لکھوائی تھی۔ وہ زبانی باتیں کہتے تھے۔ کچھ عرصہ کے بعد ان کے شاگردوں کے شاگردوں نے اُن کی زبانی باتوں میں اپنے خیالات ملا دیئے اور اس طرح وہ اناجیل متضاد باتوں کا مجموعہ بن کر رہ گئیں۔

اناجیل کی تحریف و تبدل کے متعلق عیسائی علماء کے خیالات

اندرونی شہادت پیش کرنے کے بعد اب ہم انجیل کے متعلق بعض عیسائی علماء کے خیالات درج کرتے ہیں۔

(الف) تفسیر ہارن جلد ۴ حصہ دوم باب ۴ مطبوعہ ۱۸۸۲ء میں لکھا ہے:۔ ’’کلیسیا کے قدماء مورّخین سے اناجیل کی تالیف کے زمانہ کے متعلق جو حالات ہم تک پہنچے ہیں ایسے غیر معیّن اور ابتر ہیں کہ کسی ایک امر معیّن کی طرف نہیں پہنچاتے اور پُرانے قدماء نے اپنے وقت کی گپوں کو سچ سمجھ کر لکھ دیا اور اُن لوگوں نے جو اُن کے بعد ہوئے ادب کر کے ان لوگوں کے لکھے ہوئے کو قبول کر لیا اور یہ روایات سچی اور جھوٹی ایک لکھنے والے سے دوسرے لکھنے والے کو پہنچیں اور مدتِ دراز کے گزر جانے کے بعد اُن کی تنقید مُتَعَذَّر ہو گئی‘‘۔

(ب) پھر اس جلد میں لکھا ہے کہ:۔ ’’پہلی انجیل ۳۷ یا ۳۸ یا ۴۱ یا ۴۳ یا ۴۸ یا ۶۱، ۶۲ یا ۶۴ عیسوی میں اور دوسری انجیل ۵۶ سے ۶۵ تک اور غالباً ۶۰ یا ۶۳ میں اور تیسری انجیل ۵۳ یا ۶۳ میں یا ۶۴ میں اور چوتھی انجیل ۶۸ یا ۶۹ یا ۷۰ یا ۹۷ یا ۹۸ عیسوی میں تالیف ہوئیں اور نامۂ عبرانیہ اور نامۂ روم پطرس اور نامۂ دوم سوم یوحنا اور نامۂ یعقوب اور نامۂ یہودا اور مشاہداتِ یوحنا اور نامۂ اوّل یوحنا کے بعض ورس (یعنی آیات) کا حال تو ایسا ابتر ہے کہ کہنے کے لائق نہیں ان کو تو محض زبردستی سے بلا سند حواریوں کی طرف منسوب کرتے ہیں اور بہت علماء فرقہ پروٹسٹنٹ نے ان کتب کا انکار کیا تھا‘‘۔۳؎

(ج) کا تھلک ہیرلڈ جلد ۷ مطبوعہ ۱۸۴۴ء صفحہ ۲۰۵ پر لکھا ہے:۔ ’’اسٹاؤسن اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ یوحنا کی انجیل یقیناً بلا ریب مدرسہ اسکندریہ کے کسی طالب علم نے لکھی ہے اور ہارن اپنی تفسیر میں لکھتا ہے کہ فرقہ ایلوجین جو دوسری صدی میں تھا اس انجیل (یوحنا) اور اسی طرح یوحنا کی سب تصنیفات سے انکار کرتا ہے۔‘‘۔

(د) یوسیبیس اپنی تاریخِ کلیسیاء کی کتاب نمبر ۳ کے باب ۳ میں لکھتا ہے کہ:۔ ’’پطرس کا پہلا خط سچا ہے مگر دوسرا خط پطرس کا کبھی پاک کتاب میں شامل نہیں کیا گیا لیکن پڑھا جاتا تھا۔‘‘۔

(ہ) پھر اسی کتاب کے پچیسویں باب میں لکھتا ہے کہ:۔ ’’نامۂ یعقوب اور نامۂ یہودا اور نامۂ روم پطرس اور نامۂ دوم سوم یوحنا پر کلام کیا گیا ہے کہ آیا یہ سب انجیل نویسوں نے لکھے ہیں یا دوسرے لوگوں نے جن کے یہی نام تھے۔‘‘۔۴؎

(و) تفسیر بائبل ہارن صاحب جلد ۴ میں لکھا ہے کہ:۔ پہلے اناجیل عبرانی میں تھیں پھر کسی غیر معلوم شخص نے یونانی میں ترجمہ کیا۔

(ز) انسائیکلو پیڈیا ببلیکا میں لکھا ہے:۔ ’’The NT was written by Christians for Christians: it was moreover written in Greek for Greek speaking Communities, and the style of writting (with the exeption, possibly, of the Apocalypce) was that of current literary composition. There has been no real break in the continuity of the Greek-speaking church and we find accordingly that few real blunders of writing are met with in the leading types of the extent texts. This state of things has not prevented Variations, but they are not for the most part accidental. And over whelming majority of the

various readings of the MSS of the NT were from the very first intentional alterations. The NT in very early times had no canonical authority, and alterations, and additions were actually made where they seemed improvements۔“۵؎

یعنی عہد نامہ قدیم عیسائیوں نے عیسائیوں کی خاطر لکھا تھا۔ علاوہ ازیں یہ یونانی میں یونانی بولنے والوں کے لئے لکھا گیا تھا اور طرز تحریر اُس وقت کے رائج طرزِ تحریر کے مطابق تھا۔ یونانی بولنے والے گرجا کے تاریخی تسلسل میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ اس لئے ہمیں تحریر کی کوئی حقیقی غلطی موجودہ نسخوں میں نہیں ملتی۔ گو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اختلافات پائے نہیں جاتے۔ لیکن وہ اختلافات اتفاقی نہیں ہیں بلکہ دیدہ دانستہ پیدا کئے گئے ہیں اور شروع سے ہی بعض مصنفوں نے بالا رادہ وہ تغیرات عہد نامہ میں پیدا کئے۔ حقیقت یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم اپنے ابتدائی زمانہ میں کوئی مذہبی تقدس نہیں رکھتا تھا (یعنی اُسے خدائی کتاب نہیں کہا جاتا تھا) اس لئے جہاں کہیں تبدیلیوں اور زیادتیوں سے مضمون میں اصلاح کی امید کی جاتی تھی وہاں تبدیلیاں اور زیادتیاں دلیری سے کردی جاتی تھیں۔

(ح) پھر لکھا ہے:۔

What is certain is that by the middle of fourth century. Latin biblical MSS exhibited a most confusing variety of text caused at least in part by revision from later Greek MSS as well as by modifications of the Latin phraseology. This confusion lasted until all the old latin (or-ante-hieronymain) texts were supplanted by the revised version of jerome (383-400 A.D) which was undertaken at the request of pope Damasus ultimately became the vulgate of the western Church۔۶؎

یعنی جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ چوتھی صدی کے درمیان میں بائبل کا لاطینی نسخہ نہایت ہی پراگندہ حالت میں تھا اور یہ مضامین کی پراگندگی یونانی نسخہ سے مقابلہ کی وجہ سے اور لاطینی اصطلاحوں میں تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہو گئی تھی اور یہ اختلافات قائم رہے یہاں تک کہ پُرانے لاطینی نسخہ کی جگہ جیروم کا اصلاح شدہ نسخہ جو ۳۸۳ء سے ۴۰۰ء تک کے درمیان زمانہ کے پوپ ڈیمیس کے حکم سے تیار کیا گیا تھا، عیسائیوں میں رائج کیا گیا۔

(ط) اِسی طرح لکھا ہے:۔

`` More important than these external matters are the variations which in course of time crept in the text itself. Many of these variations are mere slips of the eye, ear, memory, or judgment on the part of a copyist, who had no intention to do otherwise than follow what lay before him. But transcribers, and especilally early transcribers, by no means aimed at that minute accuracy which is expected of modern critical editor. Corrections were made in the interests of Grammar or on style. Slight changes were adopted in order to remove difficclties. Additions came in especially from parallel narratives in the gospels, citations from the Old Testament were made more exact or more complete. That all this was done in perfect good Faith and simply because no strict conception of the duty of a copyist existed, is especially clear from the almost entire absence of deliberate falsification of the text in the interest of doctrinal controversy. It may suffice to mention, in addition to what has been already said that glosses or notes originally written on the margin very often ended by being taken into the text, and that the custom of reading thus Scriptured in public worship naturally brought in liturgical additions, such as the doxology of the Lord's prayer while the Commencement of an ecclesiastical

lesson torn from its proper context had often to be supplemented by a few explanatory words, which soon came to be regarded as part of the original.۷۷

اِن بیرونی باتوں کی نسبت زیادہ اہم وہ تبدیلیاں اور وہ اختلافات ہیں جو کہ مرورِ زمانہ کی وجہ سے متن میں شامل ہو گئیں۔ ان تبدیلیوں میں سے بہت سی نقل نویسوں کی آنکھ، کان اور یادداشت یا فہم کی غلطیوں کی وجہ سے ہوئیں جن کی اپنی نیت سوائے اس کے اور کوئی نہ تھی کہ جو کچھ اُن کے سامنے ہے وہ اُسے من وعن نقل کر دیں۔ لیکن مزید نسخے تیار کرنے والوں اور ان میں سے خاص طور پر ابتدائی لوگوں کا اصلی مقصد یہ نہیں تھا کہ بہت باریک بینی کے ساتھ صحت کا خیال رکھیں جیسا کہ موجودہ زمانہ کے نقادوں سے توقع کی جاتی ہے۔ گرامر اور سلاستِ عبارت کے پیشِ نظر بھی ان میں اصلاحات کی گئیں۔ مشکلات کو دُور کرنے کے لیے بعض معمولی تبدیلیاں بھی کی گئیں۔ عہد نامہ قدیم کے اقتباسات لینے میں یہ کوشش کی گئی کہ وہ زیادہ معین اور زیادہ اصل صورت اختیار کر لیں۔ یہ کام پوری نیک نیتی کے ساتھ کیا گیا کیونکہ اُس وقت ایک نقل نویس کے فرائض کے متعلق کوئی سخت نظریہ موجود نہیں تھا۔ یہ بات اس سے ظاہر ہے کہ متن میں کوئی دیدہ دانستہ جھوٹ کی آمیزش جو مذہبی عقائد کی بنا پر کی گئی ہے قریباً مفقود نظر آتی ہے۔ مندرجہ بالا امور کے علاوہ اس بات کا ذکر کرنا کافی ہو گا کہ حاشیہ پر درج شدہ نوٹوں کو اکثر متن میں شامل کر دیا جاتا تھا۔ اور اس طرح پبلک دینی اجتماعوں میں مذہبی صحیفوں کو پڑھنے کے رواج نے ایسی زیادتیاں کر دیں جیسا کہ دعائے ربانی کے نعتیہ اشعار میں۔ اسی طرح بعض دینی اسباق کو اپنے اصل متن سے علیحدہ کیا جاتا تو اس کی ابتداء میں بعض تشریحی الفاظ کا اضافہ کیا جاتا۔ اور یہ تشریحات کچھ عرصہ کے بعد اصل عبارت کا حصہ سمجھی جانے لگیں۔

(ی) اور پھر لکھا ہے:۔

It appears from what we have already seen that a considerable portion of the NT is made up of writing not directly apostolic.۷۸

جن امور کا ہم اِس سے پہلے جائزہ لے چکے ہیں اُن سے ظاہر ہے کہ عہد نامہ جدید کے معتد بہ حصے ایسی تحریروں پر مشتمل ہیں جو براہِ راست رسولوں کی طرف سے نہیں ہیں۔

(ک)

Yest, as a matter of fact, evrey book in the NT with the exception of the four great epistles of St. paul is at present more or less the subject of controversy, and interpolations are assented even in these.۹؎

پھر بھی حقیقت یہ ہے کہ عہد نامہ جدید کی ہر کتاب سوائے پولوس رسول کے چار عظیم الشان خطوط کے کم وبیش مابہ النزاع ہے اور بیان کیا جاتا ہے کہ ان میں بھی دخل اندازی کی گئی ہے اور زیادتیاں ہوئی ہیں۔

پھر پُرانے زمانہ کی تحریف وتبدل کو تو جانے دو لطف یہ ہے کہ انجیل میں آج تک بھی تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ چنانچہ:۔ ۱۔ یوحنا باب ۵ آیت ۲ تا ۵ لکھا تھا:۔ (۱) یروشلم میں بھیڑ دروازہ کے پاس ایک حوض ہے جو عبرانی میں بیت حسدا کہلاتا ہے۔ اُس کے پانچ اُسارے ہیں۔ ان میں ناتوانوں اور اندھوں اور لنگڑوں اور پژمردوں کی ایک بڑی بھیڑ پڑی تھی جو پانی کے ہلنے کے منتظر تھے۔ کیونکہ ایک فرشتہ بعضے وقت اُس حوض میں اُتر کے پانی کو ہلاتا تھا اور پانی کے ہلنے کے بعد جو کوئی کہ پہلے اس میں اُتر تا کیسی ہی بیماری میں گرفتار ہو اُس سے چنگا ہو جاتا تھا۔ یہ واقعہ سینکڑوں سال سے انجیل میں لکھا جا رہا تھا اور کسی مسیحی کے دل میں یہ خیال پیدا نہ ہوا تھا کہ یہ واقعہ کسی اَور نے انجیل میں داخل کر دیا ہے۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بانی سلسلہ احمدیہ نے جب عیسائیت پر یہ اعتراض کیا کہ اگر فلسطین میں ایک ایسا حوض موجود تھا جس میں گرنے سے لوگوں کو شفاء ہو جاتی تھی تو گو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اس میں کسی خاص تاریخ میں گرنے سے شفاء ہوتی ہے مگر مسیحؑ نے سمجھ لیا کہ یہ وہم ہے۔ اور اصل بات یہ ہے کہ اس پانی میں نہانے سے شفاء ہوتی ہے۔ پس مسیحؑ نے اس کا پانی مریضوں کو استعمال کرانا شروع کر دیا جس سے اُن کو شفاء ہونی شروع ہوگئی اور لوگ ان کے معجزات کے قائل ہو گئے۔ چنانچہ

یوحنا باب ۹ آیت ۱ تا ۷ میں لکھا ہے:۔ ’’پھر اس نے جاتے ہوئے ایک شخص کو جو جنم سے اندھا تھا دیکھا اور اس کے شاگردوں نے اُس سے پوچھا کہ اے ربی! گناہ کس نے کیا؟ اس شخص نے یا اس کے ماں باپ نے کہ یہ اندھا پیدا ہوا۔ یسوع نے جواب دیا نہ تو اس شخص نے گناہ کیا نہ اس کے ماں باپ نے لیکن یوں ہوا کہ خدا کے کام اس میں ظاہر ہوویں۔ ضرور ہے کہ جس نے مجھے بھیجا ہے میں اُس کے کاموں کو جب تک کہ دن ہے کروں۔ رات آتی ہے اور کوئی اُس وقت کام نہیں کرسکتا۔ جب تک میں جہان میں ہوں جہان کا نور ہوں۔ یہ کہہ کے اس نے زمین پر تھوکا اور تھوک سے مٹی گوندھی اور وہ مٹی اُس اندھے کی آنکھ پر لیپ کی اور اُس سے کہا جا اور سلوام کے حوض میں نہا۔ تب وہ جا کے نہایا اور بینا ہو کے آیا‘‘۔

چونکہ اس سے مسیح کے معجزات پر زد پڑتی تھی اس لئے تازہ اُردو بائبل میں سے یہ تالاب کا واقعہ اُڑا دیا گیا ہے جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے اعتراض سے بچنے کے لئے انجیل بدل دی گئی ہے۔ اگر یہ واقعہ انجیل میں نہیں تھا تو انیس سَو سال سے کس طرح اس میں شامل ہوتا چلا آیا اور اگر یہ واقعہ انجیل میں تھا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے اعتراض سے ڈر کر عیسائی دنیا نے اِس کو انجیل میں سے کیوں نکال دیا؟

۲۔ متی باب ۱۹ آیت ۱۶۔ ۱۷ میں لکھا تھا:۔ ’’اور دیکھو ایک نے آ کے اس سے کہا اے نیک استاد میں کونسا نیک کام کروں کہ ہمیشہ کی زندگی پاؤں؟ اُس نے اسے کہا۔ تُو کیوں مجھے نیک کہتا ہے۔ نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا‘‘۔

یہ حوالہ اس بات کا ایک بیّن ثبوت تھا کہ حضرت مسیحؑ کے متعلق عیسائیوں کا یہ اِدّعا کہ وہ معصوم عن الخطاء اور ہر قسم کے گناہوں اور عیوب سے منزہ تھے بالکل باطل اور بے بنیاد ہے۔ اگر وہ گناہوں سے منزہ ہوتے تو محض ایک کے نیک اُستاد کہنے پر وہ جواب میں یہ کیوں کہتے کہ ’’تُو کیوں مجھے نیک کہتا ہے نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا‘‘۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائیوں کے سامنے اِس حوالہ کو پیش کیا اور انہیں بتایا کہ تم مسیحؑ کی معصومیت کا دعویٰ کس طرح کر سکتے ہو جبکہ مسیح خود اپنی معصومیت کا اعتراف نہیں کرتا بلکہ صرف اتنی سی بات پر کہ ایک شخص نے اسے نیک استاد کہہ کر پکارا وہ کہہ اُٹھا کہ تُو مجھے نیک کیوں کہتا ہے نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا۔ یہ اعتراض ایسا زبردست تھا کہ عیسائیوں سے اِس کا جواب بن نہ پڑا اور وہ اِس بات پر مجبور ہوئے کہ اِس آیت کے الفاظ اور اس کے مفہوم کو بالکل بدل ڈالیں۔ چنانچہ موجودہ اناجیل میں مذکورہ بالا الفاظ کو بدل کر یہ الفاظ درج کر دیئے گئے ہیں :۔

’’اور دیکھو ایک شخص نے پاس آ کر کہا اے استاد! میں کونسی نیکی کروں تاکہ ہمیشہ کی زندگی پاؤں۔ اُس نے اُس سے کہا تو مجھ سے نیکی کی بابت کیوں پوچھتا ہے نیک تو ایک ہی ہے‘‘۔

’’تُو کیوں مجھے نیک کہتا ہے‘‘ اور ’’تُو مجھ سے نیکی کی بابت کیوں پوچھتا ہے‘‘۔ اِن دونوں فقرات میں موجود جو فرق ہے وہ ظاہر ہے۔ ایک حوالہ میں اپنے نیک ہونے سے انکار کیا گیا ہے اور دوسرے حوالہ میں صرف اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ تُو مجھ سے نیکی کی بابت کیوں سوال کرتا ہے۔ حالانکہ حضرت مسیحؑ دنیا میں آئے ہی اس لئے تھے کہ وہ لوگوں کو نیکی اور ہدایت کی راہ بتائیں۔ اگر وہ نیکی اور ہدایت کی راہ بتانے کیلئے نہیں آئے تھے تو ان کی بعثت کی غرض کیا تھی ۔ اُن کو ہمارے عقیدہ کے مطابق خدا تعالیٰ کا نبی کہو یا عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کا بیٹا سمجھو دونوں صورتوں میں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ دنیا کو ہدایت اور نیکی کی راہ بتانے کے لئے آئے تھے۔ پس جب وہ آئے ہی اسی غرض کے لئے تھے کہ لوگوں کو نیکی اور ہدایت کی راہ بتائیں تو وہ یہ کس طرح کہہ سکتے تھے کہ تُو مجھ سے نیکی کی بابت کیوں پوچھتا ہے پھر اگر ان سے نیکی کی بابت کچھ پوچھنا جرم تھا یا وہ دوسروں کو بتا نہیں سکتے تھے کہ نیکی کی راہ کون سی ہے تو انجیل کے مختلف مقامات پر انہوں نے نیکی کی تعلیم کیوں دی ہے؟ ایک طرف اُن کا لوگوں کو نیکی کی راہ بتانا اور دوسری طرف ان کا اس منصب پر کھڑا ہونا کہ لوگوں کی ہدایت اور راہنمائی کا موجب بنیں، بتا رہا ہے کہ اُن سے یہ سوال نہیں کیا گیا تھا اے استاد! میں کونسی نیکی کروں؟ اور نہ انہوں نے یہ جواب دیا کہ تُو مجھ سے نیکی کی بابت کیوں پوچھتا ہے بلکہ درحقیقت ان سے وہی سوال کیا گیا تھا جس کا پہلی اناجیل میں ذکر کیا گیا تھا اور جس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ ”تُو کیوں مجھے نیک کہتا ہے نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا“۔ مگر عیسائیوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے اعتراضات سے ڈر کر اِس آیت کو بدل ڈالا جو ثبوت ہے اِس بات کا کہ موجودہ اناجیل میں اب بھی تحریف وتبدیل ہوتی رہتی ہے۔

۳۔ نمبر ا یوحنا باب ۵ آیت ۷ میں لکھا تھا:۔

’’اور گواہی دینے والے تین ہیں۔ روح اور پانی اور خون۔ اور یہ تینوں ایک ہی بات پر متفق ہیں‘‘۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اِس حوالہ کی بناء پر عیسائیوں پر اعتراض کیا کہ تم تو مسیح کو خدا کہتے ہو مگر انجیل یہ بتاتی ہے کہ وہ رحم مادر میں نو ماہ تک خون کھاتا رہا اور یوحنا حواری کے قول کے مطابق وہ خود خون تھا۔ جو شخص نو ماہ تک رحم مادر میں خون کھاتا رہا اور جسے خود خون قرار دیا گیا ہے اُس کو خدا قرار دینا کتنی غیر معقول اور عقل وفہم سے بعید بات ہے۔ یہ حملہ بھی ایسا زبردست تھا کہ عیسائی اِس کی تاب نہ لا سکے اور اُنہوں نے اِس آیت کی بجائے موجودہ اناجیل میں یہ الفاظ لکھ دیئے کہ:۔

’’تین ہیں جو آسمان پر گواہی دیتے ہیں۔ باپ اور کلام اور روح قدس اور یہ تینوں ایک ہیں‘‘۔

۴۔ مرقس باب ۹ آیت ۱۴ تا ۲۹ میں لکھا ہے:۔

’’اور جب وہ اپنے شاگردوں کے پاس آیا تو دیکھا کہ ان کے چاروں طرف بڑی بھیڑ اور فقیہوں کو ان سے بحث کرتے دیکھا اور فی الفور ساری بھیڑ اُسے دیکھ کر نہایت حیران ہوئی۔ اُس کے پاس دوڑ کے اُسے سلام کیا۔ تب اس نے فقیہوں سے پوچھا تم ان سے کیا بحث کرتے ہو؟ ایک نے اُس بھیڑ میں سے جواب دیا اور کہا اے استاد! میں اپنے بیٹے کو جس میں گونگی روح ہے تیرے پاس لایا ہوں وہ جہاں کہیں اسے پکڑتی ہے پٹک دیتی ہے اور وہ کف بھر لاتا ہے اور اپنے دانت پیستا ہے اور وہ سُوکھ جاتا ہے۔ میں نے شاگردوں سے کہا تھا کہ وہ اسے باہر کر دیں ، پر وہ نہ کر سکے۔ اس نے اس کے جواب میں کہا اے بے ایمان قوم! میں کب تک تمہارے ساتھ رہوں میں کب تک تمہاری برداشت کروں اُسے میرے پاس لاؤ۔ وہ اُسے اس کے پاس لائے اور جب اُس نے اُسے دیکھا فی الفور روح نے اسے اینٹھایا اور وہ زمین پر گرا اور کف بھر کے لوٹنے لگا۔ تب اُس نے اس کے باپ سے پوچھا کتنی مدت سے یہ اس کو ہوا؟ وہ بولا بچپن سے۔ اور وہ بہت بار اسے آگ میں اور پانی میں ڈالتی تھی تاکہ اسے جان سے مار دے۔ پر اگر تُو کچھ کر سکتا ہے تو ہم پر رحم کر کے ہماری مدد کر۔ یسوع نے اسے کہا اگر تو ایمان لا سکے تو ایماندار کے لئے سب کچھ ہو سکتا ہے۔ تب فی الفور اُس لڑکے کا باپ چلایا اور آنسو بہا کے کہا۔ اے خداوند! میں ایمان لاتا ہوں۔ تو میری بے ایمانی کا چارہ کر۔ جب یسوع نے دیکھا کہ لوگ دور سے جمع ہوتے ہیں تو اس ناپاک روح کو ملامت کر کے اُسے کہا اے گونگی بہری روح! میں تجھے حکم کرتا ہوں اس سے باہر نکل اور اس میں پھر کبھی مت داخل ہو۔ وہ چلا کر اور اُسے بہت اینٹھا کر اُس سے نکل گئی اور وہ مردہ سا ہو گیا ایسا کہ بہتوں نے کہا کہ وہ مر گیا۔ تب یسوع نے اُس کا ہاتھ پکڑ کے اُسے اُٹھایا اور وہ اُٹھ کھڑا ہوا اور جب وہ گھر میں آیا اُس کے شاگردوں نے خلوت میں اُس سے پوچھا کہ ہم اُسے کیوں نہ نکال سکے؟ اُس نے انہیں کہا کہ یہ جنس سوا دعا اور روزہ کے کسی اور طرح سے نکل نہیں سکتی‘‘۔

عیسائی اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت مسیحؑ پر ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی محبت کے حصول کے لئے کسی عمل صالح کی ضرورت باقی نہیں رہتی لیکن اوپر کے حوالہ کی یہ آیت کہ ’’یہ جنس سوا دُعا اور روزہ کے کسی اور طرح سے نکل نہیں سکتی‘‘ بتاتی تھی کہ دعا اور روزہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے کے ذرائع میں سے ایک اہم ذریعہ ہیں ۔ چونکہ حضرت مسیحؑ کے حواریوں نے ان ذرائع سے کام نہ لیا اس لئے با وجود اس بات کے کہ وہ حضرت مسیحؑ پر ایمان لا چکے تھے انجیل کے بیان کے مطابق وہ ایک بد روح کو نہ نکال سکے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے اس آیت کو پیش کرتے ہوئے

عیسائیوں پر اعتراض کیا کہ تمہارا محض اسی بات پر انحصار رکھنا کہ تم حضرت مسیحؑ پر ایمان لے آئے ہو اور ہر قسم کے عمل صالح کو باطل قرار دینا درست نہیں۔ حضرت مسیح تو خود تسلیم کرتے ہیں کہ دعا اور روزہ بھی ضروری چیزیں ہیں اور یہ بھی کہ وہ دعا اور روزہ سے کام لیتے تھے۔ تو جب دعا اور روزہ کی ضرورت ہے تو معلوم ہوا کہ محض حضرت مسیحؑ پر ایمان انسان کو ہر قسم کی نیکی سے مستفیض اور نجات کا مستحق نہیں بنا سکتا۔ یہ اعتراض ایسا زبردست تھا کہ عیسائی اِس کا کوئی جواب نہ دے سکے اور انہوں نے اپنی خیر اسی میں سمجھی کہ اِس آیت کو اناجیل میں سے نکال دیں۔ چنانچہ موجودہ اناجیل میں ہمیں یہ آیت کہیں نظر نہیں آتی۔ گویا ایک آیت کو کتاب میں سے خارج کر دیا گیا اور اس طرح ثابت کر دیا گیا کہ انجیل اب تک انسانی دست بُرد کا شکار ہو رہی ہے۔

۵۔ متی باب ۱۲ آیت ۳۹، ۴۰ میں لکھا تھا کہ ایک موقع پر جب بعض فقیہوں اور فریسیوں نے حضرت مسیح سے کہا کہ:۔

’’اے استاد! ہم تجھ سے ایک نشان چاہتے ہیں۔‘‘

تو حضرت مسیح نے ان کو جواب دیا کہ:۔

’’اِس زمانہ کے بداور حرامکار لوگ نشان ڈھوندتے ہیں پر یونس نبی کے نشان کے سوا کوئی نشان انہیں دکھایا نہ جائے گا کیونکہ جیسا کہ یونس تین دن اور تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہا۔ ویسا ہی انسان کا بیٹا تین دن اور تین رات زمین کے دل میں ہوگا‘‘۔

مذکورہ بالا آیت کے الفاظ بتاتے ہیں کہ حضرت مسیح کی اصل پیشگوئی یہ تھی کہ جس طرح یونس نبی تین دن اور تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہے، اسی طرح میں بھی تین دن اور تین رات قبر کے اندر رہوں گا اور یونس نبی سے میری مماثلت ثابت ہو جائے گی۔ مگر اناجیل بتاتی ہیں کہ حضرت مسیح جمعہ کی شام کو قبر میں رکھے گئے ۵۰؎ اور جب اتوار کی صبح کو انہیں قبر میں دیکھا گیا تو وہ اس جگہ سے غائب تھے۔ ۵۱؎ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ صرف ایک دن اور دو رات قبر میں رہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بانی سلسلہ احمدیہ نے عیسائی دنیا سے مطالبہ کیا کہ جب حضرت مسیح کی پیشگوئی یہ تھی کہ لوگوں کو ویسا ہی نشان دکھایا جائے گا جیسے یونس نبی کے ذریعہ نشان ظاہر ہوا۔ یعنی جیسے یونس نبی تین دن اور تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسے ہی ابنِ آدم تین دن اور تین رات قبر میں رہے گا تو وہ تین دن اور تین رات زمین کے اندر کس طرح رہے؟ وہ واقعات جو اناجیل میں بیان کئے گئے ہیں وہ تو اس کی تصدیق نہیں کرتے۔ جب عیسائیوں نے دیکھا کہ اُن کیلئے اِس اعتراض سے بچاؤ کی کوئی صورت نہیں تو انہوں نے اِس آیت میں تحریف سے کام لیا اور موجود اناجیل میں بجائے تین دن اور تین رات کے ”تین رات دن“ کر دیا۔ اِس طرح انہوں نے گویا اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے اعتراض سے بچانے کی کوشش کی ہے لیکن درحقیقت انہوں نے اپنے عمل سے ایک دفعہ پھر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ اناجیل میں تحریف وتبدیل ہوتی چلی آئی ہے اور اب بھی عیسائی ضرورت محسوس ہونے پر اس میں تحریف وتبدیل کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ جب حالات یہ ہیں تو ایسی کتاب کے متعلق یہ کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ وہ بنی نوع انسان کی رہنمائی کا فرض سر انجام دے سکتی ہے۔ یا کوئی شخص کس طرح اس کی آیات کے متعلق یہ یقین سے کہہ سکتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ جب عیسائی آج بھی اِس کی آیات میں تبدیلی کرنے سے احتراز نہیں کرتے تو کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ پہلے جو کچھ انہوں نے لکھا تھا وہ خدا تعالیٰ کا کلام تھا۔ پس اناجیل میں تحریف وتبدیل کا متواتر ہوتے چلے آنا ثبوت ہے اس بات کا کہ موجودہ اناجیل خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور وہ روحانی نقطۂ نگاہ سے بنی نوع انسان کے لئے کسی صحیح راہنمائی کا باعث نہیں ہوسکتیں۔

اناجیل میں اختلافات

اناجیل کے اندر جو اختلافات پائے جاتے ہیں وہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کی کتاب نہیں۔ یا یہ کہ بعد میں انسانی دست بُرد نے اس کو بالکل بدل ڈالا کیونکہ ایک معقول انسان اپنی لکھی ہوئی کتاب میں اختلافات کو روا نہیں رکھتا تو پھر خدا کی کتاب میں اختلافات کیونکر پائے جاسکتے ہیں۔ ہم ذیل میں مثال کے طور پر نئے عہد نامہ کے چند اختلافات بیان کرتے ہیں۔

۱۔ مسیح کی پیدائش کی نسبت متی باب ۱ آیت ۲۱، ۲۲ اور لوقا باب ۱ آیت ۳۲، ۳۳ میں لکھا ہے کہ مسیح عام انسانوں میں سے ہوگا۔ ہاں وہ خدا کا بیٹا کہلائے گا۔ لیکن یوحنا کی انجیل میں لکھا ہے کہ مسیح کلمہ ہے جو ہمیشہ سے خدا کے ساتھ تھا اور خود خدا تھا۔ سب چیزیں اسی سے پیدا ہوئیں۔ ۵۲؎

۲۔ متی باب ۳ آیت ۱۳ تا ۱۷ مرقس باب ۱ آیت ۹ تا ۱۲ لوقا باب ۳ آیت ۲۱۔۲۲ اور باب ۴ آیت ۱ میں بتایا گیا ہے کہ مسیح نے یوحنا سے بپتسمہ پایا اور بپتسمہ پاتے ہی وہ اُسی وقت یا اُسی دن اُس کے پاس سے چلا گیا۔ لیکن انجیل یوحنا میں بپتسمہ پانے کا ذکر نہیں اور مسیح کی ملاقات یوحنا سے دو دن تک بتائی گئی ہے۔ ۵۳؎

۳۔ یوحنا باب ۱ آیت ۱۹ تا ۴۲ سے پتہ لگتا ہے کہ مسیح یوحنا اور اُن کے ساتھیوں سے کچھ دن ملاقات کرنے کے بعد سیدھا جلیل چلا گیا۔ لیکن متی باب ۴ آیت ۱ مرقس باب ۱ آیت ۱۲ اور لوقا باب ۴ آیت ۱ میں لکھا ہے کہ مسیح یوحنا سے بپتسمہ پانے کے فوراً بعد شیطان کے ساتھ امتحان دینے کی خاطر جنگل کو گیا اور چالیس دن وہاں رہا۔

۴۔ یوحنا باب ۱ آیت ۳۵ تا ۵۱ میں لکھا ہوا ہے کہ یوحنا کی ملاقات کے معاً بعد یوحنا کے شاگرد اندریاس اور ایک غیر معلوم شاگرد مسیح نے اپنے حواری بنائے اور جلیل کو جاتے ہوئے شمعون، پطرس، نتنائیل کو اُس نے اپنا مرید بنایا۔ لیکن متی بات ۴ آیت ۱۲ تا ۲۲۔ مرقس باب ۱ آیت ۱۲ تا ۲۰۔ لوقا باب ۴ آیت ۱۴، ۱۵ اور لوقا باب ۵ آیت ۱ تا ۱۱ سے معلوم ہوتا ہے کہ یوحنا کی ملاقات کے بعد چالیس دن جنگل میں رہ کر مسیح نے روزہ رکھا۔ پھر یوحنا کے قید ہونے کی خبر سن کر جلیل گیا۔ وہاں کئی جگہ اور کئی دن اس نے وعظ کئے۔ پھر جلیل کی جھیل کے کنارہ پر جا کر اُس نے شمعون اور پطرس اور اندریاس اور یوحنا اور یعقوب کو اپنا شاگرد بنایا۔ گویا یوحنا نے ان لوگوں کے ایمان لانے کی جو جگہ بتائی ہے دوسری اناجیل اُس کے خلاف بتاتی ہیں اور یوحنا نے جو وقت بتایا ہے دوسری اناجیل اُس وقت کے قریباً دو ماہ بعد کا وقت بتاتی ہیں۔

۵۔ یوحنا باب ۴ آیت ۳ و آیت ۴۳ تا ۴۵ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کا وطن یہودیہ تھا اور

مسیح اِس خیال سے کہ پیغمبر کی عزت اپنے وطن میں نہیں ہوتی اُسے چھوڑ کر جلیل چلے گئے جہاں کے لوگوں نے اُن کی بہت قدر کی۔ لیکن اس کے خلاف متی باب ۱۳ آیت ۵۴ تا ۵۸، لوقا باب ۴ آیت ۲۴ اور مرقس باب ۶ آیت ۴ میں لکھا ہے کہ مسیح کا وطن یہودیہ نہیں تھا بلکہ جلیل تھا۔ جب جلیل میں ان کی قدر نہ ہوئی تو اُنہوں نے کہا کہ کسی نبی کی قدر اُس کے وطن میں نہیں ہوتی۔

۶۔ یوحنا باب ۳ آیت ۲۲ تا ۲۶ اور یوحنا باب ۴ آیت ۱ تا ۳ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح نے یوحنا کی قید سے پہلے ہی اپنی تعلیم بیان کرنی شروع کر دی تھی اور بپتسمہ دینا بھی شروع کر دیا تھا۔ لیکن متی باب ۴ آیت ۱۲ تا ۱۷، مرقس باب ۱ آیت ۱۴۔۱۵، متی باب ۲۸ آیت ۱۹ اور مرقس باب ۱۶ آیت ۱۵۔۱۶ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح نے اپنی تعلیم کی تبلیغ تو یوحنا کے قید ہونے کے بعد شروع کی اور بپتسمہ کا حکم اپنے مرنے سے جی اُٹھنے کے بعد دیا۔ جیسا کہ لکھا ہے:۔ ’’پھر وہ گیارہ شاگرد جلیل کے اُس پہاڑ کو جہاں یسوع نے اُنہیں فرمایا تھا گئے اور اُسے دیکھ کر اُنہوں نے اُس کو سجدہ کیا۔ پھر بعضے دبدھ۸۴ میں رہے اور یسوع نے پاس آکر اُن سے کہا کہ آسمان اور زمین کا سارا اختیار مجھے دیا گیا اس لئے تم جا کر سب قوموں کو شاگرد کرو اور انہیں باپ اور بیٹے اور روح قدس کے نام سے بپتسمہ دو‘‘۔

۷۔ یوحنا باب ۱۳ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح نے آخری کھانا عید سے ایک روز پہلے کھایا اور عید کے روز وفات پائی۔ لیکن متی باب ۲۶ آیت ۱۷۔ مرقس باب ۱۴ آیت ۱۲ تا ۱۶۔ لوقا باب ۲۲ آیت ۷ تا ۱۳۔ متی باب ۲۷ آیت ۱۵ تا ۳۱۔ مرقس باب ۱۴/۱۲ اور باب ۱۵ آیت ۶ تا ۲۰ لوقا باب ۲۳ آیت ۱۳ تا ۲۵ اور باب ۲۲ آیت ۱۳ تا ۲۷ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح نے آخری کھانا عید کی شام کو کھایا تھا اور عید سے دوسرے دن صلیب پائی۔

۸۔ یوحنا باب ۱۴ آیت ۱۵ تا ۳۱ اور باب ۱۶ آیت ۱ تا ۱۱ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کے بعد فارقلیط یا روح القدس آئیں گے۔ اِس کے دوبارہ زندہ ہو کر واپس آنے کا کہیں صاف طور پر ذکر نہیں۔ لیکن متی باب ۱۷ آیت ۲۳ اور مرقس باب ۹ آیت ۳۱ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح تو دوبارہ زندہ ہو کر آئے گا لیکن فارقلیط کے دوبارہ آنے کا کوئی ذکر نہیں۔

۹۔ یوحنا کی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کے حواریوں میں سے یوحنا اُس کا سب سے بڑا اور پیارا حواری تھا اِس لئے اُس کا نام مسیح کا پیارا ہو گیا تھا۔ دیکھو یوحنا باب ۱۳ آیت ۲۳۔ اور باب ۱۸ آیت ۱۵۔ اور باب ۱۹ آیت ۲۶، ۲۷۔ لیکن دوسری انجیلوں سے پتہ لگتا ہے کہ مسیح کا سب سے پیارا حواری پطرس تھا اور تین شاگرد خاص تھے۔ پطرس۔ یوحنا۔ یعقوب۔ تعجب ہے کہ یوحنا کی انجیل میں یعقوب کا تو ذکر ہی نہیں کیا گیا اور پطرس اور یوحنا میں سے یوحنا کو زیادہ مقرب قرار دیا گیا ہے حالانکہ دوسری اناجیل پطرس کو زیادہ مقرب قرار دیتی ہیں۔ دیکھو متی باب ۱۷ آیت ۱۔ باب ۲۶ آیت ۳۷۔ مرقس باب ۵ آیت ۳۷۔ باب ۹ آیت ۲۔ باب ۱۳ آیت ۳۔ باب ۱۴ آیت ۳۳۔ لوقا باب ۹ آیت ۲۸۔ باب ۲۲ آیت ۳۲۔

۱۰۔ لوقا (باب ۳ آیت ۳۳) نے یوسف کو ہیلی کا بیٹا بتایا ہے اور متی (باب ۱ آیت ۱۶) نے یوسف کو یعقوب کا بیٹا بتایا ہے۔

۱۱۔ لوقا (باب ۲ آیت ۴) نے مسیح کو داؤد کی اولاد ناتھن سے لکھا ہے اور متی نے ناتھن کے بھائی سلیمان بادشاہ کی نسل سے اُسے قرار دیا ہے۔۸۵

۱۲۔ متی کے نسب نامہ میں یوسف سے ابراہیم تک ۴۱ اشخاص کے نام ہیں اور لوقا کے نسب نامہ میں ۵۶۔ اور پھر ہر دو شجرہ نسب کے ناموں میں کئی جگہ اختلاف پایا جاتا ہے۔

۱۳۔ لوقا کا خود اپنا کلام بھی مختلف معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی انجیل کے باب ۲۴ آیت ۵۰۔۵۱ میں لکھتے ہیں کہ:۔ ’’مسیح اپنے شاگردوں کے سامنے بیت عنیا میں آسمان پر چلے گئے‘‘۔ لیکن یہی لوقا اپنی تصنیف اعمال میں لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ زیتون کے پہاڑ پر ہوا تھا۔

۱۴۔ لوقا اپنی انجیل کے باب ۲۴ آیت ۲۱، ۲۹، ۳۶ اور ۵۱ میں لکھتے ہیں کہ جس روز مسیح جی اُٹھے تھے اُسی دن یا پہلی رات جو آئی تھی اُس میں آسمان پر چلے گئے۔ لیکن یہی لوقا اعمال باب ۱ آیت ۳ میں لکھتے ہیں کہ وہ جی اٹھنے کے چالیس دن بعد آسمان پر چلے گئے تھے۔

۱۵۔ متی باب ۱۰ آیت ۱۰ میں لکھا ہے کہ مسیح نے اپنے حواریوں سے کہا کہ راستہ کے لئے نہ جھولی دو نہ کرتے نہ جوتیاں نہ لاٹھی لو۔ لیکن مرقس باب ۶ آیت ۸، ۹ میں لکھا ہے کہ مسیح نے اپنے حواریوں کو حکم دیا کہ سفر کے لئے سوائے لاٹھی کے کچھ نہ لو۔ پھر لکھا ہے کہ جوتیاں پہنو۔ گویا متی کی روایت کے مطابق تو جوتی سے بھی منع کیا گیا تھا اور لاٹھی سے بھی۔ لیکن مرقس کی روایت کے مطابق لاٹھیاں لینے اور جوتیاں پہننے کا حکم تھا۔

انجیل میں بعض توہمات کا ذکر

انجیل کی تعلیم کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ توہمات سے بھی خالی نہیں۔ چنانچہ:۔

۱۔ مرقس باب ۱ آیت ۱۲، ۱۳ میں لکھا ہے: ’’اور روح اسے فی الفور بیابان میں لے گئی اور وہ وہاں بیابان میں چالیس دن تک رہ کے شیطان سے آزمایا گیا اور جنگل کے جانوروں کے ساتھ رہتا تھا اور فرشتے اُس کی خدمت کرتے تھے‘‘۔

یہ واقعات بالکل وہم ہیں اور الٰہی سنت ان امور کے بالکل خلاف ہے۔ اِس دنیا میں انسان انسانوں کے ساتھ ہی رہتا ہے نہ کہ جانوروں اور شیطانوں یا فرشتوں کے ساتھ۔ کیا کوئی عقلمند یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قانون پہلے اس دنیا کے لئے کچھ اور تھا اور اب کچھ اور ہو گیا ہے۔ نہ تو اس دنیا میں شیطان کسی کے ساتھ ظاہری طور پر رہتے ہیں نہ فرشتے ظاہری طور پر خدمت کرتے ہیں۔ کشفی طور پر ان نظاروں کا نظر آنا اور بات ہے۔ ایسے کشفی نظارے نہ صرف پہلے ہوتے تھے بلکہ اب بھی ہوتے ہیں اور میں خود اس معاملہ میں تجربہ رکھتا ہوں۔ لیکن یہ بات نہ پہلے ہوتی تھی نہ اب ہوتی ہے کہ انسان جانوروں میں رہ رہا ہو، بھیڑیئے اور شیر اُس کے ارد گرد بیٹھے ہوئے ہیں شیطان آتا ہے اور اُس کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور خدا کا وہ بندہ اُس کے پیچھے پیچھے پھرتا اور بلاوجہ اُس کے احکام کو مانتا چلا جاتا ہے اور کبھی کبھی اُس سے بغاوت بھی کر دیتا ہے۔ اسی طرح فرشتے آتے ہیں اُس کے لئے روٹی پکاتے ہیں، اس کے لئے ہنڈیا تیار کرتے ہیں، اس کے لئے پانی مہیا کرتے ہیں۔ کہانیوں کی کتابوں میں تو ایسی باتیں آسکتی ہیں لیکن مذہبی کتابوں کا ایسی باتوں سے کیا تعلق۔ اگر نیا عہد نامہ کپلنگ کی ’’جنگل بک‘‘ کی طرح

ہوتا یا الف لیلیٰ کی مانند ہوتا تو اس قسم کی باتیں قابلِ اعتراض نہ ہوتیں لیکن نیا عہد نامہ تو لوگوں کی مذہبی اور روحانی رہنمائی کیلئے ہے اس میں اِس قسم کی کہانیوں کا کیا مطلب؟ ہم مسیح ناصری جیسے نیک اور پاک آدمی کی نسبت کسی صورت میں بھی یہ نہیں مان سکتے کہ اُس نے ایسی باتیں کہی ہوں۔ وہ خدا تعالیٰ کا ایک برگزیدہ رسول تھا اور دنیا کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے آیا تھا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایسا پاکیزہ انسان دنیا کو ایسی باتیں بتاتا جو اُس کو جادۂ اعتدال سے پھرا دیں اور وہم میں مبتلا کر دیں۔ پس یہ باتیں یقیناً بعد میں داخل کی گئی ہیں اور ان کی ذمہ داری مسیح پر نہیں اور نہ اُس کے حواریوں پر ہے بلکہ بعد میں آنے والے ایسے عیسائیوں پر ہے جن کی روحانیت مر چکی تھی اور جو لوگوں کی واہ وا کو صداقت اور راستی پر ترجیح دیتے تھے۔

(ب)

مرقس باب ۵ آیت ۱ تا ۱۴ میں لکھا ہے۔

’’اور وے دریا کے پار گدرینیوں کے ملک میں پہنچے اور جونہی وہ کشتی سے اُترے وہیں ایک آدمی جس میں ایک ناپاک روح تھی قبروں سے نکلتے ہوئے اُسے ملا اور وہ قبروں کے درمیان رہا کرتا تھا اور کوئی اُسے زنجیروں سے بھی جکڑ نہ سکتا تھا۔ کیونکہ وہ بار بار بیڑیوں اور زنجیروں سے جکڑا گیا تھا۔ لیکن اُس نے زنجیروں کو توڑ ا اور بیڑیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کئے اور کوئی اُسے قابو میں نہ لا سکا۔ وہ ہمیشہ رات دن پہاڑوں اور قبروں کے بیچ چلایا کرتا اور اپنے تئیں پتھروں سے کاٹتا تھا۔ پر جونہی اُس نے یسوع کو دور سے دیکھا دوڑا اور اُسے سجدہ کیا اور بُری آواز سے چلا کے کہا۔ اے خدا تعالیٰ کے بیٹے یسوع! مجھے تجھ سے کیا کام! تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں مجھے نہ ستا۔ کیونکہ اُس نے کہا تھا کہ اے ناپاک روح اِس آدمی سے نکل آ۔ پھر اُس سے پوچھا تیرا کیا نام ہے؟ تب اُس نے جواب دیا کہ میرا نام تمن ہے اِس لئے کہ ہم بہت ہیں۔ پھر اُس نے اُس کی بہت منت کی کہ ہمیں اِس سرزمین سے مت نکال اور وہاں پہاڑوں کے نزدیک ایک سؤروں کا غول چرتا تھا۔ سو سب دیووں نے اُس کی منت کر کے کہا کہ ہم کو اِن سؤروں کے درمیان بھیج تاکہ ہم اُن میں بیٹھیں۔ یسوع نے انہیں فی الفور اجازت دی اور وے ناپاک روحیں نکل کر سؤروں میں بیٹھ گئیں اور وہ غول کڑاڑے پر سے دریا میں کودا اور وہ قریب دو ہزار کے تھے جو دریا میں ڈوب کر مر گئے اور وہ جو سوروں کو چراتے تھے بھاگے اور شہر اور دیہات میں خبر پہنچائی۔ تب وہ اس ماجرے کو دیکھنے نکلے۔‘‘

ان آیات میں اس قدر وہم کی باتیں جمع کر دی گئی ہیں کہ انسان حیران ہو جاتا ہے۔ اوّل یہ کہ ایک شخص اتنا پاگل اور مضبوط تھا کہ کسی قسم کی زنجیریں اُس کو جکڑ نہیں سکتی تھیں۔ وہ ہر قسم کی زنجیریں توڑ دیتا تھا۔ کیا کوئی انسان اس قسم کا ہو سکتا ہے جو ہر قسم کی زنجیریں توڑ دے؟ ہاں یہ ممکن ہے کہ اُس زمانہ میں لوگوں کو زنجیریں بنانی نہ آتی ہوں اور وہ گھڑیوں کی زنجیروں جیسی کمزور زنجیروں سے لوگوں کو باندھتے ہوں۔

پھر لکھا ہے۔ وہ دیوانہ اپنے تئیں پتھروں سے کاٹتا تھا۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایک شخص متواتر سالہا سال سے اپنے آپ کو پتھروں سے کاٹتا تھا اور پھر بھی وہ مرتا نہیں تھا۔

پھر لکھا ہے۔ مسیح نے اُس شخص کو کہا کہ اے ناپاک روح! اِس آدمی میں سے نکل آ۔ یہ تو پہاڑی اور جاہل علاقوں کے خیالات ہیں نہ کہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ رسول کے خیالات۔ اگر اِس قسم کی بد روحیں لوگوں میں آیا کرتی تھیں تو اب کیوں نہیں آتیں؟ اور کون سے ایسے ذرائع ہیں جن سے ایسی بد روحوں کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ جس چیز کو آج ڈاکٹروں نے ’’نیورس تھی نیا‘‘ یا ہسٹیر یا یا جنون قرار دیا ہے اس کو پرانے زمانے کے ناواقف لوگ بدروحیں قرار دیتے تھے۔ مگر انجیل یہ بتاتی ہے کہ حضرت مسیحؑ جیسا سنجیدہ اور استباز اور عقلمند انسان بھی ان جاہلوں کی طرح یہ کہتا تھا کہ مجنونوں کے اندر کوئی بد روح داخل ہو جاتی ہے۔ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ۔ خدا تعالیٰ کے ایک راستباز پر یہ کتنا بڑا الزام ہے۔ اپنی توہم پرستی کو دنیا کے ایک عظیم الشان رہنما کی طرف منسوب کر دینا یقیناً ایک بہت بڑا ظلم ہے مسیح خود ایسی بات نہیں کر سکتا تھا اور نہ اُس کے حواری ایسی بات کر سکتے تھے۔ یقیناً یہ بعد کے جہال کی داخل کی ہوئی بات ہے جنہوں نے انجیل کو اُس کے حقیقی معیار سے نیچے گرا دیا۔

پھر آگے چل کر اس وہم کو اور بھی پکا کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مسیح نے بدروح سے اُس کا نام پوچھا تو اُس نے کہا ’’میرا نام تمن ہے اس لئے کہ ہم بہت ہیں‘‘۔ گویا ایک روح اتفاقی طور پر پیدا نہیں ہوگئی تھی بلکہ ایک بڑا جتھا روحوں کا اُس وقت پایا جاتا تھا۔

پھر یہ کہا گیا ہے کہ روح نے مسیح کی منتیں کیں کہ اِس سرزمین سے اُس کو نہ نکالیں لیکن جب مسیح نے نہ مانا تو سب دیووں نے اُس کی منت کر کے کہا کہ ہم کو اِن سُوٴروں کے درمیان بھیج تاکہ ہم اُن پر بیٹھیں۔ اِس پر یسوع نے فی الفور انہیں اجازت دی اور وے ناپاک روحیں نکل کے سُوٴروں میں بیٹھ گئیں اور وہ غول (یعنی سُوٴروں کا غول) کڑاڑے پر سے دریا میں کودا اور وے قریب دو ہزار کے تھے جو دریا میں ڈوب کر مر گئے۔

اِن چند فقروں میں کتنا بڑا وہم اور کتنا ظلم موجود ہے۔ وہم تو یہ ہے کہ بدروحوں نے انسان میں سے نکل کر سُوٴروں میں جانے کی اجازت مانگی۔ اور ظلم یہ کہ مسیح نے دوسرے لوگوں کے سُوٴروں پر بدروحوں کو مسلط ہونے کی اجازت دی اور اِس طرح ہزاروں روپیہ کا مال لوگوں کا ضائع کر دیا۔

سوال یہ ہے کہ جب وہ روحیں مسیح سے پوچھے بغیر آدمی کے جسم میں داخل ہو گئی تھیں تو سُوٴروں میں داخل ہونے کے لئے انہیں کسی اجازت کی کیا ضرورت تھی؟ دوسرے یہ کہ سُوٴروں کا گلہ کسی کی ملکیت تھا۔ جنگلی سُوٴر تو اِس طرح دو ہزار کے گلے کی صورت میں شہر کے پاس آکر نہیں پھرا کرتے۔ اتنی تعداد میں شہر کے قریب پھرنے والے سُوٴر تو کسی کی ملکیت ہوا کرتے ہیں۔ اِس پر سوال ہوتا ہے کہ کسی کی ملکیت کو تباہ کرنے کا مسیح کو کیا حق پہنچتا تھا؟ اگر کوئی کہے کہ خدا کے بیٹے کو سب چیزوں پر ملکیت کا حق حاصل ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو محبت کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اگر خدا محض اپنی ملکیتِ اعلیٰ سے حق کے طور پر انسان کی ملکیت کو تباہ اور برباد کرسکتا ہے تو پھر کونسا روحانی نظام دنیا میں کام کر رہا ہے اور خدا تعالیٰ کی رحمانیت کا ثبوت کیا ہے؟ علاوہ ازیں اِس میں ایک اور عظیم الشان وہم کا بیان ہوا ہے اور وہ یہ کہ سُوٴروں میں جب یہ روحیں چلی گئیں تو وہ دریا میں کود کر مر گئے یہ عجیب بات ہے کہ وہ بدروحیں ایک انسان میں گئیں تو وہ دریا میں نہ کودا لیکن دو ہزار سُوٴروں میں گئیں تو وہ دریا میں کود کر مر گئے۔ پس یہ آیات وہم پر دلالت کرتی ہیں اور ظالمانہ مضامین ان کے اندر پائے جاتے ہیں اور کوئی عقلمند انسان جو مسیح کی عظمت کا قائل ہو وہ ان آیات کو مسیح یا اُن کے حواریوں کی طرف منسوب

نہیں کر سکتا۔ لازماً ماننا پڑتا ہے کہ یہ آیات بعد میں بنا کر انجیل میں داخل کی گئی ہیں۔

ج۔ انجیل میں لکھا ہے مسیح مردے زندہ کیا کرتے تھے اور مردے واپس شہر میں آ کر داخل ہو جایا کرتے تھے۔ چنانچہ یوحنا باب ۱۱ آیت ۴۳۔۴۴ میں لکھا ہے اور وہ یہ کہہ کر بلند آواز سے چلایا کہ اے لعزر باہر نکل ! تب وہ جو مر گیا تھا کفن سے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے نکل آیا اور اُس کا چہرہ گردا گرد رومال سے لپٹا ہوا تھا۔

اسی طرح لکھا ہے۔

’’دیکھو ہیکل کا پردہ اوپر سے نیچے تک پھٹ گیا اور زمین کانپی اور پتھر تڑک گئے اور قبریں کھل گئیں اور بہت لاشیں پاک لوگوں کی جو آرام میں تھے اُٹھیں اور اُٹھنے کے بعد قبروں سے نکل کر اور مقدس شہر میں جا کر بہتوں کو نظر آئیں‘‘۔۸۶

کیا کوئی عقلمند ان باتوں کو تسلیم کر سکتا ہے؟ اگر مردے پہلے زندہ ہوتے تھے تو اب کیوں نہیں ہوتے؟ اگر کہو کہ یہ مسیح کی علامت تھی تو یہ غلط ہے۔ مسیح کہتے ہیں اگر تم میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو تو جو نشانات میں نے دکھائے ہیں اُن سے بہتر نشانات تم دکھا سکتے ہو۔ چنانچہ یوحنا باب ۱۴ آیت ۱۲۔۱۳ میں لکھا ہے:۔

’’میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے یہ کام جو میں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا اور اُن سے بھی بڑے کام کرے گا۔ کیونکہ میں اپنے باپ پاس جاتا ہوں اور جو کچھ تم میرے نام سے مانگو گے وہی کروں گا تاکہ باپ بیٹے میں جلال پاوے۔ اگر تم میرے نام سے کچھ مانگو گے تو میں وہی کروں گا‘‘۔

مگر کیا اس پیشگوئی کے مطابق اب بھی عیسائی مردوں کو زندہ کرتے ہیں؟

د۔ متی باب ۱۴ آیت ۲۵ تا ۲۷ میں لکھا:۔

’’ اور رات کے پچھلے پہر یسوع دریا پر چلتا ہوا اُن کے پاس آیا۔ جب شاگردوں نے اسے دریا پر چلتے دیکھا وے گھبرا کے کہنے لگے یہ بھوت ہے اور ڈر سے چلائے۔ وہیں یسوع نے انہیں کہا کہ خاطر جمع رکھو میں ہوں ۔ مت ڈرو‘‘۔

یہ بھی ایک وہم ہے جس کا انجیل میں ذکر کیا گیا، ورنہ پانی پر کون چل سکتا ہے۔

۵۔ لوقا باب ۱۱ آیت ۲۴ تا ۲۶ میں لکھا ہے:۔ ’’جب ناپاک روح آدمی سے باہر نکلتی ہے تو سوکھی جگہوں میں آرام ڈھونڈتی ہے اور جب نہیں پاتی تو کہتی ہے کہ میں اپنے گھر کو جس سے نکلی ہوں پھر جاؤں گی اور یہ کہ اسے جھاڑا ہوا اور آراستہ پاتی ہے تب جا کے اور سات روحیں جو اُس سے بدتر ہیں اپنے ساتھ لاتی ہے اور وے اس میں داخل ہو کے وہاں بستی ہیں اور اُس آدمی کا پچھلا حال پہلے سے بُرا ہوتا ہے‘‘۔

یہ کیسے وہمی خیالات ہیں۔ اوّل یہ بیان کرنا کہ ناپاک روح آدمی میں سے نکل کر سُوکھی جگہ میں آرام ڈھونڈتی پھرتی ہے اور پھر سات اور گندی روحیں لے کر واپس آجاتی ہے۔ کیا کوئی عقلمند انسان ان باتوں کو تسلیم کرسکتا ہے؟ اور کیا ان باتوں کو حضرت مسیح اور خدا کے کلام کی طرف منسوب کرنا جائز ہو سکتا ہے؟ جھوٹ بہت ہی بُری چیز ہے اور وہم بھی ایک نہایت گندی مرض ہے۔ لیکن جھوٹ اور وہم کو خدا تعالیٰ کے نبیوں اور خدا تعالیٰ کے کلام کی طرف منسوب کرنا تو اور بھی ظالمانہ فعل ہے اور انجیل کے نادان دوستوں نے اِس جرم کا ارتکاب کر کے اُسے دنیا کی ہدایت دینے والی کتابوں سے ہمیشہ کے لئے نکال دیا ہے۔

اِنجیل کی خلافِ اخلاق باتیں

۱۔ مرقس باب ۱۱ آیت ۱۲ تا ۱۴ میں لکھا ہے: ’’صبح کو جب وہ بیت عنیاہ سے باہر آئے تو اُس کو بھوک لگی اور دور سے انجیر کا ایک درخت پتوں سے لدا ہوا دیکھ کے وہ گیا کہ شاید اس میں کچھ پاوے۔ جب وہ اُس پاس آیا تو پتوں کے سوا کچھ نہ پایا کیونکہ انجیر کا موسم نہ تھا۔ تب یسوع نے اُس سے خطاب کر کے کہا کہ کوئی تجھ سے پھل نہ کھاوے‘‘۔

اِس حوالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ:۔ (الف) مسیح باوجودیکہ ایک ایسے ملک کے رہنے والے تھے جہاں انجیر کثرت سے ہوتی ہے مگر وہ ایسے ناواقف تھے کہ انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ انجیر کے درخت کو کب پھل لگتا ہے۔

(ب) وہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ ایسے بد اخلاق تھے کہ بجائے اپنی غلطی پر شرمندہ ہونے کے انہوں نے ایک بے جان درخت کو بددعا دی اور کہا کہ آئندہ کوئی تجھ سے کبھی پھل نہ کھاوے۔ ہم مسلمان جو مسیح کی خدائی کے قائل نہیں انہیں خدا کا ایک نبی مانتے ہیں ہم بھی تو ان سے ایسی بدتہذیبی کے ارتکاب کو تسلیم نہیں کر سکتے۔ پھر تعجب ہے ان لوگوں پر جو اُن کو خدا کا بیٹا بناتے ہیں اور اخلاق کا بہترین نمونہ قرار دیتے ہیں اور پھر بھی انجیل میں ایسی باتیں ان کے متعلق پڑھتے ہیں اور انہیں برداشت کر لیتے ہیں اور اُن کے دل میں یہ کبھی خیال نہیں آتا کہ یہ باتیں مسیح نے کبھی نہیں کہی ہوں گی بلکہ دوسرے لوگوں نے اُن کی طرف منسوب کر دی ہوں گی۔

آجکل کے بعض پادری اس حوالہ کے متعلق کہا کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہودی قوم اب پھل دینے کے نا قابل ہوگی اس لئے آئندہ یہودیوں میں سے کوئی نیک پھل پیدا نہیں ہوگا۔ لیکن کیا کوئی شخص جو علمِ ادب سے ذرا بھی حصہ رکھتا ہو اس عبارت کے ایسے معنی کر سکتا ہے؟ کیا انجیر کے درخت سے یہودیوں کو تمثیل دینے کیلئے اس بات کی بھی ضرورت تھی کہ مسیح اُس وقت انجیر کے درخت کے پاس جائے جب اُسے بھوک لگی ہو۔ پھر اُس درخت کے پاس جائے جس میں پتے موجود تھے اور پھر راوی اُس کے متعلق یہ الفاظ بھی کہے کہ مسیح اِس لئے اُس درخت کے پاس گیا تھا کہ شاید اُس میں کچھ پاوے۔ مگر جب وہ اس کے پاس پہنچا تو پتوں کے سوا کچھ نہ پایا کیونکہ انجیر کا موسم نہ تھا۔ مسیح کا بھوک لگنے پر درخت کے پاس جانا اور ایسے درخت کے پاس جانا جس میں پتے لگے ہوئے تھے اور اس امید کے ساتھ جانا کہ اس سے پھل ملے گا جیسا کہ فقرہ ”شاید اُس میں کچھ پاوے“ سے ظاہر ہے اور پھر راوی کا یہ کہنا ”کیونکہ انجیر کا موسم نہ تھا“ صاف بتاتا ہے کہ کسی تمثیل کے لئے مسیح اُس درخت کے پاس نہیں گیا تھا بلکہ اپنی بھوک کو دُور کرنے کیلئے گیا اور ایسے موسم میں گیا جبکہ ممکن تھا کہ درخت میں پھل لگا ہوا ہوتا۔ مگر ابھی پورا وقت نہیں آیا تھا یا شاید اس درخت میں پھل عام موسم سے ذرا دیر میں لگتا تھا یا شاید اُس کی بیماری کی وجہ سے اس درخت میں پھل ہی نہیں لگتا تھا۔ اس پر مسیح ناراض ہو گیا اور اس درخت پر لعنت کی۔

کیا درختوں، دریاؤں، پہاڑوں اور پتھروں کو لعنت کرنے والے انسان معقول اور بااخلاق انسان سمجھے جاتے ہیں؟ کیا انجیل میں تبدیلی کرنے والا انسان یہ خیال کرتا تھا کہ مسیح جیسے شریف انسان کو آنے والی دنیا ایسے بُرے اخلاق سے متصف سمجھ لے گی؟ عیسائی تو بیشک اُس کے دھوکا میں آگئے مگر ہم مسلمان یہ باتیں کبھی مسیح کی طرف منسوب نہیں کر سکتے۔ اس لئے نہیں کہ مسیح کی شخصیت دوسرے نبیوں سے نرالی تھی بلکہ اس لئے کہ کسی شریف انسان سے بھی ہم ایسی اُمید نہیں کر سکتے خواہ وہ نبی نہ بھی ہو۔

۲۔ متی باب ۷ آیت ۶ میں لکھا ہے :۔

’’وہ چیز جو پاک ہے کتوں کو مت دو اور اپنے موتی سؤروں کے آگے نہ پھینکو۔ ایسا نہ ہو کہ وے انہیں پامال کر دیں اور پھر کر تمہیں پھاڑیں‘‘۔

یہ چیز جسے پاک اور موتی قرار دیا گیا ہے خدا تعالیٰ کی وحی اور اس کے نشانات ہیں اور کتے اور سؤر سے مراد وہ لوگ ہیں جو اُس وقت تک حضرت مسیح پر ایمان نہ لائے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا تعالیٰ کے نشانات پاکیزہ چیزوں سے بھی پاک ہیں اور موتیوں سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔ مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک چیزیں اور موتی ایسے ہی لوگوں کے لئے آتے ہیں جن کو ایمان نصیب نہیں ہوتا۔ کیا خدا تعالیٰ کے نبی ان لوگوں کو ایمان دینے کے لئے آتے ہیں جو پہلے سے مؤمن ہوتے ہیں؟ ہم تو دیکھتے ہیں کہ کبھی بھی خدا تعالیٰ کے نبی ایسے زمانہ میں نہیں آئے جب دنیا مؤمن تھی ہمیشہ تاریکی اور ظلمت کے زمانہ میں خدا کے نبی آیا کرتے ہیں اور اُن کا کام یہی ہوتا ہے کہ دنیا کے بھولے بھٹکوں کو راہِ ہدایت کی طرف لائیں۔ دنیا کی بھولی ہوئی روحیں اُن کا مقصود ہوتی ہیں اور دنیا کے بھٹکے ہوئے لوگوں کو ہدایت دینا ہی اُن کا مدعا ہوتا ہے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ خدا کا پیارا اُن کو کتا اور سؤر قرار دے، محض اس جرم پر کہ ابھی تک ہدایت اُن پر ظاہر نہیں ہوئی؟ اور کیا خدا کا نبی یہ کہہ سکتا ہے کہ اُن کے آگے خدا کی تعلیمیں پیش نہ کرو کیونکہ وہ اُن کو پاؤں تلے روندیں گے؟ اگر خدا تعالیٰ کے نشانات نہ ماننے والے کے سامنے پیش نہ کئے جائیں تو وہ اُن کو قبول کس طرح کریں گے اور دنیا ہدایت کی طرف آئے گی کیونکر؟ پس یہ مسیح پر بہت بڑا الزام ہے کہ جن لوگوں کی ہدایت کے لئے اُسے بھیجا گیا تھا اُنہہی کو اُس نے کتے اور سؤر قرار دیا۔ کسی شرارت کی وجہ سے نہیں، کسی خاص معاندانہ فعل کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اِس لئے کہ اب تک اُن پر صداقت ظاہر نہ ہوئی تھی۔

اِس کے مقابلہ میں ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفۡسَکَ اَلَّا یَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ(الشعرآء: ۴) اے ہمارے رسول! تُو اپنی جان کو ہلاک کر رہا ہے اِس لئے کہ کافر لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔ کیا ہی زمین و آسمان کا فرق ہے اِن دونوں مدعیانِ ہدایت و ارشاد میں کہ ایک تو ایمان نہ لانے والوں کے غم میں اپنی جان کو ہلاک کر رہا ہے اور دوسرا اپنے حواریوں کو حکم دے رہا ہے کہ اِن کتوں اور سؤروں کی پرواہ نہ کرو اور اِن کو خدا تعالیٰ کا کلام مت پہنچاؤ۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عالی اخلاق کی وجہ سے تمام انبیاء سے بڑھ کر تھے مگر میں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ حضرت مسیح اخلاق سے اتنا گرے ہوئے تھے۔ بیشک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو نہیں پہنچے تھے مگر وہ خدا کے نبی تھے خدا تعالیٰ کی طرف سے اخلاق اور روحانیت سکھانے کے لئے لوگوں کی طرف آئے تھے اور یقیناً اُن کا نمونہ لاکھوں کروڑوں لوگوں سے اچھا تھا۔ افسوس ہے اُس شخص پر جس نے ایسی بُری بات مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب کی۔ اِس سلسلہ میں اُس کنعانی عورت کا واقعہ بھی نہیں بھلایا جاسکتا جس کا ذکر متی باب ۱۵ آیت ۲۱ تا ۲۶ اور مرقس باب ۷ آیت ۲۴ تا ۲۷ میں آتا ہے۔ اُس عورت نے نہایت عاجزی سے مسیح سے عرض کی اور اپنے قومی رواج کے مطابق اُسے سجدہ بھی کیا اور اُس سے صرف اتنا چاہا کہ وہ اُس کو بھی اپنی لائی ہوئی ہدایت سے روشناس کرے۔ مگر مسیح نے بقول انجیل یہ جواب دیا کہ:۔

’’مناسب نہیں کہ لڑکوں کی روٹی لے کر کتوں کو پھینک دیں‘‘۔

وہ مسکین عورت کس اشتیاق اور تمنا کے ساتھ مسیح کے پاس آئی ہوگی۔ اس لئے نہیں کہ وہ اُس سے روٹی مانگے، اِس لئے نہیں کہ وہ اُس سے کپڑا مانگے، اِس لئے نہیں کہ وہ اُس سے پانی مانگے، وہ صرف اتنا چاہتی تھی کہ اُس کو کوئی ایسا رستہ بتا دیا جائے جس سے وہ اپنے خدا سے مل سکے۔ وہ اُسی چیز کو طلب کرنے آئی تھی جس کے دینے کا مسیح مدعی تھا۔ مگر موجودہ اناجیل کہتی ہیں مسیح نے اُسے دُھتکار دیا۔ ایک طاقتور اور قوی مرد نے ایک کمزور اور مسکین عورت کو منہ در منہ کہہ کر اُس کی تذلیل کی ۔ کیا اس حوالہ سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ مسیح نے اُس کنعانی عورت کی تذلیل نہیں کی بلکہ جنسِ نسوانی کی تذلیل کر کے اپنی نسبت یہ ثابت کر دیا کہ وہ مسکین عورتوں کا رہنما نہیں ہے اور یہودی نسل کا اِس قدر دلدادہ ہے کہ یہودی کنچنیوں سے اپنے پاؤں پر عطر ملوانا پسند کرتا ہے لیکن غیر یہودی عورت کو ہدایت دینا پسند نہیں کرتا ۔۸۸؎

اگر عیسائی دنیا اِس حوالہ کو تسلیم کرتی ہو تو بیشک کرے مگر میں کبھی مان نہیں سکتا کہ حواریوں نے اُس کی نسبت ایسا کہا ہو۔ میرے نزدیک یہ باتیں بعد کے لوگوں نے اپنے پاس سے بنائی ہیں اور ایسے وقت میں بنائی ہیں جبکہ مسیح کی حقیقی حیثیت لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو چکی تھی ۔ اصلی مسیح دنیا سے غائب ہو چکا تھا اور ایک خیالی مسیح اُس زمانہ کے نادان اور دین سے ناواقف لوگ بنارہے تھے۔

۳۔ یوحنا باب ۲ آیت ۱ تا ۴ میں لکھا ہے :۔ ’’اور تیسرے دن قانائے جلیل میں کسی کا بیاہ ہوا اور یسوع کی ماں وہاں تھی اور یسوع اور اُس کے شاگردوں کی بھی اُس بیاہ میں دعوت تھی اور مئے گھٹ گئی۔ یسوع کی ماں نے اُس سے کہا کہ اُن کے پاس مئے نہ رہی۔ یسوع نے اُس سے کہا ’’اے عورت مجھے تجھ سے کیا کام‘‘!

اِسی طرح متی باب ۱۲ آیت ۴۷۔ ۴۸ میں لکھا ہے :۔ ’’کسی نے اس سے کہا کہ دیکھ تیری ماں اور تیرے بھائی باہر کھڑے تجھ سے بات کیا چاہتے ہیں۔ پر اُس نے جواب میں خبر دینے والے سے کہا کون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی‘‘۔

یوحنا اور متی کے یہ دونوں حوالے بتاتے ہیں کہ مسیح اس سب سے قوی رشتہ کی بھی پرواہ نہیں کرتا تھا جس کی عزت و احترام ہر شریف انسان کا کام ہے۔ کیا آج مسیحی دنیا میں کوئی شریف انسان ماں سے کہہ سکتا ہے کہ ’’اے عورت ! مجھے تجھ سے کیا کام‘‘ اور کیا آج مسیحی دنیا میں یہ کہہ کر کہ ’’کون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی‘‘ شریفوں میں گنا جاسکتا ہے؟ پھر کیا مسیح کی ہی مقدس ذات اِس تمسخر کے لئے باقی رہ گئی تھی کہ انجیل اس کی طرف ایسی بات منسوب کرتی ہے؟ ماں کا ادب تو ادنیٰ قوموں میں بھی پایا جاتا ہے یہ اُن اخلاق میں سے ہے جن کی ذلیل ترین انسانوں سے بھی امید کی جاتی ہے۔ مگر بنی اسرائیل کا وہ آخری تاجدار، موسوی سلسلہ کا وہ آخری ہیرو جو اپنی قوم کو تاریکی اور ظلمت سے نکالنے اور اسے بااخلاق بنانے کے لئے آیا تھا اُس کی نسبت موجودہ اناجیل ہم سے منوانا چاہتی ہیں کہ اُس نے اپنی ماں کے ساتھ ترش روئی کی اور اُس کے متعلق گستاخانہ رویہ اختیار کیا۔ عیسائی کہتے ہیں وہ خدا کا بیٹا تھا، وہ انسان تھا ہی نہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ اگر مسیح کی اصل شان خدا کا بیٹا ہونا ہی تھی تو وہ مریم کے گھر میں کیوں پیدا ہوا تھا، اگر مریم کے گھر میں پیدا ہونے کی حالت اُس نے اپنے لئے پسند کر لی اور نو مہینہ تک مریم کو اُن تکالیف میں مبتلا رکھا جن تکالیف کو مائیں حمل کے ایام میں برداشت کیا کرتی ہیں، اگر خدا کے بیٹے نے دو سال تک مریم کی چھاتیوں سے دودھ پینے کی تکلیف گوارا کر لی، اگر اُس نے کئی سال اپنی تربیت اور خبرگیری کا بوجھ اُس پر ڈالا تو کیا وہ یہ بھی ذمہ داری اپنے اوپر نہیں لے سکتا تھا کہ اُس عورت کو جسے اُس نے اپنی ماں بننے کا موقع دیا ادب و احترام کے ساتھ یاد کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف مسیحی دنیا کے عذرات ہیں۔ اُن کے دلوں میں مسیح کی اتنی محبت نہیں ہے جتنی کہ انہیں محرف و مبدل انجیلوں کی پچ۸۹؎ہے کیونکہ وہ انجیلیں اُن کی بنائی ہوئی ہیں اور مسیح خدا تعالیٰ کی مقدس مخلوق تھا۔ پس وہ سیدھا رستہ اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں کہ انجیلوں کی غلطی کا اقرار کریں مگر اس بات پر آمادہ ہو جاتے ہیں کہ مسیح کو بدنام ہونے دیں۔ لیکن دنیا کے تمام معقول انسان جنہوں نے مسیح کی زندگی کا مطالعہ کیا ہے اور اس کی قوتِ قدسیہ کو پہنچاننے کی کوشش کی ہے وہ اس امر کا اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ موجودہ اناجیل بگڑی ہوئی ہیں، غلط ہیں اور ایسے امور پر مشتمل ہیں جو روحانیت کے قریب نہیں کرتے بلکہ روحانیت سے دور پھینک دیتے ہیں اور یقیناً ان کی اِس حالت کے بعد خدا کی طرف سے ایک نئے الہام کی ضرورت تھی جو اس قسم کی غلطیوں سے پاک ہو اور بنی نوع انسان کو اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ روحانیت کی طرف لے جائے اور وہ کتاب قرآن کریم ہے۔


ویدوں میں تحریف و تبدیل کا ثبوت

تیسرا مذہب جو اپنے ماننے والوں کی تعداد کے لحاظ سے خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے، ہندو مذہب ہے۔ قرآنی تعلیم کے مطابق ہمارا یقین ہے کہ ہندو مذہب کی بنیاد بھی الہی الہام کے ذریعہ پڑی ہے اور چونکہ اس مذہب والوں کے نزدیک وید ہی شرعی کتاب ہے، ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ یہی الہام اُس کے نبیوں پر نازل ہوا تھا لیکن اِس کتاب کی موجودہ حالت یہ ہے کہ جن لوگوں پر یہ کتاب نازل ہوئی تھی اُن کے نام تک معلوم نہیں، وید منتروں کے شروع میں بعض لوگوں کے نام درج ہیں لیکن اُن کے متعلق خود ہندو علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ وہ نہیں جن پر الہام ہوا تھا بلکہ ویدوں کے جمع کرنے والے تھے۔ ایسی صورت میں ویدوں کی تاریخی حیثیت کچھ باقی نہیں رہتی۔ ویدوں کے علماء کی ویدوں کے متعلق مندرجہ ذیل رائیں ہیں:

۱۔ پنڈت ویدک منی صاحب اپنی کتاب ”وید سروسو“ کے صفحہ ۹۷ پر لکھتے ہیں:۔ ’’حقیقت میں جس قدر بُری حالت اس اتھرو وید کی ہوئی ہے اتنی اور کسی وید کی نہیں ہوئی۔ سائن آچاریہ کے بعد بھی کئی سُوکت اس میں ملا دیئے گئے ہیں۔ ملانے کا ڈھنگ بہت اچھا سوچا گیا ہے۔ وہ یہ کہ پہلے اُس کے شروع اور آخر میں ”اتھ“ (شروع) اور ”اِتی“ (ختم) لکھ دیا جاتا ہے۔ جب دیکھا کسی نے پوچھا تک نہیں تب شروع آخر میں اتھ اِتی لکھنا بند کر دیا جاتا ہے بس صرف اتنے سے وہ (یعنی اضافہ) سنہتا (ویدک مجموعہ) میں مل جاتا ہے، جیسے رگوید سنہتا میں بالکھلیہ سُوکت ملائے جارہے ہیں ویسے ہی اتھرو وید کے آخر میں آجکل کنتاپ سُوکت ملائے جا رہے ہیں۔ اگر پوچھا جائے کہ پانچویں انوواک سے لے کر کنتاپ سُوکتوں سمیت جتنے سُوکت اتھرو وید میں ملائے جا رہے ہیں وہ کہاں سے آئے تو کوئی جواب نہیں ملتا۔ جہالت کا اتنا دور دورہ ہے کہ آخر میں اتھرو وید سنہتا سماپتا لکھا ہوا دیکھ کر ہی یہ یقین کر لیا جاتا ہے کہ بس جو کچھ اِس خاتمہ تک چھپا ہوا یا لکھا ہوا ہے وہ سب اتھرو وید سنہتا ہے یہ خیال نہیں کیا جاتا کہ چھاپنے والا یا لکھنے والا کون اور کتنی قابلیت رکھتا ہے ۔‘‘

۲۔ پنڈت مہیش چندر پرشاد بی۔ اے سنسکرت ساہتیہ کا اتہاس جلد دوم کے صفحہ ۱۶۰ پر لکھتے ہیں :

’’واجنئی شکل یجر وید سنہتا بالکل نئی طرز پر ہے ۔ اس میں وید اور برہمن بھاگ (حصے) الگ الگ پائے جاتے ہیں ۔ اس میں چالیس ادھیائے ہیں ۔ مگر لوگوں کا وشواش ہے کہ ان میں ۱۸۔ اصل ہیں اور باقی بعد میں ملائے گئے ہیں ۔ ادھیائے ۱ سے ۱۸ تک کا بھاگ تیئستری سنہتا و کرشن یجر وید کے نظم و نثر سے مطابقت رکھتا ہے ۔ اِن ۱۸ ادھیاؤں کے ہر ایک لفظ کی تشریح اُس کے براہمن میں ملتی ہے ۔ مگر باقی ۱۷ ادھیاؤں کے صرف تھوڑے تھوڑے منتروں پر ہی اس میں ٹپنی (حواشی) پائی جاتی ہے ۔ کاتیائن نے ادھیائے ۲۶ سے ۳۵ تک کو کھل (ملاوٹ) کے نام سے لکھا ہے ۔ ادھیائے ۱۹ سے ۲۵ میں بھی یگیہ کے طریقوں کا ذکر ہے ۔ یہ تیئستری سنہتا سے نہیں ملتے ۔ ۲۶ سے لے کر ۲۹۔ ادھیاؤں تک کچھ خاص طور پر انہی یگیوں کے متعلق منتروں کا ذکر ہے جس کے بارہ میں پہلے ادھیاؤں میں بیان ہے اور اِس سے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ضرور بعد میں دیئے گئے ہیں‘‘۔

۳۔ پنڈت شانتی دیو شاستری رسالہ گنگا فروری ۱۹۳۱ء صفحہ ۲۳۲ پر لکھتے ہیں :۔

’’پہلے تو آج تک یہ بھی فیصلہ نہیں ہوا کہ وید چار ہیں یا تین ۔ منوسمرتی اور شت پتھ براہمن کی رو سے رگوید ، یجروید اور سام وید ۔ یہ تین وید ہیں اور واجنئی اپنشد براہمنو اپنشد اور منڈک اپنشد کی رو سے چار وید ہیں‘‘۔

۴۔ پنڈت ہر دے نرائن ایم ۔ ایس ۔ سی رسالہ گنگا بابت ماہ جنوری ۱۹۳۱ء میں لکھتے ہیں :۔

’’شونک رشی کے چرن دیوہ وغیرہ تصانیف میں وید منتروں اور اُن کے لفظوں اور حرفوں تک کی جو گنتی دی ہوئی ہے وہ موجودہ ویدوں میں نہیں ملتی ۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ ویدوں میں کئی منتر ملائے گئے ہیں اور کئی نکالے گئے ہیں‘‘۔

۵۔ پنڈت شانتی دیو شاستری رسالہ گنگا بابت ماہ فروری ۱۹۳۱ء صفحہ ۲۳۱ پر لکھتے ہیں :۔ ’’جس وقت شونک رشی کا چرن دیوہ تصنیف ہوا اُس وقت شاکل سنہتا (رگوید) کے ایک لاکھ ۵۳ ہزار آٹھ سو چھبیس لفظ، چار لاکھ ۳۲ ہزار حروف اور دس ہزار چھ سو بائیس منتر تھے مگر آجکل گنتی کرنے پر یہ تعداد نہیں ملتی‘‘۔

۶۔ ڈاکٹر تارا پد چودہری ایم اے۔ پی۔ ایچ۔ ڈی پروفیسر پٹنہ کالج رسالہ گنگا کے وید نمبر بابت ماہ جنوری ۱۹۳۲ء کے صفحہ ۷۴ پر لکھتے ہیں:۔ ’’ان کے علاوہ (ویدوں میں) ایسے الفاظ بھی ہیں جن کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اشدھ پاٹھ (غلط متن) معلوم ہوتا ہے کہ بولنے والوں اور لکھنے والوں کی خامیوں کے باعث کئی قسم کی غلطیاں واقع ہوگئی ہیں‘‘۔

۷۔ پنڈت ویدک منی جی اپنی کتاب وید سروسو کے صفحہ ۱۰۵ و ۱۰۶ پر لکھتے ہیں:۔ ’’گو پتھ براہمن کا زمانہ تصنیف عین وہ زمانہ ہے جبکہ یگوں کا عروج تھا۔ اُس زمانہ رگوید ی، یجر ویدی، سام ویدی اور اتھرو ویدی ایک دوسرے سے اینٹھے ہوئے تھے اور مختلف قسم کے فرائض اور من گھڑت طریقوں سے یگ وغیرہ کرنے میں محو تھے اور ان میں سے جس جس کو رگوید کے جس قدر منتر مطلوب تھے وہ اُس اُس نے اپنے اپنے وید میں شامل کر لئے تھے اور ہر ایک اپنے آپ کو بے نیاز سمجھتا تھا اور دوسروں سے نفرت کرتا تھا۔ یہی نہیں بلکہ شاکھا بھید (نسخوں) کے اختلاف کے باعث رگوید ی رگوید ی سے یجر ویدی یجر ویدی سے۔ سام ویدی سام ویدی سے اور اتھرو ویدی اتھرو ویدی سے بھی الگ ہوگیا۔ واشکل سنہتا والا شاکل سن ہتا (یہ رگ وید کے دو مختلف نسخوں کے نام ہیں) مادھنید ن سنہتا والا کانو سنہتا (یہ یجر ویدی کے دو مختلف نسخوں کے نام ہیں) کوٹھم سنہتا والا رانائنی سنہتا (یہ سام وید کے دو مختلف نسخوں کے نام ہیں) اور شونک سنہتا والا پیلا دسنہتا (یہ اتھرو وید کے دو مختلف نسخوں کے نام ہیں) کے پاٹھ (متن) کو سب سے اعلیٰ اور خالص اور دوسری شاکھا (نسخے) کے متن کو قطعی بُرا اور غلط کہتا تھا۔ آج جو وید کے مختلف نسخوں میں طرح طرح کے اختلافات نظر آتے ہیں یہ اکثر اُسی بُرے زمانہ میں جنم پائے ہوئے ہیں‘‘۔

۸۔ اسی کتاب کے صفحہ ۱۰۸ پر لکھا ہے:۔

’’ان کے علاوہ براہمن گرنتھوں کا بھی بہت سا حصہ ان (ویدوں) میں شامل ہے، جو پڑھنے سے فوراً معلوم ہو جاتا ہے۔ اتھرو وید کی بھی یہی حالت ہے۔ ودوانوں (علماء) کو اِس طرف توجہ کرنی چاہئے۔ دینی کتاب کی ایسی حالت افسوسناک ہے۔‘‘

۹۔ پھر اس کتاب کے صفحہ ۱۰۹ پر لکھا ہے:۔

’’یہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ اِس وقت اتھرو وید کی صرف دو شاکھاسنہتا (مختلف نسخے) ملتے ہیں۔ ایک پیلا دسنہتا اور دوسری شونک سنہتا۔ دونوں میں پپلا د زیادہ لائقِ تسلیم ہے، لیکن وہ چھپی نہیں اور نہ ہی اُس پر سائن آچاریہ نے تفسیر کی ہے۔ دوسری شونک سنہتا چھپی ہوئی ملتی ہے جس کے تین ایڈیشن مختلف پریسوں میں چھپے ہوئے ملتے ہیں۔ جن میں دو مول (صرف متن) اور ایک سائن اچاریہ کی تفسیر کے ساتھ چھپی ہے۔ دونوں مول میں سے ایک ویدک پریس اجمیر کی اور دوسری بمبئی پریس کی چھپی ہوئی ہے۔ اس کا چھاپنے والا سیوک لال ہے۔ تینوں میں سُوکتوں (بابوں) اور منتروں کا اختلاف ہے۔‘‘

بعض آریہ سماجی عالموں نے اِس اختلاف کو مٹانے کی کوشش کی ہے لیکن وہ اپنی کوششوں میں ناکام رہے ہیں۔ چنانچہ آریہ سماجی عالم پنڈت رگھونندن شرما ساہتیہ بھوشن ویدک سمپتی صفحہ ۵۷۰ و ۵۷۱ پر اس اختلاف کی اہمیت کو کمزور کرنے کے لئے لکھتے ہیں:۔

’’جہاں تک ہمیں علم ہے اب تک اِس قسم کا کوئی ایک بھی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے معلوم ہو کہ ویدوں میں فلاں جگہ ملاوٹ ہے جس کو آج تک کوئی نہیں جانتا تھا۔ جن مقامات میں ملاوٹ بتائی جاتی ہے وہ بہت دنوں سے (براہمن گرنتھوں کی تصنیف کے زمانہ سے) سب کو معلوم ہے۔ وہ ملاوٹیں نہیں بلکہ ایک قسم کے ضمیمے ہیں جو کاتبوں اور پریس والوں کی غفلت کی وجہ سے اصل متن میں گھس کر متن جیسے ہی معلوم ہوتے ہیں۔ بال کھلیہ سُوکت رگوید میں (یہ ۱۱سُوکت یعنی باب ہیں جن میں ۸۰ منتر ہیں) کھل یعنی براہمن بھاگ یجروید میں (یہ بھی کئی باب ہیں آرنیک اور سہانامنی سوکت سام وید میں) (یہ دو باب ۶۵ منتر ہیں) اور گنتاپ سُوکت اتھرو وید میں ملے ہوئے ہیں (یہ اکٹھے دس سُوکت یعنی باب ہیں جن میں ۱۵۰ منتر ہیں) اور ان کو سبھی جانتے ہیں اور ان سب کے متعلق مفصل ثبوت بھی موجود ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ مقامات یجروید اور اتھرو وید میں اور بھی ہیں جن کا علم ان فقروں اور منتروں کے پڑھنے سے ہو جاتا ہے کہ وہ ملاوٹی ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح شاکھاؤں (وید کے مختلف نسخوں) کی گڑبڑ کا سب کو علم ہے……اور شدھ ویدک شاکھائیں موجود ہیں اس طرح ملاوٹی حصہ کا بھی سب کو علم ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ واجنیٔ (یجروید کے مروّج نسخہ) کے منتروں کی تعداد ۱۹۰۰ ہے جن میں شکری کے منتر ملے ہوئے ہیں۔ کیونکہ لکھا ہے……یعنی سُو کم دو ہزار منتر واجنیٔ کے ہیں اور انہی میں شکری کے بھی شامل ہیں۔ جب یہ واجنیٔ سنہتا ہے تب اِس میں منتر واجنیٔ کے ہونے چاہئیں شکری کے نہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ واجنیٔ سنہتا کے منتروں کی تعداد ۱۹۷۵ ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ شکری کے منتر ۱۹۰۰ میں ہی گھسے ہیں اور باقی ۷۵ منتر کہیں باہر سے لا کر جوڑے گئے ہیں‘‘۔

ظاہر ہے کہ یہ بیان ویدوں کو تحریف سے بَری نہیں کرتا بلکہ انہیں تحریف کا اقرار کراتا ہے۔ ان حوالہ جات سے صاف ظاہر ہے کہ ویدوں کے پُرانے اور جدید علماء سب اس بات پر متفق ہیں کہ ویدوں میں دوسرے لوگوں کے منتر بھی شامل ہو گئے ہیں۔ یہ کہنا کہ براہمنوں نے دریافت کر لیا تھا کہ فلاں منتر بناوٹی ہے اور فلاں اصلی ، یہ ایک بے معنی چیز ہے۔ اگر وید کے علماء کو یقین ہو گیا ہے کہ فلاں فلاں منتر بناوٹی ہے تو اُن کو نکال کیوں نہیں دیا۔ ان کا ویدوں کے اندر رکھنا بتاتا ہے کہ ویدوں کے علماء کو یقین نہ تھا۔ چنانچہ آریہ سماج کے مصنف نے آخر میں یہی لکھ دیا ہے کہ یجروید کے ۱۹۰۰ منتر اصلی ہیں باقی ۷۵ منتر کہیں باہر سے لا کر جوڑے گئے ہیں۔ اور ان ۱۹۰۰ کے متعلق بھی لکھ دیا ہے کہ ان میں بھی کچھ شکری کے منتر ہیں ’’باقی‘‘ اور ’’کچھ‘‘ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ حقیقت کسی کو بھی معلوم نہیں۔ ساری بنیاد وہم و قیاس پر رکھی جاتی ہے۔ مگر

کیا واہمہ پر رکھی ہوئی بنیاد روحانیت کو کچھ فائدہ پہنچا سکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمیشہ سے اتھرو وید کی اصلیت کے متعلق شبہ پیدا ہوتا چلا آیا ہے اور یجر وید اور رگ وید بھی اسی طرح آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اِدھر کے منتر اڑا کر کسی نے اُدھر رکھ دیئے ہیں جہاں اِس قدر گڑ بڑ ہو وہاں کوئی شخص قطعی طور پر یہ فیصلہ کس طرح کر سکتا ہے کہ فلاں منتر خدا کی طرف سے ہے اور فلاں منتر لوگوں کا داخل کردہ ہے۔ اور جس کتاب کے متعلق ایسے شک و شبہات پیدا ہو چکے ہوں اُس پر دنیا کی ہدایت اور رہنمائی کی بنیاد رکھی ہی کب جا سکتی ہے۔ یقیناً جب کسی کتاب کی یہ حالت ہو جائے تو اس کے بعد کسی اور کتاب کی ضرورت ہو گی جو انسانی دست بُرد سے پاک اور محفوظ ہو اور جس پر انسان یقین اور قطعیت کے ساتھ اپنے عقیدوں کی بنیاد رکھ سکے اور جس کے متعلق وہ ویسا ہی یقین رکھے جیسے اُسے سورج اور چاند بلکہ اپنے نفس کے وجود پر یقین ہے اور وہ کہہ سکے کہ اس کا لفظ لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں اُس کی رہنمائی میں یقیناً خدا تعالیٰ کو پا سکتا ہوں اور اس ضرورت کو پورا کرنے والی کتاب قرآن کریم ہے۔

ویدوں میں ظالمانہ احکام

۱۔ اتھرو وید کانڈ نمبر ۴ سوکت ۲۲ منتر میں لکھا ہے:۔ ’’اے ویدک دھرمی راجاؤ اور دوسرے ویدک دھرمیو! تم شیر جیسے بن کر رعیتوں کو کھا جاؤ اور چیتے جیسے بن کر اپنے دشمنوں کو باندھ کر جکڑ لو۔ اس کے بعد اپنی مخالفت کرنے والوں کے کھانے تک اُٹھا لو۔‘‘

۲۔ سام وید اُتر آر چک پر پھاٹک گیارہ منتر میں لکھا ہے:۔ ’’اے مخالف تم سر کٹے ہوئے سانپوں کی طرح بے سر اور اندھے ہو جاؤ۔ اس کے بعد پھر جو تم میں چیدہ چیدہ ہوں اُن کو اِندر اور آگ دیوتا تباہ کریں۔‘‘

۳۔ سام وید اُتر آر چک ادھیائے ۱۱ منتر ۱ میں لکھا ہے:۔ ’’اے اِندر دیوتا! ہمارا دیا ہوا سوم رس تجھے خوش اور متوالا کرے ٹو ہمیں دھن و دولت دے اور وید کے دشمنوں کو تباہ اور ہلاک کر‘‘۔

۴۔ سام وید اُتر آر چک ادھیائے ۱۰ منتر ۳ میں لکھا ہے :۔ ’’اے اِندر دیوتا تو غیر ویدک دھرمیوں کو کب یوں کچل کر تباہ کرے گا جیسے چھتری دار پھول کو پاؤں سے کچل کر تباہ کر دیا جاتا ہے۔ اے اِندر! تُو کب تک ہماری اِن دعاؤں کو سنے گا‘‘۔

۵۔ اتھرو وید کانڈ نمبر ۱۹ سُوکت ۲۸ منتر ۴ تا ۱۰ میں لکھا ہے :۔ ’’اے دبھ! تُو ہمارے دشمنوں کے دلوں کو توڑ دے جیسے تُو اُگتے وقت میں زمین کی کھال کو چیرتی ہوئی اُوپر کو نکل آتی ہے ویسے ہی اِن ہمارے دشمنوں کے سروں کو چیر کر اُوپر کو نکل کر اِن کو گرا کر تباہ کر دے‘‘۔

۶۔ اتھرو وید کانڈ نمبر ۱۹ سُوکت ۲۹ منتر ۱ تا ۹ میں لکھا ہے :۔ ’’اے دبھ! تو میرے دشمنوں اور مقابلہ کرنے والوں کو چبھ اور میرے دوسرے ہر قسم کے مخالفین کو بھی چبھ جا۔ اے دبھ! میرے دشمنوں اور مقابلہ کرنے والوں کو تباہ کر اور ہمارے مخالفین کو بھی تباہ و برباد کر وغیرہ وغیرہ‘‘۔

۷۔ یجروید ادھیائے ۲۷ منتر ۲ میں لکھا ہے :۔ ’’اے آگ ہم براہمن لوگ جو تیرے پجاری ہیں تُو ہمیں عزت و دولت دے مگر ہمارے مخالفوں کو سمجھ نہ دے‘‘۔

۸۔ یجروید ادھیائے ۱۱ منتر ۸۰ میں لکھا ہے۔ ’’اے آگ دیوتا جو لوگ ہم کو دھن و دولت نہیں دیتے بلکہ ہماری مخالفت کرتے ہیں، تُو اُن کو جلا کر راکھ کر دے‘‘۔

ویدوں کے علاوہ دوسری مذہبی کتب میں بھی اِسی قسم کی تعلیم ہے۔ چنانچہ منوسمرتی جو تمام ہندوؤں کے نزدیک ویدوں کی حقیقی تفسیر ہے اُس میں لکھا ہے کہ :۔ ’’ویدوں پر اعتراض کرنے والوں کو ملک سے باہر نکال دو‘‘۔۹۰

۹۔ ’’جو شودر براہمن کے برابر بیٹھنا چاہے راجہ یا تو اُس کی کمر پر گرم لوہے کے داغ دے، اُسے ملک سے نکال دے یا سرین کٹوادیئے‘‘۔

۱۰۔ پھر ادھیائے نمبر ۸ شلوک ۴۱۷ میں بھی لکھا ہے کہ:۔ ’’براہمن بغیر کسی شک وشبہ کے شودر کا مال ودولت لے لے کیونکہ شودر کا تو اپنا کچھ بھی نہیں بلکہ اُس کا سب کچھ اُس کے مالک براہمن کا ہی ہے‘‘۔

۱۱۔ ادھیائے نمبر ۸ شلوک ۴۱۳ میں لکھا ہے:۔ ’’شودر چاہے براہمن کا خریدا ہوا ہو یا نہ خریدا ہوا ہو براہمن اُس سے ضرور غلامی کرائے کیونکہ برہما جی نے شودر کو پیدا ہی غلامی کے لئے کیا ہے‘‘۔

۱۲۔ پھر ادھیائے نمبر ۸ شلوک ۴۱۴ میں لکھا ہے:۔ ’’شودر آزاد کرنے پر بھی آزاد نہیں ہوسکتا بلکہ غلام ہی رہتا ہے کیونکہ غلامی شودر کی فطرتی چیز ہے وہ بھلا اُس سے علیحدہ ہوسکتی ہے‘‘۔

۱۳۔ پھر ادھیائے نمبر ۸ شلوک ۲۷۲ میں لکھا ہے:۔ ’’اگر شودر فخر کے ساتھ مذہبی مسائل بتانے شروع کر دے تو تیل کو خوب گرم کر کے اُس کے کانوں میں بھر دو‘‘۔

اس تعلیم سے ظاہر ہے کہ ہندو دھرم کے نزدیک سوائے چند مخصوص ذاتوں کے باقی سب لوگ خدا تعالیٰ کے فضل اور اُس کے رحم سے محروم ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں جن کے لئے ویدوں کا پڑھنا یا سنایا جانا گناہ ہے اور اگر وہ ایسی عبادت سے کام لیں کہ ویدوں کو پڑھیں یا سنیں یا یاد کریں تو اُن کو سخت سے سخت سزا دینی چاہئے حتیٰ کہ اُنہیں قتل تک کر دینا چاہئے ۔ یہ تعلیم بتاتی ہے کہ ویدک دھرم صرف چند اقوام کے لئے تھا اور عالمگیر مذہب نہیں تھا۔ برہمنوں، کھتریوں اور ویشوں کے سوا خدا تعالیٰ کی بہت سی مخلوق دنیا میں اور بھی پائی جاتی ہے۔ یہ قومیں تو صرف ہندوستان کی آبادی کا ایک حصہ ہیں مگر اُن سے کئی گنا آبادی اور ہندوستان سے باہر ملتی ہے۔ اس تعلیم کی موجودگی میں کون کہہ سکتا ہے کہ وہ لوگ کسی صورت میں بھی ہدایت پا سکتے ہیں۔ مگر کیا خدائے رحیم و کریم کا یہ قانون ہوسکتا ہے؟ کیا ممکن ہے کہ وہ دنیا کے ایک حصہ کو ہدایت کے لئے پیدا کر دے اور دوسرے حصہ کو اپنی تقدیر کے ساتھ دوزخی بنادے؟ یقیناً یہ تعلیم نہ صرف ظالمانہ ہے بلکہ خدا تعالیٰ پر بھی نہایت گندہ الزام لگانے والی ہے۔ ہمارا خدا وہ مہربان آقا ہے جس کے احسانوں سے دنیا کا کوئی بھی گوشہ خالی نہیں ہے۔ زمین کے اوپر بسنے والی مخلوق اور زمین کے نیچے بسنے والی مخلوق اور ہواؤں میں اُڑنے والی مخلوق ساری کی ساری اپنی قابلیت اور اپنی طاقتوں کے مطابق اُس کے فضلوں اور اُس کے احسانوں کے نیچے پرورش پا رہی ہے۔ اس نے تمام بنی نوع انسان کو ایک قسم کے دماغ اور ایک قسم کے افکار اور ایک قسم کی قوتیں عطا کی ہیں۔ وہ پاکیزہ جذبات جو انسان کو روحانیت کی اعلیٰ فضا میں اُڑا کر لے جاتے ہیں اُن سے ہمیں نہ یورپ کے لوگ محروم نظر آتے ہیں نہ امریکہ کے لوگ محروم نظر آتے ہیں نہ ایشیا کے لوگ محروم نظر آتے ہیں نہ ہندوؤں کے دل اُن سے زیادہ پاک ہیں نہ اُن کی فکریں اُن سے زیادہ بلند ہیں۔ پھر کیسے ہو سکتا تھا کہ خدا تعالیٰ اپنی اکثر مخلوق کو ہدایت سے محروم کر دیتا اور صرف ۱/۶ مخلوق کو ہدایت کا اہل قرار دیتا۔ یہ تعلیم خود چلا چلا کر کہہ رہی ہے کہ ویدوں کے بعد ایک اور ایسی کتاب کی دنیا کو ضرورت تھی جو ساری دنیا کو خدا تعالیٰ کی ہدایت کے لئے بلائے اور عجمی اور عربی کو ایک صف میں لا کر کھڑا کر دے اور وہ تمام بنی نوع انسان کی ہمدردی اور محبت کی تعلیم دینے والی ہو اور ذلیل اور ادنیٰ اقوام اُس کے نزدیک حقیر نہ ہوں بلکہ دوسروں سے زیادہ قابل امداد اور دوسروں سے زیادہ قابلِ رحم اور دوسروں سے زیادہ قابلِ ہمدردی ہوں اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے قرآن کریم نازل ہوا تھا۔

ویدوں میں توہمات

وید ایسی تعلیموں سے بھی بھرے ہوئے ہیں جو محض توہمات پر مبنی ہیں۔ مثلاً ویدوں میں عناصر کو دیوتاؤں کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ آجکل بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ صرف صفاتِ الٰہیہ کے نام ہیں مگر ہم ویدوں میں دیکھتے ہیں کہ آگ جلا کر اُس پر تیل اور دوسری قیمتی چیزیں چھڑکنے کا حکم ہے جیسا کہ رگوید کی دوسری کتاب کے دسویں منتر کے چوتھے شلوک سے ثابت ہوتا ہے اور ان چیزوں کے چھڑکنے کے متعلق یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ گویا اگنی کی خوراک ہیں۔ اگر اگنی وغیرہ صفاتِ الٰہیہ ہیں تو پھر آگ جلا کر اُن پر تیل اور دوسری چیزیں چھڑکنے کے معنی کیا ہوئے؟ اور ان چیزوں کو آگ کی خوراک قرار دینے کے کیا معنی ہوئے؟ اگر یہ صفاتِ الٰہیہ ہیں تو پھر ظاہر میں آگ جلا کر اُن پر تیل وغیرہ چھڑکنا محض ایک وہم ہے اور اگر یہ چیزیں دیوتا تسلیم کی گئی ہیں تو اُن کا دیوتا تسلیم کرنا خود ایک وہم ہے۔ بہرحال کوئی معنی لے لئے جائیں وہم ہی کی تعلیم اس سے نکلتی ہے۔

اِسی طرح رگوید کی دوسری کتاب کے گیارہویں ادھیائے کے گیارہویں شلوک میں لکھا ہے: ’’اواِندر! تُو سوم پی اور یہ خوشی دینے والا رس تجھے خوشی پہنچائے‘‘۔

اب اِندر یا تو فرشتوں کا نام قرار دیا جاسکتا ہے یا خدا تعالیٰ کا۔ اگر یہ خدا تعالیٰ کا نام ہے تب بھی سوم کا رس خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرنا ایک نہایت ہی ادنیٰ قسم کا وہم ہے۔ اور اگر اِندر کسی فرشتے یا اور کسی روح کا نام ہے تب بھی اُس کے آگے سوم کا رس پیش کرنا ایک نہایت ہی ادنیٰ وہم ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی ہستی وراء الوراء ہے اور اُس کے فرشتے روحانی وجود ہیں اُن کے لئے کسی شربت کے پینے یا پلانے کا خیال کرنا بھی ایک نہایت ہی مضحکہ خیز خیال ہے۔

پھر اسی ادھیائے کے پندرھویں منتر میں لکھا ہے۔ ’’اواِندر! تو سوم کا رس پی تاکہ تجھے طاقت اور خوشی آئے‘‘۔

خدا تعالیٰ یا اُس کے فرشتوں کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ سوم کا رس اُن کو طاقت بخشتا ہے یہ بھی کتنا مضحکہ انگیز خیال ہے۔

یہ ایک دو منتر نہیں بلکہ سینکڑوں منتر ویدوں میں ایسے پائے جاتے ہیں جو اس قسم کی وہم والی تعلیمیں پیش کرتے ہیں۔ دیوتاؤں کا آسمانوں پر کبھی بادلوں پر سواری کرنا اور کبھی رتھوں پر چڑھنا یہ اور اِسی قسم کے بہت سے خیالات ویدوں میں بھرے ہوئے ہیں۔

ویدوں کی خلافِ اخلاق تعلیم

ویدوں میں بہت سی خلافِ اخلاق تعلیم بھی ہے، لیکن وہ اتنی عریاں ہے کہ تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کی جاسکتی۔ اس میں شہوانی قوتوں اور شہوانی اعضاء کے متعلق ایسی ایسی باتیں بیان کی گئی ہیں کہ جو اس عریانی کے ساتھ طب کی کتابوں میں بھی لکھنی جائز نہیں۔

ان تمام وجوہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ وید جس کے بہت سے حصے اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئے ہوں گے ان میں انسانوں نے ایسی تعلیمیں ملا دی ہیں کہ جن کی بناء پر اب وہ قابل عمل نہیں رہے اور یقیناً اِس خرابی کے بعد جو ویدوں میں آج سے سینکڑوں سال پہلے واقعہ ہو چکی ہے ایک ایسے کلام کی ضرورت تھی جو ان تمام نقائص سے پاک ہو اور وہ کلام قرآن کریم ہے۔

ویدوں میں تناقض

چونکہ ویدوں میں مختلف زمانوں میں مختلف لوگوں نے دست اندازی کی ہے اِس لئے اُن کے مضامین میں بہت کچھ تناقض بھی پیدا ہو گیا ہے۔ چنانچہ ہم ذیل میں اس تناقض کی چند مثالیں بیان کرتے ہیں:۔

۱۔ ویدوں میں یہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ سورج کو کس نے پیدا کیا ہے؟ اور اِس کا جواب مختلف ویدوں میں دیا گیا ہے۔ چنانچہ رگوید منڈل نمبر ۹ سُوکت ۹۶ منتر نمبر ۵ میں لکھا ہے: ’’سورج کو اکیلے سوم دیوتا نے پیدا کیا تھا‘‘۔ لیکن رگوید منڈل نمبر ۸ سُوکت ۳۶ منتر نمبر ۴ میں لکھا ہے:۔ ’’سورج کو اکیلے اِندر دیوتا نے پیدا کیا تھا‘‘۔ یہ عجیب بات ہے کہ وہی کتاب ایک باب میں تو کہتی ہے کہ سورج کو اکیلے سوم دیوتا نے پیدا کیا تھا اور دوسرے باب میں یہ کہتی ہے کہ سورج کو اکیلے اِندر دیوتا نے پیدا کیا تھا، لیکن دوسرے وید تو اور بھی کمال کر دیتے ہیں۔ یجروید ادھیائے ۱۳ منتر ۱۲ میں لکھا ہے:۔ ’’سورج کو اکیلے برہما نے اپنی آنکھ سے پیدا کیا تھا‘‘۔ گویا رگوید تو اکیلے سوم دیوتا اور اکیلے اِندر دیوتا سے سورج کو پیدا شدہ قرار دیتا ہے لیکن یجروید نہ اُسے سوم دیوتا کا پیدا کیا ہوا قرار دیتا ہے نہ اِندر دیوتا کا بلکہ اُسے برہما دیوتا کا پیدا کیا ہوا بتاتا ہے اور بتاتا ہے کہ اُسے برہما نے پیدا بھی اپنی آنکھ سے کیا تھا۔ اتھرو وید اس کے بالکل خلاف ایک اور ہی حقیقت بیان کرتا ہے۔ اس میں لکھا ہے:۔ ’’سب دیوتاؤں نے مل کر سورج کو پیدا کیا تھا‘‘۔۹۱؎ اتھرو وید کی اس روایت نے حقیقت بالکل ہی بدل دی۔ وہ سورج کو نہ اکیلے سوم دیوتا کا پیدا کیا ہوا قرار دیتا ہے نہ اِندر دیوتا کا نہ برہما کا بلکہ وہ سب دیوتاؤں کو اُس کی پیدائش میں شریک قرار دیتا ہے۔

۲۔ ویدوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سورج پہلے زمین پر تھا پھر اُس کو اُٹھا کر آسمان پر لے گئے۔

علمِ ہیئت کے لحاظ سے یہ بات کیسی ہی عجیب کیوں نہ ہو میں اِس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا۔ میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اِس حکایت کی تفصیلات کے متعلق بھی ویدوں میں بہت کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ کرشن یجروید تیتری سنگھتا میں لکھا ہے:۔

’’سورج پہلے زمین پر تھا۔ دیوتا اپنی پیٹھوں پر اُسے رکھ کر اُوپر جنت میں لے گئے اور وہیں رکھ دیا۔‘‘

کرشن یجروید میں لکھا ہے:۔

’’سورج کو صرف ورن دیوتا ہی زمین سے اُٹھا کر اوپر جنت میں لے گیا تھا‘‘۔

لیکن رگوید منڈل نمبر ۱۰ سُوکت ۱۵۶ منتر ۴ میں لکھا ہے:۔

’’اکیلے آگ دیوتا نے سورج کو اوپر جنت میں لے جا کر رکھا تھا‘‘

اور رگوید منڈل نمبر ۱۰ منتر ۳ میں لکھا ہے:۔

’’سورج کو انگارشی کی اولاد نے اوپر لے جا کر جنت میں رکھا تھا‘‘۔

اتھرو وید کا نڈ نمبر ۱۳ سُوکت نمبر ۲ منتر نمبر ۱۲ میں لکھا ہے:۔

’’اے سورج! تجھے اوپر جنت میں لے جا کر صرف اکیلے اتری رشی نے اِس لئے رکھا تھا تا کہ تو مہینوں کو بنایا کرے‘‘۔

شکل یجروید ادھیائے نمبر ۴ منتر ۳۱ میں لکھا ہے:۔

’’سورج کو اوپر لے جا کر اکیلے ورن دیوتا نے ہی رکھا تھا‘‘۔

قطع نظر اِس کے کہ سورج کو زمین سے اُٹھا کر آسمان پر رکھنے کا عقیدہ کیسا مضحکہ خیز ہے اور بتاتا ہے کہ پرانے زمانہ کے ہندوؤں میں یہ خیال تھا کہ سورج ایک بہت چھوٹی سی چیز ہے اور زمین کے کسی گوشہ میں رکھی جاسکتی ہے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ اس مضحکہ انگیز خیال کے مطابق بھی اتنی متضاد روایتیں ہیں کہ وہ تضاد خود اپنی ذات میں مضحکہ انگیز ہو جاتا ہے۔ صرف رگوید کی مختلف فصلوں میں یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ ایک فصل میں تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ آگ دیوتا نے سورج کو اُٹھا کر آسمان پر رکھا لیکن اس کتاب کی دوسری فصل میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ نہیں بلکہ اِندر دیوتا نے ایسا کیا۔ اور پھر اسی کتاب کے ایک اور منتر میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ کام اِن دونوں ہی نے نہیں کیا تھا بلکہ انگرارشی کی اولاد نے یہ کام کیا تھا۔ اسی طرح یجر وید میں ایک جگہ تو یہ کہا ہے کہ سورج کو تمام دیوتا اپنی پیٹھ پر اُٹھا کر لے گئے لیکن دوسری جگہ یہ لکھا ہے کہ سورج کو اکیلے ورن دیوتا نے زمین سے اُٹھا کر آسمان پر رکھا۔ اتھرو وید ان سب سے نرالی حکایت بیان کرتا ہے اور اتری رشی کو اس غیر معمولی شان کے کام کے لئے مخصوص کرتا ہے۔

۳۔ زمین و آسمان کی پیدائش کے متعلق بھی ویدوں نے بعض حقائق بیان کئے ہیں۔ لیکن وہ حقائق بھی ایک دوسرے سے ایسے ہی مختلف ہیں جیسا کہ جنوں اور پریوں کی کہانیاں آپس میں مختلف ہوتی ہیں۔

سام وید پور وآرچک میں لکھا ہے:۔ ’’زمین و آسمان کو اکیلے سوم دیوتا نے پیدا کیا تھا۔‘‘

لیکن رگوید منڈل نمبر ۸ سُوکت ۲۶ منتر ۴ میں لکھا ہے:۔ ’’زمین و آسمان کو سوم رس پینے والے اکیلے اِندر دیوتا نے ہی پیدا کیا تھا۔‘‘

مگر اسی رگوید کے منڈل نمبر ۲ سُوکت ۴۰ منتر ا میں لکھا ہے:۔ ’’زمین و آسمان کو پوشا دیوتا اور سوم دیوتا دونوں نے مل کر پیدا کیا تھا۔‘‘

مگر یجر وید کہتا ہے کہ:۔ ’’زمین و آسمان کو اکیلے برہما نے پیدا کیا تھا۔‘‘

منوسمرتی دشت پتھ برہمن میں لکھا ہے:۔ ’’زمین و آسمان کو اکیلے پرجاپتی نے ہی پیدا کیا تھا۔‘‘

اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ منوسمرتی وید نہیں مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ہندو قوم اِس کو ویدوں کی صحیح تفسیر قرار دیتی ہے اصل ویدوں میں بھی زمین و آسمان کی پیدائش کے متعلق کچھ کم اختلاف نہیں تھا کہ منوجی نے اِس اختلاف کو اور بھی اُبھار دیا۔ سام وید سوم دیوتا کو زمین و آسمان کی پیدائش کا موجب قرار دیتا ہے لیکن رگوید ایک جگہ اِندر دیوتا کو اور دوسری جگہ پوشا دیوتا اور سوم دیوتا کو زمین و آسمان کی پیدائش کا موجب قرار دیتا ہے۔ مگر منوجی نے اِن تمام ویدوں کی تشریح کرتے ہوئے سوم اور اِندرا اور پوشا اور برہما سب کو پیدائش کائنات سے جواب دے دیا اور پرجاپتی کو ان کا پیدا کرنے والا قرار دے دیا۔

دیوتاؤں کی تعداد کے متعلق اختلاف

۴۔ گو ہم مانتے ہیں کہ وید جب بھی نازل ہوئے تھے خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئے تھے اور یقیناً وہ توحید کی تعلیم پر مشتمل تھے مگر موجودہ وید وہ نہیں جو کہ شروع میں رشیوں پر نازل ہوئے تھے۔ ان میں کثرت کے ساتھ شرک کی تعلیم پائی جاتی ہے بلکہ اس کثرت کے ساتھ کہ اس نے توحید کی تعلیم کو دبا لیا ہے۔ چنانچہ اِس بارہ میں بھی جو تعلیم ویدوں میں بیان ہوئی ہے اُس کی ہم چند مثالیں دیتے ہیں:۔ یجر وید میں لکھا ہے کہ:۔ ’’دیوتا کل ۳۳ ہیں۔ ۱۱ زمین میں ۱۱ آسمان اور ۱۱ اُوپر جنت میں‘‘۔ رگ وید منڈل نمبر ۳ سُوکت ۹ منتر ۹ میں لکھا ہے کل دیوتا ۳۳۴۰ ہیں۔ ۳۳۴۰ کی تعداد اس سے ظاہر ہوتی ہے کہ رگ وید کے بیان کے مطابق ۳۳۳۹ دیوتاؤں نے مل کر آگ دیوتا کو گھی سے سینچا اور اُس کے پاس گئے۔ پس ۳۳۳۹ میں ایک جمع ہوا تو ۳۳۴۰ ہوگئے۔ چنانچہ رگ وید منڈل نمبر ۱۰ سُوکت نمبر ۵۲ منتر ۶ میں صاف الفاظ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کل دیوتا ۳۳۴۰ ہیں۔ ویدوں میں دیوتاؤں کے متعلق اتنا اختلاف حیرت انگیز ہے کہیجر وید میں تو دیوتا ۳۳ قرار دیئے گئے ہیں اور رگ وید میں ۳۳۴۰۔ توحید کو چھوڑنا ہی ایک نہایت خطرناک بات تھی مگر جو خیالی دیوتا تجویز کئے گئے ان کی تعداد میں بھی اتنا اختلاف کہ وہ کبھی ۳۳ ہو جاتے ہیں اور کبھی ۳۳۴۰۔ یہ اختلاف یقیناً انسان کو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ بے شک جب وید نازل ہوئے ہوں گے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں گے مگر موجودہ وید ہرگز انسان کی روحانیت کو تسلی نہیں دے سکتے اور ان کے بعد اور ان کے باوجود بھی ایک ایسی کتاب کی دنیا کو ضرورت تھی جو ہر قسم کی خلافِ اخلاق، متناقض، ظالمانہ اور وہموں سے پُر تعلیموں سے پاک ہو اور یہی کتاب قرآن کریم ہے۔

چوتھا سوال اور اُس کا جواب

چوتھا سوال جو پہلی کتب کی موجودگی میں قرآن کریم کے نزول کی ضرورت کے متعلق روشنی ڈال سکتا ہے یہ ہے کہ کیا سابق مذاہب اپنی تعلیم کو حتمی اور آخری قرار دے رہے تھے؟ یا وہ خود بھی ایک ارتقاء کے قائل تھے؟ اور روحانیت کی ترقی کے لئے ایک ایسے نقطہ کی خبر دے رہے تھے جس پر جمع ہو کر بنی نوع انسانی پیدائش کے مقصد کو حاصل کرنا تھا؟

بائبل میں قرآن مجید کے نزول اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے متعلق پیشگوئیاں

اس سوال کے متعلق یہ امر مدنظر رکھنا چاہئے کہ انبیاء کی ایک مسلسل کڑی جو ہمیں الٰہی منشاء سے آگاہ کر سکے درحقیقت ہمیں بائبل میں ہی ملتی ہے۔ انبیاء کے حالات کو محفوظ رکھنے میں بائبل نے جو کام کیا وہ قرآن کریم سے پہلے اور کسی کتاب نے نہیں کیا اس لئے ہم اس سوال کا جواب دینے کیلئے کہ آیا پہلی کتابیں اپنے بعد کسی اور کتاب کی اور پہلے نبی اپنے بعد کسی اور نبی کی خبر دیتے ہیں یا نہیں جو دنیا میں ہدایت اور راستی کی تعلیم کو مکمل کرنے والا اور بنی نوع انسان کی روحانی ترقی کا آخری نقطہ بننے والا تھا، بائبل پر نظر ڈالتے ہیں۔

پہلی پیشگوئی۔ حضرت ابراہیمؑ کی اولاد سے وعدہ

بائبل کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے خدا تعالیٰ کے بہت سے وعدے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کسدیوں کے اُور میں پیدا ہوئے اور وہاں سے اپنے باپ کے ساتھ ہجرت کر کے کنعان کی طرف روانہ ہوئے لیکن اُن کے والد حاران میں آکر ٹھہر گئے۔ اُن کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ حاران سے نکل کر کنعان کو روانہ ہوں اور فرمایا:۔ ’’اور میں تجھے ایک بڑی قوم بناؤں گا اور تجھ کو مبارک اور تیرا نام بڑا کروں گا اور تُو ایک برکت ہوگا اور اُن کو جو تجھے برکت دیتے ہیں برکت دوں گا اور اُس کو جو تجھ پر لعنت کرتا ہے لعنتی کروں گا اور دنیا کے سب گھرانے تجھ سے برکت پاویں گے‘‘۔۹۲

اسی طرح لکھا ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا:۔ ’’کہ یہ تمام ملک جو تُو اب دیکھتا ہے میں تجھ کو اور تیری نسل کو ہمیشہ کے لئے دوں گا‘‘۔۹۳

پھر پیدائش باب ۱۶ آیت ۱۰ تا ۱۲ میں لکھا ہے:۔ ’’پھر خداوند کے فرشتے نے اُسے (یعنی ہاجرہ سے) کہا کہ میں تیری اولاد کو بہت بڑھاؤں گا کہ وہ کثرت سے گنی نہ جائے اور خداوند کے فرشتے نے اُسے کہا کہ تُو حاملہ ہے اور ایک بیٹا جنے گی اُس کا نام اسماعیل رکھنا کہ خداوند نے تیرا دُکھ سن لیا۔ وہ گورخر سا ہوگا اُس کا ہاتھ سب کے اور سب کے ہاتھ اُس کے برخلاف ہوں گے اور وہ اپنے سب بھائیوں کے سامنے بودوباش کرے گا‘‘۔

پھر اسی بائبل میں لکھا ہے:۔ ’’پھر خدا نے ابراہام سے کہا کہ تُو اور تیرے بعد تیری نسل پشت در پشت میرے عہد کو نگاہ رکھیں اور میرا عہد جو میرے اور تمہارے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان ہے جسے تم یاد رکھو سو یہ ہے کہ تم میں سے ہر ایک فرزندِ نرینہ کا ختنہ کیا جائے اور تم اپنے بدن کی کھلڑی کا ختنہ کرو اور یہ اُس عہد کا نشان ہوگا جو میرے اور تمہارے درمیان ہے‘‘۔۹۴

پھر لکھا ہے:۔ ’’اور وہ فرزند نرینہ جس کا ختنہ نہیں ہوا وہی شخص اپنے لوگوں میں سے کٹ جائے کہ اُس نے میرا عہد توڑا‘‘۔۹۵

پھر لکھا ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی سارہ کو بھی ایک بیٹے کی بشارت دی تھی اور فرمایا کہ:۔ ’’میں اُسے برکت دوں گا اور اُس سے بھی تجھے ایک بیٹا بخشوں گا یقیناً میں اُسے برکت بخشوں گا یقیناً میں اُسے برکت دوں گا اور وہ قوموں کی ماں ہو گی اور ملکوں کے بادشاہ اُس سے پیدا ہوں گے۔“۔

پھر سارہ کی اولاد کے متعلق لکھا ہے کہ:۔

”میں اُس سے اور بعد اُس کے اُس کی اولاد سے اپنا عہد جو ہمیشہ کا عہد ہے قائم کروں گا۔“۔

پھر اسماعیل کے متعلق لکھا ہے:۔

’’اور اسماعیل کے حق میں میں نے تیری سنی۔

اسماعیل کے حق میں حضرت ابراہیم نے یہ دعا کی تھی کہ:۔

’’کاش! کہ اسماعیل تیرے حضور جیتا رہے۔‘‘۔

’’دیکھ! میں اُسے برکت دوں گا اور اُسے برومند کروں گا اور اُسے بہت بڑھاؤں گا اور اُس سے ۱۲؍سردار پیدا ہوں گے اور میں اُسے بڑی قوم بناؤں گا لیکن میں اضحاق کو جس کو سرہ دوسرے سال اُسی وقت معین میں جنے گی اپنا عہد قائم کروں گا‘‘۔

پھر لکھا ہے:۔

’’اور اُس لونڈی کے بیٹے سے بھی میں ایک قوم پیدا کروں گا اس لئے کہ وہ بھی تیری نسل ہے‘‘۔

پھر حضرت اسماعیل کے متعلق لکھا ہے۔ خدا نے حضرت ہاجرہ کو الہام کیا کہ:۔

’’اس لڑکے کی آواز جہاں وہ پڑا ہے خدا نے سنی۔ اُٹھ اور لڑکے کو اُٹھا اور اُسے اپنے ہاتھ سے سنبھال کہ میں اُس کو ایک بڑی قوم بناؤں گا‘‘۔

پھر لکھا ہے:۔

’’خدا اس لڑکے کے ساتھ تھا اور وہ بڑھا اور بیابان میں رہا کیا اور تیر انداز ہو گیا اور وہ فاران کے بیابان میں رہا اور اُس کی ماں نے ملک مصر سے ایک عورت اُس سے بیاہنے کو لی‘‘۔

اِن حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے اسمعیل اور اسحاق تھے۔ اسمعیل بڑے بیٹے تھے اور اسحاق دوسرے بیٹے تھے خدا تعالیٰ کا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے عہد تھا کہ وہ اُن کی نسل کو بڑھائے گا اور بابرکت کرے گا۔ یہ بابرکت کرنے کے الفاظ حضرت اسحاقؑ کے متعلق بھی ہیں اور حضرت اسماعیلؑ کے متعلق بھی ہیں۔ اِسی طرح نسل کے بڑھانے کے الفاظ بھی حضرت اسحاقؑ کے متعلق بھی ہیں اور حضرت اسماعیلؑ کے متعلق بھی ہیں اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسمعیل فاران کے بیابان میں رہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کنعان کی زمین حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل کو دے دی گئی تھی اور پھر یہ بھی کہ خدا تعالیٰ کے اس عہد کی علامت یہ ہوگی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نرینہ نسل کا ختنہ کیا جائے گا۔ اِن پیشگوئیوں کے ماتحت ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت اسحاقؑ کی نسل کو بڑی ترقی نصیب ہوئی اور خدا تعالیٰ نے جو عہد حضرت اسحاقؑ سے باندھا تھا وہ بڑی شان سے پورا ہوا۔ حضرت موسیٰؑ اور حضرت داؤد اور حضرت حزقیل اور حضرت دانی ایل اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام اُن کی نسل سے ظاہر ہوئے اور دنیا کے لئے بڑی رحمت کا موجب ثابت ہوئے۔ کنعان کا ملک دو ہزار سال تک اُن کے قبضہ میں رہا سوائے ایک خفیف وقفہ کے کہ اس وقفہ میں بھی وہ ملک کلی طور پر اُن کے ہاتھ سے نہیں نکلا۔ صرف وہ اس میں کمزور ہو گئے تھے۔ لیکن ساتویں صدی بعد مسیح میں اسحاق کی اولاد اور موسیٰ کی تعلیم پر ظاہری طور پر چلنے والے لوگوں کو کلی طور پر کنعان کے ملک سے دست بردار ہونا پڑا اور اس ملک میں اسمعیل کی اولاد سیاسی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی غالب آگئی۔ بنی اسرائیل کا اُس زمانہ میں کنعان سے نکالا جانا صاف بتاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی معرفت جو وعدہ کیا گیا تھا اب اُس کے مستحق بنی اسرائیل یا اُن کے متعلق خاندان نہیں رہے تھے مگر خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں قیامت تک یہ ملک بنی اسرائیل کے قبضہ میں رکھوں گا اور خدا کی بات جھوٹی نہیں ہو سکتی۔ پس صاف ظاہر ہے کہ قیامت کے معنی ظاہری قیامت کے نہیں بلکہ ایک نئی شریعت کے ظہور کے ہیں جو الہامی اصطلاح میں نیا آسمان اور نئی زمین بنانا کہلاتا ہے اور لازماً قیامت کے برپا ہوئے بغیر نیا آسمان اور نئی زمین نہیں بنائے جا سکتے۔ پس قیامت تک بنو اسحاق کے قبضہ کے یہی معنی تھے کہ جب ایک نیا شرعی نبی آئے گا تو اُس وقت یہ ملک بنو اسحاق کے قبضہ میں نہ رہے گا۔ چنانچہ اِس طرف حضرت داؤدؑ کے ایک کلام سے اشارہ بھی نکلتا ہے جہاں تورات میں لکھا ہے کہ قیامت تک بنو اسحاق اس ملک پر قابض رہیں گے وہاں حضرت داؤدؑ نے اِس پیشگوئی کو دوسرے الفاظ میں پیش کیا ہے وہ فرماتے ہیں:۔

’’صادق زمین کے وارث ہوں گے اور ابد تک اُس میں بسیں گے‘‘۔۱۰؎

اِن الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنو اسحاق کی تباہی کا وقت قریب آ رہا تھا۔ اب نبیوں کا کلام دنیا کی توجہ اِس طرف پھرا رہا تھا کہ اب وہ نسلی وعدہ بدل کر روحانی شکل اختیار کرنے والا ہے اور بنواسمعیل راستباز بن کر ابراہیمی پیشگوئیوں کے وارث بننے والے ہیں اور ایک نیا عہد اُن کے ذریعہ سے شروع ہونے والا ہے۔ اگر یہ بات نہیں تو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے ماننے والے بنواسمعیل کو فلسطین کی زمین میں کیوں غالب کر دیا۔ اُس نے تو صاف طور پر عہد کیا تھا کہ فلسطین کی زمین بنواسحاق کو دی جائے گی۔ اگر وہ عہد ایک اور قوم کے ذریعہ سے پورا نہیں ہونا تھا تو یہ تبدیلی خدا تعالیٰ نے کس طرح گوارا کی۔ اگر یہ تبدیلی چند سال کے لئے عارضی طور پر ہوتی تو کوئی بات نہ تھی کیونکہ قومی زندگیوں میں اُتار چڑھاؤ ہو ہی جایا کرتے ہیں لیکن یہ تبدیلی تو اتنی لمبی چلی کہ آج تیرہ سو سال کے بعد بھی فلسطین کے اکثر حصہ پر مسلمان اور اسمعیل کی اولاد قابض ہیں۔ یورپ اور امریکہ زور لگا رہے ہیں کہ کسی طرح ان حالات کو بدل دیں لیکن اب تک وہ کامیاب نہیں ہوئے اور اگر کوئی کامیابی اُن کو حاصل بھی ہوئی تو وہ عارضی ہو گی یا بنواسرائیل مسلمان ہو کر نئے عہد کے ذریعہ سے ایک نئی زندگی فلسطین میں پائیں گے اور یا پھر وہ دوبارہ فلسطین میں سے نکال دیئے جائیں گے کیونکہ فلسطین اُن لوگوں کے ہاتھ میں رہے گا جو ابراہیمی عہد کو پورا کرنے والے ہوں گے۔ مسیحی لوگ بھی اپنے آپ کو ابراہیمی عہد کا پورا کرنے والا قرار دیتے ہیں لیکن تعجب ہے وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اس عہد کی علامت ہی یہ ہے کہ وہ قوم ختنہ کروائے گی لیکن عیسائی تو ختنہ سے آزاد ہو چکے ہیں۔ ہاں بنواسمعیل جو تیرہ سو سال سے فلسطین پر قابض ہیں وہ قرآن کریم کے نازل ہونے سے پہلے بھی ختنہ کرواتے تھے اور اب بھی ختنہ کرواتے ہیں۔ غرض جیسا کہ ان پیشگوئیوں میں بتایا گیا تھا کہ اسمعیل اور اسحاق دونوں کو برکت دی جائے گی وہ پیشگوئیاں پوری ہونی ضروری تھیں۔ بنواسحاق کو اُن کے وعدہ کے مطابق کنعان کی حکومت دی گئی اور بنو اسمعیل کو اُن کے وعدہ کے مطابق عرب کی حکومت دی گئی۔ آخر جب بنو اسحاق کی قیامت آگئی تو داؤد کی پیشگوئی کے مطابق نسلی لحاظ سے نہیں بلکہ راستباز ہونے کے لحاظ سے کنعان پر غلبہ بنو اسمعیل کو دے دیا گیا۔ گویا نسلی وعدہ ابراہیم کے مطابق مسلمانوں کو مکہ اور اس کے ارد گرد کا علاقہ ملا۔ جس کا دعویٰ قرآن کریم نے سورۃ بقرہ رکوع ۱۵/۱۵ میں کیا ہے اور راستباز ہونے کے لحاظ سے بنو اسحاق کی مذہبی تباہی کے بعد وہ کنعان کے بھی وارث قرار پائے۔

دوسری پیشگوئی۔حضرت موسیٰ کے بعد ایک شرعی نبی کا ظہور

حضرت موسیٰ علیہ السلام جب خدا تعالیٰ کے حکم سے طور پر گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ:۔ ”خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی بر پا کرے گا“۔ ۱۰۵؎ پھر لکھا ہے۔ ”میں اُن کے لئے اُن کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک بنی برپا کروں گا اور اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اُسے فرماؤں گا وہ سب اُن سے کہے گا اور ایسا ہو گا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اُس سے لوں گا۔ لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اُسے حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے“۔ ۱۰۶؎

ان آیتوں سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ایک نئے صاحبِ شریعت نبی کی پیشگوئی کی گئی تھی جو بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے ہوگا۔ صاحبِ شریعت ہونے کی پیشگوئی ان الفاظ سے نکلتی ہے کہ وہ موسیٰ کی مانند ہوگا اور موسیٰ صاحبِ شریعت نبی تھے۔ دوسری خبر اس پیشگوئی میں یہ دی گئی ہے کہ سب باتیں جو اُسے کہی جائیں گی وہ لوگوں سے بیان کر دے گا۔ یہ علامت بھی بتاتی ہے وہ صاحبِ شریعت ہوگا کیونکہ صاحبِ شریعت نبی قوم کی بنیاد رکھنے والا ہوتا ہے محض ایک مصلح نہیں ہوتا اس لئے اُسے حکم ہوتا ہے کہ وہ اپنی ساری تعلیم لوگوں کے سامنے بیان کرے کیونکہ شریعت کے بغیر قوم کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔ مگر جو غیر تشریعی نبی ہوتا ہے وہ چونکہ صرف پہلی کتاب کا شارح ہوتا ہے اُس کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ وہ اپنی ساری وحی لوگوں کو سنائے۔ ہوسکتا ہے کہ بعض باتیں اُس کے ذاتی علم کے طور پر اُسے کہی گئی ہوں لیکن ضروری نہ ہو کہ وہ اپنی قوم سے اُن کا ذکر کرے۔ یہ بھی اِن آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ اِس پیشگوئی کا موعود نبی اپنی تعلیم کو خدا تعالیٰ کا نام لے کر دنیا کے سامنے پیش کرے گا اور جو لوگ اُس کی تعلیم کو نہ سنیں گے اُن کو سزا دی جائے گی اور وہ خدا کے عذاب کے نیچے آئیں گے۔ یہ بھی اِس پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص اِس پیشگوئی سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر اس پیشگوئی کا مستحق ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرے گا تو ایسا شخص قتل کر دیا جائے گا۔ اب پیشگوئی کے اِن تمام اجزاء کو سامنے رکھتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک اِس پیشگوئی کو پورا کرنے والا نبی دنیا میں کوئی پیدا ہی نہیں ہوا۔ درمیانی انبیاء کا تو ذکر جانے دو، اُن کی تو نہ کوئی اُمت موجود ہے نہ کوئی قوم پائی جاتی ہے۔ ایک عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں جن کے ماننے والے دنیا میں پائے جاتے ہیں اور جو اُنہیں آخری مصلح قرار دے کر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ مگر اس پیشگوئی کو سامنے رکھ کر دیکھو کیا اِس پیشگوئی کی شرائط حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر پوری اُترتی ہیں؟

اوّل: اِس پیشگوئی سے پتہ لگتا ہے کہ وہ صاحبِ شریعت نبی ہوگا۔ کیا عیسیٰ علیہ السلام کوئی شریعت لائے؟ عیسیٰ علیہ السلام نے تو یہ کہا ہے کہ:

’’یہ خیال مت کرو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتاب کو منسوخ کرنے آیا۔ میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہرگز نہ مٹے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو۔‘‘۷؎

پھر اُن کے حواریوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ:۔ ’’شریعت کو ایمان سے کچھ نسبت نہیں۔ مسیح نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا‘‘۔۱۰۸؎ گویا مسیح خود کسی شریعت کے لانے کے مدعی نہیں اور اُن کے حواری شریعت کو ہی لعنت قرار دیتے ہیں۔ پھر کس طرح ہوسکتا ہے کہ حضرت مسیح اور اُن کی قوم اِس پیشگوئی کی مستحق ہو؟

(۲) اِس پیشگوئی میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ آنے والا بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے ہوگا لیکن مسیح تو بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے نہیں تھا بلکہ خود بنی اسرائیل میں سے تھا۔ بعض عیسائی صاحبان ایسے موقع پر کہہ دیا کرتے ہیں کہ چونکہ اس کا کوئی باپ نہیں تھا اِس لئے وہ بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے کہلا سکتا ہے۔ لیکن یہ دلیل ہرگز معقول نہیں کیونکہ بائبل کے الفاظ بتاتے ہیں کہ وہ بھائی بہت ہوں گے اور اُن بہت سے بھائیوں کی نسل میں سے وہ موعود نے ظاہر ہونا تھا۔ کیا عیسیٰ علیہ السلام کی قسم کے لوگ بھی بہت سے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر عیسیٰ علیہ السلام پر یہ پیشگوئی کیونکر چسپاں ہوسکتی ہے؟ علاوہ ازیں بائبل میں تو مسیح کی نسبت لکھا ہے کہ وہ داؤد کی نسل میں سے ہوگا۱۰۹؎ اگر بن باپ ہونے کی وجہ سے حضرت مسیح کو بنی اسرائیل میں سے خارج کر دیا جائے تو پھر وہ داؤد کی نسل میں بھی نہیں رہ سکتے اور اس پیشگوئی سے اُنہیں جواب مل جاتا ہے۔

(۳) اِس پیشگوئی میں لکھا ہے کہ میں اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا۔ لیکن انجیل میں تو خدا کا کلام ہمیں کہیں نظر ہی نہیں آتا۔ یا تو اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوانح ہیں یا اُن کے بعض لیکچر اور یا پھر حواریوں کی باتیں۔

(۴) اِس پیشگوئی میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ موعود ایک نبی ہوگا۔ مگر مسیح کے متعلق تو مسیحی قوم یہ کہتی ہے کہ وہ خدا کا بیٹا تھا نبی نہیں تھا۔ پس جب مسیح نبی ہی نہ تھے تو وہ اس پیشگوئی کے پورا کرنے والے کس طرح ہو سکتے ہیں؟

(۵) اِس پیشگوئی میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ خدا کا نام لے کر اپنا الہام لوگوں کو سنائے گا مگر اناجیل میں تو کوئی ایک فقرہ بھی ہمیں نہیں ملتا جس میں مسیح نے یہ کہا ہو کہ خدا نے مجھے یہ بات لوگوں کو پہنچانے کا حکم دیا ہے۔

(۶) اِس پیشگوئی میں یہ ذکر ہے۔ ’’جو کچھ میں اُسے فرماؤں گا وہ سب اُن سے کہے گا اور ساری سچائی کی راہیں اُس کے ذریعہ دنیا پر ظاہر ہوں گی۔‘‘۔ لیکن مسیح خود کہتا ہے کہ وہ سچائیاں دنیا کو نہیں بتاتے ۔ وہ کہتے ہیں :۔ ’’میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہوں پر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے ، لیکن جب وہ روحِ حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتائے گی اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی ، لیکن جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی‘‘۔۱۰؎

اِن حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ مسیح علیہ السلام پر یہ پیشگوئی تو پوری نہیں ہوئی اور جب حضرت مسیحؑ پر یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تھی تو اِس کے صاف معنی یہ ہیں کہ مسیح علیہ السلام کے بعد آنے والے ایک ایسے نبی کی پیشگوئی عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید میں موجود تھی جو ساری سچائیوں کو ظاہر کرے گا اور دنیا میں خدا تعالیٰ کے نام کو ہمیشہ کے لئے قائم کرے گا ۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ قرآنِ کریم اس پیشگوئی کو پورا کرنے والا ہے ۔ چنانچہ :۔

(۱) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ شخص تھے جو بنو اسمعیل میں پیدا ہوئے جو بنو اسحاق کے بھائی تھے۔

(۲) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ شخص تھے جنہوں نے موسیٰ کے مانند ہونے کا دعویٰ کیا چنانچہ قرآن میں آتا ہے ۔ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا(المزمل: ۱۶) ہم نے تمہاری طرف تم میں سے ایک رسول بھیجا جس طرح فرعون کی طرف ہم نے رسول بھیجا تھا۔ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی موسیٰ کی طرح نبی ہیں ۔

(۳) اِس پیشگوئی میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ آنے والا موعود نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا نہ کہ کوئی اور دعویٰ ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا مگر اس کے برخلاف کہا جاتا ہے کہ مسیح نے نبی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ چنانچہ انجیل مرقس میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح نے اپنے حواریوں سے پوچھا کہ ’’لوگ کیا کہتے ہیں کہ میں کون ہوں؟ اُنہوں نے کہا کہ یوحنا بپتسمہ دینے والا اور بعضے الیاس اور بعضے نبیوں میں سے ایک۔ پھر اُس نے اُنہیں کہا تم کیا کہتے ہو کہ میں کون ہوں؟ پطرس نے جواب میں اُس سے کہا کہ تُو مسیح ہے تب اُس نے انہیں تاکید کی کہ میری بابت کسی سے یہ مت کہو‘۔۱۲؎

اِس آیت میں مسیح نے اپنے متعلق یوحنا یا الیاس یا نبیوں میں سے کوئی نبی ہونے سے انکار کیا ہے۔ لیکن موسیٰ کی پیشگوئی بتاتی ہے کہ وہ جو موسیٰ کے نقشِ قدم پر آنے والا ہے نبی ہوگا۔ پس یقیناً یہ پیشگوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر چسپاں ہوتی ہے نہ کہ مسیح پر۔

(۴) اِس پیشگوئی میں کہا گیا تھا کہ میں اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا۔ لیکن ساری انجیلوں میں ہمیں خدا کا کلام کہیں نظر نہیں آتا۔ اِس کے برخلاف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کو پیش کیا۔ جو شروع سے لے کر آخر تک خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کا نام بھی قرآن کریم میں کلام اللہ رکھا گیا ہے۔۱۳؎

(۵) اِس پیشگوئی میں کہا گیا تھا کہ جو کچھ میں اُسے فرماؤں گا وہ سب اُن سے کہے گا۔ اوپر بتایا جا چکا ہے کہ مسیح نے خود اقرار کیا ہے کہ جو کچھ اُسے کہا گیا تھا وہ سب کا سب لوگوں کو نہیں سناتا تھا لیکن اُس نے یہ پیشگوئی ضرور کی تھی کہ میرے بعد ایک ایسا شخص آئے گا جو سب سچائی کی راہیں لوگوں کو بتائے گا۔ چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا سارا کلام لوگوں کو پہنچاتے ہیں اور کوئی بات جس کی دین کے لئے ضرورت ہے انہوں نے چھوڑی نہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرماتا ہے یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ(5:68) ۱۴؎ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! تیرے متعلق یہ پیشگوئی ہے کہ جب تو دنیا میں آئے گا تو ساری سچائیاں دنیا کو سنائے گا۔ اس لئے دنیا خواہ بُرا منائے یا اچھا تو کسی کی پرواہ نہ کر اور جو وحی تجھے کی جاتی ہے وہ ساری کی ساری لوگوں کو سنا دے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے متعلق فرماتا ہے اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا(5:4) ۱۵؎ میں نے آج اِس کلام کے ذریعہ سے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا ہے اور ہدایت کی نعمت تمہارے لئے کمال تک پہنچا دی ہے اور امن اور سلامتی کو تمہارا مذہب قرار دے دیا ہے۔ پس محمد رسول اللہ ہی تھے جن کو ساری سچائیاں بتائی گئیں اور جنہوں نے دنیا کو ساری سچائیاں بتا دیں اور کوئی ایک سچائی بھی نہیں چھپائی۔ کیونکہ مسیح کے زمانہ کے لوگ ابھی تک ساری سچائیوں کو سننے اور قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوئے تھے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت انسان روحانی ارتقاء کی سب منزلوں کو طے کر چکا تھا اور وقت آگیا تھا کہ ساری سچائیاں خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو جائیں اور خدا تعالیٰ کا رسول وہ ساری سچائیاں لوگوں کو سنا دے۔

(۶) اِس پیشگوئی میں یہ بتایا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ کا کلام جو اُس پر نازل ہوگا وہ خدا کا نام لے کر دنیا کو سنائے گا۔ یہ بات بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں ہی پوری ہوئی۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ایک ایسے نبی ہیں جن کی الہامی کتاب کا ہر باب اِس آیت سے شروع ہوتا ہے ”میں اللہ کا نام لے کر یہ باتیں تمہیں سناتا ہوں“۔ پس یہ علامت بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ روحانی ارتقاء کی وہ آخری کڑی جس کی موسیٰؑ نے خبر دی تھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات تھی۔

(۷) کہا گیا تھا کہ ”وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اُسے حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے“۔۱۱؎

اِس آیت میں موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ دنیا کو یہ بتایا گیا تھا کہ جس نبی کی اِس آیت میں خبر دی گئی ہے چونکہ اُس کے لئے انسان کی روحانی ترقی کی آخری کڑی ہونا مقدر ہے اور اگر کوئی جھوٹا شخص اس عہدے کو اپنی طرف سے فریب سے منسوب کرے تو اِس سے بڑے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا کہ جو شخص بھی جھوٹے طور پر اس پیشگوئی کو اپنی طرف منسوب کرے گا وہ قتل کیا جائے گا اور خدا تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوگا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف الفاظ میں اِس پیشگوئی کے مصداق ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ جب آپ نے دعویٰ کیا آپ اکیلے تھے، آپ نہایت ہی کمزور تھے، دشمن بڑے جتھے والا اور بڑا طاقتور تھا مگر باوجود اِس کے کہ دشمنوں نے اپنا سارا زور لگایا وہ آپ کو قتل نہیں کر سکے۔

باوجود اس کے کہ اُس وقت کی زبردست حکومتیں آپ کے مقابلہ پر آئیں سب پاش پاش ہو گئیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کامیاب اور بامراد انسان کی حیثیت میں فوت ہوئے۔ آپ کی ساری قوم آپ کی وفات سے پہلے آپ پر ایمان لے آئی اور آپ کی وفات کے چند سال بعد ہی آپ کے خلفاء کے ذریعہ سے ساری دنیا میں اسلام پھیل گیا۔ اگر موسیٰؑ خدا کا راستباز نبی تھا اور اگر استثناء کی یہ پیشگوئی واقعہ میں خدا کی طرف سے تھی تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کے مدعی تھے کیا اِس طرح کامیاب و کامران ہو سکتے تھے جیسا کہ وہ ہوئے؟ اور کیا آپ کے دشمن آپ کو قتل کرنے میں اس طرح ناکام ہو سکتے تھے جیسا کہ ہوئے؟ یہی نہیں کہ اتفاقی طور پر آپ دشمن کے حملوں سے بچ گئے ہوں بلکہ موسیٰؑ کی اس پیشگوئی کے مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت قرآن کریم نے بڑے زور شور سے عربوں کے سامنے یہ اعلان کر دیا تھا کہ وَاللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ(5:68)۷؎ یعنی اللہ تعالیٰ یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انسانوں کے حملوں سے بچائے گا اور آپ کی جان کی حفاظت کرے گا۔ اسی طرح آپ کے مخالفوں کو مخاطب کرتے ہوئے قرآن کریم نے یہ فرما دیا تھا کہ فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ فَاِنَّہٗ یَسۡلُکُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَمِنۡ خَلۡفِہٖ رَصَدًا(72:27-28)۸؎ خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے وہ اپنے غیب کو کسی پر ظاہر نہیں کرتا سوائے برگزیدہ رسولوں کے۔ پھر جب وہ کسی کو اپنا رسول بنا کر بھیجتا ہے تو وہ اُس کے آگے اور پیچھے اس کی حفاظت کے سامان کرتا رہتا ہے یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اُس نے ایک خاص کام کے لئے بھیجا ہے تو وہ اُنہیں بغیر حفاظت کے نہیں چھوڑے گا اور دشمن کو آپ کے مارنے پر قادر نہیں کرے گا۔

اِن آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انجام اتفاقی انجام نہیں تھا بلکہ آپ نے شروع سے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ کو خدا تعالیٰ دشمن کے حملوں سے بچائے گا اور دشمن آپ کے قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ اس طرح آپ نے دنیا کو ہوشیار کر دیا تھا کہ میں استثناء باب ۱۸ آیت ۲۰ کی پیشگوئی کے مطابق قتل نہیں کیا جاؤں گا کیونکہ میں جھوٹا نہیں بلکہ حقیقی طور پر موسیٰؑ کی پیشگوئی کا مصداق ہوں۔

خلاصہ یہ کہ موسیٰ علیہ السلام نے بعثتِ محمدیہؐ سے قریباً ۱۹ سو سال پہلے یہ خبر دی تھی کہ موسوی شریعت الٰہی کلام کا آخری نقطہ نہیں ابھی انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مزید ہدایتوں کی ضرورت ہے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ آخری زمانہ میں ایک اور مامور بھیجے گا وہ مامور دنیا کے سامنے سب سچائیوں کو پیش کرے گا اور وہی انسان کی روحانی ترقی کا آخری نقطہ ہو گا اس پیشگوئی کے مطابق دنیا میں ابھی ایک اور کتاب اور ایک اور نبی کی ضرورت تھی۔ پس قرآن کریم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائبل اور موسیٰ اور عیسیٰ کی بعثت کے بعد اگر دنیا کی ہدایت کا دعویٰ کیا تو وہ بالکل حق بجانب اور خدا تعالیٰ کے کلام کو پورا کرنے والے تھے۔ قرآن کریم غیر ضروری نہ تھا بلکہ اگر قرآن کریم نہ آتا تو خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی بہت سی باتیں ظہور میں نہ آتیں اور دنیا بداعتقادی اور شک کے مرض میں مبتلا ہو جاتی۔

تیسری پیشگوئی۔جبلِ فاران سے دس ہزار قدوسیوں کیساتھ ایک عظیم الشان نبی کا ظہور

استثناء باب ۳۳ میں لکھا ہے:۔ ’’اور اُس نے کہا کہ خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے اُن پر طلوع ہوا۔ فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اُس کے دہنے ہاتھ میں ایک آتشی شریعت اُن کے لئے تھی‘‘۔۱۱۹؎

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اِس کلام میں اپنے تین جلوے بتائے ہیں۔ ان میں سے پہلا جلوہ سینا سے ظاہر ہوا۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تورات میں لکھا ہے:۔ ’’اور خداوند کوہِ سینا پہاڑ کی چوٹی پر نازل ہوا اور خداوند نے پہاڑ کی چوٹی پر موسیٰ کو بلایا اور موسیٰ چڑھ گیا‘‘۔۱۲۰؎

یہ خدائی جلوہ ظاہر ہوا اور جو جو برکتیں اِس میں پوشیدہ تھیں وہ دنیا پر ظاہر کر کے چلا گیا۔ اس کے بعد دوسرے جلوے کا ذکر کیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ وہ شعیر سے طلوع ہو گا۔ شعیر وہ مقام ہے جس کے آس پاس حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات ظاہر ہوئے۔ پس شعیر سے طلوع ہونے کے معنی حضرت مسیح علیہ السلام کے ظہور کے ہیں۔ مسیحی علمائے اناجیل نے نہ معلوم کیوں شعیر کو سینا کا مترادف قرار دیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ شعیر فلسطین کا حصہ ہے۔ یہ نام مختلف

شکلوں میں بگڑ کر آیا ہے اور یہ نام ایک قوم کا بھی ہے جو حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں سے تھی اور بنو آشر کہلاتی تھی اور یہ شمال مغربی فلسطین کے علاقے کا بھی نام ہے۔ پس شعیر سے مراد وہی جلوہ ہے جو خصوصیت کے ساتھ فلسطین میں ظاہر ہونے والا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام تو کنعان پہنچے ہی نہیں اُسی جگہ پر فوت ہو گئے جہاں کنعان کی سرحدیں نظر آتی تھیں اور موسیٰ علیہ السلام کے بعد کوئی ایسا جلوہ ظاہر نہیں ہوا جو اِس قسم کی عظمت والا ہو جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جلوہ تھا۔ پس شعیر سے طلوع ہونے سے مراد حضرت مسیح کا ظہور ہے جو عین کنعان میں ظاہر ہوئے اور جن کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے پھر ایک دفعہ دنیا کو اپنی شکل دکھلائی۔

تیسرا جلوہ فاران سے ظاہر ہونا تھا۔ فاران سے مراد وہ پہاڑ ہیں جو مدینہ اور مکہ کے درمیان ہیں۔ چنانچہ عربی جغرافیہ نویس ہمیشہ سے ہی مدینہ اور مکہ کے درمیانی علاقہ کا نام فاران رکھتے چلے آئے ہیں۔ مدینہ اور مکہ کے درمیان ایک پڑاؤ ہے جس کا نام وادئ فاطمہ ہے جب قافلے وہاں سے گزرتے ہیں تو وہاں کے بچے قافلہ والوں کے پاس پھول بیچتے ہیں اور جب اُن سے قافلہ والے پوچھیں کہ یہ پھول تم کہاں سے لائے ہو؟ تو وہ کہتے ہیں مِنْ بَرِّيَّةِ فَارَانَ۔ فاران کے جنگل سے لائے ہیں۔ پس فاران یقینی طور پر عرب اور حجاز کا ہی علاقہ ہے تورات سے ثابت ہے کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام اِسی فاران کے میدان میں رہے تھے۔ لکھا ہے:۔

’’اور خُداوند اس لڑکے (یعنی اسمعیل) کے ساتھ تھا اور وہ بڑھا اور بیابان میں رہا کیا اور تیرانداز ہوگیا اور وہ فاران کے بیابان میں رہا اور اس کی ماں نے ملکِ مصر سے ایک عورت اُس سے بیاہنے کو لی‘‘۔۱۲؎

بائبل فاران کے مقام کو عربوں کے بیان کی نسبت کسی قدر مختلف جگہ پر قرار دیتی ہے اور کنعان کے کناروں پر ہی بتاتی ہے۔ لیکن جنگل اور پہاڑ شہروں کی طرح کسی چھوٹے سے علاقہ میں محدود نہیں ہوتے بلکہ بعض دفعہ سینکڑوں اور ہزاروں میل تک پھیلتے چلے جاتے ہیں۔ پس اگر بائبل کا بیان صحیح تسلیم کر لیا جائے تو بھی اس کے یہی معنی ہوں گے کہ فاران کے پہاڑ اور اس کا بیابان کنعان کے پاس سے شروع ہوتا ہے۔ اس سے یہ تو ثابت نہ ہوگا کہ وہ ختم بھی وہیں ہو جاتا ہے۔ بائبل تسلیم کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایک بیٹا اسمعیل نامی تھا اور بائبل

بتاتی ہے کہ وہ فاران میں رہا۔ اب فاران کے جغرافیہ کے متعلق تو اسمعیل کی اولاد کی گواہی ہی تسلیم کی جائے گی کیونکہ وہی فاران کی رہنے والی ہے۔ بنو اسرائیل تو تاریخ اور جغرافیہ میں اتنے کمزور تھے کہ وہ اس رستہ کو بھی صحیح طور پر بیان نہیں کر سکے جس رستہ پر چل کر وہ مصر سے کنعان آئے تھے دوسرے ملکوں کے متعلق اُن کی گواہی کی قیمت ہی کیا ہے۔ دنیا میں ایک ہی قوم ہے جو اپنے آپ کو اسمعیل کی اولاد کہتی ہے اور وہ قریش ہیں اور وہ عرب میں بستے ہیں اور مکہ مکرمہ اُن کا مرکز ہے۔ اگر عربوں کا یہ دعویٰ غلط ہے تو سوال یہ ہے کہ اِس غلط دعویٰ کے بنانے کی انہیں غرض کیا تھی۔ بنو اسحاق تو اُن کو کوئی عزت دیتے ہی نہیں تھے۔ پھر ایک جنگل میں رہنے والی قوم کو اِس بات کی کیا ضرورت پیش آئی تھی کہ وہ اپنے آپ کو اسمعیل کی اولاد قرار دے اور اگر اُس نے جھوٹ بنایا ہی تھا تو اسمعیل کی اصل اولاد کہاں گئی؟ بائبل کہتی ہے کہ اسمعیل کے ۱۲ بیٹے تھے۔ بائبل کہتی ہے کہ اُن ۱۲ بیٹوں کی نسل آگے بہت پھیلے گی۔ لکھا ہے:۔

’’اور اس لونڈی کے بیٹے (اسماعیل) سے بھی میں ایک قوم پیدا کروں گا اِس لئے کہ وہ بھی تیری نسل ہے‘‘۔۱۲۱؎

پھر لکھا ہے:۔

’’اُٹھ اور لڑکے (اسماعیل) کو اُٹھا اور اُسے اپنے ہاتھ سے سنبھال کہ میں اُس کو ایک بڑی قوم بناؤں گا‘‘۔۱۲۲؎

پھر لکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا:۔

’’اور اسمعیل کے حق میں میں نے تیری سنی، دیکھ میں اُسے برکت دوں گا اور اُسے برومند کروں گا اور اُسے بہت بڑھاؤں گا اور اس سے ۱۲ سردار پیدا ہوں گے اور میں اُسے بڑی قوم بناؤں گا‘‘۔۱۲۳؎

اِن پیشگوئیوں میں بتایا گیا ہے کہ اسمعیل کی نسل بہت پھیلے گی اور بڑی بابرکت ہوگی۔ اگر عرب کے لوگوں کا دعویٰ جھوٹا ہے تو پھر بائبل بھی جھوٹی ہے کیونکہ دنیا میں اور کوئی قوم اپنے آپ کو بنو اسمعیل نہیں کہتی جس کو پیش کر کے بائبل کی اِن پیشگوئیوں کو سچا ثابت کیا جاسکے اور اگر قریش بنو اسمعیل ہیں تو پھر ابراہیم بھی سچا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قریش کو برکت دی اور ابراہیم کی وہ پیشگوئیاں اُن کے ذریعہ پوری ہوئیں جو بنو اسمعیل کے متعلق تھیں۔

تاریخ کا سب سے بڑا ثبوت قومی روایات ہی ہوتی ہیں اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ ایک قوم سینکڑوں سال سے اپنے آپ کو بنو اسمعیل کہتی چلی آئی ہے اور اُس کے بیان کو مزید تقویت اِس بات سے یہ حاصل ہوتی ہے کہ دنیا کی اور کوئی قوم اپنے آپ کو بنو اسمعیل نہیں کہتی۔ پھر جہاں بائبل مانتی ہے کہ بنو اسمعیل فاران میں رہے وہاں عرب کے لوگ بھی مکہ سے لے کر شمالی عرب کی سرحد تک کے علاقہ کو فاران کہتے چلے آرہے ہیں۔ پس یقیناً یہی علاقہ فاران تھا جیسا کہ یقیناً قریش ہی بنو اسمعیل تھے اور فاران سے ظاہر ہونے والا جلوہ عربوں سے ہی ظاہر ہونے والا تھا۔

بنو اسمعیل کے عرب میں رہنے کا یہ بھی ثبوت ہے کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کے ۱۲؍بیٹوں کے نام جو بائبل میں آتے ہیں یہ ہیں۔ نبیت۔ قیدار۔ ادبئیل۔ مبسام۔ مشماع۔ دُومہ۔ مسا۔ حدد۔ تیما۔ یطور۔ نفیس۔ قدمہ۔۱۲۵؎

قدیم رواج کے مطابق ان کی اولادوں کے نام بھی اپنے باپوں پر ہوں گے جیسا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد اپنے باپوں کے نام سے کہلاتی ہے اسی طرح ملکوں کے نام بھی پُرانے دستور کے مطابق بالعموم قوموں کے نام پر رکھے جاتے ہیں۔ اِس رواج کو مدنظر رکھتے ہوئے جب ہم دیکھتے ہیں تو سارے عرب میں ان بیٹوں کی اولاد پھیلی ہوئی نظر آتی ہے۔

پہلا بیٹا نبیت تھا جس کی اولاد جغرافیہ نویسوں کے بیان کے مطابق ۳۰۔۳۸ ڈگری عرضِ شمالی اور ۳۶۔۳۸ ڈگری طول مشرقی کے درمیان رہی تھی۔ چنانچہ ریو رنڈ کاتری بی کاری ایم اے نے اِس کو تسلیم کیا ہے کہ اُن کے نزدیک فلسطین سے لے کر بندر ینبوع تک جو مدینہ منورہ کا بندر ہے یہ قوم پھیلی ہوئی تھی۔

دوسرا بیٹا قیدار تھا۔ اِس کی قوم بھی عربوں میں پائی جاتی ہے۔ قیدار کے معنی ہیں ’’اونٹوں والا‘‘ یہ قبیلہ حجاز اور مدینہ کے درمیان آباد ہے۔ بطلیموس اور پلینی دونوں نے اپنے جغرافیوں میں حجاز کی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے کیڈری اور گڈ رونا ئینی قوموں کا ذکر کیا ہے جو صاف طور پر قیدار ہی کا بگڑا ہوا ہے تلفظ ہے اور اب تک بعض عرب اپنے آپ کو قیدار کی نسل سے بتاتے ہیں۔

تیسرا بیٹا اوبئیل تھا جو زیفس کے بیان کے مطابق ادبئیل نامی قوم بھی اسی عرب علاقہ میں بستی تھی۔

چوتھا بیٹا مبسام تھا اس کا ثبوت عام جغرافیوں میں کہیں نہیں ملتا لیکن ممکن ہے کہ یہ نام بگڑ گیا ہو اور کسی اور شکل میں پایا جاتا ہو۔

پانچواں بیٹا مشماع تھا۔ عرب میں اب تک بنو مسماع پائے جاتے ہیں۔

چھٹا بیٹا حضرت اسمعیل علیہ السلام کا دومہ تھا اور دومہ کا مقام اب تک عرب میں پایا جاتا ہے جس کا ذکر عرب جغرافیہ نویس ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں کہ دومہ اسمعیل کا بیٹا تھا جس کے نام پر یہ نام پڑا۔ چنانچہ عرب میں یہ ایک مشہور مقام ہے۔

ساتواں بیٹا مسا تھا۔ اس کے نام پر بھی ایک قوم یمن میں پائی جاتی ہے اور اس کی جائے رہائش کے کھنڈرات وہاں موجود ہیں۔ ریورنڈ کاٹری بی کاری نے اپنی کتاب میں اُن کا ذکر کیا ہے۔

آٹھواں بیٹا حدد تھا اس کے نام پر یمن کا مشہور شہر حدیدہ بنا ہوا ہے۔

نواں بیٹا تیما تھا۔ نجد سے حجاز تک کا علاقہ تیما کہلاتا ہے اور یہاں یہ قوم بستی ہے بلکہ خلیج فارس تک پھیل گئی ہے۔

دسواں بیٹا حضرت اسمعیل علیہ السلام کا یطور تھا۔ ان کا مقام بھی عرب میں معلوم ہوتا ہے اور جدور کے نام سے مشہور ہے جو یطور کا بگڑا ہوا ہے۔ یا عام طور پر ج سے بدل جاتی ہے اور ط اور ت، د سے بدل جاتے ہیں پس جدور اصل میں یطور ہی ہے۔

گیارہواں بیٹا نفیس تھا اور مسٹر فاسٹر کا بیان ہے جو زیفس اور تورات کی سند کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم بھی بیابان عرب میں رہتی تھی۔

بارہواں بیٹا قدمہ تھا۔ ان کی جائے رہائش بھی یمن میں ثابت ہے۔ مشہور جغرافیہ نویس مسعودی لکھتا ہے کہ مشہور قبیلہ اصحاب الرس جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی آتا ہے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تھا اور وہ دو قبیلے تھے ایک کا نام قدمان تھا اور ایک کا نام یامین تھا۔ بعض جغرافیہ نویس کہتے ہیں کہ دوسرے قبیلے کا نام یامین نہیں بلکہ رعویل تھا۔

ان جغرافیائی اور تاریخی شواہد سے صاف ثابت ہے کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی تمام اولاد عرب میں بستی تھی۔ یہ تمام اولاد چونکہ خانہ کعبہ اور مکہ کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار کرتی چلی آئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام مکہ میں ہی آ کر بسے تھے اور اس وجہ سے یہی علاقہ عربوں اور تورات کے بیان کے مطابق فاران کا علاقہ ہے۔

یسعیاہ نبی کی پیشگوئی عرب کے متعلق

یسعیاہ نبی کے الہامی کلام کی شہادت بھی اس بات کی تائید میں ہے کہ بنو اسمعیل عرب میں رہے۔ چنانچہ یسعیاہ باب ۲۱ میں لکھا ہے: ’’عرب کی بابت الہامی کلام۔ عرب کے صحرا میں تم رات کاٹو گے۔ اے ددانیوں کے قافلو! پانی لے کر پیاسے کا استقبال کرنے آؤ۔ اے تیما کی سرزمین کے باشندو! روٹی لے کے بھاگنے والے کے ملنے کو نکلو۔ کیونکہ وے تلواروں کے سامنے سے ننگی تلوار سے اور کھینچی ہوئی کمان سے اور جنگ کی شدت سے بھاگے ہیں کیونکہ خداوند نے مجھ کو یوں فرمایا۔ ہنوز ایک برس مزدور کے سے ایک ٹھیک برس میں قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی اور تیر اندازوں کے جو باقی رہے قیدار کے بہادر لوگ گھٹ جائیں گے کہ خداوند اسرائیل کے خدا نے یوں فرمایا‘‘۔۱۲۶

اِس پیشگوئی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے ایک سال بعد جو جنگ بدر ہوئی تھی اُس کا ذکر کیا گیا ہے۔ اِس سے بنو قیدار یعنی مکہ اور مکہ کے اردگرد رہنے والے لوگ بہت بُری طرح مسلمانوں سے ہارے اور اُن کی تلواروں اور کمانوں کی تاب نہ لا کر نہایت ذلت سے پسپا ہوئے۔ اِس پیشگوئی کے اوپر صاف لکھا ہے’’عرب کی بابت الہامی کلام‘‘اور اِس میں تیما اور قیدار کو عرب کا علاقہ قرار دیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے الہام کے مطابق ۷۱۴ برس قبل مسیح جو یسعیاہ کا زمانہ تھا اُس وقت حجاز میں اسمعیل کی اولاد بس رہی تھی۔

غرض جس نقطۂ نگاہ سے بھی دیکھیں یہ ثابت ہے کہ قریش بنواسمعیل تھے اور فاران بائبل کے مطابق وہی علاقہ ہے جس میں بنواسمعیل رہے۔

حبقوق نبی کی پیشگوئی

پس فاران سے ظاہر ہونے والا جلوہ یقیناً جلوۂ محمدی ہی تھا جس کی خبر موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ دی گئی اور اس کی خبر حبقوق نبی نے مسیح سے ۶۲۶ برس پہلے دی اور کہا:

’’خدا تیما سے اور وہ جو قدوس ہے کوہِ فاران سے آیا۔ سلاہ۔ اُس کی شوکت سے آسمان چھپ گیا اور زمین اُس کی حمد سے معمور ہوئی اور اُس کی جگمگاہٹ نور کی مانند تھی۔ اُس کے ہاتھ سے کرنیں نکلیں پر وہاں بھی اُس کی قدرت درپردہ تھی۔ مری اُس کے آگے آگے چلی اور اُس کے قدموں پر آتشی و با روانہ ہوئی۔ وہ کھڑا ہوا اور اُس نے زمین کو لرزہ دیا۔ اُس نے نگاہ کی اور قوموں کو پراگندہ کر دیا اور قدیم پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے اور پرانی پہاڑیاں اُس کے آگے دھنس گئیں۔ اُس کی قدیم راہیں یہی ہیں۔ میں نے دیکھا کہ کوشان کے خیموں پر بپت تھی اور زمین مدیان کے پردے کانپ جاتے تھے۔‘‘۱۲؎

اِس پیشگوئی میں بھی تیما اور کوہِ فاران سے ایک قدوس کے ظاہر ہونے کا ذکر آتا ہے۔ پس موسیٰ کی پیشگوئی اور حبقوق کی پیشگوئی سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیحؑ تک انسان اپنے ارتقاء کے آخری نقطہ کو پہنچنے والا نہ تھا بلکہ حضرت مسیح کے بعد ایک اور جلوۂ الٰہی ظاہر ہونے والا تھا جس کو صرف جمالی جلوہ نہیں ہونا تھا بلکہ اُس کے ساتھ ایک آتشی شریعت کا ہونا بھی لازمی تھا اور جیسا کہ ہم اُوپر ثابت کر چکے ہیں کہ تیما کی سرزمین اور کوہِ فاران سے ظاہر ہونے والے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور اُن کی آتشی شریعت قرآن کریم تھی جس نے گناہوں اور شیطانی کاروبار کو جلا کر رکھ دیا۔ موسیٰ نے کہا جب وہ کوہِ فاران سے ظاہر ہوگا تو اُس کے ساتھ دس ہزار قدوسی آئیں گے۔ وہ کون تھا جو کوہِ فاران سے ظاہر ہوا اور اُس کے ساتھ دس ہزار قدوسی تھے؟ وہ صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے جو فاران کی پہاڑیوں پر سے ہوتے ہوئے جب مکہ پر حملہ آور ہوئے تو آپ کے ساتھ دس ہزار آدمی تھا جس پر ساری تاریخیں متفق ہیں۔ کیا مسیح پر یہ پیشگوئی چسپاں ہوسکتی ہے؟ کیا داؤد پر یہ پیشگوئیاں چسپاں ہوسکتی ہیں؟ وہ کب فاران سے ظاہر ہوئے اور کب اُن کے ساتھ دس ہزار قدوسی تھے؟ مسیح کے ساتھ تو کل ۱۲؍ حواری تھے جن میں سے ایک نے مسیح کو چند روپے لے کر بیچ دیا اور دوسرے نے اُس پر لعنت کی۔ باقی رہ گئے دس۔ سو بائبل کہتی ہے کہ وہ دس بھی بھاگ گئے اگر وہ قائم بھی رہتے اور نہ بھاگتے تب بھی دس اور دس ہزار میں بڑا بھاری فرق ہے اور تورات تو کہتی ہے کہ وہ اُس کے ساتھ ہوں گے اور مسیح کے دس آدمیوں کی نسبت انجیل کہتی ہے کہ وہ اُس کا ساتھ چھوڑ گئے۔

اِسی طرح حبقوق میں لکھا ہے ”زمین اُس کی حمد سے معمور ہوئی“۔ وہ کون ہے جس کا نام محمد تھا اور جس کے دشمن اُسے گالیاں دیتے تو اُس کا نام لے کر اُنہیں گالیاں دینے کی جرأت نہیں ہوتی تھی کیونکہ محمد یعنی تعریف والا کہہ کر وہ اُسے کیا گالی دے سکتے تھے اِس لئے وہ اس کو مذمم کہہ کر گالی دیتے تھے اور جب کبھی آپ کے صحابہ کو گالیاں سن کر جوش آتا تو آپ فرماتے تمہارے لئے جوش کی کوئی وجہ نہیں۔ وہ مجھے تو گالیاں نہیں دیتے وہ تو کسی مذمم کو گالیاں دیتے ہیں۔ پس وہ جس کے نام میں ہی حمد آتی ہے اور جس کی اُمت کی شاعری کا ایک جزو ہی نعتِ محمد (یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف) ہو گیا ہے کیا اُس کے سوا کوئی اور شخص بھی اس پیشگوئی کا مستحق ہوسکتا ہے؟

پھر لکھا ہے۔ ”مری اُس کے آگے چلی اور اُس کے قدموں پر آتشی وباروانہ ہوئی“۔ یہ پیشگوئی بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی صادق آتی ہے کیونکہ آپ کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے آپ کے دشمن کو تباہ کیا۔ گو اِس جگہ مری کے الفاظ ہیں جو بیماری پر دلالت کرتے ہیں مگر مراد تباہی اور ہلاکت ہی ہے کیونکہ جس ذریعہ سے بھی موت عام ہو جائے وہ مری اور وبا کہلائے گا۔ پھر لکھا ہے۔ ”وہ کھڑا ہوا اور اُس نے زمین کو لرزہ دیا۔ اُس نے نگاہ کی اور قوموں کو پراگندہ کر دیا“۔

یہ پیشگوئی بھی نہ تو موسیٰ علیہ السلام پر صادق آسکتی ہے نہ مسیح علیہ السلام پر۔ موسیٰ علیہ السلام تو اپنے دشمن سے لڑتے ہوئے فوت ہوگئے اور مسیح علیہ السلام کو تو بقول عیسائیوں کے اُن کے دشمنوں نے پھانسی دے دیا۔ جس نے زمین کو لرزہ دیا اور جس کی نگاہ نے قوموں کو پراگندہ کر دیا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ خود آپ نے دعویٰ فرمایا ہے نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیْرَةَ شَہْرٍ ۱۲۸ خدا تعالیٰ نے مجھے رعب عطا فرما کر میری مدد کی ہے میں جہاں جاؤں ایک مہینہ کے فاصلہ تک دشمن مجھ سے ڈر جاتا ہے۔

پھر لکھا ہے ”قدیم پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے اور پرانی پہاڑیاں اُس کے آگے دھنس گئیں“۔

یہ پیشگوئی بھی رسول کریم ﷺ کے ذریعہ ہی ثابت ہوئی، کیونکہ آپ کے دشمن آپ کے مقابلہ میں ہلاک و تباہ ہو گئے اور پہاڑ اور پہاڑیوں سے مراد طاقتور دشمن ہی ہوا کرتے ہیں۔

پھر لکھا ہے ”میں نے دیکھا کہ کوشان کے خیموں پر بپت تھی اور زمین مدیان کے پردے کانپ جاتے تھے“۔

اِس پیشگوئی سے صاف ظاہر ہے کہ یہ آنے والا موعود شام سے کسی باہر کے علاقہ کا ہو گا اور جب اُس کی فوجیں کیش یا کوشان اور مدائن کے علاقوں کی طرف بڑھیں گی تو اِن علاقوں کی فوجیں اس کی فوجوں کے آگے لرز جائیں گی۔ اس پیشگوئی کے موعود بھی موسیٰ علیہ السلام نہیں ہو سکتے نہ مسیح علیہ السلام ہو سکتے ہیں یہ پیشگوئی بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی صادق آتی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب آپ کی مٹھی بھر فوج آپ کے خلیفہ اوّل حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں فلسطین کی طرف بڑھی تو با وجود اس کے کہ کنعان اُس وقت قیصر روما کے ماتحت تھا اور وہ آدمی دنیا کا بادشاہ تھا مسلمانوں کی مٹھی بھر فوج کے آگے قیصر کی فوجیں اس طرح بھاگیں کہ کیش کے خیموں پر آفت آگئی اور زمین مدیان کے پردے کانپ گئے اور ان علاقوں نے اپنی نجات اس بات میں پائی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادموں کے قدموں میں اپنے ہتھیار ڈال دیں۔

چوتھی پیشگوئی۔ ایک محبوب نبی کا دس ہزار آدمیوں کے ساتھ ظہور

حضرت سلیمانؑ فرماتے ہیں:۔

(الف) ”میرا محبوب سرخ و سفید ہے۔ دس ہزار آدمیوں کے درمیان وہ جھنڈے کی مانند کھڑا ہوتا ہے اُس کا سرا ایسا ہے جیسا چوکا سونا۔ اُس کی زلفیں پیچ در پیچ ہیں اور کوّے کی سی کالی ہیں۔ اُس کی آنکھیں اُن کبوتر یوں کی مانند ہیں جو لب دریا دودھ میں نہا کے تمکنت سے بیٹھتی ہیں۔ اُس کے رخسارے پھولوں کے چمن اور بلسان کی اُبھری ہوئی کیاری کی مانند ہیں۔ اُس کے لب سوسن ہیں جن سے بہتا ہوا مُرّ ٹپکتا ہے۔ اُس کے ہاتھ ایسے ہیں جیسے سونے کی کڑیاں جن میں ترسیس کے جواہر جڑے گئے۔ اُس کا پیٹ ہاتھی دانت کا سا کام ہے جس پر نیلم سے گل بنے ہوں۔ اُس کے پیر ایسے جیسے سنگِ مرمر کے ستون جو سونے کے پایوں پر کھڑے کئے جاویں۔ اُس کی قامت لبنان کی سی۔ وہ خوبی میں رشک سرو ہے۔ اُس کا منہ شیرینی ہے ہاں وہ سراپا عشق انگیز ہے۔ اے یروشلم کی بیٹیو! یہ میرا پیارا ہے یہ میرا جانی ہے،،۔۱۲۹؎

اِس پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ ایک نبی پیدا ہونے والا ہے جو دوسرے نبیوں سے افضل ہوگا۔ کیونکہ لکھا ہے:

’’تیرے محبوب کو دوسرے محبوب کی نسبت سے کیا فضیلت ہے‘‘۔۱۳۰؎

پھر اِس میں یہ خبر دی گئی ہے کہ وہ محبوب دس ہزار آدمیوں کے درمیان جھنڈے کی مانند کھڑا ہوگا۔ چونکہ جھنڈا فوج کی علامت ہے اِس لئے اِس کے معنی یہ ہیں کہ ایک عظیم الشان موقع پر وہ دس ہزار سپاہیوں کی افسری کرے گا۔

پھر لکھا ہے۔ ’’اُس کے لب سوسن ہیں جن سے بہتا ہوا مُرّ ٹپکتا ہے‘‘۔

مُرّ ایک گوند ہے جس کا مزہ تلخ لیکن تاثیر نہایت اعلیٰ اور خوشبو نہایت عمدہ ہوتی ہے۔ کیڑوں کے مارنے کے لئے نہایت اعلیٰ سمجھی جاتی ہے اور زخموں کے اندمال میں نہایت ہی مفید ہے۔ کرم کش ادویہ میں پڑتی ہے اور زخموں کی مرہموں میں ڈالی جاتی ہے۔ اسی طرح خوشبوؤں کے مصالحوں میں بھی اُس کو استعمال کیا جاتا ہے اور عطروں کے بنانے میں بھی کام میں لائی جاتی ہے۔

پھر لکھا ہے:۔

’’وہ محمدیم ہے‘‘۔ اِس کا ترجمہ انگریزی بائبل میں ALL TOGATHER LOVELY کیا گیا ہے اور اُردو بائبل میں سراپا عشق انگیز کیا گیا ہے۔ یعنی اُسے دیکھ کر انسان اُس سے محبت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ پیشگوئی واضح طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر چسپاں ہوتی ہے۔

آپ ہی موسیٰ کی پیشگوئی کے مطابق دس ہزار قدوسیوں کے سردار ہونے کی حیثیت میں فاران کی چوٹیوں پر سے گزرتے ہوئے مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے ۔ آپ ہی وہ شخص تھے جن کا کلام صحیح معنوں میں دنیا کے لئے مُر ثابت ہوا ہے اور اس میں انسانی اصلاح کے لئے تمام قواعد بیان کر دیئے گئے ہیں جو بعض قوموں کے منہ میں کڑوے معلوم ہوتے ہیں گو ہیں وہ کرم کش اور خوشبودار ۔ اور آپ ہی ہیں جن کا نام محمد تھا۔

عیسائی مصنف اِس پیشگوئی سے گھبرا کر کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس موعود کا نام محمدؐ نہیں بلکہ محمد یم لکھا ہے۔ لیکن یہ اعتراض ایک بے معنی اعتراض ہے ۔ تورات نے تو خدا کو بھی ”الوہیم“ لکھا ہے۔ عبرانی زبان کا قاعدہ ہے کہ وہ اعزاز اور اکرام کے لئے جمع کا صیغہ استعمال کر دیتی ہے۔ اُردو زبان میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اعزاز کے موقع پر جمع کے الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔ اگر ایک اُردو لیکچرار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں کوئی لیکچر دے گا تو آخر میں کہے گا یہ ہیں ہمارے محمد ۔ حالانکہ اس کی مراد یہ ہوگی کہ گو ہمارا آقا محمدؐ تو ایک ہی شخص ہے لیکن میں آپ کے اعزاز کے طور پر جمع کا لفظ بولتا ہوں ۔

(ب) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایک اور پیشگوئی غزل الغزلات باب ۴ میں بیان ہوئی ہے ۔ اس میں حضرت سلیمان اپنی محبوبہ کو بہن بھی کہتے ہیں اور ساتھ ہی زوجہ بھی کہتے ہیں چنانچہ غزل الغزلات باب ۴ آیت ۹ میں اپنی محبوبہ کی نسبت کہتے ہیں :۔

’’اے میری بَوا میری زوجہ‘‘

پھر آیت ۱۰ میں لکھا ہے :۔

’’اے میری بہن میری زوجہ‘‘۔

پھر آیت ۱۲ میں لکھا ہے۔

’’میری بَوا میری زوجہ‘‘۔

اِن دونوں الفاظ کا جوڑ بتاتا ہے کہ آنے والا محبوب بنو اسمعیل میں سے ہوگا۔ جیسے حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ وہ تیرے بھائیوں میں سے ہوگا۔ چونکہ حضرت سلیمان اس کو ایک معشوق کی صورت میں پیش کر رہے ہیں اِس لئے انہوں نے بجائے بھائی کے بہن کا لفظ استعمال

کیا ہے اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس کی تعلیم بنو اسحاق کے نبیوں کی طرح صرف اپنی قوم کے لئے نہیں ہو گی بلکہ دوسری اقوام کے لئے بھی اُس کے گھر کا دروازہ کھلا ہو گا جس کی طرف زوجہ کے لفظ سے اشارہ کیا گیا ہے۔ اس پیشگوئی میں مؤنث کے صیغوں سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے کیونکہ یہ ایک شاعرانہ رنگ کا کلام ہے چنانچہ اسی باب کے آخر میں جا کر کہا ہے۔

’’میرا محبوب اپنے باغیچے میں آوے اور اُس کے لذیذ میوے کھاوے‘‘۔۳۱؎

یہاں بجائے مؤنث کے مذکر کا صیغہ استعمال کر دیا گیا ہے۔ یہ پیشگوئی بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور پر پوری نہیں ہوتی۔ حضرت مسیح بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے نہیں تھے نہ اُن کی تعلیم غیر قوموں کے لئے تھی جیسا کہ پہلے ثابت کیا جا چکا ہے۔

(ج) اِسی طرح غزل الغزلات میں لکھا ہے:۔

’’میں سیاہ فام جمیلہ ہوں۔ اے یروشلم کی بیٹیو! قیدار کے خیموں کی مانند، سلیمان کے پردوں کی مانند مجھے مت تا کو کہ میں سیاہ فام ہوں‘‘۔۳۲؎

اِس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان نے ایک ایسے نبی کی خبر دی ہے جو جنوب کا رہنے والا ہو گا اور بنو اسحٰق کی نسبت جو شمال کے رہنے والے تھے اُس کا رنگ کم اُجلا ہو گا یا یوں کہو کہ اُس کی قوم کا رنگ کم اُجلا ہو گا۔ چنانچہ شامیوں اور فلسطینیوں کے رنگ بوجہ شمال میں رہنے کے عربوں کی نسبت زیادہ سفید ہوتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرب میں پیدا ہوئے تھے۔

(د) اِسی باب میں پھر آنے والے موعود کی یہ علامت بتائی گئی ہے کہ:۔ ’’میری ماں کے بیٹے ناخوش تھے۔ انہوں نے مجھ سے تاکستانوں کی نگہبانی کرائی، پر میں نے اپنے تاکستانوں کی جو خاص میرا ہے نگہبانی نہیں کی‘‘۔۳۳؎ یہ درحقیقت موعود کی قوم کی طرف اشارہ ہے۔ عرب لوگ کہیں قیصر کی نوکری کرتے تھے اور کہیں ایرانیوں کی نوکریاں کرتے تھے مگر خود اپنے ملک کی ترقی کا اُن کو کوئی خیال نہ تھا۔ یہاں تک کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور انہوں نے اُن کے اندر بیداری پیدا کی اور اُن کی روحانی اور علمی اور سیاسی اصلاح کی جس کے نتیجہ میں نہ صرف یہ کہ عرب اپنے تاکستانوں کے محافظ ہو گئے بلکہ وہ دنیا بھر کے تاکستانوں کے آزاد محافظ بن گئے۔

(۵) اسی طرح غزل الغزلات میں یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ اسرائیلی سلسلہ کے لوگوں کو چاہئے کہ آنے والے موعود کو خواہ مخواہ اپنی طرف متوجہ نہ کریں ورنہ وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ چنانچہ لکھا ہے:۔

’’اے یروشلم کی بیٹیو! میں غزالوں اور میدان کی ہرنیوں کی قسم تمہیں دیتا ہوں کہ تم میری پیاری کو نہ جگاؤ اور نہ اٹھاؤ جب تک وہ اُٹھنے نہ چاہے۔‘‘۔۱۳؎

یہی مضمون پھر باب ۳ آیت ۵ میں بیان کیا گیا ہے اور یہی مضمون پھر سہ بارہ باب ۸ آیت ۴ میں بیان کیا گیا ہے۔ اِن عبارتوں کا مطلب یہی ہے کہ جب وہ نبی ہو گا تو یہود اور عیسائی بنی اسرائیل کی دو شاخیں اُسے دِق کریں گی اور وہ اُس کو مجبور کریں گی کہ وہ اُن پر حملہ کرے لیکن چونکہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو گا یہود اور عیسائی اُس کے مقابلہ میں کامیاب نہ ہو سکیں گے بلکہ خطرناک شکست کھائیں گے۔ حضرت سلیمانؑ اپنی قوم کو نصیحت کرتے ہیں کہ دیکھو! اُس کو جگانا نہیں یعنی اُس کو چھیڑ کر اپنی طرف متوجہ نہ کرنا۔ ہاں جب وہ آپ جاگے یعنی جب خدا تعالیٰ کی مشیت چاہے کہ وہ تمہارے ملکوں کی طرف توجہ کرے تو پھر بے شک کرے مگر خود اُس کو نہ چھیڑنا اس لئے کہ جو قوم خود کسی نبی کو چھیڑتی ہے وہ اپنے آپ کو سزا کا مستحق بنا لیتی ہے جیسا کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑ کر اپنے آپ کو سزا کا مستحق بنا لیا۔ لیکن اگر کوئی قوم نہ چھیڑے تو نبی اُس کی طرف جارحانہ طور پر توجہ نہیں کرتا۔ صرف وعظ و نصیحت سے اُس کو مخاطب کرتا ہے۔ نبی تلوار اُس کے خلاف اُٹھاتے ہیں جو پہلے اُن کے خلاف تلوار اُٹھاتے ہیں اور اُنہی کے خلاف جنگ کرتے ہیں جو خدا کے سچے دین کو مٹانے کے لئے جبر اور تعدی سے کام لیتے ہیں۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اس پر شاہد ہے اور حضرت سلیمان نے اپنی قوم کو اِسی خطرہ سے آگاہ کیا ہے۔ یہ پیشگوئیاں کسی صورت میں بھی حضرت مسیح پر چسپاں نہیں ہو سکتیں۔ نہ تو مسیح فلسطین کے جنوب میں پیدا ہوئے نہ وہ بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے تھے نہ اُن کو کوئی ایسی طاقت حاصل تھی کہ اُن کو چھیڑنے کی وجہ سے بنو اسرائیل تباہ ہوتے۔ یہ ساری کی ساری پیشگوئیاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی چسپاں ہوسکتی ہیں اور اُنہی کی خبر غزل الغزلات میں دی گئی ہے۔ غزل الغزلات درحقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کے اظہار میں لکھی گئی ہے۔

پانچویں پیشگوئی ۔ یسعیاہ نبی نے بھی ایک عظیم الشان نبی کے ظہور کی خبر دی

یسعیاہ کی کتاب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں سے بھری پڑی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک عظیم الشان نبی اَور آنے والا ہے جو دنیا کیلئے سلامتی اور امن لائے گالیکن جیسا کہ سنتِ الٰہی ہے پیشگوئیوں میں ایک رنگ اخفاء کا بھی پایا جاتا ہے۔ چنانچہ یسعیاہ کی پیشگوئیوں میں بھی یروشلم اور صیہوں وغیرہ کے نام آئے ہیں جس کی وجہ سے مسیحی مصنفوں نے دھوکا کھایا ہے کہ یہ پیشگوئیاں مسیح کے متعلق ہیں۔ حالانکہ یروشلم یا بنواسرائیل یا صیہوں کے الفاظ اپنی ذات میں تو پیشگوئی کا کوئی حصہ نہیں۔ اگر پیشگوئی کی تفصیلات مسیح پر چسپاں نہیں ہوتیں تو صرف یروشلم اور صیہوں کے الفاظ سے کیا دھوکا لگ سکتا ہے۔ اس صورت میں ہمیں یہی ماننا پڑے گا کہ یروشلم اور صیہوں اور بنی اسرائیل سے مراد صرف یہ ہے کہ میرے مقدس مقامات اور میری پیاری قوم نہ کہ حقیقی طور پر یروشلم اور صیہوں اور بنی اسرائیل۔

(الف) اس سلسلہ میں سب سے پہلی پیشگوئی میں یسعیاہ باب ۴ سے نقل کرتا ہوں۔ لکھا ہے:۔ ’’اُس دن سات عورتیں ایک مرد کو پکڑ کر کہیں گی کہ ہم اپنی روٹی کھائیں گی اور اپنے کپڑے پہنیں گی تُو ہم سب سے صرف اتنا کر کہ ہم تیرے نام کی کہلاویں تا کہ ہماری شرمندگی مٹے۔ اُس دن خداوند کی شان شوکت اور حشمت ہوگی اور زمین کا پھل اُن کے لئے جو بنی اسرائیل میں سے بچ نکلے لذیذ اور خوشنما ہوگا اور ایسا ہوگا کہ ہر ایک جو صیہوں میں چھوٹا ہوا ہوگا اور یروشلم میں باقی رہے گا۔ بلکہ ہر ایک جس کا نام یروشلم کے زندوں میں لکھا ہوگا مقدس کہلائے گا‘‘۔۱۳۵

اِس پیشگوئی میں اگر صیہوں اور یروشلم کو استعارہ قرار دیا جائے تو جو مفہوم اِس پیشگوئی کا نکلتا ہے وہ سوائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی پر صادق نہیں آتا۔ اِن آیتوں میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ آنے والے موعود کے ساتھ شوکت اور حشمت ہوگی اور اُس کو دنیا کی غنیمتیں ملیں گی اور اُس کی قوم کے لوگ مقدس کہلائیں گے اور اُس کے زمانہ میں کثرتِ ازدواج کی ضرورت ہوگی۔ کیا یہ باتیں مسیح اور اُس کے حواریوں پر چسپاں ہوتی ہیں؟ کیا مسیح کا زمانہ شوکت اور حشمت والا تھا یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ شوکت اور حشمت والا تھا؟ کیا دنیا کی غنیمتیں مسیح اور اُس کے حواریوں کو ملیں یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے صحابہ کو؟ کیا مسیح کے زمانہ میں کثرتِ ازدواج کی ضرورت پیش آئی یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں؟ مسیح نے تو کثرتِ ازدواج کو ناپسند کیا ہے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرتِ ازدواج کو مناسب حالات میں جائز بلکہ پسندیدہ کہا ہے۔ آپؐ ہی کے زمانہ میں لڑائیاں ہوئیں اور لڑائیوں میں جوان آدمی مارے گئے اور عورتیں یا بیوہ ہو گئیں یا جوان عورتوں کے لئے رشتے میسر نہ آئے۔ پس آپ نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ ایسی صورت میں مردوں کا فرض ہے کہ ایک سے زیادہ عورتوں سے شادیاں کریں تا کہ قوم میں بدکاری اور آوارہ گردی پیدا نہ ہو۔

(ب) یسعیاہ نبی اپنی کتاب کے باب ۵ میں پیشگوئی فرماتے ہیں:۔ ’’وہ قوموں کے لئے دُور سے ایک جھنڈا کھڑا کرتا ہے اور اُنہیں زمین کی اشیاء سے سیٹی بجا کے بلاتا ہے اور دیکھ وہ دوڑ کے جلد آتے ہیں۔ کوئی اُن میں نہ تھک جاتا اور نہ پھسل پڑتا ہے۔ وے نہیں اُونگھتے اور نہیں سوتے۔ اُن کا کمر بند کھلتا نہیں ہے اور نہ اُن کی جوتیوں کا تسمہ ٹوٹتا ہے۔ اُن کے تیر تیز ہیں اور اُن کی ساری کمانیں کشیدہ ہیں۔ اُن کے گھوڑوں کے سم چقماق کے پتھر کی مانند ٹھہرتے اور اُن کے پہیے گردباد کی مانند وے شیرنی کی مانند گرجتے ہیں۔ ہاں وے جوان شیروں کی مانند گرجتے ہیں وے غراتے اور شکار پکڑتے اور اُسے بے روک ٹوک لے جاتے ہیں اور کوئی بچانے والا نہیں اور اُس دن اُن پر ایسا شور مچائیں گے جیسا سمندر کا شور ہوتا ہے اور یہ زمین کی طرف تاکیں گے اور کیا دیکھتے ہیں کہ اندھیرا اور تنگ حالی ہے اور روشنی اُس کی بدیوں سے تاریک ہو جاتی ہے‘‘۔۱۲؎

اِس پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک زمانہ میں تمام قوموں کے لئے فلسطین سے

دُور کسی جگہ پر ایک جھنڈا کھڑا کرے گا اور اس جھنڈے والا دنیا کی مختلف قوموں کو بلائے گا اور وہ جلدی سے دَوڑ کر اُس کے پاس جمع ہو جائیں گی ۔ وہ لوگ بڑی بڑی قربانیاں کرنے والے ہوں گے اور غفلت اور سستی سے محفوظ ہوں گے ۔ اُنہیں لڑائیاں کرنی پڑیں گی ۔ اُن کے گھوڑوں کے سموں سے آگ نکلے گی اور جب وہ حملہ کرنے کے لئے چلیں گے تو ہوا میں گرد اُڑے گی ۔ وہ اپنے شکار پر غالب آجائیں گے اور اُن کے شکار کو کوئی بچانے والا نہیں ہو گا ۔ وہ ایسا کیوں کریں گے؟ اس لئے کہ وہ دیکھیں گے کہ زمین میں تاریکی اور ظلمت پھیلی ہوئی ہے اور لوگ ایک عظیم الشان انقلاب کے محتاج ہیں۔

یہ پیشگوئی کُلّی طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ صرف چسپاں ہوتی ہے بلکہ قرآن کریم میں اِس پیشگوئی کے مطابق فلسطین سے دُور یعنی مکہ میں آپ ظاہر ہوئے اور آپ کا جھنڈا مدینہ میں کھڑا کیا گیا۔ آپ ہی تھے جنہوں نے قرآنی الفاظ میں یہ اعلان کیا یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا(7:159)۱۳۷؎اے انسانو! میں تمام لوگوں کی طرف خدا کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ آپ ہی کی آواز پر چاروں طرف سے لوگ دَوڑنے لگ گئے اور جلد جلد آپ کے گرد جمع ہو گئے۔ مسیح کی زندگی میں تو ایک شخص بھی غیر قوموں میں سے اُس پر ایمان نہیں لایا تھا۔ اُس کے سارے کے سارے حواری چالیس پچاس میل کے حلقہ کے اندر رہنے والے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر یمن کے رہنے والے اور نجد کے رہنے والے یہودیوں میں سے بھی اور ایرانیوں میں سے بھی اور عیسائیوں میں سے بھی ایمان لائے اور آپ کے گرد جمع ہو گئے اور اِس پیشگوئی کے مطابق اُنہوں نے ایسی قربانیاں اور اَن تھک کوششیں کیں کہ دشمن سے دشمن بھی اُن کی قربانیوں کی تعریف کئے بغیر نہیں رہتا اور خدا تعالیٰ نے بھی اپنے کلام میں اُن کی نسبت فرمایا ہے رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡہُ(98:9)۱۳۸؎ اُنہوں نے ایسی قربانیاں کیں کہ خدا اُن سے راضی ہو گیا اور وہ خدا سے راضی ہو گئے۔ اور پھر قرآن کریم میں اُن کا یوں ذکر بھی آتا ہے کہ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ قَضٰی نَحۡبَہٗ وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡتَظِرُ(33:24)۱۳۹؎کچھ وہ ہیں جنہوں نے اپنے عہد پورے کر دیئے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو اپنے عہد کے پورا کرنے کے انتظار میں ہیں۔ پھر اُن کو جنگیں بھی پیش آئیں اور تیروں اور کمانوں سے اُنہوں نے کام لیا۔ اُن کے گھوڑے چقماق کی طرح ہو گئے اور اُن کے پہیئے گرد باد۴۰؎کی مانند۔ جس کی طرف خود قرآن کریم میں اشارہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالۡعٰدِیٰتِ ضَبۡحًا فَالۡمُوۡرِیٰتِ قَدۡحًا فَالۡمُغِیۡرٰتِ صُبۡحًا فَاَثَرۡنَ بِہٖ نَقۡعًا فَوَسَطۡنَ بِہٖ جَمۡعًا(100:2-6)۴۱؎ یعنی ہم قسم کھاتے ہیں اُن اسپ سواروں کی جو تیزی سے دشمن پر حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھتے ہیں ایسی تیزی سے کہ اُن کے گھوڑوں کے ٹاپوں سے آگ نکلنے لگتی ہے اور اُن کے حملہ سے گرد و غبار کا ایک طوفان اُٹھ پڑتا ہے اور وہ ایسی شان اور طاقت کے ساتھ اپنے دشمن کی صفوں میں گھس کر اُسے مغلوب کر لیتے ہیں۔ کس طرح لفظ بلفظ اس پیشگوئی کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے۔

پھر یہ جو اِس پیشگوئی میں کہا ہے کہ ”وہ زمین کی طرف تاکیں گے اور کیا دیکھتے ہیں کہ اندھیرا اور تنگ حالی ہے اور روشنی اس کی بدلیوں سے تاریک ہو جاتی ہے“۔

اِسی کی طرف قرآن کریم میں اِن الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ(30:42)۴۲؎ تمام دنیا میں خشکی اور تری میں فساد اور خرابی پیدا ہو گئی ہے اور خدا تعالیٰ کے ایک مامور کے ظاہر ہونے کی ضرورت ہے۔

اسی طرح فرماتا ہے۔ اللّٰہَ یٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ ۬ۚۖۛ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ۟ۛ قَدۡ اَنۡزَلَ اللّٰہُ اِلَیۡکُمۡ رَّسُوۡلًا یَّتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخۡرِجَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ(65:11-12)۴۳؎ یہ خدا کا رسول اس لئے آیا ہے کہ دنیا سب کی سب تاریکی میں پڑی ہے اور وہ اس کو تاریکی سے نکال کر نور کی طرف لے جاتا ہے۔

(ج) یسعیاہ باب ۸ میں لکھا ہے:۔

’’رَبُّ الافواج جو کہے تم اُس کی تقدیس کرو اور اُس سے ڈرتے رہو اور اس کی ہی دہشت رکھو۔ وہ تمہارے لئے ایک مقدس ہوگا۔ پر اسرائیل کے دونوں گھرانوں کے لئے ٹکر کا پتھر اور ٹھوکر کھانے کی چٹان اور یروشلم کے باشندوں کے لئے پھندا اور دام ہووے گا۔ بہت لوگ اُن سے ٹھوکر کھائیں گے اور گریں گے اور ٹوٹ جائیں گے اور دام میں پھنسیں گے اور پکڑے جائیں گے۔ شہادت نامہ بند کر لو اور میرے شاگردوں کے لئے شریعت پر مہر کرو۔ میں بھی خداوند کی راہ دیکھوں گا جو اَب یعقوب کے گھرانے سے اپنا منہ چھپاتا ہے میں اُس کا انتظار کروں گا۔‘‘۱۴۴

اِس پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایک مقدّس ظاہر ہوگا لیکن وہ بنی اسرائیل کے دونوں گھرانوں کے لئے ٹھوکر کا موجب ہوگا اور یروشلم کے باشندوں کے لئے پھندا اور دام بنے گا۔ اگر وہ اس کا مقابلہ کریں گے تو وہ شکست کھائیں گے اور پکڑے جائیں گے۔ اُس کے زمانہ میں یہودی شریعت ختم کر دی جائے گی اور یعقوب کے گھرانے سے خدا تعالیٰ منہ پھیر لے گا۔

انجیل نویس اِس پیشگوئی کے متعلق خاموش ہیں اور شاید وہ اسرائیل کے دونوں گھرانوں سے وہ دو گھرانے مراد لیتے ہیں جن میں سے ایک نے سلیمان کے بیٹے کا ساتھ دیا تھا اور دوسرے نے اُن سے بغاوت کر کے الگ حکومت قائم کر لی تھی۔ لیکن یہ درست نہیں ہوسکتا۔ اِس پیشگوئی میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کا ایک مقدّس کھڑا ہوگا اور اُس کے زمانہ میں یہ باتیں ہوں گی۔ یا تو اس مقدّس سے مراد مسیحؑ ہے اور یا پھر مسیح کے بعد کوئی اور آنے والا شخص ہے۔ کیونکہ یسعیاہ اور مسیحؑ کے درمیان کوئی ایسا باعظمت انسان نہیں گزرا جس کے ساتھ بنو اسرائیل نے ٹھوکر کھائی ہو۔ صرف حضرت مسیحؑ ہی ایسے تھے جن سے بنو اسرائیل نے ٹھوکر کھائی۔ مگر کیا مسیح سے ٹھوکر کھا کر بنو اسرائیل پکڑے گئے یا اُن کے شاگردوں کے لئے شریعت پر مہر کر دی گئی؟ مسیح تو صاف کہتا ہے کہ:۔

’’یہ خیال مت کرو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتاب منسوخ کرنے کو آیا ہوں۔ میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہرگز نہ مٹے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو۔‘‘۱۴۵

بلکہ مسیح اپنے بعد کے زمانہ کے لئے بھی کہتا ہے کہ :۔

’’کیا براتی جب تک کہ دولہا اُن کے ساتھ ہے روزہ رکھ سکتے ہیں۔ وے جب تک کہ دولہا اُن کے ساتھ ہے روزہ نہیں رکھ سکتے۔ لیکن وے دن آویں گے جب دولہا اُن سے جدا کیا جائے گا، تب اُنہی دنوں میں وے روزے رکھیں گے‘‘۔۱۴۶

اِن آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کے فیصلہ کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد بھی آپ کے حواریوں کے لیے موسوی تعلیم پر عمل کرنا لازم ہوگا ۔ اگر یہ نہ ہوتا تو مسیح یہ کہتا کہ میں نے تو ہمیشہ کے لئے روزے منسوخ کر دیئے ہیں مگر وہ خود روزے رکھتا ہے اور اپنے حواریوں کے متعلق خبر دیتا ہے کہ گو آجکل ان میں کمزوری پائی جاتی ہے لیکن آئندہ زمانہ میں وہ روزے رکھنے لگ جائیں گے۔

پس شریعت پر مہر کرنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ شریعت کو بالکل اُڑا دیا گیا بلکہ اس پیشگوئی کے یہی معنی ہیں کہ اُس مقدس کے زمانہ میں موسوی شریعت منسوخ کر دی جائے گی اور ایک نئی شریعت قائم کر دی جائے گی ۔ اگر یہ نہ ہوتا تو یہ کیوں کہا جاتا کہ یعقوب کے گھرانے سے خدا اپنا منہ پھیر لے گا۔ کیا مسیح یعقوب کے گھرانے سے نہیں تھا؟ اگر مسیح یعقوب کے گھرانے میں سے نہیں تھا تو وہ داؤد کی نسل میں سے نہیں تھا؟ اور اگر وہ داؤد کی نسل میں سے نہیں تھا تو پھر مسیح کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں اُن کا بھی وہ مستحق نہیں تھا۔

(د) یسعیاہ باب ۹ میں لکھا ہے:۔

’’ہمارے لئے ایک لڑکا تولد ہوا اور ہم کو ایک بیٹا بخشا گیا اور سلطنت اُس کے کاندھے پر ہوگی اور وہ اِس نام سے کہلاتا ہے ۔ عجیب ۔ مشیر ۔ خدائے قادر ۔ ابدیت کا باپ ۔ سلامتی کا شہزادہ ۔ اُس کی سلطنت کے اقبال اور سلامتی کی کچھ انتہاء نہ ہوگی ۔ وہ داؤد کے تخت پر اور اس کی مملکت پر آج سے لے کر ابد تک بندوبست کرے گا اور عدالت اور صداقت سے اُسے قیام بخشے گا۔ رَبُّ الافواج کی غیوری یہ کرے گی‘‘۔۴؎

اِس پیشگوئی میں ایک موعود کی خبر دی گئی ہے جو بادشاہ ہوگا اور جس کے پانچ نام ہوں گے (۱) عجیب (۲) مشیر (۳) خدائے قادر (۴) ابدیت کا باپ (۵) سلامتی کا شہزادہ ۔ اُس کی سلطنت کے اقبال اور سلامتی کی کچھ انتہاء نہ ہوگی اور وہ داؤد کے تخت پر ہمیشہ کے لئے بیٹھے گا اور عدالت اور صداقت سے اُسے قیام بخشے گا۔ اناجیل کے حاشیہ نویسوں نے اِس باب کے شروع میں لکھا ہے کہ اس میں مسیح کی پیدائش کی خبر ہے ۔ لیکن اُن علامتوں میں سے جو اس

پیشگوئی میں بیان کی گئی ہیں کوئی ایک بھی تو حضرت مسیحؑ پر صادق نہیں آتی۔ وہ کب بادشاہ ہوئے؟ کب اُن کو عجیب۔ مشیر۔ خدائے قادر۔ ابدیت کا باپ اور سلامتی کا شہزادہ کہا گیا؟ ”عجیب“ تو شاید اُن کی پیدائش کے لحاظ سے اُن کو کہا بھی جاسکے گویا ایسا کہا نہیں گیا کیونکہ جو اُن کو نہیں مانتے تھے وہ تو اُن کی پیدائش کو ناجائز قرار دیتے تھے۔ پس وہ اُنہیں ”عجیب“ نہیں قرار دے سکتے تھے اور جو مانتے تھے وہ اُن کی پیدائش کے متعلق مختلف شبہات میں تھے۔ کوئی انہیں داؤد کی اولاد قرار دیتا تھا اور کوئی روح القدس کی ۔ دوسرا نام مشیر بتایا گیا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مشیر ہونے کا کبھی موقع نہیں ملا۔ ساری انجیل میں دیکھ لو کسی ایک جگہ بھی انہوں نے اپنی قوم سے مشورہ نہیں لیا اور نہ انہوں نے اپنی قوم کو کوئی مشورہ دیا۔ پھر وہ مشیر کس طرح کہلائے؟ تیسرا نام خدائے قادر بتلایا گیا ہے۔ مسیح تو ساری عمر ابن اللہ کہلاتے رہے۔ وہ خدائے قادر کس طرح کہلا سکتے تھے؟ اور پھر مسیح تو اناجیل کے بیان کے مطابق پھانسی دے کر مار دیا گیا تھا، ایسا انسان قادر کس طرح کہلا سکتا ہے۔ اناجیل میں صاف آتا ہے کہ جب حضرت مسیحؑ صلیب پر لٹکائے گئے تو یہودیوں نے اُن کو طعنہ دیا کہ اگر تُو خدا کا بیٹا ہے تو صلیب پر سے اُتر آ۔ چنانچہ لکھا ہے:۔

”یوں ہی سردار کاہنوں نے بھی فقیہوں اور بزرگوں کے ساتھ ٹھٹھا مار کے کہا۔ اِس نے اوروں کو بچایا مگر آپ کو نہیں بچا سکتا۔ اگر اسرائیل کا بادشاہ ہے تو اب صلیب پر سے اُتر آوے تو ہم اِس پر ایمان لاویں گے۔“۱۴۸؎

حتی کہ وہ چور بھی حضرت مسیح کے ساتھ صلیب دیئے گئے تھے اُن کے متعلق لکھا ہے کہ وہ بھی اُسے طعنے مارتے تھے۔۱۴۹؎

پس حضرت مسیحؑ پر یہ حوالہ چسپاں نہیں ہوسکتا کیونکہ اُس کی قدرت نہ کبھی ظاہر ہوئی نہ لوگوں نے اُس کی قدرت کا کبھی اقرار کیا۔ اُس کے دشمن بھی اُس کی قدرتوں کا انکار کیا کرتے تھے اور اُس کے دوست بھی اُس کی قدرتوں کے منکر تھے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مسیح کے حواری اُس کو چھوڑ کر بھاگ کیوں جاتے؟ جیسا کہ لکھا ہے:۔

”تب سب شاگرد اُسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔“۱۵۰؎

کیا کبھی کوئی شخص قادر کو بھی چھوڑا کرتا ہے؟

چوتھا نام ابدیت کا باپ ہے۔ یہ نام بھی حضرت مسیحؑ پر چسپاں نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ جیسا کہ اوپر ثابت کیا جا چکا ہے وہ خود اپنے بعد ایک مامور کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔

پانچواں نام سلامتی کا شہزادہ ہے۔ یہ نام بھی حضرت مسیحؑ پر چسپاں نہیں ہوسکتا کیونکہ اُنہیں کبھی بادشاہت نصیب ہی نہیں ہوئی کہ اُن کے ذریعہ سے دنیا کو سلامتی ملی ہو وہ تو خود یہود سے دُکھ پاتے رہے، آخر پکڑے گئے اور صلیب پر لٹکائے گئے۔ پس اُنہیں سلامتی کا شہزادہ کسی صورت میں بھی نہیں کہا جا سکتا۔

پھر لکھا ہے ’’اُس کی سلطنت کے اقبال اور سلامتی کی کچھ انتہاء نہ ہوگی۔‘‘ یہ بات بھی حضرت مسیحؑ میں نہیں پائی جاتی۔ نہ اُن کو سلطنت ملی نہ اُس کا اقبال اور سلامتی انہوں نے دیکھی۔ اِسی طرح لکھا ہے ’’وہ داؤد کے تخت پر اور اُس کی مملکت میں آج سے لے کر ابد تک بند وبست کرے گا اور عدالت اور صداقت سے اُسے قیام بخشے گا۔‘‘۔ یہ بات بھی حضرت مسیحؑ کو نصیب نہیں ہوئی۔ یہ سب کی سب علامتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی پائی جاتی ہیں۔ آپ کے کندھے پر سلطنت رکھی گئی اور گو آپ نہیں چاہتے تھے کہ آپ بادشاہ ہوں لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ آپ بادشاہ بننے پر مجبور ہو گئے۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ حضرت مسیحؑ تو باوجود اِس کے کہ اُن کے پاس نہ کوئی حکومت تھی نہ طاقت پھر بھی بادشاہ کہلانے کے شوقین تھے جیسا کہ متی باب ۲۱ میں لکھا ہے:۔

’’مسیح گدھے پر سوار ہو کر یروشلم میں داخل ہوا تا کہ جو نبی نے کہا تھا پورا ہو کہ صیہوں کی بیٹی سے کہو کہ دیکھ تیرا بادشاہ فروتنی سے گدھی پر بلکہ گدھی کے بچے پر سوار ہو کر تجھ پاس آتا ہے‘‘۔۵۱؎

اِسی طرح متی باب ۲۷ آیت ۱۱ میں لکھا ہے:۔

’’یسوع حاکم کے روبرو کھڑا تھا اور حاکم نے اُس سے پوچھا کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟ یسوع نے اُس سے کہا ہاں تُو ٹھیک کہتا ہے‘‘۔

لوقا باب ۲۳ میں لکھا ہے:۔

’’اور ساری جماعت اُٹھ کے اُسے پیلاطوس کے پاس لے گئی اور اس پر نالش کرنی شروع کی کہ اُسے ہم نے قوم کو بہکاتے اور قیصر کو محصول دینے سے منع کرتے اور اپنے تئیں مسیح بادشاہ کہتے پایا۔ تب پیلاطوس نے اُس سے پوچھا کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟ اُس نے اُس کے جواب میں کہا وہی ہے جو تُو کہتا ہے‘‘۔۱۵۲؎

یوحنا باب ۱۸ آیت ۳۷ میں لکھا ہے:۔

’’تب پیلاطوس نے اُسے کہا سو کیا تو بادشاہ ہے؟ یسوع نے جواب دیا کہ جیسا آپ فرماتے ہیں میں بادشاہ ہوں‘‘۔

لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم با وجود حکومت اور طاقت حاصل ہونے کے بادشاہ کہلانے سے سخت نفرت رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ قیصر و کسریٰ والا رنگ ہم میں نہیں ہونا چاہئے۔ اُن کو جب خدا تعالیٰ اقتدار بخشتا ہے تو وہ بنی نوع انسان کو غلام بنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہمیں خدا تعالیٰ نے خدمتِ خلق کے لئے پیدا کیا ہے۔

پھر لکھا تھا کہ اُس کا نام ’’عجیب‘‘ ہو گا۔ حضرت مسیح خود تسلیم کرتے ہیں کہ یہ عجیب نام پانے والا وہ موعود ہے جو اُن کے بعد آئے گا۔ چنانچہ انگورستان کی مثال میں حضرت مسیح کہتے ہیں:۔

’’ایک مالک نے انگورستان لگایا اور باغبانوں کے حوالے کر دیا۔ پھر مالک نے نوکروں کو اُس کا پھل لانے کے لئے باغبانوں کے پاس بھیجا مگر باغبانوں نے باری باری تمام نوکروں کو مارا پیٹا یا پتھراؤ کیا۔ اس کے بعد اور بڑے بڑے نوکر بھیجے گئے مگر اُن کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوا۔ پھر اُس نے اپنے بیٹے کو بھیجا مگر بیٹے کو بھی انہوں نے مار ڈالا‘‘۔۱۵۳؎

اِس کے بعد مسیح نے لوگوں سے سوال کیا کہ وہ باغبان جنہوں نے یہ معاملہ کیا بتاؤ ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ لوگوں نے کہا:۔

’’اِن بدوں کو بُری طرح مار ڈالے گا اور انگورستان کو اور باغبانوں کو سونپے گا جو اُسے موسم میں میوہ پہنچاویں۔ یسوع نے انہیں کہا کہ کیا تم نے نوشتوں میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو راجگیروں نے ناپسند کیا وہی کونے کا سرا ہوا۔ یہ خدا کی طرف سے ہے اور ہماری نظروں میں عجیب۔ اِس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی اور ایک قوم کو جو اُس کو میوہ لا دے دی جائے گی۔ جو اُس پتھر پر گرے گا چور ہو جائے گا پر جس پر وہ گرے گا اُسے پیس ڈالے گا،،۔۱۵۴ اِس تمثیل کے بیان کرتے وقت حضرت مسیحؑ نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ بیٹے کو صلیب دینے کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک اور مامور ظاہر ہوگا جو کونے کا پتھر کہلائے گا اور وہ مسیح اور تمام باقی لوگوں کی نظروں میں عجیب ہوگا۔ پس جب مسیح خود کہتا ہے کہ عجیب وہ شخص کہلائے گا جو بیٹے کو صلیب دیئے جانے کے بعد آئے گا تو یقیناً محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی عجیب ہیں جو مسیح کے صلیب پانے کے بعد ظاہر ہوئے۔

دوسرا نام آنے والے کا مشیر رکھا گیا ہے۔ یہ نام بھی صرف رسول کریم ﷺ پر ہی چسپاں ہوتا ہے کیونکہ آپؐ ہی تھے جن سے ساری قوم مشورہ لیا کرتی تھی اور جنہوں نے اپنی قوم میں مشورے کا رواج ڈالا اور حکومت کے لئے یہ لازمی قرار دیا کہ وہ باشندگانِ ملک کے مشورہ سے ہر ایک کام کیا کرے۔ رسول کریم ﷺ کے مشوروں کا ذکر قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نَاجَیۡتُمُ الرَّسُوۡلَ فَقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیۡ نَجۡوٰٮکُمۡ صَدَقَۃً ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ وَاَطۡہَرُ ؕ فَاِنۡ لَّمۡ تَجِدُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ(58:13) ۱۵۵اے مومنو! جب کبھی تم رسول سے مشورہ لیا کرو تو مشورہ لینے سے پہلے غرباء اور مساکین میں تقسیم کرنے کے لئے کچھ صدقہ پیش کیا کرو۔ یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر اور پسندیدہ ہوگا لیکن اگر تمہارے پاس کچھ نہ ہو تو پھر اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ اس صورت میں تم بغیر صدقہ پیش کرنے کے بھی مشورہ لے سکتے ہو۔

اس آیت سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگ کثرت سے مشورہ لیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل وقت تو تمام بنی نوع انسان کا ہے بعض لوگ اپنی خاص ضرورتوں کے لئے آپ کے وقت کو نسبتاً زیادہ استعمال نہ کرنے لگ جائیں یہ قانون مقرر کر دیا گیا کہ جو شخص آپ سے مشورہ لے وہ غریبوں اور مسکینوں کے لئے کچھ صدقہ کی رقم بھی بیت المال میں ادا کرے تاکہ آپ کا وقت جو افراد کے کاموں میں لگے اُس کا کچھ نہ کچھ ازالہ اِس صدقہ کے ذریعہ سے ہو جائے۔ جس شخص سے لوگ اِس کثرت سے مشورہ لیا کرتے تھے کہ اُس کے مشورہ کو ایک مستقل ادارہ قرار دے دیا گیا وہی شخص مشیر کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے۔ پھر اِس لئے بھی آپؐ مشیر کہلانے کے مستحق ہیں کہ آپؐ نے حکومت کی بنیاد قومی مشوروں پر رکھی۔ چنانچہ قرآن کریم میں جو آپؐ پر نازل ہونے والی وحی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاَمۡرُہُمۡ شُوۡرٰی بَیۡنَہُمۡ(42:39) ۱۵۶ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ کوئی حکومتی کام نہ کریں جب تک کہ وہ ملک کے نمائندوں سے مشورہ نہ لے لیا کریں۔ اِس کی تشریح میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لَا خِلَافَةَ اِلَّا بِالْمَشْوَرَةِ ۱۵۷ اسلامی حکومت مشورہ کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ جو حکومت بھی باشندگانِ ملک کے مشورہ کے بغیر چلائی جائے گی وہ اسلامی نہیں کہلائے گی۔ مگر اس کے مقابلہ میں نہ مسیح نے کوئی مشورہ دنیا کو دیا نہ مشورہ کی اہمیت پر زور دیا۔ پس یقیناً محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ شخص تھے جو مشیر کہلاتے تھے اور مشیر کہلاتے ہیں۔

تیسرا نام اُس کا ’’خدائے قادر‘‘ ہے۔ تورات کی رو سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ سے مشابہت حاصل تھی چنانچہ خروج باب ۷ آیت ۱ میں لکھا ہے:۔

’’پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا دیکھ میں نے تجھے فرعون کے لئے خدا سا بنایا‘‘۔

اسی طرح خروج باب ۴ آیت ۱۶ میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰؑ کو فرماتا ہے:۔

’’تُو اُس (یعنی ہارون) کے لئے خدا کی جگہ ہوگا‘‘۔ جس طرح مسیحؑ بائبل کے محاورہ کے مطابق ابن اللہ کہلانے کے مستحق ہیں اسی طرح بائبل کے لحاظ سے حضرت موسیٰؑ مظہرِ خدا تھے۔ پس جب کبھی خدا کے لفظ سے کسی انسان کی طرف اشارہ کیا جائے گا تو اِس سے مراد یا موسیٰ علیہ السلام ہوں گے یا کوئی مثیل موسیٰؑ ہوگا۔ اور یہ میں اُوپر بتا آیا ہوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بعد ایک ایسے نبی کے آنے کی خبر دی تھی جو اُن جیسا ہوگا۔۱۵۸ اور یہ بھی میں بتا چکا ہوں کہ اس پیشگوئی کی تمام علامتیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صادق آتی ہیں۔ پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی خدا یا صحیح لفظوں میں یوں کہو کہ خدا کے مظہر کہلانے کے مستحق تھے۔ چنانچہ آپ کے متعلق قرآن کریم میں بھی آتا ہے وَمَا رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی(8:18) ۱۵۹ جب بدر کے موقع پر تُو نے کنکر اُٹھا کر دشمن کی طرف پھینکے تھے تو اِن کنکروں کو پھینکنے والا تیرا ہاتھ نہیں تھا بلکہ خدا کا ہاتھ تھا۔ اِسی طرح آپ کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے اِنَّ الَّذِیۡنَ یُبَایِعُوۡنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوۡنَ اللّٰہَ(48:11) ۱۶۰ جو تیری بیعت کرتے ہیں وہ اللہ کی بیعت کرتے ہیں۔ یعنی تو اللہ تعالیٰ کا مظہر ہے۔ پس اِس پیشگوئی کے مطابق اگر کوئی شخص ہو سکتا ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات ہوسکتی ہے۔ پھر لفظ قادر بھی آپ ہی کی ذات پر دلالت کرتا ہے کیونکہ آپ ہی تھے جنہوں نے اپنی زندگی میں اپنے سارے دشمنوں کو زیر کر لیا اور تمام مخالفتوں اور عداوتوں کا سر کچل دیا۔

چوتھا نام ’’ابدیت کا باپ‘‘ بتایا گیا ہے۔ یہ علامت بھی آپ پر ہی چسپاں ہوتی ہے کیونکہ آپ ہی ہیں جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ آپ کی تعلیم قیامت تک کے لئے ہے اور یہ کہ جس آنے والے مسیح کی خبر دی گئی ہے وہ بھی آپ کی اُمت کا ایک فرد ہوگا کوئی نیا شخص نہیں ہوگا جس کی وجہ سے آپ کی بادشاہت میں کوئی فرق یا اختلال واقعہ ہو جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیۡرًا وَّنَذِیۡرًا وَّلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ وَیَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ قُلۡ لَّکُمۡ مِّیۡعَادُ یَوۡمٍ لَّا تَسۡتَاۡخِرُوۡنَ عَنۡہُ سَاعَۃً وَّلَا تَسۡتَقۡدِمُوۡنَ(34:29-31) ۱۶۱ یعنی ہم نے تجھے صرف اِس لئے بھیجا ہے تاکہ تمام بنی نوع انسان کو تُو اس طرح جمع کرے کہ اُن میں سے کوئی طبقہ اور کوئی زمانہ تیری تبلیغ سے باہر نہ رہے اور تُو تمام انسانوں کے لئے بشیر اور نذیر کے طور پر کام دے۔ لیکن اکثر انسان تیری اِس حیثیت سے واقف نہیں ہیں۔ پھر فرماتا ہے دشمن اعتراض کرتے ہیں کہ یہ وعدہ کہ تُو سب دنیا کی طرف اور ہمیشہ کیلئے ہے کس طرح پورا ہوگا۔ اگر تم سچے ہو تو اس کی دلیل دو۔ اس کا جواب دیتا ہے کہ تُو اُن سے کہہ دے کہ تمہارے لئے ہم ایک مدت مقرر کر چکے ہیں تم نہ اس مدت سے ایک ساعت پیچھے رہ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھو گے۔ یعنی وہ وعدہ عین وقت پر پورا ہو جائے گا۔ یہ مدت وہی ہے جس کا ذکر سورہ سجدہ میں کیا گیا ہے۔ سورہ سجدہ میں اللہ فرماتا ہے یُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الۡاَرۡضِ ثُمَّ یَعۡرُجُ اِلَیۡہِ فِیۡ یَوۡمٍ کَانَ مِقۡدَارُہٗۤ اَلۡفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ(32:6) ۱۶۲ اللہ تعالیٰ اسلام کو دنیا میں قائم کرے گا۔ پھر اسلام کا زور رفتہ رفتہ کم ہونا شروع ہوگا اور ایک دن میں جس کی لمبائی ایک ہزار

سال کے برابر ہو گی وہ خدا تعالیٰ کی طرف چڑھنا شروع ہو گا اور اس میں کمزوری اور اضمحلال کے آثار پیدا ہو جائیں گے۔ اسلام کی ترقی کا زمانہ قرآن کریم سے بھی اور احادیث سے بھی تین سَو سال کا معلوم ہوتا ہے اِس میں ہزار سال شامل کیا جائے تو یہ زمانہ تیرہ سَو سال کا ہو جاتا ہے۔ پس سورہ سجدہ کی آیت کو ملا کر اِس آیت کے یہ معنی بنتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ کیلئے بشیر و نذیر ہونا اور تمام دنیا کی طرف ہونا تیرہ سَو سال کے بعد کُلّی طور پر ثابت ہو گا۔ ان آیات میں اِس بات کی خبر دی گئی ہے کہ تیرہ سَو سال پر خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود کا نزول ہوگا اور مسیح موعود آپ کی اُمت میں سے ہوگا اور چونکہ تمام انبیاء کا وہی آخری موعود ہے جب وہ آپ کی اُمت میں سے ہوگا تو اِس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ قیامت تک آپ کی شریعت قائم رہنے والی ہے اور آپ کی شریعت کو منسوخ کرنے والا کوئی اور شخص نہیں آئے گا۔ اور چونکہ اُس کے زمانہ میں تبلیغِ اسلام پر خاص طور پر زور دیا جائے گا اور اسلام دنیا میں پھیل جائے گا اِس لئے یہ امر اور بھی مستحکم ہو جائے گا کہ اسلام کو مٹانے والی کوئی طاقت دنیا میں نہیں اور ہر قوم اور ہر علاقہ کے لوگ اُس کے مخاطب ہیں جو آہستہ آہستہ اُس میں شامل ہو جائیں گے۔ پس ”ابدیت کا باپ“ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کوئی نہیں۔

پانچواں نام آپ کا ”سلامتی کا شہزادہ“ رکھا گیا ہے۔ چونکہ شہزادہ بمعنی بادشاہ بھی آتا ہے اِس لئے ہم اس کے یہ معنی کر سکتے ہیں کہ وہ سلامتی کا بادشاہ ہوگا۔ یہ پیشگوئی بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی چسپاں ہوتی ہے۔ آپ جس مذہب کے بانی تھے اس کا نام خدا تعالیٰ نے اسلام رکھا تھا یعنی سلامتی۔ پس سلامتی کے شہزادے کے معنی ہوں گے اسلام کا بادشاہ۔ اور اس میں کیا شبہ ہے کہ اسلام کے بادشاہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اسلام آپ ہی کی لائی ہوئی تعلیم کا نام ہے۔ اسلام کے تمام مسائل آپ ہی کی طرف لوٹتے ہیں اور آپ ہی کے فیصلہ کے مطابق تمام اسلامی عالم میں عمل کیا جاتا ہے۔ پس آپ تو سلامتی کے شہزادے ہیں لیکن مسیح سلامتی کا شہزادہ کیونکر کہلا سکتا ہے؟ پھر کسی شخص کو اگر کسی چیز کا شہزادہ کہا جائے تو اس کے ایک یہ بھی معنی ہوتے ہیں کہ وہ چیز اُس میں کثرت سے پائی جاتی ہے۔ اُس کو نہ حکومت ملی نہ اُس نے عفو اور رأفت سے کام لیا۔ محض منہ سے کہہ دینا کہ اگر کوئی شخص تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تم اپنا دوسرا گال بھی اس کی طرف پھیر دو، اِس میں تو کوئی خاص فضیلت نہیں عمل اصل چیز ہے اور یہ عمل صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات سے ظاہر ہوا۔ کیسے کیسے مظالم تھے جو مکہ والوں نے آپ پر اور آپ کی جماعت پر کئے ۔ کتنے خون تھے جو آپ کے رشتہ داروں اور آپ کے اتباع کے اِن لوگوں نے بہائے ۔ شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم سر سے لے کر پیر تک گواہ تھا اُن مظالم کا جو آپ کے دشمنوں نے آپ کے خلاف روا رکھے کیونکہ کبھی آپ پر سنگباری کی گئی ، کبھی آپ پر تیر اندازی کی گئی ، کبھی آپ کے جسم کو اور ذرائع سے تکلیف پہنچانے کی کوشش کی گئی ، وطن سے آپ کو بے وطن ہونا پڑا اور آپ کے صحابہ کو بھی۔ پھر ماؤں نے بچوں کو چھوڑ دیا، خاوندوں نے بیویوں کو چھوڑ دیا، بھائیوں نے بھائیوں کو چھوڑ دیا اور مسلمان ایک مقہور اور متروک جماعت ہو کر رہ گئے۔ غریب اور کمزور مردوں کو دو اُونٹوں سے باندھ کر اور متضاد جہتوں کی طرف چلا کر چیر دیا گیا۔ عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مار کر اُنہیں مار دیا۔ غلاموں کو ننگا کر کے سخت پتھروں پر سے گھسیٹا۔ جلتی ہوئی ریت پر لٹا کر اُن کے سینوں پر ظالم کودے اور اصرار کیا کہ تم کہو خدا ایک نہیں بلکہ بت بھی خدا کے شریک ہیں ۔ جنگ میں مسلمان شہداء کی لاشیں چیر کر اُن کے جگر اور دل نکال کر باہر پھینک دیئے گئے ۔ اُن کے ناک اور کان کاٹ دیئے گئے ۔ غرض زندوں اور مُردوں ، مردوں اور عورتوں ، جوانوں اور بوڑھوں ہر ایک کو دُکھ دیا گیا۔ ہر ایک کی تذلیل کی گئی ، ہر ایک کے ساتھ خلافِ انسانیت مظالم کا ارتکاب کیا گیا ۔ یہ سب کچھ ہوا مگر جب خدا تعالیٰ کی نصرت نے آخر مسلمانوں کو فتح دی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اپنے دشمنوں کے سامنے صرف یہ اعلان کیا کہ لَا تَثۡرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ(12:93)۱۶۴؎ جب ہمیں خدا نے قوت اور طاقت دی ہے ہم اعلان کرتے ہیں کہ مکہ کے تمام لوگوں کو معاف کیا جاتا ہے اور اُن کے مظالم کی اُنہیں کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ یہی نہیں کہ اُن کو سزا نہیں دی گئی بلکہ اُن کے جذبات کا اتنا احترام کیا گیا کہ جب اسلامی لشکر مکہ میں داخل ہونے کے لئے بڑھ رہا تھا تو ایک اسلامی جرنیل نے یہ کہہ دیا کہ آج ہم زور سے مکہ میں داخل ہوں گے اور اُن مظالم کا بدلہ لیں گے جو مکہ والوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہؓ پر کئے تھے۔ اس پر آپؐ نے اُس جرنیل کو معزول

کر دیا اور فرمایا اِن باتوں سے مکہ والوں کی دل شکنی ہوتی ہے۔ کیا مسیح کی زندگی میں کوئی بھی ایسا واقعہ ہے؟ کیا مسیح کے حواریوں کی زندگی میں کوئی ایسا واقعہ ہے؟ کیا ساری مسیحی تاریخ میں کوئی ایسا واقعہ ہے؟ عیسائی بھی شروع میں مظلوم تھے۔ عیسائی بھی شروع میں مغلوب تھے۔ مگر جب اُنہیں حکومت ملی کیا اُنہوں نے اپنے دشمنوں اور اپنے مخالفوں کے ساتھ نرمی اور رحم کا برتاؤ کیا؟ روما کی تاریخ نکال کر دیکھو اُس کے اوراق اُن مظالم کی یاد سے سرخ ہو رہے ہیں جو عیسائیوں نے فتح اور غلبہ کے وقت اپنے دشمنوں پر ڈھائے۔ پھر مسیح سلامتی کا شہزادہ کس طرح ہوا؟ اُسے تو کسی کو سلامتی دینے کی توفیق ہی نہیں ملی۔ جب اُس کے اتباع کو توفیق ملی تو اُنہوں نے سلامتی نہیں دی انہوں نے ہلاکت دی۔ اُنہوں نے تباہی دی، اُنہوں نے بربادی دی مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اپنی زندگی میں خدا تعالیٰ نے فتح اور غلبہ بخشا اور آپ نے اُن وسیع مظالم کے باوجود جن کے مقابلہ میں وہ مظالم جو یہود نے مسیح پر کئے تھے بالکل زرد اور بے حقیقت ہو جاتے ہیں رحم وعفو اور چشم پوشی سے کام لیا۔ پس آپ ہی سلامتی کے شہزادے تھے اور آپ ہی یسعیاہ کی پیشگوئی کے مصداق تھے۔

ساتویں علامت اُس موعود کی یہ لکھی ہے کہ:۔

’’اُس کی سلطنت کے اقبال اور سلامتی کی کچھ انتہاء نہ ہوگی‘‘۔

میں بتا چکا ہوں کہ مسیح کو تو حکومت ملی ہی نہیں۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے جن کو حکومت ملی اور جن کے صحابہؓ کی زندگیوں میں ہی ساری دنیا پر اسلام قابض ہو گیا اور اس انصاف کے ساتھ انہوں نے حکومت کی کہ نہیں کہہ سکتے اُن کا اقبال بڑا تھا یا اُن کی سلامتی بڑی تھی۔

آٹھویں علامت یہ لکھی ہے کہ:

’’وہ داؤد کے تخت پر اور اُس کی مملکت پر آج سے لے کر ابد تک بندوبست کرے گا اور عدالت اور صداقت سے اُسے قیام بخشے گا‘‘۔

مسیح، داؤد کے تخت پر کب بیٹھے تھے؟ شاید کہا جائے کہ اُن کی بعثت کے تین سَو سال کے بعد جب رومن حکومت عیسائیت میں داخل ہو گئی تو مسیح کو داؤد کے تخت پر حکومت مل گئی۔ لیکن یہ معنی درست نہیں ہو سکتے کیونکہ وہاں تو لکھا ہے کہ اُسے وہ حکومت ابد تک ملے گی لیکن مسیح کی

حکومت تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ختم ہو گئی اور مسلمانوں کا قبضہ اُس ملک پر ہو گیا۔ چنانچہ تیرہ سو سال سے مسلمان اس ملک پر قابض ہیں۔ کیا تین سو سال کی حکومت ابد کہلائے گی یا تیرہ سو سال والی حکومت ابد کہلائے گی؟ یہ صاف بات ہے کہ تیرہ سو سال والی حکومت ہی ابد کہلائے گی۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ اِس وقت انگریزی حکومت جو عیسائی حکومت ہے اِس ملک پر قابض ہے۔ لیکن خدا کی قدرت ہے کہ انگریزوں کو اس ملک پر بادشاہ ہونے کے لحاظ سے حکومت حاصل نہیں بلکہ منڈیٹری پاور (MANDATORY POWER) ہونے کے لحاظ سے تصرف حاصل ہے اور عارضی طور پر تھوڑی مدت کے لئے کسی کا درمیان میں آجانا یہ پیشگوئی کے خلاف ہوتا بھی نہیں۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بادشاہت کیسی عدالت اور انصاف والی تھی، اِس کا ثبوت اِس بات سے ملتا ہے کہ جب حضرت عمرؓ کے زمانہ میں عارضی طور پر اسلامی لشکر رومی لشکر کی کثرت اور اس کے دباؤ کی وجہ سے پیچھے ہٹا اور مسلمانوں نے بیت المقدس اور اُس کے اردگرد کے علاقوں والوں کو بلا کر اُن کے ٹیکس یہ کہتے ہوئے واپس کئے کہ ٹیکس امن اور حفاظت کی غرض سے ہوتے ہیں چونکہ ہم لوگ اس ملک کو اب چھوڑ رہے ہیں اور ہم آپ کو نہ امن دے سکتے ہیں نہ آپ کی حفاظت کر سکتے ہیں اِس لئے آپ کا روپیہ آپ کو واپس کیا جاتا ہے ہمارا اِس روپیہ پر کوئی حق نہیں تو تاریخیں بتاتی ہیں کہ اِس بات کو سن کر یروشلم کے باشندے ایسے متاثر ہوئے کہ باوجود اس کے کہ اُن کے ہم مذہبوں کی فوجیں آگے بڑھ رہی تھیں اور اُن کے مذہب کے مخالف لوگ اُن کے ملک کو خالی کر رہے تھے یروشلم کے باشندے روتے ہوئے شہر سے باہر اسلامی لشکر کو چھوڑنے کے لئے آئے اور ساتھ دعائیں کرتے جاتے تھے کہ خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو جلد واپس لائے کہ ہم نے آپ جیسا انصاف اِس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا اِس بات کا کہ ”وہ داؤد کے تخت پر اور اُس کی مملکت پر آج سے لے کر ابد تک بندوبست کرے گا اور عدالت اور صداقت سے اُسے قیام بخشے گا۔“۔

(ھ) اِسی طرح لکھا ہے:۔

”اور خداوند اپنے تئیں مصریوں پر ظاہر کرے گا اور اُس دن مصری خداوند کو پہچانیں گے اور ذبیحے اور ہدیے گزاریں گے۔ ہاں وے خداوند کے لئے منتیں مانیں گے اور ادا کریں گے خداوند تو مصریوں کو بہت دن تک مارا کرے گا، لیکن وہ انہیں چنگا بھی کرے گا اور وے خداوند کی طرف رجوع ہوں گے اور وہ اُن کی دعا سنے گا اور انہیں صحت بخشے گا۔ اُس روز سے مصر سے اسور تک ایک شاہراہ ہوگی اور اسوری مصر میں آویں گے اور مصری اسور کو جائیں گے اور مصری اسوریوں کے ساتھ مل کر عبادت کریں گے اُس روز اسرائیل مصر اور اسور کا میراث ہوگا اور زمین کے درمیان برکت کا باعث ٹھہرے گا کہ رَبُّ الافواج اُسے برکت بخشے گا اور فرمادے گا۔ مبارک ہو مصر میری اُمت۔ اسور میرے ہاتھ کی صنعت اور اسرائیل میری میراث‘۔۱۶۴

اِس پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے آپ کو مصریوں پر ظاہر کرے گا اور مصری خدا تعالیٰ کو پہچانیں گے اور وہ ذبیحے اور ہدیے گزاریں گے اور مصر اور شام آپس میں ملا دیئے جائیں گے۔ شامی مصر میں آجائیں گے اور مصری شام میں جائیں گے اور مصری شامیوں کے ساتھ مل کر عبادت کریں گے۔ یہ پیشگوئی بھی بانی اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے پوری ہوئی۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ کچھ عرصہ کے لئے مصری عیسائی ہو گئے تھے لیکن وہ نہایت ہی قلیل عرصہ تھا۔ اِس کے بعد تیرہ سو سال سے مصر مسلمان چلا آتا ہے۔ یسعیاہ کی زبان سے خدا کہتا ہے ”مبارک ہو مصر میری اُمت“۔ مصریوں سے پوچھو کہ وہ کس کی اُمت ہیں؟ آیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یا مسیح کی؟

پھر لکھا ہے ”مبارک ہو اسور میرے ہاتھ کی صنعت“۔ اسوریوں سے بھی پوچھ کر دیکھ لو کہ وہ آیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہیں یا مسیح کی اُمت؟

پھر لکھا ہے ”مبارک ہو اسرائیل میری میراث“۔

اِن علاقوں میں جا کر دیکھ لو اسرائیل کا علاقہ فلسطین کس کی میراث ہے؟ اِس وقت زور دے کر وہاں یہود کو داخل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر یہودی تو مسیح کی اُمت نہیں۔ اِس پیشگوئی کو تو مسیح پر چسپاں کیا جا رہا ہے اور مسیحی اب بھی وہاں قلیل ہیں اور مسلمان اب بھی زیادہ ہیں۔ اگر یہودی اِس ملک پر قابض بھی ہو گئے تو یہ کہا جائے گا کہ عارضی طور پر مسلمانوں کے غلبہ میں اختلال

واقع ہو گیا، مسیح کو تو پھر بھی کچھ فائدہ نہیں ہونے کا۔ خواہ مسلمان فلسطین پر حاکم رہیں خواہ یہودی، مسیح کا دامن تو خالی ہی رہتا ہے اور وہ اِس پیشگوئی کا مستحق کسی صورت میں بھی نہیں ٹھہرتا۔

پھر اِس پیشگوئی میں لکھا تھا کہ اسور اور مصر تک ایک شاہراہ ہو گی یعنی یہ ملک آپس میں مل جائیں گے۔ اسوری مصر میں آئیں گے اور مصری اسور کو جائیں گے اور مصری اسوریوں کے ساتھ مل کر عبادت کریں گے۔ کیا یہ مسیح کے ذریعہ سے ہوا؟ عیسائی بے شک مصر پر قابض ہوئے اور اسور پر بھی قابض ہوئے اور ان ملکوں کی کثرت ایک وقت میں عیسائی بھی ہو گئی۔ لیکن کیا کبھی بھی وہ زمانہ آیا ہے جب مذکورہ بالا آیتوں کا مضمون مصر اور اسور کی حالت پر صادق آیا ہو؟ ان آیتوں سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں ملکوں کی قومیت ایک ہو جائے گی اور اُن کی زبان ایک ہو جائے گی۔ مل کر عبادت کرنے کے بھی یہی معنی ہیں اور ایک دوسرے کے ملک میں آنے جانے کا بھی یہی مطلب ہے۔ ورنہ ہر ملک کے لوگ دوسرے ملک میں آیا جایا ہی کرتے ہیں۔ پیشگوئی کا مفہوم یہی ہے کہ وہ اتنے متحد ہو جائیں گے کہ اُن کی ایک قوم ہو جائے گی۔ مگر دنیا جانتی ہے کہ عیسائی حکومت کے زمانہ میں کبھی بھی مصر اور اسور ایک نہیں ہوئے۔ روم کے ماتحت بے شک یہ دونوں ملک تھے لیکن ہمیشہ مصر کا انتظام اور رنگ کا رہا اور اسور کا انتظام اور رنگ کا رہا۔ مصر میں ایک نیم آزاد بادشاہ حکومت کرتا تھا اور اسور میں ایک گورنر رہتا تھا۔ بلکہ مصر کا کلیسیا اسور کے کلیسیا سے بالکل مختلف تھا۔ مصر میں عیسائیت نے اسکندریہ کے گرجا کے ماتحت ایک نئی شکل اختیار کر لی تھی اور وہ فلسطین اور شامی گرجا کی شکل سے بالکل مختلف تھی۔ پھر مصریوں کی عبادت قبطی زبان میں ہوتی تھی اور شامیوں کی عبادت بگڑی ہوئی مخلوط عبرانی اور یونانی زبان میں۔ ہاں اسلامی زمانہ میں یہ پیشگوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔ صدیوں تک شام اور مصر ایک حکومت رہے دونوں ملکوں کی زبان ایک ہو گئی اور اب تک ایک ہے۔ جس کی وجہ سے دونوں کی عبادت اکٹھی ہوتی تھی اور اکٹھی ہوتی ہے۔ دونوں ملکوں میں ایک قوم ہونے کا احساس پیدا ہو گیا۔ شامی علماء مصر میں جاتے تھے اور وہ مصری علماء کی طرح ہی معزز گنے جاتے تھے اور مصری علماء شام میں آتے تھے اور وہ شامی علماء کی طرح ہی معزز گنے جاتے تھے۔ اس زمانہ میں بھی کہ یورپین سیاست نے اسلامی ممالک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے عرب لیگ میں

مصر، شام اور فلسطین دوش بدوش مل کر کام کر رہے ہیں۔ پس یہ پیشگوئی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے پوری ہوئی اور یہ پیشگوئی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کی قوم کے متعلق ہی تھی۔ مسیح اور کلیسیا کی طرف اِس کو منسوب کرنا صریح ظلم ہے۔

(و) پھر یسعیاہ میں لکھا ہے:۔ ’’تُو ایک نئے نام سے کہلایا جائے گا جو خداوند کا منہ تجھے رکھ دے گا‘‘۔۱۶۵؎

اسی طرح یسعیاہ باب ۶۵ میں لکھا ہے:۔ ’’اور تم اپنا نام اپنے پیچھے چھوڑو گے جو میرے برگزیدوں پر لعنت کا باعث ہوگا کیونکہ خداوند یہوواہ تم کو قتل کرے گا اور اپنے بندوں کو دوسرے نام سے بُلائے گا‘‘۔۱۶۶؎

اِس پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ ایک نیا سلسلہ ایک نئے نام سے جاری کیا جائے گا اور اُس نئے نام کو یہ خصوصیت حاصل ہوگی کہ وہ نیا نام اس سلسلہ کے لوگ خود نہیں رکھیں گے بلکہ خدا تعالیٰ اپنے منہ سے اُن کا وہ نام تجویز کرے گا۔ اِس پیشگوئی کو بھی بائبل نویسوں نے کلیسیا پر لگایا ہے حالانکہ مسیحیوں کو کوئی نام خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ملا۔ ہاں اپنے طور پر مختلف مسیحی فرقوں نے اپنے اپنے نام رکھ لئے ہیں۔ ساری دنیا میں صرف ایک ہی قوم ہے جس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے نام ملا ہے اور وہ مسلمان ہیں چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہُوَ سَمّٰٮکُمُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ۬ۙ مِنۡ قَبۡلُ وَفِیۡ ہٰذَا(22:79)۱۶۷؎خدا تعالیٰ نے ہی تم لوگوں کا نام رکھا ہے پہلے انبیاء کی پیشگوئیوں میں بھی اور اب اس قرآن کریم کے ذریعہ سے بھی۔ دیکھو کس طرح یسعیاہ نبی کی پیشگوئی کی طرف صاف اشارہ کیا گیا ہے کہ ہم نے پہلے سے ہی بتا دیا تھا کہ ہم تمہارا نام خود رکھیں گے۔ چنانچہ اب ہم نے خود سلامتی کے شہزادہ کی پیشگوئی کے مطابق تمہارا نام مسلم رکھا ہے۔ یہ پیشگوئی نہایت ہی عجیب اور لطیف ہے۔ تمام دنیا کی تاریخ اِس بات پر شاہد ہے کہ کسی نبی نے اِس بات کا دعویٰ نہیں کیا کہ اُس کی جماعت کا نام الہامی طور پر خدا تعالیٰ نے رکھا ہے۔ لیکن یسعیاہ کہتا ہے کہ پہلے دستوروں کے خلاف ایک نبی آئے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کی جماعت کا نام خاص الہام سے رکھے گا۔

چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اعلان فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے میری اُمت کا نام مسلم اور میرے مذہب کا نام اِسلام رکھا ہے۔

چھٹی پیشگوئی

دانیال نبی کی کتاب کے دوسرے باب میں ایک خواب لکھی ہے جو نبوکدنضر بادشاہ نے دیکھی تھی۔ لیکن وہ اُسے دیکھنے کے بعد بھول گیا۔ تب اُس نے اپنے وقت کے حکیموں سے خواب اور اُس کی تعبیر دریافت کی۔ باقی لوگ تو نہ بتا سکے دانیال نے خدا تعالیٰ سے دعا کر کے وہ خواب معلوم کر لی اور بادشاہ کے سامنے بیان کی وہ خواب یہ تھی۔

’’تُو نے اے بادشاہ! نظر کی تھی اور دیکھ ایک بڑی مورت تھی۔ وہ بڑی مورت جس کی رونق بےنہایت تھی تیرے سامنے کھڑی ہوئی اور اُس کی صورت ہیبت ناک تھی۔ اُس مورت کا سر خالص سونے کا تھا۔ اُس کا سینہ اور اُس کے بازو چاندی کے۔ اُس کا شکم اور رانیں تانبے کی تھیں۔ اُس کی ٹانگیں لوہے کی اور اُس کے پاؤں کچھ لوہے کے اور کچھ مٹی کے تھے اور تُو اُسے دیکھتا رہا یہاں تک کہ ایک پتھر بغیر اس کے کوئی ہاتھ سے کاٹ کے نکالے آپ سے آپ نکلا جو اس شکل کے پاؤں پر جو لوہے اور مٹی کے تھے لگا اور اُنہیں ٹکڑے ٹکڑے کیا۔ تب لوہا اور مٹی اور تانبا اور چاندی اور سونا ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور تابستانی کھلیان کی بھوسی کی مانند ہوئے اور ہوا اُنہیں اڑا لے گئی یہاں تک کہ اُن کا پتہ نہ ملا اور وہ پتھر جس نے اُس مورت کو مارا ایک بڑا پہاڑ بن گیا اور تمام زمین کو بھر دیا‘‘۔۱۶۸؎

اس کی تعبیر دانیال نبی نے جو کی وہ یہ ہے:۔

’’تُو اے بادشاہ! بادشاہوں کا بادشاہ ہے اس لئے کہ آسمان کے خدا نے تجھے ایک بادشاہت اور توانائی اور قوت اور شوکت بخشی ہے اور جہاں کہیں بنی آدم سکونت کرتے ہیں اُس نے میدان کے چوپائے اور ہوا کے پرندے تیرے قابو میں کر دیئے اور تجھے اُن سبھوں کا حاکم کیا۔ تُو ہی وہ سونے کا سر ہے اور تیرے بعد ایک اور سلطنت برپا ہو گی جو تجھ سے چھوٹی ہو گی اور اُس کے بعد ایک اور سلطنت تانبے کی جو تمام زمین پر حکومت کرے گی اور چوتھی سلطنت لوہے کی مانند مضبوط ہو گی اور جس طرح کہ لوہا توڑ ڈالتا ہے اور سب چیزوں پر غالب ہوتا ہے ہاں لوہے کی طرح سے جو سب چیزوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے اُس ہی طرح وہ ٹکڑے ٹکڑے کرے گی اور کچل ڈالے گی اور جو کہ تُو نے دیکھا کہ اُس کے پاؤں اور اُنگلیاں کچھ تو کمہار کی مٹی کی اور کچھ لوہے کی تھیں تو اس سلطنت میں تفرقہ ہوگا۔ مگر جیسا کہ تُو نے دیکھا کہ اس میں لوہا گلادے۶۹؎سے ملا ہوا تھا۔ سو لوہے کی توانائی اُس میں ہوگی اور جیسا کہ پاؤں کی اُنگلیاں کچھ لوہے کی اور کچھ مٹی کی تھیں سو وہ سلطنت کچھ قوی کچھ ضعیف ہوگی اور جیسا تُو نے دیکھا کہ لوہا گلاوے سے ملا ہوا ہے وے اپنے انسان کی نسل سے ملاویں گے لیکن جیسا لوہا مٹی سے میل نہیں کھاتا تیسا وے باہم میل نہ کھاویں گے اور اُن بادشاہوں کے ایام میں آسمان کا خدا ایک سلطنت برپا کرے گا جو تا ابد نیست نہ ہووے گی اور وہ سلطنت دوسری قوم کے قبضہ میں نہ پڑے گی وہ اُن سب مملکتوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور نیست کرے گی اور وہی تا ابد قائم رہے گی جیسا کہ تُو نے دیکھا کہ وہ پتھر بغیر اس کے کہ کوئی ہاتھ سے اُس کو پہاڑ سے کاٹ نکالے آپ سے آپ نکلا اور اُس نے لوہے اور تانبے اور مٹی اور چاندی اور سونے کو ٹکڑے ٹکڑے کیا۔ خدا تعالیٰ نے بادشاہ کو وہ کچھ دکھایا جو آگے کو ہونے والا ہے اور یہ خواب یقینی ہے اور اُس کی تعبیر یقینی،،۔۷۰؎

اِس تعبیر میں خود حضرت دانیال نے سونے کے سر سے بابل کا بادشاہ مراد لیا ہے۔ چاندی کے سینہ اور چاندی کے بازو سے مراد فارس اور مادہ کی حکومت تھی جو بابل کی بادشاہت کے بعد آئی۔ تانبے کی رانوں سے مراد سکندر کی حکومت تھی جو اُس کے بعد دنیا پر غالب ہوا۔ اور لوہے کی ٹانگوں سے مراد روما کی حکومت تھی جو ایرانی حکومت کے تنزل کے وقت دنیا میں طاقتور ہوئی۔ اِس آخری حکومت کے متعلق لکھا ہے ’’اُس کے پاؤں کچھ لوہے اور کچھ مٹی کے تھے‘‘۔ جس کی تعبیر یہ تھی کہ یہ حکومت ایشیا سے یورپ میں پھیل جائے گی۔ لوہے کی ٹانگوں سے مراد یوروپین حکومت ہے کہ وہ بوجہ ایک قوم اور ایک مذہب ہونے کے زیادہ مضبوط تھی لیکن پاؤں

مٹی اور لوہے کے مشترک بنے ہوئے تھے۔ لیکن وہ یورپین قوم بعض مشرقی اقوام کو فتح کر کے ایک شہنشاہیت کی صورت اختیار کرلے گی اور جیسا کہ شہنشاہیتوں کا قاعدہ ہے وہ اپنی وسعت اور سامانوں کی فراہمی کے لحاظ سے قوی ہوتی ہیں لیکن غیر قوموں کے اشتراک کی وجہ سے اُن میں ضعف بھی پیدا ہو جاتا ہے وہ حکومت اپنے آخری زمانہ میں بوجہ غیر قوموں کی شمولیت کے کمزوری کی طرف مائل ہو جائے گی۔ اِس کے بعد لکھا ہے:۔

’’ایک پتھر بغیر اِس کے کوئی ہاتھ سے کاٹ کے نکالے آپ سے آپ نکلا جو اُس شکل کے پاؤں پر جو لوہے اور مٹی کے تھے لگا اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کیا تب لوہا اور مٹی اور تانبا اور چاندی اور سونا ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور تابستانی کھلیان کی بھوسی کے مانند ہوئے اور ہوا انہیں اڑا لے گئی یہاں تک کہ اُن کا پتہ نہ ملا اور وہ پتھر جس نے اُس مورت کو مارا ایک بڑا پہاڑ بن گیا اور تمام زمین کو بھر دیا‘‘۔

اِن الفاظ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اتباع کی خبر دی گئی ہے۔ آپ کی جماعت کا ٹکراؤ پہلے قیصرِ روما سے اور پھر ایران کی حکومت سے ہوا۔ اور جب قیصرِ روما سے آپ کی جماعت کا ٹکراؤ ہوا اُس وقت وہ سکندر کی وراثت پر بھی قابض تھا اور روما کی وراثت کا بھی وارث تھا اور جب آپ کا ٹکراؤ ایرانی حکومت سے ہوا تو وہ بابل اور فارس اور میدیا دونوں حکومتوں کی قائمقام تھی۔ جب آپ کے صحابہؓ سے ٹکرانے کی وجہ سے یہ دونوں حکومتیں تباہ ہوئیں تو دانیال کے قول کے مطابق لوہا اور مٹی اور تانبا اور چاندی اور سونا ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور تابستانی کھلیان کی بھوسی کی مانند ہو گئے۔ خواب کی ترتیب اور دانیال کی کی ہوئی تعبیر دونوں ہی اِس مضمون کی تائید کرتی ہیں۔ اِس میں کیا شبہ ہے کہ بابل کی جگہ فارس اور میدیا نے لی اور فارس اور میدیا کا زور سکندر نے توڑا اور سکندر کی حکومت کو رومی حکومت کھا گئی جس نے اپنے مشرقی مرکز میں بیٹھ کر ایک زبردست یورپین ایشیائی شہنشاہیت قائم کی۔ اِس شہنشاہیت کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ہی توڑا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ایک لشکر لے کر قیصر کی سرحدوں کی طرف تشریف لے گئے تھے لیکن یہ معلوم کر کے کہ قیصر کی فوجوں کی عرب پر حملہ آور ہونے کی خبر قبل از وقت تھی واپس تشریف لے آئے۔ مگر اِس کے بعد رومی حکومت

کی سرحدوں سے برابر چھیڑ چھاڑ جاری رہی جس کے نتیجہ میں خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر تیار کر کے اس طرف بھجوایا اور آخر حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں رومیوں اور مسلمانوں میں باقاعدہ لڑائی چھڑ گئی اور حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایران اس لڑائی میں شامل ہو گیا اور آپ کی زندگی میں ہی دونوں حکومتیں تباہ اور برباد ہو گئیں اور دُور سرحدوں پر چھوٹی چھوٹی ریاستیں بن کر رہ گئیں۔ اِس پتھر کے متعلق یسعیاہ اور متی میں بھی خبریں دی گئی ہیں۔ چنانچہ یسعیاہ باب ۸ آیت ۱۴ میں ایک آنے والے موعود کے متعلق لکھا ہے:۔

’’وہ تمہارے لئے ایک مقدس ہو گا پر اسرائیل کے دونوں گھرانوں کے لئے ٹکر کا پتھر اور ٹھوکر کھانے کی چٹان۔‘‘

پھر آیت ۱۵ میں لکھا ہے:۔

’’بہت سے لوگ اُن سے ٹھوکر کھائیں گے اور گریں گے اور ٹوٹ جائیں گے۔‘‘

اور متی باب ۲۱ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ موعود جسے پتھر کہا گیا ہے مسیح نہیں بلکہ مسیح کے بعد آنے والا دوسرا شخص ہے:۔

اور آیت ۴۴ میں اس کی یہ شان بیان کی گئی ہے کہ:۔

’’جو اِس پتھر پر گرے گا چور ہو جائے گا پر جس پر وہ گرے گا اُسے پیس ڈالے گا۔‘‘

اِسی طرح زبور باب ۱۱۸ آیت ۲۲ میں لکھا ہے:

’’وہ پتھر جسے معماروں نے ردّ کیا کونے کا سرا ہو گیا۔‘‘۔

متی باب ۲۱ میں بھی اِس پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور لکھا ہے:

’’یسوع نے اُنہیں کہا کیا تم نے نوشتوں میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو راجگیروں نے ناپسند کیا وہی کونے کا سرا ہوا‘‘۔

جیسا کہ بتایا جا چکا ہے اس پیشگوئی کے متعلق خود حضرت مسیح کا فیصلہ ہے کہ یہ پیشگوئی اُن پر صادق نہیں آتی بلکہ اُس وجود پر صادق آتی ہے جو بیٹے کے صلیب پر لٹکا دینے کے بعد ظاہر ہو گا۔ عیسائی لوگ اپنی خوش فہمی سے اِس سے مراد کلیسیا لیتے ہیں حالانکہ کلیسیا اِس پیشگوئی سے مراد ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ دانیال نبی کی خواب میں رومی حکومت جو کلیسیا کی نمائندہ تھی تانبے کی رانیں اور لوہے کے پاؤں قرار دی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ یہ پتھر بت کے پاؤں پر گرے گا یعنی مشرقی رومی حکومت کے آخری حصہ سے اِس کا ٹکراؤ ہو گا اور وہ رومی حکومت یعنی کلیسیا کی نمائندہ حکومت کو توڑ دے گا۔ پس اس پیشگوئی سے مراد کلیسیا کسی صورت میں نہیں ہو سکتا۔ مسیح تو مشرقی رومی حکومت سے پہلے آیا تھا اور کلیسیا کا رومی حکومت کو توڑنا کیا معنی! رومی حکومت تو اس کی نمائندہ تھی جس نے رومی حکومت کو توڑ ا وہی اس پتھر والی پیشگوئی کا موعود تھا۔ پس یہ پیشگوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اتباع کے سوا اور کسی کے ذریعہ سے پوری نہیں ہوئی۔ پھر جیسا کہ پیشگوئی میں بتایا گیا تھا کہ وہ پتھر تمام دنیا میں پھیل جائے گا اور پہاڑ کی طرح بن جائے گا ویسا ہی ہوا۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ نے قیصر و کسریٰ کو شکست دی تو تمام دنیا پر اسلامی حکومت پھیل گئی اور وہ چھوٹا سا پتھر ایک پہاڑ بن کر دنیا پر چھا گیا اور ایک ہزار سال تک دنیا کی قسمت کا فیصلہ مسلمانوں کے ہاتھ میں دے دیا گیا۔

انجیل کی پیشگوئیاں

انگورستان کی تمثیل کی پیشگوئی

(الف) متی باب ۲۱ میں حضرت مسیحؑ فرماتے ہیں:۔ ’’یہ ایک اور تمثیل سنو۔ ایک گھر کا مالک تھا جس نے انگورستان لگایا اور اس کے چاروں طرف رَوندھا اور اُس کے بیچ میں کھود کے کولہوگاڑا اور بُرج بنایا اور باغبانوں کو سونپ کے آپ پردیس گیا اور جب میوہ کا موسم قریب آیا اُس نے اپنے نوکروں کو باغبانوں کے پاس بھیجا کہ اُس کا پھل لائیں ۔ پر اُن باغبانوں نے اُس کے نوکروں کو پکڑ کے ایک کو پیٹا اور ایک کو مار ڈالا اور ایک کو پتھراؤ کیا۔ پھر اُس نے اور نوکروں کو جو پہلوں سے بڑھ کر تھے بھیجا۔ اُنھوں نے اُن کے ساتھ بھی ویسا ہی کیا آخر اُس نے اپنے بیٹے کو یہ کہہ کر بھیجا کہ وہ میرے بیٹے سے دبیں گے لیکن باغبانوں نے بیٹے کو دیکھا تو آپس میں کہنے لگے کہ وارث یہی ہے آؤ اِسے مار ڈالیں کہ اس کی میراث ہماری ہو جائے اور اُسے پکڑ کے اور انگورستان کے باہر لے جا کر قتل کیا۔ جب انگورستان کا مالک آئے گا تو ان باغبانوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ وے اسے بولے اِن بدوں کو بُری طرح مار ڈالے گا اور انگورستان کو اور باغبانوں کو سونپے گا جو اُسے موسم پر میوہ پہنچادیں۔ یسوع نے اُنہیں کہا کیا تم نے نوشتوں میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو راجگیروں نے ناپسند کیا وہی کونے کا سرا ہوا۔ یہ خداوند کی طرف سے ہے اور ہماری نظروں میں عجیب۔ اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی اور ایک قوم کو جو اس کا میوہ لاوے دی جائے گی ۔ جو اُس پتھر پر گرے گا چور ہو جائے گا۔ جس پر وہ گرے گا اُسے پیس ڈالے گا۔ جب سردار کاہنوں اور فریسیوں نے اُس کی یہ تمثیلیں سنیں تو سمجھ گئے کہ ہمارے ہی حق میں کہتا ہے اور اُنھوں نے چاہا کہ اُسے پکڑ لیں پر عوام سے ڈرے کیونکہ وہ اُسے نبی جانتے تھے۔۱؎

اِس پیشگوئی کا پہلے بھی اشارۃً ذکر آتا رہا ہے۔ یہ تمثیل جو حضرت مسیحؑ نے بیان فرمائی ہے اِس میں آپ نے انبیاء کی تاریخ شروع سے لے کر آخر تک تمثیلاً دُہرادی ہے۔ جیسا کہ خود انجیل کی عبارت سے ظاہر ہے۔ تاکستان سے مراد دنیا ہے۔ باغبانوں سے مراد بنی نوع انسان ہیں اور مالک کے ٹیکس سے مراد نیکی اور تقویٰ اور خدا کی عبادت کرنا ہے۔ ملازموں سے مراد اللہ تعالیٰ کے انبیاء ہیں جو یکے بعد دیگرے دنیا میں آتے رہے۔ خدا کے بیٹے سے مراد خود مسیحؑ ہیں جو انبیاء کے ایک لمبے سلسلہ کے بعد دنیا میں ظاہر ہوئے مگر باغبانوں نے اُن کو صلیب پر لٹکا دیا اور اُن کے پیغام کی طرف توجہ نہ کی۔

اِس کے بعد لکھا ہے کہ وہ کونے کا پتھر ظاہر ہوگا جسے راجگیروں نے ناپسند کیا۔ یعنی اسمعیل کی اولاد جن کو بنو اسحاق حقارت کی نگاہ سے دیکھتے چلے آئے تھے اُن میں ایک نبی ظاہر ہوگا اور اُسی کو خاتم النبیین ہونے کا فخر حاصل ہوگا۔ اُس کے ذریعہ سے تمام شریعتیں ختم کر دی جائیں گی اور وہ آخری شریعت لانے والا ہوگا۔ بنو اسرائیل کو یہ بات عجیب معلوم ہوگی مگر جیسا کہ حضرت مسیحؑ کہتے ہیں باوجود بنو اسرائیل کے ناپسند کرنے کے خدا اُس اسماعیلی نبی کو بادشاہت دے گا اور خدا کی بادشاہت بنو اسرائیل سے لے لی جائے گی اور اُس کی جگہ یہ باغ اِس دوسری قوم کے سپرد کر دیا جائے گا یعنی اُمّتِ محمدیہ کے جو اُس کے میوے لاتی رہے گی یعنی خدا تعالیٰ کی عبادت کو دنیا میں قائم رکھے گی۔ ہر شخص جو انصاف کے ساتھ غور کرنے کا عادی ہو وہ معلوم کر سکتا ہے کہ حضرت مسیحؑ کے بعد ظاہر ہونے والے مدعیوں میں سے کوئی بھی سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس پیشگوئی کا مستحق نہیں ہوسکتا۔ آخر وہ کون تھا جس سے عیسائیت اور یہودیت ٹکرائی اور پاش پاش ہوگئی؟ وہ کون تھا جو اِس قوم کے ساتھ تعلق رکھتا تھا جسے بنو اسحاق حقارت کی نگاہ سے دیکھتے چلے آئے تھے؟ وہ کون تھا جس پر وہ گرا اُسے اُس نے چور چور کردیا اور جو اُس پر گرا وہ بھی چور چور ہو گیا۔ یقیناً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اِس پیشگوئی کا مصداق اور کوئی نہیں۔

(ب) متی باب ۲۳ آیت ۳۸، ۳۹ میں لکھا ہے:۔

’’دیکھو تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا جاتا ہے کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اب سے تم مجھے پھر نہ دیکھو گے۔ جب تک کہو گے مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر آتا ہے۔‘‘

اِن آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسیحؑ اپنی قوم سے عنقریب جدا ہونے والے ہیں اور ان کی قوم پھر اُنہیں نہ دیکھ سکے گی جب تک وہ یہ نہ کہے گی کہ مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر آتا ہے۔

اِس عبارت سے ظاہر ہے کہ مسیح کے چلے جانے کے بعد دو الٰہی مظہر ظاہر ہونے والے ہیں۔ ایک الٰہی ظہور، مسیح کے غائب ہو جانے کے بعد ہوگا اور وہ خدا تعالیٰ کا ظہور کہلائے گا۔ اِس ظہور کے بعد دوبارہ مسیح ظاہر ہوگا۔ لیکن جب تک خدا تعالیٰ کے نام پر ظاہر ہونے والا مظہر پیدا نہ ہو جائے اُس وقت تک مسیح دوبارہ دنیا میں نہیں آ سکتا اور لوگ اُسے نہیں دیکھ سکتے۔

میں پہلے یہ ثابت کر چکا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے نام پر ظاہر ہونے والے مظہر سے مراد مثیلِ موسیٰ ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مثیلِ موسیٰ تھے۔ واقعاتی شہادت کی رو سے بھی اور خود مسیح کی شہادت کی رو سے بھی۔ پس ’’مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر آتا ہے‘‘ سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہے اور اس پیشگوئی میں خبر دی گئی ہے کہ مسیح روحانی ارتقاء کا آخری نقطہ نہیں بلکہ آخری نقطہ وہ ہے جو خداوند کے نام پر آئے گا۔ اگر یہ کہا جائے کہ خداوند کے نام پر آنے والے مظہر کے بعد پھر مسیح کو دوبارہ آنا ہے اِس لئے مسیح ہی روحانیت کا آخری نقطہ قرار پائے گا۔ تو اِس کا جواب خود حضرت مسیحؑ نے ہی دے دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں۔ ’’اب سے تم مجھے پھر نہ دیکھو گے جب تک کہ کہو گے مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر آتا ہے‘‘۔ یعنی مسیح کو دوبارہ دیکھنا اُسی کے لئے ممکن ہوگا جو مثیلِ موسیٰ پر ایمان لا چکا ہوگا۔ مثیلِ موسیٰ کا منکر مسیح کو نہیں دیکھ سکے گا یعنی اس کو پہچان نہیں سکے گا۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیح اپنی دوبارہ آمد کے وقت مثیلِ موسیٰ کے اتباع میں سے ہوگا۔ پس وہی شخص مسیح پر ایمان لائے گا جو پہلے اُس کے متبوع پر ایمان لا چکا ہوگا۔ پس آنے والا مسیح کوئی علیحدہ وجود نہیں بلکہ مثیلِ موسیٰ کا ہی ظل اور اس کا بروز ہے اس لئے روحانی منازل کا آخری ارتقائی نقطہ مثیلِ موسیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔

(ج) انجیل میں لکھا ہے کہ:۔ ’’یوحنا کے پاس لوگ آئے اور اُس سے پوچھا کہ کیا وہ مسیح ہے؟ تو اس نے کہا میں مسیح نہیں ہوں۔ تب انہوں نے اُس سے پوچھا تو اور کون؟ کیا تُو الیاس ہے؟ اُس نے کہا میں نہیں ہوں۔ پھر انہوں نے اُس سے پوچھا آیا تُو وہ نبی ہے؟ اس نے جواب دیا نہیں۔‘‘۲؎

پھر آگے چل کر لکھا ہے:۔ ’’انہوں نے اُس سے سوال کیا اور کہا کہ اگر تو نہ مسیحؑ ہے نہ الیاس اور نہ وہ نبی۔ پس کیوں بپتسمہ دیتا ہے‘‘۔۳؎

ان آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح کے وقت یہود میں تین بشارتیں مشہور تھیں۔

اوّل: الیاس دوبارہ دنیا میں آنے والا ہے۔ دوم: مسیح پیدا ہونے والا ہے۔ سوم: وہ نبی یعنی موسیٰ کا موعود نبی آنے والا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تین وجود الگ الگ سمجھے جاتے تھے۔ الیاس الگ وجود تھا۔ مسیح الگ وجود تھا اور ’’وہ نبی‘‘ الگ وجود تھا۔

حضرت مسیح فرما چکے ہیں کہ یوحنا الیاس ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔ ’’الیاس جو آنے والا تھا یہی ہے چاہو تو قبول کرو‘‘۔۴؎ اور لوقا باب ۱ آیت ۱۷ سے بھی پتہ لگتا ہے کہ حضرت یوحنا کی پیدائش سے پہلے اُن کے والد حضرت زکریا سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ’’وہ اس سے آگے الیاس کی طبیعت اور قوت کے ساتھ چلے گا‘‘۔

پھر مرقس باب ۹ آیت ۱۳ میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح نے فرمایا:۔ ’’میں تم سے کہتا ہوں الیاس تو آ چکا‘‘۔

پھر متی باب ۱۷ آیت ۱۲ میں لکھا ہے:۔ ’’پر میں تم سے کہتا ہوں کہ الیاس تو آچکا۔ لیکن اُنہوں نے اُس کو نہیں پہچانا۔ بلکہ جو چاہا اُس کے ساتھ کیا۔‘‘

اِن تمام حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ الیاس سے مراد اناجیل کی تعلیم کے مطابق یوحنا تھے۔ مسیح کے متعلق تو فیصلہ ہی ہے کہ عہد نامہ جدید والا نبی یسوع ابن مریم ہی مسیح کے نام سے خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں ظاہر ہوا۔ اب رہ گیا ’’وہ نبی‘‘ نہ یوحنا وہ نبی ہوسکتا ہے نہ مسیح وہ نبی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ وہ نبی ایک علیحدہ وجود ہے۔ پھر یہ بھی ثابت ہے کہ وہ نبی مسیح کے زمانہ تک نہیں آیا تھا۔ پس معلوم ہوا کہ وہ موعود جسے بائبل ’’وہ نبی‘‘ کے نام سے یاد کرتی تھی اناجیل کی گواہی کے مطابق مسیح ناصری کے بعد نازل ہونے والا تھا اور مسیح ناصری کے بعد سوائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی شخص نہیں جس نے ’’وہ نبی‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا ہو اور جس پر وہ تمام علامتیں صادق آتی ہوں جو ’’وہ نبی‘‘ میں پائی جانے والی تھیں جیسا کہ اُوپر ثابت کیا جا چکا ہے۔

(د) اِسی طرح لوقا میں لکھا ہے:۔ ’’اور دیکھو میں اپنے باپ کے اُس موعود کو تم پر بھیجتا ہوں لیکن جب تک عالمِ بالا کی قوت سے ملبس نہ ہوں یروشلم میں ٹھہرو‘‘۔۵؎

اِس پیشگوئی سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے بعد ایک اَور موعود ظاہر ہونے والا تھا مگر وہ کون موعود ہے؟ سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آج تک کوئی شخص بھی تو اس پیشگوئی کے پورا کرنے کا مدعی نہیں ہوا۔

(ھ) یوحنا میں لکھا ہے:۔ ’’لیکن وہ تسلی دینے والا جو روحِ قدس ہے جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب چیزیں سکھلاوے گا اور سب باتیں جو کچھ کہ میں نے تمہیں کہی ہیں تمہیں یاد دلا دے گا‘‘۔۶؎

یہ پیشگوئی بھی سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی پر صادق نہیں آتی۔ بیشک اِس میں یہ لکھا ہے کہ باپ میرے نام سے اُسے بھیجے گا۔ لیکن نام سے بھیجنے کے یہی معنی ہیں کہ وہ میری تصدیق کرے گا۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح علیہ السلام کی تصدیق کی اور آپ کو راست باز قرار دیا اور اعلان فرمایا کہ جو لوگ آپ کو لعنتی کہتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔ مسیح خدا کا برگزیدہ اور اس کا رسول ہے۔ اس جگہ پر یہ صاف لکھا گیا ہے کہ ’’وہی تمہیں سب چیزیں سکھلاوے گا‘‘ اور استثناء باب ۱۸ کی پیشگوئی میں بھی یہی الفاظ ہیں کہ ’’جو کچھ میں اُسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا‘‘ ۷؎ پس اس پیشگوئی میں استثناء باب ۱۸ والے نبی ہی کی خبر دی گئی ہے اور یہ پیشگوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی صادق آتی ہے جیسا کہ اُوپر لکھا جا چکا ہے اور آپ ہی کا وجود دنیا کو تسلی دینے والا تھا۔

(و) یوحنا باب ۱۶ میں لکھا ہے:۔ ’’میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ تمہارے لئے میرا جانا ہی فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو تسلی دینے والا تم پاس نہ آئے گا۔ پر اگر میں جاؤں تو میں اُسے تم پاس بھیج دوں گا اور وہ آن کر دنیا کو گناہ سے اور راستی سے اور عدالت سے تقصیر وار ٹھہرائے گا۔ گناہ سے اِس لئے کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لائے۔ راستی سے اِس لئے کہ میں اپنے باپ پاس جاتا ہوں اور تم مجھے پھر نہ دیکھو گے۔ عدالت سے اِس لئے کہ اِس جہان کے سردار پر حکم کیا گیا ہے۔ میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں تمہیں کہوں پر اب تم اُن کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی روحِ حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتاوے گی اِس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی۔ لیکن جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی۔ وہ میری بزرگی کرے گی اِس لئے کہ وہ میری چیزوں سے پاوے گی اور تمہیں دکھاوے گی‘‘۔ ۸؎

ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسیح کے اُٹھ جانے یعنی مسیح کی وفات کے بعد وہ تسلی دینے والا موعود ظاہر ہو گا۔ وہ دنیا کو گناہ سے اور راستی سے اور عدالت سے تقصیر وار ٹھہرائے گا۔ گناہ سے اِس طرح کہ وہ یہود کو ملامت کرے گا کہ وہ کیوں مسیح پر ایمان نہیں لائے۔ راستی سے اِس طرح کہ وہ مسیح کی زندگی کا عقیدہ جو غلط طور پر عیسائیوں میں رائج ہو گیا تھا اِس کو دُور کرے گا اور دنیا پر ثابت کرے گا کہ دنیا پھر اس مسیح کو دوبارہ نہیں دیکھے گی جو بنی اسرائیل میں نازل ہوا تھا۔ عدالت سے اِس طرح کہ اُس کے ذریعہ شیطان کو کچل دیا جائے گا۔

پھر یہ بھی بتایا گیا تھا کہ وہ روحِ حق جب آئے گی تو وہ ساری سچائی کی راہیں بتائے گی۔ اور یہ بتایا گیا تھا کہ اُس کی الہامی کتاب میں کوئی انسانی کلام نہیں ہوگا بلکہ شروع سے لے کر آخر تک خدائی کلام ہی اُس میں ہوگا۔ پھر یہ بتایا گیا تھا کہ وہ آئندہ کی خبریں دے گا اور یہ بھی کہ وہ مسیح کی بزرگی بیان کرے گا اور جو عیب اُس پر لگائے گئے ہیں اُن کو دور کرے گا۔ یہ پیشگوئی واضح طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صادق آتی ہے۔ اِس میں کہا گیا ہے کہ جب تک مسیح آسمان پر نہ جائے ، وہ تسلی دلانے والا نہیں آ سکتا۔ اعمال باب ۳ آیت ۲۱ ، ۲۲ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کے آسمان پر جانے کے اور اِس کے دوبارہ نازل ہونے کے درمیان استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ کے موعود کو پیدا ہونا ہے پس تسلی دلانے والے سے مراد استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ والا موعود ہی ہے۔

پھر لکھا ہے کہ وہ موعود مسیح کے منکروں کو ملامت کرے گا۔ اِس سے مراد عیسائی تو ہو نہیں سکتے۔ کسی شخص کے متبع تو اُس کے دشمنوں کو ملامت کیا ہی کرتے ہیں۔ یہ علامت بتا رہی ہے کہ وہ موعود کسی غیر قوم کا ہوگا اور بظاہر اُس کو مسیح کے ساتھ کوئی نسلی یا ملّی تعلق نہیں ہوگا مگر اِس وجہ سے کہ وہ راستباز ہوگا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگا غیر قوم میں سے ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے آپ کو راستبازوں کی عزت کا نگران سمجھے گا اور اُن کی عزت کی حفاظت کرے گا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسماعیلی نبی تھے۔ عیسائی یا یہودی نہیں تھے۔ مگر باوجود اس کے دیکھو کس طرح اُنہوں نے مسیح کی عزت کی حفاظت کی۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں یہود کی نسبت فرماتا ہے۔ وَّقَوۡلِہِمۡ اِنَّا قَتَلۡنَا الۡمَسِیۡحَ عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ۚ وَمَا قَتَلُوۡہُ وَمَا صَلَبُوۡہُ وَلٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ وَاِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ ؕ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا وَاِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ وَیَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا فَبِظُلۡمٍ مِّنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمۡنَا عَلَیۡہِمۡ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتۡ لَہُمۡ(4:158-161)۹؎ یعنی یہود کے کفر کی وجہ سے اور اُن کے حضرت مریم پر نہایت گندہ الزام لگانے کی وجہ سے اور اُن کے اِس قول کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح ابن مریم کو قتل کر دیا ہے جو اللہ کا رسول تھا حالانکہ

انہوں نے نہ تو اُس کو تلوار سے مارا اور نہ صلیب پر لٹکا کر مارا۔ صرف اُن کو ایک شبہ پیدا ہو گیا کہ وہ صلیب پر مر گیا ہے مگر یہ صرف شبہ تھا اُنہیں ایسا یقین نہ تھا۔ چنانچہ خود اُن کی قوم میں یہ اختلاف چلا آیا ہے اور وہ اِس کے بارے میں کسی یقینی بات پر قائم نہیں۔ اُن کو اِس بات کا علم حاصل نہیں بلکہ صرف تخمینی طور پر یہ بات کہتے ہیں اور یہ قطعی بات ہے کہ وہ اُسے مارنے میں کامیاب نہیں ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اُس کو صلیب کی لعنتی موت سے بچا کر اپنے مقربوں میں جگہ دی۔ اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔ ہر اہل کتاب اپنی موت سے پہلے پہلے اس کے متعلق ایمان ظاہر کرتا رہے گا کہ وہ صلیب پر مر گیا ہے۔ لیکن قیامت کے دن مسیح اُن کے اوپر گواہی دے گا کہ انہوں نے اس پر یہ الزام لگا کر کہ وہ صلیب پر مر گیا ہے افتراء کیا ہے۔ پس یہودیوں کے ان ظلموں کی وجہ سے ہم نے اُن آسمانی نعمتوں سے ان کو محروم کر دیا جو پہلے اُن کا حق سمجھی جاتی تھیں۔ ان آیات میں کس طرح حضرت مسیح کے منکروں پر حجت تمام کی گئی ہے۔

دوسری بات یہ فرمائی گئی تھی کہ وہ مسیح کی وفات ثابت کرے گا اور دنیا کو بتا دے گا کہ دنیا پھر اسرائیلی مسیح کو نہیں دیکھے گی۔ یہ کام بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور اس غلط عقیدہ کو باطل کر کے رکھ دیا جو عیسائیوں میں پھیلا ہوا تھا کہ مسیح آسمان پر بیٹھا ہوا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَاِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِیۡ وَاُمِّیَ اِلٰہَیۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالَ سُبۡحٰنَکَ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَیۡسَ لِیۡ ٭ بِحَقٍّ ؕ؃ اِنۡ کُنۡتُ قُلۡتُہٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَہٗ ؕ تَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِیۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِکَ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ مَا قُلۡتُ لَہُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِیۡ بِہٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَرَبَّکُمۡ ۚ وَکُنۡتُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا مَّا دُمۡتُ فِیۡہِمۡ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَاَنۡتَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ اِنۡ تُعَذِّبۡہُمۡ فَاِنَّہُمۡ عِبَادُکَ ۚ وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَہُمۡ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ(5:117-119)

ان آیات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت مسیح سے سوال کرے گا کہ کیا تُو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو معبود بناؤ؟ حضرت مسیح فرمائیں گے اے ربّ! تیری ذات پاک ہے بھلا میں ایسا کر سکتا تھا کہ وہ بات کہوں جس کا تو نے مجھے حق نہیں دیا۔ اگر

میں نے ایسا کہا ہوتا تو تیرے علم سے یہ بات چھپ تو نہیں سکتی تھی۔ جو کچھ میرے جی میں ہے تُو جانتا ہے اور جس غرض سے تُو نے یہ سوال کیا ہے میں اُسے نہیں جانتا تُو سب غیبوں کو جاننے والا ہے۔ میں نے تو انہیں وہی بات کہی تھی جس کا تُو نے مجھے حکم دیا تھا۔ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی ربّ ہے اور تمہارا بھی ربّ ہے اور جب تک میں اُن میں رہا اُن کا نگران رہا۔ پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تُو اُن کا خود نگران تھا اور تو ہر چیز دیکھنے بھالنے والا ہے۔ اگر تُو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تُو انہیں معاف کر دے تو تُو بڑا غالب حکمت والا ہے۔

اِن آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور مسیح کی قوم نے اُس وقت اُن کو خدائی کا درجہ دے دیا جب وہ فوت ہو کر اس دنیا سے جا چکے تھے۔ اور جیسا کہ پہلی آیت میں بیان کیا جا چکا ہے دنیا کو یہ بتا دیا کہ مسیح کے آسمان پر جانے کے معنے محض یہ ہیں کہ وہ اپنے کام میں کامیاب ہو کر اور باعزت ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔

تیسری خبر یہ دی گئی تھی کہ شیطان اُس کے ذریعہ سے کچل دیا جائے گا۔ تمام نبیوں میں سے محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم ہی ایک ایسے نبی ہیں جنہوں نے شیطان کے کچلنے کے ذرائع کو اختیار کیا اور بنی نوع انسان کی پاکیزگی کے لئے صحیح سامان بہم پہنچائے۔ مگر اس کی تفصیل کا ابھی وقت نہیں۔ اس کی تفصیل قرآن شریف کی تفسیر سے ملے گی یا کسی قدر آئندہ اسی دیباچہ میں بیان کروں گا۔ مگر ایک موٹی بات تو ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ کسی نبی نے بھی شیطان سے پناہ مانگنے کی دُعا اپنی اُمت کو نہیں سکھائی سوائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ مسلمان اپنے کاموں میں اُٹھتے بیٹھتے شیطان اور اس کے حملوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ یہ تعلیم گذشتہ انبیاء میں سے کسی کے ہاں نہیں پائی جاتی۔ پس جس قوم کو شیطان کا سر کچلنے کی ہدایت دن اور رات ملتی رہی ہو اور جس کے دل شیطانی حکومت کے توڑنے کا احساس ہر وقت زندہ رکھا جاتا ہو ظاہر ہے کہ وہی شیطان کو مارنے کی اہل سمجھی جائے گی اور اسی قوم کا نبی شیطان کو مارنے والا کہلائے گا۔ یہ تو نہ کبھی پہلے ہوا ہے نہ آئندہ ہو گا کہ شیطانی وسائل اس دنیا سے بالکل مٹ جائیں کیونکہ اس کے بغیر تو ایمان کی قدر ہی کوئی باقی نہیں رہتی۔ شیطان کے مارنے کے معنے یہی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ نیکی دنیا میں قائم کی جائے۔ کلیسیا تو بہرحال اس کا مستحق نہیں ہو سکتا کیونکہ اُس نے تو شریعت کو لعنت قرار دے کر نیکی کا وجود ہی مشتبہ کر دیا ہے۔ اور جو یہ کہا گیا تھا کہ وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتائے گی۔ اِس کی تشریح میں استثناء باب ۱۸ کی پیشگوئی کے ماتحت کر آیا ہوں۔ آئندہ کی خبروں کے متعلق جو کہا گیا ہے اِس کیلئے صرف اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ جتنی آئندہ کی خبریں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہیں اور کسی نبی نے نہیں دیں۔ اِس پر کچھ روشنی آگے چل کر ڈالی جائے گی یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور یہ جو کہا گیا تھا کہ اُس کا کلام سارے کا سارا کلام اللہ ہو گا یہ بھی ایک ایسی پیشگوئی ہے جس کا اور کوئی مصداق نہیں ہوسکتا۔ عہدنامہ قدیم اور عہدنامہ جدید کی کوئی بھی تو کتاب نہیں جو انسانی کلام سے خالی ہو، لیکن قرآن کریم وہ کتاب ہے جس میں شروع سے لے کر آخر تک وہی بیان کیا گیا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اَوروں کا تو ذکر کیا خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا بھی ایک لفظ اِس کتاب میں نہیں۔ آخر میں یہ جو کہا گیا تھا کہ ”وہ میری بزرگی کرے گی“ سو یہ بزرگی کرنے والے نبی بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ آپ ہی ہیں جنہوں نے مسیح کو اِس الزام سے بچایا کہ وہ صلیبی موت سے مر کر نَعُوْذُ بِاللّٰہِ لعنتی ہوا۔ آپ ہی ہیں جنہوں نے حضرت مسیح کو اِس الزام سے بچایا کہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ خدائی کا دعویٰ کر کے وہ خدا تعالیٰ سے بیوفائی اور غداری کرتے تھے۔ آپ ہی ہیں جنہوں نے حضرت مسیحؑ کو یہودیوں کے اعتراضات سے نجات دلائی۔ پس اِس پیشگوئی کا مصداق آپؐ کے سوا کوئی نہیں۔

(ز) کتاب اعمال میں لکھا ہے:۔

’’ضرور ہے کہ آسمان اُسے (یعنی مسیح کو) لئے رہے اُس وقت تک کہ سب چیزیں جن کا ذکر خدا نے اپنے سب پاک نبیوں کی زبانی شروع سے کیا اپنی حالت پر آویں۔ کیونکہ موسیٰ نے باپ دادوں سے کہا کہ خداوند جو تمہارا خدا ہے تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لئے ایک نبی میری مانند اُٹھاوے گا۔ جو کچھ وہ تمہیں کہے اُس کی سب سنو اور ایسا ہی ہو گا کہ ہر نفس جو اُس نبی کی نہ سنے وہ قوم میں سے نیست کیا جائے گا۔ بلکہ سب نبیوں نے سموئیل سے لے کر پچھلوں تک جتنوں نے کلام کیا ان دنوں کی خبر دی‘‘۔۱۸۱؎

اِن آیات میں حضرت موسیٰ کی کتاب استثناء والی پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ آنے والا موعود جب تک ظاہر نہ ہو جائے اُس وقت تک مسیح کی دوبارہ آمد نہیں ہو گی ۔ استثناء کی پیشگوئی میں یہ خبر دی گئی تھی کہ وہ موعود نئی شریعت لائے گا۔ پس اِس پیشگوئی کو اعمال میں دُہرا کر اِس بات کا اقرار کیا گیا ہے کہ آنے والے موعود کے ذریعہ سے مسیح کی تعلیم منسوخ کر دی جائے گی ورنہ نئی شریعت کے تو کوئی معنی ہی نہیں ہو سکتے۔ ایک ہی وقت میں ایک قوم میں دو شریعتیں تو چل نہیں سکتیں ۔ پس یہ آنے والا موعود یقیناً ارتقاء کا آخری نقطہ ہے ۔ جو موسیٰ اور مسیح کی تعلیموں کو منسوخ کرنے والا تھا اور جس کو ایک نئی شریعت دنیا کے سامنے ظاہر کرنی تھی۔ اعمال نے ایک اَور روشنی بھی اِس موعود کے متعلق ڈالی ہے اور وہ یہ کہ سموئیل سے لے کر پچھلوں تک جتنے نبی گزرے ہیں اُنہوں نے اِس موعود کی خبر دی ہے۔ موسیٰ کی خبر کا تو پہلے ذکر آ چکا ہے اور داؤد نبی سموئیل کے بعد ہوئے ہیں۔ اِس لیے اعمال کی آیت ۲۴ کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ سے لے کر تمام انبیاء نے اس آنے والے کی خبر دی ہے۔ پس جب تک یہ نبی دنیا میں ظاہر نہ ہو اُس وقت تک دنیا کی روحانی تعمیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ اور میں پہلے ثابت کر آیا ہوں کہ یہ نبی بائبل کی بتائی ہوئی علامتوں کے مطابق سوائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کوئی شخص نہیں۔ حاصل یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی تمام انبیاء کا موعود تھا اور آپ کی شریعت ہی تمام انبیاء کی موعود تھی۔ پس یہ اعتراض کسی صورت میں درست نہیں ہو سکتا کہ تورات اور انجیل کی موجودگی یا اور کتابوں کی موجودگی میں قرآن کریم کی کیا ضرورت ہے۔ جب سابق نبیوں نے قرآن کریم کی ضرورت تسلیم کی ہے اور اس کی پیشگوئی کی ہے تو اُن کی اُمتوں کو کیا حق ہے کہ وہ اِس کی ضرورت سے انکار کریں بلکہ اُنہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگر وہ قرآن کریم کی ضرورت سے انکار کریں گی تو اُن کے نبیوں کی صداقت بھی مشتبہ ہو جائے گی اور اِن نبیوں کی پیشگوئیاں جھوٹی ثابت ہو کر وہ موسیٰ کے اس قول کی زد میں آ جائیں گی ”جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اُس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی اور اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے تو اس سے مت ڈر“۔۱۸۲؎

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

یہ مضمون بیان کرنے کے بعد کہ باوجود بہت سی الہامی کتب کے موجود ہونے کے آج سے تیرہ سو سال پہلے دنیا ایک اور شریعت اور ایک اور کتاب کی محتاج تھی میں اس مضمون کو اختصاراً لیتا ہوں کہ قرآن کریم کس شخص پر نازل ہوا اور کن حالات میں نازل ہوا۔ کیونکہ یہ مضمون بھی قرآن کریم کی اہمیت سمجھنے کے لئے نہایت ممد ہے۔ گو فلسفی مزاج لوگوں کے لئے تو اتنا دیکھنا ہی کافی ہوتا ہے کہ جو مضمون ان کے سامنے پیش کیا گیا ہے وہ کیا قیمت رکھتا ہے۔ چنانچہ عربی میں مَثَل ہے اُنْظُرْ اِلیٰ مَا قِیْلَ وَلَا تَنْظُرْ اِلیٰ مَنْ قَالَ۔ تُو یہ دیکھ کہ جو بات کہی گئی وہ کیا ہے اور اِس بات کی طرف نہ دیکھ کہ اس کا کہنے والا کون ہے۔ مگر دنیا کی اکثریت یہ بھی دیکھنا چاہتی ہے کہ کہنے والا کون ہے۔ اور خصوصاً الہامی کتابوں کے متعلق تو یہ نہایت ضروری ہوتا ہے کہ ان کتابوں کو پیش کرنے والوں کے یعنی اللہ تعالیٰ کے انبیاء کے متعلق بھی دنیا کو یہ معلوم ہو کہ اُن کی زندگی کیسی تھی کیونکہ مذہبی قانون صرف حکم سے منوایا نہیں جاتا ہے۔ حکومت نظام کے لئے قائم ہوتی ہے اور اس کا تعلق صرف ظاہر سے ہوتا ہے اس لئے کسی ملک کی آئینی تنظیم کے لئے اتنا ہی کافی ہوتا ہے کہ اُس میں ایک آئین پایا جائے۔ کیونکہ قانون کا منشاء صرف اس قدر ہوتا ہے کہ لوگوں کا ظاہر قانون کا پابند ہو جائے۔ چنانچہ عدالتوں میں کسی کی نیت بُری ثابت کرنا اُس کو مجرم نہیں بنا دیتا جب تک اُس نیت کے مطابق اُس کے فعل کا صدور بھی اُس سے ثابت نہ ہو مگر مذہبی دنیا میں ظاہر سے بھی زیادہ باطن پر زور دیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ظاہر کو ترک نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ظاہر، باطن کی علامت ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ظاہری اصلاح کے ساتھ باطنی اصلاح بھی ہو جائے مگر باطنی اصلاح کے ساتھ ظاہری اصلاح کا ہو جانا لازمی ہے۔ جس طرح یہ نہیں ہو سکتا کہ آگ ہو لیکن اس سے گرمی پیدا نہ ہو، اِسی طرح یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ دل میں صفائی ہو اور ظاہری اعمال اُس کے مطابق نہ ہوں۔ عارضی کوتاہی یا غفلت اور بات ہے

لیکن عام طور پر دل کی صفائی کے مطابق انسان کے اعمال صادر ہوتے ہیں اور دل کی صفائی کا بہترین ذریعہ اچھا نمونہ ہوتا ہے۔ قانون انسان کے دماغ پر اثر ڈالتا ہے لیکن اچھا نمونہ انسان کے دل پر اثر ڈالتا ہے۔ قانون کی حکومت فکر پر ہوتی ہے لیکن اچھے نمونہ کی حکومت جذبات پر ہوتی ہے۔ ہم صرف فکر کی اصلاح سے انسان کی روحانی اور جسمانی اصلاح نہیں کر سکتے۔ فکر کا نتیجہ غیر متواتر اعمال کے ذریعہ سے ظاہر ہوتا ہے لیکن جذبات کا نتیجہ متواتر اور مسلسل اعمال کے ذریعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ ایک عام خیر خواہ انسان جس رنگ میں اپنے گردو پیش کے لوگوں کی خیر خواہی کرتا ہے اُس کی خیر خواہی کا نمونہ اُس خیر خواہی کے نمونہ سے بالکل مختلف ہوتا ہے جو ماں اپنے بچہ کے متعلق دکھاتی ہے۔ اِس لئے کہ جس کا دماغ اخلاقی تعلیم سے متاثر ہوا ہے وہ اُس شخص کا مقابلہ نہیں کر سکتا جس کے جذبات اخلاقی تعلیم سے متاثر ہوں۔ ماں کی محبت اپنے بچہ سے اُس کے جذبات کی وجہ سے ہوتی ہے اور ایک فلاسفر کی محبت اپنے ہمسایوں سے دلائلِ عقلیہ کی بناء پر ہوتی ہے۔

انبیاء کے اعمال فکری جذباتی ہوتے ہیں اور لوگوں کے لئے نمونہ

جو اعمال دلائل کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں وہ متواتر اور مسلسل نہیں ہو سکتے کیونکہ بعض دفعہ انسان کی توجہ حقیقت کی طرف نہیں پھرتی۔ بعض دفعہ اُس کے ارادہ اور عمل کے درمیان ایک لمبی سوچ اور فکر حائل ہو جاتی ہے مگر جو جذبات کے ماتحت لوگوں سے کوئی کام کرتا ہے اُس کے کام فوری ہوتے ہیں اور مسلسل ہوتے ہیں۔ ماں کو اگر کوئی لاکھ دلیل دے کہ تُو اپنے بچہ کے لئے قربانی نہ کر جو کر رہی ہے تو وہ کبھی اُس کی بات نہیں مانے گی اور بچہ کی تکلیف کے متعلق وہ سوچنے نہیں بیٹھے گی۔ وہ اندھا دھند اور فوری طور پر اپنے بچہ کی خیر خواہی کے لئے وہ تدابیر اختیار کرنے کو آمادہ ہو جائے گی جو تدابیر اُس کے نزدیک اُس کے بچہ کے فائدہ کے لئے ضروری ہوں گی اور رات اور دن میں کوئی وقت بھی ایسا نہیں ہو گا جب اُس کا دماغ اپنے بچہ کی خیر خواہی سے خالی ہو۔ پس حقیقی اصلاح جبھی ہو سکتی ہے کہ اخلاقِ فاضلہ بنی نوع انسان کے جذبات کا حصہ بنا دیئے جائیں۔ وہ اخلاق کے مطالبات کو فکر کے بعد پورا نہ کریں بلکہ اخلاقی مطالبات کو اپنی ذات میں محسوس کرنے لگیں ۔ جذبات کو بعض لوگ بُرا کہتے ہیں لیکن جذبات بُرے ہی نہیں اچھے بھی ہوتے ہیں۔ جذبہ کے اصل معنی تو یہ ہیں کہ ارادہ اور عمل کے درمیان جو فکر کی لمبی دیوار کھڑی ہوتی ہے وہ چھوٹی کر دی جائے یا بالکل اڑا دی جائے تاکہ انسانی اعمال محدود ہو کر نہ رہ جائیں بلکہ جذبات کی وجہ سے وہ سینکڑوں گنے زیادہ ترقی کر جائیں۔ جو شخص خالی فکر سے کام لیتا ہے وہ بہت سا وقت سوچنے اور غور کرنے میں گزار دیتا ہے۔ لیکن جو شخص ایک دفعہ سوچ کر اور غور کر کے ایک سچائی کو معلوم کر لیتا ہے اور ایک نیکی کو پا لیتا ہے پھر وہ اُس سچائی اور نیکی کو اپنے دل کی طرف منتقل کر دیتا ہے اور اسے اپنے جذبات کا حصہ بنا دیتا ہے تو وہ اُس نیکی اور سچائی پر عمل کرنے میں اتنا تیز اور پھرتیلا ہوتا ہے کہ وہ شخص جو صرف فکر سے کام لینے کا عادی ہے اُس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتا۔ فکر سے کام لینے والا جتنی دیر میں ایک کام کرے گا جذبات سے کام لینے والا اُتنی دیر میں بیسیوں کام کر جائے گا اور ہم اس جذبات سے کام لینے والے شخص کو وحشی نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ جذبات کا غلام نہیں ہے بلکہ پہلے اُس نے فکر اور غور سے سچائیوں اور نیکیوں کو دریافت کیا اس کے بعد اُس نے اُن سچائیوں اور نیکیوں کو اپنے جذبات کا حصہ بنا لیا۔ پس ایسے شخص کا جذباتی عمل غیر ارادی نہیں ہوتا بلکہ ارادہ کے تابع ہوتا ہے۔ صرف اتنی بات ہے کہ یہ اُس کام کو جو ایک دفعہ فکر سے لے چکا ہے بار بار دُہرانا نہیں چاہتا اور ایک ایسا کام جو پہلے کیا جا چکا ہو اُس کو بغیر ضرورت دُہرانا عقلمندی تو نہیں بیوقوفی کی بات ہے۔ پس یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کی اصلاح اُس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک سچائیاں اور نیکیاں انسان کے جذبات کا جزو نہ بن جائیں۔ جب تک انسان صرف فکر کی اتباع کرے گا وہ دُبْدھا۱۸۳؎اور شک اور دیر کا شکار رہے گا۔ جب وہ سچائیوں اور نیکیوں کے اصول کو فکر اور غور سے معلوم کر کے اپنے جذبات کا حصہ بنا لے گا تو دُبْدھا اور شک اور دیر سے وہ محفوظ ہو جائے گا۔ وہ سچائیوں پر عمل کرے گا اور نیکیاں ظاہر کرے گا مگر بغیر تردّد کے، بغیر شبہ کے، بغیر دُبْدھا کے۔ اور یہ چیز جیسا کہ میں نے بتایا ہے بغیر اچھے نمونہ کے پیدا نہیں ہو سکتی۔ ہم عقلی دلیل سے اپنے دماغ کو تسلی دیتے ہیں۔ عقلی دلیل محبت کے جذبات کو نہیں اُبھارا کرتی۔ محبت کے جذبات کو قربانی اور ایثار کا نمونہ ہی اُبھارا کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی عبادت کے الفاظ کتنے ہی شاندار ہوں اُن سے وہ سوز و گداز پیدا نہیں ہو سکتا جو ایک انسان کو سوز و گداز سے عبادت کرتے ہوئے دیکھ کر پیدا ہوتا ہے۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ خالی نمونہ بھی ٹھوکر کا موجب ہو جاتا ہے کیونکہ جب تک فکر پاکیزہ نہ ہو جذبات رسم و رواج کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور رسم و رواج عقل اور دانائی کو قتل کر دینے والی چیزیں ہیں۔ پس ایک ہی وقت میں مدلل تعلیم کی بھی ضرورت ہے اور پاک نمونہ کی بھی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آسمانی کتابیں ہمیشہ نبیوں پر نازل ہوتی رہی ہیں۔ خالی کتاب کبھی آسمان سے نہیں پھینکی گئی۔ کتاب انسان کے دماغ کو نور بخشتی ہے اور نمونہ اُس کتاب کے مضمون کو انسان کے دل میں داخل کر دیتا ہے اور اُس کے جذبات کا حصہ بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن میدانوں میں خدا تعالیٰ کے انبیاء کامیاب ہوئے ہیں فلاسفر اُن میدانوں میں ہمیشہ ناکام ہوئے ہیں کیونکہ فلاسفر اپنے فلسفوں سے ہمیشہ لوگوں کے دماغوں کی اصلاح کی فکر کرتے ہیں مگر اپنے اچھے نمونہ سے اُن کے دلوں کی اصلاح نہیں کرتے۔ جبکہ انبیاء آسمانی کتابوں کے ذریعہ سے لوگوں کے دماغوں کو بھی نور بخشتے ہیں اور اپنے نمونہ کے ذریعہ سے اُن کے دلوں کو بھی پاک کرتے ہیں اور اُن کی ذات میں جو خدا تعالیٰ کے معجزات اور نشانات ظاہر ہوتے ہیں وہ لوگوں کے ایمان اور یقین کو بڑھانے کا موجب ہوتے ہیں۔ اِس اصل کو مد نظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں یہ ضروری ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے کچھ حالات بھی اِس موقع پر بیان کر دیئے جائیں۔

آنحضرت ﷺ کے حالاتِ زندگی

خدا تعالیٰ کا یہ ایک بہت بڑا نشان اور اسلام کی صداقت کا ایک عظیم الشان ثبوت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات جتنے ظاہر ہیں اور کسی نبی کی زندگی کے حالات اتنے ظاہر نہیں۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس تفصیل کے نتیجہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جتنے اعتراض ہوئے ہیں اتنے اعتراض اور کسی نبی کے وجود پر نہیں ہوئے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ان اعتراضوں کے حل ہو جانے کے بعد جس طرح شرح صدر اور جس اخلاص سے ایک انسان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے محبت کر سکتا ہے اور کسی انسان کی ذات سے اتنی محبت ہرگز نہیں کر سکتا۔ کیونکہ جن کی زندگیاں پوشیدہ ہوتی ہیں اُن

کی محبت میں رخنہ پڑ جانے کا احتمال ہمیشہ رہتا ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تو ایک کھلی کتاب تھی۔ دشمن کے اعتراضات حل ہونے کے بعد کوئی ایسا کونہ نہیں رہتا جس پر سے مڑنے کے بعد آپ کی زندگی کے متعلق ایک نیا زاویۂ نگاہ ہمارے سامنے آ سکتا ہو۔ نہ کوئی تہہ ایسی باقی رہتی ہے جس کے کھولنے کے بعد کسی اور قسم کی حقیقت ہم پر ظاہر ہوتی ہو۔ یہ امر ظاہر ہے کہ ایسے انسان کی زندگی کے حالات قرآن کریم کے دیباچہ میں ضمنی طور پر مختصراً بھی نہیں بیان کئے جا سکتے۔ صرف اُن کی طرف ایک خفیف سا اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ خفیف اشارہ بھی اِس سے بہتر رہے گا کہ میں اس مضمون کو ہی ترک کر دوں کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے آسمانی کتب کو صحیح معنوں میں لوگوں کے دماغوں میں راسخ کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اُس کے ساتھ اعلیٰ نمونہ بھی ہو اور سب سے اعلیٰ نمونہ وہی ہو سکتا ہے جس پر وہ کتاب نازل ہوئی ہو۔ یہ نقطہ باریک اور فلسفیانہ ہے اور بہت سے مذاہب نے تو اِس کی حقیقت کو سمجھا ہی نہیں۔ چنانچہ ہندو مذہب ویدوں کو پیش کرتا ہے مگر ویدوں کے لانے والے رشیوں اور منیوں کی تاریخ کے متعلق بالکل خاموش ہے۔ ہندو مذہب کے علماء اِس کی ضرورت کو آج تک بھی نہیں سمجھ سکے۔ اِسی طرح عیسائی اور یہودی علماء اور پادری بڑی بیباکی سے کہہ دیتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے فلاں نبی میں فلاں نقص تھا اور فلاں نبی میں فلاں نقص تھا۔ وہ یہ بات نہیں سمجھ سکتے کہ جس شخص کو خدا تعالیٰ نے اپنے کلام کے لئے چنا جب وہ کلام اُس کی اصلاح نہیں کر سکا تو کسی دوسرے کی اصلاح کیا کرے گا اور اگر وہ شخص ایسا ہی ناقابلِ اصلاح تھا تو خدا تعالیٰ نے اُسے چنا کیوں؟ کیا وجہ ہے کہ کسی اور کو نہیں چن لیا؟ آخر خدا تعالیٰ کے لئے کیا مجبوری تھی کہ وہ زبور کے لئے داؤد کو چنتا۔ وہ بنی اسرائیل میں سے کسی اور انسان کا انتخاب کر سکتا تھا۔ پس یہ دونوں باتیں غیر معقول ہیں۔ یہ خیال کر لینا کہ خدا تعالیٰ نے جس پر کلام نازل کیا وہ کلام اُس کی اصلاح نہیں کر سکا یا یہ خیال کر لینا کہ خدا تعالیٰ نے ایک ایسے شخص کو چن لیا جو نا قابلِ اصلاح تھا یہ دونوں باتیں عقل کے بالکل خلاف ہیں۔ مگر بہرحال مختلف مذاہب میں اپنے منبع سے دوری کی وجہ سے اِس قسم کے غلط خیالات پیدا ہو گئے ہیں۔ یا یوں کہو کہ انسانی دماغ کی ترقی کے کامل نہ ہونے کے سبب سے پرانے زمانہ میں اِن چیزوں کی اہمیت کو سمجھا ہی نہیں گیا۔ مگر اسلام میں شروع سے ہی اس امر کی اہمیت سمجھی گئی تھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہؓ تیرہ چودہ سال کی عمر میں آپ سے بیاہی گئیں اور کوئی سات سال کا عرصہ آپ کی صحبت میں رہیں۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو اُن کی عمر ۲۱ سال تھی اور وہ پڑھی لکھی بھی نہیں تھیں لیکن باوجود اس کے اُن پر یہ فلسفہ روشن تھا۔ ایک دفعہ آپ سے کسی نے سوال کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق تو کچھ فرمائیے تو آپ نے فرمایا كَانَ خُلُقُهُ خُلُقَهُ الْقُرْاٰنُ۱۸؎ یعنی آپ کے اخلاق کا پوچھتے ہو جو کچھ آپ کہا کرتے تھے اُنہی باتوں کا قرآن کریم میں حکم ہے اور قرآن کریم کی لفظی تعلیم آپ کے عمل سے جداگانہ نہیں ہے۔ ہر خلق جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اُس پر آپ کا عمل تھا اور ہر عمل جو آپ کرتے تھے اُسی کی قرآن کریم میں تعلیم ہے۔ یہ کیسی لطیف بات ہے۔ معلوم ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اتنے وسیع اور اتنے اعلیٰ تھے کہ ایک نوجوان لڑکی جو تعلیم یافتہ بھی نہیں تھی اُس کی توجہ کو بھی اس حد تک پھرانے میں کامیاب ہو گئے کہ ہندو، یہودی اور مسیحی فلسفی جس امر کی حقیقت کو نہ سمجھ سکے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس امر کی حقیقت کو پا گئیں اور ایک چھوٹے سے فقرہ میں آپ نے یہ لطیف فلسفہ بیان کر دیا کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ایک راستباز اور مخلص انسان دنیا کو ایک تعلیم دے اور پھر اُس پر عمل نہ کرے یا خود ایک نیکی پر عمل کرے اور دنیا سے اُسے چھپائے اس لئے تمہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق معلوم کرنے کے لئے کسی تاریخ کی ضرورت نہیں۔ وہ ایک راستباز اور مخلص انسان تھے جو کہتے تھے وہ کرتے تھے اور جو کرتے تھے وہ کہتے تھے۔ ہم نے اُن کو دیکھا اور قرآن کریم کو سمجھ لیا۔ تم جو بعد میں آئے ہو قرآن پڑھو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھ لو۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى اِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔

محمدﷺ کے ظہور کے وقت عرب کی حالت


بت پرستی

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس زمانہ میں پیدا ہوئے اُس زمانہ کے حالات کو بھی آپ کے حالات کا ایک حصہ ہی سمجھنا چاہئے کیونکہ اسی پس پردہ کو مدنظر رکھ کر آپ کی زندگی کے حالات کی حقیقت کو انسان اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔ آپ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور آپ کی پیدائش شمسی حساب سے اگست ۵۷۰ء میں بنتی ہے۔ آپ کی پیدائش پر آپ کا نام محمد رکھا گیا جس کے معنے تعریف کئے گئے کے ہیں۔ جب آپ پیدا ہوئے اُس وقت تمام کا تمام عرب سوائے چند مستثنیات کے مشرک تھا۔ یہ لوگ اپنے آپ کو ابراہیمؑ کی نسل میں سے قرار دیتے تھے اور یہ بھی مانتے تھے کہ ابراہیمؑ مشرک نہیں تھے لیکن اِس کے باوجود وہ شرک کرتے تھے اور دلیل یہ دیتے تھے کہ بعض انسان ترقی کرتے کرتے خدا تعالیٰ کے ایسے قریب ہو گئے ہیں کہ اُن کی شفاعت خدا تعالیٰ کی درگاہ میں ضرور قبول کی جاتی ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کا وجود بہت بلند شان والا ہے اُس تک پہنچنا ہر ایک انسان کا کام نہیں کامل انسان ہی اُس تک پہنچ سکتے ہیں اس لئے عام انسانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی وسیلہ بنائیں اور اس وسیلہ کے ذریعے سے خدا تعالیٰ کی رضامندی اور مدد حاصل کریں۔ اس عجیب و غریب عقیدہ کی رو سے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو موحّد مانتے ہوئے اپنے لئے شرک کا جواز بھی پیدا کر لیتے تھے۔ ابراہیمؑ بڑا پاکباز تھا۔ وہ خدا کے پاس براہِ راست پہنچ سکتا تھا مگر مکہ کے لوگ اس درجہ کے نہیں تھے اس لئے انہیں بعض بڑی ہستیوں کو وسیلہ بنانے کی ضرورت تھی۔ جس غرض کے حصول کے لئے وہ ان ہستیوں کے بُتوں کی عبادت کرتے تھے اور اس طرح بحیالِ خود اُن کو خوش کر کے خدا تعالیٰ کے دربار میں اپنا وسیلہ بنا لیتے تھے۔ اس عقیدہ میں جو نقائص اور بے جوڑ حصے ہیں اُن کے حل کرنے کی طرف اُن کا ذہن کبھی گیا ہی نہیں تھا کیونکہ کوئی موحّد معلم ان کو نہیں ملا تھا۔ جب شرک کسی قوم میں شروع جاتا ہے تو پھر بڑھتا ہی چلا جاتا ہے ایک سے دو بنتے ہیں اور دو سے تین۔ چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے وقت خانہ کعبہ میں (جو اب مسلمانوں کی مقدس مسجد ہے اور حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیہما السلام کا بنایا ہوا عبادت خانہ ہے) مؤرخین کے قول کے مطابق تین سو ساٹھ بُت تھے گویا قمری مہینوں کے لحاظ سے ہر دن کے لئے ایک علیحدہ بُت تھا۔ ان بُتوں کے علاوہ اردگرد کے علاقوں کے بڑے بڑے قصبات میں اور بڑی بڑی اقوام کے مراکز میں علیحدہ بُت تھے گویا عرب کا چپہ چپہ شرک میں مبتلا ہو رہا تھا۔ عرب لوگوں میں زبان کی تہذیب اور اصلاح کا خیال بہت زیادہ تھا انہوں نے اپنی زبان کو زیادہ سے زیادہ علمی بنانے کی کوشش کی مگر اس کے سوا اُن کے نزدیک علم کے کوئی معنی نہ تھے۔ تاریخ، جغرافیہ، حساب وغیرہ علوم میں سے کوئی ایک علم بھی وہ نہ جانتے تھے۔ ہاں بوجہ صحراء کی رہائش اور اس میں سفر کرنے کے علمِ ہیئت کے ماہر تھے۔ سارے عرب میں ایک مدرسہ بھی نہ تھا۔ مکہ مکرمہ میں کہا جاتا ہے کہ صرف چند گنتی کے آدمی پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ اخلاقی لحاظ سے عرب ایک عجیب متضاد قوم تھی۔ اُن میں بعض نہایت ہی خطرناک گناہ پائے جاتے تھے اور بعض ایسی نیکیاں بھی پائی جاتی تھیں کہ جو اُن کی قوم کے معیار کو بہت بلند کر دیتی تھیں۔

شراب نوشی اور قمار بازی

عرب شراب کے سخت عادی تھے اور شراب کے نشہ میں بے ہوش ہو جانا یا بکواس کرنے لگنا اُن کے نزدیک عیب نہیں بلکہ خوبی تھا۔ ایک شریف آدمی کی شرافت کی علامتوں میں سے یہ بھی تھا کہ وہ اپنے دوستوں اور ہمسائیوں کو خوب شراب پلائے۔ امراء کے لئے دن کے پانچ وقتوں میں شراب کی مجلسیں لگانا ضروری تھا۔ جوا اُن کی قومی کھیل تھی مگر اُس کو انہوں نے ایک فن بنا لیا تھا۔ وہ جوا اس لئے نہیں کھیلتے تھے کہ اپنے اموال بڑھائیں بلکہ جوئے کو انہوں نے سخاوت اور بڑائی کا ذریعہ بنایا ہوا تھا۔ مثلاً جوا کھیلنے والوں میں یہ معاہدہ ہوتا تھا کہ جو جیتے وہ جیتے ہوئے مال سے اپنے دوستوں اور اپنی قوم کی دعوتیں کرے۔ جنگوں کے موقع پر جوئے کو ہی روپیہ جمع کرنے کا ذریعہ بنایا جاتا تھا۔ جنگ کے ایام میں آجکل بھی لاٹری کا رواج بڑھ رہا ہے مگر یورپ اور امریکہ کے لاٹری بازوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس ایجاد کا سہرا عربوں کے سر ہے۔ جب کبھی جنگ ہوتی تھی تو عرب قبائل آپس میں جوا کھیلتے تھے اور جو جیتتا تھا وہ جنگ کے اکثر اخراجات اُٹھاتا تھا۔ غرض دنیا کی دوسری آسائشوں اور سہولتوں سے محروم ہونے کا بدلہ عربوں نے شراب اور جوئے سے لیا تھا۔

تجارت

عرب لوگ تاجر تھے اور اُن کے تجارت کے قافلے دور دور تک جاتے تھے۔ ابی سینیا سے بھی وہ تجارت کرتے تھے اور شام اور فلسطین سے بھی وہ تجارت کرتے تھے ہندوستان، سے بھی ان کے تجارتی تعلقات تھے۔ ان کے امراء ہندوستان کی بنی ہوئی تلواروں کی خاص قدر کرتے تھے۔ کپڑا زیادہ تر یمن اور شام سے آتا تھا۔ یہ تجارتیں عرب

کے شہروں کے ہاتھ میں تھیں بقیہ عرب سوائے یمن اور بعض شمالی علاقوں کے بدوی زندگی بسر کرتے تھے۔ نہ اُن کے کوئی شہر تھے نہ اُن کی کوئی بستیاں تھیں۔ صرف قبائل نے ملک کے علاقے تقسیم کر لیے تھے۔ اِن علاقوں میں وہ چکر کھاتے پھرتے تھے۔ جہاں کا پانی ختم ہو جاتا تھا وہاں سے چل پڑتے تھے اور جہاں پانی مل جاتا تھا وہاں ڈیرے ڈال دیتے تھے۔ بھیڑ، بکریاں، اُونٹ اُن کی پونجی ہوتے تھے اُن کی صوف اور اُون سے کپڑے بناتے۔ اُن کی کھالوں سے خیمے تیار کرتے اور جو حصہ بچ جاتا اُسے منڈیوں میں لے جا کر بیچ ڈالتے۔

عرب کے دیگر حالات و عادات و خصائل

سونے چاندی سے وہ نا آشنا تو تھے مگر سونا اور چاندی ان کے لئے ایک نہایت ہی کمیاب جنس تھی۔ حتی کہ اُن کے عوام اور غرباء میں زیورات کوڑیوں اور خوشبودار مصالحوں سے بنائے جاتے تھے۔ لونگوں اور خربوزوں اور لکڑیوں وغیرہ کے بیجوں اور اِسی قسم کی اَور چیزوں سے وہ ہار تیار کرتے اور اُن کی عورتیں یہ ہار پہن کر زیوروں سے مستغنی ہو جاتی تھیں۔ فسق و فجور کثرت سے تھا۔ چوری کم تھی مگر ڈاکہ بے انتہاء تھا۔ ایک دوسرے کو لوٹ لینا وہ ایک قومی حق سمجھتے تھے مگر اس کے ساتھ ہی قول کی پاسداری جتنی عربوں میں ملتی ہے اتنی اور کسی قوم میں نہیں ملتی۔ اگر کوئی شخص کسی طاقتور آدمی یا قوم کے پاس آ کر کہہ دیتا کہ میں تمہاری پناہ میں آ گیا ہوں تو اُس شخص یا اُس قوم کے لئے ضروری ہوتا تھا کہ وہ اُس کو پناہ دے۔ اگر وہ قوم اُسے پناہ نہ دے تو سارے عرب میں وہ ذلیل ہو جاتی تھی۔ شاعروں کو بہت بڑا اقتدار حاصل تھا وہ گویا قومی لیڈر سمجھے جاتے تھے۔ لیڈروں کے لئے زبان کی فصاحت اور اگر ہو سکے تو شاعر ہونا نہایت ضروری تھا۔ مہمان نوازی انتہاء درجہ تک پہنچی ہوئی تھی۔ جنگل میں بھولا بھٹکا مسافر اگر کسی قبیلہ میں پہنچ جاتا اور کہتا کہ میں تمہارا مہمان آیا ہوں تو وہ بے دریغ بکرے اور دنبے اور اُونٹ ذبح کر دیتے تھے۔ اُن کے لئے مہمان کی شخصیت میں کوئی دلچسپی نہ تھی، مہمان کا آ جانا ہی اُن کے نزدیک قوم کی عزت اور احترام کو بڑھانے والا تھا اور قوم پر فرض ہو جاتا تھا کہ اُس کی عزت کر کے اپنی عزت کو بڑھائے۔ عورتوں کو کوئی حقوق اُس قوم میں حاصل نہیں تھے۔ بعض قبائل میں یہ عزت کی بات سمجھی جاتی تھی کہ باپ اپنی لڑکی کو مار ڈالے۔ مورخین یہ

بات غلط لکھتے ہیں کہ سارے عرب میں لڑکیوں کو مارنے کا رواج تھا۔ یہ رواج تو طبعی طور پر سارے ملک میں نہیں ہوسکتا کیونکہ اگر سارے ملک میں یہ رواج جاری ہو جائے تو پھر اُس ملک کی نسل کس طرح باقی رہ سکتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ عرب اور ہندوستان اور دوسرے ممالک میں جہاں جہاں بھی یہ رواج پایا جاتا ہے اس کی صورت یہ ہوا کرتی ہے کہ بعض خاندان اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر یا بعض خاندان اپنے آپ کو ایسی مجبوریوں میں مبتلا دیکھ کر اُن کی لڑکیوں کے لئے اُن کی شان کے مطابق رشتے نہیں ملیں گے لڑکیوں کو مار دیا کرتے ہیں۔ اِس رواج کی بُرائی اُس کے ظلم میں ہے نہ اِس امر میں کہ ساری قوم میں سے لڑکیاں مٹا دی جاتی ہیں۔ عربوں کی بعض قوموں میں تو لڑکیاں مارنے کا طریقہ یوں رائج تھا کہ وہ لڑکی زندہ دفن کر دیتے تھے اور بعض میں اِس طرح کہ وہ اُس کا گلا گھونٹ دیتے تھے اور بعض اور طریقوں سے ہلاک کر دیتے تھے۔ اصلی ماں کے سوا دوسری ماؤں کو عرب لوگ ماں نہیں سمجھتے تھے اور اُن سے شادیاں کرنے میں حرج نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ باپ کے مرنے کے بعد کئی لڑکے اپنی سوتیلی ماؤں سے بیاہ کر لیتے تھے۔ کثرتِ ازدواج عام تھی۔ کوئی حد بندی نکاحوں کی نہیں ہوتی تھی۔ ایک سے زیادہ بہنوں سے بھی ایک شخص شادی کر لیتا تھا۔ لڑائی میں سخت ظلم کرتے تھے جہاں بغض بہت زیادہ ہوتا تھا زخمیوں کے پیٹ چاک کر کے اُن کے کلیجے چبا جاتے تھے۔ ناک کان کاٹ دیتے تھے۔ آنکھیں نکال دیتے تھے۔ غلامی کا رواج عام تھا۔ اردگرد کے کمزور قبائل کے آدمیوں کو پکڑ کے لے آتے تھے اور اُن کو غلام بنا لیتے تھے۔ غلام کو کوئی حقوق حاصل نہیں تھے۔ ہر مالک اپنے غلام سے جو چاہتا سلوک کرتا اُس کے خلاف کوئی گرفت نہ تھی۔ اگر وہ قتل بھی کر دیتا تو اس پر کوئی الزام نہ آتا تھا۔ اگر کسی دوسرے آدمی کے غلام کو مار دیتا تب بھی وہ موت کی سزا سے محفوظ سمجھا جاتا تھا اور مالک کو کچھ معاوضہ دے کر آزادی کر حاصل لیتا تھا۔ لونڈیوں کو اپنی شہوانی ضرورتوں کے پورا کرنے کا ذریعہ بنانا ایک قانونی حق تسلیم کیا جاتا تھا۔ لونڈیوں کی اولادیں بھی آگے غلام ہوتی تھیں اور صاحبِ اولاد لونڈیاں بھی لونڈیاں ہی رہتی تھیں۔ غرض جہاں تک علم وترقی کا سوال ہے عرب لوگ بہت پیچھے تھے، جہاں تک بین الاقوامی رحم اور حسنِ سلوک کا سوال ہے عرب کے لوگ بہت پیچھے تھے، جہاں تک صنفِ نازک کے تعلق کا سوال ہے عرب لوگ دوسری اقوام سے بہت پیچھے تھے۔ مگر بعض شخصی اور بہادرانہ اخلاق اُن میں ضرور پائے جاتے تھے اور اس حد تک پائے جاتے تھے کہ شاید اُس زمانہ کی دوسری قوموں میں اس کی مثال نہیں پائی جاتی۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت

اِس ماحول میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ آپ کی پیدائش سے پہلے ہی آپ کے والد جن کا نام عبد اللہ تھا فوت ہو گئے تھے اور آپ کو اور آپ کی والدہ حضرت آمنہ کو اُن کے دادا عبد المطلب نے اپنی کفایت میں لے لیا تھا۔ عرب کے رواج کے مطابق آپ دودھ پلانے کے لئے طائف کے پاس رہنے والی ایک عورت کے سپرد کئے گئے۔ عرب لوگ اپنے بچوں کو دیہاتی عورتوں کے سپرد کر دیا کرتے تھے تا اُن کی زبان صاف ہو جائے اور اُن کی صحت درست ہو۔ آپ کی عمر کے چھٹے سال میں آپ کی والدہ بھی مدینہ سے آتے ہوئے جہاں وہ اپنے ننھیال سے ملنے گئی تھیں مدینہ اور مکہ کے درمیان فوت ہو گئیں اور وہیں دفن ہوئیں اور آپ کو ایک خادمہ اپنے ساتھ مکہ لائی اور دادا کے سپرد کر دیا۔ آپ آٹھویں سال میں تھے کہ آپ کے دادا جو آپ کے نگران تھے وہ بھی فوت ہو گئے اور آپ کے چچا ابو طالب اپنے والد کی وصیت کے مطابق آپ کے نگران ہوئے۔ عرب سے باہر آپ کو دو تین دفعہ جانے کا موقع ملا۔ جن میں سے ایک سفر آپ نے بارہ سال کی عمر میں اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ کیا جو کہ تجارت کے لئے شام کی طرف گئے تھے۔ یہ سفر آپ کا غالباً شام کے جنوب مشرقی تجارتی شہروں تک ہی محدود تھا کیونکہ اس سفر میں بیت المقدس وغیرہ جگہوں میں سے کسی کا ذکر نہیں آتا۔ اس کے بعد آپ جوانی تک مکہ میں ہی مقیم رہے۔

مجلسِ حلف الفضول میں آپ کی شمولیت

آپ کی طبیعت بچپن سے ہی سوچنے اور فکر کرنے کی طرف مائل تھی اور لوگوں کی لڑائیوں جھگڑوں میں آپ دخل نہیں دیا کرتے تھے بلکہ لڑائیوں اور فسادوں کے دُور کرانے میں حصہ لیتے تھے چنانچہ مکہ اور اِس کے گرد و نواح کے قبائل کی لڑائیوں سے تنگ آ کر جب مکہ کے کچھ نوجوانوں نے ایک انجمن بنائی جس کی غرض یہ تھی کہ وہ مظلوموں کی مدد کیا کرے گی ، تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے شوق سے اُس مجلس میں شامل ہو گئے۔ اس مجلس کے ممبروں نے اِن الفاظ میں قسمیں کھائی تھیں کہ :

’’وہ مظلوموں کی مدد کریں گے اور اُن کے حق اُن کو لے کر دیں گے جب تک کہ سمندر میں ایک قطرہ پانی کا موجود ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکیں گے تو وہ خود اپنے پاس سے مظلوم کا حق ادا کر دیں گے۔‘‘۔۱۸۵

شاید اس قسم پر عمل کرنے کا موقع آپ کے سوا اور کسی کو نہیں ملا۔ جب آپ نے دعویٰ نبوت کیا اور سب سے زیادہ مکہ کے سردار ابو جہل نے آپ کی مخالفت میں حصہ لیا اور لوگوں سے یہ کہنا شروع کیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کوئی بات نہ کرے۔ اُن کی کوئی بات نہ مانے۔ ہر ممکن طریق سے اُن کو ذلیل کرے۔ اُس وقت ایک شخص جس نے ابو جہل سے کچھ قرضہ وصول کرنا تھا مکہ میں آیا اور اُس نے ابو جہل سے اپنے قرضہ کا مطالبہ کیا۔ ابو جہل نے اُس کا قرض ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ اُس نے مکہ کے بعض لوگوں سے اس امر کی شکایت کی اور بعض نوجوانوں نے شرارت سے اُسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پتہ بتایا کہ اُن کے پاس جاؤ وہ تمہاری اِس بارہ میں مدد کریں گے۔ اُن کی غرض یہ تھی کہ یا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس مخالفت کے مدنظر جو مکہ والوں کی طرف سے عموماً اور ابو جہل کی طرف سے خصوصاً ہو رہی تھی اُس کی امداد کرنے سے انکار کر دیں گے اور اس طرح عربوں میں ذلیل ہو جائیں گے اور قسم توڑنے والے کہلائیں گے یا پھر آپ اس کی مدد کے لئے ابو جہل کے پاس جائیں گے اور وہ آپ کو ذلیل کر کے اپنے گھر سے نکال دے گا۔ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ شخص گیا اور اُس نے ابو جہل کی شکایت کی تو آپ بلا تامل اُٹھ کر اس کے ساتھ چل دیئے اور ابو جہل کے دروازہ پر جا کر دستک دی۔ ابو جہل گھر سے باہر نکلا اور دیکھا کہ اُس کا قرض خواہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اُس کے دروازہ پر کھڑا ہے۔ آپ نے فوراً اُسے توجہ دلائی کہ اِس شخص کا تم نے فلاں فلاں حق دینا ہے اِس کو ادا کرو اور ابو جہل نے بلا چون و چرا اُس کا حق اُسے ادا کر دیا۔ جب شہر کے رؤساء نے ابو جہل کو ملامت کی کہ تم ہم سے تو یہ کہا کرتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ذلیل کرو اور اس سے کوئی تعلق نہ رکھو لیکن تم نے خود اُس کی بات مانی اور اُس کی عزت قائم کی ۔ تو ابو جہل نے کہا خدا کی قسم! اگر تم میری جگہ ہوتے تو تم بھی یہی کرتے۔ میں نے دیکھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دائیں اور بائیں مست اونٹ کھڑے ہیں جو میری گردن مروڑ کر مجھے ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔۱۸۶؎اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی روایت میں کوئی صداقت ہے یا نہیں۔ آیا اُسے واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے کوئی نشان دکھایا تھا یا صرف اُس پر حق کا رُعب چھا گیا اور اُس نے یہ دیکھ کر کہ سارے مکہ کا مطعون اور مقہور انسان ایک مظلوم کی حمایت کے جوش میں اکیلا بغیر کسی ظاہری مدد کے مکہ کے سردار کے دروازہ پر کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ اِس شخص کا جو حق تم نے دینا ہے وہ ادا کر دو تو حق کے رُعب نے اُس کی شرارت کی روح کو کچل دیا اور اُسے سچائی کے آگے سر جھکانا پڑا۔

حضرت خدیجہؓ سے آنحضرت ﷺ کی شادی

جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۲۵ سال کے ہوئے تو آپ کی نیکی اور آپ کے تقویٰ کی شہرت عام طور پر پھیل چکی تھی لوگ آپ کی طرف انگلیاں اُٹھاتے اور کہتے یہ سچا انسان جا رہا ہے۔ یہ امانت والا انسان جا رہا ہے۔ یہ خبریں مکہ کی ایک مالدار بیوہ کو بھی پہنچیں اور اُس نے آپ کے چچا ابو طالب سے خواہش کی کہ وہ اپنے بھتیجے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کہیں کہ اُس کا تجارتی مال جو شام کے تجارتی قافلہ کے ساتھ جا رہا ہے وہ اُس کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے۔ ابو طالب نے آپ سے ذکر کیا اور آپ نے اسے منظور کر لیا۔ اس سفر میں آپ کو بڑی کامیابی ہوئی اور اُمید سے زیادہ نفع کے ساتھ آپ لوٹے۔ خدیجہؓ نے محسوس کیا کہ یہ نفع صرف منڈیوں کے حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ امیر قافلہ کی نیکی اور دیانت کی وجہ سے ہے۔ اُس نے اپنے غلام میسرہ سے جو آپ کے ساتھ تھا آپ کے حالات دریافت کئے اور اُس نے بھی اُس کے خیال کی تائید کی اور بتایا کہ سفر میں جس دیانتداری اور خیر خواہی سے آپ نے کام کیا ہے وہ صرف آپؐ ہی کا حصہ تھا۔ اس بات کا حضرت خدیجہؓ کی طبیعت پر خاص اثر ہوا۔ باوجود اس کے کہ وہ اُس وقت چالیس سال کی تھیں اور دو دفعہ بیوہ ہو چکی تھیں اُنہوں نے اپنی ایک سہیلی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھجوایا تا معلوم کرے کہ کیا آپ اُن سے شادی کرنے پر رضامند ہوں گے؟ وہ سہیلی آپ کے پاس آئی اور اُس نے آپ سے پوچھا کہ آپ شادی کیوں نہیں کرتے؟ آپ نے کہا میرے پاس کوئی مال نہیں ہے جس سے میں شادی کروں۔ اُس سہیلی نے کہا اگر یہ مشکل دور ہو جائے اور ایک شریف امیر عورت سے آپ کی شادی ہو جائے تو پھر؟ آپ نے فرمایا وہ کون عورت ہے؟ اُس نے کہا خدیجہؓ۔ آپ نے فرمایا میں اُس تک کس طرح پہنچ سکتا ہوں؟ اِس پر اُس سہیلی نے کہا کہ یہ میرے ذمہ رہا۔ آپ نے فرمایا مجھے منظور ہے۔ تب خدیجہؓ نے آپ کے چچا کی معرفت شادی کا فیصلہ پختہ کیا اور آپ کی شادی حضرت خدیجہؓ سے ہوئی ۔ ایک غریب و یتیم نوجوان کے لئے دولت کا یہ پہلا دروازہ کھلا ، مگر اُس نے اِس دولت کو جس طرح استعمال کیا وہ ساری دنیا کیلئے ایک سبق آموز واقعہ ہے۔

غلاموں کی آزادی اور زیدؓ کا ذکر

آپ کی شادی کے بعد جب حضرت خدیجہؓ نے یہ محسوس کیا کہ آپ کا حساس دل ایسی زندگی میں کوئی لطف نہیں پائے گا کہ آپ کی بیوی مالدار ہو اور آپ اُس کے محتاج ہوں تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں اپنا مال اور اپنے غلام آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتی ہوں۔ آپ نے کہا خدیجہ! کیا سچ مچ؟ جب اُنہوں نے پھر دوبارہ اقرار کیا تو آپ نے فرمایا میرا پہلا کام یہ ہوگا کہ میں غلاموں کو آزاد کردوں۔ چنانچہ آپ نے اُسی وقت حضرت خدیجہ کے غلاموں کو بُلایا اور فرمایا تم سب لوگ آج سے آزاد ہو اور مال کا اکثر حصہ غرباء میں تقسیم کر دیا۔ جو غلام آپ نے آزاد کئے اُن میں ایک زید نامی غلام بھی تھا۔ وہ دوسرے غلاموں سے زیادہ زیرک اور زیادہ ہوشیار تھا کیونکہ وہ ایک شریف اور معزز خاندان کا لڑکا تھا جسے بچپن میں ڈاکو چرا کر لے گئے تھے اور وہ بکتا بکا تا مکہ میں پہنچا تھا۔ اُس نوجوان نے اپنی زیر کی اور ہوشیاری سے اس بات کو سمجھ لیا کہ آزادی کی نسبت اس شخص کی غلامی بہت بہتر ہے۔ جب آپ نے غلاموں کو آزاد کیا جن میں زید بھی تھا تو زید نے کہا آپ تو مجھے آزاد کرتے ہیں پر میں آزاد نہیں ہوتا ، میں آپ کے ساتھ ہی رہنا چاہتا ہوں ۔ چنانچہ وہ آپ کے ساتھ رہا اور روز بروز آپ کی محبت میں بڑھتا چلا گیا ۔ چونکہ وہ ایک مالدار خاندان کا لڑکا تھا اُس کے باپ اور چچا ڈاکوؤں کے پیچھے پیچھے اپنے بچہ کو تلاش کرتے ہوئے نکلے۔ آخر انہیں معلوم ہوا کہ

اُن کا لڑکا مکہ میں ہے۔ چنانچہ وہ مکہ میں آئے اور پتہ لیتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں پہنچے اور آپ سے عرض کیا کہ آپ ہمارے بچہ کو آزاد کر دیں اور جتنا روپیہ چاہیں لے لیں۔ آپ نے فرمایا زید کو تو میں آزاد کر چکا ہوں وہ بڑی خوشی سے آپ لوگوں کے ساتھ جا سکتا ہے۔ پھر آپ نے زید کو بُلوا کر اُس کے باپ اور چچا سے ملوا دیا۔ جب دونوں فریق مل چکے اور آنسوؤں سے اپنے دل کی بھڑاس نکال چکے تو زید کے باپ نے اُس سے کہا کہ اِس شریف آدمی نے تم کو آزاد کر دیا ہے تمہاری ماں تمہاری یاد میں تڑپ رہی ہے اب تم جلدی چلو اور اُس کے لئے راحت اور تسکین کا موجب بنو۔ زید نے کہا ماں اور باپ کس کو پیارے نہیں ہوتے میرا دل بھی اِس محبت سے خالی نہیں ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اِس قدر میرے دل میں داخل ہو چکی ہے کہ اس کے بعد میں آپ سے جدا نہیں ہو سکتا۔ مجھے خوشی ہے کہ میں نے آپ لوگوں سے مل لیا لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہونا میری طاقت سے باہر ہے۔ زید کے باپ اور چچا نے بہت زور دیا مگر زید نے اُن کے ساتھ جانا منظور نہ کیا۔ زید کی اِس محبت کو دیکھ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا۔ زید آزاد تو پہلے ہی تھا مگر آج سے یہ میرا بیٹا ہے۔۱۸۷؎اِس نئی صورتِ حالات کو دیکھ کر زید کے باپ اور چچا واپس وطن چلے گئے اور زید ہمیشہ کے لئے مکہ کے ہو گئے۔

غارِ حرا میں خدا کی عبادت کرنا

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر جب تیس سال سے زیادہ ہوئی تو آپ کے دل میں خدا تعالیٰ کی عبادت کی رغبت پہلے سے زیادہ جوش مارنے لگی۔ آخر آپ شہر کے لوگوں کی شرارتوں، بدکاریوں اور خرابیوں سے متنفر ہو کر مکہ سے دو تین میل کے فاصلہ پر ایک پہاڑی کی چوٹی پر ایک پتھروں سے بنی ہوئی چھوٹی سی غار میں خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے لگ گئے۔ حضرت خدیجہؓ چند دن کی غذا آپ کے لئے تیار کر دیتیں۔۱۸۸؎آپ وہ لے کر حرا میں چلے جاتے تھے اور اُن دو تین پتھروں کے اندر بیٹھ کر خدا تعالیٰ کی عبادت میں رات اور دن مصروف رہتے تھے۔

پہلی قرآنی وحی

جب آپ چالیس سال کے ہوئے تو ایک دن آپ نے اِسی غار میں ایک کشفی نظارہ دیکھا کہ ایک شخص آپ سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ ”پڑھیئے“۔

آپ نے فرمایا میں تو پڑھنا نہیں جانتا۔ اِس پر اُس نے دوبارہ اور سہ بارہ کہا اور آخر پانچ فقرے اُس نے آپ سے کہلوائے اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍ اِقۡرَاۡ وَرَبُّکَ الۡاَکۡرَمُ الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ یَعۡلَمۡ(96:2-6) ۱۸۹ یہ قرآنی ابتدائی وحی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اس کا مفہوم یہ ہے کہ تمام دنیا کو اپنے رب کے نام پر جس نے تجھ کو اور کل مخلوق کو پیدا کیا ہے پڑھ کر آسمانی پیغام سنا دے۔ وہ خدا جس نے انسان کو ایسے طور پر پیدا کیا ہے کہ اُس کے دل میں خدا تعالیٰ اور اس کی مخلوق کی محبت کا بیج پایا جاتا ہے۔ ہاں سب دنیا کو یہ پیغام سنا دے کہ تیرا ربّ جو سب سے زیادہ عزت والا ہے تیرے ساتھ ہوگا۔ وہ جس نے دنیا کو علوم سکھانے کے لئے قلم بنایا ہے اور انسان کو وہ کچھ سکھانے کے لئے آمادہ ہوا ہے جو اس سے پہلے انسان نہیں جانتا تھا۔

یہ چند الفاظ قرآن کریم کی اُن سب تعلیموں پر حاوی ہیں جو آئندہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی تھی اور دنیا کی اصلاح کا ایک اہم بیج اُن کے اندر پایا جاتا تھا۔ ان کی تفسیر تو قرآن شریف میں اپنے موقع پر آئے گی اِس موقع پر ان آیتوں کا اس لئے ذکر کر دیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا یہ ایک اہم واقعہ ہے اور قرآن کریم کے لئے یہ آیات ایک بنیادی پتھر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جب یہ کلام نازل ہوا تو آپ کے دل میں یہ خوف پیدا ہو گیا کہ کیا میں خدا تعالیٰ کی اتنی بڑی ذمہ داری ادا کر سکوں گا؟ کوئی اور ہوتا تو کبر اور غرور سے اُس کا دماغ پھر جاتا کہ خدائے قادر نے ایک کام میرے سپرد کیا ہے۔ مگر محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کام جانتے تھے کام پر اترانا نہیں جانتے تھے۔ آپ اس الہام کے بعد حضرت خدیجہؓ کے پاس آئے۔ آپ کا چہرہ اُترا ہوا تھا اور گھبراہٹ کے آثار ظاہر تھے۔ حضرت خدیجہؓ نے پوچھا آخر ہوا کیا؟ آپ نے سارا واقعہ سنایا اور فرمایا میرے جیسا کمزور انسان اِس بوجھ کو کس طرح اُٹھا سکے گا۔ حضرت خدیجہؓ نے کہا كَلَّا وَاللهِ مَا يُخْزِيْكَ اللهُ اَبَدًا اِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلٰى نَوَائِبِ الْحَقِّ ۱۹۰ خدا کی قسم! یہ کلام خدا تعالیٰ نے اس لئے آپ پر نازل نہیں کیا کہ آپ ناکام اور نامراد ہوں اور خدا آپ کا ساتھ چھوڑ دے۔ خدا تعالیٰ ایسا کب کر سکتا ہے۔ آپ تو وہ ہیں

کہ آپ رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرتے ہیں اور بَیکس اور بے مددگار لوگوں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں۔ وہ اخلاق جو ملک سے مٹ چکے تھے وہ آپ کی ذات کے ذریعہ سے دوبارہ قائم ہو رہے ہیں۔ مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور سچی مصیبتوں پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں ۔ کیا ایسے انسان کو خدا تعالیٰ ابتلاء میں ڈال سکتا ہے؟ پھر وہ آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو عیسائی ہو چکے تھے۔ اُنہوں نے جب یہ واقعہ سنا تو بے اختیار بول اُٹھے آپ پر وہی فرشتہ نازل ہوا ہے جو موسیٰ پر نازل ہوا تھا۱۹۱؎گویا استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ والی پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا۔ جب اِس بات کی خبر زید آپ کے آزاد کردہ غلام کو جو اُس وقت کوئی پچیس تیس سال کے تھے اور علیؓ آپ کے چچا کے بیٹے کو جن کی عمر اُس وقت گیارہ سال کی تھی پہنچی تو دونوں آپ پر فوراً ایمان لائے۔

حضرت ابوبکرؓ کا آنحضرتﷺ پر ایمان لانا

ابوبکرؓ آپ کے بچپن کے دوست جو شہر سے باہر گئے ہوئے تھے، جب شہر میں داخل ہوئے تو معاً اُن کے کانوں میں یہ آوازیں پڑنی شروع ہوئیں کہ تمہارا دوست دیوانہ ہو گیا ہے، وہ کہتا ہے آسمان سے فرشتے اُتر کر مجھ سے باتیں کرتے ہیں۔ ابوبکرؓ سیدھے آپ کے دروازہ پر آئے اور دستک دی۔ جب آپ نے دروازہ کھولا تو اُنہوں نے آپ سے حقیقت حال کے متعلق سوال کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچپن کے دوست کو ٹھوکر سے بچانے کے لئے کچھ تشریح کرنی چاہی۔ ابوبکرؓ نے روکا اور کہا کہ مجھے صرف اتنا جواب دیجئے کہ کیا آپ نے یہ اعلان کیا ہے کہ خدا کے فرشتے آپ کے پاس آئے اور اُنہوں نے آپ سے باتیں کیں؟ آپ نے پھر تشریح کرنی چاہی مگر ابوبکرؓ نے قسم دے کر کہا کہ صرف اِس سوال کا جواب دیجئے اور کچھ نہ کہئے۔ جب آپ نے اثبات میں جواب دیا تو ابوبکرؓ نے کہا گواہ رہئے میں آپ پر ایمان لاتا ہوں اور پھر کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! آپ تو دلائل دے کر میرے ایمان کو کمزور کرنے لگے تھے۔ جس نے آپ کی زندگی کو دیکھا ہو کیا اُسے آپ کی سچائی کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت ہو سکتی ہے؟۱۹۲؎

مومنوں کی چھوٹی سی جماعت

یہ ایک چھوٹی سی جماعت تھی جس سے اسلام کی بنیاد پڑی۔ ایک عورت کہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ رہی تھی، ایک گیارہ سالہ بچہ، ایک جوان آزاد کردہ غلام، بے وطن اور غیروں میں رہنے والا جس کی پشت پر کوئی نہ تھا۔ ایک نوجوان دوست اور ایک مدعی الہام۔ یہ وہ چھوٹا سا قافلہ تھا جو دنیا میں نور پھیلانے کے لئے کفر و ضلالت کے میدان کی طرف نکلا۔ لوگوں نے جب یہ باتیں سنیں اُنہوں نے قہقہے لگائے۔ باہم دگر چشمکیں کیں اور نظروں ہی نظروں میں ایک دوسرے کو جتایا کہ یہ لوگ مجنون ہو گئے ہیں اِن کی باتوں سے متعجب نہ ہو، بلکہ سنو اور مزہ اُٹھاؤ۔ مگر حق اپنی پوری شان کے ساتھ ظاہر ہونا شروع ہوا اور یسعیاہ نبی کی پیشگوئی کے مطابق ”حکم پر حکم۔ حکم پر حکم۔ قانون پر قانون۔ قانون پر قانون“۔ ۱۹۳؎ ہوتا گیا۔ ”تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں“، ۱۹۴؎ اور ”اجنبی زبان“، ۱۹۵؎ سے جس سے عرب پہلے نا آشنا تھے، خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ عربوں سے باتیں کرنی شروع کیں۔ نوجوانوں کے دل لرزنے لگے، صداقت کے متلاشیوں کے جسموں پر کپکپی پیدا ہوئی۔ اُن کی ہنسی، ٹھٹھے اور استہزاء کی آوازوں میں پسندیدگی اور تحسین کے کلمات بھی آہستہ آہستہ بلند ہونے شروع ہوئے۔ غلاموں، نوجوانوں اور مظلوم عورتوں کا ایک جتھا آپ کے گرد جمع ہونے لگ گیا۔ کیونکہ آپ کی آواز میں عورتیں اپنے حقوق کی حفاظت دیکھ رہی تھیں۔ غلام اپنی آزادی کا اعلان سن رہے تھے اور نوجوان بڑی بڑی اُمیدوں اور ترقیوں کے راستے کھلتے ہوئے محسوس کر رہے تھے۔

رؤسائے مکہ کی مخالفت

جب ہنسی اور ٹھٹھے کی آوازوں میں سے تحسین اور تعریف کی آوازیں بھی بلند ہونا شروع ہو گئیں، تو مکہ کے رؤساء گھبرا گئے، حکام کے دل میں خوف پیدا ہونے لگا۔ وہ جمع ہوئے، اُنہوں نے مشورے کئے، منصوبے باندھے اور ہنسی اور ٹھٹھے کی جگہ ظلم و تعدی اور سختی اور قطع تعلق کی تجاویز کا فیصلہ کیا گیا اور اُن پر عمل ہونا شروع ہوا۔ اب مکہ سنجیدگی سے اسلام کے ساتھ ٹکرانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ اب وہ ”پاگلانہ“ دعویٰ ایک ترقی کرنے والی حقیقت نظر آ رہا تھا۔ مکہ کی سیاست کے لئے خطرہ، مکہ کے مذہب کے لئے خطرہ، مکہ کے تمدن کے لئے خطرہ اور مکہ کے رسم ورواج کے لئے خطرہ دکھائی دے رہا تھا۔ اسلام ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین بناتا ہوا نظر آتا تھا۔ جس نئے آسمان اور زمین کے ہوتے ہوئے عرب کا پُرانا آسمان اور پُرانی زمین قائم نہیں رہ سکتے تھے۔ اب یہ سوال مکہ والوں کے لئے ہنسی کا سوال نہیں رہا تھا اب یہ زندگی اور موت کا سوال تھا۔ اُنہوں نے اسلام کے چیلنج کو قبول کیا اور اُسی روح کے ساتھ قبول کیا جس روح کے ساتھ نبیوں کے دشمن نبیوں کے چیلنج کو قبول کرتے چلے آئے تھے اور وہ دلیل کا جواب دلیل سے نہیں بلکہ تلوار اور تیر کے ساتھ دینے پر آمادہ ہو گئے۔ اسلام کی خیرخواہی کا جواب ویسے ہی بلند اخلاق کے ذریعہ سے نہیں بلکہ گالی گلوچ اور بدکلامی سے دینے کا اُنہوں نے فیصلہ کر لیا۔ ایک دفعہ پھر دنیا میں کفر اور اسلام کی لڑائی شروع ہو گئی۔ ایک دفعہ پھر شیطان کے لشکروں نے فرشتوں پر ہلہ بول دیا۔ بھلا اpageن مٹھی بھر آدمیوں کی طاقت ہی کیا تھی کہ مکہ والوں کے سامنے ٹھہر سکیں۔ عورتیں بےشرمانہ طریقوں سے قتل کی گئیں۔ مرد ٹانگیں چیر چیر کر مار ڈالے گئے، غلام تپتی ہوئی ریت اور کھردِرے پتھروں پر گھسیٹے گئے۔ اِس حد تک کہ اُن کے چمڑے انسانی چمڑوں کی شکلیں بدل کر حیوانی چمڑے بن گئے۔ ایک مدت بعد اسلام کی فتح کے زمانہ میں جب اسلام کا جھنڈا مشرق و مغرب میں لہرا رہا تھا ایک دفعہ ایک ابتدائی نومسلم غلام خبابؓ کی پیٹھ ننگی ہوئی تو اُن کے ساتھیوں نے دیکھا کہ اُن کی پیٹھ کا چمڑا انسانوں جیسا نہیں جانوروں جیسا ہے وہ گھبرا گئے اور اُن سے دریافت کیا کہ آپ کو یہ کیا بیماری ہے؟ وہ ہنسے اور کہا بیماری نہیں یہ یادگار ہے اُس وقت کی جب ہم نومسلم غلاموں کو عرب کے لوگ مکہ کی گلیوں میں سخت اور کھردِرے پتھروں پر گھسیٹا کرتے تھے اور متواتر یہ ظلم ہم پر روارکھے جاتے تھے اُسی کے نتیجہ میں میری پیٹھ کا چمڑہ یہ شکل اختیار کر گیا ہے۔

مؤمن غلاموں پر کفّارِ مکہ کا ظلم و ستم

یہ غلام جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے مختلف اقوام کے تھے ان میں حبشی بھی تھے جیسے بلالؓ، رومی بھی تھے جیسے صہیبؓ۔ پھر اُن میں عیسائی بھی تھے جیسے جبیرؓ اور صہیبؓ۔ اور مشرکین بھی تھے جیسے بلالؓ اور عمارؓ۔ بلالؓ کو اُس کے مالک تپتی ریت پر لٹا کر اوپر یا تو پتھر رکھ دیتے یا نوجوانوں کو سینہ پر کودنے کے لئے مقرر کر دیتے۔ حبشی النسل بلالؓ اُمیہ بن خلف نامی ایک مکی رئیس کے غلام تھے۔ اُمّیہ اُنہیں دوپہر کے وقت گرمی کے موسم میں مکہ سے باہر لے جا کر تپتی ہوئی ریت پر ننگا کر کے لٹا دیتا تھا اور بڑے بڑے گرم پتھر اُن کے سینہ پر رکھ کر کہتا تھا کہ لات اور عزّٰی کی الوہیت کو تسلیم کر اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے علیحدگی کا اظہار کر۔ بلالؓ اُس کے جواب میں کہتے اَحَدٌ اَحَدٌ ۱۹۶ یعنی اللہ ایک ہی ہے اللہ ایک ہی ہے۔ بار بار آپؐ کا یہ جواب سن کر اُمّیہ کو اور غصہ آ جاتا اور وہ آپ کے گلے میں رسہ ڈال کر شریر لڑکوں کے حوالے کر دیتا اور کہتا کہ ان کو مکہ کی گلیوں میں پتھروں کے اُوپر سے گھسیٹتے ہوئے لے جائیں۔ جس کی وجہ سے اُن کا بدن خون سے تر بتر ہو جاتا مگر وہ پھر بھی اَحَدٌ اَحَدٌ کہتے چلے جاتے، یعنی خدا ایک خدا ایک۔ عرصہ کے بعد جب خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو مدینہ میں امن دیا جب وہ آزادی سے عبادت کرنے کے قابل ہو گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلالؓ کو اذان دینے کے لئے مقرر کیا۔ یہ حبشی غلام جب اذان میں اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کی بجائے اَسْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ کہتا تو مدینہ کے لوگ جو اُس کے حالات سے ناواقف تھے ہنسنے لگ جاتے۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلالؓ کی اذان پر ہنستے ہوئے پایا تو آپ لوگوں کی طرف مڑے اور کہا تم بلالؓ کی اذان پر ہنستے ہو مگر خدا تعالیٰ عرش پر اُس کی اذان سن کر خوش ہوتا ہے۔ آپ کا اشارہ اِسی طرف تھا کہ تمہیں تو یہ نظر آتا ہے کہ یہ ”ش“ نہیں بول سکتا۔ مگر ”ش“ اور ”س“ میں کیا رکھا ہے خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ جب تپتی ریت پر ننگی پیٹھ کے ساتھ اِس کو لٹا دیا جاتا تھا اور اس کے سینہ پر ظالم اپنی جوتیوں سمیت کودا کرتے تھے اور پوچھتے تھے کہ کیا اب بھی سبق آیا ہے یا نہیں؟ تو یہ اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں اَحَدٌ اَحَدٌ کہہ کر خدا تعالیٰ کی توحید کا اعلان کرتا رہتا تھا اور اپنی وفاداری، اپنے توحید کے عقیدہ اور اپنے دل کی مضبوطی کا ثبوت دیتا تھا۔ پس اُس کا اَسْھَدُ بہت سے لوگوں کے اَشْھَدُ سے زیادہ قیمتی تھا۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب اُن پر یہ ظلم دیکھے تو اُن کے مالک کو اُن کی قیمت ادا کر کے اُنہیں آزاد کروا دیا۔ اسی طرح اور بہت سے غلاموں کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے مال سے آزاد کرایا۔ ان غلاموں میں سے صہیبؓ ایک مالدار آدمی تھے۔ یہ تجارت کرتے تھے اور مکہ کے باحیثیت آدمیوں میں سمجھے جاتے تھے مگر با وجود اس کے کہ وہ مالدار بھی تھے اور آزاد بھی ہو چکے تھے قریش اُن کو مار مار کر بیہوش کر دیتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے تو آپ کے بعد صہیبؓ نے بھی چاہا کہ وہ بھی ہجرت کر کے مدینہ چلے جائیں مگر مکہ کے لوگوں نے اُن کو روکا اور کہا کہ جو دولت تم نے مکہ میں کمائی ہے تم اُسے مکہ سے باہر کس طرح لے جا سکتے ہو ہم تمہیں مکہ سے جانے نہیں دیں گے۔ صہیبؓ نے کہا اگر میں یہ سب کی سب دولت چھوڑ دوں تو کیا پھر تم مجھے جانے دو گے؟ وہ اِس بات پر رضا مند ہو گئے اور آپ اپنی ساری دولت مکہ والوں کے سپرد کر کے خالی ہاتھ مدینہ چلے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا۔ صہیبؓ! تمہارا یہ سودا سب پہلے سودوں سے نفع مند رہا۔ یعنی پہلے اسباب کے مقابلہ میں تم روپیہ حاصل کیا کرتے تھے مگر اب روپیہ کے مقابلہ میں تم نے ایمان حاصل کیا ہے۔

اِن غلاموں میں اکثر تو ظاہر و باطن میں مستقل رہے، لیکن بعض سے ظاہر میں کمزوریاں بھی ظاہر ہوئیں۔ چنانچہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمارؓ نامی غلام کے پاس سے گزرے تو دیکھا کہ وہ سسکیاں لے رہے تھے اور آنکھیں پونچھ رہے تھے۔ آپ نے پوچھا عمار! کیا معاملہ ہے؟ عمار نے کہا اے اللہ کے رسول! بہت ہی بُرا۔ وہ مجھے مارتے گئے اور دکھ دیتے گئے اور اُس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک میرے منہ سے آپ کے خلاف اور دیوتاؤں کی تائید میں کلمات نہیں نکلوائے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا لیکن تم اپنے دل میں کیا محسوس کر تے تھے؟ عمار نے کہا دل میں تو ایک غیر متزلزل ایمان محسوس کرتا تھا۔ آپ نے فرمایا اگر دل ایمان پر مطمئن تھا تو خدا تعالیٰ تمہاری کمزوری کو معاف کر دے گا۔۱۹۷

آپ کے والد یاسرؓ اور آپ کی والدہ سمیّہؓ کو بھی کفار بہت دکھ دیتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ جبکہ اُن دونوں کو دکھ دیا جا رہا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے پاس سے گزرے۔ آپ نے اُن دونوں کی تکلیفوں کو دیکھا اور آپ کا دل درد سے بھر آیا۔ آپ اُن سے مخاطب ہو کر بولے صَبْرًا اٰلَ يَاسِرٍ فَاِنَّ مَوْعِدَ كُمُ الْجَنَّةُ۔ ۱۹۸اے یاسر کے خاندان! صبر سے کام لو۔ خدا نے تمہارے لئے جنت تیار کر چھوڑی ہے۔ اور یہ پیشگوئی تھوڑے ہی دنوں میں پوری ہوگئی کیونکہ یاسرؓ مار کھاتے کھاتے مر گئے مگر اِس پر بھی کفار کو صبر نہ آیا اور اُنہوں نے اُن کی بڑھیا بیوی سمیّہؓ پر ظلم جاری رکھے۔ چنانچہ ابو جہل نے ایک دن غصہ میں اُن کی ران پر زور سے نیزہ مارا جو ران کو چیرتا ہوا اُن کے پیٹ میں گھس گیا اور تڑپتے ہوئے اُنہوں نے جان دے دی۔۱۹۹؎

زنیرہؓ بھی ایک لونڈی تھیں اُن کو ابوجہل نے اتنا مارا کہ اُن کی آنکھیں ضائع ہوگئیں۔۲۰۰؎

ابوفکیہہؓ صفوان بن اُمّیہ کے غلام تھے۔ اُن کو اُن کا مالک اور اُس کا خاندان گرم تپتی ہوئی زمین پر لٹا دیتا اور بڑے بڑے گرم پتھر اُن کے سینہ پر رکھ دیتا یہاں تک کہ اُن کی زبان باہر نکل آتی۔ یہی حال باقی غلاموں کا بھی تھا۔۲۰۱؎

بیشک یہ ظلم انسانی طاقت سے بالا تھے ، مگر جن لوگوں پر یہ ظلم کئے جارہے تھے وہ ظاہر میں انسان تھے اور باطن میں فرشتے۔ قرآن صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل اور کانوں پر نازل نہیں ہو رہا تھا خدا اُن لوگوں کے دلوں میں بھی بول رہا تھا اور کبھی کوئی مذہب قائم نہیں ہو سکتا جب تک اس کے ابتدائی ماننے والوں کے دلوں میں سے خدا کی آواز بلند نہ ہو۔ جب انسانوں نے اُن کو چھوڑ دیا ، جب رشتہ داروں نے اُن سے منہ پھیر لیا تو خدا تعالیٰ اُن کے دلوں میں کہتا تھا میں تمہارے ساتھ ہوں ، میں تمہارے ساتھ ہوں اور یہ سب ظلم اُن کے لئے راحت ہو جاتے تھے۔ گالیاں دعائیں بن کر لگتی تھیں۔ پتھر مرہم کے قائمقام ہو جاتے تھے مخالفتیں بڑھتی گئیں مگر ایمان بھی ساتھ ہی ترقی کرتا گیا۔ ظلم اپنی انتہاء کو پہنچ گیا مگر اخلاص بھی تمام گزشتہ حد بندیوں سے اُوپر نکل گیا۔

آزاد مسلمانوں پر ظلم

آزاد مسلمانوں پر بھی کچھ کم ظلم نہیں ہوتے تھے۔ اُن کے بزرگ اور خاندانوں کے بڑے لوگ اُنہیں بھی قسم قسم کی تکلیفیں دیتے تھے۔ حضرت عثمانؓ چالیس سال کی عمر کے قریب کے تھے اور مالدار آدمی تھے مگر باوجود اس کے جب قریش نے مسلمانوں پر ظلم کرنے کا فیصلہ کیا تو اُن کے چچا حکم نے اُن کو رسیوں سے باندھ کر خوب پیٹا۔ زبیرؓ بن العوام ایک بہت بڑے بہادر نوجوان تھے۔ اسلام کی فتوحات کے زمانہ میں وہ ایک زبردست جرنیل ثابت ہوئے۔ ان کا چچا بھی اُن کو خوب تکلیفیں دیتا تھا۔ چٹائی میں لپیٹ دیتا تھا اور نیچے سے دُھواں دیتا تھا تا کہ اُن کا سانس رُک جائے اور پھر کہتا تھا کہ کیا اب بھی اسلام سے باز آؤ گے یا نہیں؟ مگر وہ اِن تکالیف کو برداشت کرتے اور جواب میں یہی کہتے کہ میں صداقت کو پہچان کر اُس سے انکار نہیں کر سکتا۔

حضرت ابوذرؓ، غفار قبیلہ کے ایک آدمی تھے وہاں اُنہوں نے سنا کہ مکہ میں کسی شخص نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ وہ تحقیقات کے لئے مکہ آئے تو مکہ والوں نے اُنہیں ورغلایا اور کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تو ہمارا رشتہ دار ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اُس نے ایک دکان کھولی ہے۔ مگر ابوذرؓ اپنے ارادہ سے باز نہ آئے اور کئی تدابیر اختیار کر کے آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا پہنچے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تعلیم بتائی اور آپ اسلام لے آئے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی کہ اگر میں کچھ عرصہ تک اپنی قوم کو اپنے اسلام کی خبر نہ دوں تو کچھ حرج تو نہیں؟ آپ نے فرمایا اگر چند دن خاموش رہیں تو کوئی حرج نہیں۔ اِس اجازت کے ساتھ وہ اپنے قبیلہ کی طرف واپس چلے اور دل میں فیصلہ کر لیا کہ کچھ عرصہ تک میں اپنے حالات کو درست کر لوں گا تو اپنے اسلام کو ظاہر کروں گا۔ جب وہ مکہ کی گلیوں میں سے گزر رہے تھے تو اُنہوں نے دیکھا کہ رؤسائے مکہ اسلام کے خلاف گالی گلوچ کر رہے ہیں۔ کچھ دنوں کے لئے اپنے عقیدہ کو چھپائے رکھنے کا خیال اُن کے دل سے اُسی وقت محو ہو گیا۔ اور بے اختیار ہو کر اُنہوں نے اِس مجلس کے سامنے یہ اعلان کیا اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اُس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اُس کے بندے اور رسول ہیں۔ دشمنوں کی اِس مجلس میں اِس آواز کا اُٹھنا تھا کہ سب لوگ ان کو مارنے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے اور اتنا مارا کہ وہ بیہوش ہو کر جا پڑے لیکن پھر بھی ظالموں نے اپنے ہاتھ نہ کھینچے اور مارتے ہی چلے گئے۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباسؓ جو اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے وہاں آ گئے اور اُنہوں نے ان لوگوں کو سمجھایا کہ ابوذر کے قبیلہ میں سے ہو کر تمہارے غلے کے قافلے آتے ہیں اگر اُس کی قوم کو غصہ آ گیا تو مکہ بھوکا مر جائے گا۔ اِس پر اُن لوگوں نے اُن کو چھوڑ دیا۔ ابوذرؓ نے ایک دن آرام کیا اور دوسرے دن پھر اُسی مجلس میں پہنچے۔ وہاں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف باتیں کرنا روزانہ کا شغل تھا۔ جب یہ خانہ کعبہ میں گئے تو پھر وہی ذکر ہو رہا تھا۔ اُنہوں نے پھر کھڑے ہو کر اپنے عقیدۂ توحید کا اعلان کیا اور پھر اُن لوگوں نے اُن کو مارنا پیٹنا شروع کیا۔ اسی طرح تین دن ہوتا رہا۔۴۰۲؎ اس کے بعد یہ اپنے قبیلہ کی طرف چلے گئے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مظالم

خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بھی محفوظ نہ تھی۔ طرح طرح سے آپ کو دکھ دیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ آپ عبادت کر رہے تھے کہ آپ کے گلے میں پٹکا ڈال کر لوگوں نے کھینچنا شروع کیا یہاں تک کہ آپ کی آنکھیں باہر نکل آئیں ۔ اتنے میں حضرت ابو بکرؓ وہاں آگئے اور اُنہوں نے یہ کہتے ہوئے چھڑایا کہ اے لوگو! کیا تم ایک آدمی کو اس جرم میں قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے خدا میرا آقا ہے۔۴۰۳؎

ایک دفعہ آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ کی پیٹھ پر اونٹ کی اوجھری لا کر رکھ دی گئی اور اس کے بوجھ سے اُس وقت تک آپ سر نہ اُٹھا سکے جب تک بعض لوگوں نے پہنچ کر اُس اوجھری کو آپ کی پیٹھ سے ہٹایا نہیں۔۴۰۴؎

ایک دفعہ آپ بازار سے گزر رہے تھے تو مکہ کے اوباشوں کی ایک جماعت آپ کے گرد ہو گئی اور رستہ بھر آپ کی گردن پر یہ کہہ کر تھپڑ مارتی چلی گئی کہ لوگو! یہ وہ شخص ہے جو کہتا ہے میں نبی ہوں۔

آپ کے گھر میں اردگرد کے گھروں سے متواتر پتھر پھینکے جاتے تھے۔ باورچی خانہ میں گندی چیزیں پھینکی جاتی تھیں ۔ جن میں بکروں اور اونٹوں کی انتڑیاں بھی شامل ہوتی تھیں ۔ جب آپ نماز پڑھتے تو آپ پر خاک دھول ڈالی جاتی حتی کہ مجبور ہو کر آپ کو چٹان میں سے نکلے ہوئے ایک پتھر کے نیچے چھپ کر نماز پڑھنی پڑتی تھی۔ مگر یہ مظالم بیکار نہ جا رہے تھے۔ شریف الطبع لوگ ان کو دیکھتے اور اسلام کی طرف اُن کے دل کھنچے چلے جاتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن خانہ کعبہ کے قریب صفا پہاڑی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ابو جہل آپ کا سب سے بڑا دشمن اور مکہ کا سردار وہاں سے گزرا اور اُس نے آپ کو گالیاں دینی شروع کیں ۔ آپ اُس کی گالیاں سنتے رہے اور کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے اٹھ کر اپنے گھر چلے گئے۔ آپ کے خاندان کی ایک لونڈی اس واقعہ کو دیکھ رہی تھی۔ شام کے وقت آپ کے چچا حمزہؓ جو ایک نہایت دلیر اور بہادر آدمی تھے اور جن کی بہادری کی وجہ سے شہر کے لوگ اُن سے خائف تھے شکار کھیل کر جنگل سے واپس آئے اور کندھے کے ساتھ کمان لٹکائے ہوئے نہایت ہی تبختر ۲۰۵ کے ساتھ اپنے گھر میں داخل ہوئے۔ لونڈی کا دل صبح کے نظارہ سے بےحد متاثر تھا۔ وہ حمزہؓ کو اس شکل میں دیکھ کر برداشت نہ کرسکی اور انہیں طعنہ دے کر کہا۔ تم بڑے بہادر بنے پھرتے ہو، ہر وقت اسلحہ سے مسلح رہتے ہو۔ مگر کیا تمہیں معلوم ہے کہ صبح ابوجہل نے تمہارے بھتیجے سے کیا کیا؟ حمزہؓ نے پوچھا کیا کیا؟ اُس نے وہ سب واقعہ حمزہؓ کے سامنے بیان کیا۔ حمزہؓ گو مسلمان نہ تھے مگر دل کے شریف تھے۔ اسلام کی باتیں تو سنی ہوئی تھیں اور یقیناً اُن کے دل پر ان کا اثر ہوچکا تھا مگر اپنی آزاد زندگی کی وجہ سے سنجیدگی کے ساتھ اُن پر غور کرنے کا موقع نہیں ملا تھا لیکن اِس واقعہ کو سن کر اُن کی رگ حمیت جوش میں آگئی۔ آنکھوں پر سے غفلت کا پردہ دُور ہوگیا اور انہیں یوں معلوم ہوا کہ ایک قیمتی چیز ہاتھوں سے نکلی جارہی ہے۔ اُسی وقت گھر سے باہر آئے اور خانہ کعبہ کی طرف گئے جو رؤساء کے مشورے کا مخصوص مقام تھا۔ اپنی کمان کندھے سے اُتاری اور زور سے ابوجہل کو ماری اور کہا سنو! میں بھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مذہب کو اختیار کرتا ہوں۔ تم نے صبح اُسے بلا وجہ گالیاں دیں اِس لئے کہ وہ آگے سے جواب نہیں دیتا۔ اگر بہادر ہو تو اب میری مار کا جواب دو۔ یہ واقعہ ایسا اچانک ہوا کہ ابوجہل بھی گھبرا گیا۔ اُس کے ساتھی حمزہؓ سے لڑنے کو اُٹھے لیکن حمزہؓ کی بہادری کا خیال کر کے اور اُن کے قومی جتھا پر نظر کر کے ابوجہل نے خیال کیا کہ اگر لڑائی شروع ہوگئی تو اِس کا نتیجہ نہایت خطرناک نکلے گا اِس لئے مصلحت سے کام لے کر اُس نے اپنے ساتھیوں کو یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ چلو جانے دو میں نے واقعہ میں اس کے بھتیجے کو بہت بُری طرح گالیاں دی تھیں۔ ۲۰۶

پیغامِ اسلام

جب مخالفت تیز ہوگئی اور اِدھر سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ نے اصرار سے مکہ والوں کو خدا تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچانا شروع کیا کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا خدا ایک ہے، اُس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔ جس قدر نبی گذرے ہیں سب ہی اُس کی توحید کا اقرار کیا کرتے تھے اور اپنے ہم قوموں کو بھی اسی تعلیم کی طرف بلایا کرتے تھے۔ تم خدائے واحد پر ایمان لاؤ ، اِن پتھر کے بتوں کو چھوڑ دو کہ یہ بالکل بے کار ہیں اور ان میں کوئی طاقت نہیں۔ اے مکہ والو! کیا تم دیکھتے نہیں کہ ان کے سامنے جو نذر و نیاز رکھی جاتی ہے اگر اس پر مکھیوں کا جھرمٹ آبیٹھے تو وہ ان مکھیوں کو اُڑانے کی بھی طاقت نہیں رکھتے ، اگر کوئی اُن پر حملہ کرے تو وہ اپنی حفاظت نہیں کر سکتے ، اگر کوئی اُن سے سوال کرے تو وہ جواب نہیں دے سکتے ، اگر کوئی ان سے مدد مانگے تو وہ اس کی مدد نہیں کر سکتے۔ مگر خدائے واحد تو مانگنے والوں کی ضرورت پوری کرتا ہے۔ سوال کرنے والوں کو جواب دیتا ہے۔ مدد مانگنے والوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو زیر کرتا ہے اور اپنے عبادت گذار بندوں کو اعلیٰ ترقیات بخشتا ہے۔ اُس سے روشنی آتی ہے جو اس کے پرستاروں کے دلوں کو منور کر دیتی ہے۔ پھر تم کیوں ایسے خدا کو چھوڑ کر بے جان بتوں کے آگے جھکتے ہو اور اپنی عمر ضائع کر رہے ہو۔ تم دیکھتے نہیں کہ خدا تعالیٰ کی توحید کو چھوڑ کر تمہارے خیالات بھی گندے اور دل بھی تاریک ہو گئے ہیں۔ تم قسم قسم کی وہمی تعلیموں میں مبتلا ہو۔ حلال وحرام کی تم میں تمیز نہیں رہی۔ اچھے اور بُرے میں تم امتیاز نہیں کر سکتے۔ اپنی ماؤں کی بے حرمتی کرتے ہو، اپنی بہنوں اور بیٹیوں پر ظلم کرتے ہو اور ان کے حق اُنہیں نہیں دیتے۔ اپنی بیویوں سے تمہارا سلوک اچھا نہیں۔ یتامیٰ کے حق مارتے ہو اور بیواؤں سے بُرا سلوک کرتے ہو۔ غریبوں اور کمزوروں پر ظلم کرتے ہو اور دوسروں کے حق مار کر اپنی بڑائی قائم کرنا چاہتے ہو۔ جھوٹ اور فریب سے تم کو عار نہیں۔ چوری اور ڈاکہ سے تم کو نفرت نہیں۔ جوا اور شراب تمہارا شغل ہے۔ حصولِ علم اور قومی خدمت کی طرف تمہاری توجہ نہیں۔ خدائے واحد کی طرف سے کب تک غافل رہو گے۔ آؤ اور اپنی اصلاح کرو اور ظلم چھوڑ دو۔ ہر حق دار کو اُس کا حق دو۔ خدا نے اگر مال دیا ہے تو ملک وقوم کی خدمت اور کمزوروں اور غریبوں کی ترقی کے لئے اُسے خرچ کرو۔ عورتوں کی عزت کرو اور ان کے حق ادا کرو۔ یتیموں کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھو اور اُن کی خبرگیری کو اعلیٰ درجہ کی نیکی سمجھو۔ بیواؤں کا سہارا بنو۔ نیکیوں اور تقویٰ کو قائم کرو۔ انصاف اور عدل ہی نہیں بلکہ رحم اور احسان کو اپنا شعار بناؤ۔ اس دنیا میں تمہارا آنا بیکار نہ جانا چاہئے۔ اچھے آثار اپنے پیچھے چھوڑو، تا دائمی نیکی کا بیج بویا جائے ۔ حق لینے میں نہیں بلکہ قربانی اور ایثار میں اصل عزت ہے۔ پس تم قربانی کرو، خدا کے قریب ہو۔ خدا کے بندوں کے مقابل پر ایثار کا نمونہ دکھاؤ تا خدا تعالیٰ کے ہاں تمہارا حق قائم ہو۔ بے شک ہم کمزور ہیں مگر ہماری کمزوری کو نہ دیکھو۔ آسمان پر سچائی کی حکومت کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے عدل کا ترازورکھا جائے گا اور انصاف اور رحم کی حکومت قائم کی جائے گی جس میں کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ مذہب کے معاملہ میں دخل اندازی نہ کی جائے گی۔ عورتوں اور غلاموں پر جو ظلم ہوتے رہے ہیں وہ مٹا دیئے جائیں گے اور شیطان کی حکومت کی جگہ خدائے واحد کی حکومت قائم کر دی جائے گی۔

کفّارِ مکہ کی ابو طالب کے پاس شکایت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا استقلال

جب یہ تعلیمیں بار بار مکہ والوں کو سنائی جانے لگیں اور شریف الطبع لوگوں کی رغبت اسلام کی طرف بڑھنے لگی تو ایک دن مکہ کے سردار جمع ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس آئے اور اُن سے کہا کہ آپ ہمارے رئیس ہیں اور آپ کی خاطر ہم نے آپ کے بھتیجے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کچھ نہیں کہا۔ اب وقت آگیا ہے کہ آپ کے ساتھ ہم آخری فیصلہ کریں یا تو آپ اُسے سمجھائیں اور اس سے پوچھیں کہ آخر وہ ہم سے چاہتا کیا ہے۔ اگر اُس کی خواہش عزت حاصل کرنے کی ہے تو ہم اسے اپنا سردار بنانے کے لئے تیار ہیں۔ اگر وہ دولت کا خواہش مند ہے تو ہم میں سے ہر شخص اپنے مال کا کچھ حصہ اُس کو دینے کے لئے تیار ہے۔ اگر اُسے شادی کی خواہش ہے تو مکہ کی ہر لڑکی جو اُسے پسند ہو اُس کا نام لے ہم اُس سے اُس کا بیاہ کرانے کے لئے تیار ہیں۔ ہم اِس کے بدلہ میں اُس سے کچھ نہیں چاہتے اور کسی بات سے نہیں روکتے۔ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے بتوں کو بُرا کہنا چھوڑ دے۔ وہ بیشک کہے خدا ایک ہے مگر یہ نہ کہے کہ ہمارے بت بُرے ہیں۔ اگر وہ اتنی بات مان لے تو ہماری اس سے صلح ہو جائے گی۔ آپ اُسے سمجھائیں اور ہماری تجویز کے قبول کرنے پر آمادہ کریں۔ ورنہ پھر دو باتوں میں سے ایک ہو گی یا آپ کو اپنا بھتیجا چھوڑنا پڑے گا یا آپ کی قوم آپ کی ریاست سے انکار کر کے آپ کو چھوڑ دے گی۔ ابو طالب کے لئے یہ بات نہایت ہی شاق تھی۔ عربوں کے پاس روپیہ پیسہ تو تھوڑا ہی ہوتا تھا ان کی ساری خوشی اُن کی ریاست میں ہوتی تھی۔ رؤساء قوم کے لئے زندہ رہتے تھے اور قوم رؤساء کے لئے زندہ رہتی تھی۔ یہ بات سن کر ابو طالب بیتاب ہو گئے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بُلوایا اور کہا کہ اے میرے بھتیجے! میری قوم میرے پاس آئی ہے اور اس نے مجھے یہ پیغام دیا ہے اور ساتھ ہی انہوں نے مجھے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اگر تمہارا بھتیجا ان باتوں میں سے کسی ایک بات پر بھی راضی نہ ہو تو پھر ہماری طرف سے ہر ایک قسم کی پیشکش ہو چکی ہے اگر وہ اس پر بھی اپنے طریقہ سے باز نہیں آتا تو آپ کا کام ہے کہ اسے چھوڑ دیں اور اگر آپ اسے چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں تو پھر ہم لوگ آپ کی ریاست سے انکار کر کے آپ کو چھوڑ دیں گے۔ جب ابو طالب نے یہ بات کی تو اُن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اُن کے آنسوؤں کو دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے اور آپ نے فرمایا اے میرے چچا! میں یہ نہیں کہتا کہ آپ اپنی قوم کو چھوڑ دیں اور میرا ساتھ دیں۔ آپ بیشک میرا ساتھ چھوڑ دیں اور اپنی قوم کے ساتھ مل جائیں۔ لیکن مجھے خدائے وحدہٗ لاشریک کی قسم ہے کہ اگر سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لا کر کھڑا کر دیں تب بھی میں خدا تعالیٰ کی توحید کا وعظ کرنے سے باز نہیں رہ سکتا۔ میں اپنے کام میں لگا رہوں گا جب تک خدا مجھے موت دے۔ آپ اپنی مصلحت کو خود سوچ لیں۔ یہ ایمان سے پُر اور یہ اخلاص سے بھرا ہوا جواب ابو طالب کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی تھا۔ اُنہوں نے سمجھ لیا کہ گو مجھے ایمان لانے کی توفیق نہیں ملی لیکن اِس ایمان کا نظارہ دیکھنے کی توفیق ملنا ہی سب دولتوں سے بڑی دولت ہے اور آپ نے کہا اے میرے بھتیجے! جا اور اپنا فرض ادا کرتا رہ۔ قوم اگر مجھے چھوڑنا چاہتی ہے تو بیشک چھوڑ دے میں تجھے نہیں چھوڑ سکتا۔۲۷؎

حبشہ کی طرف ہجرت

جب مکہ والوں کا ظلم انتہاء کو پہنچ گیا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے ساتھیوں کو بُلوایا اور فرمایا مغرب کی طرف سمندر پار ایک زمین ہے جہاں خدا کی عبادت کی وجہ سے ظلم نہیں کیا جاتا۔ مذہب کی تبدیلی کی وجہ سے لوگوں کو قتل نہیں کیا جاتا وہاں ایک منصف بادشاہ ہے، تم لوگ ہجرت کر کے وہاں چلے جاؤ شاید تمہارے لئے آسانی کی راہ پیدا ہو جائے۔ کچھ مسلمان مرد اور عورتیں اور بچے آپ کے اس ارشاد پر ایسے سینیا کی طرف چلے گئے۔ ان لوگوں کا مکہ سے نکلنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔ مکہ کے لوگ اپنے آپ کو خانہ کعبہ کا متولّی سمجھتے تھے اور مکہ سے باہر چلے جانا ان کے لئے ایک نا قابل برداشت صدمہ تھا۔ وہی شخص یہ بات کہہ سکتا تھا جس کے لئے دنیا میں کوئی اوڑھکانہ باقی نہ رہے۔ پس ان لوگوں کا نکلنا ایک نہایت ہی دردناک واقعہ تھا۔ پھر نکلنا بھی اُن لوگوں کو چوری ہی پڑا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر مکہ والوں کو معلوم ہو گیا تو وہ ہمیں نکلنے نہیں دیں گے اور اس وجہ سے وہ اپنے عزیزوں اور پیاروں کی آخری ملاقات سے بھی محروم جا رہے تھے۔ اُن کے دلوں کی جو حالت تھی سو تھی، اُن کے دیکھنے والے بھی ان کی تکلیف سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ چنانچہ جس وقت یہ قافلہ نکل رہا تھا حضرت عمرؓ جو اُس وقت تک کافر اور اسلام کے شدید دشمن تھے اور مسلمانوں کو تکلیف دینے والوں میں سے چوٹی کے آدمی تھے اتفاقاً اُس قافلہ کے بعض افراد کو مل گئے۔ اُن میں ایک صحابیہ اُمّ عبد اللہ نامی بھی تھیں۔ بندھے ہوئے سامان اور تیار سواریوں کو جب آپ نے دیکھا تو آپ سمجھ گئے کہ یہ لوگ مکہ کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ آپ نے کہا اُمّ عبد اللہ یہ تو ہجرت کے سامان نظر آ رہے ہیں۔ اُمّ عبد اللہ کہتی ہیں میں نے جواب میں کہا ہاں خدا کی قسم! ہم کسی اور ملک میں چلے جائیں گے کیونکہ تم نے ہم کو بہت دکھ دیئے ہیں اور ہم پر بہت ظلم کئے ہیں ہم اُس وقت تک اپنے ملک میں نہیں لوٹیں گے جب تک خدا تعالیٰ ہمارے لئے کوئی آسانی اور آرام کی صورت نہ پیدا کر دے۔ اُمّ عبد اللہ بیان کرتی ہیں کہ عمر نے جواب میں کہا اچھا خدا تمہارے ساتھ ہو اور میں نے اُن کی آواز میں رقت محسوس کی جو اس سے پہلے میں نے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ پھر وہ جلدی سے منہ پھیر کر چلے گئے اور میں نے محسوس کیا کہ اس واقعہ سے ان کی طبیعت نہایت ہی غمگین ہو گئی ہے۔۲۰۸

جب اُن لوگوں کے ہجرت کرنے کی مکہ والوں کو خبر ہوئی تو اُنہوں نے ان کا تعاقب کیا اور سمندر تک ان کے پیچھے گئے مگر یہ قافلہ ان لوگوں کے سمندر تک پہنچنے سے پہلے ہی حبشہ کی طرف روانہ ہو چکا تھا۔ جب مکہ والوں کو یہ معلوم ہوا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایک وفد بادشاہِ حبشہ کے پاس بھیجا جائے جو اُسے مسلمانوں کے خلاف بھڑکائے اور اُسے تحریک کرے کہ وہ مسلمانوں کو مکہ والوں کے سپرد کر دے تاکہ وہ اُنہیں ان کی اس شوخی کی سزا دیں کہ رؤسائے شہر کے ظلموں کو برداشت نہ کرتے ہوئے وہ مکہ سے کیوں بھاگے تھے۔ اس وفد میں عمرو بن العاص بھی تھے

جو بعد میں مسلمان ہو گئے تھے اور مصر اُنہہی کے ہاتھوں فتح ہوا۔ یہ وفد حبشہ گیا اور بادشاہ سے ملا اور امرائے دربار کو اُنہوں نے خوب اُکسایا، لیکن اللہ تعالیٰ نے بادشاہِ حبشہ کے دل کو مضبوط کر دیا اور اُس نے باوجود اِن لوگوں کے اصرار کے اور باوجود درباریوں کے اصرار کے مسلمانوں کو کُفّار کے سپرد کرنے سے انکار کر دیا۔ جب یہ وفد ناکام واپس آیا تو مکہ والوں نے ان مسلمانوں کو بلانے کے لئے ایک اور تدبیر سوچی اور وہ یہ کہ حبشہ جانے والے بعض قافلوں میں یہ خبر مشہور کر دی کہ مکہ کے سب لوگ مسلمان ہو گئے ہیں۔ جب یہ خبر حبشہ پہنچی تو اکثر مسلمان خوشی سے مکہ کی طرف واپس لوٹے مگر مکہ پہنچ کر اُن کو معلوم ہوا کہ یہ خبر محض شرارتاً مشہور کی گئی تھی اور اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ اس پر کچھ لوگ تو واپس حبشہ چلے گئے اور کچھ مکہ میں ہی ٹھہر گئے۔ ان مکہ میں ٹھہرنے والوں میں سے عثمان بن مظعونؓ بھی تھے جو مکہ کے ایک بہت بڑے رئیس کے بیٹے تھے۔ اِس دفعہ ان کے باپ کے ایک دوست ولید بن مغیرہ نے ان کو پناہ دی اور وہ امن سے مکہ میں رہنے لگے۔ مگر اس عرصہ میں انہوں نے دیکھا کہ بعض دوسرے مسلمانوں کو دکھ دیئے جاتے ہیں اور اُنہیں سخت سے سخت تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں۔ چونکہ وہ غیرتمند نوجوان تھے ولید کے پاس گئے اور اُسے کہہ دیا کہ میں آپ کی پناہ کو واپس کرتا ہوں کیونکہ مجھ سے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ دوسرے مسلمان دکھ اُٹھائیں اور میں آرام میں رہوں۔ چنانچہ ولید نے اعلان کر دیا کہ عثمان اب میری پناہ میں نہیں۔ اس کے بعد ایک دن لبید عرب کا مشہور شاعر مکہ کے رؤساء میں بیٹھا اپنے شعر سنا رہا تھا کہ اُس نے ایک مصرع پڑھا

وَكُلُّ نَعِيْمٍ لَامَحَالَةَ زَائِلُ

جس کے معنی یہ ہیں کہ ہر نعمت آخر مٹ جانے والی ہے۔ عثمان نے کہا یہ غلط ہے جنت کی نعمتیں ہمیشہ قائم رہیں گی۔ لبید ایک بہت بڑا آدمی تھا یہ جواب سن کر جوش میں آ گیا اور اُس نے کہا اے قریش کے لوگو! تمہارے مہمان کو تو پہلے اس طرح ذلیل نہیں کیا جا سکتا تھا اب یہ نیا رواج کب سے شروع ہوا ہے؟ اس پر ایک شخص نے کہا یہ ایک بیوقوف آدمی ہے اس کی بات کی پرواہ نہ کریں۔ حضرت عثمانؓ نے اپنی بات پر اصرار کیا اور کہا بیوقوفی کی کیا بات ہے جو بات میں نے کہی ہے وہ سچ ہے۔ اس پر ایک شخص نے اُٹھ کر زور سے آپ کے منہ پر گھونسا مارا جس سے آپ کی ایک آنکھ نکل گئی۔ ولید اُس وقت اُس مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ عثمانؓ کے باپ کے ساتھ اُس کی بڑی گہری دوستی تھی۔ اپنے مردہ دوست کے بیٹے کی یہ حالت اُس سے دیکھی نہ گئی۔ مگر مکہ کے رواج کے مطابق جب عثمانؓ اس کی پناہ میں نہیں تھے تو وہ ان کی حمایت بھی نہیں کر سکتا تھا، اس لئے اَور تو کچھ نہ کر سکا نہایت ہی دکھ کے ساتھ عثمانؓ ہی کو مخاطب کر کے بولا! اے میرے بھائی کے بیٹے! خدا کی قسم تیری یہ آنکھ اس صدمہ سے بچ سکتی تھی جبکہ تو ایک زبردست حفاظت میں تھا (یعنی میری پناہ میں تھا) لیکن تو نے خود ہی اس پناہ کو چھوڑ دیا اور یہ دن دیکھا۔ عثمانؓ نے جواب میں کہا جو کچھ میرے ساتھ ہوا ہے میں خود اس کا خواہشمند تھا تم میری پھوٹی ہوئی آنکھ پر ماتم کر رہے ہو حالانکہ میری تندرست آنکھ اس بات کیلئے تڑپ رہی ہے کہ جو میری بہن کے ساتھ ہوا ہے وہی میرے ساتھ کیوں نہیں ہوتا۔۲۰۹محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ میرے لئے بس ہے۔ اگر وہ تکلیفیں اُٹھا رہے ہیں تو میں کیوں نہ اُٹھاؤں۔ میرے لئے خدا کی حمایت کافی ہے۔

حضرت عمرؓ کا قبول اسلام

اِسی زمانہ میں مکہ میں ایک اور واقعہ ظاہر ہوا جس نے مکہ میں آگ لگا دی اور یہ واقعہ اس طرح ہوا کہ عمرؓ جو بعد میں اسلام کے دوسرے خلیفہ ہوئے اور جو اسلام کے ابتدائی زمانہ میں شدید ترین دشمنوں میں سے تھے۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے اُن کے دل میں خیال آیا کہ اِس وقت تک اسلام کے مٹانے کے لئے بہت کچھ کوششیں کی گئی ہیں مگر کامیابی نہیں ہوئی کیوں نہ اسلام کے بانی کو قتل کر دیا جائے اور اس فتنہ کو ہمیشہ کے لئے مٹا دیا جائے۔ یہ خیال آتے ہی اُنہوں نے تلوار اُٹھائی اور گھر سے نکلے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں چل کھڑے ہوئے ۔ راستہ میں اُن کا کوئی دوست ملا اور اِس حالت میں دیکھ کر کچھ حیران ہوا اور آپ سے سوال کیا کہ عمرؓ! کہاں جا رہے ہو؟ عمرؓ نے کہا میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کرنے کے لئے جا رہا ہوں۔ اُس نے کہا کیا تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کر کے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے قبیلہ سے محفوظ رہ سکو گے؟ اور ذرا اپنے گھر کی تو خبر لو تمہاری بہن اور تمہارا بہنوئی بھی مسلمان ہو چکے ہیں۔ یہ خبر حضرت عمرؓ کے سر پر بجلی کی طرح گری انہوں نے سوچا میں جو اسلام کا بدترین دشمن ہوں میں جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مارنے کے لئے جا رہا ہوں میری ہی بہن اور میرا ہی بہنوئی اسلام قبول کر چکے ہیں

اگر ایسا ہے تو پہلے مجھے اپنی بہن اور بہنوئی سے نپٹنا چاہئے۔ یہ سوچتے ہوئے وہ اپنی بہن کے گھر کی طرف چلے جب دروازہ پر پہنچے تو انہیں اندر سے خوش الحانی سے کسی کلام کے پڑھنے کی آوازیں آئیں ۔ یہ پڑھنے والے خبابؓ جو اُن کی بہن اور اُن کے بہنوئی کو قرآن شریف سکھلا رہے تھے۔ عمرؓ تیزی سے گھر میں داخل ہوئے ۔ اُن کے پاؤں کی آہٹ سن کر خبابؓ تو کسی کونہ میں چھپ گئے اور اُن کی بہن نے جن کا نام فاطمہؓ تھا قرآن شریف کے وہ اوراق جو اُس وقت پڑھے جا رہے تھے ، چھپا دیئے ۔ حضرت عمرؓ کمرہ میں داخل ہوئے تو غصہ سے پوچھا میں نے سنا ہے کہ تم اپنے دین سے پھر گئے ہو؟ اور یہ کہہ کر اپنے بہنوئی پر جو اُن کے چچازاد بھائی بھی تھے حملہ آور ہوئے۔ فاطمہؓ نے جب دیکھا کہ ان کے بھائی عمرؓ ان کے خاوند پر حملہ کرنے لگے تو وہ دوڑ کر اپنے خاوند کے آگے کھڑی ہو گئیں۔ عمرؓ ہاتھ اُٹھا چکے تھے اُن کا ہاتھ زور سے اُن کے بہنوئی کے منہ کی طرف آرہا تھا اور اب اس ہاتھ کو روکنا اُن کی طاقت سے باہر تھا مگر اب ان کے ہاتھ کے سامنے ان کے بہنوئی کی بجائے ان کی بہن کا چہرہ تھا۔ عمرؓ کا ہاتھ زور سے فاطمہؓ کے چہرہ پر گرا اور فاطمہؓ کے ناک سے خون کے ترّاڑے۲۱؎بہنے لگے۔ فاطمہؓ نے مار تو کھالی مگر دلیری سے کہا عمر! یہ بات سچ ہے کہ ہم مسلمان ہو چکے ہیں اور یاد رکھئے کہ ہم اِس دین کو نہیں چھوڑ سکتے آپ سے جو کچھ ہو سکتا ہو کر لیں ۔ عمرؓ ایک بہادر آدمی تھے ظلم نے اُن کی بہادری کو مٹا نہیں دیا تھا۔ ایک عورت اور پھر اپنی بہن کو اپنے ہی ہاتھ سے زخمی دیکھا تو شرمندگی اور ندامت سے گھڑوں پانی پڑ گیا۔ بہن کے چہرہ سے خون بہہ رہا تھا اور عمرؓ کے دل سے اب ان کا غصہ دور ہو چکا تھا ۔ اپنی بہن سے معافی مانگنے کی خواہش زور پکڑ رہی تھی اور تو کوئی بہانہ نہ سوجھا بہن سے بولے اچھا! لاؤ مجھے وہ کلام تو سناؤ جو تم لوگ ابھی پڑھ رہے تھے۔ فاطمہؓ نے کہا میں نہیں دکھاؤں گی ۔ کیونکہ آپ ان اوراق کو ضائع کر دو گے ۔ عمر نے کہا نہیں بہن میں ایسا نہیں کروں گا۔ فاطمہ نے کہا تم تو نجس ہو پہلے غسل کرو پھر دکھاؤں گی عمرؓ ندامت کی شدت کی وجہ سے سب کچھ کرنے کے لیے تیار تھے۔ وہ غسل پر بھی راضی ہو گئے ۔ جب غسل کر کے واپس آئے تو فاطمہؓ نے اُن کے ہاتھ میں قرآن کریم کے اوراق دے دیئے ۔ یہ قرآن کریم کے اوراق سورہ طٰہٰ کی کچھ آیات تھیں ۔ جب وہ اسے پڑھتے ہوئے اس آیت پر پہنچے اِنَّنِیۡۤ اَنَا اللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِیۡ(20:15)،

وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکۡرِیۡ اِنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ اَکَادُ اُخۡفِیۡہَا لِتُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا تَسۡعٰی(طٰہٰ: ۱۵، ۱۶) یقیناً میں ہی اللہ ہوں اور کوئی معبود نہیں صرف میں ہی معبود ہوں۔ پس اے مخاطب! میری عبادت کر اور نماز پڑھ اور اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ مل کر میری عبادت کو قائم کر۔ رسمی عبادت نہیں بلکہ میری بزرگی کو دنیا میں قائم کرنے والی عبادت۔ یاد رکھ کہ اِس کلام کو قائم کرنے والی گھڑی آرہی ہے میں اس کے ظاہر کرنے کے سامان پیدا کر رہا ہوں جن کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر ایک جان کو جیسے جیسے وہ کام کرتی ہے اس کے مطابق بدلہ مل جائے گا۔ حضرت عمرؓ جب اس آیت پر پہنچے تو بے اختیار ان کے منہ سے نکل گیا یہ کیسا عجیب اور پاک کلام ہے۔ خبابؓ نے جب یہ الفاظ سنے تو وہ اس جگہ سے جہاں چھپے ہوئے تھے باہر نکل آئے اور کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی دعا کا نتیجہ ہے۔ مجھے خدا کی قسم! میں نے کل ہی آپ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا تھا کہ الٰہی! عمر بن الخطاب یا عمرو بن ہشام میں سے کسی ایک کو اسلام کی طرف ضرور ہدایت بخش۔ عمرؓ کھڑے ہو گئے اور کہا مجھے بتاؤ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کہاں ہیں؟ جب آپ کو بتایا گیا کہ آپ دارارقم میں رہتے ہیں تو آپ اُسی طرح ننگی تلوار لیے ہوئے وہاں پہنچے اور دروازہ پر دستک دی۔ صحابہؓ نے دروازہ کی دراڑوں میں سے دیکھا تو انہیں عمرؓ ننگی تلوار لئے کھڑے نظر آئے۔ وہ ڈرے کہ ایسا نہ ہو دروازہ کھول دیں تو عمرؓ اندر آ کر کوئی فساد کریں۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوا کیا؟ دروازہ کھول دو۔ عمرؓ اسی طرح تلوار لیے اندر داخل ہوئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور فرمایا عمر! کس ارادہ سے آئے ہو؟ عمرؓ نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! میں مسلمان ہونے آیا ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر بلند آواز سے اَللّٰهُ اَكْبَرُ کہا یعنی اللہ سب سے بڑا ہے اور آپ کے سب ساتھیوں نے بھی یہی الفاظ زور سے دہرائے یہاں تک کہ مکہ کی پہاڑیاں گونج اٹھیں۲۱؎ اور تھوڑی ہی دیر میں یہ خبر مکہ میں آگ کی طرح پھیل گئی اور عمرؓ سے بھی وہی سختی کا برتاؤ ہونا شروع ہو گیا جو پہلے دوسرے صحابہؓ سے ہوتا تھا۔ مگر وہی عمرؓ جو پہلے مارنے اور قتل کرنے میں مزہ اُٹھایا کرتے تھے اب مار کھانے اور پیٹے جانے میں لذت حاصل کرنے لگے۔ چنانچہ خود عمرؓ کا بیان ہے کہ ایمان لانے کے بعد میں مکہ کی گلیوں میں ماریں ہی کھاتا رہتا تھا۔

مسلمانوں سے مقاطعہ

غرض ظلم اب حد سے باہر ہوتے جارہے تھے۔ کچھ لوگ مکہ چھوڑ کر چلے گئے تھے اور جو باقی تھے وہ پہلے سے بھی زیادہ ظلموں کا شکار ہونے لگے تھے مگر ظالموں کے دل ابھی ٹھنڈے نہ ہوئے تھے، جب انہوں نے دیکھا کہ ہمارے گزشتہ ظلموں سے مسلمانوں کے دل نہیں ٹوٹے۔ ان کے ایمانوں میں تزلزل واقع نہیں ہوا بلکہ وہ خدائے واحد کی پرستش میں اور بھی بڑھ گئے اور بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور بتوں سے ان کی نفرت ترقی ہی کرتی چلی جاتی ہے تو انہوں نے پھر ایک مجلس شوریٰ قائم کی اور فیصلہ کر دیا کہ مسلمانوں کے ساتھ کلی طور پر مقاطعہ کر دیا جائے ۔ کوئی شخص سودا اُن کے پاس فروخت نہ کرے۔ کوئی شخص ان کے ساتھ لین دین نہ کرے۔ اُس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند متبعین اور ان کے بیوی بچوں سمیت اور اپنے چند ایسے رشتہ داروں کے ساتھ جو با وجود اسلام نہ لانے کے آپ کا ساتھ چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے ایک الگ مقام میں جو ابو طالب کی ملکیت تھا پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ ان لوگوں کے پاس نہ روپیہ تھا نہ سامان نہ ذخائر جن کی مدد سے وہ جیتے۔ وہ اس تنگی کے زمانہ میں جن حالات میں سے گزرے ہوں گے ان کا اندازہ لگانا دوسرے انسان کے لئے ممکن نہیں۔ قریباً تین سال تک یہ حالات اسی طرح قائم رہے اور مکہ کے مقاطعہ کے فیصلہ میں کوئی کمزوری پیدا نہ ہوئی۔ قریباً تین سال کے بعد مکہ کے پانچ شریف آدمیوں کے دل میں اس ظلم کے خلاف بغاوت پیدا ہوئی۔ وہ شعب ابی طالب کے دروازہ پر گئے اور محصورین کو آواز دے کر کہا کہ وہ باہر نکلیں اور کہ وہ اس مقاطعہ کے معاہدہ کو توڑنے کے لئے بالکل تیار ہیں۔ ابو طالب جو اس لمبے محاصرہ اور فاقوں کی وجہ سے کمزور ہو رہے تھے باہر آئے اور اپنی قوم کو مخاطب کر کے اُنہیں ملامت کی کہ ان کا یہ لمبا ظلم کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔ ان پانچ شریف انسانوں کی بغاوت فوراً بجلی کی طرح شہر میں پھیل گئی۔ فطرتِ انسانی نے پھر سر اُٹھانا شروع کیا۔ نیکی کی روح نے پھر ایک دفعہ سانس لیا اور مکہ کے لوگ اس شیطانی معاہدہ کو توڑنے پر مجبور ہوئے۔ ۲۱۴ معاہدہ تو ختم ہو گیا مگر تین سالہ فاقوں نے اپنا اثر دکھانا شروع کیا۔ تھوڑے ہی دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفاشعار بیوی حضرت خدیجہؓ اس مقاطعہ کے دنوں کی تکلیفوں کے نتیجہ میں فوت ہوگئیں اور اس کے ایک مہینہ بعد ابو طالب بھی اِس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

حضرت خدیجہؓ اور ابو طالب کی وفات کے بعد تبلیغ میں رُکاوٹیں اور آنحضرتﷺ کا سفر طائف

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اب ابو طالب کے مصالحانہ اثر سے محروم ہو گئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی کی ساتھی حضرت خدیجہؓ بھی آپ سے جدا ہو گئیں۔ اِن دونوں کی وفات سے طبعی طور پر اُن لوگوں کی ہمدردیاں بھی آپ سے اور آپ کے صحابہؓ سے کم ہو گئیں جو ان کے تعلقات کی وجہ سے ظالموں کو ظلم سے روکتے رہتے تھے۔ ابو طالب کی وفات کے تازہ صدمہ کی وجہ سے اور ابو طالب کی وصیت کی وجہ سے چند دن آپ کے شدید دشمن اور ابو طالب کے چھوٹے بھائی ابولہب نے آپ کا ساتھ دیا۔ لیکن جب مکہ والوں نے اس کے جذبات کو یہ کہہ کر اُبھارا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تو تمام اُن لوگوں کو جو توحید الٰہی کے قائل نہیں مجرم اور قابل سزا سمجھتا ہے تو اپنے آباء کی غیرت کے جوش میں ابولہب نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور عہد کیا کہ وہ آئندہ پہلے سے بھی زیادہ آپ کی مخالفت کرے گا۔ محصوری کی زندگی کی وجہ سے چونکہ تین سال تک لوگ اپنے رشتہ داروں سے جدا رہے تھے اس لئے تعلقات میں ایک سردی پیدا ہوگئی تھی۔ مکہ والے مسلمانوں سے قطع کلامی کے عادی ہو چکے تھے اس لئے تبلیغ کا میدان محدود ہو گیا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ حالت دیکھی تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ وہ مکہ کی بجائے طائف کے لوگوں کو جا کر اسلام کی دعوت دیں۔ آپ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ مکہ والوں کی مخالفت نے اس ارادہ کو اور بھی مضبوط کر دیا۔ اوّل تو مکہ والے بات سنتے ہی نہیں تھے دوسرے اب انہوں نے یہ طریقہ اختیار کر لیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گلیوں میں چلنے ہی نہ دیتے۔ جب آپ باہر نکلتے آپ کے سر پر مٹی پھینکی جاتی تاکہ آپ لوگوں سے مل ہی نہ سکیں۔ ایک دفعہ اسی حالت میں واپس لوٹے تو آپ کی ایک بیٹی آپ کے سر پر مٹی ہٹاتے ہوئے رونے لگی۔ آپ نے فرمایا او میری بچی! رو نہیں کیونکہ یقیناً خدا تمہارے باپ کے ساتھ ہے۔

آپ تکالیف سے گھبراتے نہ تھے، لیکن مشکل یہ تھی کہ لوگ بات سننے کو تیار نہ تھے۔ جہاں تک تکالیف کا سوال ہے آپ اُن کو ضروری سمجھتے تھے بلکہ آپ کے لئے سب سے زیادہ تکلیف کا دن تو وہ ہوتا تھا جب کوئی شخص آپ کو تکلیف نہیں دیتا تھا۔ لکھا ہے کہ ایک دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی گلیوں میں تبلیغ کے لئے نکلے مگر اُس دن کسی منصوبہ کے تحت کسی شخص نے آپ سے کلام نہ کیا اور نہ آپ کو کسی قسم کی کوئی تکلیف دی نہ کسی غلام نے نہ کسی آزاد نے۔ تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صدمہ اور غم سے خاموش لیٹ گئے۔ یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی اور فرمایا جاؤ اور اپنی قوم کو پھراؤ اور پھر اور پھر ہوشیار کرو اور ان کی عدمِ توجہہی کی پرواہ نہ کرو۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات گراں نہ گزرتی تھی کہ لوگ آپ کو دکھ دیتے تھے لیکن خدا کا نبی جو دنیا کو ہدایت دینے کے لئے مبعوث ہوا تھا وہ اس بات کو کب برداشت کر سکتا تھا کہ لوگ اُس سے بات ہی نہ کریں اور اس کی بات سننے کے لئے تیار ہی نہ ہوں۔ ایسی بیکار زندگی اس کے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔ پس آپ نے پختہ فیصلہ کر لیا کہ اب آپ طائف کی طرف جائیں گے اور طائف کے لوگوں کو خداتعالیٰ کا پیغام پہنچائیں گے اور خدا تعالیٰ کے نبیوں کے لیے یہی مقدر ہوتا ہے کہ وہ اِدھر سے اُدھر مختلف قوموں کو مخاطب کرتے پھریں۔ حضرت موسیٰ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، کبھی وہ آلِ فرعون سے مخاطب ہوا تو کبھی آلِ اسحاق سے اور کبھی مدین کے لوگوں سے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی تبلیغ کے شوق میں کبھی جلیل کے لوگوں، کبھی یردن پار کے لوگوں، کبھی یروشلم کے لوگوں، اور کبھی اور دوسرے لوگوں کو مخاطب کرنا پڑا۔ جب مکہ کے لوگوں نے باتیں سننے سے ہی انکار کر دیا اور یہ فیصلہ کر لیا کہ مارو اور پیٹو مگر بات بالکل نہ سنو، تو آپ نے طائف کی طرف رُخ کیا۔ طائف مکہ سے کوئی ساٹھ میل کے قریب جنوب مشرق کی طرف ایک شہر ہے جو اپنے پھلوں اور اپنی زراعت کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ شہرت پرستی میں مکہ والوں سے کم نہ تھا۔ خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کے سوا لَات نامی ایک مشہور بت طائف کی اہمیت کا موجب تھا جس کی زیارت کیلئے عرب کے لوگ دُور دُور سے آتے تھے۔ طائف کے لوگوں کی مکہ سے بہت رشتہ داریاں بھی تھیں اور طائف اور مکہ کے درمیان کی سرسبز مقامات میں مکہ والوں کی جائدادیں بھی تھیں۔ جب آپ طائف پہنچے تو وہاں کے رؤساء آپ سے ملنے کے لئے آنے شروع ہوئے لیکن کوئی شخص حق کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوا۔ عوام الناس نے بھی اپنے رؤساء کی اتباع کی اور خدا کے پیغام کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا۔ دنیا داروں کی نگاہ میں بے سامان اور بے مدد گار نبی حقیر ہی ہوا کرتا ہے وہ تو اسلحہ اور فوجوں کی آواز سننا جانتے ہیں آپ کی نسبت باتیں تو پہنچ ہی چکی تھیں جب آپ طائف پہنچے اور انہوں نے دیکھا کہ بجائے اس کے کہ آپ کے ساتھ کوئی فوج اور جتھا ہوتا آپ صرف زیدؓ ہی کی ہمراہی میں طائف کے مشہور حصوں میں تبلیغ کرتے پھرتے ہیں تو دل کے اندھوں نے اپنے سامنے خدا کا نبی نہیں بلکہ ایک حقیر اور دھتکارا ہوا انسان پایا اور سمجھے کہ شاید اِس کو دکھ دینا اور تکلیف پہنچانا قوم کے رؤساء کی نظروں میں ہم کو معزز کر دے گا۔ وہ ایک دن جمع ہوئے ، کتے انہوں نے اپنے ساتھ لئے ، لڑکوں کو اُکسایا اور پتھروں سے اپنی جھولیاں بھر لیں اور بیدردی سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھراؤ کرنا شروع کیا۔ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہر سے دھکیلتے ہوئے باہر لے گئے۔ آپ کے پاؤں لہولہان ہو گئے اور زیدؓ آپ کو بچاتے ہوئے سخت زخمی ہوئے مگر ظالموں کا دل ٹھنڈا نہ ہوا وہ آپ کے پیچھے چلتے گئے اور چلتے گئے جب تک شہر سے کئی میل دُور کی پہاڑیوں تک آپ نہ پہنچ گئے اُنہوں نے آپ کا پیچھا نہ چھوڑا۔ جب یہ لوگ آپ کا پیچھا کر رہے تھے تو آپ اِس ڈر سے کہ خدا تعالیٰ کا غضب ان پر نہ بھڑک اُٹھے آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر دیکھتے اور نہایت الحاح سے دعا کرتے۔ الٰہی ! ان لوگوں کو معاف کر کہ یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔ ۲۱؎

زخمی، تھکے ہوئے اور دنیا کے لوگوں کی طرف سے دھتکارے ہوئے آپ ایک انگورستان کے سایہ میں پناہ گزیں ہوئے ۔ یہ انگورستان مکہ کے دوسرداروں کا تھا۔ یہ سردار اُس وقت اِس انگورستان میں تھے پُرانے اور شدید دشمن جنہوں نے دس سال تک آپ کی مخالفت میں اپنی زندگی گزاری تھی شاید اُس وقت اِس بات سے متاثر ہو گئے کہ ایک مکہ کے آدمی کو طائف کے لوگوں نے زخمی کیا ہے یا شاید وہ گھڑی ایسی گھڑی تھی جب نیکی کا بیج اُن کے دلوں میں سر اُٹھا رہا تھا اُنہوں نے ایک تھال انگوروں کا بھرا اور اپنے غلام عداس کو کہا کہ جاؤ اور اِن مسافروں کو اسے دو۔ عداس نینوا کا رہنے والا ایک عیسائی تھا۔ جب اُس نے یہ انگور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے اور آپ نے یہ کہتے ہوئے اُن انگوروں کو لیا کہ خدا کے نام پر جو بے انتہاء کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے میں یہ لیتا ہوں تو عیسائیت کی یاد اُس کے دل میں پھر تازہ ہو گئی۔ اُس نے محسوس کیا کہ اُس کے سامنے خدا کا ایک نبی بیٹھا ہے جو اسرائیلی نبیوں کی سی زبان میں باتیں کرتا ہے۔ اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ جب اُس نے کہا نینوا کا ۔ تو آپ نے فرمایا وہ نیک انسان یونس جو متی کا بیٹا تھا اور نینوا کا باشندہ وہ میری طرح خدا کا ایک نبی تھا۔ پھر آپ نے اُس کو اپنے مذہب کی تبلیغ شروع کی ۔ عداس کی حیرانی چند ہی لمحوں میں تعجب سے بدل گئی ۔ تعجب ایمان میں تبدیل ہو گیا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ اجنبی غلام آنسوؤں سے بھری ہوئی آنکھوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گیا اور آپ کے سر اور ہاتھوں اور پیروں کو بوسہ دینے لگا ۔ ۲۱۶ عداس کی باتوں سے فارغ ہو کر آپ اللہ تعالیٰ کی طرف مخاطب ہوئے اور آپ نے خدا سے یوں دعا مانگی ۔

اللَّهُمَّ إِلَيْكَ اَشْكُرُ ضُعْفَ قُوَّتِي وَقِلَّةَ حِيلَتِي وَ هَوَ انِي عَلَى النَّاسِ يَا اَرحَمَ الرَّاحِمِينَ أَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِينَ وَأَنْتَ رَبِّي إِلَى مَنْ تَكِلُنِي إِلَى بَعِيدٍ يَتَجَهَّمُنِي أَمْ إِلَى عَدُوٌّ مَلَكْتَهُ اَمْرِى إِنْ لَّمْ يَكُنُ بِكَ عَلَى غَضَبٌ فَلَا أُبَالِي وَلَكِنْ عَافِيَتُكَ هِيَ أَوْسَعُ لِى - اَعُوذُ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ الظُّلُمْتُ وَصَلُحَ عَلَيْهِ اَمْرُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ مِنْ أَنْ تُنَزِّلَ بِي غَضَبَكَ أَوْ يَحِلَّ عَلَى سَخَطُكَ لَكَ الْعُقْبَى حَتَّى تَرْضَى وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ

یعنی اے میرے رب ! میں تیرے ہی پاس اپنی کمزوریوں اور اپنے سامانوں کی کمی اور لوگوں کی نظروں میں اپنے حقیر ہونے کی شکایت کرتا ہوں ۔ لیکن تو غریبوں اور کمزوروں کا خدا ہے اور تو میرا بھی خدا ہے تو مجھے کس کے ہاتھوں میں چھوڑے گا۔ کیا اجنبیوں کے ہاتھوں میں جو مجھے اِدھر اُدھر دھکیلتے پھریں گے یا اُس دشمن کے ہاتھ میں جو میرے وطن میں مجھ پر غالب ہے۔ اگر تیرا غضب مجھ پر نہیں تو مجھے ان دشمنوں کی کوئی پرواہ نہیں ۔ تیرا رحم میرے ساتھ ہے اور تیری عافیت میرے لئے زیادہ وسیع ہے۔ میں تیرے چہرہ کی روشنی میں پناہ چاہتا ہوں ۔ یہ تیرا ہی کام ہے کہ تو تاریکی کو دنیا سے بھگا دے اور اِس دنیا اور اگلی دنیا میں امن بخشے۔ تیرا غصہ اور تیری غیرت مجھ پر نہ بھڑکیں۔ تو اگر ناراض بھی ہوتا ہے تو اس لئے کہ پھر خوشی کا اظہار کرے اور تیرے سوا کوئی حقیقی طاقت اور کوئی حقیقی پناہ کی جگہ نہیں۔

یہ دعا مانگ کر آپؐ مکہ کی طرف روانہ ہوئے لیکن درمیان میں نخلہ نامی مقام پر ٹھہر گئے۔ چند دن وہاں سستا کر پھر آپؐ مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ لیکن عرب کے دستور کے مطابق لڑائی کی وجہ سے مکہ چھوڑ دینے کے بعد آپؐ مکہ کے باشندے نہیں رہے تھے اب مکہ والوں کا اختیار تھا کہ وہ آپؐ کو مکہ میں آنے دیتے یا نہ آنے دیتے اس لئے آپؐ نے مکہ کے ایک رئیس مُطْعِم بن عدی کو کہلا بھیجا کہ میں مکہ میں داخل ہونا چاہتا ہوں کیا تم عرب کے دستور کے مطابق مجھے داخلہ کی اجازت دیتے ہو؟ مطعم باوجود شدید دشمن ہونے کے ایک شریف الطبع انسان تھا اُس نے اُسی وقت اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں کو ساتھ لیا اور مسلح ہو کر کعبہ کے صحن میں جا کھڑا ہوا اور آپؐ کو پیغام بھیجا کہ وہ مکہ میں آپؐ کو آنے کی اجازت دیتا ہے۔ آپؐ مکہ میں داخل ہوئے کعبہ کا طواف کیا اور مطعم اپنی اولاد اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ تلواریں کھینچے ہوئے آپؐ کو آپؐ کے گھر تک پہنچانے کے لئے آیا۔۲۱۸یہ پناہ نہیں تھی کیونکہ اس کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم ہوتے رہے اور مطعم نے کوئی حفاظت آپؐ کی نہیں کی بلکہ یہ صرف مکہ میں داخلہ کی قانونی اجازت تھی۔

آپؐ کے اِس سفر کے متعلق دشمنوں کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑا ہے کہ اِس سفر میں آپؐ نے بے نظیر قربانی اور استقلال کا نمونہ دکھایا ہے۔ سر ولیم میور اپنی کتاب ”لائف آف محمدؐ“ میں لکھتے ہیں:

’’محمدؐ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے طائف کے سفر میں ایک شاندار اور شجاعانہ رنگ پایا جاتا ہے۔ اکیلا آدمی جس کی اپنی قوم نے اُس کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور اُسے دھتکار دیا خدا کے نام پر بہادری کے ساتھ نینوا کے یوناہ نبی کی طرح ایک بت پرست شہر کو توبہ کی اور خدائی مشن کی دعوت دینے کے لئے نکلا۔ یہ امر اُس کے اِس ایمان پر کہ وہ اپنے آپ کو کلی طور پر خدا کی طرف سے سمجھتا تھا ایک بہت تیز روشنی ڈالتا ہے‘‘۔۲۱۹ مکہ نے پھر ایذاء دہی اور استہزاء کے دروازے کھول دیئے۔ پھر خدا کے نبی کے لئے اُس کا وطن جہنم کا نمونہ بننے لگا۔ مگر اِس پر بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دلیری سے لوگوں کو خدا کی تعلیم پہنچاتے رہے۔ مکہ کے گلی کوچوں میں ’’خدا ایک ہے خدا ایک ہے‘‘ کی آوازیں بلند ہوتی رہیں۔ محبت سے، پیار سے، خیرخواہی سے، آپ مکہ والوں کو بت پرستی کے خلاف وعظ کرتے رہے۔ لوگ بھاگتے تھے تو آپ اُن کے پیچھے جاتے تھے۔ لوگ منہ پھیرتے تھے تو آپ پھر بھی باتیں سنائے چلے جاتے تھے۔ صداقت آہستہ آہستہ گھر کر رہی تھی۔ وہ تھوڑے سے مسلمان جو ہجرت حبشہ سے بچے ہوئے مکہ میں رہ گئے تھے وہ اندر ہی اندر اپنے رشتہ داروں، دوستوں، ساتھیوں اور ہمسائیوں میں تبلیغ کر رہے تھے۔ بعض کے دل ایمان سے منور ہو جاتے تھے تو عَلَی الْاِعْلَان اپنے مذہب کا اظہار کر دیتے تھے اور اپنے بھائیوں کے ساتھ ماریں کھانے اور تکلیفیں اُٹھانے میں شریک ہو جاتے تھے۔ مگر بہت تھے جنہوں نے روشنی کو دیکھ تو لیا تھا مگر اُس کے قبول کرنے کی توفیق نہیں ملی تھی۔ وہ اُس دن کا انتظار کر رہے تھے جب خدا کی بادشاہت زمین پر آئے اور وہ اُس میں داخل ہوں۔

باشندگانِ مدینہ کا قبولِ اسلام

اِسی عرصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بار بار خبر دی جا رہی تھی کہ تمہارے لئے ہجرت کا وقت آ رہا ہے اور آپ پر یہ بھی کھل چکا تھا کہ آپ کی ہجرت کا مقام ایک ایسا شہر ہے جس میں کنویں بھی ہیں اور کھجوروں کے باغ بھی پائے جاتے ہیں۔ پہلے آپ نے یمامہ کی نسبت خیال کیا کہ شاید وہ ہجرت کا مقام ہو گا۲۲۰مگر جلد ہی یہ خیال آپ کے دل سے نکال دیا گیا اور آپ اِس انتظار میں لگ گئے کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق جو شہر بھی مقدر ہے وہ اپنے آپ کو اسلام کا گہوارہ بنانے کے لئے پیش کرے گا۔ اِسی دوران میں حج کا زمانہ آ گیا عرب کے چاروں طرف سے لوگ مکہ میں حج کے لئے جمع ہونے شروع ہوئے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عادت کے مطابق جہاں کچھ آدمیوں کو کھڑا دیکھتے تھے اُن کے پاس جا کر اُنہیں توحید کا وعظ سنانے لگ جاتے تھے اور خدا کی بادشاہت کی خوشخبری دیتے تھے اور ظلم اور بدکاری اور فساد اور شرارت سے بچنے کی نصیحت کرتے تھے۔ بعض لوگ آپ کی بات سنتے اور حیرت کا اظہار کر کے جدا ہو جاتے۔ بعض باتیں سن رہے ہوتے تو مکہ والے آ کر اُن کو وہاں

سے ہٹا دیتے تھے۔ بعض جو پہلے سے مکہ والوں کی باتیں سن چکے ہوتے وہ ہنسی اُڑا کر آپ سے جدا ہو جاتے۔ اسی حالت میں آپ مٹیٰ کی وادی میں پھر رہے تھے کہ چھ سات آدمی جو مدینہ کے باشندے تھے آپ کی نظر پڑے۔ آپ نے اُن سے کہا کہ آپ لوگ کس قبیلہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں؟ اُنہوں نے کہا خزرج قبیلہ کے ساتھ۔ آپ نے کہا وہی قبیلہ جو یہودیوں کا حلیف ہے؟ اُنہوں نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا کیا آپ لوگ تھوڑی دیر بیٹھ کر میری باتیں سنیں گے؟ اُن لوگوں نے چونکہ آپ کا ذکر سنا ہوا تھا اور دل میں آپ کے دعویٰ سے کچھ دلچسپی تھی اُنہوں نے آپ کی بات مان لی اور آپ کے پاس بیٹھ کر آپ کی باتیں سننے لگ گئے۔ آپ نے اُنہیں بتایا کہ خدا کی بادشاہت قریب آرہی ہے، بت اب دنیا سے مٹا دیئے جائیں گے، توحید کو دنیا میں قائم کر دیا جائے گا۔ نیکی اور تقویٰ پھر ایک دفعہ دنیا میں قائم ہو جائیں گے۔ کیا مدینہ کے لوگ اِس عظیم الشان نعمت کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں؟ انہوں نے آپ کی باتیں سنیں اور متاثر ہوئے اور کہا آپ کی تعلیم کو تو ہم قبول کرتے ہیں۔ باقی رہا یہ کہ مدینہ اسلام کو پناہ دینے کے لئے تیار ہے یا نہیں اس کے لئے ہم اپنے وطن جا کر اپنی قوم سے بات کریں گے پھر ہم دوسرے سال اپنی قوم کا فیصلہ آپ کو بتائیں گے۔۲۲۱؎ یہ لوگ واپس گئے اور اُنہوں نے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں میں آپ کی تعلیم کا ذکر کرنا شروع کیا۔ اُس وقت مدینہ میں دو عرب قبائل اوس اور خزرج بستے تھے اور تین یہودی قبائل یعنی بنو قریظہ اور بنو نضیر اور بنو قینقاع۔ اوس اور خزرج کی آپس میں لڑائی تھی۔ بنو قریظہ اور بنو نضیر اوس کے ساتھ اور بنو قینقاع خزرج کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ مدتوں کی لڑائی کے بعد اُن میں یہ احساس پیدا ہو رہا تھا کہ ہمیں آپس میں صلح کر لینی چاہئے۔ آخر باہمی مشورہ سے یہ قرار پایا کہ عبداللہ بن ابی بن سلول جو خزرج کا سردار تھا اُسے سارا مدینہ اپنا بادشاہ تسلیم کر لے۔ یہودیوں کے ساتھ تعلق کی وجہ سے اوس اور خزرج بائبل کی پیشگوئیاں سنتے رہتے تھے۔ جب یہودی اپنی مصیبتوں اور تکلیفوں کا حال بیان کرتے تو اُس کے آخر میں یہ بھی کہہ دیا کرتے تھے کہ ایک نبی جو موسیٰ کا مثیل ہو گا ظاہر ہونے والا ہے اُس کا وقت قریب آ رہا ہے جب وہ آئے گا ہم پھر ایک دفعہ دنیا پر غالب ہو جائیں گے، یہود کے دشمن تباہ کر دیئے جائیں گے۔ جب اُن حاجیوں سے مدینہ والوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کو سنا آپ کی سچائی اُن کے دلوں میں گھر کر گئی اور اُنہوں نے کہا یہ تو وہی نبی معلوم ہوتا ہے جس کی یہودی ہمیں خبر دیا کرتے تھے۔ پس بہت سے نوجوان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی سچائی سے متاثر ہوئے اور یہودیوں سے سنی ہوئی پیشگوئیاں اُن کے ایمان لانے میں مؤید ہوئیں۔ چنانچہ اگلے سال حج کے موقع پر پھر مدینہ کے لوگ آئے۔ بارہ آدمی اس دفعہ مدینہ سے یہ ارادہ کر کے چلے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں داخل ہو جائیں گے۔ ان میں سے دس خزرج قبیلہ کے تھے اور دو اوس کے۔ منیٰ میں وہ آپ سے ملے اور اُنہوں نے آپ کے ہاتھ پر اس بات کا اقرار کیا کہ وہ سوائے خدا کے اور کسی کی پرستش نہیں کریں گے، وہ چوری نہیں کریں گے، وہ بدکاری نہیں کریں گے، وہ اپنی لڑکیوں کو قتل نہیں کریں گے، وہ ایک دوسرے پر جھوٹے الزام نہیں لگائیں گے، نہ وہ خدا کے نبی کی دوسری نیک تعلیمات میں نافرمانی کریں گے۔۲۴۲یہ لوگ واپس آگئے تو اُنہوں نے اپنی قوم میں اور بھی زیادہ زور سے تبلیغ شروع کر دی۔ مدینہ کے گھروں میں سے بت نکال کر باہر پھینکے جانے لگے۔ بتوں کے آگے سر جھکانے والے لوگ اب گردنیں اُٹھا کر چلنے لگے۔ خدا کے سوا اب لوگوں کے ماتھے کسی کے سامنے جھکنے کے لئے تیار نہ تھے۔ یہودی حیران تھے کہ صدیوں کی دوستی اور صدیوں کی تبلیغ سے جو تبدیلی وہ نہ پیدا کر سکے اسلام نے وہ تبدیلی چند دنوں میں پیدا کر دی۔ توحید کا وعظ مدینہ والوں کے دلوں میں گھر کرتا جاتا تھا۔ یکے بعد دیگرے لوگ آتے اور مسلمانوں سے کہتے ہمیں اپنا دین سکھاؤ۔ لیکن مدینہ کے نو مسلم نہ تو خود اسلام کی تعلیم سے پوری طرح واقف تھے اور نہ اُن کی تعداد اتنی تھی کہ وہ سینکڑوں اور ہزاروں آدمیوں کو اسلام کے متعلق تفصیل سے بتا سکیں اس لئے اُنہوں نے مکہ میں ایک آدمی بھجوایا اور مبلغ کی درخواست کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصعبؓ نامی ایک صحابی کو جو حبشہ کی ہجرت سے واپس آئے تھے مدینہ میں تبلیغ اسلام کے لئے بھجوایا۔ مصعبؓ مکہ سے باہر پہلا اسلامی مبلغ تھا۔

اسراء

اُنہی ایام میں خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آئندہ کے لئے پھر ایک زبردست بشارت دی۔ آپ کو ایک کشف میں بتایا گیا کہ آپ یروشلم گئے ہیں اور نبیوں نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔۲۴۳یروشلم کی تعبیر مدینہ تھا، جو آئندہ کے لئے خدائے واحد کی

عبادت کا مرکز بننے والا تھا اور آپ کے پیچھے نبیوں کے نماز پڑھنے کی تعبیر یہ تھی کہ مختلف مذاہب کے لوگ آپ کے مذہب میں داخل ہوں گے اور آپ کا مذہب عالمگیر ہو جائے گا۔ یہ وقت مکہ میں مسلمانوں کے لئے نہایت ہی سخت تھا اور تکالیف انتہاء کو پہنچ چکی تھیں۔ اس کشف کا سنانا مکہ والوں کے لئے ہنسی اور استہزاء کا ایک نیا موجب ہو گیا اور انہوں نے ہر مجلس میں آپ کے اِس کشف پر ہنسی اڑانی شروع کی۔ مگر کون جانتا تھا کہ نئے یروشلم کی تعمیر شروع تھی۔ مشرق و مغرب کی قومیں کان دھرے خدا کے آخری نبی کی آواز سننے کے لئے متوجہ کھڑی تھیں۔

رومیوں کے غلبہ کی پیشگوئی

انہی ایام میں قیصر اور کسریٰ کے درمیان ایک خطرناک جنگ ہوئی اور کسریٰ کو فتح حاصل ہوئی۔ شام میں ایرانی فوجیں پھیل گئیں۔ یروشلم تباہ کر دیا گیا۔ حتی کہ ایرانی فوجیں یونان اور ایشائے کو چک تک پہنچ گئیں اور باسفورس کے دہانہ پر ایرانی جرنیلوں نے قسطنطنیہ سے صرف دس میل کے فاصلہ پر اپنے خیمے گاڑ دیئے۔ اس واقعہ پر مکہ کے لوگوں نے خوشیاں منانی شروع کیں اور کہا خدا کا فیصلہ ظاہر ہو گیا ہے۔ بت پرست ایرانیوں نے اہل کتاب عیسائیوں کو شکست دے دی۔ اُس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو خبر دی گئی کہ غُلِبَتِ الرُّوۡمُ فِیۡۤ اَدۡنَی الۡاَرۡضِ وَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ غَلَبِہِمۡ سَیَغۡلِبُوۡنَ فِیۡ بِضۡعِ سِنِیۡنَ ۬ؕ لِلّٰہِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَمِنۡۢ بَعۡدُ ؕ وَیَوۡمَئِذٍ یَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِنَصۡرِ اللّٰہِ ؕ یَنۡصُرُ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ وَعۡدَ اللّٰہِ ؕ لَا یُخۡلِفُ اللّٰہُ وَعۡدَہٗ وَلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ(الروم: ۳ تا ۷) یعنی رومی فوجیں عرب کے قریب ممالک میں شکست کھا گئی ہیں لیکن اپنی شکست کے بعد پھر اُن کو فتح حاصل ہو گی چند سال کے اندر اندر۔ خدا ہی کا اختیار دنیا میں پہلے بھی رائج تھا اور آئندہ بھی رائج رہے گا۔ جب وہ فتح کا دن آئے گا اُس وقت مومنوں کو بھی خدا کی مدد سے خوشی نصیب ہو گی۔ خدا جن کو چن لیتا ہے اُن کی مدد کرتا ہے وہ بڑی شان والا اور بڑا مہربان ہے۔ یہ اُس خدا کا وعدہ ہے جو اپنے وعدوں کو تبدیل نہیں کرتا۔ لیکن اکثر لوگ خدا کی قدرتوں سے ناواقف ہیں۔ چند ہی سال بعد خدا تعالیٰ نے یہ پیشگوئی پوری کر دی۔ ایک طرف رومیوں نے ایرانیوں کو شکست دے کر اپنے ملک کو آزاد کرا لیا اور دوسری طرف جیسا کہ کہا گیا تھا اُنہی ایام میں مسلمانوں کو مکہ کے لوگوں کے خلاف فتوحات حاصل ہونی شروع ہوئیں۔ جبکہ مکہ کے لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ اُنہوں نے لوگوں کو مسلمانوں کی باتیں سننے سے روک کر اور مسلمانوں پر ظلم کرنے پر آمادہ کر کے اسلام کا خاتمہ کر دیا ہے۔ خدا کا کلام متواتر اسلام کی فتوحات کی خبریں دے رہا تھا اور بتا رہا تھا کہ مکہ والوں کی تباہی کی گھڑی قریب سے قریب تر آ رہی ہے۔ چنانچہ انہی ایام میں محمد رسول اللہ ﷺ نے بڑے زور سے خدا تعالیٰ کی اِس وحی کا اعلان کیا کہ وَقَالُوۡا لَوۡلَا یَاۡتِیۡنَا بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ اَوَلَمۡ تَاۡتِہِمۡ بَیِّنَۃُ مَا فِی الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰی وَلَوۡ اَنَّـاۤ اَہۡلَکۡنٰہُمۡ بِعَذَابٍ مِّنۡ قَبۡلِہٖ لَقَالُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَیۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّذِلَّ وَنَخۡزٰی قُلۡ کُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوۡا ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ اَصۡحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَمَنِ اہۡتَدٰی(20:134-136) ۲۴۵ یعنی مکہ والے کہتے ہیں کہ کیوں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے ربّ کے پاس سے کوئی نشان ہمارے لئے نہیں لاتا۔ کیا پہلے نبیوں کی پیشگوئیاں جو اس کے حق میں ہیں وہ اُن کے لئے کافی نشان نہیں ہے۔ ہم اگر پوری تبلیغ سے پہلے ہی مکہ والوں کو ہلاک کر دیتے تو مکہ والے کہہ سکتے تھے کہ اے ہمارے ربّ! کیوں تو نے ہماری طرف کوئی رسول نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رُسوا ہونے سے پہلے تیری تعلیموں کے پیچھے چلتے۔ تو کہہ دے ہر شخص کو اپنے وقت کا انتظار کرنا پڑتا ہے پس تم بھی اُس گھڑی کا انتظار کرو جب حجت تمام ہو جائے گی تب تم یقیناً جان لوگے کہ سیدھے راستہ پر اور خدا تعالیٰ کی ہدایت پر کون چل رہا ہے۔

ہر روز خدا کی نئی وحی نازل ہو رہی تھی اور ہر روز وہ اسلام کی ترقی اور کفار کی تباہی کی خبریں دے رہی تھی۔ مکہ والے ایک طرف اپنی طاقت اور شوکت کو دیکھتے تھے اور دوسری طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کی کمزوری کو دیکھتے تھے اور پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی میں خدا تعالیٰ کی نصرتوں اور مسلمانوں کی کامیابیوں کی خبریں پڑھتے تھے تو حیران ہو کر سوچتے تھے کہ آیا وہ پاگل ہو گئے ہیں یا محمدؐ رسول اللہ، پاگل ہو گیا ہے۔ مکہ والے تو یہ امیدیں کر رہے تھے کہ ہمارے ظلموں اور ہماری تعدّی کی وجہ سے اب مسلمانوں کو مایوس ہو کر ہماری طرف آ جانا چاہئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود بھی اور اُن کے ساتھیوں کو بھی

اُن کے دعویٰ میں شبہات پیدا ہو جانے چاہئیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ اعلان کر رہے تھے کہ فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ ۙ۔ وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَ ۙ۔ اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍ ۙ۔ وَّ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ؕ قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَ ۙ۔ وَ لَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ ؕ۔ تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ ۙ۔ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِ ۙ۔ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ ۖ۔ فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِیْنَ۔ وَ اِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ۔ وَ اِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْكُمْ مُّكَذِّبِیْنَ۔ وَ اِنَّهٗ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ۔ وَ اِنَّهٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ۔ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۔ ۲۴۶ اے مکہ والو! جن خیالات میں تم پڑے ہوئے ہو وہ درست نہیں۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں اُن چیزوں کی جو تمہیں نظر آرہی ہیں اور اُن کی بھی جو تمہاری نظروں سے ابھی پوشیدہ ہیں کہ یہ قرآن ایک معزز رسول کی زبان سے تم کو سنایا جا رہا ہے یہ کسی شاعر کا کلام نہیں مگر تمہارے دل میں ایمان کم ہی پیدا ہوتا ہے۔ یہ کسی کاہن کی تک بندی نہیں ہے مگر افسوس تم کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو۔ یہ سب جہانوں کے پیدا کرنے والے خدا کی طرف سے اُتارا گیا ہے اور ہم جو سب جہانوں کے رب ہیں تم سے کہتے ہیں کہ اگر یہ ایک آیت بھی جھوٹی بنا کر ہماری طرف منسوب کرتا تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے اور پھر اُس کی رگِ جان کو کاٹ دیتے اور اگر تم سب لوگ مل کر بھی اُس کو بچانا چاہتے تو تم اُس کو نہ بچا سکتے۔ مگر یہ قرآن تو خدا سے ڈرنے والوں کے لئے ایک نصیحت ہے اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں اس قرآن کو جھٹلانے والے بھی موجود ہیں مگر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کی تعلیم اس منکروں کے دلوں میں حسرتیں پیدا کر رہی ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ کاش! یہ تعلیم ہمارے پاس ہوتی۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جو باتیں اس قرآن میں بتائی گئی ہیں وہ لفظاً لفظاً پوری ہو کر رہیں گی۔ پس اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ان لوگوں کی مخالفتوں کی پرواہ نہ کر اور اپنے عظیم الشان رب کے نام کی بزرگی بیان کرتا چلا جا۔

آخر تیسرا حج بھی آپہنچا اور مدینہ کے حاجیوں کا قافلہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد پر مشتمل مکہ میں وارد ہوا۔ مکہ والوں کی مخالفت کی وجہ سے مدینہ کے لوگوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدہ ملنے کی خواہش کی۔ اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذہن ادھر منتقل ہو چکا

تھا کہ شاید ہجرت مدینہ ہی کی طرف مقدر ہے۔ آپ نے اپنے معتبر رشتہ داروں سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور انہوں نے آپ کو سمجھانا شروع کیا کہ آپ ایسا نہ کریں۔ مکہ والے دشمن ہی سہی پھر بھی اس میں بڑے بڑے بااثر لوگ آپ کے رشتہ داروں میں سے موجود ہیں نہ معلوم مدینہ میں کیا ہو اور وہاں آپ کے رشتہ دار آپ کی مدد کر سکیں یا نہ کر سکیں۔ مگر چونکہ آپ سمجھ چکے تھے کہ خدائی فیصلہ یہی ہے آپ نے اپنے رشتہ داروں کی باتیں رَدّ کر دیں اور مدینہ جانے کا فیصلہ کر دیا۔

آدھی رات کے بعد پھر وادیٔ عقبہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مدینہ کے مسلمان جمع ہوئے۔ اب آپ کے ساتھ آپ کے چچا عباسؓ بھی تھے۔ اس دفعہ مدینہ کے مسلمانوں کی تعداد ۷۳ تھی۔ اُن میں ۶۲ خزرج قبیلہ کے تھے اور گیارہ اوس کے تھے۲۲۷اور اس قافلہ میں دو عورتیں بھی شامل تھیں جن میں سے ایک بنی نجار قبیلہ کی اُمّ عمارہؓ بھی تھیں۔ چونکہ مصعبؓ کے ذریعہ سے ان لوگوں تک اسلام کی تفصیلات پہنچ چکی تھیں یہ لوگ ایمان اور یقین سے پُر تھے، بعد کے واقعات نے ظاہر کر دیا کہ یہ لوگ آئندہ اسلام کا ستون ثابت ہونے والے تھے۔ اُمّ عمارہؓ جو اُس دن شامل ہوئیں اُنہوں نے اپنی اولاد میں اسلام کی محبت اتنی داخل کر دی کہ اُن کا بیٹا حبیبؓ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مسیلمہ کذاب کے لشکر کے ہاتھ میں قید ہو گیا تو مسیلمہ نے اُسے بُلا کر پوچھا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں؟ حبیبؓ نے کہا ہاں۔ پھر مسیلمہ نے کہا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ حبیبؓ نے کہا نہیں۔ اس پر مسیلمہ نے حکم دیا کہ ان کا عضو کاٹ لیا جائے۔ تب مسیلمہ نے پھر اُن سے پوچھا۔ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟ حبیبؓ نے کہا ہاں۔ پھر اُس نے کہا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ حبیبؓ نے کہا نہیں۔ پھر اُس نے آپ کا ایک دوسرا عضو کاٹنے کا حکم دیا۔ ہر عضو کاٹنے کے بعد وہ سوال کرتا جاتا تھا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور حبیبؓ کہتا تھا کہ نہیں۔ اسی طرح اس کے سارے اعضاء کاٹے گئے اور آخر میں اسی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اپنے ایمان کا اعلان کرتے ہوئے وہ خدا سے جا ملا۔۲۲۸

خود اُمّ عمارہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت سی جنگوں میں شامل ہوئیں۔ غرض یہ ایک مخلص اور ایمان والا قافلہ تھا جس کے افراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دولت اور مال مانگنے نہیں آئے تھے بلکہ صرف ایمان طلب کرنے آئے تھے۔ عباسؓ نے اُن کو مخاطب کر کے کہا اے خزرج قبیلہ کے لوگو! یہ میرا عزیز اپنی قوم میں معزز ہے اس کی قوم کے لوگ خواہ وہ مسلمان ہیں یا نہیں اس کی حفاظت کرتے ہیں لیکن اب اس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ تمہارے پاس جائے۔ اے خزرج کے لوگو! اگر یہ تمہارے پاس گیا تو سارا عرب تمہارا مخالف ہو جائے گا۔ اگر تم اپنی ذمہ داری کو سمجھتے اور اُن خطرات کو پہچانتے ہوئے جو تمہیں اس کے دین کی حفاظت میں پیش آنے والے ہیں اس کو لے جانا چاہتے ہو تو خوشی سے لے جاؤ ورنہ اِس ارادہ سے باز آجاؤ۔ اِس قافلہ کے سردار البراء تھے اُنہوں نے کہا ہم نے آپ کی باتیں سن لیں۔ ہم اپنے ارادہ میں پختہ ہیں ہماری جانیں خدا کے نبی کے قدموں پر نثار ہیں۔ اب فیصلہ اُس کے اختیار میں ہے۔ ہم اُس کا ہر فیصلہ قبول کریں گے۔ اِس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی تعلیم سمجھانی شروع کی اور خدا تعالیٰ کی توحید کے قیام کا وعظ کیا اور اُنہیں کہا کہ اگر وہ اسلام کی حفاظت اپنی بیویوں اور اپنے بچوں کی طرح کرنے کا وعدہ کرتے ہیں تو وہ آپ کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہیں۔۲۲۹؂ آپ اپنی بات ختم کرنے نہ پائے تھے کہ مدینہ کے ۷۲ جاں نثار یک زبان ہو کر چلائے ہاں! ہاں!! اُس وقت جوش میں اُنہیں مکہ والوں کی شرارتوں کا خیال نہ رہا اور اُن کی آوازیں فضاء میں گونج گئیں۔ عباسؓ نے اُنہیں ہوشیار کیا اور کہا خاموش! خاموش! ایسا نہ ہو کہ مکہ کے لوگوں کو اِس واقعہ کا علم ہو جائے۔ مگر اب وہ ایمان حاصل کر چکے تھے، اب موت اُن کی نظروں میں حقیر ہو چکی تھی۔ عباسؓ کی بات سن کر اُن کا ایک رئیس بولا۔ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! ہم ڈرتے نہیں، آپ اجازت دیجئے ابھی مکہ والوں سے لڑ کر اُنہوں نے جو ظلم آپ پر کئے ہیں اُس کا بدلہ لینے کو تیار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابھی خدا تعالیٰ نے مجھے اُن کے مقابل پر کھڑا ہونے کا حکم نہیں دیا۔ اِس کے بعد مدینہ کے لوگوں نے آپ کی بیعت کی اور یہ مجلس برخاست ہوئی۔۲۳۰؂

مکہ کے لوگوں کو اِس واقعہ کی بھنک پہنچ گئی اور وہ مدینہ کے سرداروں کے پاس شکایت لے کر گئے۔ لیکن چونکہ عبداللہ بن ابی ابن سلول مدینہ کے قافلہ کا سردار تھا اور اُسے خود اس واقعہ کا علم نہیں تھا اُس نے اُنہیں تسلی دلائی اور کہا کہ اُنہوں نے یونہی کوئی جھوٹی افواہ سن لی ہے ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا کیونکہ مدینہ کے لوگ میرے مشورہ کے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتے۔ مگر وہ کیا سمجھتا تھا کہ اب مدینہ کے لوگوں کے دلوں میں شیطان کی جگہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت قائم ہو چکی تھی۔ اِس کے بعد مدینہ کا قافلہ واپس چلا گیا۔

مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت

اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے ہجرت کی تیاری شروع کی۔ ایک کے بعد ایک خاندان مکہ سے غائب ہونا شروع ہوا۔ اب وہ لوگ بھی جو خدا تعالیٰ کی بادشاہت کا انتظار کر رہے تھے دلیر ہو گئے۔ بعض دفعہ ایک ہی رات میں مکہ کی ایک پوری گلی کے مکانوں کو تالے لگ جاتے تھے اور صبح کے وقت جب شہر کے لوگ گلی کو خاموش پاتے تو دریافت کرنے پر اُنہیں معلوم ہوتا تھا کہ اس گلی کے تمام رہنے والے مدینہ کو ہجرت کر گئے ہیں اور اسلام کے اِس گہرے اثر کو دیکھ کر جو اندر ہی اندر مکہ کے لوگوں میں پھیل رہا تھا وہ حیران رہ جاتے تھے۔

آخر مکہ مسلمانوں سے خالی ہو گیا، صرف چند غلام، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت علیؓ مکہ میں رہ گئے۔ جب مکہ کے لوگوں نے دیکھا کہ اب شکار ہمارے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے تو رؤساء پھر جمع ہوئے اور مشورے کے بعد اُنہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دینا ہی مناسب ہے۔ خدا تعالیٰ کے خاص تصرف سے آپ کے قتل کی تاریخ آپ کی ہجرت کی تاریخ سے موافق پڑی۔ جب مکہ کے لوگ آپ کے گھر کے سامنے آپ کے قتل کے لئے جمع ہو رہے تھے آپ رات کی تاریکی میں ہجرت کے ارادہ سے اپنے گھر سے باہر نکل رہے تھے۔ مکہ کے لوگ ضرور شبہ کرتے ہوں گے کہ اُن کے ارادہ کی خبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مل چکی ہوگی۔ مگر پھر بھی جب آپ اُن کے سامنے سے گزرے تو اُنہوں نے یہی سمجھا کہ یہ کوئی اور شخص ہے اور بجائے آپ پر حملہ کرنے کے سمٹ سمٹ کر آپ سے چھپنے لگ گئے، تاکہ اُن کے ارادوں کی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو خبر نہ ہو جائے۔ اِس رات سے پہلے دن ہی آپ کے ساتھ ہجرت کرنے کے لئے ابوبکرؓ کو بھی اطلاع دے دی گئی تھی پس وہ بھی آپ کو مل گئے اور دونوں مل کر تھوڑی دیر میں مکہ سے روانہ ہو گئے اور مکہ سے تین چار میل پر ثَور نامی پہاڑی کے سرے پر ایک غار میں پناہ گزیں ہوئے ۔۲۳۱؎ جب مکہ کے لوگوں کو معلوم ہوا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے چلے گئے ہیں تو اُنہوں نے ایک فوج جمع کی اور آپؐ کا تعاقب کیا۔ ایک کھوجی اُنہوں نے اپنے ساتھ لیا جو آپؐ کا کھوج لگاتے ہوئے ثَور پہاڑ پر پہنچا۔ وہاں اُس نے اُس غار کے پاس پہنچ کر جہاں آپ ابوبکرؓ کے ساتھ چھپے ہوئے تھے یقین کے ساتھ کہا کہ یا تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اِس غار میں ہے یا آسمان پر چڑھ گیا ہے۔ اُس کے اِس اعلان کو سن کر ابوبکرؓ کا دل بیٹھنے لگا اور اُنہوں نے آہستہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا دشمن سر پر آ پہنچا ہے اور اب کوئی دم میں غار میں داخل ہونے والا ہے۔ آپؐ نے فرمایا۔ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا(9:40)۔۲۳۲؎ ابوبکر ! ڈرو نہیں خدا ہم دونوں کے ساتھ ہے۔ ابوبکرؓ نے جواب میں کہا یَا رَسُوْلَ اللہ! میں اپنی جان کے لئے نہیں ڈرتا کیونکہ میں تو ایک معمولی انسان ہوں مارا گیا تو ایک آدمی ہی مارا جائے گا یَا رَسُوْلَ اللہ! مجھے تو صرف یہ خوف تھا کہ اگر آپؐ کی جان کو کوئی گزند پہنچا تو دنیا میں سے روحانیت اور دین کا نام مٹ جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا کوئی پرواہ نہیں یہاں ہم دو ہی نہیں ہیں تیسرا خدا تعالیٰ بھی ہمارے پاس ہے۔ چونکہ اب وقت آ پہنچا تھا کہ خدا تعالیٰ اسلام کو بڑھائے اور ترقی دے اور مکہ والوں کے لئے مہلت کا وقت ختم ہو چکا تھا خدا تعالیٰ نے مکہ والوں کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور اُنہوں نے کھوجی سے استہزاء شروع کر دیا اور کہا کیا اُنہوں نے اِس کھلی جگہ پر پناہ لینی تھی؟ یہ کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے اور پھر اِس جگہ کثرت سے سانپ بچھو رہتے ہیں یہاں کوئی عقلمند پناہ لے سکتا ہے اور بغیر اِس کے کہ غار میں جھانک کر دیکھتے کھوجی سے ہنسی کرتے ہوئے وہ واپس لوٹ گئے ۔

دو دن اِسی غار میں انتظار کرنے کے بعد پہلے سے طے کی ہوئی تجویز کے مطابق رات کے وقت غار کے پاس سواریاں پہنچائی گئیں اور دو تیز رفتار اونٹنیوں پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے ساتھی روانہ ہوئے ۔ ایک اونٹنی پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور رستہ دکھانے والا آدمی سوار ہوا اور دوسری اونٹنی پر حضرت ابوبکرؓ اور ان کا ملازم عامر بن فہیرہ سوار ہوئے ۔ مدینہ کی طرف روانہ ہونے سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ مکہ کی طرف کیا ۔ اُس

مقدس شہر پر جس میں آپؐ پیدا ہوئے، جس میں آپؐ مبعوث ہوئے اور جس میں حضرت اسمعیل علیہ السلام کے زمانہ سے آپؐ کے آباؤ اجداد رہتے چلے آئے تھے آپؐ نے آخری نظر ڈالی اور حسرت کے ساتھ شہر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اے مکہ کی بستی! تو مجھے سب جگہوں سے زیادہ عزیز ہے مگر تیرے لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔ اُس وقت حضرت ابوبکرؓ نے بھی نہایت افسوس کے ساتھ کہا ان لوگوں نے اپنے نبیؐ کو نکالا ہے اب یہ ضرور ہلاک ہوں گے۔۲۳۴

سراقہ کا تعاقب اور اُس کے متعلق آنحضرتﷺ کی ایک پیشگوئی

جب مکہ والے آپؐ کی تلاش میں ناکام رہے تو اُنہوں نے اعلان کر دیا کہ جو کوئی محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) یا ابوبکرؓ کو زندہ یا مُردہ واپس لے آئے گا اُس کو سو (۱۰۰) اُونٹنی انعام دی جائے گی اور اس اعلان کی خبر مکہ کے اِردگرد کے قبائل کو بھجوا دی گئی۔ چنانچہ سراقہ بن مالک ایک بدوی رئیس اس انعام کے لالچ میں آپؐ کے پیچھے روانہ ہوا۔ تلاش کرتے کرتے اُس نے مدینہ کی سڑک پر آپؐ کو جالیا۔ جب اُس نے دو اُونٹنیوں اور ان کے سواروں کو دیکھا اور سمجھ لیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے ساتھی ہیں تو اُس نے اپنا گھوڑا اُن کے پیچھے دوڑا دیا۔ مگر راستہ میں گھوڑے نے زور سے ٹھوکر کھائی اور سراقہ گر گیا۔ سراقہ بعد میں مسلمان ہو گیا تھا وہ اپنا واقعہ خود اس طرح بیان کرتا ہے کہ جب میں گھوڑے سے گرا تو میں نے عربوں کے دستور کے مطابق اپنے تیروں سے فال نکالی اور فال بُری نکلی۔ مگر انعام کے لالچ کی وجہ سے میں پھر گھوڑے پر سوار ہو کر پیچھے دوڑا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وقار کے ساتھ اپنی اُونٹنی پر سوار چلے جا رہے تھے۔ اُنہوں نے مڑ کر مجھے نہیں دیکھا، لیکن ابوبکرؓ (اِس ڈر سے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی گزند نہ پہنچے) بار بار منہ پھیر کر مجھے دیکھتے تھے۔ جب دوسری دفعہ میں اُن کے قریب پہنچا تو پھر میرے گھوڑے نے زور سے ٹھوکر کھائی اور میں گر گیا۔ اِس پر پھر میں نے اپنے تیروں سے فال لی اور فال خراب نکلی۔ میں نے دیکھا کہ ریت میں گھوڑے کے پاؤں اتنے دھنس گئے تھے کہ اُن کا نکالنا مشکل ہو رہا تھا۔ تب میں نے سمجھا کہ یہ لوگ خدا کی حفاظت میں ہیں اور میں نے اُنہیں آواز دی کہ ٹھہرو اور میری بات سنو! جب وہ لوگ میرے پاس آئے تو میں نے اُنہیں بتایا کہ

میں اِس ارادہ سے یہاں آیا تھا مگر اب میں نے اپنا ارادہ بدل دیا ہے اور میں واپس جا رہا ہوں، کیونکہ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ خدا تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا جاؤ، مگر دیکھو کسی کو ہمارے متعلق خبر نہ دینا۔ اُس وقت میرے دل میں خیال آیا کہ چونکہ یہ شخص سچا معلوم ہوتا ہے اس لئے ضرور ہے کہ ایک دن کامیاب ہو۔ اس خیال کے آنے پر میں نے درخواست کی کہ جب آپ کو غلبہ حاصل ہوگا اُس زمانہ کے لئے مجھے کوئی امن کا پروانہ لکھ دیں۔ آپؐ نے عامر بن فہیرہ حضرت ابوبکر کے خادم کو ارشاد فرمایا کہ اسے امن کا پروانہ لکھ دیا جائے۔۲۳۴چنانچہ اُنہوں نے امن کا پروانہ لکھ دیا۔ جب سراقہ لوٹنے لگا تو معاً اللہ تعالیٰ نے سراقہ کے آئندہ حالات آپؐ پر غیب سے ظاہر فرما دیئے اور اُن کے مطابق آپؐ نے اُسے فرمایا۔ سراقہ! اُس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب تیرے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن ہوں گے۔ سراقہ نے حیران ہو کر پوچھا، کسریٰ بن ہرمز شہنشاہ ایران کے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں!۲۳۵ آپؐ کی یہ پیشگوئی کوئی سولہ سترہ سال کے بعد جا کر لفظ بلفظ پوری ہوئی۔ سراقہ مسلمان ہو کر مدینہ آ گیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پہلے حضرت ابوبکرؓ پھر حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے۔ اسلام کی بڑھتی ہوئی شان کو دیکھ کر ایرانیوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کر دیئے اور بجائے اسلام کو کچلنے کے خود اسلام کے مقابلہ میں کچلے گئے۔ کسریٰ کا دارالامارۃ اسلامی فوجوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال ہوا اور ایران کے خزانے مسلمانوں کے قبضہ میں آئے۔ جو مال اُس ایرانی حکومت کا اسلامی فوجوں کے قبضہ میں آیا اُس میں وہ کڑے بھی تھے جو کسریٰ ایرانی دستور کے مطابق تخت پر بیٹھتے وقت پہنا کرتا تھا۔ سراقہ مسلمان ہونے کے بعد اپنے اِس واقعہ کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے وقت اُسے پیش آیا تھا مسلمانوں کو نہایت فخر کے ساتھ سنایا کرتا تھا اور مسلمان اِس بات سے آگاہ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مخاطب کر کے فرمایا تھا، سراقہ! اُس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھ میں کسریٰ کے کنگن ہوں گے۔ حضرت عمرؓ کے سامنے جب اموالِ غنیمت لا کر رکھے گئے اور اُن میں اُنہوں نے کسریٰ کے کنگن دیکھے تو سب نقشہ آپ کی آنکھوں کے سامنے پھر گیا۔ وہ کمزوری اور ضعف کا وقت جب خدا کے رسول کو اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ آنا پڑا تھا، وہ سراقہ اور دوسرے آدمیوں کا آپ کے پیچھے اِس لئے گھوڑے دوڑانا کہ آپ کو مار کر یا زندہ کسی صورت میں بھی مکہ والوں تک پہنچا دیں تو وہ سو اُونٹوں کے مالک ہو جائیں گے اور اُس وقت آپ کا سراقہ سے کہنا سراقہ اُس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب تیرے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن ہوں گے۔ کتنی بڑی پیشگوئی تھی کتنا مصفّٰی غیب تھا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے سامنے کسریٰ کے کنگن دیکھے تو خدا کی قدرت اُن کی آنکھوں کے سامنے پھر گئی۔ اُنہوں نے کہا سراقہ کو بلاؤ۔ سراقہ بلائے گئے تو حضرت عمرؓ نے اُنہیں حکم دیا کہ وہ کسریٰ کے کنگن اپنے ہاتھوں میں پہنیں۔ سراقہ نے کہا۔ اے خدا کے رسول کے خلیفہ! سونا پہننا تو مسلمانوں کے لئے منع ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا ہاں منع ہے مگر ان موقعوں کے لئے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے ہاتھ میں سونے کے کنگن دکھائے تھے یا تو تم یہ کنگن پہنو گے یا میں تمہیں سزا دوں گا۔ سراقہ کا اعتراض تو محض شریعت کے مسئلہ کی وجہ سے تھا ورنہ وہ خود بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا ہوتے دیکھنے کا خواہش مند تھا۔ سراقہ نے وہ کنگن اپنے ہاتھ میں پہن لئے اور مسلمانوں نے اس عظیم الشان پیشگوئی کو پورا ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

آنحضرتﷺ کا مدینہ منورہ میں ورود

مکہ سے بھاگ کر نکلنے والا رسول اب دنیا کا بادشاہ تھا، وہ خود اِس دنیا میں موجود نہیں تھا مگر اُس کے غلام اُس کی پیشگوئیوں کو پورا ہوتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ سراقہ کو رخصت کرنے کے بعد چند منزلیں طے کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچ گئے مدینہ کے لوگ بے صبری سے آپ کا انتظار کر رہے تھے اور اِس سے زیادہ اُن کی خوش قسمتی اور کیا ہوسکتی تھی کہ وہ سورج جو مکہ کے لئے نکلا تھا مدینہ کے لوگوں پر جا طلوع ہوا۔

جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے غائب ہیں تو وہ اُسی دن سے آپ کی انتظار کر رہے تھے۔ اُن کے وفد روزانہ مدینہ سے باہر کئی میل تک آپ کی تلاش کے لئے نکلتے تھے اور شام کو مایوس ہو کر واپس آجاتے تھے۔ جب آپ مدینہ کے پاس پہنچے تو آپ نے فیصلہ کیا کہ پہلے آپ قبا میں جو مدینہ کے پاس ایک گاؤں تھا ٹھہریں۔ ایک یہودی نے آپ کی اونٹنیوں کو آتے دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ قافلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور اُس نے آواز دی اے قیلہ کی اولاد!(قیلہ مدینہ والوں کی ایک دادی تھی) تم جس کی انتظار میں تھے آگیا ہے۔ اِس آواز کے پہنچتے ہی مدینہ کا ہر شخص قبا کی طرف دوڑ پڑا۔ قبا کے باشندے اِس خیال سے کہ خدا کا نبی اُن میں ٹھہرنے کے لئے آیا ہے خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔

اِس موقع پر ایک ایسی بات ہوئی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی کے کمال پر دلالت کرتی تھی۔ مدینہ کے اکثر لوگ آپؐ کی شکل سے واقف نہ تھے۔ جب قبا سے باہر آپؐ ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ بھاگتے ہوئے مدینہ سے آپؐ کی طرف آ رہے تھے تو چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ سادگی سے بیٹھے ہوئے تھے اُن میں سے ناواقف لوگ حضرت ابو بکرؓ کو دیکھ کر جو عمر میں گو چھوٹے تھے مگر اُن کی ڈاڑھی میں کچھ سفید بال آئے ہوئے تھے اور اسی طرح اُن کا لباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ بہتر تھا یہی سمجھتے تھے کہ ابو بکرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور بڑے ادب سے آپؐ کی طرف منہ کر کے بیٹھ جاتے تھے۔ حضرت ابو بکرؓ نے جب یہ بات دیکھی تو سمجھ لیا کہ لوگوں کو غلطی لگ رہی ہے۔ وہ جھٹ چادر پھیلا کر سورج کے سامنے کھڑے ہو گئے اور کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! آپ پر دھوپ پڑ رہی ہے میں آپ پر سایہ کرتا ہوں۲۳۶ اور اِس لطیف طریق سے اُنہوں نے لوگوں پر اُن کی غلطی کو ظاہر کر دیا۔ قبا میں دس دن رہنے کے بعد مدینہ کے لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ لے گئے۔ جب آپؐ مدینہ میں داخل ہوئے مدینہ کے تمام مسلمان کیا مرد کیا عورتیں اور کیا بچے سب گلیوں میں نکلے ہوئے آپؐ کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ بچے اور عورتیں یہ شعر گا رہے تھے

طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا

مِنْ ثَنِیَّاتِ الْوَدَاعِ

وَجَبَ الشُّکْرُ عَلَیْنَا

مَا دَعَا لِلّٰهِ دَاعِ

اَیُّھَا الْمَبْعُوْثُ فِیْنَا

جِئْتَ بِالْاَمْرِ الْمُطَاعِ ۲۳۷

یعنی چودھویں رات کا چاند ہم پر وداع کے موڑ سے چڑھا ہے اور جب تک خدا کی طرف بلانے والا دنیا میں کوئی موجود رہے، ہم پر اس احسان کا شکر یہ ادا کرنا واجب ہے اور اے وہ جس کو خدا نے ہم میں مبعوث کیا ہے تیرے حکم کی پوری طرح اطاعت کی جائے گی۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس جہت سے مدینہ میں داخل ہوئے تھے وہ مشرقی جہت نہیں تھی۔ مگر چودھویں رات کا چاند تو مشرق سے چڑھا کرتا ہے۔ پس مدینہ کے لوگوں کا اشارہ اِس بات کی طرف تھا کہ اصل چاند تو روحانی چاند ہے۔ ہم اِس وقت تک اندھیرے میں تھے اب ہمارے لئے چاند چڑھا ہے اور چاند بھی اُس جہت سے چڑھا ہے جدھر سے وہ چڑھا نہیں کرتا۔ یہ پیر کا دن تھا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہوئے اور پیر ہی کے دن آپ غارِ ثور سے نکلے تھے اور یہ عجیب بات ہے کہ پیر ہی کے دن مکہ آپ کے ہاتھ پر فتح ہوا۔

جب آپ مدینہ میں داخل ہوئے ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ آپ اُس کے گھر میں ٹھہریں۔ جس جس گلی میں سے آپ کی اُونٹنی گزرتی تھی اُس گلی کے مختلف خاندان اپنے گھروں کے آگے کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرتے تھے اور کہتے تھے۔ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! یہ ہمارا گھر ہے اور یہ ہمارا مال ہے اور یہ ہماری جانیں ہیں جو آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہیں یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اور ہم آپ کی حفاظت کرنے کے قابل ہیں آپ ہمارے ہی پاس ٹھہریں۔ بعض لوگ جوش میں آگے بڑھتے اور آپ کی اُونٹنی کی باگ پکڑ لیتے تاکہ آپ کو اپنے گھر میں اُتروا لیں۔ مگر آپ ہر ایک شخص کو یہی جواب دیتے تھے کہ میری اُونٹنی کو چھوڑ دو یہ آج خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہے یہ وہیں کھڑی ہوگی جہاں خدا تعالیٰ کا منشاء ہوگا۔ آخر مدینہ کے ایک سرے پر بنو نجار کے یتیموں کی ایک زمین کے پاس جا کر اُونٹنی ٹھہر گئی۔ آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ کا یہی منشاء معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہاں ٹھہریں۔۲۳۸ پھر فرمایا یہ زمین کس کی ہے؟ زمین کچھ یتیموں کی تھی اُن کا ولی آگے بڑھا اور اُس نے کہا کہ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! یہ فلاں فلاں یتیم کی زمین ہے اور آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہے آپ نے فرمایا ہم کسی کا مال مفت نہیں لے سکتے۔ آخر اُس کی قیمت مقرر کی گئی اور آپ نے اس جگہ پر مسجد اور اپنے مکانات بنانے کا فیصلہ کیا۔۲۳۹

حضرت ابوایوبؓ انصاری کے مکان پر قیام

اِس کے بعد آپ نے فرمایا سب سے قریب گھر کس کا ہے؟ ابوایوبؓ انصاری آگے بڑھے اور کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! میرا گھر سب سے قریب ہے اور آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہے۔ آپ نے فرمایا گھر جاؤ اور ہمارے لئے کوئی کمرہ تیار کرو۔ ابوایوبؓ کا مکان دو منزلہ تھا اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اُوپر کی منزل تجویز کی مگر آپ نے اِس خیال سے کہ ملنے والوں کو تکلیف ہوگی نچلی منزل پسند فرمائی۔

انصار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے جو شدید محبت پیدا ہوگئی تھی ، اُس کا مظاہرہ اِس موقع پر بھی ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر حضرت ابوایوبؓ مان تو گئے کہ آپ نچلی منزل میں ٹھہریں ، لیکن ساری رات میاں بیوی اس خیال سے جاگتے رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے نیچے سورہے ہیں پھر وہ کس طرح اِس بےادبی کے مرتکب ہوسکتے ہیں کہ وہ چھت کے اوپر سوئیں۔ رات کو ایک برتن پانی کا گر گیا تو اس خیال سے کہ چھت کے نیچے پانی نہ ٹپک پڑے حضرت ایوبؓ نے دوڑ کر اپنا لحاف اُس پانی پر ڈال کر پانی کی رطوبت کو خشک کیا۔ صبح کے وقت پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارے حالات عرض کئے جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر جانا منظور فرما لیا۔ حضرت ابوایوبؓ روزانہ کھانا تیار کرتے اور آپ کے پاس بھجواتے پھر جو آپ کا بچا ہوا کھانا آتا وہ سارا گھر کھاتا۔ کچھ دنوں کے بعد اصرار کے ساتھ باقی انصار نے بھی مہمان نوازی میں اپنا حصہ طلب کیا اور جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے گھر کا انتظام نہ ہو گیا باری باری مدینہ کے مسلمان آپ کے گھر میں کھانا پہنچاتے رہے۔۲۲۰

حضرت اَنَسؓ خادم آنحضرتﷺ کی شہادت

مدینہ کی ایک بیوہ عورت کا ایک ہی لڑکا اَنَسؓ نامی تھا۔ اُس کی عمر آٹھ سال تھی وہ اُسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائیں اور کہا کہ یَارَسُوْلَ اللّٰہ! میرے اِس لڑکے کو اپنی خدمت کے لئے قبول فرمائیں۔ وہ عورت اپنی محبت کی وجہ سے اپنے لڑکے کو قربانی کے لئے پیش کر رہی تھی لیکن اُسے کیا معلوم تھا کہ اُس کا لڑکا قربانی کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ کی زندگی کے لئے قبول کیا گیا۔

اَنَسؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اسلام کے بہت بڑے عالم ہوئے اور آہستہ آہستہ بہت بڑے مالدار ہوگئے۔ اُنہوں نے ایک سَو سال سے زیادہ عمر پائی اور اسلامی بادشاہت میں بہت عزت کی نگاہ کے ساتھ دیکھے جاتے تھے۔ اَنَسؓ کا بیان ہے کہ میں نے چھوٹی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا اور آپ کی زندگی تک آپ کے ساتھ رہا کبھی آپ نے مجھ سے سختی کے ساتھ بات نہیں کی، کبھی جھڑکی نہیں دی، کبھی کسی ایسے کام کیلئے نہیں کہا جو میری طاقت سے باہر ہو۔۴۴۱ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام مدینہ کے ایام میں صرف انسؓ سے خدمت لینے کا موقع ملا اور انسؓ کی شہادت اِس بارہ میں آپ کے اخلاق پر نہایت تیز روشنی ڈالنے والی ہے۔

مکہ سے اہل و عیال کو بلوانا مسجد نبوی کی بنیاد رکھنا

کچھ عرصہ کے بعد آپ نے اپنے آزاد کردہ غلام زیدؓ کو مکہ میں بھجوایا کہ وہ آپ کے اہل وعیال کو لے آئے۔ چونکہ مکہ والے اِس اچانک ہجرت کی وجہ سے کچھ گھبرا گئے تھے اِس لئے کچھ عرصہ تک مظالم کا سلسلہ بند رہا اور اسی گھبراہٹ کی وجہ سے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ کے خاندان کے مکہ چھوڑنے میں مزاحم نہیں ہوئے اور یہ لوگ خیریت سے مدینہ پہنچ گئے۔ اِس عرصہ میں جو زمین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خریدی تھی سب سے پہلے وہاں آپ نے مسجد کی بنیاد رکھی۴۴۲ اور اس کے بعد اپنے لئے اور اپنے ساتھیوں کے لئے مکان بنوائے جس پر کوئی سات مہینے کا عرصہ لگا۔

مدینہ کے مشرک قبائل کا اسلام میں داخل ہونا

مدینہ میں آپ کے داخلہ کے بعد چند ہی دن میں مدینہ کے مشرک قبائل میں سے اکثر لوگ مسلمان ہو گئے ، جو دل سے مسلمان نہ ہوئے تھے وہ ظاہری طور پر مسلمانوں میں شامل ہو گئے اور اس طرح پہلی دفعہ مسلمانوں میں منافقوں کی ایک جماعت قائم ہوئی جو بعد کے زمانہ میں کچھ تو سچے طور پر ایمان لے آئی اور کچھ ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف منصوبے اور سازشیں کرتی رہی۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو ظاہر میں بھی اسلام نہ لائے مگر یہ لوگ مدینہ میں اسلام کی شوکت کو برداشت نہ کر سکے اور مدینہ سے ہجرت کر کے مکہ چلے گئے۔ اس طرح مدینہ دنیا کا پہلا شہر تھا جس میں خالصۃً خدائے واحد کی عبادت قائم کی گئی۔ یقیناً اُس وقت دنیا کے پردہ پر اس شہر کے سوا اور کوئی شہر یا گاؤں خالصۃً خدائے واحد کی عبادت کرنے والا نہیں تھا۔

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ کتنی بڑی خوشی اور اُن کے ساتھیوں کی نگاہوں میں

یہ کتنی عظیم الشان کامیابی تھی کہ مکہ سے ہجرت کرنے کے چند دنوں بعد ہی خدا تعالیٰ نے اُن کے ذریعہ سے ایک شہر کو پورے طور پر خدائے قادر کا پرستار بنا دیا جس میں اور کسی بت کی پوجا نہیں کی جاتی تھی، نہ ظاہری بت کی نہ باطنی بت کی لیکن اس تبدیلی سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ مسلمانوں کے لئے اب امن آگیا تھا۔ مدینہ میں عربوں میں سے بھی ایک جماعت منافقوں کی ایسی موجود تھی جو آپ کی جان کی دشمن تھی اور یہود بھی ریشہ دوانیاں کر رہے تھے۔ چنانچہ اِس خطرہ کو محسوس کرتے ہوئے آپ خود بھی چوکَس رہتے تھے اور اپنے ساتھیوں کو بھی چوکَس رہنے کی تاکید کرتے تھے۔ شروع میں بعض دن ایسے بھی آئے کہ آپ کو رات بھر جاگنا پڑا۔ ایک دفعہ ایسی ہی حالت میں جب آپ کو جاگتے رہنے سے تھکان محسوس ہوئی تو آپ نے فرمایا اِس وقت کوئی مخلص آدمی پہرہ دیتا تو میں سو جاتا۔ تھوڑی ہی دیر میں ہتھیاروں کی جھنکار سنائی دی آپ نے پوچھا کون ہے؟ تو آواز آئی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! میں سعد بن وقاص ہوں جو آپ کا پہرہ دینے کے لئے آیا ہوں۔۲۴۳؎ اس پر آپ نے آرام فرمایا۔ انصار کو خود بھی یہ محسوس ہو رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی رہائش ہم پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالتی ہے اور یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں دشمنوں کے حملوں سے محفوظ نہیں چنانچہ انہوں نے باہمی فیصلہ کر کے مختلف قبائل کی باریاں مقرر کر دیں۔ ہر قبیلہ کے کچھ لوگ باری باری آپ کے گھر کا پہرہ دیتے تھے۔

غرض مکی زندگی اور مدنی زندگی میں اگر کوئی فرق تھا تو صرف یہ کہ اب مسلمان خدا کے نام پر قائم کی ہوئی مسجد میں بغیر دوسرے لوگوں کی دخل اندازی کے پانچوں وقت نمازیں پڑھ سکتے تھے۔

مکہ والوں کی مسلمانوں کو دوبارہ دُکھ دینے کی تدبیریں

دو تین مہینے گزرنے کے بعد مکہ کے لوگوں کی پریشانی دُور ہوئی اور اُنہوں نے نئے سرے سے مسلمانوں کو دکھ دینے کی تدابیر سوچنی شروع کیں ۔ مگر مشورہ کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ صرف مکہ اور گرد و نواح میں مسلمانوں کو تکلیف دینا اُنہیں اپنے مقصد میں کامیاب نہیں کر سکتا۔ وہ اِسلام کو تبھی مٹا سکتے ہیں جب

مدینہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکلوا دیں۔ چنانچہ یہ مشورہ کر کے مکہ کے لوگوں نے عبداللہ ابن ابی بن سلول کے نام جس کی نسبت پہلے بتایا جا چکا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے مدینہ والوں نے اُسے اپنا بادشاہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا خط لکھا اور اسے توجہ دلائی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ جانے کی وجہ سے مکہ کے لوگوں کو بہت صدمہ ہوا ہے۔ مدینہ کے لوگوں کو چاہئے نہیں تھا کہ وہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو پناہ دیتے۔ اِس کے آخر میں یہ الفاظ تھے ’اِنَّکُمْ اٰوَیْتُمْ صَاحِبَنَا وَاِنَّا نُقْسِمُ بِاللہِ لَتُقَاتِلُنَّہٗ اَوْ لَتُخْرِجُنَّہٗ اَوْ لَنَسِیْرَنَّ اِلَیْکُمْ بِاَجْمَعِنَا حَتّٰی نَقْتُلَ مُقَاتِلَتَکُمْ وَنَسْتَبِیْحَ نِسَاءَ کُمْ۔‘۴۴۴ یعنی اب جبکہ تم لوگوں نے ہمارے آدمی (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنے گھروں میں پناہ دی ہے ہم خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر یہ اعلان کرتے ہیں کہ یا تو تم مدینہ کے لوگ اس کے ساتھ لڑائی کرو یا اُسے اپنے شہر سے نکال دو نہیں تو ہم سب کے سب مل کر مدینہ پر حملہ کریں گے اور مدینہ کے تمام قابل جنگ آدمیوں کو قتل کر دیں گے اور عورتوں کو لونڈیاں بنالیں گے۔ اِس خط کے ملنے پر عبداللہ ابن ابی بن سلول کی نیت کچھ خراب ہوئی اور اُس نے دوسرے منافقوں سے مشورہ کیا کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم نے یہاں رہنے دیا تو ہمارے لئے خطرات کا دروازہ کُھل جائے گا اِس لئے چاہئے کہ ہم آپ کے ساتھ لڑائی کریں اور مکہ والوں کو خوش کریں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع مل گئی اور آپ عبداللہ ابن ابی بن سلول کے پاس گئے اور اُسے سمجھایا کہ تمہارا یہ فعل خود تمہارے لئے ہی مضر ہو گا۔ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مدینہ کے بہت سے لوگ مسلمان ہو چکے ہیں اور اسلام کے لئے جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں اگر تم ایسا کرو گے تو وہ لوگ یقیناً مہاجرین کے ساتھ ہوں گے اور تم لوگ اِس لڑائی کو شروع کر کے بالکل تباہ ہو جاؤ گے۔ عبداللہ ابن ابی بن سلول پر اپنی غلطی کُھل گئی اور وہ اِس ارادہ سے باز آگیا۔

انصار و مہاجرین میں مواخات

اِنہی ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور تدبیر اسلام کی مضبوطی کے لئے اختیار کی اور وہ یہ کہ آپ نے تمام مسلمانوں کو جمع کیا اور دو دو آدمیوں کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔ اس مَوَاخَات یعنی بھائی چارے کا انصار نے ایسی خوشدلی سے استقبال کیا کہ ہر انصاری

اپنے بھائی کو اپنے گھر پر لے گیا اور اپنی جائیداد اُس کے سامنے پیش کر دی کہ اُسے نصف نصف بانٹ لیا جائے ۔ ایک انصاری نے تو یہاں تک حد کر دی کہ اپنے مہاجر بھائی سے اصرار کیا کہ میں اپنی دو بیویوں میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں تم اُس سے شادی کر لو۔۴۴۵؎مگر مہاجرین نے اُن کے اِس اخلاص کا شکریہ ادا کر کے اُن کی جائیدادوں میں سے حصہ لینے سے انکار کر دیا ۔ مگر پھر بھی انصار مصر رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے عرض کیا کہ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! جب یہ مہاجرین ہمارے بھائی ہو گئے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہمارے مال میں حصہ دار نہ ہوں۔ ہاں چونکہ یہ زمینداره سے واقف نہیں اور تاجر پیشہ لوگ ہیں اگر یہ ہماری زمینوں سے حصہ نہیں لیتے تو پھر ہماری زمینوں کی جو آمدنیاں ہوں اِس میں ضرور ان کو حصہ دار بنایا جائے ۔ مہاجرین نے اِس پر بھی اُن کے ساتھ حصہ دار بننا پسند نہ کیا اور اپنے آبائی پیشہ تجارت میں لگ گئے اور تھوڑے ہی دنوں میں اُن میں سے کئی مالدار ہو گئے۔ مگر انصار اِس حصہ بٹانے پر اتنے مصر تھے کہ بعض انصار جو فوت ہوئے اُن کی اولادوں نے عرب کے دستور کے مطابق اپنے مہاجر بھائیوں کو مرنے والے کی جائیداد میں سے حصہ دیا اور کئی سال تک اس پر عمل ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ قرآن کریم میں اِس عمل کی منسوخی کا ارشاد نازل ہوا ۔

مہاجرین و انصار اور یہود کے مابین معاہدہ

علاوہ مسلمانوں کو بھائی بھائی بنانے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام اہلِ مدینہ کے درمیان ایک معاہدہ کرایا۔ آپ نے یہودیوں اور عربوں کے سرداروں کو جمع کیا اور فرمایا۔ پہلے یہاں صرف دو گروہ تھے مگر اب تین گروہ ہو گئے ہیں۔ یعنی پہلے تو صرف یہود اور مدینہ کے عرب یہاں بستے تھے مگر اب یہود، مدینہ کے عرب اور مکہ کے مہاجر تین گروہ ہو گئے ہیں۔ اِس لئے چاہئے کہ آپس میں ایک صلح نامہ قائم ہو جائے ۔ چنانچہ آپس کے سمجھوتے کے ساتھ ایک معاہدہ لکھا گیا اس معاہدہ کے الفاظ یہ ہیں :۔

’’معاہدہ مابین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، مومنوں اور اُن تمام لوگوں کے جو اُن سے بخوشی مل جائیں ۔

مہاجرین سے اگر کوئی قتل ہو جائے تو وہ اُس کے خون کا ذمہ دار خود ہوں گے اور اپنے قیدیوں کو خود چھڑائیں گے اور مدینہ کے مختلف مسلمان قبائل بھی اسی طرح ان امور میں اپنے قبائل کے ذمہ دار ہوں گے۔ جو شخص بغاوت پھیلائے یا دشمنی پیدا کرے اور نظام میں تفرقہ ڈالے تمام معاہدین اُس کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے۔ خواہ وہ اُن کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ اگر کوئی کافر مسلمان کے ہاتھ سے لڑائی میں مارا جائے تو اُس کے مسلمان رشتہ دار مسلمان سے بدلہ نہیں لیں گے اور نہ کسی مسلمان کے مقابلہ میں ایسے کافر کی مدد کریں گے۔ جو کوئی یہودی ہمارے ساتھ مل جائے اس کی ہم سب مدد کریں گے۔ یہودیوں کو کسی قسم کی تکلیف نہیں دی جائے گی نہ کسی دشمن کی اُن کے خلاف مدد کی جائے گی۔ کوئی غیر مؤمن مکہ کے لوگوں کو اپنے گھر میں پناہ نہیں دے گا نہ اُن کی جائداد اپنے پاس امانت رکھے گا اور نہ کافروں اور مؤمنوں کی لڑائی میں کسی قسم کی دخل اندازی کرے گا۔ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو نا جائز طور پر مار دے تو تمام مسلمان اُس کے خلاف متحدہ کوشش کریں گے۔ اگر ایک مشرک دشمن مدینہ پر حملہ کرے تو یہودی مسلمانوں کا ساتھ دیں گے اور بحصۂ رسدی خرچ برداشت کریں گے۔ یہودی قبائل جو مدینہ کے مختلف قبائل کے ساتھ معاہدہ کر چکے ہیں اُن کے حقوق مسلمانوں کے سے حقوق ہوں گے۔ یہودی اپنے مذہب پر قائم رہیں گے اور مسلمان اپنے مذہب پر قائم رہیں گے۔ جو حقوق یہودیوں کو ملیں گے وہی ان کے اتباع کو بھی ملیں گے۔ مدینہ کے لوگوں میں سے کوئی شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر کوئی لڑائی شروع نہیں کر سکے گا لیکن اس شرط کے ماتحت کوئی شخص اُس کے جائز انتقام سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ یہودی اپنی تنظیم میں سے اپنے اخراجات خود برداشت کریں گے اور مسلمان اپنے اخراجات خود برداشت کریں گے لیکن لڑائی کی صورت میں وہ دونوں مل کر کام کریں گے۔ مدینہ اُن تمام لوگوں کے لئے جو اس معاہدہ میں شامل ہوتے ہیں ایک محترم جگہ ہوگی۔ جو اجنبی کہ شہر کے لوگوں کی حمایت میں آ جائیں اُن کے ساتھ بھی وہی سلوک ہو گا جو اصل باشندگانِ شہر کے ساتھ ہوگا۔ لیکن مدینہ کے لوگوں کو یہ اجازت نہ ہوگی کہ کسی عورت کو اُس کے رشتہ داروں کی مرضی کے بغیر اپنے گھروں میں رکھیں۔ جھگڑے اور فساد خدا اور اُس کے رسول کے پاس فیصلہ کے لئے پیش کئے جائیں گے۔ مکہ والوں اور اُن کے حلیف قبائل کے ساتھ اِس معاہدہ میں شامل ہونے والے کوئی معاہدہ نہیں کریں گے، کیونکہ اِس معاہدہ میں شامل ہونے والے مدینہ کے دشمنوں کے خلاف اِس معاہدہ کے ذریعہ سے اتفاق کر چکے ہیں۔ جس طرح جنگ علیحدہ نہیں کی جاسکے گی اسی طرح صلح بھی علیحدہ نہیں کی جاسکے گی۔ لیکن کسی کو مجبور نہیں کیا جائے گا کہ وہ لڑائی میں شامل ہو۔ ہاں اگر کوئی شخص ظلم کا کوئی فعل کرے گا تو وہ سزا کا مستحق ہوگا ۔ یقیناً خدا نیکوں اور دینداروں کا محافظ ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) خدا کے رسول ہیں‘‘۔۲۴۶

یہ معاہدہ کا خلاصہ ہے۔ اس معاہدہ میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ دیانتداری اور صفائی کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا جائے گا اور ظالم اپنے ظلم کا خود ذمہ دار ہوگا۔ اس معاہدہ سے ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ یہودیوں کے ساتھ اور مدینہ کے اُن باشندوں کے ساتھ جو اِسلام میں شامل نہ ہوں محبت ، پیار اور ہمدردی کا سلوک کیا جائے گا اور انہیں بھائیوں کی طرح رکھا جائے گا۔ پس بعد میں یہود کے ساتھ جس قدر جھگڑے پیدا ہوئے اُن کی ذمہ داری خالصۃً یہود پر تھی۔

اہل مکہ کی طرف سے ازسرنوشرارتوں کا آغاز

جیسا کہ بتایا جاچکا ہے کہ دو تین مہینہ کے بعد مکہ والوں کی پریشانی جب دور ہوئی تو اُنہوں نے پھر سے اِسلام کے خلاف ایک نیا محاذ قائم کیا۔ چنانچہ انہی ایام میں مدینہ کے ایک رئیس سعد بن معاذ جو اوس قبیلہ کے سردار تھے بیت اللہ کا طواف کرنے کے لئے مکہ گئے تو ابوجہل نے اُن کو دیکھ کر بڑے غصہ سے کہا کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ اُس مرتد (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کو پناہ دینے کے بعد تم لوگ امن کے ساتھ کعبہ کا طواف کر سکو گے اور تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم اُس کی حفاظت اور امداد کی طاقت رکھتے ہو۔ خدا کی قسم! اگر اِس وقت تیرے ساتھ ابوصَفوان نہ ہوتا تو تُو اپنے گھر والوں کے پاس بچ کر نہ جاسکتا۔ سعد بن معاذ نے کہا۔ وَاللہِ! اگر تم نے ہمیں کعبہ سے روکا تو یاد رکھو پھر تمہیں بھی

تمہارے شامی راستہ پر امن نہیں مل سکے گا۔ انہی دنوں میں ولید بن مغیرہ مکہ کا ایک بہت بڑا رئیس بیمار ہوا اور اُس نے محسوس کیا کہ اُس کی موت قریب ہے۔ ایک دن مکہ کے بڑے بڑے رئیس اُس کے پاس بیٹھے تھے تو وہ بے اختیار ہو کر رونے لگ گیا۔ مکہ کے رؤساء حیران ہوئے اور اُس سے پوچھا کہ آخر آپ روتے کیوں ہیں؟ ولید نے کہا کیا تم سمجھتے ہو کہ میں موت کے ڈر سے روتا ہوں وَاللّٰہِ! ایسا ہرگز نہیں، مجھے تو یہ غم ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دین پھیل جائے اور مکہ بھی اِس کے قبضہ میں چلا جائے ۔ ابوسفیان نے جواب میں کہا۔ اِس بات کا غم نہ کرو جب تک ہم زندہ ہیں ایسا نہیں ہوگا ہم اِس بات کے ضامن ہیں۔

اِن تمام واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ مکہ کے لوگوں کے مظالم میں جو وقفہ ہوا تھا وہ عارضی تھا۔ دوبارہ قوم کو اُکسایا جا رہا تھا۔ مرنے والے رؤساء موت کے بستر پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی قسمیں لے رہے تھے۔ مدینہ کے لوگوں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑائی پر آمادہ کیا جا رہا تھا اور اُن کے انکار پر دھمکیاں دی جا رہی تھیں کہ مکہ والے اور اُن کے حلیف قبائل لشکر لے کر مدینہ پر حملہ کریں گے اور مدینہ کے مردوں کو مار دیں گے اور عورتوں کو غلام بنالیں گے۔

آنحضرتﷺ کی مدافعانہ تدابیر

پس اِن حالات میں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں خاموش بیٹھے رہتے اور مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہ کرتے تو یقیناً آپ پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی۔ پس آپ نے چھوٹے چھوٹے وفدوں کی صورت میں اپنے صحابہ کو مکہ کے اِردگرد بھجوانا شروع کیا تا کہ مکہ والوں کی کارروائیوں کا آپ کو علم ہوتا رہے۔ بعض دفعہ ان لوگوں کی مکہ کے قافلوں یا مکہ کی بعض جماعتوں سے مٹھ بھیڑ بھی ہو جاتی اور ایک دوسرے کو دیکھ لینے کے بعد لڑائی تک بھی نوبت پہنچ جاتی۔ مسیحی مصنف لکھتے ہیں کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے چھیڑ چھاڑ تھی۔ کیا مکہ میں تیرہ سال تک جو مسلمانوں پر ظلم کیا گیا اور مدینہ کے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کرنے کی جو کوشش کی گئی اور پھر مدینہ پر حملہ کرنے کی جو دھمکیاں دی گئیں، اِن واقعات کی موجودگی میں آپ کا خبردار رہنے کے لئے وفود بھجوانا کیا چھیڑ چھاڑ کہلا سکتا ہے؟ کونسا دنیا کا قانون ہے جو مکہ کے تیرہ سال کے مظالم کے بعد بھی مسلمانوں اور اہلِ مکہ میں لڑائی چھیڑنے کے لئے کسی مزید وجہ کی ضرورت سمجھتا ہو۔ آج مغربی ممالک اپنے آپ کو بہت ہی مہذب سمجھتے ہیں۔ جو کچھ مکہ میں ہوا کیا اُن سے نصف واقعات پر بھی کوئی قوم لڑے تو کوئی شخص اُسے مجرم قرار دے سکتا ہے؟ کیا اگر کوئی حکومت کسی دوسرے ملک کے لوگوں کو ایک جماعت کے قتل کرنے یا اپنے ملک سے نکال دینے پر مجبور کرے تو اُس جماعت کو حق حاصل نہیں ہوتا کہ وہ اُس سے لڑائی کا اعلان کرے؟ پس مدینہ میں اسلامی حکومت کے قیام کے بعد کسی نئی وجہ کے پیدا ہونے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ مکی زندگی کے واقعات مسلمانوں کو پورا حق دیتے تھے کہ وہ مکہ والوں سے جنگ کا اعلان کر دیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا۔ اُنہوں نے صبر کیا اور صرف دشمنوں کی شرارتوں کا پتہ لگاتے رہنے کی حد تک اپنی کوششیں محدود رکھیں۔ مگر جب مکہ والوں نے خود مدینہ کے عربوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا، مسلمانوں کو حج کرنے سے روک دیا اور اُن کے ان قافلے نے جو شام میں تجارت کے لئے جاتے تھے انہوں نے اپنے اصل راستے کو چھوڑ کر مدینہ کے اردگرد کے قبائل میں سے ہو کر گزرنا اور ان کو مدینہ والوں کے خلاف اُکسانا شروع کیا تو مدینہ کی حفاظت کے لئے مسلمانوں کا بھی فرض تھا کہ وہ اس لڑائی کے چیلنج کو جو مکہ والے متواتر چودہ سال سے انہیں دے رہے تھے قبول لیتے اور دنیا کے کسی شخص کو حق حاصل نہیں کہ وہ چیلنج کے قبول کرنے پر اعتراض کرے۔

مدینہ میں اسلامی حکومت کی بنیاد

جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیرونی حالات کی خبرگیری کر رہے تھے وہاں آپ مدینہ کی اصلاح سے بھی غافل نہیں تھے۔ یہ بتایا جا چکا ہے کہ مدینہ کے مشرک اکثر اخلاص کے ساتھ اور بعض منافقت کے ساتھ مسلمان ہو چکے تھے اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی طریقِ حکومت کو اُن میں قائم کرنا شروع کیا۔ پہلے عرب کے دستور کے مطابق لوگ لڑ بھڑ کر اپنے حقوق کا فیصلہ کر لیا کرتے تھے۔ اب باقاعدہ قاضی مقرر کئے گئے جن کے فیصلے کے بغیر کوئی شخص اپنا حق دوسرے سے حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ پہلے مدینہ کے لوگوں کو علم کی طرف توجہ نہیں تھی اب اس بات کا انتظام کیا گیا کہ پڑھے لکھے لوگ ان پڑھوں کو پڑھانا شروع کریں۔ ظلم، تعدی اور بے انصافی روک دی گئی۔ عورتوں کے حقوق کو قائم کیا گیا۔ شریعت کے مطابق تمام مالداروں پر ٹیکس مقرر کئے گئے جو غرباء پر خرچ کئے جاتے تھے اور شہر کی عام حالت کی ترقی کے لئے بھی استعمال کئے جاتے تھے۔ مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کی گئی۔ لاوارثوں کے لئے باقاعدہ تعلیموں کا انتظام کیا گیا۔ لین دین میں تحریر اور معاہدہ کی پابندیاں مقرر کی گئیں۔ غلاموں پر سختی کو سختی سے روکا جانے لگا۔ صفائی اور حفظانِ صحت کے اصول پر زور دیا جانے لگا۔ مردم شماری کی ابتدا کی گئی۔ گلیوں اور سڑکوں کے چوڑا کرنے کے احکام جاری کئے گئے۔ سڑکوں کی صفائی کے متعلق احکام جاری کئے گئے۔ غرض عائلی اور شہری زندگی کے تمام اصول مدوّن کئے گئے اور اُن کو باقاعدگی سے جاری کرنے کے لئے تدابیر اختیار کی گئیں اور عرب پہلی دفعہ منظم اور مہذب سوسائٹی کے اصول سے روشناس ہوئے۔

ادھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے لئے ایک ایسا قانون پیش کر رہے تھے جو نہ صرف اُس زمانہ کے لئے بلکہ ہمیشہ کیلئے اور نہ صرف اُن کے لئے بلکہ دنیا کی دوسری اقوام کیلئے بھی عزت، شرف، امن اور ترقی کا موجب تھا۔ اُدھر مکہ کے لوگ اسلام کے خلاف باقاعدہ جنگ کی تیاریاں کرنے میں مشغول تھے جس کا نتیجہ بدر کی جنگ کی صورت میں ظاہر ہوا۔

قریش کے تجارتی قافلہ کی آمد اور غزوہ بدر

ہجرت کے تیرھویں مہینے میں شام سے ایک تجارتی قافلہ ابو سفیان کی سرکردگی میں آرہا تھا کہ اُس کی حفاظت کے بہانہ سے مکہ والوں نے ایک زبردست لشکر مدینہ کی طرف لے جانے کا فیصلہ کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اِس کی اطلاع مل گئی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ پر وحی ہوئی۔ اب وقت آگیا ہے کہ دشمن کے ظلم کا اُس کے اپنے ہتھیار کے ساتھ جواب دیا جائے۔ چنانچہ آپ مدینہ کے چند ساتھیوں کو لے کر نکلے۔ جب آپ مدینہ سے نکلے ہیں اُس وقت تک یہ ظاہر نہ تھا کہ آیا مقابلہ قافلہ والوں سے ہو گا یا اصل لشکر سے، اِس لئے تین سو آدمی آپ کے ساتھ مدینہ سے نکلے۔

یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ قافلہ سے مراد مال سے لدے ہوئے اُونٹ تھے بلکہ مکہ والے اِن قافلوں کے ساتھ ایک مضبوط فوجی جتھہ بھجوایا کرتے تھے۔ کیونکہ وہ اِن قافلوں کے ذریعہ سے مسلمانوں کو مرعوب بھی کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ اِس قافلہ سے پہلے دو قافلوں کا ذکر تاریخ میں آتا ہے کہ اُن میں سے ایک کی حفاظت پر دو سَو سپاہی مقرر تھا اور دوسرے کی حفاظت پر تین سَو سپاہی مقرر تھا۔ پس اِن حالات میں مسیحی مصنفوں کا یہ لکھنا کہ تین سَو سپاہی لے کر آپؐ مکہ کے ایک نہتّے قافلہ کو لوٹنے کے لئے نکلے تھے محض دھوکا دہی کے لئے ہے۔ یہ قافلہ چونکہ بہت بڑا تھا اِس لئے پہلے قافلوں کے حفاظتی دستوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا چاہئے کہ اُس کے ساتھ چار پانچ سَو سوار ضرور موجود ہوگا۔ اتنے بڑے حفاظتی دستہ کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے اگر اسلامی لشکر جو صرف تین سَو آدمیوں پر مشتمل تھا اور جن کے پاس پورا ساز و سامان بھی نہ تھا نکلا تو اُسے لوٹ کا نام دینا محض تعصب، ضد اور بے انصافی ہی کہلا سکتا ہے۔ اگر صرف اِس قافلہ کا سوال ہوتا تب بھی اُس سے لڑائی جنگ ہی کہلاتی اور جنگ بھی مدافعانہ جنگ کیونکہ مدینہ کا لشکر کمزور تھا اور صرف اِسی فتنہ کو دور کرنے کے لئے نکلا تھا جس کی اردگرد کے قبائل کو شرارت پر اُکسا کر مکہ کے قافلے بنیاد رکھ رہے تھے۔ مگر جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ الٰہی منشاء بھی تھا کہ قافلہ سے نہیں بلکہ اصل مکی لشکر سے مقابلہ ہو اور صرف مسلمانوں کے اخلاص اور اُن کے ایمان کو ظاہر کرنے کے لئے پہلے سے اِس امر کا اظہار نہ کیا گیا۔ جب مسلمان بغیر پوری تیاری کے مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے تو کچھ دور جا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ پر ظاہر کیا کہ الٰہی منشاء یہی ہے کہ مکہ کے اصل لشکر سے مقابلہ ہو۔ لشکرِ مکہ کے متعلق مکہ سے جو خبریں آ چکی تھیں اُن سے معلوم ہوتا تھا کہ لشکر کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے اور پھر وہ سب کے سب تجربہ کار سپاہی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آنے والے لوگ صرف ۳۱۳ تھے اور اُن میں سے بھی بہت سے ایسے تھے جو لڑائی کے فن سے ناواقف تھے۔ پھر سامانِ جنگ بھی اُن کے پاس پورا نہ تھا۔ اکثر یا تو پیدل تھے یا اُونٹوں پر سوار تھے۔ گھوڑا صرف ایک تھا۔ اِس چھوٹے سے لشکر کے ساتھ جو بے سروسامان بھی تھا ایک تجربہ کار دشمن کا مقابلہ جو تعداد میں اُن سے تگنے سے بھی زیادہ تھا نہایت ہی خطرناک بات تھی اِس لئے آپؐ نے نہ چاہا کہ کوئی شخص اُس کی مرضی کے خلاف جنگ پر مجبور کیا جائے۔ چنانچہ آپؐ نے اپنے ساتھیوں کے سامنے یہ سوال پیش کیا کہ اب قافلہ کا کوئی سوال نہیں صرف فوج ہی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور یہ کہ وہ اِس بارہ میں آپ کو مشورہ دیں۔ ایک کے بعد دوسرا مہاجر کھڑا ہوا اور اُس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اگر دُشمن ہمارے گھروں پر چڑھ کر آیا ہے تو ہم اُس سے ڈرتے نہیں ہم اُس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہر ایک کا جواب سن کر آپ یہی فرماتے چلے جاتے مجھے اور مشورہ دو مجھے اور مشورہ دو۔ مدینہ کے لوگ اُس وقت تک خاموش تھے اس لئے کہ حملہ آور فوج مہاجرین کی رشتہ دار تھی۔ وہ ڈرتے تھے کہ ایسا نہ ہو کہ اُن کی بات سے مہاجرین کا دل دُکھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرمایا مجھے مشورہ دو تو ایک انصاری سردار کھڑے ہوئے اور عرض کیا۔ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مشورہ تو آپ کو مل رہا ہے مگر پھر بھی جو آپ بار بار مشورہ طلب فرما رہے ہیں تو شاید آپ کی مراد ہم باشندگانِ مدینہ سے ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں! اُس سردار نے جواب میں کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! شاید آپ اس لئے ہمارا مشورہ طلب کر رہے ہیں کہ آپ کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے ہمارے اور آپ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا اور وہ یہ تھا کہ اگر مدینہ میں آپ پر اور مہاجرین پر کسی نے حملہ کیا تو ہم آپ کی حفاظت کریں گے لیکن اب اِس وقت آپ مدینہ سے باہر تشریف لے آئے ہیں اور شاید وہ معاہدہ ان حالات کے ماتحت قائم نہیں رہتا۔ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! جس وقت وہ معاہدہ ہوا تھا اُس وقت تک ہم پر آپ کی حقیقت پورے طور پر روشن نہیں ہوئی تھی لیکن اب جبکہ ہم پر آپ کا مرتبہ اور آپ کی شان پورے طور پر ظاہر ہو چکی ہے یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اب اُس معاہدہ کا کوئی سوال نہیں۔ ہم موسیٰ کے ساتھیوں کی طرح آپ سے یہ نہیں کہیں گے فَاذۡہَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوۡنَ(5:25) تو اور تیرا ربّ جاؤ اور دُشمن سے جنگ کرتے پھرو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں، بلکہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! دُشمن جو آپ کو نقصان پہنچانے کیلئے آیا ہے وہ آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں پر سے گزرتا ہوا نہ جائے۔۲۴۷؎یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! جنگ تو ایک معمولی بات ہے، یہاں سے تھوڑے فاصلہ پر سمندر ہے آپ ہمیں حکم دیجئے کہ سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دو اور ہم بلا دریغ سمندر میں اپنے گھوڑے ڈال دیں گے۔۲۴۸؎

یہ وہ فدائیت اور اخلاص کا نمونہ تھا جس کی مثال کوئی سابق نبی پیش نہیں کر سکتا۔ موسیٰ کے ساتھیوں کا حوالہ تو اُن لوگوں نے خود ہی دے دیا تھا حضرت مسیح کے حواریوں نے دشمن کے مقابلہ میں جو نمونہ دکھایا انجیل اِس پر گواہ ہے۔ ایک نے تو چند روپوں پر اپنے اُستاد کو بیچ دیا۔ دوسرے نے اُس پر لعنت کی اور باقی دس اُس کو چھوڑ کر اِدھر سے اُدھر بھاگ گئے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی صرف ڈیڑھ سال کی صحبت کے بعد ایمان میں اتنے پختہ ہو گئے کہ وہ اُن کے کہنے پر سمندر میں کودنے کے لئے بھی تیار تھے۔

یہ مشورہ محض اِس غرض سے تھا تا کہ جو لوگ ایمان کے کمزور ہوں اُن کو واپس جانے کی اجازت دے دی جائے لیکن جب مہاجرین وانصار نے ایک دوسرے سے بڑھ کر اخلاص اور ایمان کا نمونہ دکھایا اور دونوں فریق نے اِس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ وہ خدا کے وعدوں کے باوجود تعداد میں دشمن سے ایک تہائی ہونے کے اور باوجود سامانوں کے لحاظ سے دشمنوں سے کئی گنا کم ہونے کے بے غیرتی دکھاتے ہوئے جنگ سے پیٹھ نہیں دکھائیں گے بلکہ خدا تعالیٰ کے دین کی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدانِ جنگ میں خوشی سے جان دے دیں گے۔ تو آپ آگے بڑھے۔ جب آپ بدر کے مقام پر پہنچے تو ایک صحابی کے مشورہ سے دشمن کے قریب جا کر بدر کے چشمہ پر اسلامی لشکر اُتار دیا گیا۔ لیکن اِس طرح گو پانی پر تو قبضہ ہو گیا مگر وہ میدان جو مسلمانوں کے حصہ میں آیا بوجہ ریتلا ہونے کے جنگی حرکات کے لئے سخت نقصان دہ ثابت ہوا اور صحابہ گھبرا گئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات دعا کرتے رہے اور بار بار خدا تعالیٰ سے یہ عرض کرتے تھے کہ اے میرے ربّ! ساری دنیا کے پردہ پر صرف یہی لوگ تیری عبادت کرنے والے ہیں۔ اے میرے رب! اگر یہ لوگ آج اِس لڑائی میں مارے گئے تو تیرا نام لینے والا اس دنیا میں کون باقی رہے گا۔۲۴۹

اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو سنا اور رات کو بارش ہو گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس میدان میں وہ مسلمان تھے بوجہ ریتلا ہونے کے بارش کی وجہ سے جم گیا اور وہ میدان جو کفار کے قبضہ میں تھا بوجہ چکنی مٹی کا ہونے کے بارش کی وجہ سے نہایت پھسلواں ہو گیا۔ شاید کفارِ مکہ نے باوجود اُس میدان میں مسلمانوں سے پہلے پہنچ جانے کے اس لئے اُس میدان کو چنا تھا کہ پختہ مٹی کی وجہ سے اُس میں جنگی حرکات بڑی آسانی کے ساتھ ہو سکتی تھیں اور سامنے کا

ریتلا میدان اِس لئے چھوڑ دیا تھا کہ مسلمان وہاں ڈیرہ لگائیں گے اور جنگی حرکات کرتے وقت اُن کے پاؤں ریت میں دھنس دھنس جائیں گے مگر خدا تعالیٰ نے راتوں رات پانسہ پلٹ دیا۔ ریتلا میدان ایک جما ہوا پختہ میدان ہو گیا اور پختہ میدان پھسلواں زمین بن گیا۔ رات کو اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارت دی اور بتایا کہ تمہارے فلاں فلاں دشمن مارے جائیں گے اور فلاں فلاں جگہ پر مارے جائیں گے۔ چنانچہ جنگ میں ایسا ہی ہوا اور وہ دشمن اُن ہی جگہوں پر جو آپ نے بتائی تھیں مارے گئے۔ جب فوج ایک دوسرے کے مقابلہ میں صف آراء ہوئی اُس وقت جو اخلاص کا نمونہ صحابہؓ نے دکھایا اُس پر مندرجہ ذیل مثال سے خوب روشنی پڑتی ہے۔

اسلامی لشکر میں جو چند تجربہ کار جرنیل تھے، اُن میں سے ایک حضرت عبدالرحمٰن بن عوف بھی تھے جو مکہ کے سرداروں میں سے تھے۔ وہ روایت کرتے ہیں کہ میرا خیال تھا کہ آج مجھ پر بہت سی ذمہ داری عاید ہوتی ہے اور اس خیال سے میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے دائیں بائیں مدینہ کے دونو جوان لڑکے ہیں تب میرا دل سینہ میں بیٹھ گیا اور میں نے کہا بہادر جرنیل لڑنے کے لئے اِس بات کا محتاج ہوتا ہے کہ اُس کا دایاں اور بایاں پہلو مضبوط ہو، تاکہ وہ دشمن کی صفوں میں دلیری سے گھس سکے، لیکن میرے گرد مدینہ کے نا تجربہ کار لڑکے ہیں میں آج اپنے فن کا مظاہرہ کس طرح کر سکوں گا۔ ابھی یہ خیال میرے دل میں گزر رہا ہی تھا کہ میرے ایک پہلو میں کھڑے ہوئے لڑکے نے میری پسلی میں کہنی ماری۔ جب میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو اُس نے میرے کان میں کہا چچا! ہم نے سنا ہے کہ ابوجہل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت دُکھ دیا کرتا تھا، چچا! میرا دل چاہتا ہے کہ میں آج اُس کے ساتھ مقابلہ کروں آپ مجھے بتائیں وہ کون ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ابھی میں جواب دینے نہیں پایا تھا کہ میرے دوسرے پہلو میں دوسرے ساتھی نے کہنی ماری اور جب میں اُس کی طرف متوجہ ہوا تو اُس نے بھی آہستہ سے وہی سوال مجھ سے کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اُن کی اِس دلیری پر حیران رہ گیا کیونکہ باوجود تجربہ کار سپاہی ہونے کے میں بھی یہ خیال نہیں کرتا تھا کہ لشکر کے کمانڈر پر اکیلا جا کر حملہ کر سکتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں میں نے اُن کے اِس سوال پر انگلی اُٹھائی اور کہا وہ شخص جوسر سے پیر تک مسلح ہے اور دُشمن کی صفوں کے پیچھے کھڑا ہے اور جس کے آگے دو تجربہ کار جرنیل ننگی تلواریں لئے کھڑے ہیں وہی ابو جہل ہے۔ وہ کہتے ہیں ابھی میری اُنگلی نیچے نہیں گری تھی کہ وہ دونوں لڑکے جس طرح عقاب چڑیا پر حملہ کرتا ہے اس طرح چیختے ہوئے کفار کی صفوں میں گھس گئے۔ اُن کا یہ حملہ ایسا اچانک اور ایسا خلافِ توقع تھا کہ کسی شخص کی تلوار اُن کے خلاف نہ اُٹھ سکی اور وہ تیر کی سی تیزی کے ساتھ ابو جہل تک جا پہنچے۔ اُس کے پہرہ داروں نے اُن پر وار کئے، ایک کا وار خالی گیا اور دوسرے کے وار سے ایک نوجوان کا ہاتھ کٹ گیا۔ لیکن دونوں میں سے کسی نے کوئی پرواہ نہ کی اور صرف ابو جہل کی طرف متوجہ ہوئے اور اُس پر اس زور سے جا کر حملہ کیا کہ وہ زمین پر گر گیا اور پھر اُنہوں نے اُسے نہایت شدید زخمی کر دیا۔ ۲۵۰؎ مگر بوجہ تلوار چلانے کا فن نہ جاننے کے اُسے قتل نہ کر سکے۔

اِس واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ مظالم جو مکہ کے لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے رہے تھے وہ قریب سے دیکھنے والوں کو کتنے بھیانک نظر آتے تھے۔ اب بھی ان مظالم کو تاریخ میں پڑھ کر ایک شریف آدمی کا دل دھڑکنے لگتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مگر مدینہ کے لوگ تو اُن لوگوں کے منہ سے ان مظالم کی داستانیں سنتے تھے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے وہ مظالم ہوتے دیکھے۔ ایک طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس اور صلح جویانہ زندگی کو دیکھتے تھے دوسری طرف مکہ والوں کے انسانیت سوز مظالم کے واقعات سنتے تھے تو اُن کے دل اِس حسرت سے بھر جاتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنی صلح جوئی اور پُر عافیت مزاج کی وجہ سے ان لوگوں کا جواب نہیں دیا کاش! وہ ہمارے سامنے آ جائیں تو ہم انہیں بتائیں کہ اگر اُن کے ظلموں کا جواب نہیں دیا گیا تو اِس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ مسلمان کمزور تھے بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن کا جواب دینے کی اجازت نہیں تھی۔ مسلمانوں کے دلوں کی کیفیت کا اندازہ اِس سے بھی ہو سکتا ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ابو جہل نے ایک بدوی سردار کو اِس بات کے لئے بھیجا کہ وہ اندازہ کرے کہ مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے۔ جب وہ واپس لوٹا تو اُس نے بتایا کہ مسلمان تین سو، تین سو کے قریب ہوں گے۔ اِس پر ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا اب مسلمان ہم سے بچ کر کہاں جاتے ہیں۔ مگر اُس شخص نے کہا۔ اے مکہ والو! میری نصیحت تم کو یہی ہے کہ تم ان لوگوں سے نہ لڑو کیونکہ میں نے جتنے آدمی مسلمانوں کے دیکھے ہیں اُن کو دیکھ کر مجھ پر یہی اثر ہوا ہے کہ اُونٹوں پر آدمی سوار نہیں موتیں سوار ہیں۲۵۱یعنی اُن میں سے ہر شخص مرنے کیلئے اس میدان میں آیا ہے زندہ واپس جانے کے لئے نہیں آیا۔ اور جو شخص موت کو اپنے لئے آسان کر لیتا ہے اور موت سے ملنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اُس کا مقابلہ کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہوا کرتی۔

ایک عظیم الشان پیشگوئی کا پورا ہونا

جب جنگ شروع ہونے کا وقت آیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس جگہ سے جہاں آپ بیٹھ کر دعا کر رہے تھے باہر تشریف لائے اور فرمایا سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ۔ ۲۵۲دشمنوں کا لشکر شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر میدان چھوڑ جائے گا۔ یہ الفاظ جو آپ نے فرمائے یہ قرآن کریم کی ایک پیشگوئی تھی جو مکہ میں ہی اس جنگ کے متعلق قرآن کریم میں نازل ہوئی تھی۔ مکہ میں جب مسلمان کفار کے ظلموں کا تختۂ مشق ہو رہے تھے اور اِدھر اُدھر ہجرت کر کے جا رہے تھے خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کی یہ آیات نازل فرمائیں اَکُفَّارُکُمۡ خَیۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓئِکُمۡ اَمۡ لَکُمۡ بَرَآءَۃٌ فِی الزُّبُرِ اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ نَحۡنُ جَمِیۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ سَیُہۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَیُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ بَلِ السَّاعَۃُ مَوۡعِدُہُمۡ وَالسَّاعَۃُ اَدۡہٰی وَاَمَرُّ اِنَّ الۡمُجۡرِمِیۡنَ فِیۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ یَوۡمَ یُسۡحَبُوۡنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوۡہِہِمۡ ؕ ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ(54:44-49) ۲۵۳یعنی اے مکہ والو! فرعون کی طرف بھی اِنذار کی باتیں آئی تھیں، لیکن اُنہوں نے ہماری تمام آیتوں کا انکار کیا پس ہم نے اُن کو اس طرح پکڑ لیا جیسے ایک طاقتور غالب ہستی پکڑا کرتی ہے۔ (اے مکہ والو!) بتاؤ کیا تمہارے کفّار اُن (کفّار) سے اچھے ہیں یا تمہارے لئے پہلی کتابوں میں حفاظت کا کوئی وعدہ آچکا ہے؟ وہ کہتے ہیں ہم تو ایک بڑی طاقت ہیں جو دشمنوں سے ہارتی نہیں بلکہ دشمنوں سے بدلے لیا کرتی ہے (وہ یہ باتیں کرتے رہیں) اُن کے جتھے عنقریب اکٹھے ہوں گے اور پھر اُنہیں شکست ملے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے، بلکہ اُن کی تباہی کی گھڑی کا خدا تعالیٰ کی طرف سے وعدہ ہے اور یہ تباہی کی گھڑی بڑی ہلاکت والی اور بڑی کڑوی ہو گی اُس دن مجرم پریشانی اور عذاب میں مبتلا ہوں گے اور اپنے مونہوں کے بل گھسیٹ کر اُن کو آگ کے گڑھوں میں ڈال دیا جائے گا اور کہا جائے گا اب پڑے عذاب چکھو۔

یہ آیتیں سورہ قمر کی ہیں اور سورہ قمر تمام اسلامی روایتوں کے مطابق مکہ میں نازل ہوئی تھی۔ مسلمان علماء بھی اس سورۃ کو پانچویں سے دسویں سال بعد دعویٰ نبوت قرار دیتے ہیں۔ یعنی ہجرت سے کم سے کم تین سال پہلے یہ نازل ہوئی تھی بلکہ غالباً آٹھ سال پہلے۔ یورپین محقق بھی اِس کی تصدیق کرتے ہیں۔ چنانچہ نولڈ کے اس سورۃ کو دعویٰ نبوت کے پانچ سال بعد کی قرار دیتا ہے۔ ریورنڈ ویری لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک نولڈ کے نے اِس سورۃ کے نزول کا وقت کسی قدر پہلے قرار دے دیا ہے۔ وہ اپنا اندازہ یہ بتاتے ہیں کہ چھٹے یا ساتویں سال ہجرت سے پہلے یہ نازل ہوئی۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ اُن کے نزدیک یہ سورۃ چھٹے یا ساتویں سال بعد دعویٰ نبوت کی ہے۔ بہرحال مسلمانوں کے دشمنوں نے بھی اِس سورۃ کو ہجرت سے کئی سال پہلے کا قرار دیا ہے۔ اُس زمانہ میں کس صفائی کے ساتھ اس جنگ کی خبر دی گئی تھی اور کفّار کا انجام بتا دیا گیا تھا اور پھر کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی جنگ شروع ہونے سے پہلے ان آیات کو پڑھ کر مسلمانوں کو توجہ دلائی کہ خدا کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آ گیا ہے۔

غرض چونکہ وہ وقت آگیا تھا جس کی خبر یسعیاہ نبی نے قبل از وقت دے چھوڑی تھی ۲۵۴؎ اور جس کی خبر قرآن کریم نے دوبارہ جنگ شروع ہونے سے چھ یا آٹھ سال پہلے دی تھی اِس لئے باوجود اِس کے کہ مسلمان اِس جنگ کے لئے تیار نہ تھے اور باوجود اِس کے کہ کفّار کو بھی اُن کے بعض ساتھیوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ لڑائی نہیں کرنی چاہئے۔ لڑائی ہوگئی اور ۳۱۳ آدمى جن میں سے اکثر نا تجربہ کار اور سب ہی بے سامان تھے کفّار کے تجربہ کار لشکر کے مقابلہ میں جس کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ تھی کھڑے ہوگئے۔ جنگ ہوئی اور چند ہی گھنٹوں کے اندر عرب کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ یسعیاہ کی پیشگوئی کے مطابق قیدار کی حشمت جاتی رہی اور مکہ کی فوج کچھ لاشیں اور کچھ قیدی پیچھے چھوڑ کر سر پر پاؤں رکھ کر مکہ کی طرف بھاگ پڑی۔ جو قیدی پکڑے گئے اُن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباسؓ بھی تھے جو ہمیشہ آپ کا ساتھ دیا کرتے تھے، اُنہیں مجبور کر کے مکہ والے اپنے ساتھ لڑائی کے لئے لے آئے تھے۔ اِسی طرح قیدیوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بیٹی کے خاوند ابوالعاص بھی تھے۔ مارے جانے والوں میں ابو جہل مکہ کی فوج کا کمانڈر اور اِسلام کا سب سے بڑا دشمن بھی شامل تھا۔

بدر کے قیدی

اِس فتح پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش بھی تھے کہ وہ پیشگوئیاں جو متواتر چودہ سال سے آپ کے ذریعہ سے شائع کی جا رہی تھیں اور وہ پیشگوئیاں جو پہلے انبیاء اِس دن کے متعلق کر چکے تھے پوری ہو گئیں، لیکن مکہ کے مخالفوں کا عبرتناک انجام بھی آپ کی نظروں کے سامنے تھا۔ آپ کی جگہ پر کوئی اور شخص ہوتا تو خوشی سے اُچھلتا اور کودتا لیکن جب آپ کے سامنے سے مکہ کے قیدی رسیوں میں بندھے ہوئے گزرے تو آپ اور آپ کے باوفا ساتھی ابوبکرؓ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہو گئے۔ اُس وقت حضرت عمرؓ جو بعد میں آپ کے دوسرے خلیفہ ہوئے سامنے سے آئے تو اُنہیں حیرت ہوئی کہ اِس فتح اور خوشی کے وقت میں آپ کیوں رو رہے ہیں اور انہوں نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! مجھے بھی بتائیے کہ اِس وقت رونے کا کیا باعث ہے؟ اگر وہ بات میرے لئے بھی رونے کا موجب ہے تو میں بھی روؤں گا، نہیں تو کم سے کم میں آپ کے غم میں شریک ہونے کے لئے رونی صورت ہی بنالوں گا۔ آپ نے فرمایا دیکھتے نہیں خدا تعالیٰ کی نافرمانی سے آج مکہ والوں کی کیا حالت ہو رہی ہے۔۲۵۵

آپ کے انصاف اور آپ کی عدالت کا جس کی خبر یسعیاہ نے بار بار اپنی پیشگوئیوں میں دی ہے اِس موقع پر ایک لطیف ثبوت ملا۔ مدینہ کی طرف واپس آتے ہوئے رات کو جب آپ سونے کے لئے لیٹے تو صحابہؓ نے دیکھا کہ آپ کو نیند نہیں آتی۔ آخر اُنہوں نے سوچ کر یہ نتیجہ نکالا کہ آپ کے چچا عباسؓ چونکہ رسیوں میں جکڑے ہونے کی وجہ سے سو نہیں سکتے اور اُن کے کراہنے کی آوازیں آتی ہیں اِس لئے اُن کی تکلیف کا خیال کر کے آپ کو نیند نہیں آتی۔ اُنہوں نے آپس میں مشورہ کر کے حضرت عباسؓ کے بندھنوں کو ڈھیلا کر دیا۔ حضرت عباسؓ سو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نیند آ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد یکدم گھبرا کے آپ کی آنکھ کھلی اور آپ نے پوچھا عباسؓ خاموش کیوں ہیں؟ اُن کے کراہنے کی آواز اب کیوں نہیں آتی؟ آپ کے دل میں یہ وہم پیدا ہوا کہ شاید تکلیف کی وجہ سے بیہوش ہو گئے۔ صحابہؓ نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!

ہم نے آپ کی تکلیف کو دیکھ کر اُن کے بندھن ڈھیلے کر دیئے ہیں۔ آپ نے فرمایا نہیں! نہیں!! یہ بے انصافی نہیں ہونی چاہئے۔ جس طرح عباسؓ میرا رشتہ دار ہے دوسرے قیدی بھی تو دوسروں کے رشتہ دار ہیں یا تو سب قیدیوں کے بندھن ڈھیلے کر دو تا کہ وہ آرام سے سو جائیں اور یا پھر عباسؓ کے بندھن بھی کس دو۔ صحابہؓ نے آپ کی بات سن کر سب قیدیوں کے بندھن ڈھیلے کر دیئے اور حفاظت کی ساری ذمہ داری اپنے سر پر لے لی۔۲۵۶؎ جو لوگ قید ہوئے تھے اُن میں سے جو پڑھنا جانتے تھے آپ نے اُن کا صرف یہی فدیہ مقرر کیا کہ وہ مدینہ کے دس دس لڑکوں کو پڑھنا سکھا دیں۔ بعض جن کا فدیہ دینے والا کوئی نہیں تھا اُن کو یونہی آزاد کر دیا۔ وہ امراء جو فدیہ دے سکتے تھے اُن سے مناسب فدیہ لے کر اُن کو چھوڑ دیا اور اس طرح اِس پرانی رسم کو کہ قیدیوں کو غلام بنا کر رکھا جاتا تھا آپ نے ختم کر دیا۔

جنگِ اُحد

کفار کے لشکر نے میدان سے بھاگتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ اگلے سال ہم دوبارہ مدینہ پر حملہ کریں گے اور اپنی شکست کا مسلمانوں سے بدلہ لیں گے چنانچہ ایک سال کے بعد وہ پھر پوری تیاری کر کے مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔ مکہ والوں کے غصہ کا یہ حال تھا کہ بدر کی جنگ کے بعد اُنہوں نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ کسی شخص کو اپنے مردوں پر رونے کی اجازت نہیں اور جو تجارتی قافلے آئیں گے اُن کی آمد آئندہ جنگ کے لئے محفوظ رکھی جائے گی۔ چنانچہ بڑی تیاری کے بعد تین ہزار سپاہیوں سے زیادہ تعداد اس کا ایک لشکر ابوسفیان کی قیادت میں مدینہ پر حملہ آور ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے مشورہ لیا کہ آیا ہم کو شہر میں ٹھہر کر مقابلہ کرنا چاہئے یا باہر نکل کر۔ آپ کا اپنا خیال یہی تھا کہ دشمن کو حملہ کرنے دیا جائے تاکہ جنگ کی ابتداء کا بھی وہی ذمہ دار ہو اور مسلمان اپنے گھروں میں بیٹھ کر اُس کا مقابلہ آسانی سے کر سکیں، لیکن وہ نوجوان مسلمان جن کو بدر کی جنگ میں شامل ہونے کا موقع نہیں ملا تھا اور جن کے دلوں میں حسرت رہی تھی کہ کاش! ہم کو بھی خدا کی راہ میں شہید ہونے کا موقع ملتا اُنہوں نے اصرار کیا کہ ہمیں شہادت سے کیوں محروم رکھا جاتا ہے۔ چنانچہ آپ نے اُن کی بات مان لی۔

مشورہ لیتے وقت آپ نے اپنی ایک خواب بھی سنائی۔ فرمایا خواب میں مَیں نے چند گائیں دیکھی ہیں اور میں نے دیکھا ہے کہ میری تلوار کا سرا ٹوٹ گیا ہے اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ وہ گائیں ذبح کی جا رہی ہیں اور پھر یہ کہ میں نے اپنا ہاتھ ایک مضبوط اور محفوظ زرہ کے اندر ڈالا ہے اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ میں ایک مینڈھے کی پیٹھ پر سوار ہوں۔ صحابہؓ نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! آپ نے ان خوابوں کی کیا تعبیر فرمائی؟ آپ نے فرمایا گائے کے ذبح ہونے کی تعبیر یہ ہے کہ میرے بعض صحابہؓ شہید ہوں گے اور تلوار کا سرا ٹوٹنے سے مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ میرے عزیزوں میں سے کوئی اہم وجود شہید ہو گا یا شاید مجھے ہی اس مہم میں کوئی تکلیف پہنچے اور زرہ کے اندر ہاتھ ڈالنے کی تعبیر میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارا مدینہ میں ٹھہرنا زیادہ مناسب ہے اور مینڈھے پر سوار ہونے والے خواب کی تعبیر یہ معلوم ہوتی ہے کہ کفار کے لشکر کے سردار پر ہم غالب آئیں گے یعنی وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا جائے گا۔۲۵۷

گو اس خواب میں مسلمانوں پر یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ اُن کا مدینہ میں رہنا زیادہ اچھا ہے مگر چونکہ خواب کی تعبیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تھی، الہامی نہیں تھی آپ نے اکثریت کی رائے کو تسلیم کر لیا اور لڑائی کے لئے باہر جانے کا فیصلہ کر دیا۔ جب آپ باہر نکلے تو نوجوانوں کو اپنے دلوں میں ندامت محسوس ہوئی اور اُنہوں نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! جو آپ کا مشورہ ہے وہی صحیح ہے ہمیں مدینہ میں ٹھہر کر دشمن کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ آپ نے فرمایا خدا کا نبی جب زرہ پہن لیتا ہے تو اُتارا نہیں کرتا اب خواہ کچھ ہو ہم آگے ہی جائیں گے۔ اگر تم نے صبر سے کام لیا تو خدا کی نصرت تم کو مل جائے گی۔۲۵۸ یہ کہہ کر آپ ایک ہزار لشکر کے ساتھ مدینہ سے نکلے اور تھوڑے فاصلہ پر جا کر رات بسر کرنے کے لئے ڈیرہ لگا دیا۔ آپ کا ہمیشہ طریق تھا کہ آپ دشمن کے پاس پہنچ کر اپنے لشکر کو کچھ دیر آرام کرنے کا موقع دیا کرتے تھے تا کہ وہ اپنا سامان وغیرہ تیار کر لیں۔ صبح کی نماز کے وقت جب آپ نکلے تو آپ کو معلوم ہوا کہ کچھ یہودی بھی اپنے معاہد قبیلوں کی مدد کے بہانہ سے آئے ہیں۔ چونکہ یہود کی ریشہ دوانیوں کا آپ کو علم ہو چکا تھا آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو واپس کر دیا جائے۔ اس پر عبداللہ بن ابی بن سلول جو منافقوں کا رئیس تھا وہ بھی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر یہ کہتے ہوئے واپس لوٹ گیا کہ اب یہ لڑائی نہیں رہی۔۲۵۹ یہ تو ہلاکت کے منہ میں جانا ہے کیونکہ خود اپنے مددگاروں کو لڑائی سے روکا جاتا

ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان صرف سات سَو رہ گئے جو تعداد میں کفّار کی تعداد سے چوتھے حصہ سے بھی کم تھے اور سامانوں کے لحاظ سے اور بھی کمزور۔ کیونکہ کفّار میں سات سَو زِرہ پوش تھا اور مسلمانوں میں صرف ایک زِرہ پوش۔ اور کفّار میں دو سَو گھوڑ سوار تھا مگر مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے تھے۔ آخر آپؐ اُحد پر پہنچے۔ وہاں پہنچ کر آپؐ نے ایک پہاڑی درّہ کی حفاظت کے لئے پچاس سپاہی مقرر کئے اور سپاہیوں کے افسر کو تاکید کی کہ وہ درّہ اتنا ضروری ہے کہ خواہ ہم مارے جائیں یا جیت جائیں تم اِس جگہ سے نہ ہلنا۔۲۶۰؎ اس کے بعد آپؐ بقیہ ساڑھے چھ سَو آدمی لے کر دشمن کے مقابلہ کے لئے نکلے جو اب دشمن کی تعداد سے قریباً پانچواں حصہ تھے۔ لڑائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے تھوڑی ہی دیر میں ساڑھے چھ سَو مسلمانوں کے مقابلہ میں تین ہزار مکہ کا تجربہ کار سپاہی سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا۔

فتح مبدَّل بہ شکست

مسلمانوں نے اُن کا تعاقب شروع کیا، تو ان لوگوں نے جو پشت کے درّہ کی حفاظت کے لئے کھڑے تھے اُنہوں نے اپنے افسر سے کہا اب تو دشمن کو شکست ہوچکی ہے اب ہمیں بھی جہاد کا ثواب لینے دیا جائے۔ افسر نے اُن کو اِس بات سے روکا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد دلائی مگر اُنہوں نے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا تھا صرف تاکید کے لئے فرمایا تھا ورنہ آپؐ کی مراد یہ تو نہیں ہوسکتی تھی کہ دشمن بھاگ بھی جائے تو یہاں کھڑے رہو۔ یہ کہہ کر اُنہوں نے درہ چھوڑ دیا اور میدانِ جنگ میں کود پڑے۔ بھاگتے ہوئے لشکر میں سے خالد بن ولید کی جو بعد میں اسلام کے بڑے بھاری جرنیل ثابت ہوئے نظر خالی درّہ پر پڑی جہاں صرف چند آدمی اپنے افسر کے ساتھ کھڑے تھے۔ خالدؓ نے کفّار کے لشکر کے دوسرے جرنیل عمرو بن العاص کو آواز دی اور کہا۔ ذرا پیچھے پہاڑی درّہ پر نگاہ ڈالو۔ عمرو بن العاص نے جب درہ پر نگاہ ڈالی تو سمجھا کہ عمر کا بہترین موقع مجھے حاصل ہو رہا ہے دونوں جرنیلوں نے اپنے بھاگتے ہوئے دوستوں کو سنبھالا اور اسلامی لشکر کا بازو کاٹتے ہوئے پہاڑ پر چڑھ گئے۔ چند مسلمان جو وہاں درّہ کی حفاظت کے لئے کھڑے رہ گئے تھے، اُن کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہوئے پشت پر سے اسلامی لشکر پر آپڑے۔ اُن کے فاتحانہ نعروں کو سن کر سامنے کا بھاگتا ہوا بقیہ لشکر بھی میدانِ جنگ کی طرف لوٹ پڑا۔ یہ حملہ ایسا اچانک ہوا اور کافروں کا تعاقب کرنے کی وجہ سے مسلمان اتنے پھیل چکے تھے کہ کوئی باقاعدہ اسلامی لشکر اُن لوگوں کے مقابلہ میں نہیں تھا۔ اکیلا اکیلا سپاہی میدان میں نظر آرہا تھا، جن میں سے بعض کو اُن لوگوں نے مار دیا۔ باقی اِس حیرت میں کہ یہ ہو کیا گیا ہے پیچھے کی طرف دوڑے۔ چند صحابہؓ دوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے، جن کی تعداد زیادہ سے زیادہ تیس تھی۔۲۶۱ کفار نے شدت کے ساتھ اُس مقام پر حملہ کیا جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے۔ یکے بعد دیگرے صحابہؓ آپ کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جانے لگے۔ علاوہ شمشیر زنوں کے تیر انداز اونچے ٹیلوں پر کھڑے ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بے تحاشہ تیر مارتے تھے۔ اُس وقت طلحہؓ جو قریش میں سے تھے اور مکہ کے مہاجرین میں شامل تھے یہ دیکھتے ہوئے کہ دشمن سب کے سب تیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کی طرف پھینک رہا ہے اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کے آگے کھڑا کر دیا۔ تیر کے بعد تیر جو نشانہ پر گرتا تھا وہ طلحہؓ کے ہاتھ پر گرتا تھا، مگر جانباز اور وفادار صحابیؓ اپنے ہاتھ کو کوئی حرکت نہیں دیتا تھا۔ اِس طرح تیر پڑتے گئے اور طلحہؓ کا ہاتھ زخموں کی شدت کی وجہ سے بالکل بیکار ہو گیا اور صرف ایک ہی ہاتھ اُن کا باقی رہ گیا۔ سالہا سال بعد اِسلام کی چوتھی خلافت کے زمانہ میں جب مسلمانوں میں خانہ جنگی واقع ہوئی تو کسی دشمن نے طعنہ کے طور پر طلحہؓ کو کہا۔ ٹُنڈا۔ اِس پر ایک دوسرے صحابیؓ نے کہا ہاں ٹُنڈا ہی ہے مگر کیسا مبارک ٹُنڈا ہے۔ تمہیں معلوم ہے طلحہؓ کا یہ ہاتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کی حفاظت میں ٹُنڈا ہوا تھا۔ اُحد کی جنگ کے بعد کسی شخص نے طلحہؓ سے پوچھا کہ جب تیر آپ کے ہاتھ پر گرتے تھے تو کیا آپ کو درد نہیں ہوتی تھی اور کیا آپ کے منہ سے اُف نہیں نکلتی تھی؟ طلحہؓ نے جواب دیا۔ درد بھی ہوتی تھی اور اُف بھی نکلنا چاہتی تھی، لیکن میں اُف کرتا نہیں تھا تا ایسا نہ ہو کہ اُف کرتے وقت میرا ہاتھ ہل جائے اور تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر آگِرے۔

مگر یہ چند لوگ کب تک اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ لشکر کفار کا ایک گروہ آگے بڑھا اور اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد کے سپاہیوں کو دھکیل کر پیچھے کر دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تن تنہا پہاڑ کی طرح وہاں کھڑے تھے کہ زور سے ایک پتھر آپ کے خود پر لگا اور خود کے کیل آپ کے سر پر گھس گئے اور آپ بیہوش ہو کر اُن صحابہؓ کی لاشوں پر جا پڑے جو آپ کے اِرد گرد لڑتے ہوئے شہید ہو چکے تھے۲۶۲؎ اس کے بعد کچھ اور صحابہؓ آپ کے جسم کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے اور اُن کی لاشیں آپ کے جسم پر جا گریں۔ کفار نے آپ کے جسم کو لاشوں کے نیچے دبا ہوا دیکھ کر سمجھا کہ آپ مارے جا چکے ہیں۔ چنانچہ مکہ کا لشکر اپنی صفوں کو درست کرنے کے لئے پیچھے ہٹ گیا۔ جو صحابہؓ آپ کے گرد کھڑے تھے اور جن کو کفار کے لشکر کا ریلا دھکیل کر پیچھے لے گیا تھا اُن میں حضرت عمرؓ بھی تھے۔ جب آپ نے دیکھا کہ میدان سب لڑنے والوں سے صاف ہو چکا ہے تو آپ کو یقین ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں اور وہ شخص جس نے بعد میں ایک ہی وقت میں قیصر اور کسریٰ کا مقابلہ بڑی دلیری سے کیا اور اُس کا دل کبھی نہ گھبرایا اور کبھی نہ ڈرا وہ ایک پتھر پر بیٹھ کر بچوں کی طرح رونے لگ گیا۔ اتنے میں مالکؓ نامی ایک صحابی جو اسلامی لشکر کی فتح کے وقت پیچھے ہٹ گئے تھے کیونکہ اُنہیں فاقہ تھا اور رات سے اُنہوں نے کچھ نہیں کھایا تھا جب فتح ہو گئی تو وہ چند کھجوریں لے کر پیچھے کی طرف چلے گئے تاکہ اُنہیں کھا کر اپنی بھوک کا علاج کریں۔ وہ فتح کی خوشی میں ٹہل رہے تھے کہ ٹہلتے ٹہلتے حضرت عمرؓ تک جا پہنچے اور عمرؓ کو روتے ہوئے دیکھ کر نہایت ہی حیران ہوئے اور حیرت سے پوچھا۔ عمر! آپ کو کیا ہوا؟ اسلام کی فتح پر آپ کو خوش ہونا چاہئے یا رونا چاہئے؟ عمرؓ نے جواب میں کہا مالک! شاید تم فتح کے معاً بعد پیچھے ہٹ آئے تھے تمہیں معلوم نہیں کہ لشکر کفار پہاڑی کے دامن سے چکر کاٹ کر اسلامی لشکر پر حملہ آور ہوا اور چونکہ مسلمان پراگندہ ہو چکے تھے اُن کا مقابلہ کوئی نہ کر سکا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ سمیت اُن کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہوئے اور مقابلہ کرتے کرتے شہید ہو گئے۔ مالکؓ نے کہا عمرؓ!! اگر یہ واقعہ صحیح ہے تو آپ یہاں بیٹھے کیوں رو رہے ہیں؟ جس دنیا میں ہمارا محبوب گیا ہے ہمیں بھی تو وہاں جانا چاہئے۔ یہ کہا اور وہ آخری کھجور جو آپ کے ہاتھ میں تھی جسے آپ منہ میں ڈالنے ہی والے تھے اُسے یہ کہتے ہوئے زمین پر پھینک دیا کہ اے کھجور! مالک اور جنت کے درمیان تیرے سوا اور کونسی چیز روک ہے۔ یہ کہا اور تلوار لے کر دشمن کے لشکر میں گھس گئے۔ تین ہزار آدمی کے مقابلہ میں ایک آدمی کر ہی کیا سکتا تھا مگر خدائے واحد کی پرستار روح ایک بھی بہتوں پر بھاری ہوتی ہے۔ مالکؓ اِس بے جگری سے لڑے کہ دشمن حیران ہو گیا۔ مگر آخر زخمی ہوئے پھر گرے اور گر کر بھی دشمن کے سپاہیوں پر حملہ کرتے رہے جس کے نتیجہ میں کفارِ مکہ نے اِس وحشت سے آپ پر حملہ کیا کہ جنگ کے بعد آپ کی لاش کے ۷۰؍ ٹکڑے ملے حتیٰ کہ آپ کی لاش پہچانی نہیں جاتی تھی۔ آخر ایک اُنگلی سے آپ کی بہن نے پہچان کر بتایا کہ یہ میرے بھائی مالک کی لاش ہے۔۲۶۴

وہ صحابہؓ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد تھے اور جو کفار کے ریلے کی وجہ سے پیچھے دھکیل دیئے گئے تھے کفار کے پیچھے ہٹتے ہی وہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے۔ آپ کے جسمِ مبارک کو اُنہوں نے اُٹھایا اور ایک صحابی عبیدہ بن الجراحؓ نے اپنے دانتوں سے آپ کے سر میں گھسی ہوئی کیل کو زور سے نکالا جس سے اُن کے دو دانت ٹوٹ گئے۔ تھوڑی دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آگیا اور صحابہؓ نے چاروں طرف میدان میں آدمی دوڑا دیئے کہ مسلمان پھر اکٹھے ہو جائیں۔ بھاگا ہوا لشکر پھر جمع ہونا شروع ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُنہیں لے کر پہاڑ کے دامن میں چلے گئے۔ جب دامنِ کوہ میں بچا کھچا لشکر کھڑا تھا تو ابوسفیان نے بڑے زور سے آواز دی اور کہا ہم نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مار دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کی بات کا جواب نہ دیا تا ایسا نہ ہو دشمن حقیقتِ حال سے واقف ہو کر حملہ کر دے اور زخمی مسلمان پھر دوبارہ دشمن کے حملہ کا شکار ہو جائیں۔ جب اسلامی لشکر سے اِس بات کا کوئی جواب نہ ملا تو ابوسفیان کو یقین ہو گیا کہ اُس کا خیال درست ہے اور اس نے بڑے زور سے آواز دے کر کہا ہم نے ابوبکرؓ کو بھی مار دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکرؓ کو بھی حکم فرمایا کہ کوئی جواب نہ دیں۔ پھر ابوسفیان نے آواز دی ہم نے عمرؓ کو بھی مار دیا۔ تب عمرؓ جو بہت جوشیلے آدمی تھے اُنہوں نے اُس کے جواب میں یہ کہنا چاہا کہ ہم لوگ خدا کے فضل سے زندہ ہیں اور تمہارے مقابلہ کے لئے تیار ہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ مسلمانوں کو تکلیف میں مت ڈالو اور خاموش رہو۔ اب کفار کو یقین ہو گیا کہ اسلام کے بانی کو بھی اور اُن کے دائیں بائیں بازو کو بھی ہم نے مار دیا ہے۔ اِس پر ابوسفیان اور اُس کے ساتھیوں نے خوشی سے نعرہ لگایا اُعْلُ هُبَلْ ۔ اُعْلُ هُبَلْ۔ ہمارے معزز

بت ہُبل کی شان بلند ہو کہ اُس نے آج اسلام کا خاتمہ کر دیا ہے۔ وہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو اپنی موت کے اعلان پر، ابوبکرؓ کی موت کے اعلان پر اور عمرؓ کی موت کے اعلان پر خاموشی کی نصیحت فرما رہے تھے تا ایسا نہ ہو کہ زخمی مسلمانوں پر پھر کفار کا لشکر لوٹ کر حملہ کر دے اور مٹھی بھر مسلمان اُس کے ہاتھوں شہید ہو جائیں۔ اب جبکہ خدائے واحد کی عزت کا سوال پیدا ہوا اور شرک کا نعرہ میدان میں مارا گیا تو آپ کی روح بے تاب ہو گئی اور آپ نے نہایت جوش سے صحابہؓ کی طرف دیکھ کر فرمایا تم لوگ جواب کیوں نہیں دیتے؟ صحابہ نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! ہم کیا کہیں؟ فرمایا کہو اَللّٰهُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ ۔ اَللّٰهُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ ۔ ۲۶۴ تم جھوٹ بولتے ہو کہ ہُبل کی شان بلند ہوئی۔ اَللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیْکَ ہی معزز ہے اور اُس کی شان بالا ہے۔ اور اس طرح آپ نے اپنے زندہ ہونے کی خبر دشمنوں تک پہنچا دی۔ اِس دلیرانہ اور بہادرانہ جواب کا اثر کفار کے لشکر پر اتنا گہرا پڑا کہ باوجود اِس کے کہ اُن کی اُمیدیں اس جواب سے خاک میں مل گئیں اور باوجود اس کے کہ اُن کے سامنے مٹھی بھر زخمی مسلمان کھڑے ہوئے تھے جن پر حملہ کر کے اُن کو مار دینا مادی قوانین کے لحاظ سے بالکل ممکن تھا وہ دوبارہ حملہ کرنے کی جرأت نہ کر سکے اور جس قدر فتح اُن کو نصیب ہوئی تھی اُسی کی خوشیاں مناتے ہوئے مکہ کو واپس چلے گئے۔

اُحد کی جنگ میں بظاہر فتح کے بعد ایک شکست کا پہلو پیدا ہوا مگر یہ جنگ درحقیقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ایک بہت بڑا نشان تھا۔ اِس جنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسلمانوں کو پہلے کامیابی نصیب ہوئی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق آپ کے عزیز چچا حمزہؓ لڑائی میں مارے گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق شروع حملہ میں کفار کے لشکر کا علمبردار مارا گیا۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق خود آپ بھی زخمی ہوئے اور بہت سے صحابہ شہید ہوئے۔ اِس کے علاوہ مسلمانوں کو ایسے اخلاص اور ایمان کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملا جس کی مثال تاریخ میں اور کہیں نہیں ملتی۔

چند واقعات تو اِس اخلاص اور ایمان کے مظاہرہ کے پہلے بیان ہو چکے ہیں ایک اور واقعہ بھی بیان کرنے کے قابل ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت

نے صحابہؓ کے دلوں میں کتنا پختہ ایمان پیدا کر دیا تھا۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ صحابہ کی معیت میں پہاڑ کے دامن کی طرف چلے گئے اور دشمن پیچھے ہٹ گیا تو آپ نے بعض صحابہ کو اِس بات پر مامور فرمایا کہ وہ میدان میں جائیں اور زخمیوں کی خبر لیں ۔ ایک صحابی میدان میں تلاش کرتے کرتے ایک زخمی انصاری کے پاس پہنچے۔ دیکھا تو اُن کی حالت خطرناک تھی اور وہ جان توڑ رہے تھے ۔ یہ صحابی اُن کے پاس پہنچے اور اُنہیں اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا اُنہوں نے کانپتا ہوا ہاتھ مصافحہ کے لئے اُٹھایا اور اُن کا ہاتھ پکڑ کر کہا میں انتظار کر رہا تھا کہ کوئی ساتھی مجھے مل جائے ۔ اُنہوں نے اِس صحابی سے پوچھا کہ آپ کی حالت تو خطرناک معلوم ہوتی ہے کیا کوئی پیغام ہے جو آپ اپنے رشتہ دار کو دینا چاہتے ہیں؟ اُس مرنے والے صحابیؓ نے کہا ہاں ! ہاں ! میری طرف سے میرے رشتہ داروں کو سلام کہنا اور اُنہیں کہنا کہ میں تو مر رہا ہوں مگر اپنے پیچھے خدا تعالیٰ کی ایک مقدس امانت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تم میں چھوڑے جا رہا ہوں ۔ اے میرے بھائیو اور رشتہ دارو! وہ خدا کا سچا رسول ہے میں اُمید کرتا ہوں کہ تم اس کی حفاظت میں اپنی جانیں دینے سے دریغ نہیں کرو گے اور میری اس وصیت کو یاد رکھو گے۔۲۶۵

مرنے والے انسان کے دل میں ہزاروں پیغام اپنے رشتہ داروں کو پہنچانے کے لئے پیدا ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اتنے بے نفس ہو چکے تھے کہ نہ اُنہیں اپنے بیٹے یاد تھے ، نہ بیویاں یاد تھیں ، نہ مال یاد تھا ، نہ جائدادیں یاد تھیں اُنہیں صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی یاد رہتا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ دنیا کی نجات اِس شخص کے ساتھ ہے۔ ہمارے مرنے کے بعد اگر ساری اولادیں زندہ رہیں تو وہ کوئی بڑا کام نہیں کر سکتیں، لیکن اگر اِس نجات دہندہ کی حفاظت میں اُنہوں نے اپنی جانیں دے دیں تو گو ہمارے اپنے خاندان مٹ جائیں گے مگر دنیا زندہ ہو جائے گی۔ شیطان کے پنجہ میں پھنسا ہوا انسان پھر نجات پا جائے گا اور ہمارے خاندانوں کی زندگی سے ہزاروں گنے زیادہ قیمتی بنو آدم کی زندگی اور نجات ہے۔

بہر حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زخمیوں اور شہداء کو جمع کیا ، زخمیوں کی مرہم پٹی کی گئی اور شہداء کے دفنانے کا انتظام کیا گیا۔ اُس وقت آپ کو معلوم ہوا کہ ظالم کفارِ مکہ نے بعض مسلمان شہداء کے ناک کان بھی کاٹ دیئے ہیں ۔ چنانچہ یہ لوگ جن کے ناک کان کاٹے گئے ہیں اُن میں خود آپ کے چچا حمزہؓ بھی تھے۔ آپ کو یہ نظارہ دیکھ کر افسوس ہوا اور آپ نے فرمایا کفار نے خود اپنے عمل سے اپنے لئے اُس بدلہ کو جائز بنا دیا ہے جس کو ہم نا جائز سمجھتے تھے۔ مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس وقت آپ کو وحی ہوئی کہ کفار جو کچھ کرتے ہیں اُن کو کرنے دو تم رحم اور انصاف کا دامن ہمیشہ تھامے رکھو۔۲۶۶

جنگ اُحد سے واپسی اور اہلِ مدینہ کے جذباتِ فدائیت

جب اسلامی لشکر واپس مدینہ کی طرف لوٹا تو اُس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت اور اسلامی لشکر کی پراگندگی کی خبر مدینہ پہنچ چکی تھی۔ مدینہ کی عورتیں اور بچے دیوانہ وار اُحد کی طرف دوڑے جا رہے تھے۔ اکثر کو تو راستہ میں خبر مل گئی اور وہ رُک گئے ، مگر بنو دینار قبیلہ کی ایک عورت دیوانہ وار آگے بڑھتے ہوئے اُحد تک جا پہنچی۔ جب وہ دیوانہ وار اُحد کے میدان کی طرف جا رہی تھی اُس عورت کا خاوند اور بھائی اور باپ اُحد میں مارے گئے تھے اور بعض روایتوں میں ہے کہ ایک بیٹا بھی مارا گیا تھا۔ جب اُسے اُس کے باپ کے مارے جانے کی خبر دی گئی تو اُس نے کہا مجھے بتاؤ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ چونکہ خبر دینے والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مطمئن تھے وہ باری باری اُسے اس کے بھائی اور خاوند اور بیٹے کی موت کی خبر دیتے چلے گئے مگر وہ یہی کہتی چلی جاتی تھی ” مَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ “۔ ارے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟ بظاہر یہ فقرہ غلط معلوم ہوتا ہے اور اسی وجہ سے مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اُس کا مطلب یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہوا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ فقرہ غلط نہیں بلکہ عورتوں کے محاورہ کے مطابق بالکل درست ہے۔ عورت کے جذبات بہت تیز ہوتے ہیں اور وہ بسا اوقات مُردوں کو زندہ سمجھ کر کلام کرتی ہے۔ جیسے بعض عورتوں کے خاوند یا بیٹے مر جاتے ہیں تو اُن کی موت پر اُن سے مخاطب ہو کر وہ اِس قسم کی باتیں کرتی رہتی ہیں کہ مجھے کس پر چھوڑ چلے ہو؟ یا بیٹا! اس بڑھاپے میں مجھ سے کیوں منہ موڑ لیا؟ یہ شدتِ غم میں فطرتِ انسانی کا ایک نہایت لطیف مظاہرہ ہوتا ہے۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر سن کر اُس عورت کا حال ہوا۔ وہ آپ کو فوت شدہ ماننے کے لئے تیار نہ تھی اور دوسری طرف اِس خبر کی تردید بھی نہیں کر سکتی تھی۔ اس لئے شدتِ غم میں یہ کہتی جاتی تھی ارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا کیا۔ یعنی ایسا وفادار انسان ہم کو یہ صدمہ پہنچانے پر کیونکر راضی ہو گیا۔

جب لوگوں نے دیکھا کہ اُسے اپنے باپ، بھائی اور خاوند کی کوئی پرواہ نہیں تو وہ اس کے سچے جذبات کو سمجھ گئے اور اُنہوں نے کہا۔ فلانے کی ماں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو جس طرح تو چاہتی ہے خدا کے فضل سے خیریت سے ہیں۔ اس پر اُس نے کہا مجھے دکھاؤ وہ کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا۔ آگے چلی جاؤ وہ آگے کھڑے ہیں۔ وہ عورت دوڑ کر آپ تک پہنچی اور آپ کے دامن کو پکڑ کر بولی يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جب آپ سلامت ہیں تو کوئی مرے مجھے کوئی پرواہ نہیں۔۲۶؎

مردوں نے جنگ میں وہ نمونہ ایمان کا دکھایا اور عورتوں نے یہ نمونہ اخلاص کا دکھایا، جس کی مثال میں نے ابھی بیان کی ہے۔ عیسائی دنیا مریم مگدلینی اور اس کی ساتھی عورتوں کی اِس بہادری پر خوش ہے کہ وہ مسیح کی قبر پر صبح کے وقت دشمنوں سے چھپ کر پہنچی تھیں۔ میں اُن سے کہتا ہوں آؤ اور ذرا میرے محبوب کے مخلصوں اور فدائیوں کو دیکھو کہ کن حالتوں میں اُنہوں نے اُس کا ساتھ دیا اور کن حالتوں میں اُنہوں نے توحید کے جھنڈے کو بلند کیا۔

اِس قسم کی فدائیت کی ایک اور مثال بھی تاریخوں میں ملتی ہے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہداء کو دفن کر کے مدینہ واپس گئے تو پھر عورتیں اور بچے شہر سے باہر استقبال کیلئے نکل آئے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُونٹنی کی باگ سعد بن معاذؓ مدینہ کے رئیس نے پکڑی ہوئی تھی اور فخر سے آگے آگے دوڑے جاتے تھے شاید دنیا کو یہ کہہ رہے تھے کہ دیکھا ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیریت سے اپنے گھر واپس لے آئے۔ شہر کے پاس اُنہیں اپنی بوڑھی ماں جس کی نظر کمزور ہو چکی تھی آتی ہوئی ملی۔ اُحد میں اُس کا ایک بیٹا عمرو بن معاذؓ بھی مارا گیا ۔ اُسے دیکھ کر سعد بن معاذؓ نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! اُمِّيْ۔ اے اللہ کے رسول! میری ماں آ رہی ہے۔ آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ کی برکتوں کے ساتھ آئے۔ بڑھیا آگے بڑھی اور اپنی کمزور پھٹی آنکھوں سے اِدھر اُدھر دیکھا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل نظر آجائے۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ پہچان لیا اور خوش ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مائی! مجھے تمہارے بیٹے کی شہادت پر تم سے ہمدردی ہے۔ اِس پر نیک عورت نے کہا۔ حضور! جب میں نے آپ کو سلامت دیکھ لیا تو سمجھو کہ میں نے مصیبت کو بھون کر کھا لیا۔ ”مصیبت کو بھون کر کھا لیا۔“۲۶۸؎ کیا عجیب محاورہ ہے۔ محبت کے کتنے گہرے جذبات پر دلالت کرتا ہے غم انسان کو کھا جاتا ہے۔ وہ عورت جس کے بڑھاپے میں اُس کا عصائے پیری ٹوٹ گیا کس بہادری سے کہتی ہے کہ میرے بیٹے کے غم نے مجھے کیا کھانا ہے جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تو میں اِس غم کو کھا جاؤں گی۔ میرے بیٹے کی موت مجھے مارنے کا موجب نہیں ہوگی بلکہ یہ خیال کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اُس نے جان دی میری قوت کے بڑھانے کا موجب ہو گا۔ اے انصار! میری جان تم پر فدا ہو تم کتنا ثواب لے گئے۔

بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیریت سے مدینہ پہنچے۔ گو اِس لڑائی میں بہت سے مسلمان مارے بھی گئے اور بہت سے زخمی بھی ہوئے لیکن پھر بھی اُحد کی جنگ شکست نہیں کہلا سکتی۔ جو واقعات میں نے اُوپر بیان کئے ہیں اُن کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ایک بہت بڑی فتح تھی ایسی فتح کہ قیامت تک مسلمان اس کو یاد کر کے اپنے ایمان کو بڑھا سکتے ہیں اور بڑھاتے رہیں گے۔ مدینہ پہنچ کر آپ نے پھر اپنا اصل کام یعنی تربیت اور تعلیم اور اصلاحِ نفس کا شروع کر دیا۔ مگر آپ یہ کام سہولت اور آسانی سے نہیں کر سکے۔ اُحد کے واقعہ کے بعد یہود میں اور بھی دلیری پیدا ہو گئی اور منافقوں نے اور بھی سر اُٹھانا شروع کر دیا اور وہ سمجھے کہ شاید اسلام کو مٹا دینا انسانی طاقت کے اندر کی بات ہے۔ چنانچہ یہودیوں نے طرح طرح سے آپ کو تکلیفیں دینی شروع کر دیں۔ گندے شعر بنا کر اُن میں آپ کی اور آپ کے خاندان کی ہتک کی جاتی تھی۔ ایک دفعہ آپ کو کسی جھگڑے کا فیصلہ کرنے کے لئے یہودیوں کے قلعہ میں جانا پڑا تو اُنہوں نے ایک تجویز کی کہ جہاں آپ بیٹھے تھے اُس کے اُوپر سے ایک بڑی سِل گرا کر آپ شہید کر دیئے جائیں مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو وقت پر بتا دیا اور آپ وہاں سے بغیر کچھ کہنے کے چلے آئے۲۶۹؎۔ بعد میں یہود نے اپنے قصور کو تسلیم کر لیا۔

مسلمان عورتوں کی بازاروں میں بیحرمتی کی جاتی تھی۔ ایک دفعہ اس جھگڑے میں ایک مسلمان بھی مارا گیا۔ ایک دفعہ ایک مسلمان لڑکی کا سر یہود نے پتھروں سے مار مار کر کچل دیا اور وہ تڑپ تڑپ کر مرگئی۔ ان اسباب کی وجہ سے یہودیوں کے ساتھ بھی مسلمانوں کو جنگ کرنا پڑی۔ مگر عرب اور یہود کے دستور کے مطابق مسلمانوں نے اُن کو مارا نہیں، بلکہ صرف مدینہ سے چلے جانے کی شرط پر اُنہیں چھوڑ دیا۔ چنانچہ اِن دونوں قبیلوں میں سے ایک تو شام کی طرف ہجرت کر گیا اور دوسرے کا کچھ حصہ شام کو چلا گیا اور کچھ مدینہ سے شمال کی طرف خیبر نامی ایک شہر کی طرف۔ یہ شہر عرب میں یہود کا مرکز تھا اور زبردست قلعوں پر مشتمل تھا۔

شراب نوشی کی ممانعت کا حکم اور اُس کا بے نظیر اثر

جنگِ اُحد اور اس کے بعد کی جنگ کے وقفہ کے درمیان دنیا نے اسلام کے اس اثر کی جو اس کا اپنے پیروؤں پر تھا ایک بین مثال دیکھی۔ ہماری مراد امتناعِ شراب سے ہے۔ اسلام سے پہلے اہل ِعرب کی حالت کو بیان کرتے ہوئے ہم نے بتلایا تھا کہ اہلِ عرب عادی شراب خور تھے۔ ہر معزز عرب خاندان میں دن میں پانچ دفعہ شراب پی جاتی تھی اور شراب کے نشہ میں مدہوش ہو جانا اُن کے لئے معمولی بات تھی اور اس میں وہ ذرا بھی شرم محسوس نہ کرتے تھے بلکہ وہ اس کو ایک اچھا کام سمجھتے تھے۔ جب کوئی مہمان آتا تو گھر کی مالکہ کا فرض ہوتا کہ وہ شراب کا دَور جاری کرتی۔ اِس قسم کے لوگوں سے ایسی تباہ کن عادت کو چھڑانا کوئی آسان بات نہ تھی۔ مگر ہجرت کے چوتھے سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حکم نازل ہوا ہے کہ شراب حرام کی جاتی ہے۔ اس حکم کا اعلان ہوتے ہی مسلمانوں نے شراب پینا بالکل ترک کر دیا۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے۔ کہ جب شراب کی حرمت کا الہام نازل ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو بلایا اور حکم دیا کہ اس نئے حکم کا اعلان مدینہ کی گلیوں میں کر دو۔ ایک انصاری کے گھر میں جو مدینہ کا مسلمان تھا اُس وقت شراب کی مجلس ہو رہی تھی بہت سے لوگ مدعو تھے اور شراب کا دَور چل رہا تھا۔ ایک بڑا مٹکا خالی ہو چکا تھا اور ایک دوسرا مٹکا شروع کیا جانے والا تھا۔ لوگ مدہوش ہو چکے تھے اور بہت سے اور مدہوش ہونے کے قریب تھے۔ اس حالت میں اُنہوں نے سنا کہ کوئی شخص اعلان کر رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت شراب پینا منع فرما دیا ہے۔ اُن میں سے ایک شخص اُٹھا اور بولا یہ تو شراب کے امتناع کا حکم معلوم ہوتا ہے۔ ٹھہرو معلوم کر لیں۔ اتنے میں ایک اور شخص اُٹھا اور اُس نے مٹکے کو جو شراب سے بھرا ہوا تھا اپنی لاٹھی مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہا پہلے حکم کی تعمیل کرو اور پھر دریافت کرو۔ یہ کافی ہے کہ ہم نے ایسا اعلان سن لیا اور یہ مناسب نہیں کہ ہم شراب پیتے جائیں اور تحقیقات کریں بلکہ ہمارا فرض یہ ہے کہ شراب کو گلیوں میں بہہ جانے دیں اور پھر اعلان کے متعلق تحقیقات کریں۔

اِس مسلمان کا خیال درست تھا، کیونکہ اگر شراب کا پیا جانا ممنوع قرار دیا جا چکا تھا تو اس کے بعد اگر وہ شراب پینا جاری رکھتے تو ایک جرم کے مرتکب ہوتے اور اگر شراب پینا ممنوع نہیں قرار دیا گیا تھا تو شراب کا بہا دینا اتنا بڑا نقصان نہ تھا کہ اُسے برداشت نہ کیا جا سکتا۔ اس اعلان کے بعد شراب نوشی مسلمانوں سے بالکل دور ہوگئی۔ اس انقلابِ عظیم کو برپا کرنے کے لئے کوئی خاص کوشش اور مجاہدہ کی ضرورت نہیں پڑی۔ ایسے مسلمان جنہوں نے اس حکم کو سُنا اور جو فوری تعمیل اِس کی ہوئی اُس کو دیکھا، ستر اسی سال تک زندہ رہے مگر اُن میں سے ایک مسلمان بھی ایسا نہیں جس نے اس حکم کے بعد اس کی خلاف ورزی کی ہو، اگر ایسا کوئی واقعہ ہوا ہے تو وہ ایسے شخص کے متعلق ہے جس نے براہِ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ نہ کیا تھا۔

جب ہم اس کا مقابلہ امریکہ کی تحریکِ امتناعِ شراب سے کرتے ہیں اور ان کوششوں کو دیکھتے ہیں جو اس حکم کو نافذ کرنے کے لئے کی گئیں یا جو سالہا سال تک یورپ میں کی گئیں، تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ ایک صورت میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محض ایک اعلان کافی تھا کہ اس تمدنی عیب کو عرب کے لوگوں سے معدوم کر دے۔ مگر دوسری صورت میں امتناعِ شراب کے لئے قوانین بنائے گئے۔ پولیس، فوج اور ٹیکس کے محکموں کے کارکنوں نے مل کر شراب نوشی کی لعنت کو دور کرنے کے لئے متحدہ طور پر کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے اور انہیں اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا پڑا۔ شراب نوشی کی جیت رہی اور شراب نوشی کو دُور نہ کی جاسکی۔ ہمارے اِس زمانہ کو ایک ترقی کا زمانہ کہتے ہیں مگر جب اس کا مقابلہ ابتدائے اسلام کے زمانہ سے کرتے ہیں تو ہم حیران ہو جاتے ہیں کہ ان دونوں میں سے ترقی کا زمانہ کونسا ہے۔ ہمارا یہ زمانہ یا اسلام کا

وہ زمانہ جس نے اس قدر بڑا تمدّنی انقلاب پیدا کر دیا؟

غزوۂ اُحد کے بعد کفّار قبائل کے ناپاک منصوبے

اُحد کا واقعہ ایسی بات نہ تھی کہ آسانی سے بھولا جا سکتا۔ مکہ والوں نے خیال کیا تھا کہ یہ اُن کی اسلام کے خلاف پہلی فتح ہے اُنہوں نے اس کی خبر تمام عرب میں شائع کی اور عرب کے قبائل کو اسلام کے خلاف بھڑکانے اور یہ یقین دلانے کا ذریعہ بنایا کہ مسلمان نا قابل تسخیر نہیں ہیں۔ اور اگر وہ ترقی کرتے رہے ہیں تو اس کی وجہ اُن کی طاقت نہیں تھی بلکہ عرب قبائل کی بے توجہی تھی۔ عرب متحدہ کوشش کریں تو مسلمانوں پر غالب آجانا کوئی مشکل امر نہیں۔ اس پروپیگنڈا کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے خلاف مخالفت زور پکڑتی گئی اور دیگر قبائل نے مسلمانوں کو تکلیف دینے میں مکہ والوں سے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کیا۔ بعض نے کھلم کھلا حملے شروع کر دیئے اور بعض نے خفیہ طور پر اُن کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔

ہجرت کے چوتھے سال عرب کے دو قبائل عضل اور قارَہ نے اپنے نمائندے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج کر عرض کیا کہ ہمارے قبائل میں بہت سے آدمی اسلام کی طرف مائل ہیں اور درخواست کی کہ کچھ آدمی جو تعلیمِ اسلام سے پوری طرح سے واقف ہوں، بھیج دیئے جائیں تاکہ وہ اُن کے درمیان رہ کر اُن کو اِس نئے مذہب کی تعلیم دیں۔ دراصل یہ ایک سازش تھی جو اسلام کے پکے دشمن بنو لحیان نے کی تھی اور ان کا مقصد یہ تھا کہ جب یہ نمائندے مسلمانوں کو لے کر آئیں گے تو وہ اُن کو قتل کر کے اپنے رئیس سفیان بن خالد کا بدلہ لیں گے۔ چنانچہ اُنہوں نے عضل اور قارَہ کے نمائندوں کو اِس غرض سے کہ وہ چند مسلمانوں کو اپنے ساتھ لے آئیں، انعام کے بڑے بڑے وعدے دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تھا۔ جب عضل اور قارَہ کے لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر درخواست کی تو آپ نے اُن کی بات پر اعتبار کر کے دس مسلمانوں کو اُن کے ساتھ کر دیا کہ ان کو اسلام کے عقائد اور اصولوں کی تعلیم دیں۔ جب یہ جماعت بنو لحیان کے علاقہ میں پہنچی تو عضل اور قارَہ کے لوگوں نے بنو لحیان کو اطلاع بھجوادی اور اُن کو کہلا بھیجا کہ مسلمانوں کو یا تو گرفتار کر لیں یا موت کے گھاٹ اُتار دیں۔ اِس ناپاک منصوبے کے ماتحت بنولحیان کے دو سو مسلح آدمی مسلمانوں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے اور آخر مقامِ رجیع میں اُن کو آگھیرا۔ دس مسلمانوں اور دو سَو دُشمنوں کے درمیان لڑائی ہوئی۔ مسلمانوں کے دل نورِ ایمان سے پُر تھے اور دُشمن اِس سے تہی تھے۔ دس مسلمان ایک ٹیلہ پر چڑھ گئے اور دو سَو آدمیوں کو دعوتِ مبارزت دی۔ دُشمن نے ایک فریب کر کے اُن کو گرفتار کرنا چاہا اور اُن سے کہا کہ اگر تم نیچے اُتر آؤ تو تمہیں کچھ نہ کہا جائے گا، مگر مسلمانوں کے امیر نے کہا کہ ہم کافروں کے عہد و پیمان کو خوب دیکھ چکے ہیں۔ اس کے بعد اُنہوں نے آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر کہا اے خدا! تو ہماری حالت کو دیکھ رہا ہے اپنے رسول کو ہماری اس حالت سے اطلاع پہنچا دے۔ جب کفار نے دیکھا کہ مسلمانوں کی اِس چھوٹی سی جماعت پر اُن کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا تو انہوں نے اُن پر حملہ کر دیا اور مسلمان بغیر خوفِ شکست کے لڑتے چلے گئے، یہاں تک کہ دس میں سے سات شہید ہو گئے۔ باقی تین جو بچ رہے تھے اُن کو کُفار نے پھر وعدہ دیا کہ ہم تمہاری جانیں بچالیں گے بشرطیکہ تم ٹیلے سے نیچے اُتر آؤ۔ لیکن جب وہ کفّار کے وعدہ پر اعتبار کر کے نیچے اُتر آئے تو کفار نے اُنہیں اپنی کمانوں کی تانتوں سے جکڑ کر باندھ لیا۔ اِس پر اُن میں سے ایک نے کہا کہ یہ پہلی خلاف ورزی ہے جو تم اپنے عہد کی کر رہے ہو اللہ ہی جانتا ہے کہ تم اِس کے بعد کیا کرو گے۔ یہ کہہ کر اُس نے اُن کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ کفّار نے اُس کو مارنا اور گھسیٹنا شروع کر دیا، مگر آخر اُس کے مقابلے اور استقلال سے اِس قدر مایوس ہو گئے کہ اُنہوں نے اُس کو وہیں قتل کر دیا۔ باقی دو کو وہ ساتھ لے گئے اور بطور غلاموں کے قریشِ مکہ کے پاس فروخت کر دیا۱؎ ان میں سے ایک کا نام خبیبؓ تھا اور دوسرے کا زیدؓ۔ خبیبؓ کا خریدار اپنے باپ کا بدلہ لینے کے لئے جسے خبیبؓ نے جنگ بدر میں قتل کیا تھا خبیبؓ کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ ایک دن خبیبؓ نے اپنی ضرورت کے لئے اُسترا مانگا۔ اُسترا خبیبؓ کے ہاتھ میں تھا کہ گھر والوں کا ایک بچہ کھیلتے ہوئے اُس کے پاس چلا گیا۔ خبیبؓ نے اس کو اُٹھا کر اپنی ران پر بٹھا لیا۔ بچے کی ماں نے جب یہ دیکھا تو دہشت زدہ ہوگئی اور اُسے یقین ہو گیا کہ اب خبیبؓ بچے کو قتل کر دے گا کیونکہ وہ خبیبؓ کو چند دنوں میں قتل کرنے والے تھے۔ اُس وقت اُسترا اُس کے ہاتھ میں تھا اور بچہ اُس کے اتنا قریب تھا کہ وہ

اُسے نقصان پہنچا سکتا تھا۔ خبیبؓ نے اُس کے چہرے سے پریشانی کو بھانپ لیا اور کہا کہ کیا تم خیال کرتی ہو کہ میں تمہارے بچے کو قتل کر دونگا؟ یہ خیال کبھی دل میں نہ لاؤ میں ایسا بُرا فعل نہیں کر سکتا۔ مسلمان دھوکا باز نہیں ہوتے۔ وہ عورت خبیبؓ کے اِس دیانتدارانہ اور صحیح طریقِ عمل سے بہت متاثر ہوئی۔ اِس بات کو اُس نے ہمیشہ یاد رکھا اور ہمیشہ کہا کرتی تھی کہ میں نے خبیبؓ سا قیدی کوئی نہیں دیکھا۔ آخر کار مکہ والے خبیبؓ کو ایک کھلے میدان میں لے گئے تا اُس کو قتل کر کے جشن منائیں ۔ جب اُن کے قتل کا وقت آن پہنچا تو خبیبؓ نے کہا کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھ لینے دو۔ قریش نے اُن کی یہ بات مان لی اور خبیبؓ نے سب کے سامنے اِس دنیا میں آخری بار اپنے اللہ کی عبادت کی ۔ جب وہ نماز ختم کر چکے تو اُنہوں نے کہا کہ میں اپنی نماز جاری رکھنا چاہتا تھا مگر اِس خیال سے ختم کر دی ہے کہ کہیں تم یہ نہ سمجھو کہ میں مرنے سے ڈرتا ہوں ۔ پھر آرام سے اپنا سر قاتل کے سامنے رکھ دیا اور ایسا کرتے ہوئے یہ اشعار پڑھے :

وَلَسْتُ اُبَالِیْ حِیْنَ اُقْتَلُ مُسْلِمًا

عَلٰی اَیِّ جَنْبٍ کَانَ لِلّٰہِ مَصْرَعِیْ

وَذٰلِکَ فِیْ ذَاتِ الْاِلٰہِ وَاِنْ یَّشَأْ

یُبَارِکْ عَلٰی اَوْصَالِ شِلْوٍ مُّمَزَّعِ ۲؎

یعنی جبکہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے پرواہ نہیں ہے کہ میں کس پہلو پر قتل ہو کر گروں ۔ یہ سب کچھ خدا کے لئے ہے۔ اور اگر میرا خدا چاہے گا تو میرے جسم کے پارہ پارہ ٹکڑوں پر برکات نازل فرمائے گا۔

خبیبؓ نے ابھی یہ شعر ختم نہ کیے تھے کہ جلاد کی تلوار اُن کی گردن پر پڑی اور اُن کا سر خاک پر آ گرا۔ جو لوگ یہ جشن منانے کے لئے جمع ہوئے تھے اُن میں ایک شخص سعید بن عامر بھی تھا جو بعد میں مسلمان ہو گیا۔ کہتے ہیں کہ جب کبھی خبیبؓ کے قتل کا ذکر سعید کے سامنے ہوتا تو اس کو غش آ جایا کرتا۔ ۳؎

دوسرا قیدی زید بھی قتل کرنے کے لئے باہر لے جایا گیا۔ اِس تماشہ کو دیکھنے والوں میں ابوسفیان رئیسِ مکہ بھی تھا۔ وہ زید کی طرف متوجہ ہوا اور پوچھا کہ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ محمدؐ تمہاری جگہ پر ہو اور تم اپنے گھر میں آرام سے بیٹھے ہو؟ زید نے بڑے غصہ سے جواب دیا کہ ابوسفیان! تم کیا کہتے ہو؟ خدا کی قسم! میرے لئے مرنا اِس سے بہتر ہے کہ آنحضرتﷺ کے پاؤں کو مدینہ کی گلیوں میں ایک کانٹا بھی چبھ جائے۔ اِس فدائیت سے ابوسفیان متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور اُس نے حیرت سے زید کی طرف دیکھا اور فوراً ہی دبی زبان میں کہا کہ خدا گواہ ہے کہ جس طرح محمدؐ کے ساتھ محمدؐ کے ساتھی محبت کرتے ہیں میں نے نہیں دیکھا کہ کوئی اور شخص کسی سے محبت کرتا ہو۔۴۷۲

۷۰ حفاظِ قرآن کے قتل کا حادثہ

انہی ایام کے قریب قریب نجد کے کچھ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تا اُن کے ساتھ چند مسلمانوں کو بھیج دیا جائے تاکہ وہ اُن کو اسلام سکھلائیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کا اعتبار نہ کیا۔ مگر ابو براء نے جو اُس وقت مدینہ میں تھے کہا کہ میں اس قبیلہ کی طرف سے ضمانتی بنتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین دلایا کہ وہ کوئی شرارت نہیں کریں گے۔ اِس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ۷۰ مسلمانوں کو جو حافظِ قرآن تھے اس کام کے لئے انتخاب کیا۔ جب یہ جماعت بئر معونہ پر پہنچی تو اُن میں سے ایک شخص حرام بن ملحان قبیلہ عامر کے رئیس کے پاس گیا جو ابو براء کا بھتیجا تھا تاکہ اُس کو اسلام کا پیغام دے۔ بظاہر قبیلہ والوں نے حرام کا اچھی طرح استقبال کیا مگر جس وقت وہ رئیس کے سامنے تقریر کر رہے تھے تو ایک آدمی چھپ کر پیچھے سے آیا اور اُن پر نیزہ سے حملہ کیا۔ حرامؓ وہیں مارے گئے۔ جب نیزہ اُن کے گلے سے پار ہوا تو وہ یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ اَللّٰهُ اَكْبَرُ ۔ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ۔ یعنی اللہ اکبر۔ کعبہ کے ربّ کی قسم! میں اپنی مراد کو پہنچ گیا۔۴۷۵

اِس دھوکا بازی سے حرامؓ کے قتل کرنے کے بعد قبیلہ کے سرداروں نے اہلِ قبیلہ کو جوش دلایا کہ باقی جماعتِ معلّمین پر بھی حملہ کریں۔ مگر قبیلہ والوں نے کہا کہ ہمارے رئیس ابو براء نے ضامن بننا منظور کیا ہے ہم اِس جماعت پر حملہ نہیں کر سکتے۔ اس پر قبیلہ کے سرداروں نے اُن دو قبیلوں کی مدد کے ساتھ جو مسلمان معلّمین کو لانے کے لئے گئے تھے، جماعتِ معلّمین پر حملہ کر دیا۔ اُن کا یہ کہنا کہ ہم وعظ کرنے اور اسلام سکھانے آئے ہیں لڑنے نہیں آئے بالکل کارگر نہ ہوا اور کفار نے مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ آخر تین آدمیوں کے سوا باقی سب شہید ہو گئے۔ اس جماعت میں سے ایک آدمی لنگڑا تھا اور لڑائی ہونے سے پہلے پہاڑی پر چڑھ گیا تھا اور دو

اونٹ چرانے جنگل کو گئے ہوئے تھے۔ واپسی پر اُنہوں نے دیکھا کہ اُن کے چھیاسٹھ ساتھی میدان میں مرے پڑے ہیں۔ دونوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ ایک نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اِس حادثہ کی اطلاع دیں۔ دوسرے نے کہا جہاں ہماری جماعت کا سردار جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا امیر مقرر کیا تھا قتل کیا گیا ہے میں اُس جگہ کو چھوڑ نہیں سکتا۔ یہ کہتے ہوئے وہ تن تنہا کفار پر حملہ آور ہوا اور لڑتا ہوا مارا گیا۔ دوسرے کو گرفتار کر لیا گیا مگر بعد میں ایک قسم کی بناء پر جو قبیلہ کے ایک سردار نے کھائی تھی وہ چھوڑ دیا گیا۔ قتل ہونے والوں میں عامر بن فہیرہ بھی تھے جو حضرت ابوبکرؓ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ اُن کا قاتل ایک شخص جبار بن سلمیٰ تھا جو بعد میں مسلمان ہو گیا۔ جبار کہا کرتا تھا کہ عامر کا قتل ہی میرے مسلمان ہونے کا موجب ہوا تھا۔ جبار کہتا ہے کہ جب میں جبار کو قتل کرنے لگا تو میں نے عامر کو یہ کہتے سنا فُزْتُ وَاللّٰهِ خدا کی قسم! میں نے اپنی مراد کو پا لیا۔ اس کے بعد میں نے ایک شخص سے پوچھا۔ جب مسلمان کو موت کا سامنا ہوتا ہے تو وہ ایسی باتیں کیوں کرتا ہے؟ اُس شخص نے جواب دیا کہ مسلمان اللہ کی راہ میں موت کو نعمت اور فتح سمجھتا ہے۔ جبار پر اِس جواب کا ایسا اثر ہوا کہ اُس نے اسلام کا باقاعدہ مطالعہ شروع کر دیا اور بالآخر مسلمان ہو گیا۔

ان دو اندوہناک واقعات کی خبر جس میں قریباً ۸۰؍مسلمان ایک شرارت آمیز سازش کے نتیجے میں شہید ہو گئے تھے فوراً مدینہ پہنچ گئی۔ مقتولین کوئی معمولی آدمی نہ تھے بلکہ حفاظِ قرآن تھے۔ وہ کسی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے تھے، نہ اُنہوں نے کسی کو دُکھ دیا تھا۔ وہ کسی جنگ میں بھی شریک نہیں تھے بلکہ اللہ اور مذہب کا جھوٹا واسطہ دیکر وہ دھوکے سے دشمن کے تصرف میں دے دیئے گئے تھے۔ اِن واقعات سے بلا شک و شبہ ثابت ہوتا ہے کہ کفار کو اسلام سے سخت دشمنی تھی۔ اس کے بالمقابل اسلام کے حق میں مسلمانوں کا جوش بھی نہایت گہرا اور پائدار تھا۔

غزوہ بنی مصطلق

جنگِ اُحد کے بعد مکہ میں سخت قحط پڑا۔ مکہ والوں کو جو دشمنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی اور جو تدابیر وہ آپ کے برخلاف لوگوں کے درمیان نفرت پھیلانے کی ملک بھر میں کر رہے تھے، بالکل نظر انداز کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سخت مصیبت کے وقت میں مکہ کے غرباء کی امداد کے لئے ایک رقم جمع کی، مگر اس خیر خواہی

کا بھی اہل مکہ پر کچھ اثر نہ ہوا اور اُن کی دشمنی میں کوئی فرق نہ آیا بلکہ وہ دشمنی میں اور بھی بڑھ گئے۔ ایسے قبائل بھی جو پہلے مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کرتے تھے دشمن بن گئے۔ ان قبائل میں سے ایک قبیلہ بنی مصطلق تھا۔ اُن کے تعلقات مسلمانوں کے ساتھ اچھے تھے مگر اب اُنہوں نے مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری شروع کر دی۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کی تیاری کا علم ہوا تو آپ نے حقیقتِ حال دریافت کرنے کے لئے کچھ آدمی بھیجے۔ جنہوں نے واپس آ کر اُن اطلاعات کی تصدیق کی۔ اِس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ خود جا کر اس نئے حملہ کا مقابلہ کریں۔ چنانچہ آپ نے ایک فوج تیار کی اور اُسے لے کر بنو مصطلق کی طرف گئے۔ جب مسلمانوں کی فوج کا دشمن سے مقابلہ ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوشش کی کہ دشمن بغیر لڑائی کے پیچھے ہٹ جانے پر آمادہ ہو جائے مگر اُنہوں نے انکار کیا۔ اِس پر جنگ ہوئی اور چند گھنٹوں کے اندر دشمن کو شکست ہو گئی۔

چونکہ کفار مکہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے تھے اور جو قبائل دوست تھے وہ بھی دشمن بن رہے تھے، اس لئے اُن منافقین نے بھی جو مسلمانوں کے درمیان موجود تھے اِس موقع پر یہ جرأت کی کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے ہو کر جنگ میں حصہ لیں۔ غالباً اُن کا خیال تھا کہ اس طرح اُنہیں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا موقع مل سکے گا مگر بنو مصطلق کے ساتھ جو لڑائی ہوئی وہ چند گھنٹوں میں ختم ہو گئی اس لئے اِس لڑائی کے دوران میں منافقین کو کوئی شرارت کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ بنو مصطلق کے قصبہ میں کچھ دن قیام فرمائیں۔ آپ کے قیام کے دوران میں ایک مکہ کے رہنے والے مسلمان کا ایک مدینہ کے رہنے والے مسلمان سے کنویں سے پانی نکالنے کے متعلق جھگڑا ہو گیا۔ اتفاق سے یہ مکہ والا آدمی ایک آزاد شدہ غلام تھا اُس نے مدینہ والے شخص کو مارا۔ جس پر اُس نے اہل مدینہ کو جنہیں انصار کہتے تھے پکارا اور مکہ والے نے مہاجرین کو پکارا۔ اس طرح جوش پھیل گیا۔ کسی نے یہ دریافت کرنے کی کوشش نہ کی کہ اصل واقعہ کیا ہے۔ دونوں طرف کے جوان آدمیوں نے تلواریں نکال لیں۔ عبداللہ بن ابی بن سلول سمجھا کہ ایسا موقع خدا نے مہیا کر دیا ہے۔ اُس نے چاہا کہ آگ پر تیل ڈالے اور اہل مدینہ کو مخاطب کر کے کہا کہ ان مہاجرین پر تمہاری مہربانی حد سے بڑھ گئی ہے اور تمہارے نیک سلوک سے اُن کے سر پھر گئے ہیں اور یہ دن بدن تمہارے سر پر چڑھتے جاتے ہیں۔ قریب تھا کہ اِس تقریر کا وہی اثر ہوا ہوتا جو عبداللہ چاہتا تھا اور جھگڑا شدت پکڑ جاتا مگر ایسا نہ ہوا۔ عبداللہ نے اپنی شرانگیز تقریر کا اندازہ لگانے میں غلطی کی تھی اور یہ سمجھتے ہوئے کہ انصار پر اس کا اثر ہو گیا ہے، اُس نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہم مدینہ میں واپس پہنچ لیں پھر جو معزز ترین انسان ہے وہ ذلیل ترین انسان کو باہر نکال دے گا۔ معزز ترین انسان سے اُس کی مراد وہ خود تھا اور ارذل ترین سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ)۔ جونہی یہ بات اُس کے منہ سے نکلی مؤمنوں پر اُس کی حقیقت کھل گئی اور انہوں نے کہا کہ یہ معمولی بات نہیں بلکہ یہ شیطان کا قول ہے جو ہمیں گمراہ کرنے آیا ہے۔ ایک جوان آدمی اُٹھا اور اپنے چچا کے ذریعے اُس نے یہ خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچا دی۔ آپ نے عبداللہ بن ابی بن سلول اور اُس کے دوستوں کو بلایا اور پوچھا کیا بات ہوئی ہے؟ عبداللہ نے اور اس کے دوستوں نے بالکل انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ یہ واقعہ جو ہمارے ذمہ لگایا گیا ہے ہوا ہی نہیں۔ آپ نے کچھ نہ کہا۔ لیکن سچی بات پھیلنی شروع ہو گئی۔ کچھ عرصہ کے بعد عبداللہ بن ابی بن سلول کے بیٹے عبداللہ نے بھی یہ بات سنی۔ وہ فوراً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا۔ اے اللہ کے نبی! میرے باپ نے آپ کی ہتک کی ہے اُس کی سزا موت ہے اگر آپ یہی فیصلہ کریں تو میں پسند کرتا ہوں کہ آپ مجھے حکم دیں کہ میں اپنے باپ کو قتل کروں۔ اگر آپ کسی اور کو حکم دیں گے اور میرا باپ اُس کے ہاتھوں مارا جائے گا تو ہو سکتا ہے کہ میں اُس آدمی کو قتل کر کے اپنے باپ کا بدلہ لوں اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لے لوں۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میرا ہرگز ارادہ نہیں میں تمہارے والد کے ساتھ نرمی اور مہربانی کا سلوک کروں گا۔ جب عبداللہ نے اپنے باپ کی بیوفائی اور درشت کلامی کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نرمی اور مہربانی سے مقابلہ کیا تو اس کا ایمان اور بڑھ گیا اور اپنے باپ کے خلاف اُس کا غصہ بھی اُسی نسبت سے ترقی کر گیا۔ جب لشکر مدینہ کے قریب پہنچا تو اس نے آگے بڑھ کر اپنے باپ کا راستہ روک لیا اور کہا میں تم کو مدینہ کے اندر داخل نہیں ہونے دوں گا تا وقتیکہ تم وہ الفاظ واپس نہ لے لو جو تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف استعمال کئے ہیں۔ جس

منہ سے یہ بات نکلی ہے کہ خدا کا نبی ذلیل ہے اور تم معزز ہو اُسی منہ سے تم کو یہ بات کہنی ہوگی کہ خدا کا نبی معزز ہے اور تم ذلیل ہو۔ جب تک تم یہ نہ کہو میں تمہیں ہرگز آگے نہ جانے دوں گا۔ عبداللہ بن ابی بن سلول حیران اور خوفزدہ ہو گیا اور کہنے لگا اے میرے بیٹے! میں تمہارے ساتھ اتفاق کرتا ہوں، محمد معزز ہے اور میں ذلیل ہوں۔ نوجوان عبداللہ نے اس پر اپنے باپ کو چھوڑ دیا۔۲۷۷؎

مدینہ پر سارے عرب کی چڑھائی

غزوہ خندق

اس سے پہلے یہود کے دو قبیلوں کا ذکر کیا جا چکا ہے جو لڑائی، فساد، قتل اور قتل کرنے کے منصوبوں کی وجہ سے مدینہ سے جلاوطن کر دیئے گئے تھے۔ ان میں سے بنو نضیر کا کچھ حصہ تو شام کی طرف ہجرت کر گیا تھا اور کچھ حصہ مدینہ سے شمال کی طرف خیبر نامی ایک شہر کی طرف ہجرت کر گیا تھا۔ خیبر عرب میں یہود کا ایک بہت بڑا مرکز تھا اور ایک قلعہ بند شہر تھا۔ یہاں جا کر بنو نضیر نے مسلمانوں کے خلاف عربوں میں جوش پھیلانا شروع کیا۔ مکہ والے تو پہلے ہی مخالف تھے، کسی مزید انگیخت کے محتاج نہ تھے۔ اسی طرح غطفان نامی نجد کا قبیلہ جو عرب کے قبیلوں میں بہت بڑی حیثیت رکھتا تھا وہ بھی مکہ والوں کی دوستی میں اسلام کی دشمنی پر آمادہ رہتا تھا۔ اب یہود نے قریش اور غطفان کو جوش دلانے کے علاوہ بنو سلیم اور بنو اسد دو اور زبردست قبیلوں کو بھی مسلمانوں کے خلاف اُکسانا شروع کیا اور اسی طرح بنو سعد نامی قبیلہ جو یہود کا حلیف تھا اُس کو بھی کفار مکہ کا ساتھ دینے کے لئے تیار کیا۔ ایک لمبی تیاری کے بعد عرب کے تمام زبردست قبائل کے ایک اتحادِ عام کی بنیاد رکھ دی گئی جس میں مکہ کے لوگ بھی شامل تھے۔ مکہ کے ارد گرد کے قبائل بھی تھے اور نجد اور مدینہ سے شمال کی طرف کے علاقوں کے قبائل بھی شامل تھے اور یہود بھی شامل تھے۔ ان سب قبائل نے مل کر مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لئے ایک زبردست لشکر تیار کیا۔ یہ ماہِ شوال ۵ہجری آخر فروری و مارچ ۶۲۷ء کا واقعہ ہے۔۲۷۸؎ مختلف مؤرخوں نے اس لشکر کا اندازہ دس ہزار سے چوبیس ہزار تک لگایا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ تمام عرب کے اجتماع کا نتیجہ صرف دس ہزار سپاہی نہیں ہوسکتا یقیناً چوبیس ہزار والا اندازہ زیادہ صحیح ہے اور اگر اور کچھ نہیں تو یہ لشکر اٹھارہ بیس ہزار کا تو ضرور ہو گا۔ مدینہ ایک معمولی قصبہ تھا اِس قصبہ کے خلاف سارے عرب کی چڑھائی کوئی معمولی نہیں تھی۔ مدینہ کے مرد جمع کر کے (جن میں بوڑھے ، جوان اور بچے بھی شامل ہوں) صرف تین ہزار آدمی نکل سکتے تھے اس کے برخلاف دشمن کی فوج بیس اور چوبیس ہزار کے درمیان تھی اور پھر وہ سب کے سب فوجی آدمی تھے۔ جوان اور لڑنے کے قابل تھے۔ کیونکہ جب شہر میں رہ کر حفاظت کا سوال پیدا ہوتا ہے تو اس میں بچے اور بوڑھے بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ مگر جب دُور دراز مقام پر لشکر چڑھائی کر کے جاتا ہے تو اُس میں صرف جوان اور مضبوط آدمی ہوتے ہیں۔ پس یہ بات یقینی ہے کہ کفار کے لشکر میں بیس ہزار یا پچیس ہزار جتنے بھی آدمی تھے وہ سب کے سب مضبوط ، جوان اور تجربہ کار سپاہی تھے۔ لیکن مدینہ کے کل مردوں کی تعداد بچوں اور اپاہجوں کو ملا کر بمشکل تین ہزار ہوتی تھی۔ ظاہر ہے کہ ان امور کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر مدینہ کے لشکر کی تعداد تین ہزار سمجھی جائے تو دشمن کی تعداد چالیس ہزار سمجھنی چاہئے اور اگر دشمن کے لشکر کی تعداد بیس ہزار سمجھی جائے تو مدینہ کے سپاہیوں کی تعداد صرف ڈیڑھ ہزار فرض کرنی چاہئے۔ جب اس لشکر کے جمع ہونے اور حملہ کی تیاریوں کی خبر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے صحابہ کو جمع کر کے مشورہ کیا کہ اس موقع پر کیا کرنا چاہئے۔ صحابہ میں سلمانؓ فارسی سے جو سب سے پہلے فارسی مسلمان تھے دریافت فرمایا کہ تمہارے ملک میں ایسے موقع پر کیا کیا کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! جب شہر بے حفاظت ہو اور سپاہی تھوڑے ہوں تو ہمارے ملک کے لوگ خندق کھود کر اُس کے اندر محصور ہو جایا کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی یہ تجویز پسند فرمائی۔ مدینہ کے ایک طرف ٹیلے تھے دوسری طرف ایسے محلے تھے جن کے مکانات ایک دوسرے سے پیوستہ تھے اور دشمن صرف چند گلیوں میں سے ہو کر آ سکتا تھا۔ تیسری طرف کچھ مکانات تھے اور کچھ باغات اور کچھ فاصلہ پر یہودی قبیلہ بنو قریظہ کے قلعے تھے۔ یہ قبیلہ چونکہ مسلمانوں سے اتحاد کا معاہدہ کر چکا تھا اس لیے یہ سمت بھی محفوظ سمجھ لی گئی تھی۔ چوتھی طرف کھلا میدان تھا اور اس طرف سے زیادہ خطرہ ہو سکتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ اِس کھلے میدان کی طرف خندق بنا دی جائے تا کہ دشمن اچانک شہر میں داخل نہ ہو سکے۔ چنانچہ آپ نے دس دس گز کا حصہ کھولنے کیلئے دس دس آدمیوں کے سپرد کر دیا اور اس طرح قریباً ایک میل لمبی خندق کھدوائی۔ جب خندق کھودی جا رہی تھی تو زمین میں سے ایک ایسا پتھر نکلا جو کسی طرح لوگوں سے ٹوٹتا نہیں تھا۔ صحابہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِس بات کی خبر دی تو آپ وہاں خود تشریف لے گئے۔ اپنے ہاتھ میں کدال پکڑا اور زور سے اُس پتھر پر مارا۔ کدال کے پڑنے سے اس پتھر میں سے روشنی نکلی اور آپ نے فرمایا۔ اَللّٰهُ اَکْبَرُ۔ پھر دوبارہ آپ نے کدال مارا تو پھر روشنی نکلی پھر آپ نے فرمایا۔ اَللّٰهُ اَکْبَرُ۔ پھر آپ نے تیسری دفعہ کدال مارا اور پھر پتھر سے روشنی نکلی اور ساتھ ہی پتھر ٹوٹ گیا۔ اس موقع پر پھر آپ نے فرمایا۔ اَللّٰهُ اَکْبَرُ۔ صحابہؓ نے آپ سے پوچھا۔ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! آپ نے تین دفعہ اَللّٰهُ اَکْبَرُ کیوں فرمایا؟ آپ نے فرمایا پتھر پر کدال پڑنے سے تین دفعہ جو روشنی نکلی تو تینوں دفعہ خدا نے مجھے اسلام کی آئندہ ترقیات کا نقشہ دکھایا۔ پہلی دفعہ کی روشنی میں مملکت قیصر کے شام کے محلات دکھائے گئے اور اُس کی کنجیاں مجھے دی گئیں، دوسری دفعہ کی روشنی میں مدائن کے سفید محلات مجھے دکھائے گئے اور مملکت فارس کی کنجیاں مجھے دی گئیں، تیسری دفعہ کی روشنی میں صنعاء کے دروازے مجھے دکھائے گئے اور مملکت یمن کی کنجیاں مجھے دی گئیں۔ ۲۷۹؎ پس تم خدا کے وعدوں پر یقین رکھو دشمن تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

یہ تھوڑے سے آدمی اتنی لمبی خندق فوجی اصول کے مطابق تو نہیں کھود سکتے تھے۔ پس یہ خندق اتنا ہی فائدہ دے سکتی تھی کہ دشمن اچانک اندر نہ گھس آئے ورنہ اس خندق سے پار ہونا دشمن کیلئے ناممکن نہیں تھا۔ چنانچہ آئندہ جو واقعات بیان ہوں گے اُن سے ایسا ہی ثابت ہوتا ہے کہ دشمن نے بھی مدینہ کے حالات کو مدنظر رکھ کر اُسی طرف سے حملہ کرنے کا فیصلہ کیا ہوا تھا۔ چنانچہ دشمن کا لشکر جرار اسی طرف سے مدینہ میں داخل ہونے کیلئے آگے بڑھا۔ رسول کریمﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے بھی کچھ لوگوں کو شہر کے دوسرے حصوں کی حفاظت کیلئے مقرر کر دیا اور بقیہ آدمیوں کو ساتھ لے کر جو بارہ سَو کے قریب تھے خندق کی حفاظت کیلئے تشریف لے گئے۔

غزوہ خندق کے وقت اسلامی لشکر کی اصل تعداد کیا تھی؟

اس موقع پر مسلمانوں کے لشکر کی تعداد کے بارہ میں مؤرخین میں سخت اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے اس لشکر کی تعداد تین ہزار لکھی ہے بعض نے

بارہ تیرہ سَو اور بعض نے سات سَو۔ یہ اتنا بڑا اختلاف ہے کہ اس کی تاویل بظاہر مشکل معلوم ہوتی ہے اور مؤرخین اسے حل نہیں کر سکے۔ لیکن میں نے اس کی حقیقت کو پا لیا ہے اور وہ یہ کہ تینوں قسم کی روایتیں درست ہیں۔ یہ بتایا جا چکا ہے کہ جنگ اُحد میں منافقین کے واپس آ جانے کے بعد مسلمانوں کا لشکر صرف سات سَو افراد پر مشتمل تھا۔ جنگ احزاب اس کے صرف دو سال کے بعد ہوئی ہے اور اس عرصہ میں کوئی بڑا قبیلہ اسلام لا کر مدینہ میں آ کر نہیں بسا۔ پس سات سَو آدمیوں کا یکدم تین ہزار ہو جانا قرینِ قیاس نہیں۔ دوسری طرف یہ امر بھی قرینِ قیاس نہیں کہ اُحد کے دو سال بعد تک باوجود اسلام کی ترقی کے قابلِ جنگ مسلمان اتنے ہی رہے جتنے اُحد کے وقت تھے۔ پس ان دونوں تنقیدوں کے بعد وہ روایت ہی درست معلوم ہوتی ہے کہ لڑنے کے قابل مسلمان جنگ احزاب کے وقت کوئی بارہ سَو تھے۔ اب رہا یہ سوال کہ پھر کسی نے تین ہزار اور کسی نے سات سَو کیوں لکھا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دو روایتیں الگ الگ حالتوں اور نظریوں کے ماتحت بیان کی گئی ہیں۔ جنگ احزاب کے تین حصے تھے ایک حصہ اس کا وہ تھا جب ابھی دشمن مدینہ کے سامنے نہ آیا تھا اور خندق کھودی جا رہی تھی۔ اس کام میں کم سے کم مٹی ڈھونے کی خدمت بچے بھی کر سکتے تھے اور بعض عورتیں بھی اس کام میں مدد دے سکتی تھیں۔ پس جب تک خندق کھودنے کا کام رہا مسلمان لشکر کی تعداد تین ہزار تھی مگر اس میں بچے بھی شامل تھے اور صحابیہ عورتوں کے جوش کو دیکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس تعداد میں کچھ عورتیں بھی شامل ہوں گی جو خندق کھودنے کا کام تو نہیں کرتی ہوں گی مگر اوپر کے کاموں میں حصہ لیتی ہوں گی۔ یہ میرا خیال ہی نہیں تاریخ سے بھی میرے اس خیال کی تصدیق ہوتی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے جب خندق کھودنے کا وقت آیا سب لڑکے بھی جمع کر لئے گئے اور تمام مرد خواہ بڑے تھے خواہ بچے، خندق کھودنے یا اُس میں مدد دینے کا کام کرتے تھے، پھر جب دشمن آ گیا اور لڑائی شروع ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن تمام لڑکوں کو جو پندرہ سال سے چھوٹی عمر کے تھے چلے جانے کا حکم دیا اور جو پندرہ سال کے ہو چکے تھے، اُنہیں اجازت دی کہ خواہ ٹھہریں خواہ چلے جائیں۔۲۸۰ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خندق کھودنے کے وقت مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی اور جنگ کے وقت کم ہو گئی کیونکہ نابالغوں کو واپس چلے جانے کا حکم دے دیا گیا تھا۔ پس جن

روایتوں میں تین ہزار کا ذکر آیا ہے وہ خندق کھودنے کے وقت کی تعداد بتاتی ہیں جس میں چھوٹے بچے بھی شامل تھے۔ اور جیسا کہ میں نے دوسری جنگوں پر قیاس کر کے نتیجہ نکالا ہے کچھ عورتیں بھی تھیں۔ لیکن بارہ سَو کی تعداد اُس وقت کی ہے جب جنگ شروع ہو گئی اور صرف بالغ مرد رہ گئے۔

اب رہا یہ سوال کہ تیسری روایت جو سات سَو سپاہی بتاتی ہے کیا وہ بھی درست ہے؟ تو اِس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت ابن اسحٰق مورّخ نے بیان کی ہے جو بہت معتبر مورّخ ہے اور ابن حزم جیسے زبردست عالم نے اِس کی بڑے زور سے تصدیق کی ہے۔ پس اس کے بارہ میں بھی شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ اور اس کی تصدیق اس طرح بھی ہوتی ہے کہ تاریخ کی مزید چھان بین سے معلوم ہوتا ہے کہ جب جنگ کے دوران میں بنو قریظہ کفّار کے لشکر سے مل گئے اور اُنہوں نے یہ ارادہ کیا کہ مدینہ پر اچانک حملہ کر دیں اور اُن کی نیتوں کا راز فاش ہو گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی اس جہت کی حفاظت بھی ضروری سمجھی جس سمت بنو قریظہ تھے اور جو سمت پہلے اس خیال سے بے حفاظت چھوڑ دی گئی تھی کہ بنو قریظہ ہمارے اتحادی ہیں یہ دشمن کو اِس طرف سے نہ آنے دیں گے۔ چنانچہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بنو قریظہ کے غدر کا حال معلوم ہوا تو چونکہ مستورات بنو قریظہ کے اعتبار پر اس علاقہ میں رکھی گئی تھیں جدھر بنو قریظہ کے قلعے تھے اور وہ بغیر حفاظت تھیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اب اُن کی حفاظت ضروری سمجھی اور دو لشکر مسلمانوں کے تیار کر کے عورتوں کے ٹھہرنے کے دونوں حصوں پر مقرر فرمائے۔ مسلمہ ابن اسلمؓ کو دو سو صحابہ دے کر ایک جگہ مقرر کیا اور زید بن حارثہؓ کو تین سَو صحابہ دے کر دوسری جگہ مقرر کیا اور حکم دیا کہ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد بلند آواز سے تکبیر کہتے رہا کریں تا معلوم ہوتا رہے کہ عورتیں محفوظ ہیں۔ اس روایت سے ہماری یہ مشکل کہ سات سَو سپاہی جنگ خندق میں ابن اسحاق نے کیوں بتائے ہیں حل ہو جاتی ہے۔ کیونکہ بارہ سَو سپاہیوں میں سے جب پانچ سَو سپاہی عورتوں کی حفاظت کے لئے بھجوا دیئے گئے تو بارہ سَو کا لشکر صرف سات سَو رہ گیا اور اس طرح جنگ خندق کے سپاہیوں کی تعداد کے متعلق جو شدید اختلاف تاریخوں میں پایا جاتا ہے وہ حل ہو گیا۔

خلاصہ یہ کہ اس خطرناک مصیبت کے وقت خندق کی حفاظت کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف سات سَو آدمی تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے خندق کھودی تھی لیکن پھر بھی اتنے بڑے لشکر کو خندق کے پار سے روکنا بھی اتنے تھوڑے آدمیوں کے لئے ناممکن تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کی مدد کے بھروسہ پر یہ قلیل لشکر ایمان اور یقین کے ساتھ خندق کے پیچھے دشمن کے جرار لشکر کا انتظار کرنے لگا اور عورتیں اور بچے دو الگ الگ جگہوں پر اکٹھے کر دیئے گئے۔ دشمن جب خندق تک پہنچا تو چونکہ یہ عرب کے لئے ایک بالکل نئی بات تھی اور اس قسم کی لڑائی کے لئے وہ تیار نہ تھے اُنہوں نے خندق کے سامنے اپنے خیمے لگا دیئے اور مدینہ میں داخل ہونے کی تدبیریں سوچنے لگے۔

بنو قریظہ کی غداری

چونکہ مدینہ کا ایک کافی حصہ خندق سے محفوظ تھا اور دوسری طرف کچھ پہاڑی ٹیلے، کچھ پختہ مکانات اور کچھ باغات وغیرہ تھے، اس لئے فوج یکدم حملہ نہیں کر سکتی تھی۔ پس اُنہوں نے مشورہ کر کے یہ تجویز کی کہ کسی طرح یہود کا تیسرا قبیلہ جو ابھی مدینہ میں باقی تھا اور جس کا نام بنو قریظہ تھا اپنے ساتھ ملا لیا جائے اور اس ذریعہ سے مدینہ تک پہنچنے کا راستہ کھولا جائے۔ چنانچہ مشورہ کے بعد حیی ابن اخطب جو جلاوطن کردہ بنو نضیر کا سردار تھا اور جس کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے سارا عرب اکٹھا ہو کر مدینہ پر حملہ آور ہوا تھا اُسے کفار کی فوج کے کمانڈر ابوسفیان نے اس بات پر مقرر کیا کہ جس طرح بھی ہو بنو قریظہ کو اپنے ساتھ شامل کرو، چنانچہ حیی ابن اخطب یہودیوں کے قلعوں کی طرف گیا اور اُس نے بنو قریظہ کے سرداروں سے ملنا چاہا۔ پہلے تو اُنہوں نے ملنے سے انکار کیا لیکن جب اُس نے اُن کو سمجھایا کہ اس وقت سارا عرب مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لئے آیا ہے اور یہ بستی سارے عرب کا مقابلہ کسی صورت میں نہیں کر سکتی اِس وقت جو لشکر مسلمانوں کے مقابل پر کھڑا ہے اُس کو لشکر نہیں کہنا چاہئے بلکہ ایک ٹھاٹھیں مارنے والا سمندر کہنا چاہئے تو ان باتوں سے اُس نے بنو قریظہ کو آخر غداری اور معاہدہ شکنی پر آمادہ کر دیا اور یہ فیصلہ ہوا کہ کفار کا لشکر سامنے کی طرف سے خندق پار ہونے کی کوشش کرے اور جب وہ خندق پار ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے تو بنو قریظہ مدینہ کی دوسری طرف سے مدینہ کے اُس حصہ پر حملہ کر دیں گے جہاں عورتیں اور بچے ہیں جو بنو قریظہ پر اعتبار کر کے بغیر حفاظت کے چھوڑ دیئے گئے تھے اور اس طرح مسلمانوں کی مقابلہ کی طاقت بالکل کچلی جائے گی اور ایک ہی دم میں مسلمان مرد، عورتیں اور بچے سب مار دیئے جائیں گے۔ یہ یقینی بات ہے کہ اگر اِس تدبیر میں تھوڑی بہت کامیابی بھی کفار کو ہو جاتی تو مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ حفاظت کی باقی نہیں رہتی تھی۔ بنو قریظہ مسلمانوں کے حلیف تھے اور اگر وہ کھلی جنگ میں شامل نہ بھی ہوتے تب بھی مسلمان یہ امید کرتے تھے کہ اُن کی طرف سے ہو کر مدینہ پر کوئی حملہ نہیں کر سکے گا۔ اسی وجہ سے اُن کی طرف کا حصہ بالکل غیر محفوظ چھوڑ دیا گیا تھا۔ بنو قریظہ اور کفار نے بھی اس صورت حالات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ جب بنو قریظہ کفار کے ساتھ مل گئے تو وہ کھلے بندوں کفار کی مدد نہ کریں تا ایسا نہ ہو کہ مسلمان مدینہ کی اُس طرف کی حفاظت کا بھی کوئی سامان کر لیں جو بنو قریظہ کے علاقہ کے ساتھ ملتی تھی۔ یہ تدبیر نہایت ہی خطرناک تھی۔ مسلمانوں کو غافل رکھتے ہوئے کسی ایسے وقت میں بنو قریظہ کا دشمن کے ساتھ جاملنا جبکہ اسلامی فوج پر کفار کی فوج کا زبردست دھاوا ہو رہا ہو مدینہ کی اس طرف کی حفاظت کو جس طرف بنو قریظہ کے قلع واقع تھے بالکل ناممکن بنا دیتا تھا۔ دو طرف سے مسلمانوں پر حملہ کر سکنے کا امکان پیدا ہو جانے کے بعد مکہ کے لشکر نے خندق پر حملہ شروع کیا۔ پہلے چند دن تو اُن کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ وہ خندق سے کس طرح گزریں، لیکن دو چار دن کے بعد اُنہوں نے یہ تدبیر نکالی کہ تیر انداز اونچی جگہوں پر کھڑے ہو کر اُن مسلمان دستوں پر تیر اندازی شروع کر دیتے تھے جو خندق کی حفاظت کے لئے خندق کے ساتھ ساتھ تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر بٹھائے گئے تھے۔ جب تیروں کی بوچھاڑ کی وجہ سے مسلمان پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جاتے تو اعلیٰ درجہ کے گھوڑ سوار خندق کو پھاندنے کی کوشش کرتے۔ خیال کیا گیا تھا کہ اس قسم کے متواتر حملوں کے نتیجہ میں کوئی نہ کوئی جگہ ایسی نکل آئے گی کہ جہاں سے پیدل فوج زیادہ تعداد میں خندق پار ہو سکے گی۔ یہ حملے اتنی کثرت کے ساتھ کئے جاتے تھے اور اِس طرح متواتر کئے جاتے تھے کہ بعض دفعہ مسلمانوں کو سانس لینے کا بھی موقع نہیں ملتا تھا۔ چنانچہ ایک دن حملہ اتنا شدید ہو گیا کہ مسلمانوں کی بعض نمازیں وقت پر ادا نہ ہو سکیں جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا صدمہ ہوا کہ آپ نے فرمایا خدا کفار کو سزا دے اُنہوں نے ہماری نمازیں ضائع کیں۔۲۸۱؎

گو میں نے یہ واقعہ دشمنوں کے حملوں کی شدت ظاہر کرنے کیلئے بیان کیا ہے ، لیکن اِس سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق پر ایک بہت بڑی روشنی پڑتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ عزیز ترین چیز آپ کے لئے خدا تعالیٰ کی عبادت تھی جبکہ دشمن چاروں طرف سے مدینہ کو گھیرے ہوئے تھا۔ جبکہ مدینہ کے مرد تو الگ رہے اُن عورتوں اور بچوں کی جانیں بھی خطرہ میں تھیں ۔ جب ہر وقت مدینہ کے لوگوں کا دل دھڑک رہا تھا کہ دشمن کسی طرف سے مدینہ کے اندر داخل نہ ہو جائے اُس وقت بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش یہی تھی کہ خدا تعالیٰ کی عبادت اپنے وقت پر عمدگی کے ساتھ ادا ہو جائے۔ مسلمانوں کی عبادت یہودیوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں کی طرح ہفتہ میں کسی ایک دن نہیں ہوا کرتی بلکہ مسلمانوں کی عبادت دن رات میں پانچ دفعہ ہوتی ہے۔ ایسے خطرناک وقت میں تو دن میں ایک دفعہ بھی نماز ادا کرنا انسان کے لئے مشکل ہے چہ جائیکہ پانچ وقت اور پھر عمدگی کے ساتھ باجماعت نماز ادا کی جائے ۔ مگر ان خطرناک ایام میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پانچوں نمازیں اپنے وقت پر ادا کرتے تھے اور اگر ایک دن دشمن کے شدید حملہ کی وجہ سے آپ اپنے ربّ کا نام اطمینان اور آرام سے اپنے وقت پر نہ لے سکے تو آپ کو شدید تکلیف پہنچی۔

اُس وقت سامنے سے دشمن حملہ کر رہا تھا اور پیچھے سے بنو قریظہ اس بات کی تاک میں تھے کہ کوئی موقع مل جائے تو بغیر مسلمانوں کے شبہات کو اُبھارنے کے وہ مدینہ کے اندر گھس کر عورتوں اور بچوں کو قتل کر دیں ۔ چنانچہ ایک دن بنو قریظہ نے ایک جاسوس بھیجا تاکہ وہ معلوم کرے کہ عورتیں اور بچے اکیلے ہی ہیں یا کافی تعداد سپاہیوں کی اُن کی حفاظت کے لئے مقرر ہے۔ جس خاص احاطہ میں وہ خاص خاص خاندان جن کو دشمن سے زیادہ خطرہ تھا جمع کر دیئے گئے تھے اُس کے پاس اُس جاسوس نے آ کر منڈلانا اور چاروں طرف دیکھنا شروع کیا کہ مسلمان سپاہی کہیں اردگرد میں پوشیدہ تو نہیں ہیں ۔ وہ ابھی اسی ٹوہ میں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہؓ نے اُسے دیکھ لیا۔ اتفاقاً اُس وقت صرف ایک ہی مسلمان مرد وہاں موجود تھا اور وہ بھی بیمار تھا۔ حضرت صفیہؓ نے اُسے کہا کہ یہ آدمی دیر سے عورتوں کے علاقہ میں پھر رہا ہے اور جانے کا نام نہیں لیتا اور چاروں طرف دیکھتا پھرتا ہے پس یہ یقیناً جاسوس ہے

تم اس کا مقابلہ کرو ایسا نہ ہو کہ دشمن پورے حالات معلوم کر کے اِدھر حملہ کر دے۔ اُس بیمار صحابی نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ تب حضرت صفیہؓ نے خود ایک بڑا بانس لے کر اُس شخص کا مقابلہ کیا اور دوسری عورتوں کی مدد سے اُس کو مارنے میں کامیاب ہو گئیں۔۲۸۲ آخر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ یہودی تھا اور بنو قریظہ کا جاسوس تھا۔ تب تو مسلمان اور بھی زیادہ گھبرا گئے اور سمجھے کہ اب مدینہ کی یہ طرف بھی محفوظ نہیں۔ مگر سامنے کی طرف سے دشمن کا اتنا زور تھا کہ اب وہ اس طرف کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں کر سکتے تھے لیکن با وجود اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی حفاظت کو مقدم سمجھا اور جیسا کہ اُوپر لکھا جا چکا ہے بارہ سَو سپاہیوں میں سے پانچ سَو کو عورتوں کی حفاظت کے لئے شہر میں مقرر کر دیا اور خندق کی حفاظت اور اٹھارہ بیس ہزار لشکر کے مقابلہ کے لئے صرف سات سَو سپاہی رہ گئے۔ اس حالت میں بعض مسلمان گھبرا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا یا رَسُوْلَ اللّٰہ! حالات نہایت خطرناک ہو گئے ہیں۔ اب بظاہر مدینہ کے بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی، آپ اس وقت خدا تعالیٰ سے خاص طور پر دعا کریں اور ہمیں بھی کوئی دعا سکھلائیں جس کے پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کا فضل ہم پر نازل ہو۔ آپ نے فرمایا تم لوگ گھبراؤ نہیں تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرو کہ تمہاری کمزوریوں پر وہ پردہ ڈالے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کرے اور گھبراہٹ کو دور فرمائے۔ اور پھر آپ نے خود بھی اس طرح دعا فرمائی۔

اَللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتٰبِ سَرِیْعَ الْحِسَابِ اِھْزِمِ الْاَحْزَابَ اَللّٰھُمَّ اھْزِمْھُمْ وَزَلْزِلْھُمْ ۲۸۳اور اسی طرح یہ دعا فرمائی۔ یَا صَرِیْخَ الْمَکْرُوْبِیْنَ یَا مُجِیْبَ الْمُضْطَرِّیْنَ اکْشِفْ ھَمِّیْ وَ غَمِّیْ وَ کَرْبِیْ فَإِنَّکَ تَرٰی مَا نَزَلَ بِیْ وَ بِاَصْحَابِیْ ۲۸۴ اے اللہ! جس نے قرآنِ کریم مجھ پر نازل کیا ہے جو بہت جلدی اپنے بندوں سے حساب لے سکتا ہے یہ گروہ جو جمع ہو کر آئے ہیں ان کو شکست دے۔ اے اللہ! میں پھر عرض کرتا ہوں کہ تو انہیں شکست دے اور ہمیں ان پر غلبہ دے اور اُن کے ارادوں کو متزلزل کر دے۔ اے دردمندوں کی دعا سننے والے! اے گھبراہٹ میں مبتلا لوگوں کی پکار کا جواب دینے والے! میرے غم اور میری فکر اور میری گھبراہٹ کو دُور کر کیونکہ تو ان مصائب کو جانتا ہے جو مجھے اور میرے ساتھیوں کو درپیش ہیں۔

منافقوں اور مومنوں کی حالت کا بیان

اِس موقع پر منافق تو اتنے گھبرا گئے کہ قومی حمیت اور اپنے شہر اور اپنی عورتوں اور بچوں کی حفاظت کا خیال بھی اُن کے دلوں سے نکل گیا۔ مگر چونکہ اپنی قوم کے سامنے وہ ذلیل بھی نہیں ہونا چاہتے تھے اس لئے اُنہوں نے بہانے بہانے سے لشکر سے فرار کی صورت سوچی۔ چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔ وَیَسۡتَاۡذِنُ فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمُ النَّبِیَّ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُیُوۡتَنَا عَوۡرَۃٌ ؕۛ وَمَا ہِیَ بِعَوۡرَۃٍ ۚۛ اِنۡ یُّرِیۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا(33:14) ۲۸۵؎ یعنی ایک گروہ اُن میں سے رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اجازت طلب کی کہ اُنہیں محاذِ جنگ سے پیچھے لوٹ آنے کی اجازت دی جائے۔ کیونکہ اُنہوں نے کہا (اب یہودی بھی مخالف ہو گئے ہیں اور اُس طرف سے مدینہ کے بچاؤ کا کوئی ذریعہ نہیں) اور ہمارے گھر اُس علاقہ کی طرف سے بے حفاظت کھڑے ہیں (پس ہمیں اجازت دیجئے کہ جا کر اپنے گھروں کی حفاظت کریں) لیکن اُن کا یہ کہنا کہ اُن کے گھر بے حفاظت کھڑے ہیں بالکل غلط ہے۔ وہ بے حفاظت نہیں ہیں (کیونکہ خدا تعالیٰ مدینہ کی حفاظت کیلئے کھڑا ہے) وہ تو صرف ڈر کے مارے میدانِ جنگ سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ اُس وقت مسلمانوں کی جو حالت تھی اُس کا نقشہ قرآن کریم نے یوں کھینچا ہے۔ اِذۡ جَآءُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوۡقِکُمۡ وَمِنۡ اَسۡفَلَ مِنۡکُمۡ وَاِذۡ زَاغَتِ الۡاَبۡصَارُ وَبَلَغَتِ الۡقُلُوۡبُ الۡحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوۡنَا ہُنَالِکَ ابۡتُلِیَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَزُلۡزِلُوۡا زِلۡزَالًا شَدِیۡدًا وَاِذۡ یَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اِلَّا غُرُوۡرًا وَاِذۡ قَالَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡہُمۡ یٰۤاَہۡلَ یَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَکُمۡ فَارۡجِعُوۡا(33:11-14) ۲۸۶؎ یعنی یاد تو کرو جب تم پر لشکر چڑھ کے آگیا تمہارے اوپر کی طرف سے بھی اور نیچے کی طرف سے بھی۔ یعنی نیچے کی طرف سے کفار اور اُوپر کی طرف سے یہود۔ جب کہ نظریں کج ہونے لگ گئیں اور دل اُچھل اُچھل کر گلے تک آنے لگے اور تم میں سے کئی خدا کی نسبت بدظنیاں کرنے لگ گئے۔ اُس وقت مؤمنوں کے ایمان کا امتحان لیا گیا اور مؤمنوں کو سر سے پیر تک ہلا دیا گیا اور یاد کرو جبکہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض تھا اُنہوں نے کہنا شروع کیا ’’اللہ اور اُس کے رسول نے ہم سے جھوٹے وعدے کئے تھے، اور یاد کرو جب اُن میں سے ایک گروہ اس حد تک پہنچ گیا کہ اُنہوں نے مؤمنوں سے بھی جا جا کر کہنا شروع کر دیا کہ اب کوئی چوکی یا قلعہ تمہیں بچا نہیں سکتا پس یہاں سے بھاگ جاؤ۔ اور مؤمنوں کی نسبت فرماتا ہے۔ وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ۙ قَالُوۡا ہٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوۡلُہٗ وَصَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوۡلُہٗ ۫ وَمَا زَادَہُمۡ اِلَّاۤ اِیۡمَانًا وَّتَسۡلِیۡمًا مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیۡہِ ۚ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ قَضٰی نَحۡبَہٗ وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡتَظِرُ ۫ۖ وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِیۡلًا(۲۴، ۲۳) یعنی منافقوں اور کمزور ایمان والوں کے مقابلہ میں مؤمنوں کا یہ حال تھا کہ جب اُنہوں نے دشمن کا یہ لشکرِ جرار دیکھا تو اُنہوں نے کہا کہ اس لشکر کے متعلق تو اللہ اور اس کے رسول نے پہلے سے ہی ہم کو خبر دے چھوڑی تھی۔ اس لشکر کا حملہ تو اللہ اور اس کے رسول کی صداقت کا ثبوت ہے اور یہ لشکرِ جرار اُن کے ایمان کو ہلا نہ سکا۔ بلکہ ایمان اور طاقت میں مسلمان اور بھی زیادہ ہو گئے۔ مؤمنوں کا تو یہ حال ہے کہ اُنہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اُس کو وہ پورے طور پر نبھا رہے ہیں چنانچہ کچھ تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنی جانیں دے کر اپنے مقصد کو حاصل کر لیا اور بعض ایسے ہیں کہ گو اُن کو جانیں دینے کا موقع تو نہیں ملا مگر وہ ہر وقت اس بات کی انتظار میں رہتے ہیں کہ اُن کو خدا کے رستہ میں جان دینے کا موقع ملے تو وہ جان دے دیں اور شروع دن سے اُنہوں نے خدا تعالیٰ سے جو عہد باندھا تھا اُس کو نبھا رہے ہیں۔

اسلام میں مردہ لاش کا احترام

دشمن جو خندق پر حملہ کر رہا تھا بعض وقت وہ اُس کے پھاندنے میں کامیاب بھی ہو جاتا تھا، چنانچہ ایک دن کفار کے بعض بڑے بڑے جرنیل خندق پھاند کر دوسری طرف آنے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن مسلمانوں نے ایسا جان توڑ حملہ کیا کہ سوائے واپس جانے کے اُن کے لئے کوئی چارہ نہ رہا۔ چنانچہ اُس وقت خندق پھاندتے ہوئے کفار کا ایک بہت بڑا رئیس نوفل نامی مارا گیا۔ یہ اتنا بڑا رئیس تھا کہ کفار نے یہ خیال کیا کہ اگر اس کی لاش کی ہتک ہوئی تو عرب میں ہمارے لئے منہ دکھانے کی کوئی جگہ نہیں رہے گی۔ چنانچہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا کہ اگر آپ اس کی لاش واپس کر دیں تو وہ دس ہزار درہم آپ کو دینے کے لئے تیار ہیں۔

اُن لوگوں کا تو خیال یہ تھا کہ شاید جس طرح ہم نے مسلمان رؤساء بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے ناک اور کان اُحد کی جنگ میں کاٹ دیئے تھے اسی طرح شاید آج مسلمان ہمارے اس رئیس کے ناک، کان کاٹ کر ہماری قوم کی بےعزتی کریں گے۔ مگر اسلام کے احکام تو بالکل اور قسم کے ہیں۔ اسلام لاشوں کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دیتا۔ چنانچہ کفار کا پیغام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا۔ اس لاش کو ہم نے کیا کرنا ہے یہ لاش ہمارے کس کام کی ہے کہ اس کے بدلہ ہم تم سے کوئی قیمت لیں۔ اپنی لاش بڑے شوق سے اُٹھا کر لے جاؤ۔ ہمیں اس سے کوئی واسطہ نہیں۔۴۸۸

اتحادی فوجوں کے مسلمانوں پر حملے

اُن دنوں جس جوش کے ساتھ کفار حملہ کرتے تھے میورؔ اُس کا ان الفاظ میں ذکر کرتا ہے۔

’’دوسرے دن محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دیکھا کہ اتحادی فوجیں متفقہ طور پر اُن پر حملہ کرنے کے لئے تیار کھڑی ہیں، اُن کے حملوں کو روکنے کے لئے بہت زیادہ ہوشیار اور ہر وقت چوکس رہنا ضروری تھا۔ کبھی وہ متفقہ حملہ کرتے، کبھی دستوں میں تقسیم ہو کر مختلف چوکیوں پر حملہ کرتے اور جب کسی چوکی کو کمزور پاتے تو اپنی ساری فوج اُس جگہ پر جمع کر لیتے اور بے پناہ تیر اندازی کے پردہ میں وہ خندق پار کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یکے بعد دیگرے خالدؓ اور عمرو جیسے مشہور لیڈروں کی ماتحتی میں فوج بہادرانہ حملہ شہر میں داخل ہونے کے لئے کرتی۔ ایک دفعہ تو خود محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا خیمہ دشمن کی زد میں آ گیا لیکن مسلمانوں کے فدائیانہ مقابلہ اور تیروں کی بوچھاڑ نے حملہ آوروں کو پیچھے دھکیل دیا۔ یہ حملہ سارا دن جاری رہا اور چونکہ مسلمانوں کی فوج ساری مل کر بمشکل خندق کی حفاظت کر سکتی تھی کوئی آرام کا وقفہ مسلمانوں کو نہ ملا۔ رات پڑ گئی مگر رات کو بھی خالد کے ماتحت دستوں نے لڑائی کو جاری رکھا اور مسلمانوں کو مجبور کر دیا کہ وہ رات کو بھی اپنی چوکیوں کی حفاظت پورے طور پر کریں۔ لیکن دشمن کی یہ تمام کوششیں بیکار گئیں۔ خندق کو کبھی بھی دشمن کے کافی سپاہی پار نہ کر سکے‘‘۔۴۸۹ لیکن باوجود اس کے کہ جنگ دو روز سے ہو رہی تھی سپاہی ایک دوسرے کے ساتھ گتھ

جانے کا موقع نہیں پاتے تھے اس لئے چوبیس گھنٹہ کی جنگ میں اتحادیوں کے صرف تین آدمی مارے گئے اور مسلمانوں کے پانچ۔ اس حملہ میں سعد بن معاذؓ اوس قبیلہ کے رئیس اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائی صحابی مہلک طور پر زخمی ہوئے۔ ان حملوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک جگہ خندق کے کنارے ٹوٹ گئے اور اُس طرف سے حملہ کرنا بہت ممکن ہو گیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جرأت اور مسلمانوں کی خیرخواہی کا یہ حال تھا کہ آپ سردی میں رات کو اُٹھ اُٹھ کر اُس جگہ جاتے اور اُس کا پہرہ دیتے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ پہرہ دیتے ہوئے تھک جاتے اور سردی سے نڈھال ہو جاتے تو واپس آکر تھوڑی دیر میرے ساتھ لحاف میں لیٹ جاتے، مگر جسم کے گرم ہوتے ہی پھر اُس شگاف کی حفاظت کے لئے چلے جاتے۔ اس طرح متواتر جاگنے سے آپ ایک دن بالکل نڈھال ہو گئے اور رات کے وقت فرمایا کاش! اس وقت کوئی مخلص مسلمان ہوتا تو میں آرام سے سو جاتا۔ اتنے میں باہر سے سعد بن وقاص کی آواز آئی۔ آپ نے پوچھا کہ کیوں آئے ہو؟ اُنہوں نے کہا آپ کا پہرہ دینے کو۔ آپ نے فرمایا مجھے پہرہ کی ضرورت نہیں تم فلاں جگہ جہاں خندق کا کنارہ ٹوٹ گیا ہے جاؤ اور اُس کا پہرہ دو تا مسلمان محفوظ رہیں۔ چنانچہ سعدؓ اُس جگہ کا پہرہ دینے چلے گئے اور آپ سو گئے۔

(عجیب بات ہے کہ جب آپ شروع شروع میں مدینہ تشریف لائے تھے اور خطرہ بہت بڑھا ہوا تھا تب بھی سعدؓ پہرہ دینے کے لئے تشریف لائے تھے) انہی ایام میں آپ نے ایک دن کچھ لوگوں کے اسلحہ کی آواز سُنی اور پوچھا کون ہے؟ تو عباد بن بشیر نے کہا میں ہوں۔ آپ نے فرمایا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ اُنہوں نے کہا ایک جماعت صحابہ کی ہے جو آپ کے خیمہ کا پہرہ دینے کے لئے آئے ہیں۔ آپ نے فرمایا اِس وقت مشرکین خندق پھاندنے کی کوشش کر رہے ہیں وہاں جاؤ اور اُن کا مقابلہ کرو میرے خیمہ کو رہنے دو۔

بنو قریظہ کی مشرکوں سے مل کر حملہ کے لئے تیاری اور اُس میں ناکامی

جیسا کہ اُوپر لکھا جا چکا ہے یہود نے مدینہ میں چوری چھپے داخل ہونے کی کوشش کی اور اس میں اُن کا جاسوس مارا گیا۔ جب یہود کو یہ معلوم ہوا کہ اُن کی سازش ظاہر ہو گئی ہے تو اُنہوں نے زیادہ دلیری سے عربوں کی مدد شروع کر دی۔ گو اجتماعی حملہ مدینہ کے پچھواڑے کی طرف سے نہیں کیا کیونکہ اْدھر میدان چھوٹا تھا اور مسلمانوں کی فوجوں کی موجودگی میں بڑا حملہ اُس طرف سے نہیں ہو سکتا تھا لیکن کچھ دن بعد دونوں فریق نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک وقت مقررہ پر یہودیوں اور مشرکوں کے لشکر یکدم مسلمانوں پر حملہ کر دیں۔ مگر اُس وقت اللہ تعالیٰ کی تائید ایک عجیب طرح ظاہر ہوئی جس کی تفصیل یہ ہے۔

نعیم نامی ایک شخص غطفان کے قبیلہ کا دل میں مسلمان تھا۔ یہ شخص بھی کفار کے ساتھ آیا ہوا تھا لیکن اس بات کی انتظار میں تھا کہ اگر مجھے کوئی موقع ملے تو میں مسلمانوں کی مدد کروں۔ اکیلا انسان کر ہی کیا سکتا ہے۔ مگر جب اُس نے دیکھا کہ یہود بھی کفار سے مل گئے ہیں اور اب بظاہر مسلمانوں کی حفاظت کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا تو ان حالات سے وہ اتنا متاثر ہوا کہ اُس نے فیصلہ کر لیا کہ بہرحال مجھے اس فتنہ کے دور کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا چاہئے۔ چنانچہ جب یہ فیصلہ ہوا کہ دونوں فریق مل کر ایک دن حملہ کریں تو وہ بنو قریظہ کے پاس گیا اور اُن کے رؤساء سے کہا کہ اگر عربوں کا لشکر بھاگ جائے تو بتاؤ مسلمان تمہارے ساتھ کیا کریں گے؟ تم مسلمانوں کے معاہد ہو اور معاہدہ کر کے اس کے توڑنے کے نتیجہ میں جو سزا تم کو ملے گی اُس کا قیاس کر لو۔ اُن کے دل کچھ ڈرے اور اُنہوں نے پوچھا پھر ہم کیا کریں؟ نعیم نے کہا جب عرب مشترکہ حملہ کے لئے تم سے خواہش کریں تو تم مشرکین سے مطالبہ کرو کہ اپنے ۷۰ آدمی ہمارے پاس یرغمال کے طور پر بھیج دو وہ ہمارے قلعوں کی حفاظت کریں گے اور ہم مدینہ کے پچھواڑے سے اُس پر حملہ کر دیں گے۔ پھر وہ وہاں سے ہٹ کر مشرکین کے سرداروں کے پاس گیا اور اُن سے کہا کہ یہ یہود تو مدینہ کے رہنے والے ہیں اگر عین موقع پر یہ تم سے غداری کریں تو پھر کیا کرو گے؟ اگر یہ مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے اور اپنے جرم کو معاف کروانے کے لئے تم سے تمہارے آدمی بطور یرغمال مانگیں اور اُن کو مسلمانوں کے حوالے کر دیں تو پھر تم کیا کرو گے؟ تمہیں چاہئے کہ اُن کا امتحان لے لو کہ آیا وہ پکے رہتے ہیں یا نہیں اور جلد ہی اُن کو اپنے ساتھ باقاعدہ حملہ کرنے کی دعوت دو۔ کفار کے سرداروں نے اس مشورہ کو صحیح سمجھتے ہوئے دوسرے دن یہود کو پیغام بھیجا کہ ہم ایک اجتماعی حملہ کرنا چاہتے ہیں تم بھی اپنی فوجوں سمیت کل حملہ کر دو۔ بنو قریظہ نے کہا کہ اوّل تو کل ہمارا سبت کا دن ہے اس لئے ہم اس دن لڑائی نہیں کر سکتے۔ دوسرے ہم مدینہ کے رہنے والے ہیں اور تم باہر کے۔ اگر تم لوگ لڑائی چھوڑ کر چلے جاؤ تو ہمارا کیا بنے گا۔ اس لئے آپ لوگ ہمیں ۷۰؍ آدمی یرغمال کے طور پر دیں گے تب ہم لڑائی میں شامل ہوں گے۔ کُفّار کے دل میں چونکہ پہلے سے شبہ پیدا ہو چکا تھا اُنہوں نے اُن کے اِس مطالبہ کو پورا کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر تمہارا ہمارے ساتھ اتحاد سچا تھا تو اس قسم کے مطالبہ کے کوئی معنی نہیں۔ اِس واقعہ سے اُدھر یہود کے دلوں میں شبہات پیدا ہونے لگے اِدھر کُفّار کے دلوں میں شبہات پیدا ہونے لگے اور جیسا کہ قاعدہ ہے جب شبہات دل میں پیدا ہو جاتے ہیں تو بہادری کی روح بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اِنہی شکوک و شبہات کو ساتھ لئے ہوئے کُفّار کا لشکر رات کو آرام کرنے کے لئے اپنے خیموں میں گیا ، تو خدا تعالیٰ نے آسمانی نصرت کا ایک اور راستہ کھول دیا۔ رات کو ایک سخت آندھی چلی جس نے قناتوں کے پردے توڑ دیئے۔ چولہوں پر سے ہنڈیاں گرادیں اور بعض قبائل کی آگیں بجھ گئیں۔ مشرکین عرب میں ایک رواج تھا کہ وہ ساری رات آگ جلائے رکھتے تھے اور اِس کو وہ نیک شگون سمجھتے تھے۔ جس کی آگ بجھ جاتی تھی وہ خیال کرتا تھا کہ آج کا دن میرے لئے منحوس ہے اور وہ اپنے خیمے اُٹھا کر لڑائی کے میدان سے پیچھے ہٹ جاتا تھا۔ جن قبائل کی آگ بجھی اُنہوں نے اِس رواج کے مطابق اپنے خیمے اُٹھائے اور پیچھے کو چل پڑے تاکہ ایک دن پیچھے انتظار کر کے پھر لشکر میں آ شامل ہوں۔ لیکن چونکہ دن کے جھگڑوں کی وجہ سے سردارانِ لشکر کے دل میں شبہات پیدا ہو رہے تھے، جو قبائل پیچھے ہٹے اُن کے اردگرد کے قبائل نے سمجھا کہ شاید یہود نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر شبخون مار دیا ہے اور ہمارے آس پاس کے قبائل بھاگے جا رہے ہیں۔ چنانچہ اُنہوں نے بھی جلدی جلدی اپنے ڈیرے سمیٹنے شروع کر دیئے اور میدان سے بھاگنا شروع کیا۔ ابوسفیان اپنے خیمہ میں آرام سے لیٹا تھا کہ اِس واقعہ کی خبر اُسے بھی پہنچی۔ وہ گھبرا کے اپنے بندھے ہوئے اُونٹ پر جا چڑھا اور اُس کو ایڑیاں مارنی شروع کر دی۔ آخر اُس کے دوستوں نے اِس کو توجہ دلائی کہ وہ یہ کیا حماقت کر رہا ہے۔ اس پر اُس کے اُونٹ کی رسیاں کھولی گئیں اور وہ بھی اپنے ساتھیوں سمیت میدان سے بھاگ گیا۔

رات کے آخری ثلث میں وہ میدان جس میں پچیس ہزار کے قریب کفّار کے سپاہی خیمہ زن تھے وہ ایک جنگل کی طرح ویران ہو گیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس وقت اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ بتایا کہ تمہارے دشمن کو ہم نے بھگا دیا ہے۔ آپؐ نے حقیقتِ حال معلوم کرنے کے لئے کسی شخص کو بھیجنا چاہا اور اپنے اردگرد بیٹھے ہوئے صحابہؓ کو آواز دی۔ وہ سردی کے ایام تھے اور مسلمانوں کے پاس کپڑے بھی کافی نہ ہوتے تھے۔ سردی کے مارے زبانیں تک جمی جا رہی تھیں۔ بعض صحابہؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی اور ہم جواب بھی دینا چاہتے تھے مگر ہم سے بولا نہیں گیا۔ صرف ایک حذیفہؓ تھے جنہوں نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! کیا کام ہے؟ آپؐ نے فرمایا تم نہیں مجھے کوئی اور آدمی چاہئے۔ پھر آپؐ نے فرمایا کوئی ہے؟ مگر پھر سردی کی شدت کی وجہ سے جو جاگ بھی رہے تھے وہ جواب نہ دے سکے۔ حذیفہؓ نے پھر کہا میں يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! موجود ہوں۔ آخر آپؐ نے حذیفہؓ کو یہ کہتے ہوئے بھجوایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ تمہارے دشمن کو ہم نے بھگا دیا ہے، جاؤ اور دیکھو کہ دشمن کا کیا حال ہے حذیفہؓ خندق کے پاس گئے اور دیکھا کہ میدان کُلّی طور پر دشمن کے سپاہیوں سے خالی تھا۔ واپس آئے اور کلمۂ شہادت پڑھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کی اور بتایا کہ دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔ صبح مسلمان اپنے خیمے اُکھیڑ کر اپنے اپنے گھروں کی طرف آنے شروع ہوئے۔۲۹۳

بنو قریظہ کو اُن کی غداری کی سزا

بیس دنوں کے بعد مسلمانوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ مگر اب بنو قریظہ کا معاملہ طے ہونے والا تھا۔ اُن کی غداری ایسی نہیں تھی کہ نظر انداز کی جاتی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس آتے ہی اپنے صحابہؓ سے فرمایا گھروں میں آرام نہ کرو بلکہ شام سے پہلے پہلے بنو قریظہ کے قلعوں تک پہنچ جاؤ اور پھر آپؐ نے حضرت علیؓ کو بنو قریظہ کے پاس بھجوایا کہ وہ اُن سے پوچھیں کہ اُنہوں نے معاہدہ کے خلاف یہ غداری کیوں کی؟ بجائے اِس کے کہ بنو قریظہ شرمندہ ہوتے یا معافی مانگتے یا کوئی معذرت کرتے اُنہوں نے حضرت علیؓ اور اُن کے ساتھیوں کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے خاندان کی مستورات کو گالیاں دینے لگے اور کہا ہم نہیں جانتے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا چیز ہیں ہمارا اُن کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں۔ حضرت علیؓ اُن کا یہ جواب لے کر واپس لوٹے تو اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

صحابہؓ کے ساتھ یہود کے قلعوں کی طرف جا رہے تھے چونکہ یہود گندی گالیاں دے رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں اور بیٹیوں کے متعلق بھی ناپاک کلمات بول رہے تھے حضرت علیؓ نے اس خیال سے کہ آپ کو اُن کلمات کے سننے سے تکلیف ہو گی، عرض کیا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! آپ کیوں تکلیف کرتے ہیں ہم لوگ اس لڑائی کے لئے کافی ہیں، آپ واپس تشریف لے جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ وہ گالیاں دے رہے ہیں اور تم یہ نہیں چاہتے کہ میرے کان میں وہ گالیاں پڑیں۔ حضرت علیؓ نے عرض کیا ہاں يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! بات تو یہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کیا ہوا اگر وہ گالیاں دیتے ہیں، موسیٰؑ نبی تو ان کا اپنا تھا اُس کو اِس سے بھی زیادہ انہوں نے تکلیفیں پہنچائی تھیں۔ یہ کہتے ہوئے آپ یہود کے قلعوں کی طرف چلے گئے۔ مگر یہود دروازے بند کر کے قلعہ بند ہو گئے اور مسلمانوں کے ساتھ لڑائی شروع کر دی۔ حتیٰ کہ اُن کی عورتیں بھی لڑائی میں شریک ہوئیں۔ چنانچہ قلعہ کی دیوار کے نیچے کچھ مسلمان بیٹھے تھے کہ ایک یہودی عورت نے اُوپر سے پتھر پھینک کر ایک مسلمان کو مار دیا لیکن کچھ دن کے محاصرہ کے بعد یہود نے یہ محسوس کر لیا کہ وہ لمبا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ تب اُن کے سرداروں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خواہش کی کہ وہ ابولبابہ انصاری کو جو اُن کے دوست اور اوس قبیلہ کے سردار تھے اُن کے پاس بھجوائیں تاکہ وہ اُن سے مشورہ کر سکیں۔ آپ نے ابولبابہ کو بھجوا دیا۔ ان سے یہود نے یہ مشورہ پوچھا کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مطالبہ کو کہ فیصلہ میرے سپرد کرتے ہوئے تم ہتھیار پھینک دو، ہم یہ مان لیں؟ ابولبابہ نے منہ سے تو کہا ہاں! لیکن اپنے گلے پر اس طرح ہاتھ پھیرا جس طرح قتل کی علامت ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت تک اپنا کوئی فیصلہ ظاہر نہیں کیا تھا مگر ابولبابہ نے اپنے دل میں یہ سمجھتے ہوئے کہ اُن کے اِس جرم کی سزا سوائے قتل کے اور کیا ہو گی بغیر سوچے سمجھے اشارہ کے ساتھ اُن سے ایک بات کہہ دی جو آخر اُن کی تباہی کا موجب ہوئی۔ چنانچہ یہود نے کہہ دیا کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ مان لیتے تو دوسرے یہودی قبائل کی طرح اُن کو زیادہ سے زیادہ یہی سزا دی جاتی کہ اُن کو مدینہ سے جلاوطن کر دیا جاتا، مگر اُن کی بدقسمتی تھی اُنہوں نے کہا ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ماننے کے لئے تیار نہیں، بلکہ ہم اپنے حلیف قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذؓ کا فیصلہ مانیں گے۔ جو فیصلہ وہ کریں گے ہمیں منظور ہو گا۔ لیکن اُس وقت یہود میں اختلاف ہو گیا۔ یہود میں سے بعض نے کہا کہ ہماری قوم نے غداری کی ہے اور مسلمانوں کے رویہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اُن کا مذہب سچا ہے وہ لوگ اپنا مذہب ترک کر کے اِسلام میں داخل ہو گئے۔ ایک شخص عمرو بن سعدی نے جو اس قوم کے سرداروں میں سے تھا اپنی قوم کو ملامت کی اور کہا کہ تم نے غداری کی ہے کہ معاہدہ توڑا ہے۔ اب یا مسلمان ہو جاؤ یا جزیہ پر راضی ہو جاؤ۔ یہود نے کہا نہ مسلمان ہوں گے نہ جزیہ دیں گے کہ اس سے قتل ہونا اچھا ہے۔ پھر اُن سے اُس نے کہا میں تم سے بَری ہوں۔ اور یہ کہہ کر قلعہ سے نکل کر باہر چل دیا۔ جب وہ قلعہ سے باہر نکل رہا تھا تو مسلمانوں کے ایک دستہ نے جس کے سردار محمد بن مسلمہؓ تھے اُسے دیکھ لیا اور اُس سے پوچھا کہ وہ کون ہے؟ اُس نے بتایا کہ میں فلاں ہوں۔ اِس پر محمد بن مسلمہؓ نے فرمایا اَللّٰھُمَّ لَا تَحْرِمْنِیْ اِقَالَةَ عَثَرَاتِ الْکِرَامِ ۔ ۲۹۴ یعنی آپ سلامتی سے چلے جائیے اور پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی! مجھے شریفوں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے نیک عمل سے کبھی محروم نہ کیجیو۔ یعنی یہ شخص چونکہ اپنے فعل پر اور اپنی قوم کے فعل پر پچھتاتا ہے تو ہمارا بھی اخلاقی فرض ہے کہ اُسے معاف کر دیں اِس لئے میں نے اسے گرفتار نہیں کیا اور جانے دیا ہے۔ خدا تعالیٰ مجھے ہمیشہ ایسے ہی نیک کاموں کی توفیق بخشتا رہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے محمد بن مسلمہؓ کو سرزنش نہیں کی کہ کیوں اُس یہودی کو چھوڑ دیا بلکہ اُس کے فعل کو سراہا۔

بنو قریظہ کے اپنے مقرر کردہ حَکَم سعدؓ کا فیصلہ تورات کے مطابق تھا

یہ ا اوپر کے واقعات انفرادی تھے۔ بنو قریظہ بحیثیت قوم اپنی ضد پر قائم رہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حَکَم ماننے سے انکار کرتے ہوئے سعدؓ کے فیصلہ پر اصرار کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اُن کے اِس مطالبہ کو مان لیا۔ سعدؓ کو جو جنگ میں زخمی ہو چکے تھے اطلاع دی کہ تمہارا فیصلہ بنو قریظہ تسلیم کرتے ہیں آ کر فیصلہ کرو۔ اِس تجویز کا اعلان ہوتے ہی اوس قبیلہ کے لوگ جو بنو قریظہ کے دیر سے حلیف چلے آئے تھے وہ سعدؓ کے پاس دوڑ کر گئے اور اُنہوں نے اصرار کرنا شروع کیا کہ چونکہ خزرج نے اپنے حلیف یہودیوں کو ہمیشہ سزا سے بچایا ہے آج تم بھی اپنے حلیف قبیلہ کے حق میں فیصلہ دینا۔

سعدؓ زخموں کی وجہ سے سواری پر سوار ہو کر بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوئے اور ان کی قوم کے افراد اُن کے دائیں بائیں دوڑتے جاتے تھے اور سعدؓ سے اصرار کرتے جاتے تھے کہ دیکھنا بنو قریظہ کے خلاف فیصلہ نہ دینا۔ مگر سعدؓ نے صرف یہی جواب دیا کہ جس کے سپرد فیصلہ کیا جاتا ہے وہ امانتدار ہوتا ہے اُسے دیانت سے فیصلہ کرنا چاہئے میں دیانت سے فیصلہ کروں گا۔ جب سعدؓ یہود کے قلعہ کے پاس پہنچے جہاں ایک طرف بنو قریظہ قلعہ کی دیوار سے کھڑے سعدؓ کا انتظار کر رہے تھے اور دوسری طرف مسلمان بیٹھے تھے، تو سعدؓ نے پہلے اپنی قوم سے پوچھا کیا آپ لوگ وعدہ کرتے ہیں کہ جو میں فیصلہ کروں گا وہ آپ لوگ قبول کریں گے؟ انہوں نے کہاں ہاں۔ پھر سعدؓ نے بنو قریظہ کو مخاطب کر کے کہا کیا آپ لوگ وعدہ کرتے ہیں کہ جو فیصلہ میں کروں وہ آپ لوگ قبول کریں گے؟ اُنہوں نے کہا ہاں۔ پھر شرم سے دوسری طرف دیکھتے ہوئے نیچی نگاہوں سے اُس طرف اشارہ کیا جدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے اور کہا اِدھر بیٹھے ہوئے لوگ بھی یہ وعدہ کرتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ اس کے بعد سعدؓ نے بائبل کے حکم کے مطابق فیصلہ سنایا۔۲۹۵ بائبل میں لکھا ہے:

’’اور جب تو کسی شہر کے پاس اُس سے لڑنے کے لئے آ پہنچے تو پہلے اُس سے صلح کا پیغام کر۔ تب یوں ہوگا کہ اگر وہ تجھے جواب دے کہ صلح منظور اور دروازہ تیرے لئے کھول دے تو ساری خلق جو اُس شہر میں پائی جائے تیری خراج گزار ہوگی اور تیری خدمت کرے گی۔ اور اگر وہ تجھ سے صلح نہ کرے بلکہ تجھ سے جنگ کرے تو تو اس کا محاصرہ کر اور جب خداوند تیرا خدا اُسے تیرے قبضہ میں کر دے تو وہاں کے ہر ایک مرد کو تلوار کی دھار سے قتل کر۔ مگر عورتوں اور لڑکوں اور مواشی کو اور جو کچھ اُس شہر میں ہو اُس کا سارا لوٹ اپنے لئے لے ۔ اور تو اپنے دشمنوں کی اُس لوٹ کو جو خداوند تیرے خدا نے تجھے دی ہے کھائیو۔ اسی طرح سے تو اُن سب شہروں سے جو تجھ سے بہت دور ہیں اور ان قوموں کے شہروں میں سے نہیں ہیں یہی حال کیجیو۔ لیکن اِن قوموں کے شہروں میں جنہیں خُداوند تیرا خُدا تیری میراث کر دیتا ہے کسی چیز کو جو سانس لیتی ہے جیتا نہ چھوڑ یو۔ بلکہ تو اُن کو حرم کیجئیو۔ حتی اور اموری اور کنعانی اور فزری اور جوی اور یبوسی کو جیسا کہ خُداوند تیرے خُدا نے تجھے حکم کیا ہے تا کہ وہ اپنے سارے کریہہ کاموں کے مطابق جو اُنہوں نے اپنے معبودوں سے کئے تم کو عمل کرنا نہ سکھائیں اور کہ تم خُداوند اپنے خُدا کے گنہگار رہو جاؤ۔“۔۲۹۶

بائبل کے اِس فیصلہ سے ظاہر ہے کہ اگر یہودی جیت جاتے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہار جاتے تو بائبل کے اِس فیصلہ کے مطابق اوّل تو تمام مسلمان قتل کر دیئے جاتے۔ مرد بھی اور عورت بھی اور بچے بھی۔ اور جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودیوں کا یہی ارادہ تھا کہ مردوں، عورتوں اور بچوں سب کو یکدم قتل کر دیا جائے لیکن اگر وہ اُن سے بڑی سے بڑی رعایت کرتے تب بھی کتاب استثناء کے مذکورہ بالا فیصلہ کے مطابق وہ اُن سے دُور کے ملکوں والی قوموں کا سا سلوک کرتے اور تمام مردوں کو قتل کر دیتے اور عورتوں اور لڑکوں اور سامانوں کو لوٹ لیتے۔ سعدؓ نے جو بنو قریظہ کے حلیف تھے اور اُن کے دوستوں میں سے تھے جب دیکھا کہ یہود نے اسلامی شریعت کے مطابق جو یقیناً اُن کی جان کی حفاظت کرتی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کو تسلیم نہیں کیا تو انہوں نے وہی فیصلہ یہود کے متعلق کیا جو موسیٰ نے استثناء میں پہلے سے ایسے مواقع کے لئے چھوڑا تھا اور اس فیصلہ کی ذمہ داری محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یا مسلمانوں پر نہیں، بلکہ موسیٰ پر اور تورات پر اور اُن یہودیوں پر ہے جنہوں نے غیر قوموں کے ساتھ ہزاروں سال اس طرح معاملہ کیا تھا اور جن کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحم کے لئے بلایا گیا تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہا ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں، ہم سعدؓ کی بات مانیں گے۔ جب سعدؓ نے موسیٰ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ دیا تو آج عیسائی دنیا شور مچاتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم کیا۔ کیا عیسائی مصنف اِس بات کو نہیں دیکھتے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دوسرے موقع پر کیوں ظلم نہ کیا؟ سینکڑوں دفعہ دشمن نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحم پر اپنے آپ کو چھوڑا اور ہر دفعہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو معاف کر دیا۔ یہ ایک ہی موقع ہے کہ دشمن نے اصرار کیا کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کو نہیں مانیں گے بلکہ فلاں دوسرے شخص کے فیصلہ کو مانیں گے اور اُس شخص نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اقرار لے لیا کہ جو میں فیصلہ کروں گا اُسے آپ مانیں گے۔ اس کے بعد اُس نے فیصلہ کیا بلکہ اُس نے فیصلہ نہیں کیا اُس نے موسیٰؑ کا فیصلہ دُہرا دیا جس کی اُمت میں سے ہونے کے یہود مدعی تھے۔ پس اگر کسی نے ظلم کیا تو یہود نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا۔ اگر کسی نے ظلم کیا تو موسیٰؑ نے ظلم کیا جنہوں نے محصور دشمن کے متعلق تورات میں خدا سے حکم پا کر یہی تعلیم دی تھی۔ اگر یہ ظلم تھا تو ان عیسائی مصنفوں کو چاہئے کہ موسیٰؑ کو ظالم قرار دیں بلکہ موسیٰؑ کے خدا کو ظالم قرار دیں جس نے یہ تعلیم تورات میں دی ہے۔

احزاب کی جنگ کے خاتمہ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ آج سے مشرک ہم پر حملہ نہیں کریں گے اب اسلام خود جواب دے گا اور ان اقوام پر جنہوں نے ہم پر حملے کئے تھے اب ہم چڑھائی کریں گے۔۲۹؎چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ احزاب کی جنگ میں بھلا کفار کا نقصان ہی کیا ہوا تھا چند آدمی مارے گئے تھے وہ دوسرے سال پھر دوبارہ تیاری کر کے آ سکتے تھے۔ بیس ہزار کی جگہ وہ چالیس یا پچاس ہزار کا لشکر بھی لا سکتے تھے۔ بلکہ اگر وہ اور زیادہ انتظام کرتے تو لاکھ ڈیڑھ کا لشکر لانا بھی اُن کے لئے کوئی مشکل نہیں تھا۔ مگر اکیس سال کی متواتر کوشش کے بعد کفار کے دلوں کو محسوس ہو گیا تھا کہ خدا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔ اُن کے بت جھوٹے ہیں اور دنیا کا پیدا کرنے والا ایک ہی خدا ہے۔ اُن کے جسم صحیح سلامت تھے مگر اُن کے دل ٹوٹ چکے تھے۔ بظاہر وہ اپنے بتوں کے آگے سجدہ کرتے ہوئے نظر آتے تھے مگر اُن کے دلوں میں سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی آوازیں اُٹھ رہی تھیں۔

مسلمانوں کے غلبہ کا آغاز

اِس جنگ سے فارغ ہونے کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ آج سے کفارِ عرب ہم پر حملہ نہیں کریں گے، یعنی مسلمانوں کا ابتلاء اپنی آخری انتہاء کو پہنچ گیا ہے اور اب اُن کے غلبہ کا زمانہ شروع ہونے والا ہے۔ اِس وقت تک جتنی جنگیں ہوئی تھیں وہ ساری کی ساری ایسی تھیں کہ یا تو کفار مدینہ پر چڑھ کے آئے تھے یا اُن کے حملوں کی تیاریوں کے روکنے کے لئے مسلمان مدینہ سے باہر نکلے تھے لیکن کبھی بھی مسلمانوں نے خود جنگ کو جاری رکھنے کی کوشش نہیں کی ۔ حالانکہ جنگی قوانین کے لحاظ سے جب ایک لڑائی شروع ہو جاتی ہے تو اُس کا اختتام دو ہی طرح ہوتا ہے یا صلح ہو جاتی ہے یا ایک فریق ہتھیار ڈال دیتا ہے لیکن اِس وقت تک ایک بھی موقع ایسا نہیں آیا جبکہ صلح ہوئی ہو یا کسی فریق نے ہتھیار ڈالے ہوں۔ پس گو پرانے زمانہ کے دستور کے مطابق لڑائیوں میں وقفہ پڑ جاتا تھا لیکن جہاں تک جنگ کے جاری رہنے کا سوال تھا وہ متواتر جاری تھی اور ختم نہ ہوئی تھی اس لئے مسلمانوں کا حق تھا کہ وہ جب بھی چاہتے دشمن پر حملہ کر کے اُن کو مجبور کرتے کہ وہ ہتھیار ڈالیں ۔ لیکن مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ جب وقفہ پڑتا تھا تو مسلمان بھی خاموش ہو جاتے تھے۔ شاید اس لئے کہ ممکن ہے کفار درمیان میں صلح کی طرح ڈالیں اور لڑائی بند ہو جائے ۔ لیکن جب ایک لمبے عرصہ تک کفار کی طرف سے صلح کی تحریک نہ ہوئی اور نہ انہوں نے مسلمانوں کے سامنے ہتھیار ڈالے بلکہ اپنی مخالفت اور جوش میں بڑھتے ہی چلے گئے تو اب وقت آگیا کہ لڑائی کا دو ٹوک فیصلہ کیا جائے یا تو فریقین میں صلح ہو جائے یا دونوں میں سے ایک فریق ہتھیار ڈال دے تا کہ ملک میں امن قائم ہو جائے ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کی جنگ کے بعد فیصلہ کر لیا کہ اب ہم دونوں فیصلوں میں سے ایک فیصلہ کر کے چھوڑیں گے یا تو ہماری اور کفار کی صلح ہو جائے گی یا ہم میں سے کوئی فریق ہتھیار ڈال دے گا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ہتھیار ڈال دینے کی صورت میں کفار ہی ہتھیار ڈال سکتے تھے کیونکہ اسلام کے غلبہ کے متعلق تو خدا تعالیٰ کی طرف سے خبر مل چکی تھی اور مکی زندگی میں ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کے غلبہ کا اعلان کر چکے تھے۔ باقی رہی صلح تو صلح کے بارے میں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ صلح کی تحریک یا غالب کی طرف سے ہوا کرتی ہے یا مغلوب کی طرف سے۔ مغلوب فریق جب صلح کی درخواست کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ ملک کا کچھ حصہ یا اپنی آمدن کا کچھ حصہ مستقل طور پر یا عارضی طور پر غالب فریق کو دیا کرے گا یا بعض اور صورتوں میں اس کی لگائی ہوئی قیو د تسلیم کرے گا۔ اور غالب فریق کی طرف سے جب صلح کی تجویز پیش ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم تمہیں بالکل کچلنا نہیں چاہتے۔ اگر تم بعض صورتوں میں ہماری اطاعت یا ہماری ماتحتی قبول کر لو تو ہم تمہاری آزادانہ حیثیت یا نیم آزادانہ حیثیت کو قائم رہنے دیں گے۔ کفارِ مکہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مقابلہ تھا اس میں بار بار کفار کو شکست ہوئی تھی لیکن اس شکست کے محض اتنے معنی تھے کہ اُن کے حملے ناکام رہے تھے۔ حقیقی شکست وہ کہلاتی ہے جبکہ دفاع کی طاقت ٹوٹ جائے۔ حملہ ناکام ہونے کے معنی حقیقی شکست کے نہیں سمجھے جاتے۔ اس کے معنی صرف اتنے ہوتے ہیں کہ گو حملہ آور قوم کا حملہ ناکام رہا مگر پھر دوبارہ حملہ کر کے وہ اپنے مقصد کو پورا کر لے گی۔ پس جنگی قانون کے لحاظ سے مکہ والے مغلوب نہیں ہوئے تھے بلکہ اُن کی پوزیشن صرف یہ تھی کہ اب تک اُن کی جارحانہ کارروائیاں اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر سکی تھیں۔ اس کے مقابلہ میں مسلمان جنگی لحاظ سے گو اُن کا دفاع نہیں ٹوٹا تھا مغلوب کہلانے کے مستحق تھے اس لئے کہ:

اوّل تو وہ بہت چھوٹی اقلیت میں تھے۔ دوم اُنہوں نے اس وقت تک کوئی جارحانہ کارروائی نہیں کی تھی، یعنی کسی حملہ میں خود ابتداء نہیں کی تھی جس سے یہ سمجھا جائے کہ اب وہ اپنے آپ کو کفار کے اثر سے آزاد سمجھتے ہیں۔ ان حالات میں مسلمانوں کی طرف سے صلح کی پیشکش کے صرف یہ معنی ہو سکتے تھے کہ وہ اب دفاع سے تنگ آگئے ہیں اور کچھ دے دلا کر اپنا پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں۔ ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ان حالات میں اگر مسلمان صلح کی پیشکش کرتے تو اِس کا نتیجہ نہایت ہی خطرناک ہوتا اور یہ امر اُن کی ہستی کے مٹا دینے کے مترادف ہوتا۔ اپنی جارحانہ کارروائیوں میں ناکامی کی وجہ سے کفارِ عرب میں جو بے دلی پیدا ہو گئی تھی اس صلح کی پیشکش سے وہ فوراً ہی نئی اُمنگوں اور نئی آرزوؤں میں بدل جاتی اور یہ سمجھا جاتا کہ مسلمان باوجود مدینہ کو تباہی سے بچا لینے کے آخری کامیابی سے مایوس ہو چکے تھے۔ پس صلح کی تحریک مسلمانوں کی طرف سے کسی صورت میں بھی نہیں کی جا سکتی تھی۔ اگر کوئی صلح کی تحریک کر سکتا تھا تو یا مکہ والے کر سکتے تھے یا کوئی تیسری ثالث قوم کر سکتی تھی۔ مگر عرب میں کوئی ثالث قوم باقی نہیں رہی تھی۔ ایک طرف مدینہ تھا اور ایک طرف سارا عرب تھا۔ پس عملی طور پر کفار ہی تھے جو اس تجویز کو پیش کر سکتے تھے۔ مگر اُن کی طرف سے صلح کی کوئی تحریک نہیں ہو رہی تھی۔ یہ حالات اگر سو سال تک بھی جاری رہتے تو قوانینِ جنگ کے ماتحت عرب کی خانہ جنگی جاری رہتی۔ پس جبکہ مکہ کے لوگوں کی طرف صلح کی تجویز پیش نہیں ہوئی تھی اور مدینہ کے کفار عرب کی ماتحتی ماننے کے لئے کسی صورت میں تیار نہ تھے تو اب ایک ہی راستہ کھلا رہ جاتا تھا کہ جب مدینہ نے عرب کے متحدہ حملہ کو بیکار کر دیا تو خود مدینہ کے لوگ باہر نکلیں اور کفارِ عرب کو مجبور کر دیں کہ یا وہ اُن کی ماتحتی قبول کر لیں یا اُن سے صلح کر لیں۔ اور اِسی راستہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا۔ پس گو یہ راستہ بظاہر جنگ کا نظر آتا ہے لیکن درحقیقت صلح کے قیام کے لئے اس کے سوا کوئی راستہ کھلا نہ تھا۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کرتے تو ممکن ہے جنگ سَو سال تک لمبی چلی جاتی جیسا کہ ایسے ہی حالات میں پرانے زمانہ میں جنگیں سَو سَو سال تک جاری رہی ہیں۔ خود عرب کی کئی جنگیں تیس تیس ، چالیس چالیس سال تک جاری رہی ہیں۔ اِن جنگوں کی طوالت کی یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ جنگ کے ختم کرنے کے لئے کوئی ذریعہ اختیار نہیں کیا جاتا تھا اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں جنگ کے ختم کرنے کے دو ہی ذرائع ہوا کرتے ہیں یا ایسی جنگ لڑی جائے جو دو ٹوک فیصلہ کر دے اور دونوں فریق میں سے کسی ایک کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دے اور یا باہمی صلح ہو جائے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیشک ایسا کر سکتے تھے کہ مدینہ میں بیٹھے رہتے اور خود حملہ نہ کرتے۔ لیکن چونکہ کفارِ عرب جنگ کی طرح ڈال چکے تھے آپ کے خاموش بیٹھنے کے یہ معنی نہ ہوتے کہ جنگ ختم ہو گئی ہے بلکہ اس کے صرف یہ معنی ہوتے کہ جنگ کا دروازہ ہمیشہ کیلئے کھلا رکھا گیا ہے۔ کفارِ عرب جب چاہتے بغیر کسی اور محرک کے پیدا ہونے کے مدینہ پر حملہ کر دیتے اور اُس وقت تک کے دستور کے مطابق وہ حق پر سمجھے جاتے کیونکہ جنگ میں وقفہ پڑ جانا اُس زمانہ میں جنگ کے ختم ہو جانے کے مترادف نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ وقفہ بھی جنگ ہی میں شمار کیا جاتا تھا۔

بعض لوگوں کے دلوں میں اِس موقع پر یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ کیا ایک سچے مذہب کے لئے لڑائی کرنا جائز ہے؟

یہودیت اور عیسائیت کی تعلیم دربارہ جنگ

میں اِس جگہ اس سوال کا جواب بھی دے دینا ضروری سمجھتا ہوں جہاں تک مذاہب کا سوال ہے لڑائی کے بارہ میں مختلف تعلیمیں ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم لڑائی کے بارہ میں اُوپر درج کر آیا ہوں۔ تورات کہتی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ وہ بزورِ کنعان میں گھس جائیں اور اُس جگہ کی قوموں کو شکست دے کر اس علاقہ میں اپنی قوم آباد کریں۲۹۸مگر باوجود اس کے کہ موسیٰ نے یہ تعلیم دی اور باوجود اس کے کہ یوشع، داؤد اور دوسرے انبیاء نے اِس تعلیم پر متواتر عمل کیا یہودی اور عیسائی اُن کو خدا کا نبی اور تورات کو خدا کی کتاب سمجھتے ہیں۔ موسوی سلسلہ کے آخر میں حضرت مسیحؑ ظاہر ہوئے اُن کی جنگ کے متعلق تعلیم ہے کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے۲۹۹اس سے استنباط کرتے ہوئے عیسائی قوم یہ دعویٰ کرتی ہے کہ مسیح نے لڑائی سے قوموں کو منع کیا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انجیل میں اس تعلیم کے خلاف اور تعلیمیں بھی آئی ہیں۔ مثلاً انجیل میں لکھا ہے:۔

’’یہ مت سمجھو کہ میں زمین پر صلح کروانے آیا ہوں، صلح کروانے نہیں بلکہ تلوار چلانے آیا ہوں‘‘۔۳۰۰

اسی طرح لکھا ہے:۔ ’’اُس نے اُنہیں کہا پر اب جس کے پاس بٹوا ہو لیوے اور اسی طرح جھولی بھی۔ اور جس کے پاس تلوار نہیں اپنے کپڑے بیچ کر تلوار خریدے‘‘۔۳۰۱

یہ آخری دو تعلیمیں پہلی تعلیم کے بالکل متضاد ہیں۔ اگر مسیح جنگ کرانے کے لئے آیا تھا تو پھر ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا گال پھیر دینے کے کیا معنی تھے؟ پس یا تو یہ دونوں قسم کی تعلیمیں متضاد ہیں یا ان دونوں تعلیموں میں سے کسی ایک کو اس کے ظاہر سے پھرا کر اس کی کوئی تاویل کرنی پڑے گی۔ میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا گال پھیر دینے کی تعلیم قابل عمل ہے یا نہیں۔ میں اس جگہ پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اوّل عیسائی دنیا نے اپنی ساری تاریخ میں جنگ سے دریغ نہیں کیا۔ جب عیسائیت شروع شروع میں روما میں غالب تھی تب بھی اُس نے غیر قوموں سے جنگیں کیں۔ دفاعی ہی نہیں بلکہ جارحانہ بھی۔ اور اب جبکہ عیسائیت دنیا میں غالب آگئی ہے اب بھی وہ جنگیں کرتی ہے۔ دفاعی ہی نہیں بلکہ جارحانہ بھی۔ صرف فرق یہ ہے کہ جنگ کرنے والوں میں سے جو فریق جیت جاتا ہے اُس کے متعلق کہہ دیا جاتا تھا کہ وہ کرسچن سویلزیشن کا پابند تھا۔ کرسچن سویلزیشن اس زمانہ میں صرف غالب اور فاتح کے طریق کا نام ہے اور اس لفظ کے حقیقی معنی اب کوئی بھی باقی نہیں رہے۔ جب دو قومیں آپس میں لڑتی ہیں تو ہر قوم اِس بات کی مدعی ہوتی ہے کہ وہ کرسچن سویلزیشن کی تائید کر رہی ہے اور جب کوئی قوم جیت جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس جیتی ہوئی قوم کا طریق کار ہی کرسچن سویلزیشن ہے۔ مگر بہرحال مسیحؑ کے زمانہ سے آج تک عیسائی دنیا جنگ کرتی چلی آرہی ہے اور قرائن بتاتے ہیں کہ جنگ کرتی چلی جائے گی۔ پس جہاں تک مسیحی دنیا کے فیصلہ کا تعلق ہے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ”تم اپنے کپڑے بیچ کر تلوار خریدو“۔ ”اور میں صلح کرانے کے لئے نہیں بلکہ تلوار چلانے کے لئے آیا ہوں“۔ یہ اصل قانون ہے اور ”تو ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا بھی پھیر دے“۔ یہ قانون یا تو ابتدائی عیسائی دنیا کی کمزوری کے وقت مصلحتاً اختیار کیا گیا تھا یا پھر عیسائی افراد کے باہمی تعلقات کی حد تک یہ قانون محدود ہے۔ حکومتوں اور قوموں پر یہ قانون چسپاں نہیں ہوتا۔ دوسرے اگر یہ بھی سمجھ لیا جائے کہ مسیحؑ کی اصل تعلیم جنگ کی نہیں تھی بلکہ صلح ہی کی تھی تب بھی اس تعلیم سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ جو شخص اس تعلیم کے خلاف عمل کرتا ہے وہ خدا کا برگزیدہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ عیسائی دنیا آج تک موسیٰ اور یوشعؑ اور داؤدؑ کو خدا کا برگزیدہ قرار دیتی ہے بلکہ خود عیسائیت کے زمانہ کے بعض قومی ہیرو جنہوں نے اپنی قوم کے لئے جان کو خطرہ میں ڈال کر دشمنوں سے جنگیں کی ہیں مختلف زمانہ کے پوپوں کے فتویٰ کے مطابق آج سینٹ کہلاتے ہیں۔

جنگ کے متعلق اسلام کی تعلیم

اسلام ان دونوں قسم کی تعلیموں کے درمیان درمیان تعلیم دیتا ہے یعنی نہ تو وہ موسیٰ کی طرح کہتا ہے کہ تو جارحانہ طور پر کسی ملک میں گھس جا اور اُس قوم کو تہہ تیغ کر دے اور نہ وہ اِس زمانہ کی بگڑی ہوئی مسیحیت کی طرح بانگِ بلند یہ کہتا ہے ”اگر کوئی تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تو اپنا دوسرا گال بھی اُس کی طرف پھیر دے“۔ مگر اپنے ساتھیوں کے کان میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ تم اپنے کپڑے بیچ کر بھی تلواریں خرید لو۔ بلکہ اسلام وہ تعلیم پیش کرتا ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے اور جو امن اور صلح کے قیام کے لئے ایک ہی ذریعہ ہو سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ تو کسی چیز پر حملہ نہ کر لیکن اگر کوئی شخص تجھ پر حملہ کرے اور اس کا مقابلہ نہ کرنا فتنہ کے بڑھانے کا موجب نظر آئے اور راستی اور امن اُس سے مٹتا ہو تب تو اُس کے حملہ کا جواب دے۔ یہی وہ تعلیم ہے جس سے دنیا میں امن اور صلح قائم ہو سکتی ہے۔ اِس تعلیم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا۔ آپ مکہ میں برابر تکلیفیں اُٹھاتے رہے، لیکن آپ نے لڑائی کی طرح نہ ڈالی۔ مگر جب مدینہ میں آپ ہجرت کر کے تشریف لے گئے اور دشمن نے وہاں بھی آپ کا پیچھا کیا تب خدا تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ چونکہ دشمن جارحانہ کارروائی کر رہا ہے اور اسلام کو مٹانا چاہتا ہے اس لئے راستی اور صداقت کے قیام کے لئے آپ اس کا مقابلہ کریں۔ قرآن کریم میں جو متفرق احکام اس بارہ میں آئے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:

(۱) اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُ ۣالَّذِیۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ بِغَیۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ؕ وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لَّہُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذۡکَرُ فِیۡہَا اسۡمُ اللّٰہِ کَثِیۡرًا ؕ وَلَیَنۡصُرَنَّ اللّٰہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ اَلَّذِیۡنَ اِنۡ مَّکَّنّٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَنَہَوۡا عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الۡاُمُوۡرِ(22:40-42) یعنی اس لئے کہ ان (مسلمانوں) پر ظلم کیا گیا اور ان مسلمانوں کو جن سے دشمن نے لڑائی جاری کر رکھی ہے، آج جنگ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے اور اللہ یقیناً اُن کی مدد پر قادر ہے۔ ہاں ان مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دی جاتی ہے جن کو اُن کے گھروں سے بغیر کسی جرم کے نکال دیا گیا۔ اُن کا صرف اتنا ہی جرم تھا (اگر یہ کوئی جرم ہے) کہ وہ یہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا ربّ ہے اور اگر اللہ تعالیٰ بعض ظالم لوگوں کو دوسرے عادل لوگوں کے ذریعہ سے ظلم روکتا نہ رہے تو گرجے اور مناسٹریاں۳۰۴اور عبادت گاہیں اور مسجدیں جن میں خدا تعالیٰ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے ظالموں کے ہاتھ سے تباہ ہو جائیں (پس دنیا میں مذہب کی آزادی قائم رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ مظلوموں کو اور ایسی قوموں کو جن کے خلاف دشمن پہلے جنگ کا اعلان کر دیتا ہے جنگ کی اجازت دیتا ہے) اور یقیناً اللہ تعالیٰ اُن کی مدد کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ یقیناً بڑی طاقت والا اور غالب ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اگر دنیا میں طاقت پکڑ جائیں تو خدا تعالیٰ کی عبادتوں کو قائم کریں گے اور غریبوں کی خبر گیری کریں گے اور نیک اور اعلیٰ اخلاق کی دنیا کو تعلیم دیں گے اور بُری باتوں سے دنیا کو روکیں گے اور ہر جھگڑے کا انجام وہی ہوتا ہے جو خدا چاہتا ہے۔

اِن آیات میں جو مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دینے کے لئے نازل ہوئی ہیں بتایا گیا ہے کہ جنگ کی اجازت اسلامی تعلیم کی رو سے اُسی صورت میں ہوتی ہے، جب کوئی قوم دیر تک کسی قوم کے ظلموں کا تختۂ مشق بنی رہے اور ظالم قوم اس کے خلاف بلا وجہ جنگ کا اعلان کر دے اور اس کے دین میں دخل اندازی کرے اور ایسی مظلوم قوم کا فرض ہوتا ہے کہ جب اُسے طاقت ملے تو وہ مذہبی آزادی دے اور اس بات کو ہمیشہ مدنظر رکھے کہ خدا تعالیٰ اُس کو غلبہ بخشے تو وہ تمام مذاہب کی حفاظت کرے اور اُن کی مقدس جگہوں کے ادب اور احترام کا خیال رکھے اور اس غلبہ کو اپنی طاقت اور شوکت کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ غریبوں کی خبر گیری، ملک کی حالت کی درستی اور فساد اور شرارت کے مٹانے میں اپنی قوتیں صرف کرے۔ یہ کیسی مختصر اور جامع تعلیم ہے۔ اس میں یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو جنگ کرنے کی اجازت کیوں دی گئی ہے اور اگر اب وہ جنگ کریں گے تو وہ مجبوری کی وجہ سے ہو گی ورنہ جارحانہ جنگ اسلام میں منع ہے اور پھر کس طرح شروع میں بھی یہ کہہ دیا گیا تھا کہ مسلمانوں کو غلبہ ضرور ملے گا۔ مگر انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اُن کو اپنے غلبہ کے ایام میں بجائے حکومت سے اپنی جیبیں بھرنے کے اور اپنی حالت سدھارنے کے غرباء کی خبرگیری اور امن کے قیام اور فساد کے دور کرنے اور قوم اور ملک کو ترقی دینے کی کوشش کرنے کو اپنا مقصد بنانا چاہئے۔

(۲) پھر فرماتا ہے وَقَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ وَاقۡتُلُوۡہُمۡ حَیۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡہُمۡ وَاَخۡرِجُوۡہُمۡ مِّنۡ حَیۡثُ اَخۡرَجُوۡکُمۡ وَالۡفِتۡنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الۡقَتۡلِ ۚ وَلَا تُقٰتِلُوۡہُمۡ عِنۡدَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوۡکُمۡ فِیۡہِ ۚ فَاِنۡ قٰتَلُوۡکُمۡ فَاقۡتُلُوۡہُمۡ ؕ کَذٰلِکَ جَزَآءُ الۡکٰفِرِیۡنَ فَاِنِ انۡتَہَوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ وَقٰتِلُوۡہُمۡ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ وَّیَکُوۡنَ الدِّیۡنُ لِلّٰہِ ؕ فَاِنِ انۡتَہَوۡا فَلَا عُدۡوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ(2:191-194) یعنی اُن لوگوں سے جو تم سے جنگ کر رہے ہیں تم بھی محض اللہ کی خاطر جس میں تمہارے اپنے نفس کا غصہ اور نفس کی ملونی شامل نہ ہو جنگ کرو اور یاد رکھو کہ جنگ میں بھی کوئی ظالمانہ فعل اختیار مت کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو بہر حال پسند نہیں کرتا۔ اور جہاں کہیں بھی تمہاری اور اُن کی جنگ کے ذریعہ سے مٹھ بھیڑ ہو جائے وہاں تم اُن سے جنگ کرو اور یونہی اکا دُکا ملنے والے پر حملہ مت کرو۔ اور چونکہ انہوں نے تمہیں لڑائی کے لئے نکلنے پر مجبور کیا ہے تم بھی اُنہیں اُن کے جواب میں لڑائی کا چیلنج دو اور یاد رکھو کہ قتل اور لڑائی کی نسبت دین کی وجہ سے کسی کو دُکھ میں ڈالنا زیادہ خطرناک گناہ ہے۔ پس تم ایسا طریق نہ اختیار کرو کیونکہ یہ بے دین لوگوں کا کام ہے۔ اور چاہئے کہ تم مسجد حرام کے پاس اُن سے اُس وقت تک جنگ نہ کرو جب تک وہ جنگ کی ابتدا نہ کریں کیونکہ اس سے حج اور عمرہ کے راستہ میں روک پیدا ہوتی ہے۔ ہاں اگر وہ خود ایسی جنگ کی ابتدا کریں تو پھر تم مجبور ہو اور تمہیں جواب دینے کی اجازت ہے۔ جو لوگ عقل اور انصاف کے احکام کو ردّ کر دیتے ہیں اُن کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر اُنہیں ہوش آ جائے اور وہ اس بات سے رُک جائیں تو اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا مہربان ہے۔ اس لئے تم کو بھی چاہئے کہ ایسی صورت میں اپنے ہاتھوں کو روک لو اور اس خیال سے کہ یہ حملہ میں ابتدا کر چکے ہیں جوابی حملہ نہ کرو۔ اور چونکہ وہ لڑائی شروع کر چکے ہیں تم بھی اُس وقت تک لڑائی کو جاری رکھو جب تک کہ دین میں دخل اندازی کرنے کے طریق کو وہ نہ چھوڑیں اور وہ تسلیم نہ کر لیں کہ دین کا معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور اس میں جبر کرنا کسی انسان کے لئے جائز نہیں۔ اگر وہ یہ طریق اختیار کر لیں اور دین میں دخل اندازی سے باز آجائیں تو فوراً لڑائی بند کر دو کیونکہ سزا صرف ظالموں کو دی جاتی ہے۔ اور اگر وہ اس قسم کے ظلم سے باز آجائیں تو پھر اُن سے لڑائی کرنا جائز نہیں ہو سکتا۔

اِن آیات میں بتایا گیا ہے کہ:۔

اوّل: لڑائی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہونی چاہئے یعنی ذاتی لالچوں، ذاتی حرصوں، ملک کے فتح کرنے کی نیت یا اپنے رسوخ کو بڑھانے کی نیت سے لڑائی نہیں ہونی چاہئے۔

دوم: لڑائی صرف اُسی سے جائز ہے جو پہلے حملہ کرتا ہے۔

سوم: انہی سے تم کو جنگ کرنی جائز ہے جو تم سے لڑتے ہیں یعنی جو لوگ باقاعدہ سپاہی نہیں اور لڑائی میں عملاً حصہ نہیں لیتے اُن کو مارنا یا اُن سے لڑائی کرنا جائز نہیں۔

چہارم: با وجود دشمن کے حملہ میں ابتدا کرنے کے لڑائی کو اُس حد تک محدود رکھنا چاہئے جس حد تک دشمن نے محدود رکھا ہے اور اُسے وسیع کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے نہ علاقہ کے لحاظ سے اور نہ ذرائع جنگ کے لحاظ سے۔

پنجم: جنگ صرف جنگی فوج کے ساتھ ہونی چاہئے یہ نہیں کہ دشمن قوم کے اِکے دُکے افراد کے ساتھ مقابلہ کیا جائے۔

ششم: جنگ میں اس امر کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ مذہبی عبادتوں اور مذہبی فرائض کی ادائیگی میں روکیں پیدا نہ ہوں۔ اگر دشمن کسی ایسی جگہ پر جنگ کی طرح نہ ڈالے جہاں جنگ کرنے سے اُس کی مذہبی عبادتوں میں رخنہ ہوتا ہو تو مسلمانوں کو بھی اُس جگہ جنگ نہیں کرنی چاہئے۔

ہفتم: اگر دشمن خود مذہبی عبادت گاہوں کو لڑائی کا ذریعہ بنائے تو پھر مجبوری ہے ورنہ تم کو ایسا نہ کرنا چاہئے۔ اس آیت میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ عبادت گاہوں کے اردگرد بھی لڑائی نہیں ہونی چاہئے کجا یہ کہ عبادت گاہوں پر حملہ کیا جائے یا وہ مسمار کی جائیں یا توڑی جائیں۔ ہاں اگر دشمن خود عبادت گاہوں کو لڑائی کا قلعہ بنا لے تو پھر اُن کے نقصان کی ذمہ داری اُس پر ہے اِس نقصان کی ذمہ داری مسلمانوں پر نہیں۔

ہشتم:

اگر دشمن مذہبی مقاموں میں لڑائی شروع کرنے کے بعد اُس کے خطرناک نتائج کو سمجھ جائے اور مذہبی مقام سے نکل کر دوسری جگہ کو میدانِ جنگ بنا لے تو مسلمانوں کو اس بہانہ سے اُن کے مذہبی مقاموں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہئے کہ اس جگہ پر پہلے اُن کے دشمنوں نے لڑائی شروع کی تھی بلکہ فوراً اُن مقامات کے ادب اور احترام کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے حملہ کا رُخ بھی بدل دینا چاہئے۔

نہم:

لڑائی اُس وقت تک جاری رکھنی چاہئے جب تک کہ مذہبی دست اندازی ختم ہو جائے اور دین کے معاملہ کو صرف ضمیر کا معاملہ قرار دیا جائے۔ سیاسی معاملوں کی طرح اس میں دخل اندازی نہ کی جائے۔ اگر دشمن اس بات کا اعلان کر دے اور اس پر عمل کرنا شروع کر دے تو خواہ وہ حملہ میں ابتدا کر چکا ہو اُس کے ساتھ لڑائی نہیں کرنی چاہئے۔

(۳) فرماتا ہے قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ یَّنۡتَہُوۡا یُغۡفَرۡ لَہُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَ ۚ وَاِنۡ یَّعُوۡدُوۡا فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ الۡاَوَّلِیۡنَ وَقَاتِلُوۡہُمۡ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ وَّیَکُوۡنَ الدِّیۡنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ۚ فَاِنِ انۡتَہَوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ وَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَوۡلٰٮکُمۡ ؕ نِعۡمَ الۡمَوۡلٰی وَنِعۡمَ النَّصِیۡرُ(۳۹:۵) یعنی اے محمد رسول اللہ! دشمن نے جنگیں شروع کیں اور تمہیں خدا تعالیٰ کے حکم سے اُن کا جواب دینا پڑا۔ مگر تو اُن میں اعلان کر دے کہ اگر اب بھی وہ لڑائی سے باز آ جائیں تو جو کچھ وہ پہلے کر چکے ہیں انہیں معاف کر دیا جائے۔ لیکن اگر وہ لڑائی سے باز نہ آئیں اور بار بار حملے کریں تو پہلے انبیاء کے دشمنوں کے انجام اُن کے سامنے ہیں انجام ان کا بھی وہی ہوگا۔ اور اے مسلمانو! تم اُس وقت جنگ کو جاری رکھو کہ مذہب کی خاطر دُکھ دینا مٹ جائے اور دین کو کلّی طور پر خدا تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے اور دین کے معاملہ میں دخل اندازی کرنا لوگ چھوڑ دیں۔ پھر اگر یہ لوگ ان باتوں سے باز آ جائیں تو محض اِس وجہ سے اُن سے جنگ نہ کرو کہ وہ ایک غلط دین کے پیرو ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے عمل کو جانتا ہے وہ خود جیسا چاہے گا ان سے معاملہ کرے گا تمہیں اُن کے غلط دین کی وجہ سے ان کے کاموں میں دخل دینے کی اجازت نہیں ہوسکتی۔ اگر ہمارے اس صلح کے اعلان کے بعد بھی جو لوگ جنگ سے باز نہ آئیں اور لڑائی جاری رکھیں تو خوب سمجھ لو کہ باوجود اس کے کہ تم تھوڑے ہو تم ہی جیتو گے کیونکہ اللہ تمہارا ساتھی ہے اور خدا تعالیٰ سے بہتر ساتھی اور بہتر مددگار اور کون ہوسکتا ہے۔

یہ آیات قرآن مجید میں جنگِ بدر کے ذکر کے بعد آئی ہیں جو کفارِ عرب اور مسلمانوں کے درمیان سب سے پہلی باقاعدہ جنگ تھی۔ باوجود اس کے کہ کفارِ عرب نے بلاوجہ مسلمانوں پر حملہ کیا اور مدینہ کے اردگرد فساد مچایا اور باوجود اس کے کہ مسلمان کامیاب ہوئے اور دُشمن کے بڑے بڑے سردار مارے گئے قرآن کریم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہی اعلان کروایا ہے کہ اگر اب بھی تم لوگ باز آجاؤ تو ہم لڑائی کو جاری نہیں رکھیں گے۔ ہم تو صرف اتنا چاہتے ہیں کہ جبراً مذہب نہ بدلوائے جائیں اور دین کے معاملہ میں دخل نہ دیا جائے۔

(۴) فرماتا ہے وَاِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلۡمِ فَاجۡنَحۡ لَہَا وَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ وَاِنۡ یُّرِیۡدُوۡۤا اَنۡ یَّخۡدَعُوۡکَ فَاِنَّ حَسۡبَکَ اللّٰہُ ؕ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَیَّدَکَ بِنَصۡرِہٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ(۳۰۶) یعنی اگر کسی وقت بھی کفار صلح کی طرف جھکیں تو تُو فوراً ان کی بات مان لیجیو اور صلح کر لیجیو اور یہ وہم مت کیجیو کہ شاید وہ دھوکا کر رہے ہوں بلکہ اللہ تعالیٰ پر توکل رکھیو۔ خدا تعالیٰ دعاؤں کو سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ اور اگر تیرا یہ خیال صحیح ہو کہ وہ دھوکا کرنا چاہتے ہیں اور وہ واقعہ میں تجھے دھوکا دینے کا ارادہ بھی رکھتے ہوں تو بھی یاد رکھ کہ ان کے دھوکا دینے سے بنتا کیا ہے۔ تجھے تو صرف اللہ کی مدد سے ہی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔ اُس کی مدد تیرے لئے کافی ہے۔ گزشتہ زمانہ میں وہی اپنی براہِ راست مدد کے ذریعہ اور مومنوں کی مدد کے ذریعہ تیرا ساتھ دیتا رہا ہے۔

اِس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جب دشمن صلح کرنے پر آمادہ ہو تو مسلمانوں کو بہر حال اس سے صلح کر لینی چاہئے۔ اگر صلح کے اُصول کو وہ ظاہر میں تسلیم کرتا ہو تو صرف اِس بہانہ سے صلح کو ردّ نہیں کرنا چاہئے کہ شاید دشمن کی نیت بد ہو اور بعد میں طاقت پکڑ کے دوبارہ حملہ کرنا چاہتا ہو۔

اِن آیتوں میں درحقیقت صلح حدیبیہ کی پیشگوئی کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب دشمن صلح کرنا چاہے گا اُس وقت تم اِس عذر سے کہ دشمن نے زیادتی کی ہے یا یہ کہ وہ بعد میں اس معاہدہ کو توڑ دینا چاہتا ہے صلح سے انکار نہ کرنا کیونکہ نیکی کا تقاضا بھی یہی ہے اور تمہارا فائدہ بھی اس میں ہے کہ تم صلح کی پیشکش کو تسلیم کرلو۔

(۵) فرماتا ہے یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوۡا وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ اَلۡقٰۤی اِلَیۡکُمُ السَّلٰمَ لَسۡتَ مُؤۡمِنًا ۚ تَبۡتَغُوۡنَ عَرَضَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۫ فَعِنۡدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیۡرَۃٌ ؕ کَذٰلِکَ کُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡکُمۡ فَتَبَیَّنُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرًا(النساء: ۹۵) یعنی اے مومنو! جب تم خدا کی خاطر لڑائی کے لئے باہر نکلو تو اِس بات کی اچھی طرح تحقیقات کر لیا کرو کہ تمہارے دشمن پر حجت تمام ہو چکی ہے اور وہ بہرحال لڑائی پر آمادہ ہے اور اگر کوئی شخص یا جماعت تمہیں کہے کہ میں تو صلح کرتا ہوں تو یہ مت کہو کہ تو دھوکا دیتا ہے اور ہمیں اُمید نہیں کہ ہم تجھ سے امن میں رہیں گے۔ اگر تم ایسا کرو گے تو پھر تم خدا کی راہ میں لڑنے والے نہیں ہو گے بلکہ تم دنیا طلب قرار پاؤ گے۔ پس ایسا مت کرو کیونکہ جس طرح خدا کے پاس دین ہے اسی طرح خدا کے پاس دنیا کا بھی بہت سا سامان ہے۔ تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ کسی شخص کا مار دینا اصل مقصود نہیں۔ تمہیں کیا معلوم ہے کہ کل کو وہ ہدایت پا جائے ۔ تم بھی تو پہلے دین اسلام سے باہر تھے پھر اللہ تعالیٰ نے احسان کر کے تمہیں اِس دین کے اختیار کرنے کی توفیق دی۔ پس مارنے میں جلدی مت کیا کرو بلکہ حقیقتِ حال کی تحقیق کیا کرو۔ یاد رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔

اِس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جب لڑائی شروع ہو جائے تب بھی اس بات کی اچھی طرح تحقیق کرنی چاہئے کہ دشمن کا ارادہ جارحانہ لڑائی کا ہے؟ کیونکہ ممکن ہے کہ دشمن جارحانہ لڑائی کا ارادہ نہ کرتا ہو بلکہ وہ خود کسی خوف کے ماتحت فوجی تیاری کر رہا ہو۔ پس پہلے اچھی طرح تحقیقات کر لیا کرو کہ دشمن کا ارادہ جارحانہ جنگ کا تھا تب اُس کے سامنے مقابلہ کے لئے آؤ۔ اور اگر وہ یہ کہے کہ میرا ارادہ تو جنگ کرنے کا نہیں تھا میں تو صرف خوف کی وجہ سے تیاری کر رہا تھا تو تمہیں یہ نہیں کہنا چاہئے کہ نہیں تمہاری جنگی تیاری بتاتی ہے کہ تم ہم پر حملہ کرنا چاہتے تھے ہم کس طرح سمجھیں کہ ہم تم سے مأمون اور محفوظ ہیں بلکہ اُس کی بات کو قبول کر لو اور یہ سمجھو کہ اگر پہلے اُس کا ارادہ بھی تھا تو ممکن ہے بعد میں اس میں تبدیلی پیدا ہو گئی ہو۔ تم خود اس بات کے زندہ گواہ ہو کہ دلوں میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے تم پہلے اسلام کے دشمن تھے مگر اب تم اسلام کے سپاہی ہو۔

(۶) پھر دشمنوں سے عہد کے متعلق فرماتا ہے اِلَّا الَّذِیۡنَ عٰہَدۡتُّمۡ مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ثُمَّ لَمۡ یَنۡقُصُوۡکُمۡ شَیۡئًا وَّلَمۡ یُظَاہِرُوۡا عَلَیۡکُمۡ اَحَدًا فَاَتِمُّوۡۤا اِلَیۡہِمۡ عَہۡدَہُمۡ اِلٰی مُدَّتِہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَّقِیۡنَ(۳۰۸) یعنی مشرکوں میں سے وہ جنہوں نے تم سے کوئی عہد کیا تھا اور پھر اُنہوں نے اُس عہد کو توڑا نہیں اور تمہارے خلاف تمہارے دشمنوں کی مدد نہیں کی، عہد کی مدت تک تم بھی پابند ہو کہ معاہدہ کو قائم رکھو۔ یہی تقویٰ کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ متقیوں کو پسند کرتا ہے۔

(۷) ایسے دشمنوں کے متعلق جو برسرِ جنگ ہوں لیکن اُن میں سے کوئی شخص اسلام کی حقیقت معلوم کرنا چاہے فرماتا ہے وَاِنۡ اَحَدٌ مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ اسۡتَجَارَکَ فَاَجِرۡہُ حَتّٰی یَسۡمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ اَبۡلِغۡہُ مَاۡمَنَہٗ(۳۰۹) یعنی اگر برسرِ جنگ مشرکوں میں سے کوئی شخص اِس لئے پناہ مانگے کہ وہ تمہارے ملک میں آ کر اسلام کی تحقیقات کرنا چاہتا ہے تو اُس کو ضرور پناہ دو اتنے عرصہ تک کہ وہ اچھی طرح اسلام کی تحقیقات کر لے اور قرآنِ کریم کے مضامین سے واقف ہو جائے ۔ پھر اس کو اپنی حفاظت میں اُس مقام تک پہنچا دو جہاں وہ جانا چاہتا ہے اور جسے اپنے لئے امن کا مقام سمجھتا ہے۔

(۸) جنگی قیدیوں کے متعلق فرماتا ہے مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہٗۤ اَسۡرٰی حَتّٰی یُثۡخِنَ فِی الۡاَرۡضِ(۳۱۰) یعنی کسی نبی کی شان کے مطابق یہ بات نہیں کہ وہ اپنے دشمن کے قیدی بنا لے۔ سوائے اس کے کہ باقاعدہ جنگ میں قیدی پکڑے جائیں۔ یعنی یہ رواج جو اُس زمانہ تک بلکہ اس کے بعد بھی صدیوں تک دنیا میں قائم رہا ہے کہ اپنے دشمن کے آدمیوں کو بغیر جنگ کے ہی پکڑ کر قید کر لینا جائز سمجھا جاتا تھا اُسے اسلام پسند نہیں کرتا۔ وہی لوگ جنگی قیدی کہلا سکتے ہیں جو میدانِ جنگ میں شامل ہوں اور لڑائی کے بعد قید کئے جائیں۔

(۹) پھر اُن قیدیوں کے متعلق فرماتا ہے فَاِمَّا مَنًّۢا بَعۡدُ وَاِمَّا فِدَآءً(47:5)۔۳۱۱؎ یعنی جب جنگی قیدی پکڑے جائیں تو یا تو احسان کر کے اُنہیں چھوڑ دو یا اُن کا بدلہ لے کے اُن کو آزاد کر دو۔

(۱۰) اگر کوئی قیدی ایسے ہوں جن کا بدلہ دینے والا کوئی نہ ہو یا اُن کے رشتہ دار اُن کے اموال پر قابض ہونے کیلئے یہ چاہتے ہوں کہ وہ قید ہی رہیں تو اچھا ہے تو اُن کے متعلق فرماتا ہے۔ وَالَّذِیۡنَ یَبۡتَغُوۡنَ الۡکِتٰبَ مِمَّا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ فَکَاتِبُوۡہُمۡ اِنۡ عَلِمۡتُمۡ فِیۡہِمۡ خَیۡرًا ٭ۖ وَّاٰتُوۡہُمۡ مِّنۡ مَّالِ اللّٰہِ الَّذِیۡۤ اٰتٰٮکُمۡ(24:34)۔۳۱۲؎ یعنی تمہارے جنگی قیدیوں میں سے ایسے لوگ جن کو نہ تم احسان کر کے چھوڑ سکتے ہو اور نہ اُن کی قوم نے اُن کا فدیہ دے کر اُنہیں آزاد کروایا ہے اگر وہ تم سے یہ مطالبہ کریں کہ ہمیں آزاد کر دیا جائے ہم اپنے پیشہ اور ہنر کے ذریعہ سے روپیہ کما کر اپنے حصہ کا جرمانہ ادا کر دیں گے تو اگر وہ اس قابل ہیں کہ آزادانہ روزی کما سکیں تو تم ضرور اُنہیں آزاد کر دو بلکہ اُن کی کوشش میں خود بھی حصہ دار بنو اور خدا نے جو کچھ تمہیں دیا ہے اُس میں سے کچھ روپیہ اُن کے آزاد کرنے میں صرف کر دو یعنی اُن کے حصہ کا جو جنگی خرچ بنتا ہے یا اُس میں سے کچھ مالک چھوڑ دے یا دوسرے مسلمان مل کر اُس قیدی کی مالی امداد کریں اور اُسے آزاد کرائیں۔

یہ وہ حالات ہیں جن میں اسلام جنگ کی اجازت دیتا ہے اور یہ وہ قواعد ہیں جن کے ماتحت اسلام جنگ کی اجازت دیتا تھا۔ چنانچہ قرآن کریم کی ان آیات کی روشنی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مزید تعلیمات مسلمانوں کو دیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:۔

۱۔ کسی صورت میں مسلمانوں کو مثلہ کرنے کی اجازت نہیں، یعنی مسلمانوں کو مقتولینِ جنگ کی ہتک کرنے یا اُن کے اعضاء کاٹنے کی اجازت نہیں ہے۔۳۱۳؎

۲۔ مسلمانوں کو کبھی جنگ میں دھوکا بازی نہیں کرنی چاہئے۔۳۱۴؎

۳۔ کسی بچے کو نہیں مارنا چاہئے اور نہ کسی عورت کو۔۳۱۵؎

۴۔ پادریوں، پنڈتوں اور دوسرے مذہبی رہنماؤں کو قتل نہیں کرنا چاہئے۔۳۱۶؎

۵۔ بڈھے کو نہیں مارنا چاہئے ، بچے کو نہیں مارنا چاہئے ، عورت کو نہیں مارنا چاہئے اور ہمیشہ صلح اور احسان کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ ۳۱۷

۶۔ جب لڑائی کے لئے مسلمان جائیں تو اپنے دشمنوں کے ملک میں ڈر اور خوف پیدا نہ کریں اور عوام الناس پر سختی نہ کریں۔ ۳۱۸

۷۔ جب لڑائی کے لئے نکلیں تو ایسی جگہ پر پڑاؤ نہ ڈالیں کہ لوگوں کے لئے تکلیف کا موجب ہو اور کوچ کے وقت ایسی طرز پر نہ چلیں کہ لوگوں کیلئے رستہ چلنا مشکل ہو جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا سختی سے حکم دیا ہے کہ فرمایا جو شخص ان احکام کے خلاف کرے گا اُس کی لڑائی اُس کے نفس کے لئے ہوگی خدا کے لئے نہیں ہوگی ۔ ۳۱۹

۸۔ لڑائی میں دشمن کے منہ پر زخم نہ لگائیں۔

۹۔ لڑائی کے وقت کوشش کرنی چاہئے کہ دشمن کو کم سے کم نقصان پہنچے۔

۱۰۔ جو قیدی پکڑے جائیں اُن میں سے جو قریبی رشتہ دار ہوں اُن کو ایک دوسرے سے جدا نہ کیا جائے ۔ ۳۲۰

۱۱۔ قیدیوں کے آرام کا اپنے آرام سے زیادہ خیال رکھا جائے ۔ ۳۲۱

۱۲۔ غیر ملکی سفیروں کا ادب اور احترام کیا جائے ۔ وہ غلطی بھی کریں تو اُن سے چشم پوشی کی جائے۔ ۳۲۲

۱۳۔ اگر کوئی شخص جنگی قیدی کے ساتھ سختی کر بیٹھے تو اس قیدی کو بلا معاوضہ آزاد کر دیا جائے۔

۱۴۔ جس شخص کے پاس کوئی جنگی قیدی رکھا جائے وہ اُسے وہی کھلائے جو خود کھائے اور اُسے وہی پہنائے جو خود پہنے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہی احکام کی روشنی میں مزید یہ حکم جاری فرمایا کہ عمارتوں کو گراؤ مت اور پھلدار درختوں کو کاٹو مت ۔ ۳۲۳

ان احکام سے پتہ لگ سکتا ہے کہ اسلام نے جنگ کے روکنے کے لئے کیسی تدابیر اختیار کی ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس عمدگی کے ساتھ ان تعلیمات کو جامہ پہنایا اور مسلمانوں کو ان پر عمل کرنے کی تلقین کی ۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ نہ موسیٰؑ کی تعلیم اس زمانہ میں عدل کی تعلیم کہلا سکتی ہے نہ وہ اِس زمانہ میں قابل عمل ہے اور نہ مسیحؑ کی تعلیم اِس زمانہ میں قابل عمل کہلا سکتی ہے اور نہ کبھی عیسائی دنیا نے اِس پر عمل کیا ہے۔ اسلام ہی کی تعلیم ہے جو قابل عمل ہے اور جس پر عمل کر کے دنیا میں امن قائم رکھا جا سکتا ہے۔

بیشک اِس زمانہ میں مسٹر گاندھی نے دنیا کے سامنے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ جنگ کے وقت بھی جنگ نہیں کرنی چاہئے۔ لیکن جس تعلیم کو مسٹر گاندھی پیش کر رہے ہیں اُس پر دنیا میں کبھی عمل نہیں ہوا کہ ہم اُس کی بُرائی اور خوبی کا اندازہ کرسکیں۔ مسٹر گاندھی کی زندگی میں ہی کانگرس کو حکومت مل گئی ہے اور کانگرسی حکومت نے فوجوں کو ہٹایا نہیں بلکہ وہ یہ تجویزیں کر رہی ہے کہ آئی۔این۔اے کے وہ افسر جو برطانوی گورنمنٹ نے ہٹا دیئے تھے اُن کو دوبارہ فوج میں ملازم رکھا جائے۔ بلکہ کانگرسی حکومت کے ہندوستان میں قائم ہونے کے سات دن کے اندر وزیرستان کے علاقہ میں نہتے آدمیوں پر ہوائی جہازوں کے ذریعہ سے بم گرائے گئے ہیں۔ خود گاندھی جی تشدد کرنے والوں کی تائید اور اُن کے چھوڑ دینے کے حق میں گورنمنٹ پر ہمیشہ زور دیتے رہے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ گاندھی جی نہ اُن کے پیرو اِس تعلیم پر عمل کر سکتے ہیں اور نہ کوئی ایسی معقول صورت دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں جس سے معلوم ہو کہ قوموں اور ملکوں کی جنگ میں اِس تعلیم پر کس طرح کامیاب طور پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ منہ سے اِس تعلیم کا وعظ کرتے ہوئے اُس کے خلاف عمل کرنا بتاتا ہے کہ اِس تعلیم پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔ پس اِس وقت تک دنیا کا تجربہ ہے اور عقل جس حد تک انسان کی راہنمائی کرتی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہی طریقہ صحیح تھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

کفار کی طرف سے جنگ خندق کے بعد مسلمانوں پر حملے

احزاب سے واپس لوٹنے کے بعد گو کفار کی ہمتیں ٹوٹ چکی تھیں اور اُن کے حوصلے پست ہو گئے تھے، لیکن اُن کا یہ احساس باقی تھا کہ ہم اکثریت میں ہیں اور مسلمان تھوڑے ہیں اور وہ سمجھتے تھے کہ جہاں جہاں بھی ہوگا ہم مسلمانوں کو اِکّا دُکّا پکڑ کر مار سکیں گے اور اِس طرح اپنی ذلّت کا بدلہ لے سکیں گے۔ چنانچہ احزاب کی شکست کے تھوڑے ہی عرصہ بعد مدینہ کے اِردگِرد کے قبائل نے مسلمانوں پر چھاپے مارنے شروع کر دیئے ۔ چنانچہ فزارہ قوم کے کچھ سواروں نے مدینہ کے قریب چھاپہ مارا اور مسلمانوں کے اُونٹ جو وہاں چر رہے تھے اُن کے چرواہے کو قتل کیا، اُس کی بیوی کو قید کر لیا اور اُونٹوں سمیت بھاگ گئے۔ قیدی عورت تو کسی نہ کسی طرح بھاگ آئی لیکن اُونٹوں کا ایک حصہ لے کر بھاگ جانے میں دشمن کامیاب ہو گیا۔ اس کے ایک مہینہ بعد شمال کی طرف غطفان قبیلہ کے لوگوں نے مسلمانوں کے اُونٹوں کے گلوں کو لوٹنے کی کوشش کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہؓ کو دس سواروں سمیت حالات کے معلوم کرنے اور گلوں کی حفاظت کرنے کے لئے بھجوایا مگر دشمن نے موقع پا کر اُنہیں قتل کر دیا۔ محمد بن مسلمہ کو بھی وہ اپنی طرف سے قتل کر کے پھینک گئے تھے لیکن اصل میں وہ بیہوش تھے دشمن کے چلے جانے کے بعد وہ ہوش میں آئے اور مدینہ پہنچ کر ان حالات کی اطلاع دی اور بتایا کہ میرے سب ساتھی مارے گئے اور صرف میں بچا ہوں ۔

کچھ دنوں کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سفیر جو رومی حکومت کی طرف سے بھجوایا گیا تھا اُس پر جُرہم قوم نے حملہ کیا اور اُسے لوٹ لیا۔ اس کے ایک مہینہ بعد بنو فزارہ نے مسلمانوں کے ایک قافلہ پر حملہ کیا اور اسے لوٹ لیا۔ غالباً یہ حملہ کسی مذہبی عداوت کی وجہ سے نہیں تھا کیونکہ بنوفزارہ ڈاکوؤں کا ایک قبیلہ تھا جو ہر قوم کے آدمیوں کو لوٹتے اور قتل کرتے رہتے تھے۔ اُس زمانہ میں خیبر کے یہودی بھی جو جنگ احزاب کا موجب ہوئے تھے اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے اِدھر اُدھر کے قبائل کو بھڑکاتے رہے اور رومی حکومت کے سرحدی علاقوں کے افسروں اور قبائل کو بھی مسلمانوں کے خلاف جوش دلاتے رہے۔ غرض کفارِ عرب کو مدینہ پر حملہ کرنے کی تو ہمت نہ رہی تھی تاہم وہ یہود کے ساتھ مل کر سارے عرب میں مسلمانوں کے لئے مصیبتوں اور لوٹ مار کے سامان پیدا کر رہے تھے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی تک کفار کے ساتھ آخری لڑائی لڑنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا اور آپ اس انتظار میں تھے کہ اگر صلح کے ساتھ یہ خانہ جنگی ختم ہو جائے تو اچھا ہے۔

پندرہ سو صحابہؓ کے ساتھ آںحضرتﷺ کی مکہ کو روانگی

اِس عرصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رویا دیکھی جس کا قرآن کریم میں ان الفاظ میں ذکر آتا ہے ۔ لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوۡلَہُ الرُّءۡیَا بِالۡحَقِّ ۚ لَتَدۡخُلُنَّ الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیۡنَ ۙ مُحَلِّقِیۡنَ رُءُوۡسَکُمۡ وَمُقَصِّرِیۡنَ ۙ لَا تَخَافُوۡنَ ؕ فَعَلِمَ مَا لَمۡ تَعۡلَمُوۡا فَجَعَلَ مِنۡ دُوۡنِ ذٰلِکَ فَتۡحًا قَرِیۡبًا(۳۲۴) یعنی ضرور تم اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت مسجد حرام میں امن کے ساتھ داخل ہو گے ۔ تم میں سے بعضوں کے سر منڈے ہوئے ہوں گے اور بعضوں کے بال کٹے ہوئے ہوں گے ( حج کے وقت سر منڈانا اور بال کٹانا ضروری ہوتا ہے ) تم کسی سے نہ ڈر رہے ہو گے ۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم نہیں جانتے ۔ اِس وجہ سے اُس نے اِس خواب کے پورا ہونے سے پہلے ایک اور فتح مقرر کر دی ہے جو خواب والی فتح کا پیش خیمہ ہوگی ۔

اس رویا میں در حقیقت صلح اور امن کے ساتھ مکہ کو فتح کرنے کی خبر دی گئی تھی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعبیر یہی سمجھی کہ شاید ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خانہ کعبہ کا طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور چونکہ اس غلط فہمی سے اس قسم کی بنیاد پڑنے والی تھی اللہ تعالیٰ نے اس غلطی پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ نہ کیا ۔ چنانچہ آپؐ نے اپنے صحابہ میں اِس بات کا اعلان کیا اور اُنہیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی تلقین کی ۔ مگر فرمایا ہم صرف طواف کی نیت سے جا رہے ہیں کسی قسم کا مظاہرہ یا کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو دشمن کی ناراضگی کا موجب ہو۔ چنانچہ آخر فروری ۶۲۸ء میں پندرہ سو زائرین کے ساتھ آپ مکہ کی طرف روانہ ہوئے ( ایک سال بعد کل پندرہ سو آدمیوں کا آپ کے ساتھ جانا بتاتا ہے کہ اس سے ایک سال پہلے جنگ احزاب کے موقع پر اس تعداد سے کم ہی سپاہی ہوں گے ۔ کیونکہ ایک سال میں مسلمان بڑھے تھے گھٹے نہ تھے ۔ پس جنگ احزاب میں لڑنے والوں کی تعداد جن مؤرخوں نے تین ہزار لکھی ہے یہ غلطی کی ہے۔ درست یہی ہے کہ اُس وقت بارہ سو سپاہی تھے ) حج کے قافلہ کے آگے ہیں سوار کچھ فاصلہ پر اس لئے چلتے تھے تا کہ اگر دشمن مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہے تو اُن کو وقت پر اطلاع مل جائے ۔ جب مکہ والوں کو آپ کے اس ارادہ کی اطلاع ہوئی تو باوجود اس کے کہ اُن کا اپنا مذہب بھی یہی تھا کہ طوافِ کعبہ میں کسی کے لئے روک نہیں ڈالنی چاہئے اور باوجود اس کے کہ مسلمانوں نے وضاحت سے اعلان کر دیا تھا کہ وہ صرف اور صرف طوافِ کعبہ کے لئے جا رہے ہیں کسی قسم کی مخالفت یا جھگڑے کے لئے نہیں جا رہے مکہ والوں نے مکہ کو ایک قلعہ کی صورت میں تبدیل کر دیا اور اردگرد کے قبائل کو بھی اپنی مدد کے لئے بلوایا۔ جب آپؐ مکہ کے قریب پہنچے تو آپؐ کو یہ اطلاع ملی کہ قریش نے چیتوں کی کھالیں پہن لی ہیں اور اپنی بیویوں اور بچوں کو ساتھ لے لیا ہے اور یہ قسمیں کھالی ہیں کہ وہ آپؐ کو گزرنے نہیں دیں گے۔ یہ عرب کا رواج تھا کہ جب قوم موت کا فیصلہ کر لیتی تھی تو اس کے سردار چیتے کی کھالیں پہن لیتے تھے جس کے معنی یہ ہوتے تھے کہ اب عقل کا وقت نہیں رہا، اب دلیری اور جرأت سے ہم جان دے دیں گے۔ اس اطلاع کے ملنے کے تھوڑی دیر بعد ہی مکہ کی فوج کا ہر اول دستہ مسلمانوں کے سامنے آ کھڑا ہوا اب اس مقام سے صرف اسی صورت میں آگے بڑھا جا سکتا تھا کہ تلوار کے زور سے دشمن کو زیر کیا جاتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ فیصلہ کر کے آئے تھے کہ بہرحال ہم نہیں لڑیں گے، آپؐ نے ایک ہوشیار راہبر کو جو جنگل کے راستوں سے واقف تھا اُسے اِس بات پر مقرر کیا کہ وہ جنگل کے اندر سے مسلمان زائرین کو لے کر مکہ تک پہنچا دے۔ یہ راہبر آپؐ کو اور آپؐ کے ساتھیوں کو لے کر حدیبیہ کے مقام پر جو مکہ کے قریب تھا جا پہنچا۔ یہاں آپؐ کی اُونٹنی کھڑی ہوگئی اور اُس نے آگے چلنے سے انکار کر دیا۔ صحابہؓ نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! آپؐ کی اُونٹنی تھک گئی ہے آپؐ اس کی جگہ دوسری اُونٹنی پر بیٹھ جائیں۔ مگر آپؐ نے فرمایا۔ نہیں نہیں یہ تھکی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا منشاء یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہاں ٹھہر جائیں اور میں یہیں ٹھہر کر مکہ والوں سے ہر طریقہ سے درخواست کروں گا کہ وہ ہمیں حج کی اجازت دے دیں اور خواہ کوئی شرط بھی وہ کریں میں اُسے منظور کر لوں گا۔ اُس وقت تک مکہ کی فوج مکہ سے دور فاصلہ پر کھڑی تھی اور مسلمانوں کا انتظار کر رہی تھی۔ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو بغیر مقابلہ کے مکہ میں داخل ہو سکتے تھے۔ لیکن چونکہ آپؐ یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ پہلے آپؐ یہی کوشش کریں گے کہ مکہ والوں کی اجازت کے ساتھ طواف کریں اور اُسی صورت میں مقابلہ کریں گے کہ مکہ والے خود لڑائی شروع کر کے لڑنے پر مجبور کریں۔ اس لئے باوجود مکہ کی سڑک کے کھلا ہونے کے آپؐ

نے حدیبیہ پر ڈیرہ ڈال دیا۔ تھوڑی ہی دیر میں یہ خبر کہ آپ حدیبیہ پر ڈیرے ڈالے پڑے ہیں مکہ کے لشکر کو بھی جا پہنچی اور اُس نے جلدی سے پیچھے ہٹ کر مکہ کے قریب صفیں بنا لیں۔ سب سے پہلے بدیل نامی ایک سردار آپ سے بات کرنے کے لئے بھیجا گیا۔ جب وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا۔ میں تو صرف طواف کرنے کے لئے آیا ہوں۔ ہاں مکہ والے اگر ہمیں مجبور کریں تو ہمیں لڑنا پڑے گا۔ اِس کے بعد مکہ کے کمانڈر ابوسفیان کا داماد عروہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے نہایت گستاخانہ طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر کہا کہ یہ اوباشوں کا گروہ آپ اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں مکہ والے انہیں کسی صورت میں بھی اپنے شہر میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔ اسی طرح یکے بعد دیگرے پیغامبر آتے رہے۔ آخر مکہ والوں نے کہلا بھیجا کہ خواہ کچھ ہو جائے اِس سال تو ہم آپ کو طواف نہیں کرنے دیں گے کیونکہ اس میں ہماری ہتک ہے۔ ہاں اگر آپ اگلے سال آئیں تو ہم آپ کو اجازت دے دیں گے۔ بعض اِردگرد کے لوگوں نے مکہ والوں سے اصرار کیا کہ یہ لوگ صرف طواف کے لئے آئے ہیں آپ ان کو کیوں روکتے ہیں مگر مکہ کے لوگ اپنی ضد پر قائم رہے۔ اس پر بیرونی قبائل کے لوگوں نے مکہ والوں سے کہا کہ آپ لوگوں کا یہ طریق بتاتا ہے کہ آپ کو شرارت مدنظر ہے صلح مدنظر نہیں اس لئے ہم لوگ آپ کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں۔ اس پر مکہ کے لوگ ڈر گئے اور اُنہوں نے اِس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ سمجھوتہ کی کوشش کریں گے۔

جب اس امر کی اطلاع رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے حضرت عثمانؓ کو جو بعد میں آپ کے تیسرے خلیفہ ہوئے مکہ والوں سے بات چیت کرنے کے لئے بھیجا۔ جب حضرت عثمانؓ مکہ پہنچے تو چونکہ مکہ میں اُن کی بڑی وسیع رشتہ داری تھی اُن کے رشتہ دار اُن کے گرد اکٹھے ہو گئے اور اُن سے کہا کہ آپ طواف کر لیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگلے سال آ کر طواف کریں۔ مگر عثمانؓ نے کہا کہ میں اپنے آقا کے بغیر طواف نہیں کر سکتا۔ چونکہ رؤسائے مکہ سے آپ کی گفتگو لمبی ہو گئی ، مکہ میں بعض لوگوں نے شرارت سے یہ خبر پھیلا دی کہ عثمانؓ کو قتل کر دیا گیا ہے اور یہ خبر پھیلتے پھیلتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک بھی جا پہنچی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو جمع کیا اور فرمایا سفیر کی جان ہر قوم میں محفوظ ہوتی ہے۔

تم نے سنا ہے کہ عثمانؓ کو مکہ والوں نے مار دیا ہے اگر یہ خبر درست نکلی تو ہم بزورِ مکہ میں داخل ہوں گے (یعنی ہمارا پہلا ارادہ کہ صلح کے ساتھ مکہ میں داخل ہوں گے جن حالات کے ماتحت تھا وہ چونکہ تبدیل ہو جائیں گے اِس لئے ہم اِس ارادہ کے پابند نہ رہیں گے) جو لوگ یہ عہد کرنے کے لئے تیار ہوں کہ اگر ہمیں آگے بڑھنا پڑا تو یا ہم فتح کر کے لوٹیں گے یا ایک ایک کر کے میدان میں مارے جائیں گے وہ اس عہد پر میری بیعت کریں۔ آپ کا یہ اعلان کرنا تھا کہ پندرہ سَو زائر جو آپ کے ساتھ آیا تھا یکدم پندرہ سَو سپاہی کی شکل میں بدل گیا اور دیوانہ وار ایک دوسرے پر پھاندتے ہوئے اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر دوسروں سے پہلے بیعت کرنے کی کوشش کی۔ یہ بیعت تمام اسلامی تاریخ میں بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے اور درخت کا عہد نامہ کہلاتی ہے کیونکہ جس وقت یہ بیعت لی گئی اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ جب تک اس بیعت میں شامل ہونے والا آخری آدمی بھی دنیا میں زندہ رہا وہ فخر سے اِس بیعت کا ذکر کیا کرتا تھا۔ کیونکہ پندرہ سَو آدمیوں میں سے ایک شخص نے بھی یہ عہد کرنے سے دریغ نہ کیا تھا کہ اگر دُشمن نے اسلامی سفیر کو مار دیا ہے تو آج دو صورتوں میں سے ایک ضرور پیدا کر کے چھوڑیں گے۔ یا وہ شام سے پہلے پہلے مکہ کو فتح کر کے چھوڑیں گے یا شام سے پہلے پہلے میدانِ جنگ میں مارے جائیں گے۔ لیکن ابھی بیعت سے مسلمان فارغ ہی ہوئے تھے کہ حضرت عثمانؓ واپس آگئے اور اُنہوں نے بتایا کہ مکہ والے اِس سال تو عمرہ کی اجازت نہیں دے سکتے مگر آئندہ سال اجازت دینے کے لئے تیار ہیں۔ چنانچہ اس بارہ میں معاہدہ کرنے کے لئے اُنہوں نے اپنے نمائندے مقرر کر دیئے ہیں۔ حضرت عثمانؓ کے آنے کے تھوڑی دیر بعد مکہ کا ایک رئیس سہیل نامی معاہدہ کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ معاہدہ لکھا گیا۔

شرائطِ صلح حدیبیہ

’’خدا کے نام پر یہ شرائطِ صلح محمد ابن عبداللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اور سہیل ابن عمرو (قائمقام حکومت مکہ کے درمیان طے پائی ہیں۔ جنگ دس سال کے لئے بند کی جاتی ہے۔ جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ ملنا چاہے یا اُن کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہے وہ ایسا کر سکتا ہے۔ اور جو شخص قریش کے ساتھ ملنا چاہے یا معاہدہ کرنا چاہے وہ بھی ایسا کر سکتا ہے۔ اگر کوئی لڑکا جس کا باپ زندہ ہو یا ابھی چھوٹی عمر کا ہو وہ اپنے باپ یا متولی کی مرضی کے بغیر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جائے تو اُس کے باپ یا متولی کے پاس واپس کر دیا جائے گا لیکن اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھیوں میں سے کوئی قریش کی طرف جائے تو اُسے واپس نہیں کیا جائے گا۔ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس سال مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس چلے جائیں گے لیکن اگلے سال محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے ساتھی مکہ میں آ سکتے ہیں اور تین دن تک وہاں ٹھہر کر کعبہ کا طواف کر سکتے ہیں اس عرصہ میں قریش شہر سے باہر پہاڑی پر چلے جائیں گے۔ لیکن یہ شرط ہو گی کہ جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور اُن کے ساتھی مکہ میں داخل ہوں تو اُن کے پاس کوئی ہتھیار نہ ہو سوائے اُس ہتھیار کے جو ہر مسافر اپنے پاس رکھتا ہے یعنی نیام میں ڈالی ہوئی تلوار‘۔۳۲۵

اِس معاہدہ کے وقت دو عجیب باتیں ہوئیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرائط طے کرنے کے بعد معاہدہ لکھوانا شروع کیا تو آپ نے فرمایا ’’خدا کے نام سے جو بے انتہاء کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے‘‘۔ سہیل نے اس پر اعتراض کیا اور کہا خدا کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ ’’بے انتہاء کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا‘‘ ہم نہیں جانتے کون ہے۔ یہ معاہدہ ہمارے اور آپ کے درمیان ہے اور اس میں دونوں کے مذاہب کا احترام ضروری ہے۔ اس پر آپ نے اُس کی بات قبول کر لی اور صرف اتنا ہی لکھوایا کہ ’’خدا کے نام پر ہم یہ معاہدہ کرتے ہیں‘‘۔ پھر آپ نے یہ لکھوایا کہ یہ شرائطِ صلح مکہ والوں اور محمد رسول اللہ کے درمیان ہیں۔ اس پر پھر سہیل نے اعتراض کیا اور کہا کہ اگر ہم آپ کو خدا کا رسول مانتے تو آپ کے ساتھ لڑتے کیوں؟ آپ نے اُس کے اس اعتراض کو بھی قبول کر لیا اور بجائے محمد رسول اللہ کے ’’محمد بن عبداللہ‘‘ لکھوایا۔ چونکہ آپ مکہ والوں کی ہر بات مانتے چلے جاتے تھے، صحابہؓ کے دل میں بے انتہاء رنج اور افسوس پیدا ہوا اور غصہ سے اُن کا خون کھولنے لگا یہاں تک کہ حضرت عمرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! کیا ہم سچے نہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں! پھر اُنہوں نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! کیا آپ کو خدا نے یہ نہیں بتایا تھا

کہ ہم خانہ کعبہ کا طواف کریں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں! اس پر حضرت عمرؓ نے کہا پھر آپ نے یہ معاہدہ آج کیوں کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ عمر! خدا تعالیٰ نے مجھے یہ تو فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ کا طواف امن سے کریں گے مگر یہ تو نہیں فرمایا تھا کہ ہم اسی سال کریں گے یہ تو میرا اپنا اجتہاد تھا۔ اِسی طرح بعض دوسرے صحابہؓ نے یہ اعتراض کیا کہ یہ اقرار کیوں کر لیا گیا ہے کہ اگر مکہ کے لوگوں میں سے کوئی نوجوان مسلمان ہوا تو اس کے باپ یا ولی کی طرف واپس کر دیا جائے گا لیکن جو مسلمان مکہ والوں کی طرف جائے گا اُسے مکہ والے واپس کرنے پر مجبور نہ ہوں گے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں کون سے حرج کی بات ہے ہر شخص جو مسلمان ہوتا ہے وہ اسلام کو سچا سمجھ کر مسلمان ہوتا ہے رسمی اور رواجی طور پر مسلمان نہیں ہوتا۔ ایسا شخص جہاں بھی رہے گا وہ اسلام کی تبلیغ کرے گا اور اسلام کی اشاعت کا موجب ہوگا لیکن جو شخص اسلام سے مرتد ہوتا ہے ہم نے اُسے اپنے اندر رکھ کر کرنا کیا ہے۔ جو شخص ہمارے مذہب کو جھوٹا سمجھ بیٹھا ہے وہ ہمارے لئے کس فائدہ کا موجب ہو سکتا ہے۔ آپ کا یہ جواب ان غلطی خوردہ مسلمانوں کا بھی جواب ہے جو کہتے ہیں کہ اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے۔ اگر اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر اصرار کرتے کہ ہر مرتد واپس کیا جائے تا کہ اُس کو اُس کے جرم کی سزا دی جائے۔ جس وقت یہ معاہدہ لکھ کر ختم ہوا اور اس پر دستخط کر دیئے گئے۔ اُسی وقت اللہ تعالیٰ نے اس معاہدہ کی صحت کے پرکھنے کا سامان پیدا کر دیا۔ سہیل جو مکہ والوں کی طرف سے معاہدہ کر رہا تھا اس کا اپنا بیٹا رسیوں سے جکڑا ہوا اور زخموں سے چور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر گرا اور کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! میں دل سے مسلمان ہوں اور اسلام کی وجہ سے میرا باپ مجھے یہ تکلیفیں دے رہا ہے۔ میرا باپ یہاں آیا تو میں موقع پا کر آپ کے پاس پہنچا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی جواب نہ دیا تھا کہ اس کے باپ نے کہا معاہدہ ہو چکا ہے اور اِس نوجوان کو واپس میرے ساتھ جانا ہوگا۔ ابو جندل کی حالت اُس وقت مسلمانوں کے سامنے تھی وہ اپنے ایک بھائی کو جو اپنے باپ کے ہاتھوں سے اِس قدر ظلم برداشت کر رہا تھا واپس جانا دیکھ نہیں سکتے تھے۔ اُنہوں نے تلواریں میانوں سے نکال لیں اور اس بات کا فیصلہ کر لیا کہ وہ مر جائیں گے مگر اپنے بھائی کو اس تکلیف کے مقام پر پھر جانے نہیں دیں گے۔ خود ابو جندل نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! آپ میری حالت کو دیکھتے ہیں کیا آپ اس بات کو گوارا کریں گے کہ پھر مجھے ان ظالموں کے سپرد کر دیں تاکہ پہلے سے بھی زیادہ مجھ پر ظلم توڑیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدا کے رسول معاہدے نہیں توڑا کرتے۔ ابو جندل! ہم معاہدہ کر چکے ہیں تم اب صبر سے کام لو اور خدا پر توکل کرو وہ تمہارے لیے اور تمہارے جیسے اور نوجوانوں کے لئے خود ہی بچنے کی کوئی راہ پیدا کر دے گا۔۳۲۶

اس معاہدے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مدینہ تشریف لے گئے۔ جب آپ مدینہ پہنچے تو مکہ کا ایک اور نوجوان ابو بصیرؓ آپ کے پیچھے پیچھے دوڑتا ہوا مدینہ پہنچا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے بھی معاہدہ کے مطابق واپس جانے پر مجبور کیا مگر راستہ میں اُس کی اپنے پکڑنے والوں سے لڑائی ہو گئی اور اپنے ایک محافظ کو قتل کر کے وہ بھاگ گیا۔ مکہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر شکایت کی تو آپ نے فرمایا ہم نے تمہارا آدمی تمہارے حوالے کر دیا تھا ہم اس بات کے ذمہ دار نہیں کہ وہ جہاں کہیں بھی ہو ہم اُس کو پکڑ کر دوبارہ تمہارے سپرد کریں۔۳۲۷

اس کے تھوڑے دنوں بعد ایک عورت بھاگ کر مدینہ پہنچی۔ اس کے رشتہ داروں نے مدینہ پہنچ کر اُسے واپس بھجوانے کا مطالبہ کیا۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معاہدہ میں مردوں کی شرط ہے عورتوں کی شرط نہیں اس لئے ہم عورت کو واپس نہیں کریں گے۔۳۲۸

بادشاہوں کے نام خطوط

مدینہ تشریف لے آنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کیا کہ آپ اپنی تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچائیں جب آپ نے اپنے اس ارادہ کا صحابہؓ سے ذکر کیا تو بعض صحابہ نے جو بادشاہی درباروں سے واقف تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! بادشاہ بغیر مہر کے خط نہیں لیتے۔ اس پر آپ نے ایک مہر بنوائی جس پر ”محمد رسول اللہ“ کے الفاظ کھدوائے اور اللہ تعالیٰ کے ادب کے طور پر آپ نے سب سے اوپر ”اللہ“ کا لفظ لکھوا دیا۔ نیچے ”رسول“ کا اور پھر نیچے ”محمد“ کا۔۳۲۹

محرم ۶۲۸ء میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خط لے کر مختلف صحابہ مختلف ممالک کی طرف روانہ ہو گئے۔ ان میں سے ایک خط قیصر روما کے نام تھا اور ایک خط ایران کے بادشاہ کی طرف تھا۔ ایک خط مصر کے بادشاہ کی طرف تھا جو قیصر کے ماتحت تھا۔ ایک نجاشی کی طرف تھا جو حبشہ کا بادشاہ تھا۔ اسی طرح بعض اور بادشاہوں کی طرف آپ نے خطوط لکھے۔

قیصر روم ہرقل کے نام خط

قیصر روما کا خط دحیہ کلبیؓ صحابی کے ہاتھ بھیجا گیا اور آپ نے اُسے ہدایت کی تھی کہ پہلے وہ بصرہ کے گورنر کے پاس جائے جو نسلاً عرب تھا اور اس کی معرفت قیصر کو خط پہنچائے۔ جب دحیہ کلبیؓ گورنر بصرہ کے پاس خط لے کر پہنچے تو اتفاقاً انہی دنوں قیصر شام کے دورہ پر آیا ہوا تھا۔ چنانچہ گورنر بصرہ نے دحیہؓ کو اس کے پاس بھجوا دیا۔ جب دحیہؓ ، گورنر بصرہ کی معرفت قیصر کے پاس پہنچے تو دربار کے افسروں نے اُن سے کہا کہ قیصر کی خدمت میں حاضر ہونے والے ہر شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ قیصر کو سجدہ کرے۔ دحیہؓ نے انکار کیا اور کہا کہ ہم مسلمان کسی انسان کو سجدہ نہیں کرتے چنانچہ بغیر سجدہ کرنے کے آپ اُس کے سامنے گئے اور خط پیش کیا۔ بادشاہ نے ترجمان سے خط پڑھوایا اور پھر حکم دیا کہ کوئی عرب کا قافلہ آیا ہو تو اُن لوگوں کو پیش کرو تا کہ میں اس شخص کے حالات اُن سے دریافت کروں۔ اتفاقاً ابوسفیان ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ اُس وقت وہاں آیا ہوا تھا۔ دربار کے افسر ابوسفیان کو بادشاہ کی خدمت میں لے گئے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ ابوسفیان کو سب سے آگے کھڑا کیا جائے اور اس کے ساتھیوں کو اس کے پیچھے کھڑا کیا جائے اور ہدایت کی کہ اگر ابوسفیان کسی بات میں جھوٹ بولے تو اس کے ساتھی اس کی فوراً تردید کریں۔ پھر اس نے ابوسفیان سے سوال کیا کہ:۔

سوال: یہ شخص جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور جس کا خط میرے پاس آیا ہے کیا تم اس کو جانتے ہو اس کا خاندان کیسا ہے؟

جواب: ابوسفیان نے کہا۔ وہ اچھے خاندان کا ہے اور میرے رشتہ داروں میں سے ہے۔

سوال: پھر اُس نے پوچھا کیا ایسا دعویٰ عرب میں پہلے بھی کسی شخص نے کیا ہے؟

جواب: تو ابوسفیان نے جواب دیا نہیں۔

سوال: پھر اُس نے پوچھا کیا تم دعویٰ سے پہلے اُس پر جھوٹ کا الزام لگایا کرتے تھے؟

جواب: ابوسفیان نے کہا۔ نہیں۔

سوال: پھر اس نے پوچھا۔ کیا اس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ بھی ہوا ہے؟

جواب: ابوسفیان نے کہا۔ نہیں۔

سوال: پھر بادشاہ نے پوچھا۔ اس کی عقل اور اس کی رائے کیسی ہوتی ہے؟

جواب: ابوسفیان نے جواب دیا۔ ہم نے اس کی عقل اور رائے میں کبھی کوئی عیب نہیں دیکھا۔

سوال: پھر قیصر نے پوچھا۔ کیا بڑے بڑے جابر اور قوت والے لوگ اس کی جماعت میں داخل ہوتے ہیں یا غریب اور مسکین لوگ؟

جواب: ابوسفیان نے جواب دیا۔ غریب اور مسکین اور نوجوان لوگ۔

سوال: پھر اس نے پوچھا۔ وہ بڑھتے ہیں یا گھٹتے ہیں؟

جواب: ابوسفیان نے جواب دیا۔ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

سوال: پھر قیصر نے پوچھا۔ کیا اُن میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اُس کے دین کو بُرا سمجھ کے مرتد ہوئے ہیں۔

جواب: ابوسفیان نے کہا۔ نہیں۔

سوال: پھر اس نے پوچھا۔ کیا اس نے کبھی اپنے عہد کو بھی توڑا ہے؟

جواب: ابوسفیان نے جواب دیا۔ آج تک تو نہیں۔ مگر اب ہم نے ایک نیا عہد باندھا ہے دیکھیں اب وہ اس کے متعلق کیا کرتا ہے۔

سوال: پھر اس نے پوچھا۔ کیا تمہارے اور اس کے درمیان کبھی جنگ بھی ہوئی ہے؟

جواب: ابوسفیان نے جواب دیا۔ ہاں۔

سوال: اِس پر بادشاہ نے پوچھا۔ پھر اُن لڑائیوں کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟

جواب: ابوسفیان نے جواب دیا۔ گھاٹ کے ڈولوں والا حال ہے۔ کبھی ہمارے ہاتھ میں ڈول ہوتا ہے کبھی اس کے ہاتھ ڈول ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ بدر کی لڑائی ہوئی اور مَیں اس میں شامل نہیں تھا اس لئے وہ غالب آ گیا تھا اور دوسری دفعہ اُحد میں لڑائی ہوئی اُس وقت میں کمانڈر تھا۔ ہم نے ان کے پیٹ کاٹے اور اُن کے کان کاٹے ، ان کے ناک کاٹے۔

سوال : پھر قیصر نے پوچھا۔ وہ تمہیں کیا حکم دیتا ہے؟

جواب : ابوسفیان نے کہا وہ کہتا ہے کہ ایک خدا کی پرستش کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور ہمارے باپ دادا جن بتوں کی پوجا کرتے تھے وہ ان کی پوجا سے روکتا ہے اور ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم خدا کی عبادتیں کریں اور سچ بولا کریں اور بُرے اور گندے کاموں سے بچا کریں اور ہمیں کہتا ہے کہ مروت اور وفائے عہد سے کام لیا کریں اور امانتوں کو ادا کیا کریں۔۳۳؎

قیصر روم کا نتیجہ کہ آنحضرت ﷺ صادق نبی ہیں

اِس پر قیصر نے کہا۔ سنو میں نے تم سے یہ سوال کیا تھا کہ اس کا نسب کیسا ہے تو تم نے کہا وہ خاندانی لحاظ سے اچھا ہے اور انبیاء ہمیشہ ایسے ہی ہوا کرتے ہیں ۔ پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا اس سے پہلے کسی شخص نے ایسا دعویٰ کیا ہے تو تم نے کہا نہیں ۔ یہ سوال میں نے اس لئے کیا تھا کہ اگر قریب زمانہ میں اس سے پہلے کسی شخص نے ایسا دعویٰ کیا ہوتا تو میں سمجھتا کہ یہ بھی اُس کی نقل کر رہا ہے۔ اور پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا اس دعویٰ سے پہلے اس پر جھوٹ کا بھی الزام لگایا گیا ہے اور تم نے کہا نہیں تو میں نے سمجھ لیا کہ جو شخص انسانوں کے متعلق جھوٹ نہیں بولتا وہ خدا تعالیٰ کے متعلق بھی جھوٹ نہیں بول سکتا ۔ پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا اس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ بھی تھا۔ تو تم نے کہا نہیں۔ تو میں نے سمجھ لیا کہ اس کے دعویٰ کی یہ وجہ نہیں کہ اس بہانہ سے اپنے باپ دادا کا ملک واپس لینا چاہتا ہے۔ پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا جابر اور زبردست لوگ اس کی جماعت میں داخل ہوتے ہیں یا کمزور اور مسکین طبع لوگ۔ تو تم نے جواب دیا کہ کمزور اور مسکین طبع لوگ۔ تو میں نے سوچا کہ تمام انبیاء کی جماعت میں اکثر مسکین طبع اور غریب ہی داخل ہوا کرتے ہیں نہ کہ جابر اور متکبر لوگ ۔ پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا وہ بڑھتے ہیں یا گھٹتے ہیں۔ تو تم نے کہا وہ بڑھتے ہیں اور یہی حالت نبیوں کی جماعت کی ہوا کرتی ہے جب تک وہ کمال کو نہیں پہنچ جاتی اُس وقت تک وہ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص اُس کے دین کو ناپسند کر کے مرتد بھی ہوتا ہے تو تم نے کہا نہیں اور ایسا ہی انبیاء کی جماعت کا حال ہوتا ہے کسی اور وجہ سے کوئی شخص نکلے تو نکلے دین کو بُرا سمجھ کر نہیں نکلتا۔ پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا تمہارے درمیان کبھی لڑائی بھی ہوئی ہے اور اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ تو تم نے کہا لڑائی ہمارے درمیان گھاٹ کے ڈول کی طرح ہے اور نبیوں کا یہی حال ہے۔ شروع شروع میں اُن کی جماعتوں پر مصیبتیں آتی ہیں لیکن آخری وہی جیتتے ہیں۔ پھر میں نے تجھ سے پوچھا۔ وہ تمہیں کیا تعلیم دیتا ہے۔ تو تم نے جواب دیا کہ وہ نماز کی اور سچائی کی اور پاکدامنی کی اور وفائے عہد کی اور امانت دار ہونے کی تعلیم دیتا ہے اور اسی طرح میں نے تجھ سے پوچھا کہ کیا وہ دھوکا بازی بھی کرتا ہے؟ تو تم نے کہا نہیں اور یہ طور و طریق تو ہمیشہ نیک لوگوں کے ہی ہوا کرتے ہیں۔ پس میں سمجھتا ہوں کہ وہ نبوت کے دعویٰ میں سچا ہے اور میرا خود یہ خیال تھا کہ اِس زمانہ میں ”وہ نبی“ آنے والا ہے، مگر میرا یہ خیال نہیں تھا کہ وہ عربوں میں پیدا ہونے والا ہے اور جو جواب تو نے مجھے دیئے ہیں اگر وہ سچے ہیں تو پھر میں سمجھتا ہوں کہ وہ ان ممالک پر ضرور قابض ہو جائے گا۔ اس کی ان باتوں پر اس کے درباریوں میں جوش پیدا ہو گیا اور اُنہوں نے کہا آپ مسیحی ہوتے ہوئے ایک غیر قوم کے آدمی کی صداقت کا اقرار کر رہے ہیں اور دربار میں احتجاج کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ اِس پر دربار کے افسروں نے جلدی سے ابوسفیان اور اُس کے ساتھیوں کو دربار سے باہر نکال دیا۔۳۳۱

آنحضرتﷺ کے خط بنام ہرقل کا مضمون

یہ خط جو رسولﷺ نے قیصر کے نام لکھا تھا اسکی عبارت یہ تھی:۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مِنْ مُّحَمَّدٍ عَبْدِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ اِلٰی هِرَقْلَ عَظِیْمِ الرُّوْمِ۔ سَلَامٌ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰی۔ اَمَّا بَعْدُ فَاِنِّیْ اَدْعُوْكَ بِدِعَایَةِ الْاِسْلَامِ اَسْلِمْ تَسْلَمْ یُؤْتِكَ اللّٰهُ اَجْرَكَ مَرَّتَیْنِ فَاِنْ تَوَلَّیْتَ فَاِنَّ عَلَیْكَ اِثْمَ الْاَرِیْسِیِّیْنَ وَ یٰۤاَهْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوا اِلٰی کَلِمَةٍ سَوَاۗءٍۢ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِکَ بِهٖ شَیْـًٔا وَّلَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ۳۳۲

یعنی یہ خط محمد اللہ کے بندے اور اُس کے رسول کی طرف سے رُوم کے بادشاہ ہرقل کی طرف لکھا جاتا ہے۔ جو شخص بھی خدا کی ہدایت کے پیچھے چلے اُس پر خدا کی سلامتیاں نازل ہوں۔ اس کے بعد اے بادشاہ! میں تجھے اسلام کی دعوت پیش کرتا ہوں (یعنی خدائے واحد اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی) اے بادشاہ! تو مسلمان ہوجا۔ تو خدا تجھے تمام فتنوں سے بچالے گا۔ اور تجھے دُہرا اجر دے گا۔ (یعنی عیسیٰؑ پر ایمان لانے کا بھی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا بھی) لیکن اگر تو نے اس بات کے ماننے سے انکار کر دیا تو صرف تیری ہی جان کا گناہ تجھ پر نہیں ہوگا بلکہ تیری رعایا کے ایمان نہ لانے کا گناہ بھی تجھ پر ہوگا ۔ (آخر میں قرآن شریف کی آیت درج تھی جس کے معنی یہ ہیں کہ) اے اہلِ کتاب! آؤ اس بات پر تو اکٹھے ہو جائیں جو تمہارے اور ہمارے درمیان مشترک ہے یعنی ہم خدا تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی چیز کو اُس کا شریک نہ بنائیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہم کسی بندے کو بھی اتنی عزت نہ دیں کہ وہ خدائی صفات سے متصف کیا جانے لگے۔ اگر اہلِ کتاب اس دعوتِ اتحاد کو قبول نہ کریں تو اے محمد رسول اللہ اور ان کے ساتھیو! ان سے کہہ دو کہ ہم تو خدا تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں۔

بعض تاریخوں میں لکھا ہے کہ جب یہ خط بادشاہ کے سامنے پیش ہوا تو درباریوں میں سے بعض نے کہا کہ اس خط کو پھاڑ کر پھینک دینا چاہئے کیونکہ اس میں بادشاہ کی ہتک کی گئی ہے اور خط کے اوپر بادشاہِ روم نہیں لکھا گیا بلکہ صاحب الروم یعنی روم کا والی لکھا ہے مگر بادشاہ نے کہا یہ عقل کے خلاف ہے کہ خط پڑھنے سے پہلے پھاڑ دیا جائے اور یہ جو اُس نے مجھے روم کا والی لکھا ہے یہ درست ہے آخر مالک تو خدا ہی ہے میں والی ہی ہوں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا روم کے بادشاہ نے جو طریق اختیار کیا ہے اس کی وجہ سے اس کی حکومت بچالی جائے گی اور اس کی اولاد دیر تک حکومت کرتی رہے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ بعد کی جنگوں میں گو بہت سا ملک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دوسری پیشگوئی کے ماتحت روم کے بادشاہ کے ہاتھ سے چھینا گیا مگر اس واقعہ کے چھ سو سال بعد تک اس کے

خاندان کی حکومت قسطنطنیہ میں قائم رہی۔ روم کی حکومت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط بہت دیر تک محفوظ رہا۔ چنانچہ بادشاہ منصور قلاوون کے بعض سفیر ایک دفعہ بادشاہِ روم کے پاس گئے تو بادشاہ نے ان کو دکھانے کے لئے ایک صندوقچہ منگوایا اور کہا کہ میرے ایک دادا کے نام تمہارے رسول کا ایک خط آیا تھا جو آج تک ہمارے پاس محفوظ ہے۔

فارس کے بادشاہ کے نام خط

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خط فارس کے بادشاہ کی طرف لکھا تھا وہ عبداللہ بن حذافہ کی معرفت بھجوایا گیا تھا اس کے الفاظ یہ تھے:۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ مِنْ مُّحَمَّدٍ رَّسُوْلِ اللّٰهِ اِلٰی کِسْرٰی عَظِیْمِ الْفَارِسِ ۔ سَلَامٌ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰی ۔ وَامَنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ وَشَهِدَ اَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ ۔ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ وَ اَدْعُوْکَ بِدِعَایَةِ اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ فَإِنِّیْ اَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ إِلَی النَّاسِ کَافَّةً، لِاُ نْذِرَ مَنْ كَانَ حَيًّا وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَافِرِيْنَ اَسْلِمْ تَسْلَمْ فَاِنْ اَبَیْتَ فَعَلَیْکَ اِثْمُ الْمَجُوْسِ ۔۳۳۳

یعنی اللہ کا نام لے کر جو بے انتہاء کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے یہ خط محمد رسول اللہ نے کسریٰ فارس کے سردار کی طرف لکھا ہے۔ جو شخص کامل ہدایت کی اتباع کرے اور اللہ پر اور اُس کے رسول پر ایمان لائے اور گواہی دے کہ اللہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں اُس پر خدا کی سلامتی ہو۔ اے بادشاہ! میں تجھے خدا کے حکم کے ماتحت اسلام کی طرف بلاتا ہوں کیونکہ میں تمام انسانوں کی طرف خدا کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں تاکہ ہر زندہ شخص کو میں ہوشیار کر دوں اور کافروں پر حجت تمام کردوں۔ تو اسلام قبول کر تا تو ہر ایک فتنہ سے محفوظ رہے اگر تو اس دعوت سے انکار کرے گا تو سب مجوس کا گناہ تیرے ہی سر پر ہوگا۔

عبداللہ بن حذافہؓ کہتے ہیں کہ جب میں کسریٰ کے دربار میں پہنچا تو میں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی جو دی گئی۔ جب میں نے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط کسریٰ کے ہاتھ میں دیا تو اُس نے ترجمان کو پڑھ کر سنانے کا حکم دیا۔ جب ترجمان نے اس کا ترجمہ پڑھ کر

سنایا تو کسریٰ نے غصہ سے خط پھاڑ دیا۔ جب عبداللہ بن حذافہ نے یہ خبر آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی تو آپ نے فرمایا۔ کسریٰ نے جو کچھ ہمارے خط کے ساتھ کیا خدا تعالیٰ اس کی بادشاہت کے ساتھ بھی ایسا ہی کرے گا۔ کسریٰ کی اس حرکت کا باعث یہ تھا کہ عرب کے یہودیوں نے اُن یہودیوں کے ذریعہ سے جو روم کی حکومت سے بھاگ کر ایران کی حکومت میں چلے گئے تھے اور بوجہ رومی حکومت کے خلاف سازشوں میں کسریٰ کا ساتھ دینے کے کسریٰ کے بہت منہ چڑھے ہوئے تھے کسریٰ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بہت بھڑکا رکھا تھا۔ جو شکایتیں وہ کر رہے تھے اس خط نے کسریٰ کے خیال میں اُن کی تصدیق کر دی اور اس نے خیال کیا کہ یہ شخص میری حکومت پر نظر رکھتا ہے۔ چنانچہ اس خط کے معاً بعد کسریٰ نے اپنے یمن کے گورنر کو ایک چٹھی لکھی جس کا مضمون یہ تھا کہ قریش میں سے ایک شخص نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے اور اپنے دعوؤں میں بہت بڑھتا چلا جاتا ہے تو فوراً اس کی طرف دو آدمی بھیج جو اُس کو پکڑ کر میری خدمت میں حاضر کریں۔ اس پر باذان نے جو اُس وقت کسریٰ کی طرف سے یمن کا گورنر تھا ایک فوجی افسر اور ایک سوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھجوائے اور ایک خط بھی آپ کی طرف لکھا کہ آپ اس خط کے ملتے ہی فوراً ان لوگوں کے ساتھ کسریٰ کے دربار میں حاضر ہو جائیں۔ وہ افسر پہلے مکہ کی طرف گیا۔ طائف کے قریب پہنچ کر اُسے معلوم ہوا کہ آپ مدینہ میں رہتے ہیں۔ چنانچہ وہ وہاں سے مدینہ گیا۔ مدینہ پہنچ کر اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ کسریٰ نے باذان گورنر یمن کو حکم دیا ہے کہ آپ کو پکڑ کر اُس کی خدمت میں حاضر کیا جائے۔ اگر آپ اس حکم کا انکار کریں گے تو وہ آپ کو بھی ہلاک کر دے گا اور آپ کی قوم کو بھی ہلاک کر دے گا اور آپ کے ملک کو برباد کر دے گا اس لئے آپ ضرور ہمارے ساتھ چلیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی بات سن کر فرمایا۔ اچھا کل پھر تم مجھ سے ملنا۔ رات کو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور خدائے ذوالجلال نے آپ کو خبر دی کہ کسریٰ کی گستاخی کی سزا میں ہم نے اس کے بیٹے کو اُس پر مسلط کر دیا ہے چنانچہ وہ اُسی سال جمادی الاولیٰ کی دسویں تاریخ پیر کے دن اس کو قتل کر دے گا اور بعض روایات میں ہے کہ آپ نے فرمایا آج کی رات اس نے اُسے قتل کر دیا ہے ممکن ہے وہ رات وہی دس جمادی الاولیٰ کی رات ہو۔ جب صبح ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن دونوں کو بلایا اور اُن کو اس پیشگوئی کی خبر دی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باذان کی طرف خط لکھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ کسریٰ فلاں تاریخ فلاں مہینے قتل کر دیا جائے گا۔ جب یہ خط یمن کے گورنر کو پہنچا تو اس نے کہا اگر یہ سچا نبی ہے تو ایسا ہی ہو جائے گا ۔ ورنہ اس کی اور اس کے ملک کی خیر نہیں ۔ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد ایران کا ایک جہاز یمن کی بندرگاہ پر آکر ٹھہرا اور گورنر کو ایران کے بادشاہ کا ایک خط دیا جس کی مہر کو دیکھتے ہوئے یمن کے گورنر نے کہا۔ مدینہ کے نبی نے سچ کہا تھا ۔ ایران کی بادشاہت بدل گئی اور اس خط پر ایک اور بادشاہ کی مہر ہے۔ جب اس نے خط کھولا تو اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ باذان گورنر یمن کی طرف ایران کے کسریٰ شیرویہ کی طرف سے یہ خط لکھا جاتا ہے۔ میں نے اپنے باپ سابق کسریٰ کو قتل کر دیا ہے اس لئے کہ اس نے ملک میں خونریزی کا دروازہ کھول دیا تھا اور ملک کے شرفاء کو قتل کرتا تھا اور رعایا پر ظلم کرتا تھا۔ جب میرا یہ خط تم تک پہنچے تو فوراً تمام افسروں سے میری اطاعت کا اقرار لو اور اس سے پہلے میرے باپ نے جو عرب کے ایک نبی کی گرفتاری کا حکم تم کو بجھوایا تھا اُس کو منسوخ سمجھو ۔ ۳۳۴؎ یہ خط پڑھ کر باذان اتنا متاثر ہوا کہ اُسی وقت وہ اور اس کے کئی ساتھی اسلام لے آئے اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسلام کی اطلاع دے دی ۔

نجاشی شاہ حبشہ کے نام خط

تیسرا خط آپ نے نجاشی کے نام لکھا جو عمرو بن امیہ ضمری کے ہاتھ بھجوایا تھا اس کی عبارت یہ تھی ۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - مِنْ مُّحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى النَّجَاشِي مَلِكِ الْحَبْشَةَ سَلَّمٌ أَنْتَ اَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ - وَأَشْهَدُ اَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رُوحُ اللَّهِ وَ كَلِمَتُةَ الْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ الْبَتُولَ وَإِنِّي أَدْعُوكَ إِلَى اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَالْمَوَالَاة عَلَى طَاعَتِهِ وَإِنْ تَتَّبِعَنِي وَتُؤْمِنَ بِالَّذِي جَاءَ نِي فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَإِنِّى اَدْعُوكَ وَجُنُودَكَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَدْ بَلَّغْتُ وَ نَصَحَتُ فَاقْبِلُوا نَصِيحَتِي وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى ۳۳۵

یعنی اللہ تعالیٰ کا نام لے کر جو بے انتہاء کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ محمدؐ رسول اللہ نجاشی حبشہ کے بادشاہ کی طرف یہ خط لکھتے ہیں۔ اے بادشاہ! تجھ پر خدا کی سلامتی نازل ہو رہی ہے (چونکہ اس بادشاہ نے مسلمانوں کو پناہ دی تھی اس لئے آپ نے اُس کو خبر دی کہ تیرا یہ فعل خدا کے نزدیک مقبول ہوا ہے اور تو خدا کی حفاظت میں ہے) میں اس خدا کی حمد تیرے سامنے بیان کرتا ہوں جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں جو حقیقی بادشاہ ہے، جو تمام پاکیزگیوں کا جامع ہے جو ہر عیب سے پاک ہے اور ہر نقص سے پاک کرنے والا ہے، جو اپنے بندوں کے لئے امن کے سامان پیدا کرتا ہے اور اپنی مخلوق کی حفاظت کرتا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ عیسیٰؑ بن مریم اللہ تعالیٰ کے کلام کو دنیا میں پھیلانے والے تھے اور خدا تعالیٰ کے ان وعدوں کو پورا کرنے والے تھے جو خدا تعالیٰ نے مریم سے جس نے اپنی زندگی خدا کے لئے وقف کر دی تھی پہلے سے کئے ہوئے تھے اور میں تجھے خدائے وحدہٗ لاشریک سے تعلق پیدا کرنے اور اُس کی اطاعت پر باہمی معاہدہ کرنے کی دعوت دیتا ہوں اور تجھے اس بات کی میں دعوت دیتا ہوں کہ تو میری اتباع کرے اور اُس خدا پر ایمان لائے جس نے مجھے ظاہر کیا ہے کیونکہ میں اُس کا رسول ہوں اور میں تجھے دعوت دیتا ہوں اور تیرے لشکروں کو بھی خدائے عزوجل کے دین میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔ میں نے اپنی ذمہ داری کو ادا کر دیا ہے اور خدا کا پیغام تجھ تک پہنچا دیا ہے اور اخلاص سے تم پر حقیقت کھول دی ہے پس میرے اخلاص کی قدر کرو اور ہر شخص جو خدا تعالیٰ کی ہدایت کی اتباع کرتا ہے اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے سلامتی نازل ہوتی ہے۔

جب یہ خط نجاشی کو پہنچا تو اُس نے بڑے ادب سے اس خط کو اپنی آنکھوں سے لگایا اور تخت سے نیچے اُتر کر کھڑا ہو گیا اور کہا کہ ہاتھی دانت کا ایک ڈبہ لاؤ۔ چنانچہ ایک ڈبہ لایا گیا اُس نے وہ خط ادب کے ساتھ اُس ڈبہ میں رکھ دیا اور کہا کہ جب تک یہ خط محفوظ رہے گا حبشہ کی حکومت بھی محفوظ رہے گی۔ چنانچہ نجاشی کا یہ خیال درست ثابت ہوا ایک ہزار سال تک اسلام ساری دنیا پر سمندر کی لہروں کی طرح اُٹھتا ہوا پھیلتا چلا گیا لیکن حبشہ کے دائیں سے بھی اسلامی لشکر نکل گئے اور حبشہ کے بائیں سے بھی اسلامی لشکر نکل گئے۔ مگر اس احسان کی وجہ سے جو حبشہ کے بادشاہ نے ابتدائی اسلامی مہاجرین کے ساتھ کیا تھا اور اس احترام کی وجہ سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کا نجاشی نے کیا تھا اُنہوں نے حبشہ کی طرف نظر اُٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ قیصر جیسے بادشاہ کی حکومت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ کسریٰ جیسے بادشاہ کی حکومت کا نام ونشان مٹ گیا۔ چین اور ہندوستان کی شہنشاہیاں تہہ و بالا کر دی گئیں مگر حبشہ کی ایک چھوٹی سے حکومت محفوظ رکھی گئی اس لئے کہ اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی ساتھیوں کے ساتھ ایک احسان اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کا ادب اور احترام کیا تھا۔ یہ تو وہ سلوک تھا جو ایک ادنیٰ سے احسان کے بدلہ میں حبشہ والوں سے مسلمانوں نے کیا۔ مگر عیسائی اقوام نے جو ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا بھی پھیر دینے کی مدعی ہیں اپنے ہم مذہب اور ہم طریقہ بادشاہِ حبشہ اور اس کی قوم کے ساتھ جو سلوک اِن دنوں کیا ہے وہ بھی دنیا کے سامنے ظاہر ہے۔ کس طرح حبشہ کے شہروں کو بمباری سے اُڑا دیا گیا اور بادشاہ اور اُس کی محترم ملکہ اور اُس کے بچوں کو اپنا ملک چھوڑ کر غیر ملکوں میں سالہا سال پناہ لینی پڑی۔ کیا حبشہ سے یہ دوقسم کا سلوک ایک مسلمانوں کا ایک عیسائیوں کا اُس قوتِ قدسیہ کو ثابت نہیں کرتا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی اور جو آج تک بھی کہ مسلمان بہت کچھ دین سے دور جا چکے ہیں اُن کے خیالات کو نیکی اور احسان مندی کی طرف مائل رکھتی ہے۔

مقوقس شاہِ مصر کے نام خط

چوتھا خط آپ نے مقوقس بادشاہِ مصر کی طرف لکھا تھا اور یہ خط حاطب بن ابی بلتعہؓ کی معرفت آپ نے بھجوایا۔ اس کا مضمون یہ تھا:۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مِنْ مُّحَمَّدٍ رَّسُوْلِ اللّٰهِ اِلَى الْمُقَوْقَسِ عَظِیْمِ الْقِبْطِ سَلَامٌ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰی۔ اَمَّا بَعْدُ فَاِنِّیْۤ اَدْعُوْكَ بِدِعَایَةِ الْاِسْلَامِ اَسْلِمْ تَسْلَمْ یُؤْتِكَ اللّٰهُ اَجْرَكَ مَرَّتَیْنِ فَاِنْ تَوَلَّیْتَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ اِثْمُ الْقِبْطِ ۔ وَیٰۤاَھْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْـًٔا وَّلَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاِنْ تَوَلَّوۡا فَقُوۡلُوا اشۡہَدُوۡا بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ(۳۴۶)

یہ خط بعینہٖ وہی ہے جو روم کے بادشاہ کو لکھا گیا تھا ، صرف یہ فرق ہے کہ اُس میں یہ لکھا تھا کہ اگر تم نہ مانے تو رومی رعایا کے گناہوں کا بوجھ بھی تم پر ہو گا اور اس میں یہ تھا کہ قبطیوں کے گناہوں کا بوجھ تم پر ہو گا۔ جب حاطبؓ مصر پہنچے تو اُس وقت مقوقس اپنے دارالحکومت میں نہیں تھا بلکہ اسکندریہ میں تھا۔ حاطبؓ اسکندریہ گئے جہاں بادشاہ نے سمندر کے کنارے ایک مجلس لگائی ہوئی تھی۔ حاطبؓ ایک کشتی میں سوار ہو کر اُس مقام تک گئے اور چونکہ اردگرد پہرہ تھا اُنہوں نے دور سے خط کو بلند کر کے آوازیں دینی شروع کیں ۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ اس شخص کو لایا جائے اور اس کی خدمت میں پیش کیا جائے ۔ بادشاہ نے خط پڑھا اور حاطبؓ سے کہا اگر یہ سچا نبی ہے تو اپنے دشمنوں کے خلاف دعا کیوں نہیں کرتا؟ حاطبؓ نے کہا کہ تم عیسیٰ بن مریم پر تو ایمان لاتے ہو۔ یہ کیا بات ہے کہ عیسیٰ کو اُن کی قوم نے دُکھ دیا لیکن عیسیٰ نے یہ دعا نہ کی کہ وہ ہلاک ہو جائیں ۔ بادشاہ نے سن کر کہا کہ تم ایک عقلمند کی طرف سے ایک عقلمند سفیر ہو اور تم نے خوب جواب دیا ہے۔ اس پر حاطبؓ نے کہا اے بادشاہ! تجھ سے پہلے ایک بادشاہ تھا جو کہا کرتا تھا کہ میں بڑا ربّ ہوں یعنی فرعون ۔ آخر خدا نے اُس پر عذاب نازل کیا۔ پس تو تکبر نہ کر اور خدا کے اِس نبی پر ایمان لے آ اور خدا کی قسم! موسیٰ نے عیسیٰ کے متعلق ایسی خبریں نہیں دیں جیسی عیسیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دی ہیں اور ہم تمہیں اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلاتے ہیں جس طرح تم لوگ یہودیوں کو عیسیٰ کی طرف بلاتے ہو اور ہر نبی کی ایک اُمت ہوتی ہے اور اُس کا فرض ہوتا ہے کہ اُس کی اطاعت کرے۔ پس جبکہ تم نے اِس نبی کا زمانہ پایا ہے تو تمہارا فرض ہے کہ اِس کو قبول کرو اور ہمارا دین تم کو مسیح کی اتباع سے روکتا نہیں بلکہ ہم تو دوسروں کو بھی حکم دیتے ہیں کہ وہ مسیح پر ایمان لائیں۔ اس پر مقوقس نے کہا میں نے اِس نبی کے حالات سنے ہیں اور میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ وہ کسی بُری بات کا حکم نہیں دیتا اور کسی اچھی بات سے روکتا نہیں اور میں نے معلوم کیا ہے کہ وہ شخص ساحروں اور کاہنوں کی طرح نہیں ہے اور میں نے بعض اس کی پیشگوئیاں سنی ہیں جو پوری ہوئی ہیں۔ پھر اُس نے ایک ڈبیہ ہاتھی دانت کی منگوائی اور اُس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط رکھ دیا اور اُس پر مہر لگا دی

اور اپنی ایک لونڈی کے سپرد کر دیا اور پھر اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام یہ خط لکھا:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

محمد بن عبداللہ کی طرف مقوقس قبط کا بادشاہ خط لکھتا ہے کہ آپ پر سلامتی ہو۔ اس کے بعد میں یہ کہتا ہوں کہ میں نے آپ کا خط پڑھا ہے اور جو کچھ اس میں آپ نے ذکر کیا ہے اور جن باتوں کی طرف بلایا ہے اُن پر غور کیا ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی پیشگوئیوں کے مطابق ایک نبی کا آنا ابھی باقی ہے۔ لیکن میرا خیال تھا کہ وہ شام سے ظاہر ہو گا میں نے آپ کے سفیر کو بڑی عزت سے ٹھہرایا ہے اور ایک ہزار پونڈ اور پانچ جوڑے خلعت کے طور پر اُسے دیئے ہیں اور میں دو مصری لڑکیاں آپ کے لئے تحفہ کے طور پر بھجوا رہا ہوں۔ قبطی قوم کے نزدیک اِن لڑکیوں کی بڑی عزت ہے اور ان میں سے ایک کا نام ماریہ ہے اور ایک کا نام سیرین ہے اور مصری کپڑے کے اعلیٰ درجہ کے بیس جوڑے بھی آپ کی خدمت میں بھجوا رہا ہوں اور اسی طرح ایک خچر آپ کی سواری کے لئے بھجوا رہا ہوں اور آخر میں پھر دعا کرتا ہوں کہ خدا کی آپ پر سلامتی ہو ۷۴؎ اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ گو مقوقس نے آپ کے خط سے ادب اور احترام کا معاملہ کیا مگر وہ اسلام نہیں لایا۔

رئیسِ بحرین کے نام خط

پانچواں خط آپ نے منذر تیمی کی طرف جو بحرین کا رئیس تھا بھجوایا تھا۔ یہ خط علاء ابن حضرمیؓ کے ہاتھ بھجوایا گیا تھا۔

اس خط کی عبارت محفوظ نہیں۔ یہ خط جب اس کے پاس پہنچا تو وہ ایمان لے آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھا کہ میں اور میرے بہت سے ساتھی آپ پر ایمان لے آئے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو اسلام میں داخل نہیں ہوئے اور میرے ملک میں کچھ یہودی اور مجوسی بھی رہتے ہیں آپ اُن کے بارہ میں مجھے حکم دیں کہ میں ان سے کیا سلوک کروں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خط لکھا جس کی عبارت یہ تھی کہ ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ تم نے اسلام قبول کر لیا ہے جو پیغامبر میری طرف سے آئیں تم اُن کے احکام کی اتباع کیا کرو۔ کیونکہ جو ان کی اتباع کرے گا وہ میری اتباع کرے گا۔ جو میرا سفیر تمہاری طرف گیا تھا اُس نے تمہاری بہت تعریف کی ہے اور ظاہر کیا ہے کہ تم نے اسلام قبول کر لیا ہے اور میں نے خدا تعالیٰ سے تمہاری قوم کے بارہ میں دعا کی ہے۔ پس مسلمانوں میں اسلامی طور و طریق جاری کرو اور ان کے اموال کی حفاظت کرو اور چار بیویوں سے زیادہ کسی کو اپنے گھر میں رکھنے کی اجازت نہ دو اور مسلمان ہونے والوں سے جو گناہ پہلے ہو چکے ہیں وہ انہیں معاف کئے جائیں اور جب تک نیکی پر قائم رہو گے تمہیں اپنی حکومت سے معزول نہیں کیا جائے گا اور جو یہودی یا مجوس ہیں ان پر صرف ایک ٹیکس مقرر ہے اور کوئی مطالبہ ان سے نہ کرنا۔۳۴۸

اس کے علاوہ آپ نے عُمان کے بادشاہ اور یمامہ کے سردار اور غسان کے بادشاہ اور یمن کے قبیلہ بنی نَہْد کے سردار اور یمن کے قبیلہ ہمدان کے سردار اور بنی علیم کے سردار اور حَضْرَمی قبیلہ کے سردار کی طرف بھی خطوط لکھے۔ جن میں سے اکثر لوگ مسلمان ہو گئے۔ اِن خطوط کا لکھنا بتاتا ہے کہ آپ خدا تعالیٰ پر کیسا کامل یقین رکھتے تھے اور کس طرح شروع سے ہی آپ کو یہ یقین تھا کہ آپ کسی ایک قوم کی طرف نبی بنا کر نہیں بھیجے گئے بلکہ آپ ساری اقوام کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جن بادشاہوں اور رئیسوں کو خط لکھے گئے تھے ان میں سے بعض اسلام لے آئے۔ بعضوں نے ادب اور احترام کے ساتھ خط تو قبول کر لئے لیکن اسلام نہ لائے۔ بعضوں نے معمولی شرافت دکھائی اور بعضوں نے خود پسندی اور کبر کا نمونہ دکھایا لیکن اِس میں بھی کوئی شبہ نہیں اور دنیا کی تاریخ اس پر شاہد ہے کہ اُن میں سے ہر بادشاہ اور قوم کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کیا گیا جیسا کہ اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوں کے ساتھ معاملہ کیا تھا۔

قلعہ خیبر کی تسخیر

جیسا کہ اُوپر بیان کیا جا چکا ہے یہودی اور کفارِ عرب مسلمانوں کے خلاف اردگرد کے قبائل کو اُبھار رہے تھے اور اب یہ دیکھ کر کہ عرب میں اتنی سکت باقی نہیں رہی کہ وہ مسلمانوں کو تباہ کر سکیں یا مدینہ پر جا کر حملہ کر سکیں۔ یہودیوں نے ایک طرف تو رومی حکومت کی جنوبی سرحد پر رہنے والے عرب قبائل کو جو مذہباً عیسائی تھے، اُکسانا شروع کیا اور دوسری طرف اپنے ان ہم مذہبوں کو جو عراق میں رہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف چٹھیاں لکھنی شروع کیں تاکہ وہ کسریٰ کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکائیں۔ میں یہ بھی اُوپر لکھ چکا ہوں کہ اِس شرارت کے نتیجہ میں کسریٰ مسلمانوں کے خلاف سخت بھڑک گیا تھا اور اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لئے یمن کے گورنر کو حکم بھی دے دیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محفوظ رکھا اور کسریٰ اور یہودیوں کی تدبیر کو ناکام کر دیا۔ ظاہر ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل نہ ہوتا تو جہاں تک مادی سامانوں کا تعلق ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف کسریٰ اور دوسری طرف قیصر کے لشکروں کا کیا مقابلہ کر سکتے تھے۔ خدا ہی تھا جس نے کسریٰ کو مار دیا اور اس کے بیٹے سے یہ حکم جاری کروا دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں کوئی کارروائی نہ کی جائے اور اس نشان کو دیکھ کر یمن کے حکام اسلام لے آئے اور یمن کا صوبہ بغیر لشکرکشی کے اسلامی حکومت میں داخل ہو گیا۔ یہ صورت حالات جو یہود نے پیدا کر دی تھی اس بات کی متقاضی تھی کہ یہود کو مدینہ سے اور بھی پرے دھکیل دیا جائے کیونکہ اگر وہ مدینہ کے قریب رہتے تو یقیناً اور بھی زیادہ خونریزیوں اور شرارتوں اور سازشوں کے مرتکب ہوتے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ سے واپس آنے کے قریباً پانچ ماہ بعد یہ فیصلہ کیا کہ یہودی خیبر سے جو مدینہ سے صرف چند منزل کے فاصلہ پر تھا اور جہاں سے مدینہ کے خلاف آسانی سے سازش کی جاسکتی تھی نکال دیئے جائیں۔ چنانچہ آپ نے سولہ سَو صحابہؓ کے ساتھ اگست ۶۲۸ء میں خیبر کی طرف کوچ فرمایا۔ خیبر ایک قلعہ بند شہر تھا اور اس کے چاروں طرف چٹانوں کے اوپر قلعے بنے ہوئے تھے۔ ایسے مضبوط شہر کو اتنے تھوڑے سے سپاہیوں کے ساتھ فتح کر لینا کوئی آسان بات نہ تھی اِردگرد کی چھوٹی چھوٹی چوکیاں تو چھوٹی چھوٹی لڑائیوں کے بعد فتح ہو گئیں۔ لیکن جب یہودی سمٹ سمٹا کر شہر کے مرکزی قلعہ میں آگئے تو اس کے فتح کرنے کی تمام تدابیر بیکار جانے لگیں۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے بتایا کہ اس شہر کی فتح حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر مقدر ہے آپ نے صبح کے وقت یہ اعلان کیا کہ میں اسلام کا سیاہ جھنڈا آج اس کے ہاتھ میں دوں گا جس کو خدا اور اس کا رسول اور مسلمان پیار کرتے ہیں خدا تعالیٰ نے اِس قلعہ کی فتح اس کے ہاتھ پر مقدر کی ہے۔ اس کے بعد دوسری صبح آپ نے حضرت علیؓ کو بلایا اور جھنڈا اُن کے سپرد کیا۔ جنہوں نے صحابہؓ کی فوج کو ساتھ لے کر قلعہ پر حملہ کیا۔ باوجود اس کے کہ یہودی قلعہ بند تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت علیؓ اور دوسرے صحابہؓ کو اُس دن ایسی قوت بخشی کہ شام سے پہلے پہلے قلعہ فتح ہو

گیا۴۳۹اور اس بات پر صلح ہوئی کہ تمام یہودی اور ان کے بیوی بچے خیبر چھوڑ کر مدینہ سے دور چلے جائیں گے اور ان کے تمام اموال مسلمانوں کے حق میں ضبط ہوں گے اور یہ کہ جو شخص اس معاملہ میں جھوٹ سے کام لے گا اور کوئی مال یا جنس چھپا کر رکھے گا وہ اس معاہدہ کی حفاظت میں نہیں آئے گا اور غداری کی سزا کا مستحق ہو گا۔

تین عجیب واقعات

اس جنگ میں تین عجیب واقعات پیش آئے کہ اُن میں سے ایک تو خدا تعالیٰ کے ایک نشان پر دلالت کرتا ہے اور دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ عالیہ پر۔ نشان تو یہ ہے کہ اس جنگ کے بعد جب خیبر کے رئیس کنانہ کی بیوی صفیہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں تو آپ نے دیکھا کہ ان کے چہرہ پر کچھ لمبے لمبے نشان ہیں۔ آپ نے فرمایا صفیہؓ! تمہارے یہ نشان کیسے ہیں؟ اُنہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! ایک دن میں نے ایک خواب دیکھی کہ چاند گر کر میری جھولی میں آ پڑا ہے۔ میں نے دوسرے دن یہ خواب اپنے خاوند کو سنائی میرے خاوند نے کہا یہ عجیب خواب ہے تمہارا باپ بڑا عالم آدمی ہے اُس کو چل کر یہ خواب سنانی چاہئے۔ چنانچہ میں نے اپنے باپ سے اس کا ذکر کیا تو خواب سنتے ہی اُس نے زور سے میرے منہ پر تھپڑ مارا اور کہا نالائق! کیا تو عرب کے بادشاہ سے شادی کرنا چاہتی ہے!۴۴۰یہ اس نے اس لئے کہا کہ عرب کا قومی نشان چاند تھا۔ اگر کوئی خواب میں یہ دیکھتا کہ چاند اس کی جھولی میں آپڑا ہے تو اس کی تعبیر یہ کی جاتی تھی کہ عرب کے بادشاہ کے ساتھ اس کا تعلق ہو گیا ہے اور اگر کوئی خواب دیکھتا کہ چاند پھٹ گیا ہے یا گر گیا ہے تو اس کی تعبیر یہ کی جاتی تھی کہ عرب کی حکومت میں تفرقہ پڑ گیا ہے یا وہ تباہ ہو گئی ہے۔

یہ خواب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا ایک نشان ہے اور اس بات کا بھی نشان ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو غیب کی خبریں دیتا رہتا ہے۔ گو مومنوں کو زیادہ اور غیر مومنوں کو کم۔ حضرت صفیہؓ ابھی یہودی ہی تھیں کہ ان کو خدا تعالیٰ نے یہ مصفیٰ غیب عطا فرمایا جس کے مطابق ان کا خاوند معاہدہ کی خلاف ورزی کی سزا میں مارا گیا اور وہ باوجود اس کے کہ ایک اور صحابی کی قید میں گئی تھیں بعض لوگوں کے اصرار پر بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں اور اس طرح وہ غیب پورا ہوا جو خدا تعالیٰ نے اُنہیں بتایا تھا۔

دوسرا قابلِ ذکر واقعہ یہ ہے کہ خیبر کے محاصرہ کے دنوں میں ایک یہودی رئیس کا گلہ بان جو اس کی بکریاں چرایا کرتا تھا مسلمان ہو گیا۔ مسلمان ہونے کے بعد اس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! میں اب ان لوگوں میں تو جا نہیں سکتا اور یہ بکریاں اُس یہودی کی میرے پاس امانت ہیں اب میں ان کو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا بکریوں کا منہ قلعہ کی طرف کر دو اور ان کو دھکیل دو۔ خدا تعالیٰ ان کو ان کے مالک کے پاس پہنچا دے گا۔ چنانچہ اس نے اسی طرح کیا اور بکریاں قلعہ کے پاس چلی گئیں جہاں سے قلعہ والوں نے ان کو اندر داخل کر لیا۔۳۴۱

اس واقعہ سے پتہ لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس شدت سے امانت کے اصول پر عمل کرتے تھے اور کرواتے تھے۔ لڑنے والوں کے اموال آج بھی جنگ میں حلال سمجھے جاتے ہیں کیا ایسا واقعہ آجکل کے زمانہ میں جو مہذب زمانہ کہلاتا ہے کبھی ہوا ہے کہ دشمن فوج کے جانور ہاتھ آ گئے ہوں تو ان کو دشمن فوج کی طرف واپس کر دیا گیا ہو؟ با وجود اس کے کہ وہ بکریاں ایک لڑنے والے دشمن کا مال تھیں اور با وجود اس کے کہ ان کے قلعے میں واپس چلے جانے کے نتیجہ میں دشمن کے لئے مہینوں کی غذا کا سامان ہو جاتا تھا جس کے بھروسہ پر وہ ایک لمبے عرصہ تک محاصرہ کو جاری رکھ سکتا تھا۔ آپ نے ان بکریوں کو قلعہ میں واپس کروا دیا تا ایسا نہ ہو کہ اس مسلمان کی امانت میں فرق آئے جس کے سپرد بکریاں تھیں۔

تیسرا واقعہ یہ ہوا کہ ایک یہودی عورت نے صحابہؓ سے پوچھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جانور کے کس حصہ کا گوشت زیادہ پسند ہے؟ صحابہؓ نے بتایا کہ آپ کو دست کا گوشت زیادہ پسند ہے۔ اس پر اس نے بکرا ذبح کیا اور پتھروں پر اس کے کباب بنائے اور پھر اس گوشت میں زہر ملا دیا۔ خصوصاً بازوؤں میں جس کے متعلق اسے بتایا گیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں کا گوشت زیادہ پسند کرتے ہیں۔

سورج ڈوبنے کے بعد جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شام کی نماز پڑھ کر اپنے ڈیرے کی طرف واپس آ رہے تھے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کے خیمے کے پاس ایک عورت بیٹھی ہے۔ آپ نے اس سے پوچھا۔ بی بی تمہارا کیا کام ہے؟ اس نے کہا اے ابوالقاسم! میں آپ کے لئے ایک تحفہ لائی ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ساتھی صحابیؓ سے فرمایا جو چیز یہ دیتی

ہے اس سے لے لو۔ اس کے بعد آپ کھانے کے لئے بیٹھے تو کھانے پر وہ بھنا ہوا گوشت بھی رکھا گیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک لقمہ کھایا اور آپ کے ایک صحابی بشیر بن البراء بن المعرور نے بھی ایک لقمہ کھایا۔ اتنے میں باقی صحابہؓ نے بھی گوشت کھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو آپ نے فرمایا مت کھاؤ کیونکہ اس ہاتھ نے مجھے خبر دی ہے کہ گوشت میں زہر ملا ہوا ہے (اس کے یہ معنی نہیں کہ آپ کو اس بارہ میں کوئی الہام ہوا تھا بلکہ یہ عرب کا محاورہ ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کا گوشت چکھ کر مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے چنانچہ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ایک دیوار کے متعلق آتا ہے کہ وہ گرنا چاہتی تھی۔۳۴۲جس کے محض یہ معنی ہیں کہ اس میں گرنے کے آثار پیدا ہو چکے تھے۔ پس اس جگہ پر بھی یہ مراد نہیں کہ آپ نے فرمایا وہ دست بولا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کا گوشت چکھنے پر مجھے معلوم ہوا ہے۔ چنانچہ اگلا فقرہ ان معنوں کی وضاحت کر دیتا ہے) اس پر بشیرؓ نے کہا کہ جس خدا نے آپ کو عزت دی ہے اُس کی قسم کھا کر میں کہتا ہوں کہ مجھے بھی اس لقمہ میں زہر معلوم ہوا ہے۔ میرا دل چاہتا تھا کہ میں اس کو پھینک دوں لیکن میں نے سمجھا کہ اگر میں نے ایسا کیا تو شاید آپ کی طبیعت پر گراں نہ گزرے اور آپ کا کھانا خراب نہ ہو جائے اور جب آپ نے وہ لقمہ نگلا تو میں نے بھی آپ کے تتبع میں وہ نگل لیا۔ گو میرا دل یہ کہہ رہا تھا کہ چونکہ مجھے شبہ ہے کہ اس میں زہر ہے اس لئے کاش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لقمہ نہ نگلیں ۔ اس کے تھوڑی دیر بعد بشیرؓ کی طبیعت خراب ہوگئی اور بعض روایتوں میں تو یہ ہے کہ وہ وہیں خیبر میں فوت ہو گئے اور بعض میں یہ ہے کہ اس کے بعد کچھ عرصہ بیمار رہے اور اس کے بعد فوت ہو گئے۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ گوشت اس کا ایک کتے کے آگے ڈلوایا جس کے کھانے سے وہ مر گیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلایا اور فرمایا تم نے اس بکری میں زہر ملایا ہے؟ اس نے کہا آپ کو یہ کس نے بتایا ہے؟ آپ کے ہاتھ میں اُس وقت بکری کا دست تھا آپ نے فرمایا اس ہاتھ نے مجھے بتایا ہے۔ اس پر اس عورت نے سمجھ لیا کہ آپ پر یہ راز کھل گیا ہے اور اس نے اقرار کیا کہ اس نے زہر ملایا ہے؟ اس پر آپ نے اس سے پوچھا کہ اس ناپسندیدہ فعل پر تم کو کس بات نے آمادہ کیا؟ اُس نے جواب دیا کہ میری قوم سے آپ کی لڑائی ہوئی تھی اور میرے رشتہ دار اس لڑائی میں مارے گئے تھے میرے دل میں یہ خیال آیا کہ میں ان کو زہر دے دوں۔ اگر ان کا کاروبار انسانی کاروبار ہو گا تو ہمیں ان سے نجات حاصل ہو جائے گی اور اگر یہ واقعہ میں نبی ہوں گے تو خدا تعالیٰ ان کو خود بچا لے گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ بات سن کر اُسے معاف فرما دیا۳۴۳ اور اُس کی سزا جو یقیناً قتل تھی نہ دی۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح اپنے مارنے والوں اور اپنے دوستوں کے مارنے والوں کو بخش دیا کرتے تھے اور درحقیقت اُسی وقت آپ سزا دیا کرتے تھے جب کسی شخص کا زندہ رہنا آئندہ بہت سے فتنوں کا موجب ہو سکتا تھا۔

طوافِ کعبہ

ہجرت کے ساتویں سال فروری ۶۲۹ء میں معاہدہ کی رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے لئے جانا تھا۔ چنانچہ جب وہ وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریباً دو ہزار آدمیوں سمیت طوافِ کعبہ کے لئے روانہ ہوئے۔ جب آپ مَرّ الظہران تک پہنچے جو مکہ سے ایک پڑاؤ پر ہے تو معاہدہ کے مطابق آپ نے تمام بھاری ہتھیار اور ز رہیں وہاں جمع کر دیں اور خود اپنے صحابہؓ سمیت معاہدہ کے مطابق صرف نیام بند تلواروں کے ساتھ حرم میں داخل ہوئے۔ سات سالہ جلاوطنی کے بعد مہاجرین کا مکہ میں داخل ہونا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ اُن کے دل ایک طرف ان لمبے مظالم کی یاد کر کے خون بہا رہے تھے جو مکہ میں ان پر کئے جاتے تھے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کے اس فضل کو دیکھ کر کہ پھر خدا تعالیٰ نے اُنہیں کعبہ کے طواف کا موقع نصیب کیا ہے وہ خوش بھی ہو رہے تھے۔ مکہ کے لوگ مکہ سے نکل کر پہاڑ کی چوٹیوں پر کھڑے ہو کر مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے۔ مسلمانوں کا دل چاہتا تھا کہ آج وہ ان پر ظاہر کر دیں کہ خدا تعالیٰ نے انہیں پھر مکہ میں داخل ہونے کی توفیق بخشی یا نہیں۔ چنانچہ عبداللہ بن رواحہؓ نے اس موقع پر جنگی گیت گانے شروع کئے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا اور فرمایا۔ ایسے شعر نہ پڑھو بلکہ یوں کہو کہ خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں، وہ خدا ہی ہے جس نے اپنے رسول کی مدد کی اور مؤمنوں کو ذلت کے گڑھے سے نکال کر اونچا کیا۔ صرف خدا ہی ہے جس نے دشمنوں کو ان کے سامنے سے بھگا دیا۔ طوافِ کعبہ اور سعی بین الصفاء والمروہ سے فراغت کے بعد آپ صحابہؓ سمیت تین دن تک مکہ میں ٹھہرے۔ حضرت عباسؓ کی سالی میمونہ جو دیر سے بیوہ ہو چکی تھیں مکہ میں تھیں حضرت عباسؓ نے خواہش کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس سے شادی کر لیں اور آپ نے اسے منظور فرما لیا۔ چوتھے دن مکہ والوں نے مطالبہ کیا کہ آپ حسبِ معاہدہ مکہ سے نکل جائیں اور آپ نے فوراً تمام صحابہؓ کو حکم دیا کہ فوراً مکہ چھوڑ کر مدینہ کی طرف روانہ ہو جائیں۔ مکہ والوں کے احساسات کا خیال کر کے نئی بیاہی ہوئی میمونہؓ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا کہ وہ بعد میں اسباب کی سواریوں کے ساتھ آ جائیں اور خود اپنی سواری دوڑا کر حرم کی حدود سے باہر نکل گئے اور وہیں شام کے وقت آپ کی بیوی میمونہؓ کو پہنچایا گیا اور پہلی رات وہیں جنگل میں میمونہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوئیں۔۳۴۴

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تعددِ ازواج پر اعتراض کا جواب

یہ واقعہ ایسا نہیں ہے کہ اس کو ایسی مختصر سیرت میں بیان کیا جاتا، جس قسم کی سیرت میں اِس وقت لکھ رہا ہوں لیکن اس واقعہ کا ایک ایسا پہلو ہے جو مجھے مجبور کرتا ہے کہ اس معمولی سے واقعہ کو اس جگہ لکھ دوں اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اُن کی کئی بیویاں تھیں اور یہ کہ آپ کا یہ فعل نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ عیاشی پر مبنی تھا مگر جب ہم اس تعلق کو دیکھتے ہیں جو آپ کی بیویوں کو آپ کے ساتھ تھا تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ آپ کا تعلق ایسا پاکیزہ، ایسا بے لوث اور ایسا روحانی تھا کہ کسی ایک بیوی والے مرد کا تعلق بھی اپنی بیوی سے ایسا نہیں ہوتا۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق اپنی بیویوں سے عیاشی کا ہوتا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلنا چاہئے تھا کہ آپ کی بیویوں کے دل کسی روحانی جذبہ سے متاثر نہ ہوتے۔ مگر آپ کی بیویوں کے دل میں آپ کی جو محبت تھی اور آپ سے جو نیک اثر انہوں نے لیا تھا وہ بہت سے ایسے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کی بیویوں کے متعلق تاریخ سے ثابت ہے۔ مثلاً یہی واقعہ کتنا چھوٹا سا تھا کہ میمونہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلی دفعہ حرم سے باہر ایک خیمہ میں ملیں۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُن سے تعلق کوئی جسمانی تعلق ہوتا، اور اگر آپ بعض بیویوں کو بعض پر ترجیح دینے والے ہوتے تو میمونہؓ اس واقعہ کو اپنی زندگی کا کوئی اچھا واقعہ نہ سمجھتیں بلکہ کوشش کرتیں کہ یہ واقعہ اُن کی یاد سے بھول جائے۔ لیکن میمونہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پچاس سال زندہ رہیں اور ۸۰؍ سال کی ہوکر فوت ہوئیں۔ مگر اس برکت والے تعلق کو وہ ساری عمر بھلا نہ سکیں۔ ۷۰؍ سال کی عمر میں جب جوانی کے جذبات سب سرد ہو چکے ہوتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے پچاس سال بعد جو عرصہ ایک مستقل عمر کہلانے کا مستحق ہے میمونہؓ فوت ہوئیں اور اُس وقت اُنہوں نے اپنے اِردگرد کے لوگوں سے درخواست کی کہ جب میں مر جاؤں تو مکہ کے باہر ایک منزل کے فاصلہ پر اس جگہ جس جگہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ تھا اور جس جگہ پہلی دفعہ میں آپ کی خدمت میں پیش کی گئی تھی میری قبر بنائی جائے اور اُس میں مجھے دفن کیا جائے۔ ۳۴۵ دنیا میں سچے نوادر بھی ہوتے ہیں اور قصے کہانیاں بھی مگر سچے نوادر میں سے بھی اور قصے کہانیوں میں سے بھی کیا کوئی واقعہ اس گہری محبت سے زیادہ پُرتاثیر پیش کیا جاسکتا ہے؟

خالد بن ولید اور عمرو بن العاص کا قبولِ اسلام

زیارتِ کعبہ سے واپسی کے بعد جلد ہی دو ایسے آدمی اسلام میں داخل ہوئے جو اسلامی جنگوں کے شروع سے لے کر اِس وقت تک کفار کے زبردست جرنیلوں میں شامل تھے اور جو اسلام لانے کے بعد اسلام کے ایسے مشہور جرنیل ثابت ہوئے کہ تاریخِ اسلام میں سے ان لوگوں کا نام مٹایا نہیں جاسکتا۔ یعنی خالد بن ولیدؓ جس نے بعد میں روما کی حکومت کی بنیادیں ہلا دیں اور علاقہ کے بعد علاقہ فتح کر کے اسلامی حکومت میں داخل کیا اور عمرو بن العاص جنہوں نے مصر کو فتح کر کے اسلامی حکومت میں شامل کیا۔

جنگِ موتہ

جب آپ زیارتِ کعبہ سے واپس آئے تو آپ کو اطلاعات ملنی شروع ہوئیں کہ شام کی سرحد پر عیسائی عرب قبائل یہودیوں اور کفار کے اُکسانے پر مدینہ پر حملہ کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ چنانچہ آپ نے پندرہ آدمیوں کی ایک پارٹی اس غرض کے لئے شام کی سرحد پر بھجوائی کہ وہ تحقیقات کریں کہ یہ افواہیں کہاں تک صحیح ہیں۔ جب یہ لوگ شامی سرحد پر پہنچے تو وہاں دیکھا کہ ایک لشکر جمع ہو رہا ہے۔ بجائے اس کے کہ یہ لوگ واپس آکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتے تبلیغ کا جوش جو اُس زمانہ میں مؤمن کی سچی علامت ہوا کرتا تھا اُن پر غالب آگیا اور دلیری سے آگے بڑھ کر انہوں نے اُن لوگوں کو اسلام کی دعوت دینی شروع کر دی۔ جو لوگ دشمنوں کے اُکسائے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وطن پر حملہ کر کے اُسے فتح کرنا چاہتے تھے وہ اِن لوگوں کی توحید کی تعلیم سے بھلا کہاں متاثر ہو سکتے تھے۔ جونہی اِن لوگوں نے اُن کو اسلام کی تعلیم سنانی شروع کی چاروں طرف سے سپاہیوں نے کمانیں سنبھال لیں اور اُن پر تیر برسانے شروع کر دئیے۔ جب مسلمانوں نے دیکھا کہ ہماری تبلیغ کا جواب بجائے دلائل اور براہین پیش کرنے کے یہ لوگ تیر پھینک رہے ہیں تو وہ بھاگے نہیں اور اس سینکڑوں اور ہزاروں کے مجمع سے انہوں نے اپنی جانیں نہیں بچائیں بلکہ سچے مسلمانوں کے طور پر وہ پندرہ آدمی ان سینکڑوں ہزاروں آدمیوں کے مقابلہ پر ڈٹ گئے اور سارے کے سارے وہیں مر کر ڈھیر ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ ایک اور لشکر بھیج کر ان لوگوں کو سزا دیں جنہوں نے ایسا ظالمانہ فعل کیا تھا۔ اتنے میں آپ کو اطلاع ملی کہ وہ لشکر جو وہاں جمع ہو رہے تھے پراگندہ ہو گئے ہیں اور آپ نے کچھ مدت کیلئے اس ارادہ کو ملتوی کر دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دوران میں غسان قبیلہ کے رئیس کو جو رومی حکومت کی طرف سے بصرہ کا حاکم تھا یا خود قیصر روما کو ایک خط لکھا۔ غالباً اس خط میں مذکورہ بالا واقعہ کی شکایت ہو گی کہ بعض شامی قبائل اسلامی علاقہ پر حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور یہ کہ انہوں نے بلا وجہ پندرہ مسلمانوں کو قتل کر دیا ہے۔ یہ خط الحارث نامی ایک صحابی کے ہاتھ بھجوایا گیا تھا۔ وہ شام کی طرف جاتے ہوئے موتہ نامی ایک مقام پر ٹھہرے جہاں غسان قبیلہ کا ایک رئیس سَرجیل نامی جو قیصر کے مقرر کردہ حکام میں سے تھا اُنہیں ملا اور اُس نے ان سے پوچھا کہ تم کہاں جا رہے ہو؟ شاید تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامبر ہو؟ انہوں نے کہا ہاں۔ اس پر اُس نے ان کو گرفتار کر لیا اور رسیوں سے باندھ کر مار مار کر انہیں مار دیا۔ گو تاریخ میں اس کی تشریح نہیں آئی لیکن یہ واقعہ بتاتا ہے کہ جس لشکر نے پہلے پندرہ صحابیوں کو مارا تھا یہ شخص اس کے لیڈروں میں سے ہوگا۔ چنانچہ اس کا یہ سوال کرنا کہ شاید تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامبروں میں سے ہو بتاتا ہے کہ اُس کو خوف تھا کہ محمد رسول اللہ قیصر کے پاس شکایت کریں گے کہ تمہارے علاقہ کے لوگ ہمارے علاقہ کے لوگوں پر حملہ کرتے ہیں اور وہ ڈرتا ہو گا کہ شاید

بادشاہ اس کی وجہ سے ہم سے باز پُرس نہ کرے۔ پس اُس نے اپنی خیر اسی میں سمجھی کہ پیغامبر کو مار دے تا کہ نہ پیغام پہنچے اور نہ کوئی تحقیقات ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اُس کے ان بد ارادوں کو پورا نہ ہونے دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حارثؓ کے مارے جانے کی خبر کسی نہ کسی طرح پہنچ ہی گئی اور آپ نے اس پہلے واقعہ اور اس واقعہ کی سزا دینے کے لئے تین ہزار کا لشکر تیار کر کے زید بن حارثہؓ (جو آپ کے آزاد کردہ غلام تھے اور جن کا آپ کی مکی زندگی میں ذکر آ چکا ہے) کی ماتحتی میں شام کی طرف بھجوایا اور حکم دیا کہ زید بن حارثہؓ فوج کے کمانڈر ہوں گے اور اگر وہ مارے گئے تو جعفر بن ابی طالب کمانڈر ہوں گے اور اگر وہ مارے گئے تو عبد اللہ بن رواحہؓ کمانڈر ہوں گے اور اگر وہ بھی مارے جائیں تو مسلمان اپنے میں سے کسی کو منتخب کر کے اپنا افسر بنا لیں ۔ اُس وقت ایک یہودی آپ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اُس نے کہا اے ابو القاسم! اگر آپ سچے ہیں تو یہ تینوں آدمی ضرور مارے جائیں گے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کے منہ سے نکلی ہوئی باتوں کو پورا کر دیا کرتا ہے۔ پھر وہ زیدؓ کی طرف مخاطب ہوا اور کہا میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے سچے نبی ہیں تو تم کبھی زندہ واپس نہیں آؤ گے۔ زیدؓ نے جواب میں کہا میں واپس آؤں یا نہ آؤں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے سچے نبی ہیں۔ دوسرے دن صبح کے وقت یہ لشکر روانہ ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اس کو چھوڑنے کے لئے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کی افسری کے بغیر اتنا بڑا لشکر کسی مسلمان جرنیل کے ماتحت کسی اہم کام کیلئے نہیں گیا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس لشکر کے ساتھ ساتھ چلتے جاتے تھے اور انہیں نصیحتیں کرتے جاتے تھے۔ آخر مدینہ کے باہر اُس مقام پر جا کر جہاں سے آپ مدینہ میں داخل ہوئے تھے اور جس جگہ پر عام طور پر مدینہ والے اپنے مسافروں کو رخصت کیا کرتے تھے، آپ کھڑے ہو گئے اور کہا میں تم کو اللہ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں اور تمہارے ساتھ جتنے مسلمان ہیں اُن سے نیک سلوک کرنے کی ۔ تم اللہ کا نام لے کر جنگ پر جاؤ اور تمہارے اور خدا کے دشمن جو شام میں ہیں اُن سے جا کر لڑائی کرو۔ جب تم شام میں پہنچو گے تو وہاں تمہیں ایسے لوگ ملیں گے جو عبادت گاہوں میں بیٹھ کر خدا کا نام لیتے ہیں تم اُن سے کسی قسم کا تعرض نہ کرنا اور نہ اُنہیں تکلیف پہنچانا اور نہ دشمن کے ملک میں کسی

عورت کو مارنا اور نہ کسی بچے کو مارنا اور نہ کسی اندھے کو مارنا اور نہ کسی بڈھے کو مارنا۔ نہ کوئی درخت کاٹنا نہ عمارت گرانا۔ یہ نصیحت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس لوٹے اور اسلامی لشکر شام کی طرف روانہ ہوا۔ یہ پہلا لشکر تھا جو اسلام کی طرف سے عیسائیت کے مقابلہ کے لئے نکلا۔ جب یہ لشکر شام کی سرحد پر پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ قیصر بھی اِس طرف آیا ہوا ہے اور ایک لاکھ رومی سپاہی اس کے ساتھ ہیں اور ایک لاکھ کے قریب عرب کے عیسائی قبائل کے سپاہی بھی اس کے ساتھ ہیں۔ اس پر مسلمانوں نے چاہا کہ وہ راستہ میں ڈیرہ ڈال دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دیں تا کہ اگر آپؐ نے کوئی اور مدد بھیجنی ہو تو بھیج دیں اور اگر کوئی حکم دینا ہو تو اس سے اطلاع دیں۔ جب یہ مشورہ ہو رہا تھا عبداللہ بن رواحہؓ جوش سے کھڑے ہو گئے اور کہا اے قوم! تم اپنے گھروں سے خدا کے راستہ میں شہید ہونے کیلئے نکلے تھے اور جس چیز کے لئے تم نکلے تھے اب اُس سے گھبرا رہے ہو اور ہم لوگوں سے اپنی تعداد اور اپنی قوت اور اپنی کثرت کی وجہ سے تو لڑائیاں نہیں کرتے رہے۔ ہم تو اس دین کی مدد کیلئے دشمنوں سے لڑتے رہے ہیں جو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمارے لئے نازل کیا ہے۔ اگر دشمن زیادہ ہے تو ہوا کرے۔ آخر دو نیکیوں میں سے ہم کو ایک ضرور ملے گی یا ہم غالب آجائیں گے یا ہم خدا کی راہ میں شہید ہو جائیں گے۔ لوگوں نے اُن کی یہ بات سن کے کہا ابن رواحہؓ بالکل سچ کہتے ہیں اور فوراً کوچ کا حکم دے دیا گیا۔ جب وہ آگے بڑھے تو رومی لشکر انہیں اپنی طرف بڑھتا ہوا نظر آیا تو مسلمانوں نے موتہ کے مقام پر اپنی فوج کی صف بندی کر لی اور لڑائی شروع ہو گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں زید بن حارثہؓ جو مسلمانوں کے کمانڈر تھے مارے گئے تب اسلامی فوج کا جھنڈا جعفر بن ابی طالبؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی نے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور فوج کی کمان سنبھال لی۔ جب اُنہوں نے دیکھا کہ دشمن کی فوج کا ریلا بڑھتا چلا جاتا ہے اور مسلمان اپنی تعداد کی قلت کی وجہ سے ان کے دباؤ کو برداشت نہیں کر سکتے تو آپ جوش سے گھوڑے سے کود پڑے اور اپنے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ جس کے معنی یہ تھے کہ کم سے کم میں تو اِس میدان سے بھاگنے کے لئے تیار نہیں ہوں میں موت کو پسند کروں گا مگر بھاگنے کو پسند نہیں کروں گا۔ یہ ایک عربی رواج تھا۔ وہ گھوڑے کی ٹانگیں اس لئے کاٹ دیتے

تھے تا کہ وہ بغیر سوار کے اِدھر اُدھر بھاگ کر لشکر میں تباہی نہ مچائے۔ تھوڑی دیر کی لڑائی میں آپ کا دایاں بازو کاٹا گیا۔ تب آپ نے بائیں ہاتھ سے جھنڈا پکڑ لیا۔ پھر آپ کا بایاں ہاتھ بھی کاٹا گیا تو آپ نے دونوں ہاتھ کے ٹُنڈوں سے جھنڈے کو اپنے سینہ سے لگا لیا اور میدان میں کھڑے رہے یہاں تک کہ آپ شہید ہو گئے۔ تب عبداللہ بن رواحہؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے ماتحت جھنڈے کو پکڑ لیا اور وہ بھی دشمن سے لڑتے لڑتے مارے گئے۔ اُس وقت مسلمانوں کے لئے کوئی موقع نہ تھا کہ وہ مشورہ کر کے کسی کو اپنا سردار مقرر کرتے اور قریب تھا کہ دشمن کے لشکر کی کثرت کی وجہ سے مسلمان میدان چھوڑ جاتے کہ خالد بن ولیدؓ نے ایک دوست کی تحریک پر جھنڈا پکڑ لیا اور شام تک دشمن کا مقابلہ کرتے رہے۔

دوسرے دن پھر خالدؓ اپنے تھکے ہوئے اور زخم خوردہ لشکر کو لے کر دشمن کے مقابلہ کے لئے نکلے اور انہوں نے یہ ہوشیاری کی کہ لشکر کے اگلے حصہ کو پیچھے کر دیا اور پچھلے حصہ کو آگے کر دیا اور دائیں کو بائیں اور بائیں کو دائیں اور اس طرح نعرے لگائے کہ دشمن سمجھا کہ مسلمانوں کو اور مدد پہنچ گئی ہے۔ اس پر دشمن پیچھے ہٹ گیا اور خالدؓ اسلامی لشکر کو بچا کر واپس لے آئے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کی خبر اُسی دن وحی کے ذریعہ سے دے دی اور آپ نے اعلان کر کے سب مسلمانوں کو مسجد میں جمع کیا۔ جب آپ ممبر پر چڑھے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا اے لوگو! میں تم کو اس جنگ میں جانے والے لشکر کے متعلق خبر دیتا ہوں۔ وہ لشکر یہاں سے جا کر دشمن سے مقابل کھڑا ہوا اور لڑائی شروع ہونے پر پہلے زیدؓ مارے گئے پس تم لوگ زیدؓ کے لئے دعا کرو۔ پھر جھنڈا جعفرؓ نے لے لیا اور دشمن پر حملہ کیا یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گئے پس تم اُن کے لئے بھی دعا کرو۔ پھر جھنڈا عبداللہ بن رواحہؓ نے لیا اور خوب دلیری سے لشکر کو لڑایا مگر آخر وہ بھی شہید ہو گئے پس تم اُن کے لئے بھی دعا کرو۔ پھر جھنڈا خالد بن ولیدؓ نے لیا۔ اُس کو میں نے کمانڈر مقرر نہیں کیا تھا مگر اُس نے خود ہی اپنے آپ کو کمانڈر مقرر کر لیا۔ لیکن وہ خدا تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ پس وہ خدا تعالیٰ کی مدد سے اسلامی لشکر کو بحفاظت واپس لے آئے۔ آپ کی اس تقریر کی وجہ سے خالدؓ کا نام مسلمانوں میں سیف اللہ یعنی خدا کی تلوار مشہور ہو گیا۔ چونکہ خالد آخر میں ایمان لائے تھے بعض صحابہؓ اُن کو مذاقاً یا کسی جھگڑے کے موقع پر طعنہ دے دیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ کسی ایسی ہی بات پر حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے ان کی تکرار ہو گئی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خالد کی شکایت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خالد! تم اِس شخص کو جو کہ بدر کے وقت سے اسلام کی خدمت کر رہا ہے کیوں دُکھ دیتے ہو؟ اگر تم اُحد کے برابر بھی سونا خرچ کرو تو اِس کے برابر خدا تعالیٰ سے انعام حاصل نہیں کر سکتے۔ اِس پر خالدؓ نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰهِ! یہ مجھے طعنہ دیتے ہیں تو پھر میں بھی جواب دیتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم لوگ خالد کو تکلیف نہ دیا کرو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جو خدا تعالیٰ نے کفار کی ہلاکت کے لئے کھینچی ہے۔۳۴۸ یہ پیشگوئی چند سالوں بعد حرف بحرف پوری ہوئی۔ جب خالد اپنے لشکر کو واپس لائے تو مدینہ کے صحابہؓ جو ساتھ نہ گئے تھے اُنہوں نے اس کے لشکر کو بھگوڑے کہنا شروع کیا۔ مطلب یہ تھا کہ تم کو وہیں لڑ کر مر جانا چاہئے تھا واپس نہیں آنا چاہئے تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بھگوڑے نہیں بار بار لوٹ کر دشمن پر حملہ کرنے والے سپاہی ہیں۔ اِس طرح آپ نے اُن آئندہ جنگوں کی پیشگوئی فرمائی جو مسلمانوں کو شام کے ساتھ پیش آنے والی تھیں۔

فتح مکہ

آٹھویں سنہ ہجری کے رمضان کے مہینہ مطابق دسمبر ۶۲۹ء میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس آخری جنگ کے لئے روانہ ہوئے جس نے عرب میں اسلام کو قائم کر دیا۔ یہ واقعہ یوں ہوا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر یہ فیصلہ ہوا تھا کہ عرب قبائل میں سے جو چاہیں مکہ والوں سے مل جائیں اور جو چاہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل جائیں اور یہ کہ دس سال تک دونوں فریق کو ایک دوسرے کے خلاف جنگ کی اجازت نہیں ہوگی۔ سوائے اس کے کہ ایک دوسرے پر حملہ کر کے معاہدہ کو توڑ دے۔ اس معاہدہ کے ماتحت عرب کا قبیلہ بنو بکر مکہ والوں کے ساتھ ملا تھا اور خزاعہ قبیلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ۔ کفارِ عرب معاہدہ کی پابندی کا خیال کم ہی رکھتے تھے خصوصاً مسلمانوں کے مقابلہ میں۔ چنانچہ بنوبکر کو چونکہ قبیلہ خزاعہ کے ساتھ پُرانا اختلاف تھا، صلح حدیبیہ پر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد انہوں نے مکہ والوں سے مشورہ کیا کہ خزاعہ تو معاہدہ کی وجہ سے بالکل مطمئن ہیں اب موقع ہے کہ ہم لوگ ان سے بدلہ لیں۔ چنانچہ مکہ کے قریش اور بنو بکر نے مل کر رات کو بنی خزاعہ پر چھاپا مارا اور ان کے بہت سے آدمی مار دئیے۔ خزاعہ کو جب معلوم ہوا کہ قریش نے بنو بکر سے مل کر یہ حملہ کیا ہے تو انہوں نے اس عہد شکنی کی اطلاع دینے کے لیے چالیس آدمی تیز اونٹوں پر فوراً مدینہ کو روانہ کئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ باہمی معاہدہ کی رو سے اب آپؐ کا فرض ہے کہ ہمارا بدلہ لیں اور مکہ پر چڑھائی کریں۔ جب یہ قافلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپؐ نے فرمایا تمہارا دُکھ میرا دُکھ ہے میں اپنے معاہدہ پر قائم ہوں۔ یہ بادل جو سامنے برس رہا ہے (اُس وقت بارش ہو رہی تھی) جس طرح اس میں سے بارش ہو رہی ہے اسی طرح جلدی ہی تمہاری مدد کے لئے اسلامی فوجیں پہنچ جائیں گی۔ جب مکہ والوں کو اِس وفد کا علم ہوا تو وہ بہت گھبرائے اور انہوں نے ابوسفیان کو مدینہ روانہ کیا، تاکہ وہ کسی طرح مسلمانوں کو حملہ سے باز رکھے۔ ابوسفیان نے مدینہ پہنچ کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر زور دینا شروع کیا کہ چونکہ صلح حدیبیہ کے وقت میں موجود نہ تھا اس لئے نئے سرے سے معاہدہ کیا جائے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ کیونکہ جواب دینے سے راز ظاہر ہو جاتا تھا۔ ابوسفیان نے مایوسی کی حالت میں گھبرا کر مسجد میں کھڑے ہو کر اعلان کیا اے لوگو! میں مکہ والوں کی طرف سے نئے سرے سے آپ لوگوں کے لئے امن کا اعلان کرتا ہوں۔۳۴۹؎ یہ بات سن کر مسلمان اُس کی بیوقوفی پر ہنس پڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابوسفیان! یہ بات تم یکطرفہ کہہ رہے ہو ہم نے کوئی ایسا معاہدہ تم سے نہیں کیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دوران میں چاروں طرف مسلمان قبائل کی طرف پیغامبر بھجوا دیئے اور جب یہ اطلاعیں آ چکیں کہ مسلمان قبائل تیار ہو چکے ہیں اور مکہ کی طرف کوچ کرتے ہوئے راستہ میں ملتے جائیں گے تو آپؐ نے مدینہ کے لوگوں کو مسلح ہونے کا حکم دیا۔ جنوری ۶۳۰ء کی پہلی تاریخ کو یہ لشکر مدینہ سے روانہ ہوا اور راستہ میں چاروں طرف مسلمان قبائل آ آ کر لشکر میں شامل ہوتے گئے۔ چند ہی منزلیں طے کرنے کے بعد جب یہ لشکر فاران کے جنگل میں داخل ہوا تو اس کی تعداد سلیمان نبی کی پیشگوئی کے مطابق دس ہزار تک پہنچ چکی تھی۔ اِدھر تو یہ لشکر مکہ کی طرف مارچ کرتا چلا جا رہا تھا اور اُدھر مکہ والے اِس خاموشی کی وجہ سے جو فضا پر طاری تھی زیادہ سے زیادہ خوف زدہ ہوتے جاتے تھے۔ آخر انہوں نے مشورہ کر کے ابو سفیان کو پھر اِس بات پر آمادہ کیا کہ وہ مکہ سے باہر نکل کر پتہ تو لے کہ مسلمان کیا کرنا چاہتے ہیں۔ مکہ سے ایک منزل باہر نکلنے پر ہی ابو سفیان نے رات کے وقت جنگل کو آگ سے روشن پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے دیا تھا کہ تمام خیموں کے آگے آگ جلائی جائے۔ جنگل میں دس ہزار اشخاص کے لئے خیموں کے آگے بھڑکتی ہوئی آگ ایک ہیبت ناک نظارہ پیش کر رہی تھی۔ ابوسفیان نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا یہ کیا ہے؟ کیا آسمان سے کوئی لشکر اُترا ہے؟ کیونکہ عرب کی کسی قوم کا لشکر اتنا بڑا نہیں ہے۔ اس کے ساتھیوں نے مختلف قبائل کے نام لئے لیکن اس نے کہا نہیں نہیں ،عرب کے قبائل میں سے کسی قوم کا لشکر بھی اتنا بڑا کہاں ہو سکتا ہے۔ وہ یہ بات کر ہی رہا تھا کہ اندھیرے میں سے آواز آئی ابوحنظلہ !( یہ ابو سفیان کی کنیت تھی) ابوسفیان نے کہا عباس! تم یہاں کہاں؟ اُنہوں نے جواب دیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر سامنے ہے اور اگر تم لوگوں نے جلد جلد کوئی تدبیر نہ کر لی تو شکست اور ذلت تمہارے لئے بالکل تیار ہے۔ چونکہ عباسؓ ابو سفیان کے پُرانے دوست تھے اس لیے یہ بات کرنے کے بعد انہوں نے ابو سفیان سے اصرار کیا کہ وہ ان کے ساتھ سواری پر بیٹھ جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو۔ چنانچہ انہوں نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُونٹ پر اپنے ساتھ بٹھا لیا اور اُونٹ کو ایڑی لگا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں پہنچے۔ حضرت عباسؓ ڈرتے تھے کہ حضرت عمرؓ جو اُن کے ساتھ پہرہ پر مقرر تھے کہیں اس کو قتل نہ کر دیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی فرما چکے تھے کہ اگر ابو سفیان تم میں سے کسی کو ملے تو اُسے قتل نہ کرنا۔ یہ سارا نظارہ ابو سفیان کے دل میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا کر چکا تھا۔ ابو سفیان نے دیکھا کہ چند ہی سال پہلے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف ایک ساتھی کے ساتھ مکہ سے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا لیکن ابھی سات ہی سال گزرے ہیں کہ وہ دس ہزار قدوسیوں سمیت مکہ پر بلا ظلم اور بلا تعدی کے جائز طور پر حملہ آور ہوا ہے اور مکہ والوں میں طاقت نہیں کہ اِس کو روک سکیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس تک پہنچتے پہنچتے کچھ ان خیالات کی وجہ سے اور کچھ دہشت اور خوف کی وجہ سے ابو سفیان مبہوت سا ہو چکا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی یہ حالت دیکھی تو حضرت عباسؓ سے فرمایا کہ ابوسفیان کو اپنے ساتھ لے جاؤ اور رات اپنے پاس رکھو صبح اِسے میرے پاس لانا۔۳۵۰چنانچہ رات ابوسفیان حضرت عباسؓ کے ساتھ رہا۔ جب صبح اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو فجر کی نماز کا وقت تھا۔ مکہ کے لوگ صبح اُٹھ کر نماز پڑھنے کو کیا جانتے تھے اُس نے اِدھر اُدھر مسلمانوں کو پانی کے بھرے ہوئے لوٹے لے کر آتے جاتے دیکھا اور اسے نظر آیا کہ کوئی وضو کر رہا ہے کوئی صف بندی کر رہا ہے تو ابوسفیان نے سمجھا کہ شاید میرے لئے کوئی نئی قسم کا عذاب تجویز ہوا ہے۔ چنانچہ اُس نے گھبرا کر حضرت عباسؓ سے پوچھا کہ یہ لوگ صبح صبح یہ کیا کر رہے ہیں؟ حضرت عباسؓ نے کہا تمہارے لئے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں یہ لوگ نماز پڑھنے لگے ہیں۔ اس کے بعد ابوسفیان نے دیکھا کہ ہزاروں ہزار مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے ہیں اور جب آپؐ رکوع کرتے ہیں تو سب کے سب رکوع کرتے ہیں اور جب آپؐ سجدہ کرتے ہیں تو سب کے سب سجدہ کرتے ہیں۔ حضرت عباسؓ چونکہ پہرہ پر ہونے کی وجہ سے نماز میں شامل نہیں ہوئے تھے ابوسفیان نے اُن سے پوچھا اب یہ کیا کر رہے ہیں؟ میں دیکھتا ہوں کہ جو کچھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے ہیں وہی یہ لوگ کرنے لگ جاتے ہیں۔ عباسؓ نے کہا تم کن خیالات میں پڑے ہو یہ تو نماز ادا ہو رہی ہے، لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ان کو حکم دیں کہ کھانا پینا چھوڑ دو تو یہ لوگ کھانا اور پینا بھی چھوڑ دیں۔ ابوسفیان نے کہا۔ میں نے کسریٰ کا دربار بھی دیکھا ہے اور قیصر کا دربار بھی دیکھا ہے لیکن اُن کی قوموں کو اُن کا اتنا فدائی نہیں دیکھا جتنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت اس کی فدائی ہے۔۳۵۱پھر عباسؓ نے کہا کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آج یہ درخواست کرو کہ آپ اپنی قوم سے عفو کا معاملہ کریں۔ جب نماز ختم ہو چکی تو حضرت عباسؓ ابوسفیان کو لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا۔ ابوسفیان! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تجھ پر یہ حقیقت روشن ہو جائے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟ ابوسفیان نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ نہایت ہی حلیم، نہایت ہی شریف اور نہایت ہی صلہ رحمی کرنے والے انسان ہیں۔ میں اب یہ بات تو سمجھ چکا ہوں کہ اگر خدا کے سوا کوئی اور معبود ہوتا تو کچھ تو ہماری

مدد کرتا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوسفیان! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم سمجھ لو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابوسفیان نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اِس بارہ میں ابھی میرے دل میں کچھ شبہات ہیں۔ مگر ابوسفیان کے تردّد کے باوجود اُس کے دونوں ساتھی جو اُس کے ساتھ ہی مکہ سے باہر مسلمانوں کے لشکر کی خبر لینے کے لئے آئے تھے اور جن میں سے ایک حکیم بن حزام تھے وہ مسلمان ہو گئے۔ اس کے بعد ابوسفیان بھی اسلام لے آیا ، مگر اُس کا دل غالباً فتحِ مکہ کے بعد پوری طرح کھلا۔ ایمان لانے کے بعد حکیم بن حزام نے کہا۔

یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کیا یہ لشکر آپ اپنی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے اُٹھا لائے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ان لوگوں نے ظلم کیا ، ان لوگوں نے گناہ کیا اور تم لوگوں نے حدیبیہ میں باندھے ہوئے عہد کو توڑ دیا اور خزاعہ کے خلاف ظالمانہ جنگ کی۔ اُس مقدس مقام پر جنگ کی جس کو خدا نے امن عطا فرمایا ہوا تھا۔ حکیم نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ٹھیک ہے آپ کی قوم نے بیشک ایسا ہی کیا ہے لیکن آپ کو تو چاہئے تھا کہ بجائے مکہ پر حملہ کرنے کے ہوازن قوم پر حملہ کرتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قوم بھی ظالم ہے لیکن میں خدا تعالیٰ سے امید کرتا ہوں کہ وہ مکہ کی فتح اور اسلام کا غلبہ اور ہوازن کی شکست یہ ساری باتیں میرے ہی ہاتھ پر پوری کرے گا۔ اس کے بعد ابوسفیان نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اگر مکہ کے لوگ تلوار نہ اُٹھائیں تو کیا وہ امن میں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں! ہر شخص جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اُسے امن دیا جائے گا۔ حضرت عباسؓ نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ابوسفیان فخر پسند آدمی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ میری عزت کا بھی کوئی سامان کیا جائے ۔ آپ نے فرمایا بہت اچھا جو شخص ابوسفیان کے گھر میں چلا جائے اُس کو بھی امن دیا جائے گا۔ ۳۵۲ جو مسجد کعبہ میں گھس جائے اُس کو بھی امن دیا جائے گا، جو اپنے ہتھیار پھینک دے اُس کو بھی امن دیا جائے گا، جو اپنا دروازہ بند کر کے بیٹھ جائے گا اُس کو بھی امن دیا جائے گا، جو حکیم بن حزام کے گھر میں چلا جائے اُس کو بھی امن دیا جائے گا۔ اس کے بعد ابی رویحہؓ جن کو آپ نے بلالؓ حبشی غلام کا بھائی بنایا ہوا تھا اُن کے متعلق آپ نے فرمایا۔ ہم اِس وقت ابی رویحہؓ کو اپنا جھنڈا دیتے ہیں جو شخص ابی رویحہؓ کے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو گا ہم اُس کو بھی کچھ نہ کہیں گے۔ اور بلالؓ سے کہا تم

ساتھ ساتھ یہ اعلان کرتے جاؤ کہ جو شخص ابی رُویحَہؓ کے جھنڈے کے نیچے آ جائے گا اُس کو امن دیا جائے گا۔۳۵۳

اِس حکم میں کیا ہی لطیف حکمت تھی۔ مکہ کے لوگ بلالؓ کے پیروں میں رسّی ڈال کر اُس کو گلیوں میں کھینچا کرتے تھے ، مکہ کی گلیاں ، مکہ کے میدان بلالؓ کے لئے امن کی جگہ نہیں تھے بلکہ عذاب اور تذلیل اور تضحیک کی جگہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال فرمایا کہ بلالؓ کا دل آج انتقام کی طرف بار بار مائل ہوتا ہو گا اس وفادار ساتھی کا انتقام لینا بھی نہایت ضروری ہے۔ مگر یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارا انتقام اسلام کی شان کے مطابق ہو۔ پس آپ نے بلالؓ کا انتقام اِس طرح نہ لیا کہ تلوار کے ساتھ اُس کے دشمنوں کی گردنیں کاٹ دی جائیں بلکہ اس کے بھائی کے ہاتھ میں ایک بڑا جھنڈا دے کر کھڑا کر دیا اور بلالؓ کو اس غرض کے لئے مقرر کر دیا کہ وہ اعلان کر دے کہ جو کوئی میرے بھائی کے جھنڈے کے نیچے آ کر کھڑا ہو گا اُسے امن دیا جائے گا۔ کیسا شاندار یہ انتقام تھا، کیسا حسین یہ انتقام تھا۔ جب بلالؓ بلند آواز سے یہ اعلان کرتا ہو گا کہ اے مکہ والو! آؤ میرے بھائی کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو جاؤ تمہیں امن دیا جائے گا تو اُس کا دل خود ہی انتقام کے جذبات سے خالی ہوتا جاتا ہو گا اور اُس نے محسوس کر لیا ہو گا کہ جو انتقام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے تجویز کیا ہے اس سے زیادہ شاندار اور اس سے زیادہ حسین انتقام میرے لئے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔

جب لشکر مکہ کی طرف بڑھا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباسؓ کو حکم دیا کہ کسی سڑک کے کونے پر ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کو لے کر کھڑے ہو جاؤ تاکہ وہ اسلامی لشکر اور اس کی فدائیت کو دیکھ سکیں۔ حضرت عباسؓ نے ایسا ہی کیا۔ ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے سامنے سے یکے بعد دیگرے عرب کے وہ قبائل گزرنے شروع ہوئے جن کی امداد پر مکہ بھروسہ کر رہا تھا، مگر آج وہ کفر کا جھنڈا نہیں لہرا رہے تھے آج وہ اسلام کا جھنڈا لہرا رہے تھے اور ان کی زبان پر خدائے قادر کی توحید کا اعلان تھا۔ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان لینے کیلئے آگے نہیں بڑھ رہے تھے جیسا کہ مکہ والے امید کرتے تھے بلکہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کے لئے تیار تھے اور ان کی انتہائی خواہش

یہی تھی کہ خدائے واحد کی توحید اور اس کی تبلیغ کو دنیا میں قائم کر دیں۔ لشکر کے بعد لشکر گزر رہا تھا کہ اتنے میں اَشْجَع قبیلے کا لشکر گزرا۔ اسلام کی محبت اور اس کے لئے قربان ہونے کا جوش ان کے چہروں سے عیاں اور ان کے نعروں سے ظاہر تھا۔ ابوسفیان نے کہا۔ عباسؓ! یہ کون ہیں؟ عباسؓ نے کہا یہ اَشْجَع قبیلہ ہے۔ ابوسفیان نے حیرت سے عباسؓ کا منہ دیکھا اور کہا سارے عرب میں ان سے زیادہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی دشمن نہیں تھا۔ عباسؓ نے کہا یہ خدا کا فضل ہے جب اُس نے چاہا ان کے دلوں میں اسلام کی محبت داخل ہو گئی۔ سب سے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار کا لشکر لئے ہوئے گزرے۔ یہ لوگ دو ہزار کی تعداد میں تھے اور سر سے پاؤں تک زِرہ بکتروں میں چھپے ہوئے تھے۔ حضرت عمرؓ ان کی صفوں کو درست کرتے چلے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے قدموں کو سنبھال کر چلو تا کہ صفوں کا فاصلہ ٹھیک رہے۔ ان پرانے فداکارانِ اسلام کا جوش اور ان کا عزم اور ان کا ولولہ ان کے چہروں سے ٹپکا پڑتا تھا۔ ابوسفیان نے ان کو دیکھا تو اس کا دل دہل گیا۔ اس نے پوچھا عباس! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار و مہاجرین کے لشکر میں جا رہے ہیں۔ ابوسفیان نے جواب دیا اس لشکر کا مقابلہ کرنے کی دنیا میں کس کو طاقت ہے۔ پھر وہ حضرت عباسؓ سے مخاطب ہوا اور کہا عباس! تمہارے بھائی کا بیٹا آج دنیا میں سب سے بڑا بادشاہ ہو گیا ہے۔ عباسؓ نے کہا اب بھی تیرے دل کی آنکھیں نہیں کھلیں یہ بادشاہت نہیں یہ تو نبوت ہے۔ ابوسفیان نے کہا ہاں ہاں اچھا پھر نبوت ہی سہی۔۳۵۴

جس وقت یہ لشکر ابوسفیان کے سامنے سے گزر رہا تھا انصار کے کمانڈر سعد بن عبادہؓ نے ابوسفیان کو دیکھ کر کہا آج خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے مکہ میں داخل ہونا تلوار کے زور سے حلال کر دیا ہے۔ آج قریشی قوم ذلیل کر دی جائے گی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسفیان کے پاس سے گزرے تو اس نے بلند آواز سے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! کیا آپ نے اپنی قوم کے قتل کی اجازت دے دی ہے؟ ابھی ابھی انصار کے سردار سعدؓ اور ان کے ساتھی ایسا ایسا کہہ رہے تھے۔ انہوں نے بلند آواز یہ کہا ہے آج لڑائی ہوگی اور مکہ کی حرمت آج ہم کو لڑائی سے باز نہیں رکھ سکے گی اور قریش کو ہم ذلیل کر کے چھوڑیں گے يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! آپ تو دنیا میں سب سے

زیادہ نیک، سب سے زیادہ رحیم اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے انسان ہیں۔ کیا آج اپنی قوم کے ظلموں کو بھول نہ جائیں گے؟ ابو سفیان کی یہ شکایت والتجاء سن کر وہ مہاجرین بھی جن کو مکہ کی گلیوں میں پیٹا اور مارا جاتا تھا، جن کو گھروں اور جائیدادوں سے بے دخل کیا جاتا تھا تڑپ گئے اور ان کے دلوں میں بھی مکہ کے لوگوں کی نسبت رحم پیدا ہو گیا تھا اور انہوں نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! انصار نے مکہ والوں کے مظالم کے جو واقعات سنے ہوئے ہیں آج ان کی وجہ سے ہم نہیں جانتے کہ وہ قریش کے ساتھ کیا معاملہ کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابوسفیان! سعدؓ نے غلط کہا ہے آج رحم کا دن ہے۔ آج اللہ تعالیٰ قریش اور خانہ کعبہ کو عزت بخشنے والا ہے۔ پھر آپ نے ایک آدمی کو سعدؓ کی طرف بھجوایا اور فرمایا اپنا جھنڈا اپنے بیٹے قیس کو دے دو کہ وہ تمہاری جگہ انصار کے لشکر کا کمانڈر ہوگا۔۳۵۵ اس طرح آپ نے مکہ والوں کا دل بھی رکھ لیا اور انصار کے دلوں کو بھی صدمہ پہنچنے سے محفوظ رکھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیسؓ پر پورا اعتبار بھی تھا کیونکہ قیسؓ نہایت ہی شریف طبیعت کے نوجوان تھے۔ ایسے شریف کہ تاریخ میں لکھا ہے کہ ان کی وفات کے قریب جب بعض لوگ ان کی عیادت کے لئے آئے اور بعض نہ آئے تو انہوں نے اپنے دوستوں سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ بعض جو میرے واقف ہیں میری عیادت کے لیے نہیں آئے۔ ان کے دوستوں نے کہا آپ بڑے مخیّر آدمی ہیں آپ ہر شخص کو اُس کی تکلیف کے وقت قرضہ دے دیتے ہیں۔ شہر کے بہت سے لوگ آپ کے مقروض ہیں اور وہ اس لئے آپ کی عیادت کے لئے نہیں آئے کہ شاید آپ کو ضرورت ہو اور آپ اُن سے روپیہ مانگ بیٹھیں۔ آپ نے فرمایا اوہو! میرے دوستوں کو بلا وجہ تکلیف ہوئی میری طرف سے تمام شہر میں منادی کر دو کہ ہر شخص جس پر قیس کا قرضہ ہے وہ اُسے معاف ہے۔ اس پر اس قدر لوگ ان کی عیادت کے لئے آئے کہ ان کے مکان کی سیڑھیاں ٹوٹ گئیں۔۳۵۶

جب لشکر گزر چکا تو عباسؓ نے ابوسفیان سے کہا۔ اب اپنی سواری دوڑا کر مکہ پہنچو اور اُن لوگوں کو اطلاع دے دو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے ہیں اور انہوں نے اس اس شکل میں مکہ کے لوگوں کو امان دی ہے۔ جب کہ ابوسفیان اپنے دل میں خوش تھا کہ میں نے مکہ کے لوگوں کی نجات کا رستہ نکال لیا ہے اُس کی بیوی ہندہ نے جو ابتدائے اسلام سے مسلمانوں سے بغض اور کینہ رکھنے کی لوگوں کو تعلیم دیتی چلی آئی تھی اور باوجود کافر ہونے کے فی الحقیقت ایک بہادر عورت تھی آگے بڑھ کر اپنے خاوند کی ڈاڑھی پکڑ لی اور مکہ والوں کو آوازیں دینی شروع کیں کہ آؤ اور اِس بڈھے احمق کو قتل کر دو کہ بجائے اِس کے کہ تم کو یہ نصیحت کرتا کہ جاؤ اور اپنی جانوں اور اپنے شہر کی عزت کے لئے لڑتے ہوئے مارے جاؤ یہ تم میں امن کا اعلان کر رہا ہے۔ ابوسفیان نے اُس کی حرکت کو دیکھ کر کہا۔ بےوقوف! یہ ان باتوں کا وقت نہیں جا اور اپنے گھر میں چھپ جا۔ میں اُس لشکر کو دیکھ کر آیا ہوں جس لشکر کے مقابلہ کی طاقت سارے عرب میں نہیں ہے۔ پھر ابوسفیان نے بلند آواز سے امان کی شرائط بیان کرنا شروع کیں اور لوگ بےتحاشا اُن گھروں اور اُن جگہوں کی طرف دوڑ پڑے، جن کے متعلق امان کا اعلان کیا گیا تھا۔۳۵۷صرف گیارہ مرد اور چار عورتیں ایسی تھیں جن کی نسبت شدید ظالمانہ قتل اور فساد ثابت تھے، وہ گویا جنگی مجرم تھے اور ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا کہ قتل کر دیئے جائیں کیونکہ وہ صرف کفر یا لڑائی کے مجرم نہیں بلکہ جنگی مجرم ہیں۔

اِس موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولیدؓ کو بڑی سختی سے حکم دے دیا تھا کہ جب تک کوئی شخص لڑے نہیں تم نے لڑنا نہیں۔ لیکن جس طرف سے خالدؓ شہر میں داخل ہوئے اُس طرف امن کا اعلان ابھی نہیں پہنچا تھا اُس علاقہ کی فوج نے خالد کا مقابلہ کیا اور ۲۴ آدمی مارے گئے۔ چونکہ خالدؓ کی طبیعت بڑی جوشیلی تھی کسی نے دوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچا دی اور عرض کیا کہ خالدؓ کو روکا جائے ورنہ وہ سارے مکہ والوں کو قتل کر دے گا۔ آپؐ نے فوراً خالد کو بلوایا اور فرمایا کیا میں نے تم کو لڑائی سے منع نہیں کیا تھا؟ خالدؓ نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! آپ نے منع تو فرمایا تھا لیکن ان لوگوں نے پہلے ہم پر حملہ کیا اور تیراندازی شروع کر دی میں کچھ دیر تک رُکا اور میں نے کہا کہ ہم تم پر حملہ نہیں کرنا چاہتے تم ایسا مت کرو۔ مگر جب میں نے دیکھا کہ یہ کسی طرح باز نہیں آتے تو پھر میں اُن سے لڑا اور خدا نے اُن کو چاروں طرف پراگندہ کر دیا۔۳۵۸

بہر حال اس خفیف سے واقعہ کے سوا اور کوئی واقعہ نہ ہوا اور مکہ پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبضہ ہو گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے آپ سے لوگوں نے پوچھا۔ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! کیا آپ اپنے گھر میں ٹھہریں گے؟ آپ نے فرمایا کیا عقیل نے (یہ آپ کے چچازاد بھائی تھے) ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا بھی ہے؟ یعنی میری ہجرت کے بعد میرے رشتہ داروں نے میری ساری جائیداد بیچ باچ کر کھا لی ہے اب مکہ میں میرے لیے کوئی ٹھکانا نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا ہم حیف بنی کنانہ میں ٹھہریں گے۔ یہ مکہ کا ایک میدان تھا جہاں قریش اور کنانہ قبیلہ نے مل کر قسمیں کھائی تھیں کہ جب تک بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ کر ہمارے حوالہ نہ کر دیں اور ان کا ساتھ نہ چھوڑ دیں ہم ان سے نہ شادی بیاہ کریں گے نہ خرید و فروخت کریں گے۔ اس عہد کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے چچا ابو طالب اور آپ کی جماعت کے تمام افراد وادیٔ ابوطالب میں پناہ گزین ہوئے تھے اور تین سال کی شدید تکلیفوں کے بعد خدا تعالیٰ نے انہیں نجات دلائی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انتخاب کیسا لطیف تھا۔ مکہ والوں نے اسی مقام پر قسمیں کھائی تھیں کہ جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سپرد نہ کر دیئے جائیں ہم آپ کے قبیلہ سے صلح نہیں کریں گے۔ آج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُسی میدان میں جا کر اُترے اور گویا مکہ والوں سے کہا کہ جہاں تم چاہتے تھے میں وہاں آ گیا ہوں مگر بتاؤ تو سہی کیا تم میں طاقت ہے کہ آج مجھے اپنے ظلموں کا نشانہ بنا سکو!! وہی مقام جہاں تم مجھے ذلیل اور مقہور شکل دیکھنا چاہتے تھے اور خواہش رکھتے تھے کہ میری قوم مجھے پکڑ کر اِس جگہ تمہارے سپرد کر دے وہاں میں ایسی شکل میں آیا ہوں کہ میری قوم ہی نہیں سارا عرب بھی میرے ساتھ ہے اور میری قوم نے مجھے تمہارے سپرد نہیں کیا بلکہ میری قوم نے تمہیں میرے سپرد کر دیا ہے۔ خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ یہ دن بھی پیر کا دن تھا۔ وہی دن جس دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غارِ ثور سے نکل کر صرف ابو بکرؓ کی معیت میں مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ وہی دن جس میں آپ نے حسرت کے ساتھ ثور کی پہاڑی پر سے مکہ کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔ اے مکہ! تو مجھے دنیا کی ساری بستیوں سے زیادہ پیارا ہے لیکن تیرے باشندے مجھے اس جگہ پر رہنے نہیں دیتے۔ ۳۵۹

مکہ میں داخل ہوتے وقت حضرت ابوبکرؓ آپ کی اُونٹنی کی رکاب پکڑے ہوئے آپ کے ساتھ باتیں بھی کرتے جا رہے تھے اور سورۂ فتح جس میں فتح مکہ کی خبر دی گئی تھی وہ بھی پڑھتے

جاتے تھے۔ آپ سیدھے خانہ کعبہ کی طرف آئے اور اُونٹنی پر چڑھے چڑھے سات دفعہ خانہ کعبہ کا طواف کیا۔ اُس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ آپ خانہ کعبہ کے گرد جو حضرت ابراہیمؑ اور اُن کے بیٹے اسمعیلؑ نے خدائے واحد کی پرستش کے لئے بنایا تھا جسے بعد کو اُن کی گمراہ اولاد نے بتوں کا مخزن بنا کر رکھ دیا تھا گھومے اور وہ تین سو ساٹھ بت جو اس جگہ پر رکھے ہوئے تھے اُن میں سے ایک ایک بت پر آپ چھڑی مارتے جاتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے جَآءَ الۡحَقُّ وَزَہَقَ الۡبَاطِلُ ؕ اِنَّ الۡبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا(۳۶۰)

یہ وہ آیت ہے جو ہجرت سے پہلے سورۂ بنی اسرائیل میں آپ پر نازل ہوئی تھی اور جس میں ہجرت اور پھر فتح مکہ کی خبر دی گئی تھی۔ یوروپین مصنفین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ ہجرت سے پہلے کی سورۃ ہے اس سورۃ میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ وَقُلۡ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّاَخۡرِجۡنِیۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ وَّاجۡعَلۡ لِّیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ سُلۡطٰنًا نَّصِیۡرًا وَقُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَزَہَقَ الۡبَاطِلُ ؕ اِنَّ الۡبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا(۳۶۱) یعنی تو کہہ دے میرے ربّ! مجھے اس شہر یعنی مکہ میں نیک طور پر داخل کیجیو یعنی ہجرت کے بعد فتح اور غلبہ دے کر۔ اور اِس شہر سے خیریت سے ہی نکالیو یعنی ہجرت کے وقت۔ اور خود اپنے پاس سے مجھے غلبہ اور مدد کے سامان بھجوائیو۔ اور یہ بھی کہو کہ حق آ گیا ہے اور باطل یعنی شرک شکست کھا کے بھاگ گیا ہے اور باطل یعنی شرک کے لئے شکست کھا کر بھاگنا تو ہمیشہ کے لئے مقدر تھا۔ اس پیشگوئی کے لفظاً لفظاً پورا ہونے اور حضرت ابو بکرؓ کے اس کو تلاوت کرتے وقت مسلمانوں اور کفار کے دلوں میں جو جذبات پیدا ہوئے ہوں گے وہ لفظوں میں ادا نہیں ہو سکتے۔ غرض اُس دن ابراہیمؑ کا مقام پھر خدائے واحد کی عبادت کے لئے مخصوص کر دیا گیا اور بت ہمیشہ کے لئے توڑے گئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہبل نامی بت کے اُوپر اپنی چھڑی ماری اور وہ اپنے مقام سے گر کر ٹوٹ گیا تو حضرت زبیرؓ نے ابو سفیان کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور کہا ابو سفیان! یاد ہے اُحد کے دن جب مسلمان زخموں سے چور ایک طرف کھڑے ہوئے تھے تم نے اپنے غرور میں یہ اعلان کیا تھا اُعْلُ هُبَلْ ۔ اُعْلُ هُبَلْ۔ ہُبَل کی شان بلند ہو، ہُبَل کی شان بلند ہو۔ اور یہ کہ ہُبَل نے ہی تم کو اُحد کے دن مسلمانوں پر فتح دی تھی۔ آج دیکھتے ہو وہ سامنے ہُبَل کے ٹکڑے پڑے ہیں۔

ابوسفیان نے کہا زبیرؓ! یہ باتیں جانے بھی دو۔ آج ہم کو اچھی طرح نظر آرہا ہے کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کے سوا کوئی اور خدا بھی ہوتا تو آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں اس طرح کبھی نہ ہوتا۔۳۶۲

پھر آپ نے خانہ کعبہ کے اندر جو تصویریں حضرت ابراہیمؑ وغیرہ کی بنی ہوئی تھیں ان کے مٹانے کا حکم دیا اور خانہ کعبہ میں خدا تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے کے شکر یہ میں دو رکعت نماز پڑھی پھر باہر تشریف لائے اور باہر آ کر بھی دو رکعت نماز پڑھی۔ خانہ کعبہ کی تصویروں کو مٹانے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کو مقرر فرمایا تھا؟ انہوں نے اس خیال سے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تو ہم بھی نبی مانتے ہیں حضرت ابراہیمؑ کی تصویر کو نہ مٹایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اُس تصویر کو قائم دیکھا تو فرمایا عمر! تم نے یہ کیا کیا؟ کیا خدا نے یہ نہیں فرمایا کہ مَا کَانَ اِبۡرٰہِیۡمُ یَہُوۡدِیًّا وَّلَا نَصۡرَانِیًّا وَّلٰکِنۡ کَانَ حَنِیۡفًا مُّسۡلِمًا ؕ وَمَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ(3:68) ۳۶۳ یعنی ابراہیم نہ یہودی تھا نہ نصرانی بلکہ وہ خدا تعالیٰ کا کامل فرمانبردار اور خدا تعالیٰ کی ساری صداقتوں کو ماننے والا اور خدا کا موحد بندہ تھا۔ چنانچہ آپ کے حکم سے یہ تصویر بھی مٹادی گئی۔ خدا تعالیٰ کے نشانات دیکھ کر مسلمانوں کے دل اُس دن ایمان سے اتنے پُر ہو رہے تھے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان پر ان کا یقین اس طرح بڑھ رہا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب زمزم کے چشمہ سے (جو اسمعیل بن ابراہیم کے لئے خدا تعالیٰ نے بطور نشان پھاڑ اتھا) پانی پینے کے لئے منگوایا اور اُس میں سے کچھ پانی پی کے باقی پانی سے آپ نے وضو فرمایا تو آپ کے جسم میں سے کوئی قطرہ زمین پر نہیں گر سکا۔ مسلمان فوراً اُس کو اُچک لے جاتے اور تبرک کے طور پر اپنے جسم پر مل لیتے تھے اور مشرک کہہ رہے تھے ہم نے کوئی بادشاہ دنیا میں ایسا نہیں دیکھا جس کے ساتھ اس کے لوگوں کو اتنی محبت ہو۔۳۶۴

جب آپ ان باتوں سے فارغ ہوئے اور مکہ والے آپ کی خدمت میں حاضر کئے گئے تو آپ نے فرمایا اے مکہ کے لوگو! تم نے دیکھ لیا کہ خدا تعالیٰ کے نشانات کس طرح لفظ بلفظ پورے ہوئے ہیں اب بتاؤ کہ تمہارے ان ظلموں اور ان شرارتوں کا کیا بدلہ دیا جائے جو تم نے

خدائے واحد کی عبادت کرنے والے غریب بندوں پر کئے تھے؟ مکہ کے لوگوں نے کہا ہم آپ سے اُسی سلوک کی اُمید رکھتے ہیں جو یوسفؑ نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔ یہ خدا کی قدرت تھی کہ مکہ والوں کے منہ سے وہی الفاظ نکلے جن کی پیشگوئی خدا تعالیٰ نے سورۂ یوسف میں پہلے سے کر رکھی تھی اور فتح مکہ سے دس سال پہلے بتا دیا تھا کہ تو مکہ والوں سے ویسا ہی سلوک کرے گا جیسا یوسفؑ نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔ پس جب مکہ والوں کے منہ سے اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوسفؑ کے مثیل تھے اور یوسفؑ کی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے بھائیوں پر فتح دی تھی تو آپ نے بھی اعلان فرما دیا کہ تَاللّٰهِ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ۔ خدا کی قسم! آج تمہیں کسی قسم کا عذاب نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی کسی قسم کی سرزنش کی جائے گی۔۳۶۵

جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زیارت کعبہ کی متعلقہ عبادتوں میں مصروف تھے اور اپنی قوم کے ساتھ بخشش اور رحمت کا معاملہ کر رہے تھے تو انصار کے دل اندر ہی اندر بیٹھے جا رہے تھے اور وہ ایک دوسرے سے اشاروں میں کہہ رہے تھے شاید آج ہم خدا کے رسول کو اپنے سے جدا کر رہے ہیں کیونکہ ان کا شہر خدا تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر فتح کر دیا ہے اور ان کا قبیلہ ان پر ایمان لے آیا ہے اُس وقت اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعہ سے انصار کے ان شبہات کی خبر دے دی۔ آپ نے سر اُٹھایا، انصار کی طرف دیکھا اور فرمایا اے انصار! تم سمجھتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر کی محبت ستاتی ہوگی اور اپنی قوم کی محبت اس کے دل میں گدگدیاں لیتی ہوگی۔ انصار نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! یہ درست ہے ہمارے دل میں ایسا خیال گزرا تھا۔ آپ نے فرمایا تمہیں پتہ ہے میرا نام کیا ہے؟ مطلب یہ کہ میں اللہ کا بندہ اور اُس کا رسول کہلاتا ہوں پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ تم لوگوں کو جنہوں نے دین اسلام کی کمزوری کے وقت میں اپنی جانیں قربان کیں چھوڑ کر کسی اور جگہ چلا جاؤں۔ پھر فرمایا اے انصار! ایسا کبھی نہیں ہو سکتا میں اللہ کا بندہ اور اُس کا رسول ہوں۔ میں نے خدا کی خاطر اپنے وطن کو چھوڑا تھا اور اس کے بعد اب میں اپنے وطن میں واپس نہیں آ سکتا۔ میری زندگی تمہاری زندگی سے ہے اور میری موت تمہاری موت سے وابستہ ہے۔ مدینہ کے لوگ آپ

کی یہ باتیں سن کر اور آپ کی محبت اور آپ کی وفا کو دیکھ کر روتے ہوئے آگے بڑھے اور کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! خدا کی قسم! ہم نے خدا اور اس کے رسول پر بدظنی کی ۔۳۶۶ بات یہ ہے کہ ہمارے دل اس خیال کو برداشت نہیں کر سکتے کہ خدا کا رسول ہمیں اور ہمارے شہر کو چھوڑ کر کہیں اور چلا جائے۔ آپ نے فرمایا اللہ اور اس کا رسول تم لوگوں کو بری سمجھتے ہیں اور تمہارے اخلاص کی تصدیق کرتے ہیں۔ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مدینہ کے لوگوں میں یہ پیار اور محبت کی باتیں ہو رہی ہوں گی اگر مکہ کے لوگوں کی آنکھوں نے آنسو نہیں بہائے ہوں گے تو ان کے دل یقیناً آنسو بہا رہے ہوں گے کہ وہ قیمتی ہیرا جس سے بڑھ کر کوئی قیمتی چیز اس دنیا میں پیدا نہیں ہوئی خدا نے اُن کو دیا تھا مگر اُنہوں نے اُس کو اپنے گھروں سے نکال کر پھینک دیا اور اب کے وہ خدا کے فضل اور اُس کی مدد کے ساتھ دوبارہ مکہ میں آیا تھا وہ اپنے وفائے عہد کی وجہ سے اپنی مرضی اور اپنی خوشی سے مکہ کو چھوڑ کر مدینہ واپس جا رہا ہے۔

جن لوگوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا کہ ان کے بعض ظالمانہ قتلوں اور ظلموں کی وجہ سے ان کو قتل کیا جائے ان میں سے اکثر کو مسلمانوں کی سفارش پر آپ نے چھوڑ دیا۔ انہی لوگوں میں سے ابو جہل کا بیٹا عکرمہ بھی تھا۔ عکرمہ کی بیوی دل سے مسلمان تھی اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! عکرمہ کو بھی آپ معاف فرما دیں۔ آپ نے فرمایا ہاں ہاں! ہم اُسے معاف کرتے ہیں۔ عکرمہ بھاگ کر یمن کی طرف جا رہے تھے کہ بیوی اپنے خاوند کی محبت میں پیچھے پیچھے اُس کی تلاش میں گئی ۔ جب وہ ساحل سمندر پر کشتی میں بیٹھے ہوئے عرب کو ہمیشہ کے لئے چھوڑنے پر تیار تھے کہ پراگندہ سر اور پریشان حال بیوی گھبرائی ہوئی پہنچی اور کہا اے میرے چچا کے بیٹے! (عرب عورتیں اپنے خاوندوں کو چچا کا بیٹا کہا کرتی تھیں) اتنے شریف اور اتنے رحمدل انسان کو چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو؟ عکرمہ نے حیرت سے اپنی بیوی سے پوچھا کیا میری ان ساری دشمنیوں کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے معاف کر دیں گے؟ عکرمہ کی بیوی نے کہا ہاں ہاں! میں نے اُن سے عہد لے لیا ہے اور انہوں نے تم کو معاف کر دیا ہے۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو عرض کیا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! میری بیوی کہتی ہے کہ آپ نے میرے جیسے انسان کو بھی معاف کر دیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا تمہاری بیوی ٹھیک کہتی ہے ہم نے تم کو معاف کر دیا ہے۔ عکرمہ نے کہا جو شخص اتنے شدید دشمنوں کو معاف کرسکتا ہے وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور اُس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! تم اس کے بندے اور اُس کے رسول ہو اور پھر شرم سے اپنا سر جھکا لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حیا کی حالت کو دیکھ کر اس کے دل کی تسلی کے لئے فرمایا۔ عکرمہ! ہم نے تمہیں صرف معاف ہی نہیں کیا بلکہ اس سے زائد یہ بات بھی ہے کہ اگر آج کوئی ایسی چیز مجھ سے مانگو جس کے دینے کی مجھ میں طاقت ہو تو میں وہ بھی تمہیں دے دوں گا۔ عکرمہ نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اور اس سے زیادہ میری خواہش کیا ہوسکتی ہے کہ آپ خدا تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ میں نے جو آپ کی دشمنیاں کی ہیں وہ مجھے معاف کر دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے فرمایا۔ اے میرے اللہ! وہ تمام دشمنیاں جو عکرمہ نے مجھ سے کی ہیں اسے معاف کر دے اور وہ تمام گالیاں جو اس کے منہ سے نکلی ہیں وہ اسے بخش دے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے اور اپنی چادر اُتار کر اس کے اُوپر ڈال دی اور فرمایا جو اللہ پر ایمان لاتے ہوئے ہمارے پاس آتا ہے ہمارا گھر اُس کا گھر ہے اور ہماری جگہ اُس کی جگہ ہے۔۳۶۷

عکرمہ کے ایمان لانے سے وہ پیشگوئی پوری ہوئی جو سالہا سال پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے بیان فرمائی تھی کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا میں جنت میں ہوں ، وہاں میں نے انگور کا ایک خوشہ دیکھا اور لوگوں سے پوچھا کہ یہ کس کے لئے ہے؟ تو کسی جواب دینے والے نے کہا ابو جہل کے لئے۔ یہ بات مجھے عجیب معلوم ہوئی اور میں نے کہا جنت میں تو سوائے مؤمن کے اور کوئی داخل نہیں ہوتا پھر جنت میں ابوجہل کے لئے انگور کیسے مہیا کئے گئے ہیں؟ جب عکرمہ ایمان لایا تو آپ نے فرمایا وہ خوشہ عکرمہ کا تھا خدا نے بیٹے کی جگہ باپ کا نام ظاہر کیا۳۶۸جیسا کہ خوابوں میں اکثر ہو جایا کرتا ہے۔

وہ لوگ جن کے قتل کا حکم دیا گیا تھا اُن میں وہ شخص بھی تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت زینبؓ کی ہلاکت کا موجب ہوا تھا۔ اس شخص کا نام ہبّار تھا۔ اس نے حضرت زینبؓ کے اُونٹ کا تنگ کاٹ دیا تھا اور حضرت زینبؓ اُونٹ سے نیچے جا پڑی تھیں جس کی وجہ سے اُن کا حمل ضائع ہو گیا اور کچھ عرصہ کے بعد وہ فوت ہو گئیں۔ علاوہ اور جرائم کے یہ جرم بھی اس کو قتل کا مستحق بناتا تھا۔ یہ شخص بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا اے اللہ کے نبی! میں آپ سے بھاگ کر ایران کی طرف چلا گیا تھا پھر میں نے خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے ذریعہ سے ہمارے شرک کے خیالات کو دور کیا ہے اور ہمیں روحانی ہلاکت سے بچایا ہے میں غیر لوگوں میں جانے کی بجائے کیوں نہ اس کے پاس جاؤں اور اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اُس سے معافی مانگوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ ہبار! جب خدا نے تمہارے دل میں اسلام کی محبت پیدا کر دی ہے تو میں تمہارے گناہوں کو کیوں نہ معاف کروں۔ جاؤ میں نے تمہیں معاف کیا اسلام نے تمہارے سب پہلے قصور مٹا دیئے ہیں۔۳۶۹

اِس جگہ اتنی گنجائش نہیں کہ میں اِس مضمون کو لمبا کروں ورنہ ان خطرناک مجرموں میں سے جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معمولی معذرت پر معاف فرما دیا اکثر کے واقعات ایسے دردناک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحم کو اتنا ظاہر کرنے والے ہیں کہ ایک سنگدل انسان بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

غزوۂ حنین

چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں داخلہ اچانک ہوا اس لئے مکہ سے ذرا فاصلے پر جو قبائل رہتے تھے خصوصاً وہ جو جنوب کی طرف رہتے تھے انہیں مکہ پر حملہ کی خبر اُسی وقت ہوئی جب آپ مکہ میں داخل ہو چکے تھے۔ اس خبر کے سنتے ہی انہوں نے اپنی فوجیں جمع کرنی شروع کر دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ کی تیاری کرنے لگے۔ ہوازن اور ثقیف دو عرب قبیلے اپنے آپ کو خاص طور پر بہادر خیال کرتے تھے انہوں نے فوراً آپس میں مشورہ کر کے اپنے لئے ایک سردار چن لیا اور مالک بن عوف نامی ایک شخص کو اپنا رئیس مقرر کر لیا۔ اس کے بعد اُنہوں نے اردگرد کے قبائل کو دعوت دی کہ وہ بھی ان کے ساتھ آ کر شامل ہو جائیں۔ انہی قبائل میں بنو سعد بن بکر بھی تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دائی حلیمہ اسی قبیلہ میں سے تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچپن کی عمر اسی قبیلہ میں گزاری تھی۔ یہ لوگ جمع ہو کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے اور انہوں نے اپنے ساتھ اپنے مال اور اپنی بیویوں اور اپنی اولادوں کو بھی لے لیا۔ جب ان کے سرداروں سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا اس لئے تا سپاہیوں کو یہ خیال رہے کہ اگر ہم بھاگے تو ہماری بیویاں اور ہماری اولادیں قید ہو جائیں گی اور ہمارے مال لوٹے جائیں گے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنے پختہ ارادہ کے ساتھ مسلمانوں کو تباہ کرنے کیلئے نکلے تھے۔ آخر یہ لشکر وادیِ اوطاس میں آکر اُترا جو جنگ کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی وادی تھی کیونکہ اس میں پناہ کی جگہیں بھی تھیں اور جانوروں کے لئے چارہ اور انسانوں کے لئے پانی بھی موجود تھا اور گھوڑے دوڑانے کیلئے زمین بھی بہت ہی مناسب تھی۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپؐ نے عبداللہ بن ابی حدردؓ نامی ایک صحابی کو حقیقتِ حال معلوم کرنے کے لئے بھیجا۔ عبداللہ نے آکر اطلاع دی کہ واقعہ میں ان کا لشکر جمع ہے اور وہ لڑنے مرنے پر آمادہ ہیں۔ چونکہ یہ قوم بڑی تیرانداز تھی اور جس جگہ پر اُنہوں نے ڈیرہ ڈالا تھا وہ مقام ایسا تھا کہ صرف ایک محدود جگہ پر لڑائی کی جاسکتی تھی اور اس جگہ پر بھی حملہ آور بڑی صفائی کے ساتھ تیروں کا نشانہ بنتا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے سردار صفوان سے جو بہت بڑے مالدار اور تاجر تھے اس جنگ کے لئے ہتھیار اور کچھ روپیہ مانگا۔ صفوان نے کہا اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا اپنی حکومت کے زور پر آپ میرا مال چھیننا چاہتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں ہم چھیننا نہیں چاہتے بلکہ تم سے عاریۃً مانگتے ہیں اور اس کی ضمانت دینے کو تیار ہیں۔ اس پر اُس نے کہا تب کوئی حرج نہیں آپ مجھ سے یہ چیزیں لے لیں اور اُس نے سَو ز رہیں اور ان کے ساتھ مناسب ہتھیار عاریۃً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے اور اس کے علاوہ تین ہزار روپیہ قرض دیا۔ اسی طرح آپؐ نے اپنے چچازاد بھائی نوفل بن حارث سے تین ہزار نیزہ عاریۃً لیا۔ جب یہ لشکر ہوازن کی طرف چلا تو مکہ والوں نے خواہش کی کہ گو ہم مسلمان نہیں ہیں لیکن اب چونکہ ہم اسلامی حکومت میں شامل ہو چکے ہیں ہم کو بھی لڑائی میں شامل ہونے کا موقع دیا جائے چنانچہ دو ہزار آدمی مکہ سے آپ کے ساتھ روانہ ہوا۔ راستہ میں عرب کی ایک مشہور زیارت گاہ پڑتی تھی جس کو ذاتِ انواط کہتے تھے۔ یہ ایک پُرانا بیری کا درخت تھا جس کو عرب کے لوگ متبرک سمجھتے تھے اور جب عرب کے بہادر لوگ کوئی ہتھیار خریدتے تو پہلے ذاتِ انواط میں جا کر لٹکاتے تھے تا کہ اس کو برکت حاصل ہو جائے۔ جب صحابہؓ اس کے پاس سے گزرے تو بعض نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہ! ہمارے لئے بھی آپ ایک ذاتِ انواط مقرر فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ بڑا ہے یہ تو وہی موسیٰ کی قوم والی بات ہوئی کہ جب وہ کنعان کی طرف روانہ ہوئے اور کنعان کے قبائل کو اُنہوں نے بت پوجتے دیکھا تو موسیٰ سے مخاطب ہو کر کہا یٰمُوۡسَی اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰـہًا کَمَا لَہُمۡ اٰلِـہَۃٌ(7:139)۳۷۰؎ اے موسیٰ! جس طرح ان کے معبود ہیں ہمارے لئے بھی کوئی معبود تجویز کر دیجئے۔ فرمایا یہ تو جہالت کی باتیں ہیں میں ڈرتا ہوں کہ اس قسم کے وہموں کی وجہ سے کہیں تم میں سے بھی ایک گروہ ایسی ہی حرکتیں نہ کرنے لگ جائے۔۳۷۱؎

ہَوازِن اور ان کے مددگار قبائل نے ایک کمین گاہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے بنا چھوڑی تھی جیسے آجکل لڑائی کے میدان میں مخفی خندقیں ہوتی ہیں جب اسلامی لشکر حنین مقام پر پہنچا تو وہ ان کے سامنے چھوٹی چھوٹی منڈیریں بنا کر ان کے پیچھے بیٹھ گئے اور بیچ میں سے ایک تنگ راستہ مسلمانوں کے لئے چھوڑ دیا۔ اکثر سپاہی تو ان ٹیلوں کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گئے اور کچھ سپاہی اونٹوں وغیرہ کے سامنے صف بند ہو کر کھڑے ہو گئے۔ مسلمانوں نے یہ سمجھ کر کہ لشکر وہی ہے جو سامنے کھڑا ہے آگے بڑھ کر اُس پر حملہ کر دیا۔ جب مسلمان کافی آگے بڑھ چکے اور کمین گاہ کے سپاہیوں نے دیکھا کہ اب ہم اچھی طرح حملہ کر سکتے ہیں تو اگلی کھڑی فوج نے سامنے سے حملہ کر دیا اور پہلوؤں سے تیر اندازوں نے بے تحاشا تیر برسانے شروع کر دیئے۔ مکہ کے لوگ جو یہ سمجھ کر ساتھ شامل ہوئے تھے کہ آج ہم کو بھی بہادری دکھانے کا موقع ملے گا اِس دو طرفہ حملہ کی برداشت نہ کر سکے اور واپس مکہ کی طرف بھاگے۔ مسلمان گو اس قسم کی تکالیف اُٹھانے کے عادی تھے مگر جب دو ہزار گھوڑے اور اونٹ اُن کی صفوں میں سے بے تحاشا بھاگتے ہوئے نکلے تو ان کے گھوڑے اور اونٹ بھی ڈر گئے اور سارے کا سارا لشکر بے تحاشا پیچھے کی طرف دوڑ پڑا۔ تین طرف کے حملہ میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ ۱۲؍صحابی کھڑے رہے۔ مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ سارے صحابہؓ بھاگ گئے تھے بلکہ ۱۰۰ کے قریب اور آدمی بھی میدان میں کھڑے رہے تھے مگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فاصلہ پر تھے۔ آپ کے گرد صرف ایک درجن قریب آدمی رہ گئے۔ ایک صحابی کہتے ہیں میں اور میرے ساتھی

بےتحاشا زور لگاتے تھے کہ کسی طرح ہماری سواری کے جانور میدانِ جنگ کی طرف آئیں لیکن دو ہزار اُونٹوں کے بھاگنے کی وجہ سے وہ ایسے بدک گئے تھے کہ ہمارے ہاتھ باگیں کھینچتے کھینچتے زخمی ہو جاتے تھے مگر اُونٹ اور گھوڑے واپس لوٹنے کا نام نہیں لیتے تھے۔ بعض دفعہ ہم باگیں اِس زور سے کھینچتے تھے کہ مرکب کا سر اُس کی پیٹھ سے لگ جاتا تھا۔ مگر پھر جب ایڑی دے کر ہم اُس کو پیچھے میدانِ جنگ کی طرف موڑتے تو وہ بجائے پیچھے لوٹنے کے اور بھی تیزی کے ساتھ آگے کی طرف بھاگتا۔ ہمارا دل دھڑک رہا تھا کہ پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہوگا مگر ہم بالکل بے بس تھے۔ اِدھر تو صحابہ کی یہ حالت تھی اور اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف چند آدمیوں کے ساتھ میدانِ جنگ میں کھڑے تھے۔ دائیں اور بائیں اور سامنے تینوں طرف سے تیر پڑ رہے تھے اور پیچھے کی طرف صرف ایک تنگ راستہ تھا جس میں سے ایک وقت میں صرف چند آدمی ہی گزر سکتے تھے مگر پھر بھی سوائے اُس راستہ کے اور کوئی نجات کی راہ نہیں تھی۔ اُس وقت حضرت ابوبکرؓ نے اپنی سواری سے اُتر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر کی باگ پکڑ لی اور عرض کی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تھوڑی دیر کے لئے پیچھے ہٹ آئیں یہاں تک کہ اسلامی لشکر جمع ہو جائے۔ آپ نے فرمایا ابوبکر! میری خچر کی باگ چھوڑ دو اور پھر خچر کو ایڑی لگاتے ہوئے آپ نے اُس تنگ راستہ پر آگے بڑھنا شروع کیا جس کے دائیں بائیں کمین گاہوں میں بیٹھے ہوئے سپاہی تیر اندازی کر رہے تھے اور فرمایا۔

اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ

اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ

میں خدا کا نبی ہوں میں جھوٹا نہیں ہوں۔ مگر یہ بھی یاد رکھو کہ اِس وقت خطرہ کے مقام پر کھڑے ہوئے بھی جو میں دشمن کے حملہ سے محفوظ ہوں تو اس کے یہ معنی نہیں کہ میرے اندر خدائی کا کوئی مادہ پایا جاتا ہے بلکہ میں انسان ہی ہوں اور عبدالمطلب کا پوتا ہوں۔ پھر آپ نے حضرت عباسؓ کو جن کی آواز بہت بلند تھی آگے بُلایا اور فرمایا۔ عباسؓ! بلند آواز سے پکار کر کہو کہ اے وہ صحابہ! جنہوں نے حدیبیہ کے دن درخت کے نیچے بیعت کی تھی اور اے وہ لوگو جو سورۂ بقرہ کے زمانہ سے مسلمان ہو! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔ حضرت عباسؓ نے نہایت ہی بلند آواز سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام سنایا، تو اُس وقت صحابہؓ کی جو حالت ہوئی اُس کا اندازہ

صرف اُنہی کی زبان سے حالات سن کر لگایا جا سکتا ہے۔ وہی صحابی جن کا میں نے اُوپر ذکر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم اُونٹوں اور گھوڑوں کو واپس لانے کی کشمکش میں تھے کہ عباس کی آواز ہمارے کانوں میں پڑی۔ اُس وقت ہمیں یوں معلوم ہوا کہ ہم اِس دنیا میں نہیں بلکہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہیں اور اُس کے فرشتے ہم کو حساب دینے کے لئے بُلا رہے ہیں۔ تب ہم میں سے بعض نے اپنی تلواریں اور ڈھالیں اپنے ہاتھوں میں لے لیں اور اُونٹوں سے کود پڑے اور ڈرے ہوئے اُونٹوں کو انہوں نے خالی چھوڑ دیا کہ وہ جدھر چاہیں چلے جائیں اور بعض نے اپنی تلواروں سے اپنے اُونٹوں کی گردنیں کاٹ دیں اور خود پیدل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دَوڑے۔

وہ صحابی کہتے ہیں اُس دن انصار اِس طرح دَوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جا رہے تھے کہ جس طرح اُونٹنیاں اور گائیں اپنے بچے کے چیخنے کی آواز کو سُن کر اس کی طرف دَوڑ پڑتی ہیں اور تھوڑی دیر میں صحابہ اور خصوصاً انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے اور دشمن کو شکست ہو گئی۔

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسیہ کا یہ نشان ہے کہ وہ شخص جو چند ہی دن پہلے آپ کی جان کا دشمن تھا اور آپ کے مقابلہ پر کفار کے لشکروں کی کمان کیا کرتا تھا یعنی ابوسفیان وہ آج حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ جب کفار کے اُونٹ پیچھے کی طرف دَوڑے تو ابوسفیان جو نہایت ہی زیرک اور ہوشیار آدمی تھا اُس نے یہ سمجھ کر کہ میرا گھوڑا ابھی بدک جائے گا فوراً اپنے گھوڑے سے کودا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر کی رکاب پکڑے ہوئے پیدل آپ کے ساتھ چل پڑا۔ ابوسفیان کا بیان ہے کہ اُس وقت کھنچی ہوئی تلوار میرے ہاتھ میں تھی اور مجھے اللہ ہی کی قسم ہے جو دلوں کے راز جانتا ہے کہ میں اُس وقت عزمِ صمیم کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر کے ساتھ پہلو میں کھڑا تھا کہ کوئی شخص مجھے مارے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حیرت کے ساتھ دیکھ رہے تھے (شاید آپ سوچ رہے تھے کہ آج سے صرف دس پندرہ دن پہلے یہ شخص میرے قتل کے لئے اپنی فوج کو لے کر مکہ سے نکلنے والا تھا لیکن چند ہی دنوں میں خدا تعالیٰ نے اِس کے اندر ایسی تبدیلی کردی ہے کہ یہ مکہ کا کمانڈر ایک عام سپاہی کی حیثیت میں میری خچر کی رکاب پکڑے کھڑا ہے اور اِس کا چہرہ بتا رہا ہے کہ یہ آج اپنی موت سے اپنے گناہوں کا ازالہ کرے گا) عباسؓ نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حیرت سے ابوسفیان کی طرف دیکھتے ہوئے دیکھا تو کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! یہ ابوسفیان آپ کے چچا کا بیٹا اور آپ کا بھائی ہے آج تو آپ اِس سے خوش ہو جائیں۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اِس کی وہ تمام دشمنیاں معاف کرے جو کہ اِس نے مجھ سے کی ہیں۔ ابوسفیان کہتے ہیں کہ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا اے بھائی! تب میں نے جوشِ محبت سے آپ کے اُس پیر کو جو خچر کی رکاب میں تھا چوم لیا۔

فتحِ مکہ کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جنگی سامان جو آپ نے عاریۃً لیا تھا اُس کے مالکوں کو واپس کیا اور ساتھ اُس کے بہت سا انعام و اکرام بھی دیا تو ان لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ یہ شخص اِس زمانہ کے عام انسانوں جیسا نہیں۔ چنانچہ صفوان اُسی وقت اسلام لے آئے۔

اِس جنگ کا ایک اور عجیب واقعہ بھی تاریخوں میں آتا ہے۔ شیبہ نامی ایک شخص جو مکہ کے رہنے والے تھے اور جو خانہ کعبہ کی خدمت کے لئے مقرر تھے وہ کہتے ہیں میں بھی اِس لڑائی میں شامل ہوا مگر میری نیت یہ تھی کہ جس وقت لشکر آپس میں ملیں گے تو میں موقع پا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دوں گا اور میں نے دل میں کہا عرب اور غیر عرب لوگ تو الگ رہے اگر ساری دنیا بھی محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے مذہب میں داخل ہوگئی تو میں نہیں ہوں گا۔ جب لڑائی تیزی پر ہوئی اور اِدھر کے آدمی اُدھر کے آدمیوں میں مل گئے تو میں نے تلوار کھینچی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونا شروع کیا۔ اُس وقت مجھے یوں معلوم ہوا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کا ایک شعلہ اُٹھ رہا ہے جو قریب ہے کہ مجھ بھسم کر دے۔ اُس وقت مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنائی دی کہ شیبہ! میرے قریب ہو جاؤ۔ میں جب آپ کے قریب گیا تو آپ نے میرے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور کہا اے خدا! شیبہ کو شیطانی خیالوں سے نجات دے۔ شیبہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پھیرنے کے ساتھ ہی میرے دل سے ساری دشمنیاں اور عداوتیں اُڑ گئیں اور اُس وقت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو اپنی آنکھوں سے اور اپنے کانوں سے اور اپنے دل سے زیادہ عزیز ہو گئے۔ پھر آپ نے فرمایا شیبہ! آگے بڑھو اور لڑو۔ تب میں آگے بڑھا اور اُس وقت میرے دل میں سوائے اِس کے کوئی خواہش نہیں تھی کہ میں اپنی جان قربان کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچاؤں۔ اگر اُس وقت میرا باپ زندہ ہوتا اور میرے سامنے آجاتا تو میں اپنی تلوار اُس کے سینہ میں بھونک ۳۷۴؎ دینے سے ایک ذرہ دریغ نہ کرتا۔۳۷۵؎

اِس کے بعد آپ طائف کی طرف روانہ ہوئے۔ وہی شہر جن کے باشندوں نے پتھراؤ کرتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر سے نکال دیا تھا۔ اُس شہر کا آپ نے کچھ عرصہ تک محاصرہ کیا لیکن پھر بعض لوگوں کے مشورہ دینے پر کہ ان کا محاصرہ کر کے وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں سارے عرب میں اب صرف یہ شہر کر ہی کیا سکتا ہے آپ محاصرہ چھوڑ کر چلے آئے اور کچھ عرصہ کے بعد طائف کے لوگ بھی مسلمان ہو گئے۔

فتح مکہ اور حنین کے بعد

اِن جنگوں سے فارغ ہونے کے بعد وہ اموال جو مغلوب دشمنوں کے جرمانوں اور میدانِ جنگ میں چھوڑی ہوئی چیزوں سے جمع ہوئے تھے حسب دستور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلامی لشکر میں تقسیم کرنے تھے۔ لیکن اس موقع پر آپ نے بجائے ان اموال کو مسلمانوں میں تقسیم کرنے کے مکہ اور اِردگرد کے لوگوں میں تقسیم کر دیا۔ ان لوگوں کے اندر ابھی ایمان تو پیدا نہیں ہوا تھا بہت سے تو ابھی کافر ہی تھے اور جو مسلمان تھے وہ بھی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے یہ ان کے لئے بالکل نئی چیز تھی کہ ایک قوم اپنا مال دوسرے لوگوں میں بانٹ رہی ہے۔ اِس مال کی تقسیم سے بجائے ان کے دل میں نیکی اور تقویٰ پیدا ہونے کے حرص اور بھی بڑھ گئی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمگھٹا ڈال لیا اور مزید مطالبات کے ساتھ آپ کو تنگ کرنا شروع کیا یہاں تک کہ دھکیلتے ہوئے وہ آپ کو ایک درخت تک لے گئے اور را یک شخص نے تو آپ کی چادر جو آپ کے کندھوں پر رکھی ہوئی تھی پکڑ کر اس طرح مروڑنی شروع کی کہ آپ کا سانس رُکنے لگا۔ آپ نے فرمایا اے لوگو! اگر میرے پاس کچھ اور ہوتا تو میں وہ بھی تمہیں دے دیتا تم مجھے کبھی بخیل یا بزدل نہیں پاؤ گے۔ ۳۷۶؎ پھر آپ اپنی اونٹنی کے پاس گئے اور اس کا ایک بال توڑا اور اسے اونچا

کیا اور فرمایا اے لوگو! مجھے تمہارے مالوں میں سے اِس بال کے برابر بھی ضرورت نہیں سوائے اُس پانچویں حصہ کے جو عرب کے قانون کے مطابق حکومت کا حصہ ہے اور وہ پانچواں حصہ بھی میں اپنی ذات پر خرچ نہیں کرتا بلکہ وہ بھی تمہیں لوگوں کے کاموں پر خرچ کیا جاتا ہے۔ اور یاد رکھو کہ خیانت کرنے والا انسان قیامت کے دن خدا کے حضور اس خیانت کی وجہ سے ذلیل ہوگا۔

لوگ کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بادشاہت کے خواہشمند تھے۔ کیا بادشاہوں اور عوام کا ایسا ہی تعلق ہوا کرتا ہے؟ کیا کسی کی طاقت ہوتی ہے کہ بادشاہ کو اِس طرح دھکیلتا ہوا لے جائے اور اس کے گلے میں پٹکہ ڈال کر اُس کو گھونٹے؟ اللہ کے رسولوں کے سوا یہ نمونہ کون دکھا سکتا ہے۔ مگر با وجود اس طرح تمام اموال غرباء میں تقسیم کرنے کے پھر بھی ایسے سنگدل لوگ موجود تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم کو انصاف کی تقسیم نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ ذوالخویصرہ نامی ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا۔ اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) جو کچھ آپ نے آج کیا ہے وہ میں نے دیکھا ہے۔ آپ نے فرمایا تم نے کیا دیکھا؟ اس نے کہا میں نے یہ دیکھا ہے کہ آپ نے آج ظلم کیا ہے اور انصاف سے کام نہیں لیا۔ آپ نے فرمایا تم پر افسوس! اگر میں نے عدل نہیں کیا تو پھر اور کون انسان دنیا میں عدل کرے گا۔ اُس وقت صحابہؓ جوش میں کھڑے ہو گئے اور جب یہ شخص مسجد سے اُٹھ کر گیا تو ان میں سے بعض نے کہا يَا رَسُولَ اللہ! یہ شخص واجب القتل ہے کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ ہم اسے مار دیں؟ آپ نے فرمایا اگر یہ شخص قانون کی پابندی کرتا ہے تو ہم اس کو کس طرح مار سکتے ہیں۔ صحابہؓ نے کہا يَا رَسُولَ اللہ! ایک شخص ظاہر کچھ اور کرتا ہے اور اس کے دل میں کچھ اور ہوتا ہے کیا ایسا شخص سزا کا مستحق نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے خدا نے یہ حکم نہیں دیا کہ میں لوگوں سے ان کے دلوں کے خیالات کے مطابق معاملہ کروں۔ مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اُن کے ظاہر کے مطابق معاملہ کروں۔ پھر آپ نے فرمایا یہ اور اس کے ساتھی ایک دن اسلام سے بغاوت کریں گے۔۷۷۳؎چنانچہ حضرت علیؓ کے زمانہ میں یہ شخص اور اس کے قبیلہ کے لوگ اُن باغیوں کے سردار تھے جنہوں نے حضرت علیؓ سے بغاوت کی اور خوارج کے نام سے آج تک مشہور ہیں۔

ہَوَازن سے فارغ ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لے گئے۔ یہ مدینہ والوں کے لئے پھر ایک نیا خوشی کا دن تھا۔ ایک دفعہ خدا کا رسول مکہ کے لوگوں کے ظلم سے تنگ آ کر مدینہ کی طرف روانہ ہوا تھا اور آج خدا کا رسول مکہ فتح کرنے کے بعد اپنی خوشی سے اور اپنے عہد کو نبھانے کے لئے دوبارہ مدینہ میں داخل ہو رہا تھا۔

غزوۂ تبوک

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو ابو عامر مدنی جو خزرج قبیلہ میں سے تھا اور یہودیوں اور عیسائیوں سے میل ملاقات کی وجہ سے ذکر و وظائف کرنے کا عادی تھا اور اِس کی وجہ سے لوگ اس کو راہب کہتے تھے مگر مذہباً عیسائی نہیں تھا۔ یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں پہنچ جانے کے بعد مکہ کی طرف بھاگ گیا تھا۔ جب مکہ بھی فتح ہو گیا تو یہ سوچنے لگا کہ اب مجھے اسلام کے خلاف شورش پیدا کرنے کے لئے کوئی اور تدبیر کرنی چاہئے۔ آخر اس نے اپنا نام اور طرز بدلی اور مدینہ کے پاس قبا نامی گاؤں میں جا کر رہنا شروع کیا۔ سالہا سال باہر رہنے کی وجہ سے اور کچھ شکل اور لباس میں تبدیلی کر لینے کی وجہ سے مدینہ کے لوگوں نے عام طور پر اس کو نہ پہچانا۔ صرف وہی منافق اِس کو جانتے تھے جن کے ساتھ اس نے اپنا تعلق پیدا کر لیا تھا۔ اس نے مدینہ کے منافقوں کے ساتھ مل کر یہ تجویز کی کہ میں شام میں جا کر عیسائی حکومت اور عرب عیسائی قبائل کو بھڑکاتا ہوں اور اُن کو مدینہ پر حملہ کرنے کی تحریک کرتا ہوں۔ اِدھر تم یہ مشہور کرنا شروع کر دو کہ شامی فوجیں مدینہ پر حملہ کر رہی ہیں۔ اگر میری سکیم کامیاب ہو گئی تو پھر بھی ان دونوں کی مٹھ بھیڑ ہو جائے گی اور اگر میری سکیم کامیاب نہ ہوئی تو ان افواہوں کی وجہ سے مسلمان شاید شام پر جا کر خود حملہ کر دیں اور اس طرح قیصر کی حکومت اور ان میں لڑائی شروع ہو جائے گی اور ہمارا کام بن جائے گا۔ چنانچہ یہ تحریک کر کے یہ شخص شام کی طرف گیا اور مدینہ کے منافقوں نے روزانہ مدینہ میں یہ خبریں مشہور کرنی شروع کر دیں کہ فلاں قافلہ ہمیں ملا تھا اور اُس نے بتایا تھا کہ شامی لشکر مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ دوسرے دن پھر کہہ دیتے تھے کہ فلاں قافلہ کے لوگ ہمیں ملے تھے اور اُنہوں نے کہا تھا کہ مدینہ پر شامی لشکر چڑھائی کرنے والا ہے۔ یہ خبریں اتنی شدت سے پھیلنی شروع ہوئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب سمجھا کہ آپ اسلامی لشکر لے کر خود

شامی لشکروں کے مقابلہ کے لئے جائیں۔ یہ وقت مسلمانوں کے لئے نہایت ہی تکلیف کا تھا۔ قحط کا سال تھا پچھلے موسم میں غلہ اور پھل کم پیدا ہوا تھا اور اس موسم کی اجناس ابھی پیدا نہیں ہوئی تھیں۔ ستمبر کا آخر یا اکتوبر کا شروع تھا، جب آپ اس مہم کے لئے روانہ ہوئے۔ منافق تو جانتے تھے کہ یہ سب شرارت ہے اور یہ کہ انہوں نے یہ سب چالا کی اس لئے کی ہے کہ اگر شامی لشکر حملہ آور نہ ہوا تو مسلمان خود شامیوں سے جا لڑیں اور اس طرح تباہ ہو جائیں۔ موتہ کی جنگ کے حالات ان کے سامنے تھے اُس وقت مسلمانوں کو اتنے بڑے لشکر کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ وہ بہت کچھ نقصان اُٹھا کر بمشکل بچے تھے۔ اب وہ ایک دوسری موتہ اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے تھے جس میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نَعُوْذُ بِاللّٰہ شہید ہو جائیں اس لئے ایک طرف تو منافق روزانہ یہ خبریں پھیلاتے تھے کہ فلاں ذریعہ سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ دشمن حملہ کرنے والا ہے فلاں ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ شامی فوجیں آرہی ہیں اور دوسری طرف لوگوں کو ڈرا رہے تھے کہ اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ آسان نہیں تمہیں جنگ کے لئے نہیں جانا چاہئے۔ ان کارروائیوں سے ان کی غرض یہ تھی کہ مسلمان شام پر حملہ کرنے کے لئے جائیں تو سہی، لیکن جہاں تک ہو سکے کم سے کم تعداد میں جائیں تاکہ ان کی شکست زیادہ سے زیادہ یقینی ہو جائے ۔ مگر مسلمان رسول اللہ ﷺ کے اس اعلان پر کہ ہم شام کی طرف جانے والے ہیں اخلاص اور جوش سے بڑھ بڑھ کر قربانیاں کر رہے تھے۔ غریب مسلمانوں کے پاس جنگ کے سامان تھے کہاں؟ حکومت کا خزانہ بھی خالی تھا۔ ان کے آسودہ حال بھائی ہی ان کی مدد کیلئے آسکتے تھے۔ چنانچہ ہر شخص قربانی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ حضرت عثمانؓ نے اُس دن اپنے روپے کا اکثر حصہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا جو ایک ہزار سونے کا دینار تھا یعنی قریباً ۲۵ ہزار روپیہ۔ اسی طرح اور صحابہؓ نے اپنی اپنی توفیق کے مطابق چندے دیئے اور غریب مسلمانوں کے لئے سواریاں یا تلواریں یا نیزے مہیا کئے گئے۔ صحابہؓ میں قربانی کا اس قدر جوش تھا کہ یمن کے کچھ لوگ جو اسلام لا کر مدینہ میں ہجرت کر آئے تھے اور بہت ہی غربت کی حالت میں تھے ان کے کچھ افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا، یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چلیے ہم کچھ اور نہیں چاہتے ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں وہاں تک پہنچنے کا سامان مل جائے۔ قرآن کریم میں ان لوگوں کا ذکر ان الفاظ میں آتا ہے وَّلَا عَلَی الَّذِیۡنَ اِذَا مَاۤ اَتَوۡکَ لِتَحۡمِلَہُمۡ قُلۡتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحۡمِلُکُمۡ عَلَیۡہِ ۪ تَوَلَّوۡا وَّاَعۡیُنُہُمۡ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوۡا مَا یُنۡفِقُوۡنَ(۳۷۸) یعنی اِس جنگ میں شریک نہ ہونے کا ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں جو تیرے پاس اس لئے آتے ہیں کہ تو ان کے لئے ایسا سامان مہیا کر دے جس کے ذریعہ سے وہ وہاں پہنچ سکیں مگر تو نے انہیں کہا کہ میرے پاس تو تمہیں وہاں پہنچانے کا کوئی سامان نہیں۔ تب وہ تیری مجلس سے اُٹھ کر چلے گئے اور اُن کی آنکھوں سے اس غم میں آنسو بہتے تھے کہ افسوس ان کے پاس کوئی مال نہیں جس کو خرچ کر کے وہ آج اسلامی خدمت کر سکیں۔ ابو موسیٰؓ ان لوگوں کے سردار تھے جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مانگا تھا؟ تو انہوں نے کہا خدا کی قسم! ہم نے اونٹ نہیں مانگے، ہم نے گھوڑے نہیں مانگے، ہم نے صرف یہ کہا تھا کہ ہم ننگے پاؤں ہیں اور اتنا لمبا سفر پیدل نہیں چل سکتے اگر ہم کو صرف جوتیوں کے جوڑے مل جائیں تو ہم جوتیاں پہن کر ہی بھاگتے ہوئے اپنے بھائیوں کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہونے کے لئے پہنچ جائیں گے۔ ۳۷۹

چونکہ لشکر کو شام کی طرف جانا تھا اور موتہ کی جنگ کا نظارہ مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے تھا اس لئے ہر مسلمان کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کی حفاظت کا خیال سب خیالوں پر مقدم تھا۔ عورتیں تک بھی اس خطرہ کو محسوس کر رہی تھیں اور اپنے خاوندوں اور اپنے بیٹوں کو جنگ پر جانے کی تلقین کر رہی تھیں۔ اس اخلاص اور اس جوش کا اندازہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک صحابی جو کسی کام کے لئے باہر گئے ہوئے تھے اُس وقت واپس لوٹے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر سمیت مدینہ سے روانہ ہو چکے تھے۔ ایک عرصہ کی جدائی کے بعد جب وہ اس خیال سے اپنے گھر میں داخل ہوئے کہ اپنی محبوبہ بیوی کو جا کر دیکھیں گے اور خوش ہوں گے تو انہوں نے اپنی بیوی کو صحن میں بیٹھے ہوئے دیکھا اور محبت سے بغل گیر ہوئے اور پیار کرنے کے لئے تیزی سے اس کی طرف آگے بڑھے۔ جب وہ بیوی کے قریب گئے تو اُن کی بیوی نے دونوں ہاتھوں سے اُن کو دھکا دے کر پیچھے ہٹا دیا۔ اُس صحابی نے حیرت سے اپنی بیوی کا منہ

دیکھا اور پوچھا اتنی مدت کے بعد ملنے پر آخر یہ سلوک کیوں؟ بیوی نے کہا کیا تم کو شرم نہیں آتی خدا کا رسول اُس خطرہ کی جگہ پر جا رہا ہے اور تم اپنی بیوی سے پیار کرنے کی جرأت کرتے ہو! پہلے جاؤ اور اپنا فرض ادا کرو اس کے بعد یہ باتیں دیکھی جائیں گی وہ صحابی فوراً گھر سے باہر نکل گئے۔ اپنی سواری پر زین کسی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین منزل پر جا کر مل گئے۔

کفار تو یہ سمجھتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان افواہوں کی بناء پر بے سوچے سمجھے شامی لشکروں پر جا پڑیں گے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اسلامی اخلاق کے تابع تھے۔ جب آپ شام کے قریب تبوک مقام پر پہنچے تو آپ نے اِدھر اُدھر آدمی بھیجے تاکہ وہ معلوم کریں کہ حقیقت کیا ہے اور یہ سفراء متفقہ طور پر یہ خبریں لائے کہ کوئی شامی لشکر اس وقت جمع نہیں ہو رہا۔ اس پر کچھ دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ٹھہرے اور اردگرد کے بعض قبائل سے معاہدات کر کے بغیر لڑائی کے واپس آ گئے۔ یہ کل سفر آپ کا دو اڑھائی مہینے کا تھا۔

جب مدینہ کے منافقوں کو معلوم ہوا کہ لڑائی بھڑائی تو کچھ نہیں ہوئی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیریت سے واپس آرہے ہیں تو انہوں نے سمجھ لیا کہ ہماری منافقانہ چالوں کا راز اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظاہر ہو گیا ہے اور غالباً اب ہم سزا سے نہیں بچیں گے۔ تب انہوں نے مدینہ سے کچھ فاصلہ پر چند آدمی ایک ایسے رستہ پر بٹھا دیئے جو نہایت تنگ تھا اور جس پر صرف ایک ایک سوار گزر سکتا تھا۔ جب آپ اس جگہ کے قریب پہنچے تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے وحی سے بتا دیا کہ آگے دشمن راستہ کے دونوں طرف چھپا بیٹھا ہے۔ آپ نے ایک صحابی کو حکم دیا کہ جاؤ اور وہاں جا کر دیکھو۔ وہ سواری کو تیز کر کے وہاں پہنچے تو انہوں نے وہاں چند آدمی چھپے ہوئے دیکھے جو اس طرح چھپے بیٹھے تھے جیسا کہ حملہ کرنے والے بیٹھا کرتے ہیں۔ ان کے پہنچنے پر وہ وہاں سے بھاگ گئے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا تعاقب کرنا مناسب نہ معلوم ہوا۔

جب آپ مدینہ پہنچے تو منافقوں نے جو اس جنگ میں شامل نہیں ہوئے تھے قسم قسم کی معذرتیں کرنی شروع کر دیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو قبول کر لیا۔ لیکن اب وقت آگیا تھا کہ منافقوں کی حقیقت مسلمانوں پر آشکارا کر دی جائے ۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے وحی سے حکم دیا کہ قبا کی وہ مسجد جو منافقوں نے اس لئے بنائی تھی کہ نماز کے بہانہ سے وہاں جمع ہوا کریں گے اور منافقانہ مشورے کیا کریں گے، وہ گرا دی جائے اور اُن کو مجبور کیا جائے کہ وہ مسلمانوں کی دوسری مسجدوں میں نماز پڑھا کریں، مگر با وجود اتنی بڑی شرارت کے ان کو کوئی بدنی یا مالی سزا نہ دی گئی۔

تبوک سے واپسی کے بعد طائف کے لوگوں نے بھی آ کر اطاعت قبول کر لی اور اس کے بعد عرب کے متفرق قبائل نے باری باری آ کر اسلامی حکومت میں داخلہ کی اجازت چاہی اور تھوڑے ہی عرصہ میں سارے عرب پر اسلامی جھنڈا لہرانے لگا۔

حجۃ الوداع اور آنحضرتﷺ کا ایک خطبہ

نویں سال ہجری میں آپؐ نے مکہ کا حج فرمایا اور اُس دن آپ پر قرآن شریف کی یہ مشہور آیت نازل ہوئی کہ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا(۳۸۰) یعنی آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے اور جتنے روحانی انعامات خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر نازل ہو سکتے ہیں وہ سب میں نے تمہاری اُمّت کو بخش دیئے ہیں اور اِس بات کا فیصلہ کر دیا ہے کہ تمہارا دین خالص اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مبنی ہو۔

یہ آیت آپ نے مزدلفہ کے میدان میں جبکہ حج کے لئے لوگ جمع ہوتے ہیں سب لوگوں کے سامنے بہ آوازِ بلند پڑھ کر سنائی۔ مزدلفہ سے لوٹنے پر حج کے قواعد کے مطابق آپ منیٰ میں ٹھہرے اور گیارھویں ذوالحجہ کو آپ نے تمام مسلمانوں کے سامنے کھڑے ہو کر ایک تقریر کی جس کا مضمون یہ تھا ؎

’’اے لوگو! میری بات کو اچھی طرح سنو کیونکہ میں نہیں جانتا کہ اِس سال کے بعد کبھی بھی میں تم لوگوں کے درمیان اِس میدان میں کھڑے ہو کر کوئی تقریر کروں گا۔ تمہاری جانوں اور تمہارے مالوں کو خدا تعالیٰ نے ایک دوسرے کے حملہ سے قیامت تک کے لئے محفوظ قرار دیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے ہر شخص کے لئے وراثت میں اُس کا حصہ مقرر کر دیا ہے۔ کوئی وصیت ایسی جائز نہیں جو دوسرے وارث کے حق کو نقصان پہنچائے۔ جو بچہ جس کے گھر میں پیدا ہو وہ اُس کا سمجھا جائے گا اور اگر کوئی بدکاری کی

بناء پر اُس بچے کا دعویٰ کرے گا تو وہ خود شرعی سزا کا مستحق ہو گا۔ جو شخص کسی کے باپ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتا ہے یا کسی کو جھوٹے طور پر اپنا آقا قرار دیتا ہے خدا اور اُس کے فرشتوں اور بنی نوع انسان کی لعنت اُس پر ہے۔ اے لوگو! تمہارے کچھ حق تمہاری بیویوں پر ہیں اور تمہاری بیویوں کے کچھ حق تم پر ہیں۔ ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ عفت کی زندگی بسر کریں اور ایسی کمینگی کا طریق اختیار نہ کریں جس سے خاوندوں کی قوم میں بے عزتی ہو۔ اگر وہ ایسا کریں تو تم (جیسا کہ قرآن کریم کی ہدایت ہے کہ باقاعدہ تحقیق اور عدالتی فیصلہ کے بعد ایسا کیا جا سکتا ہے) انہیں سزا دے سکتے ہو مگر اس میں بھی سختی نہ کرنا۔ لیکن اگر وہ کوئی ایسی حرکت نہیں کرتیں جو خاندان اور خاوند کی عزت کو بٹہ لگانے والی ہو تو تمہارا کام ہے کہ تم اپنی حیثیت کے مطابق ان کی خوراک اور لباس وغیرہ کا انتظام کرو۔ اور یاد رکھو کہ ہمیشہ اپنی بیویوں سے اچھا سلوک کرنا کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کی نگہداشت تمہارے سپرد کی ہے۔ عورت کمزور وجود ہوتی ہے اور وہ اپنے حقوق کی خود حفاظت نہیں کر سکتی۔ تم نے جب ان کے ساتھ شادی کی تو خدا تعالیٰ کو ان کے حقوق کا ضامن بنایا تھا اور خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت تم ان کو اپنے گھروں میں لائے تھے (پس خدا تعالیٰ کی ضمانت کی تحقیر نہ کرنا اور عورتوں کے حقوق کے ادا کرنے کا ہمیشہ خیال رکھنا) اے لوگو! تمہارے ہاتھوں میں ابھی کچھ جنگی قیدی بھی باقی ہیں۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ان کو وہی کچھ کھلا نا جو تم خود کھاتے ہو اور ان کو وہی پہنانا جو تم خود پہنتے ہو۔ اگر ان سے کوئی ایسا قصور ہو جائے جو تم معاف نہیں کر سکتے تو ان کو کسی اور کے پاس فروخت کر دو کیونکہ وہ خدا کے بندے ہیں اور ان کو تکلیف دینا کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔ اے لوگو! جو کچھ میں تم سے کہتا ہوں سنو اور اچھی طرح اس کو یاد رکھو۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے تم سب ایک ہی درجہ کے ہو۔ تم تمام انسان خواہ کسی قوم اور کسی حیثیت کے ہو انسان ہونے کے لحاظ سے ایک درجہ رکھتے ہو۔ یہ کہتے ہوئے آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملا دیں اور کہا جس طرح ان دونوں

ہاتھوں کی اُنگلیاں آپس میں برابر ہیں اسی طرح تم بنی نوع انسان آپس میں برابر ہو۔ تمہیں ایک دوسرے پر فضیلت اور درجہ ظاہر کرنے کا کوئی حق نہیں۔ تم آپس میں بھائیوں کی طرح ہو۔ پھر فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے آج کونسا مہینہ ہے؟ کیا تمہیں معلوم ہے یہ علاقہ کونسا ہے؟ کیا تمہیں معلوم ہے یہ دن کونسا ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں! یہ مقدس مہینہ ہے، یہ مقدس علاقہ ہے اور یہ حج کا دن ہے۔ ہر جواب پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جس طرح یہ مہینہ مقدس ہے، جس طرح یہ علاقہ مقدس ہے، جس طرح یہ دن مقدس ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی جان اور اُس کے مال کو مقدس قرار دیا ہے اور کسی کی جان اور کسی کے مال پر حملہ کرنا ایسا ہی ناجائز ہے جیسے کہ اس مہینے اور اِس علاقہ اور اِس دن کی ہتک کرنا۔ یہ حکم آج کیلئے نہیں، کل کیلئے نہیں بلکہ اُس دن تک کیلئے ہے کہ تم خدا سے جا کر ملو۔ پھر فرمایا۔ یہ باتیں جو میں تم سے آج کہتا ہوں اِن کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دو کیونکہ ممکن ہے کہ جو لوگ آج مجھ سے سن رہے ہیں اُن کی نسبت وہ لوگ ان پر زیادہ عمل کریں جو مجھ سے نہیں سن رہے۔۳۸۱؎

یہ مختصر خطبہ بتاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی نوع انسان کی بہتری اور ان کا امن کیسا مدنظر تھا اور عورتوں اور کمزوروں کے حقوق کا آپ کو کیسا خیال تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محسوس کر رہے تھے کہ اب موت قریب آرہی ہے شاید اللہ تعالیٰ آپ کو بتا چکا تھا کہ اب آپ کی زندگی کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔ آپ نے نہ چاہا کہ وہ عورتیں جو انسانی پیدائش کے شروع سے مردوں کی غلام قرار دی جاتی تھیں ان کے حقوق کو محفوظ کرنے کا حکم دینے سے پہلے آپ اِس دنیا سے گزر جائیں۔ وہ جنگی قیدی جن کو لوگ غلام کا نام دیا کرتے تھے اور جن پر طرح طرح کے مظالم کیا کرتے تھے آپ نے نہ چاہا کہ ان کے حقوق کو محفوظ کر دینے سے پہلے آپ اِس دنیا سے گزر جائیں۔ وہ بنی نوع انسان کا باہمی فرق اور امتیاز جو انسانوں میں سے بعض کو تو آسمان پر چڑھا دیتا تھا اور بعض کو تحت الثریٰ میں گرا دیتا تھا۔ جو قوموں قوموں اور مُلکوں مُلکوں کے درمیان تفرقہ اور لڑائی پیدا کرنے اور اس کو جاری رکھنے کا موجب ہوتا تھا آپ نے نہ چاہا کہ جب تک اس تفرقہ اور امتیاز کو مٹا نہ دیں اِس دنیا سے گزر جائیں۔ وہ ایک دوسرے کے حقوق پر چھاپے مارنا اور ایک دوسرے کی جان اور مال کو اپنے لئے جائز سمجھنا جو ہمیشہ ہی بداخلاقی کے زمانہ میں انسان کی سب سے بڑی لعنت ہوتا ہے آپ نے نہ چاہا کہ جب تک اِس روح کو کچل نہ دیں اور جب تک بنی نوع انسان کی جانوں اور ان کے مالوں کو وہی تقدس اور وہی حرمت نہ بخش دیں جو خدا تعالیٰ کے مقدس مہینوں اور خدا تعالیٰ کے مقدس اور بابرکت مقاموں کو حاصل ہے آپ اس دنیا سے گزر جائیں۔ کیا عورتوں کی ہمدردی ، ماتحت لوگوں کی ہمدردی ، بنی نوع انسان میں امن اور آرام کے قیام کی خواہش اور بنی نوع انسان میں مساوات کے قیام کی خواہش اتنی شدید دنیا کے کسی اور انسان میں پائی جاتی ہے؟ کیا آدم سے لے کر آج تک کسی انسان نے بھی بنی نوع انسان کی ہمدردی کا ایسا جذبہ اور ایسا جوش دکھایا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں آج تک عورت اپنی جائیداد کی مالک ہے۔ جبکہ یورپ نے اس درجہ کو اسلام کے تیرہ سَو سال بعد حاصل کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں داخل ہونے والا ہر شخص دوسرے کے برابر ہو جاتا ہے خواہ وہ کیسی ہی ادنیٰ اور ذلیل سمجھی جانے والی قوم سے تعلق رکھتا ہو۔ حریت اور مساوات کا جذبہ صرف اور صرف اسلام نے ہی دنیا میں قائم کیا ہے اور ایسے رنگ میں قائم کیا ہے کہ آج تک بھی دنیا کی دوسری قومیں اس کی مثال پیش نہیں کر سکتیں۔ ہماری مسجد میں ایک بادشاہ اور ایک معزز ترین مذہبی پیشوا اور ایک عامی برابر ہیں ان میں کوئی فرق اور امتیاز قائم نہیں کر سکتا۔ جبکہ دوسرے مذاہب کے معبد بڑوں اور چھوٹوں کے امتیاز کو اب تک ظاہر کرتے چلے آئے ہیں۔ گو وہ قومیں شاید حریت اور مساوات کا دعویٰ مسلمانوں سے بھی زیادہ بلند آواز سے کر رہی ہیں۔

آنحضرتﷺ کی وفات

جب اس سفر سے آپ واپس آرہے تھے ، تو راستہ میں پھر آپ نے اپنے صحابہ کو اپنی وفات کی خبر دی۔ آپ نے فرمایا اے لوگو! میں تمہاری طرح کا ایک آدمی ہوں قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ کا پیغامبر میری طرف آئے اور مجھے اُس کا جواب دینا پڑے۔ پھر فرمایا اے لوگو! مجھے میرے مہربان اور خبردار آقا نے خبر دی ہے کہ نبی اپنے سے پہلے نبی کی نصف عمر پاتا ہے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر ۱۲۰ سال کے قریب تھی اور اس سے آپ نے استدلال کیا کہ میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہو گی ۔۳۸۲ چونکہ اُس وقت آپ کی عمر باسٹھ تریسٹھ سال کی تھی آپ نے اِس طرف اشارہ فرمایا کہ میری عمر اب ختم ہونے والی معلوم ہوتی ہے ۔ اِس حدیث کے یہ معنی نہیں کہ ہر نبی اپنے سے پہلے آنے والے نبی سے آدھی عمر پاتا ہے بلکہ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر اور اپنی عمر کا مقابلہ کیا ہے ) اور مجھے خیال ہے کہ اب جلدی مجھے بلایا جائے گا اور میں فوت ہو جاؤں گا ۔ اے میرے صحابہؓ! مجھ سے بھی خدا کے سامنے سوال کیا جائے گا اور تم سے بھی سوال کیا جائے گا تم اُس وقت کیا کہو گے؟ اُنہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! ہم کہیں گے کہ آپ نے خوب اچھی طرح اسلام کی تبلیغ کی اور آپ نے اپنی زندگی کو کُلّی طور پر خدا کے دین کی خدمت کے لئے لگا دیا اور آپ نے بنی نوع انسان کی خیر خواہی کو کمال تک پہنچا دیا۔ اللہ آپ کو ہماری طرف سے بہتر سے بہتر بدلہ دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کیا تم اِس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ ایک ہی ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اُس کے بندے اور رسول ہیں اور جنت بھی حق ہے اور دوزخ بھی حق ہے اور یہ کہ موت بھی ہر انسان کو ضرور آنی ہے اور موت کے بعد زندگی بھی ہر انسان کو ضرور ملے گی اور قیامت بھی ضرور آنی ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام بنی نوع انسان کو قبروں میں سے دوبارہ زندہ کر کے اکٹھا کرے گا۔ انہوں نے کہا ہاں یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! ہم اِس کی گواہی دیتے ہیں۔ اِس پر آپ نے خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اے اللہ! تو بھی گواہ رہ کہ میں نے انہیں اصولِ اسلام پہنچا دیئے ہیں۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اِس حج سے واپس آنے کے بعد برابر مسلمانوں کے اخلاق اور ان کے اعمال کی اصلاح میں مشغول رہے اور مسلمانوں کو اپنی وفات کے دن کی امید کے لئے تیار کرتے رہے۔ ایک دن آپ خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا۔ آج مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ اُس دن کو یاد کرو جب خدا تعالیٰ کی نصرتیں اور اُس کی طرف سے فتوحات گذشتہ زمانہ سے بھی زیادہ زور سے آئیں گی اور ہر قوم و ملت کے لوگ اسلام میں فوج در فوج داخل ہونے شروع ہوں گے۔ پس اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اب تم خدا تعالیٰ کی تعریف میں لگ جاؤ اور اُس سے دعا کرو کہ دین کی بنیاد جو تم نے قائم کی ہے وہ اِس

میں سے ہر قسم کے رخنوں کو دُور کرے۔ اگر تم یہ دعائیں کرو گے تو خدا تعالیٰ ضرور تمہاری دعاؤں کو سنے گا۔ اِسی طرح آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے اپنے بندے سے کہا کہ خواہ تم ہمارے پاس آجاؤ اور خواہ تم دنیا کی اصلاح کا کام بھی کچھ اور مدت کرو۔ خدا کے اس بندے نے جواب میں کہا کہ مجھے آپ کے پاس آنا زیادہ پسند ہے۔ جب آپ نے یہ بات مجلس میں سنائی تو حضرت ابوبکرؓ رو پڑے۔ صحابہؓ کو تعجب ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اسلام کی فتوحات کی خبر سنا رہے ہیں اور ابوبکرؓ رو رہے ہیں۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں میں نے کہا اس بڈھے کو کیا ہو گیا کہ یہ خوشی کی خبر پر روتا ہے! مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے تھے کہ ابوبکرؓ ہی آپ کی بات کو صحیح سمجھتا ہے اور اُس نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اس سورۃ میں میری وفات کی خبر ہے۔ آپ نے فرمایا ابوبکرؓ مجھ کو بہت ہی پیارا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے غیر محدود پیار کرنا جائز ہوتا تو میں ابوبکرؓ سے ایسا ہی پیار کرتا۔ اے لوگو! مسجد میں جتنے لوگوں کے دروازے کھلتے ہیں آج سے سب دروازے بند کر دیئے جائیں صرف ابوبکرؓ کا دروازہ کھلا رہے۔۳۸۳

اِس میں یہ پیشگوئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکرؓ خلیفہ ہوں گے اور نماز پڑھانے کے لئے مسجد میں اس راستہ سے آنا پڑے گا۔ اس واقعہ کے مدتوں بعد جب حضرت عمرؓ خلیفہ تھے ایک دفعہ آپ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا بتاؤ اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَالۡفَتۡحُ(110:2) والی سورۃ میں سے کیا مطلب نکلتا ہے؟ گویا اس مضمون کے متعلق آپ نے اپنے ہم مجلسوں کا امتحان لیا جس کے سمجھنے سے وہ اس سورۃ کے نزول کے وقت قاصر رہے تھے۔ ابن عباسؓ جو اس واقعہ کے وقت دس گیارہ برس کے تھے اُس وقت کوئی ۱۷۔۱۸ سال کے نوجوان تھے۔ باقی صحابہ تو نہ بتا سکے ابن عباسؓ نے کہا اے امیر المؤمنین! اس سورۃ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر دی گئی ہے کیونکہ نبی جب اپنا کام کر لیتا ہے تو پھر دنیا میں رہنا پسند نہیں کرتا۔ حضرت عمرؓ نے کہا سچ ہے میں تمہاری ذہانت کی داد دیتا ہوں ۔۳۸۴ جب یہ سورۃ نازل ہوئی ابوبکر اس کا مفہوم سمجھے مگر ہم نہ سمجھ سکے۔

آخر وہ دن آ گیا جو ہر انسان پر آتا ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کام دنیا میں ختم کر چکے، خدا کی وحی تمام و کمال نازل ہو چکی، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسیہ سے ایک نئی قوم اور ایک نئے آسمان اور ایک نئی زمین کی بنیاد ڈال دی گئی۔ بونے والے نے زمین میں ہل چلایا ، پانی دیا اور بیج بو دیا اور فصل تیار کی ۔ اب فصل کے کاٹنے کا کام اس کے ذمہ نہ تھا۔ وہ ایک مزدور کی حیثیت سے آیا اور ایک مزدور ہی کی حیثیت سے اسے اس دنیا سے جانا تھا کیونکہ اُس کا انعام اِس دنیا کی چیزیں نہیں تھیں بلکہ اُس کا انعام اپنے پیدا کرنے والے اور اپنے بھیجنے والے کی رضا تھی۔ جب فصل کٹنے پر آئی تو اُس نے اپنے ربّ سے یہی خواہش کی کہ وہ اب اُسے دنیا سے اٹھا لے اور یہ فصل بعد میں دوسرے لوگ کاٹیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے کچھ دن تو تکلیف اُٹھا کر بھی مسجد میں نماز پڑھانے کے لئے آتے رہے۔ آخر یہ طاقت بھی نہ رہی کہ آپ مسجد میں آ سکتے۔ صحابہؓ کبھی خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ آپ فوت ہو جائیں گے۔ مگر آپ بار بار انہیں اپنی وفات کے قرب کی خبر دیتے۔ ایک دن صحابہ کی مجلس لگی ہوئی تھی کہ آپ نے فرمایا اگر کسی شخص سے غلطی ہو جائے تو بہتر یہی ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اس کا ازالہ کر دے تاکہ خدا کے سامنے شرمندہ نہ ہو۔ اگر میرے ہاتھ سے نادانستہ طور پر کسی کا حق مارا گیا ہو تو وہ مجھ سے اپنا حق مانگ لے۔ اگر بے جانے بوجھے مجھ سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو آج وہ مجھ سے بدلہ لے لے کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ خدا تعالیٰ کے سامنے شرمندہ ہوں۔ دوسرے صحابہ پر تو یہ بات سن کر رقت طاری ہو گئی اور ان کے دل میں یہی خیال گزرنے لگے کہ کس طرح تکلیف اُٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے آرام کی صورت پیدا کرتے رہے ہیں۔ کس طرح آپ بھوکا رہ کر ان کو کھلاتے رہے ہیں۔ اپنے کپڑوں کو پیوند لگا کر اُن کو کپڑے پہناتے رہے ہیں پھر بھی دوسروں کے حقوق کا آپ کو اتنا خیال ہے کہ آپ اُن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر بے جانے بوجھے مجھ سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو آج مجھ سے بدلہ لے لے۔ مگر ایک صحابی آگے بڑھے اور اُنہوں نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! مجھے آپ سے ایک دفعہ تکلیف پہنچی تھی۔ جنگ کی صفیں تیار ہو رہی تھیں کہ آپ صف میں سے ہو کر آگے بڑھے اُس وقت آپ کی کہنی میرے جسم کو لگ گئی تھی۔ چونکہ آپ نے فرمایا کہ بے جانے بوجھے بھی اگر کسی کو نقصان پہنچا ہو تو مجھ سے بدلہ لے لے تو میں چاہتا ہوں کہ اس وقت آپ سے اُس تکلیف کا بدلہ لے لوں۔ وہ صحابہؓ جو غم کے سمندر میں ڈوب رہے تھے یکدم اُن کی حالت میں تغیر پیدا ہوا۔ اُن کی آنکھوں

میں سے خون ٹپکنے لگا اور ہر شخص یہ محسوس کرتا تھا کہ یہ شخص جس نے ایسے موقع پر بجائے نصیحت حاصل کرنے کے اِس قسم کی بات چھیڑ دی ہے سخت سے سخت سزا کا مستحق ہے مگر اُس صحابی نے پرواہ نہ کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ٹھیک کہتے ہو تمہارا حق ہے کہ بدلہ لو اور آپ نے کروٹ بدلی اور اپنی پیٹھ اُس کی طرف کر دی اور فرمایا لو میرے کہنی مار لو۔ اُس صحابی نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! جب میرے کہنی لگی تھی اُس وقت میرا جسم ننگا تھا کیونکہ میرے پاس کرتہ نہ تھا کہ میں اُسے پہنتا۔ آپ نے فرمایا میرا کرتہ اُٹھا دو اور ننگے جسم پر کہنی مار کر اپنا بدلہ لے لو۔ اُس صحابی نے آپ کا کرتہ اُٹھایا اور کانپتے ہوئے ہونٹوں اور آنسو بہاتی آنکھوں سے جھک کر آپ کی کمر کو بوسہ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیا؟ اس نے جواب میں کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! جب آپ فرماتے ہیں کہ آپ کی موت قریب ہے تو آپ کو چھونے اور پیار کرنے کے مواقع ہمیں کب تک ملیں گے۔ بیشک جنگ کے موقع پر مجھے آپ کی کہنی لگی تھی، لیکن کس کے دل میں اُس کہنی لگنے کا بدلہ لینے کا خیال بھی آ سکتا ہے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آج مجھ سے بدلہ لے لو تو چلو اِس بہانہ سے میں آپ کو پیار ہی کر لوں۔۳۸۵ وہی صحابہؓ جن کے دل غصہ سے خون ہو رہے تھے اِس بات کو سن کر اُنہی کے دل میں اس حسرت سے بھر گئے کہ کاش! یہ موقع ہم کو نصیب ہوتا!

مرض بڑھتا گیا، موت قریب آتی گئی۔ مدینہ کا سورج باوجود پہلے کی سی آب و تاب سے چمکنے کے صحابہ کی نظروں میں زرد رہنے لگا۔ دن چڑھتے تھے مگر اُن کی آنکھوں پر تاریکی کے پردے پڑتے چلے جاتے تھے آخر وہ وقت آ گیا جب کہ خدا کے رسول کی روح دنیا کو چھوڑ کر اپنے پیدا کرنے والے کے حضور میں حاضر ہونے والی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سانس تیز ہونے لگا اور سانس لینے میں تکلیف محسوس ہونے لگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا میرا سر اُٹھا کر اپنے سینہ کے ساتھ رکھ لو کیونکہ لیٹے لیٹے سانس نہیں لیا جاتا۔ حضرت عائشہؓ نے آپ کا سر اُٹھا کر اپنے سینہ کے ساتھ لگا لیا اور آپ کو سہارا دے کر بیٹھ گئیں۔ موت کی تکلیف آپ پر طاری تھی۔ آپ گھبراہٹ سے بیٹھے بیٹھے کبھی اِس پہلو پر جھکتے تھے اور کبھی اُس پہلو پر اور فرماتے تھے خدا بُرا کرے یہود اور نصاریٰ کا کہ انہوں نے اپنے نبیوں کے مرنے کے بعد اُن کی قبروں کو مسجدیں بنالیا۔۳۸۶

یہ آپ کی آخری نصیحت تھی اپنی اُمت کیلئے کہ گو تم مجھے تمام نبیوں سے زیادہ شاندار دیکھو گے اور سب سے زیادہ کامیاب پاؤ گے مگر دیکھنا ! میرے بندے ہونے کو کبھی نہ بھول جانا۔ خدا کا مقام خدا ہی کیلئے سمجھتے رہنا اور میری قبر کو ایک قبر سے زیادہ کبھی کچھ نہ سمجھنا۔ باقی اُمتیں اپنے نبیوں کی قبروں کو بیشک مسجدیں بنا لیں، وہاں بیٹھ کر چلّے کیا کریں اور اُن پر چڑھاوے چڑھائیں یا نذریں دیں مگر تمہارا یہ کام نہیں ہونا چاہئے۔ تم خدائے واحد کی پرستش کو قائم کرنے کیلئے کھڑے کئے گئے ہو۔ یہ کہتے کہتے آپ کی آنکھیں چڑھ گئیں اور آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے اِلَی الرَّفِیْقِ الْاَعْلَی ۔ اِلَی الرَّفِیْقِ الْاَعْلَی ۳۸۷ میں عرشِ معلّٰی پر بیٹھنے والے اپنے مہربان دوست کی طرف جاتا ہوں۔ میں عرشِ معلّٰی پر بیٹھنے والے اپنے مہربان دوست کی طرف جاتا ہوں۔ یہ کہتے کہتے آپ کی روح اِس جسم سے جُدا ہو گئی۔

آنحضرت ﷺ کی وفات پر صحابہؓ کی حالت

جب یہ خبر مسجد میں صحابہ کو ملی جن میں سے اکثر اپنے کام کاج چھوڑ کر مسجد میں آپ کی صحت کی خوشخبری سننے کے انتظار میں تھے تو اُن پر ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ حضرت ابو بکرؓ اُس وقت تھوڑی دیر کیلئے کسی کام کے لئے باہر گئے ہوئے تھے۔ حضرت عمرؓ مسجد میں تھے جب اُنہوں نے لوگوں کو یہ بات کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو اُنہوں نے نیام سے تلوار نکال لی اور کہا خدا کی قسم ! جو شخص یہ کہے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں میں اُس کا سر اڑادوں گا۔ ابھی تک منافق دنیا میں باقی ہیں اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہو سکتے۔ اگر اُن کی روح جسم سے جدا ہو گئی ہے تو وہ صرف موسیٰ کی طرح خدا کی ملاقات کے لئے گئی ہے اور پھر واپس آئے گی اور دنیا سے منافقوں کا قلع قمع کرے گی۔۳۸۸ یہ کہا اور ننگی تلوار لے کر اس روح فرسا خبر کے صدمہ سے مجنونوں کی طرح اِدھر اُدھر ٹہلنے لگے اور ساتھ ساتھ یہ کہتے جاتے تھے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو میں اُسے قتل کر دوں گا۔ صحابہؓ کہتے ہیں کہ جب ہم نے حضرت عمرؓ کو اس طرح ٹہلتے ہوئے دیکھا تو ہمارے دلوں کو بھی ڈھارس بندھی اور ہم نے کہا عمرؓ سچ کہتے ہیں۔ رسول اللہﷺ فوت نہیں ہوئے ضرور اس بارہ میں لوگوں کو غلطی لگی ہے اور عمرؓ کے قول کے ساتھ ہم نے اپنے دلوں کو تسلی دینی شروع کی۔ اتنے میں بعض لوگوں نے دوڑ کر حضرت ابوبکرؓ کو صورت حالات سے اطلاع دی۔ اُن سے اطلاع پا کر حضرت ابوبکرؓ بھی مسجد میں پہنچ گئے مگر کسی سے بات نہ کی سیدھے گھر میں چلے گئے اور جا کر حضرت عائشہؓ سے پوچھا کیا رسول اللہﷺ فوت ہو گئے ہیں؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا ہاں۔ آپ رسول اللہﷺ کے پاس گئے آپ کے منہ پر سے کپڑا اٹھایا آپ کے ماتھے کو بوسہ دیا اور محبت کے چمکتے ہوئے آنسو آپ کی آنکھوں سے گرے اور آپ نے فرمایا خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں وارد نہیں کرے گا۔۳۸۹ یعنی یہ نہیں ہو گا کہ ایک تو آپ جسمانی طور پر فوت ہو جائیں اور دوسری موت آپ پر یہ وارد ہو کہ آپ کی جماعت غلط عقائد اور غلط خیالوں میں مبتلا ہو جائے ۔ یہ کہہ کر آپ باہر آئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے خاموشی کے ساتھ منبر کی طرف بڑھے۔ جب آپ منبر پر کھڑے ہوئے تو حضرت عمرؓ بھی تلوار کھینچ کر آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اس نیت سے کہ اگر ابوبکرؓ نے یہ کہا کہ محمد رسول اللہﷺ فوت ہو گئے ہیں تو میں اُن کو قتل کر دوں گا۔ جب آپ بولنے لگے تو حضرت عمرؓ نے آپ کا کپڑا کھینچا اور آپ کو خاموش کرنا چاہا مگر آپ نے کپڑے کو جھٹک کر اُن کے ہاتھ سے چھڑا لیا اور پھر قرآن شریف کی یہ آیت پڑھی وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ(3:145) ۳۹۰ یعنی اے لوگو! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اللہ تعالیٰ کے ایک رسول تھے اُن سے پہلے اور بہت سے رسول گزرے ہیں اور سب کے سب فوت ہو چکے ہیں کیا اگر وہ مر جائیں یا مارے جائیں تو تم لوگ اپنے دین کو چھوڑ کر پھر جاؤ گے؟ دین خدا کا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو نہیں۔ یہ آیت اُحد کے وقت نازل ہوئی تھی جب کہ بعض لوگ یہ سن کر کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں دل چھوڑ کر بیٹھ گئے تھے ۔ اس آیت کے پڑھنے کے بعد آپ نے فرمایا اے لوگو! مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَىٌّ لَا يَمُوتُ جو تم میں سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا اُسے یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اُس پر کبھی موت وارد نہیں ہو سکتی ۔ وَ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ اور جو کوئی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو اُس کو مَیں بتائے دیتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے ہیں ۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ جس وقت ابوبکرؓ نے مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ(3:145) والی آیت پڑھنی شروع کی تو میرے ہوش درست ہونے شروع ہوئے ۔ اِس آیت کے ختم کرنے تک میری روحانی آنکھیں کھل گئیں اور میں نے سمجھ لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واقعہ میں فوت ہو گئے ہیں تب میرے گھٹنے کانپ گئے اور میں نڈھال ہو کر زمین پر گر گیا ۔۳۹۱

وہ شخص جو تلوار سے ابوبکرؓ کو مارنا چاہتا تھا وہ اب ابوبکرؓ کے صداقت بھرے لفظوں کے ساتھ خود قتل ہو گیا ۔ صحابہؓ کہتے ہیں کہ اُس وقت ہمیں یوں معلوم ہوتا تھا کہ یہ آیت آج ہی نازل ہوئی ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے صدمہ میں یہ آیت ہمیں بھول ہی گئی تھی ۔

اُس وقت حسان بن ثابتؓ نے جو مدینہ کے ایک بہت بڑے شاعر تھے یہ شعر کہا۔

كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ

فَعَمِیْ عَلَیَّ النَّاظِرُ

مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ

فَعَلَيْكَ كُنْتُ اُحَاذِرُ

۳۹۲ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو تو میری آنکھوں کی پُتلی تھا آج تیرے مرنے سے میری آنکھیں اندھی ہو گئیں۔ اب تیرے مرنے کے بعد کوئی مرے، میرا باپ مرے، میرا بھائی مرے، میرا بیٹا مرے، میری بیوی مرے مجھے ان میں سے کسی کی موت کی پرواہ نہیں ۔ میں تو تیری ہی موت سے ڈرا کرتا تھا۔

یہ شعر ہر مسلمان کے دل کی آواز تھا۔ اس کے بعد کئی دنوں تک مدینہ کی گلیوں میں مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مسلمان بچے یہی شعر پڑھتے پھرتے تھے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تو تو ہماری آنکھوں کی پتلی تھا تیرے مرنے سے ہم تو اندھے ہو گئے۔ اب ہمارا کوئی عزیز اور قریبی رشتہ دار مرے ہمیں پرواہ نہیں ۔ ہمیں تو تیری ہی موت کا خوف تھا۔

سیرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات بیان کرنے کے بعد اب میں آپ کے اخلاق کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کے اخلاقِ حسنہ کے متعلق مجموعی شہادت وہ ہے جو آپ کی قوم نے دی کہ آپ کی نبوت کے دعویٰ سے پہلے آپ کی قوم نے آپ کا نام امین اور صدیق رکھا۔۳۹۳

دنیا میں ایسے لوگ بہت ہوتے ہیں جن کی نسبت بددیانتی کا ثبوت نہیں ملتا۔ ایسے لوگ بھی بہت ہوتے ہیں جن کو کسی کڑی آزمائش میں سے گزرنے کا موقع نہیں ملتا۔ ہاں وہ معمولی آزمائشوں سے گزرتے ہیں اور ان کی امانت قائم رہتی ہے لیکن اِس کے باوجود ان کی قوم ان کو کوئی خاص نام نہیں دیتی۔ اس لئے کہ خاص نام اُسی وقت دیئے جاتے ہیں جب کوئی شخص کسی خاص صفت میں دوسرے تمام لوگوں پر فوقیت لے جاتا ہے۔ لڑائی میں شامل ہونے والا ہر سپاہی اپنی جان کو خطرہ میں ڈالتا ہے لیکن نہ انگریزی قوم ہر سپاہی کو وکٹوریہ کراس دیتی ہے نہ جرمن قوم ہر سپاہی کو آئرن کراس دیتی ہے۔ فرانس میں علمی مشغلہ رکھنے والے لوگ لاکھوں ہیں لیکن ہر شخص کو لیجن آف آنر (LEGION OF HONOUR) کا فیتہ نہیں ملتا۔ پس محض کسی شخص کا امانت دار اور صادق ہونا اُس کی عظمت پر خاص روشنی نہیں ڈالتا۔ لیکن کسی شخص کو ساری قوم کا امین اور صدیق کا خطاب دے دینا یہ ایک غیر معمولی بات ہے۔ اگر مکہ کے لوگ ہر نسل کے لوگوں میں سے کسی کو امین اور صدیق کا خطاب دیا کرتے تب بھی امین اور صدیق کا خطاب پانے والا بہت بڑا آدمی سمجھا جاتا، لیکن عرب کی تاریخ بتاتی ہے کہ عرب لوگ ہر نسل میں کبھی کسی آدمی کو یہ خطاب نہیں دیا کرتے تھے بلکہ عرب کی سینکڑوں سال کی تاریخ میں صرف ایک ہی مثال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملتی ہے کہ آپ کو اہل عرب نے امین اور صدیق کا خطاب دیا۔ پس عرب کی سینکڑوں سال کی تاریخ میں قوم کا ایک ہی شخص کو امین اور صدیق کا خطاب دینا

بتاتا ہے کہ اُس کی امانت اور اُس کا صدق دونوں اتنے اعلیٰ درجہ کے تھے کہ ان کی مثال عربوں کے علم میں کسی اور شخص میں نہیں پائی جاتی تھی ۔ عرب اپنی باریک بینی کی وجہ سے دنیا میں ممتاز تھے پس جس چیز کو وہ نادرقرار دیں وہ یقیناً دنیا میں نادر ہی سمجھے جانے کے قابل تھی۔

پھر ایک اجمالی شہادت آپ کے اخلاق پر حضرت خدیجہؓ نے آپ کی بعثت کے وقت دی جس کا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح میں ذکر کر چکا ہوں ۔ اب میں چند مثالیں آپ کے اخلاق کی تشریح کے لئے اِس جگہ بیان کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ کے اخلاق کے مخفی گوشوں پر بھی اس کتاب کے قارئین کی نظر پڑ سکے۔

آنحضرت ﷺ کی ظاہری و باطنی صفائی

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتا ہے کہ نہ آپ کبھی بدکلامی کرتے تھے اور نہ فضول قسمیں کھایا کرتے تھے ۔۳۹۴عرب میں رہتے ہوئے اس قسم کے اخلاق ایک غیر معمولی چیز تھے ۔ یہ تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ عرب لوگ عادتاً فحش کلامی کرتے تھے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عرب لوگ عادتاً قسمیں کھایا کرتے تھے اور آج تک بھی عرب میں قسم کا رواج کثرت سے پایا جاتا ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کا اتنا ادب کرتے تھے کہ اس کا بے موقع نام لینا کبھی پسند نہ کرتے تھے ۔ صفائی کا آپ کو خاص طور پر خیال رہتا تھا آپ ہمیشہ مسواک کرتے تھے اور اس بارہ میں اتنا زور دیتے تھے کہ بعض دفعہ فرماتے اگر میں اس بات سے نہ ڈروں کہ مسلمان تکلیف میں پڑ جائیں گے تو میں ہر نماز پڑھنے سے پہلے مسواک کرنے کا حکم دے دوں۔۳۹۵

کھانا کھانے سے پہلے بھی آپ ہاتھ دھوتے تھے اور کھانا کھانے کے بعد بھی ہاتھ دھوتے اور کُلّی کرتے تھے بلکہ ہر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد کُلّی کرتے اور آپ پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد بغیر کُلّی کئے نماز پڑھنے کو ناپسند فرماتے تھے۔۳۹۶

مساجد جو مسلمانوں کے جمع ہونے کی واحد جگہ ہیں ان کی صفائی کا آپ خاص طور پر خیال رکھتے تھے اور مسلمانوں کو اس بات کی تحریک کرتے رہتے تھے کہ خاص اجتماع کے دنوں میں مسجدوں کی صفائی کا خیال رکھا کریں اور ان میں خوشبو جلایا کریں تا کہ ہوا صاف ہو جائے ۔۳۹۷

اسی طرح آپ ہمیشہ صحابہؓ کو نصیحت کرتے رہتے تھے کہ اجتماع کے موقع پر بدبودار چیزیں کھا کر مسجد میں نہ آیا کریں۔۳۹۸

سڑکوں کی صفائی کا آپ خاص طور پر وعظ فرماتے تھے۔ اگر سڑک پر جھاڑیاں یا پتھر یا اور کوئی گندی چیز پڑی ہوتی تو آپ خود اُس کو اُٹھا کر سڑک سے ایک طرف کر دیتے اور فرماتے کہ جو شخص سڑکوں کی صفائی کا خیال رکھتا ہے، خدا اُس پر خوش ہوتا ہے اور اسے ثواب عطا فرماتا ہے۔۳۹۹

اسی طرح آپ فرماتے تھے رستہ کو روکنا نہیں چاہئے۔ رستوں پر بیٹھنا یا ان میں کوئی ایسی چیز ڈال دینا جس سے مسافروں کو تکلیف ہو یا رستہ میں قضائے حاجت وغیرہ کرنا یہ خدا تعالیٰ کو ناپسند ہیں۔۴۰۰

پانی کی صفائی کا بھی آپ کو خاص خیال تھا آپ ہمیشہ اپنے صحابہ کو یہ نصیحت فرماتے تھے کہ کھڑے پانی میں کسی قسم کا گند نہیں ڈالنا چاہئے۔ اسی طرح کھڑے پانی میں بول و براز کرنے سے بھی آپ سختی سے روکتے تھے۔۴۰۱

کھانے پینے میں سادگی اور تقویٰ

کھانے پینے میں آپ سادگی کو ہمیشہ ملحوظ رکھتے تھے۔ کھانے میں کبھی نمک زیادہ ہو جائے یا نمک نہ ہو یا کھانا خراب پکا ہو، تو آپ کبھی اظہارِ ناراضگی نہیں فرماتے تھے۔ جہاں تک ممکن ہو سکتا تھا آپ ایسا کھانا کھا کر پکانے والے کو دلشکنی سے بچانے کی کوشش کرتے تھے لیکن اگر بالکل ہی ناقابل برداشت ہوتا تو آپ صرف ہاتھ کھینچ لیتے تھے اور یہ ظاہر نہیں کرتے تھے کہ مجھے اس کھانے سے تکلیف پہنچی ہے۔۴۰۲

جب آپ کھانا کھانے لگتے تو کھانے کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھتے اور فرماتے مجھے یہ تکبرانہ رویہ پسند نہیں کہ بعض لوگ ٹیک لگا کر کھانا کھاتے ہیں گویا وہ کھانے سے مستغنی ہیں۔۴۰۳

جب آپ کے پاس کوئی چیز آتی تو اپنے صحابہؓ میں بانٹ کر کھاتے۔ چنانچہ آپ کے پاس ایک دفعہ کچھ کھجوریں آئیں آپ نے صحابہ کا اندازہ لگایا تو سات سات کھجوریں فی کس آتی تھیں۔ اس پر آپ نے سات سات کھجوریں صحابہ میں بانٹ دیں۔۴۰۴

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔۴۰۵؎

ایک دفعہ آپؐ رستہ میں سے گزر رہے تھے کہ آپؐ نے دیکھا ایک بکری بھون کر لوگوں نے رکھی ہوئی ہے اور دعوت منا رہے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اُن لوگوں نے آپؐ کو بھی دعوت دی مگر آپؐ نے انکار کر دیا۔۴۰۶؎ اس کی یہ وجہ نہیں تھی کہ آپؐ بھونا ہوا گوشت کھانا پسند نہیں کرتے تھے بلکہ آپؐ کو اِس قسم کا تکلف پسند نہیں تھا کہ پاس ہی غرباء تو بھوکے پھر رہے ہوں اور اُن کی آنکھوں کے سامنے لوگ بکرے بھون بھون کر کھا رہے ہوں۔ ورنہ دوسری احادیث سے ثابت ہے کہ آپؐ بھونا ہوا گوشت بھی کھا لیا کرتے تھے۔

حضرت عائشہؓ سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تین دن متواتر پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا اور یہی حالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک رہی۔۴۰۷؎

کھانے کے متعلق آپ اس بات کا خاص طور پر خیال رکھتے تھے کہ کوئی بغیر بُلائے کسی دعوت کے موقع پر دوسرے کے گھر کھانا کھانے کے لئے نہ چلا جائے۔ ایک دفعہ ایک شخص نے آپؐ کی دعوت کی اور یہ بھی درخواست کی کہ آپؐ چار آدمی اپنے ساتھ اور بھی لیتے آئیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے گھر کے دروازہ پر پہنچے تو آپؐ کو معلوم ہوا کہ ایک پانچواں شخص بھی آپ کے ساتھ ہے۔ جب گھر والا باہر نکلا تو آپؐ نے اُس سے کہا کہ آپ نے ہمیں پانچ آدمیوں کو دعوت کیلئے بلایا تھا آپ چاہیں تو اِس کو بھی اجازت دے دیں اور چاہیں تو اِس کو رخصت کر دیں۔ گھر والے نے کہا نہیں میں اِن کی بھی دعوت کرتا ہوں یہ بھی اندر آجائیں۔۴۰۸؎

جب آپؐ کھانا کھاتے تو ہمیشہ بِسْمِ اللّٰهِ کہہ کر شروع کیا کرتے تھے اور جب کھانا کھا کر فارغ ہوتے تو ان الفاظ میں خدا کی تعریف فرماتے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا كَثِيْرًا طَيِّبًا مُّبَارَكًا فِيْهِ غَيْرَ مَكْفِىٍّ۫ وَّلَا مُوَدَّعٍ وَّلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا ۔۴۰۹؎ یعنی سب تعریف اللہ تعالیٰ کی ہے جس نے ہمیں کھانا عطا کیا۔ بہت بہت تعریف، ہر قسم کی ملوثی سے خالی تعریف، بڑھتی رہنے والی تعریف۔ ایسی تعریف نہیں جس کے بعد انسان سمجھے کہ بس میں تعریف کافی کر چکا بلکہ یہ سمجھے کہ میں نے تعریف کرنے کا حق ادا نہیں کیا اور کبھی تعریف بس نہ کرے۔ اور کبھی

میرے دل میں یہ خیال نہ گزرے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی ایسا کام بھی ہے جس کی تعریف کی ضرورت نہیں یا جو تعریف کا مستحق نہیں ۔ اے ہمارے ربّ! ہمیں ایسا ہی بنا دے۔ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ آپؐ کبھی ان الفاظ میں دعا کرتے تھے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ كَفَانَا وَاَرْوَانَا غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مَكْفُوْرٍ۱۰؎ یعنی سب تعریف اللہ تعالیٰ کی ہے جس نے ہماری بھوک اور پیاس دور کی ۔ ہمارا دل اُس کی تعریف سے کبھی نہ بھرے اور ہم اُس کی کبھی ناشکری نہ کریں۔

آپ ہمیشہ اپنے صحابہؓ کو نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ پیٹ بھرنے سے پہلے کھانا چھوڑ دو اور فرماتے تھے ایک انسان کا کھانا دو انسانوں کے لئے کافی ہونا چاہئے ۔۱۱؎

جب کبھی آپ کے گھر میں کوئی اچھی چیز پکتی تو آپ ہمیشہ اپنے گھر والوں کو نصیحت کرتے تھے کہ اپنے ہمسایوں کا بھی خیال رکھو ۔۱۲؎

اسی طرح اپنے ہمسایوں کے گھروں میں آپ اکثر ہدیہ بھجواتے رہتے تھے۔۱۳؎

آپ اپنے مسکین صحابہؓ کی شکلوں سے ہمیشہ یہ معلوم کرتے رہتے تھے کہ ان میں سے کوئی بھوکا تو نہیں ۔ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ ایک دفعہ وہ کئی دن فاقہ سے رہے ۔ ایک دن جب سات وقت فاقہ سے گزر گئے تو وہ بے تاب ہو کر مسجد کے دروازے کے سامنے کھڑے ہو گئے ۔ اتفاقاً حضرت ابوبکرؓ وہاں سے گزرے تو اُنہوں نے ان سے ایک ایسی آیت کا مطلب پوچھا جس میں غریبوں کو کھانا کھلانے کا حکم ہے ۔ حضرت ابوبکرؓ نے ان کی بات سے سمجھا کہ شاید اس آیت کے معنی ان کو معلوم نہیں اور وہ اس آیت کے معنی بیان کر کے آگے چل دیئے ۔ حضرت ابوہریرہؓ جب لوگوں کے سامنے یہ روایت بیان کرتے تو غصہ سے کہا کرتے کہ کیا ابوبکر مجھ سے زیادہ قرآن جانتا تھا !! میں نے تو اس لئے آیت پوچھی تھی کہ ان کو اس آیت کے مضمون کا خیال آ جائے اور مجھے کھانا کھلا دیں ۔ اتنے میں حضرت عمرؓ وہاں سے گزرے ۔ ابوہریرہؓ کہتے ہیں میں نے ان سے بھی اس آیت کا مفہوم پوچھا ۔ حضرت عمرؓ نے بھی اس آیت کا مطلب بیان کر دیا اور آگے چل دیئے ۔ صحابہؓ سوال کو سخت ناپسند کرتے تھے ۔ جب ابوہریرہؓ نے دیکھا کہ بے مانگے کھانا ملنے کی کوئی صورت نہیں تو وہ کہتے ہیں میں بالکل نڈھال ہو کر گرنے لگا کیونکہ اب زیادہ صبر کی مجھ میں طاقت نہیں تھی مگر میں نے ابھی دروازہ سے منہ نہیں موڑا تھا کہ میرے کان میں

ایک نہایت ہی محبت بھری آواز آئی اور کوئی مجھے بلا رہا تھا۔ ابو ہریرہ! ابو ہریرہ!! میں نے منہ موڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کی کھڑکی کھولے کھڑے تھے اور مسکرا رہے تھے اور مجھے دیکھ کر آپ نے فرمایا۔ ابو ہریرہ! بھوکے ہو؟ میں نے کہا ہاں یَارَسُوْلَ اللّٰہ! بھوکا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہمارے گھر میں بھی کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ ابھی ایک شخص نے دودھ کا پیالہ بھجوایا ہے۔ تم مسجد میں جاؤ اور دیکھو کہ شاید ہماری تمہاری طرح کے کوئی اور بھی مسلمان ہوں جن کو کھانے کی احتیاج ہو۔ ابو ہریرہؓ کہتے ہیں میں نے دل میں کہا میں تو اتنا بھوکا ہوں کہ اکیلا ہی اس پیالے کو پی جاؤں گا۔ اب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آدمی بھی بُلانے کو کہا ہے تو پھر میرا حصہ تو بہت تھوڑا رہ جائے گا۔ مگر بہر حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا مسجد کے اندر گئے تو دیکھا کہ چھ آدمی اور بیٹھے ہیں۔ انہوں نے اُن کو بھی ساتھ لیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ کے پاس آئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دودھ کا پیالہ اُن نئے آنے والے چھ آدمیوں میں سے کسی کے ہاتھ میں دے دیا اور کہا اِس کو پی جاؤ۔ جب اس نے دودھ پی کر پیالہ منہ سے الگ کیا تو آپ نے اصرار کیا کہ پھر پیو۔ تیسری دفعہ اصرار کر کے اس کو دودھ پلایا۔ اس طرح چھبوں آدمیوں کو آپ نے باری باری دودھ پلایا۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ہر بار میں کہتا تھا کہ اب میں مرا۔ میرا حصہ کیا بچے گا لیکن جب وہ چھبوں پی چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ میرے ہاتھ میں دیا۔ میں نے دیکھا کہ ابھی پیالہ میں بہت دودھ موجود تھا جب میں نے دودھ پیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی اصرار کر کے تین دفعہ دودھ پلایا۔ پھر میرا بچا ہوا دودھ خود پیا اور خدا تعالیٰ کا شکر کرتے ہوئے دروازہ بند کر لیا۔۴۱؎

شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو ہریرہؓ کو سب کے آخر میں دودھ یہی سبق دینے کے لئے دیا تھا کہ انہیں خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے فاقہ سے بیٹھ رہنا چاہئے تھا اور اشارۃً بھی سوال نہیں کرنا چاہئے تھا۔

آپ ہمیشہ دائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے تھے اور پانی بھی دائیں ہاتھ سے پیتے تھے۔ پانی پیتے وقت درمیان میں تین دفعہ سانس لیتے تھے۔ اس میں ایک طبی حکمت ہے۔ پانی اگر یکدم پیا جائے تو زیادہ پیا جاتا ہے اور اس سے معدہ خراب ہو جاتا ہے۔ کھانے کے متعلق آپ کا اصول یہ تھا کہ جو چیزیں پاکیزہ اور طیب ہوں وہ کھائیں۔ مگر ایسی طرز پر نہیں کہ غریبوں کا حق مارا جائے یا انسان کو عیش کی عادت پڑ جائے۔ چنانچہ عام طور پر جیسا کہ بتایا جا چکا ہے آپ کی خوراک نہایت سادہ تھی۔ لیکن اگر کوئی شخص کوئی اچھی چیز بطور تحفہ لے آتا تھا تو آپ اس کے کھانے سے انکار نہ کرتے۔ مگر یوں اپنے کھانے پینے کے لئے اچھے کھانے کی تلاش آپ کبھی نہیں کرتے تھے۔

شہد آپ کو پسند تھا اسی طرح کھجور بھی۔ آپ فرماتے تھے کھجور اور مؤمن کے درمیان ایک رشتہ ہے کھجور کے پتے بھی اور اُس کا چھلکا بھی اور اُس کا کچا پھل بھی اور اس کا پکا پھل بھی اور اس کی گٹھلی بھی سب کے سب کار آمد ہیں اس کی کوئی چیز بھی بیکار نہیں۔ مؤمن کامل بھی ایسا ہی ہوتا ہے اس کا کوئی کام بھی لغو نہیں ہوتا بلکہ اس کا ہر کام بنی نوع انسان کے نفع کے لئے ہوتا ہے۔۴۱۵؎

لباس اور زیور میں سادگی اور تقویٰ

لباس کے متعلق بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہایت سادگی کو پسند فرماتے تھے آپ کا عام لباس کرتہ اور تہہ بند یا کرتہ اور پاجامہ ہوتا تھا۔ آپ اپنا تہہ بند یا پاجامہ ٹخنوں سے اُوپر اور گھٹنوں سے نیچے رکھتے تھے۔ گھٹنوں یا گھٹنوں سے اُوپر جسم کے ننگے ہو جانے کو آپ پسند نہیں فرماتے تھے سوائے مجبوری کے۔ ایسا کپڑا جس پر تصویریں ہوں آپ پسند نہیں فرماتے تھے۔ نہ انسانی لباس میں اور نہ پردوں وغیرہ کی صورت میں۔ خصوصاً بڑی تصویریں جو کہ شرک کے آثار میں سے ہیں اُن کی آپ کبھی اجازت نہیں دیتے تھے۔ ایک دفعہ آپ کے گھر میں ایسا کپڑا لٹکا ہوا تھا آپ نے دیکھا تو اُسے اُتروا دیا۔۴۱۶؎ ہاں چھوٹی چھوٹی تصویر جس کپڑے پر بنی ہوئی ہوں اُس کپڑے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کیونکہ ان سے شرک کے خیالات کی طرف اشارہ نہیں ہوتا۔ آپ ریشمی کپڑا کبھی نہیں پہنتے تھے نہ دوسرے مردوں کو ریشمی کپڑا پہننے کی اجازت دیتے تھے۔ بادشاہوں کو خط لکھنے کے وقت آپ نے ایک مہر والی انگوٹھی اپنے لئے بنوائی تھی مگر آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ سونے کی انگوٹھی نہ ہو بلکہ چاندی کی ہو کیونکہ سونا خدا تعالیٰ نے میری اُمت کے مردوں کے لئے پہننا منع فرمایا ہے۔ عورتوں کو بیشک ریشمی کپڑے اور زیور پہننے کی اجازت تھی اس بارہ میں آپ نصیحت کرتے رہتے تھے کہ غلو نہ کیا جائے۔

ایک دفعہ غرباء کے لئے آپ نے چندہ کیا۔ ایک عورت نے ایک کڑا اُتار کر آپ کے آگے رکھ دیا۔ آپ نے فرمایا کیا دوسرا ہاتھ دوزخ سے بچنے کا مستحق نہیں؟ اُس عورت نے دوسرا کڑا اُتار کر بھی غرباء کے لئے دے دیا۔ آپ کی بیویوں کے زیورات نہ ہونے کے برابر تھے صحابیات بھی آپ کی تعلیم پر عمل کر کے زیور بنانے سے احتراز کرتی تھیں۔ آپ قرآنی تعلیم کے مطابق فرماتے تھے کہ مال کا جمع رکھنا غریبوں کے حقوق تلف کر دیتا ہے اس لئے سونے چاندی کو کسی صورت میں گھروں میں جمع کر لینا قوم کی اقتصادی حالت کو تباہ کرنے والا ہے اور گناہ ہے۔

ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے آپ کو تحریک کی کہ اب بڑے بڑے بادشاہوں کی طرف سے سفیر آنے لگے ہیں آپ ایک قیمتی جُبّہ لے لیں اور ایسے موقعوں پر استعمال فرمایا کریں۔ آپ حضرت عمرؓ کی اس بات کو سن کر بہت خفا ہوئے اور فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے ان باتوں کے لئے پیدا نہیں کیا۔ یہ مداہنت کی باتیں ہیں۔۱۷؎ ہمارا جیسا لباس ہے ہم اس کے ساتھ دنیا سے ملیں گے۔

ایک دفعہ آپ کے پاس ایک ریشمی جُبّہ لایا گیا۔ تو آپ نے حضرت عمرؓ کو تحفہ کے طور پر دے دیا۔ دوسرے دن آپ نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ اُس کو پہنے پھر رہے تھے۔ آپ نے اس پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ جب حضرت عمرؓ نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! آپ ہی نے تو تحفہ دیا تھا۔ تو آپ نے فرمایا ہر چیز اپنے ہی استعمال کے لئے تو نہیں ہوتی۔ یعنی یہ جُبّہ چونکہ ریشم کا تھا آپ کو چاہئے تھا کہ یہ اپنی بیوی کو دے دیتے یا اپنی بیٹی کو دے دیتے یا کسی اور استعمال میں لے آتے۔ اس کو اپنے لباس کے طور پر استعمال کرنا درست نہیں تھا۔۱۸؎

بستر میں سادگی

آپ کا بستر بھی نہایت سادہ ہوتا تھا۔ بالعموم ایک چمڑا یا اُونٹ کے بالوں کا ایک کپڑا ہوتا تھا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہمارا بستر اتنا چھوٹا تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو عبادت کے لئے اُٹھتے تو میں ایک طرف ہو کر لیٹ جاتی تھی اور بوجہ اس کے کہ بستر چھوٹا ہوتا تھا، جب آپ عبادت کے لئے کھڑے ہو جاتے تو میں ٹانگیں لمبی کر لیا کرتی اور جب آپ سجدہ کرتے تو میں ٹانگیں سمیٹ لیا کرتی۔۱۹؎

مکان اور رہائش میں سادگی

رہائشی مکان کے متعلق بھی آپ سادگی کو پسند کرتے تھے۔ بالعموم آپ کے گھروں میں ایک ایک کمرہ ہوتا تھا اور چھوٹا سا صحن۔ اس کمرہ میں ایک رسّی بندھی ہوئی ہوتی تھی جس پر کپڑا ڈال کر ملاقات کے وقت میں آپ اپنے ملنے والوں سے علیحدہ بیٹھ کر گفتگو کر لیا کرتے تھے۔ چارپائی آپ استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ زمین پر ہی بستر بچھا کر سوتے تھے۔ آپ کی رہائش کی سادگی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ حضرت عائشہؓ نے آپ کی وفات کے بعد فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہمیں کئی دفعہ صرف پانی اور کھجور پر ہی گزارہ کرنا پڑتا تھا یہاں تک کہ جس دن آپ کی وفات ہوئی اُس دن بھی ہمارے گھر میں سوائے کھجور اور پانی کے کھانے کیلئے اور کچھ نہیں تھا۔۲۰؎

خداتعالیٰ سے محبت اور اُس کی عبادت

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی عشق الٰہی میں ڈوبی ہوئی نظر آتی ہے باوجود بہت بڑی جماعتی ذمہ داری کے دن اور رات آپ عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ نصف رات گزرنے پر آپ خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے کھڑے ہو جاتے اور صبح تک عبادت کرتے رہتے۔ یہاں تک کہ بعض دفعہ آپ کے پاؤں سوج جاتے تھے اور آپ کے دیکھنے والوں کو آپ کی حالت پر رحم آتا تھا۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ ایک دفعہ میں نے ایسے ہی موقع پر کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! آپ تو خدا تعالیٰ کے پہلے ہی مقرب ہیں آپ اپنے نفس کو اتنی تکلیف کیوں دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اے عائشہ! اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا۔۲۱؎ جب یہ بات سچی ہے کہ خدا تعالیٰ کا میں مقرب ہوں اور خدا تعالیٰ نے اپنا فضل کر کے مجھے اپنا قرب عطا فرمایا ہے تو کیا میرا یہ فرض نہیں کہ جتنا ہو سکے میں اُس کا شکریہ ادا کروں، کیونکہ آخر شکر احسان کے مقابل پر ہی ہوا کرتا ہے۔۲۲؎

آپ کوئی بڑا کام بغیر اذن الٰہی کے نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ آپ کے حالات میں لکھا جا چکا ہے کہ باوجود مکہ کے لوگوں کے شدید ظلموں کے آپ نے مکہ اُس وقت تک نہ چھوڑا جب تک کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ پر وحی نازل نہ ہوئی اور وحی کے ذریعہ سے آپ کو مکہ چھوڑنے کا حکم نہ دیا گیا۔ اہلِ مکہ کے ظلموں کی شدت کو دیکھ کر آپ نے جب صحابہؓ کو حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت دی اور انہوں نے آپ سے خواہش ظاہر کی کہ آپ بھی ان کے ساتھ چلیں، تو آپ نے فرمایا مجھے ابھی خدا تعالیٰ کی طرف سے اِذن نہیں ملا۔ ظلم اور تکلیف کے وقت جب لوگ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو اپنے اِردگرد اکٹھا کر لیتے ہیں آپ نے اپنی جماعت کو حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلے جانے کی ہدایت کی اور خود اکیلے مکہ میں رہ گئے، اس لئے کہ آپ کے خدا نے آپ کو ابھی ہجرت کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔

خدا کا کلام آپ سنتے تو بے اختیار ہو کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آجاتے۔ خصوصاً وہ آیات جن میں آپ کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن شریف کی کچھ آیات پڑھ کر مجھے سناؤ۔ میں نے اس کے جواب میں کہا۔ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! قرآن تو آپ پر نازل ہوا ہے میں آپ کو کیا سناؤں؟ آپ نے فرمایا میں پسند کرتا ہوں کہ دوسرے لوگوں سے بھی قرآن پڑھوا کر سنوں۔ اس پر میں نے سورۂ نساء پڑھ کی سنانی شروع کی۔ جب پڑھتے پڑھتے میں اِس آیت پر پہنچا کہ فَکَیۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍۭ بِشَہِیۡدٍ وَّجِئۡنَا بِکَ عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ شَہِیۡدًا(4:42) ۴۲۳ یعنی اُس وقت کیا حال ہو گا جب ہم ہر قوم میں سے اس کے نبی کو اس کی قوم کے سامنے کھڑا کر کے اس قوم کا حساب لیں گے اور تجھ کو بھی تیری قوم کے سامنے کھڑا کر کے اس کا حساب لیں گے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’بس کرو۔ بس کرو‘‘ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے۔۴۲۴

نماز کی پابندی کا آپ کو اتنا خیال تھا کہ سخت بیماری کی حالت میں بھی جبکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے گھر میں نماز پڑھ لینے اور لیٹ کر پڑھ لینے تک کی اجازت بھی ہوتی ہے آپ سہارا لے کر مسجد میں نماز پڑھانے کیلئے آتے۔ ایک دن آپ نماز کے لئے نہ آسکے تو حضرت ابوبکرؓ کو نماز پڑھانے کا حکم فرمایا۔ لیکن اتنے میں طبیعت میں کچھ سہولت معلوم ہوئی تو فوراً دو آدمیوں کا سہارا لے کر مسجد کی طرف چل دیئے مگر کمزوری کا یہ حال تھا کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ چلنے میں آپ کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹتے جاتے تھے۔۴۲۵

دنیا میں خوشنودی اور توجہ دلانے کے لئے تالیاں پیٹی جاتی ہیں عربوں میں بھی یہی رواج تھا مگر آپ کو خدا تعالیٰ کی یاد اور اُس کا ذکر اتنا پسند تھا کہ اس غرض کے لئے بھی ذکر الٰہی ہی استعمال کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے کہ نماز کا وقت آ گیا۔ آپ نے فرمایا ابوبکر! نماز پڑھا دیں۔ پھر کام سے فارغ ہو کر آپ بھی فوراً مسجد کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب نماز پڑھنے والوں کو معلوم ہوا کہ آپ مسجد میں تشریف لے آئے ہیں تو انہوں نے بیتاب ہو کر تالیاں بجانی شروع کر دیں جس سے ایک طرف تو یہ بتانا مقصود تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے ان کے دل بے انتہاء خوش ہو گئے ہیں اور دوسری طرف ابوبکرؓ کو توجہ دلانا مطلوب تھا کہ اب آپ کی امامت ختم ہوئی اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ پیچھے ہٹ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے امام کی جگہ چھوڑ دی۔ نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابوبکر! جب میں نے تم کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا تو تم میرے آنے پر پیچھے کیوں ہٹ گئے؟ ابوبکرؓ نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! اللہ کے رسول کی موجودگی میں ابوقحافہ کا بیٹا کیا حیثیت رکھتا تھا کہ نماز پڑھائے۔ پھر آپ صحابہؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔ تالیاں پیٹنے سے تمہاری کیا غرض تھی۔ خدا کے ذکر کے وقت تالیوں کا بجانا تو مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے۔ جب نماز کے وقت کوئی ایسی بات ہو کہ اُس کی طرف توجہ دلانی ضروری ہو تو بجائے تالیاں بجانے کے خدا کا نام بلند آواز سے لیا کرو۔ جب تم ایسا کرو گے تو دوسروں کو اس واقعہ کی طرف خود بخود توجہ ہو جائے گی۔۴۲۶؎ مگر اس کے ساتھ ہی آپ تکلف کی عبادت بھی پسند نہیں فرماتے تھے۔ ایک دفعہ آپ گھر میں گئے تو آپ نے دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسّی لٹکی ہوئی ہے۔ آپ نے پوچھا یہ رسّی کیوں بندھی ہوئی ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت زینبؓ کی رسّی ہے جب وہ عبادت کرتے کرتے تھک جاتی ہیں تو اِس رسّی کو پکڑ کر سہارا لے لیتی ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ ایسا نہیں کرنا چاہئے یہ رسّی کھول دو۔ ہر شخص کو چاہئے کہ اتنی دیر عبادت کیا کرے جب تک اُس کے دل میں بشاشت رہے جب وہ تھک جائے تو بیٹھ جائے اس قسم کی تکلف والی عبادت کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔۴۲۷؎

شرک سے آپ کو اس قدر نفرت تھی کہ وفات کے وقت جبکہ آپ جان کندن کی تکلیف میں کبھی دائیں کروٹ لیٹتے اور کبھی بائیں کروٹ لیٹتے اور یہ فرماتے جاتے تھے خدا ان یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنالیا ہے۔۴۲۸؎ یعنی وہ نبیوں کی قبروں پر سجدے کرتے ہیں اور اُن سے دعائیں کرتے ہیں۔ آپ کا مطلب یہ تھا کہ میری قوم اگر میرے بعد ایسا ہی فعل کرے گی تو وہ یہ نہ سمجھے کہ وہ میری دعاؤں کی مستحق ہو گی بلکہ میں اس سے کلی طور پر بیزار ہوں گا۔

خدا تعالیٰ کے لئے آپ کی غیرت کا ذکر آپ کی زندگی کے تاریخی واقعات میں آچکا ہے۔ مکہ کے لوگوں نے آپ کے سامنے ہر قسم کی رشوتیں پیش کیں تا آپ بتوں کی تردید کرنا چھوڑ دیں اور آپ کے چچا ابو طالب نے بھی آپ سے اس امر کی سفارش کی اور کہا کہ اگر تم نے یہ بات نہ مانی اور میں نے تمہارا ساتھ بھی نہ چھوڑا تو پھر میری قوم مجھے چھوڑ دے گی تو اس پر آپ نے فرمایا اے چچا! اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لا کر کھڑا کر دیں تب بھی میں خدائے واحد کی توحید کو پھیلانے سے نہیں رُک سکتا۔۴۲۹؎

اسی طرح اُحد کے موقع پر جب مسلمان زخمی اور پراگندہ حالت میں ایک پہاڑی کے نیچے کھڑے تھے اور دشمن اپنے سارے سازوسامان کے ساتھ اس خوشی میں نعرے لگا رہا تھا کہ ہم نے مسلمانوں کی طاقت توڑ دی ہے۔ اور ابو سفیان نے نعرہ لگایا اُعْلُ هُبَلْ ۔ اُعْلُ هُبَلْ۔ یعنی ہبل کی شان بلند ہو، ہبل کی شان بلند ہو۔ تو آپ نے اپنے ساتھیوں کو جو دشمن کی نظروں سے چھپے کھڑے تھے اور اِس چھپنے میں ہی اُن کی خیر تھی حکم دیا کہ جواب دو اَللّٰهُ اَعْلٰى وَاَجَلُّ ۔ اَللّٰهُ اَعْلٰى وَاَجَلُّ۔۴۳۰؎ اللہ ہی سب سے بلند اور جلال والا ہے۔ اللہ ہی غلبہ اور جلال رکھتا ہے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کے لئے جو غیرت تھی اُس کی ایک اور عظیم الشان مثال بھی آپ کی زندگی میں ملتی ہے۔ اسلام سے پہلے عام طور پر مختلف مذاہب میں یہ خیال پایا جاتا تھا کہ انبیاء کی خوشی اور غم پر زمین اور آسمان میں تغیر ظاہر ہوتے ہیں اور اجرامِ فلکی ان کے قبضے میں ہوتے ہیں چنانچہ کسی نبی کے متعلق یہ آتا تھا کہ اُس نے سورج کو کہا ٹھہر جا اور وہ ٹھہر گیا۔ کسی کے متعلق آتا تھا کہ اُس نے چاند کی گردش روک دی اور کسی کے متعلق آتا تھا کہ اُس نے پانی کے بہاؤ کو بند کر دیا۔ مگر اسلام نے اس قسم کے خیالات کی غلطی ظاہر کی اور یہ بتایا کہ درحقیقت یہ استعارے ہیں جن سے لوگ بجائے فائدہ اُٹھانے کے اُلٹے غلطیوں اور وہموں میں مبتلا ہو جاتے ہیں لیکن باوجود ان تشریحات کے کچھ لوگوں کے دلوں میں اِس قسم کے خیالات کا اثر باقی رہ گیا تھا۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر میں آپ کے اکلوتے صاحبزادے ابراہیم اڑھائی سال کی عمر میں فوت ہوئے تو اتفاقاً اُس دن سورج کو بھی گرہن لگ گیا اُس وقت چند ایسے ہی لوگوں نے مدینہ میں یہ مشہور کر دیا کہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کی وفات پر سورج تاریک ہو گیا ہے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ خوش نہ ہوئے آپ خاموش بھی نہ رہے بلکہ بڑی سختی سے آپ نے اس کی تردید کی اور فرمایا۔ چاند اور سورج تو خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کو ظاہر کرنے والی ہستیاں ہیں ان کا کسی بڑے یا چھوٹے انسان کی موت یا زندگی کے ساتھ کیا تعلق ہے۔۴۳۱؎

جب کوئی شخص عرب کے محاورہ کے مطابق یہ کہہ دیتا کہ فلاں ستارہ کے فلاں بُرج میں ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے تو آپ کا چہرہ متغیر ہو جاتا اور آپ فرماتے اے لوگو! خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو دوسروں کی طرف کیوں منسوب کرتے ہو۔ بارشیں وغیرہ سب خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کے مطابق ہوتی ہیں کسی دیوی دیوتا کی یا کسی اور روحانی طاقت کی مہربانی اور بخشش کے ساتھ نازل نہیں ہوا کرتیں۔۴۳۲؎

اللہ تعالیٰ پر توکل

اللہ تعالیٰ پر توکل کا یہ حال تھا کہ جب ایک شخص نے اکیلا پا کر آپ پر تلوار اُٹھائی اور آپ سے پوچھا اب کون تم کو مجھ سے بچا سکتا ہے؟ اُس وقت باوجود اس کے کہ آپ بے ہتھیار تھے اور بوجہ لیٹے ہوئے ہونے کے حرکت بھی نہیں کر سکتے تھے۔ آپ نے نہایت اطمینان اور سکون سے جواب دیا ’’اللہ‘‘ یہ لفظ اس یقین اور وثوق سے آپ کے منہ سے نکلا کہ اُس کافر کا دل بھی آپ کے ایمان کی بلندی اور آپ کے یقین کے کامل ہونے کو تسلیم کئے بغیر نہ رہ سکا اور اُس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اور وہ جو آپ کو قتل کرنے کے لئے آیا تھا آپ کے سامنے مجرموں کی طرح کھڑا ہو گیا۔۴۳۳؎

اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں انکساری کی یہ حد تھی کہ جب آپ سے لوگوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!

آپ تو اپنے عمل کے زور سے خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کر لیں گے تو آپ نے فرمایا نہیں! نہیں!! میں بھی خدا کے احسان سے ہی بخشا جاؤں گا۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ بیان فرماتے ہیں میں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ فرما رہے تھے کوئی شخص اپنے عملوں سے جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ میں نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! کیا آپ بھی اپنے اعمال سے جنت میں داخل نہیں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا میں بھی اپنے اعمال کے زور سے جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ ہاں خدا کا فضل اور اُس کی رحمت مجھے ڈھانک لے تو یہی ایک صورت ہے۴۳۴؎ پھر آپ نے فرمایا اپنے کاموں میں نیکی اختیار کرو اور خدا تعالیٰ کے قرب کی راہیں تلاش کرو اور تم میں سے کوئی شخص اپنی موت کی خواہش نہ کیا کرے۔ کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو زندہ رہ کر اپنی نیکیوں میں اور بھی بڑھ جائے گا اور اگر بد ہے تو زندہ رہ کر اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کی توفیق مل جائے گی۔۴۳۵؎

خدا تعالیٰ کی محبت کی یہ حالت تھی کہ جب ایک وقفہ کے بعد بادل آتے تو آپ اپنی زبان پر بارش کا قطرہ لے لیتے اور فرماتے۔ دیکھو! میرے ربّ کی تازہ نعمت!۴۳۶؎

جب مجلس میں بیٹھتے تو استغفار کرتے رہتے اور یوں بھی اکثر استغفار کرتے تا کہ آپ کی اُمت اور آپ کے ساتھ تعلق رکھنے والے خدا تعالیٰ کے غضب سے بچے رہیں اور اُس کی بخشش کے مستحق ہو جائیں۴۳۷؎ ہر وقت خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونے کی یاد کو تازہ رکھتے۔ چنانچہ جب آپ سوتے تو یہ کہتے ہوئے سوتے بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ اَمُوْتُ وَاَحْیٰ۔ اے خدا تیرا ہی نام لیتے ہوئے میں مروں اور تیرا ہی نام لیتے ہوئے میں اُٹھوں۔ اور جب آپ صبح اُٹھتے تو فرماتے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَاِلَیْهِ النُّشُوْرُ۔۴۳۸؎ اللہ ہی کے لئے سب تعریفیں ہیں جس نے مرنے کے بعد ہم کو زندہ کیا اور پھر ہم اپنے ربّ کے سامنے جانے والے ہیں۔

خدا تعالیٰ کے قرب کی اتنی خواہش تھی کہ ہمیشہ آپ دعا کرتے تھے اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَّ فِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا وَّ فِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا وَّعَنْ يَّمِیْنِیْ نُوْرًا وَّعَنْ یَّسَارِیْ نُوْرًا وَّفَوْقِیْ نُوْرًا وَّتَحْتِیْ نُوْرًا وَّ اَمَامِیْ نُوْرًا وَّخَلْفِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ لِّيْ نُوْرًا۴۳۹؎ یعنی اے میرے ربّ! میرے دل میں بھی اپنا نور بھر دے اور میری آنکھوں میں بھی اپنا نور بھر دے اور میرے کانوں میں بھی اپنا نور بھر دے اور میرے دائیں بھی تیرا نور ہو اور میرے بائیں بھی تیرا نور ہو اور میرے اُوپر بھی تیرا نور ہو اور میرے نیچے بھی تیرا نور ہو اور میرے آگے بھی تیرا نور ہو اور میرے پیچھے بھی تیرا نور ہو اور اے میرے ربّ! میرے سارے وجود کو نور ہی نور بنا دے۔

ابنِ عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ آپؐ کی وفات کے قریب مسیلمہ کذاب آیا اور اس نے کہا اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد مجھے حاکم مقرر کر دیں تو میں ان کا متبع ہو جاؤں گا۔ اُس وقت اُس کے ساتھ ایک بہت بڑی جمعیت تھی اور جس قوم سے وہ تعلق رکھتا تھا وہ قوم سارے عرب کی قوموں سے تعداد میں زیادہ تھی۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے مدینہ میں آنے کی خبر ملی تو آپؐ اُس کی طرف گئے۔ ثابت بن قیس بن شماس آپؐ کے ساتھ تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کھجور کی ایک شاخ تھی۔ آپؐ اُس قافلہ تک آئے اور مسیلمہ کذاب کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ اتنے میں اور صحابی بھی جمع ہو گئے اور آپؐ کے اردگرد کھڑے ہو گئے۔ آپؐ نے مسیلمہ سے مخاطب ہو کر فرمایا۔ تم یہ کہتے ہو کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اگر اپنے بعد مجھے اپنا خلیفہ مقرر کر دیں تو میں اس کی اتباع کرنے کے لئے تیار ہوں، لیکن میں تو خدا کے حکم کے خلاف یہ کھجور کی شاخ بھی تم کو دینے کے لئے تیار نہیں۔ تمہارا وہی انجام ہو گا جو خدا نے تمہارے لیے مقرر کیا ہے۔ اگر تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے پاؤں کاٹ دے گا اور میں تو دیکھ رہا ہوں کہ خدا نے جو کچھ مجھے دکھایا تھا وہی تمہارے ساتھ ہونے والا ہے۔ پھر فرمایا میں جاتا ہوں جو باتیں کرنی ہیں میری طرف سے ثابت بن قیس بن شماس کے ساتھ کرو۔ یہ کہہ کر آپؐ واپس تشریف لے آئے۔ حضرت ابو ہریرہؓ بھی آپؐ کے ساتھ تھے۔ راستہ میں کسی نے آپؐ سے پوچھا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! آپ نے یہ کیا فرمایا ہے کہ جو مجھے خدا نے دکھایا تھا میں تجھے ویسا ہی پاتا ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میرے ہاتھ میں دو کڑے ہیں۔ میں نے اُن کڑوں کو دیکھ کر ناپسند کیا۔ اُس وقت مجھے خواب میں ہی وحی نازل ہوئی کہ میں ان پر پھونکوں۔ جب میں نے پھونکا تو وہ دونوں اُڑ گئے۔ میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ دو جھوٹے مدعی میرے بعد ظاہر ہوں گے۔۴۴۰

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کا یہ آخری زمانہ تھا۔ عرب کی سب سے بڑی اور آخری قوم آپ کی فرمانبرداری کرنے کے لئے تیار تھی اور صرف اتنی شرط کرتی تھی کہ اس کے سردار کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد خلیفہ مقرر کر دیں۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ذاتی بڑائی کا کوئی بھی خیال ہوتا تو ایسی حالت میں کہ آپ کی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی آپ کے لئے کچھ بھی مشکل نہ تھا کہ آپ عرب کی سب سے بڑی قوم کے سب سے بڑے سردار کو اپنی جانشینی کی امید دلاتے اور سارے عرب کے اتحاد کا راستہ کھول دیتے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی اپنا نہیں سمجھتے تھے وہ اسلامی امارت کو اپنی ملکیت کب قرار دے سکتے تھے۔ آپ کے نزدیک اسلامی امارت خدا کی امانت تھی اور وہ امانت جوں کی توں خدا تعالیٰ ہی کے سپرد ہونی چاہئے تھی۔ پھر وہ جس کو چاہے دوبارہ سونپ دے۔ پس آپ نے یہ تجویز حقارت سے ٹھکرا دی اور فرمایا بادشاہت تو الگ رہی خدا کے حکم کے بغیر میں کھجور کی ایک شاخ بھی تم کو دینے کیلئے تیار نہیں۔

جب بھی اللہ تعالیٰ کا آپ ذکر فرماتے آپ کی طبیعت میں جوش پیدا ہو جاتا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ کے جسم کے اندر کی طرف سے بھی اور باہر کی طرف سے بھی کُلی طور پر خدا تعالیٰ کی محبت نے قابو پا لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں آپ کو سادگی اس قدر پسند تھی کہ مسجد میں جس پر کوئی فرش نہیں تھا جس پر کوئی کپڑا نہیں تھا آپ نماز پڑھتے اور دوسروں کو پڑھواتے۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا کہ بارش کی وجہ سے چھت ٹپک پڑتی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم گارے اور پانی سے لت پت ہو جاتا مگر آپ برابر عبادت میں مشغول رہتے اور آپ کے دل میں ذرا بھی احساس پیدا نہ ہوتا کہ اپنے جسم اور کپڑوں کی حفاظت کی خاطر آپ اُس وقت کی نماز ملتوی کر دیں یا کسی دوسری جگہ پر جا کر نماز پڑھ لیں۔۴۱؎

اپنے صحابہ کی عبادتوں کا بھی آپ خیال رکھتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے متعلق جو نہایت ہی نیک اور پاکیزہ خصائل کے آدمی تھے آپ نے فرمایا عبداللہ بن عمرؓ کیسا اچھا آدمی ہوتا اگر تہجد بھی باقاعدہ پڑھتا۴۲؎جب حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے اُس دن سے تہجد کی نماز باقاعدہ شروع کر دی۔

اسی طرح لکھا ہے کہ ایک دفعہ آپ رات اپنے داماد حضرت علیؓ اور اپنی بیٹی حضرت فاطمہؓ

کے گھر گئے اور فرمایا کیا تہجد پڑھا کرتے ہو؟ (یعنی وہ نماز جو آدھی رات کے قریب اُٹھ کر پڑھی جاتی ہے) حضرت علیؓ نے عرض کیا يَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! پڑھنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر جب خدا تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت کسی وقت ہماری آنکھ بند رہتی ہے تو پھر تہجد رہ جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا تہجد پڑھا کرو۔ اور اُٹھ کر اپنے گھر کی طرف چل پڑے اور راستہ میں بار بار کہتے جاتے تھے وَکَانَ الۡاِنۡسَانُ اَکۡثَرَ شَیۡءٍ جَدَلًا(الکہف: ۵۵) ۴۴۳ یہ قرآن کریم کی ایک آیت ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ انسان اکثر اپنی غلطی تسلیم کرنے سے گھبراتا ہے اور مختلف قسم کی دلیلیں دے کر اپنے قصور پر پردہ ڈالتا ہے۔ مطلب یہ تھا کہ بجائے اِس کے کہ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ یہ کہتے کہ ہم سے کبھی کبھی غلطی بھی ہو جاتی ہے اُنہوں نے یہ کیوں کہا کہ جب خدا تعالیٰ کا منشاء ہوتا ہے کہ ہم نہ جاگیں تو ہم سوئے رہتے ہیں اور اپنی غلطی کو اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں منسوب کیا۔ لیکن باوجود اللہ تعالیٰ کی اِس قدر محبت رکھنے کے آپ تصنّع کی عبادت اور کہانت سے سخت نفرت کرتے تھے۔ آپ کا اصول یہ تھا کہ خدا تعالیٰ نے جو طاقتیں انسان کے اندر پیدا کی ہیں اُن کا صحیح طور پر استعمال کرنا ہی اصل عبادت ہے۔ آنکھوں کی موجودگی میں آنکھوں کو بند کر دینا یا اُن کو نکلوا دینا عبادت نہیں بلکہ گستاخی ہے ہاں اُن کا بد استعمال کرنا گناہ ہے۔ کانوں کو کسی آپریشن کے ذریعے سے شنوائی سے محروم کر دینا خدا تعالیٰ کی گستاخی ہے۔ ہاں لوگوں کی غیبتیں اور چغلیاں سننا گناہ ہے۔ کھانے کو ترک کر دینا خودکشی اور خدا تعالیٰ کی گستاخی ہے ہاں کھانے پینے میں مشغول رہنا اور ناجائز اور ناپسندیدہ چیزوں کو کھانا گناہ ہے۔ یہ ایک عظیم الشان نکتہ تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کیا اور جسے آپ سے پہلے اور کسی نبی نے پیش نہیں کیا۔ اخلاقِ فاضلہ نام ہے طبعی قویٰ کے صحیح استعمال کا۔ طبعی قویٰ کو مار دینا حماقت ہے، ان کو ناجائز کاموں میں لگا دینا بدکاری ہے، ان کا صحیح استعمال اصل نیکی ہے یہ خلاصہ ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا اور یہ خلاصہ ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا اور آپ کے اعمال کا۔ حضرت عائشہؓ آپ کی نسبت فرماتی ہیں مَا خُيِّرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَيْنَ اَمْرَيْنِ اِلَّا اَخَذَ اَيْسَرَ هُمَا مَا لَمْ يَكُنْ اِثْمًا فَاِنْ كَانَ اِثْمًا كَانَ اَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ ۴۴۴ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کبھی ایسا موقع پیش نہیں آیا کہ آپ کے سامنے دو راستے کھلے ہوں تو آپؐ نے ان دونوں راستوں میں سے جو آسان رستہ ہوا اُسے اختیار نہ کیا ہو بشرطیکہ اُس آسان راستہ کے اختیار کرنے میں کوئی گناہ کا شائبہ نہ پایا جائے ۔ اگر گناہ کا کوئی شائبہ پایا جاتا تو آپؐ اس راستہ سے تمام انسانوں سے زیادہ دور بھاگتے تھے۔

یہ کیسا لطیف اور کیسا اعلیٰ درجہ کا چلن ہے دنیا کو دھوکا دینے کے لئے لوگ کس طرح بلا وجہ اپنے آپ کو دکھوں اور تکلیفوں میں ڈالتے ہیں۔ ان کا اپنے آپ کو دکھوں اور تکلیفوں میں ڈالنا خدا تعالیٰ کے لئے نہیں ہوتا کیونکہ خدا تعالیٰ کے لئے کوئی بے فائدہ کام نہیں کیا جاتا۔ اُن کا اپنے آپ کو دکھوں اور تکلیفوں میں ڈالنا لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے ہوتا ہے۔ اُن کی اصل نیکی چونکہ بہت کم ہوتی ہے وہ جھوٹی نیکیوں سے لوگوں کو مرعوب کرنا چاہتے ہیں اور اپنے عیبوں کو چھپانے کے لئے لوگوں کی آنکھوں میں خاک ڈالتے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد تو خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور حقیقی نیکی کا حصول تھا۔ آپؐ کو ایسی تصنع اور بناوٹی نیکیوں کی کیا ضرورت تھی۔ اگر دنیا آپؐ کو نیک سمجھتی تو بھی اور اگر آپؐ کو نیک نہ سمجھتی تو بھی آپؐ کے لئے ایک سی بات تھی۔ آپؐ تو صرف یہ دیکھتے تھے کہ میرا خدا مجھے کیا سمجھتا ہے اور میرا اپنا نفس مجھے کیسا پاتا ہے۔ خدا اور اپنے نفس کی شہادت کے بعد اگر بنی نوع انسان بھی سچی شہادت دیتے تو آپؐ اُن کے شکر گزار ہوتے تھے اور اگر وہ کج آنکھوں سے دیکھتے تو آپؐ اُن کی بینائی کی کمی پر افسوس کرتے مگر اُن کی رائے کو کوئی وقعت نہ دیتے تھے۔

رسول کریم ﷺ کا بنی نوع انسان سے معاملہ

بیویوں کے حق میں آپؐ کا معاملہ نہایت ہی مشفقانہ اور عادلانہ تھا۔ بعض دفعہ آپؐ کی بیویاں آپؐ سے سختی بھی کر لیتی تھیں مگر آپؐ خاموشی سے بات کو ہنس کر ٹال دیتے تھے۔ ایک دن آپؐ نے حضرت عائشہؓ سے کہا اے عائشہ! جب تم مجھ سے خفا ہوتی ہو تو مجھے پتہ لگ جاتا ہے کہ تم مجھ سے خفا ہو۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا آپؐ کو کس طرح پتہ لگ جاتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور کوئی قسم کھانے کا معاملہ آ جائے تو تم ہمیشہ یوں کہتی ہو ”محمدؐ کے ربّ کی قسم! بات یوں ہے“ اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو اور تمہیں قسم کھانے کی ضرورت پیش آ جائے تو تم کہا کرتی ہو ”ابراہیمؑ کے ربّ کی قسم!

بات یوں ہے۔‘‘۔ حضرت عائشہؓ یہ بات سن کو ہنس پڑیں اور آپ کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آپ بات کو ٹھیک سمجھے ہیں۔۴۴۵؎

حضرت خدیجہؓ جو آپ کی بڑی بیوی تھیں اور جنہوں نے آپ کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کی تھیں اُن کی وفات کے بعد آپ کی شادی میں جوان بیویاں آئیں لیکن اس کے باوجود آپ نے حضرت خدیجہؓ کے تعلق کو نہ بھلایا۔

حضرت خدیجہؓ کی سہیلیاں جب بھی آتیں آپ اُن کے استقبال کے لئے کھڑے ہو جاتے۔۴۴۶؎ حضرت خدیجہؓ کی بنی ہوئی کوئی چیز اگر آپ کے سامنے آ جاتی تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔ بدر کی جنگ میں جب آپ کے ایک داماد بھی قید ہو کر آئے تو آزادی کا فدیہ ادا کرنے کے لئے کوئی مال اُن کے پاس نہیں تھا۔ اُن کی بیوی یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی نے جب دیکھا کہ میرے خاوند کے بچانے کے لئے اور کوئی مال نہیں تو اپنی والدہ کی آخری یادگار ایک ہار اُن کے پاس تھا وہ اُنہوں نے اپنے خاوند کے فدیہ کے طور پر مدینہ بھجوا دیا۔ جب وہ ہار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے اُسے پہچان لیا۔ آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ نے صحابہؓ سے فرمایا۔ میں آپ لوگوں کو حکم تو نہیں دیتا کیونکہ مجھے ایسا حکم دینے کا کوئی حق نہیں لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ ہار زینب کے پاس اُس کی ماں کی آخری یادگار ہے اگر آپ خوشی سے ایسا کر سکتے ہوں تو میں سفارش کرتا ہوں کہ بیٹی اُس کی ماں کی آخری یادگار سے محروم نہ کی جائے۔ صحابہؓ نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! ہمارے لئے اِس سے زیادہ خوشی کا کیا موجب ہو سکتا ہے اور اُنہوں نے وہ ہار حضرت زینبؓ کو واپس کر دیا۔۴۴۷؎

حضرت خدیجہؓ کی قربانی کا آپ کی طبیعت پر اتنا اثر تھا کہ آپ دوسری بیویوں کے سامنے اکثر اُن کی نیکی کا ذکر کرتے رہتے تھے۔ ایک دن اسی طرح آپ حضرت عائشہؓ کے سامنے حضرت خدیجہؓ کی کوئی نیکی بیان کر رہے تھے کہ حضرت عائشہؓ نے چڑ کر کہا۔ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! اب اُس بڑھیا کا ذکر جانے بھی دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اُس سے بہتر جوان اور خوبصورت عورتیں آپ کو دی ہیں۔ یہ بات سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر رقت طاری ہو گئی اور آپ نے فرمایا۔ عائشہ! تمہیں معلوم نہیں خدیجہ نے میری کس قدر خدمت کی ہے۔۴۴۸؎

اخلاقِ فاضلہ

آپ کی طبیعت نہایت ہی سادہ تھی کسی دُکھ پر گھبراتے نہیں تھے اور کبھی کسی خواہش سے حد سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے تھے۔ سوانح میں بتایا جا چکا ہے کہ آپ کی پیدائش سے پہلے آپ کے والد اور بچپن میں ہی آپ کی والدہ فوت ہوگئی تھیں۔ ابتدائی آٹھ سال آپ نے اپنے دادا کی نگرانی میں گزارے۔ اس کے بعد آپ نے اپنے چچا ابوطالب کی ولایت میں پرورش پائی۔ چچا کا خونی رشتہ بھی تھا اور اُن کے والد نے مرتے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں خاص طور پر وصیت بھی فرمائی تھی اس لئے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص طور پر محبت بھی رکھتے تھے اور آپ کا خیال بھی رکھتے تھے لیکن چچی میں نہ وہ شفقت کا مادہ تھا نہ خاندانی ذمہ داریوں کا احساس۔ جب گھر میں کوئی چیز آتی تو بسا اوقات وہ اپنے بچوں کو پہلے دیتیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال نہ رکھتیں ۔ ابوطالب گھر میں آتے تو بجائے اِس کے کہ اپنے چھوٹے بھتیجے کو روتا ہوا یا گلہ کرتا ہوا پاتے وہ دیکھتے کہ اُن کے بچے تو کوئی چیز کھا رہے ہیں لیکن اُن کا چھوٹا سا بھتیجا کوہِ وقار بنا ایک طرف بیٹھا ہے۔ چچا کی محبت اور خاندانی ذمہ داریاں اُن کے سامنے آ جاتیں وہ دوڑ کر اپنے بھتیجے کو بغل میں لے لیتے اور کہتے میرے بچے کا بھی تو خیال کرو، میرے بچے کا بھی تو خیال کرو۔ ایسا اکثر ہوتا رہتا تھا۔ مگر دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی شکوہ کیا نہ آپ کے چہرہ پر کبھی ملال ظاہر ہوا نہ کبھی اپنے چچیرے بھائیوں سے رقابت پیدا ہوئی۔۴۴۹؎

چنانچہ آپ کی زندگی بتاتی ہے کہ کس طرح آپ نے بعد کے بدلے ہوئے حالات میں حضرت علیؓ اور حضرت جعفرؓ کو اپنی تربیت میں لے لیا اور ہر طرح سے ان کی بہتری کی تدابیر کیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی دُنیوی لحاظ سے نہایت ہی تلخ طور پر گزری ہے۔ پیدائش سے پہلے ہی اپنے والد کی وفات پھر والدہ اور دادا کی یکے بعد دیگرے وفات، پھر شادی ہوئی تو آپ کے بچے متواتر فوت ہوتے چلے گئے اس کے بعد پے درپے آپ کی کئی بیویاں فوت ہوئیں جن میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا جیسی باوفا اور خدمت گزار بیوی بھی تھیں۔ مگر آپ نے یہ سب مصائب خوشی سے برداشت کئے اور ان غموں نے نہ آپ کی کمر توڑی نہ آپ کی خوش مزاجی پر کوئی اثر ڈالا۔ دل کے زخم کبھی آنکھوں سے نہیں رسے۔ چہرہ ہر ایک کے لئے بشاش ہی رہا اور شاذ و نادر ہی کسی موقع پر آپ نے اس درد کا اظہار کیا۔

ایک دفعہ ایک عورت جس کا لڑکا فوت ہو گیا تھا اپنے لڑکے کی قبر پر ماتم کر رہی تھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے تو آپ نے فرمایا۔ اے عورت! صبر کر۔ خدا کی مشیت ہر ایک پر غالب ہے۔ وہ عورت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتی نہ تھی اس نے جواب دیا جس طرح میرا بچہ مرا ہے تمہارا بچہ بھی مرتا تو تمہیں معلوم ہوتا کہ صبر کیا چیز ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف یہ کہہ کر وہاں سے آگے چل دیئے۔ ایک نہیں میرے تو سات بچے فوت ہو چکے ہیں۔ ۴۵؎

پس اس قسم کے موقع پر اتنا اظہار تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گذشتہ مصائب پر کبھی کر دیتے تھے ورنہ بنی نوع انسان کی خدمت میں کوئی کوتاہی ہوئی نہ آپ کی بشاشت میں کوئی فرق آیا۔

تحمل

آپ میں اِس قدر تھا کہ اُس زمانہ میں بھی کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے بادشاہت عطا فرمادی تھی آپ ہر ایک کی بات سنتے۔ اگر وہ سختی بھی کرتا تو آپ خاموش ہو جاتے اور کبھی سختی کرنے والے کا جواب سختی سے نہ دیتے۔ مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے نام کی بجائے آپ کے روحانی درجہ سے پکارتے تھے یعنی یَارَسُوْلَ اللّٰہ! کہہ کر بُلاتے تھے اور غیر مذاہب کے لوگ ایشیائی دستور کے مطابق آپ کا ادب اور احترام اس طرح کرتے تھے کہ بجائے آپ کو محمد کہہ کر بلانے کے ابوالقاسم کہہ کر بلاتے تھے جو آپ کی کنیت تھی (ابوالقاسم کے معنی ہیں قاسم کا باپ۔ قاسم آپ کے ایک بیٹے کا نام تھا) ایک دفعہ ایک یہودی مدینہ میں آیا اور اس نے آپ سے آکر بحث شروع کر دی۔ بحث کے دوران میں وہ بار بار کہتا تھا۔ اے محمد! بات یوں ہے، اے محمد! بات یوں ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بغیر کسی انقباض کے اس کی باتوں کا جواب دیتے تھے۔ مگر صحابہؓ اُس کی یہ گستاخی دیکھ کر بیتاب ہو رہے تھے۔ آخر ایک صحابیؓ سے نہ رہا گیا اور اُس نے یہودی سے کہا کہ خبردار! آپ کا نام لے کر بات نہ کرو تم رسول اللہ نہیں کہہ سکتے تو کم سے کم ابوالقاسم کہو۔ یہودی نے کہا میں تو وہی نام لوں گا جو ان کے ماں باپ نے اِن کا رکھا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور اپنے صحابہؓ سے کہا دیکھو! یہ ٹھیک کہتا ہے۔ میرے ماں باپ نے میرا نام محمدؐ ہی رکھا تھا جو نام یہ لینا چاہتا ہے اسے لینے دو اور اس پر غصہ کا اظہار نہ کرو۔

آپ جب باہر کام کے لئے نکلتے تو بعض لوگ آپ کا رستہ روک کر کھڑے ہو جاتے اور اپنی ضرورتیں بیان کرنی شروع کر دیتے۔ جب تک وہ لوگ اپنی ضرورتیں بیان نہ کر لیتے آپ کھڑے رہتے جب وہ بات ختم کر لیتے تو آپ آگے چل پڑتے۔ اسی طرح بعض لوگ مصافحہ کرتے وقت دیر تک آپ کا ہاتھ پکڑے رکھتے۔ گو یہ طریق ناپسندیدہ ہے اور کام میں روک پیدا کرنے کا موجب ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نہ چھڑاتے بلکہ جب تک وہ مصافحہ کرنے والا آپ کے ہاتھ کو پکڑے رکھتا آپ بھی اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رہنے دیتے۔ ہر قسم کے حاجت مند آپ کے پاس آتے اور اپنی حاجتیں پیش کرتے۔ بعض دفعہ آپ مانگنے والے کو اُس کی ضرورت کے مطابق کچھ دے دیتے تو وہ اپنی حرص سے مجبور ہو کر اور زیادہ کا مطالبہ کرتا اور آپ پھر بھی اُس کی خواہش پورا کر دیتے۔ بعض دفعہ لوگ کئی بار مانگتے چلے جاتے اور آپ اُن کو ہر دفعہ کچھ نہ کچھ دیتے چلے جاتے۔ جو شخص خاص طور پر مخلص نظر آتا اُسے اُس کے مانگنے کے مطابق دے دینے کے بعد صرف اتنا فرما دیتے کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر تم خدا پر توکل کرتے۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک مخلص صحابیؓ نے متواتر اصرار کر کے آپ سے کئی دفعہ اپنی ضرورتوں کے لئے روپیہ مانگا۔ آپ نے اُس کی خواہش کو پورا تو کر دیا، مگر آخر میں فرمایا سب سے اچھا مقام تو یہی ہے کہ انسان خدا پر توکل کرے۔ اس صحابی کے اندر اخلاص تھا اور ادب بھی تھا جو کچھ وہ لے چکا ادب سے اُس نے واپس نہ کیا لیکن آئندہ کے متعلق اُس نے عرض کیا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! یہ میری آخری بات ہے اب میں آئندہ کسی سے کسی صورت میں بھی سوال نہیں کروں گا۔

ایک دفعہ جنگ ہو رہی تھی غضب کا معرکہ پڑ رہا تھا، نیزے پھینکے جا رہے تھے، تلواریں کھٹاکھٹ گر رہی تھیں کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔ سپاہی پر سپاہی ٹوٹا پڑ رہا تھا کہ اُس صحابی کے ہاتھ سے عین اُس وقت جبکہ وہ دشمن کے نرغہ میں گھرے ہوئے تھے کوڑا گر گیا۔ ایک ہمراہی پیدل سپاہی نے اِس خیال سے کہ اگر افسر نیچے اُترا تو ایسا نہ ہو کہ کوئی نقصان پہنچ جائے جھک کر کوڑا اُٹھانا چاہا تاکہ اُن کے ہاتھ میں دے دے۔ اِس صحابی کی نظر اُس سپاہی پر پڑ گئی اور انہوں نے کہا اے میرے بھائی! تجھے خدا ہی کی قسم تو کوڑے کو ہاتھ نہ لگا یہ کہتے ہوئے وہ گھوڑے سے کود پڑے اور کوڑا اُٹھا لیا پھر اپنے ساتھی سے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اقرار کیا تھا کہ میں کسی سے کوئی سوال نہیں کروں گا اگر میں کوڑا تمہیں اُٹھانے دیتا تو گو میں نے اس کے متعلق تم سے سوال نہیں کیا تھا لیکن اس میں کیا شبہ تھا کہ زبانِ حال سے یہ سوال ہی بن جاتا اور ایسا کرنا مجھے وعدہ خلاف بنا دیتا گو یہ جنگ کا میدان ہے مگر میں اپنا کام خود ہی کروں گا۔۵۱؎

انصاف

انصاف اور عدل آپ کے اندر اتنا پایا جاتا تھا کہ جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں پائی جاتی۔ عربوں میں لحاظ داری اور سفارشوں کا قبول کرنا ایک عام مرض تھا۔ عرب کا کیا ذکر ہے اِس زمانہ کے متمدن ممالک میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ بڑے آدمیوں کو سزا دیتے وقت جھجکتے ہیں اور غریبوں کو سزا دیتے وقت نہیں گھبراتے۔ ایک دفعہ ایک مقدمہ آپ کے پاس آیا، ایک بہت بڑے خاندان کی کسی عورت نے کسی دوسرے کا مال ہتھیا لیا تھا۔ جب حقیقت کھل گئی تو عربوں میں بڑا ہیجان پیدا ہو گیا کیونکہ ایک بہت بڑے معزز خاندان کی ہتک ہوتی اُنہیں نظر آئی۔ انہوں نے چاہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ درخواست پیش کریں کہ اس عورت کو معاف کر دیا جائے۔ اور تو کسی شخص نے جرأت نہ کی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز اسامہؓ بن زید کو لوگوں نے چنا اور انہیں مجبور کیا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کی سفارش کریں۔ اسامہؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات شروع ہی کی تھی کہ آپ کے چہرہ پر غصہ کے آثار ظاہر ہوئے اور آپ نے فرمایا! اسامہ! یہ کیا کہہ رہے ہو، پہلی قومیں اسی طرح تباہ ہوئیں کہ وہ بڑوں کا لحاظ کرتی تھیں اور چھوٹوں پر ظلم کرتی تھیں۔ اِسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا اور میں ایسا ہرگز نہیں کر سکتا۔ خدا کی قسم! اگر میری بیٹی فاطمہ بھی اِس قسم کا جرم کرتی تو میں اُسے سزا دیئے بغیر نہ رہتا۔۵۲؎

یہ واقعہ پہلے سوانح میں آ چکا ہے کہ بدر کی جنگ میں جب حضرت عباسؓ قید ہوئے تو اُن کے کراہنے سے آپ کو تکلیف محسوس ہوئی لیکن جب صحابہؓ نے آپ کی تکلیف دیکھ کر حضرت عباسؓ کے ہاتھوں کی رسیاں کھول دیں اور رسول اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوگئی تو آپ نے فرمایا جیسے میرے رشتہ دار ویسے ہی دوسروں کے رشتہ دار۔ یا تو میرے چچا عباسؓ کو بھی پھر رسیوں سے باندھ دو یا سارے قیدیوں کی رسیاں کھول دو۔ صحابہ کو چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف کا احساس تھا اُنہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! ہم پہرہ سختی سے دے لیں گے لیکن سب قیدیوں کی رسیاں ہم کھول دیتے ہیں ، چنانچہ سب قیدیوں کی رسیاں اُنہوں نے کھول دیں۔

آپ انصاف کا خیال جنگ کے موقع پر بھی رکھتے تھے۔ ایک دفعہ آپ نے کچھ صحابہؓ کو باہر خبر رسانی کے لئے بھجوایا۔ دشمن کے کچھ آدمی اُن کو حرم کی حد میں مل گئے صحابہ نے اِس خیال سے کہ اگر ہم نے ان کو زندہ چھوڑ دیا تو یہ جا کر مکہ والوں کو خبر دیں گے اور ہم مارے جائیں گے اُن پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک لڑائی میں مارا گیا ۔ جب یہ خبریں دریافت کرنے والا قافلہ مدینہ واپس آیا ، تو پیچھے پیچھے مکہ والوں کی طرف سے بھی ایک وفد شکایت لے کر آیا کہ اُنہوں نے حرم کے اندر ہمارے دو آدمی مار دیئے ہیں ۔ جو لوگ حرم کے اندر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم کرتے رہتے تھے اُن کو جواب تو یہ ملنا چاہئے تھا کہ تم نے کب حرم کا احترام کیا کہ تم ہم سے حرم کے احترام کی امید رکھتے ہو مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جواب نہ دیا بلکہ فرمایا۔ ہاں بے انصافی ہوئی ہے کیونکہ ممکن ہے کہ اس خیال سے کہ حرم میں وہ محفوظ ہیں اُنہوں نے اپنے بچاؤ کی پوری کوشش نہ کی ہو اس لئے آپ لوگوں کو خون بہا دیا جائے گا۔ چنانچہ آپ نے قتل کا وہ فدیہ جس کا عربوں میں دستور تھا اُن کے ورثاء کو ادا کیا۔

جذبات کا احترام

اپنے تو اپنے غیروں کے جذبات کا احترام بھی آپ بہت زیادہ کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایک یہودی آپ کے پاس آیا اور اُس نے آ کے شکایت کی کہ دیکھئے ! حضرت ابوبکرؓ نے میرا دل دُکھایا ہے اور کہا ہے کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کو خدا نے موسیٰ سے افضل بنایا ہے۔ اِس بات کو سن کر میرے دل کو تکلیف پہنچی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرؓ کو بلا کر اُن سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! اِس شخص نے ابتداء کی تھی اور کہا تھا کہ میں موسیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کو خدا نے ساری دنیا پر فضلیت عطا فرمائی ہے اس پر میں نے کہا کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کو خدا نے موسیٰ سے افضل بنایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دیا کرو۔۴۵۳ اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ آپؐ اپنے آپ کو موسیٰ سے افضل نہ سمجھتے تھے بلکہ مطلب یہ تھا کہ یہ فقرہ کہنے سے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نے موسیٰ پر فضیلت عطا فرمائی ہے یہودیوں کے دلوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔

غرباء کا خیال اور اُن کے جذبات کا احترام

آپؐ ہمیشہ غرباء کے حالات کو درست رکھنے کی کوشش رکھتے اور اُن کو سوسائٹی میں مناسب مقام دینے کی سعی فرماتے۔ ایک دفعہ آپؐ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک امیر آپؐ کے سامنے سے گزرا آپؐ نے ایک ساتھی سے دریافت کیا کہ اس شخص کے بارہ میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اُس نے کہا یہ معزز اور امیر لوگوں میں سے ہے اگر یہ کسی لڑکی سے نکاح کی خواہش کرے تو اس کی درخواست قبول کی جائے گی اور اگر یہ کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش مانی جائے گی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات سن کر خاموش رہے۔ اس کے بعد ایک اور شخص گزرا جو غریب اور نادار معلوم ہوتا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ساتھی سے پوچھا اس کے بارہ میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اُس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! یہ غریب آدمی ہے اور اس لائق ہے کہ اگر یہ کسی کی لڑکی سے نکاح کی درخواست کرے تو اس کی درخواست قبول نہ کی جائے اور اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش نہ مانی جائے اور اگر یہ باتیں سنانا چاہے تو اس کی باتوں کی طرف توجہ نہ کی جائے۔ یہ سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس غریب آدمی کی قیمت اس سے بھی زیادہ ہے کہ ساری دنیا سونے سے بھر دی جائے۔۴۵۴

ایک غریب عورت مسجد کی صفائی کیا کرتی تھی، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دن اُس کو نہ دیکھا تو آپؐ نے پوچھا وہ عورت نظر نہیں آتی۔ لوگوں نے بتایا کہ وہ فوت ہوگئی ہے۔ آپؐ نے فرمایا جب وہ فوت ہوگئی تھی تو تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی کہ میں بھی اُس کے جنازہ میں شامل ہوتا پھر فرمایا شاید تم نے اس کو غریب سمجھ کر حقیر جانا۔ ایسا کرنا درست نہیں تھا مجھے بتاؤ اس کی قبر کہاں ہے پھر آپؐ اس کی قبر پر گئے اور اس کے لئے دعا کی۔۴۵۵

آپؐ فرمایا کرتے تھے بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کے سر کے بال پراگندہ ہوتے ہیں اور اُن کے جسموں پر مٹی پڑی ہوتی ہے اگر وہ لوگوں سے ملنے جائیں تو لوگ اپنے دروازے بند کر لیتے ہیں لیکن ایسے لوگ اگر اللہ تعالیٰ کی قسم کھا بیٹھیں تو خدا تعالیٰ کو اُن کا اتنا احترام ہوتا ہے کہ وہ ان کی قسم پوری کر کے چھوڑتا ہے۔۴۵۶

ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ غریب صحابہؓ جو کسی وقت غلام ہوتے تھے بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوسفیان اُن کے سامنے سے گزرے تو اُنہوں نے اس کے سامنے اسلام کی جیت کا کچھ ذکر کیا۔ حضرت ابوبکرؓ سن رہے تھے اُنہیں یہ بات بُری معلوم ہوئی کہ قریش کے سردار کی ہتک کی گئی ہے اور اُنہوں نے اُن لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کیا تم قریش کے سردار اور اُن کے افسر کی ہتک کرتے ہو!! پھر حضرت ابوبکرؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر یہی بات شکایتاً بیان کی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکرؓ! شاید تم نے اللہ تعالیٰ کے ان خاص بندوں کو ناراض کر دیا ہے اگر ایسا ہوا تو یاد رکھو کہ تمہارا رب بھی تم سے ناراض ہو جائے گا۔ حضرت ابوبکرؓ اُسی وقت اُٹھے اور اُٹھ کر اُن لوگوں کے پاس واپس آئے اور کہا اے میرے بھائیو! کیا میری بات سے تم ناراض ہو گئے ہو؟ اِس پر اُن غلاموں نے جواب دیا اے ہمارے بھائی! ہم ناراض نہیں ہوئے خدا آپ کا قصور معاف کرے۔۴۵۷

مگر جہاں آپ غرباء کی عزت اور ان کے احترام کو قائم کرتے اور اُن کی ضرورتیں پوری فرماتے تھے وہاں آپ اُن کو عزتِ نفس کا بھی سبق دیتے تھے اور سوال کرنے سے منع فرماتے تھے۔ چنانچہ آپ ہمیشہ فرماتے تھے کہ مسکین وہ نہیں جس کو ایک کھجور یا دو کھجوریں یا ایک لقمہ یا دو لقمے تسلی دے دیں۔ مسکین وہ ہے کہ خواہ کتنی ہی تکلیفوں سے گزرے سوال نہ کرے۔۴۵۸ آپ اپنی جماعت کو یہ بھی نصیحت کرتے رہتے تھے کہ ہر وہ دعوت جس میں غرباء کو نہ بلائیں جائیں وہ بدترین دعوت ہے۔۴۵۹

حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ ایک دفعہ ایک غریب عورت میرے پاس آئی اور اس کے ساتھ اُس کی دو بیٹیاں بھی تھیں اُس وقت ہمارے گھر میں سوائے ایک کھجور کے کچھ نہ تھا میں نے وہی کھجور اُس کو دے دی۔ اُس نے وہ کھجور آدھی آدھی کر کے دونوں لڑکیوں کو کھلا دی اور پھر اُٹھ کر

چلی گئی۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو میں نے آپ کو یہ واقعہ سنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس غریب کے گھر میں بیٹیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرے ۔ خدا تعالیٰ اُسے قیامت کے دن عذابِ دوزخ سے بچائے گا۔ پھر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ اُس عورت کو اِس فعل کی وجہ سے جنت کا مستحق بنائے گا۔۴۶۰؎

اسی طرح ایک دفعہ آپ کو معلوم ہوا کہ آپ کے ایک صحابی سعدؓ جو مالدار تھے وہ بعض دوسرے لوگوں پر اپنی فضیلت ظاہر کر رہے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی تو فرمایا کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہاری یہ قوت اور طاقت اور تمہارا یہ مال تمہیں اپنے زورِ بازو سے ملے ہیں؟ ایسا ہرگز نہیں تمہاری قومی طاقت اور تمہارے مال سب غرباء ہی کے ذریعہ سے آتے ہیں۔۴۶۱؎

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے اَللّٰھُمَّ اَحْیِنِیْ مِسْکِیْنًا وَّاَمِتْنِیْ مِسْکِیْنًا وَاحْشُرْنِیْ فِیْ زُمْرَۃِ الْمَسَاکِیْنِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۴۶۲؎ یعنی اے اللہ! مجھے مسکین ہونے کی حالت میں زندہ رکھ، مسکین ہونے کی حالت میں وفات دے اور مساکین کے زُمرہ میں ہی قیامت کے دن مجھے اُٹھا۔

ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تشریف لے جارہے تھے تو آپ کے ایک غریب صحابی جو اتفاقی طور پر نہایت بدصورت بھی تھے گرمی کے موسم میں بوجھ اُٹھا اُٹھا کر ایک طرف سے دوسری طرف منتقل کر رہے تھے۔ ایک طرف اُن کا چہرہ بدصورت تھا تو دوسری طرف گرد و غبار اور پسینہ کی وجہ سے وہ اور بھی بدنما نظر آرہا تھا۔ عین اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں سے گزرے اور آپ نے اُن کے چہرہ پر افسردگی کی علامتیں دیکھیں۔ آپ خاموشی سے اُن کے پیچھے چلے گئے اور جیسے بچے آپس میں کھیلتے وقت چوری چھپے پیچھے سے جا کر کسی دوست کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیتے اور پھر یہ امید کرتے ہیں کہ وہ اندازہ لگا کر بتائے کہ کس شخص نے اُس کی آنکھیں بند کی ہیں اسی طرح آپ نے اُن کی آنکھوں پر جا کر ہاتھ رکھ دیا۔ اس نے اپنے ہاتھ سے آپ کے بازو اور جسم کو ٹولنا شروع کیا اور سمجھ لیا کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یوں بھی وہ سمجھتا تھا کہ اتنے غریب، اتنے بدصورت اور اتنے بدحال آدمی کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اپنی محبت کا اظہار اور کون کر سکتا ہے۔ یہ معلوم کر کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس کے ساتھ اظہارِ محبت کر رہے ہیں اس نے اپنا مٹی آلود اور پسینہ سے بھرا ہوا جسم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس کے ساتھ ملنا شروع کیا۔ شاید وہ یہ دیکھتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ کا حوصلہ کتنا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہے اور اُس کو اِس حرکت سے منع نہ کیا جب وہ پیٹ بھر کر آپ کے کپڑوں کو خراب کر چکا تو آپ نے مذاقاً فرمایا میرے پاس ایک غلام ہے کوئی اس کا خریدار ہے؟ آپ کے اِس فقرہ نے اُس کو عرش سے فرش پر لا کر پھینک دیا اور اِس بات کی طرف اس کی توجہ پھرا دی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کون مجھ کو قدر کی نگاہوں سے دیکھ سکتا ہے اور میں کس قابل ہوں کہ غلام کر کے ہی کوئی مجھے خریدے۔ اس نے افسردگی سے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! میرا خریدار دنیا میں کوئی نہیں۔ آپ نے فرمایا نہیں! نہیں! ایسا مت کہو تمہاری قیمت خدا کی نظر میں بہت زیادہ ہے۔۴۶۳؎

آپ نہ صرف غرباء کا خیال رکھتے تھے بلکہ اپنی جماعت کو بھی غرباء کا خیال رکھنے کی ہمیشہ نصیحت فرماتے رہتے تھے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ اشعریؓ کی روایت ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی حاجتمند آتا تو آپ اپنی مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے فرماتے کہ آپ بھی اس کی سفارش کریں تاکہ نیک کام کی سفارش کے ثواب میں شامل ہو جائیں۔۴۶۴؎ اس طرح آپ ایک طرف تو اپنی جماعت کے لوگوں کے دلوں میں غرباء کی امداد کا احساس پیدا کرتے تھے اور دوسری طرف خود سوالی کے دل میں دوسرے مسلمانوں کی نسبت محبت کا احساس پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔

غرباء کے مالوں کی حفاظت

اسلام کی فتح کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت سے اموال آتے جنہیں آپ مستحقین میں تقسیم کر دیتے۔ ایک دفعہ بہت سا مال آیا تو آپ کی بیٹی فاطمہؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! یہ دیکھئے میرے ہاتھ چکی پیس پیس کر زخمی ہو گئے ہیں اگر آپ مجھے ان اموال میں سے کوئی لونڈی یا غلام دے دیں تو وہ میرا ہاتھ بٹا دیا کریں۔ آپ نے فرمایا فاطمہ! میری بیٹی! میں تم کو لونڈی یا غلام رکھنے سے زیادہ قیمتی چیز بتاتا ہوں جب تم سونے لگو تو تم تینتیس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ تینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰهِ اور چونتیس دفعہ اَللّٰهُ اَکْبَرُ کہہ لیا کرو۔ یہ تمہارے لئے لونڈی اور غلام سے زیادہ بہتر ہوگا۔۴۶۵؎

ایک دفعہ کچھ اموال آئے اور آپ نے اُن کو تقسیم کر دیا۔ تقسیم کرتے وقت ایک دینار آپ کے ہاتھ سے گر گیا اور کسی چیز کی اوٹ میں آگیا۔ مال تقسیم کرتے کرتے آپ کے ذہن سے وہ بات اُتر گئی سب مال تقسیم کرنے کے بعد آپ مسجد میں آئے اور نماز پڑھائی۔ نماز پڑھانے کے بعد بجائے اس کے کہ ذکرِ الٰہی میں مشغول ہو جاتے جیسا کہ آپ کی عادت تھی یا لوگوں کو اپنی ضروریات کے پیش کرنے یا مسائل پوچھنے کا موقع دیتے آپ تیزی کے ساتھ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ ایسی تیزی کے ساتھ کہ بعض صحابہ کہتے ہیں کہ ہماری گردنوں پر کودتے ہوئے آپ اندر کی طرف چلے گئے اور دینار تلاش کیا پھر واپس تشریف لائے اور باہر آ کر وہ دینار کسی مستحق کو دیتے ہوئے فرمایا یہ دینار گر گیا تھا اور مجھے بھول گیا تھا مجھے نماز پڑھاتے ہوئے یاد آیا اور میرا دل اِس خیال سے بے چین ہو گیا کہ اگر میری موت آگئی اور لوگوں کا یہ مال میرے گھر میں ہی پڑا رہا تو میں خدا کو کیا جواب دوں گا اس لئے میں فوراً اندر گیا اور جا کر یہ مال نکال لایا۔۴۶۶؎

اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ نے صدقہ کو اپنی اولاد کے لئے حرام کر دیا تا ایسا نہ ہو کہ آپ کے اعزاز اور احترام کی وجہ سے صدقہ کے اموال لوگ آپ کی اولاد میں ہی تقسیم کر دیا کریں اور دوسرے غریب محروم رہ جائیں۔ ایک دفعہ آپ کے سامنے صدقہ کی کچھ کھجوریں لائی گئیں۔ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو آپ کے نواسے تھے اور جن کی عمر اُس وقت دو اڑھائی سال کی تھی اُس وقت آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اُنہوں نے ایک کھجور اپنے منہ میں ڈال لی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً انگلی ڈال کر اُن کے منہ سے کھجور نکالی اور فرمایا یہ ہمارا حق نہیں۔ یہ خدا کے غریب بندوں کا حق ہے۔۴۶۷؎

غلاموں سے حُسنِ سلوک

غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کا آپ ہمیشہ وعظ فرماتے رہتے۔ آپ کا یہ ارشاد تھا کہ اگر کسی شخص کے پاس غلام ہو اور وہ اس کو آزاد کرنے کی توفیق نہ رکھتا ہو تو اگر وہ کسی وقت غصہ میں اُس کو مار بیٹھے یا گالی دے تو اُس کا کفارہ یہی ہے کہ اُس کو آزاد کر دے۔۴۶۸؎

اِسی طرح آپ غلاموں کو آزاد کرنے کے متعلق اتنا زور دیتے تھے کہ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے جو شخص کسی غلام کو آزاد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُس غلام کے ہر عضو کے بدلہ میں اس کے ہر عضو پر دوزخ کی آگ حرام کر دے گا۔۴۶۹؎پھر آپ فرمایا کرتے تھے غلام سے اتنا ہی کام لو جتنا وہ کر سکتا ہے اور جب اس سے کوئی کام لو تو اس کے ساتھ مل کر کام کیا کرو تا کہ ذلت محسوس نہ کرے۔۴۷۰؎اور جب سفر کرو تو یا اس کو سواری پر اپنے ساتھ بٹھاؤ یا اس کے ساتھ باری مقرر کر کے سواری پر چڑھو۔ اس بارہ میں آپ اتنی تاکید فرماتے تھے کہ حضرت ابو ہریرہؓ جو اسلام لانے کے بعد ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے تھے اور آپ کی اس تعلیم کو اکثر سنتے رہتے تھے وہ کہا کرتے تھے کہ اُس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہؓ کی جان ہے اگر اللہ تعالیٰ کے رستہ میں جہاد کا موقع مجھے نہ مل رہا ہوتا اور حج کی توفیق نہ مل رہی ہوتی اور میری بڑھیا ماں زندہ نہ ہوتی جس کی خدمت مجھ پر فرض ہے تو میں خواہش کرتا کہ میں غلامی کی حالت میں مروں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غلام کے حق میں نہایت ہی نیک باتیں فرمایا کرتے تھے۔۴۷۱؎

معرور بن سویدؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابو ذر غفاریؓ کو دیکھا کہ جیسے اُن کے کپڑے تھے ویسے ہی اُن کے غلام کے تھے۔ اس کی وجہ پوچھی کہ آپ کے کپڑے اور آپ کے غلام کے کپڑے ایک جیسے کیوں ہیں؟ تو اُنہوں نے بتایا کہ میں نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کو اُس کی ماں کا طعنہ دیا جو لونڈی تھی اِس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو تو ایسا شخص ہے جس میں ابھی تک کفر کی باتیں پائی جاتی ہیں۔ غلام کیا ہیں؟ تمہارے بھائی ہیں اور تمہاری طاقت کا ذریعہ ہیں خدا تعالیٰ کی کسی حکمت کے ماتحت وہ کچھ عرصہ کے لئے تمہارے قبضہ میں آجاتے ہیں پس چاہئے کہ جس کا بھائی اُس کی خدمت تلے آجائے وہ جو کچھ خود کھاتا ہے اُسے کھلائے اور جو کچھ خود پہنتا ہے اُسے پہنائے اور تم میں سے کوئی شخص کسی غلام سے ایسا کام نہ لے جس کی اُسے طاقت نہ ہو اور جب تم انہیں کوئی کام بتاؤ تو خود بھی ان کے ساتھ مل کر کام کیا کرو۔۴۷۲؎

اِسی طرح آپ فرمایا کرتے تھے جب تمہارا نوکر تمہارے لئے کھانا لائے تو اُس کو اپنے ساتھ بٹھا کر کم سے کم تھوڑا سا کھانا ضرور کھلاؤ کیونکہ اُس نے کھانا پکا کر اپنا حق قائم کر لیا ہے۔۴۷۳؎

بنی نوع اِنسان کی خدمت کرنے والوں کا احترام

آپ اُن لوگوں کا خاص خیال رکھتے تھے جو بنی نوع انسان کی خدمت میں اپنا وقت خرچ کرتے تھے۔ جب طےّ قبیلہ کے لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کی اور ان میں سے کچھ لوگ گرفتار ہو کر آئے تو اُن میں حاتم کی جو عرب کا مشہور سخی گزرا ہے بیٹی بھی تھی، جب اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ ذکر کیا کہ وہ حاتم کی بیٹی ہے تو آپ نے نہایت ہی ادب اور احترام کا معاملہ اُس سے کیا اور اُس کی سفارش پر اُس کی قوم کی سزائیں معاف کر دیں۔۴۷۴؎

عورتوں سے حسنِ سلوک

عورتوں سے حسنِ سلوک کا آپ خاص خیال رکھتے تھے آپ نے سب سے پہلے دنیا میں عورت کے ورثہ کا حق قائم کیا۔ چنانچہ قرآن کریم میں لڑکے اور لڑکیاں باپ اور ماں کے ورثہ کی حقدار قرار دی گئی ہیں۔ اِسی طرح مائیں اور بیویاں بیٹیوں اور خاوندوں کے ورثہ میں اور بعض صورتوں میں بہنیں بھی بھائیوں کے ورثہ کی حقدار قرار دی گئی ہیں۔ اِسلام سے پہلے دنیا کے کسی مذہب نے بھی اس طرح حقوق قائم نہیں کئے۔ اِسی طرح آپ نے عورت کو اس کے مال کا مستقل مالک قرار دیا ہے خاوند کو حق نہیں کہ خاوند ہونے کی وجہ سے عورت کے مال میں دست اندازی کر سکے۔ عورت اپنے مال کے خرچ کرنے میں پوری مختار ہے۔ عورتوں سے حسن سلوک میں آپ ایسے بڑھے ہوئے تھے کہ عرب لوگ جو اس بات کے عادی نہ تھے ان کو یہ بات دیکھ کر ٹھوکر لگتی تھی۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری بیوی بعض دفعہ میری باتوں میں دخل دیتی تو میں اُس کو ڈانٹا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ عرب کے لوگوں نے کبھی عورتوں کا یہ حق تسلیم نہیں کیا کہ وہ مردوں کو اُن کے کاموں میں مشورہ دیں۔ اِس پر میری بیوی کہا کرتی کہ جاؤ جاؤ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اُن کو مشورہ دیتی ہیں اور آپ اُن کو کبھی نہیں روکتے تو تم ایسا کیوں کہتے ہو؟ اس پر میں اُسے کہا کرتا تھا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت لاڈلی ہے اُس کا ذکر نہ کرو، باقی رہی تمہاری بیٹی سو اگر وہ ایسا کرتی ہے تو اپنی گستاخی کی سزا کسی دن پائے گی۔

ایک دفعہ جب کسی بات سے ناراض ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کر لیا کہ کچھ دن آپ گھر سے باہر رہیں گے اور بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے اور مجھے اس کی خبر ملی، تو میں نے کہا دیکھو جو میں کہتا تھا وہی ہو گیا۔ میں اپنی بیٹی حفصہؓ کے گھر میں گیا تو وہ رو رہی تھیں۔ میں نے کہا حفصہ! کیا ہوا؟ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ اُنہوں نے کہا یہ تو مجھے معلوم نہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بات کی وجہ سے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ کچھ عرصہ کے لئے گھر میں نہیں آئیں گے۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا حفصہ! میں تجھے پہلے نہیں سمجھایا کرتا تھا کہ تو عائشہؓ کی نقلیں کرتی ہے حالانکہ عائشہؓ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص طور پر پیاری ہے۔ دیکھ آخر تو نے وہی مصیبت سہیڑ لی جس کا مجھے خوف تھا۔ یہ کہہ کر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھردری چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ آپ کے جسم پر کرتہ نہ تھا اور آپ کے سینہ اور کمر پر چٹائی کے نشان بنے ہوئے تھے میں آپ کے پاس بیٹھ گیا اور کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! یہ قیصر و کسریٰ کہاں مستحق ہیں اس بات کے کہ ان کو خدا تعالیٰ کی نعمتیں ملیں مگر وہ تو کس آرام سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور خدا کے رسول کو یہ تکلیف ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ عمر! یہ درست نہیں اس قسم کی زندگیاں خدا کے رسولوں کی نہیں ہوتیں یہ دنیا دار بادشاہوں کا شغل ہے۔ پھر میں نے آپ کو سارا واقعہ سنایا جو میری بیوی اور بیٹی کے ساتھ گزرا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری باتیں سن کر ہنس پڑے اور فرمایا عمر! یہ بات درست نہیں کہ میں نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے تو صرف ایک مصلحت کی خاطر کچھ دنوں کے لئے اپنے گھر سے باہر رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔۴۷۵

عورتوں کے جذبات کا آپ کو اتنا خیال تھا کہ ایک دفعہ نماز میں آپ کو ایک بچہ کے رونے کی آواز آئی تو آپ نے نماز جلدی جلدی پڑھا کر ختم کر دی پھر فرمایا ایک بچہ کے رونے کی آواز آئی تھی میں نے کہا اِس کی ماں کو کتنی تکلیف ہو رہی ہوگی چنانچہ میں نے نماز جلدی ختم کر دی تاکہ ماں اپنے بچہ کی خبر گیری کر سکے۔۴۷۶

جب آپ ایسے سفر پر جاتے جس میں عورتیں بھی ساتھ ہوتیں تو ہمیشہ آہستگی سے چلنے کا حکم دیتے۔ ایک دفعہ ایسے ہی موقع پر جبکہ سپاہیوں نے اپنے گھوڑوں کی باگیں اور اُونٹوں کی نکیلیں اُٹھالیں آپ نے فرمایا۔ رِفْقًا بِالْقَوَارِيْرِ ارے کیا کرتے ہو؟ عورتیں بھی ساتھ ہیں اگر تم اس طرح اُونٹ دوڑاؤ گے تو شیشے چکنا چور ہو جائیں گے۔ ۷۷؎

ایک دفعہ جنگ کے میدان میں کسی گڑبڑ کی وجہ سے سواریاں بدک گئیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھوڑے سے گر گئے اور بعض مستورات بھی گر گئیں۔ ایک صحابی جن کا اُونٹ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گرتے ہوئے دیکھ کر بے تاب ہو گئے اور کود کر یہ کہتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑے ” يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! میں مرجاؤں آپ بچے رہیں‘۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں رکاب میں اُلجھے ہوئے تھے آپ نے جلدی جلدی اپنے آپ کو آزاد کیا اور اُس صحابی کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ”مجھے چھوڑو اور عورتوں کی طرف جاؤ“۔ ۷۸؎

جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے اُس وقت سب مسلمانوں کو جمع کر کے جو وصیتیں کیں اُن میں ایک بات یہ بھی تھی کہ میں تم کو اپنی آخری وصیت یہ کرتا ہوں کہ عورتوں سے ہمیشہ حسن سلوک کرتے رہنا۔ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے جس کے گھر میں لڑکیاں ہوں اور وہ اُن کو تعلیم دلائے اور اُن کی اچھی تربیت کرے خدا تعالیٰ قیامت کے دن اُس پر دوزخ کو حرام کر دے گا۔ ۷۹؎

عربوں میں رواج تھا کہ اگر عورتوں سے کوئی غلطی ہو جاتی تو اُنہیں مار پیٹ لیا کرتے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا۔ عورتیں خدا کی لونڈیاں ہیں تمہاری لونڈیاں نہیں ان کو مت مارا کرو۔ مگر عورتوں کی چونکہ ابھی تک پوری تربیت نہیں ہوئی تھی اُنہوں نے دلیری میں آکر مردوں کا مقابلہ شروع کر دیا اور گھروں میں فساد ہونے لگے۔ آخر حضرت عمرؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ آپ نے ہمیں عورتوں کو مارنے سے روک دیا اور وہ بڑی بڑی دلیریاں کرتی ہیں۔ ایسی صورت میں تو ہمیں اجازت ملنی چاہئے کہ ہم اُنہیں مار پیٹ لیا کریں۔ چونکہ ابھی تک عورتوں کے متعلق تفصیل سے احکام نازل نہیں ہوئے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اگر کوئی عورت حد سے بڑھتی ہے تو تم اپنے رواج کے مطابق اُسے مار لیا کرو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بجائے اس کے کہ کسی اشد استثنائی صورت میں مرد اپنی عورتوں کو سزا دیتے ، اُنہوں نے وہی پرانا عربی طریق جاری کر لیا۔ عورتوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس آ کر شکایت کی تو آپؐ نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا ، جو لوگ اپنی عورتوں سے اچھا سلوک نہیں کرتے یا اُنہیں مارتے ہیں میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ وہ خدا کی نظر میں اچھے نہیں سمجھے جاتے ۔۴۸۰؎اس کے بعد عورتوں کے حق قائم ہوئے اور عورت نے محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہربانی سے پہلی دفعہ آزادی کا سانس لیا۔

معاویہ بن ہندہ القشیری فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! بیوی کا حق ہم پر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا جو خدا تمہیں کھانے کے لئے دے وہ اُسے کھلاؤ اور جو خدا تمہیں پہننے کے لئے دے وہ اُسے پہناؤ اور اُس کو تھپڑ نہ مارو اور گالیاں نہ دو اور اُسے گھر سے نہ نکالو۔۴۸۱؎

آپ کو عورتوں کے جذبات کا اس قدر احساس تھا کہ آپ ہمیشہ نصیحت فرماتے تھے کہ جو لوگ باہر سفر کے لئے جاتے ہیں اُنہیں جلدی گھر واپس آنا چاہئے تا کہ ان کے بال بچوں کو تکلیف نہ ہو۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ جب کوئی شخص اپنی اُن ضرورتوں کو پورا کر لے جن کے لئے اسے سفر کرنا پڑا تھا تو اُسے چاہئے اپنے رشتہ داروں کا خیال کر کے جلدی واپس آئے ۔۴۸۲؎

آپؐ کا اپنا طریق یہ تھا کہ جب سفر سے واپس آتے تھے تو دن کے وقت شہر میں داخل ہوتے تھے۔ اگر رات آ جاتی تھی تو شہر کے باہر ہی ڈیرہ ڈال دیتے تھے اور صبح کے وقت شہر میں داخل ہوتے تھے اور ہمیشہ اپنے اصحابؓ کو منع فرماتے تھے کہ اس طرح اچانک گھر میں آ کر اپنے اہل و عیال کو تنگ نہیں کرنا چاہئے۔۴۸۳؎

اس میں آپ کے مدِّنظر یہ حکمت تھی کہ عورت اور مرد کے تعلقات جذباتی ہوتے ہیں مرد کی غیر حاضری میں اگر عورت نے اپنے لباس اور جسم کی صفائی کا پورا خیال نہ رکھا ہو اور خاوند اچانک گھر میں آ داخل ہو تو ڈر ہوتا ہے کہ وہ محبت کے جذبات جو مرد عورت کے درمیان ہوتے ہیں اُن کو ٹھیس نہ لگ جائے ۔ پس آپ نے ہدایت فرمادی کہ انسان جب بھی سفر سے واپس آئے دن کے وقت گھر میں داخل ہو اور بیوی بچوں کو پہلے خبر دے کر داخل ہو تاکہ وہ اس کے استقبال کے لئے پوری طرح تیاری کر لیں۔

وفات یافتوں کے متعلق آپؐ کا عمل

آپؐ ہمیشہ یہ بھی نصیحت فرماتے رہتے تھے کہ مرنے والے کو وصیت کر دینی چاہئے تاکہ اس کے رشتہ داروں کو بعد میں تکلیف نہ پہنچے۔

مرنے والوں کے متعلق آپؐ کی یہ بھی ہدایت تھی کہ جب کوئی شخص شہر میں مر جائے تو لوگوں کو اس کی بُرائیاں کبھی بیان نہیں کرنی چاہئیں بلکہ اُس کی خیر کی باتیں کرنی چاہئیں کیونکہ اس کی بُرائی بیان کرنے میں کوئی فائدہ نہیں لیکن اس کی نیکی بیان کرنے میں یہ فائدہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اس کے لئے دعا کی تحریک پیدا ہو گی۔۴۸۴؎

آپؐ اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ جو لوگ مر جائیں اُن کے قرض جلد سے جلد ادا کئے جاویں۔ چنانچہ جب کوئی شخص مر جاتا اور اُس پر قرض ہوتا تو آپؐ یا تو خود اُس کا قرض ادا کر دیتے۴۸۵؎ اور اگر آپؐ میں اس کی توفیق نہ ہوتی تو اس کے رشتہ داروں میں تحریک کرتے اور اس کا جنازہ اُس وقت تک نہیں پڑھتے تھے جب تک اُس کا قرض ادا نہ کر دیا جاتا۔

ہمسایوں سے حسنِ سلوک

ہمسایوں کے ساتھ آپؐ کا سلوک نہایت ہی اچھا ہوتا تھا آپؐ فرمایا کرتے تھے جبریل مجھے بار بار ہمسایوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے یہاں تک کہ مجھے خیال آتا ہے کہ ہمسائے کو شاید وارث ہی قرار دیا جائے گا۔۴۸۶؎

حضرت ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اے ابو ذر! جب کبھی شوربا پکاؤ تو پانی زیادہ ڈال لیا کرو اور اپنے ہمسایوں کا بھی خیال رکھا کرو۔۴۸۷؎ یہ مطلب نہیں کہ دوسری چیزیں دینے کی ضرورت نہیں، بلکہ عرب بدوی تھے اور اُن کا بہترین کھانا شوربا ہوتا تھا آپؐ نے ہمسایہ کی امداد کے خیال سے اسی کھانے کی نسبت فرمایا کہ اپنے مزے کا خیال نہ کرو اس کا خیال کرو کہ تمہارا ہمسایہ تمہارے کھانے میں شریک ہو سکے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا۔ خدا کی قسم! وہ ہرگز مؤمن نہیں ، خدا کی قسم ! وہ ہرگز مؤمن نہیں ، خدا کی قسم ! وہ ہرگز مؤمن نہیں ، صحابہؓ نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! کون مؤمن نہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ جس کے ہمسایہ اُس کے ضرر اور اُس کی بدسلوکی سے محفوظ نہیں ۔۴۸۸

عورتوں کو بھی آپ نصیحت فرمایا کرتے کہ اپنی ہمسایوں کا خیال رکھا کرو۔ ایک دفعہ آپ عورتوں میں وعظ میں فرما رہے تھے کہ آپ نے فرمایا اگر بکری کا ایک پایہ بھی کسی کو ملے تو اس میں وہ اپنے ہمسایہ کا حق رکھے۔۴۸۹

آپ ہمیشہ صحابہؓ کو نصیحت کرتے تھے کہ اگر تمہارا ہمسایہ تمہاری دیوار میں میخ وغیرہ گاڑتا ہے یا تمہاری دیوار سے کوئی ایسا کام لیتا ہے جس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں تو اُسے روکا نہ کرو۔۴۹۰

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ، جو کوئی اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ اپنے ہمسائے کو دکھ نہ دے۔ جو کوئی اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ اپنے مہمان کو دکھ نہ دے اور جو کوئی اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ یا تو نیک بات کہے یا خاموش رہے۔۴۹۱

ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں سے حسنِ سلوک

دنیا میں اکثر لوگ جب بالغ ہو جاتے ہیں اور بیوی بچوں کے فکر اُنہیں لگ جاتے ہیں تو ماں باپ سے حسنِ سلوک میں کمزوری دکھانے لگ جاتے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس نقص کو دور کرنے کیلئے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کی اہمیت کو بار بار واضح فرماتے رہتے تھے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اُس نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! میرے حسنِ سلوک کا کون زیادہ مستحق ہے؟ آپ نے فرمایا۔ تیری ماں ۔ اس نے کہا پھر ؟ آپ نے فرمایا۔ پھر بھی تیری ماں ۔ اُس نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! اِس کے بعد؟ آپ نے فرمایا۔ اس کے بعد بھی تیری ماں ۔ اُس نے چوتھی دفعہ کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! اس کے بعد؟ تو آپ نے فرمایا۔ پھر تیرا باپ ۔ پھر جو اس کے بعد رشتہ دار ہوں پھر جو ان کے بعد رشتہ دار ہوں ؟۴۹۲

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بزرگ تو آپ کے بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے ، بیویوں کے بزرگ موجود تھے اور آپ ہمیشہ اُن کا ادب کرتے تھے۔ جب فتح مکہ کے موقع پر آپ ایک فاتح جرنیل کے طور پر مکہ میں داخل ہوئے تو حضرت ابو بکرؓ اپنے باپ کو آپ کی ملاقات کے لئے لائے۔ اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا۔ آپ نے ان کو کیوں تکلیف دی میں خود اِن کے پاس حاضر ہوتا۔۴۹۳

آپ ہمیشہ اپنے صحابہؓ سے فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص اپنے بوڑھے ماں باپ کا زمانہ پائے اور پھر بھی جنت کا مستحق نہ ہو سکے ، تو وہ بڑا ہی بدبخت ہے۔۴۹۴ مطلب یہ کہ بوڑھے ماں باپ کی خدمت انسان کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا اتنا وارث بنا دیتی ہے کہ جس کو اپنے بوڑھے ماں باپ کی خدمت کا موقع مل جائے وہ ضرور نیکی میں مستحکم اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مستحق ہو جاتا ہے۔

ایک شخص نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! میرے رشتہ دار ایسے ہیں کہ میں اُن سے نیک سلوک کرتا ہوں اور وہ مجھ سے بدسلوکی کرتے ہیں۔ میں ان سے احسان کرتا ہوں اور وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں۔ میں اُن کے ساتھ محبت سے پیش آتا ہوں اور وہ مجھ سے ترش روئی سے پیش آتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ بات ہے تو پھر تو تمہاری خوش قسمتی ہے کیونکہ خدا کی مدد تمہیں ہمیشہ حاصل رہے گی۔۴۹۵

ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ و خیرات کی نصیحت فرما رہے تھے تو آپ کے ایک صحابی ابوطلحہؓ انصاری آئے اور اُنہوں نے اپنا ایک باغ صدقہ کے طور پر وقف کر دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اِس پر بہت خوش ہوئے اور فرمایا بہت عمدہ صدقہ ہے بہت اچھا صدقہ ہے۔ بہت اچھا صدقہ ہے۔ پھر فرمایا۔ لو اب تو تم اسے وقف کر چکے۔ اب میرا دل چاہتا ہے کہ تم اس کو اپنے رشتہ داروں میں بانٹ دو۔۴۹۶

ایک دفعہ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور اُس نے کہا۔ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! میں آپ سے ہجرت کی بیعت کرتا ہوں اور آپ سے خدا کے رستہ میں جہاد کرنے کی بیعت کرتا ہوں۔ کیونکہ میں چاہتا ہوں میرا خدا مجھ سے خوش ہو جائے۔ آپ نے فرمایا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اُس نے کہا دونوں زندہ ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ خدا تم سے راضی ہو جائے ۔ اس نے کہا ہاں يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! آپ نے فرمایا پھر بہتر یہ ہے کہ واپس جاؤ اور اپنے والدین کی خدمت کرو اور خوب خدمت کرو۔۴۹۷

آپ ہمیشہ اس بات کی نصیحت کیا کرتے تھے کہ حسن سلوک میں مذہب کی کوئی شرط نہیں۔ غریب رشتہ دار خواہ کسی مذہب کے ہوں اُن سے حسن سلوک کرنا نیکی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ کی ایک بیوی مشرکہ تھیں ۔ حضرت ابوبکرؓ کی بیٹی اسماءؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! کیا میں اُس سے حسن سلوک کر سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا ضرور وہ تیری ماں ہے تو اُس سے حسن سلوک کر۔۴۹۸

رشتہ دار تو الگ رہے آپ اپنے رشتہ داروں کے رشتہ داروں اور اُن کے دوستوں تک کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔ جب کبھی آپ قربانی کرتے تو آپ حضرت خدیجہؓ کی سہیلیوں کی طرف ضرور گوشت بھجواتے اور ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ خدیجہؓ کی سہیلیوں کو نہ بھولنا اُن کی طرف گوشت ضرور بھجوانا۔۴۹۹

ایک دفعہ حضرت خدیجہ کی وفات کے کئی سال بعد آپ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت خدیجہؓ کی بہن ہالہؓ آپ سے ملنے آئیں اور دروازہ پر کھڑے ہو کر کہا ’’کیا میں اندر آ سکتی ہوں‘‘؟ ہالہؓ کی آواز میں اُس وقت اپنی مرحومہ بہن حضرت خدیجہؓ سے بے انتہاء مشابہت پیدا ہو گئی۔ اس آواز کے کان میں پڑتے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر کپکپی آگئی پھر آپ سنبھل گئے اور فرمایا آہ میرے خدا! یہ تو خدیجہ کی بہن ہالہؓ ہیں۵۰۰ درحقیقت سچی محبت کا اصول ہی یہی ہے کہ جس سے پیار ہو اور جس کا ادب ہو اُس کے قریبیوں اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والوں سے بھی محبت اور پیار پیدا ہو جاتا ہے۔

انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ سفر پر تھا جریرؓ بن عبداللہ ایک دوسرے صحابی بھی اس سفر میں ساتھ تھے وہ سفر میں نوکروں کی طرح میرے کام کیا کرتے تھے۔ جریرؓ بڑے تھے اور اُن کا ادب حضرت انسؓ اپنے لئے ضروری سمجھتے تھے اس لئے وہ کہتے ہیں کہ میں اُنہیں منع کرتا تھا کہ ایسا نہ کریں ۔ میرے ایسا کہنے پر جریرؓ جواب میں کہتے تھے میں نے انصار کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے انتہاء خدمت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے اُن کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ محبت دیکھ کر اپنے دل سے عہد کیا تھا کہ جب کبھی مجھے کسی انصاری کے ساتھ سفر کرنے کا موقع ملے گا یا اس کے ساتھ رہنے کا موقع ملے گا تو میں اُس کی خدمت کروں گا اس لئے آپ مجھے نہ روکیں میں اپنی قسم پوری کر رہا ہوں۔۵۰۱؎ اس واقعہ سے بالوضاحت یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اپنے محبوب کی خدمت کرنے والا بھی انسان کا محبوب ہو جاتا ہے پس جن لوگوں کے دلوں میں اپنے ماں باپ کا سچا ادب اور احترام ہوتا ہے وہ اپنے ماں باپ کے علاوہ اُن کے رشتہ داروں اور دوستوں کا بھی ادب کرتے ہیں۔

ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اقارب کی خدمت کا ذکر تھا تو آپ نے فرمایا بہترین نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے باپ کی دوستیوں کا بھی خیال رکھے۔ یہ بات آپ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے کہی تھی اور اس پر اُنہوں نے ایسا عمل کیا کہ ایک دفعہ وہ حج کے لئے جا رہے تھے کہ رستہ میں ایک شخص اُن کو نظر آیا۔ آپ نے اپنی سواری کا گدھا اُس کو دے دیا اور اپنے سر کا خوبصورت عمامہ بھی اُس کو عطا کر دیا۔ اُن کے ساتھیوں نے اُنہیں کہا کہ آپ نے یہ کیا کام کیا ہے؟ یہ تو اعرابی لوگ ہیں بہت تھوڑی سی چیز ان کو دے دی جائے تو خوش ہو جاتے ہیں۔ عبداللہ بن عمرؓ نے کہا۔ اِس شخص کا باپ حضرت عمرؓ کا دوست تھا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے نیکی کا اعلیٰ درجہ کا مظاہرہ یہ ہے کہ انسان اپنے باپ کے دوستوں کا بھی خیال رکھے۔۵۰۲؎

نیک صحبت

آپ ہمیشہ اپنے اردگرد نیک لوگوں کے رہنے کو پسند کرتے تھے اور اگر کسی میں کمزوری ہوتی تھی تو اُسے عمدگی کے ساتھ اور پردہ پوشی کے ساتھ نصیحت فرماتے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے، نیک دوست اور نیک مجلسی اور بد دوست اور بد مجلسی کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک شخص مشک لئے پھر رہا ہو، مشک اُٹھانے والا اُس کو کھائے گا تب بھی فائدہ اُٹھائے گا اور رکھ چھوڑے گا تب بھی خوشبو حاصل کرے گا۔ اور جس کے ہم مجلس بد ہوں اُن کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی بھٹی کی آگ میں پھونکیں مارتا ہے۔ وہ اتنی ہی اُمید رکھ سکتا ہے کہ کوئی چنگاری اُڑ کر اُس کے کپڑوں کو جلا دے یا کوئلوں کی بدبو سے اُس کا دماغ خراب ہو جائے۔۵۰۴

آپ اپنے صحابہؓ کو بار بار فرمایا کرتے تھے کہ انسان کے اخلاق ویسے ہی ہو جاتے ہیں جیسی مجلس میں وہ بیٹھتا ہے اس لئے نیک صحبت اختیار کیا کرو۔

لوگوں کے ایمان کی حفاظت کا خیال

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کا بہت خیال رکھتے تھے کہ کسی شخص کو ٹھوکر نہ لگے۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے کہ آپ کی ایک بیوی صفیہؓ بنت حیّ آپ سے ملنے آئیں۔ باتیں کرتے کرتے دیر ہوگئی تو آپ نے مناسب سمجھا کہ اُن کو گھر تک پہنچا آئیں۔ جب آپ اُن کو گھر چھوڑنے کے لئے جا رہے تھے تو راستہ میں دو شخص ملے، جن کے متعلق آپ کو شبہ تھا کہ شاید اُن کے دل میں کوئی وسوسہ پیدا نہ ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی عورت کے ساتھ رات کے وقت کہاں جا رہے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو ٹھہرالیا اور فرمایا۔ دیکھو! یہ میری بیوی صفیہؓ ہیں۔ اُنہوں نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہ! ہمیں آپ پر بدظنی کا خیال پیدا ہی کس طرح ہو سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا۔ شیطان انسان کے خون میں پھرتا ہے میں ڈرا کہ تمہارے ایمان کو ضعف نہ پہنچ جائے۔۵۰۴

دوسروں کے عیوب چھپانا

آپ کی نظر میں اگر کسی کا عیب آجاتا تو آپ اُسے چھپاتے تھے اور اگر کوئی اپنا عیب ظاہر کرتا تھا تو اُس کو بھی عیب ظاہر کرنے سے منع فرماتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ جو بندہ کسی دوسرے بندے کا گناہ دنیا میں چھپاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ قیامت کے دن چھپائے گا۔۵۰۵

آپ یہ بھی فرماتے تھے کہ میری اُمت میں سے ہر شخص کا گناہ مٹ سکتا ہے (یعنی توبہ سے) مگر جو اپنے گناہوں کا آپ اظہار کرتے پھریں اُن کا کوئی علاج نہیں۔ پھر فرماتے کہ آپ اظہار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص رات کے وقت گناہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اُس پر پردہ ڈال دیتا ہے مگر صبح کے وقت وہ اپنے دوستوں سے ملتا ہے تو کہتا ہے کہ اے فلانے! میں نے رات کو یہ کام کیا تھا، اے فلانے! میں نے رات کو یہ کام کیا تھا۔ رات کو خدا اُس کے گناہ پر پردہ ڈال رہا تھا صبح یہ اپنے گناہ کو آپ ننگا کرتا ہے۔۵۰۶

بعض لوگ نادانی سے یہ سمجھتے ہیں کہ گناہ کا اظہار توبہ پیدا کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گناہ کا اظہار توبہ پیدا نہیں کرتا، گناہ کا اظہار بے حیائی پیدا کرتا ہے۔ گناہ بہرحال بُرا ہے مگر جو لوگ گناہ کرتے ہیں اور اُن کے دل میں شرم اور ندامت محسوس ہوتی ہے اُن کے لئے توبہ کا راستہ کھلا رہتا ہے اور تقویٰ اُن کے پیچھے پیچھے چلا آرہا ہوتا ہے۔ کوئی نہ کوئی نیک موقع ایسا آجاتا ہے کہ تقویٰ غالب آجاتا ہے اور گناہ بھاگ جاتا ہے۔ مگر جو لوگ اپنے گناہوں کو پھیلاتے اور ان پر فخر کرتے ہیں ان کے دل سے احساسِ گناہ بھی مٹ جاتا ہے اور جب احساسِ گناہ بھی مٹ جائے تو پھر توبہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اُس نے کہا۔ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! میں نے زنا کیا ہے۔ زنا اسلام میں تعزیری جرائم میں سے ہے یعنی اسلامی شریعت جہاں جاری ہو وہاں ایسے شخص کو جس کا زنا اسلامی اصول کے مطابق ثابت ہو جائے جسمانی سزا دی جاتی ہے۔ جب اُس نے کہا۔ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! میں نے زنا کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی طرف سے منہ پھیر لیا اور دوسری طرف باتوں میں مشغول ہو گئے۔ درحقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس کو یہ بتا رہے تھے کہ جس گناہ پر خدا نے پردہ ڈال دیا ہے اس کا علاج توبہ ہے اس کا علاج اعلان نہیں۔ مگر وہ اس بات کو نہ سمجھا اور یہ خیال کیا کہ شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات کو سنا نہیں اور جس طرف آپ کا منہ تھا اُدھر کھڑا ہو گیا اور پھر اُس نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! میں نے زنا کیا ہے۔ پھر آپ نے دوسری طرف منہ کر لیا۔ پھر بھی وہ نہ سمجھا اور دوسری طرف آ کر اُس نے پھر اپنی بات دُہرائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اُس کی طرف توجہ نہ کی اور دوسری طرف منہ پھیر لیا۔ پھر وہ شخص اُس طرف آ کھڑا ہوا جس طرف آپ کا منہ تھا اور پھر اُس نے چوتھی دفعہ وہی بات کہی۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو چاہتا تھا کہ یہ اپنے گناہ کی آپ تشہیر نہ کرے جب تک خدا اس کی گرفت کا فیصلہ نہیں کرتا مگر اِس نے چار دفعہ اپنے نفس پر خود ہی گواہی دی ہے اس لئے اب میں مجبور ہوں ۵۷؎ پھر فرمایا اس شخص نے اپنے آپ پر الزام لگایا ہے۔ اُس عورت نے الزام نہیں لگایا جس کے متعلق یہ زنا کا دعویٰ کرتا ہے اُس عورت سے پوچھو۔ اگر وہ انکار کرے تو اُسے کچھ مت کہو اور

صرف اِس کو اس کے اپنے اقرار کے مطابق سزا دو۔ لیکن اگر وہ عورت بھی اقرار کرے تو پھر اُسے بھی سزا دو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ جن امور کے متعلق قرآنی تعلیم نازل نہ ہو چکی ہوتی تھی اُن میں آپ تورات کی تعلیم پر عمل کر لیتے تھے۔ تورات کے حکم کے مطابق زانی کے لئے سنگساری کا حکم ہے۔ چنانچہ آپ نے بھی اُس شخص کے سنگسار کئے جانے کا حکم دیا۔ جب لوگ اُس پر پتھر پھینکنے لگے تو اُس نے بھاگنا چاہا، لیکن لوگوں نے دوڑ کر اُس کا تعاقب کیا اور تورات کی تعلیم کے مطابق اُسے قتل کر دیا۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اِس کا علم ہوا تو آپ نے اس کو ناپسند فرمایا۔ آپ نے فرمایا اُس کو سزا اُس کے اقرار کے مطابق دی گئی ۔ جب وہ بھاگا تھا تو اُس نے اپنا اقرار واپس لے لیا تھا اس لئے تمہارا کوئی حق نہ تھا کہ اُس کے بعد اُس کو سنگسار کرتے اُس کو چھوڑ دینا چاہیے تھا۔۵۰۸؎

آپ ہمیشہ حکم دیتے تھے کہ شریعت کا نفاذ ظاہر پر ہونا چاہئے۔ ایک دفعہ ایک جنگ پر کچھ صحابہؓ گئے ہوئے تھے راستہ میں ایک مشرک اُنہیں ایسا ملا جو اِدھر اُدھر جنگل میں چھپا پھرتا تھا اور جب کبھی اُسے کوئی اکیلا مسلمان مل جاتا تو اُس پر حملہ کر کے وہ اُسے مار ڈالتا۔ اُسامہ بن زیدؓ نے اس کا تعاقب کیا اور ایک موقع پر جا کر اُسے پکڑ لیا اور اسے مارنے کے لئے تلوار اُٹھائی۔ جب اُس نے دیکھا کہ اب میں قابو آ گیا ہوں تو اُس نے کہا لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ جس سے اُس کا مطلب یہ تھا کہ میں مسلمان ہوتا ہوں مگر اُسامہؓ نے اُس کے اِس قول کی پرواہ نہ کی اور اُسے مار ڈالا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِس لڑائی کی خبر دینے کے لئے ایک شخص مدینہ پہنچا تو اُس نے لڑائی کے سب احوال بیان کرتے کرتے یہ واقعہ بھی بیان کیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسامہؓ کو بُلوایا اور اُن سے پوچھا کہ کیا تم نے اُس آدمی کو مار دیا تھا؟ اُنہوں نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا قیامت کے دن کیا کرو گے جب لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ تمہارے خلاف گواہی دے گا۔ یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ سوال کیا جائے گا کہ جب اُس شخص نے لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہا تھا تو پھر تم نے کیوں مارا؟ گو وہ قاتل تھا مگر توبہ کر چکا تھا۔ حضرت اُسامہؓ نے کئی دفعہ جواب میں کہا کہ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وہ تو ڈر کے مارے ایمان ظاہر کر رہا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اُس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے؟ اور پھر بار بار یہی کہتے چلے گئے کہ تم قیامت کے دن کیا جواب دو گے جب اُس کا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تمہارے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اُسامہؓ کہتے ہیں اُس وقت میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش! میں آج ہی اسلام لایا ہوتا اور یہ حرکت مجھ سے سرزد نہ ہوئی ہوتی۔۵۰۹

گناہوں کی معافی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا احساس تھا کہ جب کچھ لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہؓ پر اتہام لگایا اور ان اتہام لگانے والوں میں ایک ایسا شخص بھی تھا جس کو حضرت ابوبکرؓ پال رہے تھے۔ جب یہ الزام جھوٹا ثابت ہوا تو حضرت ابوبکرؓ نے غصہ میں اُس شخص کی پرورش بند کر دی جس شخص نے آپ کی بیٹی پر الزام لگایا تھا تو دنیا کا کونسا شخص اِس کے سوا کوئی اور فیصلہ کرسکتا تھا، بہت سے لوگ تو ایسے آدمی کو قتل کر دیتے ہیں مگر حضرت ابوبکرؓ نے صرف اتنا کیا کہ اُس شخص کی آئندہ پرورش بند کر دی ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے حضرت ابوبکرؓ کو سمجھایا اور فرمایا کہ اس شخص سے غلطی ہوئی اور اس نے گناہ کیا مگر آپ کی شان اس سے بالا ہے کہ ایک بندے کے گناہ کی وجہ سے اُس کو اس کے رزق سے محروم کر دیں ۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے ماتحت پھر اُس کی پرورش کرنے لگے ۔۵۱۰

صبر

آپ فرمایا کرتے تھے کہ مؤمن کے لئے تو دنیا میں بھلائی ہی بھلائی ہے اور سوائے مؤمن کے یہ مقام اور کسی کو حاصل نہیں ہوتا۔ اگر اُسے کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو وہ خدا کا شکر ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے انعام کا مستحق ہو جاتا ہے اور اگر اُسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور اس طرح بھی خدا تعالیٰ کے انعام کا مستحق ہو جاتا ہے۔۵۱۱

جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا اور آپ بیماری کی تکلیف کی وجہ سے آپ کراہ رہے تھے تو آپ کی بیٹی فاطمہؓ نے ایک دفعہ بیتاب ہو کر کہا۔ آہ! مجھ سے اپنے باپ کی تکلیف دیکھی نہیں جاتی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا صبر کرو آج کے بعد تمہارے باپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔۵۱۲ یعنی میری تکالیف اس دنیا کی زندگی تک محدود ہیں ۔ آج میں اپنے ربّ کے پاس چلا جاؤں گا جس کے بعد میرے لئے تکلیف کی کوئی گھڑی نہیں آئے گی ۔

اِسی سلسلہ میں یہ واقعہ بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ آپ ہمیشہ وبائی بیماریوں میں ایک شہر سے دوسرے شہر کو بھاگ جانا ناپسند فرماتے تھے کیونکہ اِس طرح ایک علاقہ کی بیماری دوسرے علاقہ میں پھیل جاتی ہے۔ آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ اگر ایسی بیماری کے علاقہ میں کوئی شخص صبر سے بیٹھا رہے اور دوسرے علاقوں میں وبا پھیلانے کا موجب نہ بنے تو اگر اُسے موت آئے گی تو وہ شہید ہوگا۔۵۱۳

تعاونِ باہمی

آپ ہمیشہ اپنے صحابہؓ کو اِس بات کی نصیحت فرماتے تھے کہ آپس میں تعاون کے ساتھ کام کیا کرو۔ چنانچہ اپنی جماعت کے لوگوں کے لئے آپؐ نے یہ اُصول مقرر کر دیا تھا کہ اگر کسی شخص سے کوئی ایسا جرم سرزد ہو جائے جس کے بدلہ میں اُسے کوئی رقم ادا کرنی پڑے اور وہ اُس کی طاقت سے باہر ہو تو اُس کے محلہ والے یا شہر والے یا قوم والے مل کر اُس کا بدلہ ادا کریں۔

بعض لوگ جو دین کی خدمت کے لئے آپؐ کے پاس آیا جایا کرتے تھے، آپؐ اُن کے رشتہ داروں کو نصیحت کرتے تھے کہ اُن کا بوجھ برداشت کریں اور اُن کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو بھائی مسلمان ہوئے ایک بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے لگا اور دوسرا اپنے کام کاج میں مشغول رہا۔ کام کرنے والے بھائی نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بھائی کی شکایت کی کہ یہ نکٹھا بیٹھا رہتا ہے اور کوئی کام نہیں کرتا۔ آپؐ نے فرمایا ایسا مت کہو۔ خدا تعالیٰ اِسی کے ذریعہ سے تمہیں رزق دیتا ہے اس لئے اس کی خدمت کرو اور اس کو دین کے لئے آزاد چھوڑ دو۔۵۱۴

ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر جا رہے تھے کہ رستہ میں ایک منزل پر پہنچ کر ڈیرے لگائے گئے اور صحابہؓ میدان میں پھیل گئے تا کہ خیمے لگائیں اور دوسرے کام جو کیمپ لگانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں بجا لائیں۔ اُنہوں نے سب کام آپس میں تقسیم کر لئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کوئی کام نہ لگایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے میرے ذمہ کوئی کام نہیں لگایا میں لکڑیاں چُنوں گا تا کہ اُن سے کھانا پکایا جا سکے۔ صحابہؓ نے کہا، یَارَسُوْلَ اللّٰہ! ہم جو کام کرنے والے موجود ہیں آپ کو کیا ضرورت ہے۔ آپؐ نے فرمایا نہیں! نہیں! میرا بھی فرض ہے کہ کام میں حصہ لوں۔ چنانچہ آپؐ نے جنگل سے لکڑیاں جمع

کیں تاکہ صحابہؓ اُن سے کھانا پکا سکیں۔۵۱۵

چشم پوشی

آپ ہمیشہ اِس بات کی نصیحت کرتے رہتے تھے کہ خواہ مخواہ دوسروں کے کاموں پر اعتراض نہ کیا کرو اور ایسے معاملات میں دخل نہ دیا کرو جو تمہارے ساتھ تعلق نہیں رکھتے کیونکہ اس طرح فتنہ پیدا ہوتا ہے۔ آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ انسان کے اِسلام کا بہترین نمونہ یہ ہے کہ جس معاملہ کا اُس سے براہِ راست کوئی تعلق نہ ہو اُس میں خواہ مخواہ دخل اندازی نہ کیا کرے۔ آپؐ کا یہ خُلق ایسا ہے کہ جس کی نگہداشت کر کے دنیا میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ ہزاروں ہزار خرابیاں دنیا میں اِس وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ مصیبت زدہ کی مدد کرنے کیلئے تو تیار نہیں ہوتے مگر خواہ مخواہ لوگوں کے معاملات پر اعتراض کرنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔

سچ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی مقام تو سچ کے متعلق اتنا بالا تھا کہ آپ کی قوم نے آپ کا نام ہی صدیق رکھ دیا تھا۔۵۱۶ آپ اپنی جماعت کو بھی سچ پر قائم رہنے کی ہمیشہ نصیحت فرماتے تھے اور ایسے اعلیٰ درجہ کے سچ کے مقام پر کھڑا کرنے کی کوشش فرماتے تھے جو ہر قسم کے جھوٹ کے شائبوں سے پاک ہو۔ آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ سچ ہی نیکی کی طرف توجہ دلاتا ہے اور نیکی ہی انسان کو جنت دلاتی ہے اور سچ کا اصل مقام یہ ہے کہ انسان سچ بولتا چلا جائے یہاں تک کہ خدا کے حضور بھی وہ سچا سمجھا جائے ۔۵۱۷

ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص قید ہو کر آیا جو بہت سے مسلمانوں کے قتل کا موجب ہو چکا تھا۔ حضرت عمرؓ سمجھتے تھے کہ یہ شخص واجب القتل ہے اور وہ بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کی طرف دیکھتے تھے کہ اگر آپ اشارہ کریں تو اُسے قتل کر دیں۔ جب وہ شخص اُٹھ کر چلا گیا تو حضرت عمرؓ نے کہا۔ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! یہ شخص تو واجب القتل تھا۔ آپؐ نے فرمایا۔ واجب القتل تھا تو تم نے اُسے قتل کیوں نہ کیا۔ اُنہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! آپ اگر آنکھ سے اشارہ کر دیتے تو میں ایسا کر دیتا۔ آپؐ نے فرمایا نبی دھوکے باز نہیں ہوتا۔ یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ میں منہ سے تو اُس سے پیار کی باتیں کر رہا ہوتا اور آنکھ سے اُسے قتل کرنے کا اشارہ کرتا۔۵۱۸

ایک دفعہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! مجھ میں تین عیب ہیں۔ جھوٹ، شراب خوری اور زنا۔ میں نے بہت کوشش کی ہے کہ یہ عیب کسی طرح مجھ سے دور ہو جائیں مگر میں اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ آپ کوئی علاج بتائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک گناہ چھوڑنے کا تم مجھ سے وعدہ کرو۔ دو میں چھڑوا دوں گا۔ اُس نے کہا میں وعدہ کرتا ہوں فرمائیے کون سا گناہ چھوڑ دوں؟ آپ نے فرمایا جھوٹ چھوڑ دو۔ کچھ دنوں کے بعد وہ آیا اور اُس نے کہا آپ کی ہدایت پر میں نے عمل کیا اور میرے سارے ہی گناہ چھٹ گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا بتاؤ کیا گزری؟ اُس نے کہا میرے دل میں ایک دن شراب کا خیال آیا میں شراب پینے کے لیے اُٹھا تو مجھے خیال آیا کہ اگر میرے دوست مجھ سے پوچھیں گے کہ کیا تم نے شراب پی ہے تو پہلے میں جھوٹ بول دیا کرتا تھا اور کہہ دیا کرتا تھا کہ نہیں پی۔ مگر اب میں نے سچ بولنے کا اقرار کیا ہے اگر میں نے کہا کہ شراب پی ہے تو میرے دوست مجھ سے چھٹ جائیں گے اور اگر کہوں گا کہ نہیں پی تو جھوٹ کا ارتکاب کروں گا جس سے بچنے کا میں نے اقرار کیا ہے۔ چنانچہ میں نے دل میں کہا کہ اِس وقت نہیں پیتے پھر پیئیں گے۔ اسی طرح میرے دل میں زنا کا خیال پیدا ہوا اور اس کے متعلق بھی میری اپنے دل سے یہی باتیں ہوئیں کہ اگر میرے دوست مجھ سے پوچھیں گے تو میں کیا کہوں گا۔ اگر یہ کہوں گا کہ میں نے زنا کیا ہے تو میرے دوست مجھ سے چھٹ جائیں گے اور اگر یہ کہوں گا کہ نہیں کیا تو جھوٹ بولوں گا۔ اور جھوٹ سے بچنے کا میں اقرار کر چکا ہوں۔ اسی طرح میرے اور میرے دل کے درمیان کئی دن تک یہ بحث و مباحثہ جاری رہا۔ آخر کچھ مدت تک اِن دونوں عیبوں سے بچنے کی وجہ سے میرے دل سے ان کی رغبت بھی مٹ گئی اور سچ کے قبول کرنے کی وجہ سے باقی عیبوں سے بھی محفوظ ہو گیا۔

تجسس کی ممانعت اور نیک ظنی کا حکم

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تجسس سے منع فرماتے تھے اور ایک دوسرے پر نیک ظنی کا حکم دیتے رہتے تھے۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں آپؐ فرمایا کرتے تھے بدظنی سے بچو کیونکہ بدظنی سب سے بڑا جھوٹ ہے اور تجسس نہ کرو اور لوگوں کے حقارت سے اور نام نہ رکھا کرو اور حسد نہ کیا کرو اور آپس میں بغض نہ رکھا کرو اور سب کے سب اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے بندے سمجھو اور اپنے آپ کو بھائی بھائی سمجھو جس طرح خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔۵۱۹

پھر فرماتے یاد رکھو کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ مصیبت کے وقت اُس کا ساتھ چھوڑتا ہے نہ مال یا علم یا کسی اور چیز کی کمی کی وجہ سے اُس کو حقیر سمجھتا ہے۔ تقویٰ انسان کے دل سے پیدا ہوتا ہے اور انسان کو گندہ کر دینے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر سمجھے۔ اور ہر مسلمان پر اس کے دوسرے مسلمان بھائی کے خون اور اس کی عزت اور اس کے مال پر حملہ کرنا حرام ہے اللہ تعالیٰ جسموں کو نہیں دیکھا کرتا نہ صورتوں کو دیکھتا ہے نہ تمہارے اعمال کی ظاہری حالت کو دیکھتا ہے بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔۵۲۰

سوداسلف کے متعلق دھوکا بازی اور فریب سے نفرت

آپ اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ مسلمانوں میں دھوکا اور فریب کی کوئی بات نہ پائی جائے۔ ایک دفعہ آپ بازار میں سے گزر رہے تھے کہ آپ نے غلہ کا ایک ڈھیر دیکھا جو نیلام ہو رہا تھا۔ آپ نے اپنا ہاتھ غلہ کے ڈھیر میں ڈالا تو معلوم ہوا کہ باہر کی طرف سے تو غلہ سُوکھا ہوا ہے مگر اندر کی طرف سے گیلا ہے۔ آپ نے اپنا ہاتھ نکال کر غلہ والے سے کہا کہ یہ کیا بات ہے۔ اس نے کہا۔ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! بارش کا چھینٹا آ گیا تھا جس سے غلہ گیلا ہو گیا۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے مگر تم نے گیلا حصہ باہر کیوں نہ رکھا تا کہ لوگوں کو معلوم ہو جاتا۔ پھر فرمایا جو شخص دوسرے لوگوں کو دھوکا دیتا ہے وہ جماعت کا مفید وجود نہیں ہو سکتا۔۵۲۱

آپ بڑی تاکید سے فرماتے تھے کہ تجارت میں بالکل دھوکا نہیں ہونا چاہئے اور بغیر دیکھے کے کوئی چیز نہیں لینی چاہئے اور سَودے پر سَودا نہیں کرنا چاہئے اور سامان کو اس لئے روک نہیں رکھنا چاہئے کہ جب اس کی قیمت بڑھ جائے گی تو اس کو فروخت کریں گے۔ بلکہ حاجتمندوں کو ساتھ کے ساتھ چیزیں دیتے رہنا چاہئے۔

مایوسی

آپ مایوسی کی روح کے سخت خلاف تھے۔ فرماتے تھے جو شخص قوم میں مایوسی کی باتیں کرتا ہے وہ قوم کی ہلاکت کا ذمہ دار ہوتا ہے۵۲۲ کیونکہ بعض ایسی باتوں کے پھیلنے سے قوم کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے اور پستی کی طرف مائل ہونا شروع ہو جاتی ہے جس طرح فخر اور کبر سے آپ روکتے تھے کہ یہ چیزیں بھی درحقیقت قوم کو پستی کی طرف لے جاتی ہیں آپ کا حکم تھا کہ ان دونوں کے درمیان راستہ ہونا چاہئے ۔ نہ انسان فخر اور کبر کا راستہ اختیار کرے اور نہ مایوسی اور ناامیدی کا راستہ اختیار کرے بلکہ کام کرے مگر نتیجہ کی امید خدا تعالیٰ پر ہی رکھے ۔ اپنی جماعت کی ترقی کی خواہش اس کے دل میں ہو مگر فخر اور کبر پیدا نہ ہو۔

جانوروں سے حسنِ سلوک

آپ جانوروں تک پر ظلم کو سخت ناپسند فرماتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے بنی اسرائیل میں ایک عورت کو اِس لئے عذاب ملا کہ اس نے اپنی بلی کو بھوکا مار دیا تھا۔

اِسی طرح فرماتے تھے پہلی اُمّتوں میں سے ایک شخص اِس لئے بخشا گیا کہ اُس نے ایک پیاسا کتا دیکھا پاس ایک گہرا گڑھا تھا جس میں سے کتا پانی نہیں پی سکتا تھا۔ اُس آدمی نے اپنا بوٹ پاؤں سے کھولا اور گڑھے میں اُس بوٹ کو لٹکا کر اس کے ذریعہ پانی نکالا اور کتے کو پلا دیا۔ اِس نیکی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے اُس کے تمام گزشتہ گناہ بخش دیئے ۔۵۲۳

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم آپ کے ساتھ سفر پر جارہے تھے کہ ہم نے ایک فاختہ کے دو بچے دیکھے بچے ابھی چھوٹے تھے ہم نے وہ بچے پکڑ لئے جب فاختہ واپس آئی تو وہ چاروں طرف گھبرا کر اُڑنے لگی اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُس مجلس میں تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا۔ اِس جانور کو اس کے بچوں کی وجہ سے کس نے تکلیف دی؟ فوراً اس کے بچوں کو چھوڑ دو تا کہ اِس کی دلجوئی ہو جائے۔۵۲۴

اِسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم نے چیونٹیوں کا ایک غار دیکھا اور ہم نے پھونس ڈال کر اُسے جلا دیا۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا؟ ایسا کرنا مناسب نہیں ۔۵۲۵

ایک دفعہ آپ نے دیکھا کہ ایک گدھے کے منہ پر نشان لگایا جا رہا ہے ۔ آپ نے فرمایا ایسا نشان کیوں لگا رہے ہو؟ لوگوں نے کہا کہ رومی لوگوں میں اعلیٰ گدھوں کی پہچان کے لئے نشان لگایا جاتا ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ایسا مت کیا کرو ۔ منہ جسم کا نازک حصہ ہے ۔ اگر نشان لگانا ہی پڑے تو جانور کی پیٹھ پر نشان لگا دیا کرو ۔ چنانچہ اُسی وقت سے مسلمان جانور کی پیٹھ پر نشان لگاتے ہیں اور اب اُن کی دیکھا دیکھی یورپ والے بھی پیٹھ پر ہی نشان لگاتے ہیں۔

مذہبی رواداری

آپ مذہبی رواداری پر نہایت زور دیتے تھے اور خود بھی اعلیٰ درجہ کا نمونہ اِس بارہ میں دکھاتے تھے۔ یمن کا ایک عیسائی قبیلہ آپ سے مذہبی تبادلہ خیال کرنے کے لئے آیا۔ جس میں اُن کے بڑے بڑے پادری بھی تھے۔ مسجد میں بیٹھ کر گفتگو شروع ہوئی اور گفتگو لمبی ہوگئی۔ اِس پر اِس قافلہ کے پادری نے کہا اب ہماری نماز کا وقت ہے ہم باہر جا کر اپنی نماز ادا کر آئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا باہر جانے کی کیا ضرورت ہے ہماری مسجد میں ہی اپنی نماز ادا کر لیں۔ آخر ہماری مسجد خدا کے ذکر ہی کے لئے بنائی گئی ہے۔۵۲۶

بہادری

آپ کی بہادری کے کئی واقعات آپ کی سوانح میں بیان ہو چکے ہیں۔ ایک واقعہ اِس جگہ بھی لکھ دیتا ہوں۔ جب مدینہ میں یہ خبریں مشہور ہونی شروع ہوئیں کہ روما کی حکومت ایک بڑا لشکر مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے بھجوا رہی ہے تو مسلمان خاص طور پر راتوں کو احتیاط کرتے اور جاگتے رہتے۔ ایک دفعہ باہر جنگل کی طرف سے شور کی آواز آئی۔ صحابہ جلدی جلدی اپنے گھروں سے نکلے کچھ اِدھر اُدھر دوڑنے لگے اور کچھ مسجد میں آ کر جمع ہو گئے اور اِس انتظار میں بیٹھ گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلیں تو آپ کے حکم پر عمل کریں اور اگر خطرہ ہو تو اُس کو دور کریں۔ جب وہ لوگ اِس انتظار میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکلیں تو اُنہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے گھوڑے پر سوار باہر سے تشریف لا رہے ہیں معلوم ہوا کہ شور کی پہلی آواز پر ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہو کر جنگل میں اِس بات کے دیکھنے کے لئے چلے گئے تھے کہ کوئی خطرہ کی بات تو نہیں۔ اور آپ نے اِس بات کا انتظار نہ کیا کہ صحابہؓ جمع ہو جائیں تو ان کے ساتھ مل کر باہر جائیں بلکہ اکیلے ہی باہر گئے اور حقیقت حال سے آگاہ ہو کر واپس آئے اور صحابہؓ کو تسلی دی کہ خطرہ کی کوئی بات نہیں تم آرام سے اپنے گھروں میں جا کر سو رہو۔ ۵۲۷

کم عقلوں کے ساتھ محبت کا سلوک

کم عقلوں کے ساتھ آپ نہایت ہی محبت اور شفقت کا سلوک کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایک اعرابی نیا نیا اسلام لایا اور آپ کی مسجد میں بیٹھے بیٹھے اُسے پیشاب کی حاجت محسوس ہوئی وہ اُٹھ کر مسجد کے ایک کونہ میں ہی پیشاب کرنے لگا۔ صحابہؓ اُس کو منع کرنے لگے تو آپ نے اُنہیں روک دیا اور فرمایا کہ اِس سے اُس کو ضرر پہنچ جائے گا تم ایسا نہ کرو جب یہ پیشاب کر چکے تو یہاں پانی ڈال کر اِس جگہ کو دھو دینا۔۵۲۸

وفائے عہد

وفائے عہد کا آپ کو اِس قدر خیال تھا کہ ایک دفعہ ایک حکومت کا ایک ایلچی آپ کے پاس کوئی پیغام لے کر آیا اور آپ کی صحبت میں کچھ دن رہ کر اسلام کی سچائی کا قائل ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس نے عرض کیا کہ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! میں تو دل سے مسلمان ہو چکا ہوں میں اپنے اسلام کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مناسب نہیں تم اپنی حکومت کی طرف سے ایک امتیازی عہدہ پر مقرر ہو کر آئے ہو اِسی حالت میں واپس جاؤ اور وہاں جا کر اگر تمہارے دل میں اسلام کی محبت پھر بھی قائم رہے تو دوبارہ آ کر اسلام قبول کرو۔۵۲۹

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مضمون کوئی ایسا مضمون نہیں جس کو صرف چند صفحوں میں ختم کیا جا سکے یا جس کا صرف چند پہلوؤں سے اندازہ لگایا جائے مگر چونکہ نہ یہ سیرت کی ایک مستقل کتاب ہے اور نہ اِس دیباچہ میں لمبی بات کی گنجائش ہو سکتی ہے اِس لئے میں اتنے پر ہی اکتفاء کرتا ہوں۔


جمع القرآن

میں تمہید کے شروع میں بیان کر چکا ہوں کہ قرآن کریم سے پہلے کی کوئی الہامی کتاب اپنی اصل صورت میں محفوظ نہیں بلکہ پہلی تمام کتب میں اتنا تصرف ہو چکا ہے کہ یقین کے ساتھ اُن پر عمل کرنا ایک سچے طلب گار کے لئے ناممکن ہو گیا ہے۔ اِس کے برخلاف قرآن کریم جوں کا توں لفظاً لفظاً اُسی طرح محفوظ ہے جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔

قرآن کریم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت کے ابتداء سے نازل ہونا شروع ہوا۔ پہلا الہام قرآن کریم کی چند آیات کا غارِ حرا میں ہوا اِس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک قرآن کریم نازل ہوتا چلا گیا۔ گویا کل عرصہ نزول 23 سال ہے۔ تاریخوں سے ثابت ہے کہ شروع میں وحی تھوڑی تھوڑی کر کے نازل ہوتی تھی پھر نزول کی رفتار بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر میں پے در پے اور کثرت سے وحی نازل ہوئی۔ اِس کے علاوہ اور حکمتوں کے یہ حکمت بھی تھی کہ اسلام جو مسائل دنیا میں پیش کر رہا تھا وہ بالکل نئے تھے۔ ابتداء میں اُن کا سمجھنا لوگوں کے لئے مشکل تھا اِس لئے قرآن کریم ابتداء میں تھوڑا تھوڑا نازل ہوا۔ جب لوگوں کے ذہن میں اسلام کے اُصول رچ گئے اور قرآنی مضامین کا سمجھنا اُن کے لئے آسان ہو گیا تو پھر قرآن کریم کا نزول بھی تیز ہو گیا اور وحی جلدی جلدی نازل ہونے لگی اور یہ اس لئے کیا گیا تا سب کے سب مسلمان قرآن کریم کے مضامین کے پوری طرح حافظ ہو جائیں۔ دوسری وجہ اس کی یہ تھی کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ کیا اُس وقت آپ کے ماننے والے بہت تھوڑے تھے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ قرآن کریم محفوظ رہے اور اس کے متعلق کسی قسم کا شبہ پیدا نہ ہو اس لئے شروع میں قرآن کریم تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوا۔ ایسی آہستگی کے ساتھ کہ بعض دفعہ چند آیات نازل ہونے کے بعد کئی مہینے گزر جاتے تھے اور پھر جا کر چند اور نئی آیات نازل ہوتی تھیں۔ اسی طرح ان تھوڑے سے آدمیوں کو پورے طور پر قرآن کریم یاد کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔ چند سال میں مسلمانوں کی جماعت بڑھنی شروع ہوئی اور قرآن کریم کی حفاظت زیادہ آسان ہو گئی۔ تب قرآن کریم کا نزول بھی پہلے کی نسبت زیادہ تیزی سے ہونے لگا۔ آخری زمانہ اسلام میں تو مسلمانوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی اُوپر نکل گئی۔ اُس وقت قرآن کریم کا یاد کرنا بہت زیادہ آسان ہو گیا۔ تب قرآن کریم اور بھی زیادہ جلدی سے اُترنے لگا۔ اِس الٰہی تدبیر سے قرآن کریم کی حفاظت اور یقینی ہوگئی۔

یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم کے بدترین دشمنوں میں سے بھی کوئی ایسا نہیں جو حضرت عثمانؓ کے زمانہ سے لے کر آج تک ساڑھے تیرہ سو سال کے متعلق شبہ رکھتا ہو کہ اِس عرصہ میں قرآن کریم میں کوئی تبدیلی ہوگئی ہوگی۔ کیونکہ حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں قرآن کریم کی سات کاپیاں کر کے سات ملکوں میں بھیج دی گئی تھیں اور ہر ملک کے لوگ اُن کاپیوں سے نقل کر کے اپنے لئے قرآن کریم کے نسخے تیار کرتے تھے اور لاکھوں آدمی قرآن کریم کو حفظ کرتے تھے۔ پس جو لوگ قرآن کریم کے محفوظ ہونے کے متعلق کسی قسم کا شبہ پیدا کرتے ہیں وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے لے کر حضرت عثمانؓ کے زمانہ تک کے متعلق اعتراض کرتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو حصہ قرآن کا نازل ہوتا تھا آپؐ اُس کو حفظ کر لیتے تھے اور ہمیشہ قرآن کریم کو دُہراتے رہتے تھے اِس طرح آپ ساری وحی کے کامل حافظ تھے مگر اِس کے علاوہ حفاظت قرآن کے مندرجہ ذیل ذرائع اختیار کئے گئے تھے۔

حفاظت قرآن کے ذرائع

(۱) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوتی تھی وہ اُسی وقت لکھوا دی جاتی تھی۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن کاتبوں کو قرآن کریم لکھواتے تھے اُن میں سے مندرجہ ذیل پندرہ نام تاریخ سے ثابت ہیں:۔

زید بن ثابتؓ۔ ابی بن کعبؓ۔ عبداللہ بن سعد بن ابی سرحؓ۔ زبیر بن العوامؓ۔ خالد بن سعید بن العاصؓ۔ ابان بن سعید العاصؓ۔ حنظلہ بن الربیع الاسدیؓ۔ معیقیب بن ابی فاطمہؓ۔ عبداللہ بن ارقم الزہری۔ شرجیل بن حسنہ۔ عبداللہ بن رواحہؓ۔ حضرت ابوبکرؓ۔ حضرت عمرؓ۔

حضرت عثمانؓ۔ حضرت علیؓ۔۵۳۰ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن شریف نازل ہوتا تو آپ ان لوگوں میں سے کسی کو بلا کر وحی لکھوا دیتے تھے۔

(۲) کوئی مسلمان مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک وہ پانچ وقت نماز ادا نہ کرے۔ پانچ وقت کی نمازوں میں یہ فرض ہے کہ قرآن شریف کا کچھ حصہ پڑھا جائے اس لئے ہر مسلمان کو قرآن شریف کے کچھ ٹکڑے یاد کرنے پڑتے ہیں اگر صحابہؓ میں سے سو سو کو مل کر بھی ایک قرآن یاد ہوتا تب بھی سارے قرآن کے کئی ہزار حفاظ اُن میں موجود تھے۔

(۳) اسلام کا سارا قانون قرآن میں ہے اِس کی فقہ بھی قرآن میں ہے، اِس کا علم الاخلاق بھی قرآن میں ہے، اِس کا علم العقائد بھی قرآن میں ہے اور اِس کا فلسفۂ تعلیم بھی قرآن میں ہے۔ قوم کی ترقی اور قوم بنانے کے لئے ان سب چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سارے اُمور کے لئے آدمی تیار کرتے تھے۔ چنانچہ آپ کے زمانہ میں ہی قاضی بھی مقرر تھے، علم الاحکام کے بیان کرنے والے لوگ بھی موجود تھے، مسائل اعتقادیہ کے بیان کرنے والے لوگ بھی موجود تھے، مفتیانِ شریعت بھی موجود تھے اور یہ لوگ اپنا کام نہیں کر سکتے تھے جب تک ان کو قرآن حفظ نہ ہو اِس لئے ایسے سب لوگوں کو قرآن کریم حفظ کرنا پڑتا تھا۔

(۴) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حفظِ قرآن کی فضیلت پر بڑا زور دیتے تھے، یہاں تک کہ آپ فرماتے تھے جو شخص قرآن کریم کو حفظ کر لے گا قیامت کے دن قرآن اُس کو دوزخ میں جانے سے بچائے گا۵۳۱ اور اِس میں تو کوئی بھی شبہ نہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے وہ صحابی دیئے تھے جو ہر ثواب کے لئے جان توڑ کوشش کرتے تھے اس لئے جب آپ نے یہ اعلان فرمایا تو کثرت کے ساتھ صحابہؓ نے قرآن شریف کو یاد کرنا شروع کیا حتیٰ کہ ایسے ایسے لوگ بھی قرآن شریف کو حفظ کرنے کی کوشش کرتے تھے جن کی زبانیں صاف نہیں تھیں اور جن کے علم بہت کمزور تھے۔ چنانچہ امام احمدؒ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اُس نے کہا اِنِّیْ اَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ فَلَا اَجِدُ قَلْبِیْ يَعْقِلُ عَلَيْهِ۔ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! میں قرآن تو پڑھتا ہوں مگر میرا دل اِس کو سمجھتا نہیں۔ اِس

سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف علمی طبقہ ہی قرآن شریف کو یاد کرنے کی کوششیں نہیں کرتا تھا بلکہ عوام الناس بھی قرآن کو حفظ کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔

اِسی طرح مسند احمد بن حنبل میں ایک اور حدیث انہی راویوں کی روایت سے درج ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کو لے کر آیا اور اُس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! میرا بیٹا دن کو قرآن پڑھتا رہتا ہے اور رات کو سو جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تمہارے لئے ناراضگی کی کونسی وجہ ہے تیرا بیٹا دن کو خدا کا ذکر کرتا ہے اور رات کو بجائے گناہوں میں مشغول ہونے کے آرام سے سو رہتا ہے۔ اِن احادیث سے پتہ لگتا ہے کہ حفظ قرآن کا دستور اتنا عام ہو چکا تھا کہ عامی اور دور دور کے علاقوں کے لوگ بھی قرآن شریف کو حفظ کرتے تھے۔

(۵) چونکہ لوگوں میں حفظ قرآن کریم کا اشتیاق بہت تیز ہو گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پڑھانے والے اُستادوں کی ایک جماعت مقرر فرمائی تھی جو سارا قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حفظ کر کے آگے لوگوں کو پڑھاتے تھے۔ یہ چار چوٹی کے اُستاد تھے جن کا کام یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن شریف پڑھیں اور لوگوں کو قرآن پڑھائیں۔ پھر اُن کے ماتحت اور بہت سے صحابہؓ ایسے تھے جو لوگوں کو قرآن شریف پڑھاتے تھے اِن چار بڑے اُستادوں کے نام یہ ہیں:۔

(۱) عبداللہ بن مسعودؓ۔ (۲) سالم مولیٰ ابی حذیفہؓ۔ (۳) معاذ بن جبلؓ۔ (۴) ابی بن کعبؓ۔ ان میں سے پہلے دو مہاجر ہیں اور دوسرے دو انصاری۔ کاموں کے لحاظ سے عبداللہ بن مسعودؓ ایک مزدور تھے۔ سالم ایک آزاد شدہ غلام تھے۔ معاذ بن جبلؓ اور ابی بن کعبؓ مدینہ کے رؤساء میں سے تھے۔ گویا ہر گروہ میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام گروہوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قاری مقرر کر دیئے تھے۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے خُذُوا الْقُرْاٰنَ مِنْ اَرْبَعَةٍ (مِنْ) عَبْدِاللّٰهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ وَّ سَالِمٍ وَّ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَّاُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ۔۵۳۲ جن لوگوں نے قرآن پڑھنا ہو وہ اِن چار سے قرآن پڑھیں۔ عبداللہ بن مسعودؓ، سالمؓ، معاذ بن جبلؓ اور ابی ابن کعبؓ۔ یہ چار تو وہ تھے جنہوں نے سارا قرآن رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھایا آپ کو سنا کر اس کی تصحیح کرالی لیکن ان کے علاوہ بھی بہت سے صحابہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست بھی کچھ نہ کچھ قرآن سیکھتے رہتے تھے چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ عبداللہ بن مسعودؓ نے ایک لفظ کو اور طرح پڑھا تو حضرت عمرؓ نے اُن کو روکا اور کہا کہ اِس طرح نہیں اِس طرح پڑھنا چاہئے۔ اِس پر عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا نہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی طرح سکھایا ہے۔ حضرت عمرؓ اُن کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یہ قرآن غلط پڑھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبداللہ بن مسعودؓ پڑھ کر سناؤ۔ جب اُنہوں نے پڑھ کر سنایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! مجھے تو آپ نے یہ لفظ اور رنگ میں سکھایا ہے۔ آپ نے فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف یہی چار صحابہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن نہیں پڑھتے تھے بلکہ دوسرے لوگ بھی پڑھتے تھے چنانچہ حضرت عمرؓ کا یہ سوال کہ مجھے آپ نے اس طرح پڑھایا ہے بتاتا ہے کہ حضرت عمرؓ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھتے تھے۔

قرآن مجید کی مختلف قراءتوں سے کیا مراد ہے

یہ جو اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ پر اعتراض کیا کہ اُنہوں نے اَور طرح قرآن پڑھا ہے اِس سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ قرآن کئی طرح پڑھا جا سکتا ہے۔ اِس حقیقت کو صرف عربی دان سمجھ سکتا ہے کیونکہ یہ بات صرف عربی میں ہی پائی جاتی ہے کسی اور زبان میں نہیں پائی جاتی۔ عربی زبان میں ماضی اور مضارع کے جو صیغے ہیں اُن کے زیر اور زبر کئی طرح جائز ہوتے ہیں لیکن معنی نہیں بدلتے۔ کسی حرف کے نیچے زیر لگا لیں تب بھی جائز ہوتا ہے اور اگر اُس پر زبر پڑھیں تب بھی جائز ہوتا ہے اور معنی ایک ہی رہتے ہیں۔ کبھی تو یہ عام قاعدہ کے طور پر فرق ہوتا ہے یعنی علمی زبان میں اس لفظ کو کئی طرح بولنا جائز ہوتا ہے اور بعض موقعوں میں یہ فرق قبائل کے لحاظ سے ہوتا ہے یعنی بعض قبائل یا بعض خاندان ایک لفظ زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ بعض لوگوں کے منہ پر زبر چڑھی ہوئی ہوتی ہے اور بعض لوگوں کے منہ پر زیر چڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی اجازت سے زیر یا زبر سے پڑھنے کی اجازت دے دیتے تھے لیکن اِس سے معنوں پر کوئی اثر بھی نہیں پڑتا تھا نہ لفظ میں کوئی تبدیلی ہوتی تھی۔ یہ فرق اور زبانوں میں نہیں پایا جاتا اِس لئے دوسری زبانوں کے آدمی جب یہ بات سنتے ہیں تو وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید کسی شخص کو کوئی آیت پڑھائی ہوتی تھی اور کسی کو کوئی آیت پڑھائی ہوئی ہوتی تھی حالانکہ آیت کا کوئی سوال ہی نہیں نہ لفظ کا کوئی سوال ہے سوال صرف لفظوں کے بعض حروف کی حرکت کا ہے اِن حرکات کے تغیر سے معنوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ صرف اتنا فرق پڑتا ہے کہ جس قوم کو جس حرکت سے پڑھنے میں آسانی ہوسکتی ہے وہ اُس حرکت سے پڑھ لیتی ہے۔

مہاجرین و انصار سے حفاظِ قرآن

اِن چار کے سوا مسلمانوں میں اور بھی بعض بڑے بڑے قراء تھے مثلاً زید بن ثابتؓ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری زمانہ میں اپنی وحی لکھوایا کرتے تھے۔ ابوزید تھے جن کا نام قیس ابن السکن تھا۔۵۴۳ یہ انصاری تھے اور بنونجار قبیلہ میں سے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ننہال میں سے تھے۔ اِسی طرح ابودرداء انصاری بھی قراء میں سے تھے۔۵۴۴ پھر حضرت ابوبکرؓ بھی قاری تھے۔ چنانچہ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شروع زمانہ سے ہی قرآن شریف حفظ کرتے چلے آرہے تھے۔ حضرت علیؓ کی نسبت بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ قرآن شریف کے حافظ تھے بلکہ اُنہوں نے قرآن شریف کے نزول کی ترتیب کے لحاظ سے قرآن لکھنے کا کام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے معا ً بعد شروع کر دیا تھا۔ نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ (حضرت عمرؓ کے لڑکے) بھی قرآن شریف کے حافظ تھے اور وہ قرآن کریم کے اتنے مشتاق تھے کہ ساری رات میں ایک دفعہ قرآن کریم ختم کر لیتے تھے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع پہنچی تو آپ نے فرمایا اِقْرَأْهُ فِيْ شَهْرٍ مہینہ میں ایک دفعہ ختم کر لیا کرو۔ رات میں ایک دفعہ ختم نہ کیا کرو اِس سے طبیعت پر بوجھ پڑ جاتا ہے۔

ابوعبیدہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجر صحابہؓ میں سے مندرجہ ذیل کا حفظ ثابت ہے۔ ابوبکرؓ۔ عمرؓ۔ عثمانؓ۔ علیؓ۔ طلحہؓ۔ سعدؓ۔ ابن مسعودؓ۔ حذیفہؓ۔ سالمؓ۔ ابوہریرہؓ۔ عبداللہ بن سائبؓ۔ عبداللہ بن عمرؓ۔ عبداللہ بن عباسؓ۔ اور عورتوں میں سے عائشہؓ۔

حضرت حفصہؓ اور حضرت اُمّ سلمہؓ۔ ان میں سے اکثر نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی قرآن شریف حفظ کر لیا تھا اور بعض نے آپ کی وفات کے بعد حفظ کیا۔ اور ابن ابی داؤد کتاب الشریعت میں لکھتے ہیں کہ مہاجرین میں سے تمیم بن اوس الداریؓ اور عقبۃ بن عامرؓ کا حافظ ہونا بھی ثابت ہے۔ اسی طرح بعض مصنفوں نے ثابت کیا ہے کہ مہاجرین میں سے عمرو بن العاصؓ اور موسیٰ اشعریؓ بھی حافظِ قرآن تھے۔

انصار میں سے جو مشہور حفاظ تھے اُن کے نام یہ ہیں:۔

عبادہ بن صامتؓ۔ معاذؓ۔ مجمع بن حارثہؓ۔ فضالہ بن عبیدؓ۔ مسلمہ بن مخلدؓ۔ ابو الدرداءؓ۔ ابوزیدؓ۔ زید بن ثابتؓ۔ ابی بن کعبؓ۔ سعد بن عبادہؓ۔ اُمّ ورقہؓ۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ صحابہؓ میں سے بہت سے قرآن کریم کے حافظ تھے۔ جیسا کہ سوانح میں واقعہ بئر معونہ کے ماتحت ذکر آ چکا ہے کہ سنہ ۴ھ ہجری میں بعض قبائل کی درخواست پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۷۰ آدمی لوگوں کو دین سکھانے کے لئے بھیجے تھے جو سب کے سب قرآن کریم کے حافظ تھے۔

جیسا کہ بتایا جا چکا ہے یہ لوگ اپنی اپنی مجالس میں رات دن قرآن سناتے تھے۔ چنانچہ حافظ ابو یعلیٰ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اُس نے کہا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! ابو موسیٰؓ اپنے گھر میں بیٹھے ہیں اور بہت سے لوگ ان کے ارد گرد جمع ہیں اور وہ اُن کو قرآن یاد کرارہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم مجھے وہاں کسی ایسی جگہ پر بٹھا سکتے ہو جہاں سے وہ لوگ مجھے نہ دیکھ سکیں۔ اُس نے کہا ہاں۔ اس پر وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے گیا اور گھر کے کسی ایسے کونہ میں جا کر بٹھا دیا جہاں لوگوں کو آپ نظر نہیں آتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسیٰ کی قراءت کو سنا تو وہ بالکل درست تھی اور بہت اچھی طرح وہ قرآن پڑھ رہے تھے اس پر آپ نے فرمایا اِنَّهٗ لَيَقْرَأُ عَلٰى مِزْمَارٍ مِنْ مَّزَامِيْرِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وہ تو داؤد علیہ السلام کے خوبصورت طریق پر قرآن پڑھ رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علاوہ ان چار حافظوں کے جن کو آپ نے استاذ الاساتذہ مقرر کیا تھا باقی لوگوں کی قرأت کا بھی امتحان لیتے رہتے تھے اور ان کی نگرانی رکھتے تھے تا کہ وہ کوئی غلطی نہ کر بیٹھیں۔

صرف ایک ہی جگہ پر نہیں صحابہؓ کی مختلف مجالس میں قرآن پڑھایا جاتا تھا۔ حضرت امام احمدؒ اپنی کتاب میں جابر بن عبداللہؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو لوگ بیٹھے ہوئے قرآن شریف پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا ہاں قرآن پڑھو اور خوب پڑھو اور اللہ کی رضا حاصل کرو۔ پیشتر اس کے کہ وہ قوم آئے جو قرآن کے لفظوں کو تو صحیح پڑھے گی لیکن مزدوری اور دُنیوی فائدہ کے لئے پڑھے گی۔ اپنے نفس کی اصلاح کے لئے نہیں۔ جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ ہماری اِس مجلس میں نہ صرف مہاجر اور انصار تھے بلکہ عجمی اور اعرابی بھی اس میں شامل تھے یعنی جنگلوں کے رہنے والے اور غیر عربی لوگ بھی۔

قراء کی تعداد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اتنی بڑھ چکی تھی کہ وہ ہزاروں کی تعداد تک پہنچ گئے تھے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے معا ًبعد جب مسیلمہ نے بغاوت کر کے ایک لاکھ سپاہیوں کے ساتھ مدینہ پر حملہ کر دیا اور ان کے مقابلہ کے لئے حضرت ابوبکرؓ نے خالدؓ بن ولید کو تیرہ ہزار سپاہیوں کے ساتھ بھیجا تو اُس وقت بعض نئے نئے مسلمان ہونے والے لوگوں کی کمزوری کی وجہ سے متواتر مسلمانوں کو ضمنی طور پر شکست پر شکست ہونے لگی یعنی یہ تو نہیں تھا کہ لشکرِ اسلامی بھاگ گیا ہو لیکن اِس کو کئی مقام چھوڑنے پڑے تھے۔ اِس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ میں سے جو لوگ قرآن کریم کے حافظ تھے اُنہوں نے کہا کہ آپ اس سارے لشکر سے مسیلمہ کا مقابلہ نہ کریں صرف ہم لوگ جو قرآن شریف کے جاننے والے ہیں ہمیں ایک الگ لشکر کی صورت میں ترتیب دے کر اُس کے مقابلہ کے لئے آگے کریں کیونکہ ہم اسلام کی قیمت جانتے ہیں اور اس کے بچانے کے لئے اپنی جانیں دینے کی قدر ہمیں معلوم ہے۔ اُن کی اِس بات کو خالدؓ بن ولید نے مان لیا اور قرآن شریف کے حفاظ صحابہؓ کو الگ کر دیا اور وہ تین ہزار نکلے۔ ان تین ہزار آدمیوں نے اِس شدت سے مسیلمہ کے لشکر پر حملہ کیا کہ اُس کو پیچھے ہٹ کر ایک محدود مقام میں محصور ہونا پڑا اور آخر اس کا لشکر تباہ ہو گیا۔ اُس وقت ان حفاظ صحابہؓ نے شعارِ جنگ کے الفاظ یہ مقرر کئے تھے۔

’’اے سورۃ بقرہ کے حافظو‘‘۔

یہ شعار انہوں نے اس لئے مقرر کیا کہ سورۃ بقرہ قرآن مجید کی سورتوں میں سے سب سے لمبی ہے۔ اِس لڑائی میں پانچ سَو قاری صحابی شہید ہوئے۔ اِن واقعات سے پتہ لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی قرآن کریم لکھا بھی جاتا تھا، حفظ بھی کیا جاتا تھا اور ہزاروں آدمی قرآن شریف کو شروع سے لے کر آخر تک یاد رکھتے تھے۔

ایک جِلد میں قرآن مجید کا جمع کرنا

جو بات اس وقت تک نہ ہوئی تھی، وہ صرف یہ تھی کہ ایک جِلد میں قرآن شریف جمع نہیں ہوا تھا۔ جب یہ پانچ سَو قرآن کا حافظ اس لڑائی میں مارا گیا۔ تو حضرت عمؓر حضرت ابوبکؓر کے پاس گئے اور اُنہیں جا کے کہا کہ ایک لڑائی میں پانچ سَو حافظ قرآن شہید ہوا ہے اور ابھی تو بہت سی لڑائیاں ہمارے سامنے ہیں۔ اگر اور حفاظ بھی شہید ہو گئے تو لوگوں کو قرآن کریم کے متعلق شبہ پیدا ہو جائے گا اس لئے قرآن کو ایک جلد میں جمع کر دینا چاہئے۔ حضرت ابوبکؓر نے پہلے تو اس بات سے انکار کیا لیکن آخر آپ کی بات مان لی۔ حضرت ابوبکؓر نے زید بن ثابؓت کو اس کام کے لئے مقرر کیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں قرآن کریم لکھا کرتے تھے اور کبار صحابؓہ ان کی مدد کے لیے مقرر کیے۔ گو ہزاروں صحابؓہ قرآن شریف کے حافظ تھے لیکن قرآن شریف کے لکھتے وقت ہزاروں صحابؓہ کو جمع کرنا تو ناممکن تھا اس لئے حضرت ابوبکؓر نے حکم دے دیا کہ قرآن کریم کو تحریری نسخوں سے نقل کیا جائے اور ساتھ ہی یہ احتیاط کی جائے کہ کم سے کم دو حافظ قرآن کے اور بھی اس کی تصدیق کرنے والے ہوں۔ چنانچہ متفرق چمڑوں اور ہڈیوں پر جو قرآن شریف لکھا ہوا تھا وہ ایک جگہ پر جمع کر دیا گیا اور قرآن شریف کے حافظوں نے اس کی تصدیق کی۔ اگر قرآن شریف کے متعلق کوئی شبہ ہو سکتا ہے تو محض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور اس وقت کے درمیانی عرصہ کے متعلق ہو سکتا ہے مگر کیا کوئی عقلمند یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ جو کتاب رواز نہ پڑھی جاتی تھی اور جو کتاب ہر رمضان میں اونچی آواز سے پڑھ کر دوسرے مسلمانوں کو حفاظ سناتے تھے اور جس ساری کی ساری کتاب کو ہزاروں آدمیوں نے شروع سے لے کر آخر تک حفظ کیا ہوا تھا اور جو کتاب گو ایک جلد میں اکٹھی نہیں کی گئی تھی، لیکن بیسیوں صحابؓہ اس کو لکھا کرتے تھے اور ٹکڑوں کی صورت میں لکھی ہوئی وہ ساری کی ساری موجود تھی اُسے ایک جلد میں جمع کرنے میں کسی کو دقت محسوس ہو سکتی تھی۔ اور پھر کیا ایسے شخص کو دقت ہو سکتی تھی جو خود

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن کی کتابت پر مقرر تھا اور اُس کا حافظ تھا اور جبکہ قرآن روزانہ پڑھا جاتا تھا۔ کیا یہ ہوسکتا تھا کہ اِس جلد میں کوئی غلطی ہو جاتی اور باقی حافظ اس کو پکڑ نہ لیتے۔ اگر اس قسم کی شہادت پر شبہ کیا جائے تو پھر تو دنیا میں کوئی دلیل باقی نہیں رہتی۔ حق یہ ہے کہ دنیا کی کوئی تحریر ایسے تواتر سے دنیا میں قائم نہیں جس تواتر سے قرآن شریف قائم ہے۔ حضرت ابوبکرؓ کے بعد حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں یہ شکایت آئی کہ مختلف قبائل کے لوگ مختلف قراءتوں کے ساتھ قرآن کریم کو پڑھتے ہیں اور غیر مسلموں پر اس کا بُرا اثر پڑتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم کے کئی نسخے ہیں۔ اس قراءت کے متعلق میں اُوپر لکھ چکا ہوں کہ اس قراءت سے مراد یہ ہے کہ کوئی قبیلہ کسی حرف کو زبر سے پڑھتا ہے دوسرا زیر سے پڑھتا ہے تیسرا پیش سے پڑھتا ہے اور یہ بات سوائے عربی کے اور کسی زبان میں نہیں پائی جاتی۔ اس لئے عربی نہ جاننے والا آدمی جب یہ سنے گا تو وہ سمجھے گا کہ یہ کچھ کہہ رہا ہے اور وہ کچھ کہہ رہا ہے حالانکہ کہہ وہ ایک ہی بات رہے ہوں گے۔ پس اس فتنہ سے بچانے کے لئے حضرت عثمانؓ نے یہ تجویز فرمائی کہ حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں جو نسخہ لکھا گیا تھا اس کی کاپیاں کروائی جائیں اور مختلف ملکوں میں بھیج دی جائیں اور حکم دے دیا جائے کہ بس اسی قراءت کے مطابق قرآن پڑھنا ہے اور کوئی قراءت نہیں پڑھنی۔ یہ بات جو حضرت عثمانؓ نے کی بالکل معیوب نہ تھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عرب لوگ قبائلی زندگی بسر کرتے تھے یعنی ہر قبیلہ دوسرے قبیلہ سے الگ رہتا تھا اس لئے وہ اپنی اپنی بولی کے عادی تھے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر جمع ہو کر عرب لوگ متمدن ہوگئے اور ایک عامی زبان کی بجائے عربی زبان ایک علمی زبان بن گئی۔ کثرت سے عرب کے لوگ پڑھنے اور لکھنے کے علم سے واقف ہوگئے جس کی وجہ سے ہر آدمی خواہ کسی قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا اُسی سہولت سے وہ لفظ ادا کرسکتا تھا جس طرح علمی زبان میں وہ لفظ بولا جاتا تھا جو درحقیقت ملک کی زبان تھی۔ پس کوئی وجہ نہ تھی کہ جب سارے لوگ ایک علمی زبان کے عادی ہو چکے تھے اُنہیں پھر بھی اجازت دی جاتی کہ وہ اپنے قبائلی تلفظ کے ساتھ ہی قرآن شریف کو پڑھتے چلے جائیں اور غیر قوموں کے لئے ٹھوکر کا موجب بنیں۔ اس لئے حضرت عثمانؓ نے ان حرکات کے ساتھ قرآن شریف کو لکھ کر جو مکہ کی

زبان کے مطابق تھیں سب ملکوں میں کاپیاں تقسیم کر دیں اور آئندہ کے متعلق حکم دے دیا کہ سوائے مکی لہجہ کے اور کسی قبائلی لہجہ میں قرآن شریف نہ پڑھا جائے ۔ اِس امر کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یورپ کے مصنف اور دوسری قوموں کے مصنف ہمیشہ یہ اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ نے کوئی نیا قرآن بنا دیا تھا یا عثمانؓ نے کوئی نئی تبدیلی قرآن کریم میں کر دی تھی لیکن حقیقت وہ ہے جو میں نے اُوپر بیان کی ۔ وہ مصنف اپنے خیال میں قرآن شریف پر بڑا بھاری اعتراض کرتے ہیں اور وہ لوگ جو عربی زبان سے واقف ہیں اور قرآن کریم کی تاریخ سے آگاہ ہیں وہ اُن کے اعتراض کو پڑھ کر اُن کی جہالت پر ہنستے ہیں ۔

یہ بات ثابت کر چکنے کے بعد کہ حضرت عثمانؓ کے زمانہ تک قرآن کریم اُسی شکل میں موجود تھا جس شکل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اب میں یہ بتاتا ہوں کہ حضرت عثمانؓ کے بعد یہ تواتر اور بھی زیادہ مضبوط ہو گیا ۔ حضرت عثمانؓ نے قرآن کریم کے نسخے مختلف ممالک میں پھیلا دیئے تو اُن سے اتنی نقلیں کی گئیں اور اِس کثرت سے قرآن کریم پھیلا کہ قریباً ہر تعلیم یافتہ آدمی کے پاس قرآن کریم موجود ہوتا تھا ۔ چنانچہ جب حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان لڑائی ہوئی تو اس کے متعلق تاریخوں میں آتا ہے کہ حضرت معاویہؓ کے تمام سپاہیوں نے قرآن شریف اپنے نیزوں پر لٹکا کر یہ نعرے لگائے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان قرآن فیصلہ کرے گا ۔ اِس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس زمانہ میں قریباً ہر فرد بشر کے پاس قرآن شریف کا نسخہ ہوتا تھا ۔

قرآن شریف کو مسلمان حفظ کرتے رہے اور اِس کے نسخے لکھتے رہے

چونکہ قرآن شریف کے پڑھنے اور لکھنے اور پھیلانے کو بہت بڑا ثواب قرار دیا گیا تھا اِس لئے اسلامی حکومت میں بڑے بڑے علماء اور بادشاہ تک قرآن کریم کی کاپیاں لکھا کرتے تھے ۔ عرب اور اس کے اردگرد کے بادشاہوں اور علماء کا تو ذکر چھوڑو ہندوستان جیسے ملک میں جو عرب سے بہت دُور واقع ہوا تھا اور جہاں ہندو رسم و رواج غالب آچکا تھا مغل بادشاہ اورنگ زیب اپنی فرصت کے اوقات میں قرآن شریف لکھا کرتا تھا ۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ اُس نے اپنی عمر میں سات نسخے قرآن کریم کے

لکھے۔ پھر مسلمانوں میں حفظِ قرآن کی شروع سے اتنی کثرت پائی جاتی ہے کہ ہر زمانہ میں ایک لاکھ سے دو لاکھ تک حافظ دنیا میں موجود رہا ہے بلکہ اِس سے بھی بہت زیادہ حافظ دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ حافظ اُس کو کہتے ہیں جو شروع سے لے کر آخر تک اس کے تمام حصوں کو یاد رکھتا ہے۔ عام طور پر یورپین مصنف اپنی ناواقفی کی وجہ سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ جبکہ دنیا میں بائبل کا کوئی حافظ نہیں ملتا تو قرآن شریف کا کوئی حافظ کہاں ہو سکتا ہے حالانکہ قرآن کریم کا یہ معجزہ ہے کہ وہ ایسی سریلی زبان میں نازل ہوا ہے کہ اِس کا حفظ کرنا نہایت ہی آسان ہے۔

میرا بڑا لڑکا ناصر احمد جو آکسفورڈ کا بی۔ اے آنرز اور ایم اے ہے میں نے اُسے دُنیوی تعلیم سے پہلے قرآن کریم کے حفظ پر لگایا اور وہ سارے قرآن کا حافظ ہے۔ قادیان میں دو ڈاکٹر حافظ ہیں۔ اِسی طرح اور بہت سے گریجوایٹ اور دوسرے لوگ حافظ ہیں۔ جن ڈاکٹروں کا میں نے ذکر کیا ہے اُن میں سے ایک نے صرف چار پانچ مہینے میں قرآن شریف حفظ کیا تھا چوہدری سر ظفر اللہ صاحب حج فیڈرل کورٹ آف انڈیا (حال وزیر خارجہ پاکستان) کے والد صاحب نے اپنی آخری عمر میں جبکہ وہ قریباً ساٹھ سال کے تھے، چند مہینوں میں سارا قرآن حفظ کر لیا تھا۔ حافظ غلام محمد صاحب سابق مبلغ ماریشس نے تین مہینہ میں قرآن شریف حفظ کیا تھا۔ نواب جمال الدین خاں صاحب جو ایک سابق والیۂ ریاست بھوپال کے خاوند تھے اُن کے ایک نواسے مجھے حج میں ملے تھے جنہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ اُنہوں نے ایک مہینہ میں سارا قرآن شریف حفظ کیا تھا۔ اِس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ قرآن کریم کی عبارت اس قسم کی ہے کہ اس کا حفظ کرنا دو بھر معلوم نہیں ہوتا۔ میں نے بڑے بڑے بوڑھے لوگوں سے سنا ہے کہ میرے جد امجد مرزا گل محمد صاحب جو عالمگیر ثانی کے وقت میں تھے باوجود اس کے کہ کوئی بہت بڑے رئیس نہیں تھے اُن کی ریاست صرف اڑھائی سو مربع میل کے علاقہ پر حاوی تھی، اِن کے دربار میں پانچ سَو حافظ موجود رہتا تھا۔ ہندوستان جیسے ملک میں جو عربی زبان سے بہت ہی ناواقف ہے، بعض حصے ایسے پائے جاتے ہیں جن میں صدیوں سے اکثر لوگ حافظ چلے آتے ہیں۔

ایک ترکیب مسلمانوں نے قرآن کریم کی حفاظت کی یہ بھی اختیار کر رکھی ہے اور جس ترکیب پر صدیوں سے عمل ہوتا چلا آ رہا ہے کہ جو پیدائشی نابینا ہوتے ہیں ان کو قرآن شریف حفظ کرا دیتے ہیں اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ نابینا کوئی دُنیوی کام تو کر نہیں سکتا کم سے کم وہ قرآن کی خدمت ہی کرے گا۔ یہ رواج اتنا غالب ہے کہ لاکھوں مسلمان نابینوں کو بغیر پوچھے اور بغیر دریافت کئے ایک ہندوستانی ملتے ہی حافظ صاحب کے نام سے یاد کرے گا یعنی وہ جس نے سارا قرآن یاد کیا ہوا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ نابینوں میں سے اتنے حافظِ قرآن ہوتے ہیں کہ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ہو ہی نہیں ہو سکتا کہ کوئی نابینا ہو اور قرآن کا حافظ نہ ہو۔ ہر رمضان میں ساری دنیا کی ہر بڑی مسجد میں سارا قرآن کریم حافظ لوگ حفظ سے بلند آواز کے ساتھ ختم کرتے ہیں۔ ایک حافظ امامت کراتا ہے اور دوسرا حافظ اُس کے پیچھے کھڑا ہوتا ہے تا اگر کسی جگہ پر وہ بھول جائے تو اُس کو یاد کرائے۔ اِس طرح ساری ہی دنیا میں لاکھوں جگہ پر قرآن کریم صرف حافظ سے دُہرایا جاتا ہے۔ یہی وہ باتیں ہیں جن کی وجہ سے یورپ کے دشمنوں کو بھی تسلیم کرنا پڑا ہے کہ قرآن کریم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک بالکل محفوظ چلا آتا ہے اور یہ کہ یقینی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس شکل میں قرآن کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو دیا تھا اُسی شکل میں آج موجود ہے۔ چنانچہ ذیل میں ہم بعض یورپین مصنفین کی گواہی پیش کرتے ہیں:۔

(۱) سر ولیم میور اپنی کتاب لائف آف محمد صفحہ ۲۸ میں بحث کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

``What we now have, though Possibly Corrected and modified himself, is still his own``.۵۳۵

ترجمہ: گو یہ ممکن ہے کہ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) نے قرآن خود ہی بنایا تھا مگر جو قرآن ہمارے پاس آج موجود ہے یہ وہی ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔

(۲) پھر لکھتے ہیں:

``We may upon the Strongest presumption affirm that every verse in the Quran is genuine and unaltered composition of Mohammad himself``.۵۳۶

ترجمہ: ہم نہایت مضبوط قیاسات کی بناء پر کہہ سکتے ہیں کہ ہر ایک آیت جو قرآن میں ہے وہ اصلی ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی غیر محرف تصنیف ہے۔

(۳) پھر یہ بحث کرنے کے بعد کہ قرآن کی ترتیب ہماری سمجھ نہیں آتی لکھتے ہیں کہ:۔ ``There is otherwise every security internal and external that we possess a text the Same as that which Mohammad himself gave forth and used.``۵۳۷ ترجمہ: اس کے علاوہ ہمارے پاس ہر ایک قسم کی ضمانت موجود ہے اندرونی شہادت کی بھی اور بیرونی کی بھی کہ یہ کتاب جو ہمارے پاس ہے وہی ہے جو خود محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دنیا کے سامنے پیش کی تھی اور اسے استعمال کیا کرتے تھے۔

(۴) پھر لکھتے ہیں: ``And we conclude with at least a close approximation to the verdict of VON Hammer that we hold the Quran to be as suerly Mohammad,s word as the Mohammadns held it to be the word of God``.۵۳۸ ترجمہ: ہم وان ہیمر کے مندرجہ ذیل فیصلہ کے بالکل مطابق نہ سہی کم سے کم اُس کے خیال کے بہت موافق فیصلہ تک پہنچتے ہیں وہ وان ہیمر کا فیصلہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں جو قرآن موجود ہے اس کے متعلق ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کا غیر محرف کلام ہے جس یقین سے مسلمان کہتے ہیں کہ وہ خدا کا غیر مبدل کلام ہے۔

(۵) ’’نولڈ کے‘‘ کا قول ہے: ``Slight clerical errors there may have been but the Quran of Othman contains none but genuine elements, though sometimes in very strange order Efforts of European scholars to prove the existence of later interpation in the Quran have failed``۵۳۹ ترجمہ: ممکن ہے کہ تحریر کی کوئی معمولی غلطیاں (طرزِ تحریر کی) ہوں تو ہوں، لیکن جو قرآن عثمانؓ نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا اُس کا مضمون وہی ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پیش کیا تھا۔ گو اس کی ترتیب عجیب ہے ۔ یورپین علماء کی یہ کوششیں کہ وہ ثابت کریں کہ قرآن میں بعد کے زمانہ میں بھی کوئی تبدیلی ہوئی ہے بالکل ناکام ثابت ہوئی ہیں ۔

ترتیب سُوَر و آیات

قرآن کریم کی سورتوں کے متعلق بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ حضرت عثمانؓ کی قائم کردہ ہے لیکن یہ بالکل غلط بات ہے ۔ حدیثوں سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں سارا قرآن شریف نماز میں پڑھتے تھے اور بعض دفعہ دوسرے صحابہؓ بھی آپ کے ساتھ شامل ہو جاتے تھے ۔ اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے کہ رمضان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سارا قرآن جبریل کو پڑھ کر سنایا کرتے تھے ۵۴؎ اب ایک غیر مسلم چاہے یہ نہ مانے کہ آپ جبریل کو پڑھ کر سنایا کرتے تھے مگر اتنا اُسے ماننا پڑے گا کہ آپ اُسے کسی ترتیب سے پڑھتے تھے اگر کوئی ترتیب نہیں تھی تو آپ پڑھتے کس طرح تھے؟

اِسی طرح حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت علیؓ ایک عرصہ تک حضرت ابوبکرؓ سے ملنے نہ گئے حضرت ابوبکرؓ نے اُن کو بلوایا اور پوچھا کہ علیؓ! کیا آپ میری خلافت پر ناراض ہیں؟ حضرت علیؓ نے فرمایا نہیں میں ناراض نہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ قسم کھائی تھی کہ میں قرآن کریم کو اُس ترتیب سے لکھ دوں گا جس ترتیب کے ساتھ وہ نازل ہوا تھا ۔ اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن شریف کسی ترتیب سے پڑھا جاتا تھا مگر وہ ترتیب نزول والی ترتیب نہیں تھی ۔ اِس لیے حضرت علیؓ نے خیال کیا کہ وہ قرآن کریم اُس کے نزول کی ترتیب کے لحاظ سے بھی لکھ دیں تاکہ تاریخی طور پر یہ حقیقت بھی لوگوں کے لئے محفوظ ہو جائے ۔ اِسی طرح حدیثوں میں آتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب کوئی آیت نازل ہوتی تھی تو آپ لکھنے والے کو بلا کر فرماتے تھے کہ اسے فلاں سورۃ میں داخل کر دو ۔ ۵۵؎ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترتیب کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو الہامی طور پر بتایا جاتا تھا کہ فلاں آیت کو فلاں جگہ رکھا جائے اور فلاں آیت کو فلاں جگہ ۔ مگر سب سے بڑی شہادت واقعاتی شہادت ہے قرآن شریف

ہمارے پاس موجود ہے اِس کی سورتوں پر نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تمام سورتوں کے مضامین آپس میں ترتیب رکھتے ہیں۔ اگر قرآن کی سورتیں بغیر ترتیب کے نازل ہوئی تھیں اور حضرت عثمانؓ نے اُن کو صرف اِن کی لمبائی چھوٹائی کے لحاظ سے انہیں آگے پیچھے رکھ دیا تو سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں یہ کس طرح ممکن تھا کہ ان سورتوں کے مضامین بھی آپس میں ملنے لگ جاتے۔ سورۃ فاتحہ مکہ میں نازل ہوئی تھی موجودہ قرآن میں وہ سب سے پہلے رکھی ہوئی ہے۔ سورۃ بقرہ ہجرت کے بعد نازل ہوئی درمیان میں نازل ہونے والی بہت سی سورتوں کو چھوڑ کر سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ بقرہ رکھ دی گئی ہے۔ یورپین مصنف کہتے ہیں کہ سورۃ بقرہ چونکہ سب سے لمبی سورۃ ہے اِس لئے وہ قرآن میں اور سورتوں سے پہلے رکھ دی گئی ہے۔ اوّل تو اس پر یہ اعتراض ہے کہ سورۃ بقرہ پہلی سورۃ نہیں پہلی سورۃ سورۃ فاتحہ ہے۔ اور وہ تو صرف سات آیتوں پر مشتمل ہے اس کو پہلے کیوں رکھا گیا ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر اتفاقی طور پر صرف لمبا ہونے کی وجہ سے سورۃ بقرہ کو سورۃ فاتحہ کے بعد رکھا گیا ہے تو اِس کا کیا جواب ہے کہ سورۃ فاتحہ میں یہ دعا آتی ہے کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ(1:6) الٰہی تو مجھے سچا راستہ دکھا اور سورہ بقرہ اِن الفاظ سے شروع ہوتی ہے کہ ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ(2:3) یہی وہ کامل کتاب ہے اِس میں کوئی شبہ نہیں جو متقیوں کے لئے ہدایت کے طور پر بھیجی گئی ہے۔ آخر یہ کس طرح ہوا کہ اِس اتفاقی حادثہ کے ساتھ دونوں کے مضامین بھی آپس میں مل گئے۔ ایک کے آخر میں ہدایت کے لئے دعا ہے اور دوسری کے شروع میں اُس دعا کی قبولیت میں ہدایت دینے کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ صرف ایک مثال نہیں سورۃ فاتحہ سے لے کر قرآن کریم کے آخر تک تمام سورتوں کے مضامین آپس میں ملتے چلے جاتے ہیں حالانکہ کبھی پہلی سورۃ مدنی ہوتی ہے اور دوسری مکی اور کبھی دوسری مدنی ہوتی ہے اور پہلی مکی۔ پس قرآن شریف کے مضامین کی ترتیب صاف بتا رہی ہے کہ قرآن کریم کی موجودہ ترتیب الٰہی منشاء کے ماتحت ہے۔

رہا یہ سوال کہ نزول کی ترتیب بدل کر ایک دوسری ترتیب کیوں دی گئی، تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب قرآن شریف نازل ہوا اُس وقت لوگ اسلامی مسائل سے بالکل ناواقف تھے۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز اُن کو بتانی ضروری تھی تاکہ اسلامی تعلیم پس پردہ اُن کے دماغوں میں قائم ہو جائے۔ اس کے بعد پھر اسلامی شریعت کی تفصیلات بیان ہوسکتی تھیں۔ پس پہلے چھوٹی چھوٹی سورتیں ایسے مضامین کے متعلق نازل کی گئیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ابتدائی زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتی تھیں جن میں اوّل تو چند اُصولی باتیں بیان کی گئی تھیں کہ خدا ایک ہے، غریبوں سے رحم کا سلوک کرنا چاہئے، خدا تعالیٰ کی عبادت میں اپنی زندگی بسر کرنی چاہئے، خدا تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہئے اور ساتھ ہی یہ باتیں بھی بتائی گئی تھیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کس کس رنگ میں مخالفت ہوگی، مخالفوں کا کیا انجام ہوگا، مومنوں کے ساتھ کیا سلوک ہوگا اور کس طرح اسلام ترقی کرے گا۔ مگر جوں جوں اسلام بڑھتا چلا گیا اور مسلمانوں کو ترقیا ت حاصل ہونی شروع ہوئیں تفصیلات شریعت بھی نازل ہونے لگیں۔ پس یہ نزول کی ترتیب اُس زمانہ کے لحاظ سے نہایت ضروری تھی۔ مگر جب قرآن شریف سارا نازل ہو گیا۔ لاکھوں آدمی دنیا میں مسلمان ہو گیا اور غیر قومیں بھی اسلام کے پس پردہ سے ایک حد تک واقف ہوگئیں تو اب اُن کے سامنے مسائل کو ایک نئے رنگ اور نئے زاویہ سے پیش کرنا ضروری تھا۔ پس اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نئی ترتیب سے قرآن شریف کو آئندہ زمانہ کیلئے مرتب کر دیا۔ یہ قرآن کریم کا عظیم الشان معجزہ ہے کہ نزول کے زمانہ کے لحاظ سے نزول قرآن والی ترتیب بالکل مناسب حال تھی اور اسلام کے پھیل جانے اور قرآن کریم کے مکمل ہو جانے کے بعد آئندہ زمانہ کیلئے اُس کی وہی ترتیب مناسب حال تھی جو اِس وقت پائی جاتی ہے۔ ایک کتاب جو مختلف ٹکڑوں میں نازل ہوئی، مختلف زمانوں میں نازل ہوئی اِس کو دو ترتیبوں سے دنیا کے سامنے پیش کرنا اور ایسی صورت میں پیش کرنا کہ دونوں کی دونوں کامیاب اور اعلیٰ درجہ کی ہوں، یہ سوائے خدا تعالیٰ کے اور کسی کا کام نہیں ہوسکتا۔ قرآن کریم کی سورتوں کی ترتیب اس تفسیر کے پڑھنے والے ہر سورۃ کے ابتدائی نوٹوں سے خوب اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔

قرآن شریف میں پیشگوئیاں

میں دیباچہ کے شروع میں یہ بیان کر چکا ہوں کہ قرآن شریف کے متعلق پہلے انبیاء نے پیشگوئیاں کی ہیں۔ اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ خود قرآن کریم میں بھی پیشگوئیاں موجود ہیں اور یورپین مصنفین

کا یہ خیال کہ قرآن کریم میں پیشگوئیاں نہیں، بالکل غلط ہے۔ قرآن کریم تو شروع ہی پیشگوئی سے ہوا ہے۔ چنانچہ اس کی پہلی چند آیتوں ہی میں جو غارِ حراء میں نازل ہوئی تھیں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ قرآن کریم کے ذریعہ وہ علوم بیان کئے جائیں گے جو اس سے پہلے انسان کو معلوم نہیں تھے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نے وہ باتیں بیان کی ہیں جو پہلی کتابوں نے بیان نہیں کی تھیں۔ اور اُن کی غلطیاں نکالی ہیں اور اِس زمانہ میں اُن کی تصدیق ہو رہی ہے مثلاً

(۱) قرآن کریم نے یہ بتایا تھا کہ فرعون کی لاش اُس کے ڈوبنے کے وقت ہی بچا لی گئی اور محفوظ کر دی گئی تھی تاکہ وہ آئندہ زمانہ کے لوگوں کیلئے نشان کے طور پر کام آئے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ وَجٰوَزۡنَا بِبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡبَحۡرَ فَاَتۡبَعَہُمۡ فِرۡعَوۡنُ وَجُنُوۡدُہٗ بَغۡیًا وَّعَدۡوًا ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَدۡرَکَہُ الۡغَرَقُ ۙ قَالَ اٰمَنۡتُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیۡۤ اٰمَنَتۡ بِہٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِیۡلَ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ آٰلۡـٰٔنَ وَقَدۡ عَصَیۡتَ قَبۡلُ وَکُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ فَالۡیَوۡمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَکَ اٰیَۃً ؕ وَاِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ(10:91-93) ترجمہ: ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار سلامتی سے اُتار دیا اور اُن کے بعد فرعون اور اُس کا لشکر سرکشی اور دشمنی سے ان کے پیچھے آیا اور پیچھا کرتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ اِس کے غرق کرنے کے ہم نے سامان کر دیئے۔ اُس وقت فرعون نے کہا میں ایمان لاتا ہوں کہ بنواسرائیل جس خدا پر ایمان لائے ہیں اُس کے سوا اور کوئی خدا نہیں۔ تب ہم نے کہا تو اب ایمان لاتا ہے اور اِس سے پہلے تو نے خوب فساد مچا رکھا تھا۔ پس اب تیرے اِس ناقص ایمان کے بدلہ میں تیرے جسم کو نجات دیں گے تا (تیرا جسم) ہمیشہ ہمیش کے بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے عبرت کا موجب ثابت ہو اور لوگوں میں سے اکثر ہمارے نشانوں سے غافل رہتے ہیں۔

یہ مضمون نہ بائبل میں مذکور ہے نہ یہودیوں کی تاریخ میں مذکور ہے نہ کسی اور معروف تاریخ میں مذکور ہے۔ تیرہ سو سال پہلے قرآن نے یہ خبر دی اور اِس خبر دینے کے تیرہ سو سال کے بعد فرعونِ موسیٰ کی ممی مل گئی۔ جس سے معلوم ہوا کہ ڈوبنے کے بعد اِس کی لاش ضائع نہیں ہوگئی تھی

بلکہ بچائی گئی تھی اُسے حنوط کیا گیا تھا اور وہ محفوظ کر دی گئی تھی۔ ہو سکتا تھا کہ حنوط کرنے کے باوجود اُن بہت سے تغیرات کی وجہ سے جو مصر میں ہوئے فرعونِ موسیٰ کی لاش ضائع ہو جاتی۔ مگر اُس کی لاش محفوظ رہی اور اِس وقت دنیا کے سامنے عبرت کا نمونہ پیش کر رہی ہے اور قرآن کریم کی سچائی پر گواہی دے رہی ہے۔

(۲) پھر قرآن کریم کے شروع نزول میں ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا وَالَّیۡلِ اِذَا یَغۡشٰی(92:2) ۵۴۵ ہم رات کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو ڈھانپ لے گی یعنی اِسلام پر نہایت ہی شدید مصائب نازل ہوں گے۔ یہ پیشگوئی ایسے وقت میں کی گئی تھی جبکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ اُمید نہیں تھی کہ میری قوم مجھ سے دشمنی کرے گی کیونکہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی بیوی کے رشتہ دار ورقہ بن نوفل نے کہا کہ تم پر وہی فرشتہ الہام لے کر نازل ہوا ہے جو موسیٰ کی طرف نازل ہوا تھا اور یہ کہ تمہاری قوم تمہیں دکھ دے گی اور تمہیں اپنے وطن سے نکال دے گی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت حیرت سے اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ میری قوم مجھے کس طرح نکال دے گی ۵۴۶ یعنی جو اچھے تعلقات میرے اپنی قوم سے ہیں ان کے نتیجہ میں وہ میری مخالف نہیں ہو سکتی۔ مگر اُس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتا دیا کہ اِسلام اور مسلمانوں کے لئے ایک سخت تاریک رات آنے والی ہے۔ چنانچہ وہ رات آئی اور قریباً دس سال تک رہی۔ ان دس سالوں کی خبر بھی قرآن کریم نے دوسری جگہ بتا دی تھی۔

(۳) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ الْفَجْرِ ۙ۔ وَ لَيَالٍ عَشْرٍ ۙ ۵۴۷ ہم صبح کے طلوع کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اُن دس راتوں کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو اس طلوع فجر سے پہلے آئیں گی۔ میور اور دوسرے یورپین مصنف تسلیم کرتے ہیں کہ یہ سورۃ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کے تیسرے سال کے قریباً آخر میں نازل ہوئی ہے اُس وقت تک ابھی مکہ کے لوگوں کی مخالفتیں تیز نہیں ہوئی تھیں اُس وقت قرآن کریم نے یہ خبر دے دی تھی کہ تم پر تاریکی کی دس راتیں آئیں گی اور جیسا کہ الہامی کلام کے محاورہ سے ثابت ہے دس راتوں سے مراد دس سال ہوتے ہیں اور بائبل میں یہ محاورہ بڑی کثرت سے استعمال ہوا ہے۔ بائبل میں بالعموم دن کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے لیکن قرآن کریم میں مصیبت کی گھڑیوں کو رات کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے اِس لئے کہ تاریکی کے زمانہ پر رات ہی اچھی طرح دلالت کرتی ہے بہر حال اِس جگہ یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ دس سال متواتر سخت ظلموں کے گزریں گے چنانچہ دیکھ لو اِس پیشگوئی کے بعد متواتر دس سال مسلمانوں پر ظلم ہوتے رہے۔ مکہ والوں کی بدلی ہوئی نگاہوں سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو معلوم کر سکتے تھے کہ مکہ والے مجھ پر ظلم کریں گے مگر کیا کوئی عقلمند کہہ سکتا ہے کہ آپ اُن کی شکلوں سے یہ بھی معلوم کر سکتے تھے کہ ظلموں کا زمانہ دس سال تک لمبا چلا جائے گا؟

کیوں نہ آپ نے پانچ سال کہا، کیوں نہ آپ نے آٹھ سال کہا، کیوں نہ آپ نے بارہ سال کہا، کیوں نہ آپ نے تیرہ سال کہا؟ آپ کے الہام میں دس سال کے الفاظ آئے اور اِس الہام کے بعد آپ دس سال ہی مکہ میں رہے اور تکلیفیں اُٹھاتے رہے۔ دس سال کے بعد طلوعِ آفتاب ہوا اور اس مصیبت کے علاقہ سے آپ کو ہجرت کرنی پڑی اور مدینہ میں خدا نے آپ کی ترقی کے سامان پیدا کر دیئے اور خدا کی مدد کا سورج چڑھ آیا۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ دس سال کی میعاد بھی یونہی اپنے طور پر پیش کر دی گئی تھی۔ مگر کیا یہ بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار میں تھا کہ دس سال کے بعد ایک شہر کے لوگوں کو مسلمان بنالیں اور پھر ہجرت کر کے اُس میں چلے جائیں؟ کیا مدینہ کے لوگوں کو مسلمان بنانا آپ کے اختیار میں تھا؟ پھر کیا یہ بات آپ کے اختیار میں تھی کہ آپ مکہ سے نکل کر سلامتی سے مدینہ پہنچ جائیں؟ مگر یہ سورۃ یہی نہیں بتاتی بلکہ اس میں آگے چل کر یہ بھی بتایا گیا ہے وَالَّیۡلِ اِذَا یَسۡرِ(الفجر: ۵) دس سال کی تکلیف کے بعد ایک طلوع فجر ہو گا، مگر اِس کے بعد بھی ظلمت پوری طرح دور نہ ہو گی بلکہ اس کے بعد بھی ایک رات آئے گی۔ مگر وہ ایک ہی رات آ کر گزر جائے گی۔ پھر اِس کے بعد کوئی رات نہیں آئے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ہجرت کے ایک سال بعد بدر کی جنگ ہوئی اور بدر کی جنگ نے جیسا کہ خود بائبل نے بھی تسلیم کیا ہے اور جیسا کہ میں اُوپر لکھ آیا ہوں قیدار کی ساری شوکت تباہ کر کے رکھ دی۔ اگرچہ بعد میں بھی لڑائیاں ہوئیں اور بڑی بڑی ہوئیں مگر بدر کی جنگ نے مسلمانوں کی ایک آزاد اور با اختیار حکومت قائم کر دی اور دشمن کے چوٹی کے آدمی تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیئے گئے۔

(۴) پھر مکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر دی گئی تھی کہ اِنَّ الَّذِیۡ فَرَضَ(28:86) عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ(۵۴۹) یعنی وہ خدا جس نے تجھ پر قرآن نازل کیا اور اس کی اطاعت فرض کی ہے وہ تجھے اپنی ذات ہی کی قسم کھا کر بتاتا ہے کہ وہ تجھ کو دوبارہ مکہ میں لوٹا کر لائے گا۔ اس خبر میں نہ صرف یہ بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے ہجرت کرنی پڑے گی بلکہ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ہجرت کے بعد آپؐ فاتح کی صورت میں مکہ میں داخل ہوں گے کیا ان حالات میں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش آ رہے تھے آپ اپنے پاس سے ایسی خبر بنا سکتے تھے؟

(۵) اس مفہوم کی قرآن کریم میں ایک اور پیشگوئی بھی ہے اور وہ بھی مکی سورتوں میں نازل ہوئی ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَقُلۡ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّاَخۡرِجۡنِیۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ وَّاجۡعَلۡ لِّیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ سُلۡطٰنًا نَّصِیۡرًا(۵۵۰) یعنی کہہ اے میرے ربّ! مجھے اس شہر میں جہاں تو بھیج رہا ہے کامیابی کے ساتھ داخل کرا اور پھر مجھے کچھ عرصہ کے بعد اس شہر سے کامیابی کے ساتھ حملہ آور ہونے کا موقع عطا فرما اور اس حملہ میں میرا مددگار اور ناصر بن۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آپ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے جائیں گے اور پھر مدینہ سے مکہ پر حملہ کریں گے اور خدا کی مدد سے مکہ فتح کریں گے۔

(۶) اسی طرح آپ مکہ میں ہی تھے کہ آپ کو الہام ہوا۔ اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانۡشَقَّ الۡقَمَرُ(۵۵۱) اسلام کی ترقی کا وقت آ گیا ہے اور عرب کی حکومت تباہ کر دی گئی۔ چاند عرب کا نشان تھا۔ چنانچہ جب کوئی شخص خواب میں چاند دیکھے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اُسے عرب کی حکومت کے حالات بتائے گئے ہیں۔ پس چاند کے پھٹنے کے یہ معنی تھے کہ عرب کی حکومت تباہ ہو جائے گی۔ اُس وقت جب آپ کے صحابہؓ دنیا میں چاروں طرف جان بچائے بھاگے پھرتے تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گلا گھونٹا جاتا تھا اور آپ کی گردن میں پٹکے ڈالے جاتے تھے۔ جب خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے کی بھی آپ کو اجازت نہیں تھی اور جب سارا مکہ آپ کی مخالفت کی آوازوں سے گونج رہا تھا اُس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کو یہ خبر دی کہ عرب کی حکومت کی تباہی کا خدا نے فیصلہ کر دیا ہے اور اسلام کے غلبہ کا وقت آ گیا ہے۔ پھر کس طرح چند سال کے بعد ہی یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔ قیدار کی ساری حشمت توڑ دی گئی۔ اسلام کا جھنڈا بلند کر دیا گیا۔ چاند پھٹ گیا۔ قیامت آ گئی اور ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین بنا دی گئی۔

(۷) آپ ابھی مکہ میں ہی تھے کہ عرب میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ ایرانیوں نے رومیوں کو شکست دے دی ہے اِس پر مکہ والے بہت خوش ہوئے کہ ہم بھی مشرک ہیں اور ایرانی بھی مشرک۔ ایرانیوں کا رومیوں کو شکست دے دینا ایک نیک شگون ہے اور اُس کے معنی یہ ہیں کہ مکہ والے بھی محمد رسول اللہﷺ پر غالب آجائیں گے مگر محمد رسول اللہﷺ کو خدا نے بتایا کہ غُلِبَتِ الرُّوۡمُ فِیۡۤ اَدۡنَی الۡاَرۡضِ وَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ غَلَبِہِمۡ سَیَغۡلِبُوۡنَ فِیۡ بِضۡعِ سِنِیۡنَ(30:3-5) ۵۵۲ رومی حکومت کو شام کے علاقہ میں بےشک شکست ہوئی ہے لیکن اِس شکست کو تم قطعی نہ سمجھو مغلوب ہونے کے بعد رومی پھر ۹ سال کے اندر غالب آجائیں گے۔ اِس پیشگوئی کے شائع ہونے پر مکہ والوں نے بڑے بڑے قہقہے لگائے یہاں تک کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بعض کفار نے سَو سَو اونٹ کی شرط باندھی کہ اگر اتنی شکست کھانے کے بعد بھی روم ترقی کر جائے تو ہم تمہیں سَو اونٹ دیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو تم ہمیں سَو اونٹ دینا۔ بظاہر اِس پیشگوئی کے پورا ہونے کا امکان دور سے دور تر ہوتا چلا جا رہا تھا۔ شام کی شکست کے بعد رومی لشکر متواتر کئی شکستیں کھا کر پیچھے ہٹتا گیا یہاں تک کہ ایرانی فوجیں بحیرہ مارمورا (MARMARA SEA) کے کناروں تک پہنچ گئیں۔ قسطنطنیہ اپنی ایشیائی حکومتوں سے بالکل منقطع ہو گیا اور روم کی زبردست حکومت ایک ریاست بن کر رہ گئی، مگر خدا کا کلام پورا ہونا تھا اور پورا ہوا۔ انتہائی مایوسی کی حالت میں روم کے بادشاہ نے اپنے سپاہیوں سمیت آخری حملہ کے لئے قسطنطنیہ سے خروج کیا اور ایشیائی ساحل پر اُتر کر ایرانیوں سے ایک فیصلہ کن جنگ کی طرح ڈالی۔ رومی سپاہی باوجود تعداد اور سامان میں کم ہونے کے قرآن کریم کی پیشگوئی کے مطابق ایرانیوں پر غالب آئے ایرانی لشکر ایسا بھاگا کہ ایران کی سرحدوں سے ورے اُس کا قدم کہیں بھی نہ ٹھہرا اور پھر دوبارہ رومی حکومت کے افریقی اور ایشیائی مفتوحہ ممالک اس کے قبضہ میں آگئے۔

(۸) یہ تو پرانی باتیں ہیں۔ اسلام نے اس زمانہ کے متعلق بھی بہت سی خبریں دی ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم میں نہر سویز اور نہر ناپامہ کے متعلق خبر دی گئی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ مَرَجَ الۡبَحۡرَیۡنِ یَلۡتَقِیٰنِ بَیۡنَہُمَا بَرۡزَخٌ لَّا یَبۡغِیٰنِ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ(55:20-22)

یَخۡرُجُ مِنۡہُمَا اللُّؤۡلُؤُ وَالۡمَرۡجَانُ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ وَلَہُ الۡجَوَارِ الۡمُنۡشَئٰتُ فِی الۡبَحۡرِ کَالۡاَعۡلَامِ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ(۵۵۳) اِن آیات میں یہ خبر دی گئی ہے کہ دنیا میں دو سمندر ہیں جو ایک دوسرے سے جدا جدا ہیں، لیکن ایک دن آئے گا جب وہ آپس میں ملا دیئے جائیں گے ان میں بڑے بڑے اونچے جہاز سفر کریں گے اور اِن سمندروں کی علامت یہ ہے کہ موتی اور مونگا اُن میں سے نکالا جاتا ہے۔ یہ پیشگوئی بعینہٖ نہر سویز اور نہر پانامہ پر پوری ہوئی۔ موتی اور مونگا بھی وہاں ہوتا ہے بڑے بڑے جہاز بھی اُن میں چلتے ہیں اور دو دو سمندر اِن نہروں کے ذریعہ سے ملا دیئے گئے ہیں۔

اِسی طرح اور بیسیوں پیشگوئیاں ہیں جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں جو اِس زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں جیسا کہ سورۃ کہف کے پڑھنے سے ناظرین کو معلوم ہوگا کہ قرآن کریم میں آخری زمانہ میں عیسائیوں کے غلبہ کی بھی خبر دی گئی ہے۔ دنیا میں اُن کے پھیل جانے کی بھی خبر دی گئی ہے۔ اُن کی سمندری طاقت کی بھی خبر دی گئی ہے۔ اُن کی باہمی لڑائیوں کی بھی خبر دی گئی ہے اور آخر میں اِسلام کی فتح اور کامیابی کی بھی خبر دی گئی ہے۔ اور سب پیشگوئیاں پوری ہوچکی ہیں اب اِسلام کی فتح کی پیشگوئی پوری ہونی باقی ہے۔ یورپ کا عیسائی یا یورپ کا دہریہ اگر اِسلام کی کمزور حالت دیکھ کر ہنستا ہے تو ہنسا کرے مگر جس خدا نے وہ پیشگوئیاں پوری کی ہیں وہی خدا یہ آخری پیشگوئی بھی ضرور پوری کرے گا۔ اِسلام کی فتح کے دن آرہے ہیں تمام تاریکیوں اور تمام ظلمتوں میں سے میں اِسلام کے سورج کو جھانکتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ خدا تعالیٰ کی فوجیں آسمان سے اُتر رہی ہیں۔ بیشک شیطانی فوجوں کا اِس وقت دنیا پر غلبہ ہے لیکن وہ دن قریب سے قریب تر آرہے ہیں جب خدا کی فوجیں شیطان کی فوجوں کو شکست دے دیں گی۔ جب خدا کی توحید دنیا میں پھر قائم ہوگی۔ جب پھر دنیا یہ تسلیم کر لے گی کہ قرآن ہی ایک ایسی کتاب ہے جو خدا اور بندے میں صلح کراتی ہے اور خدا کی بادشاہت کو اِس دنیا میں قائم کرتی ہے اور بنی نوع انسان میں انصاف اور عدل کو قائم کرتی ہے۔

معجزات

عیسائی مؤرخ بالعموم اِس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ قرآن کریم اپنی نسبت معجزات کا مدعی نہیں۔ سوائے اِس کے کہ قرآن کریم کی نسبت یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ایک بے مثل کلام ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اِس سوال پر بھی تمہید میں روشنی ڈالنی ضروری ہے۔

یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم دنیا کے سامنے دو اصل پیش کرتا ہے۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی بعض سنتیں ایسی ہیں جن کو وہ کبھی تبدیل نہیں کرتا۔ مثلاً قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مُردے زندہ ہو کر دوبارہ اِس دنیا میں نہیں آتے۔ یا اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ کوئی انسان خدا تعالیٰ کے سوا حقیقی مخلوق پیدا کرنے پر قادر نہیں ہوتا۔ دنیا میں صناع بھی ہو سکتے ہیں، موجد بھی ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں لیکن حقیقی خالقیت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔ ان دونوں دعوؤں میں سے دعویٰ اوّل یعنی مردوں کے زندہ نہ ہونے کا ذکر سورۃ مؤمنوں میں کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَحَدَہُمُ الۡمَوۡتُ قَالَ رَبِّ ارۡجِعُوۡنِ لَعَلِّیۡۤ اَعۡمَلُ صَالِحًا فِیۡمَا تَرَکۡتُ کَلَّا ؕ اِنَّہَا کَلِمَۃٌ ہُوَ قَآئِلُہَا ؕ وَمِنۡ وَّرَآئِہِمۡ بَرۡزَخٌ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ(23:100-101) یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے ہوتے وقت بعض روحیں یہ استدعا کریں گی کہ وہ واپس جائیں تا کہ وہ دوبارہ نیک اعمال کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ دعا ایسی نہیں جس کو قبول کیا جائے کیونکہ قیامت تک روحوں اور اُس دنیا کے درمیان ایک حدِ فاصل مقرر کر دی گئی ہے اور کوئی روح اِس دنیا کی طرف واپس نہیں لوٹ سکتی۔

اِسی طرح سورۃ انبیاء میں آتا ہے کہ وَحَرٰمٌ عَلٰی قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَاۤ اَنَّہُمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ حَتّٰۤی اِذَا فُتِحَتۡ یَاۡجُوۡجُ وَمَاۡجُوۡجُ وَہُمۡ مِّنۡ کُلِّ حَدَبٍ یَّنۡسِلُوۡنَ(21:96-97) یعنی وہ تمام قومیں جو ہلاک ہو چکی ہیں، اُن کے متعلق ہم یہ قطعی طور پر فیصلہ کر چکے ہیں کہ وہ دوبارہ اِس دنیا میں واپس نہیں آئیں گی یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج کیلئے دروازہ کھول دیا جائے گا اور وہ ہر پہاڑی اور ہر سمندری لہر پر سے دوڑتے ہوئے دنیا میں پھیل جائیں گے۔

اِس آیت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مردے دوبارہ دنیا میں زندہ نہیں ہوا کرتے۔ یہ جو کہا گیا ہے کہ یاجوج و ماجوج کے زمانہ تک ایسا نہیں ہو گا اِس کا یہ مطلب نہیں کہ بعد میں مردے زندہ ہونے لگ جائیں گے بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمانہ قیامت کے قرب کا زمانہ ہے اور اِس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ قیامت کے زمانہ تک ایسا کام نہیں ہوگا۔ بعض نحویوں نے اِس کے یہ

بھی معنی کئے ہیں کہ یاجوج و ماجوج کے زمانہ میں مردوں کو زندہ کرنے کی کوشش کی جائے گی (لیکن اِس زمانہ میں بھی باوجود سائنس کی پوری ترقی کے) اِس بات میں کامیابی حاصل نہیں ہو گی۔ بہرحال قرآن کریم اِس بات کا بھی منکر ہے کہ مردے دوبارہ اِسی دنیا میں زندہ ہو کر آئیں۔ اِسی طرح وہ اِس بات کا بھی منکر ہے کہ کوئی ہستی خدا تعالیٰ کے سوا حقیقی مخلوق پیدا کر سکے۔ چنانچہ اِس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَالَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَخۡلُقُوۡنَ شَیۡئًا وَّہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ ۚ وَمَا یَشۡعُرُوۡنَ ۙ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ(16:21-22) یعنی وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا لوگ امداد کے لئے پکارتے ہیں۔ وہ ذراسی چیز بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں، وہ مردے ہیں زندہ نہیں اور اُن کو تو یہ بھی علم نہیں تھا کہ وہ کب اُٹھا کر خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔ اِسی طرح قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی احمقانہ بات خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی کیونکہ خدا تعالیٰ حکیم ہے یعنی اُس کے سارے کام حکمت کے ساتھ ہوتے ہیں چنانچہ قرآن کریم میں علاوہ اِس کے کہ خدا تعالیٰ کا نام حکیم رکھا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا لَکُمۡ لَا تَرۡجُوۡنَ لِلّٰہِ وَقَارًا(71:14) اے اِسلام کے دشمنو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اپنے متعلق تو یہ ثابت کرنا چاہتے ہو کہ تمہارے کام حکمت کے مطابق ہیں مگر خدا تعالیٰ کے متعلق یہ بات تسلیم نہیں کرتے اور اِس کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہو جو حکمت کے خلاف ہوتی ہیں۔ یہ تین باتیں یا اِسی قسم کی اور باتیں اگر خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کی جائیں تو خواہ اُن کا نام معجزہ رکھا جائے، خواہ اِن کا نام کرامت رکھا جائے خواہ اِن کا نام جادو رکھا جائے قرآن کریم اِس کا مخالف ہے اور اِس قسم کے معجزات نہ پہلے انبیاء کی طرف منسوب کرنا جائز سمجھتا ہے اور نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسے معجزات منسوب کرتا ہے۔ اِس سے زیادہ احمقانہ بات کیا ہوگی کہ خدا تعالیٰ ایک قانون دنیا میں جاری کرے اور پھر خود ہی اُس قانون کو توڑ بھی دے کوئی معقول انسان بھی تو ایسے افعال نہیں کرتا۔ اِس قسم کی باتیں خدا تعالیٰ کے نبیوں کی طرف منسوب کرنا اُن کی عزت کو نہیں بڑھاتا بلکہ اَن کُوْنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ بیوقوفوں کے زمرہ کی طرف منسوب کرتا ہے اور ہر عقلمند انسان کا کام ہے کہ اِس بات کا مقابلہ کرے اور اِس چیز کو خوبی نہیں بلکہ الزام سمجھے اور اِس کا رَدّ کرے۔

باقی رہا یہ کہ خدا تعالیٰ بعض ایسے افعال اپنے انبیاء کے ذریعہ سے صادر کرا دیتا ہے جو خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت میں کوئی رخنہ نہیں ڈالتے اور عقل کے خلاف نہیں ہوتے۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے اور قرآن کریم اِس بات کا مدعی ہے کیا غیب کا علم معجزہ نہیں۔ کیا غیر معمولی حالات میں کسی کمزور انسان کو دنیا پر غالب کر دینا یہ معجزہ نہیں۔ پھر جبکہ علاوہ قرآن کریم کے معجزہ کے قرآن کریم اِس بات کا بھی مدعی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر علم غیب ظاہر کیا جاتا تھا اور اِس بات کا بھی مدعی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خدا تعالیٰ اپنی قدرتیں اور اپنی تائیدیں ظاہر کیا کرتا تھا تو کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت معجزات کا انکار کرتا ہے۔ قرآن کریم تو بار بار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف معجزات منسوب کرتا ہے۔ کیا جب ایسے حالات میں مکہ والوں کی مخالفت کی خبر دی گئی تھی جبکہ اُن کی مخالفت کا کوئی امکان نہیں تھا، یا جب ہجرت کی خبر دی گئی اور اِس کا سن تک بتا دیا گیا یا جب قرآن کریم میں بدر کی جنگ کے واقعہ ہونے سے سالہا سال پہلے بدر کی جنگ کی خبر دی گئی اور اُس کے سال تک کی بھی خبر دی گئی اور اِس میں مسلمانوں کے جیتنے اور کفار کے ہارنے کی خبر دی گئی۔ یا جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کرنے کی خبر دی گئی اور پھر ایک غالب اور فاتح شخص کی حیثیت میں مکہ میں واپس لوٹنے کی خبر دی گئی یا جب قرآن کریم میں رومیوں کی خطرناک شکست کے بعد اُن کے دوبارہ کامیاب ہو جانے اور ایرانیوں کے شکست کھانے کی خبر دی گئی یا جب قرآن کریم نے اِسلام کے تمام عرب میں پھیل جانے کی خبر دی اور پھر دنیا کے دوسرے تمام ادیان پر غالب آجانے کی خبر دی اور آئندہ واقعات نے ان تمام باتوں کی تصدیق کر دی تو کیا یہ معجزہ نہ تھا؟ اور کیا اِن باتوں کے بیان کرنے کے بعد قرآن کریم یہ دعویٰ کر سکتا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی معجزہ نہیں دکھایا؟

قرآن کریم کی جن آیتوں سے معترضین یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی معجزہ نہیں دکھایا درحقیقت اس کا باعث ان کی عربی سے ناواقفیت اور قرآن کریم کے

اسلوب سے لاعلمی ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں جہاں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ ہمیں معجزہ کے بھیجنے سے کسی بات نے نہیں روکا سوائے اِس کے کہ پہلے لوگ معجزات کا انکار کرتے چلے آئے ہیں وہاں آیت کے یہ معنی نہیں جیسا کہ عیسائی مصنفین سمجھے ہیں کہ اِس وجہ سے ہم معجزہ دکھانے سے رُک گئے ہیں بلکہ اِس کا مطلب تو یہ ہے کہ معجزہ دکھانے میں روک ہی کونسی ہے۔ صرف اتنی ہی روک ہوسکتی ہے کہ پہلے لوگوں نے معجزہ کا انکار کیا تو یہ کوئی روک نہیں، باوجود اس کے کہ ابتدائی انبیاء کے دشمنوں نے ان کے معجزوں کو ردّ کیا، ان کے بعد آنے والے انبیاء کو بھی معجزات ملتے رہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معجزات نہ ملیں۔

یا جب کفار کے مطالبہ پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ کہا جاتا ہے کہ میں تو تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں۔ تو اِس میں یہ نہیں بتایا جاتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر معجزات ظاہر نہیں ہوتے بلکہ اِس جگہ صرف یہ بتایا جاتا ہے کہ معجزہ دکھانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام نہیں خدا تعالیٰ کا کام ہے۔ کیا اِس زبردست حقیقت کا اظہار قرآن کریم کی شان بڑھاتا ہے یا گھٹاتا ہے؟ وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے خدائی کے اختیار بندوں کو دے دیئے ہیں وہ سچائی کے پیرو کہلا سکتے ہیں یا وہ جو اپنی بشریت کا اظہار کرتے ہوئے اِس حقیقت کو پیش کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ اپنے پیارے بندوں کے واسطہ سے معجزہ دکھاتا ہے۔

علاوہ پیشگوئیوں کے قرآن کریم میں دوسری قسم کے معجزات کا بھی ذکر آتا ہے۔ مثلاً قرآن کریم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس معجزہ کا ذکر آتا ہے کہ غارِ ثور میں جب آپ پناہ گزیں تھے، تو مکہ والے کھوجیوں کو لے کر آپ کا کھوج نکالتے ہوئے غارِ ثور تک پہنچ گئے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُس وقت حضرت ابوبکرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر گھبرائے مگر آپ نے فرمایا لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا(التوبة: ۴۰) ۵۵۸ گھبراؤ نہیں خدا ہمارے ساتھ ہے۔ دشمن ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ کیا یہ معجزہ نہیں جس کو قرآن کریم بیان کرتا ہے کیا دنیا اس کی مثال پیش کرسکتی ہے!! دو آدمی بے سروسامان ایک غار میں بیٹھے ہیں۔ دشمن اُن کا تعاقب کرتا ہوا وہاں پہنچ گیا ہے اور یونہی رسمی طور پر نہیں بلکہ حقیقی طور پر وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی کے بھاگنے کو اپنی شکست تصور کرتا ہے اور اسے اتنا اہم معاملہ سمجھتا ہے کہ وہ آپ کے پکڑے جانے پر سو اُونٹ کا انعام مقرر کرتا ہے ، لیکن با وجود اس کے کہ کھوجی کہتا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھوج یہاں تک آتا ہے ، آگے نہیں جاتا ۔ مکہ کے لوگوں کی آنکھوں اور اُن کے دلوں پر خدا تعالیٰ ایسا قبضہ کر لیتا ہے کہ تین میل کے تعاقب کرنے کے بعد اور اتنا انعام شائع کر دینے کے بعد اُن میں سے کسی شخص کو توفیق نہیں ملتی کہ وہ غار کے اندر جھانک سکے اور وہیں سے سب مکہ والے لوٹ جاتے ہیں ۔ اِس سے بڑا معجزہ دنیا میں اور کیا ہو گا۔

پھر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ جنگ بدر کے متعلق فرماتا ہے کہ اِس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریوں کی ایک مٹھی پھینکی اور اُس کے ساتھ دشمن تہہ و بالا ہو گیا۵۵۹حدیثوں سے اِس واقعہ کی تفصیل یوں معلوم ہوتی ہے کہ جب بدر کی جنگ شدت اختیار کر رہی تھی اور کفار کا زور بڑھ رہا تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکروں کی ایک مٹھی اُٹھا کر دشمنوں کی طرف پھینکی اور فرمایا شَاهَتِ الْوُجُوْهُ دشمنوں کے منہ بگڑ جائیں ۔ تب خدا تعالیٰ نے آپ کے اِس فعل کے ساتھ ہی ایک تیز آندھی چلا دی جسکی وجہ سے اُس میدان سے جس میں مسلمان کھڑے تھے ریت کے تودے اُڑ اُڑ کر کفار کی آنکھوں میں پڑنے شروع ہوئے اور وہ دیکھنے سے معذور ہو گئے اور اُن کے تیر مخالف ہوا کی شدت کی وجہ سے آدھے راستے میں ہی گرنے لگ گئے اور مسلمانوں کو ایک غیر معمولی طاقت اور قوت حاصل ہوگئی ۔ کیا یہ معجزہ نہیں ؟ اور کیا اس واقعہ کو بیان کر کے قرآن کریم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف معجزہ منسوب نہیں کیا ہاں قرآن کریم اِس قسم کی جاہلانہ باتیں نہیں کہتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقی مردے زندہ کیا کرتے تھے ۔ یا سورج اور چاند کی رفتار کو ٹھہرا دیا کرتے تھے ۔ یا دریاؤں کو کھڑا کر دیتے تھے یا پہاڑوں کو چلایا کرتے تھے ۔ یہ تو پنگھوڑے میں کھیلنے والے بچوں کی کہانیاں ہیں ۔ اِن باتوں کو قرآن کریم نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتا ہے نہ کسی اور نبی کی طرف منسوب کرتا ہے بلکہ اگر پہلی کتب میں اِس قسم کی باتیں بیان بھی ہوئی ہیں تو قرآن کریم ان کی تشریح کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ باتیں محض استعارہً ہیں لوگوں نے اِن کو حقیقی رنگ دینے میں غلطی کی ہے ۔

قرآنی تعلیم کے اصول

قرآن کریم کو دوسری تمام کتب پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ وہ مذہب کے متعلق سب کے سب سوالات کو حل کرتا ہے اور مذہب کے اُصول کو نمایاں طور پر پیش کر کے لوگوں کی توجہ اِس طرف پھراتا ہے کہ مذہب کا کیا دائرہ ہے اور اِس کا کیا فائدہ ہے۔ تورات کو پڑھ جاؤ، انجیل کو پڑھ جاؤ، ویدوں کو پڑھ جاؤ، ژند اوستا کو پڑھ جاؤ یا اور کسی کتاب کو پڑھ جاؤ، یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک لمبے مظاہرۂ قدرت کے درمیان کسی وقت کوئی شخص آپہنچا ہے اور اُس نے اِس مظاہرہ کو اُس وقت سے بیان کرنا شروع کر دیا ہے جب سے اُس کی نظر اِس پر پڑی ہے، لیکن قرآن کریم مذہب کو اِس رنگ میں پیش نہیں کرتا وہ خلق کی حکمت اور اِس کی پیدائش کے ساتھ تعلق رکھنے والے سب اُمور کو بیان کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے دنیا کو کیوں پیدا کیا ہے، انسان کے پیدا کرنے سے اس کی غرض کیا ہے، اِس غرض کے پورا کرنے کے لئے کونسے ذرائع اختیار کرنا ضروری ہیں خود اللہ تعالیٰ کا وجود کیا ہے اور کیسا ہے؟ اِس کی کیا کیا صفات ہیں اور وہ صفات کس طرح دنیا میں جاری ہوتی ہیں؟ بنی نوع انسان کی پیدائش کا مقصد بتاتے ہوئے اُس نے اِس نظام کی تشریح کی ہے جو اس دنیا کو چلانے کے لئے جاری کیا گیا ہے۔ وہ ایک طرف تو یہ بتاتا ہے کہ جسم انسانی کے ارتقاء اور نشوونما کے لئے خدا تعالیٰ نے دنیا میں ایک قانونِ قدرت جاری کیا ہے جو انسان کے جسم اور اِس کے دماغ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور یہ تمام قانونِ قدرت خدا تعالیٰ کے ملائکہ میں سے ایک قسم کے ملائکہ کے سپرد ہے۔ دوسری طرف انسانی روح کی ترقی اور اِس کی بصیرت کو جلا بخشنے کیلئے اُس نے قانونِ شریعت کو قائم کیا ہے۔ یہ قانونِ شریعت ملائکہ کی ایک دوسری قسم کے ذریعہ سے دنیا میں نازل ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کے انبیاء پر نازل ہوتا ہے۔ کبھی تو یہ شریعت ایک مکمل قانون کی صورت میں نازل ہوتی ہے۔ کبھی ایک جزوی اصلاح کی صورت میں نازل ہوتی ہے اور کبھی انسانی تشریحات سے بگاڑی ہوئی شکل کو دوبارہ بحال کرنے کی صورت میں نازل ہوتی ہے۔ یعنی کبھی اللہ تعالیٰ کے نبی اِس لئے آتے ہیں کہ اُن کے ذریعہ سے ایک نئی شریعت قائم کی جائے۔ کبھی اس لئے آتے ہیں کہ پرانی شرائع کی بعض غلطیوں کی اصلاح کی جائے۔ کبھی اِس لئے آتے ہیں کہ شریعت کے معنی کرنے میں جو لوگ غلطی کرنے لگ جاتے ہیں اُن کی اصلاح کریں۔ پھر وہ شریعت کی حکمتیں بیان کرتا ہے کہ کیوں خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت کا آنا ضروری ہے۔ اِس کے فوائد کیا ہیں اور شریعت انسان کی ترقی میں کیا مدد دیتی ہے۔ وہ صفات اور ذات کا فرق بیان کرتا ہے اور اِس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے یہ کہا کہ:

’’ابتداء میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا‘‘۔۵۶۰

وہ سخت غلطی خوردہ ہیں۔ صفت ذات کی قائم مقام نہیں ہو سکتی۔ صفت صفت ہی ہے اور ذات ذات ہی ہے۔

قرآن کریم انسان کے مختار اور مجبور ہونے کے متعلق بھی روشنی ڈالتا ہے اور بتاتا ہے کہ کس حد تک انسان مجبور ہے اور کس حد تک مختار ہے اور پھر وہ اس پر روشنی ڈالتا ہے کہ انسان اِس حد تک مجبور نہیں ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہی سے بری ہو جائے یا اس کی اصلاح نہ ہو سکے۔ ہاں وہ اِس حد تک مجبور ضرور ہے کہ اس دائرۂ عمل سے باہر نہیں جا سکتا جو خدا تعالیٰ نے اس کے لئے تجویز کیا ہے۔ انسان اپنی ساری کوششوں کے بعد انسان ہی رہے گا نہ اُسے جمادات کی طرح بنایا جا سکتا ہے نہ وہ فرشتوں کی طرح بنایا جا سکتا ہے لیکن اپنے دائرہ کے اندر اندر اُسے بہت کچھ طاقتیں حاصل ہیں اور بحیثیت انسان وہ کسی صورت میں بھی اصلاح اور نصیحت کے دائرہ سے باہر نہیں۔ قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ پر ایمان کیسا لانا چاہئے۔ اس کی ہستی کے ثبوت کیا ہیں۔ اور وہ اس امر پر زور دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہی تاریکی کے وقتوں میں اپنا کلام نازل کر کے اور اپنی غیر معمولی قدرتوں کو ظاہر کر کے اپنی ہستی کو ثابت کرتا رہتا ہے اور یہی اُس کے وجود کا حقیقی ثبوت ہے۔ پس انبیاء اور اُن کے کامل اتباع کا وجود خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثابت کرنے کے لئے دنیا میں نہایت ضروری ہے۔ اگر خدا تعالیٰ انبیاء اور اُن کے اتباع کے آئینہ میں اپنی شکل نہ دکھاتا رہے تو دنیا شکوک و شبہات کے گڑھے میں گر جائے اور خدا تعالیٰ کا وجود دنیا سے مٹ جائے۔ پس جب تک دنیا قائم ہے خدا تعالیٰ سے کلام پانے والے اور اس کے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف ہونے والے آدمی دنیا میں آتے رہیں گے اور یہ سلسلہ کبھی بھی ختم نہ ہوگا کیونکہ ایمان کا قیام اس ذریعہ سے ہے کہ خدا تعالیٰ ابتدائے عالم سے لے کر مسیح تک اور مسیح سے لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک کلام کرتا چلا آیا ہے اُسی طرح جس طرح کہ وہ پیدا کرتا چلا آیا ہے، جس طرح وہ سنتا چلا آیا ہے، جس طرح وہ دیکھتا چلا آیا ہے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی مخلوق کی انتہاء تک اپنے خاص خاص بندوں سے کلام کرتا چلا جائے گا اور اپنی ذات کو دنیا پر ظاہر کرتا رہے گا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ مسیح یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک تو وہ گویا رہا ہو اور پھر وہ گونگا ہو گیا ہو۔ جس طرح یہ نہیں ہوسکتا کہ مسیح اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک تو وہ بینا تھا مگر بعد کو اندھا ہو گیا۔ یا مسیح اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک تو وہ خالق تھا مگر اس کے بعد اس سے صفتِ خلق جاتی رہی۔ یا مسیح اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک تو وہ طاقتور تھا مگر اس کے بعد اُس کی طاقت سلب ہوگئی۔ کون عقلمند اِس بات کو تسلیم کر سکتا ہے کہ خدا پہلے طاقتور تھا اب کمزور ہو گیا ہے یا خدا پہلے بینا تھا اب اندھا ہو گیا ہے۔ یا مسیح اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک وہ خالق تھا اس کے بعد پیدائش کی طاقت اُس کے ہاتھوں سے نکل گئی۔ یا مسیح اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک تو وہ علیم تھا اس کے بعد اس کا علم جاتا رہا۔ تعجب کی بات ہے کہ باوجود اس کے کہ حقیقت اتنی واضح ہے پھر بھی زرتشتی، یہودی، عیسائی اور آجکل کے غلطی خوردہ مسلمان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا کلام زرتشت، پرانے اسرائیلی نبیوں، مسیح اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آ کر ختم ہو گیا ہے۔ قرآن اس کو ردّ کرتا ہے۔ قرآن خدا تعالیٰ کے زندہ ہونے کا ثبوت ہی اس بات کو قرار دیتا ہے کہ خدا اپنے نیک بندوں سے ہمیشہ کلام کرتا رہے گا جس طرح وہ پہلے کلام کیا کرتا تھا اور اِس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور نے ایک دفعہ پھر اس قرآنی صداقت پر مہر لگا دی ایک دفعہ پھر خدا تعالیٰ کا کلام آپ پر اور آپ کے سچے اتباع پر نازل ہو کر دنیا کے اُن لوگوں کو چیلنج دے رہا ہے جو لفظاً نہیں تو عقیدۃً ضرور خدا تعالیٰ کو گونگا بنا رہے تھے۔

قرآن اِس بحث کو بھی اُٹھاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام کسی ایک قوم سے مخصوص نہیں بلکہ تمام اقوام میں خدا تعالیٰ کے نبی آتے رہے ہیں اور وہ اس سوال کو بھی اُٹھاتا ہے کہ یکے بعد دیگرے خدا تعالیٰ کے نبی کیوں آتے رہے اور کیوں نہ ایک کامل کتاب ابتدائی زمانہ میں ہی نازل ہو گئی۔ پھر قرآن کریم توحید کے مسئلہ پر ایک سیر کن بحث کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ایک ہونے کے کیا ثبوت ہیں۔ کیوں کہ ایک سے زیادہ خدا تسلیم کرنا عقل کے خلاف ہے اور واقعہ کے بھی خلاف ہے اور دنیا کو توحید کے عقیدہ سے کیا کچھ روحانی فائدہ پہنچتا ہے۔

خدا تعالیٰ کی ذات کے بعد نبوت کا مقام ایک ایسا مقام ہے جو دنیا کے لئے ہمیشہ زیر بحث چلا آیا ہے۔ نبی یا اس کے ہم معنی الفاظ کا استعمال تو تمام کتابوں میں پایا جاتا ہے، لیکن قرآن کے سوا کوئی ایک کتاب بھی نہیں جو یہ بتاتی ہو کہ اس لفظ کی تشریح کیا ہے؟ ہم کس شخص کو نبی کہہ سکتے ہیں اور کس شخص کو نبی نہیں کہہ سکتے اور نبوت کی کیا کیا اقسام ہیں، قرآن ہی ہے جو بتاتا ہے کہ نبی کی تعریف کیا ہے، نبیوں کی کتنی قسمیں ہیں، نبی اور غیر نبی میں کیا فرق ہے، نبی کے فرائض کیا ہیں، نبی اور خدا میں کیا فرق ہے، نبی کی بعثت کی غرض کیا ہے، نبی اور اس کی اُمت کے درمیان کیسا تعلق ہونا چاہیے، نبی کے حقوق کیا ہیں، نبی اور اس کے منکروں کے تعلقات کی بنیاد کیا ہونی چاہئے، کیا نبی خدا اور بندوں کے درمیان ایک دیوارِ حائل کی حیثیت رکھتا ہے یا وہ محض ایک ممد اور مددگار کی حیثیت رکھتا ہے۔

اسی طرح قرآن کریم ملائکہ کے متعلق تفصیلی بحث کرتا ہے۔ ملائکہ کے کیا کام ہیں، خدا تعالیٰ نے ملائکہ کو کیوں بنایا ہے، اسی طرح وہ یہ بھی بحث کرتا ہے کہ شیطان کیا ہے، اس کا وجود بنی نوع انسان کے لئے کیوں ضروری ہے، شیطان کے وساوس سے انسان کس طرح بچ سکتا ہے، شیطان اور انسان کا کیا تعلق ہے، کیا شیطان انسان کو مجبور کرسکتا ہے یا نہیں کرسکتا۔ اور وہ بتاتا ہے کہ جس طرح ملائکہ انسان کے دل میں نیک تحریکیں پیدا کرتے ہیں اسی طرح شیاطین بد تحریکیں پیدا کرتے ہیں لیکن انسان کے اندر دونوں طاقتیں موجود ہیں۔ وہ ملائکہ کی نیک تحریکوں کو قبول بھی کرسکتا ہے اور اُن کا مقابلہ بھی کرسکتا ہے۔ وہ شیطان کی بد تحریکوں کو قبول بھی کرسکتا ہے اور اُن کا مقابلہ بھی کرسکتا ہے یہ دونوں وجود انسان کو کامل کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور اُس کے وجود کو ایک حقیقت عطا کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ملکی اور شیطانی تحریکوں کے بغیر انسان کسی انعام کا مستحق نہیں بن سکتا اور نہ وہ کسی سزا کا مستوجب بن سکتا ہے۔ اگر شیطان انسان پر اثر ڈالنے والا نہ ہو تو انسان کسی انعام کا بھی مستحق نہیں اور اگر ملکی تحریکیں دنیا میں موجود نہ ہوں تو انسان کسی سزا کا بھی مستوجب نہیں۔ بدی ہی کا مقابلہ انسان کو انعام کا مستحق بناتا ہے

اور نیکی سے منہ موڑنا ہی انسان کو سزا کا مستوجب بناتا ہے۔ قرآن کریم اِس سوال پر بھی روشنی ڈالتا ہے کہ دعا کیا ہے، دعا کرنے کے طریق کیا ہیں، دعائیں کن حالات میں قبول ہوتی ہیں اور کن حالات میں قبول نہیں ہوتیں۔ دعاؤں کی قبولیت کا دائرہ کیا ہے۔ وہ نیکی اور بدی پر بھی بحث کرتا ہے کہ نیکی کیا چیز ہے اور بدی کیا چیز ہے، ان کی حدیں کہاں ملتی ہیں، حقیقی نیکیاں کیا ہیں اور حقیقی بدیاں کیا ہیں، نسبتی نیکیاں کیا ہیں اور نسبتی بدیاں کیا ہیں، وہ نیکی اور اخلاقِ فاضلہ پیدا کرنے کے طریق بتاتا ہے، وہ بدیوں سے بچنے کے طریق بتاتا ہے، وہ نیکیوں اور بدیوں کے منبع پر روشنی ڈالتا ہے اور بدیوں کے منبع کو بند کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ وہ توبہ پر بھی روشنی ڈالتا ہے، توبہ کی حقیقت بتاتا ہے، توبہ کے فوائد بتاتا ہے، توبہ کے مواقع بتاتا ہے اور توبہ کی شرائط بیان کرتا ہے۔ اسی طرح وہ جزاء سزا کے متعلق بھی پوری روشنی ڈالتا ہے جزاء کن حالات میں دی جاتی ہے، سزا کن حالات میں دی جاتی ہے جرم اور سزا کی نسبت کیا ہونی چاہئے۔

پھر وہ اسی سلسلہ میں نجات کی تفاصیل بیان کرتا ہے۔ نجات کیا ہے اور کس طرح حاصل ہوتی ہے اور کیا ہر ایک بدی انسان کو تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔ قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ نجات تین قسم کی ہے، کامل، ناقص اور ملتوی۔ کامل نجات انسان اسی دنیا سے حاصل کرتا ہے۔ ناقص نجات والا انسان مرنے کے بعد تدریجی طور پر اپنی نجات کے سامانوں کو مکمل کرتا ہے اور ملتوی نجات وہ ہے جو سزائے جہنم لے لینے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ اس آخری قسم کی نجات کے بارہ میں اسلام اور عیسائیت میں ایک رنگ میں تشابہہ بھی ہے اور ایک رنگ میں تخالف بھی ہے۔ عیسائیت صرف کمزور عیسائیوں کو جو اپنے عقیدہ میں پکے ہوں اس دوزخ کا سزاوار قرار دیتی ہے کہ جس میں سے نکل کر انسان جنت میں پہنچ جاتا ہے لیکن اسلام اِس بات پر زور دیتا ہے کہ ہر انسان نجات ہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور خواہ کوئی کیسا ہی کافر ہو مختلف قسم کے علاجوں کے بعد جن میں سے ایک علاج جہنم بھی ہے وہ آخر جنت کو پا لے گا۔ قرآن نجات کے بارہ میں وزنِ اعمال پر زور دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ نیک اعمال کا بڑھ جانا انسان کی نجات کے لئے اس کی سچی کوشش پر دلالت کرتا ہے اور جو شخص سچی کوشش کرتا ہوا مر جاتا ہے وہ اس سپاہی کی طرح ہے جو فتح سے پہلے مارا جاتا ہے۔ موت جس طرح سپاہی کے اختیار میں نہیں اسی طرح نیکی کی راہ اختیار کرنے والے کے بھی اختیار میں نہیں۔ موت خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے اگر ایک شخص نیکی کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے مر جاتا ہے تو یقیناً وہ خدا کے فضل کا مستحق ہے سزا کا مستوجب نہیں۔ کوئی قوم اپنے سپاہیوں کو اِس بات پر ملامت نہیں کیا کرتی کہ وہ فتح پانے سے پہلے کیوں مارے گئے بلکہ فتح کے لئے بھی سچی کوشش کرنے والا سپاہی عزت پاتا ہے اسی طرح وہ شخص جو شیطان کو زیر کرنے کے لئے پورا زور لگا رہا ہے کبھی شیطان اُس پر غالب آجاتا ہے اور کبھی وہ شیطان پر غالب آجاتا ہے مگر وہ دل نہیں ہارتا ، وہ ہمت نہیں ہارتا ، وہ ہتھیار نہیں ڈالتا ، وہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت کے قیام کے لئے شیطان سے لڑتا چلا جاتا ہے ایسا انسان قرآن کے نزدیک یقیناً نجات کا مستحق ہے۔ اُس کی کمزوری اُس کے لئے ایک زیور ہے کیونکہ وہ باوجود کمزور ہونے کے خدا کے سپاہیوں میں شامل ہونے سے ڈرا نہیں اور اپنی قربانی پیش کرنے سے ہچکچایا نہیں۔

قرآن کریم روحانی ارتقاء کی منازل بیان کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ روحانی مدارج کیا ہیں ، کتنے ہیں اور مختلف اخلاق کو مدّنظر رکھتے ہوئے وہ روحانی مدارج کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ عفت کتنی اقسام کی ہے ، وہ بتاتا ہے کہ سخاوت کتنی اقسام کی ہے ، وہ سچائی کی اقسام بیان کرتا ہے ، وہ رحم اور حسن سلوک کے مدارج بیان کرتا ہے تا کہ ہر طاقت وقوت کا انسان اپنے لئے ایک قریب کی منزل مقرر کر سکے اور اس طرح جہاں اُس کی حوصلہ افزائی ہو وہاں چھوٹی ترقی پر خوش ہونے کی غلطی میں وہ مبتلا نہ ہو جائے۔ وہ ہر شخص کے قریب کی منزل اُسے بتاتا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ اس سے اُوپر ایک اور منزل بھی ہے۔ جب تم پہلی منزل طے کرلو تو تمہیں اُوپر کی منزل کی طرف اپنا قدم بڑھانا چاہئے اس طرح وہ قدم بقدم اور درجہ بدرجہ انسان کو اُوپر لئے چلا جاتا ہے۔ قرآن انسان کے دماغی ارتقاء پر بھی روشنی ڈالتا ہے وہ بتاتا ہے کہ انسان کا دماغی نشوونما کس طرح ہوتا ہے اور کس طرح خدا تعالیٰ کے نزدیک اُس کے دماغی نشوونما کا بھی اس کے متعلق فیصلہ کرنے کے وقت لحاظ رکھا جاتا ہے وہ شخص جو ایک اچھے ماحول میں پلا ہے اور جس کے لئے نیکی کا رستہ آسان ہو گیا ہے وہ محض اپنے اعمال کی وجہ سے دوسرے پر فضیلت نہیں پائے گا ، بلکہ دوسرا شخص جس کا دماغی نشوونما اس پہلے شخص کے برابر نہیں اور جس کا ماحول اس جیسا اچھا نہیں اُس کے رستہ کی روکوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور فیصلہ کے وقت اُنہیں بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ قرآن ایمان پر بھی روشنی ڈالتا ہے اور بتاتا ہے کہ ایمان کیا چیز ہے ، ایمان کی علامتیں کیا ہیں ، ایمان کے حصول کے ذرائع کیا ہیں وہ قانونِ شریعت اور اُس کی ضرورت کے متعلق بھی روشنی ڈالتا ہے اور بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قانون بھی بغیر حکمت کے نہیں ہوتا۔ خدا تعالیٰ اپنے بندے کو کوئی حکم اس لئے نہیں دیتا کہ وہ اسے سزا دے اور اس پر بوجھ ڈالے بلکہ وہ ہر حکم اس لئے دیتا ہے کہ وہ انسان کی ترقی کی منزل میں ممد اور معاون اور اس کی تمدنی حالت کو سدھارنے والا ہوتا ہے قرآن جبری حکموں کا قائل نہیں وہ اس حق کو تسلیم کرتا ہے کہ خدا بھی جس شخص کو سزا دے اس شخص کو اپنی ذات سے الزام کو دور کرنے کا پورا موقع ملنا چاہئے اور اس کے اُوپر پوری طرح حجت تمام ہونی چاہئے خواہ کوئی کتنا ہی بڑا مجرم ہو مگر اُس پر حجت تمام ہوئے بغیر قرآن اُس کی سزا کا قائل نہیں۔

عبادت کی چار اُصولی قسمیں

قرآن عبادتِ الٰہی کے متعلق بھی تفصیلی روشنی ڈالتا ہے وہ عبادت کو چار اُصولی حصوں میں تقسیم کرتا ہے

(۱) وہ عبادت جس کی غرض خدا تعالیٰ کے ساتھ محبت اور اس کے ساتھ تعلق بڑھانا ہے۔

(۲) وہ عبادت جو انسان کے جسم کی اصلاح کے لئے قربانیاں کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے ہوتی ہے۔

(۳) وہ عبادت جو انسانوں کے اندر مرکزیت پیدا کرنے کے لئے اور اتحاد و یگانگت کا احساس پیدا کرنے کے لئے مقرر کی جاتی ہے۔

(۴) وہ عبادت جو بنی نوع انسان کی اقتصادی حالتوں میں یکسوئی اور یکرنگی پیدا کرنے کے لئے مقرر کی جاتی ہے۔ یہ چار اصول عبادت کے اِسلام مقرر کرتا ہے اور ان چار اُصول کے مطابق اس نے مختلف قسم کی عبادتیں مقرر کی ہیں۔ اِن اُصول کو تجویز کر کے اِسلام نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ عبادت صرف اسی بات کا نام نہیں کہ انسان خدا تعالیٰ کی طرف دھیان دے بلکہ بنی نوع انسان کی طرف توجہ کرنے سے بھی خدا تعالیٰ کی عبادت کا فرض ادا ہوتا ہے۔ اسی طرح اسلام نے یہ نکتہ بھی پیش کیا ہے کہ عبادات صرف انفرادی نہیں بلکہ وہ اجتماعی بھی ہوتی ہیں۔ انسان کا صرف یہی فرض نہیں کہ وہ خود خدا کے سامنے پیش ہو جائے، بلکہ انسان کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کو بھی خدا کے سامنے پیش ہونے کے لئے تیار کرے اس لئے قرآن کے جتنے احکام عبادات کے متعلق ہیں وہ انفرادی بھی ہیں اور اجتماعی بھی ہیں۔

اسلامی نماز اور مسجدیں

خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے اور براہِ راست خدا تعالیٰ کی ذات کی طرف متوجہ کرنے کے لئے اسلام میں نماز مقرر کی گئی ہے یہ نماز دنیا کے اور تمام مذاہب کی عبادتوں سے مختلف ہے۔ اس نماز میں انفرادیت اور اجتماعیت دونوں کا لحاظ رکھا گیا ہے اور رسم و نمائش کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ عبادتوں کے لئے جس قسم کے گرجے اور مندر پہلے زمانہ میں بنا کرتے تھے اور جو جو تکلفات ان کے متعلق کئے جاتے تھے قرآن نے اُن سب کو منسوخ کر دیا ہے۔ قرآن خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے زمین کے ہر ٹکڑہ کو مستحقِ عبادت سمجھتا ہے۔ کوئی ٹکڑہ اس بارہ میں دوسرے سے فضیلت نہیں رکھتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قرآنی حکم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے جُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِداً ۔ ۵۶۱ خدا تعالیٰ نے ساری زمین کو ہی میرے لئے مسجد بنا دیا ہے۔ آپؐ کے اس فقرہ کے کئی معنی ہیں۔ مگر ایک معنی یہ بھی ہیں کہ دنیا کے ہر حصہ میں اور ہر جگہ پر مسلمان نماز پڑھ سکتا ہے اس کے لئے ضروری نہیں کہ جس طرح ایک عیسائی یا ہندو گرجا یا مندر کے سوا کسی جگہ عبادت نہیں کر سکتا۔ وہ بھی عید کے سوا کسی اور جگہ عبادت نہ کر سکے۔ اور اس کے لئے ضروری نہیں کہ جس طرح کسی عیسائی یا ہندو کو ضرور کوئی پادری اور پنڈت ہی عبادت کرا سکتا ہے اُس کو بھی کوئی مولوی یا ملاّ ہی نماز پڑھائے۔ اسلام پادریوں اور پنڈتوں کا قائل نہیں۔ وہ ہر نیک انسان کو خدا تعالیٰ کا نمائندہ سمجھتا ہے اور ہر نیک انسان کو نماز میں راہنمائی کرنے کا حق دیتا ہے۔ بیشک اسلام میں مساجد بھی ہیں لیکن وہ مساجد اس لئے نہیں کہ وہ جگہیں نماز کے لئے زیادہ مناسب تھیں بلکہ مساجد صرف اس لئے ہیں کہ کسی نہ کسی جگہ پر لوگوں کو جمع ہو کر اجتماعی نماز بھی ادا کرنی چاہئے۔ مساجد اجتماع کی سہولت کا ذریعہ ہیں کوئی خاص رسوم اختیار نہیں کی جاتیں جن سے یہ جگہیں متبرک کی جاتی ہوں جیسا مندر اور گرجے ہیں۔ ہر چار دیواری جس میں مسلمان جمع ہو کر اجتماعی طور پر خدا تعالیٰ کی عبادت کریں وہ مسجد کہلاتی ہے اس کے لئے کسی شکل کی ضرورت نہیں نہ وہاں کوئی آلٹر ہے نہ مقدسوں کی کوئی نشانیاں ہیں سادگی سے مسلمان ایک جگہ پر جمع ہوتے ہیں ان کی عبادت تمام دنیوی آلائشوں سے منزہ اور پاک ہوتی ہے۔ کوئی باجا نہیں ہوتا کوئی گانا نہیں ہوتا۔ کوئی ناچ نہیں ہوتا۔ بڑے بڑے جبے پہن کر پادری نہیں آتے۔ شمعیں جلائی نہیں جاتیں۔ سریلے ارغنوںوں اور خوشبودار دھونیوں سے لوگوں کے دماغوں کو مسحور کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ کھڑکیوں کے آگے لٹکے ہوئے پردے انسان کو ایک تاریک ماحول پیش کر کے ڈرانے کی کوشش نہیں کرتے۔ بزرگوں کی تصویریں انہیں خدا تعالیٰ کی جگہ اپنی طرف بلا نہیں رہی ہوتیں۔ سب مسلمان وقتِ مقررہ پر ایک جگہ پر جمع ہوتے ہیں اور صفیں باندھ کر یہ بتانے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ جہاں ہم اپنے گھروں میں انفرادی نمازیں پڑھ کر آئے ہیں وہاں ہم قومی طور پر بھی خدا تعالیٰ کی عبادت قائم کرنے کیلئے حاضر ہیں بغیر کسی باجے گاجے کے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور اُس کی ثنا کرتے ہیں اور اس کے حضور میں دعائیں کرتے ہیں اور اپنی اصلاح اور روحانی اور جسمانی ترقی اور اپنے دوستوں اور عزیزوں اور باقی سب دنیا کی جسمانی اور روحانی ترقی کے لئے اس کے سامنے درخواستیں پیش کرتے ہیں۔ ان کی اس سادہ نماز کی شان یہ ہوتی ہے کہ نماز کے وقت میں کوئی مؤمن اِدھر اُدھر نہیں دیکھ سکتا نہ نماز میں کسی اور سے بات کر سکتا ہے۔ غریب اور امیر ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ بادشاہ کے ساتھ اس کا خادم کھڑا ہونے کا حق رکھتا ہے اُس کا کناس بھی اس کے ساتھ کھڑا ہونے کا حق رکھتا ہے۔ نماز کے وقت ایک حج اور ایک مجرم، ایک جرنیل اور ایک سپاہی پہلو بہ پہلو کھڑے ہوتے ہیں کوئی کسی کی طرف انگلی نہیں اُٹھا سکتا، کوئی کسی کو اس کی جگہ سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔ تمام کے تمام خاموشی سے خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اور امام کے اشارے پر رکوع اور سجود اور قیام کے احکام بجالاتے ہیں بعض وقت امام قرآن شریف کی آیتیں بلند آواز سے پڑھتا ہے تا کہ ساری جماعت ایک خاص نصیحت کو اپنے سامنے لے آئے اور نماز کے بعض حصوں میں ہر شخص اپنے اپنے طور پر مقررہ دعائیں یا وہ دعائیں بھی جن کو وہ چاہتا ہے پڑھتا ہے۔ مساجد مسلمانوں کے اجتماع کی جگہ بھی ہیں اور مساجد مسلمانوں کے تمام قسم کے مذہبی اور علمی کاموں کو سرانجام دینے کی جگہ بھی ہیں۔ مساجد اُن کے مدارس بھی ہیں اور مساجد اُن کے نکاح خانے بھی ہیں اور مساجد اُن کی قضا اور فیصلہ کے مقام بھی ہیں جہاں اُن کے مقدمات کے فیصلے کئے جاتے ہیں اور مساجد جنگی اور اقتصادی تدابیر کے فیصلہ کے لئے بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ نماز کے علاوہ ایک اِس قسم کی عبادت جس میں ذکر الٰہی کیا جاتا ہے وہ بھی ہے جبکہ انسان خاموشی سے بیٹھ کر اُس کو یاد کرتا ہے اور اس کی صفات کو اپنے دل میں جذب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اِسلامی روزہ

دوسری قسم کی عبادت جس میں نفس کی اصلاح مدنظر ہوتی ہے، روزہ ہے۔ اسلامی روزہ بھی دوسرے لوگوں کے روزوں سے مختلف ہے۔ ہندو اپنے روزوں میں کئی چیزیں کھا بھی لیتے ہیں، پھر بھی اُن کا روزہ قائم رہتا ہے۔ عیسائیوں کے روزے بھی اس قسم کے ہیں کہ کسی روزے میں گوشت نہیں کھانا، کسی میں خمیری روٹی نہیں کھائی جاتی۔ اسلامی روزہ بھی نماز کی طرح انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی۔ چنانچہ تمام مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ وہ سال کے مختلف اوقات میں نفلی روزے رکھا کریں مگر رمضان کے مہینہ میں دنیا کے تمام مسلمانوں کو خواہ وہ کسی گوشہ میں رہتے ہوں ایک ہی وقت میں روزے رکھنے کا حکم ہے۔ وہ صبح کو پو پھٹنے سے پہلے کھانا کھاتے ہیں اور پھر سارا دن سورج کے ڈوبنے تک نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں۔ سورج کے ڈوبنے کے بعد صبح تک ان کو کھانے پینے کی اجازت ہوتی ہے اُن سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ان دنوں میں جہاں کھانے وغیرہ سے پرہیز کریں وہاں اپنے نفس کو زیادہ سے زیادہ نیکی پر قائم کرنے کی کوشش کریں کیونکہ روزہ اُنہیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب تم خدا کے لئے حلال چیزوں کو چھوڑ دیتے ہو تو حرام چیزوں کو چھوڑنا تمہارے لئے بدرجہ اولیٰ ضروری ہے یہ روزے تمام ایسے ممالک میں جہاں دن چوبیس گھنٹے سے کم ہے اور جہاں رات اور دن چوبیس گھنٹے کے اندر الگ الگ وقتوں میں ظاہر ہوتے ہیں اس شکل میں ہیں جو اُوپر بیان کی گئی ہے لیکن جن ملکوں میں رات اور دن چوبیس گھنٹوں سے لمبے ہو جاتے ہیں ان علاقوں میں رہنے والوں کے لئے صرف وقت کا اندازہ کرنے کا حکم ہے۔

حج بیت اللہ

تیسری قسم کی عبادت کی مثال حج ہے۔ حج مسلمانوں میں ایک مرکزیت کی روح پیدا کرنے کیلئے مقرر کیا گیا ہے دنیا کے تمام صاحبِ استطاعت مسلمان ایک خاص وقت میں مکہ مکرمہ میں جمع ہوتے ہیں اور اس طرح ہر سال عالم اسلام کو ایک جگہ جمع ہونے کا موقع مل جاتا ہے اور اپنی اور باقی دنیا کی ضرورتوں کے متعلق غور کرنے کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ مگر حج کے علاوہ ایک عمرہ کی عبادت بھی ہے جس میں کسی وقت کی شرط نہیں وہ انفرادی عبادت ہے۔ مختلف وقتوں میں جب بھی کسی کو توفیق حاصل ہوتی ہے وہ مکہ میں جاتا اور اس فریضہ کو ادا کرتا ہے۔ اس حکم سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مرکز کے قیام کے لئے مسلمانوں کو اجتماعی اور انفرادی دونوں قسم کی قربانیاں کرنی چاہئیں۔

زکوٰۃ و صدقہ خیرات

چوتھی قسم کی عبادت کی مثال صدقہ وخیرات ہے۔ اس عبادت کی بھی اسلام نے انفرادی اور اجتماعی دونوں صورتیں مقرر کی ہیں اور فرضی اور نفلی مقرر کی ہیں۔ ہر عید کے موقع پر رمضان کے بعد عید کی نماز سے پہلے ہر مؤمن کے لئے فرض ہے کہ وہ کم سے کم ڈیڑھ سیر گندم یا اور مناسب غلہ خدا کے لئے غرباء کی امداد کی خاطر دے خواہ غریب ہو یا امیر۔ غریب اس میں سے دے جو اُس کو اُس دن ملا ہو اور امیر اس میں سے دے جو اس نے پہلے سے کما چھوڑا ہو۔ اس حکم کے سلسلہ میں ایک زکوٰۃ کا بھی حکم ہے جو ہر امیر پر واجب ہے۔ ہر شخص جو کوئی روپیہ اپنے پاس جمع کرتا ہے یا جانور تجارت کے لئے پالتا ہے اُس پر ایک رقم مقرر ہے۔ اسی طرح ہر کھیتی کی پیداوار پر ایک رقم مقرر ہے کھیتی کی پیداوار پر دسواں حصہ اور تجارتی اموال پر اندازاً اڑھائی فیصدی۔ (اس کے احکام تفصیلی مقرر ہیں مگر اس مضمون میں تفصیلات کی گنجائش نہیں) یہ اڑھائی فیصدی صرف نفع پر نہیں دیا جاتا بلکہ رأس المال اور نفع سب پر دیا جاتا ہے اس میں حکمت یہ ہے کہ اسلام اس ذریعہ سے روپیہ جمع کرنے کو روکنا چاہتا ہے۔ زمین کے لئے دسواں حصہ اور تجارتی مال کے اُوپر اڑھائی فیصدی میں جو فرق ہے یہ بظاہر غیر معقول نظر آتا ہے مگر درحقیقت اس میں بڑی بھاری حکمت ہے اور وہ حکمت یہ ہے کہ زمین کی پیداوار پر ٹیکس دیا جاتا ہے اور تجارتی مال میں رأس المال پر بھی ٹیکس ہوتا ہے چونکہ زمین کے رأس المال پر ٹیکس نہیں لگا اس لئے پیداوار پر دسواں حصہ لیا گیا اور تجارتی مال میں چونکہ رأس المال پر بھی ٹیکس لگ گیا اس لئے صرف اڑھائی فیصدی نسبت رکھی گئی۔

دیگر اُمورِ ضروریہ کا ذکر قرآن مجید میں

قرآن شریف بنی نوع انسان کے باہمی معاملات پر بھی تفصیلی روشنی ڈالتا ہے وہ تعاونِ باہمی کی ضرورت کو پیش کرتا ہے انفرادیت اور اجتماعیت کی حدود کو قائم کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ انفرادیت کے کیا حقوق ہیں اور اجتماعیت کے کیا حقوق ہیں، وہ حکومت کی حقیقت اور اُس کے فرائض بیان کرتا ہے، وہ حکومت کی ذمہ داریاں بیان کرتا ہے، وہ رعایا اور حکومت کے تعلق پر روشنی ڈالتا ہے، وہ مالک اور مزدور کے تعلقات پر روشنی ڈالتا ہے اور بین الاقوامی تعلقات کے اُصول بیان کرتا ہے۔ قرآن صراحتاً اور وضاحتاً حکم دیتا ہے کہ دولت چند ہاتھوں میں جمع نہیں ہونی چاہئے بلکہ اسے زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اسی حکمت کے ماتحت وہ ایک طرف تو سُود کو منع کرتا ہے جس کے ذریعہ سے بعض ہوشیار لوگ دنیا کی دولت اپنے پاس جمع کر لیتے ہیں اور دوسری طرف وہ ورثہ کے تقسیم کرنے کا حکم دیتا ہے اور اس بات کو جائز نہیں رکھتا کہ کوئی باپ یا ماں اپنی جائیداد صرف ایک بیٹے کو دے دے۔ تیسرے وہ زکوٰۃ کے ذریعہ اور صدقہ و خیرات کے ذریعہ مال و دولت امراء کے ہاتھ سے لے کر غریبوں تک پہنچاتا ہے۔ چوتھے وہ گورنمنٹ کے روپیہ میں غرباء کا حق مقدم قرار دیتا ہے ان چار ستونوں پر وہ دنیا کی اقتصادی حالت کو ایک سطح پر لا کر کھڑا کر دیتا ہے۔ قرآن تعلیم پر اور دماغی نشوونما پر خاص زور دیتا ہے۔ وہ فکر اور غور کرنے کو مذہبی فرائض میں سے قرار دیتا ہے وہ لڑائیوں اور جھگڑوں سے روکتا ہے اور کسی حالت میں بھی حملہ میں ابتداء کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ قرآن کریم بین المذاہب تعلقات کے اُوپر بھی بڑی تفصیلی روشنی ڈالتا ہے مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کے بزرگوں کی ہتک کرنے سے روکتا ہے اور ایسے اعتراضوں سے منع کرتا ہے جو اعتراض خود معترض کے مذہب پر بھی پڑتے ہوں ۔ وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ سب مذاہب کا منبع خدا تعالیٰ ہی ہے صرف بعد کی تبدیلیوں کی وجہ سے مذاہب خراب ہوئے ہیں پس اُن کے نیک منبع کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی مذہب کو گلی طور پر خراب نہیں کہنا چاہئے۔ قرآن کریم میں عورتوں کے حقوق کی پوری طرح حفاظت کی گئی ہے قرآن کریم دنیا میں وہ پہلی کتاب ہے جس نے علی الاعلان اس بات کو صاف الفاظ میں واضح طور پر بیان کیا ہے کہ جس طرح مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں اسی طرح عورتوں کے مردوں پر حقوق ہیں، وہ ماں باپ کے حقوق بھی بیان کرتا ہے، وہ بھائی بہنوں کے حقوق بھی بیان کرتا ہے، وہ بیوی اور خاوند کے حقوق بھی بیان کرتا ہے، وہ بیٹوں اور بیٹیوں کے حقوق بھی بیان کرتا ہے، وہ ہمسایوں کے حقوق بھی بیان کرتا ہے، وہ غرباء کے حقوق بھی بیان کرتا ہے، وہ یتامیٰ کے حقوق بھی بیان کرتا ہے، وہ بیواؤں کے حقوق بھی بیان کرتا ہے وہ دوستوں کے حقوق بھی بیان کرتا ہے، وہ اجنبیوں کے حقوق بھی بیان کرتا ہے، اُس اجنبی کے حقوق بھی جو میرا ہم ملک اور میرا ہم وطن ہے اور اُس اجنبی کے حقوق بھی جو کسی غیر ملک سے میرے پاس پناہ لینے کے لیے آتا ہے یا میرے ملک کی سیر کرنے کے لئے آتا ہے۔ قرآن دنیا سے ایک علیحدہ سیاست بھی پیش کرتا ہے۔ قرآن ہی وہ کتاب ہے جس نے سب سے پہلے اس بات کا حکم دیا ہے کہ کسی شخص کو نسلی طور پر بادشاہت کرنے کا حق نہیں بلکہ حکومت ملک کی امانت ہے جو ملک کے تجویز کردہ حکام کے ہاتھوں میں جانی چاہئے ڈیموکریسی جس پر آج یورپ فخر کرتا ہے اس کی بنیاد سب سے پہلے قرآن ہی نے رکھی ہے۔ قرآن ایک طرف تو تنظیم اور اطاعت پر زور دیتا ہے اور دوسری طرف حکام کو دیانت داری سے اپنے فرائض ادا کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ قرآن سب سے پہلی کتاب ہے جو حکام کے اقتدار پر تبر رکھتی ہے۔ قرآن اسے تسلیم نہیں کرتا کہ کوئی ایک انسان بنی نوع انسان کی قسمتوں کا مالک بنے اور اگر وہ ان سے اچھا سلوک کرے تو اس کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ وہ احسان کرتا ہے۔ قرآن اس بات پر زور دیتا ہے کہ حقوق عامۃ الناس کے ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ امانتاً حکام کے سپرد کئے گئے ہیں اور جب وہ یہ امانت صحیح موقعوں پر اور صحیح طریق پر امانت رکھنے والوں کے سپرد کرتے ہیں تو وہ کوئی احسان نہیں کرتے بلکہ صرف امانت والے کی امانت واپس کرتے ہیں۔ وہ اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ حکام کے انتخاب کے وقت جنبہ داری یا رعایت کا خیال بالکل نہ رکھا جائے بلکہ جس طرح حاکم کا فرض ہے کہ وہ عامۃ الناس کے حقوق صحیح طور پر ادا کرے اسی طرح عامۃ الناس کا بھی فرض ہے کہ وہ ایسے شخص کو منتخب کریں جو ان کے حقوق کو ادا کرنے کی اہلیت رکھتا ہو جو شخص پارٹی بازی یا جنبہ داری کی روح کے ماتحت ایک غیر مستحق شخص کو آگے لاتا ہے وہ اس کے افعال کی خرابیوں میں شریک ہے وہ یہ عذر پیش نہیں کر سکتا کہ ظلم حاکم نے کیا ہے کیونکہ اس حاکم کے مقرر کرنے میں ضرور اس کا ہاتھ بھی تھا۔ پس یہ بھی اس کے ظلم میں شریک ہے۔

قرآن ہر حال میں اخلاقِ فاضلہ کے اظہار پر زور دیتا ہے

قرآن سیاست میں اخلاقِ فاضلہ پر زور دیتا ہے وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ اخلاقِ فاضلہ افراد کیلئے ہوتے ہیں حکومتوں کیلئے نہیں ہوتے بلکہ وہ اس بات پر زور دیتا کہ جس طرح افراد پر اخلاقِ فاضلہ کی ذمہ داریاں ہیں اسی طرح حکومتوں پر بھی اخلاقِ فاضلہ کی ذمہ داریاں ہیں۔ سچ صرف ایک عام شہری ہی کے لئے قیمتی چیز نہیں بلکہ ایک سیاست دان کے لئے بھی ضروری ہے۔ ظلم صرف ایک عام آدمی کے لئے ہی بُرا نہیں بلکہ ایک حکومت کے لئے بھی بُرا ہے۔ حکومت کا یہی فرض نہیں کہ وہ اپنے افراد کے ساتھ انصاف کا سلوک کرے بلکہ حکومت کا یہ بھی فرض ہے کہ جس طرح ہمسایہ ہمسائے سے عمدہ سلوک کرتا ہے وہ بھی اپنی ہمسایہ حکومتوں سے عمدہ سلوک کرے۔ اسلام مؤمن کو ہوشیار اور چوکس رہنے کا حکم دیتا ہے وہ جفاکشی کی تعلیم دیتا ہے۔ وہ بزدلی سے منع کرتا ہے مگر تہور اور جاہلانہ جوش سے روکتا ہے۔ وہ عقل اور تدبیر سے کام لینے کا حکم دیتا ہے وہ خودکشی کو ناجائز قرار دیتا ہے اور ایسے تمام افعال جو خودکشی کے مترادف ہوں اُن سے منع کرتا ہے۔ وہ مسلمان حکومتوں کو سرحدوں کی حفاظت ملحوظ رکھنے کا خاص طور پر حکم دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ جنگ میں کبھی ابتداء نہ کی جائے لیکن اگر دشمن جنگ شروع کر دے تو پھر پیچھے کبھی نہ ہٹا جائے۔ وہ شب خون مارنے سے منع کرتا ہے۔ وہ معاہدے کی پابندی کا سختی سے حکم دیتا ہے اور صلح کے تمام مواقع کو ہاتھ سے نہ جانے دینے کی تاکید کرتا ہے۔ قرآن کریم اپنے ملک کے یا غیر ملک کے افراد کو آزادی سے محروم کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ صرف جنگی قیدیوں کے پکڑنے کی اجازت دیتا ہے مگر اس کے لئے بھی وہ یہ شرط مقرر کرتا ہے کہ ہر قیدی اپنے حصے کا حرجانہ ادا کر کے آزاد ہونے کا حق رکھتا ہے کسی شخص کو اجازت نہیں کہ وہ باوجود اس کے کہ کوئی قیدی اپنے حرجانہ کی رقم ادا کر دے اُس کو قید رکھ سکے، لیکن اگر کوئی شخص جو ایک ظالمانہ جنگ میں شریک ہو جائے، اپنے حصہ کا حرجانہ ادا کرنے کی قابلیت نہ رکھتا ہو تو پھر قرآن کریم اُس کے لئے یہ حکم دیتا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اُس کو اجازت دی جائے کہ وہ کمائی کر کے اپنا حرجانہ ادا کر دے۔ اور جو ایسا کرنے کی بھی قابلیت نہیں رکھتا اس کیلئے اسلام مؤمنوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کی مدد کریں اور اس کو قید سے جلد آزاد کرانے کی صورت پیدا کریں لیکن اگر کوئی ایسا قیدی اپنے لئے آزادی کو پسند نہیں کرتا اور ایک مسلمان کے گھر میں رہنے کو اپنے وطن میں واپس جانے پر ترجیح دے تو قرآن کریم حکم دیتا ہے کہ اس کے ساتھ انصاف کا سلوک کیا جائے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی یہ تشریح فرماتے ہیں کہ جیسا کھانا تم خود کھاتے ہو ویسا ہی کھانا اسے کھلاؤ اور جیسے کپڑے تم خود پہنتے ہو ویسے ہی کپڑے اسے پہناؤ اور جس سواری پر تم خود چڑھتے ہو اُس سواری پر اُسے چڑھاؤ۔ قرآن کریم قوموں میں مساوات پر خاص زور دیتا ہے قرآن پہلی کتاب ہے جس نے بنی نوع انسان کو بحیثیت بنی نوع انسان کے ایک گروہ قرار دیا ہے۔ قرآن کہتا ہے جو کہ انسانوں کی مختلف قومیں ہیں اور مختلف ملک ہیں یہ صرف پہچاننے کے لئے ہیں حقیقتاً تمام انسان ایک درجہ کے ہیں اور ان کو ایک درجہ دینا چاہیے اور فرماتا ہے کہ کوئی قوم اپنے نسلی امتیاز کی وجہ سے دوسری قوم پر اپنے آپ کو فوقیت نہ دے۔ کوئی گروہ اپنی اقتصادی ترقی یا کسی اور وجہ سے دوسرے سے اپنے آپ کو ممتاز نہ سمجھے ورنہ ایسے لوگ یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ کا قانون ایک دن ان کو ضرور نیچا کر دے گا اور جن کو وہ ادنیٰ سمجھتے ہیں اُن کو وہ ان پر فوقیت عطا کر دے گا۔ کیسی اعلیٰ درجہ کی یہ تعلیم ہے اور دنیا میں امن کے قیام کا کیسا بہترین ذریعہ ہے۔ قرآن کریم اُن تمام لہو ولعب کی چیزوں سے روکتا ہے جو انسان کے سنجیدگی سے کام کرنے کے راستہ میں حائل ہوتی ہیں وہ جوا اور شراب اور ہر قسم کی لہو ولعب کی باتوں سے منع کرتا ہے وہ مردوں کو زیورات اور ریشم پہننے سے روکتا ہے اور عورتوں کو نہایت ہی محدود طور پر اس کی اجازت دیتا ہے۔

پیدائش روح کے متعلق قرآنی تعلیم

قرآن کریم ہی وہ کتاب ہے جو انسان کی روح اور اس کی پیدائش کے متعلق مکمل بحث فرماتی ہے اس بارہ میں دوسری کتب یا تو خاموش ہیں یا قیاس آرائیوں پر اکتفا کرتی ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق ایک مکمل بحث فرمائی ہے چنانچہ فرماتا ہے وَیَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الرُّوۡحِ ؕ قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّیۡ وَمَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ اِلَّا قَلِیۡلًا(17:86) لوگ تجھ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں تُو انہیں جواب میں کہہ کہ روح اللہ تعالیٰ

کے حکم سے پیدا کی گئی ہے اور روح کے متعلق تمہارا علم بہت تھوڑا ہے۔ اِس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ لوگ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ ارواح ایک ازلی ابدی چیز ہیں اور کسی علیحدہ دنیا میں رکھی گئی ہیں پھر وہاں سے وقتاً فوقتاً وہ انسانی اجسام میں آ کر داخل ہوتی رہتی ہیں صحیح بات یہ ہے کہ جیسے اور چیزیں خدا تعالیٰ کے حکم سے پیدا ہوتی اور اُس کے حکم کے ماتحت ترقی کرتی ہیں اسی طرح روح بھی خدا تعالیٰ کے حکم سے پیدا ہوتی اور اُس کے حکم سے ترقی کرتی ہے روح کی پیدائش جسمانی پیدائش سے کوئی علیحدہ قسم کی چیز نہیں بلکہ جس قسم کا تغیر اور تبدل جو جسمانیات کے ارتقاء کیلئے ہوتا ہے وہی روحانی پیدائش کا بھی موجب ہو جاتا ہے اور پھر روح کی ترقی اور بلندی کا باعث بھی۔ اس مسئلہ کو تشریح کے ساتھ قرآن کریم نے دوسری جگہ سورہ مؤمنون میں بیان فرمایا ہے وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ ثُمَّ جَعَلۡنٰہُ نُطۡفَۃً فِیۡ قَرَارٍ مَّکِیۡنٍ ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَۃَ مُضۡغَۃً فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا ٭ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلۡقًا اٰخَرَ ؕ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحۡسَنُ الۡخٰلِقِیۡنَ(23:13-15) ہم نے انسان کو مٹی سے نکلے ہوئے خلاصہ سے بنایا ہے پھر گیلی مٹی میں سے نکلے ہوئے ایک خلاصہ سے بنایا ہے پھر ہم نے اُسے نطفہ کی شکل میں تبدیل کر دیا جو نطفہ ایک مقررہ جگہ پر رہتا ہے تو ہم اس نطفہ کو ایک گاڑھی چیز بنا دیتے ہیں جو چمٹ جاتی ہے پھر وہی چمٹی ہوئی چیز ایک لچکدار چیز بن جاتی ہے پھر اس لچکدار چیز میں ہڈیاں پیدا ہونے لگ جاتی ہیں پھر ان ہڈیوں پر تازہ گوشت چڑھنے لگ جاتا ہے پھر اسی چیز میں سے ایک بالکل ہی غیر نظر آنے والی چیز (یعنی روح) بن جاتی ہے پس کیا ہی برکت والا وہ خدا ہے جس نے ایسے اعلیٰ رنگ میں انسان کو پیدا کیا ہے۔ اس جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ انسانی پیدائش درحقیقت انہیں چیزوں کے ذریعہ سے ہوتی ہے جو کہ انسان کھاتا اور پیتا ہے۔ انہی چیزوں سے انسان کے جسم میں کچھ ایسا مادہ تیار ہوتا ہے جو انسان اور دوسرے حیوانات کے پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے جب یہ مادہ رحم مادر میں جاتا ہے تو جس مادہ میں تکمیل کی طاقت پائی جاتی ہے وہ ماں کے رحم کے ایک حصہ سے چمٹ جاتا ہے اور وہاں سے اس کے اندر غذا آنی

شروع ہو جاتی ہے۔ کچھ دنوں میں اس کے اندر غلظت اور گاڑھا پن پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور وہ ایک لچکدار چیز بن جاتی ہے پھر اس کے اندر ہڈی کا مادہ نشوونما پانے لگتا ہے جس کے بعد گوشت پورے طور پر جسم پر نشوونما پا کے ظاہری تخلیق مکمل ہو جاتی ہے۔ اس سلسلہ کے ساتھ ساتھ جسم میں سے ایسے مواد پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں جو اس نباتی قسم کے نشوونما کو حیوانیت میں تبدیل کر دیتے ہیں اور آخر ایک سوچنے اور سمجھنے والا انسان پیدا ہو جاتا ہے۔ اس آیت میں وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے کہ روحیں کہیں باہر سے نہیں آتیں بلکہ اسی جسم میں سے جو رحمِ مادر میں نشوونما پاتا ہے ایک نیا مادہ پیدا ہوتا ہے جو دوسری نباتی چیزوں سے انسان کو علیحدہ کر کے اسے حیوان کا نام دیتا ہے اور حیوانی حالت سے ترقی کر کے ایک اعلیٰ انسان پیدا ہوتا ہے جس میں عقل اور سمجھ ہوتی ہے اور جس میں ترقی کا مادہ پایا جاتا ہے۔ ہم دنیا کی چیزوں میں سے موٹی مثال کے طور پر ان کیمیاوی تغیرات کو پیش کر سکتے ہیں جو باہم اختلاط کے بعد ایک بالکل نئی شکل اختیار کر لیتے ہیں جیسے چقندر یا گندم یا مکی یا گُڑ سے شراب تیار ہو جاتی ہے۔ شراب ایک ایسی چیز بن جاتی ہے جو اپنی پہلی شکل سے بالکل مختلف ہوتی ہے جبکہ اس کے منبع میں سڑنے کی طاقت ہے اس میں قائم رہنے اور قائم رکھنے کی طاقت ہوتی ہے اور جبکہ اس کے منبع کا اثر دماغ پر کسی قسم کا بھی نہیں پڑتا ، یہ دماغ کے اُوپر خصوصیت کے ساتھ اثر کرنے والی چیز ہوتی ہے۔ غرض اس مضمون میں قرآن کریم پہلی تمام کتب سے جداگانہ تعلیم پیش کرتا ہے قرآن کریم سے پہلے مختلف مذاہب میں روحوں کے متعلق دو خیال تھے ایک خیال تو یہ تھا کہ روحیں خدا تعالیٰ کی پیدا کی ہوئیں نہیں ، بلکہ خدا تعالیٰ کی طرح انادی ہیں۔ خدا تعالیٰ ان انادی روحوں کو مناسب موقع پر مختلف جسموں میں داخل کرتا رہتا ہے۔ مذاہب میں سے ایک دوسرے حصہ کا یہ خیال تھا کہ روحیں انادی تو نہیں ، ہیں تو خدا تعالیٰ کی مخلوق لیکن جب اُس نے دنیا پیدا کی تو اُسی وقت آئندہ پیدا ہونے والی روحیں بھی پیدا کر دیں اور اسی پیدا کئے ہوئے خزانہ میں سے وقتاً فوقتاً وہ کچھ ارواح انسانی جسم میں ڈال کر بھیجتا رہتا ہے۔ بعض مذاہب ایسے بھی تھے جو روح کے متعلق بالکل خاموش تھے۔ وہ موجودہ انسان کے ظاہر کے متعلق بحث کو کافی سمجھتے تھے اور اس کی پیدائش یا اُس کی روح کے متعلق کسی قسم کا خیال ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے

تھے۔ اسلام وہ پہلا اور آخری مذہب ہے جس نے اِس مسئلہ کو صحیح طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ روح درحقیقت انسانی جسم کے ارتقاء کا ایک انتہائی نقطہ ہے اور وہ کہیں باہر سے نہیں آئی بلکہ انسانی جسم کے تغیرات کے نتیجہ میں ہی وہ پیدا ہوئی ہے ہاں اس نے ایک علیحدہ وجود اختیار کر لیا ہے۔ انسانی جسم کے محض عمل کا نام روح نہیں بلکہ روح انسانی مادہ ہی سے نکلی ہوئی ایک چیز ہے جس نے ایک مستقل وجود اختیار کر لیا ہے۔ جس طرح شراب اور سرکہ دانوں اور پھلوں ہی میں سے نکلتے ہیں لیکن وہ ایک علیحدہ وجود اختیار کر لیتے ہیں بظاہر تو یہ ایک معمولی بات معلوم ہوتی ہے لیکن اگر ہم غور کر کے دیکھیں تو اس حقیقت کے اظہار سے اسلام نے مذہب کا نقطۂ نگاہ بالکل بدل دیا ہے روحوں کو انادی ماننے یا خدا تعالیٰ کے کسی قدیم زمانہ میں ان کو پیدا کر کے اس دنیا میں بھیجتے رہنے کے عقیدہ نے مختلف مذاہب کے پیروؤں میں یہ احساس پیدا کر دیا تھا کہ جسم کی صفائی اور جسم کے ارتقاء کا روح کے ساتھ کوئی تعلق نہیں لیکن اسلام نے اس حقیقت کو بیان کر کے اس طرف توجہ دلا دی کہ جسم کی صفائی اور جسم کے ارتقاء کا تعلق روح کے ساتھ بہت گہرا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جسم انسانی کے نشو ونما سے کوئی نہ کوئی روح تو ضرور پیدا ہو جائے گی لیکن اگر جسم انسانی کا خیال اچھی طرح رکھا جائے گا اگر حفظانِ صحت کے اصول کو مدنظر رکھا جائے گا تو یقیناً ایک زیادہ فعال اور سمجھدار انسان پیدا ہوگا۔ پس اس حقیقت کو بیان کر کے اسلام نے انسان کی روحانی اور دماغی ترقی کے لئے ایک نیا رستہ کھول دیا ہے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ روح تو اپنی ذات میں کوئی طاقت نہیں رکھتی اس لئے جسم کے تغیرات کا روح پر کیا اثر پڑ سکتا ہے یہ درحقیقت ایک غلط خیال ہے روح کا طاقت نہ رکھنا ایک بے معنی بات ہے اگر روح کوئی طاقت نہیں رکھتی تو وہ ایک بے حقیقت چیز ہے اصل بات یہ ہے کہ روح کے اندر طاقتیں تو ہیں لیکن روح بغیر جسم کے اپنی طاقتوں کو استعمال نہیں کر سکتی اور بہت سی مادی چیزیں دنیا میں ایسی ہیں جو بغیر کسی کے واسطہ کے اپنے آپ کو ظاہر نہیں کر سکتیں جیسے بجلی ہے کہ وہ اپنا ظہور دوسری چیزوں کے ذریعہ سے کرتی ہے پس یہ درست نہیں کہ روح کے اندر طاقتیں نہیں ہوتیں۔ روح کے اندر طاقتیں اور صفات ضرور ہوتی ہیں مگر اُن کا ظہور کسی نہ کسی جسم کے ذریعے سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ تمام مضامین اور ایسے ہی بہت سے مضامین قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ ان تمام باتوں کو دیباچہ میں بیان نہیں کیا جا سکتا صرف اِن کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اُوپر میں نے ان اُمور کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم اس بات کا مدعی ہے کہ تمام وہ باتیں جن کی دین اور اخلاقی ترقی اور جسم اور روح کی پاکیزگی کے لئے ضرورت ہے وہ قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں اور اس دعویٰ کو ہم نے ہر زمانہ میں سچا پایا ہے۔ اس بیسویں صدی میں بھی کہ اس زمانہ کے لوگ اپنے آپ کو علوم میں سب سے بڑھ کر سمجھتے ہیں ہم قرآن کریم کو انسان کی تمام سچی ضرورتوں کو پورا کرنے والا پاتے ہیں اور کوئی ایسی ضرورت جو دین یا اخلاق یا روحانی یا دماغی صفائی اور پاکیزگی کے متعلق ہو ہمیں ایسی نہیں ملتی جس کے متعلق قرآن کریم میں مکمل تعلیم نہ دی گئی ہو، لیکن ایک دیباچہ ان کی تفصیل کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پس مختصر اشاروں پر ہی میں اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔ ہاں تشریحی نوٹوں میں مختلف آیات کی تشریح میں ان اُمور پر مزید روشنی ڈالی جائے گی۔ گو جس قسم کے مختصر نوٹ اِس قرآن کریم میں دیئے گئے ہیں اُن کو مدنظر رکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ پورا علم قرآن کے مطالب کا ان نوٹوں سے بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لئے میری اُردو کی تفسیر ایک حد تک ممد ہو سکتی ہے وہ ان انگریزی تشریحی نوٹوں سے بہت زیادہ مفصل ہے۔

روحانی دنیا کا نقشہ

قرآن کریم کی تعلیم کے اُصول کا ایک مختصر خلاصہ بیان کرنے کے بعد میں روحانی دنیا کا وہ نقشہ پیش کرتا ہوں جو قرآن کریم نے کھینچا ہے مختصراً پیش کرتا ہوں۔ جس طرح یہ مادی دنیا ہمیں ایک خاص نظام کے ماتحت چلتی ہوئی نظر آتی ہے ہم جس زمین پر رہتے ہیں وہ ایک نظامِ شمسی کے تابع ہے، ایک سورج اپنے ماتحت کچھ ستارے رکھتا ہے۔ اور وہ ستارے اس سورج کے گرد گھومتے ہیں اور سورج آگے ایک غیر معلوم منزل کی طرف جاتا ہے جس کی نسبت آجکل کے حساب دان کہتے ہیں کہ وہ ایک بڑا مرکز ہے جو تمام نظام ہائے شمسی کو ایک بڑے نظام کے ماتحت جکڑ رہا ہے ان کی تفصیلات ٹھیک ہوں یا نہ ہوں بہرحال یہ تو ظاہر ہے کہ یہ ساری دنیا کسی ایک نظام کے ماتحت ہے ورنہ یہ اس طرح قائم نہیں رہ سکتی تھی۔ پھر اس ظاہری نظام کے ماتحت کچھ قوانین قدرت ہیں جن کے مطابق مادہ دنیا میں کام کر رہا ہے اور مختلف قسم کے تغیرات میں سے گزرتے ہوئے مادی دنیا کو

انواع و اقسام کی اشیاء سے بھر رہا ہے جن اشیاء کے استعمال سے ہی اس دنیا کی ترقی اور اس کی کامیابی کا راز وابستہ ہے۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہی ایک روحانی نظام بھی ہے اور جس طرح اس مادی عالم کے تمام نظام ہائے شمسی کا ایک مرکز فرض کیا جاتا ہے قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح روحانی دنیا کا بھی درحقیقت ایک مرکز محیط ہے یعنی کوئی ایسی چیز نہیں جو اُس مرکز کے تصرف اور اس کے اختیار اور اس کے قبضہ سے باہر ہو۔ وہ ہستی آپ ہی آپ موجود ہے کوئی اس کا پیدا کرنے والا نہیں وہ اپنے کاموں میں کسی اور کا محتاج نہیں نہ اس کا کوئی باپ ہے، نہ اُس کا کوئی بیٹا ہے نہ اُس کی طاقتوں میں کوئی اور شریک ہے چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے

قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَلَمۡ یُوۡلَدۡ وَلَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ(112:2-5) اے محمد رسول اللہ! تُو دنیا کو سنا دے کہ حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی تمام طاقتوں میں منفرد ہے گو دوسری چیزوں کی صفات اور اُس کی بعض صفات میں ظاہری تشابہہ نظر آتا ہے لیکن وہ تشابہہ صرف لفظی اور ظاہری ہے حقیقتاً خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو مشابہت نہیں۔ مثلاً ظاہر میں خدا تعالیٰ بھی موجود ہے اور انسان بھی موجود ہے مگر انسان اور حیوان اور دوسری چیزوں کا وجود باوجود اس کے کہ لفظاً خدا تعالیٰ کے وجود کے ساتھ اشتراک رکھتا ہے حقیقتاً دونوں ایک چیز نہیں۔ خدا تعالیٰ کے متعلق جب ہم کہتے ہیں کہ وہ موجود ہے تو اس کے معنی یہ ہوا کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذات میں کامل وجود ہے اور جب ہم انسان یا حیوان یا دوسری چیزوں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ موجود ہیں تو ہمارا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ جب تک وہ اسباب اور وہ علتیں موجود ہیں جن کے تغیرات کے نتیجہ میں انسان یا حیوان یا دوسری اشیاء پیدا ہوئی ہیں اُس وقت تک اُس انسان یا حیوان یا موجودات کا وجود قائم رہے گا۔ اگر وہ اسباب اور وہ علتیں پیچھے ہٹالی جائیں تو اس کا وجود بھی فنا ہو جائے یا وہ اسباب اور علل جتنے جتنے ہٹالئے جائیں گے اتنا اتنا ہی وہ فنا ہوتا جائے گا۔ مثلاً ایک زندہ انسان کی زندگی کا موجب اُس کی روح کا جسم سے تعلق ہے انسان کا زندہ ہونا ایک عارضی تعلق کی وجہ سے ہے جب وہ عارضی تعلق قطع ہو جاتا ہے تو انسان تو رہتا ہے مگر زندہ نہیں رہتا۔ انسانی جسم موجود تو ہوتا ہے مگر انسانی جسم نام ہے چند عارضی اسباب کی وجہ سے چند ذرات کے ایک خاص شکل میں جمع ہو جانے کا۔ اُن ذرات کو جب الگ کر دیا جائے تو انسانی جسم باقی نہیں رہتا۔ جب انسان مر جاتا ہے اور اس کو مٹی میں دفن کرتے ہیں تو مٹی کی رطوبت اور دوسرے کیمیاوی اثرات اُس کے جسم کو خاک بنا کر رکھ دیتے ہیں وہ ذرے جن سے انسانی جسم بنا تھا وہ تو اب بھی موجود ہوتے ہیں مگر علت کے بدل جانے کی وجہ سے انسانی جسم موجود نہیں رہتا۔ جب اسی انسانی جسم کو آگ میں جلا دیا جاتا ہے یا پانی میں گلا دیا جاتا ہے یا بجلی سے راکھ کر دیا جاتا ہے تو جن چیزوں سے انسان بنا تھا وہ تو پھر بھی موجود رہتی ہیں مگر آگ یا بجلی یا پانی کے اثرات سے اُن کی شکل بدل جاتی ہے اور انسانی جسم کو اس کی موجودہ شکل میں قائم رکھنے کی جو علت تھی اُس کے مٹتے ہی انسانی جسم بھی مٹ جاتا ہے مگر خدا کیلئے یہ بات نہیں ، اُسے کوئی خارجی سبب وجود نہیں دے رہا ہے۔ یا اُس کے وجود کو قائم نہیں رکھ رہا بلکہ وہ خود کامل ہستی ہونے کی وجہ سے موجود ہے اور وقت کی قید سے آزاد ہے گو انسانی دماغ نہیں سمجھ سکتا کہ وہ کیونکر وقت کی قید سے آزاد ہے جب کہ سب مادہ وقت کی قید میں مبتلا ہے۔ اس کا جواب درحقیقت یہی ہے کہ خدا کا وجود اور طرح کا ہے اور انسان کا وجود اور طرح کا ہے انسان کے وجود یا مادی وجود پر خدا تعالیٰ کا قیاس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ هُوَ اَحَدٌ وہ ہر چیز میں منفرد ہے۔ اسی مضمون کو قرآن کریم ایک دوسری جگہ ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے کہ فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا وَّمِنَ الۡاَنۡعَامِ اَزۡوَاجًا ۚ یَذۡرَؤُکُمۡ فِیۡہِ ؕ لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ ۚ وَہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ(۵۶۵) وہ آسمان اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے اس نے ہر چیز کی جنس میں سے اُس کا جوڑا بنایا ہے۔ چار پایوں کی جنس میں سے بھی اُن کا جوڑا بنایا ہے اور وہ ان جوڑوں کے ذریعہ سے مادی دنیا کو ترقی دیتا چلا جاتا ہے یعنی تمام دنیا میں خواہ وہ حیوان ہوں یا نباتات یا جمادات جوڑوں کا سلسلہ چل رہا ہے خواہ اس کو نر و مادہ کہہ لو خواہ اسے مثبت و منفی کہہ لو۔ خواہ اس کا کوئی اور نام رکھ لو۔ بہر حال یہ ساری دنیا جوڑوں کے اصول پر چل رہی ہے۔ ایک اور جگہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَیۡنِ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ(۵۶۶) اور ہم نے ہر چیز کو جوڑے جوڑے بنایا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ یعنی تا یہ تم سمجھ سکو کہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ

کے سوا خدا نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ ایک جوڑے کی محتاج ہے اور اس کا قیام اور اس کی زندگی دوسری چیزوں کے ساتھ وابستہ ہے۔ غرض قرآن کریم ایک ایسی ہستی کو تمام موجودات کا مرکز قرار دیتا ہے جو اپنی ذات میں منفرد ہے اور جس کے ساتھ کسی اور چیز کو مشابہت نہیں دی جا سکتی۔ اس کے سوا جتنی موجودات ہیں وہ سب اپنی ذات کے قیام کے لئے دوسروں کی محتاج ہیں مگر وہ ہستی جو تمام کائنات کا نقطۂ مرکزی ہے وہ اپنے کاموں کے لئے کسی کی محتاج نہیں۔

پھر فرماتا ہے نہ اُس ہستی سے آگے کوئی اولاد پیدا ہوتی ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد میں سے ہے۔ اس آیت کے ذریعہ سے قرآن کریم نے اپنے عقیدہ کو عیسائیت سے بالکل مختلف ثابت کیا ہے عیسائیت اور بھی بہت سے دیگر آرین مذاہب بھی خدا تعالیٰ کی کسی نہ کسی شکل میں اولاد تسلیم کرتے ہیں۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ اولاد کی ضرورت ایسی ہستیوں کو ہوتی ہے جو محتاج ہوتی ہیں یا جن پر فنا آنے والی ہوتی ہے مگر خدا میں یہ باتیں نہیں پائی جاتیں۔ پس اُس کو کسی اولاد کی ضرورت نہیں اور جس طرح اُسے اولاد کی ضرورت نہیں اسی طرح وہ اس بات کا بھی محتاج نہیں کہ اس کا کوئی اور سبب اور پیدا کرنے والا ہو۔ اور جس طرح وہ باپ اور بیٹے سے آزاد ہے اسی طرح وہ اس بات میں بھی منفرد ہے کہ کوئی اور ہستی اس جیسی طاقتوں والی موجود نہیں۔ یعنی نہ تو خدا تعالیٰ کے پیدا کرنے کا کوئی سبب ہے نہ خدا تعالیٰ اولاد کا محتاج ہے اور نہ خدا تعالیٰ کی قسم کا کوئی اور وجود موجود ہے۔ اس آخری اعلان کے ساتھ قرآن کریم نے اُن مذاہب کا ردّ کیا ہے جو تعددِ اَلوہیت کے قائل ہیں جیسے زرتشی مذہب ہے غرض ان مختصر الفاظ میں یہ عقیدہ پیش کیا گیا ہے کہ تمام عالم کا مرکز ایک خدا ہے جو منفرد حیثیت رکھتا ہے تمام دیگر ہستیوں سے۔ اور وہ واحد منبع ہے تمام موجودات کا۔ اور وہ اپنے کاموں کے کرنے میں کسی کی مدد کا محتاج نہیں نہ اس کا کوئی بیٹا ہے نہ اس کا کوئی باپ تھا اور نہ کوئی متوازی طاقت اُس کے ساتھ موجود ہے اور نہ اس کے بالمقابل کوئی اور طاقت موجود ہے۔ دیکھو! ان چند الفاظ میں سارے کے سارے مذاہب کو ردّ کر کے ایک خالص توحید کو قائم کر دیا گیا ہے۔

دنیا کے جتنے مذاہب ہیں وہ سارے کے سارے مندرجہ ذیل غلطیوں میں مبتلا ہیں۔ بعض لوگ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کسی خاص قوم کا خدا ہے یعنی خواہ اس نے پیدا تو ساری دنیا کو کیا مگر وہ مخصوص ہو گیا ہے بنی اسرائیل سے یا مخصوص ہو گیا ہے ہنود سے یا مخصوص ہو گیا ہے ایرانیوں سے۔ قرآن مجید اس عقیدہ کو ردّ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ صرف اپنی ذات میں منفرد ہے بلکہ وہ منبع ہے تمام کائنات کا۔ (اَحَد کا لفظ جو سورۃ اخلاص کی مندرجہ بالا آیت میں استعمال کیا گیا ہے اس کے معنی منفرد کے بھی ہوتے ہیں اور اکائی کے بھی ہوتے ہیں یعنی وہ منبع جو خود تعدد سے باہر ہوتا ہے لیکن تعدد اس کے اثر سے پیدا ہوتا ہے) اس آیت کے ذریعہ سے قرآن کریم نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ تمام بنی نوع انسان کا خدا ہی ہادی اور راہنما ہے اُسے کسی قوم کے ساتھ خاص لگاؤ نہیں تمام بنی نوع انسان جو اُس کے قرب کی راہیں تلاش کریں خدا اُن کے لئے اپنے قرب کی راہیں کھولتا ہے۔ عرب، بنی اسرائیل، ایرانی، ہندی، چینی، یونانی، افریقی یہ سارے اس کی نظر میں ایک ہیں کیونکہ وہ ان سب کو وجود دینے کا باعث ہے۔ تمام دنیا کے تعدد کی وہ اکیلی اکائی ہے۔ پھر یہ کہہ کر کہ وہ کسی کا بیٹا نہیں اس نے عیسائیت کے مرکزی عقیدہ کو ردّ کیا ہے۔ اسی طرح مختلف ہندو فرقوں کے مرکزی عقیدہ کو اُس نے ردّ کیا ہے۔ اور یہ کہہ کر وہ کسی کا بیٹا نہیں اس نے اس عقیدہ کو ردّ کیا ہے کہ کوئی بیٹا خدا ہو سکتا ہو کیونکہ جو اپنے وجود کے لئے دوسرے کا محتاج ہو وہ خدا نہیں ہو سکتا۔ اور یہ کہہ کر کہ اس کے بالمقابل کوئی اور طاقتیں نہیں، اس نے اُن مذاہب کے عقائد کو ردّ کر دیا ہے جو نور اور تاریکی کو علیحدہ علیحدہ وجود قرار دے کر دنیا کے دو متوازی خدا منوانا چاہتے ہیں۔

پھر قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ خدا تمام اشیاء کی علت العلل بھی ہے یعنی تمام کی تمام مفردات اس سے نکلی ہیں اور سب کی سب مخلوق اُسی کی طرف لوٹتی ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے ہُوَ الۡاَوَّلُ وَالۡاٰخِرُ(۵۶؂) خدا ہی اوّل ہے اور خدا ہی آخر ہے۔ اس کے یہی معنی ہیں کہ ہر چیز کا وجود خدا سے آتا ہے اور ہر چیز کی فنا بھی خدا کے قانون کے ماتحت چلتی ہے اگر خدا تعالیٰ دنیا کی موجودات کو وجود نہ بخشتا تو وہ کبھی وجود نہ پاسکتی تھیں اور اگر خدا تعالیٰ نے ہی اُن کی فنا کے سامان پیدا نہ کئے ہوتے تو وہ فنا نہیں ہو سکتی تھیں مطلب یہ ہے کہ ہر چیز کی پیدائش اور فنا خاص قوانین کے ماتحت چلتی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک بالا ارادہ ہستی نے اس دنیا کے نظام کو قائم کیا ہے چنانچہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ سب اسی کا پیدا کیا ہوا ہے فرماتا ہے بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ اَنّٰی یَکُوۡنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَمۡ تَکُنۡ لَّہٗ صَاحِبَۃٌ ؕ وَخَلَقَ کُلَّ شَیۡءٍ ۚ وَہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ(6:102) آسمان اور زمین کو پیدا کرنے والا خدا ہی ہے اس کے بیٹا ہو کس طرح سکتا ہے جبکہ اس کی کوئی بیوی نہیں اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ فَاعۡبُدُوۡہُ ۚ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ وَّکِیۡلٌ(6:103) یہ ہے اللہ تمہیں ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف لے جانے والا۔ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں وہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے پس اُس کی عبادت کرو اور ہر چیز کا انتظام اسی کے قبضہ میں ہے۔

ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ زمین اور آسمان کی پیدائش کا موجب اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر اُسے کسی بیٹے کی ضرورت کیا تھی کیونکہ بیٹے کا وجود یا تو اتفاقی حادثہ کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے یا ضرورت کیلئے۔ اتفاقی حادثہ اس طرح ہوتا ہے کہ نر مادہ سے ملتے ہیں اور طبعی طور پر اس کے نتیجہ میں اولاد پیدا ہو جاتی ہے اس کا جواب اللہ تعالیٰ یہ دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تو کوئی بیوی نہیں بیٹا کہاں سے آجائے گا اور اگر کہو کہ خدا تعالیٰ نے ایک نیا وجود بنایا اور اس کو بیٹے کا مقام دیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیٹے کی غرض تو یہی ہوا کرتی ہے کہ انسان کے کاموں میں مدد دے اور اس کے بعد اس کے نام کو قائم رکھے مگر وہ خدا جو ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے کیا وہ بھی اسی قسم کی احتیاج رکھتا ہے پھر وہ بیٹا بناتا ہی کیوں۔ وَہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ(57:4) پھر فرماتا ہے وہ ہر چیز کو جانتا ہے یعنی بعض دفعہ انسان احتیاطاً ایک سامان پیدا کر لیتا ہے کہ نہ معلوم آئندہ کیا ہو جائے لیکن خدا تعالیٰ کیلئے تو یہ خوف بھی نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔ وہ ان تمام باتوں کو جانتا ہے جو گذشتہ زمانہ میں ہو چکیں اور ان تمام باتوں کو جانتا ہے جو آئندہ زمانوں میں ہونے والی ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کو کسی احتیاط کی ضرورت نہیں۔ پھر فرماتا ہے یہ وہ خدا ہے جس نے تم کو ادنیٰ حالت سے پیدا کر کے اعلیٰ درجہ کی ترقی تک پہنچایا اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں تمام موجودات کو پیدا کرنے والا وہی ہے۔ ایرانی اور اسرائیلی اور عرب اور ہندو ہونا خدا تعالیٰ کی نظر میں کوئی امتیازی چیز نہیں اُس کے لیے یہ سب برابر ہیں۔ اُسی نے ان سب کو پیدا کیا اور اُسی نے ان سب کو آہستہ آہستہ ترقی بخشی۔ پس ان سب کیلئے ضروری ہے کہ اس واحد خدا کی پرستش کریں اور یاد رکھیں کہ

تمام کی تمام مخلوقات کی نگرانی اور ذمہ واری اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی ہے اُس کے ساتھ تعلق قائم رکھ کر ہی انسان تباہیوں اور بربادیوں سے بچ سکتا ہے اور اُس سے دور رہ کر اُسے کبھی امن حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس ہستی کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ تمام موجودات کا تفصیلی علم رکھتا ہے۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اِس کے علم سے باہر ہو۔ فرماتا ہے وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ(البقرۃ: ۲۵۶) اُس کا علم آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے۔ اسی طرح فرماتا ہے وَمَا تَکُوۡنُ فِیۡ شَاۡنٍ وَّمَا تَتۡلُوۡا مِنۡہُ مِنۡ قُرۡاٰنٍ وَّلَا تَعۡمَلُوۡنَ مِنۡ عَمَلٍ اِلَّا کُنَّا عَلَیۡکُمۡ شُہُوۡدًا اِذۡ تُفِیۡضُوۡنَ فِیۡہِ ؕ وَمَا یَعۡزُبُ عَنۡ رَّبِّکَ مِنۡ مِّثۡقَالِ ذَرَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ وَلَاۤ اَصۡغَرَ مِنۡ ذٰلِکَ وَلَاۤ اَکۡبَرَ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ(یونس: ۶۲) یعنی تُو کسی حالت میں نہیں ہوتا اور تُو کچھ نہیں پڑھ رہا ہوتا کوئی عمل نہیں کر رہا ہوتا مگر ہم تمام حالتوں میں تجھ پر نگران ہوتے ہیں جبکہ تو اُن کاموں میں مشغول ہوتا ہے اور تیرے ربّ سے ایک چھوٹے سے چھوٹے ذرّہ کے برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ اس سے بڑی۔ مگر خدا تعالیٰ کی کتاب میں جو ان اعمال پر روشنی ڈالتی رہتی ہے لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ دل کی حالتیں، زبان کی کہی ہوئی باتیں اور اعضاء کے کئے ہوئے عمل تمام کے تمام خدا تعالیٰ پر روشن ہیں اور بے جان چیزیں بھی خواہ وہ ایک ایٹم ہوں یا ایٹم کا بھی چھوٹا سا حصہ خدا تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں اس کی نظر باریک سے باریک چیز پر پڑتی ہے اور بڑی سے بڑی چیز کا بھی احاطہ کر رہی ہے اور اس کو ان چیزوں کا صرف علم ہی نہیں بلکہ وہ ہر چیز کے اعمال کو ایسے طور پر محفوظ رکھ رہا ہے کہ بعد میں اس کا نتیجہ نکلے گا۔ اس کے لئے قرآن کریم نے کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ(27:76) کا لفظ استعمال کیا ہے یعنی دنیا کے ریکارڈ تو ایسے ہوتے ہیں کہ وہ لوگوں کی نگاہ سے مخفی رہتے ہیں اور بعض دفعہ خود ریکارڈ کیپرز کی آنکھوں سے بھی مخفی ہو جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ایسا طریق رکھا ہوا ہے کہ وہ ریکارڈ آپ ہی آپ بولتا چلا جاتا ہے یعنی ہر فعل کا نتیجہ خدا تعالیٰ کے قانون اور اس کے منشاء کے مطابق نکل آتا ہے پھر فرماتا ہے لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ(الانعام: ۱۰۴) خدا تعالیٰ کی ذات ایسی وراء الوراء ہے کہ اس کی حقیقت کو کوئی پا نہیں سکتا۔ یعنی وہ اپنی حقیقت کے لحاظ سے تمام دنیا کی اشیاء سے جدا ہے اس لئے مادی ذرائع سے اُسے دیکھنے کی کوشش کرنا بالکل عبث ہے۔ پھر قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ وہ ہستی اپنے تمام ارادوں کے پورا کرنے پر قادر ہے فرماتا ہے اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ(۳۷۵) اللہ تعالیٰ ہر ایک چاہی ہوئی بات پر قادر ہے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ ہر چیز پر قادر ہے کیونکہ ایسے الفاظ کے استعمال سے بہت سے لوگ نادانی سے غلط اعتراض شروع کر دیتے ہیں مثلاً یہ کہ کیا خدا مرنے پر قادر ہے؟ یا کیا اپنی مانند ایک اور خدا بنانے پر قادر ہے؟ حالانکہ یہ چیزیں تو گھناؤنی اور ناپسندیدہ ہیں ۔ اعلیٰ اور کامل ہستی گھناؤنے اور ناپسندیدہ کام نہیں کیا کرتی ۔ بہر حال ایسے لوگوں کے اعتراضوں کو حل کرنے کے لئے قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر فعل پر قادر ہے بلکہ فرماتا ہے اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ(2:107) ہر اس بات پر خدا تعالیٰ قادر ہے جس کا وہ ارادہ کرتا ہے کیونکہ خدا بوجہ کامل ہونے کے کامل باتوں ہی کا ارادہ کرتا ہے اس قسم کا بیوقوفانہ ارادہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنے آپ کو فنا کر دے یا اپنے جیسا کوئی خدا بنا لے۔

خدا تعالیٰ کی چار صفات

قرآن کریم کی پہلی سورۃ سورۃ فاتحہ ہے۔ اس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کس طرح عمل کرتی ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جو مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں چار صفات کے ارد گرد گھومتی ہیں اور وہ چار صفات یہ ہیں۔

(۱) وہ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ہے یعنی ہر ایک چیز کو پیدا کرتا ہے اور پیدا کر کے ادنیٰ حالت سے ترقی دے کر اُسے اعلیٰ حالت تک پہنچاتا ہے۔

(۲) وہ رَحْمٰن ہے یعنی تمام ایسے ذرائع بغیر مخلوق کی کسی کوشش اور بغیر اُس کے استحقاق کے مہیا فرماتا ہے جن کے بغیر مخلوق کی ترقی ناممکن ہوتی ہے۔

(۳) وہ رَحِیْم ہے یعنی وہ تمام مخلوق جو عقل اور ارادہ رکھتی ہے جب اپنی قدرت اور اپنے اختیار سے ایک نیک رستہ کو پسند کر لیتی ہے اور بُرائی کا مقابلہ کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے فعل کا نہایت اعلیٰ بدلہ دیتا ہے اور نیکیوں کا بدلہ متواتر دیتا چلا جاتا ہے۔

(۴) وہ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ہے یعنی ہر چیز کا آخری فیصلہ اُس نے اپنے اختیار میں رکھا ہوا ہے جس طرح ابتداء اس نے کی تھی اسی طرح انتہاء بھی اُس نے اپنے قبضہ میں رکھی ہوئی ہے۔ بنی نوع انسان اور دوسری مخلوق ہر چیز میں عارضی اور وقتی تبدیلیاں پیدا کر سکتے ہیں لیکن حقیقی اور مستقل تغیر پیدا نہیں کر سکتے۔ مثلاً جس طرح انسان مادہ اور روح کے پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے۔ ان کے فنا کرنے پر بھی انسان قادر نہیں۔ وہ اس کے اندر عارضی تبدیلیاں پیدا کر سکتا ہے ، وہ شکلیں بدل سکتا ہے لیکن وہ ان چیزوں کو فنا نہیں کر سکتا۔ جس طرح خلق کی صفت اپنی تمام صفات کے ساتھ اللہ تعالیٰ میں ہی پائی جاتی ہے اسی طرح افناء کی صفت بھی اپنی تمام صفات کے ساتھ کُلّی طور پر اُسی میں پائی جاتی ہے کوئی چیز کُلّی طور پر فنا نہیں ہو سکتی جب تک خدا تعالیٰ اس کے فنا کرنے کا فیصلہ نہ کرے اور یہ دونوں حقیقتیں ایسی ظاہر و باہر ہیں کہ کسی انسان کو اس سے انکار نہیں ہو سکتا۔ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کے وقت کا مالک ہے یعنی تمام تغیرات کا آخری فیصلہ اس کے اختیار میں ہے اور وہ یہ فیصلہ اپنے مالک ہونے کی حیثیت سے کرتا ہے یعنی جس طرح ایک جج اس لئے اپنے فیصلہ میں مجبور ہوتا ہے کہ وہ زید اور بکر کے حقوق کا فیصلہ کرنے والا ہوتا ہے۔ اس طرح خدا تعالیٰ مجبور نہیں ہوتا کیونکہ جہاں تک انسان کے حقوق کا سوال ہے وہ اس کے سارے حق پورے کرنے کے لئے تیار ہے لیکن دوسری طرف جہاں تک خدا تعالیٰ کے حقوق کا سوال ہے اللہ تعالیٰ مشہور روایتی ” بونڈ آف فلیش “ پر اصرار نہیں کرتا بلکہ جیسے مالک رعایت اور حسنِ سلوک اور رحم سے کام لیتا ہے اور لے سکتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے قصور پر عفو اور درگزر سے کام لیتا ہے۔ اس صفت کے نہ سمجھنے کی وجہ سے عیسائیت میں کفارے جیسا غلط عقیدہ پیدا ہو گیا۔ عیسائی مذہب اس بات پر زور دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کا گناہ معاف نہیں کر سکتا اور اس کا قیاس وہ انسانی ججوں پر کرتے ہیں۔ حالانکہ جج دو جھگڑنے والوں کے درمیان فیصلہ کیا کرتا ہے اور خود اُن کی چیزوں میں سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ اور بندے کا معاملہ ایسا ہے کہ ایک طرف تو خدا کا حق ہے اور ایک طرف بندے کا حق ہے۔ خدا تعالیٰ کو خالی جج کی حیثیت حاصل نہیں بلکہ اس کو مطالبہ کرنے والے اور حق مانگنے والے کی حیثیت حاصل ہے جو جج کو حاصل نہیں ہوتی کیونکہ وہ خود مطالبہ کرنے والا نہیں ہوتا بلکہ مطالبہ کرنے والے اور مدعا علیہ کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہوتا ہے لیکن بندے اور خدا تعالیٰ کے معاملہ میں خدا جج کے علاوہ مدعی بھی ہوتا ہے اور بندہ مدعا علیہ ہوتا ہے اور بوجہ مدعی ہونے کے خدا تعالیٰ حق رکھتا ہے کہ اپنے حق میں سے جتنا چاہے چھوڑ دے۔ اُس کا حق چھوڑنا رحم کہلائے گا بے انصافی نہیں کہلائے گا، کیونکہ وہ اپنا حق چھوڑتا ہے کسی کا حق مارتا نہیں۔ کفارہ کا عقیدہ ایسا عقل کے خلاف ہے کہ غور کرنے کے بعد کوئی شخص اسے تسلیم نہیں کر سکتا۔ اگر مسیح کی صلیبی موت پر ایمان لانے کی وجہ سے لوگوں کے گناہ معاف ہو سکتے ہیں تو مسیح سے پہلے آنے والے انبیاء کے گناہ کس طرح معاف ہوئے۔ اس صورت میں تو چاہئے تھا کہ مسیح کو ابتدائے عالم میں ہی صلیب پر لٹکا دیا جاتا تا کہ تمام بنی نوع انسان کو نجات حاصل ہو جاتی۔ نیز اگر مسیح کی صلیبی موت پر ایمان لانے سے انسان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں تو پھر توبہ سے کیوں معاف نہیں ہوتے جو ایک طبعی ذریعہ ہے دل کی پاکیزگی کا۔ ایک زائد چیز کو مان لینا تو دل کی پاکیزگی کا طبعی ذریعہ نہیں لیکن گناہ پر دل میں ندامت اور شرمندگی کا پیدا ہونا اور انسان کا حسرت کے ساتھ اپنے دل پر ایک موت وارد کر لینا یہ تو دل کی صفائی کا ایک طبعی اور یقینی ذریعہ ہے۔ تعجب ہے کہ عیسائی دنیا یہ تو مانتی ہے کہ مسیح کی صلیبی موت پر ایمان لانے سے ایک شخص کا دل صاف ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے لیکن وہ یہ نہیں مانتی کہ ایک شخص جب اپنی غلطی پر اظہارِ افسوس اور ندامت کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کو معاف کر سکتا ہے۔ دنیا کے معاملات میں ہم روزانہ دیکھتے ہیں خود عیسائی بھی اس طریق پر عامل ہیں کہ بسا اوقات ایک غلطی کرنے والا جب اپنے قصور کا اعتراف کرتا ہے اور سچی ندامت اس کے دل میں پیدا ہوتی ہے تو اُسے معاف کر دیا جاتا ہے۔ مغربی تعلیم نے اسکولوں کے متعلق اس قانون کو بڑے زور شور سے جاری کر رکھا ہے حالانکہ اگر کفارے کا عقیدہ درست ہوتا تو یوں چاہئے تھا کہ بجائے اس کے کہ سبق نہ یاد کرنے پر اگر لڑکے کے دل میں ندامت پیدا ہو تو اُسے معاف کر دیا جائے لڑکا کھڑا ہو کر یہ کہہ دیتا کہ صاحب! میں نے سبق یاد نہیں کیا لیکن ہاں میں مسیح کے کفارہ پر ایمان لے آیا ہوں اس لئے میرا یہ قصور نظر انداز کر دیا جائے لیکن کوئی عیسائی اس پر عمل نہیں کرتا۔ استاد اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ سبق نہ یاد کرنے پر اگر تم اپنے دل میں ندامت محسوس کرو اور آئندہ کے لئے اپنی اصلاح کا وعدہ کرو تو میں تمہیں معاف کرنے کے لئے تیار ہوں۔ وہ اس بات کا کبھی مطالبہ نہیں کرتا کہ تم مسیح کے کفارہ پر ایمان لاؤ تو میں تمہیں معاف کر دوں گا۔ لیکن اگر مسیح کی صلیبی موت پر ایمان لانے سے دل کی پاکیزگی مراد ہے تو عیسائی دنیا کا عمل اس امر کی تردید کر رہا ہے کہ کفارہ پر ایمان لانے سے دل کو پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔ جتنی خرابی اور جتنا فسق و فجور اس زمانہ میں عیسائی دنیا میں ہو رہا ہے باقی دنیا میں اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ آخر وہ کیا چیز ہے جو مسیح کے کفارہ نے عیسائیوں کو دی۔ اگر نجات دی ہے تو میں بتا چکا ہوں کہ نجات کا صحیح طریق تو سچی توبہ ہے اور اسی ذریعہ سے مسیح سے پہلے انبیاء کی اُمّتوں نے نجات پائی اور اگر اس سے مراد دل کی پاکیزگی ہے تو دل کی پاکیزگی باوجود کفارہ کے عیسائیوں کو حاصل نہیں ہوئی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کسی عیسائی کے دل میں صفائی نہیں مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ کسی عیسائی کے دل کی پاکیزگی کفارہ پر ایمان لانے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کا دل بھی اسی طرح صاف ہوا ہے جس طرح باقی دنیا کا توبہ اور ندامت سے صاف ہوا کرتا ہے یا عبادات سے ہوا کرتا ہے جیسے خود حضرت مسیح نے کہا کہ:

’’یہ قسم دعا کے سوا کسی اور طرح نہیں نکل سکتی‘‘۔۴۷۴

صفاتِ الٰہیہ جو قرآن مجید میں مذکور ہیں

مذکورہ بالا چاروں صفات کی تشریح میں خدا تعالیٰ کی مختلف صفتیں جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں ہم ان کی تفصیل اس جگہ بیان نہیں کر سکتے۔ صرف اختصار کے ساتھ ان صفات کا ذکر کر دیتے ہیں جو یہ ہیں ۔

اَلْمَلِکُ وہ بادشاہ ہے اَلْقُدُّوْسُ نہایت پاک ذات ہے اَلسَّلَامُ سلامتی والا اَلْمُؤْمِنُ امن دینے والا اَلْمُهَیْمِنُ پناہ دینے والا اَلْعَزِیْزُ غالب ہے اَلْجَبَّارُ صاحب جبروت ہے اَلْمُتَکَبِّرُ کبریائی والا ہے اَلْخَالِقُ پیدا کرنے والا اَلْبَارِیُٔ بنانے والا اَلْمُصَوِّرُ صورت گر ہے

یہ ایک سَو چار موٹے موٹے نام ہیں جو قرآن شریف سے اخذ کئے گئے ہیں، ان میں سے اکثر تو انہی الفاظ میں قرآن کریم میں بیان ہیں لیکن بعض ایسے ہیں جو قرآن کریم کی آیتوں سے اخذ کر کے لکھے گئے ہیں ان ناموں پر غور کر کے اس روحانی نظام کا ڈھانچہ اچھی طرح سمجھ میں آ سکتا ہے جسے قرآن کریم پیش کرتا ہے۔ یہ صفات موٹے طور پر تین حصوں میں تقسیم کی جا سکتی ہیں۔ اوّل وہ صفات جو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں مخلوق کا اُن کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں۔ مثلاً اَلْحَيُّ زندہ رہنے والا ہے۔ اَلْقَادِرُ قدرت اور اختیار رکھنے والا ہے۔ اَلْمَاجِدُ بزرگی رکھنے والا وغیرہ وغیرہ۔ دوسری قسم کی صفات وہ ہیں جو مخلوق کی پیدائش کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور خدا تعالیٰ کے سلوک اور اس کے نسبتی تعلق پر دلالت کرتی ہیں مثلاً الخالق۔ المالک وغیرہ وغیرہ۔ تیسری قسم کی صفات وہ ہیں جو بالارادہ ہستیوں کے اچھے اور بُرے اعمال کے متعلق خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوتی ہیں۔ مثلاً رحیم ہے مَلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ہے عفو ہے رؤوف ہے وغیرہ وغیرہ۔ بعض صفات بظاہر مکرر نظر آتی ہیں لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر ایک

لطیف فرق ہے مثلاً پیدائش کے متعلق اللہ تعالیٰ کی کئی صفات بیان ہوئی ہیں۔ جیسے خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ۔ البديع۔ الفاطر۔ الخالق۔ الْبَارِئُ۔ المعيد۔ المصوِّرُ۔ الربّ۔ یہ صفات بظاہر ملتی جلتی نظر آتی ہیں لیکن درحقیقت یہ مختلف ممتاز معنوں پر دلالت کرتی ہیں۔ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ سے اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ روح اور مادہ کا بھی پیدا کرنے والا ہے کیونکہ بعض قومیں خدا تعالیٰ کو صرف جوڑنے کا موجب سمجھتی ہیں۔ بسیط مادے کا خالق نہیں سمجھتیں ۔ ان کا خیال ہے کہ مادہ اور روح بھی خدا تعالیٰ کی طرح ازلی اور انادی ہیں۔ اگر خالی لفظ خالق ہوتا تو لوگ یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم بھی خدا تعالیٰ کو خالق مانتے ہیں مگر ہمارے نزدیک خالق کے یہ معنی ہیں کہ وہ ان چیزوں کو جوڑ جاڑ کر ایک نئی شکل دے دیتا ہے۔ ان لوگوں کو اس تاویل کی وجہ سے قرآن کریم کا حقیقی منشاء واضح اور روشن طور پر ثابت نہ ہو سکتا۔ پس خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ کی صفت نے محض خلق کی صفت سے ایک زائد مضمون بیان کیا ہے۔ بدیع کا مفہوم یہ ہے کہ نظام عالم کا ڈیزائن اور نقشہ خدا تعالیٰ نے بنایا ہے۔ گویا یہ اتفاقی نہیں یا موجودات میں سے کسی کی نقل نہیں۔ فَطَرَ کے معنی ہوتے ہیں کسی چیز کو پھاڑ کر اس میں سے مادہ کو نکالنا۔ پس فاطر کی صفت سے اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مادہ پیدا کیا اس کے اندر اس نے مخفی ارتقاء کی طاقتیں رکھیں اور اپنے وقت پر وہ پردے جو اُن طاقتوں کو دبائے ہوئے تھے اُن کو اس نے پھاڑ دیا۔ جیسے بیج کے اندر درخت یا پودا بننے کی خاصیت ہوتی ہے مگر وہ ایک خاص حالات کا منتظر رہتا ہے، اس وقت اور اس موسم میں وہ اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے غرض فاطر کے لفظ نے بتا دیا کہ خدا تعالیٰ نے سب کچھ یکدم نہیں کر دیا بلکہ دنیا کو ایک قانون کے مطابق پیدا کیا ہے۔ ہر ایک درجہ کے متعلق ایک قانون کام کر رہا ہے ایک اندرونی تیاری دنیا میں ہوتی رہتی ہے اور ایک خاص وقت پر جا کر بعض مخفی طاقتیں اپنے آپ کو ظاہر کر دیتی ہیں اور ایک نئی چیز بننے لگ جاتی ہے۔ خالق کے معنی وہ بھی ہیں جو خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ میں بیان ہو چکے ہیں۔ لیکن ان کے علاوہ ایک اور معنی بھی خالق کے ہیں، اور وہ تجویز کرنے والے کے ہیں۔ پس خالق کے معنی یہ ہیں کہ مختلف چیزوں کو اپنی اپنی جگہ پر رکھنا۔ یہ بھی خدا تعالیٰ کا ہی کام ہے۔ اس دنیا کو ایک خاص نظام کے ماتحت خدا تعالیٰ نے رکھا ہے اور اس پر خالق کا لفظ دلالت کرتا ہے۔ باری کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کے مختلف ظہور شروع کرتا ہے اور پھر وہ ایک ایسا قانون مقرر کر دیتا ہے کہ وہ چیز اپنی نسل کی تکرار کرتی چلی جاتی ہے اور اس پر خدا تعالیٰ کا نام المعید دلالت کرتا ہے۔ المصور کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہر چیز کو ایک خاص شکل دی ہے جو اس کے مناسبِ حال ہے۔ صرف کسی چیز کے اندر کسی خاصیت کا پیدا کر دینا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اسے مناسبِ حال شکل دینا بھی ضروری ہوتا ہے اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔ اسی طرح کسی چیز کا محض پیدا ہو جانا کافی نہیں بلکہ اس کا ایسی شکل میں پیدا ہونا بھی کہ وہ اپنے کام کو سرانجام دے سکے ضروری ہوتا ہے پس اس صفت کے اظہار کے لئے خدا تعالیٰ کا ایک نام المصور ہے۔ الرَّبّ کی صفت ان معنوں پر دلالت کرتی ہے کہ پیدا کرنے کے بعد اس کی طاقتوں کو تدریجی طور پر بڑھاتے چلے جانا اور کمال تک پہنچانا۔ ظاہر ہے کہ پہلی صفات اس مضمون کو ادا نہیں کرتیں۔ اسی طرح اور کئی صفات ہیں جو بظاہر مکرر نظر آتی ہیں مگر درحقیقت ان کے اندر باریک فرق ہے اور اس فرق کے سمجھ لینے کے بعد وہ روحانی نظام جس کو قرآن کریم پیش کرتا ہے نہایت ہی شاندار اور خوبصورت طور پر انسان کی آنکھوں کے آگے آ جاتا ہے۔ یہ صفات جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں اور جن کا ایک حصہ میں نے اوپر درج کیا ہے انجیل میں تو ان کا بہت ہی کم ذکر ہے۔ تورات اور دوسرے انبیاء کے صحف میں بھی فرداً فرداً یہ ساری صفات بیان نہیں ہوئیں ہاں بنی اسرائیل کے تمام انبیاء کی کتابوں کو جمع کیا جائے تو پھر ان میں سے بہت سی صفات کا ذکر ان میں آ جاتا ہے مگر ساری صفات کا ذکر پھر بھی نہیں آتا۔ درحقیقت مسلمانوں میں جو عام طور پر یہ مشہور ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یہ عقیدہ ان یہودی روایات سے ہی وابستہ ہے جو انہوں نے تورات سے صفاتِ الٰہیہ اخذ کر کے بنائی ہیں ورنہ قرآن کریم میں ننانوے سے بہت زیادہ نام مذکور ہیں جن میں سے ایک سَو چار نام تو میں نے اوپر بیان کر دیئے ہیں اور ابھی بہت سے باقی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جن کا انسان کے ساتھ تعلق نہیں ان کے قرآن کریم میں بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا اور یقیناً وہ قرآن کریم میں بیان نہیں ہوئیں پس کسی خاص تعداد میں خدا تعالیٰ کے ناموں کو محدود کرنا درست نہیں اور اگر اسلامی لٹریچر میں اس قسم کا کوئی ذکر پایا جاتا ہے تو وہ صرف یہودی دعوے کے تقابل کے لئے ہے حقیقتِ محض کے اظہار کے لئے نہیں۔ ویدوں کو بھی میں نے دیکھا ہے ان میں بھی بہت کم صفات خدا تعالیٰ کی بیان ہوئی ہیں اور یہی حال ژند آوستا کا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ چونکہ قرآن کریم کامل کتاب ہے اور روحانیت کی تکمیل کے لئے آخری زینہ ہے اس لئے اس میں وہ صفات بھی آ گئی ہیں جو پہلی کتابوں نے بیان کیں اور ان کے علاوہ کئی زائد صفات بھی اس میں بیان کی گئی ہیں۔

بعض لوگوں کو ان صفات کے دیکھنے سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض متضاد صفات بھی ہیں۔ مثلاً خدا تعالیٰ رحم کرنے والا بھی ہے اور خدا تعالیٰ سزا دینے والا بھی ہے۔ خدا تعالیٰ غنی بھی ہے اور پھر وہ پیدا بھی کرتا ہے اور بنی نوع انسان کی طرف ہدایت بھی بھیجتا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اسے ان چیزوں کے وجود میں آنے کی خواہش ہے۔ عام طور پر ایسے دماغوں میں یہ سوالات پیدا ہوا کرتے ہیں جنہوں نے فلسفہ پر ادھورا غور کیا ہوتا ہے وہ اس حقیقت کو نہیں جانتے کہ دنیا کا سارا حسن تو اس کے بظاہر نظر آنے والے اختلاف میں ہی پایا جاتا ہے یہ لوگ اس امر پر غور نہیں کرتے کہ مختلف چیزیں اپنا الگ الگ دائرہ رکھتی ہیں یا زنجیر کی کڑیوں کی طرح ایک کڑی کے ختم ہونے پر دوسری کڑی شروع ہوتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ سزا بھی دیتا ہے لیکن سزا دینے کے لئے اس نے کچھ قوانین مقرر کئے ہیں۔ جب وہ قوانین چاہتے ہیں تو وہ سزا دیتا ہے اور جب عفو کے متعلق اُس کے مقرر کئے ہوئے قوانین کا تقاضا بڑھ جاتا ہے تو وہ عفو کرتا ہے اور ایک ہی وقت میں کسی انسان کے لئے اس کی سزا کی صفت جاری ہو رہی ہوتی ہے اور کسی انسان کے لئے اس کی بخشش کی صفت ظہور میں آ رہی ہوتی ہے۔ کسی انسان کے لئے اس کے پیدا کرنے کی صفت اور کسی انسان کے لئے اس کے مارنے کی صفت جاری ہو رہی ہوتی ہے۔

میں ابھی چھوٹا تھا کہ آریہ سماج کے ایک لیڈر نے مجھ سے سوال کیا کہ خدا تعالیٰ کو قرآن کریم میں رَبُّ الْعٰلَمِیْن کہا گیا ہے پھر وہ مارتا کیوں ہے حالانکہ رَبُّ الْعٰلَمِیْن کے تو معنی ہیں پیدا کر کے تکمیل تک پہنچانا۔ یہ اعتراض محض سطحی تھا رَبُّ الْعٰلَمِیْن کے یہ تو معنی نہیں کہ اس کو مارے نہیں۔ قرآن کریم میں ربّ العالم نہیں کہا گیا بلکہ رَبُّ الْعٰلَمِیْن کہا گیا ہے اور جب ایک چیز ایک طرف سے دوسری طرف کو منتقل ہو جاتی ہے تو ربوبیت کی صفت بھی ایک دوسری شکل میں ظاہر ہونے لگتی ہے غرض جو چیز موجود ہے وہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت سے فائدہ اُٹھا رہی ہے اور جو چیز موجود نہیں وہ عالم ہے ہی نہیں۔ اس کے متعلق سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

صفاتِ الٰہیہ دو قانونوں کے ماتحت کام کرتی ہیں

اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات دو قانونوں کے ماتحت چلتی ہیں۔ وہ صفات جو بنی نوع انسان سے تعلق رکھتی ہیں ان کے باہمی تعاون کیلئے خدا تعالیٰ نے دو قانون قرآن شریف میں پیش کئے ہیں ایک قانون کا ذکر وَرَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ(۵۷۵) کی آیت میں آتا ہے یعنی میری رحمت ہر چیز پر غالب ہے۔ دوسری صفت قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے مَا لَکُمۡ لَا تَرۡجُوۡنَ لِلّٰہِ وَقَارًا(۵۷۶) تمہیں کیا ہو گیا کہ تم خدا تعالیٰ کے متعلق یہ خیال نہیں کرتے کہ وہ اپنے کاموں میں حکمت کو مدنظر رکھتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے جو قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں ایک نام حکیم بھی ہے جو اس مفہوم کے ساتھ ملتے جلتے مفہوم پر دلالت کرتا ہے ان دو صفات سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہر صفت جو ظاہر ہو گی وہ کسی غرض اور غایت کو پورا کرنے کے لئے ہوگی بلا وجہ نہیں ہوگی۔ دوسرے یہ کہ جہاں بھی سزا اور رحم کے مطالبے ٹکرا جائیں گے رحم کے پہلو کو ہمیشہ ترجیح دی جائے گی اور سزا کے پہلو کو ہمیشہ اس کے ماتحت رکھا جائے گا۔ درحقیقت قرآن کریم کی یہی وہ خوبی ہے جو ایک مؤمن کے دل کو اللہ تعالیٰ کی محبت سے بھر دیتی ہے اور یہی وہ اصول ہے جو بندے اور خدا میں محبت پیدا کرنے کا ذریعہ ہو جاتا ہے۔

ایک مسلمان کو خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کیلئے کسی عقل میں نہ آنے والے کفارہ کے مسئلہ کی ضرورت نہیں نہ اس کو کسی شخص کے صلیب پر لٹک کر مر جانے کے مسئلہ پر ایمان لانے کی حاجت ہے۔ جب وہ قرآن کریم کے بتائے ہوئے اس گُر کو دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر کام حکمت کے ماتحت ہوتا ہے۔ ہر کام کسی غرض وغایت کے لئے ہوتا ہے اور ہر کام کسی جائز اور معقول سبب کے لئے ہوتا ہے اور یہ کہ باوجود اس کے جب ایک کمزور انسان کمزوری دکھا جاتا ہے اور اس کے دل میں ندامت اور شرم پیدا ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ کی محبت اور خدا تعالیٰ کا غفران اس کو ڈھانک لیتا ہے تو اس کا دل بیتاب ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف جھک جاتا ہے اور جب ایک مسلمان اس بات کو دیکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ باوجود خالق اور مالک ہونے کے بندے کے قصوروں کو معاف کرتا اور اُس کی غلطیوں سے درگزر کرتا اور اُس کی ترقی کے سامان پیدا کرتا چلا جاتا ہے اور اُس کی سزا دکھ دینے اور ذلیل کرنے کے لئے نہیں ہوتی بلکہ وہ بندے کی اصلاح اور ترقی کے لئے ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کا خدا اُس کی توبہ کے قبول کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے اور وہ اس کے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے اور توبہ اور ندامت کے بعد گناہوں کو جڑ سے اُکھیڑ دیتا ہے۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ باوجود عظیم الشان اور نہایت ہی بالا ہستی ہونے کے وہ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے اور انسان کے دل میں اس سے ملنے کا جتنا شوق ہے اس سے کہیں بڑھ کر خدا تعالیٰ کو اُس سے ملنے کا شوق ہے تو انسان کا دل محبت اور پیار سے بھر جاتا ہے اور وہ بے اختیار ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے اُس سے بھی زیادہ شوق سے جس شوق سے ایک بچہ اپنی ماں کی طرف جھکتا ہے اور خدا تعالیٰ بھی ایسے انسان کی طرف محبت سے جھکتا ہے اس ماں کی محبت کی نسبت سے بھی زیادہ شدید محبت سے جو اپنے روتے ہوئے بچے کی طرف بھاگتی ہے۔

پیدائشِ عالم اور انسان کا نقطۂ مرکزی ہونا

قرآن کریم بتاتا ہے کہ اس نقطۂ مرکزی، یعنی خدا تعالیٰ نے چاہا کہ ایک نیا عالم پیدا کرے جو اس کے نور اور اس کے جلال کا مظہر ہو۔ تب اس نے یہ مادی عالم پیدا کیا۔ اس عالم کی پیدائش کے متعلق قرآن کریم نے جو روشنی ڈالی ہے وہ مختصراً یہ ہے فرماتا ہے وَہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّکَانَ عَرۡشُہٗ عَلَی الۡمَآءِ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا(۷۷) خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ وقتوں میں پیدا کیا ہے (یعنی چھ اہم تبدیلیوں والے زمانوں میں) وَّکَانَ عَرۡشُہٗ عَلَی الۡمَآءِ(11:8) اور اس سے پہلے خدا تعالیٰ کا حکم پانی پر چلتا تھا۔ اس پانی کی حالت سے زمین و آسمان کے پیدا کرنے کی غرض یہ تھی کہ وہ ایک انسان پیدا کرے جو نیکی اور بدی پر اختیار رکھتا ہو اور ہر قسم کے امتحانوں میں سے گزرتے ہوئے یہ ثابت کرے کہ ان میں سے کون دوسروں سے فائق ہو گیا اور اعلیٰ درجہ کی نیکی کا نمونہ بن گیا ہے۔ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ آسمان اور زمین کی

پیدائش سے پہلے یعنی مادہ کی موجودہ شکل سے پہلے دنیا میں ایک پانی کی خاصیت کا مادہ پیدا کیا گیا تھا یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لو کہ ہائیڈروجن کا بسیط ترین ذرہ پیدا کیا گیا تھا پھر اس کو ترقی دیتے دیتے یہ عالَم پیدا ہوا۔ زمین اور آسمان کی موجودہ شکل کے اختیار کرنے سے پہلے کی حالت کے متعلق بھی قرآن شریف روشنی ڈالتا ہے اور فرماتا ہے اَوَلَمۡ یَرَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ کَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰہُمَا ؕ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ ؕ اَفَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ(21:31) ۷۸؎ کیا اسلام کے منکر اس بات کو سمجھتے نہیں کہ آسمان اور زمین شروع میں ایک گولہ کی طرح تھے پھر ہم نے اُن کو پھاڑ کر ایک نظامِ شمسی قائم کر دیا اور شروع سے ہی ہمارا یہ طریق چلا آ رہا ہے کہ ہم پانی سے ہر چیز زندہ کیا کرتے ہیں کیا وہ ایمان نہیں لائیں گے؟ یعنی مادی عالَم نے جس طرح ترقی کی ہے اسی طرح روحانی عالَم بھی ترقی کرے گا۔ جس طرح دنیا میں پھیلا ہوا ایک گول سا مادہ تھا جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے مقررہ قانون کے ماتحت پھاڑا اور دُور دُور اس کے ٹکڑے جا کر گرے اور نظامِ شمسی بن گیا اسی طرح روحانی دنیا میں بھی ایک تغیر عظیم پیدا ہوتا ہے دنیا کی روحانی حالت خراب ہو جاتی ہے اور فضا گھٹی گھٹی سی معلوم ہوتی ہے تب اللہ تعالیٰ اسی تاریکی سے ایک نور ظاہر کرتا ہے اور جس طرح زمین کی تاریکی سے پودا پھوٹتا ہے اسی طرح اس تاریکی میں جنبش پیدا ہو کر ایک زلزلہ سا آتا ہے اور اس مردہ مادہ میں ایک دائمی حرکت کرنے والا روحانی نظامِ شمسی پیدا ہو جاتا ہے جو اپنے مرکزی نقطہ سے پھیل کر ملک یا دنیا کو اپنی وسعت کے مطابق گھیر لیتا ہے اور جس طرح مادی عالَم کی پیدائش کی ابتداء پانی سے ہوئی ہے اسی طرح یہ تغیر جو دنیا میں ہوتا ہے یہ بھی آسمانی پانی یعنی الہام سے ہوتا ہے۔ بغیر آسمانی پانی کے ایسا تغیر نہیں ہوتا۔ الغرض قرآنی تعلیم کے رو سے دنیا مختلف تغیرات میں سے گزرتی چلی گئی اور آخر وہ وقت آیا جب زمین کے پردہ پر انسان پیدا کیا جا سکتا تھا اور وہی انسان کم سے کم اس نظامِ شمسی کا مقصود تھا۔ جب وہ وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس مادی عالَم میں انسان کو پیدا کیا تا کہ وہ خدا تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرے اور اللہ تعالیٰ کے حسین چہرہ کے لئے ایک آئینہ کی طرح ثابت ہو اور اس طرح ایک روحانی بادشاہت کی بنیاد رکھی جائے۔ بے شک خدا کی مخلوق لاکھوں اور کروڑوں قسم کی ہے قرآن کریم فرماتا ہے وَمَا یَعۡلَمُ جُنُوۡدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ(74:32) ۷۹؎

اللہ تعالیٰ کے لشکروں سے خدا ہی واقف ہے دوسرا کوئی واقف نہیں لیکن انسان کو ایک عزت اور رُتبہ کا مقام حاصل ہے اس لئے کہ انسان خدا تعالیٰ کے لئے بمنزلہ آئینہ ہے اسی لئے مسلمان صوفیاء اس کو عالَمِ صغیر کہتے ہیں یعنی تمام مخلوقات کی صفات انسان کے اندر جمع ہوگئی ہیں اور انسان کو ہم ساری دنیا کا قائمقام کہہ سکتے ہیں۔ جس طرح ایک نقشہ چھوٹے سے کاغذ پر ہوتا ہے لیکن وہ ملک کی تمام کیفیات کو ظاہر کر دیتا ہے اسی طرح انسان گو ایک چھوٹا سا جسم رکھتا ہے مگر وہ تمام عالَم کی مختلف حقیقتیں اپنے اندر پنہاں رکھتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ دنیا کا محور اور مرکز انسان ہے۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے جو کچھ پیدا کیا ہے انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ انسان دنیا کی ہر مخلوق پر حکومت کر رہا ہے اور کوئی مخلوق اس پر حکومت نہیں کر رہی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آب و ہوا کی تبدیلیاں، ستاروں کی روشنیاں، بجلیاں اور بیماریاں اسی طرح طوفان اور بارشیں انسان پر ضرور اثر کرتی ہیں مگر اثر اور حکومت میں فرق ہوتا ہے۔ حاکم بھی اپنے محکوم سے متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا میں کوئی ایسا حاکم ہمیں نظر نہیں آتا جو اپنے محکوم سے متاثر نہ ہو، مگر باوجود اس کے حاکم اور محکوم کے پہچاننے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ اسی طرح گو انسان دوسری چیزوں سے متاثر ہوتا ہے، لیکن ان چیزوں پر حکومت اور قبضہ انسان ہی کا ہوتا ہے۔ دریاؤں، سمندروں، پہاڑوں، ہواؤں، دواؤں، بارشوں اور بجلیوں وغیرہ پر حاکمانہ اقتدار انسان کا ہی ہے اور اس طرح وہ تمام مخلوق کا نقطہ مرکزی ہے، یا یوں کہہ لو کہ اس تمام مخلوق کا جو ہماری دنیا کے ساتھ تعلق رکھتی ہے کیونکہ عالَم کی وسعت اتنی بڑی ہے کہ ہم اس کے متعلق کوئی عام فتویٰ لگانے کا حق نہیں رکھتے۔

انسان کی پیدائش اور اس کی دماغی ترقی تدریجی طور پر ہوئی

انسان کی پیدائش کے متعلق قرآن کریم سے ظاہر ہوتا ہے کہ تورات و انجیل کے دعوؤں کے برخلاف انسان کی پیدائش تدریجی طور پر ہوئی ہے۔ ایک آیت تو میں پہلے ”قرآنی تعلیم کے اصول“ کے زیر عنوان لکھ چکا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم انسان کی پیدائش کو تدریجی قرار دیتا ہے۔ اس جگہ ایک اور آیت بیان کرتا ہوں جس سے پتہ لگتا ہے کہ انسان کی پیدائش اس طرح نہیں ہوئی کہ خدا تعالیٰ نے مٹی سے ایک

صورت بنائی اور پھر اس میں روح پھونک دی بلکہ جیسا کہ خدا تعالیٰ کی اور سنتیں ظاہر ہوئی ہیں وہ بھی تدریجی تغیرات کے بعد ظاہر ہوا ہے۔ چنانچہ سورۃ نوح میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقَدۡ خَلَقَکُمۡ اَطۡوَارًا(71:15) ۵۸۰ تمہیں خدا تعالیٰ نے ایک درجہ کے بعد دوسرے درجہ اور ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت میں تبدیل کرتے ہوئے آہستہ آہستہ پیدا کیا ہے۔ پس انسان کی پیدائش قرآنی تعلیم کے مطابق یکدم نہیں ہوئی بلکہ آہستہ آہستہ ہوئی ہے اور انسان کا دماغی ارتقاء بھی یکدم نہیں ہوا، بلکہ وہ بھی آہستہ آہستہ ہوا ہے۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم سے پہلے انسانی مخلوق موجود تھی، مگر ظاہری شکل میں ابھی وہ خدا تعالیٰ کی شریعت کی حامل نہ ہوسکتی تھی، وہ مخلوق غاروں اور پہاڑوں کی کھوہوں میں رہتی تھی۔ اس لئے قرآن کریم نے ان کا نام جن رکھا ہے۔ جن کے معنی عربی زبان میں پوشیدہ رہنے والے کے ہیں بعض لوگوں نے اس لفظ کو روایتی جن پر محمول کیا ہے، حالانکہ قرآن کریم کی تشریح ان روایتی جنوں پر صادق نہیں آتی۔ قرآن کریم میں صاف لکھا ہے کہ بنوآدم کے جنت سے نکلنے پر (جنت بھی ارضی تھی وہ جنت نہ تھی جس میں مرنے کے بعد انسان جائے گا) اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ابلیس (جو جنوں میں سے تھا) اور اس کے ساتھیوں سے ہوشیار رہنا اور ان کے دھو کوں میں نہ آنا، کیونکہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنا ہوگا۔ اسی دنیا میں تم دونوں گروہ رہو گے اور اسی میں مرو گے۔ پس ان سے ہوشیار رہنا۵۸۱ اور پھر آدم کے ساتھیوں اور ابلیس کے ساتھیوں کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ جب تم میں نبی آئیں تو تم اُن پر ایمان لانا۔۵۸۲ ان حوالوں سے ظاہر ہے کہ آدم کے وقت جن اور ان کا سردار ابلیس در حقیقت بشری نسل میں سے تھے۔ ورنہ جن نہ تو انسانوں کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں اور نہ بنی نوع انسان سے ان کا کوئی تعلق ہے۔ پس قصوں والے جن اور ہیں اور ان کا ذمہ دار قصہ نویس ہے۔ قرآن کریم نے جن کو جن کہا ہے، وہ بشری نسل سے ہی ہیں اور یہ ان لوگوں کا نام ہے جو شروع زمانہ میں اِس دنیا پر پائے جاتے تھے جن کے دماغ پورے طور پر نشوونما کو نہ پہنچے تھے۔ جب دماغ کے پورے نشوونما کا وقت آیا تو سب سے کامل انسان آدم پر اللہ تعالیٰ کا الہام نازل ہوا اور بعض تمدنی قواعد مثلاً مل جل کر رہنے اور ایک دوسرے کی غذا کی ذمہ داری لینے کی قسم کے موٹے موٹے احکام حضرت آدمؑ پر نازل ہوئے۔

وہ لوگ جن کی تمدنی روح ابھی کامل نہ تھی انہوں نے ان قیود کا انکار کیا اور آدم کا مقابلہ کیا۔ اِس پر اللہ تعالیٰ نے اُنہیں سزا دی اور آدم کو غالب کر دیا اور آئندہ کیلئے حکم دیا کہ جب کوئی دوسرا نبی آئے تو نبوت کا سلسلہ اسی شکل میں ظاہر ہوتا رہے گا۔ یعنی کچھ لوگ مؤمن ہوں گے اور کچھ کافر۔ مؤمن انسانوں کے قائمقام ہوں گے اور کفار اُن جنوں کے قائمقام ہوں گے کیونکہ ہر نبی ارتقائے دماغی یا روحانی کے لئے آتا ہے اور جو لوگ اِس منزلِ ارتقاء کے مخالف ہوتے ہیں اور اس زمانہ کی قیود کی پابندی نہیں کر سکتے جو نبی کے ذریعہ سے سوسائٹی کی اصلاح کیلئے تجویز کی جاتی ہیں وہ اس کے منکر ہو جاتے ہیں۔

غرض قرآنی تعلیم کی رو سے انسان کی پیدائش ارتقاء سے ہوئی ہے بلکہ اس کے دماغ کی ترقی بھی درجہ بدرجہ ارتقاء سے ہوئی ہے۔ آدم پہلا بشر نہ تھا بلکہ وہ بشروں میں سے پہلا مکمل بشر تھا۔ جس کا دماغ الہیٰ کلام کا حامل ہونے کے قابل ہوا اس لئے قرآن کریم نے آدم کے ذکر میں کہیں یہ نہیں کہا کہ آؤ ہم پہلا انسان پیدا کریں بلکہ قرآن کریم میں جہاں آدم کا ذکر آتا ہے یوں آتا ہے کہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ زمین میں اپنا خلیفہ مقرر کروں۔ جس سے ظاہر ہے کہ بشر تو پہلے موجود تھے مگر وہ الہام الہیٰ سے ابھی تک مشرف نہ ہوئے تھے کیونکہ ان کے دماغوں نے پوری نشو و نما نہ کی تھی۔ جب آہستہ آہستہ بشری دماغ نے نشو و نما حاصل کی اور وہ ایک نظام اور تمدن کو قبول کرنے کے قابل ہو گیا تو اُس وقت کے سب سے مکمل دماغ والے بشر آدم پر اللہ تعالیٰ نے الہام نازل کیا اور وہ پہلا نبی ہوا۔ پس وہ پہلا انسان نہ تھا پہلا نبی تھا اور اسے اس زمانہ کی دماغی ترقی کے مطابق ایک بسیط اور سادہ تعلیم دی گئی جو صرف چند موٹے موٹے قوانینِ تمدن پر مشتمل تھی اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق بھی ایک سادہ سی تفصیل تھی۔ اس امر کے متعلق قرآن کریم کی یہ آیت بھی شاہد ہے۔ وَلَقَدۡ خَلَقۡنٰکُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنٰکُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ(7:12) یعنی ہم نے تم انسانوں کو پیدا کیا پھر ہم نے تم کو ایک اچھی صورت بخشی پھر ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کی اطاعت کرو۔ اس آیت سے ظاہر ہے کہ آدم سے پہلے کئی انسان پیدا ہو چکے تھے اور صَوَّرْنٰكُمْ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک لمبی ارتقائی منزل میں سے بھی گزر چکے تھے کیونکہ

پیدائش کے بعد صورت دینے سے جسمانی صورت تو مراد نہیں ہوسکتی ، اس سے مراد ذہنی ارتقاء ہی ہوسکتا ہے پس اس آیت کا مفہوم یہی ہے کہ پہلے انسان پیدا کیا گیا پھر آہستہ آہستہ ترقی دیتے ہوئے اس کے قویٰ کو ایک نئی شکل دے دی گئی اور وہ دوسرے حیوانوں سے ممتاز نظر آنے لگا یعنی اس کی سمجھ اور عقل مکمل ہوگئی تب آدم پیدا کیا گیا اور خدا تعالیٰ نے اس پر الہام نازل کیا۔

انسانی پیدائش کا مقصد

انسانی پیدائش کے متعلق قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اس لئے پیدا کیا گیا ہے تا وہ خدا تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرے اور اس کا نمونہ بنے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ(۵۸۴) میں نے جن و انس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے تا وہ خدا تعالیٰ کی صفات کا نقش اپنے دل پر پیدا کریں (جن سے اس جگہ انسان ہی کی بعض اقسام مراد ہیں نہ کہ غیر مرئی جن) اسی طرح قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَکُمۡ خَلٰٓئِفَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ فَمَنۡ کَفَرَ فَعَلَیۡہِ کُفۡرُہٗ(۵۸۵) اے انسانو! اللہ ہی ہے جس نے تم کو اس دنیا میں اپنا نمائندہ بنا کر کھڑا کیا ہے۔ پس اگر کوئی شخص تم میں سے اس مقام کا انکار کرتا ہے تو اس کے انکار کا نتیجہ اُسی کو پہنچے گا یعنی اس عزت کے مقام کو چھوڑ کر انسان خود اپنا ہی نقصان کرے گا۔ خدا تعالیٰ کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ ان آیات سے ظاہر ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی صفاتِ حسنہ کو دنیا میں ظاہر کرنے کے لئے پیدا ہوا ہے اور وہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کا قائمقام ہے۔ پس انسان نقطہ مرکزی ہے تمام عالم مادی کے لئے۔ اور چونکہ انبیاء انسانوں کی اصلاح کے لئے اور اُن کو اپنا فرض یاد دلانے کے لئے اور اسی میں کامیابی کیلئے صحیح طریق کار بتانے کیلئے آتے ہیں اس لئے وہ نقطہ مرکزی ہیں تمام انسانوں کیلئے یا یوں کہو کہ انسان ایک سورج کی طرح ہے جس کے گرد تمام مادی دنیا گھومتی ہے اور پھر اپنے اپنے دائرہ میں انبیاء ایک سورج ہیں جن کے گرد اُن کے حلقہ کے انسان گھومتے ہیں۔

قانونِ قدرت اور قانونِ شریعت

قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اس کے فرائض کی طرف توجہ دلانے اور ترقی کے راستہ پر اسے گامزن کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے دو قسم کے قانون جاری کئے

ہیں۔ ایک قانونِ قدرت۔ اس کا تعلق انسان کی مادی ترقی کے ساتھ ہے چونکہ اس کا تعلق روح کے ساتھ براہِ راست نہیں اِس لئے اس قانون کے توڑنے پر اس کا طبعی نتیجہ نقصان کی صورت میں تو نکلتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی ناراضگی اور خفگی اس پر نہیں ہوتی۔ یہ قانون خدا تعالیٰ نے خود مادہ کے اندر ودیعت کر دیا ہے اس لئے کوئی بیرونی علم اس بارہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں آتا۔ دوسرا قانون ، قانونِ شریعت ہے اس کا تعلق روحانی اصلاح کے ساتھ ہے اس قانون کے توڑنے پر خدا تعالیٰ کی ناراضگی ہوتی ہے کیونکہ اس قانون کے پورا کرنے سے ہی انسان اُس مقصد کو پورا کر سکتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے اور اس قانون کو توڑنے کی وجہ سے وہ اس مقصد سے محروم رہ جاتا ہے جس کے لئے خدا نے اُسے پیدا کیا ہے۔ پس جب کوئی شخص اس قانون کو توڑتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کو ناراض کر دیتا ہے لیکن ہر قانونِ شریعت کے توڑنے کا یہ نتیجہ نہیں ہوتا کہ انسان کُلّی طور پر اپنے مقصد میں ناکام ہو جائے بلکہ اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ یہ تمام قانون مجموعی طور پر انسان کی روح کی پاکیزگی اور بلندی کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ لیکن جس طرح قانونِ قدرت کے توڑنے سے ضروری نہیں کہ ہر قانون شکنی کی وجہ سے تباہی اور بربادی آجائے یا ہر بد پرہیزی کی وجہ سے ضرور بیماری پیدا ہو اسی طرح ضروری نہیں کہ قانونِ شریعت کا ہر حکم ٹوٹ جانے کی وجہ سے انسان اپنے مقصد سے بالکل محروم رہ جائے یا خدا تعالیٰ کا غضب اس پر نازل ہو جائے کیونکہ شریعت کے تمام احکام اصولی طور پر انسان کی درستی کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں اور شریعت کا تمام نظام اسی مقصد کے لئے ہے۔ ایک وسیع نظام جو مختلف طریقوں سے ایک ہی غرض کے لئے اپنا اثر ڈال رہا ہے اگر اُس کا کوئی حصہ اپنا کام کرنے سے عاری رہ جائے تو ضروری نہیں ہوتا کہ نتیجہ مطلوبہ پیدا نہ ہو کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جس حصہ نے اپنے کام میں کوتاہی کی ہے دوسرے حصوں کا اثر اس کی کمزوری پر غالب آجائے اور نتیجہ مطلوبہ پھر بھی پیدا ہو جائے۔ انسان کا وجود ہی ایک مرکب وجود ہے۔ انسان کی زندگی ہوا، پانی، غذا اور مختلف چیزوں پر انحصار رکھتی ہے بعض دفعہ ان ذرائع میں سے کسی میں کچھ نقص بھی ہو جاتا ہے۔ مگر دوسری چیزوں کے اثر کی وجہ سے وہ بیمار نہیں ہوتا۔ اسی طرح شریعت ہے کہ وہ ان احکام پر مشتمل ہے جو انسانی روح کی ترقی کے لئے ضروری ہیں اور ان کا مجموعی اثر انسان کی روحانی ترقی پر پڑتا ہے۔ پس جب تک خدا تعالیٰ کی حکومت یا اُس کے انبیاء کی حکومت کے انکار کی روح نہ پیدا ہو جائے صرف غلطی یا کمزوری کی وجہ سے انسانی عمل میں اگر کوئی خامی رہ جائے تو ضروری نہیں کہ ایسی خامی انسان کو اپنے مقصد کے حاصل کرنے میں ناکام کر دے۔ اگر خامی بہت زیادہ بھی ہو تو سچی توبہ اور دعا بھی اس کا ازالہ کر سکتے ہیں۔ اُوپر کے دو قانونوں کے علاوہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ دو اور قانون بھی ہیں ایک قانونِ تمدن اور دوسرا قانونِ اخلاق یہ دونوں قانون درحقیقت قانونِ قدرت اور قانونِ شریعت کی سرحدیں ہیں۔ قانونِ اخلاق قانونِ شریعت کی طرف کی سرحد ہے اور قانونِ تمدن قانونِ قدرت کی طرف کی سرحد ہے اس لئے یہ دونوں قانون بہت کچھ آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ بہت سے تمدنی قانونوں کی بنیاد قانونِ اخلاق پر ہوتی ہے اور بہت سے اخلاقی قانونوں کی بنیاد قانونِ تمدن پر ہوتی ہے۔ انسان چونکہ مدنی الطبع پیدا ہوا ہے، اِس لئے وہ اِن دو قانونوں کا محتاج تھا۔ چونکہ قانونِ تمدن قانونِ قدرت سے ملتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کا اختیار زیادہ تر بنی نوع انسان کو دیا ہے اور چونکہ قانونِ اخلاق قانونِ شریعت سے ملتا ہے اس لئے قانونِ اخلاق کو قانونِ شریعت کے اندر داخل کیا گیا ہے گو اس کی بعض شقوں کو بنی نوع انسان کے سپرد بھی کر دیا گیا ہے۔ تمام دنیا کا نظام اِن چاروں قانونوں سے چل رہا ہے۔ قانونِ قدرت میں بھی کسی کا دخل نہیں وہ خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے آتا ہے اور قانونِ شریعت میں بھی کسی انسان کا دخل نہیں وہ بھی خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے آتا ہے لیکن قانونِ تمدن اور قانونِ اخلاق میں خدا تعالیٰ اور انسانی نظام شریک ہو جاتے ہیں کچھ راہنمائی خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے اور کچھ اختیار انسان کو دیا جاتا ہے اور اس طرح خدا اور بندے کے تعاون سے اِس دنیا کا نظام بہتر سے بہتر بنایا جاتا ہے۔ جب تک یہ دو دریا متوازی چلتے رہتے ہیں اُس وقت تک دنیا میں امن قائم رہتا ہے اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت کے ساتھ مل کر انسان بھی دنیا میں ایک مفید اور بابرکت حکومت قائم کر لیتا ہے اور جب یہ دو دریا مختلف جہات میں بہنا شروع کر دیتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں یہ کہو کہ انسانی عقل کی ندی اپنی کمزوری کی وجہ سے اپنا رستہ بدل دیتی ہے اور خدائی راہنمائی کی ندی کے ساتھ ساتھ چلنے کی برکت سے محروم ہو جاتی ہے تو دنیا میں فساد اور جھگڑا اور لڑائی پیدا ہو جاتی ہے اور دنیا پر نہ خدا کی بادشاہت رہتی ہے نہ انسان کی بلکہ شیطان کی بادشاہت قائم ہو جاتی ہے کیونکہ انسان خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ساتھ ہی انسان بنتا ہے ورنہ وہ وحشی جانوروں میں سے ایک جانور کی طرح ہوتا ہے۔

انسان کو خدا تعالیٰ کا مقرب بنانے کے لئے ضروری تھا کہ وہ صاحبِ اختیار بنایا جاتا۔ اس وجہ سے قرآن کریم بتاتا ہے کہ انسان اِس دنیا کے ایک حصہ میں مختار ہے اور ایک حصہ میں مقید ہے۔ وہ مقید ہے قانونِ قدرت کے معاملہ میں اور مختار ہے قانونِ شریعت کے معاملہ میں۔ قانونِ قدرت کے معاملہ میں وہ مقید ہے اس لئے کہ قانونِ قدرت پر عمل کرنے کی وجہ سے وہ کوئی روحانی ترقی حاصل نہیں کرتا اور قانونِ شریعت میں اُسے عمل کی آزادی دی گئی ہے اس لئے کہ قانونِ شریعت پر عمل کرنے سے وہ انعام کا مستحق ہوتا ہے اور انعام اسی صورت میں ملا کرتا ہے جبکہ آزادیٔ عمل حاصل ہو، جبری طور پر کرائے ہوئے کام کے بدلہ میں انعام نہیں ملا کرتا۔

قرآن شریف اِس بات کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ انسان کی روحانی ترقی بھی اس کے جسمانی حالات سے متاثر ہوتی ہے اور جس حد تک وہ اِس سے متاثر ہوتی ہے اُس کے اعمال یقیناً محدود ہو جاتے ہیں۔ قرآن کریم اس کا جواب یہ بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ انسانی اعمال کی قیمت اُس کے ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے لگائے گا۔ مثلاً اگر ایک شخص لاکھوں روپے کا مالک ہو کر دنیا کی بہتری اور بھلائی کے لئے سَو روپیہ خرچ کرتا ہے اور ایک دوسرا شخص صرف چند روپوں کا مالک ہو کر دنیا کی بھلائی کے لئے اپنا سارا مال خرچ کر دیتا ہے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے دونوں کو ایک سا ثواب نہیں ملے گا۔ جس نے چند روپے خرچ کئے تھے گو اس کے روپے تھوڑے تھے مگر اُسے ثواب زیادہ ملے گا کیونکہ اس کے ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جائے گا کہ اس نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ لیکن جس نے لاکھوں اور کروڑوں روپیہ کے ہوتے ہوئے ایک سَو روپیہ کی مدد کی اس کے ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ اُس نے اپنی طاقت کا ہزارواں یا لاکھواں حصہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا۔ پس خدا تعالیٰ عمل کی مقدار کو نہیں دیکھتا بلکہ اُس ماحول کو دیکھ کر عمل کی قیمت لگاتا ہے جس ماحول میں کوئی انسان کام کرتا ہے اور وہ اُن مجبوریوں یا اُن سہولتوں کو نظر انداز نہیں کرتا جن کے ماتحت کام کرنے والے کے عمل میں کوئی کمزوری پیدا ہوئی یا جن کی مدد سے کام کرنے والے کو کام میں سہولت حاصل ہوئی۔

قرآن کریم سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح جسمانی دنیا نے آہستہ آہستہ ترقی کی ہے اسی طرح روحانی دنیا کے لئے بھی آہستہ آہستہ ترقی مقدر تھی اسی لئے خدا تعالیٰ کا کامل کلام دنیا کے شروع میں نہیں آیا۔ جوں جوں انسان ترقی کرتا چلا گیا اُسے اس کی ترقی کے درجہ کے مطابق شریعت دی گئی آخر ہوتے ہوتے انسان اس مقام پر پہنچ گیا جبکہ وہ کامل ترین شریعت کا حامل ہو سکتا تھا اُس وقت خدا تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت دنیا کا کامل ترین وجود ظاہر ہوا اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے پس آپ پر خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی شریعتوں میں سے کامل ترین شریعت اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی کتابوں میں سے کامل ترین کتاب نازل کی گئی۔ وہ کامل کتاب قرآن کریم ہے اور کامل شریعت اسلام ہے۔ آپ کے وجود سے روحانی نظام کی تکمیل ہوئی ، جس طرح مادی عالَم کا نقطۂ مرکزی انسان ہے، جس طرح مختلف زمانوں اور قوموں کیلئے اُن کا نقطۂ مرکزی اُن کے انبیاء ہیں اسی طرح تمام بنی نوع انسان کیلئے نقطۂ مرکزی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پس قرآنی نقشۂ عالَم اس طرح ہے کہ تمام مادی عالَم کا پہلا نقطۂ مرکزی انسان ہے یہ انسان مختلف دائروں میں اپنے اپنے زمانہ کے نبیوں کے گرد گھومتے ہیں۔ تمام نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھومتے ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے گرد گھومتے ہیں اور اس طرح روحانی دنیا مکمل ہو جاتی ہے۔

قانونِ شریعت ، قانونِ اخلاق ، قانونِ تمدن

میں اوپر بتا چکا ہوں کہ انبیاء کے ذریعہ سے دنیا میں جو تکمیل ہوئی ہے وہ کم و بیش تین طرح ظاہر ہوتی ہے۔ ایک قانونِ شریعت کے ذریعہ سے دوسرے قانونِ اخلاق کے ذریعہ سے تیسرے قانونِ تمدن کے ذریعہ سے۔ قرآن کریم چونکہ اعلیٰ اور اکمل کتاب ہے اُس نے ان تینوں شقوں کو بیان کیا ہے۔ قانونِ شریعت اور قانونِ اخلاق کو مکمل طور پر اور قانونِ تمدن کو اصولی طور پر کیونکہ قانونِ تمدن میں انسان کو بہت سے اختیارات دیئے گئے ہیں ۔ قانونِ اخلاق کے متعلق قرآن شریف نے یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ اخلاقِ فاضلہ درحقیقت نام ہے طبعی جذبات کو صحیح طور پر استعمال کرنے کا۔ پس طبعی جذبات کو مار دینا یا حد سے زیادہ اُن میں منہمک ہو جانا یہ اخلاقی گناہ ہوتا ہے جو طبعی جذبات کو مارنا چاہتا ہے وہ قانونِ قدرت کا مقابلہ کرتا ہے۔ جو اُن کے پورا کرنے میں منہمک ہو جاتا ہے وہ اپنی روح کو بھول جاتا ہے اور مذہب کو نظر انداز کر دیتا ہے اور یہ دونوں باتیں خطرناک ہیں۔ تم قانونِ قدرت کو بھی نہیں کچل سکتے اور تم قانونِ شریعت کو بھی نہیں کچل سکتے۔ اسی اصل کے ماتحت قرآن کریم فرماتا ہے کہ دنیا میں تمام چیزیں حلال ہیں کیونکہ وہ انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔ ہاں صرف اُس صورت اور اُس شکل میں اُن کے استعمال پر حد بندی لگائی جاتی ہے جس صورت اور جس شکل میں وہ انسان کے لئے مضر ہو جاتی ہیں۔ اِس قانون کے ماتحت اسلام کے رو سے شادی نہ کرنا نیکی نہیں گناہ ہے کھانے پینے اور پہننے کے متعلق طیب چیزوں کا استعمال نہ کرنا نیکی نہیں گناہ ہے، کیونکہ اِس میں قانونِ قدرت کی ہتک اور اس کا مقابلہ ہے اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کی ناشکری ہے۔ لیکن انہی چیزوں میں پڑ جانا اور ان کے استعمال میں غلو اور اسراف سے کام لینا یہ بھی گناہ ہے کیونکہ اس طرح انسان اپنی روح کو بھول جاتا ہے اور اصل مقصد انسانی زندگی کا روح کو کامل کرنا ہی ہے۔ جس طرح وہ شخص گنہگار ہے جو کام ہی کرتا رہتا ہے اور کھانا نہیں کھاتا کیونکہ وہ مر جائے گا اور اس کا کام مکمل نہیں ہو گا۔ اسی طرح وہ شخص بھی گنہگار ہے جو کھانا ہی کھاتا رہتا ہے اور کام نہیں کرتا۔ کیونکہ وہ شخص ذرائع کے پیچھے پڑ جاتا ہے اور مقصود کو بھول جاتا ہے۔ بغیر ذرائع کے مہیا کرنے کے مقصد حاصل نہیں ہوتا اور بغیر صحیح مقصد کو پیش نظر رکھنے کے صحیح ذرائع مہیا نہیں کئے جا سکتے۔

قانونِ تمدن میں تنظیم اور یکجہتی پیدا کرنے کے لئے اُصول

قانونِ تمدن میں تنظیم اور یک جہتی پیدا کرنے کے لئے قرآن کریم نے مندرجہ ذیل اصول بیان کئے ہیں۔ (اوّل) اصل مالک خدا تعالیٰ ہے اور سب چیزیں اس کی ہیں۔

(۲) اس نے یہ سب چیزیں بحیثیت مجموعی بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے انسان کے اختیار میں دی ہیں۔

(۳) انسان چونکہ روحانی ترقی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس لئے ایک حد تک اُس کو اپنے عمل میں ایک حد تک آزادی بھی ملنی چاہئے اور اسے ترقی کے لئے کچھ نہ کچھ میدان ملنا چاہئے۔

(۴) چونکہ انسان جن ذرائع سے کام لے کر ترقی کرے گا وہ ذرائع درحقیقت کل بنی نوع انسان کی مشترک ملکیت ہیں اس لئے انسانی عمل کے محاصل کو ایسے اصول پر تقسیم کرنا چاہئے کہ فرد کو بھی اُس کا حق مل جائے اور قوم کو بھی اس کا حق مل جائے۔

(۵) انسانی نظامِ تمدن کے چلانے کے لئے ایک حاکم ہونا ضروری ہے اور اس حاکم کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ بنی نوع انسان کے مشورہ سے منتخب کیا جائے اس حاکم کا کام قانون بنانا نہیں بلکہ الٰہی قانون کو نافذ کرنا ہے۔

(۶) لیکن چونکہ ضروری نہیں کہ ایک وقت میں ساری دنیا میں ایک ہی نظام ہو اس لئے قرآن کریم نے یہ بھی تعلیم دی ہے کہ:۔

(الف) اگر ایک وقت میں دنیا میں کئی حکومتیں ہوں اور اُن میں سے بعض میں اختلاف پیدا ہو جائے تو دوسری حکومتیں مل کر اُن دونوں کے اندر صلح کرائیں۔

(ب) اگر صلح ہو جائے تَوفِبَھَا اور اگر صلح نہ ہو سکے تو دنیا کی باقی حکومتیں مل کر ایک عادلانہ فیصلہ دیں جس کو ماننے کے لئے دونوں حکومتوں کو مجبور کیا جائے۔

(ج) اگر ایسے فیصلہ کو کوئی فریق نہ مانے یا ماننے کے بعد اس پر عمل کرنے سے انکار کر دے تو ساری طاقتیں مل کر اس سے لڑیں اور اُسے مجبور کریں کہ وہ دنیا کے امن کی خاطر حکومتوں کی پنچائت کے فیصلہ کو تسلیم کرے۔

(د) جب اس پنچائتی دباؤ یا لڑائی سے وہ حکومت صلح کی طرف مائل ہو جائے تو یہ حکومتوں کی پنچائت بغیر کوئی ذاتی فائدہ اُٹھانے کے صرف اس امر کے متعلق فیصلہ نافذ کر دے جس سے جھگڑے کی ابتداء ہوئی تھی اور مغلوب ہونے والی حکومت سے کوئی زائد فائدے اپنے لئے حاصل نہ کرے کیونکہ اس سے نئے فسادات کی بنیادیں قائم ہوتی ہیں۔ یہ وہ تعلیم ہے جو قرآن کریم نے آج سے پونے چودہ سَو سال پہلے دی تھی آج یونائیٹڈ نیشنز آرگنائزیشن

(United Nation Organisation) انہی اصول کی نقل کر رہی ہے لیکن پوری طرح نقل نہ کر سکنے کی وجہ سے ناکامیاب ہو رہی ہے۔ پہلی لیگ آف نیشنز اس لئے ناکام ہوئی کہ وہ قرآنی اصول میں سے اس اصل کی خلاف ورزی کر رہی تھی کہ متخاصمین میں سے جو حکومت پنچائتی فیصلہ کو تسلیم نہ کرے اُسے زور اور طاقت کے ساتھ منوایا جائے اور اب نئی لیگ اس اصول کی خلاف ورزی کر رہی ہے کہ مغلوبین سے پنچائتی حکومتیں زائد فوائد حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ ابتدائی جھگڑے تک ہی اپنے فیصلوں کو محدود رکھیں پس یہ لیگ بھی اسی نتیجہ کو دیکھے گی جو پہلی لیگ نے دیکھا تھا۔ کیونکہ امن کے قیام کا صرف وہی ذریعہ ہے جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔

حیاتِ مَابَعْدَ الْمَوْت

قرآنی تعلیم کے رو سے دنیا کا یہ نظام جس کا میں پہلے نقشہ کھینچ چکا ہوں، آخر انسان کی موت کے ذریعہ سے ایک نئی شکل بدل لیتا ہے۔ انسانی ارواح ایک نئے عالم میں جاتی ہیں اور روح ایک نیا جسم اختیار کرتی ہے، مگر وہ اِس قسم کا جسم نہیں ہوگا جس قسم کا جسم ہمیں اس دنیا میں حاصل ہے۔ وہ ایک نئی قسم کا روحانی جسم ہوگا جو انسان کی روح کو خدا تعالیٰ کا حسن کو دیکھنے کے لئے نئی طاقتیں بخشے گا۔ کامل روحیں معاً اُس مقام پر رکھ دی جائیں گی جسے جنت کہتے ہیں اور ناقص روحیں اُس جگہ ڈال دی جائیں گی جسے دوزخ کہتے ہیں اور جو درحقیقت روحانی بیماریوں کا شفا خانہ ہے۔ جوں جوں ارواح کی اصلاح ہوتی چلی جائے گی اُنہیں جنت میں بھیجا جاتا رہے گا یہاں تک کہ دوزخ بالکل خالی ہو جائے گا اور تمام کے تمام انسان جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ جس طرح وہ خدا کی طرف سے آئے تھے وہ سب کے سب خدا ہی کی طرف چلے جائیں گے۔ اُن کی خوشیاں اور اُن کی لذتیں اور اُن کی راحتیں سب روحانی ہوں گی اور اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اُس کی محبت اُن کی سب سے بڑی غذا ہوگی اور اُس کی رُؤیت اُن کا سب سے بڑا انعام ہوگا۔ قرآن کریم اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے اِلٰی رَبِّکَ مُنۡتَہٰٮہَا(۵۸۶) اِس عالم کے دونوں سرے خدا ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ اس کی پیدائش کا سرا بھی خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اس کے خاتمہ کا سرا بھی خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ جو خدا سے آیا وہ خدا ہی کی طرف جائے گا۔ جیسے مسیحؑ بھی کہتا ہے کہ آسمان پر کوئی نہیں جاتا مگر وہی جو آسمان سے آتا ہے۔

روحانی نظام کی تکمیل کے لئے قرآنی اصول

روحانی نظام کی تکمیل کے لئے قرآن کریم نے یہ اصول مقرر فرمایا ہے کہ چونکہ شریعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی ہے اس لئے آئندہ کوئی شریعت لانے والا نبی نہیں آئے گا۔ قرآن کریم آخری کتاب ہے اس کو جُزْوًا یا کُلًّا کوئی اور کتاب منسوخ نہیں کر سکتی۔ قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت روحانی عالم میں رہتی دنیا تک رہے گی، لیکن انسان بھول بھی جاتا ہے، غلطی بھی کرتا ہے اور بغاوت بھی کرتا ہے ان تینوں مرضوں کا علاج کئے بغیر قرآنی حکومت قیامت تک صحیح طور پر نہیں چل سکتی۔

پیشگوئی دربارہ ظہور مسیح موعود

بھولنے والے کو یاد کرانے والا، غلطی کرنے والے کی اصلاح کرنے والا اور باغی کو زیرِ نگین لانے والا آدمی ضرور چاہئے۔ قرآن کریم اس کا یہ علاج بتاتا ہے کہ جس طرح سورج کی عدم موجودگی میں چاند دنیا کو روشن کرتا ہے، اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے انسان کھڑے کئے جائیں گے جو چاند کی طرح محمد رسول اللہ ﷺ سے نور کا اکتساب کر کے دنیا کو روشن کرتے رہیں گے۔ یہ لوگ زمانہ کی ضرورت کے مطابق عام حالتوں میں تو مجدد کی صورت میں ظاہر ہوں گے اور دنیا کی وسیع خرابی اور تباہی کے وقت میں تابع نبی یا اُمتی نبی کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔ چنانچہ ایک ایسے ہی وجود کے متعلق قرآن شریف میں متعدد مقامات پر خبر دی گئی ہے۔ (دیکھو سورۃ جمعہ ع۔ سورہ صف ع۔ سورہ آل عمران) ۵۸۷؎ اور اسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بروزِ ثانی قرار دیا گیا ہے حدیثوں میں اس بروزِ ثانی کا نام مسیح بھی رکھا گیا ہے اور قرآن کریم میں بھی مسیح کے نام کی طرف ضمناً اشارہ کیا گیا ہے (دیکھو سورۃ زخرف رکوع ۶) ۵۸۸؎ دوسرا نام حدیثوں میں اس کا مہدی رکھا گیا ہے مگر یہ وجود ایک ہی ہے مختلف جہات سے اس کے مختلف نام ہیں۔ انجیل میں بھی محمد رسول اللہ ﷺ کی اس بعثتِ ثانیہ کا ذکر مسیح کے دوبارہ نزول کے وعدہ میں کیا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ کے حالات بتا رہے ہیں کہ یہ وہی زمانہ ہے جس کی پیشگوئی پرانی کتب میں اور قرآن کریم میں کی گئی ہے۔

ظہور مسیح موعود علیہ السلام

قرآن کریم کی صداقت کا یہ ایک زبردست ثبوت ہے کہ اُس کی پیشگوئیوں کے عین مطابق اس زمانہ میں ایک شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ قرآن شریف اور دوسری کتبِ سماوی کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والا ہے اور رسول کریم ﷺ کا کامل بروز ہے اور آپ کے دین کو قائم کرنے اور قرآن شریف کی تعلیم کو روشن کرنے کیلئے خدا تعالیٰ نے اُسے مبعوث فرمایا ہے (ان پیشگوئیوں کا ذکر قرآن کریم کی متعدد سورتوں میں اپنے اپنے مقام پر کیا گیا ہے۔ خصوصاً قرآن کریم کی آخری سورتوں میں) یہ مدعی حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام بانی سلسلہ احمدیہ ہیں۔ آج سے قریباً ساٹھ سال پہلے خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ پر وحی نازل ہوئی اور خدا تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ تجھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی خدمت کیلئے اور خدا تعالیٰ کے نام کو دوبارہ اس دنیا میں روشن کرنے کیلئے مقرر کیا گیا ہے اور تجھے وہی رُتبہ دیا گیا ہے جو پہلے انبیاء کو دیا گیا تھا، سوائے اِس فرق کے کہ تو قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل متبع ہے اور کوئی نئی شریعت تجھے نہیں دی گئی۔ چنانچہ آپ کو الہام ہوا کہ كُلُّ بَرَكَةٍ مِّنْ مُحَمَّدٍ ﷺ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ ۵۸۹ تمام برکتیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل ہوتی ہیں۔ پس بہت برکت والا ہے وہ بھی جس نے سکھایا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بہت برکت والا ہے وہ بھی جس نے سیکھا، یعنی احمد قادیانی علیہ السلام۔

پھر آپ کو کہا گیا:

’’دنیا میں ایک نذیر آیا، پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا، لیکن خدا اسے قبول کرے گا، اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا‘‘۔۵۹۰

قرآن کریم میں نذیر نبیوں کا نام آتا ہے اور بانی سلسلہ احمدیہ کے ایک الہام میں نذیر کی بجائے نبی کا لفظ بھی آتا ہے (ایک غلطی کا ازالہ)۵۹۱ آپ کا کام یہ تھا کہ آپ اس تاریکی کے زمانہ میں پھر دنیا کو خدا تعالیٰ سے روشناس کرائیں اور تازہ الہاموں اور معجزات سے اس مادی دنیا کے دل میں روحانیت کا بیج دوبارہ بو دیں۔ جس وقت آپ نے دعویٰ کیا اُس وقت آپ

اکیلے تھے، دنیا میں آپ کا کوئی ساتھی نہیں تھا۔ آپ ریل سے دور، تار گھر سے محروم، ڈاک کی تمام سہولتوں سے محروم ایک چھوٹے سے گاؤں میں جس کی آبادی چودہ پندرہ سو تھی ظاہر ہوئے اور اُس وقت آپ نے دنیا میں یہ اعلان فرمایا کہ خدا تعالیٰ میری سچائی کو دنیا پر ثابت کرے گا اور دنیا کے دور دراز کناروں تک میری تبلیغ پہنچے گی اور آپ نے یہ اعلان کیا کہ نہ صرف یہ کہ خدا مجھے دنیا کے کناروں تک شہرت دے گا بلکہ میرے سلسلہ کو قائم رکھے گا اور مجھ پر ایمان لانے والے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کریں گے۔

اور ۹؍ سال کے اندر میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا، جو خصوصیت سے میری پیشگوئیوں کو پورا کرنے والا ہوگا اور دنیا کے کناروں تک اُس کا نام پہنچے گا۔ وہ جلد جلد ترقی کرے گا اور روح القدس سے برکت دیا جائے گا۔ ان الہامات کے شائع ہونے کے بعد آپ کی مخالفت بڑے زور شور سے ہوئی اور کیا ہندو اور کیا مسلمان اور کیا عیسائی اور کیا سکھ سب کے سب آپ کے پیچھے پڑ گئے اور ہر ایک نے آپ کے تباہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ مخالفت ہی اپنی ذات میں اس بات کی علامت تھی کہ بانی سلسلہ احمدیہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکہ اس قسم کی عالمگیر مخالفت بالعموم سچے نبیوں کی ہی ہوا کرتی ہے، مگر با وجود اس کے کہ آپ اکیلے تھے اور آپ کے مقابلہ میں ساری دنیا جمع تھی پھر بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کی آواز کو بلند کرنا شروع کیا اور ایک ایک دو دو کر کے لوگ آپ پر ایمان لانے شروع ہوئے اور بڑھتے بڑھتے یہ جماعت پنجاب اور ہندوستان میں پھیلتی ہوئی دوسرے ممالک کی طرف نکل گئی۔

جب بانی سلسلہ احمدیہ سن ۱۹۰۸ء میں فوت ہوئے تو اُس وقت آپ کے مخالفوں نے یہ شور مچایا کہ اب یہ سلسلہ تباہ ہو جائے گا، لیکن خدا تعالیٰ نے آپ کی جماعت کو حضرت مولوی نور الدین صاحب کے ہاتھ پر جمع ہونے کا موقع دے دیا اور وہ اس جماعت کے اسلامی اصول کے مطابق پہلے خلیفہ منتخب ہوئے۔ آپ کی خلافت کے دوران میں مغربی تعلیم سے متاثر لوگوں نے اصولِ خلافت پر اعتراضات کرنے شروع کئے اور فتنہ یہ بڑھنا شروع ہوا۔ حتیٰ کہ جب ۱۹۱۴ء میں آپ فوت ہوئے تو ان لوگوں نے جو کہ خلافت کے مسئلہ کے خلاف تھے نظامِ سلسلہ کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی۔ راقم الحروف جو بانی سلسلہ احمدیہ حضرت احمد علیہ السلام کا بیٹا ہے اُس وقت صرف پچیس سال کی عمر کا تھا اور تمام مادی ذرائع سے محروم تھا۔ جماعت کی باگ ڈور کلی طور پر ان لوگوں کے ہاتھ میں تھی جنہوں نے خلافت کے اصول کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا تھا، لیکن قادیان کی موجودہ جماعت کی کثرت جنہیں یہ باغی لوگ جاہلوں کی کثرت کہتے تھے اس بات پر مصر تھی کہ ہم خلافت کے طریق کو قرآنی احکام کے مطابق جاری رکھیں گے۔ چنانچہ ان لوگوں کے اصرار پر میں نے جماعت احمدیہ سے بیعت لے لی اور خلیفہ ثانی کے طور پر جماعت کی، اسلام کی اور دنیا کی خدمت کا کام کرنا شروع کیا۔ چونکہ جماعت کے سر بر آوردہ اور بڑے لوگ مخالف ہو گئے تھے اس لئے جماعت کی حالت اُس وقت بہت خطرناک نظر آتی تھی اور بیرونی دنیا کی نظریں بھی اب اس امید سے اُٹھ رہی تھیں کہ چند دن میں اِس سلسلہ کی عمارت پاش پاش ہو جائے گی مگر اُس وقت خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ وہ میری مدد کرے گا اور مجھے غلبہ دے گا اور میرے مخالفوں کو جو طاقتور ہیں کمزور کرے گا اور اُن میں تفرقہ پیدا کر کے اُنہیں پاش پاش کر دے گا۔ احمدیہ جماعت میں سے زیادہ تعلیم یافتہ اور زیادہ تجربہ کار آدمی نکل گئے۔ احمدیہ جماعت میں سے زیادہ مالدار اور زیادہ رسوخ والے آدمی الگ ہو گئے۔ وہ لوگ جو سلسلہ کا دماغ سمجھے جاتے تھے وہ اس سے کٹ گئے۔ میری عمر کے لحاظ سے خلافت سے بغاوت کرنے والا گروہ یہ آوازیں بلند کرتا تھا کہ سلسلہ کی باگ ڈور ایک بچہ کے ہاتھ میں چلی گئی ہے اب یہ سلسلہ تباہ ہو کر رہے گا۔

حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی کے مطابق مصلح موعود کا ظہور

لیکن وہ خدا کہ جس نے قرآن شریف نازل کیا ہے، وہ خدا کہ جس نے اِس دنیا کے لئے ایک روحانی نظام بنایا ہے جس کے ماتحت یہ دنیا ترقی کر رہی ہے۔ وہ خدا جس نے احمد علیہ السلام مسیح موعود و مہدی معہود کو بتایا تھا کہ وہ ان کی ذریت سے ۱۸۸۶ء سے لے کر ۹؍سال کے اندر ایک لڑکا پیدا کرے گا جو خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے جلد جلد ترقی کرے گا اور دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا اور اسلام کو دنیا میں پھیلا کر اسیروں کی رستگاری اور مردوں کے احیاء کا موجب ہوگا۔ اس کی بات پوری ہوئی اور اُس کا کلمہ اُونچا رہا۔ ہر روز جو طلوع ہوتا تھا وہ میری کامیابی کے سامانوں کو ساتھ لاتا تھا، ہر روز جو غروب ہوتا تھا وہ میرے دشمنوں کے تنزل کے اسباب چھوڑ جاتا تھا، یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو میرے ذریعہ سے دنیا بھر میں پھیلا دیا اور قدم قدم پر میری خدا تعالیٰ نے راہنمائی کی اور بیسیوں موقعوں پر اپنے تازہ کلام سے مجھے مشرف فرمایا۔ یہاں تک ایک دن اُس نے مجھ پر یہ ظاہر کر دیا کہ میں ہی وہ موعود فرزند ہوں جس کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ الصَّلوٰۃ والسلام نے ۱۸۸۶ء میں میری پیدائش سے پانچ سال پہلے دی تھی۔ اُس وقت سے خدا تعالیٰ کی نصرت اور مدد اور بھی زیادہ زور پکڑ گئی اور آج دنیا کے ہر براعظم پر احمدی مشنری اسلام کی لڑائیاں لڑ رہے ہیں۔ قرآن جو ایک بند کتاب کے طور پر مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت اور مسیح موعود علیہ السلام کے فیض سے ہمارے لئے یہ کتاب کھول دی ہے اور اس میں سے نئے سے نئے علوم ہم پر ظاہر کیے جاتے ہیں۔ دنیا کا کوئی علم نہیں جو اسلام کے خلاف آواز اُٹھاتا ہو اور اس کا جواب خدا تعالیٰ مجھے قرآن کریم سے ہی نہ سمجھا دیتا ہو۔ ہمارے ذریعہ سے پھر قرآنی حکومت کا جھنڈا اُونچا کیا جا رہا ہے اور خدا تعالیٰ کے کلاموں اور الہاموں سے یقین اور ایمان حاصل کرتے ہوئے ہم دنیا کے سامنے پھر قرآنی فضیلت کو پیش کر رہے ہیں لیکن دنیا خواہ کتنا ہی زور لگائے، مخالفت میں کتنی ہی بڑھ جائے، گو دنیا کے ذرائع ہماری نسبت کروڑوں کروڑ گنے زیادہ ہیں یہ ایک قطعی اور یقینی بات ہے کہ سورج ٹل سکتا ہے ستارے اپنی جگہ چھوڑ سکتے ہیں، زمین اپنی حرکت سے رُک سکتی ہے، لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی فتح میں اب کوئی شخص روک نہیں بن سکتا۔ قرآن کی حکومت دوبارہ قائم کی جائے گی اور دنیا اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے بتوں یا انسانوں کی پوجا کو چھوڑ کر خدائے واحد کی عبادت کرنے لگے گی اور باوجود اس کے کہ دنیا کی حالت اس وقت قرآنی تعلیم کو قبول کرنے کے خلاف ہے اسلام کی حکومت پھر قائم کر دی جائے گی اس طرح کہ پھر اُس کی جڑوں کا ہلانا انسان کے لئے ناممکن ہو جائے گا۔ اس شیطان کی برباد کردہ دنیا کے جنگل میں خدا نے پھر ایک بیج بویا ہے میں ایک ہوشیار کرنے والے کی صورت میں دنیا کو ہوشیار کرتا ہوں کہ یہ بیج بڑھے گا، ترقی کرے گا، پھیلے گا اور پھلے گا اور وہ روحیں جو بلند پروازی کا اشتیاق رکھتی ہیں، جن کے دلوں کے مخفی گوشوں میں خدا تعالیٰ کے ساتھ ملنے کی تڑپ ہے وہ ایک دن اپنی مادی خوابوں سے بیدار ہوں گی اور بیتاب ہو کر اس درخت کی ٹہنیوں پر بیٹھنے کے لئے دوڑیں گی تب اس دنیا کے فساد دور ہو جائیں گے۔ اس کی تکلیفیں مٹا دی جائیں گی۔ خدا تعالیٰ کی بادشاہت پھر اس دنیا میں قائم کر دی جائے گی اور پھر اللہ تعالیٰ کی محبت انسان کے لئے سب سے قیمتی متاع قرار پائے گی اور دنیا کی یہ تبدیلی ہی فساد اور بدامنی کے دور کرنے کا ذریعہ ثابت ہو گی اور صرف یہی ایک ذریعہ ہے جس سے دنیا کا فساد اور بدامنی دور کی جاسکتی ہے اس کے سوا سب کوششیں بیکار جائیں گی۔

قرآن مجید کے مختلف زبانوں میں تراجم

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَجَاہِدۡہُمۡ بِہٖ جِہَادًا کَبِیۡرًا(۵۹۴) اے محمدؐ رسول اللہ تیری سب سے بڑی تلوار قرآن کریم ہے تو اسے لے کر دنیا سے سب سے بڑا جہاد کر۔ اس حکم کے ماتحت انگریزی ترجمہ کی پہلی جلد شائع کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ اور زبانوں میں قرآن کریم کا ترجمہ تیار ہے (۱) فرانسیسی (۲) جرمن (۳) سپینش (۴) اطالین (۵) روسی اور (۶) ڈچ۔ یہ تراجم جنگ کے اثرات ختم ہونے پر چھپوائے جائیں گے اور ان ملکوں میں شائع کئے جائیں گے اور ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے چاہا تو یکے بعد دیگرے اور زبانوں میں بھی تراجم شائع ہوتے رہیں گے چنانچہ فی الحال افریقہ کی سواحیلی زبان میں بھی ترجمہ ہو رہا ہے۔

اسلام کی تبلیغ اور قرآن کریم کی تعلیم کی اشاعت کے لئے ہمارے مبلغ بھی مختلف ملکوں میں کام کر رہے ہیں۔ اِس وقت یورپ میں انگلستان کے علاوہ فرانس، سپین، اطالیہ اور سوئٹزر لینڈ میں مشن قائم ہیں اور امریکہ میں یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ اور ارجنٹائن میں مشن کھل چکے ہیں۔ برازیل اور کینیڈا زیر تجویز ہیں۔ وسط افریقہ کے تقریباً تمام ممالک میں ہمارے مشن ہیں اور ایسٹ افریقہ میں بھی دس مشنری جا چکے ہیں۔ علاوہ ازیں فلسطین، شام، ایران میں بھی مشن ہیں اور ملایا۔ جاوا۔ سماٹرا۔ بورنیو میں بھی مشن قائم ہو چکے ہیں۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ یہ روحانی جہاد ان تراجم اور ان مبلغوں اور ان کے بعد آنے والے تراجم اور مبلغوں کے ذریعہ سے اسلام کی فتح کا راستہ کھولنے کے لئے نہایت کامیاب رہے گا کیونکہ ہماری کوششیں نہ صرف خدا تعالیٰ کے فیصلہ سے مل گئی ہیں بلکہ ہم یہ کام خدا تعالیٰ کے براہِ راست حکم کے ماتحت کر رہے ہیں۔

اِس علمی تحفہ کے پیش کرنے کے علاوہ میں دنیا کے تمام مذاہب کے راستی پسند لوگوں سے کہتا ہوں کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ قرآنِ کریم بھی ہر زمانہ میں پھل دیتا ہے اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والوں پر اللہ تعالیٰ اپنا تازہ الہام نازل کرتا اور ان کے ہاتھ پر اپنی قدرتوں کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ پس کیوں نہ علمی غور اور فکر کے علاوہ اس مشاہدہ کے ذریعہ سے صداقت معلوم کر لی جائے۔ اگر مسیحی پوپ یا اپنے آرچ بشپوں کو اِس بات پر آمادہ کریں کہ وہ میرے مقابل پر اپنے پر نازل ہونے والا تازہ کلام پیش کریں، جو خدا تعالیٰ کی قدرت اور علمِ غیب پر مشتمل ہو تو دنیا کو سچائی کے معلوم کرنے میں کس قدر سہولت ہو جائے گی۔ وہ پوپ اور پادری جو مسیح کی صلح کل پالیسی کو ترک کر کے عیسائی فضا کو صلیبی جنگوں پر اُکساتے رہے ہیں کیا وہ آج اِس روحانی جنگ کے لئے اپنے آپ کو پیش نہیں کر سکتے۔ کاش! وہ اس کے لئے تیار ہوں یا اُن کے اتباع اُنہیں اس کے لئے آمادہ کریں تو دنیا ایک لمبے روحانی مرض سے جلد نجات حاصل کر سکے اور خدا تعالیٰ کا جلال اور اس کی قدرت خوارقِ عادت طور پر ظاہر ہو کر لوگوں کے ایمان اور روحانیت کی اصلاح کا موجب ہوں۔

شکریہ و اعتراف

میں اِس دیباچہ کے آخر میں مولوی شیر علی صاحب کی اُن بے نظیر خدمات کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں جو انہوں نے باوجود صحت کی خرابی کے قرآنِ کریم کو انگریزی میں ترجمہ کرنے کے متعلق کی ہیں۔ اسی طرح مولوی شیر علی صاحب اور ملک غلام فرید صاحب، خان بہادر چوہدری ابوالہاشم خاں صاحب مرحوم اور مرزا بشیر احمد صاحب بھی شکریہ کے مستحق ہیں کہ اُنہوں نے ترجمہ پر تفسیری نوٹ میری مختلف تقریروں اور کتابوں اور درسوں کا خلاصہ نکال کر درج کئے ہیں۔ مجھے ان انگریزی نوٹوں کے دیکھنے کا موقع نہیں ملا، مگر ان لوگوں کے تجربہ اور اخلاص پر یقین کرتے ہوئے مجھے یقین ہے کہ اُنہوں نے صحیح طور پر ان مضامین کی ترجمانی کی ہوگی جو میں نے براہِ راست خدا تعالیٰ کے افضال کے ماتحت قرآن کریم سے یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بانی سلسلہ احمدیہ کے

افاضات سے حاصل کئے ہیں۔

میں اس موقع پر قاضی محمد اسلم صاحب پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور اور سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب جج فیڈرل کورٹ آف انڈیا (حال وزیر خارجہ پاکستان) کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں ، جن دونوں نے اِس دیباچہ کو انگریزی زبان کا جامہ پہنایا ہے اللہ تعالیٰ ان سب دوستوں کو اپنی برکات کے عطر سے ممسوح کرے اور دین و دنیا میں ان کا حافظ و ناصر رہے۔

میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ حضرت خلیفہ اول (اللہ آپ سے راضی ہو) کا شاگرد ہونے کی وجہ سے کئی مضامین میری تفسیر میں لازماً ایسے آئے ہیں جو میں نے اُن سے سیکھے اِس لئے اِس تفسیر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تفسیر بھی ، حضرت خلیفہ اوّل کی تفسیر بھی اور میری تفسیر بھی آجائے گی اور چونکہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اپنی روح سے ممسوح کر کے اُن علوم سے سرفراز فرمایا تھا جو اس زمانہ کے لئے ضروری ہیں اس لئے میں اُمید کرتا ہوں کہ یہ تفسیر بہت سے بیماروں کو شفا دینے کا موجب ہوگی، بہت سے اندھے اس کے ذریعہ سے آنکھیں پائیں گے، بہرے سننے لگ جائیں گے، گونگے بولنے لگ جائیں گے ، لنگڑے اور اپاہج چلنے لگ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس کے مضامین کو برکت دیں گے اور یہ اس غرض کو پورا کرے گی ، جس غرض کے لئے یہ شائع کی جارہی ہے۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ


۹؎ متی باب ۷ آیت ۶ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۰؎ گوتم سمرتی ادھیائے صفحہ ۱۲

۱۱؎ رگوید

۱۲؎ اتھرو وید۔ کانڈ نمبر ۴ سوکت ۲۲ منتر نمبر ۷

۱۳؎ یجروید

۱۴؎ سام وید پارٹ دوم کانڈ ۹ سوکت ۳ منتر ۹

۱۵؎ سام وید پارٹ دوم کانڈ ۹ سوکت ۳ منتر ۸

۱۶؎ اتھرو وید۔ کانڈ ۱۹ سوکت ۲۸ منتر ۴

۱۷؎ گوتم دھرم سوتر ادھیائے ۵

۱۸؎ منودھرم شاستر

۱۹؎ یونس: ۱۷ ۲۰؎ ال عمران: ۱۶۵ ۲۱؎ التوبة: ۱۲۸

۲۲؎ الزمر: ۷۲ ۲۳؎ الانعام: ۱۳۱ ۲۴؎ المؤمنون: ۳۳

۲۵؎ النحل: ۹۰ ۲۶؎ هود: ۵۱ ۲۷؎ هود: ۶۲

۲۸؎ هود: ۸۶ ۲۹؎ هود: ۶۳ ۳۰؎ هود: ۸۸

۳۱؎ نپولین (۱۷۶۹ء۔ ۱۸۲۱ء) وینڈیمیئر (Vendemiaire) کی بغاوت (۱۷۹۵ء) میں اس کے زبردست اقدام نے اسے وقت کی اہم ترین شخصیت بنا دیا۔ اطالوی مہم کے قائد کی حیثیت سے اس نے پست ہمت، فاقہ زدہ سپاہیوں کو ایک ناقابل تسخیر فوج بنا دیا۔ مسلسل بروقت اقدامات سے نپولین نے افراطِ زر کا تدارک کیا۔ کلیسیا سے صلح کی۔ ایک نیا آئینی ضابطہ وضع کیا۔ ۱۸۰۴ء میں اس نے شاہِ فرانس اور ۱۸۰۵ء میں اس نے شاہِ اٹلی ہونے کا اعلان کیا۔ ۱۲۔ اپریل ۱۸۱۴ء کو تخت سے دستبردار ہوا۔ (اُردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد ۲ صفحہ ۱۷۰۸ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۸ء)

۳۲؎ ہٹلر (Hitler Adolf) ۱۸۸۹ء۔ ۱۹۴۵ء جرمنی کا آمرِ مطلق۔ نازی پارٹی کا بانی۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد چند شورش پسندوں نے مل کر میونخ میں نازی مزدور پارٹی کی بنیاد رکھی۔ ۱۹۳۳ء میں اسے آمریت کے اختیارات سونپ دیئے گئے۔ ہٹلر جرمنی کے تمام شعبوں کا مختار بن گیا۔ نازی پارٹی کو کچل دیا گیا۔ اِس کی پالیسیاں بالآخر دوسری عالمی جنگ پر منتج ہوئیں۔ ۱۹۴۱ء میں روس کے محاذ پر ہٹلر نے جنگ کی خود کمان کی۔ (اُردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد۲ صفحہ ۱۸۴۶ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۸ء)

۳۳؎ چنگیز خان (۱۱۶۷ء۔۱۲۲۷ء)۔ تاتاری فاتح۔ اصل نام تموجن۔ باپ یکوسائی ریاستہائے متحدہ منگولیا کا رئیس تھا۔ چنگیز تیرہ سال کی عمر میں باپ کا جانشین ہوا۔ اِس کی ابتدائی عمر پریشانیوں اور تکلیفوں میں گزری اور رفتہ رفتہ طاقت حاصل کی۔ ۱۲۰۶ء میں منگولیا کی فتح مکمل کی اور قراقرم کو دارالحکومت بنایا۔ ۱۲۱۳ء میں شمالی چین کی تسخیر کا آغاز کیا۔ ۱۲۱۵ء تک اس نے چن خاندان کی سلطنت کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا۔ اس نے چند سالوں میں ہی ترکستان، افغانستان، اور ایران کو فتح کر لیا۔ اس کے لشکر کا ایک حصہ جنوب مشرقی یورپ میں داخل ہو گیا۔ (۱۲۱۸ء۔۱۲۲۴ء) کہتے ہیں کہ وہ ۸۲ لاکھ انسانوں کے قتل کا ذمہ دار تھا۔ اعلیٰ درجہ کے متمدن شہر بُری طرح برباد کیے۔ (اُردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد۱ صفحہ ۵۲۰ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۷ء)

۳۴؎ الفاتحة: ۲ ۳۵؎ الناس: ۲ تا ۴ ۳۶؎ متی باب ۵ آیت ۱۷، ۱۸۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۳۷؎ متی باب ۱۵ آیت ۲۴۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۳۸؎ متی باب ۱۸ آیت ۱۱۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۳۹؎ متی باب ۲۸ آیت ۱۹۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۴۰؎ متی باب ۱۹ آیت ۲۸۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۴۱؎ متی باب ۱۵ آیت ۲۲۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۴۲؎ متی باب ۱۵ آیت ۲۶۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۴۳؎ متی باب ۱۰ آیت ۵، ۶۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۴۴؎ متی باب ۱۰ آیت ۲۳۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۴۵؎ اعمال باب ۱۱ آیت ۱۹۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۴۶؎ اعمال باب ۱۱ آیت ۲ ، ۳۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۴۷؎ الاعراف: ۱۵۹

۴۸؎ SUK 20

۴۹؎ SANK 21B

۵۰؎ Ab. PN. xxiv

۵۱؎ Apocrypha 11- Esdras. 14

۵۲؎ Apocrypha 11- Esdras. 14

۵۳؎ استثناء باب ۳۴۔ آیت ۵ ، ۶۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۸۰ء

۵۴؎ استثناء باب ۳۴ آیت ۸۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۵۵؎ پیدائش باب ۱ آیت ۲۷۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۵۶؎ پیدائش باب ۲ آیت ۱۷۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۵۷؎مسلم كتاب الايمان باب صحبة المماليك

۵۸؎مسلم كتاب الايمان باب صحبة المماليك

۵۹؎ البقرة: ۲۴۴

۶۰؎ خروج باب ۳۲ آیت ۱ تا ۶۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء (چند الفاظ کے فرق کے ساتھ)

۶۱؎ طٰہٰ: ۹۱ ۶۲؎ الاعراف: ۸۴

۶۳؎ پیدائش باب ۹ آیت ۱۸ تا ۲۴ (مفہوماً)

۶۴؎ پیدائش باب ۶ آیت ۹۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۶۵؎ پیدائش باب ۹ آیت ۲۵۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۶۶؎ استثناء باب ۲۵ آیت ۵ ، ۶ (مفہوماً)

۶۷؎ متی باب ۲۱ آیت ۹۔ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لندن ۱۸۸۷ء

۶۸؎متی باب ۲۷ آیت ۴۶۔ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لندن ۱۸۸۷ء ۶۹؎یوحنا باب ۳ آیت ۲ باب ۴ آیت ۳۱۔ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لندن ۱۸۸۷ء ۷۰؎مرقس باب ۵ آیت ۴۱۔ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لندن ۱۸۸۷ء ۷۱؎اعمال باب ۲ آیت ۴ تا ۱۳۔ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لندن ۱۸۸۷ء ۷۲؎متی باب ۵ آیت ۱۷، ۱۸۔ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لندن ۱۸۸۷ء ۷۳؎تفسیر ہارن جلد ۴ حصہ دوم مطبوعہ ۱۸۸۲ء ۷۴؎تاریخِ کلیسیا کتاب نمبر ۳ باب ۲۵ ۷۵؎Encyclopaedia Biblica Page 4980 Vol. IV ۷۶؎Encyclopaedia Biblica Page 4993 Vol. IV ۷۷؎Encyclopaedia Brit. Page 646 Vol. 11, ED. 12th ۷۸؎Encyclopaedia Brit. Page 643 Vol. 111, ED. 12th ۷۹؎Encyclopaedia Brit. Page 643 Vol. 111, ED. 12th ۸۰؎مرقس باب ۱۵۔ آیت ۴۲ تا ۴۶۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۸۱؎مرقس باب ۱۶ آیت ۱ تا ۶۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۸۲؎یوحنا باب ۱ آیت ۱ تا ۳۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۸۳؎یوحنا باب ۱ آیت ۱ تا ۴ (مفہوماً) ۸۴؎دبدہ: شک وشبہ، تذبذب، وہم، پریشانی، گھبراہٹ ۸۵؎متی باب ۱ آیت ۱ تا ۱۶۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۸۶؎متی باب ۲۷ آیت ۵۱ تا ۵۳۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۸۷؎الشعراء: ۴ ۸۸؎لوقا باب ۷ آیت ۳۶ تا ۳۸۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء (مفہوماً) ۸۹؎پنچ: طرف داری، حمایت ۹۰؎ادھیائے ۱ شلوک ۱۱

۹۱؎ اتھرو وید کانڈ نمبر ۱۹ سوکت ۲۷ منتر ۷ ۹۲؎ پیدائش باب ۱۲ آیت ۲، ۳۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء (مفہوماً) ۹۳؎ پیدائش باب ۱۳ آیت ۱۵۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۹۴؎ پیدائش باب ۱۷ آیت ۹ تا ۱۱۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۹۵؎ پیدائش باب ۱۷ آیت ۱۴۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۹۶؎ پیدائش باب ۱۷ آیت ۱۶۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۹۷؎ پیدائش باب ۱۷ آیت ۱۹۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۹۸؎ پیدائش باب ۱۷ آیت ۲۰۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۹۹؎ پیدائش باب ۱۷ آیت ۱۸۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۱۰۰؎ پیدائش باب ۱۷ آیت ۲۰، ۲۱۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۱۰۱؎ پیدائش باب ۲۱ آیت ۱۳۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۱۰۲؎ پیدائش باب ۲۱ آیت ۱۷، ۱۸۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۱۰۳؎ پیدائش باب ۲۱ آیت ۲۰، ۲۱۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۱۰۴؎ زبور باب ۳۷ آیت ۲۹۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۱۰۵؎ استثناء باب ۱۸۔ آیت ۱۵۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۱۰۶؎ استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ تا ۲۰۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۱۰۷؎ متی باب ۵ آیت ۱۷، ۱۸۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۱۰۸؎ گلتیوں باب ۳ آیت ۱۲، ۱۳۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۱۰۹؎ زبور باب ۱۳۲ آیت ۱۱ اِرمیاہ باب ۲۳ آیت ۵۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۱۱۰؎ یوحنا باب ۱۶ آیت ۱۲، ۱۳۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۱۱۱؎ المزمل: ۱۶ ۱۱۲؎ مرقس باب ۸ آیت ۲۷ تا ۳۰۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء ۱۱۳؎ وقد كان فريق منهم يسمعون كلام الله (البقرة: ۷۶)

۱۱۴؎المائدة: ۶۸۱۱۵؎المائدة: ۴

۱۱۶؎ استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ تا ۲۰۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۱۷؎المائدة: ۶۸۱۱۸؎الجن: ۲۷، ۲۸

۱۱۹؎ استثناء باب ۱۸ آیت ۲۰۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۲۰؎ استثناء باب ۳۳ آیت ۲۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۲۱؎ خروج باب ۱۹ آیت ۲۰۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۸۰ء

۱۲۲؎ پیدائش باب ۲۱ آیت ۲۰، ۲۱۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۲۳؎ پیدائش باب ۲۱ آیت ۱۳۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۲۴؎ پیدائش باب ۱۷ آیت ۲۰۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۲۵؎ پیدائش باب ۲۵ آیت ۱۳ تا ۱۶۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء (مفہوماً)

۱۲۶؎ یسعیاہ باب ۲۱ آیت ۱۳ تا ۱۷۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۲۷؎ حبقوق باب ۳ آیت ۳ تا ۷۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۲۸؎ بخاری کتاب الصلوٰۃ باب قول النبی ﷺ جعلت فی الارض ……(الخ)

۱۲۹؎ غزل الغزلات باب ۵ آیت ۱۰ تا ۱۶۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۳۰؎ غزل الغزلات باب ۵ آیت ۹۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۳۱؎ غزل الغزلات باب ۴ آیت ۱۶۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۳۲؎ غزل الغزلات باب ۱ آیت ۵، ۶۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۳۳؎ غزل الغزلات باب ۱ آیت ۶۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۳۴؎ غزل الغزلات باب ۲ آیت ۷۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۳۵؎ یسعیاہ باب ۴۲ آیت ۱ تا ۴۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۳۶؎ یسعیاہ باب ۵ آیت ۲۶ تا ۳۰۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۳۷؎الاعراف: ۱۵۹۱۳۸؎التوبة: ۱۰۰۱۳۹؎الاحزاب: ۲۴

۱۴۰؎گردباد: پھرنے والی ہوا ۔ ہوا جس میں غبار ملا ہوا ہو۔ بگولا

۱۴۱؎العدیت: ۲ تا ۶۱۴۲؎الروم: ۴۴۱۴۳؎الطلاق: ۱۱، ۱۲

۱۴۴؎یسعیاہ باب ۸ آیت ۱۳ تا ۱۷۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۴۵؎متی باب ۵ آیت ۱۷، ۱۸۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۴۶؎مرقس باب ۲ آیت ۱۹، ۲۰۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۴۷؎یسعیاہ باب ۹ آیت ۶، ۷۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۴۸؎متی باب ۲۷ آیت ۴۱، ۴۲۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۴۹؎متی باب ۲۷ آیت ۴۲۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۵۰؎متی باب ۲۶ آیت ۵۶۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۵۱؎متی باب ۲۱ آیت ۴، ۵۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۵۲؎لوقا باب ۲۳ آیت ۱ تا ۳۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۵۳، ۱۵۴؎متی باب ۲۱ آیت ۳۳ تا ۴۴۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء (مفہوماً)

۱۵۵؎المجادلة: ۱۳۱۵۶؎الشورى: ۳۹

۱۵۷؎کنز العمال جلد ۵ صفحہ ۴۶۸ مطبوعہ حلب ۱۹۷۱ء + ازالة الخلفاء عن خلافة الخلفاء

۱۵۸؎استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۵۹؎الانفال: ۱۸۱۶۰؎فتح: ۱۱۱۶۱؎سبا: ۲۹ تا ۳۱

۱۶۲؎السجدة: ۶

۱۶۳؎السیرة الحلبیة جلد ۳ صفحہ ۸۹۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء + یوسف: ۹۳

۱۶۴؎یسعیاہ باب ۱۹ آیت ۲۱ تا ۲۵۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۶۵؎یسعیاہ باب ۶۲۔ آیت ۲۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۶۶؎یسعیاہ باب ۶۵ آیت ۱۵۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۶۷؎الحج: ۷۹

۱۶۸؎دانی ایل باب ۲ آیت ۳۱ تا ۳۵۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۱۶۹؎گلادے: کیچڑ، مٹی، گارا

۷۰؎ دانی ایل باب ۲ آیت ۳۷ تا ۴۵۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۷۱؎ متی باب ۲۱ آیت ۳۳ تا ۴۴۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء (مفہوماً)

۷۲؎ یوحنا باب ۱ آیت ۲۰، ۲۱۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء (مفہوماً)

۷۳؎ یوحنا باب ۱ آیت ۲۵۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۷۴؎ متی باب ۱۱ آیت ۱۴۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۷۵؎ لوقا باب ۲۴ آیت ۴۹۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۷۶؎ یوحنا باب ۱۴ آیت ۲۶۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۷۷؎ استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۷۸؎ یوحنا باب ۱۶ آیت ۷ تا ۱۴۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۷۹؎ النساء: ۱۵۸ تا ۱۶۱ ۸۰؎ المائدہ: ۱۱۷ تا ۱۱۹

۸۱؎ اعمال باب ۳ آیت ۲۱ تا ۲۴۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۸۲؎ استثناء باب ۱۸ آیت ۲۲۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۸۳؎دُبَدْهَا: تذبذب، شکر، شبہ، پس و پیش، وہم، وسوسہ

۸۴؎ مسند احمد بن حنبل جلد ۶ صفحہ ۹۱ مطبوعہ بیروت ۱۳۱۳ھ

۸۵؎ السیرۃ الحلبیۃ جلد ۱ صفحہ ۱۵۴ مطبوعہ مصر ۱۹۳۲ء

۸۶؎ سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۲۹، ۳۰ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۸۷؎ اسد الغابۃ جلد ۲ صفحہ ۲۲۵ مطبوعہ ریاض ۱۲۸۵ھ

۸۸؎بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی ...... (الخ)

۸۹؎ العلق: ۲ تا ۶

۱۹۰، ۱۹۱؎بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی (الخ)

۱۹۲؎ السیرۃ الحلبیۃ جلد ۱ صفحہ ۳۰۸ تا ۳۱۰ مطبوعہ مصر ۱۹۳۲ء

۱۹۳ تا ۱۹۵؎ یسعیاہ باب ۲۸ آیت ۱۲، ۱۳۔ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لندن ۱۸۸۷ء

۱۹۶؎ سیرت ابن ہشام جلد ۱ صفحہ ۳۳۹، ۳۴۰ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۱۹۷؎اسد الغابة جلد ۴ صفحہ ۴ مطبوعہ ریاض ۱۲۸۶ھ

۱۹۸؎سیرت ابن ہشام جلد ۱ صفحہ ۳۴۲۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۱۹۹، ۲۰۰؎اسد الغابة جلد ۵ صفحہ ۴۸۱ مطبوعہ ریاض ۱۲۸۰ھ

۲۰۱؎السيرة الحلبية جلد ۱ صفحہ ۳۳۴ مطبوعہ مصر ۱۹۳۲ء

۲۰۲؎بخاری کتاب مناقب الانصار باب اسلام ابی ذر الغفاری

۲۰۳؎بخاری کتاب المناقب باب قول النبی ﷺ لو كنت متخذًا خليلا

۲۰۴؎بخاری کتاب الصلوٰة باب المرأة تطرح عن المصلی (الخ)

۲۰۵؎تَبَخْتُرُ: ناز سے چلنا ، غرور سے چلنا ، غرور، تکبر، فخر ، اترانا

۲۰۶؎سیرت ابن ہشام جلد ۱ صفحہ ۳۱۱، ۳۱۲ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۰۷؎سیرت ابن ہشام جلد ۱ صفحہ ۲۸۴، ۲۸۵۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۰۸؎السيرة الحلبية جلد ۱ صفحہ ۳۶۱۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۲ء

۲۰۹؎اسد الغابة جلد ۳ صفحہ ۳۸۵، ۳۸۶۔ مطبوعہ ریاض ۱۲۸۶ھ

۲۱۰؎ (خون کے) تراڑے۔ فوارے (خون کا تیزی سے بہنا)

۲۱۱؎ طٰہٰ: ۱۵، ۱۶

۲۱۲؎اسد الغابة جلد ۴ صفحہ ۵۵۔ مطبوعہ ریاض ۱۲۸۶ھ

۲۱۳؎سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۱۴ تا ۱۷۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۱۴؎السيرة الحلبية جلد ۱ صفحہ ۳۹۱۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۲ء

۲۱۵؎بخاری کتاب بدء الخلق باب حدیث الغار

۲۱۶؎سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۶۲ ، ۶۳۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۱۷؎سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۶۱ ، ۶۲۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۱۸؎طبقات ابن سعد جلد ۱ صفحہ ۲۱۲۔ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۵ء

۲۱۹؎ Life of Mohammad by Willium Muir P. 112,113 Printed Edinburgh 1923

۲۲۰؎بخاری باب هجرة النبی صلی الله عليه وسلم

۲۲۱؎سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۷۰ تا ۵۷۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۲۲؎سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۷۶۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۲۳؎سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۶۳ تا ۳۸۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۲۴؎الروم: ۳ تا ۷۲۲۵؎طٰہٰ: ۱۲۴ تا ۱۲۶۲۲۶؎الحاقة: ۳۹ تا ۵۳

۲۲۷؎سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۷۹۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۲۸؎سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۱۰۹، ۱۱۰۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۲۹؎سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۸۴، ۸۵۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۳۰؎سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۹۰۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۳۱؎بخارى باب هجرة النبى صلى الله عليه وسلم

۲۳۲؎السيرة الحلبية جلد ۲ صفحہ ۴۱۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء + بخاری باب مناقب المهاجرين

۲۳۳؎السيرة الحلبية جلد ۲ صفحہ ۳۱۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۲۳۴؎،۲۳۵؎السيرة الحلبية جلد ۲ صفحہ ۴۸۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء + بخاری باب هجرة النبىؐ

۲۳۶؎سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۱۲۷۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۳۷؎شرح مواهب اللدنیہ جلد ۱ صفحہ ۳۵۹۔ مطبوعہ مصر ۱۳۲۵ھ

۲۳۸؎سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۱۴۰، ۱۴۱۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۳۹؎السيرة الحلبية جلد ۲ صفحہ ۸۶، ۸۷۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۲۴۰؎بخارى باب هجرة النبى صلى الله عليه وسلم + زرقانی جلد ۱ واقعة هجرة

۲۴۱؎مسلم كتاب فضائل الصحابة

۲۴۲؎بخارى باب هجرة النبى صلى الله عليه وسلم + زرقانی جلد ۱

۲۴۳؎مسلم كتاب فضائل الصحابة باب فى فضل سعد بن ابی وقاص

۲۴۴؎ابوداؤد كتاب الخراج والفئ باب فى خبر النفير

۲۴۵؎ترمذى كتاب البر والصلة باب ماجاء فی مواساة…… إلخ

۲۴۶؎سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۱۴۷ تا ۱۵۰۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۴۷؎بخاری کتاب المغازی باب قصة غزوة بدر

۲۴۸؎سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۲۶۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۴۹؎بخاری کتاب المغازی باب قصة غزوة بدر

۲۵۰؎بخاری کتاب المغازی باب فضل من شهد بدر

۲۵۱؎سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۱۶۔ مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ھ +سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۲۷۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۵۲؎بخاری کتاب التفسیر۔ تفسير سورة اقتربت الساعة ۔باب قوله سيهزم الجمع…… الخ

۲۵۳؎القمر: ۴۲ تا ۴۹

۲۵۴؎یسعیاہ باب ۲۱ آیت ۱۳ تا ۱۷۔ بائبل سوسائٹی انارکلی لاہور

۲۵۵؎مسلم کتاب الجهاد باب الامداد بالملائكة في غزوہ بدر (الخ)

۲۵۶؎اسد الغابة جلد ۳ صفحہ ۱۰۹۔ مطبوعہ ریاض ۱۲۸۶ھ

۲۵۷؎السيرة الحلبية جلد ۲ صفحہ ۲۳۰ ، ۲۳۱۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۲۵۸؎بخاری کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة باب قول الله تعالیٰ وامرهم شوری بينهم

۲۵۹؎سیرت ابن ہشام جلد ۳ صفحہ ۶۸۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۶۰؎سیرت ابن ہشام جلد ۳ صفحہ ۶۹ ، ۷۰۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۶۱؎زرقانی جلد ۲ صفحہ ۳۵

۲۶۲؎سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۸۴۔ مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ھ

۲۶۳؎سیرت ابن ہشام جلد ۳ صفحہ ۸۸۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۶۴؎بخاری کتاب المغازی باب غزوة اُحد + السيرة الحلبية جلد ۲ صفحہ ۲۷

۲۶۵؎سیرت ابن ہشام جلد ۳ صفحہ ۱۰۰، ۱۰۱۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۶۶؎سیرت ابن ہشام جلد ۳ صفحہ ۱۹۶۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۲۶۷؎ السیرۃ الحلبیۃ جلد ۲ صفحہ ۲۶۵۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء ۲۶۸؎ السیرۃ الحلبیۃ جلد ۲ صفحہ ۲۶۷، ۲۶۸۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء ۲۶۹؎ سیرت ابن ہشام جلد ۳ صفحہ ۱۹۹، ۲۰۰۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء ۲۷۰؎ بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورۃ المائدۃ باب قوله انما الخمرُ ...... الخ ۲۷۱، ۲۷۲؎ بخاری کتاب المغازی باب غزوة الرجيع ...... (الخ) ۲۷۳؎ سیرت ابن ہشام جلد ۳ صفحہ ۱۸۲، ۱۸۳۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء ۲۷۴؎ سیرت ابن ہشام جلد ۳ صفحہ ۱۸۱۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء ۲۷۵؎ سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۱۹۳ تا ۱۹۶ + بخاری کتاب الجہاد باب من ينكب او يطنن فی سبيل الله ۲۷۶؎ سیرت ابن ہشام جلد ۳ صفحہ ۱۹۶۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء ۲۷۷؎ ترمذی کتاب التفسیر تفسیر سورۃ المنافقین + سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۱۳۸ ۲۷۸؎ السیرۃ الحلبیۃ جلد ۲ صفحہ ۳۳۴۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء ۲۷۹؎ السیرۃ الحلبیۃ جلد ۲ صفحہ ۳۳۵ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء ۲۸۰؎ السیرۃ الحلبیۃ جلد ۲ صفحہ ۳۳۸۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء ۲۸۱، ۲۸۲؎ السیرۃ الحلبیۃ جلد ۲ صفحہ ۳۴۵۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء ۲۸۳، ۲۸۴؎ بخاری کتاب المغازی باب غزوہ خندق ۲۸۵؎ الاحزاب: ۱۴ ۲۸۶؎ الاحزاب: ۱۱ تا ۱۲ ۲۸۷؎ الاحزاب: ۲۳، ۲۴ ۲۸۸؎ السیرۃ الحلبیۃ جلد ۲ صفحہ ۳۴۶۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء The Life of Mohammad by Willum Muir P.311 ۲۸۹؎ ۲۹۰، ۲۹۱؎ السیرۃ الحلبیۃ جلد ۲ صفحہ ۳۴۶۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء ۲۹۲؎ السیرۃ الحلبیۃ جلد ۲ صفحہ ۳۴۹، ۳۵۰۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء ۲۹۳؎ السیرۃ الحلبیۃ جلد ۲ صفحہ ۳۵۴۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء ۲۹۴؎ السیرۃ الحلبیۃ جلد ۲ صفحہ ۳۶۳۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۲۹۵؎السيرة الحلبية جلد ۲ صفحہ ۳۶۵، ۳۶۶۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۲۹۶؎استثناء باب ۲۰ آیت ۱۰ تا ۱۸۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۲۹۷؎بخاری كتاب المغازی باب غزوة الخندق۔ (الخ)

۲۹۸؎استثناء باب ۲۰ آیت ۱۰ تا ۱۸۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۲۹۹؎متی باب ۵ آیت ۳۹۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۳۰۰؎متی باب ۱۰ آیت ۳۴۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۳۰۱؎لوقا باب ۲۲۔ آیت ۳۶۔ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء

۳۰۲؎الحج: ۴۰ تا ۴۲

۳۰۳؎مناسٹریاں (MONASTERIES): یہودیوں کے عبادت خانے

۳۰۴؎البقرة: ۱۹۱ تا ۱۹۴۳۰۵؎الانفال: ۳۹ تا ۴۱۳۰۶؎الانفال: ۶۲، ۶۳

۳۰۷؎النساء: ۹۵۳۰۸؎التوبة: ۴۳۰۹؎التوبة: ۶

۳۱۰؎الانفال: ۶۸۳۱۱؎محمد: ۵۳۱۲؎النور: ۳۴

۳۱۳،۳۱۴؎مسلم كتاب الجهاد والسير باب تامير الامام الامراء على البعوث (الخ)

۳۱۵؎مسلم كتاب الجهاد باب تحريم قتل النساء والصبيان في الحرب (الخ)

۳۱۶؎طحاوی كتاب الجهاد باب في قتل النساء والصغار

۳۱۷؎ابوداؤد كتاب الجهاد باب في دعاء المشركين

۳۱۸؎مسلم كتاب الجهاد باب في امر الجيوش بالتيسر و ترك التنفير

۳۱۹؎ابوداؤد كتاب الجهاد باب مايؤمر من انضمام العسكر

۳۲۰؎ابو داؤد كتاب الجهاد باب فى التفريق بين الصبى

۳۲۱؎ترمذی ابواب السير

۳۲۲؎ابوداؤد كتاب الجهاد باب في الرسل

۳۲۳؎مؤطا امام مالک كتاب الجهاد باب النهى عن قتل النساء والوالدان في الغزو

۳۲۴؎الفتح: ۲۸

۳۲۵؎السيرة الحلبية جلد۳صفحہ ۲۰۔ ۲۱ مطبوعہ بیروت ۱۴۲۰ھ +سیرت ابن ھشام جلد۳صفحہ ۱۸

۳۲۶؎سيرة ابن ھشام جلد۳صفحہ ۳۳۲۔۳۳۳مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۳۲۷؎سيرة ابن ھشام جلد۳صفحہ ۳۳۷۔۳۳۸مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۳۲۸؎سيرة ابن ھشام جلد۳صفحہ ۳۴۰مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۳۲۹؎بخارى كتاب العلم باب ما يذكر في المناولة

۳۳۰،۳۳۱؎بخارى كتاب الوحى باب كيف كان بدء الوحى الى رسول الله صلى الله عليه وسلم (الخ)

۳۳۲؎بخارى كتاب الوحى باب كيف كان بدء الوحى الى رسول الله ﷺ + زرقانی جزء۵ صفحہ ۱۲ مطبوعہ بیروت ۱۹۹۶ء

۳۳۳؎تاريخ طبرى جز ثالث صفحہ ۲۲۷ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۷ء

۳۳۴؎تاريخ طبرى الجزء الثالث صفحہ ۲۲۷ تا ۲۲۹ دار الفکر بیروت ۱۹۸۷ء

۳۳۵؎السيرة الحلبية جلد۳صفحہ ۲۷۹۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۳۳۶؎السيرة الحلبية جلد۳صفحہ ۲۸۰۔ ۲۸۱۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۳۳۷؎السيرة الحلبية جلد۳صفحہ ۲۸۱۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۳۳۸؎زرقانی جلد ۵ صفحہ ۳۴ تا ۳۶ مطبوعہ بیروت ۱۹۹۶ء

۳۳۹؎بخارى كتاب المغازی باب غزوة خيبر

۳۴۰؎سیرت ابن هشام جلد۳صفحہ ۳۵۰، ۳۵۱۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۳۴۱؎سیرت ابن هشام جلد ۳ صفحہ ۳۵۶ ، ۳۵۷ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۳۴۲؎فوجدا فيها جدارا يريد ان ينقض (الکهف: ۷۸)

۳۴۳؎سیرت ابن هشام جلد۳صفحہ ۳۵۲، ۳۵۳ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۳۴۴؎سیرت ابن هشام جلد ۴ صفحہ ۱۳، ۱۴۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۳۴۵؎السيرة الحلبية جلد۳صفحہ ۴۷ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۳۴۶؎السيرة الحلبية جلد۳صفحہ ۵۷۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۳۴۷بخاری کتاب المغازی باب غزوہ مؤتة (الخ)

۳۴۸اسد الغابة جلد ۲ صفحہ ۹۴ مطبوعہ ریاض ۱۲۸۵ھ

۳۴۹سیرت ابن ہشام جلد ۴ صفحہ ۳۹ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۳۵۰سیرت ابن ہشام جلد ۴ صفحہ ۴۴، ۴۵ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۳۵۱السیرة الحلبية جلد ۳ صفحہ ۹۲ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۳۵۲سیرت ابن ہشام جلد ۴ صفحہ ۴۵، ۴۶ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶

۳۵۳السيرة الحلبية جلد ۳ صفحہ ۹۳ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۳۵۴سیرت ابن ہشام جلد ۴ صفحہ ۴۷ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۳۵۵،۳۵۶السيرة الحلبية جلد ۳ صفحہ ۹۵ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۳۵۷سیرت ابن ہشام جلد ۴ صفحہ ۴۷ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۳۵۸السيرة الحلبية جلد ۳ صفحہ ۹۷ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۳۵۹السيرة الحلبية جلد ۲ صفحہ ۳۱ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۳۶۰سیرت ابن ہشام جلد ۴ صفحہ ۵۹ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء+بنی اسرائیل: ۸۲

۳۶۱بنی اسرائیل: ۸۱، ۸۲

۳۶۲السيرة الحلبية جلد ۳ صفحہ ۹۹ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۳۶۳السيرة الحلبية جلد ۳ صفحہ ۱۰۰ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء + آل عمران: ۶۸

۳۶۴السيرة الحلبية جلد ۳ صفحہ ۱۰۱ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۳۶۵السيرة الحلبية جلد ۳ صفحہ ۸۹ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۳۶۶سیرت ابن ہشام جلد ۴ صفحہ ۵۹ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۳۶۷السيرة الحلبية جلد ۳ صفحہ ۱۰۶، ۱۰۷ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۳۶۸السيرة الحلبية جلد ۳ صفحہ ۱۰۶، ۱۰۷ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۳۶۹السيرة الحلبية جلد ۳ صفحہ ۱۰۶ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۳۷۰الاعراف: ۱۳۹

۳۷۱؎ سیرت ابن ہشام جلد ۴ صفحہ ۸۴، ۸۵ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۳۷۲؎ مسلم کتاب الجھاد والسیر باب غزوة حنین

۳۷۳؎ سیرت ابن ہشام جلد ۴ صفحہ ۸۷ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۳۷۴؎ بھونک: بھونک دینا، گھونپ دینا، چھیدنا

۳۷۵؎ السيرة الحلبية جلد ۳ صفحہ ۱۲۷، ۱۲۸ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۳۷۶؎ بخاری کتاب الجھاد باب الشجاعة فی الحرب والجبن

۳۷۷؎ بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة فی الاسلام

۳۷۸؎ التوبة: ۹۲

۳۷۹؎ تفسیر فتح البیان جز خامس صفحہ ۳۷۱ مطبوعہ بیروت ۱۹۹۲ء

۳۸۰؎ المائدة: ۴

۳۸۱؎ بخاری کتاب المغازی باب حجة الوداع

۳۸۲؎ کنز العمال جلد ۱۱ صفحہ ۴۷۹ مطبوعہ حلب ۱۹۷۴ء

۳۸۳؎ بخاری کتاب المناقب باب قول النبی ﷺ سدوا الابواب (الخ)

۳۸۴؎ بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم (الخ)

۳۸۵؎ بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم (الخ)

۳۸۶؎ بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم (الخ)

۳۸۷؎ بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم (الخ)

۳۸۸؎ مسند ابی حنیفہ کتاب الفضائل

۳۸۹؎ بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی ﷺ باب قول النبی ﷺ لو كنت متخذا خليلا

۳۹۰؎ ال عمران: ۱۲۵

۳۹۱؎ تاریخ کامل ابن اثیر جلد ۲ صفحہ ۳۲۴ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء

۳۹۲؎ دیوان حسان بن ثابت صفحہ ۸۹ مطبوعہ بیروت ۱۹۹۸ء

۳۹۳؎ سیرت ابن ہشام جلد۱ صفحہ ۲۰۹ ، ۲۱۰ + بخاری کتاب التفسیر۔ تفسیر سورۃ تبت......

۳۹۴؎ بخاری کتاب الادب باب ما ینہى من السباب واللّعن + بخاری کتاب الادب باب لم یکن النبی ﷺ فاحشا و متفاحشاً

۳۹۵؎ بخاری کتاب الجمعة باب السواک یوم الجمعة

۳۹۶؎ بخاری کتاب الاطعمة باب المضمضة بعد الطعام

۳۹۷؎ مشکوة کتاب الصلوٰة باب المساجد

۳۹۸؎ بخاری کتاب الاطعمة باب مایکرہ من الثوم والبقول (الخ)

۳۹۹؎ مسلم کتاب البر والصلة باب فضل ازالة الاذى

۴۰۰؎ مشکوة کتاب الطهارة باب اداب الخلاء

۴۰۱؎ بخاری کتاب الوضوء باب البول فی الماء الدائم

۴۰۲؎ بخاری کتاب الاطعمة باب ماعاب النبی صلی الله علیه وسلم طعاماً

۴۰۳؎ بخاری کتاب الاطعمة باب الاکل متکئا

۴۰۴؎ تا ۴۰۷؎ بخاری کتاب الاطعمة باب ماکان النبی ﷺ واصحابہٗ یاکلون

۴۰۸؎ بخاری کتاب الاطعمة باب الرجل یدعی الی طعام (الخ)

۴۰۹؎ بخاری کتاب الاطعمة باب مایقول اذا فرغ من طعامه

۴۱۰؎ بخاری کتاب الاطعمة باب مایقول اذا فرغ من طعامه

۴۱۱؎ بخاری کتاب الاطعمة باب طعام الواحد یکفى الاثنين

۴۱۲؎ مسلم کتاب البر والصلة باب الوصیة بالجار والاحسان اليه

۴۱۳؎ بخاری کتاب الادب باب لاتحقرن جارة بجارتها

۴۱۴؎ بخاری کتاب الرقاق باب کیف کان عیش النبی ﷺ واصحابه (الخ)

۴۱۵؎ بخاری کتاب العلم باب طرح الامام المسألة (الخ) + بخاری کتاب الاطعمة باب برکة النخلة۔

۴۱۶؎ بخاری کتاب اللباس باب ماوطئ من التصاویر

۴۱۷، ۴۱۸ بخاری کتاب اللباس باب الحریر للنساء

۴۱۹ بخاری باب الصلوٰۃ علی الفراش

۴۲۰ بخاری کتاب الاطعمۃ باب الرطب والتمر

۴۲۱ بخاری کتاب التهجد باب قیام النبی ﷺ الیل حتی ترما قدماه

۴۲۲ بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورۃ الفتح باب قوله لیغفر لک الله ما تقدم من ذنبک (الخ)

۴۲۳النساء: ۴۲

۴۲۴ بخاری کتاب فضائل القرآن باب البکاء عند قراءة القرآن

۴۲۵ بخاری کتاب الاذان باب حد المریض (الخ)

۴۲۶ بخاری کتاب الاذان باب من دخل لیوم الناس (الخ)

۴۲۷ بخاری کتاب التهجد باب ما یکره من التشديد فی العباده

۴۲۸ بخاری کتاب الجنائز باب ما جاء فی قبر النبی ﷺ (الخ)

۴۲۹سیرت ابن هشام جلد ۱ صفحہ ۲۸۴۔ ۲۸۵ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۴۳۰ بخاری کتاب الجهاد باب ما یکره من التنازع والاختلاف فی الحرب (الخ)

۴۳۱ بخاری کتاب الکسوف باب الصلوٰۃ فی کسوف الشمس

۴۳۲ مسلم کتاب الایمان باب بیان کفر من قال مطرنا بنوء

۴۳۳ مسلم کتاب الفضائل باب توکله علی الله تعالٰی (الخ)

۴۳۴ بخاری کتاب الرقاق باب القصد والمداومة على العمل

۴۳۵ بخاری کتاب التمنی باب ما یکره من التمنی (الخ)

۴۳۶ ابوداؤد ابواب النوم باب فی المطر

۴۳۷ بخاری کتاب الدعوات باب استغفار النبی صلی الله علیه وسلم (الخ)

۴۳۸ بخاری کتاب الدعوات باب وضع اليد اليمنى (الخ)

۴۳۹ بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء اذا انتبه باللیل

۴۴۰؎ بخاری کتاب المغازی باب قصة الاسود العنسی

۴۴۱؎ بخاری کتاب الاذان باب هل يصلى الامام بمن حضر (الخ)

۴۴۲؎ بخاری کتاب المناقب باب مناقب عبداللہ بن عمرؓ

۴۴۳؎ بخاری کتاب التهجد باب تحريض النبی ﷺ على قيام الليل (الخ)

۴۴۴؎ مسلم کتاب الفضائل باب ترك الانتقام...... (الخ)

۴۴۵؎ مسلم کتاب الفضائل باب فضائل عائشة...... (الخ)

۴۴۶؎ مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل خدیجہ

۴۴۷؎ السيرة الحلبية جلد ۲ صفحہ ۲۰۵۔ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء

۴۴۸؎ بخاری کتاب المناقب باب تزویج النبی ﷺ...... (الخ)

۴۴۹؎ السيرة الحلبية جلد ۱ صفحہ ۱۳۸ مطبوعہ مصر ۱۹۳۲ء

۴۵۰؎ بخاری کتاب الاحکام باب ذكر ان النبی ﷺ لم يكن له بواب + ابو داؤد کتاب الجنائز باب الصبر عند الصدمة

۴۵۱؎ مسند احمد بن حنبل جلد ۵ صفحہ ۲۷۷۔ المكتب الاسلامی بیروت (مفهوماً)

۴۵۲؎ مسلم کتاب الحدود باب قطع السارق الشریف (الخ) بخاری کتاب الحدود باب اقامة الحدود و الانتقام لحرمات اللہ

۴۵۳؎ بخاری کتاب الخصومات باب ما يذكر فی الاشخاص (الخ)

۴۵۴؎ بخاری کتاب الرقاق باب فضل الفقر

۴۵۵؎ بخاری کتاب الصلوة باب كنس المسجد (الخ)

۴۵۶؎ مسلم کتاب البر والصلة باب فضل الضعفاء

۴۵۷؎ مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل سلمان و بلال (الخ)

۴۵۸؎ بخاری کتاب الزکوٰة و كتاب الكروب باب قول اللہ تعالیٰ عزو جل لا يسئلون الناس الحافا

۴۵۹؎ بخاری کتاب النكاح باب من ترك الدعوة (الخ)

۴۶۰؎مسلم كتاب البر والصلة باب فضل الاحسان الى البنات

۴۶۱؎بخارى كتاب الجهاد باب من استعان بالضعفاء (الخ)

۴۶۲؎ترمذی ابواب الزهد باب ماجاء ان فقراء المهاجرين يدخلون الجنة (الخ)

۴۶۳؎شمائل ترمذی باب ماجاء فى صفة مزاح رسول الله ﷺ

۴۶۴؎بخاری کتاب الزکوٰة باب التحريض على الصدقة (الخ)

۴۶۵؎بخاری کتاب الدعوات باب التكبير والتسبيح عندالمنام

۴۶۶؎بخاری کتاب الاذان باب من صلى بالناس فذكر حاجة (الخ)

۴۶۷؎بخاری کتاب الزکوٰة باب اخذ صدقة التمر عند صرام النخل

۴۶۸؎مسلم کتاب الایمان باب اطعام المملوک مما یاکل (الخ)

۴۶۹؎بخاری کتاب کفارات الایمان باب قول الله تعالیٰ او تحرير رقبة

۴۷۰؎مسلم کتاب الایمان باب صحبة الممالیک

۴۷۱؎مسلم کتاب الایمان باب ثواب العبد و اجره (الخ)

۴۷۲؎، ۴۷۳؎مسلم کتاب الایمان باب اطعام المملوک مما یاکل (الخ)

۴۷۴؎السيرة الحلبية جلد ۳ صفحه ۲۲۷ سرية على ابن ابی طالب کرم الله وجه

۴۷۵؎بخاری کتاب النکاح باب موعظة الرجل ابنتہ (الخ)

۴۷۶؎بخاری کتاب الاذان باب من اخف الصلوة (الخ)

۴۷۷؎بخاری کتاب الادب باب المعاريض مندوحة عن الكذب

۴۷۸؎بخاری کتاب الجهاد والسير باب مايقول اذا رجع من الغزو

۴۷۹؎ترمذی ابواب البر والصلة باب ماجاء فی النفقة على البنات (الخ)

۴۸۰؎ابوداؤد کتاب النکاح باب فی ضرب النساء

۴۸۱؎ابوداؤد کتاب النکاح باب فی حق المرأة علی زوجها

۴۸۲؎بخاری ، مسلم کتاب الامارة باب السفر قطعة من العذاب

۴۸۳؎ابو داؤد کتاب الجهاد باب فی الطروق

۴۸۴؎بخاری کتاب الجنائز باب ما ینهی من سب الاموات + ابوداؤد کتاب الادب باب فی النهی عن سبّ الموتیٰ

۴۸۵؎بخاری کتاب الاستقراض باب الصلوة علی من ترک دینا

۴۸۶؎بخاری کتاب الادب باب الوصاء ۃ بالجار

۴۸۷؎مسلم کتاب البر والصلة باب الوصیة بالجار والـاحسان الیه

۴۸۸؎بخاری کتاب الادب باب اثم من لا یأمن جارہ بوائقه

۴۸۹؎بخاری کتاب الادب باب لا تحقرن جارة لجارتها

۴۹۰؎بخاری کتاب المظالم باب لا یمنع جار جارہ (الخ)

۴۹۱؎بخاری کتاب الادب باب من کان یؤمن بالله واليوم الاخر

۴۹۲؎بخاری کتاب الادب باب من احق الناس بحسن الصحبة

۴۹۳؎سیرت ابن ہشام جلد ۴ صفحہ ۴۸ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء

۴۹۴؎مسلم کتاب البر والصلة باب رغم من ادرک ابویه (الخ)

۴۹۵؎مسلم کتاب البر والصلة باب صلة الرحم و تحریم قطیعتها

۴۹۶؎بخاری کتاب التفسیر باب لن تنالوا البر (الخ)

۴۹۷؎بخاری کتاب الادب باب لا يجاهد الا باذن الابوين

۴۹۸؎بخاری کتاب الادب باب صلة الوالد المشرک

۴۹۹؎مسلم کتاب فضائل الصحابة باب من فضائل خدیجه

۵۰۰؎بخاری کتاب المناقب الانصار باب تزویج النبی ﷺ خدیجة (الخ)

۵۰۱؎مسلم کتاب فضائل الصحابة باب فی حُسن صحبة الانصار (الخ)

۵۰۲؎مسلم کتاب البر والصلة والادب باب فضل صلة اصدقاء الاب (الخ)

۵۰۳؎مسلم کتاب البر والصلة باب استحباب مجالسة الصالحين (الخ)

۵۰۴؎بخاری کتاب الاعتکاف باب هل يخرج المعتکف لحوائجه (الخ)

۵۰۵؎مسلم کتاب البر والصلة باب بشارة من سر الله تعالیٰ علیه فی الدنیا بان

يستر عليه في الاخرة

۵۰۶؎ بخاری کتاب الادب باب ستر المومن علی نفسه

۵۰۷، ۵۰۸؎ ترمذی ابواب الحدود باب ماجاء فی درء الحد عن المعترف (الخ)

۵۰۹؎ مسلم کتاب الایمان باب تحریم قتل الکافر (الخ)

۵۱۰؎ بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورة النور باب ان الذين يحبون ان تشيع الفاحشة (الخ)

۵۱۱؎ مسلم کتاب الزهد باب المومن امره كله خير

۵۱۲؎ بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی ﷺ و وفاته

۵۱۳؎ بخاری کتاب الطب باب اجر الصابر في الطاعون

۵۱۴؎ ترمذی کتاب الزهد باب فی التوکل علی الله

۵۱۵؎ زرقانی جلد ۴ صفحہ ۲۶۵

۵۱۶؎ بخاری کتاب التفسیر۔تفسیر سورۃ الشعراء باب قوله وانذر عشیرتک الاقربین

۵۱۷؎ بخاری کتاب الادب باب قول الله يايها الذين اتقوا الله و كونوا مع الصادقين

۵۱۸؎ سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۲۱۷

۵۱۹؎ بخاری کتاب الادب۔ باب يايها الذين امنوا اجتنبوا كثير من الظن

۵۲۰؎ مسلم کتاب البر والصلة باب تحریم ظلم المسلم و خذله (الخ)

۵۲۱؎ ترمذی ابواب البيوع باب ماجاء فی كراهية الغش في البيوع

۵۲۲؎ مسلم کتاب البر والصلة باب النهی عن قول هلک الناس

۵۲۳؎ بخاری کتاب المظالم باب الابار على الطرق + بخاری کتاب الادب باب رحمة الناس والبهائم

۵۲۴، ۵۲۵؎ ابوداؤد کتاب الجهاد باب فی كراهية حرق العدو + ابوداؤد كتاب الادب باب فی قتل الزر

۵۲۶؎ زرقانی جلد ۴ صفحہ ۴۱

۵۲۷؎ بخاری باب الشجاعة فی الحرب

۵۲۸؎ بخاری کتاب الوضوء باب ترک النبی ﷺ والناس (الخ)+بخاری کتاب الادب باب قول النبی ﷺ يسروا.....................

۵۲۹؎ ابوداؤد کتاب الجهاد باب فى الامام ليستجن به فى العهود

۵۳۰؎ فتح الباری جلد ۹ صفحہ ۱۹۱ باب کاتب وحی رسول اللہ ﷺ

۵۳۱؎ مقدمہ ابن ماجه باب فضل من تعلّم القرآن

۵۳۲؎ بخاری کتاب فضائل القرآن باب القراء من اصحاب النبی ﷺ

۵۳۳؎ فتح الباری جلد ۹ صفحہ ۴۹

۵۳۴؎ بخاری کتاب فضائل القرآن باب القراء من اصحاب النبی ﷺ

۵۳۵تا۵۳۸؎Life of Mahomet by Sir William Muir P. 561,562,563 London 1877

۵۳۹؎ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ قرآن

۵۴۰؎ بخاری کتاب فضائل القرآن باب كان جبریل یعرض القرآن (الخ)

۵۴۱؎ ابوداؤد کتاب الصلوٰة باب من جهر بها

۵۴۲؎ الفاتحه: ۶ ۵۴۳؎ البقرة: ۳ ۵۴۴؎ یونس: ۹۱ تا ۹۳

۵۴۵؎ الیل: ۲

۵۴۶؎ بخاری باب كيف كان بدء الوحى الى رسول الله ﷺ

۵۴۷؎ الفجر: ۲، ۳ ۵۴۸؎ الفجر: ۵ ۵۴۹؎ قصص: ۸۶

۵۵۰؎ بنی اسرائیل: ۸۱ ۵۵۱؎ القمر: ۲ ۵۵۲؎ الروم: ۳ تا ۵

۵۵۳؎ الرحمن: ۲۰ تا ۲۶ ۵۵۴؎ المؤمنون: ۱۰۰، ۱۰۱ ۵۵۵؎ الانبیاء: ۹۶، ۹۷

۵۵۶؎ النحل: ۲۱، ۲۲ ۵۵۷؎ نوح: ۱۴ ۵۵۸؎ التوبة: ۴۰

۵۵۹؎وَمَا رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی(الانفال: ۱۸)

۵۶۰؎ یوحنا باب ۱ آیت ۱۔ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور ۱۹۲۴ء

۵۶۱ بخاری کتاب الصلوۃ باب قول النبیؐ جعلت لی الارض مسجدا و طهورا

۵۶۲ بنی اسرائیل: ۸۶ ۵۶۳ المؤمنون: ۱۳ تا ۱۵ ۵۶۴ الاخلاص: ۲ تا ۵

۵۶۵ الشوریٰ: ۱۲ ۵۶۶ الذریت: ۵۰ ۵۶۷ الحدید: ۴

۵۶۸ الانعام: ۱۰۲ ۵۶۹ الانعام: ۱۰۳ ۵۷۰ البقرة: ۲۵۶

۵۷۱ یونس: ۶۲ ۵۷۲ الانعام: ۱۰۴ ۵۷۳ البقرة: ۱۱۰

۵۷۴ مرقس باب ۹ آیت ۲۹ بائبل سوسائٹی۔لاہور ۱۹۴۲ء

۵۷۵ الاعراف: ۱۵۷ ۵۷۶ نوح: ۱۴ ۵۷۷ هود: ۸

۵۷۸ الانبیاء: ۳۱ ۵۷۹ المدثر: ۳۲ ۵۸۰ نوح: ۱۵

۵۸۱ الاعراف: ۲۶ تا ۲۸ ۵۸۲ البقرة: ۲۹ ۵۸۳ الاعراف: ۱۲

۵۸۴ الذریت: ۵۷ ۵۸۵ فاطر: ۴۰ ۵۸۶ النازعت: ۲۵

۵۸۷ الجمعة: ۴،۳ ؁ الصف: ۷ تا ۱۰

۵۸۸ الزخرف: ۵۷ تا ۶۲

۵۸۹ تذکرہ صفحہ ۴۵۔ ایڈیشن چہارم

۵۹۰،۵۹۱ تذکرہ صفحہ ۱۰۴۔ ایڈیشن چہارم

۵۹۲ الفرقان: ۵۳


محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں ہمارے ہاتھ سے قائم ہوگی

از سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ

محمدﷺ کی حکومت دنیا میں ہمارے ہاتھ سے قائم ہوگی

(فرمودہ ۲۰؍ ستمبر ۱۹۴۸ء بر موقع افتتاح ربوہ)

تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ’’میں اس موقع پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ دعائیں جو مکہ مکرمہ کو بساتے وقت آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور کی تھیں قرآن کریم سے پڑھوں گا مگر تلاوتِ قرآن کریم کے طور پر نہیں بلکہ دعا کے طور پر ان الفاظ کو دُہراؤں گا اور چونکہ یہ دعائیں ہم سب مل کر کریں گے، اس لئے میں ان الفاظ میں کسی قدر تبدیلی کر دوں گا مثلاً وہ دعائیں جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے مانگی تھیں وہ تثنیہ کے صیغہ میں آتی ہیں۔ کیونکہ اُس وقت صرف حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ہی دعا کر رہے تھے مگر ہم یہاں بہت سے ہیں اس لئے میں تثنیہ کی بجائے جمع کا صیغہ استعمال کروں گا۔ بہرحال وہ دعائیں میں اب پڑھوں گا، دوست میرے ساتھ ان دعاؤں میں شامل ہو کر آمین کہتے جائیں یا جن کو قرآن کریم کی یہ دعائیں آتی ہوں وہ میرے ساتھ ان دعاؤں کو پڑھتے جائیں۔ (اس کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل الفاظ میں دعائیں مانگیں۔ یہ امر خصوصیت سے قابلِ ذکر ہے کہ ہر دعا حضور نے تین دفعہ دُہرائی)

رَبَّنَا اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ اے ہمارے ربّ! تو اس جگہ کو ایک امن والا شہر بنا دے اور جو اس میں رہنے والے ہوں ان کو اپنے پاس سے پاکیزہ رزق عطا فرما۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا، اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ۱؎ اے ہمارے ربّ! ہم اس جگہ پر اس لئے بسنا چاہتے ہیں کہ ہم مل کر تیرے دین کی خدمت کریں۔ اے ہمارے ربّ! تو ہماری اس قربانی اور اس ارادے کو قبول فرما۔ اے ہمارے رب تو بہت ہی دعائیں سننے والا اور دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ۪ وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۲؎ اے ہمارے ربّ! تو ہم سب کو اپنا فرمانبردار اور سچا مسلمان بنا دے اور ہماری اولادوں کو بھی نہ صرف مسلمان بنا بلکہ ایک مضبوط اور اُمت مسلمہ بنا دے۔ جو اس دنیا میں تیرے دین کی خادم کہلاتی رہے۔ اے ہمارے ربّ! جو ہمارے کرنے کے کام ہیں وہ ہم کو خود بتلاتا رہ اور جو ہم سے غلطیاں ہو جائیں ان سے عفو کرتا رہ۔ تو بہت ہی فضل کرنے والا اور مہربان ہے۔

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رِجَالًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْهِمْ اٰيَاتِكَ وَيُعَلِّمُوْنَهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكُّوْنَهُمْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيمُ اے ہمارے ربّ! تو ان میں ایسے آدمی پیدا کرتے رہیو جو تیری آیتیں ان کو پڑھ پڑھ کر سناتے رہیں اور جو ان کو تیری کتاب سکھائیں اور تیرے پاک کلام کے اغراض و مقاصد بتاتے رہیں اور ان کے نفوس میں پاکیزگی اور طہارت پیدا کرتے رہیں۔ تُو ہی غالب حکمت والا خدا ہے۔

یہ وہ دعائیں ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کے بساتے وقت کیں اور اللہ تعالیٰ نے ان دعاؤں کو قبول فرما کر ایک ایسی بنیاد رکھ دی جو ہمیشہ کے لئے نیکی اور تقویٰ کو قائم رکھنے والی ثابت ہوئی۔ مکہ مکرمہ مکہ مکرمہ ہی ہے اور ابراہیمؑ ابراہیمؑ ہی ہے ، مگر وہ شخص بیوقوف ہے جو اس بات کا خیال کر کے کہ مجھے وہ درجہ حاصل نہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حاصل تھا یا میری جگہ کو وہ درجہ حاصل نہیں جو مکہ مکرمہ کو حاصل تھا اس لئے وہ خدا تعالیٰ سے بھیک مانگنے سے دریغ کرے۔ جب خدا کسی عظیم الشان نعمت کا دروازہ کھولتا ہے تو اس کی رحمت اور بخشش جوش میں آ رہی ہوتی ہے اور دانا انسان وہی ہوتا ہے جو اپنا برتن بھی آگے کر دے کیونکہ پھر اس کا برتن خالی نہیں رہتا۔ فقیروں کو دیکھ لو جب لوگ شادی کر رہے ہوتے ہیں تو اُس وقت ان پر اخراجات کا بوجھ اور دنوں سے زیادہ ہوتا ہے مگر اس کے باوجود وہ نہیں کہتے کہ ہم کیوں سوال کریں۔ اس وقت تو خود ان پر شادی کے اخراجات کا بوجھ پڑا ہوا ہوتا ہے بلکہ جب کسی گھر میں شادی ہو رہی ہوتی ہے وہ بھی اپنا برتن لے کر پہنچ جاتے ہیں اور گھر والا اور دنوں کی نسبت ان کے برتن میں زیادہ ڈالتا ہے کیونکہ اُس وقت اُس کی اپنی طبیعت خرچ کرنے پر آئی ہوئی ہوتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی شخص کسی بزرگ کی نقل کرتا ہے تو چاہے وہ اس کے درجہ تک نہ پہنچا ہوا ہو۔ جب بھی وہ اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے خدا تعالیٰ اس کی کمزوری کو دیکھ کر اس سے زیادہ بخشش کا سلوک کرتا ہے۔ ماں باپ اپنے بچے سے اُس وقت زیادہ پیار کرتے ہیں جب وہ چھوٹا ہوتا ہے اور جب وہ کھڑا ہونے کی کوشش کرتا ہے تو گر جاتا ہے لیکن ایک بالغ بچہ جب چل پھر رہا ہوتا ہے تو ماں باپ کے دل میں محبت کا وہ جوش پیدا نہیں ہوتا جو ایک چھوٹے بچے کے متعلق پیدا ہوتا ہے۔ پس کسی کو یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ خانہ کعبہ کے ذریعہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے دین کی ایک آخری بنیاد قائم کی گئی تھی اس سے ہمارے گھروں کو کیا واسطہ ہے اسی کا واسطہ دے کر مانگنا ہی تو خدا تعالیٰ کی رحمت کو بڑھاتا ہے اور انہی کی نقل کرنا ہی تو اصل چیز ہے۔ جو شخص کمزور ہے اور کمزور ہو کر چاہتا ہے کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح چلوں اللہ تعالیٰ اُس کی اس بات کو دیکھ کر ناراض نہیں ہوتا بلکہ وہ اور زیادہ خوش ہوتا ہے اور کہتا ہے دیکھو! میرا یہ کمزور بندہ کتنا اچھا ہے۔ اس میں ہمت اور طاقت نہیں مگر پھر بھی یہ میری طرف سے بھیجے ہوئے ایک نمونہ اور مثال کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سو ہمیں بھی اس کام کی یاد کے طور پر اور اُس بستی کی یاد کے طور پر جس جگہ خدا کے ایک نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے انتظار میں دعائیں کی گئیں اپنے نئے مرکز کو بساتے وقت جو اسی طرح ایک وادئ غیر ذی زرع میں بسایا جا رہا ہے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرنی چاہئیں کہ شاید ان لوگوں کے طفیل جو مکہ مکرمہ کے قائم کرنے والے اور مکہ مکرمہ کی پیشگوئیوں کے حامل تھے اللہ تعالیٰ ہم پر بھی اپنا فضل نازل کرے اور ہمیں بھی ان نعمتوں سے حصہ دے جو اس نے پہلوں کو دیں۔ آخر نیت تو ہماری بھی وہی ہے جو ان کی تھی۔ ہمارے ہاتھ میں وہ طاقت نہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھی اور ہمارے دل میں وہ قوت نہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں تھی۔ اگر ہم باوجود اس کمزوری کے وہی ارادہ کر لیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تو خدا تعالیٰ ہم سے ناراض نہیں ہو گا۔ وہ یہ نہیں کہے گا کہ کون ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ کہے گا دیکھو! میرے یہ کمزور بندے اس بوجھ کو اُٹھانے کے لئے آگے آگئے ہیں جس بوجھ کے اُٹھانے کی ان میں طاقت نہیں۔ دنیا اس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو بھول گئی ہے بلکہ اور لوگوں کا تو کیا ذکر ہے خود مسلمان آپ کی تعلیم کو بھول چکے ہیں۔ آج دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم انسان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ جو بھی اُٹھتا ہے مصنف کیا اور فلسفی کیا اور مورخ کیا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا محسن انسان آج دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم انسان ہے اور دنیا کا سب سے زیادہ معزز انسان آج دنیا میں سب سے زیادہ ذلیل سمجھا جاتا ہے۔ اگر ہمارے دلوں میں اسلام کی کوئی بھی غیرت باقی ہے، اگر ہمارے دلوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بھی محبت باقی ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے آقا کی کھوئی ہوئی عزت کو پھر دوبارہ قائم کریں۔ اس میں ہماری جانیں، ہماری بیویوں کی جانیں، ہمارے بچوں کی جانیں بلکہ ہماری ہزار ہا پشتیں بھی اگر قربان ہو جائیں تو یہ ہمارے لئے عزت کا موجب ہو گا۔

ہم نے یہ کام قادیان میں شروع کیا تھا مگر خدائی خبروں اور اس کی بتائی ہوئی پیشگوئیوں کے مطابق ہمیں قادیان کو چھوڑنا پڑا۔ اب انہی خبروں اور پیشگوئیوں کے ماتحت ہم ایک نئی بستی اللہ تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کے لئے اس وادیٔ غیر ذی زرع میں بسا رہے ہیں۔ ہم چیونٹی کی طرح کمزور اور ناطاقت ہی سہی مگر چیونٹی بھی جب دانہ اٹھا کر دیوار پر چڑھتے ہوئے گرتی ہے تو وہ اس دانے کو چھوڑتی نہیں بلکہ دوبارہ اسے اُٹھا کر منزلِ مقصود پر لے جاتی ہے اسی طرح گو ہمارا وہ مرکز جو حقیقی اور دائمی مرکز ہے دشمن نے ہم سے چھینا ہوا ہے لیکن ہمارے ارادہ اور عزم میں کوئی تزلزل واقعہ نہیں ہوا۔ دنیا ہم کو ہزاروں جگہ پھینکتی چلی جائے وہ فٹ بال کی طرح ہمیں لڑکھاتی چلی جائے ہم کوئی نہ کوئی جگہ ایسی ضرور نکال لیں گے جہاں کھڑے ہو کر ہم پھر دوبارہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں قائم کر دیں اور بغیر ہمارے یہ حکومت دنیا میں قائم ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی محبت سے لوگوں کے دل خالی ہو چکے ہیں اور قرآن کریم کی حقیقی تفسیر سے وہ نا واقف ہیں۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بظاہر لوگوں کے دلوں میں محمد رسول اللہﷺ کی محبت پائی جاتی ہے۔ لاکھوں غیر احمدی ایسے ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار کرتے ہیں لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں بلکہ آپؐ کی نئی بنائی ہوئی شکل سے محبت کرتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے بعض احمدی بھی غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ جب یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں تو ہمارا یہ کہنا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے کہ ان کے دلوں میں محمد رسول اللہﷺ کی حقیقی محبت نہیں حالانکہ ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ محبت تو کرتے ہیں مگر محمد رسول اللہﷺ سے نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک غلط تصویر سے۔

اسی طرح ہم مانتے ہیں کہ وہ قرآن کریم کی فرمانبرداری کی خواہش رکھتے ہیں مگر وہ اس غلط تاویل کی فرمانبرداری کی خواہش رکھتے ہیں جو ان کے دلوں میں راسخ ہو چکی ہے اس لئے جب تک احمدیت دنیا میں غالب نہیں آ جاتی اسلام غلبہ نہیں پا سکتا اور یہ اتنی موٹی بات ہے کہ میں حیران ہوں مسلمان اسے کیوں نہیں سمجھتے اور کیوں وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ با وجود اُلفتِ رسولؐ کے وہ کیوں دنیا میں ذلیل ہو رہے ہیں۔ سیدھی بات ہے مسلمان اس وقت پچاس کروڑ ہیں اور احمدی پانچ لاکھ مگر پانچ لاکھ احمدی جتنی اسلام کی خدمت کر رہا ہے، جس قدر اسلام کی تبلیغ کر رہا ہے اور جس قدر اشاعت اسلام کے لئے قربانیاں پیش کر رہا ہے اتنی پچاس کروڑ مسلمان نہیں کر رہا۔ اس وقت دنیا کے گوشہ گوشہ میں احمدی مبلغ پھیلے ہوئے ہیں اور وہ عیسائیت کا مقابلہ کر رہے ہیں اور مقابلہ بھی معمولی نہیں بلکہ بڑی بڑی عیسائی طاقتوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ ان کا مقابلہ مؤثر ہے۔ پندرہ بیس سال ہوئے لکھنؤ میں عیسائیوں کی ایک بہت بڑی کانفرنس ہوئی جس میں یورپ سے بھی عیسائی پادری شامل ہوئے۔ اس میں یہ سوال اُٹھایا گیا

کہ شمالی ہندوستان میں اب کوئی اچھا شریف اور تعلیم یافتہ آدمی عیسائی نہیں ہوتا اس کی کیا وجہ ہے۔ تمام پادری جو اس فن کے ماہر تھے انہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ جب سے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے دعویٰ کیا ہے اس وقت سے عیسائیت کی ترقی رُک گئی ہے انہوں نے عیسائیت کی اس قدر مخالفت کی ہے کہ جہاں جہاں ان کا لٹریچر پھیل جاتا ہے عیسائیت ترقی نہیں کرسکتی۔ پھر افریقہ کے متعلق ایک بڑی بھاری کمیٹی مقرر کی گئی تھی جسے چرچ آف انگلینڈ نے مقرر کیا تھا جس کی سالانہ آمد ہمارے بہت سے صوبوں سے بھی زیادہ ہے وہ چالیس پچاس کروڑ روپیہ سالانہ عیسائیت کی اشاعت کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ اس کمیٹی کی طرف سے جو رپورٹ تیار کی گئی اس میں ۳۶ جگہ یہ ذکر آتا تھا کہ افریقہ میں عیسائیت کی ترقی محض احمدیت کی وجہ سے رُکی ہے۔ ابھی بارہ مہینے ہوئے ایک پادری جسے افریقہ کے دورہ کے لئے بھیجا گیا تھا اس نے افریقہ کے دورہ کے بعد یہ رپورٹ کی کہ افریقہ میں عیسائیت کیوں بے کار جدوجہد کررہی ہے۔ اس نے کئی جگہوں کے نام لئے اور کہا کہ وہاں عیسائیت کے راستہ میں احمدیوں نے روکیں ڈال دی ہیں اور ساتھ ہی اس نے اپنے اس خیال کا اظہار کیا کہ عیسائیت کی تبلیغ اب افریقی لوگوں میں اچھا اثر نہیں کرسکتی ہاں اسلام کی تبلیغ ان میں اچھا اثر پیدا کررہی ہے۔ اس نے کہا جب سے افریقہ میں احمدی آگئے ہیں عیسائیت ان کے مقابلہ میں شکست کھاتی جارہی ہے چنانچہ عیسائیوں کا فلاں سکول جو بڑا بھاری سکول تھا اب ٹوٹنے لگا ہے اور لوگ اس میں اپنے لڑکوں کو تعلیم کے لئے نہیں بھجواتے۔ پھر اس نے کہا ان حالات کو دیکھتے ہوئے کیا یہ اچھا نہ ہوگا کہ ہم اپنے روپیہ اور اپنی طاقتوں کا اس ملک میں ضیاع کرنے کی بجائے اس میدان کو احمدیوں کے لئے چھوڑ دیں کہ وہ ان لوگوں کو مسلمان بنالیں۔

یہ دشمنوں کا اقرار ہے جو انہوں نے ہماری تبلیغی جدوجہد کے متعلق کیا۔

یہ طاقت ہم میں کہاں سے آئی ہے اور یہ جوش ہم میں کیوں پیدا ہوا؟ اسی لئے کہ بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہم میں ایک آگ پیدا کردی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ پھر اسلام کو دنیا میں غالب کردیں۔ پس مسلمان احمدیت کا جتنا بھی مقابلہ کرتے ہیں وہ اسلام کے غلبہ میں اتنی ہی روکیں پیدا کرتے ہیں اور جتنی جلدی وہ احمدیت میں شامل ہو جائیں گے اتنی جلدی ہی اسلام دنیا میں غالب آجائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ اِس وقت جس قدر تحریکیں دنیا میں جاری ہیں وہ ساری کی ساری دُنیوی ہیں۔ صرف ایک تحریک مسلمانوں کی مذہبی تحریک ہے اور وہ احمدیت ہے۔ پاکستان خواہ کتنا بھی مضبوط ہو جائے کیا عراقی کہیں گے کہ ہم پاکستانی ہیں؟ کیا شامی کہیں گے کہ ہم پاکستانی ہیں؟ کیا لبنانی کہیں گے کہ ہم پاکستانی ہیں؟ کیا حجازی کہیں گے کہ ہم پاکستانی ہیں؟ شامی تو اس بات کے لئے بھی تیار نہیں کہ وہ لبنانی یا حجازی کہلائیں حالانکہ وہ ان کے ہم قوم ہیں، پھر لبنانی اور حجازی اور عراقی اور شامی پاکستانی کہلانا کب برداشت کر سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ قولاً تو اتحاد کر سکتے ہیں مگر وہ ایک پارٹی اور ایک جماعت نہیں کہلا سکتے۔ صرف ایک تحریک احمدیت ہی ایسی ہے جس میں سارے کے سارے شامل ہو سکتے ہیں۔ عراقی بھی اس میں شامل ہو کر کہہ سکتا ہے کہ میں احمدی ہوں، عربی بھی اس میں شامل ہو کر کہہ سکتا ہے کہ میں احمدی ہوں، حجازی بھی اس میں شامل ہو کر کہہ سکتا ہے کہ میں احمدی ہوں اور عملاً ایسا ہو رہا ہے۔ وہ عربی ہونے کے باوجود اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم احمدیت میں شامل ہیں جس کا مرکز پاکستان میں ہے اور اس طرح وہ ایک رنگ میں پاکستان کی ماتحتی قبول کرتے ہیں۔ مگر یہ ماتحتی احمدیت میں شامل ہو کر ہی کی جا سکتی ہے اس کے بغیر نہیں۔ چنانچہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ وہ عربی جو اس غرور میں رہتا ہے کہ میں اس ملک کا رہنے والا ہوں جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے میرا مقابلہ کوئی اور شخص کہاں کر سکتا ہے وہ احمدیت میں شامل ہو کر براعظم ہند و پاکستان کا بھی ادب واحترام کرتا ہے اور یہاں مقدس مقامات کی زیارتوں کے لئے بھی آتا ہے۔ غرض ایک ہی چیز ہے جس کے ذریعہ دنیائے اسلام پھر متحد ہو سکتی ہے اور جس کے ذریعہ دوسری دنیا پر کامیابی اور فتح حاصل ہو سکتی ہے اور وہ احمدیت ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ مسلمان دنیا میں ہر جگہ ذلیل ہو رہے ہیں اور ہر جگہ تباہی اور بربادی کا شکار ہو رہے ہیں اس سے زیادہ تباہی اور کیا ہو گی کہ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کی پچاس ہزار عورتیں اب تک سکھوں اور ہندوؤں کے قبضہ میں ہیں۔ کیا یہ معمولی ذلّت ہے کہ مسلمانوں کی پچاس ہزار عورتوں کو وہ پکڑ کر لے گئے اور ان سے بدکاریاں کر رہے ہیں۔ کیا یہ

معمولی عذاب ہے کہ پانچ چھ لاکھ مسلمان دنوں میں مارا گیا اور پھر فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے کیا وہ مسلمانوں کو نظر نہیں آ رہا؟ ابھی حیدرآباد میں جو کچھ ہوا ہے اس سے کس طرح مسلمانوں کو صدمہ ہوا ہے اور وہ اپنے دلوں میں کیسی ذلت اور شرمندگی محسوس کر رہے ہیں مگر یہ ساری مصیبتیں اور بلائیں ایک لمبی زنجیر کی مختلف کڑیوں کے سوا اور ہیں کیا؟ آخر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کو جو محبت ہے اس کے ظاہر ہونے کا وقت کب آئے گا اور کون سا وہ دن ہو گا جب خدا تعالیٰ کی غیرت بھڑکے گی اور مسلمانوں کو اس تنزل اور ادبار سے نجات دلائے گی۔ خدا تعالیٰ کی غیرت کبھی دنیا میں بھڑکتی ہے یا نہیں؟ اور اگر بھڑکتی ہے تو مسلمانوں کو سوچنا چاہئے کہ اس کے غیرت کے بھڑکنے کا کونسا ذریعہ ہوا کرتا ہے۔ اگر وہ سوچتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ ہمیشہ خدا تعالیٰ پہلے اپنا مأمور دنیا میں بھیجتا ہے اور پھر اس مأمور کے ذریعہ ہی اس کی غیرت بھڑکا کرتی ہے۔ اس کے سوا خدا تعالیٰ نے کبھی کوئی طریق اختیار نہیں کیا اور یہی ایک طریق ہے جس پر چل کر وہ اب بھی خدا تعالیٰ کی غیرت کا نمونہ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ بات مسلمانوں کے سامنے پیش کرو اور انہیں سمجھاؤ کہ تمہارا فائدہ، اسلام کا فائدہ اور پھر ساری دنیا کا فائدہ اسی میں ہے کہ تم جلد سے جلد احمدیت میں شامل ہو جاؤ۔ آخر وہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے وہ ہم سے رُکتے ہیں۔ ہماری تو ساری تاریخ بتاتی ہے کہ ہم نے ہر موقع پر مسلمانوں کی خدمت کی ہے گو اس کے بعد ہمیشہ ان کی طرف سے مخالفت ہی ہوئی ہے مگر پھر بھی ہمارا کیا نقصان ہوا۔ ابھی کوئٹہ میں غیر احمدیوں کی طرف سے ایک جلسہ کیا گیا جس میں لوگوں کو ہمارے خلاف اُکسایا گیا۔ ایک احمدی ڈاکٹر میجر محمود احمد رات کے وقت کسی مریض کو دیکھ کر کار میں واپس آ رہے تھے کہ وہ تقریر کی آواز سن کر وہاں ٹھہر گئے۔ انہوں نے اپنی موٹر باہر کھڑی کی اور خود تھوڑی دیر کے لئے اندر چلے گئے بعض غیر احمدیوں نے انہیں دیکھ کر دوسروں کو اُکسا دیا اور انہوں نے ان پر پتھراؤ شروع کر دیا وہ پتھراؤ کی بوچھاڑ سے بچنے کے لئے ایک طرف اندھیرے میں چلے گئے۔ اس پر کسی شخص نے وہیں اندھیرے میں خنجر مار کر انہیں شہید کر دیا۔ اس واقعہ کے تیسرے چوتھے دن بعد میرے پاس ایک وفد آیا جس میں بلوچستان مسلم لیگ کے وائس پریذیڈنٹ بھی شامل تھے اور پٹھانوں کی قوم کے ایک سردار بھی شامل تھے ان سب نے آ کر کہا کہ میجر محمود احمد کے قتل کا جو واقعہ ہوا ہے اس میں صرف پنجابیوں کا قصور ہے ہمارا کوئی قصور نہیں آپ ہم پر گلہ نہ کریں۔ پنجابی مولویوں نے یہاں آ کر مخالفانہ تقریریں کیں جس سے لوگ مشتعل ہو گئے۔ پھر اُس سردار نے جو اپنی قوم کے رئیس اور میونسپل کمیٹی کے ممبر بھی تھے کہا کہ میں نے پنجابیوں کو بُلوایا اور اُن سے کہا کہ تم جو احمدیت کے خلاف شورش کر رہے ہو تم یہ بتاؤ کہ قادیان پنجاب میں ہے یا بلوچستان میں؟ انہوں نے کہا پنجاب میں۔ میں نے کہا جب قادیان پنجاب میں تھا اور تم کو ایک لمبا عرصہ احمدیوں کی مخالفت کے لئے مل چکا ہے تو جب تم وہاں ان لوگوں کو تباہ نہیں کر سکے تو یہاں کیا مقابلہ کرو گے۔ اگر تم میں ہمت اور طاقت تھی تو تم نے ان لوگوں کو یہاں آنے ہی کیوں دیا وہیں کیوں نہ مار ڈالا۔ پھر میں نے پوچھا کہ پنجاب کی آبادی کتنی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ اب ۲؍کروڑ ہے پہلے ۳؍کروڑ ہوا کرتی تھی۔ میں نے کہا بلوچستان کی آبادی کتنی ہے انہوں نے کہا ۱۲؍لاکھ۔ میں نے کہا تم دو تین کروڑ ہو کر ان لوگوں کو مار نہیں سکتے تو ہم بارہ لاکھ کو کیوں ذلیل کرتے ہو اور کیوں ہمیں ان کی مخالفت کے لئے اُکساتے ہو؟

حقیقت یہ ہے کہ دنیا نے اپنا سارا زور ہماری مخالفت میں لگا لیا اور ابھی اور لگائے گی لیکن یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ احمدیت دنیا میں غالب آ کر رہے گی کیونکہ احمدیت کے بغیر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غالب نہیں آ سکتے۔ اس کے ساتھ ہی میں اپنی ذات کے متعلق بھی یہ بات جانتا ہوں کہ میری زندگی کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی زندگی وابستہ ہے اس لئے خدا مجھے بھی دشمن کے ہاتھوں سے نہیں مرنے دے گا اور وہ میرے بچاؤ کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال لے گا۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے احمدیت کے ساتھ اسلام کی ترقی کو وابستہ کر دیا ہے جو شخص احمدیت پر ہاتھ اُٹھاتا ہے وہ اسلام پر ہاتھ اُٹھاتا ہے۔ جو شخص احمدیت کو برباد کرنا چاہتا ہے وہ اسلام کو برباد کرنا چاہتا ہے لیکن ہمارا بھی فرض ہے کہ جب خدا نے ہم پر اتنا بڑا احسان کیا ہے اور ہم کمزوروں اور ناتوانوں کے ساتھ اسلام کی آئندہ ترقی کو وابستہ کر دیا ہے تو ہم اس کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیں۔ اسی لئے باوجود اس کے کہ شہروں میں ہمیں مکان مل سکتے تھے مگر ہم نے نہیں لئے کیونکہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ لوگوں میں بیداری پیدا کرتے رہیں۔ ہمارے لئے ضروری ہے کہ ان میں تنظیم پیدا کریں، ہمارے لئے ضروری ہے کہ ان کی تعلیم اور تربیت کا خیال رکھیں اور یہ چیز بڑے شہروں میں حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ وہاں جماعت بکھری ہوئی ہوتی ہے۔ پس با وجود اس کے کہ ہمیں شہروں میں جگہیں مل سکتی تھیں ہم نے ان کی پرواہ نہیں کی اور اس وادئ غیر ذی زرع کو اس ارادہ اور نیت کے ساتھ چنا ہے کہ جب تک یہ عارضی مقام ہمارے پاس رہے گا، ہم اسلام کا جھنڈا اس مقام پر بلند رکھیں گے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں قائم کرنے کی کوشش کریں گے اور جب خدا ہمارا قادیان ہمیں واپس دے دے گا یہ مرکز صرف اس علاقہ کے لوگوں کے لئے رہ جائے گا۔ یہ مقام اُجڑے گا نہیں کیونکہ جہاں خدا کا نام ایک دفعہ لے لیا جائے وہ مقام برباد نہیں ہوا کرتا۔ پھر یہ صرف اس علاقہ کے لوگوں کا مرکز بن جائے گا اور ساری دنیا کا مرکز پھر قادیان بن جائے گا جو حقیقی اور دائمی مرکز ہے۔ پس ہم یہاں آئے ہیں اس لئے کہ خدا کا نام اونچا کریں۔ ہم اس لئے نہیں آئے کہ اپنے نام کو بلند کریں۔ ہمارا نام شہروں میں زیادہ اونچا ہو سکتا تھا اور ہم اگر اپنے نام کو بلند کرنے کی خواہش رکھتے تو اس کے لئے بڑے شہر زیادہ موزوں تھے بلکہ خود اُن شہروں کے رہنے والوں نے بھی خواہش کی تھی کہ وہیں جماعت کے لئے زمینیں خرید لی جائیں۔ چنانچہ لاہور، کوئٹہ اور کراچی میں چوٹی کے آدمی مجھ سے ملنے کے لئے آتے اور خواہش کرتے تھے کہ انہی کے شہروں میں ہم رہائش اختیار کریں۔ کراچی میں بھی لوگوں نے یہی خواہش کی اور کوئٹہ میں بھی لوگوں نے یہی خواہش کی۔ غرض اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمیں ظاہری عزت شہروں میں زیادہ ملتی تھی مگر ہمارا کام اپنے لئے ظاہری عزت حاصل کرنا نہیں بلکہ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اس جگہ کی تلاش کریں جہاں اسلام کی عزت کا بیج بو سکیں اور ہم نے اسی نیت اور ارادہ کے ساتھ اس وادئ غیر ذی زرع کو چنا ہے۔ چنانچہ دیکھ لو یہاں کوئی فصلیں نہیں، کہیں سبزی کا نشان نہیں گو یا چن کر ہم نے وہ مقام لیا ہے جو قطعی طور پر آبادی اور زراعت کے نا قابل سمجھا جاتا تھا تاکہ کوئی شخص یہ نہ کہہ دے کہ پاکستان نے احمدیوں پر احسان کیا ہے مگر کہنے والوں نے پھر بھی کہہ دیا ہے کہ کروڑوں کروڑ کی جائداد پاکستان نے احمدیوں کو دے دی ہے۔ یہ زمین ہم نے دس روپیہ ایکڑ پر خریدی ہے اور یہ زمین

ایسی ہے جو بالکل بنجر اور غیر آباد ہے اور صدیوں سے بنجر اور غیر آباد چلی آتی ہے۔ یہاں کوئی کھیتی نہیں ہوسکتی ، کوئی سبزہ دکھائی نہیں دیتا ، کوئی نہر اس زمین کو نہیں لگتی۔ اس کے مقابلہ میں میں نے خود مظفر گڑھ میں نہر والی زمین آٹھ روپیہ ایکڑ پر خریدی تھی بلکہ اس مظفر گڑھ میں ایک لاکھ ایکڑ زمین میاں شاہ نواز صاحب نے آٹھ آنے ایکڑ پر خریدی تھی جس سے بعد میں انہوں نے بہت نفع کمایا۔ یہ زمین ہم نے پہاڑی ٹیلوں کے درمیان اس لئے خریدی ہے کہ میری ایک رؤیا اس زمین کے متعلق تھی۔

یہ رؤیا دسمبر ۱۹۴۱ء میں میں نے دیکھی تھی اور ۲۱؍ دسمبر ۱۹۴۱ء کے الفضل میں شائع ہو چکی ہے۔ اب تک دس ہزار آدمی یہ رؤیا پڑھ چکے ہیں اور گورنمنٹ کے ریکارڈ میں بھی یہ رؤیا موجود ہے۔ میں نے اُس رؤیا میں دیکھا کہ قادیان پر حملہ ہوا ہے اور ہر قسم کے ہتھیار استعمال کئے جارہے ہیں مگر مقابلہ کے بعد دشمن غالب آگیا اور ہمیں وہ مقام چھوڑنا پڑا۔ باہر نکل کر ہم حیران ہیں کہ کس جگہ جائیں اور کہاں جا کر اپنی حفاظت کا سامان کریں۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ میں ایک جگہ بتاتا ہوں۔ آپ پہاڑوں پر چلیں وہاں اٹلی کے ایک پادری نے گرجا بنایا ہوا ہے اور ساتھ ہی اس نے بعض عمارتیں بھی بنائی ہوئی ہیں جنہیں وہ کرایہ پر مسافروں کو دیتا ہے وہ مقام سب سے بہتر رہے گا۔ میں ابھی متردّد ہی تھا کہ اس جگہ رہائش اختیار کی جائے یا نہ کی جائے کہ ایک شخص نے کہا آپ کو یہاں کوئی تکلیف نہیں ہوگی کیونکہ یہاں مسجد بھی ہے۔ اس نے سمجھا کہ کہیں میں رہائش سے اس لئے انکار نہ کردوں کہ یہاں مسجد نہیں۔ چنانچہ میں نے کہا اچھا مجھے مسجد دکھاؤ۔ اس نے مجھے مسجد دکھائی جو نہایت خوبصورت بنی ہوئی تھی ، چٹائیاں اور دریاں وغیرہ بھی بچھی ہوئی تھیں اور امام کی جگہ ایک صاف قالینی مصلّٰی بچھا ہوا تھا اس پر میں خوش ہوا اور میں نے کہا لو اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسجد بھی دے دی اب ہم اسی جگہ رہیں گے۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ باہر سے آئے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ بڑی تباہی ہے بڑی تباہی ہے اور جالندھر کا خاص طور پر نام لیا کہ وہاں بھی بڑی تباہی ہوئی ہے۔ پھر انہوں نے کہا ہم نیلے گنبد میں داخل ہونے لگے تھے مگر ہمیں وہاں بھی داخل نہیں ہونے دیا۔ اُس وقت تک تو ہم صرف لاہور کا ہی نیلا گنبد سمجھتے تھے مگر بعد میں غور کرنے پر معلوم ہوا کہ نیلے گنبد

سے مراد آسمان تھا اور مطلب یہ تھا کہ کھلے آسمان کے نیچے بھی مسلمانوں کو امن نہیں ملے گا۔ چنانچہ لوگ جب اپنے مکانوں اور شہروں سے نکل کر ریفیوجی کیمپوں میں جمع ہوتے تھے تو وہاں بھی سکھ ان پر حملہ کر دیتے اور ان میں سے بہت سے لوگوں کو مار ڈالتے۔ اس رؤیا کے مطابق یہ جگہ مرکز کے لئے تجویز کی گئی ہے۔

جب میں قادیان سے آیا تو اُس وقت یہاں اتفاقاً چوہدری عزیز احمد صاحب احمدی سَب جج لگے ہوئے تھے۔ میں شیخوپورہ کے متعلق مشورہ کر رہا تھا کہ چوہدری عزیز احمد صاحب میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ میں نے اخبار میں آپ کی ایک اس اس رنگ کی خواب پڑھی ہے میں سمجھتا ہوں کہ چنیوٹ، ضلع جھنگ کے قریب دریائے چناب کے پار ایک ایسا ٹکڑۂ زمین ہے جو اس خواب کے مطابق معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ میں یہاں آیا اور میں نے کہا ٹھیک ہے خواب میں جو میں نے مقام دیکھا تھا اس کے اردگرد بھی اسی قسم کے پہاڑی ٹیلے تھے۔ صرف ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ میں نے اُس میدان میں گھاس دیکھا تھا مگر یہ چٹیل میدان ہے۔ اب بارشوں کے بعد کچھ کچھ سبزہ نکلا ہے ممکن ہے ہمارے آنے کے بعد اللہ تعالیٰ یہاں گھاس بھی پیدا کر دے اور اس رقبہ کو سبزہ زار بنا دے۔ بہرحال اس رؤیا کے مطابق ہم نے اس جگہ کو چنا ہے اور یہ رؤیا وہ ہے جس کے ذریعہ چھ سال پہلے اللہ تعالیٰ نے ہمیں آئندہ آنے والے واقعات سے خبر دے دی تھی۔ دنیا میں کون ایسا انسان ہے جس کی طاقت میں یہ بات ہو کہ وہ چھ سال پہلے آئندہ آنے والے واقعات بیان کر دے۔ انگریزوں کی حکومت کے زمانہ میں بھلا قادیان پر حملہ کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا تھا۔ پھر قادیان کو چھوڑنا کس کے خیال میں آ سکتا تھا۔ کون خیال کر سکتا تھا کہ مسلمانوں پر ایک بہت بڑی تباہی آنے والی ہے اتنی بڑی کہ وہ اپنے شہروں اور گھروں سے نکل کر آسمان کے نیچے ڈیرے ڈالیں گے تو وہاں بھی وہ دشمن کے حملہ سے محفوظ نہیں ہوں گے مگر یہ تمام واقعات رونما ہوئے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس رؤیا کے مطابق ہمیں ایک نیا مرکز بھی دیدیا۔ یہاں جس قسم کی مخالفت تھی اس کے لحاظ سے اس مرکز کا ملنا بھی اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت کا ایک کھلا ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف کیا کہ مخالفین کے اخباروں نے پیچھے شور مچایا اور ہمارا سودا پہلے طے ہو چکا تھا۔ پھر اس قدر جھوٹ سے کام لیا گیا کہ اس زمین کے متعلق انہوں نے لکھا کہ حکومت کو پندرہ سَو روپیہ فی ایکڑ مل رہا تھا اور کئی مسلمان انجمنیں اُسے یہ روپیہ پیش کر رہی تھیں مگر حکومت نے یہ ٹکڑہ برائے نام قیمت پر احمدیوں کو دے دیا۔ گویا ان کے حساب سے پندرہ لاکھ روپیہ اس ٹکڑے کا حکومت کو مل رہا تھا مگر حکومت نے اس کی پرواہ نہ کی۔ جب مجھے اس کا علم ہوا تو میں نے فوراً اعلان کرا دیا کہ پاکستان کا اتنا نقصان ہم برداشت نہیں کر سکتے اگر اتنا روپیہ دے کر کوئی شخص یہ زمین خرید سکتا ہے تو وہ اب بھی ہم سے یہ زمین اتنی قیمت پر لے لے تو یہ سارے کا سارا روپیہ حکومت پاکستان کو دے دیں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پندرہ سَو روپیہ فی ایکڑ تو کجا پندرہ روپیہ فی ایکڑ بھی کوئی شخص دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔ گورنمنٹ نے خود اپنے گزٹ میں اس کے متعلق متواتر اعلان کرایا مگر اسے پانچ روپیہ فی ایکڑ کی بھی کسی نے پیشکش نہ کی۔

غرض اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت ہم قادیان سے باہر آئے ہیں اور اسی کے منشاء کے ماتحت ہم یہاں ایک نیا مرکز بسانا چاہتے ہیں۔ ہر چیز میں روکیں حائل ہو سکتی ہیں اس لحاظ سے ممکن ہے ہمارے اس ارادہ میں بھی کوئی روک حائل ہو جائے لیکن ہمارا ارادہ اور ہماری نیت یہی ہے کہ ہم پھر ایک مرکز بنا کر اسلام کے غلبہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی اشاعت کریں اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کام میں ہمارا حامی و مددگار ہو۔ ہم نے اِس وادئ غیر ذی زرع کو جس میں فصل اور سبزیاں نہیں ہوتیں اس لئے چنا ہے کہ ہم یہاں بسیں اور اللہ تعالیٰ کے نام کو بلند کریں مگر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ساری فصلیں اور سبزیاں اور ثمرات خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ پس اوّل تو ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں کو صاف کرے اور ہمارے ارادوں کو پاک کرے اور پھر ہم اُسی سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ مکہ مکرمہ کے ظِل کے طور پر اور مکہ مکرمہ کے موعود کے طفیل ہم کو بھی اس وادی میں ہر قسم کے ثمرات پہنچاوے گا۔ ہماری روزیاں کسی بندے کے سپرد نہیں اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اپنے پاس سے ہم کو کھلائے گا اور ہم اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ یہاں کے رہنے والوں میں دین کا اتنا جوش پیدا کر دے، دین کی اتنی محبت پیدا کر دے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا عشق پیدا کر دے کہ وہ پاگلوں کی طرح دنیا میں نکل جائیں اور اُس وقت تک گھر نہ لوٹیں جب تک دنیا کے کونے کونے میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم نہ کر دیں۔

بے شک دنیا کہے گی کہ یہ لوگ پاگل ہیں مگر ایک دن آئے گا اور یقیناً آئے گا اور یقیناً آئے گا یہ آسمان ٹل سکتا ہے یہ زمین ٹل سکتی ہے مگر یہ وعدہ نہیں ٹل سکتا کہ خدا ہمارے ہاتھ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں قائم کر دے گا اور وہ لوگ جو آج ہمیں پاگل کہتے ہیں شرمندہ ہو کر کہیں گے کہ اس چیز نے تو ہو کر ہی رہنا تھا۔ آثار ہی ایسے نظر آ رہے تھے جن سے ثابت ہوتا تھا کہ یہ چیز ضرور وقوع میں آ کر رہے گی۔ جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب لوگ پاگل کہتے تھے مگر اب عیسائی یہ کہتے ہیں کہ اُس وقت دنیا کے حالات ہی اِس قسم کے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح ہوتی اور باقی مذاہب شکست کھا جاتے۔ جس طرح پہلے عقلمند کہلانے والے لوگ پاگل ثابت ہوئے اسی طرح اب بھی عقلمند کہلانے والے لوگ ہی پاگل ثابت ہوں گے اور دنیا پر اسلام غالب آ کر رہے گا۔ آؤ اب ہم ہاتھ اُٹھا کر آہستگی سے بھی اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ وہ ہمارے ارادوں میں برکت ڈالے اور ہمیں اس مقدس کام کو دیانتدار ی کے ساتھ سرانجام دینے کی توفیق بخشے۔

اِس کے بعد اس رقبہ کے چاروں کونوں پر قربانیاں کی جائیں گی اور ایک قربانی اس رقبہ کے وسط میں کی جائے گی۔ یہ قربانیاں اس علامت کے طور پر ہوں گی کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنے بیٹے کی قربانی کے لئے تیار ہو گئے تھے اور خدا تعالیٰ نے ان کی قربانی کو قبول فرما کر بکرے کی قربانی کا حکم دیا تھا اسی طرح ہم بھی اس زمین کے چاروں گوشوں پر اور ایک اس زمین کے سنٹر میں اس نیت اور ارادہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور قربانیاں پیش کرتے ہیں کہ خدا ہمیں اور ہماری اولادوں کو ہمیشہ اس راہ میں قربان ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(الفضل سالانہ نمبر ۱۹۴۴ء)

مسلمانانِ پاکستان کے تازہ مصائب

از

سید نا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفة المسیح الثانی

اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔ هُوَ النَّاصِرُ

مسلمانانِ پاکستان کے تازہ مصائب

گیارہ اور بارہ ستمبر کی درمیانی رات میں نے روٴیا میں دیکھا کہ میں ایک جگہ پر ہوں جو نہ قادیان معلوم ہوتی ہے اور نہ لاہور کا موجودہ مکان بلکہ کوئی نئی جگہ معلوم ہوتی ہے۔ ایک کھلا مکان ہے جس کے آگے وسیع صحن معلوم ہوتا ہے۔ میں اُس کے صحن میں کھڑا کچھ لوگوں سے باتیں کر رہا ہوں۔ باتوں کا مفہوم کچھ اس قسم کا ہے کہ قریب زمانہ میں مسلمانوں پر ایک بڑی آفت آنی ہے اور عنقریب کچھ اور حوادث ظاہر ہونے والے ہیں جو پہلی مصیبت سے بھی زیادہ سخت ہوں گے اور مسلمانوں کی آنکھوں کے آگے قیامت کا نظارہ آجائے گا۔ یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ دُور اُفق میں مجھے ایک چیز اُڑتی ہوئی نظر آئی۔ یہ چیز ابوالہول کی شکل کی تھی اور اسی کی طرح عظیم الجثہ معلوم ہوتی تھی۔ ابوالہول کی طرح اس کی بنیاد بہت چوڑی تھی اور اوپر آ کے اس کا جسم نسبتاً چھوٹا ہو جاتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اوپر کے حصہ میں بجائے ایک سر کے اُس کے دو سَر لگے ہوئے ہیں۔ ایک سر ایک کونہ پر ہے اور دوسرا سر دوسرے کونہ پر اور درمیان میں کچھ جگہ خالی تھی۔ اس کی جسامت اور ہیبت کو دیکھ کر میں نے قیاس کیا کہ یہی وہ بلا ہے جس کے متعلق خبر پائی جاتی ہے اور میں نے ان لوگوں سے جن سے میں باتیں کر رہا تھا کہا وہ دیکھو وہ چیز آگئی ہے۔ میرے دیکھتے دیکھتے وہ بلائے عظیم اُڑتی ہوئی ہمارے پاس سے آگے کی طرف گزر گئی اور تمام علاقہ کے لوگوں میں شور پڑ گیا کہ اب کیا ہوگا؟ وہ قیامت خیز تو آگئی۔ اُس وقت میں نے دیکھا کہ مستورات جلدی جلدی کمروں کے اندر گھس گئیں لیکن میں صحن میں ٹہلتا رہا۔ میں ٹہل ہی رہا تھا کہ کسی نے باہر سے آواز دی۔ میں دروازہ پر گیا تو میں نے دیکھا کہ دو کشتیاں دروازہ کے سامنے کھڑی تھیں لیکن وہاں پانی کوئی نہیں اور کشتیوں کے نیچے چھوٹے چھوٹے پہیے ہیں۔ ایسے چھوٹے جیسے بعض ٹرائی سائیکلوں کے اگلے چھوٹے پہیے ہوتے ہیں بلکہ ان سے بھی کچھ چھوٹے ۔ مجھے دیکھ کر جو کشتی میں بیٹھے ہوئے آدمیوں کا افسر تھا اُس نے کہا کہ آپ اور آپ کے ساتھی کشتیوں میں بیٹھ جائیں، یہ آپ کے لئے بھجوائی گئی ہیں تاکہ آپ ان میں بیٹھ کر محفوظ جگہ پر چلے جائیں ۔ اور اُس جگہ کا نام اس نے سٹیشن لیا گویا پاس کوئی سٹیشن ہے جس پر جانے سے اس کے نزدیک نسبتی طور پر حفاظت حاصل ہو جاتی ہے۔ مجھے یہ یاد نہیں رہا کہ اس نے کس شخص کی طرف منسوب کیا کہ اس نے کشتیاں بھیجی ہیں۔ ہاں یہ یقینی یاد ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف اس نے منسوب نہیں کیا بلکہ کسی انسان کی طرف منسوب کیا ہے۔ میں نے اُس شخص سے کہا کہ یہاں پانی تو کوئی نہیں یہ کشتیاں کس طرح چلیں گی؟ اس نے جواب میں کہا یہ کشتیاں بغیر پانی کے چلتی ہیں۔ ان کشتیوں میں بادبان بھی لگے ہوئے تھے اور ان کے نیچے پہیے بھی لگے ہوئے تھے۔ پہلے میں نے چاہا کہ گھر کے لوگوں اور باقی ساتھیوں کو لے کر ہم کشتیوں میں بیٹھ جائیں اور اسٹیشن پر چلے جائیں جسے نسبتاً محفوظ کہا جاتا ہے لیکن پھر میرے دل میں خیال آیا کہ اسٹیشن پر جانے کا کیا فائدہ ہے اللہ تعالیٰ میں طاقت ہے وہ چاہے تو بلاء کو ٹلا دے۔ تب میں نے اس شخص سے کہا کہ میں تو وہاں نہیں جانا چاہتا، میں تو یہیں رہوں گا۔ اس کے تھوڑی دیر بعد گو مجھے وہ بلاء نظر تو نہیں آتی جو اُڑتی ہوئی نظر آئی تھی اور جس کے دو سَر تھے لیکن میں نے یوں محسوس کیا کہ گویا وہ بلاء آپ ہی آپ سکڑنے لگ گئی اور چھوٹی ہونی شروع ہو گئی۔ اُس وقت کسی شخص نے آکر مجھے مبارکباد دی اور کہا کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر توکّل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بلاء کا اثر مٹا دیا ہے۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔

وقت کے لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ رؤیا قائد اعظم کی وفات کے بعد آئی ہے کیونکہ اُن کی وفات کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ساڑھے دس بجے ہوئی ہے اور میں بالعموم سوتا ہی گیارہ بجے کے بعد ہوں ۔ غالباً صبح کے قریب یہ رؤیا ہوئی ہے لیکن مجھے صبح ۹ بجے قائد اعظم کی وفات کا علم ہوا اس لئے جہاں تک اس رؤیا کا تعلق ہے یہ اس علم کے نتیجہ میں نہیں بلکہ اس علم سے پہلے کی ہے۔ اس رؤیا میں یہ بتایا گیا تھا کہ مسلمانوں پر قریب زمانہ میں اور ایک دوسرے سے پیوستہ دو مصیبتیں آنے والی ہیں اور بظاہر یوں نظر آئیں گی کہ گویا مسلمانوں کو تباہ کر دیں گی لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اور اُن لوگوں کے طفیل جو اللہ تعالیٰ پر توکّل کرنے کے عادی ہیں ان مصیبتوں کے بد نتائج کو مٹا دے گا اور اس خطرۂ عظیمہ سے مسلمان محفوظ ہو جائیں گے۔

جب مجھے قائد اعظم کی وفات کا علم ہوا تو میں نے سمجھا کہ ایک مصیبت تو ان کی وفات ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مصیبت مسلمانوں کے لئے درحقیقت ۱۹۴۷ء کے واقعات سے بھی زیادہ سخت ہے کیونکہ گو ۱۹۴۷ء میں لاکھوں مسلمان مارا گیا لیکن اُس وقت ان کے حوصلے توڑنے والی کوئی چیز نہیں تھی لیکن ایک ایسے لیڈر کا جس سے قوم کی امیدیں وابستہ ہوں ایسے وقت میں جدا ہو جانا جبکہ خطرات ابھی بڑھ رہے ہوں اور امید کے پہلو بھی منکشف ہو رہے ہوں نہایت سخت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ پس یہ دھکا ایسا تھا کہ جس نے ۱۹۴۷ء کے واقعات سے بھی زیادہ مسلمانوں کے دلوں کو دہلا دیا۔

مجھے اللہ تعالیٰ نے اس رؤیا کے ذریعہ سے یہ علم بخشا کہ مسلمان اس صدمہ کی برداشت کی طاقت پا جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ایسے سامان کر دے گا کہ اس نقصان سے پاکستان کی بنیاد ہلے گی نہیں بلکہ الٰہی تدبیر سے محفوظ ہو جائے گی۔ مگر مجھے اُس وقت یہ خیال آتا تھا کہ یہ جو خواب میں مَیں نے بلاء دیکھی ہے اس کے دو سر تھے۔ ایک سر سے تو اُس ابتلاء کی طرف اشارہ ہوا جو قائد اعظم کی وفات کی وجہ سے مسلمانوں کو پہنچا لیکن دوسرا سر جو دکھایا گیا ہے اس سے کیا مراد ہے۔ دوسرے دن یہ خبر شائع ہوئی کہ ہندوستانی فوجوں نے حیدر آباد پر حملہ کر دیا ہے۔ تب میں نے قیاس کیا کہ دوسرے سر سے مراد حیدر آباد پر حملہ ہے اور چونکہ خواب میں کسی مصیبت کے واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا تھا اس لئے میرے دل میں خیال گزرا کہ کہیں یہ حیدر آباد کا حملہ بھی ایک مصیبت نہ بن جائے۔ آخر کل کی خبروں سے معلوم ہوا کہ حیدر آباد نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ نظام نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں اور یہ واقعہ تمام باشندگانِ پاکستان کے لئے نہایت ہی غم و اندوہ کا موجب ثابت ہوا ہے بلکہ اس تھوڑے سے وقت میں مَیں نے تو بعضوں سے یہاں تک سنا ہے کہ اب جبکہ ہندوستان حیدر آباد سے فارغ ہو گیا ہے وہ پاکستان کی طرف رُخ کرے گا۔

یہ رؤیا جس دن مجھے آئی تھی، اُسی دن صبح کو ایک معزز غیر احمدی آفیسر محمد یعقوب صاحب فریدی جو کھیوڑہ کی نمک کی کانوں کے سپرنٹنڈنٹ ہیں مجھے ملنے کے لئے مولوی عبدالودود صاحب کی معیت میں تشریف لائے تھے۔ فریدی صاحب حضرت سلیم صاحب چشتی کی اولاد میں سے ہیں جو کہ اکبر بادشاہ کے پیر تھے اور فتح پور سیکری میں جن کا مزار ہے۔ دورانِ گفتگو میں قائد اعظم کی وفات کا ذکر آیا تو میں نے اُن کو یہ رؤیا سنائی۔ وہ ایک تعلیم یافتہ اور معزز عہدہ دار ہیں اور احمدیت سے ان کو کوئی تعلق نہیں۔ وہ حلفیہ گواہی اس پر دے سکتے ہیں کہ میں نے یہ رؤیا ۱۲؍ تاریخ کی صبح کو ان کو سنا دی تھی اور رؤیا میں جو میں نے ابوالہول کا دوسرا سر دیکھا ہے اس پر میں نے حیرت کا بھی اظہار کیا تھا کہ میں نے ایک سر کی بجائے دوسر دیکھے ہیں۔

میں اس رؤیا کی بناء پر سمجھتا ہوں کہ گو یہ دونوں واقعات مسلمانوں کیلئے نہایت تکلیف دہ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان صدمات کو چھوٹا کر دے گا اور مسلمانوں کو ان کے بد اثر سے محفوظ رکھے گا اگر مسلمان خدا تعالیٰ پر توکل کا اظہار کریں اور کسی لیڈر کی وفات کا جو سچا رَدّ عمل ہوتا ہے وہ اپنے اندر پیدا کریں۔ یعنی اس کی نیک خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کریں تو یقیناً مسٹر جناح کی وفات مسلمانوں کی تباہی کا موجب نہیں بلکہ مسلمانوں کی مضبوطی کا موجب ہوگی۔

بانی سلسلہ احمدیہ جب فوت ہوئے ہیں اُس وقت میری عمر اُنیس سال کی تھی ان کی وفات اسی لاہور میں ہوئی تھی اور ان کی وفات کی خبر سنتے ہی شہر کے بہت سے اوباشوں نے اس گھر کے سامنے شور و غوغا شروع کر دیا تھا جس میں ان کی لاش پڑی ہوئی تھی اور ناقابلِ برداشت گالیاں دیتے تھے اور ناپسندیدہ نعرے لگاتے تھے۔ مجھے اُس وقت کچھ احمدی بھی اُکھڑے اُکھڑے سے نظر آتے تھے۔ تب میں بانی سلسلہ کے سرہانے جا کر کھڑا ہو گیا اور میں نے خدا تعالیٰ کو مخاطب کر کے یہ عرض کی کہ اگر ساری جماعت بھی مرتد ہو جائے تو میں اس مشن کو پھیلانے کے لئے جس کے لئے تو نے ان کو مبعوث فرمایا تھا کوشش کروں گا اور اس کام کے پورا کرنے کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کروں گا۔ خدا تعالیٰ نے میرے عہد میں ایسی برکت دی کہ احمدیت کے مخالف ہمارے عقیدوں کے متعلق خواہ کچھ کہیں یہ تو ان میں سے کوئی ایک فرد بھی نہیں کہہ سکتا کہ بانی سلسلہ احمدیہ کی وفات پر جماعت کو جو طاقت حاصل تھی اتنی طاقت آج جماعت کو حاصل نہیں۔ ہر شخص اقرار کرے گا کہ اس سے درجنوں گنے زیادہ طاقت اِس وقت جماعت کو حاصل ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسٹر جناح کی وفات کے بعد اگر وہ مسلمان جو واقعہ میں ان سے محبت رکھتے تھے اور ان کے کام کی قدر کو پہچانتے تھے سچے دل سے یہ عہد کرلیں کہ جو منزل پاکستان کی انہوں نے تجویز کی تھی، وہ اس سے بھی آگے اسے لے جانے کی کوشش کریں گے اور اس عہد کے ساتھ ساتھ وہ پوری تن دہی سے اس کو نباہنے کی کوشش بھی کریں تو یقیناً پاکستان روز بروز ترقی کرتا چلا جائے گا اور دنیا کی مضبوط ترین طاقتوں میں سے ہوجائے گا۔

حیدرآباد کے معاملہ کے متعلق بھی میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر مسلمان حوصلہ سے کام لیں تو حیدرآباد کا مسئلہ کوئی ناقابلِ تلافی مصیبت نہیں۔ حق تو یہ ہے کہ حیدرآباد اپنے حالات کے لحاظ سے انڈین یونین میں ہی شامل ہونا چاہئے تھا جس طرح کہ کشمیر اپنے حالات کے لحاظ سے پاکستان میں ہی شامل ہونا چاہئے۔ میں تو شروع دن سے مسلمانوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا رہا ہوں اور میرے نزدیک اگر حیدرآباد اور کشمیر کے مسئلہ کو اکٹھا رکھ کر حل کیا جاتا تو شاید اُلجھنیں پیدا ہی نہ ہوتیں لیکن بعض دفعہ لیڈر عوام الناس کے شدید جذبات سے اتنے مرعوب ہوتے ہیں کہ وہ وقت پر صحیح رستہ اختیار ہی نہیں کر سکتے۔ حیدرآباد کی پُرانی تاریخ بتا رہی ہے کہ حیدرآباد کے نظام کبھی بھی لڑائی میں اچھے ثابت نہیں ہوئے۔ چونکہ میرے پردادا اور نظام الملک کو ایک ہی سال میں خطاب اور عہدہ ملا تھا، اِس لئے مجھے اس خاندان کی تاریخ کے ساتھ کچھ دلچسپی رہی ہے۔ ۱۷۰۷ء میں ہی ان کو خطاب ملا ہے اور ۱۷۰۷ء میں ہی میرے پردادا مرزا فیض محمد خاں صاحب کو خطاب ملا تھا۔ ان کو نظام الملک اور ہمارے پردادا کو عضد الدولہ۔ اِس وقت میرے پاس کاغذات نہیں ہیں۔ جہاں تک عہدے کا سوال ہے، غالباً نظام الملک کو پہلے پانچ ہزاری کا عہدہ ملا تھا لیکن مرزا فیض محمد صاحب کو ہفت ہزاری کا عہدہ ملا تھا۔ اُس وقت نظام الملک باوجود حیدرآباد دکن میں شورش کے دلّی میں بیٹھے رہے اور تب دکن گئے تھے جب دکن کے فسادات مٹ گئے تھے۔ سلطان حیدرالدین کی جنگوں میں بھی حیدرآباد نے کوئی اچھا نمونہ نہیں دکھایا تھا۔ مرہٹوں کی جنگوں میں بھی اس کا رویہ اچھا نہیں تھا۔ انگریزوں کے ہندوستان میں قدم جمنے میں بھی حیدرآباد کی حکومت کا بہت کچھ دخل تھا مگر جہاں بہادری کے

معاملے میں نظام کبھی اچھے ثابت نہیں ہوئے وہاں عام دُور اندیشی اور انصاف اور علم پروری میں یقیناً یہ خاندان نہایت اعلیٰ نمونہ دکھاتا رہا ہے اور اسی وجہ سے کسی اور ریاست کے باشندوں میں اپنے رئیس سے اتنی محبت نہیں پائی جاتی جتنی کہ نظام کی رعایا میں نظام کی پائی جاتی ہے۔ انصاف کے معاملہ میں میرا اثر یہی رہا ہے کہ حیدرآباد کا انصاف برطانوی راج سے بھی زیادہ اچھا تھا۔ ہندو مسلمان کا سوال کبھی نظاموں نے اُٹھنے نہیں دیا اور ان خوبیوں کی وجہ سے وہ ہمیشہ ہی ہندوستان کے مسلمانوں میں مقبول رہے۔ لیکن جہاں یہ صحیح ہے کہ حیدرآباد کا نظام خاندان کبھی بھی جنگی خاندان ثابت نہیں ہوا ، وہاں یہ بھی درست ہے کہ حیدرآباد کی رعایا بھی جنگی رعایا نہیں۔ کوئی نئی روح ان کو جنگی بنا سکتی تھی مگر نواب بہادر یار جنگ کی وفات کے بعد وہ نئی روح حیدرآباد میں نہیں رہی۔ سید قاسم رضوی کے جاننے والے جانتے ہیں کہ بہادر یار جنگ والی روح ان میں نہیں۔ بہادر یار جنگ علاوہ اعلیٰ درجہ کے مقرر ہونے کے عملی آدمی تھے۔ قاسم رضوی صاحب مقرر ضرور ہیں مگر اعلیٰ درجہ کے عملی آدمی نہیں ہیں۔ شہزادہ برار کے اندر بھی کوئی ایسی روح نہیں۔ شہزادہ برار نے آج سے اکیس سال پہلے بعض مہاسبھائی ذہنیت کے لوگوں سے ایک خفیہ معاہدہ کیا تھا جس میں یہ اقرار کیا تھا کہ جب بھی میں برسر حکومت آؤں گا میں فلاں فلاں رعایتیں ہندو قوم کو دوں گا۔ یہ معاہدہ ان کے ایک مخلص مصاحب کے علم میں آگیا اور اس نے ان کے کاغذات میں سے وہ معاہدہ نکال کر مجھے پہنچا دیا۔ اُس وقت معلوم ہوا کہ شہزادہ برار کو کوئی جیب خرچ نہیں ملتا تھا اور بعض ہندوؤں نے اُن کو روپیہ دینا شروع کر دیا تھا۔ جس کی بناء پر انہوں نے یہ معاہدہ کیا تھا۔ میں نے اس معاہدہ کی اطلاع گورنمنٹ آف انڈیا کو دی اور اس کو توجہ دلائی کہ اتنی بڑی سلطنت کے ولی عہد کو کوئی جیب خرچ نہ ملنا نہایت خطرناک بات ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گورنمنٹ آف انڈیا نے اس حقیقت کو محسوس کرتے ہوئے حکماً شہزادے کا جیب خرچ مقرر کروایا جو غالباً دس ہزار یا بیس ہزار روپیہ ماہوار تھا۔ ایسے انسان سے کیا امید کی جاسکتی تھی کہ وہ اس نازک وقت میں اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر قوم کی راہنمائی کرے گا۔

پس حیدرآباد کا واقعہ گو مسلمانوں کے لئے نہایت ہی تکلیف دہ ہے لیکن جو کچھ اس وقت ہوا ہے تاریخی واقعات کی ایک لمبی زنجیر کی آخری کڑی ہے۔ بیشک آج مسلمان اس بات کا خیال کر کے بہت ہی شرم محسوس کرتے ہیں کہ تین دن پہلے مسلمانوں کے لیڈر حیدرآباد سے یہ براڈ کاسٹ کر رہے تھے کہ ہم دلّی کے لال قلعہ کی طرف آ رہے ہیں اور تین دنوں کے اندر اندر انہوں نے ہتھیار بھی ڈال دیئے اور ان ساری امیدوں کو چھوڑ دیا جو رُبع صدی سے اپنے دلوں میں لئے بیٹھے تھے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ ابتلاء بھی اگر پاکستان کے مسلمانوں کے عزم کو اور بلند کرنے کا موجب ہو جائے تو بلاءِ زحمت نہیں بلکہ بلاءِ رحمت ثابت ہو گا۔

خدا تعالیٰ تمام دُنیوی دروازے بند کر کے مسلمانوں کو بلا رہا ہے کہ میری طرف آؤ۔ خدا کی رحمت کا دروازہ اب بھی کھلا ہے کاش! مسلمان اپنی آنکھیں کھولیں اور اس کی آواز پر لبیک کہیں۔ اسلام کا جھنڈا سرنگوں نہیں ہو سکتا۔ خدا کے فرشتے جوّ میں اس کو اونچا رکھیں گے۔ ہمیں تو اس بات کی فکر کرنی چاہئے کہ خدا کے فرشتوں کے ہاتھوں کے ساتھ ہمارے ہاتھ بھی اس جھنڈے کو سہارا دے رہے ہوں۔ اے خدا! تو مسلمانوں کی آنکھیں کھول تاکہ وہ اپنے فرض کو پہچانیں، تیری آواز کو سنیں اور اسلام پھر دنیا میں معزز اور مُوَقَّر ہو جائے۔

(الفضل لاہور ۲۱؍ ستمبر ۱۹۴۸ء)


احمدیت کا پیغام

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی

اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ

خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔ هُوَ النَّاصِرُ

احمدیت کا پیغام

احمدیت کیا ہے اور کس غرض سے اس کو قائم کیا گیا ہے؟ یہ ایک سوال ہے جو بہت سے واقفوں اور ناواقفوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔ واقفوں کا مطالعہ زیادہ گہرا ہوتا ہے اور ناواقفوں کے سوالات بہت سطحی ہوتے ہیں۔ بوجہ عدمِ علم کے بہت سی باتیں وہ اپنے خیال سے ایجاد کر لیتے ہیں اور بہت سی باتوں پر لوگوں سے سن سنا کر یقین کر لیتے ہیں۔ میں پہلے انہی لوگوں کی واقفیت کے لئے کچھ باتیں کہنی چاہتا ہوں جو عدمِ علم اور ناواقفیت کی وجہ سے احمدیت کے متعلق مختلف قسم کی غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں۔

احمدیت کوئی نیا مذہب نہیں

ان ناواقفوں میں سے بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ احمدی لوگ کلمہ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ کے قائل نہیں اور احمدیت ایک نیا مذہب ہے۔ یہ لوگ یا تو بعض دوسرے لوگوں کے بہکانے سے یہ عقیدہ رکھتے ہیں یا ان کے دماغ یہ خیال کر کے کہ احمدیت ایک مذہب ہے اور ہر مذہب کے لئے کسی کلمہ کی ضرورت ہے سمجھ لیتے ہیں کہ احمدیوں کا بھی کوئی نیا کلمہ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ احمدیت کوئی نیا مذہب ہے اور نہ مذہب کے لئے کسی کلمہ کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر میں یہ کہتا ہوں کہ کلمہ اسلام کے سوا کسی مذہب کی علامت نہیں۔ جس طرح اسلام دوسرے مذاہب سے اپنی کتاب کے لحاظ سے ممتاز ہے، اپنے نبی کے لحاظ سے ممتاز ہے، اپنی عالمگیری کے لحاظ سے ممتاز ہے، اسی طرح اسلام دوسرے مذاہب سے کلمہ کے لحاظ سے بھی ممتاز ہے، دوسرے مذاہب کے پاس کتابیں ہیں مگر کلام اللہ سوائے مسلمانوں کے کسی کو نہیں ملا۔ کتاب کے معنی صرف مضمون کے ہیں، فرائض کے ہیں، احکام کے ہیں لیکن کتاب کے مفہوم میں ہرگز یہ بات شامل نہیں کہ اس کے اندر بیان شدہ مضمون کا ایک ایک لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو۔ مگر اسلامی کتاب کا نام کلام اللہ رکھا گیا یعنی اس کا ایک ایک لفظ بھی خدا تعالیٰ کا بیان کردہ ہے جس طرح اس کا مضمون خدا تعالیٰ کا بیان کردہ ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کا مضمون وہی تھا جو خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وہ تعلیم جو دنیا کے سامنے وہ پیش کرتے تھے وہی تھی جو خدا تعالیٰ نے ان کو دی تھی لیکن ان لفظوں میں نہ تھی جو خدا تعالیٰ نے استعمال فرمائے تھے۔ تورات، انجیل اور قرآن کو پڑھنے والا اگر اس مضمون کی طرف اس کی توجہ کو پھیر دیا جائے تو دس منٹ کے مطالعہ کے بعد ہی یہ فیصلہ کر لے گا کہ تورات اور انجیل کے مضامین خواہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں ان کے الفاظ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور اسی طرح وہ یہ بھی فیصلہ کر لے گا کہ قرآن کریم کے مضامین بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور اس کے الفاظ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ یا یوں کہہ لو کہ ایک ایسا شخص جو قرآن کریم، تورات اور انجیل پر ایمان نہیں رکھتا، ان تینوں کتابوں کا چند منٹ مطالعہ کرنے کے بعد اس بات کا اقرار کرنے پر مجبور ہوگا کہ تورات اور انجیل کو پیش کرنے والے گو اس بات کے مدعی ہیں کہ یہ دونوں کتب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں لیکن اس بات کے ہرگز مدعی نہیں کہ ان دونوں کتب کا ایک ایک لفظ خدا تعالیٰ کا بولا ہوا ہے مگر قرآن کریم کے متعلق وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گا کہ اس کا پیش کرنے والا نہ صرف اس بات کا دعویدار ہے کہ قرآن کریم کا مضمون خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ بلکہ اس بات کا بھی دعویدار ہے کہ قرآن کریم کا ایک ایک لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اپنا نام علاوہ کتاب اللہ کے کلام اللہ بھی رکھا ہے لیکن تورات و انجیل نے اپنا نام کلام اللہ نہیں رکھا نہ قرآن کریم نے ان کو کلام اللہ کہا ہے۔ پس مسلمان ممتاز ہے دوسرے مذاہب سے اس بات میں کہ دوسرے مذاہب کی مذہبی کتابیں کتاب اللہ تو ہیں لیکن کلام اللہ نہیں لیکن مسلمانوں کی کتاب نہ صرف یہ کہ کتاب اللہ بلکہ کلام اللہ بھی ہے۔

اسی طرح سب ہی مذاہب کی ابتداء انبیاء کی ذات سے ہوئی ہے لیکن کوئی مذہب بھی ایسا نہیں جس نے ایسے نبی کو پیش کیا ہو جو تمام امورِ دینیہ کی حکمتوں کو بیان کرنے کا مدعی ہو اور جسے بنی نوع انسان کے لئے اُسوۂ حسنہ کے طور پر پیش کیا گیا ہو۔ عیسائیت جو سب سے قریب کا مذہب ہے وہ تو مسیح کو ابن اللہ قرار دے کر اس قابل ہی نہیں چھوڑتی کہ اس کے نقش قدم پر کوئی انسان چلے کیونکہ انسان خدا جیسا نہیں ہوسکتا۔ تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بطور اُسوۂ حسنہ پیش نہیں کرتی۔ نہ تورات اور انجیل حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کو مذہبی حکمتوں کے بیان کرنے کا ذمہ وار قرار دیتی ہیں لیکن قرآن کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے وَیُعَلِّمُکُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ(2:152) کہ یہ نبی تمہیں احکام الٰہیہ اور ان کی حکمتیں بتاتا ہے پس اسلام ممتاز ہے اس بات میں کہ اس کا نبی دنیا کے لئے اسوۂ حسنہ بھی ہے اور جبر سے اپنے احکام نہیں منواتا بلکہ جب کوئی حکم دیتا ہے تو اپنے اتباع کے ایمانوں کو مضبوط کرنے اور ان کے جوش کو زیادہ کرنے کے لئے یہ بھی بتاتا ہے کہ اس نے جو احکام دیئے ہیں ان کے اندر ملت افرادِ اُمت اور باقی بنی نوع انسان کے لئے کیا کیا فوائد مخفی ہیں۔ اسی طرح اسلام ممتاز ہے دوسرے مذاہب سے اپنی تعلیم کے لحاظ سے۔ اسلام کی تعلیم چھوٹے اور بڑے غریب اور امیر، عورت اور مرد، مشرقی اور مغربی، کمزور اور طاقتور، حاکم اور رعایا، آقا اور مزدور، خاوند اور بیوی، ماں باپ اور اولاد، بائع ومشتری، ہمسائے اور مسافر سب کے لئے راحت، امن اور ترقی کا پیغام ہے۔ وہ بنی نوع انسان میں سے کسی گروہ کو اپنے خطاب سے محروم نہیں کرتی۔ وہ اگلی اور پچھلی تمام اقوام کیلئے ایک ہدایت نامہ ہے۔ جس طرح عالم الغیب خدا کی نظر پتھروں کے نیچے پڑے ہوئے ذروں پر بھی پڑتی ہے اور آسمان میں چمکنے والے ستاروں پر بھی، اسی طرح مسلمانوں کی مذہبی تعلیم غریب سے غریب اور کمزور سے کمزور انسانوں کی ضرورتوں کو بھی پورا کرتی ہے اور امیر سے امیر اور قوی سے قوی انسانوں کی احتیاجوں کو بھی دور کرتی ہے۔ غرض اسلام صرف گذشتہ مذاہب کی ایک نقل نہیں بلکہ وہ مذہب کی زنجیر کی آخری کڑی اور نظامِ روحانی کا سورج ہے اور اس کی کسی بات سے دوسرے مذاہب کا قیاس کرنا درست نہیں۔ مذہب کے نام میں بیشک سب شریک ہیں اسی طرح جس طرح ہیرا اور کوئلہ کاربن کے نام میں شریک ہیں لیکن ہیرا ہیرا ہی ہے اور کوئلہ کوئلہ ہی ہے۔ جس طرح پتھر کا نام کنکریلے پتھر اور سنگِ مرمر دونوں پر بولا جا سکتا ہے لیکن کنکر یلا پتھر کنکریلا پتھر ہی ہے اور سنگ مرمر، سنگ مرمر ہی ہے۔ پس یہ خیال کر لینا کہ چونکہ اسلام میں کلمہ پایا جاتا ہے اس لئے باقی مذاہب کا بھی کلمہ ہوتا ہوگا ، یہ محض نا واقفیت ہے اور قرآن کریم پر غور نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ اس سے بڑھ کر ظلم یہ ہے کہ بعض لوگوں نے تو لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ اِبْرَاهِیْمُ خَلِیْلُ اللّٰهِ ۔ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُوْسٰی كَلِیْمُ اللّٰهِ اور لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ عِیْسٰی رُوْحُ اللّٰهِ کے کلمات بھی پیش کر دیئے ہیں اور کہا ہے کہ یہ پہلے مذاہب کے کلمے ہیں۔ حالانکہ تورات اور انجیل اور عیسائی لٹریچر میں ان کلموں کا کہیں نام ونشان بھی نہیں۔ مسلمانوں میں آج ہزاروں خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں لیکن کیا وہ اپنا کلمہ بھول گئے ہیں؟ پھر یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ عیسائی اور یہودی اپنا کلمہ بھول گئے ہیں۔ اگر وہ اپنا کلمہ بھول گئے ہیں اور ان کی کتابوں سے بھی یہ کلمے غائب ہو گئے ہیں تو مسلمانوں کو یہ کلمے کس نے بتائے ہیں حق یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور نبی کا کلمہ نہیں تھا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیتوں میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ سارے نبیوں میں سے صرف آپ کو کلمہ ملا ہے اور کسی نبی کو کلمہ نہیں ملا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کلمہ میں اقرارِ رسالت کو اقرارِ توحید کے ساتھ ملا دیا گیا ہے اور اقرارِ توحید ایک دائمی صداقت ہے وہ کبھی مٹ نہیں سکتی۔ چونکہ پہلے نبیوں کی نبوت کے زمانہ نے کسی نہ کسی وقت ختم ہو جانا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے ان میں سے کسی نبی کے نام کو اپنے نام کے ساتھ ملا کر نہیں بیان کیا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت نے چونکہ قیامت تک چلتے چلے جانا تھا اور آپؐ کا زمانہ کبھی ختم نہیں ہونا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی رسالت اور آپ کے نام کو کلمۂ توحید کے ساتھ ملا کر بیان کیا تا دنیا کو یہ بتا دے کہ جس طرح لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کبھی نہیں مٹے گا اسی طرح مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ بھی کبھی نہیں مٹے گا۔ تعجب ہے کہ یہودی نہیں کہتا کہ موسیٰ علیہ السلام کا کوئی کلمہ تھا۔ عیسائی نہیں کہتا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی کلمہ تھا۔ صابی نہیں کہتا کہ ابراہیم علیہ السلام کا کوئی کلمہ تھا۔ لیکن مسلمان جس کے نبی کی کلمہ خصوصیت تھا، جس کے نبی کو اللہ تعالیٰ نے کلمہ سے ممتاز کیا تھا، جس کو کلمہ کے ذریعہ سے دوسری قوموں پر فضیلت دی گئی وہ بڑی فراخدلی سے اپنے نبی کی اس فضیلت کو دوسرے نبیوں میں بانٹنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور جبکہ اور نبیوں کی اپنی اُمتیں کسی کلمہ کی دعویدار نہیں یہ ان کی طرف سے کلمے بنا کر آپ پیش کر دیتا ہے کہ یہودیوں کا یہ کلمہ تھا اور

ابراہیمیوں کا یہ کلمہ تھا اور عیسائیوں کا یہ کلمہ تھا۔

خلاصہ کلام یہ کہ ہر مذہب کے لئے کلمہ کا ہونا ضروری نہیں۔ اگر ضروری ہوتا تب بھی احمدیت کا کوئی نیا کلمہ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ احمدیت کوئی نیا مذہب نہیں۔ احمدیت صرف اسلام کا نام ہے۔ احمدیت اُسی کلمہ پر ایمان رکھتی ہے جس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا یعنی لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ۔ احمدیوں کے نزدیک اس مادی جہان کا پیدا کرنے والا ایک خدا ہے جو وحدہٗ لاشریک ہے جس کی قوتوں اور طاقتوں کی کوئی انتہاء نہیں۔ جو ربّ ہے، رحمن ہے، رحیم ہے، مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ(الفاتحہ: ۴) ہے۔ اس کے اندر وہ تمام صفات پائی جاتی ہیں جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں اور وہ ان تمام باتوں سے منزہ ہے جن باتوں سے قرآن کریم نے اسے منزہ قرار دیا ہے اور احمدیوں کے نزدیک محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب قرشی مکی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول تھے اور سب سے آخری شریعت آپ پر نازل ہوئی۔ آپؐ عجمی اور عربی گورے اور کالے، تمام اقوام اور تمام نسلوں کی طرف مبعوث ہوئے۔ آپؐ کا زمانہ نبوت ادعائے نبوت سے لے کر اُس وقت تک ممتد ہے جب تک کہ دنیا کے پردہ پر کوئی متنفس زندہ ہے۔ آپؐ کی تعلیم ہر انسان کے لئے واجب العمل ہے اور کوئی انسان ایسا نہیں جس پر حجت تمام ہوگئی ہو اور وہ آپ پر ایمان نہ لایا ہو اور وہ خدائی عذاب کا مستحق نہ ہو۔ ہر ایک شخص جس تک آپؐ کا نام پہنچا اور جس کے سامنے آپؐ کی صداقت کے دلائل بیان کئے گئے وہ مکلّف ہے آپ پر ایمان لانے کے لئے اور بغیر آپ پر ایمان لائے وہ نجات کا حق دار نہیں اور سچی پاکیزگی محض آپؐ ہی کے نقش قدم پر چل کی حاصل ہو سکتی ہے۔

احمدیوں کے متعلق بعض شکوک کا ازالہ

ختم نبوت کے متعلق احمدیوں کا عقیدہ

مذکورہ بالا ناواقف گروہ میں سے بعض لوگ یہ خیال بھی کرتے ہیں کہ احمدی ختم نبوت کے قائل نہیں اور رسول کریم ﷺ کو خاتم النّبیّین نہیں مانتے یہ محض دھوکے اور ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ جب احمدی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور کلمہ شہادت پر یقین رکھتے ہیں تو یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ وہ ختمِ نبوت کے منکر ہوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النَّبِیّن نہ مانیں۔ قرآن کریم میں صاف طور پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ(33:41) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی جوان مرد کے باپ نہ ہیں نہ آئندہ ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم النَّبِیّن ہیں۔ قرآن کریم پر ایمان رکھنے والا آدمی اس آیت کا انکار کس طرح کر سکتا ہے۔ پس احمدیوں کا ہرگز یہ عقیدہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نَعُوْذُ بِاللہ خاتم النَّبِیّن نہیں تھے۔ جو کچھ احمدی کہتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ خاتم النَّبِیّن کے وہ معنی جو اس وقت مسلمانوں میں رائج ہیں نہ تو قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیت پر چسپاں ہوتے ہیں اور نہ ان سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور شان اس طرح ظاہر ہوتی ہے جس عزت اور شان کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور احمدی جماعت خاتم النَّبِیّن کے وہ معنی کرتی ہے جو عربی لغت میں عام طور پر متداول ۱؎ہیں اور جن معنوں کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور بعض دوسرے صحابہ تائید کرتے ہیں اور جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور آپ کی منزلت بہت بڑھ جاتی ہے اور تمام بنی نوع انسان پر آپ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے پس احمدی ختمِ نبوت کے منکر نہیں بلکہ ختمِ نبوت کے ان معنوں کے منکر ہیں جو عام مسلمانوں میں موجودہ زمانہ میں غلطی سے رائج ہو گئے ہیں ورنہ ختمِ نبوت کا انکار تو کفر ہے اور احمدی خدا کے فضل سے مسلمان ہیں اور اسلام پر چلنا ہی نجات کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں۔

ان ہی ناواقف لوگوں میں سے بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ احمدی قرآن شریف پر پورا ایمان نہیں رکھتے بلکہ صرف چند سیپاروں کو مانتے ہیں۔ چنانچہ مجھے حال ہی میں کوئٹہ میں درجنوں آدمیوں نے مل کر بتایا کہ ہمیں علماء نے بتایا ہے کہ احمدی سارے قرآن کو نہیں مانتے یہ بھی ایک اتہام ہے جو احمدیت کے دشمنوں نے احمدیت پر لگایا ہے۔ احمدیت قرآن کریم کو ایک نہ تبدیل ہونے والی اور نہ منسوخ ہونے والی کتاب قرار دیتی ہے۔ احمدیت بِسْمِ اللّٰهِ کی ب سے لے کر وَالنَّاسِ کی س تک ہر ایک حرف اور ہر ایک لفظ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھتی اور قابلِ عمل تسلیم کرتی ہے۔

احمدیوں کا فرشتوں کے متعلق عقیدہ

انہی ناواقف لوگوں میں سے بعض لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ احمدی فرشتوں اور شیطان کے قائل نہیں یہ الزام بھی محض اتہام ہے۔ فرشتوں کا ذکر بھی قرآن کریم میں موجود ہے اور شیطان کا ذکر بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔ جن چیزوں کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے قرآن کریم پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہوئے ان چیزوں کا انکار احمدیت کر ہی کس طرح سکتی ہے۔ ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے فرشتوں پر پورا ایمان رکھتے ہیں بلکہ احمدیت سے جو برکات ہمیں حاصل ہوئی ہیں ان کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ ہم فرشتوں پر ایمان لاتے ہیں بلکہ ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ فرشتوں کے ساتھ قرآن کریم کی مدد سے تعلق بھی پیدا کیا جا سکتا ہے اور ان سے علومِ روحانیہ بھی سیکھے جا سکتے ہیں۔

خود راقم الحروف نے کئی علوم فرشتوں سے سیکھے۔ مجھے ایک دفعہ ایک فرشتہ نے سورہ فاتحہ کی تفسیر پڑھائی اور اُس وقت سے لے کر اس وقت تک سورۂ فاتحہ کے اس قدر مطالب مجھ پر کھلے ہیں کہ ان کی حد ہی کوئی نہیں اور میرا دعویٰ ہے کہ کسی مذہب و ملت کا آدمی روحانی علوم میں سے کسی مضمون کے متعلق بھی جو کچھ اپنی ساری کتاب میں سے نکال سکتا ہے اُس سے بڑھ کر مضامین خدا تعالیٰ کے فضل سے میں صرف سورۂ فاتحہ میں سے نکال سکتا ہوں۔ مدتوں سے میں دنیا کو یہ چیلنج دے رہا ہوں مگر آج تک کسی نے اس چیلنج کو قبول نہیں کیا۔ ہستی باری تعالیٰ کا ثبوت، توحید الٰہی کا ثبوت، رسالت اور اس کی ضرورت، شریعت کاملہ کی علامات اور بنی نوع انسان کے لئے اس کی ضرورت، دعا، تقدیر، حشر ونشر، جنت و دوزخ، ان تمام مضامین پر سورۂ فاتحہ سے ایسی روشنی پڑتی ہے کہ دوسری کتب کے سینکڑوں صفحات بھی اتنی روشنی انسان کو نہیں پہنچاتے۔ پس فرشتوں کے انکار کا تو کوئی سوال ہی نہیں احمدی تو فرشتوں سے فائدہ اُٹھانے کا بھی مدعی ہے۔ باقی رہا شیطان، سو شیطان تو ایک گندی چیز ہے اس پر ایمان لانے کا سوال ہی کوئی نہیں۔ ہاں اس کے وجود کا علم ہمیں قرآن کریم سے حاصل ہوتا ہے اور ہم اس کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمارے ذمہ یہ کام لگایا ہے کہ ہم شیطان کی طاقت کو توڑیں اور اس کی حکومت کو مٹائیں۔ شیطان کو بھی میں نے خواب میں دیکھا ہے اور ایک دفعہ تو میں نے اس سے کشتی بھی کی ہے اور خدا تعالیٰ کی مدد سے اور کلماتِ تعوّذ کی برکت سے اس کو شکست بھی دی ہے اور ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ جس کام کے لئے تم مقرر کئے جاؤ گے اس کے رستہ میں شیطان اور اس کی اولاد بہت سی روکیں ڈالے گی تم اس کی روکوں کی پرواہ نہ کرنا اور یہ فقرہ کہتے ہوئے بڑھتے چلے جانا کہ ”خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ“ تب میں اُس جہت کو چلا جس جہت کی طرف جانے کا خدا تعالیٰ نے مجھے ارشاد فرمایا تھا اور میں نے دیکھا کہ شیطان اور اُس کی اولاد مختلف طریق سے مجھے دھمکانے اور ڈرانے کی کوشش کرنے لگی۔ بعض جگہ پر صرف سر ہی سر سامنے آ جاتے تھے اور مجھے ڈرانے کی کوشش کرتے تھے۔ بعض جگہ خالی دھڑ آ جاتے تھے۔ بعض جگہ شیطان شیروں اور چیتوں کی شکل بدل کر یا ہاتھیوں کی شکل بدل کر آتا تھا مگر الٰہی حکم کے ماتحت میں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ کی اور یہی کہتے ہوئے بڑھتا چلا گیا کہ ”خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ“ جب کبھی میں یہ فقرہ پڑھتا تھا شیطان اور اس کی اولاد بھاگ جاتی تھی اور میدان صاف ہو جاتا تھا مگر تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر ایک نئی شکل اور نئی صورت میں میرے سامنے آتا تھا مگر اس دفعہ بھی یہی حربہ اس کے مٹانے میں کامیاب ہو جاتا تھا۔ حتّٰی کہ منزلِ مقصود آگئی اور شیطان کُلّی طور پر میدان چھوڑ کر بھاگ گیا۔ اِسی رؤیا کی بناء پر میں اپنی تمام اہم تحریروں پر سرنامہ سے اوپر ”خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ“ کا فقرہ لکھا کرتا ہوں۔ پس ہم ملائکہ پر ایمان رکھتے ہیں اور شیطان کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ احمدی لوگ معجزات کے منکر ہیں یہ بھی واقعات کے خلاف ہے۔ محمّد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات تو الگ رہے، ہم تو اس بات کے بھی قائل ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے اتباع کو بھی اللہ تعالیٰ معجزات عطا فرماتا ہے۔ قرآن کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات سے بھرا ہوا ہے اور ان کا انکار صرف ایک ازلی اور ابدی اندھا ہی کر سکتا ہے۔

نجات کے متعلق احمدیوں کا عقیدہ

بعض لوگ احمدیت کے متعلق اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ احمد یہ عقیدہ کی رو سے احمدیوں کے سوا باقی تمام لوگ جہنمی ہیں۔ یہ بھی محض ناواقفیت یا دشمنی کا نتیجہ ہے۔ ہمارا ہرگز یہ عقیدہ نہیں کہ احمدیوں کے سوا باقی تمام لوگ جہنمی ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی احمدی ہو لیکن وہ جہنمی ہو جائے جس طرح یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی احمدی نہ ہو اور وہ جنت میں چلا جائے کیونکہ جنت صرف منہ کے اقرار کا نتیجہ نہیں جنت بہت سی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے نتیجہ میں ملتی ہے۔ اسی طرح دوزخ صرف منہ کے انکار کا نتیجہ نہیں بلکہ دوزخ کا شکار بننے کے لئے بہت سی شرطیں ہیں۔ کوئی انسان دوزخ میں نہیں جا سکتا جب تک اس پر حجت تمام نہ ہو۔ خواہ وہ بڑی سے بڑی صداقت ہی کا منکر کیوں نہ ہو۔ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بچپن میں مر جانے والے یا بلند پہاڑوں میں رہنے والے یا جنگلوں میں رہنے والے یا اتنے بڈھے جن کی سمجھ ماری گئی ہو یا پاگل جو عقل سے کورے ہوں ان لوگوں سے مواخذہ نہیں ہو گا بلکہ خدا تعالیٰ قیامت کے دن ان لوگوں کی طرف دوبارہ نبی مبعوث فرمائے گا اور ان کو سچ اور جھوٹ کو پہچاننے کا موقع دیا جائے گا۔ تب جس پر حجت تمام ہوگی وہ دوزخ میں جائے گا اور جو ہدایت کو قبول کرے گا وہ جنت میں جائے گا۔ پس یہ غلط ہے کہ احمدیوں کے نزدیک ہر وہ شخص جو احمدیت میں داخل نہیں ہوتا دوزخی ہے۔ نجات کے متعلق ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ہر وہ شخص جو صداقت کے سمجھنے سے گریز کرتا ہے اور یہ کوشش کرتا ہے کہ صداقت اس کے کان میں نہ پڑے تا کہ اسے ماننی نہ پڑے یا جس پر حجت تمام ہو جائے مگر پھر بھی ایمان نہ لائے خدا تعالیٰ کے نزدیک قابلِ مواخذہ ہے۔ لیکن ایسے شخص کو بھی اگر خدا تعالیٰ چاہے تو معاف کر سکتا ہے۔ اس کی رحمت کی تقسیم ہمارے ہاتھ میں نہیں۔ ایک غلام اپنے آقا کو سخاوت سے باز نہیں رکھ سکتا۔ خدا تعالیٰ ہمارا آقا ہے اور ہمارا بادشاہ ہے اور ہمارا خالق ہے اور ہمارا مالک ہے۔ اگر اس کی حکمت اور اس کا علم اور اس کی رحمت کسی ایسے شخص کو بھی بخشنا چاہے جس کی عام حالات کے مطابق بخشش ناممکن نظر آتی ہو تو ہم کون ہیں جو اس کے ہاتھ کو روکیں اور ہم کون ہیں جو اس کو بخشش سے باز رکھیں۔

نجات کے متعلق تو احمدیت کا عقیدہ اتنا وسیع ہے کہ اس کی وجہ سے بعض مولویوں نے احمدیوں پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے یعنی ہم لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کوئی انسان بھی دائمی عذاب میں مبتلا نہیں ہوگا ، نہ مؤمن نہ کافر۔ کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَرَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ(7:157) میری رحمت نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے اور پھر فرماتا ہے کہ فَاُمُّہٗ ہَاوِیَۃٌ(101:10) کافر اور دوزخ کی آپس کی نسبت ایسی ہوگی جیسے عورت اور اس کے بچہ کی ہوتی ہے اور پھر فرماتا ہے کہ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ(51:57) تمام جن و انس کو میں نے اپنا عبد بنانے کے لئے پیدا کیا ہے۔ ان اور ایسی ہی اور بہت سی آیات کے ہوتے ہوئے ہم کیونکر مان سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی رحمت آخر دوزخیوں کو نہیں ڈھانپ لے گی اور دوزخی جہنم کے رحم سے کبھی بھی خارج نہ ہوگا اور وہ بندے جن کو خدا تعالیٰ نے اپنا عبد بنانے کے لئے پیدا کیا تھا وہ دائمی طور پر شیطان کے عبد رہیں گے اور خدا تعالیٰ کے عبد نہیں بنیں گے اور خدا تعالیٰ کی محبت بھری آواز کبھی بھی ان کو مخاطب کر کے یہ نہیں کہے گی کہ فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ وَادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ(89:30-31) آؤ میرے بندوں میں داخل ہو کر میری جنت میں داخل ہو جاؤ!

احمدیوں کا احادیث پر ایمان

بعض لوگ اس وہم میں مبتلا ہیں کہ احمدی حدیثوں کو نہیں مانتے اور بعض لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ احمدی ائمہ فقہاء کو نہیں مانتے۔ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ احمدیت تقلید و عدم تقلید کے مسئلہ میں بین بین راہ اختیار کرتی ہے۔ احمدیت کی تعلیم یہ ہے کہ جو بات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو اس کے بعد کسی اور انسان کی آواز کو سننا محمد رسول اللہ کی ہتک ہے۔ آقا کے ہوتے ہوئے کسی غلام کی آواز نہیں سنی جا سکتی۔ اُستاد کی موجودگی میں کسی شاگرد سے سبق نہیں لیا جاسکتا۔ ائمہ فقہاء خواہ کتنے بڑے ہوں ، بہرحال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں۔ ان کی تمام عزت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں تھی اور ان کی تمام شان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں تھی۔ پس جب کوئی بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو جائے اور اس کی علامت یہ ہے کہ وہ جو قول رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا جائے قرآن کریم کے مطابق ہو تو وہ بات ایک آخری فیصلہ ہے ایک نہ ٹلنے والا حکم ہے اور کوئی شخص اس بات کا حق نہیں رکھتا کہ وہ اس حکم کو ردّ کر دے یا اس کے خلاف زبان کھولے لیکن چونکہ حدیث کے راوی انسان ہیں اور ان میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں اور اچھے حافظوں والے بھی ہیں اور بُرے حافظوں والے بھی ہیں اور اچھے ذہن والے بھی ہیں اور کند ذہن بھی ہیں۔ اگر کوئی ایسی حدیث ہو جس کا مفہوم قرآن کریم کے خلاف ہو تو چونکہ ہر ایک حدیث قطعی نہیں بلکہ خود ائمہ حدیث کے مسلّمات کے مطابق بعض حدیثیں قطعی ہیں، بعض عام درجہ کی ہیں، بعض مشکوک اور ظنّی ہیں اور بعض وضعی ہیں اس لئے قرآن کریم جیسی قطعی کتاب کے مقابلہ میں جو حدیث آجائے گی اس کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ مگر جہاں قرآن کریم کی بھی کوئی نصّ صریح موجود نہ ہو اور حدیث بھی ایسے ذرائع سے ثابت نہ ہو جو یقین اور قطعیت تک پہنچاتے ہوں یا حدیث کے الفاظ ایسے ہوں کہ ان سے کئی معنی نکل سکتے ہوں تو اُس وقت یقیناً ائمہ فقہاء جنہوں نے اپنی عمریں قرآن کریم پر اور احادیث پر غور اور تدبّر کرنے میں صرف کردی ہیں اجتہاد کرنے کے مستحق ہیں اور ایک عامی آدمی جس نے نہ قرآن پر غور کیا ہے نہ حدیث پر غور کیا ہے یا جس کا علم اور تفقہ اس قابل ہی نہیں ہے کہ وہ غور کر سکے اس کا حق نہیں کہ وہ یہ کہے کہ امام ابوحنیفہؒ یا امام احمدؒ یا امام شافعیؒ یا امام مالکؒ یا دوسرے ائمۂ دین کو کیا حق ہے کہ ان کی بات کو مجھ سے زیادہ وزن دیا جائے۔ میں بھی مسلمان ہوں اور وہ بھی مسلمان۔ اگر ایک عامی آدمی اور ایک ڈاکٹر کا مرض کے متعلق اختلاف ہو تو ایک ڈاکٹر کی رائے کو عامی کی رائے پر ترجیح دی جاتی ہے اور قانون میں اختلاف ہو تو ایک وکیل کی رائے کو غیر وکیل کی رائے پر ترجیح دی جاتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ دینی معاملات میں ان ائمہ کی رائے کو ترجیح نہ دی جائے جنہوں نے اپنی عمریں قرآن کریم اور حدیث پر تدبّر کرنے میں صرف کردی ہوں اور جن کے ذہنی قویٰ بھی دوسرے لاکھوں آدمیوں سے اچھے ہوں اور جن کے تقویٰ اور جن کی طہارت پر خدائی سلوک نے مہر لگا دی ہو۔

غرض احمدیت نہ کُلّی طور پر اہل حدیث کی بات کی تائید کرتی ہے نہ کلی طور پر مقلدین کی تائید کرتی ہے۔ احمدیت کا سیدھا سادہ عقیدہ اس بارہ میں وہی ہے جو حضرت امام ابو حنیفہؓ کا تھا کہ قرآن کریم سب سے مقدم ہے اس سے اُتر کر احادیث صحیحہ ہیں اور اس سے اُتر کر ماہرینِ فن کا استدلال اور اجتہاد ہے۔ اسی عقیدہ کے مطابق احمدی بعض دفعہ اپنے آپ کو حنفی بھی کہتے ہیں جس کے معنی یہ بھی ہوتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؓ نے جو اصل مذہب کا بیان فرمایا ہے ہم اس کو صحیح تسلیم کرتے ہیں اور بعض دفعہ احمدی اپنے آپ کو اہل حدیث بھی کہہ دیتے ہیں کیونکہ احمدیت کے نزدیک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول جب وہ ثابت اور روشن ہو تمام بنی نوع انسان کے اقوال پر فوقیت رکھتا ہے، حتیٰ کہ تمام ائمہ کے مجموعی اقوال پر بھی فوقیت رکھتا ہے۔

احمدیوں کا تقدیر کے متعلق عقیدہ

ان غلط فہمیوں میں سے جو نا واقفوں کو جماعت احمدیہ کے متعلق ہیں ایک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ احمدی لوگ تقدیر کے منکر ہیں۔ احمدی لوگ تقدیر کے ہرگز منکر نہیں۔ ہم لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر اس دنیا میں جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گی اور اس کی تقدیر کو کوئی بدل نہیں سکتا ہم صرف اس بات کے خلاف ہیں کہ چور کی چوری، بے نماز کے ترکِ نماز، جھوٹے کے جھوٹ، دھوکے باز کے دھوکے، قاتل کے قتل اور بدکار کی بدکاری کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے اور اپنے منہ کی سیاہی خدا تعالیٰ کے منہ پر ملنے کی کوشش کی جائے۔ ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں تقدیر اور تدبیر کی دو نہریں ایک وقت میں چلائی ہیں اور بَیۡنَہُمَا بَرۡزَخٌ لَّا یَبۡغِیٰنِ(55:21) کے ارشاد کے مطابق ان کے درمیان ایک ایسی حدِ فاصل مقرر کر دی ہے کہ یہ کبھی آپس میں ٹکراتی نہیں۔ تدبیر کا میدان اپنی جگہ پر ہے اور تقدیر کا میدان اپنی جگہ پر ہے۔ جن امور کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنی تقدیر کو لازم قرار دیا ہے ان میں تدبیر کچھ نہیں کر سکتی اور جن امور کے لئے اُس نے تدبیر کا رستہ کھولا ہے ان میں تقدیر پر امید لگا کر بیٹھے رہنا اپنے مستقبل کو خود تباہ کرنا ہے۔ پس ہم جس بات کے مخالف ہیں وہ یہ ہے کہ انسان اپنی بداعمالیوں کو تقدیر کے پردہ میں چھپانے کی کوشش کرے اور اپنی سستیوں اور غفلتوں کا جواز تقدیر کے لفظ سے نکالے اور جہاں خدا تعالیٰ نے تدبیر کا حکم دیا ہے وہاں تقدیر پر آس لگائے بیٹھا رہے کیونکہ اس کا نتیجہ ہمیشہ خطرناک نکلتا ہے۔ مسلمان خدائی تقدیر پر نظر رکھ کر بیٹھے رہے اور اِس جدوجہد کو انہوں نے ترک کر دیا جو قومی ترقی کے لئے ضروری ہوتی ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دین سے تو گئے تھے، دنیا سے بھی گذر گئے ۔ اگر وہ اس امر کو مدنظر رکھتے کہ جن کاموں کے لئے خدا تعالیٰ نے تدبیر کا دروازہ کھولا ہے ان میں تقدیر کو مدنظر رکھنے کی بجائے تدبیر کو مدنظر رکھنا چاہئے تو ان کی حالت اتنی نہ گرتی اور وہ اتنے زبوں حال نہ ہوتے جتنے کہ اب ہیں۔

احمدیوں کا جہاد کے متعلق عقیدہ

احمدیت کے متعلق جو غلط فہمیاں ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ احمدی جہاد کے منکر ہیں۔ یہ درست نہیں، احمدی جہاد کے منکر نہیں۔ احمدیوں کا عقیدہ صرف یہ ہے کہ جنگیں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک جہاد اور ایک محض جنگ۔ جہاد صرف اُس جنگ کو کہتے ہیں جس میں مذہب کے بچانے کے لئے لڑائی کی جائے اور ایسے دشمنوں کا مقابلہ کیا جائے جو مذہب کو تلوار کے زور سے مٹانا چاہتے ہیں اور جو خنجر کی نوک سے عقیدہ تبدیل کروانا چاہتے ہیں۔ اگر دنیا میں ایسے واقعات ظاہر ہوں تو جہاد ہر مسلمان پر فرض ہو جاتا ہے مگر ایسے جہاد کے لئے ایک یہ بھی شرط ہے کہ اس جہاد کا اعلان امام کی طرف سے ہونا چاہئے تا مسلمانوں کو معلوم ہو سکے کہ ان میں سے کن کن کو جہاد میں شامل ہونا چاہئے اور کن کن کو اپنی باری کا انتظار کرنا چاہئے۔ اگر ایسا نہ ہو تو ایسے جہاد کے موقع کے آنے پر جو مسلمان بھی جہاد میں شامل نہ ہوگا وہ گنہگار ہوگا لیکن اگر امام ہو تو وہی مسلمان گناہگار ہوگا جس کو جہاد کے لئے بلایا جائے اور وہ نہ آئے ۔ جب احمدی جماعت کسی ملک میں جہاد کا انکار کرتی تھی تو اس لئے کرتی تھی کہ مذہب کو بزورِ شمشیر بدلوانے کی کوشش انگریز نہیں کر رہے تھے۔ اگر احمدی جماعت کا یہ خیال غلط تھا اور واقعہ میں انگریز شمشیر سے مذہب کو بدلوانے کی کوشش کر رہے تھے تو پھر یقیناً جہاد واجب تھا مگر سوال یہ ہے کہ کیا جہاد کے واجب ہو جانے کے بعد ہر مسلمان نے تلوار اُٹھا کر انگریز کا مقابلہ کیا ؟ اگر نہیں کیا تو احمدی تو خدا تعالیٰ کو یہ جواب دیں گے کہ ہمارے نزدیک ابھی جہاد کا وقت نہیں آیا تھا اگر ہم نے غلطی کی تو ہماری غلطی اجتہادی تھی لیکن ان کے مخالف مولوی کیا جواب دیں گے ۔ کیا وہ یہ کہیں گے کہ اے خدا! جہاد کا وقت تو تھا اور ہم یقین رکھتے تھے کہ یہ جہاد کا وقت ہے اور ہم سمجھتے تھے کہ جہاد فرض ہو گیا ہے لیکن اے ہمارے خدا! ہم نے جہاد نہیں کیا کیونکہ ہمارے دل ڈرتے تھے اور نہ ہم نے ان لوگوں کو جہاد کے لئے آگے بھجوایا جن کے دل نہیں ڈرتے تھے ، کیونکہ ہم ڈرتے تھے کہ ایسا کرنے سے بھی انگریز ہم کو پکڑ لیں گے ۔ میں یہ فیصلہ منصف مزاج لوگوں پر ہی چھوڑتا ہوں کہ ان دونوں جوابوں میں سے کونسا جواب خدا تعالیٰ کے نزدیک زیادہ قابل قبول ہے؟

اب تک تو جو کچھ میں نے کہا وہ ان لوگوں کے وساوس کو دور کرنے کے لئے کہا ہے جو احمدیت کا سرسری مطالعہ بھی نہیں رکھتے اور جو احمدیت کے پیغام کے اس کے دشمنوں سے سنتے یا بغیر احمدیت کا مطالعہ کرنے کے اپنے دلوں سے احمدیت کے عقائد اور احمدیت کی تعلیم بنانا چاہتے ہیں ۔ اب میں ان لوگوں کو مخاطب کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے احمدیت کا ایک حد تک مطالعہ کیا ہے اور جو جانتے ہیں کہ احمدی خدا تعالیٰ کی توحید پر یقین رکھتے ہیں ۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر بھی یقین رکھتے ہیں ۔ قرآن کریم کو بھی مانتے ہیں ۔ حدیث کو بھی مانتے ہیں ۔ نمازیں بھی پڑھتے ہیں ۔ روزے بھی رکھتے ہیں ۔ حج بھی کرتے ہیں ۔ زکوٰۃ بھی دیتے ہیں ۔ حشر و نشر اور جزاء و سزا پر بھی ایمان رکھتے ہیں ۔ لیکن وہ حیران ہیں کہ جب احمدی دوسرے مسلمانوں کی طرح ہیں تو پھر اس نئے فرقہ کو قائم کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ ان کے نزدیک احمدیوں کا عقیدہ اور احمدیوں کا عمل قابلِ اعتراض نہیں لیکن ان کے نزدیک ایک نئی جماعت بنانا قابلِ اعتراض امر ہے ۔ کیونکہ جب فرق کوئی نہیں تو افتراق کرنے کی وجہ کیا ہوئی اور جب اختلاف نہیں تو دوسری مسجد بنانے کا مقصد کیا ہوا؟

نئی جماعت بنانے کی وجہ

اس سوال کا جواب دو طرح دیا جا سکتا ہے ۔ عقلی طور پر اور روحانی طور پر ۔ عقلی طور پر اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جماعت صرف تعداد کا نام نہیں ۔ ہزار ، لاکھ یا کروڑ افراد کو جماعت نہیں کہتے بلکہ جماعت ان افراد کے مجموعہ کو کہتے ہیں جو متحد ہو کر کام کرنے کا فیصلہ کر چکے ہوں اور ایک متحدہ پروگرام کے مطابق کام کر رہے ہوں ۔ ایسے افراد اگر پانچ سات بھی ہوں تو جماعت ہے اور جن میں یہ بات نہ ہو وہ کروڑوں بھی جماعت نہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں نبوت کا دعویٰ کیا تو پہلے دن آپؐ پر صرف چار آدمی ایمان لائے تھے آپؐ پانچویں تھے ۔ باوجود پانچ ہونے کے آپ ایک جماعت تھے مگر مکہ کی آٹھ دس ہزار کی آبادی جماعت نہیں تھی نہ عرب کی

آبادی جماعت تھی۔ کیونکہ نہ انہوں نے متحد ہو کر کام کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور نہ ان کا کوئی متحدہ پروگرام تھا۔ پس اِس قسم کا سوال کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا اِس وقت مسلمان کوئی جماعت ہیں؟ کیا دنیا کے مسلمان تمام معاملات میں آپس میں مل کر کام کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں یا ان کا کوئی متحدہ پروگرام ہے؟ جہاں تک ہمدردی کا سوال ہے میں مانتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے متعلق ہمدردی ہے مگر وہ بھی سارے مسلمانوں میں نہیں۔ کچھ کے دلوں میں ہے اور کچھ کے دلوں میں نہیں اور پھر کوئی ایسا نظام موجود نہیں جس کے ذریعہ سے اختلاف کو مٹایا جا سکے۔ اختلاف تو جماعت میں بھی ہوتا ہے بلکہ نبیوں کے وقت کی جماعت میں بھی ہوتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی بعض دفعہ انصار اور مہاجرین کا اختلاف ہو گیا اور بعض دفعہ بعض دوسرے قبائل میں اختلاف ہو گیا لیکن جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا تو اُس وقت سب اختلاف مٹ گیا۔ اسی طرح خلافت کے ایام میں بھی اختلاف پیدا ہو جاتا تھا لیکن جب کوئی اختلاف پیدا ہوتا خلفاء فیصلہ کرتے اور وہ اختلاف مٹ جاتا۔ خلافت کے ختم ہونے کے بعد بھی کوئی ۷۰ سال مسلمان ایک حکومت کے نیچے جہاں جہاں بھی مسلمان تھے وہ ایک نظام کے تابع تھے۔ وہ نظام بُرا تھا یا اچھا تھا بہرحال اس نے مسلمانوں کو ایک رشتہ سے باندھ رکھا تھا۔ اس کے بعد اختلاف ہوا اور مسلمان دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ سپین کا ایک حلقہ بن گیا اور باقی دنیا کا ایک حلقہ بن گیا۔ یہ اختلاف تو تھا مگر بہت ہی محدود اختلاف تھا۔ دنیا کے مسلمانوں کا بیشتر حصہ پھر بھی ایک نظام کے نیچے چل رہا تھا۔ مگر تین سَو سال گذرنے کے بعد یہ انتظام ایسا ٹوٹا کہ تمام مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہو گیا اور ان میں تشتت اور پراگندگی پیدا ہوگئی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ خَيْرُ الْقُرُوْنِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ يَفْشُوا الْكَذِبُ ؎ سب سے اچھی صدی میری ہے ان سے اُتر کر وہ لوگ ہوں گے جو دوسری صدی میں ہوں گے اور ان سے اُتر کر وہ لوگ ہوں گے جو تیسری صدی میں ہوں گے۔ پھر دنیا میں سے سچائی مٹ جائے گی اور ظلم و تشدد اور اختلاف کا دَور دَورہ ہو جائے گا اور ایسا ہی ہوا اور پھر یہ اختلاف بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ گذشتہ تین صدیوں میں تو مسلمان اپنی طاقت بالکل ہی کھو بیٹھے۔ کجا وہ وقت تھا کہ

یورپ ایک ایک مسلمان بادشاہ سے ڈرتا تھا اور اب یورپ اور امریکہ کی ایک ایک طاقت کا مقابلہ کرنے کی سکت سارے عالم اسلام میں بھی نہیں۔ یہودیوں کی کتنی چھوٹی سی حکومت فلسطین میں بنی ہے۔ شام، عراق، لبنان، سعودی عرب، مصر اور فلسطین کی فوجیں اس کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یو۔ این۔ او نے جو علاقہ یہودیوں کو دیا تھا اُس سے بہت زیادہ اس وقت یہودیوں کے قبضہ میں ہے۔ یہ درست ہے کہ یہودی حکومت کی مدد امریکہ اور انگلستان کر رہے ہیں لیکن سوال بھی تو یہی ہے کہ کبھی تو مسلمانوں کی ایک ایک حکومت سارے مغرب پر غالب تھی اور اب مغرب کی بعض حکومتیں سارے مسلمانوں سے زیادہ طاقتور ہیں۔

پس جماعت کا جو مفہوم ہے اس وقت اس کے مطابق مسلمانوں کی کوئی جماعت نہیں۔ حکومتیں ہیں جن میں سے سب سے بڑی پاکستان کی حکومت ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب قائم ہوئی ہے۔ لیکن اسلام پاکستان کا نام نہیں۔ نہ اسلام مصر کا نام ہے۔ نہ اسلام شام کا نام ہے۔ نہ اسلام ایران کا نام ہے۔ نہ اسلام افغانستان کا نام ہے۔ نہ اسلام سعودی عرب کا نام ہے۔ اسلام تو اُس رشتۂ وحدت کا نام ہے جس نے سارے مسلمانوں کو یکجا کر دیا تھا اور ایسا کوئی انتظام اِس وقت دنیا میں موجود نہیں۔ پاکستان کو افغانستان سے ہمدردی ہے افغانستان کو پاکستان سے ہمدردی ہے لیکن نہ پاکستان افغانستان کی ہر بات ماننے کے لئے تیار ہے نہ افغانستان پاکستان کی ہر بات ماننے کے لئے تیار ہے۔ دونوں کی سیاست الگ الگ ہے اور دونوں اپنے اندرونی معاملات میں آزاد ہیں۔ یہی حال افراد کا ہے افغانستان کے باشندے اپنی جگہ پر آزاد ہیں۔ پاکستان کے باشندے اپنی جگہ پر آزاد ہیں۔ مصر کے باشندے اپنی جگہ پر آزاد ہیں۔ ان کو ایک لڑی میں پرونے والی کوئی چیز نہیں۔ پس اِس وقت مسلمان بھی ہیں، مسلمانوں کی حکومتیں بھی ہیں اور ان میں سے بعض حکومتیں خدا تعالیٰ کے فضل سے مضبوط ہو رہی ہیں لیکن پھر بھی مسلمان ایک جماعت نہیں۔ فرض کرو پاکستان کا بیڑہ اتنا مضبوط ہو جائے کہ تمام بحر الہند میں حکومت کرنے لگ جائے۔ اس کی فوج اتنی مضبوط ہو جائے کہ ہندوستان یونین اس سے کانپنے لگ جائے۔ اس کی اقتصادی حالت اتنی بڑھ جائے کہ دنیا کی منڈیوں پر اس کا قبضہ ہو جائے بلکہ اس کی طاقت اتنی بڑھ جائے کہ امریکہ کی طاقت سے بھی بڑھ جائے تو کیا ایران، شام، فلسطین اور مصر اپنے آپ کو پاکستان میں مدغم کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ وہ پاکستان کی عظمت کا اقرار کرنے کے لئے تیار ہوں گے، وہ اس سے ہمدردی کرنے کے لئے تیار ہوں گے مگر وہ اپنی ہستی کو اس میں مٹا دینے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ پس گو خدا تعالیٰ کے فضل سے مسلمانوں کی سیاسی حالت بہتر ہو رہی ہے اور بعض نئی اسلامی حکومتیں قائم ہو رہی ہیں لیکن باوجود اس کے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک اسلامی جماعت نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ وہ مختلف ریاستوں میں بٹے ہوئے ہیں اور الگ الگ حکومتوں میں تقسیم ہیں۔ ان سب کی آواز کو ایک جگہ جمع کر دینے والی کوئی طاقت نہیں۔ مگر اسلام تو عالمگیر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اسلام عرب کے مسلمانوں کا نام نہیں۔ اسلام شام کے مسلمانوں کا نام نہیں۔ اسلام ایران کے مسلمانوں کا نام نہیں۔ اسلام افغانستان کے مسلمانوں کا نام نہیں۔ جب دنیا کے ہر ملک کے مسلمان اسلام کے نام کے نیچے جمع ہو جاتے ہیں تو اسلامی جماعت وہی ہو سکتی ہے جو ان سارے گروہوں کو اکٹھا کرنے والی ہو اور جب تک ایسی جماعت دنیا میں قائم نہ ہو ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اس وقت مسلمانوں کی کوئی جماعت نہیں گو حکومت ہے اور سیاست ہے۔

اسی طرح متحدہ پروگرام کا سوال ہے۔ جہاں ایسا کوئی انتظام نہیں جو ساری دنیا کے مسلمانوں کو اکٹھا کر سکے وہاں مسلمانوں کا کوئی متحدہ پروگرام بھی نہیں۔ نہ سیاسی نہ تمدنی نہ مذہبی۔ منفردانہ طور پر کسی کسی جگہ پر کسی مسلمان کا دشمنانِ اسلام سے مقابلہ کر لینا یہ اور چیز ہے اور متحدہ طور پر ایک مخصوص نظام کے ماتحت چاروں طرف سے دشمن کے حملہ کا جائزہ لے کر اس کے مقابلہ کی کوشش کرنا یہ الگ بات ہے۔ پس پروگرام کے لحاظ سے بھی مسلمان ایک جماعت نہیں۔ ایسی صورت میں اگر کوئی جماعت قائم ہو اور مذکورہ بالا دونوں مقاصد کو لے کر قائم ہو تو اس پر یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ایک نئی جماعت بن گئی ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ پہلے کوئی جماعت نہیں تھی اب ایک جماعت بن گئی ہے۔

میں ان دوستوں سے جن کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ باوجود ایک نماز، ایک قبلہ، ایک قرآن اور ایک رسول ہونے کے پھر احمدی جماعت نے الگ جماعت کیوں بنائی، کہتا ہوں

کہ وہ اِس نکتہ پر غور کریں اور سوچیں کہ اسلام کو پھر ایک جماعت بنانے کا وقت آچکا ہے اس کام کے لئے کب تک انتظار کیا جائے گا؟ مصر کی حکومت اپنی جگہ پر کام اپنا کر رہی ہے۔ ایران کی حکومت اپنی جگہ پر اپنا کام کر رہی ہے افغانستان کی حکومت اپنی جگہ پر اپنا کام کر رہی ہے۔ دیگر اسلامی حکومتیں اپنی اپنی جگہ پر اپنا کام کر رہی ہیں لیکن ان کی موجودگی میں بھی ایک خلا باقی ہے۔ ایک کمی باقی ہے اور اسی خلا اور کمی کو پورا کرنے کے لئے احمد یہ جماعت قائم ہوئی ہے۔

جب خلافتِ ترکیہ کو ترکوں نے ختم کر دیا تو مصر کے بعض علماء نے (بعض راز داروں کے قول کے مطابق شاہِ مصر کے اشارہ سے) ایک تحریکِ خلافت شروع کی اور اس تحریک سے اس کا منشاء یہ تھا کہ شاہِ مصر کو خلیفۃ المسلمین تصور کر لیا جائے اور اس طرح مصر کو دوسرے ممالک پر فوقیت حاصل ہو جائے۔ سعودی عرب نے اس کی مخالفت شروع کی اور یہ پراپیگنڈہ شروع کر دیا کہ یہ تحریک انگریزوں کی اُٹھائی ہوئی ہے اگر کوئی شخص خلافت کا مستحق ہے تو وہ سعودی عرب کا بادشاہ ہے۔ جہاں تک خلافت کا تعلق ہے وہ یقیناً ایک ایسا رشتہ ہے جس سے سب مسلمان اکٹھے ہو جاتے ہیں لیکن جب یہ خلافت کا لفظ کسی خاص بادشاہ کے ساتھ مخصوص ہونے لگا تو دوسرے بادشاہوں نے فوراً تاڑ لیا کہ ہماری حکومت میں رخنہ ڈالا جاتا ہے اور وہ مفید تحریک بیکار ہو کر رہ گئی۔ لیکن اگر یہی تحریک عوام میں پیدا ہو اور مذہبی روح اس کے پیچھے کام کر رہی ہو تو سیاسی رقابت اس کے رستہ میں حائل نہیں ہوگی۔ صرف جماعتی رقابت اس کے رستہ میں روک بنے گی۔ سیاسی رقابت کی وجہ سے ایسی تحریک اُسی ملک میں محدود ہو کر رہ جائے گی جس کی حکومت اُس کی تائید میں ہو گی لیکن جماعتی مخالفت کی صورت میں وہ کسی ملک میں محدود نہیں رہے گی۔ ہر ملک میں جائے گی اور پھیلے گی اور اپنی جڑیں بنائے گی بلکہ ایسے ملکوں میں بھی جا کر کامیاب ہو گی جہاں اسلامی حکومت نہیں ہوگی کیونکہ سیاسی ٹکراؤ نہ ہونے کی وجہ سے ابتدائی زمانہ میں حکومتیں اس کی مخالفت نہیں کریں گی چنانچہ احمدیت کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔ احمدیت کا منشاء محض مسلمانوں کے اندر اتحاد پیدا کرنا تھا۔ وہ بادشاہت کی طالب نہیں تھی۔ وہ حکومت کی طالب نہیں تھی۔ انگریزوں نے اپنے ملک میں بعض دفعہ احمدیت کو تکلیفیں بھی پہنچائی ہیں لیکن اس کے خالص مذہبی ہونے کی وجہ سے اس سے کھلے بندوں ٹکرانے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ افغانستان میں ملاّنوں سے ڈر کر بعض دفعہ بادشاہوں نے سختیاں کیں لیکن پرائیویٹ ملاقاتوں میں اپنی معذوریاں بھی ظاہر کرتے رہے اور اظہارِ ندامت بھی کرتے رہے۔ اسی طرح دوسرے اسلامی ممالک میں عوام الناس نے مخالفت کی۔ علماء نے مخالفت کی اور ان سے ڈر کر حکومت نے بھی بعض دفعہ روکیں ڈالیں۔ لیکن کسی حکومت نے یہ نہیں سمجھا کہ یہ تحریک ہماری حکومت کا تختہ اُلٹنے کے لئے قائم ہوئی ہے اور یہ ان کا خیال درست تھا۔

احمدیت کو سیاست سے کوئی غرض نہیں۔ احمدیت صرف اس غرض کے لئے کھڑی ہوئی ہے کہ مسلمانوں کی دینی حالت کو درست کرے اور انہیں ایک رشتہ میں پروئے تاکہ وہ مل کر اسلام کے دشمنوں کا اخلاقی اور روحانی ہتھیاروں سے مقابلہ کرسکیں۔ اسی بات کو سمجھتے ہوئے امریکہ میں احمدی مبلغ گئے۔ جس حد تک وہ ایشیائیوں کی مخالفت کرتے ہیں انہوں نے احمدی مبلغوں کی مخالفت کی۔ لیکن جہاں تک مذہبی تحریک کا سوال تھا اس کے مدنظر انہوں نے مخالفت نہیں کی۔ ڈچ حکومت نے انڈونیشیا میں بھی اسی طریق سے کام لیا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ سیاست میں یہ ہمارے ساتھ نہیں ٹکراتے تو گو انہوں نے مخفی نگرانیان بھی کیں، بے اعتنائیاں بھی کیں مگر کھلے بندوں احمدیت سے ٹکرانے کی ضرورت نہیں سمجھی اور اس رویہ میں وہ بالکل حق بجانب تھے۔ بہرحال ہم ان کے مذہب کے خلاف تبلیغ کرتے تھے اس لئے ہم اُن سے کسی ہمدردی کے امیدوار نہیں تھے مگر ہم اُن کی سیاست سے بھی براہِ راست نہیں ٹکراتے تھے اس لئے ان کا بھی یہ کوئی حق نہیں تھا کہ ہم سے براہِ راست ٹکراتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب جماعت احمدیہ قریباً ہر ملک میں قائم ہے۔ ہندوستان میں بھی۔ افغانستان میں بھی۔ ایران میں بھی۔ عراق میں بھی۔ شام میں بھی۔ فلسطین میں بھی۔ مصر میں بھی۔ اٹلی میں بھی۔ سوئٹزر لینڈ میں بھی۔ جرمنی میں بھی۔ انگلینڈ میں بھی۔ یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ میں بھی۔ انڈونیشیا، ملایا، ایسٹ اور ویسٹ افریقہ، ابے سینیا، ارجنٹائن غرض ہر ملک میں تھوڑی یا بہت جماعت موجود ہے اور ان ممالک کے اصلی شہریوں میں سے جماعت موجود ہے۔ یہ نہیں کہ وہاں کے بعض ہندوستانی احمدی ہوگئے ہوں اور وہ ایسے مخلص لوگ ہیں کہ اپنی زندگیاں اسلام کی خدمت کے لئے قربان کر رہے ہیں۔ ایک انگریز لیفٹیننٹ اپنی زندگی وقف کر کے اس وقت مبلغ کے طور پر انگلستان میں کام کر رہا ہے۔

باقاعدہ نمازی ہے۔ شراب وغیرہ کے قریب نہیں جاتا۔ خود محنت مزدوری سے پیسے کما کر ٹریکٹ وغیرہ شائع کرتا ہے یا جلسے کرتا ہے۔ ہم اُسے گذارہ کے لئے اتنی قلیل رقم دیتے ہیں جس سے انگلستان کا ایک چوہڑا بھی زیادہ کماتا ہے۔ اسی طرح جرمنی کے ایک شخص نے زندگی وقف کی ہے۔ وہ بھی فوجی افسر ہے۔ بڑی جدوجہد سے وہ جرمنی سے نکلنے میں کامیاب ہوا ہے۔ ابھی اطلاع آئی ہے کہ وہ سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا ہے اور وہاں ویزا کا انتظار کر رہا ہے۔ یہ نوجوان اسلام کی خدمت کا بے انتہاء جوش اپنے دل میں رکھتا ہے اور اس لئے پاکستان آرہا ہے کہ یہاں اسلام کی تعلیم پوری طرح حاصل کر کے کسی غیر ملک میں اسلام کی تبلیغ کرے۔ جرمنی کا ایک اور نوجوان مصنف اور اس کی تعلیم یافتہ بیوی زندگی وقف کرنے کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں اور شاید عنقریب ہی وہ اس فیصلہ پر پہنچ کر پاکستان تعلیم اسلام کے لئے آجائیں گے۔ اسی طرح ہالینڈ کا ایک نوجوان اسلام کے لئے اپنی زندگی وقف کرنے کا ارادہ کر چکا ہے اور غالباً جلد ہی کسی نہ کسی ملک میں تبلیغ اسلام کے کام پر لگ جائے گا۔ بیشک جماعت احمدیہ تھوڑی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے جماعت اسلامی قائم ہو رہی ہے۔ ہر ملک میں کچھ نہ کچھ افراد اس میں شامل ہو کر ایک عالمگیر اتحاد کی بنیاد رکھ رہے ہیں اور ہر سیاست کے ماننے والے لوگوں میں سے کچھ نہ کچھ آدمی اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ ایسی تحریکوں کی ابتداء شروع میں چھوٹی ہی ہوا کرتی ہے۔ لیکن ایک وقت میں جا کر وہ ایک فوری قوت حاصل کر لیتی ہیں اور چند دنوں میں اتحاد اور اتفاق کا بیج بونے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ سیاسی طاقت کے لئے سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے اور مذہبی اور اخلاقی طاقت کے لئے مذہبی اور اخلاقی جماعتوں کی ضرورت ہے۔ جماعت احمدیہ سیاست سے اسی لئے الگ رہتی ہے کہ اگر وہ ان باتوں میں دخل دے تو وہ اپنے کام میں سست ہو جائے۔

جماعت احمدیہ کا پروگرام

دوسرا سوال پروگرام کا رہا۔ پروگرام کے لحاظ سے بھی جماعت احمدیہ ہی ایک متحدہ پروگرام رکھتی ہے اور کوئی جماعت متحدہ پروگرام نہیں رکھتی۔ جماعت احمدیہ عیسائیت کے حملہ کا پورا اندازہ لگا کر ہر ملک میں اس کا مقابلہ کر رہی ہے۔ اس وقت دنیا کا سب سے کمزور خطہ اور بعض لحاظ سے سب سے

طاقتور خطہ افریقہ ہے۔ عیسائیت نے اس وقت ساری طاقت سے افریقہ میں دھاوا بول دیا ہے اب تو کھلے بندوں وہ اپنے ان ارادوں کا اظہار کر رہے ہیں ، اس سے پہلے صرف پادریوں کا ذہن اِدھر جارہا تھا ۔ پھر انگلستان کی کنسر ویٹو پارٹی ؎۱ ادھر مائل ہوئی اور اب تو لیبر پارٹی نے بھی اعلان کردیا ہے کہ یورپ کی نجات کا دارومدار افریقہ کی ترقی اور اس کی تنظیم پر ہے مگر یورپ سمجھتا تھا کہ یہ ترقی اور تنظیم اسی صورت میں یورپ کے لئے مفید ہوسکتی ہے جبکہ اس کے باشندے عیسائی ہوجائیں۔ احمدیت نے اس راز کو چوبیس سال پہلے بھانپ لیا اور چوبیس سال پہلے اپنے مبلغ وہاں بھجوا دیئے جہاں ہزاروں ہزار آدمی عیسائیت سے نکل کر مسلمان ہوگئے اور اس وقت افریقہ میں سب سے منظم اسلامی جماعت احمدیت کی ہے جس کا مقابلہ کرنے سے عیسائیوں نے گریز کرنا شروع کردیا ہے اور ان کے لٹریچر میں متواتر اس بات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ احمدیہ جماعت کی مساعی نے عیسائی مشنریوں کی کوششوں کو باطل کر دیا ہے۔ یہی تبلیغی سلسلہ مشرقی افریقہ میں بھی سالہا سال سے جاری ہے اور گو وہاں کام کی ابتداء ہے اور اس وجہ سے نتائج ابھی اتنے شاندار نہیں جتنے مغربی افریقہ میں ہیں لیکن پھر بھی عیسائیوں میں سے کچھ لوگ مسلمان ہونے شروع ہو گئے ہیں اور امید ہے کہ چند سال میں یہاں بھی مبلغوں کی کوششیں اعلیٰ نتائج پیدا کرنے لگ جائیں گی ۔ انڈونیشیا اور ملایا میں بھی ایک لمبے عرصہ سے مشن قائم ہیں اور اسلام کے بھاگتے ہوئے گروہوں کو ٹھہرانے ، جمع کرنے اور اکٹھا کر کے دشمن کے مقابل پر کھڑا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ عیسائی طاقتوں میں سے اب سب سے آگے آچکی ہے۔ وہاں بھی چوبیس سال سے احمدی مبلغ کام کر رہے ہیں اور ہزاروں باشندے امریکہ کے احمدی ہو چکے ہیں اور ہزار ہا روپیہ سالانہ تبلیغ اسلام پر خرچ کر رہے ہیں ۔ امریکہ کی دولت کے مقابلہ میں یہ کچھ بھی نہیں اور وہاں کے پادریوں کی کوششوں کے مقابلہ میں یہ بالکل حقیر کوشش ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ مقابلہ شروع کر دیا گیا ہے اور فتح ہم کو ہو رہی ہے ۔ کیونکہ ہم عیسائی جماعت کے آدمی چھین کر اپنی طرف لا رہے ہیں ۔ عیسائی جماعت ہمارے آدمی چھین کر نہیں لے جا رہی ۔ پس یہ نہیں کہنا چاہئے کہ احمدیت نے ایک نئی جماعت کیوں قائم کی ہے۔ کہنا یہ چاہئے کہ احمدیت نے ایک جماعت قائم کردی جبکہ اس سے پہلے کوئی جماعت نہیں تھی اور کیا یہ قابلِ اعتراض بات ہے یا قابلِ تعریف بات ہے؟

احمدیوں کو دوسری جماعتوں سے علیحدہ رکھنے کی وجہ

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایسی کسی جماعت کے بنانے کی ضرورت کیا تھی؟ یہی باتیں دوسرے مسلمانوں میں پھیلائی جانی چاہئے تھیں۔ اس کا عقلی جواب یہ ہے کہ ایک کمانڈر اُنہی لوگوں کو لڑائی میں بھیج سکتا ہے جو فوج میں بھرتی ہو چکے ہوں جو لوگ فوج میں بھرتی نہیں وہ ان کو بھیج کس طرح سکتا ہے؟ اگر جماعت ہی کوئی نہ بنائی جاتی تو بانیِ سلسلۂ احمدیہ کس سے کام لیتا اور کس کو حکم دیتا اور ان کے خلفاء کس سے کام لیتے اور کس کو حکم دیتے ۔ کیا وہ بازار میں پھرنا شروع کرتے اور ہر مسلمان کو پکڑ کر کہتے کہ آج فلاں جگہ اسلام کے لئے ضرورت ہے تو وہاں جا اور وہ آگے سے یہ جواب دیتا کہ میں تو آپ کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں، اور پھر وہ اگلے آدمی کو جا پکڑتے اور پھر اس سے اگلے آدمی کو جا پکڑتے۔ یہ ایک عقلی حقیقت ہے کہ جب کوئی منظّم کام کرنا ہو تو اس کے لئے ایک جماعت کی ضرورت ہوتی ہے بغیر ایسی جماعت کے کوئی منظّم کام نہیں ہو سکتا۔ اگر کہو کہ جماعت تو بناتے لیکن سب میں ملے جلے رہتے ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جان کو جوکھوں میں ڈالنے والے کاموں کے لئے ہر شخص کہاں تیار ہوتا ہے۔ ایسے کام تو دیوانے ہی کیا کرتے ہیں اور دیوانوں کو ہوشیاروں سے الگ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر ہوشیار دیوانوں کو بھی اپنے جیسا بنا لیں گے تو پھر ایسے کام کو کون کرے گا۔ نیز دوسروں سے الگ رہنا خود بخود طبائع میں استعجاب پیدا کرتا ہے اور آپ ہی آپ لوگ اس کی کرید اور تجسس شروع کرتے ہیں اور آخر ایک دن اسی چیز کا شکار ہو جاتے ہیں جس کو مٹانے کے لئے وہ آگے بڑھتے ہیں۔ پس سارے اعتراضات قلتِ تدبّر کا نتیجہ ہیں۔ اگر عقل سے کام لیا جائے تو سمجھ آ سکتا ہے کہ اصل میں وہی طریقہ درست ہے جو احمدیت نے اختیار کیا ہے۔ اسی صحیح طریقے پر عمل کر کے وہ اسلام کے لئے قربانی کرنے والوں کی ایک جماعت پیدا کر سکی ہے اور جب تک وہ اِس طریق پر عمل کرتی رہے گی روز بروز ایسے افراد کی تعداد کو بڑھاتی چلی جائے گی یہاں تک کہ کفر محسوس کرے گا کہ اب اسلام طاقت پکڑ گیا ہے اور وہ اسلام پر اپنی ساری طاقت کے ساتھ حملہ کرے گا مگر حملے کا وقت گزر چکا ہو گا۔ میدان اسلام ہی کے ہاتھ رہے گا اور کفر شکست کھا جائے گا۔

ہم سیاسی جدوجہد کرنے والوں کے رستہ میں روک نہیں بنتے ہم ان سے کہتے ہیں کہ جب تک تمہاری سمجھ میں ہماری باتیں نہ آئیں تم اپنا کام کرتے چلے جاؤ۔ لیکن ہم ان سے یہ بھی خواہش کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنے رستہ سے نہ روکیں ۔ اگر کسی کی سمجھ میں ان کا طریقہ اچھا معلوم ہوتا ہے تو وہ ان سے جاملے اور اگر کسی کی سمجھ میں ہمارا طریقہ اچھا معلوم ہوتا ہے تو وہ ہم میں آملے۔ ان کے طریقہ میں قربانی کم اور شہرت زیادہ ہے اور ہمارے طریقہ میں قربانی زیادہ اور شہرت کم ہے۔ ان کو ان کا حصہ ملتا رہے گا اور ہم کو ہمارا حصہ ملتا رہے گا۔ جن لوگوں کی نگاہ میں مغز اور حقیقت کے لحاظ سے اسلام کا قیام زیادہ ضروری ہوگا وہ ہم میں آملیں گے اور جو لوگ ظاہری بادشاہت کے شیدائی ہوں گے ، وہ اُن میں جاملیں گے۔ لیکن ہم لڑیں کیوں اور جھگڑیں کیوں؟ دونوں ہی غم ملت میں تڑپ رہے ہیں۔ گو جدا جدا اعضاء میں ٹیس اُٹھ رہی ہے۔ ان کے دماغوں میں درد ہے ، ہمارے دل اذیت پا رہے ہیں۔ یہ تو میں نے عقلی نقطۂ نگاہ سے جواب دیا ہے۔ اب میں روحانی نقطۂ نگاہ سے جواب دیتا ہوں اور میرے نزدیک وہی حقیقی نقطۂ نگاہ ہے۔

اس سوال کا روحانی جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سے یہ سنت ہے کہ جب کبھی دنیا میں خرابی پھیل جاتی ہے، روحانیت اس سے مفقود ہو جاتی ہے ، لوگ دنیا کو دین پر مقدم کرنے لگ جاتے ہیں تو اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے آسمان سے کسی مأمور کو مبعوث فرماتا ہے تاکہ اس کے کھوئے ہوئے بندوں کو پھر اس کی طرف واپس لائے اور اس کے بھیجے ہوئے دین کو پھر دنیا میں قائم کرے۔ بعض دفعہ یہ مأمورین شریعت ساتھ لاتے ہیں اور بعض دفعہ کسی پہلی شریعت کے قائم کرنے کیلئے آتے ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی اِس سنت پر خاص طور پر زور دیا گیا ہے اور بار بار بنی نوع انسان کو اللہ تعالیٰ کے اس رحم اور کرم کی شناخت کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ بہت بڑی شان رکھتا ہے اور انسان اس کے مقابلہ میں ایک کیڑے سے بھی بدتر ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے تمام کام حکمت سے پُر

ہوتے ہیں اور وہ کوئی کام بھی بلا وجہ اور بغیر فائدہ کے نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَمَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَیۡنَہُمَا لٰعِبِیۡنَ(44:39) یعنی ہم نے یہ زمین اور آسمان یونہی نہیں پیدا کئے بلکہ ان کی پیدائش میں غرض رکھی ہے اور وہ غرض یہی ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرے اور اس کا مظہر بن کر دنیا کے اُن لوگوں کو جو بلند پروازی کی طاقت نہیں رکھتے خدا تعالیٰ سے روشناس کرے۔ ابتدائے آفرینش سے لے کر اس وقت تک خدا تعالیٰ کی یہی سنت جاری رہی ہے اور مختلف اوقات میں خدا تعالیٰ نے اپنے مختلف مظاہر اس دنیا میں مبعوث فرمائے۔ کبھی خدا تعالیٰ کی صفات آدمؑ کے ذریعہ سے جلوہ گر ہوئیں۔ کبھی نوحؑ کے ذریعہ سے جلوہ گر ہوئیں، کبھی ابراہیمیؑ جسم میں سے وہ ظاہر ہوئیں تو کبھی موسوی جسم سے ہویدا ہوئیں، کبھی داؤدؑ نے خدا تعالیٰ کا چہرہ دنیا کو دکھایا تو کبھی مسیحؑ نے اللہ تعالیٰ کے انوار کو اپنے وجود میں ظاہر کیا، سب سے آخر اور سب سے کامل طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کو اجمالاً اور تفصیلاً انفرادی حیثیت سے بھی اور اجتماعی حیثیت سے بھی ایسی شان اور ایسے جلال کے ساتھ دنیا پر ظاہر کیا کہ پہلے انبیاء آپ کے شمسی وجود کے آگے ستاروں کی مانند ماند پڑ گئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام شریعتیں ختم ہو گئیں اور تمام شریعت لانے والے انبیاء کی آمد کا رستہ بند کر دیا گیا۔ کسی جنبہ داری کی وجہ سے نہیں، کسی لحاظ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے کہ رسول کریم ﷺ ایسی شریعت لائے جو تمام ضرورتوں کی جامع اور تمام حاجتوں کو پورا کرنے والی تھی۔ جو چیز خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی تھی وہ تو پوری ہوگئی لیکن بندوں کے متعلق کوئی ضمانت نہیں تھی کہ وہ صحیح رستہ کو نہیں چھوڑیں گے اور اس سچی تعلیم کو نہیں بھولیں گے بلکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا تھا کہ یُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الۡاَرۡضِ ثُمَّ یَعۡرُجُ اِلَیۡہِ فِیۡ یَوۡمٍ کَانَ مِقۡدَارُہٗۤ اَلۡفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ(32:6) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے اس آخری کلام اور اپنی اس آخری شریعت کو آسمان سے زمین پر قائم کر دے گا اور لوگوں کی مخالفت اس کے رستہ میں روک نہیں بنے گی۔ مگر پھر ایک عرصہ کے بعد یہ کلام آسمان پر چڑھنا شروع ہوگا اور ایک ہزار سال میں یہ دنیا سے اُٹھ جائے گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قیام دین کے زمانہ کو تین سو سال کا عرصہ قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر حدیث بیان کی جاچکی ہے اور قرآن کریم بھی الٓمٰرٰ۱؎ کے ذریعہ سے ۲۷۱ سال کا عرصہ اس زمانہ کو قرار دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہزار سال تک دین کے آسمان پر چڑھنے کے عرصہ کو ملایا جائے تو یہ ۱۲۷۱ ہوتا ہے گویا دنیا سے اسلام کی روح کے غائب ہو جانے کا زمانہ قرآن کریم کی رو سے ۱۲۷۱ سال ہے یا تیرھویں صدی کا آخر۔ جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے ایسے زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ضرور ایک ہادی اور راہنما آیا کرتا ہے تاکہ دنیا ہمیشہ کے لئے شیطان کے قبضہ میں نہ چلی جائے اور خدا تعالیٰ کی حکومت ابدی طور پر دنیا سے مٹ نہ جائے۔ پس ضروری تھا کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی شخص آتا۔ وہ کوئی ہوتا مگر آنا ضرور تھا۔ یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ آدمؑ کے اتباع میں جب کبھی خرابی پیدا ہوئی تو خدا تعالیٰ نے ان کی خبر لی۔ نوحؑ کے اتباع میں جب کبھی خرابی پیدا ہوئی تو خدا تعالیٰ نے ان کی خبر لی۔ ابراہیمؑ کے اتباع میں جب کبھی خرابی پیدا ہوئی تو خدا تعالیٰ نے ان کی خبر لی۔ موسیٰؑ کے اتباع میں خرابی پیدا ہوئی تو خدا تعالیٰ نے ان کی خبر لی، عیسیٰؑ کے اتباع میں جب کبھی خرابی پیدا ہوئی تو خدا تعالیٰ نے ان کی خبر لی لیکن سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں خرابی پیدا ہو تو خدا تعالیٰ اس کی خبر نہ لے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے متعلق تو یہ پیش گوئی تھی کہ چھوٹے چھوٹے مفاسد کو دور کرنے کے لئے آپ کی اُمت میں ہر صدی کے سر پر ایک مجدّد مبعوث ہوا کرے گا۔ کیا کوئی عقل اس کو تسلیم کر سکتی ہے کہ چھوٹے چھوٹے مفاسد کو دور کرنے کیلئے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے مجددین ظاہر ہوتے رہیں جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اِنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ عَلٰی رَاْسِ کُلِّ مِائَۃِ سَنَۃٍ مَّنْ یُّجَدِّدُ لَھَا دِیْنھَا۲؎ لیکن اس عظیم الشان فتنہ کے موقع پر جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب سے دنیا میں انبیاء آنے لگے ہیں وہ اس فتنہ کی خبر دیتے چلے آئے ہیں، کوئی مامور نہ آئے، کوئی ہادی نہ آئے، کوئی راہنما نہ آئے، مسلمانوں کو دین حقہ پر جمع کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی آواز بلند نہ کی جائے، مسلمانوں کو تاریکی اور ظلمت کے گڑھے میں سے نکالنے کیلئے آسمان سے کوئی رسی نہ گرائی جائے۔ وہ خدا جو ابتدائے عالم سے اپنے رحم و کرم کے نمونے دکھاتا چلا آیا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اس کے رحم اور کرم کے دریا میں مزید جوش پیدا ہو گیا ہے نہ کہ اس کا رحم اور کرم مٹ گئے ہیں۔ اگر خدا تعالیٰ کبھی بھی رحیم تھا تو اُمت محمدیہ کیلئے اس کو پہلے سے زیادہ رحیم ہونا چاہیے، اگر خدا تعالیٰ کبھی بھی کریم تھا تو اُمت محمدیہ کے لیے اُس کو پہلے سے زیادہ کریم ہونا چاہئے اور یقیناً وہ ایسا ہی ہے۔ قرآن کریم اور احادیث اس پر شاہد ہیں کہ اُمت محمدیہ میں جب کبھی خرابی پیدا ہو گی خدا تعالیٰ اپنی طرف سے ہادی اور راہنما بھجواتا رہے گا۔ خصوصاً اِس آخری زمانہ میں جبکہ دجال کا فتنہ ظاہر ہو گا۔ عیسائیت غالب آجائے گی۔ اسلام ظاہری طور پر مغلوب ہو جائے گا اور مسلمان دین کو چھوڑ بیٹھیں گے اور دوسری اقوام کے رسم و رواج کو اختیار کر لیں گے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک کامل مظہر ظاہر ہوگا اور اس زمانہ کی اصلاح کرے گا جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لَا يَبْقَىٰ مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ وَلَا يَبْقَىٰ مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ ۱۵؎ یعنی اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کی صرف تحریر رہ جائے گی اسلام کا مغز کہیں نظر نہ آئے گا اور قرآن کے معنی کسی پر روشن نہ ہوں گے۔

پس اے عزیزو! سلسلہ احمدیہ کا قیام اسی سنتِ قدیمہ کے ماتحت ہوا ہے اور انہی پیشگوئیوں کے مطابق ہوا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ سے پہلے انبیاء نے اس زمانہ کے متعلق بیان فرمائی ہیں۔ اگر مرزا صاحب کا انتخاب اس کام کے لئے مناسب نہ تھا تو یہ خدا تعالیٰ پر الزام ہے، مرزا صاحب کا اس میں کیا قصور ہے۔ لیکن اگر خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے اور کوئی راز اس سے پوشیدہ نہیں اور اس کے تمام کام حکمتوں سے پُر ہوتے ہیں تو پھر سمجھ لینا چاہئے کہ مرزا غلام احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام کا انتخاب ہی صحیح انتخاب تھا اور انہی کے ماننے میں مسلمانوں اور دنیا کی بہتری ہے۔ آپ کوئی نیا پیغام دنیا کیلئے نہیں لائے مگر وہی پیغام جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو سنایا تھا مگر دنیا اُسے بھول گئی، وہی پیغام جو قرآن کریم نے پیش کیا تھا مگر دنیا نے اس کی طرف سے منہ موڑ لیا اور وہ یہی پیغام ہے کہ تمام کائنات کا پیدا کرنے والا ایک خدا ہے۔ اس نے انسان کو اپنی محبت اور تعلق کے لئے پیدا کیا ہے۔ اپنی صفات کو اس کے ذریعہ سے ظاہر کرنے کے لیے اسے بنایا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَاِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً(2:31) ۱۶؎ پس آدمؑ اور اس کی نسل خدا تعالیٰ کی خلیفہ یعنی اس کی

نمائندہ ہے وہ خدا تعالیٰ کی صفات کو دنیا پر ظاہر کرنے کیلئے پیدا کی گئی ہے۔ پس تمام بنی نوع انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو خدا تعالیٰ کی صفات کے مطابق بنائیں اور جس طرح ایک نمائندہ اپنے تمام کاموں میں اپنے مؤکّل کی طرف بار بار متوجہ ہوتا ہے اور ایک غلام ہر نیا قدم اُٹھانے سے پہلے اپنے آقا کی طرف دیکھتا ہے اسی طرح انسان کا بھی فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق پیدا کرے کہ خدا تعالیٰ اس کی ہر دم اور ہر کام میں راہنمائی کرے اور تمام چیزوں سے زیادہ وہ اس کا محبوب ہو اور تمام باتوں میں وہ اس پر توکل کرنے والا ہو اور اسی فرض کو پورا کروانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام دنیا میں آئے۔ ان کا یہ کام تھا کہ وہ دنیا دار لوگوں کو دیندار بنائیں۔ اسلام کی حکومت دلوں پر قائم کریں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر اپنے روحانی تخت پر بٹھائیں جس تخت پر سے اُتارنے کے لئے شیطانی طاقتیں اندرونی اور بیرونی حملے کر رہی ہیں۔

اِس غرض کو پورا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ مسلمانوں کو قشر کی بجائے مغز کی طرف توجہ دلائی اور اِس بات پر زور دیا کہ احکام کا ظاہر بھی نہایت اہم اور ضروری ہے لیکن بغیر باطن کی طرف توجہ کرنے کے انسان کوئی ترقی نہیں کرسکتا۔ چنانچہ آپ نے ایک جماعت قائم کی اور عہد بیعت میں یہ شرط مقرر کی کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ درحقیقت یہی مرض تھی جو مسلمانوں کو گھن کی طرح کھا رہی تھی۔ باوجود اس کے کہ دنیا ان کے ہاتھوں سے چھوٹ چکی تھی پھر بھی دنیا ہی کی طرف ان کی توجہ جاتی تھی۔ اسلام کی ترقی کے معنی ان کے نزدیک بادشاہتوں کا حصول رہ گیا تھا اور اسلام کی کامیابی کے معنی ان کے نزدیک مسلمان کہلانے والوں کی تعلیم اور ان کی تجارت کی ترقی تھی حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں اس لئے نہیں آئے تھے کہ لوگ مسلمان کہلانے لگ جائیں بلکہ آپ لوگوں کو حقیقی مسلمان بنانے کے لئے آئے تھے جس کی تعریف قرآن کریم نے یہ فرمائی ہے کہ مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ(2:113)؎ وہ اپنے سارے وجود کو خدا تعالیٰ کے لئے وقف کردے اور اپنی دُنیوی حاجات کو دینی حاجات کے تابع کردے۔ بظاہر یہ ایک معمولی سی بات معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقتاً اسلام اور دیگر ادیان میں یہی فرق ہے۔ اسلام یہ نہیں کہتا کہ تم علم حاصل نہ

کرو۔ نہ یہ کہتا ہے کہ تم تجارتیں نہ کرو۔ نہ یہ کہتا ہے کہ صنعت و حرفت نہ کرو۔ نہ یہ کہتا ہے کہ تم اپنی حکومت کی مضبوطی کی کوشش نہ کرو۔ وہ صرف انسان کے نقطۂ نگاہ کو بدلتا ہے دنیا میں تمام کاموں کے دو نقطۂ نگاہ ہوتے ہیں۔ ایک قشر سے مغز حاصل کرنے کا نقطۂ نگاہ ہوتا ہے اور ایک مغز سے قشر حاصل کرنے کا نقطۂ نگاہ ہوتا ہے۔ جو شخص قشر سے مغز حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے ضروری نہیں کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے بلکہ اکثر وہ ناکام رہتا ہے لیکن جو شخص مغز حاصل کرتا ہے اس کو ساتھ ہی قشر بھی مل جاتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اتباع کی تمام جدوجہد دین کے لئے تھی لیکن یہ نہیں کہ وہ دُنیوی نعمتوں سے محروم ہو گئے ہوں۔ یہ تو ایک طبعی امر ہے جن لوگوں کو دین ملے گا دنیا لونڈی کی طرح ان کے پیچھے دوڑتی آئے گی۔ لیکن دنیا کے ساتھ دین کا ملنا ضروری نہیں، بسا اوقات وہ نہیں ملتا۔ بسا اوقات رہا سہا دین بھی ہاتھوں سے جاتا رہتا ہے۔

پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انبیاء کے طریق پر چلتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حکم سے دین پر زور دینا شروع کیا۔ جس وقت آپ ظاہر ہوئے مسلمانوں میں دو قسم کی تحریکیں جاری تھیں۔ ایک تحریک یہ تھی کہ مسلمان کمزور ہو چکے ہیں اس لئے انہیں دُنیوی طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ دوسری تحریک آپ نے چلائی کہ ہم کو دین کی طرف توجہ کرنی چاہئے، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا اللہ تعالیٰ ہمیں خود دے دے گا۔

بعض لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھا کہ آپ کی تحریک بھی ویسی ہی ہے جیسے آجکل کے صوفیاء وغیرہ کی تحریک ہوتی ہے کہ وہ ظاہری طور پر نماز روزہ پر زور دیتے ہیں اور اچھے بھلے آدمیوں کو خلوت میں بٹھا کر پردہ نشین عورتوں کی طرح بنا دیتے ہیں۔ اگر آپ ایسا کرتے تو یقیناً آپ بھی مغز کے نام سے ایک قشر کے حصول کی تحریک کرتے مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ آپ نے جہاں دینی احکام پر زور دیا وہاں اس بات پر بھی زور دیا کہ دین اللہ کی طرف سے اس لئے آیا کرتا ہے کہ وہ انسان کے ذہن کو جلا بخشے اور اُس کے دماغ کو منور کرے اور اُس کی عقل کو تیز کرے۔ آپ نے کہا جو شخص سچے طور پر دین پر عمل کرتا ہے اور بناوٹ سے کام نہیں لیتا، دین اُس کے اندر اخلاقِ فاضلہ پیدا کرتا ہے۔ دین اُس کے اندر قوتِ عملیہ پیدا کرتا ہے اور دین اُس کے

اندر ایثار اور قربانی کا مادہ پیدا کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم دین کو اختیار کرو۔ تم نمازیں پڑھو، تم روزے رکھو، حج کرو، زکوٰۃ دو لیکن وہ نمازیں پڑھو جو قرآن نے بتائی ہیں اور وہ روزے رکھو جو قرآن نے بتائے ہیں اور وہ حج کرو جو قرآن نے بتایا ہے اور وہ زکوٰۃ دو جو قرآن نے بتائی ہے۔ قرآن کریم تم سے اُٹھک بیٹھک کا مطالبہ نہیں کرتا۔ نہ وہ تم سے بھوکے رہنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ نہ اپنا ملک بے فائدہ چھوڑنے کا مطالبہ کرتا ہے، نہ اپنا مال گنوانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ قرآن کریم تو نماز کے متعلق یہ فرماتا ہے کہ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡکَرِ ؕ وَلَذِکۡرُ اللّٰہِ اَکۡبَرُ ؕ وَاللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تَصۡنَعُوۡنَ(۱۸) نماز تم سے فحشاء اور منکر کو ترک کروا دیتی ہے پس اگر وہ نتیجہ نہیں نکلتا جو نماز کا قرآن کریم نے بتایا ہے تو تمہاری نماز نماز نہیں ہے اور روزے کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ(۱۹) روزہ اس لئے مقرر کیا گیا ہے تا تمہارے اندر تقویٰ اور اخلاق فاضلہ پیدا ہوں۔ پس اگر تم روزے رکھتے ہو اور یہ نتیجہ پیدا نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ تمہاری نیت درست نہیں اور تم روزہ نہیں رکھتے بلکہ تم اپنے آپ کو بھوکا رکھتے ہو اور خدا تعالیٰ کو تمہارا بھوکا رکھنا تو مطلوب نہیں۔ اور حج کے لیے فرماتا ہے کہ یہ بغاوت کے خیالات کو روکنے اور باہمی جھگڑوں کو دور کرنے کا ذریعہ ہے۔ پس حج رفث اور فسق اور جدال کو روکنے کے لیے ہے۔ اور زکوٰۃ کے لیے فرماتا ہے خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمۡ وَتُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا(۲۰) زکوٰۃ تزکیہ فرد و قوم اور تطہیر قلب و افکار کے لئے مقرر کی گئی ہے۔ پس جب تک یہ نتائج پیدا نہ ہوں تمہارا حج اور تمہاری زکوٰۃ صرف دکھاوے کے ہیں۔ پس تم نماز پڑھو، روزہ رکھو، حج کرو، زکوٰۃ دو مگر تمہاری نماز اور روزے اور حج کو میں تب تسلیم کروں گا جب ان کا نتیجہ نکلے۔ اور تم فحشاء و منکر سے بچو اور تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو اور رفث اور فسوق اور جدال سے کلی طور پر دور ہو جاؤ اور تزکیہ فرد و قوم اور تطہیر قلب و افکار تم کو حاصل ہو لیکن جس شخص کے اندر یہ نتیجہ پیدا نہیں ہو گا میں اُسے اپنی جماعت میں نہیں سمجھوں گا کیونکہ اس نے قشر کو اختیار کیا مغز کو اختیار نہیں کیا جو خدا تعالیٰ کا مقصود تھا۔ اسی طرح تمام باقی عبادات کے متعلق آپ نے مغز پر زور دیا اور فرمایا کہ اسلام کا کوئی حکم ایسا نہیں جو حکمت کے بغیر ہو۔ خدا تعالیٰ آنکھوں کو نظر نہیں آتا۔ خدا تعالیٰ دل کو نظر آتا ہے۔ خدا تعالیٰ کو ہاتھوں سے نہیں چھوا جاتا، خدا تعالیٰ کو محبت سے چھوا جاتا ہے۔ پس مذہب کی غرض یہ نہیں کہ وہ صرف آنکھ اور ہاتھ پر حکومت کرے بلکہ جب بھی وہ آنکھ اور ہاتھ پر حکومت کرتا ہے تو وہ دل اور جذبات کو صاف کرنے کے لئے حکومت کرتا ہے تاکہ وہ قوتیں انسان کے اندر پیدا ہوں جن سے وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ سکے اور جن سے وہ خدا تعالیٰ کو چھو سکے اور وہ قوتیں پیدا ہوں کہ جن سے وہ خدا تعالیٰ کی آواز کو سن سکے۔ غرض ان باتوں پر زور دے کر آپ نے ایک راستہ اسلام کی ترقی کے لئے کھول دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ گو ایک چھوٹی سی جماعت پیدا ہوئی مگر ایک جماعت ایسی پیدا ہو گئی جس نے دین کو دنیا پر مقدم کر لیا اور اسلام کی روحانی ترقی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی بادشاہت کے قیام کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنی شروع کر دی۔

آپ لوگ سوچیں تو سہی کہ کہاں احمدیوں کی ایک چھوٹی سی جماعت اور کہاں تمام مسلمانوں کا عظیم الشان گروہ لیکن اسلام کی اشاعت اور اس کی ترقی کے لئے جو کچھ احمد یہ جماعت کر رہی ہے کیا باقی مسلمان جو ان سے ہزاروں گنا زیادہ ہیں ان سے نصف یا چوتھا حصہ بھی کر رہے ہیں؟ آخر یہ تبدیلی کیوں ہوئی؟ اسی لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے احمدیوں پر زور دیا تھا کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کریں۔ یہ حقیقت احمدیوں پر کھل گئی تو ان کے اعمال ایک نئے قسم کے اعمال ہو گئے۔ ایک سچے احمدی کی نماز وہ نماز نہیں جیسی ایک عام مسلمان نماز پڑھتا ہے۔ شکل وہی ہے ، کلمات وہی ہیں لیکن مغز اور ہے۔ احمدی نماز کو نماز کی خاطر پڑھتا ہے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق بڑھانے کے لئے پڑھتا ہے۔ شاید کوئی کہے کہ کیا باقی لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق بڑھانے کے لئے نماز نہیں پڑھتے ؟ میرا جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ اگر آپ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس وقت مسلمانوں میں بدقسمتی سے یہ خیال پیدا ہو چکا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ براہِ راست تعلق پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔ مسلمانوں کو عام طور پر یہ غلطی لگ رہی ہے کہ نہ خدا تعالیٰ آج بندوں سے بولتا ہے اور نہ بندے خدا تعالیٰ سے کوئی بات منوا سکتے ہیں۔ ایک صدی سے زیادہ عرصہ گذرا کہ الہامِ الٰہی کے نزول سے مسلمان منکر ہو چکے ہیں۔ بیشک اس سے پہلے مسلمانوں میں وہ لوگ موجود تھے جو کلام الٰہی کے نازل ہوتے رہنے کے قائل تھے۔ قائل ہی نہیں وہ اس بات کے بھی مدعی تھے کہ خدا تعالیٰ ان سے باتیں کرتا ہے لیکن ایک صدی سے مسلمانوں پر یہ آفت نازل ہوئی ہے کہ وہ کلی طور پر کلامِ الٰہی کے جاری رہنے سے منکر ہو گئے بلکہ بعض علماء نے تو اس حقیقت کے اظہار کو کفر قرار دے دیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آکر دنیا کے سامنے یہ دعویٰ پیش کیا کہ مجھ سے خدا تعالیٰ باتیں کرتا ہے اور مجھ سے ہی نہیں بلکہ جو شخص میری اتباع کرے گا اور میرے نقشِ قدم پر چلے گا اور میری تعلیم کو مانے گا اور میری ہدایت کو قبول کرے گا خدا تعالیٰ اس سے بھی باتیں کرے گا۔ آپ نے متواتر خدائی کلام کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور اپنے ماننے والوں میں تحریک کی کہ تم بھی خدا تعالیٰ کے ان انعامات کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ آپ نے فرمایا مسلمان پانچ وقت خدا تعالیٰ سے یہ دعا مانگتا ہے کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ(1:6-7)۲۱ اے خدا! تو ہمیں سیدھا رستہ دکھا ان لوگوں کا رستہ جن پر تو نے انعام نازل کئے تھے یعنی سابق انبیاء کرام۔ پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس کی یہ دعا ہمیشہ ہمیش کے لئے رائیگاں جاتی اور خدا تعالیٰ مسلمانوں میں سے کسی کے لیے بھی وہ رستہ نہ کھولتا جو پہلے نبیوں کے لئے کھولا گیا تھا اور کسی شخص سے بھی اس طرح کلام نہ کرتا جس طرح پہلے نبیوں سے کلام کرتا تھا۔ اس طرح آپ نے اس جمود کو کُلی طور پر دور کر دیا جو مسلمانوں کے دلوں پر طاری تھا۔ میں نہیں کہتا کہ ہر احمدی مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ ہر وہ احمدی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مقصد کو پوری طرح سمجھ گیا وہ نماز کو اس طرح نہیں پڑھتا کہ گویا وہ ایک فرض ادا کر رہا ہے۔ وہ نماز کو اس طرح پڑھتا ہے کہ گویا وہ خدا تعالیٰ سے کچھ لینے گیا ہے۔ وہ خدا تعالیٰ سے ایک نیا تعلق پیدا کرنے کے لئے گیا ہے اور اس ارادہ کے ساتھ جو شخص نماز پڑھے گا، سمجھ میں آسکتا ہے کہ اس کی نماز اور دوسرے لوگوں کی نماز یکساں نہیں ہو سکتی۔ آپ نے خدا تعالیٰ کے تعلق پر اس حد تک زور دیا کہ فرمایا کہ میرے دعوے کے ماننے کے لئے خدا تعالیٰ نے بہت سے دلائل دیئے ہیں۔ مگر میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم ان دلائل کو سوچو اور ان پر غور کرو۔ اگر تم ان دلائل پر سوچنے اور غور کرنے کا موقع نہیں پاتے یا اس کی ضرورت نہیں سمجھتے یا یہ خیال کرتے ہو کہ شاید ہماری عقل ان باتوں کے متعلق فیصلہ کرنے میں کوئی غلطی کر جائے تو میں تمہیں اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ سے میرے متعلق دعا کرو اور خدا تعالیٰ سے ہدایت چاہو کہ اگر یہ سچا ہے تو ہماری راہنمائی فرما اور اگر یہ جھوٹا ہے تو ہمیں اس سے دور رکھ اور فرمایا کہ اگر کوئی شخص سچے دل سے بغیر تعصب کے کچھ دن اس قسم کی دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کے لئے ہدایت کا رستہ کھول دے گا اور میری صداقت اس پر روشن کر دے گا۔ سینکڑوں اور ہزاروں آدمی ہیں جنہوں نے اس طرح کوشش کی اور خدا تعالیٰ سے روشنی پائی۔ یہ کتنی بڑی روشن دلیل ہے۔ انسان اپنی عقل میں غلطی کر سکتا ہے لیکن خدا تو اپنی راہنمائی میں غلطی نہیں کر سکتا اور کیسا یقین ہے اپنی سچائی پر اس شخص کو جو اپنی صداقت کے پہچاننے کے لئے اس قسم کا طریق فیصلہ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ کیا کوئی جھوٹا یہ کہہ سکتا ہے کہ جاؤ اور خدا سے میرے متعلق پوچھو؟ کیا کوئی جھوٹا شخص یہ خیال کر سکتا ہے کہ اس قسم کا فیصلہ میرے حق میں صادر ہو گا؟ جو شخص خدا کی طرف سے نہیں لیکن اس قسم کے طریق فیصلہ کو تسلیم کرتا ہے وہ تو گویا اپنے خلاف خود ہی ڈگری دے دیتا ہے اور اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارتا ہے۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیشہ ہی دنیا کے سامنے یہ بات پیش کی کہ میں اپنے ساتھ ہزاروں دلائل رکھتا ہوں لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر تمہاری ان دلائل سے تسلی نہیں ہوتی تو نہ میری سنو اور نہ میرے مخالفوں کی سنو۔ خدا تعالیٰ کے پاس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ آیا میں سچا ہوں یا جھوٹا ہوں اگر خدا تعالیٰ کہہ دے کہ میں جھوٹا ہوں تو بیشک جھوٹا ہوں لیکن اگر خدا تعالیٰ یہ کہے کہ میں سچا ہوں تو پھر تمہیں میری سچائی کے قبول کرنے سے کیا انکار ہے؟

اے عزیزو! یہ کتنا سیدھا اور راستبازی کا طریق فیصلہ تھا ہزاروں نے اس سے فائدہ اُٹھایا اور تمام وہ لوگ جو اس طریق فیصلہ کو اب بھی قبول کریں اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس طریق فیصلہ میں درحقیقت یہی حکمت کارفرما تھی کہ آپ سمجھتے تھے دین دنیا پر مقدم ہے۔ آپ فرماتے تھے خدا تعالیٰ نے مادی چیزوں کو دیکھنے کے لئے آنکھیں دی ہیں۔ مادی چیزوں کے سمجھنے کے لئے عقل بخشی ہے اور مادی اشیاء کو دکھانے کے لئے اس نے اپنا سورج پیدا کیا ہے اور ستارے پیدا کئے ہیں پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ روحانی ہدایتوں کے دکھانے کے لئے اس نے کوئی رستہ تجویز نہ کیا ہو۔ یقیناً جب کبھی بھی کوئی شخص اس سے روحانی چیزوں کے دیکھنے کی خواہش کرتا ہے، خدا تعالیٰ اس کے لئے رستہ کھول دیتا ہے وہ خود قرآن کریم میں فرماتا ہے وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(العنکبوت: ۷۰) جو لوگ بھی ہمارے ملنے کی خواہش رکھتے ہوئے جدوجہد سے کام لیتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنا رستہ دکھا دیتے ہیں۔

خلاصہ کلام یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا طریق اپنی جماعت کے لئے بھی کھولا اور اپنے منکروں کے سامنے بھی اسی طریق کو پیش کیا۔ ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے۔ وہ اب بھی کارخانۂ عالم چلا رہا ہے دنیا کا بھی اور دین کا بھی۔ ایک مؤمن کیلئے ضروری ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس سے تعلق پیدا کرے اور اس کے قریب ہوتا چلا جائے اور وہ شخص جس پر ہدایت ظاہر نہیں ہوئی اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے ہی روشنی چاہے اور اسی کی مدد سے حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ پس اصل کام اور اصل پیغام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہی تھا کہ وہ دنیا کی اصلاح کریں اور بنی نوع انسان کو پھر خدا تعالیٰ کی طرف لے جائیں اور جو لوگ خدا تعالیٰ کے ملنے سے مایوس ہیں ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی ملاقات کا یقین پیدا کریں اور اس قسم کی زندگی سے لوگوں کو روشناس کریں جو موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام اور دوسرے انبیاء کے زمانہ میں لوگوں کو نصیب تھی۔

اے عزیزو! پرانی کتابیں پڑھ کر دیکھو۔ پھر خود اپنے اسلاف کی تاریخ دیکھو کیا ان لوگوں کی زندگیاں مادی تھیں؟ کیا ان کے کام صرف مادی تدابیر سے چلتے تھے؟ وہ لوگ خدا تعالیٰ کی محبت کے حاصل کرنے کے لئے رات دن تڑپتے تھے اور ان میں سے کامیاب لوگ خدا تعالیٰ کے معجزات اور نشانات سے حصہ پاتے تھے اور یہی وہ زندگی تھی جو ان کو دوسری قوموں کے لوگوں سے ممتاز کرتی تھی لیکن آج وہ کونسا امتیاز ہے جو مسلمانوں کو ہندوؤں اور عیسائیوں اور دوسری قوموں کے مقابلہ میں حاصل ہے؟ اگر کوئی ایسا امتیاز نہیں تو پھر اسلام کی ضرورت کیا ہے؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا امتیاز ہے لیکن مسلمانوں نے اسے بھلا دیا اور وہ امتیاز یہ ہے کہ اسلام میں ہمیشہ کیلئے خدا تعالیٰ کا کلام جاری ہے اور ہمیشہ ہی خدا تعالیٰ کے ساتھ براہِ راست تعلق پیدا کیا جا سکتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان کے یہی تو معنی ہیں۔ آپ کے فیضان کے یہ معنی تو نہیں ہو سکتے کہ ہم بی اے یا ایم اے کا امتحان پاس کر لیں۔ کیا ایک عیسائی

بی اے یا ایم اے نہیں ہوتا۔ آپ کے فیضان کے یہ معنی تو نہیں ہیں کہ ہم نے کوئی بڑا کارخانہ چلا لیا ہے کیا عیسائی اور ہندو اور سکھ ایسے کارخانے نہیں چلاتے ۔ آپ کے فیضان کے یہ معنی تو نہیں کہ کوئی بڑی تجارتی کوٹھی ہم نے کھول لی اور دور دراز ملکوں میں ہم نے تجارتی کاروبار جاری کر دیا ہے۔ یہ بھی سب ہندو اور عیسائی اور یہودی کر رہے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان کے یہی معنی ہیں کہ آپ کے طفیل انسان کا خدا تعالیٰ کے ساتھ براہِ راست تعلق قائم ہو جائے۔ انسان کا دل خدا تعالیٰ کو دیکھے ۔ اس کی روح کا اس سے اتحاد ہو جائے ۔ وہ اس کا شیریں کلام سنے اور خدا تعالیٰ کے تازہ بتازہ نشانات اور آیات اس کے لئے ظاہر ہوں ۔ یہ وہ چیز ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کے بغیر کسی شخص کو دنیا میں نہیں مل سکتی اور یہی وہ چیز ہے جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع دوسری قوموں سے ممتاز ہیں ۔ پس اسی کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مسلمانوں کو توجہ دلائی اور یہی چیز اپنے نہ ماننے والوں کے سامنے پیش کی کہ خدا تعالیٰ نے یہ کھویا ہوا موتی مجھے دیا ہے اور یہ ضائع شدہ متاع مجھے بخشی ہے اور یہ سب کچھ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اور آپ کی اتباع سے ملا ہے اور اس مقام پر آپ ہی کے فیضان نے مجھے پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کئے لیکن وہ سب جزوی حیثیت رکھتے ہیں گو بہت اہم اور عظیم الشان ہیں لیکن اصل کام یہی تھا کہ آپ نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے اور مادیت پر روحانیت کو غالب کرنے کی مہم شروع کی اور یقیناً اسلام کو دوسرے ادیان پر غلبہ اسی رستہ سے ہوگا ۔ ہم توپوں اور بندوقوں سے اپنے ملکوں کا دفاع بھی کریں گے ۔ ہم بعض بعض دشمنوں پر ان ذرائع سے غالب بھی آئیں گے لیکن ساری دنیا پر اسلام کو جو غلبہ حاصل ہوگا وہ اسی روحانی طریقہ سے حاصل ہوگا جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے توجہ دلائی ہے۔ جب مسلمان مسلمان ہو جائے گا جب وہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے لگ جائے گا جب وہ روحانی اشیاء کو مادی اشیاء پر فوقیت دینے لگے گا تو وہ عیاشانہ زندگی جو اس وقت مغربی اقوام کی وجہ سے ہمارے ملک میں رائج ہو رہی ہے آپ ہی آپ مٹ جائے گی اور انسان کسی کے کہنے کی وجہ سے نہیں بلکہ خود اپنے نفس کی خواہش کے ماتحت لغویات کو چھوڑ دے گا اور سنجیدہ زندگی بسر کرنے لگ جائے گا اور اس کی زبان میں تاثیر پیدا ہو جائے گی اور اس کا ہمسایہ اس کے رنگ کو اختیار کرنے لگے گا اور عیسائی اور ہندو اور دوسرے ادیان کے لوگ بھی اسی طرح جس طرح کہ مکہ کے لوگوں نے کہا تھا یہ کہنا شروع کر دیں گے کہ لَوۡ کَانُوۡا مُسۡلِمِیۡنَ(15:3) ۲۳؎ کاش! وہ مسلمان ہوتے اور پھر ہوتے ہوتے یہ قول ان کا مکہ کے لوگوں کی طرح عمل میں بدل جائے گا اور وہ مسلمان ہو جائیں گے کیونکہ کوئی شخص زیادہ دیر تک اچھی بات سے دور نہیں رہ سکتا۔ پہلے رغبت پیدا ہوتی ہے، پھر لالچ آتی ہے، پھر کوشش پیدا ہوتی ہے اور آخر انسان کھنچا کھنچا اس چیز کی طرف آ ہی جاتا ہے۔ یہی اب بھی ہوگا۔ پہلے اسلام مسلمانوں کے دلوں میں داخل ہوگا۔ پھر وہ ان کے جسموں پر جاری ہو جائے گا۔ پھر غیر مسلم لوگ خود بخود ایسے کامل مسلمانوں کی نقل کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے اور دنیا مسلمانوں سے بھر جائے گی اور اسلام سے معمور ہو جائے گی۔

اے عزیزو! اس چھوٹے سے مضمون میں میں تفصیلی دلائل بیان نہیں کر سکتا اور احمدیت کے پیغام کی تمام جزئیات کو آپ کے سامنے پیش نہیں کر سکتا۔ میں نے اجمالی طور پر احمدیت کی غرض اور اس کا مقصد آپ لوگوں کے سامنے رکھ دیا ہے اور میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس مضمون پر غور کریں اور سوچیں کہ دنیا میں کبھی بھی مذہبی تحریکیں صرف دنیوی ذرائع سے غالب نہیں ہوئیں۔ مذہبی تحریکیں اصلاحِ نفس، تبلیغ اور قربانی ہی کے ساتھ ہمیشہ غالب آتی رہی ہیں۔ آدم علیہ السلام کے زمانہ سے لے کر اس وقت تک جو نہیں ہوا وہ اب بھی نہیں ہوگا اور جس ذریعہ سے آج تک خدا تعالیٰ کے پیغام دنیا میں پھیلتے رہے ہیں اسی طرح اب بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دنیا میں پھیلے گا۔ پس اپنی جانوں پر رحم کرتے ہوئے ، اپنی اولادوں پر رحم کرتے ہوئے اپنے خاندانوں اور اپنی قوموں پر رحم کرتے ہوئے ، اپنے ملک پر رحم کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے پیغام کو سننے اور سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے دروازے آپ کے لئے جلد سے جلد کھل جائیں اور اسلام کی ترقی پیچھے نہ پڑتی جائے ابھی بہت کام ہے جو ہم نے کرنا ہے۔ مگر اس کیلئے ہم آپ کی آمد کے منتظر ہیں کیونکہ خدائی ترقیات علاوہ معجزات کے دین کی اشاعت کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہیں۔ آپ آئیں اور اس بوجھ کو ہمارے ساتھ مل کر

اُٹھائیں جس بوجھ کا اُٹھانا اسلام کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ بے شک قربانی اور ایثار اور ملامت اور تعذیب ان سب چیزوں کا دیکھنا اس رستہ میں ضروری ہے، مگر خدا تعالیٰ کی راہ میں موت ہی حقیقی زندگی بخشتی ہے اور اس موت کو اختیار کئے بغیر کوئی شخص خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتا اور اس موت کو اختیار کئے بغیر اسلام بھی غالب نہیں ہو سکتا۔ ہمت کریں اور موت کے اس پیالہ کو منہ سے لگالیں تاکہ ہماری اور آپ کی موت سے اسلام کو زندگی ملے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین پھر تر و تازہ ہو جائے اور اس موت کو قبول کر کے ہم بھی اپنے محبوب کی گود میں ابدی زندگی کا لطف اُٹھائیں۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْنَ خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ اکتوبر ۱۹۴۸ء (الفضل ۶ نومبر ۱۹۴۸ء)

حاوی رہی۔ دوسری عالمی جنگ میں کنسر ویٹو ونسٹن چرچل نے مخلوط وزارت بنائی۔ ۵۱۔۱۹۴۵ء میں لیبر حکومت رہی اور چرچل کے زیر عنان پھر کنسر ویٹو سر برآرائے سلطنت ہوئے۔

(اُردو جامع انسائیکلوپیڈیا جلد ۲ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۸ء صفحہ ۱۲۲۱)

۱۲؎ الدخان: ۳۹ ۱۳؎ السجدة: ۶

۱۴؎ ابوداؤد کتاب الملاحم باب مایذکر فی قرن المائة

۱۵؎ كنز العمال جلد ۱۱ صفحہ ۱۸۱ مطبوعہ حلب ۱۹۷۴ء

۱۶؎ البقرة: ۳۱ ۱۷؎ البقرة: ۱۱۳ ۱۸؎ العنكبوت: ۴۶

۱۹؎ البقرة: ۱۸۴ ۲۰؎ التوبة: ۱۰۳ ۲۱؎ الفاتحه: ۶، ۷

۲۲؎ العنكبوت: ۷۰ ۲۳؎ الحجر: ۳

ہندوستان کے احمدیوں کے نام پیغام

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی

اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ

خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔ ھُوَ النَّاصِرُ

ہندوستان کے احمدیوں کے نام پیغام

(۲۰؍دسمبر ۱۹۴۸ء)

نیا ماحول اور نئی ذمہ داریاں

برادرانِ جماعت احمدیہ قادیان و ہندوستان یونین!

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُهُ

میں آپ لوگوں کو سالانہ جلسہ کے موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سنت قائم رکھنے کی توفیق پانے پر مبارکباد دیتا ہوں۔ سنا گیا ہے کہ ہندوستان یونین نے سَو کے قریب ہندوستانی احمدیوں کو جلسہ میں شامل ہونے کی اجازت دی ہے گو یہ اجازت بہت بعد میں ملی ہے اور شاید اس سے جماعت کے لوگ فائدہ نہ اُٹھا سکیں لیکن اگر بعض افراد کو اس سے فائدہ اُٹھانے کی توفیق ملی ہو تو میں انہیں بھی اِس اہم موقعہ پر حصہ لینے پر مبارکباد دیتا ہوں۔

برادران! جماعتیں بڑے صدمات میں سے گذرے بغیر کبھی بڑی نہیں ہوتیں۔ قربانی کے مواقع کا میسر آنا اور پھر قربانی کرنے کی قابلیت کا ظاہر کر دینا، یہی افراد کو جماعتوں میں تبدیل کر دیتا ہے اور اس سے جماعتیں بڑی جماعت بنتی ہیں۔ ہماری قربانیاں اس وقت تک بالکل اور قسم کی تھیں اور ان کو دیکھتے ہوئے نہیں کہا جا سکتا تھا کہ ہماری جماعت کے بڑے بننے کے امکانات موجود ہیں۔ مگر اب جو قادیان کا حادثہ پیش آیا ہے وہ اس قسم کے واقعات میں سے ہے جو قوموں کو بڑا بنایا کرتے ہیں۔ اگر اس وقت ہماری جماعت نے اپنے فرائض کو سمجھا، اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کیا تو بڑائی اور عظمت اور خدائی برکات یقیناً اس کے شامل حال ہوں گی اور وہ اس کام کو پورا کرنے میں کامیاب ہو گی جو خدا تعالیٰ نے اس کے سپرد کیا ہے۔

میں قادیان کے رہنے والے احمدیوں کو اس امر کی طرف خصوصیت کے ساتھ توجہ دلاتا ہوں کہ وہ شور و شر کا زمانہ جس نے عمل کے مواقع کو بالکل باطل کر دیا تھا اب ختم ہو رہا ہے۔ آہستہ آہستہ امن فساد کی جگہ لے رہا ہے۔ بہت سی جگہوں کے راستے کھل گئے ہیں اور باقی کے متعلق امید ہے کہ آہستہ آہستہ کھل جائیں گے مگر جس رنگ میں کام چل رہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ساری دنیا کی جماعت احمدیہ کا ایک مرکز پر جمع ہو جانا ابھی کچھ وقت چاہتا ہے۔ وہ وقت لمبا ہو یا چھوٹا لیکن بہرحال جب تک وہ وقت نہ آئے جس حد تک موجودہ تعطل کو دور کیا جا سکے اس کا دُور کیا جانا ضروری ہے۔ گذشتہ سال جو تعطل واقع ہوا وہ معافی کے قابل تھا کیونکہ تمام علاقے آپس میں کٹے ہوئے تھے اور ایک دوسرے تک خبر پہنچانا ناممکن تھا لیکن اب وہ حالت نہیں رہی۔ اب کسی نہ کسی ذریعہ سے قادیان اور ہندوستان کی جماعتوں کا تعلق قائم رکھا جا سکتا ہے اور تبلیغ اور اشاعت کے کام کو بھی ہاتھوں میں لیا جا سکتا ہے۔ گذشتہ ایام میں جو تباہی آئی اس موقعہ پر قادیان کے اکثر احباب نے نہایت ہی عمدہ نمونہ دکھایا اور قابلِ تعریف قربانی پیش کی۔ جس پر میں ہی نہیں ہندوستان اور پاکستان کے لوگ ہی نہیں بلکہ دنیا کے دور دراز ملکوں کے لوگ بھی قادیان کے لوگوں کی قربانی کی تعریف کر رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کے لوگ اب قادیان کو صرف ایک مذہبی مرکز کے طور پر نہیں دیکھ رہے بلکہ قربانی کرنے والے ایثار کرنے والے اور اس دکھ بھری دنیا کو اس کے دکھوں سے نجات دینے کی کوشش کرنے والے لوگوں کا مرکز سمجھ رہے ہیں۔ اس نقطۂ نگاہ سے قادیان اب صرف احمدیوں کا مرکز نہیں رہا بلکہ وہ مختلف مفید عام کاموں کی خواہش رکھنے والے لوگوں کی توجہ کا مرکز بھی ہو گیا ہے۔ ابھی چند دنوں کی بات ہے کہ ایک مجلس میں شامل ہونے کا مجھے موقع ملا۔ میرے پاس امریکن قونصل جنرل کی بیوی تشریف رکھتی تھیں۔ مجلس سے اٹھتے وقت میں نے ان سے کہا کہ اپنے خاوند سے مجھے انٹروڈیوس کرا دیں۔ انہوں نے اپنے خاوند کو مجھ سے ملوایا۔ ملنے کے بعد سب سے پہلے فقرہ جو امریکن قونصل جنرل نے کہا وہ یہ تھا کہ مجھے قادیان دیکھنے کی بہت خواہش ہے افسوس ہے کہ اس وقت تک میں اس خواہش کو پورا نہیں کر سکا۔ میں نے کہا ہمیں بھی بہت خواہش ہے

لیکن افسوس کہ اس وقت ہم بھی اس خواہش کو پورا نہیں کر سکتے۔ اسے سن کر نہایت افسوس سے امریکن قونصل جنرل نے کہا۔ ہاں ہمیں بھی اس بات کا بہت افسوس ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے گو احمد یہ جماعت کی اکثریت قادیان کو چھوڑنے پر مجبور ہوئی ہے اور اب صرف چند سو احمدی قادیان میں رہ گئے ہیں لیکن قادیان پہلے سے بھی زیادہ دنیا کی توجہ کا مرکز ہو گیا ہے اور اس کی وجہ وہی قربانی اور شاندار نمونہ ہے جو قادیان کے احمدیوں نے پیش کیا اور آپ لوگ اس قربانی کی مثال کو زندہ رکھنے والے ہیں اور اس وجہ سے اس معاملہ میں سب سے زیادہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ لیکن صرف کسی چیز کو زندہ رکھنا کافی نہیں ہوا کرتا اس چیز کو زیادہ سے زیادہ پھیلانا اصل کام ہوتا ہے۔ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس نور آسمانی کو اپنے دل میں زندہ رکھتے جو آسمان سے اس وقت نازل ہوا تھا تو یہ بھی ایک بہت بڑا کام ہوتا لیکن اتنا بڑا کام نہیں جو اس صورت میں ہوا کہ آپؐ نے اس نور کو اپنے دل ہی میں زندہ نہیں رکھا بلکہ ہزاروں لاکھوں اور انسانوں کو بھی اس نور سے منور کر دیا۔ صحابہ کرامؓ نے اس نور کو اپنی زندگیوں میں زندہ رکھ کر ایک بہت بڑا نمونہ دکھایا لیکن ان کا یہ نمونہ اس سے بھی زیادہ شاندار تھا کہ انہوں نے نورِ محمدی کا ایک حصہ اپنے سینوں سے نکال کر لاکھوں اور کروڑوں دیگر انسانوں کے دلوں میں بھی بھر دیا۔ پس اے میرے عزیزو! آپ کی زندگی کا پہلا دور ختم ہوتا ہے اور نیا دور شروع کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ پہلے دور کی مثال ایسی تھی جیسے چٹان پر ایک لیمپ روشن کیا جاتا ہے تاکہ وہ قریب آنے والے جہازوں کو ہوشیار کرتا رہے اور تباہی سے بچائے لیکن نئے دور کی مثال اس سورج کی سی ہے جس کے گرد دنیا گھومتی ہے اور جو باری باری ساری دنیا کو روشن کر دیتا ہے۔ بیشک آپ کی تعداد قادیان میں تین سو تیرہ ہے لیکن آپ اس بات کو نہیں بھولے ہوں گے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قادیان میں خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے کام کو شروع فرمایا تھا تو اس وقت قادیان میں احمدیوں کی تعداد صرف دو تین تھی۔ تین سو آدمی یقیناً تین سے زیادہ ہوتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعوے کے وقت قادیان کی آبادی گیارہ سو تھی۔ گیارہ سو اور تین کی نسبت ۱/۳۶۶ کی ہوتی ہے۔ اگر اس وقت قادیان کی آبادی بارہ ہزار سمجھی جائے تو موجودہ احمدیہ آبادی کی نسبت باقی قادیان کے لوگوں سے ۳۶/۱ ہوتی ہے۔ گویا جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کام شروع کیا اُس سے آپ کی طاقت اِس وقت دس گنے زیادہ ہے۔ پھر جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کام شروع کیا اس وقت قادیان سے باہر کوئی احمدیہ جماعت نہیں تھی لیکن اب ہندوستان میں بھی بیسیوں جگہ پر احمدیہ جماعتیں قائم ہیں۔ ان جماعتوں کو بیدار کرنا، منظّم کرنا، ایک نئے عزم کے ساتھ کھڑا کرنا اور اس ارادہ کے ساتھ ان کی طاقتوں کو جمع کرنا کہ وہ اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کو ہندوستان کے چاروں گوشوں میں پھیلا دیں یہ آپ لوگوں کا ہی کام ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ قادیان احمدیوں کا مرکز ہے۔ آپ لوگ بھی کہتے ہیں کہ ہم اس لئے قادیان میں بیٹھے ہیں کہ یہ ہم احمدیوں کا مرکز ہے۔ اب یہ آپ لوگوں کا فرض ہے کہ مرکز کو مرکز کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کریں۔ مرکز چند مجاوروں کے جمع ہو کر بیٹھ جانے کا نام نہیں۔ مرکز ایک بےانتہاء جذبہ کا نام ہے جو اپنے ماحول پر چھا جانے کا ارادہ کر کے کھڑا ہو۔ مرکز کا نام قرآن کریم میں ماں رکھا ہے اور ماں وہی ہوتی ہے جو اپنا خون پلا کر بچوں کو پالتی، بڑا کرتی اور جوان کرتی ہے۔ پس قادیان مرکز اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی چھاتیوں کا دودھ تمام طالبانِ صداقت کو پیش کرے، ان کو پالے اور ان کی پرورش کرے اور ان کو پروان چڑھائے۔ پس آپ لوگ اب اپنی نئی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے نئے سرے سے اپنے دفاتر کی تنظیم کریں اور ہندوستان کی باقی جماعتوں کو دوبارہ زندہ کرنے اور زندہ رکھنے کی کوشش کریں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان کو بڑھانے اور پھیلانے کی کوشش کریں۔ وہ تمام اغراض جن کے لئے احمدیہ جماعت قائم کی گئی تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابوں میں لکھی ہوئی موجود ہیں۔ ان اغراض کو سامنے رکھ کر صدر انجمن احمدیہ کی تنظیم کریں اور تمام ہندوستان کی جماعتوں کے ساتھ خط و کتابت کر کے ان کو منظّم کریں اور پھیلنے پھولنے میں مدد دیں۔ اس کام کے متعلق میں چند تجاویز آپ لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہوں:

اوّل۔

ہندوستان یونین کی تمام احمدیہ جماعتوں کی لسٹیں جمع کریں۔ (جو لسٹیں وہاں موجود نہ ہوں وہ لسٹیں پاکستان کے مرکز سے منگوا لیں)

(۲)

پریس کو دوبارہ جاری کرنے کی کوشش کریں۔ جب تک قادیان کا پریس واگذار

نہیں ہوتا اس وقت تک ضروری اشتہارات لکھ کر دہلی بھجوا دیا کریں اور وہاں سے چھپوا کر ریل میں منگوا لیا کریں اور پھر ڈاک کے ذریعہ تمام ہندوستانی جماعتوں میں تقسیم کر دیا کریں۔

(۳) چونکہ گذشتہ صدمہ سے بعض جماعتوں میں کمزوری پیدا ہوگئی ہے اس کو دُور کرنے کے لئے مختلف علاقوں میں مبلغ مقرر کریں تا کہ وہ پھر پھر کے جماعتوں کی دوبارہ تنظیم کریں ۔ اس وقت مبلّغ صرف دہلی ، بمبئی ، حیدر آباد دکن ، بہار ، اڑیسہ ، اور کلکتہ میں ہیں ۔ جونہی آپ کام کرنے کے قابل ہو جائیں اور اپنے انتظامات کو مکمل کر لیں دہلی کے مبلغ کی طرح باقی مبلّغوں کو بھی براہِ راست قادیان کے ماتحت کر دیا جائیگا مگر اب بھی حقیقتاً وہ آپ ہی کے ماتحت ہیں اور آپ کو ان سے کام لینا چاہئے۔

(۴) اس وقت قادیان میں قریباً دو درجن دیہاتی مبلّغ ہیں ۔ ان لوگوں کو کوشش کر کے دہلی پہنچایا جائے اور وہاں سے آگے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں جہاں احمدیہ جماعتیں قائم ہیں پھیلا دیا جائے ۔ یہ لوگ وہاں جا کر نہ صرف موجودہ جماعتوں کی تنظیم کریں بلکہ جماعت کو وسیع کرنے کی کوشش کریں ۔ چونکہ آپ لوگ انڈین یونین میں ہیں اور وفادار شہریوں کی حیثیت میں ہیں کوئی وجہ نہیں کہ حکومت آپ میں اور دوسرے کام کرنے والے مسلمانوں میں کوئی فرق کرے ۔ ان جانے والوں کے بدلے میں ہندوستان کی جماعتوں میں تحریک کر کے نئے واقفین بُلوا کے قادیان میں رکھے جائیں جو قادیان میں آکر تعلیم حاصل کریں اور پھر بیرونی جماعتوں میں پھیلا دیئے جائیں ۔ سر دست اگر جلسہ میں کچھ احمدی باہر سے آکر شامل ہوئے ہیں تو ان کے ساتھ پانچ دیہاتی مبلّغ بھجوا دیئے جائیں جو مولوی بشیر احمد صاحب دہلوی کی نگرانی میں یو ۔ پی کے مختلف علاقوں میں کام کریں ۔ یو ۔ پی کی جماعتوں میں سے لکھنؤ ، شاہجہانپور اور بریلی ، آگرہ کی اچھی جماعتیں تھیں لیکن اب دیر سے ان کا پتہ ہی نہیں لگتا کہ وہ کہاں ہیں ۔ اگر یہ لوگ وہاں جا کر کام کریں تو نہ صرف وہ جماعتیں جلد منظّم ہو جائیں گی بلکہ نئے سرے سے پھولنے اور پھلنے لگ جائیں گی ۔ ان جانے والے مبلّغین کو سمجھا دیا جائے اگر بعض جماعتیں گذشتہ صدمات کی برداشت نہ کر کے بالکل مردہ ہوچکی ہوں تب بھی گھبرائیں نہیں ۔ ایک دو تین جتنے احمدی مل سکیں ان کو جمع کر کے نئے سرے سے کام شروع کر دیں ۔ پھر وہ انشاء اللہ دیکھیں گے کہ ابھی چند دن بھی نہیں گزرے ہوں گے اور پہلے سے بھی زیادہ مضبوط جماعتیں وہاں قائم ہو جائیں گی بلکہ اردگرد کے علاقوں میں بھی احمدیت پھیلنے لگ جائے گی۔ یہ یاد رہے کہ سب کے سب مبلغوں کو اکٹھا نہ بھجوایا جائے کیونکہ ممکن ہے کہ ان کے قائم مقاموں کے آنے میں دقت پیدا ہو اور قادیان کی احمدی آبادی کم ہو جائے ۔ اس خطرہ کو آپ کبھی نہ بھولیں اور ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھیں ۔ ہمیشہ پہلے باہر سے آنے والوں کو اندر لایا کریں اور پھر بعض دوسروں کو باہر جانے کی اجازت دیا کریں سوائے ان پانچ کے جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔

(۵) چونکہ اب ملک میں ہندی کا زور ہو گا اسلئے آپ لوگ بھی دیوناگری رسم الخط کے سیکھنے کی کوشش کریں اور ہندی زبان میں لٹریچر کی اشاعت کی طرف خاص توجہ دیں۔

(۶) جب تک باہر سے واقفین کے آنے کی پوری آزادی نہ ہو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ طالب علموں کو مولوی بشیر احمد صاحب اپنے ساتھ رکھ کر دہلی میں پڑھائیں اور کچھ طالب علموں کو ساتھ رکھ کر مولوی محمد سلیم صاحب کلکتہ میں پڑھائیں اور کچھ طالب علموں کو ساتھ رکھ کر مولوی عبدالمالک صاحب حیدرآباد میں پڑھائیں اور پھر ان کو اردگرد کے علاقوں میں پھیلاتے چلے جائیں لیکن یہ مدنظر رکھا جائے کہ ہندوستان کے چندوں سے ہندوستان کا خرچ چل سکے اور قادیان کی آبادی کا خرچ بھی وہیں سے نکل سکے۔

(۷) قادیان میں احمدیوں کے آنے اور قادیان کے احمدیوں کو ہندوستان یونین میں جانے کے متعلق آزادی کرانے کے لئے آپ لوگ باقاعدہ کوشش کریں اور کوشش کرتے چلے جائیں تاکہ قادیان میں پھر زائرین آنے لگ جائیں اور قادیان کی نہر ایک کھڑے پانی کے جوہڑ کی سی شکل اختیار نہ کرلے۔

(۸) آبادی کی زندگی کے لئے عورتوں اور بچوں کا ہونا بھی ضروری ہے ۔ آپ لوگ متواتر حکومت کے ساتھ خط و کتابت کریں اور کوشش کریں کہ ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ قادیان کے ساکنان کے بیوی بچے وہاں حفاظت کے ساتھ رہ سکیں ۔

(۹) جونہی قادیان میں کچھ ایسے نوجوان آجائیں جن کا تعلیم پانے کا زمانہ ہو تو فوراً ایک سکول کی بنیاد رکھ دی جائے جس کے متعلق کوشش ہو کہ وہ آہستہ آہستہ بڑھتا چلا جائے۔

(۱۰) ہندوستان یونین کی صدر انجمن احمدیہ نے ایک دن کے لئے بھی ہندوستان نہیں چھوڑا۔ اسی طرح وہاں کی تحریک جدید انجمن بھی وہیں ہے۔ یہ انجمنیں قادیان کی جائداد کا مطالبہ کرسکتی ہیں۔ آپ کو بڑے زور سے اس امر کا مطالبہ کرنا چاہئے۔ افراد کی جائداد کا بے شک جھگڑا ہولیکن صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید جو کہ ہندوستان یونین میں موجود ہیں تو کیوں حکومت ان کے سپرد ان کی جائداد نہ کرے۔ کالج، سکول، ہسپتال، ریتی چھلہ، زنانہ سکول، دارالانوار کا گیسٹ ہاؤس، خدام الاحمدیہ کے دفاتر، تحریک جدید کی زمینیں، ان کے مالک قادیان میں بیٹھے ہیں۔ آپ لوگ اس کے متعلق دعویٰ کریں اور ان لفظوں میں کریں کہ جبکہ ان جگہوں کے مالک صدر انجمن احمدیہ، تحریک جدید اور خدام الاحمدیہ قادیان میں موجود ہیں اور جبکہ ان جگہوں سے فائدہ اٹھانے والے احمدی ہندوستان یونین میں موجود ہیں تو کس قانون کے ماتحت ان چیزوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔ یہ چیزیں ہمارے سپرد ہونی چاہئیں اور ہمیں ان کے استعمال کا موقع دینا چاہئے۔ عقل کے ساتھ اور ادب کے ساتھ اگر ان مطالبات کو حکام کے سامنے بار بار رکھا جائے اور ان پر یہ روشن کیا جائے کہ ہندوستان یونین کے احمدی ہندوستان یونین کے وفادار ہیں جس طرح پاکستان کے احمدی پاکستان کے وفادار ہیں پھر ان سے باغیوں کا سا سلوک کیوں کیا جاتا ہے تو یقیناً حکومت ایک دن اپنا رویہ بدلنے پر مجبور ہوگی۔

(۱۱) جب تک پریس نہیں ملتا اس وقت جماعتوں کے نام چٹھی لکھ کر ہر پندرھویں روز بھجوانا شروع کریں جس میں جماعتوں کو ان کے فرض کی طرف توجہ دلائی جائے۔ اگر عہدہ داران جگہ چھوڑ گئے ہیں تو نئے عہدہ دار مقرر کرنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔ اگر عہدہ دار عہدوں پر موجود ہیں لیکن کام نہیں کرتے تو ان کو کام کرنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔ اگر بالکل بیدار نہیں ہوتے تو ان کو بدلنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فَذَکِّرۡ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّکۡرٰی(87:10)؎۱ اگر آپ پیچھے پڑ جائیں گے تو یقیناً ایمان کی چنگاری پھر سُلگ اٹھے گی سونے والے پھر بیدار ہو جائیں گے بلکہ مردے بھی زندہ ہو جائیں گے اور پھر تروتازگی اور نشوونما کے آثار ظاہر ہونے لگ جائیں گے۔ آپ تین سو سے زیادہ آدمی وہاں ہیں۔ اگر ان میں سے سو آدمی کا خط پڑھے جانے کے قابل ہو اور ہر چٹھی تین تین سَو کی تعداد میں باہر بھیجی جائے تو ہر لکھے پڑھے آدمی کو پندرہ دن میں صرف تین چٹھیوں کو نقل کرنا پڑتا ہے اور یہ کوئی بڑا کام نہیں۔ ان چٹھیوں میں ایمان کو ابھارنے یا زندگی کو قائم رکھنے، ہمت سے کام لینے اور خدا تعالیٰ کے ان بے انتہاء فضلوں میں حصہ لینے کی دعوت ہو جن کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وعدہ کیا گیا تھا۔ طرح طرح سے اور بار بار جماعتوں کو ہلایا جائے، جگایا جائے اور نہ صرف ہلایا جائے اور جگایا جائے بلکہ تبلیغ کر کے اپنے آپ کو وسیع کرنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔ اس وقت مسلمان بے کسی کی حالت میں پڑا ہے۔ اس وقت وہ سچائی پر غور کرنے کیلئے تیار ہے۔ وہ اس ہاتھ کیلئے ترس رہا ہے جو اس کو پکڑ کر نجات کی طرف لے جائے۔ اگر آج آپ لوگ صحیح طور پر جماعتوں کو بیدار کرنے کی طرف توجہ کریں تو ہندوستان میں احمدیت کے پھیلنے کا بے نظیر موقع ہے۔ سر دست مولوی بشیر احمد صاحب یو۔ پی کی جماعتوں کو منظّم کریں اور یو۔ پی کے تمام چندے سوائے تحریکِ جدید کے چندہ کے جو غیر ممالک کی تبلیغ پر خرچ ہوتا ہے قادیان بھجوائیں آپ لوگ باقاعدہ خط و کتابت کے ذریعہ سے ہمیں بتاتے رہیں کہ فلاں فلاں جماعت منظّم ہو گئی ہے اور ان کا چندہ قادیان میں آنے لگ گیا ہے تا ایسا نہ ہو کہ دوعملی کی وجہ سے کوئی جماعت بالکل تباہ ہو جائے۔ جب آپ یو۔ پی کی جماعتوں کو منظّم کر لیں گے تو ہم دوسرے صوبوں کو باری باری آپ کے سپرد کرتے چلے جائیں گے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اب خاموشی سے جھنڈے کو پکڑ کر کھڑے رہنے کا وقت گزر چکا۔ وہ کام آپ نے شاندار طور پر کیا جس کے لئے دنیا بھر کے احمدی آپ لوگوں کے ممنون ہیں اور آنے والی نسلیں بھی آپ کی ممنون رہیں گی مگر انسان ایک بڑھنے والی ہستی ہے۔ ہر روز اس کے حالات متغیر ہوتے ہیں اور ہر روز کے بدلے ہوئے حالات کے مطابق اسے کام کرنا پڑتا ہے کل کی روٹی آج کام نہیں آسکتی اور آج کی روٹی آنے والے کل کام نہیں آسکتی۔ پس وہ عظیم الشان خدمت جس کے کرنے کی اللہ تعالیٰ نے آپ کو توفیق بخشی ہے اس کا تقاضا ہے کہ اب آپ اگلا قدم اُٹھائیں اور قادیان کے خاموش مرکز کو ایک زندہ مرکز میں تبدیل کر دیں۔ ہندوستان یونین کی آبادی ۲۸، ۲۹؍کروڑ کے قریب ہے۔ اس کی اصلاح اور نجات کوئی معمولی کام نہیں، کسی زمانہ میں ساری دنیا کی آبادی اتنی ہی تھی۔ پس آج سے سینکڑوں سال پہلے ساری دنیا کی