فہرست

انوار العلوم جلد ۲

صفحات ۱–۶۱۳

کلماتِ طیّبات

(بیعت خلافت کے وقت پہلی تقریر)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

نحمده ونصلى على رسوله الكريم بسم الله الرحمن الرحيم

کلماتِ طیّبات

حضرت مصلح موعود کی ”بیعت خلافت“ کے وقت پہلی تقریر (مؤرخہ ۱۴۔مارچ ۱۹۱۴ء)

اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ

سنو!

دوستو! میرا یقین اور کامل یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ میرے پیارو! پھر میرا یقین ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں میرا یقین ہے کہ آپ کے بعد کوئی شخص نہیں آسکتا جو آپ کی دی ہوئی شریعت میں سے ایک شوشہ بھی منسوخ کرسکے۔

میرے پیارو! میرا وہ محبوب آقا سید الانبیاء ایسی عظیم الشان شان رکھتا ہے کہ ایک شخص اس کی غلامی میں داخل ہو کر کامل اتباع اور وفاداری کے بعد نبیوں کا رتبہ حاصل کرسکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ آنحضرت ﷺ ہی کی ایسی شان اور عزت ہے کہ آپؐ کی سچی غلامی میں نبی پیدا ہو سکتا ہے یہ میرا ایمان ہے اور پورے یقین سے کہتا ہوں۔

پھر میرا یقین ہے کہ قرآن مجید وہ پیاری کتاب ہے جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی ہے اور وہ خاتم الکتب اور خاتم شریعت ہے۔ پھر میرا یقین کامل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہی نبی تھے جس کی خبر مسلم میں ہے۔ اور وہی امام تھے جس کی خبر بخاری میں ہے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ شریعت اسلامی سے کوئی حصہ اب منسوخ نہیں ہو سکتا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اعمال کی اقتداء کرو۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں اور کامل تربیت کا نمونہ تھے۔ آنحضرت کے بعد دوسرا اجماع جو ہوا وہ وہی خلافت حقہ راشدہ کا سلسلہ ہے۔ خوب غور سے دیکھ لو اور تاریخ اسلام میں پڑھ لو کہ جو ترقی اسلام کی خلفائے راشدین کے زمانہ میں ہوئی جب وہ خلافت محض حکومت کے رنگ میں تبدیل ہو گئی تو گھٹتی گئی۔ یہاں تک کہ اب جو اسلام اور اہلِ اسلام کی حالت ہے تم دیکھتے ہو۔ تیرہ سو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسی منہاج نبوۃ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت کے وعدوں کے موافق بھیجا اور ان کی وفات کے بعد پھر وہی سلسلہ خلافت راشدہ کا چلا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح مولانا مولوی نور الدین صاحب (ان کا درجہ اعلیٰ علیین میں ہو۔ اللہ تعالیٰ کروڑوں کروڑ رحمتیں اور برکتیں ان پر نازل کرے جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت ان کے دل میں بھری ہوئی اور ان کے رگ و ریشہ میں جاری تھی جنت میں بھی اللہ تعالیٰ انھیں پاک وجودوں اور پیاروں کے قرب میں آپ کو اکٹھا کرے) اس سلسلہ کے پہلے خلیفہ تھے۔ اور ہم سب نے اسی عقیدہ کے ساتھ ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ پس جب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا اسلام مادی اور روحانی طور پر ترقی کرتا رہے گا۔ اس وقت جو تم نے پکار پکار کر کہا ہے کہ میں اس بوجھ کو اٹھاؤں اور تم نے بیعت کے ذریعہ اظہار کیا ہے میں نے مناسب سمجھا کہ میں تمہارے آگے اپنے عقیدہ کا اظہار کروں۔

میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ میرے دل میں ایک خوف ہے اور اپنے وجود کو بہت ہی کمزور پاتا ہوں حدیث میں آیا ہے کہ تم اپنے غلام کو وہ کام مت بتاؤ جو وہ کر نہیں سکتا۔ تم نے مجھے اس وقت غلام بنانا چاہا ہے تو وہ کام مجھے نہ بتانا جو میں نہ کر سکوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں کمزور اور گنہگار ہوں میں کس طرح دعویٰ کر سکتا ہوں کہ دنیا کی ہدایت کر سکوں گا اور حق اور راستی کو پھیلا سکوں گا۔ ہم تھوڑے ہیں اور اسلام کے دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم اور غریب نوازی پر ہماری امیدیں بے انتہاء ہیں۔ تم نے یہ بوجھ مجھ پر رکھا ہے تو سنو اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے لئے میری مدد کرو اور وہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ سے فضل اور توفیق چاہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور فرمانبرداری میں میری اطاعت کرو۔

میں انسان ہوں اور کمزور انسان مجھ سے کمزوریاں ہوں گی تو تم چشم پوشی کرنا۔ تم سے غلطیاں ہوں گی میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر سمجھ کر عہد کرتا ہوں کہ میں چشم پوشی اور درگزر کروں گا اور میرا اور تمہارا متحد کام اس سلسلہ کی ترقی اور اس سلسلہ کی غرض و غایت کو عملی رنگ میں پورا کرنا ہے۔ پس اب جو تم نے میرے ساتھ ایک تعلق پیدا کیا ہے اس کو وفاداری سے پورا کرو۔ تم مجھ سے اور میں تم سے چشم پوشی خدا کے فضل سے کرتا رہوں گا۔ تمہیں امر بالمعروف میں میری اطاعت اور فرمانبرداری کرنی ہوگی۔ اگر نعوذ باللہ کہوں کہ خدا ایک نہیں تو اسی خدا کی قسم دیتا ہوں جس کے قبضۂ قدرت میں ہم سب کی جان ہے جو وحدہٗ لا شریک اور لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ(الشوریٰ: ۱۲) ہے کہ میری ایسی بات ہرگز نہ ماننا۔

اگر میں تمہیں نَعُوْذُ بِاللّٰهِ نبوت کا کوئی نقص بتاؤں تو مت مانو۔ اگر قرآن کریم کا کوئی نقص بتاؤں تو پھر خدا کی قسم دیتا ہوں مت مانو۔ حضرت مسیح موعودؑ نے جو خدا تعالیٰ سے وحی پا کر تعلیم دی ہے اس کے خلاف کہوں تو ہرگز ہرگز نہ ماننا۔ ہاں میں پھر کہتا ہوں اور پھر کہتا ہوں کہ امر معروف میں میری خلاف ورزی نہ کرنا۔ اگر اطاعت اور فرمانبرداری سے کام لوگے اور اس عہد کو مضبوط کرو گے تو یاد رکھو اللہ تعالیٰ کا فضل ہماری دستگیری کریگا۔

ہماری متّحد دعائیں کامیاب ہوں گی

اور میں اپنے مولیٰ کریم پر بہت بڑا بھروسہ رکھتا ہوں مجھے یقین کامل ہے کہ میری نصرت ہوگی۔ پرسوں جمعہ کے روز میں نے ایک خواب سنایا تھا کہ میں بیمار ہو گیا اور مجھے ران میں درد محسوس ہوا۔ اور میں نے سمجھا کہ شاید طاعون ہونے لگا تب میں نے اپنا دروازہ بند کر لیا اور فکر کرنے لگا کہ یہ کیا ہونے لگا ہے۔ میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ سے وعدہ کیا تھا۔ اِنِّيْ اُحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ۔ (تذکرہ صفحہ ۴۲۷) یہ خدا کا وعدہ آپ کی زندگی میں پورا ہوا۔ شاید خدا کے مسیحؑ کے بعد یہ وعدہ نہ رہا ہو کیونکہ وہ پاک وجود ہمارے درمیان نہیں۔ اسی فکر میں میں کیا دیکھتا ہوں یہ خواب نہ تھا بیداری تھی میری آنکھیں کھلی تھیں میں در و دیوار کو دیکھتا تھا کمرے کی چیزیں نظر آرہی تھیں میں نے اسی حالت میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا کہ ایک سفید اور نہایت چمکتا ہوا نور ہے۔ نیچے سے آتا ہے اور اوپر چلا جاتا ہے نہ اس کی ابتداء ہے نہ انتہاء اس نور میں سے ایک ہاتھ نکلا جس میں ایک سفید چینی کے پیالہ میں دودھ تھا۔ جو مجھے پلایا گیا جس کے بعد معاً مجھے آرام ہو گیا اور کوئی تکلیف نہ رہی۔ اس قدر حصہ میں نے سنایا تھا۔ اس کا دوسرا حصہ اُس وقت میں نے نہیں سنایا اب سناتا ہوں وہ پیالہ جب مجھے پلایا گیا تو معاً میری زبان سے نکلا ”میری امت بھی کبھی گمراہ نہ ہوگی“ میری امت کوئی نہیں تم میرے بھائی ہو مگر اس نسبت سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت مسیح موعودؐ کو ہے یہ فقرے نکلے۔ جس کام کو مسیح موعودؐ نے جاری کیا اپنے موقعہ پر وہ امانت میرے سپرد ہوئی ہے۔ پس دعائیں کرو اور تعلقات بڑھاؤ اور قادیان آنے کی کوشش کرو اور بار بار آؤ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا اور بار بار سنا کہ جو یہاں بار بار نہیں آتا اندیشہ ہے کہ اس کے ایمان میں نقص ہو۔ اسلام کا پھیلانا ہمارا پہلا کام ہے مل کر کوشش کرو تاکہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں اور فضلوں کی بارش ہو۔ میں پھر تمہیں کہتا ہوں پھر کہتا ہوں اور پھر کہتا ہوں اب جو تم نے بیعت کی ہے اور میرے ساتھ ایک تعلق حضرت مسیح موعودؐ کے بعد قائم کیا ہے اس تعلق میں وفاداری کا نمونہ دکھاؤ اور مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھو میں ضرور تمہیں یاد رکھوں گا۔ ہاں یاد رکھتا بھی رہا ہوں۔ کوئی دعا میں نے آج تک ایسی نہیں کی جس میں میں نے سلسلہ کے افراد کے لئے دعا نہ کی ہو مگر اب آگے سے بھی بہت زیادہ یاد رکھوں گا۔ مجھے کبھی پہلے بھی دعا کے لئے کوئی ایسا جوش نہیں آیا جس میں احمدی قوم کے لئے دعا نہ کی ہو۔ پھر سنو! کہ کوئی کام ایسا نہ کرو جو اللہ تعالیٰ کے عہد شکن کیا کرتے ہیں۔ ہماری دعائیں یہی ہوں کہ ہم مسلمان جیئیں اور مسلمان مریں۔ آمین

الفاظ بیعت

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول جس طرح پر ہاتھ میں ہاتھ لے کر فرماتے جاتے تھے اور طالب تکرار کرتا تھا۔ اسی طرح پر اب بیعت لیتے ہیں۔ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ (۳ بار) آج میں احمدی سلسلہ میں محمود کے ہاتھ پر اپنے ان تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں جن میں میں گرفتار تھا اور میں سچے دل سے اقرار کرتا ہوں کہ جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے آئندہ بھی گناہوں سے بچنے کی کوشش کروں گا۔ اور دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ شرک نہیں کروں گا۔ اسلام کے تمام احکام بجالانے کی کوشش کرونگا اور آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء یقین کرونگا۔ اور مسیح موعودؑ کے تمام دعاوی پر ایمان رکھوں گا۔ جو تم نیک کام بتاؤ گے ان میں تمہاری فرمانبرداری کرونگا۔ قرآن شریف اور حدیث کے پڑھنے اور سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا۔ حضرت صاحب کی کتابوں کو پڑھنے یا سننے اور یاد رکھنے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ رَبِّىْ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَيْهِ (۳ بار) رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِىْ ظُلْمًا كَثِيْرًا وَّاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِىْ فَاغْفِرْ لِىْ ذُنُوْبِىْ فَإِنَّهٗ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور بہت ظلم کیا۔ اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں میرے گناہ بخش کہ تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں۔ (آمین)

کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے

(مسئلہ خلافت پر پہلی پُر شوکت تحریر)

(۲۱؍ مارچ ۱۹۱۴ء)

از

سید نا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

نحمده ونصلی علیٰ رسولہ الکریم بسم اللہ الرحمن الرحیم

کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے

خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ

وَاِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡۤا اَتَجۡعَلُ فِیۡہَا مَنۡ یُّفۡسِدُ فِیۡہَا وَیَسۡفِکُ الدِّمَآءَ ۚ وَنَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ ؕ قَالَ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ(البقرہ: ۳۱) اور جب تیرے رب نے ملائکہ سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ مقرر کرنا چاہتا ہوں تو انہوں نے جواب دیا کہ کیا آپ ایسے شخص کو خلیفہ مقرر کرتے ہیں جو فساد کرے گا اور خون بہائے گا اور ہم وہ لوگ ہیں جو حضور کی تسبیح و تحمید کرتے ہیں اور آپ کی قدوسیت کا اقرار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کو سن کر فرمایا کہ میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

یہ ایک ایسی آیت ہے جس سے خلافت کے کُل جھگڑوں کا فیصلہ ہو جاتا ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم کے زمانہ سے خلافت پر اعتراض ہوتے چلے آئے ہیں اور ہمیشہ بعض لوگوں نے خلافت کے خلاف جوشوں کا اظہار کیا ہے پس میں بھی جماعت احمدیہ کو اسی آیت کی طرف متوجہ کرتا ہوں تا وہ صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ کو پاسکے اور ہدایت کی راہ معلوم کر سکے۔

خوب یاد رکھو کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور جھوٹا ہے وہ انسان جو یہ کہتا ہے کہ خلیفہ انسانوں کا مقرر کردہ ہوتا ہے حضرت خلیفۃ المسیح مولوی نور الدین صاحب اپنی خلافت کے زمانہ میں چھ سال متواتر اس مسئلہ پر زور دیتے رہے کہ خلیفہ خدا مقرر کرتا ہے نہ انسان۔ اور درحقیقت قرآن شریف کو غور سے مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ایک جگہ بھی خلافت کی نسبت انسانوں کی طرف نہیں کی گئی بلکہ ہر قسم کے خلفاء کی نسبت اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ انہیں ہم بناتے ہیں چنانچہ انبیاء و

مامورین کے خلفاء کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا ؕ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا ؕ وَمَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ(النور: ۵۶) اللہ تعالیٰ تم میں سے مؤمنوں اور نیک اعمال والوں سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ انہیں اسی طرح زمین میں خلیفہ مقرر فرمائے گا جس طرح ان سے پہلوں کو مقرر کیا اور ان خلفاء کے اس دین کو جو اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے قائم کرے گا اور ان کے خوفوں کو امن سے بدل دے گا وہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرا کسی کو شریک نہیں قرار دیں گے اور جو شخص اس حکم کے ہوتے ہوئے بھی ان کا انکار کرے گا تو وہ خدا تعالیٰ سے دور کیا جائے گا۔

اب اس آیت کے ماتحت جس قسم کی خلافت آنحضرت ﷺ کے بعد ہوئی وہی خلافت راشدہ ہے اور اسی قسم کی خلافت مسیح موعودؑ کے بعد ہونی ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں مسیح موعودؑ کی نسبت فرماتا ہے ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیۡہِمۡ وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ ٭ وَاِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ ؕ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ(الجمعہ: ۳-۴) خدا ہی ہے جس نے امیوں میں ایک رسول بھیجا جو انہی میں سے ہے اور جو ان پر خدا کا کلام پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور بیشک اس سے پہلے وہ کھلی کھلی گمراہی میں تھے اور وہ رسول ایک اور قوم کو بھی سکھائے گا جو ابھی تک ان سے نہیں ملی اور خدا تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعودؑ کے زمانہ کو آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے تشبیہ دی ہے اور فرمایا ہے کہ ایک دفعہ تو آنحضرت ﷺ نے صحابہ کی تربیت کی ہے اور ایک دفعہ وہ پھر ایک اور قوم کی تربیت کریں گے جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئی پس مسیح موعود کی جماعت کو صحابہ رضوان اللہ علیہم سے مشابہ قرار دے کر بتا دیا ہے کہ دونوں میں ایک ہی قسم کی سنت جاری ہوگی پس جس طرح آنحضرت ﷺ کے بعد خلافت کا سلسلہ جاری ہوا ضرور تھا کہ مسیح موعودؑ کے بعد بھی ایسا ہی ہوتا چنانچہ خود حضرت مسیح موعودؑ نے الوصیت میں صاف لکھ دیا ہے کہ جس طرح آنحضرت ﷺ کے بعد ابوبکرؓ کے ذریعہ دوسری قدرت کا اظہار ہوا ضرور ہے کہ تم میں بھی ایسا ہی ہو اور اس عبارت کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے بعد سلسلہ خلافت کے منتظر تھے مگر جس طرح آنحضرت ﷺ نے اس امر میں صرف اشارات پر اکتفا کیا اسی طرح آپ نے بھی اشارات کو ہی کافی سمجھا کیونکہ ضرور تھا کہ جس طرح پہلی قدرت یعنی مسیح موعودؑ کے وقت ابتلاء آئے دوسری قدرت یعنی سلسلہ خلافت کے وقت بھی ابتلاء آتے۔

ہاں ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ خلیفہ اپنے پیش رو کے کام کی نگرانی کے لئے ہوتا ہے اسی لئے آنحضرت ﷺ کے خلفاء ملک و دین دونوں کی حفاظت پر مامور تھے کیونکہ آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے دینی اور دنیاوی دونوں بادشاہتیں دی تھیں لیکن مسیح موعودؑ جس کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کا جمالی ظہور ہوا صرف دینی بادشاہ تھا اس لئے اس کے خلفاء بھی اسی طرز کے ہوں گے۔

پس جماعت کے اتحاد اور شریعت کے احکام کو پورا کرنے کے لئے ایک خلیفہ کا ہونا ضروری ہے اور جو اس بات کو رد کرتا ہے وہ گویا شریعت کے احکام کو رد کرتا ہے صحابہؓ کا عمل اس پر ہے اور سلسلہ احمدیہ سے بھی خدا تعالیٰ نے اسی کی تصدیق کرائی ہے جماعت کے معنی ہی یہی ہیں کہ وہ ایک امام کے ماتحت ہو جو لوگ کسی امام کے ماتحت نہیں وہ جماعت نہیں اور ان پر خدا تعالیٰ کے وہ فضل نازل نہیں ہو سکتے اور کبھی نہیں ہو سکتے جو ایک جماعت پر ہوتے ہیں۔

پس اے جماعت احمدیہ! اپنے آپ کو ابتلاء میں مت ڈال اور خدا تعالیٰ کے احکام کو رد مت کر کہ خدا کے حکموں کو ٹالنا نہایت خطرناک اور نقصان دہ ہے اسلام کی حقیقی ترقی اس زمانہ میں ہوئی جو خلافت راشدہ کا زمانہ کہلاتا ہے پس تو اپنے ہاتھ سے اپنی ترقیوں کو مت روک اور اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مت مار۔ کیسا نادان ہے وہ انسان جو اپنا گھر آپ گراتا ہے اور کیا ہی قابلِ رحم ہے وہ شخص جو اپنے گلے پر آپ چھری پھیرتا ہے پس تو اپنے ہاتھ سے اپنی تباہی کا بیج مت بو اور جو سامان خدا تعالیٰ نے تیری ترقی کے لئے بھیجے ہیں ان کو رد مت کر کیونکہ فرمایا ہے لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ وَلَئِنۡ کَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ(ابراہیم: ۸) البتہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں بڑھاؤں گا اور زیادہ دوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی راہ اختیار کی تو یاد رکھو کہ میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔

یہ ایک دھوکا ہے کہ سلسلہ خلافت سے شرک پھیلتا ہے اور گدیوں کے قائم ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ آج سے تیرہ سو سال پہلے خدا تعالیٰ نے خود اس خیال کو رد فرما دیا ہے کیونکہ خلفاء کی نسبت فرماتا ہے یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا(النور: ۵۶) خلفاء میری ہی عبادت کیا کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں قرار دیں گے۔ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ ایک زمانہ میں خلافت پر یہ اعتراض کیا جائے گا کہ اس سے شرک کا اندیشہ ہے اور غیر مامور کی اطاعت جائز نہیں پس خدا تعالیٰ نے آیت استخلاف میں ہی اس کا جواب دے دیا کہ خلافت شرک پھیلانے والی نہیں بلکہ اسے مٹانے والی ہو گی اور خلیفہ مشرک نہیں بلکہ موحد ہوں گے ورنہ آیت استخلاف میں شرک کے ذکر کا اور کوئی موقعہ نہ تھا۔

غرض کہ خلافت کا کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا خصوصاً وہ قوم جو اپنے عمل سے چھ سال تک مسئلہ خلافت کے معنی کر چکی ہو اس کا ہرگز حق نہیں کہ اب خلافت کی تحقیقات شروع کرے اور اگر کوئی شخص ایسا کرے گا تو سمجھا جائے گا کہ خلیفہ اول کی بیعت بھی اس نے نفاق سے کی تھی کیونکہ وہ اپنے آپ کو ہمیشہ خلفائے سلسلہ اول سے مشابہت دیتا تھا اور خلیفہ کی حیثیت میں بیعت لیا کرتا تھا اور اس کے وعظوں اور لیکچروں میں اس امر کو ایسا واضح کر دیا گیا تھا کہ کوئی راستباز انسان اس کا انکار نہیں کر سکتا۔ اور اب اس کی وفات کے بعد کسی کا حق نہیں کہ جماعت میں فساد ڈلوائے۔

مجھے اس مضمون کے لکھنے کی اس لئے ضرورت پیش آئی ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں تفرقہ کے آثار ہیں اور بعض لوگ خلافت کے خلاف لوگوں کو جوش دلا رہے ہیں یا کم سے کم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خلیفہ ایک پریذیڈنٹ کی حیثیت میں ہو اور یہ کہ ابھی تک جماعت کا کوئی خلیفہ نہیں ہوا۔ مگر میں اس اعلان کے ذریعہ سے تمام جماعت کو اطلاع دیتا ہوں کہ خلیفہ کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ میں ثابت کر چکا ہوں اور اس کی بیعت کی بھی اسی طرح ضرورت ہے جس طرح حضرت خلیفہ اول کی تھی اور یہ بات بھی غلط مشہور کی جاتی ہے کہ جماعت کا اس وقت تک کوئی خلیفہ مقرر نہیں ہوا بلکہ خدا نے جسے خلیفہ بنانا تھا بنا دیا اور اب جو شخص اس کی مخالفت کرتا ہے وہ خدا کی مخالفت کرتا ہے۔

میں نے کسی سے درخواست نہیں کی کہ وہ میری بیعت کرے نہ کسی سے کہا کہ وہ میرے خلیفہ بننے کے لئے کوشش کرے اگر کوئی شخص ایسا ہے تو وہ علی الاعلان شہادت دے کیونکہ اس کا فرض ہے کہ جماعت کو دھوکے سے بچائے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ خدا کی لعنت کے نیچے ہے اور جماعت کی تباہی کا عذاب اس کی گردن پر ہوگا۔ اے پاک نفس انسانو! جن میں بدظنی کا مادہ نہیں میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے کبھی انسان سے خلافت کی تمنا نہیں کی اور یہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے بھی کبھی یہ خواہش نہیں کی کہ وہ مجھے خلیفہ بنادے یہ اس کا اپنا فعل ہے یہ میری درخواست نہ تھی۔ میری درخواست کے بغیر یہ کام میرے سپرد کیا گیا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے کہ اس نے اکثروں کی گردنیں میرے سامنے جھکا دیں۔ میں کیونکر تمہاری خاطر خدا تعالیٰ کے حکم کو رد کردوں مجھے اس نے اسی طرح خلیفہ بنایا جس طرح پہلوں کو بنایا تھا۔ گو میں حیران ہوں کہ میرے جیسا نالائق انسان اسے کیونکر پسند آگیا لیکن جو کچھ بھی ہو اس نے مجھے پسند کرلیا اور اب کوئی انسان اس کُرتہ کو مجھ سے نہیں اتار سکتا جو اس نے مجھے پہنایا ہے یہ خدا کا دین ہے اور کون سا انسان ہے جو خدا کے عطیہ کو مجھ سے چھین لے۔ خدا تعالیٰ میرا مددگار ہوگا۔ میں ضعیف ہوں مگر میرا مالک بڑا طاقتور ہے میں کمزور ہوں مگر میرا آقا بڑا توانا ہے میں بلا اسباب ہوں مگر میرا بادشاہ تمام اسبابوں کا خالق ہے میں بے مددگار ہوں مگر میرا رب فرشتوں کو میری مدد کے لئے نازل فرمائے گا (انشاء اللہ) میں بے پناہ ہوں مگر میرا محافظ وہ ہے جس کے ہوتے ہوئے کسی پناہ کی ضرورت نہیں۔

لوگ کہتے ہیں میں جھوٹا ہوں اور یہ کہ میں مدتوں سے بڑائی کا طلب گار تھا اور فخر میں مبتلا تھا جاہ طلبی مجھے چین نہ لینے دیتی تھی مگر میں ان لوگوں کو کہتا ہوں کہ تمہارا اعتراض تو وہی ہے جو ثمود نے صالح پر کیا یعنی بَلۡ ہُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ(القمر: ۲۶) وہ تو جھوٹا اور متکبر اور بڑائی کا طالب ہے۔ اور میں بھی تم کو وہی جواب دیتا ہوں جو حضرت صالح علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دیا کہ سَیَعۡلَمُوۡنَ غَدًا مَّنِ الۡکَذَّابُ الۡاَشِرُ(القمر: ۲۷)۔ ذرا صبر سے کام لو خدا تعالیٰ کچھ دنوں تک خود بتادے گا کہ کون جھوٹا اور متکبر ہے اور کون بڑائی کا طلب گار ہے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ خلافت کے انتخاب کے لئے ایک لمبی میعاد مقرر ہونی چاہئے تھی کہ کل جماعتیں اکٹھی ہوتیں اور پھر انتخاب ہوتا لیکن اس کی کوئی دلیل پیش نہیں کی جاتی کہ ایسا کیوں ہوتا نہ تو ایسا آنحضرت ﷺ کے بعد ہوا اور نہ حضرت مسیح موعود کی وفات پر ہوا۔ حضرت مولوی نورالدین صاحب کی بیعت کرنے والے ۱۲۰۰ آدمی تھے اور ۲۴ گھنٹہ کا وقفہ ہوا تھا لیکن اب ۲۸ گھنٹہ کے وقفہ کے بعد قریباً دو ہزار آدمی نے ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کی۔ حالانکہ حالات بھی مخالف تھے اور یہ سوال پیدا کیا گیا تھا کہ خلافت کی ضرورت ہی نہیں اور یہ خدا تعالیٰ ہی کا کام تھا کہ اس نے اس فتنہ کے وقت جماعت کو بچالیا اور ایک بڑے حصہ کو ایک شخص کے ہاتھ پر متحد کر دیا۔ حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر تو ابتداء میں صرف تین آدمیوں نے بیعت کی تھی یعنی حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ نے مہاجرین میں سے اور قیس ابن سعدؓ نے انصار میں سے اور بیعت کے وقت بعض لوگ تلواروں کے ذریعہ سے بیعت کو روکنا چاہتے تھے اور پکڑ پکڑ کر لوگوں کو اٹھانا چاہتے تھے

اور بعض تو ایسے جوش میں تھے کہ طعنہ دیتے تھے اور بیعت کو لغو قرار دیتے تھے تو کیا اس کا یہ نتیجہ سمجھنا چاہئے کہ نعوذ باللہ حضرت ابوبکرؓ کو خلافت کی خواہش تھی کہ صرف تین آدمیوں کی بیعت پر آپ بیعت لینے کیلئے تیار ہو گئے اور باوجود سخت مخالفت کے بیعت لیتے رہے یا یہ نتیجہ نکالا جائے کہ آپ کی خلافت نا جائز تھی مگر جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔ پس جبکہ ایک شخص کی دو ہزار آدمی بیعت کرتے ہیں اور صرف چند آدمی بیعت سے الگ رہتے ہیں تو کون ہے جو کہہ سکے کہ وہ خلافت ناجائز ہے۔ اگر اس کی خلافت ناجائز ہے تو ابوبکرؓ، عثمانؓ وعلیؓ اور نور الدین رضوان اللہ عنہم کی خلافت اس سے بڑھ کر نا جائز ہے۔

پس خدا کا خوف کرو اور اپنے منہ سے وہ باتیں نہ نکالو جو کل تمہارے لئے مصیبت کا باعث ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرو اور وہ سلسلہ جو اس کے مامور نے سالہا سال کی مشقت اور محنت سے تیار کیا تھا اسے یوں اپنے بغضوں اور کینوں پر قربان نہ کرو۔

مجھ پر اگر اعتراض ہوتے ہیں کیا ہوا مجھے وہ شخص دکھاؤ جس کو خدا نے اس منصب پر کھڑا کیا جس پر مجھے کیا اور اس پر کوئی اعتراض نہ ہوا ہو جبکہ آدمؑ پر فرشتوں نے اعتراض کیا تو میں کون ہوں جو اعتراضوں سے محفوظ رہوں فرشتوں نے بھی اپنی خدمات کا دعویٰ کیا تھا اور ابلیس نے بھی اپنی بڑائی کا دعویٰ کیا تھا مگر بے خدمت آدمؑ جو ان کے مقابلہ میں اپنی کوئی بڑائی اور خدمت نہیں پیش کر سکتا تھا خدا کو وہی پسند آیا اور آخر سب کو اس کے سامنے جھکنا پڑا۔ پس اگر آدمؑ کے مقابلہ میں فرشتوں نے اپنی خدمات کا دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے بڑی بڑی خدمات کی ہیں وَنَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ(البقرہ: ۳۱) آج بھی وہی دعویٰ نہ پیش کیا جاتا۔ مگر فرشتہ خصلت ہے وہ انسان جو ٹھوکر کھا کر سنبھلتا ہے اور خدا تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو تکبر کی وجہ سے آخر تک اطاعت سے سرگردان رہے۔ پس اے میرے دوستو! تم فرشتہ بنو اور اگر تم کو ٹھوکر لگی بھی ہے تو توبہ کرو کہ تاکہ تمہیں ملائکہ میں جگہ دے۔ ورنہ یا د رکھو کہ فتنہ کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔

کیا تمہیں مسیح موعودؑ کی پیشگوئیوں پر اعتبار نہیں۔ اگر نہیں تو تم احمدی کس بات کے ہو۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے سبز اشتہار میں ایک بیٹے کی پیشگوئی کی تھی کہ اس کا ایک نام محمود ہوگا۔ دوسرا نام فضل عمر ہو گا۔ اور تریاق القلوب میں آپؐ نے اس پیشگوئی کو مجھ پر چسپاں بھی کیا ہے پس مجھے بتاؤ کہ عمرؓ کون تھا۔ اگر تمہیں علم نہیں تو سنو کہ وہ دوسرا خلیفہ تھا۔ پس میری پیدائش سے پہلے خدا تعالیٰ نے یہ مقدر کر چھوڑا تھا کہ میرے سپرد وہ کام کیا جائے جو حضرت عمرؓ کے سپرد ہوا تھا۔ پس اگر مرزا غلام احمد خدا کی طرف سے تھا تو تمہیں اس شخص کے ماننے میں کیا عذر ہے جس کا نام اس کی پیدائش سے پہلے عمر رکھا گیا۔ اور میں تمہیں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی میں اس پیشگوئی کا مجھے کچھ بھی علم نہ تھا۔ بلکہ بعد میں ہوا۔

اس پیشگوئی کے علاوہ خدا تعالیٰ نے سینکڑوں آدمیوں کو خوابوں کے ذریعہ سے میری طرف جھکا دیا اور قریباً ڈیڑھ سو خواب تو ان چند دنوں میں مجھ تک بھی پہنچ چکی ہے۔ اور میرا ارادہ ہے کہ اس کو شائع کر دیا جائے۔ اور میری ان تمام باتوں سے یہ غرض نہیں ہے کہ میں اپنی بڑائی بیان کروں بلکہ غرض یہ ہے کہ کسی طرح جماعت کا تفرقہ دور ہو۔ اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی ہدایت دے جو اس وقت ایک اتحاد کی رسی میں نہیں جکڑے گئے۔ ورنہ میری طبیعت ان باتوں کے اظہار سے نفرت کرتی ہے۔ مگر جماعت کا اتحاد مجھے سب باتوں سے زیادہ پیارا ہے۔

وہ لوگ جو میری مخالفت کرتے ہیں یا اب تک بیعت میں داخل نہیں ہوئے۔ آخر کیا چاہتے ہیں کیا وہ چاہتے ہیں کہ آزاد رہیں مگر وہ یاد رکھیں کہ ان کا ایسا کرنا اپنے آپ کو ہلاک کرنے کے مترادف ہو گا۔ پھر کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی اور خلیفہ مقرر کریں۔ اگر وہ ایسا چاہتے ہیں تو یاد رکھیں کہ ایک وقت میں دو خلیفہ نہیں ہو سکتے اور شریعتِ اسلام اسے قطعاً حرام قرار دیتی ہے۔ پس اب وہ جو کچھ بھی کریں گے اس سے جماعت میں تفرقہ پیدا کریں گے۔ خدا چاہتا ہے کہ جماعت کا اتحاد میرے ہی ہاتھ پر ہو اور خدا کے اس ارادہ کو اب کوئی نہیں روک سکتا۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ان کے لئے صرف دو ہی راہ کھلے ہیں۔ یا تو وہ میری بیعت کر کے جماعت میں تفرقہ کرنے سے باز رہیں یا اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑ کر اس پاک باغ کو جسے پاک لوگوں نے خون کے آنسوؤں سے سینچا تھا اکھاڑ کر پھینک دیں جو کچھ ہو چکا ہو چکا۔ مگر اب اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت کا اتحاد ایک ہی طریق سے ہو سکتا ہے کہ جسے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے۔ ورنہ ہر ایک شخص جو اس کے خلاف چلے گا تفرقہ کا باعث ہو گا۔

میرا دل اس تفرقہ کو دیکھ کر اندر ہی اندر گھلا جاتا ہے اور میں اپنی جان کو پگھلتا ہوا دیکھتا ہوں رات اور دن میں غم و رنج سے ہم صحبت ہوں۔ اس لئے نہیں کہ تمہاری اطاعت کا میں شائق ہوں بلکہ اس لئے کہ جماعت میں کسی طرح اتحاد پیدا ہو جائے۔ لیکن میں اس کے ساتھ ہی کوئی ایسی بات نہیں کر سکتا جو عہدہ خلافت کی ذلت کا باعث ہو۔ وہ کام جو خدا نے میرے سپرد کیا ہے خدا کرے کہ عزت کے ساتھ اس سے عہدہ برآ ہوں اور قیامت کے دن مجھے اپنے مولا کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔

اب کون ہے جو مجھے خلافت سے معزول کر سکے خدا نے مجھے خلیفہ بنایا ہے اور خدا تعالیٰ اپنے انتخاب میں غلطی نہیں کرتا۔ اگر سب دنیا مجھے مان لے تو میری خلافت بڑی نہیں ہو سکتی۔ اور اگر سب کے سب خدانخواستہ مجھے ترک کر دیں تو بھی خلافت میں فرق نہیں آ سکتا۔ جیسے نبی اکیلا بھی نبی ہوتا ہے۔ اسی طرح خلیفہ اکیلا بھی خلیفہ ہوتا ہے۔ پس مبارک ہے وہ جو خدا کے فیصلہ کو قبول کرے۔ خدا تعالیٰ نے جو بوجھ مجھ پر رکھا ہے وہ بہت بڑا ہے اور اگر اسی کی مدد میرے شاملِ حال نہ ہو تو میں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ لیکن مجھے اس پاک ذات پر یقین ہے کہ وہ ضرور میری مدد کرے گی۔ میرا فرض ہے کہ جماعت کو متحد رکھوں اور انہیں متفرق نہ ہونے دوں اس لئے ہر ایک مشکل کا مقابلہ کرنا میرا کام ہے۔ اور انشاء اللہ آسمان سے میری مدد ہو گی۔ میں اس اعلان کے ذریعہ ہر ایک شخص پر جو اب تک بیعت میں داخل نہیں ہوا ۔ یا بیعت کے عہد میں متردد ہے حجت پوری کرتا ہوں اور خدا کے حضور میں اب مجھ پر کوئی الزام نہیں۔ خدا کرے میرے ہاتھ سے یہ فساد فرو ہو جائے اور یہ فتنہ کی آگ بجھ جائے۔ تاکہ وہ عظیم الشان کام جو خلیفہ کا فرضِ اول ہے یعنی کل دنیا میں اپنے مطاع کی صداقت کو پہنچانا۔ میں اس کی طرف پوری توجہ کر سکوں۔ کاش میں اپنی موت سے پہلے دنیا کے دور دراز علاقوں میں صداقتِ احمدیہ روشن دیکھ لوں۔ وَّمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیۡزٍ(ابراہیم: ۲۱)۔

مجھے اپنے رب پر بہت سی امیدیں ہیں اور میں اس کے حضور میں دعاؤں میں لگا ہوا ہوں اور چاہئے کہ وہ تمام جماعت جو خدا کے فضل کے ماتحت اس ابتلاء سے محفوظ رہی ہے اس کام میں میری مدد کرے اور دعاؤں سے اس فتنہ کی آگ کو فرو کرے اور جو ایسا کریں گے خدا کے فضل کے وارث ہو جائیں گے۔ اور میری خاص دعاؤں میں ان کو حصہ ملے گا۔ میرے پیارو! آج کل نمازوں میں خشوع و خضوع زیادہ کرو۔ اور تہجد کے پڑھنے میں بھی سستی نہ کرو، جو روزہ رکھ سکتے ہیں وہ روزہ رکھیں اور جو صدقہ دے سکتے ہیں وہ صدقہ دیں نہ معلوم کس کی دعا سے ‘ کس کے روزے سے ‘ کس کے صدقہ سے خدا تعالیٰ اس اختلاف کی مصیبت کو ٹال دے اور احمدی جماعت پھر شاہراہِ ترقی پر قدم زن ہو خوب یاد رکھو کہ گو اکثر حصہ جماعت بیعت کر چکا ہے مگر تھوڑے کو بھی تھوڑا نہ سمجھو کیونکہ ایک باپ یا ایک بھائی کبھی پسند نہیں کرتا کہ اس کے دس بیٹوں یا بھائیوں میں سے ایک بھی جدا ہو جائے پس ہم کیونکر پسند کر سکتے ہیں کہ ہمارے بھائیوں میں سے بعض کھوئے جائیں خدا نہ کرے کہ ایسا ہو۔

پھر میں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ فتنہ کی مجلسوں میں مت بیٹھو۔ کیونکہ ابتداء میں انسان کا ایمان ایسا مضبوط نہیں کہ وہ ہر ایک زہر سے بچ سکے پس ایسا نہ ہو کہ تم ٹھوکر کھاؤ۔ ان دو نصیحتوں کے علاوہ ایک اور تیسری نصیحت بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ جہاں جہاں تمہیں معلوم ہو کہ اختلاف کی آگ بھڑک رہی ہے وہاں وہ لوگ جو مضبوط دل رکھتے ہیں اپنے وقت کا حرج کرکے بھی پہنچیں اور اپنے بھائیوں کی جان بچائیں اور جو ایسا کریں گے خدا کی ان پر بڑی بڑی رحمتیں ہوں گی۔

فتنے ہیں اور ضرور ہیں مگر تم جو اپنے آپ کو اتحاد کی رسی میں جکڑ چکے ہو خوش ہو جاؤ کہ انجام تمہارے لئے بہتر ہو گا تم خدا کی ایک برگزیدہ قوم ہوگے۔ اور اس کے فضل کی بارشیں انشاء اللہ تم پر اس زور سے برسیں گی کہ تم حیران ہو جاؤ گے میں جب اس فتنہ سے گھبرایا اور اپنے رب کے حضور گرا تو اس نے میرے قلب پر یہ مصرعہ نازل فرمایا کہ ”شکر للہ مل گیا ہم کو وہ لعلِ بے بدل“۔ اتنے میں مجھے ایک شخص نے جگا دیا اور میں اٹھ کر بیٹھ گیا مگر پھر مجھے غنودگی آئی اور میں اس غنودگی میں اپنے آپ کو کہتا ہوں کہ اس کا دوسرا مصرعہ یہ ہے کہ ”کیا ہوا گر قوم کا دل سنگ خارا ہو گیا“۔ مگر میں نہیں کہہ سکتا کہ دوسرا مصرعہ الہامی تھا یا بطور تفہیم تھا پھر کل بھی میں نے اپنے رب کے حضور میں نہایت گھبرا کر شکایت کی کہ مولا میں ان غلط بیانیوں کا کیا جواب دوں جو میرے بر خلاف کی جاتی ہیں اور عرض کی کہ ہر ایک بات حضور ہی کے اختیار میں ہے اگر آپ چاہیں تو اس فتنہ کو دور کر سکتے ہیں تو مجھے ایک جماعت کی نسبت بتایا گیا کہ لَيُمَزِّقَنَّهُمْ یعنی اللہ تعالیٰ ضرور ضرور ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا پس اس سے معلوم ہوتا ہے ابتلاء ہیں لیکن انجام بخیر ہو گا مگر یہ شرط ہے کہ تم اپنی دعاؤں میں کوتاہی نہ کرو۔ حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ ”بعض بڑے چھوٹے کئے جائیں گے اور چھوٹے بڑے کئے جائیں گے“ پس خدا کے حضور میں گر جاؤ کہ تم ان چھوٹوں میں داخل کئے جاؤ جنہوں نے بڑا ہونا اور ان بڑوں میں داخل نہ ہو جن کے لئے چھوٹا ہونا مقدر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم کرے اور اپنے فضل کے سایہ کے نیچے رکھے اور شماتت اعداء سے بچائے اسلام پر ہی ہماری زندگی ہو اور اسلام پر ہی ہماری موت ہو۔ آمین يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ خاکسار مرزا محمود احمد از قادیان ۲۱؍ مارچ ۱۹۱۴ء

منصبِ خلافت

( نمائندگانِ جماعت سے ایک اہم خطاب )

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

نحمده و نصلی علیٰ رسولہ الکریم بسم اللہ الرحمن الرحیم

منصب خلافت

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ رَبَّنَا وَابۡعَثۡ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ وَیُزَکِّیۡہِمۡ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ(البقرہ: ۱ Task 3۰)

دعائے ابراہیمؑ

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی نسبت ایک پیشگوئی کا ذکر فرمایا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے رنگ میں ہے وہ دعا جو ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر مکہ کے وقت کی۔ رَبَّنَا وَابۡعَثۡ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ وَیُزَکِّیۡہِمۡ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ(2:130) یہ دعا ایک جامع دعا ہے اس میں اپنی ذریت میں سے ایک نبی کے مبعوث ہونے کی دعا کی پھر اسی دعا میں یہ ظاہر کیا کہ انبیاء علیہم السلام کے کیا کام ہوتے ہیں ان کے آنے کی کیا غرض ہوتی ہے؟ فرمایا الٰہی ان میں ایک رسول ہو، انہی میں سے ہو۔

انبیاءؑ کی بعثت کی غرض

وہ رسول جو مبعوث ہو اس کا کیا کام ہو یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ(2:130) اس کا پہلا کام یہ ہو کہ وہ تیری آیات ان پر پڑھے۔ دوسرا کام وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ(2:130) ان کو کتاب سکھائے اور تیسرا کام یہ ہو کہ حکمت سکھائے۔ چوتھا کام وَيُزَكِّيْهِمْ ان کو پاک کرے۔

حضرت ابراہیمؑ نے اپنی اولاد میں مبعوث ہونے والے ایک رسول کے لئے دعا کی اور اس دعا ہی میں ان اغراض کو عرض کیا جو انبیاء کی بعثت سے ہوتی ہیں۔ اور یہ چار کام ہیں۔ میں نے غور کر کے دیکھا ہے کہ کوئی کام اصلاحِ عالم کا نہیں جو اس سے باہر رہ جاتا ہو۔ پس آنحضرت ﷺ کی اصلاح دنیا کی تمام اصلاحوں کو اپنے اندر رکھتی ہے۔

خلفاء کا کام

انبیاء علیہم السلام کے اغراضِ بعثت پر غور کرنے کے بعد یہ سمجھ لینا بہت آسان ہے کہ خلفاء کا بھی یہی کام ہوتا ہے کیونکہ خلیفہ جو آتا ہے اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اپنے پیشرو کے کام کو جاری کرے پس جو کام نبی کا ہو گا وہی خلیفہ کا ہو گا۔ اب اگر آپ غور اور تدبر سے اس آیت کو دیکھیں تو ایک طرف نبی کا کام اور دوسری طرف خلیفہ کا کام کھل جائے گا۔

میں نے دعا کی تھی کہ میں اس موقعہ پر کیا کہوں تو اللہ تعالیٰ نے میری توجہ اس آیت کی طرف پھیر دی اور مجھے اسی آیت میں وہ تمام باتیں نظر آئیں جو میرے اغراض اور مقاصد کو ظاہر کرتی ہیں اس لئے میں نے چاہا کہ اس موقعہ پر چند استدلال پیش کر دوں۔

شکرِ ربّانی بر جماعتِ حقانی

مگر اس سے پہلے کہ میں استدلال کو پیش کروں میں خدا تعالیٰ کا شکر کرنا چاہتا ہوں کہ اس نے ایک ایسی جماعت پیدا کر دی جس کے دیئے جانے کا انبیاء سے وعدہ الٰہی ہوتا ہے۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ چاروں طرف سے محض دین کی خاطر اسلام کی عزت کے لئے اپنا روپیہ خرچ کر کے اور اپنے وقت کا حرج کر کے احباب آئے ہیں میں جانتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایسے مخلص دوستوں کی محنت کو ضائع نہیں کرے گا وہ بہتر سے بہتر بدلے دے گا کیونکہ وہ اس وعدہ کے موافق آئے ہیں جو خدا تعالیٰ نے مسیح موعودؑ سے کیا تھا۔ اس لئے جب کل میں نے درس میں ان دوستوں کو دیکھا تو میرا دل خدا تعالیٰ کی حمد اور شکر سے بھر گیا۔ کہ یہ لوگ ایسے شخص کے لئے آئے ہیں جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ چالباز ہے (نعوذ باللہ) اور پھر میرے دل میں اور بھی جوش پیدا ہوا جب میں نے دیکھا کہ وہ میرے دوستوں کے بلانے ہی پر جمع ہو گئے ہیں۔ اس لئے آج رات کو میں نے بہت دعائیں کیں اور اپنے رب سے یہ عرض کیا کہ الٰہی میں تو غریب ہوں میں ان لوگوں کو کیا دے سکتا ہوں حضور آپ ہی اپنے خزانوں کو کھول دیجئے اور ان لوگوں کو جو محض دین کی خاطر یہاں جمع ہوئے ہیں اپنے فضل سے حصہ دیجئے۔ اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دعاؤں کو ضرور قبول کرے گا کیونکہ مجھے یاد نہیں میں نے کبھی دردِ دل اور بڑے اضطراب سے دعا کی ہو اور وہ قبول نہ ہوئی ہو بچہ بھی جب درد سے چلاتا ہے تو ماں کی چھاتیوں میں دودھ جوش مارتا ہے۔ پس جب ایک چھوٹے بچے کے لئے باوجود ایک قلیل اور عارضی تعلق کے اس کے چلانے پر چھاتیوں میں دودھ آ جاتا ہے تو یہ ناممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کی مخلوق میں سے کوئی اضطراب اور درد سے دعا کرے اور وہ قبول نہ ہو۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ وہ دعا ضرور قبول ہوتی ہے یہ معاملہ میرے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہر شخص کے ساتھ ہے چنانچہ فرماتا ہے۔ وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَلۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡشُدُوۡنَ(البقرہ: ۱۸۷) جب میرے بندے میری نسبت تجھ سے سوال کریں تو ان کو کہہ دے کہ میں قریب ہوں اور پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں اور اسے قبول کرتا ہوں۔ یہاں اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ فرمایا یہ نہیں کہا کہ میں صرف مسلمان یا کسی خاص ملک اور قوم کے آدمی کی دعا سنتا ہوں۔ کوئی ہو۔ کہیں کا ہو۔ اور کہیں ہو۔

اس قبولیت دعا کی غرض کیا ہوتی ہے؟ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَلۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ مان لے اور مسلمان ہو جاوے اور مسلمان اور مؤمن ہو تو اس ایمان میں ترقی کرے۔ کافر کی دعائیں اس لئے قبول کرتا ہوں کہ مجھ پر ایمان ہو اور وہ مؤمن بن جاوے اور مؤمن کی اس لئے کہ رشد اور یقین میں ترقی کرے۔ خدا تعالیٰ کی معرفت اور شناخت کا بہترین طریق دعا ہی ہے۔ اور مؤمن کی امیدیں اسی سے وسیع ہوتی ہیں۔ پس میں نے بھی بہت دعائیں کی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ قبول ہوں گی۔

پھر میں نے اس کے حضور دعا کی کہ میں ان لوگوں کے سامنے کیا کہوں تُو آپ مجھے تعلیم کر اور آپ مجھے سمجھا۔ میں نے اس فتنہ کو دیکھا جو اس وقت پیدا ہوا ہے میں نے اپنے آپ کو اس قابل نہ پایا کہ اس کی توفیق اور تائید کے بغیر اس کو دور کر سکوں میرا سہار ا اسی پر ہے اس لئے میں اسی کے حضور جھکا اور درخواست کی کہ آپ ہی مجھے بتائیں ان لوگوں کو جو جمع ہوئے ہیں کیا کہوں اس نے میرے قلب کو اسی آیت کی طرف متوجہ کیا اور مجھ پر ان حقائق کو کھولا۔ جو اس میں ہیں۔ میں نے دیکھا کہ خلافت کے تمام فرائض اور کام اس آیت میں بیان کر دیئے گئے ہیں تب میں نے اسی کو اس وقت تمہارے سامنے پڑھ دیا۔

لَا خِلَافَةَ اِلَّا بِالْمَشْوَرَةِ

میرا مذہب ہے کہ لَا خِلَافَةَ اِلَّا بِالْمَشْوَرَةِ خلافت جائز ہی نہیں جب تک اس میں شوریٰ نہ ہو۔ اسی اصول پر تم لوگوں کو یہاں بلوایا گیا ہے اور میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اس پر قائم ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اس پر قائم رہوں میں نے چاہا کہ مشورہ لوں مگر میں نہیں جانتا تھا کہ کیا مشورہ لوں۔ میرے دوستوں نے کہا کہ مشورہ ہونا چاہئے میں نے اس کی تصریح نہیں پوچھی۔ میں چونکہ مشورہ کو پسند کرتا ہوں اس لئے ان سے اتفاق کیا اور انہوں نے آپ کو بلا لیا مگر مجھے کل تک معلوم نہ تھا کہ میں کیا کہوں آخر جب میں نے خدا کے حضور توجہ کی تو یہ آیت میرے دل میں ڈالی گئی کہ اسے پڑھو۔

تفسیر دعائے ابراہیمؑ

اس آیت کی تلاوت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی یا خلیفہ کا پہلا کام یہ ہوتا ہے ۔ کہ وہ آیات اللہ لوگوں کو سنائے ۔ آیت کہتے ہیں نشان کو ، دلیل کو جس سے کسی چیز کا پتہ لگے۔ پس نبی جو آیات اللہ پڑھتا ہے اس سے یہ مراد ہے کہ وہ ایسے دلائل سناتا اور پیش کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرشتوں ، رسولوں اور اس کی کتب کی تائید اور تصدیق ان کے ذریعہ ہوتی ہے۔ پس اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو ایسی باتیں سنائے جن سے ان کو اللہ پر اور نبیوں اور کتب پر ایمان حاصل ہو۔

پہلا کام

اس سے معلوم ہوا کہ نبی اور اس کے جانشین خلیفہ کا پہلا کام تبلیغ الحق اور دعوت الی الخیر ہوتی ہے۔ وہ سچائی کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے ۔ اور اپنی دعوت کو دلائل اور نشانات کے ذریعہ مضبوط کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہو کہ وہ تبلیغ کرتا ہے۔

دوسرا کام

پھر دوسرا فرض نبی یا خلیفہ کا اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ(2:130) ان کو کتاب سکھادے۔ انسان جب اس بات کو مان لے کہ اللہ تعالیٰ ہے اور اس کی طرف سے دنیا میں رسول آتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ملائکہ ان پر اترتے ہیں اور ان کے ذریعہ کتب الٰہیہ نازل ہوتی ہیں تو اس کے بعد دوسرا مرحلہ اعمال کا آتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے آدمی کو اب کیا کرنا چاہئے اس ضرورت کو پورا کرنے والی آسمانی شریعت ہوتی ہے اور نبی کا دوسرا کام یہ ہے کہ ان نو مسلموں کو شریعت سکھائے ان ہدایات اور تعلیمات پر عمل ضروری ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کے رسولوں کی معرفت آتی ہیں پس اس موقعہ پر دوسرا فرض نبی کا یہ بتایا گیا ہے ۔ کہ وہ انہیں فرائض کی تعلیم دے کتاب کے معنے شریعت اور فرض کے ہیں۔ جیسے قرآن مجید میں یہ لفظ فرض کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے جیسے کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ(2:184) پس اس ترتیب کو خوب یاد رکھو کہ پہلا کام اسلام میں لانے کا تھا۔ دوسرا ان کو شریعت سکھانے اور عامل بنانے کا۔

تیسرا کام

عمل کے لئے ایک اور بات کی ضرورت ہے اس وقت تک انسان کے اندر کسی کام کے کرنے کے لئے جوش اور شوق پیدا نہیں ہوتا جب تک اسے اس کی حقیقت اور حکمت سمجھ میں نہ آجائے۔ اس لئے تیسرا کام یہاں یہ بیان کیا وَالۡحِکۡمَۃَ(3:49) اور وہ ان کو حکمت کی تعلیم دے۔ یعنی جب وہ اعمال ظاہری بجالانے لگیں تو پھر ان اعمال کی حقیقت اور حکمت سے انہیں باخبر کرے۔ جیسے ایک شخص ظاہری طور پر نماز پڑھتا ہے نماز پڑھنے کی ہدایت اور تعلیم دینا یہ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ کے نیچے ہے اور نماز کیوں فرض کی گئی، اس کے کیا اغراض و مقاصد ہیں؟ اس کی حقیقت سے واقف کرنا یہ تعلیم الحکمۃ ہے‘ ان دونوں باتوں کی مثال خود قرآن شریف سے ہی دیتا ہوں۔ قرآن شریف میں حکم ہے اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ(6:73) نمازیں پڑھو، یہ حکم تو گویا يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ کے ماتحت ہے‘ ایک جگہ یہ فرمایا ہے اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡکَرِ(29:46) یعنی نماز بدیوں اور ناپسند باتوں سے روکتی ہے یہ نماز کی حکمت بیان فرمائی کہ نماز کی غرض کیا ہے؟ اسی طرح پھر رکوع‘ سجود‘ قیام اور قعدہ کی حکمت بتائی جائے‘ اور خدا کے فضل سے میں یہ سب بتا سکتا ہوں۔ غرض تیسرا کام نبی یا اس کے خلیفہ کا یہ ہوتا ہے کہ وہ احکام شریعت کی حکمت سے لوگوں کو واقف کرتا ہے۔

غرض ایمان کیلئے يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ فرمایا‘ پھر ایمان کے بعد اعمال کیلئے يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ پھر ان اعمال میں ایک جوش اور ذوق پیدا کرنے اور ان کی حقیقت بتانے کے واسطے وَ الْحِكْمَةَ فرمایا‘ نماز کے متعلق میں نے ایک مثال دی ہے ورنہ تمام احکام میں اللہ تعالیٰ نے حکمتیں رکھی ہیں۔

چوتھا کام

پھر چوتھا کام فرمایا وَيُزَكِّيْهِمْ حکمت کی تعلیم کے بعد انہیں پاک کرے۔ تزکیہ کا کام انسان کے اپنے اختیار میں نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اپنے قبضہ اور اختیار میں ہے۔

اب سوال ہوتا ہے کہ جب یہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے تو نبی کو کیوں کہا کہ وہ پاک کرے۔ اس کی تفصیل میں آگے بیان کروں گا‘ مختصر طور پر میں یہاں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس کا ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ نے آپ ہی بتا دیا ہے کہ پاک کرنے کا کیا طریق ہے اور وہ ذریعہ دعا ہے‘ پس نبی کو جو حکم دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کو پاک کرے تو اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی حکمتیں مخفی رکھی ہیں‘ ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ آیت سورۃ بقرہ کی ترتیب کا پتہ دیتی ہے۔ لوگوں کو سورۃ بقرہ کی ترتیب میں بڑی دقتیں پیش آئی ہیں لوگ حیران ہوتے ہیں کہ کہیں کچھ ذکر ہے، کہیں کچھ، کہیں بنی اسرائیل کا ذکر آ جاتا ہے، کہیں نماز روزہ کا، کہیں طلاق کا، کہیں ابراہیم علیہ السلام کے مباحثات کا‘ کہیں طالوت کا‘ ان تمام واقعات کا آپس میں جوڑ کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعہ مجھے یہ سب کچھ سکھا دیا ہے۔

سورۃ بقرہ کی ترتیب کس طرح سمجھائی گئی

حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی کا واقعہ ہے کہ منشی فرزند علی صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں تم سے قرآن مجید پڑھنا چاہتا ہوں‘ اس وقت ان سے میری اس قدر واقفیت بھی نہ تھی میں نے عذر کیا مگر انہوں نے اصرار کیا‘ میں نے سمجھا کہ کوئی منشاء الہی ہے آخر میں نے ان کو شروع کرا دیا‘ ایک دن میں پڑھا رہا تھا کہ میرے دل میں بجلی کی طرح ڈالا گیا کہ آیت رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یہ سورۃ بقرہ کی کلید ہے اور اس سورۃ کی ترتیب کا راز اس میں رکھا گیا ہے‘ اس کے ساتھ ہی سورۃ بقرہ کی ترتیب پورے طور پر میری سمجھ میں آ گئی‘ اب آپ اس کو مدنظر رکھ کر سورۃ بقرہ کی ترتیب پر غور کریں تو حقیقت معلوم ہو جائے گی۔

ترتیب سورۃ بقرہ

اب غور کرو! پہلے بتایا کہ قرآن کریم کا نازل کرنے والا عالم خدا ہے، پھر بتایا کہ قرآن مجید کی کیا ضرورت ہے کیونکہ سوال ہوتا تھا کہ مختلف مذاہب کی موجودگی میں اس مذہب کی کیا ضرورت پیش آئی اور یہ کتاب خدا تعالیٰ نے کیوں نازل کی؟ اس کی غرض و غایت بتائی ‘ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ یعنی سب مذاہب تو صرف متقی بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں اور یہ کتاب ایسی ہے جو متقی کو بھی آگے لے جاتی ہے۔ متقی تو اسے کہتے ہیں جو انسانی کوشش کو پورا کرئے‘ پس اسے آگے لے جانے کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ اب خود اس سے ہمکلام ہو۔ پھر متقین کے اعمال اور کام بتائے پھر بتایا کہ اس کتاب کے ماننے والوں اور منکروں میں کیا امتیاز ہوگا؟ پھر بتایا کہ انسان چونکہ عبادت الٰہی کے لئے پیدا ہوا ہے‘ اس لئے اس کے لئے کوئی ہدایت نامہ چاہئے اور وہ ہدایت نامہ خدا کی طرف سے آنا چاہئے‘ پھر بتایا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت آتی بھی رہی ہے جیسے کہ ابتدائے عالم میں آدمؑ کی بعثت ہوئی‘ اس کے بعد اس کو اور کھولا اور آدم کی مثال پیش کر کے بتایا کہ یہ سلسلہ وہیں ختم نہ ہو گیا بلکہ ایک لمبا سلسلہ انبیاء کا بنی اسرائیل میں ہوا۔ جو موجود ہیں ان سے پوچھو ہم نے ان پر کس قدر نعمتیں کی ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ ظالم ہمارے کلام کے مستحق نہیں ہو سکتے اب جبکہ یہ ظالم ہو گئے ہیں ان کو ہمارا کلام سننے کا حق نہیں اب ہم کسی اور خاندان سے تعلق کریں گے اور وہ بنی اسمعیل کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ ابراہیم علیہ السلام سے خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ دونوں بیٹوں کے ساتھ نیک سلوک کروں گا جب ایک سے وہ وعدہ پورا ہوا تو ضرور تھا کہ دوسرے سے بھی پورا ہو چنانچہ بتایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے

تعمیر کعبہ کے وقت اس طرح دعا کی تھی جو اب پوری ہونے لگی ہے بار بار یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ(البقرة: ۴۱) فرما کر یہ بتایا کہ بنی اسرائیل کا حق شکایت کا کوئی نہیں ان سے وعدہ پورا ہو چکا ہے اور جس خدا نے ان کا وعدہ پورا کیا ضرور تھا کہ بنی اسمعیل کا وعدہ بھی پورا کرتا۔ اور اس طرح پر بنی اسرائیل پر بھی اتمامِ حُجت کیا کہ باوجود انعام الٰہیہ کے تم نے نافرمانی کی اور مختلف قسم کی بدیوں میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو تم نے محروم کرنے کا مستحق ٹھہرا لیا ہے تم میں نبی آئے ، بادشاہ ہوئے اب وہی انعام بنی اسمعیل پر ہوں گے۔

اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ یہ دعا تو تھی ہم کیونکر مانیں کہ یہ شخص وہی موعود ہے اس کا ثبوت ہونا چاہئے۔ اس کے لئے فرمایا کہ موعود ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ اس دعا میں جو باتیں بیان کی گئی تھیں وہ سب اس کے اندر پائی جاتی ہیں اور چونکہ اس نے ان سب وعدوں کو پورا کر دیا ہے اس لئے یہی وہ شخص ہے۔ گو سارا قرآن شریف ان چار ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے لیکن اس سورۃ میں خلاصۃً سب باتیں بیان فرمائیں تا معترض پر حُجت ہو یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ(2:130) کے متعلق اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ(3:191) اور آخر میں فرمایا لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ(البقرة: ۱۶۵) اس میں عقل رکھنے والوں کیلئے کافی دلائل ہیں جن سے اللہ تعالیٰ، ملائکہ، کلام الٰہی اور نبوت کا ثبوت ملتا ہے یہ تو نمونہ دیا تلاوتِ آیات کا۔ اس کے بعد تھا وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ(2:130) اس کے لئے مختصر طور پر شریعت اسلام کے موٹے موٹے احکام بیان فرمائے اور ان میں بار بار فرمایا كُتِبَ عَلَيۡكُمۡ كُتِبَ عَلَيۡكُمۡ جس سے یہ بتایا کہ دیکھو اس پر کیسی بے عیب شریعت نازل ہوئی ہے۔ پس یہ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ(2:130) کا بھی مصداق ہے اور وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ(2:130) کا بھی۔ تیسرا کام بتایا تھا کہ لوگوں کو حکمت سکھائے اس لئے شریعت کے موٹے موٹے حکم بیان فرمانے کے بعد قومی ترقی کے راز اور شرائع کی اغراض کا ذکر فرمایا۔ اور حضرت ابراہیمؑ اور طالوت کے واقعات سے بتایا کہ اس طرح قومیں ترقی کرتی ہیں اور کس طرح مُردہ قومیں زندہ کی جاتی ہیں۔ پس تم کو بھی ان راہوں کو اختیار کرنا چاہئے۔ اور اس حصہ میں وَمَنۡ یُّؤۡتَ الۡحِکۡمَۃَ فَقَدۡ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًا(البقرة: ۲۷۰) فرما کر یہ اشارہ فرما دیا کہ لو تیسرا وعدہ بھی پورا ہو گیا۔ اس رسولؐ نے حکمت کی باتیں بھی سکھا دی ہیں۔ مثلاً طالوت کا واقعہ بیان فرمایا کہ انہوں نے حکم دیا کہ نہر سے کوئی پانی نہ پیئے اور پینے والے کو ایسی سزا دی کہ اسے اپنے سے علیحدہ کر دیا اور بتایا کہ جب کوئی شخص چھوٹا حکم نہیں مان سکتا تو اس نے بڑے بڑے حکم کہاں ماننے ہیں۔ اور یہ بھی بتایا کہ جس وقت جنگ ہو اُس وقت حاکم کی کیسی اطاعت کرنی چاہئے۔ اس میں یہ بھی بتایا کہ خلفاء پر اعتراض ہوا ہی کرتا ہے اور آخر اللہ تعالیٰ ان کو غلبہ دیتا ہے۔ ان حکموں کے بتانے کے بعد تزکیہ رہ گیا تھا اس کے لئے یہ انتظام فرمایا کہ اس سورۃ کو دعا پر ختم کیا ہے۔ جس میں یہ بتایا ہے کہ تزکیہ کا طریق دعا ہے۔ نبی بھی دعا کرے اور جماعت کو بھی دعا کی تعلیم دے۔ آپ لوگ اس سورۃ کو اب پڑھ کر دیکھیں جس ترتیب سے آیت مذکورہ میں الفاظ ہیں اسی ترتیب سے اس سورۃ میں آیات اور کتاب اور حکمت اور طریق تزکیہ بیان فرمایا ہے۔ پس یہ آیت اس سورۃ کی کُنجی ہے جو اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھ میں دی ہے۔

الغرض

نبی کا کام بیان فرمایا تبلیغ کرنا، کافروں کو مؤمن کرنا، مؤمنوں کو شریعت پر قائم کرنا، پھر باریک در باریک راہوں کا بتانا، پھر تزکیۂ نفس کرنا، یہی کام خلیفہ کے ہوتے ہیں۔ اب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے یہی کام اس وقت میرے رکھے ہیں۔

آیات اللہ کی تلاوت میں اللہ تعالیٰ کی ہستی پر دلائل، ملائکہ پر دلائل، ضرورتِ نبوت اور نبوتِ محمدیہ کے دلائل، قرآن مجید کی حقّیت پر دلائل، اور ضرورتِ الہام و وحی پر دلائل، جزاء وسزا اور مسئلہ تقدیر پر دلائل، قیامت پر دلائل شامل ہیں یہ معمولی کام نہیں۔ اس زمانہ میں اس کی بہت بڑی ضرورت ہے اور یہ بہت بڑا سلسلہ ہے۔

پھر وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ(2:130) دوسرا کام ہے بار بار شریعت پر توجہ دلائے اور احکام و اوامر الٰہی کی تعمیل کے لئے یاد دہانی کراتا رہے، جہاں سُستی ہو اس کا انتظام کرے اب تم خود غور کرو کہ یہ کام کیا چند کلرکوں کے ذریعہ ہو سکتے ہیں اور کیا خلیفہ کا اتنا ہی کام رہ جاتا ہے کہ وہ چندوں کی نگرانی کرے اور دیکھ لے کہ دفتر محاسب ہے، اس میں چندہ آتا ہے اور چند ممبر مل کر اسے خرچ کر دیں۔ انجمنیں دنیا میں بہت ہیں اور بڑی بڑی ہیں جہاں لاکھوں روپیہ سالانہ آتا ہے اور وہ خرچ کرتی ہیں مگر کیا وہ خلیفہ بن جاتی ہیں؟

خلیفہ کا کام کوئی معمولی اور رذیل کام نہیں یہ خدا تعالیٰ کا ایک خاص فضل اور امتیاز ہے جو اُس شخص کو دیا جاتا ہے جو پسند کیا جاتا ہے۔ تم خود غور کر کے دیکھو کہ یہ کام جو میں نے بتائے ہیں میں نے نہیں خدا نے بتائے ہیں کیا کسی انجمن کا سیکرٹری اس کو کر سکتا ہے؟ ان معاملات میں کوئی سیکرٹری کی بات کو مان سکتا ہے؟ یا آج تک کہیں اس پر عمل ہوا ہے؟ اور جگہ کو جانے دو یہاں ہی بتا دو کہ کبھی انجمن کے ذریعہ یہ کام ہوا ہو؟ ہاں چندوں کی یاد دہانیاں ہیں وہ ہوتی رہتی ہیں۔

یہ پکی بات ہے کہ وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ(2:130) کیلئے ضرور خلیفہ ہی ہوتا ہے کیونکہ کسی انجمن کے سیکرٹری کیلئے یہ شرط کہاں ہے کہ وہ پاک بھی ہو۔ ممکن ہے ضرورتاً عیسائی رکھا جاوے یا ہندو ہو جو دفاتر کا کام عمدگی سے کر سکے پھر وہ خلیفہ کیونکر ہو سکتا ہے؟

خلیفہ کیلئے تعلیم الکتاب ضروری ہے، اس کے فرائض میں داخل ہے سیکرٹری کے فرائض میں قواعد پڑھ کر دیکھ لو کہیں بھی داخل نہیں۔ پھر خلیفہ کا کام ہے کہ خدا تعالیٰ کے احکام کے اغراض و اسرار بیان کرے جن کے علم سے ان پر عمل کرنے کا شوق و رغبت پیدا ہوتی ہے۔ مجھے بتاؤ کہ کیا تمہاری انجمن کے سیکرٹری کے فرائض میں یہ بات ہے؟ کتنی مرتبہ احکام الٰہیہ کی حقیقت اور فلاسفی انجمن کی طرف سے تمہیں سکھائی گئی؟ کیا اس قسم کے سیکرٹری رکھے جا سکتے ہیں؟ یا انجمنیں اس مخصوص کام کو کر سکتی ہیں؟ ہرگز نہیں۔

انجمنیں محض اس غرض کیلئے ہوتی ہیں کہ وہ بہی کھاتے رکھیں اور خلیفہ کے احکام کے نفاذ کیلئے کوشش کریں۔ پھر خلیفہ کا کام ہے۔ يُزَكِّيْهِمْ قوم کا تزکیہ کرے۔ کیا کوئی سیکرٹری اس فرض کو ادا کر سکتا ہے؟ کسی انجمن کی طرف سے یہ ہدایت جاری ہوئی، یا تم نے سنا ہو کہ سیکرٹری نے کہا ہو کہ میں قوم کے تزکیہ کیلئے رو رو کر دعائیں کرتا ہوں؟

میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ کام سیکرٹری کا ہے ہی نہیں اور نہ کوئی سیکرٹری کہہ سکتا ہے کہ میں دعائیں کرتا ہوں جھوٹا ہے جو کہتا ہے کہ انجمن اس کام کو کر سکتی ہے۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کوئی سیکرٹری یہ کام نہیں کر سکتا اور کوئی انجمن نبی کے کام نہیں کر سکتی۔ اگر انجمنیں یہ کام کر سکتیں تو خدا تعالیٰ دنیا میں مامور اور مرسل نہ بھیجتا بلکہ اس کی جگہ انجمنیں بناتا مگر کسی ایک انجمن کا پتہ دو جس نے کہا ہو کہ خدا نے ہمیں مامور کیا ہے۔

کوئی دنیا کی انجمن نہیں ہے جو یہ کام کر سکے۔ ممبر تو اکٹھے ہو کر چند امور پر فیصلہ کرتے ہیں کیا کبھی کسی انجمن میں اس آیت پر بھی غور کیا گیا ہے۔ یاد رکھو خدا تعالیٰ جس کے سپرد کوئی کام کرتا ہے اُسی کو بتاتا ہے کہ تیرے یہ کام ہیں۔ یہ کام ہیں جو انبیاء اور خلفاء کے ہوتے ہیں۔ روپیہ اکٹھا کرنا ادنیٰ درجہ کا کام ہے۔ خلفاء کا کام انسانی تربیت ہوتی ہے اور ان کو خدا تعالیٰ کی معرفت اور یقین کے ساتھ پاک کرنا ہوتا ہے۔ روپیہ تو آریوں اور عیسائیوں کی انجمنیں بلکہ دہریوں کی

انجمنیں بھی جمع کر لیتی ہیں۔ اگر کسی نبی یا اس کے خلیفہ کا بھی یہی کام ہو تو نَعُوْذُ بِاللّٰهِ یہ سخت ہتک اور بے ادبی ہے اس نبی اور خلیفہ کی ۔

یہ سچ ہے کہ ان مقاصد اور اغراض کی تکمیل کیلئے جو اس کے سپرد ہوتے ہیں اس کو بھی روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ بھی مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ(3:53) کہتا ہے مگر اس سے اس کی غرض روپیہ جمع کرنا نہیں بلکہ اس رنگ میں بھی اس کی غرض وہی تکمیل اور تزکیہ ہوتی ہے۔ اور پھر بھی اس غرض کیلئے اس کی قائم مقام ایک انجمن یا شوریٰ ہوتی ہے جو انتظام کرے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ خلیفہ کا کام روپیہ جمع کرنا نہیں ہوتا اور نہ اس کے اغراض و مقاصد کا دائرہ کسی مدرسے کے جاری کرنے تک محدود ہوتا ہے یہ کام دنیا کی دوسری قومیں بھی کرتی ہیں۔

خلیفہ کے اس قسم کے کاموں اور دوسری قوموں کے کاموں میں فرق ہوتا ہے وہ ان امور کو بطور مبادی اور اسباب کے اختیار کرتا ہے یا اختیار کرنے کی ہدایت کرتا ہے دوسری قومیں اس کو بطور ایک اصل مقصد اور غایت کے اختیار کرتی ہیں۔

حضرت صاحب نے جو مدرسہ بنایا اس کی غرض وہ نہ تھی جو دوسری قوموں کے مدرسوں کی ہے۔ پس یاد رکھو کہ خلیفہ کے جو کام ہوتے ہیں وہ کسی انجمن کے ذریعہ نہیں ہو سکتے۔

اس قومی اجتماع کی کیا غرض ہے

اب آپ کو جو بلایا گیا ہے تو خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ میں ان کاموں کے متعلق جو خدا نے میرے سپرد کر دیئے ہیں آپ سے مشورہ کروں کہ انہیں کس طرح کروں؟ میں جانتا ہوں اور نہ صرف جانتا ہوں بلکہ یقین رکھتا ہوں کہ وہ آپ میری ہدایت اور راہنمائی کرے گا کہ مجھے کس طرح ان کو سر انجام دینا چاہئے لیکن اسی نے مشورہ کا بھی تو حکم دیا ہے۔ یہ کام اس نے خود بتائے ہیں اُس نے آپ میرے دل میں اس آیت کو ڈالا جو میں نے پڑھی ہے۔ پرسوں مغرب یا عصر کی نماز کے وقت یکدم میرے دل میں ڈالا۔ میں حیران تھا کہ بُلا تو لیا ہے کیا کہوں؟ اس پر یہ آیت اُس نے میرے دل میں ڈالی۔

پس یہ چار کام انبیاء اور ان کے خلفاء کے ہیں۔ ان کے سر انجام دینے میں مجھے تم سے مشورہ کرنا ہے میں اب ان کاموں کو اور وسیع کرتا ہوں۔

چار نہیں بلکہ آٹھ

میں اس آیت کی ایک اور تشریح کرتا ہوں جب ان پر میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ ان چار میں اور معنے پوشیدہ تھے اور اس طرح پر

یہ چار آٹھ بن جاتے ہیں۔

(۱) يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰیٰتِهِ اس کے معنی ایک یہ کرتا ہوں کہ کافروں کو مؤمن بنادے یعنی تبلیغ کرے۔ دوسرے مؤمنوں کو آیات سنائے۔ اس صورت میں ترقی ایمان یا درستی ایمان بھی کام ہوگا یہ دو ہوگئے۔

(۲) يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ قرآن شریف کتاب موجود ہے اس لئے اس کی تعلیم میں قرآن مجید کا پڑھنا پڑھانا، قرآن مجید کا سمجھانا آجائے گا، کتاب تو لکھی ہوئی موجود ہے اس لئے کام یہ ہوگا کہ ایسے مدارس ہوں جہاں قرآن مجید کی تعلیم ہو۔ پھر اس کے سمجھانے کیلئے ایسے مدارس ہوں جہاں قرآن مجید کا ترجمہ سکھایا جائے اور وہ علوم پڑھائے جائیں جو اس کے خادم ہوں۔ ایسی صورت میں دینی مدارس کا اجراء اور ان کی تکمیل کام ہوگا۔ (ب) دوسرا کام اس لفظ کے ماتحت قرآن شریف پر عمل کرانا ہوگا کیونکہ تعلیم دو قسم کی ہوتی ہے ایک کسی کتاب کا پڑھا دینا اور دوسرے اس پر عمل کروانا۔

(۳) اَلْحِكْمَةَ۔ تَعْلِيْمُ الْحِكْمَةِ کیلئے تجاویز اور تدابیر ہونگی کیونکہ اس فرض کے نیچے احکام شرائع کے اسرار سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔

(۴) يُزَكِّيْهِمْ۔ يُزَكِّيْهِمْ کے معنوں پر غور کیا تو ایک تو یہی بات ہے جو میں بیان کر چکا ہوں کہ دعاؤں کے ذریعہ تزکیہ کرے۔ پھر ابن عباسؓ نے معنے کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اخلاص پیدا کرنا۔ غرض ایک تو یہ معنے ہوئے کہ گناہوں سے بچانے کی کوشش کرے اس لئے جماعت کو گناہوں سے بچانا ضروری ٹھہرا کہ وہ گناہوں میں نہ پڑے۔ اور دوسرے معنوں کے لحاظ سے یہ کام ہوا کہ صرف گناہوں سے نہ بچائے بلکہ ان میں نیکی پیدا کرے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ ایک تو وہ تدابیر اختیار کرے جن سے جماعت کے گناہ دور کر دے۔ دوسرے ان کو خوبصورت بنا کر دکھا دے، اعلیٰ مدارج کی طرف لے جاوے اور ان کے کاموں میں اخلاص اور اطاعت پیدا کرے۔ پھر تیسرے معنی بھی يُزَكِّيْهِمْ کے ہیں وہ یہ کہ ان کو بڑھائے۔ ان معانی کے لحاظ سے دین و دنیا میں ترقی دینا ضروری ہوا اور یہ ترقی ہر پہلو سے ہونی چاہئے۔ دُنیوی علوم میں دوسروں سے پیچھے ہوں تو اس میں ان کو آگے لے جاوے، تعداد میں کم ہوں تو بڑھائے، مالی حالت کمزور ہو تو اس میں بڑھاوے، غرض جس رنگ میں بھی کمی ہو بڑھاتا چلا جاوے۔ اب ان معنوں کے لحاظ سے جماعت کی ہر قسم کی ترقی نبی اور اس کے ماتحت اس کے خلیفہ کا فرض ہوا۔ پھر جب میل سے پاک کرنا اور ترقی کرانا اس کا کام ہوا تو اسی میں غرباء کی خبرگیری بھی آگئی کیونکہ وہ بھی ایک دنیاوی میل سے لِتھڑے ہوئے ہوتے ہیں ان کو پاک کرنا اس کا فرض ہے۔ اس غرض کو پورا کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا صیغہ رکھا ہے کیونکہ جماعت کے غرباء اور مساکین کا انتظام کرنا بھی خلیفہ کا کام ہے اور اس کیلئے روپیہ کی ضرورت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس کا بھی انتظام فرما دیا اور امراء پر زکوٰۃ مقرر فرمائی۔

پس یاد رکھو یُزَکِّیْھِمْ کے معنی ہوئے پاک کرے، اخلاص پیدا کرے اور ہر رنگ میں بڑھائے۔ چہارم صدقات کا انتظام کر کے اصلاح کرے۔ اب انجمن والے بھی بے شک بولیں کیونکہ ان امور کے انتظام انجمن کو چاہتے ہیں مگر باوجود اس کے بھی یہ انجمن کا کام نہیں بلکہ خلیفہ کا کام ہے۔ اب تمہیں معلوم ہو گیا ہو گا کہ یہ سب باتیں اس کے نیچے ہیں اور یہ خیالی طور پر نہیں ڈھکوسلہ کے رنگ میں نہیں بلکہ لغت اور صحابہؓ کے اقوال اس کی تائید کرتے ہیں۔ پس میں نے تمہیں وہ کام خلیفہ کے بتائے ہیں جو خدا تعالیٰ نے بیان کئے ہیں اور اس کی حقیقت لغتِ عرب اور صحابہؓ کے مسلمہ معنوں کی رو سے بتائی ہے میرا کام اتنا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجموعی اور یکجائی طور پر مجھے اس سے آگاہ کر دیا اور محض اپنے فضل سے سورۃ بقرہ کی کلید مجھے بتا دی۔ میں اس راز اور حقیقت کو آج سمجھا کہ تین سال پیشتر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بجلی کی طرح میرے دل میں کیوں ڈالی؟ قبل از وقت میں اس راز سے آگاہ نہیں ہو سکتا تھا مگر آج حقیقت کھلی کہ ارادۂ الٰہی میں یہ میرے ہی فرائض اور کام تھے اور ایک وقت آنے والا تھا کہ مجھے ان کی تکمیل کیلئے کھڑا کیا جانا تھا۔ پس جب یہ ظاہر ہو چکا کہ خلیفہ کے کیا کام ہیں یا دوسرے لفظوں میں یہ کہو کہ میرے کیا فرائض ہیں تو اب سوال ہوتا ہے کہ ان کو کیونکر کرنا ہے؟ اور اسی میں مجھے تم نے مشورہ کرنا ہے۔

مقاصدِ خلافت کی تکمیل کی کیا صورت ہو

یہ تو آپ کو معلوم ہو چکا کہ خلافت کا پہلا اور ضروری کام تبلیغ ہے اس لئے ہمیں سوچنا چاہئے کہ تبلیغ کی کیا صورتیں ہوں مگر میں ایک اور بات بھی تمہیں بتانا چاہتا ہوں اور یہ بات ابھی میرے دل میں ڈالی گئی ہے کہ خلافت کے یہ مقاصد اربعہ حضرت خلیفۃ المسیح کی وصیت میں بھی بیان کئے گئے ہیں۔

خلیفۃ المسیح کی وصیت اسی کی تشریح ہے

حضرت خلیفۃ المسیح نے اپنی وصیت میں اپنے جانشین کیلئے فرمایا۔ متقی ہو، ہر دلعزیز ہو، قرآن و حدیث کا درس جاری رہے، عالم باعمل ہو، اس میں یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ کی طرف اشارہ اس حکم میں ہے کہ قرآن و حدیث کا درس جاری رہے کیونکہ اَلْكِتٰبَ کے معنی قرآن شریف ہیں۔ اور اَلْحِكْمَةَ کے معنی بعض ائمہ نے حدیث کے کئے ہیں۔ اس طرح يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ کے معنی ہوئے قرآن و حدیث سکھائے عام ترجمہ ہے۔ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ کا کیونکہ تبلیغ کیلئے علم کی ضرورت ہے۔ متقی اور باعمل ہونا اور ہر دلعزیز ہونا یہ يُزَكِّيْهِمْ کے لئے ضروری ہے کیونکہ جو متقی ہے وہی تزکیہ کر سکتا ہے اور جو خود عمل نہ کرے گا اس کی بات پر اور لوگ عمل نہیں کر سکتے اسی طرح جو قوم کا مزکی ہوگا وہ ہر دلعزیز بھی ضرور ہوگا۔ پھر کہو کہ وصیت میں ایک اور بات بھی ہے کہ درگزر سے کام لے۔ میں کہتا ہوں اس کا ذکر بھی اس آیت میں ہے۔ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ(60:6) اللہ تعالیٰ جو اَلْعَزِیْزُ ہے اس کو بھی معزز کرے گا اور غلبہ دے گا جس کا لازمی نتیجہ درگزر ہوگا کیونکہ یہ ایک طاقت کو چاہتا ہے طاقت ملے تو درگزر کرے۔ پس اس دعا میں اللہ تعالیٰ کے ان اسماء کا ذکر کرنے کے یہی معنی ہیں۔ پھر یہ بتایا کہ درگزر نَعُوْذُ بِاللّٰہِ لغونہیں بلکہ اَلْحَکِیْم کے خیال کے نیچے ہوگا۔ پس یاد رکھو کہ حضرت خلیفۃ المسیح (خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے فضل ان پر ہوں) کی وصیت بھی اسی آیت کی تشریح ہے۔ اب جب کہ یہ ظاہر ہے کہ قرآن مجید نے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اور خود حضرت خلیفۃ المسیح نے خلیفہ کے کام پہلے سے بتا دیئے تو اب جدید شرائط کا کسی کو کیا حق ہے؟ گورنمنٹ کی شرائط کے بعد کسی اور کو کوئی حق نہیں ہوتا کہ اپنی خود ساختہ باتیں پیش کرے۔

خلیفہ تو خداوند مقرر کرتا ہے پھر تمہارا کیا حق ہے کہ تم شرائط پیش کرو۔ خدا سے ڈرو اور ایسی باتوں سے توبہ کرو۔ یہ ادب سے دور ہیں۔ خدا تعالیٰ نے خود خلیفہ کے کام مقرر کر دیئے ہیں اب کوئی نہیں جو ان میں تبدیلی کر سکے یا ان کے خلاف کچھ اور کہہ سکے پھر کہتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے (خدا کی ہزاروں ہزار رحمتیں ان پر ہوں) بھی وہی باتیں پیش کیں جو اس آیت میں خدا نے بیان کی تھیں گویا ان کی وصیت اس آیت کا ترجمہ ہے۔ اب میں چاہتا ہوں کہ اور تشریح کروں۔

تبلیغ

پہلا فرض خلیفہ کا تبلیغ ہے جہاں تک میں نے غور کیا ہے میں نہیں جانتا کیوں بچپن ہی سے میری طبیعت میں تبلیغ کا شوق رہا ہے اور تبلیغ سے ایسا اُنس رہا ہے کہ میں سمجھ ہی نہیں سکتا۔ میں چھوٹی سی عمر میں بھی ایسی دعائیں کرتا تھا اور مجھے ایسی حرص تھی کہ اسلام کا جو کام بھی ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو۔ میں اپنی اس خواہش کے زمانہ سے واقف نہیں کہ کب سے ہے میں جب دیکھتا تھا اپنے اندر اس جوش کو پاتا تھا اور دعائیں کرتا تھا کہ اسلام کا جو کام ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو پھر اتنا ہو اتنا ہو کہ قیامت تک کوئی زمانہ ایسا نہ ہو جس میں اسلام کی خدمت کرنے والے میرے شاگرد نہ ہوں۔ میں نہیں سمجھتا تھا اور نہیں سمجھتا ہوں کہ یہ جوش اسلام کی خدمت کا میری فطرت میں کیوں ڈالا گیا۔ ہاں اتنا جانتا ہوں کہ یہ جوش بہت پرانا رہا ہے۔ غرض اسی جوش اور خواہش کی بناء پر میں نے خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ:۔

میرے ہاتھ سے تبلیغ اسلام کا کام ہو

اور میں خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے میری ان دعاؤں کے جواب میں بڑی بڑی بشارتیں دی ہیں۔ غرض تبلیغ کے کام سے مجھے بڑی دلچسپی ہے۔ یہ میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور یہ بھی جانتا ہوں کہ سب دنیا ایک مذہب پر جمع نہیں ہوسکتی۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس کام کو نہیں کر سکے اور کون ہے جو اسے کر سکے یا اس کا نام بھی لے لیکن اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی خادم اور غلام توفیق دیا جاوے کہ ایک حد تک تبلیغ اسلام کے کام کو کرے تو یہ اس کی اپنی کوئی خوبی اور کمال نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا کام ہے۔ میرے دل میں تبلیغ کیلئے اتنی تڑپ تھی کہ میں حیران تھا اور سامان کے لحاظ سے بالکل قاصر۔ پس میں اس کے حضور ہی جھکا اور دعائیں کیں اور میرے پاس تھا ہی کیا؟ میں نے بار بار عرض کی کہ میرے پاس نہ علم ہے، نہ دولت، نہ کوئی جماعت ہے، نہ کچھ اور ہے جس سے میں خدمت کر سکوں۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ اس نے میری دعاؤں کو سنا اور آپ ہی سامان کر دیئے اور تمہیں کھڑا کر دیا کہ میرے ساتھ ہو جاؤ۔

پس آپ وہ قوم ہیں جس کو خدا نے چُن لیا اور یہ میری دعاؤں کا ایک ثمرہ ہے جو اُس نے مجھے دکھایا اس کو دیکھ کر میں یقین رکھتا ہوں کہ باقی ضروری سامان بھی وہ آپ ہی کرے گا اور ان بشارتوں کو عملی رنگ میں دکھاوے گا۔ اور اب میں یقین رکھتا ہوں کہ دنیا کو ہدایت میرے ہی ذریعہ ہوگی اور قیامت تک کوئی زمانہ ایسا نہ گزرے گا جس میں میرے شاگرد نہ ہوں گے کیونکہ آپ لوگ جو کام کریں گے وہ میرا ہی کام ہوگا۔ اب تم یہ تو سمجھ سکتے ہو کہ میری دلچسپی تبلیغ کے کام سے آج پیدا نہیں ہوئی اس حالت سے پہلے بھی جہاں تک مجھے موقع ملا مختلف رنگوں اور صورتوں میں تبلیغ کی تجویزیں کرتا رہا۔ وہ جوش اور دلچسپی جو فطرتاً مجھے اس کام سے تھی اور اس راہ کے اختیار کرنے کی جو بے اختیار کشش میرے دل میں ہوتی تھی اس کی حقیقت کو بھی اب میں سمجھا ہوں کہ یہ میرے کام میں داخل تھا ورنہ جب تک اللہ تعالیٰ ایک فطرتی جوش اس کے لئے میری روح میں نہ رکھ دیتا میں کیونکر اسے سرانجام دے سکتا تھا۔

اب میں آپ سے مشورہ چاہتا ہوں کہ تبلیغ کیلئے کیا کیا جاوے۔ میں جو کچھ اس کے متعلق ارادہ رکھتا ہوں وہ میں بتا دیتا ہوں۔ اگر تم سوچو اور غور کرو کہ اس کی تکمیل کی کیا صورتیں ہوسکتی ہیں اور ان تجاویز کو عملی رنگ میں لانے کے واسطے کیا کرنا چاہئے۔

ہر زبان کے مبلّغ ہوں

میں چاہتا ہوں کہ ہم میں ایسے لوگ ہوں جو ہر ایک زبان کے سیکھنے والے اور پھر جاننے والے ہوں تاکہ ہم ہر ایک زبان میں آسانی کے ساتھ تبلیغ کرسکیں۔ اس کے متعلق میرے بڑے بڑے ارادے اور تجاویز ہیں اور میں اللہ تعالیٰ کے فضل پر یقین رکھتا ہوں کہ خدا نے زندگی دی اور توفیق دی اور پھر اپنے فضل سے اسباب عطا کئے اور ان اسباب سے کام لینے کی توفیق ملی تو اپنے وقت پر ظاہر ہو جاویں گے۔ غرض میں تمام زبانوں اور تمام قوموں میں تبلیغ کا ارادہ رکھتا ہوں اس لئے کہ یہ میرا کام ہے کہ تبلیغ کروں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ بڑا ارادہ ہے اور بہت کچھ چاہتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا ہی کے حضور سے سب کچھ آوے گا۔ میرا خدا قادر ہے جس نے یہ کام میرے سپرد کیا ہے وہی مجھے اس سے عہدہ برآء ہونے کی توفیق اور طاقت دے گا کیونکہ ساری طاقتوں کا مالک تو وہ آپ ہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس مقصد کے لئے بہت روپیہ کی ضرورت ہے بہت آدمیوں کی ضرورت ہے مگر اس کے خزانوں میں کس چیز کی کمی ہے؟ کیا اس سے پہلے ہم اس کے عجائبات قدرت کے تماشے دیکھ نہیں چکے؟ یہ جگہ جس کو کوئی جانتا بھی نہیں تھا اس کے مامور کے باعث دنیا میں شہرت یافتہ ہے اور جس طرح پر خدا نے اُس سے وعدہ کیا تھا ہزاروں نہیں لاکھوں لاکھ روپیہ اس کے کاموں کی تکمیل کے لئے اُس نے آپ بھیج دیا۔ اُس نے وعدہ کیا تھا۔ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ تیری مدد ایسے لوگ کریں گے جن کو ہم خود وحی کریں گے۔ پس میں جب کہ جانتا ہوں کہ جو کام میرے سپرد ہوا ہے یہ اُسی کا کام ہے اور میں نے یہ کام خود اس سے طلب نہیں کیا خدا نے خود دیا ہے تو وہ انہی رجال کو وحی کرے گا جو مسیح موعود علیہ السلام کے وقت وحی کئے جاتے تھے۔

پس میرے دوستو! روپیہ کے معاملہ میں گھبرانے اور فکر کرنے کی کوئی بات نہیں وہ آپ سامان کرے گا۔ آپ اُن سعادت مند روحوں کو میرے پاس لائے گا جو ان کاموں میں میری مددگار ہونگی۔

میں خیالی طور پر نہیں کامل یقین اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ ان کاموں کی تکمیل و اجراء کے لئے کسی محاسب کی تحریکیں کام نہیں دیں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام سے خود وعدہ کیا ہے کہ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوْحِیْٓ اِلَيْهِمْ تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کو ہم وحی کریں گے۔ پس ہمارے محاسب کا عہدہ خود خدا تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے اور وعدہ فرمایا ہے کہ روپیہ دینے کی تحریک ہم خود لوگوں کے دلوں میں کریں گے۔ ہاں جمع کا لفظ استعمال کر کے بتایا کہ بعض انسان بھی ہماری اس تحریک کو پھیلا کر ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔ پس خدا آپ ہی ہمارا محاسب اور محصل ہو گا اسی کے پاس ہمارے سب خزانے ہیں۔ اس نے آپ ہی وعدہ کیا ہے۔ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوْحِیْٓ اِلَيْهِمْ پھر ہمیں کیا فکر ہے؟ ہاں ثواب کا ایک موقع ہے۔ مبارک وہ جو اس سے فائدہ اُٹھاتا ہے۔

ہندوستان میں تبلیغ

تبلیغ کے سلسلہ میں میں چاہتا ہوں کہ ہندوستان کا کوئی قصبہ یا گاؤں باقی نہ رہے جہاں ہماری تبلیغ نہ ہو۔ ایک بھی بستی باقی نہ رہ جاوے جہاں ہمارے مبلغ پہنچ کر خدا تعالیٰ کے اس سلسلہ کا پیغام نہ پہنچا دیں اور خوب کھول کھول کر اُنہیں نہ سنا دیں۔ یہ کام معمولی نہیں اور آسان بھی نہیں ہاں اس کو آسان بنا دینا اور معمولی کر دینا خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے۔ ہمارا یہ کام نہیں کہ ہم لوگوں کو منوا دیں البتہ یہ کام ہمارا ہے اور ہونا چاہئے کہ ہم انہیں حق پہنچا دیں وہ مانیں نہ مانیں یہ اُن کا کام ہے وہ اگر اپنا فرض پورا نہیں کرتے تو اس کے یہ معنے نہیں کہ ہم بھی اپنا فرض پورا نہ کریں۔

اس موقع پر مجھے ایک بزرگ کا واقعہ یاد آیا کہتے ہیں کہ ایک بزرگ بیس ۲۰ برس سے دعا کر رہے تھے وہ ہر روز دعا کرتے اور صبح کے قریب اُن کو جواب ملتا مانگتے رہو میں تو کبھی بھی تمہاری دعا قبول نہیں کروں گا۔ بیس برس گزرنے پر ایک دن ان کا کوئی مرید بھی ان کے ہاں مہمان آیا ہوا تھا اس نے دیکھا کہ پیر صاحب رات بھر دعا کرتے ہیں اور صبح کے قریب ان کو یہ آواز آتی ہے۔ یہ آواز اس مرید نے بھی سنی۔ تیسرے دن اس نے عرض کیا کہ جب اس قسم کا سخت جواب آپ کو ملتا ہے تو پھر آپ کیوں دعا کرتے رہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ تُو بہت بے استقلال معلوم ہوتا ہے بندے کا کام ہے دعا کرنا۔ خدا تعالیٰ کا کام ہے قبول کرنا۔ مجھے اس سے کیا غرض کہ وہ قبول کرتا ہے یا نہیں۔ میرا کام دعا کرنا ہے سو میں کرتا رہتا ہوں میں تو بیس ۲۰ سال سے ایسی آوازیں سُن رہا ہوں۔ میں تو کبھی نہیں گھبرایا تُو تین دن میں گھبرا گیا۔ دوسرے دن خدا تعالیٰ نے اُسے فرمایا کہ میں نے تیری وہ ساری دعائیں قبول کر لیں جو تُو نے بیس سال کے اندر کی ہیں۔

غرض ہمارا کام پہنچا دینا ہے اور محض اس وجہ سے کہ کوئی قبول نہیں کرتا ہمیں تھکنا اور رُکنا نہیں چاہئے کیونکہ ہمارا کام منوانا نہیں ہم کو تو اپنا فرض ادا کرنا چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہم کہہ سکیں کہ ہم نے پہنچا دیا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا لَسۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِمُصَۜیۡطِرٍ(88:23)۔ لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ(2:257) اور آپ کا کام اتنا ہی فرمایا بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ(5:68) جو تم پر نازل ہوا اسے پہنچاؤ پس ہمیں اپنا کام کرنا چاہئے۔ جب منوانا ہمارا کام نہیں تو دوسرے کے کام پر ناراض ہو کر اپنا کام کیوں چھوڑیں؟ ہم کو اللہ تعالیٰ کے حضور سُرخرو ہونے کیلئے پیغامِ حق پہنچا دینا چاہئے۔ پس ایسی تجویز کرو کہ ہر قصبہ اور شہر اور گاؤں میں ہمارے مبلغ پہنچ جاویں۔ اور زمین و آسمان گواہی دے دیں کہ تم نے اپنا فرض ادا کر دیا اور پہنچا دیا۔

دوم۔ ہندوستان سے باہر ہر ایک ملک میں ہم اپنے واعظ بھیجیں مگر میں اس بات کے کہنے سے نہیں ڈرتا کہ اس تبلیغ سے ہماری غرض سلسلہ احمدیہ کی صورت میں اسلام کی تبلیغ ہو۔ میرا یہی مذہب ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس رہ کر اندر باہر ان سے بھی یہی سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ اسلام کی تبلیغ یہی میری تبلیغ ہے پس اُس اسلام کی تبلیغ کرو جو مسیح موعودؑ لایا۔ حضرت صاحب اپنی ہر ایک تحریر میں اپنا ذکر فرماتے تھے اور ہم مسیح موعودؑ کے ذکر کے بغیر زندہ اسلام پیش کر بھی کب سکتے ہیں پس جو لوگ مسیح موعودؑ کی تبلیغ کا طریق چھوڑتے ہیں یہ ان کی غلطی ہے کمزوری ہے ان پر حُجّت پوری ہو چکی ہے حضرت صاحب کی ایک تحریر ملی ہے جو مولوی محمد علی صاحب کو ہی مخاطب کر کے فرمائی تھی۔ اور وہ یہ ہے۔

”اخبار بدر جلد ۶ نمبر ۸ مورخہ ۲۱۔ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۴، ۱۳۔ فروری ۱۹۰۷ء مولوی محمد علی صاحب کو بُلا کر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یورپ امریکہ کے لوگوں پر تبلیغ کا حق ادا کرنے کے واسطے ایک کتاب انگریزی زبان میں لکھی جائے اور یہ آپ کا کام ہے۔ آج کل ان ملکوں میں جو اسلام نہیں پھیلتا اور اگر کوئی مسلمان ہوتا بھی ہے تو وہ بہت کمزوری کی حالت میں رہتا ہے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ وہ لوگ اسلام کی اصل حقیقت سے واقف نہیں ہیں اور نہ ان کے سامنے اصل حقیقت کو پیش کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کا حق ہے کہ ان کو حقیقی اسلام دکھلایا جائے جو خدا تعالیٰ نے ہم پر ظاہر کیا ہے۔ وہ امتیازی باتیں جو خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ میں رکھی ہیں وہ ان پر ظاہر کرنی چاہئیں اور خدا تعالیٰ کے مکالمات اور مخاطبات کا سلسلہ ان کے سامنے پیش کرنا چاہئے اور ان سب باتوں کو جمع کیا جائے جن کے ساتھ اسلام کی عزت اس زمانہ میں وابستہ ہے۔ ان تمام دلائل کو ایک جگہ جمع کیا جائے جو اسلام کی صداقت کے واسطے خدا تعالیٰ نے ہم کو سمجھائے ہیں۔ اس طرح ایک جامع کتاب تیار ہو جائے تو امید ہے کہ اس سے ان لوگوں کو بہت فائدہ حاصل ہو۔

اب بتاؤ کہ جب مسیح موعود علیہ السلام نے خود یورپ میں تبلیغ اسلام کا طریق بتا دیا ہے تو پھر کسی نئے طریق کو اختیار کرنے کی کیا وجہ ہے۔ افسوس ہے جن کو اس کام کے لائق سمجھ کر ہدایت کی گئی تھی وہی اور راہ اختیار کر رہے ہیں۔ یہ غلط ہے کہ لوگ وہاں سلسلہ کی باتیں سننے کو تیار نہیں۔ ایک دوست کا خط آیا ہے کہ لوگ سلسلہ کی باتیں سننے کو تیار ہیں کیونکہ ایسی جماعتیں وہاں پائی جاتی ہیں جو مسیح کی آمد کی انہیں دنوں میں منتظر ہیں۔ ایسا ہی ریویو کو پڑھ کر بعض خطوط آتے ہیں۔ سویڈن اور انگلستان سے بھی آتے ہیں ایک شخص نے مسیح کے کشمیر آنے کا مضمون پڑھ کر لکھا ہے کہ اسے الگ چھپوایا جائے اور دو ہزار مجھے بھیجا جائے میں اسے شائع کروں گا یہ ایک جرمن یا انگریز کا خط ہے۔ ایسی سعادت مند روحیں ہیں جو سننے کو موجود ہیں مگر ضرورت ہے سنانے والوں کی۔

میں یورپ میں تبلیغ کے سوال پر آج تک خاموش رہا اس کی یہ وجہ نہ تھی کہ میں اس سوال کا فیصلہ نہیں کر سکتا تھا۔ نہیں بلکہ میں نے احتیاط سے کام لیا کہ جو لوگ وہاں گئے ہیں وہ وہاں کے حالات کا بہترین علم رکھتے ہیں میں چونکہ وہاں نہیں گیا اس لئے مجھے خاموش رہنا چاہئے لیکن جو لوگ وہاں گئے ان میں سے بعض نے لکھا ہے کہ حضرت صاحب کا ذکر لوگ سنتے ہیں اور ہماری تبلیغ میں حضرت صاحب کا ذکر ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ خود حضرت صاحب نے یورپ میں تبلیغ کیلئے یہی فرمایا کہ اس سلسلہ کو پیش کیا جاوے اور جو کشف آپ نے دیکھا تھا اس کے بھی یہی معنی کئے کہ میری تحریریں وہاں پہنچیں گی۔ ان تمام امور پر غور کر کے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ممالک غیر اور یورپ میں بھی اس سلسلہ کی اشاعت ہو اور ہمارے مبلغ وہاں جا کر انہیں بتائیں کہ تمہارا مذہب مُردہ ہے اس میں زندگی کی روح نہیں ہے۔ زندہ مذہب صرف اسلام ہے

جس کی زندگی کا ثبوت اِس زمانہ میں بھی ملتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نازل ہوئے ۔ غرض وہاں بھی سلسلہ کا پیغام پہنچایا جاوے اور جہاں ہم سر دست واعظ نہیں بھیج سکتے وہاں ٹریکٹ اور چھوٹے چھوٹے رسالے چھپوا کر تقسیم کریں۔

اشتہاری تبلیغ کا جوش

چونکہ مجھے تبلیغ کیلئے خاص دلچسپی رہی ہے اس دلچسپی کے ساتھ عجیب عجیب ولولے اور جوش پیدا ہوتے رہے ہیں ۔ اور اس تبلیغی عشق نے عجیب عجیب ترکیبیں میرے دماغ میں پیدا کی ہیں ۔ ایک بار خیال آیا کہ جس طرح پر اشتہاری تاجر اخبارات میں اپنا اشتہار دیتے ہیں میں بھی چین کے اخبارات میں ایک اشتہار تبلیغ سلسلہ کا دوں اور اس کی اُجرت دے دوں تاکہ ایک خاص عرصہ تک وہ اشتہار چھپتا رہے ۔ مثلاً یہی اشتہار کہ ”مسیح موعود آگیا“ بڑی موٹی قلم سے اس عنوان سے ایک اشتہار چھپتا رہے ۔ غرض میں اس جوش اور عشق کا نقشہ الفاظ میں نہیں کھینچ سکتا جو اس مقصد کے لئے مجھے دیا گیا ہے یہ ایک نمونہ ہے اس جوش کے پورا کرنے کا۔ ورنہ یہ ایک لطیفہ ہی ہے اس تجویز کے ساتھ ہی مجھے بے اختیار ہنسی آئی کہ یہ اشتہاری تبلیغ بھی عجیب ہو گی ۔ مگر یہ کوئی نئی بات نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی تبلیغ سلسلہ کیلئے عجیب عجیب خیال آتے تھے اور وہ دن رات اسی فکر میں رہتے تھے کہ یہ پیغام دنیا کے ہر کونے میں پہنچ جاوے ۔ ایک مرتبہ آپ نے تجویز کی کہ ہماری جماعت کا لباس ہی الگ ہو تاکہ ہر شخص بجائے خود ایک تبلیغ ہو سکے اور دوستوں کو ایک دوسرے کی ناواقفی میں شناخت آسان ہو۔ اس پر مختلف تجویزیں ہوتی رہیں ۔ میں خیال کرتا ہوں شاید اسی بناء پر لکھنؤ کے ایک دوست نے اپنی ٹوپی پر احمدی لکھوا لیا۔ غرض تبلیغ ہو اور کونہ کونہ میں ہو کوئی جگہ باقی نہ رہے یہ جوش یہ تجویزیں اور کوشش ہماری نہیں یہ حضرت صاحب ہی کی ہیں اور سب کچھ انہیں کا ہے۔ ہمارا تو کچھ بھی نہیں۔

مبلّغ کہاں سے آویں

جب ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کے ہر گوشہ اور ہر قوم اور ہر زبان میں ہماری تبلیغ ہو تو دوسرا سوال جو قدرتاً پیدا ہوتا ہے یہ ہوگا کہ تبلیغ کے لئے مبلّغ کہاں سے آویں؟ یہ وہ سوال ہے جس نے ہمیشہ میرے دل کو دکھ میں رکھا ہے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی یہ تڑپ رکھتے تھے کہ اخلاص کے ساتھ تبلیغ کرنے والے ملیں ۔ حضرت خلیفۃ المسیح کی بھی یہ آرزو رہی ۔ اسی خواہش نے اسی جگہ اسی مسجد میں مدرسہ احمدیہ کی بنیاد مجھ سے رکھوائی اور اسی مسجد میں بڑے زور سے اس کی مخالفت کی گئی لیکن میری کوئی ذاتی خواہش اور غرض نہ تھی محض اعلائے سلسلہ کی غرض سے میں نے یہ تحریک کی تھی۔ باوجودیکہ بڑے بڑے آدمیوں نے مخالفت کی آخر اللہ تعالیٰ نے اس مدرسہ کو قائم کر ہی دیا۔ اُس وقت سمجھنے والوں نے نہ سمجھا کہ اس مدرسہ کی کس قدر ضرورت ہے اور مخالفت میں حصہ لیا۔ میں دیکھتا تھا کہ علماء کے قائم مقام پیدا نہیں ہوتے۔ میرے دوستو! یہ معمولی مصیبت اور دکھ نہیں ہے کیا تم چاہتے ہو۔ ہاں کیا تم چاہتے ہو کہ فتویٰ پوچھنے کیلئے تم ندوہ اور دوسرے غیر احمدی مدرسوں یا علماء سے سوال کرتے پھرو۔ جو تم پر کفر کے فتوے دے رہے ہیں؟ دینی علوم کے بغیر قوم مُردہ ہوتی ہے پس اس خیال کو مدنظر رکھ کر باوجود پُر جوش مخالفت کے میں نے مدرسہ احمدیہ کی تحریک کو اُٹھایا اور خدا کا فضل ہے کہ وہ مدرسہ دن بدن ترقی کر رہا ہے۔ لیکن ہمیں تو اس وقت واعظ اور معلّموں کی ضرورت ہے مدرسہ سے تعلیم یافتہ نکلیں گے اور انشاء اللہ وہ مفید ثابت ہونگے مگر ضرورتیں ایسی ہیں کہ ابھی ملیں۔ میرا اپنا دل تو چاہتا ہے کہ گاؤں گاؤں ہمارے علماء اور مفتی ہوں جن کے ذریعہ علوم دینیہ کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری ہو اور کوئی بھی احمدی باقی نہ رہے جو پڑھا لکھا نہ ہو اور علوم دینی سے واقف نہ ہو۔ میرے دل میں اس غرض کے لئے بھی عجیب عجیب تجویزیں ہیں جو خدا چاہے گا تو پوری ہو جائیں گی۔

غرض یہ ضروری سوال ہے کہ مبلّغ کہاں سے آویں؟ اور پھر چونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر قوم اور ہر زبان میں ہماری تبلیغ ہو اس لئے ضرورت ہے کہ مختلف زبانیں سکھائی جاویں۔ حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی میں میں نے ارادہ کیا تھا کہ بعض ایسے طالب علم ملیں جو سنسکرت پڑھیں اور پھر وہ ہندوؤں کے گاؤں میں جا کر کوئی مدرسہ کھول دیں اور تعلیم کے ساتھ تبلیغ کا سلسلہ بھی جاری رکھیں اور ایک عرصہ تک وہاں رہیں جب اسلام کا بیج بویا جائے تو مدرسہ کسی شاگرد کے سپرد کر کے آپ دوسری جگہ جا کر کام کریں۔ غرض جس رنگ میں تبلیغ آسانی سے ہو سکے کریں۔

اس قسم کے لوگوں کی بہت بڑی ضرورت ہے جو خدمتِ دین کیلئے نکل کھڑے ہوں۔ یہ ضرورت کس طرح پوری ہو ایک سہل طریق خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ایک مدرسہ ہو تم باہم مل کر اس کے لئے مشورہ کرو۔ پھر میں غور کروں گا میں پھر کہتا ہوں کہ میں تم سے جو مشورہ کر رہا ہوں یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے نیچے کر رہا ہوں۔ قرآن مجید میں اس نے فرمایا ہے وَشَاوِرۡہُمۡ فِی الۡاَمۡرِ ۚ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ(آل عمران: ۱۶۰) پس تم مشورہ کر کے مجھے بتاؤ۔ پھر اللہ تعالیٰ جو کچھ میرے دل میں ڈالے گا میں اس پر تَوَكُّلًا عَلَی اللّٰهِ عزم کروں گا۔ غرض ایک مدرسہ ہو، اس میں ایک ایک مہینے یا تین تین مہینے کے کورس ہوں، اس عرصہ میں مختلف جگہ سے لوگ آجاویں اور وہ کورس پورا کر کے اپنے وطنوں کو چلے جاویں اور وہاں جا کر اپنے اس کورس کے موافق سلسلہ تبلیغ کا جاری کریں۔ پھر ان کی جگہ ایک اور جماعت آوے اور وہ بھی اسی طرح اپنا کورس پورا کر کے چلی جاوے۔ سال تک برابر اسی طرح ہوتا رہے پھر اسی طریق پر وہ لوگ جو پہلے سال آئے تھے آتے رہیں۔ اس طرح پر ان کی تکمیل ہو اور ساتھ ہی وہ تبلیغ کرتے رہیں۔ میں اس مقصد کیلئے خاص استاد مقرر کروں گا اور جو لوگ اس طرح پر آتے رہیں گے وہ برابر پڑھتے رہیں گے۔ یہ تعلیم کا ایک ایسا ہی طریق ہے جیسا کہ میدانِ جنگ میں نماز کا ہے۔ اس وقت بھی دشمن سے جنگ ہے اب تیر وتفنگ کی لڑائی نہیں بلکہ دلائل اور براہین سے ہو رہی ہے اس لئے انہی ہتھیاروں سے ہم کو مسلح ہونا چاہئے اور اس کی یہ ایک صورت ہے۔

غرض ایک سال کا کورس ختم ہونے کے بعد پھر پہلی جماعت آئے اور کورس ختم کر کے ایک ایک سال کے لئے ذخیرہ موجود ہوگا۔ حتیٰ کہ چار پانچ ۶ ، ۷ سال میں جب تک خدا چاہے کام کرتے رہیں اتنے عرصہ میں مبلغ تیار ہو جاویں گے۔ یہ ایک طریق ہے یہ ایک رنگ ہے پس تم غور کرو کہ ایک مدرسہ اس قسم کا چاہئے۔

واعظین کا تقرر

واعظین کے تقرر کی بھی ضرورت ہے اور میری رائے یہ ہے کہ کم از کم دس تو ہوں۔ ان کو مختلف جگہ بھیج دیا جاوے۔ مثلاً ایک سیالکوٹ چلا جاوے وہ وہاں جا کر درس دے اور تبلیغ کرے تین ماہ تک وہاں رہے اور پھر دوسری جگہ چلا جاوے۔ کسی جگہ ایک آدھ دن کے لیکچر یا وعظ کی بجائے یہ سلسلہ زیادہ مفید ہو سکتا ہے واعظین کم از کم دس ہوں اور اگر یہ بھی نہ مل سکیں تو کم از کم پانچ ہی ہوں۔

قومِ لوط کا واقعہ

اس موقع پر مجھے ایک خطرناک واقعہ یاد آ گیا۔ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر جب عذاب آیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی ”تب ابرہام نزدیک جا کے بولا۔ کیا تُو نیک کو بد کے ساتھ ہلاک کرے گا؟ شاید پچاس صادق اس شہر میں ہوں۔ کیا تُو اسے ہلاک کرے گا اور ان پچاس صادقوں کی خاطر جو اس کے درمیان ہیں۔ اس مقام کو نہ چھوڑے گا؟ ایسا کرنا تجھ سے بعید ہے کہ نیک کو بد کے ساتھ مار ڈالے اور نیک بد کے برابر ہو جاویں یہ تجھ سے بعید ہے! کیا تمام دنیا کا انصاف کرنے والا انصاف نہ کرے گا؟ اور خداوند نے کہا کہ اگر میں سدوم میں شہر کے درمیان پچاس صادق پاؤں تو میں ان کے واسطے تمام مکان کو چھوڑوں گا۔ تب ابرھام نے جواب دیا اور کہا کہ اب دیکھ میں نے خداوند سے بولنے میں جرأت کی اگرچہ میں خاک اور راکھ ہوں۔ شاید پچاس صادقوں سے پانچ کم ہوں۔ کیا ان پانچ کے واسطے تُو تمام شہر کو نیست کرے گا؟ اور اس نے کہا اگر میں وہاں پنتالیس پاؤں تو نیست نہ کروں گا۔ پھر اس نے اس سے کہا شاید وہاں چالیس پائے جائیں۔ تب اس نے کہا کہ میں چالیس کے واسطے بھی نہ کروں گا۔ پھر اس نے کہا کہ میں منت کرتا ہوں کہ اگر خداوند خفانہ ہوں تو میں پھر کہوں۔ شاید وہاں تیس پائے جائیں وہ بولا اگر میں وہاں تیس پاؤں تو میں یہ نہ کروں گا۔ پھر اس نے کہا دیکھ میں نے خداوند سے بات کرنے میں جرأت کی۔ شاید وہاں بیس پائے جائیں۔ وہ بولا میں بیس کے واسطے بھی اسے نیست نہ کروں گا۔ تب اس نے کہا میں منت کرتا ہوں کہ خداوند خفانہ ہوں۔ تب میں فقط اب کی بار پھر کہوں شاید وہاں دس پائے جائیں۔ وہ بولا میں دس کے واسطے بھی اسے نیست نہ کروں گا۔“ (پیدائش باب ۱۸ آیت ۲۳ تا ۳۲ مطبوعہ برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی انار کلی لاہور ۱۹۲۲ء)

قرآن شریف میں اس کی نسبت فرمایا فَمَا وَجَدۡنَا فِیۡہَا غَیۡرَ بَیۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ(الذّٰريٰت: ۳۷) غرض دس کے ذکر پر مجھے یہ واقعہ یاد آگیا تو کس قدر افسوس کی بات ہے کہ دس مولوی بھی نہ ملیں یہ بہت ہی رونے اور گڑگڑانے اور دعاؤں کا مقام ہے کیونکہ جب علماء نہ ہوں تو دین میں کمزوری آجاتی ہے میں تو بہت دعائیں کرتا ہوں کہ اللہ اس نقص کو دور فرمادے۔

یہ تجویز جو میں نے پیش کی ہے قرآن مجید نے ہی اس کو پیش کیا ہے چنانچہ فرمایا فَلَوۡلَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرۡقَۃٍ(التوبة: ۱۲۲) سارے مؤمن تو ایک وقت اکٹھے نہیں ہو سکتے اس لئے یہ فرمایا کہ ہر علاقہ سے کچھ لوگ آویں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور رہ کر دین حاصل کر کے اپنی قوم میں جا کر انہیں سکھائیں۔ یہ تو میری پہلی تجویز کی تائید قرآن مجید سے ہے یا یوں کہو کہ قرآن مجید کی ہدایت کے موافق میری پہلی تجویز ہے۔

دوسری تجویز بھی قرآن مجید ہی کی ہے چنانچہ فرمایا وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ(آل عمران: ۱۰۵) یہ آیت واعظین کی ایک ایسی جماعت کی تائید کرتی ہے جس کا کام ہی تبلیغ ہو۔

تعلیمِ شرائع

ان امور کے بعد پھر تعلیم شرائع کا کام آتا ہے جب تک قوم کو شریعت سے واقفیت نہ ہو انہیں معلوم نہ ہو کہ انہوں نے کیا کرنا ہے عملی حالت کی اصلاح

مشکل ہوتی ہے اس لئے خلیفہ کے کاموں میں تعلیمِ شرائع ضروری ہے میں نے ایک شخص کو دیکھا جو بیعت کرنے لگا اس کو کلمہ بھی نہیں آتا تھا اس لئے ضروری ہے کہ ہماری جماعت کا کوئی فرد باقی نہ رہے جو ضروری باتیں دین کی نہ جانتا ہو۔ پس اس تعلیمِ شرائع کے انتظام کی ضرورت ہے۔ یہ کام کچھ تو مبلغین اور واعظین سے لیا جاوے۔ وہ ضروری دینی مسائل سے قوم کو واقف کرتے رہیں۔ میں نے ایسے آدمیوں کو دیکھا ہے جو قوم میں لیڈر کہلاتے ہیں وہ نماز نہیں پڑھنا جانتے اور بعض اوقات عجیب عجیب قسم کی غلطیاں کرتے ہیں اور نمازیں پڑھنی نہیں آتی ہیں اور یقیناً نہیں آتی ہیں۔ کوئی کہہ دیگا کہ یہ (تعدیلِ ارکان) فضول ہیں میں کہتا ہوں کہ خدا نے کیوں فرمایا وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ(2:130) پس یہ ضروری چیز ہے اور میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر ایک کی حکمت بیان کرسکتا ہوں۔ میں نے حضرت صاحب کو دیکھا ہے کہ جراب میں ذرا سوراخ ہو جاتا تو فوراً اس کو تبدیل کر لیتے۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ لوگ ایسی پھٹی ہوئی جرابوں پر بھی جن کی ایڑی اور پنجہ دونوں نہیں ہوتے مسح کرتے چلے جاتے ہیں یہ کیوں ہوتا ہے؟ شریعت کے احکام کی واقفیت نہیں ہوتی۔ اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ رخصت اور جواز کے صحیح محل کو نہیں سمجھتے۔

مجھے ایک دوست نے ایک لطیفہ سنایا کہ کسی مولوی نے ریشم کے کنارے والا تہ بند پہنا ہوا تھا اور وہ کنارہ بہت بڑا تھا میں نے ان سے کہا کہ ریشم تو منع ہے۔ مولوی صاحب نے کہا کہ کہاں لکھا ہے؟ میں نے کہا کہ آپ لوگوں سے ہی سنا ہے کہ چار انگلیوں سے زیادہ نہ ہو مولوی صاحب نے کہا کہ چار انگلیاں ہماری تمہاری نہیں بلکہ حضرت عمرؓ کی ان کی چار انگلیاں ہماری بالشت کے برابر تھیں۔ اسی طرح انسان خیالی شریعتیں قائم کرتا ہے۔ یہ خوف کا مقام ہے ایسی باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے اور یہ اُسی وقت ہوسکتا ہے جب انسان حدودِ شرائع سے واقف ہو اور خدا کا خوف دل میں ہو۔ یہ مت سمجھو کہ چھوٹے چھوٹے احکام میں اگر پرواہ نہ کی جاوے تو کوئی حرج نہیں یہ بڑی بھاری غلطی ہے جو شخص چھوٹے سے چھوٹے حکم کی پابندی نہیں کرتا وہ بڑے سے بڑے حکم کی بھی پابندی نہیں کرسکتا۔ خدا کے حکم سب بڑے ہیں بڑوں کی بات بڑی ہی ہوتی ہے جن احکام کو لوگ چھوٹا سمجھتے ہیں ان سے غفلت اور بے پرواہی بعض اوقات کفر تک پہنچا دیتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے بعض چھوٹے چھوٹے احکام بتائے ہیں مگر ان کی عظمت میں کمی نہیں آتی۔ طالوت کا واقعہ قرآنِ مجید میں موجود ہے۔ ایک نہر کے ذریعہ قوم کا امتحان ہو گیا۔ سیر ہو کر پینے والوں کو کہہ دیا فَلَیۡسَ مِنِّیۡ(2:250)۔ اب ایک سطحی خیال کا آدمی تو یہی کہے گا کہ پانی پی لینا کونسا جُرم تھا۔ مگر نہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت سکھانا مقصود تھا۔ وہ جنگ کیلئے جا رہے تھے اس لئے یہ امتحان کا حکم دے دیا اگر وہ اس چھوٹے سے حکم کی اطاعت کرنے کے بھی قابل نہ ہوں گے تو پھر میدانِ جنگ میں کہاں مانیں گے؟ بہرحال اللہ تعالیٰ کے تمام احکام میں حکمتیں ہیں اور اگر انسان ان پر عمل کرتا رہے تو پھر اللہ تعالیٰ ایمان نصیب کر دیتا ہے اور اپنے فضل کے دروازے کھول دیتا ہے (چونکہ وقت زیادہ ہو گیا تھا آپ نے فرمایا کہ گھبرانا نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بعض وقت لمبی تقریر کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے آپ لوگوں کو جس غرض کیلئے جمع کیا گیا ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ پورے طور پر اس سے واقف ہو جاویں ۔)

غرض شرائع میں حکمتیں ہیں اگر ان کی حقیقت معلوم نہ ہو تو بعض وقت اصل احکام بھی جاتے رہتے ہیں اور پھر غفلت اور سستی پیدا ہو کر مٹ جاتے ہیں۔ کسی جنٹلمین نے لکھ دیا کہ نماز کسی بینچ یا کرسی پر بیٹھ کر ہونی چاہئے کیونکہ پتلون خراب ہو جاتی ہے دوسرے نے کہہ دیا کہ وضوء کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ اس سے کفیں وغیرہ خراب ہو جاتی ہیں۔ جب یہاں تک نوبت پہنچی تو رکوع اور سجدہ بھی ساتھ ہی گیا۔ اگر کوئی شخص ان کو حکمت سکھانے والا ہوتا اور انہیں بتاتا کہ نماز کی حقیقت یہ ہے، وضوء کے یہ فوائد ہیں اور رکوع اور سجود میں یہ حکمتیں ہیں تو یہ مصیبت کیوں آتی اور اس طرح وہ دین کو کیوں خیر باد کہتے۔ مسلمانوں نے شرائع کی حکمتوں کے سیکھنے کی کوشش نہیں کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت لوگ مرتد ہو رہے ہیں اگر کوئی عالم ان کو حکمتوں سے واقف کرتا تو کبھی دہریت اور ارتداد نہ پھیلتا۔

یہاں اسی مسجد والے مکان کے مالک (یہ مسجد والا مکان مرزا امام الدین وغیرہ سے خریدا تھا ۔ مؤلف) حضرت صاحب کے چچا کا بیٹا مرزا امام الدین دہریہ تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے ایک مرتبہ ان سے پوچھا کہ مرزا صاحب! کبھی یہ خیال بھی آیا ہے کہ اسلام کی طرف توجہ کرنی چاہئے؟ کہنے لگا کہ میری فطرت بچپن سے ہی سلیم تھی لوگ جب نماز پڑھتے اور رکوع سجود کرتے تو مجھے ہنسی آتی تھی کہ یہ کیا کرتے ہیں۔ یہ کیوں ہوا؟ اس لئے کہ انہیں کسی نے حکمت نہ سکھائی۔ شرائع اسلام کی حقیقت سے واقف نہ کیا نتیجہ یہ ہوا کہ دہریہ ہو گیا سو یہ کام خلیفہ کا ہے کہ حکمت سکھائے اور چونکہ وہ ہر جگہ تو جا نہیں سکتا اس لئے ایک جماعت ہو جو اس کے پاس رہ کر ان حکمتوں اور شرائع کے حدود کو سیکھے پھر وہ اس کے ماتحت لوگوں کو سکھائے تاکہ لوگ گمراہ نہ ہوں۔ اس زمانہ میں اس کی خصوصیت سے ضرورت ہے کہ لوگ جدید علوم پڑھ کر ہوشیار ہو رہے ہیں

عیسائیوں نے اسلام پر اعتراض کیا ہے کہ عبادات کے ساتھ مادی امور کو شامل کیا ہے۔ انہیں چونکہ شریعت کی حقیقت کی خبر نہیں اس لئے دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔ پس ضرورت ہے کہ واعظ مقرر ہوں جو شرائع کی تعلیم دیں اور ان کی حکمت سے لوگوں کو آگاہ کریں۔

تعلیمُ العقائد کی کتاب

اس کے سوا ایک اور ضروری بات ہے حضرت صاحب کو اس کے متعلق بڑی توجہ تھی مگر لوگوں نے بھلا دی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(2:157) پھر حضرت خلیفۃ المسیح نے توجہ دلائی مگر لوگوں نے پھر بھلا دی۔ میں اب پھر یاد دلاتا ہوں اور اِنْشَاءَ اللّٰهُ الْعَزِیْز میں اس کو یاد رکھوں گا اور یاد دلاتا رہوں گا۔ جب تک اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی تکمیل کے کام سے سُرخرو کر دے۔ میں نے حضرت صاحب سے بارہا یہ خواہش سنی تھی کہ ایسا رسالہ ہو جس میں عقائد احمدیہ ہوں اگر ایسا رسالہ تیار ہو جائے تو آئے دن کے جھگڑے فیصل ہو جائیں اور پھر نزاعیں برپا نہ ہوں۔

میں چاہتا ہوں کہ علماء کی ایک مجلس قائم کروں اور وہ حضرت صاحب کی کتابوں کو پڑھ کر اور آپ کی تقریروں کو زیر نظر رکھ کر عقائد احمدیہ پر ایک کتاب لکھیں اور اس کو شائع کیا جاوے اس وقت جو بحثیں چھڑتی ہیں جیسے کفر و اسلام کی بحث کسی نے چھیڑ دی اس سے اس قسم کی تمام بحثوں کا سدّ باب ہو جائے گا لیکن اب جبکہ کوئی ایسی مستند اور جامع کتاب موجود نہیں مختلف جھگڑے آئے دن ہوتے رہتے ہیں کوئی کہتا ہے حضرت صاحب مسیح ناصری سے افضل تھے دوسرا کہتا ہے نہیں اس کی جڑ یہی ہے کہ لوگوں کو واقفیت نہیں۔ مگر جب ایسی جامع کتاب علماء کی ایک مجلس کے کامل غور کے بعد شائع ہو جاوے گی تو سب کے سب اسے اپنے پاس رکھیں گے اور اس طرح پر عقائد میں اِنْشَاءَ اللّٰہ اختلاف نہیں ہوگا۔

آنحضرت ﷺ کا طریقِ وعظ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق یہ تھا کہ آپ بہت ہی مختصر وعظ فرماتے۔ لیکن کبھی ایسا بھی ہوا کہ آپ وعظ فرما رہے ہیں اور ظہر کا وقت آگیا۔ پھر نماز پڑھ لی۔ پھر وعظ کرنے لگے اور عصر کا وقت آگیا پھر نماز پڑھ لی۔ پس آج کا وعظ اسی سنت پر عمل معلوم ہوتا ہے۔ میں جب یہاں آیا ہوں تو بیت الدعا میں دعا کر کے آیا تھا کہ میرے منہ سے کوئی بات ایسی نہ نکلے جو ہدایت کی بات نہ ہو۔ ہدایت ہو اور لوگ ہدایت سمجھ کر مانیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ وقت زیادہ ہو گیا ہے اور میں اپنے آپ کو روکنا چاہتا ہوں مگر باتیں آرہی ہیں اور مجھے بولنا پڑتا ہے۔ پس میں

انہیں ربانی تحریک سمجھ کر اور اپنی دعا کا نتیجہ یقین کر کے بولنے پر مجبور ہوں غرض تعلیم العقائد کیلئے ایک ایسے رسالہ یا ٹریکٹ کی ضرورت ہے۔ اس کے نہ ہونے کی وجہ سے یہ دقت آرہی ہے کہ کسی نے صرف تریاق القلوب کو پڑھا اور اس سے ایک نتیجہ نکال کر اس پر قائم ہو گیا حقیقتہ الوحی کو نہ دیکھا اب دوسرا آیا اس نے حقیقتہ الوحی کو پڑھا اور سمجھا ہے وہ اس کی بناء پر اس سے بحث کرتا ہے اور تیسرا آتا ہے اس نے حضرت صاحب کے تمام اشتہارات کو بھی جن کی تعداد ۱۸۰ سے زیادہ ہے پڑھا ہے وہ اپنے علم کے موافق کلام کرتا ہے۔ مثلاً مجھے اب تک معلوم نہ تھا کہ اشتہارات کی اس قدر تعداد ہے آج ہی معلوم ہوا ہے اور اب اِنْشَاءَ اللّٰہ میں خود بھی ان تمام اشتہارات کو پڑھوں گا۔

پس ضرورت ہے کہ علماء کی ایک جماعت ہو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھ کر عقائد کے متعلق ایک نتیجہ نکال کر ایک رسالہ میں انہیں جمع کریں۔ وہ تمام عقائد جماعت کو دیئے جاویں اور سب انہیں پڑھیں اور یاد رکھیں۔ یہ اختلاف جو عقائد کے متعلق پیدا ہوتا ہے اِنْشَاءَ اللّٰہ بالکل مٹ جاوے گا سب کا ایک ہی عقیدہ ہو گا اور اگر پھر اختلاف ہو گا بھی تو نہایت ہی خفیف ہو گا۔ تفرقہ نہ ہو گا جیسے اب ہوا۔ میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اس وقت بھی جو اختلاف ہوا وہ عقائد کی وجہ سے نہیں۔ کفر و اسلام کا بہانہ ہے۔ احمدی اور غیر احمدی کے سوال کو خلافت سے کیا تعلق؟ اگر یہ سوال حل ہو جائے تو کیا یہ معترض خلافت کو مانیں گے کبھی نہیں یہ تو غیر احمدیوں کی ہمدردی کو حاصل کرنے اور بعض احمدیوں کو بھڑکانے کیلئے ہے بھلا خیال تو کرو کہ دو میاں بیوی یا بھائی بھائی اگر آپس میں لڑ کر ایک دوسرے سے جُدا ہو جائیں کہ ہمارے ہمسایہ کا کیا مذہب ہے تو یہ عقلمندی ہو گی۔ نہیں یہ مسئلہ صرف ایک آڑ ہے۔

میری خواہش

میرا دل چاہتا ہے کہ ان خواہشوں کی تکمیل میرے وقت میں ہو جاوے یہ اتحاد کیلئے بڑی ضروری ہیں اگر خدا تعالیٰ نے چاہا جیسا کہ میں اپنے خدا پر بڑی بڑی امیدیں رکھتا ہوں تو سب کچھ ہو جائے گا۔ تعلیم شرائع کا انتظام بھی ہو جاوے گا اور حکمت بھی سکھائیں گے اور یہ ساری باتیں قرآن شریف سے ہی اِنْشَاءَ اللّٰہ بتا دیں گے۔

تزکیہٴ نفوس

ان امور کے بعد اب تزکیہٴ نفس ہے میں نے کہا ہے کہ قرآن مجید سے اور سورۃ بقرہ کی ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ تزکیہٴ نفوس کیلئے سب سے بڑا ہتھیار ناقابل خطا ہتھیار دعا ہے۔ نماز بھی دعا ہی ہے۔ سورۃ بقرہ جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا

کام تزکیہ بتایا ہے اسے بھی دعا پر ہی ختم کیا ہے اور نماز کے آخری حصہ میں بھی دعائیں ہی ہیں۔ پس تزکیۂ نفوس کیلئے پہلی چیز دعا ہی ہے خدا کے محض فضل سے میں بہت دعائیں کرتا ہوں اور بہت کرتا ہوں تم بھی دعاؤں سے کام لو۔ خدا تعالیٰ زیادہ توفیق دے۔ یہ بھی یاد رکھو کہ میری اور تمہاری دعاؤں میں فرق ہے جیسے ایک ضلع کے افسر کی رپورٹ کا اور اثر ہوتا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر کا اور، اور وائسرائے کا اور۔ اسی طرح پر اللہ تعالیٰ جس کسی کو منصبِ خلافت پر سرفراز کرتا ہے تو اس کی دعاؤں کی قبولیت بڑھا دیتا ہے کیونکہ اگر اس کی دعائیں قبول نہ ہوں تو پھر اس کے اپنے انتخاب کی ہتک ہوتی ہے تم میرے لئے دعا کرو کہ مجھے تمہارے لئے زیادہ دعا کی توفیق ملے اور اللہ تعالیٰ ہماری ہر قسم کی سستی دور کر کے چستی پیدا کرے۔ میں جو دعا کروں گا۔ وہ اِنْشَاءَ اللّٰہ فرداً فرداً ہر شخص کی دعا سے زیادہ طاقت رکھے گی۔ تزکیۂ نفس کے متعلق کسی نے ایک لطیف بات بیان کی ہے اور وہ یہ ہے کہ ان تین باتوں کا نتیجہ یُزَکِّیْھِمْ ہوتا ہے۔ یعنی قرآن مجید کی تلاوت کرے اور تَعْلِیْمُ الْکِتَابِ وَالْحِکْمَۃِ کرے اس کے بعد اس جماعت میں تزکیہ پیدا ہو جائے گا۔

پھر ایک اور بڑا ذریعہ تزکیۂ نفوس کا ہے جو مسیح موعود علیہ السلام نے کہا ہے اور میرا یقین ہے کہ وہ بالکل درست ہے۔ ہر ہر حرف اس کا سچا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر شخص جو قادیان نہیں آتا یا کم از کم ہجرت کی خواہش نہیں رکھتا اس کی نسبت شبہ ہے کہ اس کا ایمان درست ہو۔ عبدالحکیم کی نسبت یہی فرمایا کرتے تھے کہ وہ قادیان نہ آتا تھا۔ قادیان کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ (تذکرہ صفحہ ۴۳۱) فرمایا یہ بالکل درست ہے کہ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی فرماتے تھے۔

زمینِ قادیان اب محترم ہے

ہجومِ خلق سے ارضِ حرم ہے

جب خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا کہ ’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘ تو پھر جہاں وہ پیدا ہوا۔ جس زمین پر چلتا پھرتا رہا اور آخر دفن ہوا کیا وہاں برکت نازل نہ ہوگی؟ یہ جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ وعدہ دیا کہ مکہ میں دجال نہ جائے گا۔ کیا زمین کی وجہ سے نہیں جائے گا؟ نہیں بلکہ اس لئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں مبعوث ہوئے۔

میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا ہے کہ قادیان کی زمین بابرکت ہے میں نے دیکھا کہ ایک شخص عبد الصمد کھڑا ہے اور کہتا ہے۔

”مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت! تم پر خلافت کی رحمتیں یا برکتیں نازل ہوتی ہیں“۔

یہ بالکل درست ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کے مقامات دیکھنے سے ایک رقت پیدا ہوتی ہے اور دعا کی تحریک ہوتی ہے اس لئے قادیان میں زیادہ آنا چاہئے۔ پھر دعاؤں کیلئے تعلق کی ضرورت ہے حضرت صاحب کو میں نے دیکھا ہے مگر حضرت خلیفۃ المسیح بچتے تھے اور میں خود بھی بچتا ہوں۔ حضرت صاحب بعض لوگوں کو کہہ دیا کرتے تھے کہ تم ایک نذر مقرر کرو میں دعا کروں گا۔ یہ طریق محض اس لئے اختیار کرتے تھے کہ تعلق بڑھے۔ اس کے لئے حضرت صاحب نے بارہا ایک حکایت سنائی ہے کہ ایک بزرگ سے کوئی شخص دعا کرانے گیا اس کے مکان کا قبالہ گم ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں دعا کروں گا مگر پہلے میرے لئے حلوہ لاؤ۔ وہ شخص حیران تو ہوا مگر دعا کی ضرورت تھی حلوہ لینے چلا گیا اور حلوائی کی دُکان سے حلوہ لیا۔ وہ جب حلوہ ایک کاغذ میں ڈال کر دینے لگا تو وہ چلایا کہ اس کو پھاڑ یو نہیں یہ تو میرے مکان کا قبالہ ہے اسی کے لئے وہ دعا کرانا چاہتا تھا۔ غرض وہ حلوہ لے کر گیا اور بتایا کہ قبالہ مل گیا تو اس بزرگ نے کہا میری غرض حلوہ سے صرف یہ تھی کہ تعلق پیدا ہو۔ غرض دعا کیلئے ایک تعلق کی ضرورت ہے اور اس کے لئے اتنا ہی کہتا ہوں کہ خطوط کے ذریعہ یاد دلاتے رہو تا کہ تم مجھے یاد رہو۔

یُزَکِّیْھِمْ کے دوسرے معنی

اب یُزَکِّیْھِمْ کے دوسرے معنی لو۔ جس میں غرباء و مساکین کی خبر گیری داخل ہے لوگ یہ تو نہیں جانتے کہ میرے پاس ہے یا نہیں مگر جب وہ جانتے ہیں کہ میں خلیفہ ہو گیا ہوں تو حاجتمند تو آتے ہیں اور یہ سیدھی بات ہے کہ جو شخص کسی قوم کا سردار بنے گا اس کے پاس حاجتمند تو آئیں گے۔ اس لئے شریعت نے زکوٰۃ کا انتظام خلیفہ کے سپرد کیا ہے۔ تمام زکوٰۃ اس کے پاس آنی چاہئے تا کہ وہ حاجتمندوں کو دیتا رہے۔ پس چونکہ یہ میرا ایک فرض اور کام ہے کہ میں کمزور لوگوں کی کمزوریوں کو دور کروں اس لئے تمہارا فرض ہونا چاہئے کہ اس میں میرے مددگار رہو۔ ابھی تو جھگڑے ہی ختم نہیں ہوئے مگر پھر بھی کئی سو کی درخواستیں آ چکی ہیں جن کا مجھے انتظام کرنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ ابھی میں نے کہا ہے کہ یہ سلسلہ خلیفہ کے ذمہ رکھا ہے کہ ہر قسم کی کمزوریاں دور کرے خواہ وہ جسمانی ہوں یا مالی، ذہنی ہوں یا علمی اور اس کے لئے سامان چاہئے۔ پس اس کے انتظام کیلئے زکوٰۃ کی مد کا انتظام ہونا ضروری ہے میں نے اس کے انتظام کیلئے یہ تجویز کی ہے کہ زکوٰۃ سے اس قسم کے اخراجات ہوں۔ حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں بھی یہ تجویز میں نے پیش کی تھی۔ پہلے تو میں ان سے بے تکلف تھا اور دو دو گھنٹہ تک مباحثہ کرتا رہتا تھا لیکن جب وہ خلیفہ ہو گئے تو کبھی میں ان کے سامنے چوکڑی مار کر بھی نہیں بیٹھا کرتا تھا جاننے والے جانتے ہیں خواہ مجھے تکلیف بھی ہوتی مگر یہ جرأت نہ کرتا اور نہ اونچی آواز سے کلام کرتا۔ کسی ذریعہ سے میں نے انہیں کہلا بھیجا تھا کہ زکوٰۃ خلیفہ کے پاس آنی چاہئے۔ کسی زمانہ میں تو عُشْر آتے تھے اب وہ وقت نہیں آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ اس شخص کو کہا کہ تم مجھے زکوٰۃ دے دیا کرو میرا یہی مذہب ہے اور میرا بھی یہی عقیدہ ہے کہ زکوٰۃ خلیفہ کے پاس جمع ہو۔

پس تمہیں چاہئے کہ اپنی انجمنوں میں زکوٰۃ کے رجسٹر رکھو اور ہر شخص کی آمدنی تشخیص کر کے اس میں درج کرو اور جو لوگ صاحبِ نصاب ہوں وہ حساب کر کے پوری زکوٰۃ ادا کریں اور وہ براہِ راست انجمن مقامی کے رجسٹروں میں درج ہو کر میرے پاس آ جائے اس کا باقاعدہ حساب کتاب رہے ہاں یہ بھی ضروری ہے کہ جن زکوٰۃ دینے والوں کے بعض رشتہ دار مستحقِ زکوٰۃ ہوں کہ ان کی مدد زکوٰۃ سے ہو سکتی ہو وہ ایک فہرست اس مطلب کی یہاں بھیج دیں۔ پھر ان کیلئے بھی مناسب مدد یا تو یہاں سے بھیج دی جایا کرے گی یا وہاں ہی سے دے دیئے جانے کا حکم دیا جایا کرے گا۔ بہرحال زکوٰۃ جمع ایک جگہ ہونی چاہئے اور پھر خلیفہ کے حکم کے ماتحت وہ خرچ ہونی چاہئے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر باقاعدہ رجسٹر کھولے گئے اور اس کے جمع کرنے میں کوشش کی گئی تو اس مد میں ہزاروں روپیہ جمع ہو سکتا ہے بلکہ میرا یقین ہے کہ تھوڑے ہی دنوں میں لاکھ سے بھی زیادہ آمدنی ہو سکتی ہے اس طرف زور سے توجہ ہو۔ میں یہ کروں گا کہ مسئلہ زکوٰۃ پر ایک ٹریکٹ لکھوا کر شائع کر دوں گا۔ جس میں زکوٰۃ کے تمام احکام ہوں گے مگر آپ کا یہ کام ہے کہ زکوٰۃ کیلئے باقاعدہ رجسٹر کھول دیں اور نہایت احتیاط اور کوشش سے زکوٰۃ جمع کریں اور وہ زکوٰۃ باقاعدہ میرے پاس آنی چاہئے یہ ایک تجویز ہے۔

ترقیٴ تعلیم

میں نے بتایا تھا کہ يُزَكِّيْهِمْ کے معنوں میں اُبھارنا اور بڑھانا بھی داخل ہے اور اس کے مفہوم میں قومی ترقی داخل ہے اور اس ترقی میں علمی ترقی بھی شامل اور اسی میں انگریزی مدرسہ، اشاعتِ اسلام وَغَيْرُهُمَا امور آ جاتے ہیں اس سلسلہ میں میرا

خیال ہے کہ ایک مدرسہ کافی نہیں ہے جو یہاں کھولا ہوا ہے اس مرکزی سکول کے علاوہ ضرورت ہے کہ مختلف مقامات پر مدر سے کھولے جائیں۔ زمیندار اس مدرسہ میں لڑکے کہاں بھیج سکتے ہیں۔ زمینداروں کی تعلیم بھی تو مجھ پر فرض ہے پس میری یہ رائے ہے کہ جہاں جہاں بڑی جماعت ہے وہاں سر دست پرائمری سکول کھولے جائیں ایسے مدارس یہاں کے مرکزی سکول کے ماتحت ہونگے۔

ایسا ہونا چاہئے کہ جماعت کا کوئی فرد عورت ہو یا مرد باقی نہ رہے جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو۔ صحابہؓ نے تعلیم کیلئے بڑی بڑی کوششیں کی ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض دفعہ جنگ کے قیدیوں کا فدیہ آزادی یہ مقرر فرمایا ہے کہ وہ مسلمان بچوں کو تعلیم دیں ۔ میں جب دیکھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیا فضل لے کر آئے تھے تو جوشِ محبت سے روح بھر جاتی ہے آپ نے کوئی بات نہیں چھوڑی۔ ہر معاملہ میں ہماری راہنمائی کی ہے پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح نے بھی اسی نقشِ قدم پر چل کر ہر ایسے امر کی طرف توجہ دلائی ہے جو کسی بھی پہلو سے مفید ہو سکتا ہے۔

غرض عام تعلیم کی ترقی کیلئے سر دست پرائمری سکول کھولے جائیں۔ ان تمام مدارس میں قرآن مجید پڑھایا جائے اور عملی دین سکھایا جائے نماز کی پابندی کرائی جائے مومن کسی معاملہ میں پیچھے نہیں رہتا۔ پس تعلیم عامہ کے معاملہ میں ہمیں جماعت کو پیچھے نہیں رکھنا چاہئے اگر اس مقصد کے ماتحت پرائمری سکول کھولے جائیں گے تو گورنمنٹ سے بھی مدد مل سکتی ہے۔

جماعت کی دُنیوی ترقی

تعلیم کے سوال کے ساتھ ہی یہ بھی قابل غور امر ہے کہ جماعت کی دُنیوی ترقی ہو۔ ان کو فقر اور سوال سے بچایا جائے اور واعظین تبلیغ اور تعلیم شرائع کیلئے جائیں ۔ ان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ جماعت کی مالی ترقی کا بھی خیال رکھیں اور یہاں رپورٹ کرتے رہیں کہ احمدی سُست تو نہیں۔ اگر کسی جگہ کوئی شخص سُست پایا جائے تو اس کو کاروبار کی طرف متوجہ کیا جائے ۔ مختلف حرفتوں اور صنعتوں کی طرف اُنہیں متوجہ کیا جائے اس قسم کی باقاعدہ اطلاعات جب ملتی رہیں گی تو جماعت کی اصلاحِ حال کی کوشش اور تدبیر ہو سکے گی۔

عملی ضرورت ہے

جب میں نے ان باتوں پر غور کیا تو میں نے دیکھا کہ یہ بہت بڑا میدان ہے میں نے غور کیا تو ڈر گیا کہ باتیں تو بہت کیں اگر عمل میں سُستی ہو تو پھر کیا ہوگا۔ اور دوسری طرف خیال آیا کہ اگر چستی ہو تو پھر اور قسم کی مشکلات ہیں۔ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کی خلافت پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ حضرت عمرؓ چل پھر کر خوب واقفیت پیدا کر لیتے تھے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کا قصور تھا وہ جھوٹے ہیں حضرت عثمانؓ بہت بوڑھے تھے اور چل پھر کر وہ کام نہیں کر سکتے تھے جو حضرت عمرؓ کر لیتے تھے پھر میں نے خیال کیا کہ میرا اپنا تو کچھ بھی نہیں جس خدا نے یہ امور اصلاح جماعت کیلئے میرے دل میں ڈالے ہیں وہی مجھے توفیق بھی دے دے گا۔ مجھے دے گا تو میرے ساتھ والوں کو بھی دے گا۔

غرض دنیوی ترقی کیلئے مدارس قائم کئے جائیں اور واعظین اپنے دوروں میں اس امر کو خصوصیت سے مدنظر رکھیں کہ جماعتیں بڑھ رہی ہیں یا گھٹ رہی ہیں اور تعلیمی اور دنیوی حالت میں کیا ترقی ہو رہی ہے؟ عملی پابندیوں میں جماعت کی کیسی حالت ہے۔ باہم اخوت اور محبت کے لحاظ سے وہ کس قدر ترقی کر رہے ہیں ان میں باہم نزاعیں اور جھگڑے تو نہیں؟ یہ تمام امور ہیں جن پر واعظوں کو نظر رکھنی ہوگی اور اس کے متعلق مفصل رپورٹیں میرے پاس آتی رہیں۔

کالج کی ضرورت

جب مختلف مقامات پر مدرسے کھولے جائیں گے تو اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہمارا اپنا ایک کالج ہو حضرت خلیفۃ المسیح کی بھی یہ خواہش تھی۔ کالج ہی کے دنوں میں کیرکٹر بنتا ہے۔ سکول لائف میں تو چال چلن کا ایک خاکہ کھینچا جاتا ہے اس پر دوبارہ سیاہی کالج لائف ہی میں ہوتی ہے پس ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کی زندگیوں کو مفید اور مؤثر بنانے کیلئے اپنا ایک کالج بنائیں۔ پس تم اس بات کو مدنظر رکھو۔ میں بھی غور کر رہا ہوں۔ یہ خلیفہ کے کام ہیں جن کو میں نے مختصراً بیان کیا ہے ان کو کھول کر دیکھو اور ان کے مختلف حصوں پر غور کرو تو معلوم ہو جائے گا کہ انجمن کی کیا حقیقت ہے؟ اور خلیفہ کی کیا؟ میں یہ بڑے زور سے کہتا ہوں کہ نہ کوئی انجمن اس قسم کی ہے اور نہ ایسا دعویٰ کر سکتی ہے نہ ہو سکتی ہے نہ خدا نے کبھی کوئی انجمن بھیجی۔

انجمن اور خلیفہ کی بحث

بعض کہتے ہیں کہ خلیفہ نے انجمن کا حق غصب کر لیا پھر کہتے ہیں کہ یہ لوگ شیعہ ہیں۔ میں جب ان باتوں کو سنتا ہوں تو مجھے افسوس آتا ہے کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا۔ کہتے ہیں بیٹے کو خلافت کیوں مل گئی؟ میں حیران ہوں کہ کیا کسی ولی یا نبی کا بیٹا ہونا ایسا ناقابلِ عفو جُرم ہے کہ اس کو کوئی حصہ خدا کے فضل سے نہ ملے اور کوئی عہدہ وہ نہ پائے؟ اگر یہ درست ہے تو پھر نَعُوْذُ بِاللّٰہِ کسی ولی یا نبی کا بیٹا ہونا تو ایک لعنت ہوئی برکت نہ ہوئی ۔ پھر انبیاء علیہم السلام اولاد کی خواہش یونہی کرتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کی اولاد کی پیشگوئی نَعُوْذُ بِاللّٰهِ لغو کی اور خدا تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام سے جو وعدے کئے وہ برکت کے دعوے نہ تھے ۔ (نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ) اور اگر یہ پیر پرستی ہے کہ کوئی بیٹا وارث ہو تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ پیر کی اولاد کو ذلیل کیا جائے تا کہ پیر پرستی کا الزام نہ آئے پھر احترام اور عزت و تکریم کے دعاوی کس حد تک درست سمجھے جائیں ۔

یہ شرم کرنے کا مقام ہے سوچو اور غور کرو۔ میں تمہیں کھول کر کہتا ہوں کہ میرے دل میں یہ خواہش نہ تھی اور کبھی نہ تھی۔ پھر اگر تم نے مجھے گندہ سمجھ کر میری بیعت کی ہے تو یا د رکھو کہ تم ضرور پیر پرست ہو لیکن اگر خدا تعالیٰ نے تمہیں پکڑ کر جھکا دیا ہے تو پھر کسی کو کیا؟

یہ کہنا کہ میں نے انجمن کا حق غصب کر لیا ہے بہت بڑا بول ہے کیا تم کو معلوم نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میں تیری ساری خواہشوں کو پورا کروں گا۔ اب ان لوگوں کے خیال کے موافق تو حضرت صاحب کا منشاء اور خواہش تو یہ تھی کہ انجمن ہی وارث ہے اور خلیفہ ان کے خیال میں بھی نہ تھا تو اب بتاؤ کہ کیا اس بات کے کہنے سے تم اپنے قول سے یہ ثابت نہیں کر رہے کہ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ خدا نے ان کے منشاء کو پورا نہ ہونے دیا۔

سوچ کر بتاؤ کہ شیعہ کون ہوئے ؟ شیعہ بھی تو یہی کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منشاء تھا کہ حضرت علیؓ خلیفہ ہوں آپ کے خیال و وہم میں بھی نہ تھا کہ ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ خلیفہ ہوں۔ تو جیسے ان کے اعتقاد کے موافق مسئلہ خلافت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منشاء کو لوگوں نے بدل دیا اسی طرح یہاں بھی ہوا۔ افسوس۔ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی عزت اور عظمت تمہارے دلوں میں ہے کہ تم قرار دیتے ہو کہ وہ اپنے منشاء میں نَعُوْذُ بِاللّٰهِ ناکام رہے۔ خدا سے ڈرو اور توبہ کرو۔

پھر ایک تحریر لئے پھرتے ہیں اور اس کے فوٹو چھپوا کر شائع کئے جاتے ہیں یہ بھی وہی شیعہ والے قرطاس کے اعتراض کا نمونہ ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے قرطاس نہ لانے دیا۔ اگر قرطاس آ جاتا تو ضرور حضرت علیؓ کی خلافت کا فیصلہ کر جاتے یہ لوگ کہتے ہیں کہ افسوس قرطاس لکھ کر بھی دے گئے پھر بھی کوئی نہیں مانتا بتاؤ شیعہ کون ہوا۔ میں کہتا ہوں کہ اگر وہ قرطاس ہوتا تو کیا بنتا۔ وہی کچھ ہونا تھا جو ہو گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا اور شیعہ کو خلیفہ ثانی پر اعتراض کا موقع ملا۔ یہاں مسیح موعود علیہ السلام نے لکھ کر دیا اور اب اس کے ذریعہ اس کے خلیفہ ثانی پر اعتراض کیا جاتا ہے۔

یاد رکھو کہ مسیح موعود علیہ السلام تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جس قدر اعتراض ہوتے ہیں اُن کو دور کرنے آئے تھے جیسے مثلاً اعتراض ہوتا تھا کہ اسلام تلوار کے ذریعہ پھیلایا گیا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آ کر دکھا دیا کہ اسلام تلوار کے ذریعہ نہیں پھیلا بلکہ وہ اپنی روشن تعلیمات اور نشانات کے ذریعہ پھیلا ہے اسی طرح قرطاس کی حقیقت معلوم ہوگئی۔ سن لو! خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں قرطاس کی کیا حقیقت ہوتی ہے؟ اور میں یہ بھی تمہیں کھول کر سناتا ہوں کہ قرطاس منشاء الٰہی کے خلاف بھی نہیں ہوسکتا۔

حضرت خلیفۃ المسیح فرمایا کرتے تھے کہ ایک شیعہ ہمارے استاد صاحب کے پاس آیا اور ایک حدیث کی کتاب کھول کر ان کے سامنے رکھ دی آپ نے پڑھ کر پوچھا کیا ہے؟ شیعہ نے کہا کہ منشاءِ رسالت پناہی حضرت علیؓ کی خلافت کے متعلق معلوم ہوتا ہے فرماتے تھے میرے اُستاد صاحب نے نہایت متانت سے جواب دیا ہاں منشاءِ رسالت پناہی تو تھا مگر منشاءِ الٰہی اس کے خلاف تھا اس لئے وہ منشاء پورا نہ ہوسکا۔ میں اس قرطاس کے متعلق پھر کہتا ہوں کہ اگر کوئی کہے تو یہ جواب دوں گا کہ حقیقتہ الوحی میں ایک جانشین کا وعدہ کیا ہے اور یہ بھی فرمایا خَلِيْفَةً مِّنْ خُلَفَائِہٖ پس غصب کی پکار بالکل بیہودہ اور عبث ہے۔ حضرت صاحب کو الہام ہوا تھا۔

سپردم بتو مایہٴ خویش را

تو دانی حساب کم وبیش را

ایک شریف آدمی بھی امانت میں خیانت نہیں کرتا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تو اللہ تعالیٰ نے خود یہ دعا کرائی۔ پھر کیا تم سمجھتے ہو کہ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ خدا تعالیٰ نے خیانت کی؟ توبہ کرو توبہ کرو۔

حضرت مسیح موعود کا اتنا تو گَل کہ وفات کے قریب یہ الہام ہوتا ہے پھر خدا نے نَعُوْذُ بِاللّٰهِ یہ عجیب کام کیا کہ امانت غیر حقدار کو دے دی۔ خدا تعالیٰ نے خلیفہ مقرر کر کے دکھا دیا کہ ’سپردم بہ تو مایہٴ خویش را‘ کے الہام کے موافق کیا ضروری تھا؟ پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا خدا (نَعُوْذُ بِاللّٰهِ) گمراہ ہی کرواتا ہے؟ ہرگز نہیں خدا تعالیٰ تو اپنے مرسلوں اور خلفاء کو اس لئے بھیجتا ہے کہ وہ دنیا کو پاک کریں اس لئے انبیاء عَلَيْهِمُ السَّلَامُ کی جماعت ضلالت پر قائم نہیں ہوتی۔ اگر مسیح موعود علیہ السلام نے ایسی گندی جماعت پیدا کی جو ضلالت پر اکٹھی ہوگئی تو پھر نَعُوْذُ بِاللّٰهِ اپنے منہ سے ان کو جھوٹا قرار دو گے! تقویٰ کرو۔

لیکن اگر مسیح موعود علیہ السلام خدا کی طرف سے تھے اور ضرور تھے پھر یاد رکھو کہ یہ جماعت ضلالت پر اکٹھی نہیں ہو سکتی۔ قرآن شریف کو کوئی مسخ نہیں توڑ سکتا۔ میرا یقین ہے کہ کوئی ایسا مسیح نہیں آ سکتا جو آئے گا قرآن کا خادم ہو کر آئے گا اس پر حاکم ہو کر نہیں۔ یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عقیدہ تھا یہی شرح ہے آپ کے اس قول کی ”وہ ہے میں چیز کیا ہوں“۔

یہ تو دشمن پر حجت ہے مسیح موعود علیہ السلام قرآن کریم کی حقانیت ثابت کرنے کو آیا تھا۔ اسے نَعُوْذُ بِاللّٰہِ باطل کرنے نہیں آیا تھا اس نے اپنے کام سے دکھا دیا کہ وہ قرآن مجید کا غلبہ ثابت کرنے کیلئے آیا تھا۔

قرآن مجید میں فرمایا ہے فَبِمَا رَحۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنۡتَ لَہُمۡ ۚ وَلَوۡ کُنۡتَ فَظًّا غَلِیۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِکَ ۪ فَاعۡفُ عَنۡہُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ وَشَاوِرۡہُمۡ فِی الۡاَمۡرِ(آل عمران: ۱۶۰)

طریقِ حکومت کیا ہونا چاہئے؟

پھر کہتے ہیں کہ خلیفہ کا طریق حکومت کیا ہو؟ خدا تعالیٰ نے اس کا فیصلہ کر دیا ہے تمہیں ضرورت نہیں کہ تم خلیفہ کے لئے قواعد اور شرائط تجویز کرو یا اس کے فرائض بتاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں اس کے اغراض و مقاصد بتائے ہیں قرآن مجید میں اس کے کام کرنے کا طریق بھی بتا دیا ہے وَشَاوِرۡہُمۡ فِی الۡاَمۡرِ ۚ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ(3:160) ایک مجلس شوریٰ قائم کرو ان سے مشورہ لے کر غور کرو۔ پھر دعا کرو جس پر اللہ تعالیٰ تمہیں قائم کر دے اس پر قائم ہو جاؤ۔ خواہ وہ اس مجلس کے مشورہ کے خلاف بھی ہو تو خدا تعالیٰ مدد کرے گا۔ خدا تعالیٰ تو کہتا ہے جب عزم کر لو تو اللہ پر توکل کرو۔ گو یا ڈرو نہیں۔ اللہ تعالیٰ خود تمہاری تائید اور نصرت کرے گا اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خواہ خلیفہ کا منشاء کچھ ہو اور خدا تعالیٰ اسے کسی بات پر قائم کرے مگر وہ چند آدمیوں کی رائے کے خلاف نہ کرے۔ حضرت صاحب نے جو مصلح موعود کے متعلق فرمایا ہے ”وہ ہوگا ایک دن محبوب میرا“ اس کا بھی یہی مطلب ہے کیونکہ خدا تعالیٰ متوکلین کو محبوب رکھتا ہے جو ڈرتا ہے وہ خلیفہ نہیں ہو سکتا اسے تو گویا حکومت کی خواہش ہے کہ ایسا نہ ہو میں کسی آدمی کے خلاف کروں تو وہ ناراض ہو جائے ایسا شخص تو مشرک ہوتا ہے اور یہ ایک لعنت ہے۔ خلیفے خدا مقرر کرتا ہے اور آپ ان کے خوفوں کو دور کرتا ہے جو شخص دوسروں کی مرضی کے موافق ہر وقت ایک نوکر کی طرح کام کرتا ہے اُس کو خوف کیا؟ اور اس میں موحد ہونے کی کونسی بات ہے۔ حالانکہ خلفاء کے لئے تو یہ ضروری ہے کہ خدا انہیں بناتا ہے اور ان کے خوف کو امن سے بدل دیتا ہے اور وہ خدا ہی کی عبادت کرتے ہیں اور شرک نہیں کرتے۔

اگر نبی کو ایک شخص بھی نہ مانے تو اس کی نبوت میں فرق نہیں آتا وہ نبی ہی رہتا ہے یہی حال خلیفہ کا ہے اگر اس کو سب چھوڑ دیں پھر بھی وہ خلیفہ ہی ہوتا ہے کیونکہ جو حکم اصل کا ہے وہی فرع کا ہے خوب یاد رکھو کہ اگر کوئی شخص محض حکومت کے لئے خلیفہ بنا ہے تو جھوٹا ہے اور اگر اصلاح کے لئے خدا کی طرف سے کام کرتا ہے تو وہ خدا کا محبوب ہے خواہ ساری دنیا اس کی دشمن ہو۔ اس آیتِ مشورہ میں کیا لطیف حکم ہے۔

اس مشورہ کا کیا فائدہ جس پر عمل نہیں کرنا

بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر مشورہ لے کر اس پر عمل کرنا ضروری نہیں تو اس مشورہ کا کیا فائدہ ہے وہ تو ایک لغو کام بن جاتا ہے اور انبیاء اور اولیاء کی شان کے خلاف ہے کہ کوئی لغو کام کریں اس کا جواب یہ ہے کہ مشورہ لغو نہیں بلکہ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص ایک بات سوچتا ہے دوسرے کو اس سے بہتر سوجھ جاتی ہے پس مشورہ سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ مختلف لوگوں کے خیالات سن کر بہتر رائے قائم کرنے کا انسان کو موقع ملتا ہے جب ایک آدمی چند آدمیوں سے رائے پوچھتا ہے تو بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایسی تدبیر بتا دیتا ہے جو اسے نہیں معلوم تھی۔ جیسا کہ عام طور پر لوگ اپنے دوستوں سے مشورہ کرتے ہیں کیا پھر اسے ضرور مان بھی لیا کرتے ہیں پھر اگر مانتے نہیں تو کیوں پوچھتے ہیں؟ اس لئے کہ شاید کوئی بہتر بات معلوم ہو پس مشورہ سے یہ غرض نہیں ہوتی کہ اس پر ضرور کاربند ہوں بلکہ یہ غرض ہوتی ہے کہ ممکن ہے کہ بہت سے لوگوں کے خیالات سن کر کوئی اور مفید بات معلوم ہو سکے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ(3:160) میں مشورہ لینے والا مخاطب ہے اگر فیصلہ مجلسِ شوریٰ کا ہوتا تو یوں حکم ہوتا کہ فَاِذَا عَزَمْتُمْ فَتَوَکَّلُوْا عَلَی اللّٰہِ اگر تم سب لوگ ایک بات پر قائم ہو جاؤ تو اللہ پر توکل کر کے کام شروع کر دو۔ مگر یہاں صرف اس مشورہ کرنے والے کو کہا کہ تُو جس بات پر قائم ہو جائے اسے تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ شروع کر دے۔ دوسرے یہاں کسی کثرت رائے کا ذکر ہی نہیں بلکہ یہ کہا ہے کہ لوگوں سے مشورہ لے یہ نہیں کہا کہ ان کی کثرت دیکھ اور جس پر کثرت ہو اس کی مان لے یہ تو لوگ اپنی طرف سے ملا لیتے ہیں قرآن کریم میں کہیں نہیں کہ پھر ووٹ لئے جائیں اور جس طرف کثرت ہو اُس رائے کے مطابق عمل کرے بلکہ یوں فرمایا ہے کہ لوگوں سے پوچھ۔ مختلف مشوروں کو سن کر جس بات کا تُو قصد کرے (عَزَمْتَ کے معنی ہیں جس بات کا تُو پختہ ارادہ کرے) اس پر عمل کر اور کسی سے نہ ڈر بلکہ خدا تعالیٰ پر توکل کر۔

عجیب نکتہ

شَاوِرْهُمْ کے لفظ پر غور کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشورہ لینے والا ایک ہے دو بھی نہیں اور جن سے مشورہ لینا ہے وہ بہرحال تین یا تین سے زیادہ ہوں۔ پھر وہ اس مشورہ پر غور کرے پھر حکم ہے فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ(3:160) جس بات پر عزم کرے اس کو پورا کرے اور کسی کی پرواہ نہ کرے۔

حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں اس عزم کی خوب نظیر ملتی ہے۔ جب لوگ مرتد ہونے لگے تو مشورہ دیا گیا کہ آپ اس لشکر کو روک لیں جو اسامہؓ کے زیر کمانڈ جانے والا تھا مگر انہوں نے جواب دیا کہ جو لشکر آنحضرت ﷺ نے بھیجا ہے میں اسے واپس نہیں کرسکتا۔ ابوقحافہ کے بیٹے کی طاقت نہیں کہ ایسا کر سکے۔ پھر بعض کو رکھ بھی لیا چنانچہ حضرت عمرؓ بھی اسی لشکر میں جارہے تھے ان کو روک لیا گیا۔

میں یہ ایک مصلحت سے کہتا ہوں

پھر زکوٰۃ کے متعلق کہا گیا کہ مرتد ہونے سے بچانے کے لئے ان کو معاف کر دو۔ انہوں نے جواب دیا کہ اگر یہ رسول اللہ ﷺ کو اونٹ باندھنے کی ایک رسی بھی دیتے تھے تو وہ بھی لوں گا۔ اور اگر تم سب مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ اور مرتدین کے ساتھ جنگل کے درندے بھی مل جائیں تو میں اکیلا ان سب کے ساتھ جنگ کروں گا۔ یہ عزم کا نمونہ ہے پھر کیا ہوا تم جانتے ہو؟ خدا تعالیٰ نے فتوحات کا ایک دروازہ کھول دیا۔ یاد رکھو جب خدا سے انسان ڈرتا ہے تو پھر مخلوق کا رُعب اس کے دل پر اثر نہیں کر سکتا۔

شرک کا مسئلہ کیسے سمجھا دیا

مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے شرک کا مسئلہ خوب سمجھا دیا ہے۔ ایک رؤیا کے ذریعہ اس کو حل کر دیا۔ میں نے دیکھا کہ میں مقبرہ بہشتی میں گیا ہوں۔ واپس آتے وقت ایک بڑا سمندر دیکھا جو پہلے نہ تھا اس میں ایک کشتی تھی اس میں بیٹھ گیا دو آدمی اور ہیں ایک جگہ پہنچ کر کشتی چکر کھانے لگی۔ اس سمندر میں سے ایک سر نمودار ہوا، اس نے کہا کہ یہاں ایک پیر صاحب کی قبر ہے تم ان کے نام ایک رُقعہ لکھ کر ڈال دو تا کہ یہ کشتی صحیح سلامت پار نکل جائے۔ میں نے کہا کہ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ وہ آدمی جو ساتھ ہیں ان میں سے کسی نے کہا کہ جانے دو کیا حرج ہے رُقعہ لکھ کر ڈال دو۔ جب بچ جائیں گے تو پھر توبہ کرلیں گے میں نے کہا ہرگز نہیں ہوگا۔ اس پر اس نے چھپ کر خود رُقعہ لکھ کر ڈالنا چاہا میں نے دیکھ لیا تو پکڑ کر پھاڑنا چاہا۔ وہ چھپاتا تھا آخر اس کشمکش میں ہمسمندر میں گر پڑے مگر میں نے وہ رُقعہ لے کر پھاڑ ڈالا اور پھر کشتی میں بیٹھ گیا۔ تو میں نے دیکھا کہ وہ کشتی اس بھنور سے نکل گئی۔ اس کھلی کھلی ہدایت کے بعد میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں کہ اس کی مخلوق سے ڈروں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ یہ کشتی جس میں میں اب سوار ہوں اس بھنور سے نکل جائے اور مجھے یقین ہے کہ ضرور نکل جائے گی۔

چھوٹی عمر ہے

منکرینِ خلافت یہ بھی کہتے ہیں کہ عمر چھوٹی ہے؟ اس پر مجھے ایک تاریخی واقعہ یاد آگیا۔ کوفہ والے بڑی شرارت کرتے تھے جس گورنر کو وہاں بھیجا جاتا وہ چند روز کے بعد اس کی شکایتیں کر کے اس کو واپس کر دیتے۔ حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے جب تک حکومت میں فرق نہ آئے ان کی مانتے جاؤ۔ آخر جب ان کی شرارتیں حد سے گزرنے لگیں تو حضرت عمرؓ نے ایک گورنر جن کا نام غالباً ابن ابی لیلیٰ تھا اور جن کی عمر ۱۹؍برس کی تھی کوفہ میں بھیجا جس وقت یہ وہاں پہنچے تو وہ لوگ لگے چہ میگوئیاں کرنے کہ عمرؓ کی عقل (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ) ماری گئی جو ایک لڑکے کو گورنر کر دیا۔ اور انہوں نے تجویز کی کہ ” گر بہ کشتن روزِ اوّل “ پہلے ہی دن اس گورنر کو ڈانٹنا چاہئے اور انہوں نے مشورہ کر کے یہ تجویز کی کہ پہلے ہی دن اس سے اس کی عمر پوچھی جائے۔ جب دربار ہوا تو ایک شخص بڑی متین شکل بنا کر آگے بڑھا اور بڑھ کر کہا کہ حضرت آپ کی عمر کیا ہے! ابن ابی لیلیٰ نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا کہ آنحضرت ﷺ نے جب صحابہ کے لشکر پر اسامہؓ کو افسر بنا کر شام کی طرف بھیجا تھا تو جو اس وقت ان کی عمر تھی اس سے میں دو سال بڑا ہوں (اسامہؓ کی عمر اس وقت سترہ سال کی تھی اور بڑے بڑے صحابہؓ ان کے ماتحت کئے گئے تھے) کوفہ والوں نے جب یہ جواب سنا تو خاموش ہو گئے اور کہا کہ اس کے زمانے میں شور نہ کرنا۔ اس سے یہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ چھوٹی عمر والے کی بھی اطاعت ہی کریں جب وہ امیر ہو۔ حضرت عمرؓ جیسے انسان کو سترہ سال کے نوجوان اسامہؓ کے ماتحت کر دیا گیا تھا۔ میں بھی اسی رنگ میں جواب دیتا ہوں کہ میری عمر تو ابن ابی لیلیٰ سے بھی سات برس زیادہ ہے۔

ایک اور اعتراض کا جواب

ایک اور اعتراض کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ نے اس کا جواب بھی تیرہ سو سال سے پہلے ہی دنے دیا کہتے ہیں وَشَاوِرۡہُمۡ فِی الۡاَمۡرِ(3:160) تو آنحضرت ﷺ کو حکم ہے خلافت کہاں سے نکل آئی لیکن یہ لوگ یاد رکھیں کہ حضرت ابوبکرؓ پر جب زکوٰۃ کے متعلق اعتراض ہوا تو وہ بھی اسی رنگ کا تھا کہ خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ صَدَقَۃً(9:103)۳ تو نبی کریم ﷺ کو حکم ہے اب وہ رہے نہیں اور کسی کا حق نہیں کہ وہ زکوٰۃ وصول کرے جسے لینے کا حکم تھا وہ فوت ہو گیا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے یہی جواب دیا کہ اب میں مخاطب ہوں اسی کا ہم آہنگ ہو کر اپنے معترض کو کہتا ہوں کہ اب میں مخاطب ہوں۔ اگر اُس وقت یہ جواب سچا تھا اور ضرور سچا تھا تو یہ بھی درست ہے جو میں کہتا ہوں۔ اگر تمہارا اعتراض درست ہو تو اس پر قرآن مجید سے بہت سے احکام تم کو نکال دینے پڑیں گے اور یہ کھلی کھلی ضلالت ہے۔

ایک عجیب بات

میں تمہیں ایک اور عجیب بات سناتا ہوں جس سے تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ خدا تعالیٰ کے کاموں میں تفاوت نہیں ہوتا۔ اشتہار سبز میں میرے متعلق خدا کے حکم سے حضرت مسیح موعودؑ نے بشارت دی خدا کی وحی سے میرا نام اولو العزم رکھا اور اس آیت میں فرمایا فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ(3:160) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجھے اس آیت پر عمل کرنا پڑے گا پھر میں اس کو کیسے ردّ کر سکتا ہوں۔

کیا خدمت کی ہے؟

پھر ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ اس نے کیا خدمت کی ہے؟ اس سوال کا حل تو اسامہؓ والی بات ہی میں موجود ہے۔ اسامہؓ کی خدمات کس قدر تھیں کہ وہ بڑے بڑے صحابہ پر افسر مقرر کر دیا گیا۔ خلافت تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ملتی ہے وہ جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے ہاں اس کا یہ فعل نَعُوْذُ بِاللّٰهِ لغو نہیں ہوتا۔ پھر خالد بن ولیدؓ، ابو عبیدہؓ، عمرو بن العاصؓ، سعد بن الوقاصؓ انہوں نے جو خدمات کیں ان کے مقابلہ میں حضرت عمرؓ کیا خدمات پیش کر سکتے ہیں مگر خلیفہ تو حضرت عمرؓ ہوئے وہ نہ ہوئے خدا تعالیٰ سے بہتر اندازہ کون لگا سکتا ہے۔

آیت استخلاف

میں نے آیت استخلاف پر غور کیا ہے اور مجھے بہت ہی لطیف معنی آیت استخلاف کے سمجھائے گئے ہیں جن پر غور کرنے سے بڑا مزا آیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا ؕ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا ؕ وَمَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ(24:56) ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ(النور: ۵۶)۔

یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا(24:56) کے ایک معنی تو میں اپنے اس ٹریکٹ میں لکھ چکا ہوں جو ”کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے“ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ ایک دوسرے معنی بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھائے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اس آیت میں اوّل تو خدا تعالیٰ کے وعدہ کا ذکر کیا گیا ہے کہ وَعَدَ اللّٰهُ پھر خلافت دینے کے وعدے کو لامِ تاکید اور نونِ تاکید سے مؤکد کیا۔ اور بتایا کہ خدا ایسا کرے گا اور ضرور کرے گا۔ پھر بتایا کہ خدا ضرور ضرور ان خلفاء کو تمکین عطا کرے گا۔ اور پھر فرمایا کہ خدا ضرور ضرور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔ غرض کہ تین بار لامِ تاکید اور نونِ تاکید لگا کر اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسا خدا ہی کرے گا کسی کا اس میں دخل نہ ہوگا۔ اس کی غرض بتائی کہ ایسا کیوں ہوگا؟ اس لئے کہ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا(24:56) اس کے نتیجہ میں وہ میری ہی عبادت کریں گے کسی کو میرا شریک نہ قرار دیں گے یعنی اگر انسانی کوشش سے خلیفہ بنے تو خلیفہ کو گروہ سے دبتے رہنا پڑے کہ ان لوگوں نے مجھ پر احسان کیا ہے۔ پس ہم سب کچھ خود ہی کریں گے تا شرک خلفاء کے قریب بھی نہ پھٹک سکے۔ اور جب خلیفہ اُس وقت اور قدرت کو دیکھے گا جس کے ذریعہ خدا نے اسے قائم کیا ہے تو اسے وہم بھی نہیں ہو سکتا کہ اس میں کسی دوسرے کا بھی ہاتھ ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا(24:56) یہ معنی خدا تعالیٰ نے بتائے ہیں۔ پس خلیفہ خدا مقرر کرتا ہے اور کوئی نہیں جو اس کو مٹا سکے۔

بعض کہتے ہیں کہ اگر خلیفہ نہ ہوں تو کیا مسلمانوں کی نجات نہ ہوگی؟ جب خلافت نہ رہی تو اس وقت کے مسلمانوں کا پھر کیا حل ہوگا؟ یہ ایک دھوکا ہے دیکھو قرآن مجید میں وضو کے لئے ہاتھ دھونا ضروری ہے لیکن اگر کسی کا ہاتھ کٹ جائے تو اس کا وضو بغیر ہاتھ دھوئے کے ہو جائے گا۔ اب اگر کوئی شخص کسی ایسے ہاتھ کٹے آدمی کو پیش کر کے کہے کہ دیکھو اس کا وضو ہو جاتا ہے یا نہیں؟ جب یہ کہیں کہ ہاں ہو جاتا ہے تو وہ کہے کہ بس اب میں بھی ہاتھ نہ دھوؤں گا تو کیا وہ راستی پر ہو گا؟ ہم کہیں گے کہ اس کا ہاتھ کٹ گیا مگر تیرا تو موجود ہے۔ پس یہی جواب ان معترضین کا ہے ہم انہیں کہتے ہیں کہ ایک زمانہ میں جابر بادشاہوں نے تلوار کے زور سے خلافت راشدہ کو قائم نہ ہونے دیا کیونکہ ہر کام ایک مدت کے بعد مٹ جاتا ہے پس جب خلافت تلوار کے زور سے مٹا دی گئی تو اب کسی کو گناہ نہیں کہ وہ بیعتِ خلیفہ کیوں نہیں کرتا۔ مگر اس وقت وہ کونسی تلوار ہے جو ہم کو قیامِ خلافت سے روکتی ہے۔ اب بھی اگر کوئی حکومت زبردستی خلافت کے سلسلہ کو روک دے تو یہ الٰہی فعل ہو گا اور لوگوں کو رُکنا پڑے گا۔ لیکن جب تک خلافت میں کوئی روک نہیں آتی اس وقت تک کون خلافت کو روک سکتا ہے اور اُس وقت تک کہ خلیفہ ہو سکتا ہو جب کوئی خلافت کا انکار کرے گا وہ اسی حکم کے ماتحت آئے گا جو ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمان رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ کے منکرین کا ہے۔ ہاں جب خلافت ہو ہی نہیں تو اس کے ذمہ دار تم نہیں۔ سارق کی سزا قرآن مجید میں ہاتھ کاٹنا ہے۔ اب اگر اسلامی سلطنت نہیں اور چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تو یہ کوئی قصور نہیں۔ غیر اسلامی سلطنت اس حکم کی پابند نہیں۔

موجودہ انتظام میں دقّتیں

اب یہ دیکھنا ہے کہ موجودہ انتظام میں کیا دقّتیں پیش آ رہی ہیں انجمن کے بعض ممبر جنہوں نے بیعت نہیں کی وہ اپنی ہی مجموعی رائے کو انجمن قرار دے کر کہتے ہیں کہ انجمن جانشین ہے۔ دوسری طرف ایک شخص کہتا ہے کہ مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اور واقعات نے اس کی تائید بھی کی کہ جماعت کے ایک کثیر حصہ کو اس کے سامنے جھکا دیا۔ اب اگر دو عملی رہے تو تفرقہ بڑھے گا ایک میان میں دو تلواریں سما نہیں سکتیں۔

پس تم غور کرو اور مجھے مشورہ دو کہ کیا کرنا چاہئے میری غرض اس مشورہ سے شَاوِرْهُمْ پر عمل کرنا ہے۔ ورنہ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ(3:160) میرے سامنے ہے میں تو یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی میرا ساتھ نہ دے تو خدا میرے ساتھ ہے۔

میں پھر ایک دفعہ اس سوال کا جواب دیتا ہوں کہ اگر کوئی بات ماننی ہی نہیں تو مشورہ کا کیا فائدہ؟ یہ بہت چھوٹی سی بات ہے ایک دماغ سوچتا ہے تو اس میں محدود باتیں آتی ہیں اگر دو ہزار آدمی قرآن مجید کی آیات پر غور کر کے ایک مجلس میں معنی بیان کریں تو بعض غلط بھی ہوں گے مگر اس میں بھی تو کوئی شبہ نہیں کہ اکثر درست بھی ہوں گے پس درست لے لئے جائیں گے اور غلط چھوڑ دیئے جائیں گے۔ اسی طرح ایسے مشوروں میں جو امور صحیح ہوں وہ لے لئے جائیں گے ایک آدمی اتنی تجاویز نہیں سوچ سکتا۔ ایک وقت میں بہت سے آدمی ایک امر پر سوچیں گے تو اِنْشَاءَ اللّٰہ کوئی مفید راہ نکل آئے گی۔

پھر مشورہ سے یہ بھی غرض ہے کہ تمہاری دماغی طاقتیں ضائع نہ ہوں بلکہ قومی کاموں میں مل کر غور کرنے اور سوچنے اور کام کرنے کی طاقت تم میں پیدا ہو۔ پھر ایک اور بات ہے کہ اس قسم کے مشوروں سے آئندہ لوگ خلافت کے لئے تیار ہوتے رہتے ہیں۔ اگر خلیفہ لوگوں سے مشورہ ہی نہ لے تو نتیجہ یہ نکلے کہ قوم میں کوئی دانا انسان ہی نہ رہے اور دوسرا خلیفہ احمق ہی ہو کیونکہ اسے کبھی کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا ہماری پچھلی حکومتوں میں یہی نقص تھا۔ شاہی خاندان کے لوگوں کو مشورہ میں شامل نہ کیا جاتا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ان کے دماغ مشکلات حل کرنے کے عادی نہ ہوتے تھے اور حکومت رفتہ رفتہ تباہ ہو جاتی تھی پس مشورہ لینے سے یہ بھی غرض ہے کہ قابل دماغوں کی رفتہ رفتہ تربیت ہو سکے تاکہ ایک وقت وہ کام سنبھال سکیں جب لوگوں سے مشورہ لیا جاتا ہے تو لوگوں کو سوچنے کا موقع ملتا ہے اور اس سے ان کی استعدادوں میں ترقی ہوتی ہے۔ ایسے مشورہ میں یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ ہر شخص کو اپنی رائے کے چھوڑنے میں آسانی ہوتی ہے اور طبیعتوں میں ضد اور ہٹ نہیں پیدا ہوتی۔

اِس وقت جو دقتیں ہیں وہ اس قسم کی ہیں کہ باہر سے خطوط آتے ہیں کہ واعظ بھیج دو۔ اب جو انجمن کے ملازم ہیں انہیں کون بھیجے؟ انجمن تو خلیفہ کے ماتحت ہے نہیں۔ حضرت خلیفہ اوّل ملازمین کو بھیج دیتے اور وہ آن ڈیوٹی سمجھے جاتے تھے ہمارے ہاں کام کرنے والے آدمی تھوڑے ہیں اس لئے یہ دقتیں پیش آتی ہیں۔ یا ایک شخص آتا ہے کہ مجھے فلاں ضرورت ہے مجھے کچھ دو۔ پچھلے دنوں مونگھیر والوں نے لکھا کہ یہاں مسجد کا جھگڑا ہے اور جماعت کمزور ہے مدد کرو۔ حضرت صاحب کو میں نے دیکھا ہے کہ مسجدوں کے معاملات میں بڑی احتیاط کرتے۔ حضرت خلیفۃ المسیح بھی بڑی کوشش کرتے۔ کپور تھلہ کی مسجد کا مقدمہ تھا حضرت صاحب نے فرمایا کہ اگر میں سچا ہوں تو یہ مسجد ضرور ملے گی۔ غرض مسجد کے معاملہ میں بڑی احتیاط فرماتے اب ایسے موقع پر میں تو پسند نہیں کر سکتا تھا کہ ان کی مدد نہ کی جائے اس لئے مجھے روپیہ بھیجنا ہی پڑا۔ یا مثلاً کوئی اور فتنہ ہو اور کوئی ماننے والا نہ ہو تو کیا ہو۔ اس قسم کی دقتیں اس اختلاف کی وجہ سے پیش آرہی ہیں اور پیش آئیں گی۔ اللہ تعالیٰ پر میری امیدیں بہت بڑی ہیں میں یقین رکھتا ہوں کہ معجزانہ طور پر کوئی طاقت دکھائے گا لیکن یہ عالمِ اسباب ہے اس لئے مجھ کو اسباب سے کام لینا چاہئے۔

میں جو کچھ کروں گا خدا تعالیٰ کے خوف سے کروں گا۔ اس بات کی مجھے پرواہ نہ ہو گی کہ زید یا بکر اس کی بابت کیا کہتا ہے پس میں پھر کہتا ہوں کہ اگر میں خدا سے ڈر کر کرتا ہوں، اگر میرے دل میں ایمان ہے کہ خدا ہے تو پھر میں نیک نیتی سے کر رہا ہوں جو کچھ کرتا ہوں اور کروں گا اور اگر میں نَعُوْذُ بِاللّٰہِ خدا سے نہیں ڈرتا تو پھر تم کون ہو کہ تم سے ڈروں پس میں تم سے مشورہ پوچھتا ہوں کہ کیا تجویز ہو سکتی ہے کہ ان دقتوں کو رفع کیا جائے؟

لوگ کہتے ہیں کہ کبھی خلیفہ نے انجمن کو کوئی حکم نہیں دیا مگر میں سیکرٹری کے دفتر پر کھڑا ہوں بہت ہی کم کوئی ایجنڈا نکلا ہو گا جس میں بحکم خلیفۃ المسیح نہ لکھا ہو۔ یہ واقعات کثرت سے موجود ہیں اور انجمن کی روئدادیں اور رجسٹر اس شہادت میں موجود ہیں (اس مقام پر منشی محمد نصیب صاحب ہیڈ کلرک دفتر سیکرٹری کھڑے ہوئے اور انہوں نے بآوازِ بلند کہا ہے کہ :

میں شہادت دیتا ہوں یہ بالکل درست ہے

اس قسم کے اعتراض تو فضول ہیں جو واقعات کے خلاف ہیں۔ غرض اس وقت کچھ دقتیں پیش آئی ہیں اور آئندہ اور ضرورتیں پیش آئیں گی اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ احباب غور کریں میں نے اس موجودہ اختلاف کے متعلق کچھ تجاویز سوچی ہیں ان پر غور کیا جائے اور مجھے اطلاع دی جائے میری غیر حاضری میں آپ لوگ ان پر غور کریں تا کہ ہر شخص آزادی سے رائے دے سکے۔

اوّل۔ خلیفہ اور انجمن کے جھگڑے نبٹانے کی بہتر صورت کیا ہے۔ انجمن سے یہ مراد ہے۔ انجمن کے وہ ممبر جنہوں نے بیعت نہیں کی وہ اپنے آپ کو انجمن کہتے ہیں اس لئے میں نے انجمن کہا ہے صرف مبائعین رائے دیں۔

دوم۔ جن لوگوں نے میری بیعت کر لی ہے میں انہیں تاکید کرتا ہوں کہ وہ ہر قسم کا چندہ میری معرفت دیں۔ یہ تجویز میں ایک رؤیا کی بناء پر کرتا ہوں جو ۸؍ مارچ ۱۹۰۷ء کی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے ان کی اپنی کاپی الہامات میں درج ہے اس کے آگے پیچھے حضرت صاحب کے اپنے الہامات درج ہیں اور اب بھی وہ کاپی موجود ہے یہ ایک لمبی خواب ہے اس میں میں نے دیکھا کہ ”ایک پارسل میرے نام آیا ہے محمد چراغ کی طرف سے آیا ہے اس پر لکھا ہے محمود احمد، پرمیشر اس کا بھلا کرے۔ خیر اس کو کھولا تو وہ روپوں کا بھرا ہوا صندوقچہ ہو گیا کہنے والا کہتا ہے کہ کچھ تم خود رکھ لو کچھ حضرت صاحب کو دے دو کچھ صدر انجمن احمدیہ کو دے دو“ پھر حضرت صاحب کہتے ہیں کہ محمود کہتا ہے کہ ”کشفی رنگ میں آپ مجھے دکھائے گئے اور چراغ کے معنی سورج سمجھائے گئے اور محمد چراغ کا یہ مطلب ہوا کہ محمدؐ جو کہ سورج ہے اُس کی طرف سے آیا ہے۔“

غرض یہ ایک سات سال کی رؤیا ہے حضرت صاحب کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی وقت صدر انجمن احمدیہ کو روپیہ میری معرفت ملے گا ہمیں جو کچھ ملتا ہے آنحضرت ﷺ کے طفیل ہی ملتا ہے۔ پس جو روپیہ آتا ہے وہ محمد ﷺ ہی بھیجتے ہیں۔ حضرت صاحب کو دینے سے یہ مراد معلوم ہوتی ہے کہ اشاعتِ سلسلہ میں خرچ کیا جائے ۔ قرآن شریف کی ایسی آیات کے صحابہؓ نے یہی معنی کئے ہیں۔ یہ ایک سچی خواب ہے ورنہ کیا چھ سال پہلے میں نے ان واقعات کو اپنی طرف سے بنا لیا تھا اور خدا تعالیٰ نے اسے پورا بھی کر دیا۔ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ۔ پس ہر قسم کے چندے ان لوگوں کو جو میرے مبائعین ہیں میرے پاس بھیجنے چاہئیں ۔ سوم۔ جب تک انجمن کا قطعی طور پر فیصلہ نہ ہو اشاعتِ اسلام اور زکوٰۃ کا روپیہ میرے ہی پاس آنا چاہئے۔ جو واعظین کے اخراجات اور بعض دوسری وقتی ضرورتوں کے لئے خرچ ہو گا۔ جو اشاعتِ اسلام سے تعلق رکھتی ہیں یا مصارفِ زکوٰۃ سے متعلق ہیں۔ چہارم۔ مجلسِ شوریٰ کی ایسی حالت ہو کہ ساری جماعت کا اس میں مشورہ ہو۔ آنحضرت ﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں ایسا ہی ہوتا تھا کیا وجہ ہے کہ روپیہ تو قوم سے لیا جائے اور اس کے خرچ کرنے کے متعلق قوم سے پوچھا بھی نہ جائے ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ بعض معاملات میں تخصیص ہو۔ وَاِلَّا ساری جماعت سے مشورہ ہونا چاہئے۔ سوچنا یہ ہے کہ اس مشورہ کی کیا تدبیر ہو۔ پنجم۔ فی الحال اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ انجمن میں دو ممبر زائد ہوں کیونکہ بعض اوقات ایسی دقتیں پیدا ہو جاتی ہیں کہ ان کا تصفیہ نہیں ہوتا۔ اور اب اختلاف کی وجہ سے ایسی دقتوں کا پیدا ہونا اور بھی قرینِ قیاس ہے علاوہ ازیں مجھے بھی جانا پڑتا ہے اور وہاں دقتیں پیدا ہو جاتی ہیں اس لئے دو بلکہ تین ممبر اور ہونے چاہئیں اور یہ دو ممبر عالم ہونے چاہئیں۔ ششم۔ جہاں کہیں فتنہ ہو ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ وہاں جا کر دوسروں کو سمجھائیں اور اس کو دور کریں۔ اس کے لئے اپنی عقلوں اور علموں پر بھروسہ نہ کریں بلکہ خدا تعالیٰ کی توفیق اور فضل کو مقدم کریں اور اس کے لئے کثرت سے دعائیں کریں اپنے اپنے علاقوں میں پھر کر کوشش کرو اور حالات ضرور یہ کی مجھے اطلاع دیتے رہو۔ یہ وہ امور ہیں جن پر آپ لوگوں کو غور کرنا چاہئے۔ ان میں فیصلہ اس طرح پر ہو کہ مولوی سید محمد احسن صاحب یہاں تشریف رکھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت خلیفۃ المسیح بھی آپ

کا اعزاز فرماتے تھے اور وہ اپنے علم وفضل اور سلسلہ کی خدمات کی وجہ سے اس قابل ہیں کہ ہم ان کی عزت کریں وہ اس جلسہ شوریٰ کے پریذیڈنٹ ہوں میں اس جلسہ میں نہ ہوں گا تا کہ ہر شخص آزادی سے بات کر سکے جو بات باہمی مشورہ اور بحث کے بعد طے ہو وہ لکھ لی جائے اور پھر مجھے اطلاع دو۔ دعاؤں کے بعد خدا تعالیٰ جو میرے دل میں ڈالے گا اس پر عمل درآمد ہو گا۔ تم کسی معاملہ پر غور کرتے وقت اور رائے دیتے وقت یہ ہرگز خیال نہ کرو کہ تمہاری بات ضرور مانی جائے بلکہ تم خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے سچے دل سے ایک مشورہ دے دو اگر وہ غلط بھی ہو گا تو بھی تمہیں ثواب ہو گا۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کی بات ضرور مانی جائے تو پھر اس کو کوئی ثواب نہیں۔

میری ان تجاویز کے علاوہ نواب صاحب کی تجاویز پر غور کیا جائے شیخ یعقوب علی صاحب نے بھی کچھ تجاویز لکھی ہیں۔ ان میں سے تین کے پیش کرنے کی میں نے اجازت دی ہے ان پر بھی فکر کی جائے۔

پھر میں کہتا ہوں کہ مولوی صاحب کا جو درجہ ان کے علم اور رتبہ کے لحاظ سے ہے وہ تم جانتے ہو حضرت صاحب بھی ان کا ادب کرتے تھے پس ہر شخص جو بولنا چاہے وہ مولوی صاحب سے اجازت لے کر بولے۔ ایک بول چکے تو پھر دوسرا پھر تیسرا بولے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک وقت میں دو تین کھڑے ہو جائیں جس کو وہ حکم دیں وہ بولے۔ نواب صاحب یا منشی فرزند علی صاحب اس مجلس کے سیکرٹری کے کام کو اپنے ذمہ لیں وہ لکھتے جائیں اور جو گفتگو کسی امر پر ہو اُس کا آخری نتیجہ سنا دیا جائے۔ اگر کسی امر پر دو تجویزیں ہوں تو دونوں کو لکھ لیا جائے۔ اب آپ سب دعا کریں۔ میں بھی دعا کرتا ہوں کیونکہ پھر دوستوں نے کھانا کھانا ہے قادیان کے دوست ساتھ مل کر کھانا کھلائیں کسی قسم کی تکلیف نہ ہو پانی کا انتظام اچھی طرح سے ہو۔ خود بھی دعا کریں۔ مہمان بھی کریں۔ سفر کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اس مشورہ اور دعا کے ساتھ جو کام ہو گا خدا کی طرف سے ہو گا۔

وَآخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

شکریہ اور اعلان ضروری

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

شکریہ اور اعلانِ ضروری

اللہ تعالیٰ کی عجیب در عجیب حکمت ہے کہ ابھی مشکل سے تین ماہ گزرے ہوں گے۔ کہ حضرت خلیفۃ المسیح استاذی المکرم مولانا مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول کے حکم کے ماتحت مجھے ایک اعلان شکریہ لکھنا پڑا تھا۔ اور آج پھر ایک اعلان شکریہ لکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے موقعہ دیا ہے۔ اس پہلے اعلان کا سبب یہ تھا۔ کہ ۱۹۱۲ء کی آخری سہ ماہی میں جماعت میں کچھ آثار تفرقہ تھے۔ اور بعض گمنام لوگوں نے اظہار حق نامی ٹریکٹ شائع کر کے جماعت کو خلیفہ کے خلاف بھڑکانا چاہا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل نے حضرت استاذی المکرم کی دستگیری فرمائی۔ اور بجائے جماعت میں تفرقہ ہونے کے جماعت آگے سے بھی زیادہ مضبوط ہو گئی اور اس کا اخلاص اور بھی ترقی کر گیا۔ چنانچہ پچھلے سالانہ جلسہ نے یہ بات ثابت کر دی کہ خدا تعالیٰ کے کام کو کوئی نہیں روک سکتا۔ اس تائید ایزدی کو دیکھ کر حضرت مرحوم و مغفور نے مجھے حکم دیا۔ کہ میں آپ کی طرف سے ایک اعلان شکریہ شائع کر دوں۔ تاکہ وَاَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ(الضحٰی: ۱۲) کے حکم کی تعمیل ہو جائے اس اعلان کے لکھتے وقت میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ کہ وہی اظہار حق والا فتنہ پھر بھی کبھی اٹھے گا۔ اور اس دفعہ گمنام نہیں بلکہ شہرۂ آفاق نام ان خیالات کی تائید کرنے والے ہوں گے۔ اور یہ کہ دوبارہ یہ فتنہ پہلے سے ہزاروں درجہ بڑھ کر اپنا اثر دکھائے گا۔ مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت پورا ہوئے بغیر نہیں رہتی۔ اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ فتنہ اٹھا۔ اور پورے زور سے اٹھا۔ حتیٰ کہ کمزور طبائع سلسلہ حقہ کی سچائی میں بھی متردد ہو گئیں۔ اور ہمارے سلسلہ کے دشمنوں نے خیال نہیں بلکہ یقین کر لیا۔ کہ اب یہ سلسلہ تباہ اور برباد (نعوذ باللہ من ذلک) ہو جائے گا۔ نور الدین کی آنکھوں کا بند ہونا تھا کہ نور کی جگہ ظلمت نے لے لی اور احمدی جماعت کے گھروں پر تاریک بادل منڈلانے لگے۔ اور ہم نے ایک دفعہ پھر اپنی آنکھوں سے یہ نظارہ دیکھا۔ کہ کس طرح بھائی بھائی سے جدا ہو جاتا ہے۔ اور بیوی خاوند سے علیحدگی اختیار کر لیتی ہے ہمارے لئے اس معلم کی جدائی جو رات دن ہماری تعلیم و تربیت میں کوشاں رہتا تھا کچھ کم غم و اندوہ کا باعث نہ تھی کہ جماعت کے تفرقہ کی مہیب شکل نے اور بھی دل کو بے چین کر دیا۔ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رات دن کی کوششوں اور برسوں کی آہ و زاری سے تیار کی ہوئی جماعت کا ایک ایک فرد پراگندگی کی حالت میں پھرتا ہوا دیکھنا ایسا نظارہ نہیں جس کے دوبارہ دیکھنے کی آنکھیں کبھی آرزو کریں یا دل خواہش کریں جہازوں کی تباہی کا نظارہ نہایت عبرتناک ہوتا ہے۔ لیکن اس جہاز کی تباہی دنیا کی تباہی تھی۔ کیونکہ ہر ایک جہاز اپنے اندر کے مسافروں کو ساتھ لے کر ڈوبتا ہے۔ مگر اس جہاز کا نقصان صرف اس میں سوار مسافروں کا نقصان ہی نہ تھا۔ بلکہ کل دنیا کی تباہی تھی ہر ایک ذی روح کی ہلاکت تھی۔ کیونکہ احمدی جماعت ہی ایک ایسی جماعت ہے۔ جسے خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں اپنے کام کے لئے چن لیا ہے اور صراطِ مستقیم پر صرف اسی جماعت کا قدم ہے اور خود خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کو الہام کے ذریعہ سے اس جماعت کی نسبت یہ خبر دی کہ اَللّٰھُمَّ اِنْ اَھْلَکْتَ ھٰذِهِ الْعِصَابَةَ فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْاَرْضِ اَبَدًا اے خدا اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا۔ تو پھر اس کے بعد اس زمین پر تیری پرستش کبھی نہ ہوگی (مئی ۱۹۰۲ء تذکرہ صفحہ ۴۳۰ ایڈیشن چہارم) پس جب کہ کل دنیا کی ہدایت اور شفاء صرف اس جماعت کے ساتھ وابستہ ہے۔ تو اس جماعت میں کسی قسم کا خلل گویا کل دنیا کے امن میں خلل کا پیدا ہونا تھا۔ پس اس خطرناک تفرقہ کو دیکھ کر جو آخر مارچ و اوائل اپریل میں اس جماعت میں نمودار تھا۔ ہر ایک دردمند دل اندر ہی اندر بیٹھا جاتا تھا۔ اور بہت تھے جو موت کو زندگی پر ترجیح دیتے تھے اور ان کے دل بے اختیار اس بات کی آرزو کرتے تھے کہ کاش زندوں کی بجائے ہم وفات یافتہ گروہ میں شامل ہوں۔

یہ تفرقہ جس طرح دلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہا تھا اسی طرح چشم بصیرت رکھنے والوں کے لئے ایک خوشی کا باعث بھی تھا۔ کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ یہ افتراق کسی عظیم الشان اتحاد کا پیش خیمہ ہے اور یہ جدائی بہت بڑے ملاپ کی خبر دے رہی ہے اور خدا نے ایسا ہی کیا۔ اس کے فضل نے پھر ہماری دستگیری کی اور ایک دفعہ پھر اپنے زندہ اور موجود ہونے کا ثبوت ہمیں دے دیا۔ دلوں کا درست کرنا کسی انسان کا کام نہیں۔ اللہ تعالیٰ تو آنحضرت ﷺ کی نسبت بھی فرماتا ہے کہ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا مَّاۤ اَلَّفۡتَ بَیۡنَ قُلُوۡبِہِمۡ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ اَلَّفَ بَیۡنَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ عَزِیۡزٌ(8:64) حَكِيمٌ(الانفال: ۶۴) اگر تو دنیا کا سب مال و متاع خرچ کر دیتا۔ تو بھی ان لوگوں کو متحد نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو متحد کر دیا۔ اور اس پر کیا مشکل تھا وہ تو غالب اور حکمت والا خدا ہے۔ پس میری کچھ ہستی نہ تھی۔ کہ میں اس طوفان بے تمیزی کو روک سکتا۔ اس قدر تفرقہ کو دور کرنا انسان کا کام نہیں۔ یہ تو عزیز و حکیم خدا ہی کر سکتا ہے اور اس نے ایسا کر دیا۔ میں جانتا ہوں کہ ابھی بعض جگہ تفرقہ باقی ہے۔ اور ایک قلیل حصہ جماعت کا اتحاد کی رسی میں ابھی تک پرویا نہیں گیا۔ اور کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ ابھی تک تو جماعت میں اتحاد نہیں ہوا پس ابھی سے خوش ہونا اور خدا تعالیٰ کا شکر کرنا بے محل اور بے موقعہ ہے۔ مگر اس نادان کو کیا معلوم کہ بقیہ گروہ کو بھی ساتھ ملانے کا یہی طریق ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کریں کیونکہ خود وہی ذات پاک یوں فرماتی ہے۔ لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ وَلَئِنۡ کَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ(ابراهيم: ۸) قسم ہے مجھے اپنی ذات کی کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں اور بھی دوں گا۔ اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بھی بہت سخت ہے (نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ عَذَابِهٖ) پس اے میرے دوستو! اور پیارو! آؤ ہم سب مل کر اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا شکریہ ادا کریں۔ کہ جدائی کے بعد اس نے ہمیں ملا دیا۔ پراگندگی کے بعد جمع کر دیا۔ تاکہ اس سے اور بھی زیادہ مانگنے کے مستحق ہوں۔ اور عرض کر سکیں کہ الٰہی اب اپنے وعدہ کے مطابق بقیہ بھیڑوں کو بھی اس گلہ میں لا کر ملا دیجئے۔ اَللّٰھُمَّ اٰمِیْن۔ خدا تعالیٰ کے وعدے سچے ہیں اور وہ جھوٹے وعدے نہیں کرتا۔ اور جو شخص اس کے وعدوں پر ایمان نہیں لاتا اور اس کا دل یقین سے نہیں بھرتا وہ اپنے ایمان کی خبر لے کہ اس کا دل شیطان کے پنجہ میں مبتلاء ہے۔ جب خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ شکر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اور بھی دیتا ہے۔ تو آؤ ہم اپنے مولیٰ کا شکر کریں۔ اور اس کی حمد وثناء کے گیت گائیں۔ اور اس کے حضور میں سجدہ کریں تا اس کا فضل جوش مارے اور رہے سہے غم بھی جاتے رہیں۔ میں اپنے مولیٰ کے احسانات کا شکریہ کس منہ سے ادا کروں۔ اور اس کے احسانات کو کس زبان سے گنوں کہ میرا منہ اور میری زبان اس کام کو پورا نہیں کر سکتے میرے جسم کا ذرہ ذرہ بھی اگر گویا ہو تو اس کے بحر عطایا کے ایک قطرہ کا شکریہ ادا نہ ہو سکے۔ ایسے خطرناک متلاطم سمندر میں سے جماعت کا جہاز گزرے۔ اور میرے جیسے نا تجربہ کار اور نا واقف اور کمزور ملاح کے ہاتھوں میں اس کی پتوار ہو اور پھر بھی کشتی سلامت گزر جائے۔ یہ کس

کا کام ہو سکتا ہے صرف خدا کا۔ خلیفہ اول ایک شان رکھتا تھا۔ اور اس کے کاموں کو اس کی طرف منسوب کیا بھی جا سکتا تھا۔ مگر میں کیا ہوں کہ کسی کو یہ خیال بھی گزر سکے۔ کہ اس فتنہ کے دور کرنے میں کچھ میرا بھی ہاتھ تھا۔ یہ طاقت نمائی شرک کے تمام شائبوں سے پاک تھی۔ اور انبیاء و اولیاء کا محبوب بے نقاب اس وقت دنیا پر ظاہر ہوا۔ تاکہ ان شرک کے ایام میں لوگوں کو بتا دے کہ ایک مٹی کے ڈلے اور لکڑی کے کندہ سے بھی میں وہ کام لے سکتا ہوں جو دنیا کے بادشاہ نہیں کر سکتے۔

میرے پیارے رب! تُو آپ ہی بتا کہ ہم کس طرح تیرے ان احسانات کا شکریہ ادا کریں۔ کیونکہ ہماری عقلیں کوتاہ اور ہمارے فہم کمزور ہیں۔ ہم تیرے پہلے بھی محتاج تھے۔ اور اب بھی محتاج ہیں۔ اور آئندہ بھی تیرے ہی محتاج ہوں گے۔ پھر ہمیں اے بادشاہ تجھ سے سوال کرنے میں کیا شرم ہو۔ وہ شخص جس نے کبھی سوال نہ کیا ہو شرماتا ہے لیکن جو ہر وقت مجسم سوال بنا رہے اسے سوال کرتے ہوئے کیا شرم آ سکتی ہے۔ پس اے میرے رب! تیرے حضور میں عاجزانہ عرض کرتا ہوں اسے قبول فرما کہ بادشاہوں کے دروازوں پر سے گداگر خالی ہاتھ نہیں لوٹا کرتے۔ جس طرح تُو نے اس جماعت کے کثیر حصہ کو مجتمع اور متحد کر دیا ہے قلیل کو بھی ہمارے ساتھ ملا دے۔ میرے پیارے رب تُو جانتا ہے کہ مجھے اپنی بڑائی کی خواہش نہیں مجھے حکومت کا شوق نہیں لیکن جماعت کا اتحاد مجھے مطلوب ہے۔ اور تفرقہ کو دیکھ کر میرا دل بیٹھا جاتا ہے۔ پس خدایا اپنا فضل کیجئے میرے زخمی دل پر مرہم کافور لگائیے مجھے جو کچھ بھی حضور نے دیا امیدوں سے بڑھ کر دیا۔ مگر مولیٰ مجھے اس معاملہ میں حرص سے معذور رکھئے۔ ابھی میری حرص کی آگ نہیں بجھی اور میرے دل میں تڑپ ہے کہ کسی طرح سب کی سب جماعت پھر ایک سلک میں پروئی جائے اور ہم سب مل کر تیرے نام کو دنیا پر روشن کریں۔ طاقتور شہنشاہ یہ تیرے لئے کچھ مشکل نہیں۔ احمد کے نام کو دو ٹکڑے ہونے سے بچا لے۔ پیارے یہ جماعت تیری پیاری جماعت ہے اور کون چاہتا ہے کہ اپنے پیاروں کے دو ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھے۔

میرے دوستو! خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بہت زبردست ہے تم اپنے مولیٰ کے سامنے گر کر آہ و زاری کرو اور دعاؤں میں لگ جاؤ تاکہ بادل سورج کے سامنے سے ہٹ جائیں۔ اور وہ پہلے سے بھی زیادہ دنیا کو روشن کرے۔ میں اس موقعہ پر اخبارات کے ایڈیٹران کو بھی مشورہ دیتا ہوں کہ وہ آئندہ منکرانِ خلافت کے متعلق سخت کلامی کو ترک کر دیں۔ میں جانتا ہوں کہ جس کے ہاتھ پر انسان بیعت کر چکا ہو اس کے خلاف بات سننا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن آپ لوگ نرمی سے کام لیں اور سختی کو ترک کر دیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل اسی طرح نازل ہو گا۔ ہر ایک اعتراض کا جواب نہایت نرمی سے دیں۔ اور گالیاں دینا اور ٹھٹھا کرنا ان کے لئے چھوڑ دیں جن کو خدا نے اس کام کے لئے مقرر کیا ہے ورنہ یہ کیونکر معلوم ہو گا کہ حق پر کون ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں جماعت کو ایک اور بات کی طرف بھی متوجہ کرنا چاہتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ آپ لوگ ضرور اس پر غور کریں گے اور جس طرح ایک پیاسا پانی کے چشمہ کو دیکھ کر اس کی طرف دوڑتا ہے اسی طرح آپ لوگ اس بات کے قبول کرنے کے لئے جلدی کریں گے۔ اور وہ یہ کہ کوئی قوم کبھی ترقی نہیں کرتی جب تک پورے زور سے تبلیغ کے کام کی طرف متوجہ نہ ہو۔ اور قرآن شریف نے تو مبلغین کے لئے اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ(7:158) فرما کر فیصلہ ہی کر دیا ہے کہ مسلمانوں کی ترقی کا راز تبلیغ ہی ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کر کے دیکھ لو کہ جب سے مسلمانوں نے تبلیغ کے فرض کو بھلا دیا ہے اسی وقت سے ان کی حکومت، عزت، دولت سب کچھ برباد ہونا شروع ہوا ہے۔ پس آپ لوگ قطعاً اس کام سے غافل نہ ہوں تا ایسا نہ ہو کہ آپ کا قدم بھی پستی کی طرف چل پڑے۔

میں نے ۱۲؍ اپریل کے جلسہ میں جماعت احمدیہ کے قائم مقاموں کے سامنے بیان کیا تھا کہ میرے دل میں تبلیغ کا ایسا جوش ہے کہ جس کی حدود میرے بیان میں نہیں آسکتیں اور یہ بھی بتایا تھا کہ انبیاء اور خلفاء کا پہلا کام ہی اللہ تعالیٰ نے یہ مقرر فرمایا ہے۔ اسی طرح مؤمنین کو حکم دیا ہے کہ ہر ایک جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول رہے۔ لیکن میں نے اس وقت تک اس تحریک کے متعلق اس لئے کوئی اعلان شائع نہیں کیا کہ میں دعا میں مشغول تھا اور چاہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ سے پہلے استخارہ کر لوں۔ بعد میں اس کام کے لئے آپ لوگوں کو بلاؤں گا۔ سو آج دعاؤں اور استخارہ کے بعد میں آپ لوگوں کو وہ پیغام حق پہنچاتا ہوں جو دنیا کے ابتداء سے اللہ تعالیٰ کے بندے پہنچاتے آئے ہیں۔ اور وہ یہ ہے۔ کہ

مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ(3:53)

کون ہے جو خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت میں میرا مددگار اور معاون ہو۔ خوب یاد رکھو کہ جو شخص اس آواز کا جواب دے گا وہ اپنے رب سے اجر عظیم کا مستحق ہو گا۔ کیونکہ یہ میرا کام نہیں بلکہ خدا کا کام ہے اور اللہ تعالیٰ کسی کا احسان اپنے ذمہ نہیں رکھتا اگر تم ایک پیسہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرو گے تو اس کے بدلہ میں وہ تمہیں وہ کچھ دے گا جس کو تم گن بھی نہ سکو گے۔

دین اسلام اس وقت ایک خطرناک مصیبت میں ہے۔ اور اپنے اور پرائے سب اس کے دشمن ہو رہے ہیں۔ جو لوگ مسلمان کہلا رہے ہیں ان کے دل خود شکوک و شبہات کے پردوں میں لپٹے ہوئے ہیں اور وہ خود تیغ و سنان سے اسلام پر حملہ کر رہے ہیں۔ جو دشمن ہیں وہ تو دشمن ہی ہیں۔ جو کچھ بھی وہ کریں اسے کم سمجھنا چاہئے۔ اور اس خطرناک مصیبت میں اللہ تعالیٰ نے تم کو اس کام پر مقرر کیا ہے کہ دین اسلام کی حفاظت کرو اور اندرونی اور بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کرو۔ پس اپنے فرض کو پہچانو اور غفلت کو ترک کر دو۔ مال پھر بھی مل سکتا ہے لیکن یہ وقت پھر نہ ملے گا۔ بے شک آپ لوگوں پر چندوں کا بہت بوجھ ہے لیکن جو ثواب آپ جمع کر سکتے ہیں وہ ایسی بیش بہا چیز ہے۔ کہ آنے والی نسلیں اس پر رشک کریں گی اور بہت ہوں گے جو اپنی بادشاہتوں کو ترک کرنا بخوشی قبول کریں گے بشرطیکہ ان کو آپ کے ثوابوں میں سے ایک ہزارواں حصہ بھی دے دیا جائے۔ مجھے یقین ہے کہ بادشاہ اس مذہب کو قبول کریں گے اور سلطنتیں اپنے سر احمدیت کے آگے جھکائیں گی۔ لیکن جو رتبہ اور مرتبہ آپ کے حصہ میں آیا ہے وہ ان کو نصیب نہ ہو گا۔ کیا یہ سچ نہیں کہ بڑے بڑے زبردست بادشاہ ابو بکرؓ اور عمرؓ بلکہ ابو ہریرہؓ کا نام لے کر بھی رضی اللّٰہ عنہ کہہ اٹھتے رہے ہیں اور چاہتے رہے ہیں کہ کاش ان کی خدمت کا ہی ہمیں موقعہ ملتا۔ پھر کون ہے جو کہہ سکے کہ ابو بکر اور عمر اور ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہم نے غربت کی زندگی بسر کر کے کچھ نقصان اٹھایا۔ بے شک انہوں نے دنیاوی لحاظ سے اپنے اوپر ایک موت قبول کر لی۔ لیکن وہ موت ان کی حیات ثابت ہوئی اور اب کوئی طاقت ان کو مار نہیں سکتی۔ وہ قیامت تک زندہ رہیں گے۔ پس تمہارے لئے بھی وہ دروازے کھولے گئے ہیں۔ اخلاص اور ثواب کی نیت سے اللہ تعالیٰ کے دین کی تائید میں ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ لو۔ کیونکہ جو جس قدر موت اپنے لئے قبول کرے گا اسی قدر زندگی اس کو دی جائے گی۔ خدا کے قرب کے دروازے کھلے ہیں اور کوئی قوم نہیں جو ان کے اندر داخل ہونے کی خواہشمند ہو۔ ایک تم ہی تم ہو۔ پس ایک جست کرو اور اندر داخل ہو جاؤ۔

اسلام اور احمدیت کی اشاعت خدا کا کام ہے مگر وہ اپنے بندوں کو موقعہ دیتا ہے کہ وہ بھی ثواب حاصل کر لیں۔ آپ لوگوں نے کل دنیا کے مقابلہ میں اپنے اخلاص اور نیک نیتی کو مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں بالا ثابت کر کے دکھا دیا۔ پھر خلیفہ اول کے وقت میں تمہارا قدم آگے سے بھی زیادہ تیز پڑنے لگا۔ کیونکہ تم نے دیکھا۔ کہ دشمن ہم پر خوش ہے اور ہماری تباہی کا منتظر ہے۔ پس تم نے نہ چاہا کہ اسے تم پر ہنسنے کا موقعہ ملے۔ اب ایک تیسرا عہد آپ نے باندھا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ اب آپ اور بھی زیادہ جوش سے کام لیں گے۔ میرا خدا میرا مدد گار ہے۔ جو کام اس نے میرے سپرد کیا ہے وہ اس کے پورا کرنے کے لئے خود ہی سامان پیدا کر دے گا اور مجھے یقین ہے کہ اگر زمین میری مدد نہ کرے گی تو آسمان میرا ہاتھ بٹائے گا اور اللہ تعالیٰ سعید روحوں کو خود الہام کر دے گا کہ وہ میری آواز پر لبیک کہیں۔

اس وقت دشمن کہہ رہا ہے کہ اب احمدیت گئی لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ آگے سے بھی زیادہ اسے ترقی دے اور اسلام کے شیدا خوش ہو جائیں کہ اب خزاں کے بعد بہار آنے والی ہے اور مسیح موعودؑ کے وعدوں کے پورے ہونے کے دن آگئے ہیں۔ خدا تعالیٰ اپنے مأمور اور اس کے اول خلیفہ کی دعاؤں کو ضائع نہیں کرے گا۔ اور ضرور اسلام کی مصیبت کو دور کر دے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کام کو پورا کرنے کے لئے میرے دل میں ڈالا ہے کہ میں اب اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے خاص جدوجہد کروں۔ اور میں نے فی الحال اندازہ لگایا ہے کہ اس کام کا ایک سال کا خرچ بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) روپیہ ہو گا میں نے روپیہ کے انتظام کیلئے ایک کمیٹی مقرر کی ہے جس میں مجلسِ معتمدین کے کل وہ ممبران شامل ہوں گے جو بیعت کر چکے ہیں اور ان کے علاوہ کچھ اور دوست بھی شامل کئے جائیں گے لیکن ان کے نام بعد میں شامل کروں گا۔ اس انجمن کا کام اشاعتِ اسلام کے روپیہ کا انتظام کرنا، اس کا حساب و کتاب رکھنا اور اشاعتِ اسلام پر اس روپیہ کو میری ہدایات کے ماتحت خرچ کرنا ہو گا۔ زکوٰۃ کا روپیہ بھی اسی انجمن کے پاس جمع ہو گا۔ اور میں اس انجمن کا سیکرٹری مولوی شیر علی صاحب بی اے کو مقرر کرتا ہوں۔ انہیں کے دستخطوں سے روپیہ بھیجنے والوں کو رسیدیں ملیں گی۔ اس انجمن کا نام ایک پرانی خواب کی بناء پر انجمن ترقی اسلام رکھا جاتا ہے۔

میں نے بہت دعاؤں کے بعد اس بات کا اعلان کیا ہے اور اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ میری دعاؤں کو ضرور قبول کرے گا اور خود اشاعتِ اسلام کے لئے سامان کر دے گا اور جو لوگ اس کام میں میرا ہاتھ بٹائیں گے ان پر خاص فضل فرمائے گا۔

میرے دوستو! بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) روپیہ سالانہ کی رقم بظاہر بہت معلوم ہوتی ہے۔ لیکن جس رب نے مجھے اس کام پر مقرر کیا ہے اس کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ وہ بڑے خزانہ والا ہے۔ وہ خود آپ لوگوں کے دل میں الہام کرے گا۔ اور آپ ہی اسکے لئے سامان کر دے گا۔ میں نے اس کام میں حصہ لینے والوں کے لئے بہت دعا کی ہے اور میں یقین کرتا ہوں کہ جو شخص جس جوش اور اخلاص سے آگے بڑھے گا خدا تعالیٰ کا فضل بھی اسی مقدار میں اپنے ساتھ دیکھے گا۔ یہ مال و متاع اسی جگہ رہ جائے گا۔ اور خدا تعالیٰ کے سامنے تو نیک اعمال ہی جائیں گے پس دین اسلام کے لئے اپنے اموال کی کچھ پرواہ نہ کرو۔ کیا آج تک اللہ تعالیٰ نے آپ سے بخل کیا ہے کہ آئندہ کرے گا۔

تمام جماعتوں کے سکرٹریوں کو اور ان لوگوں کو جن کو خدا تعالیٰ اس کام کے لئے ہمت دے چاہئے کہ فوراً اس اعلان کے پہنچتے ہی دوستوں کو سنائیں اور خاص طور پر تحریک کر کے چندہ بھجوائیں تاکہ فوراً کام شروع کر دیا جائے۔ روپیہ براہِ راست میرے نام بھیجیں۔ کیونکہ اس سے دعا کی تحریک ہوتی ہے ہاں رسید اس انجمن کے سیکرٹری مولوی شیر علی صاحب بی اے کے دستخط سے روانہ ہوگی۔ کیونکہ حساب و کتاب انہیں کے زیر نگرانی ہوگا۔

جماعت کے مخلصین کے لئے یہ ایک امتحان کا موقعہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ غیر معمولی اخلاص کا نمونہ دکھائیں گے۔ ہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ انجمن کے ماہوار چندوں پر اس چندہ کا کوئی اثر نہ پڑے۔ اور جو شخص ان چندوں میں کمی کر کے اس طرف چندہ دے گا وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک زیر مؤاخذہ ہو گا کیونکہ وہ وعدہ خلافی کرے گا اور یہ دانائی سے بعید ہے۔ کہ ایک بچہ کو بچانے کے لئے دوسرے بچہ کو قتل کیا جائے۔ پس جو کچھ دو ماہوار چندوں سے زائد دو اور اس بات کو مد نظر رکھو کہ خدا تعالیٰ کبھی اس ایثار کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ آپ دیکھیں گے کہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ آپ کے اندر کام کرتا ہو گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ انصار اللہ کہلانا کچھ چھوٹا سا انعام نہیں پس آؤ تم سب انصار اللہ بن جاؤ اور اپنے اموال اور اپنی جانوں سے اشاعت اسلام میں لگ جاؤ۔ خدا تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔

نوٹ :۔

جس قدر تجاویز ۱۲؍ اپریل کے جلسہ میں ہوئی تھیں ان سب کا انتظام میں اس انجمن کے سپرد کرتا ہوں جس کے ممبر تا اطلاع ثانی یہ اصحاب ہوں گے۔ حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب۔ نواب محمد علی خان صاحب۔ سید حامد شاہ صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب بی اے۔ مرزا بشیر احمد صاحب۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب اسٹنٹ سرجن۔ ڈاکٹر رشید الدین صاحب اسٹنٹ سرجن پنشنر۔ سیٹھ عبد الرحمن صاحب۔ حاجی اللہ رکھا مدراس اور اسی وقت تک اس انجمن کی علیحدہ ضرورت ہو گی جب تک کہ مجلس معتمدین کا انتظام باقاعدہ نہ ہو۔ جب انشاء اللہ مجلس معتمدین کی مناسب اصلاح ہو جائے گی تو پھر اس انجمن کی علیحدہ ضرورت نہ ہو گی بلکہ یہ کام بھی اسی کے سپرد کر دیا جائے گا۔

آخر میں میں سب مبائعین کو پھر ہدایت کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کر کے اس رقم کو جلد مہیا کرنے کی کوشش کریں۔ اور دشمنانِ سلسلہ پر ثابت کر دیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے جوش کم نہیں ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اخلاص میں اور بھی زیادہ کر دیا ہے یہ بھی یاد رہے کہ اشاعتِ اسلام کے اس خاص چندے کے علاوہ جو رقوم آپ لوگ اشاعتِ اسلام میں ماہوار یا کبھی کبھی صدر انجمن میں دیتے تھے اس کو بھی اس مد میں منتقل کر دیں تاکہ یکجائی طور پر اس کام کو پورا کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو۔ اور اس کی تائیدات اور نصرتیں آپ کے شاملِ حال ہوں والسلام۔

خاکسار مرزا محمود احمد

نوٹ:۔ انجمن ترقی اسلام کے قیام کے بعد کسی الگ تحریک کی ضرورت نہیں اس لئے میں دعوت الی الخیر کا روپیہ بھی جو اس کام کے لئے جمع ہو رہا تھا اس انجمن کے سیکرٹری کو سپرد کر دوں گا۔ جو چھ سو سے کچھ زائد ہے اور جو دوست اس فنڈ میں کچھ رقم بھیجا کرتے تھے۔ وہ ان رقموں کو اب انجمن ترقی اسلام ہی کی طرف منتقل کر دیں۔ تاکہ سب کام یکجائی طور پر ہو۔ مرزا محمود احمد

غموں کا ایک دن اور چار شادی

فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَى الْاَعَادِیْ

یہ اعلان شکریہ کاتب کو دینے سے پہلے میں نے عصر کے بعد درسِ قرآن کے وقت جماعت قادیان کو سنا دیا تھا تا وہ بھی اس تحریک میں حصہ لینے کے لئے تیار ہو جائیں سو اللہ تعالیٰ نے قادیان کی غریب جماعت کے دلوں میں وہ اخلاص اور جوش بھر دیا اور ان کے دل اپنے خالق اور رازق کے نام کو دنیا میں پھیلانے کے لئے ایسے بیتاب ہو گئے کہ دوسرے دن جمعہ کی نماز کے بعد انہوں نے ایک عام جلسہ کیا اور تین ہزار (۳۰۰۰) روپیہ کے قریب چندہ کے وعدے لکھوائے گئے اور ابھی تک برابر کوشش ہو رہی ہے اور قادیان کے دوست چاہتے ہیں کہ اول تو میری اعلان کردہ رقم یعنی بارہ ہزار روپیہ کُل کا کُل ضلع گورداسپور کی طرف سے پیش کیا جائے یا کم سے کم نصف یعنی چھ ہزار تو ضرور وہ مہیا کریں اور میں اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتا ہوں کہ وہ ان کی کوششوں کو بار آور فرمائے گا۔ اور وہ دونوں رقموں میں سے ایک کو ضرور جمع کر لیں گے۔ اس وقت تک پانچ سو روپیہ سے زائد وصول بھی ہو چکا ہے اور ہر روز چندہ میں ترقی ہو رہی ہے قادیان کی غریب جماعت کا یہ نمونہ ایک ایسا نمونہ ہے کہ میں امید کرتا ہوں کہ باہر کی جماعتیں بھی اسی نمونہ پر چلیں گی میں نے دیکھا کہ بعض لوگوں نے اپنی کل کی کل زمین تبلیغ اسلام کے لئے دے دی اور بعض نے اپنا کل اندوختہ اس کام کے لئے نذر کر دیا اور میں اس ایثار کو دیکھ کر اس بات سے باز نہیں رہ سکتا کہ اپنے مولیٰ کا پھر شکریہ ادا کروں جس نے اپنے فضل سے میری تحریر میں اس قدر اثر رکھا کہ ابھی وہ شائع بھی نہیں ہوئی کہ مطلوبہ رقم کے چوتھائی حصہ کے وعدے پہلے ہی ہو گئے اور صرف ایک ضلع کے لوگ اس کو پورا کرنے کے لئے تیار ہو گئے اور پھر اس کام کے کرنے والی وہ جماعت ہے جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ روٹیوں کے لئے قادیان میں آپڑے ہیں کاش اس ایثار کے لوگ اور بھی کثرت سے ہوں تا سلسلہ احمدیہ جلد جلد ترقی کی شاہ راہ پر قدم مارے۔

میرے پیارے رب نے اس وقت مجھے ایک سبق دیا ہے اور وہ یہ کہ میں نے جماعت کے فتنہ کو دیکھ کر خوف کیا تھا کہ بارہ ہزار روپیہ بھی وہ دے سکے گی یا نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ جب اس سب کام کے ہم خود ذمہ دار ہیں تو فتنہ کا ہونا یا نہ ہونا کیا اثر رکھتا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا تھا کہ ہم چندہ بند کر دیں گے اور خود بخود یہ سب کام آپ بند ہو جائیں گے اور خلافت کے ماننے والوں کو ہوش آجائیں گے اور بعض نے اعلان کر بھی دیا کہ قادیان میں کوئی چندہ نہ بھیجا جائے لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ایسے لوگوں کا جھوٹ ثابت کرے اور وہ ہمیں اپنی بے انتہاء قدرت کا ایک روشن نشان دکھانا چاہتا ہے مبارک وہ جو اس سے فائدہ اٹھائے۔

دنیاوی حکومتوں کی ساکھ ان کے قرضہ سے پتہ لگتی ہے کیونکہ جب ان میں ضعف پیدا ہو جائے تو ان کو قرضہ مشکل سے ملتا ہے۔ لیکن جب وہ طاقتور ہوں تو وہ اگر ایک کروڑ کا اعلان کرتی ہیں تو ان کو دس کروڑ روپیہ دینے کو لوگ تیار ہو جاتے ہیں۔ اور اس وقت بھی جبکہ اس الٰہی سلسلہ کی ساکھ پر لوگ معترض تھے اور کہتے تھے کہ اب یہ سلسلہ گیا۔ اور بعض اپنے لوگ ہی اس بات کے مدعی تھے کہ ہمارے علیحدہ ہوتے ہی یہ سب کام تباہ ہو جائے گا۔ خدا تعالیٰ اس جماعت کی ساکھ قائم کرنا چاہتا ہے اور اس غریب جماعت کے ہاتھوں سے جسے نادان اور جاہل اور کم فہم کہہ کر ہنسی اور ٹھٹھا کیا جاتا ہے اپنی شان دکھانا چاہتا ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ خود جماعت کے دلوں میں تحریک کرے گا اور میری اعلان کردہ رقم سے بھی پانچ چھ گنا زیادہ روپیہ فراہم کر دے گا اور میرا ارادہ ہے کہ انشاء اللہ زائد رقم سے ہم تبلیغ کے کام کو اور بھی وسیع پیمانہ پر جاری کریں۔ اور اسے غیر مترقبہ ضروریات کے لئے علیحدہ کر دیں اور آئندہ کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے امید ہے کہ بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) روپیہ سالانہ سے بھی زیادہ کا انتظام بغیر کسی زائد بوجھ کے ہو جائے گا مگر میں اس امر کی تفصیل کہ کس طرح معمولی چندوں میں سے یہ کام بھی پورا ہو جائے گا یا صرف ایک قلیل رقم زائد کرنی پڑے گی جس سے انشاء اللہ تعالیٰ سب کام چل جائیں گے کسی آئندہ وقت شائع کرونگا ہاں اس وقت صرف اتنا کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کا حامی ہے اور وہ خود ہماری سب ضروریات کا کفیل ہو گا ہمارے بعض دوست ہم سے الگ ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کوئی روپیہ نہ دیں گے مگر وہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نئے آدمی دے گا جو یُّحِبُّہُمۡ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ(5:55) والی جماعت ہو گی اور وہ اس باغ میں ایک درخت کے بدلے ہزار درخت لگائے گا بلکہ اس سے بھی زیادہ جن کے پھل ان مقطوعہ درختوں کے پھلوں سے بہت زیادہ شیریں ہوں گے۔

آخر میں بطور تحدیث نعمت یہ بھی لکھ دینا چاہتا ہوں کہ مردوں کے علاوہ قادیان کی عورتوں نے بھی اس تحریک میں خاص حصہ لیا ہے قریباً پچیس روپیہ ماہوار کے وعدے کئے ہیں جو امید ہے اور بھی زیادہ ترقی کریں گے آئندہ بارہ ہزار سالانہ کی رقم میں سے علاوہ اس یکمشت چندہ کے جو ضلع گورداسپور کی جماعت انشاء اللہ قریباً اس سال دے گی قریباً اڑھائی ہزار روپیہ سالانہ وہ ہمیشہ

ادا کرتی رہے گی اور جماعت کی ترقی پر یہ رقم بھی زیادہ ہوتی رہے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔

والسلام خاکسار خادم سلسلہ احمدیہ مرزا محمود احمد

تحفة الملوک

(والیٔ ریاست حیدر آباد دکن کو دعوت الی اللہ)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفة المسیح الثانی

بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم نَحمَدُہٗ وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُولِہِ الكَرِیم

مکرم و معظم جناب نواب صاحب (اَدَامَ اللّٰہُ مُلْکَکُمْ وَ زَادَ حِشْمَتَکُمْ)

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہٗ

پیشتر اس کے کہ میں اس عریضہ کا مضمون شروع کروں میں جناب سے یہ عرض کر دینا پسند کرتا ہوں کہ بوجہ ایسی آب و ہوا میں تربیت اور تعلیم پانے کے جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اسلامی آداب اور طرق سے مملو تھی میں طبعاً ان لفظی تکلفات سے جو مرورِ زمانہ سے مسلمانانِ ہند و ایران کے درمیان پیدا ہو گئے ہیں بیزار ہوں اس لئے اگر جناب میرے اس مکتوب کو ان الفاظ سے خالی پائیں جو عام طور پر شاہانِ زمانہ یا والیانِ ریاست کے حضور میں خطوط ارسال کرتے وقت لوگ استعمال کرتے ہیں تو مجھے معذور خیال فرمائیں کیونکہ اس کا باعث کمی ادب نہیں بلکہ اس کا موجب اسلامی سادگی ہے ورنہ میں بموجب حکم قرآن شریف ان لوگوں کی عزت دل و جان سے کرتا ہوں جن کو خدا تعالیٰ نے عزت دی ہے اور ایسے انسان کو شقی خیال کرتا ہوں جس کا دل ان لوگوں کے ادب سے خالی ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی قسم کا رتبہ دیا ہو کیونکہ یہ ان لوگوں کی ہتک نہیں بلکہ خود اس ذات کی گستاخی ہے جس نے ان کو کسی مرتبہ پر کھڑا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو قرآن شریف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے اولو العزم نبی اور ان کے بھائی حضرت ہارون کو بھی حکم فرماتا ہے کہ فرعون جیسے متمرد بادشاہ کے پاس جاؤ مگر فَقُوۡلَا لَہٗ قَوۡلًا لَّیِّنًا(طٰہٰ: ۴۵) اس سے درشتی اور بے ادبی سے کلام نہ کرنا بلکہ نرم نرم باتیں کرنا۔ تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ میں ایک ایسے حاکم کی عزت نہ کروں جو میرے آقا اور محبوب آنحضرت ﷺ کے خدام میں ہونے کا فخر رکھتا ہو پس رائج الوقت تکلفات کو ترک کرنا کسی سوءِ ادب کے باعث نہیں بلکہ اسلامی تربیت مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں بیہودہ تکلفات سے علیحدہ رہوں ورنہ میں تو غیر مذہب کے بادشاہوں اور رئیسوں کا ادب بھی ضروری خیال کرتا ہوں۔

میں اس بات کو ظاہر کر دینا بھی اپنی روشناسی کرانے کی غرض سے ضروری دیکھتا ہوں کہ میں پنجاب کے ایک معزز خاندان میں سے ایک شخص ہوں اور لوگوں میں مرزا بشیر الدین محمود احمد کے نام سے مشہور ہوں میرے والد مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود و مہدی مسعود اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا کی ہدایت کے لئے مامور تھے اور جماعت احمدیہ کے امام تھے جس جماعت کے پیرو جناب کی ریاست میں بھی آباد ہیں مجھے اس وقت اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اس پاک جماعت کا امام بنا کر خلافتِ ثانیہ کے عہدہ پر مقرر فرمایا ہے چونکہ یہ جماعت عام لوگوں کی طرح نہیں ہے اس لئے آپ کی وفات کے بعد جماعت احمدیہ میں سے سب سے زیادہ نیک اور عالم اور متقی حضرت استادی المکرم مولوی نور الدین صاحب رحمتہ اللہ علیہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ماتحت آپ کے خلیفہ اول قرار پائے تھے اور آپ کی وفات پر اس عاجز کو خدا تعالیٰ نے جماعت کی حفاظت کے کام پر مقرر فرمایا ہے اور میں نہیں جانتا کہ میرے بعد یہ منصب اللہ تعالیٰ کس خاندان میں منتقل فرمائے گا۔

اس روشناسی کے بعد میں یہ عرض کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھے اس مکتوب کے لکھنے کی تحریک ایک رؤیا کی بناء پر ہوئی ہے اور چونکہ رؤیا کا پورا کرنا بھی مؤمن کا فرض ہے اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے عالمِ رؤیا میں جناب تک ایک امر حق پہنچانے کی جو مجھے تحریک فرمائی ہے عالمِ بیداری میں اس تحریک کو پورا کر دوں۔ اس مکتوب میں جو جناب کی رفعت شان اور عام مخلوق کی بہتری کے خیال سے چھپوا کر جناب کی خدمت میں ارسال کیا گیا ہے اس خواب کا درج کرنا درست نہیں معلوم ہوتا ہاں اس قدر عرض کرتا ہوں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے جناب کو اس سلسلہ کے متعلق ایک مبسوط تقریر کے ذریعہ واقف کیا ہے اور جو کچھ میں نے جناب کو رؤیا میں کہا ہے اسی کا ایک حصہ جو مجھے یاد رہا مع کچھ زوائد کے اس مکتوب کے ذریعہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اللہ تعالیٰ اس مکتوب کو با برکت کرے اور آپ کو بہت سے لوگوں کے لئے موجبِ ہدایت کرے۔ آمین یا رب العالمین۔

جناب سے یہ امر پوشیدہ نہیں کہ اسلام کی جو نازک حالت ان ایام میں ہے وہ پہلے کسی زمانہ میں نہیں ہوئی اور موجودہ حالت کو جب ابتدائے ایام کی حالت سے مقابلہ کر کے دیکھیں تو بدن پر رعشہ سا طاری ہو جاتا ہے کیونکہ ابتدائے اسلام کے احوال اور آج کل کے احوال میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ اسلام نہایت غربت کی حالت میں تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فداہ اہی والی تن تنہا اس پاک مذہب کی تعلیم سے لوگوں کو آگاہ کرتے تھے نہ کوئی مولوی تھا نہ عالم نہ واعظ نہ کوئی سلطنت اس دین کی حامی تھی نہ کوئی فوج و سپاہ اس دین کو دشمنوں کے حملوں سے بچانے پر مامور تھی۔ بس وہی پاک وجود لاکھوں آفتوں اور کروڑوں مصائب کی موجودگی میں مکہ جیسے مقام میں (جس کے باشندوں کا واحد ذریعہ معاش بتوں کے استھانوں کی خدمت تھا اور جو کل عرب میں بتوں کے پجاری ہونے کی وجہ سے ہی معزز تھے) شرک کی بیخ کنی کے لئے رات اور دن مشغول تھا چند نیک طبع اور سلیم الفطرت انسان اس کی پاک اور بے عیب تعلیم کو سن کر اس پر ایمان لے آئے تھے لیکن کل شورہ پشت اور خبیث الفطرت انسان اس کے استیصال کے درپے تھے اور جس طرح بھی ہو اس کے دین کو مٹانے کے لئے ہر طرح سے مقابلہ کرنا چاہتے تھے آخر آپ کے پیروؤں کو وطن سے بے وطن ہونا پڑا اور خود آپ کو بھی مدینہ کی طرف ہجرت کرنی پڑی مدینہ آپ کے لئے اور بھی مشکلات کا مقام ثابت ہوا اور وہاں آپ کے عزم اور استقلال نے اور بھی نمایاں طور پر اپنا کمال دکھایا۔ کفار مکہ کی مخالفت بدستور جاری رہی یہود و نصارٰی اور منافقین کے تین نئے گروہ بھی آپ کی ایذاء دہی پر استادہ و تیار ہو گئے۔

آج مسلمان دنیا کے ہر گوشہ پر آباد ہیں اور ہر طبقہ کے انسان اسلام میں داخل ہیں گو پہلی سی شان و شوکت نہیں رہی مگر پھر بھی ایک دو آزاد حکومتیں بھی مسلمان ہونے کا دم بھرتی ہیں لیکن دیکھا جاتا ہے کہ اکثر مسلمانوں کے دل اندر ہی اندر خوف سے بیٹھے جاتے ہیں کہ اب اسلام کا کیا حال ہو گا ہزاروں نہیں لاکھوں مسلمان بشرطیکہ یورپ کی طاقت اور اس کی روزانہ بڑھنے والی رَو کا مطالعہ کرچکے ہوں اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کا مسیحیت کی رَو میں نہ بہنا اور اپنی حیثیت کو قائم رکھنا ناممکن ہے بہت سے احمق یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ ایک سو سال کے اندر اسلام دنیا کے پردہ سے مٹ جائے گا اور واقعہ میں جس طرح اس زمانہ میں اسلام پر چاروں طرف سے حملے ہو رہے ہیں اور ہر ایک مذہب اسلام کو اپنا شکار خیال کر رہا ہے وہ ظاہر بین انسانوں کو گھبرا دینے کے لئے کافی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ گروہ جو زمانہ کی حالت سے واقف ہے اس وقت سخت مایوسی کی حالت میں ہے اور اسلام کی ترقی کے لئے کسی جدوجہد کو بھی مذبوحی حرکات سے زیادہ خیال نہیں کرتا یہ تو موجودہ زمانہ میں اکثر مسلمانوں کا حال ہے جو باوجود کروڑوں مسلمانوں کی موجودگی کے اس حد تک مایوس ہو چکے ہیں مگر اس کے مقابلہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہیں کہ آپ تن تنہا دنیا کا مقابلہ کرتے ہوئے بھی اس یقین سے معمور تھے کہ کل دنیا پر میں غالب آجاؤں گا قیصر و کسریٰ کے خزانوں کی کنجیاں میرے ہاتھوں میں آئیں گی دنیا کے ہر کونہ میں اسلام پھیل جائے گا اور دنیا کی کوئی طاقت اسلام کو روک نہ سکے گی جو اسلام کی مخالفت کرے گا اور اس کے ترقی کرنے میں روک ہو گا وہ بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا قرآن کریم میں بھی متعدد آیات میں یہ ذکر ہے جیسا کہ فرمایا لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیۡ(المجادلہ: ۲۲)۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا اور تھوڑی ہی مدت میں اسلام دنیا کے کونہ کونہ میں پھیل گیا اور باوجود سب مذاہب اور سب اقوام کی متحدہ کوشش کے اسلام کی ترقی میں کوئی فرق نہ آیا اور اس نے ہر مذہب کو اپنے فاتحانہ بازو سے دبالیا۔

زمین پر لیٹنے والے اور خاک پر سونے والے سات سات وقت کا فاقہ کرنے والے قرآن کریم کی اتباع اور آنحضرت ﷺ کی صحبت کے طفیل کہاں سے کہاں پہنچ گئے کسی نے شاہانہ اقتدار حاصل کیا کوئی کسی ملک کا گورنر ہو گیا تو کوئی فتحمند افواج کا کمانڈر مقرر ہوا انکی ترقی کسی انسانی دماغ کی کوششوں کا نتیجہ نہیں معلوم ہوتی بلکہ اسے بنظر غور دیکھنے والا صاف معلوم کرتا ہے کہ اس ترقی کا باعث کوئی آسمانی تائید اور نصرت تھی نہ زمینی تدابیر۔ دنیا نے چاہا کہ اسلام کو بڑھنے نہ دے مگر خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اسے بڑھائے پس وَمَکَرُوۡا وَمَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَاللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ(اٰل عمران: ۵۵) لوگوں نے ہزاروں تدابیر کیں کہ کسی طرح آنحضرت ﷺ کی زندگی کا خاتمہ کر کے اس خارقِ عادت ترقی کرنے والے مذہب کو اکھاڑ پھینکیں لیکن کَلِمَۃَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا السُّفۡلٰی ؕ وَکَلِمَۃُ اللّٰہِ ہِیَ الۡعُلۡیَا(التوبہ: ۴۰)

لوگوں کا بغض و کینہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ مذہب کے خلاف کیا کر سکتا تھا؟ اسلام ایک پتھر تھا کہ جس پر گرا اسے توڑ دیا اور جو اس پر گرا ٹوٹ گیا۔ اسلام کے خادم دنیا کے مخدوم ہو گئے اسلام کے جاں نثار دنیا کے محبوب ہو گئے اسلام کے شیداؤں نے لاکھوں کو اپنا والہ و شیدا بنالیا۔ کسی انسان نے اسلام کا نام لے کر ناکامی اور نامرادی کا پھل نہ چکھا بلکہ جس نے اس کے دامن سے وابستگی کی کامیابی اور کامگاری ہی کا منہ دیکھا۔ خسران و تباب سے محفوظ ہو گیا اسلام نے ویران گھرانوں کو آباد کیا وحشیوں کو دنیا کی مہذب ترین قوموں پر فضیلت دی۔ اسلام ایک تریاق تھا کہ جس نے چکھا شکوک و شبہات اور وساوس کی امراض سے محفوظ ہو گیا۔ سنگِ پارس تھا کہ جو اس سے چھوا سونا بن گیا نہیں بلکہ خود کیمیا بن گیا جسے چھو کر وہ دل بھی جو لوہے کی طرح سخت تھے سونا بن گئے۔ غرض کہ اسلام سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا بلکہ اسلام ہر گھر کے لئے شادابی اور شادکامی کا موجب ہوا اور کوئی نہ تھا جو کہتا کہ میں نے اسلام کے لئے کچھ چھوڑا اور گھاٹے میں رہا۔ قوموں نے اس سے برکت پائی اور ملکوں نے اس سے فضیلت حاصل کی۔

اسلام سے پہلے سینکڑوں نہیں ہزاروں مذہب موجود تھے لیکن اس کامل مذہب کے ظاہر ہوتے ہی مذاہب باطلہ کا طلسم ٹوٹ گیا اور سب مذاہب اس کے سامنے اس طرح ماند پڑ گئے جس طرح سورج کے سامنے ستارہ یا برقی لیمپ کے سامنے پرانا دیسی چراغ۔ نہ تو وہ مذاہب اسلام کا مقابلہ کر سکے جو فلسفہ اور حکمت کے زور سے دنیا پر فتح پا رہے تھے اور اسلام کی سادگی ان پر غالب آگئی اور نہ وہ مذاہب کچھ کر سکے جو باریک استعاروں اور لطیف تشبیہوں کی مدد سے لوگوں کے دلوں کو مسخر کر رہے تھے نہ وہ مذاہب کچھ کر سکے جو زبردست سلطنتوں کی مدد سے دنیا میں ترقی کر رہے تھے نہ ان مذاہب کو کوئی کامیابی ہو سکی جو عیش و عشرت کے دروازے کھول کر لوگوں کو اباحت کی تعلیم دے رہے تھے ہر ایک لالچ ہر ایک نمائش ہر ایک آزادی ہر ایک ملمع سازی اسلام کے سیدھے سادے مذہب کے مقابلہ میں شکست پا گئی اور اسلام دنیا پر غالب آگیا ظاہری اور باطنی دونوں طریق سے اسلام فاتح ہوا غیر مذاہب کی حکومتوں کی بجائے اسلامی حکومتیں ہو گئیں اور غیر مذاہب کو چھوڑ کر کروڑوں آدمی اسلام سے بغل گیر ہوئے۔ جو لوگ مسلمانوں کو دیکھتے اسلام کی صداقت کا اقرار کئے بغیر کوئی چارہ نہ پاتے۔

حتیٰ کہ اسلام کی ترقی کے آخری زمانہ میں بھی مسلمان بادشاہوں کو ہندو رؤساء نے لڑکیاں بیاہ دیں حالانکہ سناتن دھرم مذہب کسی ہندو کو مسلمان سے شادی تو الگ اس سے چھونے تک کی بھی اجازت نہیں دیتا اس زمانہ میں دین کا وہ چرچا نہیں جو مغلوں کی سلطنت کے زمانہ میں تھا اور اس وقت ہندو بادشاہوں میں وہ طاقت نہیں جو اس وقت تھی اس وقت وہ قریباً آزاد ہی ہوتے تھے اور ان کے اختیارات اسوقت کے راجاؤں سے بہت زیادہ تھے لیکن اب کوئی ہندو راجا جو اپنے مذہب کا پیرو ہو کسی یورپین کو لڑکی دینا کبھی پسند نہ کرے گا مگر مغل بادشاہوں سے راجاؤں کا لڑکیاں بیاہ دینا اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ مسلمان کا رعب ایک خاص رنگ رکھتا تھا اور ان کے اندر ایک خاص کشش تھی۔ اکبر کی زندگی اس کا بین ثبوت ہے۔

مگر اس کے مقابلہ میں آج اسلام کی کیا حالت ہے ملک پر ملک مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکلا جا رہا ہے نہیں بلکہ سب ملک وہ اپنے ہاتھوں سے دے چکے ہیں اور ایک ایک کر کے سب ممالک ان کے ہاتھوں سے چھینے جا چکے ہیں ملک اور قومیں تباہ ہوتی چلی آئی ہیں اور کوئی تاریخ سے واقف

انسان کسی ملک کی تباہی پر حیران نہیں ہو سکتا کیونکہ جس طرح انسان مرتے ہیں اسی طرح ملکوں اور قوموں کی ترقیات پر بھی مرورِ زمانہ کا اثر ہوئے بغیر نہیں رہتا جو قوم آج بر سر حکومت ہوتی ہے وہ کل ذلت اور ماتحتی میں عمر بسر کرتی ہے پس کسی قوم کی تباہی پر حسرت کا ظاہر کرنا نادانی کی علامت ہے لیکن ایک ہی وقت میں دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف قوموں کی حکومت کا آناً فاناً تباہ ہوتے چلے جانا اور سب کا ایک ہی مذہب کے پیرو ہونا ضرور خاص معنے رکھتا ہے۔ ایک ملک کی مختلف ریاستیں بھی ایک وقت میں تباہی کی گھاٹ اتر سکتی ہیں کیونکہ مختلف حصصِ ملک کے حالات اکثر ایک ہی رنگ کے ہوتے ہیں لیکن ایک حکومت الجزائر میں ہے تو ایک مراکش میں ایک طرابلس میں ایک مصر میں ایک ہند میں ایک ایران میں ایک افغانستان میں ایک ترکستان میں ایک فلپائن میں ایک سوڈان میں ایک ابی سینیا میں اور یہ سب کی سب حکومتیں مختلف اوقات میں قائم ہوئیں اور مختلف اقوام کے زیر اثر انہوں نے ترقی حاصل کی پھر ایک ہی وقت میں ان کا گر جانا اور اسلام کی بجائے حکومت کا غیر مذہب کے قبضہ میں چلا جانا ثابت کرتا ہے کہ اس تنزل کے اندر کوئی خاص راز ہے اور صرف واقعاتِ روزمرہ کا یہ نتیجہ نہیں ہے نہ انسانی تدابیر اس کا موجب ہو سکتی ہیں ان کا اثر ایک ہی وقت میں مختلف ممالک اور مختلف اقوام کی مختلف الاصول حکومتوں پر پڑنا قرینِ قیاس نہیں ہے اور اگر کہا جائے کہ نہیں ایسا ممکن ہے اور اس تنزل کا باعث محض دنیاوی اسباب ہیں اور کوئی پوشیدہ طاقت اس کے پیچھے کام نہیں کر رہی تو پھر اس متفقہ امر کا بھی انکار کرنا ہو گا کہ اسلام کو خارقِ عادت ترقی حاصل ہوئی ہے اور اس کے ابتدائی ایام کی ترقی کوئی امتیازی رنگ اپنے اندر رکھتی ہے کیونکہ یہی دعویٰ مخالفینِ اسلام کا ہے کہ اسلام کی ترقی کوئی معجزانہ رنگ اپنے اندر نہیں رکھتی بلکہ ایک عام ترقی ہے اور اس کی کئی وجوہات وہ بیان کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اصل میں عرب ایک مدت تک آزاد رہ کر اس قسم کی استعدادیں پیدا کر چکے تھے کہ اس وقت کی متمدن قوموں پر جو اپنے ذہنی اور جسمانی قویٰ کو مدت ہائے دراز تک خرچ کرنے کے بعد اب تھک گئی تھیں فتح پا لیتے اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قیصر اور کسریٰ کے ممالک اور خزانوں کے فتح ہونے کی خبر دینا صرف عربوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کے مطالعہ اور ان دونوں سلطنتوں کے قریب آنے والے زوال کے آثار کے معائنہ کا نتیجہ تھا ورنہ اس میں کوئی غیر معمولی بات نہ تھی اسلام اگر نہ بھی ہوتا تب بھی وہ حکومتیں تباہ ہو جاتیں اور اگر مذہب کے رنگ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) صاحب قوم کو نہ رنگین کرتے تو کسی اور لیڈر کے ماتحت عرب ترقی کرتے اور ضرور کرتے۔ مگر کوئی مسلمان اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں بلکہ ہر ایک مسلمان کا یہ عقیدہ اور مذہب ہے کہ اسلام کی ترقی ایک غیر معمولی ترقی تھی اور ایسے حالات میں تھی کہ جن کے ہوتے ہوئے کبھی کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ اسلام کا ابھارنے والا خدا کا ہاتھ تھا اسے ترقی دینے والی وہ ذات تھی جو زمین و آسمان کی خالق ہے اور واقعات سے اسی عقیدہ کی تصدیق ہوتی ہے اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ جو شخص ایسی حالت میں ہو کہ خود اس کے ہم قوم اس کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہوں اور اس کے اصحاب کو قضائے حاجت کے لئے باہر نکلنے کا راستہ نہ ملتا ہو اور غیر تو غیر خود منافق جن کی مسلمانوں کے خوف سے جان نکلتی تھی مسلمانوں پر طعنہ کرنے لگیں کہ تمہارے دعوے کہاں گئے اب تو تم کو قضائے حاجت کے لئے بھی جگہ نہیں ملتی وہ نہایت شدومد سے دعویٰ کرے کہ میرے ہاتھوں میں قیصر و کسریٰ کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں اور ان کے محلات اور قصر پر میرے فرمانبرداروں اور غلاموں کا قبضہ ہو جائے گا۔

جس طرح اسلام کی ترقی کو معمولی علل واسباب کا نتیجہ ظاہر کرنا واقعات سے منہ موڑنا ہے۔ اسی طرح اسلام کے تنزل کو عام تنزل کے اسباب کے ماتحت کرنا بھی ایک ظلم ہے مختلف ممالک اور مختلف اقوام کی حکومتوں کا جو ایک خاص مذہب سے تعلق رکھتی ہوں نہایت قلیل مدت میں تباہ ہو جانا ضرور معنی خیز ہے اور لازمی طور پر ایک چشمِ بصیرت رکھنے والے کو اس طرف متوجہ کر دیتا ہے کہ اس کا کوئی خاص سبب ہے اور وہ سبب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ جس طرح اسلام نے اللہ تعالیٰ کی تائید اور مدد سے خارق عادت ترقی کی تھی۔ اسی طرح مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کو ناراض کر کے خارق عادت تنزل کا منہ دیکھا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(2:157) اور جبکہ ہم احادیث نبی کریم ﷺ کی طرف دیکھتے ہیں تو ان میں اس زمانہ کی طرف خاص اشارہ پاتے ہیں اور وہاں سے بھی ہمیں اس تمام تباہی کا ایک ہی باعث معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان خدا تعالیٰ کو ناراض کر دیں گے۔

ایک اور امر بھی قابلِ غور ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے تہور اور شجاعت میں کچھ فرق نہیں آگیا بلکہ صحابہؓ کے زمانہ کو ایک طرف رکھ کر کہ وہ ایک مستثنٰی زمانہ تھا اس وقت کے مسلمان لشکروں نے پچھلے اسلامی بہادروں سے کچھ کم جاں فشانی کے کام نہیں دکھائے۔ اگر موجودہ زمانہ میں مسلمان حکومتوں کو دوسری حکومتوں کے سامنے شکست کھانی پڑتی ہے تو اس کی وجہ مسلمان سپاہیوں کی بزدلی نہیں بلکہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے لشکر نے دشمن سے بڑھ کر مصائب برداشت کر کے ثابت قدمی کو ترک نہیں کیا مگر پھر بھی ایسے ایسے بواعث پیدا ہوتے رہے ہیں کہ باوجود بہادری کے اعلیٰ سے اعلیٰ جوہر دکھانے کے مسلمانوں کو شکست ہی ہوئی اور بجائے دشمن کا ملک چھیننے کے کچھ اپنا ملک ہی اسے دینا پڑا۔ اگر پچھلی صدی کی اسلامی جنگوں کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو بجائے ظاہری بواعث کے زیادہ تر پوشیدہ بواعث ہی نکلیں گے کہ جو اسلامی حکومتوں کی شکستوں کا باعث ہوئے۔ بہت کثرت سے ایسے معرکے ہوئے ہیں کہ ہر طرح اسلامی لشکر کامیاب و مظفر رہا لیکن انجام کار کوئی ایسی بات پیش آگئی کہ آخری میدان دشمن کے ہاتھ رہا۔ پس ان واقعات کے ہوتے ہوئے صاف اقرار کرنا پڑتا ہے کہ ان نقصانات کی تہ میں دنیاوی اسباب کے علاوہ کوئی پوشیدہ سبب بھی ہے اور وہ وہی امر ہے جو میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کو چھوڑ دیا اس وقت اول تو کوئی ایسی اسلامی سلطنت رہی ہی نہیں کہ جسے حقیقی معنوں میں سلطنت کہا جاسکے اور اگر کوئی ہے تو وہ بجائے مسلمانوں کے سکھ کا باعث ہونے کے ان کے لئے دکھ کا باعث ہو رہی ہے عام طور پر حکومتیں لوگوں کے سکھ کا باعث ہوتی ہیں اور بادشاہ کے ہم مذہب اس حکومت کو اپنے مذہب کے لئے ایک پشت پناہ سمجھتے ہیں لیکن اسلامی حکومتیں بجائے مسلمانوں کے آرام کا ذریعہ ہونے کے ان کے لئے دکھ کا باعث ہو گئی ہیں اور آئے دن ایسے مصائب میں مبتلاء رہتی ہیں کہ ان کے ساتھ کل دنیا کے مسلمان بھی انگاروں پر لوٹتے ہیں پس یہ حکومتیں سکھ تو کیا پہنچا سکتی ہیں ان کے ذریعہ مسلمانوں کا ہمیشہ کے لئے غم والم سے پالا پڑ گیا ہے۔

غرض یہ کہ ظاہری حالت مسلمانوں کی ایسی کمزور ہے کہ دیندار انسان بے اختیار بول اٹھتا ہے کہ اب اس مذہب کا خاتمہ ہے اور یہ کہ اسلام کے لئے تھوڑے دنوں کے بعد کوئی جگہ سر چھپانے کو بھی نہ ہوگی اور ہر ایک دردمند دل اس کیفیت کو دیکھ کر ضرور کڑھتا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ وہ کونسا مسلمان ہو گا جو اس حالت کو دیکھ کر غمگین نہ ہوتا ہو لیکن اس سے بھی بڑھ کر ایک اور بات ہے جو اور بھی کمر کو توڑنے والی ہے۔

ظاہری حکومتوں کا چلے جانا بھی ایک عظیم الشان مصیبت ہے کیونکہ ان دنیاوی سامانوں سے بھی دین کو ایک حد تک تقویت ہوتی ہے لیکن اگر یہ نہ ہوں اور انسان کو امن کی زندگی مل جائے تو وہ بھی ترقی کے لئے بہت ممد و معاون ہوتی ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض انبیاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے بھی مبعوث ہوتے رہے ہیں کہ جن کو ساری عمر حکومت نہیں ملی اور وہ دوسری حکومت کے ماتحت ہی گزارہ کرتے رہے جیسے زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ علیہم السلام۔ پس اگر حکومت ہی دین کی تقویت کا واحد ذریعہ ہوتی تو ان انبیاء کو بھی ضرور کسی نہ کسی وقت حکومت مل جاتی پس انبیاء کا

اپنی ساری عمر حکومت سے علیحدہ رہنا ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حکومت کے علاوہ اور بھی ایسے ذرائع مقرر فرمائے ہیں جو مذہب کی ترقی اور تقویت کا باعث ہوتے ہیں پس یہ ظاہری کمزوری ایسے دکھ کا باعث کبھی نہ ہوتی جس قدر کہ مسلمانوں کی دینی کمزوری تکلیف کا موجب ہے اس وقت کم سے کم برٹش گورنمنٹ کے زیر سایہ ممالک میں مسلمان ہر طرح آزاد ہیں اور انہیں مذہبی مراسم کے ادا کرنے میں کسی قسم کی تکلیف نہیں۔ مساجد میں بلند آواز سے اذان کہی جاتی ہے اور پنج وقتہ نماز ادا ہوتی ہے لوگ روزہ رکھتے ہیں حج کرتے ہیں زکوٰۃ دیتے ہیں۔ گورنمنٹ نے کبھی کسی طرح بھی مذہبی دست اندازی نہیں کی اور ہر طرح کی مذہبی آزادی دے رکھی ہے اور ممالک کو اگر علیحدہ رکھیں تو ہندوستان کی حالت ہم سے پوشیدہ نہیں کہ ابھی زیادہ مدت نہیں گزری کہ مرہٹوں اور سکھوں کے زمانہ حکومت میں مسلمانوں کو کس قدر تکالیف تھیں اور کس طرح ان کے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں دست اندازی کی جاتی تھی مسجدوں کی بجائے گوردوارہ اور مندر بنے ہوئے اب تک موجود ہیں خود ہمارے گاؤں یعنی قادیان میں ایک گوردوارہ ہے جو پہلے ہمارے گھر کی مسجد تھی لیکن جب سکھوں نے ہمارے دادا کے والد کو رات کے وقت چھاپا مار کر شہر سے نکلنے پر مجبور کیا تو ان کے ایام حکومت میں یہ مسجد گوردوارہ بنائی گئی۔ اب تک محرابوں کے نشان موجود ہیں سقاوے بنے ہوئے ہیں۔ پس ہم لوگ خوب جانتے ہیں کہ ظالم حکومت کیا کچھ نہیں کر سکتی اور یہی وجہ ہے کہ ہم گورنمنٹ برطانیہ کے احسانات کو دیکھ کر باغ باغ ہو جاتے ہیں اور جس طرح اس مہربان گورنمنٹ نے مذہبی آزادی دے رکھی ہے اس کے شکریہ کی اپنے اندر طاقت نہیں پاتے اللہ تعالیٰ ہی اس محسن حکومت کو اعلیٰ سے اعلیٰ ترقیات عطا فرمائے نہایت سیاہ باطن ہے وہ انسان جو اس گورنمنٹ کے احسانات کو نہیں مانتا اور باوجود اس قدر آزادی کے اس سے بغض رکھتا ہے مگر یہی گورنمنٹ کا احسان دلوں پر نمک بھی چھڑکتا رہتا ہے کیونکہ جب دیکھا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے اس پُر از انصاف عہد سے فائدہ نہیں اٹھایا اور جو مذہبی آزادی اس گورنمنٹ نے عطا فرمائی تھی اس کی قدر نہیں کی۔ چاہئے تو یہ تھا کہ مسلمان اس وقت اور اس امن سے فائدہ اٹھا کر دینی طور پر ترقی کرتے لیکن وہ روز بروز گرتے ہی چلے جاتے ہیں اور اس بات کے ثبوت کے لئے حکومت کے جیل خانے کافی شہادت ہیں۔ کس قدر دل کو دکھ پہنچانے والا بلکہ دل کو خون کر دینے والا وہ نظارہ ہوتا ہے جب کوئی مسلمان جیل خانوں کی سیر کرتا ہے کیونکہ سب جیل خانے مسلمانوں سے بھرے پڑے ہیں اور ان کی اخلاقی حالت بجائے دوسری قوموں سے اعلیٰ ہونے کے بہت ادنیٰ ہے اور وہ

اسلامی آبادی کے تناسب سے بہت زیادہ قید خانوں میں نظر آتے ہیں ان کے گناہ بھی کوئی معمولی نہیں ہوتے گندے سے گندے اور بد سے بد اعمال کے بدلہ وہ سزائیں بھگت رہے ہیں چوریاں، ڈاکے، زنا بالجبر، آوارگی، قتل، غداری، خیانت، مجرمانہ دھوکا دہی، ٹھگی، استحصال بالجبر، جعل سازی وہ کونسا گناہ ہے جس کے مسلمان مرتکب نہیں اور یہ تو وہ گناہ ہیں جن پر گورنمنٹ کی طرف سے مؤاخذہ ہوتا ہے ورنہ اور ایسے بہت سے گناہ ہیں کہ جن کے ذکر سے بھی بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن مسلمان ان کے مرتکب ہو رہے ہیں حتّٰی کہ بعض موقع پر محرمات کی حرمت کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔ دین سے وہ بے پرواہی ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں امراء عیاش اور دنیا طلبی میں مشغول ہیں صوفیاء گانے اور قوالی سننے میں مصروف ہیں علماء جھوٹے فتوے دیتے ہیں وعظ بھی کہتے ہیں لیکن خود عمل نہیں کرتے۔ نئے تعلیم یافتہ خود وجودِ باری سے منکر ہیں اور اپنی خاص مجالس میں ہستی باری کے عقیدہ کو ایک لغو اور بے ثبوت عقیدہ قرار دیتے ہیں۔ دین کو وہم اور شریعت کو قید خیال کرتے ہیں عوام ان جماعتوں میں سے جس کے ساتھ تعلق ہو اسی کے رنگ میں رنگین ہیں جس قدر فاحشہ عورتیں مسلمانوں میں سے ہیں جو عصمت فروشی پر فخر محسوس کرتی ہیں غیر قوموں میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔

پس یہ حالت ایسی نہیں ہے جسے دیکھ کر ایک دردمند دل بے اختیار نہ ہو جائے۔ نام ہی اسلام کا رہ گیا ہے ورنہ کام کے لحاظ سے تو اسلام کا کچھ بھی باقی نہیں رہا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ ہندوستان کے مسلمانوں نے کچھ تجارتی اور علمی ترقی کی ہے لیکن اسے اسلام کی ترقی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اسلام کی بعثت کی اصل غرض دنیا کی ترقی یا اموالِ دنیا کی زیادتی نہ تھی بلکہ اس کا اسلام کے مدعا اور مقصد کے ساتھ کوئی تعلق یا رشتہ ہے ہی نہیں وہ مذہب قطعاً مذہب کہلانے کا مستحق نہیں ہے جو دنیاوی ترقی کو اپنا منتہاء و مقصد ظاہر کرے کوئی ایسا مذہب جو کسی خاص قوم یا ملک سے تعلق رکھے جیسا کہ اسلام سے پہلے مذاہب تھے ان کا مدعا تو دنیاوی ترقی ہو بھی سکتا ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ایک وقت کوئی قوم ذلیل اور خوار ہو اور مذہب کی آڑ میں اپنی حکومت جمانا چاہے لیکن اسلام کا تو دعویٰ ہے کہ میں سب دنیا اور سب اقوام کے لئے ہوں۔ بحیثیت مذہب اسلام کے لئے عرب، رومی اور ایرانی ایک سے ہیں۔ پس اگر اسلام کا مدعا صرف اتنا ہی ہو کہ دنیا میں بادشاہتیں قائم کی جائیں تو یہ کام پہلے ہی ہو رہا تھا۔ رومیوں اور ایرانیوں کی زبردست حکومتیں قائم تھیں۔ ہندو چین بھی دنیاوی حالت میں کمزور نہ تھے پس اگر اسلام کا مدعا دنیاوی ترقی تھا تو پھر اسلام کی کوئی ضرورت معلوم نہیں ہوتی کیونکہ مسلمانوں کے خزانوں سے قیصر و کسریٰ کے خزانے زیادہ معمور تھے اور اسلامی دربار کی سادگی ایرانیوں اور رومیوں کے درباروں کے تکلفات کا قطعاً مقابلہ کر ہی نہیں سکتی تھی پس یہ خیال کرنا کہ اسلام کا مدعا دنیاوی ترقی تھا اور اس کے نزول کی غرض صرف قوموں کو ابھار کر دنیا کمانے اور اس میں مسابقت تھی اسلام پر ایک ظلمِ عظیم ہے اور کوئی کور چشم ہی یہ دعویٰ کرے تو کرے اور کسی کا حق ہی کیا ہے کہ وہ ایسی لغوبات اسلام کی طرف منسوب کرے جبکہ خود قرآن کریم آنحضرتﷺ کی بعثت کی غرض یہ بیان فرماتا ہے کہ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِیۡکُمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡکُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِنَا وَیُزَکِّیۡکُمۡ وَیُعَلِّمُکُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمۡ مَّا لَمۡ تَکُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ فَاذۡکُرُوۡنِیۡۤ اَذۡکُرۡکُمۡ وَاشۡکُرُوۡا لِیۡ وَلَا تَکۡفُرُوۡنِ(البقرہ: ۱۵۲-۱۵۳) جیسا کہ ہم نے تم میں ایک رسول بھیجا ہے جو تمہیں لوگوں میں سے ہے اس کا کام یہ ہے کہ وہ تم پر ہمارے دلائل و براہین پڑھتا ہے اور اس طرح تم کو پاک کرتا اور مدارجِ عالیہ کی طرف بڑھاتا اور اٹھاتا ہے اور تم کو شریعت سکھاتا ہے اور پھر احکامِ شریعت کے باریک در باریک حِکَم اور پوشیدہ اسرار پر واقف کرتا ہے اور صرف وہی تعلیم نہیں دیتا جو کہ پہلے صحیفوں میں پائی جاتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایسی تعلیم دیتا ہے جو تم لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھی پس تم لوگ میرا ذکر کرو تاکہ میں بھی تمہیں اپنے دربار میں بار دوں اور میرے انعامات پر جو اس رسول کے ذریعہ سے تم پر کئے ہیں شکر بجالاتے رہو اور میری ناشکری نہ کرنا۔ پس اسلام لوگوں کو علم و حکمت اور دلائل و براہین امور ایمانیہ غیبیہ اور طریقِ تزکیہ نفوس اور حصول مدارجِ عالیہ اور وہ معارف جو قربِ الٰہی کے حصول میں انسان کے ممد ہوں سکھانے کے لئے آیا ہے نہ اموالِ دنیا کے اکتساب اور حکومت و سلطنت کے قیام کے طریق سکھانے کے لئے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اسلام ایک کامل مذہب ہے اور اپنے کامل ہونے کی وجہ سے انسان کو کسی ایسے ضروری امر سے جو انسان کی ترقی میں کسی راہ سے بھی ممد ہو نہیں روکتا اور جہاں دینی ترقیوں کی طرف انسان کو متوجہ کرتا ہے وہاں دنیاوی ترقیات کے حصول کی بھی ترغیب دیتا ہے اور تمام انسانوں کو معزز اور مکرم ہونے کی تاکید کرتا ہے کوئی علم مفید نہیں جس کے سیکھنے میں اسلام مانع ہو بلکہ علوم مفید کے حصول کے لئے قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں مسلمانوں کو بار بار تاکید کی گئی ہے اسی طرح تجارت اور صنعت و حرفت کی ترقیوں سے بھی بجائے منع کرنے کے اسلام نے مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کیا ہے۔

اسلام اس عقیدہ کا سخت دشمن ہے کہ دولت مند خدا کی بادشاہت میں نہیں داخل ہو سکتے اور یہ کہ اونٹ کا سوئی کے ناکہ سے گزرنا بہت آسان ہے اس سے کہ کوئی دولتمند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو بلکہ اسلام تو غریب و امیر کا مذہب ہے اور کسی خاص فرقہ سے متعلق نہیں۔ زکوٰۃ کے احکام بتا رہے ہیں کہ اسلام روپیہ جمع کرنے سے بھی منع نہیں کرتا اور اپنی دولت لٹا کر اس میں داخل ہونے کا طالب نہیں اور یہ نہیں کہتا کہ توکل کی فکر آج نہ کر بلکہ قرآن کریم کا تو حکم ہے کہ وَلۡتَنۡظُرۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ(الحشر: ۱۹) انسان کو کل کی فکر آج کرنی چاہئے اور دیکھتے رہنا چاہئے کہ میں نے کل کے لئے آج کیا سامان کئے ہیں۔ ہاں اسلام ہر قسم کے وہموں اور دور از کار خیالوں سے بھی روکتا ہے کیونکہ وہ انسانی ترقیات کے راستہ میں روک ہوتے ہیں اور قبل از وقت روح انسانی کو گھن ہو کر لگ جاتے ہیں۔

غرض کہ اسلام دنیاوی ترقیات سے روکتا نہیں بلکہ ان کی طرف رغبت دلاتا ہے مگر باوجود اس کے یہ کہنا ایک ظلم عظیم ہو گا کہ اسلام کی غرض دنیاوی ترقیات تھی کیونکہ یہ مقصد تو بغیر کسی مذہب کے بھی حاصل ہے اگر اسلام نہ آتا تو کیا لوگ دنیا کی طرف متوجہ نہ ہوتے بلکہ قرآن کریم سے تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کی تمام تر توجہات دنیا کے حصول کی طرف ہی لگی ہوئی تھیں جیسا کہ فرمایا اَلَّذِیۡنَ ضَلَّ سَعۡیُہُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا(الکهف: ۱۰۵) یا فرمایا ہے کَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَۃَ وَتَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَۃَ(القیامة: ۲۱، ۲۲) یا فرمایا ہے کہ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا وَالۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ وَّاَبۡقٰی(الاعلیٰ: ۱۷-۱۸)

اور یہ بات تو ظاہر ہے کہ انسان عام طور پر بہیمی صفات کی طرف خود بخود مائل ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان میں جو بہیمی خواہشات ہیں وہ اپنے اندر ایک نہایت عاجلانہ لطف رکھتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگ جسمانی آرام کی خاطر بہت سا وقت خرچ کر دیتے ہیں اور بہت ہوتے ہیں جو کھانے پینے یا پہننے کے آرام کی فکر میں ہی اپنی ساری عمر صرف کر دیتے ہیں اور ان کی رات دن کی محنتیں اور کوششیں صرف ان کے بہیمی جذبات کو پورا کرنے کے لئے ہوتی ہیں اور چونکہ ان جذبات کا پورا کرنا زیادہ تر دنیا کے اموال وامت Promoted to امتعہ کے حصول پر مبنی ہے اس لئے لوگ دنیا کی طرف بہت متوجہ ہوتے ہیں اور جسقدر حق سے دور ہوں اور معرفت الٰہی سے خالی ہوں اسی قدر دنیا کے کمانے میں منہمک اور مشغول ہوتے ہیں کیونکہ اس کے کمانے میں ان کے بہیمانہ جذبات کے پورا ہونے کے سامان پیدا ہوتے ہیں اور اموال وامتِعہ کا حاصل کرنا اسی باعث سے ہوتا ہے تا انسان اپنے جسم کو آرام پہنچائے اور ان بہیمی خواہشات کو پورا کرے جو انسان میں اکثر اوقات بڑے زور سے پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ پس جو کام انسان کے اندر خود بخود ہی ہو رہا ہے بلکہ مذہب سے دور ہو کر جو انسان کی واحد غرض ہو جاتی ہے اس کی نسبت یہ خیال کرنا کہ اسلام کا مدعا اس طرف متوجہ کرنا ہے اسلام کو عبث قرار دینا ہے کیونکہ جو کام اسلام کے وجود سے بھی پہلے سے ہو رہا ہے بلکہ اسلام کو ترک کر کے لوگ اس کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں جیسے کہ مذہب سے آزاد اقوام ہیں کہ ان کی زندگی کا ایک یہی مقصد ہے کہ وہ دنیا کمائیں اور اپنے نفسانی جذبات کو پورا کریں اور کھانے پینے اور پہننے اور آرام سے زندگی بسر کرنے میں ہی اپنے دلوں کی خوشی پاتے ہیں اس کو اسلام کی غرض و غایت قرار دینا گویا اسلام کو فضول اور لغو قرار دینا ہے پس اگر دنیاوی ترقی یا بہیمی جذبات اور نفسانی خواہشات کے پورا کرنے کے سامان مہیا کرنے کی طرف متوجہ کرنا ہی اسلام کی اصلی غرض ہے تو یہ غرض اسلام کے بغیر بھی پوری ہو رہی ہے اور اس غرض کو پورا کرنے کے لئے کسی نبی کی بعثت کی ضرورت نہ تھی خود نفسِ انسانی اس کے لئے کافی محرّک ہے۔

پس اس زمانہ میں مسلمانوں نے اگر بعض عادل اور انصاف پسند حکومتوں کے ماتحت یورپ کی دنیاوی ترقی کو دیکھ کر تجارت میں ترقی کی ہے یا علوم جدیدہ کے سیکھنے میں کچھ دلچسپی ظاہر کی ہے تو خواہ وہ ترقی کے آخری نقطہ تک ہی کیوں نہ پہنچ گئے ہوں اسے اسلام کی ترقی نہیں کہہ سکتے اور مسلمانوں کا علومِ جدیدہ میں مہارت پیدا کر لینا یا تجارت میں کوشش کرنا اسلام کی ترقی نہیں کہلا سکتا کیونکہ جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے اس ترقی کا اسلام کی ترقی سے کچھ تعلق نہیں اور اسے دیکھ کر خوش ہونا اور اسلام کے مستقبل پر اطمینان ظاہر کرنا اول درجہ کی نادانی اور اسلام کی اصل حقیقت سے بے خبری کی علامت ہے کیونکہ اگر اسلام کا مقصد یہی تھا تو اس مقصد کو یورپ کے لوگ کافی طور پر پورا کر رہے ہیں بلکہ ان کی توجہ دنیا کی طرف مسلمانوں سے بہت زیادہ ہے حتیٰ کہ مسلمانوں کی تجارتی اور علمی ترقی کو یورپ کے مقابلہ میں ایک پہاڑ کے مقابلہ میں ایک ٹیلہ کی نسبت بھی نہیں دی جا سکتی پس سخت غلطی خوردہ ہیں وہ انسان جو مسلمانوں کی ذہنی یا علمی یا تجارتی ترقی کو اسلامی ترقی کہہ کر خوش ہوتے ہیں اور مسلمانوں کو ان شعبہ ہائے ترقی کی طرف متوجہ کرتے رہتے ہیں اگر وہ سمجھتے کہ ان امور کا اسلام سے کیا تعلق ہے۔ میں جیسا کہ پہلے لکھ چکا ہوں اسلام ایک صادق مذہب ہونے کی وجہ سے انسانی دماغ کے تمام مفید خیالات کے پورا کرنے کا ممدو معاون ہے اور کسی قسم کی ترقی سے روکتا نہیں بلکہ مسلمانوں کو ہر قسم کے علوم سیکھنے اور ہر رنگ میں ترقی کرنے کی ترغیب دیتا ہے مگر باوجود اس کے ان ترقیات کو اسلام کی ترقی نہیں کہا جا سکتا اور اگر مسلمان ان میدانوں میں اپنے دشمنوں کو شکست بھی دے دیں تب بھی نہیں کہا جا سکتا کہ اسلام کی فتح ہوئی۔

پس اسلام کسی اور ہی چیز کا نام ہے اور وہ اس کے نام سے ہی ظاہر ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری اور اس کے احکام کی پوری پوری اتباع اور رب العالمین خدا سے انسان کے تعلق کا مضبوط کرنا اور یہی غرض ہے جس کے پورا کرنے کی طرف آنحضرت ﷺ ساری عمر متوجہ رہے آپ کی زندگی کا ایک ایک کام اور آپ کی ایک ایک حرکت اس بات کو ثابت کر رہی ہے کہ آپؐ کے مدنظر صرف یہی بات تھی کہ کسی طرح دنیا پر عظمت الٰہی کا اظہار ہو اور لوگ ہر قسم کے نفسانی جذبات اور خواہشات کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جائیں اور ان کا چلنا پھرنا کھانا پینا سونا جاگنا سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہو جائے۔ ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک ہو کر عرفانِ تام ان کو حاصل ہو اور بندوں اور رب میں جو روکیں اور پردے حائل ہیں دور ہو جائیں اور بندے اپنے خالق و رازق کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لیں اور یہی کام تھا جو آپ ساری عمر کرتے رہے پس اگر مسلمانوں میں ان باتوں کا فقدان ہو اور وہ ان اغراض کو پورا نہ کر سکیں تو ان کی حکومتیں ہوں یا نہ ہوں، تجارتوں میں ترقی کریں یا تنزل، علوم جدیدہ سے واقف ہوں یا نہ ہوں اسلام کو ان کی ترقی یا تنزل سے کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہے کیونکہ جب ان میں اسلام ہی نہ ہو تو ان کی کسی ترقی پر اسلام کے دلدادگان کو کیا خوشی ہو سکتی ہے اور دنیاوی ترقیات پر جن میں اہلِ یورپ ان پر فضیلت رکھتے ہیں ہم کیونکر خوش ہو سکتے ہیں اسلام کی اصل غرض جب تک پوری نہ ہو تو اور سب کچھ ہیچ ہے اور جب ہم غور سے دیکھتے ہیں تو جو اسلام کی اصل غرض ہے اس سے مسلمان روز بروز دور ہوتے چلے جاتے ہیں بلکہ اکثر تو ایسے ہیں جو اس قدر بھی نہیں جانتے کہ اسلام کی اصل غرض کیا ہے وہ مسلمان کہلاتے ہیں لیکن مسلمان ہونا ان کے لئے ایک قوم سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا وہ خیال کرتے ہیں کہ اسلام ایک بڑی قوم کا نام ہے جس کے اندر اور چھوٹی چھوٹی قومیں ہیں اور مسلمان کہلانے کا اس سے زیادہ مطلب نہیں کہ ہم مسلمانوں کے ہاں پیدا ہوئے ہیں اور جبکہ اصل غرض سے لوگ روز بروز دور ہوتے چلے جاتے ہیں اور لیڈرانِ قوم بھی اسلام کی ترقی کو دنیاوی ترقی کے مترادف خیال کرتے ہیں تو اسلام کے بہی خواہوں کو خوش نہیں بلکہ رنجیدہ ہونا چاہئے کہ جو اصل غرض تھی وہ تو مفقود ہو گئی اور ادنیٰ باتوں کی طرف لوگ متوجہ ہو گئے۔

اس وقت مسلمانوں کے لیڈر ان قوم کی ایسی ہی حالت ہے کہ جیسے ایک شخص مر رہا ہو اور اس کے دوست اس کے ناخن کاٹنے اور بال سنوارنے میں مشغول ہوں اور ساتھ ساتھ خوش ہوتے جائیں کہ دیکھو اب چہرہ کیسا خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔ اگر وہ اس کے علاج کی طرف متوجہ نہ ہوں گے تو وہ مر جائے گا زینت تو زندگی کے ساتھ ہے اگر وہ زندہ ہی نہ رہا تو اس زینت سے کیا فائدہ۔ پس جب اسلام ہی ہاتھ سے جا رہا ہے اور مسلمان روز بروز دین سے بے بہرہ ہو کر طرح طرح کے گندوں میں مبتلاء ہو رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر سے ایمان ان کے دلوں سے اٹھ رہا ہے اور اگر کوئی شخص مسلمان کہلاتا بھی ہے تو صرف رسمی طور پر تو دنیاوی ترقیات کی طرف متوجہ ہونا یا ان پر خوش ہونا فعل عبث ہے اصل غرض تو مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کا پیدا کرنا ہے اگر اس سے مسلمان دور ہو گئے تو ان کی ترقیات ہمارے لئے ہرگز ہرگز خوشی کا باعث نہیں۔ اسلام مسلمانوں کی جان ہے جب وہی نکل گئی تو ان زینتوں کو کیا کرنا ہے یہ تو زندگی کے ساتھ ہیں جب زندگی کا پانی ختم ہو گیا تو یہ سب زینتیں بجائے سکھ کے دکھ کا موجب ہیں مگر افسوس کہ بجائے اسلام کے قیام کے مسلمانوں کی توجہ حکام دنیوی کی طرف لگ رہی ہے اور جو وجاہت حکومتوں کے زوال کی وجہ سے جا چکی ہے اسے تجارت میں ترقی اور علوم جدیدہ کے حصول سے پورا کرنا چاہتے ہیں اگر وہ اصل مقصد کی طرف بھی توجہ رکھتے اور ساتھ ہی دنیاوی مقابلہ بھی جاری رہتا تو اس میں کچھ حرج نہ تھا مگر اصل مقصد کو بالکل نظر انداز کر کے دنیا ہی میں غرق ہو جانا اور اصل مرض کا ترقی کرتے جانا خطرناک علامات سے ہے۔

اسلام سے بے پرواہی کا جو نتیجہ اب تک نکل چکا ہے وہی انسان کی آنکھ کھولنے کے لئے کافی سے زیادہ ہے۔ ہزاروں مسلمان ہیں جو اسلام کو چھوڑ کر دوسرے مذاہب اختیار کر چکے ہیں اور جن کے باپ دادا اپنی تمام عزت و عظمت اسلام پر عمل کرنے میں پاتے تھے اب ان کی اولاد اسلام میں ہزاروں عیب بتاتی ہے اور تو اور خود سادات میں سے بیسیوں خاندان مسیحی ہو چکے ہیں اور وہی قوم جس کی آنحضرت ﷺ کے طفیل تیرہ سو برس تک عزت ہوتی چلی آئی ہے اب اسی میں سے ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو اس پاک وجود کو سٹیجوں پر کھڑے ہو کر گالیاں دیتے ہیں اور اسلام سے علی الاعلان بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر نظر غائر سے مسلمانوں کی حالت کا مطالعہ کیا جائے تو کثرت سے ایسے مسلمان ملیں گے جو اسلام سے بے خبری نہیں اس سے متنفر ہو چکے ہیں اور یہ

حالت صرف ہند کی ہی نہیں بلکہ تمام ممالک کا یہی حال ہے حتیٰ کہ جو اسلامی ممالک کہلاتے ہیں ان میں بھی دین کی ایسی ہی بے قدری ہے جیسے دوسرے ممالک میں۔ اسلام ایک قشر کی طرح رہ گیا ہے اور بجائے ایک قابلِ تعریف مذہب کے قابلِ اعتراض قرار دیا گیا ہے اور جو مذہب مرجعِ خلائق تھا اور یَدۡخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اَفۡوَاجًا(النصر: ۳) جس کی شان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اب يَخْرُجُوْنَ مِنْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا کا مصداق بن رہا ہے لاکھوں آدمی اس دین سے پھر گئے ہیں اور جو مسلمان کہلاتے ہیں ان میں سے بھی اکثر بظاہر ہی مسلمان نظر آتے ہیں مگر ان کے دل یا تو ایسے ہی اسلام سے متنفر ہوچکے ہیں جیسے ان کے جو اسلام کا نام بھی ترک کرچکے ہیں یا کم سے کم وہ اسلام سے ایسے ناواقف ہیں کہ اس کی حقیقت سے مسیحیوں اور ہنود کی طرح بے خبر ہیں۔ ہزاروں ہیں جو کلمۂ توحید تک سے ناواقف ہیں اور یہ باتیں مبالغہ سے بالکل خالی ہیں اور ان میں بناوٹ کا کچھ دخل نہیں اور وہ لوگ جن کو ان امور سے دلچسپی ہے جانتے ہیں کہ واقعہ میں مسلمانوں کی حالت ایسی ہی ہو رہی ہے پس زمانہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ ان ایام میں مسلمان ہی نہیں بلکہ اسلام کا بھی تنزل ہو رہا ہے کیونکہ اسلام دلوں سے مٹ چکا ہے۔ اگر صرف ظاہری حکومتیں جاتیں تو ہم کہتے کہ یہ ایام مسلمانوں کے لئے ایام الابتلاء ہیں لیکن واقعات ظاہر کر رہے ہیں کہ نہیں مسلمانوں کے لئے ہی نہیں خود اسلام کے لئے بھی یہ ایام ایام الابتلاء ہیں کہ اس کے نام کے سوا لوگ اس سے کچھ واقفیت نہیں رکھتے۔

شاید یہ کہا جائے کہ اس وقت بھی ہزاروں لاکھوں نمازی موجود ہیں مساجد میں پنج وقتہ نمازیں ہوتی ہیں حج کے دنوں میں لاکھوں آدمی حج کے لئے جاتے ہیں روزوں کے ایام میں لاکھوں مسلمان روزہ رکھتے ہیں بہت سے مالدار ہیں جو زکوٰۃ بھی ادا کرتے ہیں پس گو بہت سے لوگ اسلام سے بے خبر ہیں لیکن ایک حصہ ایسا بھی تو ہے جو اسلام سے واقف ہے اور اسلام کے کل احکامات پر عمل کر رہا ہے لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ نبیوں کی بعثت کی غرض یہ نہیں ہوتی کہ لوگ کسی خاص رنگ میں عبادت کرلیا کریں یا اپنے وطنوں کو ترک کرکے کسی ملک کی سیر کرلیا کریں یا سال میں کچھ دن بھوکے رہیں یا اپنے اموال کا ایک حصہ تقسیم کردیں کیونکہ بلاوجہ انسان کو ان مشقتوں سے مکلّف کرنا لغو کام ہی نہیں بلکہ ضرر رسانی میں داخل ہے پس اگر کوئی شخص نماز پڑھتا ہے مگر نماز کے فوائد سے محروم ہے اور اس کی حقیقت سے آگاہ نہیں تو اس کی نماز کسی خوشی کا باعث نہیں۔ اسلام کے سوا اور مذاہب کے پیرو بھی عبادت کرتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ان کی عبادات ان ثمرات کی مشمر نہیں

ہوتیں جن کی مشابہ ایک مسلمان کی عبادت ہوتی ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اس مغز سے خالی ہیں جو اسلامی عبادت میں ہے بلکہ وہ ایک قشر ہے جو بظاہر اسلامی عبادت سے ملتا ہے لیکن اندر سے ان فوائد سے خالی ہے جو اسلامی عبادت میں ہیں پس اگر مسلمانوں کی نماز بھی اس حقیقت سے محروم ہو جائے جس کی وجہ سے اسے دوسرے مذاہب کی عبادات پر فضیلت تھی تو اس میں اور دیگر مذاہب کی عبادات میں کچھ فرق نہیں بلکہ مشقت کے لحاظ سے وہ اس سے زیادہ ہیں کیونکہ دیکھا جاتا ہے کہ اہل ہنود میں عبادت کے ایسے ایسے طریق رائج ہیں جن کی مشقتوں کا مقابلہ اسلامی نماز قطعا نہیں کر سکتی۔ مثلاً بعض ان میں ایسا کرتے ہیں کہ صبح سورج نکلنے سے پہلے مشرق کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوتے ہیں اور جونہی کہ سورج نکلتا ہے اسکی طرف دیکھنا شروع کر دیتے ہیں اور کچھ منتر پڑھتے جاتے ہیں اور شام تک اسی طرح کھڑے سورج کو دیکھتے رہتے ہیں اور ایک لمحہ کے لئے بھی اپنی آنکھوں کو اس سے نہیں پھیرتے حتیٰ کہ وہ غروب ہو جاتا ہے یا مثلاً یوں کرتے ہیں کہ جاڑے کے موسم میں سرد پانی میں کھڑے ہوئے تپیا کرتے ہیں اور گرمی کے موسم میں دھوپ میں بیٹھ کر اپنے ارد گرد آگ کے الاؤ جلا لیتے ہیں اور اس طرح اپنے آپ کو عذاب دوزخ میں مبتلاء کر لیتے ہیں پس مشقت کے لحاظ سے ان کی عبادات اسلامی عبادات سے بڑھ کر ہیں پھر اگر مسلمانوں کی نماز بھی مغز سے خالی ہو جائے تو اس کو ان عبادات پر کوئی فضیلت نہیں۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اسلامی نماز کی صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡکَرِ(العنکبوت: ۴۶) نماز انسان کو بے حیائیوں اور مکروہ افعال سے باز رکھتی ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ عام طور پر سوائے شاذ و نادر کے مسلمان مساجد میں جا کر نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور نہ صرف فرض نمازیں بلکہ نوافل بھی ادا کرتے ہیں اور پھر مسجد سے نکل کر کسی قسم کے گناہ سے ان کو پرہیز نہیں ہوتا جھوٹ وہ بولتے ہیں، رشوت وہ لیتے ہیں، فریب وہ کرتے ہیں، خیانت سے ان کو پرہیز نہیں تجارتی دھو کوں سے وہ مجتنب نہیں غرض کہ ہزاروں قسم کے گناہوں میں مبتلاء ہیں پھر کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ مسلمان نمازیں ادا کرتے ہیں اگر وہ نماز کو انہی شرائط کے ساتھ ادا کرتے جو اسلام نے مقرر کی ہیں تو ان کے قلوب پاک ہو جاتے اور گناہوں کی میل دور ہو جاتی اور ہر قسم کے گناہوں اور بدیوں سے محفوظ ہو جاتے کیونکہ نماز میں اللہ تعالیٰ نے ایسی حکمتیں مخفی رکھی ہیں کہ اسے سنوار کر پڑھنے والا اور ان شرائط کو ملحوظ رکھنے والا جو اللہ تعالیٰ نے ادائے نماز میں مقرر فرمائی ہیں اپنے اندر فوراً ایک خاص تبدیلی پاتا ہے اور زیادہ دن گزرنے نہیں پاتے کہ اس کے اندر ایک خاص ملکہ پیدا ہو جاتا ہے جس سے اسے بدیوں کی شناخت ہو جاتی ہے اور پوشیدہ در پوشیدہ بدیوں پر اسے اطلاع دی جاتی ہے اور مخفی در مخفی گناہ کا علم جو دوسروں کو نہیں ہوتا اسے دیا جاتا ہے اور ملائکہ اسے ہر موقعہ پر ہوشیار کر دیتے ہیں کہ دیکھنا یہ گناہ ہے ہوشیار ہو جانا۔ اور اسے شیطان کے مقابلہ کی مقدرت عطا ہوتی ہے کیونکہ نمازی اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کسی کا احسان نہیں رکھتا اور خود اپنے بندہ کو اس کے اعمال کا اعلیٰ سے اعلیٰ بدلہ دیتا ہے پس جب نماز میں کمال تذلّل اور خشوع و خضوع کے ساتھ انسان خدا تعالیٰ کے حضور میں گر جاتا ہے اور وہ تمام تذلّل کے طریق جن کو کسی ملک کے باشندوں نے اظہارِ عبودیت کے لئے مقرر کیا ہے استعمال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اٹھاتا ہے اور جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتا ہے خدا تعالیٰ ملائکہ کو فرماتا ہے کہ دیکھو میرے اس بندہ نے میری پاکیزگی کا اقرار کیا ہے تم اسے پاک کر دو اور اس نے میری حمد کی ہے تم اس کی حمد کو دنیا میں پھیلاؤ اور اس نے میرے حضور میں کمال تذلّل اور انکسار کا اظہار کیا ہے تم اس کو عزت و رفعت دو اور اسی کی طرف اشارہ ہے اس حدیث میں جو صحیح بخاری کی آخری حدیث ہے كَلِمَتَانِ خَفِيْفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيْلَتَانِ فِي الْمِيْزَانِ حَبِيْبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَانِ سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْمِ۔ یعنی دو ایسے کلمے ہیں کہ جو زبان پر تو بہت ہلکے معلوم ہوتے ہیں لیکن میزان میں بہت بھاری ہوتے ہیں اور رحمٰن کو بہت پیارے ہیں وہ کلمات یہ ہیں سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْمِ اور غور سے دیکھا جائے تو نماز ان دونوں کلمات کی تفسیر ہے اور نماز کے مختلف اعمال کا خلاصہ یہی بنتا ہے کہ سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْمِ۔ تسبیح، تحمید اور تعظیم الٰہی پر ہی نماز میں زور دیا گیا ہے۔ غرض کہ ان کلمات اور نماز کا ماحصل ایک ہی ہے ہاں نماز ایک مفصل اقرار ہے اور ان کلمات میں مجملاً وہ مضامین بیان کئے گئے ہیں جن کی تفصیل نماز میں کی گئی ہے۔ اب اس حدیث پر غور کر کے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں وہ سب امور بیان کئے گئے ہیں۔ جن کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں اور وہ اس طرح کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ ثَقِيْلَتَانِ فِي الْمِيْزَانِ تسبیح و تحمید کرنا اور عظمت باری کا اقرار کرنا گو بظاہر سہل ہے لیکن بہت سے ثمرات کا مثمر۔ اور میزان میں اس کا بڑا وزن ہوتا ہے۔

اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ انسان دراصل چند حیوانی، نباتی اور جمادی اجزاء سے مرکب ہے اور بالطبع اس کا تعلق ارضی اشیاء سے زیادہ ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اونچا کیا جاتا ہے اور اسی کی ہدایت سے ہدایت پاتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب آسمانی تعلیموں سے انسان کو ایک طرف کردیں اور ایک ایسا انسان فرض کریں جسے آسمانی کتابوں کا کچھ علم نہیں تو یہ انسان بہائم کی طرح کی زندگی بسر کرے گا اور اس کا کام صرف کھانا اور پینا ہو گا۔ ان تمام اخلاق سے وہ کورا ہو گا جو انسان کو دوسرے حیوانات سے ممتاز کرتے ہیں اور اس کی تمام وہ استعدادیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان میں ترقی کے لئے پیدا کی ہیں دبی رہیں گی اور وہ ان سے کام نہ لے سکے گا چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ قومیں جو سماوی کتابوں سے محروم ہیں ان کی زندگیاں چارپایوں کی زندگیوں سے زیادہ مشابہ ہیں اور وہ کھانے پینے اور شہوت رانی کرنے کے سوا کچھ نہیں جانتیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ انسان کی پیدائش مادہ سے ہے اس کارجحان بغیر ہدایت الہیٰ کے مادہ کی طرف ہی ہوتا ہے اور جب تک اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نہ ہو وہ روح کی ترقی کی راہ نہیں سوچ سکتا۔ ہاں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پاکر اس کا درجہ اور جانوروں سے بلند ہونا شروع ہوتا ہے اور جس قدر کوئی انسان روحانیت میں کمال پیدا کرتا جاتا ہے اسی قدر اسے دوسرے حیوانات سے امتیاز پیدا ہوتا جاتا ہے اور اس کے اعمال میں خاص فرق نمایاں ہونا شروع ہو جاتا ہے پس اس حدیث کا مطلب اس حقیقت امر کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ہے کہ نفس انسانی جو بہیمی صفات کا مجموعہ ہے اسے اپنی تمام بہیمیت سمیت ایک پلہ میں ڈال دیں اور ان کلمات کے نتائج اور ثمرات کو ایک طرف ڈال دیں تو یہ کلمات جس پلہ میں ہوں گے وہ نیچے ہو جائے گا اور یہ بات ثابت ہے کہ ترازو کا ایک پلہ جب نیچے ہو جائے تو دوسرا اوپر ہو جاتا ہے پس جس قدر اعمال کا پلہ نیچے ہو گا اسی قدر وہ پلہ جس میں نفس انسانی ہے اوپر ہوتا جائے گا اور جس قدر نفس والا پلہ اوپر ہوتا جائے گا اسی قدر انسان کو قرب الہیٰ ہوتا چلا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا (بوجہ تمام عیبوں سے پاک ہونے اور کل خوبیوں کے جامع ہونے کے) مقام بلند ہے پس اعمال کے پلہ کے نیچے ہونے اور بوجھل ہونے سے انسان کا رفع مراد ہے کیونکہ یہ اس کا لازمی نتیجہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ نیکی اور تقویٰ کا نتیجہ احادیث میں رفع بتایا گیا ہے اور مسلمانوں کو جو وَارْفَعْنِیْ کی دعا سکھائی گئی اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ ہمارے اعمال حسنہ کا پلہ بھاری ہو جائے تا ہمارا رفع ہو اور اگر انسان کی بہیمیت کا پلہ بھاری ہو گا تو اعمال حسنہ کا پلہ ہلکا ہو کر ہوا میں اٹھ جائے گا اور انسان کو کوئی فائدہ نہ دے گا بلکہ وہ نیچے ہی چلا جائے گا اسی کی طرف اشارہ ہے قرآن کریم کی اس آیت میں کہ فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَہُوَ فِیۡ عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُمُّہٗ ہَاوِیَۃٌ(القارعه: ۷ تا ۱۰) یعنی جس کے اعمال حسنہ کا پلہ بھاری ہو گیا وہ تو اعلیٰ درجہ کی زندگی پائے گا اور جس کے اعمالِ حسنہ کا پلہ ہلکا ہوا اور اس کی صفاتِ بہیمیہ پر غالب نہ آ سکا تو وہ ہاویہ میں گرے گا اور ہاویہ سے مراد عمیق گڑھا ہے جو اپنے عمق میں نیچے ہی نیچے چلا جاتا ہے۔ اسی طرح اس آیت میں اشارہ ہے کہ وَلَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنٰہُ بِہَا وَلٰکِنَّہٗۤ اَخۡلَدَ اِلَی الۡاَرۡضِ(الاعراف: ۱۷۷) یعنی ہم چاہتے تو اس کو اپنی آیات کے ذریعہ بلند کر دیتے لیکن اس نے زمین کے ساتھ ایسا تعلق پکڑا کہ اسے چھوڑا نہیں پھر احادیث میں جنت کو بلندی پر اور دوزخ کو نیچے بتا کر بھی اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جب اعمالِ حسنہ بھاری ہوں تو انسان کی غلطیوں کا وزن کچھ نہیں رہتا اور انسان باوجود اپنی بہیمیت کے بلند ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اس کی نیکیاں اس کی بدیوں پر غالب آ جاتی ہیں اور ان کو کالعدم کر دیتی ہیں اور انسان بالآخر جنت کو جو بلندی پر ہے حاصل کر لیتا ہے اور جس کے اعمالِ حسنہ کم ہوں اور انسان کو اوپر نہ اٹھا سکیں تو ان کا پلہ بوجہ ہلکا ہونے کے بلند ہو جائے گا اور نفسِ انسانی والا پلہ علیٰ قدرِ ذنوب نیچے نیچے ہوتا جائے گا اور جہنم میں (جو نیچے ہو گی) جگہ پائے گا۔ اس مسئلہ سے جنت و دوزخ کے مراتب کا بھی پتہ چلتا ہے کیونکہ جس قدر کسی کے اعمالِ حسنہ بوجھل ہوں گے اسی قدر وہ اوپر اوپر اٹھتا چلا جائے گا اور اعلیٰ مدارج پائے گا اور جن لوگوں کی بدیاں زیادہ ہوں گی وہ نیچے زیادہ گر جائیں گے اور جہنم میں جائیں گے حتیٰ کہ جن کی بدیوں کا پلہ بہت ہی بھاری ہو گا انکے اعمالِ حسنہ کا پلہ بہت اونچا چڑھ جائے گا اور اس کے مقابلہ میں نفس کا پلہ اسفل السافلین میں گر جائیگا۔

غرض کہ مذکورہ بالا حدیث میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح، تمحید اور عظمت کا اقرار ایسا مثمر ثمرات نافع ہے کہ انسان کا ترازوئے عمل اس کے بوجھ سے بہت جھک جاتا ہے اور اس کا درجہ بلند ہو جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ فرمائی کہ حَبِيْبَتَانِ اِلَى الرَّحْمٰنِ یہ کلمات اس لئے زیادہ ثواب کا موجب ہوتے ہیں کہ حَبِيْبَتَانِ اِلَى الرَّحْمٰنِ رحمٰن کو پسند ہیں نادان انسان تو یہ خیال کرتا ہو گا کہ لفظ رحمٰن صرف قافیہ بندی کے لئے استعمال کیا گیا ہے لیکن یہ عظیم الشان انسان پر جس کا کوئی کلام لغو اور فضول نہیں ایک ظلمِ عظیم ہو گا رحمٰن کا لفظ اس حدیث میں قافیہ بندی کے لئے استعمال نہیں کیا گیا بلکہ اس میں بڑی بڑی حکمتیں ہیں حَبِيْبَتَانِ اِلَى الرَّحْمٰنِ فرما کر آنحضرت ﷺ نے اس ثقل کی وجہ بیان فرمادی ہے جو کلمات سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْمِ کو میزان میں حاصل ہے اور بتایا ہے کہ یہ کلمات اس لئے ثقیل ہیں کہ ان کا بدلہ صرف صفتِ رحیمیت کے ماتحت ہی نہیں ملتا بلکہ صفتِ رحمانیت کے ماتحت بھی ملتا ہے کیونکہ

یہ کلمات اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمانیت کے بھی جاذب ہیں۔

یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمانیت وہ ہے جس کے ماتحت بلا کسی محنت اور مشقت کے انسان پر انعام ہوتا ہے اور صفتِ رحیمیت وہ ہے جس کا نزول انسان پر کسی عمل کے بدلہ میں ہوتا ہے اور چونکہ انسان کے اعمال محدود ہوتے ہیں اس لئے اس کی جزاء بھی خواہ کس قدر ہی زیادہ ہو آخر محدود ہو گی جیسا کہ قرآن شریف اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک اعمال کے بدلہ میں دس گنے اور ستر گنے بلکہ سات سو گنے تک ثواب ملتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ لیکن پھر بھی یہ بدلہ ایک حد تک نسبتِ عمل کے لحاظ سے ہی ہوتا ہے مگر جو احسان کہ رحمانیت کے ماتحت ہوتا ہے وہ چونکہ کسی عمل کے بدلہ میں نہیں ہوتا اس کی کوئی حد مقرر نہیں کی جا سکتی۔ پس حَبِیْبَتَانِ اِلَی الرَّحْمٰنِ سے آنحضرت ﷺ نے یہ ظاہر فرمایا ہے کہ دوسری عبادات کا بدلہ تو صفتِ رحیمیت دیتی ہے مگر یہ کلمات صفتِ رحمانیت کے جاذب ہو جاتے ہیں یعنی جب انسان اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کرتا اور اس کی عظمت کا اقرار کرتا ہے تو نہ صرف رحیمیت جوش میں آتی ہے بلکہ صفتِ رحمانیت بھی جوش میں آ کر اس پر نازل ہوتی ہے اور چونکہ یہ نزولِ رحمانیت نسبتِ عمل کے لحاظ سے نہیں بلکہ احسان کے طور پر ہوتا ہے اس لئے اعمالِ حسنہ کا ترازو بہت وزنی ہو جاتا ہے کیونکہ صفتِ رحمانیت کا نزول جب صفتِ رحیمیت کے ساتھ ہوتا ہے تو اس کی عظمت کی کوئی انتہاء نہیں رہتی۔

اصل بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وَاِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡہَاۤ اَوۡ رُدُّوۡہَا(النساء: ۸۷) جب تمہاری نسبت کوئی کلمہ نیک استعمال کیا جائے تو تم کو بھی چاہئے کہ اس کے قائل کی نسبت اس سے بہتر کلمہ نیک یا کم سے کم وہی کلمہ استعمال کرو جیسا کہ السلام علیکم کے جواب میں وعلیکم السلام۔ تو کیونکر ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ جو غیر محدود خزانوں والا ہے اور بہتر سے بہتر بدلہ دینے والا ہے اپنے بندوں سے اس طرح معاملہ نہ کرے وہ کرتا ہے اور ضرور کرتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب میرا بندہ میری طرف ایک قدم آتا ہے تو میں دو قدم آتا ہوں جب وہ تیز چل کر آتا ہے تو میں دوڑ کر آتا ہوں پس اسی اصل کے ماتحت جب ایک بندہ اللہ تعالیٰ کی نسبت کہتا ہے کہ الٰہی آپ پاک ہیں تو اللہ تعالیٰ ایک تو اسے اس کی اس عبادت کا بدلہ دیتا ہے دوسرے اس کی نسبت بھی پاکیزگی کا حکم فرماتا ہے کہ حَيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَاۤ اَوْ رُدُّوْھَا پس جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کی نسبت فرمائے گا تو پاک ہو تو پھر اس کے گناہ کہاں باقی رہ سکتے ہیں اسی

طرح جب بندہ اپنے رب کی نسبت کہتا ہے کہ الٰہی آپ بڑی تعریفوں والے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو تعریفوں والا کر دیتا ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اقرار کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے بڑا بنا دیتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید اور عظمت کے اقرار سے ایک تو عبادت کا ثواب ملتا ہے اور ایک اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت جوش میں آکر اس بندے کو پاک کر دیتی ہے ، قابلِ تعریف بنا دیتی ہے ، بڑا بنا دیتی ہے اسی وجہ سے حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ كَلِمَتَانِ خَفِيْفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيْلَتَانِ فِي الْمِيْزَانِ حَبِيْبَتَانِ إِلَى الرَّحْمٰنِ سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْمِ اور چونکہ نماز تفصیل ہے ان کلمات کی اور اس کے ہر ایک رکن میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید کی جاتی ہے اور عظمت بیان کی جاتی ہے اس لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡکَرِ(العنکبوت: ۴۶) کیونکہ جوں جوں انسان نمازیں پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور حمد اور عظمت کا اقرار کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس کے اعمالِ حسنہ کے ترازو کو بوجھل کرتا جاتا ہے اور انسان کا رفع ہوتا جاتا ہے اور چونکہ گناہ نتیجہ ہے مادیت کے تعلق کا۔ جب انسان اس عالم سے بلند ہوتا جاتا ہے تو اس کا تعلق مادیت سے کم ہوتا جاتا ہے اور لازماً وہ گناہوں سے محفوظ ہوتا جاتا ہے۔

پس جو انسان نمازیں پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ کی تسبیح بھی کرتا ہے تحمید بھی کرتا ہے اور اس کا درجہ بلند نہیں ہوتا اور اسے پاک نہیں کیا جاتا بلکہ وہ طرح طرح کے گندوں میں مبتلاء ہے تو صاف ظاہر ہے کہ اس کی تسبیح و تحمید میں کوئی نقص ہے پس مسلمانوں کا نمازیں پڑھنا اور ان پر مداومت کرنا اس بات پر قطعاً دلیل نہیں کہ وہ نیک ہیں اور ان میں ابھی دین باقی ہے کیونکہ جب نمازوں سے وہ اثمار نہیں پیدا ہوتے جو نمازوں کے لئے مخصوص ہیں تو وہ نمازیں بے مغز ہیں اور ان کے اندر ہزاروں قسم کے ایسے اجرام داخل ہو گئے ہیں جنہوں نے ان کی قوتِ مثمرہ کو ضائع کر دیا ہے۔

اسی طرح زکوٰۃ کی نسبت قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمۡ وَتُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا(التوبہ: ۱۰۳) اے نبی ان کے اموال سے زکوٰۃ لیا کرو اور اس ذریعہ سے ان کو ظاہری و باطنی طور پر پاک کیا کرو اب جو لوگ زکوٰۃ دیتے ہوئے پاک نہیں ہوتے اور ان کے اموال طیب نہیں ہیں بلکہ ہر قسم کے جائز و ناجائز وسائل سے وہ ان کو بڑھاتے رہتے ہیں اور دل سے دنیا کی محبت سرد نہیں ہوتی تو ہم کب کہہ سکتے ہیں کہ وہ لوگ زکوٰۃ دیتے ہیں۔

اسی طرح روزہ کے احکام بیان فرما کر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ(2:188) لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ(البقره: ۱۸۸) اسی طرح ہم اپنے احکام لوگوں کے فائدے کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ متقی ہو جائیں۔ لیکن فی زماننا لوگ روزہ رکھتے ہوئے تقویٰ سے عاری ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو تمہیں بھوکے رکھنے سے غرض نہیں جو شخص روزہ رکھتا اور جھوٹ بولنا ترک نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا رہنے کی کچھ حاجت نہیں عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَّمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِهٖ فَلَيْسَ لِلّٰهِ حَاجَةٌ فِیْ اَنْ يَّدَعَ طَعَامَهُ وَ شَرَابَهٗ(بخاری کتاب الصوم : باب من لم يدع قول الزور والعمل به) پس روزہ رکھتے ہوئے جن لوگوں میں تقویٰ پیدا نہیں ہوتا معلوم ہوتا ہے ان کے روزے قرآن شریف کے فرمائے ہوئے روزے نہیں کیونکہ روزوں کے فرض کرنے کی غرض ہی تقویٰ کا پیدا کرنا تھا نہ کہ انسان کو بھوکا رکھنا۔ خدا تعالیٰ کو کیا غرض ہے کہ وہ انسان کو خواہ مخواہ بھوکا رہنے کا حکم دے۔

حج کی نسبت بھی فرمایا کہ فَمَنۡ فَرَضَ فِیۡہِنَّ الۡحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوۡقَ ۙ وَلَا جِدَالَ فِی الۡحَجِّ(البقرة: ۱۹۸) لیکن آجکل تو جو حج کی بے قدری ہے وہ جناب کو معلوم ہی ہو گی حج میں جنگ و جدل کا چھوٹنا تو الگ رہا۔ ان دنوں کو جنگ و جدل کے لئے مخصوص کر لیا گیا ہے۔

غرض کہ گو بعض لوگ بعض احکام شریعت پر عمل کرتے ہیں لیکن ان کا عمل ایسے طریق سے ہے کہ اس سے وہ فوائد مرتب نہیں ہوتے جو ہونے چاہئیں اور ان کی نمازیں اور ان کے روزے اور ان کی زکوتیں اور ان کے حج بعینہٖ ویسے ہی اعمال ہیں جیسا کہ تماشہ کرنے والے کبھی بادشاہ بنکر بیٹھ جاتے ہیں اور دربار لگا لیتے ہیں لیکن در حقیقت وہ سائل ہوتے ہیں پس گو ایک وقت کے لئے اپنے آپکو بادشاہ بھی کہتے ہیں ان کے سامنے کچھ لوگ ملازم بنکر کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ ان پر حکومت کرتے ہیں لیکن حقیقت اس کی کچھ بھی نہیں ہوتی نہ وہ بادشاہ ہو جاتے ہیں نہ ان کے دوسرے ساتھی ان کے خادم و غلام بن جاتے اور اس بناوٹ سے ان کو وہ حقوق و اختیارات حاصل نہیں ہو جاتے جو بادشاہوں کو حاصل ہوتے ہیں یہ لوگ بھی بظاہر نمازیوں کی طرح وضوء کرتے ہیں مساجد میں جاتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں لیکن یہ سب کام نمائشی ہوتے ہیں ان کی یہ عبادتیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں رکھتیں۔ ورنہ نعوذ باللہ کہنا ہو گا کہ وہ محنت تو پوری کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کو ان انعامات سے محروم رکھتا ہے جو نمازیوں اور روزہ داروں اور زکوٰۃ دینے والوں اور حج کرنے والوں کے لئے اس نے مقرر فرمائے ہیں۔ وَ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ تِلْكَ الْعَقِيْدَةِ۔

مساجد کی آبادی اس وقت تک کوئی چیز نہیں جب تک دل محبت الٰہی سے معمور نہ ہوں۔ زبان پر خدا تعالیٰ کا ذکر کوئی قدر نہیں رکھتا جب تک دل میں اس کی یاد نہ ہو۔ اور افسوس کہ قلبی تعلق اب مفقود ہو گیا ہے ان عبادات پر انسان خوش ہو سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ خوش نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ ظاہر کو نہیں بلکہ دلوں کو دیکھتا ہے۔ اس کے حضور میں وہ عبادات کچھ حیثیت نہیں رکھتیں جن میں خلوص نہیں اور یہی وجہ ہے کہ باوجود عبادت کے قلب صاف نہیں ہوتے اور وہ تقویٰ اور حفاظت عن الذنوب حاصل نہیں ہوتی جس کا عابدین کے لئے وعدہ دیا گیا ہے۔

افسوس کہ کوئی وقت تو وہ تھا کہ مسلمان ہونا ہر قسم کے گناہوں سے محفوظ ہونے کی کافی ضمانت تھا اور جو شخص اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتا تھا اس پر یقین ہو جاتا تھا کہ یہ ہر قسم کے غدر اور شرارت سے محفوظ ہے اِلَّا مَا شَاءَ اللّٰهُ وَالنَّادِرُ كَالْمَعْدُوْمِ۔ لیکن اب مسلمان ہونے کے یہ معنے ہیں کہ یہ شخص سست ہے اور سخت مسرف ہے کسی قسم کے گناہ سے نہیں بچتا حتّٰی کہ بعض ناپاک لوگوں کی حالت ایسی خراب ہو گئی ہے کہ وہ کھلے بندوں کہتے ہیں کہ ہم مسلمان آدمی ہیں ہمیشہ مقروض ہی رہتے ہیں جو کچھ آجاتا ہے اڑا جاتے ہیں گویا اسلام کی تعلیم یہی ہے کہ انسان مُسرف ہو اور ہمیشہ مقروض رہے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(2:157)۔ میں نے بہت سے ذی حیثیت لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ مسلمان ملازم سے ہندو ملازم کو زیادہ پسند کرتے ہیں کہ وہ زیادہ دیانتدار اور محنتی ہوتا ہے اور اپنے کام کو خوب اچھی طرح سے پورا کرتا ہے اور یہ بات مسلمانوں کے لئے نہایت شرمندہ کن ہے۔

اسلام کے بہت سے دشمن ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ ہر ایک مذہب اسلام کا دشمن ہے کیونکہ اسلام اپنے اندر صداقت رکھتا ہے اور دوسرے مذاہب اس بات سے خوب واقف ہیں کہ اگر کوئی مذہب اپنی ذاتی خوبصورتی کی وجہ سے لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ سکتا ہے تو وہ اسلام ہی ہے۔ اسی لئے وہ آپس میں ایک دوسرے سے نہیں ڈرتے مگر اسلام سے سب خائف ہیں اسی لئے اسلام کے مقابلہ میں سب اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اسی کی طرف مخبر صادق نے اشارہ فرمایا ہے اَلْكُفْرُ مِلَّةٌ وَّاحِدَةٌ یعنی اسلام کے مقابلہ میں سب مذاہب ایک ہو جاتے ہیں ورنہ آپس میں تو ان کے بہت سے نقار ہیں اور ان کو چاہئے بھی ایسا ہی۔ ہم چرند جانوروں میں دیکھتے ہیں کہ وہ آپس میں کتنا ہی لڑیں جب کوئی درندہ آجائے تو اس کے مقابلہ میں سب ایک ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ

جانتے ہیں کہ اس سے ہماری سلامتی مشکل ہے پس چونکہ اسلام اپنی سادگی اور حسن کے باعث ایسا دلکش ہے کہ اگر کوئی شخص تعصب سے خالی ہو کر اس کا مطالعہ کرے تو اس کے دام میں آئے بغیر نہیں رہ سکتا اس لئے سب مذاہب اس کے مقابلہ میں ایک ہو جاتے ہیں مگر ان بیرونی دشمنوں سے اسلام کو کبھی اس قدر نقصان نہیں پہنچا جس قدر کہ اسے اس زمانہ میں اندرونی دشمنوں سے پہنچا ہے۔ کسی شاعر نے کیا سچ کہا ہے کہ؎

من از بیگانگاں ہرگز نہ نالم

کہ بامن ہر چہ کرد آں آشنا کرد

دشمنانِ بیرونی نے تیرہ سو سال تک متواتر اسلام کو نقصان پہنچانا چاہا لیکن اب تک وہ کامیاب نہ ہو سکے مگر ایک صدی دو صدی کے اندر گھر کے آدمیوں نے اس کی جڑوں کو بالکل کھوکھلا کر دیا کچھ تو علماء نے ہمت کی کہ اسلام کے زریں اصول کو ایسا بھونڈا اور بھیانک دکھانا شروع کیا کہ آئے ہوئے لوگ بھی رک گئے قرآن شریف کی پاک تعلیم میں اسرائیلی قصے داخل کر کے اور انسانی خیالات ملا کر ایسی تفاسیر کرنی شروع کر دیں کہ قرآن کریم کا اصل حسن بھی ان کے نیچے دب گیا۔ جس طرح ایک عمدہ ہیرا اس وقت تک کہ اسے ردی مادہ کاٹ کر صاف نہ کیا جائے اپنی جلا نہیں دیتا۔ اسی طرح قرآن کریم کو ایسی ایسی خود ساختہ تفاسیر کے پردوں میں لپیٹ دیا ہے کہ نا واقف آدمی اس کے حسن سے ہی انکار کر بیٹھتا ہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ جو تصویر اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے وہ قرآن کریم کی نہیں بلکہ دوسری اقوام کے قصوں اور حکایتوں کا رنگ چڑھا کر اسے اور کا اور ہی بنا دیا گیا ہے اس طرح جو نقصان علمائے خلف نے اسلام کو پہنچایا ہے اس سے بھی زیادہ وہ نقصان ہے جو علماء، صوفیاء، امراء اور عوام الناس کی متفقہ کوشش سے اسلام کو پہنچا ہے یعنی ان کی بد عملی کی وجہ سے مسلمان اسلام کی دشمنی میں دشمنوں سے بھی زیادہ ثابت ہوئے ہیں۔

اسلام اپنی خوبیوں سے ہر ایسے شخص کو جو تعصب سے خالی ہو کر اس پر غور کرے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور باوجود ان رکیک تاویلات کے اور ان اجنبی قصوں کے جو اس کی تفاسیر میں بھر دیئے گئے ہیں بہت سے لوگوں کو اس کی حقیقت پر آگاہی ہو جاتی ہے۔ اور وہ اسلام میں داخل ہونا پسند کرتے ہیں لیکن مسلمان ان کے لئے روک ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے اعمال ایسے نہیں ہیں کہ جن کو دیکھ کر لوگ اسلام میں داخل ہونے کی خواہش کریں اور اس طرح مسلمانوں سے جو نقصان اسلام کو پہنچ رہا ہے وہ غیروں سے نہیں پہنچتا۔

صرف زبانی تعلیم سے انسان پر ایسا اثر نہیں ہوتا جتنا کہ نمونہ دیکھ کر وہ متاثر ہو جاتا ہے ایک زمانہ وہ تھا کہ لوگوں تک اسلام کی خبر پہنچتی تھی اور وہ اسلام سے محبت کرنے لگ جاتے تھے مگر دنیاوی تعلقات کی وجہ سے اکثر لوگ اس میں شمولیت سے خائف ہوتے۔ لیکن جب وہ کسی مسلمان کو دیکھ لیتے تو دنیا کی کسی روک کو خاطر میں نہ لا کر ہزاروں مسلمان ہو جاتے۔ ہندوستان کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں اسلام زیادہ تر حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے خلفاء کے ذریعہ سے ہی پھیلا ہے مگر آجکل بالکل اس کے برخلاف ہے۔ بہت لوگ ہیں جو اسلام کا مطالعہ کر کے اسے قبول کرنا چاہتے ہیں لیکن فطرتاً انسان نمونہ دیکھنے کا خواہشمند ہوتا ہے اس لئے وہ اسلام لانے سے پہلے مسلمانوں کی حالت دیکھنا چاہتے ہیں لیکن جب کسی اسلامی ملک میں جا کر مسلمانوں کی غفلت و سستی اور ارتکابِ معاصی کو دیکھتے ہیں تو انکی طبیعت اسلام سے متنفر ہو جاتی ہے۔ گویا ابتدائے عہدِ اسلام میں تو مسلمان اسلام کی عظمت ظاہر کرتے تھے اور اب یہ حال ہے کہ مسلمانوں کا وجود اسلام کی ترقی میں ایک سخت روک ہے جس کے سبب سے ہزاروں سعید روحیں اس سچائی کو قبول کرنے سے رک جاتی ہیں۔

چنانچہ معتبر ذریعہ سے سنا گیا ہے کہ ایک انگریز اسلام کی تعلیم کا مطالعہ کر کے اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہو گیا اور اس نے اسلام کی صداقت کا اقرار کر لیا لیکن اس کے دل میں خیال آیا کہ چل کر کسی اسلامی ملک کی سیر کر کے مسلمانوں کا حال اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ ان کا کیا حال ہے اور اسلام کا عملی نمونہ وہ کیا دکھاتے ہیں اس ارادہ سے جب وہ ایک اسلامی ریاست کے دارالخلافہ میں پہنچا تو بد قسمتی سے محرم کے ایام تھے اور وہاں کے باشندے طرح طرح کی نقلیں کر رہے تھے بازاروں میں مسلمان چیتے اور شیر، بندر اور ریچھ بنے ہوئے پھر رہے تھے جسے دیکھ کر اسے سخت حیرت ہوئی کہ عملی اسلام کتابی اسلام سے بدرجہ غایت متغائر ہے اور ایسا ابتلاء آیا کہ آخر اسلام سے بیزار ہو گیا پس اسلام کے راستہ میں سدِ راہ اگر کوئی ہے تو وہ خود مسلمانوں کی عملی حالت ہے اور اس حالت کو دیکھ کر غیر مذاہب کے لوگوں کو ہی ابتلاء نہیں آتا بلکہ آئندہ نسلیں بھی دین سے بیزار ہوتی چلی جاتی ہیں اور اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اکثر مسلمانوں کے گھرانوں کا یہ حال ہے کہ باپ کو دین سے جس قدر تعلق ہے بیٹے کو اس سے بہت کم تعلق ہے اور فیصدی بہت ہی کم مسلمان نکلیں گے جو اسلام کی صداقت کے دل سے قائل ہوں بلکہ اب صرف رسم اور عادت کا ایمان رہ گیا ہے۔

اب اگر اسلام سچا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام سچا ہے تو جناب خیال فرما سکتے ہیں کہ اسقدر اندرونی اور بیرونی فسادوں کے ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا اسکو چھوڑ دینا اور اس کی خبر نہ لینا کسی عقلمند انسان کے خیال میں نہیں آسکتا۔ اسلام کی اس درجہ نازک حالت کے ہوتے ہوئے اور اس بات کو مانتے ہوئے کہ اسلام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے کیونکر خیال کیا جاسکتا ہے کہ ان آفات اندرونی و بیرونی کے دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کوئی سامان نہ کیا ہو گا۔

اسلام وہ دین ہے جس کی اشاعت کے لئے آنحضرت جیسے محبوبِ رحمانی نے اپنی ساری عمر خرچ کردی اور ہر قسم کا آرام اور راحت چھوڑ کر رات اور دن اس کی اشاعت میں لگے رہے پھر ایسے برگزیدہ انسان کی کوششوں کا وہ حشر کیونکر ہو سکتا ہے جو اس وقت اسلام کا نظر آتا ہے۔

والدین اپنی اولاد کو مصیبت میں دیکھ کر فوراً ان کی مدد کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور باوجود ہزاروں قسم کی نافرمانیوں کے مصیبت میں دیکھ کر ان کا رحم جوش میں آجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسلام کی اس مصیبت کو دیکھ کر کیونکر خاموش رہ سکتا ہے ضرور ہے کہ اسلام کی حالت درست کرنے کے لئے آسمان سے کوئی سامان ہو۔

قرآن شریف بھی ہمارے اس خیال کی تصدیق فرماتا ہے جیسا کہ آیت اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ(الحجر: ۱۰) سے ظاہر ہے۔ قرآن کریم کی حفاظت دو طریق سے ہو سکتی ہے ایک لفظی اور ایک معنوی۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ لفظی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہزاروں سامان پیدا کر دیئے ہیں آنحضرت کے زمانہ سے آج تک تیرہ سو سال ہو گئے ہیں دنیا کی سب مذہبی کتابیں محرف و مبدل ہو چکی ہیں لیکن قرآن کریم ابھی اپنی اسی اصلی حالت پر قائم ہے اور اس میں سے ایک شُعشہ بھی کم نہیں ہوا نہ کسی قسم کی اس میں زیادتی ہوئی ہے۔ قرآن کریم کی زبان کو بھی اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ہے ورنہ اس وقت کوئی پرانا مذہب نہیں جس کی الٰہی کتاب کی زبان اس وقت دنیا میں بولی جاتی ہو۔ سنسکرت، پہلوی، عبرانی تین زبانوں میں اس وقت دنیا کے بڑے بڑے مذاہب کی کتابیں موجود ہیں لیکن یہ تینوں زبانیں مرچکی ہیں صرف قرآن کریم کی زبان ہی باوجود نہایت قدیم زبان ہونے کے اب تک بولی جاتی ہے اور جب سے قرآن کریم نازل ہوا ہے بجائے کم ہونے کے اور زیادہ پھیل گئی ہے اور پہلے صرف عرب میں بولی جاتی تھی مگر اب مصر، شام، طرابلس، الجزائر، مراکش، بربرہ وغیرہ علاقوں میں بھی عربی ہی بولی جاتی ہے۔ کروڑوں آدمی اس

زبان کے سمجھنے والے ہیں ہزاروں لاکھوں حفاظ اور لاکھوں نسخوں سے جو دنیا کے ہر ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اس کی حفاظت کی گئی اور اب تک خدائے تعالیٰ کا وعدہ بڑے زور سے پورا ہو رہا ہے پس جبکہ لفظی حفاظت کا وعدہ پورا ہوا ہے تو کیونکر ہو سکتا ہے کہ معنوی حفاظت کا وعدہ پورا نہ ہو۔ جو کتاب صرف تحریری ہو اور اس پر عمل کرنے والے مفقود ہو جائیں اسے محرف و مبدل کتب پر کوئی فضیلت نہیں کیونکہ جس طرح محرف و مبدل کتب متروک العمل ہو گئی ہیں اسی طرح وہ کتاب بھی متروک العمل ہے جس کی حقیقت سے لوگ آگاہ ہی نہیں۔ پس ضرور ہے کہ قرآن کریم جس غرض کے لئے آیا ہے اسے پورا کرنے والی ایک جماعت ہمیشہ موجود ہو اور جب کبھی لوگ اس سے غافل ہوں فور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا شخص بھیجا جائے جو معلم بنکر لوگوں کو اصل حقیقت سے آگاہ کرے اور سچے راستہ پر لائے احادیث نبویہ بھی میرے اس خیال کی تائید کرتی ہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اِنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ عَلٰی رَاْسِ کُلِّ مِائَۃِ سَنَۃٍ مَّنْ یُّجَدِّدُ لَھَا دِیْنھَا(سنن ابو داؤد کتاب الملاحم باب ما یذکر فی قرن المائۃ) اللہ تعالیٰ اس امت میں ہر صدی کے سر پر ایک ایسا انسان مبعوث فرمائے گا جو دین اسلام کی تجدید کرے گا یعنی لوگوں نے اپنے خیالات اور اپنے ارادوں کے دخل سے دین اسلام میں جو تغیر پیدا کر دیئے ہونگے وہ مجددین ان کو مٹائیں گے اور اصل اسلام کو پھر قائم کریں گے اور ان کے ذریعہ ایسی جماعتیں پیدا ہوتی رہیں گی جو قرآن شریف کے معانی کی حفاظت کریں گی یعنی جس غرض کے لئے قرآن کریم بھیجا گیا ہے اسکو پورا کریں گی اور اسلام ایک زندہ مذہب رہے گا۔

یہی وہ فوقیت ہے جو اسلام کو دوسرے مذاہب پر حاصل ہے کیونکہ اگر قصوں اور روایتوں کے ساتھ کسی مذہب کی فضیلت ثابت ہو سکتی ہے تو اسلام سے زیادہ ہندوؤں کے ہاں روایتیں اور قصے ہیں۔ اگر ہم معجزات سنائیں گے تو ہنود ان سے بڑھ کر معجزات بیان کریں گے اور مسیحی بھی اپنے مذہب کی تائید میں معجزات کا ایک طومار پیش کر دیں گے اور وہ ایسا ہی کرتے بھی ہیں بلکہ اسلام پر تو غیر مذاہب اعتراض کرتے ہیں کہ اس میں معجزات کا ظہور ہوا ہی نہیں حتّٰی کہ یورپ کے اعتراضات کے وزن سے دب کر بعض مسلم ریفارمر بھی اس باطل عقیدہ میں پادریوں کے ہمنوا ہو گئے ہیں۔ پس روایتوں اور قصوں کے ساتھ غیر مذاہب پر جیتنا نا ممکن ہے کیونکہ روایتیں ان کے ہاں بھی بہت سی ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنی روایات غیروں سے منوائیں اور ان کی روایات کو رد کر دیں اور اگر ہم اپنی روایات کی صداقت کا ثبوت بھی دینے لگیں تو یہ ایک ایسا لمبا کام ہو گا کہ برسوں اسی

پر بحث ہو گی اور ایک لمبا تاریخی جھگڑا شروع ہو جائے گا اور مذاہب کا فیصلہ کرنا مشکل ہو جائے گا مگر اسلام یہ نہیں کہتا کہ قصوں اور روایتوں کے ساتھ میری صداقت کو پرکھو بلکہ اسلام وہ مذہب ہے جو اپنے ساتھ زندہ معجزات رکھتا ہے اور کوئی زمانہ نہیں گزرتا کہ اللہ تعالیٰ اسلام کی صداقت کے لئے کوئی زبردست شہادت ظاہر نہیں کرتا اور یہی وہ نشان ہے جس کے دکھانے سے غیر مذہب کے لوگ قاصر ہیں اور جب اس طرف ان کو بلایا جاتا ہے تو ان کی آنکھیں نیچی ہو جاتی ہیں اور ان کی زبانیں بند ہو جاتی ہیں گویا کہ وہ کلام سے بالکل عاری ہیں اور ان کی زبانیں گونگی ہیں اور ہر زمانہ میں صداقت کے ثبوتوں کا ساتھ ہونا ہی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ جب ہر ایک شخص کسی مذہب کی صداقت کے نشان اپنی آنکھوں سے دیکھ لے تو اسے اس مذہب کی سچائی کے اقرار سے کوئی انکار نہیں ہو سکتا۔

دنیا کے کل مذاہب اس وقت اپنی اپنی صداقت کا دعویٰ پیش کر رہے ہیں اور ہر ایک یہ کہہ رہا ہے کہ پدرم سلطان بود۔ ہمارا مذہب سچا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہمارے آباء واجداد کے ساتھ خدا نے کلام کیا تھا لیکن اسلام یہ دعویٰ نہیں کرتا بلکہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ جو لوگ مجھ پر پورے طور سے عامل ہوتے ہیں ان کو میں اپنی صداقت کے زندہ ثبوت دیتا ہوں اور اسلام کے پیرو کو کتابوں میں قصے پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ وہ خود اپنے مشاہدہ سے اسلام کی صداقت کو معلوم کر سکتا ہے کیونکہ اسلام نے الہام کا دروازہ بند نہیں کیا بلکہ اسے ہمیشہ کے لئے جاری رکھا ہے اور یہی نہیں کہ اسے جاری رکھا ہے بلکہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد کا آنا لازمی قرار دیا ہے اور خدا تعالیٰ کا آنحضرت سے وعدہ ہے کہ ہمیشہ ایسا ہوتا رہے گا۔

یہ نشان ایک ایسا نشان ہے کہ کسی مذہب کی طاقت نہیں کہ اس کا مقابلہ کر سکے کیونکہ کوئی مذہب اسلام کے سوا الہام کے دروازہ کو کھلا نہیں رکھتا بلکہ ہر ایک مذہب اس دروازہ کو اب بند قرار دیتا ہے اور یہی کہتا ہے کہ پہلے ایسا ہوتا تھا اب نہیں ہوتا حالانکہ اگر پہلے الہام ہوتا تھا تو اب بھی ہونا چاہئے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی صفات کسی وقت میں بھی معطل نہیں ہو سکتیں اور اگر خدائے تعالیٰ اپنے پاک بندوں سے پہلے کلام کرتا تھا تو اب بھی ضرور ہے کہ وہ کلام کرے اور اگر اب نہیں کرتا تو پہلے بھی نہیں کرتا تھا ورنہ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ممکن ہے کہ خدائے تعالیٰ کی صفت شنوائی بھی کبھی زائل ہو جائے اور صفت بینائی بھی جاتی رہے کیونکہ اگر ایک صفت معطل ہو سکتی ہے تو دوسری صفات بھی معطل ہو سکتی ہیں۔

غرض کہ الہام الٰہی کے دروازہ کا کھلا رہنا ایک ایسا معیار ہے کہ جس کے سامنے کوئی غیر مذہب کا پیرو نہیں ٹھہر سکتا بلکہ اسلام اس میدان میں اکیلا ہی شہسوار ہے۔ کسی مذہب کو جھوٹا دعویٰ کرنے کی بھی طاقت نہیں کیونکہ ہر ایک جانتا ہے کہ مقابلہ میں پول کھل جائے گا۔

آج تک ہزاروں آدمی اسلام میں اس شرف سے مشرف ہو چکے ہیں اور کوئی زمانہ ایسا نہیں گزرا جس میں الہام الٰہی کے مدعی مسلمانوں میں موجود نہ ہوں بلکہ ہر ایک گاؤں جس میں مسلمانوں کی آبادی ہے اس کے قبرستان میں کوئی نہ کوئی قبر کسی ایسے بزرگ یا ولی کی نظر آئے گی جو الہام الٰہی کا مدعی تھا اور جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور شہادت امورِ غیبیہ سے اطلاع دی جاتی تھی جس طرح اسلام کی ظاہری شریعت کے چار امام ہیں اسی طرح روحانی علوم کے بھی چار امام تو مشہور ہیں۔ یعنی سید عبد القادر جیلانیؒ، حضرت شہاب الدین صاحب سہروردیؒ، حضرت بہاؤ الدین صاحب نقشبندیؒ، حضرت معین الدین صاحب چشتی رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد ہر ایک سلسلہ میں سینکڑوں خلفاء گزرے ہیں اور ان چار بزرگوں کے علاوہ اور بہت سے ایسے بزرگ گزرے ہیں جنہیں قربِ الٰہی حاصل تھا اور کلامِ الٰہی سے مشرف تھے اور اگر ان لوگوں کو شمار کیا جائے تو ہزاروں سے گزر کر لاکھوں تک ان کی تعداد پہنچ جائے اور یہ لوگ ایسے تھے کہ ان کی زندگیاں ان کے زمانہ کے لوگوں کے لئے اسلام کی صداقت کا ایک زندہ ثبوت تھیں پس نہ صرف آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ نبویہ سے ہر زمانہ میں ایسے لوگوں کا ہونا ثابت ہے بلکہ واقعات بھی اس امر کے شاہد ہیں کہ اسلام کبھی ایسے پاک نفسوں سے خالی نہیں رہا جنہوں نے روحانی ترقیات کے اعلیٰ مدارج پر ترقی حاصل کر کے اسلام کے زندہ مذہب ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

اس بات سے تو کسی انسان کو بھی انکار نہیں ہو سکتا کہ جو درخت پھل نہیں دیتا اس میں اور دوسرے بے ثمر درختوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا کیونکہ جب پھل آنا بند ہو گیا تو اس کی لکڑی صرف جلانے کے کام آسکتی ہے پس جو مذہب ایسا ہے کہ اسے تازہ پھل نہیں لگتے بلکہ یہی کہا جاتا ہے کہ کسی زمانہ میں اسے پھل لگتا تھا وہ اب ثمر دار درختوں میں رکھے جانے کے قابل نہیں بلکہ اس قابل ہے کہ آگ کی نذر کیا جائے اور کسی مذہب کا پھل یہی ہے کہ وہ ایسے کامل انسان پیدا کرے کہ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کامل تعلق رکھنے والے ہوں اور ان کی نفسانی خواہشات مر گئی ہوں اور اپنے ساتھ ایسے بیّن نشان رکھتے ہوں کہ ان کا وجود دوسروں کے لئے اس مذہب کی صداقت کا نشان ہو پس اگر دوسرے مذاہب اس قسم کے آدمی پیدا کرنے سے قاصر ہیں جو اس بات کے مدعی ہوں کہ ہم اس مذہب پر چل کر خدائے تعالیٰ تک پہنچ گئے ہیں اور اس کے مکالمہ کی نعمتِ عظمیٰ سے مستفید ہوئے ہیں اور ہمارا ایمان صرف سنی سنائی باتوں کی بناء پر نہیں بلکہ مشاہدات کی بناء پر ہے تو وہ بے ثمر درخت ہیں اور ان کا کوئی حق نہیں کہ اپنی صداقت کے مدعی ہوں اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ کبھی ان میں ثمر لگتا بھی تھا تو اب وہ قابلِ تعریف نہیں ہو سکتے کیونکہ کسی باغ کا مالک اس بات پر فخر نہیں کر سکتا کہ اس کے باغ میں پہلے اچھے پھل لگا کرتے تھے گو اب نہیں لگتے۔ جس وقت اسے پھل لگتے تھے اس وقت وہ قابلِ تعریف تھا اب وہ صرف ایندھن ہے اور باغ کہلانے کا مستحق نہیں اور چونکہ صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس پر چل کر ہر زمانہ میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہتے ہیں اس لئے اسلام ہی سچا مذہب ہو سکتا ہے ورنہ اور کوئی مذہب بھی اپنا یہ کمال دکھائے کہ اس پر عمل کر کے ہر زمانہ میں باکمال انسان پیدا ہوں پس یہ اسلام کی ایک خصوصیت ہے اور خدائے تعالیٰ کا آنحضرت سے وعدہ ہے کہ کم سے کم ہر صدی کے سر پر تو ایک انسان ضرور بھیجا جایا کرے گا جو تجدیدِ دین کرے گا اب اگر ہم کسی زمانہ میں یہ خیال کر لیں کہ اسلام سے بھی یہ خوبی جاتی رہی ہے اور اب آئندہ اس میں کامل انسان پیدا ہونے بند ہو گئے ہیں تو یہ ایک ظلم ہو گا جس کی کوئی انتہاء نہیں کیونکہ اس کے معنے دوسرے الفاظ میں یہ ہونگے کہ اللہ تعالیٰ نعوذ باللہ وعدہ خلاف ہے کہ اس نے ایک وعدہ خاتم النبیّین سے کیا تھا مگر کچھ مدت کے بعد اسے پورا کرنا چھوڑ دیا۔ یا اس سے یہ نتیجہ نکلے گا کہ نعوذ باللہ آنحضرت نے غلط بیانی کی یا یہ کہ اسلام بھی اب مردہ مذاہب میں شامل ہو گیا ہے اور اب اس میں وہ قوتِ قدسیہ نہیں رہی جس کی وجہ سے اسے دوسرے مذاہب پر فضیلت تھی مگر یہ سب خیالات باطل ہیں نہ تو اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی کر سکتا ہے نہ آنحضرت غلط بیانی کر سکتے ہیں نہ اسلام کبھی مردہ مذاہب میں شامل ہو سکتا ہے کیونکہ یہ بنی نوع انسان کے لئے آخری مذہب ہے اور اس کے بعد اور کوئی مذہب نہیں پس اگر یہ بھی مر جائے تو دنیا کی ہدایت کا کوئی سامان نہیں رہتا کیونکہ اسلام کے بعد کوئی اور نیا مذہب نہیں آ سکتا اس وجہ سے کہ شریعت کامل ہو چکی ہے اور کامل شریعت کے بعد اور کسی شریعت کی ضرورت نہیں پس یہ سب خیالات باطل ہیں اسلام زندہ مذہب ہے اور قیامت تک اپنی معجزانہ قدرتوں کو ظاہر کرتا رہے گا۔ اسی ایک مذہب سے روحانی زندگی مل سکتی ہے اور اس کے سوا کوئی اور دروازہ نہیں جس میں سے ہو کر انسان خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکے۔

جب یہ ثابت ہو گیا کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور اسلام میں ہر صدی کے سر پر ایک مجدد کا آنا ضروری ہے اور قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے اور یہ زمانہ بھی ایک ایسے انسان کا محتاج ہے جو اس کے مفاسد کو دور کرے اور اسلام کو پھر قائم کرے اور اس کے دشمنوں کا مقابلہ کرے اور اندرونی اور بیرونی خرابیوں کی اصلاح کرے۔ تو اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ مجدد کہاں ہے؟ جو اس صدی کے سر پر خدائے تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوا ہے اس سوال کے جواب میں میں جناب کو بشارت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نے ہمیں بھی اس سے محروم نہیں رکھا اور اپنے فضل سے اس صدی کے سر پر بھی ایک عظیم الشان انسان مبعوث کیا ہے جو اپنی شان میں پہلے تمام مجددین سے اعلیٰ اور ارفع ہے اور ان کا نام مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود اور مہدی مسعود کا درجہ عطا فرما کر دنیا میں بھیجا اور وہ اپنا کام کر کے اپنے وقت پر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اور انہیں کے دعویٰ کے متعلق مجھے اشارہ ہوا ہے کہ میں جناب کو واقفیت بہم پہنچاؤں۔

جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں اس وقت اسلام کی حالت ایسی کمزور ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسی نہیں ہوئی اور اس قدر بیرونی اور اندرونی دشمن پیدا ہو گئے ہیں کہ ان کے حملوں کا دفعیہ بجز تائید الٰہی نہیں ہو سکتا اور اگر ان مفاسد کے دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی سامان نہ کیا جاتا تو اسلام کا انجام سوائے تباہی کے اور کچھ نہ ہوتا کیونکہ اب انسانی تدابیر سے کچھ نہیں ہو سکتا۔ وجہ یہ کہ طبیب اور مریض سب بیمار ہیں اور علماء و صوفیاء و امراء و عوام سب کے سب غافل اور دین سے بے بہرہ ہو رہے ہیں اور بدیوں کا سیلاب ایسے زور سے امڈ امڈ چلا آ رہا ہے کہ اس کے روکنے کی کسی انسان کو طاقت نہیں۔ بلکہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس قدر دین سے بے پرواہی اس وقت ہے اس کی نظیر دنیا میں اس سے پہلے کبھی نہیں ملتی اور اس کا بڑا سبب یہی ہے کہ دنیاوی ترقیات جو اس زمانہ میں ہوئی ہیں پہلے کبھی نہیں ہوئیں اور جس قدر ترغیب و تحریص زیادہ ہوتی ہے اسی قدر انسان گناہ میں زیادہ مبتلاء ہوتا ہے۔ پس دنیاوی عیش و آرام کے سامان اور دنیاوی علوم کی ترقی ایسے انتہائی نقطہ کو پہنچ گئی ہے کہ اس سے پہلے کبھی اسے یہ درجہ حاصل نہیں ہوا۔ اسی لئے اس زمانہ میں گناہوں کی جو کثرت ہے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی اور اس زمانہ میں شیطان کا حملہ پہلے زمانوں کے حملوں سے بہت زیادہ سخت ہے کیونکہ پہلے زمانوں میں گناہوں کی کثرت عام طور سے جہالت کے طریقوں سے ہوتی تھی اور اب بدیوں اور بدکاریوں کے خیالات کو علوم کا رنگ دیکر زیادہ مضبوط طور پر لوگوں کے دلوں میں گاڑا گیا ہے اور علوم کی ترقی نے انسان کو اس وہم میں مبتلاء کر دیا ہے کہ میں جو کچھ چاہوں کر سکتا ہوں اب تک میرا وہم ہی تھا کہ کوئی زبردست ہستی دنیا کی نگران ہے ورنہ یہ سب کارخانہ چند قوانین نیچر کے ماتحت چل رہا ہے اور میرے ہاتھ میں ان قوانین میں سے بہت سے قواعد کی کنجیاں تو آگئی ہیں اور باقی میں تھوڑی سی کوشش سے حاصل کر لوں گا اور اپنے تمام کام خود کر لوں گا پس یہ حربہ پہلے حربوں سے زیادہ تیز ہے اور اس زمانہ کے فتنہ کے دور کرنے کے لئے ایک نہایت ہی مقرب بارگاہِ الٰہی کی ضرورت ہے جو اپنی قوت قدسیہ سے اس فتنہ کو دور کرے اور اللہ تعالیٰ کی طاقتوں اور قدرتوں کے زندہ ثبوت دے تاکہ جو لوگ دنیا کے عشق میں مبتلاء ہیں ان کے دل اس محبت سے سرد ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو سکیں۔

موجودہ فتنہ کی عظمت بظاہر تو نہایت مایوس کن ہے لیکن جب ہم قرآن کریم اور احادیث میں اس فتنہ کی خبر تیرہ سو سال پہلے سے لکھی ہوئی دیکھتے ہیں تو دل مضبوط ہو جاتے ہیں اور یقین آجاتا ہے کہ جس انسان نے تیرہ سو سال پہلے اس فتنہ کی خبر دی تھی اور وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔ ضرور ہے کہ اس نے جو علاج بتایا ہے وہ بھی ضرور تیر بہدف ہو گا اور جس خدا نے آج تک اسلام کو اس کے دشمنوں کے حملے سے بچایا ہے اب بھی بچائے گا وہ علاج کیا ہے؟ وہ ایک ایسے انسان کی بعثت ہے جو حضرت مسیح کے رنگ میں رنگین ہو کر اس دنیا کو مسیحی فتنہ سے بچائے گا اور مہدی کا درجہ پا کر مسلمانوں کی اندرونی اصلاح کرے گا اور ان کے امراض کو دور کرے گا اور اس کے مسیحی نفس سے لوگ شفاء پائیں گے کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کی اتباع کرتے کرتے آپ کا کامل مظہر ہو جائے گا حتیٰ کہ اس کا کام آنحضرتؐ ہی کا کام ہو گا اور اس میں اور آنحضرت ﷺ میں کوئی دوئی نہ ہو گی جیسا کہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ(62:4) یعنی آنحضرت ﷺ دو دفعہ دنیا کی ہدایت فرمائیں گے ایک دفعہ تو اپنے زمانہ میں جو صحابہ کرامؓ کا زمانہ تھا اور ایک دفعہ آخری زمانہ میں ایک ایسی جماعت کو ہدایت فرمائیں گے جو صحابہ سے فاصلہ پر ہو گی۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ فوت ہو چکے ہیں آپ تو دوبارہ دنیا میں تشریف نہیں لا سکتے اس کا یہی مطلب ہے کہ آپ کے رنگ میں رنگین ہو کر آپ کی کامل اتباع اور فرمانبرداری کر کے ایک شخص اس زمانہ میں اسلام کی درستی اور تجدید کرے گا اس لئے اس کی اصلاح اور اس کا کام آنحضرت ﷺ کی ہی اصلاح اور آپ کا ہی کام ہو گا کیونکہ وہ آپ کی محبت سے ایسا سرشار ہو گا کہ اس کا اپنا وجود بالکل آپ کے وجود میں فنا ہو جائیگا اور دونوں کا تعلق ایسا ہی ہو گا جیسا کہ کسی شاعر نے بیان کیا ہے

من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی

تا کس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری

اور اسی تعلق کی طرف اشارہ ہے اس حدیث میں جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن کیا جائے گا کیونکہ یہ تو ناممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ کی قبر کبھی کھودی جائے اور اس میں مسیح کو دفن کیا جائے یہ تو ایسی ہتک ہے کہ جسے کوئی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا اور جب تک کسی سچے مسلمان کی جان میں جان ہے وہ اس امر کو کبھی پسند نہیں کرے گا کہ اس کی آنکھوں کے سامنے آنحضرت ﷺ کی قبر کو کھودا جائے۔ پس یہ امر تو خیال میں بھی نہیں آسکتا کہ آنحضرت ﷺ کی قبر کھود کر مسیح کو دفن کیا جائیگا بلکہ اس حدیث کا یہی مطلب ہے کہ مسیح موعود آپ کے رنگ میں ایسا رنگین ہو گا کہ اسے آپ کے ساتھ ہی رکھا جائے گا اور قبر اس مقام کا بھی نام ہے جہاں مرنے کے بعد ارواح انسانی رکھی جاتی ہیں جیسے کہ قرآن کریم میں آتا ہے ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقۡبَرَہٗ(عبس: ۲۲) اور اگر معروف قبر اس آیت میں مراد لی جائے تو کسی طرح درست نہیں ہو سکتا کیونکہ کروڑوں آدمی بجائے دفن ہونے کے جلائے جاتے ہیں پس اَقْبَرَہٗ سے یہی مراد ہے کہ اس مقام میں اسے رکھتا ہے جہاں مرنے کے بعد ارواح کو رکھا جاتا ہے اور یہی وہ قبر ہوتی ہے جو مؤمن و کافر کے لئے کشادہ ہو جاتی ہے یا تنگ ہو جاتی ہے۔ پس احادیث سے یہ امر ثابت ہے کہ مسیح موعود آنحضرت ﷺ کا کامل متبع ہو کر آپ کے رنگ میں ہی رنگین ہو جائیگا اور اس وقت کے فتن کے مٹانے کے لئے کسی ایسے ہی وجود کی ضرورت ہے جو آنحضرت ﷺ کا کامل بروز ہو ورنہ یہ فتنہ کسی معمولی انسان سے نہیں مٹ سکتا۔ جس عظمت کا کام ہو اسی عظمت کا آدمی اس کے پورا کرنے کے لئے مقرر کیا جاتا ہے پس اس زمانہ میں ایک عظیم الشان وجود کی ضرورت ہے جو اس فتنہ کو دور کرے کیونکہ اسلام کا اس وقت صرف نام رہ گیا ہے ورنہ ایمان مفقود ہے اور قرآن کریم کے لفظ محفوظ ہیں مگر معانی کے مستور ہو جانے کا سخت خطرہ درپیش ہے اور اس وقت اسلام کی وہی حالت ہو رہی ہے جو ابتدائے اسلام میں تھی کیونکہ گو اس وقت مسلمان موجود ہیں لیکن جس طرح آنحضرتؐ کے ابتدائے ایام میں اسلام صرف چند اشخاص تک محدود تھا اسی طرح اب حقیقت اسلام دنیا سے مفقود ہے اور صرف چند کس تک محدود ہے پس اس زمانہ کی اصلاح بالکل اس کام سے مشابہ ہے جو آنحضرت ﷺ نے کیا اور سورہ جمعہ سے بھی ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک دفعہ پھر دنیا کی ہدایت فرمائیں گے جس کے معنے یہ ہیں کہ آپ کے رنگ میں رنگین ہو کر کوئی شخص اصلاحِ عالم کریگا۔ ادھر جب احادیث پر نظر کرتے ہیں تو ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا کامل مظہر مسیح موعود ہو گا کیونکہ اس کی نسبت آیا ہے کہ وہ آپ کی قبر میں داخل ہو گا۔ پس ان سب باتوں کو ملا کر صاف ظاہر ہے کہ یہ زمانہ مسیح موعود کے لئے مخصوص ہے اور اس صدی کا مجدد مسیح موعود ہی ہونا چاہئے جس کی نسبت حدیث میں آتا ہے کہ لَا مَهْدِیَّ إِلَّا عِیْسَی(سنن ابن ماجہ باب شدۃ الزمان) یعنی جس وقت مسیح آئیں گے تو وہی مہدی ہونگے ان کے علاوہ کوئی اور مہدی نہ ہو گا۔

پس یہ زمانہ مسیح موعود کا زمانہ ہے اور تیرھویں صدی کو گزرے تیس سال ہو چکے ہیں اس وقت کسی مجدد کا ظاہر نہ ہونا بلکہ مسیح موعود کا نازل نہ ہونا اسلام کے لئے سخت تباہی کا موجب ہے اور اگر یہ بات فرض کر لی جائے کہ اس صدی کے سر پر کوئی مجدد نہیں آیا تو دشمنانِ اسلام کے لئے اسلام پر ہنسی کرنے کا ایک نادر موقعہ بہم پہنچتا ہے کیونکہ اس وقت علومِ جدیدہ کی کثرت کی وجہ سے لوگوں کے خیالات دہریت کی طرف مائل ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں علوم کی اشاعت کی وجہ سے الہام وغیرہ کا دعوٰی کامیاب نہیں ہو سکتا اور ان دعاوی کے ساتھ آجکل کوئی شخص دنیا میں غالب نہیں آسکتا پس اس صدی کا ایسے شخص سے خالی جانا گویا دشمنِ دین کے لئے ایک بڑی خوشی کا مقام ہو گا کیونکہ ان کے دعوے کا ثبوت بھی مل جائے گا کہ دیکھو ہم نہ کہتے تھے کہ الہام اور تعلق باللہ سب ڈھکوسلا ہے اور آج سے پہلے جو لوگ قربِ الٰہی کے دعوے کر کے اپنے پیرو پیدا کر لیتے رہے ہیں تو یہ جہالت کی وجہ سے تھا ورنہ اسلام کا یہ دعوٰی اس صدی کے متعلق کیوں پورا نہ ہوا کہ ہر صدی کے سر پر مجدد کا آنا ضروری ہے اگر ایسا ہوتا چلا آیا ہے تو اس صدی کے سر پر کیوں کوئی مجدد نہیں آیا معلوم ہوا کہ چونکہ اس وقت علوم کی اشاعت کی وجہ سے کوئی شخص اس دعوے میں کامیاب نہیں ہو سکتا اس لئے کسی کو جرأت نہیں ہوئی غرض کہ اگر یہ صدی مجدد سے خالی جائے تو نہ صرف اللہ تعالیٰ پر وعدہ خلافی کا الزام آتا ہے بلکہ مسلمانوں کی رہی سہی طاقت بھی زائل ہوتی ہے کیونکہ دشمنوں کے ہاتھ میں ایک ایسا حربہ آجاتا ہے کہ جس سے محفوظ رہنے کا کوئی طریق نظر نہیں آتا اس زمانہ کا حال تو ایسا ہے کہ آج تک اگر کوئی مجدد نہ بھی ہوا ہوتا اور کوئی وعدہ بھی نہ ہوتا تب بھی اس زمانہ میں ضرور کوئی مصلح آنا چاہئے تھا تاکہ مخالفینِ اسلام کو دلائلِ نیرّہ سے لاجواب کرے چہ جائیکہ مجددین کا سلسلہ چلتے چلتے اس زمانہ میں آکر رک جائے۔ مگر جیسا کہ میں پہلے بتا آیا ہوں اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کو بھی مجدد سے خالی نہیں جانے دیا اور

جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ تھا اور زمانہ کا مطالبہ تھا اس شخص کو بھیج دیا جو اس زمانہ کے فتنہ کو دور کرنے کے قابل تھا اور اس کے وجود سے اسلام کی کھوئی ہوئی عظمت کو پھر قائم کر دیا اور دشمنانِ اسلام کو سخت رسوا و ذلیل کیا۔ اور یہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ یہ زمانہ مسیح موعود کا زمانہ ہے چنانچہ علاوہ ضروریاتِ زمانہ کے جس قدر علامات مسیح موعود کے نزول کے لئے بیان کی گئی ہیں وہ سب پوری ہو چکی ہیں اور اس بات پر شاہد ہیں کہ یہ زمانہ مسیح موعود اور مہدی مسعود کا زمانہ ہے مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی معہود کے لئے ایک زبردست علامت یہ بیان فرمائی تھی کہ اس کے زمانہ میں چاند کی پہلی اور سورج کی درمیانی شب کو رمضان کے مہینہ میں خسوف کسوف ہو گا اور آپؐ نے اس علامت کی نسبت یہاں تک فرمایا کہ ایسا واقعہ پیدائشِ عالم سے اب تک نہیں ہوا حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں اِنَّ لِمَهْدِيِّنَا اٰيَتَيْنِ لَمْ تَكُوْنَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ يَنْخَسِفُ الْقَمَرُ لِاَوَّلِ لَيْلَةٍ مِّنْ رَّمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ(سنن دار قطنی باب صفة صلوٰة الخسوف والكسوف و هيئتهما) پس یہ ایک زبردست علامت ہے جس پر شیعہ اور سنی دونوں اقوام کا اتفاق ہے اور اسے پورے ہوئے آج قریباً بیس سال ہو گئے ہیں بعض لوگ اس پیشگوئی پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس میں تو رمضان کی تیرھویں کو چاند گرہن اور اٹھائیسویں کو سورج گہن ہوا تھا مگر حدیث میں پہلی اور نصف کا ذکر ہے اس کے متعلق بھی میں جناب کو اس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ اعتراض ان لوگوں کے قلتِ تدبر کا نتیجہ ہے کیونکہ اس حدیث میں خسوف قمر کا ذکر ہے اور قمر عربی زبان میں اس چاند کو کہتے ہیں جو تیسری رات سے اوپر کا ہو۔ پہلی تاریخ کے چاند کو عربی میں ہلال کہتے ہیں نہ کہ قمر۔ اور قمر کی یہ خصوصیت لسان العرب وغیرہ لغت کی بڑی کتابوں کے علاوہ چھوٹی چھوٹی کتبِ لغت میں بھی موجود ہے چنانچہ منجد میں بھی قمر کے یہ معنے لکھے ہیں اَلْقَمَرُ كَوْكَبٌ يَّسْتَمِدُّ نُوْرَهُ مِنَ الشَّمْسِ فَيَنْعَكِسُ عَلَى الْاَرْضِ فَيَرْفَعُ ظُلْمَةَ اللَّيْلِ وَهُوَ قَمَرٌ بَعْدَ ثَلَاثِ لِيَالٍ اِلَى اٰخِرِ الشَّهْرِ وَاَمَّا قَبْلَ ذٰلِكَ فَهُوَ هِلَالٌ مگر افسوس ہے کہ اس وقت مسلمانوں سے عربی زبان کا علم بالکل اٹھ گیا ہے اور جہالت ان پر غالب ہو گئی ہے غرض کہ اس حدیث کے یہ معنے کرنے کہ چاند کو پہلی رات اور سورج کو پندرھویں تاریخ گہن لگے گا عربی زبان اور سنت اللہ کے خلاف ہیں کیونکہ سنت اللہ بھی یہی ہے کہ چاند کو ہمیشہ تیرھویں چودھویں پندرھویں کو اور سورج کو ستائیسویں اٹھائیسویں اور انتیسویں کو گہن لگا کرتا ہے۔ اور پہلی رات سے مراد تیرھویں (۱۳) رات ہے۔ جو

ان راتوں میں سے پہلی ہے جن میں چاند کو گہن لگتا ہے اور درمیانے دن سے مراد اٹھائیسویں تاریخ ہے جو ان تاریخوں میں سے درمیانی تاریخ ہے جن میں سورج کو گہن لگتا ہے۔ اور ان تاریخوں میں چاند اور سورج کو گہن لگ چکا ہے جس سے ثابت ہے کہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں اس مہدی کا ظہور ہو گا جس نے مسیح بھی کہلانا ہے۔

اسی طرح اس زمانہ کی ایک یہ علامت آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائی ہے کہ لَيُتْرَكَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعٰی عَلَيْهَا(مسلم کتاب الایمان باب بیان نزول عیسیٰ ابن مریم) یعنی اونٹ چھوڑ دیئے جائیں گے اور کوئی ان پر سوار نہ ہوگا اور قرآن شریف میں بھی ہے کہ وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ(التکویر: ۵) یعنی دس ماہ کی گابھن اونٹنی کی بھی قدر نہ رہے گی اور وہ کھلی چھوڑ دی جائے گی چنانچہ اس زمانہ میں ریل کی سواری کی وجہ سے ان جانوروں کی وہ ضرورت نہیں رہی جو پہلے تھی اور اب تو مدینہ منورہ تک ریل پہنچ چکی ہے اور مکہ مکرمہ تک لے جانے کی تجویز ہو رہی ہے پس اس علامت نے بھی اپنے وقت پر پورا ہو کر مسیح موعود کے زمانہ کی گواہی دیدی ہے اسی طرح اخبارات اور کتب کی اشاعت اور اریگیشن کی ترقی کی خبر دی گئی تھی جیسے کہ فرمایا وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتۡ(التکویر: ۱۱) اور وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ(التکویر: ۷) اور آجکل مطابع کی ایجاد سے صحف و اخبار کی جو کثرت ہے اور ریلوں کی وجہ سے ان کی جس قدر اشاعت ہے وہ محتاج تصدیق نہیں پھر دریاؤں کے پانی کاٹ کاٹ کر جس طرح نہریں نکالی گئی ہیں اور جس طرح دریاؤں کے پانیوں کو سکھا دیا گیا ہے وہ بھی ایک بیّن امر ہے جس کے لئے کسی مزید شہادت کی ضرورت نہیں اسی طرح اور بہت سی علامات ہیں جو مسیح موعود کے زمانہ اور قرب قیامت کے لئے نشان قرار دی گئی ہیں اور وہ پوری ہو چکی ہیں پس قرآن کریم اور احادیث کی شہادت سے صاف ثابت ہے کہ یہ زمانہ مسیح موعود کا زمانہ ہی ہے بلکہ بتیس (۳۲) سال سے وہ زمانہ شروع ہے کیونکہ حدیث سے ثابت ہے کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آنا چاہئے اور اب تو تیرھویں صدی ختم ہو کر چودھویں صدی سے بھی تیسرا حصہ گزر چکا ہے۔

پس جبکہ یہ زمانہ مسیح موعود کا ہے اور اس کی بعثت کا زمانہ ہے بھی صدی کا سر۔ تو حضرت مرزا غلام احمد صاحبؔ قادیانی کا دعویٰ قبول نہ کرنے کے لئے ہمارے پاس کوئی عذر نہیں رہتا کیونکہ آپ کے سوا اس وقت دنیا کے پردہ پر کسی انسان نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی مجددیت کا مدعی ہے اب دو ہی صورتیں ہیں یا تو مرزا صاحب کا دعویٰ سچا تسلیم کیا جائے یا اسلام کی

اس عظیم الشان پیشگوئی کو باوجود علامات کے پورا ہونے کے غلط قرار دیکر اسلام کا انکار کیا جائے (نعوذ بالله من ذلک) اور دشمنانِ اسلام کا حق ہے کہ وہ ہم سے مطالبہ کریں کہ اس صدی کا مجدد کونسا ہے اسے ہمارے سامنے پیش کرو کیونکہ تمہارے ساتھ وعدہ ہے کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آئیں گے اسی طرح وہ مسیح موعود کی بعثت کا بھی سوال کر سکتے ہیں کہ جو زمانہ بتایا گیا تھا اسے تو بتیس (۳۲) سال گزر چکے ہیں پھر وہ اب تک کیوں نہیں آیا۔ جب کوئی شخص ایسا مدعی نہیں کھڑا ہوا تو اسلام کی صداقت میں شبہ لازم آتا ہے۔ اسی طرح دشمنوں کا اعتراض ہو سکتا ہے کہ تم تو اسلام کو خدا تعالیٰ کا برگزیدہ اور پسندیدہ مذہب کہتے ہو۔ اگر تمہارا دعویٰ سچا ہوتا تو اب جبکہ اسلام پر ایسا خطرناک وقت آیا ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں آیا اور نہ اس سے بدتر اور کوئی حالت ہے کہ وہ اسلام پر آسکتی ہے اندرونی اور بیرونی دشمنوں نے اس کی حقیقت کو ایسا مسخ کر دیا ہے کہ اصل اسلام کا کوئی پتہ ہی نہیں ملتا تو ضرور تھا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کوئی شخص ایسا کھڑا کرتا جو اسلام کو پھر اپنی اصلی شان و شوکت پر لاتا اور اس کی جڑوں کو مضبوط کرتا لیکن جبکہ خدا تعالیٰ نے اسلام کی کوئی خبر نہیں لی اور اسے چھوڑ دیا ہے کہ وہ ذلیل ہو اور ہر طرح اسے کچلا جائے تو معلوم ہوا کہ وہ خدا تعالیٰ کا مذہب نہیں اس اعتراض کا جواب وہ لوگ کچھ بھی نہیں دے سکتے جو اس صدی کے سر پر کسی مجدد کے قائل نہیں یا جو مسیح موعود کے ظہور کی علامات کو دیکھتے ہوئے پھر کسی مسیح کے ماننے کے لئے تیار نہیں مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی جماعت اس اعتراض کو فوراً رد کر سکتی ہے اور کہہ سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ صدی بھی مجدد سے خالی نہیں گئی اور اس زمانہ میں معمولی مجدد نہیں بلکہ مسیح موعود کو بھیج کر اللہ تعالیٰ نے اسلام کو مضبوط کر دیا ہے اور اس کے ذریعہ سے اسلام کی عظمت کو قائم کیا ہے اور اسلام کو مصائب میں نہیں چھوڑا بلکہ ایسی دستگیری فرمائی ہے کہ دشمنوں کے گھروں میں ماتم پڑ گیا ہے۔

میں جناب کے سامنے اس وقت تک اس بات کا ثبوت پیش کر چکا ہوں کہ اسلام کی حالت ایک مصلح کی طالب ہے اور اب مسلمانوں کی درستی اسی صورت میں ہے کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی کھڑا کیا جائے جو اپنی قوتِ قدسیہ سے اصلاح کرے اور یہ کہ آنحضرت ﷺ سے بھی یہ وعدہ ہے کہ آخری زمانہ میں مسیح موعود مبعوث ہوں گے اور وہ زمانہ یہی ہے اور یہ کہ مجدد کی بعثت کا وقت صدی کا سر ہوتا ہے اور وہ گزر چکا ہے اور اس وقت مرزا صاحب قادیانی کے سوا اور کوئی شخص مدعی مسیحیت اور مہدویت نہیں ہے پس اگر آپ کا دعویٰ نہ قبول کیا جائے تو خود اسلام کی سچائی سے انکار کرنا پڑتا ہے کیونکہ عین ضرورت کے وقت اس وعدہ کا ایفاء نہیں ہوا جو تیرہ سو سال پہلے کیا گیا تھا اور جسے اسلام کے قیام کا ایک بہت بڑا نشان قرار دیا گیا تھا۔

اس کے بعد میں دو اور شبہات کا ازالہ کر دینا ضروری سمجھتا ہوں جن میں سے ایک تو یہ ہے کہ مرزا صاحب مسیح موعود کیونکر ہو سکتے ہیں جبکہ مسیح کی نسبت عام طور پر مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں اور دوبارہ تشریف لائیں گے اور انہیں کے ذمہ اصلاح مفاسد ہے دوسرے یہ کہ مسیح موعود کی آمد کی بڑی علامت خروج دجال ہے جب تک دجال نہ نکلے مسیح موعود کا ظہور کیونکر ہو سکتا ہے۔

پہلے سوال کے جواب میں یہ عرض ہے کہ قرآن شریف یا احادیث صحیحہ میں کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام جو بنی اسرائیل کے ایک برگزیدہ نبی تھے اب تک زندہ ہیں اور وہی دوبارہ آئیں گے اصل بات یہ ہے کہ یہ عقیدہ ان مسیحی نو مسلموں کی وجہ سے مسلمانوں میں پھیل گیا جو ابتدائے اسلام میں بڑی کثرت کے ساتھ مسلمانوں میں داخل ہوئے تھے چونکہ وہ مسیح علیہ السلام کو خدا کا فرزند مانتے تھے اور وہ عزت ان کے دلوں میں سے فوراً نہیں نکل سکتی تھی اس لئے وہ کچھ ایسے قصے اپنے ساتھ لے آئے جن سے مسیح کی عظمت ظاہر ہو اور مسلمانوں نے سادہ لوحی سے بجائے ان کی اصلاح کے ان کے خیالات کو اخذ کر لیا اور ایک خطرناک غلطی میں مبتلاء ہو گئے ورنہ قرآن کریم تو جہاں ذکر کرتا ہے مسیح علیہ السلام کی وفات کا ہی ذکر کرتا ہے بلکہ اور انبیاء کی وفات پر اللہ تعالیٰ نے اس قدر زور نہیں دیا جس قدر مسیح علیہ السلام کی وفات پر زور دیا ہے اور مختلف پیرایوں میں آپ کی وفات کا ذکر کیا ہے اور اس کی یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ علیم و خبیر ہے وہ جانتا تھا کہ کسی وقت یہ عقیدہ مسلمانوں کو خراب کرے گا چنانچہ فرمایا ہے یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ(آل عمران: ۵۶) اس آیت کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کا یہ کہنا کہ مسیح علیہ السلام آسمان پر تو جا بیٹھے ہیں لیکن ابھی تک مُتَوَفِّيۡكَ کا وعدہ پورا نہیں ہوا جو رَافِعُكَ سے پہلے مذکور ہے ایک ظلمِ عظیم ہے جس لفظ کو اللہ تعالیٰ پہلے رکھتا ہے کسی کا کیا حق ہے کہ اسے پیچھے کرے؟ قرآن کریم ایک قانون کی کتاب ہے اور اس کے احکام پر چلنا مسلمانوں کا فرض ہے اگر اس کے الفاظ کو آگے پیچھے کر کے معنے کرنے شروع کر دیئے جائیں تو جناب اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ کیسا اندھیر پڑ سکتا ہے کوئی دنیا کی حکومت اس بات کو روا نہیں رکھ سکتی کہ اس کے کوڈ کے دفعات کو لوگ الٹ پلٹ کر دیں اور اگر کوئی جج ایسی حرکت کرے تو فوراً اسے علیحدہ کیا جائے کیونکہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اسے جج رکھا جا سکے۔ اور چونکہ جناب کو اللہ تعالیٰ نے حاکم بنایا ہے اس مسئلہ کو جناب بہت بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ قانون کے الفاظ کو بغیر ہدایتِ شارع آگے پیچھے کرنے سے کس قدر خطرناک نقصانات کا احتمال ہو سکتا ہے پھر خدا تعالیٰ کے کلام کو نہایت دلیری سے اپنے منشاء کے ماتحت چلانا اور جہاں چاہنا کہہ دینا کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہو گئی ہے کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ سے زیادہ کون شخص فصیح کلام کر سکتا ہے؟ وہ خود الفاظ کو آگے پیچھے کر سکتا تھا ضعیف انسان کا اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں دعویٰ کرنا کہ خدا تعالیٰ نے جس لفظ کو پہلے رکھا ہے میں اسے پیچھے کروں گا کسی طرح جائز نہیں ہو سکتا۔ ہاں اگر خود قرآن کریم ہی فرما دیتا کہ اس لفظ کو پہلے رکھو اور اس کو پیچھے تو وہ اور بات تھی یا خود آنحضرت ﷺ ایسا فرما دیتے تب بھی بات تھی لیکن ہمارا ایسی دلیری کرنا کسی طرح جائز نہیں ہو سکتا اور ایسی حرکت کو اپنے قانون کے متعلق دنیاوی حکومتیں بھی جائز نہیں قرار دیتیں چہ جائیکہ خدائے علیم و خبیر اپنے کلام میں اس تصرف کو پسند فرمائے۔ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ۔

جناب اس بات کو دیکھ سکتے ہیں کہ یہ آیت حضرت مسیح کی وفات کے متعلق کیسی صاف ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے عیسیٰ میں تجھے وفات دونگا اور تیرا درجہ بلند کروں گا۔ اور تجھے پاک قرار دونگا اور تیرے متبعین کو قیامت تک تیرے منکروں پر غلبہ دونگا اب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سب باتیں پوری ہو چکی ہیں۔ حضرت مسیح کا رفع بھی ہو چکا ہے آپ کو قرآن کریم نے ان سب الزامات سے جو یہود آپ پر لگاتے تھے پاک بھی قرار دے دیا آپ کے متبعین کو آپ کے منکرین پر غلبہ بھی مل چکا ہے اب اگر مُتَوَفِّيْكَ کا وعدہ پورا ہونا باقی ہے تو اس کا مقام یومِ قیامت ہی ہے کیونکہ وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ(3:56) کا عرصہ قیامت کے دن تک ممتد ہے پس اگر مُتَوَفِّيْكَ کا وعدہ اس سے پہلے پورا ہونا تھا تو چونکہ غلبہ نصاریٰ بر یہود ہو چکا ہے آپ فوت بھی ہو چکے ہیں اور اگر بفرضِ محال تقدیم و تاخیر کی وجہ سے اس کے بعد مُتَوَفِّيْكَ کا وعدہ پورا ہونا ہے تو یہ وعدہ تو قیامت تک چلا جائیگا اس کے بعد وفات کا یہ مطلب ہے کہ جب سب لوگ زندہ کئے جائیں گے اس وقت مسیح علیہ السلام کو وفات دی جائیگی اور یہ ہو نہیں سکتا کیونکہ وہ وقت زندہ کرنے کا ہو گا نہ مارنے کا۔ تو مجبوراً یہ ماننا پڑے گا کہ حضرت مسیح وفات سے بالکل محفوظ رہیں گے اس سے ایک تو مُتَوَفِّيْكَ کی تکذیب ہوتی ہے دوسرے مسیح کو خدا ماننا پڑتا ہے کیونکہ موت سے محفوظ تو خدا تعالیٰ کی ذات کے سوا اور کوئی نہیں۔ غرض اس تقدیم و تاخیر سے اس قدر نقائص لازم آتے ہیں کہ اسلام کا ان سے قلع قمع ہو جاتا ہے اور کونسا مسلمان ہے جو اپنی خوشی سے اسلام کی تباہی چاہے گا؟۔

اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم میں تقدیم و تاخیر کی اجازت قلتِ تدبر کی وجہ سے لوگوں نے دی ہے ورنہ كَلَامُ الْمُلُوْكِ مُلُوْكُ الْكَلَامِ اس شہنشاہ کا کلام جسکے سامنے سب دنیا کے بادشاہ لرزاں و ترساں ہیں اور ہر وقت اس کے محتاج ہیں ایسے عیوب سے بالکل پاک ہے اور اس نے جو لفظ جہاں رکھا ہے وہیں درست ہے اس کے آگے پیچھے کرنے کی کسی کو اجازت نہیں اور اگر کوئی آگے پیچھے کرے تو ضرور نقص لازم آئے گا جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ اگر آیت یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ(3:56)۔۔۔ میں تقدیم و تاخیر کریں تو مسیح علیہ السلام کی وفات کا کوئی وقت رہتا ہی نہیں کیونکہ باقی سب وعدے پورے ہو چکے ہیں اور صرف مُتَوَفِّيْكَ کو اگر باقی رکھا جائے تو اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ(68:40) کے بعد اس کی جگہ بنتی ہے جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مسیح کبھی فوت ہی نہ ہونگے پس بہتری یہی ہے کہ تقدیم و تاخیر کو اللہ تعالیٰ کے کلام میں جائز نہ قرار دیا جائے ورنہ اس ذاتِ باری کی ہتک بھی ہو گی اور اپنے علم کی بھی کمزوری ثابت ہوتی ہے۔ میں جناب کے سامنے اس وقت ایک دو مثالیں پیش کرتا ہوں جن میں لوگوں نے تقدیم و تاخیر کا فیصلہ دیا ہے لیکن دراصل ان کی غلطی ہے قرآن کریم کے لفظ جہاں رکھے گئے ہیں وہیں درست ہیں ان کا بلانا درست نہیں۔

مثلاً بعض علماء نے لکھا ہے کہ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ(البقرہ: ۵) میں تقدیم و تاخیر ہے کیونکہ پہلے اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ(2:5) چاہئے جو پہلے نازل ہوا اس کا ذکر پہلے مناسب تھا اور جو بعد میں نازل ہوا اس کا ذکر بعد میں چاہئے تھا۔ لیکن ایسا کہنے والوں نے صرف ایک ہی طرف نظر رکھی ہے یعنی نزول کے مدارج کو تو مد نظر رکھا ہے لیکن یہ نہیں دیکھا کہ ترتیب کے لئے کئی امور کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے مثلاً جب دو شخصوں کا ذکر کیا جائے تو بسا اوقات ان کی عمروں کے لحاظ سے ان کے ناموں کا ذکر کیا جائے گا لیکن کبھی ان کے قرابت کے لحاظ سے نام لئے جائیں گے اور اگر کوئی شخص اعتراض کرے تو یہ اس کے قلتِ تدبر کا نتیجہ ہو گا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک نوعمر حاکم اگر کسی کے ہاں جائے تو وہ اس کے استقبال اور خاطر و مدارات کی طرف متوجہ ہو گا نہ کہ اس کے ساتھ کے بڑی بڑی عمروں کے ملازمین کی طرف۔ پس صرف کسی چیز کا زمانہ میں پہلے ہونا اس بات کو نہیں چاہتا کہ اس کا ذکر پہلے کیا جائے بلکہ بسا اوقات ترتیب دینے میں مراتب کو مد نظر رکھا جاتا ہے

اور بڑی شان والی اشیاء کا ان سے ادنیٰ مرتبہ والی اشیاء سے پہلے ذکر کیا جاتا ہے۔ مجھے اس بات کے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ ایک مسلمان توریت اور انجیل کو مان کر قرآن کریم کو نہیں مانتا بلکہ چونکہ وہ قرآن کریم کو مانتا ہے اس لئے توریت اور انجیل کو بھی مانتا ہے اور اگر قرآن کریم ان کتب کی تصدیق نہ کرتا اور حضرت موسیٰؑ اور حضرت مسیح علیہ السلام کے دعاویٰ کے برحق ہونے کی شہادت نہ دیتا تو ہمارے پاس کوئی ثبوت نہ تھا کہ ہم ان دونوں برگزیدوں کو خدا کے نبی یقین کرتے پس ایک مسلمان کا ایمان پہلی کتابوں پر اس لئے نہیں کہ اس نے ان کی صداقت کا امتحان کرلیا ہے بلکہ صرف اس لئے کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ کتب سچی ہیں اگر قرآن کریم ان کی صداقت کی شہادت نہ دیتا تو بہت سے مسلمان ان کو کتب سماویہ میں داخل کرنے سے بالکل انکار کر دیتے کیونکہ ان کتابوں میں اس قدر تحریف ہو چکی ہے کہ انہیں پڑھ کر تعجب ہوتا ہے مثلاً توریت کے آخر میں موسیٰؑ کی نسبت یہ لکھا ہوا ہو نا کہ پھر موسیٰؑ مر گیا اور اب تک اس کی قبر کا پتہ نہیں ملتا اور اب تک اس جیسا کوئی انسان نہیں پیدا ہوا صاف بتا رہا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی وفات کے سالہا سال بعد یہ فقرات لکھے گئے ہیں پھر ہم اسے موسیٰؑ کا الہام کیونکر کہہ سکتے ہیں غرض کہ توریت و انجیل کو اگر ہم مانتے ہیں تو صرف اس لئے کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ کتابیں بھی ابتداء میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی اتری تھیں پس ہمارا ان پر ایمان لانا براہِ راست نہیں بلکہ قرآن کریم کے ذریعہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ(2:5) بالکل درست ہے اور اس میں کوئی تقدیم و تاخیر نہیں۔ یہ آیت اس ترتیب سے اپنے پورے معانی ادا کر سکتی ہے اگر اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ(7:3-4) کو پیچھے کرکے اس کے معنے کریں اور تقدیم و تاخیر کو تسلیم کریں تو وہ لطیف اشارہ جو اس آیت میں قرآن کریم کے اس احسان کی طرف کیا گیا ہے جو اس نے کتب سابقہ پر کیا ہے باطل ہو جاتا ہے اور وہ لطافت اس کلام میں رہتی ہی نہیں کیونکہ گو پہلی کتب نزول کے لحاظ سے پہلے ہیں لیکن مسلمان کا ایمان ان پر قرآن کریم پر ایمان لانے کے بعد ہوتا ہے مثلاً ایک ہندو جب اسلام لاتا ہے تو کیا انجیل اور توریت کو مان کر پھر قرآن کو مانتا ہے یا پہلے قرآن کریم کو مان کر اس میں ان کتب کی تصدیق دیکھ کر ان کتب پر ایمان لاتا ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ وہ پہلے قرآن کریم کو مانتا ہے پھر اس کے اشارہ سے ان کی صداقت کو بھی تسلیم کرتا ہے اور چونکہ اس آیت میں ذکر بھی ایمان لانے کا ہے اور ایمان کے لحاظ سے ایک مسلمان قرآن کریم کو مان کر پھر دوسری کتب کو مانتا ہے پس ضروری تھا کہ جس ترتیب سے یہ آیت ہے اسی ترتیب سے اس کے معنے کئے جائیں اور جن لوگوں نے اس میں تقدیم و تاخیر کو جائز رکھا ہے انہوں نے اس لطیفہ کو جو ابھی مذکور ہوا ہے نہیں سمجھا۔

اسی طرح سورہ جمعہ میں ایک آیت ہے کہ وَاِذَا رَاَوۡا تِجَارَۃً اَوۡ لَہۡوَا ۣانۡفَضُّوۡۤا اِلَیۡہَا وَتَرَکُوۡکَ قَآئِمًا ؕ قُلۡ مَا عِنۡدَ اللّٰہِ خَیۡرٌ مِّنَ اللَّہۡوِ وَمِنَ التِّجَارَۃِ ؕ وَاللّٰہُ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ(الجمعة: ۱۲) اس آیت سے بھی یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ جو لفظ قرآن کریم میں کسی ترتیب سے بیان کئے جائیں وہی ترتیب اس سے مراد لی جائے کیونکہ اس آیت میں ایک جگہ تو تجارت کو لھو سے پہلے بیان کیا ہے اور دوسری جگہ لھو کو تجارت سے پہلے بیان کیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ ترتیب مراد نہیں ہے ورنہ ایک ہی آیت میں یہ دو الفاظ دو طرح کیوں بیان کئے جاتے؟ اور کیوں ایک دفعہ ایک لفظ کو اور دوسری دفعہ دوسرے لفظ کو پہلے رکھا جاتا؟ مگر میں جہاں تک اس آیت پر غور کرتا ہوں مجھے یہ آیت برخلاف ان لوگوں کے قیاس کے جو اس سے تقدیم و تاخیر ثابت کرتے ہیں اس بات پر حجت معلوم ہوتی ہے کہ قرآن کریم کا ایک ایک لفظ جہاں رکھا گیا ہے اسی جگہ مناسب تھا اور دوسری جگہ اس کا رکھنا جائز نہیں اور بجائے ترتیب کلمات کے خلاف ہونے کے یہ اس کی مؤید ہے اور وہ اس طرح کہ آیت کریمہ میں دو باتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے ایک تو یہ کہ جب تجارت و لھو کو دیکھتے ہیں تو تجھے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور دوسرے یہ کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ لھو و تجارت سے بہتر ہے پہلی صورت میں تو تجارت کو لھو سے پہلے بیان کیا ہے اور دوسری صورت میں لھو کو تجارت سے پہلے بیان کیا ہے اور جہاں تک میں غور کرتا ہوں مجھے اس اختلاف میں قرآن کریم کی شانِ عظیم نظر آتی ہے وہ اس طرح کہ پہلی صورت میں یہ مذکور ہے کہ لوگ تجارت اور لھو کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں اور رسول اور دین کی طرف کم خیال کرتے ہیں اب یاد رکھنا چاہئے کہ اس میں یہ بتانا مدنظر ہے کہ انسان دنیاوی فوائد اور اپنے نفس کے آرام کو دین اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر عام طور پر مقدم کر لیتا ہے اب یہ دیکھنا چاہئے کہ دین سے غافل کر دینے والی جو دو چیزیں بیان کی گئی ہیں یعنی تجارت اور لھو ان میں سے کونسی دین سے زیادہ غافل کر دینے والی ہے۔ اسی کا پہلے ذکر کرنا حسنِ کلام کے لئے ضروری ہو گا اور یہ بات ظاہر ہے کہ تجارت لھو سے زیادہ غافل کرنے والی ہے کیونکہ تجارت میں انسان کو فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے اور لھو میں صرف ایک غفلت ہی غفلت ہوتی ہے ورنہ فائدہ کچھ نہیں پس تجارت زیادہ موجب ہے دین سے غفلت کی بہ نسبت لھو کے۔ کہ وہ بھی موجبِ غفلت تو ہے لیکن تجارت سے کم ہے۔ کیونکہ تجارت کی طرف رغبت کرنے کے لئے بعض زبردست محرک بھی ہوتے ہیں مثلاً اپنے کھانے پینے کا انتظام اور اپنے بیوی بچوں کے معاش کی فکر۔ اور لہو میں کوئی حقیقی مجبوری نہیں ہے جو انسان کو دین سے غافل کر دے۔ لہو کو انسان بغیر کسی نقصان کے خطرہ کے چھوڑ سکتا ہے لیکن تجارت کو بغیر خطرہ نقصان کے نہیں چھوڑ سکتا۔ پس تجارت کا اختیار کرنا نفع کا موجب اور اس کا ترک کرنا نقصان کا باعث ہوتا ہے اور لہو کا اختیار کرنا صرف دل کے بہلانے کے لئے ہوتا ہے نہ کہ کسی نفع کے لئے اور اس کے چھوڑ دینے سے کوئی نقصان نہیں پس تجارت لہو کی نسبت لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچنے کی زیادہ محرک ہے اس لئے اس جگہ تجارت کا ذکر لہو سے پہلے کرنا ہی زیادہ مناسب تھا اور اس کے خلاف مناسب نہ تھا۔

اب یہ سوال ہے کہ پھر اس آیت کے آخر میں یہ جو فرمایا ہے کہ قُلۡ مَا عِنۡدَ اللّٰہِ خَیۡرٌ مِّنَ اللَّہۡوِ وَمِنَ التِّجَارَۃِ(62:12) تو یہاں کیوں لہو کو تجارت سے پہلے بیان کیا کیوں نہ یہاں بھی وہی ترتیب مد نظر رکھی تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں وہ بات نہیں بیان کی گئی جو پہلے حصہ آیت میں بیان کی گئی تھی بلکہ یہاں موضوع کے بدل جانے کی وجہ سے ترتیب میں بھی فرق کرنا ضروری تھا اور اگر ترتیب میں فرق نہ کیا جاتا تو نقص لازم آتا اور وہ اس لئے کہ یہاں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ لہو اور تجارت سے بہتر ہے پس یہاں ان دونوں الفاظ کی ترتیب میں یہ نہیں مد نظر رکھا جائے گا کہ دونوں میں سے کونسی شئے زیادہ غفلت کا باعث ہے بلکہ یہاں مد نظر رکھا جائے گا کہ مَا عِنْدَ اللّٰهِ کس چیز سے زیادہ بہتر ہے اگر لہو سے زیادہ بہتر ہے تو لہو کو پہلے رکھا جائے اور تجارت کو بعد میں۔ اور یہ بات ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ تجارت ایک حد تک اپنے اندر فوائد بھی رکھتی ہے یعنی اگر آخرت کے لئے سکھ کا موجب نہیں تو کم سے کم اس دنیا کی زندگی کے لئے تو اس کے ذریعہ سے سامانِ راحت مہیا کیا جا سکتا ہے پس لہو جو نہ دنیا کے لئے بہتر ہے نہ دین کے لئے اس موقع پر اسی کو پہلے بیان کرنا ضروری تھا تا کہ کلام کی عظمت قائم رہے اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی شخص کہے کہ فلاں شخص من کیا دو من اٹھا سکتا ہے تو اس فقرہ میں من کو دو من سے پہلے بیان کرنا ضروری ہے اور اگر بر خلاف اسکے یہ کہے کہ فلاں شخص دو من کیا ایک من بھی اٹھا سکتا ہے تو کلام مہمل ہو جائے گا اسی طرح اس جگہ اگر یوں بیان کیا جاتا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ تجارت سے بہتر ہے بلکہ لہو سے بھی تو کلام کی لطافت میں فرق آجاتا کیونکہ جب فضیلت میں مقابلہ ہو تو ضرور ہے کہ پہلے ایسی اشیاء پر فضیلت ظاہر کی جائے جو کم درجہ کی ہیں اور اس کے بعد ان پر جو درجہ میں زیادہ ہیں اور اگر پہلے بڑے درجہ کی اشیاء پر فضیلت ظاہر کی جائے گی تو انکے بعد چھوٹے درجہ پر فضیلت کا ظاہر کرنا تحصیلِ حاصل ہو گا اور وہ حصہ کلام کا لغو اور بے فائدہ ہو گا پس اس موقعہ پر چونکہ مَا عِنْدَ اللّٰہِ کی فضیلت ظاہر کرنی مقصود تھی ضروری تھا کہ پہلے لہو کو بیان کیا جاتا جو تجارت سے ادنیٰ درجہ کی چیز ہے ورنہ کلام کی عظمت زائل ہو جاتی غرض کہ اس آیت نے تو ثابت کر دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں ترتیب کا پورا لحاظ رکھا جاتا ہے اور کوئی لفظ اپنی جگہ سے ہلایا نہیں جا سکتا۔

میرا ان دونوں مثالوں کے بیان سے یہ مطلب ہے کہ قرآن کریم کی کسی آیت کی نسبت اپنے خیالات کے مطابق معنے کرنے کے لئے اس کے الفاظ میں تقدیم و تاخیر قرار دینی ایک خطرناک راہ ہے اور کسی کا حق نہیں کہ بلا اجازت قرآن کریم اور بغیر تفسیر آنحضرت ﷺ کے ایسی جرأت کرے ورنہ امن اٹھ جائے گا اور جو شخص چاہے گا اپنی خواہش کے مطابق آگے پیچھے لفظ کر کے معنے کر لیگا میرا دل تو چاہتا تھا کہ میں جناب کو دکھاؤں کہ جس قدر آیات میں تقدیم و تاخیر فرض کر لی گئی ہے ان میں وہی ترتیب مناسب ہے جو قرآن کریم میں رکھی گئی ہے اور جنہوں نے اس کے خلاف کہا ہے وہ غلطی پر ہیں لیکن قلتِ گنجائش مانع ہے اس لئے میں صرف ان دو مثالوں پر ہی اکتفا کرتا ہوں جن لوگوں کو تقدیم و تاخیر کی طرف توجہ ہوئی ہے اصل میں ان کو ایک دھوکا لگا ہے کہ انہوں نے ترتیب کے لئے پہلے کچھ قوانین اپنے ذہن میں بنائے ہیں کہ ترتیب الفاظ فلاں فلاں اصول کی بناء پر ہونی چاہئے لیکن چونکہ انسانی دماغ کمزور ہے وہ بہت سی وجوہات کو ترک کر گئے اگر وہ بجائے خود وجوہات کی ترتیب بنانے کے اللہ تعالیٰ کے کلام پر غور کرتے کہ اس میں کیسی ترتیب مد نظر ہے تو ان کو یہ ٹھوکر نہ لگتی آیت اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ(3:56) میں بھی یہی غلطی لگی ہے اور اس کا باعث یہی ہے کہ بجائے قرآن کریم کے ماتحت اپنے خیالات کرنے کے قرآن کریم کو اپنے خیالات کے ماتحت کیا گیا اور یہ عقیدہ جما کر کہ حضرت مسیحؑ زندہ ہیں قرآن کریم پر غور کیا پھر جہاں مشکل پڑی وہاں تقدیم و تاخیر کے مسئلہ کے پیچھے پناہ لے لی لیکن حق یہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع ان کی وفات کے بعد ہوا جیسا کہ کل مؤمنوں اور نبیوں کا ہوتا ہے اور اسی رفع کے حصول کے لئے مسلمانوں کو دعا سکھائی گئی ہے کہ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ اور احادیث سے مؤمنوں کا رفع ثابت ہے جیسا کہ حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ یَقُوْلُ اللّٰہُ مَنْ تَوَاضَعَ لِیْ ھٰکَذَا رَفَعْتُہٗ ھٰکَذَا۔(مسند احمد بن حنبل جلد اول صفحہ ۴۴)

آنحضرت ﷺ کی وفات پر صحابہؓ کا اجماع بھی اسی مسئلہ پر ہوا ہے کہ کل انبیاء وفات پا گئے ہیں اور اسکی یہ وجہ ہوئی کہ آپ کی وفات پر حضرت عمرؓ کو خیال پیدا ہو گیا تھا کہ آپ ابھی زندہ ہیں اور دوبارہ تشریف لائیں گے اور آپ کو اپنے اس اعتقاد پر اسقدر یقین تھا کہ آپ اس شخص کی گردن اڑانے کو تیار تھے جو اسکے خلاف کہے لیکن حضرت صدیقؓ جب تشریف لائے اور آپ نے کل صحابہؓ کے سامنے یہ آیت پڑھی کہ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ(اٰل عمران: ۱۴۵) تو حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میرے پاؤں کانپ گئے اور میں صدمہ کے مارے زمین پر گر گیا اور صحابہؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں یوں معلوم ہوا کہ جیسے یہ آیت آج ہی اتری ہے اور ہم اس دن اس آیت کو بازاروں میں پڑھتے پھرتے تھے پس اگر کوئی نبی زندہ موجود ہوتا تو یہ استدلال درست نہیں تھا کہ جب سب نبی فوت ہو گئے تو آپ کیوں فوت نہ ہوتے حضرت عمرؓ کہہ سکتے تھے کہ آپ کیوں دھوکہ دیتے ہیں حضرت مسیحؑ ابھی زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں وہ زندہ ہیں تو کیوں ہمارے آنحضرت ﷺ زندہ نہیں رہ سکتے مگر سب صحابہؓ کا سکوت اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ سب صحابہ کا یہی مذہب تھا کہ حضرت مسیحؑ فوت ہو گئے ہیں۔

امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ حضرت ابن عباسؓ کا قول نقل فرماتے ہیں کہ مُتَوَفِّيْكَ مُمِيْتُكَ اسی طرح امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی مذہب تھا کہ مَاتَ عِيْسٰی جیسا کہ کتاب مجمع البحار میں لکھا ہے باقی ائمہ کا سکوت ظاہر کرتا ہے کہ وہ بھی اس عقیدہ کے مخالف نہ تھے پس وفات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ بالکل صاف ہے اور قرآن کریم اور احادیث اسی کی مؤید ہیں جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ لَوْ كَانَ مُوْسٰی وَ عِيْسٰی حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا اِلَّا اتِّبَاعِیْ(الواقیت و الجواهر مرتبه امام شعرانی ، صفحه ۲۰) ہاں حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ بعد میں مسلمانوں میں رائج ہوا ہے مگر اسکو مان کر قرآن کریم کی تکذیب لازم آتی ہے۔

کوئی تعجب نہیں کہ اس مسئلہ کے پھیلنے کا باعث الفاظ يَنْزِلُ فِيْكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ بھی ہوں جو مسیح موعود کی نسبت آئے ہیں لیکن يَنْزِلُ سے يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ کسی طرح مراد نہیں ہو سکتا نہ قرآن کریم میں نہ حدیث شریف میں کہیں بھی آسمان سے اترنے کا ذکر نہیں آیا پس يَنْزِلُ کے آسمان سے اترنے کے معنی لینے درست نہیں ہو سکتے يَنْزِلُ کے معنی يُبْعَثُ کے ہی ہیں اور یہ لفظ مسیح موعود کی عظمت کے اظہار کے لئے استعمال کیا گیا ہے جیسے کہ دجال کے لئے خروج کا لفظ ہے نزول کا لفظ ہمارے آنحضرت ﷺ کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے جیسے کہ فرمایا کہ قَدۡ اَنۡزَلَ اللّٰہُ اِلَیۡکُمۡ(65:11) ذِکۡرًا رَّسُوۡلًا یَّتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخۡرِجَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؕ وَمَنۡ یُّؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ وَیَعۡمَلۡ صَالِحًا یُّدۡخِلۡہُ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ قَدۡ اَحۡسَنَ اللّٰہُ لَہٗ رِزۡقًا(الطلاق: ۱۱-۱۲) اسی طرح قرآن کریم میں خلق کے معنوں میں بھی نزول کا لفظ آتا ہے جیسا کہ فرمایا وَاَنۡزَلۡنَا الۡحَدِیۡدَ(الحدید: ۲۶) یا یہ کہ یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ قَدۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمۡ لِبَاسًا یُّوَارِیۡ سَوۡاٰتِکُمۡ وَرِیۡشًا(الاعراف: ۲۷) پس لفظ نزول سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہیں اور آسمان سے نازل ہونگے کیونکہ آسمان کا لفظ احادیث میں اس جگہ استعمال نہیں کیا گیا۔

اب میں دوسرے شبہ کا ازالہ بھی کر دینا مناسب خیال کرتا ہوں کہ چونکہ ابھی تک دجال ظاہر نہیں ہوا اس لئے مسیح بھی نہیں آسکتا اس کے جواب میں میں یہ عرض کرونگا کہ دجال ظاہر ہو چکا ہے لیکن لوگوں نے اسے پہچانا نہیں دجال کے معنے قاموس میں لکھے ہیں کہ فِرْقَةٌ عَظِيْمَةٌ تَحْمِلُ الْمَتَاعَ لِلتِّجَارَةِ دجال ایک بڑی جماعت کو کہتے ہیں کہ جو اموال تجارت کو دنیا میں لئے پھریں پھر دجال کے معنے ہیں ملمع ساز کے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت کوئی ایسی قوم بھی ہے یا نہیں جس کی تجارت سب دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور جو نہایت ملمع ساز ہے۔ تو ہماری نظر فوراً یوروپین تاجروں اور پادریوں کی طرف پھر جاتی ہے جو مسیح کی خدائی کو عجیب رنگ آمیزی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور اسوقت جس قدر عظیم فتنہ پادریوں کا ہوا ہے اس کی نظیر کبھی نہیں ملتی چونکہ وہ اس کثرت سے دنیا میں پھیل گئے ہیں کہ ہر علاقہ میں ان کے آدمی موجود ہیں جو لوگوں کو صراط مستقیم سے پھیر کر اور اور راہوں پر چلانا چاہتے ہیں اور ان کے فتنہ کا مقابلہ مسلمانوں کی طاقت سے باہر ہے آنحضرت ﷺ نے بھی دجال سے مراد اشاعت مسیحیت ہی لی ہے کیونکہ آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص دجال کے فتنہ سے محفوظ رہنا چاہے وہ سورہ کہف کی دس اول کی آیتیں اور دس آخر کی آیتیں پڑھے اور ان دونوں مقامات میں مسیحیوں کا ذکر ہے اور خدا کا بیٹا ماننے پر ناراضگی ظاہر کی گئی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دجال سے مراد آنحضرت ﷺ کے نزدیک بھی مسیحی فتنہ ہی ہے جن کے پادری اور دعاۃ دنیا کے ہر حصہ میں پھر کر ایک خدا کی بجائے تین خداؤں کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں ورنہ آپ ﷺ دجالی فتنہ سے بچنے کے لئے وہ آیات تلاوت کرنے کا حکم نہ فرماتے جن میں مسیحی مذہب کا رد ہے۔

اب جناب کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ دجال آگیا ہے اور یہ کہ دجالی فتنہ سے مراد پادریوں کا فتنہ ہے جو ہزاروں طریقوں سے دنیا کو مسیحی مذہب میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کانے سے مراد یہی ہے کہ دین کی آنکھ اس کی بند ہوگی صرف دنیا میں مشغول ہو گا جیسا کہ ظاہر بھی ہے اور یہ تاویلات بعیدہ نہیں ہیں بلکہ احادیث اسکی تصدیق کرتی ہیں جیسا کہ ابنِ صیاد کے واقعہ سے ظاہر ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گئے اور حضرت عمرؓ نے اجازت طلب فرمائی کہ اسے قتل کر دیں اور قسم کھائی کہ یہی دجال ہے حالانکہ وہ کانا نہ تھا اور دوسری علامات بھی اس میں پائی نہ جاتی تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی گو آپ کو قتل سے روک دیا لیکن قطعی طور پر اس کے دجال ہونے سے انکار نہیں کیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور حضرت عمرؓ بھی اس بات کو قرینِ قیاس خیال فرماتے تھے کہ وہ علامات جو دجال کی بابت بیان کی گئی ہیں ممکن ہے کہ اپنے ظاہری معنوں کے علاوہ کسی اور رنگ میں پوری ہوں ورنہ چاہئے تھا کہ آپؐ حضرت عمرؓ سے فرماتے کہ تم اسے دجال کیونکر کہتے ہو حالانکہ نہ یہ کانا ہے نہ اس کے پاس گدھا ہے پھر یہ مدینہ میں رہتا ہے مگر آپؐ کا حضرت عمرؓ کے قول کا پوری طرح رَدّ نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ آپؐ دجال کے معاملہ میں تاویل کی گنجائش کے معتقد تھے۔

یہ امر بھی خاص طور پر قابلِ غور ہے کہ مسیح اور دجال کے متعلق جس قدر اخبار ہیں وہ سب بطور پیشگوئیوں کے ہیں اور اخبارِ غیبیہ ہمیشہ تعبیر طلب ہوتی ہیں جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں کڑے سونے کے دیکھے لیکن ان کی تعبیر یہ فرمائی کہ دو مدعیانِ کاذب خروج کریں گے اب جو شخص زور دے کہ میں تو اس تعبیر کو نہیں مانتا وہ غلطی کرتا ہے پس مسیح موعود اور دجال کی نسبت جس قدر اخبار ہیں محتاجِ تعبیر ہیں اور اپنے وقت پر ظاہر ہو کر ہی ان کی صداقت کا پتہ لگ سکتا ہے چنانچہ جب معاملہ کھل گیا تو اب بات صاف ہو گئی اور ہر ایک شخص جو ذرا بھی تدبر کرے سمجھ سکتا ہے کہ دجال سے مراد در حقیقت پادری لوگ ہی ہیں جو مسیح کی خدائی منواتے پھر رہے ہیں اور ان کے مارنے سے مراد ان کے مکائد کا دفعیہ ہے چنانچہ حدیث يَكْسِرُ الصَّلِيبَ بھی اسی بات پر شاہد ہے کہ مسیح موعود مسیحی دین کو دلائل و براہین سے ایسا رَدّ کرے گا کہ آخر صلیب ٹوٹ جائے گی یعنی اکثر لوگ اسلام قبول کریں گے اور مسیحیت کا زور ٹوٹ جائے گا۔ ورنہ یہ خیال نہایت ہی لغو ہو گا کہ حضرت مسیح آکر لکڑیاں توڑتے پھریں گے یہ بات ایک نبی کی شان کے خلاف ہے۔

مذکورہ بالا دونوں شبہات کے دور ہونے کے بعد یعنی بعد اثباتِ وفاتِ مسیح و خروجِ دجال بموجب خبرِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسیح موعود کا اسی امت میں سے ہونا ضروری ہے اور اس کا زمانہ یہی

ہے کیونکہ دجال ظاہر ہوچکا ہے اور دیگر آیات بھی پوری ہوچکی ہیں اور چونکہ جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں صرف ایک ہی شخص مدعی ہے اس لئے اس کے دعوے کو ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں ورنہ تکذیب قرآن کریم و احادیث آنحضرت ﷺ لازم آتی ہے۔

حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود و مہدی مسعود کے دعوے پر جو آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ شاہد ہیں ان میں سے چند بطور نمونہ میں پہلے لکھ آیا ہوں مگر یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اسی پر بس نہیں کی بلکہ آپ کی تائید میں اس قدر نشانات دکھائے ہیں اور ایسے زبردست دلائل سے آپ کی صداقت کو ثابت کیا ہے کہ ان کے بیان کرنے کی اس مکتوب میں گنجائش نہیں بلکہ وہ نہایت ضخیم کتب میں بیان ہو سکتی ہیں اور اکثر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں جنکی تعداد اسی (۸۰) سے بھی اوپر ہے درج ہیں اگر جناب کو اللہ تعالیٰ اس طرف متوجہ کرے کہ اس ہدایت کی تحقیقات فرمادیں تو وہ کتب جناب کی خدمت میں پیش کی جاسکتی ہیں مگر میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان نشانات سے جو آپ کے لئے اللہ تعالیٰ نے ظاہر کئے ہیں چند ایک بطور نمونہ بیان کردوں تاکہ آپ کے دعوے پر چند اور شہادتوں سے جناب کو آگاہی ہو جائے۔

اول تو میں آپ کا نہایت زبردست علمی معجزہ بیان کرتا ہوں جو قرآن کریم کے معجزہ کے مشابہ ہے اور وہ آپ کی بے نظیر عربی کتب ہیں جن کے ساتھ آپ بارہا اعلان کرتے رہے ہیں کہ مصر و شام و عرب کے علماء بھی اگر مل کر انکی نظیر لانا چاہیں گے تو نہ لا سکیں گے اور بعض کتب کے ساتھ آپ نے انعام بھی مقرر کیا ہے کہ اگر کوئی ان کی نظیر لا سکے تو میں اسے اس قدر انعام دونگا لیکن تعجب ہے کہ باوجو د اس قدر عداوت کے جو علماء کو آپ سے تھی اور ہے اس وقت تک کسی شخص کو آپ کی عربی کتب کے مقابلہ کی جرأت نہیں اور جبکہ ایک شخص نے کوشش کرنی چاہی تو اللہ تعالیٰ نے اسے پیشتر اسکے کہ اسکی کتاب ختم ہو کر طبع ہوتی اس دنیا سے اٹھا لیا اور اس طرح اپنے مامور کی صداقت کو ثابت کر دیا اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت ہماری جماعت کے آدمی مصر و شام و عرب میں موجود ہیں اور آپ کی کتب کو ان ممالک میں شائع کیا گیا ہے لیکن اس وقت تک کسی شخص کو جرأت نہیں ہو سکی کہ انکے مقابلہ پر کوئی کتاب تصنیف کرے بلکہ بیروت کے بعض بڑے بڑے علماء نے وہ کتابیں طلب کی ہیں اور ان کی خوبی کے مقر ہیں چنانچہ پچھلے دنوں میں بیروت کے ایک عالم مدرسہ سوریہ کے مہتمم صاحب نے اور ایک دوسرے صاحب نے حضرت کی عربی کتب طلب کی ہیں اور ارادہ ظاہر کیا ہے کہ ان سے اپنے اہل ملک کو بھی فائدہ پہنچائیں اسی طرح جامع ازھر کے دو علماء نے بھی آپ کی ایک کتاب پڑھ کر سخت حیرت ظاہر کی اور آپ کی کتب اپنے حلقہ ازھر میں تقسیم کرنے کے لئے طلب کیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ علمائے کرام نے بجائے جواب دینے کے مصنف کو گالیاں دینے میں کوئی کسر نہیں رکھی اور کفر کے فتوے لگائے اور اسلام کے مخالفین کی طرح چند صرفی نحوی غلطیاں نکالنی چاہیں لیکن جب ان کو وہی باتیں قرآن کریم اور احادیث میں دکھائی گئیں تو ان سے کوئی جواب نہ بن پڑا لیکن باوجود بار بار غیرت دلانے کے کسی کو یہ طاقت نہ ہوئی کہ ایک چھوٹا سا رسالہ ہی ان کتب کے خلاف لکھتا حالانکہ اس وقت ہندوستان میں بہت سے علماء موجود ہیں اور ان کو اپنے علم کا بہت دعویٰ ہے مگر اس معاملہ میں سب کی طاقتیں سلب ہو گئیں ہاں بعضوں نے یہ بھی کہا کہ آپ نے کوئی عرب چھپا رکھا ہے جو آپ کی جگہ کتابیں تصنیف کرتا ہے لیکن جب کہا گیا کہ تم لوگ اپنے ساتھ کل علمائے مصر اور شام کو شامل کر لو اور سب مل کر جواب دو تو بھی انہوں نے مقابلہ کی طرف رجوع نہ کیا۔ اور بات یہ ہے کہ یہ اعتراض وہی ہے جو قرآن کریم پر عربوں نے کیا تھا کہ یہ الہام نہیں بلکہ یہ کسی ایسے شخص کا کلام ہے جو نہایت فصیح اللسان ہے اور پوشیدہ طور پر محمد (ﷺ) کو سکھا دیتا ہے اور مسیحی آج تک یہ اعتراض کرتے چلے آئے ہیں پس اگر یہ اعتراض کوئی وقعت رکھتا ہے تو اس میں آپ اور آنحضرت ﷺ دونوں شریک ہیں اور کیا ہی مبارک ہے وہ انسان جسے آنحضرت ﷺ کے ساتھ کسی امر میں شرکت کا موقع ملے۔ غرض کہ آپ کی عربی کتب اب تک لاجواب پڑی ہیں اور کسی کو ان کا جواب لکھنے کی طاقت نہیں ملی۔ پس جس طرح قرآن کریم کی صداقت کی یہ دلیل ہے کہ اس کی نظیر لانے سے لوگ قاصر ہیں اسی طرح مسیح موعود کی صداقت کی بھی یہی دلیل ہے کہ آپ کی عربی کتب کی نظیر لانے سے لوگ قاصر ہیں اور اس کی وجہ کہ آپ کو وہ معجزہ کیوں دیا گیا جو آنحضرت ﷺ کو دیا گیا تھا یہ ہے کہ چونکہ مسیح موعود نے بسبب قربِ روحانی آنحضرت ﷺ سے کامل مشابہت اختیار کرنی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسے بھی وہ معجزہ دیا جو آنحضرت ﷺ کو دیا تھا۔ ہاں آقا و خادم کے معجزہ میں یہ فرق ضرور ہے کہ وہاں تو تین آیات کا مطالبہ تھا اور یہاں کم سے کم ایک جزو لکھنے کی شرط ہے مگر نہ تو قرآن کریم کے مقابلہ میں کسی کو تین آیات لکھنے کی توفیق ملی اور نہ اب باوجود اس قدر اشاعت علوم کے کوئی شخص عرب و شام و مصر میں سے ایک جزو بھی آپ کی کتب کے مقابلہ پر لکھ سکا۔ وَرُسُلِہٖ ؕ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ(57:22)۔

اس معجزہ کی شان اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ ہندوستان کے رہنے والے ہیں اور ان کی مادری زبان عربی نہیں اور پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ کسی مشہور عربی مدرسہ کے سند یافتہ نہیں نہ کسی مشہور عالم سے آپ نے تعلیم حاصل کی ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بطورِ اعجاز کے آپ کو یہ طاقت دی گئی ہے۔

بعض لوگ یوں بھی کہہ دیتے ہیں کہ بہت سے لوگ ہیں جنکی کتب بے نظیر ہیں لیکن اول تو یہ اعتراض قرآن کریم پر بھی پڑتا ہے۔ دوم ہم اس کو تسلیم کرتے ہیں کہ بہت سی کتب بے نظیر خیال کی گئی ہیں لیکن وہ کتب اس لئے قابل التفات نہیں کہ ان مصنّفین نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ ان کی کتب بے نظیر ہیں حالانکہ یہاں قبل از وقت دعویٰ موجود ہے اور باوجود مخالفت کے کوئی مقابلہ نہیں کر سکا۔

اس کے علاوہ ایک اور نشان ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا ہے اور وہ اپنے الہامات شائع کرنے کے بعد قریباً پچیس چھبیس سال کی زندگی کا عطا ہونا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ لَاَخَذۡنَا مِنۡہُ بِالۡیَمِیۡنِ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡہُ الۡوَتِیۡنَ(الحاقة: ۴۵ تا ۴۷) یعنی اگر یہ شخص ہم پر افتراء کرتا اور اپنی طرف سے الہام بنا کر سناتا تو ہم اس کی رگِ گردن کاٹ دیتے اب ہم اس معیار کے مطابق آپ کے دعوے کو پرکھتے ہیں تو آپ کو براہین احمدیہ اپنی پہلی تصنیف کے شائع کرنے کے بعد ستائیس اٹھائیس سال تک زندگی عطا ہوئی حالانکہ آپ نے اس کتاب میں اپنے الہامات نہایت زور اور تحدی کے ساتھ شائع فرمائے تھے پس اگر آپ مفتری ہوتے تو ضرور تھا کہ کم سے کم تئیس (۲۳) سال میں آپ ضرور ہلاک ہو جاتے کیونکہ آنحضرت ﷺ کو تئیس سال مہلت ملی اور اگر کسی مفتری کو اس قدر مہلت مل سکتی ہے تو پھر نہ صرف اس آیت کی تکذیب ہوتی ہے بلکہ خود آنحضرت ﷺ کی صداقت پر شبہات وارد ہوتے ہیں پس آپ کا اس طویل عرصہ تک زندہ رہنا آپ کے برحق ہونے کا ایک زبردست ثبوت ہے۔

اگر یہ آیت کریمہ نہ بھی ہوتی تو بھی عقل کبھی اجازت نہیں دیتی کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ پر متواتر جھوٹ بولتا ہے اور لوگوں کو گمراہ کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اسے کوئی سزا نہیں دیتا اگر اس طرح ممکن ہو تو سچے ماموروں اور کاذبوں میں کوئی مابہ الامتیاز نہیں رہتا اور امان اٹھ جاتا ہے اور صداقت کے معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہتا اللہ تعالیٰ تو بہت ہی غیور ہے ہم دیکھتے ہیں کہ

دنیاوی حکومتیں سب سے زیادہ اس مجرم پر ناراض ہوتی ہیں جو جھوٹا عہدہ دار بن جاتا ہے اور پبلک کو دھوکا دے کر لوٹتا ہے۔ ایسا شخص کبھی بے سزا نہیں چھوڑا جاتا بلکہ اسے فوراً پکڑا جاتا ہے اور جناب تو اس مسئلہ کو دوسروں کی نسبت زیادہ سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کوئی شخص جھوٹا حاکم بن جائے اور اس کی خبر نہ رکھی جائے تو حکومت کے سب کل پرزے کس طرح ڈھیلے ہو جاتے ہیں اور کیونکر سب انتظام حکومت درہم برہم ہو جاتا ہے پس عقلِ سلیم بھی کبھی اجازت نہیں دیتی کہ ایک مفتری کو اس قدر عرصہ تک مہلت دی جائے کہ الہامات کے شائع کرنے کے بعد وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ عمر پا جائے پس حضرت مرزا صاحب کا اس قدر طویل عرصہ تک زندہ رہنا بھی اسی طرح آپ کی سچائی کی دلیل ہے جیسے کہ آیت لَوْ تَقَوَّلَ ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقِ دعویٰ پر دلیل تھی۔

اس کے بعد میں ایک اور عظیم الشان نشان کی طرف جناب کی توجہ کو منعطف کراتا ہوں جو حضرت مسیح موعودؑ کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے ظاہر کیا ہے اور وہ ایسا نشان ہے کہ جس کے بعد آپ کی صداقت میں کسی کو شک کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔ سوا اس کے جسکی نسبت درگاہ ایزدی سے شقاوت کا فیصلہ ہو چکا ہو اور وہ یہ ہے کہ آپ کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ نے وہ کام پورا کرا دیا ہے جس کے لئے آپ بھیجے گئے تھے یعنی اسلام کو دوسرے مذاہب پر غالب کرنا۔

اکثر علماء اس بات پر متفق ہیں کہ آیت کریمہ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَدِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ(الصف: ۱۰) مسیح موعودؑ کے زمانہ میں پوری ہو گی پس مسیح کا اصل کام اسلام کو مضبوط کرنا اور اُسے دوسرے ادیان پر غالب کرنا ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کام حضرت مسیح موعود کے ہاتھ سے پورا ہوا ہے یا نہیں۔ اگر پورا ہو گیا ہے تو آپ وہی مسیح موعود ہیں اور اگر پورا نہیں ہوا تو ہمیں کسی اور مسیح کی انتظار کرنی چاہئے لیکن اگر یہ ثابت ہو جائے کہ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو سب ادیان پر غالب کر دیا ہے تو پھر ہر ایک صداقت پسند انسان کا فرض ہے کہ حق کو قبول کر لے اور مسیح موعود کے دامن کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کرے۔

قبل اس کے کہ میں اس امر کو تفصیل کے ساتھ بیان کروں۔ یہ بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ انبیاء و مامورین صرف ایک بیج بو کر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اور وہ بیج ان کے بعد ترقی کر کے بہت بڑھ جاتا ہے اور اس کی شاخیں پھیل جاتی ہیں اور اس کی جڑھیں مضبوط ہو جاتی ہیں مثلاً حضرت مسیحؑ ناصری جب دنیا میں تشریف لائے تو صرف چند آدمیوں نے ان کو مانا اور باقی قوم نے سخت

مخالفت کی لیکن ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ ناکام گئے کیونکہ وہ ایسے اصول مقرر فرما گئے جن سے مدد لیکر آپ کے متبع دوسروں پر غالب ہو گئے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ سب دنیا کے لئے مبعوث ہو کر آئے تھے مگر آپ کی وفات پر سب دنیا کو آپ کی بعثت کی خبر بھی نہ تھی۔ لیکن آپ اسلام کا بیج ایسی اعلیٰ درجہ کی زمین میں بو گئے تھے کہ ایک صدی کے اندر اندر وہ ایسا بڑھا کہ اسوقت کی کل معلومہ دنیا میں پھیل گیا پس یہ ضروری نہیں ہوتا کہ مامور کے سامنے ہی سب کام ہو جائے بلکہ وہ ایک نمونہ دکھا جاتا ہے اور بعد میں ترقی ہوتی رہتی ہے۔

اس امر کو بیان کر دینے کے بعد میں ایک مثال بتاتا ہوں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کو طاقت عطا فرمائی کہ آپ نے اسلام کو سب ادیان پر غالب کر کے دکھا دیا۔ لاہور جو پنجاب کا دارالخلافہ ہے اس میں ایک عظیم الشان جلسہ اس غرض سے قرار پایا تھا کہ اس میں سب مذاہب کے پیرو حاضر ہو کر اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں چنانچہ سب مذاہب کے قائم مقام اس جگہ جمع ہوئے اور ہر ایک مذہب کے قائم مقام نے اپنے مذہب کو برتر ثابت کرنے کی کوشش کی بڑے بڑے رؤساء و امراء اس جلسہ میں شامل ہوئے اور تمام ملک کی نظریں اسکے نتیجہ پر لگ رہی تھیں اس موقعہ پر جہاں اسلام کی طرف سے چند اور لوگوں نے اپنے اپنے مضامین پیش کئے حضرت مسیح موعودؑ نے بھی اپنا ایک مضمون ارسال کیا اور نہ صرف مضمون ارسال کیا بلکہ قبل از وقت ایک اشتہار کے ذریعہ سے عام اطلاع دیدی کہ میرا مضمون بالا رہے گا جناب سمجھ سکتے ہیں کہ مخالفین کے جلسہ میں مضمون کا پڑھا جانا اور پھر ایک شخص کا اعلان کر دینا کہ میرا مضمون بالا رہے گا کیسا مشکل کام ہے مگر اللہ تعالیٰ کے کاموں کو کون روک سکتا ہے آپ کا مضمون پڑھا گیا لیکن چونکہ وقت تھوڑا تھا ختم نہ ہو سکا اس پر لوگوں کا یہ حال تھا کہ وہ یا تو اس مضمون کو سننے کے لئے تیار تھے یا جلسہ چھوڑ کر چلے جانے پر مستعد۔ آخر منتظمین جلسہ نے جن میں بڑے بڑے رؤساء اور سرکاری افسران شامل تھے فیصلہ کیا کہ آپ کے مضمون کے لئے اور موقع دیا جائے۔ مضمون کے ختم ہونے پر دوست و دشمن سب نے اقرار کیا کہ وہ مضمون سب مضامین پر بالا رہا اور منتظمین جلسہ نے اس خوف سے کہ اس طرح اشاعت اسلام نہ ہو آئندہ اس قسم کے جلسے کرنے بند کر دیئے اس مضمون کو انگریزی میں ترجمہ کر کے شائع کیا گیا اور ولایت کے اخبارات نے بھی اس پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ یہ طریق اسلام کو پیش کرنے کا بالکل نیا ہے ایک اخبار نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ تیرہ سو سال کے اندر اسلام کی تائید میں اس سے زیادہ زبردست کوئی کتاب

نہیں لکھی گئی لیکن ان بیچاروں کو کیا معلوم کہ اسلام کی تائید میں اس شخص نے ایسی ایسی بے نظیر کتب لکھی ہیں کہ مخالف کبھی ان کا جواب نہیں دے سکتے مگر وہ انکی نظروں سے نہیں گزریں غرض کہ یہ ایک ایسا بے نظیر معجزہ ہے جس کی تائید مخالفین اسلام نے بھی کی ہے اور دشمنان اسلام نے بھی اقرار کیا ہے کہ اسلام کو دوسرے مذاہب پر غالب کر کے دکھا دیا گیا ہے اور یہی وہ کام ہے جس کے لئے مسیح موعود نے مبعوث ہونا تھا پس جب زمانہ بھی وہی ہے علامات بھی پوری ہو چکی ہیں ضرورت بھی سخت ہے مدعی بھی موجود ہے اس نے وہ کام بھی کر دیا ہے جس کے لئے مسیح موعود نے آنا تھا تو اس کی صداقت میں کونسا شک باقی رہ جاتا ہے؟۔

اس زمانہ کے مجدد کا نام مسیح موعود رکھنے میں بہت بڑی حکمت یہی تھی کہ وہ مسیحی مذہب کا مقابلہ کر کے اس کے زور کو توڑے گا چنانچہ اس کے لئے جسقدر سامان اس شخص نے مہیا کر دیئے ہیں انکے مقابلہ کی مسیحیوں کو بالکل طاقت نہیں اصل بات یہ ہے کہ مسیحی مناد مسلمانوں کو ہمیشہ اس طرح بہکاتے ہیں کہ دیکھو ہمارا مسیح زندہ ہے تمہارا نبی فوت ہو گیا ہمارا مسیح مردے زندہ کرتا تھا تمہارے نبی نے کوئی مردہ زندہ نہیں کیا۔ ہمارا مسیح آسمان پر ہے تمہارا نبی زیر زمین دفن ہے تمہارا نبی اب کبھی دنیا پر نہیں آئے گا ہمارا نبی ایک دفعہ پھر دنیا سے ظلمت کو دور کرنے کے لئے آئے گا اور آخری زمانہ کا فتنہ اسی کے ہاتھ سے دور ہو سکے گا۔ پس بتاؤ کہ دونوں میں سے کون افضل ہوا۔ اب یہ ایسے اعتراض ہیں کہ جن کا جواب مسلمانوں سے کچھ نہ بنتا تھا اور اکثر گمراہ ہو جاتے تھے لیکن حضرت مسیح موعودؑ نے زبردست دلائل سے اس خیال کو غلط ثابت کر کے مسلمانوں کو مسیحیوں کے ہاتھ سے بچا لیا اور اب مسیحیوں کی یہ حالت ہے کہ جہاں وہ یہ سن لیں کہ کوئی احمدی موجود ہے کبھی مقابلہ کی جرأت نہیں کرتے اور فوراً وہاں سے بھاگ جاتے ہیں بلکہ چند سال کی بات ہے کہ پنجاب کے لاٹ پادری لیف رائے صاحب نے ایک سرکلر کے ذریعہ پادریوں کو احمدیوں سے گفتگو کرنے سے روک دیا تھا کیونکہ اس کا نتیجہ ہمیشہ مسیحیوں کے لئے شکست ہی ہوتا تھا۔ مرزا صاحب نے مسیح کی وفات ثابت کر کے اسلام کو زندہ کر دیا ہے اور اب مسلمان ہمیشہ کے لئے مسیحیوں کے پنجہ سے رہائی پا گئے ہیں۔

میں اسکو مانتا ہوں کہ یہ عقیدہ ہمیشہ سے مسلمانوں میں چلا آیا ہے اور قرونِ اولیٰ میں تو یہی عقیدہ رائج تھا لیکن اسلام کے بچانے کے لئے اس حربہ کو کبھی کسی شخص نے استعمال نہیں کیا بلکہ یہ خصوصیت حضرت مسیح موعود کے لئے ہی محفوظ رکھی گئی تھی۔

آپ نے اسی پر بس نہیں کی کہ مسیحیوں کو بتا دیا کہ اسلام مسیح کے زندہ آسمان پر جانے کا قائل نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ سے ایک اور زبردست کام کروایا کہ آپ نے اناجیل اور تواریخ سے یہ امر ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح واقعہ صلیب کے بعد زندہ بچ کر کشمیر میں آئے تھے اور کشمیر کی تاریخوں سے ثابت کر دیا کہ وہاں ایک مقبرہ موجود ہے جسکی نسبت لکھا ہے کہ یہ ایک نبی کا مقبرہ ہے جن کا نام عیسیٰ مسیح تھا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ سو سال پہلے یہاں آئے تھے اور طب کی کتابوں سے اس واقعہ کی تصدیق ہوتی ہے کیونکہ کتب طب میں ایک مرہم ’مرہم حوارین یا مرہم عیسیٰ‘ کے نام سے مشہور ہے جسکی نسبت لکھا ہے کہ وہ حضرت مسیح کے حواریوں نے آپ کے زخموں پر لگانے کے لئے بنوائی تھی اور آپ کے زخم (تاریخ سے) سوا صلیب کے زخموں کے اور ثابت نہیں۔

میں اس جگہ یہ بیان کر دینا بھی مناسب خیال کرتا ہوں کہ یہ عقیدہ کہ حضرت مسیحؑ صلیب پر چڑھائے گئے تھے لیکن زندہ بچ گئے قرآن کریم کی آیت مَا صَلَبُوۡهُ کے خلاف نہیں کیونکہ صلب کے معنے صلیب پر لٹکانے کے نہیں ہیں بلکہ صلیب پر مارنے کے ہیں جیسا کہ لسان العرب وغیرہ مشہور کتب لغت میں درج ہے۔

غرض کہ حضرت مسیحؑ ناصری کی کشمیر کی طرف ہجرت آپ نے اناجیل، تواریخ بنی اسرائیل، اور تواریخ کشمیر سے ثابت کر کے اور پھر آپ کی قبر کا پتہ لگا کر مسیحی مذہب کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیا ہے اور جسقدر مسیحیوں کو اس کا علم ہو گا اسی قدر وہ مسیحیت سے بیزار ہو کر اسلام کی طرف راغب ہونگے چنانچہ آپ نے جس وقت سے یہ تحقیقات شائع کی ہے کشمیر میں کثرت سے یورپین سیاح اس قبر کو دیکھنے جاتے ہیں اور گو یورپ میں ابھی اس تحقیقات کی کافی طور پر اشاعت نہیں ہوئی مگر پھر بھی ایک تہلکہ پڑ گیا ہے پچھلے دنوں میں ہی ایک شخص کا جرمن سے خط آیا ہے کہ مجھے اس مضمون کی کئی ہزار کاپیاں بھجوائی جائیں کیونکہ یہاں جن لوگوں نے آپ کے اس مضمون کو دیکھا نہایت حیران رہ گئے اور اس کی صداقت کے قائل ہو گئے۔

اصل بات یہ ہے کہ مسیحی اس واقعہ سے انکار نہیں کر سکتے کیونکہ مسیح کا قول انجیل میں اب تک موجود ہے کہ میں بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں کو جمع کرنے کو آیا ہوں اور ادھر بائبل سے اس بات کا کافی ثبوت مل جاتا ہے کہ بنی اسرائیل کے تنزل کے ایام میں بخت نصر بادشاہ بابل بنی اسرائیل کو قید کر کے لے گیا تھا اور بعد میں جب مید اور فارس کے بادشاہوں کی مدد سے بنی

اسرائیل آزاد ہوئے تو انکے بارہ قبائل میں سے صرف دو قبائل واپس آئے اور دس قبائل افغانستان اور کشمیر میں آباد ہو گئے اور کشمیر اور افغانستان میں کثرت سے ایسی بستیاں موجود ہیں جنکے نام شام کی بستیوں سے ملتے ہیں۔ یہ امر اور بھی ثابت کر دیتا ہے کہ یہاں کے باشندے اصل میں شام کے ہی رہنے والے تھے خود کشمیر جو ملک کا نام ہے اس امر کا شاہد ہے کیونکہ کشمیری لوگ اپنے آپ کو کاشیری کہتے ہیں نہ کہ کشمیری۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل نام اس ملک کا کاشیر ہے یعنی کسیر۔ ملک سیر کی مانند۔ اور شام کا اصل نام سیریا ہی ہے جسکے معنے ہیں پھولوں کی زمین۔ اور چونکہ کشمیر میں بھی کثرت سے پھول ہوتے ہیں اس لئے بنی اسرائیل نے اپنے ملک کی یاد میں اس ملک کا نام کسیر رکھا یعنی سیریا کی مانند جو بگڑ کر کشمیر ہو گیا۔ غرض کہ روشن دلائل سے حضرت مسیح موعودؑ نے مسیح کی وفات کو ثابت کر دیا اور آپ کی قبر کا بھی پتہ بتا دیا جسکے بعد مسیحی مذہب کے پاس کوئی مفرّ نہیں رہتی کیونکہ جب حضرت مسیحؑ ہی فوت ہو گئے تو اب کفارہ اور ابنیت سب کچھ خود بخود باطل ہو گیا اسی طرح اور بہت سے طرُق سے حضرت مسیح موعودؑ نے مسیحیت کی کمزوریاں دکھائی ہیں اور اسقدر مواد جمع کر دیا ہے کہ مسلمانوں کو مسیحیوں پر فتح پانے میں اب کوئی روک نہیں بشرطیکہ مسلمان اپنی ضد اور ہٹ کو چھوڑ کر اس مامور من اللہ کے دامن سے اپنے آپ کو وابستہ کر لیں خدا کرے یہ دن جلد آئے تا اسلام پھر اپنی اصل شان میں دنیا پر ظاہر ہو۔ حضرت مسیح موعودؑ نے جو طریق مباحثہ مسیحیوں کے لئے مقرر فرمایا ہے وہ ایسا زبردست اور ایسا مؤثر ہے کہ اسکے سامنے مسیحی بالکل ٹھہر نہیں سکتے اور یہ بات کل دنیا میں مسیحی پادریوں کے ذریعہ سے پھیل گئی ہے چنانچہ حبّی فی اللہ عزیزم شیخ عبد الرحمن مولوی فاضل جن کو میں نے عربی زبان کی اعلیٰ تعلیم کے حصول اور تبلیغ کے لئے مصر بھیجا ہے لکھتے ہیں کہ ایک عرب نے آکر ان سے سوال کیا کہ ہمیں پادری بہت ستاتے ہیں آپ کوئی ایسی دلیل بتائیں جس سے وہ آسانی سے شکست پا سکیں تو میں نے ان کو یہ دلیل بتادی کہ انجیل سے ہر گز ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت ہو گئے بلکہ انجیل سے تو ان کا صلیب سے زندہ اترنا ثابت ہے اور سب حوالے اسے یاد کرا دیئے اس نے جاکر ایک بڑے پادری سے کہا کہ آپ تو کہتے ہیں کہ مسیح صلیب پر فوت ہو کر ہمارے لئے کفارہ ہوا مگر وہ تو زندہ صلیب سے اترا تھا پادری صاحب نے سن کر کہا کہ غلط ہے انجیل سے یہ بات کہاں ثابت ہے جب اس عرب نے حوالجات سنائے تو بے اختیار بول اٹھا کہ هٰذَا مِنَ الْقَادِیَانِ هٰذَا مِنَ الْقَادِیَانِ اس نے جواب دیا کہ قادیان سے ہو یا کہیں سے۔ آپ جواب دیں تو اس نے زیادہ گفتگو سے انکار کر دیا۔

اس کے علاوہ کل مذاہب باطلہ پر حضرت مسیح موعودؑ نے اس طرح حجت قائم کی ہے کہ بڑے زور سے اعلان کیا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں اسلام کے غلبہ کے لئے مبعوث کیا ہے اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ سچا مذہب وہی ہے جو اپنے ساتھ نشانات رکھتا ہو اور جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے تعلق کا ثبوت دے سکے اور میں دعویٰ کرتا ہوں کہ اسلام اپنے اندر یہ شان رکھتا ہے کہ ہر وقت تازہ سے تازہ نشان دکھائے اس لئے جس شخص کو اسلام کی صداقت میں شک ہو وہ میرے مقابلہ کے لئے آئے۔ میں اس پر تازہ نشانات کے ساتھ اتمامِ حجت کرونگا اور اگر کوئی اور شخص کسی اور مذہب کی صداقت کا مدعی ہے تو اسے بھی چاہئے کہ میرے مقابلہ پر اپنے مذہب کی صداقت کا کوئی نشان دکھائے جو ایسی شان رکھتا ہو کہ اسے انسان کی بناوٹ نہ کہا جاسکے اور آپ نے بڑے زور سے فرمایا ؎

کرامت گرچہ بے نام و نشان است

بیا بنگر ز غلمانِ محمدؐ

مگر باوجود بار بار کے اعلان کے کسی مذہب کے پیروؤں کو جرأت نہ ہوسکی کہ اپنے مذہب کی زندگی کا ثبوت دیں اور سب لوگ اس مقابلہ سے جی چرا گئے اور اس طرح اسلام کا سب ادیان پر غلبہ ہوا میں اس اصل پر مفصل گفتگو کر آیا ہوں کہ سچا مذہب وہی ہو سکتا ہے جس کا مدار قصوں پر ہی نہ ہو بلکہ وہ اپنے ساتھ تازہ نشانات رکھتا ہو اور یہ وہ معیار ہے جسے حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے مخالفین کے سامنے پیش کیا اور کوئی مذہب بھی اس معیار پر پورا نہ اتر سکا سوائے اسلام کے۔ پس مسیح موعود کی ذات سے وہ وعدہ پورا ہوا کہ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَدِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ(الصف: ۱۰)

پنجاب میں ایک جماعت ہے جو سکھوں کے نام سے مشہور ہے اور گورنمنٹ برطانیہ کی سپاہ میں ان کا بہت سا حصہ ہے اور بہادری میں خاص طور پر مشہور ہے اس پر بھی ایک خاص رنگ میں آپ نے اتمامِ حجت کیا اور خود انہی کی کتب سے ثابت کر دیا کہ باوا نانک صاحبؒ جو اس فرقہ کے بانی ہیں مسلمان تھے اب یہ مذہب زیادہ تر ہندوؤں میں مل گیا تھا اور بالکل انہی کی رسومات کا پابند تھا لیکن آپ کے زبردست دلائل کا یہ اثر ہوا کہ ہندوؤں میں جذب ہونے کا جو میلان ان میں پیدا ہو رہا تھا یکلخت رک گیا اور اب ان میں سے بہت سی سعید روحیں اسلام کی طرف مائل ہیں اور سکھوں میں سے کئی اسلام بھی لا چکے ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ عنقریب ان میں سے ایک کثیر گروہ

اسلام کو قبول کر لے گا۔

غرض کہ حضرت مسیح موعودؑ نے تمام مذاہب پر متفقہ طور سے اور فرداً فرداً اس رنگ میں حجت قائم کی ہے کہ اب ان میں سے کوئی بھی اسلام کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا اور حقیقی معنوں میں اسلام کو دوسرے ادیان پر غلبہ حاصل ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت جلد وہ دن پھر آ رہے ہیں کہ جب دوبارہ آیت یَدۡخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اَفۡوَاجًا(110:3) کا وعدہ پورا ہو گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ ایک شخص نے مسیحیت کا دعویٰ کیا اور اس دعوے کے بعد بجائے غضب الٰہی کا مورد بننے کے اس نے اس کام کو پورا کر کے دکھا دیا جس کے لئے مسیح کی بعثت ہونی تھی تو کیوں اسکے دعوے کی صداقت کو قبول نہ کیا جائے اور جب اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے ہو چکے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایسے واقعات سے جو اسلام کی عزت کا موجب ہیں آنکھیں بند کر کے یہی کہا جائے کہ نہیں ابھی آگے کوئی اور زمانہ آئے گا جبکہ یہ وعدے پورے ہونگے جبکہ مرزا صاحب کی ذات سے مسیح موعود کا کام پورا ہو گیا ہے تو ماننا پڑتا ہے کہ وہی مسیح موعود ہیں۔

یہ کام تو بیرونی حملوں کے دفعیہ کے متعلق تھا اب میں اندرونی اصلاح کا ذکر کرتا ہوں کہ آپ نے اندرونی اصلاح کیا کی؟ لیکن میں لمبی تفصیلات میں نہیں پڑنا چاہتا کیونکہ اگر میں ان تمام غلطیوں کے ازالہ کا ذکر کروں جو مختلف فرقِ اہل اسلام میں پائی جاتی تھیں تو یہ مضمون بہت لمبا ہو جائیگا اس لئے میں مختصر اسقدر عرض کر دیتا ہوں کہ آپ نے قرآن کریم کی اصلی غرض اور مقصد سے مسلمانوں کو آگاہ کیا اور قدیم سنت اللہ کے ماتحت باوجود علماء کی سخت مخالفت اور گندے سے گندے مقدمے بنانے کے اللہ تعالیٰ نے آپکو فتح دی اور آپ نے ایک جماعت قائم کر دی جو اب بہت بڑی تعداد تک پہنچ گئی ہے اور پنجاب وہندوستان کے ہر گوشہ میں حضرت مسیح موعودؑ کے ماننے والے موجود ہیں بلکہ ہندوستان سے نکل کر اب عرب، شام، چین، مصر، افریقہ اور انگلستان تک اس جماعت کا اثر پھیل گیا ہے اور غیر ممالک کے لوگ بھی اس طرف متوجہ ہو رہے ہیں گو میں تسلیم کرتا ہوں کہ ابھی غیر ممالک میں اس فرقہ کی طرف بہت کم توجہ ہوئی ہے لیکن اسکی یہ وجہ ہے کہ بہت قلیل عرصہ سے ہم نے غیر ممالک میں تبلیغ کا کام شروع کیا ہے مگر یہ تو اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ ابتداء میں دین نہایت آہستگی سے بڑھتا ہے اور قلیل تعداد سے کسی فرقہ کی صداقت میں شک نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ فرقہ ترقی کر رہا ہے یا گھٹ رہا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے کفار عرب کے اس قسم کے ایک اعتراض کے جواب میں فرمایا ہے کہ اَفَلَا یَرَوۡنَ اَنَّا نَاۡتِی الۡاَرۡضَ(21:45) نَنۡقُصُہَا مِنۡ اَطۡرَافِہَا ؕ اَفَہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ(الانبیاء: ۴۵) یعنی کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو روز بروز کناروں کی طرف سے کم کرتے آتے ہیں پس کیا اس بات کے باوجود وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ غالب ہو جائینگے یعنی جبکہ روز بروز اسلام ترقی کر رہا ہے اور وہ کم ہو رہے ہیں تو پھر کیونکر خیال کر سکتے ہیں کہ وہ غالب ہو جائینگے پس اسی سنت کے ماتحت مسیح موعود کی جماعت کا معاملہ ہے کہ ہر روز وہ ترقی کر رہی ہے اور ایک شخص سے ترقی کر کے ہر علاقہ اور ہر ملک میں اسکے ماننے والے پیدا ہو گئے ہیں اور یہ ترقی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بہت جلد اس جماعت کے ہاتھوں سے اسلام کو دیگر ادیان پر غلبہ ہو جائے گا انشاء اللہ تعالٰی۔

پس مسیح موعود کی اندرونی اصلاح کا یہ کام ہے کہ آپ نے ایک زبردست جماعت قائم کر دی ہے جو تقویٰ اور طہارت میں ایک نمونہ ہے اور دشمن بھی اس بات کے معترف ہیں کہ جہاں کوئی شخص احمدی ہوتا ہے اسکارنگ ہی بدل جاتا ہے اور اسکے اندر ایسی اصلاح پیدا ہو جاتی ہے کہ اسکی پہلی زندگی کا اگر نئی زندگی سے مقابلہ کیا جائے تو زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے اور ہزاروں ہیں جو اخلاص میں ترقی کرتے کرتے صحابہؓ کا نمونہ ہو گئے ہیں اور دین کے لئے اپنی جان اور اپنا مال اور اپنا وطن اور اپنے عزیز و رشتہ داروں کی قربانی انکی نظروں میں حقیر ہے دنیا کے لوگوں کی نظروں میں وہ غریب اور کمزور ہیں لیکن اللہ تعالٰی کے حضور انکو ایسی عظمت حاصل ہے کہ انکو دکھ دینے والے کبھی سکھ نہیں پاتے اور جو شخص انکو ستاتا ہے وہ ضرور ذلت و رسوائی کا منہ دیکھتا ہے یا سنت اللہ کے ماتحت اگر ایک قلیل حصہ اس جماعت کا بھی کمزور ہو اور حضرت مسیح موعود کی تعلیم سے فائدہ نہ اٹھا سکا ہو تو وہ اور بات ہے اور کسی حصہ کا کمزور ہونا اس سلسلہ کی صداقت کے منافی نہیں کیونکہ کمزور آدمی ہر جماعت میں موجود ہوتے ہیں حتّٰی کہ صحابہؓ میں بھی تھے اور آنحضرت ﷺ کی زندگی کے آخری ایام تک ایک گروہ منافقین کا موجود تھا پس ایک قلیل گروہ کو چھوڑ کر اس جماعت پر اللہ تعالٰی کے خاص فضل ہیں۔

اور جناب خیال کر سکتے ہیں کہ جو لوگ روزانہ تازہ بتازہ نشانات کو دیکھیں گے اور اللہ تعالٰی کی قدرتوں کا ایسا معائنہ کریں گے کہ گویا خدا سامنے نظر آگیا انکا ایمان کیسا مضبوط ہو گا؟ اور وہ اخلاص میں کس قدر ترقی کر جائیں گے۔ ایک چور بھی پولیس مین کی موجودگی میں چوری نہیں کرتا پس جن لوگوں کو علم ہو جائے اور وہ اپنی آنکھوں سے اللہ تعالٰی کی زبردست قدرتوں کا معائنہ کر لیں وہ کب گناہوں کے قریب جا سکتے ہیں اور ان کے دلوں میں دنیا کی حرص و آز کب باقی رہ سکتی ہے۔ ان کے دلوں سے تو تمام میل دھوئی جائیگی اور وہ ایسے ہو جائینگے جیسے حمام سے تازہ نہا کر نکلنے والا۔ سو خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ مسیح موعود کی دعاؤں اور کوششوں کا نتیجہ دن بدن زیادہ سے زیادہ کامیابی کی شکل میں نکل رہا ہے۔

میں اس جماعت کے ایک شخص کا مختصر حال جناب کو بتاتا ہوں جس سے جناب کو معلوم ہو جائیگا کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے اس جماعت کے مخلصین کے دلوں کو مضبوط کر دیا ہے۔ افغانستان کے ایک بزرگ جن کا نام سید عبداللطیف تھا اور جو وہاں ایسے معزز تھے کہ امیر حبیب اللہ خان صاحب کی تاجپوشی کی رسم انہوں نے ہی ادا کی تھی حضرت مسیح موعود کا ذکر سنکر قادیان تشریف لائے اور یہاں سے جب واپس گئے تو انکی کابل میں سخت مخالفت ہوئی اور امیر صاحب کو علماء کے شور سے مجبور ہو کر انکو نظر بند کرنا پڑا انہوں نے سب علماء کو چیلنج دیا کہ وہ میرے ساتھ حضرت مسیح موعودؑ کے دعوے پر بحث کرلیں لیکن کسی کو یہ جرات نہ ہوئی آخر سب علماء نے آپ پر سنگسار کئے جانیکا فتویٰ دیا اور امیر صاحب نے بار بار آپ کو کہا کہ آپ ظاہراً طور پر ہی اس عقیدہ کو ترک کردیں لیکن انہوں نے نہ مانا آخر سنگساری کے وقت پھر امیر صاحب نے کہا مگر انہوں نے یہی جواب دیا کہ یہ دن تو میرے لئے عید کا دن ہے آپ مجھے کس طرف بلا رہے ہیں۔ میں تو خدا تعالیٰ کے عہد کو پورا کر رہا ہوں اور جب انہوں نے کسی صورت سے حق کا انکار نہ کیا تو نہایت بے رحمی سے انہیں سنگسار کیا گیا مگر پتھروں کی بوچھاڑ کے وقت انہوں نے ایک ذرہ بھر بھی گھبراہٹ کا اظہار نہیں کیا۔

اس واقعہ سے جناب معلوم کر سکتے ہیں کہ مسیح موعود نے کیسا ایمان اپنی جماعت کے دلوں میں پیدا کر دیا ہے اور جہّال کے دلوں میں نہیں جو جہالت کی وجہ سے اس قسم کے کاموں کے لئے تیار ہو جاتے ہیں بلکہ سید عبداللطیف جیسے علماء کے دلوں میں جو ہر ایک امر کو سوچ سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔

اس عام اصلاح کے علاوہ میں ایک خاص امر کو اس جگہ ضرور بیان کر دینا چاہتا ہوں اور وہ حضرت مسیح موعودؑ کا اپنی بیعت کی شرائط میں وفاداریٔ حکومت کا شامل کرنا ہے آپ نے قریباً اپنی کُل کتب میں اپنی جماعت کو نصیحت فرمائی ہے کہ وہ جس گورنمنٹ کے ماتحت رہیں اس کی پورے طور پر فرمانبرداری کریں اور یہاں تک لکھا کہ جو شخص اپنی گورنمنٹ کی فرمانبرداری نہیں کرتا اور کسی طرح بھی اپنے حکام کے خلاف شورش کرتا اور انکے احکام کے نفاذ میں روڑے اٹکاتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں اور یہ ایک ایسی مفید اصلاح ہے کہ اسکے ذریعہ آپ نے گویا کل دنیا پر احسان کیا ہے اور روز مرہ کے فسادوں اور جھگڑوں سے اور ہر قسم کی بغاوت سے امن دیدیا ہے اور

صرف زبانی طور پر ہی کفایت نہیں کی بلکہ یہ سبق آپ نے جماعت کو ایسا پڑھایا کہ ہر موقعہ پر جماعت احمدیہ نے گورنمنٹ ہند کی فرمانبرداری کا اظہار کیا ہے اور کبھی کسی خفیف سے خفیف شورش میں بھی حصہ نہیں لیا اور یہ حکم صرف گورنمنٹ برطانیہ کے لئے نہیں بلکہ جس حکومت کے ماتحت احمدیہ جماعت رہتی ہو اسے حکم ہے کہ وہ اسکی کامل فرمانبردار اور ممد ہو اور اگر کوئی احمدی اسکے خلاف کرے تو وہ بموجب جناب کے صریح حکم کے احمدی ہی نہیں کہلا سکتا۔

اب میں اپنے اس مکتوب کو ختم کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ جناب ان تمام امور پر جو میں نے اس خط میں تحریر کئے ہیں غور فرمائیں گے اور اگر آپ چاہیں تو میں ایسی کتب بھی آپ کی خدمت میں بھیج سکتا ہوں جو حضرت مسیح موعودؑ کے دعوے کے دلائل پر اور زیادہ روشنی ڈالتی ہیں اور اس سے بھی زیادہ مفید یہ طریق ہو سکتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو میں چند علماء جناب کی خدمت میں بھیج دوں جو جناب کے پاس پندرہ بیس دن تک حاضر رہیں اور جناب ہر ایک ضروری مسئلہ پر ان سے گفتگو فرمائیں۔

چونکہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ ایک عظیم الشان دعویٰ ہے اور ہر ایک شخص کا جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے فرض ہے کہ اس پر غور کرے اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ جناب اس پر ضرور پورے طور پر غور فرمائینگے اور جناب کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ جناب کے اعمال کا اثر صرف آپ کی ذات پر ہی نہیں پڑتا بلکہ آپ کی رعایامیں سے بہت سا حصہ آپ کے اعمال کی نقل کرتا ہے پس آپ کا ایک صداقت کو قبول کرنا صرف ایک ہی آدمی کا سچائی کو قبول کرنا نہیں ہے بلکہ ممکن ہے کہ اسکے ذریعہ ہزاروں کو ہدایت ہو اور ان سب کا ثواب آپ کے نام لکھا جائیگا اسی طرح آپ کا انکار صرف آپکا انکار نہیں بلکہ وہ بہتوں کے لئے رکاوٹ کا باعث ہو گا جس کے لئے جناب اللہ تعالیٰ کے حضور میں جوابدہ ہیں کیونکہ اس شہنشاہ کے سامنے بادشاہ و گدا سب کو جوابدہ ہونا ہو گا مجھے جو حکم دیا گیا تھا کہ میں جناب کی خدمت میں سلسلہ کے حالات عرض کروں میں اپنے فرض سے سبکدوش ہوتا ہوں اور اب جناب کا اختیار ہے کہ خواہ اس نعمتِ عظمیٰ کو یعنی خادمِ خاتم النبیینؐ کی اتباع کو قبول فرمادیں جو ساری دنیا کی بادشاہت سے بڑھ کر ہے اور خواہ رد فرماویں۔

یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو اس مبارک زمانہ میں پیدا کیا ورنہ لاکھوں بزرگ اور علماء اور امراء اس بات کی حسرت کرتے ہوئے مر گئے کہ کسی طرح ان کو مسیح موعود کا زمانہ ملے گو مسیح موعود فوت ہو چکے ہیں مگر ان کے دیکھنے والے موجود ہیں پس یہ زمانہ غنیمت ہے وہ دن آتے ہیں جبکہ زبردست بادشاہ اس خدا کے مرسل کے سلسلہ میں داخل ہوں گے لیکن مبارک ہے وہ جو سب سے پہلے اس نعمت کو حاصل کرتا ہے کیونکہ کوئی زمانہ آئے گا جبکہ اپنی بادشاہتیں دیکر خواہش کریں گے کہ ہمیں بھی وہ فضیلت حاصل ہو جائے جو مسیح موعود کے قریب کے لوگوں کو حاصل تھی۔

آخر میں میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کا سینہ کھول دے اور آپ کو میری باتوں پر غور کرنے کی توفیق دے کیونکہ اس کے فضل کے سوا کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ میں نے ایک حکم کے ماتحت جناب کو مخاطب کیا ہے اور میں یقین کرتا ہوں کہ مجھے لغو حکم نہیں دیا گیا ضرور ہے کہ جلد یا بدیر میری یہ تحریر کوئی عظیم الشان نتیجہ پیدا کرے گی جو اس ملک کی قسمت میں ایک حیرت انگیز تغیر پیدا کر دیگی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی باتیں لغو نہیں ہوتیں خدا کرے اس برکت میں سے جو جلد نازل ہونے والی ہے جناب کو بھی بہت سا حصہ ملے۔ والسلام

خاکسار مرزا محمود احمد خلیفہ ثانی حضرت مسیح موعودؒ

جماعت احمدیہ

کا

حکومتِ وقت کی اطاعت کے بارے میں صحیح موقف

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

جماعت احمدیہ

پچھلے چند روز سے متواتر خبریں آرہی ہیں کہ ترکی حکومت بھی اس عظیم الشان جنگ میں شامل ہو گئی ہے۔ جس میں اس سے پہلے سات طاقتیں مشغول تھیں اور اس کا شامل ہونا بالکل بے سبب اور بے وجہ معلوم ہوتا ہے اور اس کی وجہ سوائے اس کے کچھ معلوم نہیں ہوتی کہ اللہ تعالیٰ ترکوں کو ان کی بداعمالیوں اور ظلموں کی پوری سزا دینا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس وقت تک جو وہ اپنے ملک اور اپنی رعایا کے فوائد سے بے خبر رہ کر عیش و عشرت اور آپس کے لڑائی اور جھگڑوں میں مبتلاء رہے ہیں اس کی ان کو پوری سزا دے کیونکہ جن طاقتوں کے مقابلہ کے لئے اس نے تلوار اٹھائی ہے ان سے عہدہ بر آہونا اس کا کام نہیں اور وہ اس میدان کا جوان نہیں اس کا ان کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہونا ایسا ہی ہے جیسا ایک چوہے کا پہاڑ سے سر ٹکرانا یا ایک چیونٹی کا سمندری لہروں کا مقابلہ کرنا۔ انہوں نے اپنی حماقت اور جہالت کی وجہ سے باوجود ایک بکرو نہ ہونے کے شیر پر ہاتھ ڈالا ہے اور ایک چڑیا ہو کر باز پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی ہے کاش وہ اتنا خیال کر لیتے کہ ہم جن طاقتوں سے مقابلہ کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں ان کے متعلق رسول کریم ﷺ نے لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ فرمایا ہے۔ اس جنگ میں جس قدر خون ہوں گے ان کا گناہ ترکوں کے سر پر ہو گا اور بقیہ اسلامی عظمت کے ضائع کرنے کا الزام بھی انہیں کے ذمہ لگے گا کیونکہ انہوں نے وقت کو نہ پہچانا اور نہ منشائے الٰہی کو سمجھا کاش وہ بجائے انگلستان سے جنگ کرنے کے اپنے نفس سے جنگ کرتے اور بجائے تلوار کھینچنے کے انصاف و عدل کی طرف متوجہ ہوتے اور بجائے دوسروں کو کافر قرار دے کر ان سے جہاد کرنے کے اپنے دل کے کفر کو دور کرتے کیونکہ یہ ان کے لئے بہتر اور مبارک ہوتا۔ انہوں نے باوجود آنکھوں کے خدائے تعالیٰ کی قضاء و قدر کو نہ دیکھا اور باوجود کانوں کے اس کے احکام کو نہ سنا اور باوجود دل ہونے کے اس کے منشاء کو نہ سمجھا اور اپنے ساتھ اپنی رعایا کو بھی تباہ کر دیا کیوں کہ اِنَّ الۡمُلُوۡکَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡیَۃً اَفۡسَدُوۡہَا وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّۃَ اَہۡلِہَاۤ اَذِلَّۃً(27:35)۔

چونکہ ترکی حکومت بظاہر ایک اسلامی حکومت کہلاتی ہے اس لئے مسلمانوں کے دلوں میں قدرتاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس موقعہ پر ان کو کیا کرنا چاہئے اور جبکہ ایک طرف وہ سلطنت ہے جو مکہ اور مدینہ کی محافظ ہے اور دوسری طرف وہ جو ہمارے اموال اور جانوں کی محافظ ہے تو ہم کس سے ہمدردی کریں اس لئے میں اس اعلان کے ذریعہ اپنی تمام جماعت کو اطلاع دیتا ہوں کہ ان کا طریق عمل واضح ہے اور ان کو بجائے خود فکر کرنے کے اپنے امام کی طرف نگاہ کرنی چاہئے کہ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے اور وہی ہمارا حقیقی ہادی اور رہنما ہے کیونکہ وہ خدا کا مسیح اور مہدی ہے اور اس کے حکم ہم سب کے لئے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے واجب التعمیل ہیں۔ ممکن ہے کہ بعض بیوقوف سلطانِ روم کو اپنا سردار اور آقا خیال کرتے ہوں لیکن ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ایسا نہیں سمجھ سکتے کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ لکھتے ہیں: ”مجھے نہ سلطانِ روم کی طرف کچھ حاجت ہے۔ اور نہ اس کے کسی سفیر کی ملاقات کا شوق ہے۔ میرے لئے ایک سلطان کافی ہے جو آسمان اور زمین کا حقیقی بادشاہ ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ قبل اس کے کہ کسی دوسرے کی طرف مجھے حاجت پڑے اس عالم سے گزر جاؤں۔ آسمان کی بادشاہت کے آگے دنیا کی بادشاہت اس قدر بھی مرتبہ نہیں رکھتی جیسا کہ آفتاب کے مقابل پر ایک کیڑا مرا ہوا۔ پھر جبکہ ہمارے بادشاہ کے آگے سلطانِ روم ہیچ ہے تو اس کا سفیر کیا چیز۔ میرے نزدیک واجب التعظیم اور واجب الاطاعت اور شکر گزاری کے لائق گورنمنٹ انگریزی ہے جس کے زیر سایہ امن کے ساتھ یہ آسمانی کارروائی میں کر رہا ہوں۔ ترکی سلطنت آج کل تاریکی سے بھری ہوئی ہے اور وہ شامتِ اعمال بھگت رہی ہے اور ہرگز ممکن نہیں کہ اس کے زیر سایہ رہ کر ہم کسی راستی کو پھیلا سکیں۔ شاید بہت سے لوگ اس فقرہ سے ناراض ہوں گے مگر یہی حق ہے۔“ (اشتہار ”حسین کامی سفیر سلطانِ روم“ صفحہ ۱-۲)

آگے چل کر اسی اشتہار کے صفحہ دو پر ترکی گورنمنٹ کی ردی حالت کی نسبت تحریر فرماتے ہیں اس ترکی سفیر کے سامنے جو قادیان آیا تھا۔ ”میں نے کئی اشارات سے اس بات پر بھی زور دیا کہ رومی سلطنت خدا کے نزدیک کئی باتوں میں قصور وار ہے اور خدا سچے تقویٰ اور طہارت اور نوعِ انسان کی ہمدردی کو چاہتا ہے اور روم کی حالت موجودہ بربادی کو چاہتی ہے توبہ کرو تا نیک پھل پاؤ۔ مگر میں اس کے دل کی طرف خیال کر رہا تھا کہ وہ ان باتوں کو بہت ہی برا مانتا تھا اور یہ ایک صریح دلیل اس بات پر ہے کہ سلطنتِ روم کے اچھے دن نہیں ہیں اور پھر اس کا بدگوئی کے ساتھ واپس جانا یہ اور دلیل ہے کہ زوال کی علامات موجود ہیں۔“ تین سطر آگے لکھتے ہیں کہ ”میں نے یہ بھی اس کو کہا کہ خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں سے مجھ سے علیحدہ رہے گا وہ کاٹا جائے گا۔ بادشاہ ہو یا غیر بادشاہ۔ اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ تمام باتیں تیر کی طرح اس کو لگتی تھیں اور میں نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ جو کچھ خدا نے الہام کے ذریعہ فرمایا تھا وہی کہا تھا۔“ پھر اس امر کے متعلق کہ ترکی حکومت سے سلسلہ احمدیہ کو بجائے فائدہ کے نقصان ہے تحریر فرماتے ہیں کہ ”اور پھر ان تمام باتوں کے بعد گورنمنٹ برطانیہ کا بھی ذکر آیا اور جیسا کہ میرا قدیم سے عقیدہ ہے میں نے اس کو بار بار کہا کہ ہم اس گورنمنٹ سے دلی اخلاص رکھتے ہیں اور دلی وفادار اور دلی شکر گزار ہیں کیونکہ اس کے زیر سایہ اس قدر امن سے زندگی بسر کر رہے ہیں کہ کسی دوسری سلطنت کے نیچے ہرگز امید نہیں کہ وہ امن حاصل ہو سکے۔ کیا میں اسلام بول (استنبول) میں امن کے ساتھ اس دعوے کو پھیلا سکتا ہوں کہ میں مسیح موعود اور مہدی معہود ہوں اور یہ کہ تلوار چلانے کی سب روایتیں جھوٹ ہیں کیا یہ سن کر اس جگہ کے درندے مولوی اور قاضی حملہ نہیں کریں گے۔ اور کیا سلطانی انتظام بھی تقاضا نہیں کرے گا کہ ان کی مرضی کو مقدم رکھا جائے پھر مجھے سلطانِ روم سے کیا فائدہ“۔ اسی طرح اس کے انجام کی نسبت تحریر فرماتے ہیں کہ ”سلطانِ روم کی سلطنت کی حالت اچھی نہیں ہے اور میں کشفی طریق سے اس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں۔“ اسی معاملہ کے متعلق ایک دوسرے اشتہار میں تحریر فرماتے ہیں ”سلطان کا خلیفۃ المؤمنین ہونا صرف اپنے منہ کا دعویٰ ہے۔ لیکن وہ خلافت جس کا آج سے سترہ برس پہلے براہین احمدیہ اور نیز ازالہ اوہام میں ذکر ہے حقیقی خلافت وہی ہے کیا وہ الہام یاد نہیں؟ اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ۔ خَلِيْفَةُ اللّٰهِ السُّلْطَانُ۔ ہاں ہماری خلافت روحانی ہے اور آسمانی ہے۔ نہ زمینی“۔ پھر اسی اشتہار کے آخر میں انگریزی گورنمنٹ کی تعریف کی نسبت تحریر فرماتے ہیں ”رہی یہ بات کہ اشتہار مذکور میں انگریزی سلطنت کی تعریف کی گئی ہے۔ سو یاد رہے کہ یہ ہرگز منافقانہ تعریف نہیں لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلٰی مَنْ نَّافَقَ بلکہ ہم سچے دل سے کہتے ہیں اور صحیح صحیح کہتے ہیں کہ اس گورنمنٹ کے ذریعہ سے ہم نے بہت امن پایا ہے۔ اس لئے اس کا شکر ہم پر واجب ہے۔ اور مجھے ان شریر انسانوں کی حالت پر نہایت تعجب ہے کہ اب تک وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ جزاء احسان احسان ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ(55:61)۔“

الرحمٰن: ۶۱)۔ (اشتہار جلسہ شکریہ جشن جوبلی۔ شصت سالہ حضرت قیصرہ ہند۔ ۷؍ جون ۱۸۹۷ء)

اسی طرح سلطانِ روم کے خلیفۃ المسلمین کہلانے اور پھر دین سے غافل ہونے کی نسبت فرماتے ہیں ”آج بھی اگر کسی انسان میں فراست موجود ہے تو دیکھ سکتا ہے کہ کیا اسلام کی حالت اس خطرناک حالت تک پہنچی ہے یا کہ نہیں جس وقت خدا اس کی خبر گیری کرے زمانہ خود پکار پکار کر زبانِ حال سے کہہ رہا ہے کہ مصلح کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ معمولی مسلمان تو کسی شمار میں ہی نہیں۔ جو لوگ مسلمان کہلاتے ہیں اور خلیفۃ المسلمین امیر المؤمنین ہیں خود ان کا حال ایسا ہے کہ باوجود بادشاہ ہونے کے ان کو اتنی جرأت نہیں کہ ان کی سلطنت میں کوئی شخص جرأت اور آزادی سے اظہارِ حق بھی کر سکے سلطانِ روم کی سلطنت میں کوئی چار سطر بھی مذہب عیسوی کے خلاف نہیں لکھ سکتا۔ شاید یہ خیال ہو گا کہ تمام عیسائی سلطنتیں ناراض ہو کر سلطنت چھین لیں گی۔ مگر خدا کی سلطنت کا ذرا بھی خیال نہیں اور نہ ہی خدا کی طاقت پر پورا بھروسہ ہے۔ خودداری بھی ایک حد تک اچھی ہوتی ہے۔ مگر جہاں ایمان جائے وہاں ایسی باتوں کا کیا خیال۔“

”حالانکہ ہمارا تجربہ بتلاتا ہے کہ گورنمنٹ کو مذہب سے تعلق ہی کوئی نہیں۔ دیکھو ہم نے عیسائیوں کے خلاف کتنی کتابیں لکھی ہیں۔ اور کس طرح زور سے ان کے عقائدِ باطلہ کا ردّ کیا ہے۔ مگر گورنمنٹ میں یہ بڑی خوبی ہے کہ کوئی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا گیا۔ اصل وجہ اپنی ہی کمزوری ہوتی ہے۔ ورنہ گورنمنٹ دین کے معاملات میں کبھی بھی دست اندازی نہیں کرتی“۔ (اقتباس از تقریر بمقام لاہور)

آگے چل کر سلطان روم کے محافظ حرمین شریفین ہونے کے خیال کو غلط قرار دیتے ہوئے انگریزی گورنمنٹ کی یوں تعریف فرماتے ہیں۔ ”بادشاہ اور خلیفۃ المسلمین اور امیر المؤمنین کہلا کر بھی خدا کی طرف سے بے پرواہی اچھی بات نہیں۔ مخلوق سے اتنا ڈرنا کہ گویا خدا کو قادر ہی نہیں سمجھنا۔ یہ ایک قسم کی سخت کمزوری ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ خادم الحرمین ہیں۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ حرمین اس کی حافظ ہیں۔ حرمین کی برکت اور طفیل ہے کہ اب تک وہ بچا ہوا ہے۔ جو مذہبی آزادی اس ملک میں ہمیں نصیب ہے وہ مسلمان ممالک میں خود مسلمانوں کو بھی نصیب نہیں دیکھو کس آزادی سے ہم کام کر رہے ہیں۔ اور پھر کیسا اثر ہماری تالیفات کا ملک پر ہوا ہے۔ قادیان میں ہمیشہ پادری لوگ آیا کرتے تھے۔ ان کے خیمے ہمیشہ قادیان کے باہر کی طرف نصب کئے جاتے تھے۔ اور وہ پھر کر اپنا وعظ کیا کرتے تھے۔ مگر اب عرصہ پندرہ برس کا ہوتا ہے کہ کبھی کسی پادری کی شکل بھی نظر نہیں آئی۔ ہمیشہ کہا کرتے تھے اور مسلمانوں کو دعویٰ سے بلایا کرتے تھے کہ کوئی ان سے مباحثہ کرے۔ اور کہتے تھے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بھی معجزہ ظاہر نہیں ہوا۔ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ زندہ نبی کے مضمون پر بحث کی جاوے۔ مگر اب یہ معاملہ ہے کہ ہم بلاتے ہیں۔ انعام دیتے ہیں۔ مگر کوئی ادھر آتا ہی نہیں“۔(ایضاً)

پھر کتاب الھدیٰ کے صفحہ ۳۹ (روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۸۳) پر ان نام نہاد خلفاء کی نسبت یوں تحریر فرماتے ہیں کہ ” وَ فُوِّضَ اِلَيْهِمْ خِدْمَةٌ فَمَا اَدَّوْهَا حَقَّ الْاَدَاءِ۔ اَتَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ خُلَفَاءُ الْاِسْلَامِ۔ كَلَّا بَلْ هُمُ اخْلَدُوْا اِلَى الْاَرْضِ وَ اَنّٰى لَهُمْ حَظٌّ مِّنَ التَّقْوَى التَّامِّ۔ وَلِذٰلِكَ يُنْهَزَمُوْنَ مِنْ كُلِّ مَنْ نَهَضَ لِلْمُخَالَفَةِ، وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ مَعَ كَثْرَةِ الْجُنْدِ وَ الدَّوْلَةِ وَالشَّوْكَةِ۔ وَمَا هٰذَا اِلَّا اَثَرُ السُّخْطِ الَّذِيْ نَزَلَ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ ترجمہ: اور جو خدمت ان کے سپرد ہوئی تھی اس کا کوئی حق ادا نہیں کیا۔ کیا تم دعویٰ کرتے ہو کہ وہ اسلام کے خلیفے ہیں۔ ایسا نہیں بلکہ وہ زمین کی طرف جھک گئے ہیں اور پورے تقویٰ سے انہیں کہاں حصہ ملا ہے۔ اس لئے ہر ایک سے جو ان کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑا ہو شکست کھاتے ہیں اور باوجود کثرتِ لشکروں اور دولت اور شوکت کے بھاگ نکلتے ہیں۔ اور یہ سب اثر ہے اس لعنت کا جو آسمان سے ان پر برستی ہے“۔ آگے چل کر ان کے برے حال اور بد انجام کی نسبت تحریر فرماتے ہیں کہ ” وَ كَيْفَ يُعْضَدُوْنَ بِالنُّصْرَةِ وَالْاِعَانَةِ۔ مَعَ هٰذِهِ الْغَوَايَةِ وَالْخِيَانَةِ۔ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُبَدِّلُ سُنَّتَهُ الْمُسْتَمِرَّةَ۔ وَ مِنْ سُنَّتِهِ اَنَّهٗ يُؤَيِّدُ الْكَفَرَةَ وَ لَا يُؤَيِّدُ الْفَجَرَةَ۔ وَلِذٰلِكَ تَرٰى مُلُوْكَ النَّصَارٰى يُؤَيَّدُوْنَ وَ يُنْصَرُوْنَ۔ وَ يَاْخُذُوْنَ ثُغُوْرَهُمْ وَ يَتَمَلَّكُوْنَ۔ ترجمہ: اور ایسی خیانت اور گمراہی کے ہوتے ہوئے انہیں کیونکر خدا سے مدد ملے۔ اس لئے کہ خدا اپنی دائمی سنت کو تبدیل نہیں کرتا اور اس کی سنت ہے کہ کافر کو تو مدد دیتا ہے پر فاجر کو ہرگز نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ نصرانی بادشاہوں کو مدد مل رہی ہے اور وہ ان کی حدوں اور مملکتوں پر قابض ہو رہے ہیں اور ہر ایک ریاست کو دباتے چلے جاتے ہیں“۔ الھدیٰ ص۴۲ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۸۶) پھر ان کے محافظ حرمین شریفین ہونے کا انکار کرتے ہوئے اس طرح ان کی تباہی کی خبر دیتے ہیں: ” اَتَخَالُوْنَ اَنَّهُمْ يَحْفَظُوْنَ حَرَمَ اللّٰهِ وَ حَرَمَ رَسُوْلِهٖ كَالْخُدَّامِ۔ كَلَّا بَلِ الْحَرَمُ يَحْفَظُهُمْ لِاِدِّعَاءِ الْاِسْلَامِ وَ ادِّعَاءِ مَحَبَّةِ خَيْرِ الْاَنَامِ۔ وَ قَدْ حَقَّتِ الْعُقُوْبَةُ لَوْ لَمْ يَتُوْبُوْا اِلَى اللّٰهِ الْمُقْتَدِرِ الْعَلَّامِ۔ ترجمہ: کیا تمہارا خیال ہے کہ وہ حرمین شریفین کے خادم اور محافظ ہیں ایسا نہیں بلکہ حرم انہیں بچا رہا

ہے اس لئے کہ وہ اسلام اور رسول خدا کی محبت کے مدعی ہیں۔ اور اگر وہ سچی توبہ نہ کریں تو سزا سر پر کھڑی ہے“۔(الہدیٰ صفحہ ۵۶ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۳۰۰) ان تحریروں سے یہ باتیں صاف ظاہر ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ سلطان کے ادعائے خلافت کو غلط قرار دیتے ہیں اس کی حکومت سے انگریزوں کی حکومت کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کی سلطنت کے بد انجام کی خبر دیتے ہیں اور انگریزی حکومت کی مخالفت کو نہایت مکروہ اور گناہ قرار دیتے ہیں۔ اور ہر ایک احمدی کا فرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احکام اور فیصلوں پر دل و جان سے کاربند ہو۔ پس میں تمام جماعت کو اس اعلان کے ذریعہ سے اطلاع دیتا ہوں کہ اپنے امام کے حکم کے ماتحت ہر طرح سے گورنمنٹ برطانیہ کے خیر خواہ رہیں اور ہر ممکن طریق سے اس کی مدد و اعانت کرتے رہیں اور اگر کسی جگہ کسی آدمی یا جماعت کے خیالات ان کو نادرست معلوم ہوں تو اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔ اور اپنی جماعت کے علاوہ غیروں کو بھی سمجھاتے رہیں کہ گورنمنٹ برطانیہ کی فرمانبرداری ان کا مذہبی فرض ہے۔ پس چاہئے کہ اپنے ذاتی خیالات کو مذہب پر قربان کر دیں۔ ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ جس امن سے ہم گورنمنٹ برطانیہ کے ماتحت زندگی بسر کر رہے ہیں ہر گز وہ امن ہم کو اور کسی سلطنت میں نہیں مل سکتا خواہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی۔ خصوصاً اس زمانہ کی اسلامی کہلانے والی حکومتوں کے حلم اور بردباری کا نظارہ ہم امیر کابل کے سلوک سے دیکھ چکے ہیں جس نے بلا وجہ ہمارے ایک بھائی کو نہایت بے دردی سے سنگسار کروا دیا۔

آخر میں میں اپنی جماعت کو اس امر کی بھی تاکید کرتا ہوں کہ وہ آج کل دعاؤں اور آہ و زاری پر بہت زور دیں اور اپنے نفوس میں تبدیلی پیدا کریں اور اللہ تعالیٰ کے آگے گر جائیں تا اسلام کی ترقی کی صورت نکلے اور اس کے زوال کے اسباب دور ہوں اور اسلام ایک دفعہ پھر اپنی اصل شان میں دنیا کے چاروں کونوں میں پھیلنا شروع ہو اور شرک و بدعت کی جگہ توحید اور سچی اطاعت کی ترقی ہو۔ آمین ثم آمین۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔

خاکسار میرزا محمود احمد خلیفہ دوم جماعت احمدیہ قادیان۔ پنجاب ۹ نومبر ۱۹۱۴ء

برکاتِ خلافت

(جلسہ سالانہ ۱۹۱۴ء کے خطابات)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

برکاتِ خلافت

تقریر حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی

جو ۲۷؍دسمبر ۱۹۱۴ء کو سالانہ جلسہ کے موقع پر ہوئی

اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(1:2-7) آمین۔

میں نے کچھ ضروری باتیں آپ لوگوں کے سامنے بیان کرنی ہیں۔ ان میں سے ایک وہ بات بھی ہے جو میرے خیال میں احمدیت کے لئے ہی نہیں بلکہ اسلام کے قیام کا واحد ذریعہ ہے اور جس کے بغیر کوئی انسان اللہ تعالیٰ تک پہنچ ہی نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی مسلمان مسلمان ہو سکتا ہے مگر کوئی انسان خدا تعالیٰ کی رحمت اور فضل کے بغیر اس کو حاصل بھی نہیں کر سکتا۔ اس کے علاوہ کچھ اور بھی ضروری باتیں ہیں۔ مگر اس سے کم درجہ پر ہیں۔ میں نے ارادہ کیا ہے اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شاملِ حال ہوا اور اس کی رحمت مدد اور معاون ہوئی تو انشاء اللہ وہ بات جو نہایت ضروری ہے اور جس کے پہنچانے کی مدت سے مجھے تڑپ تھی کل بیان کروں گا۔ آج ارادہ ہے کہ درمیانی باتیں جو اس سے کم درجہ پر ہیں مگر ان کا پہنچانا بھی ضروری ہے وہ پہنچا دوں۔ اس ضروری بات کو کل پر رکھنے سے میری یہ بھی غرض ہے کہ جو نعمت آسانی سے مل جاتی ہے اور جس کے لئے محنت نہیں کرنی پڑتی اس کی قدر نہیں ہوتی۔ پس جو لوگ کل تک یہاں اس بات کو سننے کے اشتیاق میں رہیں گے وہی اس کے سننے کے حقدار ہوں گے۔ چونکہ مجھے کھانسی کی وجہ سے تکلیف ہے اس لئے اگر میری آواز سب تک نہ پہنچے تو بھی سب لوگ صبر سے بیٹھے رہیں۔ اگر انہیں آواز نہ پہنچے گی۔ تو ثواب تو ضرور ہی ہو جائے گا۔ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں۔ کہ کان میں پڑیں بھی تو اثر نہیں ہو تا مگر اس مقام کا اثر ہو جاتا ہے جہاں کوئی بیٹھا ہوتا ہے۔ باتیں تو اکثر لوگ سنتے ہیں مگر کیا سارے ہی پاک ہو جاتے ہیں؟ نہیں تو معلوم ہوا کہ نیک باتوں کے سننے والے کو ہدایت ہو جانا ضروری بات نہیں ہے۔ پھر ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک شخص کو کسی پاک مقام پر جانے کی وجہ سے بلا کسی دلیل کے ہدایت ہو گئی ہے۔ تو اگر بعض لوگوں تک آواز نہ پہنچے اور وہ بیٹھے رہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص کی وجہ سے ہی بغیر باتیں سننے کے انہیں ہدایت دے دے گا۔

اب میں اپنی اصل بات کی طرف آنے سے پیشتر چند ایسی باتیں بیان کرتا ہوں جن کا آج کل چرچا ہو رہا ہے اور جو نہایت ضروری ہیں۔

پہلی بات

میں کل یہاں آ رہا تھا۔ چند لوگوں نے جو کہ دیہاتی زمیندار معلوم ہوتے تھے مجھے اس طرح سلام کیا کہ یا رسول اللہ السلام علیکم۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ رسول کیا ہوتا ہے۔ میری یہ عادت نہیں ہے کہ کسی آدمی کو خصوصیت سے اس کی غلطی جتلاؤں۔ اصل بات یہ ہے کہ مجھے شرم آجاتی ہے۔ ایک تو اس لئے کہ اس کو اپنی غلطی پر شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔ دوسرے خود مجھے دوسرے کو ملامت کرنے پر شرم محسوس ہوتی ہے اس لئے میں کسی کی غلطی کو عام طور پر بیان کر دیا کرتا ہوں اور کسی خاص آدمی کی طرف اشارہ نہیں کرتا سوائے ان خاص آدمیوں کے جن سے خاص تعلق ہوتا ہے۔ ایسے آدمیوں کو میں علیحدگی میں بتا دیتا ہوں۔ سو یہ بات اچھی طرح یاد رکھو کہ رسول رسول ہی ہوتا ہے ہر ایک شخص رسول نہیں ہو سکتا۔ ہاں ہمیں خدا تعالیٰ نے یہ فخر بخشا ہے کہ ایک رسول کی خدمت کا شرف عطا کیا ہے۔ تو تم لوگ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کا جو درجہ ہوتا ہے وہ رسولوں کو دو اور دوسرے کسی کو ان کے درجہ میں شامل نہ کرو۔ اللہ کے رسولوں کے نام قرآن شریف میں درج ہیں اور جو اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے اپنا رسول بھیجا ہے اس کا نام بھی آپ لوگ جانتے ہیں باقی سب ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں۔ ہاں خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کی ترقی کے لئے خلافت کا سلسلہ جاری کیا ہے اور جو انسان اس کام کے لئے چنا گیا ہے وہ درحقیقت تمہارا بھائی ہی ہے پس اس کو رسول کہنا ہر گز ہر گز جائز نہیں ہے۔

دوسری بات

بعض لوگ گھٹنوں یا پاؤں کو ہاتھ لگاتے ہیں گو وہ یہ کام شرک کی نیت سے نہیں بلکہ محبت اور عقیدت کے جوش میں کرتے ہیں لیکن ایسے کاموں کا انجام ضرور شرک ہوتا ہے۔ اس وقت ایسا کرنے والوں کی نیت شرک کرنے کی نہیں ہوتی مگر نتیجہ شرک ہی ہوتا ہے۔ بخاری شریف میں آیا ہے۔ ابنِ عباسؓ کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں حضرت نوحؑ کی قوم کے جن بتوں کے نام آئے ہیں وہ دراصل مشرک اقوام کے بڑے بڑے آدمی تھے۔ ان کے مرنے پر پچھلوں نے ان کی یادگاریں قائم کرنی چاہیں تاکہ ان کو دیکھ کر ان میں جو صفات تھیں ان کی تحریک ہوتی رہے۔ اس کے لئے انہوں نے سٹیچو (مجسمہ) بنا دیئے لیکن ان کے بعد آنے والے لوگوں نے جب دیکھا کہ ہمارے آباء واجداد ان مجسموں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے تو انہوں نے ان کی اور عزت کرنی شروع کردی پھر اسی طرح رفتہ رفتہ ان کی تعظیم بڑھتی گئی۔ بالآخر نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کے آگے سجدے کئے جانے لگے اور ان کی اصل حالت کو بھلا کر انہیں خدا کا شریک بنا لیا گیا۔ تو بعض باتیں ابتداء میں چھوٹی اور بے ضرر معلوم ہوتی ہیں مگر ان کا نتیجہ ایسا خطرناک نکلتا ہے کہ پھر اس کی تلافی ناممکن ہو جاتی ہے۔ میری اپنی حالت اور فطرت کا تو یہ حال ہے کہ میں ہاتھ چومنا بھی ناپسند کرتا تھا۔ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ چومتے تھے اور وہ اس سے منع نہ فرماتے تھے جس سے میں سمجھتا تھا کہ یہ جائز ہے لیکن میرے پاس دلیل کوئی نہ تھی۔ پھر خلیفۃ المسیح جن کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میرے قدم بقدم چلتا ہے ان کے ہاتھوں کو لوگ چومتے۔ آپ میرے استاد بھی تھے اور دوسرے خلیفہ وقت۔ میں آپ کے فعل کو بھی حجت خیال کرتا تھا لیکن مجھے پوری تسلی جو دلائل کے ساتھ حاصل ہوتی ہے تب حاصل ہوئی جب میں نے دیکھا کہ آنحضرت ﷺ کے ہاتھوں کو بھی صحابہؓ چومتے اور آنکھوں سے لگاتے تھے اس لئے میں ایسے لوگوں کو جو ہاتھ چومتے ہیں روکتا تو نہیں لیکن انہیں ایسا کرتے دیکھ کر مجھے شرم آجاتی ہے اور میں صرف اس لئے انہیں منع نہیں کرتا کہ وہ یہ کام اپنی محبت اور عقیدت کے جوش میں کرتے ہیں۔ لیکن ان باتوں کو بڑھانا نہیں چاہئے تاکہ وہ شرک کی حد تک نہ پہنچ جائیں۔

پہلی اہم بات

اب میں ایک بات بیان کرنا شروع کرتا ہوں اور وہ خلافت کے متعلق ہے۔ شاید کوئی کہے کہ خلافت کے بڑے جھگڑے سنتے رہے ہیں اور یہاں بھی کل اور پرسوں سے سن رہے ہیں آخر یہ بات

ختم بھی ہو گی یا نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ پہلے جو باتیں تم خلافت کے متعلق سن چکے ہو وہ تو تمہیں ان لوگوں نے سنائی ہیں جو رہرو کی طرح ایک واقعہ کو دیکھنے والے تھے۔ دیکھو! ایک بیمار کی حالت اس کا تیمار دار بھی بیان کرتا ہے مگر بیمار جو اپنی حالت بیان کرتا ہے وہ اور ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح دوسرے لوگوں نے اپنی سمجھ اور عقل کے مطابق تمہیں باتیں سنائی ہیں مگر میں جو کچھ تمہیں سناؤں گا وہ آپ بیتی ہو گی جگ بیتی نہیں ہوگی۔ دوسرے کے درد اور تکلیف کو خواہ کوئی کتنا ہی بیان کرے لیکن اس حالت کا وہ کہاں اندازہ لگا سکتا ہے جو مریض خود جانتا ہے اس لئے جو کچھ مجھ پر گزرا ہے اسکو میں ہی اچھی طرح سے بیان کر سکتا ہوں۔ دیکھنے والوں کو تو یہ ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہوگی کہ کئی لاکھ کی جماعت پر حکومت مل گئی۔ مگر ذرا را غور کرو کیا تمہاری آزادی میں پہلے کی نسبت کچھ فرق پڑ گیا ہے۔ کیا کوئی تم سے غلامی کرواتا ہے یا تم پر حکومت کرتا ہے یا تم سے ماتحتوں غلاموں اور قیدیوں کی طرح سلوک کرتا ہے۔ کیا تم میں اور ان میں جنہوں نے خلافت سے روگردانی کی ہے کوئی فرق ہے۔ کوئی بھی فرق نہیں۔ لیکن نہیں ایک بہت بڑا فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ

تمہارے لئے ایک شخص تمہارا درد رکھنے والا، تمہاری محبت رکھنے والا، تمہارے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والا، تمہاری تکلیف کو اپنی تکلیف جاننے والا، تمہارے لئے خدا کے حضور دعائیں کرنے والا ہے

مگر ان کے لئے نہیں ہے۔ تمہارا اسے فکر ہے، درد ہے اور وہ تمہارے لئے اپنے مولیٰ کے حضور تڑپتا رہتا ہے لیکن ان کے لئے ایسا کوئی نہیں ہے۔ کسی کا اگر ایک بیمار ہو تو اس کو چین نہیں آتا۔ لیکن کیا تم ایسے انسان کی حالت کا اندازہ کر سکتے ہو جس کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بیمار ہوں۔ پس تمہاری آزادی میں تو کوئی فرق نہیں آیا ہاں تمہارے لئے ایک تم جیسے ہی آزاد پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہو گئی ہیں۔

سنا جاتا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مجھے حکومت کی خواہش تھی اس لئے جماعت میں تفرقہ ڈال کر لوگوں سے بیعت لے لی ہے۔ لیکن بیعت لینے کے وقت کی حالت میں تمہیں بتاتا ہوں۔ جس وقت بیعت ہو چکی تو میرے قدم ڈگمگائے اور میں نے اپنے اوپر ایک بہت بڑا بوجھ محسوس کیا۔ اس وقت مجھے خیال آیا کہ آیا اب کوئی ایسا طریق بھی ہے کہ میں اس بات سے لوٹ سکوں۔ میں نے بہت غور کی اور بہت سوچا لیکن کوئی طرز مجھے معلوم نہ ہوئی۔ اس کے بعد بھی کئی دن میں اسی فکر میں رہا تو خدا تعالیٰ نے مجھے رؤیا میں بتایا کہ میں ایک پہاڑی پر چل رہا ہوں دشوار گزار راستہ دیکھ کر میں گھبرا گیا اور واپس لوٹنے کا ارادہ کیا جب میں نے لوٹنے کے لئے پیچھے مڑ کر دیکھا تو پچھلی طرف میں نے دیکھا کہ پہاڑ ایک دیوار کی طرح کھڑا ہے اور لوٹنے کی کوئی صورت نہیں اس سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ اب تم آگے ہی آگے چل سکتے ہو پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔

نکتہ معرفت

میں نے اس بات پر غور کیا ہے کہ نبی پر چالیس سال کے بعد نبوت کیوں نازل ہوتی ہے؟ اس سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ چالیس سال کے بعد تھوڑے سال ہی انسان کی زندگی ہوتی ہے اس لئے ان میں مشکلات کو برداشت کر کے نبی گزارہ کر لیتا ہے۔ لیکن اگر جوانی میں ہی اسے نبوت مل جائے تو بہت مشکل پڑے اور اتنے سال زندگی کے بسر کرنے نہایت دشوار ہو جائیں کیونکہ یہ کام کوئی آسان نہیں ہے۔

خلافت کی اہمیت

دیکھنے میں آگ کا انگارہ بڑا خوشنما معلوم ہوتا ہے مگر اس کی حقیقت وہی جانتا ہے جس کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اسی طرح خلافت بھی دوسروں کو بڑی خوبصورت چیز معلوم ہوتی ہے اور نادان دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ خلیفہ بننے والے کو بڑا مزا ہو گیا ہے لیکن انہیں کیا معلوم ہے کہ جو چیز ان کی آنکھوں میں بڑی خوبصورت نظر آتی ہے دراصل ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے بغیر کسی کی طاقت ہی نہیں کہ اسے اٹھا سکے خلیفہ اس کو کہتے ہیں کہ جو ایک پہلے شخص کا کام کرے۔ اور خلیفہ جس کا قائم مقام ہوتا ہے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَوَضَعۡنَا عَنۡکَ وِزۡرَکَ الَّذِیۡۤ اَنۡقَضَ ظَہۡرَکَ(الم نشرح: ۳) کہ ہم نے تیرا وہ بوجھ جس نے تیری کمر توڑ دی تھی اتار دیا ہے۔ تو جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیٹھ اس بوجھ سے ٹوٹ کے قریب تھی تو اور کون ہے جو یہ بار اٹھا کر سلامت رہ سکے۔ لیکن وہی خدا جس نے آنحضرت ﷺ کے بوجھ کو ہلکا کیا تھا اور اس زمانہ میں بھی اپنے دین کی اشاعت کے لئے اس نے ایک شخص کو اس بوجھ کے اٹھانے کی توفیق دی وہی اس نبی کے بعد اس کے دین کو پھیلانے والوں کی کمریں مضبوط کرتا ہے۔ میری طبیعت پہلے بھی بیمار رہتی تھی مگر تم نے دیکھا کہ میں اس دن کے بعد کسی کسی دن ہی تندرست رہا ہوں۔ اور کم ہی دن مجھ پر صحت کے گزرے ہیں۔ اگر مجھے خلافت کے لینے کی خوشی تھی اور میں اس کی امید لگائے بیٹھا تھا تو چاہئے تھا کہ اس دن سے میں تندرست اور موٹا ہو تا جاتا۔ اگر منکران خلافت کے خیال کے مطابق چھ سال میں اسی کے حاصل کرنے کی کوشش میں رہا ہوں تو اب جبکہ یہ حاصل ہو گئی ہے تو مجھے خوشی سے موٹا ہونا چاہئے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بچپن میں کبھی والدہ صاحبہ مجھے پتلا دبلا دیکھ کر گھبراتیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے کہ جب اس کو خوشی حاصل ہو گی تو موٹا ہو جائے گا اور مثال کے طور پر خواجہ صاحب کا ذکر فرماتے کہ وکالت کے امتحان کے پاس کرنے سے پہلے یہ بھی دبلے ہوتے تھے جب سنا کہ وکالت پاس کر لی ہے تو چند دنوں میں ہی موٹے ہو گئے۔ تو اگر مجھے خلافت ایک حکومت مل گئی ہے اور اس کے لینے میں میری خوشی تھی تو چاہئے تھا کہ میں موٹا اور تندرست ہوتا جاتا لیکن میرے پاس بیٹھنے والے اور پاس رہنے والے جانتے ہیں کہ مجھ پر کیسے کیسے سخت دن آتے ہیں اور اپنی تکلیف کو میں ہی جانتا ہوں۔

مسئلہ خلافت

خلافت کا مسئلہ کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے۔ میں نے ۱۲؍اپریل ۱۹۱۳ء کو جو تقریر کی تھی (یہ تقریر منصب خلافت کے نام سے چھپ چکی ہے) اس میں قرآن شریف کی ایک آیت سے میں نے بتایا تھا کہ خلیفہ کا کیا کام ہوتا ہے۔ خلیفہ کے معنی ہیں کسی کے پیچھے آ کر وہی کام کرنے والا جو اس سے پہلا کیا کرتا تھا۔ اس کی پہچان کے لئے جس کا کوئی خلیفہ ہو گا اس کے اصل کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کیا کام کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کا کام یہ بتایا ہے یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیۡہِمۡ وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ(اٰل عمرٰن: ۱۶۵) یعنی یہ کہ (۱) خدا کی آیات لوگوں پر پڑھے۔ (۲) ان کا تزکیہ نفس کرے (۳) انہیں کتاب سکھائے (۴) ان کو حکمت سکھائے۔ میں نے یہ بھی اس تقریر میں بتایا تھا کہ یہ چاروں کام نبی کے دنیا کی کوئی انجمن نہیں کر سکتی۔ یہ وہی شخص کر سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی کے بعد مقرر کیا جاتا ہے اور جسے خلیفہ کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر یہ باتیں نہیں ذکر کی جاتیں۔ ہاں چند موٹے موٹے اعتراضات میں بیان کر کے ان کے جواب دیتا ہوں اور یہ بھی بتاتا ہوں کہ کیوں میں نے دلیری اور استقلال کو ہاتھ سے نہ دیا اور اپنی بات پر مضبوط جما رہا۔

بعض لوگ میری نسبت یہ کہتے ہیں کہ اس نے کیوں وسعت حوصلہ سے کام لے کر یہ نہ کہہ دیا۔ کہ میں خلیفہ نہیں بنتا۔ ایسا کہنے والا سمجھتا ہے کہ خلافت بڑے آرام اور راحت کی چیز ہے مگر اس احمق کو یہ معلوم نہیں کہ خلافت میں جسمانی اور دنیاوی کسی قسم کا سکھ نہیں ہے۔ اب میں یہ بتاتا ہوں کہ کیوں میں نے جرأت اور دلیری سے کام لے کر اس بار کو اٹھایا اور وہ کیا چیز تھی جس نے مجھے قوم کے دو ٹکڑے ہوتے دیکھ کر ایک جگہ پر قائم رہنے دیا اور وہ کونسا ہاتھ تھا جس نے مجھے ایک جگہ کھڑا کئے رکھا۔ اس وقت تو چاروں طرف کے لوگ موجود ہیں لیکن ایک وہ وقت تھا کہ بہت قلیل حصہ جماعت کا بیعت میں شامل ہوا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت جماعت کے اتحاد کی خاطر میں

نے کیوں نہ اپنی بات چھوڑ دی؟ اور اتحاد قائم رکھا اس لئے آج میں اس بات کو بیان کروں گا جس نے مجھے مضبوط رکھا۔ لیکن اس سے پہلے میں چند اور باتیں بیان کرتا ہوں۔

پہلا اعتراض اور اس کا جواب

ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ خلیفہ وہ ہوتا ہے جو بادشاہ ہو یا مامور۔ تم کون ہو۔ بادشاہ ہو؟ میں کہتا ہوں۔ نہیں۔ مامور ہو؟ میں کہتا ہوں نہیں۔ پھر تم خلیفہ کس طرح ہو سکتے ہو خلیفہ کے لئے بادشاہ یا مامور ہونا شرط ہے یہ اعتراض کرنے والے لوگوں نے خلیفہ کے لفظ پر ذرا بھی تدبر نہیں کیا۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ ایک شخص درزی کی دکان پر جائے اور دیکھے کہ ایک لڑکا اپنے استاد کو کہتا ہے ”خلیفہ جی“ وہ وہاں سے آکر لوگوں کو کہنا شروع کر دے کہ خلیفہ تو درزی کو کہتے ہیں۔ اور کوئی شخص جو درزی کا کام نہیں کرتا وہ خلیفہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ایک شخص مدرسہ میں جائے (پہلے زمانہ میں مانیٹر کو خلیفہ کہتے تھے) اور لڑکوں کو ایک لڑکے کو خلیفہ کہتے سنے اور باہر آکر کہہ دے کہ خلیفہ تو اسے کہتے ہیں جو لڑکوں کا مانیٹر ہوتا ہے۔ اس لئے وہ شخص جو لڑکوں کا مانیٹر نہیں وہ خلیفہ نہیں ہو سکتا خلیفہ کے لئے تو لڑکوں کا ہونا شرط ہے۔

اسی طرح ایک شخص دیکھے کہ آدم علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا اور ان کے لئے فرشتوں کو حکم دیا کہ سجدہ کرو۔ وہ کہے کہ خلیفہ تو وہی ہو سکتا ہے جس کو سجدہ کرنے کا حکم فرشتوں کو ملے ورنہ نہیں ہو سکتا۔

اسی طرح ایک اور شخص آنحضرت ﷺ کے خلفاء کو دیکھے جن کے پاس سلطنت اور حکومت تھی۔ تو کہے کہ خلیفہ تو اس کو کہتے ہیں جس کے پاس سلطنت ہو اس کے سوا اور کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا کیونکہ خلیفہ کے لئے سلطنت کا ہونا شرط ہے۔ لیکن ایسا کہنے والے اتنا نہیں سمجھتے کہ خلیفہ کے لفظ کے معنی کیا ہیں اس کے یہ معنی ہیں کہ جس کا کوئی خلیفہ کہلائے اس کا کام وہ کرنے والا ہو۔ اگر کوئی درزی کا کام کرتا ہے تو وہی کام کرنے والا اس کا خلیفہ ہے۔ اور اگر کوئی طالب علم کسی استاد کی غیر حاضری میں اس کا کام کرتا ہے تو وہ اس کا خلیفہ ہے۔

اسی طرح اگر کوئی کسی نبی کا کام کرتا ہے تو وہ اس نبی کا خلیفہ ہے۔ اگر خدا نے نبی کو بادشاہت اور حکومت دی ہے۔ تو خلیفہ کے پاس بھی بادشاہت ہونی چاہئے اور خدا خلیفہ کو ضرور حکومت دے گا۔ اور اگر نبی کے پاس ہی حکومت نہ ہو تو خلیفہ کہاں سے لائے۔ آنحضرت ﷺ کو چونکہ خدا تعالیٰ نے دونوں چیزیں یعنی روحانی اور جسمانی حکومتیں دی تھیں اس لئے ان کے خلیفہ کے پاس بھی دونوں چیزیں تھیں۔ لیکن اب جبکہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو حکومت نہیں دی تو اس کا خلیفہ کس سے لڑتا پھرے کہ مجھے حکومت دو۔ ایسا اعتراض کرنے والے لوگوں نے خلیفہ کے لفظ پر غور نہیں کیا۔ اگر کوئی شخص یہاں بیٹھے ہوئے آدمیوں کی پگڑیوں، ٹوپیوں اور کپڑوں کو دیکھ کر یہ لکھ لے کہ آدمی وہی ہوتے ہیں جن کی پگڑیاں، ٹوپیاں اور کپڑے ان کی طرح ہوتے ہیں اور باہر جا کر کسی شخص کو اس اپنے مقرر کردہ لباس میں نہ دیکھے تو کہے کہ یہ تو آدمی ہی نہیں ہو سکتا تو کیا وہ بیوقوف نہیں ہے؟ ضرور ہے۔ اسی طرح اگر کوئی چند نبیوں کے خلیفوں کو دیکھ کر کہے کہ ایسے ہی خلیفے ہو سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ اور کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا تو کیا اس کی بات کسی عقلمند کے نزدیک ماننے کے قابل ہے؟ ہرگز نہیں۔ اس کو چاہئے کہ خلیفہ کے لفظ کو دیکھے اور اس پر غور کرے۔ اس وقت خلیفہ کے لفظ کے متعلق عربی علم سے ناواقفیت کی وجہ سے لوگوں کو غلطی لگی ہے۔ خلیفہ اس کو کہتے ہیں (۱) جو کسی کا قائم مقام ہو (۲) خلیفہ اس کو کہتے ہیں جس کا کوئی قائم مقام ہو (۳) خلیفہ وہ جو احکام و اوامر کو جاری کرتا اور ان کی تعمیل کراتا ہے۔ پھر خلیفے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تو اصل کے مرنے کے بعد ہوتے ہیں۔ اور ایک اس کی موجودگی میں بھی ہوتے ہیں۔ مثلاً وائسرائے شہنشاہ کا خلیفہ ہوتا ہے۔ اب اگر کوئی وائسرائے کو کہے کہ چونکہ اسے دین سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لئے یہ شہنشاہ کا خلیفہ نہیں ہو سکتا۔ تو یہ اس کی بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ وہ جس بادشاہ کا نائب ہے اس کے پاس صرف حکومت ہی ہے اس لئے وائسرائے حکومت میں ہی اس کا خلیفہ ہے نہ کہ دین میں۔ تو یہ ایک موٹی بات ہے جس کو بعض لوگ نہیں سمجھے یا نہیں سمجھنا چاہتے۔

دوسرا اعتراض اور اس کا جواب

پھر یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ حضرت مسیح اسرائیلی کے مثیل تھے اس لئے ان کے خلفاء بھی ایسے ہی ہونے چاہئیں جیسے کہ مسیح اسرائیلی کے ہوئے لیکن چونکہ حضرت مسیح اسرائیلی کے بعد خلافت کا سلسلہ ثابت نہیں ہے۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد بھی کوئی خلیفہ نہیں ہونا چاہئے۔ اول تو یہ بات ہی بہت عجیب ہے۔ ہم تو یہ مانتے ہیں کہ حضرت مسیحؑ نے صلیب پر وفات نہیں پائی۔ اور صلیب کے واقعہ کے بعد اسی سال تک زندہ رہے ہیں۔ لیکن انجیل جس سے ان کے بعد کی خلافت کا سلسلہ نہیں نکلتا وہ تو ان کی صلیب کے واقعہ تک کے حالات زندگی کی تاریخ ہے۔ پس اس سے خلافت کا کس طرح پتہ لگ سکتا ہے۔ یہ تو ویسی ہی بات ہے کہ کوئی شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب براہین احمدیہ پیش کر کے کہے کہ اس میں تو خلافت کا کوئی ذکر نہیں اور نہ ہی کسی

خلیفہ کا اس سے پتہ چلتا ہے اس لئے آپ کے بعد کوئی خلیفہ بھی نہیں ہوا۔ پس لوگ حضرت مسیحؑ کا خلیفہ انجیل سے کس طرح پالیں جبکہ وہ اس کی صرف ۳۳؍سال کی زندگی کے حالات ہیں۔ حالانکہ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیحؑ نے ایک سو بیس سال کی عمر پائی ہے۔ تو جب ۳۳؍سال انجیلی زندگی کے بعد بھی حضرت مسیحؑ زندہ رہے ہیں۔ تو ان کے خلفاء کا پتہ انجیل سے کس طرح لگے اگر کوئی کہے کہ حضرت مسیحؑ کے ایک سو بیس برس کی عمر میں مرنے کے بعد بھی تو کسی خلیفہ کا پتہ نہیں لگتا۔ اس کے لئے ہم کہتے ہیں۔ کہ اگر تم حضرت مسیحؑ کی تیس سالہ زندگی کے بعد کے حالات ہمیں لا دو تو ہم ان کے خلیفے بھی نکال دیں گے۔ اور جب حضرت مسیحؑ کی پچھلی زندگی کی کوئی تاریخ ہی موجود نہیں ہے تو ان کے خلفاء کے متعلق بحث کرنا ہی فضول اور لغو ہے۔ اور اگر یہ کہا جائے۔ کہ صلیب پر لٹکنا اور ملک سے چلا جانا بھی موت ہی ہے۔ اور حضرت مسیح موعودؑ نے بھی الوصیت میں لکھا ہے کہ ”ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوا“ یعنی ان کے بعد بھی خلیفہ ہوا۔ اس لئے کوئی خلیفہ دکھاؤ۔ اچھا ہم اس کو مان لیتے ہیں لیکن اس اعتراض سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے انجیل پر بھی غور نہیں کیا۔ انجیل میں بعینہٖ وہی نقشہ درج ہے جو الوصیت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کھینچا ہے اور جس طرح الوصیت میں خلیفہ اور انجمن کا ذکر ہے اسی طرح انجیل میں ہے۔ حضرت مسیحؑ جب صلیب کے بعد اپنے حواریوں کے پاس آئے اور کشمیر جانے کا ارادہ کیا۔ تو اس کا ذکر یوحنا باب ۲۱ میں اس طرح پر ہے۔ کہ ”اور جب کھانا کھا چکے تو یسوع نے شمعون پطرس سے کہا کہ اے شمعون یوحنا کے بیٹے کیا تو ان سے زیادہ مجھ سے محبت رکھتا ہے اس نے اس (مسیح) سے کہا۔ ہاں خداوند تُو تو جانتا ہی ہے کہ میں تجھے عزیز رکھتا ہوں۔ اس نے اس سے کہا۔ تو میرے برے چرا۔ اس نے دوبارہ اس سے پھر کہا کہ اے شمعون یوحنا کے بیٹے کیا تو مجھ سے محبت رکھتا ہے۔ وہ بولا ہاں۔ خداوند تُو تو جانتا ہی ہے کہ میں تجھ کو عزیز رکھتا ہوں۔ اس نے اس سے کہا۔ تو میری بھیڑوں کی گلہ بانی کر۔ اس نے تیسری بار اس سے کہا۔ کہ اے شمعون یوحنا کے بیٹے ! کیا تو مجھے عزیز رکھتا ہے۔ چونکہ اس نے تیسری بار اس سے کہا۔ کیا تو مجھے عزیز رکھتا ہے۔ اس سبب سے پطرس نے دلگیر ہو کر اس سے کہا اے خداوند تُو تو سب کچھ جانتا ہے تجھے معلوم ہی ہے کہ میں تجھے عزیز رکھتا ہوں۔ یسوع نے اس سے کہا۔ کہ تو میری بھیڑیں چرا“ (آیت: ۱۵-۱۶-۱۷) تو حضرت مسیحؑ نے اپنے بعد پطرس کو خلیفہ مقرر کیا۔ ایک جگہ لوقا باب ۹ میں اس طرح حضرت مسیحؑ کے متعلق لکھا ہے۔ ”پھر اس نے ان بارہ (حواریوں) کو بلا کر انہیں سب بدروحوں پر اور بیماریوں کو دور کرنے کے لئے قدرت اور اختیار بخشا اور انہیں خدا کی بادشاہت کی منادی کرنے اور بیماروں کو اچھا کرنے کے لئے بھیج دیا“ (آیت: ۱-۲) ”پس وہ روانہ ہو کر گاؤں گاؤں خوشخبری سناتے اور ہر جگہ شفا دیتے پھرتے“ (آیت: ۶) ان آیات سے ثابت ہے کہ حضرت مسیحؑ نے اپنے حواریوں کے سپرد تبلیغ کا کام کیا ہے لیکن انہوں نے اپنی جماعت کو کسی جماعت کے سپرد نہیں کیا بلکہ صرف پطرس کو ہی کہا ہے کہ ”تو میرے برے چرا“ ”تو میری بھیڑوں کی گلہ بانی کر“ ”تو میری بھیڑیں چرا“ ہاں اپنے سلسلہ میں داخل کرنے کا حکم دیتے وقت سارے حواریوں کو ”خدا کی بادشاہت کی منادی کرنے اور بیماروں کو اچھا کرنے کے لئے بھیجا“ ہے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الوصیت میں تحریر فرمایا ہے۔ اور جہاں آپ نے خلیفہ کا ذکر کیا ہے وہاں تو یہ لکھا ہے۔

”یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے۔ اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیۡ(مجادلہ: ۲۲) اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اسی طرح خدا تعالیٰ قوی نشانوں کے ساتھ ان کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے۔ اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخم ریزی انہی کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اس کی پوری تکمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقع دے دیتا ہے۔ اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر ناتمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں۔ غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔ (۱) اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے (۲) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا۔ اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی۔ اور خود جماعت کے لوگ بھی تردد میں پڑ جاتے ہیں۔ اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں۔ اور کئی بد قسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں۔ تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے۔ اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔ پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے وقت میں ہوا۔ جبکہ

آنحضرت ﷺ کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے۔ اور صحابہؓ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے۔ تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا۔ اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا۔ اور اس وعدہ کو پورا کیا۔ جو فرمایا تھا وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا(النور: ۵۶) یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جمادیں گے۔ ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا جبکہ حضرت موسیٰؑ مصر اور کنعان کی راہ میں پہلے اس سے جو بنی اسرائیل کو وعدہ کے موافق منزل مقصود تک پہنچادیں فوت ہو گئے۔ اور بنی اسرائیل میں ان کے مرنے سے ایک بڑا ماتم برپا ہوا جیسا کہ توریت میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل اس بے وقت موت کے صدمہ سے اور حضرت موسیٰؑ کی ناگہانی جدائی سے چالیس دن تک روتے رہے۔ ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوا۔ اور صلیب کے واقعہ کے وقت تمام حواری تتر بتر ہو گئے۔ اور ایک ان میں سے مرتد بھی ہو گیا“ (الوصیت صفحہ ۶، ۷، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۰۴۔۳۰۵)

پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گرتی ہوئی جماعت کو سنبھالنے کے لئے وہی طریق بتایا ہے۔ جو آنحضرت ﷺ۔ حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ کے بعد عمل میں آیا۔ یعنی خلفاء ہوئے۔ لیکن جہاں حضرت مسیح موعودؑ نے تبلیغ کا حکم فرمایا ہے۔ وہاں یہ لکھا ہے۔

”اور چاہئے کہ جماعت کے بزرگ جو نفسِ پاک رکھتے ہیں۔ میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں۔ کیا یورپ اور کیا ایشیا ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے۔ اور اپنے بندوں کو دینِ واحد پر جمع کرے۔ یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا۔ سو تم اس مقصد کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے“۔

(الوصیت صفحہ ۸، ۹۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۰۶، ۳۰۷)

تو حضرت مسیح موعودؑ نے جو کچھ اپنی جماعت کے متعلق فرمایا ہے۔ ویسا ہی حضرت مسیحؑ نے بھی لکھا ہے۔ البتہ مسیح ناصری نے پطرس کا نام لے کر اس کے سپرد اپنی بھیڑوں (مریدوں) کو کیا تھا۔ لیکن چونکہ مسیح محمدی کا ایمان اس سے زیادہ تھا۔ اس لئے اس نے کسی کا نام نہیں لیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے سپرد اس معاملہ کو کر دیا کہ وہ جس کو چاہے گا کھڑا کر دے گا ادھر ایک جماعت کو حکم دے دیا۔ کہ یہ ”میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں ۔“ ہم کہتے ہیں کہ یہ سب احمدیوں کا فرض ہے۔ کہ وہ ایسا کریں۔ تو جس طرح حضرت عیسیٰؑ نے اپنی جماعت کو پطرس کے حوالہ کیا۔ اسی طرح مسیح موعودؑ نے اپنی جماعت کو ایک آدمی کے ماتحت رہنے کا حکم دیا اور جس طرح حضرت عیسیٰؑ نے اپنے حواریوں کو تبلیغ کا حکم دیا۔ اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی جماعت کے لوگوں کو اپنے نام پر بیعت لینے کا حکم دیا۔

اس کے بعد میں کچھ واقعات بیان کرتا ہوں۔ جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں وہ غور سے سنیں اور جو نہیں بیٹھے ہوئے انہیں پہنچا دیں جب حضرت خلیفۃ المسیح الاول سخت بیمار ہو گئے تو میں نے اپنے اختلاف پر غور کیا اور بہت غور کیا۔ جب میں نے یہ دیکھا کہ جماعت کا ایک حصہ عقائد میں ہم سے خلاف ہے تو میں نے کہا کہ یہ لوگ ہماری بات تو نہیں مانیں گے آؤ ہم ہی ان کی مان لیتے ہیں۔ میں نے بہت غور کر کے ایک شخص کی نسبت خیال کیا کہ اگر کوئی جھگڑا پیدا ہوا تو پہلے میں اس کی بیعت کر لوں گا پھر میرے ساتھ جو ہوں گے وہ بھی کرلیں گے اور اس طرح جماعت میں اتحاد اور اتفاق قائم رہ سکے گا۔ حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کے دن پچھلے پہر وہ شخص مجھے ملا اور میرے ساتھ سیر کو چل پڑا۔ اور اس نے مجھے کہا کہ ابھی خلیفہ کی بحث نہ کی جائے جب باہر سے سب لوگ آجائیں گے تو اس مسئلہ کو طے کر لیا جائے گا۔ میں نے کہا دو دن تک لوگ آجائیں گے اس وقت اس بات کا فیصلہ ہو جائے۔ اس نے کہا نہیں سات آٹھ ماہ تک یونہی کام چلے پھر دیکھا جائے گا اتنی جلدی اس کی ضرورت ہی کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اگر اس معاملہ میں میری رائے پوچھتے ہو تو میں تو یہی کہوں گا کہ خلافت کا مسئلہ نہایت ضروری ہے اور جس قدر بھی جلدی ممکن ہو سکے اس کا تصفیہ ہو جانا چاہئے۔ میں نے کہا کہ کیا آپ کوئی ایسا خاص کام بتا سکتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں اگر آپ خلیفہ نہ ہوتے تو وہ رک جاتا اور جس کی وجہ سے فوراً ان کو خلیفہ بنانے کی حاجت پڑی۔ اگر اس وقت کوئی ایسا خاص کام نہ ہوتے ہوئے پھر بھی ان کی ضرورت تھی تو اب بھی ہر وقت ایک خلیفہ کی ضرورت ہے۔ خلیفہ کا تو یہ کام ہوتا ہے کہ جماعت میں جب کوئی نقص پیدا ہو جائے ۔ تو وہ اسے دور کر دے نہ کہ وہ مشین ہوتی ہے جو ہر وقت کام ہی کرتی رہتی ہے۔ آپ کو کیا معلوم ہے کہ آج ہی جماعت میں کوئی جھگڑا پیدا ہو جائے تو پھر کون اس کا فیصلہ کرے گا۔ میں نے کہا کہ ہماری طرف سے خلافت کے متعلق کوئی جھگڑا نہیں پیدا ہو سکتا آپ کوئی آدمی پیش کریں میں اس کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں۔ کچھ اور لوگوں کو بھی مجھ سے محبت ہے وہ بھی اس کی بیعت کر لیں گے اور کچھ لوگ آپ سے تعلق رکھنے والے ہیں وہ بھی بیعت کر لیں گے اس طرح یہ معاملہ طے ہو جائے گا۔ پھر میں نے کہا کہ یہ بحث نہیں ہونی چاہئے کہ خلیفہ ہو یا نہ ہو بلکہ اس بات پر بحث ہو سکتی ہے کہ کون خلیفہ ہو۔ اس وقت پھر میں نے یہ کہا کہ آپ اپنے میں سے کوئی آدمی پیش کریں میں اس کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں مگر میں یہ کبھی بھی نہیں مان سکتا کہ کوئی خلیفہ نہ ہو۔ اگر تمام لوگ اس خیال کو چھوڑ دیں اور اس خیال کے صرف چند آدمی رہ جائیں تب بھی ہم کسی نہ کسی کی بیعت کر لیں گے اور ایک کو خلیفہ بنائیں گے۔ مگر ہم یہ کبھی نہ مانیں گے کہ خلیفہ نہ ہو۔ دوسرا آدمی خواہ کوئی ہو۔ غیر احمدیوں کو کافر کہے یا نہ کہے۔ ان کے پیچھے نماز جائز سمجھے یا نہ سمجھے۔ ان سے تعلقات رکھے یا نہ رکھے۔ ایک خلیفہ چاہئے تاکہ جماعت کا اتحاد قائم رہے اور ہم اس کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ گفتگو بیچ میں ہی رہی اور کوئی فیصلہ نہ ہوا۔ اور تجویز ہوئی کہ اس پر مزید غور کے بعد پھر گفتگو ہو اور دوسرے دوست بھی شامل کئے جائیں۔ دوسرے دن پانچ سات آدمی مشورہ کے لئے آئے اور اس بات پر بڑی بحث ہوئی کہ خلافت جائز ہے یا نہیں۔ بڑی بحث مباحثہ کے بعد جب وقت تنگ ہو گیا تو میں نے کہا اب صرف ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ کہ جو لوگ خلیفہ کی ضرورت سمجھتے ہیں وہ اپنا ایک خلیفہ بنا کر اس کی بیعت کر لیں۔ ہم ایسے لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے مشورہ پوچھتے ہیں۔ آپ لوگ جو کہ خلیفہ ہونا نا جائز سمجھتے ہیں وہاں تشریف نہ لائیں تاکہ کسی قسم کا جھگڑا نہ ہو۔ اس کے بعد ہم یہاں (مسجد نور میں) آگئے۔ وہ لوگ بھی یہیں آ پہنچے۔ پھر جو خدا کو منظور تھا وہ ہوا۔ اس وقت جو لوگ میرے پاس بیٹھے تھے وہ خوب جانتے ہیں کہ اس وقت میری کیا حالت تھی۔ اگر میں نے پہلے سے کوئی منصوبہ سازی کی ہوتی تو چاہئے تھا کہ پہلے سے ہی میں نے بیعت کے الفاظ یاد کئے ہوتے۔ لیکن اس وقت ایک شخص مجھے بتلاتا گیا اور میں وہ الفاظ کہتا گیا۔

کیا یہی منصوبہ باز کا حال ہوتا ہے؟

تیسرا اعتراض اور اس کا جواب

پھر کہتے ہیں کہ اس وقت ایک شخص تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا تو اس کو کہا گیا کہ بیٹھ جاؤ۔ اس سے اس کی ہتک ہوئی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس وقت اس کو اگر مار بھی پڑتی تو کوئی حرج نہ تھا کیونکہ یہی تو خلیفہ کی ضرورت تھی جس کا وہ انکار کرتا تھا۔ اس نے دیکھ لیا کہ نور الدین خلیفۃ المسیح نے ہی اس کی عزت سنبھالی ہوئی تھی اس کی آنکھ بند ہوتے ہی وہ ذلیل ہو گیا اور یہ اس بات کا ثبوت ہے۔ کہ خلیفہ کی فوراً ضرورت ہوتی ہے نہ کہ سات آٹھ ماہ کے بعد جا کر اس کی حاجت پیش آتی ہے مگر مجھے اس معاملہ کے متعلق کچھ علم نہیں تھا کہ کون بولنے کے لئے کھڑا ہوا ہے اور کس نے منع کیا ہے۔ اس مسجد سے باہر جا کر مجھے ایک شخص نے سنایا کہ ایک آدمی کہتا ہے کہ واقعی قادیان ہسپتال ہے اور اس میں رہنے والے سارے مریض ہیں۔ میں نے پوچھا یہ اس نے کیوں کہا۔ تو اس نے جواب دیا کہ وہ کہتا ہے کہ اس وقت مولوی محمد علی بولنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے ان کو بولنے نہیں دیا گیا جس سے ان کی ہتک ہوئی ہے اس وقت مجھے اس بات کا علم ہوا۔ اور اگر اسی وقت مجھے علم ہو جاتا تو میرا کیا حق تھا کہ میں کسی کو روک دیتا اور ایسا نہ کرنے دیتا۔ اور لوگوں کو مجھ سے اس وقت کون سا تعلق تھا؟ جس کی وجہ سے وہ میری بات ماننے کے لئے تیار ہو جاتے۔ اس وقت تک تو کوئی شخص جماعت کا امام مقرر نہ ہوا تھا۔

ایک اور واقعہ

اس کے بعد ایک اور واقعہ ہوا۔ اور وہ یہ کہ میں نے سنا کہ مولوی محمد علی صاحب قادیان کو چھوڑ کر جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ میں نے انہیں لکھا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ یہاں سے جانا چاہتے ہیں آپ ایسا کیوں کرتے ہیں آپ اپنی تکلیف مجھے لکھیں کہ آپ کو کیا تکلیف ہے میں نے لکھ کر ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کو دیا کہ آپ ان کے پاس لے جائیں۔ میں نے کسی ملازم وغیرہ کے ہاتھ خط دے کر اس لئے نہ بھیجا تاکہ وہ یہ نہ کہیں کہ کسی اور آدمی کے ہاتھ خط بھیجنے سے میری ہتک ہوئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو میں نے یہ بھی کہا کہ آپ جا کر ان سے پوچھیں کہ آپ یہاں سے کیوں جاتے ہیں؟ اگر آپ کو کوئی تکلیف ہے تو میں اس کا ذمہ دار ہوں۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ بھلا ہم قادیان کو چھوڑ کر کہیں جا سکتے ہیں؟ آپ کو معلوم ہی ہے کہ میں نے چھٹی لی ہوئی ہے اسے پورا کرنے کے لئے جاتا ہوں۔ جواب کے آخر میں یہ بھی لکھا تھا کہ میرے جانے کی یہ وجہ بھی ہے کہ آج کل چونکہ بعض طبائع میں جوش ہے اس لئے میں نے خیال کیا ہے کہ کچھ عرصہ باہر رہوں تاکہ جوش کم ہو جائے ایسا نہ ہو پٹھانوں میں سے کوئی جوش میں مجھ پر حملہ کر بیٹھے۔ لیکن اس خط میں زیادہ تر زور اس بات پر دیا گیا تھا کہ ہم قادیان چھوڑ کر کہاں جا سکتے ہیں؟ میں تو چھٹی کے ایام باہر گزارنے کے لئے جاتا ہوں۔ اس کے بعد میں ان سے ملنے کے لئے ان کے گھر گیا۔ میرے ساتھ نواب صاحب بھی تھے۔ جب ہم ان کے پاس جا کر بیٹھے تو کچھ ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں۔ ترجمہ قرآن کے متعلق کچھ گفتگو ہوئی۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے اصل مطلب کی طرف کلام کی رو پھیرنے کے لئے کہا کہ میاں صاحب آپ کے خط پر خود آپ کے پاس آئے ہیں۔ ابھی یہ بات انہوں نے کہی ہی تھی کہ مولوی صاحب نے ایک ایسی حرکت کی جس سے ہم نے سمجھا کہ یہ ہمیں ٹالنا چاہتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کا مطلب یہ نہ ہو۔ اس وقت انہیں کم از کم یہ تو خیال کرنا چاہئے تھا کہ ہم گو اسے نہیں مانتے لیکن جماعت کے ایک حصہ نے اس کو امام تسلیم کیا ہے۔ ایک آدمی جس کا نام بگا ہے وہ کوٹھی کے باہر ان کو نظر آیا انہوں نے فوراً اس کو آواز دی کہ آمیاں بگا تو لاہور سے کب آیا کیا حال ہے اور اس سے ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیں۔ یہ دیکھ کر ہم اٹھ کر چلے آئے۔ میں نے ان کی اس حرکت سے یہ نتیجہ نکالا کہ شاید وہ اس معاملہ کے متعلق گفتگو کرنی ہی نہیں چاہتے۔ واللہ اعلم ۔ ان کی یہ منشاء تھی یا نہ۔ لیکن میرے دوسرے ساتھیوں کا بھی ایسا ہی خیال تھا اس لئے ہم چلے آئے۔

اتحاد کی کوشش

ان باتوں کے علاوہ میں نے قوم کے اتحاد اور اتفاق کے قائم رکھنے کے لئے اور بھی تجویزیں کیں۔ جب حضرت خلیفۃ المسیح کی حالت بہت نازک ہو گئی۔ اور مجھے معلوم ہوا کہ بعض لوگ مجھے فتنہ گر کہتے ہیں۔ تو میں نے ارادہ کر لیا کہ میں قادیان سے چلا جاؤں اور جب اس بات کا فیصلہ ہو جائے تو پھر آجاؤں گا۔ میں نواب صاحب کی کوٹھی سے جہاں حضرت خلیفۃ المسیح بستر علالت پر پڑے تھے گھر آیا اپنی بیٹھک کے دروازے کھول کر نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے میرے مولیٰ! اگر میں فتنہ کا باعث ہوں۔ تو مجھے اس دنیا سے اٹھا لیجئے یا مجھے توفیق دیجئے کہ میں قادیان سے کچھ دنوں کے لئے چلا جاؤں۔ دعا کرنے کے بعد پھر میں نواب صاحب کی کوٹھی پر آیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہی ڈالا کہ ہم ذمہ دار ہوں گے تم یہاں سے مت جاؤ۔ میں ایک دفعہ قسم کھا چکا ہوں اور پھر اسی ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے اور جو اس گھر (مسجد) کا مالک ہے اور میں اسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں جو آسمان اور زمین کا حاکم ہے اور جس کی جھوٹی قسم لعنت کا باعث ہوتی ہے اور جس کی لعنت سے کوئی جھوٹا بچ نہیں سکتا کہ میں نے کسی آدمی کو کبھی نہیں کہا کہ مجھے خلیفہ بنانے کے لئے کوشش کرو۔ اور نہ ہی کبھی خدا تعالیٰ کو میں نے یہ کہا کہ مجھے خلیفہ بنائیو۔ پس جبکہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس کام کے لئے خود اپنے فضل سے چن لیا ہے تو میں کس طرح اسے ناپسند کرتا؟ کیا اگر تمہارا کوئی دوست تمہیں کوئی نعمت دے اور تم اس کو لے کر نالی میں پھینک دو۔ تو تمہارا دوست خوش ہو گا؟ اور تمہاری یہ حرکت درست ہو گی؟ ہرگز نہیں۔ تو اگر خدا تعالیٰ نعمت دے تو کون ہے جو اس کو ہٹا سکے۔ جب دنیا کے دوستوں کی نعمتوں کو کوئی رد نہیں کرتا بلکہ بڑی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو میں خدا تعالیٰ کی دی ہوئی اس نعمت کو کس طرح رد کر دوں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو رد کرنے والوں کے بڑے خطرناک انجام ہوتے رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان کی قوم کے لوگ طُور پر گئے۔ خدا تعالیٰ نے ان کو فرمایا تھا۔ کہ آؤ ہم تم سے کلام کریں۔ وہاں جب زلزلہ آیا تو وہ ڈر گئے اور کہنے لگے کہ ہم خدا کی باتوں کو نہیں سننا چاہتے اور واپس چلے آئے۔ خدا تعالیٰ نے ان کو اس نعمت کی ناقدری میں یہ سزا دی کہ فرمایا۔ اب تم سے کوئی شرعی نبی برپا نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ تمہارے بھائیوں میں سے کیا جائے گا۔ تو خدا تعالیٰ کی نعمت کو رد کرنے والوں کی نسبت جب میں یہ دیکھ چکا ہوں تو پھر خدا کی نعمت کو میں کس طرح رد کر دیتا۔ مجھے یقین تھا کہ وہ خدا جس نے مجھے اس کام کے لئے چنا ہے وہ خود میرے پاؤں کو مضبوط کر دے گا۔ اور مجھے استقامت اور استقلال بخشے گا۔ پس اگر مجھے خلیفہ ماننے والے بھی سب کے سب نہ ماننے والے ہو جاتے اور کوئی بھی مجھے نہ مانتا اور ساری دنیا میری دشمن اور جان کی پیاسی ہو جاتی جو کہ زیادہ سے زیادہ یہی کرتی کہ میری جان نکال لیتی تو بھی میں آخری دم تک اس بات پر قائم رہتا۔ اور کبھی خدا تعالیٰ کی نعمت کے ردّ کرنے کا خیال بھی میرے دل میں نہ آتا کیونکہ یہ غلطی بڑے بڑے خطرناک نتائج پیدا کرتی ہے۔

امام حسنؓ کا واقعہ

امام حسنؓ سے یہی غلطی ہوئی تھی۔ جس کا بہت خطرناک نتیجہ نکلا۔ گو یہ غلطی ان سے ایک خاص اعتقاد کی بناء پر ہوئی اور وہ یہ کہ بیٹا باپ کے بعد خلیفہ نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ حضرت عمرؓ کا اعتقاد تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد ہے اور یہی وجہ تھی کہ حضرت عمرؓ نے اپنے بعد انتخابِ خلیفہ کے متعلق فرمایا کہ میرے بیٹے سے اس میں مشورہ لیا جائے لیکن اس کو خلیفہ بننے کا حق نہ ہو گا۔ حضرت علیؓ نے اپنے بیٹے امام حسنؓ کو اپنے بعد خلیفہ مقرر کیا۔ ان کی نیت نیک تھی کیونکہ اور کوئی ایسا انسان نہ تھا جسے خلیفہ بنایا جا سکتا اور جو خلافت کا اہل ہوتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسنؓ بھی حضرت عمرؓ کا سا ہی خیال رکھتے تھے یعنی یہ کہ باپ کے بعد بیٹا خلیفہ نہیں ہونا چاہئے اس لئے انہوں نے بعد میں معاویہؓ سے صلح کر لی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے بعد امام حسینؓ اور ان کا سب خاندان شہید ہو گیا۔ ایک دفعہ انہوں نے خدا کی نعمت کو چھوڑا۔ خدا تعالیٰ نے کہا اچھا اگر تم اس نعمت کو قبول نہیں کرتے تو پھر تم میں سے کسی کو یہ نہ دی جائے گی۔ چنانچہ پھر کوئی سید کبھی بادشاہ نہیں ہوا سوائے چھوٹی چھوٹی حکومتوں کے سیدوں کو حقیقی بادشاہت اور خلافت کبھی نہیں ملی۔ امام حسنؓ نے خدا کی دی ہوئی نعمت واپس کر دی۔ جس کا نتیجہ بہت تلخ نکلا۔ تو خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کو رَدّ کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

اِس شخص کو خدا کی معرفت سے کوئی حصہ نہیں ملا۔ اور وہ خدا کی حکمتوں کے سمجھنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا جو مجھے کہتا ہے کہ آپ خلافت کو چھوڑ دیں۔ اس نادان کو کیا معلوم ہے کہ اس کے چھوڑنے کا کیا نتیجہ ہو گا۔ پس حضرت عثمانؓ کی طرح میں نے بھی کہا کہ جو قبا مجھے خدا تعالیٰ نے پہنائی ہے وہ میں کبھی نہیں اتاروں گا خواہ ساری دنیا اس کے چھیننے کے درپے ہو جائے۔ پس میں اب آگے ہی آگے بڑھوں گا خواہ کوئی میرے ساتھ آئے یا نہ آئے۔ مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ابتلاء آئیں گے مگر انجام اچھا ہو گا۔ پس کوئی میرا مقابلہ کر کے دیکھ لے خواہ وہ کوئی ہو انشاء اللہ تعالیٰ میں کامیاب رہوں گا اور مجھے کسی کے مقابلہ کی خدا کے فضل سے کچھ بھی پرواہ نہیں ہے۔

بعض باتیں ایسی ہیں جو کہ میں خود ہی سنا سکتا ہوں۔ کسی کو کیا معلوم ہے کہ مجھ پر کتنا بڑا بوجھ رکھا گیا ہے بعض دن تو مجھ پر ایسے آتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ شام تک میں زندہ نہیں رہوں گا۔ اس وقت میں یہی خیال کرتا ہوں کہ جتنی دیر زندہ ہوں اتنی دیر کام کئے جاتا ہوں۔ جب میں نہ رہوں گا تو خدا تعالیٰ کسی اور کو اس کام کے لئے کھڑا کر دے گا مجھے اپنی زندگی تک اس کام کی فکر ہے جو میرے سپرد خدا تعالیٰ نے کیا ہے بعد کی مجھے کوئی فکر نہیں ہے۔ یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ نے ہی چلایا ہے اور وہی اس کا انتظام کرتا رہے گا۔

خلافت کیا گدی بن گئی ہے؟

وہ نادان جو کہتا ہے کہ گدی بن گئی ہے اس کو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں تو یہ جائز ہی نہیں سمجھتا کہ باپ کے بعد بیٹا خلیفہ ہو۔ ہاں اگر خدا تعالیٰ چاہے مامور کر دے تو یہ الگ بات ہے اور حضرت عمرؓ کی طرح میرا بھی یہی عقیدہ ہے کہ باپ کے بعد بیٹا خلیفہ نہیں ہونا چاہئے۔

پھر کہا جاتا ہے کہ وصیت کے قول کو دیکھو چھ سال کا عمل کیا چیز ہوتی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ چھ سال کیا ہوتے ہیں۔ ہم مان لیتے ہیں آنحضرت ﷺ کے بعد سے لے کر حضرت مسیح موعودؑ تک کے بارہ سو سال کے زمانہ کا عمل بھی کوئی چیز نہیں ہوتا۔ اور چھ سال کیا بلکہ اس سارے زمانہ کے عمل کی قربانی کرنے کے لئے ہم تیار ہو جاتے ہیں مگر ہمیں یہ نمونہ کہیں سے نہیں ملتا کہ کسی نبی کی وفات کے بعد ہی اس کی جماعت نے گمراہی پر اجماع کیا ہو۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کو ایک دن بھی گزرنے نہ پایا تھا۔ کہ جماعت احمدیہ نے خلافت پر اجماع کیا۔ کیا نعوذ باللہ یہ گمراہی پر اجماع تھا؟ ہرگز نہیں۔

ہمیں یہ سنایا جاتا ہے۔ کہ کیا ہم منافق ہیں؟ ہم کہتے ہیں کہ ہم سب کو منافق نہیں کہتے۔ ہاں جس کے دل میں صداقت کا نام بھی نہیں اور جو بول اٹھے کہ میں منافق ہوں اسے ہم منافق کہتے ہیں۔ تو ہم کہتے ہیں کہ بقول ان کے مان لیا کہ اس وقت جماعت کے بیسویں حصہ نے بیعت کی ہے مگر اس وقت یعنی حضرت مسیح موعود کی وفات کے وقت تو ساری جماعت نے ایک خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت جماعت نے گمراہی پر اجماع کیا تھا۔ لیکن یہ نظیر پہلے کہیں سے نہ ملے گی۔ حضرت مسیح کی وفات پر حضرت مسیح موعودؑ بہت بڑی دلیل تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ(سورہ مائدہ: ۱۱۸) کی دیا کرتے تھے اور دوسری بڑی بھاری دلیل صحابہؓ کے ”اجماع“ کو بتلاتے تھے۔ مگر آج کہا جاتا ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد چھ سال تک جماعت احمدیہ کا اجماع گمراہی پر رہا ہے۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں کے بعد جنہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کو دیکھا اور آپ کی صحبت سے فیض اٹھایا دوسرے لوگ کسی غلط مسئلہ پر اجماع کر لیں مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کے صحابی ایسا کریں۔ اگر یہ لوگ ہی ایسا کریں تو حضرت مسیح موعودؑ کے دنیا میں آنے کا فائدہ ہی کیا ہوا ۔ اس میں شک نہیں کہ ہم میں سے کچھ لوگ کمزور بھی ہیں۔ لیکن کیا آنحضرت ﷺ کے وقت منافقوں کا گروہ نہیں تھا۔ اور کیوں بعض اشخاص کو جو کہ آپ کے صحابہؓ کے گروہ میں شامل رہتے تھے اب رضی اللہ عنہ نہیں کہا جاتا حتیٰ کہ ان کو صحابی بھی نہیں کہا جاتا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ منافق تھے۔ وہ زبان سے آنحضرت ﷺ کو مانتے تھے لیکن ان کا دل نہیں مانتا تھا۔ اسی طرح اب ہم کہتے ہیں کہ جو دل سے مسیح موعودؑ کے احکام کو مانتے رہے اور مانتے ہیں ان کو ہم آپ کے صحابہ میں سے کہیں گے اور جو نہیں مانیں گے ان کو نہیں کہیں گے۔ کیا عبد اللہ بن ابی آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہیں رہتا تھا اور آپ کے صحابہؓ میں شامل نہیں تھا مگر اس کو صحابہ میں اس لئے شامل نہیں کیا جاتا کہ وہ منافق تھا۔ اسی طرح اگر حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ رہنے والوں میں سے کوئی ٹھوکر کھائے۔ تو یہ اس کا اپنا قصور ہے نہ کہ اس کا حضرت مسیح موعودؑ کی صحبت میں رہنا اس ٹھوکر کے نقصان سے اسے بچا سکتا ہے۔

پھر میں کہتا ہوں کہ یہ ہمارا قیاس ہی قیاس نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد ساری جماعت کو ٹھوکر نہیں لگی۔ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھا۔

سپردم بتو مایۂ خویش را

تو دانی حساب کم و بیش را

مسیح موعودؑ اللہ تعالیٰ کو اپنا سرمایہ پیش کرتے ہیں۔ کیوں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرے۔ اور یہ خدا تعالیٰ نے خود فرمایا کہ تم اپنی جماعت کو میرے سپرد کر دو۔ ہم اس کی حفاظت کریں گے۔ اب اگر منکرین خلافت کی بات مان لی جائے تو خدا تعالیٰ نے مسیح موعودؑ کی جماعت کی اچھی حفاظت کی کہ اس کا پہلا اجماع ضلالت پر کروا دیا۔ مسیح موعودؑ نے جماعت کو خدا کے سپرد کیا تھا۔ خدا نے اس جماعت کو نور الدین کے سپرد کر دیا۔ جس کی نسبت (نعوذ باللہ) کہا جاتا ہے کہ گمراہی تھی کیا خدا تعالیٰ کو یہ طاقت نہ تھی کہ نور الدین سے جماعت کو چھڑا لیتا؟ اور گمراہ نہ ہونے دیتا۔ طاقت تھی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا جس سے ثابت ہوا کہ جماعت کا اجماع غلطی پر نہ تھا بلکہ خدا تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت تھا۔

یہی باتیں نہیں ہیں جنہوں نے مجھے اپنی بات پر قائم رکھا بلکہ ان سے بھی بڑھ کر ہیں اور میں نے اپنے قیاس پر ہی اس بات کو نہیں چلایا بلکہ یقینی امور پر سمجھا ہے۔ اور وہ ایسی باتیں ہیں کہ جن کی وجہ سے میں اس سے ہٹ نہیں سکتا۔ اور وہ زمین کی گواہی نہیں ہے بلکہ آسمان کی گواہی ہے۔ وہ آدمیوں کی گواہی نہیں بلکہ خدا کی گواہی ہے۔ پس میں اس بات کو کس طرح چھوڑ سکتا ہوں۔ ساری دنیا بھی اگر مجھے کہے کہ یہ بات غلط ہے تو میں کہوں گا کہ تم جھوٹے ہو اور جو کچھ خدا تعالیٰ کہتا ہے وہی سچ ہے کیونکہ خدا ہی سب سچوں سے سچا ہے۔

صلح کیونکر ہو؟

بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپس میں صلح ہو جانی چاہئے۔ کیا ان لوگوں کا جو یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ نہیں ہونا چاہئے وہ اس کو چھوڑ دیں گے۔ یا ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ ہونا چاہئے ہم اسے چھوڑ دیں گے۔ اگر نہیں چھوڑیں گے تو دو نہایت متضاد خیالات کے لوگوں کا اکٹھا کام کرنا اور ہر ایک کا یہ خیال کرنا کہ دوسرے فریق کے خیالات سلسلہ کے لئے سخت نقصان دہ ہیں اور زیادہ اختلاف کا باعث ہو گا یا امن کا؟ میں تو صلح کے لئے تیار ہوں اور میں اس باپ کا بیٹا ہوں جس کو صلح کا شہزادہ کہا گیا ہے لیکن وہ صلح جو دین کی تباہی کا باعث ہوتی ہو وہ میں کبھی قبول نہیں کر سکتا۔ مگر وہ صلح جس میں راستی کو نہ چھوڑنا پڑے اس کے کرنے کے لئے مجھ سے زیادہ اور کوئی تیار نہیں ہے مجھے حضرت مسیح کی وہ تمثیل بہت ہی پسند ہے جو کہ لوقا باب ۱۵ میں لکھی ہے ”کہ کسی شخص کے دو بیٹے تھے۔ ان میں سے چھوٹے نے باپ سے کہا کہ اے باپ مال کا جو حصہ مجھ کو پہنچتا ہے مجھے دے۔ اس نے اپنا مال ومتاع انہیں بانٹ دیا اور بہت دن نہ گزرے کہ چھوٹا بیٹا اپنا سب کچھ جمع کر کے دور دراز ملک کو روانہ ہوا۔ اور وہاں اپنا مال بد چلنی میں اڑا دیا۔ اور جب سب خرچ کر چکا تو اس ملک میں سخت کال پڑا اور وہ محتاج ہونے لگا۔ پھر اس ملک کے ایک باشندہ کے ہاں جا پڑا۔ اس نے اس کو اپنے کھیتوں میں سؤر چرانے بھیجا۔ اور اسے آرزو تھی کہ جو پھلیاں سؤر کھاتے تھے انہیں سے اپنا پیٹ بھرے۔ مگر کوئی اسے نہ دیتا تھا۔ پھر اس نے ہوش میں آکر کہا کہ میرے باپ کے کتنے ہی مزدوروں کو روٹی افراط سے ملتی ہے۔ اور میں یہاں بھوکا مر رہا ہوں۔ میں اٹھ کر اپنے باپ کے پاس جاؤں گا اور اس سے کہوں گا۔ کہ اے باپ میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہگار ہوا۔ اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں مجھے اپنے مزدوروں جیسا کر لے۔ پس وہ اٹھ کر اپنے باپ کے پاس چلا۔ وہ ابھی دور ہی تھا کہ اسے دیکھ کر اس کے باپ کو ترس آیا۔ اور دوڑ کر اس کو گلے لگا لیا اور بوسے لئے بیٹے نے اس سے کہا کہ اے باپ میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہگار ہوا۔ اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں۔ باپ نے اپنے نوکروں سے کہا کہ اچھے سے اچھا جامہ جلد نکال کر اسے پہناؤ۔ اور اس کے ہاتھ میں انگوٹھی اور پاؤں میں جوتی پہناؤ۔ اور پلے ہوئے بچھڑے کو لا کر ذبح کرو۔ تاکہ ہم کھا کر خوشی منائیں۔ کیونکہ میرا یہ بیٹا مردہ تھا اب زندہ ہوا۔ کھویا ہوا تھا۔ اب ملا ہے پس وہ خوشی منانے لگے۔ لیکن اس کا بڑا بیٹا کھیت میں تھا۔ جب وہ آکر گھر کے نزدیک پہنچا۔ تو گانے بجانے اور ناچنے کی آواز سنی۔ اور ایک نوکر کو بلا کر دریافت کرنے لگا۔ کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ اس نے اس سے کہا تیرا بھائی آگیا ہے اور تیرے باپ نے پلا ہوا بچھڑا ذبح کرایا ہے۔ اس لئے کہ اسے بھلا چنگا پایا۔ وہ غصے ہوا اور اندر جانا نہ چاہا۔ مگر اس کا باپ باہر جا کے اسے منانے لگا۔ اس نے اپنے باپ سے جواب میں کہا۔ کہ دیکھ اتنے برس سے میں تیری خدمت کرتا ہوں۔ اور کبھی تیری حکم عدولی نہیں کی۔ مگر مجھے تو نے کبھی ایک بکری کا بچہ بھی نہ دیا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ خوشی مناتا۔ لیکن جب تیرا یہ بیٹا آیا۔ جس نے تیرا مال ومتاع کسیوں میں اڑا دیا۔ تو اس کے لئے تو نے پلا ہوا بچھڑا ذبح کرایا۔ اس نے اس سے کہا بیٹا تو تو ہمیشہ میرے پاس ہے۔ اور جو کچھ میرا ہے وہ تیرا ہی ہے لیکن خوشی منانی اور شادمان ہونا مناسب تھا۔ کیونکہ تیرا یہ بھائی مردہ تھا۔ اب زندہ ہوا۔ کھویا ہوا تھا اب ملا ہے۔“ (آیت : ۱۱ تا ۳۲ مطبوعہ برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی ۱۹۲۴ء انار کلی لاہور)

سو میں بہت وسعت حوصلہ رکھتا ہوں۔ اگر کوئی پچھتاتا ہوا آئے۔ تو میں اس کی آمد پر بنسبت ان کے بہت خوش ہوں گا جنہوں نے پہلے دن بیعت کر لی تھی کیونکہ وہ گمراہ نہیں ہوئے اور یہ گمراہ ہو گیا تھا۔ وہ کھوئے نہیں گئے اور یہ کھویا گیا تھا لیکن پھر مل گیا ہے۔ باپ اپنے بیٹوں کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ مگر اس باپ سے بیٹے کے دیکھنے کی خوشی پوچھو۔ جس کا بیٹا بیمار ہو کر تندرست ہو گیا ہو۔ میں نفاق کی صلح ہر گز پسند نہیں کرتا۔ ہاں جو صاف دل ہو کر اور اپنی غلطی کو چھوڑ کر صلح کے لئے آگے بڑھے میں اس سے زیادہ اسکی طرف بڑھوں گا۔

ایک ضروری بات

میں اب ایک اور بات بتاتا ہوں۔ اور وہ یہ ہے کہ جو منافقت کی صلح کرنی چاہتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ یہ کبھی نہیں ہو سکے گی کیونکہ پچھلے دنوں میں جو کچھ ہوا ہے وہ منشاء الٰہی کے مطابق ہوا ہے۔ ہم میں شامل ہونے والے تو آئیں گے اور آتے ہی رہیں گے اور ان کو وہی رتبہ اور درجہ دیا جائے گا جو ان کا پہلے تھا مگر جو ہونا تھا وہ ہو گیا اس کو روکنا کسی انسان کی طاقت اور قدرت میں نہیں ہے۔ یہ جو فتنہ پڑا ہے اس کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ کو خدا تعالیٰ نے قبل از وقت خبر دے دی تھی۔ کمزور دل کے لوگ کہتے ہیں کہ اب کیا ہو گا احمدیہ سلسلہ ٹوٹ جائے گا۔ میں کہتا ہوں کہ اس فتنہ سے سلسلہ ٹوٹتا نہیں بلکہ بنتا ہے مبارک ہے وہ انسان جو اس نکتہ کو سمجھے۔ اللہ تعالیٰ کے پیارے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ انہیں ایک زخم لگاتا ہے تو ان کی جماعت اور بڑھتی اور ترقی کرتی ہے۔ کیا تم نے کبھی باغبان کو دیکھا نہیں جب وہ کسی درخت کی شاخیں کاٹتا ہے تو اور زیادہ شاخیں اس کی نکل آتی ہیں۔ پس خدا تعالیٰ نے جو اس سلسلہ احمدیہ کے درخت کی کچھ شاخیں کاٹی ہیں تو اس لئے نہیں کہ یہ درخت سوکھ جائے بلکہ اس لئے کہ اور زیادہ بڑھے۔ سو یہ مت سمجھو کہ اس فتنہ کی وجہ سے لوگ سمجھیں گے کہ یہ سلسلہ جھوٹا ہے کیونکہ یہ تو اس کی صداقت کو ظاہر کرتا ہے اور حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئیاں پوری ہوئی ہیں۔ اگر کوئی نبی بیمار ہو جائے اور اس کے مخالفین خوش ہوں کہ یہ اب فوت ہو جائے گا لیکن وہ انہیں اپنا الہام نکال کر دکھا دے کہ میرا بیمار ہونا تو میری صداقت کی دلیل ہے کیونکہ مجھے پہلے بتایا گیا تھا کہ تو بیمار ہو گا تو اس بیماری سے اس نبی کی صداقت پر کوئی دھبہ نہیں لگتا بلکہ اس کی صداقت اور ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح جب اس فتنہ کے لئے پہلے خبریں دی گئی تھیں تو یہ ہماری ترقی میں کوئی روک نہیں ہو سکتا بلکہ اور زیادہ ترقی کے لئے اس فتنہ کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے ہمیں دلائل و براہین کی تلواریں دے دی ہیں تاکہ نہ ماننے والوں کو دلائل کے ساتھ قتل کرتے پھریں۔

فتنہ کا ہونا ضروری تھا

(۱) دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۷؍دسمبر ۱۸۹۲ء کو اپنا ایک رؤیا بیان فرمایا کہ ”کیا دیکھتا ہوں کہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ بن گیا ہوں یعنی خواب میں ایسا معلوم کرتا ہوں کہ وہی ہوں۔ اور خواب کے عجائبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایک شخص اپنے تئیں دوسرا شخص خیال کرلیتا ہے سو اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ میں علی مرتضیٰ ہوں اور ایسی صورت واقعہ ہے کہ ایک گروہ خوارج کا میری خلافت کا مزاحم ہو رہا ہے یعنی وہ گروہ میری خلافت کے امر کو روکنا چاہتا ہے اور اس میں فتنہ انداز ہے۔ تب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس ہیں اور شفقت اور تودّد سے مجھے فرماتے ہیں۔ کہ يَا عَلِیُّ دَعْهُمْ وَاَنْصَارَهُمْ وَزُرَّاعَتَهُمْ۔ یعنی اے علی! ان سے اور ان کے مددگاروں اور انکی کھیتی سے کنارہ کر۔ اور ان کو چھوڑ دے اور ان سے منہ پھیر لے۔ اور میں نے پایا۔ کہ اس فتنہ کے وقت صبر کے لئے آنحضرت ﷺ مجھ کو فرماتے ہیں اور اعراض کے لئے تاکید کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ تو ہی حق پر ہے مگر ان لوگوں سے ترک خطاب بہتر ہے“۔ (تذکرہ: صفحہ ۲۰۹) اس رؤیا میں حضرت مسیح موعودؑ کو بتایا گیا کہ لوگ تمہاری خلافت کا انکار کریں گے اور فتنہ ڈالیں گے۔ لیکن صبر کرنا ہوگا۔ آپ نے اس رؤیا کے معنی یہ بھی کئے ہیں کہ لوگ میرا انکار کریں گے۔ لیکن خدا تعالیٰ کی باتوں کے کئی معنے ہوتے ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے الہام شَاتَانِ تُذْبَحَانِ کے پہلے اور معنے کئے تھے۔ اور پھر اسے سید عبداللطیف صاحب شہید اور مولوی عبدالرحمن صاحب پر چسپاں فرمایا اور دونوں ہی معنی درست تھے۔ تو اس رؤیا کے ایک معنے تو یہ بھی ہیں کہ لوگ حضرت مسیح موعودؑ کا انکار کریں گے۔ لیکن اس کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے بعد جو خلافت ہوگی اس کا انکار ایک جماعت کرے گی اور فتنہ ڈالے گی۔ پس اگر کوئی جماعت خلافت کی منکر نہ ہوتی تو یہ رؤیا کس طرح پوری ہوتی۔

(۲) لوگ کہتے ہیں کہ خلافت کا انکار کرنے والے بڑے آدمی ہیں۔ ہم بھی کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑے لوگوں کی نسبت ہی لکھتے ہیں کہ ”پس جو شخص درحقیقت اپنی جان اور مال اور آبرو کو اس راہ میں بیچتا نہیں میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ خدا کے نزدیک بیعت میں داخل نہیں۔ بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک ظاہری بیعت کرنے والے بہت ایسے ہیں کہ نیک ظنی کا مادہ بھی ہنوز ان میں کامل نہیں۔ اور ایک کمزور بچہ کی طرح ہر ایک ابتلاء کے وقت ٹھوکر کھاتے ہیں۔ اور بعض بد قسمت ایسے ہیں کہ شریر لوگوں کی باتوں سے جلد متأثر ہو جاتے ہیں۔ اور بدگمانی کی طرف ایسے دوڑتے ہیں جیسے کتا مردار کی طرف۔ پس میں کیونکر کہوں کہ وہ حقیقی طور پر بیعت میں داخل ہیں مجھے وقتاً فوقتاً ایسے آدمیوں کا علم بھی دیا جاتا ہے۔ مگر اذن نہیں دیا جاتا کہ ان کو مطلع کروں کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے۔ پس مقام خوف ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم — روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۴۱۱) اگر یہ بات جو روزِ ازل سے مقدر ہو چکی تھی اور جس کی خبر حضرت مسیح موعود کو وقتاً فوقتاً دیجاتی تھی اس وقت اس طرح پوری نہ ہوتی کہ جو بڑے تھے وہ چھوٹے نہ کئے جاتے اور وہ جماعت جس کو دبایا جاتا تھا اس کو بڑھایا نہ جاتا تو کس طرح اس کی صداقت ثابت ہوتی۔

(۳) پھر اگر جماعت احمدیہ کے دو گروہ نہ ہوتے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام کس طرح پورا ہوتا۔ کہ ”خدا دو مسلمان فریق میں سے ایک کا ہوگا۔ پس یہ پھوٹ کا ثمرہ ہے“ (۱۷۔ اپریل ۱۹۰۷ء تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۷۱۵) یعنی جماعت کے دو گروہ ہو جائیں گے۔ اور ان میں سے خدا ایک کے ہی ساتھ ہو گا۔ اگر کوئی کہے کہ اس سے مراد احمدی اور غیر احمدی ہیں اور اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ اس اختلاف میں احمدیوں کے ساتھ ہو گا تو ہم کہتے ہیں کہ اگر اس سے احمدی اور غیر احمدی مراد ہیں تو الہام اس طرح ہونا چاہئے تھا۔ کہ ”اللہ ایک کا ہے“ نہ کہ ”ایک کا ہو گا“ کیونکہ حضرت صاحب کا الہام ہے: اِنِّيْ مَعَكَ وَ مَعَ اَهْلِكَ وَ مَعَ كُلِّ مَنْ اَحَبَّكَ۔ (ترجمہ) میں تیرے ساتھ اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں۔ اور ان تمام کے ساتھ جو تجھ سے محبت رکھتے ہیں یارکھیں گے۔ (۹۔ جون ۱۹۰۵ء۔ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۵۵۴) یعنی اللہ تعالیٰ اس وقت احمدیوں کے ساتھ ہے۔ مگر اس الہام کا لفظ ”ہوگا“ ثابت کرتا ہے۔ کہ اللہ کسی آئندہ زمانہ میں ایک کا ہوگا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس الہام میں احمدی جماعت کے دو گروہوں کی طرف اشارہ ہے۔ پس اگر موجودہ فتنہ نہ ہوتا تو یہ الہام کس طرح پورا ہوتا؟۔

(۴) پھر وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحبت یافتہ اور آپ کے بڑے پیارے دوستوں میں سے ہیں۔ ہم کہتے ہیں ٹھیک ہے۔ ایک وقت آپ ایسے ہی تھے۔ لیکن کیا آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ الہام یاد نہیں ہے جو کہ شیخ رحمت اللہ صاحب کے دعا کے عرض کرنے پر صبح کو حضرت مسیح موعودؑ نے سنایا تھا۔ کہ میں نے آپ کے لئے دعا کی تھی۔ اور مجھے یہ الہام ہوا ہے شَرُّ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔ (ترجمہ) شرارت ان لوگوں کی جن پر انعام کیا تونے۔ (۲۶۔ مئی ۱۹۰۵ء۔ تذکرہ صفحہ ۵۵۰ ایڈیشن چہارم) آج اگر اس فتنہ میں بعض وہ لوگ شامل نہ ہوتے جن پر حضرت

صاحب انعام فرماتے تھے تو وہ الہام کیونکر پورا ہوتا خصوصاً وہ شخص کہ جس کو مخاطب کر کے آپ نے اپنا یہ الہام سنایا۔

(۵) ایک ۱۳؍ مارچ ۱۹۰۷ء کا الہام ہے ۱۳؍ مارچ کو ہی حضرت خلیفۃ المسیح الاول فوت ہوئے۔ ۱۳؍ مارچ کو ہی لاہور سے ٹریکٹ شائع ہوا۔ اگر یہ ٹریکٹ شائع نہ ہوتا تو یہ الہام کہ ”لاہور میں ایک بے شرم ہے“ کس طرح پورا ہوتا۔ (تذکرہ: صفحہ ۷۰۴ ایڈیشن چہارم)

(۶) کہتے ہیں۔ پہلے ہمیں نیک کہا جاتا تھا اب کیوں برا بھلا کہا جاتا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ انسان کی حالت بدلتی رہتی ہے۔ نیک بد اور بد نیک ہو جاتے ہیں مبارک انسان وہی ہے جس کا انجام بخیر ہو۔ پھر اگر اس فتنہ میں بعض لوگ شامل نہ ہوتے جن کو ہم پہلے صالح سمجھا کرتے تھے اور جن کے نیک ارادے ہوا کرتے تھے تو حضرت مسیح موعود کا یہ کشف کہ آپ نے مولوی محمد علی صاحب کو رؤیا میں کہا۔ آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے۔ آؤ ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ۔ (جون ۱۹۰۴ء البدر جلد ۳ نمبر ۲۹) کیونکر پورا ہوتا۔

(۷) پھر اگر کوئی لاہور میں ۱۹۰۹ء میں لاہور کی جماعت کو جمع کر کے ان سے اس بات کے لئے انگوٹھے نہ لگواتا اور دستخط نہ کرواتا کہ خلیفۃ المسیح کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اصل خلیفہ انجمن ہی ہے۔ تو حضرت مسیح موعود کا یہ رؤیا کس طرح پورا ہوتا۔ کہ چھوٹی مسجد کے اوپر تخت بچھا ہوا ہے اور میں اس پر بیٹھا ہوا ہوں۔ اور میرے ساتھ ہی مولوی نور الدین صاحب بھی بیٹھے ہوئے ہیں ایک شخص (اس کا نام ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں) دیوانہ وار ہم پر حملہ کرنے لگا۔ میں نے ایک آدمی کو کہا کہ اس کو پکڑ کر مسجد سے نکال دو۔ اور اس کو سیڑھیوں سے نیچے اتار دیا ہے۔ وہ بھاگتا ہوا چلا گیا۔ اور یاد رہے کہ مسجد سے مراد جماعت ہوتی ہے۔

(۸) پھر میں کہتا ہوں کہ اس فتنہ کے دوران میں اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان پر حملہ نہ کیا جاتا۔ (اور حضور کے) اہل بیت کے مقابلہ میں بدزبانی کی تلوار نہ کھینچی جاتی تو یہ الہام کہ ”اے میرے اہل بیت! خدا تمہیں شر سے محفوظ رکھے“ (۲۔ مارچ ۱۹۰۷ء۔ تذکرہ صفحہ ۷۰۰ ایڈیشن چہارم) کس طرح پورا ہوتا۔ اگر کوئی شر کھڑا ہی نہیں ہونا تھا۔ تو خدا تعالیٰ نے یہ کیوں کہا تھا؟

(۹) پھر اگر ان کے چال چلن پر حملہ نہ کیا جاتا تو اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَیُطَہِّرَکُمۡ تَطۡہِیۡرًا(33:34) اے اہل بیت خدا تعالیٰ نے تم سے ناپاکی دور کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اور تم کو ایسا پاک کرے گا جیسا کہ پاک کرنے کا حق ہے۔ (۲۔ مارچ ۱۹۰۷ء۔ تذکرہ صفحہ ۷۰۰ ایڈیشن

چہارم) کس طرح سچا ثابت ہوتا؟

(۱۰) اگر بعض لوگ یہ نہ کہتے۔ کہ حضرت ام المؤمنینؓ خلافت کے لئے منصوبے باندھتی رہی ہیں اور عورتوں میں اس بات کو پھیلاتی رہی ہیں اور انہوں نے اپنی مرضی کے لئے خدا تعالیٰ کی رضا کو چھوڑ دیا ہے تو یہ خواب کیونکر پوری ہوتی جو آپ نے ۱۹؍ مارچ ۱۹۰۷ء کو دیکھی۔ اور فرمایا خواب میں میں نے دیکھا کہ میری بیوی مجھے کہتی ہے کہ ”میں نے خدا کی مرضی کے لئے اپنی مرضی چھوڑ دی ہے۔“ اس پر میں نے ان کو جواب میں یہ کہا۔ اسی سے تو تم پر حسن چڑھا ہے۔ (تذکرہ صفحہ ۷۰۴ ایڈیشن چہارم)

(۱۱) ہاں اگر میری عداوت کی وجہ سے میرے ان چھوٹے بھائیوں پر حملے نہ کئے جاتے جو ابھی تک عملی میدان میں داخل ہی نہیں ہوئے اور ابھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو حضرت صاحب کی یہ خواب جو آپ نے ۲۱؍ اگست ۱۹۰۶ء کو سنائی تھی کس طرح پوری ہوتی فرمایا ”شب گزشتہ کو میں نے خواب میں دیکھا کہ اس قدر زنبور ہیں کہ تمام سطح زمین ان سے پُر ہے اور ٹڈی دل سے زیادہ ان کی کثرت ہے۔ اس قدر ہیں کہ زمین کو قریباً ڈھانک دیا ہے اور تھوڑے ان میں سے پرواز بھی کر رہے ہیں جو نیش زنی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مگر نامراد رہے اور میں اپنے لڑکوں شریف اور بشیر کو کہتا ہوں کہ قرآن کی یہ آیت پڑھو اور بدن پر پھونک لو کچھ نقصان نہیں کریں گے۔ اور وہ آیت یہ ہے۔ وَاِذَا بَطَشۡتُمۡ بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِیۡنَ(26:131)۔“ (تذکرہ صفحہ ۶۶۹ ایڈیشن چہارم)

(۱۲) اگر قادیان کے رہنے والوں پر حملے نہ کئے جاتے تو خدا تعالیٰ کو یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی۔ کہ وَلَا تَسْئَمْ مِنَ النَّاسِ اَصْحَابُ الصُّفَّةِ وَمَا اَدْرٰىكَ مَا اَصْحَابُ الصُّفَّةِ تَرٰى اَعْيُنَهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ۔ (تذکرہ صفحہ ۵۲ ایڈیشن چہارم)

(۱۳) اس وقت قادیان کو چھوڑ کر اگر لاہور کو مدینۃ المسیح نہ بنایا جاتا ہو تا تو حضرت مسیح موعود کو آج سے تیس ۳۰ سال پہلے یہ کیوں دکھایا جاتا کہ قادیان کا نام قرآن شریف کے نصف میں لکھا ہوا ہے۔ اور یہ دکھایا گیا کہ دنیا میں عزت والے تین گاؤں ہیں ایک مکہ۔ دوسرا مدینہ۔ اور تیسرا قادیان۔ جن کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔ پھر یہ الہام کیوں ہو تا؟ کہ خدا قادیان میں نازل ہو گا۔ ۷؍ نومبر ۱۹۰۲ء البدر جلد ۱ نمبر ۲ صفحہ ۱۱۔ تذکرہ صفحہ ۶۷۵-۶۷۶ ایڈیشن چہارم) اگر لاہور کو قادیان کے مقابلہ میں نہ کھڑا کیا جاتا ہو تا تو اس طرح خصوصیت سے قادیان کا کیوں ذکر ہوتا۔

(۱۴) اگر خاندانِ نبوت پر کوئی اعتراض کرنے والا نہ ہوتا۔ تو حضرت مسیح موعودؐ الوصیت میں یہ کیوں تحریر فرماتے۔ ”میری نسبت اور میرے اہل و عیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے۔ باقی ہر ایک مرد ہو یا عورت، ان کو شرائط کی پابندی لازم ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہوگا۔“۳؎

پس اس فتنہ کو کوئی روک نہیں سکتا تھا اور کیونکر کوئی روک سکتا جبکہ خدا نے مقدر کر رکھا تھا۔ اس لئے ایسا ہونا ضروری تھا اور ہوا۔ مگر جس طرح کسی کا ہاتھ بیماری کی وجہ سے خراب ہو جاتا ہے تو وہ مجبوراً اسے کٹا دیتا ہے لیکن اس ہاتھ کٹانے پر وہ خوش نہیں ہوتا ہاں اس کو اس بات کی خوشی ہوتی ہے کہ ہاتھ کٹانے سے باقی جسم تو بچ گیا ہے اسی طرح ہمیں بھی اس بات کا درد تو ہے کہ ایک حصہ جماعت کا کٹ گیا ہے مگر خوشی بھی ہے کہ باقی جماعت تو اس کے مضر اثر سے بچ گئی ہے۔

اب میں وہ شہادتیں پیش کرتا ہوں جو خدا تعالیٰ نے مجھے اس معاملہ کے متعلق دی ہیں۔ گو دل چاہتا تھا کہ یہ فتنہ نہ اٹھتا مگر ان الہامات اور رؤیا کی صداقت کیونکر ظاہر ہوتی جو حضرت مسیح موعود کو اس فتنہ کی نسبت قبل از وقت دکھلائی گئی تھیں اور میرے لئے تو ان تمام فسادات میں یہ الہامات ہی خضر راہ کا کام دینے کے لئے کافی تھے مگر میرے رب نے مجھے خود بھی آگاہ کرنا پسند فرمایا۔ اور یہ اس کا ایک ایسا احسان ہے جس کا شکر میں جس قدر بھی بجالاؤں تھوڑا ہے۔ اور میں چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کے لئے جو صداقت کے قبول کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں ان شہادتوں کو بیان کر دوں جو اللہ تعالیٰ نے ان تمام فتن کے متعلق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد ظاہر ہوئے میرے لئے ظاہر فرمائیں جن سے میرے دل کو تسلی اور تسکین ہوئی کہ جو راہ میں اختیار کر رہا ہوں وہی درست ہے اور بعض آئندہ کی خبریں ایسی بتائیں جن کے پورا ہونے سے میرا ایمان تازہ ہوا۔

خلافت کے جھگڑا کے متعلق آسمانی شہادت

خلافت کے متعلق جس قدر جھگڑے ہیں ان کی بنیاد اسی مسئلہ پر ہے کہ مسیح موعود کا خلیفہ ہونا چاہئے یا نہیں۔ اگر یہ فیصلہ ہو جائے تو اصول مباحث سب طے ہو جاتے ہیں اور صرف ذاتیات کا پردہ رہ جاتا ہے پس سب سے پہلے میں اسی کے متعلق ایک آسمانی شہادت پیش کرتا ہوں جس کے بعد میں نہیں خیال کرتا کہ کوئی سعید انسان خلافت کا انکار کرے۔

۸۔ مارچ ۱۹۰۷ء کی بات ہے کہ رات کے وقت رؤیا میں مجھے ایک کاپی الہاموں کی دکھائی گئی اس کی نسبت کسی نے کہا کہ یہ حضرت صاحب کے الہاموں کی کاپی ہے اور اس میں موٹا لکھا ہوا ہے اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ(2:217) یعنی کچھ بعید نہیں کہ تم ایک بات کو ناپسند کرو لیکن وہ تمہارے لئے خیر کا موجب ہو۔

اس کے بعد نظارہ بدل گیا اور دیکھا کہ ایک مسجد ہے اس کے متولی کے برخلاف لوگوں نے ہنگامہ کیا ہے اور میں ہنگامہ کرنے والوں میں سے ایک شخص کے ساتھ باتیں کرتا ہوں۔ باتیں کرتے کرتے اس سے بھاگ کر الگ ہو گیا ہوں اور یہ کہا کہ اگر میں تمہارے ساتھ ملوں گا تو مجھ سے شہزادہ خفا ہو جائے گا۔

اتنے میں ایک شخص سفید رنگ آیا ہے اور اس نے مجھے کہا کہ مسجد کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کے تین درجے ہیں۔ ایک وہ جو صرف نماز پڑھ لیں۔ یہ لوگ بھی اچھے ہیں۔ دوسرے وہ جو مسجد کی انجمن میں داخل ہو جائیں۔ تیسرا متولی۔

اس کے ساتھ ایک اور خواب بھی دیکھی لیکن اس کے یہاں بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

ان دونوں رؤیا پر اگر کوئی شخص غور کرے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیح موعودؑ کی وفات سے بھی ایک سال اور چند ماہ پہلے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس فتنہ خلافت کے متعلق خبر دے دی تھی اور یہ وہ زمانہ تھا کہ جب خلافت کا سوال ہی کسی کے ذہن میں نہیں آسکتا تھا اور انجمن کا کاروبار بھی ابھی نہیں چلا تھا۔ بہت تھوڑی مدت اس کے قیام کو ہوئی تھی اور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک دن یہ نوزائیدہ انجمن مسیح موعودؑ کی جانشین ہونے کا دعویٰ کرے گی بلکہ یہ وہ زمانہ تھا کہ احمدیوں کے دماغ میں وہم کے طور پر بھی یہ خیال نہیں آتا تھا کہ حضرت صاحب فوت ہوں گے بلکہ ہر ایک شخص باوجود اشاعت وصیت کے غالباً یہ خیال کرتا تھا کہ یہ واقعہ ہماری وفات کے بعد ہی ہو گا اور اس میں شک ہی کیا ہے کہ عاشق اپنے معشوق کی موت کا وہم بھی نہیں کر سکتا اور یہی حال جماعت احمدیہ کا تھا۔ پس ایسے وقت میں خلافت کے جھگڑے کا اس وضاحت سے بتا دینا اور اس خبر کا حرف بہ حرف پورا ہونا ایک ایسا زبردست نشان ہے کہ جس کے بعد متقی انسان کبھی بھی خلافت کا انکار نہیں کر سکتا کیا کوئی انسان ایسا کر سکتا ہے؟ کہ ایک واقعہ سے دو سال پہلے اس کی خبر دے اور ایسے حالات میں دے کہ جب کوئی سامان موجود نہ ہو اور وہ خبر دو سال بعد بالکل حرف بہ حرف پوری ہو اور خبر بھی ایسی ہو جو ایک قوم کے ساتھ تعلق رکھتی ہو۔

دیکھو ان دونوں رؤیا سے کس طرح ثابت ہوتا ہے کہ کوئی واقعہ ہو گا جو بظاہر خطرناک معلوم ہو گا لیکن درحقیقت نہایت نیک نتائج کا پیدا کرنے والا ہو گا چنانچہ خلافت کا جھگڑا جو ۱۹۰۹ء میں برپا ہُوا گو نہایت خطرناک معلوم ہوتا تھا مگر اس کا یہ عظیم الشان فائدہ ہُوا کہ آئندہ کے لئے جماعت کو خلافت کی حقیقت معلوم ہو گئی اور حضرت خلیفۃ المسیح کو اس بات کا علم ہو گیا کہ کچھ لوگ خلافت کے منکر ہیں اور آپ اپنی زندگی میں برابر اس امر پر زور دیتے رہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور خلافت جماعت کے قیام کے لئے ضروری ہے اور ان نصائح سے گو بانیانِ فساد کو فائدہ نہ ہُوا ہو لیکن اس وقت سینکڑوں ایسے آدمی ہیں جن کو ان وعظوں سے فائدہ ہُوا۔ اور وہ اس وقت ٹھوکر سے اس لئے بچ گئے کہ انہوں نے مختلف فیہا مسائل کے متعلق بہت کچھ خلیفہ اول سے سنا ہوا تھا۔

پھر دوسری رؤیا سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسجد ہے اس کے متولی کے خلاف کچھ لوگوں نے بغاوت کی ہے۔ اب مسجد کی تعبیر جماعت لکھی ہے۔ پس اس رؤیا سے معلوم ہُوا کہ ایک جماعت کا ایک متولی ہوگا۔ (متولی اور خلیفہ بالکل ہم معنی الفاظ ہیں) اور اس کے خلاف کچھ لوگ بغاوت کریں گے اور ان میں سے کوئی مجھے بھی ورغلانے کی کوشش کرے گا مگر میں ان کے پھندے میں نہیں آؤں گا اور ان کو صاف کہہ دوں گا کہ اگر میں تمہارے ساتھ ملوں گا تو شہزادہ مجھ سے ناراض ہو جائے گا اور جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات دیکھتے ہیں تو آپ کا نام شہزادہ بھی رکھا گیا ہے۔ پس اس کے معنے یہ ہوئے کہ جو لوگ ان باغیوں کے ساتھ شامل ہوں گے ان سے حضرت مسیح موعودؑ ناراض ہوں گے (یعنی ان کا یہ فعل مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کے خلاف ہوگا) یہ تو اس فتنہ کی کیفیت ہے جو ہونے والا تھا لیکن ساتھ ہی یہ بتا دیا کہ یہ فتنہ کون کرے گا۔ اور وہ اس طرح کہ اس امر سے کہ متولی کے خلاف بغاوت کرنے والوں سے شہزادہ ناراض ہو جائے گا یہ بتایا گیا ہے کہ متولی حق پر ہے۔ اور باغی ناحق پر۔ اور پھر یہ بتا کر کہ مسجد کے ساتھ تعلق رکھنے والے دوسرے دو گروہوں یعنی عام نمازیوں اور انجمن والوں میں سے عام نمازی اچھے ہیں) بتا دیا کہ یہ فتنہ عام جماعت کی طرف سے نہ ہوگا۔ اب ایک ہی گروہ رہ گیا یعنی انجمن پس وہی باغی ہوئی۔ لیکن میری علیحدگی سے یہ بتا دیا کہ میں باوجود ممبر انجمن ہونے کے ان فتنہ پردازوں سے الگ رہوں گا۔

یہ رؤیا ایسی کھلی اور صاف ہے کہ جس قدر غور کرو اس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور خلافت کی صداقت کا ثبوت ایسے کھلے طور پر ملتا ہے کہ کوئی شقی ہی انکار کرے تو کرے۔

اس رؤیا کے گواہ

شاید کوئی شخص کہہ دے کہ ہم نے مانا کہ یہ رؤیا نہایت واضح ہے لیکن اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ واقعہ میں آپ نے کوئی ایسی رؤیا دیکھی بھی ہے یا نہیں اور جب تک اس بات کا ثبوت نہ ملے تو اس رؤیا کی کوئی قدر و منزلت نہیں ہو سکتی۔ اور اس کا کہنا بالکل بجا ہو گا اس لئے میں اپنی صداقت کے لئے گواہ کے طور پر خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پیش کرتا ہوں۔ شاید بعض لوگوں کو تعجب ہو کہ حضرت مسیح موعودؑ تو فوت ہو چکے ہیں آپ کیونکر اس دنیا میں واپس آکر میری صداقت کی گواہی دے سکتے ہیں تو میں ان کو بتاتا ہوں کہ گو حضرت مسیح موعودؑ فوت ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی وہ اس بات کی شہادت دے دیں گے کہ واقعہ میں ۸؍مارچ کو میں نے یہ رؤیا دیکھی تھی اور وہ اس طرح کہ جس رات کو میں نے یہ رؤیا دیکھی اسی صبح کو حضرت والد ماجد کو سنایا آپ سنکر نہایت متفکر ہوئے اور فرمایا کہ مسجد سے مراد تو جماعت ہوتی ہے شاید میری جماعت کے کچھ لوگ میری مخالفت کریں یہ رؤیا مجھے لکھوا دے۔ چنانچہ میں لکھواتا گیا اور آپ اپنی الہاموں کی کاپی میں لکھتے گئے پہلے تاریخ لکھی پھر یہ لکھا کہ محمود کی رؤیا‘ پھر تینوں رؤیا لکھیں۔ ان تینوں رؤیا کے اردگرد اس سے پہلی اور پچھلی تاریخوں کے الہام حضرت صاحب کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے موجود ہیں۔ (کاپی لوگوں کو دکھائی گئی) اور یہ کاپی اب تک میرے پاس ہے اور ہر ایک طالب حق کو دکھائی جا سکتی ہے جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دستخط پہچانتے ہیں وہ گواہی دے سکتے ہیں کہ یہ سب کاپی حضرت صاحب کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے اور کئی سال کے الہام اس میں درج ہیں اور یہ میری رؤیا بھی آپ ہی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی اس میں موجود ہے۔ یہ ایک ایسی شہادت ہے کہ کوئی احمدی اس کا انکار نہیں کر سکتا کیونکہ ایسے کھلے کھلے نشان کا جو شخص انکار کرے گا اسے ہر ایک صداقت کا انکار کرنا پڑے گا۔

اس رؤیا کے معلوم کر لینے کے بعد ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ کیوں مجھے خلافت کے مسئلہ میں اس قدر یقین اور تسلی ہے اور کیوں میں ہر ایک مقابلہ کی پرواہ نہ کر کے فتنہ کے وقت خلافت کا ممد و معاون رہا ہوں۔

میں اس شک کو بھی دور کر دینا چاہتا ہوں کہ کیوں اس رؤیا کو شیطانی نہ خیال کیا جائے اور وہ اس طرح کہ اول تو اس رؤیا کو حضرت مسیح موعودؑ نے قدر کی نگاہوں سے دیکھا اور لکھ لیا۔ اور اپنے الہاموں کی کاپی میں لکھا پھر یہ رؤیا دو سال بعد حرف بہ حرف پوری ہوئی اور جو رؤیا اس شان کے ساتھ پوری ہو وہ شیطانی نہیں ہو سکتی کیونکہ پھر شیطان اور رحمن کے کلام میں کیا فرق رہ جائے گا؟ اور کیوں نہ لوگ ہر ایک الہام کو شیطانی کہہ دیں گے۔

مسئلہ خلافت کے متعلق دوسری آسمانی شہادت

۱۹۰۹ء کی بات ہے ابھی مجھے خلافت کے متعلق کسی جھگڑے کا علم نہ تھا صرف ایک صاحب نے مجھ سے حضرت خلیفۃ المسیح اول کی خلافت کے قریباً پندرہویں دن کہا تھا کہ میاں صاحب اب خلیفہ کے اختیارات کے متعلق کچھ غور کرنا چاہئے جس کے جواب میں مَیں نے ان سے کہا کہ یہ وقت وہ تھا کہ سلسلہ خلافت قائم نہ ہوا تھا جبکہ ہم نے بیعت کرلی تو اب خادم مخدوم کے اختیارات کیا مقرر کریں گے۔ جس کی بیعت کی اس کے اختیارات ہم کیونکر مقرر کر سکتے ہیں اس واقعہ کے بعد کبھی مجھ سے اس معاملہ کے متعلق کسی نے گفتگو نہ کی تھی اور میرے ذہن سے یہ واقعہ اتر چکا تھا کہ جنوری ۱۹۰۹ء میں مَیں نے یہ روٴیا دیکھی کہ ایک مکان ہے بڑا عالیشان سب تیار ہے لیکن اس کی چھت ابھی پڑنی باقی ہے کڑیاں پڑ چکی ہیں ان پر اینٹیں رکھ کر مٹی ڈال کر کوٹنی باقی ہے۔ ان کڑیوں پر کچھ پھونس پڑا ہے۔ اور اس کے پاس میر محمد اسحٰق صاحب کھڑے ہیں اور ان کے پاس میاں بشیر احمد اور نثار احمد مرحوم (جو پیر افتخار احمد صاحب لدھیانوی کا صاحبزادہ تھا) کھڑے ہیں۔ میر محمد اسحٰق صاحب کے ہاتھ میں ایک ڈبیہ دیا سلائیوں کی ہے اور وہ اس پھونس کو آگ لگانی چاہتے ہیں۔ میں انہیں منع کرتا ہوں کہ ابھی آگ نہ لگائیں نہیں تو کڑیوں کو آگ لگنے کا خطرہ ہے۔ ایک دن اس پھونس کو جلایا تو جائے گا ہی لیکن ابھی وقت نہیں۔ بڑے زور سے منع کر کے اور اپنی تسلی کر کے میں وہاں سے لوٹتا ہوں لیکن تھوڑی دور جا کر میں نے پیچھے سے کچھ آہٹ سنی اور منہ پھیر کر کیا دیکھتا ہوں کہ میر محمد اسحٰق صاحب دیا سلائی کی تیلیاں نکال کر اس کی ڈبیہ سے جلدی جلدی رگڑتے ہیں وہ نہیں جلتیں پھر اور نکال کر ایسا ہی کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جلد اس پھونس کو آگ لگا دیں۔ میں اس بات کو دیکھ کر واپس بھاگا کہ ان کو روکوں لیکن میرے پہنچتے پہنچتے انہوں نے آگ لگا دی تھی میں اس آگ میں کود پڑا اور اسے میں نے بجھا دیا۔ لیکن تین کڑیوں کے سرے جل گئے یہ خواب میں نے اسی دن دوپہر کے وقت مولوی سید سرور شاہ صاحب کو سنائی جو سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ یہ خواب تو پوری ہو گئی ہے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میر محمد اسحٰق صاحب نے چند سوالات لکھ کر حضرت خلیفۃ المسیح کو دیئے ہیں جن سے ایک شور پڑ گیا ہے۔ اس کے بعد میں نے حضرت خلیفۃ المسیح کو یہ روٴیا لکھ کر دی اور آپ نے وہ رقعہ پڑھ کر فرمایا کہ خواب پوری ہو گئی ہے اور ایک کاغذ پر مفصل واقعہ لکھ کر مجھے دیا کہ پڑھ لو جب میں نے پڑھ لیا تو لے کر پھاڑ دیا۔ اس روٴیا کے گواہ مولوی سید سرور شاہ صاحب ہیں ان سے دریافت کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ یہ روٴیا حرف

بہ حرف پوری ہوئی اور ان سوالات کے جواب میں بعض آدمیوں کا نفاق ظاہر ہو گیا۔ اور ایک خطرناک آگ لگنے والی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس وقت اپنے فضل سے بجھا دی۔ ہاں کچھ کڑیوں کے سرے جل گئے اور ان کے اندر ہی اندر یہ آگ دہکتی رہی۔ اس خواب میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ یہ پھونس آخر جلا ہی دیا جائے گا اور بعد میں ایسا ہی ہوا۔

مسئلہ خلافت کے متعلق تیسری آسمانی شہادت

ابھی کسی جلسہ وغیرہ کی تجویز نہ تھی ہاں خلافت کے متعلق فتنہ ہو چکا تھا کہ میں نے رؤیا میں دیکھا کہ ایک جلسہ ہے اور اس میں حضرت خلیفہ اولؓ کھڑے تقریر کر رہے ہیں اور تقریر مسئلہ خلافت پر ہے اور جو لوگ آپ کے سامنے بیٹھے ہیں ان میں سے کچھ مخالف بھی ہیں۔ میں آیا اور آپ کے دہنے کھڑا ہو گیا اور کہا کہ حضور کوئی فکر نہ کریں ہم لوگ پہلے مارے جائیں گے تو پھر کوئی شخص حضور تک پہنچ سکے گا ہم آپ کے خادم ہیں۔ چنانچہ یہ خواب حضرت خلیفہ اولؓ کو سنائی جب جلسہ کی تجویز ہوئی اور احباب بیرون جات سے مسئلہ خلافت پر مشورہ کے لئے جمع ہوئے اور چھوٹی مسجد کے صحن میں حضرت خلیفہ اول کھڑے ہوئے کہ تقریر فرمائیں تو میں آپ کے بائیں طرف بیٹھا تھا آپ نے اس رؤیا کی بناء پر مجھے وہاں سے اٹھا کر دوسری طرف بیٹھنے کا حکم دیا اور اپنی تقریر کے بعد مجھے بھی کچھ بولنے کے لئے فرمایا اور میں نے ایک مضمون جس کا مطلب اس قسم کا تھا کہ ہم تو آپ کے بالکل فرمانبردار ہیں بیان کیا۔

مسئلہ خلافت پر چوتھی آسمانی شہادت

جب خلافت کا جھگڑا شروع ہوا۔ تو گو مجھے وہ رؤیا بھی ہو چکی تھی جس کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ کی لکھی ہوئی موجود ہے۔ اور وہ دوسری رؤیا بھی دیکھ چکا تھا جس میں میر محمد اسحق صاحب کے سوالات سے منافقوں کے سر جلنے کا پتہ دیا گیا تھا۔ لیکن پھر بھی طبیعت پر ایک بوجھ تھا اور میں چاہتا تھا کہ زیادہ وضاحت سے مجھے اس مسئلہ کی نسبت کچھ بتایا جائے۔ اور میں نے اپنے رب کے حضور میں بار بار عرض کی کہ الٰہی مجھے حق کا پتہ دیا جائے اور صداقت مجھ پر کھول دی جائے اور جو بات سچ ہو وہ مجھے بتا دی جائے کیونکہ مجھے کسی پارٹی سے تعلق نہیں بلکہ صرف حضور کی رضا حاصل کرنے کا شوق ہے۔ جس قدر دن جلسہ میں باقی تھے ان میں میں برابر یہ دعا کرتا رہا لیکن مجھے کچھ نہ بتایا گیا حتیٰ کہ وہ رات آگئی جس دن صبح کو وہ جلسہ تھا جس میں یہ سوالات پیش ہونے تھے اور اس رات میرا کرب بڑھ گیا اور میرا دل دھڑکنے لگا اور میں گھبرا گیا کہ

اب میں کیا کروں۔ اس رات میں بہت ہی گڑگڑایا اور عرض کیا کہ الٰہی صبح کو یہ معاملہ پیش ہو گا حضور مجھے بتائیں کہ میں کس طرف ہوں۔ اس وقت تک تو میں خلافت کو حق سمجھتا ہوں لیکن مجھے حضور کی رضا مطلوب ہے کسی اپنے اعتقاد پر اصرار نہیں میں حضور سے ہی اس مسئلہ کا حل چاہتا ہوں تا میرے دل کو تسلی ہو۔ پس صبح کے وقت میری زبان پر یہ الفاظ جو قرآن کریم کی ایک آیت ہے جاری کئے گئے قُلۡ مَا یَعۡبَؤُا بِکُمۡ رَبِّیۡ لَوۡلَا دُعَآؤُکُمۡ(الفرقان: ۷۸) کہہ دے کہ میرا رب تمہاری پرواہ ہی کیا کرتا ہے اس کے بعد مجھے تسلی ہو گئی اور میں نے خیال کیا کہ میں حق پر ہوں کیونکہ لفظ قُلْ نے بتا دیا ہے کہ میرا خیال درست ہے تبھی تو مجھے حکم ہوا کہ میں لوگوں کو حکم الٰہی سنا دوں۔ اور اگر میرا عقیدہ غلط ہوتا تو یہ الفاظ ہوتے کہ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّىْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ۔ میں نے یہ الفاظ کئی لوگوں کو سنا دیئے تھے۔ مگر اب یاد نہیں کہ کس کس کو سنائے تھے۔

مسئلہ خلافت پر پانچویں آسمانی شہادت

میں نے حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات سے تین سال پہلے ایک خواب دیکھا جس کی تعبیر یہ تھی کہ آپ کی وصیت سے نواب صاحب کا بھی کچھ تعلق ہے۔ چنانچہ تین سال بعد اللہ تعالیٰ نے اس رؤیا کو پورا کر کے دکھا دیا کہ وہ کیسا زبردست ہے۔

مسئلہ خلافت پر چھٹی آسمانی شہادت

۱۹۱۳ء میں ستمبر کے مہینہ میں چند دن کے لئے شملہ گیا تھا۔ جب میں یہاں سے چلا ہوں تو حضرت خلیفۃ المسیح کی طبیعت اچھی تھی لیکن وہاں پہنچ کر میں نے پہلی یا دوسری رات دیکھا کہ رات کا وقت ہے اور قریباً دو بجے ہیں میں اپنے کمرہ میں (قادیان میں) بیٹھا ہوں۔ مرزا عبد الغفور صاحب (جو کلا نور کے رہنے والے ہیں) میرے پاس آئے اور نیچے سے آواز دی میں نے اٹھ کر ان سے پوچھا کہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کو سخت تکلیف ہے تپ کی شکایت ہے ایک سو دو (۱۰۲) کے قریب تپ ہو گیا تھا آپ نے مجھے بھیجا ہے کہ میاں صاحب کو جا کر کہہ دو کہ ہم نے اپنی وصیت شائع کر دی ہے مارچ کے مہینہ کے بدر میں دیکھ لیں۔ جب میں نے یہ رؤیا دیکھی تو سخت گھبرایا اور میرا دل چاہا کہ واپس لوٹ جاؤں لیکن میں نے مناسب خیال کیا کہ پہلے دریافت کر لوں کہ کیا آپ واقع میں بیمار ہیں۔ سو میں نے وہاں سے تار دیا کہ حضور کا کیا حال ہے جس کے جواب میں حضرت نے لکھا کہ اچھے ہیں۔ یہ رؤیا میں نے اسی وقت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کو اور مولوی سید سرور شاہ صاحب کو سنا دی تھی اور غالباً نواب صاحب کے صاحبزادگان میاں

عبدالرحمٰن خان صاحب ، میاں عبداللہ خان صاحب ، میاں عبدالرحیم خان صاحب میں سے بھی کسی نے وہ رؤیا سنی ہو گی کیونکہ وہاں ایک مجلس میں میں نے اس رؤیا کو بیان کر دیا تھا۔

اب دیکھنا چاہئے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت مجھے حضرت کی وفات کی خبر دی اور چار باتیں ایسی بتائیں کہ جنہیں کوئی شخص اپنے خیال اور اندازہ سے دریافت نہیں کر سکتا۔

اول تو یہ کہ حضور کی وفات تپ سے ہو گی۔

دوم یہ کہ آپ وفات سے پہلے وصیت کر جائیں گے۔

سوم یہ کہ وہ وصیت مارچ کے مہینہ میں شائع ہو گی۔

چہارم یہ کہ اس وصیت کا تعلق بدر کے ساتھ ہو گا۔

اگر ان چاروں باتوں کے ساتھ میں یہ پانچویں بات بھی شامل کر دوں تو نامناسب نہ ہو گا کہ اس رؤیا سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس وصیت کا تعلق مجھ سے بھی ہو گا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میری طرف آدمی بھیج کر مجھے اطلاع دینے سے کیا مطلب ہو سکتا تھا۔ اور یہ ایک ایسی بات تھی کہ جسے قبل از وقت کوئی بھی نہیں سمجھ سکتا تھا لیکن جب واقعات اپنے اصل رنگ میں پورے ہو گئے تو اب یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ اس رؤیا میں میری خلافت کی طرف بھی اشارہ تھا لیکن چونکہ یہ بات وہم و گمان میں بھی نہ تھی اس لئے اس وقت جبکہ یہ رؤیا دکھائی گئی تھی اس طرف خیال بھی نہیں جا سکتا تھا۔

مندرجہ بالا پانچ نتائج جو اس رؤیا سے نکالے گئے ہیں ان سے چار تو صاف ہیں یعنی تپ سے وفات کا ہونا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وصیت کا کرنا وہ بھی صاف ہے کیونکہ آپ نے اپنی وفات سے پہلے وصیت کر دی تھی۔ تیسرے مارچ میں وصیت کا ہونا وہ بھی ایک بالکل واضح ہے کیونکہ آپ نے مارچ ہی میں وصیت کی اور مارچ ہی میں وہ شائع ہوئی۔ پانچواں امر بھی صاف ہے کہ اس وصیت کا مجھ سے بھی کچھ تعلق تھا چنانچہ ایسا ہی ظاہر ہوا۔ لیکن چوتھی بات کہ بدر میں دیکھ لیں۔ تشریح طلب ہے کیونکہ آپ کی وصیت جہاں الفضل ، الحکم ، نور میں شائع ہوئی وہاں بدر میں شائع نہیں ہوئی کیونکہ وہ اس وقت بند تھا ، پس اس کے کیا معنی ہوئے کہ بدر میں دیکھ لیں۔ سو اس امر کے سمجھنے کے لئے یاد رکھنا چاہئے کہ رؤیا اور کشوف کبھی بالکل اصل شکل میں پورے ہوتے ہیں اور کبھی وہ تعبیر طلب ہوتے ہیں اور کبھی ان کا ایک حصہ تو اصل رنگ میں ظاہر ہوتا ہے اور ایک حصہ تعبیر طلب ہوتا ہے سو یہ خواب بھی اسی طرح کی ہے اور جہاں اس رؤیا میں سے چار امور بالکل صاف اور واضح طور پر پورے ہوئے ایک امر تعبیر طلب بھی تھا لیکن رؤیا کی صداقت پر باقی چار امور نے مہر کر دی تھی۔ اور اس چوتھے امر کی تعبیر یہ تھی کہ بدر اصل میں پندرھویں رات کے چاند کو کہتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے رؤیا میں ایک قسم کا اخفاء رکھنے کے لئے مارچ کی چودھویں تاریخ کا نام چودھویں کی مشابہت کی وجہ سے بدر رکھا۔ اور یہ بتایا کہ یہ واقعہ چودہ تاریخ کو ہوگا۔ چنانچہ وصیت باقاعدہ طور پر جو شائع ہوئی یعنے اس کے امین نواب محمد علی خان صاحب نے پڑھ کر سنائی۔ تو چودہ ۱۴؍ تاریخ کو ہی سنائی اور اسی تاریخ کو خلافت کا فیصلہ ہوا۔

مسئلہ خلافت کے متعلق ساتویں آسمانی شہادت

اس بات کو قریباً تین چار سال کا عرصہ ہوا یا کچھ کم کہ میں نے رؤیا میں دیکھا کہ میں گاڑی میں سوار ہوں اور گاڑی ہمارے گھر کی طرف جا رہی ہے کہ راستہ میں کسی نے مجھے حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کی خبر دی تو میں نے گاڑی والے کو کہا کہ جلدی دوڑاؤ تا میں جلدی پہنچوں۔ یہ رؤیا بھی میں نے حضرت کی وفات سے پہلے ہی بہت سے دوستوں کو سنائی تھی (جن میں سے چند کے نام یاد ہیں۔ نواب محمد علی خان صاحب، مولوی سید سرور شاہ صاحب، شیخ یعقوب علی صاحب، حافظ روشن علی صاحب اور غالباً ماسٹر محمد شریف صاحب بی۔ اے پلیڈر چیف کورٹ لاہور۔) کہ مجھے ایک ضروری امر کے لئے حضرت کی بیماری میں لاہور جانے کی ضرورت ہوئی اور چونکہ حضرت کی حالت نازک تھی میں نے جانا مناسب نہ سمجھا۔ اور دوستوں سے مشورہ کیا کہ میں کیا کروں؟ اور ان کو بتایا کہ میں جانے سے اس لئے ڈرتا ہوں کہ میں نے رؤیا میں گاڑی میں سواری کی حالت میں حضرت کی وفات دیکھی ہے۔ پس ایسا نہ ہو کہ یہ واقعہ ابھی ہو جائے۔ پس میں نے یہ تجویز کی کہ ایک خاص آدمی بھیج کر اس ضرورت کو رفع کیا۔ لیکن منشائے الٰہی کو کون روک سکتا ہے؟ چونکہ حضرت نواب صاحب کے مکان پر رہتے تھے میں بھی وہیں رہتا تھا اور وہیں سے جمعہ کے لئے قادیان آتا تھا۔ جس دن حضور فوت ہوئے میں حسب معمول جمعہ پڑھانے قادیان آیا اور جیسا کہ میری عادت تھی نماز کے بعد بازار کے راستہ سے واپس جانے کے لئے تیار ہوا۔ کہ اتنے میں نواب صاحب کی طرف سے پیغام آیا کہ وہ احمدیہ محلہ میں میرے منتظر ہیں اور مجھے بلاتے ہیں کیونکہ انہوں نے مجھ سے کچھ بات کرنی ہے۔ میں وہاں گیا تو ان کی گاڑی تیار تھی اس میں وہ بھی بیٹھ گئے اور میں بھی اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اسٹنٹ سرجن بھی ہمارے ساتھ تھے۔ گاڑی آپ کی کوٹھی کی طرف روانہ ہوئی اور جس وقت اس سڑک پر چڑھ گئی جو مدرسہ تعلیم الاسلام کی گراؤنڈ میں تیار کی گئی ہے تو آپ کا ایک ملازم دوڑتا ہوا آیا کہ حضور فوت ہو گئے اس وقت میں بے اختیار ہو کر آگے بڑھا اور گاڑی والے کو کہا کہ گاڑی دوڑاؤ اور جلد پہنچاؤ۔ اسی وقت نواب صاحب کو وہ رؤیا یاد آگئی اور آپ نے کہا کہ وہ رؤیا پوری ہو گئی۔

یہ رؤیا ہستی باری کا ایک ایسا زبردست ثبوت ہے کہ سوائے کسی ایسے انسان کے جو شقاوت کی وجہ سے صداقت نہ ماننے سے بالکل انکار کر دے۔ ایک حق پسند کے لئے نہایت رشد اور ہدایت کا موجب ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے فیصلہ سے بچنے کی لاکھ کوشش کرے تقدیر پوری ہو کر ہی رہتی ہے میں نے جس خوف سے لاہور کا سفر ملتوی کرنے کا ارادہ کیا تھا وہ امر قادیان ہی میں پورا ہوا۔

حضرت کی وفات اور میری خلافت کے متعلق آٹھویں آسمانی شہادت

قریباً تین چار سال کا عرصہ ہوا جو میں نے دیکھا کہ میں اور حافظ روشن علی صاحب ایک جگہ بیٹھے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجھے گورنمنٹ برطانیہ نے افواج کا کمانڈر ان چیف مقرر فرمایا ہے اور میں سر او مور کرے سابق کمانڈر ان چیف افواج ہند کے بعد مقرر ہوا ہوں اور ان کی طرف سے حافظ صاحب مجھے عہدہ کا چارج دے رہے ہیں۔ چارج لیتے لیتے ایک امر میں نے کہا کہ فلاں چیز میں تو نقص ہے میں چارج میں کیونکر لے لوں؟ میں نے یہ بات کہی ہی تھی کہ نیچے کی چھت پھٹی (ہم چھت پر تھے) اور حضرت خلیفۃ المسیح خلیفہ اول اس میں سے برآمد ہوئے اور میں خیال کرتا ہوں کہ آپ سر او مور کرے کمانڈر ان چیف افواج ہند ہیں آپ نے فرمایا کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں بلکہ لارڈ کچنر سے مجھے یہ چیز اسی طرح ملی تھی۔

اس رؤیا پر مجھے ہمیشہ تعجب ہوا کرتا تھا کہ اس سے کیا مراد ہے؟ اور میں اپنے دوستوں کو سنا کر حیرت کا اظہار کیا کرتا تھا کہ اس خواب سے کیا مراد ہو سکتی ہے؟ مگر خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ واقعات کے ظہور پر معلوم ہوا کہ یہ رؤیا ایک نہایت ہی زبردست شہادت تھی اس بات پر کہ حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کے بعد جو فیصلہ ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اس کی رضا کے ماتحت ہوا ہے، چنانچہ حضرت مولوی صاحب کی وفات پر میری طبیعت اس طرف گئی کہ یہ رؤیا تو ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی اور اس میں بتایا گیا تھا کہ مولوی صاحب کے بعد خلافت کا کام میرے سپرد ہو گا اور یہی وجہ تھی کہ حضرت خلیفۃ المسیح مجھے بہ لباس سر او مور کرے کے دکھائے گئے اور افواج کی کمانڈ سے مراد جماعت کی سرداری تھی۔ کیونکہ انبیاء کی جماعتیں بھی ایک فوج ہوتی ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ دین کو غلبہ دیتا ہے۔ اس رؤیا کی بناء پر یہ بھی امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ تبلیغ کا کام جماعت احمدیہ کے ہاتھ سے ہو گا اور غیر مبائعین احمدیوں کے ذریعہ نہ ہوگا۔ اِلَّا مَا شَاءَ اللّٰهُ برکت مبائعین کے کام میں ہی ہوگی۔

اس رؤیا کا جب غور سے مطالعہ کیا جائے تو یہ ایک ایسی زبردست شہادت معلوم ہوتی ہے کہ جس قدر غور کریں اسی قدر عظمت الٰہی کا اظہار ہوتا ہے اور وہ اس طرح کہ اس رؤیا میں حضرت مسیح موعودؑ کو لارڈ کچنر کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے اور حضرت خلیفہ اول کو سر او مورکرے کے نام سے۔ اور جب ہم ان دو نو افسروں کے عہدہ کو دیکھتے ہیں تو جس سال حضرت مسیح موعودؑ نے وفات پائی تھی اسی سال لارڈ کچنر ہندوستان سے رخصت ہوئے تھے اور سر او مورکرے کمانڈر مقرر ہوئے مگر یہ بات تو پچھلی تھی۔ عجیب بات یہ ہے کہ جس سال اور جس مہینہ میں سر او مورکرے ہندوستان سے روانہ ہوئے ہیں اسی سال اور اسی مہینہ یعنی مارچ ۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفۃ المسیح فوت ہوئے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس کام پر مقرر فرمایا۔ کیا کوئی سعید الفطرت انسان کہہ سکتا ہے کہ یہ رؤیا شیطانی ہو سکتی تھی یا کوئی انسان اس طرح دو تین سال قبل از وقوع ایک بات اپنے دل سے بنا کر بتا سکتا ہے؟ کیا یہ ممکن تھا؟ کہ میں دو سال پہلے یہ سب واقعات اپنے دل سے گھڑ کر لوگوں کو سنا دیتا اور پھر وہ صحیح بھی ہو جاتے۔ یہ کون تھا جس نے مجھے یہ بتا دیا کہ حضرت مولوی صاحب مارچ میں فوت ہوں گے۔ ۱۹۱۴ء میں ہوں گے اور آپ کے بعد آپ کا جانشین میں ہوں گا۔ کیا خدا تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی ایسا کر سکتا ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔

اس رؤیا میں یہ جو دکھایا گیا کہ چارج میں ایک نقص ہے اور میں اس کے لینے سے انکار کرتا ہوں تو وہ ان چند آدمیوں کی طرف اشارہ تھا کہ جنہوں نے اس وقت فساد کھڑا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس رؤیا کے ذریعہ سے حضرت مولوی صاحب پر سے یہ اعتراض دور کیا ہے جو بعض لوگ آپ پر کرتے ہیں کہ اگر حضرت مولوی صاحب اپنے زمانہ میں ان لوگوں کے اندرونہ سے لوگوں کو علی الاعلان آگاہ کر دیتے اور اشارات پر ہی بات نہ رکھتے یا جماعت سے خارج کر دیتے تو آج یہ فتنہ نہ ہوتا۔ اور مولوی صاحب کی طرف سے قبل از وقت یہ جواب دے دیا کہ یہ نقص میرے زمانہ کا نہیں بلکہ پہلے کا ہی ہے اور یہ لوگ حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ میں ہی بگڑ چکے تھے ان کے بگڑنے میں میرے کسی سلوک کا دخل نہیں مجھ سے پہلے ہی ایسے تھے۔

شاید کوئی شخص اعتراض کرے کہ یہ تعبیر تو اب بنائی جاتی ہے مگر یاد رکھنا چاہئے کہ تعبیر کا علم واقعہ کے بعد ہی ہوتا ہے یہ خواب صاف ہے اور اس میں کوئی پیچ نہیں۔ ہر ایک شخص اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ جو تعبیر میں نے کی ہے اس کے سوا کوئی درست تعبیر نہیں ہو سکتی۔ یہ خواب میں نے حافظ روشن علی صاحب کو قبل از وقت سنادی تھی اور دوستوں کو بھی سنائی ہے لیکن ان کے نام یاد نہیں۔

مسئلہ خلافت پر نویں آسمانی شہادت

جس طرح خلافت کے جھگڑے حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات آپ کی وصیت میری جانشینی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت مجھے اطلاع دی تھی اسی طرح مجھے یہ بھی بتایا گیا تھا کہ میرے مقابلہ پر کون ہو گا جو سخت فتنہ برپا کرے گا لیکن ناکام رہے گا۔

اس بات کو قریباً سات سال ہو گئے۔ حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ۱۹۰۷ء کے اکتوبر یا نومبر میں مَیں نے رؤیا دیکھی کہ میں بورڈنگ کے ایک کمرہ میں ہوں یا ریویو آف ریلیجنز کے دفتر میں وہاں ایک بڑے صندوق پر مولوی محمد علی صاحب بیٹھے ہیں اور میں ذرا فاصلہ پر کھڑا ہوں اتنے میں ایک دروازہ سے شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر داخل ہوئے اور ہم دونوں کو دیکھ کر کہا کہ میاں صاحب آپ لمبے ہیں یا مولوی صاحب؟ مولوی صاحب نے کہا کہ میں لمبا ہوں۔ میں نے کہا کہ میں لمبا ہوں۔ شیخ صاحب نے کہا آؤ دونوں کو ناپیں۔ مولوی صاحب صندوق پر سے اترنا چاہتے ہیں لیکن جس طرح بچے اونچی چارپائی پر سے مشکل سے اترتے ہیں اس طرح بڑی مشکل سے اترتے ہیں اور جب شیخ صاحب نے مجھے اور ان کو پاس پاس کھڑا کیا تو وہ بے اختیار کہہ اٹھے کہ ہیں میں تو سمجھتا تھا کہ مولوی صاحب اونچے ہیں لیکن اونچے تو آپ نکلے۔ میں نے کہا ہاں میں ہی اونچا ہوں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اچھا میں مولوی صاحب کو اٹھا کر آپ کے کندھوں کے برابر کرتا ہوں دیکھیں ان کے پیر کہاں آتے ہیں اور یہ کہہ کر انہوں نے مولوی صاحب کو اٹھا کر میرے کندھوں کے برابر کرنا چاہا۔ جتنا وہ اونچا کرتے جاتے اسی قدر میں اونچا ہوتا جاتا آخر بڑی دقت سے انہوں نے ان کے کندھے میرے کندھوں کے برابر کئے تو ان کی لاتیں میرے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچ سکیں۔ جس پر وہ سخت حیران ہوئے یہ خواب اس وقت کی ہے جب ان جھگڑوں کا وہم و گمان بھی نہ ہو سکتا تھا۔ سات سال کے بعد کے واقعات بتانا انسان کا کام نہیں میں نے یہ رؤیا اسی وقت سید سرور شاہ صاحب سید ولی اللہ شاہ صاحب کو جو اس وقت بیروت (شام) میں ہیں اور سید حبیب اللہ شاہ صاحب کو جو میڈیکل

کالج کی آخری کلاس میں پڑھتے ہیں سنا دی تھی اور ان سے گواہی لی جاسکتی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ان کو یہ روٴیا یاد ہوگی۔ ممکن ہے کہ اور دوستوں کو بھی سنائی ہو لیکن اور کسی کا نام یاد نہیں ہم اس وقت اس روٴیا پر حیران ہوا کرتے تھے کہ یہ قدوں کا ناپنا کیا معنی رکھتا ہے نہ خلافت کا سوال تھا نہ خلیفہ کی بیعت کا حضرت مسیح موعودؑ زندہ تھے کون سمجھ سکتا تھا کہ کبھی واقعات بدل کر اور کی اور صورت اختیار کر لیں گے مگر خدا کی باتیں پورے ہوئے بغیر نہیں رہتیں۔ مولوی محمد علی صاحب کے دوستوں نے انہیں میرے مقابلہ پر کھڑا کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سخت ناکام کیا۔ حتیٰ کہ انہوں نے اپنی ذلت کا خود اقرار کیا، جس قدر بھی ان کے دوستوں نے زور مارا کہ ان کو اونچا کریں اسی قدر خدا تعالیٰ نے ان کو نیچا کیا اور قریباً ستانوے فی صدی احمدیوں کو میرے تابع کر دیا اور میرے ذریعہ جماعت کا اتحاد کر کے مجھے بلند کیا۔

اب میں آخر میں تمام راستی پسند انسانوں کو کہتا ہوں کہ اگر وہ اب تک خلافت کے مسئلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکے تو اب بھی فیصلہ کرلیں کیونکہ یہ کام خدا کی طرف سے ہوا ہے اور کسی انسان کا اس میں دخل نہیں۔ اگر آپ اس صداقت کا انکار کریں گے تو آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ پس حق کو قبول کریں اور جماعت میں تفرقہ نہ ڈالیں۔ میں کیا چیز ہوں؟ میں جماعت کا ایک خادم ہوں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس جماعت کو متحد کرنا چاہتا ہے ورنہ کام تو سب اللہ تعالیٰ کا ہے۔ مجھے خلافت کا نہ کوئی شوق تھا اور نہ ہے مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کام پر مقرر کر دیا تو میں ہو گیا۔ میرا اس میں کوئی دخل نہیں۔ اور آپ ان باتوں کو سن کر یہ بھی اندازہ کر سکیں گے کہ جبکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے قبل از وقت خلافت کا جھگڑا، خلیفہ کی صداقت، خلیفہ اول کی وفات کا سن، مہینہ، آپ کی وصیت، میرا گاڑی میں آپ کی وفات کی خبر سننا، آپ کی بیماری کا حال سب کچھ بتا دیا تھا تو کیا ایک لمحہ کے لئے بھی میرا دل متردد ہو سکتا تھا۔ اور جبکہ بعض دوسری روٴیا نے وقت پر پوری ہو کر بتا دیا کہ منشائے الٰہی یہی تھا کہ میں ہی دوسرا خلیفہ ہوں اور میری مخالفت بھی ہو اور کامیابی میرے لئے ہو تو کیا میں خلافت کے متعلق ان لوگوں کا مشورہ سن سکتا تھا جو مجھے مشورہ دیتے تھے کہ میں اب بھی اس کام کو ترک کردوں۔ کیا میں منشائے الٰہی کے خلاف کر سکتا ہوں۔ اگر میں ایسا کروں تو میں خدا تعالیٰ کے فیصلہ کو ردّ کرنے والا ہوں گا۔ اور اللہ تعالیٰ مجھے اس حرکت سے محفوظ رکھے۔ خدا نے جو چاہا وہ ہو گیا اور جو لوگوں نے چاہا وہ نہ ہوا۔ مگر مبارک ہے وہ جو خدا کے فیصلہ کو قبول کرے اور اس قدر آسمانی شہادتوں کے بعد ضد اور ہٹ سے کام نہ لے۔

بسم الله الرحمن الرحیم نحمده و نصلی علیٰ رسولہ الکریم

بقیہ تقریر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی

(جو ۲۷؍ دسمبر ۱۹۱۴ء کو سالانہ جلسہ پر بعد از نماز ظہر و عصر ہوئی)

اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ آمین۔

اللہ تعالیٰ کا کیا ہی احسان ہے مسلمانوں پر اور کیا ہی فضل ہے اپنے بندوں پر کہ ایک مسلمان دنیا میں کسی کے آگے کسی معاملہ میں شرمندہ نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں ناجائز تعصب۔ ضد اور ہٹ ایسی چیزیں ہیں جو کہ بہت بری، ناپسندیدہ اور مکروہ ہیں مگر مسلمان کو اللہ تعالیٰ نے ایسے بلند مرتبہ پر کھڑا کیا ہے کہ دنیا کا اور کوئی انسان اس منصب تک نہیں پہنچ سکتا۔ میں مضمون تو اور بیان کرنے لگا تھا۔ لیکن سورہ فاتحہ کے پڑھنے سے ایک بات یاد آگئی ہے وہ بیان کئے دیتا ہوں۔ اور وہ یہ کہ انسان کسی بات کے متعلق فیصلہ کرنے میں بہت ٹھوکریں کھاتا ہے کیونکہ اس کی عقل محدود ہوتی ہے دیکھو ایک وہ زمانہ تھا جبکہ خیال کیا جاتا تھا کہ آسمان مختلف دھاتوں کے بنے ہوئے ہیں۔ پھر فلسفیوں نے کہا کہ نہیں آسمان منتہائے نظر ہے اور کوئی مادی چیز نہیں اور خبر نہیں کہ کل کیا اور پرسوں کیا ثابت ہو۔ یہی حال تمام علوم کا ہے۔ جو علوم آج سے سو سال پہلے تھے وہ آج نہیں ہیں اور ہی ہیں۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ ایک سورج ہے اور باقی سارے ستارے اس سے متعلق ہیں لیکن آج کل معلوم ہوا ہے کہ کئی ستارے ایسے ہیں جو اتنی دور اور اتنے بڑے ہیں کہ اب جا کر ان کی روشنی ہم تک پہنچی ہے اور وہ سورج سے کئی گنا بڑے ہیں۔ کسی زمانہ میں خیال کیا جاتا تھا اور یہ مشہور مقولہ ہے کہ قطب نما کی سوئی ہمیشہ شمال کی طرف رہتی ہے۔ مگر تجربہ نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ مختلف عرصوں کے بعد اس کی سوئی مغرب کی طرف چلنا شروع ہو جاتی ہے اور ایک حد تک پہنچ کر پھر واپس لوٹنی شروع ہوتی ہے۔ غرض علوم میں بھی اتنی تبدیلی ہوتی جاتی ہے کہ آج کچھ ہے تو کل کچھ اور ہو جاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقل اور فہم دیئے ہیں لیکن ایسی عقل نہیں دی جس کا فیصلہ کبھی نہ بدلے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دعا سکھائی ہے کہ چونکہ انسان ہر بات میں بہت ٹھوکریں کھاتا ہے لہٰذا چاہئے کہ وہ یہ دعا نہ مانگا کرے کہ یہ چیز ہمیں مل جائے یا یہ کام ہو جائے ۔ بلکہ یہ دعا کیا کرے کہ الٰہی جو بات آپ کے نزدیک ہمارے لئے مناسب ہے وہ ہو جائے اور جو چیز آپ کے نزدیک ہمارے لئے بہتر ہے وہ مل جائے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کو غلطی نہیں لگ سکتی اس لئے وہ جو فیصلہ کرتا ہے وہی درست اور صحیح ہوتا ہے اور یہ ہر ایک انسان کے لئے دنیا کے ہر ایک معاملہ میں فیصلہ کرنے کا آسان اور نہایت عمدہ طریق ہے۔ ہمارے لئے بھی یہی آسان طریق تھا۔ خلافت کا مسئلہ جس کسی کی سمجھ میں نہ آیا تھا اسے چاہئے تھا کہ دعائیں کرتا، استخارہ کرنا شروع کر دیتا اور خدا تعالیٰ کے حضور کہتا کہ اے میرے اللہ ! اگر خلافت کا مسئلہ درست ہے تو مجھے سمجھا دیجئے۔ اور اگر نہیں تو مجھے جو سیدھی راہ ہے وہ دکھائیے اور صراط مستقیم سے دور ہونے سے بچا لیجئے مگر افسوس کہ کئی لوگ اس طرف توجہ نہیں کرتے۔ میں نے بہت سے دوستوں کو یہ تدبیر بتائی اور انہوں نے اس پر عمل کیا تو انہیں خواب یا الہام کے ذریعہ سے ہدایت ہو گئی ورنہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو کسی اور ذریعہ سے تسلی اور تشفی عطا فرمادی۔ اب بھی اگر کوئی شک اور تردّد میں ہے تو ایسا ہی کرے خدا تعالیٰ اس کو ضرور ہدایت دے دے گا۔

پہلی تقریر میں میں نے ایک بات بیان کی ہے اور چودہ باتیں اور ہیں جو میں نے بیان کرنی ہیں۔ ان میں سے چار تو ایسی ہی ہیں کہ جتنا پہلی پر وقت لگا ہے اتنا ہی ان پر لگایا جائے ۔ لیکن نہ مجھے اتنی طاقت ہے اور نہ ہی وقت ہے۔ پھر ایک نہایت ضروری اور اہم بات ہے جو کل بیان کرنی ہے۔ کھانسی سے اللہ کا فضل ہے کہ نسبتاً آرام رہا ہے تاہم میرے سینہ میں درد ہو گیا ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ کسی قدر اختصار سے باقی باتیں بیان کر دوں۔ اللہ تعالیٰ نے پھر کبھی توفیق دی تو مفصل بیان کر دوں گا۔

سیاست

دوسرا امر جو میں نے بیان کرنا ہے وہ سیاست ہے۔ ہماری جماعت کو اس سے بڑا دھوکہ لگا ہے اور یہ مسئلہ بھی بڑے ابتلاء کا باعث ہُوا ہے اور یہ بات کہ ہمیں سیاست میں کس قدر حصہ لینا چاہئے۔ آیا سیاست اچھی ہے یا بری اور اگر بری ہے تو کہاں تک؟ اچھی ہے تو کس حد تک؟ سخت اختلاف کا باعث ہو گئی ہے میں جب اس کشمکش کو مد نظر رکھ کر حضرت مسیح موعود کی تعلیم پر غور کرتا ہوں اور ان لوگوں سے جو آپ کے ساتھ رہنے والے تھے پوچھتا ہوں تو وہ یہ اظہار نہیں دے سکتے کہ حضرت صاحب نے ان کو کبھی سیاست کی طرف مائل کیا ہو یا کبھی ان کی توجہ کو اس طرف پھیرا ہو۔ مگر اس صورت میں ایک اعتراض پیدا ہوتا ہے اور یہ اعتراض صرف نو تعلیم یافتہ نوجوانوں کی طرف سے ہی نہیں بلکہ پرانے لوگوں کی طرف سے بھی پڑتا ہے کہ

سیاست سے کیوں جماعت احمدیہ کو روکا جاتا ہے؟

ایک نادان اور کم عقل انسان کہہ سکتا ہے کہ چونکہ یہ لغو چیز ہے اس لئے اس سے روکا جاتا ہے مگر تاریخ کا مطالعہ کرنے والا اور گزشتہ قوموں کے حالات کا جاننے والا کبھی یہ نہیں کہہ سکتا کیونکہ دنیا کی حکومتوں اور سلطنتوں کا مدار ہی سیاست پر ہے۔ پھر قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے سیاست کے کچھ قواعد بیان فرمائے ہیں۔ یہ اچھی چیز تھی تب ہی تو قرآن کریم نے اس طرف توجہ فرمائی ورنہ کیوں فرماتا۔ ادھر ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ سٹرائکوں سے نفع حاصل ہوتا ہے اور حقوق مل جاتے ہیں۔ پھر یہ بھی کہ جائز ایجیٹیشن کو گورنمنٹ بھی ناپسند نہیں کرتی تو پھر کیا وجہ ہے کہ جماعت احمدیہ کو سیاست سے روکا جاتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیوں روکا ہے۔

میرا عقیدہ فقط یہ نہیں ہے کہ سیاست سے کوئی فائدہ نہیں۔ ہاں میرے عقیدہ اور دوسروں کے عقیدہ میں یہ فرق ہے کہ وہ اور فوائد سمجھتے ہیں اور میں اور۔ چونکہ اس کی وجہ سے جماعت میں ابتلاء آنے کا ڈر ہے اس لئے میں اصل بات بتانا چاہتا ہوں اس کا فیصلہ ہو جائے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو یہ فیصلہ ہمیشہ کے لئے ہو جائے۔ قرآن شریف ہمیں فیصلہ کی ایک آسان راہ بتاتا ہے کہ اگر ہم کسی بات کا فیصلہ کرنے لگیں تو ہمیں اس کے فوائد اور اس کے نقصانات پر غور کرنا چاہئے۔

جوئے اور شراب کی نسبت اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَالۡمَیۡسِرِ ؕ قُلۡ فِیۡہِمَاۤ اِثۡمٌ کَبِیۡرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ ۫ وَاِثۡمُہُمَاۤ اَکۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِہِمَا(البقرہ: ۲۲۰)۔ شراب کے متعلق لوگ تم سے سوال کرتے ہیں اور تم سے پوچھتے ہیں کہ یہ جائز ہے یا حرام۔ اور جوئے کے متعلق بھی پوچھتے ہیں۔ فرمایا ان کو اس کا یہ جواب دے دو (اسلام کیا ہی پاک مذہب ہے کہ کسی کی نیکی اور اچھی صفت کو ضائع نہیں کرتا۔ کیا ہی عمدہ اور پاک جواب دیا) کہ ان میں کچھ بدیاں ہیں اور کچھ فوائد بھی۔ لیکن بدیاں فوائد کی نسبت زیادہ ہیں۔ یہ کیا ہی لطیف جواب دیا ہے۔ ان کے سوال پر انہیں منع نہیں کیا گیا کہ تم شراب نہ پیو۔ اور جوا نہ کھیلو۔ بلکہ یہ فرما دیا ہے کہ ان میں منافع تھوڑے ہیں اور نقصان زیادہ۔ اب تم آپ ہی سمجھ لو کہ تمہیں کیا کرنا چاہئے۔ تو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے یہ قاعدہ کلیہ بیان فرما دیا کہ ہر ایک چیز میں دو باتیں ہوتی ہیں یعنی نفع اور نقصان۔ پس اگر کسی چیز میں نفع زیادہ ہو۔ اور نقصان تھوڑا۔ تو اس کو کر لیا کرو۔ اور اگر کسی چیز میں نقصان زیادہ ہو اور نفع تھوڑا تو اس کو اختیار نہ کیا کرو۔ دنیا کا تمام کارخانہ اسی قاعدہ پر چل رہا ہے۔ ہر ایک انسان جس چیز میں نفع زیادہ دیکھتا ہے اس کو اختیار کر لیتا ہے اور جس میں نقصان زیادہ دیکھتا ہے اس کو چھوڑ دیتا ہے۔ اسی قاعدہ کے مطابق تم سیاست کو دیکھو۔ سیاست بالذات کوئی بری چیز نہیں ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ ایک ہی چیز ایک وقت میں حلال ہوتی ہے تو وہی دوسرے وقت میں حرام ہو جاتی ہے۔ مثلاً نماز ایک ایسی چیز ہے جس سے کہ قرب الٰہی حاصل ہوتا ہے مگر ایک وقت یہی نماز پڑھنے والا شیطان ہو جاتا ہے یعنی سورج کے چڑھنے یا ڈوبنے کے وقت نماز پڑھنے والا بجائے قرب الٰہی حاصل کرنے کے شیطان بن جاتا ہے۔ اسی طرح روزہ کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ رکھنے والے کا میں (اللہ) ہی اجر ہوں مگر آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ عید کے دن جو لوگ روزہ رکھتے ہیں وہ شیطان ہیں۔ پس گو روزہ رکھنا ایک نہایت اعلئے عبادت تھی لیکن رسول کریم ﷺ نے عید کے دن روزہ رکھنے کو شیطانی فعل قرار دیا جس سے معلوم ہوا کہ ایک چیز ایک وقت میں اچھی ہوتی ہے تو دوسرے وقت وہی بری ہو جاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص کی پیٹھ میں درد ہو رہا ہو اور وہ کسی کو کہے کہ میری پیٹھ پر مکیاں مارو۔ میں تمہیں انعام دوں گا تو اس طرح مکیاں مارنے پر اس شخص کو انعام ملے گا۔ لیکن اگر کوئی مجلس میں بیٹھا باتیں کر رہا ہو اور اس کا نوکر پیچھے سے آکر اس کی پیٹھ پر مکیاں مارنی شروع کر دے تو جانتے ہو کہ اس سے کیا سلوک کیا جائے گا۔ اس کو سزا دی جائے گی کیونکہ موقع کے مطابق ہر ایک بات ہوتی ہے۔

ہر سخن وقتے و ہر نکتہ مقا مے دارد۔

تو بعض اوقات ایک بات خراب ہوتی ہے اور بعض وقت وہی اچھی ہو جاتی ہے۔سیاست سے جو مسیح موعودؑ نے منع کیا ہے تو اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ اس کا موقع اور محل نہیں ہے اور خواہ گورنمنٹ اس کی اجازت بھی دیتی ہے تاہم یہ ناجائز ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ گورنمنٹ ایک حد تک سیاسی امور کی طرف توجہ رکھنے کی اجازت دیتی ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اس کام کا انجام خراب ہو گا اس لئے میں اپنی جماعت کو اس کی اجازت نہیں دیتا۔ایک دفعہ صوبہ کے ایک بڑے افسر سے حضرت صاحب ملنے کے لئے تشریف لے گئے۔یوں تو آپ کسی کے پاس نہ جایا کرتے تھے لیکن انہیں اپنا مہمان سمجھ کر چلے گئے۔ان دنوں گورنمنٹ کا یہ خیال تھا کہ مسلم لیگ سے گورنمنٹ کو فائدہ پہنچے گا۔ان افسر صاحب نے حضرت صاحب سے پوچھا کہ آپ کا مسلم لیگ کے متعلق کیا خیال ہے۔ آپ نے فرمایا میں اسے نہیں جانتا۔خواجہ صاحب چونکہ اس کے ممبر تھے انہوں نے اس کے حالات عجیب پیرایہ میں آپ کو بتائے فرمایا میں پسند نہیں کرتا کہ لوگ سیاست میں دخل دیں۔صاحب بہادر نے کہا مرزا صاحب !مسلم لیگ کوئی بری چیز نہیں بلکہ بہت مفید ہے۔ آپ نے فرمایا۔بری کیوں نہیں۔ایک دن یہ بھی بڑھتے بڑھتے بڑھ جائے گی۔صاحب بہادر نے کہا مرزا صاحب!شائد آپ نے کانگرس کا خیال کیا ہو گا۔لیگ کا حال کانگرس کی طرح نہیں کیونکہ کسی کام کی جیسی بنیاد رکھی جاتی ہے ویسا ہی اس کا نتیجہ نکلتا ہے۔کانگرس کی بنیاد چونکہ خراب رکھی گئی تھی اس لئے وہ مضر ثابت ہوئی لیکن مسلم لیگ کے تو ایسے قواعد بنائے گئے ہیں کہ اس میں باغیانہ عنصر پیدا ہی نہیں ہو سکتا حضرت صاحب نے فرمایا۔ آج آپ کا یہ خیال ہے تھوڑے دنوں کے بعد لیگ بھی وہی کام کرے گی جو آج کانگرس کر رہی ہے۔ چنانچہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ اب مسلم لیگ بھی اس سیلف گورنمنٹ کے حصول کی طرف جھک رہی ہے جس کا کانگرس مدت سے مطالبہ کر رہی تھی گو دکھاوے کے لئے لفظوں میں کچھ فرق رکھا ہو۔غرض کہ گو صوبہ کے ایک بڑے اور ذمہ دار حاکم نے اس بات پر زور بھی دیا کہ مسلم لیگ سے نقصان نہیں ہو گا لیکن حضرت صاحب نے یہی جواب دیا کہ اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہو گا۔ آخر ایسا ہی ہوا۔پس خوب یا د رکھو کہ حضرت صاحب نے جو اپنی جماعت کو جائز حد تک بھی سیاست میں حصہ لینے سے روک دیا ہے تو وہ اس لئے نہیں کہ سیاست بالذات بری ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت اس میں حصہ لینا بجائے فوائد کے نقصان کا باعث ہے چنانچہ میں اس امر کی مزید تشریح کرتا ہوں۔

حدیث میں آتا ہے سَتَكُوْنُ اَثَرَةٌ وَّ اُمُوْرٌ تُنْكِرُوْنَهَا قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ فَمَا تَاْمُرُنَا قَالَ تُؤَدُّوْنَ الْحَقَّ الَّذِیْ عَلَيْكُمْ وَتَسْاَلُوْنَ اللّٰهَ الَّذِیْ لَكُمْ(بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام) یعنی ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ ایسے حاکم ہو جائیں گے کہ جو اپنے لئے بھلائی چاہیں گے اور تمہارے آرام کی فکر نہ رکھیں گے اور ایسے امور ظاہر ہوں گے جو تم کو برے معلوم ہوں گے۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ایسے وقت میں ہمیں کیا حکم ہے یعنی ہم اس وقت کیا کریں۔ کیا حکام کا مقابلہ کریں اور ان کو سیدھا کریں فرمایا جو حکام کے حقوق تمہارے ذمہ ہیں ان کو تم ادا کر دو۔ اور جو تمہارے حقوق ان کے ذمہ ہیں انہیں خود طلب نہ کرو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ پر ڈالدو کہ وہ خود ان کا ذمہ دار ہو۔ اس کے مقابلہ میں حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ مَنْ قُتِلَ دُوْنَ عِرْضِهِ وَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيْدٌ؎۔ جو اپنی عزت اور مال کے بچانے کے لئے کوشش کرتا ہوا مارا جائے وہ بھی شہید ہے۔ پس ایک طرف تو مال و عزت کی حفاظت میں مارے جانے والے کو آپ شہید فرماتے ہیں۔ اور دوسری طرف ارشاد ہوتا ہے کہ حکام جو کچھ بھی ظلم کریں صبر کرنا۔ اور ان کے ظلم کے مقابلہ میں خود ہاتھ نہ اٹھانا۔ اپنے حقوق کا مطالبہ بھی ان سے نہ کرنا بلکہ اسے بھی اللہ پر ہی چھوڑنا۔ ان دونوں حکموں کو ملا کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں حکم مختلف اوقات کے لئے ہیں۔ کسی زمانہ میں تو یہ حکم ہے کہ خوب اپنے حقوق طلب کرو اور کسی زمانہ میں یہ حکم ہے کہ جو کچھ ملتا ہے اسے خاموشی سے قبول کرو۔ مقابلہ تو الگ رہا حکام سے اپنے حقوق کا مطالبہ بھی نہ کرو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک زمانہ حکومتوں پر ایسا ہوتا ہے کہ ان کی حالت ایسی نازک ہو جاتی ہے کہ اگر وہ اپنی پہلی حالت پر چلی جائیں تو چلی جائیں لیکن اگر ان کی حالت میں ذرہ بھی تغیر آجائے تو خواہ وہ بہتری کی طرف ہی ہو لیکن وہ مہلک ثابت ہوتا ہے کیونکہ کمزوری ظاہر ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں ملک کا حکومت کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا اس کی تباہی کا یقینی باعث ہو جاتا ہے۔ پس ایسی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکام سے حقوق طلب کرنے سے بھی روک دیا تا ایسا نہ ہو کہ حقوق طلب کرتے کرتے اپنی حکومت کو ہی تباہ نہ کر لیں لیکن دوسرے اوقات میں جب یہ حالت نہ ہو تو خاص حدود کے اندر حقوق کا مطالبہ جائز رکھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حکم بھی اسی طرح خاص مصالح کے ماتحت ہے۔

سیاست کیا چیز ہے؟

ایک قصہ گو لکھتا ہے کہ ایک دیوار تھی جو اس کے اوپر چڑھ کر اس میں جھانکتا پھر نہ لوٹ سکتا بلکہ ہنستا ہنستا اندر ہی کود پڑتا۔ یہ قصہ تو جھوٹ ہے کہ ایسی کوئی دیوار تھی کہ جو اسے دیکھتا تھا وہ اس کے اندر ہی غائب ہو جاتا تھا۔ لیکن اس پر غور کریں تو سیاست ایک ایسی ہی دیوار ہے۔ چونکہ انسان کی طبیعت عاجلہ کو پسند کرتی ہے اور جس کام کا فائدہ اسے جلد مل جائے وہ اسے بہت پسند کرتا ہے اور دیر کو پسند نہیں کرتا اس لئے لوگ ایسے کاموں کے درپے ہو جاتے ہیں جن کے کرنے سے فوری فوائد حاصل ہوں۔ اور سیاست بھی انہی چیزوں میں سے ہے جن کے فوائد جلد تر حاصل ہوتے ہیں۔ پس جب لوگ دیکھتے ہیں کہ سیاست کی وجہ سے جلدی دولت‘ حکومت اور رتبہ مل جاتا ہے تو اس کی طرف دوڑنے لگ پڑتے ہیں جس طرح کہا جاتا ہے کہ جب ایک دفعہ شیر کے منہ کو آدمی کا لہو لگ جاتا ہے تو پھر وہ ہر وقت انسان کے شکار کی تاک میں ہی رہتا ہے۔ اور پہلے اگر ایک دو آدمیوں سے بھاگ جاتا تھا تو پھر تیس چالیس آدمیوں کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔ اسی طرح سیاست کا خون جس کسی کے منہ کو لگ جاتا ہے پھر وہ اسے نہیں چھوڑ سکتا اور اس کے اندر ہی اندر گھستا جاتا ہے۔

سیاسی معاملات میں پڑنے کا پہلا خطرناک نتیجہ

چونکہ ایک طرف تو سیاست ایک ایسی چیز ہے جو اور سب کچھ بھلا دیتی ہے حتّٰی کہ جان تک کی بھی ہوش نہیں رہنے دیتی اور اپنی طرف ہی کھینچتی جاتی ہے۔ اور دوسری طرف آج کل اسلام پر جو نازک وقت آیا ہوا ہے اس سے پہلے اس پر کبھی نہیں آیا اس لئے اس وقت اسلام کو جتنے بھی ہاتھ کام کے لئے مل جائیں اور جس قدر بھی سپاہی اسلام کی حفاظت کے لئے مل جائیں اتنے ہی کم ہیں۔ اس لئے آج مسلمانوں کے لئے سیاست کی طرف متوجہ ہونا ایک ایسا زہر ہے جسے کھا کر ان کا بچنا محال بلکہ ناممکن ہے کیونکہ سیاست بہت بڑی توجہ کو چاہتی ہے اور جو شخص سیاست میں پڑتا ہے وہ بالکل سیاست ہی میں غرق ہو جاتا ہے۔ آج یورپ میں ایسی جنگ ہو رہی ہے کہ ہر ایک سلطنت کو جسقدر بھی سپاہی مہیا ہو سکتے ہیں اتنے ہی مہیا کرتی ہے اور عورتوں اور لڑکے لڑکیوں تک کو لڑائی میں مدد دینے کے قواعد سکھائے جا رہے ہیں کیونکہ یہ ایک ایسی خطرناک جنگ ہے کہ تھوڑے سپاہیوں سے کام نہیں چل سکتا۔ مگر اسلام کو جو جنگ درپیش ہے وہ اس یورپین جنگ سے بہت بڑھ کر ہے اور اکیلے اسلام کو کل دنیا سے مقابلہ ہے اور دشمن ایسا قوی ہے کہ اسلام کے ایک ایک سپاہی کے مقابلہ میں ہزاروں سپاہی لا سکتا ہے۔ جو مسلمان ہیں وہ خود اسلام سے بیزار ہو رہے ہیں اور صرف نام کے مسلمان ہیں ورنہ اسلام سے وہ ایسے ہی دور ہیں جیسے کہ غیر مذاہب کے لوگ۔ پس اس جنگ میں چند آدمی کامیاب نہیں ہو سکتے بلکہ ہر ایک مرد‘ بچہ اور عورت کو اس میں حصہ لینے کے لئے کھڑا ہو جانا چاہئے ۔ اگر کسی مکان کو آگ لگ جائے تو اس وقت یہ نہیں کہا جاتا۔ کہ سقہ کو بلاؤ تاکہ وہ پانی لا کر آگ بجھائے کیونکہ وہ پانی مہیا کرنے پر مقرر ہے اور اس کام کی تنخواہ لیتا ہے اگر وہ آج کام نہیں آتا تو اسے نوکر کس لئے رکھا ہوا ہے بلکہ ہر ایک شخص دوڑتا اور بھاگتا ہوا جاتا ہے۔ تاکہ آگ پر پانی ڈالے اور اس کو بجھائے اور عورتیں اور بچے بھی اس کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ اسی طرح اس وقت اسلام کے گھر کو دشمن نے آگ لگائی ہوئی ہے اور احمق ہے وہ جو اس انتظار میں بیٹھے کہ سقے اس آگ کو بجھائیں۔ اس عظیم الشان آگ کو جو اسلام کے مکان کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے ایک دو آدمی نہیں بجھا سکتے بلکہ ہر ایک شخص کا جو اپنے دل میں ذرہ بھی ایمان رکھتا ہے کام ہے کہ وہ اس آگ کو بجھانے میں لگ جائے اور تم میں سے ہر ایک کا یہ فرض ہے خواہ مرد ہو یا عورت ، جوان ہو یا بوڑھا، بچہ ہو یا نوجوان ، لڑکی ہو یا لڑکا کہ وہ اس آگ کو بجھانے کے لئے اٹھ کھڑا ہو۔ اگر کوئی ایسے وقت میں بھی غفلت کرتا ہے تو وہ اسلام میں نہیں ہے۔ پس ایسے زمانہ میں جبکہ اسلام کی حالت یہاں تک نازک ہو گئی ہے اگر حضرت مسیح موعودؑ لوگوں کو سیاسی معاملات میں حصہ لینے کی اجازت دے دیتے۔ تو بہت سا حصہ جماعت کا اس میں لگ جاتا اور اسلام کی خدمت سے الگ ہو جاتا حالانکہ اسلام کو اس مدد کی سخت احتیاج ہے۔ اور جبکہ اس کی فوج آگے ہی قلیل ہے تو وہ اس قلیل فوج میں سے کچھ فوج کو اور کام میں کیونکر لگا سکتا ہے۔ نادان ہے وہ انسان جو اس وقت سیاست کی کشمکش کو دیکھ کر اور پھر اسلام کی حالت کو معلوم کر کے سیاست کی طرف متوجہ ہوتا ہے کیونکہ اسے دین کے متعلق خدمت کرنے کی کب فرصت ملے گی۔ چونکہ سیاست میں پڑ کر انسان کو بہت جلد دنیا میں عزت و شہرت حاصل ہونے لگتی ہے اس لئے لوگ اس نزدیک کے فائدہ کی خاطر دین کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ اور اس زمانہ میں تو دنیا کی کشش یوں بھی زیادہ ہے پس سیاست جس قدر بھی انسان کو اپنی طرف کھینچے تھوڑا ہے اس لئے حضرت مسیح موعودؑ نے یہ پسند نہ کیا کہ جو تھوڑے سے آدمی ان کے ساتھ شامل ہیں ان کو بھی آپ سیاست میں دخل دینے کی اجازت دے کر اپنے ہاتھ سے کھو دیں۔ اگر کوئی یہ کہے کہ ہمیں سیاست کے چھوڑنے کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ہم تحصیلدار، ڈپٹی اور دیگر سرکاری عہدے حاصل نہیں کر سکے تو وہ سمجھ لے کہ اس کے چھوڑنے سے خدا ملتا ہے اور نہ چھوڑنے سے دنیا۔ پس اگر تمہیں خدا پیارا ہے تو سیاست کو چھوڑ دو۔ اور اگر نزدیک کی خوشی پسند کرتے ہو یعنی دنیا کی، تو پھر جو تمہاری مرضی ہے وہ کرو۔ اس صورت میں ہمارا تم پر کوئی ایسا اختیار نہیں ہے کہ مجبوراً تمہیں روک دیں۔

سیاسی معاملات میں پڑنے کا دوسرا خطرناک نتیجہ

سیاست میں جتھے کی ضرورت ہوتی ہے اگر کچھ آدمی کھڑے ہو کر گورنمنٹ سے کسی بات کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ ان کا مطالبہ پورا کرتی ہے۔ لیکن ہر ایک بات کے پورا کرنے میں وہ اس بات کا لحاظ رکھتی ہے کہ لوگوں کی کثرت کس طرف ہے۔ اگر آج لوگ گورنمنٹ سے کوئی مطالبہ کریں گے تو گورنمنٹ انہی کے مطالبات پورے کرے گی جو زیادہ ہوں گے۔ لیکن تم اپنے حال پر غور کرو دوسروں کے مقابلہ میں تمہارا جتھا ہی کیا ہے کہ تم کچھ منوا سکو؟ ہماری اپنی حالت تو یہ ہے کہ کوئی دشمن ہمیں تنگ کرتا ہے، تکلیفیں دیتا ہے، دکھ پہنچاتا ہے تو ہم کو گورنمنٹ کے سپاہی ہی اس سے بچاتے ہیں۔ تو سیاست کی وجہ سے ہمیشہ وہی قوم کامیاب ہوتی ہے جس کا جتھا ہوتا ہے۔ اگر ایک سکول کے لڑکے سٹرائک کریں اور سٹرائک کرنے والوں کی تعداد سٹرائک نہ کرنے والوں سے کم ہو تو سٹرائک کامیاب نہیں ہو سکتی کیونکہ ایسی صورت میں افسر سٹرائک کرنے والے طلباء کو خارج کر دیں گے۔ لیکن اگر استقلال سے اکثر حصہ یا سب کے سب طلباء سٹرائک کریں گے تب ان کو کامیابی کی امید ہو سکے گی ورنہ سخت ناکام ہوں گے۔ لیکن تم بتاؤ کہ تمہارے ساتھ کونسا جتھا اور کونسی جماعت ہے۔

سیاست میں پڑ کر چھوٹی قوم بڑی میں جذب ہو جاتی ہے

یہ ایک تجربہ شدہ بات ہے کہ جو چھوٹی جماعتیں سیاست کی طرف اپنا رخ کرتی ہیں انہیں اپنا جتھا بنانے کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں بغیر جتھے کے کوئی قوم سیاسی امور میں کامیاب نہیں ہو سکتی اس لئے وہ دوسروں سے ملنا جلنا شروع کر دیتی ہیں۔ چونکہ وہ خود چھوٹی ہوتی ہیں اس لئے بجائے اس کے کہ اوروں کو اپنے ساتھ ملائیں خود ان میں جذب ہو کر اپنی ہستی فنا کر لیتی ہیں۔ دیکھو آج جو ہماری جماعت کو نقصان پہنچا ہے وہ بھی اسی سیاست کی وجہ سے پہنچا ہے پہلے پہل تو ہماری جماعت کے چند لوگ سیاست کی طرف متوجہ ہوئے لیکن چونکہ سیاست ہمیشہ جتھا چاہتی ہے اس لئے ان کو دوسری جماعتوں میں شامل ہونا پڑا اور ابتداء میں تو وہ یہ کہتے رہے کہ اس میل جول کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ہم دوسروں کو اپنی طرف کھینچ لائیں گے لیکن رفتہ رفتہ خود ان میں جذب ہونے لگے۔ اول وہ انجمن حمایت اسلام کے ممبر بنے پھر اور زیادہ جو سیاست کی چاٹ لگی تو مسلم لیگ میں شامل ہو گئے پھر جب دیکھا کہ مذہبی اختلاف کی وجہ سے ان لوگوں میں ہم کامیاب نہیں ہو سکتے تو آہستہ آہستہ بڑی جماعت کو خوش کرنے اور خود

عزت حاصل کرنے کے لئے اپنے عقائد کو قربان کرنا شروع کیا۔ جانتے ہو یہ ضرورت ان کو کیوں پیش آئی؟ اس لئے کہ جتھا بنائیں مگر دین لیتے لیتے ان کی دنیا بھی گئی۔ جتھا بنانے کی مثال آریوں میں ہی دیکھ لو۔ ابتداء میں تو یہ فرقہ زیادہ تر مذہبی معاملات میں دخل دیتا تھا لیکن جب نئی تعلیم کی روشنی نے انہیں سیاست کے سبزہ زار میدانوں کی طرف ہدایت کی اور وہ اس طرف جھک گئے تو اب مذہب ان میں مل گیا۔ آج یہ بحث ہو رہی ہے کہ آیا آریہ مذہب کوئی مذہب ہے یا صرف ایک سیاسی جماعت ہے اور اس وقت کی ان کی حالت یہی ظاہر کرتی ہے کہ وہ صرف ایک سیاسی جماعت ہے اور مذہب سے ان کو کچھ سروکار نہیں ان کی سب خصوصیتیں اب مٹ گئی ہیں اور یا تو یہ حال تھا کہ آریہ ہندو کہنے پر چڑتے تھے اور صاف کہا کرتے تھے کہ ہندو ہم نہیں ہم آریہ ہیں اور اس نام کو ناپسند کرتے تھے لیکن سیاست میں پڑ کر آج وہ اپنے دوسرے بھائیوں کو (جو ہندو کہلاتے تھے اور پرانے خیال کے تھے ساتھ ملانے اور سیاست میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے) جتھا بنانے کی غرض سے بڑی خوشی سے اپنے آپ کو ہندو کہتے ہیں اور اگر ان سے پوچھو کہ آپ آریہ ہیں یا ہندو تو بڑی سختی سے جواب دیتے ہیں کہ آریہ کیا اور ہندو کیا سب ہندو ہیں اور انہی ہندوؤں کو جنہیں وہ پہلے نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے آج ساتھ شامل کر رہے ہیں اور باہیں پھیلا پھیلا کر ان سے مل رہے ہیں تاکہ اپنا جتھا قائم کریں۔ لیکن ان کا جتھا بنانے کے لئے دوسروں سے ملنے کا نتیجہ وہی نکل رہا ہے جو حضرت مسیح موعودؑ نے بذریعہ پیشگوئی بیان فرما دیا ہوا ہے یعنی دن بدن مٹتے جاتے ہیں اور اپنا نام و نشان گم کرتے جاتے ہیں اور وہ دن آتے جاتے ہیں جب آریہ مذہب مٹ جائے گا کیونکہ یہ قوم سیاست میں پڑ چکی ہے اور سیاست کا کوئی مذہب نہیں اس لئے ان کی سیاست رہ جائے گی لیکن مذہب مٹ جائے گا۔ غرض کہ جتھے کے بغیر سیاست نہیں چل سکتی۔ لیکن جب دوسروں کو ملا کر جتھا بنایا جائے گا تو اپنی خصوصیات چھوڑنی پڑیں گی۔ اور جب کوئی قوم اپنی خصوصیات چھوڑ دے گی تو وہ تباہ اور برباد ہو جائے گی۔

۱۹۰۷ء میں جب پنجاب میں سخت شورش کے آثار پیدا ہوئے تھے اور بعض شریروں نے گورنمنٹ کے خلاف جوش پھیلا دیا تھا اس وقت دیکھا گیا کہ بعض بڑے بڑے وکلاء نے مسلمانوں کی دعوت کی اور ایک جگہ مل کر سب نے کھانا کھایا اور سب چھوت چھات کے خیالات کو ترک کر دیا یہ کیوں ہوا ۔ جتھے کو وسیع کرنے کے لئے چنانچہ جو لوگ سیاست میں زیادہ پڑے ہوئے ہیں ان سے پوچھ کر دیکھو ان کا یہی مذہب ہے کہ ہم اول ہندوستانی ہیں اور پھر ہندو یا مسلمان ہیں۔ لیکن کیا اسلام اس بات کی اجازت دے سکتا ہے ہرگز نہیں۔ اسلام تو یہی بتاتا ہے کہ تم اول مسلمان ہو اور پھر کچھ اور ہو بلکہ پھر کچھ بھی نہیں ہو۔

شائد کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ بعض لوگ سیاست میں بھی مشغول ہوتے ہیں اور پھر دین میں بھی مشغول ہوتے ہیں بلکہ دین کی خدمت میں اپنا بہت سا وقت صرف کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیاست میں مشغول ہو کر پھر بھی انسان دین کے کام کرسکتا ہے لیکن جیسا کہ میں ابھی بتا چکا ہوں یہ تو ممکن ہے کہ بعض لوگ سیاست کے ساتھ دین سے بھی تعلق رکھیں لیکن یہ ضرور ہے کہ چونکہ سیاست جتھا چاہتی ہے اور جو لوگ سیاست میں پڑتے ہیں وہ یا تو دین کو عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور اس طرح دین کی اصل غرض فوت ہو جاتی ہے اور اس عمل سے بجائے دین کی ترقی ہونے کے اسے سخت صدمہ پہنچ جاتا ہے اور یا یہ لوگ کثیر جماعت کی خاطر اپنے عقائد میں تبدیلیاں پیدا کرنی شروع کر دیتے ہیں اور اس طرح دوستی کے پردہ میں دشمنی کرتے ہیں اور غریب لوگ ان کی وجاہت اور ان کے علم کے دھوکے میں ان کے شائع کردہ گندے اور بیہودہ عقائد کو ہی اصل اور سچے عقیدے خیال کر لیتے ہیں اور اس طرح دین کا مغز ضائع ہو جاتا ہے۔ پس گو بعض ایسے لوگ بھی ہوں جو سیاست کے ساتھ دین کی طرف بھی توجہ رکھیں لیکن اس وقت چونکہ صداقت کمزور ہے ایسے لوگ دین کے لئے سخت نقصان دہ ہیں۔

احسان کا بدلہ ہونا چاہئے

پھر ہم کہتے ہیں کہ احسان بھی تو دنیا میں کوئی چیز ہے حضرت مسیح موعودؑ نے لکھا ہے کہ ”وہ تلخی اور مرارت جو سکھوں کے عہد میں ہم نے اٹھائی تھی۔ گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ آکر ہم سب بھول گئے“ پھر آپ نے لکھا ہے کہ جب سکھ ظلم کرتے تھے تو وہ کون تھا جو ہمیں ان سے بچانے کے لئے آیا۔ کیا اس وقت ہماری مدد کے لئے ترک آئے تھے۔ نہیں انگریز ہی آئے۔ اس وقت لوگ اپنے مذہب کو چھپاتے تھے لیکن پھر بھی ڈرتے تھے۔ لیکن آج ہم علی الاعلان اپنے مذہب کا اظہار کرتے ہیں مذہبی تکالیف جو کہ پیشتر تھیں ان کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے مسجدوں میں نماز پڑھنا تو الگ رہا گھروں میں بھی خدا کا نام لینا ایک جرم سمجھا جاتا تھا۔ لیکن گورنمنٹ انگلشیہ نے تو ایسی آزادی دے رکھی ہے کہ بعض جگہ اپنے مسلمان ملازموں کو دفاتر اور اسٹیشنوں کے احاطوں میں سرکاری زمین میں مساجد بنانے کی اجازت دے دی۔ گو افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اپنی بے وقوفی سے اس انعام کو ضائع کر دیا۔ اور مساجد کی زمین کے وقف ہونے کے بے موقع سوال کو اٹھا کر آئندہ کیلئے گورنمنٹ کو مجبور کر دیا کہ وہ اس آزادی سے ان کو محروم کر دے اور اپنے دفاتر اور اسٹیشنوں کو مذہبی جھگڑوں کی آماجگاہ ہونے سے محفوظ رکھے۔ اگر مسلمان بے فائدہ شور نہ کرتے تو آئندہ ان آسانیوں میں اور ترقی ہونے کی امید تھی اور وہ دن دور نہ تھا کہ ہر دفتر کے مسلمان بڑی آسانی سے نماز باجماعت کے ثوابِ عظیم کو حاصل کر سکتے۔ غرض کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ہم پر بڑے احسان ہیں اور ہم بڑے آرام اور اطمینان سے زندگی بسر کرتے اور اپنے مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا مقصد دین کو پھیلانا ہے اور اس مقصد کے پورا کرنے کی ہمیں ہر طرح سے آزادی ہے۔ ملک کے جس گوشہ میں چاہیں تبلیغ کر سکتے ہیں اور اگر دوسرے ممالک میں تبلیغ کے لئے جائیں تو وہاں بھی برٹش گورنمنٹ ہماری مدد کرتی ہے۔ ان فوائد کے مقابلہ میں اگر یہ مان بھی لیا جائے (گو میرا یہ خیال نہیں) کہ گورنمنٹ نے ہمارے کچھ حقوق دبائے ہوئے ہیں تو پھر بھی یہ سمجھ لینا چاہئے کہ چھوٹی چیزیں بڑی چیزوں پر قربان ہوا کرتی ہیں۔ جبکہ ہمیں اس قدر بڑے بڑے حقوق اور آرام اس گورنمنٹ کے ذریعہ حاصل ہوئے ہیں تو اگر بعض حقوق جو ہمارے خیال کے مطابق ہمیں حاصل ہونے چاہئیں تھے لیکن ابھی تک حاصل نہیں ہوئے تو بھی کوئی حرج کی بات نہ تھی۔ انگریزوں کے آنے سے پہلے ہندوستان میں مسلمانوں پر اکثر جگہ سخت ظلم ہو رہا تھا۔ انہوں نے آکر انہیں اس گری ہوئی حالت سے ابھارا۔ اب اگر انہوں نے کچھ فوائد حاصل کر بھی لئے تو مسلمانوں کو یہ خیال کر لینا چاہئے کہ ان کا سب کچھ جاتا رہا تھا انگریزوں نے آکر کچھ واپس دلا دیا۔ اگر کسی کا روپیہ گم ہو جائے اور کوئی شخص اسے ڈھونڈھ دے تو وہ تو خود اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ روپیہ اسے انعام کے طور پر دے دیتا ہے۔ مسلمانوں کی آزادی بھی گم شدہ تھی انگریزوں نے آکر انہیں واپس دی۔ اب اگر انہوں نے کچھ حقوق اپنے لئے رکھ لئے یا کچھ عہدے انگریزوں سے خاص بھی کر دیئے تو احسان کا نتیجہ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ یہ اس بات پر شور مچا کر ان کا مقابلہ کریں بلکہ شرافت چاہتی ہے کہ ان کے احسان کو یاد کر کے ان کا ہاتھ بٹائیں۔ اور اگر بعض حقوق انہوں نے ان کو نہیں بھی دیئے تو اس پر صبر کریں بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر کریں کہ اس کے فضل سے انگریزوں کی معرفت ان کا بہت کچھ کھویا ہوا واپس ملا۔ ان کا دین بھی جا چکا تھا اور دنیا بھی۔ دونوں قسم کی آزادیاں اور دونوں قسم کے حقوق ضائع ہو چکے تھے۔ انگریزوں نے دین میں تو ان کو کامل طور سے آزاد کر دیا اور دنیا میں بھی ان کو بہت کچھ آزادی دی۔ پس ان کو تو چاہئے تھا کہ ان کے ممنون ہوتے نہ کہ نکتہ چین بنتے۔ جو لوگ دین کی قدر جانتے ہیں ان کے نزدیک تو انگریز مذہبی آزادی دے کر اگر دنیاوی عہدوں میں سے ایک چپڑاسی کا عہدہ بھی ہندوستانیوں کو نہ دیتے تو پھر بھی انہیں وجہ شکایت نہ ہوتی کیونکہ محسن ہر حال میں شکریہ کا مستحق ہوتا ہے اور انگریز ہمارے محسن ہیں۔

غلط خیال

بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس قدر ہمیں آزادی اور آرام میسر ہے ان کے دینے پر گورنمنٹ مجبور ہے کیونکہ ملک کی ترقی میں گورنمنٹ کا اپنا فائدہ ہے اس لئے اس کا ہم پر کوئی احسان نہیں۔ ہم کہتے ہیں یہ تو اسی طرح کی بات ہے جس طرح کوئی کہے کہ والدین کا مجھ پر کوئی احسان نہیں ہے انہوں نے اپنے جذبات کے پورا کرنے کے لئے ایک دوسرے سے تعلق پیدا کر لیا اور میں پیدا ہو گیا۔ کیا یہ بات ٹھیک ہے؟ ہرگز نہیں۔ اسی طرح اس سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بے شک گورنمنٹ کا بھی اس میں فائدہ ہے کہ امن قائم رکھے مگر اس کے احسان کا بھی تو ہم انکار نہیں کر سکتے۔ چونکہ اس گورنمنٹ کے ذریعہ سے ہمیں یہ آرام و آسائش نصیب ہوا ہے۔ اس لئے ہم اس کے ممنون احسان ہیں اور بہر حال ہیں۔

قربِ الٰہی کے حصول کا طریق

پس تم خوب یاد رکھو کہ سیاست میں پڑنے اور اس کی طرف توجہ کرنے سے سلسلہ احمدیہ نہیں بڑھ سکتا اور ہم میں سے جو کوئی اوروں کے ساتھ مل کر سیاست میں پڑے گا وہ بھی کامیاب نہیں ہوگا۔ کیونکہ جو خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر دنیا کی طرف جاتا ہے اس کو وہ بھی نہیں ملتی۔ پس اگر تم خدا تعالیٰ کے قرب کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہو تو وہ دنیا طلبی میں تمہیں نہیں ملے گا بلکہ خدا طلبی میں ملے گا۔ خدا نے ہمارے لئے اپنے فضلوں کے دروازے کھولے ہوئے ہیں اور وہ انسان جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام بھیجا اور جس کے ملنے کی توقع کرتے کرتے کئی بڑے بڑے بزرگ گزر گئے وہ خدا نے ہم میں پیدا کیا پھر اس کے ماننے کی ہمیں توفیق دی پھر ماننے ہی کی توفیق نہیں دی بلکہ اس کے سلسلہ کی خدمت کرنے کی بھی توفیق دی ہے۔ پس تم خدا تعالیٰ کے دربار کے وائسرائے اور لیفٹننٹ گورنر ہو۔ تمہیں دنیا کے کسی درجہ کی ضرورت نہیں ہے۔ مسیح موعودؐ کا خادم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم خدا تعالیٰ کا خادم ہے اس لئے تمہارے نام خدا تعالیٰ کے خادموں میں لکھے گئے ہیں۔ اس سے بڑھ کر انسان کو اور کیا فخر مل سکتا ہے؟ ایک صحابی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ میں تمہیں سورہ فاتحہ یاد کراؤں اس نے عرض کی یا رسول اللہ کیا خدا تعالیٰ نے میرا نام لے کر آپ کو یہ فرمایا ہے۔ آپ نے کہا ہاں تمہارا نام لے کر فرمایا ہے۔ یہ سنتے ہی وہ زور سے رونے لگ گیا کہ کیا میری بھی اتنی حیثیت ہے کہ خدا تعالیٰ میرا نام لے۔ ہم پر خدا تعالیٰ کے کتنے احسانات اور اس کی کس قدر نعمتیں ہیں کہ ہمیں اس نے یاد کیا ہے۔ دنیا میں اگر کسی کو کوئی چھوٹا افسر بھی بلاتا ہے تو وہ پھولا نہیں سماتا لیکن افسوس اور صد افسوس اس پر جس کو خدا تعالیٰ بلائے اور وہ اس بلانے کی قدر نہ کرے۔ تم کو خدا نے بلایا ہے دنیا کے بادشاہ اور افسر تمہیں وہ نہیں دے سکتے جو خدا تعالیٰ دے سکتا ہے اس لئے تم اس کے بلانے پر دوڑتے اور شکر بجالاتے ہوئے جاؤ۔ دنیا کے مال و متاع، ناز و نعمت کے لحاظ سے اور لوگ تم سے زیادہ اور بہت زیادہ ہیں مگر دین کے خزانے صرف تمہارے ہی پاس ہیں ان کے پاس نہیں ہیں۔ تم اللہ تعالیٰ کی خدمت کے نصیب ہوتے ہوئے اور کیا چاہتے ہو اسی میں لگے رہو اور دنیا کی ایجیٹیشن دنیا کے کیڑوں کے حوالے کر دو اور تم شیطان کے مقابلہ پر ایجیٹیشن کرو۔

ایک ایڈیٹر سے آپ کا مکالمہ

ایک شادی کے موقعہ پر ایک دفعہ مجھے لاہور جانا پڑا جو لوگ شادی میں شامل ہونے کے لئے آئے تھے ان میں لاہور کے ایک مشہور اخبار کے ایڈیٹر بھی تھے۔ ان دنوں ٹرکی اور آسٹریا کا آپس میں جھگڑا تھا اس لئے آسٹریا کے مال کو بائیکاٹ کرنے کے لئے اخباروں میں لکھا جا رہا تھا۔ میں نے اس سے کچھ مدت پہلے ان ایڈیٹر صاحب کے خلاف ایک سخت مضمون لکھا تھا جو ان کے کسی بیہودہ مضمون کے جواب میں تھا جب ایڈیٹر صاحب کی اور میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کی کیا عمر ہے۔ میں نے کہا انیس ۱۹ سال ہے۔ یہ سن کر وہ بڑے متعجب ہوئے اور کہا کہ آپ کی اتنی ہی عمر ہے۔ غالباً انہیں وہ مضمون یاد آگیا پھر کہا کہ ٹرکی کے دو صوبے آسٹریا نے دبا لئے ہیں اس لئے آپ کے خیال میں آسٹریا سے ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ میں نے کہا ہمارے سپرد تو بہت بڑا کام ہے اس لئے ہم اور کسی طرف کس طرح توجہ کر سکتے ہیں؟ کہنے لگے ہمیں آسٹریا کے مال کا بائیکاٹ کرنا چاہئے اور اس کی کوئی چیز نہ خریدنی چاہئے۔ میں اس وقت ٹوپی پہنے ہوئے تھا جو کہ اتفاقاً اٹلی کی بنی ہوئی تھی۔ وہ ایڈیٹر صاحب کہنے لگے کہ آسٹریا کی بنی ہوئی ٹوپیاں ہمیں نہیں پہننی چاہئیں میں نے کہا کہ میں تو اس خیال میں آپ سے متفق نہیں لیکن میری یہ ٹوپی تو اٹلی کی بنی ہوئی ہے۔ جس وقت کا یہ ذکر ہے اس وقت میں ٹوپی پہنا کرتا تھا لیکن حضرت مسیح موعودؑ ٹوپی کو پسند نہیں فرمایا کرتے تھے مجھے خوب یاد ہے کہ ایک دفعہ عید کے دن میں نے ٹوپی پہنی تو آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا۔ ہیں! تم نے عید کے دن بھی ٹوپی پہنی ہوئی ہے۔ میں نے اسی وقت جا کر ٹوپی اتار دی اور پگڑی باندھ لی (اس کے کچھ عرصہ بعد میں نے بالکل ٹوپی کا استعمال ترک کر دیا) ایڈیٹر صاحب نے کہا کہ نہیں ہمیں ٹرکی کی مخالف سلطنتوں کی چیزوں کا ضرور بائیکاٹ کر دینا چاہئے۔ میں نے کہا ہم ایک کے بائیکاٹ سے فارغ ہو لیں گے۔ تو پھر اور کسی کا بھی بائیکاٹ کر لیں گے۔ اس نے کہا کہ آپ کس کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ میں نے کہا شیطان کا۔ سارے ملکوں پر شیطان کی حکومت ہے اور یہ ہمارے حقوق دن بدن دبائے جا رہا ہے اور روز بروز ہمیں کمزور کر رہا ہے۔ کیا تمہیں اس کے بائیکاٹ کا فکر نہیں۔ ہم تو جب اس کا بائیکاٹ کر لیں گے تو پھر اوروں کا دیکھا جائے گا۔ آج کل اسلام پر سخت مصیبت کے دن آئے ہوئے ہیں۔ اور شیطان اس کو کمزور کر رہا ہے۔ مگر تمہیں اس کا تو کوئی فکر نہیں۔ لیکن آسٹریا کے مال کا بائیکاٹ کرنے میں لگے ہوئے ہو۔ یہ سن کر وہ شرمندہ سا ہو کر چپ ہو گیا۔ واقعہ میں جو دنیا چاہتا ہے وہ سیاست میں دخل دے اور سلطنتوں کے مالوں کا بائیکاٹ کرتا پھرے لیکن جو اسلام سے محبت رکھتا ہے۔ اسے شیطان سے بڑھ کر اور کس کے بائیکاٹ کا فکر ہو گا۔ پس اگر ہمارے بیوی، بچے، دوست، آشنا مال و دولت، آرام و آسائش بلکہ سب کچھ بھی قربان ہو کر اسلام کو ترقی نصیب ہو تو یہ ہماری عین مراد اور دل کی خوشی ہے یہ جماعت احمدیہ اسلام کی ضرورت کے مقابلہ میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔ پھر اگر ہم پہ تھوڑے سے آدمی بھی سیاست میں لگ جائیں تو اور کون ہو گا۔ جو اسلام کی خدمت کرے گا۔ ان لوگوں کو جانے دو جو سیاست میں پڑتے ہیں۔ اور تم دین اسلام کی خدمت میں لگے رہو۔

کامیابی کا گر

قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے تمہاری کامیابی کا ایک گر بتایا ہے اور وہ یہ کہ وَلَقَدۡ اٰتَیۡنٰکَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِیۡ وَالۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِیۡمَ لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعۡنَا بِہٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡہُمۡ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَیۡہِمۡ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَکَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ(الحجر: ۸۸-۸۹) آنحضرت ﷺ کی حیثیت کے مطابق تو اس کے یہ معنی ہیں کہ اے ہمارے رسول! ہم نے تم کو سات آیتوں والی ایک سورۃ دی ہے جو کہ بار بار پڑھی جاتی ہے (اسی کی یہ دوسری صفت بیان فرمائی ہے کہ) یہ قرآن عظیم کا حصہ ہے۔ یا اس کے یہ معنی ہیں کہ سورہ فاتحہ اور قرآن عظیم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے کہ یہ نعمت چونکہ تمہیں ملی ہے اور تو بخیل نہیں ہے بلکہ بڑا سخی ہے اس لئے تیرا دل چاہتا ہے کہ اوروں کو بھی یہی ملے مگر وہ احمق اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور اس کے لینے کی کوشش نہیں کرتے اور تجھے ان کی اس بات پر افسوس آتا ہے اور تو ان کی طرف حسرت سے دیکھتا ہے کہ یہ کیوں اس سے حصہ نہیں لیتے مگر تجھے چاہئے کہ ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھ اور جو پاک جماعت ہم نے تجھے دی ہے اس کی تربیت میں لگ جاؤ۔ ان کفار کی خبر ہم خود لیں گے۔ چنانچہ ایک دوسری جگہ آنحضرت کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفۡسَکَ اَلَّا یَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ(الشعراء: ۴) یعنی کیا تو اس غم میں کہ یہ لوگ مسلمان نہیں ہوتے اپنے آپ کو ہلاک کرے گا۔ آنحضرت کو جو نعمت دی گئی تھی وہ تمام دنیا کو دینا چاہتے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ تمام دنیا اسے قبول کرے۔ اللہ تعالیٰ انہیں فرماتا ہے کہ اگر لوگ گمراہ ہیں تو تم کیوں غمگین ہوتے ہو تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ مومنوں کو پہنچاؤ۔ ان کفار کے لئے بھی ایک وقت آجائے گا جبکہ انہیں اپنے کئے کا پھل مل جائے گا۔ یہ تو آنحضرت کی شان کے مطابق اس کے معنی ہوئے ہیں۔ ہماری نسبت سے یہ معنے ہیں کہ اے مسلمانو! ہم نے تم پر بڑے بڑے انعام نازل کئے ہیں اگر تم دنیا میں کسی کے پاس مال و دولت دیکھو تو یہ نہ کہو کہ وہ حاصل کر لیں۔ ان کو دیکھ کر تمہاری آنکھیں کھلی کی کھلی نہ رہ جائیں بلکہ تم پر جو کچھ تمہارے خدا نے نازل کیا ہے یہ بہت بڑا انعام ہے اور اس کو خدا کا فضل سمجھو اور جو کچھ دنیا داروں کو ملا ہے اس کی طرف نظر نہ کرو۔ پس تم لوگ بھی دنیا کو دنیا داروں کے لئے چھوڑ دو۔ خدا تعالیٰ نے تمہیں اپنے دربار میں بلایا ہے اس لئے تمہیں کسی اور جگہ نہ جانا چاہئے۔ ہاں دنیا میں اتنا کماؤ جو تمہارے لئے ضروری ہو کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔ باقی جہاں تک ہو سکے اپنے وقت کو دین کی خدمت میں صرف کرو اور ایسے لوگوں سے الگ رہو جن سے مل کر تمہاری خصوصیات مٹتی ہوں اور نہ ایسے کاموں میں پڑو جن کے لئے تمہیں اپنے عقائد میں تبدیلی پیدا کرنی پڑے۔ یہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے صرف جماعت احمدیہ کی ضروریات کے مطابق اور صرف دینی نقطۂ خیال سے ہے۔ باقی رہا یہ کہ دوسرے لوگوں کو کونسا رویہ اختیار کرنا چاہئے یا جبکہ سیاست میں مشغول ہونے میں کچھ حرج نہ ہو تو کس حد تک اور کن قواعد کے ماتحت ہم سیاسی معاملات میں حصہ لے سکتے ہیں یہ ایک الگ مضمون ہے اس وقت اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں اس وقت صرف اسی قدر کہنا کافی ہے کہ اسلام کی موجودہ ضروریات چاہتی ہیں کہ ہماری جماعت سیاسی معاملات سے ایسی الگ رہے کہ جس حد تک گورنمنٹ اپنی رعایا کو سیاسی معاملات میں دلچسپی رکھنے کی اجازت بھی دیتی ہے وہ سیاست میں اس قدر بھی دخل نہ دے بلکہ خدا تعالیٰ کے سپرد کردہ کام کے پورا کرنے میں اپنا کل وقت خرچ کرے اور اپنی توجہ کو بٹنے نہ دے اور نہ سیاست میں پڑ کر اپنی خصوصیات کو ضائع کرے۔

احمدی غیر احمدی کا نکاح اور کفو کا سوال

تیسرا اہم مسئلہ جس پر میں آج کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں وہ احمدیوں اور غیر احمدیوں میں نکاح کا سوال ہے اور اسی کے ضمن میں کفو کا سوال بھی پیدا ہو جاتا ہے ہماری جماعت کے لوگوں کو شادیوں کے متعلق جو مشکلات پیش آتی ہیں مجھے پہلے بھی ان کا علم تھا لیکن اس ۹؍ماہ کے عرصہ میں تو بہت ہی مشکلات اور رکاوٹیں معلوم ہوئی ہیں اور لوگوں کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں ہماری جماعت کو سخت تکلیف ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اس کے متعلق یہ تجویز کی تھی کہ احمدی لڑکیوں اور لڑکوں کے نام ایک رجسٹر میں لکھے جائیں اور آپ نے یہ رجسٹر کسی شخص کی تحریک پر کھلوایا تھا۔ اس نے عرض کیا تھا کہ حضور شادیوں میں سخت دقت ہوتی ہے آپ کہتے ہیں کہ غیروں سے تعلق نہ پیدا کرو۔ اپنی جماعت متفرق ہے اب کریں تو کیا کریں؟ ایک ایسا رجسٹر ہو جس میں سب نکتھدالڑکوں اور لڑکیوں کے نام ہوں تا رشتوں میں آسانی ہو حضور سے جب کوئی درخواست کرے تو اس رجسٹر سے معلوم کر کے اس کا رشتہ کروا دیا کریں۔ کیونکہ کوئی ایسا احمدی نہیں ہے جو آپ کی بات نہ مانتا ہو۔ بعض لوگ اپنی کوئی غرض درمیان میں رکھ کر کوئی بات پیش کیا کرتے ہیں اور ایسے لوگ آخر میں ضرور ابتلاء میں پڑتے ہیں اس شخص کی بھی نیت معلوم ہوتا ہے درست نہ تھی۔ انہی دنوں میں ایک دوست کو جو نہایت مخلص اور نیک تھے شادی کی ضرورت ہوئی۔ اسی شخص کی جس نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ رجسٹر بنایا جائے ایک لڑکی تھی۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اس دوست کو اس شخص کا نام بتایا کہ اس کے ہاں تحریک کرو لیکن اس نے نہایت غیر معقول عذر کر کے رشتہ سے انکار کر دیا اور لڑکی کہیں غیر احمدیوں میں بیاہ دی۔ جب حضرت صاحب کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ آج سے میں شادیوں کے معاملہ میں دخل نہیں دونگا اور اس طرح یہ تجویز رہ گئی۔ لیکن اگر اس وقت یہ بات چل جاتی تو آج احمدیوں کو وہ تکلیف نہ ہوتی جو اب ہو رہی ہے۔

شادی ضروری ہے

ہر ایک قوم کے دنیا میں قائم رہنے اور ترقی کرنے کے لئے شادیوں کا ہونا ضروری ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا بھی حکم ہے کہ شادی کی جائے پھر آنحضرت ﷺ بھی فرماتے ہیں کہ ہر ایک مؤمن کو شادی میں رہنا چاہئے جو بغیر شادی کے مرتا ہے وہ بطال ہے۔ لیکن احمدیوں کے لئے اس ضروری مرحلہ کے طے کرنے کے لئے بہت سی دقتیں ہیں۔ اور وہ

اس لئے ہیں کہ غیر احمدی تو ناراض ہیں اس لئے وہ انہیں اپنی لڑکیاں نہیں دیتے۔ پھر ایک گاؤں میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کو خواہ وہ غریب ہی ہوں اپنی لڑکیاں دے دیا کرتے ہیں کہ لڑکی اپنے گھر میں ہی رہے گی لیکن احمدی ایک جگہ نہیں بلکہ کسی کسی گاؤں میں ہیں اور وہ بھی بہت تھوڑے اس لئے اگر احمدی احمدیوں کو ہی اپنی لڑکیاں دیں تو انہیں دور دراز دینی پڑتی ہیں اور دور رہنے والوں کے حالات اور عادات کو انہیں بہت تجسّس سے دیکھنا ہوتا ہے۔ لڑکے والے یہ دیکھتے ہیں کہ لڑکی ایسی ہو ایسی ہو تب شادی کی جائے اور لڑکی والے کہتے ہیں کہ جب لڑکی دور بھیجنی ہے تو پہلے تو لڑکا بھی کوئی اچھی حیثیت کا ہونا چاہئے اس لئے اس دیر میں اور مشکل سے شادیاں ہوتی ہیں۔ پھر اگر لڑکی کو کوئی دیر تک بٹھائے رکھے تو بدکاری کا خوف دامن گیر ہوتا ہے کیونکہ زمانہ بہت نازک ہے۔ پھر دوسرے لوگ اگر اس کی پرواہ نہ کریں تو نہ کریں ،ہمیں تو اس کا بہت خیال ہے کیونکہ ہم نے تو دنیا کی بدیاں دور کرنی ہیں۔ غرض کہ شادی کے معاملہ میں احمدیوں کو بہت سی تکالیف ہیں اور بعض کمزور طبائع کے لوگ ان تکالیف کی وجہ سے اپنی لڑکیوں کی شادی غیر احمدیوں کے ہاں ہی کر دیتے ہیں۔ مجھے اس بات کا بڑا فکر رہتا ہے کیونکہ غیر احمدیوں کو لڑکی دینے سے بڑا نقصان پہنچتا ہے اور علاوہ اس کے کہ وہ نکاح جائز ہی نہیں۔ لڑکیاں چونکہ طبعاً کمزور ہوتی ہیں اور ان کی تربیت اعلیٰ پیمانہ پر نہیں ہوئی ہوتی اس لئے وہ جس گھرانے میں بیاہی جاتی ہیں اسی کے خیالات و اعتقادات کو اختیار کر لیتی ہیں اور اس طرح اپنے دین کو برباد کر لیتی ہیں اور اگر وہ پختہ رہیں تو میاں بیوی میں ہمیشہ جنگ رہتی ہے کیونکہ اختلافِ عقائد اس محبت کو تباہ کر دیتا ہے جو میاں اور بیوی میں ہونی چاہئے اور اس طرح ان کے دل کا آرام اور چین جاتا رہتا ہے۔ بعض لوگ حضرت مسیح موعودؑ کے حکم کو پورا کرنے کیلئے یوں کر لیتے ہیں کہ جس لڑکے سے اپنی لڑکی کا نکاح منظور ہوتا ہے اس کی نسبت مشہور کر دیتے ہیں کہ وہ تو احمدی ہی ہے یا یہ کہ وہ احمدی تو ہو چکا ہے لیکن بیعت کرنی باقی ہے بس قادیان جا کر بیعت کر لے گا۔ بعض اسے کہہ کہلا کر بیعت کا خط بھی لکھوا دیتے ہیں یا وہ قادیان آ کر بیعت بھی کر لیتا ہے یا بعض لڑکے شادی کی غرض سے لڑکی والوں کو اس طرح دھوکہ دے دیتے ہیں کہ لو ہم نے بیعت کا خط لکھ دیا ہے اب آپ اپنی لڑکی دے دیں لیکن ایسے نکاح بھی کبھی سکھ کا باعث نہیں ہوتے کیونکہ ان میں نیت درست نہیں ہوتی۔ اور جو شخص نکاح کی خاطر سلسلہ میں داخل ہوتا ہے نہ تو خدا تعالیٰ کو اس کی ضرورت ہے اور نہ وہ اپنی بیعت پر قائم ہی رہتا ہے اور نہ اپنے چال چلن کی اصلاح کرتا ہے اور اگر بیعت پر قائم بھی رہے تو احمدیوں کیلئے ابتلاء کا موجب ہوتا ہے ایسے

واقعات کئی ہوئے ہیں مگر ان کا نتیجہ ہمیشہ خراب ہی ہوتا ہے کبھی دین کے لحاظ سے کبھی دنیا کے لحاظ سے۔ الا ماشاء اللہ۔ اکثر نکاح کے بعد خاوند اپنی بیویوں کو دکھ دینے شروع کر دیتے ہیں اور اپنے عقائد کے چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ نماز پڑھنے یا قرآن کریم کی تلاوت کرنے سے بھی روکتے ہیں۔ چند سال ہوئے میں نے ایک شخص کی نسبت سنا کہ اس نے اپنی لڑکی کسی ایسے شخص سے بیاہ دی جو اس رشتہ کی خاطر بیعت میں داخل ہوا تھا۔ جب لڑکی اپنے سسرال میں گئی تو انہوں نے اسے طرح طرح سے تنگ کرنا شروع کر دیا۔ اگر وہ نماز پڑھتی تو کہتے کہ یہ ٹونے کرتی ہے اور اگر قرآن پڑھتی تو کہتے کہ ہم پر جادو کرتی ہے۔ وہ بیچاری نہ نماز پڑھ سکے اور نہ قرآن۔ وہ شخص روتا پھرے کہ اب میں کیا کروں؟ مگر کوئی اسے کیا مدد دے سکتا تھا اپنے عمل کی سزا تھی جو اسے پہنچ رہی تھی۔ ایک اور نے لکھا کہ میں نے اپنی لڑکی کا نکاح ایک غیر احمدی سے کیا تھا اب وہ کہتا ہے کہ نہ میں اسے چھوڑتا ہوں اور نہ رکھتا ہوں یونہی تنگ کروں گا اور تمہیں دکھ پہنچاؤں گا۔ غرض کہ غیر احمدیوں کو لڑکی دینے والے کبھی سکھ اور آرام نہیں پاسکتے بلکہ اس طرح وہ اپنی لڑکی کے دین کو خراب کر دیتے ہیں جس کا وبال ضرور انہیں پر ہو گا۔ اور خود دکھ اور تکلیف میں جلتے رہتے ہیں پس جو شخص بھی دین دار ہو کر اپنی لڑکی دنیا دار کو دیتا ہے وہ کبھی آرام میں نہیں رہ سکتا۔ اور نہ ہی اس کی لڑکی آرام میں رہ سکتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں اگر کوئی اپنی لڑکی کسی غریب سے غریب احمدی کو بھی دے گا تو لڑکی کا دین تو ضائع نہیں ہو گا۔ پھر حضرت مسیح موعودؑ کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو اپنی لڑکی نہ دے۔ اس کی تعمیل کرنا بھی ہر ایک احمدی کا فرض ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اس پہلی تجویز پر عمل کیا جائے۔ لیکن جماعت کو بہت بڑے ایثار کی ضرورت ہے۔ احمدیوں کو چاہئے کہ جب کوئی دین دار اور متقی لڑکا دیکھ لیں تو اگر وہ کسی قدر غریب بھی ہو تو بھی اسے لڑکی دے دیں۔ کیا رشتہ دار اپنے سے نسبتاً غریب رشتہ داروں کو لڑکیاں نہیں دے دیا کرتے؟ دیتے ہیں۔ تو میں کہتا ہوں کہ احمدیوں کا احمدیوں سے زیادہ قریبی اور کون رشتہ دار ہو سکتا ہے؟ یہ سب رشتوں اور قربوں سے بڑھ کر قرب ہے۔ پس تم پرانی رسموں کو ترک کر دو اور اس بات کی کوشش کرو کہ اگر تمہیں کوئی نیک اور سعید آدمی مل جائے تو قربانی کر کے بھی اس کو لڑکی دے دیا کرو۔

قومیت کی دقت

شادیوں کے معاملہ میں ایک بڑی روک قومیت کی ہے۔ میں کفو کا قائل ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اس کے متعلق زور دیا کرتے تھے۔

مگر ہر ایک چیز کی حد ہوتی ہے اور اسی حد کے اندر رہنا ہی مفید ہوتا ہے۔ کفو کے یہ معنی ہیں کہ اپنی حیثیت اپنے رنگ اپنی طرز کا آدمی ہو اور شریف اور متقی ہو۔ مثلاً ایک شخص بڑا مالدار ہو اور وہ ایک غریب اور فاقہ کش کو لڑکی دے دے تو یہ رشتہ دین کے لحاظ سے تو درست اور جائز ہوگا۔ مگر وہ لڑکی جس نے مالدار گھر میں پرورش پائی ہے جب اس کے گھر جائے گی تو ان میں رنجش اور ناراضگی پیدا ہو جائے گی۔ کیونکہ اس کو اخراجات کی اپنی عادت کے مطابق سخت تکلیف ہو گی اس لئے ضروری ہے کہ ہر ایک لڑکی والا اپنی حیثیت کے قریب قریب لڑکے کو دیکھ لے تاکہ بعد میں میاں بیوی میں لڑائی ہی نہ ہوتی رہے یا کم سے کم لڑکی اپنے آپ کو مظلوم اور دکھیانہ خیال کرتی رہے۔ لیکن اس احتیاط کے اس قدر پیچھے بھی نہیں پڑنا چاہئے کہ ہر شخص یہی چاہے کہ میری لڑکی کسی امیر الامراء کے ہاں ہی جائے کیونکہ اس طرح غرباء کی شادیاں تو پھر نا ممکن ہو جائیں ہر شخص اپنی حیثیت کو دیکھ لیا کرے اور اگر تھوڑا سا فرق بھی ہو تو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے کیونکہ فساد اسی رشتہ میں ہوتا ہے جس میں بہت بَین فرق ہو۔ مثلاً ایک امیر کی لڑکی کسی ایسے لڑکے سے بیاہ دی جائے جسے اس قدر بھی مقدرت نہ ہو کہ اسے دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلا سکے پس یہ بھی ہرگز نہیں ہونا چاہئے کہ ایک شخص مثلاً آپ تو غریب حیثیت کا ہے لیکن اپنی لڑکی کے رشتہ کے لئے اس کی یہی کوشش رہے کہ کوئی بڑا عہدہ دار ملے تو اس سے نکاح کروں۔ جیسا یہ خود ہے ویسے ہی کسی نیک آدمی سے لڑکی کا بیاہ کر دے۔ ہماری جماعت میں بعض ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔ ایک شخص نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول کو کہا کہ میری لڑکی یا بہن (یاد نہیں کہ کیا رشتہ تھا) کے لئے کوئی رشتہ تلاش کروا دیں۔ آپ نے جب چند نام بتائے تو اس نے کہا کہ نہیں میری لڑکی اس قابل نہیں۔ اس کے لئے تو تحصیلدار یا ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر چاہئے یا کوئی اور ایسا ہی معزز عہدہ دار ہو۔ حالانکہ یہ شخص خود بالکل معمولی حیثیت کا تھا اس طریق کو اختیار کرنے سے غرباء کے لئے سخت ابتلاء کا خوف ہے غیر احمدی تو احمدی کو تب ہی لڑکی دیتا ہے جب اسے خاص طور سے اپنے سے زیادہ آسودہ پاتا ہے کیونکہ اگر دنیاوی فائدہ نہ ہو تو اسے کیا ضرورت ہے کہ اپنی لڑکی کسی احمدی کو دے؟ الا ماشاء اللہ۔ پس غرباء کو غیروں سے رشتہ ملنا تو محال ہے۔ اب رہے اپنے۔ وہ ایسے اعلیٰ درجہ کے خیالات رکھیں گے تو جماعت کا ایک حصہ سخت مصیبت میں پڑ جائے گا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اگر کسی کو کوئی اچھا رشتہ ملے تو وہ اس سے انکار کر دے اور کہہ دے کہ میں تو کوئی غریب آدمی ہی تلاش کر کے اسے لڑکی دوں گا۔ اگر خدا تعالیٰ کسی پر فضل فرماتا ہے تو وہ اس فضل کو رد نہ کرے لیکن میں اسے برا سمجھتا ہوں کہ لڑکیوں کو اس امید میں بٹھا رکھو کہ کسی مالدار آدمی سے ہی ان کا بیاہ کریں گے اگر کوئی آسودہ آدمی جو دین دار بھی ہو خواہش کرتا ہے تو بے شک اس سے رشتہ کر دو۔ لیکن اگر کوئی ایسا موقع نہیں ملا اور ایک تمہاری حیثیت جیسی حیثیت والا یا اس کے قریب قریب کی حیثیت کا آدمی بھی درخواست کرتا ہے اور اس میں کوئی دینی نقص نہیں تو اسے اس خیال سے رد مت کرو کہ یہ مالدار نہیں۔ اگر کسی کی اپنی تنخواہ سو روپیہ ماہوار ہو اور وہ کسی بڑے مالدار اور دولتمند کو تلاش کرے جو کہ بہت زیادہ دولتمند ہو تو یہ بات کبھی فتنہ کا موجب بھی ہو جاتی ہے کیونکہ ایسے تلاش کرنے والوں کو اکثر اوقات ایسے رشتے جب احمدیوں میں سے نہیں ملتے تو وہ اپنی لڑکی غیر احمدیوں کو دے دیتے ہیں۔ اس غلط اور بیہودہ طریقِ تلاش کو چھوڑ کر ہر ایک احمدی کو اپنی حیثیت کا آدمی تلاش کرنا چاہئے تاکہ نہ لڑکی کو تکلیف ہو اور نہ غیروں کے گھر وہ جائے۔ پچھلے زمانہ میں شریف لوگ اس طرح بھی کیا کرتے تھے کہ کسی غریب آدمی کو نیک بخت اور متقی دیکھ کر اپنی لڑکی دے دیا کرتے تھے اور ان دونوں کے اخراجات کے لئے خود کوئی سامان کر دیتے تھے۔ آج کل بھی اگر کوئی ایسا ہی کر سکے تو بہت عمدہ بات ہے۔ اور اگر نہیں کر سکتا تو اپنی حیثیت کے مطابق تلاش کرے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ئیں دنیوی حیثیت کو بھی کفو کے ماتحت ہی خیال کرتا ہوں۔ اور جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے اس کی بھی ایک حد تک ضرورت تسلیم کرتا ہوں۔ دوسرا سوال کفو کے ماتحت قومیت کا آتا ہے۔ اور قوم کی پابندی بھی ایک حد تک ضروری ہے اور فطرتاً اس کی پابندی کرنی پڑتی ہے۔ مثلاً اگر ایک اعلیٰ خاندان کا شخص اپنی لڑکی ایک ایسے شخص کو دے دے جو چوہڑے سے مسلمان ہوا ہو تو وہ لڑکی اپنے خاوند کو حقیر سمجھے گی۔ اور اس وجہ سے ان میں ہمیشہ جنگ رہے گی اور جو نکاح کی غرض ہے فوت ہو جائے گی یا اور کوئی ایسا نقص ہو جس کی وجہ سے بیوی خاوند کو یا خاوند بیوی کو حقیر خیال کرے تو ایسے جوڑ کا نتیجہ ہمیشہ خراب نکلے گا۔ اس لئے اس بات کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہئے کہ کسی خاوند اور بیوی کے اخلاق و عادات، تعلیم و تربیت اور تمدنی درجہ میں کوئی ایسا بین فرق نہ ہو جو ہمیشہ ان میں لڑائی کا باعث رہے اور قوموں کا اختلاف بھی دراصل انہی اختلافات کے باعث شروع ہوا ہے۔ لیکن ایسی قومیں جو شریف ہیں اور شرافت کے کاروبار کرتی ہیں ان کو لڑکی دے دی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ دیکھو حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی لڑکی کہاں دی ہے۔ مغلوں میں نہیں دی۔ پھر ہم بھائیوں میں سے ایک کی شادی بھی مغلوں میں نہیں ہوئی۔ حتّٰی کہ میں نے دوسری شادی کی ہے وہ بھی مغل نہیں ہیں۔ پس میں کہتا ہوں کہ شرافت کا لحاظ رکھو۔ کسی قوم میں جب دین داری اور شرافت ہو تو وہی اعلیٰ خاندان ہے۔ اور اگر کوئی سید بھی ہے اور دین سے بے بہرہ ہے تو بھی وہ شریف نہیں ہے۔ قرآن شریف نے ذاتوں کے متعلق کیا ہی خوب بیان فرمایا ہے کہ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّاُنۡثٰی وَجَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ(الحجرات: ۱۴) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک عورت اور مرد سے پیدا کیا ہے (اگر اس سے حضرت آدمؑ اور حوا مان لئے جائیں تو یہ معنے ہوئے کہ) پھر تم کو ایک دوسرے پر فضیلت ہی کیا ہے جبکہ تم ایک ہی عورت اور مرد کی پیدائش سے ہو۔ پس تم کو ایک دوسرے پر کوئی فضیلت نہیں ہے یا یہ معنے ہوئے کہ تم سارے کے سارے عورت کے پیٹ سے ہی پیدا ہوئے ہو جس طرح ایک پیدا ہوا ہے اسی طرح دوسرا ہوا ہے اور اسی طرح جس طرح ایک مرد کے نطفہ سے پیدا ہوا ہے اسی طرح دوسرا بھی ہوا ہے۔ تو پھر تمہیں ایک دوسرے پر فضیلت کس طرح ہو سکتی ہے۔ اس حصہ آیت میں خدا تعالیٰ نے ناواجب فضیلت کا رَدّ کیا ہے کہ تم تو ایک ہی ہو۔ پھر ایک دوسرے پر فضیلت کیسی۔ پھر فرمایا وَجَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآئِلَ(49:14) اور ہم نے تم کو مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا ہے اس حصہ آیت میں یہ فرمایا ہے کہ قومیں اور قبائل بھی کوئی شئے ہیں آگے چل کر فرمایا کہ لِتَعَارَفُوْا یعنی ان قوموں اور قبائل کی تقسیم کی غرض یہ نہیں کہ تم ایک دوسرے پر فخر کرو یا دوسروں کو حقیر خیال کرو۔ بلکہ اس کی غرض تو صرف اتنی ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کی شناخت اور تعارف ہو سکے۔ جیسے گورنمنٹ اپنی فوجوں اور محکموں میں تقسیم کر دیتی ہے۔ جو چیز کثرت سے ہو اس کے افراد کو شناخت کرنے کے لئے کوئی تدبیر ہونی چاہئے اور اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے قوموں کا رواج شروع ہوا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بھی اسی حکمت کی طرف لوگوں کو متوجہ فرماتا ہے کہ شعوب و قبائل کی اصل غرض اسی قدر ہے۔ دیکھو گورنمنٹ کی فوج چونکہ وسیع ہوتی ہے اس لئے وہ پہلے الگ الگ ڈویژن مقرر کرتی ہے پھر ڈویژنوں میں خصوصیت پیدا کرنے کے لئے ان کے نام لکھ دیتی ہے۔ پھر رجمنٹیں پھر پلٹنیں پھر کمپنیاں بناتی ہے اور یہ سب تقسیم کام میں سہولت اور تعارف کے لئے کی جاتی ہے۔ مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ فلاں آدمی گورنمنٹ کی فوج کا سپاہی ہے تو اس سے یہ پتہ نہیں لگتا کہ یہ کہاں رہتا ہے کس جگہ اس کی فوج ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اگر یہ کہا جائے کہ یہ فلاں کمپنی فلاں پلٹن اور فلاں چھاؤنی کا سپاہی ہے تو فوراً اس کا پتہ لگ جاتا ہے۔ اسی طرح قوموں کے نام ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ بات بھی نہیں کہ سب لوگ ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں بعض لوگ زیادہ

شریف بعض کم بعض اور کم ہوتے ہیں اور یہ فرق بھی ضرور ہے مگر شریف کون ہوتا ہے؟ اس کے لئے فرمایا اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ(49:14) اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں اکرم وہی ہے جو اتقٰی ہو یعنی زیادہ نیک اور متقی ہو۔ جس قدر کوئی شخص زیادہ خوفِ خدا کرتا ہے اسی قدر وہ زیادہ بزرگ اور نیک ہے اور اسی قدر زیادہ شریف ہے۔ اس سے ہمیں یہ پتہ لگ گیا کہ کچھ لوگ شریف ہوتے ہیں اور کچھ شریف نہیں ہوتے۔ اور شریف وہ ہوتے ہیں جو خدا کے نزدیک متقی اور پرہیزگار ہوتے ہیں تو شریف اور وضیع کی شادی کرنا درست نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلزَّانِیۡ لَا یَنۡکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوۡ مُشۡرِکَۃً ۫ وَّالزَّانِیَۃُ لَا یَنۡکِحُہَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوۡ مُشۡرِکٌ ۚ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ(النور: ۴) کہ زانی مرد زانی عورت یا مشرکہ سے نکاح کرے۔ اور زانی عورت زانی مرد یا مشرک سے نکاح کرے یہ مؤمنوں کے لئے حرام کیا گیا ہے وہ کبھی ایسا نہیں کرتے۔ تو واقعی ایک شریف اور وضیع کا گزارہ ہونا مشکل ہوتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح فرمایا کرتے تھے کہ ایک شخص اپنی عورت کو چھوڑ کر کنچنی کے پاس جایا کرتا تھا۔ اس عورت نے ایک دن ایک کنچنی کو بلا کر پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ لوگ اپنے گھر کی عورتوں کو چھوڑ کر تمہارے پاس آتے ہیں۔ اس نے کہا ہم ناز و نخرے کرتی ہیں۔ پاس بیٹھتا ہے تو لاتیں مارتی ہیں اور طرح طرح کے مخول اور مذاق ہوتے ہیں اس طرح خبیث مردوں کو مزہ آتا ہے اور وہ اور زیادہ ہماری طرف میلان ظاہر کرتے ہیں۔ جب اسے یہ معلوم ہو گیا تو ایک دن جب اس کا خاوند گھر آیا اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی اس کی بیوی نے گالیاں دینی شروع کیں اور جب وہ ذرا قریب آیا تو ہاتھ سے بھی اس کی خبر لی۔ وہ اول تو حیران سا رہ گیا کہ یہ آج کیا معاملہ ہے میری بیوی تو نہایت مطیع و فرمانبردار تھی آگے بات نہ کر سکتی تھی یہ تغیر کیا ہو گیا مگر پھر سمجھ گیا اور کہنے لگا کہ اب میں سمجھ گیا اس کی بیوی نے اسے بہت ملامت کی کہ تم اس گند کو پسند کرتے ہو اور فرمانبردار بیوی کی طرف راغب نہیں ہوتے۔ غرض کہ یہ پختہ بات ہے کہ خبیث آدمی کو خبیث عورت پسند آتی ہے اور خبیث عورت خبیث مرد کو پسند کرتی ہے۔ اسی طرح طیب عورت اور مرد طیب کو ہی پسند کرتے ہیں اور اسی کے مطابق ان کا تعلق ہوتا ہے تب جا کر ان کا گزارہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ کوئی دو چیزوں کا آپس میں اس وقت تک تعلق قائم نہیں رہ سکتا جب تک کہ ان کی آپس میں کچھ نسبت نہ ہو۔ حضرت محی الدین صاحب ابن عربیؒ بیان فرماتے ہیں۔ کہ میں نے ایک جگہ کوا اور کبوتر اکٹھے بیٹھے دیکھے مجھے تعجب ہوا کہ ان کی آپس میں کیا نسبت ہے کہ اکٹھے بیٹھے ہیں۔ میں اس بات کو معلوم کرنے کے لئے وہیں بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وہ چلے تو معلوم ہوا کہ دونوں لنگڑے ہیں اور میں نے سمجھا کہ اس نسبت کی وجہ سے یہ اکٹھے بیٹھ گئے تھے۔ تو ہر ایک مرد و عورت کے جوڑے میں کسی نسبت اور تعلق کا ہونا ضروری ہے گندہم جنس باہم جنس پرواز۔ تعلق تب ہی ہو سکتا ہے کہ مرد و عورت کی آپس میں نسبت ہو۔ اگر شریف کو وضیع سے جوڑ دیا جائے تو اس کا بہت بڑا نقصان ہو گا۔ اگر کسی بیچاری احمدی لڑکی کا ایسی جگہ رشتہ کر دیا جائے کہ اس کا خاوند دین سے محض ناواقف ہو نماز نہ پڑھتا ہو دوسرے شرعی احکام کی اسے خبر نہ ہو تو اس کے لئے کتنی مشکل ہو گی۔ کیا وہ بیچاری اپنی زندگی آرام سے بسر کر سکے گی ہرگز نہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ اگر خاوند اپنی بیوی کو صحبت کے لئے بلائے اور وہ نہ آئے تو ساری رات اس پر لعنت برستی رہتی ہے۔ ادھر خاوند کی اس قدر فرمانبرداری کا حکم ہے ادھر اس قدر اختلاف ہو تو ایسی عورت مصیبت میں پڑے گی یا نہ پڑے گی اور ایسے گھر میں امن کس طرح رہ سکتا ہے۔

نسب کے متعلق آنحضرت ﷺ کا فیصلہ

آنحضرت ﷺ کی طرزِ کلام بھی کیسی پیاری ہے کہ ہر ایک جو فطرتِ صحیحہ رکھتا ہے سن کر آپ پر قربان ہو جاتا ہے۔ اہل عرب میں حسب نسب کا بڑا رواج تھا اس لئے صحابہؓ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا۔ یا رسول اللہ سب سے شریف کون ہے اس سے ان کا یہ منشاء تھا کہ آپ چند قبیلوں کے نام لے دیں گے اور انہیں اچھا سمجھا جائے گا آپ نے فرمایا سب سے شریف وہی ہے جو سب سے زیادہ نیک اور متقی ہو۔ انہوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ہمارے سوال کا یہ مطلب نہ تھا۔ فرمایا تو پھر سب سے شریف یوسف تھا کیونکہ یوسف نبی تھا اس کا باپ نبی تھا اس کے باپ کا باپ نبی تھا۔ سبحان اللہ کیا ہی لطیف طرز سے آپ ﷺ نے صحابہؓ کے سوال کا جواب دیا کہ ان کی بات کا جواب بھی آگیا اور ان کی دل شکنی بھی نہ ہوئی انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہمارا یہ مطلب بھی نہیں تھا۔ فرمایا اچھا تو تم لوگ قبائل عرب کے متعلق سوال کرتے ہو۔ ان میں سے جو جاہلیت میں شریف سمجھے جاتے تھے اسلام میں بھی وہی شریف ہیں مگر شرط یہ ہے کہ دین سے اچھی طرح واقف ہوں۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں عَنْ اَبِیْ هُرَیْرَةَ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اَکْرَمُ النَّاسِ ؕ قَالَ اَتْقَاهُمْ لِلّٰهِ ؕ قَالُوْا لَیْسَ عَنْ هٰذَا نَسْأَلُکَ قَالَ فَاَکْرَمُ النَّاسِ یُوْسُفُ نَبِیُّ اللّٰهِ اِبْنُ نَبِیِّ اللّٰهِ اِبْنِ نَبِیِّ اللّٰهِ اِبْنِ خَلِیْلِ اللّٰهِ ؕ قَالُوْا لَیْسَ عَنْ هٰذَا نَسْأَلُکَ ؕ قَالَ فَعَنْ مَّعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُوْنِیْ ؕ اَلنَّاسُ مَعَادِنُ

خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوْا(بخاری کتاب الانبیاء باب قول اللہ تعالیٰ لقد کان فی یوسف و اخوتہ ایت للسائلین)۔ یعنی حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ حضور لوگوں میں سے شریف کون ہے فرمایا جو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ زیادہ کرتا ہے وہ زیادہ شریف ہے صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ اس کے متعلق ہمارا سوال نہیں۔ فرمایا پھر یوسف سب سے شریف ہے کہ وہ خود نبی تھا اس کا باپ نبی۔ اس کا دادا نبی خلیل اللہ تھا۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارا اس کے متعلق بھی سوال نہیں۔ آپ نے فرمایا تو کیا عرب کے قبائل و اقوام کے متعلق تمہار سوال ہے اچھا تو سنو لوگ مختلف قبائل میں تقسیم ہیں (یا یہ کہ لوگ کانوں کی طرح ہیں) ان میں سے جو لوگ جاہلیت میں اچھے اور شریف سمجھے جاتے تھے وہی اسلام میں شریف سمجھے جائیں گے بشرطیکہ دین کے مغز سے اچھی طرح واقف ہوں۔

اس سوال و جواب میں رسول اللہ ﷺ نے تین دفعہ صحابہؓ کے سوال کا جواب دیا ہے لیکن غور سے دیکھو تو تینوں جواب اصل میں ایک ہی ہیں اور گو آپ صحابہ کی خواہش پر اپنے جواب کو بدلتے رہے ہیں۔ مگر مطلب سب جوابوں کا ایک ہی رہا ہے۔ پہلے جواب میں آپ نے فرمایا کہ متقی ہی سب سے زیادہ شریف ہے دوسرے میں یوسف کو شریف قرار دیا اور وجہ یہ بتائی کہ وہ نبی تھے اور ایک نبی کے بیٹے اور ایک کے پوتے تھے۔ گویا چونکہ وہ خود متقی تھے متقی کے بیٹے اور متقی کے پوتے تھے اس لئے وہ بڑے شریف تھے۔ اس جواب میں بھی شرافت کو تقویٰ کے ساتھ وابستہ فرمایا ہے تیسرے جواب میں پھر اسی بات کو مد نظر رکھا ہے اور فرمایا کہ جو جاہلیت میں شریف سمجھے جاتے تھے وہی اسلام میں شریف سمجھے جائیں گے بشرطیکہ دین میں تفقہ پیدا کر لیں اور تفقہ ایک ایسی چیز ہے جو نہایت اعلیٰ پایہ رکھتی ہے۔ دین سیکھنا اور چیز ہے اور فقاہت فی الدین بالکل اور شئے ہے فقاہت فی الدین سے یہ مراد ہے کہ اس کے مغز اور لب سے واقف ہو جائے۔ پس یہ شرط لگا کر آپ نے پھر اسی طرف اشارہ فرمایا کہ شریف وہی ہے جو دین دار ہو اور متقی ہو اور دین کے مغز سے واقف ہو۔ غرض تینوں جوابوں نے نہایت احسن پیرایہ میں اصل مطلب مسلمانوں پر روشن کر دیا تاکہ وہ صرف نسبی شرافت پر ہی نہ بھولے رہیں تقرب الی اللہ کے حصول کے لئے بھی کوشاں رہیں۔ ان جوابات سے ہمیں معلوم ہو گیا کہ جو شخص نیک نہیں وہ خواہ کسی قوم کا ہو شریف نہیں کہلا سکتا۔ شرافت کے لئے نیکی اور تقویٰ ضروری ہیں۔

اعلیٰ خاندان کا معیار

مذکورہ بالا آیہ کریمہ اور حدیث نبی کریم میں اعلیٰ خاندان کا معیار اور شریف کہلانے والے خاندانوں کی وجہ بھی بتا دی گئی ہے۔ دیکھو سید مسلمانوں میں سب سے زیادہ شریف قوم خیال کی جاتی ہے۔ اس کی وجہ صاف ہے کہ وہ اتقى الناس یعنی آنحضرت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہندوؤں میں برہمنوں کا درجہ کیوں اعلیٰ ہے اور ان کا خاندان کیوں معزز سمجھا جاتا ہے اس لئے کہ وہ دوسروں کو دین سکھاتے اور خود دین پر عمل کرنے والے تھے۔ اور یہ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰکُمْ کے ماتحت ہی اعلیٰ اور معزز خاندان ہوا۔ پھر دنیا میں جو لوگ ادنیٰ درجہ کے کام کرتے ہیں ان کو رذیل سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان کا تعلق ادنیٰ چیزوں سے ہوتا ہے جن کا اثر ان کے اخلاق اور عادات پر بھی پڑتا ہے اسی کے مطابق لوگوں نے قبیلوں اور خاندانوں کو اعلیٰ اور ادنیٰ قرار دیا ہے۔ مثلاً موچی ایک قوم ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ اس پیشہ کو کوئی اہمیت حاصل نہ تھی اور ان کا تعلق اپنے پیشہ کے باعث ادنیٰ لوگوں سے ہوتا تھا بڑے لوگ خود ان کی دکانوں پر نہ جاتے تھے نہ دنیا کے لحاظ سے یہ قوم بڑے سرمایہ سے کام کرتی تھی بلکہ چھوٹی چھوٹی دکانیں تھیں اس لئے یہ رذیل قوموں میں خیال کئے جانے لگے۔ کیونکہ ادنیٰ درجہ کے لوگوں سے ہر وقت کے تعلق کا لازمی نتیجہ تھا کہ ان کے اخلاق پر اثر پڑتا۔ اب ولایت کے بوٹ بنانے والے بڑے سرمایوں سے کام کرتے اور شریف سے شریف لوگ ان سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ان کی حالت بدل گئی ہے اور وہ معزز خیال کئے جاتے ہیں کیونکہ حالات کے تغیر سے ان کے اخلاق میں جن نقائص کا خوف کیا جاتا تھا وہ خوف اب جاتا رہا ہے اسی طرح بعض ایسے پیشے ہیں کہ جو خود بد اثر ڈالنے والے ہیں۔ مثلاً موسیقی ہے یہ پیشہ بغیر گندے تعلقات کے خود ہی انسان کے دل پر برا اثر ڈالتا ہے اس لئے اس پیشہ سے تعلق رکھنے والے رذیل خیال کئے جائیں گے۔ پس شریف خاندانوں کی بنیاد بھی اصل میں نیکی، تقویٰ اور اچھے اخلاق کی بناء پر ہی پڑی ہے۔ کوئی بڑی قوم کسی نیک انسان کے تعلق سے بڑی بن گئی۔ کوئی کسی بہادر کے تعلق سے۔ کوئی کسی سخی کے سبب سے کوئی کسی فاتح کے سبب سے اگر قوموں کی اصل پر غور کیا جائے تو ان کی شرافت کی بنیاد کسی نہ کسی زمانہ میں ان کے اخلاق حسنہ ہی ہوں گے اور چونکہ تعلقات کا اثر انسان کے اخلاق پر ضرور پڑتا ہے اس لئے شریف اقوام کا بھی لحاظ رکھنا ایک حد تک ضروری ہو جاتا ہے۔ اور یہ ضروری بات ہے۔ کہ اچھے اور برے عادات اور اخلاق کے معلوم کرنے کے لئے اقوام کو دیکھا جائے تاکہ بعد میں رنجش پیدا نہ ہو۔ اخلاق اسی لئے

دیکھے جاتے ہیں کہ نتیجہ نیک نکلے۔ اگر کسی کو اپنے اخلاق اور عادات کے مطابق کوئی لڑکا مل جائے خواہ وہ کسی قوم سے ہو تو اس سے رشتہ کر دینا چاہئے ۔ جو آج وضیع سمجھا جاتا ہے وہ کل شریف ہو سکتا ہے ۔ ایک شخص اگر ادنیٰ حیثیت سے مثلاً چوڑھے سے مسلمان ہو تو میں اسی وقت اس کے ساتھ مل کر کھانا کھالوں گا اور میں اس کا جوٹھا کھا سکتا ہوں اور وہ میرا جوٹھا کھا سکتا ہے۔ کیونکہ جب اس نے لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ کہا تو میرے اور اس میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ اسلام کے لحاظ سے جو میرے حقوق ہیں وہی اس کے ہیں۔ اس میں ذرہ بھر بھی فرق نہیں ہے۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ایک بادشاہ مسلمان ہو کر آیا تھا۔ کعبہ کا طواف کرتے وقت کسی صحابی کے پاؤں کے نیچے اس کا کپڑا آکر گر گیا۔ اس نے اس کو تھپڑ مارا۔ کسی نے اس سے کہا کہ حضرت عمرؓ تجھ سے اس کا بدلہ لیں گے۔ اس نے کہا کیا مجھ غسان کے بادشاہ سے اس مفلس کے مارنے کا بدلہ لیں گے؟ اور کیا مجھے بھی نہیں چھوڑیں گے؟ اس نے کہا نہیں اس کو جو زیادہ شک ہوا تو جا کر حضرت عمرؓ کو کہنے لگا۔ کہ کیا اگر کوئی بڑا آدمی کسی رذیل کو مارے تو آپ اس کا بدلہ تو نہیں لیں گے؟ انہوں نے کہا۔ اوجبلہ تو کسی کو مار تو نہیں بیٹھا اگر تم نے کسی کو مارا ہے تو خدا کی قسم میں ضرور تم سے اس کا بدلہ لوں گا یہ سن کر رات کو وہ بھاگ گیا اور اس کی تمام قوم عیسائی ہو گئی۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا اس کی ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔ تو حقوق کے لحاظ سے نسب مسلمان برابر ہیں مگر شادی میں صرف اسی بات کا خیال نہیں رکھنا بلکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ جن دو شخصوں کا پیوند ساری عمر کے لئے ہونے لگا ہے ان میں آپس میں اخلاق کا کوئی فرق تو نہیں اور بعض اقوام کے اخلاق گرے ہوئے ہوتے ہیں پس ان سے ضرور علیحدہ رہنا پڑے گا تاکہ ہمیشہ کا جھگڑا نہ پیدا ہو جائے لڑکے لڑکی کے امن اور آرام کی وجہ سے ایک حد تک کفو کا خیال بھی رکھنا پڑے گا۔ لیکن جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ہر ایک چیز کی حد ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ(49:14) فرما کر یہ قاعدہ بتا دیا ہے کہ اصل شرافت تقویٰ ہی ہے۔ پس تم کبھی اس بات پر دلیری نہ کرو کہ فلاں قوم کمینی ہے تم بے شک بعض قوموں سے اختلاف اخلاق و عادات کی وجہ سے رشتہ میں پرہیز کرو لیکن کسی کو وضیع نہ کہو کیونکہ جو آج شریف ہوتا ہے وہ حالات کے بدلنے سے وضیع ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ کے حضور سارے ایک جیسے ہیں۔ جس کے اخلاق اور عادات اچھے ہیں وہی اعلیٰ ہے پس اگر ایسا ہو کہ مرد کے ایسے خیالات اور عادات ہیں جو لڑکی کے خاندان کے خلاف ہیں تو ان کی شادی نہیں ہونی چاہئے۔ مگر ایسی شرط لگانا کہ مغل ہو اور مغل بھی برلاس ہو وغیرہ وغیرہ۔ یہ نہیں ہونا چاہئے ۔ تم نیکی اور تقویٰ کو شادی کے

معاملہ میں اول دیکھو اور پھر کفو کو بھی اس حد تک دیکھو جہاں تک کہ اس کا اخلاق و عادات سے تعلق ہے اور خوب یاد رکھو کہ اپنا فرض ادا کرنے کے لئے تمہیں بہت کچھ قربانیوں کی ضرورت ہے اور گو احمدی کو غیر احمدی کی لڑکی لینی جائز ہے لیکن آج ہماری ضروریات چاہتی ہیں کہ جماعت اس تجویز پر عمل کرے کہ غیر احمدیوں کو نہ لڑکی دے اور نہ ان کی لڑکی لے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے جو اعلان اس کے متعلق سب سے پہلے شائع فرمایا تھا اس میں یہی حکم تھا کہ احمدیوں کی شادی آپس میں ہی ہو مگر پھر یہ اجازت فرمادی کہ غیر احمدی لڑکی سے احمدی شادی کر سکتا ہے مگر اب ضرورت مجبور کرتی ہے کہ کچھ مدت کے لئے پھر اسی حکم پر عمل کیا جائے یعنی نہ غیر احمدیوں کو لڑکیاں دی جائیں اور نہ سوائے کسی اشد ضرورت کے ان کی لڑکیاں لی جائیں۔ کیونکہ اس وقت ہماری جماعت تھوڑی ہے اور یہ دقت پیش آرہی ہے کہ احمدی تو غیروں کی لڑکیوں سے شادی کر لیتے ہیں اور جو احمدی لڑکیاں ہیں وہ غیروں کے ہاں جا نہیں سکتیں پس ان کے لئے رشتہ ملنے میں دقت ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض کمزور احمدیوں کو ابتلاء آجاتا ہے اور وہ غیر احمدیوں کو اپنی لڑکیاں دے دیتے ہیں۔ مجھے بہت سے لوگ لکھتے ہیں کہ لڑکی جوان ہے آپ کہیں شادی کا انتظام کر دیں۔ میں اس کے لئے جب اپنی جماعت کے لڑکوں پر نظر ڈالتا ہوں تو ان کی شادیاں غیروں کے گھر ہوتی جاتی ہیں ہم کہتے ہیں کہ اگر احمدی لڑکوں کی شادیاں غیر احمدیوں کے ہاں کی جائیں تو احمدی لڑکیاں کہاں جائیں۔ کیا تم یہ پسند کرتے ہو؟ کہ وہ غیر احمدیوں کے ہاں جا کر ابتلاؤں میں پھنسیں۔ پس جماعت وہی قائم رہ سکتی ہے جو اپنے تمام افراد کا خیال رکھے۔ آج کل تم اس بات کا خیال کر کے غیروں کی لڑکیاں نہ لو اور اپنوں کو ابتلاؤں سے بچاؤ تاکہ تمہاری جماعت مضبوط ہو۔

نماز باجماعت

اس کے بعد ایک اور نقص ہے جس کی طرف میں آپ لوگوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں بعض نقص گو چھوٹے نظر آتے ہیں مگر بعد میں وہی بہت بڑھ جاتے ہیں اور بڑے نقصان کا موجب ہو جاتے ہیں۔ ہماری جماعت میں ایک نقص ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہ بہت حد تک مجبوری کی وجہ سے ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ ہر ایک احمدی کو خوب ہوشیار رہنا چاہئے۔ اگر اس نقص کے دور کرنے کی طرف ہماری جماعت نے توجہ اور غور نہ کیا تو تھوڑی مدت میں یہ ایک خطرناک صورت اختیار کرلے گا اور سخت تباہی کا موجب ہو جائے گا۔ وہ نقص نماز باجماعت میں سستی کا ہے بے شک نماز باجماعت پڑھنے میں احمدیوں کو ایک دقت ہے اور وہ یہ کہ غیر احمدیوں کے پیچھے تو وہ نماز پڑھ نہیں سکتے اور بعض جگہ احمدی صرف ایک ہی ہوتا ہے اس لئے اسے نماز باجماعت ادا کرنے کا موقع نہیں ملتا اور چونکہ نماز باجماعت ادا کرنے میں انسان کو وقت کی پابندی کرنی پڑتی ہے جب نماز با جماعت نہ ملے تو رفتہ رفتہ انسان سستی کرنی شروع کر دیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میں نے جماعت کے ساتھ تو نماز پڑھنی ہی نہیں جس وقت چاہوں گا پڑھ لوں گا اس طرح وہ وقت کی پابندی نہیں کرتا اور آخر اول وقت نماز پڑھنے کی عادت جاتی رہتی ہے یا جمع کر کے نماز ادا کرنے کی عادت ہو جاتی ہے اور نماز باجماعت ادا کرنے سے تو ایسا غافل ہو جاتا ہے کہ اگر کہیں باجماعت نماز پڑھنے کا موقع مل بھی جائے تو بھی سستی کر دیتا ہے۔ گو یہ عادت ایک مجبوری کی وجہ سے اسے پڑتی ہے لیکن احمدیوں میں ہرگز ہرگز سستی نہ ہونی چاہئے۔ جس وقت سستی پیدا ہوئی اسی وقت سے اس جماعت کی تباہی کا آغاز ہو جائے گا (نعوذ باللہ من ذلک) پس جس گاؤں میں کوئی اکیلا احمدی ہے وہ کوشش کرے کہ دوسرا پیدا ہو جائے۔ مجھے امید ہے کہ اگر اس طرح کوشش کرے گا تو خدا تعالیٰ ضرور اس کا ساتھی پیدا کر دے گا۔ لیکن اگر دوسرا ساتھی نہ ہو تو دوسرے گاؤں میں جا کر جہاں کوئی احمدی ہو دوسرے تیسرے دن نماز با جماعت پڑھو اور سستی کی عادت نہ ڈالو۔ اگر تم اس کو بھو لے تو یاد رکھو کہ پھر تم ترقی نہیں کر سکو گے۔

وہ احمدی جو بڑے بڑے شہروں میں رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے مکان تک ان کا جانا مشکل ہوتا ہے ان کے لئے یہ بات نہایت مشکل ہے کہ ہر نماز کے وقت ایک جگہ جمع ہو سکیں۔ لیکن ان کو چاہئے کہ اپنے محلہ کے احمدی مل کر باجماعت نماز پڑھا کریں اور کبھی کبھی سارے اکٹھے ہو کر بھی پڑھیں سستی ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔ یہ ایسی خطرناک بات ہے کہ اس کے نتائج بہت برے نکلتے ہیں مجھے قرآن شریف سے یہی معلوم ہوا ہے کہ جس کو نماز باجماعت پڑھنے کا موقع ملے اور وہ نہ پڑھے تو اس کی نماز ہی نہیں ہوتی۔ حضرت ابن عباسؓ کا بھی یہی مذہب ہے۔

آنحضرت ﷺ نے نماز با جماعت کے متعلق اتنی احتیاط فرمائی ہے کہ جس کا بیان ہی نہیں ہو سکتا۔ ایک دفعہ ایک اندھا آپؐ کے حضور حاضر ہوا۔ اور اس نے عرض کی کہ یا رسول اللہ مجھے مسجد میں آتے ہوئے سخت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ میرے پاس کوئی ایسا شخص نہیں جو میرا ہاتھ پکڑ کر مسجد تک پہنچا دے اگر مجھے اجازت ہو تو میں گھر میں ہی نماز پڑھ لیا کروں۔ آپؐ نے فرمایا بہت اچھا لیکن جب وہ لوٹ کر چلا تو پھر آپؐ نے اسے واپس بلایا اور پوچھا کہ کیا تمہارے گھر تک آذان کی آواز پہنچتی ہے؟ اس نے کہا حضور پہنچتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا جب آذان پہنچتی ہے تو مسجد میں حاضر ہو اکر و۔ رسول کریم ﷺ نے یہاں تک فرمایا ہے کہ جو لوگ عشاء اور صبح کی نماز با جماعت پڑھنے کے لئے مسجد میں نہیں آتے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں اپنی جگہ کسی اور کو نماز پڑھانے کے لئے کھڑا کر دوں اور اپنے ساتھ اور آدمیوں کو لے کر ان کے سر پر ایندھن رکھ کر سارے شہر میں سے ان لوگوں کو معلوم کروں جو نماز میں شامل نہیں ہوئے اور پھر آدمیوں سمیت ان کے گھر پھونک دوں۔ دیکھو ایسا رحیم و کریم انسان ایسا مشفق اور مہربان انسان فرماتا ہے کہ جو جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے میرا دل چاہتا ہے کہ میں ان کو اور ان کے گھروں کو جلا کر راکھ کر دوں۔ اس حدیث سے نماز با جماعت کی عظمت کا خوب پتہ لگ جاتا ہے۔

عشاء اور صبح کی نماز کی خصوصیت اس لئے فرمائی کہ یہ دونوں وقت سخت ہیں عشاء کے وقت لوگ نیند سے مجبور ہو کر سستی کرتے ہیں اور صبح کے وقت آنکھ کھلنی مشکل ہوتی ہے جب ان دونوں وقتوں کے متعلق ایسے تشدد کا اظہار فرمایا تو دوسرے وقتوں کی نمازوں کے باجماعت ادا کرنے کی تاکید آپ ثابت ہو گئی۔ سچی اور حق بات یہی ہے کہ نماز با جماعت پڑھنے کے سوا جماعت بن ہی نہیں سکتی۔ اس لئے تم جہاں تک کوشش اور سعی کر سکو کرو اور با جماعت نماز ادا کرنے کی پابندی کرو۔ اگر اور کوئی جماعت کے لئے نہ ملے تو گھر میں ہی خاوند بیوی بچوں کو پیچھے کھڑا کر کے نماز پڑھ لے۔ اس طرح کم از کم نماز با جماعت پڑھنے کی عادت تو رہے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ جماعت بھی بنا دے گا خدا تعالیٰ تمہیں ایسا کرنے کی توفیق دے۔

زکوٰۃ

پھر ایک بہت اہم مسئلہ زکوٰۃ کا ہے۔ لیکن لوگوں نے اس کو سمجھا نہیں خدا تعالیٰ نے نماز کے بعد اس کا حکم دیا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا کہ میں زکوٰۃ نہ دینے والوں سے وہی سلوک کروں گا جو آنحضرت ﷺ کفار سے کرتے تھے۔ ایسے لوگوں کے مرد غلام بنالوں گا اور ان کی عورتیں لونڈیاں۔ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد ایسا ابتلاء آیا تھا کہ عرب کے تین شہروں مکہ، مدینہ، اور ایک اور شہر کے علاوہ سب علاقہ عرب کا مرتد ہو گیا تھا۔ حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ سے اس وقت عرض کیا کہ جو لشکر شام کو جانے والا ہے اس کو آپ روک لیں کیونکہ تمام ملک میں فساد برپا ہو گیا ہے لیکن حضرت ابو بکرؓ نے جواب دیا کہ جس لشکر کو آنحضرت ﷺ نے روانہ کیا ہے میں اسے نہیں روک سکتا۔ پھر حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ اچھا جو لوگ زکوٰۃ کے منکر ہیں ان سے صلح کر لیں پہلے دوسرے مرتدین سے جنگ ہو جائے تو رفتہ رفتہ ان کی بھی اصلاح ہو جائے گی۔ اول ضرورت یہی ہے کہ جھوٹے مدعیانِ نبوت کا قلع قمع کیا جائے کیونکہ ان کا فتنہ سخت ہے۔ حضرت ابو بکرؓ نے کہا کہ اگر لوگ بکری کا بچہ یا اونٹ کے گھٹنہ باندھنے کی رسی کے برابر بھی زکوٰۃ کے مال میں سے ادا نہ کریں گے جو آنحضرت ﷺ کو ادا کرتے تھے تو میں ان سے جنگ کروں گا اور اگر تم لوگ مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ اور جنگل کے درند نے بھی مرتدین کے ساتھ مل کر حملہ کریں گے تو میں ان سے اکیلا لڑوں گا۔

غرض زکوٰۃ کے حکم کو حضرت ابو بکرؓ نے اس قدر اہمیت دی ہے کہ اس کے منکر سے کفار کا سا سلوک جائز رکھا ہے۔ مگر آج مسلمانوں میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو اس کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ میں نے اندازہ کیا ہے کہ اگر ساری جماعت احمدیہ کی صرف زکوٰۃ ہی جمع کی جائے تو ایک لاکھ روپیہ کے قریب ہوتی ہے کیونکہ کچھ نہ کچھ تو لوگوں کے پاس زیور ہوتا ہی ہے۔ ہاں وہ اشیاء جن پر گورنمنٹ ٹیکس وصول کرتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی نسبت فتویٰ دیا ہے کہ چونکہ گورنمنٹ ان پر ٹیکس وصول کر لیتی ہے اس لئے اب ان پر کوئی زکوٰۃ یا عشر نہیں لیکن میرے خیال میں بعض زمینوں پر گورنمنٹ جو مالیہ وصول کرتی ہے وہ شرعی عشر سے کم ہوتا ہے۔ اس لئے جہاں گورنمنٹ کا مالیہ یا ٹیکس کم ہو وہاں بقیہ روپیہ اس شخص کو جس کے ذمہ وہ واجب ہو ادا کرنا چاہئے۔ مثلاً ایک زمین پر گورنمنٹ مالیہ لیتی ہو اور اس کا عشر دس روپیہ ہوتا ہو تو پانچ روپیہ اس کے مالک کو عشر کے طور پر یہاں ادا کرنے چاہئیں۔ اس انتظام کے لئے ہر ایک گاؤں اور شہر کی احمدیہ انجمنوں کے سیکرٹریوں کو اور جہاں سیکرٹری نہیں وہاں کسی اور کو ہی رجسٹر بنا لینے چاہئیں جس میں زیور اور دیگر زکوٰۃ والی چیزوں کو درج کیا جائے اور باقاعدہ زکوٰۃ وصول کی جائے ۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ پہننے والے زیوروں کے لئے ضروری نہیں ہے کہ ان پر زکوٰۃ دی جائے۔ لیکن اگر کوئی دے دے تو اچھا ہے۔ جو زیور نہیں پہنے جاتے ان کی زکوٰۃ ضرور دینی چاہئے۔ زکوٰۃ کے متعلق ایک مفصل رسالہ لکھنے کے لئے میں نے کہہ دیا ہے اس میں سب قواعد اور ہدایات دی جائیں گی اس کے مطابق عمل ہونا چاہئے۔

زکوٰۃ کے فوائد

زکوٰۃ کا حکم ایک بے نظیر حکم ہے اور اسلام کی بے انتہاء خوبیوں میں سے ایک روشن خوبی ہے اور بہت سی جماعتوں پر اس کے ذریعہ اسلام کی عظمت کی حجت قائم کی جاسکتی ہے۔ مثلاً یورپ میں آج کل دو گروہ ہیں۔ ایک کہتا ہے کہ جتنا کوئی کماتا ہے اسے کمانے دو اور اس کو اپنی محنت کا ثمرہ اٹھانے دو۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ سارے ملک کے لوگ کام کرتے ہیں تب ہی دولت آتی ہے اس لئے جو لوگ بہت مالدار ہیں ان سے چھین کر مفلس اور نادار لوگوں کو دینا چاہئے تاکہ وہ بھوکے نہ مریں اور ملک کے کاروبار میں خلل واقع نہ ہو۔ خدا تعالیٰ نے ان دونوں گروہوں کی باتوں کو رد کر کے ٹھیک اور درست بات بیان فرمادی ہے اور اسلام نے افراط اور تفریط دونوں کو چھوڑ کر عمدہ بات لے لی ہے۔ میرا یقین ہے کہ اگر صرف زکوٰۃ کا مسئلہ لے کر یورپ کے سامنے پیش کیا جائے تو کسی کی طاقت نہیں کہ اس کی صداقت اور عمدگی سے انکار کر سکے۔ بعض لوگ زکوٰۃ کو ایک چٹی خیال کرتے ہیں لیکن زکوٰۃ چٹی نہیں ہے اس کے سمجھنے کے لئے میں تمہیں ایک موٹی بات بتاتا ہوں۔ گورنمنٹ رعایا سے ٹیکس لیتی ہے پھر اس ٹیکس سے ملک اور رعایا کی حفاظت کے لئے فوج اور پولیس تیار کرتی ہے۔ رعایا کے آرام کے لئے سڑکیں اور شفاخانے بناتی ہے اور طرح طرح کے آرام بہم پہنچاتی ہے چونکہ گورنمنٹ رعایا کے آرام کے لئے ہی ٹیکس لیتی ہے اس لئے اس کے اس ٹیکس لینے کو کوئی چٹی خیال نہیں کرتا اسی طرح زکوٰۃ بھی چٹی نہیں بلکہ خود انسانوں کے بھلے کیلئے یہ حکم دیا گیا ہے جس طرح گورنمنٹ اپنی رعایا کی بہتری کے لئے ٹیکس وصول کرتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی زکوٰۃ مقرر فرمائی ہے اور اس کے بدلہ میں یہ وعدہ کیا ہے کہ تمہارے اموال میں برکت ہوگی اور وہ ہر ایک قسم کی ہلاکتوں سے محفوظ ہو جائیں گے۔ جیسا کہ فرمایا۔ خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمۡ وَتُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا وَصَلِّ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمۡ(التوبہ: ۱۰۳) ان لوگوں کے اموال میں سے صدقات کا مال لو اور اس ذریعہ سے ان کو ظاہری اور باطنی نقصوں سے پاک کر دو اور ان کے لئے دعائیں کرو کیونکہ تمہاری دعائیں ان کے لئے آرام اور راحت کا موجب ہیں۔ غرض کہ زکوٰۃ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا ٹیکس ہے جس کے بدلہ میں انسان پر رحمت اور اس کی ظاہری و باطنی پاکیزگی کا وعدہ ہے۔ جب سے مسلمانوں نے زکوٰۃ دینی چھوڑ دی ہے اس وقت سے ان کا مال کم ہی کم ہو رہا ہے۔ کہاں تو ایک وقت تھا کہ یہ دنیا کے بادشاہ تھے لیکن آج ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ زکوٰۃ دینے والے کو اللہ تعالیٰ اسی طرح کامیابی اور پاکیزگی کا وعدہ دیتا ہے جس طرح گورنمنٹ ٹیکس لے کر حفاظت کا وعدہ کرتی ہے۔ لیکن افسوس کہ لوگ گورنمنٹ کے وعدہ کو تو سچا سمجھتے ہیں اور بڑی خوشی سے ٹیکس ادا کر دیتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے وعدہ کو سچا نہیں سمجھتے اسی لئے زکوٰۃ نہیں دیتے۔ زکوٰۃ کے ذریعہ سے انسان بہت سے دکھوں اور تکلیفوں سے بچ جاتا ہے کیونکہ خدا کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا۔

ایک تصوف کا لطیفہ

زکوٰۃ کے فوائد میں سے ایک اور عظیم الشان فائدہ ہے جس سے صوفیانہ مذاق کے لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور وہ یہ کہ انسان جب مال کماتا ہے تو خواہ وہ کتنی ہی کوشش کرے کہ حرام مال اس کے مال میں شامل نہ ہو لیکن یہ بات بالکل ممکن ہے کہ غلطی سے ناجائز مال اس کے مال میں مل جائے۔ مثلاً ایک سوداگر کپڑا بیچتا ہے اسے نہیں معلوم ہوتا کہ اس میں سوراخ ہیں اور کپڑا ناکارہ ہو چکا ہے وہ خریدار کو دے کر قیمت لے لیتا ہے اور گو اس سے غلطی سے ہی یہ کام ہوا ہے لیکن جو روپیہ اس کے پاس آیا ہے وہ اس کا حق نہیں اور وہ اس کا مالک نہیں گو بے علمی کی وجہ سے ہی اس پر اس نے قبضہ کیا ہے اس مال کو کھا کر اس انسان کے گوشت پوست میں کوئی برکت پیدا نہ ہوگی اور نہ اس کے دوسرے مال میں اس کے ذریعہ کوئی برکت ہوگی لیکن جب یہ شخص سال کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنے مال میں سے ایک حصہ زکوٰۃ کا نکالتا رہے گا تو اس کا مال پاک ہوتا رہے گا۔ اور اگر کوئی حصہ مال کا غیر طیب تھا تو وہ اس کی جان پر یا اس کے نفس پر خرچ نہ ہو گا بلکہ زکوٰۃ کے ذریعہ سے حقیقی مالک یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس واپس چلا جائے گا اور اس کا مال طیب رہے گا۔ اور حلال مال کے کھانے اور استعمال کرنے سے اس کی ہر چیز میں برکت پیدا ہو گی۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سوانح

ایک اور بات جس کی طرف ہماری جماعت کی توجہ کی ضرورت ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے سوانح کی حفاظت ہے۔ ہمارے زمانہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے سب سامان موجود ہے۔ قلم‘ دوات‘ سیاہی‘ کاغذ‘ مطبع وغیرہ لیکن اگر ہم اس کام کو نہ کریں تو کیسے سخت افسوس کی بات ہے اور بعد میں آنے والے لوگ ہمیں کس نظر سے دیکھیں گے۔ نئے نئے آنے والے لوگ کیا جانتے ہیں کہ مسیح موعود کیا تھے جب تک ان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہ ہو جس سے وہ ان کا حال بتمام معلوم کر سکیں۔ چند دن ہوئے یہاں دو عیسائی آئے تھے مجھ سے ان کی گفتگو ہوئی وہ ایک آدمی کو کہنے لگے کیا مرزا صاحب بھی ایسے ہی تھے۔ اس نے کیا ہی خوب جواب دیا کہ مجھ سے کیا پوچھتے ہو ان سے ہی جا کر پوچھ لو وہ کیا کہتے ہیں وہ تو اپنے آپ کو حضرت مرزا صاحب کا غلام کہتے ہیں اس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ حضرت مرزا صاحب کیسے تھے۔ پس ہمارے بہت بڑے فرائض میں سے ایک یہ بھی فرض ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے حالات اور آپ کے سوانح کو بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے محفوظ کر دیں۔ ہمارے لئے آنحضرت ﷺ کا اسوۂ حسنہ اور پھر (آپ کے عاشقِ صادق) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسوۂ حسنہ نہایت ضروری ہے۔ اس لئے حضرت مسیح موعودؑ کے سوانح لکھنے نہایت ضروری ہیں پس جس کسی کو آپ کا کوئی واقعہ کسی قسم کا یاد ہو وہ لکھ کر میرے نام بھیج دے۔ یہ ہمارے ذمہ بہت بڑا کام ہے جس کو ہم نے کرنا ہے میں نے ایک آدمی کو لوگوں سے حالات دریافت کر کے لکھنے کے لئے مقرر کیا ہے اور وہ لکھ رہا ہے تم میں سے بھی جس کو کوئی واقعہ یاد آئے وہ لکھ کر بھیج دے تاکہ کل واقعات ایک جگہ جمع کر کے چھاپ دیئے جائیں اور ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائیں۔ آج بہت سے لوگ حضرت مسیح موعودؑ کے دیکھنے والے اور آپ کی صحبت میں بیٹھنے والے موجود ہیں اور ان سے بہت سے واقعات معلوم ہو سکتے ہیں مگر جوں جوں یہ لوگ کم ہوتے جائیں گے آپ کی زندگی کے حالات کا معلوم کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لئے جہاں تک ہو سکے بہت جلد اس کام کو پورا کرنا چاہئے۔

تنازعات کا فیصلہ

ایک اور ضروری امر ہے جس کی طرف تمہاری توجہ کی ضرورت ہے اور وہ یہ کہ جب کوئی اختلافی مسئلہ پیش ہو یا تنازع پیدا ہو تو جماعت کے لوگوں کو چاہئے کہ خود بخود ہی فیصلہ نہ کرنے بیٹھ جایا کریں۔ جب تم نے اتحاد کیا ہے اور ایک سلک میں منسلک ہو گئے ہو تو تمہیں چاہئے کہ جب کوئی جھگڑا واقع ہو تو اس کے متعلق ہم کو لکھو اور ہم سے فیصلہ کرواؤ۔ آپس کے جھگڑے یہاں بھیجو ہم تحقیقات کر کے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے فیصلہ کریں گے۔

پرائمری سکول

ایک اور امر جس کی طرف میں آج آپ لوگوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ جماعت کی تعلیمی ترقی کے لئے میں نے تجویز کی ہے کہ ہر جگہ پرائمری سکول کھولے جائیں۔ چنانچہ میں نے یہ کام شروع کروا دیا ہے اور اس وقت تک دس کے قریب سکول کھل چکے ہیں تمام احمدیہ انجمنیں اپنی اپنی جگہ کوشش کریں کہ وہاں سکول کھول دیئے جائیں اگر کسی جگہ پہلے سکول ہے بھی تو بھی ہمارے احمدی سکول کی ضرورت ہے کیونکہ دوسرے سکولوں میں قرآن شریف نہیں پڑھایا جاتا اس لئے ضروری ہے کہ اپنا مدرسہ کھولا جائے۔ پس سکولوں کے کھلوانے کی کوشش کرو۔ اس کے لئے انجمن ترقی اسلام کے ماتحت میں نے ایک سب کمیٹی بنادی ہے جو سکولوں کے کھلوانے کا انتظام کرتی ہے اس سے خط و کتابت کر کے سب انتظام ہو سکتا ہے۔

واعظوں کی ضرورت

ہماری جماعت کی ضروریات میں سے ایک ضرورت واعظوں کی ہے خصوصاً بڑے بڑے شہروں میں تو واعظوں کی سخت ضرورت ہے۔ ہمارے پاس جو کچھ ہے قرآن کریم ہی ہے اور اس سے بڑھ کر اور ہو ہی کیا سکتا ہے۔ پس میرا ارادہ ہے کہ مختلف شہروں میں درسِ قرآن جاری کئے جائیں اور ہر ضلع کے لئے کم از کم ایک واعظ مقرر کیا جائے لیکن اس کام کو نباہنے والے واعظوں کی ہماری جماعت میں کمی ہے اس لئے جیسا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہو گا ہم نے ایک جماعت مبلغین بنائی ہے اس جماعت کے دو لڑکوں نے کل یہاں وعظ کیا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ کیا بولے ہیں مگر میری خواہش ہے کہ بہت جلد چند ایسے آدمی تیار ہو جائیں جن کو ہم ضروری مقامات پر مقرر کر سکیں چنانچہ میں نے ایک ایسا کورس تیار کیا ہے کہ جس کے ذریعہ سے جماعت مبلغین کے دس لڑکوں کو ایسا تیار کیا جائے کہ اگلے سال تک وہ درسِ قرآن دینے کے قابل ہو جائیں۔ یہ لڑکے امید ہے کہ جلد کام کے قابل ہو جائیں گے اور امید ہے کہ انشاء اللہ اگلے دسمبر میں ہم دس انجمنوں کو ایک ایک واعظ دے سکیں گے۔

قرآن با ترجمہ پڑھنا

میرا دل چاہتا ہے کہ ہماری جماعت کے سب افراد خواہ مرد ہوں یا عورتیں قرآن کریم سے واقف ہوں۔ یعنی نہ صرف یہ کہ قرآن کے الفاظ پڑھ سکتے ہوں بلکہ اس کے معانی اور ترجمہ سے بھی واقف ہوں کیونکہ جب قرآن کریم کے معانی سے ناواقفیت ہو تو اس کے الفاظ بار بار پڑھنے سے کیا لطف حاصل ہو سکتا ہے۔ مگر جب تک لوگ اس قابل نہ ہو جائیں کہ خود ترجمہ کر سکیں اول ان کی واقفیت کے لئے ایک ترجمہ قرآن کی ضرورت ہے جو اردو میں ہو اور یہ کوشش کی جائے کہ وہ ان تمام غلطیوں سے پاک ہو جو اس وقت تک کے تراجم میں پائی جاتی ہیں۔

دوسرے یہ کہ قرآن کریم کی جن آیات کے متعلق غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں ان کے متعلق ایسے نوٹ دیئے جائیں جن سے وہ غلط فہمیاں دور ہوں اور دوسرے تمام مذاہب پر اسلام کی فضیلت ثابت ہو جائے۔ قرآن کریم پر جو اعتراضات ہوتے ہیں ان کے جوابات دیئے جائیں اور مشکل مواضع کو حل کیا جائے۔ قرآن شریف ہر احمدی مرد، عورت اور لڑکے کے پاس ہونا ضروری ہے۔ ترجمہ شروع ہو گیا ہوا ہے اور پہلے پارہ کا ترجمہ اور نوٹ تو مکمل بھی ہو چکے ہیں اللہ تعالیٰ چاہے تو ایک مہینہ تک شائع بھی ہو جائے گا۔ میرا ارادہ ہے کہ سپارہ سپارہ کر کے شائع کریں تاکہ

ساتھ کے ساتھ لوگوں کو پہنچتا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن کو ہم نے آہستہ آہستہ اس لئے اتارا ہے کہ لوگوں کو یاد ہوتا جائے۔ اسی طرح ہم بھی تھوڑا تھوڑا شائع کرتے رہیں گے تاکہ لوگ پڑھتے اور یاد کرتے جائیں۔ اس کی کچھ کاپیاں لکھی ہوئی آچکی ہیں اور ترجمہ تو دوسرے پارہ کا بھی کسی قدر ہو چکا ہے۔ انجمن ترقی اسلام اس کو چھپوا رہی ہے۔ ہر فرد کو چاہئے کہ اپنا الگ اپنی بیوی کا الگ اپنے لڑکے لڑکیوں کا الگ الگ قرآن خریدے۔

مدرسہ خط و کتابت

جماعت کی علمی ترقی کے لئے ایک مدرسہ خط و کتابت کا کھولا جائے۔ کیونکہ بعض ایسے لوگ ہیں جو یہاں قادیان میں رہ کر قرآن شریف نہیں پڑھ سکتے ان کے لئے کچھ اسباق تیار کئے جائیں جو ان کو آہستہ آہستہ بھیج دیئے جایا کریں اور جب ان کو وہ یاد کر لیا کریں تو پھر اور کچھ پرچے بھیج دیئے جایا کریں۔ اور جو دقتیں لوگوں کو پیش آئیں انہیں خطوط کے ذریعے وہ حل کرالیں۔ اور اس طرح گھر بیٹھے وہ کچھ نہ کچھ واقفیت بہم پہنچالیں۔

حضرت مسیح موعودؑ کی کتابوں کا امتحان

حضرت مسیح موعودؑ کو اس بات کا شوق تھا کہ آپ کی کتب کا ایک کورس مقرر کیا جائے۔ لوگ اسے یاد کیا کریں اور پھر سالانہ جلسہ کے موقع پر ایک دن ان کے امتحان کار کھا جائے اور ان سے سوالات پوچھے جایا کریں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ آپ کی یہ خواہش بھی رائیگاں نہ جائے۔ اور اس پر عمل ہونا شروع ہو جائے اور اگلے سال سے امتحان لینا شروع کر دیا جائے۔ کتاب ازالہ اوہام دونوں حصے غیر احمدیوں کے متعلق اور سرمہ چشم آریہ آریوں کے متعلق یہ دونوں کتابیں اس سال یاد کی جائیں۔ جتنے احباب چاہیں اس میں حصہ لیں اور آئندہ جلسہ میں جن کو خداتعالیٰ زندگی دے آئیں اور پھر جن کو خداتعالیٰ امتحان کی توفیق دے۔ وہ ان کتابوں کا امتحان دیں تاکہ جو غلطیاں ہوں وہ ان کو بتائی جائیں۔

مختلف فیہا مسائل کا حل

میرا یہ بھی ارادہ ہے کہ جماعت میں جو مختلف فیہا مسائل ہیں ان کو حل کیا جائے۔ میں اس کوشش میں ہوں کہ کچھ آدمی اس کام کے لئے مقرر کئے جائیں۔ احمدیوں کے جو اعتقادات ہیں ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے حوالہ سے لکھ دیں تاکہ آئندہ کسی قسم کا جھگڑا نہ ہو۔ کیسے تعجب کی بات ہے کہ تیس سال کے بعد احمدی جماعت میں آج یہ جھگڑا پیدا ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نبی تھے یا نہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس جھگڑے کے بانیوں نے حضرت مسیح موعودؑ کی کتابوں کو نہیں پڑھا اور جب پڑھا تو یہ جان کر پڑھا کہ آپ نبی نہیں تھے جس طرح بعض عیسائی سارا قرآن شریف پڑھ جاتے ہیں تو انہیں کوئی بھی اچھی بات معلوم نہیں ہوتی۔ اسی طرح ان کے ساتھ ہوا۔ اب میرا ارادہ کچھ آدمی مقرر کرنے کا ہے جو ایک مکمل رسالہ اس مضمون پر لکھیں۔

سلسلہ کی ضروریات

حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ کی ایک بڑی چیز منارۃ المسیح ہے۔ آپ نے اس کے متعلق فرمایا ہے کہ جب یہ مکمل ہو جائے گا تو خداتعالیٰ کی بڑی برکتیں نازل ہوں گی۔ اس کی تعمیر کے لئے چندہ کی اپیل نہیں کی گئی میں نے کہا جب ہم اس کو بنائیں گے تو یہ خود اپنی اپیل کرے گا یعنی لوگ اسے دیکھ کر خود بخود چندہ دیں گے۔ قادیان کی جماعت نے مختلف طور پر پانچ سو روپیہ کے قریب اس کے لئے چندہ دیا ہے۔ میں نے کوئی اعلان نہیں کیا تھا مگر انہوں نے خود ہی یہ روپیہ فراہم کر دیا ہے اس پر دو ہزار کے قریب روپیہ خرچ ہوا ہے اس لئے باقی کے پندرہ سو کے پورا کرنے کے لئے تمہیں فکر کرنی چاہئے۔

اس کے علاوہ جو یہاں کام ہو رہے ہیں ان کے لئے کسی اور نے تو چندہ دینا نہیں۔ غیروں کو ہم نے خود ہی چھوڑ دیا ہے اور کچھ اپنے بھی چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ ان کاموں کے لئے بھی تمہیں ہی فکر کرنی چاہئے۔ صدر انجمن کے ماتحت مختلف کام ہو رہے ہیں۔ دو مدرسے ہیں، ایک ہائی سکول اور ایک احمدیہ سکول جن میں تمہارے بچے پڑھتے ہیں۔ ایک لنگر ہے جو مہمان یہاں ٹھہرتے ہیں اس میں سے انہیں خوراک دی جاتی ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی کئی کام ہیں ترقی اسلام کے خرچ کا اندازہ آئندہ سال کے لئے ۲۴ ہزار روپیہ لگایا گیا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ ولایت کے لئے انگریزی ترجمہ قرآن شریف کا ہو رہا ہے جو چھپنا بھی شروع ہو گیا ہے اور سورہ فاتحہ کے پروف آچکے ہیں۔ پہلے سپارے کا ترجمہ ہو چکا ہے اس کے چھاپنے کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے۔ پھر ولایت میں تبلیغ شروع ہے اور کم از کم چھ سو روپیہ ماہوار خرچ کی ضرورت اس کے لئے ہو گی کیونکہ میرا ارادہ ایک اور آدمی بھی وہاں بھیجنے کا ہے اور انگریزی میں ٹریکٹ بھی شائع کئے جائیں گے۔ پھر ماریشس افریقہ کے پاس ایک جزیرہ ہے جہاں کے بہت سے انگریز قبیلے مسلمان ہونے کے لئے تیار ہیں وہاں ایک آدمی بھیجا جائے گا خط و کتابت ہو رہی ہے۔

پھر ٹریکٹوں کا سلسلہ ہے۔ بنگال میں ایک ٹریکٹ شائع کیا گیا تھا کئی مہینے ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک اس کے متعلق سوالات پوچھنے والوں کے خطوط آرہے ہیں پھر صدر انجمن مقروض ہے اسکا قرضہ دور کرنا ہے اور آئندہ کے اخراجات کے لئے بھی اس کو روپیہ کی ضرورت ہے۔ یہ سب سلسلہ کی ضروریات ہیں جن کا پورا کرنا تمہارا فرض ہے اور مجھے امید ہے کہ تم اپنی طاقت کے مطابق کوشش سے دریغ نہ کرو گے۔ مگر اب بات جو دین کی خدمت کے متعلق قرآن کریم میں آئی ہے وہ تمہیں سنائے دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو! خبردار اپنے کام میں کبھی سست نہ ہونا اور دینی کاموں میں تکلیف کا کبھی خیال مت کرنا۔ کیونکہ اِنۡ تَکُوۡنُوۡا تَاۡلَمُوۡنَ فَاِنَّہُمۡ یَاۡلَمُوۡنَ کَمَا تَاۡلَمُوۡنَ ۚ وَتَرۡجُوۡنَ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا یَرۡجُوۡنَ(النساء: ۱۰۵) اگر تم کو کوئی دکھ یا تکلیف پہنچتی ہے تو کفار کو بھی اسی طرح تکلیف پہنچتی ہے جس طرح تم کو پہنچتی ہے اور تم تو اللہ تعالیٰ سے ان انعامات کے امیدوار ہو جن کی انہیں امید نہیں پس تم بھی اس بات کو خوب یاد رکھو۔ بے شک ان آئے دن کے چندوں سے تم کو تکلیف ہوتی ہوگی مگر اسلام کے دشمن بھی اسی طرح اسلام کے برباد کرنے کے لئے اپنی جانیں اور اپنے مال خرچ کر رہے ہیں۔ پس تکلیف میں تم اور وہ برابر ہو۔ ہاں تم جن انعامات کے امیدوار ہو وہ نہیں۔ پس کیسے افسوس کی بات ہوگی اگر تم باوجود اس قدر امیدوں کے تھک جاؤ اور دشمن باوجود ہر قسم کی مایوسی کے اپنی محنت نہ چھوڑے اور اپنے کام میں لگا رہے اور جھوٹ کے پھیلانے کے لئے ہر ایک قسم کی تکلیف برداشت کرے۔ تمہارے لئے خدا تعالیٰ کے انعاموں کا دروازہ کھلا ہے جس قدر حاصل کر سکتے ہو کرلو۔ اس وقت روپیہ کی ضرورت ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے کام کو آپ ہی چلاتا ہے وہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں مگر یہ ایک خدمت کا موقع ہے جو اس نے ہماری جماعت کو دیا ہے اور یہ اس کا فضل ہے ورنہ اس کے کام تو بہرحال چلیں گے۔ کچھ لوگ نکل گئے ہیں تو بھی کام چل رہا ہے۔ لیکن جو خدا کا کام کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے انصار میں داخل ہو جاتا ہے۔ پس جہاں تک تم سے ہو سکے اپنی طاقت بھر کام کرتے رہو۔

پچھلے سال ضلع گورداسپور کی جماعت نے چھ سات ہزار روپے دیئے تھے امید ہے کہ اس سال بھی علاوہ ماہوار چندوں کے وہ تین ہزار تو اور زیادہ دے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ باقی روپیہ کے لئے آپ کوشش کریں۔

اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اس کام کے پورا کرنے کی توفیق دے جس کے لئے اس نے سلسلہ احمدیہ کی بنیاد رکھی ہے۔ آمین۔

نحمده ونصلی علیٰ رسولہ الکریم بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت فضلِ عمر کی دوسری تقریر

(جو ۲۸؍دسمبر ۱۹۱۴ء کو سالانہ جلسہ پر ہوئی)

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِcirc بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِcirc اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ۬ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوۡمٌ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَمَا خَلۡفَہُمۡ ۚ وَلَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ۚ وَلَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا ۚ وَہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ(البقرہ: ۲۵۶)

میں نے کل آپ لوگوں کے سامنے بیان کیا تھا کہ میں ایک ایسی بات بیان کرنا چاہتا ہوں جو ایسی ضروری ہے کہ اس کی ضرورت، اس کی عظمت اور اس کی قدر مجھ سے تو بیان نہیں ہو سکتی۔

ہر ایک انسان کی زندگی کا مقصد اور صرف ایک ہی مقصد۔ کسی فرقہ یا قوم یا جماعت کی ترقی کا ذریعہ اور صرف واحد ذریعہ اور انسان کے انسان کہلانے کے ایک ہی ثبوت پر اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی تو میں اس وقت کچھ بیان کروں گا۔ کل تو اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل رہا کہ میں نے ساڑھے تین گھنٹے تقریر کی لیکن کوئی ایسی تکلیف نہ ہوئی مگر کل کے بولنے سے آج تکلیف ہے اس لئے میں پوری طرح کھول کر اس بات کو نہ بیان کر سکوں گا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو پھر کبھی اسی پر بولوں گا۔

شاید کسی کے دل میں شبہ پیدا ہو کہ ایسی کونسی ضروری بات ہے جس پر اتنا زور دیا گیا ہے کہ اس کے بغیر کوئی جماعت ترقی ہی نہیں کر سکتی۔ اس کے سوا کوئی انسان انسان ہی نہیں بن سکتا۔ اور اس کے بغیر انسانی زندگی کا مقصد ہی پورا نہیں ہو سکتا۔ پھر اگر کوئی ایسی ہی بات ہے تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ بات نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتائی اور نہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے بیان کی۔ میں ایسا خیال کرنے والوں کو بتاتا ہوں کہ کسی چیز کی عظمت اس کے بار بار سننے سے کم نہیں ہو جاتی۔ میں کوئی ایسی بات نکال کر نہیں لایا جو پہلے دنیا میں کسی کو معلوم نہ ہو۔ بات تو وہی ہے جو میرے بیان کرنے سے پہلے آپ لوگوں نے کئی دفعہ سنی ہے مگر جب تک اس پر پورا پورا عملدرآمد نہ ہو جائے اور وہ اچھی طرح قائم نہ ہو جائے اس وقت تک اس کے بیان کرنے کی ضرورت مٹ نہیں سکتی۔ دیکھو کونین تپ کے لئے مفید ہے اور روزانہ سینکڑوں تپ کے مریضوں کو دی جاتی ہے مگر جب تک دنیا میں تپ قائم ہے کونین کی بھی ضرورت قائم ہے۔ اسی طرح پانی ہر ایک جاندار کی زندگی کے لئے ضروری چیز ہے اگر کوئی کسی سے پوچھے کہ مجھے زندگی کے قیام کے لئے جو ضروری چیزیں ہیں وہ بتاؤ اور وہ ان اشیاء میں سے ایک پانی بھی بتائے۔ تو پانی کا نام سن کر اگر وہ کہے کہ یہ تو ہم روز پیتے ہیں یہ کونسی ایسی ضروری چیز ہے تو یہ غلط ہو گا کیونکہ جب تک زندگی کا مدار پانی پر ہے اس وقت تک پانی ایک ضروری شئے ہے اور گو انسان دن میں اسے کئی دفعہ پیتا ہو پھر بھی اس کی ضرورت میں کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہوا کے لئے کوئی قیمت نہیں دینی پڑتی وہ خود بخود سانس کے ذریعہ سے اندر چلی جاتی ہے اور ہمیشہ سے یہی سلسلہ چلا آتا ہے مگر اس طرح اس کی ضرورت اور اہمیت میں کوئی فرق نہیں آتا اور وہ آج بھی ویسی ہی مفید اور ضروری ہے جیسی کسی پہلے زمانہ میں تھی۔ پس گو آپ لوگوں نے وہ بات جو میں بیان کروں گا پیشتر ازیں بھی سنی ہے مگر جب تک دنیا میں وہ بات قائم نہ ہو جائے اور تمام لوگ اس پر عمل کرنا نہ شروع کر دیں اس وقت تک ہم اسے سنائے ہی جائیں گے۔ اور اس کی عظمت ہمیشہ ایک سی ہی رہے گی۔ اب میں وہ بات بیان کرتا ہوں کوئی دوست لکھ لیں تاکہ ان لوگوں کے لئے جو یہاں نہیں آئے محفوظ رہے۔ اور کسی کے فائدہ کا موجب ہو جائے۔ مگر میں پھر تاکید کرتا ہوں کہ اس بات کو معمولی مت سمجھنا وہ درحقیقت ایک بہت بڑی بات ہے بہت سے انسانوں کی تباہی کا باعث یہ امر بھی ہو جاتا ہے کہ وہ اہم امور کی اہمیت کو نہیں سمجھتے اور اس طرح اپنے آپ کو تباہ کر دیتے ہیں لیکن دانا انسان وہ ہے جو ہر امر پر غور کرے اور گو وہ بظاہر معمولی معلوم ہوتا ہو اس کے انجام پر غور کرے اور اس کی اصلیت پر نظر ڈالے۔ میں اس امر کو واضح کرنے کے لئے ایک مثال بتاتا ہوں۔

کہتے ہیں کوئی شخص تھا اس نے اپنے بھتیجوں سے کہا کہ ہم تمہیں کل کھانے کے بعد ایک ایسا لڈو کھلائیں گے جو کئی لاکھ آدمیوں نے بنایا ہے وہ یہ سن کر حیران رہ گئے اور سوچا کہ وہ لڈو جو کئی لاکھ آدمیوں نے بنایا ہے وہ تو بہت ہی بڑا ہو گا۔ دوسرے دن جب وہ کھانا کھانے بیٹھے تو ہر ایک کھانے میں سے ایک ایک دو دو لقمہ کھا کر چھوڑ دیتے تا ایسا نہ ہو کہ مختلف کھانوں سے پیٹ بھر جائے اور اس لڈو کا مزا پورے طور پر نہ لے سکیں جب کھانے سے فارغ ہو چکے تو بھتیجوں نے کہا آپ نے وعدہ کیا تھا کہ کل تمہیں ایسا لڈو کھلائیں گے جسے ایک لاکھ آدمیوں نے بنایا ہے اب اپنا وعدہ پورا کیجئے اس نے کہا مجھے اپنا وعدہ یاد ہے اور یہ کہہ کر اسی طرح کا ایک لڈو جس طرح کے بازار میں بکتے ہیں نکال کر ان کے سامنے رکھ دیا۔ اس لڈو کو دیکھ کر لڑکوں کو سخت مایوسی ہوئی اور کہا کہ آپ نے تو وعدہ کیا تھا کہ ایسا لڈو کھلائیں گے جو قریباً ایک لاکھ آدمیوں نے بنایا ہو گا لیکن اب آپ نے ایک معمولی سا لڈو سامنے رکھ دیا ہے یہ کیا بات ہے۔ چچا نے کہا قلم لے کر لکھنا شروع کرو کہ اس لڈو کو کتنے آدمیوں نے بنایا ہے۔ میں ثابت کر دوں گا کہ واقع میں اس لڈو کو کئی لاکھ آدمیوں نے بنایا ہے۔ دیکھو ایک حلوائی نے اسے بنایا ہے اس کے بنانے میں جو چیزیں استعمال ہوئی ہیں ان کو حلوائی نے کئی آدمیوں سے خریدا۔ پھر ان میں سے ہر ایک چیز کو ہزاروں آدمیوں نے بنایا ہے۔ مثلاً شکر کو ہی لے لو اس کی تیاری پر کتنے ہزار آدمیوں کی محنت خرچ ہوئی ہے کوئی اس شکر کو ملنے والے ہیں، کوئی رس نکالنے والے کوئی نیشکر کھیت سے لانے والے، پھر ہل جوتنے والے، پانی دینے والے، پھر ہل میں جو لوہا اور لکڑی خرچ ہوا اس لوہے کے نکالنے، صاف کرنے اور بنانے والے لکڑی کے کاٹنے اور گھڑنے والے۔ غرض اسی طرح سب آدمیوں کا حساب لگاؤں تو کس قدر بنتے ہیں۔ پھر شکر کے سوا اس میں آتا ہے اس کے بنانے والے جس قدر ہیں اس کا اندازہ لگاؤ اسی طرح اگر تم تمام چیزوں کے بنانے والوں کا شمار کرو، تو کیا کئی لاکھ بنتے ہیں یا نہیں؟ بھتیجوں نے یہ بات سن کر کہا ہاں ٹھیک ہے۔ پس آپ لوگ بھی خوب یاد رکھیں کہ کسی چیز کی اہمیت اس کے حجم یا قد پر نہیں ہوتی بلکہ اس کے انجام اور فوائد پر اہمیت کی بناء ہوتی ہے اور جو بات میں اس وقت بیان کروں گا وہ نہایت اہم ہے پس کوئی شخص اسے معمولی خیال نہ کرے اور ان بچوں کی طرح فوراً مایوس نہ ہو جائے اور یہ نہ کہہ اٹھے کہ معمولی بات ہے گو وہ بات نظر میں چھوٹی معلوم ہو لیکن فی الحقیقت بہت بڑی ہے۔ اگر تم اس کو سیکھ لوگے اور اس پر عمل کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ ایسے انسان کو دین و دنیا میں معزز کر دے گا۔ اور مجھے اس وعدہ پر اتنا یقین ہے کہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر تم اس پر عامل ہو گے تو ضرور تم سے وہ وعدہ پورا ہو گا۔

قرب الٰہی کا ذریعہ

لوگ پوچھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے قرب کا کیا ذریعہ ہے۔ تم خوب یاد رکھو کہ اگر تم اس بات پر عمل کرو گے تو تمہیں اگلے جہاں میں ہی نہیں بلکہ اسی دنیا میں خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جائے گا۔ اور مرنے کے بعد ہی خدا تعالیٰ تم سے کلام نہیں کرے گا بلکہ اسی دنیا میں کرے گا۔ مگر بہت غور سے کام لو۔ میں جانتا ہوں اور یہ ایک عام رواج ہے کہ جب لوگ کوئی عمدہ لیکچر سنتے ہیں تو بعد میں یہ کہہ دیتے ہیں کہ خوب مزا آیا بڑی عمدہ تقریر تھی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن وہ اس درد کو محسوس نہیں کرتے جس سے کہنے والا انہیں کہتا ہے۔ لیکچر سننے کا نتیجہ یہ نہیں ہونا چاہئے۔ بولنے والے نے تو اپنی جان کھپا دی لیکن سننے والوں نے صرف خوب مزا آیا میں بات اڑا دی۔ آپ لوگ یہاں مزے کے لئے نہیں آئے اور نہ ہنسی کے وعظ سننے کے لئے جمع ہوئے ہو۔ اگر کوئی اس غرض سے آیا ہے تو جو روپیہ اس کے آنے جانے پر صرف ہوا ہے اس کے متعلق وہ خدا تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہو گا۔ پس تم ہر ایک لیکچر کو غور سے سنو اور کان کھول کر سنو پھر اس کو یاد رکھو اور اس پر عمل کرو۔

میں اللہ تعالیٰ سے اس کے لئے توفیق چاہتا ہوں کہ اگر میں بسترِ مرگ پر بھی ہوؤں تو یہی میری آخری بات ہو اور اگر کوئی میری پہلی بات ہو تو وہ بھی یہی ہو۔ اس کے مقابلہ میں دنیا کی ساری باتیں ہیچ ہیں نعمتیں بے قدر ہیں مال و اموال ناکارہ ہیں اور آرام و آسائش کے سامان بے حقیقت ہیں۔

آج کل یہ ایک بہت بڑا نقص پیدا ہو گیا ہے کہ عام طور پر لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ لیکچروں میں مزہ کیا آتا ہے۔ مگر میرے پیارو! تم روپیہ خرچ کر کے مزے یا تماشہ کے لئے یہاں نہیں آئے۔ تمہارے یہاں آنے کی کوئی اور ہی غرض تھی اور ہم نے جو تمہیں یہاں بلایا ہے ہماری بھی کوئی اور ہی غرض تھی۔ پس اگر کوئی اس غرض کو نہیں سمجھا تو وہ ہمارے لئے نہیں آیا بلکہ اپنے نفس کے خوش کرنے کے لئے آیا ہے اور جو کوئی مزہ لینے یا تماشہ دیکھنے کے لئے آیا ہے اس نے بہت بڑا گناہ کیا ہے اگر کسی کا ایسا خیال تھا تو وہ توبہ اور استغفار کر لے۔ کیونکہ ایسا انسان جو وقت اور روپیہ ضائع کر کے وطن اور عزیزوں کو چھوڑ کر تماشہ کے لئے کہیں جاتا ہے اس کو خدا تعالیٰ کے حضور ایک ایک پیسہ اور ایک ایک لمحہ کے لئے جواب دہ ہونا پڑے گا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو کیوں اس طرح ضائع کر دیا۔ پس اپنے سینوں کو ٹٹولو اور اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔ لیکچر مزے کی خاطر نہ سنو۔ لیکچر میں ہر قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ بعض ہنسی کی بھی ہوتی ہیں مگر تمہاری کبھی یہ خواہش نہیں ہونی چاہئے کہ وعظ میں ہنسی کی باتیں ہوں اور ان کو تم اشتیاق سے سنو تم وعظ میں یہ نہ دیکھو کہ ہنسی ہے یا رونا بلکہ یہ دیکھو کہ کہنے والا کہتا کیا ہے اور اگر کوئی بات تمہیں کڑوی لگے تو اس پر غور کرو اور اگر میٹھی لگے تو اس پر عمل کر کے دکھاؤ اور لطیفہ سننے کے لئے کسی لیکچر میں نہ بیٹھو لیکچروں میں حاضر ہونے والوں میں ایک اور بھی نقص ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ہر ایک سننے والا یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں پاک اور مطہر ہوں یہ جو وعظ ہو رہا ہے یہ میرے اردگرد بیٹھنے والوں کے لئے ہے حالانکہ اس خیال کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سارے ہی خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں اور وعظ سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا۔ پس آپ لوگوں میں سے ہر ایک شخص یہ سمجھ لے کہ میرے وعظ کا مخاطب سب سے پہلے وہی ہے اور یہ خیال کرلے کہ جو کچھ کہا گیا ہے مجھے ہی کہا گیا ہے پس اگر کوئی ولی بیٹھا ہو تو وہ بھی میرا مخاطب ہے اور اگر کوئی گندے سے گندہ انسان بیٹھا ہے تو وہ بھی۔ جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم نہیں بلکہ دوسرے مخاطب ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں۔ کسی بادشاہ کی نسبت لکھا ہے کہ اس نے اپنے درباریوں کی اطاعت اور فرمانبرداری آزمانے کے لئے حکم دیا کہ کل رات تم سب فلاں تالاب میں ایک ایک لوٹا پانی کا ڈالنا۔ وہ جب اپنے اپنے گھر گئے تو ہر ایک نے یہ خیال کر لیا ہم کہاں پانی کا لوٹا اٹھائے ہوئے جائیں۔ وہ وزراء و امراء جن کو رومال اٹھانا دو بھر تھا بھلا وہ پانی کا لوٹا کس طرح اٹھا سکتے تھے ان میں سے ہر ایک نے یہ سمجھ لیا کہ میرے لوٹا ڈالنے سے تالاب تو بھر نہیں جائے گا اور ہزاروں آدمی لوٹے ڈالیں گے بادشاہ کو میرے لوٹے کا کیا پتہ لگے گا کہ اس نے ڈالا ہے یا نہیں چنانچہ ہر ایک ان میں سے یہی خیال کر کے گھر بیٹھ رہا اور کسی نے لوٹا نہ ڈالا تالاب بالکل خشک رہا بادشاہ نے جب تالاب کو دیکھا تو خشک پڑا تھا۔ اس نے سب درباریوں کو ملامت کی اور کہا کہ شرم کرو کیا حکم کی تعمیل اسی طرح ہوا کرتی ہے لیکن بجائے اس کے کہ وہ شرمندہ اور نادم ہوتے ایک دوسرے کو کہنے لگے تم نے کیوں پانی کا لوٹا نہ ڈالا۔ میں تو یہ خیال کر کے بیٹھ رہا کہ باقی جو ڈالیں گے تو میرے ایک لوٹا نہ ڈالنے سے کیا نقصان ہو جائے گا تم لوگوں نے سستی کر کے میری بھی ذلت کرائی اور اس طرح ہر ایک نے اپنی سستی اور نالائقی کو دوسرے کے سر تھوپنا چاہا۔ اگر وعظوں کے سننے والے بھی اسی طرح اپنے دل میں خیال کریں کہ واعظ کے وعظ کے ہم مخاطب نہیں بلکہ اور لوگ ہیں تو اس کا نتیجہ یہی ہو گا کہ سب ہی کورے رہ جائیں گے لیکن جب ہر ایک شخص یہ سمجھے کہ جو کچھ کہا گیا ہے مجھے ہی کہا گیا ہے اور مجھے ہی اس کی تعمیل کرنی ضروری ہے تو سب کے سب نفع اٹھا سکیں گے۔ پھر اگر کوئی ایسا بھی ہو جس کی سمجھ میں کوئی بات نہ آئے تو لَا يَشْقَىٰ جَلِيْسُهُمْ کے ماتحت ہی خدا تعالیٰ اس پر بھی پردہ ڈال دے گا۔ کیونکہ دوسروں کی بزرگی اور تقویٰ کی وجہ سے غریبوں کے پردے بھی ڈھک جاتے ہیں۔ مثلاً اگر بادشاہ کے درباری اپنے اپنے لوٹے ڈال دیتے اور کوئی دو چار نہ بھی ڈالتے تو کیا پتہ لگنا تھا کہ انہوں نے نہیں ڈالے۔ پس جو کچھ کہا جائے اس کا مخاطب ہر ایک فرد ہے بڑے سے لے کر چھوٹے تک اور کوئی یہ نہ سمجھے کہ میرا ساتھی مخاطب ہے تب جا کر نفع حاصل ہوگا۔

عظیم الشان بات

اب میں بتاتا ہوں کہ وہ کیا شئے ہے جس کی طرف میں آپ لوگوں کو بلاتا ہوں اور وہ کون سا نکتہ ہے جس کی طرف آپ کو متوجہ کرتا ہوں۔ سنو! وہ ایک لفظ ہے زیادہ نہیں صرف ایک ہی لفظ ہے اور وہ اللہ ہے اسی کی طرف میں تم سب کو بلاتا ہوں اور اپنے نفس کو بھی اسی کی طرف بلاتا ہوں اسی کے لئے میری پکار ہے اور اسی کی طرف جانے کے لئے میں بگل بجاتا ہوں۔ پس جس کو خدا تعالیٰ توفیق دے آئے اور جس کو خدا تعالیٰ ہدایت دے وہ اسے قبول کرے۔

سب سے زیادہ حسین

دنیا میں بہت سی چیزیں ہیں۔ جو بڑی حسین اور بڑی خوبصورت ہیں۔ لیکن جو کوئی چیز بھی دنیا میں ممکن سے ممکن حسین ہو سکتی ہے وہ خدا تعالیٰ ہی کی مخلوق ہے۔ خدا تعالیٰ نے ہی اس کو حسن اور خوبی دی ہے۔ اس لئے اس کے حسن کو کوئی نہیں پہنچ سکتی۔ مگر باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ حسین ہے۔ سب سے زیادہ پیارا ہے۔ سب سے زیادہ خیر و برکت رکھنے والا ہے۔ مگر دنیا اور نا اہل دنیا اس کو حقارت اور ناقدری کی نظر سے دیکھتی ہے۔ وہ ربّ العالمین ہے اور اس کی عظمت اور دبدبہ کے سامنے سب چیزیں ہیچ ہیں۔ مگر اس سے جو سلوک دنیا کر رہی ہے وہ بہت نفرت اور حقارت کے قابل ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول اپنے ایک استاد کا ذکر سنایا کرتے تھے کہ انہوں نے بھوپال میں خواب میں دیکھا کہ میں شہر سے باہر ایک پل کے پاس کھڑا ہوں وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک کوڑھی پڑا ہے جس کے تمام جسم میں کیڑے پڑے ہوئے ہیں۔ اس پر مکھیاں بیٹھتی ہیں اور سخت تکلیف کی حالت میں ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو۔ اس نے کہا میں اللہ میاں ہوں تمہارا خدا ہوں۔ میں نے کہا ہم نے تو قرآن شریف میں اپنے خدا کی بڑی تعریفیں پڑھی ہیں کہ وہ ایسا خوبصورت ہے کہ اور کوئی اس کی مانند ہے ہی نہیں یہ آپ کی کیا حالت ہے۔ اس نے آگے سے جواب دیا کہ تم یہ جو شکل میری دیکھ رہے ہو یہ میری اصل شکل نہیں ہے بلکہ بھوپال کے لوگوں کی نظروں میں میری یہ شکل ہے۔ پس تم لوگ بھی اپنے دلوں کو ٹٹولو اپنے اعمال کو، اپنی باتوں کو، اپنے اقوال کو، اپنی حرکات کو، اپنی سکنات کو دیکھو کہ

دنیا کی جو چیزیں تمہیں پیاری لگتی ہیں ان کے مقابلہ میں تمہارے سامنے اللہ تعالیٰ کی کیا شکل ہے۔ آیا بھوپال والا خدا تو نہیں ہے یا اس کے قریب قریب ہے۔ مگر خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ سب بدصورت یوں، ساری بدیوں اور تمام برائیوں سے پاک اور منزہ ہے۔

آدم علیہ السلام کا قصہ

یہ دیکھ کر رونا آتا ہے کہ مسلمان آدم علیہ السلام کا قصہ قرآن شریف میں پڑھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کیوں اس نے شیطان کا کہا مان کر ایک دانہ کے لالچ سے ہمیں ہمیشہ کی رہنے والی جنت سے نکال دیا۔ اگر ہم ہوتے تو کبھی شیطان کا کہنا نہ مانتے۔ مگر وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ آدم علیہ السلام کو ہی شیطان نے جنت سے نہیں نکالا بلکہ ہمیں بھی نکال رہا ہے۔ وہ آدم علیہ السلام کے ایک دفعہ دھوکا کھانے پر دل ہی دل میں برا کہتے ہیں مگر یہ نہیں سمجھتے کہ انہیں ہر روز شیطان دھوکا دے رہا ہے اور ان کی بغل میں بیٹھا ہے۔ وہ یہ تو دریافت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آدم علیہ السلام نے کیوں دھوکا کھایا مگر یہ نہیں جانتے۔ کہ شیطان ہمارے پاس ہی بیٹھا ہوا ہم سے بدکاریاں کرا رہا ہے ان کو چاہئے تھا۔ کہ بجائے آدم علیہ السلام پر اظہار افسوس اور رنج کرنے کے اپنے نفس پر کرتے۔ آدم علیہ السلام لوگوں کو جنت سے کیا نکال سکتے تھے۔ ہر ایک انسان اپنے ہاتھ سے ہی جنت سے نکلتا ہے۔ آدم علیہ السلام کی وجہ سے کوئی جنت سے نہیں نکالا جاتا۔ عیسائی کہتے ہیں کہ گناہ ہمیں آدم سے ورثہ میں ملا ہے اور اسی کے سبب ہم جنت سے نکالے گئے ہیں۔ لیکن قرآن شریف میں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ(التین: ۵) ہم نے انسان کو اچھی سے اچھی حالت میں پیدا کیا ہے جب خدا نے انسان کو اچھی حالت میں پیدا کیا ہے ۔ تو پھر جنت سے وہ کسی کے گناہ کے بدلہ اسے کہاں نکالتا ہے۔ ہر ایک بچہ جو پیدا ہوتا ہے اس کا مکان جنت میں ہوتا ہے لیکن پھر وہ اپنے ہاتھ سے جنت کے گھر کو گرا کر دوزخ میں بناتا ہے۔ پس تم اپنے دلوں میں یہ خیال مت کرو کہ کوئی اور آدم تھا جس کو شیطان نے جنت سے نکالا تھا بلکہ تم ہی ہو جن کے پیچھے شیطان لگا رہتا ہے اور کئی لوگوں کو جنت سے نکال دیتا ہے۔ اگر کوئی شیطان کے قبضہ میں ہے تو وہ بھی اور اگر کوئی نہیں تو وہ بھی ہر وقت ہوشیار اور چوکس رہے تب ہی فائدہ ہو گا۔ اگر ایک مجلس بیٹھی ہوئی ہو اور انہیں ایک آدمی آکر کہے کہ تم میں سے ایک آدمی کو پھانسی دی جائے گی: پھر اگر وہ یہ سن کر سب کے سب وہاں بیٹھے رہیں اور ہر ایک یہ خیال کرے کہ مجھے نہیں کسی دوسرے کو پھانسی ملے گی تو ان میں سے ایک نہ ایک ضرور ملے گا۔ لیکن اگر سب کے سب اس جگہ سے چلے جائیں تو گویا ہر ایک کی جان بچ گئی کیونکہ کون بتا سکتا کہ

پھانسی پانے والا کون تھا۔

ہوشیار ہو جاؤ

میں تمہیں بڑے زور سے بتلاتا ہوں کہ دنیا میں لوگ خدا تعالیٰ سے غافل ہو گئے ہیں۔ حالانکہ اس سے بڑھ کر خوبصورت‘ اس سے بڑھ کر محبت کرنے والا‘ اس سے بڑھ کر پیارا اور کوئی نہیں ہے۔ تم لوگ اگر پیار کرو تو اس سے کرو۔ محبت لگاؤ تو اسی سے لگاؤ‘ ڈرو تو اسی سے ڈرو‘ خوف کرو تو اسی سے کرو۔ اگر وہ تمہیں حاصل ہو جائے تو پھر تمہیں کسی چیز کی پرواہ نہیں رہ جاتی اور کوئی روک تمہارے سامنے نہیں ٹھہر سکتی۔ پس تم اپنے نفسوں کو پگھلاؤ اور تبدیلی پیدا کر لو۔ اللہ تعالیٰ کیسا ہے اور کیسا خوبصورت ہے اس کا بیان سورہ فاتحہ میں پڑھ لو۔ اگر تم اس کی خوبصورتی کا ایک جلوہ دیکھ لو۔ تو پھر کسی خوبصورتی کے دیکھنے کی تمہیں حاجت نہیں ہے۔ انسان دنیا کی کسی خوبصورت چیز کو دیکھ کر اس پر لٹو ہو جاتا ہے لیکن اسے دل میں سوچنا چاہئے کہ جس ہستی نے اس خوبصورت چیز کو بنایا ہے وہ کس قدر خوبصورت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا جلوہ دیکھنے کے لئے کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر انسان کے دل میں خدا کا جلوہ ہے۔ اگر وہ غور کرے تو بہت جلدی اس تک پہنچ سکتا ہے۔ دنیا کی ہر ایک چیز اور ایک ایک ذرہ خدا تعالیٰ کے وجود پر شہادت دے رہا ہے۔ اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو پکار پکار کر خالقِ کون و مکان کی گواہی نہ دے رہی ہو۔ کاغذ‘ قلم‘ میز کرسی‘ زمین جس پر تم بیٹھے ہو‘ کپڑے جو تم پہنے ہوئے ہو‘ تمہارے ہاتھ‘ پاؤں‘ ناک‘ کان‘ ہر ایک خدا کی ہستی پر دلالت کر رہے ہیں۔ عمدہ کپڑے‘ خوبصورت عورت‘ اعلیٰ خوراک‘ مال و دولت کو لوگ پسند کرتے ہیں۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ ذرا تم اس بات پر تو غور کرو کہ جو ان کو پیدا کرنے والا ہے وہ کس قدر خوبصورت ہوگا۔ پھر تم کیوں اس سے محبت نہیں کرتے۔

اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ۬ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوۡمٌ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَمَا خَلۡفَہُمۡ ۚ وَلَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ۚ وَلَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا ۚ وَہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ(البقرہ: ۲۵۶) یہ بڑی زبردست آیات ہیں۔ ان میں نہایت عالیشان تعلیم ہے رسول کریم ﷺ رات کو سوتے وقت تین دفعہ ان آیات کو پڑھ کر اپنے بدن پر پھونکتے تھے۔ پس ہر ایک مسلمان پر آپ کی سنت پر عمل کرنا واجب ہے۔ ان آیات میں پہلی بات جس کی طرف انسان کو متوجہ کیا گیا ہے۔ اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ہے یعنی اے انسان خدا کو دیکھ کہ صرف وہی تیرا معبود ہے۔ اور اس کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ دنیا میں ہر ایک چیز کی قدر اسکی کمیابی اور بہتات کی وجہ سے ہوتی ہے

مثلاً پانی ایک بہت ضروری چیز ہے مگر لوگ اسے سنبھال سنبھال کر نہیں رکھتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جس وقت اس کی ضرورت پڑے گی اسی وقت مل جائے گا۔ ہوا صحت کے لئے کیسی ضروری چیز ہے مگر کوئی انسان اس کو سنبھالتا نہیں کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ جب اس کی ضرورت ہو گی تو وہ خود ہی ناک اور منہ کے راستہ اندر چلی جائے گی۔ لیکن یہی پانی جس کی عام طور پر قدر نہیں کی جاتی اور کوئی قیمتی چیز معلوم نہیں ہوتا ایک ایسے جنگل میں جہاں پانی کا نام و نشان نہ ہو نہایت قیمتی ہو جاتا ہے۔ اور اگر اس وقت کسی کے پاس ایک گلاس پانی کا ہو تو وہ کروڑوں روپے پر بھی اسے نہیں دیتا۔ تو ہر ایک چیز کی قیمت اس کی ضرورت کے مطابق گھٹتی بڑھتی ہے۔ دیکھو غلہ جس وقت زیادہ ہوتا ہے اس وقت سستا ہوتا ہے اور جب کم ہوتا ہے تو مہنگا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر دنیا میں کئی خدا ہوتے تو کوئی کہہ سکتا تھا کہ ایک نہ ملا تو نہ سہی اور مل جائے گا۔ مگر :۔

اللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ(3:3)

صرف ایک ہی اللہ ہے۔ اگر کوئی کہے کہ اس کو چھوڑ کر اور کسی کی تلاش کر لوں گا تو ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ ایک ہی ہے دو نہیں، تین نہیں، چار نہیں، اور ہزاروں لاکھوں نہیں۔ جب ایک ہی اللہ ہے تو اس کو چھوڑ کر اور کہاں جاؤ گے۔ پھر ہر وقت تمہیں اس کی ضرورت ہے اور ہر لمحہ تم اس کے محتاج ہو۔ دنیا میں لوگ بادشاہوں کو ناراض کر لیتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کیا ہوا اگر یہ بادشاہ ناراض ہو گیا تو اس کے ملک کو چھوڑ کر دوسرے کے ملک میں چلے جائیں گے بات ہی کونسی ہے چین کا بادشاہ اگر ظالم ہے، تو ایران میں۔ ایران کا بادشاہ ظالم ہے تو انگلستان میں کوئی پناہ لے سکتا ہے۔ لیکن اللہ سے بھاگ کر کوئی کہاں جائے گا کیونکہ کوئی ایسی زمین نہیں ہے جو خدا کی نہ ہو اور کوئی ایسی حکومت نہیں ہے جو خدا کے قبضہ میں نہ ہو۔ کوئی دوسرا خدا نہیں ہے کہ انسان اس کی مدد تلاش کرے۔ ہندوؤں کا خیال ہے کہ کئی خدا ہیں اور ان کے خداؤں میں جھگڑے بھی ہوتے رہتے ہیں چنانچہ لکھا ہے کہ شِو نے ایک آدمی پر ناراض ہو کر اسے مار ڈالا لیکن وہ برہما خدا کا پیارا تھا اس نے کہا ہم پیدا کرنے والے ہیں ہم اس کو زندہ کر لیں گے برہما نے اسے زندہ کر دیا۔ غرض شِو اسے مارتے جاتے اور برہما زندہ کرتے جاتے یہی ان کا جھگڑا لگا رہا۔ یہ ہندوؤں کے خیالات ہیں مگر ہمارے ہاں تو ایسے خدا نہیں ہیں کہ ایک مارے تو دوسرا زندہ کر لے۔ ایک ناراض ہو تو دوسرا راضی ہو جائے۔ دیکھو ایک نوکر اپنے آقا کو جواب دے سکتا ہے کہ میں تمہاری نوکری نہیں کرتا کیونکہ نوکری اسے دوسری جگہ مل جاتی ہے۔ مگر ہم خدا تعالیٰ کو یہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ ایک ہی ہمارا آقا ہے اور اس کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔

الۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ(3:3)

پھر آقا ایسا بھی ہوتا ہے جو مر جاتا ہے مگر ہمارا آقا وہ ہے جسے کبھی موت نہیں آسکتی۔ وہ الحی ہے اور ایسا آقا نہیں کہ اس سے کبھی قطع تعلق ہو جائے پھر وہ القیوم ہے۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اب تو میرا یہ آقا ہے لیکن پہلے میں فلاں کے پاس ملازم رہ چکا ہوں اس لئے اس کا بھی مجھ پر احسان ہے اور مجھے اس کی قدر کرنی بھی ضروری ہے۔ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں تمہارا آج خدا نہیں بنا بلکہ ہمیشہ سے خدا ہوں تم پر کسی کا پچھلا احسان نہیں ہے۔ میں وہ خدا ہوں جو ہمیشہ سے قائم رہنے والا اور تمہیں قائم رکھنے والا ہوں۔ اس لئے تم پر میرا ہی احسان ہے۔

قیوم کے دو معنے ہیں (۱) ہمیشہ سے قائم رہنے والا۔ (۲) سب کو قائم رکھنے والا۔

لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوۡمٌ(2:256)

کوئی کہے کہ مان لیا خدا ایک ہی ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ زندہ ہے اور وہی ہمارا پہلے آقا تھا وہی اب ہے مگر کبھی ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ خدا کو نیند آئے اور وہ سو جائے تو اس وقت اس کی جگہ اس کے درباری کاروبار کریں اس لئے ہمیں انہیں بھی خوش رکھنا چاہئے اور ان کی خوشامد کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارا وہ اللہ ہے کہ اس کو کبھی اونگھ اور نیند نہیں آتی۔ تم اس کو دنیاوی بادشاہوں اور حاکموں کی طرح نہ سمجھو جہاں کہ تمہیں درباریوں کی خوشامد کرنی پڑتی ہے۔ تمہارا رب ایسا نہیں کہ کبھی اسے اونگھ آئے یا وہ سو جائے وہ ہر وقت جاگتا ہے اور ہر ایک بات کا خود نگران ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے کیا ہی لطیف بات بیان فرمائی ہے فرمایا لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوۡمٌ(2:256) کہ اس کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ ترتیب کلام کا یہ قاعدہ ہے کہ پہلے چھوٹی باتوں کا ذکر ہوتا ہے اور پھر بڑی کا۔ اگر اس کے خلاف کیا جائے تو کلام غلط ہو جاتا ہے۔ مثلاً یہ تو کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص سخت بیمار نہیں تھا بلکہ وہ تو تھوڑا بھی بیمار نہ تھا۔ لیکن اگر یہ کہا جائے کہ فلاں شخص تھوڑا بیمار نہیں تھا بلکہ وہ تو زیادہ بھی نہ تھا تو فقرہ غلط ہو جاتا ہے اس لئے پہلے بڑا اور پھر چھوٹا درجہ کسی چیز کا بیان کیا جاتا ہے مگر یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند حالانکہ جب اونگھ کی نفی کر دی گئی تھی تو نیند کی خود ہی نفی ہو گئی پھر نیند کی نفی کی کیا ضرورت تھی۔ لیکن خدا تعالیٰ کا کلام کبھی لغو نہیں ہوتا اس میں ایک حکمت ہے اور وہ یہ کہ سِنَةٌ اُس کو کہتے ہیں کہ جب سخت نیند کی وجہ سے انسان کی آنکھیں بند ہو جائیں۔ چنانچہ جب انسان کو بہت زیادہ نیند آئی ہوتی ہے اسی وقت اونگھ آتی ہے

اور جب تک نیند کا غلبہ نہ ہو اونگھ نہیں آتی۔ تو فرمایا کہ خدا کو کبھی اونگھ نہیں آئی کہ کام کرنے کی وجہ سے وہ تھک گیا ہو۔ اور اس پر نیند کا ایسا غلبہ ہوا ہو کہ اس کی آنکھیں بند ہو گئی ہوں اور نہ اسے معمولی نیند آتی ہے۔

لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ(2:256) خدا تعالیٰ فرماتا ہے اب بتاؤ کہ جب تمہارا ایسا آقا ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کچھ اسی کا ہے تو اس کے مقابلہ میں اور کسی کو تم کس طرح اپنا آقا بنا سکتے ہو۔ پھر لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے سوا اور کسی کو نہیں پوجتے۔ اور غیر اللہ کی عبادت نہیں کرتے ہیں البتہ اس لئے ان کی نیازیں دیتے اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے مقرب ہیں اور وہ ہماری شفاعت خدا تعالیٰ کے حضور کریں گے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارے حکم کے بغیر تو کوئی شفاعت نہیں کر سکتا۔ اس زمانہ میں مسیح موعودؑ سے بڑھ کر کس نے بڑا انسان ہونا تھا۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ جب نواب صاحب کے لڑکے عبدالرحیم خان کے لئے جبکہ وہ بیمار تھا دعا کی تو الہام ہوا کہ یہ بچتا نہیں۔ آپ کو خیال آیا کہ نواب صاحب اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر قادیان آرہے ہیں ان کا لڑکا فوت ہو گیا تو انہیں ابتلاء نہ آجائے اس لئے آپ نے خدا تعالیٰ کے حضور عرض کی کہ الٰہی میں اس لڑکے کی صحت کے لئے شفاعت کرتا ہوں۔ الہام ہوا مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ تم کون ہو کہ میری اجازت کے بغیر شفاعت کرتے ہو۔ دیکھو مسیح موعود کتنا بڑا انسان تھا تیرہ سو سال سے اس کی دنیا کو انتظار تھی مگر وہ بھی جب سفارش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ہوتے کون ہو کہ بلا اجازت سفارش کرو۔ حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ جس وقت مجھے یہ الہام ہوا تو میں گر پڑا اور بدن پر رعشہ شروع ہو گیا قریب تھا کہ میری جان نکل جاتی لیکن جب یہ حالت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اچھا ہم شفاعت کی اجازت دیتے ہیں شفاعت کرو۔ چنانچہ آپ نے شفاعت کی اور عبدالرحیم خان اچھے ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک زندہ ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل تھا مگر مسیح موعودؑ جیسے انسان کو جب اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تم کون ہو جو سفارش کرو تو اور جو لوگ بڑے بنے پھرتے ہیں ان کی کیا حیثیت ہے کہ کسی کی سفارش کر سکیں۔ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کو آنحضرت ﷺ کو اذن ہو گا تب آپ سفارش کریں گے۔ پھر کیسا نادان ہے وہ شخص جو سمجھتا ہے کہ فلاں میری سفارش کر سکے گا۔

یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَمَا خَلۡفَہُمۡ(20:111)

پھر ایک اور بات رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ کوئی کہہ سکتا ہے۔ مانا کہ شفاعت بلا اجازت نہیں ہو سکتی لیکن بادشاہ کے جس طرح درباری ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے بادشاہ تک رسائی حاصل کر کے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اسی طرح اللہ کے بھی درباری ہونے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ان احمقوں کو اتنا بھی پتہ نہیں کہ دنیا کے بادشاہ کیوں درباری رکھتے ہیں وہ تو اس لئے رکھتے ہیں کہ انہیں ان سے حالات معلوم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ بادشاہ نہیں جانتا کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ مثلاً ہمارے بادشاہ کو انگلستان میں بیٹھے ہوئے خود بخود کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ ہندوستان میں کیا ہو رہا ہے اس لئے حالات معلوم کرنے کے لئے وائسرے مقرر کیا گیا ہے۔ پھر وائسرائے کو خود بخود کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ سارے ہندوستان کے شمال و جنوب مشرق و مغرب میں کیا کچھ ہو رہا ہے اس لئے لیفٹنٹ گورنر مقرر کئے گئے۔ پھر لیفٹنٹ گورنروں کو سارے صوبہ کا کیا حال معلوم ہو سکتا ہے۔ اس لئے ڈپٹی کمشنر مقرر کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ڈپٹی کمشنروں کو حالات معلوم کرانے کے لئے تحصیلدار، نائب تحصیلدار، نمبردار، پٹواری اور چوکیدار رکھے گئے ہیں۔ اور اس طرح تمام سلطنت کی خبریں اور راز بادشاہ تک پہنچتے ہیں ورنہ انہیں خود بخود معلوم نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ اللہ تو تمہاری اگلی پچھلی ساری باتیں جانتا ہے پھر اس کو درباری رکھنے کی کیا ضرورت ہے یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَمَا خَلۡفَہُمۡ(20:111) کے دو معنی ہیں (۱) اللہ تعالیٰ جانتا ہے اس کو جو آگے ہونا ہے اور جو کچھ تم پیچھے کر چکے ہو۔ (۲) اللہ جانتا ہے ان کو جو کام تم نے کئے ہیں اور جو نیک کام کرنے چاہئیں تھے لیکن انہیں ترک کر دیا ہے۔ پھر اس کو کیا ضرورت ہے کہ درباری رکھے۔

وَلَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ(2:256)

اور اس کے علم کو کوئی کہاں پہنچ سکتا ہے۔ کسی کو اس کی حقیقت اپنی کوشش سے معلوم نہیں ہو سکتی ہاں جس کو وہ آپ ہی بتادے اور جس قدر بتادے وہ اتنا جانتا ہے۔

وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ(2:256)

اور تمام آسمانوں اور زمین پر اس کا علم حاوی ہے۔

وَلَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا(2:256)

پھر کوئی کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چیزوں کا علم حاصل کرنے کے لئے اپنے درباری مقرر نہیں کئے ہوئے لیکن کام کرنے کے لئے ضرور کچھ مددگار مقرر کئے ہوں گے کیونکہ دنیا کے بادشاہ فوج اور پولیس حفاظت کے لئے اور کاروبار کے لئے رکھتے ہیں۔ فرمایا اللہ کو اس کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ وہ سب کام خود کر رہا ہے اور اللہ کی طاقت ایسی وسیع ہے کہ کوئی چیز اس کے قبضہ سے باہر نہیں اور نہ کسی چیز کا انتظام اور حفاظت اس کو تھکا سکتا ہے۔

وَہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ(42:5)

اب ایک ہی اعتراض رہ جاتا تھا اور وہ یہ کہ مانا کہ خدا کو علم کے لئے اور مدد کے لئے کسی کی ضرورت نہیں مگر شان و شوکت بھی تو کوئی چیز ہے اس کے اظہار کے لئے ہی اس نے درباری مقرر کئے ہوں گے۔ اس اعتراض کو وَہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ(42:5) کہہ کر رد فرما دیا۔ معنے وہ بہت بڑا ہے اور کوئی چیز نہیں ہے جو اس کے ساتھ مل کر اس کے رتبہ کو بڑھا سکے۔ جو چیز خدا کے ساتھ ملے گی اس کا اپنا ہی رتبہ بڑھے گا نہ کہ خدا کا۔ پس یہ خیال کرنا کہ اللہ نے شان و شوکت کے لئے درباری مقرر کئے ہوں گے ٹھیک نہیں ہے۔ وہ سب چیزوں پر غالب ہے اس لئے اس کی فرمانبرداری کرنے سے کوئی انکار بھی نہیں کر سکتی۔ یہ وہ خدا ہے جو واقعی خدا ہے اور ایسا کوئی اور نہیں ہے۔ اگر ایسے خدا کے ہوتے ہوئے کوئی کسی اور کی طرف جائے تو کتنے بڑے افسوس کی بات ہے۔ اگر کسی شخص کو نہایت عمدہ کھانا ملے اور وہ اسے چھوڑ کر نجاست کی طرف دوڑے۔ اگر کسی شخص کو عمدہ کپڑا ملے اور وہ اسے چھوڑ کر میلی کچیلی لنگوٹی باندھ لے تو بتاؤ وہ دانا اور عقلمند کہے جانے کے قابل ہے ہرگز نہیں۔ دانا وہی ہے جو بہتر چیز کو پسند کرے۔ پس اللہ تعالیٰ سے بہتر کوئی نہیں ہے۔ میں آپ لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ اللہ ہی ہر وقت تمہارے مد نظر ہو کیونکہ اس کے مقابلہ میں دنیا کی تمام چیزیں ہیچ ہیں اور کوئی چیز اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ دیکھو چاند چمکتا ہے اور نہایت بھلا معلوم ہوتا ہے لیکن کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ چاند کا ذاتی فخر ہے نہیں ایسا نہیں۔ چاند درحقیقت سورج کی چمک کو ظاہر کرنے کا فخر رکھتا ہے لیکن کیا پھر سورج کی روشنی اس کی ذاتی روشنی ہے نہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے روشنی حاصل کرتا ہے پس چاند اگر چمکتا ہے اور سورج اگر روشن ہے اور یہ دونوں ہمیں خوبصورت اور مفید معلوم ہوتے ہیں تو ان کا خوبصورت ہونا اور مفید ہونا دراصل ہمیں اللہ تعالیٰ کے حسن اور اس کے رحیم کریم ہونے کی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ اسی طرح دنیا میں جس قدر بھی خوبصورت چیزیں ہیں ہم انہیں خوبصورت کہتے ہیں مگر ان کو اللہ تعالیٰ سے ہی خوبصورتی ملی ہے اس لئے وہی سب خوبصورتیوں والا ہے۔ اسی لئے سورہ فاتحہ میں خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(1:2) تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہی ہیں اوروں کے لئے اس لئے نہیں کہ خدا رب العالمین ہے۔ سب کو

وہی پیدا کرنے والا اور سب کی وہی پرورش کرنے والا ہے۔ پس جب ساری چیزوں کی وہی ربوبیت کرتا ہے تو کیوں اسی کے لئے سب تعریفیں نہ ہوں۔ ماں باپ بچہ کی ربوبیت کرتے ہیں مگر جانتے ہو ان کے دل میں بچہ کی محبت کس نے ڈالی خدا نے ہی ڈالی ہے۔ اگر سائل کو کوئی ایک پیسہ دیتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ اس نے اچھا کام کیا ہے مگر اس کام کے کرنے کی تحریک اللہ تعالیٰ نے ہی اس کے دل میں ڈالی ہے۔ اسی طرح جو نیک کام کوئی شخص کرتا ہے وہ اصل میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب ہوتا ہے اس لئے اصل حمد کے لائق خدا تعالیٰ ہی ہے۔ مثلاً ایک آقا اپنے ملازم کو کہے کہ یہ روپیہ فقیروں میں تقسیم کر دو تو گو تقسیم تو وہ خادم ہی کرے گا لیکن تعریف آقا ہی کے لئے ہے۔ پس انسان جو کسی سے نیک سلوک کرتا ہے تو وہ آقا کے مال کو تقسیم کرنے کی طرح ہی خدا تعالیٰ کی طرف سے کرتا ہے کیونکہ کوئی چیز اس کی نہیں بلکہ ہر ایک چیز خدا تعالیٰ کی ہے۔ تو جتنا کسی میں احسان، مروّت، حسن اور خوبصورتی ہے وہ اللہ ہی کی ہے کیونکہ تمام دنیا اس کی خادم ہے اور اس کے سوا اور کوئی آقا نہیں ہے۔ لوگوں کو دین میں بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں۔ ماں، باپ، بیوی، بچوں، مال و دولت، خویش، اقرباء کی وجہ سے۔ مگر یاد رکھو کہ اللہ اللہ ہی ہے اور بندے بندے ہی ہیں۔ تم ہر بات میں یہ تحقیق کر لیا کرو کہ خدا کی مرضی کیا ہے اور جب خدا تعالیٰ کی مرضی معلوم ہو جائے تو پھر خواہ کوئی چیز قربان کرنی پڑے تمہارے مدِ نظر خدا ہی کی رضا ہو۔

شرک سے بچو

اس سے بڑھ کر میں ایک اور بات بتاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ انسان کو چاہئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے اللہ ایک ہے۔ میں یقین کرتا ہوں کہ کوئی احمدی مشرک نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو موحد بننے کی توفیق دی ہے اس لئے مجھے یہ تو ڈر نہیں کہ کوئی احمدی بتوں کے آگے سجدہ کرے گا یا خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی اور کا دامن پکڑنے کی کوشش کرے گا۔ باقی دنیا نے تو دین کو چھوڑ دیا ہے مگر تم وہ جماعت ہو جس نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔ پھر خدا تعالیٰ نے اس جماعت سے وعدہ فرمایا ہے کہ میں اسے بڑھاؤں گا اور یہ ایک برگزیدہ جماعت ہے اس لئے اس جماعت کے متعلق صریح شرک کا احتمال نہیں کیا جا سکتا۔ مگر میں تمہیں اس بات سے آگاہ کرتا ہوں کہ بہت سا دین ایسا ہوتا ہے کہ وہ دنیا ہو جاتا ہے اور ایسا دین اللہ تعالیٰ کے ایک انچ بھی قریب نہیں کر سکتا۔ میں تمہیں اس دین کی طرف بلاتا ہوں جس کی طرف بڑھنے سے ہر قدم خدا کی طرف بڑھتا ہے اور آج جو تم نمازیں پڑھتے اور دعائیں کرتے ہو اس طرف آنے سے ہزاروں درجہ زیادہ تمہاری دعائیں قبول ہوں گی۔ اور تم

اپنے عملوں کے اپنی آنکھوں کے سامنے نتیجے دیکھ لوگے۔ تم خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے سیدھی راہ پر چل رہے ہو لیکن اب بھی سخت احتیاط اور ہوشیاری کی ضرورت ہے۔ کیونکہ شیطان کا کام ہے کہ وہ کبھی دنیا کی راہ سے آکر اور کبھی دین کی راہ سے آکر دھوکا دیتا ہے اس لئے جس بات سے میں تمہیں آگاہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تم جتنی بھی عبادتیں کرو وہ اس نیت سے کرو کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کرتے ہیں۔ اس کے سوا اور کوئی تمہاری نیت نہیں ہونی چاہئے۔ تم اپنے نفسوں میں غور کر لیا کرو کہ اب جو ہم نماز پڑھنے لگے ہیں تو یہ خدا تعالیٰ کے خوش کرنے کے لئے ہے یا کسی اور نیت سے۔ جب تم چندہ دیتے ہو تو اس وقت خیال کر لیا کرو کہ کتنی دفعہ ہم نے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے دیا ہے یا چندہ مانگنے والے نے کہا کہ دو اور تم نے دے دیا اور تمہاری کوئی نیت نہ تھی۔ مانگنے والے نہیں جانتے کہ تم نے کس نیت سے دیا ہے لیکن تم دینے والے خوب جانتے ہو کہ دیتے وقت کیا نیت تھی۔ تمہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ہم نے دین کی خاطر اور خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے دیا ہے۔ پس اسی طرح تمہارے ہر کام میں خدا تعالیٰ ہی مد نظر ہونا چاہئے اور تم اسی کے راضی کرنے کی نیت ہر کام میں کیا کرو۔ جب تمہاری ہر کام میں یہ نیت ہوگی تو تمہاری عبادتیں آج اور کل اور پرسوں اور اترسوں اور نتائج پیدا کریں گی اور تمہاری دن بدن ترقی ہی ہوتی جائے گی۔ دیکھو ایک کام ایک نیت سے اور اجر پیدا کرتا ہے۔ اور وہی کام دوسری نیت سے اور اجر۔ اگر کوئی شخص ایک آدمی پر زنبور یا بچھو بیٹھا ہوا دیکھے تو وہ جانتا ہے کہ اگر میں نے زنبور یا بچھو کو آہستہ سے پکڑا یا ہٹایا تو وہ ضرور کاٹے گا اس لئے وہ زور سے تھپڑ مار کر اسے مار دیتا ہے اور اس کا ایسا کرنا تھپڑ کھانے والے آدمی کے منہ سے کلماتِ شکر نکلواتا ہے۔ لیکن اگر کوئی کسی کو دکھ دینے کے لئے تھپڑ مارے تو وہ سزا پائے گا۔ تو ایک ہی کام سے نیتوں کے فرق سے دو مختلف نتیجے نکل آتے ہیں۔ پس تم عادتاً کوئی عبادت اور نیک کام نہ کرو۔ بلکہ نیّتاً کرو۔ کئی آدمی کہتے ہیں کہ قوم کے لئے روپیہ دو۔ قوم کے لئے چندہ جمع کرو۔ قوم کے لئے یہ کرو اور وہ کرو میں کہتا ہوں قوم کیا چیز ہے۔ تم قوم کے لئے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے لئے سب چندے دو۔ اور کبھی یہ گناہ کے لفظ منہ سے نہ نکالو۔ کیا تم سے پہلے قومیں نہ تھیں؟ کیا تمہارے پہلے عزیز اور رشتہ دار نہیں تھے؟ جب تھے تو اس نئی جماعت کے بننے کی کیا ضرورت تھی؟ جسے تم قوم قوم کہتے ہو۔ تم خوب یاد رکھو کہ قوم کوئی چیز نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ ہی ایک چیز ہے۔ پس تمہارے سب اعمال خدا تعالیٰ کے لئے ہی ہوں۔ تمہاری ایک ایک حرکت اٹھنا بیٹھنا، چلنا، پھرنا، سونا جاگنا سب کچھ خدا کے لئے ہی ہو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو یقیناً یقیناً تمہارے اعمال کے نتیجے بڑھ چڑھ کر نکلنے شروع ہو جائیں گے۔

جو کرو سمجھ کر کرو

بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایک کام کرتے ہیں مگر انہیں پتہ نہیں ہوتا کہ کیوں کرتے ہیں۔ وہ عادتاً اس کام کو کرتے ہیں جس کا انہیں کوئی نتیجہ نہیں ملتا۔ دیکھو ایک مسلمان بائیں ہاتھ سے روٹی نہیں کھاتا بلکہ دائیں سے کھاتا ہے۔ جانتے ہو وہ کیوں دائیں سے کھاتا ہے اس لئے کہ آنحضرت ﷺ نے حکم دیا ہے کہ دائیں ہاتھ سے کھانا کھاؤ۔ مگر بتلاؤ کہ کتنی دفعہ کھانا کھاتے وقت تمہیں یہ خیال آیا ہے کہ ہم آنحضرت ﷺ کے حکم کی تعمیل کر رہے ہیں۔ اپنی زندگی کے پچھلے ایک سال دو سال تین سال یا چار سال پر غور کرو کہ کتنی دفعہ تمہیں یہ خیال آیا ہو گا۔ بہت سے مسلمان تو ایسے بھی ہوں گے جنہیں ساری عمر میں بھی کبھی یہ خیال نہ آیا ہو گا کہ ہم دائیں ہاتھ سے کیوں کھاتے ہیں اور بائیں سے کیوں نہیں کھاتے۔ دائیں ہاتھ سے کھانا کھانا نیکی کا کام ہے کیونکہ جو ایسا کرتا ہے وہ رسول کریم ﷺ کا حکم مانتا ہے لیکن جو دائیں ہاتھ سے اس لئے نہیں کھاتا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے بلکہ اس لئے کھاتا ہے کہ بچپن سے اسے اسی کا عادی کیا گیا ہے تو وہ کسی ثواب کا مستحق کس طرح ہو سکتا ہے۔ وہ ہرگز ثواب کا مستحق نہیں ہے۔ چھوٹے بچوں کو جب رات کے وقت پیشاب آتا ہے تو وہ اوندھے منہ اس طرح لیٹ جاتے ہیں جیسے سجدہ کرتے ہیں۔ مگر کیا وہ اس فعل سے کسی ثواب کے مستحق ہو جاتے ہیں ہرگز نہیں کیونکہ وہ تو پیشاب کی وجہ سے اس طرح ہوتے ہیں۔ پس بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں جو عادتاً کئے جاتے ہیں۔ اور یہ ایک ایسا نقص ہے جو بہت خراب کرتا ہے۔ گویا یہ زنگ ہے جو انسان کے دل پر جم جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عادتاً کئے ہوئے کاموں کا اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا خاص طور پر ارادہ کر کے کام کرنے سے ہوتا ہے۔ اسلام میں اس قدر خوبیاں ہیں کہ یہ خیال بھی نہیں ہو سکتا کہ اگر اسلام کو کسی کے سامنے پیش کریں تو وہ اس کے ماننے سے انکار کر دے۔ میں نے اس بات پر بہت غور کیا ہے کہ جب اسلام اس خوبی کا مالک ہے تو پھر کیوں تمام کے تمام لوگ اسے مان نہیں لیتے۔ اس کی وجہ مجھے یہی معلوم ہوئی ہے کہ چونکہ غیر مسلم لوگوں کے کانوں میں بچپن سے اور باتیں پڑتی رہتی ہیں اور وہ اسلام کے خلاف باتیں سنتے رہتے ہیں اس لئے جب وہ اسلام کی تعلیم کو سنتے ہیں تو انکار کر دیتے ہیں۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ ایک ایم اے عیسائی تو اسلام کی خوبیاں نہ سمجھ سکے لیکن ایک مسلمانوں کے گھر پیدا ہونے والا جاہل سے جاہل یہی کہے کہ اسلام سچا مذہب ہے اور باقی سب جھوٹے ہیں۔ یہ شخص تو اس لئے یہ بات کہتا ہے کہ اس کے ماں باپ مسلمان تھے جن کی وجہ سے شروع سے ہی اس کے کانوں میں اسلام کا سچا ہونا ہی پڑتا رہا ہے اور وہ ایم۔اے اس لئے نہیں سمجھتا کہ ابتداء سے اس کے کانوں نے اور باتوں کو سنا ہے اور وہی اس پر اثر رکھتی ہیں۔ اب وہ ان کے خلاف نہیں سن سکتا۔ ایک عیسائی سے میری گفتگو ہوئی وہ کہنے لگا کہ کفارہ کے متعلق میں نے بڑی تحقیقات کی ہوئی ہیں آپ اس کے متعلق گفتگو کریں میں نے اسی کی نسبت باتیں شروع کیں۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد وہ یہ مان گیا کہ واقعی کفارہ خلاف عقل اور خلاف نیچر ہے۔ اب میں اسے صرف اس لئے مانتا ہوں کہ عیسائیوں کے گھر پیدا ہوا ہوں۔ پس بہت سے دینی کام ایسے ہوتے ہیں جو عادتاً کئے جاتے ہیں۔ حنفی مسلمان عموماً کھانا کھانے کے بعد ہاتھ اٹھا کر کچھ پڑھتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکریہ ادا کیا جائے تو بہت اچھی بات ہے لیکن ان میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں جنہیں معلوم بھی نہیں ہوتا کہ کیوں ہم ایسا کرتے ہیں۔ بھلا ایسے لوگوں کو اس طرح ہاتھ اٹھانے سے وہ ثواب مل سکتا ہے جو شکریہ کی نیت سے ہاتھ اٹھانے والے کو ملتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ کیونکہ ثواب تو سچے دل سے الحمد للّٰہ کہنے سے ہوتا ہے۔ لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ہم نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، حج کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ میں کہتا ہوں تم تو اپنی عادت پوری کرتے ہو پھر خدا تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ تمہیں ان سے فائدہ پہنچائے۔

پس تم یہ باتیں سن کر یہ نہ خیال کرنا کہ یہ چھوٹا سا لڈو ہے جو ہمارے سامنے رکھا گیا ہے کیونکہ گو کام ایک ہی ہوتا ہے مگر نیتوں اور ارادوں کے فرق سے نتائج میں فرق ہو جاتا ہے۔ اگر تم یہ اہمیت سمجھ لو اور یہ معلوم کر لو کہ کس طرح انسان ایک کام کرتا ہے لیکن ایک نیت سے اسے اور اجر ملتا ہے اور دوسری نیت سے اور۔ تو تم کامیاب ہو سکتے ہو۔ دیکھو مدینہ میں ایک وہ لوگ آئے تھے جو خدا تعالیٰ کے لئے آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہجرت کر کے آئے تھے گو اور لوگ بھی تو وہاں کاروبار کے لئے باہر سے آتے ہی ہوں گے۔ کیا ان کو بھی کوئی ثواب مل سکتا ہے؟ نہیں۔ ثواب کے مستحق تو وہی تھے جو خدا تعالیٰ کے لئے آئے تھے۔ کیونکہ مدینہ میں آنا کوئی ہستی نہیں رکھتا۔ صرف نیت کا اجر ہوتا ہے۔ نماز کا ثواب بھی اسی لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خوش کرنے اور اس کی رضا چاہنے کے لئے پڑھی جاتی ہے۔ روزہ بھی خدا تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لئے رکھا جاتا ہے زکوٰۃ کی بھی یہی غرض ہے۔ حج بھی اسی لئے کیا جاتا ہے۔ لیکن اب جبکہ لوگ ان باتوں کو عادت کے طور پر کرتے ہیں تو انہیں فائدہ کیونکر ہو۔

بعض آدمیوں کو ہاتھ یا کندھا ہلانے کی عادت ہوتی ہے بعض عادتاً اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ اور سبحان اللہ ۔ سبحان اللہ کہتے رہتے ہیں لیکن انہیں کوئی پتہ نہیں ہوتا کہ یہ کلمات ہم کیوں کہہ رہے ہیں۔ لیکن یہی اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ اگر کوئی نیت اور ارادہ کے ماتحت کہے تو ایک دن میں فرشتہ بن جاتا ہے۔ اور یہی سبحان اللہ اگر نیت اور ارادہ سے کہی جائے تو ایک دن میں انسان خدا رسیدہ ہو جاتا ہے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کَلِمَتَانِ خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر تو بڑے ہلکے معلوم ہوتے ہیں ایک منٹ میں انسان کہہ جاتا ہے۔ لیکن ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَانِ جب خدا تعالیٰ انہیں ترازو میں رکھے گا تو بڑے بوجھل ہوں گے یعنی اعمال کا پلڑا ان کے بوجھ سے نیچے جھک جائے گا۔ حَبِیْبَتَانِ اِلَی الرَّحْمٰنِ دو کلمے اللہ کو بہت ہی محبوب ہیں۔ اللہ ان کو سن کر بہت خوش ہوتا ہے اور وہ یہ ہیں۔ سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِیْمِ اب کئی آدمی ان کو پڑھتے رہتے ہیں مگر ان کے اعمال کی میزان کھڑی کی کھڑی ہی رہتی ہے۔ رسول اللہ تو فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ پڑھنے سے میزان ثقیل ہو جاتی ہے مگر یہاں ہزاروں دفعہ پڑھنے سے بھی اونچی ہی رہتی ہے کیوں؟ اس لئے کہ نیت نہیں ہوتی۔ زبان سے تو کہتے ہیں کہ خدا پاک ہے۔ لیکن ان کے دل میں اس کا خیال تک بھی نہیں آتا۔ وہ اس کی نعمتیں یاد کر کے شکر نہیں کرتے بلکہ صرف الفاظ رٹتے ہیں۔ تو کسی بات کی عادت بہت خراب کرتی ہے اور کچھ کا کچھ بنا دیتی ہے۔ خواہ وہ کیسی ہی اچھی کیوں نہ ہو۔ اچھی عادت تو الگ رہی جب کسی خطرناک بات کی عادت ہو جاتی ہے تو اس کا بھی ضرر مٹ جاتا ہے۔ بعض لوگ جن کو عادت ہوتی ہے تولہ تولہ سنکھیا کھا لیتے ہیں لیکن دوسرا کوئی تھوڑا سا بھی کھائے تو اس کی جان نکل جائے پس عادت نیکی اور بدی میں تمیز نہیں رہنے دیتی۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہیں کُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُہُمۡ بَدَّلۡنٰہُمۡ جُلُوۡدًا غَیۡرَہَا لِیَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ(النساء: ۵۷)۔ کہ دوزخ میں رہنے والوں کی جب کھالیاں پک جائیں گی تو ہم اور بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب محسوس کریں۔ اس سے خدا تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ جس بات کی عادت ہو جاتی ہے پھر اس کا احساس نہیں رہتا اور نہ وہ پہلے کی طرح مفید رہتی ہے۔ سر درد ایک بہت بڑی تکلیف ہے لیکن جب کسی کو عادت ہو جائے تو وہ بہت کم تکلیف محسوس کرتا ہے۔

ایک قصّہ

کسی شخص نے عادت سے احساسات کے کم ہو جانے کو ایک لطیف حکایت میں بیان کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے خدا تعالیٰ نے لوگوں کو کہا کہ تم جو کہتے ہو کہ ہماری یہ تکلیف بہت زیادہ ہے اور دوسروں کی کم ہے۔ آؤ تمہیں اجازت دی جاتی ہے کہ جو مصیبت تمہیں زیادہ تکلیف دہ معلوم ہوتی ہے اس کا دوسری سے تبادلہ کرلو۔ اس پر انہوں نے اپنے اپنے عیب پھینک دیئے ۔ اور ان کے تبادلہ میں اور لینے لگے ایک کے سر میں درد تھا اس نے وہ سر پھینک دیا اور اس کی بجائے ایک بیمار موٹاپاؤں لے لیا۔ ایک بہرہ تھا اس نے وہ کان پھینک کر اندھا ہونا پسند کیا۔ اسی طرح ہر ایک نے اپنی تکلیف کو دوسری اس تکلیف کے جو اس کے خیال میں کم تھی بدل لیا۔ جب اپنے اپنے گھروں کو چلے تو جس نے موٹاپاؤں لیا تھا وہ اس کو کھینچتا ہے لیکن وہ اٹھتا نہیں ۔ وہ جس نے بہرہ پن کی بجائے اندھا پن لیا تھا وہ کہتا ہے کہ کان نہ سنتے تھے تو کیا تھا اب تو کچھ سوجھتا ہی نہیں ہے وغیرہ وغیرہ ۔ پھر انہوں نے اپنی پہلی تکلیفوں کو ہی ہلکا سمجھا اور انہیں کے لینے کی خواہش کی۔ تو جس بات کی عادت ہو جائے اس کی تکلیف کم ہو جاتی ہے خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے کہ جب دوزخیوں کی جلدیں پک جائیں گی تو ہم ان کی جلدیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کو محسوس کرتے رہیں۔ جو لوگ عادتاً نیکی کا کوئی کام کرتے ہیں ان کو کوئی اجر نہیں مل سکتا۔ اسی لئے کسی کو جو عذاب ہوتا ہے جب اس کو اس کی عادت ہو جاتی ہے تو اس کی تکلیف بھی کم ہو جاتی ہے گویا عادت ایک پٹی ہے جو کسی زخم کو ڈھانپ لیتی ہے حالانکہ اس کے اندر گند ہوتا ہے۔ تم خوب یاد رکھو کہ عادت کی نماز نماز نہیں ہوتی۔ عادت کی زکوٰۃ زکوٰۃ نہیں ہوتی۔ عادت کا روزہ روزہ نہیں ہوتا۔ اور عادت کا حج حج نہیں ہوتا۔ کیا مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے لوگ نمازیں نہیں پڑھا کرتے تھے۔ زکوٰۃ نہیں دیا کرتے تھے روزہ نہیں رکھا کرتے تھے ۔ حج نہیں کیا کرتے تھے۔ سب کچھ تھا مگر ان کی نیتیں نہ تھیں ریاء تھا اس لئے انہیں کچھ فائدہ نہ ہوتا تھا لیکن تمہارے سب کاموں میں ایک ہی چیز مدِ نظر ہونی چاہئے اور وہ اللہ ہے۔ اگر تم اس بات پر عمل کرو گے تو تم روحانیت میں فوری تبدیلی دیکھو گے پس تم کسی بات کو عادت کے طور پر نہ کرو بلکہ نیت سے کرو۔

اسلام کیا چاہتا ہے

اسلام یہی چاہتا ہے کہ وہ عادت کو مٹائے اور یہی اس کا بڑا کام ہے۔ اسلام عادت کا دشمن ہے کیونکہ عادت کی وجہ سے کوئی نیکی نیکی نہیں رہ سکتی۔ اسلام کہتا ہے کہ جو کام انسان کرے رضائے الٰہی کے لئے کرے۔ تب جو چیز وہ چاہتا ہے اس کو مل جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ کُلًّا نُّمِدُّ ہٰۤؤُلَآءِ وَہٰۤؤُلَآءِ مِنۡ عَطَآءِ رَبِّکَ ؕ وَمَا کَانَ عَطَـآءُ رَبِّکَ مَحۡظُوۡرًا(بنی اسرائیل: ۲۱) ہم تو ہر ایک کو مدد دیتے ہیں۔ جو دنیا کے لئے کوشش کرتا ہے اس کو دنیا مل جاتی ہے اور جو اللہ کے لئے سعی کرتا ہے اسے اللہ مل جاتا ہے۔ اور یہ خدا تعالیٰ کی اپنی بخشش ہے اور تیرے رب کی بخشش کسی سے بند نہیں کی گئی۔ پس تم اللہ کے لئے کوشش کرو۔ تمہیں اللہ ضرور مل جائے گا۔

انسان کی روحانی ترقی کے مدارج

اللہ تعالیٰ نے انسانی روح کی ترقی کے سات مدارج قائم کئے ہیں۔ ان درجوں میں جو تفاوت اور کمی ہوتی ہے وہ انسان کی عادت کے لحاظ سے ہوتی ہے۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نماز کے متعلق فرماتا ہے لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنۡتُمۡ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعۡلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ(النساء: ۴۴) کہ نماز کے قریب بھی مت جاؤ جب تم نشے میں ہو۔ اب نشہ کے معنی یہی نہیں کہ شراب ہی سے کوئی مخمور ہو۔ شراب اس وقت بھی منع ہو گیا تھا اور اب بھی ہے تو جب اس کا پینا ہی منع ہے تو اس حکم کے کیا معنے ہوئے کہ کوئی پی کر مسجد میں نماز کے لئے نہ آئے۔ بے شک شرابی کے لئے بھی یہ حکم ہے کہ اگر تم شراب پیتے ہو تو ہماری مسجد میں نہ آیا کرو۔ اور یہ اسی طرح کا حکم ہے جس طرح ایک باپ اپنے نالائق بیٹے کو کہے کہ تم میں جب تک فلاں بری عادت ہے ہمارے گھر نہ آیا کرو۔ اسی طرح خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ شرابی ہماری مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے نہ آیا کرے۔ لیکن اس کے اور معنے بھی ہیں اور وہ یہ کہ جس طرح نشہ والا نہیں جانتا کہ میں کیا کر رہا ہوں اور کیا پڑھ رہا ہوں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اسی طرح تم عادت یا نشہ کے طور پر نماز نہ پڑھا کرو۔ اور تمہاری نماز نقل کے طور پر دوسروں کی دیکھا دیکھی نہ ہو بلکہ تم ہوش و خرد سے پڑھا کرو۔ تو عادت اور صرف نقل کے طور پر کوئی ایسا کام کرنا جس کی اصل غرض سے ناواقفیت ہو وہ بھی سکر ہی ہے۔ سکر کے اصل معنی تو شراب کے نشہ کے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی کلام کے کئی بطن ہوتے ہیں۔ پس ایک طرف تو اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ شراب پینے والا نماز کے قریب بھی نہ جائے اور دوسری طرف یہ بتایا ہے کہ عادت کے طور پر اور اصل غرض اور غایت سے ناواقف رہ کر نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ کیونکہ جس طرح ایک شرابی کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ایک غلیظ اور گندی نالی میں گرا ہوا ہے یا بڑے مکلف فرش پر بیٹھا ہوا ہے اسی طرح نماز کو عادت کے طور پر پڑھنے والا نہیں سمجھتا کہ وہ ایک عظیم الشان دربار میں کھڑا ہے یا کسی جنگل میں ہے۔ اسی لئے اس طرح نماز پڑھنے سے خدا تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔

اب میں بتاتا ہوں کہ قرآن شریف نے کس طرح روحانیت کے سات مدارج بتائے ہیں۔ ان مدارج میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح انسان ان کو چھوڑ کر تنزل کے گڑھے میں گرتا ہے۔ اور کس طرح ان کو طے کرنے کی وجہ سے اوپر ہی اوپر ترقی کرتا جاتا ہے اور جتنی جتنی اسے سمجھ آتی جاتی ہے اتنے ہی زیادہ اسے نیک نتائج اور اپنے اعمال کا بدلہ ملتا جاتا ہے۔

روحانیت کا پہلا درجہ

انسان کا پہلا درجہ جمادات سے مشابہ ہوتا ہے اور یہ بد ترین درجہ ہے۔ ایسے لوگوں کو بھلی بری بات کے پہچاننے کی حس ہی نہیں ہوتی۔ ان کے سامنے کوئی لاکھ شور مچائے ان کو کچھ بھی احساس نہیں ہوتا کیونکہ ان میں ترقی کرنے کا مادہ ہی نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں کو خواب اور الہام بھی نہیں ہوتا۔ ان کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالۡحِجَارَۃِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَۃً ؕ وَاِنَّ مِنَ الۡحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنۡہُ الۡاَنۡہٰرُ ؕ وَاِنَّ مِنۡہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخۡرُجُ مِنۡہُ الۡمَآءُ ؕ وَاِنَّ مِنۡہَا لَمَا یَہۡبِطُ مِنۡ خَشۡیَۃِ اللّٰہِ ؕ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ(البقرہ: ۷۵) یعنی یہ لوگ ایسے بگڑے کہ پتھروں کی طرح ہو گئے اور ان کے اندر ترقی کرنے کا کوئی مادہ نہ رہا۔ ایک چھوٹا سا بیج بھی جب زمین میں پڑ رہے اور اس کو پانی دیا جاتا ہے تو وہ بڑھ کر عظیم الشان درخت ہو جاتا ہے لیکن ایک پتھر سے کوئی لاکھ کوشش کرے۔ پھر بھی اس کو ذرا فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ تو انسانی روحانیت کا سب سے ادنیٰ درجہ وہ ہے کہ جس میں علم اور احساس ہی نہیں ہوتا۔ اسلام انسانوں میں ایسا احساس اور سمجھ پیدا کرنا چاہتا ہے کہ جو کام وہ کریں ان کو معلوم ہو کہ ہم کیا کر رہے ہیں لیکن اس درجہ کے انسان جو کہ میں نے بیان کیا ہے کچھ سمجھ نہیں رکھتے۔ زمانہ کے واقعات جس طرح الٹائے پلٹائے جاتے ہیں اسی طرح وہ بھی کرتے رہتے ہیں جب انہیں بھوک لگتی ہے پیٹ میں کچھ ڈال لیتے ہیں۔ نیند آتی ہے سو رہتے ہیں شہوت ہوتی ہے شہوت رانی کر لیتے ہیں۔ اس لئے یہ خدا تعالیٰ کے حضور کسی انعام کے مستحق نہیں ہوتے۔

روحانیت کا دوسرا درجہ

اس سے اوپر کا درجہ نباتات سے مشابہ ہے۔ اصل میں انسان کے جسم میں ساری چیزیں ہیں۔ بعض اجزاء جمادات کے ہیں بعض نباتات کے بعض حیوانات کے۔ چنانچہ انسان کی درست غذا ان تینوں چیزوں سے مرکب ہوتی ہے اور چونکہ غذا سے ہی جسم بنتا ہے اس لئے اس کے اعمال اور زندگی میں بھی ان کا اثر ہوتا ہے۔ لیکن کبھی روحانی خیالات حیوانات کے تلے دب جاتے ہیں اور انسان حیوانوں کی طرح ہو جاتا ہے اور کبھی حیوانیت کے جذبات نباتی قوٰی کے تلے دب جاتے ہیں اور وہ اور بھی گر جاتا ہے اور کبھی اس پر بھی جمادی رنگ اپنا اثر ڈال دیتا ہے اور انسان جمادات کا رنگ اختیار کر لیتا ہے اور سنگدل ہو جاتا ہے جس طرح پتھر کو کوئی جدھر چاہے پھینک دیتا ہے۔ اسی طرح دنیا کے واقعات اور حوادث اس کو لڑھکاتے رہتے ہیں اور ایسے انسان کو کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب انسان ترقی کی طرف قدم اٹھاتا ہے اور اس جمادی حالت کو ترک کر دیتا ہے تو اس کے اندر نباتات کے مشابہ ایک نشوونما کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے پس ایک تو وہ انسان ہوتے ہیں جو کہ پتھر کی طرح ہوتے ہیں اور ان میں احساس نہیں ہوتا۔ لیکن ایک نباتات کی طرح ہوتے ہیں جن میں کچھ احساس ہوتا ہے۔ اب بڑے تجربہ کے بعد یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ نباتات میں بھی روح ہوتی ہے گو حیوانی روح سے ادنٰی درجہ پر ہوتی ہے مگر ہوتی ضرور ہے۔ اس کے ثبوت کے لئے چھوئی موئی کی بوٹی جسے اردو میں لاجونتی کہتے ہیں پیش ہو سکتی ہے اس کے پتوں کو جب ہاتھ لگایا جائے تو وہ سکڑ جاتے ہیں۔ یہ پودا نباتات کے اس حصہ میں سے ہے جو اپنی قوت نشوونما میں ترقی کر کے حیوانی درجہ کے قریب ہو گئے ہیں اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ درختوں میں بھی حس ہوتی ہے گو بعض درختوں میں زیادہ ہوتی ہے اور بعض میں کم۔ اس طرح بعض اور نباتات حیوانات سے ملتے ہیں جیسے اسفنج کہ اس کی غذا بھی حیوانات سے بنتی ہے اور بعض تو اسے حیوان ہی کہتے ہیں گو سچ تو یہی ہے کہ وہ ایک ترقی یافتہ پودا ہے جو حیوانیت کی سرحد کے بہت قریب ہو گیا ہے۔ غرض ان نظائر سے معلوم ہوتا ہے کہ نباتات میں بھی حس ہوتی ہے لیکن حیوانات اور نباتات میں فرق یہ ہوتا ہے کہ ان میں حس تو ہوتی ہے لیکن کسی صدمہ سے بچنے کی طاقت نہیں ہوتی۔ لاجونتی کے پتے ہاتھ لگانے سے سکڑ تو جاتے ہیں لیکن ان میں یہ طاقت نہیں کہ بھاگ کر اپنے آپ کو بچا لیا کریں۔ اسی طرح ایک انسان اس قسم کا ہوتا ہے کہ اس کی کچھ روحانی حس تو باقی ہوتی ہے مگر وہ کسی حملہ سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا کیونکہ اس کی حس بہت خفیف سی ہوتی ہے چنانچہ قرآن شریف میں ایسے لوگوں کی طرف اس آیت میں اللہ تعالیٰ اشارہ فرماتا ہے وَاِنۡ تَدۡعُوۡہُمۡ اِلَی الۡہُدٰی لَا یَسۡمَعُوۡا ؕ وَتَرٰٮہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَیۡکَ وَہُمۡ لَا یُبۡصِرُوۡنَ(الاعراف: ۱۹۹) یعنی یہ مخالف لوگ ایسے ہیں کہ ان کو تو ہدایت کی طرف بلاتا ہے لیکن وہ سنتے نہیں ہیں تجھے وہ دیکھتے نظر آتے ہیں لیکن دراصل وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ سمع کے اصل معنے سننے کے ہیں مگر سننے کی غرض ماننا ہی ہوتی ہے اس لئے لَا يَسْمَعُوْا سے مراد یہی ہے کہ وہ مان نہیں سکتے اور ان میں ماننے کی طاقت ہی نہیں ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں کہ ان میں حس تو ہے مگر بچنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ان کی آنکھیں ہوتی ہیں مگر یہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔

تیسرا درجہ

اس سے اوپر اور درجہ ہے اور وہ حیوانی درجہ ہے اس میں انسان حیوان کی طرح ہوتا ہے یعنی نباتات سے زیادہ اس میں حس ہوتی ہے اس حالت میں اسے آواز سناؤ گے تو سن لے گا مگر مطلب نہیں سمجھے گا۔ اگر اسے دکھ دینے لگو گے تو بھاگ جائے گا مگر اپنے بچنے کے لئے ایسے ذرائع مہیا نہیں کر سکے گا جن کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے اس قسم کے ڈر سے محفوظ ہو جائے جیسا کہ انسان کو اگر کوئی چیز مضر لگتی ہے تو وہ ہمیشہ کے لئے اس کے دور کرنے کے ذرائع سوچتا رہتا ہے۔ لیکن حیوان میں ایجاد اور ترقی کا مادہ نہیں ہے اس قسم کے انسانوں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَہُمۡ قُلُوۡبٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ بِہَا ۫ وَلَہُمۡ اَعۡیُنٌ لَّا یُبۡصِرُوۡنَ بِہَا ۫ وَلَہُمۡ اٰذَانٌ لَّا یَسۡمَعُوۡنَ بِہَا ؕ اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ(الاعراف: ۱۸۰) ان کے دل ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ ان کو کام میں نہیں لاتے۔ ان کے کان ہیں مگر وہ ان سے نفع نہیں اٹھاتے۔ یہ تو سب کچھ ان کے پاس ہے لیکن ان کے پاس عقلِ انسانی نہیں بلکہ حیوانی عقل ہے۔ یہ خوف سے بھاگ تو جاتے ہیں لیکن اپنے آئندہ کے بچاؤ کے لئے کوئی صورت نہیں نکال سکتے۔ یعنی یہ کسی خوف اور ڈر کے وقت تو خدا تعالیٰ کے حضور میں گر پڑتے ہیں اور اس دکھ سے محفوظ ہو جاتے ہیں لیکن ہمیشہ کے لئے اپنے آپ کو محفوظ نہیں کر سکتے بلکہ جب کبھی ان پر مصیبت پڑتی ہے اس وقت خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

چوتھا درجہ

جب اس سے زیادہ احساس پیدا ہوتا ہے تو انسان ایک اور درجہ میں ہوتا ہے اور یہ درمیانی درجہ ہے کیونکہ تین درجے اس سے نیچے ہیں اور تین ہی اوپر ہیں۔ اس درجہ میں انسان کو ایک حد تک احساس پیدا ہو جاتا ہے اور یہ سب کام سمجھ اور ہوش سے کرتا ہے۔ مگر کبھی کبھی اس پر شیطان بھی غلبہ کر لیتا ہے۔ یعنی کبھی اسے بدی اپنی طرف کھینچ لے جاتی اور کبھی نیکی۔ ہاں بدی کا حملہ اس پر بہت کم کارگر ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں بدی کو بدی سمجھنے کی اہلیت پیدا ہو جاتی ہے۔ آدمی کی ایسی حالت کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمۡ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا فَاِذَا ہُمۡ مُّبۡصِرُوۡنَ(الاعراف: ۲۰۲) کبھی کبھی ایسے لوگوں کو شیطان اپنی طرف بھی کھینچتا ہے مگر وہ جھٹ ہوش میں آجاتے ہیں یہ ایسا انسانی درجہ ہے جس کے ساتھ نسیان لگا ہوا ہے اور دوسرے لفظوں میں اسے نفسِ لوامہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کبھی ان پر شیطان حملہ کرتا ہے تو وہ فوراً اللہ کی پناہ میں آجاتے ہیں اور یہی متقیوں کا کام ہے۔

پانچواں درجہ

پھر انسان اور ترقی کرتا ہے اور ترقی کرتا کرتا ملک بن جاتا ہے پھر وہ ایسا ہوشیار ہو جاتا ہے کہ کبھی بھی شیطان اس پر غالب نہیں آسکتا۔ اس کی معرفت الٰہی ایسی ترقی کر جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے تمام احکام پر وہ عمل کرتا ہے اور جس طرح ملائکہ يَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ کے ماتحت کام کرتے ہیں اسی طرح یہ انسان بھی خدا تعالیٰ کے سب حکموں کو پورا کرتا ہے اور اس پر کبھی غفلت کی نیند نہیں آسکتی۔ اس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اَفَمَنۡ یَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ الۡحَقُّ کَمَنۡ ہُوَ اَعۡمٰی ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ الَّذِیۡنَ یُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ وَلَا یَنۡقُضُوۡنَ الۡمِیۡثَاقَ وَالَّذِیۡنَ یَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَیَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ وَیَخَافُوۡنَ سُوۡٓءَ الۡحِسَابِ وَالَّذِیۡنَ صَبَرُوا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ رَبِّہِمۡ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً وَّیَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عُقۡبَی الدَّارِ جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآئِہِمۡ وَاَزۡوَاجِہِمۡ وَذُرِّیّٰتِہِمۡ وَالۡمَلٰٓئِکَۃُ یَدۡخُلُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ کُلِّ بَابٍ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَی الدَّارِ(الرعد: ۲۰ تا ۲۵) اے رسول وہ چیز جو تیرے اوپر اتری حق ہے جو اس بات کو جانتا ہے بھلا وہ کس طرح ایک اس اندھے کی طرح ہو سکتا ہے جو اس کو حق نہیں سمجھتا۔ ہماری باتوں سے اصل فائدہ تو وہی اٹھاتے ہیں جو اولوالالباب ہوتے ہیں یعنی جو عقل و دانائی سے بھرپور ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے عہدوں کو پورا کرتے ہیں ان کو توڑتے نہیں اور ان کو خدا تعالیٰ نے جو حکم دیئے ہوتے ہیں بجالاتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور یومِ حساب کی برائی سے انہیں ڈر ہوتا ہے اور وہ اپنے رب کی رضامندی چاہنے کے لئے صبر کرتے ہیں اور نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں اس میں سے جو کہ انہیں دیا گیا ہے پوشیدہ اور ظاہر طور پر۔ اور بدیوں کو نیکیوں کے ذریعے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور نیکیاں پھیلاتے ہیں۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جن کو جنت میں عمدہ بدلے دیئے جائیں گے۔ اور وہ جنت میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ پھر ان کا اتنا بڑا درجہ ہے کہ صرف انہیں کو درجے نہیں دیئے جائیں گے بلکہ ان کے رشتہ دار جنہوں نے تھوڑی نیکیاں کی ہوں گی ان کی وجہ سے ان کے درجے بھی بلند کئے جائیں گے۔ اور جہاں یہ ہوں گے وہاں ہی ان کے رشتہ دار بھی پہنچائے جائیں گے۔ یہ کیوں اس لئے کہ انہوں نے لوگوں کو نیک بنانے کی کوشش کی اور خدا تعالیٰ کے بندوں کو راہِ ہدایت پر لانے میں کوشاں رہے۔ اس کے بدلہ میں خدا ان سے صرف یہی سلوک نہیں کرے گا کہ ان کے درجے بلند کر دے گا بلکہ ان کے رشتہ داروں کا بھی ان کی وجہ سے بلند مرتبہ کر دے گا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جنت میں جس درجہ میں مَیں ہوں گا اس میں علیؓ اور فاطمہؓ ہوں گے۔ تو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ جس طرح یہ لوگ دنیا میں ہماری مخلوق کی خبرگیری کرتے رہے ہیں ہم اس کے بدلہ میں ان کے رشتہ داروں کو فائدہ پہنچا دیں گے۔

خدا تعالیٰ نے آگے کیا لطیف بات بیان فرمائی۔ جنس کو جنس سے محبت ہوتی ہے فرمایا جب یہ لوگ جنت میں پہنچیں گے تو ملائکہ بھاگتے ہوئے ان کے پاس آئیں گے چونکہ یہ لوگ بھی ملکوتی صفات رکھنے والے ہوں گے اس لئے فرشتوں کو ان سے محبت ہونی ضروری تھی پس فرشتے ایسے لوگوں کی طرف دوڑ پڑیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ اس سبب سے کہ تم نے صبر کیا۔ یہاں خدا تعالیٰ نے صاف طور پر ظاہر فرما دیا کہ یہ ملائکہ کے درجہ کے انسان ہوں گے ملائکہ کا درجہ کیا ہی اچھا ہے۔

چھٹا درجہ

پھر انسان اس سے بھی ترقی کرتا ہے اور جب اس میں احساس زیادہ پیدا ہوتا جاتا ہے تو وہ اور بلند ہوتا جاتا ہے پھر یہی نہیں کہ وہ اپنے آپ کو بدیوں سے بچاتا ہے بلکہ وہ یہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ میں تو کچھ چیز ہی نہیں ہوں۔ پس وہ اللہ کے ہاتھ میں اپنے آپ کو دے دیتا ہے ایسی حالت کے متعلق صوفیاء نے کہا ہے کہ انسان میں صفات الٰہیہ آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کے لئے قرآن شریف کہتا ہے۔ بَلٰی ٭ مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَہُوَ مُحۡسِنٌ فَلَہٗۤ اَجۡرُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ۪ وَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ(البقرہ: ۱۱۳) حضرت ابراہیم علیہ السلام جو کہ خدا تعالیٰ کے نبی تھے ان کو یہ درجہ حاصل ہو گیا تھا چنانچہ ان کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِذۡ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗۤ اَسۡلِمۡ ۙ قَالَ اَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(البقرہ: ۱۳۲) جب اللہ تعالیٰ نے کہا اَسْلِمْ تو حضرت ابراہیمؑ نے کہا اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ پس ایک تو انسان کا وہ درجہ تھا کہ ملائکہ میں تھا۔ اس درجہ میں وہ یہ سمجھتا تھا کہ میں بھی کچھ کر سکتا ہوں مجھے حکم دو میں کروں گا۔ مگر یہ ایک ایسی حالت ہے کہ انسان کہتا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں جس طرح آپ کی مرضی ہو اسی طرح مجھے چلائیے۔ اب جبکہ اس کو خدا چلائے گا تو جو کام اس سے ہوں گے وہ خدا تعالیٰ کے ہوں گے کیونکہ جس کے ہاتھ میں قلم ہو گی اسی کے نام سے چلے گی۔ لکھا ہے کہ ایک سپاہی اپنی تلوار کو اس زور سے مارتا تھا کہ گھوڑے کے چاروں پاؤں یک لخت کاٹ دیتا تھا۔ بادشاہ کے لڑکے نے جو اس کا یہ کام دیکھا تو اس سے کہا کہ یہ تلوار مجھے دے دیجئے۔ اس نے کچھ عذر کیا بادشاہ نے اس سپاہی کو کہہ کر وہ تلوار اس شہزادہ کو دلوا دی۔ جب اس شہزادہ نے وہ تلوار چلائی تو کچھ بھی اثر نہ ہوا۔ اس پر اس سپاہی نے کہا کہ میں اس وجہ سے یہ تلوار نہیں دیتا تھا کہ اس تلوار میں کوئی خاص جوہر تھا بلکہ یہ تو اس لئے گھوڑے کے چاروں پاؤں اڑا دیتی تھی کہ یہ میرے ہاتھ میں تھی۔ مجھے اب کوئی اور تلوار دے دی جائے تو اس سے بھی میں کاٹ دوں گا کیونکہ تلوار کی خصوصیت نہیں بلکہ میری ہے۔ یہی حال بندہ کا ہوتا ہے جب وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں دے دیتا ہے تو اس کے تمام کام خدا تعالیٰ کے کام ہی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض احمق جو اس بات کو نہیں سمجھتے جب ان کاموں میں روک ڈالتے ہیں تو ایسے تباہ ہوتے ہیں کہ ان کا کچھ باقی نہیں رہتا۔ اس درجہ کو پہنچنے والے انسان کو ملائکہ کے واسطہ کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ایک واقعہ لکھا ہے کہ حضرت جبرائیلؑ ان کے پاس آئے اور کہا کہ اگر آپ کو کوئی ضرورت ہے تو مجھے کہو۔ انہوں نے کہا اگر مجھے ضرورت ہو گی تو میں خدا تعالیٰ کو کہوں گا تمہیں کہنے کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا اچھا پھر آپ خدا سے دعا کریں۔ انہوں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ مجھے نہیں دیکھ رہا کہ میں دعا کروں۔ وہ جبکہ خود میری ہر ایک بات جانتا اور دیکھتا ہے تو پھر میں کیوں کہوں کہ مجھے فلاں ضرورت ہے آپ اسے پورا کر دیں۔ غرض انسان ترقی کرتے کرتے ملکوتی صفات سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے اور صفاتِ الٰہیہ کو اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ایک ہتھیار کی طرح کر دیتا ہے کہ خدا کے ہلائے سے ہلتا اور اس کے چلائے سے چلتا ہے ایسے انسان کا مقابلہ خدا تعالیٰ کا مقابلہ ہوتا ہے اور یہ شخص اپنے ہر کام کو اللہ تعالیٰ کی ہی رضا پر چھوڑ دیتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جس کی نسبت رسولِ کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ جو انسان ترقی کر کے خدا تعالیٰ کا مقرب ہو جاتا ہے خدا اس کی آنکھیں اس کے کان اور اس کے ہاتھ پاؤں ہو جاتا ہے جو اس کا دشمن ہوتا ہے وہ خدا کا دشمن ہوتا ہے اور جو اس کا دوست ہوتا ہے وہ خدا کا دوست ہوتا ہے یہی وہ درجہ ہے جس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے فرمایا کہ جو تیری طرف توجہ نہیں کرتا وہ میری طرف (اللہ) توجہ نہیں کرتا کیونکہ تُو تو میری صفات کا مظہر ہے اس لئے تیرا انکار میرا انکار ہے یہ وہ درجہ ہے کہ انسان بالکل خدا تعالیٰ کے قبضہ میں چلا جاتا ہے اس سے بڑھ کر ایک ہی اور درجہ ہے۔

اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلۡقًا اٰخَرَ(المؤمنون: ۱۵) پھر کیا پوچھتے ہو۔ وہ حالت تو بیان ہی نہیں ہو سکتی۔ اب بندہ کو ایک اور خلق میں بدل دیا جاتا

ساتواں درجہ

ہے اور ایک دفعہ پھر اسے اس کی طاقتیں واپس کی جاتی ہیں اور اگر پہلے درجہ میں خدا کے بلائے سے بولتا تھا تو اب اس کو وہ مقام دیا جاتا ہے اور اس کے نفس کے اندر ایسی طہارت پیدا ہو جاتی ہے کہ جو کچھ یہ کہتا ہے خدا تعالیٰ بھی اسی کے مطابق اپنے احکام جاری کر دیتا ہے تو یہ درجہ محبوبیت کا درجہ ہے۔ چنانچہ ایسے لوگوں کی بہت باتیں جو وہ اپنے اجتہاد سے کہتے ہیں خدا تعالیٰ ان کو بھی پورا کر دیتا ہے۔ اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ(3:32) اللّٰہُ وَیَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ(اٰل عمران: ۳۲) اے رسول ان کو کہہ دے کہ میں خدا کا محبوب ہوں اگر تم بھی اس کے محبوب بننا چاہتے ہو تو مجھ سے محبت کرو یہ حالت ایسی نہیں ہوتی کہ انسان صرف خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہوتا ہے بلکہ ایسی روحانیت ترقی کر جاتی ہے کہ خدا کے سوا کسی اور سے کچھ بھی اس کا تعلق نہیں رہتا۔ اور جب تک کوئی انسان اس میں سے ہو کر خدا تعالیٰ تک پہنچنے کی کوشش نہ کرے نہیں پہنچ سکتا۔ غرض کہ یہ احساسات کی ترقی کے درجے ہیں جو خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں بیان فرمائے ہیں ان میں جتنا کوئی انسان بڑھتا جاتا ہے اتنا ہی بلند ہوتا جاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی نوبت تو یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ فرماتے ہیں تَنَامُ عَیْنِیْ وَلَا یَنَامُ قَلْبِیْ(بخاری کتاب المناقب باب: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم تنام عینہ ولا ینام قلبہ) گو میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔ بعض دفعہ سو جاتے لیکن پھر اٹھ کر بلا وضوء نماز پڑھ لیتے کیونکہ آپ کو ایسی جلاء قلب عطا ہوئی تھی کہ سوتے ہوئے بھی آپ کے احساسات باطل نہ ہوتے تھے چنانچہ ایک دفعہ جب آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ تو خراٹے لے رہے تھے پھر بغیر وضوء کے آپ نے نماز شروع کردی اس پر آپ نے مذکورہ بالا جواب دیا کہ میری آنکھیں سوتی ہیں دل نہیں سوتا۔ رسول کریم ﷺ پر ایسی کشف کی حالت طاری رہتی کہ آپ اپنے پیچھے کھڑے ہوئے نمازیوں کی حالت معلوم کر لیتے تھے جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ غرض اس درجہ میں کبھی غفلت کا وقت نہیں آسکتا۔ اس درجہ کا ذکر خدا تعالیٰ نے اس طرح فرمایا ہے وَمَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی(النجم: ۴-۵) جو ہمارا بندہ ہو جاتا ہے وہ جو باتیں کرتا ہے وہ ہماری ہی باتیں ہوتی ہیں وہ اور کچھ نہیں کہتا۔ یہ انسانیت کے کمال کا درجہ ہے۔

پس میں تمہیں یہ ہدایت کرتا ہوں کہ اگر تم ترقی کرنا چاہتے ہو تو اپنے اندر احساس پیدا کرنے کی کوشش کرو۔ احساس کے نہ ہونے کی وجہ سے گناہ پیدا ہوتا ہے۔ دیکھو کنچنیاں بھی صدقہ دیتی ہیں خیرات کرتی ہیں لیکن کیا ان کو اجر مل جاتا ہے نہیں اس لئے نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے نہیں دیتیں۔ بلکہ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ اس طرح عذاب ٹل جایا کرتا ہے اس لئے وہ ایسا کرتی ہیں۔ اگر ان کے صدقے خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کی نیت سے ہوں اور خدا سے ڈر کر وہ ایسا کریں تو وہ زنا ہی کیوں کریں۔ رسول کریم ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کی نسبت فرمایا ہے کہ یہ نمازوں کی وجہ سے بڑا نہیں ہوا بلکہ اس کی وجہ سے ہوا ہے جو کہ اس کے دل میں ہے۔ نمازیں تو اور لوگ بھی پڑھتے تھے اب بھی غیر احمدی لوگ نمازیں پڑھتے ہیں لیکن کیا وہ صحابہؓ بلکہ ایک مؤمن کے درجہ کو بھی پہنچتے ہیں وہ تو کسی مؤمن کی جوتیوں کا تسمہ کھولنے کے بھی قابل نہیں ہیں بلکہ اکثر ان میں سے بدکار اور گندے ہیں۔ پس اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ نیک نہیں ہو سکتے۔ یہی ہے کہ ان میں احساس نہیں ہے۔ تم اپنے اندر احساس پیدا کرو۔ تمہارا کوئی کام عادتاً اور رسماً نہ ہو بلکہ سب کام خدا تعالیٰ کے لئے ہوں۔ اس کے متعلق جو تدابیر ہیں وہ بھی میں تمہیں بتائے دیتا ہوں تاکہ تمہیں آسانی ہو جائے لیکن اس سے پہلے میں یہ بتا دیتا ہوں کہ کئی لوگوں کو ایک دھوکا لگ جاتا ہے۔

غلط فہمی

اور وہ دھوکا یہ ہے کہ ادھر وہ بیعت کے لئے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہیں اور ادھر پوچھنے لگ جاتے ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ کیوں نظر نہیں آتا ان سے اگر پوچھا جائے کہ ایک شخص ایم اے کی ڈگری کتنے سالوں کے بعد حاصل کرتا ہے تو وہ کہیں گے کہ کم از کم ۱۶ سال کے بعد۔ تو ہم کہتے ہیں کہ جب دنیا کے علم کے لئے ۱۶ سال خرچ کرنے پڑے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا علم حاصل کرنے کے لئے ایک دن کے خرچ کرنے کے بعد ہی کیوں پوچھنے لگ جاتے ہو۔ پہلے دن ہی جو سکول جا کر کہے کہ میں ایم اے بن جاؤں تو وہ ہرگز نہیں بن سکتا۔ ایسے لوگ چند دن نماز پڑھتے ہیں تو پھر کہتے ہیں کہ کیوں خدا تعالیٰ ہماری تائید نہیں کرتا۔ کیوں ہمارے دشمن ذلیل اور خوار نہیں ہو جاتے لیکن کتنے تعجب اور حیرانی کی بات ہے کہ اتنی جلدی روحانیت میں کمال پیدا ہو جانے کی خواہش کی جاتی ہے۔ کھیت کے تیار ہونے کے لئے مہینوں انتظار کیا جاتا ہے ایم اے بننے کے لئے ۱۶ سال محنت اور کوشش کی جاتی ہے۔ بچہ نو مہینے کے بعد پیدا ہوتا ہے اور پھر کونسی ایسی چیز ہے جو بغیر محنت اور کوشش کے اور بغیر وقت کے میسر آسکتی ہے۔ ہر ایک بڑی نعمت کے ساتھ کچھ دکھ اور تکالیف بھی ہوتی ہیں۔ پس تم یاد رکھو کہ جس طرح دنیا کے تمام کاموں میں محنتیں اور متواتر محنتیں کرنی پڑتی ہیں اسی طرح دین کے کاموں میں بھی ہوتا ہے اور جس حد تک کوئی زیادہ محنت کرتا ہے اسی حد تک وہ زیادہ ثمرات حاصل کرتا ہے۔ کوئی کہے کہ پھر اسلام اور دوسرے مذاہب میں فرق کیا ہے جبکہ کامیابی انسان کی اپنی محنت اور کوشش پر ہے تو اس کو ہم بتاتے ہیں فرق یہ ہے کہ اگر ایک آدمی بٹالہ کی طرف جو سڑک جاتی ہے اس پر بٹالہ پہنچنے کے لئے چل پڑے تو خواہ وہ دو چار کوس چل کر تھک جائے پھر بھی پہنچ ہی جائے گا۔ لیکن اگر کوئی دوسری طرف چل پڑے تو خواہ ساری عمر ہی چلتا رہے پھر بھی کبھی بٹالہ نہیں پہنچ سکے گا۔ پس تم بھی اگر سیدھے راستہ پر جو کہ میں نے بتایا ہے چلو گے تو منزلِ مقصود تک پہنچو گے ورنہ نہیں پہنچ سکو گے۔ نیت کئے بغیر کبھی تمہیں خدا نہیں ملے گا۔ اور جو نیت کر لے گا اس کو رفتہ رفتہ مل ہی جائے گا۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَالَّذِیْنَ

جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(العنكبوت: ۷۰) کہ وہ لوگ جو ہمارے رستہ میں ہمارے متعلق اپنے نفس سے ہر وقت جہاد اور لڑائی کرتے ہیں اور بدی سے لڑتے ہیں ایسے لوگوں کو ہم اپنے تک پہنچنے والے راستوں پر پہنچائیں گے۔ اس جگہ ایک نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے اور وہ یہ کہ یہاں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے سُبُلَنَا یعنی ہمارے رستے لیکن ایک جگہ فرمایا ہے وَاَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیۡ مُسۡتَقِیۡمًا(الانعام: ۱۵۴) یعنی صرف یہی ایک راستہ ہے جو مجھ تک سیدھا پہنچتا ہے جس سے معلوم ہوا کہ بہت سے راستے جھوٹے ہوتے ہیں لیکن سُبُلَنَا سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تک پہنچنے کے بھی کئی راستے ہیں سو ان دونوں آیتوں میں یوں تطبیق ہوتی ہے کہ ایک کے بعد دوسرا راستہ آ جاتا ہے اور اس کے بعد تیسرا۔ اور اس طرح بہت سے راستے بن جاتے ہیں ورنہ ایک دوسرے کے مقابلہ میں بہت سے راستے نہیں ہیں۔ ہاں چونکہ ایک کے بعد دوسرا راستہ ہے اس لئے ان راستوں کے طے کرنے کے لئے سخت محنت کی بھی ضرورت ہو گی تب تم جا کر منزلِ مقصود پر پہنچو گے۔ پس اسی جہاد کرنے کی تمہیں ضرورت ہے۔ اس کیلئے قرآن نے جو طریق بتائے ہیں وہ میں بیان کرتا ہوں (۱) نماز ہے۔ پانچ وقت جو اللہ تعالیٰ کا نام لے اگر اس کی ذرا بھی نیت نیک ہو تو خدا اس کو کیا سے کیا بنا دیتا ہے۔ (۲) زکوٰۃ ہے۔ جو شخص سال میں ایک دفعہ اپنے مال میں سے خدا کے حکم کے ماتحت کچھ نکالتا ہے اس کے اندر اس بات کا احساس رہتا ہے کہ وہ اپنا مال خداوند تعالیٰ کے لئے قربان کر سکتا ہے۔ (۳) روزہ ہے۔ اس میں اپنے اوپر تکلیف اٹھا کر خدا تعالیٰ کی مرضی کو مقدم کرنے کا سبق ملتا ہے۔ (۴) حج ہے۔ اس سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی مرضی کے لئے عزیزوں، رشتہ داروں، وطن، مال و اسباب کو ہمیشہ کے لئے چھوڑنا پڑے تو انسان چھوڑ سکے۔

اللہ تعالیٰ نے اس کے علاوہ اور علاج یہ بتایا ہے کہ قرآن لوگوں کو ظلمتوں سے نکالتا ہے غفلت اور سستی تاریکی میں زیادہ ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ دن کو نیند کم آتی ہے۔ قرآن شریف کے مطالعہ سے ایک بیداری اور ہوشیاری پیدا ہو جاتی ہے۔ مگر اس کے مطالعہ کرنے میں بڑے غور اور تدبر کی بھی ضرورت ہے تاکہ ترجمہ کرنے میں انسان ٹھوکر نہ کھا جائے۔ تم قرآن شریف کا ترجمہ کرنے میں ان باتوں کو یاد رکھو (۱) کسی آیت کے ایسے معنی نہ کرو جو دوسری آیتوں کے خلاف ہوں۔ متشابہ آیات کو محکم کے ماتحت لا کر معنی کرنے چاہئیں (۲) کسی آیت کے ایسے معنی نہ کرو جو آنحضرت ﷺ کے بتائے ہوئے معنوں کے خلاف ہوں (۳) جو معنی لغتِ عرب کے خلاف ہوں وہ بھی نہ کرو (۴) جو معنی صرف و نحو کے خلاف ہوں وہ بھی نہ کرو۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ

کو صرف و نحو کی کیا پرواہ ہے وہ کسی کے بنائے ہوئے قاعدوں کا پابند نہیں ہے لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ کو پرواہ نہیں ہے لیکن ہم انسانوں کو تو ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی کلام ایسی نہیں ہے جو ہم سمجھ سکیں تو اس کا فائدہ کیا۔ قُلِ اللّٰہُ ۙ ثُمَّ ذَرۡہُمۡ(6:92) کے یہ معنے کہ اللہ منوا کر چھوڑ دو۔ منکرانِ خلافت کے امیر مولوی محمد علی صاحب نے صرف و نحو کی لاعلمی سے ہی کئے ہیں اللہ پر پیش ہے۔ لیکن زبر سمجھ لی گئی اور یہ معنی کر دیئے گئے (۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم اور عدل ہو کر آئے تھے ان کے کئے ہوئے معنوں کے بھی خلاف نہیں ہونے چاہئیں۔ (۶) جن معنوں کی کوئی آیت تصدیق نہ کرتی ہو اور وہ عقل کے خلاف ہوں وہ بھی نہ کرو۔ ہاں اگر نص صریح بتا دے تو پھر اس میں عقل کو مت دخل دو۔ البتہ جو استدلال کیا جائے اس میں عقل کا دخل ہونا چاہئے۔ (۷) کوئی معنے ایسے نہ کرو جو خدا تعالیٰ کے قول اور فعل میں فرق ڈالنے والے ہوں۔ میرا دل چاہتا تھا کہ میں اس پر مفصل تقریر کرتا کہ کس طرح قرآن شریف کے صحیح معنے کئے جاسکتے ہیں لیکن نہ وقت ہے اور نہ ہی بوجہ حلق کی تکلیف کے طاقت ہے اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو پھر سہی۔

پھر خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذۡکُرُوا اللّٰہَ ذِکۡرًا کَثِیۡرًا وَّسَبِّحُوۡہُ بُکۡرَۃً وَّاَصِیۡلًا ہُوَ الَّذِیۡ یُصَلِّیۡ عَلَیۡکُمۡ وَمَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخۡرِجَکُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؕ وَکَانَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَحِیۡمًا(الاحزاب: ۴۲-۴۴) یعنی اے مومنو! اللہ کو بڑا یاد کرو۔ اور صبح اور شام اس کی تسبیح کرو۔ وہی اللہ ہے جو تم پر رحمت کرتا ہے اور اس کے ملائکہ بھی تمہارے لئے دعا کرتے ہیں تاکہ تم کو ظلمات سے نور کی طرف نکالے اور اللہ مومنوں کے لئے بڑا رحیم ہے۔ رسول کریم ﷺ نے اس کے ماتحت کئی دعائیں مقرر فرمائی ہیں سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْمِ۔ اَللّٰهُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِيْ اِلَيْكَ وَ وَجَّهْتُ وَجْهِيْ اِلَيْكَ ......... رَهْبَةً وَّ رَغْبَةً اِلَيْكَ لَا مَلْجَاَ وَ لَا مَنْجٰى مِنْكَ اِلَّا اِلَيْكَ اٰمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِيْ اَنْزَلْتَ وَ نَبِيِّكَ الَّذِيْ اَرْسَلْتَ(بخاری کتاب الدعوات باب النوم علی الشق الایمن) اس دعا کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر مؤمن رات کو پڑھ کر سو رہے اور اس کے بعد کوئی کلام نہ کرے۔ تمہیں ترقی کرنے کے لئے ان کو ضرور پڑھنا چاہئے۔ اب میں اس کے معنی بیان کرتا ہوں انسان کہتا ہے کہ الٰہی میں اپنا سب کچھ آپ کے سپرد کرتا ہوں اپنی جان بھی آپ کے ہی حوالہ کرتا ہوں اب میں سونے لگا ہوں معلوم نہیں زندہ اٹھوں گا یا نہیں اس لئے اپنے سارے کام آپ کے حوالہ کئے دیتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ آپ ہی سے مجھے انعام ملے گا اور اگر میں اس کے خلاف کروں گا تو سزا ملے گی اور میرے لئے

اور کوئی جگہ نہیں ہے کہ بھاگ کر تیری سزاؤں سے بچ سکوں سوائے اس کے میرا کوئی چارہ نہیں کہ تجھ ہی سے مار کھا کر تیرے ہی آگے گروں۔ خدایا گواہ رہیو کہ جو کتاب آپ نے نازل کی ہے میں اس پر اور وہ نبی جو آپ نے بھیجا ہے اس پر ایمان لایا۔

غرض رسول کریم ﷺ نے اس قسم کے بہت سے اذکار مقرر فرمائے ہیں۔ مگر ہماری جماعت کی اس طرف بہت کم توجہ ہے تم اس طرف توجہ کرو۔ مگر نیت اور ارادہ ساتھ ہو سب کام خدا تعالیٰ کو مد نظر رکھ کر کرو اللہ تعالیٰ ہماری ساری جماعت کو اس بات کی توفیق دے کہ وہ نیک اور متقی ہو جائے۔ دنیا سے غفلت دور ہو اور لوگ پھر اس پیارے کا چہرہ دیکھ لیں جس کو دیکھ کر اور کسی کی طرف کوئی جانہیں سکتا۔ آمین

القول الفصل

(خواجہ کمال الدین صاحب کے رسالہ ”اندرونی اختلافات سلسلہ کے اسباب“ کا مدلّل جواب)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

القول الفصل

مجھے آج اکیس ۲۱؍ جنوری ۱۹۱۵ء کی شام کو خواجہ کمال الدین صاحب کا ایک رسالہ جو پچھلے دسمبر میں احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کی طرف سے چھاپ کر شائع کیا گیا ہے اور تمام احمدی جماعت میں مفت تقسیم کیا گیا ہے پڑھنے کا موقعہ ملا ہے۔ گو اس میں وہی باتیں دُہرادی گئی ہیں جن کا جواب بارہا ہماری طرف سے دیا جا چکا ہے لیکن چونکہ خواجہ صاحب بحث مباحثہ کے ایام کے بعد آئے ہیں اور ہندوستان آکر ان کا یہ پہلا وار ہے جو انہوں نے ہماری جماعت پر کیا ہے یا کم سے کم یہ ٹریکٹ اس لحاظ سے پہلا ہے کہ اس میں انہوں نے دلائل دینے کی بھی کوشش کی ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ مختصراً اس ٹریکٹ کا جواب دے دیا جائے۔ گو مجھے اس رسالہ کے پڑھنے کا دیر سے موقع ملا ہے اور اب ایک ماہ کے قریب اس کی اشاعت پر گذر گیا ہے لیکن چونکہ خواجہ صاحب اور ان کے دوست اس مضمون پر خاص فخر محسوس کرتے ہیں جو اس رسالہ میں درج ہے اس لئے محققین کو اصل واقعات سے واقف کرنے کے لئے میں مناسب خیال کرتا ہوں کہ اس کا جواب لکھ دوں۔ مزید تاخیر کو روکنے کے لئے میں نے اسی تاریخ کو صبح سے شام تک بیٹھ کر سارے رسالے کا جواب لکھ دیا ہے اور میں نے اس وقت تک کسی اور غیر ضروری کام کو ہاتھ نہیں لگایا جب تک اس کو پورا نہ کر لیا ہو۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ صداقت کی طالب روحیں اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گی۔

اس ٹریکٹ کے ۵۷ صفحات ہیں اور عام طور پر سارے ٹریکٹ میں اعتراض ہی اعتراض ہیں اور مختصر سے اعتراض کا جواب بھی اعتراض سے کسی قدر لمبا ہی ہوتا ہے لیکن چونکہ ان مباحث پر جن پر خواجہ صاحب نے قلم اٹھایا ہے پہلے کافی بحث ہو چکی ہے اس لئے میں یا تو انہی اعتراضات کا

جواب دوں گا جو کسی قدر جدّت رکھتے ہوں یا جن کے بیان کرنے میں خواجہ صاحب نے کوئی جدّت پیدا کر دی ہو اور باقی مضامین کا مختصر جواب دے کر ان کتب و اخبارات و رسالہ جات کی طرف اشارہ کر دوں گا جن میں اس مسئلہ کے متعلق پہلے بحث ہو چکی ہو۔ میں اس ٹریکٹ کا جواب خود اس لئے لکھتا ہوں کہ خواجہ صاحب نے اس میں بارہا مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں خود ان کے سوالات کا جواب دوں۔ اور حضرت مسیح موعودؑ کا حوالہ دیا ہے کہ آپ بھی خود جواب دیا کرتے تھے۔ اس لئے مجھے بھی آپ کی پیروی کرنی چاہئے مجھے اس بحث سے سروکار نہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ اپنے مخالفین کے اعتراضوں کا کس حد تک خود جواب دیا کرتے تھے اور کس حد تک اپنی جماعت پر اس کام کو چھوڑ دیتے تھے اور پھر کس حد تک مخالفین کے اعتراضوں کو نظر انداز ہی کر جایا کرتے تھے کیونکہ ان باتوں میں پڑنے سے اصل مضمون خبط ہو جاتا ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ ایک دفعہ خواجہ صاحب کے اس مطالبہ کو بھی پورا کر دوں اور پھر دیکھوں کہ خواجہ صاحب کہاں تک اس بات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

خواجہ صاحب نے اس ٹریکٹ کے پہلے اور دوسرے صفحہ پر اپنے بعض اعتقاد لکھے ہیں اور چونکہ ان میں سے بعض خود حضرت مسیح موعودؑ کے الفاظ میں ہیں۔ کسی احمدی کو ان سے انکار کرنے کی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ جب کسی اختلافی مسئلہ پر انسان کچھ لکھے تو اس کے دونوں پہلوؤں کو مد نظر رکھنا چاہئے ہم مانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے لکھا ہے کہ ”حضرت محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ پر ختم ہوئی۔“۔ ”ہمارے نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خاتم الانبیاء ہیں۔ اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا نیا ہو یا پرانا ہو اور قرآن کریم کا ایک شدّ و شوشہ یا نقطہ منسوخ نہیں ہو گا۔ ہاں محدث آئیں گے جو اللہ جلشانہ سے ہم کلام ہوتے ہیں اور نبوت تامہ کے بعض صفات ظلی طور پر اپنے اندر رکھتے ہیں اور بلحاظ بعض وجوہ شان نبوت کے رنگ سے رنگین کئے جاتے ہیں“۔ ”جو اس کی کتاب قرآن شریف کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے۔ اور اس کے رسول حضرت محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کو درحقیقت خاتم الانبیاء سمجھتا ہے اور اس کے فیض کا اپنے تئیں محتاج جانتا ہے پس ایسا شخص خدا کی جناب میں پیارا ہو جاتا ہے اور خدا کا پیار یہ ہے کہ اس کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس کو اپنے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف کرتا ہے اور اس کی حمایت میں اپنے نشان ظاہر کرتا ہے اور جب اس کی پیروی کمال کو پہنچتی ہے تو ایک ظلی نبوت اس کو عطا کرتا ہے جو نبوت محمدیہ کا ظل ہے یہ اس لئے کہ تا اسلام ایسے لوگوں کے وجود سے تازہ رہے اور تا اسلام ہمیشہ مخالفوں پر غالب رہے۔“ لیکن ساتھ ہی حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے اس تمام کلام کی تشریح خود ہی کر دی ہے اور متکلم سے زیادہ کس شخص کا حق ہو سکتا ہے کہ وہ اس کے کلام کی تشریح کرے جب خود حضرت مسیح موعودؑ اپنے کلام کی ایک تشریح فرماتے ہیں تو اب کسی دوسرے کو اس پر قلم اٹھانے کی اجازت نہیں۔ تصنیف را مصنف نیکو کند بیان۔ آپ نے جو معنے اپنے کلام کے کئے ہیں وہی درست اور راست ہیں اور جو معنے آپ کے کلام کے خلاف ہوں ان کو آپ کی طرف منسوب کرنا ایک ظلم عظیم ہے یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص کہہ دے کہ جو کچھ حضرت مسیح موعودؑ نے لکھا ہے وہ غلط اور نادرست ہے۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص کہہ دے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے مسیح موعودؑ کے تحریر کردہ مضمون کے علاوہ کچھ اور معارف بھی سمجھائے ہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا اور کبھی نہیں ہو سکتا کہ حضرت مسیح موعودؑ اپنے ایک کلام کی خود ہی تفسیر فرما دیں اور کوئی شخص آپ کے اسی کلام سے آپ کی تفسیر و تشریح کے خلاف ایک اور ہی معنے لے کر اس تحریر کو اپنے کسی مطلب کے لئے سند کے طور پر پیش کرے۔ کوئی عقلمند انسان اس منشائے مصنف کے خلاف تفسیر و تشریح کو قبول نہیں کر سکتا اور اسی لئے ہم بھی اس نتیجہ سے خواجہ صاحب سے متفق نہیں ہو سکتے جو انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کی بعض تحریروں سے نکالا ہے کیونکہ دوسرے مقامات پر خود حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی ان تحریرات کی ایک تشریح فرمادی ہے اور وہ قاعدہ کلیہ کے طور پر بیان فرمائی ہے اور لکھ دیا ہے کہ جہاں کہیں بھی میں نے اپنی نبوت سے انکار کیا ہے وہاں میری مراد ایسی نبوت سے تھی جس کا مدعی نئی شریعت لائے یا آنحضرتﷺ کی اتباع کے بغیر نبوت کا درجہ حاصل کرے ورنہ غیر تشریعی اور ایسے نبی ہونے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا جو آنحضرتﷺ کی کامل اتباع سے نبی بن جائے چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:۔ ”جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسولؐ مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔ اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا“

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۶، ۷، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۱۰ ، ۲۱۱)

آپ کی ان تحریرات سے صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ نے اپنے نبی ہونے سے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ جب انکار کیا ہے لوگوں کی اس خود ساختہ اصطلاح سے کیا ہے جو آج کل کے مسلمانوں میں عام طور پر رائج ہو گئی ہے اور وہ یہ کہ نبی وہی ہوتا ہے جو شریعت لائے یا جس کی نبوت بلا واسطہ ہو اور جو کسی کی امت میں نہ ہو پس خود حضرت مسیح موعود کی تشریحات کے مطابق حضرت مسیح موعودؑ اس قسم کے اصطلاحی نبی ہونے سے انکار کرتے ہیں جو عوام کے خیالات کے مطابق نبی کہلا سکتا ہے اور اس کی وجہ یہ پیش آئی کہ اگر آپ بغیر تشریح کے نبی کا دعویٰ کرتے تو عوام میں جو غلط خیالات پھیلے ہوئے تھے کہ نبی یا تو شریعت لائے یا یہ کہ ہر ایک پہلے نبی سے اس کی نبوت آزاد ہو ان کے مطابق وہ لوگ آپ کے دعویٰ کا مفہوم سمجھ لیتے اور اس طرح ان کو خواہ مخواہ دھوکا لگتا۔ پس آپ نے تشریح کر کے بتایا کہ میں تمہارا اصطلاحی نبی تو نہیں ہوں۔ مگر خدا تعالیٰ کی اصطلاح کے مطابق نبی ہوں۔ جیسا کہ آپ اپنی نبوت کے متعلق فرماتے ہیں کہ:

”ہر ایک شخص اپنی گفتگو میں ایک اصطلاح اختیار کر سکتا ہے لِكُلٍّ اَنْ يَّصْطَلِحَ سو خدا کی یہ اصطلاح ہے جو کثرتِ مکالمات و مخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے“ (چشمہٴ معرفت صفحہ ۳۲۶، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۴۱)

اسی طرح فرماتے ہیں کہ نبیوں کی اصطلاح کے رو سے بھی میں نبی ہوں۔ جیسا کہ فرماتے ہیں:

”اور جبکہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو۔ اور کھلے طور پر امورِ غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے۔“ (الوصیت صفحہ ۱۳، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۱۱)

اسی طرح فرماتے ہیں کہ میں قرآن کریم کی اصطلاح کے مطابق نبی ہوں:۔

”جس کے ہاتھ پر اخبارِ غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے بالضرور اس پر مطابق آیت فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ(الجن: ۲۷) کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا۔ اسی طرح جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا جائے گا اسی کو ہم رسول کہیں گے“ (اشتہار ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۴۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۸)

اسی طرح آپ کی تحریرات سے ثابت ہے کہ پہلے انبیاء بھی اسی لحاظ سے نبی اور رسول کہلاتے تھے جس لحاظ سے آپ اپنے آپ کو نبی کہتے ہیں:۔ ”یہ ضرور یاد رکھو کہ اس امت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پا چکے ہیں۔ پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جنکے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے“۔(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵ حاشیہ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۹) اسی طرح اسلام کی اصطلاح میں نبی جس شخص کا نام ہوتا ہے اس کی نسبت فرماتے ہیں:۔ ”خدا نے قدیم سے اور جب سے کہ انسان کو پیدا کیا ہے یہ سنت جاری کی ہے کہ وہ پہلے اپنے فضلِ عظیم سے جس کو چاہتا ہے اس پر روح القدس ڈالتا ہے اور پھر روح القدس کی مدد سے اس کے اندر اپنی محبت پیدا کرتا ہے اور صدق و ثبات بخشتا ہے اور بہت سے نشانوں سے اس کی معرفت کو قوی کر دیتا ہے اور اس کی کمزوریوں کو دور کر دیتا ہے یہاں تک کہ وہ سچ مچ اس کی راہ میں جان دینے کو تیار ہوتا ہے... اور ایسے شخص میں ایک طرف تو خدا تعالیٰ کی ذاتی محبت ہوتی ہے اور دوسری طرف بنی نوع کی ہمدردی اور اصلاح کا بھی ایک عشق ہوتا ہے اسی وجہ سے ایک طرف تو خدا کے ساتھ اس کا ایسا ربط ہوتا ہے کہ اس کی طرف ہر وقت کھینچا چلا جاتا ہے اور دوسری طرف نوعِ انسان کے ساتھ بھی اس کو ایسا تعلق ہوتا ہے جو انکی مستعد طبائع کو اپنی طرف کھینچتا ہے جیسا کہ آفتاب زمین کے تمام طبقات کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے اور خود بھی ایک طرف کھینچا جا رہا ہے۔ یہی حالت اس شخص کی ہوتی ہے ایسے لوگوں کو اصطلاحِ اسلام میں نبی اور رسول اور محدث کہتے ہیں اور وہ خدا کے پاک مکالمات اور مخاطبات سے مشرف ہوتے ہیں اور خوارق ان کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں اور اکثر دعائیں ان کی قبول ہوتی ہیں اور اپنی دعاؤں میں خدا تعالیٰ سے بکثرت جواب پاتے ہیں“ (لیکچر سیالکوٹ صفحہ ۲۲-۲۳، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۲۴، ۲۲۵) اس بات پر مزید روشنی ڈالنے کے لئے اس امر کو بھی پیش کیا جا سکتا ہے کہ گو آپ رسول اور نبی کو ایک ہی خیال فرماتے تھے اور ان دونوں ناموں میں فرق نہ فرماتے تھے لیکن آج کل کے مسلمانوں میں سے ایک جماعت میں چونکہ یہ غلط خیال بھی پھیلا ہوا ہے کہ نبی اور رسول میں فرق ہوتا ہے اور رسول وہ ہے جو شریعت لائے اور نبی وہ جو ہر ایک پہلے نبی کی اطاعت سے آزاد ہو۔ اس لئے آپ نے کبھی کبھی لوگوں کے اس خیال کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ میں رسول نہیں ہوں لیکن وجہ وہی بتائی ہے کہ میں کوئی کتاب نہیں لایا۔ چنانچہ فرماتے ہیں:۔

من نیستم رسول و نیاورده ام کتاب

اس مصرعہ سے صاف پتہ لگتا ہے کہ آپ نے رسالت کا انکار کس لحاظ سے کیا ہے اسی مفہوم کے لحاظ سے جو لوگوں میں غلط طور پر رسول کی نسبت پایا جاتا ہے جیسا کہ اس مصرعہ کی تشریح میں آپ خود فرماتے ہیں:۔

”میرا یہ قول ؎من نیستم رسول و نیاورده ام کتاب۔ اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں“ (اشتہار ایک غلطی کا ازالہ صفحہ۷‘ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۱۱)

پس اس انکار سے فائدہ اٹھا کر یہ اعلان کرنا کہ حضرت مسیح موعودؑ مجددوں میں سے ایک مجدّد ہیں اور ماموروں میں سے ایک مامور ہیں اور ایسے ہی نبی ہیں جیسے کہ اور بزرگ نبی کہلا سکتے ہیں سخت ظلم اور تعدی ہے جس کا نشانہ اور بھی کوئی نہیں وہ خدا کا مسیح ہے جس کے ہم پر اس قدر احسانات اور انعامات ہیں کہ ہم ان کا شکریہ ادا کرنے کی بھی طاقت نہیں رکھتے۔ حضرت مسیح موعودؑ تو صاف لکھتے ہیں کہ اس امت میں میرے سوا اور کوئی شخص نبی کہلانے کا مستحق نہیں جیسا کہ آپ فرماتے ہیں:۔

”جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔ اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں“ (حقیقۃ الوحی ــــــــ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۶، ۴۰۷)

اور آپ لکھتے ہیں کہ ایسی نبوت میں حضرت مسیح موعودؑ کے شریک سید عبدالقادر جیلانیؒ، جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہما اور دیگر بزرگ بھی ہیں ہم یہ مانتے ہیں کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے لکھا ہے پچھلے مجددین اور مامورین کمالاتِ نبوت محمدیہ سے حصہ پاسکتے تھے لیکن وہ نبی نہیں کہلا سکتے کیونکہ کمالات سے حصہ پانا ایک اور شئے ہے اور وہ درجہ حاصل کرنا ایک اور شئے ہے خواب بھی نبوت کا چھیا لیسواں حصہ ہے ایک شخص کو اگر سچی خوابیں یا الہام ہوتے ہوں تو اس کی نسبت ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسے کمالاتِ نبوت سے حصہ ملا ہے مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ نبی ہو گیا۔ کیونکہ نبی وہی ہو گا جو ان کمالات میں سے اس قدر حصہ پائے جس پر اس کا نام نبی رکھا جا سکے سو ہم مسیح موعودؑ کے ہم زبان ہو کر اقرار کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں ایسے بہت سے مجددین کا وعدہ تھا جو کمالاتِ نبوت سے حصہ پائیں گے جیسا کہ آپ فرماتے ہیں:۔

”اور خلیفہ کے لفظ کو اشارہ کے لئے اختیار کیا گیا کہ وہ نبی کریمؐ کے جانشین ہوں گے اور اس کی برکتوں میں سے حصہ پائیں گے جیسا کہ پہلے زمانوں میں ہوتا رہا“

(شہادت القرآن صفحہ ۴۴ ـــــ روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۳۳۹) لیکن جیسا کہ میں ابھی بتا چکا ہوں کمالات سے حصہ پانا اور شئے ہے اور نبی کہلانا ایک اور شئے ہے۔ جب کسی چیز کا کوئی نام رکھا جاتا ہے تو اس کے لئے ایک حد مقرر ہوتی ہے جب تک انسان اس حد تک نہ پہنچ جائے وہ اس نام سے موسوم نہیں ہو سکتا جیسا کہ ایک شخص مثلاً ایم اے کی سب کتابوں میں سے تھوڑا تھوڑا پڑھ لے اور امتحان میں شریک ہو کر ہر پرچہ میں سے کچھ کچھ نمبر بھی حاصل کر لے تو وہ ایم اے اس دلیل کی بناء پر نہیں کہلا سکتا کہ اس نے ہر پرچہ میں سے کچھ کچھ نمبر حاصل کر لئے ہیں اسی طرح نبوت کے کمالات اور برکات و انعامات ہیں جب انسان ولایت کے اس مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے جس کے آگے نبوت کا درجہ شروع ہوتا ہے تو ایسا شخص بوجہ مقامِ نبوت کے قرب کے نبوت کے تمام کمالات اور برکات اور انعامات میں سے حصہ پاتا ہے۔ لیکن وہ حصہ اس قدر نہیں ہوتا کہ اس کو نبی کہہ سکیں اور یہی درجہ صدیقوں کا درجہ کہلاتا ہے جیسا کہ پہلے مجددین نے اس امر پر بحث کی ہے۔ اور شاہ ولی اللہ صاحبؒ لکھتے ہیں کہ صدیق وہی ہوتا ہے جو نبوت کے کمالات حاصل کر لیتا ہے لیکن اس قدر حصہ نہیں پاتا کہ اسے نبی کہا جا سکے۔ پس حضرت مسیح موعودؑ کے اس حوالہ سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایسے اشخاص جو صدیقیت کے رتبہ پر پہنچ جائیں۔ اسلام میں بہت سے گزرے ہیں لیکن نبی کہلانے والا صرف مسیح موعود ہی ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ حقیقت الوحی کے صفحہ ۳۹۰ میں فرماتے ہیں:۔

”اگر دوسرے صلحاء جو مجھ سے پہلے گذر چکے ہیں وہ بھی اسی قدر مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ اور امور غیبیہ سے حصہ پا لیتے تو وہ نبی کہلانے کے مستحق ہو جاتے۔ تو اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی میں ایک رخنہ واقع ہو جاتا۔ اس لئے خدا تعالیٰ کی مصلحت نے ان بزرگوں کو اس نعمت کو پورے طور پر پانے سے روک دیا۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہو گا وہ پیشگوئی پوری ہو جائے“۔ (روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۴)

پس ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پہلے خلفاء بھی کمالات نبوت سے حصہ پانے والے تھے۔ لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں وہ نبی نہیں کہلا سکتے تھے۔

”اگر تمام خلفاء کو نبی کے نام سے پکارا جاتا تو امرِ ختمِ نبوت مشتبہ ہو جاتا۔ اور اگر کسی ایک فرد کو بھی نبی کے نام سے نہ پکارا جاتا تو عدمِ مشابہت کا اعتراض باقی رہ جاتا۔ کیونکہ موسیٰؑ کے خلفاء نبی ہیں۔ اس لئے حکمتِ الٰہیہ نے یہ تقاضا کیا کہ پہلے بہت سے خلفاء کو برعایت ختمِ نبوت بھیجا جائے اور ان کا نام نبی نہ رکھا جائے۔ اور یہ مرتبہ ان کو نہ دیا جائے تا ختمِ نبوت پر یہ نشان ہو۔ پھر آخری خلیفہ یعنی مسیح موعود کو نبی کے نام سے پکارا جائے تا خلافت کے امر میں دونوں سلسلوں کی مشابہت ہو جائے“ (تذکرۃ الشہادتین صفحہ ۴۵، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۵)

امت محمدیہ میں اب تک کوئی انسان خواہ اس نے کتنا ہی بڑا درجہ کیوں نہ پایا ہو خواہ وہ صحابہؓ میں سے ہو یا غیر صحابہ میں سے۔ نبی نہیں کہلا سکتا۔ سوائے حضرت مسیح موعودؑ کے۔ کہ صرف ان کو خدا تعالیٰ نے اس عہدہ پر مامور کیا ہے اور آنحضرت ﷺ کی امت میں سے کوئی شخص اب تک اس انعام میں ان کا شریک نہیں ہوا۔

اس تحریر کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ امت محمدیہ میں سے وہ کون سا انسان ہے جس کی نسبت پہلے انبیاء نے خبریں دی ہیں وہ کون سا انسان ہے جس کی بعثت کی نسبت مسیح ناصری سا اولوالعزم نبی کہتا ہے کہ وہ میری ہی بعثت ہوگی۔ جس کا نام خود آنحضرت ﷺ نے نبی رکھا۔ حالانکہ جس قدر اولیاء اب تک گذرے ہیں۔ ان میں سے کسی کا نام بھی نبی نہیں رکھا وہ کون سا انسان ہے جس کو خدا تعالیٰ نے بار بار الہامات میں نبی اور رسول کہا اور جس نے اس نام کو دنیا میں پیش کر کے اعلان کیا کہ میں خدا کا نبی ہوں۔ ہاں میری نبوت آنحضرت ﷺ کے فیضان سے ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ ایسا انسان صرف مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ اور اس امت میں اب تک ایک انسان بھی ایسا نہیں گذرا جس میں یہ صفات جمع ہوں۔

خواجہ صاحب اپنے اس مضمون میں ایک طرف تو یہ تحریر فرماتے ہیں کہ غیر معتبر باتوں پر اعتبار نہیں ہونا چاہئے۔ غیر ذمہ دار لوگوں کی باتوں کو روکنا چاہئے۔ آرام سے فیصلہ کرنا چاہئے۔ لیکن اسی رسالہ میں خود وہی ٹھوکریں کھائی ہیں۔ جن سے لوگوں کو ہوشیار کرتے تھے اور خیالی اور سنی سنائی باتوں پر بہت زور دیا ہے گو کہیں کہیں ڈر کر یہ بھی لکھ دیا ہے کہ میں نے یہ باتیں سنی ہیں۔ لیکن کیا انصاف یہی چاہتا تھا کہ وہ ایسی احتیاط کی لوگوں کو تاکید کرتے ہوئے خود ایسی بے احتیاطی سے کام لیتے۔ آپ ہی اپنے قول پر عمل پیرا نہ ہوئے تو دوسرے پر آپ کے کلام کا کیا اثر پڑے گا۔ کیا یہ بات قابلِ تعجب نہیں کہ ایک طرف تو خواجہ صاحب نیتوں پر حملہ کرنے سے روکتے ہیں۔ اور دوسری طرف خود ہی تحریر فرماتے ہیں کہ ”یہ سمجھ لینا کوئی مشکل امر نہیں کہ کیوں یہ عقائد وجود میں آئے۔ جب حضرت میاں صاحب کے مریدین نے آیت استخلاف کا مصداق آپ کو سمجھا تو پھر یہ بھی ضروری ہوا کہ آپ کو کسی مستقل نبی کا خلیفہ قرار دیا جاوے قدرتاً ذہن اس طرف منتقل ہوئے کہ مرزا صاحب مستقل نبی ہونے چاہئیں۔ بات یہ ہے کہ میاں صاحب کی خلافت سے انکار کرنے والے تب ہی فاسق بن سکتے ہیں۔ جب میاں صاحب کو کسی مستقل نبی کا خلیفہ قرار دیا جاوے اور وہ ہو نہیں سکتا۔ جب تک ختم نبوت سے انکار کر کے حضرت مرزا صاحب کو مستقل نبی نہ بنایا جاوے“ (صفحہ ۶۵) اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ جس احتیاط کی خواجہ صاحب دوسروں کو تاکید کر رہے تھے۔ اس پر خود عامل نہیں ہوئے۔ اور ہمارے سب اعتقادات کی بنیاد صرف خود غرضی پر رکھ دی۔ گویا ان کے خیال میں جس قدر مسائل میں ہمیں ان سے اختلاف ہے اس کی اصل وجہ اپنی خلافت کو ثابت کرنا ہے اور ہمارے دل میں اس قدر بھی ایمان نہیں کہ خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے دین کو بھی اپنی خود غرضیوں کی لپیٹ سے باہر رکھ سکیں جو کہ حد درجہ کی شقاوت پر دلالت کرتا ہے مگر مجھے اس بات کے جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ اس کا جواب وہی دے گا جو دلوں کا حال جانتا ہے۔ کیونکہ دلی خیالات پر جب بحث ہو تو انسان اس موقعہ پر کچھ فیصلہ نہیں کر سکتا۔ اس وقت خدا تعالیٰ ہی فیصلہ کر سکتا ہے۔

مگر میں پوچھتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول بھی اسی آیت سے اپنی خلافت کا استدلال کیا کرتے تھے اور بیسیوں بار آپ نے ایسا فرمایا ہے اور مجھے یقین ہے کہ آپ نے بھی ان سے ایسا سنا ہو گا۔ اگر نہیں سنا تو بعض غیر مبائعین میں سے آپ کے سامنے ضرور یہ شہادت دے سکتے ہوں گے کہ انہوں نے حضرت خلیفہ اول کو اس آیت سے اپنی خلافت کے متعلق استدلال کرتے ہوئے سنا ہے۔ اس سوال کو چھوڑ کر کہ وہ بھی انسان تھے غلطی کر سکتے تھے۔ لوگوں کا حق ہے کہ وہ آپ سے دریافت کریں کہ آپ کے مقرر کردہ قاعدہ کے لحاظ سے کیا وہ بھی حضرت مرزا صاحب کو مستقل نبی مانتے تھے کیونکہ بقول آپ کے اس آیت سے انہی خلفاء کی خلافت کی تائید میں استدلال ہو سکتا ہے جو مستقل نبی کے جانشین ہوں اور حضرت خلیفہ اول اس آیت سے اپنی خلافت پر استدلال کیا کرتے تھے۔ پس اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت خلیفہ اول بھی (آپ کے پیش کردہ اصل کے ماتحت) حضرت مسیح موعود کو مستقل نبی مانتے تھے۔ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذَالِكَ۔

پھر ایک یہ بھی سوال ہے کہ قرآن کریم کی وہ کون سی آیت ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خلفاء صرف مستقل نبی کے ہوا کرتے ہیں یہ تو ایک دعویٰ ہے جو دلیل کا محتاج ہے۔ اگر آپ اس آیت کو پیش کریں تو اس پر غور ہو سکتا ہے ورنہ خود ہی ایک دعویٰ کرنا اور اس کو دلیل کے طور پر پیش کرنا انصاف سے بعید ہے قرآن کریم میں کہیں نہیں آیا کہ خلافت صرف حقیقی نبی یا مستقل نبی

کے بعد ہوتی ہے۔ اور اس نبی کے بعد جو کسی دوسرے نبی کی اتباع سے نبوت حاصل کرے یا نئی شریعت نہ لائے خلافت نہیں ہوتی۔ پس ہمیں خلافت کے ثبوت کے لئے اس مصیبت میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ جس کی طرف آپ کی توجہ گئی ہے آپ نے ایک ایسے خیال کو پیش کیا ہے۔ جس تک ہمارے ذہنوں کو کبھی بھی رسائی نہیں ہوئی۔

پیشتر اس کے کہ میں خواجہ صاحب کے اس حوالہ سے آگے گذروں۔ میں خواجہ صاحب سے یہ بھی پوچھتا ہوں کہ آپ نے میری یا میرے مبائعین کی کسی تحریر میں یہ بات لکھی دیکھی ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نئی شریعت لائے تھے یا یہ کہ آپ کو آنحضرت ﷺ کی اتباع سے باہر نبوت کا خلعت عطا ہوا ہے۔ اگر آپ ایسا کوئی حوالہ پیش نہیں کر سکتے۔ تو کیا یہ بات قابلِ افسوس نہیں کہ آپ ایسا الزام مجھ پر اور میری جماعت پر لگاتے ہیں جو واقعات کے صریح خلاف ہے۔ دوسرے لوگ اگر اس بات کی جرأت کر لیتے تو کر لیتے۔ لیکن آپ تو اپنے سارے رسالہ میں اپنی ذمہ داری اور حضرت مسیح موعودؑ اور خلیفہ اولؓ کے قرب کے ثبوت پیش کرتے رہے ہیں۔ آپ کی شان سے یہ بات بالکل بعید تھی کہ ایک بات بلا ثبوت پیش کر دیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے حقیقی نبی کے خود یہ معنی فرمائے ہیں کہ جو نئی شریعت لائے۔ پس ان معنوں کے لحاظ سے ہم ان کو ہرگز حقیقی نبی نہیں مانتے۔ اور ایسی کوئی تحریر آپ پیش نہیں کر سکتے جس میں میں نے یا کسی مبائع نے یہ بات لکھی ہو کہ حضرت مسیح موعودؑ جدید شریعت لانے والے اور سارے قرآن کریم یا اس کے کسی چھوٹے سے چھوٹے حصے کو منسوخ کرنے والے تھے۔ اور اگر ہمارا ایسا خیال ہوتا تو چاہئے تھا کہ ہماری نمازوں اور ہمارے روزوں میں فرق ہوتا۔ اور وہ شریعت ہم دنیا کے سامنے پیش کرتے جس پر اب ہمارا عمل ہے لیکن کیا کوئی ایسا اعلان میری طرف سے یا میرے مبائعین کی طرف سے ہوا ہے۔ اگر ہوا ہے تو مہربانی فرما کر آپ اسے پیش کریں۔ اور اگر حقیقی نبی کے معنی ان معانی کے علاوہ جن کا میں اوپر ذکر کر آیا ہوں لئے جائیں تو پہلے ہمارے سامنے وہ معنی پیش کئے جائیں۔ پھر ہم رائے دے سکیں گے کہ آیا حضرت صاحب کو ان معنوں کے لحاظ سے ہم نبی مانتے ہیں یا نہیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص حقیقی نبی کے یہ معنی کرے کہ وہ نبی جو بناوٹی یا نقلی نہ ہو بلکہ درحقیقت خدا کی طرف سے خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ اصطلاح کے مطابق قرآن کریم کے بنائے ہوئے معنوں کے رو سے نبی ہو اور نبی کہلانے کا مستحق ہو۔ تمام کمالاتِ نبوت اس میں اس حد تک پائے جاتے ہوں جس حد تک نبیوں میں پائے جانے ضروری ہیں تو میں کہوں گا کہ ان معنوں کے رو سے حضرت مسیح موعودؑ حقیقی نبی تھے گو ان معنوں کی رو سے کہ آپ کوئی نئی شریعت لائے حقیقی نبی نہ تھے۔

اسی طرح مستقل نبی کے معنی خود حضرت مسیح موعودؑ نے یہ کئے ہیں کہ جس کو بلا واسطہ نبوت عطا ہو۔ اور جو کسی اور نبی کی اتباع سے انعامِ نبوت نہ حاصل کرے۔ ان معنوں کے لحاظ سے ہم حضرت مسیح موعودؑ کو ہر گز مستقل نبی نہیں مانتے۔ اور اگر میں نے یا میرے مریدوں میں سے کسی نے ایسا لکھا ہے تو آپ اس تحریر کو پیش کریں۔ ورنہ آپ غلط الزام لگانے کے الزام کے نیچے آجائیں گے۔ انصاف چاہتا ہے کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں اس کا ثبوت دیں۔ اگر تحریر نہیں تو کم سے کم آپ ویسی ہی حلف اٹھا جائیں جو حضرت مسیح موعودؑ نے تریاق القلوب میں بیان فرمائی ہے کہ آپ نے مجھ سے ایسا سنا ہے یا کسی میرے مبلغ سے ایسا سنا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کو بلا واسطہ مانتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ کو نبوت آنحضرت ﷺ کی اتباع کے بغیر ملی تھی اور آپ پر آنحضرت ﷺ کی اتباع فرض نہ تھی یا یہ کہ آپ کی وفات تک کوئی ایسی گھڑی آپ پر آئی تھی۔ جس میں آپ آنحضرت ﷺ کی اطاعت سے آزاد ہو گئے تھے۔ اگر آپ ایسی حلف میرے متعلق اٹھائیں گے تو میں مقابل پر ویسی ہی حلف اٹھاؤں گا کہ میں نے ایسا نہیں کہا۔ پھر خدا تعالیٰ فیصلہ کرے گا۔ اور اگر آپ میرے کسی مرید کی نسبت یہ بات ثابت کر دیں اور وہ اس الزام کو مان لے تو میں اس شخص کو اگر توبہ نہ کرے فوراً اپنی بیعت سے خارج کر دوں گا۔ اور اگر وہ اس الزام سے انکار کرے تو میں اسے مجبور کروں گا کہ وہ بھی آپ کے مقابلہ میں تریاق القلوب والی قسم کھا جائے۔ اور اس کے بعد میں الٰہی فیصلہ کا منتظر رہوں گا۔ اور اگر آپ ایسا نہ کریں تو مجھے پھر افسوس سے کہنا پڑے گا کہ آپ نے ایک نہایت لطیف مشورہ دیا تھا کہ ہمیں احتیاط سے اس جھگڑے کا فیصلہ کرنا چاہئے لیکن خود احتیاط سے کام نہ لیا۔

خواجہ صاحب نے اپنے اس رسالہ میں میرے ایک خط کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ جو میں نے برادرم محمد عثمان صاحب لکھنؤی کی طرف لکھا ہے لیکن مجھے تعجب ہے کہ جب خواجہ صاحب کو کسی نے اس خط کے واقعہ سے آگاہ کیا تو آگے یہ نہ بتایا کہ اس خط کی اشاعت پر جب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے یہ اعلان کیا تھا کہ شکر ہے میاں صاحب نے اپنے پہلے عقیدہ سے توبہ کر لی تو ان کے اس اعلان پر میں نے ایک اشتہار شائع کیا تھا۔ جس میں مَیں نے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر وہ سچے ہیں تو میرا وہ پہلا عقیدہ شائع کریں۔ جو اس خط میں ظاہر کردہ عقیدہ کے خلاف ہو یا حلف اٹھا جائیں کہ میں نے آپ کی تحریر میں پڑھا نہیں۔ لیکن اپنے کانوں سے یہ بات سنی ہے تو چھ سو روپیہ انعام بھی

دوں گا۔ اگر اس نے آپ کو یہ واقعہ بتا دیا تھا تو پھر آپ نے ایسی جرأت کیوں کی کہ جھوٹے اقوال کو میری طرف منسوب کیا۔ اور اگر اس نے آپ سے یہ بیان نہیں کیا تو آپ مرزا یعقوب بیگ صاحب سے اس کا جواب دلوا دیں۔ ممکن ہے آپ یہ کہہ کر ٹال دیں کہ خیر مرزا صاحب سے غلطی ہو گئی۔ اور مجھ سے بھی سہو ہو گیا۔ لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ کیا شرافت اس بات کی مقتضی نہیں کہ جو غلط الزام ڈاکٹر صاحب موصوف نے مجھ پر لگایا تھا۔ اس کی تردید بھی اسی قلم سے کرتے جس سے انہوں نے حملہ کیا تھا۔ اور اگر وہ سچے تھے تو میری تحریر پیش کرتے یا اگر خود سنا تھا تو حلف اٹھاتے۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس بات کو دبا گئے کہ خود آپ کے سامنے بھی وہ واقعہ بیان نہیں کیا تاکہ آپ بے فائدہ اپنے ٹریکٹ کے بہت سے صفحات کو اس فیصل شدہ مسئلہ کی بحث میں سیاہ نہ کرتے۔

خواجہ صاحب بار بار دلائل پر زور دیتے ہیں لیکن میں پوچھتا ہوں کہ دلائل کس چیز کا نام ہے۔ ایک شخص جو ان لوگوں میں سے ہے جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کے معتمدین میں سے ایک معتمد کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ایک بات بیان کرتا ہے اور بیان ہی نہیں کرتا اس کا اعلان کرتا ہے اور پھر تحریر میں اعلان کرتا ہے لیکن جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ بات کس تحریر میں ہے یا کس تقریر میں ایسا بیان ہوا ہے تو وہ نہ تحریر پیش کرتا ہے اور نہ اپنی سماعت کی حلفی شہادت دیتا ہے۔ اور اس کے دوست برابر اس غلط بیانی کو پھیلا رہے ہیں تو اب وہ کون سا طریق ہے جس سے فیصلہ ہو سکے؟ آپ ہی ان کو تین باتوں میں سے ایک پر مجبور کریں یا تو وہ میری تحریر پیش کریں یا اپنی سماعت کو حلف سے مؤکد کر کے (جیسی حلف حضرت مسیح موعودؑ نے تریاق القلوب میں لکھی ہے) شائع کریں یا یہ اعلان کریں کہ مجھ سے غلطی ہو گئی۔ میں اپنے بیان کو واپس لیتا ہوں۔ اس کے سوا اور کون سا طریق فیصلہ ہے؟۔

میں پھر بڑے زور سے اعلان کرتا ہوں جیسا کہ پہلے متعدد بار اعلان کر چکا ہوں کہ میں مرزا صاحب کو نبی مانتا ہوں۔ لیکن نہ ایسا کہ وہ نئی شریعت لائے ہیں۔ اور نہ ایسا کہ ان کو آنحضرت ﷺ کی اتباع کے بغیر نبوت ملی ہے۔ اور ان معنوں سے آپ کو حقیقی نبی نہیں مانتا۔ ہاں اگر حقیقی نبی کے یہ معنے ہوں کہ وہ نبی ہے یا نہیں تو میں کہوں گا کہ اگر حقیقی کے مقابلہ میں نقلی یا بناوٹی یا اسمی نبی کو رکھا جائے تو میں آپ کو حقیقی نبی مانتا ہوں۔ بناوٹی نقلی یا اسمی نہیں مانتا۔ میں نبیوں کی تین اقسام مانتا ہوں۔ ایک جو شریعت لانے والے ہیں دوسرے جو شریعت تو نہیں لاتے لیکن ان کو بلا واسطہ نبوت ملتی ہے۔ اور کام وہ پہلی امت کا ہی کرتے ہیں۔ جیسے سلیمانؑ، زکریاؑ، یحییٰ علیہم السلام اور ایک

وہ جو نہ شریعت لاتے ہیں۔ اور نہ ان کو بلاواسطہ نبوت ملتی ہے۔ لیکن وہ پہلے نبی کی اتباع سے نبی ہوتے ہیں۔ اور سوائے آنحضرت ﷺ کے کوئی نبی اس شان کا نہیں گزرا کہ اس کی اتباع میں ہی انسان نبی بن جائے۔ لہٰذا اس قسم کی نبوت صرف اس مکمل انسان کے اتباع میں ہی پائی جاسکتی تھی۔ اس لئے پہلی امتوں میں اس کی نظیر نہیں۔ اور اس امت میں سے بھی صرف مسیح موعودؐ کو اس وقت تک یہ درجہ عطا ہوا ہے۔ اور پہلی امتوں میں اس کی نظیر نہ ملنے کی یہ وجہ نہیں کہ پہلے حقیقی نبی آسکتے تھے۔ اس لئے ایسے نبی کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ بلکہ پہلے نبیوں میں سے کوئی نبی ایسا استاد نہیں ہوا جس کی شاگردی میں نبوت مل سکے اس لئے پہلے نبیوں کی امت کے لوگ ایک حد تک پہلے نبی کی تربیت کے نیچے ترقی پاتے پاتے رک جاتے تھے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر نظر فرماتا تھا اور جن کو اس قابل پاتا کہ وہ نبی بن سکیں ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا اور براہِ راست نبی بنا دیتا لیکن ہمارے آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ایسے بلند مقام پر کھڑا کیا اور آپ نے استادی کا ایسا اعلیٰ درجہ حاصل کر لیا کہ آپ اپنے شاگردوں کو اس امتحان میں کامیاب کرا سکتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے بعض لوگ خود ایم اے ہوتے ہیں لیکن ان کی لیاقت ایسی اعلیٰ نہیں ہوتی کہ ایم اے کی جماعت کو پڑھا سکیں اور بعض ایم اے ایسے لائق ہوتے ہیں اور ان کا علم اور درجۂ استادی ایسا بڑھا ہوا ہوتا ہے کہ وہ ایم اے کی جماعت کو خوب پڑھا سکتے ہیں۔ اسی طرح پچھلے نبیوں کی مثال سمجھ لو وہ اپنے اپنے رنگ میں کامل تھے بزرگ تھے نبی تھے۔ لیکن ان میں سے ایک نے بھی آنحضرت ﷺ کی عظمت کے مقام کو نہیں پایا۔ اس لئے ان کے مدرسہ کا آخری امتحان نبوت نہ تھا بلکہ ولایت تھا پھر نبوت بلاواسطہ موہبت سے ملتی تھی لیکن ہمارے آنحضرت ﷺ کو ایسا درجۂ استادی ملا کہ آپ کے مدرسہ کو کالج تک بڑھا دیا گیا اور آپ کی شاگردی میں انسان نبی بھی بن سکتا ہے۔ اور اگر آپ سے پہلے نبیوں میں سے کوئی ایسا استاد کامل ہو جاتا تو وہی خاتم النبیین ہوتا کیونکہ جس استاد کی شاگردی میں نبوت حاصل ہو سکتی ہو اس کے بعد کسی اور استاد کی ضرورت نہ تھی کیونکہ نبوت کے بعد اور کوئی انعام نہیں۔ اسی طرح اگر قرآن کریم سے پہلے کوئی اور کتاب ایسی کامل ہوتی کہ اس پر چل کر انسان نبی بن سکتا تو وہ دنیا کی آخری کتاب ہوتی۔ کیونکہ اس کتاب کے بعد اور کسی کتاب کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ جو کتاب نبی بنا سکتی وہ کامل ترین کتاب ہوتی اور کامل ترین کے بعد اور کسی کتاب کی حاجت نہ تھی۔ پس پہلے بلاواسطہ غیر تشریعی نبی اس لئے آتے تھے کہ اس وقت تک کوئی نبی خاتم النبیین ہونے کے لائق نہ تھا۔ اور کوئی کتاب خاتم الکتب ہونے

کے درجہ پر نہ تھی وہ آنحضرت ﷺ ہی تھے جن کی نسبت فرمایا گیا کہ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوۡسَیۡنِ اَوۡ اَدۡنٰی(النجم: ۹، ۱۰)۔ وہ آپ ہی تھے جن کی نسبت فرمایا گیا کہ قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا ۣالَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ(الاعراف: ۱۵۹)۔ پھر وہ قرآن کریم ہی ایک کتاب ہے جس کی نسبت فرمایا گیا کہ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ(المائدہ: ۴)۔ اور قرآن ہی ایک کتاب ہے جس کی نسبت فرمایا اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ(الحجر: ۱۰)۔ پس ضرور تھا کہ جب وہ نبی اور وہ کتاب آجائے جس کی شاگردی میں اور جس پر عمل کر کے انسان نبی ہو سکتا ہو تو اس نبی کو خاتم النبیین بنا دیا جائے اور اس کتاب کو خاتم الکتب قرار دیا جائے اور یہی سچے معنی ہیں خاتم النبیین کے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں وَ نُؤْمِنُ بِاَنَّهٗ خَاتَمُ الْاَنْبِيَاءِ لَا نَبِیَّ بَعْدَهٗ اِلَّا الَّذِیْ رُبِّیَ مِنْ فَيْضِهِ وَ اَظْهَرَهُ وَعْدُهُ (مواہب الرحمن صفحہ ۶۹، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۲۸۵) یعنی ہم مانتے ہیں کہ آپ خاتم الانبیاء تھے اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں مگر وہی کہ جس کی تربیت آپ کے فیض سے ہوئی۔ اور جس کو آپ کے وعدہ نے ظاہر کیا۔ پس ظلی اور بروزی نبوت کوئی گھٹیا قسم کی نبوت نہیں۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو مسیح موعود کس طرح ایک اسرائیلی نبی کے مقابلہ میں یوں فرماتے کہ:۔

ابنِ مریم کے ذکر کو چھوڑو

اُس سے بہتر غلامِ احمدؔ ہے

بلکہ یہ نبوت اس شخص کی عزت میں ایک شمہ بھر بھی فرق کرنے کے بغیر جس کو یہ نبوت عطا ہو آنحضرت ﷺ کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے اور بجائے ظلی نبی کی عظمت کو حقیقی نبیوں سے کم کرنے کے اس کا مقصد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو سب نبیوں سے بڑا ثابت کرے۔ پس یہ مت خیال کرو کہ حضرت مسیح موعود کو چونکہ ظلی نبوت ملی اس لئے آپ کا معاملہ پہلے نبیوں سے مختلف ہے نہیں ایسا ہرگز نہیں۔ آپ کو نبوت حقیقی اس لئے نہیں ملی کہ اب براہِ راست موہبت کی ضرورت نہ تھی بلکہ دنیا میں وہ استاد ظاہر ہو چکا تھا جو اپنے علم اور عقل کے زور سے اعلیٰ سے اعلیٰ امتحانوں میں لوگوں کو پاس کرا سکتا تھا۔

اور الٰہی یونیورسٹی کی تعلیم ایسی اعلیٰ پیمانہ پر ترقی پا چکی تھی اور قرآن کریم جیسی ہر زمانہ کے لئے یکساں مفید کتاب تیار ہو چکی تھی اس لئے اب پرائیویٹ امتحان سے دنیا کو روک دیا گیا لیکن کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس نے کالج میں پڑھ کر امتحان پاس کیا وہ اس سے ادنیٰ ہے جس نے پرائیویٹ طور پر امتحان پاس کیا۔ نہیں ایسا ہر گز نہیں۔ پس کیونکر ممکن ہے کہ وہ نبوت جو آنحضرت ﷺ کی شاگردی میں ملے وہ اس نبوت سے ادنیٰ ہو جو پرائیویٹ اپیر (Apear) ہونے والے طلباء کو مل چکی ہو۔ ممکن ہے کہ ایک پرائیویٹ امتحان دینے والا کالج میں امتحان دینے والے سے لائق ہو اور ممکن ہے کہ ایک کالج کا سٹوڈنٹ پرائیویٹ طور پر تیاری کرنے والے سے لیاقت میں اعلیٰ ہو۔ یہی حال یہاں ہے مسیح موعودؑ بعض پہلے نبیوں سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہے اور بعض سے کم۔ اور میں نے خود اپنے کانوں سے حضرت مسیح موعودؑ سے سنا ہے کہ میں وہی ہوں جس کی نسبت ایک بزرگ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ابو بکرؓ سے بڑھ کر ہو گا تو اس نے جواب دیا کہ وہ تو کئی پہلے نبیوں سے بھی شان میں بڑا ہو گا۔ پس اس کے ظلی نبی ہونے کے صرف یہی معنی ہیں کہ آنحضرت ﷺ دنیا کے تمام انسانوں سے خواہ وہ غیر نبی ہوں یا نبی بڑھ کر ہیں۔ اور اسی مضمون کی طرف حضرت مسیح موعودؑ کا مندرجہ ذیل الہامی شعر اشارہ کرتا ہے۔

برتر گمان و وہم سے احمدؐ کی شان ہے

جس کا غلام دیکھو مسیحؑ الزمان ہے

(تذکرہ صفحہ ۶۹۰)

اس الہامی شعر میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی عظمت شان کا ثبوت یہ ہے کہ مسیح الزمان اس کا غلام ہے اب تم جس قدر بھی مسیح موعود کی عزت کرو گے اتنی ہی آنحضرت ﷺ کی عزت ہو گی کیونکہ جس کا غلام بڑا ہو آقا ضرور اس سے بڑا ہو گا۔ اور جتنی شان مسیح موعود کی کم کرو گے اتنی ہی گویا نبی کریمؐ کی شان کم کرو گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آنحضرت ﷺ کی شان کے سمجھنے کے لئے مسیح موعود کی شان کے مطالعہ کی طرف توجہ دلائی ہے پس مسیح موعود کی شان کے بڑھنے سے آنحضرت ﷺ کی شان بڑھتی ہے اور ہم پر خدا تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس بات کے سمجھنے کی توفیق دی ہے کہ مسیح موعود ویسا ہی مکرم نبی ہے جیسے کہ پہلے نبی تھے اور یہ سب درجہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت اور غلامی سے ملا ہے۔ پس کیا ہی مبارک ہے وہ نبی۔ ہاں کیا ہی معزز ہے وہ نبی جس کی غلامی میں ایسا عظیم الشان انسان پیدا ہوا ۔

اب میں یہ بات بتا چکا ہوں کہ ہمارے اعتقاد کے مطابق مسیح موعود کی ظلی اور بروزی نبوت کے صرف اس قدر معنی ہیں کہ آپ کو نبوت آنحضرت ﷺ کی شاگردی اور اطاعت میں ملی ہے اور پہلے نبیوں کو براہِ راست نبوت ملتی تھی۔ اور اس کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ آپ کی نبوت کوئی آنریری خطاب تھا جس کی کوئی اصل یا حقیقت نہیں اور جس نبوت سے وہ حقوق حاصل نہیں جو نبیوں کو حاصل ہوتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص کو ایک لاکھ روپیہ کوئی بڑا امیر دے دے۔ اور ایک شخص اپنی محنت سے ایک لاکھ روپیہ کمائے۔ اب ہم کہیں گے کہ ان میں سے ایک شخص تو خود امیر بنا ہے اور دوسرے کو کسی اور نے امیر بنا دیا ہے لیکن کیا ہمارے اس قول کے یہ معنی ہوں گے کہ وہ شخص جس نے ایک لاکھ روپیہ کمایا ہے زیادہ امیر ہے اس سے جس کو کسی بڑے امیر نے ایک لاکھ روپیہ دے دیا ہے؟ آپس میں یہ دونوں ایک ہی درجہ کے سمجھے جائیں گے۔ ہاں فرق صرف یہ ہو گا کہ ہمارے اس قول سے کہ فلاں شخص فلاں دوسرے شخص کے طفیل سے امیر ہو گیا ہے اس کی عظمت ظاہر ہو گی جس نے ایک لاکھ روپیہ دیا اور ایک شخص کو امیر بنایا۔ اسی طرح ہمارے اس قول سے کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت ظلی اور بروزی تھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے آنحضرت ﷺ سب نبیوں کے سردار تھے وہ نبی ہی نہ تھے بلکہ نبی گر تھے لیکن اس قول سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت کوئی گھٹیا قسم کی نبوت تھی یا یہ کہ آپ پر وہ احکام نہیں لگتے جو پہلے نبیوں کی نسبت قرآن کریم میں مذکور ہیں خوب یاد رکھو کہ حضرت مسیح موعود کو نبوت آنحضرت ﷺ کے خزانہ سے ملی ہے پس اگر کوئی شخص اس نبوت کو پہلی نبوتوں سے ادنیٰ قسم کی نبوت خیال کرتا ہے تو وہ خود آنحضرتؐ پر اعتراض کرتا ہے کیونکہ جو پانی کے گلاس پر جس میں باہر سے کوئی گند نہیں ملا اعتراض کرتا ہے وہ دراصل کنویں پر اعتراض کرتا ہے اور جو اس موتی کی قیمت جو موتیوں کے کھیت کے اعلیٰ موتیوں میں سے ہے کم لگاتا ہے وہ درحقیقت اس موتیوں کے کھیت کی قیمت کم لگاتا ہے جس سے وہ نکالا گیا اور جو اس لعل کو جو لعلوں کی کان کے اعلیٰ لعلوں میں سے ہے ادنیٰ قرار دیتا ہے وہ درحقیقت اس کان کی حیثیت پر اعتراض کرتا ہے جس سے وہ نکالا گیا ہے۔ پس مسیح موعود کی نبوت کو ایسی نبوت قرار دینے والا کہ وہ ایک آنریری عہدہ ہے درحقیقت اس سے وہ حقوق حاصل نہیں ہوتے جو قرآن کریم میں انبیاء کے بیان ہوئے ہیں آنحضرت ﷺ پر حملہ کرتا ہے گو ممکن ہے کہ وہ خود بھی نہ سمجھتا ہو کہ میں کیا کر رہا ہوں کیا یہ درست نہیں کہ جو شخص کسی شخص کو بادشاہ اس لئے کہتا ہے کہ وہ سیدھا سادہ انسان ہے (اور ہنسی سے ہمارے ملک میں ایسے آدمی کو بادشاہ کہہ دیتے ہیں) وہ درحقیقت بادشاہوں کی ہتک کرتا ہے اور جو شخص کسی شہنشاہ کو اس بناء پر شہنشاہ کہتا ہے کہ اس کے ماتحت مذکورہ بالا قسم کے چند بادشاہ ہیں وہ اس شہنشاہ کی ہتک کرتا ہے پس اسی طرح جو شخص ایک نئی قسم کی نبوت (جس میں سارے ولیوں ؎ اور بزرگوں کو شامل کر لیتا ہے جن کو خدا تعالیٰ نے نبی نہیں کہا) ایجاد کر کے اسے مسیح موعود کی طرف منسوب کرتا ہے وہ ایک طرف تو مسیح موعود کے درجہ کو کم کرتا ہے۔ اور دوسری طرف آنحضرت ﷺ پر بھی حملہ کرتا ہے۔

میں اس مضمون کے ختم کرنے سے پہلے یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ مسئلہ نبوت کے متعلق حضرت مسیح موعود پر دو زمانے گذرے ہیں ایک تو وہ زمانہ تھا کہ آپ کو جب اللہ تعالیٰ کی وحی میں نبی کہا جاتا تو آپ اس پرانے عقیدہ کی بناء پر جو اس وقت کے مسلمانوں میں پھیلا ہوا تھا اپنے آپ کو نبی قرار دینے کی بجائے ان الہامات کے یہ معنی کر لیتے تھے کہ نبی سے مراد صرف ایک جزوی نبوت ہے۔ اور بعض دوسرے انبیاء پر جو مجھے فضیلت دی گئی ہے وہ بھی ایک جزوی فضیلت ہے اور جزوی فضیلت ایک غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ ہر امر میں کسی نبی پر اپنے آپ کو افضل سمجھ لیتے تو اس سے یہ بھی لازم آتا کہ آپ نبی ہیں کیونکہ یہ ممکن نہ تھا کہ آپ ایک نبی سے کمالات میں بڑھ جاتے لیکن پھر بھی نبی نہ بنتے۔ پس آپ عام مشہور عقیدہ کے ماتحت اپنی نبوت جزوی نبوت اور اپنی فضیلت جزوی فضیلت قرار دیتے رہے۔ لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی نے آپ کو اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور آپ نے اپنے پہلے عقیدہ کو ترک کر دیا۔

چنانچہ آپ پر جب کسی شخص نے یہ اعتراض کیا کہ آپ پہلے تو لکھتے تھے کہ میں نبی نہیں اور مسیح نبی ہے اس لئے مجھے اس پر صرف جزوی فضیلت ہے اب اس کے خلاف کیوں لکھتے ہیں تو آپ نے اس کا جو جواب دیا۔ اسے میں ذیل میں درج کر دیتا ہوں بلکہ معترض کا اعتراض بھی درج کر دیتا ہوں تاکہ اس جواب کے سمجھنے میں زیادہ آسانی ہو۔

سوال نمبر (۱)

تریاق القلوب کے صفحہ ۳۵۲ میں (جو میری کتاب ہے) لکھا ہے ”اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ میں نے اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔ پھر ریویو جلد اول نمبر ۶ صفحہ ۲۶۱ میں مذکور ہے ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے“ پھر ریویو صفحہ ۴۷۸ میں لکھا ہے ”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا۔ اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔ خلاصہ اعتراض یہ کہ ان دونوں عبارتوں میں تناقض ہے۔

الجواب:

یاد رہے کہ اس بات کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھے ان باتوں سے نہ کوئی خوشی ہے نہ کچھ غرض کہ میں مسیح موعود کہلاؤں یا مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں بہتر ٹھہراؤں۔ خدا نے میرے ضمیر کی اپنی اس پاک وحی میں آپ ہی خبر دی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ قُلْ اُجَرِّدُ نَفْسِیْ مِنْ ضُرُوْبِ الْخِطَابِ یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا تو یہ حال ہے کہ میں کسی خطاب کو اپنے لئے نہیں چاہتا۔ یعنی میرا مقصد اور میری مراد ان خیالات سے برتر ہے اور کوئی خطاب دینا یہ خدا کا فعل ہے میرا اس میں دخل نہیں ہے۔ رہی یہ بات کہ ایسا کیوں لکھا گیا اور کلام میں یہ تناقض کیوں پیدا ہو گیا۔ سو اس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں مَیں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہو گا مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں۔ اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگرچہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا۔ اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا۔ اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر حمل کرنا نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا اور اسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا۔ لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الٰہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے اور ساتھ اس کے صدہا نشان ظہور میں آئے اور زمین و آسمان دونوں میری تصدیق کے لئے کھڑے ہو گئے۔ اور خدا کے چمکتے ہوئے نشان میرے پر جبر کر کے مجھے اس طرف لے آئے کہ آخری زمانہ میں مسیح آنے والا میں ہی ہوں ورنہ میرا اعتقاد تو وہی تھا جو میں نے براہین احمدیہ میں لکھ دیا تھا۔ اور پھر میں نے اس پر کفایت نہ کر کے اس وحی کو قرآن شریف پر عرض کیا تو آیات قطعیۃ الدلالت سے ثابت ہوا کہ درحقیقت مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور آخری خلیفہ مسیح موعود کے نام پر اسی امت میں سے آئے گا۔ اور جیسا کہ جب دن چڑھ جاتا ہے تو کوئی تاریکی باقی نہیں رہتی اسی طرح صدہا نشانوں اور آسمانی شہادتوں اور قرآن شریف کی قطعیۃ الدلالت آیات اور نصوص صریحہ حدیثیہ نے مجھے اس بات کے لئے مجبور کر دیا کہ میں اپنے تئیں مسیح موعود مان لوں۔ میرے لئے یہ کافی تھا کہ وہ میرے پر خوش ہو۔ مجھے اس بات کی ہرگز تمنا نہ تھی۔ میں پوشیدگی کے حجرہ میں تھا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تھا اور نہ مجھے یہ خواہش تھی کہ کوئی مجھے شناخت کرے۔ اس نے گوشہ تنہائی سے مجھے جبراً نکالا۔ میں نے چاہا کہ میں پوشیدہ رہوں اور پوشیدہ مروں مگر اس نے کہا کہ میں تجھے تمام دنیا میں عزت کے ساتھ شہرت دوں گا۔ پس یہ اس خدا سے پوچھو کہ ایسا تو نے کیوں کیا؟ میرا اس میں کیا قصور ہے؟ اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا۔ اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔ اور جیسا کہ میں نے نمونہ کے طور پر بعض عبارتیں خدا تعالیٰ کی وحی کی اس رسالہ میں بھی لکھی ہیں ان سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم کے مقابل پر خدا تعالیٰ میری نسبت کیا فرماتا ہے“ (حقیقۃ الوحی ــــــــــ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۲ تا ۱۵۴)

اس حوالہ کو پڑھ کر ہر ایک شخص تین باتیں معلوم کر سکتا ہے۔ (۱) اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود اس تناقض کو جو آپ کی دو تحریروں میں پایا جاتا ہے۔ اس تناقض سے مشابہ قرار دیتے ہیں جو مسئلہ حیات و وفات مسیح کے متعلق آپ کی کتابوں میں پایا جاتا ہے۔ اور وہ یہ کہ آپ نے براہین احمدیہ میں لکھا تھا کہ مسیح ناصری ہی دوبارہ دنیا میں آئے گا۔ اور بعد میں لکھا کہ وہ فوت ہو چکا ہے اور میں ہی وہ مسیح ہوں جس کی خبر دی گئی تھی اور اس تناقض کی وجہ یہ تھی کہ پہلے آپ کا وہی اعتقاد تھا جو اس وقت کے مسلمانوں میں رائج ہے مگر بعد میں اللہ تعالیٰ کی وحی سے آپ کو یہ عقیدہ بدلنا پڑا۔ پس اس مثال سے ثابت ہوتا ہے کہ مسئلہ نبوت کے متعلق بھی آپ کے خیال میں تغیر ہوا ہے اور پہلے آپ کا اپنے نبی ہونے کے متعلق اور کسی نبی پر اپنی فضیلت کے متعلق اور مذہب تھا۔ (۲) بعد میں خدا تعالیٰ کی وحی نے اس کو بدلا دیا۔ اور آپ پر روشن ہو گیا کہ آپ حضرت مسیح سے ہر رنگ میں افضل ہیں اور یہ کہ آپ نبی ہیں۔ ہاں ایسے نبی نہیں کہ پہلے کسی نبی کے متبع نہ ہوں بلکہ ایسے نبی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں ہو کر پھر نبی ہیں۔

اس حوالہ پر بعض لوگ یہ اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے جو یہاں لکھا ہے کہ اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا۔ اس اوائل سے مراد دعویٰ مسیحیت سے پہلے کا زمانہ ہے اور اس تحریر سے آپ نے صرف اپنے اس عقیدہ کو غلط قرار دیا ہے جو دعویٰ مسیحیت سے پہلا تھا ورنہ دعویٰ مسیحیت کے بعد آپ جو کچھ کہتے رہے اسے غلط قرار نہیں دیا۔ اس لئے وہ تمام تحریریں جو دعویٰ مسیحیت کے بعد مسئلہ نبوت پر آپ نے تحریر فرمائیں ان سے اس مسئلہ پر استدلال کیا جا سکتا ہے اور بعض لوگوں نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کی تقریر میں جو انہوں نے ایام دسمبر میں لاہور میں کی اس پر خاص زور دیا گیا تھا اور ان کے لیکچر کا یہ ایک خاص نکتہ تھا جسے بہت پسند کیا گیا اور جس سے حقیقتہ الوحی کے مذکورہ بالا حوالہ کی وہ اہمیت جاتی رہتی ہے جو حضرت مسیح موعود کو نبی قرار دینے والے اسے دینا چاہتے ہیں۔

مگر مجھے تعجب اور سخت تعجب ہے ان لوگوں پر جو حضرت صاحب کے ان الفاظ سے کہ اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ عقیدہ دعویٰ مسیحیت سے پہلے کا ہے کیونکہ اگر سوال کرنے والا اپنے سوال میں جن دونوں مضمونوں میں تناقض ظاہر کرتا ہے ان کا حوالہ نہ دے دیتا تو بیشک ایک شخص کہہ سکتا تھا کہ اوائل کے مذہب سے مراد دعویٰ مسیحیت سے پہلے کا زمانہ ہے نہ کہ دعویٰ مسیحیت کے بعد کا زمانہ۔ لیکن جب معترض تریاق القلوب کا حوالہ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تریاق القلوب میں آپ نے لکھا ہے کہ میں چونکہ امتی ہوں اور حضرت مسیح نبی۔ اس پر مجھے صرف جزوی فضیلت ہو سکتی ہے اور بعد میں رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں اس کے خلاف لکھا ہے (جس کے ایڈیٹر اس وقت خود مولوی محمد علی صاحب تھے) اور حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ ان دونوں حوالوں میں تناقض نہیں بلکہ تریاق القلوب کے وقت میرا اپنا اجتہاد تھا اور بعد میں خدا تعالیٰ نے الہام سے مجھے اس عقیدہ سے پھیر دیا تو اب اوائل کے معنی یہ کرنے کہ اس سے مراد دعویٰ مسیحیت سے پہلے کا زمانہ ہے اور اس طرح تریاق القلوب کے ان حوالوں سے فائدہ اٹھانا کس قسم کی دیانت اور امانت ہے اور کیا مؤمنانہ شان ایسی بات کی مقتضی ہے کہ انسان ایسے عظیم الشان مسائل پر قلم اٹھاتے ہوئے صرف ایک فقرہ کو دیکھ کر اس پر رائے زنی کرنی شروع کر دے۔ اگر اوائل کے معنی زمانہ مسیحیت سے پہلے کا زمانہ کرنے والے لوگ سائل کے سوال کو دیکھ لیتے کہ وہ کن دو تحریروں میں تناقض ظاہر کرتا ہے تو ان کو یہ غلطی نہ لگتی۔ اور اس کے لئے کسی دوسری کتاب یا کسی لمبی تحقیقات کی ضرورت نہ تھی بلکہ صرف ایک صفحہ پہلے نظر مارنے کی ضرورت تھی لیکن افسوس کہ جس احتیاط کی طرف دوسروں کو بلایا جاتا ہے اس پر خود عمل نہیں کیا جاتا۔ ہم نے سوال اور جواب دونوں اوپر نقل کر دیئے ہیں اور ان کو پڑھ کر ہر ایک صحیح الدماغ انسان سمجھ سکتا ہے کہ مسیح موعود نے تسلیم کیا ہے کہ تریاق القلوب میں آپ نے نبوت کے متعلق اور لکھا ہے اور ریویو آف ریلیجنز میں اس کے بعد اور خیال ظاہر فرمایا ہے لیکن اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اسے تناقض نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ اختلاف ایسا ہی ہے جیسا کہ میں نے براہین احمدیہ میں ظاہر کیا تھا کہ مسیح زندہ ہے اور بعد میں ظاہر کیا کہ نہیں وہ فوت ہو گیا ہے اور تریاق القلوب کے اس حوالہ اور ریویو آف ریلیجنز کے مضمون کا اختلاف بھی اسی وجہ سے ہوا ہے کہ بعد میں مجھے وحی الٰہی نے اپنا عقیدہ بدلنے پر مجبور کر دیا۔

اگر حضرت مسیح موعود کا منشاء اوائل سے دعوٰی مسیحیت سے پہلے کا زمانہ تھا اور تریاق القلوب کا زمانہ نہ تھا تو بجائے تریاق القلوب اور ریویو میں اختلاف کو تسلیم کرنے کے آپ یہ جواب دیتے کہ دعوٰی مسیحیت سے پہلے کے عقیدہ کا تو بیشک بعد کے عقیدہ سے اختلاف ہے لیکن یہ جو آپ نے لکھا ہے کہ تریاق القلوب اور ریویو کے مضامین میں اختلاف ہے۔ یہ بالکل باطل ہے۔ اور دونوں کا مضمون ایک ہی ہے۔ اور ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ لیکن آپ معترض کے اعتراض کو قبول کرتے ہیں اور یہ جواب دیتے ہیں کہ تریاق القلوب کی تحریر تک میرا اور عقیدہ تھا بعد میں متواتر وحی نے اس عقیدہ کو بدل دیا۔ پس اس صراحت کے ہوتے ہوئے اوائل کے معنی دعوٰی مسیحیت سے پہلے کا زمانہ کرنا ایک ایسی دلیری ہے جس کا مرتکب اگر غلطی سے ایسا نہیں کرتا تو دنیا کو سخت دھوکا دینے والا ہے۔

غرض کہ مذکورہ بالا حوالہ سے ثابت ہے کہ تریاق القلوب کی اشاعت تک (جو کہ اگست ۹۹ء سے شروع ہوئی اور ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۲ء میں ختم ہوئی) آپ کا عقیدہ یہی تھا کہ آپ کو حضرت مسیحؑ پر جزوی فضیلت ہے۔ اور یہ کہ آپ کو جو نبی کہا جاتا ہے تو یہ ایک قسم کی جزوی نبوت ہے اور ناقص نبوت ہے لیکن بعد میں جیسا کہ نقل کردہ عبارت کے فقرہ دو اور تین سے ثابت ہے آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوا کہ آپ ہر ایک شان میں مسیحؑ سے افضل ہیں اور کسی جزوی نبوت کے پانے والے نہیں بلکہ نبی ہیں ہاں ایسے نبی جن کو آنحضرت ﷺ کے فیض سے نبوت ملی۔ پس ۱۹۰۲ء سے پہلے کی کسی تحریر سے حجت پکڑنا بالکل جائز نہیں ہو سکتا کیونکہ حضرت مسیح موعود نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تریاق القلوب میں جو آپ نے اپنا عقیدہ نبوت کے متعلق لکھا ہے بعد کی وحی نے اس سے آپ کو بدلا دیا۔

اس جگہ اگر کوئی شخص کہہ دے کہ نبی تو وہی ہوتا ہے جو شریعت لائے یا کسی دوسرے نبی کی اتباع سے اسے نبوت نہ ملے اور چونکہ حضرت مسیح موعود میں یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتی تھیں اس لئے آپ کو نبی نہیں کہہ سکتے تو اسے یاد رکھنا چاہئے کہ بے شک عوام میں یہ عقیدہ پھیلا ہوا ہے لیکن جیسا کہ ہم شروع مضمون میں لکھ آئے ہیں۔ خدا اور قرآن کریم کی اصطلاح میں نبی کے لئے یہ شرائط لازمی نہیں ہیں۔ اور اگر ابتدائے دعوٰی مسیحیت کے وقت حضرت مسیح موعود نے کبھی ان امور کے خلاف کچھ لکھا ہو تو وہ خود آپ کے بیان کے مطابق اسی وجہ سے تھا کہ لوگوں میں یہی عقیدہ رائج تھا۔ اور آپ نے اسے اس وقت تک ترک کرنا پسند نہ فرمایا۔ جب تک اللہ تعالیٰ نے آپ کو بار بار وحی کے ذریعہ سے اس کی غلطی سے آگاہ نہ فرمایا۔۳؎

ہم حضرت مسیح موعود کو نبی کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں؟ کیا محدّث اور مجدّد؟ ہاں! ہم بے شک یہ بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود محدّث اور مجدد بھی تھے۔ لیکن محدّث اور مجدّد تو آنحضرت ﷺ بھی تھے۔ لیکن جب کوئی آنحضرت ﷺ کا دعویٰ پوچھے تو ہم کبھی نہیں کہہ سکتے کہ بس آپ کا دعویٰ تو صرف مجدّد اور محدّث ہونے کا تھا۔ نہیں ایسے موقع پر ہم کہیں گے کہ آپ کا دعویٰ نبی ہونے کا تھا۔ بلکہ خاتم النّبیّٖن ہونے کا تھا۔ اسی طرح اگر حضرت مسیح موعود کے دعاوی اور آپ کے درجہ کے متعلق سوال ہو تو ہم مجبور ہونگے کہ بتائیں کہ آپ کا آخری درجہ نبی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آنحضرت ﷺ کا ظلّی نبی ہونا تھا۔ چنانچہ جو لوگ آپ کا آخری درجہ مجددیت اور محدثیت کو قرار دیتے ہیں۔ ان کی غلطی خود حضرت مسیح موعود کے ان الفاظ سے ظاہر ہوتی ہے۔

”اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔ اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہارِ غیب نہیں ہے“۔(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵‘ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۹)

اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت صاحب کو جو درجہ ملا وہ محدثیت کا درجہ نہ تھا بلکہ اس سے بڑھ کر تھا اور بڑے درجہ میں چھوٹے درجے آپ آ جاتے ہیں۔ غرض کہ حضرت مسیح موعود نبی تھے۔ اور جہاں آپ نے نبوت سے انکار کیا ہے۔ انہی معنوں سے انکار کیا ہے جو لوگوں میں غلط طور پر رائج ہیں۔ اور وہ یہ کہ نبی صرف وہ ہو سکتا ہے جو شریعت لائے۔ یا یہ کہ پہلے کسی نبی کی اتباع سے اسے نبوت نہ ملے۔ چنانچہ آپ اس عقیدہ کو باطل قرار دے کر نبی کے حقیقی معنے براہین میں یوں درج فرماتے ہیں۔

”یہ تمام بد قسمتی دھوکا سے پیدا ہوئی ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو۔ اور شرفِ مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں۔ اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو“۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ـــــ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۰۶)

اب میں آخر میں حضرت مسیح موعودؑ کی ایک ڈائری کا مضمون ذیل میں درج کرتا ہوں جس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ نے ان لوگوں کو کس طرح ڈانٹا ہے جو دوسروں سے ڈر کر آپ کی نبوت سے انکار کرتے ہیں۔ اور اس کی غلط تاویلات کرنی شروع کر دیتے ہیں:۔

”ایسا رسول ہونے سے انکار کیا گیا ہے جو صاحب کتاب ہو۔ دیکھو جو امور سماوی ہوتے ہیں ان کے بیان کرنے میں ڈرنا نہیں چاہئے۔ اور کسی قسم کا خوف کرنا اہلِ حق کا قاعدہ نہیں۔ صحابہ کرامؓ کے طرزِ عمل پر نظر کرو۔ وہ بادشاہوں کے درباروں میں گئے اور جو کچھ ان کا عقیدہ تھا وہ صاف صاف کہہ دیا اور حق کہنے سے ذرا نہیں جھجکے۔ جب ہی وَلَا یَخَافُوۡنَ لَوۡمَۃَ لَآئِمٍ(5:55) کے مصداق ہوئے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ دراصل یہ نزاع لفظی ہے خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت ۷؎ دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو۔ اور اس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں۔ اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔ پس ہم نبی ہیں۔ ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے۔ اور نئی کتاب لائے ایسے دعویٰ کو تو ہم کفر سمجھتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ صرف خدا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے جن سے موسوی دین کی شوکت و صداقت کا اظہار ہو۔ پس وہ نبی کہلائے۔ یہی حال اس سلسلہ میں ہے۔ بھلا اگر ہم نبی نہ کہلائیں تو اس کے لئے اور کون سا امتیازی لفظ ہے جو دوسرے ملہموں سے ممتاز کرے۔“

”……… ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو۔ وہ مردہ ہے۔ یہودیوں‘ عیسائیوں‘ ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہو تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لئے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں۔ ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اسی لئے ہم نبی ہیں۔ امرِ حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہئے“۔ (بدر نمبر ۹ جلد ۷۔ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء)

اس حوالہ کے بعد میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کو نبی کہہ کر پکارا بھی ہے۔ چنانچہ پگٹ کے مقابلہ میں جو اشتہار دیا تھا۔ اس کے آخر میں جہاں مشتہر کا نام لکھا جاتا ہے یہ الفاظ تھے:۔ “The Prophet Mirza Ghulam Ahmad” یعنی النبی مرزا غلام احمد

اسی طرح دافع البلاء میں قادیان کی نسبت لکھتے ہیں کہ یہ خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے۔

اب میں خواجہ صاحب کے ایک اور اعتراض کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ میاں صاحب کی خلافت ثابت کرنے کے لئے مسیح موعود کو مستقل نبی ثابت کیا جاتا ہے۔ اور پھر آپ کو مستقل نبی ثابت کرنے کے لئے آپ کو احمد ثابت کیا جاتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا نام احمدؐ کسی نے نہیں رکھا۔ اور یہ ایک غلطی سے دوسری غلطی نکلی ہے۔ اور لکھتے ہیں کہ یہ بات مسیح موعود کے بیان کے بھی خلاف ہے۔ افسوس کہ خواجہ صاحب نے پھر پورے مطالعہ کے بغیر یہ بات لکھ دی ہے۔ حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کو احمد لکھا ہے اور لکھا ہے کہ اصل مصداق اس پیشگوئی کا میں ہی ہوں۔ کیونکہ یہاں صرف احمد کی پیشگوئی ہے۔ اور آنحضرت ﷺ احمدؐ اور محمدؐ دونوں تھے۔ چنانچہ آپ ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں۔

”اور اس آنے والے کا نام جو احمدؐ رکھا گیا ہے۔ وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ محمدؐ جلالی نام ہے اور احمد جمالی اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کے رو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف یہ اشارہ ہے۔ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِی اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ(61:7) مگر ہمارے نبی ﷺ فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمدؐ بھی ہیں یعنی جامع جلال و جمال ہیں۔ لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیشگوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے۔ بھیجا گیا“

(ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ ۶۷۳‘ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۴۶۳)

اسی طرح اعجازالمسیح میں لکھتے ہیں۔

”وَأَشَارَ عِيْسَى بِقَوْلِهِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْئَهُ إِلَى قَوْمٍ آخَرِيْنَ مِنْهُمْ وَ إِمَامُهُمُ الْمَسِيْحُ بَلْ ذَكَرَ اسْمَهُ أَحْمَدَ بِالتَّصْرِيْحِ وَ أَشَارَ بِهٰذَا الْمَثَلِ الَّذِي جَاءَ فِي الْقُرْآنِ الْمَجِيْدِ إِلَى أَنَّ الْمَسِيْحَ الْمَوْعُوْدَ لَا يَظْهَرُ إِلَّا كَنَبَاتٍ لَيِّنٍ لَا كَالنَّشْءِ الْغَلِيْظِ الشَّدِيْدِ۔ ثُمَّ مِنْ عَجَائِبِ الْقُرْآنِ الْكَرِيْمِ أَنَّهُ ذَكَرَ اسْمَ أَحْمَدَ حِكَايَتًا عَنْ عِيْسَى وَ ذَكَرَ اسْمَ مُحَمَّدٍ حِكَايَتًا عَنْ مُوْسَى۔ لِيَعْلَمَ الْقَارِئُ أَنَّ النَّبِيَّ الْجَلَالِيَّ أَعْنِي مُوْسَى اخْتَارَ اِسْمًا يُشَابِهُ شَأْنَهُ أَعْنِي مُحَمَّدَنِ الَّذِي هُوَ اسْمُ الْجَلَالِ۔ وَكَذٰلِكَ اخْتَارَ عِيْسَى اسْمَ أَحْمَدَ نِ الَّذِي هُوَ اسْمُ الْجَمَالِ بِمَا كَانَ نَبِيًّا جَمَالِيًّا وَمَا أُعْطِيَ لَهُ شَيْءٌ مِّنَ الْقَهْرِ وَالْقِتَالِ فَحَاصِلُ الْكَلَامِ أَنَّ كُلًّا مِّنْهُمَا أَشَارَ إِلَى مَثِيْلِهِ التَّامِّ۔ فَاحْفَظْ هٰذِهِ النُّكْتَةَ فَإِنَّهَا تُنَجِّيْكَ مِنَ الْأَوْهَامِ وَ تَكْشِفُ عَنْ سَاقَيِ الْجَلَالِ وَالْجَمَالِ وَ تَرَى الْحَقِيْقَةَ بَعْدَ رَفْعِ الْفِدَامِ۔ وَ إِذَا قَبِلْتَ هٰذَا فَدَخَلْتَ فِيْ حِفْظِ اللهِ وَكِلَاءِهِ مِنْ كُلِّ دَجَّالٍ وَ نَجَوْتَ مِنْ كُلِّ ضَلَالٍ “ (اعجاز المسیح صفحہ ۱۲۵-۱۲۶، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۱۲۷-۱۲۸) (ترجمہ) اور عیسیٰ نے کَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطۡـَٔہٗ(48:30) الآیہ میں وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ(62:4) والی جماعت اور ان کے امام کی طرف اشارہ کیا ہے بلکہ اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ(61:7) کہہ کر صریح طور پر اس امام کا نام بھی بتا دیا ہے۔ اور اس مثال میں (یعنی کَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطۡـَٔہٗ(48:30) میں) جو قرآن کریم میں مذکور ہوئی ہے۔ حضرت عیسیٰ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مسیح موعود کا ظہور نرم و نازک پودے کے مشابہ ہو گا سخت چیز سے مشابہت نہیں رکھتا ہو گا۔ پھر منجملہ قرآنی لطائف کے ایک یہ نکتہ ہے کہ احمد نام کا تو عیسیٰ کی پیشگوئی میں ذکر کیا ہے اور محمدؐ کا حضرت موسیٰ کی پیشگوئی میں تاکہ پڑھنے والے کو یہ نکتہ معلوم ہو جائے کہ جلالی نبی یعنی موسیٰ نے ایسا نام پیشگوئی میں اختیار کیا جو اس کے اپنے حال کے موافق تھا۔ یعنی محمد جو جلالی نام ہے اور اسی طرح حضرت عیسیٰ نے اسم احمد کو پیشگوئی میں ظاہر کیا جو جمالی نام ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ جمالی نبی تھے اور قہر و قتال سے انہیں کچھ حصہ نہیں دیا گیا تھا۔ خلاصہ کلام یہ کہ (موسیٰ و عیسیٰ میں سے) ہر ایک نے اپنے مثیل تام کی طرف اشارہ کیا۔ اس نکتہ کو یاد رکھو کیونکہ یہ تمام اوہام سے نجات دینے والا ہے۔ اور جلال اور جمال دونوں کو خوب واضح کرتا ہے۔ اور پردہ اٹھا کر اصل حقیقت دکھا دیتا ہے اور جب تم اس کو تسلیم کر لو گے اور اسے مان لو گے تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں داخل ہو کر ہر ایک دجال سے بچ جاؤ گے اور ہر ایک گمراہی سے نجات پا جاؤ گے۔“

ان حوالوں سے آپ کو یہ تو معلوم ہو گیا ہو گا کہ اس پیشگوئی کا مصداق حضرت نے اپنے آپ کو قرار دیا ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ پھر آپ نے اس آیت کو آنحضرت ﷺ پر کیوں چسپاں کیا ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ جس قدر پیشگوئیاں آپ کی امت کی ترقی کی نسبت ہیں ان کے پہلے مظہر تو آنحضرت ﷺ ہی ہیں اگر آپ احمد نہ ہوتے تو مسیح موعود کیونکر احمد ہو سکتا تھا۔ مسیح موعود کو تو جو کچھ ملا ہے وہ آنحضرت ﷺ کے طفیل ملا ہے۔ اگر ایک صفت کی نفی آنحضرت ﷺ سے کی جائے تو ساتھ ہی اس کی نفی حضرت مسیح موعود سے ہو جائے گی۔ کیونکہ جو چیز چشمہ میں نہیں وہ گلاس میں کہاں سے آسکتی ہے۔ پس آنحضرت ﷺ احمد تھے اور اس پیشگوئی کے اول مظہر وہ تھے۔ لیکن چونکہ اس میں ایک ایسے رسول کی پیشگوئی ہے جس کا نام احمد ہے۔ اور آنحضرت ﷺ کی صفت احمد تھی نام احمد نہ تھا۔ اور دوسرے جو نشان اس کے بتائے گئے ہیں۔ وہ اس زمانہ میں پورے ہوئے ہیں۔ اور مسیح موعود پر پورے ہوئے ہیں۔ اور آپ کا نام احمد تھا اور آپ احمد کے

نام پر ہی بیعت لیا کرتے تھے۔ اور خدا نے بھی آپ کا نام احمد رکھا اور آپ نے اپنے نام کا یہی حصہ اپنی اولاد کے ناموں کے ساتھ ملایا۔ اس لئے سب باتوں پر غور کرتے ہوئے وہ شخص جس کی نسبت خبر دی گئی تھی مسیح موعود ہی ہے۔ ہاں اس لحاظ سے کہ آپ کے کل کمالات آنحضرت سے لئے ہوئے تھے۔ اولین مصداق آنحضرت کو قرار دینا ضروری ہے۔ مگر اس لئے کہ آپ صفت احمدیت کے سب سے بڑے مظہر تھے نہ اس لئے کہ آپ کا نام احمد تھا۔ کیونکہ آپ کا نام درحقیقت احمد نہ تھا۔ اور ہم جھوٹ نہیں بول سکتے۔ بخاری کی حدیث سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں احمد ہوں، اور ماحی ہوں، اور عاقب ہوں، اور ماحی اور عاقب آپ کے نام نہیں بلکہ صفات ہیں اسی طرح احمد بھی آپ کی صفت ہے۔ نام نہیں۔ قرآن کریم میں اور احادیث میں آپ کا ذکر جہاں کہیں ہے۔ اسم محمد سے آپ کو یاد کیا گیا ہے کلمہ شہادت میں بھی اسم محمد ہی داخل ہے۔ آپؓ کی والدہ نے ہرگز آپ کا نام احمد نہیں رکھا۔ یہ بات کسی کی بنائی ہوئی ہے۔ اور آپ کو چونکہ تاریخ اسلام سے ایسی واقفیت نہیں۔ اس لئے آپ نے اس کو صحیح تسلیم کر لیا۔ آپ کی والدہ کو رؤیا میں محمدؐ نام بتایا گیا تھا۔ جو صحیح روایات سے ثابت ہے۔ پس آپ کی بات قابل پذیرائی نہیں۔ ابوطالب نے کوئی ایسے شعر نہیں کہے۔ جن میں آپ کا نام احمد ہو۔ ابوطالب کے اشعار انہی لوگوں کے بنائے ہوئے ہیں۔ جنہوں نے حضرت علیؓ کا دیوان اور ابن عباسؓ کی تفسیر لکھی ہے۔ آپ کسی مؤرخ سے دریافت کریں کہ آیا یہ روایات درست بھی ہیں یا نہیں۔ بخاری اصح الکتب ہے۔ اس کی حدیث پر بھی جرح ہوتی ہے۔ پھر عام روایات کیونکر بلا تحقیق مان لی جاسکتی ہیں۔ ہمارے مفسرین جو اکثر اوقات غلط و صحیح روایات میں فرق نہیں کرتے بلکہ جو قول ان کی تائید میں مل جائے نقل کر دیتے ہیں۔ ان کی کتب کو اگر آپ دیکھیں تو اعلیٰ درجہ کی تفاسیر اس مضمون سے خالی ہیں۔ یا تو یہ لکھ دیا ہے کہ یہ صفت احمدیت کی پیشگوئی تھی جیسا کہ رسول اللہ فرماتے ہیں۔ اَنَا مُحَمَّدٌ وَّ اَنَا اَحْمَدُ وَ اَنَا مَاحٍ وَّ اَنَا عَاقِبٌ اور اسی طرح اَنَا نَبِیُّ الرَّحْمَةِ وَ التَّوْبَةِ وَ الْمَلْحَمَةِ۔ اور یا یہ لکھ دیا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ آسمان پر آپ کا نام احمد تھا۔ اور چونکہ حضرت مسیح نبی تھے۔ انہوں نے آسمانی نام کے مطابق پیشگوئی کی تھی۔ پس آپ ان حوالہ جات کی مزید تحقیقات فرمائیں۔ تاکہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ کیسی کچی اور ناقابل اعتبار روایات ہیں۔ جو صرف عیسائیوں کے اس اعتراض سے بچنے کے لئے وضع کر لی گئی تھیں۔ کہ تم تو احمدؐ کی پیشگوئی انجیل میں کہتے ہو۔ مگر تمہارے نبی کا نام تو احمد نہیں۔ اگر آنحضرت اس آیت کو اپنے اوپر چسپاں فرماتے تو بھی کوئی بات تھی۔ لیکن آپ نے نہیں فرمایا کہ یہ آیت مجھ پر چسپاں ہوتی ہے۔ بلکہ یہ فرمایا کہ اَنَا بَشَارَةُ عِیْسٰی میں عیسیٰ کی بشارت ہوں۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح نے دو خبریں دی تھیں۔ ایک اپنی دوبارہ بعثت کی۔ اور ایک عظیم الشان نبی کی۔ جسے ”وہ نبی“ کر کے پکارا ہے اور ہمارے آنحضرت ﷺ ”وہ نبی“ تھے۔ اور مسیح موعود کی آمد حضرت مسیح کی دوبارہ بعثت تھی۔ اور جو کام دوبارہ ہو اسے عربی کے محاورہ میں احمد کہتے ہیں جیسے کہ کہتے ہیں کہ اَلْعَوْدُ اَحْمَدُ پس اَنَا بَشَارَةُ عِیْسٰی سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ اپنے آپ کو اس آیت کا مصداق قرار دیا ہے۔ انجیل میں صاف الفاظ میں دو الگ الگ پیشگوئیاں موجود ہیں۔ ایک آپ کی نسبت اور ایک مسیح موعود کی نسبت۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا یہی عقیدہ تھا۔ کہ حضرت مسیح موعود ہی احمد ہیں۔ اور ہم نے بارہا ان سے سنا ہے۔ بلکہ سینکڑوں نے سنا ہے۔ چنانچہ اخبار بدر میں آپ کا یہ مذہب بھی شائع ہو چکا ہے۔ وَهُوَ هٰذَا۔

”۱۰؍دسمبر ۱۹۱۲ء۔ آج بعد ظہر مسجد اقصیٰ میں سورۃ صف کے پڑھنے سے قبل کسی نے کہا کہ اس سورۃ کو کھول کر بیان کرو۔ حالانکہ حضرت صاحب تمام ضروری باتوں کو کھول کر بیان کرتے ہیں۔ اور عام تراجم سے جہاں اختلاف ہو۔ وہ بھی خصوصیت سے بتلا دیتے ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ نادان لوگ بے فائدہ سوالات سے باز نہیں آتے۔ اس سورۃ کی تفسیر میں آپ نے ثابت کیا۔ کہ جس احمدؐ کی بشارت اس سورۃ شریف میں ہے وہ مثیل مسیح ہے۔ حضرت موسیٰ نے اپنے مثیل کے متعلق پیشگوئی کی تھی۔ اور حضرت مسیح نے اپنے مثیل کے متعلق پیشگوئی کی ہے۔ فرمایا میں اپنی ذوقی باتیں کم بیان کیا کرتا ہوں۔ سائل تو صرف احمد کے متعلق کھول کر بیان چاہتا ہے یہاں تو خدا نے احمد کے بعد نور کی طرف بھی قرآن شریف میں اشارہ کر دیا ہے۔ آگے دین کا لفظ بھی ہے اور اس نور کو نہ ماننے کے متعلق بھی کہا ہے۔ وَلَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ(40:15) (کلام امیر ضمیمہ بدر بابت ۱۹؍دسمبر ۱۹۱۲ء)

اس کے علاوہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی ایک تحریر اس آیت کے متعلق ڈاکٹر نور محمد صاحب لاہوری نے بھی شائع کی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں۔ ”میں وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِی اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ(الصف: ۷) کی پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق مانتا ہوں کہ یہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہی متعلق ہے۔ اور وہی احمد رسول ہیں“۔

پس آنحضرت ﷺ احمدؐ تھے۔ اور سب سے بڑے احمد تھے۔ کیونکہ آپ سے بڑا کوئی مظہر صفت احمدیت کا نہیں ہوا۔ لیکن آپ کا نام احمد نہ تھا۔ اور اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ(61:7) کا مصداق مسیح موعود ہے۔

ہاں آنحضرت ﷺ کی طرف بھی یہ پیشگوئی بوجہ آقا اور استاد ہونے کے اشارہ کرتی ہے۔

خواجہ صاحب یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگر حضرت مرزا صاحب احمد تھے تو پھر احمد رسول کا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے مگر خواجہ صاحب نے اتنا نہیں سوچا کہ آپ بھی تو آنحضرت ﷺ کو احمد مانتے ہیں۔ اور آپ کا یقین ہے کہ ان کا نام احمد تھا۔ پھر کیا آپ کلمہ شہادت لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اَحْمَدُ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھا کرتے ہیں؟ اگر باوجود اس کے کہ آنحضرت ﷺ کا نام کلمہ شہادت میں داخل ہے آپ محمد رسول اللہ کی بجائے احمد رسول اللہ نہیں کہتے تو ہمیں کس طرح مجبور کر سکتے ہیں کہ ہم احمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھیں اور مسیح موعود کو مراد لیں۔ اگر یہ کلمہ پڑھنا ضروری تھا تو پہلا فرض آپ کا تھا کہ آپ پڑھتے کیونکہ ہمارے لئے تو ابھی بہت سے مراحل طے کرنے باقی تھے۔ اول یہ کہ ہر نبی کے نام کا کلمہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں دوم یہ کہ جب شریعت آنحضرت ﷺ کی ہے تو پھر کسی اور نبی کا کلمہ پڑھا جا سکتا ہے یا نہیں لیکن آپ کے لئے تو کچھ مشکل نہیں نبی کریم ﷺ کا نام کلمہ شہادت میں پڑھنا ہر مسلمان کا فرض ہے اور آپ کا نام آپ احمد مانتے بھی ہیں پھر کیوں آپ محمد رسول اللہ کی جگہ احمد رسول اللہ کہنا نہیں شروع کر دیتے پس یہ اعتراض تو آپ پر پڑتا ہے نہ مجھ پر پھر آپ وہ الفاظ تو قرآن کریم سے بتائیں کہ اس مبشر کا کلمہ بھی پڑھنا چاہئے۔ اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ(61:7) والی آیت میں اس بات کا کہیں ذکر نہیں کہ اس کا کلمہ پڑھا جائے تاکہ اگر ہم مرزا صاحب کو احمد نبی مانیں تو اس سے کلمہ پڑھنا بھی ہم پر فرض ہو جائے اس آیت میں کوئی ایسے الفاظ ہیں جن سے یہ ثابت ہو کہ یہ احمد شریعت والا نبی ہو گا کہ ہمیں کہا جائے کہ ہم ایک نئی شریعت لائیں قرآن کریم کے الفاظ صاف ہیں۔ ان سے باہر جانے کا کسی کو حق نہیں اور اگر ہر رسول کا کلمہ پڑھنا ضروری ہوتا ہے تو چاہئے کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ مُوْسٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ عِیْسٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ غَیْرُہُمْ مِّنَ الْاَنْبِیَاءِ کے نام کو بھی کلمہ شہادت میں شامل کیا جائے خواجہ صاحب یہاں گنجائش نہیں ورنہ میں آپ کو بتاتا کہ کلمہ شہادت میں صرف محمد رسول اللہ ﷺ کے نام کے پڑھنے کی اجازت ہے اور کسی نبی کو یہ رتبہ نہیں دیا گیا خواہ نیا ہو یا پرانا یہ ایک خاص فضل ہے جس میں سوائے آپ کے اور کوئی شریک نہیں اور اگر یہ نہ بھی ہوتا تب بھی آپ کا نام ہم تب ترک کرتے اگر نعوذ باللہ آپ کی شریعت منسوخ قرار دیتے۔

خواجہ صاحب نے لکھا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کا تسمہ کھولنے کے قابل بھی صحابہؓ نہ تھے ایسے کلمات منہ سے نکالنے والے کو میں جاہل سمجھتا ہوں بشرطیکہ خواجہ صاحب اسکی صحت ثابت کر دیں۔ مسیح موعود اپنی عظمت اور شان میں ایسا بلند ہے کہ اس کی عظمت ثابت کرنے کے لئے کسی صحابی کی نسبت ہتک آمیز الفاظ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ آنحضرت ﷺ کی شان کا مقابلہ صحابہؓ سے کرتے وقت بھی کوئی شخص ایسے الفاظ استعمال کرے کیونکہ گو آنحضرت ﷺ اپنی شان میں نبیوں سے بھی بڑے ہیں لیکن کیا ضروری ہے کہ آپ کی عظمت کے اظہار کے لئے ہم صحابہ کی نسبت سخت الفاظ استعمال کریں ہمیں ہر بزرگ کی عزت کرنی چاہئے خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا باقی رہا درجوں کا تفاوت اس کی نسبت میں اپنا اعتقاد پہلے لکھ چکا ہوں اور وہ اعتقاد مسیح موعود کے منہ سے سنے ہوئے الفاظ کی بناء پر ہے۔

دوسرا مسئلہ کفر ہے جس پر خواجہ صاحب نے بحث کی ہے اس مسئلہ پر میں خود حضرت مسیح موعود کی اپنی تحریریں شائع کر چکا ہوں، مزید تشریح کی ضرورت نہیں میرا وہی عقیدہ ہے اور جبکہ میں حضرت مرزا صاحب کی نبوت کی نسبت لکھ آیا ہوں کہ نبوت کے حقوق کے لحاظ سے وہ ویسی ہی نبوت ہے جیسے اور نبیوں کی۔ صرف نبوت کے حاصل کرنے کے طریقوں میں فرق ہے پہلے انبیاء نے بلا واسطہ نبوت پائی اور آپ نے بالواسطہ۔ پس جو حکم نبی کے انکار کے متعلق قرآن کریم میں ہے وہی مرزا صاحب کے منکر کی نسبت ہے۔ قرآن کریم میں کہیں نہیں لکھا کہ یہ حکم فلاں فلاں قسم کے نبیوں کی نسبت ہے ہاں میں اس فرق کو ضرور تسلیم کرتا ہوں جو حضرت مسیح موعود نے تریاق القلوب میں لکھا ہے اور حقیقۃ الوحی میں اس کی مزید تشریح فرمائی ہے اور وہ یہ کہ صاحبِ شریعت نبی چونکہ شریعت کے لانے والے ہوتے ہیں اس لئے ان کا انکار بلا واسطہ انسان کو کافر بنا دیتا تھا۔ لیکن ہمارے حضرت مسیح موعودؑ کو چونکہ جو کچھ ملا ہے آنحضرت ﷺ کے طفیل اور آپ کے ذریعہ سے ملا ہے اس لئے آپ کا انکار بھی اسی واسطہ سے کفر ہوتا ہے یعنی آپ کا انکار آنحضرت ﷺ کا انکار ہے پس جس قدر فرق نبوت کے حصول کا ہے وہی فرق مخالفین کے انکار پر سزا کا ہے جو نبی کسی دوسرے نبی کے متبع نہیں ان کے مخالفین پر بھی کفر کا فتویٰ بلا واسطہ عائد ہوتا ہے لیکن مسیح موعودؑ چونکہ آنحضرت ﷺ کے دربار کا ایک عہدہ دار ہے اس لئے اس کے کفر کا فتویٰ دربار خاتم النبیّن سے جاری ہوتا ہے اور اسی واسطہ سے مخالفوں کو پہنچتا ہے اسی کی طرف حضرت (صاحب) نے حقیقۃ الوحی میں اشارہ فرمایا ہے کہ جو میرا انکار کرتا ہے وہ در حقیقت میرے سردار آنحضرت ﷺ کا انکار کرتا ہے۔

”علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسولؐ کو بھی نہیں مانتا کیونکہ میری نسبت خدا اور رَسُول کی پیشگوئی موجود ہے یعنی رسول اللہ ﷺ نے خبر دی تھی کہ آخری زمانہ میں میری امت میں سے ہی مسیح موعود آئے گا اور آنحضرت ﷺ نے یہ بھی خبر دی تھی کہ میں معراج کی رات میں مسیح ابن مریم کو اور ان نبیوں کو دیکھ آیا ہوں کہ جو اس دنیا سے گزر گئے ہیں اور یحیٰی شہید کے پاس دوسرے آسمان میں انکو دیکھا ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں خبر دی کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے۔ اور خدا نے میری سچائی کی گواہی کے لئے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کئے اور آسمان پر کسوف وخسوف رمضان میں ہوا اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خدا تعالیٰ کے نشانوں کو رَدّ کرتا ہے تو وہ مومن کیونکر ہو سکتا ہے اور اگر وہ مومن ہے تو میں بوجہ افتراء کرنے کے کافر ٹھہرا کیونکہ میں ان کی نظر میں مفتری ہوں“

(حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۶۸)

پس جب مسئلہ نبوت ثابت ہو چکا تو یہ مسئلہ کفر بھی خود بخود ثابت ہو چکا۔

طریقِ تبلیغ کے متعلق مجھے اپنی طرف سے کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں جو کچھ حضرت مسیح موعودؑ نے خود فتویٰ دیا ہے میں اسی کو پیش کرتا ہوں آپ نے یورپ میں تبلیغ کے متعلق جو راہ بتائی ہے وہ یہ ہے۔

”۱۳؍فروری ۱۹۰۷ء مولوی محمد علی صاحب کو بلا کر حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یورپ و امریکہ کے لوگوں پر تبلیغ کا حق ادا کرنے کے واسطے ایک کتاب انگریزی زبان میں لکھی جاوے اور یہ آپ کا کام ہے۔ آج کل ان ملکوں میں جو اسلام نہیں پھیلتا اور اگر کوئی مسلمان ہوتا بھی ہے تو وہ بہت کمزوری کی حالت میں رہتا ہے اس کا سبب یہی ہے کہ وہ لوگ اسلام کی اصل حقیقت سے واقف نہیں اور نہ ان کے سامنے اصل حقیقت کو پیش کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کا حق ہے کہ ان کو حقیقی اسلام دکھلایا جاوے جو خدا تعالیٰ نے ہم پر ظاہر کیا ہے وہ امتیازی باتیں جو کہ خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ میں رکھی ہیں وہ ان پر ظاہر کرنی چاہئیں۔ اور خدا تعالیٰ کے مکالمات اور مخاطبات کا سلسلہ ان کے سامنے پیش کرنا چاہئے۔ اور ان سب باتوں کو جمع کیا جاوے جن کے ساتھ اسلام کی عزت اس زمانہ میں وابستہ ہے۔ ان تمام دلائل کو ایک جگہ جمع کیا جاوے جو اسلام کی صداقت کے واسطے خدا تعالیٰ نے ہم کو سمجھائے ہیں۔ اس طرح ایک جامع کتاب تیار ہو جاوے تو امید ہے کہ اس سے ان لوگوں کو بہت فائدہ حاصل ہو۔“ (بدر جلد ۶ نمبر ۹ صفحہ ۴ ۔ ۲۸؍فروری ۱۹۰۷ء)

پھر اسی طرح ایک احمدی کے لئے بڑا کام آپ یہ بیان فرماتے ہیں:

”خان صاحب کے اس استفسار پر کہ ہم کو یہاں سے جا کر کیا بڑا کام کرنا چاہئے؟ فرمایا ہماری دعوت کو لوگوں کو سنایا جاوے ہماری تعلیم سے ان کو واقف کیا جاوے تقویٰ توحید اور سچا اسلام ان کو سکھایا جاوے۔“ (الحکم جلد ۷ نمبر ۵ صفحہ ۱۳ بابت ۷۔ فروری ۱۹۰۳ء)

اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود یورپ میں تبلیغ اسلام کے لئے اپنے الہاموں اور معجزات کا ذکر کرنا ضروری خیال فرماتے ہیں خود حضرت مسیح موعودؑ نے یورپ اور امریکہ میں تبلیغ کی ہے اور اشتہار ارسال فرمائے ہیں ان میں دیکھ لیں کیا طریقہ اپنا ذکر کیا ہے یا نہیں۔ ملکہ معظمہ کو جو تبلیغی چٹھی لکھی ہے اسی کو پڑھ لیں آیا لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کی تعلیم دے کر چھوڑ دیا ہے یا آگے اپنے آپ کو بھی منوانے کی کوشش کی ہے آپ کا طریق عمل ظاہر ہے پھر ہم اس سے کیونکر منحرف ہوں خود آپ نے جب وطن کی تحریک پر مسلم انڈیا کی طرز پر ریویو کو چلانا چاہا تو حضرت (صاحب) نے یہی جواب دیا کہ کیا آپ لوگوں کے سامنے مردہ اسلام پیش کریں گے۔ کیا ریویو یورپ کے لئے جاری نہ ہوا تھا کیا ایڈیٹر وطن اور ڈاکٹر عبد الحکیم کو یہی اعتراض نہ تھا کہ جو رسالہ یورپ کے لئے ہے اس میں صرف عام اسلامی مضامین ہوں سلسلہ کا ذکر کیوں کیا جاتا ہے اور عبد الحکیم کو جو کچھ جواب ملا وہ آپ سے پوشیدہ نہیں۔ حضرت خلیفہ اول نے اگر آپ کی تعریف کی تو اس سے کیا ثابت ہوا آپ ان کو لکھ رہے تھے کہ میں بہت اچھا کام کر رہا ہوں انہوں نے لکھا کہ ہاں جزاکم اللہ ۔ ہم اگر آپ کی تعریف کرتے تھے تو اس لئے کہ ہمارے پاس کوئی ایسا ثبوت نہ تھا جس سے معلوم ہو کہ آپ وہاں احمدیت کا ذکر نہیں کریں گے آپ ہندوستان میں فرمایا کرتے تھے کہ میں سڑک صاف کر لوں پھر سلسلہ کا ذکر کریں گے ہمارا خیال تھا کہ آپ جن کو مسلمان بناتے ہیں ان کو کچھ عرصہ کے بعد احمدی بنائیں گے یا کم سے کم ہمارے پاس اس کے خلاف کوئی ثبوت نہ تھا حتیٰ کہ حضرت خلیفہ اول جب بیمار تھے تو آپ کا وہ خط آیا جس میں لکھا تھا کہ یہاں اسلام کے فرق کا ذکر سَمِّ قاتل ہے یا اسی قسم کے اور لفظ تھے اس کے بعد آپ سے ہمیں کوئی ہمدردی نہ رہی جس قدر ہمدردی تھی جاتی رہی کیونکہ ہمارا تعلق آپ سے مسیح موعودؑ کے ذریعہ سے تھا جب آپ نے اس کے طریق کو چھوڑا ہم نے اسی وقت سے آپ کو چھوڑ دیا اور جب اس کے طریق کو اختیار کر لیں گے ہم بھی آپ سے اسی طرح ملیں گے جس طرح بھائی بھائی ملتے ہیں یا جس طرح ان کو ملنا چاہئے ۔ پھر ایک اور فرق پیدا ہو گیا اور وہ یہ کہ آپ نے مرکز سے قطع تعلق کر لیا اور ہمارے خیال میں ترقی اسی وقت ہو سکتی ہے جب متحدہ کوشش سے کام ہو۔ پس آپ کو مدد دینا گویا دو مرکزوں کو تسلیم کر کے سلسلہ کی اتحادی طاقت کو توڑنا تھا اور پھر سلسلہ احمدیہ کی تبلیغ کا کام بھی ولایت میں شروع کر دیا گیا تھا جس کی مدد کرنا ہمارا پہلا فرض تھا۔ پس یہ وجہ ہے کہ کل کچھ اور کہا جاتا تھا اور آج کچھ اور۔ آپ اس بات پر کیوں حیران ہیں کہ میری نسبت اور بعض

میرے دوستوں کی نسبت آج وہ الفاظ نہیں استعمال کئے جاتے جو پہلے کئے جاتے تھے کیونکہ واقعات کے تغیر سے خیالات بھی بدل جاتے ہیں کیا یہ سچ نہیں کہ ایک وہ دن تھا کہ مولانا سید محمد احسن صاحب کی تعریف میں آپ لوگ رطب اللسان تھے اور پھر وہ دن آیا کہ کسی لکھنے والے نے یہ بھی لکھ دیا کہ حضرت صاحب کا یہ الہام انہی مولوی صاحبان کی نسبت تھا کہ ”مولوی ننگے ہو گئے“ پھر وہی ام المومنین جس کی نسبت حضرت مسیح موعودؑ کے سامنے آپ ایک برا لفظ بھی استعمال نہیں کر سکتے تھے آج اس کی نسبت بری سے بری باتیں منسوب کی جاتی ہیں اور میری نسبت تو مدت سے ایسے خیالات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ مجھے کوئی نیا اعتراض غمگین نہیں کر سکتا۔ کیونکہ تعجب اور حیرت انسان کو اسی چیز پر ہوتی ہے جو نئی ہو جس چیز کو دیکھتے اور سنتے برسوں گذر گئے ہیں اس نے حیرت اور تعجب کیا پیدا کرنا ہے۔ پس حالات کے تغیر سے خیالات میں تغیر پیدا ہو جاتا ہے اور یہ کوئی ایسی خلاف فطرت بات نہیں کہ اس پر آپ کو تعجب ہو عبدالرحیم اور عباس علی کی نسبت حضرت صاحب نے تعریفی کلمات لکھے پھر بعد میں جو کچھ لکھا وہ بھی آپ کی کتابوں میں موجود ہے مگر ہم حضرت صاحب پر اعتراض نہیں کر سکتے کہ آپ نے دو پہلو کیوں بدلے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ آپ نے دو مختلف تحریریں اس لئے شائع کیں کہ وہ دو مختلف حالات کے متعلق تھیں ایسا ہی اب ہے اگر حالات پھر پہلے سے ہو جائیں تو آراء بھی بدل جائیں گی۔

اپنی تبلیغ کے متعلق خواجہ صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ دیکھو چوہدری فتح محمد بھی اسی رنگ میں کام کر رہا ہے جس میں میں کرتا تھا۔ میرا جواب یہ ہے کہ اگر چوہدری فتح محمد اسی طریق سے کام لیتے ہیں جو خواجہ صاحب کا ہے یعنی سلسلہ کا ذکر نہیں کرتے بلکہ اس کو چھپاتے ہیں تو میں ان کو بھی ویسا ہی قصور وار خیال کرتا ہوں جیسے خواجہ صاحب کو۔ مجھے تو افعال سے بحث ہے نہ کہ انسانوں سے۔ جس فعل کو میں برا خیال کرتا ہوں جو کوئی بھی اس فعل کا مرتکب ہو میں اسے خطا کار خیال کروں گا۔ لیکن میں اس قدر اور ضرور کہہ دینا چاہتا ہوں کہ چوہدری فتح محمد صاحب کے جو خطوط آتے رہتے ہیں ان سے خواجہ صاحب کے خیال کی تردید ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنے خطوط میں برابر اس امر کا ذکر کرتے رہتے ہیں کہ وہ سلسلہ کی تبلیغ میں کوشاں ہیں اور چوہدری فتح محمد صاحب کا میں ایسی اچھی طرح سے واقف ہوں کہ ان کی نسبت جھوٹ منسوب نہیں کر سکتا۔ میں اور وہ ایک جماعت میں پڑھتے رہے ہیں اور بچپن سے ہم ایک دوسرے کے واقف ہیں میں نے اس واقفیت کے عرصہ میں ان کو جھوٹ بولتے ہوئے نہیں دیکھا پس میں کس طرح ان کی تحریروں کو غلط سمجھ لوں اور خصوصاً جبکہ ان کے بیانات پر الٰہی شہادت کی مہر صداقت بھی ہو اور وہ اس طرح کہ جس دن خواجہ صاحب کی لاہور میں تقریر تھی اس دن ان کا ایک تار آیا کہ وہاں ایک شخص احمدی مسلمان ہو گیا ہے اگر وہ اس طریق پر عمل کرتے جس پر آپ عمل کرتے تھے تو ان کے ہاتھ سے احمدی مسلمان کیونکر ہوا کیوں نہ آپ کے ہاتھ پر کوئی انگریز احمدی ہوا۔

خواجہ صاحب غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق جس اختلاف کا ذکر فرماتے ہیں مجھے اس پر بھی تعجب ہے کیونکہ اس مسئلہ میں خواجہ صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کے فتویٰ کی طرف اشارہ تک بھی نہیں کیا اور آپ کی تحریر سے بالکل ظاہر نہیں ہوتا کہ آیا حضرت مسیح موعودؑ نے اس مسئلہ پر کچھ فرمایا بھی ہے یا نہیں مؤمن انسان کا کام ہے کہ وہ اپنے اصول سے نہ پھرے۔ خواجہ صاحب نے اپنے مضمون میں بار بار اس امر پر زور دیا ہے کہ ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے کیا فرمایا ہے چنانچہ مسئلہ خلافت پر زیادہ زور اسی بات پر دیا ہے لیکن نماز کے متعلق اس بات کو نظر انداز کر گئے ہیں کہ آپ نے غیر ممالک میں غیروں کے پیچھے نماز پڑھنے کی نسبت کیا فتویٰ دیا ہے مگر مجھے امید ہے کہ جب خواجہ صاحب کو وہ فتویٰ معلوم ہو جائے گا تو وہ اپنے خیالات میں اصلاح کر لیں گے ان فتوؤں میں سے ایک تو وہ فتویٰ ہے جو عجب خاں صاحب کے سوال پر حضرت مسیح موعودؑ نے دیا تھا اور عجب خاں صاحب اس وقت مخالفین خلافت کے ایک اعلیٰ رکن ہیں اور خواجہ صاحب کے واقف ہیں ان سے دریافت کریں کہ مسیح موعود نے کیا فتویٰ دیا تھا مگر چونکہ وہ فتویٰ شائع ہو چکا ہے اس لئے میں اسے ذیل میں درج کر دیتا ہوں۔

(مؤرخہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۰۳ء) ”جناب خان عجب خان صاحب آف زیدہ کے استفسار پر کہ بعض اوقات ایسے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے جو اس سلسلہ سے اجنبی اور ناواقف ہوتے ہیں ان کے پیچھے نماز پڑھ لیا کریں یا نہیں فرمایا اول تو کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں لوگ واقف نہ ہوں۔ اور جہاں ایسی صورت ہو کہ لوگ ہم سے اجنبی اور ناواقف ہوں تو ان کے سامنے اپنے سلسلہ کو پیش کر کے دیکھ لیا۔ اگر تصدیق کریں تو ان کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرو ورنہ ہرگز نہیں اکیلے پڑھ لو۔ خدا تعالیٰ اس وقت چاہتا ہے کہ ایک جماعت تیار کرے۔ پھر جان بوجھ کر ان لوگوں میں گھسنا جن سے وہ الگ کرنا چاہتا ہے منشاء الٰہی کے مخالف ہے“ (الحکم جلد ۷ نمبر ۵ صفحہ ۱۳ بابت ۷۔ فروری ۱۹۰۳ء)

اسی طرح سید عبداللہ صاحب عرب جب اپنے وطن کو چلے تو آپ نے اسی مسئلہ کے متعلق جو دریافت کیا اور جو جواب ملا وہ بھی ذیل میں درج ہے۔

(مؤرخہ ۱۰؍ ستمبر ۱۹۰۱ء) ”سید عبداللہ صاحب عرب نے سوال کیا کہ میں اپنے ملک عرب میں جاتا ہوں وہاں میں ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں۔ فرمایا مصدقین کے سوا کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ عرب صاحب نے عرض کیا وہ لوگ حضور کے حالات سے واقف نہیں ہیں اور ان کو تبلیغ نہیں ہوئی فرمایا ان کو پہلے تبلیغ کر دینا پھر یا وہ مصدق ہو جائیں گے یا مکذّب۔ عرب صاحب نے عرض کیا کہ ہمارے ملک کے لوگ بہت سخت ہیں اور ہماری قوم شیعہ ہے۔ فرمایا تم خدا کے بنو اللہ تعالیٰ کے ساتھ جس کا معاملہ صاف ہو جائے اللہ تعالیٰ آپ اس کا متولّی اور متکفّل ہو جاتا ہے“۔

(الحکم جلد پنجم نمبر ۳۰ مورخہ ۲۴؍ ستمبر ۱۹۰۱ء صفحہ ۶ فتاویٰ احمدیہ جلد اول صفحہ ۱۸)

”سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نماز حضور کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں۔

فرمایا پہلے تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف کرو۔ پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر ورنہ اس کے پیچھے اپنی نماز ضائع نہ کرو۔ اور اگر کوئی خاموش رہے نہ تصدیق کرے نہ تکذیب تو وہ بھی منافق ہے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو“۔ (فتاویٰ احمدیہ جلد اول ص۸۴)

ان تینوں حوالوں سے صاف ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے اس فتویٰ میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں اور بالکل صاف فتویٰ ہے۔ باقی رہا یہ سوال کہ حضرت خلیفہ اول نے اس کے خلاف کیوں فتویٰ دیا سو اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہ فتویٰ معلوم نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے بار بار کے اصرار پر اس خیال سے کہ آپ کسی زیادہ خطرناک ابتلاء میں نہ پڑیں اجازت دیدی ہو۔ مگر خواجہ صاحب آپ نے ولایت کی زمین کو ایسا مطہّر اور پاک کنندہ خیال کیا کہ خود آپ کے خیال کے مطابق جس ملک کے باشندوں کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہ تھی ولایت میں آپ نے ان کے پیچھے نماز پڑھ لی حالانکہ انگلستان کی زمین میں کوئی ایسی خصوصیت نہیں جس سے ہندوستان کے لوگ جب ولایت میں جائیں تو ان کے پیچھے نماز پڑھنی جائز ہو جائے۔ آپ نے ۱۸۹۲ء کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے لاہور میں غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھی اور کفرنامہ اس سے پہلے کا تیار تھا اس لئے معلوم ہوا کہ مسئلہ کفر باعث نہ تھا غیر احمدیوں کے پیچھے نماز چھوڑنے کا۔ مجھے اس واقعہ سے انکار نہیں اور یہ واقعہ ہماری تائید میں ہے نہ کہ تردید میں۔ یہ واقعہ تو ان لوگوں پر حجت ہے جو کہتے ہیں کہ نماز صرف ان کے پیچھے حرام ہے جو مکفر ہوں دوسروں کے پیچھے جائز ہے اور جو اپنی تائید میں لاہور میں حضرت مسیح موعودؑ کی ایک بیرسٹر سے گفتگو کو سند پکڑا

کرتے ہیں اور اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ صرف مکفّر کے پیچھے نماز ناجائز ہے کیونکہ خواجہ صاحب شہادت دیتے ہیں کہ مولوی رحیم بخش مکفّر کے پیچھے حضرت مسیح موعودؑ نے خود نماز پڑھی اس واقعہ سے تو صاف ثابت ہے کہ نماز غیر احمدیوں کے پیچھے نہ پڑھنے کا اصل باعث کچھ اور ہی ہے کیونکہ ایک وہ زمانہ تھا جب باوجود کفر کے فتویٰ کے غیر احمدیوں کے پیچھے نماز حضرت مسیح موعودؑ بھی پڑھ لیا کرتے تھے اور اس بات کے ثابت ہونے سے یہ بات بھی حل ہو گئی کہ غیر ممالک میں بھی غیروں کے پیچھے نماز جائز نہیں کیونکہ جو لوگ غیر احمدیوں کے پیچھے غیر ممالک میں نماز پڑھنا جائز بتاتے ہیں وہ اس کی وجہ یہی بتاتے ہیں کہ کافر کہنے والے تو ہندوستان کے لوگ ہیں غیر ممالک کے لوگوں کا کیا قصور ہے کہ ان کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے لیکن یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ نماز سے روکنے کا اصل باعث یہ تھا گو غیر احمدیوں کو ان کے اپنے مسلّمات کے رو سے بھی ملزم کرنے کے لئے یہ بھی پیش کیا جاتا رہا ہو لیکن اصل باعث کچھ اور ہی تھا خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ اصل باعث مسجدوں کے چھوڑنے کا مسئلہ کفر نہ تھا بلکہ اصل باعث خلل امن تھا۔ احمدی جماعت تھوڑی تھی مخالف زیادہ تھے اور لڑائی جھگڑوں میں ضمانتوں تک نوبت پہنچ جاتی تھی اس لئے حضرت (صاحب) نے مساجد سے روک دیا یہ جواب بہت معقول ہوتا اگر اس سے مسجدوں سے ممانعت کا فتویٰ نکالا جاتا لیکن حضرت مسیح موعودؑ تو غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے بھی روکتے ہیں ہمیں ایسا فتویٰ تو کوئی نظر نہیں آتا جس میں آپ نے یہ حکم دیا ہو کہ احمدی غیر احمدیوں کی مساجد میں کبھی نہ گھسیں ہاں مساجد سے باہر جہاں فتنہ کا خوف نہ ہو ان کے پیچھے نماز پڑھ لیں تو کچھ حرج نہیں۔ لیکن اس کے خلاف یہ حکم ہمیں ملتا ہے کہ غیروں کے پیچھے نماز نہ پڑھو حالانکہ اگر آپ کی بات درست ہے تو اصل حکم یوں چاہئے تھا کہ غیر احمدیوں کی مساجد میں مت گھسو لیکن یہ حکم ہمیں قطعی ممانعت کے رنگ میں کبھی نہیں ملا گو یہ حضرت صاحب کا ارشاد تھا کہ اگر دوسرے لوگ تمہیں نماز نہ پڑھنے دیں تو ان مساجد میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں لیکن حکم اگر ملا تو یہ کہ غیر احمدیوں کے پیچھے خواہ وہ کسی رنگ کے ہوں نماز نہ پڑھو حالانکہ اگر فساد باعث تھا تو کیوں حضرت مسیح موعودؑ نے یہ اجازت نہ دے دی کہ اگر اپنے گھر پر کسی غیر کے پیچھے نماز پڑھنے کا موقعہ مل جائے تو تم کو اجازت ہے کہ اس کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرو کیونکہ اپنے گھر پر ایک غیر احمدی دوست کے پیچھے نماز پڑھنے میں کسی قسم کے فساد کا خطرہ نہیں ہو سکتا تھا مگر حضرت مسیح موعودؑ نے کوئی استثناء بیان نہیں فرمایا۔ پھر غیر ممالک میں جہاں لوگوں کو اطلاع نہ ہو کہ یہ نماز پڑھنے والا کون ہے۔ ایسی جگہ بھی غیروں کے پیچھے نماز پڑھنے سے روک دیا۔ جیسا کہ خان عجب خان صاحب کے فتوے سے ظاہر ہے اور پھر خاص کعبہ میں غیروں کے پیچھے نماز پڑھنے سے کیوں روک دیا۔ حالانکہ بیت اللہ میں تو ہر فرقہ کے لوگ جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اور ان پر کوئی گرفت نہیں۔ باہر شرارت کرنے والے بیشک شرارت کریں۔ مگر خود بیت اللہ میں کوئی کسی کو منع نہیں کرتا کہ جماعت میں کیوں شامل ہوتا ہے۔ ہاں الگ نماز پڑھنے پر بیشک فساد کا خطرہ ہوتا۔ لیکن حضرت صاحب نے وہاں بھی غیروں کے پیچھے نماز پڑھنے سے روک دیا۔ جیسا کہ فرماتے ہیں:

”حج میں بھی آدمی یہ التزام کر سکتا ہے کہ اپنے جائے قیام پر نماز پڑھ لیوے اور کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔ بعض ائمہ دین سالہا سال مکہ میں رہے لیکن چونکہ وہاں کے لوگوں کی حالت تقویٰ سے گری ہوئی تھی۔ اس لئے کسی کے پیچھے نماز پڑھنا گوارا نہ کیا۔ اور گھر میں پڑھتے رہے۔“

(فتاویٰ احمدیہ جلد اوّل ص۲۱)

پس ان تمام باتوں سے یہ نتیجہ نکلا کہ غیر احمدیوں سے نماز میں جدائی اختیار کرنے کے فتوے کا اصلی باعث نہ مسئلہ کفر تھا۔ جیسا کہ خود خواجہ صاحب نے اس خیال کی تردید کی ہے اور نہ فساد جھگڑے کا خطرہ تھا۔ جیسا کہ ان کا اپنا بیان ہے گو یہ دونوں وجوہات بھی احمدیوں کے لئے مشکل پیدا کرنے کا باعث ہوں۔ لیکن حرمت کی اصل وجہ کچھ اور ہونی چاہئے۔ اور وہ میں بیان کرتا ہوں۔ حضرت صاحب فرماتے ہیں:

”یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ اِمَامُکُمْ مِّنْکُمْ یعنی جب مسیح نازل ہو گا۔ تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا۔ اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا۔ پس تم ایسا ہی کرو کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو۔ اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور ہر ایک حال میں مجھے حَکَم ٹھہراتا ہے اور ہر یک تنازعہ کا فیصلہ مجھ سے چاہتا ہے مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے پس جانو کہ وہ مجھ میں سے نہیں۔ کیونکہ وہ میری باتوں کو جو مجھے خدا سے ملی ہیں عزت سے نہیں دیکھتا۔ اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں“ (اربعین نمبر ۳ حاشیہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۱۷)

اس فتوے سے ہمیں اصل غرض حرمتِ نماز کی معلوم ہوتی ہے۔ اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے۔ اور یہ وجہ وہ ہے جو نہ ہند سے خاص ہے اور نہ عرب سے نہ انگلستان سے خدا تعالیٰ کے حرام کو کوئی حلال نہیں کر سکتا۔ اور اس کے منع کئے ہوئے کو کوئی جائز نہیں کر سکتا۔ پس اصل وجہ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کو حرام کرنے کی یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو ایک ہی مالک اور خالق ہے اس تمام جماعت کو جسے حضرت مسیح موعود کے دعاوی اور آپ کے الہاموں پر ایمان ہے حکم دیا ہے کہ وہ کبھی کسی غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔ اور اس اعلان کے بعد حضرت مسیح موعودؑ نے ہر ایک اس شخص کو جس نے غیروں کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت طلب کی اجازت نہیں دی۔ خواہ وہ کسی بہانہ سے ہی اجازت طلب کرتا رہا ہو۔

اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے مامور اور مرسل جن چیزوں کو ناپسند کرتے ہیں۔ ان کے متعلق بھی اس وقت تک کوئی قطعی فتویٰ نہیں دیتے۔ جب تک ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم نہ ہو جائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو متعہ سے روکتے تھے۔ پھر بعض حالات کے ماتحت اسے جائز بھی کر دیتے کیونکہ اس حرمت کا باعث خدا تعالیٰ کا حکم نہ تھا۔ بلکہ آپ کا اپنا اجتہاد تھا۔ آپ جب منع فرماتے ہوں گے تب بھی کسی وجہ سے منع فرماتے ہوں گے مگر چونکہ حکم نہ تھا۔ جب دیکھتے کہ لوگ اس امر کے محتاج ہیں کہ انہیں متعہ کی اجازت دی جائے۔ آپ اجازت دے دیتے۔ چنانچہ شیعہ آج تک ان اجازتوں پر مصر ہیں۔ لیکن ایک وہ وقت آیا کہ آپ نے فرمایا کہ اعلان کر دو۔ کہ خدا تعالیٰ اور اس کا رسول اس کام کو حرام کرتے ہیں۔ اور اس کے بعد متعہ جائز نہ ہوا۔

اسی طرح نماز کو ابتداء میں حضرت مسیح موعودؑ نے بعض عقلی دلائل کی بناء پر اور بعض نقائص کی بناء پر چھڑوایا۔ اور ترک کرایا اور ان میں فتویٰ کفر بھی تھا۔ اور مساجد کا فساد بھی تھا۔ چنانچہ اول الذکر دلیل خود حضرت مسیح موعودؑ دیتے رہے ہیں۔ اور دوسری دلیل حضرت خلیفہ اول بیان فرمایا کرتے تھے۔ لیکن یہ دونوں اصل حرمت کے باعث نہیں ہو سکتے تھے۔ بلکہ یہ وقتی وجوہات تھیں جن کی وجہ سے غیروں کی مساجد میں جانا یا کافر کہنے والوں کے پیچھے نماز منع کر دی گئی۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ کا حکم آیا۔ جس پر نماز غیروں کے پیچھے حرام کی گئی۔ اور اب صرف منع نہ تھی بلکہ حرام تھی۔ اور حقیقی حرمت صرف خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوئی ہے۔ پس غیروں کے پیچھے نماز پڑھنے سے روکنے والا اصل باعث خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔ گو ابتداء نمازوں میں غیروں کو امام بنانا یا ان کی مساجد میں جانا ترک کرنا ایک حد تک مسئلہ کفر یا مساجد کے فساد ہی کے باعث تھا مگر پھر خدا تعالیٰ کے حکم نے

ہمارے استدلال سے اس فتویٰ کو باہر نکال دیا۔ اور خدا تعالیٰ نے اپنے ناطق فیصلہ سے ظاہر فرمایا کہ وہ احمدیوں کا کس راہ پر قدم زن ہونا پسند فرماتا ہے۔ پس اصل وجہ یہی ہے جو ہر جگہ یکساں قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فیصلہ میں کسی قوم یا ملک کو مستثنیٰ نہیں فرمایا۔ پس کون ہے جو اس فتوے کے علم کے باوجود اس کے خلاف عمل کرے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے فتووں میں اس حکم کی تشریح فرما دی ہے۔ اور غیر ممالک کے جانے والوں کو بھی غیروں کے پیچھے نماز پڑھنے سے روک دیا ہے۔ بلکہ جو شخص غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھتا ہے۔ اس کے متعلق یہ فتویٰ دیا ہے کہ کوئی احمدی اس کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔ چنانچہ ایک شخص کے سوال پر آپ نے یہ جواب عطا فرمایا ہے۔

”جو احمدی ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے۔ جب تک توبہ نہ کرے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو“۔

(فتاویٰ احمدیہ جلد اوّل صفحہ ۲۲)

باقی رہا یہ کہ خلیفہ اپنی وفات تک غلطی پر قائم نہیں رہتا۔ یہ ایک من گھڑت اصل ہے۔ یہ انبیاء کی نسبت حضرت مسیح موعودؑ نے لکھا ہے نہ خلفاء کی نسبت۔ پس آپ کا یہ نتیجہ نکالنا کہ چونکہ حضرت خلیفہ اول اس عقیدہ پر اور مسئلہ کفر پر آپ کے خیال کے مطابق آخر دم تک قائم رہے تو اس سے آپ کی تائید ہوئی غلط ہے۔ نماز کے متعلق تو حضرت خلیفہ اول کو حضرت مسیح موعودؑ کا فتویٰ معلوم نہ تھا۔ ایک فتویٰ آپ کی سخت بیماری میں آپ کو دکھایا گیا مگر وہ مکمل نہ تھا۔ اس لئے اس کے متعلق حضرت (صاحب) فیصلہ نہیں کر سکے۔ اور نہ وہ وقت ایسا تھا ہی کہ آپ فیصلہ کر سکتے۔ باقی رہا کفر کا مسئلہ۔ اس کے متعلق میرے پاس حضرت (صاحب) کی تحریر موجود ہے۔ آپ کے مختلف حوالہ جات جن سے آپ کا مذہب ظاہر ہوتا ہے وہ شائع ہو چکے ہیں۔ میں نے اپنے پاس سے نہیں بلکہ مسیح موعودؑ کا اعتقاد ایک رسالہ میں لکھ کر شائع کیا تھا۔ اس پر آپ نے تصدیق کی۔ وہ مضمون اب تک آپ کا اصلاح کردہ موجود ہے۔ ان تمام باتوں کے ہوتے ہوئے کون کہہ سکتا ہے۔ کہ آپ کا مذہب فتوائے کفر میں میرے خلاف تھا۔ آپ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے مضامین پر بھی حضرت (صاحب) کے دستخط ہیں۔ مگر اس اختلاف کی صورت میں ہم ان فتووں کو دیکھیں گے۔ جو آپ نے خود بخود دیئے ہیں۔ یا زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کی رائے کی نسبت ہم کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے کہ کیا تھی؟ لیکن آپ کا کوئی حق نہیں کہ خلاف واقعہ اسے اپنی تائید میں پیش کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے ایک دوست نے مشہور کیا ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ کفر کا مسئلہ میاں صاحب نہیں سمجھے۔ لیکن یہ بالکل جھوٹ ہے۔ وہ اپنے بیان پر قسم کھا جائے تو میں

دیکھوں گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے کیا سلوک کرتا ہے۔ ورنہ جھوٹ سے کیا فائدہ۔ آپ نے اس طرح فرمایا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ تم کبھی غیر احمدیوں کو کافر کہتے ہو کبھی مسلمان۔ یہ ایک ایسا باریک مسئلہ ہے کہ اسے کوئی نہیں سمجھتا۔ حتّٰی کہ میاں صاحب بھی نہیں سمجھے۔

اس فقرہ سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ کے نزدیک میں کفر کا مسئلہ نہیں سمجھا۔ بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے خیال میں میں اس بات کو نہیں سمجھا کہ کیوں آپ کبھی کافر کہتے ہیں کبھی مسلمان۔ اس میں کیا بھید ہے؟ اور حتّٰی کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے خیال میں میں ہی وہ شخص تھا جسے اس مسئلہ کو سمجھنا چاہئے تھا۔ پس اس سے میرے مخالف کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس وقت جب آپ نے یہ کلمات فرمائے اور لوگ بھی موجود تھے۔ اور میں نے ان کی حلفی شہادت لے لی ہے جو میرے پاس موجود ہے۔ لیکن چونکہ اس وقت حضرت کی حالت نازک تھی۔ میں نے مناسب نہ سمجھا کہ اس بحث کو چھیڑا جائے۔ اب ذیل میں وہ شہادت درج کی جاتی ہے:

”میں اور چند اور احباب اور حضرت میاں صاحب حضرت خلیفۃ المسیح کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت نے اپنے سلسلہ کلام میں فرمایا کہ ”کفر و اسلام کا مسئلہ جو بڑا مشکل سمجھا جاتا ہے گو لوگ مجھے کہتے ہیں کہ یہ کبھی مسلم کہتا ہے اور کبھی کافر لیکن خدا نے مجھے اس میں وہ سمجھایا ہے جو کسی کو نہیں سمجھ آیا۔ حتّٰی کہ میاں کو بھی سمجھ نہیں آیا اور میں خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ شہادت دیتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے یہی فرمایا تھا“۔ (محمد سرور)

”مندرجہ بالا بیان جہاں تک مجھے یاد ہے بالکل درست ہے۔ سوائے اس کے کہ مجھے کہتے ہیں کی بجائے آپ نے فرمایا تھا کہ لوگ مجھ پر اعتراض کرتے ہیں کہ کبھی کافر کہتا ہے اور کبھی مسلمان“۔ (شیر علی)

”مجھے جہاں تک یاد ہے حضرت خلیفۃ المسیح نے ترجمہ قرآن شریف سننے کے وقت جو مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں فرمایا تھا کہ مجھ پر بھی یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ کبھی میں (غیر احمدیوں کو) کافر کہتا ہوں اور کبھی مسلمان۔ یہ دقیق مسئلہ ہے کسی نے نہیں سمجھا۔ حتّٰی کہ میاں نے بھی نہیں سمجھا۔ یہ مسئلہ بھی احمدیوں میں صاف ہونے کے قابل ہے“ (راقم محمد علی خان)

”حضرت خلیفۃ المسیح کی صحت دریافت کرنے کے لئے یہ خاکسار حضور کے مکان پر حاضر ہوا دیکھا تو مولوی محمد علی صاحب ترجمۃ القرآن کے نوٹس سنا رہے تھے اور حضرت کے سرہانے جناب حضرت صاحبزادہ صاحب بیٹھے تھے کہ حضرت اقدس نے فرمایا کہ میرے متعلق جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ کبھی غیر احمدیوں کو کافر کہتا ہے کبھی مسلمان۔ یہ ایک باریک مسئلہ ہے جو ہمارے میاں نے بھی نہیں سمجھا“ (راقم مہر محمد خان مالیر کوٹلوی ثم قادیانی)

باقی رہا یہ کہ میرا کوئی مضمون امرتسر میں چھپا۔ لیکن اس کی اشاعت حضرت خلیفہ اول نے روک دی۔ یہ ایک صریح جھوٹ ہے جو آپ تک پہنچایا گیا۔ میں نے سوائے اس مضمون کے جو تشحیذ میں شائع ہوا اور کوئی مضمون اس موضوع پر نہیں لکھا۔ ہاں! تشحیذ سے لے کر کسی نے الگ ٹریکٹ میں اسے شائع کرنا چاہا تھا۔ اسے حضرت خلیفہ اول نے روک دیا تھا۔ اور یہ فعل اس شخص کا تھا بھی نامناسب۔ کیونکہ یہ مضمون خاص جماعت کے لئے تھا۔ اور ایک رسالہ اور ایک اخبار میں شائع ہو کر اس کی جماعت میں کافی اشاعت ہو چکی تھی۔ اب اسکو الگ شائع کرنا خواہ مخواہ لوگوں کو جوش دلانا تھا۔ اور اسراف بھی۔ جب میں نے سنا کہ ایک شخص نے ایسا کیا ہے تو میں نے بھی اسے پسند نہیں کیا۔ پس وہ وہی مضمون تھا جسے تشحیذ میں حضرت کی اجازت سے شائع کیا گیا۔ بلکہ وہی مضمون تھا جس کی نسبت جب مشہور کیا گیا کہ اس پر حضرت ناراض ہیں تو میں نے دوبارہ پیش کیا کہ اگر آپ شرح صدر سے اجازت دیں تب شائع کروں۔ تو اس پر حضور نے فرمایا کہ میں منافق نہیں کہ منافقت سے اجازت دوں۔ کیا آپ کو میری بات پر اعتبار نہیں آیا۔ اس جواب کے بعد میں نے اسے شائع ہونے کے لئے دیا۔ اور وہ مضمون حضرت کی کتابوں سے لیا گیا ہے۔ میری تصنیف نہیں۔

اب ایک مسئلہ خلافت باقی رہ گیا ہے جس پر خواجہ صاحب نے بڑا زور دیا ہے۔ اور در حقیقت یہی ایک بڑی بنائے مخاصمت ہے۔ ورنہ ہم سے ان کو کچھ زیادہ پرخاش نہیں۔ خلافت کے متعلق جو کچھ لکھا ہے وہ وہی باتیں ہیں جن کا مفصل جواب خلافت احمدیہ میں حضرت خلیفہ اول کے حکم کے ماتحت انجمن انصار اللہ نے دیا تھا۔ اب ایک طرف تو وہ مضمون ہے جس کا خود خلیفہ اولؓ نے حکم دیا اسے دیکھا اصلاح فرمائی اجازت دی۔ کیا اس کے مقابلہ میں آپ بھی کوئی ایسا مضمون خلافت کے خلاف پیش کر سکتے ہیں جسے حضرت خلیفہ اول نے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہو پسند فرمایا ہو۔ اور شائع کرنے کی اجازت دی ہو۔ تاکہ اس سے آپ کے اس دعوے کی تصدیق ہو سکے کہ حضرت خلیفہ اول شخصی خلافت کے قائل نہ تھے۔

میری اس سے یہ غرض نہیں کہ حضرت خلیفہ اول کی پسندیدگی سے خلافت کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ کیونکہ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ آپ کی پسندیدگی یا عدم پسندیدگی سے فیصلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کیونکہ اصل فیصلہ وہی ہونا چاہئے جو اسلام اور مسیح موعود کے حکم کے ماتحت ہو۔ لیکن

میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کے مضمون سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح بھی آپ کے اس خیال کے مؤید تھے۔ اور آپ صرف ایک بزرگ ہونے کے لحاظ سے بیعت لیتے تھے نہ کہ خلیفہ کی حیثیت سے۔ لیکن یہ بات صریح غلط ہے۔ حضرت کی پہلی تقریر جو خلافت سے پہلے آپ نے کی موجود ہے۔ اور آپ لوگوں نے اس پر جو اعلان کیا وہ بھی موجود ہے۔ ان کو دیکھ کر کوئی انسان فیصلہ نہ کرے گا کہ حضرت خلیفۃ المسیح مسئلہ خلافت کے قائل نہ تھے۔ بلکہ یہ بھی فیصلہ نہ کرے گا کہ خود خواجہ صاحب بھی قائل نہ تھے۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح کو جب بیعت کے لئے کہا گیا۔ تو آپ نے ایک تقریر فرمائی۔ جس کے بعض فقرات ذیل میں درج ہیں۔ ”موجودہ وقت میں سوچ لو کہ کیسا وقت ہے جو ہم پر آیا ہے۔ اس وقت مردوں بچوں عورتوں کے لئے ضروری ہے کہ وحدت کے نیچے ہوں۔ اس وحدت کے لئے ان بزرگوں میں سے کسی کی بیعت کر لو (جن کے آپ نے پہلے نام لئے تھے) میں تمہارے ساتھ ہوں۔“ پھر آگے فرماتے ہیں ”میں چاہتا ہوں کہ دفن ہونے (حضرت مسیح موعود کے دفن ہونے) سے پہلے تمہار اکلمہ ایک ہو جائے“ اب ان دونوں فقرات سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔ کیا یہ کہ آپ خلافت کی بیعت کے لئے کھڑے ہوئے تھے یا اپنے زہد و اتقاء کی وجہ سے آپ نے دوسرے پیروں کی طرح بیعت لی تھی۔ یہ فقرات دلالت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کے دفن ہونے سے پہلے آپ چاہتے تھے کہ کل جماعت ایک خلیفہ کے ماتحت ہو۔ اور اس میں وحدت پیدا ہو جائے۔ نہ کہ علم و تقویٰ کی وجہ سے بیعت لینے کے لئے آگے بڑھے تھے۔ پھر آپ نے جو اعلان حضرت خلیفہ اول کی بیعت پر شائع کیا۔ اس میں آپ نے لکھا ہے کہ مطابق الوصیت آپ کی بیعت کی گئی ہے اور سب جماعت آپ کی خدمت میں بیعت کے خطوط لکھ دے۔ اب فرمائیے کہ کیا آپ کا یہ اعلان یہی ظاہر کرتا ہے کہ آپ نے صرف بزرگ سمجھ کر بیعت کی تھی۔ الوصیت کے کون سے فقرات میں یہ بات درج ہے کہ اگر کوئی نیک آدمی جماعت میں ہو تو میری ساری جماعت اس کی بیعت کرے۔ اور اس کا فرمان سب جماعت کے لئے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا تھا۔“

بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کی وفات سے جماعت میں ایسے شدید تفرقہ کا خطرہ تھا کہ اس وقت سوائے ایک خلیفہ کے ذریعہ جماعت کو رکھنے کے آپ کو اور کوئی تدبیر سمجھ میں نہ آتی تھی۔ اور خلافت کی مخالفت کے خیال بعد کے ہیں۔ یا اس وقت شدتِ غم میں دب گئے تھے۔ کیونکہ حضرت خلیفہ اولؓ نے اس وقت فرمادیا تھا کہ بیعت کے بعد میری ایسی فرمانبرداری کرنی ہوگی جس میں کسی انکار کی گنجائش نہ ہو۔ پس اگر اس وقت آپ کے خیالات اس کے خلاف ہوتے تو آپ کیوں بیعت سے انکار نہ کر دیتے۔

خواجہ صاحب اور امور میں میں خیال کر سکتا ہوں کہ آپ کو غلطی لگی ہو گی۔ لیکن اس امر میں میں ایک منٹ کے لئے بھی خیال نہیں کر سکتا کہ آپ غلطی سے یہ اثر قارئین ٹریکٹ کے دل پر ڈالنا چاہتے ہیں کہ آپ خلیفہ اولؓ کی وفات تک ان کے سامنے اظہار کرتے رہے کہ آپ خلافت کے قائل نہیں ہیں اور یہ کہ چھوٹی مسجد کی چھت پر آپ سے جو بیعت لی گئی وہ خوشنودی کی بیعت تھی میرے کانوں میں یہ الفاظ گونج رہے ہیں کہ جس نے یہ لکھا ہے کہ خلیفہ کا کام بیعت لینا ہے اصل حاکم انجمن ہے وہ توبہ کر لے خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ اگر اس جماعت میں سے کوئی تجھے چھوڑ کر مرتد ہو جائے گا تو میں اس کے بدلے تجھے ایک جماعت دوں گا اور آپ جانتے ہیں کہ وہ شخص جس نے یہ الفاظ لکھے تھے کون تھا۔ ہاں یہ الفاظ بھی میرے کانوں میں اب تک گونج رہے ہیں کہ دیکھو میں اس انجمن کی بنائی ہوئی مسجد پر بھی نہیں کھڑا ہوا۔ بلکہ اپنے میرزا کی بنائی ہوئی مسجد پر کھڑا ہوں اور یہ وہ الفاظ تھے جن کو سن کر لوگوں کی چیخیں نکل گئی تھیں وہ لوگ اب تک زندہ ہیں۔ جن کو سمجھا کر آپ لاہور سے لائے تھے۔ اور جن کو الگ الگ حضرت خلیفہ اول نے سخت ڈانٹ پلائی تھی…… خود مجھ سے دیر دیر تک آپ کی اس بغاوت کے متعلق حضرت ذکر فرمایا کرتے تھے اور سخت الفاظ میں اپنے رنج کا اظہار فرمایا کرتے تھے۔ بلکہ یہی نہیں میں آپ کے دوستوں کے ہاتھ کے لکھے ہوئے خطوط پیش کر سکتا ہوں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول اس معاملہ میں آپ پر سخت ناراض تھے۔ وفات سے کچھ دن پہلے جلسہ کی خوشی میں جو اعلان کیا۔ اس میں بھی اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں موجود ہے۔ ”جب ایک دفعہ خلافت کے خلاف شور ہوا تھا تو مجھے اللہ تعالیٰ نے رؤیا میں دکھایا تھا“ اور آپ جانتے ہیں کہ یہ رؤیا مسجد کی چھت پر اسی جلسہ میں جس میں آپ فرماتے ہیں کہ مجھ سے بیعت ارشادلی سنائی تھی اور وہ کون تھے جنہوں نے خلافت کے خلاف شور مچایا تھا۔ خلافت کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح کی بہت سی تحریریں موجود ہیں اور وہ شائع ہو چکی ہیں۔ جب آپ ملتان ایک مقدمہ میں گواہی دینے کے لئے تشریف لے گئے تھے تو آپ نے ان الفاظ میں اپنی شہادت کو شروع کیا تھا: ”میں حضرت مرزا صاحب کا خلیفہ اول ہوں۔ جماعت احمدیہ کا لیڈر ہوں“ پھر آپ اپنی ایک تقریر میں فرماتے ہیں:

”میں خلیفۃ المسیح ہوں اور خدا نے مجھے بنایا ہے۔۔۔۔۔۔ خدا تعالیٰ نے مجھے یہ ردا پہنا دی ہے۔۔۔۔۔ اس نے آپ نہ تم میں سے کسی نے مجھے خلافت کا کرتہ پہنا دیا۔ ۔۔۔۔۔ معزول کرنا اب تمہارے اختیار میں نہیں ایک وہ خلیفہ ہوتا ہے جو لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ(24:56) میں موعود ہے۔۔۔۔۔ تم معزول کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ میں تم سے کسی کا بھی شکر گزار نہیں ہوں۔ جھوٹا ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ ہم نے خلیفہ بنایا مجھے یہ لفظ بھی دکھ دیتا ہے جو کسی نے کہا کہ پارلیمنٹوں کا زمانہ ہے۔۔۔۔۔ میں کہتا ہوں وہ بھی توبہ کر لے جو اس سلسلہ کو پارلیمنٹ اور دستوری سمجھتا ہے۔۔۔۔۔ مجھے وہ لفظ خوب یاد ہیں کہ ایران میں پارلیمنٹ ہو گئی اور دستوری کا زمانہ ہے انہوں نے اس قسم کے الفاظ بول کر جھوٹ بولا بے ادبی کی۔۔۔۔۔ میں پھر کہتا ہوں وہ اب بھی توبہ کر لیں ۔۔۔۔۔ اور حضرت مسیح موعود اور مہدی بھی آچکے جس کا خدا نے اپنے فضل سے مجھ کو خلیفہ بنایا“۔

خواجہ صاحب بتائیں کہ اگر آپ یا آپ کے دوست نہ تھے تو اور کون لوگ تھے جنہوں نے کہا تھا کہ ہمارا ہی بنایا ہوا خلیفہ ہے ہم اسے معزول کر دیں گے اور وہ کون لوگ تھے جو کہتے تھے کہ یہ زمانہ ہی پارلیمنٹوں کا ہے ایک حاکم کا نہیں دیکھو ایران میں بھی دستوریت ہو گئی ہے اس لئے انجمن ہی اصل حاکم ہونی چاہئے۔

اسی طرح حضرت مسیح موعود کی وفات پر جو پہلا جلسہ ہوا۔ اس میں جو تقریر آپ نے فرمائی اس کے بعض فقرات یہ ہیں۔

”اب ایک سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ تم ملہم نہیں۔ تمہاری کیا ضرورت ہے۔ کیا حضرت صاحب ہمارے لئے کم ہدایت چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی اسی (۸۰) کے قریب کتابیں موجود ہیں۔ وہ ہمارے لئے کافی ہیں یہ سوال بد بخت لوگوں کا ہے جو خدا تعالیٰ کی سنت کا علم نہیں رکھتے۔ اس قسم کے سوال سے تمام انبیاء کا سلسلہ باطل ہو جاتا ہے چنانچہ کہہ سکتے ہیں کہ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا جب خدا نے سب کچھ آدم کو بتا دیا تو اب نوح اور ابراہیمؑ کیالائے جو ماننا ضروری ہے؟ كُلَّهَا تو ان کے حق میں آ چکا ہے۔ پھر آدم کے لئے سب ملائکہ نے سجدہ کیا پس اب ان دوسرے انبیاء کی کیا ضرورت ہے پھر دم نقد واقعہ موجود ہے رسول اللہ ﷺ جامع جمیع کمالات جن کی نسبت میرا اعتقاد ہے خاتم الرسل خاتم الحکام خاتم النبیین خاتم الاولیاء خاتم الانسان ہیں اب ان کے بعد اگر کوئی ابوبکر کو نہیں مانتا تو فرمایا وَمَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ(النور: ۵۶) یعنی جو انکار کرے گا وہ خدا کی اطاعت سے باہر نکلنے والا ہے۔۔۔“

”غرض یہ سوال پہلے آدم پر پڑتا ہے۔ پھر جناب محمد رسول اللہ ﷺ پر۔ پھر ابوبکرؓ پر۔ پھر علیؓ پر۔ پھر مہدی پر۔ جب سارے علوم رسالتمآب سنا گئے تو مہدی کی کیا ضرورت ہے؟ حقیقی بات یہی ہے کہ ضرورت ہے اجتماع کی۔ اور شیرازہ اجتماع قائم رہ سکتا ہے ایک امام کے ذریعہ۔ اور پھر یہ اجتماع کسی ایک خاص وقت میں کافی نہیں۔ مثلاً صبح کو امام کے پیچھے اکٹھے ہوئے تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ اب ظہر کو کیا ضرورت ہے؟ عصر کو کیا؟ پھر شام کو کیا؟ پھر عشاء کو کیا؟ پھر جمعہ کو اکٹھے ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ پھر عید کے دن کیا ضرورت ہے؟ پھر حج میں کیا ضرورت ہے؟ اسی طرح ایک وقت کی روٹی کھائی تو پھر دوسرے وقت کیا ضرورت ہے؟ جب ان باتوں میں تکرار ضروری ہے تو اس اجتماع میں بھی تکرار ضروری ہے یہ میں اس لئے بیان کرتا ہوں تا تم سمجھو کہ ہمارے امام چلے گئے تو پھر بھی ہم میں اسی وحدت‘ اتفاق‘ اجتماع اور پرجوش روح کی ضرورت ہے۔“

اس تقریر میں آپ نے جو اعتراض خلافت پر کئے ہیں ان کے جواب خود حضرت خلیفہ اول کی زبانی موجود ہیں لیکن میں نے یہ حوالہ جات اس لئے نقل نہیں کئے کہ میں یہ آپ پر حجت قائم کروں کہ حضرت خلیفہ اول نے یوں فرمایا ہے اس لئے آپ بھی مان لیں بلکہ اس لئے نقل کئے ہیں تا آپ کو معلوم ہو جائے کہ حضرت خلیفہ اول کا مذہب شائع ہو چکا ہے۔ اور آخری حوالہ تو خود صدر انجمن احمدیہ کی رپورٹ سے نقل کیا گیا ہے پس آپ کی یہ کوشش کہ لوگوں پر یہ ثابت کویں کہ حضرت خلیفہ اول کسی شخصی حکومت کے قائل نہ تھے کامیاب نہیں ہو سکتی بلکہ اس سے آپ کی دیانت پر خطرناک اعتراض آتا ہے۔ پس آپ یہ بیشک اعلان کریں کہ خلافت کے متعلق حضرت خلیفہ اول کی رائے حجت نہیں لیکن یہ خیال لوگوں کے دلوں میں بٹھانے کی کوشش نہ کریں کہ حضرت خلیفہ اول آپ کے اس خیال پر آپ سے خوش تھے یا یہ کہ آپ سے ناراض نہ تھے یا یہ کہ خود آپ سے متفق تھے کیونکہ ان خیالات میں سے کسی ایک کا ظاہر کرنا گویا اس بات کا یقینی ثبوت دینا ہے کہ خلافت کے مقابلہ میں حق کی بھی پرواہ نہیں رہی ضرور ہے کہ اس مضمون کو پڑھ کر خود آپ کے وہ دوست جن کی مجلس میں آپ بیٹھتے ہیں آپ پر دل ہی دل میں ہنستے ہوں گے یا اگر ان کے دل میں ذرا بھی خوف خدا ہو گا تو روتے ہوں گے کہ خواجہ صاحب کو خلاف بیانی کی کیا ضرورت پیش آئی تھی۔ اگر وہ بیعت جو نہایت سخت ڈانٹ کے بعد آپ سے لی گئی اور اگر وہ بیعت جو حکیم فضل دین کے مکان کے جھگڑے پر آپ کے بعض دوستوں سے لی گئی ایک انعام تھا۔ تو دنیا میں ناراضگی اور خفگی کوئی شئے کا نام نہیں۔ مولوی غلام حسن صاحب پشاوری بھی ان تمام واقعات سے

آگاہ ہیں اور آپ کی جماعت کے خلیفہ ہیں کیا آپ اپنے بیان کی تصدیق انہی سے حلفی بیان کے ساتھ کروا سکتے ہیں۔ غالباً ان کو یاد ہو گا کہ ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح کو یہ خبر پہنچی تھی کہ ان کے خیالات بھی اسی قسم کے ہیں تو وہ کیسے ناراض ہوئے تھے بلکہ اس کی بھی ضرورت نہیں کیا آپ خود تریاق القلوب کے مطابق قسم کھا کر ان دونوں امور پر شہادت دے سکتے ہیں کہ خلیفہ اول خلافت کے متعلق آپ کے خیال سے متفق تھے یا یہ کہ ناراض نہ تھے اور یہ کہ چھوٹی مسجد کی بیعت ایک انعام کے طور پر اور خوشی کی سند کے طور پر تھی یا اس لئے کہ آپ کی مخالفت کی بناء پر آپ کو جماعت سے الگ خیال کر کے آپ سے دوبارہ بیعت لی گئی تھی مجھے اس پر بھی تعجب آتا ہے کہ آپ نے اس بیعت کے متعلق لکھا ہے کہ وہ مجھ سے اور نواب صاحب سے بھی لی گئی۔ اس کے متعلق میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ آپ نے جھوٹ بولا ہاں آپ کو یاد نہیں رہا۔ میں نے ایک خواب دیکھی تھی اور حضرت کو سنائی تھی اسی کی بناء پر آپ نے عین تقریر میں مجھے اپنی بائیں طرف سے اٹھا کر دائیں طرف بٹھایا اور پھر اپنی تائید میں تقریر کرنے کا ارشاد فرمایا۔ ورنہ مجھ سے کوئی بیعت نہیں لی گئی اور نہ نواب صاحب سے۔

باقی رہا وصیت کا معاملہ اس پر خلافت احمدیہ میں مفصل بحث موجود ہے آپ پہلے اس کا جواب دے دیں۔ پھر اس پر بھی کچھ لکھ دیا جائے گا مگر ضروری ہے کہ جو کچھ پہلے لکھا جا چکا ہے اس کا جواب پہلے ہو جائے اگر آپ کے پاس یہ رسالہ نہ ہو تو آپ مجھے اطلاع دیں میں آپ کی خدمت میں بھجوا دوں گا۔ اسی میں تحریر کا معاملہ بھی آ چکا ہے مگر میں سوال کرتا ہوں دنیا میں لاکھوں نبی اور مامور گزرے ہیں کیا ان میں سے ایک بھی ایسا ہوا ہے کہ اس کی وفات کے بعد اس کی ساری امت گمراہ ہو جائے اور ضلالت پر اجماع ہو یہ ناممکن ہے۔ پس وہی معنی درست ہیں جو خدا تعالیٰ کے عمل نے کئے۔ کیونکہ ہو سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے قول کے خلاف اس کا فعل ہو۔ خلافت پر ایک خاص رنگ میں بحث میرے لیکچر میں بھی ہے جو سالانہ جلسہ پر ہوا اور اب چھپ رہا ہے وہ چھپ جائے گا تو وہ بھی آپ کو بھجوا دیا جائے گا اس کو بھی دیکھ لیں۔

میں اس جگہ یہ بھی بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ خواجہ صاحب اپنے مضمون میں بار بار لکھتے ہیں کہ ہم الوصیت پیش کرتے ہیں اور ہمارے مقابلہ میں پچھلا طریق عمل پیش کیا جاتا ہے اب بتاؤ کہ کون حق پر ہے لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ طریق عمل تو اور دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے ورنہ ہم الوصیت کو چھوڑتے نہیں۔ آپ سے بڑھ کر ہم پیش کرتے ہیں ہمارا یقین ہے کہ

الوصیت میں نہایت وضاحت سے خلافت کا ذکر ہے۔ چنانچہ قدرتِ ثانیہ کے نام سے آپ نے خلافت کا مسئلہ ایسی وضاحت سے کھولا ہے کہ کسی صداقت پسند انسان کو اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی اور ابو بکرؓ کی مثال دے کر اس مسئلہ کا پوری طرح فیصلہ کر دیا ہے۔ پس آپ کا یہ لکھنا کہ لاہوری الوصیت پیش کرتے ہیں اور قادیانی نہیں کرتے ایک خلافِ واقعہ بات ہے۔ آپ خلافتِ احمدیہ کو پڑھیں اس میں الوصیت سے خلافت کو بالوضاحت ثابت کیا گیا ہے اور الوصیت کیا حضرت صاحب کی اور مختلف کتب سے بھی ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ آپ کے بعد خلافت کا سلسلہ قائم ہونا تھا۔ چنانچہ پیغامِ صلح، حمامۃ البشریٰ، اور ایک لاہور کی تقریر سے جو ۱۹۰۸ء میں آپ نے فرمائی ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے بعد خلفاء ہوں گے وہ کل جماعت کے مطاع ہوں گے اور یہ کہ خلفاء کو نبی نہیں مقرر کرتا بلکہ خدا پر چھوڑ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود خلیفہ مقرر کرتا ہے۔

میں اس مضمون کے ختم کرنے سے پہلے آپ کو ایک اور واقعہ بھی یاد دلا دیتا ہوں جس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ایک وقت آپ بھی کسی دوسرے خلیفہ کے منتظر تھے جب حضرت خلیفۃ المسیح گھوڑے سے گر کر سخت بیمار تھے تو اس وقت مرزا یعقوب بیگ صاحب مجھے گھر سے بلا کر مولوی محمد علی صاحب کی کوٹھی تک لے گئے تھے وہاں آپ بھی تھے مولوی صاحب بھی تھے اور دوسرے آپ کے دوستوں میں سے بھی دو آدمی تھے آپ نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ حضرت کی حالت خطرناک ہے مجھے خلیفہ ہونے کی خواہش نہیں اور نہ مولوی صاحب کو ہے ہم سب آپ کو ہی خلیفہ بنائیں گے لیکن آپ یہ بات مد نظر رکھیں کہ ہمارے لاہور سے آنے تک خلیفہ کا انتخاب نہ ہو آپ نے اپنے آنے تک انتظار کرنے پر جو زور دیا اس میں آپ کی نیت کیا تھی اس سے مجھے بحث نہیں مگر میں نے ایک اثر کی بناء پر کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے کے انتخاب پر بحث کرنا نا جائز ہے گفتگو کرنے سے انکار کر دیا اور بات ختم ہو گئی۔ اس واقعہ سے آپ کو یاد آ گیا ہو گا کہ آپ بھی کسی وقت خلافت کے قائل تھے یا کسی مصلحت کی وجہ سے آپ نے ایسا ظاہر کرنا پسند فرمایا تھا آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس سے مراد بیعت لینے والا خلیفہ تھا کیونکہ اس کے لئے چالیس آدمیوں کی شرط ہے اور آپ کے آنے نہ آنے کا اس پر کوئی اثر نہ ہو سکتا تھا اور نہ ایسا خلیفہ بنانے کے لئے آپ کو یہ ضرورت تھی کہ آپ کہتے کہ نہ میں خلیفہ بننا چاہتا ہوں اور نہ مولوی محمد علی صاحب۔ کیونکہ ایسے خلیفہ کئی ہو سکتے ہیں۔ (آپ ان کا نام خلیفہ رکھتے ہیں۔ میں ان کو خلیفہ نہیں کہتا)۔ خواجہ صاحب ایک جگہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ جو بیعت لے وہ خلیفۃ المسیح کہلا سکتا ہے بلکہ جو شخص

پہلے کا کوئی کام کرے وہ اس کا خلیفہ ہے تو کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ کیا جس قدر صحابہ اشاعتِ اسلام میں لگے ہوئے تھے اور صحابہ سب ہی اس کام میں مشغول تھے خلیفۃ الرّسول کہلاتے تھے اگر صرف ایک شخص ہی کہلاتا تھا تو کیا اس سے ثابت نہیں کہ خلیفہ ایک اسلامی اصطلاح ہے جس کی آپ لوگ ہتک کرتے ہیں پھر اگر خلیفہ اسی کو کہتے ہیں جو کسی کا کام کرے تو کیوں خلیفہ اول کی موجودگی میں آپ خلیفۃ المسیح نہیں کہلاتے تھے کیونکہ آپ بقول اپنے مسیح موعود کا اصل کام اشاعتِ اسلام کر رہے تھے اس وقت کیوں آپ کو خلیفۃ المسیح کہلانے کی جرأت نہیں ہوئی۔ پھر میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ اگر آپ کو یہ دکھانا مدّ نظر نہیں کہ ہمارے امیر کے ماتحت چند خلیفۃ المسیح ہیں تو کیوں خود مولوی محمد علی صاحب کو خلیفۃ المسیح نہیں لکھا جاتا وہ تو آپ کے نزدیک مسیح موعود کے زیادہ قائم مقام ہیں۔

باقی رہا سوال مقدمہ کا کہ مقدمہ ہو گا اور عدالتوں تک جانا پڑے گا یہ ایسی دھمکیاں ہیں جو ہمیشہ راست بازوں کو ملتی رہی ہیں آنحضرت ﷺ کے قتل کے لئے کسریٰ نے اپنے آدمی بھیجے۔ حضرت مسیح موعود کو عدالتوں میں گھسیٹا گیا اسی طرح اگر کوئی مجھے بھی عدالت میں بلوائے یا انجمن پر مقدمہ کرے تو کیا حرج ہے۔ ایں ہمہ اندر عاشقی بالائے غمھائے دگر۔ جب میں نے خدا کے لئے اور صرف خدا کے لئے اس کام کو اپنے ذمہ لیا ہے اور میں نے کیا لینا تھا خدا تعالیٰ نے یہ کام میرے سپرد کر دیا ہے تو اب مجھے اس سے کیا خوف ہے کہ انجام کیا ہو گا میں جانتا ہوں کہ انجام بہرحال بہتر ہو گا کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا مجھ سے وعدہ ہے اور وہ سچے وعدوں والا ہے۔ پس آپ مجھے مقدموں سے کیا ڈراتے ہیں۔ ہمارا مقدمہ خدا کے دربار میں داخل ہے کیا یہ بات بعید ہے کہ پیشتر اس کے کہ دنیا کی حکومتیں ہمارے جھگڑے کا فیصلہ کریں ۔ اَحْکَمُ الْحٰکِمِیْنَ خود ہمارے مقدمہ کا فیصلہ کر دے۔ اور گورنمنٹ کے دخل دینے کے بعد کسی ماتحت عدالت کا کیا حق ہے کہ کچھ کر سکے۔ پس اگر خدا تعالیٰ ہی کوئی فیصلہ صادر فرمائے جس سے سب فساد دور ہو کر امن ہو جائے تو دنیا کی حکومتوں نے کیا دخل دینا ہے۔ مقدمات سے ان کو ڈرائیں جن کی نظر دنیا کے اسباب پر ہے کوئی دنیا کی حکومت ہمیں اس مقام سے نہیں ہٹا سکتی جس پر خدا تعالیٰ نے ہمیں کھڑا کیا ہے کیونکہ دنیاوی حکومتوں کا اثر جسم پر ہے دل پر نہیں دل صرف خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں۔

اس ٹریکٹ میں کچھ متفرق باتیں بھی ہیں گو ان کا جواب ایسا ضروری نہیں مگر کچھ کچھ جواب دے دیتا ہوں۔ خواجہ صاحب اس ٹریکٹ میں اس امر سے بھی ڈراتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول کے کوئی

خطوط ان کے پاس ایسے بھی ہیں جن کے اظہار سے ہمیں سخت دقت پیش آئے گی۔ ان خطوں کی اطلاع مختلف ذرائع سے مجھے پہنچی ہے اور ہر ایک شخص نے یہی بیان کیا ہے کہ خواجہ صاحب فرماتے تھے کہ میں یہ خط صرف آپ کو ہی دکھاتا ہوں۔ اور کسی کو نہیں دکھایا مگر جب دیکھا تو راوی چار پانچ نکلے جس پر مجھے حیرت ہوئی کہ صرف ایک کو سنا کر اس قدر لوگوں کو کیونکر علم ہو گیا۔ مگر کوئی تعجب نہیں کہ خواجہ صاحب پہلے ایک سے ذکر کرتے ہوں اور پھر یہ بھول جاتے ہوں کہ میں پیغام بھیج چکا ہوں پھر کوئی اور شخص نظر آجاتا ہو اور آپ مناسب خیال کرتے ہوں کہ اس کے ہاتھ بھی پیغام بھیج دیں بہرحال ہم خواجہ صاحب کی اس مہربانی کے ممنون ہیں کہ انہوں نے ان خطوط کے مضمون سے بغیر اسے شہرت دینے کے ہمیں مطلع کر دیا۔ لیکن میں کہتا ہوں خواجہ صاحب بیشک ان خطوط کو شائع کر دیں مجھے ان کی عبارت پوری طرح یاد نہیں۔ نہیں تو میں ابھی لکھ دیتا۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ کوئی میری نسبت کیا لکھتا ہے مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نے اپنے پیر کے خلاف کبھی کچھ نہیں کہا۔ اور ہمیشہ اس کا فرمانبردار رہا ہوں اور میں نے اس کے منہ سے بارہا یہ الفاظ سنے ہیں کہ مجھے آپ سے محبت نہیں بلکہ عشق ہے۔ اس نے مجھے اس وقت جبکہ میں کسی قدر بیمار تھا اور بیماری بالکل خفیف تھی۔ ایسی حالت میں کہ خود اسے کھانسی کے ساتھ خون آتا تھا۔ اس طرح پڑھایا ہے کہ وہ مجھے یہ کہہ کر کتاب نہ پڑھنے دیتا تھا کہ آپ بیمار ہیں اور خود اس بیماری میں پڑھتا تھا۔ سو خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ میں اپنے اس محسن کا وفادار رہا۔ ہاں چونکہ انسان کمزور ہے اگر میری کسی کمزوری کی وجہ سے وہ کسی وقت مجھ سے ناراض ہوا ہو تو کیا تعجب ہے۔ بخاری میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی جنگ کا ذکر ہے جس پر آنحضرت ﷺ نے حضرت عمرؓ کو سخت ڈانٹا۔ حتیٰ کہ حضرت ابوبکرؓ کو حضورؐ سے ان الفاظ میں سفارش کرنی پڑی کہ نہیں حضور قصور میرا ہی تھا تو کیا حضرت عمرؓ پر اس واقعہ سے کوئی الزام آجاتا ہے زیادہ سے زیادہ یہ کہو گے کہ حضرت عمرؓ سے میری ایک اور مشابہت ہو گئی۔ استاد کا شاگرد کو ڈانٹنا بری بات نہیں۔ شاگرد کا استاد کو گالی دینا برا ہے۔ کیونکہ ڈانٹنا استاد کا کام تھا اور گالی دینا شاگرد کا کام نہیں ہے۔ پس وہ لوگ ایسی کسی تحریر پر کیا خوش ہو سکتے ہیں جو آج بڑے زور سے اعلان کر رہے ہیں کہ ہم نے کبھی خلیفہ اول کی مخالفت نہیں کی حالانکہ ان کی دستخطی تحریریں موجود ہیں جن میں انہوں نے آپ کو اسلام کا دشمن اور حکومت پسند اور چڑچڑا وغیرہ الفاظ سے یاد کیا ہے۔ پھر جس تحریر پر ناز کیا جاتا ہے اگر وہ درست بھی مان لی جائے تو اس کے متعلق میرے پاس بھی سید ڈاکٹر صاحب کا خط موجود ہے جس سے اصل معاملہ پر روشنی پڑ جاتی ہے اور جس تحریر کی طرف خواجہ صاحب اشارہ کرتے ہیں اس کے بعد کی وہ تحریر ہے جس میں حضرت خلیفہ اول نے میری نسبت لکھا ہے کہ میں اسے مصلح موعود سمجھتا ہوں اور پھر اس کے بعد کا واقعہ ہے کہ آپ نے ایک بھری مجلس میں فرمایا کہ مسند احمد بن حنبل کی تصحیح کا کام ہم سے تو ہو نہ سکا میاں صاحب کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ چاہے تو ہو سکے گا۔ اور یہ جنوری ۱۹۱۴ء کی بات ہے۔ آخری بیماری سے ایک دو دن پہلے کی۔ پس آپ ان زبردست حملوں کی اشاعت سے ہرگز نہ چوکیں۔ کیوں اپنے ہاتھ سے موقعہ جانے دیتے ہیں شاید اسی سے آپ کو کوئی فائدہ پہنچ جائے مگر خوب یاد رکھیں کہ میرا معاملہ کسی انسان کی تعریف کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا اگر حضرت خلیفہ اول کی وہ تحریریں میری تائید میں موجود نہ ہوتیں جو آپ کے پاس جس قدر خطوط ہیں ان کی نفی کر دیتی ہیں تو بھی مجھے خدا نے اس کام پر کھڑا کیا ہے۔ نہ کہ کسی انسان نے میں کسی انسان کی تحریروں کا محتاج نہیں۔ خلافت خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے جو انسانوں کے خیالات سے اندازہ لگا کر میری بیعت میں داخل ہوا ہے۔ وہ فوراً اپنی بیعت کو واپس لے لے۔ اور مجھے خدا پر چھوڑ دے میں مشرک نہیں ہوں۔ مجھے انسانوں کے خیالات کی پرواہ نہیں۔ خدا تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ مجھے کامیاب کرے گا۔ پس میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ماتحت کامیاب ہوں گا۔ اور میرا دشمن مجھ پر غالب نہ آسکے گا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی پوشیدہ در پوشیدہ حکمتوں کے ماتحت جن کو میں خود بھی نہیں سمجھتا۔ ایک پہاڑ بنایا ہے پس وہ جو مجھ سے ٹکراتا ہے اپنا سر پھوڑتا ہے۔ میں نالائق ہوں اس سے مجھے انکار نہیں۔ میں کم علم ہوں اس سے میں ناواقف نہیں۔ میں گنہگار ہوں اس کا مجھے اقرار ہے۔ میں کمزور ہوں اس کو میں مانتا ہوں۔ لیکن میں کیا کروں کہ میرے خلیفہ بنانے میں خدا تعالیٰ نے مجھ سے نہیں پوچھا۔ اور نہ وہ اپنے کاموں میں میرے مشورہ کا محتاج ہے۔ میں اپنے ضعف کو دیکھ کر خود حیران ہو جاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے کیوں چنا۔ اور میں اپنے نفس کے اندر ایک بھی ایسی خوبی نہیں پاتا جس کی وجہ سے میں اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا مستحق سمجھا گیا مگر باوجود اس کے اس میں کوئی شک نہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس کام پر مقرر فرما دیا ہے۔ اور وہ میری ان راہوں سے مدد فرماتا ہے جو میرے ذہن میں بھی نہیں ہوتیں۔ جب کل اسباب میرے برخلاف تھے جب جماعت کے بڑے بڑے لوگ میرے خلاف اعلان کر رہے تھے۔ اور جن کو لوگ بڑا خیال کرتے تھے وہ سب میرے گرانے کے درپے تھے اس وقت میں حیران تھا۔ لیکن سب کچھ میرا رب آپ کر رہا تھا۔ اس نے مجھے اطلاعیں دیں اور وہ اپنے وقت پر پوری ہوئیں اور میرے دل کو تسلی دینے کے لئے نشان پر نشان دکھایا۔ اور امور غیب سے مجھے اطلاع دے کر اس بات کو پایہ ثبوت کو پہنچایا کہ جس کام پر میں کھڑا کیا گیا ہوں وہ اس کی طرف سے ہے۔ خواجہ صاحب! آپ نے لکھا ہے کہ اگر آپ الہام سے مصلح موعود ہونے کا دعویٰ کریں تو میں پھر کچھ نہ بولوں گا۔ اگر آپ نے یہ بات سچ لکھی ہے تو میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بار بار بتایا ہے کہ میں خلیفہ ہوں اور یہ کہ وہ میرے مخالفوں کو آہستہ آہستہ میری طرف کھینچ لائے گا یا تباہ کر دے گا۔ اور ہمیشہ میرے متبعین میرے مخالفوں پر غالب رہیں گے۔ یہ سب باتیں مجھے متفرق اوقات میں اللہ تعالیٰ نے بتائی ہیں۔ پس آپ اپنے وعدہ کے مطابق خاموشی اختیار کریں اور دیکھیں کہ خدا تعالیٰ انجام کار کیا دکھلاتا ہے۔ اگر مصلح موعود کے ہونے کے متعلق میرے الہام کی آپ قدر کرنے کے لئے تیار ہیں تو کیوں اس امر میں آسمانی شہادت کی قدر نہیں کرتے آپ خوب یاد رکھیں کہ یہاں خدمات کا سوال نہیں یہاں خدائی دین کا سوال ہے۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ خدمات کے متعلق میرا کوئی دعویٰ نہیں۔ اللہ تعالیٰ اگر مجھ سے کوئی خدمت لے لے تو یہ اس کا احسان ہو گا ورنہ میں کوئی چیز نہیں۔ میں اس قدر جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ اس جماعت کو پھر بڑھانا چاہتا ہے۔ میرا ایک بہت بڑا کام ہو گیا ہے۔ جماعت میں احساس پیدا ہو گیا ہے باقی حصہ بھی جلد پورا ہو جائے گا۔ اور احمدیہ جماعت بے نظیر سرعت سے ترقی کرنی شروع کرے گی۔ میں نے تو اس قدر احتیاط سے کام لیا ہے کہ آپ کے طریق تبلیغ کی بھی اس وقت تک مخالفت نہیں کی جب تک اللہ تعالیٰ نے مجھے نہیں بتایا کہ یہ غلط ہے۔ پس میں آسمان کو زمین کے لئے نہیں چھوڑ سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ سے توفیق چاہتا ہوں کہ وہ مجھے ہمیشہ اپنی رضا پر چلنے کی توفیق دے۔ اور ہر قسم کی لغزشوں اور ٹھوکروں سے بچائے۔ آمین۔

غیر ذمہ دار لوگ

خواجہ صاحب اپنے سارے مضمون میں اس بات پر بہت زور دیتے ہیں کہ یہ سب فساد غیر ذمہ دار لوگوں کا ہے۔ اور اس امر کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ مجھے کچھ لوگ ورغلاتے رہتے ہیں۔ اور یہ لوگ امن نہیں ہونے دیتے۔ میں خواجہ صاحب کو اس معاملہ میں خاص طور پر نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس لفظ کو میری جماعت کے لوگوں کی نسبت استعمال نہ کیا کریں۔ کیونکہ میں اس امر کا قائل نہیں کہ کچھ خاص لوگ سلسلہ کے ٹھیکیدار ہیں۔ خوب یاد رکھیں کہ ہر ایک وہ شخص جو مسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہوتا ہے وہ ذمہ دار ہے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَّ كُلُّكُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَّعِيَّتِهِ پھر آپ کیوں فرماتے ہیں کہ غیر ذمہ دار لوگ کیوں بولتے ہیں۔ انہی کا یہ سب فساد ڈالا ہوا ہے۔ آپ نے

ذمہ داری شاید یہ سمجھ لی ہے کہ ایک شخص مالدار ہو یا ڈگری یافتہ ہو۔ میرے خیال میں ذمہ داری کچھ اور ہی چیز ہے اور ہر ایک مسلمان خدا کے نزدیک ذمہ دار ہے خواہ وہ گدڑی پوش ہو یا تخت شاہی پر بیٹھا ہوا ہو۔ میں احمدی ہونے کے لحاظ سے جس طرح ایک امیر سے امیر مبائع کو سلسلہ کے کاموں کا ذمہ دار خیال کرتا ہوں۔ اسی طرح اس شخص کو جسے دو تین وقت کا فاقہ ہو۔ اور جس کے تن پر پھٹے ہوئے کپڑے ہوں۔ آپ اپنی جماعت کے لوگوں میں خواہ کس قدر فرق ہی بنائیں۔ میں اپنے مبائعین میں ہرگز کوئی فرق نہیں پاتا خلیفہ ایک وجود ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ انتظام کے لئے کھڑا کرتا ہے۔ اس امر کو چھوڑ کر خود خلیفہ جماعت میں سے ایک معمولی فرد ہے اور اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ اصولوں کا ایسا ہی پابند ہے جیسے اور ممبر اور جس طرح اور لوگ سلسلہ احمدیہ کے افراد ہیں وہ ان افراد میں سے ایک فرد ہے ان کا بھائی ہے۔ انہیں کا ہے۔ اسے اس انتظام سے علیحدہ ہو کر جو جماعت کے قیام کے لئے اس کے سپرد کیا گیا ہے اور کوئی فضیلت نہیں اگر وہ غریب سے غریب آدمی کے حق کو دباتا ہے تو وہ خدا کے حضور جوابدہ ہے۔ پس اس جماعت کا ہر ایک فرد ذمہ دار ہے۔ اور اسلام کسی کو ذلیل نہیں کرتا۔ حضرت عمرؓ کے وقت ایک حبشی غلام نے ایک شہر سے صلح کر لی تھی۔ باوجود افسروں کی ناراضگی کے حضرت عمرؓ نے اس کو قائم رکھا اور باوجود اس کے کہ اس میں بعض جگہ انتظامی دقتیں پیدا ہو جانے کا خطرہ ہو سکتا تھا۔ مگر میں کہتا ہوں اس واقعہ سے خوب ظاہر ہو جاتا ہے کہ اسلام خلیفہ کو اس مقام پر کھڑا کرتا ہے جہاں اس کی نظر میں سب مسلمان برابر ہوں۔ آپ ایک طرف تو یہ اصل مقرر کرتے ہیں کہ یہ دیکھنا چاہئے کہ بات کیسی ہے اور یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ کس نے کہی ہے اور کن خیالات سے کہی ہے۔ لیکن آپ نے اس پر عمل تو نہ کیا جماعت کے ایک حصہ کو جو آپ کی اور میری طرح معزز ہے بے وجہ غیر ذمہ دار قرار دے دیا۔ بے شک اگر بعض لوگوں کی بعض باتیں آپ کو پسند نہ آئی تھیں تو آپ کہہ سکتے تھے کہ فلاں فلاں باتیں ان کی غلط ہیں ان کو بند کیا جاوے یا ان کی اصلاح کی جائے۔ بجائے اس کے آپ ایک گروہ غیر ذمہ داروں کا قرار دے کر اس کی باتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ اسے بند کر دوں۔ مگر چونکہ میں سب کو ذمہ دار خیال کرتا ہوں۔ اس لئے اس مشورہ پر عمل کرنے سے معذور ہوں۔ ہاں اگر کوئی بات نامعقول ہو تو اس کے روک دینے کے لئے تیار ہوں۔ مگر خدا کی دی ہوئی طاقتوں کو زائل کرنا میرا کام نہیں۔

انہی متفرق باتوں میں سے جن کا مختصر جواب میں اس جگہ دینا ضروری سمجھتا ہوں ایک یہ بھی

ہے کہ خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ اگر محمد علی اور اس کے دوست ایسے ہی ہیں جیسے تم خیال کرتے ہو۔ تو پھر مرزا کی نہ تعلیم درست نہ تربیت درست۔ اور پھر الزام لگاتے ہیں کہ یہ خیال تو شیعوں کے تھے کہ سب صحابہ سوائے چند اہل بیت اور صحابہ کے منافق تھے مگر میں پوچھتا ہوں کہ یہ خیال تو آپ کا ہے۔ آپ ستانوے فی صدی احمدیوں کو تو غلطی پر خیال کرتے ہیں منصوبہ باز خیال کرتے ہیں حضرت مسیح موعود کے کاموں کو تباہ کرنے والا بیان کرتے ہیں اور ایک بڑے حصہ کو اپنے اسی مضمون میں کافر ظاہر کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں پھر تعجب ہے کہ اس صورت میں آپ شیعوں کے متبع ہوئے یا ہم۔ شیعہ بھی تو اکثر حصہ کو گندہ کہتے ہیں صرف چند کو پاک خیال کرتے ہیں۔ اور انہی کو ذمہ دار اور آنحضرت ﷺ کا پیارا سمجھتے ہیں آپ کا بھی ایسا خیال ہے تو یہ اعتراض آپ پر پڑا یا ہم پر؟ اور اگر مولوی محمد علی صاحب اور ان کے چند دوستوں کے برا ہو جانے سے مرزا صاحب کی تعلیم پر بھی پانی پھر جاتا ہے تو کیوں احمدی جماعت کے کثیر حصہ سے کافر ہو جانے سے جیسا کہ آپ نے اپنے ٹریکٹ صفحہ ۴۶ پر صریح الفاظ میں لکھا ہے مرزا صاحب ناکام نہیں رہے۔ اگر کہو کہ ہم نے تو حدیث اور مسیح موعود کے فتویٰ کے مطابق کہا ہے کہ چونکہ آپ لوگ غیر احمدی مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں اس لئے کافر ہو گئے۔ اپنی طرف سے تو بات نہیں کی۔ تو میں بھی کہتا ہوں کہ ہم بھی جو فتویٰ لگاتے ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث کے مطابق لگاتے ہیں۔ اور ہمارا فتویٰ بھی آیت استخلاف کے ماتحت ہی ہے۔ پس اگر آپ کا فتویٰ درست ہے تو یہ بھی درست ہے۔ اور اگر آپ کا فتویٰ درست ہے تو حضرت مسیح موعود نعوذ باللہ ناکام گئے مگر یہ غلط ہے۔ ایسا نہیں ہوا مسیح موعودؑ کامیاب گئے اور ہر طرح کامیاب گئے۔ جماعت کا اکثر حصہ اس راہ پر چل رہا ہے جس پر آپ نے چلایا تھا۔ ہاں کچھ لوگ الگ ہو گئے۔ بے شک آپ لکھتے ہیں کہ کیا وہ اکابر خراب ہو سکتے ہیں جو سلسلہ کے خادم تھے تو میں کہتا ہوں کہ مسیح موعود کی وہ بات کیوں کر پوری ہوتی جو آپ نے الہام کی بناء پر لکھی تھی کہ ”کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے۔ اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے۔ پس مقام خوف ہے“ (تذکرہ صفحہ ۵۳۹) اگر آپ کے خیال کے مطابق بڑے چھوٹے نہیں ہو سکتے تھے۔ بلکہ اکابر معصوم عن الخطاء ہی سمجھے جانے کے لائق ہیں تو پھر اس عبارت کا کیا مطلب ہے۔ اس عبارت سے تو بالبداہت ثابت ہو جاتا ہے کہ اکابر کا چھوٹا ہو جانا بھی ممکن ہے بلکہ بعض چھوٹے کئے بھی جائیں گے۔ پس آپ اس دلیل سے کوئی فائدہ نہیں حاصل کر سکتے۔ خصوصاً جبکہ صحابہ نے آنحضرت ﷺ کی وفات پر ان لوگوں کو جنہوں نے بیعت ابی بکرؓ نہ کی تھی۔ اور جن میں سے ایک ایسا بڑا رتبہ رکھتا تھا کہ وہ بارہ نقیبوں میں سے ایک تھا مرتد اور منافق کہا ہے اور اس کا ثبوت صحیح احادیث اور مستند روایات سے مل سکتا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل جلد اول صفحہ ۵۶) پس چند آدمیوں کا ٹھوکر کھا جانا جبکہ کثرت حق پر قائم ہو۔ سلسلہ کی تباہی کی علامت نہیں اور پھر اس حالت میں جبکہ حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے رؤیا میں بتایا بھی ہے۔ کہ جماعت کا ایک سنجیدہ آدمی مرتدوں میں مل گیا ہے۔

”۱۸۔ ستمبر ۱۹۰۷ء۔ رؤیا۔ فرمایا: چند روز ہوئے میں نے خواب میں ایک شخص کو دیکھا تھا کہ وہ مرتدین میں داخل ہو گیا ہے۔ میں اس کے پاس گیا وہ ایک سنجیدہ آدمی ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کیا ہوا۔ اس نے کہا کہ مصلحت وقت ہے“ (بدر جلد ۶ نمبر ۳۸ صفحہ ۵ بابت ۱۹۰۷ء)

اور یہ رؤیا عبدالحکیم کے ارتداد کے بعد کی ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ آپ کا قدم غیر احمدیوں کے زیادہ قریب ہے بہ نسبت ہمارے۔ کیونکہ ہم پر تو آپ الزام دیتے ہیں کہ ہم ان مسلمانوں سے دور ہی دور جا رہے ہیں۔ اور خود جبکہ حضرت کا کشف مولوی محمد علی صاحب کی نسبت موجود ہے کہ آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے۔ یہ ”تھے“ ظاہر کرتا ہے کہ کبھی ایسا وقت آنے والا ہے کہ ہمیں نہایت افسوس سے ”ہیں“ کی بجائے ”تھے“ کہنا پڑے گا۔ اسی طرح شیخ رحمت اللہ صاحب کی نسبت دعا کرنا اور الہام ہونا کہ شَرُّ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ جن پر تو نے انعام کیا ان کی شرارت۔ اور یہ بات تو آپ بھی بار بار پیش کرتے ہیں کہ ہم پر حضرت بہت مہربان تھے۔ اور شیخ صاحب کی نسبت دعا کرنے پر اس الہام کا ہونا مطلب کو اور بھی واضح کر دیتا ہے۔ اور اگر آپ کہیں کہ کیا ہماری خدمات کا یہی بدلہ ملنا چاہئے تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدمات کا یہ بدلہ نہیں ملتا۔ خدمات تو سارے احمدیوں نے کی ہیں۔ اور بہتوں نے آپ سے بڑھ کر کی ہیں۔ جن کے پاس مسیح موعود کی لکھی ہوئی سندات موجود ہیں۔ پس یہ نہیں کہہ سکتے کہ خدمات کا الٹا الٹا بدلہ کیوں ملا کیونکہ بہتوں نے خدمات کیں اور انعام پائے۔ اگر آپ کو ٹھوکر لگی تو اس کے کوئی پوشیدہ اسباب ہوں گے جن سے خدا تعالیٰ واقف ہے اور ممکن ہے کہ آپ بھی واقف ہوں ہمیں اس بات کے معلوم کرنے کی کچھ ضرورت نہیں۔ باقی رہا یہ کہ حضرت مسیح موعود کو کیوں ایسے لوگوں سے آگاہ نہ کیا گیا۔ اس کے دو جواب ہیں۔ اول یہ کہ مجملاً آگاہ کیا گیا جیسا کہ پہلے میں الہام لکھ آیا ہوں دوسرے یہ کہ کوئی ضروری نہیں کہ آپ کو آپ کی وفات کے بعد کی کل کاروائیوں سے واقف کیا جاتا آنحضرت ﷺ کے صحابہؓ پر آپ کی وفات کے بعد سخت مصائب آئے مگر آپ کو نہیں بتایا گیا کہ کس کا کیا حال ہو گا۔ آپ لوگوں پر اصل ابتلاء حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد آیا۔ خلافت بعد میں ہوئی اس وقت تو نہ تھی۔ پھر یہ کون سی ضروری بات تھی کہ حضرت مسیح موعود کو بتایا جاتا کہ فلاں فلاں شخص انکارِ خلافت کرے گا۔ اور اگر ضروری تھا تو کیا یہ بتایا گیا کہ آپ کی اولاد سب کی سب اور سب قادیان کے مہاجرین اور اکثر حصہ جماعت آپ کی وفات کے بعد کافر ہو جائیں گے (جیسا کہ آپ نے صفحہ ۴۶ پر کافر قرار دیا ہے) اگر یہ امر آپ کے خیال کے مطابق واقعہ ہو گیا۔ لیکن اس کا آپ کو علم نہ دیا گیا تو آپ کون سی ایسی خصوصیت رکھتے ہیں کہ آپ کے متعلق ضرور کوئی الہام ہونا چاہئے تھا آپ کے سب بیٹے بقول آپ کے کافر ہو جائیں تو کسی الہام کی ضرورت نہیں سب مہاجرین بگڑ جائیں تو کسی الہام کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر آپ کے عقائد میں کچھ فرق آتا تھا تو اس کی اطلاع مسیح موعود کو ضرور ہو جانی چاہئے تھی۔ اور اگر نہیں ہوئی تو ثابت ہوا کہ آپ حق پر ہیں خواجہ صاحب ان دلائل سے کام نہیں چل سکتا کسی بات کے ثابت کرنے کے لئے کوئی مضبوط دلیل چاہئے۔ طلحہؓ اور زبیرؓ اور حضرت عائشہؓ کے بیعت نہ کرنے سے آپ حُجّت نہ پکڑیں۔ ان کو انکارِ خلافت نہ تھا۔ بلکہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کا سوال تھا۔ پھر میں آپ کو بتاؤں۔ جس نے آپ سے کہا ہے کہ انہوں نے حضرت علیؓ کی بیعت نہیں کی وہ غلط کہتا ہے۔ حضرت عائشہؓ تو اپنی غلطی کا اقرار کر کے مدینہ جا بیٹھیں۔ اور طلحہؓ اور زبیرؓ نہیں فوت ہوئے جب تک بیعت نہ کر لی۔ چنانچہ چند حوالہ جات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں:

(۱) وَ اَخْرَجَ الْحَاكِمُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ مَجْزَاةَ قَالَ مَرَرْتُ بِطَلْحَةَ يَوْمَ الْجَمَلِ فِيْ اٰخِرِ رَمَقٍ . فَقَالَ لِيْ مِمَّنْ اَنْتَ ۔ قُلْتُ مِنْ اَصْحَابِ اَمِيْرِ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلِيٍّ فَقَالَ اُبْسُطْ يَدَكَ اُبَايِعْكَ فَبَسَطْتُ يَدِيْ وَ بَايَعَنِيْ وَ فَاضَتْ نَفْسُهُ ۔ فَاَتَيْتُ عَلِيًّا فَاَخْبَرْتُهُ فَقَالَ اللّٰهُ اَكْبَرُ صَدَقَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَبَى اللّٰهُ اَنْ يُّدْخِلَ طَلْحَةَ الْجَنَّةَ اِلَّا وَبَيْعَتِيْ فِيْ عُنُقِهِ ۔(خصائص کبریٰ جلد ثانی صفحہ ۱۱۵)

ترجمہ: اور حاکم نے روایت کی ہے کہ ثور بن مجزاۃ نے مجھ سے ذکر کیا کہ میں واقعہ جمل کے دن حضرت طلحہؓ کے پاس سے گذرا۔ اس وقت ان کی نزع کی حالت قریب تھی۔ مجھ سے پوچھنے لگے کہ تم کون سے گروہ میں سے ہو میں نے کہا کہ حضرت امیر المؤمنین علیؓ کی جماعت میں سے ہوں تو کہنے لگے اچھا اپنا ہاتھ بڑھاؤ تاکہ میں تمہارے ہاتھ پر بیعت کر لوں چنانچہ انہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر جان بحق تسلیم کر گئے۔ میں نے آکر حضرت علیؓ سے تمام واقعہ عرض کر دیا۔ آپ سن کر

کہنے لگے۔ اللہ اکبر خدا کے رسول کی بات کیا سچی ثابت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے یہی چاہا کہ طلحہ میری بیعت کے بغیر جنت میں نہ جائے۔ (آپ عشرہ مبشرہ میں سے تھے)

(ب) و ذکر کردہ شد۔ عائشہ را یک بار روز جمل۔ گفت مردم روز جمل میگویند۔ گفتند آری۔ گفت من دوست داشتم کہ مے نشستم۔ چنانکہ نشست غیر من کہ این احب است بسوی من ازیں کہ می زائیدم از رسول خدا صلعم دہ کس کہ ہمہ ایشاں ہمچو عبدالرحمان بن الحارث بن ہشام می بودند“(حج الکرامہ فی آثار القیامہ صفحہ ۱۶۷)

ترجمہ: اور حضرت عائشہؓ کے پاس ایک دفعہ واقعہ جمل مذکور ہوا تو کہنے لگیں کیا لوگ واقعہ جمل کا ذکر کرتے ہیں۔ کسی ایک نے کہا جی اسی کا ذکر ہے۔ کہنے لگیں کہ کاش جس طرح اور لوگ اس روز بیٹھے رہے میں بھی بیٹھی رہتی۔ اس بات کی تمنا مجھے اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہے کہ میں آنحضرت ﷺ سے دس بچے جنتی۔ جن میں سے ہر ایک بچہ عبدالرحمن بن حارث بن ہشام جیسا ہوتا۔

(ج) نیز طلحہ و زبیر از عشرۃ مبشرۃ بالجنۃاند و بشارت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حق است۔ با آنکہ ایشاں رجوع کردند از خروج و توبہ نمودند“(حج الکرامہ صفحہ ۱۷۱)

ترجمہ: اور طلحہ اور زبیر عشرہ مبشرہ میں سے بھی ہیں جن کی بابت آنحضرت ﷺ نے جنت کی بشارت دی ہوئی ہے۔ اور آنحضرت ﷺ کی بشارت کا سچا ہونا یقینی ہے پھر یہی نہیں بلکہ انہوں نے خروج سے رجوع اور توبہ کرلی۔

خواجہ صاحب آپ نے حضرت صاحب کا ایک الہام لکھا ہے۔ مسلمانوں کے دو فریق ہیں۔ خدا ایک کے ساتھ ہوا یہ سب پھوٹ کا نتیجہ۔ یہ کب ہوا تھا اور کہاں لکھا ہے۔ جب الہاموں کی نقل میں احتیاط سے کام نہیں لیتے تو دوسری باتوں میں آپ نے کیا احتیاط کرنی ہے کلام الٰہی کے نقل کرنے میں تو انسان کو حد درجہ کا محتاط ہونا چاہئے۔ اور اپنی طرف سے الفاظ بدل دینے سے ڈرنا چاہئے۔

اس ٹریکٹ میں خواجہ صاحب نے ایک اور بات پر بھی زور دیا ہے کہ یہ کیوں کر ہو سکتا ہے کہ مرشد سے عقیدہ میں خلاف ہو۔ اور پھر اس کو چھپائیں یہ تو نفاق ہے بیشک ایک مرشد سے عقیدہ سے اختلاف رکھنا اور اسے چھپانا نفاق ہے لیکن ایک شخص کی بیعت کرنے سے پہلے اس پر ظاہر کر دینا کہ میرے یہ اعتقادات ہیں اتحادِ عمل کے لئے آپ مجھے اپنی جماعت میں داخل کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اور اس شخص کا اسے بیعت میں داخل کرنا نفاق نہیں حضرت مسیح موعودؑ نے بھی نواب صاحب کو لکھا تھا کہ آپ شیعہ رہ کر بھی بیعت کر سکتے ہیں۔ چنانچہ نواب صاحب کی گواہی ذیل میں درج ہے:۔

”میں نے بہ تحریک اپنے استاد مولوی عبداللہ صاحب فخری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں غالباً آخر ۱۸۸۹ء یا ابتدائے ۱۸۹۰ء میں خط دعا کے لئے لکھا تھا۔ جس پر حضرت نے جواب میں لکھا کہ دعا بلا تعلق نہیں ہو سکتی آپ بیعت کر لیں۔ اس پر میں نے جواباً ایک عریضہ لکھا تھا۔ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ میں شیعہ ہوں۔ اور اہلِ تشیع ائمہ اثنا عشر کے سوا کسی کو ولی یا امام نہیں تسلیم کرتے۔ اس لئے میں آپ کی کس طرح بیعت کر سکتا ہوں؟ اِس پر حضرت نے ایک طولانی خط لکھا جس کا حاصل یہ تھا کہ اگر برکاتِ روحانیہ محض ائمہ اثنا عشر پر ختم ہو گئے تو ہم جو روز دعا مانگتے ہیں کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ(1:6-7) یہ سب بیکار ہے۔ اور اب ے تو ہو چکی دود باقی ہے۔ کیا ہم دود کے لئے اب مشقت ریاضات کریں حضرت نے یہ بھی لکھا کہ منجملہ ان لوگوں کے جو حضرت امام حسین کے ہم پلہ ہیں میں بھی ہوں۔ بلکہ ان سے بڑھ کر۔ اس خط سے ایک گونہ میرا رجحان ہو گیا۔ مگر میں نے پھر حضرت کو لکھا کہ کیا ایک شیعہ آپ کی بیعت کر سکتا ہے تو آپ نے تحریر فرمایا کہ ہاں۔ چنانچہ پھر بمقام لدھیانہ ستمبر یا اکتوبر ۱۸۹۰ء میں میں حضرت سے ملا۔ اور اس ملاقات کے بعد میں نے حضرت صاحب کو بیعت کا خط لکھ دیا مگر ساتھ ہی لکھا کہ اس کا اظہار سر دست نہ ہو۔ مگر ازالہ اوہام کی تصنیف کے وقت حضرت نے لکھا کہ مجھ کو اس طرح آپ کا پوشیدہ رکھنا نا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ میں آپ کے حالات ازالہ اوہام میں درج کرنا چاہتا ہوں۔ آپ اپنے حالات لکھ کر بھیج دیں چنانچہ میں نے حالات لکھ دیئے۔ اور باوجو د بیعت اور تعلق حضرت اقدس میں ۱۸۹۳ء تک شیعہ ہی کہلاتا رہا اور نماز وغیرہ سب ان کے ساتھ ہی ادا کرتا تھا بلکہ یہاں قادیان اس اثناء میں آیا تو نماز علیحدہ ہی پڑھتا رہا تھا ۔ ۱۸۹۳ء سے میں نے شیعیت کو ترک کیا ہے۔ محمد علی خاں۔“

خواجہ صاحب نفاق تو اس کو کہتے ہیں کہ ظاہر اور بات کی جائے اور دل میں اور ہو لیکن جو شخص آگے آکر خود کہہ دے کہ میرا یہ عقیدہ ہے وہ نفاق کا مرتکب کیونکر کہلا سکتا ہے اور جس کی بیعت کرتا ہے اس سے کبھی اس عقیدہ کو پوشیدہ نہ رکھے اور وہ اسے اجازت دے دے تو یہ نفاق کیونکر ہوا۔

خواجہ صاحب! نہ معلوم آپ نے یہ بات کہاں سے معلوم کی کہ احمدیت کی روک کا اصل باعث تکفیر ہے اگر یہ بات تھی تو چاہئے تھا کہ جب سے آپ الگ ہوئے ہیں آپ کا حصہ جماعت سرعت سے بڑھنے لگتا لیکن بجائے اس کے آپ نے تو کوئی معتد بہ ترقی نہیں کی لیکن برخلاف آپ کے بیان کے کہ ”پیارو تم احمدیت تو کیا پھیلاؤ گے سنو! اور ہوش سے سنو!! اگر وہ خبر درست ہے جو مجھے گذشتہ ہفتہ معتبر ذرائع سے معلوم ہوئی ہے تو تمہاری رفتار احمدیت جو نہایت سرعت سے خراسان اور حدود افغانستان میں جاری تھی ختم ہو گئی اور بہت سے احمدی احمدیت سے الگ ہو گئے اور اس کے ذمہ دار دو ہی مسئلے ہیں جیسے مجھے اطلاع ملی ایک تکفیر غیر احمدیاں اور ایک مرزا صاحب کی نبوت مستقلہ کوئی شخص نفاق کے سوائے اس عقیدہ پر افغانستان میں نہیں رہ سکتا“۔ (صفحہ ۱۶) احمدیت نہایت زور سے بڑھ رہی ہے اور پچھلے چند ماہ میں سینکڑوں نئے آدمی سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں جن میں انگریزی علوم کے لحاظ سے ایم۔اے اور بی۔اے بھی شامل ہیں عربی علوم کے لحاظ سے تحصیل یافتہ مولوی ہیں سرکاری عہدوں کے لحاظ سے ای۔اے۔سی اور اسسٹنٹ انسپکٹران سکول ہیں رئیسوں کے لحاظ سے بڑے بڑے جاگیردار ہیں غرض کہ غریب بھی اور امیر بھی جو اپنے اندر نہایت اخلاص رکھتے ہیں اس سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں اور مبائعین میں شامل ہوئے ہیں بعض کو لوگ تکلیفیں بھی دیتے ہیں لیکن صبر سے کام لے رہے ہیں اور اپنے عقائد کو بدلنے کی انہیں کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ پھر میں کیونکر مان لوں کہ ہمارے عقائد سلسلہ کے راستہ میں روک ہیں اور کیونکر تسلیم کر لوں کہ اب سلسلہ کی ترقی رک گئی ہے۔ اگر آپ کا خیال درست ہوتا تو واقعات اس کی تصدیق کرتے اور بجائے ہماری ترقی کے تنزل ہوتا اور بجائے ہمارے بڑھنے کے آپ بڑھتے۔ لیکن باوجود اس کے خلاف خدائے تعالیٰ کا معاملہ دیکھنے کے آپ کو ہم راستی پر کیونکر مان سکتے ہیں؟۔

خواجہ صاحب نے ایک یہ شکوہ بھی کیا ہے کہ وہ جب ہندوستان میں آئے تو ان کا ارادہ فوراً قادیان جانے کا تھا لیکن بعض غیر ذمہ دار لوگوں کی تحریروں کی وجہ سے جن میں انہوں نے غیر مبائعین سے ملنے جلنے اور بولنے کی ممانعت کی ہے میں رک گیا۔ پھر وہ شکایت کرتے ہیں کہ اگر احمدیوں سے یہ سلوک ہے تو غیر احمدیوں اور پھر عیسائیوں سے کیا سلوک کرنا چاہئے۔ اول تو یہ سوال ہے کہ یہ مضمون کب نکلا اور آپ لاہور کب تشریف لائے اگر آپ کا ارادہ تھا کہ فوراً ہی قادیان

آئیں تو اس امر سے کونسی چیز آپ کو مانع ہوئی کہ آپ ایک عرصہ تک لاہور میں بیٹھے رہے اور فوراً نہ آسکے اتنے میں وہ مضمون نکل گیا۔ پس اول تو یہ آپ کا فوراً ظاہر کرتا ہے کہ الفضل کا مضمون ایک بہانہ کا کام دے رہا ہے۔ پھر میں پوچھتا ہوں کہ آپ نے مجھ سے ملنا تھا یا لوگوں سے۔ لوگ آپ سے ملتے یا نہ ملتے اگر آپ تبادلہ خیالات چاہتے تھے تو مجھ سے ملتے اگر آپ کہیں کہ مجھے یہ کیونکر معلوم ہو سکتا تھا کہ آپ مل لیں گے تو میں کہتا ہوں کہ اب تو کسی بڑے خرچ کی بھی ضرورت نہیں ایک پیسہ کے کارڈ کے ذریعہ سے آپ مجھ سے پوچھ سکتے تھے کہ اگر میں آؤں تو تم مجھ سے بات کر سکو گے یا نہیں یا الفضل کے مضمون کے مطابق مجھ سے ملنا پسند نہ کرو گے اگر اس خط کا جواب میں نفی میں دیتا یا جواب ہی نہ دیتا تو آپ کا عذر قابل سماعت ہوتا لیکن جب آپ نے یہ تکلیف نہیں اٹھائی تو میں آپ کے عذر کو کس طرح قبول کروں کیا یہ بات درست نہیں کہ آپ نے میرے مریدین کو بڑی بڑی لمبی چٹھیاں لکھی تھیں؟ پھر کیا یہ درست نہیں کہ آپ نے ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی پھر کیا آپ اس وقت سے کچھ وقت بچا کر اور ان کاغذوں لفافوں سے ایک کاغذ اور لفافہ بچا کر ایک خط میری طرف مذکورہ بالا مضمون کا نہیں لکھ سکتے تھے؟ جبکہ اس بات سے آپ کو کوئی امر مانع نہ تھا تو آپ کا جماعت کے دوسرے افراد کو دعوت دینا اور ان کے ملنے کی خواہش ظاہر کرنا ان کی طرف خطوط لکھنا لیکن مجھ سے فیصلہ کرنے یا گفتگو کرنے کی کوئی تحریک نہ کرنا اور خط لکھ کر دریافت نہ کرنا صاف ظاہر نہیں کرتا کہ آپ کا اصل منشاء لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانا اور جماعت میں پھوٹ ڈالنا تھا نہ کہ صلح کرنا۔ صلح مجھ سے ہو سکتی تھی اور کس کا حق تھا کہ میری اجازت کے بغیر صلح کرلے یہ صلح کوئی مقامی معاملہ نہ تھا یہ فیصلہ کسی خاص شہر سے تعلق نہ رکھتا تھا بلکہ سب جماعت اور سب احمدیوں پر اس کا اثر پڑتا تھا پس یہ فیصلہ مبائعین میں سے بغیر میری اجازت کے اور کون کر سکتا تھا اگر آپ کا منشاء صلح تھا تو مجھ سے براہ راست کیوں آپ نے گفتگو نہ کی؟

اب رہا یہ سوال کہ ایسا اعلان بعض غیر ذمہ دار لوگوں نے کیوں کیا کہ لوگ آپ سے نہ ملیں نہ بولیں اس کی وجہ مجھے اس کے بغیر کوئی نہیں سمجھ میں آئی کہ انہوں نے آپ کی مذکورہ بالا کارروائی کو محسوس کر لیا اور جماعت کو خطرہ سے آگاہ کر دیا اور چونکہ آپ کی اس کارروائی کا نتیجہ سوائے اس کے اور کچھ نہ تھا کہ فساد اور بڑھے گو آپ کا منشاء صلح کا ہی ہو اس لئے مضمون لکھنے والے نے پسند نہ کیا کہ جماعت میں فساد بڑھے اور اس نے تحریک کی کہ لوگ آپ سے نہ ملیں اگر فیصلہ کرنا تھا تو براہ راست مجھ سے ہو سکتا تھا اور یہ امر کہ کیوں آپ سے وہ سلوک کیا گیا جو ہندوؤں اور مسیحیوں سے نہیں کیا جاتا۔ اس کا جواب آسان ہے مسلمان یہود اور مسیحیوں سے کلام کرتے تھے لیکن اگر آپ کو یاد ہو تو الثَّلٰثَۃِ الَّذِیۡنَ خُلِّفُوۡا(9:118) جن کے واقعہ کی طرف سورۃ توبہ میں اشارہ کیا گیا ہے ان کا مفصل ذکر بخاری میں آتا ہے۔ ان تین سے آنحضرت ﷺ نے کلام منع کر دیا تھا اور مسلمان ان سے نہ بولتے نہ ملتے نہ تعلق رکھتے حتیٰ کہ بیویوں کو بھی جدا کر دیا تھا۔ کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ کیا وہ تین منافقوں سے بھی بد تر تھے کیا وہ یہود سے بھی بد تر تھے پھر کیا وہ مشرکوں سے بھی بد تر تھے اور اگر ان سے یہ سلوک کیا گیا تو مسیحیوں اور یہودیوں سے اس سے سخت کون سا سلوک کیا گیا۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ یہ اعتراض غلط ہے ان کو سرزنش کی ایک خاص وجہ تھی اور انتظام جماعت کے قائم رکھنے کے لئے ایسا کرنا پڑتا ہے دنیاوی حکومتیں بھی میدان جنگ کے سپاہی کو پکڑ کر صلیب پر نہیں لٹکاتیں حالانکہ وہ کئی خون کر چکا ہوتا ہے اور اپنے ملک کے مجرموں کو سزائیں دیتی ہیں کیوں؟ اسی لئے کہ اس سپاہی کا کام تھا کہ وہ ان کا مقابلہ کرتا مگر یہ اپنے تھے اور اپنے کا فرض ایک طرف تو یہ تھا کہ امن کو قائم رکھے جس کے خلاف اس نے کیا دوسرے اس سپاہی کا حملہ ظاہر ہے اور اس اپنے کا حملہ اندر ہی اندر تباہ کر سکتا ہے پس جن لوگوں سے یہ خوف ہو کہ ایک حد تک اپنے بن کر مخالفت کریں گے ان سے بچنا اور بچانا ایک ضروری بات ہے۔ دوسرے اپنے غلطی کریں تو وہ زیادہ سزا کے مستحق ہوتے ہیں آج کل کی مثال لے لیجئے وہ رحیم کریم انسان جو شفقت علیٰ خلق اللہ کا کامل نمونہ تھا اور یقیناً اسی کے منہ سے اور اسی کی تحریروں سے ہم نے یہ بات معلوم کی ہے کہ اسلام کی دو ہی غرضیں ہیں ایک تعلق باللہ اور دوسری شفقت علیٰ خلق اللہ وہ ہندوؤں سے ملتا تھا مسیحیوں سے ملتا تھا لیکن مرزا سلطان احمد صاحب سے کبھی نہیں ملتا تھا اور کئی دفعہ جب حضرت خلیفہ اولؓ نے کوشش کی کہ آپ کو ان سے ملائیں تو آپ نے نہایت سختی سے انکار کر دیا اور آخر مولوی صاحب کو منع کر دیا کہ پھر ایسا نہ کریں۔ اب بتائیے اس تعلق میں اور ہندوؤں کے تعلق میں کچھ فرق معلوم ہوتا ہے یا نہیں بیٹے سے تو ملتے نہ تھے اور لالہ شرمپت گھنٹہ گھنٹہ آپ کے پاس آ کر بیٹھ رہا کرتے تھے پس آپ ان مثالوں سے سمجھ لیں کہ کبھی ضروریات ایسا مجبور کرتی ہیں کہ باوجود اس کے کہ غیروں سے ملتے رہیں بعض اپنوں سے ملنا چھوڑ دیا جائے۔ آپ نے اپنے حال پر غور نہیں کیا کہ غیر احمدیوں کو مسلمان بنانے کے لئے آپ نے احمدیوں کو کافر ثابت کیا ہے۔ پھر جب آپ خود اس مجبوری کا شکار ہوئے ہیں تو دوسروں پر اعتراض کی کیا وجہ ہے پھر اخبار پیغام لاہور محمد حسین بٹالوی اور مولوی ثناء اللہ کے خلاف کچھ نہیں لکھتا لیکن اس کا سارا زور ہمارے خلاف خرچ ہو رہا ہے کیا یہ مثال

آپ کے لئے کافی نہ تھی آپ نے خلافت پر اعتراض کرتے ہوئے ایک جگہ لکھا ہے کہ کیا خلیفہ غلطی سے مَصْنُوْن ہے مگر میں کہتا ہوں کہ اگر اُسی کا فیصلہ ماننا شرط ہو جو غلطی سے مَصْنُوْن اور محفوظ ہو تو آپ بتائیں کہ کس انسان کا فیصلہ آپ مانیں گے آنحضرت ﷺ جیسا انسان جو کل کمالات انسانیہ کا خاتم ہے فرماتا ہے۔

”عَنْ اُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ سَمِعَ جَلَبَةَ خَصْمٍ بِبَابِ حُجْرَتِهٖ فَخَرَجَ اِلَیْهِمْ فَقَالَ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ وَّ اَنَّهٗ یَاْتِیْنِی الْخَصْمُ فَلَعَلَّ بَعْضَهُمْ اَنْ یَّکُوْنَ اَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ فَاَحْسِبَ اَنَّهٗ صَادِقٌ فَاَقْضِیَ لَهٗ فَمَنْ قَضَیْتُ لَهٗ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَاِنَّمَا هِیَ قِطْعَةٌ مِّنَ النَّارِ فَلْیَحْمِلْهَا اَوْ یَذَرْهَا۔“(مسلم کتاب الاقضیه باب الحکم بالظاهر و اللحن بالحجه)ترجمہ: ام سلمہ (ام المؤمنین) رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک دفعہ مکان کے دروازہ کے پاس چند آدمیوں کا باہمی مقدمہ کی بابت شور و شغب سن کر ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمانے لگے میں ایک بشر ہوں (عالم الغیب نہیں) لوگ میرے پاس مقدمے لے کر آتے ہیں سو ممکن ہے کہ ایک فریق بات کرنے میں زیادہ ہوشیار ہو اور اس کی باتوں کی وجہ سے میں اسے سچا خیال کر کے اس کے حق میں فیصلہ دے دوں سو یاد رکھو کہ اس طرح سے اگر کسی شخص کو مسلم کا حق دلا دوں تو یہ مال آگ کا ٹکڑا ہے اب چاہے تو اسے اٹھا لے اور چاہے تو چھوڑ دے ۔

پس کیا آپ کے فیصلہ کو بھی رد کر دینا چاہئے کہ ممکن ہے آپ سے غلطی ہو گئی ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَیُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا(النساء: ۶۶) یعنی تیرے رب کی ہی قسم یہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک تجھ سے اپنے جھگڑوں کا فیصلہ نہ چاہیں اور پھر فیصلوں اور قضایا کو خوشی سے تسلیم نہ کریں کیا گورنمنٹ اور اس کے مجسٹریٹ خطاء سے محفوظ ہوتے ہیں؟ اگر نہیں تو کیا اس بناء پر گورنمنٹ اور ججوں کے فیصلے رد کر دیئے جاتے ہیں کہ ممکن ہے کہ وہ غلطی کرتے ہوں کیا خلیفۃ المسیح جن کی بیعت آپ نے کی تھی خطاء سے محفوظ تھے؟ پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا انجمن اپنے فیصلہ میں کبھی غلطی نہیں کر سکتی؟ پھر انجمن جماعت کی حاکم کیونکر ہو سکتی ہے؟ اگر صرف مَصْنُوْن عَنِ الخطاء کے فیصلہ ہی واجب العمل ہوتے ہیں تو پھر دنیا کی سب حکومتیں سب انجمنیں مٹا دینی چاہئیں کیونکہ انسان کوئی مَصْنُوْن عَنِ الْخَطَاء نہیں۔ نماز ہمارے لئے دلیل ہے امام غلطی کرتا ہے اور خطاء سے پاک نہیں ہوتا مقتدیوں کو حکم ہے کہ باوجود اس کی غلطی

کے اس کی اتباع کریں کیونکہ اتحاد رکھنا ضروری ہے اور اتحاد بغیر ایک مرکز کے نہیں ہو سکتا۔ اور خواہ ایک انسان افسر ہو یا بہت سے ہوں وہ غلطی سے پاک نہیں ہو سکتے پس اتحاد کے قیام کے لئے قیاسات میں امام کی خطا کی بھی پیروی کرنے کا حکم ہے سوائے نصوصِ صریحہ کے۔ مثلاً کوئی امام کہے کہ نماز مت پڑھو کلمہ نہ پڑھو روزہ نہ رکھو اس کی اتباع فرض نہیں۔ اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک امام اگر چار کی بجائے پانچ یا تین رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے تو مقتدیوں کو حکم ہے کہ باوجود اس کی غلطی کے علم کے اس کی اتباع کریں لیکن اگر وہ اٹھ کے ناچنے لگ جائے یا مسجد میں دوڑنے لگے تو اب مقتدیوں کو حکم نہیں کہ اس کی اتباع کریں کیونکہ اب قیاس کا معاملہ نہیں رہا بلکہ جنون یا شرارت کی شکل آگئی ہے۔ لیکن یہ مثالیں بفرضِ محال ہیں ورنہ خدائے تعالیٰ جس کو امام بناتا ہے اسے ایسے اعمال سے بچاتا ہے جو قومی تباہی کا موجب ہوں۔

آپ نے اپنے اس مضمون میں خلافت کے رد میں ایک یہ دلیل بھی دی ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ اکثروں نے مان لیا یہ کوئی دلیل نہیں کیونکہ اگر ابوبکرؓ، عمرؓ کو اکثروں نے مان لیا تو یزید کو بھی تو مان لیا مگر خواجہ صاحب یہ مثال پیش کرتے وقت ان واقعات کو نظر انداز کر گئے ہیں جو ان دونوں قسم کی خلافتوں کے وقت پیش آئے ابوبکرؓ اور عمرؓ کی خلافت پر اتفاق کرنے والوں میں صحابہؓ کا گروہ تھا یزید کے ہاتھ پر اکٹھا ہونے والی کون سی جماعت تھی کیا صحابہ کی کثرت تھی صحابہ کے لئے خدائے تعالیٰ کے بڑے بڑے وعدے تھے اسی طرح اس جماعت کے لئے بھی بڑے بڑے وعدے ہیں جو حضرت مسیح موعودؑ کے ہاتھ پر سلسلہ میں داخل ہوئی اور جس طرح صحابہؓ کی کثرت نے اول الذکر دونوں بزرگوں کو تسلیم کیا اسی طرح اس جماعت کے کثیر حصہ نے مجھے تسلیم کیا جو مسیح موعودؑ کے ہاتھ پر سلسلہ میں داخل ہوئی تھی اگر اسی جماعت کا اکثر حصہ ضلالت پر جمع ہو گیا تو یہ بے شک شیعوں والا عقیدہ ہے جو چند کے لئے کثیر حصہ کو بدنام کرتے ہیں۔ پھر یہ بھی سوال ہے کہ خلافت تو مشورہ سے ہوتی ہے دوسرے باپ کے بعد بیٹا فوراً خلیفہ نہیں ہو سکتا جیسا کہ احادیث اور صحابہؓ کے اقوال سے ثابت ہے امر اول کے لئے آیت اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُکُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا(النساء: ۵۹) یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانات ان کے اہلوں کو دو۔ اور حدیث لَا خِلَافَةَ إِلَّا بِالْمَشُوۡرَةِ اور امر دوم کے لئے حضرت عمرؓ کا قول اور صحابہؓ کی تسلیم۔ لیکن یزید کی خلافت کیونکر ہوئی باپ نے اپنی زندگی میں جبراً سب سے اس کی بیعت کروائی۔ ہم حضرت معاویہ کی نیت پر حملہ نہیں کرتے لیکن ان کے اس فعل کی وجہ سے یزید کی خلافت خلافت نہ رہی بلکہ تلوار کے ذریعہ سے بیعت لی گئی اور حکومت ہو گئی لیکن یہاں ان دونوں باتوں میں سے کون سی بات پائی جاتی ہے نہ ہی باپ کے بعد فوراً خلیفہ ہوا اور نہ والد صاحب نے اپنے سامنے جبراً و اکراہ سے لوگوں کو میری بیعت پر مجبور کیا۔ پس ایک جبری کثرت اور دلوں کے کھینچ لانے میں آپ فرق نہیں کر سکتے۔ کیا خدائے تعالیٰ کی تائید و نصرت سچائی کا ایک زبردست ثبوت نہیں؟ پھر اس معاملہ میں آپ اس کو کیوں غلط قرار دیتے ہیں؟

خواجہ صاحب کا ایک یہ بھی سوال ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ قادیان مکرم مقام ہے اس کو چھوڑ کر جانا غلطی پر دلالت کرتا ہے یہ غلط ہے کیونکہ مکہ بھی ایک مکرم مقام ہے لیکن وہ غیر احمدیوں کے پاس ہے جو آپ کے نزدیک مسلمان نہیں اول تو یہ دلیل نہیں کیونکہ اگر ایک طور پر پہلا دعویٰ کرنے والے پر یہ حجت ہے تو خواجہ صاحب اور ان کی پارٹی پر بھی تو حجت ہے کیونکہ کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ خواجہ صاحب آپ کے نزدیک تو مکہ مدینہ مسلمانوں کے ہی قبضہ میں ہیں پھر آپ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ مکرم مقامات حقیقی وارثوں کے ہاتھ سے نکل سکتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ایک لمبے عرصہ کے بعد ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک جماعت خراب ہو جائے اور مرکز اس کے پاس رہے جب تک کہ نئی جماعت ترقی کرے۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے شروع زمانہ میں مکہ مشرکوں کے پاس تھا یا یروشلم مسیح کے زمانہ میں یہود کے پاس تھا لیکن اس بات کا ثابت کرنا خواجہ صاحب کو مشکل ہو گا کہ ابھی کامل ترقی ہونے سے پہلے ہی ایک مقام متبرک ایک پاک جماعت کے پاس آکر ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور اس کے سب افراد گندے اور کافر ہو جائیں اس طرح تو امان بالکل اٹھ جاتا ہے اور ان تمام پیشگوئیوں پر پانی پھر جاتا ہے جو اس جگہ کے رہنے والوں کے متعلق ہیں۔ دوسرے یہ دلیل کوئی ایسی نہیں کہ جس پر فیصلہ کا مدار ہو ایسی باتیں تو ضمناً پیش ہُوا کرتی ہیں ہاں یہ کہہ دینا بھی ضروری ہے کہ حضرت علیؓ کے مدینہ چھوڑ دینے کی دلیل درست نہیں جب آپ مدینہ سے تشریف لے گئے تو صرف میدانِ جنگ کے قریب ہونے کے لئے تشریف لے گئے ورنہ مدینہ آپ کے قبضہ میں تھا اور مدینہ کے لوگ آپ کے ساتھ تھے اور یہی حال مکہ کا تھا۔

پھر آپ لکھتے ہیں کہ ”کہا جاتا ہے کہ مولوی محمد علی کی ذلت ہوئی لوگوں نے ان کو تقریر سے روک دیا۔ یہ بات وہ کہہ سکتے ہیں جنہیں وہ تکالیف معلوم نہیں جن کا سامنا حضرت مسیح موعودؑ کو کرنا پڑا“ مجھے افسوس ہے کہ یہ جواب بھی درست نہیں کیونکہ دونوں معاملوں میں ایسا کھلا فرق ہے جس کو ہر ایک شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ محمد حسین بٹالوی کو کرسی نہ ملنے کا واقعہ ہمیشہ بیان فرماتے تھے بلکہ آپ نے کتاب البریہ صفحہ ۵۰ میں اسے لکھا بھی ہے۳ اور اسے اس کی ذلت قرار دیتے تھے۔ لیکن کیا خود یہی واقعہ حضرت صاحب پر چسپاں نہیں ہوتا کیا کرم دین کے مقدمہ میں مجسٹریٹ آپ کو کھڑا نہ رکھتا تھا کیا ایسا نہیں ہوا کہ بعض اوقات آپ نے پانی پینا چاہا اور اس نے پانی تک پینے کی اجازت نہیں دی لیکن کیا آپ اس کو ذلت کہہ سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو کیوں اور پھر کیوں محمد حسین سے ویسے ہی سلوک پر اسے ذلت قرار دیا گیا۔ سنئے ان دونوں مثالوں میں ایک فرق ہے اول تو یہ کہ محمد حسین کو سخت ڈانٹ دی گئی اور ڈپٹی کمشنر بہادر نے جھڑک کر پیچھے ہٹا دیا لیکن حضرت صاحب سے یہ معاملہ نہیں ہوا۔ دوسرے مقدمہ ایک ایسے مجسٹریٹ کے سامنے پیش تھا جس کے سامنے دونوں برابر تھے بلکہ حضرت مسیح موعودؑ مسیحیت کے دشمن تھے اور وہ ایک مسیحی تھا پس صاحب بہادر کا سلوک محمد حسین سے بلا کسی محرک کے ہوا لیکن حضرت مسیح موعودؑ سے بوجہ ان کی تبلیغی کوششوں اور سب مذاہب کی بنیادیں کھوکھلی کر دینے کے سب فرقوں کو عداوت تھی خصوصاً اہالیان ہند کو۔ پس ایک ہندوستانی کا آپ سے یہ سلوک کرنا پہلے معاملہ سے اس کو علیحدہ کر دیتا ہے۔ پھر ایک اور بات ہے کہ لوگ ہمیشہ مرا بھی کرتے ہیں لیکن غلام دستگیر کی موت کو حضرت مسیح موعودؑ اپنی سچائی کی دلیل قرار دیتے ہیں یہ کیوں؟ اس لئے کہ اس نے مباہلہ کیا تھا اور مطابق مباہلہ کے مر گیا اسی طرح اب اس معاملہ کو لیجئے مولوی محمد علی صاحب نے صبح کے وقت مسجد میں تقریر کی کہ اگر میں نے بدنیتی سے ٹریکٹ لکھا تھا تو خدا مجھے پکڑے مجھے ہلاک کرے مجھے ذلیل کر دے عصر کے وقت وہ ایک ایسے مجمع میں کھڑے ہوتے ہیں جو ان کے دشمنوں کا نہیں اس جماعت کا ہے جس میں پہلے کھڑے ہو کر انہوں نے یہاں تک بھی کہا تھا کہ تم اپیل تو سنتے رہے چندہ مانگنے کے وقت اٹھ کر بھاگتے تھے ہم جوتیوں سے چندہ وصول کریں گے اس جماعت کا تھا جس میں آپ کے ماتحت ملازم شامل تھے۔ اس جماعت کا تھا جس میں وہ طلباء موجود تھے جو مولوی صدر الدین صاحب ہیڈ ماسٹر کی زیر تربیت رہتے تھے اور مولوی صدر الدین صاحب ہی اس وقت کے سیکرٹری تھے وہ اس مجمع میں کھڑے ہوتے ہیں جس پر میرا کوئی زور نہ تھا کوئی حکومت نہ تھی۔ جماعت کے لوگ مختلف جگہوں سے اکٹھے ہوئے ہوئے تھے۔ وہ دیرینہ سیکرٹری شپ کی وجہ سے مولوی صاحب کے ایسے معتقد تھے کہ بعض ان میں سے آپ کے لئے تحفہ تحائف بھی لایا کرتے تھے۔ مولوی صاحب جماعت کے معززین اشخاص میں خیال کئے جاتے تھے ان کے ترجمہ قرآن کی طرف لوگوں کی نظریں لگی ہوئی تھیں چند سال کی متواتر کوشش سے وہ لوگوں کی نظروں میں ایسے بنائے گئے تھے کہ گویا موجودہ نسلوں میں ایک ہی انسان ہے ایسا شخص ایسے مجمع میں اس بددعا کے بعد کھڑا ہوتا ہے۔ جبکہ ابھی کوئی خلیفہ مقرر نہ تھا جن کو آپ اکابر کہتے ہیں ان کی ایک جماعت اس کے ساتھ ہے جو خود ہمیشہ اپنا رعب بٹھانے کے درپے رہتی تھی۔ لیکن جب وہ شخص کھڑا ہوتا ہے تو اس ہزاروں کے مجمع میں سے ایک شور بلند ہوتا ہے کہ ہم آپ کی بات نہیں سنتے۔ لیکن شائد کوئی کہے کہ چند شریروں نے منصوبہ سے ایسا کر دیا۔ نہیں اس ہزاروں کے مجمع سے کوئی شخص ان آوازوں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا۔ اور سب کے سب اپنی خاموشی سے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔ اور اپنے خاص دوستوں سمیت مولوی صاحب وہاں سے چلے جاتے ہیں۔ صبح کی بددعا کے بعد ایسے مجمع میں اس واقعہ کا ہونا اگر ایک الٰہی شہادت نہیں تو اور کیا ہے؟۔

اگر میری بیعت کے بعد ان سے یہ سلوک ہوتا اور میری مرضی یا میرے علم سے ہوتا تو یہ ایک اور معاملہ تھا۔ اس میں ان کی نہیں میری ذلت ہوتی چنانچہ جب مجھے اطلاع دی گئی کہ ایک دو پانچ چھ سالہ بچوں نے نادانی سے آپ پر کنکر پھینکنے کا ارادہ کیا تو میں نے درس میں لوگوں کو سخت ڈانٹا کہ گو بچہ نادان ہو لیکن میں والدین کو اس کا ذمہ دار قرار دوں گا۔ بیعت کے بعد مریدین کا سلوک اور شئے ہے۔ لیکن بیعت سے پہلے اس بددعا کے بعد وہ سلوک ضرور ایک الٰہی نشان تھا۔ اور خواجہ صاحب کبھی یہ خیال نہ کریں کہ اب اگر وہ قادیان آئیں تو ان سے کسی مبائع سے سختی کروا کر کہہ دیا جائے گا کہ ان کی ذلت ہوئی یہ صرف بدظنی کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ زیادہ تدبر سے کام لیں گے تو دونوں معاملات میں ان کو فرق نظر آئے گا۔

خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ جلسہ کو بارونق کرنے کے لئے آدمی بھیجے گئے میں ان کو یقین دلاتا ہوں کہ کسی شخص نے غلطی سے ان کے سامنے یہ بات بیان کر دی ہے بات یہ ہے کہ میری طرف سے یا انجمن کی طرف سے ایسا نہیں کیا گیا نہ کسی اور مبائع کی طرف سے بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ انجمن احمدیہ اشاعت اسلام نے کچھ اشتہار مبائعین میں تقسیم کرنے کے لئے شائع کئے تھے اور کچھ بعض آدمی امرتسر اور لاہور سٹیشنوں پر اس غرض کے لئے گئے تھے کہ لوگوں کو روک کر لاہور اتار لیں یا لاہور لے جائیں۔ بعض مہمانوں سے جھگڑا بھی ہو گیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ باوجود اس کے کہ وہ لوگ غلطی سے اصرار سے بڑھ کر تکرار تک نوبت پہنچا دیتے تھے کہ آپ لاہور کیوں نہیں جاتے۔ لیکن کسی قسم کا دنگہ نہ ہوا۔ اور لوگوں کو ہنسی کا موقعہ نہیں ملا۔ شاید کسی شخص نے اس واقعہ کو میری طرف منسوب کر دیا ہو مگر حق یہی ہے کہ یہ واقعہ آپ کے دوستوں کی طرف سے ہوا ہے میری طرف سے ہرگز نہیں ہوا۔

خواجہ صاحب اپنے لیکچر میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ میں نے کیوں مولوی شیر علی صاحب کو ولایت جانے سے روک دیا حالانکہ میں خلیفہ اول سے وعدہ کر چکا تھا کہ میں آپ کے حکم بھی مانوں گا اور آپ کے بعد کے خلفاء کا بھی حالانکہ مجھے حضرت ابو بکرؓ اور ابو عبیدہؓ کی مثال یاد کرنی چاہئے تھی۔ میں حیران ہوں کہ خواجہ صاحب نے میرے وعدہ سے میرے عمل کو مخالف کس طرح سمجھا۔ میں نے کہا تھا کہ حضرت خلیفہ اول کا حکم بھی مانوں گا اور بعد کے خلفاء کا بھی حضرت کی زندگی تک میرا فرض تھا کہ آپ کے حکم مانتا اور بعد میں جو خلیفہ ہو تا اس کے حکم ماننا میرا فرض تھا۔ قدرت ایزدی نے خلافت مجھے ہی سپرد کر دی۔ تو اب مسیح موعود کے احکام کے ماتحت میرا ہی حکم ماننا ضروری تھا۔ اور میں نے حالات وقت کے ماتحت مناسب فیصلہ کر دیا۔ ایک خلیفہ کا حکم اسی وقت تک چلتا ہے جب تک وہ زندہ ہو۔ اس کے بعد جو ہو اس کا حکم ماننے کے قابل ہے۔ یہ مسئلہ آپ نے نیا نکالا ہے کہ ہر ایک خلیفہ کا حکم ہمیشہ کے لئے قابل عمل ہے یہ درجہ تو صرف انبیاء کو حاصل ہے کہ ان کے احکام اس وقت تک جاری رہتے ہیں۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی پا کر کوئی نیا نبی انہیں منسوخ نہ کرے۔ خلفاء کی یہ حیثیت تو صرف آپ کی ایجاد ہے صحابہ ابو بکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علی رضی اللہ عنہم میں سے ہر ایک کے فرمانبردار تھے۔ لیکن ان میں سے ہر ایک بعد میں آنے والے نے اپنے سے پہلے کے چند احکام کو منسوخ کیا یا بعض انتظامات کو بدل دیا لیکن کسی صحابی نے نہ کہا کہ ہم تو پہلے کے فرمانبردار ہیں اس لئے آپ کا حکم نہ مانیں گے حضرت عمرؓ نے خالدؓ کو جو حضرت ابو بکرؓ کے مقرر کردہ سپہ سالار تھے معزول کر دیا۔ ان پر کسی نے اعتراض نہ کیا کہ حضرت آپ تو ابو بکرؓ کی بیعت کر چکے ہیں ان کے مقرر کردہ کمانڈر کو کیوں معزول کرتے ہیں اے کاش! کہ ہر اعتراض کے پیش کرنے سے پہلے یہ غور بھی کر لیا جایا کرے کہ ہم کیسی بے وقعت باتوں سے اپنے دعوے کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

پھر سنئے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کوئی ایسا اعتراض نہیں ہونے دیا جو پہلوں پر نہ پڑتا ہو۔ حضرت مسیح موعود کی وفات پر جو پہلا اجلاس مجلس معتمدین کا ہوا تھا۔ اور جس میں آپ بھی شریک تھے۔ اس میں مولوی محمد علی صاحب کی ایک تحریک پیش ہو کر جو فیصلہ ہوا اس کے الفاظ یہ ہیں۔

”درخواست مولوی محمد علی صاحب کہ کچھ مساکین کا کھانا حضرت اقدس نے لنگر خانہ سے بند کر کے ان میں سے بعض کے لئے لکھا ہے کہ مجلس انتظام کرے پیش ہو کر قرار پایا کہ اب حسب احکام حضرت خلیفۃ المسیح الموعود علیہ السلام لنگر کی حالت دگرگوں ہو گئی ہے۔ اس لئے اس کاغذ کو داخل دفتر کیا جائے“۔

کیا حضرت صاحب کی وفات پر پہلے ہی اجلاس میں مجلس معتمدین نے جس میں آپ بھی حاضر تھے اس حکم کے خلاف نہ کیا جو حضرت مسیح موعود نے دیا تھا آپ شاید کہیں گے کہ ہم نے خود وجہ بھی لکھ دی تھی کہ حالات وگرگوں ہو گئے اس لئے اس حکم کو تبدیل کر دیا گیا یہی جواب آپ اپنے اعتراض کا سمجھ لیں۔ جب مسیح موعود کے حکم کو حالات کے بدل جانے سے بدلا جاسکتا ہے تو کیوں حضرت خلیفہ اول کے احکام کو نہیں بدلا جاسکتا۔ حضرت کی وفات کے بعد یہاں آدمیوں کی ضرورت تھی۔ اس لئے میں نے ان کو روک دیا پھر لعل شاہ صاحب برق کے متعلق جو فیصلہ حضرت مسیح موعود کا تھا اس کو آپ کی ہی تحریک پر حضرت خلیفہ اول نے بدل دیا یا نہیں۔ اور مولوی شیر علی صاحب کے معاملہ میں تو ایک فرق بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ مولوی صاحب نے اپنی رخصت آپ منسوخ کروائی تھی نہ کہ میں نے منسوخ کی تھی۔

ایک بات آپ اور بھی لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کا نام کاٹ دیا گیا مجھے تعجب ہے کہ ایک طرف تو آپ کہتے ہیں کہ سچی بات کو پیش کرنا چاہئے نہ کہ جذبات کو اکسانے والی باتوں کو۔ اور پھر آپ خود ایسے کام کرتے ہیں کیا کہیں میں نے یہ فیصلہ شائع کیا ہے کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود مسیح موعود نہ تھے یا یہ کہ اب ان کی جگہ میں مسیح موعود ہوں یا یہ کہ اب ان کا حکم ماننا ضروری نہیں؟ اب صرف میرا حکم ماننا ضروری ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو بیشک آپ کہہ سکتے تھے کہ مسیح موعود کا نام کاٹ دیا گیا۔ لیکن جب کہ ان باتوں سے کوئی بھی نہیں تو پھر آپ کا ایک بات کو غلط پیرایہ میں بیان کرنے سے سوائے جذبات کو برانگیختہ کرنے کے کیا مطلب ہے۔ انجمن کا قاعدہ تھا کہ مسیح موعود کی زندگی میں انجمن کے معاملات میں آپ کا حکم آخری ہو گا بعد میں انجمن کا۔ اس کی بجائے جماعت احمدیہ کے قائم مقاموں نے انجمن کو مجبور کیا کہ وہ اس قاعدہ میں اصلاح کرے اور خلفاء کے حکم کو آخری قرار دے اور اسی وجہ سے میرا نام وہاں لکھا گیا۔ اب آپ بتائیں گے کہ کیا اسکو مسیح موعود کا نام کاٹ دینا کہتے ہیں۔ نام تو انجمن چھ سال پہلے کاٹ چکی تھی کیونکہ اس ریزولیوشن کے انجمن یہ معنی کرتی تھی کہ اب ہم حاکم ہیں۔ جماعت نے اس کی بجائے یہ فیصلہ کیا کہ خلیفہ وقت کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے اور اسی کے ماتحت تبدیلی ہوئی۔ آپ کا اس امر کو یہ رنگ دینا کہ گویا فیصلہ کر دیا گیا کہ مسیح موعود کا نام مٹا دیا جائے (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِكَ) کہاں تک دیانتداری کے ماتحت ہے۔

میں اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے ان تمام لوگوں کو جو صداقت کے طالب ہوں اور راستی اور حق کے جویاں ہوں مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ جماعت کا موجودہ اختلاف کوئی معمولی بات نہیں اگر وہ اس امر میں کامل غور اور فکر سے کام لے کر حق کی اتباع نہ کریں گے تو ان کو خدا تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہونا ہو گا۔ خدا تعالیٰ نے ایک پودا اپنے ہاتھ سے لگایا ہے اور ضرور ضرور وہ اس کی آبیاری کرے گا۔ کوئی آندھی کوئی طوفان خطرناک سے خطرناک ژالہ باری اس پودا کو اکھاڑ نہیں سکتی۔ خشک نہیں کر سکتی جلا نہیں سکتی کیونکہ اس پودا کا محافظ اس کا نگران خود اللہ تعالیٰ ہے لیکن وہ جو اپنے عمل سے یا اپنے قول سے خدا تعالیٰ کے لگائے ہوئے پودا کو اکھاڑنا چاہتے ہیں اس کے جلائے ہوئے چراغ کو بجھانا چاہتے ہیں اپنی فکر کریں۔ نیک نیتی اور غلط فہمی بیشک ایک حد تک ایک جرم کو ہلکا بنا دیتی ہے لیکن یہ عذر ایسے زبردست نہیں کہ ابن کے پیش کرنے سے انسان الہٰی گرفت سے بالکل محفوظ ہو جائے ۔ ہر ایک شخص اپنی قبر میں خود جائے گا اور کوئی شخص اس کا مددگار نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے ہر ایک انسان کو عقل اور فہم عطا فرمایا ہے۔ پس ہر ایک شخص اپنے عمل کا ذمہ دار ہے صرف یہ خیال کر کے کہ ہم کسی ایسے شخص کے ساتھ ہیں جو تمہارے خیال میں بہت سی خدمات دین کر چکا ہے تم بچ نہیں سکتے تمہارا یہی فرض نہیں کہ تم اس قدر غور کر لو کہ تم جس کے ساتھ ہو وہ کسی وقت کوئی اچھی خدمت کر چکا ہے نہ یہ کہ تم جس کے ساتھ ہو وہ کسی بڑے آدمی کا بیٹا ہے بلکہ تم میں سے ہر ایک شخص اس بات کا پابند ہے کہ اس عقل اور فہم سے کام لے جو خدا تعالیٰ نے ہر ایک انسان کو عطا فرمایا ہے اپنے اپنے طور پر غور کرو اور دیکھو کہ وہ کون لوگ ہیں جو مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم اور اس کے مشن کو تباہ کر رہے ہیں آخر تم لوگ سالہا سال تک مسیح موعود کے ساتھ رہے ہو اس کی کتابیں موجود ہیں۔ اس کا اپنے آپ کو دشمنوں کے سامنے پیش کرنے کا طریق اس کا اپنے دعوے پر زور دینا اس کا یورپ و امریکہ میں تبلیغ کرنا تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اس کے عمل پر غور کرو کہ وہ تمہارے لئے حکم و عدل مقرر کیا گیا ہے اپنی ہوا وہوس کو چھوڑ کر خدا کے پھینکے ہوئے مضبوط رسے کو پکڑ لو تا نجات پاؤ۔ دیکھو اسلام اس وقت ایک سخت مصیبت میں ہے اور اس کے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو بھیجا ہے اسے چھوڑ کر اسلام ہرگز ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا کے سامنے مسیح موعود کو پیش کرو کہ اسی کے نام سے شیطان کی افواج بھاگیں گی۔ وہ اس زمانہ کے لئے آنحضرت ﷺ کی افواج کا سپہ سالار ہے اور آئندہ ہر ایک زمانہ میں اس کے پروانہ کے بغیر کوئی شخص دربار خاتم النبیین میں باریاب نہیں ہو سکتا۔ پس تم اپنے طریق پر غور کرو تا ایسا نہ ہو کہ غلطی سے اس شخص کی ہتک کر بیٹھو جسے خدا نے معزز کیا ہے

کیونکہ خدا چاہتا ہے کہ مسیح موعود کی عزت کو بلند کرے جو اس کی ہتک کرتا ہے اور جو اس کے درجہ کو گھٹاتا ہے ضرور ہے کہ اس کی ہتک کی جائے اور اس کے درجے کو گھٹایا جائے۔ مسیح موعود کی عزت میں آنحضرت ﷺ کی عزت ہے کیونکہ جس کا سپہ سالار بڑے درجہ کا نہ وہ آقا ضرور ہے کہ اور بھی اعلیٰ شان کا ہو۔

میں تمہیں خدا کی قسم کھا کر جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہتا ہوں کہ میں نے حصول خلافت کے لئے کوئی منصوبہ بازی نہیں کی میرے مولیٰ نے پکڑ کر مجھے خلیفہ بنا دیا ہے میں اپنی لیاقت یا خدمت تمہارے سامنے پیش نہیں کرتا کیونکہ میں الٰہی کام کے مقابلہ میں خدمات یا لیاقت کا سوال اٹھانا حماقت خیال کرتا ہوں اللہ بہتر جانتا ہے کہ کوئی کام کس طرح کرنا چاہئے۔ خدا نے جو کچھ کیا ہے اسے قبول کرو مجھے کسی عزت کی خواہش نہیں مجھے کسی رتبہ کی طمع نہیں مجھے کسی حکومت کی تڑپ نہیں وہ شخص جو یہ خیال کرتا ہے کہ میں خلافت کا مسئلہ جاہ پسندی کی غرض سے چھیڑتا ہوں نادان ہے اسے میرے دل کا حال معلوم نہیں میری ایک ہی خواہش ہے اور وہ یہ کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی عظمت پھر قائم ہو جائے اور میں دیکھتا ہوں کہ یہ ہو نہیں سکتا جب تک کہ اس اسلام کو دنیا کے سامنے نہ پیش کیا جائے جو مسیح موعود دنیا میں لایا۔ مسیح موعود کے بغیر اس زمانہ میں اسلام مردہ ہے ہر زمانہ کے لئے ایک شخص مذہب کی جان ہوتا ہے اور اب خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کو اسلام کی روح قرار دیا ہے۔ پس میں خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ایک ہتھیار کی طرح ہوں۔ مجھے دنیا کا لالچ نہیں۔ میرا کام صرف اپنے رب کے ذکر کو بلند کرنا ہے۔ اور وہ بھی اپنی لیاقت اور اپنے علم کے زور سے نہیں بلکہ ان ذرائع سے جو خود اللہ تعالیٰ میرے لئے مہیا فرما دے۔ پس بد ظنیوں کو دور کرو اور خدا کے فیصلہ کو قبول کر لو کہ خدا تعالیٰ کا مقابلہ اچھا نہیں ہوتا۔ نادان ہے وہ جو اس کام میں مجھ پر نظر کرتا ہے۔ میں تو ایک پردہ ہوں اسے چاہئے کہ وہ اس ذات پر نظر کرے جو میرے پیچھے ہے۔ احمق انسان تلوار کو دیکھتا ہے لیکن دانا وہی ہے جو تلوار چلانے والے کو دیکھے۔ کیونکہ لائق شمشیر زن کند تلوار سے وہ کام لے سکتا ہے کہ بے علم تیز تلوار سے وہ کام نہیں لے سکتا۔ پس تم مجھے کند تلوار خیال کرو۔ مگر میں جس کے ہاتھ میں ہوں وہ بہت بڑا شمشیر زن ہے اور اس کے ہاتھ میں میں وہ کام دے سکتا ہوں جو نہایت تیز تلوار کسی دوسرے کے ہاتھ میں نہیں دے سکتی۔ میں حیران ہوں کہ تمہیں کن الفاظ میں سمجھاؤں مبارک وقت کو ضائع نہ کرو اور جماعت کو پراگندہ کرنے سے ڈرو۔ آؤ کہ اب بھی وقت ہے ابھی وقت گزر نہیں گیا۔ خدا کا عفو بہت وسیع ہے اور اس کا رحم بے اندازہ۔ پس اس کے رحم سے فائدہ اٹھاؤ اور اس کے غضب کے بھڑکانے کی جرأت نہ کرو۔ مسیح موعود کا کام ہو کر رہے گا کوئی طاقت اس کو روک نہیں سکتی مگر تم کیوں ثواب سے محروم رہتے ہو خدا کے خزانے کھلے ہیں اپنے گھروں کو بھر لو تا تم اور تمہاری اولاد آرام اور سکھ کی زندگیاں بسر کریں۔

خاکسار مرزا محمود احمد از قادیان

۱؎اس تحریر سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود نبی اور محدث کو ہم معنی خیال کرتے ہیں۔ کیونکہ یہاں محدث کا لفظ اس لئے بڑھایا۔

۲؎یہ لفظ استعارہ کے طور پر اس قطعہ سمندر پر اطلاق پاتا ہے جہاں سے موتی نکلتے ہیں۔ منہ

۳؎مجھے یہ بھی خطرہ ہے کہ جو لوگ مسیح موعود کی نبوت کا درجہ گھٹانے کے لئے صحابہ اور پچھلے سب ولیوں کو نبی قرار دیتے ہیں۔ چند دن کے بعد اس بناء پر کہ مسیح موعود نے اپنی جماعت کو صحابہ سے شبہہ دی ہے۔ اپنے میں سے بعض کو بھی نبی نہ کہنے لگ جائیں۔ منہ

۴؎کاش مسیح موعود کی نبوت پر اعتراض کرنے والے آنحضرت ﷺ کی عظمت اور شوکت پر غور کرتے تو انہیں یہ ٹھوکر نہ لگتی آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے وہ رتبہ دیا ہے کہ آپؐ کی غلامی اور اتباع سے بارگاہ الٰہی میں مقرب ہونے والا انسان اگر یہ دعویٰ بھی کرے کہ میں آپؐ کی اتباع سے اس درجہ تک پہنچ گیا ہوں کہ پہلے سب نبیوں سے افضل ہو گیا ہوں تب بھی جائے تعجب نہیں۔ پھر بھی جائے تعجب نہیں اس بات میں کہ ایک شخص آپؐ کی اتباع سے نبی ہو گیا۔ اور باوجود نبی ہونے کے آپؐ کی غلامی سے آزاد نہ ہوا بلکہ جس قدر اس کا درجہ بڑھا اسی قدر آنحضرت ﷺ کی محبت میں فنا ہو گیا۔ بعید از امکان ہونے کی کیا وجہ مسمیٰ کاش لوگ سمجھتے کہ مسیح موعود کی نبوت کے انکار سے تو رسول ﷺ کا انکار لازم آتا ہے کیونکہ آپؐ فرماتے ہیں کہ لَوْ كَانَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتِّبَاعِیْ یعنی اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو سوائے میری فرمانبرداری کے ان سے کچھ نہ بنتا۔ پس اگر آپؐ کی امت میں سے ایک ایسا شخص نہ ہوتا جس کو خود اللہ تعالیٰ جَرِیُّ اللّٰهِ فِيْ حُلَلِ الْاَنْبِيَاءِ فرماتا یعنی اللہ کا نبی انبیاء کے حلوں میں تو آنحضرت ﷺ کا دعویٰ (نعوذ باللہ من ذالک) ایک دعویٰ بلا دلیل بن جاتا اور کوئی کہہ سکتا تھا کہ (نعوذ باللہ من ذالک) رسول اللہ ﷺ نے ایک بلا دلیل بات صرف فخر کے طور پر کہہ دی ہے لیکن اللہ تعالیٰ رسول کریم کے لئے بڑا غیرتمند ہے۔ ایک شخص کو بہت سے نبیوں کے نام سے مخاطب کیا اور باقی نبیوں کے نام لینے کی بجائے فرما دیا جَرِیُّ اللّٰهِ فِيْ حُلَلِ الْاَنْبِيَاءِ اور پھر اسے اس کام پر کھڑا کیا کہ آنحضرت ﷺ کی عظمت کو ظاہر کرے اور آپؐ کی غلامی کا اقرار کرے اور چونکہ اس شخص کو سب نبیوں کے نام سے یاد کیا تھا۔ اس لئے اقراری غلامی سے ثابت ہوا کہ اگر اصل انبیاء ہوتے تو وہ بھی آنحضرت ﷺ کے سامنے اقرار غلامی کرتے۔ اور اس طرح آپؐ کا یہ قول کہ لَوْ كَانَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتِّبَاعِیْ عملی رنگ میں پورا ہوا پس مسیح موعود کی نبوت سے انکار کرنے والا در حقیقت آنحضرت ﷺ کی بات کو باطل اور بے معنیٰ قرار دینے والا ہے نعوذ باللہ من ذالک۔ خوب یاد رکھو کہ مسیح موعود کے نبی اور پھر عظیم الشان نبی ہونے میں ہی آنحضرت ﷺ کے قول کی صداقت ہے پس ہم اس محبوب خدا کی تکذیب کس طرح کر سکتے ہیں۔ مرزا محمود احمد

۵؎اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خود خواجہ صاحب کو تو کتب احادیث و سیر پر عبور نہیں ہے انہوں نے حکیم محمد حسین کے رسالہ احمد میں پیش کردہ روایات کی ہی بناء پر غالباً لکھ دیا ہے لیکن حکیم صاحب نے جو روایات لکھی ہیں وہ بھی انہوں نے اصل کتابوں سے نہیں بلکہ ادھر ادھر دیکھ کر لکھ دی ہیں اس لئے ٹھوکر کھائی ہے بات یہ ہے کہ دو تین روایات جو حکیم صاحب نے لکھی ہیں ان میں سے پہلی دونوں واقدی کی ہیں جس نے ہزاروں جھوٹی حدیثیں بنائی ہیں اور حدیثیں بنانے میں اس کا پایہ اعلیٰ درجہ کے کذابوں میں ہے تیسری روایت کا ایک راوی ابو غزیہ محمد بن موٹیٰ ہے جس کی نسبت امام بخاری کا فتویٰ ہے کہ اس کی بیان کردہ حدیثوں میں بہت سی غیر ثابت ہیں۔ ابن حبان کہتے ہیں یہ حدیثوں کا چور ہے جھوٹی حدیثیں لے کر ثقہ راویوں کا نام ان کے ساتھ لگا دیتا ہے اور ابو حاتم کہتے ہیں ضعیف ہے یہ تو آئمہ حدیث کی رائے ہے ابو غزیہ کی نسبت مگر اسی پر بس نہیں۔ اس حدیث کا ایک راوی سعید بن زید ہے جس کی نسبت آئمہ حدیث یحییٰ بن سعید سعدی اور نسائی وغیرہ کا فیصلہ ہے کہ وہ ضعیف ہے اس کی حدیث حجت نہیں ہو سکتی۔ پس امام الوضاعین اور سارق الاحادیث کی روایات سے صحیح روایات کا انکار کس طرح کیا جا سکتا ہے چنانچہ بیہقی ابن عساکر کی روایت الخصائص الکبریٰ میں درج ہے کہ عبد المطلب نے آپؐ کا نام محمد رکھا اسی طرح حاکم نے روایت کیا ہے کہ آپؐ کی والدہ کو رؤیا میں آپؐ کا نام محمد رکھنے کا حکم ہوا اور بیہقی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور اسی کی تائید میں ابن ہشام وغیرہ مؤرخین کی تحقیقات ہے پس صحیح احادیث اور تحقیقات مؤرخین کے مقابلہ میں وضاعین کی روایات کی کوئی قدر نہیں ہو سکتی۔ واقدی کی نسبت تو آئمہ حدیث لکھتے ہیں کہ جب روایت کے مقابلہ میں صحیح حدیث نہ بھی ہو تب بھی اس کی روایت قابل سند نہیں ابو طالب کے جس قصیدہ میں لفظ احمد آیا ہے اس کی نسبت خود جس مؤرخ نے لکھا ہے ساتھ ہی لکھ دیا ہے کہ اس قصیدہ کے اکثر اشعار کی نسبت اہل علم کا فیصلہ ہے کہ درست نہیں ہیں۔ (مرزا محمود احمد)

۶؎مفصل دیکھو رسالہ تشحیذ اپریل ۱۹۱۰ء

اللہ تعالیٰ کی مدد صرف صادقوں کے ساتھ ہے

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

اللہ تعالیٰ کی مدد صرف صادقوں کے ساتھ ہے

میں نے جلسہ کے ایام میں ایک شخص سے سنا تھا کہ چند غیر مبائعین جو لاہور کے جلسہ سے فارغ ہو کر قادیان آئے ہیں سناتے ہیں کہ گویا میں (مرزا محمود احمد) نے گورنمنٹ کو لکھا ہے کہ اگر مجھے خلیفۃ المسیح تسلیم کر لیا جائے تو میں گورنمنٹ کی ہر طرح مدد کر سکتا ہوں اس پر گورنمنٹ نے جواب دیا کہ گورنمنٹ مذہبی باتوں میں دخل دینا پسند نہیں کرتی اور یہ جواب خواجہ کمال الدین صاحب نے خود دیکھا ہے۔ میں نے اس بات کو سن کر چنداں قابل توجہ نہ سمجھا کیونکہ میں نے خیال کیا کہ یہ بات خواجہ صاحب کی طرف کسی نے یونہی منسوب کر دی ہو گی ورنہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک ایسا شخص جو اشاعت اسلام کرنے کا مدعی ہے اور اسلام کا فدائی اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے وہ میری مخالفت میں ایسا بڑھ جائے گا کہ تمام دعوائے ایمان ترک کر کے جھوٹ اور دروغ کو استعمال کرنے سے بھی نہیں چوکے گا۔ اور اسی خیال پر میں نے اس بات کو اپنے ذہن سے نکال دیا۔ لیکن چند روز کا عرصہ ہوا کہ بٹالہ سے مولوی فضل الدین صاحب مختار عدالت کا بھی اس مضمون کا ایک خط میرے نام آیا کہ ایسی ایسی بات بہت کثرت سے پھیلائی جا رہی ہے اس کا کچھ جواب ہونا چاہئے مگر چونکہ اس خط میں مولوی صاحب موصوف نے یہ نہیں لکھا تھا کہ کون پھیلانے والا ہے اس لئے میں پھر خاموش رہا۔ مگر آج نماز عصر کے بعد شیخ محمد حسین صاحب گرداور دھرم کوٹی نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ ان سے ان کے ماموں شیخ نور احمد صاحب بی اے پلیڈر چیف کورٹ نے یہ واقعہ بیان کیا ہے جس پر میں نے ان سے کہا کہ آپ سے جو کچھ انہوں نے بیان کیا اسے لکھ دیں چنانچہ انہوں نے مندرجہ ذیل تحریر لکھ دی۔

”میں اور میر عابد علی شاہ صاحب اور حسین بخش جٹ سکنہ شہزادہ مسجد کشمیریاں موسومہ صمدو والی میں بمقام دھرم کوٹ رنداوہ مذہبی گفتگو کر رہے تھے کہ شیخ نور احمد صاحب پلیڈر ایبٹ آباد نے کہا کہ حضرت میاں صاحب نے کوئی درخواست گورنمنٹ میں بھیجی تھی کہ ان کو خلیفۃ المسلمین بنایا جاوے۔ لیکن گورنمنٹ نے جواب دیا ہے کہ وہ مذہبی معاملات میں دخل نہیں دے سکتی۔ اور جواب کی نقل لاہوری پارٹی نے لی ہے۔“ ۲۵-۱-۱۹۱۵ خاکسار محمد حسین گرداور

اس کے ساتھ ہی شیخ عبدالعزیز صاحب مدرس ہائی سکول نے بیان کیا کہ ان سے شیخ فقیر اللہ نے جو لاہور شیخ رحمت اللہ صاحب سوداگر کے ملازم ہیں یہ واقعہ یوں بیان کیا۔ چنانچہ ان سے بھی میں نے ایک تحریر لے لی جو ذیل میں درج ہے۔

”مجھے بھی کل مؤرخہ ۲۴؍ جنوری ۱۹۱۵ء کو فقیر اللہ ملازم شیخ رحمت اللہ صاحب نے کہا ہے کہ مجھے شیخ رحمت اللہ صاحب نے سنایا ہے کہ ایک درخواست حضرت میاں صاحب نے گورنمنٹ کے پیش کی ہے کہ مجھے خلیفۃ المسلمین بنا دیا جاوے۔ مجھے ان کی درخواست کے اصل مضمون کے متعلق تو پتہ نہیں ہاں گورنمنٹ کی طرف سے جو جواب ملا ہے اس سے میاں صاحب کی خلیفۃ المسلمین والی خواہش کا پتہ چلتا ہے۔“ خاکسار عبدالعزیز از قادیان۔

ان دونوں شہادتوں سے خوب وضاحت سے ثابت ہو جاتا ہے کہ اس خبر کی اصل کچھ ضرور ہے۔ اور چند ایسے لوگ جن کی تعیین کی ہمیں ضرورت نہیں اس جھوٹ کو پھیلا کر مبائعین کو بدظن کرنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ نادان نہیں خیال کرتے کہ جھوٹ سے کبھی فتح نہیں ہوتی ہے اس جھوٹی خبر کے مشہور کرنے والوں کو خواہ وہ کوئی بھی ہوں۔ کہتا ہوں کہ لعنت اللہ علی الکاذبین اللہ تعالیٰ کی جھوٹوں پر لعنت ہو۔ اے نادانو! کیا تم نے خدائے تعالیٰ کو ایسا سمجھا ہے کہ وہ شریر اور مفسد کو سزا دیئے بغیر چھوڑ دے گا اور جھوٹے اپنے جھوٹ میں کامیاب ہو جائیں گے اگر تم نے ایسا خیال کیا ہے تو تم نے سخت دھوکا کھایا ہے اور اس کام کی جرأت کی ہے جس کی جرأت اگر نہ کرتے تو اچھا ہوتا۔ سو میں اس جھوٹ کی علی الاعلان تردید کرتا ہوں۔ مجھے کسی گورنمنٹ کے خطاب کی ضرورت نہیں۔ میرے لئے وہ خطاب بس ہے جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے دنیا کی بادشاہت سے بدرجہا بڑھ کر میں اس انعام کو سمجھتا ہوں جو اس نے مجھے عطا فرمایا ہے اور ان تمام خطابات سے جو کوئی دنیاوی گورنمنٹ مجھے دے سکتی ہے مسیح موعود کی غلامی کو اعلیٰ خیال کرتا ہوں۔ پس تم اپنے نفس پر میرا قیاس نہ کرو میرے لئے وہ عزت بس ہے جو میرے مولیٰ نے مجھے عنایت فرمائی ہے۔ اور میں تو دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے بادشاہ کو بھی وہ عزت کا خطاب عطا فرمائے یعنی احمدی ہونے کا جو اس نے ہمیں عنایت فرمایا ہے تا جس طرح وہ روئے زمین کے طاقتور بادشاہوں میں سے ہیں آسمان پر بھی خدائے تعالیٰ کے پیارے بندوں میں شامل ہوں اور جس طرح زمین کی بادشاہت ان کو عطا کی گئی ہے آسمان کی بادشاہت کے بھی وارث ہوں۔ آمین۔

پس تم مجھ پر الزام لگا کر اپنے نفس کے پردے چاک مت کرو۔ اور اگر اس بیان میں کچھ صداقت ہے جو اندر ہی اندر مشہور کیا جاتا ہے۔ تو مرد میدان بن کر اسے شائع کرو اور اگر تمہارا الزام درست ہے تو گورنمنٹ کا وہ جواب جس کی تم نے نقل لی ہے شائع کرو تا جھوٹ اور سچ کھل جائے۔ ورنہ اس دن سے ڈرو جس دن یہ فریب اور مکر کام نہ آئیں گے اور اس قادر خدا کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔ جو بادشاہوں کا بادشاہ اور شہنشاہوں کا شہنشاہ ہے۔

مجھے اور دوسرے الزامات کی طرح اس الزام کے دور کرنے کی بھی ضرورت نہ تھی لیکن چونکہ اس الزام کے ثابت ہونے سے مسیح موعود علیہ السلام کی ہتک ہوتی ہے۔ کیونکہ مسیح موعودؑ جو دین کا بادشاہ تھا اس کے کسی خلیفہ کا یہ لالچ کرنا کہ گورنمنٹ مجھے تسلیم کروائے اس کے یہ معنے ہیں کہ گویا اس کو خدا کی طاقت پر یقین نہیں کہ وہ اب اپنے کام کو گورنمنٹ سے کروانا چاہتا ہے۔ اس لئے مجھے اس اعلان کے ذریعہ سے اس کی تردید کرنی پڑی۔

پس اگر میرے مخالفین میں کچھ بھی شرم و حیا ہے تو وہ مرد میدان بنیں اور اپنے بیان کو شائع کریں اور اس کا ثبوت دیں تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ کون حق پر ہے اور کس کی بنیاد جھوٹ پر ہے۔

میں یہ مضمون لکھ چکا تھا کہ شیخ عبدالرحمن صاحب بی۔ اے مدرس ہائی سکول قادیان نے یہ مضمون سن کر فرمایا کہ میں نے بھی یہ بات خود ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے منہ سے سنی ہے اور انہوں نے مندرجہ ذیل تحریر لکھ دی۔

اب ڈاکٹر صاحب سے امید ہے کہ وہ اپنے بیان کی صداقت میں ثبوت پیش کر کے دنیا پر ثابت کریں گے کہ ان کو خلاف بیانی کی عادت نہیں۔

”بسم اللہ الرحمن الرحیم میں اس امر کا حلفیہ گواہ ہوں کہ ایام جلسہ دسمبر میں ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اسٹنٹ سرجن لاہور نے مجھے کہا کہ (حضرت) میاں صاحب نے لفٹنٹ گورنر پنجاب کو اس امر کی چٹھی لکھی ہے کہ آپ کوشش فرمادیں کہ مجھے خلیفہ تسلیم کر لیا جاوے۔ اس پر گورنر صاحب موصوف نے صاف انکار کر کے جواب دیا کہ ہم مذہبی امور میں دست اندازی نہیں کر سکتے۔۔۔ کیا ایسی کوششوں سے الٹی کام ہوا کرتے ہیں میں نے کہا کہ مجھے اس امر کا علم نہیں ہے مگر ایسی چٹھی کا کیونکر علم ہوا اس پر ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ ہم نے بھی کسی طرح پتہ معلوم کر ہی لیا۔

پھر تم کہو کہ یہ حرکت کیسی ہے میں نے عرض کی کہ قبل از وقت و تحقیق میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔“ راقم عبد الرحمن عفی اللہ عنہ ۲۵؍ جنوری ۱۹۱۵ء

اس عرصہ میں مولوی فضل الدین صاحب مختار عدالت کی مفصل شہادت بھی مجھے مل گئی ہے اسے بھی ذیل میں درج کر دیا جاتا ہے اور ان کے بیان کی تصدیق بھی جو میر صاحب نے کی ہے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ بحضور حضرت خلیفۃ المسیح الموعود و المہدی الموعود علیہ الصلوٰۃ والسلام۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ خاکسار کو اس معاملہ میں جو کچھ معلوم ہے راست راست تحریر کر دیتا ہے اور منطوق تَکۡتُمُوا الشَّہَادَۃَ(2:284) میرا یہ بیان ہے جہاں تک کہ مجھ کو یاد ہے کہ ایام جلسہ دسمبر ۱۹۱۴ء میں جناب مولوی فاضل میر محمد اسحاق صاحب کی زبانی مجھ کو معلوم ہوا کہ مطیع اللہ خان بیان کرتے ہیں کہ صاحبزادہ صاحب کے ایک خط کی نقل میں لاہور میں پڑھ کر آیا ہوں جس میں صاحبزادہ صاحب نے لاٹ صاحب پنجاب سے استدعا کی ہے کہ کسی طرح ان کو خلیفۃ المسلمین تسلیم کیا جاوے اور شاید یہ بھی انہوں نے ذکر کیا یا نہیں کہ لاٹ صاحب نے جواب دیا ہے کہ یہ بات ہمارے اختیار میں نہیں میر صاحب نے یہ بھی بیان کیا کہ مطیع اللہ خان کو میں نے کہا تھا کہ یہ بات وہ لکھ دیں کہ لاہوریوں کے پاس میں نے ایسے خط و کتابت کی نقل دیکھی ہے لیکن اس نے انکار کیا ہے۔ میرے پاس میر صاحب نے یہ بات اس رنگ میں بیان کی تھی کہ لاہوریوں کے مفتریات کی یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے بعد ازاں مجھ کو شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور بٹالہ میں ملے انہوں نے ذکر کیا کہ میں خواجہ صاحب کے ملنے کیلئے لاہور گیا تھا مگر وہ پشاور گئے ہوئے ہیں اور باتوں باتوں میں مطیع اللہ خان کی روایت کی ان کی زبان سے بھی تصدیق ہوئی اور غالباً انہوں نے یہ کہا تھا کہ قسمیں کھا کھا کر میرے پاس یہ بات ایک شخص نے بیان کی ہے۔

اس کے علاوہ خلیفہ نور دین صاحب جموں والوں نے بھی مجھ سے بٹالہ میں بیان کیا تھا کہ میں (نور دین) نے بھی اس بات کا چرچا احمدیہ بلڈنگ لاہور میں سنا تھا لیکن میں نے اس بات کو باور نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد میں نے جب ۱۰؍ جنوری ۱۵ء کا پیغام صلح پڑھا اور اس میں ایک مراسلہ میں یہ لکھا ہوا دیکھا ”پھر ایک باب میں خلافت کا بیان ہو گا اور اسی باب میں شاید وہ تحریریں بھی درج ہوں جو خفیہ طور پر خواہش اختیار اور حصول اقتدار کیلئے لکھی گئی ہوں“ تب میں نے یقین کر لیا کہ احمدیہ بلڈنگس سے جو روایت مشہور ہوئی ہے اس کا منبع وہی لوگ ہیں۔ والسلام خاکسار فضل دین۔ مختار عدالت بٹالہ ۲۵؍ جنوری ۱۹۱۵ء

”شیخ عبدالخالق نو مسلم کے مکان پر ایام جلسہ میر قاسم علی صاحب۔ ایڈیٹر الحق اور جناب قاضی محمد یوسف صاحب اور مسیح اللہ خان صاحب کی موجودگی میں مطیع اللہ خان صاحب کی زبان سے میں نے سنا کہ انہوں نے احمدیہ بلڈنگز میں حضرت صاحبزادہ صاحب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے بعض خطوط کی نقل دیکھی ہے جن میں ایک اس خط کی نقل تھی جو صاحبزادہ صاحب نے نواب لفٹنٹ گورنر بہادر پنجاب کی خدمت میں بھیجی تھی اور جس میں درخواست کی تھی کہ گورنمنٹ دخل دے کر مسلمانوں سے میری (حضرت صاحبزادہ صاحب) خلافت منوائے اور مسلمان مجھے خلیفۃ المسیح تسلیم کر لیں اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس کے ساتھ ہی انہوں نے لاٹ صاحب کا جواب بھی بیان کیا تھا کہ انہوں نے صاف جواب دے دیا کہ ہم اس معاملہ میں دخل نہیں دیتے۔ مطیع اللہ خان صاحب کے اس بیان پر قاضی محمد یوسف صاحب نے فرمایا کہ وہ خط جعلی ہیں حضرت صاحبزادہ صاحب اس بیہودہ فعل سے مبرا ہیں“ سید محمد اسحاق

المنشتر مرزا محمود احمد

حَقِیْقَةُ النُّبُوَّة

(مسئلہ نبوت پر سیر حاصل بحث)

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفة المسیح الثانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ

حَقِیْقَۃُ النُّبُوَّۃ

خواجہ صاحب کے رسالہ ”اندرونی اختلافات سلسلہ احمدیہ کے اسباب“ کا پچھلے دنوں رسالہ القول الفصل میں مَیں نے جواب شائع کیا تھا اور مجھے امید تھی کہ اس رسالہ کے بعد کم سے کم میرے مذہب کے متعلق غلط فہمی پھیلانے کی جرأت نہ کی جائے گی اور آئندہ کے لئے یہ بحث بند ہو جائے گی اور میرا ہی نہیں بلکہ کل انصاف پسند طبائع کا یہی خیال تھا اور اس رسالہ کو پڑھنے والے بہت سے غیر احمدی بھی اس بات کے مقر تھے کہ اب اس بحث کا خاتمہ سمجھنا چاہئے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ بعض اصحاب کی مخالفت اس قدر ترقی کر گئی ہے اور ان کی عداوت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ میری صاف بات انہیں چیستان معلوم ہوتی ہے اور میرا واضح کلام ان کے لئے ایک پہیلی سے بڑھ کر وضاحت نہیں رکھتا چنانچہ میرے اس رسالہ کے جواب میں جناب مولوی محمد علی صاحب نے ”القول الفصل کی ایک غلطی کا اظہار“ نامی ایک رسالہ شائع کیا ہے جس میں اس کے سب مضامین کے متعلق تو نہیں۔ مگر مسئلہ نبوت کے متعلق کچھ بحث کی گئی ہے اور حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کو ناقص ثابت کرنے کے لئے پورا زور مارا گیا ہے اور آخر میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ میاں صاحب فی الواقع مرزا صاحب کو حقیقی نبی مانتے ہیں۔

جن لوگوں نے میرا رسالہ القول الفصل پڑھا ہے وہ جانتے ہیں کہ کیسے صاف لفظوں میں مَیں نے حضرت مرزا صاحب کے حقیقی نبی ہونے سے انکار کیا ہے اور جبکہ حضرت مسیح موعودؑ نے حقیقی نبوت کے معنی ہی یہ کئے ہیں کہ جس کا پانے والا نئی شریعت لائے۔ تو اب بتاؤ کہ باوجود حضرت مسیح موعودؑ کے عامل بہ شریعتِ اسلام ہونے کے اور باوجود میرے دعوائے اسلام کے میں حضرت مرزا صاحب کو نئی شریعت لانے والا کیونکر کہہ سکتا ہوں میں نے خواجہ صاحب کو اس رسالہ میں

چیلنج دیا ہے کہ وہ میری کسی تحریر سے یہ ثابت کریں کہ میں نے مرزا صاحب کو حقیقی نبی یعنی شریعت لانے والا نبی کہا ہو اور اس میں اس اعلان کا بھی ذکر کیا ہے جس میں ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو چیلنج دیا ہے کہ وہ اپنے اس قول کو ثابت کریں کہ میں (یعنی مرزا محمود احمد) حضرت مسیح موعودؑ کو حقیقی نبی یعنی شریعت لانے والا نبی خیال کرتا ہوں اور خواجہ صاحب سے درخواست کی ہے کہ وہی اب مرزا صاحب کو اس اعلان کے جواب پر آمادہ کریں اور صاف لکھا ہے کہ: ”حضرت مسیح موعودؑ نے حقیقی نبی کے خود یہ معنی فرمائے ہیں کہ جو نئی شریعت لائے۔ پس ان معنوں کے لحاظ سے ہم ان کو ہرگز حقیقی نبی نہیں مانتے“(القول الفصل صفحہ ۱۲) اس تحریر کے باوجود پھر جناب مولوی صاحب کا یہ لکھنا کہ ”میاں صاحب فی الواقع حضرت مسیح موعودؑ کو حقیقی نبی مانتے ہیں“ صفحہ ۱۹۔ دیانت اور امانت کے خلاف ہے ہر ایک وہ شخص جو معمولی سے معمولی سمجھ رکھتا ہو گا ان دونوں فقر ات کو پڑھ کر اس حق طلبی کا پتہ لگا لے گا۔ جس سے میری مخالفت میں کام لیا جاتا ہے۔ میں تو کہہ رہا ہوں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے ”حقیقی نبی“ کی جو اصطلاح مقرر فرمائی ہے اور اس کے جو معنی فرمائے ہیں ان کے رو سے میں آپ کو ہرگز حقیقی نبی نہیں مانتا کیونکہ جب خود حضرت مسیح موعودؑ اپنے حقیقی نبی ہونے سے انکار کرتے ہیں تو میں کون ہوں کہ آپ کو حقیقی نبی قرار دوں۔ ہاں یہ میں نے ضرور لکھا ہے کہ اگر ان معنوں کے علاوہ حقیقی نبی کے کوئی اور معنی کئے جائیں تو وہ میرے سامنے پیش کئے جائیں تب میں ان کی نسبت رائے دے سکتا ہوں ”حقیقی نبی“ ایک اصطلاح ہے جو خود حضرت مسیح موعودؑ نے قرار دی ہے اور اس کے خود ہی معنی بھی کر دیئے ہیں ان معنوں کے رو سے میں ہرگز آپ کو حقیقی نبی نہیں مانتا۔ ہاں چونکہ ہر ایک شخص کا حق ہے کہ ایک اصطلاح بنائے اس لئے میں نے لکھا تھا کہ اگر ”حقیقی نبی“ کے معنی ان معنوں کے سوا ہیں جو حضرت مسیح موعودؑ نے کئے ہیں تو میں ان کے معلوم ہونے پر رائے دے سکوں گا کہ وہ حضرت مسیح موعودؑ پر چسپاں ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ اور مثال کے طور پر میں نے لکھا تھا کہ اگر حقیقی نبی کے معنی یہ کئے جائیں کہ وہ بناوٹی یا لفظی نبی نہ ہو تو ان معنوں کے رو سے حضرت مسیح موعودؑ کو میں حقیقی نبی مانتا ہوں۔ اب اس عبارت کا جو کچھ مطلب ہے اس کے سمجھنے کے لئے کسی بڑے علم کی ضرورت نہیں ہر ایک وہ شخص جو اردو کی معمولی عبارت سمجھ سکتا ہے اس عبارت سے یہی سمجھے گا کہ ایک معنی پہلے فرض کئے گئے ہیں اور مثال کے طور پر ایک اصطلاح قرار دی گئی ہے اور پھر اس کے لحاظ سے حضرت مسیح موعودؑ کو حقیقی نبی قرار دیا گیا ہے نہ اس اصطلاح کے رو سے جو حضرت مسیح موعود نے مقرر فرمائی ہے اور اپنی نبوت کے حقیقی ہونے سے انکار کیا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ جن لوگوں کو میری اس تحریر سے ایسی غلطی لگی ہے وہ چند دن کو خود حضرت مسیح موعودؑ کو کافر نہ کہنے لگیں کیونکہ جس طرح میں نے لکھا ہے کہ اگر حقیقی نبی کے یہ معنی کئے جائیں کہ ایک محض بناؤٹی اور نقلی نبی نہ ہو۔ تو میں آپ کو حقیقی نبی مانتا ہوں حضرت مسیح موعودؑ نے بھی اپنے ایک شعر میں اسی طریق کو اختیار کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ؎

بعد از خدا بعشقِ محمّدؐ مخمورم

گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم

یعنی اے لوگو! میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا عاشق ہوں کہ خدا تعالیٰ کی محبت کے بعد مجھے انہی کا عشق ہے اور آپؐ کے عشق میں میں سرشار ہوں پھر بھی جو تم مجھے کافر کہتے ہو تو اگر کفر اسی کا نام ہے تو خدا کی قسم میں سخت کافر ہوں۔

اس شعر میں حضرت صاحب نے کفر کے ایک معنی فرض کئے ہیں اور فرمایا ہے کہ اے لوگو! اگر تمہارے خیال میں کفر کے یہ معنی ہیں تو میں پھر سخت کافر ہوں اور یہ عبارت ویسی ہی ہے جیسی کے میں نے اپنے رسالہ میں لکھی ہے کہ اگر حقیقی نبوت کے وہ معنی نہیں جو حضرت مسیح موعودؑ نے خود کئے ہیں بلکہ اس کے علاوہ اور کوئی معنی ہیں مثلاً یہ کہ جو نبوت بناؤٹی یا نقلی نہ ہو تو ان معنوں کے لحاظ سے میں آپ کو حقیقی نبی مانتا ہوں۔ پس جو شخص میری اس عبارت سے یہ مطلب نکالتا ہے کہ اس میں صاف کہہ دیا گیا ہے کہ آپ حقیقی نبی تھے اسے حضرت مسیح موعودؑ کے مذکورہ بالا شعر سے ضرور یہ مطلب نکالنا پڑے گا کہ حضرت مسیح موعودؑ کافر تھے (نعوذ باللہ من ذلک) مگر حضرت مسیح موعودؑ کے اس شعر کے یہ معنی کرنے کہ حضرت صاحب نعوذ باللہ من ذلک اپنے کفر کا اقرار کرتے ہیں یا میری اس عبارت کے یہ معنی کرنے کہ اس میں حضرت مسیح موعودؑ کی حقیقی نبوت کا اعلان کرتا ہوں قواعد زبان کے لحاظ سے ہرگز ہرگز جائز نہیں اور جو شخص ایسی کھلی عبارت کے الٹے معنی کرتا ہے وہ دنیا کو دھوکا دینا چاہتا ہے یا اس کی عقل ایسی موٹی ہے کہ وہ نہایت واضح عبارتوں کے معنی بھی نہیں سمجھ سکتا۔

حضرت صاحب کے اس شعر کے علاوہ ایک اور حدیث بھی میں اس جگہ لکھ دیتا ہوں جس کے معنی اگر انہی قواعد زبان سے کئے جائیں جو میرے مذکورہ بالا فقرہ کے معنی کرنے میں استعمال کئے گئے ہیں تو کل انبیاء و صلحاء اور سب مسلمانوں کو کافر قرار دینا پڑے گا۔ مسلم میں زید بن خالد جہنیؓ سے روایت ہے کہ صَلَّى بِنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ صَلَوةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِيْ اَثَرِ السَّمَاءِ كَانَتْ مِنَ الَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ اَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ هَلْ تَدْرُوْنَ مَا ذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهُ اَعْلَمُ قَالَ قَالَ اَصْبَحَ مِنْ عِبَادِيْ مُؤْمِنٌ بِيْ وَ كَافِرٌ فَاَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ رَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِيْ كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَ اَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَ كَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِيْ مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ۔(مسلم کتاب الایمان باب بیان کفر من قال مطرنا بالنوء) یعنی رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز حدیبیہ میں پڑھائی اور اس سے پہلے رات کے وقت بارش ہو چکی تھی پس جب آپ نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف منہ کر کے بیٹھ گئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ کیا لوگ جانتے ہیں کہ ان کے رب نے کیا فرمایا انہوں نے عرض کیا۔ اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں ہمیں تو علم نہیں آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے کہ میرے بندوں نے ایسی حالت میں صبح کی ہے کہ بعض مجھ پر ایمان لانے والے ہیں اور بعض کافر۔ پس جو شخص کہتا ہے کہ بارش خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے ہوئی ہے وہ تو میرا مؤمن اور ستاروں کا کافر ہے اور جو شخص کہتا ہے کہ فلاں فلاں ستارہ کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے وہ ستاروں کا مؤمن اور میرا کافر ہے۔ اب اس حدیث کو لے کر اگر کوئی شخص یہ شور مچاوے کہ دیکھو اس حدیث میں صریح الفاظ میں تمام ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور بارش کو اس کے فضل کا نتیجہ سمجھتے ہیں کافر قرار دے دیا گیا ہے تو اس کے اس قول پر سوائے اظہارِ افسوس اور تعجب کے اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس شخص کو جاننا چاہئے کہ یہاں کافر کے ساتھ ایک شرط بھی لگی ہوئی ہے اور فرمایا ہے کہ ایسا شخص ستاروں کے شریک باری ہونے کا کافر ہے اور ایسا کافر برا نہیں بلکہ اچھا ہوتا ہے اور اس جگہ وہ اصطلاحی کافر مراد نہیں جو قرآن کریم میں اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ حَقًّا(النساء: ۱۵۲) میں مذکور ہے کیونکہ ایسا کافر صرف انکارِ ذاتِ باری، انکارِ یکے از ملائکہ، انکارِ یکے از کتبِ سماویہ، انکارِ یکے از انبیاء یا انکارِ یومِ آخر کی وجہ سے بنتا ہے پس گو لفظ کافر اس جگہ استعمال کیا گیا ہے لیکن اصطلاحی معنوں کے خلاف اور معنوں میں استعمال کیا گیا ہے اور ان معنوں کے رو سے مؤمنون کا کافر ہونا برا نہیں بلکہ ایسا کافر ہوئے بغیر انسان مؤمن ہو ہی نہیں سکتا۔

آہ! کیسے افسوس اور کیسے رنج کی بات ہے کہ مخالفت اور عداوت کی شدت کی وجہ سے کسی سوال کے جواب دینے سے پہلے اس پر غور تک نہیں کیا جاتا اور جواب دینے میں صرف اس بات کو مد نظر رکھا جاتا ہے کہ محمود کے کلام کا کوئی جواب ہونا چاہئے۔ میں صاف طور پر لکھتا ہوں کہ میں ان اصطلاحی معنوں کی رو سے جو حضرت مسیح موعودؑ نے حقیقی نبی کے کئے ہیں آپ کو حقیقی نبی نہیں جانتا لیکن باوجود اس تحریر کے اسی رسالہ کے جواب میں جس میں میری یہ عبارت درج ہے میری نسبت لکھا جاتا ہے کہ میاں صاحب فی الحقیقت مرزا صاحب کو حقیقی نبی مانتے ہیں اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہو سکتا ہے اور اس سے بدتر تحریف کا نمونہ اور کہاں مل سکتا ہے میں ان تمام سمجھدار لوگوں سے جو میرے مقابلہ کے لئے صرف ضد اور تعصب سے نہیں بلکہ غلط فہمی سے کھڑے ہوئے ہیں پوچھتا ہوں کہ کیا اس قسم کی تحریفوں سے کام لے کر دنیا میں کسی مسئلہ کا فیصلہ ہو سکتا ہے؟ کیا اس طریق سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو سکتی ہے؟ کیا اسلام کی یہی تعلیم ہے؟ کیا انصاف کا تقاضا یہی ہے؟ کیا شرافت اسی کا نام ہے؟ کیا عدل اسی کا طالب ہے؟ اگر نہیں تو بتاؤ کہ میرے مقابلہ میں ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ میں ایک بات کا انکار کرتا ہوں اور پھر وہی میری طرف منسوب کی جاتی ہے اور انکار کے باوجود مجھ پر اقرار کا الزام لگایا جاتا ہے میں نے تو اپنے رسالہ میں صاف لکھ دیا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے حقیقی نبوت کے جو معنی کئے ہیں ان کے رو سے میں آپ کو ہرگز حقیقی نبی نہیں مانتا اور میرا کبھی بھی یہ ایمان نہیں ہوا کہ آپ کوئی نئی شریعت لانے والے ہیں۔ میرا یہ مذہب ہے کہ آپ اپنی وفات تک احکامِ اسلام کی پیروی کے پابند تھے بلکہ میرا یہاں تک مذہب ہے کہ تیرہ سو سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے آج تک امت محمدیہ میں کوئی ایسا انسان نہیں گزرا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا فدائی اور ایسا مطیع اور ایسا فرمانبردار ہو جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ تھے۔ اور یہی سبب تھا کہ آپ کو ان سب بزرگوں پر جو آپ سے پہلے گذرے فضیلت دی گئی کیونکہ امت محمدیہ میں فضیلت کا ایک ہی معیار ہے اور وہ یہ کہ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ(ال عمران: ۳۲) یعنی انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع اور فرمانبردار ہو۔ پس جب میں یہ کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعودؑ کو اللہ تعالیٰ نے اس امت میں سب انسانوں پر فضیلت دی ہے تو اسکے دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ اس امت میں حضرت مسیح موعودؑ سے زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی متبع نہیں ہوا۔ اور آپ نے جس مقامِ فناء کو پایا اس کے حصول میں اور کوئی انسان کامیاب نہیں ہوا۔ پس میرے اس عقیدہ کے باوجود مجھ پر وہ الزام کیوں لگاتے ہو جو واقعات کے خلاف ہے۔ اور کیوں کسی عبارت کے معنی کرنے کے لئے ایسے اصول بناتے ہو۔ جن کے ماتحت جیسا کہ میں اوپر بتا آیا ہوں خود حضرت مسیح موعودؑ بلکہ کل انبیاء اور صلحاء کو کافر و مرتد قرار دینا پڑے۔ پس اس دلیری سے توبہ کرو تا تمہارا بھلا ہو اور اس راستہ کو اختیار کرو جو امن کا ہو نہ اسے جس سے سب راستبازوں اور صادقوں کو

ترک کرنا پڑے کیا تم نہیں دیکھتے کہ آج سے پہلے آریوں اور عیسائیوں نے اسلام پر اسی طرح حملے کئے تھے اور وہ قرآن کریم کے ایسے الفاظ کو لے کر جن کے اردو میں برے معنی ہوتے تھے۔ قرآن کریم پر حملہ کرتے تھے۔ مثلاً وہ کہتے تھے کہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ کی نسبت مکار کا لفظ آیا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی نسبت آتا ہے کہ وَاللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ(3:55) لیکن ان نادانوں نے نہ جانا کہ اردو میں مکار کے اور معنی ہیں اور عربی میں اور۔ اردو میں مکار اسے کہتے ہیں جو فریبی ہو اور عربی میں اسے جو تدبیر کرنے والا ہو۔ پس ان کے لئے کسی طرح جائز نہ تھا کہ وہ لفظ مکار کے وہ معنی لیتے جو قرآن کریم نے نہیں لئے۔ پس جبکہ میں نے خود لکھ دیا ہے کہ میں حضرت صاحب کو اس اصطلاح کے رو سے جو حضرت مسیح موعودؑ نے قرار دی ہے حقیقی نبی نہیں مانتا یعنی کوئی نئی شریعت لانے والا نہیں جانتا۔ ہاں اگر اس لفظ کو اصطلاحی معنوں سے پھیر کر کسی اور معنوں میں لیا جائے تو اس صورت میں اگر وہ معنی حضرت صاحب پر چسپاں ہو سکیں تو میں آپ کو حقیقی نبی کہہ لوں گا تو کیوں مجھ پر یہ الزام دیا جاتا ہے کہ میں آپ کو حقیقی نبی مانتا ہوں۔ میں نے تو ایک شرط لگائی تھی اور کہا تھا کہ اگر یہ شرط پائی جائے تو پھر آپ کو حقیقی نبی کہا جا سکتا ہے جیسا کہ حضرت صاحب نے فرمایا ہے کہ اگر کفر کے معنی محبت آنحضرت ﷺ ہے تو میں سخت کافر ہوں۔ پس باوجود صریح الفاظ کے میری نسبت یہ کہنا کہ میں حضرت مسیح موعودؑ کو حقیقی نبی جانتا ہوں ایک ظلم عظیم ہے۔

اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان اصطلاحی معنوں کے علاوہ عام معنوں کے رو سے خود حضرت مسیح موعودؑ نے بھی اپنے آپ کو حقیقی نبی کہا ہے۔ چنانچہ مندرجہ ذیل حوالہ سے صاف ظاہر ہے: ”بعض یہ کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ سچ ہے کہ صحیح بخاری اور مسلم میں لکھا ہے کہ آنے والا عیسیٰ اسی امت میں سے ہو گا۔ لیکن صحیح مسلم میں صریح لفظوں میں اس کا نام نبی اللہ رکھا ہے۔ پھر کیونکر ہم مان لیں کہ وہ اسی امت میں سے ہو گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تمام بد قسمتی دھوکا سے پیدا ہوئی ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو۔ اور شرف مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔“۔ (دیکھو ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم)

روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۰۵، ۳۰۶)

اس جگہ حضرت مسیح موعودؑ نے نبی کے حقیقی معنوں کے رو سے اپنے آپ کو نبی کہا ہے پس جو فتویٰ مجھ پر لگاتے ہو وہ خود حضرت مسیح موعودؑ پر لگے گا۔ اور اب تمہاری جو مرضی ہو کہو۔ کیونکہ جو کچھ بھی کہو گے اس میں میں اور حضرت مسیح موعودؑ دونوں شریک ہوں گے اور اس سے زیادہ خوشی مجھے کیا ہو سکتی ہے کہ میں مسیح موعودؑ کے کلام کے بیان کرنے پر دکھ دیا جاؤں اور مجھے برا بھلا کہا جاوے۔ مگر خوب یاد رکھو کہ حضرت مسیح موعودؑ پر فتویٰ لگانے والا الٰہی گرفت کے نیچے ہے اور یہ مقام سخت خطرہ کا مقام ہے۔ میرا قول حضرت مسیح موعودؑ کے قول کے خلاف نہیں آپ نے حقیقی نبی کی ایک اصطلاح قرار دی ہے۔ اور اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ جو نئی شریعت لائے اور ان معنوں کے رو سے آپ نے حقیقی نبی ہونے سے انکار کیا ہے۔ اور میں بھی ان معنوں کی رو سے آپ کے حقیقی نبی ہونے سے انکار کرتا ہوں۔ ہاں آپ نے نبی کے حقیقی معنی یہ فرمائے ہیں کہ وہ کثرت سے امورِ غیبیہ پر اطلاع پائے۔ اور بتاؤ کہ جو شخص ان معنوں کے رو سے جو حقیقی معنی ہیں نبی ہو وہ حقیقی نبی ہو گیا یا نہیں؟۔

اگر کوئی شخص کہے کہ یہاں حضرت مسیح موعودؑ نے یہ تو فرمایا ہے کہ نبی کے حقیقی معنی یہ ہیں اور یہ نہیں فرمایا کہ ایسا شخص حقیقی نبی ہو گا تو اسے یاد رکھنا چاہئے کہ جو چیز حقیقی معنوں کے رو سے ایک نام حاصل کرے گی وہ حقیقی بھی ہو گی۔ اگر نبی کے حقیقی معنوں کے رو سے نبی کہلانے والا حقیقی نبی نہیں تو کیا جو شخص غیر حقیقی معنوں کے رو سے نبی کہلائے گا۔ لغت اسے حقیقی نبی کہے گی۔ پس حضرت مسیح موعودؑ کا نبی کے حقیقی معنی بتانا اور ان کے ماتحت اپنے نبی ہونے کا اقرار کرنا ثابت کرتا ہے کہ آپ نے اگر ایک اصطلاحی معنوں کے لحاظ سے حقیقی نبی ہونے سے انکار کیا ہے تو ایک عام معنوں کے لحاظ سے حقیقی نبی ہونے کا اقرار بھی کیا ہے اور اسی رنگ میں میں نے بھی لکھا ہے کہ اگر حقیقی نبی کے وہ اصطلاحی معنی نہ لیں جو حضرت مسیح موعودؑ نے کئے ہیں بلکہ اسے بناوٹی یا نقلی کے مقابلہ پر رکھیں تو ان معنوں کے لحاظ سے حضرت مسیح موعودؑ حقیقی نبی ہیں۔ ہاں اصطلاحی معنوں کے لحاظ سے نہیں۔ اس امر کے زیادہ واضح کرنے کے لئے میں ایک مثال دیتا ہوں جس سے ہر ایک شخص آسانی سے اس مسئلہ کو سمجھ سکے گا۔ آنحضرت ﷺ نے کلمہ کے معنی جملہ یا فقرہ کے کئے ہیں۔ اور عام استعمال میں یہی معنی آتے ہیں۔ لیکن نحویوں کی اصطلاح میں کلمہ ایک مفرد لفظ کو کہتے ہیں اور جب کبھی ایک نحوی کی کتاب میں کلمہ کا لفظ آئے گا تو اس سے مراد ایک لفظ ہو گا نہ فقرہ

لیکن مسلمانوں کی اصطلاح میں کلمہ کلمہ شہادت کو بھی کہتے ہیں۔ جو ایک لفظ نہیں بلکہ ایک جملہ ہے۔ اب اگر کوئی شخص کلمہ کا لفظ نحویوں کی اصطلاح کے مطابق استعمال کرے اور کہے کہ کلمہ ایک لفظ کو کہتے ہیں تو کسی دانا کا کام نہیں کہ اس پر فوراً الزام لگاوے کہ دیکھو اس نے رسول اللہ ﷺ کی ہتک کی ہے آپ تو ایک مصرعہ کو کلمہ فرماتے ہیں جیسا کہ فرمایا۔ اَصْدَقُ کَلِمَۃٍ قَالَهَا لَبِيْدُ اَلَا کُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللّٰهَ بَاطِلٌ۔ یعنی لبید شاعر کا سب سے اچھا کلام یہ ہے کہ اَلَا کُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللّٰهَ بَاطِلٌ۔ اور یہ ایک لفظ کو کلمہ کہتا ہے۔ اور اس بات پر اعتراض نہ کرنے کی وجہ یہ ہوگی کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب نہیں کی بلکہ ایک دوسری اصطلاح کے رو سے اس لفظ کو استعمال کیا ہے لیکن افسوس ہے کہ دنیا کی پیدائش کے بعد شاید یہ پہلا ہی زمانہ آیا ہے کہ ایک لفظ جب کسی دوسرے معنوں میں تشریح کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تو لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے اور ان کی طبائع میں اشتعال پیدا کرنے کے لئے اسے ایک ایسے رنگ میں لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے جس سے کہنے والے کے مفہوم کو غلط سمجھیں اور قائل کے معنوں کے علاوہ اور رنگ دے کر اس لفظ کا ناجائز استعمال کیا جاتا ہے۔ اور پھر یہ سب کچھ اس شہادت کی موجودگی میں ہے۔ جو خود حضرت مسیح موعودؑ کے کلام میں پائی جاتی ہے۔

اس بات کے ثبوت میں کہ میں حضرت مسیح موعودؑ کو حقیقی نبی مانتا ہوں دوسری یہ دلیل دی گئی ہے کہ میں نے کہیں لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ رسولوں اور نبیوں کے گروہ میں شامل ہیں اور اس سے ثابت ہوا کہ میں آپ کو حقیقی نبی مانتا ہوں۔ یہ دلیل بھی سخت غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ پہلے نبیوں میں شامل ہونے سے یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ آپ حقیقی نبی یا دوسرے الفاظ میں نئی شریعت لانے والے نبی تھے۔ اگر پہلے نبیوں میں شامل کرنے سے ایک نبی ہر رنگ میں ان ہی کا سا ہو جاتا ہے تو شاید آپ کہتے ہوں گے کہ آنحضرت ﷺ پہلے نبیوں میں شامل نہ تھے کیونکہ پہلے نبی تو خاتم النَّبِیّٖن نہ تھے اور وہ سب دنیا کے لئے نہ آئے تھے پس جو شخص کہتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نبیوں کے گروہ میں شامل ہیں وہ آپ کے مقرر کردہ قاعدہ کے مطابق گویا آپ کی ختم نبوت کا منکر ہے۔ مگر کوئی عقلمند انسان اس قاعدہ کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ جبکہ میں نے اپنے رسالہ میں نبیوں کی چند خصوصیتیں بیان کی ہیں۔ اور لکھا ہے کہ ایک حقیقی نبی ہوتے ہیں جو شریعت لاتے ہیں۔ ایک مستقل نبی ہوتے ہیں جو شریعت تو نہیں لاتے مگر ان کو نبوت بلا واسطہ ملتی ہے۔ اور ایک وہ نبی جو نہ شریعت لاتے ہیں۔ اور نہ ان کی نبوت بلا واسطہ ہوتی ہے۔ اور میں نے حضرت مسیح موعودؑ کو اس تیسری قسم کی نبوت کا پانے والا لکھا ہے تو میری اس تصریح کی موجودگی میں کوئی شخص کس طرح جرأت کرسکتا ہے کہ لکھے کہ میں حضرت مسیح موعود کو حقیقی نبی خیال کرتا ہوں جبکہ میری تقسیم کے مطابق حضرت مسیح موعودؑ پہلے نبیوں میں شامل ہونے کے باوجود بھی حقیقی نبی نہیں ہیں تو اس کے خلاف میری طرف کوئی بات منسوب کرنی دیانتداری کے خلاف ہے آپ یہ لکھ سکتے ہیں کہ یہ خصوصیتیں غلط ہیں۔ آپ لکھ سکتے ہیں کہ نبیوں کی خصوصیتیں ہم نہیں مانتے۔ آپ لکھ سکتے ہیں کہ حضرت صاحب نبی نہیں تھے اور اس کے علاوہ آپ اپنا عقیدہ جو چاہیں ظاہر کرسکتے ہیں یا میرے عقیدہ پر حملہ کرسکتے ہیں لیکن میری طرف وہ بات منسوب نہیں کرسکتے جو میں نے نہیں کہی۔ اور جو میرے اعتقاد کے خلاف ہے اور جس کے خلاف میں بڑے زور سے اعلان کرچکا ہوں۔ گورنمنٹ کی ملازمت میں ایک محکمہ سول سروس کا کہلاتا ہے اور سول سرونٹ ڈپٹی کمشنر بھی ہوتے ہیں۔ کمشنر بھی ہوتے ہیں۔ چیف کمشنر بھی ہوتے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص کسی شخص کی نسبت یہ کہے کہ یہ سول سروس میں شامل ہے تو کیا اس کے ضرور یہ معنی ہوں گے کہ وہ اسے کمشنر قرار دیتا ہے۔ اسی طرح نبی کا ایک درجہ ہے۔ اور اس درجہ اور رتبہ کو پانے والوں کی مختلف خصوصیات ہیں۔ ایک شخص باوجود اس کے کہ اس میں بعض خصوصیتیں نہ پائی جائیں نبی ہوسکتا ہے۔ جس طرح ایک شخص باوجود اس کے کہ کمشنری کے درجہ کو نہیں پہنچا۔ سول سروس کا ممبر ہے۔

اس الزام کی تردید کے بعد کہ یہ بھی خود نفس مضمون سے تعلق رکھتا ہے اور اصل مضمون پر اس سے روشنی پڑتی ہے میں دوسرے امور کے جواب دینے کی طرف توجہ کرتا ہوں لیکن اس قدر کہنا اور بھی ضروری ہے کہ باوجود اس کے کہ اپنے ٹریکٹ میں مولوی محمد علی صاحب نے مجھے مخاطب کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اس ٹریکٹ میں میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ درست نہیں تو مجھ سے مباحثہ کرلو۔ میری طرف یہ ٹریکٹ نہیں بھیجا۔ اور کل تیرہ ۱؎ تاریخ کو ایک دوست کے خط سے معلوم ہوا کہ کوئی رسالہ شائع ہوا ہے۔ مگر مجھے نہ کل کی ڈاک میں رسالہ ملا اور نہ آج کی ڈاک میں۔ حالانکہ میں نے رسالہ القول الفصل فوراً خواجہ صاحب اور مولوی صاحب اور ان کے دوسرے دوستوں کی خدمت میں مختلف جگہ بھیج دیا تھا اور گو خواجہ صاحب نے بھی اپنا لیکچر میرے نام نہیں بھیجا تھا لیکن اب چونکہ میں ان کے نام رسالہ بھیج چکا تھا اور میرے رسالہ کا جواب دیا گیا تھا مناسب تھا کہ یہ رسالہ فوراً میرے نام بھیج دیا جاتا ممکن ہے کل یا پرسوں وہ میرے نام رسالہ بھیج دیں لیکن اخلاقاً ان کو میرے نام فوراً یہ رسالہ بھیج دینا چاہئے تھا اور اگر کسی قیمت پر فروخت کیا گیا تھا تو بھی میرے نام وی پی کر دیتے تاکہ مجھے اطلاع تو ہو جاتی ممکن تھا کہ میں اس وقت تک کہ یہ رسالہ تمام جماعت میں اشاعت پا جائے اس سے ناواقف ہی رہتا لیکن کل شام کو حبّی فی اللہ مولوی غلام رسول صاحب ساکن راجیکی لاہور سے تشریف لائے اور ایک کاپی اس رسالہ کی اپنے ساتھ لیتے آئے جس سے مجھے اس کا علم ہوا۔ اور آج ۱۴؍فروری کو دوپہر کے وقت یہ رسالہ پڑھنے کے بعد نماز ظہر سے فارغ ہو کر اس کا جواب میں نے لکھنا شروع کر دیا ہے تاکہ تاخیر سے لوگوں کو گھبراہٹ نہ ہو۔

مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے اور ہر ایک ذی علم انسان جس نے مولوی صاحب کے ٹریکٹ کو پڑھا ہے اس بات کا اعتراف کرے گا کہ آپ نے گو میرے رسالہ کے جواب دینے کی کوشش کی ہے لیکن در حقیقت ان اصول اور فروع کو نظر انداز کر دیا ہے جن پر میں نے اپنے رسالہ میں مسئلہ نبوت پر بحث کی تھی بلکہ بعض نئے پہلو نکال کر ان پر بحث شروع کر دی ہے جس سے امر متنازعہ فیہ کا فیصلہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ ہر ایک بات کے فیصلہ کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ کسی اصل اور قاعدہ پر اس کا فیصلہ کیا جائے اور اگر خلط مبحث سے کام لیا جائے یعنی جس بات کا جواب نہ آیا۔ اس کو ترک کر کے دوسری طرف چلے جائیں تو اس سے کبھی بھی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ پس ہمیں بھی ہر ایک مسئلہ کا فیصلہ بعض اصول کی بناء پر کرنا چاہئے اب چونکہ مولوی صاحب موصوف نے بجائے میری باتوں کا جواب دینے کے بحث کو پھر از سر نو شروع کر دیا ہے۔ اس لئے میں مجبوراً ان کے بیان کردہ امور کے جواب دینے کی طرف توجہ کرتا ہوں۔

مولوی صاحب کے مضمون کو پڑھ کر جس نتیجہ پر میں پہنچا ہوں (۱) وہ یہ ہے کہ مولوی صاحب کا مذہب ہے کہ دعویٰ مسیحیت کے بعد حضرت مسیح موعودؑ کا خیال اپنی نبوت کے متعلق ایک ہی رہا ہے (۲) یہ کہ حضرت مسیح موعودؑ کا یہ عقیدہ نہ تھا کہ آپ نبی تھے بلکہ جزئی اور ناقص نبی تھے اور ان دونوں امور کی شہادت میں انہوں نے مختلف دلائل دیئے ہیں۔

چونکہ پہلے امر کے فیصلہ پر دوسرے امر کے فیصلہ کا ایک حد تک انحصار ہے اس لئے میں پہلے اسی امر کو لیتا ہوں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے عقیدہ میں کسی تبدیلی کا ذکر کیا ہے یا نہیں؟ اور پہلے عقیدہ سے مراد کیا ہے اور دوسرے عقیدہ سے کیا مراد ہے؟۔

اس کے لئے میں حقیقت الوحی کی وہی عبارت پھر نقل کرتا ہوں۔ جو القول الفصل میں نقل کر چکا ہوں اور وہ یہ ہے کہ:

’’سوال۔ (۱) تریاق القلوب کے صفحہ ۱۵۷ (روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۴۸۱) میں (جو میری کتاب ہے) لکھا ہے:

۔ اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ میں نے اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے کہ جو غیر نبی کو نبی پر ہوسکتی ہے پھر ریویو جلد اول نمبر ۶ صفحہ ۲۵۷ میں مذکور ہے خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ پھر ریویو جلد نمبر ۷۴ میں لکھا ہے مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا۔ اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا ۔ خلاصہ اعتراض یہ کہ ان دونوں عبارتوں میں تناقض ہے۔

الجواب۔ یاد رہے کہ اس بات کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھے ان باتوں سے نہ کوئی خوشی ہے نہ کچھ غرض کہ میں مسیح موعود کہلاؤں یا مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں بہتر ٹھہراؤں۔ خدا نے میرے ضمیر کی اپنی اس پاک وحی میں آپ ہی خبر دی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے قُلْ اَجُرُّ ذَنْبَ نَفْسِیْ مِنْ ضُرُوْبِ الْخِطَابِ یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا تو یہ حال ہے کہ میں کسی خطاب کو اپنے لئے نہیں چاہتا یعنی میرا مقصد اور میری مراد ان خیالات سے برتر ہے اور کوئی خطاب دینا یہ خدا کا فعل ہے میرا اس میں دخل نہیں ہے۔ رہی یہ بات کہ ایسا کیوں لکھا گیا اور کلام میں یہ تناقض کیوں پیدا ہو گیا؟ سو اس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہو گا مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگرچہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر حمل کرنا نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا اور اسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الٰہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے اور ساتھ اس کے صدہا نشان ظہور میں آئے اور زمین و آسمان دونوں میری تصدیق کے لئے کھڑے ہو گئے اور خدا کے چمکتے ہوئے نشان میرے پر جبر کر کے مجھے اس طرف لے آئے کہ آخری زمانہ میں مسیح آنے والا میں ہی ہوں۔ ورنہ میرا اعتقاد تو وہی تھا جو میں نے براہین احمدیہ میں لکھ دیا تھا۔ اور پھر میں نے اس پر کفایت نہ کر کے اس وحی کو قرآن شریف پر عرض کیا تو آیات قطعیۃ الدلالت سے ثابت ہوا کہ درحقیقت مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور آخری خلیفہ مسیح موعود کے نام پر اسی امت میں سے آئے گا۔ اور جیسا کہ جب دن چڑھ جاتا ہے تو کوئی تاریکی باقی نہیں رہتی۔ اسی طرح صدہا نشانوں اور آسمانی شہادتوں اور قرآن شریف کی قطعیۃ الدلالت آیات اور نصوص صریحہ حدیثیہ نے مجھے اس بات کے لئے مجبور کر دیا کہ میں اپنے تئیں مسیح موعود مان لوں۔ میرے لئے یہ کافی تھا کہ وہ میرے پر خوش ہو مجھے اس بات کی ہرگز تمنا نہ تھی۔ میں پوشیدگی کے حجرہ میں تھا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تھا اور نہ مجھے یہ خواہش تھی کہ کوئی مجھے شناخت کرے اس نے گوشہ تنہائی سے مجھے جبراً نکالا۔ میں نے چاہا کہ میں پوشیدہ رہوں اور پوشیدہ مروں۔ مگر اس نے کہا کہ میں تجھے تمام دنیا میں عزت کے ساتھ شہرت دوں گا۔ پس یہ اس خدا سے پوچھو کہ ایسا تو نے کیوں کیا؟ میرا اس میں کیا قصور ہے؟ اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے۔ اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا۔ اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔ اور جیسا کہ میں نے نمونہ کے طور پر بعض عبارتیں خدا تعالیٰ کی وحی کی اس رسالہ میں بھی لکھی ہیں ان سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم کے مقابل پر خدا تعالیٰ میری نسبت کیا فرماتا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۲ تا ۱۵۴)

اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود سے سوال کیا گیا ہے کہ آپ نے تریاق القلوب میں کچھ اور لکھا ہے اور ریویو میں کچھ اور لکھا ہے اور ان دونوں کتابوں میں مندرجہ ذیل اختلاف ہے:

(۱) تریاق القلوب میں لکھا ہے کہ میں مسیح سے افضل نہیں۔ ہاں مجھے اس پر جزئی فضیلت دی گئی ہے اور جزئی فضیلت غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔

(۲) ریویو میں لکھا ہے کہ خدا نے اس امت کے مسیح کو پہلے مسیح پر اپنی تمام شان میں بڑھایا ہے۔

یہ سوال جیسا ظاہر ہے اسے ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے تعصب سے کام نہ لیا جائے تو ان دونوں اقوال میں ضرور اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک جگہ آپ لکھتے ہیں کہ میں مسیح سے افضل نہیں بلکہ مجھے جزئی فضیلت دی گئی ہے جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے اور دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں کہ

میں مسیح سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہوں اور مجھے اس پر ہر طرح سے فوقیت حاصل ہے۔ کسی ایسے انسان کو جو کچھ بھی اردو جانتا ہو یہ دونوں عبارتیں پڑھوا کر دیکھ لو۔ وہ ضرور دونوں عبارتوں کے اِختلاف کو تسلیم کرے گا۔ اور جب تک ضد و تعصب سے اندھا نہ ہو جائے وہ ان دونوں عبارتوں کے مفہوم کو ایک نہیں کہہ سکتا پس اختلاف تو ثابت ہے اور اس کے وجود میں کوئی شک نہیں۔ اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ یہ اختلاف کیسا اختلاف ہے؟ کیونکہ اختلاف دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک اختلاف ظاہری ہوتے ہیں جن سے اس کلام کرنے والے یا اس تحریر کے لکھنے والے پر کوئی الزام نہیں آتا صرف ظاہری شکل میں دو قولوں میں اختلاف ہوتا ہے۔ اور ایک ایسے اختلاف ہوتے ہیں کہ جس کے کلام میں وہ پائے جائیں اس پر الزام جھوٹ کا آتا ہے اور اسی کے متعلق سائل حضرت مسیح موعودؑ سے سوال کرتا ہے کہ آپ کی دو تحریروں میں اختلاف ہے اور وہ دونوں تحریریں نقل کرتا ہے اور پھر پوچھتا ہے کہ اس اختلاف کی کیا وجہ ہے؟ یعنی اسے کیوں نہ آپ کے کذب کی علامت قرار دیا جائے۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ اس کے جواب میں حضرت صاحب دو باتیں فرما سکتے تھے۔ اول یہ کہ کوئی اختلاف نہیں تم غلط کہتے ہو۔ دوم یہ کہ اختلاف تو ہے لیکن وہ اختلاف نہیں جس سے جھوٹ کا الزام ثابت ہو تا ہو بلکہ حالات کے تغیر کی وجہ سے اختلاف پیدا ہوا ہے اگر حضرت مسیح موعودؑ یہ جواب دیتے کہ کوئی تناقض نہیں ان دونوں حوالوں کا مطلب ایک ہی ہے تب بھی گو دشمن اس پر ہنستا یا اعتراض کرتا۔ ہم پر حضرت مسیح موعودؑ کی تشریح کا قبول کرنا ضروری تھا لیکن حضرت مسیح موعودؑ نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس کے تناقض کو قبول کیا ہے جیسا کہ فرماتے ہیں کہ ”رہی یہ بات کہ ایسا کیوں لکھا گیا اور کلام میں یہ تناقض کیوں پیدا ہو گیا؟ سو اس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا۔ مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں“

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۲، ۱۵۳)

پس جبکہ دونوں حوالوں کی عبارت سے صاف تناقض ظاہر ہو رہا ہے۔ اور حضرت مسیح موعود اس تناقض کو قبول کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تناقض تو ہے مگر یہ تناقض ایک ایسے اختلاف کے طور پر نہیں جو میرے کذب پر شاہد ہو۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے میرا عقیدہ اجتہاداً تھا اور بعد میں اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی سے مجھے اس عقیدہ سے پھرنا پڑا۔ تو یہ کیسی دلیری ہے کہ ایسی صاف عبارتوں کے ہوتے ہوئے اور حضرت مسیح موعودؑ کے اس تناقض کو قبول کرتے ہوئے کوئی شخص یہ

کہہ دے کہ حضرت مسیح موعود کی تحریروں میں شروع سے لے کر آخر تک ایک ہی عقیدہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تریاق القلوب اور دافع البلاء (جسے ریویو میں بھی شائع کیا گیا تھا) دونوں موجود ہیں۔ دونوں کی عبارتوں میں اختلاف موجود ہے۔ ایک شخص ان دونوں کتابوں کی عبارتیں حضرت صاحب کے سامنے پیش کرتا ہے اور آپ ان میں تناقض تسلیم کرتے ہیں مگر باوجود اس کے آج ہمیں یہ بتلایا جاتا ہے کہ دعویٰ مسیحیت کے بعد حضرت کا ایک ہی اعتقاد رہا ہے اگر ایک ہی اعتقاد تھا تو کیوں تریاق القلوب میں لکھتے ہیں کہ میں مسیح سے افضل نہیں ہو سکتا بلکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر حاصل ہو سکتی ہے۔ لیکن دافع البلاء میں یہ تحریر فرماتے ہیں کہ میں تمام شان میں اس سے بڑھ کر ہوں۔ کیا یہ دونوں باتیں ایک ہیں؟ کیا ان میں کوئی تناقض نہیں؟ آخر یہ دونوں عبارتیں اردو زبان میں لکھی ہوئی ہیں کسی غیر زبان میں نہیں کہ ان کا سمجھنا مشکل ہو۔ ہندوستان کے کروڑوں آدمی ان کو سمجھ سکتے ہیں۔ کروڑوں آدمیوں کی آنکھ میں کیونکر خاک جھونکی جا سکتی ہے اور پھر غضب تو یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ خود حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ دونوں عبارتوں میں تناقض ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نہیں کوئی تناقض نہیں۔ ان عبارتوں پر یہ اعتراض تو ہو سکتا ہے کہ اس جگہ نبوت کا تو سوال نہیں اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ گو تناقض ہے لیکن تریاق القلوب ناسخ ہے منسوخ نہیں اور جو کچھ اس میں لکھا ہے وہی قابلِ اعتبار ہے لیکن یہ کہنا ہرگز درست نہیں کہ مذکورہ بالا دونوں تحریروں میں کوئی اختلاف نہیں۔

مگر یہ دونوں سوال بھی بالکل صاف ہیں اور اُن کا جواب نہایت سہل ہے۔ سوال اول یعنی اس امر کے جواب کہ یہاں تو افضلیت کا سوال ہے نہ کہ نبوت و غیر نبوت کا۔ دو ہیں۔

(۱) اول یہ کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک شخص ایک نبی سے افضل بھی ہو اور پھر نبی نہ بنے کیونکہ جب وہ اپنی تمام شان میں ایک نبی سے افضل ہو گیا تو نہایت ظلم ہے کہ اسے اس درجہ سے محروم رکھا جائے جو دوسرے شخص کو دیا گیا ہے۔

(۲) دوم یہ کہ حضرت مسیح موعودؑ نے تریاق القلوب میں مسیح سے کلی طور پر افضل نہ ہونے کی یہ وجہ بیان فرمائی ہے کہ غیر نبی کو نبی پر فضیلت نہیں ہو سکتی (اور یاد رہے کہ تریاق القلوب کے وقت آپ محدثیت والی نبوت کے قائل تھے اور اس نبوت کا جو جزئی ہوتی ہے دعویٰ کر چکے تھے مگر باوجود اس دعویٰ کے کہ آپ محدثیت کی نبوت کے وارث ہیں اور آپ کو وہ نبوت حاصل ہے) آپ اپنے آپ کو مسیح سے افضل نہیں سمجھتے تھے کیونکہ محدثیت کی نبوت صرف ایک جزئی نبوت ہے اصلی نبوت نہیں۔ پس اس تغیر عقیدہ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ اب آپ نے اپنی نبوت کو ایک اور قسم کی نبوت قرار دیا ہے کیونکہ تریاق القلوب میں آپ باوجود محدثیت کی نبوت کے دعوٰی ہونے کے جو ۱۸۹۱ء سے چلا آتا تھا اپنے آپ کو غیر نبی قرار دیتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محدث یا جزئی نبی در حقیقت نبی نہیں ہوتا تبھی تو آپ فرماتے ہیں کہ غیر نبی نبی سے افضل کیونکر ہو سکتا ہے؟ لیکن دافع البلاء میں اپنے آپ کو مسیح سے افضل قرار دیتے ہیں جس سے صاف ثابت ہے کہ اب آپ اپنے آپ کو نبی قرار دیتے ہیں کیونکہ آپ خود یہ قاعدہ بتا چکے ہیں کہ غیر نبی کو نبی پر فضیلت نہیں اور اگر کسی کو فضیلت ہے تو ثابت ہوا کہ وہ ضرور نبی ہے اگر وہ نبی نہ ہوتا تو حضرت مسیح موعود کے ظاہر کردہ عقیدہ کے مطابق نبی پر فضیلت نہ پاسکتا۔ پس افضلیت کا مسئلہ خود نبوت کے مسئلہ کو حل کر دیتا ہے۔

اس جگہ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ جبکہ حضرت مسیح موعودؑ نے تریاق القلوب کے حوالہ کو غلط قرار دے دیا ہے تو معلوم ہوا کہ آپ نے اس مسئلہ کو بھی غلط قرار دے دیا ہے کہ غیر نبی نبی سے افضل نہیں ہو سکتا۔ پس کیوں نہ خیال کر لیا جائے کہ پہلے حضرت مسیح موعودؑ کا خیال تھا کہ غیر نبی نبی سے افضل نہیں ہو سکتا۔ لیکن بعد میں آپ کا یہ خیال بدل گیا اور آپ نے معلوم کیا کہ غیر نبی بھی نبی سے افضل ہو سکتا ہے اس لئے اپنے آپ کو باوجود غیر نبی ہونے کے مسیح سے افضل قرار دیا لیکن یاد رہے کہ یہ شبہ بھی قلت تدبر کا نتیجہ ہو گا کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ نے حقیقۃ الوحی میں جہاں تریاق القلوب کے اس عقیدہ کو منسوخ فرمایا ہے کہ میں مسیح سے ہر شان میں افضل نہیں وہاں اس عقیدہ کو کہ غیر نبی نبی سے افضل نہیں ہوتا منسوخ نہیں فرمایا۔ اور معترض کے جواب میں یہ نہیں فرمایا کہ چونکہ بعد میں مجھے اس قاعدہ میں کہ غیر نبی نبی سے افضل نہیں ہو سکتا غلطی معلوم ہوئی اور ثابت ہو گیا کہ ایسا ہو سکتا ہے اس لئے میں نے مسیح سے اپنے آپ کو افضل لکھ دیا بلکہ اس کی بجائے فرماتے ہیں کہ ”مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی“۔ اس حوالہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے آپ کو مسیح سے افضل اس لئے نہیں قرار دیا کہ آپ کو معلوم ہو گیا تھا کہ غیر نبی نبی سے افضل ہو سکتا ہے بلکہ اس لئے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی وحی نے صریح طور پر نبی کا خطاب دیا اور وہ بارش کی طرح آپ پر نازل ہوئی اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ آپ نے تریاق القلوب والے عقیدہ کو بدل دیا کیونکہ

آپ نے تریاق القلوب میں لکھا تھا کہ مسیح سے میں صرف جزئی فضیلت رکھتا ہوں اور بعد میں فرمایا کہ میں تمام شان میں اس سے بڑھ کر ہوں۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ تریاق القلوب کے حوالہ کو منسوخ نہیں کیا گیا وہ ایک دفعہ سائل کے سوال کو پڑھ لیں کیونکہ جواب سائل کے سوال کے مطابق ہوتا ہے سائل نے حضرت مسیح موعودؑ سے یہ سوال کیا ہے کہ آپ نے تریاق القلوب میں کچھ اور لکھا ہے اور ریویو میں کچھ اور پس اگر ان دونوں کتب میں کوئی اختلاف نہ تھا تو حضرت مسیح موعودؑ بھی تناقض کے اعتراض کو قبول کر کے جواب نہ دیتے اور جبکہ اس اعتراض کو آپ نے قبول کیا ہے اور اس کا جواب دیا ہے تو کسی کا حق نہیں کہ کہے کہ آپ کا عقیدہ صرف براہین کے وقت اور تھا۔ ایسا کہنا مسیح موعود کی ہتک ہے کیونکہ یہ داناؤں کا کام نہیں کہ سوال کچھ اور کیا جائے اور جواب کچھ اور دیا جائے۔ سوال کرنے والا تو کہتا ہے کہ آپ تریاق القلوب میں کچھ اور لکھتے ہیں اور ریویو میں کچھ اور۔ پھر کس طرح ممکن ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ اس کے جواب میں براہین کے زمانہ کے خیالات کا ازالہ شروع کر دیں۔ وہ شخص جو کل دنیا کی ہدایت کے لئے آیا تھا اس کی نسبت ایسی لغویات کا منسوب کرنا کیسا ظلم ہے وہ جو دنیا کو عقل سکھانے کے لئے آیا۔ وہ جو علومِ روحانی کے خزانے لٹانے آیا۔ وہ جو دانائی کی کان تھا اور جاہلوں کو دانا بنانے والا تھا کیا اس کی نسبت یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ ایک شخص اس سے پوچھتا ہے کہ آپ تریاق القلوب میں کچھ اور لکھتے ہیں اور ریویو میں کچھ اور ۔ تو وہ یہ جواب دیتا ہے کہ ہاں براہین کے زمانہ میں میرا یہ خیال تھا بعد میں نہ رہا۔ اس جواب کو پڑھ کر تو ایک بچہ بھی کہے گا کہ آپ سے تو تریاق القلوب اور ریویو کے اختلاف کی نسبت سوال کیا تھا آپ براہین کے زمانہ یا کسی اور پچھلے زمانہ کا ذکر کرنے لگے۔ کیا اگر کسی صحیح الدماغ انسان سے یہ سوال کیا جائے کہ پرسوں آپ نے فلاں بات یوں بیان فرمائی تھی اور کل اس کے خلاف بیان فرمائی یہ کیا بات ہے تو وہ اس کو یہ جواب دے سکتا ہے کہ ہاں پچھلے سال میرا یہی خیال تھا لیکن بعد میں بدل گیا۔ کیا وہ یہ نہ پوچھے گا کہ میں کل اور پرسوں کے متعلق سوال کرتا ہوں آپ پچھلے سال کا ذکر کرتے ہیں اور کیا ایسا جواب دینے والا عقلمند کہلا سکتا ہے؟ پس اس کلام سے بچو جس سے تم مسیح موعودؑ پر نعوذ باللہ بے وقوفی کا الزام لگاتے ہو۔ مسیح موعودؑ خدائے تعالیٰ کا چنا ہوا تھا اور اس کا برگزیدہ تھا اس کی باتیں دانائی سے پُر ہوتی تھیں۔ پس اس کا جواب سوال کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ اور جبکہ تریاق القلوب اور ریویو کے مضامین میں صریح اختلاف ہے تو اس کا جواب کسی پہلے وقت کی طرف کیونکر منسوب ہو سکتا ہے غرض کہ یہ

بات بالکل ثابت ہے کہ تریاق القلوب اور ریویو کے مذکورہ بالا دونوں بیانات میں اختلاف ہے۔

”اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے۔ کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو ایک غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔“

(تریاق القلوب صفحہ ۱۵۴ و روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۴۸۱)

ریویو میں فرماتے ہیں:

”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“ (ریویو آف ریلیجنز جلد اول نمبر ۶ صفحہ ۲۵۷)

اور اس اختلاف کی نسبت ایک شخص نے آپ سے سوال کیا ہے کہ یہ کیوں ہے تو آپ نے وہ جواب دیا جو اوپر درج کیا گیا ہے اور آگے چل کر یہ بھی فرمایا ”خلاصہ یہ کہ میرے کلام میں کوئی تناقض نہیں میں تو خدا تعالیٰ کی وحی کا پیروی کرنے والا ہوں۔ جب تک مجھے اس کا علم نہ ہوا میں وہی کہتا رہا جو اوائل میں میں نے کہا۔ اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس کے مخالف کہا“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۵۰) یعنی یہ اختلاف میرے کلام کا نہیں کہ مجھے جھوٹا کہا جائے بلکہ بات یہ ہے کہ پہلے میں اجتہاد سے کہتا رہا مگر بعد میں اللہ تعالیٰ کی وحی پر غور کر کے مجھے اپنا عقیدہ بدلنا پڑا اور میں پہلے قول کے مخالف کہنے لگا۔ پس یہ تو خدائے تعالیٰ کی طرف سے ایک نیا علم تھا نہ کہ میرے اقوال کا تناقض اور اختلاف۔ پہلا قول میرا تھا اور دوسرا خدا کا۔

اب اس جگہ وہ دوسرا اعتراض کیا جاتا ہے جو میں اوپر لکھ آیا ہوں کہ اگر یہ بھی ثابت ہو جائے کہ تریاق القلوب میں کچھ اور لکھا ہے اور ریویو میں کچھ اور۔ تو بھی آپ کا مطلب ثابت نہیں ہوتا ہم کس طرح مان لیں کہ تریاق القلوب کے حوالہ کو ریویو کے حوالہ نے منسوخ کر دیا کیوں نہ یہ کہا جائے کہ تریاق القلوب کے حوالہ نے ریویو کے حوالہ کو منسوخ کر دیا۔ اور ہماری بات اس دلیل سے اور بھی وزنی ہو جاتی ہے کہ ریویو کا مضمون دافع البلاء سے لیا گیا ہے جو ۱۹۰۲ء کے ابتداء میں شائع ہوا۔ اور تریاق القلوب اکتوبر ۱۹۰۲ء میں شائع ہوئی ہے۔ پس یہ کس طرح ممکن ہے کہ جو کتاب پہلے لکھی گئی وہ بعد کی کتاب کو منسوخ کر دے کیا کوئی عقل سلیم اس امر کو تسلیم کر سکتی ہے کہ جو بات بعد میں لکھی گئی وہ اس بات سے منسوخ ہو جائے جو اس سے چھ ماہ پہلے لکھی گئی جو حکم بعد میں دیا جائے وہ پہلے حکم کا ناسخ ہوتا ہے نہ کہ پہلا حکم بعد کے حکم کا!

بیشک یہ ایک ایسا اعتراض ہے جو ظاہر میں بہت وزنی معلوم ہوتا ہے اور شائد بعض لوگ اس پر نہایت خوش ہوں کہ نہایت زبردست دلیل ہے اگر نسخ ثابت ہے تو تریاق القلوب کا حوالہ ناسخ ہے نہ کہ ریویو کا۔ کیونکہ ریویو کا مضمون پہلے کا ہے اور تریاق القلوب بعد کی کتاب ہے۔

مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ اعتراض صرف دل خوش کن ہے ورنہ اصل میں اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس لئے کہ خود حضرت مسیح موعودؑ نے اس کا فیصلہ کر دیا ہے یعنی آپ نے خود فرما دیا ہے کہ تریاق القلوب کا مضمون منسوخ ہے ریویو کے مضمون سے۔ اور اس بات کو سمجھنے کے لئے میں تریاق القلوب اور ریویو دونوں کے ان حوالہ جات کو پھر نقل کرتا ہوں جن میں اختلاف ہے۔

(تریاق القلوب کا حوالہ صفحہ ۳۵۳)

”اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گذرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے۔ کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو ایک غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔“ (تریاق القلوب صفحہ ۳۵۴ حاشیہ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۴۸۱)

ریویو کا حوالہ جلد اول صفحہ ۲۵۷:

”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے“۔ (ریویو آف ریلیجنز جلد اول نمبر ۶ صفحہ ۲۵۷)

اب ان دونوں حوالوں سے ثابت ہے کہ تریاق میں تو آپ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں مسیح سے صرف جزوی فضیلت رکھتا ہوں اور اس سے افضل نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ نبی ہے اور میں غیر نبی۔ اس کے خلاف ریویو میں لکھتے ہیں کہ میں مسیح سے تمام شان میں بڑھا ہوا ہوں اب دیکھنا چاہئے کہ ان دونوں خیالوں میں سے حضرت مسیح موعودؑ کس کو رد کرتے ہیں اور کسے درست فرماتے ہیں اگر حقیقت الوحی میں سائل کے جواب میں آپ نے یہ جواب دیا ہو کہ میرا پہلے یہ خیال تھا کہ میں مسیح سے افضل ہوں لیکن بعد میں میرا یہ عقیدہ نہ رہا اور مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا کہ تو نبی نہیں وہ نبی تھا۔ غیر نبی نبی سے افضل کس طرح ہو سکتا ہے تب تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ تریاق القلوب والا عقیدہ ناسخ تھا اور ریویو والا عقیدہ منسوخ لیکن اگر اس کے خلاف آپ اس عقیدہ کو جو تریاق القلوب میں ظاہر فرمایا ہے پہلا قرار دیں اور اپنے افضل ہونے والے عقیدہ کو بعد کا قرار دیں تو پھر ہر ایک شخص کو یہ قبول کرنا ہو گا کہ مسیح موعودؑ کے نزدیک تریاق القلوب والا حوالہ منسوخ ہے اور ریویو والا ناسخ۔ چنانچہ جب ہم حقیقت الوحی کو دیکھتے ہیں تو اس میں یہ لکھا پاتے ہیں:

”اور میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ مسیح ابن مریم آخری خلیفہ موسیٰ علیہ السلام کا ہے اور میں آخری خلیفہ اس نبیؐ کا ہوں جو خیر الرسل ہے اس لئے خدا نے چاہا کہ مجھے اس سے کم نہ رکھے" (حقیقۃ الوحی — روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۲)

اس عبارت سے یہ پتہ لگتا ہے کہ آپ اپنے آپ کو کم سے کم مسیح کے برابر تو سمجھتے ہیں لیکن آگے چل کر آپ فرماتے ہیں ”پس خدا دکھلاتا ہے کہ اس رسولؐ کے ادنیٰ خادم اسرائیلی مسیح ابن مریم سے بڑھ کر ہیں“ پھر یہی نہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سنو! اسی جگہ حضرت مسیح موعودؑ آگے چل کر فرماتے ہیں ”پھر جبکہ خدا نے اور اس کے رسولؐ نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔ عزیزو! جبکہ میں نے یہ ثابت کر دیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور آنے والا مسیح میں ہوں تو اس صورت میں جو شخص پہلے مسیح کو افضل سمجھتا ہے اس کو نصوص حدیثیہ اور قرآنیہ سے ثابت کرنا چاہئے کہ آنے والا مسیح کچھ چیز ہی نہیں نہ نبی کہلا سکتا ہے نہ حکم۔ جو کچھ ہے پہلا ہے خدا نے اپنے وعدہ کے موافق مجھے بھیج دیا۔ اب خدا سے لڑو۔ ہاں میں صرف نبی نہیں بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی بھی۔ تا آنحضرت ﷺ کی قوت قدسیہ اور کمال فیضان ثابت ہو“ (حقیقۃ الوحی — روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۹)

مذکورہ بالا عبارت میں آپ نہ صرف یہ کہ مسیح سے اپنے افضل ہونے کا ذکر فرماتے ہیں بلکہ آپ فرماتے ہیں کہ آپ کے حضرت مسیح سے افضل ہونے پر اعتراض کرنا شیطانی وسوسہ ہے اور یہ کہنا کہ حضرت مسیح موعودؑ نبی نہیں کہلا سکتے خدائے تعالیٰ سے جنگ کرنے کے مترادف ہے۔ ہاں جیسا کہ آپ ہمیشہ فرماتے آئے ہیں آپ نبی بھی ہیں اور آنحضرت ﷺ کے امتی بھی۔ اور آپ نے اس جگہ یہ بھی بتا دیا ہے کہ امتی نبی ہونا آپؑ کے درجہ کے گھٹانے کے لئے نہیں بلکہ ”تا آنحضرت ﷺ کی قوت قدسیہ اور کمال فیضان ثابت ہو“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۵۹) پس امتی نبی ہونا کسی درجہ کی علامت نہیں بلکہ علو درجہ کی علامت ہے اور ایسے نبی کے ذریعہ سے آنحضرت ﷺ کی قوت قدسیہ اور کمال فیضان ثابت ہوتا ہے۔

اب میں پھر اپنے اصل مضمون کی طرف آتا ہوں اور ہر ایک انصاف پسند کو متوجہ کر کے کہتا ہوں کہ کیا جو حوالہ میں نے اوپر نقل کیا ہے اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ حقیقۃ الوحی میں آپ اپنے آپ کو مسیح سے افضل قرار دیتے ہیں۔ پس یہ کیسی الٹی بات ہے کہ باوجود اس کے کہ تریاق القلوب

ناسخ تھی ریویو کے مضمون کی۔ پھر بھی حضرت صاحب ح Advertisementsقیقة الوحی میں وہی مضمون پھر بیان کرتے ہیں جو ریویو میں کیا تھا پس حضرت مسیح موعودؑ کا ح Advertisementsقیقة الوحی میں اپنے آپ کو حضرت مسیحؑ سے افضل قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریویو کا مضمون ناسخ ہے اور تریاق القلوب کا منسوخ یا کم سے کم یہ کہ حضرت مسیح موعودؑ ایسا ظاہر فرماتے ہیں اور اگر تریاق القلوب کا مضمون ناسخ ہوتا تو چاہئے تھا کہ آپ بعد کی کتب میں یہ تحریر فرماتے کہ ہم حضرت مسیحؑ سے افضل نہیں لیکن آپ تو بعد کی کتب میں اپنے آپ کو افضل قرار دیتے ہیں جس سے صاف ثابت ہوا کہ آپ اس تحریر کو جس میں آپ نے اپنے آپ کو مسیح سے افضل قرار دیا ہے ناسخ قرار دیتے ہیں اس تحریر کا جس میں اپنے آپ کو مسیح سے ادنیٰ قرار دیا ہے اور جس مضمون میں افضل قرار دیا ہے وہ ریویو کا مضمون ہے پس ہر ایک شخص جو ضد سے کام نہ لے سمجھ سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ تریاق القلوب کے اس حوالہ کو منسوخ قرار دیتے ہیں ورنہ حضرت صاحب پر یہ اعتراض آئے گا کہ آپ نے خدائے تعالیٰ کی متواتر وحی سے ایک بات معلوم کی۔ لیکن آپ ایک ہی کتاب میں اس نئے عقیدہ کو لکھ کر بھول گئے۔ اور پھر وہی پرانا عقیدہ اپنی کتابوں میں لکھنا شروع کر دیا کہ میں افضل ہوں مسیحؑ سے۔ اور تعجب یہ کہ خود ح Advertisementsقیقة الوحی میں جس جگہ ریویو کے مضمون کو غلط قرار دیا اسی جگہ پھر اپنی افضلیت پر زور دینے لگے۔ لیکن ایسا فعل حضرت مسیح موعودؑ کی طرف ہرگز منسوب نہیں ہو سکتا اور حق یہی ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ تریاق القلوب کے حوالہ کو منسوخ قرار دیتے ہیں ریویو کے مضمون سے۔ اور جو شخص کہتا ہے کہ حضرت صاحب کی بعض عبارتوں کو کیوں منسوخ قرار دیتے ہو اس کا قول انہی لوگوں کا سا ہے جو کہتے ہیں کہ جس قدر کتب سماویہ اس وقت موجود ہیں سب قابل عمل ہیں اور خدائے تعالیٰ کا کلام منسوخ نہیں ہو سکتا۔ اس کا جواب یہی ہے کہ جن کتابوں کو اللہ تعالیٰ نے منسوخ کر دیا ان کو ہم قابل عمل کیونکر کہہ سکتے ہیں یہ معاملہ بھی ایسا ہی ہے حضرت صاحب اپنے اجتہاد سے ایک عقیدہ رکھتے تھے خدائے تعالیٰ نے آپ کو بتلایا کہ یہ عقیدہ درست نہیں۔ درست یہ ہے پس ہم اسی کو تسلیم کریں گے جسے خدائے تعالیٰ نے درست قرار دیا اور اسی کو تسلیم کریں گے جسے حضرت مسیح موعودؑ نے ناسخ قرار دیا۔ ہاں جو شخص باوجود اس کے کہ مسیح موعودؑ ریویو کے مضمون کو ناسخ قرار دیتے ہیں یہ اعتراض کرے کہ آپ نے نعوذ باللہ یہ خلاف عقل بات کیوں لکھی کہ پہلی تحریر کو ناسخ قرار دیا ہے اور بعد کی تحریر کو منسوخ۔ تو وہ پہلے مسیح موعودؑ کا انکار کرے پھر ہم سے سوال کرے ہم اسے انشاء اللہ پوری طرح جواب دیں گے کیونکہ جب یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے تریاق کے حوالہ کو منسوخ قرار دیا ہے تو اب جو اعتراض پڑے گا مسیح موعودؑ پر پڑے گا نہ مجھ پر لیکن میں مضمون کو مکمل کرنے کے لئے اس جگہ فرض کر لیتا ہوں کہ ایک مخالف ہم سے پوچھتا ہے کہ حضرت صاحب نے جو ریویو کے مضمون کو جو پہلا ہے تریاق القلوب کے مضمون کا جو بعد کا ہے ناسخ قرار دیا ہے تو اس سے آپ کا کیا مطلب ہے اور ایسے شخص کو جواب دیتا ہوں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے جو کچھ لکھا درست لکھا اور اس میں ہر گز کوئی خلافِ عقل بات نہیں بلکہ واقعہ میں ریویو کا مضمون تریاق القلوب کا ناسخ ہے اور اس سے پہلا نہیں بلکہ بعد کا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ تریاق القلوب اکتوبر ۱۹۰۲ء کو شائع ہوئی اور ریویو جون ۱۹۰۲ء کو بلکہ دافع البلاء جس سے ریویو میں مضمون لیا گیا ہے وہ تو اپریل ۱۹۰۲ء کو شائع ہوئی اور خود میں نے اپنے رسالہ القول الفصل میں تاریخ اشاعت کے لحاظ سے ۱۹۰۲ء تک ہی تریاق القلوب کی تیاری لکھی ہے لیکن چونکہ اس وقت اس امر کو بالتفصیل لکھنے کی گنجائش نہ تھی اس لئے اس رسالہ میں وہی تاریخ لکھ دی گئی جو تریاق القلوب پر لکھی ہوئی تھی اور اگر میں ایسا نہ کرتا تو خوف تھا کہ بعض لوگ جھٹ مجھ پر جھوٹ کا الزام لگا دیتے لیکن اب میں بتاتا ہوں کہ تریاق القلوب اصل میں پہلے کی لکھی ہوئی کتاب ہے اور ریویو بعد کا مضمون جو دافع البلاء سے لیا گیا ہے اس کے بعد کا بلکہ ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ بعد کا ہے اور اس کے لئے میرے پاس خدائے تعالیٰ کے فضل سے یقینی ثبوت ہیں بشرطیکہ کوئی شخص ان پر غور کرے اور ضد اور ہٹ سے کام نہ لے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ تریاق القلوب ۱۸۹۹ء سے لکھی جانی شروع ہوئی اور جنوری ۱۹۰۰ء تک بالکل تیار ہو چکی تھی لیکن چونکہ ان دنوں میں ایک وفد نصیبین جانے والا تھا اس لئے حضرت مسیح موعودؑ نے ایک عربی رسالہ لکھنا شروع کر دیا اور اس کی اشاعت رک گئی ۱۹۰۲ء میں جبکہ کتب خانہ کا چارج حکیم فضل الدین صاحب مرحوم کے ہاتھ میں تھا آپ نے حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ خلیفہ اول سے عرض کی کہ بعض کتب بالکل تیار ہیں لیکن اس وقت تک شائع نہیں ہوئیں آپ حضرت مسیح موعودؑ سے عرض کریں کہ ان کو شائع کرنے کی اجازت فرمادیں چنانچہ آپ نے حضرت مسیح موعودؑ سے ذکر کیا اور حضورؑ نے اجازت دے دی تریاق القلوب ساری چھپ چکی تھی۔ اور صرف ایک صفحہ کے قریب مضمون حضرت اقدسؑ کے ہاتھ کا لکھا ہوا کاتب کے پاس بچا پڑا تھا اس کے ساتھ حضرت اقدسؑ نے ایک صفحہ کے قریب مضمون اور بڑھا دیا اور کل دو صفحہ آخر میں لگا کر کتاب شائع کر دی گئی۔ یہ تو اصل واقعہ ہے جس سے غالباً جناب مولوی صاحب واقف ہوں گے اور امید ہے کہ حق کے اظہار کے لئے ضرور شہادت دے دیں گے لیکن اگر ان کو یاد نہ رہا ہو یا وہ اس واقعہ سے واقف نہ ہوں تو میں اس کے متعلق ذیل میں چند ثبوت دیتا ہوں۔

۱۔ اول یہ کہ تریاق القلوب کے آخر میں ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۲ء کی تاریخ لکھی ہوئی ہے اور اس کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے آپ کو مسیحؑ پر صرف جزئی فضیلت رکھنے والا ظاہر فرمایا ہے لیکن کتاب کشتی نوح جو ۵؍اکتوبر ۱۹۰۲ء میں شائع ہوئی ہے اس میں آپ فرماتے ہیں ”مثیل موسیٰؑ موسیٰؑ سے بڑھ کر اور مثیل ابن مریم ابن مریم سے بڑھ کر“ (صفحہ ۱۶) پھر صفحہ ۱۹ پر لکھتے ہیں کہ ”گو خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ مسیح محمدی مسیح موسوی سے افضل ہے لیکن تاہم میں مسیح ابن مریم کی بہت عزت کرتا ہوں۔“ اب آپ فرمائیں کہ کیا یہ ممکن تھا کہ آپ اسی مہینہ میں مطابق الہام کشتی نوح میں تو یہ لکھیں کہ میں مسیحؑ سے افضل ہوں لیکن ۲۰ دن بعد تریاق القلوب میں لکھیں کہ میں اس سے صرف جزئی فضیلت رکھتا ہوں ورنہ میں اس سے بڑا نہیں ہو سکتا۔ اور پھر اس کے بعد حقیقۃ الوحی میں پھر وہی مضمون بیان فرمائیں جو ۵؍اکتوبر کی کتاب کشتی نوح میں لکھا تھا۔ اس بات سے ثابت ہے کہ تریاق القلوب کا وہ حوالہ پہلے لکھا جا چکا تھا خصوصاً جبکہ ہم ساتھ یہ بھی یاد رکھیں کہ مسیح موعودؑ نے حقیقۃ الوحی میں ریویو کے مضمون کو تریاق القلوب کے خلاف تسلیم کر کے اسے ناسخ بھی قرار دیا ہے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ تریاق القلوب ۱۸۹۹ء میں شروع ہوئی تھی۔

۲۔ دوم یہ کہ کشتی نوح میں ہی یہ ذکر نہیں بلکہ اکتوبر کے مہینہ کی ڈائریوں میں بھی وہی ذکر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اکتوبر ۱۹۰۲ء کا مہینہ تو ایک خاص مہینہ تھا جس میں آپ اپنی افضلیت پر خاص زور دے رہے تھے۔ چنانچہ یکم اکتوبر کی سیر کی ڈائری میں لکھا ہے۔ ”خدا تعالیٰ کی صریح وحی سے مجھے معلوم کرایا گیا ہے کہ محمدیؐ سلسلہ کا خاتم الخلفاء موسوی سلسلہ کے خاتم الخلفاء سے بڑھ کر ہے۔“ (صفحہ ۱۱۔ الحکم ۱۰؍اکتوبر ۱۹۰۲ء) اسی طرح ۲۰؍اکتوبر ۱۹۰۲ء کی فجر کی سیر کی ڈائری میں لکھا ہے۔ ”تم کہتے ہو مسیح کلمۃ اللہ ہے ہم کہتے ہیں ہمیں خدا نے اس سے بھی زیادہ درجہ دیا“

(البدر نمبر ۳ جلد ۱ صفحہ ۱۱ ۷؍نومبر ۱۹۰۲ء)

اب ان حوالوں پر غور کرو کہ ۱۹۰۱ء سے لے کر برابر حضرت مسیح موعودؑ اپنی افضلیت پر زور دیتے چلے آرہے ہیں۔ اور اپریل ۱۹۰۲ء۔ پھر یکم اکتوبر ۱۹۰۲ء۔ پھر ۵؍اکتوبر ۱۹۰۲ء۔ پھر ۲۰؍اکتوبر ۱۹۰۲ء کی آپ کی تحریروں اور تقریروں سے صاف ثابت ہو رہا ہے کہ آپ مسیح سے افضل تھے اور

ہر رنگ میں افضل تھے۔ اور یہ بات آپ کو الہام کے ذریعہ بتائی گئی تھی۔ اسی طرح ۱۹۰۲ء کے بعد کی تحریرات کو دیکھیں تو ان سے بھی بلا استثناء یہ بات ثابت ہے کہ آپ اپنے آپ کو حضرت مسیح سے افضل قرار دیتے تھے۔ اور خود حضرت مسیح موعودؑ بھی حقیقتہ الوحی میں افضلیت کے عقیدہ کو دوسرے عقیدہ کا ناسخ قرار دیتے ہیں تو کیا یہ بات اس بات کا صریح اور کھلم کھلا ثبوت نہیں کہ تریاق القلوب کا وہ حوالہ جس میں مسیح سے اپنے آپ کو کم درجہ پر بیان فرماتے ہیں اور ان سے تمام شان میں بڑا ہونا محال قرار دیتے ہیں۔ اور صرف جزئی فضیلت کے قائل ہیں۔ ۱۹۰۱ء سے پہلے کا لکھا ہوا ہے۔ خصوصاً جبکہ یہ بات خود تریاق القلوب سے بھی ثابت ہے کہ اس کی تیاری ۱۸۹۹ء میں شروع ہوئی۔ غرض کہ ۱۹۰۱ء سے لے کر وفات تک اس عقیدہ کے خلاف تحریروں کا موجود ہونا جو تریاق القلوب میں لکھا گیا۔ اور پھر تریاق القلوب کی اشاعت سے پانچ دن پہلے آپ کا اس عقیدہ کے خلاف تقریر کرنا جو تریاق القلوب میں لکھا گیا تھا۔ اور اس بات کا ثابت ہونا کہ یہ کتاب دراصل ۱۸۹۹ء میں شروع ہوئی ہے۔ کیا اس بات کا کافی ثبوت نہیں کہ یہ حوالہ بھی واقعہ میں پہلے کا لکھا ہوا ہے اس لئے یہی منسوخ ہے نہ کہ ناسخ۔

۳۔ تیسری دلیل یہ ہے کہ اکتوبر کے مہینہ کی ڈائریاں دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں میں آپ عصمت انبیاء اور نزول المسیح لکھ رہے تھے۔ اور یہ کہیں بھی ذکر نہیں کہ آپ نے ان دنوں تریاق القلوب کے لئے بھی کوئی مضمون لکھا۔ اگر ان دنوں میں آپ نے تریاق القلوب کے آخری صفحات لکھے ہوتے تو ان کا ذکر ضرور ڈائری میں آتا۔ لیکن ہم اس مہینہ کی ڈائری کو دیکھتے ہیں تو ۱۹؍اکتوبر کی ڈائری میں یہ لکھاپاتے ہیں کہ آپ آج کل عصمت انبیاء پر مضمون لکھ رہے ہیں۔ اور پھر ۳۱؍اکتوبر کے ہفتہ کے اخبار قادیان میں لکھا دیکھتے ہیں کہ آپ عصمت انبیاء اور نزول المسیح لکھ رہے ہیں۔ جس سے صاف ثابت ہے کہ آپ نے اس ماہ میں تریاق القلوب کا کوئی حصہ نہیں لکھا۔ اور جیسا کہ واقعات سے ثابت ہے صرف ایک صفحہ لکھ کر کتاب کی اشاعت کی اجازت دے دی۔ ورنہ اگر آپ کوئی خاصہ مضمون زائد کرتے تو ضرور اس کا بھی ذکر ہوتا مگر ثابت ہے کہ ان دنوں میں آپ اور کتابیں تصنیف فرمارہے تھے۔

۴۔ چوتھا ثبوت یہ ہے کہ آپ تریاق القلوب کے صفحہ ۱۳۷ پر لکھتے ہیں۔ ”کہ اب اس وقت تک کہ ۵؍ دسمبر ۱۸۹۹ء ہے“۔ اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ آپ ۵؍دسمبر ۱۸۹۹ء کو تریاق القلوب کا صفحہ ۱۳۷ لکھ رہے تھے اور یہ حوالہ جس پر بحث ہے اس سے بیس صفحہ بعد کا ہے۔ اور یہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ اصل میں کتاب تریاق القلوب دسمبر ۱۸۹۹ء میں مکمل ہو چکی تھی گو بعض وجوہ سے شائع نہ ہو سکی کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ کی نسبت یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ آپ نے سارے دسمبر میں ۲۰ صفحے بھی نہ لکھے ہوں گے۔

۵۔ پانچویں دلیل حضرت مسیح موعودؑ کا ایک خط ہے۔ جس کی عبارت ذیل میں درج ہے ”کتاب تریاق القلوب تو اب بالکل تیار ہے لیکن چونکہ مرزا خدا بخش صاحب نصیبین کی طرف تیار تھے۔ اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ ایک عربی کتاب تیار کر کے ان کو دی جائے۔ سو کتاب تریاق القلوب جس میں سے صرف ۳۔۲ دو چار ورق باقی ہیں بالفعل ملتوی رکھی گئی اور کتاب عربی لکھنی شروع کر دی گئی۔ جس میں سے اب تک سو صفحہ چھپ چکا ہے“۔ دستخط کے ساتھ تاریخ ۱۵؍فروری ۱۹۰۰ء دی ہے۔ یہ خط ہمارے پاس محفوظ ہے۔ آپ چاہیں تو ہم آپ کو دکھلا سکتے ہیں اس خط سے جو فروری ۱۹۰۰ء کا ہے۔ ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ تریاق القلوب اسی وقت مکمل کر چکے تھے۔ اور بہت تھوڑا سا مضمون لکھ کر اسے شائع کر دینے کا ارادہ تھا۔ لیکن چونکہ اس کی اشاعت میں دیر ہو گئی تھی۔ اس لئے حکیم صاحب مرحوم کے زور دینے پر ایک صفحہ اور بڑھا کر کتاب شائع کر دی گئی۔ پھر حضرت مسیح موعودؑ کا یہ تحریر فرمانا کہ عربی کتاب کا بھی سو (۱۰۰) صفحہ چھپ چکا ہے ثابت کرتا ہے کہ جنوری اور فروری میں حضرت مسیح موعودؑ وہی عربی کتاب لکھتے رہے ہیں نہ کہ تریاق القلوب جس سے ثابت ہے کہ تریاق القلوب دسمبر ۱۸۹۹ء میں ہی مکمل ہو چکی تھی۔ اور ۱۹۰۲ء میں صرف شائع ہوئی لیکن اس سے بھی بڑھ کر ایک اور ثبوت ہے اور وہ یہ ہے:

۶۔ کہ تریاق القلوب کتاب مکرمی صاحبزادہ پیر منظور محمد صاحب کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے جو اس وقت حضرت صاحب کی کتب لکھا کرتے تھے۔ اور صفحہ ۱۵۸ تک سب انہی کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔ اور صرف صفحہ ۱۵۹، ۱۶۰ منشی کرم علی صاحب کاتب کا لکھا ہے اور ہر ایک کاتب آپ کو بتا سکتا ہے کہ صفحہ ۱۵۸ اور کاتب کا لکھا ہوا ہے اور ۱۵۹ اور ۱۶۰ اور کاتب کا۔ اور باقی سب کتاب اسی کاتب کی لکھی ہوئی ہے۔ جس کا صفحہ ۱۵۸۔ صرف ٹائٹل کا پہلا صفحہ اور صفحہ ۱۵۹ اور ۱۶۰ دوسرے کاتب یعنی منشی کرم علی صاحب کے لکھے ہوئے ہیں اور یہ ایک یقینی ثبوت اس بات کا ہے کہ وہ حصہ جو تریاق القلوب کا ۱۹۰۲ء میں لکھا گیا ہے صرف آخری دو صفحہ ہیں نہ کہ اس سے پہلے کے صفحے۔ اور حضرت صاحب کے خط سے جو اوپر نقل ہو چکا ہے ثابت ہے کہ یہ کتاب ۱۹۰۰ء کی فروری سے اس قدر عرصہ پہلے تیار ہو چکی تھی کہ اس کے بعد سو (۱۰۰) صفحہ ایک اور کتاب کے لکھے گئے اور چھپ چکے

تھے۔ پس صفحہ ۱۵۸ تک ساری کتاب کا پیر صاحب کے ہاتھوں سے لکھا جانا اور صرف آخری دو صفحات کا منشی کرم علی صاحب کے ہاتھ سے لکھا جانا ثابت کرتا ہے کہ ان دو صفحوں کے علاوہ باقی سب کتاب یقیناً ۱۹۰۰ء تک لکھی جا چکی تھی۔ اور حضرت صاحب نے اپنے فروری ۱۹۰۰ء کے خط میں تریاق القلوب کے جس حصہ کی نسبت لکھا ہے کہ وہ تیار پڑا ہے وہ صفحہ ۱۵۸ تک کا ہے اور صرف دو صفحات کا منشی کرم علی صاحب کے ہاتھ سے لکھوایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف وہی بعد میں لکھوائے گئے۔ اور ان دو صفحات کے ان سے لکھوانے کی بھی ایک وجہ تھی۔ اور وہ یہ کہ جیسا کہ جناب مولوی صاحب کو معلوم ہوگا۔ اس تاخیر کے عرصہ میں پیر صاحب سخت بیمار ہو گئے تھے۔ اور جوڑوں کی درد کی وجہ سے کتابت کے بالکل ناقابل ہو گئے تھے۔ پس جب عرصہ تاخیر کے بعد کتاب دوبارہ لکھوانی شروع کرائی گئی تو پیر صاحب سے بقیہ مضمون لے کر جس کے آخر میں حضرت صاحب نے چند سطریں اور لکھ دی تھیں منشی کرم علی صاحب کاتب سے آخری دو صفحات لکھوائے گئے۔ اور کتاب شائع کر دی گئی۔ چنانچہ آپ کسی تجربہ کار کاتب سے پوچھ سکتے ہیں کہ وہ تریاق القلوب کو بغور مطالعہ کر کے دیکھے۔ اور بتائے کہ کیا واقع میں کتاب تریاق القلوب ساری کی ساری سوائے آخری دو صفحوں اور ٹائٹل کے صفحہ کے ایک کاتب کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے یا نہیں؟

۷۔ ساتواں ثبوت یہ کہ صرف تحریرات کا ہی فرق نہیں بلکہ تریاق القلوب کے دونوں کاتب اور پریس مین اس وقت بفضل خدا زندہ موجود ہیں۔ اور ان کے علاوہ اور بہت سے لوگ ہیں۔ جن کے حافظہ میں یہ واقعات اچھی طرح محفوظ ہیں۔ ان کی شہادتوں سے یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ سکتا ہے۔ چنانچہ میں جناب مکرمی صاحبزادہ پیر منظور محمد صاحب، منشی کرم علی صاحب اور مرزا محمد اسماعیل بیگ صاحب پریس مین کی شہادتیں اور چند اور واقف حال گواہوں کی شہادتیں ذیل میں درج کرتا ہوں۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حلفیہ شہادت دیتا ہوں کہ تریاق القلوب صفحہ ۱۵۸ تک میرے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے۔ یہاں تک لکھنے اور چھپنے کے بعد تریاق القلوب بہت مدت تک چھپنے اور شائع ہونے سے رکی رہی۔ پھر اس کے بعد ۱۹۰۲ء میں جب اس کتاب کی اشاعت ہونے لگی تو آخری کاپی سے بچا ہوا کچھ مضمون میرے پاس پڑا ہوا تھا جو قریب ایک صفحہ کے تھا وہ میں نے حکیم فضل الدین صاحب مرحوم کو دے دیا۔ جو دوسرے کاتب سے لکھوایا گیا۔ چھپنے کے بعد جب میں نے دیکھا تو اس بچے ہوئے مضمون کے ساتھ ایک صفحہ اور بڑھا کر کتاب کو ختم کر دیا گیا تھا۔ میں حلفیہ کہتا ہوں کہ تمام تریاق القلوب میں صرف ٹائٹل کا صفحہ اور صفحہ ۱۵۹۔ اور صفحہ ۱۶۰ یعنی کل تین صفحے دوسرے کاتب کے لکھے ہوئے ہیں۔ اور باقی کل تریاق القلوب مع ضمیمہ نمبر ۳ و ضمیمہ نمبر ۴ و ضمیمہ نمبر ۵ میرے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے۔ فقط۔ منظور محمد بقلم خود۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم میں حلفیہ شہادت دیتا ہوں کہ تریاق القلوب کا صفحہ ٹائٹل پیج (PAGE) اور آخری ورق یعنی صفحہ ۱۵۹۔ اور صفحہ ۱۶۰ میرے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔ اور حکیم فضل الدین صاحب مرحوم نے مجھے مضمون دیا تھا کیونکہ ان دنوں میں میں ان کے ماتحت کام کیا کرتا تھا۔ اور اس سے پہلے تریاق القلوب صفحہ ۱۵۸ تک مدت سے چھپی ہوئی پڑی تھی۔ جب میں نے ٹائٹل پیج (PAGE) اور آخری ورق لکھا تب یہ کتاب شائع ہوئی۔

عاجز کرم علی کاتب ریویو آف ریلیجنز قادیان

میں مرزا محمد اسماعیل بیگ جو ضیاء الاسلام میں پریس مین تھا۔ شہادت دیتا ہوں کہ تریاق القلوب میں نے چھاپی۔ اور چھپ کر ایک مدت تک پڑی رہی۔ پھر اکتوبر ۱۹۰۲ء میں ٹائٹل اور صرف آخری ورق یعنی صفحہ ۱۵۹ تا صفحہ ۱۶۰ چھاپ کر اسے شائع کر دیا گیا۔

مرزا محمد اسماعیل بیگ سابق پریس مین

۔ اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ میں دسمبر ۱۹۰۰ء میں قادیان میں آیا تو تریاق القلوب اور تحفہ گولڑویہ اور تحفہ غزنویہ طبع شدہ تھیں۔ جن کی فرمہ شکنی مولوی برہان الدین صاحب مرحوم جہلمی اور ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب کی کوشش سے مہمانانِ نو وارد کیا کرتے تھے۔ صرف کسی قدر باقی تھی جو بروقت اشاعت بعد میں لکھوائی گئی۔ اور ۱۹۰۱ء میں جب میں ہجرت کر کے یہاں آیا تو ابھی یہ کتابیں شائع نہیں ہوئی تھیں۔ پھر ۱۹۰۲ء میں جب ان کی اشاعت کی ضرورت ہوئی تو منشی کرم علی صاحب کاتب سے ٹائٹل اور ایک ورق آخری یعنی صفحہ ۱۵۹ تا ۱۶۰ لکھوا کر کتاب شائع کی گئی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ۱۹۰۰ء میں یہ کتاب قریبًا ساری چھپی ہوئی تھی۔ کسی قدر مضمون باقی ماندہ پیچھے سے لکھوایا گیا جو دوسرے کاتب کا ہے۔ اور ملاحظہ کتاب سے اس کی اصلیت معلوم ہو رہی ہے۔ میں اس وقت سے یہاں مستقل رہائش رکھتا ہوں۔ اور تحفہ گولڑویہ اور تحفہ غزنویہ اور تریاق القلوب تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد مرۃً بعد اُخریٰ شائع کی گئی ہیں۔ مگر طبع شدہ پہلے کی موجود تھیں۔ جو باوجود یہاں کی موجودگی کے اس کے خلاف لکھتا ہے اور عمداً جھوٹ بولتا ہے وہ لَعْنَتُ اللّٰهِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ کے ثواب کا مستحق بنتا ہے۔ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰی۔ الراقم مہدی حسین خادم المسیح مھاجر قادیان بقلم خود۔

وَاللّٰهِ بِاللّٰهِ ثُمَّ تَاللّٰهِ کہ میں بخوبی جانتا ہوں اور مجھے بخوبی یاد ہے۔ اور میرے سامنے کا واقعہ ہے کہ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو حکیم فضل الدین صاحب مرحوم نے شفاخانہ حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب میں آکر حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ اس وقت مطبع کوئی قریباً تیرہ سو روپیہ کا مقروض ہے۔ اور باعث اس کا یہ ہے کہ تریاق القلوب اور اور چند کتابیں بالکل تیار پڑی ہوئی ہیں۔ اور حضرت صاحب کو نہ ان کی اشاعت کا خیال آتا ہے اور نہ کوئی توجہ دلاتا ہے۔ اور بعض تو مقدمات وغیرہ کے باعث رکی پڑی ہیں۔ اور ان سب پر بہت سا روپیہ لگا ہوا ہے اور جب تک وہ شائع نہ ہوں۔ تب تک مطبع کا چلانا بہت ہی دشوار ہے۔ جو ابھی ناتمام ہیں ان کو تو جانے دیجئے۔ مگر تریاق القلوب وغیرہ تو بالکل ختم ہیں۔ فقط بعد میں ایک دو سطریں لکھ کر مضمون کو ختم کر دینا ہے اور بس۔ اس پر مولانا صاحب نے وہ حساب کا کاغذ بھی لے لیا اور حکیم صاحب کو فرمایا کہ میں حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دوں گا۔ چنانچہ اس کے بعد حضرت مولوی صاحب نے میرے سامنے حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کیا تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ تریاق القلوب کا مسودہ پیر منظور محمد سے لے کر میرے پاس بھیج دینا کہ میں اس کے آخری مضمون کو دیکھ کر چند سطریں لکھ کر مضمون کو ختم کر دوں گا۔ چنانچہ وہ مسودہ لایا گیا۔ تو اس میں سے کوئی ایک صفحہ کا مضمون باقی تھا تو حضرت صاحب نے اس کے ساتھ چند سطریں اور لکھ کر مضمون کو ختم کر دیا تو پہلے جو کتاب تریاق القلوب مدت دراز سے چھپی ہوئی موجود تھی۔ اس کے آخر میں اس مضمون سے ایک ورق نیا چھاپ کر لگا دیا گیا۔ اور کتاب شائع ہو گئی۔ چنانچہ اسی عرصہ میں اور بہت سی کتابیں جو پہلے کی ہیں شائع کی گئی ہیں۔ اور یہ ایسا مشہور واقعہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کو بھی ضرور معلوم ہوگا۔ اور میں یقین نہیں کر سکتا کہ وہ اس سے انکار کریں۔ (محمد سرور شاہ احمدی بقلم خود ۴؍ ار فروری ۱۹۱۵ء)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

میں جو مقدمہ کلارک سے حضرت مسیح موعودؑ کے حالات، تقریروں، الہامات اور پیشگوئیوں اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ضروری اور اہم واقعات کو شائع کرنے والا ہوں اور ۱۸۹۸ء سے خدا کے فضل و کرم سے مستقل طور پر دارالامان قادیان میں رہنے کی سعادت رکھتا ہوں۔ اور چشم دید واقعات کے شائع کرنے کا مجھے جائز فخر حاصل ہے بطور ایک وقائع نگار کے۔ اور سلسلہ کے حالات سے واقف کار کی حیثیت میں جو (الحکم کی گذشتہ ۱۸ مجلدات سے ظاہر ہے) محض خدا کی رضا اور حق کے اظہار کے لئے خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر یقین کر کے اور اس کی قسم کھا کر اپنے صحیح علم کی بناء پر شہادت دیتا ہوں کہ کتاب تریاق القلوب جس کا پورا نام شروع میں تریاق القلوب و جاذب الارواح الیٰ حضرت المحبوب تھا۔ ۱۸۹۹ء کی جولائی میں حضرت مسیح موعودؑ نے لکھی۔ اور پہلی مرتبہ ۳۱؍ جولائی ۱۸۹۹ء کے الحکم میں اس کا اعلان ہوا۔ یہ کتاب ابتداءً ایک مختصر سار سالہ تھا۔ جو لاہوری ملمع کے ایک خط کی بناء پر جو اوائل جولائی ۱۸۹۹ء میں آیا لکھا گیا تھا۔ ابتداءً وہ صرف ۲۳ صفحہ پر یکم اگست کو ختم ہو چکی تھی۔ مگر پھر حضرت اقدس کو خیال آیا کہ اس میں لیکھرام کے نشان کو شامل کر دیا جاوے۔ چنانچہ بطور ضمیمہ اس کو لگایا گیا۔ اور خیال تھا کہ اگست ۱۸۹۹ء تک کے نشانات جو بڑے بڑے ہیں بطور ضمیمہ نمبر ۲ لگائے جاویں۔

حضرت اقدسؑ کا معمول دربارہ تصنیف کتب یہ تھا کہ ایک کتاب شروع ہو کر بیچ میں رہ جاتی۔ اور اور شائع ہوتی جاتی تھیں۔ اس خصوص سے تریاق القلوب بھی باہر نہ تھی۔ چنانچہ ۹؍ ستمبر ۱۸۹۹ء کے الحکم میں اس کے متعلق اطلاع شائع کر دی گئی کہ اشاعت پر اطلاع دی جائے گی۔ کتاب مذکورہ ۱۸۹۹ء میں ختم ہو گئی تھی۔ یعنی جس قدر مسودہ حضرت نے دیا تھا وہ لکھا جا کر طبع ہو گیا۔ مگر پھر اور کتابوں کے سلسلہ نے اس سلسلہ کو معرض التواء میں ڈال دیا۔ یہاں تک کہ ۱۹۰۱ء میں مطبع کا انتظام بوجوہات حکیم فضل الدین مرحوم کو دیا گیا۔ جس کا باضابطہ اعلان الحکم میں بھی ہوا۔ چونکہ بہت سی ناتمام کتابیں پڑی ہوئی تھیں۔ حکیم صاحب نے اقتصادی اور مالی حالات مطبع کے لحاظ سے حضرت اقدسؑ کو توجہ دلائی کہ ان کتب کو شائع کر دیا جاوے۔ اس لئے حضرت صاحب نے تریاق القلوب کا ایک صفحہ اور لگا کر اور ٹائٹل پیج چھپوا کر شائع کر دیا۔ یہ ۱۹۰۲ء کا واقعہ ہے۔ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو

شائع ہوئی۔ اور الحکم میں اس کا اعلان ہو گیا۔ اس درمیانی عرصہ میں صرف ۱۸۹۹ء پر ریویو کرتے ہوئے جنوری ۱۹۰۰ء میں تریاق القلوب کی تالیف و طبع کا میں نے ذکر کیا۔ اور پھر جیسا کہ ستمبر ۱۸۹۹ء میں وعدہ کیا گیا تھا اس کے شائع ہونے پر اکتوبر ۱۹۰۲ء میں اعلان کیا۔

یہ واقعات صحیح ہیں اور تاریخی ثبوت اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور میں علم و یقین میں ان کو صحیح سمجھتا ہوں کہ ۱۸۹۹ء کے بعد بجز آخری ورق تریاق القلوب کے اور ٹائٹل کے حضرت اقدس نے اس کے متعلق کچھ نہیں لکھا۔ الراقم خاکسار یعقوب علی۔ ایڈیٹر الحکم۔ قادیان

اوپر کے زبردست دلائل سے اور پھر ان شہادتوں سے یقینی طور پر ثابت ہے کہ تریاق القلوب ۱۹۰۰ء کے ابتداء کی لکھی ہوئی کتاب ہے۔ اور ۱۹۰۲ء میں صرف شائع ہوئی۔ اور اشتہار غلطی کا ازالہ اور ریویو اور کشتی نوح کے مضامین باوجود پہلی تاریخوں کی اشاعت کے درحقیقت تریاق القلوب سے بعد کے ہیں اور اس کے ناسخ ہیں۔ اور اگر کوئی شخص باوجود ان ظاہر ثبوتوں کے اپنی ضد کو ترک نہ کرے۔ تو اس کا معاملہ خدا سے ہے ایسا شخص غالباً کہہ دے گا کہ نزول المسیح اور براہین حصہ پنجم حضرت کی سب سے آخری کتابیں ہیں کیونکہ یہ ۱۹۰۸ء میں شائع ہوئی ہیں۔ حالانکہ ایک تو ۱۹۰۲ء سے لکھی جانی شروع ہوئی۔ اور پھر ۱۹۰۳ء میں بند ہو گئی۔ اور بغیر کسی حرف کی زیادتی کے حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے بعد ۱۹۰۸ء میں شائع کی گئی۔ اور دوسری کتاب ۱۹۰۵ء میں شروع ہوئی۔ اور اسی سن میں بند ہو کر پڑی رہی۔ اور آپ کی وفات کے بعد شائع ہوئی۔ پس ان دلائل اور ان نظائر کے موجود ہوتے ہوئے جو شخص اپنی ضد پر قائم رہے۔ اور باوجود مسیح موعود کی حقیقتہ الوحی والی اپنی تحریر کے پھر بھی تریاق القلوب کو بعد کی تصنیف قرار دے تو اس کا معاملہ خدا تعالیٰ سے ہے۔ اس کے سمجھانے کی طاقت کسی انسان میں نہیں۔

آخر میں ہم ایک اور دلیل بھی اس جگہ دیتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تریاق القلوب دافع البلاء سے پہلے کی ہے۔ وہو ہٰذا۔

حضرت اقدس حقیقتہ الوحی میں فرماتے ہیں "اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔۔۔۔ جب تک مجھے اس سے علم نہ ہوا۔ میں وہی کہتا رہا جو اوائل میں مَیں نے کہا۔ اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس کے مخالف کہا۔ میں انسان ہوں مجھے عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں۔ بات یہی ہے جو شخص چاہے قبول کرے یا نہ کرے"۔ (روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۳-۱۵۴)

اس عبارت میں حضرت اقدس نے مسئلہ فضیلت کے متعلق اپنے عقیدہ کے زمانہ کو دو حصوں میں تقسیم فرمایا ہے۔ جن میں سے پہلے زمانہ کی آخری حد کو لفظ ”جب تک“ ظاہر کرتا ہے۔ اور دوسرے زمانہ کی ابتدائی حد کو لفظ ”جب“۔ ان دونوں زمانوں کے درمیان کوئی تیسرا زمانہ نہیں ہے۔ پہلے زمانہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ میں نے اس میں کبھی اپنے آپ کو مسیح سے افضل یا اس کے برابر شان کا ظاہر نہیں کیا۔ اور اس تمام زمانہ میں ہمیشہ یہی کہتا رہا کہ مسیح مجھ سے افضل ہے۔ اور دوسرے زمانہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ میں نے اس میں کبھی مسیح کو اپنے سے افضل یا برابر نہیں کہا بلکہ اس زمانہ میں ہمیشہ اپنے آپ کو افضل بتایا۔

اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حِکَايَةً عَنْ عِيْسٰی فرماتا ہے۔ وَکُنۡتُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا مَّا دُمۡتُ فِیۡہِمۡ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ(المائدہ: ۱۱۸) اس آیت میں مسیح کا یہ بیان مذکور ہے کہ مجھ پر دو زمانے آئے جن میں سے پہلے زمانہ کی آخری حد اور دوسرے زمانہ کی ابتدائی حد میری وفات ہے اور ان دو زمانوں میں سے پہلے زمانہ میں کبھی میں لوگوں سے الگ نہیں ہوا۔ ہمیشہ لوگوں کے درمیان موجود رہا۔ اور دوسرے زمانہ میں یعنی توفی کے بعد میں کبھی لوگوں میں نہیں آیا اور ہمیشہ ان سے الگ رہا۔ اور اس عرصہ میں میں ان میں کبھی نہیں رہا۔

غرض مذکورہ بالا حوالہ سے ثابت ہوا کہ جہاں کہیں بھی حضرت اقدس نے مسیح کو اپنے آپ سے افضل فرمایا ہے اس سے پہلے کبھی اپنے آپ کو اس سے افضل نہیں بتایا۔ اور جہاں کہیں بھی حضرت اقدس نے اپنے آپ کو مسیح سے افضل بتایا ہے اس کے بعد کبھی بھی مسیح کو اپنے آپ سے افضل نہیں بتایا۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ تریاق القلوب میں حضرت اقدس نے صاف لفظوں میں مسیح کو اپنے آپ سے افضل قرار دیا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ حضرت اقدس کی تریاق القلوب سے پہلے کی کوئی ایسی تقریر یا تحریر نہیں ہو سکتی جس میں حضور نے اپنے آپ کو مسیح سے افضل قرار دیا ہو۔ پس دافع البلاء اور کشتی نوح اس سے بعد کی ہیں۔ اسی طرح دافع البلاء اور کشتی نوح میں فرمایا ہے کہ میں مسیح سے افضل ہوں پس ان سے بعد کی کوئی تحریر یا تقریر حضرت اقدس کی ایسی نہیں ہو سکتی۔ جس میں حضور نے مسیح کو اپنے آپ سے افضل بتایا ہو۔ پس ثابت ہوا کہ تریاق القلوب ان دونوں سے پہلے کی ہے نہ کہ بعد کی ”بات یہی ہے جو شخص چاہے قبول کرے یا نہ کرے“

اس جگہ میں ایک اور شبہ کا بھی ازالہ کردینا ضروری خیال کرتا ہوں جو بعض شخصوں کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں ریویو اور تریاق القلوب میں تناقض کے پائے جانے کا اعتراض کرنے والے کو جو جواب دیا ہے۔ اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی تئیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نے جس اختلاف کو تسلیم کیا ہے وہ تریاق القلوب کا نہیں کیونکہ تریاق القلوب کو شائع ہوئے تو ابھی چار سال ہوئے تھے اور حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ میں تئیس سال کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس عقیدہ کو حضرت رد فرماتے ہیں وہ تئیس سال پہلے کا ہے نہ کہ تریاق القلوب کا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم روز روشن کی طرح ثابت کر چکے ہیں کہ تریاق القلوب میں وہ عقیدہ درج ہے جس کا رد حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے۔ تریاق القلوب اب تک موجود ہے اسے کھول کر دیکھ لو کیا اس میں مسیح کی فضیلت کو تسلیم کیا ہے یا نہیں۔ اگر اس کتاب میں حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے آپ کو حضرت مسیح ناصریؑ سے کلی طور پر افضل قرار دیا ہے تو پھر بیشک ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ حضرت صاحب نے جس خیال کو رد فرمایا ہے وہ تئیس سال پہلے کا ہے۔ لیکن جبکہ صریح الفاظ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تریاق القلوب میں مسیح کی فضیلت کا اقرار کرتے ہیں تو پھر تریاق القلوب کے حوالہ کے منسوخ ہونے میں اور اس کے بعد نیا خیال بدلنے میں کیا شک ہو سکتا ہے۔ ضرور ہے کہ تریاق القلوب کے بعد حضرت مسیح موعودؑ نے اپنا عقیدہ بدلا ہو۔ پس تئیس سال والے فقرہ کے کوئی ایسے معنی کرنے چاہئیں ۔ جن سے حضرت مسیح موعودؑ پر کوئی اعتراض نہ آتا ہو۔ کیونکہ اگر اوپر والے معنی کئے جائیں تو حضرت مسیح موعودؑ پر دو اعتراض پڑتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ آپ سے سوال تو تریاق القلوب والے زمانے کا کیا جاتا ہے۔ اور آپ جواب براہین کے زمانہ کے متعلق دیتے ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ آپ نے نعوذ باللہ من ذالک خلاف بیانی کی کہ میں تئیس سال ہوئے اپنے آپ سے مسیح کو افضل خیال کرتا تھا۔ لیکن در حقیقت آپ تریاق القلوب میں بھی وہی خیال ظاہر فرما چکے تھے۔ سوم یہ کہ گویا آپ نے خدا تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی کہ اللہ تعالیٰ نے تو تئیس سال پہلے آپ کو حکم دیا تھا کہ تم اپنے آپ کو مسیح سے افضل قرار دو۔ آپ نے منشاء الٰہی کو سمجھ بھی لیا۔ لیکن باوجود اس کے آپ نے تریاق القلوب میں علم الٰہی کے خلاف عقیدہ ظاہر فرمایا۔ اے دوستو! ان بحثوں میں اپنے منشاء اور مدعا کو پورا کرنے کے لئے ایسے حد سے نہ نکل جاؤ کہ خود حضرت مسیح موعود کو نشانہ

اعتراض بنالو۔ آخر وہ شخص جس طرح ہمارا سردار ہے تمہارا بھی سردار ہے۔ اس کے کلام کی وہ تفسیر کیوں کرتے ہو؟ جس سے اس پر اعتراضوں کی بوچھاڑ شروع ہو جائے۔ اور اس کے دعویٰ اور اس کے تقویٰ میں شبہات پیدا ہو جائیں۔ تم اپنے بچاؤ کے لئے مسیح موعود کی تحریروں کو بدلتے ہو۔ اور اسے دنیا کی نظر میں ادنیٰ ثابت کرتے ہو۔ خوب یاد رکھو کہ عزت وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے نہ وہ کہ لوگ دیں۔ دنیا کیا دے سکتی ہے کچھ بھی نہیں۔ جو کچھ خدا دے سکتا ہے اور کوئی نہیں دے سکتا۔ دلوں پر اللہ تعالیٰ کی ہی حکومت ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ اس کی حکومت دلوں پر قائم کرتا ہے۔ اور خود سعیدوں کے دل میں اس کی محبت پیدا کر دیتا ہے۔ پس اس محبت کی قدر کرو جو سعید روحوں سے حاصل کر سکتے ہو۔ خواہ پھٹے ہوئے کپڑوں اور میلے چیتھڑوں کے اندر ہی وہ ارواح کیوں مخفی نہ ہوں۔ ایک صادق دوست ہزار ہا منافق واہ واہ کرنے والوں سے بہتر ہوتا ہے کیونکہ یہ خوشی اور راحت میں تعریف کرتے ہیں اور وہ رنج و غم میں جان دینے سے دریغ نہیں کرتا پس مسیح موعود کے کلام کے وہ معنی نہ کرو۔ جن پر دشمن کو ہنسی کا موقع ملے۔ اور توبہ کرو کہ توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے۔ سنو حضرت مسیح موعود کا یہ کلام صاف ہے آپ کو براہین کے زمانہ سے جو وحی ہو رہی تھی اس میں آپ کو ایک دفعہ بھی مسیح سے کم نہیں کہا گیا بلکہ افضل ہی بتایا گیا تھا لیکن آپ چونکہ اپنے آپ کو غیر نبی سمجھتے تھے اس کے معنی اور کرتے رہے۔ حتیٰ کہ تریاق القلوب کے وقت بھی آپ کے یہی خیالات تھے۔ لیکن جب بعد کی وحیوں نے آپ کی توجہ اس طرف پھیری کہ ان وحیوں کا یہی مطلب تھا کہ آپ مسیح سے افضل اور نبی ہیں تو آپ نے تئیس سال کی وحی کو قبول کیا۔ پس یہ دونوں باتیں درست ہیں۔ یہ بھی کہ آپ کی تئیس سال کی وحی میں مسیح پر افضلیت کا اظہار تھا۔ اور یہ بھی کہ آپ تریاق القلوب کے وقت تک حضرت مسیح کو افضل قرار دیتے تھے۔ اور بعد میں اس عقیدہ میں تبدیلی کی۔ پہلی بات اس لئے درست ہے کہ واقعہ میں ہمیشہ سے وحی الٰہی میں آپ کو صاف نبی کا خطاب دیا گیا تھا۔ اور دوسری اس لئے کہ آپ تریاق القلوب کے وقت تک اس وحی کی تاویل کرتے رہے۔

جناب مولوی محمد علی صاحب کے بعض اعتراضوں کا جواب

مولوی محمد علی صاحب نے اپنے رسالہ میں اس خیال کے خلاف کہ تریاق القلوب کے کسی

عقیدہ کو حضرت مسیح موعودؑ نے بدل دیا۔ چند اعتراض بھی کئے ہیں۔ جن کو میں ذیل میں درج کر کے ان کے جواب بھی لکھ دیتا ہوں:

۱۔ صفحہ ۶۷ پر میری ایک عبارت نقل کر کے جس میں میں نے لکھا ہے ”حضرت مسیح موعودؑ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تریاق القلوب میں آپ نے اپنا عقیدہ نبوت کے متعلق لکھا ہے۔ بعد کی وحی نے اس سے آپ کو بدلا دیا“ آپ تین نتیجے نکالتے ہیں۔

(۱) میاں صاحب کے اعتقاد میں حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۲ء تک ناقص اور جزوی نبوت تھی۔

(۲) میاں صاحب کو علم ہے کہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۲ء کے بعد کوئی وحی حضرت مسیح موعودؑ پر نازل ہوئی۔ جس میں آپ کو یہ بتایا گیا کہ آپ اب جزوی نبی نہیں رہے۔

(۳) ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۲ء تک اور اس سے پہلے کی کسی کتاب کی کوئی عبارت مسئلہ نبوت کے متعلق حجت نہیں پکڑی جا سکتی۔ بلکہ اس مسئلہ میں صرف ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۲ء کے بعد کی تحریریں قابل سند ہیں۔

نتیجہ نمبر ۱ کا جواب

تو یہ ہے کہ یہ نتیجہ آپ نے اپنے پاس سے ہی نکال لیا ہے۔ میرے الفاظ سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا۔ میں تو لکھتا ہوں کہ بعد کی وحی نے آپ کو اس سے بدلا دیا۔ اور آپ میری طرف یہ قول کہ پہلے اور قسم کی نبوت تھی۔ اور بعد میں اور قسم کی نبوت ہوئی۔ منسوب کرتے ہیں۔ حالانکہ دونوں قولوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ میں نے تو یہ لکھا ہے کہ پہلے حضرت صاحب اپنی نسبت اور خیال رکھتے تھے۔ بعد میں آپ کو یہ عقیدہ بدلنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی نے اس کے خلاف ظاہر کیا۔ پس آپ جیسے نبی پہلے تھے ویسے ہی بعد میں رہے۔ نبوت میں کوئی تغیر نہیں آیا۔ ہاں آپ کے اپنے خیال میں تبدیلی پیدا ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے جن الفاظ سے آپ کو پہلے یاد فرمایا تھا۔ انہی الفاظ میں بعد میں یاد فرمایا۔ پہلے تو آپ عام عقیدہ کے مطابق اس کی اور تاویل کرتے رہے۔۔ لیکن بعد میں اس تاویل میں تبدیلی کرنی پڑی۔

کس قدر تعجب اور افسوس کی بات ہے کہ باوجود اس کے کہ میں نے اپنے رسالہ میں ح TOOL: حقیقت الوحی کا ایک لمبا حوالہ نقل کر دیا تھا۔ اور اس سے صاف الفاظ میں نتیجہ نکالا تھا۔ پھر بھی آپ اس غلط فہمی کا شکار رہے۔ مکرم مولوی صاحب! حضرت مسیح موعودؑ نے تو معترض کے جواب میں صاف فرمایا ہے کہ یہ اختلاف ویسا ہی ہے جیسا کہ میں نے براہین احمدیہ میں لکھا تھا کہ مسیح زندہ ہے۔ حالانکہ مجھے

اس وقت الہام ہو چکا تھا کہ تو عیسیٰ ہے۔ سو میں پہلے ان الہاموں کی اور تاویل کرتا رہا۔ لیکن بعد میں اس تاویل کی غلطی معلوم ہوئی۔ اور اس تاویل کو ترک کر کے صاف اقرار کرنا پڑا کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے ہیں۔ اب آپ فرمائیں کہ کیا آپ کے خیال میں اس عبارت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم براہین احمدیہ کے زمانہ تک تو زندہ تھے۔ لیکن بعد میں فتح اسلام کے وقت فوت ہو گئے نہیں آپ ایسا نہیں کہہ سکتے۔ حضرت مسیح موعودؑ کی عبارت کا مطلب صاف ہے کہ گو ایسے الہامات تو پہلے بھی موجود تھے لیکن باوجود ان الہامات کے پھر بھی میں عام عقیدہ کے مطابق لکھتا رہا۔ نہ یہ کہ پہلے واقعہ اور تھا اور بعد میں اور بدل گیا۔ حضرت مسیح تو براہین کے وقت بھی اسی طرح فوت شدہ تھے۔ جیسے کہ فتح اسلام یا ازالہ اوہام کے وقت۔ لیکن حضرت صاحب پہلے عام عقیدہ کی پیروی کر کے اپنے الہامات کی اور تاویل کرتے رہے لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ کی بار بار کی وحی نے آپ پر ثابت کیا کہ در حقیقت عام عقیدہ غلط تھا۔ اور یہ کہ درحقیقت آپ ہی مسیح موعود تھے۔ اسی طرح براہین احمدیہ کے زمانہ سے آپ کو نبی کے لفظ سے پکارا جاتا تھا۔ لیکن چونکہ عام عقیدہ اس کے خلاف تھا۔ آپ اس کے خلاف عقیدہ رکھتے رہے اور اگر کوئی لفظ آپ کی فضیلت کا آتا بھی تو آپ اسے جزئی فضیلت قرار دیتے کیونکہ غیر نبی کو نبی پر تمام شان میں فضیلت نہیں ہو سکتی اور تریاق القلوب میں بھی آپ نے یہی عقیدہ بیان فرمایا۔ لیکن ۱۹۰۰ء کے بعد آپ کو یہ خیال بدلنا پڑا۔ کیونکہ جیسا کہ آپ نے خود لکھا ہے۔ بار بار کے الہام سے آپ نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ نے میرا نام نبی رکھا ہے۔

تعجب ہے ایسی صاف عبارت اور صاف حوالہ کے ہوتے ہوئے آپ نے یہ نتیجہ نکالا کہ میرے خیال میں پہلے مسیح موعود جزوی نبی تھے بعد میں نبی ہوئے۔ میں نے تو یہ لکھا ہے اور حضرت مسیح موعودؑ نے براہین میں حیات مسیح کے عقیدہ کی مثال دے کر خوب واضح کر دیا ہے کہ آپ کا درجہ نہیں بدلا۔ اور واقعات میں کچھ تغیر نہیں آیا۔ بلکہ آپ کی رائے میں تغیر ہوا۔ اور بعد میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اور علم دیا گیا۔ اب اگر ایسی صاف باتوں کے بھی ایسے الٹے معنی ہونے شروع ہو گئے تو مجھے خوف ہے کہ کل کو کوئی یہ نہ لکھ دے کہ حضرت مسیح موعودؑ کا عقیدہ تھا کہ براہین کے وقت تو مسیح زندہ تھے۔ بعد میں فوت ہوئے۔ ایسی باتوں کا جواب میرے پاس تو کوئی نہیں۔ اور جب ایسے اہم مسائل میں بغیر کافی غور کے جواب دینے کی کوشش کی جائے۔ اور یہ بھی نہ غور کیا جائے کہ کہنے والا کہتا کیا ہے تو فیصلہ کی صورت کیا ہو سکتی ہے۔ جو لوگ اپنے آپ کو ذمہ دار اور اہل الرائے خیال کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو تو ضرور بات کو سمجھ کر اور پھر اس پر غور کر کے اگر غلط ہو تو اس کا

جواب دینا چاہئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ میرے رسالہ ”القول الفصل“ کو اس نیت سے نہیں پڑھا گیا کہ اس میں اگر کوئی صداقت ہے تو اسے قبول کیا جاوے بلکہ صرف اس نیت سے دیکھا گیا ہے کہ اس کا جواب لکھا جائے۔ اور جب انسان ایک چیز کو پہلے ہی غلط سمجھ لیتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اسے اس کا پورا فہم حاصل نہیں ہوتا۔ اور ٹھوکر کھاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ کو بھی ایسی غلطی لگی۔ آپ نے پہلے ہی ”القول الفصل“ کی سب باتیں غلط تصور کرلیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو اس پر پورے غور کا موقع نہ ملا۔ مگر افسوس کہ آپ نے اس رسالہ کے بہت سے مطالب کو غلط سمجھا۔ اور بہت جلد ان نتائج پر پہنچ گئے۔ جن پر پہنچنا درست نہ تھا۔ میں آپ کی خدمت میں عرض کر دیتا ہوں کہ نہ یہ میرا عقیدہ ہے۔ اور نہ حضرت مسیح موعودؑ نے ایسا لکھا ہے کہ آپ کو پہلے اللہ تعالیٰ نے جزوی نبی قرار دیا۔ بعد میں نبی بلکہ حضرت صاحب تو اسی جگہ لکھتے ہیں کہ میں تیس برس کی وحی کا کیونکر انکار کر سکتا ہوں جس سے ثابت ہے کہ وحی الٰہی ہمیشہ آپ کو نبی ظاہر کرتی رہی ہے۔ علاوہ ازیں حضرت مسیح موعودؑ نے اس اختلاف کو حضرت مسیح کی حیات و وفات کے اختلاف سے تشبیہ دی ہے۔ اور براہین میں جب آپ نے حیات مسیح کا اعلان کیا تھا تو اس کی یہ وجہ نہ تھی کہ اس وقت تک مسیح زندہ تھا بلکہ یہ وجہ تھی کہ گو ایسے الہام ہو چکے تھے۔ جن سے اس کی وفات ثابت ہوتی تھی۔ لیکن آپ نے عام عقیدہ کو ترک کرنا پسند نہ کیا جب تک بار بار کے الہامات سے آپ کو اس طرف متوجہ نہ کیا گیا۔ اسی طرح اور بالکل اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ کو جن الہامات میں نبی کہا جاتا تھا۔ آپ ان کو محدثیت اور مجددیت کی طرف منتقل کر دیتے تھے۔ اور انبیاء کی احتیاط سے کام لے کر آپ نے اس وقت تک اپنے آپ کو کسی نبی سے افضل نہیں کہا۔ جب تک بار بار کی وحی نے آپ کو عام عقیدہ سے ہٹانہ دیا۔ جیسا کہ خود حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں۔ ”اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے۔ اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے۔ اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اسکو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا ۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا۔ اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی“

(حقیقۃ الوحی — روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۳-۱۵۴)

پس خدا تعالیٰ نے کسی پہلے حکم کو بدلا نہیں اور آپ جزوی نبی سے پورے نبی نہیں بنائے گئے۔ بلکہ بار بار کی وحی میں چونکہ آپ کو نبی کہہ کر پکارا گیا اس لئے آپ کو علم ہو گیا کہ میں نبی ہوں (گو امتی بھی) اور پھر اس لئے وہ الہامات جو مسیح پر میری فضیلت کا اظہار کرتے تھے۔ ان میں جزئی فضیلت مراد نہ تھی بلکہ اس کی تمام شان سے مجھے افضل قرار دیا گیا تھا۔ پس تریاق القلوب کی تحریر کے بعد آپ کے اجتہاد اور عقیدہ کو بدلا گیا نہ کہ امر واقعہ اور آپ کے درجہ کو۔ اور جس دن سے آپ مسیح موعود ہوئے۔ اسی دن سے آپ نبی تھے اور خدا تعالیٰ نے آپ کو نبی قرار دیا تھا لیکن جیسا کہ آپ خود فرماتے ہیں حیات مسیح کے مسئلہ کی طرح اس لفظ کی تاویل کرتے رہے حتیٰ کہ متواتر وحی سے آپ کو پہلا عقیدہ بدلنا پڑا۔

نتیجہ دوم کی تردید بھی نتیجہ اول کی تردید سے خود بخود ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اس میں آپ فرماتے ہیں کہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ میاں صاحب کو کوئی ایسی وحی معلوم ہے کہ اب آپ جزوی نبی نہیں رہے۔ اور میں یہ بتا آیا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے کسی پہلے حکم کو منسوخ نہیں کیا۔ بلکہ حضرت مسیح موعودؑ کا درجہ نبوت شروع سے ایک ہی تھا۔ پس ایسی وحی کی کوئی ضرورت نہیں۔ خدا تعالیٰ نے کب کسی الہام میں حضرت صاحب سے فرمایا ہے کہ آپ جزوی نبی ہیں۔ اگر میرا فرض ہے کہ میں یہ دکھاؤں کہ حضرت مسیح موعود جزوی نبی سے نبی کب بنائے گئے۔ اور یہ بھی خود حضرت مسیح موعود کی اس تحریر کے موجود ہوتے ہوئے کہ بعد میں اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی نے آپ کو اس عقیدہ سے جو پہلے تھے ہٹا دیا تو میں سوال کرتا ہوں اور میرا حق ہے کہ میں آپ سے سوال کروں کہ آپ وہ وحی شائع کریں جس میں حضرت صاحب کو خدا تعالیٰ نے بتایا ہو کہ آپ جزوی نبی ہیں۔ اگر آپ اس کے لئے مختلف تاویلات کی طرف جھک جائیں تو سنیں کہ مؤمن کی شان سے بعید ہے کہ وہ دوسروں سے ایسا مطالبہ کرے جسے وہ خود پورا نہیں کر سکتا۔

پہلے آپ حضرت مسیح موعودؑ کا وہ الہام پیش کریں جس میں آپ کو مثلاً یوں کہا گیا ہو کہ دنیا میں ایک جزوی نبی آیا۔ پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا الخ۔ پہلے آپ ایسی وحی پیش کریں پھر ہمارا فرض ہو گا کہ اس کی منسوخ کرنے والی وحی آپ کے سامنے پیش کریں۔ جبکہ آپ اپنے دعوے کو اس معیار پر ثابت نہیں کر سکتے جسے آپ ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں تو ہم سے یہ مطالبہ کیوں کرتے ہیں اور ہم سے وہ وحی کیوں پوچھتے ہیں جس میں جزوی نبوت کو منسوخ کیا گیا۔ جزوی نبوت کے دینے والا الہام ہی جب کوئی نہیں تو اس کے منسوخ کرنے کا الہام کیوں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے تو ابتداء سے آپ کو نبی اور رسول کا خطاب دیا نہ کہ جزوی نبی اور جزوی رسول کا۔ جب خدا تعالیٰ نے ابتداء سے ایسا لفظ ہی کوئی استعمال نہیں فرمایا۔ تو پھر اس بات کو منسوخ کرنے کے کیا معنی ہوئے جو پہلے کہی ہی نہ تھی۔

اس جگہ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اگر حضرت مسیح موعود کو جزوی نبی اور جزوی رسول کہہ کر نہیں پکارا۔ بلکہ رسول اور نبی کہا ہے تو یہ بات کہاں سے نکل آئی کہ آپ حقیقی نبی یعنی شریعت لانے والے نبی نہیں اور یہ بات کہاں سے نکلی کہ آپ مستقل نبی یعنی بلا واسطہ نبوت پانے والے نہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ نبوت کے لئے ہرگز یہ شرط نہیں کہ اس میں شریعت ساتھ ہو یا یہ کہ بلا واسطہ حاصل ہو اس لئے اللہ تعالیٰ کے کلام میں نبی کے ساتھ حقیقی اور مستقل کا لفظ نہیں ہوتا۔ اور تم یہ لفظ نہ قرآن کریم میں کسی نبی کی نبوت کے ساتھ دیکھو گے اور نہ دوسرے انبیاء کی وحیوں میں اور نہ احادیث میں۔ کیونکہ یہ ایسی خصوصیات ہیں جن کا علم واقعات سے ہوتا ہے اگر ایک شخص کو خدا تعالیٰ نبی کہہ کر پکارتا ہے۔ رسول کہہ کر پکارتا ہے پھر اسے مامور فرماتا ہے۔ اصلاح مفاسد کا کام اس سے لیتا ہے تو وہ نبی ہو جاتا ہے۔ اب اگر اس پر ایسی وحی نازل ہو جائے جس میں احکام شریعت ہوں تو خود پتہ لگ جائے گا کہ یہ صاحب شریعت نبی ہے اور ایسے نبی کا نام حضرت مسیح موعود نے حقیقی نبی رکھا ہے۔ اسی طرح اگر اس نبی کو بلا واسطہ نبوت ملی ہے اور کسی کی اتباع سے نہیں ملی تو صاف پتہ لگ جائے گا کہ یہ نبی مستقل ہے۔ اور اگر نہ شریعت ملے اور نہ بلا اتباع اَحَدٍ مِّنَ الْاَنْبِيَاءِ اسے نبوت ملے تو پتہ لگے گا کہ اس نبی کے لفظ سے نبی امتی مراد ہے چنانچہ حضرت صاحب کے الہامات میں اشارۃً ان دونوں باتوں کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے۔ آپ کے صاحب شریعت نبی نہ ہونے کے متعلق علاوہ اس بین واقعہ کے کہ آپ کوئی شریعت نہیں لائے یہ الہام دلالت کرتا ہے کہ اَلْخَيْرُ کُلُّهٗ فِي الْقُرْاٰنِ پس جبکہ سب خیر قرآن کریم میں ہے تو ثابت ہوا کہ اس وقت کوئی نئی شریعت نہیں ہوگی بلکہ قرآن کریم ہی پر عمل کرنا ہر ایک کا فرض ہو گا اسی طرح حضرت مسیح موعود کا یہ الہام کہ کُلُّ بَرَکَةٍ مِّنْ مُّحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَ تَعَلَّمَ یعنی سب کی سب برکات آنحضرت ﷺ سے ہیں پس بابرکت ہے استاد بھی اور شاگرد بھی۔ اس الہام میں اپنے اصل مضمون کی طرف اشارہ کے علاوہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کو جو کچھ ملا ہے آنحضرت ﷺ کی شاگردی سے ملا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بلا واسطہ نبوت پانے والے نہ تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو آنحضرت ﷺ کا شاگرد قرار دیا ہے اور یہ فرمایا ہے کہ آپ نے جو کچھ سیکھا۔ انہی سے سیکھا۔ پس آپ کی نبوت بالواسطہ نبوت تھی جس کے پانے والے کا نام حضرت صاحب نے امتی نبی رکھا

ہے اور جس کے مقابل میں وہ انبیاء ہوتے ہیں جو بلا واسطہ نبوت پاتے ہیں اور ان کا نام مسیح موعودؑ نے مستقل نبی رکھا ہے۔ اور آپ ان میں سے نہ تھے بلکہ آپؐ کی نبوت اتباعِ نبی کریم ﷺ سے تھی۔

نکتہ۔

میں نے القول الفصل میں لکھا تھا کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے کوئی امتی نبی نہیں آ سکتا تھا اس لئے کہ آپ سے پہلے جس قدر انبیاء گزرے ہیں ان میں وہ قوتِ قدسیہ نہ تھی جس سے وہ کسی شخص کو نبوت کے درجہ تک پہنچا سکتے اور صرف ہمارے آنحضرت ﷺ ہی ایک ایسے انسانِ کامل گزرے ہیں جو نہ صرف کامل تھے بلکہ مکمل تھے یعنی دوسروں کو کامل بنا سکتے تھے اور چونکہ اب کوئی ضرورت نہ تھی کہ افاضۂ نبوت براہِ راست ہوتا۔ اس لئے آئندہ کے لئے صرف امتی نبی آ سکتا ہے۔ پس امتی نبی کے یہ معنی نہیں کہ وہ پہلے سب انبیاء سے گھٹیا ہو بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ پہلے بہت سے انبیاء سے یا آنحضرت ﷺ کے سوا باقی سب انبیاء سے افضل ہو کیونکہ آنحضرت ﷺ کی تربیت کے ماتحت جو شخص پلے اور آپؐ کے کمالات کو حاصل کرے وہ جس قدر بلند درجہ بھی حاصل کرے۔ قابلِ تعجب نہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ اس شان کو پہنچے ہیں کہ آپؐ کی شان نبیوں کی نظروں سے بھی پوشیدہ ہے۔ اور آپؐ کے درجہ کو سمجھنا ہر ایک انسان کا کام نہیں۔ پس آپؐ کی تربیت کے ماتحت روحانیت میں ترقی حاصل کرنے والا جس درجہ کو بھی پالے۔ قابلِ تعجب نہیں کیونکہ بڑے استادوں کے شاگرد بڑے ہی ہوا کرتے ہیں اور بڑے بادشاہوں کے وزیر شانِ بلند ہی رکھتے ہیں جیسا کہ خود حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں ”ہمارا نبیؐ اس درجہ کا نبیؐ ہے کہ اس امت کا ایک فرد نبی ہو سکتا ہے۔ اور عیسیٰ کہلا سکتا ہے۔ حالانکہ وہ امتی ہے“ (براہین حصہ پنجم صفحہ ۱۸۴) اسی طرح فرماتے ہیں کہ ”مثیلِ موسیٰؑ موسیٰؑ سے بڑھ کر اور مثیلِ عیسیٰؑ عیسیٰؑ سے بڑھ کر“۔ ان دونوں حوالوں سے ثابت ہے کہ امتِ محمدیہ میں سے نبی ہونا آنحضرت ﷺ کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ اور یہ کہ چونکہ آنحضرت ﷺ موسیٰؑ سے بڑے تھے۔ آپ کا مسیح پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بڑا ہونا چاہئے تھا۔

مذکورہ بالا الہام بھی میرے اس خیال کی تائید کرتا ہے۔ اور ایک نہایت ہی لطیف پیرایہ میں اس میں یہ سب مضمون بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ كُلُّ بَرَكَةٍ مِّنْ مُّحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ پہلے حصہ میں تو آنحضرت ﷺ کے کمالات کا بیان فرمایا ہے کہ کوئی ایسی برکت جو دنیا میں پائی جاتی ہو اور انسان کو حاصل ہو سکتی ہو ایسی نہیں جو آنحضرت ﷺ سے نہ مل سکتی ہو۔ کُلُّ بَرَکَةٍ کے معنی عربی زبان میں یہی ہیں کہ جس قدر برکات ہیں ان میں سے ہر ایک برکت مل سکتی ہے کیونکہ جب لفظ کل کا مضاف کسی نکرہ مفرد کی طرف ہو تو اس سے اس کا ہر فرد مراد ہوتا ہے۔ پس اس الہام کے یہی معنی ہیں کہ جس جس چیز کو برکت اور فضل کہہ سکتے ہیں وہ آنحضرت ﷺ کے فیضان سے مل سکتی ہے خواہ دنیاوی ہو خواہ دینی، خواہ روحانی ہو خواہ جسمانی۔ اللہ تعالیٰ نے کسی برکت کی قید نہیں لگائی اور کسی برکت کا استثناء نہیں کیا۔ پس وہ کل برکات جو انسان پاسکتا ہے انسان کو رسول اللہ ﷺ سے مل سکتی ہیں۔ اور نبوت سے بڑھ کر برکت اور کیا ہوگی پس کس طرح ہو سکتا ہے کہ نبوت آنحضرت ﷺ کی اتباع سے نہ ملے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کُلُّ بَرَکَةٍ مِّنْ مُّحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ ہر ایک برکت آپؐ سے ہے اور آپ کے فیضان سے جاری ہے اور آپ کے ذریعہ سے مل سکتی ہے۔ پس اس الہام میں اشارہ ہے اس طرف کہ آنحضرت ﷺ کا فیض ایسا وسیع ہے۔ اور آپ کا کمال اس درجہ ترقی کر چکا ہے کہ اب ہر ایک برکت آپ سے مل سکتی ہے۔ برکات کے حصول کے لئے کسی اور ذریعہ کی ضرورت نہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی فعل لغو نہیں۔ جبکہ آنحضرت ﷺ کی اتباع سے اور آپ کی فرمانبرداری سے اور آپ کی غلامی سے ایک چیز حاصل ہو سکتی ہے تو پھر اس بات کی کوئی ضرورت نہیں رہتی کہ وہ براہِ راست ملے۔ غرض چونکہ نبوت کا انعام انسان کو آنحضرت ﷺ کے فیض سے حاصل ہو سکتا ہے اور آپ کو وہ قربِ الٰہی حاصل ہے جو آج تک کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ اس لئے براہِ راست موہبت کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے جو رتبہ آپ کو ملا نہ آدم کو نہ نوح کو نہ ابراہیم کو نہ موسیٰ کو نہ عیسیٰ کو (علیہم السلام) کسی کو نہیں ملا۔ اور حضرت آدم کی اولاد میں سے ایک بھی بیٹا ایسا لائق نہیں ہوا جیسے ہمارے آنحضرت ﷺ تھے آپ نے اطاعتِ الٰہی میں وہ حالت پیدا کی جو کوئی نبی نہیں پیدا کر سکا اور دربارِ شہنشاہِ ارض و سماء سے ان انعامات کے مستحق ہوئے جن کا کوئی اور نبی مستحق نہیں ہوا۔ اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں آپ کی نسبت فرماتا ہے کہ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوۡسَیۡنِ اَوۡ اَدۡنٰی(النجم: ۹-۱۰) اور حضرت مسیح موعودؑ کو فرماتا ہے کہ کُلُّ بَرَکَةٍ مِّنْ مُّحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ پس اس الہام سے ثابت ہے کہ یہ درجہ صرف آنحضرت ﷺ کو ہی حاصل ہے کہ آپ کی اطاعت سے انسان انعامِ نبوت حاصل کر سکتا ہے اور آپ کی غلامی کا دم بھرتے ہوئے پھر بھی بہت سے نبیوں سے افضل ہو سکتا ہے اور آپ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کی نسبت کہا جا سکے کہ کُلُّ بَرَکَةٍ مِّنْهُ ہر قسم کی برکت

اس سے ہے اور اس کے ذریعہ سے حاصل ہو سکتی ہے یہ درجہ صرف اور صرف آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے پس یہ الہام بھی اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتا ہے جو میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ اس وقت مستقل نبوت اس لئے بند کر دی گئی ہے کہ اب سب برکتیں انسان آنحضرت ﷺ کی غلامی میں حاصل کر سکتا ہے اور براہِ راست موہبت کی کوئی ضرورت نہیں رہی چنانچہ اس الہام کے ساتھ ایک اور الہام بھی ہے جسے ملا کر اس کے معنی اور بھی صاف ہو جاتے ہیں اور وہ معنی خود حضرت مسیح موعودؑ نے کئے ہیں (حقیقۃ الوحی ـــــــــ؛ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۹ پر) آپ یہ الہام درج کرتے ہیں۔

يُلْقِي الرُّوْحَ عَلٰى مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ، كُلُّ بَرَكَةٍ مِّنْ مُّحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَ تَعَلَّمَ۔ اور خود یوں ترجمہ فرماتے ہیں جس پر اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے اپنی روح ڈالتا ہے یعنی منصبِ نبوت اس کو بخشتا ہے۔ اور یہ تو تمام برکت محمد ﷺ سے ہے پس بہت برکت والا ہے جس نے اس بندہ (یعنی مسیح موعودؑ جیسا کہ انجامِ آتھم اور اربعین میں فرمایا ہے) کو تعلیم دی اور بہت برکتوں والا ہے جس نے تعلیم پائی۔“

اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ خود حضرت مسیح موعودؑ نے بھی بَرَكَةٍ کے معنی نبوت کئے ہیں اور پہلے الہام کو ملا کر اس کے یہ معنی کئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے منصبِ نبوت بخشتا ہے۔ لیکن یہ بخشش اس کی اور موہبت اس کی براہِ راست نہیں ہوتی۔ بلکہ آنحضرت ﷺ کے فیضان کے جاری کرنے سے ہوتی ہے اور وہ نبوت کی برکت آنحضرت ﷺ کے طفیل سے ہوتی ہے اور آپ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔

غرض کہ اس الہام کے پہلے حصہ میں اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا رتبہ ایسا بڑا ہے کہ ہر ایک برکت آپ سے حاصل ہو سکتی ہے براہِ راست موہبت کی ضرورت نہیں خواہ برکت نبوت ہو خواہ کسی اور قسم کی برکت۔ جو انسان آپ کی اطاعت کرے وہ دنیا میں کبھی نامراد اور ناکام نہیں رہ سکتا بلکہ ہمیشہ کامیاب اور بامراد ہو گا اور ایسا درجہ اور کسی پچھلے نبی کو ہرگز نہیں ملا کہ سب برکتیں اسی کے واسطہ سے ملیں بلکہ آپ سے پہلے نبوت موہبت الٰہی سے براہِ راست ملتی تھی نہ بتوسط انبیائے سابقین۔

پھر اس الہام کے دوسرے حصہ میں فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَ تَعَلَّمَ فرما کر اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ یہ دعویٰ ہی نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے طفیل سے ہر ایک قسم کی برکت مل سکتی ہے بلکہ

یہ ایک ثابت شدہ امر ہے چنانچہ اس کی نظیر میں مسیح موعود کو دیکھ لو کہ اس نے آپ کی اطاعت اور غلامی سے ہر ایک قسم کی برکت کو پالیا۔ پس ثابت ہوا کہ استاد بھی برکتوں والا ہے اور شاگرد بھی۔ استاد اس لئے کہ اگر اس میں ہر قسم کی برکات کے افاضہ کی طاقت نہ ہوتی اور اس کا فیضان ایسا وسیع نہ ہوتا تو پھر وہ ایسا شاگرد کیونکر تیار کر سکتا تھا جو ہر قسم کی برکات سے حصہ پانے والا ہو۔ اور شاگرد اس لئے بہت برکت والا ہے کہ ایک تو اس نے اس وقت جبکہ دنیا اس فرد کامل سے جو سب دنیا کی نجات دینے کے لئے آیا تھا خواہ عرب ہوں خواہ عجم خواہ گورے ہوں خواہ کالے خواہ عالم ہوں خواہ جاہل غافل تھی اور اس کی خوبیوں سے بے خبر ہو رہی تھی لوگوں کو اس کی خوبیوں سے آگاہ کیا اور اپنے استاد کا نام پھر دنیا میں روشن کیا اور براہینِ قاطعہ دلائلِ نیرہ حججِ بالغہ اور آیاتِ بینہ سے اس کی عظمت اور جلال کو دنیا سے منوایا اور دوست و دشمن پر روشن کر دیا کہ محمد ﷺ نجات دہندہ عالم ہیں اور قرآن کریم علوم و حِکَم کا ایک لازوال خزانہ ہے اب کوئی ضد و تعصب سے کام لے کر انکار کرے تو اس کا وبال اس کے سر پر ہے پس ایک تو اس لئے شاگرد کو برکت والا قرار دیا۔ اور دوسرے اس لئے بھی کہ دیکھو یہ شاگرد جس نے ایسے عظیم الشان استاد کے کمالات کو اپنے اندر لیا۔ اور اپنے آپ کو اسی کے رنگ میں رنگین کر کے ان علوم و فنون کا وارث ہوا جن سے دنیا ناواقف تھی اور اس درجہ تک پہنچ گیا جس سے نبوت محمدیہ کی شان نہایت چمک کے ساتھ دنیا پر ظاہر ہوئی۔ کیسا باکمال ہے؟۔

اب میں پھر اصلی مضمون کی طرف آتا ہوں اور جناب مولوی صاحب کے دو نتیجوں کے غلط ثابت کرنے کے بعد ان کے تیسرے نتیجہ کی نسبت کچھ بیان کرتا ہوں۔ سو یاد رہے کہ جناب مولوی صاحب نے میری ایک عبارت نقل کر کے جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں تیسرا نتیجہ یہ نکالا ہے کہ ۱۹۰۲ء سے پہلے کی کوئی عبارت مسئلہ نبوت کے متعلق حجت نہیں اور اس پر انہوں نے لکھا ہے کہ دیکھو ریویو جسے ناسخ کہا جاتا ہے پہلے کا ہے اور تریاق القلوب بعد کی کتاب ہے اس لئے یہ بات ہی غلط ہے۔ اس کا جواب میں مفصل لکھ آیا ہوں اور یہ بھی لکھ دیا ہے کہ میں نے جو اپنے رسالہ میں ۱۹۰۲ء تریاق القلوب کی تاریخ لکھی ہے وہ اس کی اشاعت کی تاریخ ہے اور چونکہ اس وقت اس بحث کا چھیڑنا رسالہ کو لمبا کر دیتا تھا۔ اس رسالہ میں بہت سے امور کے جواب دینے تھے اس لئے میں نے تاریخ ۱۹۰۲ء کو تسلیم کر لیا تاکہ اس جگہ بحث نہ چھڑے اور یہ بات ویسی ہی ہے جیسے حضرت صاحب پر تریاق القلوب اور ریویو کے مضامین میں اختلاف کے متعلق جب اعتراض کیا گیا تو آپ نے اختلاف کو تسلیم کیا پھر اس کی وجہ بتائی اور اپنی افضلیت کے مسئلہ کو اصل اور درست قرار دیا لیکن اس جگہ یہ بحث نہیں چھیڑی کہ میں نے کیوں اس مضمون کو ناسخ قرار دیا ہے جو پہلے کا چھپا ہوا ہے اور چونکہ میں جانتا تھا کہ تریاق القلوب درحقیقت پہلے کی کتاب ہے اسی لئے میں نے اپنے رسالہ میں بارہا ایک غلطی کے ازالہ والے اشتہار سے حوالے پیش کئے ہیں جو ۱۹۰۱ء کا ہے کیونکہ میں جانتا تھا کہ درحقیقت یہ اشتہار تریاق القلوب سے بعد کا ہے جیسا کہ میں اوپر ثابت بھی کر آیا ہوں۔

بناؤٹی حوالہ

مجھے اس جگہ ایک بات کے بیان کرنے پر بہت افسوس ہے لیکن میں مجبور ہوں کیونکہ میرا مضمون نامکمل رہ جاتا ہے اگر میں اس پر کچھ نہ لکھوں۔ اور وہ یہ ہے کہ جناب مولوی صاحب نے اپنے رسالہ میں ایک غلط حوالہ دیا ہے اور ایک خطرناک تحریف کی ہے اگر آپ حضرت صاحب کی عبارت کو اپنے الفاظ میں لکھتے اور پھر کوئی خاص بات ترک کر جاتے تو گو وہ بھی ایک حد تک قابل اعتراض تھی لیکن ایک عبارت کو ایسے طور سے نقل کرنا جس سے معلوم ہو کہ وہ حضرت صاحب کے اصل الفاظ میں ہے اور درحقیقت اس کے الفاظ وہ نہ ہوں جو حضرت مسیح موعودؑ کی عبارت کے ہیں ایک ایسی غلطی ہے جس کا نتیجہ نہایت سخت ہو سکتا ہے آپ لکھتے ہیں ”دوسری طرف تریاق القلوب کو دیکھتے ہیں تو اس کی وہ تحریر جس میں لکھا ہے کہ “غیر نبی کو نبی پر فضیلت ہو سکتی ہے جس کے تمام اہل علم اور اہل معرفت قائل ہیں “نشان نمبر ۷۵ کے اندر آئی ہے۔ نشان ” “ہمیشہ حوالہ کے لئے لکھا جاتا ہے لیکن جب ہم دیکھتے ہیں تو یہ عبارت تریاق القلوب میں نہیں بلکہ تریاق القلوب کی عبارت یہ ہے ”یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے اور تمام اہل علم اور معرفت اس فضیلت کے قائل ہیں “ اور جو کچھ جناب مولوی صاحب نے لکھا ہے وہ درست نہیں اور وہ الفاظ نہیں جو حضرت صاحب کے ہیں حالانکہ اس عبارت کو آپ کے رسالہ میں علامت (” “) کے درمیان لکھا گیا ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ اصل عبارت ہے اگر کتاب عربی میں ہوتی اور آپ اس کا ترجمہ فرماتے تب بھی ایک بات تھی کیونکہ کہا جا سکتا تھا کہ یہ ترجمہ ہے ہماری سمجھ میں اسی طرح آیا ہم نے اسی طرح کر دیا لیکن یہ بات بھی نہیں کتاب اردو زبان میں ہے پھر اگر الفاظ بدل جاتے اور مطلب میں فرق نہ آتا تب بھی ایک معقول عذر تھا لیکن مطلب ایسی طرز سے غلط ہو گیا ہے جس کا فائدہ خود ان کو ہی حاصل ہو سکتا ہے جس سے خواہ مخواہ شک پیدا ہوتا ہے کہ جب ایسے رنگ میں لفظ بدل دیئے گئے ہیں جن سے اپنے مطلب کی بات نکل سکے تو کیا ایسا تو نہیں کہ بجائے بے احتیاطی کے جان بوجھ کر ایسا کر دیا گیا ہے لیکن میں ایسا کہنے کی جرأت نہیں کرتا میرا خیال ہے کہ ضرور غلطی سے ہی ایسا ہو گیا ہے چونکہ بعض لوگ اس بات کو نہیں سمجھ سکتے کہ اس تغیر عبارت سے کیا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اس لئے میں یہاں ذرا زیادہ کھول دیتا ہوں تا ہر ایک شخص سمجھ سکے۔

بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے تریاق القلوب میں اپنا یہ مذہب بیان فرمایا ہے کہ غیر نبی کو نبی پر جزئی فضیلت ہو سکتی ہے نہ کہ پورے طور پر۔ چنانچہ آپ اپنی فضیلت کا ذکر فرما کر لکھتے ہیں کہ ”اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گذرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے اور تمام اہلِ علم اور معرفت اس فضیلت کے قائل ہیں“۔ صفحہ ۱۵۷، ۱۵۸ پس اپنی فضیلت کے ذکر کے بعد اس بات کا ازالہ کرنا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ مسیح پر اپنے آپ کو افضل قرار دیا ہے بلکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے ثابت کرتا ہے کہ آپ کا مذہب یہی تھا کہ ایک غیر نبی کو نبی پر فضیلت نہیں ہو سکتی مگر جزئی فضیلت ہو سکتی ہے اور عرفِ عام میں بھی اور قواعدِ زبان میں بھی ایک شخص دوسرے سے افضل تب قرار پاتا ہے جبکہ وہ اکثر باتوں میں یا کل باتوں میں افضل ہو اور ایک بات میں افضل ہونا افضل ثابت نہیں کر سکتا اس لئے حضرت صاحب نے فرمایا کہ یہ خیال نہ کرنا کہ میں نے اپنے نفس کو مسیح پر فضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے حضرت صاحب کے مذکورہ بالا حوالہ سے یہ نتائج نکلتے ہیں کہ:

۱۔ آپ مسیح سے افضل نہیں۔

۲۔ اس بات کا اظہار اس لئے فرمایا کہ تاکہ کوئی اس بات پر تعجب نہ کرے کہ آپ جو نبی نہیں آپ کو ایک نبی پر فضیلت کیونکر مل گئی۔

۳۔ یہ کہ آپ نے جس فضیلت کا اظہار فرمایا ہے اس سے مراد صرف جزئی فضیلت ہے نہ یہ کہ آپ مسیح سے افضل ہیں۔

۴۔ جزئی فضیلت غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔

اس کے بعد حقیقت الوحی میں فرماتے ہیں کہ میں مسیح سے افضل ہوں۔ اور اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ خدائے تعالیٰ نے مجھے بار بار نبی کا خطاب دیا اس لئے میں پہلے عقیدہ پر قائم نہ رہا۔

ان دونوں حوالوں سے یہ معلوم ہوا کہ تریاق القلوب کے وقت آپ اپنے آپ کو مسیح سے اس لئے افضل نہیں جانتے تھے کہ آپ اپنے آپ کو نبی خیال نہیں کرتے تھے اور نبی سے غیر نبی

افضل نہیں ہو سکتا اس لئے اپنی فضیلت کو جزئی فضیلت قرار دیتے تھے نہ تمام شان میں۔ اور حقیقۃ الوحی میں اپنے افضل ہونے کی یہ وجہ بتاتے ہیں کہ مجھے بار بار نبی کہا گیا ہے اس لئے میں نے جانا کہ میں افضل ہوں پس اگر یہ ثابت ہو جائے کہ افضلیت کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ کا عقیدہ بدل گیا تھا تو یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ حضرت صاحب نے اپنے نبی ہونے کے متعلق بھی اعتقاد بدل لیا تھا اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ نہیں حضرت صاحب ہمیشہ اپنے آپ کو مسیح پر ایک ہی قسم کی فضیلت دیتے رہے ہیں تو یہ ایک دلیل ہو گی اس بات کے ثبوت میں کہ دعوائے نبوت کے متعلق حضرت صاحب کا خیال ایک سا رہا اور یہ مطلب تریاق القلوب کے حوالہ کے بدل دینے سے حاصل ہو گیا کیونکہ لکھ دیا گیا کہ ”غیر نبی کو نبی پر فضیلت ہو سکتی ہے“ اور اس طرح ایک خاص مطلب حاصل ہو گیا۔ اور وہ یہ کہ کوئی شخص تریاق القلوب اور حقیقۃ الوحی کے حوالوں کو ملا کر کہہ سکتا تھا کہ حضرت صاحب نے خود لکھا ہے کہ غیر نبی کو نبی پر فضیلت نہیں ہو سکتی ہاں جزئی فضیلت ہو سکتی ہے اور حقیقۃ الوحی میں اپنے افضل ہونے کا اعلان فرماتے ہیں معلوم ہوا کہ دعوائے نبوت کرتے ہیں پس اس اعتراض کو دُور کرنے کے لئے اصل حوالہ کے الفاظ کو جو یہ تھے کہ ”یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے“ بدل کر یوں کر دیا کہ ”غیر نبی کو نبی پر فضیلت ہو سکتی ہے“۔ تاکہ حقیقۃ الوحی اور کشتی نوح میں یہ مضمون دیکھ کر کہ میں پہلے مسیح سے افضل ہوں کوئی اس طرف ہدایت نہ پا جائے کہ آپ نبی تھے اور اس مسخ شدہ اور محرف حوالہ کو یاد کر کے خیال کر لے کہ خیر حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے آپ کو مسیح پر تمام شان میں افضل قرار دے دیا تو کیا ہوا آپ اس سے نبی ثابت نہیں ہوتے کیونکہ آپ خود ہی لکھ چکے ہیں کہ ”غیر نبی کو نبی پر فضیلت ہو سکتی ہے“ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے حضرت مسیح موعودؑ نے ہرگز ایسا نہیں لکھا بلکہ یہ لکھا ہے کہ اس جگہ کوئی شخص یہ دھوکا نہ کھائے کہ میں نے اپنے آپ کو فضیلت دی ہے۔ کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جب کسی شخص کو نبی سے افضل قرار دیا جائے تو ضرور ہے کہ وہ نبی ہو۔ پس تریاق القلوب کے حوالہ سے جزئی کا لفظ مٹا دینے سے معنی بالکل بدل گئے اور بالکل خلاف نتیجہ پیدا ہوا۔

پھر اسی پر بس نہیں ذرا آگے چل کر آپ فرماتے ہیں کہ ”جس کے یہ معنی ہوئے کہ مئی ۱۹۰۲ء میں مسیح موعودؑ نے اعلان کیا کہ میرا جزوی نبوت کا دور ختم ہوا۔ اور آج کامل نبوت کا دور شروع ہوتا ہے‘ اور ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو یعنی چھ سات ماہ بعد لکھا کہ میری فضیلت حضرت عیسیٰ پر ویسی ہی ہے جیسے ”غیر نبی کو نبی پر ہوتی ہے‘ اس خلاصہ سے بھی خوب پتہ چل سکتا ہے کہ کس طرز پر میری عبارات کو ڈھالا گیا ہے اس بحث پر میں مفصل بحث پہلے کر چکا ہوں ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ خلاصہ کس دیانت سے کیا گیا ہے۔

جناب مولوی صاحب ایک اور اعتراض بھی فرماتے ہیں۔ اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ میں تیس سال کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب وحی یکساں ہے اس میں نسخ کوئی نہیں ہوا مگر میاں صاحب نے اس کے خلاف لکھا ہے لیکن میں پہلے جواب دے آیا ہوں کہ یہ اعتراض جناب مولوی صاحب کے قلت تدبر کا نتیجہ ہے نہ میں نے یہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کو اللہ تعالیٰ نے پہلے اور قسم کا نبی بنایا اور بعد میں اور قسم کا۔ اور نہ حضرت مسیح موعودؑ نے۔ بلکہ آپ نے اس اختلاف کو براہین والا اختلاف قرار دیا ہے۔ یعنی مسیح کی حیات کے متعلق۔ اور وہ واقعہ اس طرح نہیں ہوا کہ پہلے تو اللہ تعالیٰ بار بار الہام کرتا رہا کہ مسیح زندہ ہے اور بعد میں فرمایا کہ نہیں وہ وفات یافتوں میں شامل ہے اسی طرح یہ اختلاف اس طرح نہیں ہوا کہ پہلے تو آپ کو الہام ہوتا رہا کہ آپ جزوی نبی ہیں لیکن بعد میں الہام ہوا کہ آپ نبی ہیں بلکہ ابتدائے ایام سے ایک ہی لفظ نبی اور رسول سے آپ کو پکارا گیا۔ ہاں پہلے آپ اپنے اجتہاد سے اس کو جزوی قرار دیتے رہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اپنی فضیلت بعض نبیوں پر جزوی سمجھتے تھے اور جب اللہ تعالیٰ نے مزید علم بخشا تو پھر جزوی کی شرط اڑا دی جس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے اپنی فضیلت کو تمام شان میں تسلیم کیا اور جزئی فضیلت کا عقیدہ ترک کر دیا۔

جناب مولوی صاحب نے اپنے رسالہ کے پندرھویں صفحہ پر پھر کچھ سوالات کئے ہیں جن میں سے بعض چونکہ اس زیر بحث مسئلہ کے متعلق ہیں اس لئے ان کا جواب ہمیں دیا جاتا ہے۔

۱۔ اول یہ کہ ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء کے بعد آپ صرف ساڑھے پانچ برس زندہ رہے کیا ایک مخالف یہ نہیں کہہ سکتا کہ نعوذ باللہ آپ لَوْ تَقَوَّلَ والی آیت کے ماتحت پکڑے گئے کیونکہ آپ خود ہی اس سے پیشتر نبوت تامہ کاملہ کے دعویٰ کو افتراء قرار دے چکے تھے اور ایسی نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے مسدود ہونے کا اعلان کر چکے تھے۔

۲۔ دوسرا سوال یہ کہ ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء تک آپ کے دعوٰی مسیحیت پر تیرہ سال سے زیادہ گذر چکے تھے جب تیرہ سال تک مسیح موعودؑ ایک مجدد اور محدث ہو سکتا ہے تو معلوم ہوا کہ نبوت تامہ کی ضرورت مسیح موعودؑ ہونے کے لئے نہیں ہے بلکہ ایک جزوی نبی اور ایک مجدد بھی مسیح

موعود ہو سکتا ہے اور نبوت کا دعوٰی بالکل کوئی علیحدہ چیز ہے جس کا لازمی تعلق مسیح موعود کے دعوٰی سے کچھ نہیں۔

۳۔ کیا آپ کے نزدیک یہ امر قابلِ اعتراض نہیں کہ ایک شخص موعود ہو کر جو کچھ کہتا رہا اور تیرہ سال تک اس کا سلسلہ جاری رہا اور وہ امر کوئی اجتہاد نہیں بلکہ اپنا دعوٰی ہے وہ سب غلط ثابت ہوا وہ کہتا تھا کہ نبوت تامہ کاملہ کا دروازہ مسدود ہے مگر وہ مسدود نہ تھا وہ کہتا تھا کہ جزوی نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ مگر وہ کھلا نہ تھا۔

یہ ایسے تین اعتراضات ہیں جن کا اس پہلی فصل سے تعلق ہے اس لئے میں ان کا جواب یہیں دیتا ہوں۔

پہلا اعتراض کہ اگر حضرت صاحب کا دعوٰی تریاق القلوب کے وقت سے بدلا تو کیا ایک مخالف اعتراض نہیں کر سکتا کہ آپ نعوذ باللہ كَوْ تَقَوَّلَ والی آیت کے ماتحت پکڑے گئے کیونکہ اس کے بعد آپ صرف ساڑھے پانچ سال زندہ رہے۔ اس اعتراض کو مولوی صاحب نے بعض دوسری جگہ بھی بڑے زور سے پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر تم تریاق القلوب کے وقت سے تغیر مانو تو پھر اس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنی ہوں گے کہ مسیح موعود کو نعوذ باللہ کاذب قرار دو کیونکہ لَوْ تَقَوَّلَ والی آیت سے مفتری کا جلد ہلاک ہونا ثابت ہے پس تم جو عقیدہ رکھتے ہو اس سے نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود کی تکذیب لازم آتی ہے اس لئے یہ عقیدہ باطل ہے۔

مجھے اس سوال کو پڑھ کر نہایت تعجب ہوتا ہے اور خصوصاً اس بات پر کہ ایسی معمولی بات پر اس قدر زور کیوں دیا جاتا ہے کیونکہ جس طرح میں اس سے پہلے مولوی صاحب کی چند غلطیاں لکھ آیا ہوں اسی طرح کی یہ بھی ایک غلطی ہے جو میرے رسالہ پر بلکہ خود قرآن کریم پر غور نہ کرنے کا نتیجہ ہے اور درحقیقت اس کی اصلیت کچھ بھی نہیں چنانچہ ذیل میں میں اس سوال کے چند جوابات دیتا ہوں۔

۱۔ اول یہ کہ جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں خدائے تعالیٰ کے کلام میں شروع سے آخر تک آپ کا ایک ہی نام رکھا گیا ہے یعنی نبی اور رسول۔ پس دعوٰی میں کوئی فرق نہیں۔ باقی رہا آپ کا اجتہاد سو جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بعد میں اصل بات سے متنبہ کر دیا تو اس اجتہاد کی وجہ سے اصل الہام میں کوئی شک پیدا نہیں ہوتا۔ اگر آپ آخر وقت تک اپنے خیال پر قائم رہتے تب بیشک ہمارا کوئی حق نہ تھا کہ نئے معنی کرتے۔ لیکن جبکہ خود آپ نے بعد میں تشریح کر دی ہے تو آپ کے اصل دعویٰ میں کوئی فرق نہ ثابت ہوا تو وہ الہامات کی بناء پر ہے اور الہامات میں تبدیلی نہیں ہوئی اور جب سے آپ کو الہامات ہونے شروع ہوئے آخروقت تک ان میں سے کسی پچھلے نام کو منسوخ کر کے نیا نہیں بتایا گیا کہ ہم کہیں کہ تئیس سال کی میعاد پوری نہیں ہوئی۔

۲۔ دوسرا جواب اس بات کا یہ ہے کہ آپ نے قرآن کریم پر کافی غور نہ کرنے کی وجہ سے یہ دھوکا کھایا ہے قرآن کریم کے الفاظ ہیں تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ(الحاقۃ: ۴۵) اور لَوْ تَقَوَّلَ کے معنی کسی لغت میں بھی یہ نہیں کہ لَوْ تَنَبَّاَ یعنی اگر نبوت کا دعویٰ کرتا بلکہ الفاظ قرآن کے معنی یہ ہیں کہ اگر ہم پر بعض باتیں جھوٹ بنا کر لوگوں کو سناتا کیونکہ تَقَوَّلَ قَوَّلَ سے باب تفعل کا صیغۂ ماضی ہے اور قول کے معنی بیان کرنے اور کہنے کے ہیں اور باب تفعل کا ایک خاصہ یہ ہے کہ وہ تکلّف اور بناوٹ کے معنی دیتا ہے پس تَقَوَّلَ کے معنی اپنی طرف سے کوئی بات بنا کر کہہ دینے کے ہیں اور تَقَوَّلَ عَلَی اَحَدٍ کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اپنی طرف سے ایک بات بنا کر کسی دوسرے شخص کی طرف منسوب کر کے سنادینی۔

پس تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ(69:45) کے یہ معنی ہوئے کہ اگر یہ شخص بعض باتیں اپنی طرف سے بنا کر ہماری طرف منسوب کرتا۔ اور لوگوں کو سناتا کہ خدا تعالیٰ نے اس طرح کہا ہے (تو ہم اس کو ہلاک کر دیتے) اب آپ غور فرمائیں کہ اس آیت کے کون سے لفظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ صرف جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہلاک ہوتا ہے اگر جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والا مراد ہوتا۔ تو لَوْ تَنَبَّاَ ہوتا۔ یعنی اگر یہ شخص جھوٹا نبی بن جاتا۔ مگر قرآن کریم میں لَوْ تَقَوَّلَ ہے۔ پس معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جھوٹے نبی کے لئے ہی یہ سزا مقرر نہیں فرمائی کہ وہ ہلاک کیا جاتا ہے بلکہ خواہ کوئی شخص صرف الہام کا دعویٰ کرتا ہو اور مدعیِ ماموریت ہو تب بھی وہ ہلاک کیا جاتا ہے جبکہ یہ بات ثابت ہوگئی تو آپ کا اعتراض دور ہو گیا۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود نے الہام کا دعویٰ ۱۸۸۰ء میں شائع کیا ہے۔ اور اس کے بعد آپ اٹھائیس سال تک زندہ رہے بلکہ زبانی طور پر تو اس سے بھی پہلے اپنے الہام شائع کر رہے تھے۔ اور قریباً چالیس سال متواتر اپنے الہامات کی اشاعت کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو کامیاب و بامراد کیا۔ پس آپ پر لَوْ تَقَوَّلَ والی آیت کیونکر حجت ہو سکتی ہے یہ تو حضرت مسیح موعود کی تائید میں دلیل ہے۔ ہاں اگر قرآن کریم میں لَوْ تَنَبَّاَ ہوتا یعنی اگر کوئی جھوٹا دعویٰ نبوت کا کرے تو اس کو ہلاک کر دیا جاتا ہے تب اس بناء پر بیشک حضرت صاحب پر اعتراض ہو سکتا تھا کہ ابتدائے زمانہ میں تو آپ نے دعوٰی نبوت نہ کیا تھا۔ اس لئے آپ کی زندگی کا

وہ زمانہ سچائی کی دلیل نہیں ہو سکتا۔ بلکہ صرف اس زمانہ کو ہم دیکھ سکتے ہیں۔ جس میں آپ نے دعویٰ نبوت کیا۔ اور اسے تریاق القلوب کے بعد کا زمانہ فرض کر کے آپ پر الزام لگا دیا جاتا۔ لیکن جبکہ یہ بات نہیں۔ اور آپ کے اعلان شائع کرنے پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تئیس سال سے زیادہ عمر دی۔ تو آپ کی صداقت ثابت ہے۔ اور اگر فی الواقعہ ایسا ہی ہو کہ آپ نے دعویٰ نبوت ۱۹۰۲ء میں ہی کیا ہو۔ تب بھی آپ پر کوئی الزام نہیں کیونکہ آپ کا خدا کی طرف سے ہونا تو پہلے ثابت ہو چکا تھا۔ پھر آپ کسی وقت بھی کوئی نیا دعویٰ کرتے اور جلد فوت ہو جاتے تو آپ پر کوئی اعتراض نہ تھا۔

اگر کہو کہ نہیں ہم یہ نہیں مانتے۔ بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ تئیس سال کی عمر سے تو صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے اور ملہم تھے۔ نبوت تبھی ثابت ہو سکتی ہے کہ نبوت کے دعوے پر پھر تئیس سال گزر جاویں تو میں کہتا ہوں کہ یہ بات بھی باطل ہے اس لئے کہ یہ شرط تو تم نے اپنے پاس سے لگائی ہے جبکہ خدا تعالیٰ صرف تَقَوُّلَ کی شرط لگاتا ہے اور اس آیت کے ماتحت حضرت صاحب کی صداقت ثابت ہو چکی ہے تو اب یہ خیال کیسا مجنونانہ ہو گا۔ کہ بیشک آپ مامور تو ثابت ہو جاتے ہیں لیکن آپ دعویٰ نبوت میں جھوٹے تھے۔ کیا مامور اور خدا تعالیٰ کا ملہم بھی جھوٹا ہو سکتا ہے پس جب اسی آیت سے آپ کا مامور اور ملہم اور خدا کی طرف سے ہونا ثابت ہو گیا تو اب کسی وقت آپ کوئی نیا دعویٰ کریں۔ یہ ضروری نہیں کہ اس کے بعد بھی ضرور تئیس سال زندہ رہیں کیونکہ یہ آیت تو صداقت ثابت کرنے کی ایک علامت تھی۔ جب ایک دعوے کی صداقت اسی آیت کے ماتحت ثابت ہو گئی تو کچھ ضرورت نہیں کہ ہر دعوے پر اسی قدر عرصہ گزرے۔ جب ایک شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ثابت ہو گیا تو اس کا ہر دعویٰ سچا ہے۔ خواہ کسی وقت کرے۔ کرشن ہونے کا دعویٰ بھی حضرت صاحب نے ۱۹۰۰ء کے بعد پیش کیا ہے۔ اب کیا ہم نعوذ باللہ آپ کو اس لئے کاذب کہیں کہ اس دعویٰ کے بعد آپ بہت کم مدت تک زندہ رہے۔ پھر اگر اس طرح اپنی طرف سے شرائط لگنی شروع ہو گئیں تو نہایت مشکل پیدا ہو جائے گی۔ اور شاید پھر اس بات کی بھی ضرورت پیش آئے کہ ہر ایک مامور کو تئیس سال پہلے سے الہام ہونے بند ہو جائیں ورنہ لوگ کہہ دیں گے کہ گو پہلے الہامات میں تو یہ شخص سچا تھا۔ مگر دیکھو کہ فلاں الہام پر تئیس سال نہیں گذرے اس لئے معلوم ہوا کہ وہ الہام اس نے خود بنا لیا تھا۔ اس لئے تئیس سال کے اندر ہلاک ہو گیا۔ جناب ذرا غور تو کریں کہ آپ کی ان کچی اور بے دلیل باتوں سے دین کیسا قابل اعتراض بن جاتا ہے۔ اور اسلام قابل مضحکہ قرار پاتا ہے نعوذ باللہ من ذالک۔ پھر اگر آپ

کہیں کہ نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ نیا دعویٰ کرنے پر تئیس سال گزرنے چاہئیں نہ کہ ہر نئے الہام پر۔ تو میں کہتا ہوں کہ یہ تو آپ نے اپنی طرف سے بات بنائی ہے۔ قرآن کریم کی کس آیت سے یہ شرط ثابت ہے اور پھر میں کہتا ہوں کہ اس آیت کے لفظوں پر تو غور کرو۔ اس میں وَلَوۡ تَقَوَّلَ(69:45) لکھا ہے۔ اگر ہر نئے دعوے کے بعد تئیس سال گزرنے کی شرط ہے تو اس سے زیادہ ہر الہام پر تئیس سال گزرنے کی ضرورت ہوگی۔ کیونکہ آیت کے اصل الفاظ میں جھوٹے الہام کا ہی ذکر ہے اور نبوت اس سے ضمناً ثابت ہوتی ہے اس وجہ سے کہ جو جھوٹا نبی بنے گا ضرور ہے کہ وہ جھوٹے الہام بھی بنائے۔ پس آپ کی لگائی ہوئی شرط اگر کوئی شرط ہے تو اصل الفاظ زیادہ مستحق ہیں کہ ان کا لحاظ رکھا جائے اور ضرور ہے کہ ہر الہام پر بھی تئیس سال گزر جائیں تب کوئی شخص اس میں سچا ثابت ہو۔ نعوذ باللہ من ھذہ الخرافات۔ بات یہ ہے کہ ابتدائے الہام سے مدت گنی جاتی ہے نہ کہ درمیانی دعوؤں سے اگر ابتدائی الہام کے شائع کرنے کے بعد تئیس سال گزر جائیں۔ تو ایسا مامور سچا ثابت ہو گیا۔ ضروری نہیں کہ اس کے ہر ایک دعوے پر بھی تئیس سال گزریں۔

اور جو شخص دعوے پر تئیس سال گزر جانے کی شرط لگاتا ہے۔ وہ یاد رکھے کہ وہ خاتم النبیین پر بھی اعتراض کرتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین کا خطاب مدینہ میں ملا ہے۔ اور خاتم النبیین سورۃ احزاب میں آپ کو کہا گیا ہے۔ جو مدینہ میں اتری ہے۔ اور چھٹے سال میں اتری ہے۔ جس کے چار سال بعد آنحضرت ﷺ کا انتقال ہو گیا۔ لیکن کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ دیکھو آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین قرار نہ دو۔ ورنہ نعوذ باللہ من ذالک آپ جھوٹے ثابت ہوں گے۔ کیا ایسے انسان کو آپ عقل و خرد سے کورا خیال نہیں کریں گے اگر ایسا ہی سمجھیں گے تو کیوں؟ کیا یہ بھی ایک نیا دعویٰ نہیں تھا بہت سے نبی دنیا میں گزر چکے تھے کسی نے یہ دعویٰ نہ کیا تھا۔ جس سے معلوم ہوا کہ خاتم النبیین ہونا نبوت کی شرط نہیں۔ بلکہ ایک الگ دعویٰ ہے اور آنحضرت ﷺ اس دعوے کے بعد چار سال میں فوت ہو گئے۔ پس کیا نعوذ باللہ آپ موردِ اعتراض ٹھہرے؟ نعوذ باللہ من ذلک۔ نعوذ باللہ من ذلک۔ نعوذ باللہ من ذلک۔

علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھیں کہ اگر آپ اس شرط پر زور دیں۔ تو جس مطلب کو حاصل کرنے کے لئے آپ نے یہ دلیل دی ہے وہ خود باطل ہو جاتا ہے۔ آپ کی غرض تو اس اعتراض سے یہ ہے کہ مسیح موعود کا دعویٰ باطل نہ ہو۔ لیکن اگر آپ غور فرمائیں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا۔ کہ اگر اس اصل کو تسلیم کیا جائے جیسا کہ آپ کے مضمون سے ظاہر ہے کہ ہر نئے دعوے پر تئیس سال گزرنے ضروری ہیں خواہ الہام پر اس قدر سال گزر بھی چکے ہوں۔ تو اس اصل کے ماتحت حضرت مسیح موعود پر خطرناک حملہ ہوتا ہے اس لئے کہ حضرت مسیح موعود نے دعویٰ مسیحیت ۱۸۹۱ء میں فرمایا ہے۔ اب آپ کے مقرر کردہ اصل کے ماتحت یہ تو دیکھا نہیں جائے گا کہ آپ نے الہام کا اعلان کب سے کیا ہے۔ بلکہ یہ دیکھا جاوے گا کہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کب کیا۔ اور وہ ۱۸۹۱ء میں ہوا ہے۔ جس کے بعد حضرت اقدس صرف سترہ سال اور چند ماہ زندہ رہے۔ اب بتائیں کہ اگر کوئی شخص آپ کے ہی الفاظ میں ذرا تغیر کر کے یہ اعتراض کرے کہ ”۱۸۹۱ء کے بعد آپ صرف سترہ سال پانچ ماہ زندہ رہے کیا ایک مخالف یہ نہیں کہہ سکتا کہ نعوذ باللہ آپ لَوْ تَقَوَّلَ والی آیت کے ماتحت پکڑے گئے۔ کیونکہ آپ خود ہی اس سے پیشتر براہین احمدیہ میں لکھ چکے تھے کہ مسیح دوبارہ دنیا میں آئے گا“ افسوس! ان لوگوں نے میری مخالفت میں کہاں سے کہاں نوبت پہنچائی ہے۔ اور کیسی ٹھوکریں کھاتے ہیں اور کن راہوں پر چلتے ہیں اور نہیں دیکھتے کہ ہم جو اصل بناتے ہیں اس سے خود مسیح موعود اور اس کے آقا آنحضرت ﷺ پر بھی حملہ ہوتا ہے۔

شاید کوئی شخص اس جگہ یہ اعتراض کرے کہ اصل بات یہ ہے کہ گو مسیح موعود نے مسیحیت کا دعویٰ ۱۸۹۱ء میں کیا ہے اور براہین کے وقت آپ کا یہی اعتقاد تھا کہ مسیح زندہ موجود ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو خود براہین احمدیہ میں ایسے الہامات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مسیح ہیں۔ چنانچہ اسی کتاب میں وہ الہامات درج ہیں۔ جن میں عیسیٰ کے نام سے آپ کو پکارا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک ایسا ہی ہے لیکن ساتھ ہی اس وقت یہ بھی تو الہام ہو چکا تھا کہ ”دنیا میں ایک نبی آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا“ جیسا کہ حضرت صاحب نے خود لکھا ہے کہ ”دنیا میں ایک نذیر آیا“ والے الہام کی ایک قراءت یہ بھی ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا۔ اور اگر لفظ نذیر کو ہی قائم رکھیں تب بھی اس کے معنی نبی کے ہی ہیں۔ کیونکہ لغت میں نذیر کے معنی نبی کے ہی ہیں۔ اور قرآن کریم میں تو نذیر کا لفظ نبی ہی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اور بیسیوں جگہ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے پھر یہ الہام بھی اسی کتاب میں ہے کہ هُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْهُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ اور خود حضرت مسیح موعود نے براہین میں لکھا ہے کہ یہ مسیح موعود کی نسبت پیشگوئی ہے اور آپ خود ہی مسیح موعود ہیں۔ اسی طرح آپ کا الہام ہے۔ جَرِیُّ اللّٰهِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ اور جزی کے معنی لغت میں نبی کے موجود بھی ہیں جس کی تشریح فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ نے خوب کر دی ہے۔ پس اگر عیسیٰ کے نام کے الہامات کی موجودگی سے مسیح موعود ہونے کا دعوٰی براہین سے سمجھا جائے گا تو نبی کے لفظ سے نبوت کا دعوٰی بھی اسی وقت سے سمجھا جائے گا۔ اگر اس پر یہ کہا جائے کہ گو نبی یا رسول کے الفاظ براہین میں موجود ہیں۔ لیکن حضرت صاحب نے تو ان کو اپنے پر چسپاں کر کے اس کے معنی نبی اور رسول کے نہیں لئے تو یاد رکھنا چاہئے کہ اسی طرح عیسٰی اور ابن مریم اور دیگر الفاظ جن سے حضرت اقدس کا مسیح موعود ہونا ثابت ہے ان کے معنی بھی حضرت صاحب نے براہین میں وہ نہیں کئے جو بعد میں ۱۸۹۱ء میں کئے۔ پس اگر وہ حجت نہیں تو یہ بھی نہیں۔ غرض کوئی پہلو لے لو۔ اس اصل کو مان کر مسیح موعود کو نَعُوْذُ بِاللّٰهِ جھوٹا کہنا پڑتا ہے پس حق وہی ہے جو میں لکھ آیا ہوں اور جو الفاظ قرآن سے ثابت ہے یعنی اگر کسی شخص پر الہام کا دعوٰی کرنے کے بعد تیس سال گزر جائیں تو اس کو مرتکبِ تَقَوَّلَ عَلَى اللّٰهِ نہیں کہہ سکتے۔ خواہ درمیان میں وہ اور کس قدر ہی نئے دعوے کرے۔ اگر اس کا مامور اور صادق اور راستباز ہونا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہزار ہا شہادتوں سے ثابت ہو جائے۔ اور تئیس سال کی وحی پا کر تَقَوُّلْ کے الزام سے بھی بری ہو جائے۔ پھر کیا ضرورت ہے کہ اس کے ہر دعوے پر تئیس سال گزریں۔ ورنہ جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں۔ ایسا خیال کرنے والے کو خود حضرت مسیح موعود کے مسیح موعود ہونے اور آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیّن ہونے میں شک لانا پڑے گا۔

۲۔ اس کے بعد میں مولوی صاحب کا دوسرا اعتراض لیتا ہوں۔ اس میں مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۲ء تک آپ کے دعوٰی مسیحیت پر تیرہ سال سے زیادہ گزر چکے تھے۔ جب تیرہ سال تک مسیح موعود ایک مجدد اور محدث ہو سکتا ہے تو معلوم ہوا کہ نبوت تامہ کی ضرورت مسیح موعود ہونے کے لئے نہیں ہے بلکہ ایک جزوی نبی اور ایک مجدد بھی مسیح موعود ہو سکتا ہے۔ اور نبوت کا دعوٰی بالکل کوئی علیحدہ چیز ہے۔ جس کا لازمی تعلق مسیح موعود کے دعوے سے کچھ نہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ میں ثابت کر چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود شروع دن سے ہی مجدد اور محدث سے بڑھ کر تھے اور خدا تعالیٰ نے آپ کو نبی (یعنی ایسا نبی جو کوئی نئی شریعت نہیں لایا اور جس کی نبوت آنحضرت ﷺ کی اتباع سے تھی) کا خطاب شروع سے ہی دیا ہوا تھا۔ پس یہ بات ہی غلط ہے کہ حضرت مسیح موعود تیرہ سال تک صرف مجدد اور محدث تھے آپ شروع دعوے سے ہی نبی تھے اور یہ سوال سرے سے ہی باطل ہے اور میرے مطلب کو غلط سمجھنے سے پیدا ہوا ہے۔ میں نے یہ نہیں لکھا کہ ۱۹۰۲ء میں آپ کا پہلا عہدہ منسوخ ہو کر نیا ملا۔ بلکہ یہ لکھا ہے اور یہی حق ہے کہ آپ پر بعض معاملات جو پہلے پوشیدہ تھے اس وقت کھولے گئے۔

علاوہ ازیں حضرت مسیح موعود اپنی کتاب حقیقتہ الوحی کے صفحہ ۱۵۵ پر لکھتے ہیں کہ ”پھر جبکہ خدا نے اور اسکے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے۔ تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو“

اس حوالہ سے ثابت ہے کہ جو شخص آپ کی افضلیت بر مسیح کا قائل نہ ہو اس کے خیال کو حضرت مسیح موعود شیطانی وسوسہ ظاہر فرماتے ہیں۔ اب کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ جبکہ آپ خود ایک خیال کے مدت تک قائل رہے۔ تو پھر اسی خیال کو اب شیطانی وسوسہ کیوں ظاہر فرماتے ہیں۔ جب تیرہ سال تک آپ کو مسیح سے افضل نہ ماننے کے باوجود انسان حق پر رہ سکتا تھا۔ تو اب کیوں اسے شیطانی وسوسہ ظاہر کیا جاتا ہے سو اس کا صاف جواب یہ ہے کہ افضل تو آپ پہلے بھی تھے۔ اس وقت تک پورے طور پر بات نہ کھلی تھی۔ اس لئے آپ اس کی تاویل کرتے رہے اور بعد میں جب انکشاف ہوا تو افضلیت کا اظہار فرمایا۔ اور جب خدا تعالیٰ کی طرف سے انکشاف ہوا تو اب جو اس کے خلاف آواز اٹھائے وہ شیطانی وسوسہ میں گرفتار ہے اسی طرح حضرت اقدس نے پہلے خود مسیح کے آسمان سے آنے کا عقیدہ ظاہر فرمایا۔ اور بعد کی تحریروں میں لکھا ہے کہ یہ ایک شرک ہے اور جو اس عقیدہ کا ماننے والا ہے وہ خدا تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہے۔ تو کیا یہی اعتراض آپ پر نہیں پڑ سکتا کہ جب آپ اس عقیدہ کے اس قدر مدت تک قائل رہے تو خدا کے برگزیدہ اور ملہم رہے اب کیوں یہ عقیدہ شرک ہو گیا؟ کیا اس سے معلوم نہیں ہوتا کہ یہ ایک معمولی عقیدہ ہے۔ سو اس کا جواب یہی دیا جائے گا کہ جب تک خدا تعالیٰ نے اس معاملہ کو کھولا نہیں یہ شرک نہ تھا۔ لیکن جب اس نے کھول دیا۔ تو اب یہ سخت شرک ہو گیا۔ یہی جواب نبوت کے متعلق ہے آپ نبی ابتداء سے تھے لیکن جب تک پورے طور پر انکشاف نہ ہوا آپ اس عقیدہ کو جو لوگوں میں رائج تھا مانتے رہے۔ لیکن بعد میں جب انکشاف ہو گیا تو اس کو بدل دیا۔ اور اب اس عقیدہ کا ماننا ضروری ہو گیا اور چونکہ خدا کے نزدیک آپ شروع دعویٰ سے نبی تھے اس لئے مسیحیت کے دعوے کے ساتھ نبوت بھی لازم و ملزوم تھی اگر کہو کہ ایسی کھلی بات مسیح موعود کو پہلے کیوں نہ معلوم ہوئی تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسی طرح معلوم نہیں ہوئی جس طرح مسیح کی حیات کا مشرکانہ عقیدہ معلوم نہ ہوا۔ اور جس طرح باوجود خدا تعالیٰ کے فرمانے سب نبیوں کے اتفاق یہود و نصاریٰ کے اتفاق کے مسیح پر اپنی فضیلت کا علم نہ ہو سکا۔

تیسرے سوال کا جواب بھی دوسرے سوال کے جواب میں آجاتا ہے کیونکہ آپ اعتراض کرتے ہیں کہ کیا تیرہ سال تک مسیح موعود جو کچھ کہتا رہا غلط کہتا رہا۔ سو میں نے پہلے بتا دیا ہے کہ ایسے اور بھی واقعات ہیں کہ مسیح موعود کو جن کی سمجھ بہت مدت کے بعد دی گئی اور جب تک کامل انکشاف نہ ہوا۔ آپ عام عقیدہ کا اظہار کرتے رہے۔ اور میں انشاء اللہ آگے چل کر یہ بھی بتاؤں گا کہ باوجود ایک حد تک تاویل کرنے کے آپ کا دعویٰ شروع دن سے ایک ہی تھا اور تغیّر ایک ایسی قسم کا تھا جس کے ہونے سے کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔ انشاء اللہ تعالیٰ

دوسری فصل

اس باب میں کہ حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کس قسم کی تھی

ابتدائے مضمون میں میں نے جناب مولوی صاحب کے مضمون کا خلاصہ دو سوالوں میں کیا تھا۔ اوّل یہ کہ آیا حضرت صاحب کے دعوے پر دو زمانے آئے ہیں یا ہمیشہ آپ اپنی نبوت کو ایک ہی قسم کی خیال کرتے رہے۔ کیونکہ اسی سوال کے حل ہونے پر یہ فیصلہ ہو سکتا تھا کہ حضرت مسیح موعود کی کن تحریرات سے ہمیں اس امر کا فیصلہ کرنا چاہئے کہ آپ کا مذہب نبوت کے بارے میں کیا تھا کیونکہ بغیر اس کے دقت ہوتی ہے مثلاً کوئی شخص اگر حضرت صاحب کی کتاب سے وفات و حیات مسیح کا مسئلہ دریافت کرنا چاہے اور اس امر کا فیصلہ نہ کرے کہ اس مسئلہ میں آپ کے دو عقیدے تھے۔ تو وہ براہین احمدیہ کو دیکھ کر ٹھوکر کھائے گا۔ اور سمجھے گا کہ حضرت صاحب کی تحریروں میں اختلاف ہے یا یہ کہ براہین کو پہلی کتاب خیال کر کے اسے محکم قرار دے گا۔ اور بعد کی کتب کی تاویلات کرنی شروع کر دے گا۔ لیکن اگر اسے خود حضرت صاحب کی کتب سے معلوم ہو جائے گا کہ اس مسئلہ میں آپ کے دو عقیدے رہے ہیں۔ ایک پہلے رائج الوقت عقائد کی بناء پر۔ اور ایک بعد میں انکشافاتِ سماویہ کی بناء پر۔ تو اسے اب کوئی دقت نہ رہے گی اور وہ براہین احمدیہ کے بعد کی کتب سے اس مسئلہ کی تحقیقات کرے گا۔ اور یہی حال تمام مسائل کا ہے۔ مثلاً نماز، نکاح، جنازہ وغیرہما مِنَ الْمَسَائِلِ کا کہ ایک وقت میں ان کے متعلق اور فتویٰ دیا ہے۔ اور دوسرے وقت میں اور۔ پس جب تک انسان یہ نہ معلوم کرے کہ ان مسائل میں آپ نے دو مختلف اوقات میں مختلف احکام دیئے ہیں تو وہ ضرور ٹھوکر کھائے گا۔ یا تو اختلاف کا الزام حضرت مسیح موعود پر دے گا یا پہلے احکام کو محکمات قرار دے کر خود غلطی میں پڑے گا۔ لیکن اگر یہ معلوم ہو جائے کہ فلاں وقت سے فلاں مسئلہ میں تبدیلی حکم ہوئی ہے تو پھر اس مشکل سے بچ جائے گا۔ پس اسی مشکل سے بچنے کے لئے ہم نے سب سے پہلے اس مسئلہ پر بحث کی ہے کہ حضرت مسیح موعود کا عقیدہ نبوت کے متعلق شروع سے ایک ہی رہا ہے یا اس میں کبھی تبدیلی بھی پیدا ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ثابت کیا ہے کہ اس عقیدہ میں ۱۹۰۰ء کے بعد تبدیلی ہوئی ہے اور سب سے آخری کتاب جس میں پہلے عقیدہ کا اظہار کیا گیا تھا۔ تریاق القلوب ہے جو ۱۸۹۹ء کی ہے اور جو بعض موانعات کی وجہ سے ۱۹۰۲ء میں شائع ہو سکی۔ پس مسئلہ نبوت کے متعلق جب بحث ہو۔ تو ہمیں ان تحریرات کو اصل قرار دینا ہو گا۔ جو ۱۹۰۱ء سے لے کر وفات تک شائع ہوئیں اور پہلی تحریرات جو (۱) بعد کی تحریرات کے خلاف ہوں۔ یا (۲) جن میں ایسے الفاظ پائے جاتے ہوں کہ ان سے حضرت مسیح موعود کی نبوت میں کوئی نقص ثابت ہوتا ہو۔ اور حضرت مسیح موعود نے ان الفاظ کو ۱۹۰۱ء سے ترک کر دیا ہو۔ انہیں منسوخ قرار دینا پڑے گا (یعنی وہ تحریرات جو مسئلہ نبوت کے متعلق ہوں۔ کیونکہ ان کے متعلق خود حضرت صاحب نے حقیقت الوحی میں فیصلہ کر دیا ہے) پہلے سوال پر تو میں بحث کر چکا ہوں۔ اب دوسرا سوال باقی ہے کہ حضرت مسیح موعود نبی تھے یا نہیں۔ اگر تھے تو آپ کی نبوت کس قسم کی تھی؟۔

اس سوال کے حل کرنے کے لئے میں پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ نبوت کیا شئے ہے؟ کیونکہ اس بیان سے یہ مسئلہ بہت کچھ صاف ہو جائے گا اور کوئی دقت نہ رہ جائے گی۔

سو اے عزیزو! یاد رکھو کہ نبی نَبَأ سے نکلا ہے جس کے معنی راغب جو قرآن کریم کی لغات کے معنی بیان کرنے میں نہایت ماہر مانا جاتا ہے یہ بیان کرتا ہے۔ کہ نبأ اس خبر کو کہتے ہیں جس سے بہت بڑا فائدہ حاصل ہو۔ اور جس سے علم حاصل ہو اور جو سچی ہو اور جھوٹ سے بکلی پاک ہو۔ اور نبی کے معنی لغت والے یہ لکھتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ سے خبر دینے والا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی توحید سے خبردار کیا ہو۔ اور غیب کی باتیں بتائی ہوں اور اسے کہا ہو کہ تو نبی ہے۔ اور اس لفظ میں مبالغہ بھی پایا جاتا ہے کیونکہ یہ فعیل کے وزن پر ہے۔ اور نبی وہی ہو سکتا ہے جو کثرت سے خبریں پانے والا اور خبریں دینے والا ہو۔ اور چونکہ نبی ایک عربی لفظ ہے اس لئے اس کی تحقیقات کے لئے عربی لغت ہی سند ہو سکتی ہے۔ اور جو معنی میں اوپر بتا آیا ہوں اس کے مطابق نَبِیُّ اللّٰهِ اس کو کہیں گے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہو۔ اور اللہ تعالیٰ اس پر کثرت سے امور غیبیہ ظاہر کرے جو معمولی واقعات پر ہی مبنی نہ ہوں بلکہ اہم واقعات کی ان میں اطلاع دی گئی ہو۔ اور صرف چند خبریں دینے سے ہی کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا۔ بلکہ ضروری ہے کہ کثرت سے اسے امورِ غیبیہ پر مطلع کیا جائے کیونکہ یہ فعیل کے وزن پر ہے جو مبالغہ کا صیغہ ہے۔ یہ وہ تعریف ہے جو لغت کے معنوں کی رو سے ہوتی ہے اور اس کے سوا کوئی اور تعریف عربی زبان کے رو سے نبی کی نہیں۔ جس میں یہ بات پائی جائے کہ وہ عظیم الشان واقعات کے متعلق خدا تعالیٰ سے خبر پا کر لوگوں تک پہنچائے اور اس کا نام اللہ تعالیٰ نبی بھی رکھے تو وہ نبی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے نام رکھنے کی شرط اس لئے ہے کہ اس امر کا فیصلہ کہ اخبارِ غیبیہ جو کسی بندہ کو اللہ تعالیٰ بتائے ان کی اہمیت اور عظمت اور کثرت کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے علاوہ ازیں اگر اللہ تعالیٰ کے نام رکھنے کے سوا انسان آپ ہی ایک دوسرے کو نبی قرار دیا کریں۔ تو ایک خطرناک نقص اور تباہی کا اندیشہ ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے نبیوں کے لئے بعض انعامات اور خصوصیات مقرر فرمائی ہیں۔ پس اگر انسان آپ ہی اس بات کا فیصلہ کر لیا کریں کہ کس پر اس قدر اظہارِ غیب ہوتا ہے کہ وہ نبی کہلا سکے۔ تو بہت سے لوگ چند خوابوں یا چند الہامات کی بناء پر اپنے آپ کو نبی قرار دے کر ان خصوصیات کے وارث بن جائیں۔ اور ایک خطرناک تباہی آ جائے۔ مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ(النساء: ۶۵) یعنی جو رسول بھی دنیا میں آتا ہے۔ اس کی بعثت کی غرض یہ بھی ہوتی ہے کہ لوگ اس کی فرمانبرداری کریں۔ اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انبیاء چونکہ اللہ تعالیٰ سے ایک گہرا تعلق رکھتے ہیں اور کثرتِ مکالمہ و مخاطبہ سے ان کا دل ہر ایک قسم کے شک و شبہ سے پاک کر کے ان کو خاص معرفت اور نور عطا ہوتا ہے۔ اس لئے ان کے اعمال دنیا کے لئے ایک بہترین نمونہ ہوتے ہیں۔ پس جب کوئی نبی دنیا میں بھیجا جائے تو اس وقت کے سب لوگوں کو اس کی اطاعت لازم ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے کا ایک یقینی ذریعہ ہوتا ہے۔ اور چونکہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خاص تعلق ہوتا ہے۔ وہ کسی غلطی پر اپنی وفات تک قائم نہیں رکھا جاتا پس اس کی اطاعت سب انسانوں پر واجب ہوتی ہے۔ اور اگر نبی کا نام خدا تعالیٰ نہ رکھے تو بہت سے لوگ جن کو چند رؤیا ہو چکی ہوں۔ اپنے آپ کو نبی قرار دے کر دنیا پر اپنے قول کو حجت قرار دے دیں۔ اور شریعت کے فہم اور اس کی تفسیر میں اپنے آپ کو قابلِ اتباع قرار دے کر شریعت میں بہت سی غلطیاں پیدا کر دیں۔

پس چونکہ امورِ شرعیہ میں پوری اتباع سوائے انبیاء کے جو معاملاتِ شریعت میں حکم و عدل ہوتے ہیں دوسرے لوگوں کی موجب خطرہ و نقصان ہے اس لئے اس نقصان کو روکنے کے لئے ضروری تھا کہ نبی وہی ہو جس کو خود اللہ تعالیٰ نبی قرار دے ورنہ انسانوں کا کام نہیں کہ آپ ہی کسی کو نبی قرار دیں۔ نبوت ایک موہبت الہی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی بتا سکتا ہے کہ کسی شخص کو میں نے امور غیبیہ پر اس قدر اطلاع دی ہے یا نہیں کہ وہ نبی کہلا سکے اور یہ کہ ایک خبر دینے والے کی اخبار ایسی مہتم بالشان ہیں یا نہیں کہ ان کی وجہ سے اسے نبی کہہ سکیں۔ پس جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں نبی وہی ہوتا ہے اور وہی ہو سکتا ہے جو ایسے امور غیبیہ پر کثرت سے مطلع کیا جائے۔ جو خاص اہمیت اور عظمت رکھتے ہوں اور جس کا نام خود اللہ تعالیٰ نبی رکھے۔

قرآن کریم کا جب ہم غور سے مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں بھی ہمیں نبی کی یہی تعریف معلوم ہوتی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وَمَا نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِیۡنَ وَمُنۡذِرِیۡنَ(الانعام: ۴۹) یعنی رسول جو ہم بھیجتے ہیں تو ان کا یہ کام ہوتا ہے کہ بعض افراد اور جماعتوں کے لئے خوشخبریاں دیتے ہیں اور بعض کو ڈراتے ہیں یعنی ان کی اخبار معمولی نہیں ہوتیں بلکہ ایک قوم کی ترقی اور ایک دوسری قوم کی تباہی کی خبر لے کر وہ آتے ہیں اسی طرح کثرت مکالمہ و مخاطبہ کی نسبت فرمایا ہے کہ فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(الجن: ۲۶۔۲۷) یعنی اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کو جن سے خوش ہوتا ہے یعنی رسولوں کو اپنے غیب پر غالب کرتا ہے یعنی امور غیبیہ اس کثرت سے ان پر ظاہر فرماتا ہے کہ گویا انہیں غیب پر غالب کر دیتا ہے۔ غرض کہ قرآن کریم نے بھی نَبِیُّ اللہِ کی وہی تعریف کی ہے جو لغت کے رو سے ثابت ہے۔

نبی کی تعریف کرنے کے بعد میں ہر ایک اس شخص کی توجہ جو حق طلبی کا مادہ اپنے اندر رکھتا ہے اس طرف پھیرتا ہوں کہ قرآن کریم میں اور قرآن کریم سے پہلے دیگر کتب میں نبی کا لفظ بہت دفعہ استعمال ہوا ہے اور ایک جگہ بھی ایسی نہیں کہ جہاں نبی کے ساتھ کوئی اور لفظ ملا کر لکھا گیا ہو بلکہ قرآن کریم ہمیشہ نبی کا لفظ خالی ہی استعمال کرتا ہے۔ اور اسی طرح پہلے انبیاء بھی اس لفظ کو خالی ہی استعمال کرتے رہے ہیں اور پہلی کتب میں ایک جگہ بھی ایسی نہیں دیکھو گے کہ نبی کے ساتھ کوئی اور لفظ استعمال کیا گیا ہو۔ پس قرآن کریم۔ احادیث رسول اللہ ﷺ اور دیگر کتب سماویہ کے محاورہ میں نبی ایک نام ہے جو بعض افراد بنی آدم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے۔ لیکن جب ہم انبیاء کے حالات کو دیکھتے ہیں تو وہ مختلف اقسام کے پائے جاتے ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ نے بلا حجاب کلام کیا۔ بعض دوسرے ایسے ہیں جن سے اس رنگ میں کلام نہیں ہوا۔ پھر بعض ایسے ہیں جو

صرف ایک قبیلہ کی طرف مبعوث ہوئے اور بعض ایک قوم کی طرف۔ اور بعض ایک ملک کی طرف۔ اور ہمارے آنحضرت ﷺ کل دنیا کی طرف۔ پس اس بات سے معلوم ہوا کہ انبیاء کے حالات میں فرق ہوتا ہے اور بہت بہت فرق ہوتا ہے لیکن باوجود ان فرقوں کے اللہ تعالیٰ ان سب کا نام نبی رکھتا ہے اور نہیں فرماتا کہ یہ فلاں قسم کا نبی ہے اور وہ فلاں قسم کا نبی۔ یا یہ کہ فلاں خصوصیت فلاں نبی میں پائی جاتی ہے اس لئے اسے ایسا نبی خیال کرو۔ اور فلاں خصوصیت فلاں نبی میں پائی نہیں جاتی اس لئے اسے فلاں قسم کا نبی خیال کرو۔ اور نہ یہ فرماتا ہے کہ جو شریعت لانے والے نبی ہیں ان کو سچے نبی اور حقیقی نبی سمجھو۔ اور جو شریعت نہیں لائے ان کو غیر حقیقی نبی خیال کرو۔ بلکہ جن جن افراد میں وہ باتیں جو میں اوپر لکھ آیا ہوں پائی جاتی ہیں ان کا نام اللہ تعالیٰ نبی بیان فرماتا ہے اور نبی کے نام سے ان کو پکارتا ہے اور گو ان کے مدارج میں فرق رکھا ہے لیکن ان کے نبی ہونے میں فرق نہیں رکھا۔ اور سب کو ہی نبی کہہ کر پکارا ہے۔ اور پھر ہم جب آنحضرت ﷺ کو دیکھتے ہیں جو قرآن کریم کے بہترین فہم رکھنے والے تھے۔ اور جو قرآن کریم کے سمجھنے والوں کے خاتم تھے اور ان سے بڑھ کر کوئی انسان قرآن کریم کو نہیں سمجھ سکتا۔ تو آپ بھی باوجود انبیاء کی حالتوں اور ان کے کاموں کے فرق کے سب کو نبی کہہ کر ہی پکارتے ہیں اور جن کو خدا تعالیٰ نے نبی کہا ہے ان کی نبوت کا انکار نہیں کرتے۔ بلکہ جسے خدا تعالیٰ نے نبی کہہ دیا اس کی نبوت کے مقر ہیں اور نبی ہی کہہ کر پکارتے ہیں۔ موسیٰؑ جو شریعت لانے والے تھے۔ ان کو بھی نبی کے نام سے یاد فرماتے ہیں۔ اور مسیح جو کوئی جدید شریعت نہیں لائے ان کو بھی نبی کے نام سے یاد فرماتے ہیں۔ زکریا اور یحییٰ جو صرف ایک محدود جماعت کے ساتھ تعلق رکھتے تھے ان کو بھی نبی ہی کے نام سے یاد فرماتے ہیں۔ پس اسبات کو دیکھ کر ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ کسی کے نبی ہونے کے لئے شریعت کا لانا یا نہ لانا یا ایک قوم کی طرف مبعوث ہونا یا ایک ملک کی طرف ہرگز شرط نہیں۔ بلکہ جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں ہر ایک وہ شخص جسے کثرت سے امورِ غیبیہ پر اطلاع دی گئی اور اہم امور کے متعلق اس نے پیشگوئیاں کیں اور خدا تعالیٰ نے اس کا نام نبی رکھا وہ نبی کہلایا اور واقعہ میں نبی تھا اور اس کے نبی ہونے میں کوئی شک نہیں۔

قرآن کریم سارے کا سارا کھول کر دیکھ جاؤ اس میں ایک آیت بھی ایسی نہ ملے گی جس میں یہ بتایا ہو کہ نبی وہی ہوتا ہے جو شریعت لائے بلکہ اس کے خلاف قرآن کریم سے تو یہ ثابت ہے کہ ایسے بہت سے نبی گزرے ہیں جو شریعت نہیں لائے بلکہ پہلے انبیاء کے تابع تھے اور توریت پر عمل کرنے والے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰٮۃَ فِیۡہَا ہُدًی وَّنُوۡرٌ ۚ یَحۡکُمُ بِہَا النَّبِیُّوۡنَ الَّذِیۡنَ اَسۡلَمُوۡا لِلَّذِیۡنَ ہَادُوۡا وَالرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ بِمَا اسۡتُحۡفِظُوۡا مِنۡ کِتٰبِ اللّٰہِ وَکَانُوۡا عَلَیۡہِ شُہَدَآءَ(المائدہ: ۴۵) یعنی ہم نے توریت اتاری ہے اس میں ہدایت اور نور کی باتیں ہیں۔ کئی نبی جو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے اس کے ذریعہ سے یہودیوں کے درمیان فیصلہ کیا کرتے تھے۔ اور ربانی بھی بوجہ اس کے کہ انہیں کتاب اللہ یاد کرائی گئی تھی اور وہ اس پر نگران تھے۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ بہت سے ایسے نبی گزرے ہیں جو کوئی نئی شریعت نہیں لائے بلکہ توریت کے مطابق ہی وہ فیصلہ کیا کرتے تھے اور ان کا کام توریت کو منسوخ کرنا نہ تھا بلکہ اس کی نگرانی اور حفاظت تھا۔ انجیل میں حضرت مسیح کا قول تو مشہور ہی ہے کہ میں توریت کو منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔ قرآن کریم میں تو حضرت ابراہیم کی نسبت بھی آتا ہے کہ وَاِنَّ مِنۡ شِیۡعَتِہٖ لَاِبۡرٰہِیۡمَ(37:84) یعنی حضرت نوح کی جماعت میں سے حضرت ابراہیم بھی تھے۔ پس گو ہر ایک نبی پر کلام اترتا ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارتوں اور نذر کے صحف ملتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ صاحب شریعت بھی ہوں بلکہ مفید نصائح اور امور غیبیہ اور ہدایت و معرفت کی باتیں ان پر الہام ہوتی ہیں پس قرآن کریم سے صاف ثابت ہے کہ ایسے نبی بہت سے گزرے ہیں جو نبی تھے لیکن صاحب شریعت نہ تھے اور ان کے شریعت نہ لانے کی وجہ سے ان کی نبوت میں کسی قسم کی کمی نہیں آگئی وہ بھی نبوت کے لحاظ سے ویسے ہی نبی تھے جیسے کہ دوسرے۔ گو بعض میں ایک نئی خصوصیت پیدا ہو گئی تھی۔ اور علاوہ اصلاح مفاسد کے کام کے شریعت کا پہنچانا بھی ان کے سپرد کیا گیا تھا اور اس کی وجہ اس کے سوا اور کوئی نہ تھی کہ جس زمانہ میں وہ مبعوث ہوئے اس وقت پہلی شریعت یا تو مٹ گئی تھی یا ایسی مسخ ہو گئی تھی کہ اس کی اصلاح فضول تھی۔ پس ان کو اللہ تعالیٰ نے نئی شریعت دے کر بھیجا۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:

”خدا کے احکام جو امر اور نہی کے متعلق ہوں وہ عبث طور پر نازل نہیں ہوتے بلکہ ضرورت کے وقت خدا کی نئی شریعت نازل ہوتی ہے یعنی ایسے زمانہ میں نئی شریعت نازل ہوتی ہے جبکہ نوع انسان پہلے زمانہ کی نسبت بد عقیدگی اور بدعملی میں بہت ترقی کر جائے اور پہلی کتاب میں ان کے لئے کافی ہدایتیں نہ ہوں“ (چشمۂ معرفت صفحہ ۷۲، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۸۰)

پس شریعت اسی وقت بھیجی جاتی ہے جب پہلی شریعت خراب ہو جائے۔ اور ہر ایک نبی کے لئے ضروری نہیں کہ وہ کوئی شریعت بھی لائے اور اگر ایسا ضروری ہوتا تو چاہئے تھا کہ وہ لوگ جو کوئی شریعت نہیں لائے۔ مثلاً یوسف، سلیمان، زکریا، یحیٰی علیہم السلام ان کو نبی نہ کہا جاتا۔ یا ناقص نبی ان کا نام رکھا جاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان کا نام بھی نبی ہی رکھتے ہیں اور آنحضرت ﷺ بھی ان کو نبی کے نام سے یاد فرماتے ہیں۔ اور حضرت مسیح موعود بھی فرماتے ہیں کہ:

”بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی صرف خدا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے“ (بدر نمبر ۹ جلد ۷، ۵ مارچ ۱۹۰۸ء)

پھر سارے قرآن کو غور سے پڑھ جاؤ ایک آیت بھی اس میں ایسی نہ ملے گی جس کا یہ مضمون ہو کہ نبی وہی ہو سکتا ہے جسے بلاواسطہ نبوت ملی ہو۔ پس نبی کے لئے یہ شرط لگانی کہ نبی وہی ہو سکتا ہے جو بلاواسطہ نبی بنا ہو۔ ایک ایسی بات ہے جس کا ہرگز کوئی ثبوت نہیں قرآن کریم میں تو یہ بھی نہیں لکھا کہ ایسا نبی کوئی نہیں گزرا جسے بالواسطہ نبوت ملی ہو یہ بات تو ہم صرف اپنی عقل سے معلوم کرتے ہیں ورنہ قرآن کریم نے صریح الفاظ میں ہرگز کہیں نہیں فرمایا کہ کل نبیوں کو نبوت بلاواسطہ ملی ہے اگر کہیں ہے تو اس آیت کو پیش کرو یہ بات تو ہم صرف اس بناء پر مانتے ہیں کہ چونکہ آنحضرت ﷺ سے پہلے کوئی ایسا نبی نہیں ہوا یا کوئی ایسی کتاب نہیں گزری جسے خاتم النبیین اور خاتم الکتب کہا جاسکے (اور اگر ایسا ہوتا تو پھر قرآن کریم کا نزول ہی کیوں ہوتا) اس لئے پہلے نبیوں کو نبوت براہِ راست ہی ملتی ہو گی نہ کسی دوسرے نبی کی اتباع سے۔ اور ضرور بعض انعامات ایسے ہوتے ہوں گے جو پہلے انبیاء یا پہلی کتب کی پیروی سے حاصل نہ ہو سکتے ہوں گے ورنہ جس نبی کی اتباع سے اور جس کتاب پر چل کر انسان نبی بن سکتا ہو اس نبی اور اس کتاب کے بعد کسی اور صاحبِ شریعت نبی کی ضرورت نہ رہتی اور وہی خاتم النبیین کہلاتا اور اس کی کتاب خاتم الکتب کہلانے کی مستحق ہوتی۔ پس پہلے نبیوں اور کتابوں کے بعد اور نبیوں کا مبعوث ہونا اور دیگر کتابوں کا نازل ہونا ثابت کرتا ہے کہ ابھی تک دین ایسا کامل نہ ہوا تھا کہ اس پر چل کر انسان اعلیٰ سے اعلیٰ انعامات حاصل کر سکے اور ضرور ہے کہ پہلے انبیاء انعامِ نبوت براہِ راست حاصل کرتے ہوں گے۔ اور یہ قیاس ایسے دلائل پر مبنی ہے کہ اس کا انکار نہیں ہو سکتا۔ لیکن جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے یہ ہمارا قیاس ہے اور قرآن کریم نے کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں فرمایا کہ پہلے کل انبیاء براہِ راست نبوت حاصل کرتے تھے یا یہ کہ نبی وہی ہو سکتا ہے جو براہِ راست نبوت پائے۔

اور عقلِ صحیح بھی کبھی اس لغو شرط کی اجازت نہیں دیتی کہ نبی وہی ہو سکتا ہے جو براہِ راست نبوت حاصل کرے۔ جب نبوت ایک شخص کو حاصل ہو گئی تو پھر اس قول کے کیا معنی ہوئے کہ یہ نبی تب ہی کہلا سکتا ہے جب اسے کسی اور نبی کی اتباع سے نبوت نہ ملے بلکہ براہِ راست نبوت ملے خدا تعالیٰ کے کام تو لغو نہیں ہوتے اور نہ اس کا جسمانی سلسلہ روحانی سلسلہ کے خلاف چلتا ہے۔ کیا اگر کوئی شخص یہ کہے کہ پانی صرف اسی کی پیاس بجھاتا ہے جو اسے خود کنویں سے نکال کر پیئے اور جو دوسرے کا نکالا ہوا پی لے اس کی پیاس نہیں بجھاتا۔ یا مثلاً یہ کہ کھانا اسی کا پیٹ بھرتا ہے جو خود پکا کر کھائے ورنہ دوسرے کا پکا کر دیا ہوا کھانا سیر نہیں کرتا تو کیا اس کی بات کو کوئی تسلیم کر سکتا ہے؟ پھر اس بات کو عقل سلیم کس طرح تسلیم کر سکتی ہے کہ نبی صرف وہی ہوتا ہے جو براہِ راست نبوت پائے ورنہ جس کو نبوت واسطہ سے ملی اس کی نبوت نبوت ہی نہیں اور جبکہ قرآن کریم جو خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور چھوٹے بڑے سب امور میں حَکَم ہے وہ اس مسئلہ میں خاموش ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو قیامت تک کے لئے دنیا کے ہادی ہیں ایسی شرط کوئی نہیں لگاتے تو اپنے پاس سے یہ شرط لگانے والا کہ نبی وہی ہو سکتا ہے جو براہِ راست شریعت لائے اپنے انجام پر غور کرے کہ ہدایت کے آ جانے کے بعد ضلالت پر قائم رہنا خطرناک نتائج کا پیدا کرنے والا ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ لغتِ عرب اور قرآن کریم کے محاورہ کے مطابق رسول اور نبی وہی ہوتے ہیں جو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پائیں اور مہتم بالشان تغیرات کی جو قوموں کی تباہی اور ان کی ترقی کے متعلق ہوں خبر دیں اور خدا تعالیٰ ان کا نام نبی رکھے اور جس انسان میں یہ بات پائی جائے وہ نبی ہے اور کوئی چیز اس کے نبی ہونے میں روک نہیں۔

اس امر کے سمجھ لینے کے بعد ہم حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت پر نظر ڈالتے ہیں تو آپ کی نبوت میں وہ تمام باتیں پائی جاتی ہیں جو نبی اللہ کے لئے لغت و قرآن و محاورہ انبیائے گذشتہ سے لازمی معلوم ہوتی ہیں یعنی آپ کو کثرت سے امور غیبیہ سے خبر دی گئی اور پھر اہم تغیرات کے متعلق دی گئی جو انذار و بشارت دونوں حصوں پر مشتمل تھی اور پھر یہ کہ آپ کا نام اللہ تعالیٰ نے نبی رکھا۔ پس آپ قرآن کریم و لغت و محاورہ انبیائے گذشتہ کی مطابق نبی تھے اور آپ کی صداقت کے ثابت ہو جانے کے بعد کوئی شخص آپ کی نبوت میں شک نہیں لا سکتا۔

اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ اگر قرآن کریم اور لغتِ عرب اور محاورہ انبیائے گذشتہ کے رو سے حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت ثابت ہے اور جو تعریف نبوت کی ہے وہ آپ پر صادق آتی ہے اور نفسِ نبوت کے لئے شرائطِ مذکورہ بالا سے زائد کی شرط کی اجازت نہیں تو آپ نے کیوں نبیوں کے ساتھ مختلف الفاظ لگا دیئے۔ ان الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ شاید بعض حالات میں بعض شخص نبی

نہیں کہلا سکتے۔ سو یاد رہے کہ ہر ایک چیز کی کچھ شرائط ہوتی ہیں اور کچھ خصائص ہوتی ہیں۔ خصائص بعض شاملہ ہوتی ہیں اور بعض غیر شاملہ۔ جب تک شرائط نہ پائی جائیں اس چیز کا وجود پایا جانا ناممکن ہوتا ہے مثلاً ایک انسان کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ حیوانِ ناطق ہو اگر کوئی شئے حیوانِ ناطق نہیں تو وہ انسان نہیں کہلا سکتی۔ اسی طرح نبی کے لئے بھی بعض شرائط ہیں اگر وہ شرائط کسی انسان میں پورے طور پر نہ پائی جائیں تو انسان نبی نہیں کہلا سکتا اور وہ شرائط میں پہلے بتا آیا ہوں یعنی (۱) وہ کثرت سے امورِ غیبیہ پر اطلاع پائے۔ (۲) وہ امور مہمّہ کے متعلق جو انذار و تبشیر کے متعلق ہوں خبر دے۔ (۳) اس کا نام خدا تعالیٰ نبی رکھے ۔ اور ان کے علاوہ اور کوئی شرط نہیں جو شرائط میں سے کہی جائے بلکہ اور خاصے ہیں یعنی ایسی باتیں ہیں جنہیں شرائط نہیں کہا جا سکتا۔ اور وہ نفسِ نبوت سے متعلق نہیں ہیں بلکہ بعض خاصہ غیر شاملہ ہیں اور ضروری نہیں کہ ہر نبی میں پائے جائیں۔ مثلاً یہ کہ شریعت لانا ایک خصوصیت ہے جو بعض نبیوں کو حاصل ہے سب کو نہیں۔ پس اسے نبوت کی شرائط میں سے نہیں قرار دے سکتے کیونکہ اس طرح بہت سے نبیوں کو نبوت سے معزول کرنا پڑے گا یہ ایک خصوصیت ہے جو بعض نبیوں کو حاصل تھی اسی طرح بعض اور ایسی خصوصیات ہوتی ہیں جو بعض حالات کی مجبوری کی وجہ سے پیدا ہو جاتی ہیں ورنہ وہ اصل میں کوئی شئے نہیں ہوتیں اور ان کو شرائط میں نہیں داخل کر سکتے مثلاً آنحضرت ﷺ سے پہلے نہ تو دنیا اس امر کے لئے تیار تھی کہ ایک نبی سب دنیا کے لئے آئے اور نہ کوئی انسان اس درجہ کو پہنچا تھا کہ اسے سب دنیا کی طرف نبی کر کے بھیج دیا جائے۔ پس ان دونوں حالات کے ماتحت آپ سے پہلے جس قدر انبیاء آئے وہ سب ایک خاص ملک اور خاص قوم کی طرف مبعوث ہو کر آئے۔ اب کوئی شخص اس بات کو دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر اعتراض نہیں کر سکتا کہ دیکھو سب نبی آپؐ سے پہلے ایک خاص قوم کی طرف آئے تھے۔ اس لئے نبی وہی ہو سکتا ہے جو ایک خاص قوم کی طرف آئے۔ ایسا نبی ہو ہی نہیں سکتا جو سب دنیا کی طرف آئے کیونکہ پہلے ایسا کوئی نبی نہیں گزرا۔ اور اگر کوئی شخص ایسا اعتراض کرے تو اسے احمق قرار دیا جائے گا۔ کہ اس نے اتنا غور نہیں کیا کہ نبوت کے ساتھ اس بات کا کیا تعلق ہے کہ سب دنیا کی طرف آئے یا ایک قوم کی طرف جیسے جیسے حالات تھے ان کے ماتحت انبیاء آتے رہے۔ جب ایک قوم کی طرف نبی آنا ضروری تھا تو ایک قوم کی طرف نبی آیا۔ اور جب سب دنیا کی طرف ضروری تھا تو سب دنیا کی طرف آیا پہلے نبیوں کی نظیر سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر ایک ویسا ہی ہونا چاہئے جیسے کہ پہلے نبی۔ کیونکہ جو چیز شرائطِ نبوت میں داخل نہیں وہ مختلف

حالات کے ماتحت بدل سکتی ہے۔ اسی طرح جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں آنحضرت سے پہلے کسی ایسے فرد کامل کی غیر موجودگی میں جو افاضہ نبوت کر سکتا ہو نبوت بلا واسطہ ملا کرتی تھی لیکن کوئی نادان اس بات کو دیکھ کر کہ پہلے سب انبیاء بلا واسطہ نبی تھے یہ نہیں کہہ سکتا کہ جو شخص بلا واسطہ نبوت نہ پائے وہ نبی ہی نہیں کیونکہ نبوت کے مفہوم میں بالواسطہ نبوت کا پانا یا بلا واسطہ پانا داخل ہی نہیں اور یہ نبوت کی شرائط سے باہر ہے ان حالات کی مجبوری کی وجہ سے اور خاتم النّبیّن کی غیر موجودگی کی وجہ سے بلا واسطہ نبوت کا افاضہ کرنا پڑتا تھا۔ جب حالات بدل گئے اور وہ فرد کامل پیدا ہو گیا جس کی اطاعت میں نبوت مل سکتی تھی تو نبوت کے حصول کا ذریعہ اسے قرار دیا گیا۔ پس ایسے نبی کو جس نے آنحضرت کی اطاعت اور غلامی سے نبوت حاصل کی ہو اس بناء پر کہ یہ پہلے نبیوں کی طرح براہ راست نبی نہیں بنا نبیوں کی جماعت میں شامل نہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص آنحضرت کی نبوت کا انکار اس بناء پر کر دے کہ آپ پہلے نبیوں کے خلاف سب جہان کی طرف نبی ہو کر کیوں آئے ہیں۔ غرض نبی ہونے کے ساتھ ان دونوں باتوں کا کوئی تعلق ہی نہیں اور یہ صرف انسان کے اپنے یا دنیا کے یا انسان کامل کے حالات کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ پس ان کے ہونے یا نہ ہونے سے نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا۔

جن لوگوں نے اس مضمون کو اچھی طرح سمجھ لیا ہو کہ کسی شئے کے لئے بعض شرائط ہوتی ہیں اور بعض اس کی خصوصیتیں ہوتی ہیں اور شرائط کے نہ پائے جانے سے وجود باطل ہو جاتا ہے لیکن بعض خصائص کے نہ پائے جانے سے جو خاص حالات سے تعلق رکھتی ہوں وجود باطل نہیں ہوتا۔ ان کے لئے یہ سمجھنا بالکل آسان ہو گا کہ جب کہا جائے کہ فلاں انسان میں فلاں خصوصیت ہے اور فلاں میں فلاں خصوصیت۔ تو اس کے یہ معنی نہ ہوں گے کہ وہ انسان نہیں بلکہ اس کے معنی صرف یہ ہوں گے کہ لوگوں کو اچھی طرح پتہ لگ جائے کہ یہ فلاں خصوصیت رکھتا ہے اور وہ فلاں خصوصیت نہیں رکھتا۔ مثلاً اگر یہ کہو کہ زید توپ خانہ کا افسر ہے اور بکر پیادہ کا۔ تو اس کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ زید افسر ہے تو بکر نہیں۔ بلکہ یہ مطلب ہو گا کہ زید کا تعلق توپ خانہ سے ہے اور بکر کا پیادہ فوج سے۔ یا مثلاً یہ کہ اگر کہا جائے کہ زید فارسی کا مدرّس ہے تو بکر عربی کا۔ تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ زید مدرّس ہے اور بکر نہیں ہے۔ بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ زید اور بکر دونوں مدرّس تو ہیں لیکن ایک فارسی پڑھاتا ہے اور ایک عربی۔ یا مثلاً یہ کہا جائے کہ زید نے پرائیویٹ بی اے پاس کیا ہے اور بکر نے کالج میں پڑھ کر۔ تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ زید تو بی اے ہے اور بکر بی اے نہیں۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ دونوں کے امتحان پاس کرنے کے طریقوں میں فرق ہے یا مثلاً یہ کہا جائے کہ زید نے بلا کسی کی سفارش کے نوکری کے لئے درخواست دی تھی اور اسے نوکری مل گئی۔ اور بکر فلاں شخص کی سفارش سے نوکر ہوا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ زید تو نوکر ہو گیا لیکن بکر نہیں ہوا بلکہ یہ مطلب ہے کہ نوکر تو دونوں ہیں لیکن دونوں کے نوکر ہونے کے طریق مختلف ہیں۔

مذکورہ بالا سوالات کے جو نتائج میں نے نکالے ہیں وہ کیوں درست ہیں اسی لئے کہ افسر کے لئے توپ خانہ کا یا پیادہ فوج کا افسر ہونا شرط نہیں بلکہ افسر ہونے کی شرائط اور ہیں۔ اور توپ خانہ یا پیادہ کا نام لینے سے ہماری مراد صرف ان کی خصوصیات بتانا تھی اور اسی لئے کہ مدرّس کے لئے فارسی یا عربی کا مدرّس ہونا شرط نہیں۔ جو لوگوں کے پڑھانے پر مقرر ہو وہ مدرّس ہے خواہ کسی علم کے پڑھانے پر لگا دیا جائے اور کسی کو فارسی یا عربی کا مدرّس کہنا صرف اس کی خصوصیت بتاتا ہے کہ اسے کیا خصوصیت حاصل ہے نہ یہ کہ وہ مدرّس ہے یا نہیں ہے۔ اسی طرح دوسری مثالوں کا حال ہے۔

اب نبوت کے مسئلہ کو لو۔ جس طرح میں نے پہلے مثالیں دیں ہیں۔ اسی طرح اب مختلف قسم کی نبوتوں کی مثالیں لو۔ کسی کو اگر کہیں کہ یہ صاحبِ شریعت نبی ہے۔ اور ایک دوسرے کو یہ کہیں کہ یہ صاحبِ شریعت تو نہیں لیکن اس نے نبوت بلا واسطہ حاصل کی ہے۔ اور ایک تیسرے کو کہیں کہ یہ نہ صاحبِ شریعت نبی ہے اور نہ اس نے نبوت بلا واسطہ حاصل کی ہے بلکہ اس نے نبوت کسی اور نبی کے فیض سے حاصل کی ہے تو ان فقرات کے یہ معنی نہیں کہ ان تین آدمیوں میں سے صرف پہلا آدمی نبی ہے یا پہلے دو نبی ہیں اور دوسرا اور تیسرا یا تیسرا نبی نہیں۔ بلکہ اس کا مطلب بھی ان فقرات کی طرح جو میں اوپر لکھ آیا ہوں یہی ہو گا کہ پہلا نبی ایک اور قسم کا نبی ہے دوسرا ایک اور قسم کا۔ اور تیسرا نبی ایک اور قسم کا۔ نہ یہ کہ ان تینوں میں سے کوئی ایک نبی ہے ہی نہیں۔ اور یہ نتیجہ کیوں درست ہو گا اس لئے کہ نبی کی شرائط میں سے یعنی ان باتوں میں سے جو اگر نہ پائی جائیں تو کوئی شخص نبی ہو ہی نہیں سکتا یہ باتیں نہیں ہیں بلکہ شرائط اور ہیں اور چونکہ وہ شرائط ان تینوں میں پائی جاتی ہیں اس لئے تینوں نبی کہلائیں گے گو ایک شرعی نبی ایک بلا واسطہ نبوت پانے والا نبی۔ اور ایک بالواسطہ نبوت پانے والا یا امتی نبی کہلائے گا۔ اس کی مثال ایک اور سمجھ لو کہ انسانوں میں مختلف قومیں ہیں ایک سید ایک مغل ایک پٹھان۔ جب ہم کہیں کہ فلاں شخص سید ہے فلاں مغل فلاں پٹھان تو اس کے یہ معنی نہیں کہ سید آدمی ہیں اور مغل۔ پٹھان آدمی نہیں بلکہ صرف یہ کہ ایک انسانوں میں سے اس قسم میں شامل ہے جو آنحضرتؐ کی اولاد ہونے کی خصوصیت رکھتی ہے اور ایک اس قسم میں شامل ہے جو وسط ایشیا میں بستی تھی اور ایک اس میں جو افغانستان میں رہتی ہے یا رہتی تھی اور انسان تو تینوں ہی ہیں اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ نے جو نبی کے ساتھ بعض لفظ لگائے ہیں تو اس کی یہ وجہ نہیں کہ آپ نے نبی کے لئے بعض نئی شرائط مقرر فرمائی ہیں بلکہ صرف یہ مطلب ہے کہ فلاں فلاں قسم کے نبی ہوتے ہیں اور میں فلاں قسم کے نبیوں میں شامل ہوں۔ اور جس طرح انسان کے ساتھ مغل یا سید یا پٹھان لگا دینے سے کوئی انسان انسانیت سے نہیں نکل جاتا اسی طرح نبی کے ساتھ تشریعی غیر تشریعی، غیر امتی اور غیر تشریعی امتی کے الفاظ بڑھا دینے سے یہ مراد نہیں کہ ان تینوں قسموں کے نبیوں میں سے بعض نبی ہیں اور بعض نبی نہیں ہیں۔

اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ جب قرآن کریم نے نبی کا لفظ عام طور پر بلا کسی زیادتی یا اظہارِ خصوصیت کے استعمال کیا ہے تو حضرت مسیح موعود نے کیوں بلا وجہ زائد الفاظ اس لفظ کے ساتھ شامل کر دیئے ہیں اگر قرآن کریم میں حقیقی یا مستقل یا تشریعی یا غیر امتی کے الفاظ انبیاء کے ساتھ نہیں بڑھائے گئے تو آپ نے کیوں بڑھائے۔ آپ کے ان الفاظ کے بڑھا دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ شاید اپنی نبوت کو نبوت خیال نہیں کرتے ہوں گے سو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کا قاعدہ ہے کہ وہ کوئی بات بلا وجہ نہیں بتاتا۔ اور اسی قدر بات کرتا ہے جس کی ضرورت ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب نبی نبی ہی ہیں اور بعض خصوصیات سے ان کی نبوت میں فرق نہیں آجاتا گو قسم میں فرق آجاتا ہے۔ اس لئے قرآن کریم نے ہر جگہ نبی کے ساتھ ان الفاظ کو استعمال نہیں کیا بلکہ صرف نبی کا لفظ استعمال فرمایا آنحضرت ﷺ کو ایک خاص خصوصیت حاصل تھی جو اور نبیوں کو حاصل نہ تھی اور اس میں آپ کی خاص عظمت کا اظہار تھا اور اس کا اظہار کر دینا ضروری تھا اس لئے آپ کے لئے نبی کا لفظ بولتے ہوئے خاتم النبیّن کا لفظ استعمال فرمایا۔ کیونکہ بغیر اس کے کہ قرآن کریم اس خصوصیت کو بتاتا اس کا معلوم ہونا ناممکن تھا اگر یہ لفظ نہ ہوتے تو آنحضرت ﷺ کو کس طرح معلوم ہوتا کہ مجھے ایسا عظیم الشان درجہ عطا کیا گیا ہے اور پھر آپ کی امت کو کیونکر معلوم ہوتا کہ ان کے نبی کی کیا شان ہے۔ پس چونکہ ختم نبوت کا مسئلہ بغیر اس کے کہ اللہ تعالیٰ خود بتائے کوئی انسان نہیں بتا سکتا۔ اس لئے اسے اللہ تعالیٰ نے بتا دیا۔ باقی خصوصیات کے ذکر کی چونکہ ضرورت نہ تھی ہر نبی خود اپنی حالت کو سمجھ سکتا تھا۔ اسے صرف نبی کے لفظ سے پکارا کہ لو ہم نے تم کو نبی بنا دیا۔ اب اگر اسے شریعت ملے گی تو وہ آپ سمجھ لے گا کہ میں صاحبِ شریعت ہوں اور اگر بلا واسطہ نبوت ملے گی تو بھی خود معلوم کر لے گا کہ نبوت بلا واسطہ ملی ہے اور اگر بالواسطہ ملے گی تو بھی اسے معلوم ہو جائے گا کہ مجھے یہ نبوت فلاں نبی کے فیضان سے ملی ہے اور لوگوں کو خود بتا دے گا کہ میں کیسا نبی ہوں چنانچہ اس کی میں ایک مثال دیتا ہوں۔ حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں صرف نبی کر کے پکارا ہے یہ کہیں نہیں فرمایا کہ یہ ایسے نبی تھے جو شریعتِ موسویہ کی پابندی کرنے والے تھے اور قرآن کریم کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو جو الہام ہوئے ان میں بھی صرف نبی کا لفظ تھا غیر تشریعی غیر امتی کے الفاظ نہ تھے اور نہ ان کی ضرورت تھی کیونکہ خود حضرت مسیح اپنی وحی سے معلوم کر سکتے تھے کہ مجھ پر شریعت نازل نہیں ہوتی بلکہ صرف توریت کے بعض پوشیدہ اسرار کا انکشاف ہو رہا ہے اس لئے وہ آپ اپنی نبوت کی قسم بتا سکتے تھے۔ اور انہوں نے ایسا ہی کیا جیسا کہ متی باب ۵ آیت ۱۷، ۱۸ میں لکھا ہے:

”یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے کو آیا۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ مٹے گا۔ جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے“ ان دونوں آیتوں کے ابتدائی الفاظ سے ثابت ہے کہ چونکہ لوگوں میں یہ غلطی پھیلنے کا خوف تھا یا یہ کہ پھیل گئی تھی کہ شاید مسیح نئی شریعت کا دعویٰ کرے گا۔ اور کوئی نئی شریعت لائے گا اس لئے حضرت مسیح نے اعلان کیا کہ میں ان نبیوں میں سے نہیں ہوں جو شریعت لاتے ہیں بلکہ ان میں سے ہوں جو پہلی شرائع کو پورا کرنے اور کمال تک پہنچانے کے لئے آتے ہیں اور بد عملوں کو نیک اعمال والے بنانے کے لئے آتے ہیں۔ اب اس تشریح کو سن کر کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ مسیح نے اپنی نبوت سے انکار کیا یا یہ کہ خدا تعالیٰ کے الہام پر اس نے زائد بات لگا دی بلکہ اس کا مطلب یہی ہے کہ اس نے بتایا ہے کہ میں کس قسم کا نبی ہوں اور چونکہ اس وقت تک صرف دو قسم کے نبی تھے ایک وہ جو صاحبِ شریعت ہوں اور ایک وہ جو غیر تشریعی غیر امتی ہوں اس لئے مسیح نے اپنے الفاظ میں لوگوں کو بتا دیا کہ میری نبوت سے یہ دھوکا نہ کھانا کہ یہ کوئی نئی شریعت لانے والی نبوت ہے بلکہ میں ایسا نبی ہوں جو پہلی شریعت کو پورا کرنے اور اس کی خدمت کرنے کے لئے آیا ہوں۔

اسی طرح ہمارے امام حضرت مسیح موعود کو بھی اللہ تعالیٰ نے صاف طور سے نبی اور رسول کہہ کر پکارا ہے اور اسی طرح پکارا ہے جس طرح حضرت موسیٰ و عیسیٰ کو قرآن کریم میں رسول کر کے پکارا ہے اور خود آنحضرت ﷺ نے بھی آپ کو اسی طرح نبی کے لفظ سے یاد فرمایا ہے جس طرح اور انبیاء کو۔ لیکن آپ کو معلوم تھا کہ میں کوئی نئی شریعت نہیں لایا۔ اور یہ بھی کہ میری نبوت حضرت نبی کریم ﷺ کے طفیل سے ہے۔ پس چونکہ لوگوں میں اس بدظنی کے پھیلنے کا خطرہ تھا یا یوں کہو کہ مخالف یہ خیال پھیلا رہے تھے کہ آپ کوئی جدید شریعت لائے ہیں یا یہ کہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت سے باہر ہو کر آپ نے دعوائے نبوت کیا ہے یا نبوت پائی ہے اس لئے ضرور تھا کہ آپ بھی لوگوں کو سمجھانے کے لئے اپنی نبوت کی قسم بتلا دیتے اور اعلان کر دیتے کہ میں کوئی نئی شریعت لانے والا نبی نہیں اور چونکہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی شخص براہِ راست نبی نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ آپ خاتم النبیین تھے اس لئے اب یہ بھی ضروری تھا کہ آپ اس بات کا بھی اعلان کرتے کہ میں پہلے انبیاء کے خلاف ایک نبی کی اتباع سے نبی ہوا ہوں اور مجھے جو کچھ ملا ہے آنحضرت ﷺ کے فیض سے ملا ہے۔ اگر آپ یہ نہ فرماتے تو لوگوں کو دھوکا لگنے کا خطرہ تھا اور اگر وہ آپ کے طریقِ عمل سے یہ معلوم کر لیتے کہ آپ نئی شریعت نہیں لائے تب بھی آپ کے بتائے بغیر لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہو سکتا تھا کہ آپ نے بلاواسطہ نبوت پائی ہے یا بالواسطہ اس لئے دور و نزدیک کے لوگوں کو واقف کرنے کے لئے آپ نے اعلان فرما دیا کہ میری نبوت تشریعی نبوت نہیں بلکہ میں قرآن کریم کا تابع ہوں اور یہ کہ مجھے بلاواسطہ نبوت نہیں ملی بلکہ آنحضرت ﷺ کے واسطہ سے آپ کی اطاعت سے آپ میں فناء ہو کر آپ کی غلامی سے ملی ہے۔ اور اس مطلب کے سمجھانے کے لئے آپ نے فقروں کی بجائے چند اصطلاحات مقرر فرمائیں تاکہ لوگ ایک لفظ میں بات کو سمجھ جائیں کہ آپ کی اس سے فلاں قسم کی نبوت مراد ہے اور یہ ہمارے مسیح کی پہلے مسیح پر ایک فضیلت ہے کہ اس نے ایک فقرہ میں ایک بات کو ادا کیا جس کا دہرانا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے مگر ہمارے مسیح نے اپنی جماعت کی آسانی کے لئے ایک ایک لفظ میں فقرات کا مضمون ادا کر کے خاص اصطلاحات قرار دیں تا جماعت کو اپنا مفہوم سمجھانے میں آسانی ہو ورنہ ان اصطلاحات کے بنانے سے یہ بات بتانا ہرگز مقصود نہیں تھا کہ آپ نبی نہیں بلکہ صرف اس قدر بتانا مدنظر تھا کہ آپ شریعتِ جدیدہ نہیں لائے اور یہ کہ آپ نے آنحضرت ﷺ کی اتباع سے نبوت پائی ہے ورنہ آپ نبی ہیں اور خدا نے اور اس کے رسولؐ نے انہی الفاظ میں آپ کو نبی کہا جن میں قرآن کریم اور احادیث میں پچھلے نبیوں کو نبی کہا گیا ہے افسوس ہے کہ جو اصطلاحات غیر احمدیوں کو سمجھانے کے لئے مسیح موعود نے بنائی تھیں ان کے معانی اور انکی مراد کو نہ سمجھ کر ہماری ہی جماعت کے بعض آدمی ابتلاء میں پڑ گئے۔ ورنہ ان اصطلاحات میں جن چیزوں کی نفی حضرت مسیح موعود نے اپنے نفس

سے کی ہے وہ شرائط نبوت میں داخل نہیں ہیں۔ اور ان کے بغیر بھی ایک انسان نبی بن سکتا ہے۔ بشرطیکہ اس میں سب شرائط نبوت پائی جائیں اور شرائط نبوت جن کا میں اوپر ذکر کر آیا ہوں سب کی سب مسیح موعود میں پائی جاتی ہیں۔ اور آپ کے سوا امت محمدیہ میں سے ایک شخص بھی آج تک ایسا نہیں گزرا جس نے ان تینوں شرطوں کو اپنے اندر جمع کیا ہو اور وہ نبی کہلا سکے۔ گو قرآن کریم احادیث نبویہ اور لغت عرب کی صریح شہادت کے بعد اس بات کا خیال کر لینا بالکل آسان ہے کہ حضرت مسیح موعود نے بھی نبوت کی وہی تعریف فرمائی ہوگی جو لغت نے بیان کی ہے جو قرآن کریم سے ثابت ہے جس پر احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شاہد ہیں لیکن چونکہ لوگوں کی طبائع مختلف ہیں اور بعض لوگ اس بات کو معلوم کرنا پسند کریں گے کہ حضرت مسیح موعود نے نبی کی کیا تعریف فرمائی ہے اس لئے میں ذیل میں چند حوالہ جات نقل کرتا ہوں جن سے معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیح موعود کے نزدیک بھی نبی کی تعریف وہی ہے جو میں اوپر قرآن کریم و احادیث اور لغت کے رو سے ثابت کر آیا ہوں اور ان شرائط سے آپ نے ایک شرط بھی نہیں بڑھائی اور نہ گھٹائی ہے جو میں لکھ چکا ہوں۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

(۱) نبی اس کو کہتے ہیں جو خدا کے الہام سے بکثرت آئندہ کی خبریں دے۔ (چشمۂ معرفت صفحہ ۱۸۰‘ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۸۹)

(۲) آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ و مخاطبہ رکھتے ہیں میں اسکی کثرت کا نام بموجب حکم الٰہی نبوت رکھتا ہوں“۔ (تتمہ حقیقتہ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۰۳)

(۳) خدا کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے یعنی ایسے مکالمات جن میں اکثر غیب کی خبریں دی گئی ہوں“ (چشمۂ معرفت صفحہ ۳۲۵‘ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۴۱)

(۴) ”جبکہ وہ مکالمہ و مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کے رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر امور غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے“ (الوصیت صفحہ ۱۳‘ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۱۱)

(۵) ”اور ایسے شخص میں ایک طرف تو خدا تعالیٰ کی ذاتی محبت ہوتی ہے اور دوسری طرف بنی نوع کی ہمدردی اور اصلاح کا بھی ایک عشق ہوتا ہے۔۔۔۔ ایسے لوگوں کو اصطلاح اسلام میں نبی اور رسول اور محدّث دِکھتے ہیں اور وہ خدا کے پاک مکالمات اور مخاطبات سے مشرف ہوتے ہیں۔ اور خوارق ان کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں۔ اور اکثر دعائیں ان کی قبول ہوتی ہیں“۔

(لیکچر سیالکوٹ صفحہ ۲۳، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۲۵)

یہ حوالہ تو بہت ہی صاف ہے اور وہ پہلی شرائطِ نبوت جن کے پائے جانے سے انسان نبی کہلانے کا مستحق ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کا نام نبی رکھتا ہے نہایت وضاحت سے اس میں مذکور ہیں۔ اول یعنی کثرتِ مکالمات و مخاطبات کا پایا جانا جس کی تشریح حوالہ نمبر ۳ میں حضرت مسیح موعود نے خود فرمادی ہے کہ اس سے مراد وہ مکالمات ہیں جن میں کثرت سے غیب کی خبریں پائی جائیں دوم ان اخبارِ غیبیہ کا انذار و تبشیر کا رنگ رکھنا جسے حضرت مسیح موعود نے خوارق کے نام سے موسوم فرمایا ہے۔ اور اس طرح ان لوگوں کی خوابوں یا الہاموں کو الگ کر دیا ہے۔ جنہیں بعض غیب کی خبریں تو بتائی جاتی ہیں لیکن وہ خوارق نہیں کہلا سکتیں۔ مثلاً کسی کو رؤیا ہو جائے کہ تیرے ہاں بیٹا پیدا ہو گا یا یہ کہ فلاں شخص مر جائے گا۔ اور یہ بات اسی طرح واقع بھی ہو جائے تو یہ رؤیا وحیِ نبوت کے ماتحت نہیں آئے گی جب تک ایسے آدمی کو اس قسم کے الہامات نہ ہوں جو اپنے اندر خارقِ عادت نشانات کی خبریں نہ رکھتے ہوں جس کا نام قرآن شریف نے تبشیر و انذار رکھا ہے یعنی ایک طرف تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے متبعین کی ترقیوں اور ان کے بڑھانے کے وعدے دے اور باوجود دنیا کی مخالفت کے وہ خارقِ عادت طور پر پورے ہوں اور دوسری طرف اس کے مخالفین اور منکروں کی ہلاکت اور تباہی کی خبریں دے جو باوجود مخالفوں کی کثرت اور قوت اور شوکت کے بڑے زور سے پوری ہوں اور جو اس کا مقابلہ کرے وہی انذاری پیشگوئیوں کے ماتحت ہلاک ہو جائے اور جو اس کی باتوں کو سچے دل سے قبول کرے اور راست بازی سے ان پر عمل کرے اس کی تبشیری پیشگوئیوں کے ماتحت اللہ تعالیٰ کی نصرت کا ہاتھ دیکھے اور یہ دونوں باتیں ظاہر واقعات و اسباب و علل کی مخالفت میں پوری ہوں اور ان میں ایک خارقِ عادت نصرتِ الٰہی کا نشان پایا جائے۔

غرض کہ اس حوالہ سے بڑے روشن طور سے ثابت ہے کہ اسلام کی اصطلاح میں نبی وہی ہوتا ہے جو محبت الٰہی میں فنا ہو کر شفقت علیٰ خلق اللہ کا سبق سیکھتا ہے اور پھر اس پر نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے۔ یعنی کثرت سے امورِ غیبیہ کی اطلاع اسے دی جاتی ہے اور وہ اپنے اندر انذار و تبشیر کا رنگ رکھتی ہیں اور خارقِ عادت طور پر ان کا ظہور ہوتا ہے اور عام ملہموں کے الہامات اہمیت میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

(۶) ”عربی و عبرانی زبان میں نبی کے یہ معنی ہیں کہ خدا سے الہام پا کر بکثرت ۷۔ پیشگوئی کرنے والا ہو اور بغیر کثرت کے یہ معنی تحقیق نہیں ہو سکتے“ (مکتوب مندرجہ اخبار عام ۲۶/مئی ۱۹۰۸ء)م

(۷) ”جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے بالضرور اس پر مطابق آیت فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ(72:27) کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا۔“۔ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۸) اس حوالہ سے ثابت ہے کہ قرآن کریم میں بھی نبی کی وہی تعریف کی گئی ہے جو میں اوپر لکھ آیا ہوں اور حضرت مسیح موعود بھی اسی آیت سے استدلال فرماتے ہیں۔ جس سے میں نے استدلال کیا تھا۔

(۸) ”ہم خدا کے ان کلمات کو جو نبوت یعنی پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں نبوت کے اسم سے موسوم کرتے ہیں اور ایسا شخص جس کو بکثرت ایسی پیشگوئیاں بذریعہ وحی دی جائیں اس کا نام ہم نبی رکھتے ہیں“۔

(۹) ”یہ مکالمہ الٰہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔ اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا یقینی اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اسکی روشنی ہے ایسا ہی میں اس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر...... اور چونکہ میرے نزدیک نبی اسی کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی و قطعی بکثرت نازل ہو جو غیب پر مشتمل ہو۔ اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا۔ مگر بغیر شریعت کے۔ (تجلیات الٰہیہ صفحہ ۲۰‘ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۱۲)

اس حوالہ سے بھی صاف ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے نزدیک نبی اسی کو کہتے ہیں (یعنی نبی کی یہی تعریف ہے اور کوئی تعریف نہیں جس کی بناء پر کسی ایسے نبی کی نبوت کا انکار کر دیا جائے جس پر یہ تعریف صادق آتی ہو) (۱) جس پر خدا کا کلام یقینی اور قطعی طور پر بکثرت نازل ہو (۲) جو غیب پر مشتمل ہو (۳) اسی لئے خدا نے آپ کا نام نبی رکھا اور یہی وہ تعریف ہے جو میں اس سے پہلے نبی کی کر آیا ہوں (۱) یعنی کثرت سے امور غیبیہ اس پر ظاہر ہوں (۲) جو انذار و تبشیر کا پہلو رکھتے ہوں (۳) خدائے تعالیٰ نے اس کا نام نبی رکھے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اس جگہ انذار و تبشیر کی جگہ یقینی اور قطعی کے الفاظ رکھے ہیں لیکن ان کا مطلب وہی ہے اس لئے کہ یقینی اور قطعی وحی وہی ہوتی ہے جو تبشیر وانذار پر مشتمل ہو دوسری کوئی وحی یا الہام یا رؤیا ایسی یقینی اور قطعی نہیں کہی جا سکتی کہ اس پر قرآن کریم کی طرح ایمان رکھا جائے اس کی یہ وجہ ہے کہ اگر کسی انسان کو الہام یا رؤیا میں بتایا جائے کہ تیرے ہاں ایک بیٹا ہو گا اور وہ ہو جائے۔ یا اسے بتایا جائے کہ فلاں شخص مر جائے گا اور وہ مر جائے تو ظن غالب کہتا ہے کہ وہ رؤیا یا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگی۔ لیکن یہ امکان بھی ضرور موجود ہے کہ شاید حدیث النفس ہی ہو یا یہ کہ شیطانی خواب ہو کہ ایسی خوابیں ہی گو اکثر غلط ہوتی ہیں لیکن کبھی درست بھی ہو جاتی ہیں لیکن وہ وحی جس میں تبشیر و انذار کا پہلو ساتھ ہوتا ہے یقینی ہوتی ہیں اس لئے کہ حدیث النفس اور شیطان کو قدرت اور طاقت حاصل نہیں ہے۔ انسان کے خیالات یا شیطانی وساوس انسان کی نظروں کے سامنے ایک نقشہ کھینچ سکتے ہیں جو کبھی پورا بھی ہو جائے لیکن وہ قدرت و جلال کا اظہار نہیں کر سکتے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی قادرانہ قضاء کا رنگ نہیں پیدا ہو سکتا لیکن انبیاء کی وحی انذار و تبشیر کا پہلو اپنے ساتھ رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی معرفت دنیا کو بتاتا ہے کہ اب دنیا میں کوئی پناہ کی جگہ نہیں سوائے اس کے کہ اس انسان کی اطاعت کا جُوا اپنی گردن پر رکھ لو اور اگر دنیا اس کی باتوں کو نہ مانے گی تو اسے تباہ کر دیا جائے گا اور جو مانیں گے ان کی نصرت و مدد ہوگی اور خدائے تعالیٰ اس وقت فرماتا ہے کہ ”دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا“ غرض کہ قادرانہ رنگ میں وہ شخص غیب کی خبریں دنیا کو سناتا ہے اور وقت پر ویسا ہی ہو جاتا ہے اور یہ ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ اس کی وحی یقینی اور قطعی ہے اور اس پر ایمان لانا ایسا ہی فرض ہوتا ہے جیسا اور دوسری الہامی کتابوں پر۔ اور اس پر ایمان نہ لانا یا اس میں شک کرنا ایسا ہی کفر ہوتا ہے جیسے اور کتابوں پر ایمان نہ لانا یا ان میں شک کرنا۔ کیونکہ شیطان کو پراگندہ خیالات کو قادرانہ کام دکھانے کی طاقت نہیں جیسے کہ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ ”یہ مکالمہ الٰہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے“ (دیکھو تجلیات الٰہیہ صفحہ ۲۰) غرض کہ وحی کا ایسا یقینی اور قطعی ہونا اسی صورت میں ممکن ہے جبکہ اس میں انذار و تبشیر کا رنگ پایا جائے پس حضرت مسیح موعودؑ کے نبی کی وحی کے لئے یقینی اور قطعی ہونے کی شرط لگانے کے یہی اور صرف یہی معنی ہیں کہ اس میں انذار و تبشیر کا رنگ ہو اور مذکورہ بالا حوالہ میں وہ تینوں شرائط نبوت بیان کی گئی ہیں جو میں نے لغت عرب اور قرآن کریم سے ثابت کی تھیں یعنی (۱) کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پانا (۲) اس کا یقینی اور قطعی ہوتا یعنی عظیم الشان اخبار پر جو انذار و تبشیر کا پہلو رکھتی ہوں مشتمل ہونا (۳) خدائے تعالیٰ کا نبی کے نام سے پکارنا۔ اور حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ نبی اسی شخص کو کہتے ہیں نہ کسی اور شخص کو جس میں یہ تینوں باتیں پائی جائیں۔

گو میں نے بعض حوالوں میں سے فرداً فرداً تینوں شرائط نبوت یا ان میں سے دو دو شرائط بھی ثابت کی ہیں لیکن ایک دفعہ سب پر نظر مار کر دیکھ لو حضرت مسیح موعودؑ کے نزدیک نبی کے لئے وہی شرائط ہیں جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ یہی نہیں فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک نبی کی یہ شرائط ہیں بلکہ حوالہ نمبر ۲ میں اس تعریف کی نسبت یہ فرماتے ہیں کہ یہ تعریف میں نے خدا کے حکم کے ماتحت سمجھی ہے اور حوالہ نمبر ۳ میں فرماتے ہیں کہ خدا کی اصطلاح کے مطابق بھی نبی اسی کو کہتے ہیں جس میں یہ باتیں پائی جاتی ہوں اور حوالہ نمبر ۴ میں سب نبیوں کا اس تعریف پر اتفاق ظاہر فرماتے ہیں پھر حوالہ نمبر ۵ میں اسلام کی اصطلاح کے مطابق بھی نبی اسی کو قرار دیتے ہیں پھر حوالہ نمبر ۶ میں لغت کو بھی اس تعریف سے متفق بتاتے ہیں اور پھر حوالہ نمبر ۷ میں آپ نے قرآن کریم کے مطابق جو تعریف نبی کی بیان فرمائی ہے وہ بھی اسی کے مطابق ہے پس ان حوالہ جات کو ملا کر یہی معلوم ہوتا ہے کہ جو تعریف نبی کی میں نے لغت و قرآن سے سمجھ کر اوپر بیان کی تھی وہی حضرت صاحب کے خیال میں درست ہے وہی تعریف خدا تعالیٰ کے نزدیک درست ہے وہی جملہ انبیاء کے نزدیک درست ہے وہی اسلام بیان فرماتا ہے وہی قرآن کریم ظاہر فرماتا ہے پس اب اس تعریف میں کیا شک ہو سکتا ہے اور مندرجہ بالا قاضیوں کے علاوہ اور کون سا قاضی ہے جس کا فیصلہ اس قضیہ میں فیصلہ کن ہو سکتا ہے؟ جبکہ لغت جو ہمارے خیالات کے اظہار کا واحد ذریعہ ہے اور خدائے تعالیٰ جو نبیوں کا بھیجنے والا اور قرآن کریم جو اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کے معلوم کرنے کا یقینی ذریعہ ہے اور انبیاء جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں اور اس کے کلام کے معنی سمجھنے کی سب سے زیادہ لیاقت رکھتے ہیں اور اس زمانہ کا مامور اور مسیح موعود اور حَکَم و عدل جسے اس وقت تمام جھگڑوں کے فیصلہ کرنے کے لئے خدا نے بھیجا ہے یہ سب نبی کی مذکورہ بالا تعریف پر متفق ہیں تو بتاؤ کہ اب اس تعریف کے قبول کرنے میں کسی مؤمن کو کیا تردد ہو سکتا ہے جاہل اور نادان انسان نبی کی جو چاہے تعریف کرے اور اپنے پاس سے انبیاء کی بعض تعریفیں قرار دے اور وہ کام جو خدائے تعالیٰ کا ہے اسے اپنے ہاتھ میں لے لے لیکن وہ شخص جس کا دل نور ایمان سے بکلی محروم نہیں ہوا جس کے دل میں محبت الٰہی کی چنگاری ابھی تک سلگ رہی ہے جس کی سعادت اور رُشد پر موت نہیں آگئی اسے اس تعریف کے قبول کرنے میں کیا عذر ہو سکتا ہے۔

شاید اس جگہ کوئی شخص کہہ دے کہ بیشک نبی کی یہی تعریف ہے جو تم نے اوپر بیان کی ہے لیکن یہ آج کل کی تعریف ہے قرآن کریم سے پہلے نبیوں کی یہ تعریف نہیں بلکہ ان کے نبی کہلانے کی اور وجہ ہے جو اس کے خلاف ہے تو اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ دین کو کھیل اور تماشا مت بناؤ۔ اگر پہلے نبیوں کو کسی اور وجہ سے نبی کہتے تھے تو ہمارے سامنے وہ وجہ پیش کرو اور قرآن کریم سے ثابت کرو کہ مذکورہ بالا وجوہات کی بناء پر نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے ان کو نبی کہا جاتا تھا اگر تم ایسا نہ کر سکو اور یقیناً نہیں کر سکتے تو خدائے تعالیٰ سے ڈرو کہ جو شخص بلادلیل کسی دینی بات پر اڑ جاتا ہے اور اپنے فعل سے دین میں رخنہ ڈالتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت کے نیچے ہے اور اسے چاہئے کہ جلد توبہ کرے۔

دوسرا جواب اس شبہ کا یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ مذکورہ بالا شرائط کے علاوہ کسی اور وجہ سے پہلے نبیوں کا نبی کہلانا قرآن کریم اور احادیث سے ثابت نہیں پس کسی کا حق نہیں کہ ایسا دعویٰ کرے بلکہ حضرت مسیح موعود نے خود ہی اس امر کا فیصلہ کر دیا ہے اور فرماتے ہیں ”منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے“ (ایک غلطی کا ازالہ) اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ اور آپ سے پہلے جس قدر انبیاء گزرے ہیں ان کے نبی کہلانے کی بھی یہی وجہ تھی کہ کثرت مِلے سے امور غیبیہ پر ان کو اطلاع دی جاتی تھی پس جس شخص میں یہ بات پائی جائے گی وہ بلحاظ نبوت کے ویسا ہی نبی ہو گا جیسے پہلے بزرگ تھے گو مراتب کے لحاظ سے یا بعض خصوصیتوں کے لحاظ سے وہ اور قسم کا نبی ہو مثلاً ہر آدمی آدمی تو ہے لیکن ایک پڑھا ہوا آدمی ایک خصوصیت رکھتا ہے جو سب دنیا کے آدمی نہیں رکھتے اور گو آدمیت کے لحاظ سے وہ شخص جو پڑھا ہوا ہے اور وہ جو نہیں پڑھا ہوا ایک سے ہیں کیونکہ پڑھنا آدمی ہونے کی شرط نہیں ہاں پڑھے ہوئے آدمی کو ایک فضیلت ہے جو ان پڑھ کو حاصل نہیں یا ایک خصوصیت ہے جس میں ان پڑھ اس کا شریک نہیں لیکن آدمیت کے لحاظ سے دونوں ایک سے آدمی ہیں۔ بعینہٖ اسی طرح وہ شخص جس میں آج وہ شرائطِ نبوت جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں پائی جائیں وہ نبی کہلائے گا اور نبی ہو گا اور نبوت کے لحاظ سے ایسا ہی نبی ہو گا جیسے کہ پہلے نبی تھے کیونکہ پہلے نبی بھی اسی شرط یا شرائط کے پائے جانے کی وجہ سے نبی کہلاتے تھے گو ممکن ہے کہ بعض پہلے نبی اس شخص پر کوئی فضیلت رکھتے ہوں یا کوئی ایسی خصوصیت رکھتے ہوں جو اس میں نہیں پائی جاتی۔

اب میں نبوت کی ایک جامع مانع تعریف کر چکا ہوں جس تعریف کی بناء پر کسی نبی کی نبوت سے انکار نہیں کرنا پڑتا اور سب نبی اس تعریف میں جمع ہو جاتے ہیں اسی طرح یہ تعریف ایسی ہے کہ کوئی غیر نبی اس تعریف کے ہوتے ہوئے نبیوں کے گروہ میں ناجائز طور سے شریک نہیں ہو سکتا۔ پس یہ تعریف جامع اور مانع ہے اور جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں خدائے تعالیٰ نے‘ قرآن کریم نے‘ کل نبیوں نے‘ اسلام نے‘ حضرت مسیح موعودؑ نے اور لغت نے نبی کی یہی تعریف کی ہے اور جس پر یہ تعریف صادق آئے اس کے نبی ہونے میں کوئی شک نہیں اور جو اس تعریف کے صادق آنے کے باوجود پھر بھی ایک شخص کی نبوت کا انکار کرتا ہے وہ نادانی کے انتہائی نقطہ کو پہنچا ہوا ہے۔

میں اس جگہ ایک اور شبہ کا ازالہ کر دینا بھی ضروری خیال کرتا ہوں اور وہ یہ کہ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ جو کچھ تم نے لکھا ہے اس سے یہ تو ثابت ہو جاتا ہے کہ نبی کے لئے وہ شرائط ہیں جو تم نے اوپر بیان کیں لیکن یہ کیونکر ثابت ہو کہ ان کے علاوہ اور کوئی شرط نہیں۔ ممکن ہے کہ شریعت کا لانا یا بلا واسطہ نبوت کا ملنا بھی نبی ہونے کے لئے شرط ہو۔ لیکن یہ شبہ بھی پہلے شبہ کی طرح بے بنیاد ہو گا اس لئے کہ جو تعریف نبی کی میں اوپر کر چکا ہوں اس سے ثابت ہے کہ امور غیبیہ پر کثرت سے اطلاع پانا غیر نبی میں پایا ہی نہیں جاتا پس جب ایک شخص کی نسبت ثابت ہو جائے کہ اسے کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی گئی ہے تو وہ بہرحال نبی ہو گا کیونکہ یہ بات مطابق ارشاد الٰہی غیر نبی میں پائی ہی نہیں جاتی جس سے معلوم ہوا کہ یہ شرط جہاں پائی جائے (مع اس تفصیل کے جو اس کے ساتھ مذکور ہوئی) وہاں نبوت ضرور پائی جائے گی۔ پس جس شخص کو اظہار علی الغیب کا رتبہ ملے اسے کسی اور بناء پر نبیوں کی جماعت سے خارج نہیں کر سکتے۔

دوسرے یہ کہ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ ”نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ــــــــــــــــ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۰۶) پھر فرماتے ہیں ”نبی کا شارع ہونا شرط نہیں یہ صرف موہبت ہے جس سے امور غیبیہ کھلتے ہیں“ (ایک غلطی کا ازالہ) اسی طرح شہادت القرآن صفحہ ۴۴ میں فرماتے ہیں ”بعد توریت کے صدہا ایسے نبی بنی اسرائیل میں سے آئے کہ کوئی نئی کتاب ان کے ساتھ نہیں تھی بلکہ ان انبیاء کے ظہور کے مطالب یہ ہوتے تھے کہ تا ان کے موجودہ زمانہ میں جو لوگ تعلیم توریت سے دور پڑ گئے ہوں پھر ان کو توریت کے اصلی منشاء کی طرف کھینچیں“ اسی طرح فرماتے ہیں۔ ”بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی صرف خدا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے“ (بدر ۵؍ مارچ ۱۹۰۸ء) ان تینوں حوالوں سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے نزدیک نبی کے لئے یہ شرط نہیں ہے کہ کوئی شریعت بھی لائے بلکہ آپ کے نزدیک بنی اسرائیل میں ایسے کئی نبی گزرے ہیں جو شریعت نہیں لائے تھے۔ اسی طرح یہ بھی ظاہر ہے کہ نبی کے لئے بلا واسطہ نبوت پانا بھی کوئی شرط نہیں۔ پس نبی وہی ہے جو مذکورہ بالا شرائط کے مطابق نبی ہو جو خدا اور اس کے رسولوں کی بیان کردہ شرائط ہیں اور کسی کے نبی ہونے کے لئے جو ایک آسمانی عہدہ اور خطاب ہے اتنا ہی کافی ہے کہ اس میں وہ شرائط پائی جائیں نہ یہ کہ دنیا کے ہر فرد بشر کی خود ساختہ تعریفِ نبوت کے مطابق بھی وہ نبی ہو۔

نبوت کی تعریف اور اس کی بعض خصوصیات کا ذکر کرنے کے بعد میں جناب مولوی صاحب کے ان حوالہ جات کی طرف توجہ کرتا ہوں۔ جن سے آپ نے یہ ثابت فرمایا ہے کہ مسیح موعود کی نبوت نبیوں کی نبوت نہ تھی بلکہ محدثوں کی سی نبوت تھی۔ لیکن اس سے پہلے پھر ایک دفعہ پچھلی تمہیدوں کا خلاصہ بیان کر دیتا ہوں۔ کیونکہ اگر کوئی شخص اس تمہید کو جو میں نے اوپر لکھی ہے اچھی طرح سمجھ لے تو مسئلہ نبوت کا سمجھنا اس کے لئے ایسا آسان ہو جائے گا جیسے ٹھنڈے پانی کا حلق سے اترنا۔ اور نہ صرف یہ کہ وہی حوالہ جات حل ہو جائیں گے جو جناب مولوی محمد علی صاحب نے اپنے رسالہ میں دیئے ہیں بلکہ جو شخص ان باتوں کو یاد کر لے۔ میں اللہ تعالیٰ سے امید کرتا ہوں کہ اگر کوئی نئے سے نیا اور مشکل سے مشکل حوالہ بھی اس کے سامنے پیش کیا جائے گا تو اس کے لئے اس کا حل کرنا مشکل نہ ہو گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ خلاصہ یہ کہ میں اب تک یہ بتا چکا ہوں کہ نبی لغتِ عرب اور قرآنِ کریم کے رو سے اسے کہتے ہیں جو (۱) اللہ تعالیٰ سے کثرت سے امورِ غیبیہ کی اطلاع پائے (۲) جن غیب کی خبروں کی اطلاع اسے دی جائے وہ نہایت عظیم الشان قومی تباہیوں یا ترقیوں پر مشتمل ہوں (۳) یہ کہ خدا تعالیٰ نے اس کا نام نبی رکھا ہو۔ اور جس شخص میں یہ تین باتیں پائی جائیں وہ ضرور نبی ہو گا۔ ہاں اس بات سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ شرائطِ نبوت کے علاوہ بعض خصوصیات بھی ہیں۔ جن کی وجہ سے نبیوں کی کئی اقسام ہو جاتی ہیں۔ لیکن سب نبی ہی ہوتے ہیں۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ بعض باتوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض نبیوں میں پائی جاتی ہیں اور بعض میں نہیں۔ جس سے معلوم ہوا کہ ان کے بغیر بھی انسان نبی ہو سکتا ہے۔ اور یہ بھی کہ جن باتوں کا مفہوم نبوت سے کوئی تعلق نہیں مثلاً یہ کہ بلا واسطہ نبی ہونا۔ اگر وہ سارے نبیوں میں پائی جائیں لیکن ایک شخص میں نہ پائی جائیں۔ تب بھی اس کی نبوت میں کوئی نقص لازم نہیں آتا۔ اور آخر میں یہ کہ اگر خصوصیات کے اظہار کے لئے بعض الفاظ زائد کر دیئے جائیں۔ تو ان سے یہ مطلب نہیں ہوا کرتا کہ نفس درجہ میں کوئی فرق آگیا بلکہ صرف خصوصیت بتانی مد نظر ہوتی ہے اور ان باتوں کی تائید کے لئے میں نے حضرت مسیح موعود کی کتابوں سے بعض حوالے بھی نقل کر دیئے ہیں جن سے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نزدیک بھی نبی کی وہی تعریف ہے جو میں نے قرآن کریم اور لغتِ عرب سے استنباط کر کے لکھی ہے۔ اور آپ اسی تعریف کو خدا تعالیٰ کی تعریف، قرآن کریم کی تعریف، نبیوں کی تعریف، اسلام کی تعریف، لغت کی تعریف قرار دیتے ہیں۔ اور یہ تعریف خدا کے حکم کے مطابق کرتے ہیں اور چونکہ پہلے نہایت وسعت سے میں یہ سب مضمون بیان کر آیا ہوں۔ اس لئے اس جگہ ان ہی مختصر الفاظ میں ان کا ذکر کر دینا کافی ہو گا۔ اور جو شخص ان باتوں کو سمجھ لے گا اس کے لئے نبوت کا مسئلہ بالکل آسان ہو جائے گا۔

اب میں مولوی صاحب کے وہ حوالے نقل کرتا ہوں۔ جن سے ان کے خیال میں حضرت مسیح موعود کی نبوت نبیوں کی سی نبوت نہیں رہتی بلکہ محدثین کی سی نبوت ثابت ہوتی ہے اور جن حوالوں سے انہوں نے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ حضرت مسیح موعود کا دعویٰ شروع سے ایک ہی قسم کی نبوت کا رہا ہے کبھی تبدیل نہیں ہوا۔ کیونکہ آپ نے جو کچھ توضیح مرام میں جو آپ کی دعویٰ مسیحیت کے بعد پہلی کتاب ہے۔ لکھا ہے وہی آخر کی کتابوں میں لکھا ہے۔ اس بات کے متعلق تو میں پہلے مفصل جواب دے آیا ہوں کہ حضرت صاحب نے اپنے مذہب میں کوئی تبدیلی کی ہے یا نہیں۔ ہاں اس بات کا جواب کہ وہ کیا تبدیلی تھی آگے چل کر انشاء اللہ دوں گا۔ بہرحال جناب مولوی صاحب حوالہ جات پیش کرتے ہیں:

(صفحہ ۴ پر کتاب توضیح مرام سے)

”ماسوا اس کے اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدثللہ ہو کر آیا ہے۔ اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے؂۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔ امورِ غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں۔ اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخلِ شیطان سے منزّہ کیا جاتا ہے اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے۔ اور بعینہٖ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں

بآوازِ بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجبِ سزا ٹھہرتا ہے۔ اور نبوت کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ امورِ متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں۔ اور اگر یہ عذر پیش ہو کہ بابِ نبوت مسدود ہے۔ اور وحی جو انبیاء پر نازل ہوتی ہے، اِس پر مہر لگ چکی ہے میں کہتا ہوں کہ نہ مِن کُلِّ الْوُجُوْہِ بابِ نبوت مسدود ہوا ہے اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے بلکہ جزئی طور پر وحی اور نبوت کا اس امتِ مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے۔ مگر اس بات کو بحضورِ دل یاد رکھنا چاہئے کہ یہ نبوت جس کا ہمیشہ کے لئے سلسلہ جاری رہے گا۔ نبوتِ تامہ نہیں ہے بلکہ جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں۔ وہ صرف ایک جزئی ۱؎ نبوت ہے، جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کے اسم سے موسوم ہے۔ جو انسانِ کامل کے اقتداء سے ملتی ہے۔ جو مستجمع جمیع کمالاتِ نبوتِ تامہ ہے۔ یعنی ذات ستودہ صفات حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ ﷺ فَاعْلَمْ اَرْ شَدَكَ اللّٰهُ تَعَالٰى اَنَّ النَّبِيَّ مُحَدَّثٌ وَالْمُحَدَّثَ نَبِيٌّ بِاعْتِبَارِ حُصُوْلِ نَوْعٍ مِّنْ اَنْوَاعِ النُّبُوَّةِ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ اَىْ لَمْ يَبْقَ مِنْ اَنْوَاعِ النُّبُوَّةِ إِلَّا نَوْعٌ وَاحِدٌ وَّ هِيَ الْمُبَشِّرَاتُ .... بَلِ الْحَدِيْثُ يَدُلُّ عَلَىٰ اَنَّ النُّبُوَّةَ التَّامَّةَ الْحَامِلَةَ لِوَحْيِ الشَّرِيعَةِ قَدِ انْقَطَعَتْ وَلٰكِنَّ النُّبُوَّةَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ فَهِيَ بَاقِيَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا انْقِطَاعَ لَهَا اَبَدًا .... حَاصِلُ كَلَامِنَا اَنَّ اَبْوَابَ النُّبُوَّةِ الْجُزْئِيَّةِ مَفْتُوحَةٌ اَبَدًا وَ لَيْسَ فِىْ هٰذَا النَّوْعِ اِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ وَالْمُنْذِرَاتُ مِنَ الْاُمُوْرِ الْمُغَيَّبَةِ اَوِ اللَّطَائِفِ الْقُرْاٰنِيَّةِ وَالْعُلُوْمِ اللَّدُنِّيَّةِ وَ اَمَّا النُّبُوَّةُ الَّتِي تَامَّةٌ كَامِلَةٌ جَامِعَةٌ لِجَمِيْعِ الْكَمَالَاتِ الْوَحْيِ فَقَدْ اٰمَنَّا بِانْقِطَاعِهَا “ (روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۶۰-۶۱۔ توضیح مرام صفحہ ۱۲-۱۳)

عربی حصہ کا ترجمہ یہ ہے: جان لے ۔ اللہ تعالیٰ تجھے ہدایت دے کہ نبی محدث ہوتا ہے اور محدث نبی ہوتا ہے اس اعتبار سے کہ اسے نبوت کی قسموں سے ایک قسم حاصل ہوتی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سوائے مبشرات کے نبوت سے کچھ باقی نہیں رہا۔ یعنی نبوت کے انواع میں سے صرف ایک نوع باقی رہ گئی ہے۔ اور وہ مبشرات ہیں۔...بلکہ حدیث دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ نبوت ۲؎ تامہ جو وحی شریعت کی حامل ہوتی ہے۔ وہ منقطع ہو چکی ہے۔ لیکن وہ نبوت کہ جس میں سوائے مبشرات کے کچھ بھی نہیں۔ وہ قیامت کے دن تک باقی ہے۔ اور کبھی منقطع نہیں ہوگی۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ جزئی نبوت کے دروازے ہمیشہ کے لئے کھلے ہیں۔ اور اس نوع میں کچھ نہیں سوائے مبشرات اور مندرات کے جو امور غیبیہ سے ہوتے ہیں۔ یا قرآنی لطائف اور علوم لدنیہ کے اور وہ نبوت جو تامہ ہے کاملہ ہے۔ اور جس میں وحی کے سب قسم کے کمالات جمع ہوتے ہیں۔ ہم اس کے منقطع ہونے پر ایمان لاتے ہیں ۔

صفحہ ۹ پر کتاب چشمۂ معرفت سے ”ہم خدا کے ان کلمات کو جو نبوت یعنی پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں نبوت کے اسم سے موسوم کرتے ہیں۔ اور ایسا شخص جس کو بکثرت ایسی پیشگوئیاں بذریعہ وحی دی جائیں۔ یعنی اس قدر کہ اس کے زمانہ میں اس کی کوئی نظیر نہ ہو۔ اس کا نام ہم نبی رکھتے ہیں کیونکہ نبی اس کو کہتے ہیں جو خدا کے الہام سے بکثرت آئندہ کی خبریں دے۔ مگر ہمارے مخالف مسلمان مکالمہ الہیہ کے قائل ہیں لیکن اپنی نادانی سے ایسے مکالمات کو جو بکثرت پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں نبوت کے نام سے موسوم نہیں کرتے۔“ (روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۸۹- چشمہ معرفت صفحہ ۱۸۰ - ۱۸۱)

”قرآن شریف مکالمہ الہیہ کے سلسلہ کو بند نہیں کرتا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے یُلۡقِی الرُّوۡحَ مِنۡ اَمۡرِہٖ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ(40:16) یعنی خدا جس پر چاہتا ہے اپنا کلام نازل کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ لَہُمُ الۡبُشۡرٰی فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا(10:65) یعنی مومنوں کے لئے مبشرات الہام باقی رہ گئے ہیں گو شریعت ختم ہوگئی ہے کیونکہ عمر دنیا ختم ہونے کو ہے پس خدا کا کلام بشارتوں کے رنگ میں قیامت تک باقی ہے۔“ (روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۸۸ - چشمۂ معرفت ص ۱۸ حاشیہ)

تمام ۳؎ نبوتیں اس پر ختم ہیں۔۔۔ مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں یعنی وہ نبوت جو اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اس کے چراغ میں سے نور لیتی ہے۔ (روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۴۰)

”اور خدا کا پیار یہ ہے کہ۔۔۔ اس کو اپنے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف کرتا ہے۔۔۔ یہ اس لئے کہ تا اسلام ایسے لوگوں کے وجود سے تازہ رہے۔ نبوت ۵؎ اور رسالت کا لفظ خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں میری نسبت صدہا مرتبہ استعمال کیا ہے۔ مگر اس لفظ سے صرف وہ مکالمات و مخاطبات الہیہ مراد ہیں جو بکثرت ہیں اور غیب پر مشتمل ہیں“ (چشمۂ معرفت ۳۲۵ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۴۰-۳۴۱)

مولوی صاحب نے اسی قدر حوالہ دیا ہے اس سے آگے کی عبارت ترک کر دی ہے۔ لیکن ہم وہ ذیل میں درج کر دیتے ہیں۔

”اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ ہر ایک شخص اپنی گفتگو میں ایک اصطلاح اختیار کر سکتا ہے۔ لِكُلٍّ أَنْ يَّصْطَلِحَ۱؎ سو خدا کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے

یعنی ایسے مکالمات جن میں اکثر غیب کی خبریں دی گئی ہیں۔ اور لعنت ہے اس شخص پر جو آنحضرت کے فیض سے علیحدہ ہو کر نبوت کا دعویٰ کرے۔ مگر یہ نبوت آنحضرت کی نبوت ہے نہ کوئی نئی نبوت اور اس کا مقصد بھی یہی ہے“ چشمۂ معرفت صفحہ ۳۲۵ (روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۴۱)

صفحہ ۱۲ پر کتاب حقیقتہ الوحی سے:

حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۵ حاشیہ۔ ”یاد رہے کہ بہت سے لوگ میرے دعوے میں نبی کا نام سن کر دھوکا کھاتے ہیں۔ اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ جو پہلے ۱؎زمانوں میں براہِ راست نبیوں کو ملی ہے۔ لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔ میرا ایسا دعویٰ نہیں ہے۔ بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت کے افاضہ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔ اس لئے میں صرف نبی نہیں کہلا سکتا۔ بلکہ ایک پہلو سے نبی۔ اور ایک پہلو سے امتی ۱۸۔اور میری نبوت آنحضرت کی ظل ۱۹؎ہے نہ کہ اصلی نبوت“۔ (روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۴ حاشیہ)

ضمیمہ حقیقتہ الوحی (عربی) صفحہ ۸۹ ” وَمَا عَنَى اللّٰهُ مِنْ نُبُوَّتِيْٓ اِلَّا كَثْرَةَ الْمُكَالَمَةِ وَالْمُخَاطَبَةِ وَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَىٰ مَنْ اَرَادَ فَوْقَ ذٰلِكَ۲۰؎“ (روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۶۸۹) ترجمہ اللہ تعالیٰ نے میری نبوت کے معنی سوائے کثرت مکالمت اور مخاطبت کے اور کچھ نہیں رکھے۔ اور اللہ کی لعنت اس پر ہو جو اس سے بڑھ کر ارادہ کرے“

حقیقۃ الوحی ضمیمہ عربی صفحہ ۸۹ ” وَ سُمِّيْتُ نَبِيًّا مِّنَ اللّٰهِ عَلَىٰ طَرِيْقِ الْمَجَازِ لَا عَلَىٰ وَجْهِ الْحَقِيْقَةِ “ (روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۶۸۹) (ترجمہ) اور میرا نام نبی اللہ کی طرف سے مجازی طور پر رکھا گیا ہے۔ نہ حقیقی طور پر“

صفحہ ۱۲ پر کتاب مواہب الرحمن سے:

مواہب الرحمن صفحہ ۷۱۔ ” ہر کہ دعوئی نبوت کند۔ وایں اعتقاد ندارد۔ کہ او از امت آنحضرت ﷺ است و ہر چہ یافت از فیضانِ او یافت۔ و او یک ثمرہ ایست از باغ او و یک قطرہ از بارشِ او و سایہ تنگ از روشنی او۔ پس او لعنتی است ولعنت خدا بر انصار او و بر اتباع او و بر اعوانِ او۔ (روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۲۸۷) (ترجمہ) جو شخص دعویٰ نبوت کرے اور یہ اعتقاد نہ رکھے کہ وہ آنحضرت کی امت سے ہے اور جو کچھ اس نے پایا۔ اس کے فیضان سے پایا۔ اور کہ وہ اس باغ ۲۱؎میں سے ایک پھل ہے۔ اور اس کی بارش میں سے ایک قطرہ ہے۔ اور اس کی روشنی میں سے ایک ہلکا سایہ ہے۔ سو وہ لعنتی ہے۔ اور خدا کی لعنت اس پر اور اس کے انصار پر اور اس کی پیروی کرنے والوں پر اور اس کے مددگاروں پر“

صفحہ ۱۱ پر کتاب الوصیت سے:

الوصیت صفحہ ۱۳، ۱۴) ”اور اس کی پیروی سے خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے مکالمہ مخاطبہ کا اس سے بڑھ کر انعام مل سکتا ہے۔ جو پہلے ملتا تھا۔ مگر اس کا کامل پیرو صرف نبی نہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ نبوت کاملہ تامہ محمدیہ کی اس میں ہتک ہے۔ ہاں امتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی حالت میں اس پر صادق آسکتے ہیں...... پس اس طرح پر بعض ۱۲۷ افراد نے باوجود امتی ہونے کے نبی کا خطاب پایا“ (روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۱۱-۳۱۲)

ان حوالہ جات کے ساتھ ہی میں کچھ اور ایسی ہی عبارتیں جن سے نبوت کے خلاف استدلال کیا جاتا ہے۔ نقل کر دیتا ہوں تاکہ سب کا جواب ایک ساتھ ہو جائے۔ اور وہ حسب ذیل ہیں:۔

۱۹۰۱ء سے پہلے کے وہ حوالہ جات جو حضرت مسیح موعودؑ کے نبی ہونے کے خلاف پیش کئے جاتے ہیں

”اس عاجز نے سنا ہے کہ اس شہر (دہلی) کے بعض اکابر علماء میری نسبت یہ الزام مشہور کرتے ہیں کہ یہ شخص نبوت کا مدعی۔ ملائک کا منکر۔ بہشت و دوزخ کا انکاری اور ایسا ہی وجود جبرائیل اور لیلۃ القدر اور معجزات اور معراج نبویؐ سے بکلی منکر ہے لہٰذا میں اظہار الحق عام و خاص اور تمام بزرگوں کی خدمت میں گذارش کرتا ہوں کہ یہ الزام سراسر افتراء ہے میں نہ نبوت کا مدعی ہوں۔ اور نہ معجزات اور ملائک اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر۔ بلکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہلسنت جماعت کا عقیدہ ہے ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلّم الثبوت ہیں۔ اور سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہو گئی۔“

(اشتہار ۲؍ اکتوبر ۱۸۹۱ء۔ مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۲۳۰-۲۳۱)

”کل انسانوں کے کمالات بہ ہیئت مجموعی ہمارے رسول اللہ ﷺ میں جمع ہیں اور اسی لئے آپ کل دنیا کے لئے مبعوث ہوئے۔ اور رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ(21:108) کہلائے لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ(68:5) میں بھی اسی مجموعہ کمالات انسانی کی طرف اشارہ ہے اور یہی وجہ تھی کہ آپ پر نبوت کاملہ کے کمالات ختم ہوئے۔ یہ ایک مسلم بات ہے کہ کسی چیز کا خاتمہ اس کی علت غائی کے اختتام پر ہوتا ہے۔ جیسے کتاب کے جب کل مطالب بیان ہو جاتے ہیں تو اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے اسی طرح پر رسالت اور نبوت کی علت غائی رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوئی۔ اور یہی ختم نبوت کے معنی ہیں۔ کیونکہ یہ ایک سلسلہ ہے جو چلا آیا ہے اور کامل انسان پر آکر اس کا خاتمہ ہو گیا۔ صفحہ ۷ اسطر ۱۶۔

”اللہ تعالیٰ نے جو کمالات سلسلہ نبوت میں رکھے ہیں مجموعی طور پر وہ ہادی کامل پر ختم ہو چکے اب ظلی طور پر ہمیشہ کے لئے مجددین کے ذریعہ سے دنیا پر اپنا پرتو ڈالتے رہیں گے ؎۱ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو قیامت تک رکھے گا“ (دین الحق صفحہ ۱۶ از تقریر نمبرا صفحہ ۲۲ جو ۱۸۹۹ء میں دوبارہ شائع ہوئی)

”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ الصَّلوٰةُ وَ السَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِهِ خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ امّا بعد تمام مسلمانوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ فتح الاسلام و توضیح مرام و ازالہ اوہام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محدثیت نبوت ناقصہ ہے یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کے رو سے بیان کئے گئے ہیں ورنہ حاشا و کلا مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں ہے بلکہ جیسا کہ میں کتاب ازالہ اوہام کے صفحہ ۱۳۷ میں لکھ چکا ہوں میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں کیونکہ کسی طرح مجھ کو مسلمانوں میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے۔ جس حالت میں ابتداء سے میری نیت میں جس کو اللہ جلشانہ خوب جانتا ہے۔ اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے بلکہ صرف محدث ؎۲ مراد ہے جس کے معنی آنحضرت ﷺ نے مکلّم مراد لئے ہیں یعنی محدثوں کی نسبت فرمایا ہے۔ عَنْ اَبِیْ هُرَیْرَةَ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ لَقَدْ كَانَ فِيْمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِّنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ رِجَالٌ یُّكَلَّمُوْنَ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَّكُوْنُوْا اَنْبِیَاءَ ، فَإِنْ یَّكُنْ مِنْ اُمَّتِيْ مِنْهُمْ اَحَدٌ فَعُمَرُ(بخاری کتاب فضائل الصحابہ باب مناقب عمر بن الخطاب) از مجموعہ اشتہارات فروری ۱۸۹۲ء) ”اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں مسلمان ہوں ۔ اور ان سب عقائد پر ایمان رکھتا ہوں جو اہل سنت والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ طیبہ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہوں اور میں نبوت ۶۷ کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں“ (آسمانی فیصلہ صفحہ ۳ ــــــــ روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۱۳)

”منصفوا سوچ کر جواب دو کہ کیا قرآن کریم میں کہیں یہ بھی لکھا ہے کہ کسی وقت کوئی حقیقی طور پر صلیبوں کو توڑنے والا۔ اور ذمیوں کو قتل کرنے والا اور قتل خنزیر کا نیا حکم لانے والا اور قرآن کریم کے بعض احکام کو منسوخ کرنے والا ظہور کرے گا اور آیت اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ(5:4) اور آیت حَتّٰی یُعۡطُوا الۡجِزۡیَۃَ عَنۡ ‌یَّدٍ(التوبہ: ۲۹) اس وقت منسوخ ہو جائے گی۔ اور نئی وحی قرآنی وحی پر خط نسخ کھینچ دے گی ابے لوگو! اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو! دشمن قرآن نہ بنو۔ اور خاتم النبین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو۔ اور اس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے ۶۸“ (آسمانی فیصلہ صفحہ ۲۵‘ روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۳۵)

”دوم یہ کہ میر صاحب کے دل میں سراسر فاش غلطی سے یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ گویا میں ایک نیچری آدمی ہوں۔ معجزات کا منکر اور لیلۃ القدر سے انکاری اور نبوت کا مدعی اور انبیاء علیہم السلام کی اہانت کرنے والا اور عقائد اسلام سے منہ پھیرنے والا ۶۹“ (آسمانی فیصلہ صفحہ ۴۶‘ روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۴۷)

”نہ مجھے دعوٰی نبوت و خروج از امت اور نہ میں منکر معجزات اور ملائک اور نہ لیلۃ القدر سے انکاری ہوں۔ اور آنحضرت ﷺ کے خاتم النبین ہونے کا قائل اور یقین کامل سے جانتا ہوں اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا نیا ہو یا پرانا ہو اور قرآن کریم کا ایک شُعشہ یا نقطہ منسوخ نہیں ہو گا ہاں محدّث آئیں گے جو اللہ جلشانہ سے ہم کلام ہوتے ہیں اور نبوت تامہ کی بعض صفات ظلی طور پر اپنے اندر رکھتے ہیں۔ اور بلحاظ بعض وجوہ شان نبوت کے رنگ سے رنگین کئے جاتے ہیں اور ان میں سے مَیں ایک ہوں ۷۰۔“ (نشان آسمانی صفحہ ۳۰ - ۳۱ - روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۹۰ - ۳۹۱)

”یہی امت ہے کہ اگرچہ نبی تو نہیں مگر نبیوں کی مانند خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہو جاتی ہے اور اگرچہ رسول نہیں مگر رسولوں ام؎کی مانند خدا تعالیٰ کے روشن نشان اس کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں۔ اور روحانی زندگی کے دریا اس میں بہتے ہیں۔ اور کوئی نہیں کہ اسکا مقابلہ کر سکے۔ کوئی ہے کہ جو برکات اور نشانوں کے دکھلانے کے لئے مقابل میں کھڑا ہو کر ہمارے اس دعوے کا جواب دے“ (آئینہ کمالات اسلام — روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۲۴)

”جب کسی کی حالت اس نوبت تک پہنچ جائے تو اس کا معاملہ اس عالم سے وراء الوراء ہو جاتا ہے اور ان تمام ہدایتوں اور مقاماتِ عالیہ کو ظلی طور پر پا لیتا ہے جو اس سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو ملے تھے۔ اور انبیاء ۲؎اور رسل کا وارث اور نائب ہو جاتا ہے وہ حقیقت جو انبیاء میں معجزہ کے نام سے موسوم ہوتی ہے وہ اس میں کرامت کے نام سے ظاہر ہو جاتی ہے اور وہی حقیقت جو انبیاء میں عصمت کے نام سے نامزد کی جاتی ہے اس میں محفوظیت کے نام سے پکاری جاتی ہے اور وہی حقیقت جو انبیاء میں نبوت کے نام سے بولی جاتی ہے اس میں محدثیت کے پیرایہ میں ظہور پکڑتی ہے حقیقت ایک ہی ہے لیکن بباعث شدت اور ضعفِ رنگ کے مختلف نام رکھے جاتے ہیں۔ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ملفوظات مبارکہ اشارت فرما رہے ہیں کہ محدث نبی بالقوہ ہوتا ہے۔ اور اگر بابِ نبوت مسدود نہ ہوتا تو ہر یک محدث اپنے وجود میں قوت اور استعدادِ نبی ہو جانے کی رکھتا تھا۔ اور اسی قوت اور استعداد کے لحاظ سے محدث کا حمل نبی پر جائز ہے یعنی کہہ سکتے ہیں کہ اَلْمُحَدَّثُ نَبِیٌّ جیسا کہ کہہ سکتے ہیں- اَلْعِنَبُ خَمْرٌ نَظَرًا عَلَی الْقُوَّةِ وَالْاِسْتِعْدَادِ وَ مِثْلُ هٰذَا الْحَمْلِ شَائِعٌ مُّتَعَارَفٌ فِی عِبَارَاتِ الْقَوْمِ وَقَدْ جَرَتِ الْمُحَاوَرَاتُ عَلٰی ذٰلِكَ كَمَا لَا يَخْفٰی عَلٰی كُلِّ ذَكِیٍّ عَالِمٍ مُّطَّلِعٍ عَلٰی كُتُبِ الْاَدَبِ وَالْكَلَامِ وَالتَّصَوُّفِ اور اسی حمل کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جلشانہ نے اس قراءت کو جو وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ وَّ لَا مُحَدَّثٍ ہے مختصر کر کے قراءتِ ثانی میں صرف یہ الفاظ کافی قرار دیئے کہ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّلَا نَبِیٍّ(الحج: ۵۳)“ (آئینہ کمالات اسلام — روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۳۷ تا ۲۳۹)

”قولہ۔ میرزا صاحب کے موافقین اور مخالفین نے پرلے درجے کی افراط اور تفریط کی ہے جو شخص یہ کہتا ہو کہ میں قرآن شریف کو مانتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں۔ روزے رکھتا ہوں۔ اور لوگوں کو اسلام سکھاتا ہوں اس کو کافر کہنا زیبا نہیں۔ مگر ایک عالم کے رتبہ سے بڑھا کر پیغمبری تک پہنچانا بھی نہیں۔

اقول ۔ صاحب انصاف طلب کے بیان میں یعنی ان کے پہلے ہی قول شریف میں تناقض پایا جاتا ہے۔ کیونکہ ایک طرف تو وہ بہت ہی حق پسند بن کر نہایت مہربانی سے فرماتے ہیں کہ مسلمان کو کافر کہنا زیبا نہیں اور پھر دوسری طرف اسی منہ سے میری نسبت رائے ظاہر کرتے ہیں کہ گویا میری جماعت درحقیقت مجھے رسول اللہ جانتی ہے اور گویا میں نے درحقیقت نبوت کا دعویٰ کیا ہے اگر راقم صاحب کی پہلی رائے صحیح ہے کہ میں مسلمان ہوں اور قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہوں۔ تو پھر یہ دوسری رائے غلط ہے جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ میں خود نبوت کا مدعی ہوں۔ اور اگر دوسری رائے صحیح ہے تو پھر وہ پہلی رائے غلط ہے جس میں ظاہر کیا گیا کہ میں مسلمان ہوں اور قرآن شریف کو مانتا ہوں۔ کیا ایسا ۳؎بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے۔ اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ(33:41) کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں۔ صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں مگر میں اسکو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکا لگ جانے کا احتمال ہے لیکن وہ مکالمات اور مخاطبات جو اللہ جلشانہ کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں جن میں یہ لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے ان کو میں بوجہ مامور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا۔ لیکن بار بار کہتا ہوں کہ ان الہامات میں جو لفظ مرسل یا رسول یا نبی کا میری نسبت آیا ہے ۴؎۔ وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں ہے۔ اور اصل حقیقت جس کی میں علیٰ رؤوس الاشہاد گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا۔ وَ مَنْ قَالَ بَعْدَ رَسُوْلِنَا وَ سَيِّدِنَا إِنِّيْ نَبِيٌّ اَوْ رَسُوْلٌ عَلٰى وَجْهِ الْحَقِيْقَةِ وَ الْاِفْتِرَاءِ وَ تَرَكَ الْقُرْاٰنَ وَ اَحْكَامَ الشَّرِيْعَةِ الْغَرَّاءِ فَهُوَ كَافِرٌ كَذَّابٌ غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کرے اور آنحضرت ﷺ کے دامن فیوض سے اپنے تئیں الگ کرکے اور اس پاک سرچشمہ سے جدا ہو کر آپ ہی براہِ راست نَبِیُّ اللہ بننا چاہتا ھے تو وہ ملحد بے دین ہے اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیا کلمہ بنائے گا اور عبادؔات میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کر دے گا۔ پس بلاشبہ وہ مسیلمہ کذاب کا بھائی ۵؎ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں۔ ایسے خبیث کی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں

کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے۔ ”لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے بعض اوقات خدائے تعالیٰ کے الہامات میں ایسے الفاظ استعارہ اور مجاز کے طور پر اس کے بعض اولیاء کی نسبت استعمال ہو جاتے ہیں اور وہ حقیقت پر محمول نہیں ہوتے۔ سارا جھگڑا یہ ہے جس کو نادان متعصب اور طرف کھینچ کرنے گئے ہیں۔ آنے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبانِ مقدس حضرت نبویؐ سے نبی اللہ نکلا ہے وہ انہی مجازی معنوں کی رو سے ہے جو صوفیاء کرام کی کتابوں میں مسلم اور ایک معمولی محاورہ مکالماتِ الٰہیہ کا ہے۔ ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا“۳؎(انجام آتھم ــــ روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۲۸۶ حاشیہ) ”یہ الفاظ بطور استعارہ ہیں جیسا کہ حدیث میں بھی مسیح موعود کے لئے نبی کا لفظ آیا ہے ظاہر ہے کہ جس کو خدا بھیجتا ہے وہ اس کا فرستادہ ہی ہوتا ہے اور فرستادہ کو عربی میں رسول کہتے ہیں اور جو غیب کی خبر خدا سے پاکر دیوے اس کو عربی میں نبی کہتے ہیں۔ اسلامی اصطلاح کے معنی الگ ہیں۔ اس جگہ محض لغوی۴؎معنی مراد ہیں۔ ان سب مقامات کا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے ریویو لکھا ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ بیس برس سے تمام پنجاب وہندوستان کے علماء ان الہامات کو براہین احمدیہ میں پڑھتے ہیں اور سب نے قبول کیا آج تک کسی نے اعتراض نہیں کیا بجز دو تین لدھیانہ کے نا سمجھ مولوی محمد اور عبد العزیز کے“۔۵؎(اربعین نمبر ۲ صفحہ ۲۴ حاشیہ ــــ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۳۶۶)

۱۹۰۱ء کے بعد کے حوالہ جات

جو حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کے خلاف پیش کئے جاتے ہیں اِنَّا مُسْلِمُوْنَ نُؤْمِنُ بِكُتُبِ اللهِ الْفُرْقَانِ. وَنُؤْمِنُ بِاَنَّ سَیِّدَنَا مُحَمَّدًا نَّبِیُّہٗ وَرَسُوْلُہٗ وَاَنَّہٗ جَاءَ بِخَیْرِ الْاَدْیَانِ. وَنُؤْمِنُ بِاَنَّہٗ خَاتَمُ الْاَنْبِیَاءِ لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ اِلَّا الَّذِیْ رُبِّیَ مِنْ فَیْضِہٖ وَاَظْهَرَهُ وَعْدُهٗ۸؎۔ وَلِلّٰهِ مُکَالَمَاتٌ وَّمُخَاطَبَاتٌ مَّعَ۶؎اَوْلِیَائِهٖ مِنْ هٰذِهِ الْاُمَّةِ وَاِنَّهُمْ یُعْطَوْنَ صِبْغَةَ الْاَنْبِیَاءِ وَلَیْسُوْا بِنَبِیِّیْنَ فِی الْحَقِیْقَةِ۔ فَاِنَّ الْقُرْاٰنَ اَكْمَلَ وَطَرَ الشَّرِیْعَةِ وَلَا یُعْطَوْنَ اِلَّا فَهْمَ الْقُرْاٰنِ وَلَا یَزِیْدُوْنَ عَلَیْهِ وَلَا یَنْقُصُوْنَ مِنْهُ وَ مَنْ زَادَ اَوْ نَقَصَ فَاُولٰٓئِكَ مِنَ الشَّیْطِیْنِ الْفَجَرَةِ وَنَعْنِیْ بِخَتْمِ النُّبُوَّةِ۷؎خَتْمَ كَمَالَاتِهَا عَلٰی نَبِیِّنَا الَّذِیْ

هُوَ اَفْضَلُ رُسُلِ اللهِ وَ اَنْبِيَائِهِ وَ نَعْتَقِدُ بِاَنَّهٗ لَا نَبِیَّ بَعْدَهٗ اِلَّا الَّذِیْ هُوَ مِنْ اُمَّتِهِ وَ مِنْ اَكْمَلِ اَتْبَاعِهٖ ؕ اَلَّذِیْ وَجَدَ الْفَيْضَ كُلَّهٗ مِنْ رُّوْحَانِيَّتِهٖ وَ اَضَاءَ بِضِيَائِهِ ؕ فَهُنَاكَ لَا غَيْرَ وَ لَا مَقَامَ الْغَيْرَةِ وَ لَيْسَتْ بِنُبُوَّةٍ اُخْرٰى ۔ (مواہب الرحمن صفحہ ۶۹-۷۰ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۲۸۵)

”اس نبوت کی پیروی خدا تک بہت سہل طریق سے پہنچا دیتی ہے۔ اور اس کی پیروی سے خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے مکالمہ مخاطبہ کا اس سے بڑھ کر انعام مل سکتا ہے جو پہلے ملتا تھا۔ مگر اس کا کامل پیرو صرف نبی نہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ نبوت کاملہ تامہ محمدیہ کی اس میں ہتک ہے۔ ہاں امتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی حالت میں اس پر صادق آسکتے ہیں کیونکہ اس میں نبوت تامہ کاملہ محمدیہ کی ہتک نہیں بلکہ اس نبوت کی چمک ۱؎اس فیضان سے زیادہ تر ظاہر ہوتی ہے۔“

(الوصیت صفحہ ۱۳ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۱۱)

”باوجود اس ۲؎کے یہ خوب یاد رکھنا چاہئے کہ نبوت تشریعی کا دروازہ بعد آنحضرت ﷺ کے بالکل مسدود ہے۔ اور قرآن مجید کے بعد اور کوئی کتاب نہیں جو نئے احکام سکھائے یا قرآن شریف کا حکم منسوخ کرے یا اس کی پیروی معطل کرے بلکہ اس کا عمل قیامت تک ہے۔“

(الوصیت ۲؎ حاشیہ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۱۱)

”اور پھر ایک اور نادانی یہ ہے کہ جاہل لوگوں کو بھڑکانے کے لئے کہتے ہیں کہ اس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ حالانکہ یہ ان کا سراسر افتراء ہے۔ بلکہ جس نبوت ۳؎کا دعویٰ کرنا قرآن شریف کی رو سے منع معلوم ہوتا ہے ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ صرف یہ دعویٰ ہے کہ ایک پہلو سے میں امتی ہوں۔ اور ایک پہلو سے میں آنحضرت ﷺ کے فیض نبوت کی وجہ سے نبی ہوں ۴؎۔ اور نبی سے مراد صرف اس قدر ہے کہ خدا تعالیٰ سے بکثرت شرف مکالمہ و مخاطبہ پاتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ جیسا کہ مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیکن ۵؎جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے۔“(حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۶)

”وَ لَيْسَ مُرَادُهٗ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا كَثْرَةَ ۶؎مُكَالَمَةِ اللهِ وَ كَثْرَةَ اَنْبَاءِ مِّنَ اللهِ وَ كَثْرَةَ مَا يُوحٰى وَ يَقُوْلُ ۷؎مَا نَعْنِیْ مِنَ النُّبُوَّةِ مَا يُعْنٰى فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى بَلْ هِیَ دَرَجَةٌ لَّا تُعْطَىٰ إِلَّا مِنْ اِتِّبَاعِ نَبِیِّنَا خَیْرِ الْوَرٰی (ضمیمہ حقیقتہ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۶۴)

” ثُمَّ مَعَ ذٰلِكَ ذَكَرْتُ غَیْرَ مَرَّةٍ اَنَّ اللهَ مَا اَرَادَ مِنْ نُبُوَّتِیْ اِلَّا کَثْرَةَ ۴۸؎الْمُکَالَمَةِ وَ الْمُخَاطَبَةِ، وَهُوَ مُسَلَّمٌ عِنْدَ اَکَابِرِ اَهْلِ السَّنَّةِ۔ فَالنِّزَاعُ لَیْسَ اِلَّا نِزَاعًا لَّفْظِیًّا فَلَا تَسْتَعْجِلُوْا یَا اَهْلَ الْعَقْلِ وَ الْفِطْنَةِ وَ لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلٰی مَنِ ادَّعٰی خِلَافَ ذٰلِكَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَّ مَعَهَا لَعْنَةُ النَّاسِ وَ الْمَلٰئِکَةِ۔“ (ضمیمہ حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۶۴)

”اب جبکہ ان حدیثوں سے ثابت ہے کہ آنے والا عیسیٰ امتی ہے تو کلام الٰہی میں اس کا نام نبی رکھنا ان معنوں سے نہیں ہے۔ جو ایک مستقل نبی کے لئے مستعمل ہوتے ہیں۔ بلکہ اس جگہ صرف یہ مقصود ہے کہ خدا تعالیٰ اس سے مکالمہ مخاطبہ کرے گا۔ اور غیب کی باتیں اس پر ظاہر کرے گا۔ اس لئے باوجود امتی ہونے کے وہ نبی ۴۹؎ بھی کہلائے گا۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۵۳)

”کوئی شخص اس جگہ نبی ہونے کے لفظ سے دھوکا نہ کھاوے۔ میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ یہ وہ نبوت نہیں ہے جو ایک مستقل نبوت کہلاتی ہے کہ کوئی مستقل نبی امتی نہیں کہلا سکتا۔ مگر میں امتی ہوں۔ پس یہ صرف خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک اعزازی نام ہے جو آنحضرت ﷺ کی اتباع سے حاصل ہوا تا حضرت عیسیٰ سے تکمیل مشابہت ۵۰؎ ہو۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۶۰)

”ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر تو یہ امر ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں ۵۱؎ ۔ اور نہ کوئی شریعت ہے۔ اور اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے تو بلاشبہ وہ بے دین اور مردود ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ نے ابتداء سے ارادہ کیا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے کمالات متعدیہ کے اظہار اور اثبات ۵۲؎ کے لئے کسی شخص کو آنجناب کی پیروی اور متابعت کی وجہ سے وہ مرتبہ کثرت مکالمات اور مخاطبات الٰہیہ بخشے کہ جو اس کے وجود میں عکسی طور پر نبوت ۵۳؎ کا رنگ پیدا کر دے۔ سو اس طور سے خدا نے میرا نام نبی رکھا۔ یعنی نبوت محمدیہ میرے آئینہ نفس میں منعکس ہو گئی۔ اور ظلی طور پر نہ اصلی طور پر مجھے یہ نام دیا گیا تا میں آنحضرت ﷺ کے فیوض کا کامل نمونہ ٹھہروں۔ (چشمہ معرفت صفحہ ۳۲۴ حاشیہ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۴۰)

اب جبکہ میں وہ سب حوالہ جات جنہیں جناب مولوی صاحب نے اپنے بیان کی تائید میں پیش کیا ہے نقل کر چکا ہوں۔ اور ان کے ساتھ اور وہ حوالہ جات جو ان کے بیان کی تائید میں مل سکتے تھے وہ بھی نقل کر چکا ہوں۔ تو میں اپنے اصل مضمون کی طرف لوٹتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم سے یہ امر ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ یہ سب حوالہ جات ہرگز ہرگز ہمارے دعوے کے خلاف نہیں۔ ان سے حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت رد نہیں ہوتی بلکہ ثابت ہوتی ہے۔ اور آپ کا دعویٰ باطل نہیں ہوتا بلکہ قائم ہوتا ہے لیکن میں اس قدر بیان کر دینا اور ضروری خیال کرتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے تمہید فصل میں بیان کیا ہے۔ میں بجائے فرداً فرداً ہر ایک حوالہ کا جواب دینے کے سب حوالہ جات کا اکٹھا جواب دینا چاہتا ہوں تاکہ ہماری جماعت کے لوگوں کو ایک ایسا اصل معلوم ہو جائے جس سے وہ ہر ایک اعتراض کا جواب آئندہ خود ہی دے لیا کریں۔ اور اس کے لئے میں نے لغت عرب قرآن کریم محاورہ انبیائے سابقین اور حضرت مسیح موعودؑ کے بیان کے مطابق نبی کی ایک جامع مانع تعریف کی تھی جس تعریف کے ہوتے ہوئے نہ کوئی نبی نبیوں کی جماعت سے خارج ہوتا ہے اور نہ کوئی غیر نبی نبیوں کی جماعت میں شامل ہو جاتا ہے پس ان حوالہ جات کے نقل کرنے کے بعد میں طالبانِ حق کو پھر اسی تمہید کی طرف متوجہ کرتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ ان حوالوں سے حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت رد نہیں بلکہ ثابت ہوتی ہے لیکن یہ بھی یاد رہے کہ ان حوالہ جات میں جہاں جہاں حضرت مسیح موعود نے اپنے لئے نبی کا لفظ استعمال کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس سے کوئی شخص دھوکا نہ کھائے کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ نے خود ہی ایسے تمام حوالوں کا جواب دے دیا ہے۔ اور آپ کے اپنے جواب کے بعد کسی کا حق نہیں کہ اس انکار کے کوئی اور معنی کرے۔

چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ”جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علمِ غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔ اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا“۔

(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۱۰۔۲۱۱)

اس عبارت نے سب جھگڑے کا فیصلہ کر دیا ہے۔ اور جہاں جہاں حضرت مسیح موعودؑ نے لکھا ہے کہ میں نبی نہیں ہوں یا یہ کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا یا یہ کہ آپؐ کے بعد نبوت کا دروازہ بالکل مسدود ہے۔ اس کے صرف اور صرف یہ معنی ہیں کہ آپؐ نے شریعت جدیدہ لانے کا دعویٰ نہیں کیا۔ آپ کی نبوت آنحضرت ﷺ کے فیض سے ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی نیا ہو یا پرانا نہیں آسکتا جو آپؐ کی شریعت کو منسوخ کرے یا آپؐ کے واسطہ کے بغیر نبوت حاصل کرے۔ پس ایسی تمام عبارتوں کا تو حضرت مسیح موعودؑ نے ایک ہی جگہ فیصلہ کر دیا ہے۔ اور جو حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے سے اس لئے انکار کرتا ہے کہ آپ نے کسی جگہ لکھا ہے کہ میں نبی نہیں اسے یاد رکھنا چاہئے کہ آپ ہی نے دوسری جگہ اس کے یہ معنی بھی کر دیئے ہیں کہ اس سے میری مراد یہ ہے کہ میں نئی شریعت لانے والا نبی نہیں۔ اور نہ بلا واسطہ نبوت پانے والا نبی ہوں۔ اور یہ مراد نہیں کہ میں نبی ہی نہیں۔ پس ایسے حوالوں سے آپ کی نبوت کا انکار نہیں ہو سکتا۔ انکار تو اسی صورت میں ہوگا۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ جو شخص نئی شریعت نہ لائے۔ یا براہِ راست نبوت نہ پائے نبی نہیں ہو سکتا۔ مفصل جواب اس بات کا کہ حضرت مسیح موعودؑ پہلے زمانہ میں اپنے نبی ہونے سے کیوں انکار کرتے رہے۔ آگے دیا جائے گا۔ اور سردست میں اصل مضمون کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔

یاد رہے کہ جناب مولوی صاحب نے صرف وہی حوالہ جات دیئے ہیں جن سے مسیح موعود کی نبوت کے خلاف استدلال ہو سکے۔ اور ان حوالہ جات کو بالکل ترک کر دیا ہے جن سے نبوت ثابت ہوتی ہو۔ اور ہمیشہ فیصلہ اسی طرح ہوتا ہے کہ دونوں قسم کی باتوں کو لے کر ان پر بحث کی جائے۔ لیکن میں نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے انہی حوالوں کو لے لیا ہے جو جناب مولوی صاحب نے پیش کئے ہیں بلکہ ان کے ساتھ وہ حوالہ جات جو ان کی تائید میں پیش کئے جاتے ہیں۔ انہیں بھی شامل کر لیا ہے تا سب کا فیصلہ ایک ہی دفعہ ہو جائے۔

ہر ایک صاحبِ بصیرت جس نے اوپر کے حوالہ جات کو غور سے پڑھا ہوگا۔ اس نے اس بات کو معلوم کر لیا ہو گا کہ ان میں جگہ بہ جگہ یہ فقرات پائے جاتے ہیں۔ ”نبوت تامہ جو وحی شریعت لانے والی ہو بند ہو چکی ہے“ لیکن ”وہ نبوت جس میں سوائے مبشرات کے اور کچھ نہیں وہ باقی ہے۔ قیامت تک وہ کبھی بند نہیں ہو سکتی“۔ ”ہمارا حاصل کلام یہ ہے کہ نبوت جزویہ ہمیشہ کے لئے کھلی ہے۔ اور اس نبوت میں نہیں ہوتے مگر امور غیبیہ جو بشارتوں اور انذار پر مشتمل ہوتے ہیں“۔ ”اور ایسا شخص جس کو بکثرت ایسی پیشگوئیاں بذریعہ وحی دی جائیں۔ یعنی اس قدر کہ اس کے زمانہ میں اس کی کوئی نظیر نہ ہو۔ اس کا نام ہم نبی رکھتے ہیں۔" ۔ "مؤمنوں کے لئے مبشر الہام باقی رہ گئے ہیں گو شریعت ختم ہو گئی ہے۔" ۔ "تمام نبوتیں اس پر ختم ہیں۔ مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں۔ یعنی وہ نبوت جو اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے۔" ۔ "نبوت اور رسالت کا لفظ جو خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں میری نسبت صدہا مرتبہ استعمال کیا ہے۔ مگر اس لفظ سے صرف وہ مکالمات مخاطبات الٰہیہ مراد ہیں جو بکثرت ہیں۔ اور غیب پر مشتمل ہیں۔" ۔ "اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہِ راست نبیوں کو ملتی ہے۔ لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔" ۔ "میں صرف نبی نہیں کہلا سکتا۔ بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی"۔ "اور میری نبوت سے اللہ تعالیٰ کی مراد صرف کثرت مکالمات و مخاطبات ہے۔ اور جو اس سے زیادہ سمجھے اس پر خدا تعالیٰ کی لعنت ہو۔" ۔ "جو شخص دعوائے نبوت کرے۔ اور یہ اعتقاد نہ رکھے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی امت سے ہے... خدا کی لعنت اس پر"۔ "مگر اس کا کامل پیرو صرف نبی نہیں کہلا سکتا۔ ہاں امتی اور نبی"۔ "اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو! دشمنِ قرآن نہ بنو۔ اور خاتم النبیین کے بعد وحیِ نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو (جو قرآن کریم کو منسوخ کر دے جیسا کہ ماقبل سے ظاہر ہے)۔" ۔ " وَ نُؤْمِنُ بِاَنَّہٗ خَاتَمُ الْاَنْبِیَاءِ لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ اِلَّا الَّذِیْ رُوِّیَ مِنْ فَيْضِہٖ وَ اَظْهَرَہٗ وَعْدَہٗ۔ "خدا تعالیٰ اس سے مکالمہ مخاطبہ کرے گا۔ اور غیب کی باتیں اس پر ظاہر کرے گا اس لئے باوجود امتی ہونے کے وہ نبی کہلائے گا۔" ۔ "یہ وہ نبوت نہیں جو مستقل نبوت کہلاتی ہے۔" ۔ "ہاں امتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی طور پر اس پر صادق آسکتے ہیں۔" ۔ "خوب یاد رکھنا چاہئے کہ نبوتِ تشریعی کا دروازہ بعد آنحضرت ﷺ کے بالکل مسدود ہے۔" ۔ "جس نبوت کا دعویٰ قرآن شریف کے رو سے منع ہے ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا"۔ "میری نبوت سے کثرتِ مکالمہ و مخاطبہ مراد ہے۔" ۔ "آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں"

امتی نبی نہیں تھے بلکہ اطاعت آنحضرتﷺ سے آزاد تھے یا یہ کہ آپ کی نبوت سے مراد امورِ غیبیہ پر کثرت سے اطلاع پانا نہیں۔ بلکہ اور کچھ ہے۔ تو بیشک یہ حوالہ جات میرے خلاف استعمال ہو سکتے تھے۔ لیکن جبکہ میرا مذہب یہی ہے کہ آپ غیر تشریعی امتی نبی تھے۔ تو پھر یہ حوالہ جات میرے خلاف کیونکر استعمال ہو سکتے ہیں اگر تشریعی نبی یا غیر امتی نبی ہونا شرائطِ نبوت سے ہوتا۔ تب بیشک ان حوالہ جات سے ثابت ہوتا کہ آپ میں شرائطِ نبوت نہیں پائی جاتی تھیں لیکن جبکہ تشریعی نبی یا غیر امتی نبی ہونا نبی کی شرائط میں سے نہیں۔ تو پھر ان حوالوں کا کیا اثر؟ نبی کے لئے صرف تین امور ضروری ہیں۔ اول یہ کہ امورِ غیبیہ پر کثرت سے اطلاع پائے۔ دوم یہ کہ اس کی پیشگوئیاں انذاری و تبشیری رنگ رکھتی ہوں اور مہتم بالشان ہوں۔ سوم اسے خدا تعالیٰ نے نبی کہا ہو۔ اور مذکورہ بالا حوالوں سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ کو کثرت سے امورِ غیبیہ سے اطلاع بھی دی گئی۔ اور آپ نے انذار و تبشیر کے لئے مہتم بالشان خبریں بھی دیں۔ اور آپ کا نام بھی خدا نے الہام میں نبی رکھا۔ پس نبی کی تعریف کے مطابق آپ نبی ہوئے۔

جس قدر حوالہ جات نبوت کے رد میں دیئے جاتے ہیں ان میں سے ایک بھی تو ایسا حوالہ نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ حضرت مسیح موعود نبی نہ تھے۔ بلکہ قریباً ان سب سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نبی تھے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود نے ابتدائے دعوائے مسیحیت موعودہ سے برابر اس بات کا اعلان فرمایا ہے کہ آپ پر خدا تعالیٰ کثرت سے امورِ غیبیہ ظاہر فرماتا ہے۔ اور حضرت صاحب کے الہاموں کو ابتداء سے دیکھ جاؤ۔ وہ کسی خاص ملک کے لئے نہیں بلکہ ساری دنیا کے لئے بشارت و انذار کا پہلو رکھتے ہیں۔ اور سب دنیا کو ان میں انذار و تبشیر کیا گیا ہے۔ پھر ابتدائے دعوے سے آپ کے الہامات میں آپ کو نبی کے نام سے پکارا گیا ہے۔ اور میں ثابت کر چکا ہوں کہ نبی کے لئے یہی تین شرائط ہیں۔ جس میں یہ تین شرائط پائی جائیں۔ وہ یقیناً نبی ہے۔

جو شخص حضرت صاحب کا یہ دعوٰی نکال کر کہ میں کوئی نئی شریعت نہیں لایا۔ بلکہ میرا تو صرف یہی دعوٰی ہے کہ مجھ پر کثرت سے امورِ غیبیہ ظاہر کئے جاتے ہیں۔ یا یہ دعوٰی نکال کر کہ میں نے جو کچھ پایا ہے آنحضرتﷺ کی اتباع سے پایا ہے۔ یہ کہے کہ اس سے ثابت ہوا کہ آپ نبی نہ تھے۔ اسے یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم میں تو ہم یہ آیت لکھی پاتے ہیں کہ یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(72:27-28) یعنی اللہ تعالیٰ غیب کی خبریں کثرت سے صرف اپنے رسولوں پر ہی ظاہر فرماتا ہے۔ پھر ہم حضرت مسیح موعود کی کسی ایسی تحریر کا جس میں آپ لکھتے ہوں کہ میں کوئی

شریعت نہیں لایا۔ بلکہ میں تو صرف بکثرت امورِ غیبیہ پر خبر پانے والا ہوں یہ مطلب کیونکر لے سکتے ہیں کہ آپؑ نبی نہیں کیونکہ یہ بات تو نبی ہونے کی شرائط میں سے ہے۔ کیا شرائطِ نبوت کے پائے جانے سے نبوت ثابت ہوتی ہے یا نبوت کا رد ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر حضرت مسیح موعودؑ نے کہیں لکھا ہو کہ اب نبوت سے باقی نہیں رہا مگر مبشرات و منذرات۔ تو اس کا یہ مطلب لینا کہ آپؑ نبی نہ تھے نادانی ہے۔ کیونکہ یہ تو نبوت کی شرائط میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَمَا نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِیۡنَ وَمُنۡذِرِیۡنَ(الانعام: ۴۹) ہم رسولوں کو جو بھیجتے ہیں تو ان کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ مبشرات و منذرات لاتے ہیں۔ اب کیسے تعجب کی بات ہے کہ جس بات کو اللہ تعالیٰ عین نبوت قرار دے۔ اسی کو نبوت کے انکار کی دلیل قرار دیا جائے یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص کہے فلاں شخص کو میں نے دیکھا کہ وہ لکڑی سے میز بنا رہا تھا جس سے ثابت ہوا کہ وہ نجار نہیں۔ اور فلاں شخص کو میں نے دیکھا کہ وہ ہل چلا رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ اسے ہل چلانا نہیں آتا۔ فلاں شخص کو دیکھا کہ وہ لڑکوں کو پڑھا رہا تھا ثابت ہوا کہ وہ استاد نہیں۔ کیا ایسی بات کوئی دانا کہہ سکتا ہے ہرگز نہیں۔ پس حضرت صاحب کی ایسی تحریرات سے جن میں آپ نے یہ لکھا ہے کہ میں کوئی نئی شریعت نہیں لایا۔ بلکہ صرف کثرت سے امور غیبیہ پانے کا مدعی ہے۔ اور ان تحریرات سے جن میں آپ لکھیں کہ اب نبوت سے صرف مبشرات و منذرات باقی رہ گئے ہیں۔ یہ نتیجہ نکالنا کہ آپؑ نبی نہ رہے۔ ایک ایسی بات ہے جس کی غلطی خود ہی ظاہر ہے جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں۔ لغت اور قرآن کریم اور پہلے انبیاء کے عقائد اور حضرت مسیح موعودؑ کی تحریرات سے تو نبوت کی شرائط ہی یہ معلوم ہوتی ہیں کہ کثرت سے امورِ غیبیہ ظاہر ہوں جو انذار و تبشیر کی عظیم الشان خبروں پر مشتمل ہوں۔ اور خدا تعالیٰ نبی نام رکھے۔ پس جب یہ شرائط نبوت ہیں تو حضرت مسیح موعودؑ کا دعویٰ کرنا کہ صرف یہ باتیں مجھ میں پائی جاتی ہیں اس کے یہ معنی کس طرح ہوئے کہ آپؑ نبی نہیں۔ اگر یہ باتیں آپؑ میں پائی جاتی ہیں تو آپؑ نبی تھے۔ حضرت مسیحؑ ناصری کیوں نبی تھے؟ کیا صرف انہی تین باتوں کی وجہ سے نہیں؟ حضرت سلیمانؑ نبی تھے۔ کیا ان کی نبوت ان تین شرائط کے سوا کسی اور شرط کی وجہ سے ثابت تھی؟ حضرت یحییٰؑ و زکریاؑ و الیاسؑ و ایوبؑ و ہارونؑ و یوسفؑ نبی تھے۔ پھر کیا ان کی نبوت کسی نئی بات کی وجہ سے تھی؟ ان تین باتوں سے زیادہ اور کونسی بات تھی جس کی وجہ سے وہ نبی ثابت ہوئے؟ حضرت موسیٰؑ و حضرت نوح علیہما السلام نبی تھے پھر کیا ان کی نبوت کسی اور وجہ سے تھی؟ نہیں اسی وجہ سے تھی کہ ان میں یہ تین شرائط پائی جاتی تھیں۔ یہ سب انبیاء ہیں۔ اور انکو نبی صرف

اس لئے کہا جاتا ہے کہ (۱) ان کو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی جاتی تھی (۲) وہ غیب کی خبریں جو ان پر ظاہر ہوتی تھیں معمولی نہ ہوتی تھیں بلکہ وہ عظیم الشان خوشخبریوں اور خطرناک عذابوں کی خبریں تھیں (۳) خدا نے ان کو نبی کے نام سے پکارا ہے یہی اور صرف یہی تین باتیں ہیں۔ جن کے پائے جانے سے پہلے سب انبیاء نبی کہلائے جیسا کہ خود حضرت مسیح موعودؑ نے لکھ دیا ہے کہ پہلے نبی بھی اسی وجہ سے نبی کہلائے (جو حوالہ کہ حضرت مسیح موعود کے اپنے الفاظ میں پہلے گذر چکا ہے) پس اگر حضرت مسیح موعود کی کتب میں ان تینوں باتوں کا دعویٰ ہے۔ تو وہ نبی ہیں اور اگر ان تین باتوں کا دعویٰ نہیں تو پھر وہ نبی نہیں ہیں مگر میں نے بتایا ہے۔ اور وہ حوالے جو جناب مولوی محمد علی صاحب نے اپنی تائید میں پیش کئے ہیں ان حوالوں کے علاوہ جس قدر حوالہ جات ان کے عقیدہ کی تائید میں پیش کئے جاتے ہیں یا کئے جاسکتے ہیں۔ درج کر دیئے ہیں۔ ان کو ایک ایک کر کے پڑھو۔ پھر حضرت مسیح موعود کی وہ تمام کتب جو دعوائے مسیحیت سے بعد کی ہیں۔ ان کو پڑھو۔ ان سب میں یہ تینوں دعوے موجود پاؤ گے۔ یا ان کے خلاف کوئی بات نہ دیکھو گے۔ حضرت مسیح موعود نے کہیں یہ بات نہیں لکھی کہ مجھ پر خدا تعالیٰ کثرت سے امور غیبیہ نہیں ظاہر کرتا۔ اور نہ یہ کہیں لکھا ہے کہ میرے الہامات میں عظیم الشان انقلابات کی خبریں نہیں۔ جو تمام دنیا کے متعلق ہوں بلکہ یہی فرمایا ہے کہ یہ دونوں باتیں میرے الہامات میں ہیں۔ اور کثرت کے ساتھ ہیں اور کبھی کہیں نہیں لکھا کہ میرے کسی الہام میں میرا نام نبی نہیں رکھا گیا بلکہ جب فرمایا یہی فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے میرا نام نبی رکھا ہے۔ پس جبکہ فتح اسلام کے زمانہ سے لے کر وفات تک کی سب کتب میں یہ تینوں دعوے موجود ہیں یا یہ کہ کسی کتاب میں ان کے خلاف نہیں لکھا۔ تو بتاؤ کہ آپؐ نبی کیوں نہ ہوئے؟ جیسا کہ میں پہلے تمہید میں بتا آیا ہوں۔ لغت عرب، قرآن کریم، اصطلاح باری تعالیٰ، عقائد جمیع انبیاء اور حضرت مسیح موعود کے مذہب کے رو سے تو نبی کہتے ہی اس کو ہیں جو ان تینوں شرائط کو پورا کرے۔ اور حضرت مسیح موعود ان تینوں شرائط کو پورا کرتے ہیں۔ پس آپ نبی ہیں۔ ہاں یہ سوال رہ جاتا ہے کہ نبیوں کی کس قسم میں داخل ہیں۔ سو آپ غیر تشریعی امتی نبی ہیں۔ یعنی نہ تو کوئی نئی شریعت آپ لائے۔ اور نہ بغیر واسطہ رسول اللہ ﷺ کے آپ نے نبوت پائی۔ اور یہ دونوں خصوصیتیں ایسی نہیں ہیں کہ جس میں وہ پائی جائیں نبی نہ ہو۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ یحییٰ میں شریعت لانے کی خصوصیت نہ تھی۔ اور وہ نبی تھے۔ اور بالواسطہ نبی ہونے کی خصوصیت نبوت کے معنوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ اور نہ عقل بتاتی ہے کہ نبی وہی ہے جو براہِ راست نبوت

پائے قرآن کریم و حدیث میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ اور نہ عقل بتاتی ہے کہ جو شخص کسی کے واسطہ سے نبی ہوا ہو۔ اس کو باوجود شرائط نبوت پورا کرنے کے نبی نہیں کہنا چاہئے۔ اور وہ نبی نہیں ہو سکتا۔ پس جب یہ دونوں باتیں ہر ایک نبی میں نہ قرآن کریم کے رُو سے نہ احادیث کے رُو سے نہ لغتِ عرب کے رُو سے نہ عقل کے رُو سے پائی جانی ضروری ہیں۔ تو پھر اگر حضرت مسیح موعودؑ ان دونوں باتوں سے انکار کریں۔ اور کہیں کہ مجھ میں یہ باتیں نہیں پائی جاتیں تو اس سے آپ کے نبی نہ ہونے پر کیا حجت قائم ہوئی۔ کیا قرآن کریم یا حدیث یا لغت عرب سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ جس میں یہ دو باتیں نہ پائی جائیں وہ نبی نہیں؟ پھر کیوں ایک ایسا دعویٰ کرتے ہو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ نبی کے لئے جو شرائط ہیں اور جن کے بغیر نبی نہیں ہو سکتا۔ وہ تو تین ہی ہیں۔ اور سب نبی ان باتوں میں مشترک ہیں اور لغت سے اور آیات قرآنیہ سے ثابت ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ وہی شرائط قرار دیتے ہیں۔ اسلام اور باقی کل نبیوں کی اصطلاح میں بھی ایسے ہی لوگوں کو نبی کہتے ہیں۔ جن میں وہ تین باتیں پائی جائیں۔ اور وہ تینوں باتیں حضرت مسیح موعودؑ میں پائی جاتی ہیں اور کبھی بھی حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے اندر ان تین باتوں کے پائے جانے یا ان میں سے ایک کے پائے جانے سے انکار نہیں کیا پس آپ کی کل کتب سے جو دعوائے مسیحیت کے وقت سے لکھی گئیں ثابت ہے کہ آپ اپنے عہدہ کی کیفیت کی جو تفصیل بیان کرتے رہے ہیں وہ آپ کی نبوت کی گواہ اور شاہد ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نبی تھے۔ اور یہ کہ جہاں آپ نے انکار کیا ہے اس بات سے انکار کیا ہے کہ میں کسی ایسی نبوت کا لانے والا نہیں ہوں۔ جس میں شریعت جدیدہ ہو۔ اور نہ اس بات کا مدعی ہوں کہ مجھے نبوت بلا واسطہ ملی ہے۔ پس ان حوالوں سے نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اور اگر دس ہزار ایسے حوالے بھی پیش کر دیئے جائیں۔ تو حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کے خلاف کوئی ثبوت نہیں کیونکہ یہ دونوں باتیں تو شرائط نبوت میں ہیں ہی نہیں۔ بلکہ ایسی خصوصیات ہیں جو بعض میں پائی گئیں اور بعض میں نہیں۔ پہلی شرط تو بہت سے پچھلے نبیوں میں بھی نہیں پائی جاتی یعنی نئی شریعت کا لانا۔ اور دوسری بات نفس نبوت سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ نہ قرآن کریم نے اسے شرط نبوت قرار دیا ہے، نہ لغت نے، نہ عقل چاہتی ہے کہ نبی وہی ہونا چاہئے جو براہِ راست نبی ہو۔ نہ پہلے انبیاء میں سے کسی نے ایسا کہا ہے نہ احادیث میں یہ شرط مذکور ہے۔ پس اے عزیزو! تم ان حوالوں سے کبھی مت گھبراؤ۔ بلکہ جب کوئی شخص تمہارے سامنے ایسے حوالے پیش کرے۔ جن میں حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی نسبت لکھا ہے کہ میں نئی شریعت نہیں لایا۔

تو اسے کہہ دو کہ ہم آنحضرت ﷺ کے بعد شریعت جدیدہ کے لانے کے مدعی کو لعنتی خیال کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نئی شریعت نہیں آسکتی۔ اور اگر کوئی ایسا حوالہ دکھائے جس میں یہ لکھا ہو کہ میں نے براہ راست نبوت نہیں پائی۔ تب فوراً کہہ دو کہ ہم ایسے شخص کو جو آنحضرت ﷺ کے بعد براہ راست نبوت پانے کا دعویٰ کرے جھوٹا اور فریبی خیال کرتے ہیں۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد براہ راست نبوت ملنے کی کوئی ضرورت نہیں رہی اور جو کچھ مل سکتا ہے آپ ہی کے واسطہ سے اور طفیل سے مل سکتا ہے۔ پھر اگر وہ کوئی ایسا حوالہ دکھائے کہ جس میں حضرت صاحب نے لکھا ہو کہ میرا تو صرف یہ دعویٰ ہے کہ میں کثرت سے غیب کی خبروں پر اطلاع پاتا ہوں اور بڑے بڑے اہم معاملات جو دنیا کی تباہی یا ترقی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ان کی خبر پاتا ہوں۔ اور خدا تعالیٰ نے انہی معنوں میں مجھے نبی کہا ہے۔ تو تم جواب دو کہ ہم اس سے زیادہ آپ کو کچھ نہیں مانتے اور اسی دعوے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود کو نبی کہتے ہیں اور کہنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ لغت عرب میں نَبِیُّ اللہِ کی یہی تعریف ہے۔ اور قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے اور پچھلے انبیاء اور خود حضرت مسیح موعود کا بھی اسی پر اتفاق ہے جبکہ تم خود تسلیم کرتے ہو کہ حضرت مسیح موعود نے ان تین باتوں کا دعویٰ کیا ہے تو اسی کا نام نبوت ہے۔ اس سے زیادہ کسی چیز کا نام نبوت نہیں۔ باقی جو کچھ ہے خصوصیات ہیں جو بعض نبیوں کو چھوڑ کر بعض میں پائی جاسکتی ہیں اور ان خصوصیات میں سے حضرت مسیح موعود نے دو خصوصیات کا اپنی نسبت انکار کیا ہے یعنی تشریعی نبی ہونے کا۔ اور براہ راست نبوت پانے کا۔ اور ہم بھی اقرار کرتے ہیں کہ آپ کی نبوت ایسی نبوت نہ تھی۔

اور اگر کوئی شخص تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ نبوت میں سے صرف مبشرات باقی رہ گئے ہیں۔ تو جواب دو کہ آپ نے جو کچھ فرمایا ہے۔ اس سے ایک انچ ادھر ادھر ہونا کفر ہے۔ یہ حدیث تو ہماری تائید کرتی ہے کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ نبوت میں سے مبشرات والی نبوت باقی ہے یعنی گو ایسی نبوت اب نہیں آسکتی جس میں نئی شریعت ہو۔ لیکن یہ نہ خیال کرنا کہ نبی بھی کوئی نہیں آسکتا۔ کیونکہ نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِیۡنَ وَمُنۡذِرِیۡنَ(6:49) کے ماتحت مبشرات جاری رہیں گی۔ اگر کوئی کہے کہ اس حدیث سے وہ تینوں شرائط کس طرح نکلتی ہیں تو اسے جواب دو کہ مبشرات سے تو مُبَشِّرِيْنَ وَ مُنْذِرِيْنَ کی آیت کی طرف اشارہ ہے۔ اور بشارت کے ساتھ انذار ضروری ہوتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس حدیث کو لکھ کر حضرت مسیح موعودؑ نے توضیح مرام

میں اس کی تشریح میں مبشرات کے ساتھ منذرات بھی لگا دیا ہے۔ پس مبشرات کا لفظ ثابت کرتا ہے کہ منذرات بھی ہوں گی کیونکہ کسی مامور کی قوم کی ترقی کی خبر اپنے اندر یہ خبر بھی رکھتی ہے کہ اس کے مخالف ہلاک ہوں گے اور سب ماموروں کی خواہ وہ نبی ہوں یا غیر نبی مخالفت ضرور ہوتی ہے۔ پس مبشرات کے لفظ سے منذرات خود نکل آتے ہیں۔ اور حضرت مسیح موعود نے بھی یہ استنباط کیا ہے اور پھر مبشرات کے لفظ سے امور غیبیہ کی اطلاع بھی نکل آتی ہے کیونکہ مبشرات ہمیشہ آئندہ کی خبروں کو کہتے ہیں۔ ورنہ اگر کسی امیر کو کوئی شخص جا کر کہے کہ تم امیر ہو تو یہ کوئی بشارت نہیں وہ اسے پہلے ہی جانتا ہے بشارت کہتے ہی اس خوش خبر کو ہیں جسے انسان پہلے نہ جانتا ہو اور نبوت کی مبشرات ہمیشہ آئندہ واقعات کے متعلق ہوتی ہیں۔ پس مبشرات میں ایک طرف تو تبشیر و انذار کی شرط ثابت ہے۔ دوم اظہار علی الغیب کی شرط بھی ثابت ہے باقی رہی تیسری شرط تو وہ صاف الفاظ میں موجود ہے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں لَمْ یَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ اِلَّا الْمُبَشِّرَاتِ یعنی نبوت سے صرف مبشرات باقی رہ گئی ہیں۔ نبوت تو ہے لیکن بعض اقسام کی نبوت آئندہ کے لئے بند کی گئی ہے۔ اور صرف نبوت میں سے وہ نبوت باقی ہے جو بلا خصوصیت شریعت جدیدہ ہوتی ہے۔ پس اے دوستو! یہ حدیث تمہارے موافق ہے نہ مخالف۔ اور حضرت صاحب نے اپنی کل کتب میں اپنے دعوے کی کیفیت کی جو تفصیل بتائی ہے وہ ہمیشہ ایک ہی رہی ہے اور وہی مفصل کیفیت آپ اپنے دعوے کی بتاتے رہے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کریم و محاورہ انبیائے گذشتہ لغتِ عرب اور خود اپنی بیان کردہ تعریف کے رو سے آپ نبی تھے۔ پس اے عزیزو! جن کے دل میں مسیح موعود کی سچی محبت ہے اور جو اس کے حقیقی دعوے کو دنیا میں ثابت شدہ دیکھنا چاہتے ہو۔ اور اس کے کمالات کے چہرہ پر پردہ پڑا ہوا دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ یاد رکھو کہ مسیح موعود نے اپنے دعوے کی جو مفصل کیفیت بیان فرمائی ہے وہ ہمیشہ آپ کی نبوت پر گواہ رہی ہے اور اس میں کبھی بھی نبوت کے خلاف کوئی امر نہیں اور کوئی ایسی بات اس میں بیان نہیں جس کے ہونے سے انسان نبی نہ بن سکے یا نبی نہ کہلائے اور نہ آپ نے کبھی کسی شرط نبوت سے انکار کیا ہے جس کی کمی سے آپ کے نبی ہونے میں شک پیدا ہو جائے۔ پس حضرت مسیح موعود کی تحریرات کو پڑھتے ہوئے اس اصل کو یاد رکھو جو میں نے ابتداء میں تمہارے سامنے پیش کیا ہے کہ نبی کی صرف تین ہی شرائط ہیں اس سے زیادہ نہیں اور باقی سب باتیں خصوصیات کے طور پر ہیں جن میں سے اگر بعض نہ پائی جائیں تو نبی نبی ہی رہتا ہے اس کی نبوت میں فرق نہیں آتا۔ اور یہ میرا دعویٰ اپنا نہیں بلکہ لغتِ عرب کی سب سے زیادہ مستند کتاب تاج العروس کے حوالہ سے اور قرآن کریم کی شہادت سے اور پہلے انبیاء کی نظیر سے اور حضرت مسیح موعود کی اپنی تحریرات سے وہی اصل ثابت ہے اس کے خلاف نہیں۔ پس تم کبھی فروعات کی بحث میں نہ پڑو بلکہ اس اصل کو مضبوط پکڑ کر معترضین کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ کر خدمت سلسلہ میں لگے رہو پھر کوئی دشمن تمہارا مقابلہ نہ کر سکے گا۔ تم ان سے یہ دریافت کرو کہ نبوت کی مفصل کیفیت میں جو حضرت مسیح موعود نے اپنی مختلف کتب میں بیان کی ہے کہاں اور کن شرائطِ نبوت سے انکار کیا ہے۔ اگر وہ تم کو کہیں کہ حضرت مسیح موعود تو لکھتے ہیں کہ آپ صرف لغوی نبی ہیں۔ تو ان سے کہو کہ ذرا لغت کھول کر دیکھو۔ نَبَّئَ اللہُ کی تعریف اس میں کیا لکھی ہے؟ لغت کی تعریف تو یہی ہے کہ نبی وہ ہے جو کثرت کے ساتھ اور غیب کے اہم امور کی خبریں دے۔ اور اس کا نام اللہ تعالیٰ نے نبی رکھا ہو۔ اور قرآن کریم بھی یہی تعریف فرماتا ہے۔ پس لغت کے مطابق نبی ہونے کے یہ معنی نہیں کہ آپ نبی نہیں۔ بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ نبی ہیں۔ کیونکہ لغت میں انبیاء کے لئے جو شرائط آئی ہیں وہی شرائط قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ اور انہیں شرائط کی رو سے پہلے انبیاء نبی ہوا کرتے تھے اور وہی تعریف حضرت مسیح موعود بیان فرماتے ہیں۔ پس اگر لغت کوئی اور تعریف کرتی۔ تو بیشک شک کا مقام تھا لیکن لغت تو وہی تعریف نبی کی کرتی ہے جو قرآن کریم میں مذکور ہے اور جس کی رو سے پہلے انبیاء نبی تھے۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح موعود قرآن کریم کے معنوں کے رو سے بھی نبی ہیں۔ اور لغت کے معنوں کے رو سے بھی نبی ہیں۔ اور کیا نبی کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ لغت کے خلاف کسی اور معنوں کے رو سے نبی ہو۔ نہیں ایسا نہیں۔ فیصلوں کی اصل 'حکم تو لغت ہے۔ اور اس کے بعد اصطلاحات خاص۔ پس جبکہ لغت میں نبی کے معنی اور قرآن کی اصطلاح ایک ہی ہیں تو اب کسی کا کیا حق ہے کہ اپنی طرف سے نئی شرائط تجویز کرے۔ غرض کہ جو تین شرائط میں نے ابتداء میں نبی کے لئے بتائی ہیں وہی شرائط ایسی ہیں کہ جس میں ہوں وہ نبی ہو گا۔ اور جس میں وہ تینوں یا ان میں سے ایک نہ ہو وہ نبی نہیں کہلا سکتا۔ اور جس میں وہ تین شرائط پائی جائیں اور کوئی شخص اس کے نبی ہونے سے انکار کرے۔ تو وہ شخص قرآن کریم کی ہتک کرنے والا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے ان شرائط سے زیادہ اور کوئی شرط مقرر نہیں فرمائی۔ اسی طرح وہ پہلے نبیوں کی نبوت سے انکار کرنے پر مجبور ہے۔ کیونکہ اگر ان شرائط کو تسلیم نہ کیا جائے تو بہت سے نبیوں کی نبوت کے انکار کرنا پڑے گا۔ اور ایسے شخص کو لغت سے بھی انکار کرنا پڑے گا۔ کیونکہ لغت میں نبی اسی انسان کا نام بتایا ہے جس میں یہ تینوں باتیں پائی جائیں۔ اور اس سے زائد کوئی اور شرط نہیں بتائی۔ پس جس میں یہ شرائط پائی جاویں اس کے نبی ہونے کا انکار کرنے والا لغت بھی چھوڑتا ہے۔ اور جو لغت کو چھوڑتا ہے۔ اس سے بحث کرنا ہی فضول ہے۔ کیونکہ ممکن ہے وہ کل کو کہہ دے کہ کتاب فرشتوں کو اور فرشتہ رسول کو کہتے ہیں۔ اور لغت دکھائے جانے سے کہہ دے کہ میں لغت کا اعتبار نہیں کرتا۔

اب میں جناب مولوی صاحب کے کل نقل کردہ حوالہ جات کا جواب ایک ہی جواب میں دے چکا ہوں یعنی یہ کہ نبی قرآن کریم کی اصطلاح اور پہلے نبیوں کی نبوت اور لغت عرب کے مطابق اس شخص کو کہتے ہیں۔ جس میں یہ تین باتیں پائی جائیں۔ ۱۔ کثرت سے امورِ غیبیہ پر اطلاع پائے۔ ۲۔ اسے جو خبریں غیب کی بتائی جائیں وہ امورِ مہمہ پر مشتمل ہوں اور منکروں کی تباہیوں اور ماننے والوں کی ترقیوں کی اطلاع ان میں دی جائے۔ ۳۔ خدائے تعالیٰ نے اس کا نام نبی رکھا ہو۔

اور جو حوالے جناب مولوی صاحب نے دیئے ہیں۔ ان میں سے ایک میں بھی میں یہ لکھا نہیں پاتا کہ ان تین باتوں میں سے فلاں بات مجھ میں نہیں ہے۔ اور نہ ان کے سوا حضرت مسیح موعود کی کسی اور تحریر میں۔ بلکہ ان سب میں یہ بات لکھی ہے کہ یہ باتیں مجھ میں موجود ہیں۔ پس جب ان حوالہ جات سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ اپنے آپ کو ان تین شرائط کا پورا کرنے والا بتاتے ہیں۔ تو پھر آپ کے نبی ہونے میں کیا شک ہے۔ اگر حضرت صاحب کی نبوت کے خلاف ثبوت دینا ہو تو ہم کو وہ حوالہ جات دکھائیں جن میں ان تین امور میں سے کسی امر کا انکار کیا گیا ہو۔ لیکن ہمارے سامنے تو ایسے حوالہ جات پیش کئے جاتے ہیں جن میں حضرت مسیح موعودؑ ان تین شرائط کا اقرار کرتے ہیں۔ ہاں کسی جگہ یہ لکھتے ہیں کہ وحی شریعت بند ہو گئی۔ کسی جگہ لکھتے ہیں کہ کوئی شریعتِ جدید لانے والا نبی نہیں آسکتا۔ کسی جگہ لکھتے ہیں کہ بلاواسطہ نبوت پانے والا نبی آنا اب ناممکن ہے۔ اور ان باتوں کو تو ہم مانتے ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کوئی جدید شریعت نہیں لائے اور یہ کہ آپ کی نبوت فیضِ محمدیؐ سے تھی۔ پس ان حوالوں کے پیش کرنے سے کیا فائدہ؟ وہ تو ہمارے خیالات کی تائید کرتے ہیں۔ ہمارے خلاف تو وہی حوالہ جات پیش کئے جاسکتے ہیں۔ جن میں حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے اندر شرائط نبوت پورا ہونے سے انکار کیا ہو۔ جو باتیں ہر ایک نبی میں پائی جانی نہ قرآن کریم کے مطابق نہ لغت کے مطابق نہ حضرت مسیح موعود کی اپنی تحریرات کے مطابق ضروری ہوں۔ اگر ان میں سے بعض کا حضرت مسیح موعود انکار کردیں اور کہیں کہ یہ میرے اندر نہیں ہیں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ نبی بھی نہیں ہیں۔ جو باتیں نبی ہونے کے لئے ضروری ہیں حضرت مسیح موعود ان کا دعویٰ شروع سے آخر تک برابر کرتے رہے ہیں اور اس کے خلاف کوئی شخص ثابت نہیں کر سکتا کہ حضرت صاحب نے کہیں لکھا ہو کہ: ۱۔ مجھے کثرت سے امورِ غیبیہ پر اطلاع نہیں دی جاتی۔ ۲۔ جن امور کی مجھے اطلاع دی جاتی ہے وہ معمولی باتیں ہوتی ہیں نہ تبشیر و انذار کے متعلق۔ ۳۔ خدا تعالیٰ نے مجھے نبی کے لفظ سے کبھی نہیں پکارا۔ مگر میں یقیناً کہتا ہوں کہ یہ بات کوئی شخص ثابت نہیں کر سکتا۔ اور خواہ ۱۹۰۱ء کے بعد کی کتب ہوں یا پہلے کی ۔ کسی میں بھی ان باتوں سے انکار نہیں بلکہ ان باتوں کے پائے جانے کا دعویٰ ہے۔ اور نبی اسی کو کہتے ہیں جس میں یہ باتیں پائی جائیں۔

میں آخر میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کر دینا چاہتا ہوں کہ میری اس تحریر سے کہ بعض انبیاء میں جو خصوصیات ہوتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ دوسرے انبیاء میں بھی پائی جائیں کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ انعاماتِ نبوت بھی نبیوں سے جدا ہو سکتے ہیں۔ مثلاً یہ انعام کہ ہر نبی اپنے زمانہ کے لوگوں کا مطاع ہو۔ یا یہ کہ اس کے منکر اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے دور کئے جائیں۔ یہ انعاماتِ نبوت ہیں۔ خصوصیاتِ انبیاء سے نہیں ہیں۔ اور ضروری ہے کہ ہر ایک شخص جب نبی بنے۔ تو ان انعامات کا مستحق ہو۔ اور شرعی نبی ہونا یا بلاواسطہ نبوت پانا انعاماتِ نبوت میں سے نہیں۔ کیونکہ بعض نبی شریعت نہیں بھی لاتے۔ جو ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ انعامِ نبوت نہیں ورنہ سب کو ملتا۔ اور بلاواسطہ نبوت پانا اس لئے انعاماتِ نبوت میں سے نہیں ہے کہ انعام کسی شئے کا اس کے حاصل ہونے کے بعد ملتا ہے۔ اور بلاواسطہ نبوت کا پانا یا نہ پانا تو نبوت کے ملنے کے وقت کا کام ہے اس لئے انعامِ نبوت نہیں کہلا سکتا۔

نبوت کے متعلق اختلافات کا اصل سبب

اب میں یہ بات ثابت کر چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے کتاب تریاق القلوب لکھنے کے بعد اپنے نبی ہونے کے متعلق ایک تبدیلی فرمائی ہے۔ اور یہ کہ جون کے پرچہ ریویو میں جو مضمون ہے وہ تریاق القلوب کی تحریر کا ناسخ ہے اور اس کے بعد میں نے نبی کی تعریف از روئے قرآن کریم و

اصطلاحِ ربانی و عقیدہ انبیاءِ سابقین ومذہب حضرت مسیح موعودؑ و لغتِ عرب کے بیان کر کے بتایا ہے کہ یہ تعریف من کل الوجوہ حضرت مسیح موعودؑ پر صادق آتی ہے۔ اور جس قدر شرائط نبی ہونے کے لئے ہیں ۔ وہ سب آپ میں پائی جاتی ہیں۔ اور آپ شروع دعویٰ مسیحیت سے اس بات کا اقرار فرماتے رہے ہیں کہ وہ شرائط آپ کے اندر پائی جاتی ہیں۔ پس آپ نبی ہیں۔ اور اگر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کسی جگہ یہ تحریر فرمایا ہے کہ میں کوئی شریعت نہیں لایا۔ یا یہ کہ میں نے جو کچھ پایا ہے آنحضرتؐ کے طفیل سے پایا ہے۔ اس کا یہ مطلب نکالنا کہ آپ نبی نہ تھے غلط ہے کیونکہ یہ باتیں شرائط نبوت سے نہیں ہیں۔ اور جو باتیں شرائط نبوت سے ہیں۔ ان کا انکار حضرت مسیح موعود نے کبھی نہیں کیا۔

اس کے بعد میں ایک اور ضروری امر پر بھی کچھ تحریر کرنا ضروری خیال کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جب حضرت مسیح موعود اس بات کے مقر تھے کہ آپ کے اندر سب شرائط نبوت پائی جاتی ہیں تو کیوں آپ اپنی بعض تحریرات میں نبی ہونے سے انکار کرتے رہے ہیں اور صاف لکھتے رہے ہیں کہ آپ نبی نہیں بلکہ محدث ہیں۔ اور یہ کہ آپ کی نبوت صرف محدثوں والی نبوت ہے نہ کہ کسی اور قسم کی۔ گو یہ ممکن تھا کہ میں صرف یہ کہہ کر اس مضمون کو ختم کر دیتا کہ حضرت مسیح موعود خود لکھ چکے ہیں کہ میرے انکار سے صرف شریعت جدیدہ اور نبوت بلا واسطہ مراد ہے۔ لیکن چونکہ میں چاہتا ہوں کہ حتی الامکان اس رسالہ میں ایسے کل امور کا جو مسیح موعود کی نبوت کے متعلق ہیں۔ اصولی طور پر فیصلہ کیا جائے۔ اس لئے میں صرف اس جواب پر کفایت کرنا پسند نہیں کرتا۔ بلکہ اس اصل سبب کو کھول کر بیان کرنا چاہتا ہوں۔ جو اس اختلاف کا باعث ہوا ہے۔ اور اس غلطی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جس میں پڑ کر بعض لوگوں نے حضرت مسیح موعود کی نبوت کا انکار کر دیا۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ جو لوگ اس غلطی کو اچھی طرح سمجھ لیں گے۔ وہ معلوم کر لیں گے کہ موجودہ اختلاف کس طرح اور کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔ اور ان کو یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ ایک لحاظ سے تو حضرت مسیح موعود کی ابتدائی تحریرات اور آخری تحریرات میں اختلاف ہے اور ایک طور سے بالکل کوئی اختلاف نہیں ۔ اور اسی نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے۔

چونکہ میں نے حضرت مسیح موعود کی کتب میں سے وہ حوالے جن سے آپ کی نبوت کے خلاف استدلال کیا جاتا ہے۔ اوپر نقل کر دیئے ہیں اور ان کو دو حصوں پر تقسیم کیا ہے ایک ۱۹۰۱ء سے پہلے کے۔ اور ایک ۱۹۰۱ء کے بعد کے۔ اس لئے ہر ایک شخص بآسانی اس بات کو معلوم کر سکتا ہے کہ جن

کتب میں آپ نے اپنے نبی ہونے سے صریح الفاظ میں انکار کیا ہے اور اپنی نبوت کو جزئی اور ناقص اور محدّثوں کی نبوت قرار دیا ہے وہ سب کے سب بلا استثناء ۱۹۰۱ء سے پہلے کی کتب ہیں (اور یہ میں ثابت کرچکا ہوں کہ تریاق القلوب بھی انہی کتب میں سے ہے) اور ۱۹۰۱ء کے بعد کی کتب میں سے ایک کتاب میں بھی اپنی نبوت کو جزئی قرار نہیں دیا اور نہ ناقص اور نہ نبوتِ محدّثیت۔ اور نہ صاف الفاظ میں کہیں لکھا ہے کہ میں نبی نہیں بلکہ یہ فرمایا ہے کہ میں شریعت والا نبی اور براہِ راست نبوت پانے والا نبی نہیں ہوں۔ ہاں ایسا نبی ضرور ہوں جس نے نبوت کا فیضان بواسطہ آنحضرت پایا ہے۔ اس اختلاف سے اتنا تو ضرور معلوم ہو جاتا ہے کہ ۱۹۰۱ء میں حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے عقیدہ میں ایک تبدیلی ضرور کی ہے۔ یعنی پہلے اپنی نبوت کو محدثیت قرار دیتے تھے۔ لیکن بعد میں اس کا نام نبوت ہی رکھتے ہیں۔ اور نبوت کا انکار نہیں کرتے بلکہ شریعتِ جدیدہ لانے اور براہِ راست نبوت پانے کا انکار کرتے ہیں۔ پھر جب ہم آپ کی کتاب حقیقتہ الوحی کو دیکھیں تو اس سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلہ میں آپ نے اپنے عقیدہ میں کوئی تبدیلی ضرور کی ہے کیونکہ آپ اس کتاب میں لکھتے ہیں کہ

”اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اسکو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی“ (حقیقة الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۳-۱۵۴)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ پہلے اپنے آپ کو اس بناء پر کہ مسیح نبی ہے اور آپ غیر نبی۔ مسیح سے افضل نہیں سمجھتے تھے لیکن خدا تعالیٰ کی وحی میں بار بار آپ کا نام نبی رکھا گیا تو آپ نے اس عقیدہ میں تبدیلی کر لی اور اپنے آپ کو مسیح سے افضل قرار دیا یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ اپنی نبوت کا اقرار کیا کیونکہ غیر نبی نبی سے افضل نہیں ہو سکتا اور چونکہ تریاق القلوب کے زمانہ تک آپ نے اپنے آپ کو مسیح سے کلی طور پر افضل ہونے کا انکار کیا تھا اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کا مسئلہ آپ پر ۱۹۰۰ء یا ۱۹۰۱ء میں کھلا ہے اور چونکہ ایک غلطی کا ازالہ ۱۹۰۱ء میں شائع ہوا ہے جس میں آپ نے اپنی نبوت کا اعلان بڑے زور سے کیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۰۱ء میں آپ نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے اور ۱۹۰۰ء ایک درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان

برزخ کے طور پر حد فاصل ہے پس ایک طرف آپ کی کتابوں سے اس امر کے ثابت ہونے سے کہ ۱۹۰۱ء سے آپ نے نبی کا لفظ بار بار استعمال کیا ہے اور دوسری طرف حقیقتہ الوحی سے یہ ثابت ہونے سے کہ آپ نے تریاق القلوب کے بعد نبوت کے متعلق عقیدہ میں تبدیلی کی ہے یہ بات ثابت ہے کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔

اب ایک اعتراض رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ جب یہ ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ شروع دعوٰی سے اپنے اندر نبیوں کی سب شرائط کے پائے جانے کے مدعی تھے تو پھر آپ کیوں اپنے نبی ہونے سے انکار کرتے تھے اور اگر پہلے آپ انکار کرتے تھے تو بعد میں اسی دعوے کی بناء پر پھر دعوائے نبوت کیوں کیا؟ اگر یہ ثابت ہو جاتا کہ آپ نے اپنے دعوے میں بھی کوئی تبدیلی کر لی تھی تب تو یہ مانا جا سکتا تھا کہ پہلے آپ کا دعویٰ وہ تھا جو غیر نبیوں کا ہوتا ہے اور بعد میں آپ نے وہ دعوٰی کیا جو نبیوں کا ہوتا ہے اسلئے نبی ہونے کا بھی اعلان کر دیا لیکن جبکہ کام اور درجہ ایک رہا تو پھر نام کے تبدیل کرنے کی کیا وجہ تھی۔ اگر اس دعوٰی کے ہوتے ہوئے آپ ۱۹۰۱ء سے پہلے نبی تھے تو بعد میں بھی تھے اور اگر ۱۹۰۱ء سے پہلے اس دعوے کی موجودگی میں آپ نبی نہ تھے تو ۱۹۰۱ء کے بعد کونسی بات پیدا ہو گئی تھی کہ آپ اس کی وجہ سے نبی ہو گئے۔ اور پھر یہ بھی اعتراض پڑتا ہے کہ جب شروع دعویٰ سے آپ میں نبی ہونے کی کل شرائط پائی جاتی تھیں تو کیوں آپ نبی ہونے سے انکار کرتے رہے۔

سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اختلاف ایک نہایت چھوٹی سی بات سے پیدا ہوا ہے اور بہت سی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں کہ ان کے نتائج بہت بڑے نکلتے ہیں۔ اس تمام اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود دو مختلف اوقات میں نبی کی دو مختلف تعریفیں کرتے رہے ہیں۔ ۱۹۰۱ء سے پہلے آپ نبی کی اور تعریف کرتے تھے اور بعد میں آپ نے جب اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی پر غور فرمایا اور قرآن کریم کو دیکھا تو اس سے نبی کی تعریف اور معلوم ہوئی چونکہ جو تعریف نبی کی آپ پہلے خیال فرماتے تھے اس کے مطابق آپ نبی نہ بنتے تھے اس لئے باوجود اس کے کہ سب شرائط نبوت آپ میں پائی جاتی تھیں آپ اپنے آپ کو نبی کہنے سے پرہیز کرتے تھے اور اپنے الہامات میں جب نبی کا نام دیکھتے اس کی تاویل کر لیتے اور حقیقت سے ان کو پھیر دیتے کیونکہ آپ جب اپنے نفس پر غور فرماتے تو اپنے اندر وہ باتیں نہ دیکھتے تھے جن کا انبیاء میں پایا جانا آپ ضروری خیال فرماتے تھے

لیکن بعد میں جب آپ کو الہامات میں بار بار نبی اور رسول کہا گیا اور آپ نے اپنی پچھلی تئیس سالہ وحی کو دیکھا تو اس میں برابر ان ناموں سے آپ کو یاد کیا گیا تھا پس آپ کو اپنا عقیدہ بدلنا پڑا۔ اور قرآن کریم سے آپ نے معلوم کیا کہ نبی کی تعریف وہ نہیں جو آپ سمجھتے تھے بلکہ اس کے علاوہ اور تعریف ہے اور چونکہ وہ تعریف جو قرآن کریم نبی کی کرتا ہے اس کے مطابق آپ نبی ثابت ہوتے تھے اس لئے آپ نے اپنی نبوت کا اعلان کیا۔

نبی کی وہ تعریف جس کے رو سے آپ اپنی نبوت کا انکار کرتے رہے ہیں یہ ہے کہ نبی وہی ہو سکتا ہے جو کوئی نئی شریعت لائے یا پچھلی شریعت کے بعض احکام کو منسوخ کرے یا یہ کہ اس نے بلا واسطہ نبوت پائی ہو اور کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہو اور یہ تعریف عام طور پر مسلمانوں میں مسلم تھی۔ چونکہ انبیاء کی یہ سنت ہے کہ وہ اس وقت تک کسی کام کو نہ شروع کرتے ہیں نہ چھوڑتے ہیں جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نہ آئے اس لئے اسی احتیاط انبیاء سے کام لے کر حضرت مسیح موعود بھی اسی عقیدہ پر قائم رہے کہ نبی میں مذکورہ بالا تین باتیں پائی جانی ضروری ہیں اور چونکہ آپ میں ان باتوں میں سے ایک بھی نہ پائی جاتی تھی اس لئے آپ اپنے الہامات کی یہ تاویل فرماتے کہ نبی سے مراد محدث ہے اور آپ کا درجہ محدثیت کا ہے نہ کہ نبوت کا۔ اور نبی آپ کا نام صرف بعض جزئی مشابہتوں کی وجہ سے رکھ دیا گیا ہے یا صرف لغت کے معنوں کے لحاظ سے کیونکہ نبوت کے معنی خبر دینے کے ہیں۔ پس جو شخص خبر دے وہ جزئی طور پر نبی کہلا سکتا ہے اور رسول کا نام پا سکتا ہے۔ لیکن بعد میں آپ نے معلوم کیا کہ نبی کے لئے شرط نہیں کہ وہ ضرور شریعت جدیدہ لائے یا بعض پچھلے حکم منسوخ کرے یا بلاواسطہ نبوت پائے بلکہ اس کے لئے اور شرائط ہیں جو آپ میں دعوائے مسیحیت کے وقت سے پائی جاتی ہیں اس لئے آپ نے اپنے آپ کو نبی کہنا شروع کر دیا اور اس کے بعد کبھی اپنے نبی ہونے سے انکار نہیں کیا۔ اگر کیا تو صرف اس بات سے کہ میں کوئی شریعت لانے والا نبی نہیں اور نہ ایسا نبی ہوں کہ میں نے بلاواسطہ نبوت پائی ہے۔ پس سارا اختلاف نبوت کی تعریف کے اختلاف سے پیدا ہوا ہے جب تک آپ نبی کی یہ تعریف کرتے رہے کہ اس کے لئے شریعت جدیدہ لانا یا بلاواسطہ نبی ہونا شرط ہے تب تک تو آپ اپنے نبی ہونے سے انکار کرتے رہے اور گو ان باتوں کا اقرار کرتے رہے جو نبی ہونے کی اصلی شرائط تھیں اور جب آپ نے معلوم کیا کہ نبی کی شرائط کوئی اور ہیں وہ نہیں جو پہلے سمجھتے تھے اور وہ آپ کے اندر پائی جاتی ہیں تو آپ نے اپنے نبی ہونے کا اقرار کیا چنانچہ حقیقت الوحی کی مذکورہ بالا تحریر سے بھی یہ امر ثابت ہے کیونکہ اس

میں آپ لکھتے ہیں کہ میں پہلے تو مسیح سے اپنے آپ کو ادنیٰ خیال کرتا رہا کیونکہ میرا خیال تھا کہ وہ نبی ہے اور میں غیر نبی۔ لیکن بعد میں جب بار بار مجھ پر وحی نازل ہوئی اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا تو مجھے اپنا عقیدہ بدلنا پڑا۔ اب یہ بات تو ظاہر ہے کہ نبی کے نام سے تو حضرت مسیح موعود کو براہین کے زمانہ سے یاد کیا جاتا تھا۔ پس صریح طور سے نبی کا خطاب دیا گیا کہ یہ معنی تو ہو نہیں سکتے کہ آپ کو پہلے نبی کا خطاب نہ دیا گیا تھا۔ بعد میں دیا گیا اس لئے فضیلت کا عقیدہ بدل دیا بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہو سکتا ہے کہ پہلے بھی نبی کے نام سے آپ کو پکارا تو جاتا تھا لیکن آپ اس کی تاویل کرتے رہتے تھے لیکن جب بار بار الہامات میں آپ کو اللہ تعالیٰ نے نبی اور رسول کے نام سے پکارا تو آپ کو معلوم ہوا کہ آپ واقعہ میں نبی ہی ہیں غیر نبی نہیں۔ جیسا کہ پہلے سمجھتے تھے اور نبی کا لفظ جو آپ کے الہامات میں آتا ہے صریح ہے قابل تاویل نہیں۔ پس اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کو نبی کا خطاب نیا دیا گیا بلکہ یہ مطلب ہے کہ بار بار کی وحی نے آپ کی توجہ کو اس طرف پھیر دیا کہ تیس سال سے جو مجھ کو نبی کہا جا رہا ہے تو یہ محدث کا دوسرا نام نہیں بلکہ اس سے نبی ہی مراد ہے اور یہ زمانہ تریاق القلوب کے بعد کا زمانہ تھا اور اس عقیدہ کے بدلنے کا پہلا ثبوت اشتہار ”ایک غلطی کا ازالہ“ سے معلوم ہوتا ہے جو پہلا تحریری ثبوت ہے ورنہ مولوی عبدالکریم صاحب کے خطبات جمعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۰۰ء سے اس خیال کا اظہار شروع ہو گیا تھا گو پورے زور اور پوری صفائی سے نہ تھا چنانچہ اسی سال میں مولوی صاحب نے اپنے ایک خطبہ میں حضرت مسیح موعود کو مرسل الٰہی ثابت کیا اور لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ(3:85) والی آیت کو آپ پر چسپاں کیا اور حضرت مسیح موعودؑ نے اس خطبہ کو پسند بھی فرمایا ہے اور یہ خطبہ اسی سال کے الحکم میں چھپ چکا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ پورا فیصلہ اس عقیدہ کا ۱۹۰۱ء میں ہی ہوا ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ حضرت مسیح موعود چونکہ ابتداءً نبی کی تعریف یہ خیال فرماتے تھے کہ نبی وہ ہے جو نئی شریعت لائے یا بعض حکم منسوخ کرے یا بلاواسطہ نبی ہو اس لئے باوجود اس کے کہ وہ سب شرائط جو نبی کے لئے واقع میں ضروری ہیں آپ میں پائی جاتی تھیں آپ نبی کا نام اختیار کرنے سے انکار کرتے رہے اور گو ان ساری باتوں کا دعویٰ کرتے رہے جن کے پائے جانے سے کوئی شخص نبی ہو جاتا ہے لیکن چونکہ آپ ان شرائط کو نبی کی شرائط نہیں خیال کرتے تھے بلکہ محدث کی شرائط سمجھتے تھے اس لئے اپنے آپ کو محدث کہتے رہے اور

نہیں جانتے تھے کہ میں دعوے کی کیفیت تو وہ بیان کرتا ہوں جو نبیوں کے سوا اور کسی میں پائی نہیں جاتی اور نبی ہونے سے انکار کرتا ہوں لیکن جب آپ کو معلوم ہوا کہ جو کیفیت اپنے دعوے کی آپ شروع دعوٰی سے بیان کرتے چلے آئے ہیں وہ کیفیت نبوت ہے نہ کہ کیفیت محدثیت۔ تو آپ نے اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا اور جس شخص نے آپ کے نبی ہونے سے انکار کیا تھا اس کو ڈانٹا کہ جب ہم نبی ہیں تو تم نے کیوں ہماری نبوت کا انکار کیا۔ تمہارا یہ فرض تھا کہ بتاتے کہ ایسا دعوٰی نہیں کیا جس سے اسلام کو منسوخ کر دیا ہو یا آنحضرت سے الگ ہو کر نبوت پائی ہو ورنہ نبوت کا دعوٰی ضرور کیا ہے جو کچھ میں نے اوپر لکھا ہے یہ میرا خیال ہی خیال نہیں بلکہ واقعہ ہے اور حضرت مسیح موعودؑ کی تحریرات سے ثابت ہے چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ ۱۸۹۹ء کے ایک خط میں جو الحکم ۱۸۹۹ء میں چھپ چکا ہے نبی کی تعریف مندرجہ ذیل الفاظ میں فرماتے ہیں:

”مگر چونکہ اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں یا بعض احکامِ شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں یا نبی سابق کی امت نہیں کہلاتے اور براہِ راست بغیر استفاضہ کسی نبی کے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ہوشیار رہنا چاہئے کہ اس جگہ بھی یہی معنی نہ سمجھ لیں کیونکہ ہماری کتاب بجز قرآن کریم کے نہیں ہے اور ہمارا کوئی رسول بجز محمد مصطفیٰ کے نہیں ہے اور ہمارا کوئی دین بجز اسلام کے نہیں ہے اور ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارے نبی خاتم الانبیاء اور قرآن شریف خاتم الکتب ہے“۔

(الحکم جلد ۳ نمبر ۲۹-۱۸۹۹ء)

اس حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے آپ کا یہ عقیدہ تھا کہ اسلام کی اصطلاح کی رو سے نبی وہی ہو سکتا ہے جس میں مذکورہ بالا تین باتوں میں سے کوئی پائی جائے۔ یعنی (۱) وہ جدید شریعت لائے۔ (۲) بعض احکامِ شریعت سابقہ منسوخ کرے۔ (۳) یا بلا واسطہ نبوت پائے اور چونکہ یہ باتیں آپ میں پائی نہ جاتی تھیں اس لئے آپ بالکل درست طور پر اپنے نبی ہونے سے انکار کرتے تھے ہاں چونکہ لغت میں نبی کے لئے ان شرطوں میں سے کوئی شرط مقرر نہیں اس لئے آپ یہ فرما دیتے تھے کہ میرا نام صرف لغوی طور پر نبی رکھا گیا ہے اور اس کی یہ وجہ تھی کہ لغت میں جو شرائط نبی کی پائی جاتی تھیں وہ آپ اپنے اندر موجود پاتے تھے یعنی (۱) کثرت سے مکالمہ و مخاطبہ (۲) انذار و تبشیر سے پر امور غیبیہ کا اظہار (۳) اور خدا تعالیٰ کا نبی نام رکھنا لیکن اسلامی اصطلاح کو اس تعریف کے خلاف سمجھ کر (کیونکہ عام مسلمانوں کا یہی عقیدہ تھا اور انبیاء انکشافِ تام تک عام عقیدہ پر قائم رہتے ہیں) آپ باوجود سب شرائطِ نبوت کے موجود ہونے کے اور ان کے پائے جانے کا اقرار کرنے کے اپنے آپ کو نبی نہ سمجھتے تھے۔ مگر بار بار کے الہامات نے آخر آپ کی توجہ کو نبی کے حقیقی مفہوم کی طرف پھیرا اور آپ کے دل پر پورے طور پر امرِ واقع کا انکشاف ہوا اور قرآن کریم کو بھی آپ نے عام لوگوں کے عقیدہ کے خلاف پایا۔ تو اس پہلے عقیدہ کو ترک کر دیا چنانچہ اس کا ثبوت وہ تحریرات ہیں جو آپ نے نبی کی تعریف میں ۱۹۰۱ء اور اس کے بعد لکھی ہیں چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

۱۔ خدا کی اصطلاح میں نبی کسے کہتے ہیں۔

”خدا کی یہ اصطلاح ہے کہ جو کثرتِ مکالمات و مخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے یعنی ایسے مکالمات جن میں اکثر غیب کی خبریں دی گئی ہیں“ (چشمۂ معرفت صفحہ ۳۲۵ ۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۴۱)

۲۔ انبیاء کے نزدیک نبی کی تعریف

”جبکہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت و کمیت کے رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر امورِ غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے“۔ (الوصیت صفحہ ۱۳ ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۱۱)

۳۔ اسلام کی اصطلاح میں نبی کسے کہتے ہیں۔

”ایسے شخص میں ایک طرف تو خدا تعالیٰ کی ذاتی محبت ہوتی ہے اور دوسری طرف بنی نوع کی ہمدردی اور اصلاح کا بھی ایک عشق ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اصطلاحِ اسلام میں نبی اور رسول اور محدث کہتے ہیں اور وہ خدا کے پاک مکالمات و مخاطبات سے مشرف ہوتے ہیں اور خوارق ان کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں اور اکثر دعائیں ان کی قبول ہوتی ہیں“۔

(لیکچر سیالکوٹ صفحہ ۲۳ ــــــــ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۲۵)

۴۔ قرآن کریم میں نبی کی تعریف

”جس کے ہاتھ پر اخبارِ غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے بالضرور اس پر مطابق آیت یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ(72:27) کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص۴ ‘ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۸)

۵۔ زبانِ عربی میں نبی کی تعریف

”عربی اور عبرانی زبان میں نبی کے یہ معنی ہیں کہ خدا سے الہام پا کر بکثرت پیشگوئی کرنے والا۔ اور بغیر کثرت کے یہ معنی متحقق نہیں ہو سکتے“۔ (مکتوب مندرجہ اخبار عام ۱۹۰۸ء)

ان تعریفوں سے جو سب کی سب ۱۹۰۱ء یا اس کے بعد کی ہیں صاف ثابت ہے کہ آپ نے نبی کی تعریف کو بعد میں بدل دیا تھا اور جیسا کہ ۱۸۹۹ء کے خط سے جس کا حوالہ میں اوپر نقل کر آیا ہوں ثابت ہے آپ پہلے تو اسلام کی اصطلاح میں نبی کے یہ معنی خیال کرتے تھے کہ نبی وہ ہے جو (۱) یا تو نئی شریعت لائے۔ (۲) یا پہلی شریعت کے بعض حکم منسوخ کرے (۳) یا بلاواسطہ نبی ہو صفحہ ۱۲۷۔ اور چونکہ یہ باتیں آپ میں نہیں پائی جاتی تھیں ضرور تھا کہ آپ اپنے نبی ہونے سے انکار کرتے لیکن ۱۹۰۱ء میں جب آپ کو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک‘ انبیاء کے نزدیک‘ اسلام کی اصطلاح کے مطابق‘ قرآن کریم کے فیصلہ کے مطابق نبی کی تعریف وہی ہے جس کو آپ پہلے صرف لغت کی تعریف خیال کرتے رہے تھے اور اسلامی اصطلاح کے خلاف سمجھتے تھے یعنی کثرت سے امورِ غیبیہ کی خبر پانا جو خارقِ عادت نشان ظاہر کرنے والے ہوں یعنی نبی کے اتباع کی عزت اور اس کے مخالفین کی تباہی کی خبر دینے والے ہوں۔ تو ایسے شخص کا جب خدا تعالیٰ نبی نام رکھے تو وہ نبی ہی ہوتا ہے نہ کہ محدث۔ تو آپ نے معلوم کیا کہ آپ واقعہ میں نبی ہیں۔ اور ابتدائے دعویٰ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبی کے مقام پر کھڑا کیا ہے اور یہ خیال آپ کا صرف قیاس کی بناء پر ہی نہیں بدلا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت حضور نے ایسا کیا جیسا کہ فرماتے ہیں۔ ”آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ و مخاطبہ رکھتے ہیں میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الٹی نبوت رکھتا ہوں“۔ (تتمہ حقیقة الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۰۳)

پس جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو خود بتلایا کہ نبوت شریعت لانے یا بلا واسطہ نبی ہونے کا نام نہیں بلکہ امور غیبیہ پر کثرت سے اطلاع پانے کا نام ہے اور ایسے ہی شخص کا نام اللہ تعالیٰ جب نبی رکھتا ہے تو وہ نبی ہوتا ہے نہ محدث۔ تو آپ نے اپنے پہلے خیال کو ترک کر دیا۔ اور ۱۹۰۱ء کے بعد پھر کبھی نہیں لکھا کہ میں نبی نہیں ہوں۔ ہاں جب اپنے آپ کو نبی کہا تو یہ بھی لکھتے رہے کہ میں فلاں قسم کا نبی نہیں بلکہ فلاں قسم کا نبی ہوں۔

میں اس جگہ ایک اور حوالہ بھی دے دیتا ہوں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بر خلاف اس عقیدہ کے جو حضرت مسیح موعودؑ نے ۱۸۹۹ء میں نبی کے متعلق ظاہر فرمایا۔ ۱۹۰۱ء کے بعد آپ کا یہی مذہب تھا کہ نبی کے لئے شریعت جدیدہ کا لانا کوئی شرط نہیں اور نہ یہ کہ کسی اور نبی کا متبع نہ ہو چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

”نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو پس ایک امتی کو ایسا نبی قرار دینے سے کوئی محذور لازم نہیں آتا“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ــــــــــــــ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۰۶)

مذکورہ بالا حوالہ جات سے بالکل بین ہو جاتا ہے کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے آپ نبی کی اور تعریف کرتے تھے اور ۱۹۰۱ء اور اس کے بعد اور تعریف کرتے رہے اور یہ تغیر اپنی رائے اور قیاس سے نہ تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا اور قرآن کریم کی تصریحات کے مطابق تھا پس جب تک کہ آپ نبی کی یہ تعریف کرتے رہے کہ اس کے لئے شریعت جدیدہ لانا یا بلاواسطہ نبوت پانا ضروری ہے آپ اپنے نبی ہونے سے انکار کرتے رہے اور جب یہ معلوم ہوا کہ یہ باتیں شرائط نبوت سے نہیں ہیں اور جو شرائط نبوت ہیں وہ سب آپ میں پائی جاتی ہیں تو آپ نے اپنے نبی ہونے کا اقرار کیا۔

اور یہ تعریفوں کا اختلاف ہی تھا جس کی وجہ سے ۱۹۰۱ء سے پہلے آپ اپنی نبوت کو جزئی اور ناقص قرار دیتے رہے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک طرف تو آپ کو جو درجہ دیا گیا تھا اسے آپ نبوت نہ سمجھتے تھے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ آپ کو نبی قرار دیتا تھا اس لئے

آپ دونوں باتوں کو مطابق کرنے کے لئے یہ تاویل کرتے کہ میں ہوں تو محدث۔ لیکن کثرتِ مکالمہ کی وجہ سے مجھے باوجود اس کے کہ میں کوئی نئی شریعت نہیں لایا نبی کہہ دیا جاتا ہے لیکن جب آپ کو معلوم ہوا کہ آپ جس درجہ پر کھڑے ہوئے ہیں وہ جزوِ نبوت نہیں بلکہ عین نبوت ہے۔ اس وقت کے بعد آپ صرف یہ بتاتے تھے کہ میری نبوت فلاں قسم کی ہے اور یہ کبھی نہ کہتے تھے کہ میں نبی نہیں ہوں صرف ایک جزوِ نبوت کے پائے جانے سے میرا نام نبی رکھ دیا گیا ہے۔

اسی طرح یہ تعریفوں کا اختلاف ہی تھا کہ ایک وقت تو آپ اپنے آپ کو مسیح پر جزئی فضیلت رکھنے والا بتاتے رہے کیونکہ آپ سمجھتے تھے کہ وہ نبی ہے اور میں نبی نہیں اور غیر نبی، نبی پر کلی فضیلت نہیں پاسکتا لیکن جب آپ کو معلوم ہوا کہ آپ نبی ہی ہیں اور نبی کی تعریف آپ پر صادق آتی ہے تو اپنے آپ کو مسیح سے افضل قرار دے دیا۔

اسی طرح یہ بھی تعریفوں کا اختلاف ہی تھا جس کے سبب سے ایک وقت تو اپنے آپ کو نبی کہنے سے جماعت کو روکتے رہے اور دوسرے وقت میں خود اپنے آپ کو نبی اور رسول کر کے لکھنے لگے یہاں تک کہ جب ایک شخص نے آپ کے دعوائے رسالت و نبوت سے انکار کیا تو اس کو ڈانٹ دیا۔

پھر اسی طرح یہ بھی تعریفوں کے اختلاف کے ہی سبب سے ہوا کہ ایک وقت تو آپ نے اشتہار دیا کہ نبی سے میری مراد صرف محدث ہے اور لوگوں کو چاہئے کہ نبی کا لفظ کاٹ کر اس کی جگہ محدث رکھ لیں لیکن اس کے بعد اس کے خلاف یہ اعلان فرمایا کہ: ”اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہارِ غیب نہیں ہے“۔ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۹)

۱۹۰۱ء سے پہلے تو کہتے ہیں کہ نبی سے مراد صرف محدث ہے اور ۱۹۰۱ء کو اعلان کرتے ہیں کہ وہ تو نبی ہی کہلا سکتا ہے محدث تو وہ ہو نہیں سکتا کیونکہ محدث کے معنی اظہارِ غیب کرنے کے نہیں ہیں اور یہ اختلاف اسی وجہ سے ہوا کہ آپ پہلے تو نبی کی اور تعریف کرتے تھے اور چونکہ اپنے آپ کو نبی نہیں سمجھتے تھے اس لئے آپ کا خیال تھا کہ نبی سے نیچے اتر کر جو درجہ ہے وہ محدث کا ہے میں وہی ہوں گا اور اس درجہ کا نام محدث ہی ہو گا لیکن آپ کو جب معلوم ہوا کہ وہ درجہ نبوت کا درجہ ہے اور جس تعریف کو آپ محدثیت کی تعریف خیال کرتے تھے وہ درحقیقت نبوت کی تعریف تھی تو آپ نے اپنے محدث ۵ھ ہونے سے انکار کر دیا۔ اور نبی ہونے کا اعلان کیا۔

پھر اسی طرح یہ نبی کی تعریفوں کے اختلاف کے ہی سبب سے تھا کہ ایک وقت جب آپ اپنے آپ کو نبی خیال نہ کرتے تھے تو اپنے لئے جب نبی کا لفظ الہامات میں دیکھتے تو اس کے یہ معنی کر لیتے کہ ہر محدث ایک رنگ میں جزئی نبی ہوتا ہو گا اسی لئے مجھے نبی کہا جاتا ہے۔ اور اسے صوفیوں کی معمولی اصطلاح قرار دیتے تھے اور اس وجہ سے اپنے اس درجہ میں سب پہلے بزرگوں کو شامل خیال کرتے تھے لیکن جب آپ کو معلوم ہوا کہ جو درجہ آپ کو ملا ہے وہ نبوت کا درجہ ہے اور جو کیفیت اپنے درجہ کی آپ بیان کرتے رہے ہیں وہ نبوت کی کیفیت تھی نہ کہ محدثیت کی۔ تو آپ کو مجبوراً اپنے سے پہلے سب محدثوں کو اپنے درجہ سے علیحدہ کہنا پڑا۔ اور صاف کہہ دیا کہ وہ میری نبوت میں شریک نہیں۔ حالانکہ ۱۹۰۱ء سے پہلے آپ اپنی نبوت پہلے محدثوں کی سی نبوت قرار دیتے تھے جیسا کہ پہلے گزر چکا لیکن ۱۹۰۱ء کے بعد نبی کی حقیقی تعریف کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے انکشاف ہونے کے بعد آپ نے صاف لکھ دیا کہ:

”جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں ۵۶۔“۴۶ (حقیقة الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۶)

اسی طرح لکھا ہے:

”اگر دوسرے صلحاء جو مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں وہ بھی اسی قدر مکالمہ و مخاطبہ الہیہ اور امور غیبیہ سے حصہ پالیتے تو وہ نبی کہلانے کے مستحق ہو جاتے تو اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی میں ایک رخنہ واقع ہو جاتا۔ اس لئے خدا تعالیٰ کی مصلحت نے ان بزرگوں کو اس نعمت کو پورے طور پر پانے سے روک دیا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ۵۷ ہی ہو گا وہ پیشگوئی پوری ہو جائے“ (حقیقة الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۷)

غرض کہ جب تک آپ اپنے درجہ کو محدثوں کا درجہ سمجھتے تھے جن الفاظ سے آپ کو یاد کیا جاتا ان میں پہلے بزرگوں کو بھی شامل کر لیتے لیکن جب نبی کی حقیقی تعریف کا علم ہوا تو آپ نے جان لیا کہ وہ لوگ میرے مقام تک نہیں پہنچے اور میں محدث نہیں بلکہ نبی ہوں۔ اس لئے آپ کو لکھنا پڑا کہ پہلے بزرگ رتبہ نبوت میں میرے شریک نہ تھے۔

غرض کہ اپنے دعوے کی تفصیلی کیفیت کے لحاظ سے تو آپ ہمیشہ ایک ہی بیان شائع کرتے رہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ مجھے کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی جاتی ہے جو انذار و تبشیر کا رنگ رکھتے ہیں اور خدا نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اس وجہ سے کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے کبھی بھی اپنی نبوت سے انکار نہیں کیا بلکہ اپنے دعوے کی تفصیلی کیفیت جو بیان کرتے رہے ہیں اس کے صاف معنی یہ تھے کہ آپ نبی ہیں۔

لیکن اس لحاظ سے کہ آپ نبوت کی تعریف ۱۹۰۱ء سے پہلے اور خیال کرتے تھے اور باوجود اپنے اندر شرائط نبوت کے پائے جانے کے لفظ نبی کی تاویل کرتے تھے آپ کے عقیدہ میں ایک تبدیلی پیدا ہوئی ہے اور اگر ایک وقت آپ اپنے آپ کو نبی کہنے سے منع کرتے رہے ہیں تو دوسرے وقت آپ کے نبی ہونے سے انکار کرنے والے کو آپ نے ڈانٹ دیا ہے۔ پس جہاں جہاں آپ نے اپنے نبی ہونے سے انکار کیا ہے یا نبی بمعنی محدث لیا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہی ہے کہ آپ شریعت جدیدہ کے لانے یا براہِ راست نبوت کے پانے سے انکار کرتے ہیں کیونکہ اس وقت آپ کے نزدیک نبی کے یہی معنی تھے اور یہی وجہ آپ تحریر فرماتے ہیں کہ :

”جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں“

(ایک غلطی کا ازالہؔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۱۰)

غرض ۱۹۰۱ء سے پہلے آپ اگر اپنے نبی ہونے کے منکر تھے تو صرف اس لئے کہ اس وقت تک انبیاء کی احتیاط سے کام لے کر آپ عام عقیدہ کے مطابق نبی کے لئے صاحب شریعت ہونا یا براہِ راست نبوت پانے والا ہونا شرط خیال کرتے تھے (جیسا کہ اوپر حوالہ نقل ہو چکا ہے) اور اس وجہ سے آپ کے انکار کے صرف یہی معنی کئے جاسکتے ہیں جو آپ نے خود کر دیئے ہیں کہ آپ نے جب انکار کیا در حقیقت شریعت جدیدہ لانے یا براہِ راست نبوت پانے سے کیا ہے کیونکہ آپ کے خیال میں اس وقت نبی کے یہی معنی تھے پس یہ نہ دیکھا جائے گا کہ آپ نے لفظ نبی سے انکار کیا ہے بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ نبی کے لفظ کے کیا معنی سمجھ کر اس سے انکار کیا ہے اور جن معنوں کے رو سے آپ نے انکار کیا ہے انہی معنوں تک آپ کا انکار محدود رکھنا ہو گا اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس وقت تک آپ نبی کے معنی یہی خیال کرتے تھے کہ جو شریعت جدیدہ لائے یا براہِ راست نبوت پائے مگر بعد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوا کہ یہ معنی درست نہیں اور یہ باتیں نبوت کے لئے شرائط نہیں۔ نبی کے لئے اور شرائط ہیں اور وہ آپ میں پائی جاتی ہیں۔

غرض کہ اے عزیزو! یہ وہ سبب ہے جس کی وجہ سے حضرت صاحب کی مختلف تحریروں میں اختلاف معلوم ہوتا ہے اور جسے دیکھ کر ہماری جماعت کے ہی بعض لوگوں کو ٹھوکر لگ گئی ہے لیکن درحقیقت یہ نزاع لفظی ہے۔ اور انہوں نے نہیں دیکھا کہ جب حضرت مسیح موعودؑ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے اس وقت آپ کے ذہن میں نبی کے کیا معنی تھے۔ اور پھر اس پر غور نہیں کیا کہ آپ کی بعد کی تحریرات سے ثابت ہے کہ اسلامی اصطلاح اور قرآن کریم کی اصطلاح کے رو سے نبوت کی تعریف اور ہے اور یہ کہ اس تعریف کے رو سے آپ نبی تھے میں مانتا ہوں کہ پہلی تعریف کو بھی آپ نے اسلامی اصطلاح کہا ہے لیکن اس کے ساتھ قرآن کریم سے کوئی دلیل نہیں دی مگر بعد میں جو تعریف کی اس کے لئے قرآن کریم سے استدلال کیا اور فرمایا کہ خدا کے حکم کے مطابق میں اس کا نام نبوت رکھتا ہوں۔ پس اس تعریف نے پہلی تعریف کو بدل دیا اور ۱۹۰۱ء سے پہلے جس قدر تحریرات سے نبی ہونے کا انکار پایا جاتا تھا ان کے معنی بھی بدل دیئے اور اس کے صرف یہ معنی رہ گئے کہ آپ نے شریعت جدیدہ لانے یا براہِ راست نبوت پانے سے انکار کیا ہے پس اب بھی چاہئے کہ دانا انسان اس امر پر غور کریں اور اس نکتہ کو سمجھیں اور اپنی آخرت کی سنوار کی فکر کریں اور اللہ تعالیٰ کے مأمور اور مرسل کی ہتک سے باز آئیں کہ اس کا نتیجہ نہایت برا ہوتا ہے جس طرح افراط بری ہے تفریط بھی بری ہے جسے خدا نے نبی قرار دیا اس کے نبی ہونے سے انکار نہ کریں کہ یہ خدا کا مقابلہ ہے بیشک بعض تحریرات میں انہیں اختلاف نظر آتا ہے۔ لیکن وہ غور کر کے دیکھ لیں کہ وہ اختلاف صرف نبی کی تعریف کے نہ سمجھنے سے پیدا ہوا ہے اور جبکہ خود حضرت مسیح موعودؑ نے نبی کی ایک تعریف کر دی ہے تو نہایت نادان ہے وہ جو اب بھی ٹھوکر کھاتا ہے جب سورج چڑھ گیا تو پھر ٹھوکریں کھانا آنکھوں والوں کا کام نہیں۔ پس اپنی آنکھیں کھولو اور دیکھو کہ سورج نصف النہار میں آگیا۔ اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کا اظہار کر رہا ہے اور اپنی طاقت کا جلوہ دکھاتا ہے اس کے جلال کا اقبال کرو اور اس کی قرنا کا جواب دو جو اس کا نبی مسیح موعود ہے جس نے اپنے سب کمالات آنحضرت ﷺ کے طفیل سے اور آپؐ کے واسطہ سے پائے۔ پس کیا ہی مبارک ہے وہ جس نے اس قدر فیضان کا دریا بہا دیا۔ اور کیا ہی مبارک ہے وہ جس نے اس فیضان کو اپنے اندر لے لیا۔ اور اس قدر وسیع ہوا کہ ظلی طور پر کل کمالات محمدیہ کو پا لیا۔

آہ! کیا ہی قابلِ افسوس اور جائے تعجب و حیرت ہے یہ امر کہ وہ غلطی جو اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کی معرفت دور کروائی تھی اور وہ حقیقت جو اس کے ذریعے دنیا پر روشن کی تھی اسی غلطی کا مرتکب احمدی جماعت کا ایک حصہ ہو رہا ہے اور اسی حقیقت کا منکر اس کے پیروؤں کا ایک گروہ ہو رہا ہے۔ نادان مسلمانوں کا خیال تھا کہ نبی کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ کوئی نئی شریعت لائے یا پہلے احکام میں سے کچھ منسوخ کرے یا بلا واسطہ نبوت پائے لیکن اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کے ذریعہ اس غلطی کو دور کروایا اور بتایا کہ یہ تعریف قرآن کریم میں تو نہیں۔ قرآن کریم تو یہ فرماتا ہے کہ فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(72:27-28) پھر تم کیوں نبی کے لئے ایسی شرائط مقرر کرتے ہو جو اس کے لئے خدائے تعالیٰ نے مقرر نہیں کیں اس نے قرآن کریم سے ثابت کیا کہ نبوت کی وہی تعریف ہے جو وہ کرتا ہے اس نے اعلان کیا کہ خدا کے حکم کے ماتحت میں یہ تعریف کرتا ہوں اس نے اس تعریف کے قبول نہ کرنے والوں کو ڈانٹا اور زجر کیا اور کہا کہ تم اپنی نادانی اور جہالت سے نبی کی غلط تعریف کر رہے ہو نبی کے لئے شریعت لانا ضروری نہیں نبوت تو ایک موہبت ہے جس میں شریعت لانے نہ لانے کا کوئی دخل نہیں اور لکھا کہ:

”نبی اس کو کہتے ہیں جو خدا کے الہام سے بکثرت آئندہ کی خبریں دے مگر ہمارے مخالف مسلمان مکالمہ الٰہیہ کے قائل ہیں لیکن اپنی نادانی سے ایسے مکالمات کو جو بکثرت پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں نبوت کے نام سے موسوم نہیں کرتے“

(چشمۂ معرفت صفحہ ۱۸۰، ۱۸۱‘ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۸۹)

لیکن افسوس کہ باوجود اس کے مسیح موعودؑ نے اس باطل اور بلا دلیل عقیدہ کی تردید کر دی جس میں اس وقت کے مسلمانوں کا ایک کثیر حصہ مبتلاء تھا لیکن خود مسیح موعود کی جماعت میں سے

ایک گروہ اٹھتا ہے اور اس نادانی کا مرتکب ہوتا ہے جس کا الزام حضرت مسیح موعودؑ اپنے دشمنوں کو دیتے رہے کیا یہ تعجب کا مقام نہیں کیا یہ حسرت کی بات نہیں کیا یہ افسوس کی بات نہیں کہ طبیب خود بیمار ہو گیا۔ اور تیراک خود ڈوب گیا اور بدرقہ خود بھول گیا۔ وہ جماعت جس کا فرض تھا کہ لوگوں کو جہالت سے نکالے اور وہ جماعت جس کا فرض تھا کہ مسیح موعودؑ کے لائے ہوئے نور سے دنیا کی ظلمت کو دور کرے اس کا ایک گروہ خود اسی جہالت میں جا گرتا ہے جس سے نکالنے کا کام مسیح موعودؑ نے اس کے سپرد کیا تھا اور آپ اس ظلمت میں اپنا گھر بنالیتا ہے جس کے دور کرنے کے لئے مسیح موعودؑ نے اسے مقرر کیا تھا۔ آہ! جہالت اور نادانی کے لئے کیسی خوشی کا دن ہے اور علم و حقیقت کے لئے کیسے افسوس کی گھڑی ہے کہ پولیس مین چوروں میں جا ملا اور فوج کا سپاہی باغیوں کے ساتھ شامل ہو گیا کسی نے کیا سچ کہا ہے کہ:

مژدہ باد اے مرگِ عیسیٰ آپ ہی بیمار ہے

وہ مسیح کی جماعت جو شیطان کے آخری حملہ کو توڑنے پر مقرر کی گئی تھی اس میں سے ایک جماعت جادہ اعتدال کو چھوڑ کر غلط عقائد کو دوبارہ اختیار کرتی ہے لیکن نہیں ایسا نہیں ہو سکتا جماعت کا اکثر حصہ حق کو سمجھ چکا ہے اور جو لوگ کہ اس وقت تک اپنے مرکز سے علیحدہ ہیں وہ بھی کسی ضد اور ہٹ کی وجہ سے نہیں بلکہ غلط فہمی کی وجہ سے اور ناواقفیت کے سبب سے۔ ان میں سے بہتوں کے دل مسیح موعودؑ کی محبت سے پُر ہیں اور قریب ہے کہ خدا کی رحمت ان کی آنکھیں کھول دے اور وہ دیکھ لیں کہ جس راستہ پر وہ چل رہے ہیں وہ اس راستہ کے خلاف ہے جس پر مسیح موعودؑ نے ان کو چلایا تھا اور جس جگہ کو وہ امن و امان کی جگہ خیال کر رہے ہیں وہ وہی تاریک گڑھا ہے جس سے لوگوں کو نکالنے کے لئے مسیح موعودؑ کوشش کرتا رہا۔ کیا دنیا کے یکتا موتی اور فرد جوہر اور لاثانی ہادی محمد رسول اللہ ﷺ کی دعائیں ضائع جائیں گی؟ کیا اس زمانہ کے امام اور اپنے استاد کے تمام کمالات کے اخذ کرنے والے مسیح موعودؑ کی آہ و زاریاں رائیگاں جائیں گی؟ نہیں یہ نہیں ہو سکتا ضرور ہے کہ جلد یا بدیر بھولے ہوئے واپس آئیں اور گم شدہ گھر کو پالیں۔ خدائے تعالیٰ بڑا رحمن ہے بڑا رحیم ہے بڑا کریم ہے پھر میں کس طرح مان لوں کہ وہ اس جماعت کو جو اس نے مسیح موعودؑ کے ہاتھوں سے قائم کروائی ہے پراگندہ ہونے دے اور اس کشتی کو جسے اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے بنوایا ہے سمندر کی لہروں اور سنگین چٹانوں سے ٹکرا ٹکرا کر ٹوٹنے دے۔ یہ جدائی عارضی ہے اور یہ علیحدگی وقتی ہے ورنہ میں نہیں سمجھ سکتا کہ وہ لوگ جنہوں نے مسیح موعودؑ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اس کے پر جلال کلام کو سنتے رہے وہ اس بات کو معلوم کرنے کے بعد بھی کہ جو طریق انہوں نے اختیار کیا ہے وہ نہ صرف یہ کہ مسیح موعودؑ کی ہتک کرنے والا ہے بلکہ آنحضرت ﷺ کی قوت فیضان کو بھی کمزور ثابت کرنے والا ہے اس طریق کو نہ چھوڑیں گے اور ضد پر قائم رہیں گے نہیں یہ نہیں ہو سکتا وہ کون سا شاگرد ہے جو اس بات کو معلوم کر کے بھی کہ اس کا تیر اس کے استاد کی چھاتی پر پڑتا ہے اور وہ کون سا بیٹا ہے جو یہ معلوم کر کے بھی کہ اس کی بندوق کا نشانہ اس کی ماں اور باپ دونوں ہیں اپنی کمان کو نیچے نہ کر لے گا۔ اور اپنی بندوق کا رخ دوسری طرف نہ کر دے گا یہ ممکن ہے کہ بعض لوگ کسی خطرناک گہرے ابتلاء میں پڑ گئے ہوں لیکن وہ سینکڑوں آدمی جو اس وقت تک بعض ایسے خیالات پر قائم ہیں جن سے مسیح موعودؑ اور آنحضرت ﷺ کی ہتک ہوتی ہے ان سب کی نسبت میں ہرگز گمان نہیں کر سکتا کہ وہ صرف شرارت سے ایسا کرتے ہیں بلکہ ضرور ہے کہ اس مخالفت کا اصل باعث بہتوں کے لئے غلط فہمی اور ناواقفیت ہو۔ ہاں مبارک ہیں وہ جو صبح کو بھول کر شام کو پھر اپنے گھر واپس آگئے اور اپنے باپ کو چھوڑ کر پھر اس سے معافی خواہ ہوئے وہ ضرور ایک دن اپنی حالت پر غور کریں گے اور اپنی حالت پر زار زار روئیں گے جب ان کو معلوم ہو گا کہ ایک معمولی غلطی کی بناء پر وہ مسیح موعودؑ کی تعلیم کے خلاف کرتے رہے۔ نہیں وہ اس کے احکام اور اس کے کام کو پاؤں کے نیچے روندتے رہے وہ اس پر تیر چلاتے رہے جس نے ان کی طرف کبھی انگلی بھی نہ اٹھائی تھی وہ اس کی پگڑی اتارتے رہے جس نے ان کے سروں پر پگڑیاں رکھی تھیں وہ اس سے دشمنی کرتے رہے جو ان کی محبت میں چور تھا آج اگر مسیح موعودؑ دنیا پر پھر واپس آئے تو وہ اس نظارہ کو دیکھ کر کیا کہے کہ وہ غلطی جو میں نے دور کی تھی اسے پھر پھیلایا جا رہا ہے اور وہ بات جو میں نے خدا سے معلوم کر کے کہی تھی اسے رد کیا جا رہا ہے بیشک یہ ایک دردناک نظارہ ہو لیکن وَ رَبِّ مُحَمَّدٍ وہ اپنے آقا کی طرح اس بات سے پاک ہے کہ اس پر دو موتیں آئیں خدائے تعالیٰ اس کے سلسلہ کو جاری رکھنے کے لئے خود سامان کرے گا اور جیسا کہ اس نے فرمایا ہے وَ لَا نُبْقِیْ لَكَ مِنَ الْمُخْزِیَاتِ ذِكْرًا یعنی ان باتوں کو جو تیرے نام کے لئے دھبہ اور بدنام کن ہوں میں بالکل مٹادوں گا وہ ضرور اس بات کو جس میں اس کی ہتک ہوتی ہے مٹا دے گا۔ اور خدائے تعالیٰ کا فعل خود ظاہر فرمائے گا کہ آیا مسیح موعودؑ کو نبی ماننے میں اس کی اور آنحضرت ﷺ کی ہتک ہے یا عزت۔ اور اب بھی وہ اپنے فعل سے ظاہر کر رہا ہے اور روز بروز گم گشتوں کو کھینچ کھینچ کر لا رہا ہے اور پراگندہ جماعت پھر اکٹھی ہو رہی ہے اور گو اب دو فیصدی احمدی بھی

اس حق سے دور نہیں ہیں لیکن کیا کوئی باپ جس کے دس بیٹے ہوں اس بات پر خوش ہو سکتا ہے کہ ان میں سے ایک مر جائے؟ نہیں وہ اس بات پر کبھی خوش نہیں ہو سکتا اسی طرح ہم بھی اس بات پر خوش نہیں ہو سکتے کہ مسیح موعود کی جماعت سے ایک آدمی بھی خواہ غلطی اور نادانی سے ہی کیوں نہ ہو الگ ہو جائے۔

درد انسان کو بیتاب کر دیتا ہے اور میں بھی درد میں کہیں سے کہیں نکل گیا میرا مطلب یہ تھا کہ یہ غلطی جو اس وقت جماعت کے ایک حصہ کو لگی ہوئی ہے اور یہ فتنہ جو پڑا ہوا ہے اسی باعث سے ہے کہ یہ نہیں سمجھا گیا کہ نبی کسے کہتے ہیں اور وہ تعریف جسے حضرت مسیح موعود نے بعد کی تحریرات سے منسوخ کر دیا اسے برقرار رکھا جاتا ہے حالانکہ مسیح موعودؑ نے اسے نادانی قرار دیا ہے اور وہ تحریرات جو اس تعریف کو مان کر آپ نے لکھی تھیں کہ نبی وہی ہوتا ہے جو نئی شریعت لائے یا براہِ راست نبی ہو اور اس وجہ سے اپنے نبی ہونے سے انکار کیا تھا ان کو محکم قرار دیا جاتا ہے۔ حالانکہ نبی ہونے سے انکار آپ نے تب کیا ہے جب آپ نبی کے لئے شریعت کا لانا یا بلاواسطہ نبی بننا ضروری خیال کرتے تھے جیسا کہ ۱۸۹۹ء میں آپ نے ظاہر فرمایا۔ اور جب آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اور قرآن کریم کے فیصلہ کے مطابق نبی کی پہلی تعریف کی غلطی معلوم کر لی جیسا کہ ۱۹۰۱ء اور اس کے بعد کی تحریرات سے میں نے ثابت کیا ہے تو اپنے آپ کو نبی کہنا شروع کر دیا کیونکہ اب جو شرائط نبوت آپ کو معلوم ہوئیں وہ شروع دعوے سے آپ میں پائی جاتی تھیں اس لئے آپ نبی تھے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ سب جھگڑا جو نبوت کے متعلق پیدا ہوا ہے وہ صرف نبوت کی دو مختلف تعریفوں کے باعث ہے ہمارا مخالف گروہ نبی کی اور تعریف کرتا ہے اور ہم اور تعریف کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک نبی کی تعریف یہ ہے کہ:

(۱) وہ کثرت سے امورِ غیبیہ پر اطلاع پائے۔ (۲) وہ غیب کی خبریں انذار و تبشیر کا پہلو اپنے اندر رکھتی ہوں۔ (۳) خدائے تعالیٰ اس شخص کا نام نبی رکھے۔

جن لوگوں میں یہ تینوں باتیں پائی جائیں وہ ہمارے نزدیک نبی ہوں گے۔ ہاں انبیاء مختلف خصوصیتیں رکھتے ہیں۔ بعض شریعت لاتے ہیں بعض نہیں لاتے ۔ بعض ایک قوم کی طرف مبعوث ہوتے ہیں۔ بعض سب ملکوں کی طرف مبعوث ہو کر آتے ہیں۔ لیکن شرائط نبوت وہی تین ہیں جن میں وہ پائی جائیں۔ نبوت کے لحاظ سے وہ ایک ہوں گے۔ جس طرح سب انسان انسان ہونے کے لحاظ سے ایک ہیں آگے نبیوں کے درجوں میں فرق ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے۔ نبوت کے لحاظ سے جیسے حضرت یحیٰیؑ نبی ہیں ویسے ہی ہمارے آنحضرت ﷺ نبی ہیں۔ لیکن درجہ اور کمالات کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ کا مقابلہ حضرت یحیٰیؑ ہرگز نہیں کر سکتے۔ اسی طرح نبوت کے لحاظ سے حضرت مسیح ناصری اور حضرت مسیح موعودؑ دونوں نبی ہیں۔ فیضان پانے کے لحاظ سے حضرت مسیح ناصری نے براہِ راست فیضان پایا ہے۔ اور حضرت مسیح محمدیؐ نے محمد ﷺ کی اتباع سے سب کچھ حاصل کیا ہے۔ پھر درجہ کے لحاظ سے اور قربِ الٰہی کے لحاظ سے حضرت مسیح محمدیؐ کا حضرت مسیح ناصری بالکل مقابلہ نہیں کر سکتے۔

ابنِ مریم کے ذکر کو چھوڑو

اُس سے بہتر غلامِ احمدؐ ہے

غرض نبیوں میں جو فرق ہے وہ ہمارے نزدیک نبوت سے تعلق نہیں رکھتا۔ بلکہ وہ بعض خصوصیات کی وجہ سے ہے۔

اس کے مخالف بعض لوگ ان تین شرائط کے پائے جانے کا نام نبوت نہیں رکھتے اور ان کے علاوہ اور شرائط مقرر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نبی کے لئے یا تو شریعت جدیدہ لانا ضروری ہے یا بلاواسطہ نبوت پانا۔ اور اگر ان دونوں شرائط کے علاوہ کوئی اور شرط بھی لگاتے ہوں تو اس کا مجھے علم نہیں۔ اور چونکہ یہ شرائط حضرت مسیح موعودؑ میں نہیں پائی جاتیں۔ اس لئے ان کے نزدیک حضرت مسیح موعودؑ نبی نہیں۔ بلکہ صرف محدث ہیں۔ اور ہم بھی کہتے ہیں کہ اگر نبوت کی تعریف یہی ہے تو بے شک حضرت مسیح موعودؑ نبی نہ تھے۔ اور جن کے نزدیک یہ تعریف درست ہے۔ اگر وہ مسیح موعودؑ کو نبی کہیں۔ تو یہ ایک خطرناک گناہ ہے کیونکہ شریعت جدیدہ کا آنا قرآن کریم کے بعد ممتنع ہے اور بلاواسطہ نبوت کا دروازہ آنحضرت ﷺ کے بعد مسدود ہے۔ پس جن لوگوں کے نزدیک تعریفِ نبوت یہ ہے نہ وہ جو ہم بیان کرتے ہیں۔ وہ حضرت مسیح موعودؑ کو دیگر محدثین میں شامل کرتے ہیں۔ گو کسی قدر بڑے درجہ کا محدث کہتے ہیں اور ہم چونکہ اس کے خلاف تعریف کرتے ہیں۔ اور وہ اس امت میں کسی اور انسان پر بجز حضرت مسیح موعودؑ کے صادق نہیں آتی۔ اس لئے ہم اس امت میں صرف ایک ہی نبی کے قائل ہیں آئندہ کا حال پردہ غیب میں ہے۔ اسکی نسبت ہم کچھ کہہ نہیں سکتے آئندہ کے متعلق ہر ایک خبر پیشگوئی کا رنگ رکھتی ہے اس پر بحث کرنا انبیاء کا کام ہے نہ ہمارا۔ پس ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس وقت تک اس امت میں کوئی اور شخص نبی نہیں گزرا۔

کیونکہ اس وقت تک نبی کی تعریف کسی اور انسان پر صادق نہیں آتی

ہم جو کچھ کہتے ہیں۔ حضرت صاحب کی کتب سے کہتے ہیں۔ اور قرآن کریم اس کی تائید کرتا ہے۔ اور ہمارے خلاف جو کچھ کہا جاتا ہے وہ محض عقائدِ عوام اور ظنیات کی بناء پر ہے۔ ورنہ قرآن کریم سے اور احادیث سے اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ اور نہ حضرت مسیح موعود کے آخری مذہب کے مطابق ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم سے آپ نے ظاہر فرمایا۔ پس حق وہی ہے جو ہم نے کہا اور جس کے ثبوت میں اوپر پیش کر آیا ہوں۔ اب جس کا جی چاہے قبول کرے اور جس کا جی چاہے رد کرے۔ اور حق کے مقابلہ کا عذاب اپنے اوپر وارد کرے اور صداقت کا مقابلہ کر کے موردِ عتاب ہو۔ وَ مَا عَلَيْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ۔

میری پچھلی تحریر پر اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ اگر جس طرح تم کہتے ہو۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ۱۹۰۱ء میں اپنے عقیدہ متعلقہ نبوت میں کوئی تبدیلی کی تھی تو کیوں آپ نے اعلان نہ فرمایا کہ پہلے میں نے یوں لکھا تھا۔ لیکن اب اس کے خلاف مجھ پر ظاہر ہوا ہے۔ اور چونکہ آپ نے ایسا نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے عقیدہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ اور یہ آپ کا خیال ہی خیال ہے واقعہ نہیں۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ جبکہ حضرت مسیح موعودؑ کی شائع شدہ تحریر موجود ہے۔ جس میں آپ نے اسلام کی اصطلاح میں شریعت لانے والے یا براہِ راست نبوت پانے والے کو نبی قرار دیا ہے۔ اور یہ تحریر ۱۹۰۱ء سے پہلے کی ہے اور اسی طرح آپ کی وہ تحریر بھی موجود ہے جس میں آپ اسلام قرآن بلکہ خود خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی اصطلاح میں نبی کی تعریف صرف فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا(الجن: ۲۶) کی آیت کے مفہوم کو قرار دیتے ہیں۔ اور لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک تو نبی اسی کو کہتے ہیں جس میں یہ باتیں ہوں شریعت لانا یا تتبع نہ ہونا ضروری نہیں۔ اور حقیقتہ الوحی میں خود لکھتے ہیں کہ تریاق القلوب کے زمانہ کے بعد آپ کے خیالات میں ایک تبدیلی ہوئی تو کیا اس قدر دلائل ایک حق پسند کو تسلی دلانے کے لئے کافی نہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اسلام کی اصطلاح میں نبی کے لئے شریعتِ جدیدہ کا لانا ضروری بھی ہو۔ اور اسلام کی اصطلاح میں اور قرآن کریم میں اور خدا تعالیٰ کے الہامات میں اسے ضروری نہ بھی قرار دیا جائے کیا یہ دونوں ضدیں ایک وقت میں جمع ہو سکتی ہیں۔ ضرور ہے کہ اگر پہلی بات درست ہو تو دوسری درست نہ ہو۔ اور اگر دوسری بات درست ہو تو پہلی درست نہ ہو۔ اور جبکہ خود حضرت مسیح موعود نے لکھ دیا ہے کہ جہاں میں نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے ان معنوں کی رو سے کیا ہے کہ میں کوئی شریعتِ جدیدہ نہیں لایا۔ اور نہ براہِ راست نبوت میں نے پائی ہے۔ تو کیا اس سے صاف ظاہر نہیں ہوتا کہ جن تحریروں میں آپ نے اپنے نبی ہونے سے انکار کیا ہے اس جگہ آپ کی مراد نبوت نہیں۔ بلکہ نبوت کی وہ دو خصوصیات ہیں جن کے پائے جانے کو وہ ان ایام میں ضروری خیال کرتے تھے اس لئے ان کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے اپنی نبوت کا انکار کرتے تھے۔ پس جبکہ واقعات سے ثابت ہے کہ بات وہی ہے جو میں نے لکھی ہے تو اس قول کا کیا فائدہ؟ کہ آپ نے کوئی اعلان کیوں نہیں کیا۔ جب ایک بات ایک خاص وقت کے بعد ترک کر کے اس کے صریح خلاف کہنا شروع کر دیا تو ہر ایک عقلمند انسان خیال کر سکتا ہے کہ اب پہلا عقیدہ تبدیل ہو گیا۔ اس کی کیا ضرورت ہے کہ یہ بھی اعلان کیا جائے کہ پہلے جو بات میں نے لکھی تھی غلط تھی۔ جبکہ آپ نے ایک عقیدہ کا اظہار کرنے والوں کو نادان کہا۔ نبوت کی شرائط میں شریعت کو داخل کرنے سے انکار کر دیا تو خود ہی وہ پہلی تحریر جس میں اس کے خلاف لکھا تھا منسوخ ہو گئی۔ براہین احمدیہ میں آپ نے مسیح کے زندہ ہونے کا اقرار کیا ہے لیکن فتح اسلام میں اس کے خلاف لکھتے ہوئے یہ نہیں لکھا کہ براہین احمدیہ میں میں نے جو کچھ لکھا تھا اسے منسوخ کرتا ہوں۔ ہاں بعض نادانوں نے جب اعتراض کیا۔ تو اس وقت بتا دیا کہ وہ عقیدہ میرا اپنا اجتہاد تھا۔ اب انکشافِ تامہ کے بعد لکھتا ہوں۔ اب فرض کرو کوئی شخص براہین احمدیہ کی تحریر یاد دلا کر آپ پر اعتراض نہ کرتا۔ اور آپ اس کا جواب نہ دیتے۔ تو کیا کوئی نادان یہ کہہ سکتا تھا کہ چونکہ اس عقیدہ کے منسوخ کرنے کا اعلان نہیں فرمایا۔ اس لئے یہی فیصلہ محکم ہے۔ نہ کہ منسوخ۔ جب آپ نے پہلے عقیدہ کے خلاف یہ لکھ دیا کہ مسیح فوت ہو گیا ہے تو اب ہر ایک شخص خود سمجھ سکتا ہے کہ پہلا کلام منسوخ ہوا۔ اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ پہلے اپنے آپ کو مسیح سے افضل نہیں قرار دیتے تھے۔ اور آپ نے اپنا یہ مذہب تریاق القلوب میں بھی لکھا ہے۔ پھر دافع البلاء میں اس کے خلاف لکھا ہے کہ میں افضل ہوں۔ کیا پھر اس جگہ یہ لکھا ہے کہ میں پہلا عقیدہ منسوخ کرتا ہوں یا مثلاً کشتی نوح میں اسکے خلاف لکھا ہے کیا وہاں لکھ دیا ہے کہ میں پہلے عقیدہ کو منسوخ کرتا ہوں۔ پھر کیا اس سے یہ ثابت ہوا کہ پہلا عقیدہ منسوخ نہیں ہوا آپ نے تو اس وقت تک پہلے عقیدہ کو منسوخ قرار نہیں دیا۔ جب تک حقیقت الوحی میں آپ پر اعتراض نہیں ہوا۔ تب بے شک آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی بارش کی طرح نازل ہونے والی وحی سے میں نے پہلا عقیدہ بدل دیا۔ لیکن کیا اس سے پہلے بھی کبھی لکھا تھا کہ پہلے میرا فلاں عقیدہ تھا۔ اب اسے منسوخ سمجھو اور اس کی جگہ یہ عقیدہ سمجھ لو۔ انسان کے مخاطب ہمیشہ دانا انسان ہوتے ہیں نہ وہ جو بات کو سمجھ ہی نہ

سکیں۔ جب پہلے عقیدہ کے خلاف ایک دوسرا عقیدہ شائع ہو گیا اور اس کے ساتھ یہ بھی لکھا گیا کہ خدا تعالیٰ، قرآن کریم، اسلام اور انبیائے سابقین اسی کی تائید کرتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں۔ اور اس کے خلاف عقیدہ رکھنے والوں کو نادان تک کہہ دیا۔ تو اب بتاؤ کہ پہلا عقیدہ منسوخ ہوا یا نہیں۔ کیا یہ اعلان کافی نہ تھا اور کچھ ضرورت باقی رہ گئی تھی۔ داناؤں کے لئے تو جو کچھ حضرت مسیح موعود نے لکھ دیا وہی کافی ہے۔ اور جو کسی بات کو ضد سے نہ سمجھنا چاہیں۔ ان کا علاج خدا تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے۔

اس جگہ میں اس بات کا اظہار کر دینا بھی ضروری خیال کرتا ہوں کہ کسی شخص کو یہ شبہ نہ ہونا چاہئے کہ اگر نبی کی تعریف وہی تھی جو قرآن کریم اور لغت سے آپ لکھتے ہیں کہ ثابت ہے۔ اور حضرت مسیح موعودؑ اس کے خلاف تعریف کرنے والوں کو نادان فرماتے ہیں۔ تو حضرت مسیح موعودؑ ایک مدت تک اس عقیدہ کو کیوں مانتے رہے۔ اور کیا خود حضرت مسیح موعودؑ پر اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ شبہ بالکل بے اصل ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک بات جب تک پوشیدہ اور پردۂ اخفاء میں ہو۔ اسے اصل کے خلاف ماننا ایک اور بات ہے۔ لیکن پردہ اٹھ جانے پر پھر بھی غلطی سے نہ ہٹنا ایک اور بات ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ بے شک ایک وقت تک نبی کی وہی تعریف کرتے رہے۔ جو آج کل کے مسلمان کرتے ہیں۔ لیکن چونکہ اس وقت تک آپ پر اس مسئلہ کا پوری طرح انکشاف نہ ہوا تھا۔ آپ کا احتیاط کا پہلو اختیار کرنا اور عام مسلمانوں کے عقیدہ پر قائم رہنا۔ اور باوجود بار بار نبی کے خطاب سے یاد کئے جانے کے اس کی تاویل کرنا ایک نہایت مستحسن بات تھی۔ اور انبیاء کے ایمان کا اظہار تھا۔ لیکن جب آپ پر حق کھول دیا گیا اور آپ نے لوگوں کو بتا دیا کہ نبی کی یہ نہیں بلکہ یہ تعریف ہے۔ تو اب اس پرانے عقیدہ پر قائم رہنا ایک نادانی اور جہالت ہے۔ جس پر اظہارِ ناراضگی کرنا ضروری تھا۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ پچھلی صدیوں میں قریباً سب دنیا کے مسلمانوں میں مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا تھا۔ اور بڑے بڑے بزرگ اسی عقیدہ پر فوت ہوئے۔ اور نہیں کہہ سکتے کہ وہ مشرک فوت ہوئے۔ گو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عقیدہ مشرکانہ ہے۔ حتیٰ کہ حضرت مسیح موعود با وجود مسیح کا خطاب پانے کے دس سال تک یہی خیال کرتے رہے کہ مسیح آسمان پر زندہ ہے۔ حالانکہ آپ کو اللہ تعالیٰ مسیح بنا چکا تھا جیسا کہ براہین کے الہامات سے ثابت ہے۔ لیکن آپ کے اس فعل کو مشرکانہ نہیں کہہ سکتے۔ بلکہ یہ ایک نبیوں کی سی احتیاط تھی۔ لیکن جب تاویل کی کوئی گنجائش نہ رہی، تو آپ نے حق کا اعلان کر دیا۔ اسی طرح نبوت کی

آپ پہلے اور تعریف خیال کرتے رہے۔ جو عوام کے عقیدہ کے مطابق تھی۔ لیکن بعد میں مزید انکشاف پر وہ غلط معلوم ہوئی۔ اور اب اس پر ضد کرنا ایک نادانی کا فعل ہے۔ پس اس معاملہ کی مشابہت بالکل مسیح کی وفات کے مسئلہ سے ہے۔ حضرت مسیح موعود کے دعوٰی سے پہلے جس قدر اولیاء و صلحاء گزرے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑا گروہ عام عقیدہ کے ماتحت حضرت مسیح کو زندہ خیال کرتا تھا۔ لیکن وہ مشرک اور قابل مواخذہ نہ تھا۔ مگر جب حضرت مسیح موعود نے قرآن کریم سے وفات مسیح ثابت کر دی۔ اور حیات مسیح کے عقیدہ کو مشرکانہ ثابت کر دیا۔ تو اب جو شخص حیات مسیح کا قائل ہو وہ مشرک اور قابل مواخذہ ہے۔ اسی طرح نبی کی تعریف قرآن کریم سے صاف ظاہر ہے لیکن عوام میں ایک غلط خیال پھیل رہا تھا۔ اور بہت سے صلحائے امت اسی خیال پر گزر گئے۔ اور نہیں کہہ سکتے کہ وہ نادان تھے جس طرح نہیں کہہ سکتے کہ حضرت مسیح کی حیات کے عقیدہ سے وہ مشرک تھے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کے کچھ اسرار ہوتے ہیں جنہیں وہ اپنے وقت پر ظاہر کرتا ہے۔ اور یہ مسائل بھی انہیں مسائل میں سے تھے۔ تا سچوں اور جھوٹوں کے ایمانوں کی آزمائش کی جائے۔ جب خدا تعالیٰ نے ان پوشیدہ صداقتوں کو مسیح موعود پر کھول دیا تو اب اس کے خلاف عقیدہ رکھنا نادانی ہے۔

ممکن ہے کسی شخص کو اس جگہ یہ شبہ گزرے کہ اگر جیسا کہ آپ بیان کرتے ہیں نبی کی تعریف ایسی صاف تھی۔ اور قرآن کریم میں کہیں بھی نبی کے لئے صاحب شریعت ہونے یا بلاواسطہ نبوت پانے کی شرط مذکور نہ تھی تو ہم کس طرح مان لیں کہ حضرت مسیح موعود عام عقیدہ پر قائم رہے۔ اور باوجود قرآن کریم کے صاف الفاظ کے آپ نے اپنے عقیدہ کو بدلا نہیں۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ قرآن کریم آپ نے ۱۹۰۱ء میں دیکھا ہے آپ تو قرآن کریم کے عاشق تھے اور اپنی جوانی اسی کے مطالعہ میں خرچ کر چکے تھے اور باریک در باریک مطالب پر آگاہ تھے پھر اس مسئلہ میں آپ کیوں دھوکے میں رہے؟ اور کیوں صریح الفاظ قرآن کی موجودگی میں عوام کے عقائد کی پیروی کی؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ غلطی اسی طرح ہوئی۔ جس طرح مسیح کی وفات کے متعلق ہوئی مسیح کی وفات بھی تو قرآن کریم میں صاف الفاظ میں مذکور ہے۔ اور سارے قرآن میں ایک لفظ بھی اس کی زندگی پر دلالت نہیں کرتا۔ بلکہ آسمان پر جانے کا صاف انکار کیا گیا ہے پھر یہ کیونکر ہوا کہ وفات مسیح پر تیس (۳۰) آیات کی موجودگی میں حضرت مسیح موعود عوام کے عقیدہ کے قائل رہے اور اس بات کو معلوم نہ کر سکے کہ قرآن کریم سے مسیح کی وفات ثابت ہے اگر کوئی کہے کہ مسیح کی حیات ماننے کی تو ایک وجہ تھی۔ اور وہ یہ کہ گو الفاظ قرآن سے تو وفات مسیح ثابت تھی لیکن چونکہ قرآن کریم میں رفع اور احادیث میں نزول مسیح کا ذکر تھا۔ اس لئے اس شبہ کا پیدا ہو جانا کچھ بعید نہ تھا کہ حضرت مسیح زندہ ہی ہیں اور خصوصاً اس حالت میں کہ سب مسلمان انہیں زندہ مانتے تھے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسی طرح نبوت کا مسئلہ بھی تھا کہ باوجود اس کے کہ الفاظ قرآن صاف شاہد تھے کہ نبی کے لئے شریعت جدیدہ لانے یا براہِ راست نبوت پانے کی کوئی شرط نہیں لیکن پھر بھی قرآن کریم میں خاتم النبیین اور حدیث میں لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ کے الفاظ شبہ پیدا کرتے تھے کہ اس امت میں نبی آنا محال ہے اور خصوصاً اس حالت میں کہ عوام کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ نبی وہی ہوتا ہے جو شریعت جدیدہ لائے یا براہ راست نبوت پائے۔ پس اس غلطی کا لگ جانا بھی کچھ بعید نہ تھا۔ اور جیسا کہ میں بارہا اشارہ کر چکا ہوں انبیاء تو نہایت محتاط ہوتے ہیں۔ وہ تو صریح حکم کے بغیر اپنے پاس سے کوئی بات کہتے ہی نہیں۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان حکمتوں میں سے ہے کہ وہ اپنے بندوں پر رحم فرما کر اور ان کے ایمانوں کو آہستہ آہستہ مضبوط کرنے کے لئے بعض باتوں کو رفتہ رفتہ ظاہر کرتا ہے جیسے کہ قرآن کریم کی نسبت فرمایا ہے کہ وَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَۃً وَّاحِدَۃً ۚۛ کَذٰلِکَ ۚۛ لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ وَرَتَّلۡنٰہُ تَرۡتِیۡلًا(الفرقان: ۳۳) یعنی مخالف لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس پر قرآن کریم ایک ہی دفعہ کیوں نہ نازل ہو گیا۔ اسی طرح ہوا تاکہ تیرے دل کو ہم اس سے ثابت کریں اور ہم نے آہستہ آہستہ قرآن کریم پڑھ کر سنایا ہے اسی سنت قدیمہ کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود سے سلوک کیا۔ اور آپ کی جماعت کو بہت سے ابتلاؤں سے بچا لیا۔ اگر آپ کو یک لخت مسیح کی وفات اور اپنی نبوت کے اعلان کرنے کا حکم ہوتا۔ تو آپ کی جماعت کے لئے سخت مشکلات کا سامنا ہوتا۔ پس اللہ تعالیٰ نے پہلے آپ سے براہین احمدیہ لکھوائی اور گو اس میں آپ کو مسیح قرار دیا۔ لیکن انکشافِ تامہ نہ کیا۔ تا آپ کو اس عظیم الشان کام کے لئے تیار فرمائے جس پر آپ کو مقرر فرمانا تھا۔ اور مسیح کی وفات پر پردہ اس لئے ڈالے رکھا کہ اگر حضرت مسیح موعود کو اس وقت یہ بات معلوم ہو جاتی تو آپ اس کا اسی وقت اعلان کر دیتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنی سنت قدیمہ کے تحت چاہتا تھا کہ سب کام ترتیب وار اور آہستہ آہستہ ہو۔ پس اس نے مسیح موعود کو بھی اصل بات سے ناواقف رکھا۔ اسی طرح آپ کو براہین کے زمانہ میں ہی نبی قرار دیا۔ لیکن اس پر بھی ایک پردۂ اخفاء ڈالے رکھا۔ دونوں باتیں براہین احمدیہ کے زمانہ میں ظاہر تو اس لئے کیں تاکہ یہ نہ ثابت ہو کہ کوئی منصوبہ ہے۔ اور پوشیدہ اس لئے رکھیں تا متلاشیانِ صداقت پر حد

سے زیادہ بوجھ نہ پڑ جائے۔ پھر دس سال بعد وفاتِ مسیح کے مسئلہ پر سے پردہ اٹھا دیا۔ لیکن مسئلہ نبوت پر ایک پردہ پڑا رہا۔ تاکہ جماعت اپنے اندر ایک مضبوطی پیدا کرلے۔ حتیٰ کہ ۱۹۰۱ء میں اس پردہ کو بھی اٹھا دیا۔ اور حقیقت کھل گئی اور صداقت ظاہر ہو گئی۔ اور یہ جو کچھ ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی قدیم سنت کے ماتحت ہوا اور نبوت کا مسئلہ بالکل مسیحیت کے مسئلہ کے مطابق ہے جس طرح اوائل میں باوجو د مسیح نام پانے کے مسیح کو زندہ سمجھتے رہے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود باوجود نبی کا نام پانے کے ختمِ نبوت کے وہ معنی کرتے رہے۔ جو لوگ کرتے تھے۔ پھر جس طرح دعوائے مسیحیت کے بعد شروع شروع میں یہ کہتے رہے کہ ممکن ہے ابھی کوئی اور مسیح بھی ظاہر ہو۔ اور اپنی طرح اور مسیح بھی مانتے رہے۔ لیکن بعد میں انکشافِ تام پر لکھ دیا کہ میرے بعد اور کوئی مسیح نہیں۔ اسی طرح آپ پہلے اپنی نبوت کو جزوی قرار دے کر امتِ محمدیہ میں سے اور بہت سے لوگوں کو بھی اس انعام میں اپنا شریک سمجھتے رہے۔ لیکن بعد میں انکشافِ تام پر لکھ دیا کہ میرے سوا اور کوئی شخص اس نام کا مستحق نہیں۔ پس یہ ایک حکمتِ الٰہی کا کرشمہ تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کی قدیم سنت کا اظہار تھا اور نادان ہے وہ جو اس پر اعتراض کرے اور اسے مستبعد قرار دے۔ کیونکہ ایسا اعتراض کل نبیوں پر پڑے گا۔

میں اس جگہ یہ بھی لکھ دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ شیطان کسی شخص کو یہ دھوکا نہ دے کہ جبکہ تعریفوں کے اختلاف کی وجہ سے حضرت صاحب کے نبی ہونے یا نہ ہونے کا جھگڑا پیدا ہو گیا ہے تو پھر اس میں کیا حرج ہے کہ ایک جماعت نبی کی وہی تعریف قرار دے کر جو عوام میں مشہور ہے۔ مسیح موعود کی نبوت کا انکار کرتی رہے اور یہ تو آپ بھی مانتے ہیں کہ ان معنوں میں جو عوام میں نبی کے مشہور ہیں۔ حضرت مسیح موعود نبی نہیں ہیں۔ سو اس دھو کے کے ازالہ کے لئے یاد رکھنا چاہئے کہ جب خدا تعالیٰ نے خود ایک بات کی تشریح فرمادی۔ تو اس تشریح کو چھوڑنا صرف لفظی بحث ہی نہیں سمجھا جائے گا۔ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی ہتک اور ان کی بے قدری ہو گی۔ جب خدا تعالیٰ ایک شخص کو نبی قرار دے۔ اور قرآن کریم اس کی نبوت کی شہادت دے۔ تو پھر نبی کے اور معنی کر کے اس کی نبوت کا انکار کرنا گویا اللہ تعالیٰ کے فیصلوں سے تمسخر کرنا اور اس کے رسولؐ کی ہتک کرنا ہے۔ اور ہر ایک مؤمن کا فرض ہے کہ وہ ایسے کاموں سے بچے جو اسے جہنم کے قریب کر دیں۔ اور چاہئے کہ بجائے اپنے خیالات پر جما رہنے کے اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کو اور اس کے حکم کو قبول کیا جائے۔

میں امید کرتا ہوں کہ جو لوگ اوپر کے مضمون کو غور سے پڑھیں گے۔ انہیں معلوم ہو جائے گا کہ جناب مولوی صاحب نے جو اپنے رسالہ میں حضرت صاحب کی مختلف تحریریں نقل کر کے یہ بتانا چاہا ہے کہ دیکھو حضرت مسیح موعود ہمیشہ ایک ہی دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ یہ صرف ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے اور ان تحریروں سے تو ہمارا دعویٰ ثابت ہوتا ہے نہ ان کا۔ یہی تو ہمارا دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح موعود اپنے دعویٰ کی جو تفصیل بیان کرتے رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ سے وہی رہی ہے۔ جو نبیوں کے دعوے کی ہوتی ہے۔ گو ایک وقت ایسا بھی گذرا ہے کہ اس کو نبوت کے نام سے موسوم نہیں فرماتے تھے۔

نبی کسے کہتے ہیں؟

موجودہ اختلاف اور شور پر میں جس قدر غور کرتا ہوں۔ حیران ہوتا ہوں کہ کس طرح ایک بے توجہی کے باعث یہ اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ سب سے پہلا سوال جو مسیح موعود کی نبوت کے متعلق بحث کرتے وقت پیدا ہونا چاہئے تھا۔ وہ یہ تھا کہ نبی کہتے کسے ہیں؟ مثلاً اگر کسی شخص کی نسبت یہ بحث ہو کہ وہ لوہار ہے یا نہیں ہے۔ تو اول بحث کرنے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ لوہار کہتے کسے ہیں؟ اگر ان کو لوہار کی تعریف بھی معلوم نہیں تو وہ بحث کر ہی نہیں سکتے۔ جس چیز کا علم ہی نہیں کہ وہ کیا شئے ہے؟ اس پر بحث کیا ہوگی؟ پس اول فرض تو ہر ایک شخص کا یہ ہے کہ وہ یہ معلوم کرے کہ نبی کی تعریف کیا ہے؟ مگر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت کے منکروں نے اس سوال پر کبھی غور ہی نہیں کیا۔ وہ اس پر تو بحث کرتے ہیں کہ فلاں شخص نبی ہے یا نہیں ہے۔ لیکن خود اس قدر بھی علم نہیں کہ نبی کے معنی کیا ہیں؟ اور ان کی بحث کی مثال ایسی ہی ہے جیسے بچے آپس میں بادشاہ اور وزیر بن کر کھیلنے لگتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ بادشاہ ہو تا کیا شئے ہے بس ایک نام سنا ہوا ہوتا ہے۔ اسی کی بناء پر اپنے خیال سے ایک عمارت کھڑی کر لیتے ہیں۔ اور وہ واقعہ کے خلاف ہوتی ہے۔ اور جب کوئی کام نا واقفیت کی حالت میں کیا جائے گا۔ تو ضرور انسان غلطیوں میں مبتلاء ہو گا۔ میں نے سنا ہے کسی جگہ کچھ زمیندار اس امر پر بحث کرتے ہوئے دیکھے گئے کہ قرآن کریم میں جو کہیں مُؤْمِنُوْن آتا ہے اور کہیں مُؤْمِنِیْن۔ تو ان دونوں لفظوں کے معنوں میں کیا فرق ہے۔ بڑی سخت بحث ہوئی اور مختلف معانی بیان ہوتے رہے۔ کوئی کچھ فرق بتاتا اور کوئی کچھ۔ اور یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ صرف اس لئے کہ انہوں نے یہ معلوم نہ کیا کہ مُؤْمِنُوْن اور مُؤْمِنِیْن ان دونوں لفظوں کے کیا معنی ہیں اگر کسی واقف سے معنی دریافت کر لیتے تو ساری بحث کا خاتمہ ہو جاتا۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ بحث شروع ہی نہ ہوتی۔ اسی طرح اگر حضرت مسیح موعود کی نبوت کا انکار کرنے والے لوگ پہلے اس بات کی تحقیقات کرتے کہ نبی کہتے کسے ہیں؟ اور نبی کے کیا معنی ہیں۔ لغتِ عرب میں اس کے کیا معنی ہیں؟ قرآنِ کریم نے اس کے کیا معنی کئے ہیں؟ آنحضرت ﷺ نے اس کے کیا معنی کئے ہیں؟ تو میں امید کرتا ہوں۔ وہ ہمیں حق پر پاتے اور یہ جھگڑا ہی چھوڑ دیتے۔

عربی زبان کی یہ ایک خصوصیت ہے کہ اس میں تمام اسماء کی کوئی وجہ تسمیہ ہوتی ہے اور بے معنی الفاظ استعمال نہیں کئے جاتے۔ اور یہی خصوصیت ہے۔ جس نے عربی زبان کو دوسری زبانوں پر ممتاز کر دیا ہے۔ اور اس کے اتم الالسنہ ہونے پر شاہد ہے پھر وہ الفاظ جو قرآنِ کریم میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ وہ تو افصح ہیں کیونکہ قرآنِ کریم کی فصاحت و بلاغت کا مقابلہ عربی کی کوئی اور کتاب نہیں کر سکتی۔ اور یہ قرآنِ کریم کا ایک معجزہ ہے قرآن کی تمام آیات فصاحت وبلاغت کا خزانہ ہیں۔ اور اس کے تمام الفاظ فصاحت کا بہترین نمونہ۔ پس نبی کا لفظ جو عربی جیسی زبان کا لفظ ہے۔ اور قرآنِ کریم میں استعمال ہوا ہے بے معنی نہیں ہو سکتا۔ اور ہم قرآنِ کریم کی نسبت کبھی یہ گمان نہیں کر سکتے کہ اس نے ایک ایسا لفظ استعمال کیا ہے جس کی حقیقت سمجھنے سے دنیا معذور ہے۔ اور جس کے معانی کا علم کسی کو بھی نہیں۔ نبی کا لفظ ضرور کوئی معنی رکھتا ہے اور اسکی کوئی حقیقت ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ وہ کیا معنی ہیں؟ اور وہ کیا حقیقت ہے؟ کیا حضرت مسیح موعود کی نبوت کے منکروں نے کبھی اس سوال پر بھی غور کیا ہے۔ کیا ہم یہ سمجھیں کہ وہ نبی اور رسول کا لفظ قرآنِ کریم میں سینکڑوں جگہ پڑھتے ہیں۔ لیکن اس پر غور کئے بغیر گذر جاتے ہیں اسے ایک بے معنی لفظ خیال کرتے ہیں جس سے کوئی حقیقت مراد نہیں۔ اگر ایسا نہیں۔ تو وہ ہمیں بتائیں کہ قرآنِ کریم نے ان دونوں لفظوں کے کیا معنی بتائے ہیں؟ اور نبی اور رسول سے اللہ تعالیٰ کی کیا مراد ہے؟ قرآن شریف دنیا کی آخری کتاب ہے۔ اور کل علوم روحانی اس کے اندر جمع ہیں۔ وہ ایک ایسا خزانہ ہے جس میں ہر ضرورت کی شئے موجود ہے۔ دنیا کی کوئی کتاب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام اور آخری کتاب ہے۔ وہ بنی نوع انسان کے لئے ایک ہدایت نامہ ہے۔ انسان کی روحانی ترقی اور دینی علم کے لئے کس شئے کی ضرورت ہے جو قرآنِ کریم میں موجود نہیں۔ وہ ہماری تمام حاجتوں کا پورا کرنے والا اور ہماری سب بیماریوں کا دور کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے کتاب مفصل اور کتاب مبارک فرماتا ہے۔ اور مبارک کے معنی ہیں جو سب اشیاء کو اپنے اندر جمع کرے اور کل علوم بہہ کر اسی میں آ پڑیں۔ پس ایسی کتاب پر یہ گمان نہیں ہو سکتا کہ اس نے نبی پر ایمان لانے کا تو حکم دیا مگر یہ نہ بتایا کہ نبی کہتے کسے ہیں؟ قرآنِ کریم نے نبی کی تعریف ضرور کی ہوگی۔ اور کی ہے پس پہلے اسے دریافت

کرلو۔ پھر حضرت مسیح موعود کی نبوت کے متعلق جھگڑے کا بھی خود بخود فیصلہ ہو جائے گا۔ اور اس خیال میں نہ رہو کہ قرآن کریم نے نبی کی کوئی تعریف کی ہی نہیں۔ کیونکہ یہ ایک غلط خیال ہے۔ ایمانیات سے وہ کونسی بات ہے جس کے ماننے کا قرآن کریم نے حکم دیا ہو۔ اور یہ نہ بتایا ہو کہ وہ ہے کیا۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا حکم ہمیں دیا گیا ہے تو ہمیں بالتفصیل اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا علم بھی دیا گیا ہے۔ اور قرآن کریم شروع سے لے کر آخر تک اس کی ذات اور اس کی صفات کا نقشہ ہمارے سامنے کھینچتا ہے اور ہمیں بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسے کہتے ہیں تاکہ ہم مختلف جھوٹے معبودوں کے پھندے میں پھنس جائیں۔ اور حقیقی معبود کو ترک کردیں۔ ملائکہ پر ایمان لانے کا حکم ہے۔ اور قرآن کریم نے ایک بے معنی لفظ پر ایمان لانے کا حکم نہیں دیا۔ بلکہ مفصل بتایا ہے کہ ملائکہ کون ہیں۔ ان کے کیا کام ہیں بندوں سے ان کا کیا تعلق ہے ان کے وجود کا کیا ثبوت ہے پھر اسی طرح کتب پر ایمان لانے کا حکم ہے۔ بتایا گیا ہے کہ الٰہی احکام اور اس کے شرائع کا نام کتاب ہوتا ہے۔ کتابوں پر کس طرح عمل کرنا چاہئے۔ ان کے سمجھنے کے آسان طریق کیا ہیں۔ ان کے معانی کرنے میں کن کن احتیاطوں کی ضرورت ہے ان کا کس حد تک ادب و پاس ہونا چاہئے۔ ان کے الفاظ ومعانی کی کس کس طرح حفاظت کرنی چاہئے۔ کتابوں کے اترنے کی غرض کیا ہے۔ پھر یوم آخر پر ایمان لانے کا حکم ہے اور اس کی بھی پوری کیفیت بیان کی گئی ہے۔ قیامت کیا ہوگی۔ وہاں انسان کے ساتھ کس کس طرح کا برتاؤ ہوگا۔ جنت و دوزخ کی کیفیت ان دونوں مقاموں کے مکینوں کے حالات بعث ما بعد الموت کے ثبوت اور دلائل سب بیان کئے گئے ہیں۔ غرض جس بات پر ایمان لانے کا ذکر ہے ہمیں اس کے نشان بھی بتائے گئے ہیں کہ وہ کیا شئے ہے اور اسکے متعلق جس قدر ضروری امور ہیں۔ سب پر روشنی ڈالی گئی ہے لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ جو وراء الورا ہے۔ اور ملائکہ جو ہماری نظروں سے پوشیدہ ہیں اور قیامت جو مرنے کے بعد کی بات ہے اس کا حال تو ہمیں بتایا جائے۔ اور دوزخ و جنت جن سے حشر کے بعد معاملہ پڑنے والا ہے اس کی کیفیت بھی انسان پر روشن کی جائے۔ لیکن اگر نہ بتایا جائے تو یہ کہ نبی جو انسان اور خدا تعالیٰ کے درمیان ایک واسطہ کا کام دیتا ہے اور جس پر ایمان لانے یا نہ لانے پر ہی انسان کی نجات وعذاب کا دارومدار ہے۔ وہ کیا شئے ہے اور نبی کسے کہتے ہیں؟

میرے مخاطب اس وقت غیر احمدی نہیں جو دلیل وبرہان کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے۔ اور ہر چیز کو اندھا دھند ماننے کے عادی ہیں جو اسلام کو اس لئے مانتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوئے جو قرآن کریم کی فضیلت یہی خیال کرتے ہیں کہ اس کی زبان بڑی عمدہ ہے یا یہ کہ وہ ان کی کتاب ہے بلکہ میری مخاطب وہ جماعت ہے جو حضرت مسیح موعود کے زیر تربیت بڑھی ہے اور جس نے پہلے دن سے یہ آواز متواتر سننی شروع کی ہے کہ قرآن کریم ایک کامل کتاب ہے وہ سب روحانی امور کو بیان کرتا ہے وہ کوئی لغو بیان نہیں کرتا۔ وہ عقل کے خلاف باتوں کو نہیں منواتا۔ وہ ہر بات کو مبرہن کر کے بیان کرتا ہے اور جو دعویٰ کرتا ہے اس کی دلیل بھی خود ہی دیتا ہے۔ پس میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ قرآن کریم نے نبیوں پر ایمان لانے کا تو ہمیں حکم دیا ہو۔ اور ہمیں یہ نہ بتایا ہو کہ نبی کہتے کسے ہیں۔ جب ایک شئے کو ہم سمجھ ہی نہیں سکتے تو اس پر ایمان کیا لائیں۔ ہم جو انبیاء کی طرف دنیا کو بلائیں تو کیا کہہ کر بلائیں۔ اگر کوئی شخص پوچھے کہ نبی کسے کہتے ہیں تو اسے کیا جواب دیں۔ ضرور ہے کہ نبی کی کوئی حقیقت ہو۔ اور نبی کے کوئی معنی ہوں۔ اور ضرور ہے کہ قرآن کریم نے ان معنوں کو بیان بھی کیا ہو۔ کیونکہ وہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ نبیوں پر ایمان لاؤ۔ پس ہر ایک مؤمن کا فرض ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود کی نبوت پر بحث کرنے سے پہلے قرآن کریم پر غور کرے۔ اور دیکھے کہ قرآن کریم نبی کی کیا تعریف کرتا ہے میں اپنی سمجھ کے مطابق قرآن کریم سے نبی کی تعریف کر چکا ہوں۔ لیکن چونکہ بعض لوگ بغیر قرآن کریم پر غور کرنے کے محض اپنے گمانوں کی بناء پر یہ سمجھ رہے ہیں کہ نبوت شاید کوئی خاص شئے ہے جس کے ملنے پر انسان نبی ہو جاتا ہے۔ اس جگہ اس امر پر بھی کچھ لکھ دینا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت ایمان کا ہی ایک اعلیٰ مرتبہ ہے اور تقویٰ میں ترقی کرتے کرتے انسان اس رتبہ کو پہنچ جاتا ہے جسے نبی کہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیۡقِیۡنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیۡنَ(النساء: ۷۰)۔ یعنی مؤمن جب ترقی کرتے ہیں تو وہ نبیوں‘ صدیقوں‘ شہداء اور صالحین کی جماعت میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس آیت سے انسان کی ترقی کے چار درجے معلوم ہوتے ہیں۔ اول صلحاء یعنی اچھے لوگ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بادشاہ کی نیک اور خدمت گذار رعایا ہوتی ہے کہ ان کی فرمانبرداری کی وجہ سے بادشاہ ان پر خوش ہوتا ہے اور ہر طرح ان کی آسائش و آرام کا فکر کرتا ہے۔ چنانچہ صالح کے معنی لغت میں اس آدمی کے آتے ہیں۔ جو اپنے سب حقوق و فرائض کو ادا کرتا ہے۔ دوسرا درجہ انسان کی ترقی کا شہید کا درجہ ہوتا ہے جس کے معنی حاضر اور سچے گواہ کے ہیں۔ سچے گواہ کو بھی اسی لئے شہید کہتے ہیں کہ سچی گواہی کے لئے موقعہ پر موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اور سچا گواہ وہی ہو سکتا ہے جو سنی سنائی بات پر گواہی نہ دے۔ شہید کے لفظ سے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی اس جماعت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ جو دنیاوی درباروں میں درباری کے نام سے موسوم ہوتے ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ جب انسان حقوق اللہ و حقوق العباد کی ادائیگی میں کمال اخلاص ظاہر کرتا ہے۔ تو اسے شہیدوں یعنی دربار الٰہی کے حاضر باشوں میں شامل کر لیا جاتا ہے اور اسے ایسی معرفت الٰہی حاصل ہوتی ہے کہ گویا وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا رہتا ہے۔ اور جو شخص حاضر ہو گا وہ کلام بھی سنے گا۔ اس لئے شہید محدث بھی ہوتا ہے یعنی اس سے اللہ تعالیٰ کا کلام شروع ہو جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ محدث تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو شہداء میں شامل فرمایا ہے بلکہ ظاہری شہادت بھی دی ہے۔ پس شہید سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر رہتے ہیں یعنی اپنے دل کی آنکھوں سے ہر وقت اس کے جلال اور اس کی شان کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اور اس کے قریب ہو جاتے ہیں۔ اور عام صالحین سے ان کا درجہ بلند ہو جاتا ہے کیونکہ عام رعایا تو کبھی کبھی دربار شاہی میں جاسکتی ہے لیکن یہ لوگ ہر وقت اسی دربار میں رہتے ہیں اور چونکہ یہ لوگ کسب سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے علم پاتے ہیں اس لئے ان کا علم نہایت درست ہوتا ہے۔ اور یہ لوگ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی نسبت اور اس کے دین کی نسبت بیان کرتے ہیں۔ چونکہ خود اللہ تعالیٰ کے فیضان سے حاصل کرتے ہیں وہ نہایت راست اور درست ہوتا ہے۔ اور وہ باریکیاں جن تک دوسروں کی عقل نہیں پہنچ سکتی۔ ان کے لئے معمولی ہوتی ہے۔ اور نہایت باریک نظر ان کو عطا کی جاتی ہے پس اس لئے بھی کہ ان کا بیان نہایت سچا ہوتا ہے۔ ان کا نام شہید رکھا جاتا ہے جس کے معنی سچے گواہ کے بھی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جان دینے والا انسان بھی شہید اسی لئے کہلاتا ہے کہ وہ اپنی جان دے کر اپنی گواہی کی صداقت ثابت کر دیتا ہے کہ میں جو دعویٰ ایمان کیا کرتا تھا۔ اور اپنے ایمان کے متعلق جو کچھ بیان کرتا تھا۔ وہ سچ تھا جھوٹ نہ تھا غرض صالح سے ترقی کر کے انسان شہید بن جاتا ہے اور یہ درجہ محدّثیت کا درجہ ہے اور جب انسان اس درجہ پر پہنچ کر اور فرمانبرداری دکھاتا ہے اور زیادہ اطاعت کرتا ہے تو اس وقت یہ اللہ تعالیٰ کا اور بھی مقبول اور پیارا ہو جاتا ہے۔ اور شہیدوں میں سے بھی خاص رتبہ اسے بخشا جاتا ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے ان بندوں میں سے ہو جاتا ہے۔ جن پر اللہ تعالیٰ اپنی خاص نظر عنایت فرماتا ہے اور انبیاء کی طرح ان کی زبان پر بھی حق جاری ہو جاتا ہے۔ اور ان کے منہ سے نکلی ہوئی باتوں کو اللہ تعالیٰ پوری کر دیتا ہے۔ اور اس طرح یہ لوگ صدیق ہو جاتے ہیں یعنی صدق میں درجہ کمال تک پہنچے ہوئے ۔ اور ان کو صدیق اس لئے کہتے ہیں کہ ان کی معرفت زیادہ ہو کر ان کی نظر شہداء سے بھی زیادہ تیز ہو جاتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جیسا ان کا بیان سچا ہوتا ہے۔ اس حد تک شہداء کا علم نہیں پہنچتا۔ اور یہ جن باریک صداقتوں کا اظہار کرتے ہیں ۔ شہداء ان کو بیان نہیں کر سکتے۔

چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ آنحضرت کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو آپؐ مسجد میں آئے اور ایک خطبہ بیان کیا ۔ اور اس خطبہ میں آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کے سامنے دو باتیں پیش کیں ۔ ایک تو یہ کہ وہ دنیا کو اختیار کرے۔ اور دوسری یہ کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اسے پسند کرے۔ پس اس بندے نے جو کچھ خدا تعالیٰ کے پاس ہے اسے قبول کر لیا۔ اس پر حضرت ابو بکر صدیقؓ بے اختیار رو پڑے اور آپ کی چیخیں نکل گئیں ۔ اور آپ نے فرمایا۔ یا رسول اللہ ہم آپ پر اپنے ماں باپ قربان کر دیں گے ۔ آپ کے رونے اور اس طرح بول اٹھنے پر صحابہؓ بہت حیران ہوئے اور بعض نے کہا کہ ان کو کیا ہوا کہ رسول اللہ تو کسی بندہ کا حال سناتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے دو باتوں میں سے ایک بات پسند کرنے کا اختیار دیا تھا۔ اور یہ اسے سن کر رو رہے ہیں۔ لیکن ابو بکرؓ نے جس صدق کو پا لیا تھا۔ اور جس راستی کو سمجھ لیا تھا۔ اس کو نہ حضرت عمرؓ سمجھ سکے۔ نہ کوئی اور صحابی ۔ بات یہ تھی کہ اس وقت سید الکونین اپنی وفات کی خبر دے رہے تھے جسے سن کر اس صادق القول کا دل جس نے اپنے قول کی اپنے عمل سے شہادت دے دی تھی۔ اور جو اپنے ہادی کی ہر ایک حرکت اور سکون اور ہر ایک قول کا نہایت غور سے مطالعہ کرتا رہتا تھا اور گویا اپنے وجود کو اس کے وجود میں فنا کر چکا تھا بے اختیار ہو گیا۔

غرض صدیق یعنی بہت ہی سچ بولنے والا انسان شہید سے اوپر ہوتا ہے۔ اور اپنے ہر قول کی تائید اپنے عمل سے کرتا ہے۔ اور اس کی فطرت نبیوں کی سی فطرت ہوتی ہے اور اس کے کام نبیوں کے سے کام ہوتے ہیں۔ لیکن کسی قدر کمی اور نقص کی وجہ سے وہ درجہ نبوت پانے سے روکا جاتا ہے۔ ورنہ اس حد تک پہنچا ہوا ہوتا ہے کہ قریب ہے کہ وہ نبی ہو ہی جائے بلکہ جزوی نبوت اسے مل جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے تجدید دین کا کام لیتا ہے۔ چنانچہ حضرت ابو بکرؓ کو بھی جو صدیق تھے تجدید دین کا کام کرنا پڑا اور آنحضرت کے بعد سب عرب مرتد ہو گیا اور آپ کی سعی جمیل سے پھر اس نے ہدایت پائی اور اس طرح آپ نے بھی ایک رنگ میں تجدید دین کر دی گو اس قدر فرق تھا کہ آنحضرت کو ایک نئی جماعت بنانی پڑی تھی اور حضرت ابو بکرؓ صدیق کو ایک بگڑی ہوئی

جماعت کو درست کرنا پڑتا تھا۔ پس صدیق اسے کہتے ہیں جو شہید سے بڑھ کر صداقت پر اپنے آپ کو قائم کرے اور ایسا صدق ظاہر کرے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام سننے کا بہت زیادہ مستحق ہو جائے اور ایسے آدمی پر اللہ تعالیٰ اپنے کلام کی بارش نازل کرتا ہے اور یہ محدث کا آخری درجہ ہوتا ہے اور یہ درجہ امت محمدیہ میں سینکڑوں ہزاروں لوگوں نے پایا ہے یہ لوگ بھی کلام الٰہی کے سننے میں خاص حصہ رکھتے ہیں۔ لیکن اس کثرت کو نہیں پاتے جس سے رتبہ نبوت کو پہنچ جائیں اس درجہ سے بڑھ کر نبی یا رسول کا درجہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیت میں سب سے آخر میں رکھا ہے اور یہ لوگ ایسے ہوتے ہیں جیسے بادشاہ کے رازدار۔ اور وہ انہی کی معرفت دنیا پر اپنے غیب ظاہر کرتا ہے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(الجن: ۲۶-۲۷) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جن سے راضی ہوتا ہے یعنی جو اس کے رسول کہلاتے ہیں انہی کو اپنے غیب پر غالب کرتا ہے۔ اور یہ بات ہر ایک شخص جانتا ہے کہ رازوں پر صرف خاص دوستوں کو واقف کیا جاتا ہے پس اللہ تعالیٰ بھی اپنے غیبوں پر غالب اسی کو کرتا ہے جو اس کی محبت کے انتہائی نکتہ پر پہنچ جاتے ہیں اور اس کا کسی شخص کو اپنے غیب پر غالب کر دینا یعنی کثرت سے امورِ غیبیہ پر اسے مطلع کرنا اس بات کی علامت ہے کہ اب یہ شخص محبت کے انتہائی نقطہ کو پہنچ گیا ہے اور دائرہ نبوت میں داخل ہو گیا۔

میرا اس تمام بیان سے یہ مطلب ہے کہ نبوت کوئی الگ چیز نہیں کہ وہ مل جائے تو انسان نبی ہو جاتا ہے بلکہ اصل بات یہی ہے جیسا کہ میں اوپر قرآن کریم سے ثابت کر آیا ہوں کہ انسانی ترقی کے آخری درجہ کا نام نبی ہے جو انسان محبت الٰہی میں ترقی کرتا ہوا صالحین سے شہداء اور شہداء سے صدیقوں میں شامل ہو جاتا ہے وہ آخر جب اس درجہ سے بھی ترقی کرتا ہے تو صاحبِ سرِّ الٰہی بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اپنے غیبوں پر غالب کر دیتا اور اعتماد کے آخری مرتبہ پر اسے پہنچا دیتا ہے کیونکہ واقفِ اسرار کر دینے کے بعد کوئی دوئی نہیں رہتی اور غیب و اسرار سے مراد وہ باریک در باریک مقاماتِ معرفت ہیں جن تک کسی غیر کی نظر نہیں پہنچ سکتی اور جن کو اللہ تعالیٰ کے انبیاء معلوم کرتے ہیں اور پھر بندوں تک پہنچاتے ہیں اسی طرح آئندہ کا حال ہے یہ بھی اسرارِ الٰہی میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہی قبضہ میں رکھا ہے لیکن اپنے ان بندوں کو اللہ تعالیٰ اس سے بھی واقف کرتا ہے۔ اور گو وہ عالم الغیب ان معنوں سے تو نہیں ہوتے کہ ہر بات ان کو معلوم ہو لیکن اللہ تعالیٰ بہت سے اسرار ان پر کھولتا رہتا ہے جو عظیم الشان امور کے متعلق ہوتے ہیں۔ پس اظہار علی الغیب کا درجہ یعنی جس درجہ محبت کو حاصل کر کے انسان کو غیب الٰہی پر غلبہ حاصل ہو جاتا ہے جس کے معنی کثرت کے ہیں اسی کا نام رسالت اور نبوت ہے اور کہہ سکتے ہیں کہ نبوت اظہار علی الغیب کے مقام کا نام ہے جس کا اردو میں ترجمہ رازدار ہو گا۔ جس طرح کہہ سکتے ہیں کہ نبی کے سوا کسی کو اظہار علی الغیب کا رتبہ نہیں مل سکتا۔

خلاصہ کلام یہ کہ نبوت کی تعریف اور اس کے حصول کا طریق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں صاف طور پر بیان کر دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ یہ ایک انسانی کمال کا رتبہ ہے جس پر پہنچ کر انسان غیب الٰہی سے واقف کیا جاتا ہے اور اس سے پہلے مراتب صالح شہید اور صدیق کے ہیں اور رسول اس درجہ کے پانے والے کو اس لئے کہتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا جاتا ہے اور نبی اس لئے کہ وہ غیب کی اخبار لوگوں کو بتاتا ہے اور چونکہ قوت ایمانی اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتی جب تک دلائل و براہین ساتھ نہ ہوں اس لئے بھی اللہ تعالیٰ اپنے ایسے بندوں کو جن کو رسول کرتا ہے اظہار علی الغیب کا رتبہ دیتا ہے تا جس طرح ان کے اپنے ایمان تازہ ہیں وہ لوگوں کے ایمان بھی تازہ کر سکیں۔

یہ باتیں میں نے بطور اختصار اس لئے بتائی ہیں تا معلوم ہو جائے کہ قرآن کریم ایک کامل کتاب ہے اور اس نے ہر ایک ضروری بات بیان کر دی ہے۔ اور یہ بات غلط ہے کہ اس نے نبی کی تعریف نہیں کی اس نے خود نبی کی تعریف اور اس کے شرائط اور اس کا درجہ بیان کر دیا ہے اور جو کچھ اس نے بیان فرمایا ہے اس کے رو سے حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت ثابت ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ہرگز شریعت لانے یا نہ لانے کی شرط نہیں لگائی اور میں خیال کرتا ہوں کہ جو لوگ حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کے منکر ہیں انہوں نے آج تک اس بات پر غور ہی نہیں کیا کہ نبوت چیز کیا ہے اور نبی کون ہوتا ہے؟ ورنہ اگر وہ قرآن کریم پر تدبر کرتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ حضرت مسیح موعودؑ نبی تھے اور ان کے نبی ہونے میں کوئی شک نہیں۔

بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ نبی دوسرے نبی کا متبع نہیں ہو سکتا۔ اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ(النساء: ۶۵) اور اس سے حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کے خلاف استدلال کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب سب قلت تدبر ہیں جب اللہ تعالیٰ خود دوسری جگہ فرماتا ہے کہ اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰٮۃَ فِیۡہَا ہُدًی وَّنُوۡرٌ ۚ یَحۡکُمُ بِہَا النَّبِیُّوۡنَ(المائدہ: ۴۵) یعنی ہم نے توریت اتاری ہے جس میں ہدایت و نور ہے اس

کے ذریعہ بہت سے انبیاء یہودیوں کے فیصلہ کرتے رہے ہیں۔ اب بتاؤ کہ اگر ایک نبی دوسرے نبی کے ماتحت کام نہیں کر سکتا تو بہت سے انبیاء توریت کے ذریعہ فیصلہ کیونکر کرتے رہے۔ ان کا توریت پر عمل پیرا ہونا بتاتا ہے کہ موسیٰ کی شریعت کے وہ پیرو تھے۔ گو یہ ایک اور بات ہے کہ انہوں نے موسیٰ کے ذریعہ نبوت حاصل نہیں کی۔ پس یہ بات قرآن کریم سے ثابت ہے کہ بہت سے نبی حضرت موسیٰ کے ماتحت ان کی امت کی اصلاح پر مقرر تھے خود حضرت ہارون حضرت موسیٰ کے ماتحت کام کرتے تھے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ پہاڑ پر گئے تو ان کو اپنی بجائے خلیفہ مقرر کر گئے۔ اور جب کچھ فساد ہوا تو آکر ان کو مارنے کے لئے تیار ہو گئے اور فرمایا کہ اَفَعَصَیۡتَ اَمۡرِیۡ(20:94) کیا تو نے میری نافرمانی کی جس سے ثابت ہے کہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ کے ماتحت تھے۔ ورنہ حضرت موسیٰ انہیں حکم کیونکر دے سکتے تھے۔ اگر حضرت موسیٰ کے ماتحت حضرت ہارون نہ تھے۔ تو ثابت کرو کہ وہ کونسی امت تھی جو ان کی اطاعت کرتی تھی اور پھر وہ اگر حضرت موسیٰ سے آزاد تھے تو وہ ان کو اپنی امت کے لئے خلیفہ کس طرح بنا گئے۔ اور پھر آنحضرت ﷺ یہ کس طرح فرما سکتے تھے کہ لَوْ كَانَ مُوْسٰی وَعِيْسٰی حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتِّبَاعِيْ۳۔ پس اس آیت کے وہ معنی کیوں کرتے ہو جس سے خود دوسری آیات اور تاریخ کی تکذیب ہوتی ہو۔ اس آیت کے تو یہ معنی ہیں کہ ہر نبی لوگوں کا مطاع ہوتا ہے۔ لوگوں کا فرض ہے کہ اس کی اطاعت کریں۔ یہ تو مطلب نہیں کہ وہ کسی کا مطیع نہ ہو۔ ورنہ ممکن ہے کوئی کہہ دے کہ نبی کو خدا تعالیٰ کی اطاعت کرنے کا بھی حکم نہیں۔ کیونکہ اِلَّا لِیُطَاعَ(4:65) کا رتبہ جو اسے مل گیا۔

غرض اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کوئی رسول مطیع نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ ہر ایک رسول کی اطاعت ضروری ہے۔ اور یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام میں بھی موجود ہے۔ اور آپ کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ نے ضروری قرار دیا ہے۔ اور اسے مدارِ نجات ٹھہرایا ہے۔ چنانچہ آپ وحی الٰہی تُخَاطِبۡنِیۡ فِی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ۚ اِنَّہُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ(11:38) کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔

”جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے۔ وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے۔ اور ہر ایک حال میں مجھے حَکَم ٹھہراتا ہے۔ اور ہر ایک تنازعہ کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے۔ مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا۔ اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے۔ پس جانو کہ وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔ کیونکہ وہ میری باتوں کو جو مجھے خدا سے ملی ہیں عزت سے نہیں دیکھتا۔ اس لئے آسمان پر اس کی

عزّت نہیں۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۲۸ حاشیہ‘ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۶۴) اور نیز فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فُلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا جیسا کہ ایک الہام الٰہی کی یہ عبارت ہے وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ یعنی اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا۔ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوحؑ کی کشتی قرار دیا۔ اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدارِ نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے۔ اور جس کے کان ہوں سنے“ (اربعین نمبر چہارم صفحہ ۹۳ حاشیہ‘ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۳۵)

پس ایسے معترضوں کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ کا خوف کر کے تدبر اور غور سے کام لیا کریں تا تفسیر بالرائے کی وعید کے نیچے نہ آجائیں۔

اس شبہ کے ازالہ کے ساتھ ہی میں ایک اور شبہ کا ازالہ بھی کر دینا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اچھا اگر حضرت مسیح موعودؑ نبی تھے۔ اور قرآن کریم کے فیصلہ کے ماتحت ان کو نبی ہی قرار دینا پڑتا ہے تو پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ ان کا دعویٰ تدریجاً بڑھتا رہا ہے۔ کیا اس کی نظیر پہلے انبیاء میں مل سکتی ہے۔ اگر اس کی نظیر پہلے انبیاء میں نہیں ملتی۔ تو پھر اس کی صداقت کا یقین کیونکر آئے ۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو یہ غلط ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ تدریجاً نبی بنے ہیں۔ کیونکہ جیسا کہ میں ثابت کر آیا ہوں۔ حضرت مسیح موعود اپنے دعوے کی جو تفصیل شروع دعوائے مسیحیت سے بیان کرتے رہے ہیں۔ وہ آپ کے نبی ہونے پر شاہد تھی۔ پس آپ کا دعویٰ شروع ابتداء سے ہی نبیوں کا سا تھا۔ اگر کوئی تغیر ہوا ہے تو صرف اس بات میں کہ آپ نے ۱۹۰۱ء سے اس نام کو زیادہ وضاحت سے اختیار کیا ہے۔ پس تدریج کوئی نہیں۔ بلکہ ابتداء سے یکساں حال رہا ہے۔ اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ تدریج منع نہیں۔ اور اس پر اعتراض کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عیسائی کہا کرتے ہیں کہ دیکھو قرآن کریم آہستہ آہستہ اترا ہے۔ اور یہ پہلے انبیاء کے منہاج کے خلاف بات ہے۔ حضرت موسیٰؑ پر یک دم کتاب نازل ہوئی تھی اسی طرح یہ کتاب بھی یکدم نازل ہونی چاہئے تھی۔ چونکہ قرآن کریم کو آہستہ آہستہ نازل کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وقت ضرورت

ایک حکم گھڑ کر سنا دیا جاتا تھا۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ ایسے معترض نہیں سوچتے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام کاموں میں حکمت ہوتی ہے۔ اور وہ مختلف حکمتوں کے مطابق کام کرتا ہے قرآن کریم کے آہستہ آہستہ اترنے کی غرض یہ تھی تاکہ صحابہؓ اس پر پورے طور پر عامل ہو جائیں۔ اور ایک ایک حکم کو اچھی طرح یاد کر لیں۔ حضرت موسیٰ پر یکدم کتاب اس لئے نازل ہوئی کہ ان کی سب جماعت ان کے ماتحت تھی۔ اور وہ بادشاہانہ اقتدار رکھتے تھے۔ لیکن ہمارے آنحضرت ﷺ کو ایک خطرناک مخالف قوم کو منوانا اور پھر راہِ راست پر چلانا پڑتا تھا۔ پس اپنے بندوں کی آسانی کے لئے اللہ تعالیٰ نے آہستہ آہستہ کتاب اتاری۔ اس وقت حضرت مسیح موعود کے دعوے کا اظہار بھی اسی لئے آہستہ آہستہ ہوا۔ اور گو خدا تعالیٰ تو براہین کے وقت سے اپنا فیصلہ صادر فرما چکا تھا۔ لیکن اس کا ظہور آہستہ آہستہ ہوا۔ یعنی اول ۱۸۹۱ء میں اور پھر ۱۹۰۱ء میں۔ اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے بہت سی کمزور طبائع پر رحم فرما کر انہیں ٹھوکر کھانے سے بچا لیا۔ اور جس قدر استعداد پیدا ہوتی گئی ان پر اظہار کیا جاتا رہا اور آنحضرت ﷺ کا دعویٰ بھی اسی طرح ہوا ۔ سب سے پہلے آپ پر اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ(العلق: ۲) نازل ہوئی۔ اس میں دیکھ لو کہ نبی کے نام سے آپ کو نہیں پکارا گیا۔ پھر سورۃ مزمل کی ابتدائی چند آیات نازل ہوئیں اور آپ کو مامور مقرر کیا گیا لیکن ان میں بھی نبی اور رسول کا لفظ نہیں۔ ہاں چند ماہ کے اندر آپ کو رسول کے لفظ سے یاد کیا گیا۔ جیسا کہ سورۃ مزمل کی آخری آیات سے ظاہر ہے۔ اسی طرح کل دنیا کی طرف ہونے کا دعویٰ آنحضرت ﷺ نے بہت بعد میں کیا۔ اور قرآن کریم کی وہ آیات جن میں سب دنیا کو اس نور و ہدایت کی پیروی کی دعوت دی گئی ہے بہت مدت بعد کی ہیں۔ پھر خاتم النبیین ہونے کا اعلان بھی مدینہ میں ہوا ہے اسی طرح حضرت مسیح کا دعویٰ بھی آہستہ آہستہ ہوا ہے۔ اور کلیسیا کی تاریخ کے واقفوں نے اس امر پر کتابیں لکھی ہیں کہ حضرت مسیح نے آہستہ آہستہ اپنے دعویٰ کو ظاہر کیا۔ اور اناجیل کو جو شخص غور سے پڑھے گا وہ بھی یہ بات معلوم کر لے گا کہ حضرت مسیح کا دعویٰ بھی بتدریج ظاہر ہوا۔ غرض کہ یہ کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اصل دعویٰ کو اپنے کلام میں ظاہر تو پہلے ہی کر دیتا ہے لیکن اس پر ایک پردہ ڈال دیتا ہے۔ جسے ایک خاص وقت پر اٹھا دیتا ہے۔ ہمارے آنحضرت ﷺ جب مبعوث ہوئے تو اسی وقت سے خاتم النبیین تھے۔ اور قرآن کریم کی ایک ایک آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے بعد اور کسی کتاب کی ضرورت نہیں۔ لیکن ظاہر الفاظ میں بعد میں اعلان کیا گیا کہ اب یہ شخص خاتم النبیین ہے۔

یہ میری ہی تحقیق نہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے بھی اپنا عقیدہ اسی کے مطابق بیان فرمایا ہے۔ اور مسیح موعود کے بیان کے فیصلہ کے بعد مؤمن کو تردد کی گنجائش نہیں رہتی۔ آپ فرماتے ہیں: ”جس طرح قرآن شریف یک دفعہ نہیں اترا۔ اسی طرح اس کے معارف بھی دلوں پر یک دفعہ نہیں اترتے۔ اسی بناء پر محققین کا یہی مذہب ہے کہ آنحضرت ﷺ کے معارف بھی یک دفعہ آپ کو نہیں ملے۔ بلکہ تدریجی طور پر آپؑ نے علمی ترقیات کا دائرہ پورا کیا ہے۔ ایسا ہی میں ہوں۔ جو بروزی طور پر آپ کی ذات کا مظہر ہوں۔ آنحضرت ﷺ کی تدریجی ترقی میں سرّ یہ تھا کہ آپ کی ترقی کا ذریعہ محض قرآن تھا۔ پس جبکہ قرآن شریف کا نزول تدریجی تھا۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کی تکمیل معارف بھی تدریجی تھی۔ اور اسی قدم پر مسیح موعود ہے جو اس وقت تم میں ظاہر ہوا۔“ (نزول المسیح صفحہ ۴۵، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۴۲۱)

نبوت کے متعلق بعض اصطلاحات

میں اس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے مختصر طور پر یہ لکھ دینا پسند کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے جو مختلف اصطلاحات نبوت کے متعلق قرار دی ہیں۔ ان سے کیا مطلب ہے؟ یاد رہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے بے شک بعض اصطلاحات نبوت کی تشریح کے لئے مقرر فرمائی ہیں۔ لیکن وہ اصطلاحات قرآن کریم یا حدیث کے الفاظ نہیں ہیں۔ بلکہ حضرت مسیح موعود نے لوگوں کو نبوت کی اقسام سمجھانے کے لئے خود وضع فرمائی ہیں اور چونکہ آپ نے خود ان اصطلاحات کو وضع فرمایا ہے۔ اس لئے ان کے وہی معنی کرنے درست ہوں گے۔ جو آپ نے خود فرما دیئے ہیں نہ کہ کوئی اور معنی مثلاً قرآن شریف میں صلوٰۃ کے معنی نماز کے ہیں نماز تو آنحضرت ﷺ نے مقرر فرمائی ہے اس سے پہلے تو تھی نہیں۔ اس لئے گو صلوٰۃ کے معنی دعا کے ہیں لیکن جب شریعت اسلام میں بغیر کسی اور قرینہ کے صلوٰۃ کا لفظ آئے گا تو اس کے معنی نماز کے ہوں گے نہ کہ دعا کے۔ پس اسی طرح حضرت مسیح موعود نے جو اصطلاح تجویز کی ہے اور پہلے وہ ان معنوں میں لغت میں استعمال نہیں ہوئی۔ تو ہمیں اس اصطلاح کے وہی معنی کرنے ہوں گے جو خود حضرت مسیح موعود نے کر دیئے ہیں۔ اور اگر ہم ایسا نہ کریں گے تو حضرت مسیح موعود کے مدعا کے خلاف ہم آپ کی عبارتوں کا کچھ سے کچھ مطلب بنا دیں گے میں اس جگہ چند ایسی اصطلاحیں اور ان کے جو معنی خود حضرت مسیح موعود نے کئے ہیں درج کر دیتا ہوں تاکہ ہر ایک طالب حق ان کو یاد رکھے اور دھوکے میں پڑنے سے بچ جائے۔

اصطلاحاتِ مسیح موعود اس کے معنی خود حضرت مسیح موعود نے فرمائے

حقیقی نبوت

”وَ مَنْ قَالَ بَعْدَ رَسُوْلِنَا وَ سَيِّدِنَا اِنِّيْ نَبِيٌّ اَوْ رَسُوْلٌ عَلٰی وَجْهِ الْحَقِيْقَةِ وَالْاِفْتِرَاءِ وَتَرَكَ الْقُرْآنَ وَاَحْكَامَ الشَّرِيْعَةِ الْغَرَّاءِ فَهُوَ كَافِرٌ كَذَّابٌ۔ غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعوٰی کرے اور آنحضرت ﷺ کے دامن فیوض سے اپنے تئیں الگ کر کے اور اس پاک سرچشمہ سے جدا ہو کر آپ ہی براہِ راست نبی اللہ بننا چاہے، تو وہ ملحد بے دین ہے اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیا کلمہ بنائے گا اور عبادات میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا۔ اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کر دے گا۔ پس بلاشبہ وہ مسیلمہ کذاب کا بھائی ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں ایسے خبیث کی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے۔“ (انجام آتھم۔ روحانی خزائن جلد ۱۱ ص ۲۷، ۲۸ حاشیہ)

مستقل نبوت

”بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ نبوتیں براہِ راست خدا کی ایک موہبت تھیں حضرت موسیٰ کی پیروی کا اس میں ایک ذرہ کچھ دخل نہ تھا اسی وجہ سے میری طرح ان کا یہ نام نہ ہوا کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔ بلکہ وہ انبیاء مستقل نبی کہلائے اور براہِ راست ان کو منصب نبوت ملا۔ (حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۰ حاشیہ)

مستقل نبی

یہ الزام جو میرے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا دعوٰی کرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا اور جس کے یہ معنی ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا۔ (اخبار عام ۲۳؍ مئی ۱۹۰۸ء)ل

نبوتِ ظلّی یا بروزی

”یہ ضرور یاد رکھو کہ اس امت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پا چکے۔ پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے لیکن قرآن شریف بجز نبی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے جیسا کہ آیت فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(72:27-28) سے ظاہر ہے۔ پس مصفّٰی غیب پانے کے لئے نبی ہونا ضروری ہوا۔ اور آیت اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ(1:7) گواہی دیتی ہے کہ اس مصفّٰی غیب سے یہ امت محروم نہیں۔ اور مصفّٰی غیب حسب منطوق آیت نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے اور وہ طریق براہ راست بند ہے۔ اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ اس موہبت کے لئے محض بروز اور ظلیت اور فنا فی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔ فتدبّر۔“ منہ۔ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵ حاشیہ‘ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۹) ؂

”ظلّی نبوت جس کے معنی ہیں کہ محض فیض محمدی سے وحی پانا۔ وہ قیامت تک باقی رہے گی۔“۔ (حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۰)

امتی نبی

”جب تک اس کو امتی بھی نہ کہا جائے جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک انعام اس نے آنحضرت؂ کی پیروی سے پایا ہے نہ براہ راست“ (تجلیات الہیہ صفحہ ۹ حاشیہ‘ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۰۱)

نبوت تامہ

”اَلْحَدِیْثُ یَدُلُّ عَلٰی اَنَّ النُّبُوَّةَ التَّآمَّةَ الْحَامِلَةَ لِوَحْيِ الشَّرِیْعَةِ قَدِ انْقَطَعَتْ“ (توضیح مرام صفحہ ۱۳ ؂ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۶۱) ترجمہ۔ مذکورہ حدیث بتا رہی ہے کہ نبوت تامہ جو وحی تشریعی والی ہوتی ہے بند ہو چکی ہے۔

جزئی نبوت

اس کی تعریف میں حضرت صاحب لکھتے ہیں ”وہ صرف ایک جزئی نبوت ہے جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کے اسم سے موسوم ہے جو انسانِ کامل کے اقتداء سے ملتی ہے جو مستجمع جمیع کمالاتِ نبوت تامہ ہے“ (توضیح مرام صفحہ ۱۲‘ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۶۰)

”محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں مگر تاہم جزوی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں“ (توضیح مرام صفحہ ۱۲ ‘روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۶۰)

جزئی نبوت کی یہ تعریف جو آپ نے کی ہے توضیح مرام میں ہے اور جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں توضیح مرام کے وقت آپ کا یہی خیال تھا کہ جس قسم کی نبوت مجھے حاصل ہے یہ درحقیقت نبوت نہیں اور سب محدث میرے شریک ہیں۔ چنانچہ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ آپ نے اس میں محدث کو نبی قرار دیا ہے حالانکہ جیسا کہ میں اوپر ثابت کر آیا ہوں بعد میں آپ نے اس بات کو کہ محدث بھی نبی کہلا سکتا ہے غلط ثابت کیا ہے اور فرمایا ہے کہ محدث نبی نہیں کہلا سکتا۔ پس یہ حوالہ تو محدثیت کے عقیدہ کے ترک کرنے کے ساتھ ہی ۱۹۰۱ء سے منسوخ ہے۔ اور حضرت مسیح موعودؑ اس خیال کو ہی رد کر چکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ۱۹۰۰ء کے بعد حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی نبوت کے متعلق کہیں بھی جزوی یا ناقص نبوت نہیں لکھا۔ حالانکہ اس سنہ ۴ کے بعد جس کثرت سے نبوت کا ذکر آپ کی کتابوں میں پایا جاتا ہے۔ پہلی کتابوں میں اس کثرت سے نہیں ملتا۔ پس ایک طرف محدثیت کے نام کا ترک اور نبوت کی تعریف میں تبدیلی اس بات پر شاہد ہیں کہ جزوی نبوت کی اصطلاح کو حضرت صاحب ترک کر چکے ہیں تو دوسری طرف اس لفظ کا ہی ترک کر دینا ثابت کرتا ہے کہ آپ اپنے آپ کو پہلے ایسا نبی خیال نہیں کرتے تھے۔ ہاں اگر کوئی شخص جزوی نبی کی اصطلاح سے یہ مراد لے کہ نبوت تو ہے۔ لیکن ساتھ شریعت جدیدہ نہیں تو ان معنوں سے ہم اس لفظ کو قبول کر سکتے ہیں ورنہ نہیں۔

حضرت مسیح موعودؑ کی مذکورہ بالا اصطلاحات اور ان کے وہ معنی جو خود حضرت مسیح موعودؑ نے کئے ہیں۔ دیکھ کر ہر ایک دانا انسان اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ ان سب اصطلاحات کے صرف اس قدر معنی ہیں کہ ایک نبی شریعت لانے والے ہوتے ہیں۔ ایک بغیر شریعت کے ہوتے ہیں۔ اور ایک نبی دوسرے کی اتباع سے نبی بنتے ہیں۔ پس اگر حضرت مسیح موعودؑ نے کہا کہ میں حقیقی نبی نہیں ہوں یا مستقل نبی نہیں ہوں یا میری نبوت تامہ نہیں ہے تو ان سب اصطلاحات کے صرف اس قدر معنی ہوں گے کہ آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائے اور نہ آپ کو نبوت بلاواسطہ ملی ہے اور اگر اپنے آپ کو اس کے مقابلہ میں ظلی یا بروزی کہتے ہیں تو اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کی نبوت بالواسطہ ہے اور آنحضرت ﷺ کی اتباع سے ہے اور یہی عقیدہ ہمارا ہے لیکن ہم یہ جائز نہیں سمجھتے کہ کوئی نادان ان معنوں کو چھوڑ کر جو حضرت مسیح موعود نے ان حوالہ جات کے کئے ہیں اور معنی کرے اور کہے کہ دیکھو مسیح موعود نے اپنی نبوت سے انکار کیا ہے حضرت مسیح موعود کے اپنے کئے ہوئے معنوں سے باہر جانے کی اجازت کسی کو نہیں۔ کیونکہ یہ الفاظ لغت میں ان معنوں کے ساتھ استعمال نہیں ہوتے۔ جن میں حضرت مسیح موعود نے ان کو استعمال کیا ہے پس یہ حضرت مسیح موعود کی اصطلاحات سے ہیں۔ اور وہی معنی ان کے جائز ہو سکتے ہیں جو خود آپ نے کئے۔ نہ وہ جو دوسرا اپنے ذہن سے بنالے اور نہ وہ جو لغت میں آئیں۔

پس ہماری جماعت کے لوگ خوب یاد رکھیں کہ یہ حضرت صاحب کی اپنی اصطلاحات ہیں اور اگر کوئی شخص ان کو پیش کر کے ان کے معنی اپنے پاس سے کرنے لگے مثلاً یہ کہہ دے کہ حقیقی نبی وہ ہوتا ہے جو واقعہ میں نبی ہو کیونکہ حقیقی کے لغت میں یہی معنی ہیں اور چونکہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ میں حقیقی نبی نہیں۔ سو معلوم ہوا کہ آپ درحقیقت نبی نہ تھے تو ایسے شخص کو صاف کہہ دیں کہ اس غلط بیانی سے باز آؤ۔ اور مسیح موعود کی کتابوں سے تمسخر نہ کرو۔ مسیح موعود نے جب خود ان الفاظ کے معنی کر دیئے ہیں تو تم کون ہو کہ اور معنی کرو۔ اور وہ معنی جو حضرت مسیح موعود نے کئے ہیں یہ ہیں کہ میں کوئی نئی شریعت نہیں لایا۔ اور میری نبوت بلا واسطہ نہیں۔ اور یہی ہمارا مذہب ہے۔ اصطلاحات کے معنی کرنے میں بہت احتیاط سے کام لینا چاہئے اور اپنی طرف سے معنی کرنے جائز نہیں ورنہ حق کی مخالفت ہوگی۔ اور جب انسان حق کی مخالفت کرتا ہے تو اس کی زبان پر ایسا کلام جاری ہو جاتا ہے جو اسے حق سے دور ہی دور کرتا چلا جاتا ہے۔ چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ جو لوگ حضرت مسیح موعود کی نبوت کا انکار کرتے ہیں وہ خدا کے سب بزرگوں سے منکر ہو رہے ہیں اور حفظ مراتب کا خیال ان کے دل سے نکل گیا ہے۔ اور اپنے جوشوں میں اندھے ہو کر خدا تعالیٰ کے برگزیدوں پر ہاتھ ڈالنے سے نہیں ڈرتے جو ایک قابل خوف علامت ہے۔ مؤمن کو چاہئے ہر ایک بحث و تکرار کے وقت اپنے جوش کو قابو میں رکھے۔ اور اپنے مد مقابل کی حالت پر نظر نہ کرے بلکہ یہ دیکھے کہ میں کس شخص کے متعلق کلام کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنے پاک بندوں کے لئے نہایت غیور ہوتا ہے۔ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے۔ اس وقت تک لاکھوں برگزیدہ انسان گزر چکے ہیں اور لاکھوں کروڑوں نے ان کی مخالفت کی ہے لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدوں کی ہتک کرنے والا اور ان کو دکھ دینے والا انسان سزا سے بچ گیا ہو۔ اور اگر ہو تو لوگ دین سے بالکل پھر جائیں اور بہتوں کے ایمان ضائع ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی ہستی کا ثبوت تو قادرانہ کاموں سے ہی دیتا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو انسان کی مادی آنکھ کہاں دیکھ سکتی ہے۔ اور اگر اس کی قدرت اپنے ظہور سے رک جائے تو خدا تعالیٰ کا ماننا انسان کے لئے ناممکن ہو جائے۔ پس یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے پیاروں کی ہتک ہمیشہ نقصان دہ ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی غیرت اس پر بھڑک اٹھتی ہے مجھے یہ معلوم کر کے نہایت افسوس ہوا ہے کہ بعض لوگ جن کو یہ نہیں معلوم کہ حضرت مسیح موعود نے مذکورہ بالا اصطلاحات کے کیا معنی کئے ہیں۔ اپنی طرف سے ان اصطلاحات کے معنی کرتے ہیں۔ اور پھر حضرت مسیح موعود کی ہتک کر بیٹھتے ہیں۔ چنانچہ ذیل میں اس قسم کا ایک واقعہ لکھا جاتا ہے۔

برادرم قاضی محمد یوسف خان صاحب پشاوری جو مبائعین کی جماعت میں شامل ہیں۔ اور ایک اور شخص کے درمیان جو غیر مبائعین سے ہے اور جس کا نام لکھنے کی ضرورت نہیں کسی موقع پر نبوت کے متعلق گفتگو ہو پڑی۔ غیر مبائع صاحب نے کہا کہ مردان کے منشی محمد یوسف صاحب لکھتے ہیں کہ ہم تو آنحضرت ﷺ اور مرزا صاحب دونوں کو ایک جیسا مانتے ہیں اس پر قاضی محمد یوسف صاحب نے جواب دیا کہ درجہ کے لحاظ سے تو ہم ایک جیسا نہیں مانتے آنحضرت ﷺ آقا تھے۔ حضرت مسیح موعود غلام تھے۔ آنحضرت ﷺ استاد تھے۔ مسیح موعود شاگرد تھے۔ ہاں یہ ہمارا ایمان ہے جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ ظلی طور پر آنحضرت ﷺ کے کمالات پانے کی وجہ سے آپ ان کے مشابہ ہو گئے۔ اور یہ ان کا قول بالکل درست تھا لیکن غیر مبائع صاحب اس بات کو سن کر جوش میں آ گئے۔ اور کہنے لگے کہ ظل کیا شئے ہے ظل تو اصل کا پاخانہ اٹھانے کے قابل بھی نہیں ہوتا۔ اور جب ان کو کہا گیا کہ آپ تو مسیح موعود کی ہتک کرتے ہیں تو آپ بجائے شرمندہ ہونے کے کہنے لگے کہ ظل تو اس قابل ہے کہ پاؤں میں روند کر پاخانہ میں پھینک دیا جائے۔ جب اس پر پھر ان کو سمجھایا گیا۔ تو کچھ سوچ کر اپنی غلطی معلوم کی۔ اور اپنے پچھلے فقرات کی اور کوئی تاویل کرنی چاہی اور کہا کہ میرا مطلب وہ نہ تھا جو آپ لوگ سمجھے ہیں بلکہ اور تھا۔ چنانچہ یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بھی ایک یہودی کا پاخانہ دھویا تھا۔ لیکن یہ خیال نہ کیا کہ میں آنحضرت ﷺ کی افضلیت پر بھی حملہ کر رہا ہوں اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(2:157)۔ یہ سب نتیجہ تھا حق کی مخالفت کا۔ اور ظل کے معنی نہ سمجھنے کا۔ احادیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن سات قسم کے مؤمنوں کے سر پر اللہ کا سایہ ہو گا۔ اب بتاؤ کہ کیا اس ظل کی بھی ہتک کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ گے۔ بادشاہ ظل اللہ کہلاتا ہے۔ کیا اسے بھی اسی اصل کے ماتحت مارنے پر آمادہ ہو جاؤ گے۔ کیا ظل کا لفظ صرف اس سایہ کے لئے ہی استعمال ہوتا ہے جو انسان یا درخت کا دھوپ کی وجہ سے زمین پر پڑتا ہے اگر نہیں تو پھر اس سایہ پر مسیح موعود کی نبوت کا قیاس کیوں کرتے ہو۔ مسیح موعود تو خدا تعالیٰ کا برگزیدہ اور مقرب تھا۔ اور ایک محبوب کی حیثیت رکھتا تھا۔ اور آنحضرت ﷺ اسے اپنا وجود قرار دیتے ہیں۔ اپنا نام اور اس کا نام ایک بتاتے ہیں۔ تم کسی ایسے ظل کی ہی ہتک کر کے بتا دو جو ظاہر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ یعنی کسی دنیاوی بادشاہ کے ملک میں اس کا ایک مجسمہ بنا کر یا اس کی تصویر لے کر اسے علی الاعلان جلا دو۔ یا کسی افسر کے سامنے جا کر اس کے سایہ کو جوتیاں مارنے لگ جاؤ۔ دیکھو تو تمہارا کیا حال ہوتا ہے یا پاگل خانہ میں بھیجے جاؤ گے یا جیل خانہ میں۔ ہندوستان میں ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں کہ بعض شریروں نے ملکہ معظمہ یا ملک ایڈورڈ ہفتم کے بت کی ہتک کی۔ تو ان کو سزا دی گئی۔ پس جب دنیاوی بادشاہوں اور افسروں کے ظل اور مجسموں کی جو بے جان ہیں اور اپنی کوئی حیثیت نہیں رکھتے ہتک کرنے پر سزا ملتی ہے تو کیوں خدا تعالیٰ کا مامور اور آنحضرت ﷺ کا ظل ہی ایسی حقیر شئے ہے کہ اس کی جس طرح چاہو ہتک کر لو؟ کسی قسم کی سزا کا خوف نہیں۔ کوئی کہتا ہے ظل کو جوتیاں مارنا جائز ہے کوئی کہتا ہے اسے پاخانہ میں پھینک دینا جائز ہے۔ کیا خدا تعالیٰ کا خوف دل سے بالکل نکل گیا ہے کہ اس حد تک نوبت پہنچ گئی۔ خوب یاد رکھو کہ اس ظل کے وہ معنی نہیں جو یہ لوگ خیال کرتے ہیں۔ بلکہ اس ظل کے معنی صرف یہ ہیں کہ آپ نے سب کمالات آنحضرت ﷺ کی اتباع سے پائے ہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اپنے جوشوں سے اندھے ہو کر مسیح موعود کی ہتک کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں سمجھ دے اور ان کی آنکھیں کھولے تا حق و باطل میں تمیز کر سکیں اور خدا تعالیٰ کا مقابلہ کر کے اپنے آپ کو تباہ نہ کر لیں۔ اللھم آمین۔

مجازی نبی

جو اصطلاحات میں نے اوپر ذکر کی ہیں ان کے علاوہ ایک اصطلاح اور بھی ہے جس کا ذکر میں الگ کرنا چاہتا ہوں۔ اور وہ مجازی نبی کی اصطلاح ہے۔ جناب مولوی صاحب نے اس اصطلاح پر خاص زور دیا ہے اور لکھتے ہیں کہ دیکھو حضرت مسیح موعود نے صاف لکھ دیا ہے کہ سُمِّيْتُ نَبِيًّا مِنَ اللّٰهِ عَلٰى طَرِيْقِ الْمَجَازِ لَا عَلٰى وَجْهِ الْحَقِيْقَةِ۔ (ترجمہ)۔ اور میرا نام نبی اللہ کی طرف سے مجازی طور پر رکھا گیا ہے نہ حقیقی طور پر۔ میں حیران ہوں جب میاں صاحب کے اس فقرہ کو پڑھتا ہوں کہ ”اگر حقیقی کے مقابلہ میں نقلی یا بناوٹی یا اسمی نبی کو رکھا جائے تو میں آپ کو حقیقی نبی مانتا ہوں“ مگر مرزا صاحب باوجود نقلی بناوٹی یا اسمی نبی نہ ہونے کے کہتے ہیں کہ خدا نے میرا نام حقیقی رنگ میں نبی نہیں رکھا بلکہ صرف مجازی طور پر۔ میں کس طرح سمجھ لوں کہ میاں صاحب کو آج تک یہ بھی علم نہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے حقیقی کن معنوں میں استعمال کیا ہے۔ جب ایک مرتبہ نہیں کئی بار حضرت کی تحریروں میں حقیقی کے بالمقابل اپنی نبوت کو مجازی کہا ہے کیا حقیقت اور مجاز کا فرق میاں صاحب کو معلوم نہیں؟ پھر کیوں انہوں نے جان بوجھ کر حقیقی کے خلاف بناوٹی اور نقلی رکھا ہے محض اس لئے کہ حقیقت پر پردہ پڑا رہے۔ حضرت صاحب تو حقیقی کے مقابل پر مجازی رکھیں اور میاں حقیقی کے مقابل نقلی اور بناوٹی رکھ کر آپ کی تحریر کا استخفاف کرتے ہیں“......

مجھے افسوس ہے کہ جناب مولوی صاحب کو میرے حقیقی کے مقابلہ پر اگر کے ساتھ مشروط کر کے نقلی رکھنے پر اس قدر طیش آگیا۔ اور میرے یہ الفاظ آپ کی تکلیف کا باعث ہوئے مگر میں افسوس کرتا ہوں کہ اس طیش کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آئی میں نے لکھا تھا کہ اگر حقیقی کے معنی یہ کئے جائیں کہ نئی شریعت لانے والا نبی (جو معنی خود مسیح موعود نے کئے ہیں) تو میں بھی حضرت مسیح موعود کو حقیقی نبی نہیں مانتا۔ لیکن اگر حقیقی کے مقابلہ میں بناوٹی یا اسمی رکھا جائے تو میں آپ کو حقیقی نبی مانتا ہوں۔ اب ظاہر ہے کہ میں نے اگر کے ساتھ مشروط کر کے بتایا تھا کہ اگر فلاں معنی کئے جائیں۔ تب میں آپ کو بناوٹی نہ قرار دوں گا بلکہ حقیقی لیکن جناب مولوی صاحب کو نہ معلوم اس پر کیوں طیش آگیا۔ حالانکہ قرآن کریم میں وہ لکھا دیکھتے ہیں کہ اِنۡ کَانَ لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدٌ ٭ۖ فَاَنَا اَوَّلُ الۡعٰبِدِیۡنَ(الزخرف: ۸۲) اگر رحمن کا بیٹا ہو تو میں اس کی سب سے پہلے پرستش کرنے کو تیار ہوں (مگر چونکہ ہے ہی نہیں میں پرستش نہیں کرتا) اسی طرح وہ میرے فقرہ کو سمجھ لیتے کہ حضرت مسیح موعود کے معنوں کے خلاف اگر کوئی شخص حقیقی کے یہ معنی کرے کہ نقلی یا بناوٹی نہ ہو تو میں مسیح موعود کو حقیقی نبی ہی سمجھوں گا۔ اور اگر مولوی صاحب کو سمجھ میں اس فقرہ کا مطلب یہی ہے کہ میں نے آپ کو حقیقی کہا تو غالباً اس آیت سے کہ اِنۡ کَانَ لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدٌ ٭ۖ فَاَنَا اَوَّلُ الۡعٰبِدِیۡنَ(43:82) یعنی اگر رحمن کا بیٹا ہو تو میں اس کی سب سے پہلے پرستش کرنے کے لئے تیار ہوں وہ یہی مطلب لیتے ہوں گے کہ آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کا بیٹا مانتے تھے۔ اگر وہ کہیں کہ جبکہ ہم سارے قرآن کریم میں یہ لکھا دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا نہیں تو اس آیت سے جس کے پہلے اگر لگا ہوا ہے کس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ آپ خدا کا بیٹا مانتے تھے تو وہ بتائیں کہ جب القول الفصل میں کئی جگہ میں نے لکھا ہے کہ

میں مرزا صاحب کو حقیقی نبی نہیں مانتا تو پھر اس فقرہ سے جس کے پہلے اگر لگا ہوا ہے کس طرح حقیقی نبی کا مفہوم سمجھا گیا۔ میں نے تو اس جگہ یہ بتایا تھا کہ اصطلاحات کے تغیر سے الفاظ کے استعمالات میں بھی تغیر پیدا ہو جاتا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ اس طیش میں آکر جناب مولوی صاحب نے مجھ پر دھوکے کا الزام بھی لگایا ہے۔ لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں۔ اس لئے قابل افسوس نہیں۔

اب میں اس بات کی طرف آتا ہوں کہ حقیقتہ الوحی میں جو یہ عبارت ہے کہ میرا نام اللہ تعالیٰ نے مجاز کے طور پر نبی رکھا ہے نہ کہ حقیقت کے طور پر۔ اس کے کیا معنی ہیں۔ اور کیا اس نبوت کو مجازی قرار دینا ثابت نہیں کرتا کہ حضرت مسیح موعود حقیقت میں نبی نہ تھے؟ بلکہ جس طرح بہادر آدمی کو مجاز اً شیر کہہ دیتے ہیں۔ اور وہ اس سے در حقیقت شیر نہیں ہو جاتا۔ اسی طرح حضرت صاحب کو نبی کہہ دیا گیا ہے اور اس سے آپ درحقیقت نبی نہیں ہو گئے۔

سو اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ ایسا خیال مجاز و حقیقت کے معنی نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر جناب مولوی صاحب بجائے مجھ پر الزام لگانے کے کہ میں مجاز کے معنوں کو چھپاتا ہوں۔ اس بات کی کوشش فرماتے کہ حقیقت کے معنی دریافت کر لیں تو شاید انہیں حضرت صاحب کی مذکورہ بالا تحریر میں مجاز کا لفظ دیکھ کر اس قدر خوشی نہ ہوتی جو اب حاصل ہوئی ہے کیونکہ اس صورت میں ان کو معلوم ہو جاتا کہ یہ حوالہ ان کے لئے ہرگز مفید نہیں بلکہ اس حوالہ سے صرف اسی قدر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کوئی نئی شریعت نہیں لائے اور اس بات کا انکار کسے ہے کہ آپ غیر تشریعی تھے۔ پس اس حوالہ سے یہ ثابت کرنا کہ آپ نبی نہ تھے بلکہ آپ کو نبی اسی رنگ میں کہا گیا ہے جس رنگ میں کہ ایک بہادر آدمی کو شیر کہا جاتا ہے۔ اور جس طرح وہ بہادر آدمی شیر نہیں ہو جاتا۔ آپ اس طرح نبی کہنے سے نبی نہیں ہو جاتے ہرگز درست نہیں۔ چنانچہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے میں علم اصول کی کتاب نور الانوار سے حقیقت و مجاز کی تعریف نقل کر دیتا ہوں جس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ کو کیا دھوکا لگا ہے۔

نور الانوار میں حقیقت و مجاز کی تعریف حسب ذیل لکھی ہے:

اَمَّا الْحَقِیْقَةُ فَاسْمٌ لِکُلِّ لَفْظٍ اُرِیْدَ بِہٖ مَا وُضِعَ لَہٗ..... وَالْمُرَادُ بِالْوَضْعِ تَعْیِیْنُہٗ لِلْمَعْنَی بِحَیْثُ یَدُلُّ عَلَیْہِ مِنْ غَیْرِ قَرِیْنَةٍ- فَإِنْ کَانَ ذٰلِکَ التَّعْیِیْنُ مِنْ جِھَةِ وَاضِعِ اللُّغَةِ فَوَضْعٌ لُغَوِیٌّ- وَإِنْ کَانَ مِنَ الشَّارِعِ فَوَضْعٌ شَرْعِیٌّ- وَإِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ مَّخْصُوْصٍ فَوَضْعُ عُرْفِیٌّ خَاصٌّ وَإِلَّا فَوَضْعُ عُرْفِیٌّ عَامٌّ- وَالْمُعْتَبَرُ فِی الْحَقِیْقَةِ ھُوَ الْوَضْعُ بِشَیْءٍ مِّنْ الْاَوْضَاعِ الْمَذْكُوْرَةِ وَفِي الْمَجَازِ عَدَمُهُ “ (نور الانوار شرح المنار صفحہ ۹۲)

(ترجمہ) حقیقت اس لفظ کو کہتے ہیں جس سے مراد وہی معنی لئے گئے ہوں جن کے لئے وہ مقرر کر لیا گیا ہو۔۔۔ اور وضع یعنی مقرر کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس لفظ سے کسی قرینہ کے بغیر وہ معنی سمجھے جاتے ہوں۔ اب اگر یہ تعیین واضع لغت کی طرف سے ہو تو وضع لغوی کہلائے گی۔ اور اگر شریعت نے تعیین کی ہو تو وضع شرعی ہوگی۔ اور اگر کسی خاص گروہ کی تعیین ہو تو وضع عرفی خاص کہلائے گی۔ اور اگر عرف عام سے یہ تعیین پیدا ہو گئی تو وضع عرفی عام کہلائے گی۔ اور حقیقت کی تعریف میں یہ تمام قسمیں ملحوظ ہیں (پس حقیقت کی چار قسمیں ہوں گی۔ حقیقت لغویہ۔ حقیقت شرعیہ۔ حقیقت عرفیہ خاص۔ حقیقت عرفیہ عام) اور مجاز میں بھی انہی تعیینوں کا عدم ملحوظ ہے (پس مجاز کی بھی چار قسمیں ہوں گی۔ مجاز وضعی۔ مجاز شرعی۔ مجاز عرفی خاص۔ مجاز عرفی عام)

اس عبارت سے آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ حقیقت کی چار قسمیں ہیں۔ حقیقت لغویہ۔ حقیقت شرعیہ۔ حقیقت عرفیہ خاص۔ اور حقیقت عرفیہ عام۔ اور ان میں سے ہر ایک حقیقت کے مقابلہ میں ایک مجاز ہوتا ہے یعنی اگر حقیقت لغویہ ہو تو اس کے مقابلہ میں مجاز لغوی ہو گا۔ اور اگر حقیقت شرعیہ ہے تو اس کے مقابلہ میں مجاز شرعی ہو گا۔ اور اگر حقیقت عرفیہ خاص ہے تو اس کے مقابلہ میں مجاز عرفی خاص ہو گا۔ اور اگر حقیقت عرفیہ عام ہے تو اس کے مقابلہ میں مجاز عرفی عام ہو گا۔ اس کے علاوہ یہ بھی یاد رہے کہ مجاز ہمیشہ حقیقت کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔ اور حقیقت سے مجاز کا پتہ لگایا جاتا ہے نہ کہ مجاز سے حقیقت کا۔ اب اس مسئلہ کے صاف ہونے کے بعد دیکھتے ہیں کہ حضرت صاحب نے جو حقیقی نبوت کا لفظ استعمال کیا ہے تو مذکورہ بالا چار حقیقتوں میں سے کس حقیقت کے ماتحت یہ لفظ آتا ہے تاکہ مجاز کے معنی اسی حقیقت کے مقابل کی مجاز کے کئے جائیں اب ہم نبی کے معنی جب لغت میں تلاش کرتے ہیں تو اسکا مطلب صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس پر کثرت سے امور غیبیہ ظاہر ہوں جو اہم امور کے متعلق ہوں۔ اور خدا تعالیٰ اس کا نام نبی رکھے۔ اور شریعت لانے والے کی شرط دنیا کی کسی لغت میں نہیں پاتے پس معلوم ہوا کہ یہ حقیقت لغویہ نہیں ہے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ کیا یہ حقیقت شرعیہ ہے تو قرآن کریم یا احادیث میں بھی نبی کے معنی وہی ملتے ہیں۔ جو لغت کرتی ہے۔ اور جو میں بالتفصیل پہلے لکھ آیا ہوں۔ پس یہ حقیقت شرعیہ بھی نہیں۔ ہاں اگر عوام کے محاورہ کو دیکھیں تو ان کے ہاں نبی بے شک اسی کو کہتے ہیں جو شریعت جدیدہ لائے یا بلا واسطہ نبوت پائے۔ پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ عوام اپنی نادانی سے نبی کی جو حقیقت بتاتے ہیں اس کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود پر نبی کا لفظ مجازاً استعمال ہوتا ہے مگر اس کے معنی صرف یہ ہوں گے کہ آپ عوام کی اصطلاح کے رو سے نبی نہ تھے یعنی شریعتِ جدیدہ نہ لائے تھے۔ اور یہ معنی نہ ہوں گے کہ آپ شریعت کے معنوں سے بھی مجازی نبی تھے۔ اب رہی چوتھی حقیقت یعنی حقیقتِ عرفیہ خاص۔ سو اور لوگوں کی اصطلاحات تو ہمیں تلاش کرنے کی حاجت نہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ کی کتب میں دیکھیں تو آپ نے بھی عوام کو اپنی نبوت کی قسم سمجھانے کے لئے ایک اصطلاح قرار دے لی ہے اور اس کی یہ حقیقت قرار دی ہے کہ وہ شریعت لائے۔ اور اس کی وجہ صاف ہے۔ اور وہ یہ کہ عوام الناس میں نبی کی حقیقت شریعت کا لانا سمجھا جاتا ہے۔ پس حضرت مسیح موعود نے بھی عوام کو سمجھانے کے لئے انہی کی فرض کردہ حقیقت کو تسلیم کر کے انہیں سمجھایا ہے کہ میں ان معنوں سے نبی نہیں ہوں کہ کوئی شریعتِ جدیدہ لایا ہوں۔ بلکہ ان معنوں کے رو سے میں مجازی نبی ہوں یعنی شریعت لانے والے نبیوں سے ایک رنگ میں مشابہت رکھتا ہوں۔ گو شریعت لانے والا نبی نہیں ہوں۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی جدید شریعت نہیں۔ پس یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے عوام الناس کے خیال میں نبی کی جو حقیقت ہے اس کے لحاظ سے اور عوام الناس کو سمجھانے کے لئے جو حقیقتِ نبوت بطور ایک اصطلاح کے فرض کی ہے۔ اس کے لحاظ سے بھی آپ مجازی نبی ہیں۔ اور اس کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ آپ شریعت نہیں لائے نہ یہ کہ اسلام کی اصطلاح میں بھی آپ نبی نہیں ہیں۔

اب بتاؤ کہ وہ کون سا شخص ہے جو حضرت مسیح موعود کی نبوت کو تشریعی نبوت قرار دیتا ہے جس کے قائل کرنے کے لئے مجازی نبوت پر اس قدر زور دیا جاتا ہے۔ میں اور میرے سب مرید تو آپ کو ایسا ہی نبی تسلیم کرتے ہیں جس نے کوئی جدید شریعت جاری نہیں کی اور نہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت کے بغیر نبی ہوئے بلکہ ہم تو ایسے خیال کو کفر خیال کرتے ہیں۔ اور ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے آنحضرت ﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے سب دروازے بند ہیں۔ اور سوائے اس شخص کے جو اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کی محبت میں فنا کر دے۔ اور کسی کو کوئی درجہ نہیں مل سکتا۔ اللہ تعالیٰ اسی سے خوش ہے جو آپؐ کی فرمانبرداری کا جُوا اپنی گردن پر اٹھاتا ہے۔ اور جو شخص آپؐ کی جناب سے روگردانی کرتا ہے وہ اس دنیا میں بھی ذلیل ہے اور اگلے جہان میں بھی۔ عزت صرف آپؐ کی غلامی میں ہے۔ اور بڑائی آپؐ کی کفش برداری میں۔ خدا تعالیٰ کی معرفت آپؐ کی معرفت پر موقوف ہے اور خدا تعالیٰ کا قرب آپؐ کے قرب پر بند۔ نبوت تو ایک بڑی شئے ہے۔ ہمارا خیال کیا یقین ہے کہ آپؐ کی اطاعت کے بغیر تو معمولی تقویٰ بھی نصیب نہیں ہوتا۔ پس ہمارے مقابلہ میں آپ وہ حوالے کیوں پیش کرتے ہیں۔ جن سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت آنحضرت ﷺ کے فیضان سے ہے۔ ہم نے کب انکار کیا ہم تو آپ سے بہت زیادہ اس امر کے قائل ہیں۔ اور مسیح موعود کے درجہ کی بلندی کی وجہ صرف یہی مانتے ہیں کہ مسیح موعود آپؐ کی فرمانبرداری میں سب پہلوں اور پچھلوں سے بڑھ گیا۔ اور آنحضرت ﷺ کی جو معرفت آپ نے پائی اور کسی نے نہ پائی اور یہی تو وجہ ہے کہ آپ کو نبوت کا درجہ ملا۔ اور کسی کو نہ ملا۔

ممکن ہے اوپر کے مضمون کا ایک حصہ بعض لوگ نہ سمجھیں۔ کیونکہ اس میں بعض اصطلاحات آگئی ہیں۔ اور ایسے لوگوں کو بعض لوگ شیر کی مثال دے دے کر ڈرانا چاہیں اس لئے میں اس مضمون کو اور رنگ میں عام فہم کر کے بیان کر دیتا ہوں۔ تا ہر ایک طالب حق اس کو سمجھ لے۔ اور جان لے کہ یہ شیر کی مثال بھی ایک ڈراوا ہے ورنہ اس کا اثر حضرت صاحب کے دعوے پر کچھ نہیں پڑتا۔

اس مضمون کے اچھی طرح سمجھنے کے لئے یہ بات اچھی طرح سے ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ مجازی کا لفظ جب کسی اور لفظ کے ساتھ ملایا جائے تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ در حقیقت کچھ ہے ہی نہیں۔ اور صرف نام رکھ دیا گیا ہے۔ بلکہ یہ لفظ مختلف معنی دیتا ہے۔ اور ہمیشہ اس سے یہی مراد نہیں ہوتی کہ جس لفظ کے ساتھ وہ لگایا گیا ہے۔ اس میں کسی قسم کی بھی حقیقت ثابت نہیں۔ بلکہ جس حقیقت کو مدّنظر رکھ کر یہ لفظ بڑھایا جائے۔ صرف اسی کے عدم پر دلالت کرتا ہے۔

شیر ایک جانور کا نام ہے۔ اور اردو کا لفظ ہے۔ جب ایک آدمی کو ہم شیر کہہ دیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ لغت میں شیر جس چیز کا نام ہے یہ شخص اس سے مشابہت رکھتا ہے۔ اور لغت کے لحاظ سے آدمی کا نام شیر مجازی معنوں کے رو سے ہے۔ لیکن فرض کرو۔ اگر کوئی جماعت شیر کے لفظ کے کوئی اور معنی مقرر کرے۔ تو جب ان اصطلاحی معنوں کے رو سے شیر کا لفظ بولا جائے گا تو لغت کے لحاظ سے تو وہ حقیقت کے خلاف ہو گا لیکن اس جماعت کی اصطلاح کے رو سے وہ حقیقت ہی ہو گا۔ یہ تو ایک فرضی مثال ہے۔ اب میں ایسی مثالیں دیتا ہوں۔ جو اس وقت ہماری زبان میں موجود ہیں۔ نماز اردو فارسی میں اس عبادت کا نام مشہور ہے جو مسلمانوں میں رائج ہے۔ اگر کوئی مسلمان نماز کا لفظ بولتا ہے۔ تو مسلمانوں میں مشہور ہونے کے لحاظ سے نماز کے حقیقی معنی اس عبادت کے ہوں گے جو مسلمان کرتے ہیں اور اگر کوئی مسلمان اس لفظ کو ہندوؤں کی عبادت یا عیسائیوں کی عبادت یا پارسیوں کی عبادت کے لئے استعمال کرے۔ مثلاً عیسائیوں کے گرجا کرنے کا نام یہ رکھے کہ عیسائی نماز پڑھ رہے ہیں یا پارسیوں کے دعا کرنے کا نام یہ رکھے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ تو اس مسلمان کا عیسائیوں یا پارسیوں کی عبادت کو نماز کہنا مسلمانوں کے عرف کے لحاظ سے مجازی کہلائے گا۔ یعنی درحقیقت وہ اسلامی نماز تو نہیں۔ لیکن چونکہ عبادت کے لحاظ سے مشابہ ہے۔ اس لئے اس کا نام مجازاً نماز رکھ دیا گیا مگر یہی لفظ ایک پارسی کہ وہ بھی اپنی عبادت کو نماز کہتا ہے۔ کیونکہ نماز فارسی لفظ ہے اور فارس کا مذہب اسلام سے پہلے زرتشتی مذہب تھا۔ یا ایک بابی کہ وہ بھی اپنی عبادت کا نام نماز ہی رکھتا ہے۔ اپنی عبادت کے متعلق استعمال کرتے اور کہتے کہ ہم نماز پڑھنے لگے ہیں۔ تو اب یہ پارسیوں یا بابیوں کے مذہب کے رو سے مجاز نہیں ہوگا۔ بلکہ اپنے حقیقی معنوں کے رو سے ہوگا۔ کیونکہ ان کے نزدیک نماز ایسی عبادت کا نام ہے جو وہ کرتے ہیں۔ پس چونکہ نماز ایک شرعی کام ہے مسلمانوں کے منہ سے یہ لفظ اسلامی عبادت کے متعلق نکلے تو حقیقی معنوں کے رو سے ہوگا۔ اور پارسیوں یا بابیوں کی عبادت کے متعلق نکلے تو مجازی معنوں میں اس کا استعمال سمجھا جائے گا اس کے خلاف ایک پارسی یا بابی جب اپنی عبادت کے متعلق نماز کا لفظ استعمال کرے تو وہ حقیقی معنوں کے رو سے ہوگا۔ اور جب اسلامی عبادت کے متعلق استعمال کرے تو وہ مجازی معنوں کے رو سے ہوگا۔

اسی طرح رسول کا لفظ ہے۔ لغت میں اس کے معنی بھیجے ہوئے کے ہیں جب زبان عربی میں رسول کے لفظ کا کسی ایسے شخص پر جسے کسی کام کے لئے بھیجا گیا ہے استعمال کیا جائے گا۔ تو لغت کے لحاظ سے یہ بالکل درست ہوگا۔ اور کہیں گے کہ یہ لفظ اپنے حقیقی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن شریعت اسلام میں رسول کا لفظ اللہ کے بھیجے ہوؤں اور نبیوں پر استعمال کیا جاتا ہے پس جب شریعت اسلام میں یہ لفظ نبی کے معنی میں استعمال ہوگا۔ تو کہیں گے کہ یہ حقیقی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن جب کتب دینیہ میں کسی ایسے شخص کو جو فی الواقعہ رسول نہیں رسول کہہ دیا جائے تو کہیں گے کہ یہ لفظ مجازی طور پر استعمال ہوا ہے گو لغت کے لحاظ سے حقیقی طور پر ہی کیوں نہ استعمال ہوا ہو۔ اسی طرح لغت میں رسول کا لفظ مجازی تب کہا جائے گا۔ کہ ایک شخص کو کسی نے بھیجا تو نہیں۔ مگر کسی اور وجہ سے اسے رسول کہہ دیا جائے تو کہیں گے مجازاً اسے رسول کہہ دیا گیا ہے۔ غرض شریعت کے لحاظ سے تو مجازی رسول کے اور معنی ہوں گے اور لغت کے لحاظ سے اور معنی ہوں گے۔

اسی طرح مثلاً کلمہ کا لفظ ہے۔ قرآن کریم کی اصطلاح میں اس لفظ کے معنی ہیں ایک بات اور قول کے جیسے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَحَدَہُمُ الۡمَوۡتُ قَالَ رَبِّ ارۡجِعُوۡنِ لَعَلِّیۡۤ اَعۡمَلُ صَالِحًا فِیۡمَا تَرَکۡتُ کَلَّا ؕ اِنَّہَا کَلِمَۃٌ ہُوَ قَآئِلُہَا ؕ وَمِنۡ وَّرَآئِہِمۡ بَرۡزَخٌ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ(المؤمنون: ۱۰۰-۱۰۱) یعنی جب کفار میں سے کسی پر موت وارد ہوتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ اے الٰہی مجھے واپس لوٹا دیجئے۔ مجھے واپس لوٹا دیجئے۔ مجھے واپس لوٹا دیجئے تاکہ میں اس میں جو پیچھے چھوڑ آیا ہوں۔ کچھ نیک عمل کرلوں۔ خبردار! یہ ایک بات ہی ہے جو اس نے کہہ دی۔ ورنہ ان کے پیچھے تو ایک روک حائل ہے قیامت تک۔ اس آیت میں ایک پورے فقرہ کو کلمہ کہا ہے اور قرآن کریم میں بیسیوں جگہ یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور ہر جگہ جملہ اور فقرہ کے معنوں میں ہی آیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ بھی انہی معنوں میں اسے استعمال فرماتے ہیں۔ جیسے کہ فرمایا اَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا لَبِيْدُ اَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللّٰهَ بَاطِلٌ۔ پس محاورہ اسلام میں کلمہ کا لفظ جملہ اور فقرہ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح عوام میں بھی یہ لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن صرف و نحو کی کتب میں یہ لفظ ایک الگ اصطلاح کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اور کلمہ لفظ مفرد کو کہتے ہیں پس ایک نحوی جب اس لفظ کو مفرد کے معنوں میں بولے گا۔ تو وہ اس کے حقیقی معنی ہوں گے۔ اور اگر جملہ کے معنوں میں بولے گا تو یہ اس کے مجازی معنی ہوں گے لیکن اگر عام بول چال یا دین کی گفتگو میں کلمہ کا لفظ آئے گا۔ اور اس سے مراد جملہ یا فقرہ لیا جائے گا۔ تو اسے مجازی نہیں کہیں گے۔ بلکہ یہی کہیں گے کہ عام بول چال کے لحاظ سے حقیقی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اور نحویوں کی اصطلاح کے رو سے مجازی معنوں میں اور اس مجازی کے یہ معنی نہ ہوں گے کہ فقرہ درحقیقت کلمہ ہوتا ہی نہیں۔

غرض کہ مجاز کبھی حقیقت بن جاتا ہے اور کبھی حقیقت مجاز بن جاتی ہے۔ اور ایک ہی لفظ ایک معنوں کے لحاظ سے شریعت میں مجاز ہوتا ہے لیکن لغت میں حقیقت ہو جاتا ہے۔ اور کبھی لغت میں مجاز ہوتا ہے۔ اور عرف خاص میں حقیقت ہو جاتا ہے اور مجاز کے معنی ہمیشہ ایک سے ہی نہیں رہتے بلکہ مختلف حالات میں بدلتے رہتے ہیں۔ اور جس لفظ کی نسبت کہہ دیں کہ یہ مجازی رنگ میں استعمال ہوا ہے تو اس کے یہ معنی نہیں کہ کسی اعتبار سے بھی اسے حقیقت نہیں کہہ سکتے۔ بلکہ اس کے یہ معنی ہوں گے کہ جن حقیقی معنوں کو مدنظر رکھ کر اسے استعمال کیا گیا ہے۔ وہ اس میں نہیں پائے جاتے۔ گو ممکن ہے کہ کسی دوسرے اعتبار سے وہ لفظ حقیقت بھی ہو۔ جیسا کہ تلویح جو علم اصول کی انتہائی کتب میں سے ہے۔ اس میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے۔ (دیکھو تلویح مطبوعہ نولکشور صفحہ ۱۱۰ تا ۱۱۲)

یہی حقیقت ہے جس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے جناب مولوی محمد علی صاحب کو حضرت صاحب کی کتب میں مجازی کا لفظ دیکھ کر دھوکا لگا ہے۔ کیونکہ انہوں نے مجازی شیر کی مثال سنی ہوئی تھی۔ اور ان کا خیال تھا کہ شاید یہ مثال مجاز کے معنی ظاہر کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ حالانکہ وہ مثال صرف لغوی مجاز کو ظاہر کرتی ہے۔ اور باقی مجاز کی تین قسموں پر اس سے بالکل روشنی نہیں پڑتی۔ بات یہ ہے کہ اگر لغت میں نبی کے معنی شریعت لانے والے کے ثابت ہو جائیں یا یہ کہ وہ بلاواسطہ نبوت پائے تو جو شخص شریعت نہیں لایا۔ اور نہ اس نے بلاواسطہ نبوت پائی ہے اسے اگر مجازاً نبی کہہ دیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ لغت جسے نبی کہتی ہے یہ وہ نبی نہیں بلکہ اس سے کسی قسم کی مشابہت ہے۔ اور اگر شریعت اسلام میں نبی کی یہ دونوں شرطیں ثابت ہو جائیں اور پھر کسی کی نسبت دینی کتب میں مجازی نبی کا لفظ مستعمل ہو۔ تو شریعت اسلام کی اصطلاح کے رو سے اس کے یہ معنی ہوں گے کہ شریعتِ اسلام جسے نبی کہتی ہے۔ یہ وہ نبی نہیں ہے بلکہ اسے نبی سے کوئی مشابہت ہے۔ اور اگر عرفِ عام سے نبی میں ان دونوں شرائط کا پایا جانا ثابت ہو۔ اور پھر کسی کو عرفِ عام کے معنوں کو مدنظر رکھ کر مجازی نبی کہہ دیں۔ تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ عام لوگوں کے نزدیک جسے نبی کہتے ہیں۔ یہ ویسا نبی نہیں ہے۔ گو شریعت کے مطابق نبی ہو۔

لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ نبی ایک اسلامی اصطلاح ہے۔ پس اگر کسی کی نبوت شریعت اسلام کی تعریف کی رو سے ثابت ہو جائے۔ تو وہ شریعت اسلام کے مطابق نبی ہو گا۔ خواہ لغت یا عوام کے نزدیک حقیقی نبی نہ ہو۔ اگر ایک شخص شریعت اسلام کی اصطلاح کے مطابق نبی ہو۔ اور کسی اور اصطلاح کے رو سے مجازی نبی۔ تو اس سے اس کے نبی ہونے میں شک نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ نبی اصل میں ایک اسلامی عہدہ ہے۔ اس لئے اسلامی اصطلاح کا لحاظ رکھنا ضروری ہو گا۔

حقیقی اور مجازی کی اس تشریح کو سمجھنے کے بعد حضرت صاحب کے اس فقرہ کو لو کہ میں مجازی طور پر نبی ہوں۔ اور حقیقی طور پر نبی نہیں ہوں۔ اور شریعتِ اسلام کو دیکھو کہ وہ نبی کسے کہتی ہے اور چونکہ شریعت اسلام قرآن کریم ہی ہے اسے جب ہم دیکھتے ہیں۔ تو اس میں نبی کی تعریف یہی معلوم ہوتی ہے کہ جس شخص پر کثرت سے اظہار غیب ہو اور انذاری اور تبشیری رنگ اس کی پیشگوئیوں میں پایا جائے اب یہ دونوں باتیں حضرت مسیح موعود میں پائی جاتی ہیں۔ اور تیسری یہ

بات بھی موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام نبی رکھا۔ پس شریعتِ اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے۔ اس کے معنی سے حضرت صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقی نبی ہیں۔ ہاں حضرت مسیح موعود نے لوگوں کو اپنی نبوت کی قسم سمجھانے کے لئے اصطلاحی طور پر نبوت کی جو حقیقت قرار دی ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ وہ شریعت جدیدہ لائے۔ اس اصطلاح کے رو سے حضرت مسیح موعودؑ ہرگز حقیقی نبی نہیں ہیں۔ بلکہ مجازی نبی ہیں۔ یعنی کوئی جدید شریعت نہیں لائے۔

خلاصہ کلام یہ کہ مجازی نبی کے لفظ سے یہ بات ہرگز ثابت نہیں کہ آپ شریعتِ اسلام کے مطابق نبی نہ تھے۔ بلکہ اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ آپ نے حقیقی نبی کی جو اصطلاح مقرر فرمائی ہے۔ اور خود ہی اس کے معنی بتا دیئے ہیں۔ وہ اصطلاح آپ پر صادق نہیں آتی۔ اور اس اصطلاح کے رو سے آپ کے مجازی نبی ہونے کے صرف یہ معنی ہیں کہ آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائے۔ اور نہ براہِ راست نبی بنے ہیں۔ نہ یہ کہ آپ نبی ہی نہیں۔ چنانچہ خود حضرت مسیح موعودؑ تحریر فرماتے ہیں:

”جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے۔ صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں۔ اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسولؐ مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پاکر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔ اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا“ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۷، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۱۰-۲۱۱)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود کی تمام ان تحریرات کا جن سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ آپ نبی نہیں۔ صرف اس قدر مطلب ہے کہ آپ کوئی جدید شریعت نہیں لائے۔ اور نہ آپ نے براہِ راست نبوت پائی۔ اور میں اوپر ثابت کر چکا ہوں کہ مجازی نبی کے معنی بھی حضرت صاحب کی کتب میں اسی قدر ہیں۔ اس سے زیادہ نہیں اور جن لوگوں نے شیر کی مثال پر مجاز کو حصر کر لیا ہے انہوں نے حقیقی نبی کی حقیقت تو الگ رہی خود حقیقت و مجاز کی حقیقت کو بھی نہیں سمجھا۔ اور اسی سے دھوکا کھا کر حضرت صاحب کی کتابوں میں عَلٰی طَرِیْقِ الْمَجَازِ کا لفظ دیکھ کر دھوکے میں پڑ گئے : اور یہ نہ سوچا کہ اس مجاز کے صرف اتنے معنی ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے جو معنی حقیقی نبی

کے کئے ہیں۔ وہ معنی آپ میں نہیں پائے جاتے۔ نہ یہ کہ آپ خدا اور رسول اور شریعتِ اسلام کی تعریف کے رو سے بھی نبی نہیں۔

اس مسئلہ کو اور بھی روشن کرنے کے لئے کہ حضرت مسیح موعود نے جہاں اپنے آپ کو مجازی نبی کہا ہے۔ اس سے قرآن کے معنوں کے رو سے مجازی نبی مراد نہیں ہے۔ میں ایک ثبوت خود قرآن کریم سے ہی دیتا ہوں مگر اس سے پہلے یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ مجازی شئے وہی ہوتی ہے۔ جس میں وہ حقیقت نہ پائی جائے جو حقیقی شئے میں ہے۔ مثلاً شیر ایک جانور کا نام ہے۔ جب ہم کسی انسان کو شیر کہتے ہیں تو اس سے ہماری یہ مراد ہوتی ہے کہ جو حقیقت شیر کی ہے وہ تو اس میں نہیں پائی جاتی ہے لیکن کسی اور مشابہت کی وجہ سے اس کا یہ نام رکھ دیا گیا ہے پس مجازی شیر کے یہ معنی ہوں گے کہ اس میں وہ شئے نہیں پائی جاتی۔ جو شیر کو دوسرے جانوروں سے الگ کر دیتی ہے بلکہ کوئی اور مشابہت ہے جس کی وجہ سے اسے شیر کہہ دیا گیا ہے۔ اور اگر کسی جانور میں وہ بات پائی جائے جو شیر کو دوسرے جانوروں سے علیحدہ کر دیتی ہے تو اسے ضرور شیر کہیں گے کیونکہ جب ہم کسی شیر کو دیکھ کر پہچانتے ہیں کہ یہ شیر ہے تو انہی خصوصیات کی وجہ سے پہچانتے ہیں جو اس کو دوسرے جانوروں سے علیحدہ کر دیتی ہے مثلاً شیر بہادری میں مشہور ہے۔ لیکن یہ اس کی ایسی خصوصیت نہیں جو اور جانوروں میں نہ پائی جائے۔ پس اگر کسی جانور یا آدمی کو ہم بہادری کی وجہ سے شیر کہتے ہیں تو شیر کا استعمال مجازی سمجھا جائے گا۔ لیکن اگر کسی جنگل میں ہم ایک جانور دیکھیں اور صرف اس کی بہادری دیکھ کر اسے شیر نہ کہہ دیں بلکہ اس میں وہ باتیں پائیں جو شیر کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں تو اس کے حقیقی شیر ہونے میں کوئی شک نہ رہے گا۔ اور یہ جائز نہ ہو گا کہ ہم کہیں کہ یہ مجازی شیر ہے کیونکہ مجاز کا لفظ تب ہی استعمال کیا جاتا ہے جب کوئی مشابہت ہو اور اس وقت استعمال نہیں کیا جاتا جب خود حقیقت کسی شئے میں موجود ہو۔ یا مثلاً ہاتھی میں ایک خصوصیت سونڈ کی ایسی ہے جو اور کسی جانور میں نہیں پائی جاتی۔ اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہاتھی کے سوا سونڈ کسی جانور میں نہیں پائی جاتی۔ مگر اس سونڈ کے علاوہ ہاتھی بہت موٹا بھی ہوتا ہے لیکن اس کا موٹا ہونا کوئی ایسی صفت نہیں جو اور جانوروں میں نہ پائی جاوے۔ پس اگر ہم کسی موٹے جانور کو ہاتھی کہہ دیں تو یہ مجاز کہلائے گا۔ لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ ہم نے ایک سونڈ والا ہاتھی دیکھا تو اس کے ہرگز یہ معنی نہ ہوں گے کہ مجازی ہاتھی دیکھا یعنی کوئی موٹا آدمی دیکھ لیا۔ بلکہ اس کے معنی یہی ہوں گے کہ حقیقی ہاتھی دیکھا۔ اس مثال سے میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ کسی لفظ کے استعمال کو مجازی اسی وقت تک کہتے ہیں۔ جب اس میں وہ حقیقت نہ پائی جائے۔ جو اصل کے سوا کسی اور میں نہیں پائی جاتی۔ اور جب وہ حقیقت پائی جائے جو کسی اور میں نہیں پائی جاتی تو اسے مجازی نہیں کہہ سکتے۔ اس اصل کو سمجھ کر جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو اس میں نبیوں اور رسولوں کی ایک ایسی خصوصیت بیان ہے جس کی نسبت وہ فرماتا ہے کہ یہ کسی اور میں نہیں پائی جاتی۔ پس جس میں وہ خصوصیت پائی جائے گی اسے ہم مجازی نبی نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ شریعتِ اسلام کے رو سے حقیقی نبی ہو گا خواہ کسی اور اصطلاح کے رو سے مجازی نبی ہو۔ وہ خصوصیت اظہار علی الغیب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(72:27-28) یعنی سوائے رسولوں کے میں اظہار علی الغیب کا مرتبہ کسی کو نہیں دیتا۔ پس یہ خصوصیت جس میں پائی جائے گی وہ شریعتِ اسلام کے رو سے مجازی نبی کبھی نہیں کہلا سکتا۔ بلکہ اسلام کی اصطلاح میں وہ حقیقی نبی ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں رسولوں کے سوا کسی کو غیب پر غلبہ دیتا ہی نہیں۔ اور حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ مجھے غیب پر کثرت سے اطلاع دی جاتی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اسلام کی اصطلاح کے رو سے حضرت مسیح موعودؑ ہرگز مجازی نبی نہیں۔ اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے میں ایک اور مثال دیتا ہوں۔ کیونکہ مثالوں سے مطلب خود سمجھ میں آجاتا ہے۔ اور وہ مثال یہ ہے کہ جب ہم یہ کہیں کہ سوجاکھوں کے سوا کوئی شخص رنگ نہیں پہچان سکتا۔ اور پھر ہم کسی شخص کی نسبت کہیں کہ وہ رنگ پہچان لیتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ لغت کے معنوں کے لحاظ سے حقیقی سوجاکھا ہے۔ گو علم باطن کے لحاظ سے وہ اندھا ہو یعنی حق کو پہچان نہ سکتا ہو۔ مگر جب اس کی نسبت یہ کہا جائے کہ وہ رنگ پہچان لیتا ہے۔ تو لغت کے رو سے وہ مجازی سوجاکھا کبھی نہیں کہلا سکتا بلکہ حقیقی سوجاکھا ہو گا۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے ایک شرط لگا دی کہ سوائے رسول کے اظہار علی الغیب کا مرتبہ کسی کو نہیں ملتا۔ تو جس شخص میں یہ بات پائی جائے گی۔ وہ قرآن کے رو سے حقیقی رسول اور نبی ہو گا۔ اور چونکہ حضرت مسیح موعود میں یہ بات پائی جاتی ہے۔ اس لئے قرآن کریم کی رو سے۔ اسلام کی اصطلاح کے رو سے آپ حقیقی نبی تھے گو اس اصطلاح کے رو سے جو آپ نے لوگوں کو اپنی قسمِ نبوت کے سمجھانے کے لئے بنائی تھی۔ اور جو یہ ہے کہ حقیقی نبی وہ ہوتا ہے جو شریعت لائے۔ آپ مجازی نبی تھے مگر اس اصطلاح کے رو سے نہ کہ قرآن کریم کے رو سے۔ پس جو شخص باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود میں وہ بات پائی جاتی ہے۔ جو غیر نبی میں نہیں پائی جا سکتی۔ آپ کو ان معنوں میں مجازی نبی خیال کرتا ہے کہ آپ شریعتِ اسلام اور قرآن کریم کے بتائے ہوئے معنوں کے لحاظ سے نبی نہیں۔ سخت دھوکے میں پڑا ہوا ہے۔ اور ایسے آدمی سے خطرہ ہے کہ کل کو بعض آدمیوں کی نسبت وہ یہ نہ کہہ دے کہ وہ مجازی آدمی ہیں کیونکہ گو اس کے سامنے کھول کھول کر بیان کر دیا جائے کہ ان لوگوں میں وہ خصوصیتیں پائی جاتی ہیں جو آدمیوں کے سوا کسی اور جانور میں نہیں پائی جاتیں۔ مگر وہ کہہ سکتا ہے کہ خواہ ان میں وہ خصوصیات پائی جائیں جو غیر آدمی میں نہیں پائی جاتیں مگر ہیں یہ مجازی آدمی۔ میرے خیال میں تو ایسے خیالات کا آدمی رفتہ رفتہ سوفسطائی ہو جائے گا۔ یعنی جن کے خیال میں ہر ایک شئے وہم ہی وہم ہے۔ حقیقت کچھ ہے ہی نہیں۔ مگر میں امید کرتا ہوں کہ جب مسیح موعود کی نبوت کے منکر حقیقت و مجاز کی پوری کیفیت معلوم کریں گے۔ تو اپنے خیالات میں اصلاح کر لیں گے۔ اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم مجاز کے جو معنی سمجھتے ہیں۔ وہ مجاز کی حقیقت سے بالکل بعید ہیں۔ اور حضرت مسیح موعود کی کتب میں اپنی نسبت جہاں جہاں مجازی نبی یا مجازی نبوت کا ذکر آیا ہے، اس کا اسی قدر مطلب ہے کہ آپ کوئی جدید شریعت نہیں لائے اور نہ براہِ راست نبی بنے۔ اور یہ ہرگز مطلب نہیں کہ شریعتِ اسلام کے رو سے آپ نبی نہ تھے۔ اور صرف آپ کا نام کسی معمولی مشابہت کی وجہ سے نبی رکھ دیا گیا تھا۔

مجازی نبی کے معنی سمجھنے کے لئے ایک اور آسان طریق بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ جب کسی لفظ کو مجاز قرار دیا جائے۔ تو اس کی یہ شرط ہوتی ہے کہ اس کے لئے کوئی قرینہ ہو۔ کیونکہ اگر بغیر قرینہ کے کوئی لفظ مجازاً استعمال کیا جائے تو کوئی شخص معنی سمجھ ہی نہیں سکتا۔ مثلاً مولوی صاحب نے جو مثال شیر کی دی ہے اسی کو لے لیں۔ اگر کسی آدمی کو شیر کہیں گے تو ضرور ہے کہ کوئی قرینہ ایسا موجود ہو جس سے لوگوں کو پتہ لگ جائے کہ اس جگہ شیر کا لفظ اپنے اصل معنوں میں استعمال نہیں ہوا۔ مثلاً یہ کہ کوئی آدمی سامنے کھڑا ہے اور ہم اسے شیر کہتے ہیں تو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت لفظ شیر سے مراد وہ حقیقت نہیں۔ جس کے لئے شیر کا لفظ لغت نے وضع کیا تھا۔ یا اگر وہ شخص غائب ہے تو یوں کہہ دیں کہ فلاں شخص تو شیر ہے۔ بڑا بہادر ہے۔ اب بھی سننے والا سمجھ سکتا ہے کہ شیر سے مراد کوئی آدمی ہے۔ کیونکہ ایک تو آدمی کا نام لے دیا گیا۔ دوسرے یہ بھی ظاہر کر دیا گیا ہے کہ شیر کا لفظ بہادری کی وجہ سے استعمال کیا گیا ہے۔ پس جب ایک لفظ جو دراصل اور حقیقت کے لئے وضع کیا گیا ہو۔ کسی اور معنی پر بولا جائے۔ اور اس کا استعمال مجاز ہو۔ تو اس کے لئے ہمیشہ قرینہ کی شرط ہے جس سے پتہ لگ جائے کہ بولنے والے کی مراد اصل شئے نہیں۔ بلکہ اس کے مشابہ کوئی اور شئے ہے لیکن اگر بلا قرینہ کے کوئی لفظ بولا جائے۔ تو اس کے معنی ہمیشہ وہی ہوں گے جس کے لئے وہ لفظ بنایا گیا ہے۔ مثلاً کہہ دیں کہ ہم نے ایک شیر دیکھا تو چونکہ اس فقرہ میں کوئی اور قرینہ نہیں جس سے یہ سمجھا جائے کہ شیر سے مراد شیر نہیں۔ بلکہ کوئی اور شئے ہے۔ اس لئے اس جگہ شیر کے معنی اصلی شیر کے ہی کئے جائیں گے نہ مجازی شیر کے۔ لیکن اگر کوئی ایسا قرینہ موجود ہو۔ جس سے اصلی شیر ہونے کا ثبوت ملتا ہو۔ تب تو مجازی شیر سمجھنا کسی طرح جائز ہی نہیں۔ مثلاً یہ کہیں کہ ہم جنگل میں گذر رہے تھے کہ اچانک ایک شیر نظر پڑا۔ ہم تو بہت ہوشیار ہو گئے کہ اچانک حملہ نہ کر دے۔ لیکن وہ اپنی دم پھیلائے سو رہا تھا۔ اور بالکل خیر گذری۔ اب اس عبارت کو سن کر کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ کہہ دے کہ لغت کے لحاظ سے اس شیر سے مجازی شیر مراد ہے۔ کیونکہ حقیقت کے لئے تو اتنا ہی کافی ہے کہ بغیر قرینہ کے ہو۔ اور جب قرینہ بھی ہو تب تو اسے مجاز کہہ ہی نہیں سکتے۔ اسی طرح مثلاً آگ ایک خاص شئے کا نام ہے جو جلا دیتی ہے۔ لیکن مجازاً آگ کا لفظ دل کی تڑپ اور گھبراہٹ پر بھی بولا جاتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص تڑپ رہا ہے اور کہتا ہے کہ آگ لگ گئی۔ آگ لگ گئی۔ تو اس کے تڑپنے کے قرینہ سے ہم معلوم کرلیں گے کہ آگ سے اس کی مراد تڑپ اور بے قراری ہے۔ لیکن اگر ایک زور کی آواز آئے۔ کہ آگ لگ گئی۔ تو اب یہ نہیں کہ لوگ اس آواز کو سن کر خاموش بیٹھے رہیں کہ مجازی آگ مراد ہے بلکہ فوراً اٹھ کر دیکھیں گے کہ کہاں آگ لگ گئی۔ اور ایسا کیوں کریں گے۔ اس لئے کہ اس آواز کے ساتھ کوئی ایسا قرینہ نہ تھا جس سے سمجھا جاتا کہ آگ سے مراد مجازی آگ ہے۔ اسی طرح مثلاً کہیں کہ فلاں شخص کو جب ہم نے وہ بات کہی۔ تو اس کے تن بدن کو آگ لگ گئی۔ تو اس سے مراد اصل آگ نہ ہوگی۔ بلکہ مجازی آگ مراد ہوگی۔ کیونکہ بات سے آگ لگنے کا قرینہ بتا رہا ہے کہ یہ آگ اصل آگ نہیں۔ لیکن اگر یہ کہیں کہ فلاں شخص کے کپڑوں کو آج آگ لگ گئی۔ یا فلاں شخص آج آگ سے جل گیا۔ تو اس کے یہ معنی نہ ہوں گے کہ وہ غصہ سے جل گیا یا غم سے جل گیا۔ کیونکہ ایسا کوئی قرینہ نہیں جو بتائے کہ آگ سے اصل آگ مراد نہیں۔ اور اگر یہ کہہ دیں کہ فلاں شخص کے ہاتھ میں مٹی کے تیل کی بوتل تھی کسی طرح اسے آگ لگ گئی۔ اور وہ آدمی کئی جگہ سے جل گیا۔ تو اب آگ کے معنی مجازی آگ کرنے کسی زبان میں جائز ہی نہیں۔ غرض مجازی معنی لینے تبھی جائز ہوتے ہیں جب کوئی قرینہ موجود ہو۔ لیکن حضرت مسیح موعودؑ کو شریعت کے رو سے مجازی نبی قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی۔ کیونکہ نہ صرف یہ کہ ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں کہ جس سے آپ کا مجازی نبی ہونا ثابت ہو۔ بلکہ اس کے برخلاف ایسے قرینے موجود ہیں جو شریعت کے لحاظ سے آپ کو نبی ثابت کرتے ہیں یعنی جو باتیں

نبیوں میں پائی جاتی ہیں۔ وہ آپ میں پائی جاتی ہیں۔ اور جو باتیں نبیوں کے سوا اور کسی میں نہیں پائی جاتیں وہ بھی آپ میں پائی جاتی ہیں۔ پس جس طرح حقیقت کے لئے قرینہ کے ہوتے ہوئے آگ کو مجازی آگ اور شیر کو مجازی شیر کہنا کسی طرح بھی جائز نہیں۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود کی نبوت کے شریعت اسلام کے مطابق نبوت ہونے پر قرائن کے موجود ہوتے ہوئے آپ کی نسبت یہ کہنا کہ شریعت اسلام کے رو سے آپ مجازی نبی تھے کسی طرح جائز نہیں۔ کیونکہ نبی کے لئے جو شرائط و انعامات قرآن کریم میں موجود ہیں۔ سب آپ میں پائے جاتے ہیں۔ پس شریعت اسلام کی اصطلاح کے مطابق جن لوگوں کو نبی کہتے ہیں۔ اس کے لحاظ سے تو آپ حقیقی معنوں میں ہی نبی ہیں۔ لیکن آپ نے لوگوں کو سمجھانے کے لئے جو نبی کی ایک حقیقت قرار دی تھی۔ اس کے لحاظ سے بے شک آپ کی نبوت مجازاً نبوت تھی۔ یعنی اس حقیقت کو اگر نبی کی شرط تسلیم کر لیا جائے۔ یعنی یہ کہہ دیا جائے کہ نبی وہی ہو سکتا ہے جو شریعت جدیدہ لائے۔ تو اس لحاظ سے آپ نبی نہ تھے۔ اور جب اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ پر لفظ نبی مجازاً استعمال کیا جائے گا تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ آپ میں شریعت لانے کی خصوصیت نہیں۔ گو ان نبیوں سے جو شریعت لائے۔ ایک مشابہت ہے۔ اور وہ مشابہت حضرت مسیح موعودؑ نے خود ہی اربعین میں بیان فرمادی ہے کہ مجھ پر بھی قرآن کریم کی بعض ایسی آیات دوبارہ اتری ہیں جو احکام سے تعلق رکھتی ہیں جیسا کہ فرماتے ہیں: ”شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ذٰلِكَ اَزْكٰی لَھُمْ۔۔۔۔ ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ اور قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے“ (اربعین نمبر ۴ صفحہ ۹۴ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۳۵-۴۳۶)

اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی جدید شریعت نہیں لیکن یہ بھی ظاہر ہے کہ چند احکام و نواہی حضرت مسیح موعودؑ پر بھی دوبارہ نازل ہوئے ہیں۔ لیکن قرآن کریم کے ہی الفاظ میں۔ نہ نئی طرز پر۔ جس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں اول یہ کہ اب کوئی شریعت لانے والا نبی نہیں آسکتا۔ پس حضرت مسیح موعود شریعت لانے والے نبی نہیں بن سکتے۔ دوسری یہ بات کہ آپ پر بعض احکام قرآن دوبارہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے۔ جس کے یہ معنی ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ

کو ایک رنگ میں تشریعی نبیوں کے مشابہ کر دیا۔ پس مجازی نبی کے یہ معنی نہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نبی نہیں بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ نبی کی حقیقت یہ تسلیم کر کے کہ اس کے لئے شریعت لانا ضروری ہے حضرت مسیح موعودؑ میں یہ حقیقت تو نہیں پائی جاتی۔ لیکن ایسے نبیوں سے مشابہت ہے۔ پس مجازی نبی کے یہ معنی نہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کا درجہ کم ہو گیا۔ اور آپؐ نبی ثابت نہ ہوئے کیونکہ نبی کی حقیقت شریعت اسلام کے رو سے شریعت کالانا نہیں ہے پس شریعت اسلام کے معنوں کے رو سے تو نبی کا لفظ آپ پر مجازاً نہیں استعمال ہوتا۔ بلکہ حقیقتاً ہوتا ہے۔ ہاں اگر نبی کی حقیقت یہ قرار دی جائے کہ اس کے لئے شریعت لانا ضروری ہے۔ تو اس حقیقت کے رو سے جب حضرت مسیح موعودؑ پر مجازاً نبی کا لفظ استعمال کیا جائے گا۔ تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ حضرت مسیح موعودؑ شریعت لانے والے نبی تو نہیں۔ لیکن ان سے ایک مشابہت رکھتے ہیں کہ بعض احکام دوبارہ آپ پر بھی نازل کئے گئے ہیں اور اس حقیقت کے رو سے بے شک مولوی صاحب کی شیر والی مثال درست رہتی ہے۔ یعنی جس طرح کسی آدمی کو شیر کہنے سے وہ شیر نہیں ہو جاتا۔ اسی طرح نبی کی حقیقت شریعت لانا فرض کر کے حضرت مسیح موعود تشریعی نبی نہیں ہو جاتے بلکہ اس حقیقت کو فرض کر کے اگر آپ کے متعلق نبی کا لفظ استعمال کیا جائے۔ تو اس کے صرف یہ معنی ہوں گے کہ آپ کو شریعت لانے والے نبیوں سے ایک مشابہت ہے۔ ورنہ یہ ہرگز نہیں کہ آپ کوئی جدید شریعت لائے تھے۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ کیونکہ قرآن کریم کے بعد کوئی اور شریعت نہیں۔ اور آنحضرت ﷺ کے بعد اس حقیقت والا کوئی نہیں اور حضرت مسیح موعود محض اتباعِ نبی کریم ﷺ اور عمل بالقرآن سے نبوت کے درجہ پر پہنچے۔ اور آپ کی سب عمر خدمت خاتم النبیین اور خدمت قرآن میں گذر گئی۔ جس طرح حضرت موسیٰؑ اور عیسیٰؑ زندہ ہوتے تو ان کی عمر بھی آنحضرت ﷺ کی اتباع میں گذر جاتی اور وہ بھی جو کچھ پاتے آپ کے فیض سے پاتے پس مجازی نبی کے یہ معنی نہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نبی نہیں۔ کیونکہ قرآن کریم کی اصطلاح کے مطابق آپ نبی ہیں۔ بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ شریعت کوئی نہیں لائے۔ ہاں اللہ تعالیٰ نے محض بلندی درجہ کے اظہار کے لئے بعض احکام قرآن آپ پر دوبارہ نازل فرمائے۔ تا اپنے متبوع اور مطاع سید الکونین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے کامل مشابہت ہو جائے۔ اور یہ لفظ آپ کی عزت کو بڑھاتا ہے نہ کہ گھٹاتا ہے۔

میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے دوست آئندہ کے لئے اس امر کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں گے کہ حضرت مسیح موعود نے جہاں مجازی نبی اپنے آپ کو فرمایا ہے اس سے صرف اس حقیقت کا انکار مراد ہے۔ جو عوام الناس میں نبی۔ کے متعلق سمجھی گئی ہے یا اس حقیقت کا جو عوام الناس کو سمجھانے کے لئے حضرت مسیح موعود نے بطور اصطلاح قرار دی ہے۔ ورنہ یہ مراد نہیں کہ آپ شریعت کی اصطلاح کے مطابق نبی نہیں۔ اور نہ یہ کہ آپ اپنے آپ کو نبی نہیں سمجھتے تھے اور نہ یہ کہ آپ لغت کے معنوں کے رو سے نبی نہ تھے۔ کیونکہ قرآن کریم کو جب ہم دیکھتے ہیں تو اس میں نبی کی جو حقیقت لکھی ہے۔ وہ حضرت مسیح موعود میں پائی جاتی ہے۔ پس اس حقیقت کے لحاظ سے بھی حضرت صاحب کو مجازی نبی نہیں کہہ سکتے۔ اور لغت نے جو حقیقت نبوت بیان کی ہے۔ وہ بھی حضرت مسیح موعود میں پائی جاتی ہے۔ پس لغت کے لحاظ سے بھی آپ مجازی نبی نہیں کہلا سکتے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود نے خود جو حقیقت نبوت کی اپنے مذہب کے طور پر بتائی ہے۔ وہ بھی آپ میں پائی جاتی ہے۔ کیونکہ آپ نے لکھا ہے کہ میں خدا کے حکم کے ماتحت نبی اسے کہتا ہوں جو کثرت امورِ غیبیہ پر اطلاع پائے۔ اسی طرح لکھا ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ وہ صرف یہ ہیں کہ کثرت سے انسان امورِ غیبیہ پر مطلع کیا جائے۔ اسی طرح لکھا ہے کہ نبی کے لئے شرط نہیں کہ کوئی جدید شریعت لائے یا یہ کہ کسی پہلے نبی کا متبع نہ ہو۔ پس حضرت مسیح موعود نبی جس شخص کا نام رکھتے ہیں اور آپ کا یہ مذہب خدا کے حکم کے ماتحت ہے اس کے لحاظ سے بھی آپ مجازی نبی نہیں کہلا سکتے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ عوام الناس کی نبی کی تعریف کے ماتحت آپ مجازی نبی تھے۔ اور اسی طرح اس حقیقت کے مقابلہ میں جو بطور اصطلاح آپ نے لوگوں کو سمجھانے کے لئے مقرر کی ہے۔ آپ مجازی نبی تھے۔ یعنی کوئی جدید شریعت نہ لائے تھے۔ پس میرا مذہب یہی ہے کہ اگر حقیقی نبی کے یہ معنی کئے جائیں کہ جو شریعت لائے تو حضرت مسیح موعود ایسے نبی نہ تھے۔ اور اگر یہ معنی کئے جائیں کہ جو شریعت اسلام کے رو سے نبی ہو۔ تو ان معنوں کے لحاظ سے آپ حقیقی نبی تھے۔ غیر نبی نہ تھے۔ کیونکہ قرآن کریم نے نبی کے لئے یہ شرط کہیں بھی مقرر نہیں کی کہ وہ شریعتِ جدیدہ لائے۔ یا یہ کہ پہلے کسی نبی کا متبع نہ ہو۔ یا دوسرے الفاظ میں یہ کہ براہِ راست نبوت پائے۔

تیسری فصل

نبوت مسیح موعودؑ کے متعلق چند ضروری امور کے بیان میں

گو حقیقتہ النبوۃ کے ابتدائی صفحات میں مَیں نے نبوت کے متعلق بحث کو دو فصلوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ اور وہ دونوں فصلیں معہ ضروری ضمیمہ جات کے میں لکھ چکا ہوں۔ لیکن چونکہ میرا منشاء ہے کہ اس مسئلہ پر اس رنگ میں بحث کر دی جائے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو سعید روحوں کے لئے وہ ایک مخزن کا کام دے۔ اور ہمیشہ مسئلہ نبوت کے متعلق بحث کرتے وقت جہاں تک اللہ تعالیٰ ان کو فہم دے۔ وہ اس کتاب کے ذریعہ اپنے مخالف پر حجت پوری کر سکیں۔ اس لئے مَیں نے تیسری فصل اور بڑھا دی ہے جس میں نبوت مسیح موعود کے متعلق بعض دلائل بیان کرنے اور اس امر پر بحث کرنے کا ارادہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کے علاوہ اس امت میں کوئی اور بھی نبی گزرا ہے یا نہیں۔ اور اگر نہیں تو اس کا کیا ثبوت ہے۔ اور کیا وجہ ہے کہ اب تک کوئی اور نبی نہیں ہوا۔ اسی طرح اور ایسے امور جن پر کچھ تحریر کرنا ضروری ہے۔ لکھ دیئے جائیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ وَمَا تَوْفِیْقِیْٓ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔

حضرت مسیح موعود کی نبوت پر بعض دلائل

گو میرا ارادہ تھا کہ اسی رسالہ میں جو اب کتاب کی صورت اختیار کر چکا ہے ختمِ نبوت پر بھی کسی قدر اجمال کے ساتھ بحث کر دوں لیکن چونکہ اس سے حصہ اول کا حجم بہت بڑھ جائے گا۔ اور اشاعت میں دیر ہو جائے گی۔ اس لئے اس امر کو حصہ دوم کی تالیف تک ملتوی رکھتا ہوں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحم سے اس امر کی توفیق عنایت فرمائے کہ میں حقیقتہ النبوۃ کے حصہ دوم کی تالیف کا کام کر سکوں تو اسی میں ختمِ نبوت پر بحث کر دی جائے گی تاکہ یہ مسئلہ نہ صرف احمدیوں کے لئے صاف ہو جائے بلکہ غیر احمدیوں کے لئے بھی اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ ہدایت کا رستہ کھول دے وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیْرٌ۔ فی الحال میرا ارادہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کی

نبوت پر کچھ دلائل بیان کردوں جن سے ہر طالب حق نبوت مسیح موعود پر یقین حاصل کرسکے۔ لیکن میں ایک دفعہ پھر یہ بات ظاہر کردینی چاہتا ہوں کہ میرا اور تمام ان احمدیوں کا جو حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ صحیح تعلق رکھتے ہیں۔ اور خود حضرت مسیح موعود کا بھی ہرگز ہرگز یہ مذہب نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی آسکتا ہے جو قرآن کریم کو منسوخ کرے۔ یا اس کے بعض احکام پر خط نسخ کھینچ دے۔ یا یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور فرمانبرداری سے باہر ہو کر کچھ حاصل کرسکے بلکہ ہم ایسے شخص کو جو بعد آنحضرتؐ کے بلاواسطہ فیض پانے کا دعویٰ کرتا ہے۔ یا بعد قرآن کریم کے نئی شریعت لانے کا مدعی ہے۔ لعنتی اور کذاب خیال کرتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی اور نبی نہیں سوائے اس کے کہ آپ کے فیض سے فیض یاب ہو۔ اور بعد قرآن کریم کے کوئی اور شریعت نہیں۔ نہ پورے طور پر اسے منسوخ کرنے والی۔ اور نہ اس کے کسی حصہ کو منسوخ کرنے والی قرآن کریم کا ایک نقطہ یا شوشہ بھی کوئی شخص بدل نہیں سکتا اور نہ اس کی زیر زبر میں تغیر کر سکتا ہے چہ جائیکہ کہ اس کے بعض احکام کو بدل دے ہمارا یہ ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی صاحب کمال نہیں گزرا۔ پس کمال کے بعد کسی اور شئے کی حاجت نہیں رہتی۔ اب جو آئے گا۔ آپ کے کمالات کے اظہار اور اس کے اثبات کے لئے آئے گا۔ نہ کہ آپ سے الگ ہو کر اپنی حکومت جمائے۔ جس شخص نے آپ کے نور کو نہ دیکھا وہ اندھا ہے۔ اور جس شخص نے آپؐ کے درجہ کو نہ پہچانا وہ بد بخت ہے۔ اور اس کا انجام خراب ہے۔ بدقسمت ہے وہ انسان جس نے آپؐ کے دامن کو نہ پکڑا۔ اور بد نصیب ہے وہ انسان جس نے آپؐ کی غلامی کا جوا اپنی گردن پر نہ رکھا۔ اللہ تعالیٰ کے قرب کا ایک ہی ذریعہ ہے۔ اور وہ یہ کہ انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں کمال پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ(آل عمران: ۳۲) یعنی اے ہمارے رسول ان لوگوں کو کہہ دے۔ کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو۔ تو تم میری اتباع کرو۔ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کے محبوب ہونے کا ایک اور صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اختیار کرے۔ جس قدر کوئی شخص آپؐ کی اطاعت کرے گا۔ اسی قدر اللہ تعالیٰ کی محبت اس سے بڑھے گی۔ پس جب ہم کسی شخص کو آپؐ کی امت میں سے نبی کہتے ہیں تو اس کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ وہ شخص آپ کے غلاموں میں سے سب سے زیادہ فرمانبردار غلام ہے۔ اس کا نبی ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کمال کو پہنچ گیا

ہے۔ پس اس قسم کے نبی ماننے میں ہم آنحضرت کی ہتک نہیں کرتے۔ بلکہ آپ کے درجہ کی بلندی کا اظہار کرتے ہیں۔ اور جو شخص اپنے قول یا فعل سے رسول اللہ کی ہتک کرتا ہے وہ بے شک ملعون ہے اور اللہ تعالیٰ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ خدا تعالیٰ کی رحمت کے دروازے اس کے لئے بند ہیں۔

نادان انسان ہم پر الزام لگاتا ہے کہ مسیح موعود کو نبی مان کر گویا ہم آنحضرت کی ہتک کرتے ہیں۔ اسے کسی کے دل کا حال کیا معلوم۔ اسے اس محبت اور پیار اور عشق کا علم کس طرح ہو جو میرے دل کے ہر گوشہ میں محمد رسول اللہ کے لئے ہے۔ وہ کیا جانے کہ محمد کی محبت میرے اندر کس طرح سرایت کر گئی ہے وہ میری جان ہے۔ میرا دل ہے میری مراد ہے۔ میرا مطلوب ہے۔ اس کی غلامی میرے لئے عزت کا باعث ہے۔ اور اس کی کفش برداری مجھے تختِ شاہی سے بڑھ کر معلوم دیتی ہے۔ اس کے گھر کی جاروب کشی کے مقابلہ میں بادشاہتِ ہفت اقلیم ہیچ ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کا پیارا ہے۔ پھر میں کیوں اس سے پیار نہ کروں۔ وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے پھر میں اس سے کیوں محبت نہ کروں۔ وہ خدا تعالیٰ کا مقرب ہے پھر میں کیوں اس کا قرب نہ تلاش کروں۔ میرا حال مسیح موعود کے اس شعر کے مطابق ہے۔ کہ؎

بعد از خدا بعشقِ محمدؐ مخمّرم

گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم

اور یہی محبت تو ہے جو مجھے اس بات پر مجبور کرتی ہے۔ کہ بابِ نبوت کے بکلی بند ہونے کے عقیدہ کو جہاں تک ہو سکے باطل کروں۔ کہ اس میں آنحضرت کی ہتک ہے۔ بے شک اگر یہ مانا جائے کہ کوئی شخص ایک ایسی شریعت لایا ہے جو قرآن کریم کو منسوخ کر دے گی تو اس میں آنحضرت کی ہتک ہے۔ اور اگر یہ مانا جائے کہ آنحضرت کے بعد کوئی ایسا نبی آئے گا۔ جو آپ کی اطاعت کے بغیر انعامِ نبوت پائے گا تو اس میں بھی آپ کی ہتک ہے۔ کیونکہ اس کا یہ مطلب ہو گا کہ آنحضرت کا فیضان کمزور ہے کہ آپ کی موجودگی میں براہِ راست فیضان کی حاجت پیش آئی لیکن اسی طرح اس عقیدہ میں بھی آنحضرت کی ہتک ہے کہ یہ مان لیا جائے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپؐ کا فیضان ناقص اور آپؐ کی تعلیم کمزور ہے کہ اس پر چل کر انسان اعلیٰ سے اعلیٰ انعامات نہیں پاسکتا۔ دنیا میں وہی استاد لائق کہلاتا ہے جس کے شاگرد لائق ہوں اور وہی افسر معزز کہلاتا ہے جس کے ماتحت معزز ہوں۔ یہ بات ہرگز فخر کے قابل نہیں کہ آپ کے شاگردوں میں سے کسی نے اعلیٰ مراتب نہیں پائے۔ بلکہ آپؐ کی عزت بڑھانے والی یہ بات ہے کہ آپؐ کے شاگردوں میں سے ایک ایسا لائق ہو گیا جو دوسرے استادوں سے بھی بڑھ گیا۔ آنحضرت ﷺ کے بعد بعثتِ انبیاء کو بالکل مسدود قرار دینے کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دنیا کو فیضِ نبوت سے روک دیا۔ اور آپؐ کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس انعام کو بند کر دیا۔ اب بتاؤ کہ اس عقیدہ سے آنحضرت ﷺ رحمۃ للعالمین ثابت ہوتے ہیں یا اس کے خلاف (نعوذ باللہ من ذالک) اگر اس عقیدہ کو تسلیم کیا جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے۔ کہ آپؐ نعوذ باللہ دنیا کیلئے ایک عذاب کے طور پر آئے تھے اور جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ لعنتی اور مردود ہے۔ آپ ﷺ سب دنیا کے لئے رحمت ہو کر آئے تھے۔ اور آپؐ کے آنے سے اللہ تعالیٰ کے فیضان دنیا کے لئے اور بڑھ گئے نہ کہ کم ہو گئے کیا تم نہیں دیکھتے۔ کہ موسوی سلسلہ کے مسیح نے بلا واسطہ حضرت موسیٰ کے فیضان پایا تھا۔ لیکن آنحضرت ﷺ کے آخری خلیفہ نے جو کچھ پایا آپؐ کے فیضان سے پایا۔ اور پھر بھی مسیح ناصری سے اپنی تمام شان میں بڑھ گیا۔ پس آنحضرت ﷺ کا وجود دنیا کے لئے رحمت ہے۔ اور آپؐ کی اتباع سے انسان ہر قسم کے فیوض حاصل کر سکتا ہے۔ آپؐ کا وجود اللہ تعالیٰ کے فیوض کی راہ میں روک نہیں ہوا بلکہ آپؐ کی دعاؤں نے اللہ تعالیٰ کے جود و کرم کو اور بھی جذب کیا ہے اور پہلے اگر اس کے فضلوں کی پھوار پڑتی تھی۔ تو اب ایک تیز بارش شروع ہو گئی ہے۔ پس جو شخص کہتا ہے کہ آپؐ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو گیا۔ اور آپؐ نے دنیا کو اس فیضان سے محروم کر دیا۔ ایسا شخص رسول اللہ ﷺ کی ہتک کرتا ہے۔ وہ آپؐ کو اس ٹیلہ کی طرح قرار دیتا ہے جس نے گر کر دریا کا پاٹ بند کر دیا۔ یا اس بادشاہ کی طرح قرار دیتا ہے جس کے ماتحت کوئی زبردست آدمی نہیں۔ بادشاہوں کی عزت اسی طرح بڑھتی ہے کہ بڑے بڑے سردار ان کی خدمت کرنے پر آمادہ ہوں۔ اور شہنشاہ کا رتبہ شاہ سے بہت بڑھ کر ہوتا ہے پس دنیا ہمیں لاکھ ملامت کرے۔ اور کوتاہ اندیش لوگ ہم پر ہزار اعتراض کریں۔ ہم اس عقیدہ کو ترک نہیں کر سکتے۔ جس میں آنحضرت ﷺ کی شان کا اظہار ہے۔ اور نہ اس عقیدہ کو اختیار کر سکتے ہیں۔ جس میں آپؐ کی ہتک ہوتی ہے۔ ہمارا آقا نہایت زبردست طاقتیں رکھتا تھا۔ وہ ایسا رتبہ رکھتا تھا۔ کہ اس کی قوت قدسیہ سے ایک نبی کا پیدا ہو جانا کچھ بھی بعید نہیں۔ اور جسے اس بات میں کچھ شک ہے۔ اس نے در حقیقت خاتم النبیّن کے کمالات کو سمجھا ہی نہیں وہ اپنی ہوا و ہوس پر رسول اللہ ﷺ کی عزت و حرمت کو قربان کر رہا ہے اور لوگوں کے خوش کرنے کے لئے اپنے آقا پر حملہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر رحم فرمائے۔ اور

ان کو راہِ راست کی طرف رہنمائی کرے۔ اس تمہید کے بعد میں حضرت مسیح موعود کی نبوت کے متعلق چند دلائل ذیل میں درج کرتا ہوں۔

(۱) اول دلیل۔

حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے پر یہ ہے۔ کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ اور حضرت نوحؑ اور حضرت ابراہیمؑ اور حضرت یعقوبؑ اور حضرت یوسفؑ کو نبی کہہ کر پکارا ہے۔ حضرت مسیح موعود کو بھی قرآن کریم میں رسول کے نام سے یاد فرمایا ہے۔ چنانچہ ایک تو آیت وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِی اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ(الصف: ۷) سے ثابت ہے کہ آنے والے مسیح کا نام اللہ تعالیٰ رسول رکھتا ہے دوم آیت وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتۡ(المرسلات: ۱۲) سے ثابت ہے۔ کہ آنے والا مسیح نبی ہوگا۔ کیونکہ اس آیت میں مسیح موعود کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ اور اس کے زمانہ کی نسبت ان الفاظ میں خبر دی گئی ہے کہ جب رسول وقتِ مقررہ پر لائے جائیں گے۔ یعنی ایک ہی وقت میں سب رسولوں کو جمع کر دیا جائے گا اور مسیح موعود کے وجود میں وہ ظاہر ہوں گے۔ اس آیت کو بھی خود حضرت مسیح موعود نے اپنے پر چسپاں کیا ہے۔ پس جس کا نام قرآن کریم رسول رکھتا ہے۔ اس کے نبی اور رسول ہونے میں کیا شک کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ ہم پہلے سب نبیوں کو اسی بناء پر نبی مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام نبی رکھا ہے۔ تو مسیح موعود کے رسول نہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں۔ جو دلیل پہلوں کے نبی ہونے کی ہے۔ وہی حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے کی ہے۔

اگر حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام نبی اور رسول تھے۔ تو مسیح موعود بھی نبی تھے اور اگر حضرت مسیح موعود نبی نہ تھے تو پہلے بزرگ بھی نبی نہ تھے۔ دونوں کی نبوت پر ایک ہی کتاب شاہد ہے۔ پس اگر پہلوں کی نبوت کے متعلق قرآن کریم کی گواہی قابل اعتبار ہے تو مسیح موعود کی نبوت کے متعلق بھی اس کی گواہی قابل اعتبار ہے اور قرآن کریم سے بڑھ کر اور کس کتاب کی شہادت قابل قبول ہو سکتی ہے۔ ان دونوں آیات کے سوا دو آیات اور بھی ہیں کہ انہیں بھی حضرت مسیح موعود نے اپنی نسبت بیان فرمایا ہے۔ اور ان میں حضرت مسیح موعود کا نام رسول رکھا گیا۔

اول آیت تو یہ ہے کہ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَدِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ(الصف: ۱۰) اس آیت کی نسبت اکثر مفسرین کا اتفاق ہے کہ مسیح موعود کے لئے ہے۔ اور اس کے زمانہ میں پوری ہوگی۔ اور یہ ان کا قول ہی نہیں بلکہ اس کا ثبوت قرآن کریم سے ملتا ہے۔ کیونکہ یہ آیت قرآن کریم میں تین جگہ آئی ہے اور تینوں جگہ مسیح موعود کے ذکر کے ساتھ۔ دو جگہ تو صاف مسیح کا ذکر ہے اور ایک جگہ انجیل کا ذکر ہے۔ پس قرآن کریم سے ثابت ہے کہ اس آیت کا مسیح سے تعلق ہے اور چونکہ یہ آیت اپنے پہلے مظہر آنحضرت ﷺ کی رسالت کا ثبوت ہے۔ اس لئے اس کے دوسرے مظہر مسیح موعود کی رسالت کا بھی اس سے ثبوت نکلتا ہے دوسری آیت جس میں مسیح موعود کو رسول قرار دیا ہے۔ وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ(الجمعہ: ۴) کی آیت ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ کے دو بعث بتائے گئے ہیں۔ پس ضرور ہے کہ دوسرا بعث بھی رسالت کے ساتھ ہو۔ غرض کہ یہ چاروں آیات قرآن کریم کی مسیح موعود کی نبوت پر ایک گواہ کے طور پر ہیں جن کا انکار کوئی نہیں کر سکتا۔

(۲)

دوسری دلیل حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے پر یہ ہے کہ آپ کو آنحضرت ﷺ نے نبی کے نام سے یاد فرمایا۔ اور نواس بن سمعان کی حدیث میں نبی اللہ کہہ کے آپ کو پکارا گیا ہے۔ پس آنحضرت ﷺ شاہد ہیں اس امر کے کہ حضرت مسیح موعود نبی ہیں۔ اب ہم آنحضرت ﷺ کی شہادت کو کس طرح چھوڑ دیں۔ جسے خدا تعالیٰ قرآن کریم میں رسول کہتا ہے۔ اور ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی(9:33) میں اس کی نسبت پیشگوئی کرتا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ اس کے نبی ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ اس کی نبوت کا انکار کرنا کسی مؤمن کے لئے جائز نہیں ہو سکتا۔ وہ شخص جو آنحضرت ﷺ کے قول کی عزت نہیں کرتا۔ اور اسے سن کر منہ پھیر لیتا ہے۔ اور اس کا سینہ نہیں کھل جاتا ہے۔ وہ اپنی روحانیت کا علاج کرے۔ کہ کوئی ایسا شخص مومن نہیں ہو سکتا۔ فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَیُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا(النساء: ۶۶)

پس آنحضرت ﷺ کے فیصلہ کے قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں اگر آپؐ نے لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ فرمایا ہے تو مسیح کو نبی اللہ بھی فرمایا ہے۔ پس ان دونوں اقوال کو ملا کر یہ معنی کرنے پڑیں گے کہ ایک قسم کے نبی آپ کے بعد نہیں ہوں گے اور ایک اور قسم کے ہوں گے۔ اور آنے والا مسیح نبی ہو گا۔ جو شخص آنحضرت ﷺ کے اقوال میں سے ان کو چن لیتا ہے جو اس کی خواہشات کے مطابق ہوں۔ اور دوسروں کو چھوڑ دیتا ہے وہ آپؐ کا مطیع نہیں کہلا سکتا۔ حضرت عائشہؓ نے ایسے ہی لوگوں سے ڈر کر شاید یہ فرمایا تھا کہ قُوْلُوْا خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَ لَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ(الدر المنثور جلد ۵ صفحہ ۲۰۴) خاتم الانبیاء تو کہہ لو لیکن لا نبی بعدہ نہ کہو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں خیال پیدا ہوا ہو گا۔ کہ کچھ دن کے بعد بعض لوگ نبوت کا دروازہ بالکل مسدود نہ سمجھ لیں۔ اور وقت پر خدا تعالیٰ کے کسی نبی کا انکار نہ کر بیٹھیں۔ پس آپ نے بتا دیا کہ خاتم النبیین تو رسول اللہ ﷺ کو بے شک کہو کیونکہ آپ کے فیض اور آپ کی مہر کے بغیر کوئی نبی اب نہیں آسکتا۔ لیکن لانبی بعدی کی حدیث پر زور نہ دیا کرو۔ کیونکہ اس کے وہ معنے نہیں جو تم لوگ سمجھے ہو۔ لیکن حضرت عائشہؓ نے جس بات کا خوف کیا تھا وہی درپیش آئی۔ اور بعض لوگ رسول اللہ ﷺ کے ایک قول کو تو حجت پکڑتے ہیں۔ اور دوسرے کو ردّ کرتے ہیں۔ مگر مؤمن کی شان سے یہ امر بعید ہے اور اسے چاہئے کہ آپؐ کے سب اقوال کی عزت کرے۔ لانبی بعدی کے قول کو بھی نہ چھوڑے۔ اور مسیح کو نبی اللہ کے نام سے جو آپؐ نے یاد فرمایا ہے۔ اس کی بھی عزت کرے اور ان دونوں اقوال میں تطبیق دے۔ اور وہ اسی طرح ہو سکتی ہے۔ کہ تشریعی نبوت اور نبوت مستقلہ کا دروازہ مسدود سمجھے اور اس نبوت کو تاقیامت جاری خیال کرے جو آپؐ کے فیضان سے ملتی ہے۔ شاید اس جگہ کوئی کہہ دے کہ ہم بھی مسیح موعود کو مجازی نبی تو مانتے ہیں۔ پس ہم اس حدیث کے منکر نہیں۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ماننا نہ ماننے کے برابر ہے۔ کیونکہ تم مجازی نبی کے معنی غیرنبی کے کرتے ہو۔ اور جو غیرنبی ہے وہ بہرحال غیرنبی ہی ہے نبی نہیں ہو سکتا۔ پس یہ ماننا ایک لفظی اقرار سے زیادہ کچھ وقعت نہیں رکھتا۔ اور ایسے نبی ماننے سے نہ ماننا بہتر کہ لوگوں کو دھوکا نہ لگے۔ ماننا یہی ہے کہ جسے رسول اللہ ﷺ نبی فرماتے ہیں۔ اس کی نبوت کا اقرار کیا جائے خواہ اس میں ساری دنیا ہی کیوں ناراض نہ ہو جائے سب دنیا کی تکذیب کرنی بہتر ہے۔ اس امر سے کہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی جائے۔

بعض لوگ مسلم کی حدیث سن کر کہہ دیتے ہیں۔ کہ اس حدیث میں تو سب استعارے ہی استعارے بھرے پڑے ہیں پس اگر اس حدیث میں مسیح موعود کے لئے نبی کا لفظ آگیا ہے تو اسے بھی استعارہ ہی قرار دینا چاہئے۔ لیکن ان لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ استعارہ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ اگر ایک عبارت میں کچھ استعارے ہوں تو اسکے سب الفاظ کو استعارہ ⟨؟⟩ نہیں قرار دے سکتے۔ استعارہ کے لئے کوئی وجہ ہونی چاہئے ان الفاظ میں جو علامت کے طور پر ہوں استعارہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے آزمائش مراد ہوتی ہے لیکن ایک شخص کا عہدہ بیان کرنے میں استعارہ کا کیا تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ پیار کے طور پر نبی کا نام کسی کو دے دے تو مانا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے لیکن رسول اللہ ﷺ تو نبی کا عہدہ نہیں بخشتے۔ کہ آپ نے اظہار محبت کے لئے مسیح موعود کا نام نبی رکھ دیا۔ پس گو اس حدیث میں کثرت سے استعارہ استعمال ہوا ہو مگر مسیح موعود کے عہدہ کو استعارہ نہیں کہہ سکتے۔ ورنہ کوئی شخص کہہ دے گا کہ اس حدیث میں چونکہ سب استعارے ہی استعارے ہیں۔ اس لئے مسیح بھی ایک استعارہ ہے۔ اور مہدی بھی ایک استعارہ ہے نہ کوئی مسیح آئے گا نہ کوئی مہدی آئے گا۔ یہ سب استعارات ہیں جنہیں نہ سمجھ کر لوگ مسیح و مہدی کی انتظار کر رہے ہیں۔ چنانچہ بعض لوگ اس مذہب کے ہیں بھی جو مسیح کی آمد اور مہدی کی آمد کی احادیث کو یا تو وضعی قرار دیتے ہیں یا صرف استعارات۔ پس اگر ہر لفظ کو استعارہ قرار دینا جائز کر لیا جائے گا۔ تو کسی کا یہ بھی حق ہو گا کہ مسیح اور مہدی کو بھی ایک استعارہ ہی قرار دے دے۔ کسی لفظ کے استعارةً استعمال کی بھی کوئی وجہ ہوتی ہے نہ کہ بلا ثبوت ہر لفظ کو استعارہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

مگر صرف اسی حدیث میں حضرت مسیح موعود کا نام نبی نہیں رکھا گیا۔ اس کے علاوہ ایک اور حدیث بھی ہے جس میں مسیح موعود کو نبی کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے اَلْاَنْبِیَاءُ اِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ اُمَّہَاتُہُمْ شَتّٰی وَ دِیْنُہُمْ وَاحِدٌ وَ اَنَا اَوْلَی النَّاسِ بِعِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ لِاَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَہٗ نَبِیٌّ وَ اِنَّہٗ نَازِلٌ فَاِذَا رَاَیْتُمُوْہُ فَاعْرِفُوْہُ رَجُلًا مَّرْبُوْعًا اِلَی الْحُمْرَةِ وَ الْبَیَاضِ عَلَیْہِ ثَوْبَانِ مُمَصَّرَانِ کَاَنَّ رَاْسَہٗ یَقْطُرُ وَ اِنْ لَّمْ یُصِبْہُ بَلَلٌ فَیَدُقُّ الصَّلِیْبَ وَ یَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَ یَضَعُ الْجِزْیَةَ وَ یَدْعُوَا النَّاسَ اِلَی الْاِسْلَامِ فَیُہْلِکُ اللہُ فِیْ زَمَانِہِ الْمِلَلَ کُلَّہَا اِلَّا الْاِسْلَامَ وَ یُہْلِکُ اللہُ فِیْ زَمَانِہِ الْمَسِیْحَ الدَّجَّالَ وَ تَقَعُ الْاَمَنَةُ عَلَی الْاَرْضِ حَتّٰی تَرْتَعَ الْاُسُوْدُ مَعَ الْاِبِلِ وَ النِّمَارُ مَعَ الْبَقَرِ وَ الذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ وَ یَلْعَبُ الصِّبْیَانُ بِالْحَیَّاتِ لَا تَضُرُّہُمْ فَیَمْکُثُ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً ثُمَّ یُتَوَفّٰی وَ یُصَلِّیْ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحہ ۴۰۶ مطبوعہ بیروت) یعنی انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں اور دین ایک ہوتا ہے۔ اور میں عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں۔ کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں۔ اور وہ نازل ہونے والا ہے۔ پس جب اسے دیکھو تو اسے پہچان لو۔ کہ وہ درمیانہ قامت سرخی سفیدی ملا ہوا رنگ۔ زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے۔ اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہو گا گو سر پر پانی نہ ہی ڈالا ہو۔ اور وہ صلیب کو توڑے گا۔ اور خنزیر کو قتل کرے گا اور جزیہ ترک کر دے گا۔ اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دے گا۔ اس کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ سب مذاہب کو ہلاک کر دے گا اور صرف اسلام رہ جائے گا۔ اور اس کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ مسیح دجال کو ہلاک کر دے گا اور زمین میں امن قائم ہو گا یہاں تک کہ شیر اونٹوں کے ساتھ اور چیتے گائے بیلوں کے ساتھ۔ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان نہ دیں گے عیسیٰ بن مریم چالیس سال تک رہیں گے اور پھر فوت ہو جائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔

اس حدیث میں صاف طور پر آنے والے عیسیٰ کو نبی کہا گیا ہے اور نہ صرف یہ کہ نبی کہا ہے۔ بلکہ سب نبیوں کی جماعت میں اسے شریک کیا گیا ہے۔ پس آنحضرت ﷺ کی شہادت کی موجودگی میں مسیح موعود کی نبوت کا انکار کون کر سکتا ہے اگر کوئی کہے کہ ہم اس حدیث کو آنے والے مسیح کی نسبت سمجھتے ہی نہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث خود اس بات پر مجبور کر رہی ہے کہ اسے آنے والے مسیح پر ہی چسپاں کیا جائے۔ کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ وہ نبی مسیح نازل ہوگا۔ اب یا تو یہ مانو کہ حضرت مسیح موعود مسیح موعود ہی نہیں۔ بلکہ نعوذ باللہ من ذالک آپ اپنے دعوے میں غلطی پر تھے۔ اور ابھی ہمیں کسی اور مسیح کا انتظار کرنا چاہئے۔ یا اس بات کو تسلیم کرو کہ حضرت مسیح موعود نبی تھے۔ کیونکہ اس حدیث میں مسیح موعود کو نبیوں کی جماعت میں شامل کیا گیا ہے۔ اور پھر الگ طور پر بھی نبی کہا گیا ہے۔ کیونکہ آپؐ فرماتے ہیں کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی اور نبی نہیں جس سے ثابت ہے کہ وہ نبی ہے۔ پس اس حدیث میں دو دفعہ مسیح موعود کو نبی کہا ہے۔ پہلے تو سب انبیاء کے زمرہ میں شامل کر کے اپنا علاتی بھائی قرار دیا ہے اور پھر لَمْ يَكُنْ بَيْنِيْ وَ بَيْنَهُ نَبِيٌّ کہہ کر اسے دوبارہ نبی کہا ہے۔ غرض اب دو راہوں میں سے ایک ہی راہ کھلی ہے۔ یا تو یہ اقرار کیا جائے کہ مسیح ناصری ہی دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور یا اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ حضرت مسیح موعود نبی تھے۔ اور اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس حدیث میں صاف الفاظ میں نبی کا لفظ مسیح کی نسبت کہاں استعمال کیا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ دو جگہ مسیح کو صاف طور پر نبی کہا گیا ہے۔ اول تو اس قول میں کہ اَلْاَنْبِيَاءُ اِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ کہ انبیاء سب علاتی بھائی ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس حدیث میں تو مسیح کا ہی ذکر ہے۔ اگر اس سے دوسرے انبیاء مراد ہیں۔ اور مسیح بیچ میں شامل نہیں۔ تو یہ فقرہ ہی لغو جاتا ہے۔ کیونکہ مسیح کے ذکر کے ساتھ اس کا تعلق کوئی نہیں بنتا۔ پس اس کا یہی مطلب ہے کہ مسیح کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ نے یہ فقرہ فرمایا ہے کہ سب انبیاء کا تعلق آپس میں علاتی بھائیوں کا سا ہوتا ہے۔ پس مسیح سے بھی میرا تعلق ایسا ہی ہے۔ اور پھر آگے فرماتے ہیں کہ لَمْ يَكُنْ بَيْنِيْ وَ بَيْنَهُ نَبِيٌّ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں اس فقرہ سے بھی ثابت ہے کہ وہ نبی ہے۔ کیونکہ اگر وہ بھی نبی نہیں تو پھر اس فقرہ کی کیا ضرورت تھی اور پھر مسیح کی کیا خصوصیت تھی۔ قیامت تک کوئی نبی ہی نہیں ہونا تھا تو یہ کیوں فرمایا کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ پس آپ کا یہ کلام صاف ظاہر کر رہا ہے کہ آنے والا مسیح ضرور نبی ہو گا۔ اور یہ نہیں کہ صرف اس کا نام نبی ہو گا۔ کیونکہ نام نبی تو ہزاروں لوگ رکھ لیتے ہیں۔ کئی آدمی اپنا نام محمد نبی رکھ لیتے ہیں۔ پس نام نبی والے تو کئی انسان گزر چکے ہیں اور اگر نام نبی ہی مراد ہوتا۔ تو پھر آنے والا مسیح علاتی بھائیوں میں کس طرح شامل ہو جاتا۔ کیونکہ وہ تو سب انبیاء ہیں نہ کہ صرف نام نبی پانے والے۔ پس یہ حدیث بالکل صاف ہے اور اس میں آنے والے مسیح کو نہ صرف نبی کہا گیا ہے بلکہ انبیاء کے گروہ میں شامل بتایا گیا ہے۔ اور اس بات کا ثبوت کہ یہ حدیث آنے والے نبی کے متعلق ہے خود الفاظِ حدیث ہیں۔ کیونکہ اس میں اس مسیح کا یہ کام بتایا ہے کہ وہ قتل خنزیر کرے گا۔ صلیب توڑے گا۔ جزیہ موقوف کرے گا وغیرہ۔ اور یہ سب کام آنے والے مسیح کے ہیں نہ کہ پہلے مسیح کے۔ پھر ہلکے زرد رنگ کی دو چادریں بھی آنے والے مسیح کی ہی علامت ہیں پس سوائے اس کے کہ اس حدیث کو آنے والے مسیح پر چسپاں کیا جائے۔ اور کوئی صورت نہیں۔ اور چونکہ اس حدیث سے آنے والے مسیح کا نبی ہونا اور نبیوں کے گروہ میں شامل ہونا ثابت ہے اس لئے یا تو مسیح موعود کے دعوے کا انکار کیا جائے ورنہ ان کو نبی مانا جائے۔

پھر علاوہ اس قرینہ کے کہ جس مسیح کا ذکر اس حدیث میں ہے اس کا کام ظاہر کرتا ہے کہ وہ آنے والا مسیح ہے۔ اس حدیث کے مسیح موعود کی نسبت ہونے کا یہ بھی ایک قرینہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اَلْاَنْبِیَاءُ اِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ ، اُمَّھَاتُھُمْ شَتّٰی وَ دِیْنُھُمْ وَاحِدٌ وَ اَنَا اَوْلَی النَّاسِ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ لِاَنَّهٗ لَمْ یَکُنْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهٗ نَبِیٌّ انبیاء کا تعلق علاتی بھائیوں کا سا ہوتا ہے ان کی مائیں مختلف اور دین ایک ہی ہوتا ہے اور دوسرے لوگوں کی نسبت میرا تعلق عیسیٰ بن مریم سے بہت زیادہ ہے کیونکہ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ اب اگر اس حدیث کو مسیح ناصری کے متعلق سمجھا جائے تو یہ سوال ہو گا کیا عیسیٰ بن مریم ناصری سے (انبیاء کی جماعت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اولی الناس تھے یا حضرت یحییٰ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو مسیح کے چھ سو سال بعد ہوئے۔ اور حضرت یحییٰ خود حضرت مسیح کے زمانہ کے نبی بلکہ ان کے استاد تھے۔ اور اگر صرف کسی نبی کا درمیان میں نہ ہونا تعلق کو بڑھا دیتا ہے تو ایک زمانہ میں ہونا اور بھی تعلق کو بڑھا دے گا۔ پس لَمْ یَکُنْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهٗ نَبِیٌّ کی دلیل سے تو حضرت مسیح ناصری سے حضرت یحییٰ کا تعلق زیادہ ثابت ہوتا ہے اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی حدیث میں حضرت یحییٰ کو حضرت مسیح کے پاس بیٹھا دیکھ بھی چکے ہیں۔ پس حضرت مسیح ناصری سے تو اولی الناس حضرت یحییٰ ہیں نہ کہ ہمارے

آنحضرت ﷺ۔ کیونکہ وہ ان کے زمانہ کے نبی ہیں۔ پھر ان کے استاد ہیں۔ پھر رشتہ دار ہیں۔ پھر ان کے لئے بطور ایک نشان کے بھی ہیں۔ اور الیاس نبی کی دوبارہ آمد کے مظہر ہیں۔ پس آنحضرت ﷺ حضرت مسیح ناصری سے اولی الناس نہیں ہو سکتے۔ اب ایک ہی صورت ہے۔ اور وہ یہ کہ اس حدیث کو آنے والے مسیح پر چسپاں کیا جائے۔ جس پر یہ بالکل چسپاں ہو جاتی ہے۔ اول اس طرح سے کہ آنے والا مسیح آپ کی امت میں سے بھی ہے اور آپ کا شاگرد بھی ہے۔ آپؐ ہی کے کام کے لئے آیا ہے۔ پس آپؐ کا جو تعلق مسیح موعود سے ہو سکتا ہے وہ کسی اور شخص کا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ مسیح موعود آپؐ ہی کا شاگرد۔ آپؐ ہی کا تابع۔ آپؐ ہی کا قائم مقام ہے اس لئے کسی اور کو اس سے ایسا تعلق نہیں ہو سکتا۔ اور خود حضرت مسیح موعود بھی فرماتے ہیں کہ:۔

دگر استادم دانائے ندانم

کہ خواندم در دبستانِ محمدؐ

دوسرے اس وجہ سے کہ آپ فرماتے ہیں۔ کہ اس کے اور میرے درمیان کوئی اور نبی نہیں۔ پس چونکہ اور کوئی نبی درمیان میں نہیں۔ اور جو تعلق ایک نبی کو دوسرے نبی سے ہو سکتا ہے۔ وہ غیر نبی کو نبی سے نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ انبیاء علاتی بھائی کی مانند ہیں اس لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اِنِّىْ اَوْلَى النَّاسِ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ شاید کوئی شخص اس جگہ یہ اعتراض کرے کہ حدیث میں لَمْ يَكُنْ بَيْنِىْ وَ بَيْنَهُ نَبِيٌّ کے الفاظ آتے ہیں۔ جن کا یہ مطلب ہے کہ اس کے اور میرے درمیان نبی کوئی نہیں ہوا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پچھلا مسیح ہے نہ کہ آئندہ آنے والا۔ کیونکہ آئندہ آنے والا مسیح مراد ہو تا تو بجائے لَمْ يَكُنْ کے لَا يَكُوْنُ کے الفاظ حدیث میں ہونے چاہئیں تھے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ پیشگوئیوں میں استقبال کے لئے ماضی کے الفاظ کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ اور قرآن کریم میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ کہ لفظوں سے تو یہ پایا جاتا ہے کہ ایسا ہو چکا ہے لیکن مراد یہ ہے کہ آئندہ ہو گا۔ حضرت مسیح موعود نے اپنی کتب میں اس مضمون پر مفصل بحث کی ہے۔ وہاں سے اس کی تفصیل بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ بلکہ خود حضرت مسیح موعود کے اپنے الہامات میں یہ رنگ پایا جاتا ہے پس گو الفاظ ماضی کے ہیں مگر مراد آئندہ کا زمانہ ہے۔ اور اس کا زبردست ثبوت یہ ہے کہ جو حال بتایا گیا ہے وہ آنے والے مسیح کا ہے پس اگر ماضی کے معنی کئے جائیں تو حدیث بالکل لغو ہو جائے گی۔ اور اس کا مطلب یہ بن جائے گا کہ پچھلے مسیح اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں گزرا۔ پچھلا مسیح خنزیر قتل کرے گا اور صلیب توڑے گا وغیرہ وغیرہ۔ اب ان معنوں کے رو سے یا تو رسول اللہ اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض آتا ہے کہ ذکر تو پچھلے مسیح کا کرتے ہیں۔ اور کام اگلے مسیح کا بتاتے ہیں۔ یا پھر یہ ماننا پڑتا ہے کہ مسیح ناصری اب تک زندہ ہے۔ اور وہی دوبارہ دنیا میں آئے گا۔ اور یہ دونوں باتیں ناممکن ہیں۔ پس سوائے اس کے کہ لَمْ يَكُنْ کے معنے پیشگوئیوں کے محاورہ کے مطابق استقبال کے کریں اور کوئی چارہ نہیں۔

شاید کوئی شخص یہ کہہ دے کہ گو مسیح موعود تو اسی امت میں سے پیدا ہونا تھا لیکن آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم یہی خیال کرتے تھے کہ پچھلے مسیح نے ہی دوبارہ آنا ہے اس لئے آپ نے اسی خیال کے ماتحت آنے والے مسیح کا نام نبی رکھ دیا۔ لیکن چونکہ آنے والا مسیح اسی امت میں سے آگیا اس لئے نبی نہیں کہلا سکتا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو اس صورت میں آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض پڑے گا کہ آپ باوجود اس کے کہ خود آپ پر مسیح کی وفات کی وحی نازل ہوئی تھی اپنی وفات تک مسیح کی زندگی کے قائل رہے اور اس سے تو غیر احمدیوں کو خاص تقویت حاصل ہوگی۔ اور دوسرے حضرت مسیح موعود کے ان تمام اقوال کی تکذیب ہوگی۔ جن میں حضرت مسیح موعود نے اس امر پر زور دیا ہے کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی مذہب تھا۔ کہ حضرت مسیح فوت ہو چکے اور صحابہؓ کا بھی اسی پر اجماع تھا۔ کہ حضرت مسیح فوت ہو چکے ہیں۔ غرض اس کے سوا کوئی صورت نہیں بنتی کہ اس حدیث کو آنے والے مسیح پر چسپاں کیا جائے اور جب اس پر چسپاں کیا جائے تو ضرور اسے نبی بھی قرار دینا پڑتا ہے اور آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی شہادت سے ثابت ہے کہ وہ نبی ہے پس خدا تعالیٰ کی شہادت اور پھر اس کے رسول کی شہادت کے ہوتے ہوئے مسیح موعود کو غیر نبی قرار دینا بعید از انصاف و راستبازی ہے۔

(۳)

تیسری شہادت مسیح موعود کے نبی ہونے پر انبیائے گزشتہ کی شہادت ہے سب سے پرانی شہادت تو زرتشت نبی کی ہے۔ جو ایران کا ایک نبی ہے اور جس کے پیرو پارسی کہلاتے ہیں۔ اور ہندوستان میں خاص طور پر معزز خیال کئے جاتے ہیں۔ اور دنیاوی ترقی میں دوسری ہندوستانی قوموں سے ایک خاص امتیاز رکھتے ہیں۔ اس نبی نے اپنے بعد تین نبیوں کے آنے کی خبر دی تھی۔ جن میں سے ایک تو آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی نسبت پیشگوئی کی تھی۔ اور آپ کے نشانات بھی بتائے تھے۔ اور یہ بھی لکھا تھا۔ کہ اس وقت ایران کی حکومت تباہ ہو جائے گی اور اس کا سبب ایرانیوں کی بدکاری اور عیاشی ہوگا۔ آپ کے علاوہ ایک دوسرے نبی کی پیشگوئی تھی جس کی نسبت ہم نہیں کہہ سکتے کہ پہلے گزر گیا ہے یا آئندہ ہونے والا ہے۔ لیکن جس تیسرے نبی کی پیشگوئی اس نے کی ہے۔ وہ حضرت مسیح موعود ہیں۔ اور اس نے اس کا نام بھی بتایا ہے اور وہ مسیاور بھی ہے۔ بعض عیسائی اس پیشگوئی کو اپنے مسیح پر چسپاں کرتے رہے ہیں۔ لیکن یہ آپ پر چسپاں نہیں ہو سکتی۔ اس لئے کہ گو آپ کا نام بھی مسیح تھا۔ جس کی طرف مسیا کا لفظ صاف اشارہ کر رہا ہے۔ لیکن ان پر وہ نشانات صادق نہیں آتے۔ جو اس نبی کے بتائے گئے ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ دنیا کی آخری عمر میں آئے گا۔ اور اس کے زمانہ میں شیطان اور رحمنٰ کی فوجوں کی آخری جنگ ہو گی اور وہ شیطان کو قتل کرے گا۔ تلوار سے نہیں بلکہ دعاؤں سے! اور اس کے زمانہ میں بڑا امن ہو گا۔ بچے سانپوں سے کھیلیں گے۔ ان نشانات سے ظاہر ہے کہ پہلا مسیح اس پیشگوئی سے مراد نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ پہلا مسیح دنیا کا آخری مصلح نہیں۔ بلکہ دوسرا مسیح ہے۔ پس جب صاف مسیا کے نام سے زرتشت نے ایک نبی کی خبر دی تھی تو اس نام کا مستحق رَجُلٌ مِّنْ اَھْلِ الْفَارِسِ اس فارسی نبی کی خبر کا پورا کرنے والا مسیح موعود ضرور نبی ہے۔

دوسری شہادت اس سلسلہ میں کرشن نبی کی ہے حضرت مسیح موعود نے اپنی کتب میں اوتار کے معنی نبی کے تسلیم فرمائے ہیں۔ اور سری کرشن جی نے آخری زمانہ میں ایک نہہ کلنک اوتار کی خبر دی تھی جس کے زمانہ کے سب نشانات آج کل پورے ہو رہے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ نے بھی مسیح موعود کا نام کرشن رکھا ہے۔ پس آپ ہی نہہ کلنک اوتار ہیں یعنی نبی ہیں کیونکہ اوتار کے معنے نبی کے ہی ہیں۔

تیسری شہادت دانیال نبی کی ہے۔ کہ انہوں نے بھی حضرت مسیح موعود کی نسبت پیشگوئی کی ہے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں۔ آپ کا نام انہوں نے نبی رکھا ہے۔ پھر کتاب طالمود میں بھی مسیح موعود کا نام نبی رکھا گیا ہے۔

اب میں ان تمام صداقت پسندوں سے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ حق کو قبول کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہیں پوچھتا ہوں۔ کہ کیا یہ بات عقل سلیم تسلیم کر سکتی ہے کہ ایک شخص جو غیر نبی ہے اس کی نسبت ہزاروں سال پہلے سے انبیاء خبریں دے رہے تھے۔ کیا عقل اس بات کو مان سکتی ہے کہ ایک غیر نبی کی خبر ابتدائے زمانہ سے نبی دیتے آئے ہیں۔ کیا مسیح موعود کی نسبت ہر مذہب میں پیشگوئیوں کا موجود ہونا اس بات کو ثابت نہیں کرتا کہ وہ نبی ہے۔ لیکن صرف اسی پر اکتفا نہیں۔ وہ سب نبی جو مسیح موعود کی خبر دیتے ہیں اسے اوتار اور نبی کر کے یاد کرتے ہیں۔ تو کیا ان سب نبیوں کی شہادتوں کے باوجود جو انہوں نے ہزاروں سال پہلے دی تھیں۔ ہم مسیح موعود کو غیر نبی تسلیم کر سکتے ہیں۔ اور ان تمام پیشگوئیوں میں جہاں جہاں اسے نبی کر کے یاد کیا گیا ہے۔ ان سب مقامات کی یہ تاویل کر سکتے ہیں۔ کہ نبی سے مراد نبی نہیں بلکہ کسی مشابہت کی وجہ سے نبی کہہ دیا گیا ہے۔ آخر تاویل کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ ہزاروں سال پہلے ایک نبی ہند میں مسیح موعود کو نبی قرار دیتا ہے۔ تو ایک فارس میں اور ایک شام میں۔ لیکن باوجود دنیا کے عظیم الشان انبیاء کی پیشگوئیوں کے اور اسے نبی کہنے کے۔ وہ پھر بھی غیر نبی کا غیر نبی ہی رہا۔ اور سب باتوں کو جانے دو۔ صرف اسی امر کو لے کر اس پر غور کرو کہ کیا عقل اس بات کو باور کر سکتی ہے یہ عجیب غیر نبی ہے کہ نبیوں سے زیادہ اس کی نسبت ہزار ہا سال سے خبریں دی گئیں ہیں۔ اور کل دنیا کو اس کے انتظار کا شوق لگایا گیا ہے۔ لیکن جب وہ آتا ہے تو ایک غیر نبی کا غیر نبی۔ اور ایک معمولی مجدد۔ نہ اسے نبی کہہ سکتے ہیں نہ رسول اور پھر تعجب یہ ہے کہ نہ صرف اس آنے والے کی نسبت پہلے نبیوں نے نبوت ہی کی ہے۔ بلکہ اسے نبی کر کے سب پکارتے آئے ہیں۔ مگر ہمیں بتایا جاتا ہے کہ سب کا منشاء نبی سے کچھ اور ہی تھا۔ در حقیقت مسیح موعود نبی نہیں ہو سکتا۔ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ اگر کوئی شخص مُخْلَصْ بالطبّع ہو کر اس بات پر غور کرے گا۔ تو اسے اس خیال کی لغویت خود ہی معلوم ہو جائے گی۔ اور روزِ روشن کی طرح اس پر ظاہر ہو جائے گا کہ مسیح موعود ضرور نبی ہے کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک شخص کا نام قرآن کریم نبی رکھے۔ آنحضرت ﷺ نبی رکھیں۔ کرشن نبی رکھے۔ زرتشت نبی رکھے۔ دانیال نبی رکھے۔ اور ہزاروں سالوں سے اس کے آنے کی خبریں دی جا رہی ہوں۔ لیکن با وجود ان سب شہادتوں کے وہ پھر بھی غیر نبی کا غیر نبی ہی رہے اور سب پچھلے نبیوں کی بات قرآن کریم کی شہادت۔ اور آنحضرت ﷺ کے فرمان کی تاویل کر لی جائے اگر تاویل ہی کرنی ہے تو کیوں اپنے خیالات اور گمانوں کی تاویل نہ کی جائے اور کیوں بلا سبب اس قدر شہادتوں کو ان کی حقیقت سے پھیر دیا جائے؟ اور اس قدر زبردست ثبوتوں سے منہ پھیر لیا جائے۔

(۴)

چوتھی شہادت حضرت مسیح موعود کی نبوت کے متعلق خود آپ کی وحی اور الہامات ہیں جن میں کثرت سے آپ کو نبی کا خطاب دیا گیا۔ اور بعض ان میں سے ایسے ہیں جو آپ کو بار بار الہام ہوئے ہیں پس کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سینکڑوں دفعہ نبی کا خطاب دیا ہے وحی الٰہی جس میں نبی یا رسول کا خطاب دیا گیا ہے ہم ذیل میں درج کرتے ہیں۔ (۱) هُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهِ (۲) اِنِّيْ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُوْنَ۔ (۳) كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ۔ (۴) جَرِیُّ اللّٰهِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِيَاءِ (۵) مَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ۔ (۶) دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ (۷) دنیا میں ایک نبی آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا۔ اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ (۸) اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَ اَلُوْمُ مَنْ یَّلُوْمُ وَاُعْطِیْکَ مَا یَدُوْمُ۔ (۹) صَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا۔ (۱۰) لَا تَخَفْ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ (۱۱) وَ قَالُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ (۱۲) يُنَبِّئُ اللّٰهُ كُنْتَ لَا اَعْرِفُكَ ۔ (۱۳) اِنَّآ اَرْسَلْنَآ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا ۔ (۱۴) اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَ اُفْطِرُ وَ اَصُوْمُ (۱۵) یٰسٓ وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (۱۶) تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ۔ (۱۷) مبشروں کا زوال نہیں ہوتا گورنر جنرل کی پیشگوئیوں کے پورا ہونے کا وقت آگیا۔ (۱۸) سَیَقُوْلُ الْعَدُوُّ لَسْتَ مُرْسَلًا سَنَأْخُذُهٗ مِنْ مَّارِنٍ اَوْخُرْطُوْمٍ وَ اِنَّا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۔ (۱۹) یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا۔ (۲۰) قُلْ اِنِّیْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ۔ (۲۱) هُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ وَ تَهْذِیْبِ الْاَخْلَاقِ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ وَلِتَدْعُوَ قَوْمًا اٰخَرِیْنَ (۲۲) ذَرْنِیْ وَالْمُكَذِّبِیْنَ اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ اِنَّ یَوْمِیْ لَفَضْلٌ عَظِیْمٌ۔ (۲۳) اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَ مَنْ یَّلُوْمُهُ اَلُوْمُ اُفْطِرُ وَ اَصُوْمُ (۲۴) اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اُجِیْبُ اُخْطِئُ وَ اُصِیْبُ۔ (۲۵) اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ اِلَى الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ۔ (۲۶) اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَاَقْصُدُكَ وَاَرُوْمُ۔ (۲۷) اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ فَقَطْ۔ (۲۸) اِنِّیْ اَنَا الرَّحْمٰنُ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ (۲۹) اِنِّیْ اَلُوْمُ مَنْ یَّلُوْمُ وَاُعْطِیْكَ مَا یَدُوْمُ اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَ اَرُوْمُ مَا یَرُوْمُ۔ (۳۰) مقام او مبین از راہ تحقیر بدورانش رسولاں ناز کروند (۳۱) برہمن اوتار سے مقابلہ کرنا اچھا نہیں (۳۲) مَآ اَرْسَلَ نَبِیًّا اِلَّا اَخْزٰى بِهِ اللّٰهُ قَوْمًا لَا یُؤْمِنُوْنَ۔ (۳۳) اِنَّ خَبَرَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَاقِعٌ۔ (۳۴) وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا ۔ (۳۵) یٰٓاَیُّهَا النَّبِیُّ اَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَرَّ (۳۶) یُبْدِیْ لَكَ الرَّحْمٰنُ شَیْئًا اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ بَشَارَةً تَلَقَّاهَا النَّبِیُّوْنَ۔ (۳۷) اِنَّآ اَرْسَلْنَا اَحْمَدَ اِلٰی قَوْمِهٖ فَاَعْرَضُوْا وَقَالُوْا كَذَّابٌ اَشِرٌ۔ (۳۸) یَا اَحْمَدُ جُعِلْتَ مُرْسَلًا۔ (۳۹) قُلْ یٰٓاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا۔

ان الہامات کے علاوہ اور بھی بہت سے الہامات ہیں جن میں آپ کو نبی یا رسول کر کے تو نہیں پکارا گیا۔ لیکن نبیوں اور رسولوں کے ناموں سے پکارا گیا ہے کہیں آپ کو موسیٰ کہا ہے کہیں محمد کہا ہے کہیں عیسیٰ اور کہیں داؤد کہیں سلیمان کہیں ابراہیم کہیں نوح کے نام سے پکارا گیا ہے۔ غرض بہت سے انبیاء کے نام سے آپ کو پکارا گیا ہے جو مزید ثبوت ہے آپ کی رسالت و نبوت کا۔

اب یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس قدر الہامات کی موجودگی میں ہم حضرت مسیح موعود کو غیر نبی قرار دیں۔ اللہ تعالیٰ تو ایک دفعہ نہیں دو دفعہ نہیں۔ بیسیوں اور سینکڑوں دفعہ آپ کو نبی کے نام سے یاد فرماتا ہے (کیونکہ بعض الہام بار بار اور کثرت سے ہوتے تھے) اور ہم ان سب جگہ پر یہ تاویل کر لیں کہ ان سب الہامات سے مراد اسی قدر ہے کہ آپ نبی نہیں مگر نبیوں کی کوئی صفت آپ میں پائی جاتی ہے کیا اس کی نظیر دنیا میں کسی اور انسان میں بھی ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے بار بار نبی کہہ کر پکارتا ہے لیکن وہ درحقیقت نبی نہیں ہوتا۔ اور تعجب یہ ہے کہ جو آپ کا اصل عہدہ تھا اس کا تو ذکر نہیں کیا جاتا اور شاید ایک ہی جگہ آپ کو محدث کر کے پکارا گیا ہے۔ لیکن وہ نام جو آپ کو یونہی دے دیا گیا تھا۔ جب پکارتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسی نام سے پکارتا ہے۔ اور اصل عہدہ پر بالکل زور نہیں دیا جاتا۔ کیا اس امر کو عقل سلیم تسلیم کر سکتی ہے؟ کیا یہ تاویل معقول معلوم ہوتی ہے؟ اگر آپ کو پیار سے نبی کہہ دیا گیا تھا۔ یا رسول کہہ دیا گیا تھا۔ تو چاہئے تھا۔ کہ آپ کے الہامات میں کثرت سے محدث کا لفظ آتا۔ نہ یہ کہ نبی اور رسول کا لفظ آتا لیکن نبی اور رسول تو سینکڑوں دفعہ کہا گیا ہے۔ اور محدث صرف ایک ہی دفعہ کہا گیا ہے پھر کیا یہ بات ثابت نہیں کرتی۔ کہ آپ خدا تعالیٰ کے نزدیک نبی تھے۔ اور یہی وجہ تھی کہ آپ کو ہمیشہ نبیوں سے مشابہت دی جاتی تھی۔ اور پہلے مجددین میں سے صرف سید عبد القادرؒ کے نام سے آپ کو یاد کیا گیا ہے ورنہ ہمیشہ نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کے نام سے آپ کو پکارا گیا ہے جو اس بات کا زبردست ثبوت ہے کہ آپ نبی تھے۔ دنیا میں وہ کونسا نبی گزرا ہے جس کے نبی قرار دینے کے لئے کوئی اور وجہ قرار دی جاتی ہے؟ کیا سب نبیوں کو ہم اس لئے نبی نہیں مانتے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو نبی کہا۔ پھر کیا وجہ ہے۔ کہ وہی خدا جس نے موسیٰ سے کہا کہ تو نبی ہے تو وہ نبی ہو گیا۔ اور عیسیٰ سے کہا کہ تو نبی ہے تو وہ نبی ہو گیا۔ لیکن آج مسیح موعود سے کہتا ہے کہ تو نبی ہے۔ تو وہ نبی نہیں ہوتا۔ اگر نبی بنانے کے لئے کوئی اور لفظ ہوتے ہیں تو انہیں ہمارے سامنے پیش کرو جن سے ہمیں معلوم ہو سکے کہ پہلے نبیوں کو تو

اس طرح نبی کہا جاتا تھا تب وہ نبی ہوتے تھے اور مسیح موعود کو اس کے خلاف کسی اور طرح نبی کہا گیا ہے پس وہ نبی نہیں ہوئے۔ کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی یقینی وحی کی موجودگی میں کوئی شخص مسیح موعود کی نبوت کا انکار کر سکتا ہے اور جو شخص انکار کرتا ہے۔ اسے ضرور پہلے نبیوں کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ کیونکہ حضرت موسیٰؑ اور حضرت مسیح کی نبوت جن دلائل اور جن الفاظ سے ثابت ہوتی ہے ان سے بڑھ کر دلائل اور صاف الفاظ حضرت مسیح موعود کی نبوت کے متعلق موجود ہیں ان کے ہوتے ہوئے اگر مسیح موعود نبی نہیں تو دنیا میں آج تک کبھی کوئی نبی ہوا ہی نہیں۔ اور اگر وہ دلائل حضرت مسیح موعود کی نبوت ثابت نہیں کرتے۔ تو ہمارے سامنے وہ دلائل پیش کرو جن کے رو سے کسی نبی کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر ضد اور تعصب کو چھوڑ دیا جائے تو اس سے زبردست دلیل اور کیا ہو سکتی ہے۔ کہ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے متواتر تئیس سال تک نبی اور رسول کے نام سے یاد کیا ہے۔

میں حیران ہوں کہ جو لوگ حضرت مسیح موعود کی نبوت پر معترض ہیں۔ اتنا تو سوچیں کہ نبی بنانا خدا کا کام ہے یا انسان کا۔ اگر خدا کا کام ہے۔ تو وہ کسی کو نبی کس طرح بناتا ہے۔ کیا ہمیں خدا تعالیٰ کے کسی کو نبی بنانے کا علم اسی طرح نہیں ہوتا۔ کہ اس نے اسے نبی اور رسول کا خطاب دیا ہے؟ اگر اسی طرح ہمیں کسی شخص کے نبی بن جانے کا علم ہوتا ہے تو کیا حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے تئیس برس نبی اور رسول کے نام سے نہیں پکارا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آپ نبی نہ ہوئے۔ کیا انسان کی طاقت ہے کہ وہ خدا کے ہاتھ کو پکڑ لے کہ گو تو کسی کو نبی بنائے مگر ہم اسے نبی نہیں بننے دیں گے۔ حضرت مسیح موعود پر جب لوگ اعتراض کرتے تھے کہ یہ مسیح کس طرح ہو گئے۔ تو آپ جواب دیا کرتے تھے کہ یہ خدا کا کام تھا۔ اس نے کر دیا۔ اگر تم کو یہ فیصلہ منظور نہیں۔ تو جاؤ خدا سے جنگ کرو۔ میں بھی منکرین نبوت مسیح موعود سے کہتا ہوں کہ نبی بنانا خدا کا کام ہے اور اس نے اپنے حکم سے مسیح موعود کو نبی بنا دیا۔ اب اگر کسی کو اس فعل الٰہی پر اعتراض ہے۔ تو وہ خدا سے لڑے۔ مگر کیا کسی کی طاقت ہے۔ کہ جسے خدا نبی بنائے اسے وہ نبی ہونے سے روک دے۔ یہ کسی انسان کی طاقت نہیں پس نادان ہے وہ انسان جو اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے بعد پھر بھی مسیح موعود کی نبوت کو مٹانا چاہتا ہے کیونکہ جس بات کا ارادہ اللہ تعالیٰ نے کر لیا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اور جو انعام خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کو دیا ہے۔ اسے کوئی واپس نہیں کر سکتا۔ نبوت کی چادر اللہ تعالیٰ نے خود مسیح موعود کے کاندھوں پر ڈال دی ہے۔ اب کسی انسان کی طاقت نہیں کہ اس چادر کو مسیح موعود کے کاندھوں پر سے اتارے۔

(۵)

پانچویں دلیل حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبیوں کی جو تعریف قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے وہ آپ پر صادق آتی ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(72:27-28) اللہ تعالیٰ نہیں غالب کرتا اپنے غیب پر مگر اپنے پسندیدہ بندوں یعنی رسولوں کو (یعنی کثرت سے امور غیبیہ کا اظہار رسول پر ہی کرتا ہے) اور یہ شرط حضرت مسیح موعودؑ میں پائی جاتی ہے۔ یہ شرط معمولی نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم رسولوں کے سوا کسی کو اظہار علی الغیب کی طاقت نہیں دیتے پس جبکہ اظہار علی الغیب کی طاقت سوا رسولوں کے اور کسی کو ملتی ہی نہیں اور حضرت مسیح موعود کو یہ طاقت ملی ہے۔ تو آپ کی رسالت اظہر من الشمس طور سے ثابت ہو جاتی ہے۔ جس کا انکار کوئی ذی عقل کر ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ وہ شرط جو رسولوں کے سوا کسی اور میں نہیں پائی جاتی۔ وہ حضرت مسیح موعودؑ میں پائی جاتی ہے۔ پس آپ رسول ہیں۔

اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعودؑ کو اللہ تعالیٰ نے اولوالعزم رسولوں کی مانند دو طریق سے غیب پر غالب کیا ہے یعنی ایک پچھلے غیب پر اور ایک آئندہ کے غیب پر۔ پچھلے غیب سے میری مراد پچھلی پیشگوئیاں ہیں جو آپ کے وقت میں پوری ہو کر آپ کے لئے نشانِ صداقت ہوئیں۔ جب سے یہ دنیا چلی ہے۔ سب نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کی نسبت خبر دی تھی۔ کہ اس کے زمانہ میں شیطان کی اور ملائکہ کی آخری جنگ ہوگی اور بہتوں نے اس کے لئے نشان مقرر کئے تھے۔ پس وہ سب نشانات جو پہلے غیب کے طور پر تھے اس زمانہ میں مسیح موعود کے ہاتھ پر پورے ہوئے ہیں۔ اور یہ بھی ایک قسم کا اظہار علی الغیب ہے۔ کہ بیسیوں پیشگوئیاں جو بصورت غیب تھیں مسیح موعود نے ان کو ظاہر کر دیا ہے۔ اور وہ مسیح موعود کی صداقت پر شاہد ہیں۔

دوسرا طریق اظہار علی الغیب کا یہ ہے کہ آپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے ہزاروں لاکھوں نشانات دکھائے ہیں۔ اور ہزاروں غیب کی خبروں کا آپ کو قبل از وقت علم دیا ہے جو اپنے وقت پر آ کر پوری ہوئیں۔ اور ہو رہی ہیں۔ اور آئندہ ہوں گی پس واقعات پکار پکار کر اس امر کی تصدیق کر رہے ہیں کہ مسیح موعود میں وہ شرط پائی جاتی ہے۔ جو سوائے نبیوں کے اور کسی انسان میں نہیں پائی جاتی۔

علاوہ ازیں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبیوں کی نسبت یہ بھی بیان فرمایا ہے وَمَا نُرۡسِلُ(6:49) الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِیۡنَ وَمُنۡذِرِیۡنَ(6:49) یعنی ہم رسولوں کو جو بھیجتے ہیں تو ان کا کام تبشیری اور انذاری رنگ کی پیشگوئیاں کرنا ہوتا ہے۔ اس آیت میں اظہار علی الغیب کی اللہ تعالیٰ نے تفسیر فرما دی ہے کہ کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع ملنے سے یہ مراد ہے۔ کہ وہ قوموں کی ترقیوں اور تباہیوں کے متعلق ہوں۔ اور یہ شرط بھی حضرت مسیح موعود میں پائی جاتی ہے۔ پس آپ بموجب فرمودہ قرآن کریم نبی ہیں۔

(۶)

چھٹی دلیل حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے کی یہ ہے کہ اگر آپ کو نبی نہ مانا جائے ۔ تو ایک خطرناک نقص پیدا ہو جاتا ہے جو انسان کو کافر بنا دینے کے لئے کافی ہے یعنی یا تو اللہ تعالیٰ پر نعوذ باللہ من ذلک غلط بیانی کا اتہام لگانا پڑتا ہے یا حضرت مسیح موعود پر جھوٹ کا الزام اور اللہ تعالیٰ تو وہ پاک ذات ہے کہ جو سب خوبیوں کی جامع ہے۔ اور سب بدیوں سے منزہ ہے۔ اور بدی تو الگ رہی۔ بدکن سے بھی بیزار ہے۔ اور نیکی اور خوبی تو اس کی پیدا کی ہوئی ہے۔ اس کے سب کام اچھے اور ہر بات خیر والی ہے۔ قرآن کریم میں اس کی تعریف یہ بیان فرمائی ہے کہ لَہُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی(20:9) سب اچھے نام ہی اللہ کے لئے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی نقص منسوب کرنا اول درجہ کا کفر ہے۔ کہ اس سے بڑھ کر کفر اور کوئی نہیں۔ کیونکہ جو شخص خدا تعالیٰ کو نہیں مانتا۔ وہ تو پھر بھی معذور ہے لیکن جو شخص اسے مان کر پھر اس کی طرف نقص اور بدی کو منسوب کرتا ہے۔ اس سے بڑھ کر خبیث النفس اور کوئی نہیں۔ اسی طرح مسیح موعود خدا تعالیٰ کا پیارا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ گندوں اور بدکاروں اور فاسقوں کو اپنا پیارا نہیں بناتا۔ کیونکہ وہ خود پاک ہے۔ اور پاکوں سے ہی تعلق رکھتا ہے۔ اس کا رحم سب دنیا پر وسیع ہے۔ لیکن اس کا خاص تعلق اور اس کی رضاء کے مستحق صرف نیک اور راستباز انسان ہی ہوتے ہیں۔ اور چونکہ مسیح موعود اس کے مقرب بندوں میں سے ہے اس لئے اس کے صادق اور راستباز ہونے میں بھی کوئی شک نہیں ہو سکتا۔ اور جو شخص اسے کاذب قرار دے۔ وہ بھی سخت خطرہ کی حالت میں ہے۔ اور حضرت مسیح موعود کو نبی نہ قرار دینے پر اللہ تعالیٰ یا مسیح موعود دونوں میں سے ایک پر ضرور الزام لگانا پڑتا ہے۔ اور ہر دو باتیں انسان کے تباہ کر دینے والی ہیں مجھے یقین ہے کہ جن لوگوں نے حضرت مسیح موعود کی نبوت کا انکار کیا ہے انہوں نے کبھی اس امر پر پورا غور نہیں کیا۔ ورنہ مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ ان میں سے بہت سے حق پسند اور نیک فطرت اور سعید انسان اس خیال سے فوراً توبہ کر لیتے۔ اور اپنے عقیدہ پر پشیمان ہوتے اور پچھتاتے۔ اور مجھے امید ہے کہ جب ان لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ مسیح موعود کی

نبوت کا انکار کرکے کیسے خطرناک نتائج پیدا ہو جاتے ہیں تو وہ ضرور توبہ کر لیں گے کیونکہ راستباز انسان جب ایک امر کی صداقت کو معلوم کرے۔ تو فوراً اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ اور ایکدم کے لئے بھی اس سے دور ہونا پسند نہیں فرماتا۔ ہاں جو لوگ دھڑہ بندی اور خود پسندی سے کام کرنے والے ہوں۔ ان کا کوئی علاج نہیں۔ اور ان کے ماننے سے دین کو کوئی تقویت بھی حاصل نہیں ہوتی۔ بہر حال جس امر کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے وہ یہ ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں کہ فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(72:27-28) اللہ تعالیٰ کسی شخص کو غیب پر کثرت سے اطلاع نہیں دیتا۔ مگر اپنے رسولوں کو۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں کہ یہ ہماری سنت ہے کہ سوائے رسولوں کے ہم کسی پر کثرت سے غیب ظاہر نہیں کرتے۔ اب اس آیت کے مقابلہ پر حضرت مسیح موعودؑ اپنی کتب میں بار بار فرماتے ہیں جیسا کہ میں فصل دوم میں حوالہ نقل کر چکا ہوں کہ آپ پر کثرت سے اظہار غیب کیا گیا ہے۔ اب ہمارے لئے سوائے دو راہوں کے اور کوئی راہ نہیں۔

۱۔ اول تو یہ بات مان لیں۔ کہ حضرت مسیح موعود نبی تھے۔ اور آپ کا یہ فرمانا کہ مجھ پر کثرت سے اظہار غیب ہوا ہے۔ قرآن کریم کے مخالف نہیں بلکہ عین مطابق ہے۔ کیونکہ قرآن کریم بھی یہی فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کثرت سے اظہار غیب سوائے رسولوں کے اور کسی پر نہیں کرتا۔

۲۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ہم اس بات پر اصرار کریں۔ کہ حضرت مسیح موعود نبی نہ تھے۔ مگر اس صورت میں ہمیں دو باتوں میں سے ایک بات قبول کرنی ہوگی۔

اول یہ بات کہ نعوذ باللہ من ذالک اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ بات غلط بیان فرمائی ہے کہ وہ سوائے رسولوں کے اور کسی کو اظہار علی الغیب کا مرتبہ نہیں عطا فرماتا حالانکہ واقعات نے اس کی صریح تردید کردی۔ کہ مرزا صاحب کو جو غیر نبی ہیں۔ اس نے کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی ہے جو قرآن کریم کے بیان کے صریح خلاف ہے۔ پس ایک تو یہ بات ہے۔ جو مرزا صاحب کی نبوت کا انکار کرنے والے کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ اس کے بغیر مسیح موعود کی نبوت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

دوم۔ ہاں ایک اور راہ بھی ہے۔ جو مسیح موعود کی نبوت کے منکر اختیار کر سکتے ہیں۔ اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف تو غلط بیانی کو منسوب نہ کریں۔ اور نہ قرآن کریم کی تکذیب کریں۔ بلکہ یوں کہہ دیں کہ نعوذ باللہ من ذالک حضرت مسیح موعود نے غلط کہا ہے کہ آپ کو غیب پر کثرت سے اطلاع دی جاتی تھی۔ کیونکہ آپ غیر نبی تھے۔ اور نبی کے سوا کسی کو کثرت سے غیب پر اطلاع نہیں دی جاتی۔ پس یہ ممکن ہی نہیں ۔ کہ آپ کو غیب پر کثرت سے اطلاع دی گئی ہو۔

لیکن ہر ایک وہ شخص جو مسیح موعود پر ذرہ بھی ایمان رکھتا ہے۔ اس قول کے کہنے کی کبھی جرأت نہیں کر سکتا۔ اور جو یہ جرأت کرے گا۔ اس کا ایمان یقیناً سلب ہو جائے گا اور آخر بے ایمانی کی موت مرے گا۔

غرض کہ فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ(72:27) کی آیت کے ماتحت جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں تین باتوں میں سے ایک بات ضرور ماننی پڑتی ہے۔ یا تو یہ کہ حضرت مسیح موعود نبی تھے اور خدا تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے کہ سوائے رسولوں کے دوسروں پر وہ کثرت سے امور غیبیہ ظاہر نہیں کیا کرتا۔ اور حضرت مسیح موعود نے بھی کہا ہے کہ آپ پر اظہار غیب کثرت سے ہوا کرتا تھا۔ اور یا یہ کہ آپ نبی نہ تھے۔ لیکن یہ آیت نبی ہونے کے لئے حجت نہیں۔ کیونکہ یہ بات نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ نے غلط فرمائی ہے کہ وہ سوائے رسولوں کے دوسروں پر اظہار غیب کثرت سے نہیں کرتا۔ حالانکہ وہ ایسا کر دیا کرتا ہے جیسے کہ مرزا صاحب کے ساتھ اس نے ایسا ہی سلوک کیا ہے جو غیر نبی ہیں۔ یا تیسری بات یہ ماننی پڑے گی۔ کہ اللہ تعالیٰ نے تو جو کچھ فرمایا ہے درست ہی فرمایا ہے۔ لیکن حضرت مسیح موعود نعوذ باللہ غلط کہتے رہے ہیں۔ کہ آپ پر کثرت سے امور غیبیہ ظاہر کئے گئے ہیں۔ آپ تو غیر نبی تھے۔ آپ کے ساتھ یہ سلوک کس طرح ہو سکتا تھا۔

حضرت مسیح موعود کی نبوت کو مان کر یا اس سے انکار کر کے ان تینوں راہوں میں سے کوئی راہ ضرور اختیار کرنی پڑے گی۔ اور اب یہ ہر ایک شخص کا اپنا کام ہے کہ جس راہ کو چاہے اختیار کر لے۔ یا تو حضرت مسیح موعود کو نبی مان کر اللہ تعالیٰ کی طرف بھی کوئی عیب نہ منسوب کرے اور نہ حضرت مسیح موعود کو جھوٹا کہے۔ خدا اور اس کے رسول دونوں کی تصدیق کرے۔ اور یا حضرت مسیح موعود کی نبوت کا انکار کر کے خدا تعالیٰ یا مسیح موعود دونوں میں سے ایک پر جھوٹ کا اتہام اور بہتان لگاوے۔ اور اپنی آخرت تباہ کر لے۔ مجھے اس امر پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔ کہ ان دونوں راہوں میں سے کونسی راہ پر امن اور خطرات سے خالی ہے۔ اور کونسی راہ ہلاکت اور تباہی کی طرف لے جانے والی ہے۔ انسان ناواقفیت کی وجہ سے ایک بات کہہ دے تو وہ اور بات ہے۔ لیکن صداقت معلوم ہونے پر باطل پر قائم رہنا مؤمن کا کام نہیں۔ اس لئے مجھے امید ہے کہ وہ تمام اصحاب جو نبوت مسیح موعود کا انکار اس وجہ سے کر رہے تھے۔ کہ اب تک انہیں اس صداقت کا علم نہ تھا صداقت کے ظاہر ہونے کے بعد اور اس کے رد کر دینے سے جو خطرات پیدا ہو سکتے ہیں ان کے معلوم کر لینے کے بعد ایک منٹ کے لئے بھی ایسے عقیدہ پر قائم نہ رہیں گے جو بالواسطہ اللہ تعالیٰ یا اس کے مسیح موعود پر ایک مکروہ بہتان باندھنے کا باعث ہوتا ہے۔

ممکن ہے کوئی شخص یہ کہہ دے کہ اس آیت سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ سوائے رسولوں کے اور کسی پر اللہ تعالیٰ کثرت سے غیب ظاہر نہیں کرتا بلکہ ہم تو اس سے یہ مطلب لیتے ہیں کہ رسولوں پر ضرور غیب ظاہر کرتا ہے۔ باقی بھی کسی پر کر دے تو کچھ حرج نہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے۔ کہ ایسا خیال صرف جہالت اور عربی زبان سے ناواقفیت کے نتیجہ میں پیدا ہو سکتا ہے۔ ورنہ جو لوگ عربی زبان جانتے ہیں انہیں یہ خیال کبھی نہیں پیدا ہو سکتا۔ کہ اس آیت کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ رسولوں کے سوا اور لوگوں پر بھی کثرت سے امورِ غیبیہ کا اظہار ہو سکتا ہے پس ایسے شخص کو چاہئے کہ کسی عربی زبان کے واقف سے جا کر اس آیت کے معنے کرا لے پھر اعتراض کی کوشش کرے۔ اس آیت کے معنی سوائے دو کے اور تیسرے بن ہی نہیں سکتے۔ اور وہ یہ ہیں۔

۱۔ اگر مِنْ تَبْعِیْضِیَّہ مانا جائے تو اس آیت کے یہ معنی ہوں گے۔ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اپنے غیب پر کثرت سے اطلاع نہیں دیتا۔ سوائے ان کے جن پر راضی ہوتا ہے رسولوں میں سے یعنی رسولوں میں سے جن پر راضی ہوتا ہے۔ ان پر اظہارِ غیب کرتا ہے نہ کہ سب پر۔ سو اگر یہ معنی کریں۔ تب یہ مطلب نکلے گا۔ کہ اظہار علی الغیب کا مرتبہ ایسا بڑا ہے۔ کہ رسولوں میں سے بھی سب کو حاصل نہیں ہوتا۔ بلکہ بعض کو حاصل ہوتا ہے پس یہ معنے اگر کئے جائیں تب بھی اس آیت سے یہی ظاہر ہے کہ غیر تو غیر بعض رسولوں کو بھی یہ مرتبہ نہیں ملتا۔ جس سے یہ امر بالبداہت ثابت ہو جاتا ہے کہ غیر نبی کو اظہار علی الغیب کا مرتبہ کبھی نہیں دیا جاتا۔ لیکن مِنْ کو تَبْعِیْضِیَّہ بنانا بعض دوسری آیات کے خلاف ضرور معلوم ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ایک اور جگہ فرماتا ہے۔ وَمَا نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِیۡنَ وَمُنۡذِرِیۡنَ(6:49) جس سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ سب رسولوں سے تبشیر و انذار کا کام لیا جاتا ہے نہ کہ بعض سے۔ لیکن ہمارا مطلب ان معنوں سے بھی بہر حال ثابت ہے۔

۲۔ دوسرے معنی اس آیت کے یہ ہو سکتے ہیں کہ مِنْ کو بَیَانِیَّہ قرار دیا جائے اور یہ معنی کئے جائیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے بندوں یعنی رسولوں پر اظہارِ غیب کرتا ہے ان کے سوا اور کسی پر نہیں کرتا۔ ان معنوں کے رو سے سب رسولوں پر اظہار علی الغیب کا انعام ثابت ہوتا ہے نہ کہ بعض پر۔ لیکن رسولوں کے سوا اور کسی پر اظہار علی الغیب ہونے کی نفی ان معنوں کے رو سے بھی ثابت ہے پس خواہ کوئی معنے کریں یہ بات ہرگز ثابت نہیں ہوتی کہ رسولوں کے سوا اظہار علی الغیب کا انعام کسی اور پر بھی ہو سکتا ہے بلکہ یہی ثابت ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا پس اس جواب سے کوئی شخص اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکتا کہ یہ کوئی ضروری نہیں کہ اظہار علی الغیب صرف رسولوں کے لئے ہی ہو بلکہ جو شخص مسیح موعود کو نبی نہیں مانتا اسے بہرحال یا اللہ تعالیٰ پر یا حضرت مسیح موعود پر اعتراض کرنا ہو گا۔ ونعوذ باللہ من ذالک۔

میں اس جگہ حضرت مسیح موعود کی ایک تحریر بھی نقل کر دیتا ہوں جس سے معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیح موعود نے امور غیبیہ پر کثرت سے اطلاع پانے کا دعویٰ کیا ہے یا نہیں تا ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص یہی کہہ دے کہ حضرت مسیح موعود نے یہ دعویٰ ہی نہیں کیا۔ اس لئے اس آیت سے استدلال کرنا ہی جائز نہیں۔

حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔ ”خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں۔ اسے نبی کہتے ہیں۔ اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔ پس ہم نبی ہیں۔“ (بدر نمبر ۹ جلد ۷، ۵ مارچ ۱۹۰۸ء)

۷۔

ساتویں دلیل۔ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے خود اپنے آپ کو نبی کے لفظ سے پکارا۔ اگر آپ نبی نہ ہوتے تو کیوں اپنے آپ کو نبی اور رسول کر کے پکارتے۔ جن لوگوں کا نام نبی رکھ دیا جاوے وہ اس طرح اپنے آپ کو نبی کہہ کر نہیں پکارا کرتے۔ میں اس جگہ چند وہ حوالجات دیتا ہوں جن سے ثابت ہے کہ آپ نے اپنے آپ کو نبی کہا ہے۔ اور اس بات کا بار ثبوت حضرت مسیح موعود کی نبوت کے منکرین پر ہو گا کہ وہ کسی اور بزرگ یا ولی کی تحریر سے بھی اس قسم کے الفاظ دکھا دیں کہ وہ اپنی نسبت نبی کے الفاظ استعمال کیا کرتا ہو۔

حوالہ ۱۔ پگٹ جو انگلستان کا ایک جھوٹا مدعی نبوت تھا۔ اس کے خلاف اشتہار لکھا۔ اور اس کے آخر میں جہاں راقم مضمون کا نام لکھا جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود نے یہ الفاظ لکھے:۔

The Prophet Mirza Ghulam Ahmad.

(۱) ”اس امت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی برکت سے ہزارہا اولیاء ہوئے ہیں۔ اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔ (حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۰ حاشیہ)

(۲) ”جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ لگتا ہے اس کا انہیں حدیثوں میں یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی بھی ہوگا۔ اور امتی بھی“ (حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۳۱)

(۳) ”سو میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی ۔“

(۴) ”خدا تعالیٰ نے مجھے انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے۔ اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔ میں آدم ہوں۔ میں شیث ہوں۔ میں نوح ہوں میں ابراہیم ہوں۔ میں اسحق ہوں۔ میں اسمعیل ہوں۔ میں یعقوب ہوں۔ میں یوسف ہوں۔ میں موسیٰ ہوں۔ میں داؤد ہوں۔ میں عیسیٰ ہوں۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا میں مظہر اتم ہوں۔ یعنی ظلّی طور پر محمدؐ اور احمدؐ ہوں۔“ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۷۲ حاشیہ)

(۵) (الہام) يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا (ترجمہ از حضرت مسیح موعودؐ) ”اس دن زمین اپنی باتیں بیان کرے گی کہ کیا اس پر گزرا خدا اس کے لئے اپنے رسول پر وحی نازل کرے گا کہ یہ مصیبت پیش آئی ہے۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۵)

(۶) ”خدا کی مہر نے یہ کام کیا۔ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والا اس درجہ کو پہنچا کہ ایک پہلو سے وہ امتی ہے۔ اور ایک پہلو سے نبی“ (حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۹۔ ۱۰۰ حاشیہ)

(۷) ”اور خود حدیثیں پڑھتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں بنی اسرائیلی نبیوں کے مشابہ لوگ پیدا ہوں گے۔ اور ایک ایسا ہو گا کہ ایک پہلو سے نبی ہو گا۔ اور ایک پہلو سے امتی۔ وہی مسیح موعود کہلائے گا۔“ (حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۴ حاشیہ)

(۸) ”خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افاضۂ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا“ (حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۴ حاشیہ)

(۹) ”پس اس میں کیا شک ہے کہ میری پیشگوئیوں کے بعد دنیا میں زلزلوں اور دوسری آفات کا سلسلہ شروع ہو جانا میری سچائی کے لئے ایک نشان ہے یاد رہے کہ خدا کے رسول کی خواہ کسی حصہ زمین میں تکذیب ہو۔ مگر اس تکذیب کے وقت دوسرے مجرم بھی پکڑے جاتے ہیں۔“ (حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۶۵)

(۱۰) ”اور کانگڑہ اور بھاگسو کے پہاڑ کے صدہا آدمی زلزلہ سے ہلاک ہو گئے ان کا کیا قصور تھا۔ انہوں نے کونسی تکذیب کی تھی سو یاد رہے کہ جب خدا کے کسی مرسل کی تکذیب کی جاتی ہے خواہ وہ تکذیب کوئی خاص قوم کرے یا کسی خاص حصہ زمین میں ہو مگر خدا تعالیٰ کی غیرت عام عذاب نازل کرتی ہے۔“ (حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۶۶)

(۱۱) ”اور اس امتحان کے بعد اگر فریق مخالف کا غلبہ رہا۔ اور میرا غلبہ نہ ہوا تو میں کاذب ٹھہروں گا۔ ورنہ قوم پر لازم ہو گا کہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر آئندہ طریق تکذیب اور انکار کو چھوڑ دیں۔ اور خدا کے مرسل کا مقابلہ کر کے اپنی عاقبت خراب نہ کریں۔“ (حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۱)

(۱۲) ”نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔ اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں“ (حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۶-۴۰۷)

(۱۳) ”پس خدا تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق ایک نبی کے مبعوث ہونے تک وہ عذاب ملتوی رکھا اور جب وہ نبی مبعوث ہو گیا.............. تب وہ وقت آگیا کہ ان کو اپنے جرائم کی سزا دی جاوے۔“ (تتمہ حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۸۶)

(۱۴) ”میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے۔ اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔“ (تتمہ حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۰۳)

(۱۵) وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا(بنی اسرائیل: ۱۶) پس اس سے بھی آخری زمانہ میں ایک رسول کا مبعوث ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ اور وہی مسیح موعود ہے۔“ (تتمہ حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۰۰)

(۱۶) وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ(الجمعہ: ۴)..... یہ آیت آخری زمانہ میں ایک نبی کے ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیشگوئی ہے۔“ (تتمہ حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۵۰۲)

(۱۷) ”صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“ (حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۴)

(۱۸) ”جبکہ میں نے یہ ثابت کر دیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے۔ اور آنے والا مسیح میں ہوں تو اس صورت میں جو شخص پہلے مسیح کو افضل سمجھتا ہے اس کو نصوصِ حدیثیہ اور قرآنیہ سے ثابت کرنا چاہئے کہ آنے والا مسیح کچھ چیز ہی نہیں۔ نہ نبی کہلا سکتا ہے نہ حکم۔ جو کچھ ہے پہلا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی -- روحانی خزائن جلد ۲۲ ؂ ۱۵۹)

(۱۹) ”میں مسیح موعود ہوں۔ اور وہی ہوں جس کا نام سرورِ انبیاء نے نبی اللہ رکھا ہے“

(نزول المسیح صفحہ ۱۷، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۳۹۶)

(۲۰) ”میں رسول اور نبی ہوں یعنی باعتبار ظلیت کاملہ کے۔ میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدیؐ شکل اور محمدیؐ نبوت کا کامل انعکاس ہے۔“ (نزول المسیح صفحہ ۵ حاشیہ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۳۸۱)

(۲۱) ”ایسا ہی خدا تعالیٰ نے اور اس کے پاک رسولؐ نے بھی مسیح موعود کا نام نبی اور رسول رکھا ہے۔ اور تمام خدا تعالیٰ کے نبیوں نے اس کی تعریف کی ہے۔ اور اس کو تمام انبیاء کی صفاتِ کاملہ کا مظہر ٹھہرایا ہے۔“ (نزول المسیح صفحہ ۵۰، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۴۲۶)

(۲۲) ”اس فیصلہ کے کرنے کے لئے خدا آسمان سے قرنا میں اپنی آواز پھونکے گا۔ وہ قرنا کیا ہے؟ وہ اس کا نبی ہو گا۔“ (چشمۂ معرفت صفحہ ۳۲۸، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۴۴)

(۲۳) ”اس طرح پر میں خدا کی کتاب میں عیسیٰ ابن مریم کہلایا۔ چونکہ مریم ایک امتی فرد ہے اور عیسیٰ ایک نبی ہے پس میرا نام مریم اور عیسیٰ رکھنے سے یہ ظاہر کیا گیا کہ میں امتی بھی ہوں۔ اور نبی بھی۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم - روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۶۱)

(۲۴) ”خدا نے نہ چاہا کہ اپنے رسول کو بغیر گواہی چھوڑے…… قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے…… سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“ (دافع البلاء، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۲۹-۲۳۰-۲۳۱)

(۲۵) ”ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔“ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۲، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۶)

(۲۶) ”میں جبکہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیشگوئی کے قریب خدا کی طرف سے پاکر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہو گئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۶، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۱۰)

(۲۷) ”اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمدؐ اور احمد سے مسمی ہو کر میں رسول بھی ہوں۔ اور نبی بھی ہوں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۷، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۱۱)

(۲۸) ”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔“ (آخری خط حضرت اقدس مندرجہ اخبار عام ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء بحوالہ بدر ۱۱؍جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۱)

(۲۹) ”میں صرف اس وجہ سے نبی کہلاتا ہوں کہ عربی اور عبرانی زبان میں نبی کے یہ معنی ہیں کہ خدا سے الہام پا کر بکثرت پیشگوئی کرنے والا۔ اور بغیر کثرت کے یہ معنی تحقیق نہیں ہو سکتے۔۱؎

(۳۰) ”پس اسی بناء پر خدا نے میرا نام نبی رکھا ہے کہ اس زمانے میں کثرت مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ اور کثرت اطلاع بر علوم غیب صرف مجھے ہی عطا کی گئی ہے۔“

(آخری خط حضرت اقدس مندرجہ اخبار عام ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء)۲؎

(۳۱) ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ دراصل یہ نزاع لفظی ہے خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو۔ اور اس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں۔ اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔ پس ہم نبی ہیں۔“(بدر ۵؍ مارچ ۱۹۰۸ء)

(۳۲) ”جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔“

(آخری خط حضرت اقدس مندرجہ اخبار عام ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء)۳؎

(۳۳) ”میں نبی بھی ہوں اور امتی بھی ہوں تاکہ ہمارے سید و آقا کی وہ پیشگوئی پوری ہو کہ آنے والا مسیح امتی بھی ہو گا۔ اور نبی بھی ہو گا۔“ (آخری خط مندرجہ اخبار عام ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء)۴؎

(۳۴) ”یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جب آسمان سے مقرر ہو کر ایک نبی یا رسول آتا ہے تو اس نبی کی برکت سے عام طور پر ایک نور حسبِ مراتب استعدادات آسمان سے نازل ہوتا ہے۔ اور انتشارِ روحانیت ظہور میں آتا ہے تب ہر ایک شخص خوابوں کے دیکھنے میں ترقی کرتا ہے اور الہام کی استعداد رکھنے والے الہام پاتے ہیں اور روحانی امور میں عقلیں بھی تیز ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ جیسا کہ جب بارش ہوتی ہے ہر ایک زمین کچھ نہ کچھ اس سے حصہ لیتی ہے۔ ایسا ہی اس وقت ہوتا ہے جب رسول کے بھیجنے سے بہار کا زمانہ آتا ہے۔ تب ان ساری برکتوں کا موجب دراصل وہ رسول ہوتا ہے۔ اور جس قدر لوگوں کو خوابیں یا الہام ہوتے ہیں۔ دراصل ان کے کھلنے کا دروازہ وہ رسول ہی ہوتا ہے کیونکہ اس کے ساتھ دنیا میں ایک تبدیلی واقع ہوتی ہے اور آسمان سے عام طور پر ایک روشنی اترتی ہے۔ جس سے ہر ایک شخص حسبِ استعداد حصہ لیتا ہے وہی روشنی خواب اور الہام کا موجب ہو جاتی ہے اور نادان خیال کرتا ہے کہ میرے ہنر سے ایسا ہوا ہے مگر وہ چشمہ الہام اور خواب کا صرف اس نبی کی برکت سے دنیا پر کھولا جاتا ہے۔ اور اس کا زمانہ ایک لیلة القدر کا زمانہ ہوتا ہے جس میں فرشتے اترتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَنَزَّلُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوۡحُ فِیۡہَا بِاِذۡنِ رَبِّہِمۡ ۚ مِنۡ کُلِّ اَمۡرٍ(القدر: ۵-۶) جب سے خدا نے دنیا پیدا کی ہے یہی قانونِ قدرت ہے۔ منہ ("حقیقة الوحی" - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۶۹)

(۳۵) ”اس جگہ صور کے لفظ سے مراد مسیح موعود ہے کیونکہ خدا کے نبی اس کی صور ہوتے ہیں“ (چشمۂ معرفت صفحہ ۷۷، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۸۵)

(۳۶) کبھی نبی کی وحی خبر واحد کی طرح ہوتی ہے۔ اور مع ذالک مجمل ہوتی ہے۔ اور کبھی وحی ایک امر میں کثرت سے اور واضح ہوتی ہے۔.... پس میں اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ کبھی میری وحی بھی خبر واحد کی طرح ہو اور مجمل ہو۔ (لیکچر سیالکوٹ صفحہ ۳۴، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۲۵)

(۳۷) ”اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راستباز مقدس نبی گزر چکے ہیں۔ ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں۔ سو وہ میں ہوں اسی طرح اس زمانہ میں تمام بدوں کے نمونے بھی ظاہر ہوئے۔ فرعون ہو یا وہ یہود ہوں جنہوں نے حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھایا۔ یا ابو جہل ہو۔ سب کی مثالیں اس وقت موجود ہیں۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم - روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۱۷، ۱۱۸)

(۳۸) ”ایمان در حقیقت وہی ایمان ہے جو خدا کے رسول کو شناخت کرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔... ہاں جو شخص سرسری طور پر رسول کا تابع ہو گیا۔ اور اس کو شناخت نہیں کیا۔ اور اس کے انوار سے مطلع نہیں ہوا اور اس کا ایمان بھی کچھ چیز نہیں اور آخر وہ ضرور مرتد ہو گا۔ جیسا کہ مسیلمہ کذاب اور عبد اللہ بن ابی سرح اور عبید اللہ بن جحش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں۔ اور یہودا اسکریوطی اور پان سو اور عیسائی مرتد حضرت عیسیٰ کے زمانہ میں۔ اور جموں والا چراغ دین اور عبد الحکیم خان ہمارے اس زمانہ میں مرتد ہوئے۔“ (حقیقة الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۶۳)

(۳۹) ”سخت عذاب بغیر نبی قائم ہونے کے آتا ہی نہیں۔ جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا(17:16)۔ پھر یہ کیا بات ہے کہ ایک طرف تو طاعون ملک کو کھا رہی ہے اور دوسری طرف ہیبت ناک زلزلے پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اے غافلو! تلاش تو کرو شاید تم میں خدا کی طرف سے کوئی نبی قائم ہو گیا ہے جس کی تم تکذیب کر رہے ہو۔“ (تجلیات الٰہیہ ص ۹ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۰۰، ۴۰۱)

آٹھویں دلیل۔ حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے پر یہ ہے کہ قرآن کریم میں نبیوں کے

متعلق جو انعامات بتائے ہیں۔ ان سب سے آپ نے حصہ وافر لیا۔ اور وہ سب حالات جو نبیوں کے متعلق قرآن کریم نے بتائے ہیں وہ بھی آپ کے متعلق پورے ہوئے۔ پس وہ باتیں جو اللہ تعالیٰ نبیوں کے متعلق فرماتا ہے جب سب کی سب آپ میں پائی جاتی ہیں تو کس طرح ہم آپ کو نبی نہ کہیں۔ مثال کے طور پر چند آیات قرآنیہ ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔

(۱) وَاِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ(البقرہ: ۲۴) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی یہ معجزہ دیا گیا۔

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ بِالۡحَقِّ بَشِیۡرًا وَّنَذِیۡرًا(البقرہ: ۱۲۰) آپ بھی حق لے کر اور بشیر و نذیر ہو کر آئے۔ آپ کو اپنی جماعت کے حق میں بڑی بڑی عظیم الشان بشارتیں دی گئیں۔ اور مخالفین کے حق میں بڑی بڑی انذاری پیشگوئیاں کی گئیں۔

(۳) تِلۡکَ الرُّسُلُ فَضَّلۡنَا بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ۘ مِنۡہُمۡ مَّنۡ کَلَّمَ اللّٰہُ وَرَفَعَ بَعۡضَہُمۡ دَرَجٰتٍ ؕ وَاٰتَیۡنَا عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ الۡبَیِّنٰتِ وَاَیَّدۡنٰہُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ(البقرہ: ۲۵۴) آپ میں یہ سب خصوصیات موجود ہیں۔

(۴) وَاِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیۡتُکُمۡ مِّنۡ کِتٰبٍ وَّحِکۡمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمۡ لَتُؤۡمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنۡصُرُنَّہٗ(آل عمران: ۸۲) یہ وصیت آنحضرت ﷺ کی بابت کی گئی تھی۔ آپ کے متعلق بھی آنحضرتؐ نے وصیت فرمائی۔ کہ اسے میری طرف سے سلام کہنا اور فرمایا۔ كَيْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ فِيْكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ وَاِمَامُكُمْ مِّنْكُمْ؟

(۵) لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیۡہِمۡ وَیُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَالۡحِکۡمَۃَ ۚ وَاِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ(آل عمران: ۱۶۵) یہ سارے کام بھی آپ نے کئے۔ اور آپ ایسے وقت میں آئے جب کہ قرآن آسمان پر اٹھایا جا چکا تھا۔ اور ایمان ثریا پر جا چکا تھا۔

(۶) رُسُلًا مُّبَشِّرِیۡنَ وَمُنۡذِرِیۡنَ لِئَلَّا یَکُوۡنَ(4:166) لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ(النساء: ۱۶۶)۔ آپ ایسے زمانہ میں آئے جبکہ اگر نہ بھیجے جاتے تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق لوگوں کو اعتراض کا حق تھا۔ (۷) یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ قَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمۡ عَلٰی فَتۡرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا جَآءَنَا مِنۡۢ بَشِیۡرٍ وَّلَا نَذِیۡرٍ ۫ فَقَدۡ جَآءَکُمۡ بَشِیۡرٌ وَّنَذِیۡرٌ(المائدہ: ۲۰)۔ (۸) قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ ثُمَّ انۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ(الانعام: ۱۲)۔ آپ کے منکرین و مخالفین پر بھی اسی طرح تباہیاں آئیں۔ (۹) قُلۡ اَیُّ شَیۡءٍ اَکۡبَرُ شَہَادَۃً ؕ قُلِ اللّٰہُ ۟ۙ شَہِیۡدٌۢ بَیۡنِیۡ وَبَیۡنَکُمۡ(الانعام: ۲۰)۔ آپ کی صداقت بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی طرح طرح کی شہادتوں کے ساتھ ثابت کی۔ (۱۰) وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ(الانعام: ۲۲)۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر طرح سے کامیابی بخش کر آپ کی صداقت ثابت کی۔ (۱۱) وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمۡ یَتَضَرَّعُوۡنَ(الانعام: ۴۳)۔ آپ کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کے مصائب قحط۔ زلازل بیماریاں بھیجیں۔ (۱۲) وَمَا نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِیۡنَ وَمُنۡذِرِیۡنَ(الانعام: ۴۹)۔ آپ کو بھی اپنی قوم موافقین و مخالفین کے حق میں بڑی بڑی تبشیری اور انذاری خبریں دی گئیں۔ (۱۳) ذٰلِکَ اَنۡ لَّمۡ یَکُنۡ رَّبُّکَ مُہۡلِکَ الۡقُرٰی بِظُلۡمٍ وَّاَہۡلُہَا غٰفِلُوۡنَ(الانعام: ۱۳۲)۔ اس زمانہ میں جس قدر عالمگیر تباہیاں دنیا میں آئیں۔ اگر اس زمانہ میں کسی رسول کا آنا نہ تسلیم کیا جائے تو اس آیت کی تکذیب لازم آئے گی۔ (۱۴) وَاِنۡ کَانَ طَآئِفَۃٌ مِّنۡکُمۡ اٰمَنُوۡا بِالَّذِیۡۤ اُرۡسِلۡتُ بِہٖ وَطَآئِفَۃٌ لَّمۡ یُؤۡمِنُوۡا فَاصۡبِرُوۡا(7:88)

حَتّٰی یَحۡکُمَ اللّٰہُ بَیۡنَنَا ۚ وَہُوَ خَیۡرُ الۡحٰکِمِیۡنَ(الاعراف: ۸۸)۔ اس معیار کے رو سے بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کی صداقت ثابت کی ۔ اور اپنی نصرت کے نشانوں کے ساتھ ظاہر کر دیا کہ حق کس کے ساتھ ہے۔

وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِیۡنَ وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ(الاعراف: ۱۳۱) آپ کے زمانہ میں جس قدر خشک سالی اور قحط نے زور آور حملے کئے وہ کچھ محتاج بیاں نہیں۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِیۡبُوۡا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحۡیِیۡکُمۡ(الانفال: ۲۵) اس اظہر من الشمس نشان سے کوئی چشم بینا انکار نہیں کر سکتی۔

اَوَلَمۡ یَرَوۡا اَنَّا نَاۡتِی الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُہَا مِنۡ اَطۡرَافِہَا(الرعد: ۴۲) اللہ تعالیٰ دن بدن آپ کی جماعت کو بڑھا رہا ہے اور مخالفین کو کم کر رہا ہے۔ بعض کو سلسلہ حقہ میں داخل کر کے اور بعض کو ہلاک کر کے۔

وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا(بنی اسرائیل: ۱۶) اس زمانہ میں جو عذاب آ رہے ہیں وہ اس آیت کے ماتحت دلالت کرتے ہیں کہ کوئی رسول آگیا۔

وَلَوۡ اَنَّـاۤ اَہۡلَکۡنٰہُمۡ بِعَذَابٍ مِّنۡ قَبۡلِہٖ لَقَالُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَیۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّذِلَّ(طهٰ: ۱۳۵) یہ آیت بھی صاف طور پر بتا رہی ہے کہ کوئی رسول اس زمانہ میں خدا کی طرف سے آچکا ہے۔

وَمَاۤ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَرۡیَۃٍ اِلَّا لَہَا مُنۡذِرُوۡنَ(الشعراء: ۲۰۹)

فَوَہَبَ لِیۡ رَبِّیۡ حُکۡمًا وَّجَعَلَنِیۡ مِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ(الشعراء: ۲۲) آپ فرماتے ہیں مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم اور مرسل بنا کر بھیجا ہے۔

وَیَوۡمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیۡہِ یَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِی اتَّخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِیۡلًا(الفرقان: ۲۸) آپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہ آیت الہام فرمائی

(۲۳) وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُہۡلِکَ الۡقُرٰی حَتّٰی یَبۡعَثَ فِیۡۤ اُمِّہَا رَسُوۡلًا یَّتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا ۚ وَمَا کُنَّا مُہۡلِکِی الۡقُرٰۤی اِلَّا وَاَہۡلُہَا ظٰلِمُوۡنَ(القصص: ۶۰) عام عذاب اور تباہی آتی ہی نہیں جب تک کوئی رسول نہ آجائے۔ اس زمانہ میں جیسی عالمگیر تباہی طرح طرح سے آئی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ اس جگہ کوئی شخص یہ اعتراض نہیں کر سکتا کہ غدر ۵۷ء کے وقت کونسا رسول آیا ہوا تھا فلاں تباہی کے وقت کونسا نبی آیا تھا کیونکہ آنحضرت ﷺ کل عالم کے لئے نبی ہیں۔ اس لئے آپ کی ظلیت میں جو نبی آئے گا ضرور ہے کہ وہ بھی تمام عالم کی طرف آئے۔ پس اس کی تکذیب و مخالفت پر تباہی بھی عالمگیر ہی آنی ضروری ہے۔ مگر آنحضرت ﷺ کے بعد عالمگیر تباہی صرف مسیح موعود کے وقت میں آئی۔

(۲۴) یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیۡرًا وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذۡنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیۡرًا(الاحزاب: ۴۶، ۴۷) یہ سب باتیں آپ میں موجود ہیں۔

(۲۵) وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیۡرًا وَّنَذِیۡرًا(سبا: ۲۹) یہ خصوصیت بھی آپ میں موجود ہے۔

(۲۶) اِنَّا لَنَنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَیَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡاَشۡہَادُ(المؤمن: ۵۲) اللہ تعالیٰ نے بڑے زور سے آپ کی تائید فرمائی۔ جیسا کہ پہلے سے آپ کو خبر دی گئی تھی کہ ”دنیا میں ایک نذیر آیا۔ پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“

(۲۷) ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَدِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ(الفتح: ۲۹) اس آیت میں مسیح موعود کی بابت پیشگوئی ہے اور رسولہ سے آپ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس پر اکثر مفسرین کا بھی اتفاق ہے۔ پھر یہ آیت آپ پر بھی الہاماً

نازل ہوئی۔ اور آپ کا دعویٰ ہے کہ میں اس کا مصداق ہوں۔ اور خدا تعالیٰ نے اسی زمانہ میں آپ کے ہاتھ سے ہی حسب وعدہ دینِ اسلام کو تمام ادیان پر غلبہ بخشا۔

(۲۸) وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ لَاَخَذۡنَا مِنۡہُ بِالۡیَمِیۡنِ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡہُ الۡوَتِیۡنَ(الحاقة: ۴۵-۴۷) اس آیت کو بھی آپ نے اپنے اوپر چسپاں کیا ہے۔

(۲۹) وَّاَنَّہُمۡ ظَنُّوۡا کَمَا ظَنَنۡتُمۡ اَنۡ لَّنۡ یَّبۡعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا(الجن: ۸) اس زمانہ میں بھی لوگوں نے یہی سمجھا ہوا تھا۔

(۳۰) عٰلِمُ الۡغَیۡبِ فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(الجن: ۲۷-۲۸) اس آیت کو بیسیوں جگہ آپ نے اپنے اوپر چسپاں کیا ہے۔

(۳۱) وَاِنۡ یَّکُ کَاذِبًا فَعَلَیۡہِ کَذِبُہٗ ۚ وَاِنۡ یَّکُ صَادِقًا یُّصِبۡکُمۡ بَعۡضُ الَّذِیۡ یَعِدُکُمۡ(المؤمن: ۲۹) اس آیت کے دونوں پہلو آپ کی صداقت کو روزِ روشن کی طرح ثابت کر رہے ہیں: اگر آپ کا دعویٰ نعوذ باللہ جھوٹا ہوتا تو مطابق آیت فَعَلَيْهِ كَذِبُهٗ کے صادقوں والی عمر نہ پاسکتے۔ اور آپ کی پیشگوئیوں کی صداقت ثابت نہ ہوتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو دعوائے الہام کے بعد تیس برس سے ڈیڑھ چند سے بھی زیادہ عرصہ عمر دی۔ اور آپ کی پیشگوئیوں کو موافقوں اور مخالفوں پر پورا کر کے آپ کی صداقت ثابت کردی۔

(۳۲) قَالَ لَہُمۡ مُّوۡسٰی وَیۡلَکُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا فَیُسۡحِتَکُمۡ بِعَذَابٍ ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰی(طٰہٰ: ۶۲) اس آیت میں اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنے والوں کے دو نشان بتائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کی بیخ کنی کی جاتی ہے۔ دوم یہ کہ انہیں ناکام رکھا جاتا ہے ان دونوں معیاروں کے رو سے آپ کی صداقت ثابت ہے۔

نویں دلیل

آپ کی نبوت پر یہ ہے کہ جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ نبی کے لئے یہ شرط نہیں کہ وہ جدید شریعت لائے یا یہ کہ پہلے نبی کا متبع نہ ہو۔ اور جب آپ نے نبوت کے متعلق انکار کیا ہے تو یہی کہا ہے کہ میں شریعتِ جدیدہ نہیں لایا۔ اور نہ میں نے براہِ راست نبوت پائی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ نبوت کے مدعی تھے کیونکہ آپ نے ان چیزوں سے انکار نہیں کیا جو نبوت کے لئے شرط ہیں۔

دسویں دلیل۔

جب کبھی حضرت مسیح موعود پر اعتراض ہوا کہ آپ نبوت کے مدعی ہیں تو اس کا جواب آپ نے یہ نہیں دیا۔ کہ میں نبی نہیں ہوں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نبی تھے۔ ورنہ معترضین کے جواب میں یہ کہہ دینا آسان تھا کہ میں تو نبی نہیں ہوں مگر ۱۹۰۱ء کے بعد جب جواب دیا ہے یہی دیا ہے کہ میں ایسا نبی نہیں ہوں جو شریعت لائے یا بلا واسطہ نبوت پائے ورنہ آسان بات تھی آپ صاف جواب دے دیتے کہ میں نبی نہیں ہوں۔ مگر آپ نے ایسا کبھی نہیں کیا۔

گیارہویں دلیل۔

حضرت مسیح موعود کے دعوے کے متعلق جب ایک شخص سے سوال ہوا کہ کیا وہ دعوائے نبوت کرتے ہیں؟ تو اس نے جواب دیا کہ نہیں ایسا کوئی دعویٰ نہیں اس پر حضرت مسیح موعود نے ایک غلطی کا ازالہ نامی ایک اشتہار شائع کیا۔ اور اس شخص کو ڈانٹا۔ اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ اگر آپ ویسے ہی نبی ہوتے جیسے لوگ کہتے ہیں۔ کہ صرف آپ کا نام نبی رکھا گیا ہے تو آپ نے غلطی کا ازالہ اشتہار کیوں شائع کیا۔ معترض نے تو یہ اعتراض کیا تھا کہ کیا ان کا دعویٰ نبی ہونے کا ہے اور مجیب نے جواب میں کہا کہ نہیں ایسا کوئی دعویٰ نہیں اگر حضرت مسیح موعود کا ایسا کوئی دعویٰ نہ تھا اور آپ نبی نہ تھے تو اشتہار کیوں دیا۔ دعویٰ تو وہ کہلاتا ہے جس میں انسان کسی درجہ پانے کا مدعی ہوتا ہے نہ کہ نام دعویٰ کہلاتا ہے مثلاً ایک شخص کا نام کمال الدین ہو اور اس سے کوئی شخص یہ سوال کرے کہ کیوں صاحب کیا آپ نے دین کے کمال ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو وہ اس کے جواب میں یہ کبھی نہ کہے گا۔ کہ ہاں میں نے یہ دعویٰ کیا ہے کیونکہ نام پانا دعویٰ نہیں کہلاتا۔ اور اس کا دین کا کمال ہونے کے دعویٰ کے انکار سے اس پر جھوٹ کا الزام نہ آئے گا۔ اسی طرح مثلاً ایک شخص حکیم صاحب کے نام سے مشہور ہو اور کوئی شخص اس سے پوچھے کہ جناب کیا آپ حکیم صاحب ہیں تو وہ کہہ سکتا ہے کہ ہاں لیکن اگر اس سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا آپ حکیم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس کا جواب وہ یہ دے گا کہ نہیں مجھے حکیم ہونے کا کوئی دعویٰ نہیں اور یہی جواب درست ہوگا۔ اسی طرح جب ایک احمدی سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا تمہارے پیر نے دعوٰی نبوت کیا ہے تو اگر حضرت مسیح موعود واقع میں نبی نہ ہوتے بلکہ صرف نام پایا ہوتا تو اس احمدی کا انکار بالکل درست اور راست تھا۔ لیکن حضرت مسیح موعود اس پر ایک اشتہار شائع کرتے ہیں کہ یہ اس کی غلطی تھی جس سے صاف ثابت ہے کہ آپ کو دعوائے نبوت تھا۔ اور آپ نبی تھے۔

بارھویں دلیل۔

حضرت مسیح موعود حقیقتہ الوحی کے صفحہ ۳۹۱ پر فرماتے ہیں۔ ”بلکہ خدا تعالٰی کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت کے افاضہ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا“ اس حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود کو صرف نام نبی نہیں دیا گیا تھا بلکہ آپ واقع میں نبی تھے کیونکہ آپ فرماتے ہیں ”مجھے نبوت کے ۳؎ مقام تک پہنچایا“ اگر آپ نبی نہ ہوتے تو یہ نہ فرماتے کہ نبوت کے مقام تک مجھے پہنچایا۔ بلکہ یہ فرماتے کہ گو فیضان نبوت تو اب بند ہو چکا تھا اور میں نبی نہ ہو سکتا تھا لیکن اللہ تعالٰی نے مجھے نبی نام دے دیا۔ لیکن آپ اس کی بجائے یہ فرماتے ہیں کہ مقام نبوت تک پہنچایا۔ بعض لوگ جو حضرت صاحب کے نبی ہونے کو ایسا ہی قرار دیتے ہیں جیسے آدمی کو شیر کہہ دینا وہ اس کا جواب دیں کہ جس آدمی کو شیر کہتے ہیں کیا اس میں شیر کی سب کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر نہیں تو جبکہ حضرت مسیح موعود صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ نبوت کے مقام تک مجھے پہنچایا۔ اس کا یہ مطلب کیونکر لیا جا سکتا ہے کہ آپ نبی نہ تھے بلکہ نام رکھ دیا گیا تھا۔ نبوت کا منصب بھی جب آپ کو دیا گیا۔ اور نبی نام بھی ہو گیا۔ تو آپ کے نبی ہونے میں کیا کسر باقی رہ گئی۔

تیرھویں دلیل

مذکورہ بالا حوالہ سے ہی حضرت مسیح موعود کی نبوت کا ایک اور بھی ثبوت ملتا ہے اور وہ یہ کہ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے آنحضرت کا فیضان ثابت کرنے کے لئے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا ہے۔ اب اگر اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ کا نام نبی رکھ دیا گیا ہے تو اس سے افاضہ کا کیا ثبوت ملا آنحضرت کا افاضہ تو تب ثابت ہوتا ہے جب نبوت ملے نہ کہ کسی کا نام نبی رکھ دینے سے آپ کا فیضان ثابت ہو جاتا ہے۔ ایک استاد کا فیضان یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے شاگرد کو لائق بنائے نہ یہ کہ اس کے شاگرد کا نام لائق رکھ دیا جائے کالجوں کے پروفیسروں کی لیاقت اس طرح ثابت ہوا کرتی ہے کہ ان کے شاگرد بی اے یا ایم اے میں واقعی طور پر کامیاب ہو جائیں یا اس طرح ثابت ہوتی ہے کہ ان کے انٹرنس پاس طالب علم کا نام بی اے یا ایم اے رکھ دیا جائے؟ اس قسم کا افاضہ تو بچوں میں ہوتا ہے کہ ایک بادشاہ بن جاتا ہے اور کسی کو پھانسی کا حکم دے دیتا ہے اور کسی کو وزیر بنا دیتا ہے اور کسی کو کمانڈر مقرر کر دیتا ہے اور کسی کو امیر الامراء بنا دیتا ہے مگر یہ سب نام ہی نام ہوتے ہیں اس کے اندر حقیقت کوئی نہیں ہوتی۔ اور ان کی اس کارروائی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس مصنوعی بادشاہ میں بڑی طاقت ہے کہ جو چاہتا ہے کرتا ہے بلکہ اس کی حقیقت ایک کھیل سے زیادہ نہیں ہوتی۔ پس آنحضرت ﷺ کی قوتِ افاضہ اس بات سے ثابت نہیں ہو جاتی کہ آپ کی امت میں سے ایک شخص کا نام نبی رکھ دیا جائے کیونکہ اس کا افاضہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں نام تو خدا تعالیٰ نے رکھا ہے آنحضرت ﷺ کے افاضہ کا اس سے کیا ثبوت ملا؟ آپ کے افاضہ کا ثبوت تب ملے کہ آپ کی اتباع میں واقعی کوئی شخص نبی بن جائے اور آپ کی شاگردی اس کے قلب کے اندر ایسی طہارت اور صفائی پیدا کر دے کہ اس کا دل مصفّٰی آئینہ کی طرح ہو جائے ورنہ نام رکھنے سے کچھ نہیں بنتا۔ ایک مصور کا کمال اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ اس کی تصویر واقعہ میں اعلیٰ درجہ کی ہو یا اس طرح کہ اس کی کسی تصویر کی لوگ تعریف شروع کر دیں؟ اگر وہ واقع میں اعلیٰ تصویر نہیں تو اس کے ہنر کا کوئی ثبوت نہیں اسی طرح آنحضرت ﷺ کے کسی شاگرد کا نام نبی رکھنے سے آپؐ کے افاضہ کا کمال ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ آپؐ کے افاضہ کا کمال اسی طرح ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی شاگردی میں واقع میں کوئی شخص نبیوں کے کمالات حاصل کرے۔ اگر واقع میں کوئی شخص نبیوں کے مقام تک آپ ﷺ کی اتباع سے نہیں پہنچ سکتا تو صرف کسی کا نام نبی رکھ دینے سے آپؐ کے افاضہ کا کمال ثابت نہیں ہو سکتا۔ غرض کہ حضرت مسیح موعود کا یہ فرمانا کہ رسول اللہ ﷺ کے افاضہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے مقام نبوت پر پہنچایا ثابت کرتا ہے کہ آپؐ کو واقع میں نبی بنا دیا گیا۔ ورنہ کسی اور معنے کے رو سے آنحضرت ﷺ کے افاضہ کا کمال ثابت نہیں ہوتا۔

چودھویں دلیل حضرت مسیح موعود حقیقۃ الوحی میں فرماتے ہیں:۔

”اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی ۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا۔ اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی“ (حقیقۃ الوحی — روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۳-۱۵۴)

اس عبارت سے یہ نتائج نکلتے ہیں ایک تو یہ کہ آپ کسی زمانہ میں مسیح سے اپنے آپ کو افضل نہ قرار دیتے تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ اسے نبی سمجھتے تھے اور اپنے آپ کو غیر نبی۔ اس لئے اس پر اپنے آپ کو فضیلت نہ دیتے تھے۔ دوسرا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ نے اپنی وحی میں نبی کے صریح لفظ کو دیکھ کر آخر کار اس عقیدہ کو بدل دیا اور مسیح پر اپنے افضل ہونے کا اعلان کیا۔ ان دونوں نتیجوں کو ملائیں تو تیسرا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آپ واقع میں نبی تھے نہ کہ آپ کا نام نبی تھا کیونکہ آپ مسیح سے افضل ہیں اور غیر نبی نبی پر من کل الوجوہ افضل نہیں ہو سکتا پس آپ فی الواقع نبی ہیں ورنہ نبی نام پانے سے کوئی شخص نبی سے افضل نہیں ہو سکتا جس کا ثبوت یہ ہے کہ جس وقت حضرت مسیح موعود حضرت مسیح ناصری سے اپنے آپ کو افضل نہیں قرار دیتے تھے اس وقت بھی نبی کے نام پانے کے مدعی تھے کیونکہ مسیح سے افضل نہ ہونے کا عقیدہ تریاق القلوب میں بھی درج ہے جو ۱۸۹۹ء کی تصنیف ہے اور جزوی نبی ہونے کا یا نبی نام پانے کا دعوٰی توضیح مرام میں بھی موجود ہے جو ۱۸۹۱ء میں شائع ہوئی جس سے ثابت ہوا کہ صرف نام پانے والا یا جزوی نبی بھی اصلی نبی سے افضل نہیں ہو سکتا۔ اور جو شخص کسی نبی سے افضل ہو گا وہ ضرور نبی ہو گا اور چونکہ حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کو مسیح سے افضل کہا ہے اس لئے آپ واقع میں نبی تھے نہ کہ آپ کا نام اسی طرح نبی رکھ دیا گیا تھا جس طرح آدمی کو شیر کہہ دیتے ہیں۔

پندرھویں دلیل

حضرت مسیح موعود اپنی کتاب نزول المسیح کے صفحہ ۶ حاشیہ پر تحریر فرماتے ہیں:۔

”دونوں سلسلوں کا تقابل پورا کرنے کے لئے یہ ضروری تھا کہ موسوی مسیح کے مقابل پر محمدی مسیح بھی شانِ نبوت کے ساتھ آوے تا اس نبوت عالیہ کی کسرِشان نہ ہو اس لئے خدا تعالیٰ نے میرے وجود کو ایک کامل ظلیت کے ساتھ پیدا کیا اور ظلی طور پر نبوت محمدیؐ اس میں رکھ دی تا ایک معنی سے مجھ پر نبی اللہ کا لفظ صادق آوے اور دوسرے معنوں سے ختمِ نبوت محفوظ رہے۔“ (روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۳۸۲) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود کے نزدیک سلسلہ محمدیہ سلسلہ موسویہ کا مقابلہ تبھی کر سکتا تھا کہ جس طرح اس کا آخری خلیفہ نبی تھا۔ اس کا آخری خلیفہ بھی نبی ہو۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو سلسلہ محمدیہ کی کسر شان ہے اور یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسی نقص کو دور کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبی بنایا۔ اس حوالہ پر غور کرو یہ بھی حضرت مسیح موعود کی نبوت پر ایک روشن دلیل ہے کیونکہ اگر یہی مانا جائے جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نبی نہ تھے بلکہ آپ محدث تھے اور نبی آپ کا نام صرف جزوی کمالات کی وجہ سے رکھ دیا گیا تھا تو مذکورہ

بالا دلیل جو حضرت مسیح موعود نے دی ہے باطل ہو جاتی ہے کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ محمدی سلسلہ کا مسیح بھی موسوی سلسلہ کے مسیح کی طرح شان نبوت کے ساتھ آنا چاہئے تھا تا نبوت محمدیہ کی کسر شان نہ ہو۔ اب اگر اس سے مراد صرف نام ہے درجہ نبوت نہیں تو نام سے کام نہیں چل سکتا۔ کیا محمدیؐ سلسلہ کے آخری خلیفہ کا نام نبی رکھ دینے سے وہ مسیح کے برابر ہو سکتا ہے؟ اور کیا اس سے محمدی سلسلہ کی شان نقص سے پاک ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ جبکہ محمدیؐ مسیح غیر نبی کا غیر نبی ہی رہا تو اس کا نام نبی رکھ دینے سے وہ محدث کی بجائے نبی کس طرح بن سکتا ہے۔ اور محمدیؐ سلسلہ موسوی سلسلہ کا مقابلہ کس طرح کر سکتا ہے؟ اس طرح نام بدل بدل کر تو عزت کبھی قائم نہیں رہ سکتی اور یہ تو آنحضرت ﷺ کی ہتک ہے کہ آپ اپنی عزت اس طرح قائم کرتے ہیں کہ اپنے امتیوں کا نام نبی رکھ دیتے ہیں تا موسوی سلسلہ سے مشابہت ہو جائے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ اپنے درسوں میں ایسے ہی موقع کی نسبت فرمایا کرتے تھے کہ بعض لوگ صرف نام سے برابر ہونا چاہتے ہیں۔ اور ایک واقعہ سناتے تھے کہ ہمارے ضلع میں ایک عورت نے اپنے بیٹے کا نام خان بہادر رکھا میں نے اس سے دریافت کیا کہ تو نے یہ نام کیوں رکھا ہے تو اس نے جواب دیا کہ ہمارے خاندان کے کئی آدمیوں کو گورنمنٹ نے خان بہادر کا خطاب دیا ہے ہم غریب لوگ ہیں خیر ہے ہمارے بیٹے کو یہ خطاب مل سکے گا یا نہیں وہ اس لائق ہو گا یا نہیں۔ اس لئے میں نے اپنے شریکوں کی برابری کرنے کے لئے اس کا نام ہی خان بہادر رکھ دیا ہے۔ اب گورنمنٹ خطاب دے یا نہ دے لوگ تو اسے خان بہادر ہی کہہ کر پکارا کریں گے۔ لیکن کیا اس سے وہ عورت اور اس کا لڑکا واقع میں ان امراء کے برابر ہو گئے۔ اور کیا نام بدلنے سے ان کی حیثیت بھی بدل گئی؟ اگر نہیں تو جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسیح موعود نبی نہیں اتنا تو خیال کریں کہ اس خیال سے آنحضرت ﷺ کی کس قدر ہتک ہوتی ہے۔ مسیح موعود فرماتے ہیں کہ اگر مسیح محمدی شان نبوت سے نہ آتا تو محمدی سلسلہ کی کسر شان تھی لیکن یہ لوگ کہتے ہیں کہ محمدی مسیح واقع میں نبی نہ تھا بلکہ غیر نبی محدث کو بعض مشابہتوں کی وجہ سے نبی کا نام دے دیا گیا تھا۔ اب بتاؤ کہ اس خیال سے آنحضرت ﷺ کی کسر شان ہوتی ہے یا نہیں۔ کیا یہ معاملہ خان بہادر والے معاملہ کے مشابہ نہیں بن جاتا؟ پھر کیوں اس عقیدہ کے پیچھے پڑے ہو جس سے آنحضرت ﷺ کی ہتک ہوتی ہے توبہ کرو توبہ۔ تا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں نہ پڑ جاؤ۔ خوب یاد رکھو کہ محمدی سلسلہ کی شان اسی صورت میں قائم رہتی ہے کہ اس کا آخری خلیفہ بھی نبی ہو اور سچا نبی ہو نہ کہ ایسا نبی کسی کا نام نبی رکھ دیا جائے اور وہ صرف ایک محدث ہی ہو۔ مسیح موعود کے نبی ہونے کے بغیر آنحضرت ﷺ کی ہتک ہوتی ہے اور اسے ایک محدث قرار دیتے ہیں جس نے نبی کا نام پالیا ہے محمدی سلسلہ کی کسرشان ہے اور اللہ تعالیٰ رحم کرے اس شخص پر جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہے اور مسیح موعود کو محدث ثابت کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ کی کسرشان کرتا ہے۔

اس حوالہ سے یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ براہِ راست نبوت پانے سے نبی کا درجہ بلند نہیں ہو جاتا۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ محمدیؐ سلسلہ کی عظمت اس طرح قائم ہو جاتی ہے کہ اس کے آخر میں بھی ایک نبی ہو پس اگر براہِ راست نبوت پانے والا ہی نبی ہوتا ہے یا بڑا درجہ رکھتا ہے۔ تو ایک امتی نبی کے بھیج دینے سے وہ نقص دور نہ ہو سکتا تھا جس کے دور کرنے کے لئے وہ بھیجا گیا اور چونکہ حضرت مسیح موعود کے نزدیک ایک امتی نبی کے آنے سے کسرشان کا خطرہ جاتا رہا۔ اس سے معلوم ہوا کہ امتی نبی ہونا درجہ کو کم نہیں کر دیتا۔

شاید کوئی شخص اس جگہ یہ اعتراض کرے کہ اگر آخری خلیفہ کے نبی نہ ہونے سے محمدی سلسلہ کی کسرشان ہوتی تھی تو کیوں درمیانی خلفاء کے نبی نہ ہونے سے محمدی سلسلہ کی ہتک نہیں ہوتی تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض مسیح موعود پر ہے نہ مجھ پر۔ آپ ایسا فرماتے ہیں۔ میں نے یہ بات اپنی طرف سے تو نہیں بنائی۔ لیکن اعتراض کو قبول کر کے میں اس کا جواب دیتا ہوں کہ جب کسی شئے کا اول اور آخر مل جائے تو وہ برابر ہو جاتی ہے اور درمیانی حصہ کا مقابلہ کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ دوم یہ کہ موسوی سلسلہ کے نبی حضرت موسیٰ کے فیضان سے نبی نہ بنے تھے لیکن محمدیؐ سلسلہ کا خلیفہ آنحضرت ﷺ کے فیضان سے نبی بنا ہے۔ اور یہ ایک ایسی عظمت ہے جس کا مقابلہ حضرت موسیٰ نہیں کر سکتے ہیں۔ اس ایک نظیر نے محمدی سلسلہ کو موسوی سلسلہ پر وہ فضیلت دے دی کہ اب اس پر کوئی اعتراض نہیں آ سکتا۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کا درجہ استادی ثابت ہو گیا۔ اور موسوی سلسلہ پر محمدی سلسلہ کی فضیلت ثابت ہو گئی اور اسی کا ثابت کرنا مدّ نظر تھا۔

(۱۶) قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا(بنی اسرائیل: ۱۶) ہم اس وقت تک عذاب نازل نہیں کیا کرتے جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیں اور دوسری جگہ فرماتا ہے کہ وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُہۡلِکَ الۡقُرٰی حَتّٰی یَبۡعَثَ فِیۡۤ اُمِّہَا رَسُوۡلًا یَّتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا ۚ وَمَا کُنَّا مُہۡلِکِی الۡقُرٰۤی اِلَّا وَاَہۡلُہَا ظٰلِمُوۡنَ(القصص: ۶۰) یعنی تیرا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا جب تک کہ اس علاقہ کے اس مقام میں جو اس کا مرکز ہونے کی اہلیت رکھتا ہے کوئی رسول مبعوث نہ کر دے۔ جو ان لوگوں پر ہماری آیات پڑھ کر سنائے۔ اور نہ ہم ہلاک کرنے والے تھے بستیوں کو۔ مگر اس صورت میں کہ اس کے باشندے ظالم ہو جائیں۔ ان دونوں آیات سے ثابت ہے۔ کہ اس وقت تک کوئی عام عذاب الٰہی نہیں آتا۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی رسول مبعوث نہ ہو۔ لیکن اس زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایسی تباہیاں اور عذاب آ رہے ہیں کہ اس سے پہلے اس کی نظیر نہیں ملتی۔ پس یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ اس وقت کوئی رسول دنیا میں مبعوث ہوا ہے اور حضرت مسیح موعود نے چونکہ اس آیت کو اپنے اوپر چسپاں کیا ہے اس لئے آپ کی رسالت کے ماننے کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

(۱۷) حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔ ”ہمارا نبی ﷺ اس درجہ کا نبی ہے کہ اس کی امت کا ایک فرد نبی ہو سکتا ہے اور عیسیٰ کہلا سکتا ہے۔ حالانکہ وہ امتی ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم – روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۵۵)

یہ عبارت بھی حضرت مسیح موعود کی نبوت پر شاہد ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود آنحضرت ﷺ کی بلند شان کا یہ ثبوت دیتے ہیں کہ آپؐ کی امت کا ایک شخص نبی ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو ہی نہیں سکتا۔ تو پھر یہ فضیلت ایک بناوٹی فضیلت ٹھہرتی ہے۔ کیونکہ جو چیز ہے ہی نہیں اسے فرض کر کے فضیلت ثابت نہیں ہو سکتی۔ حضرت مسیح موعود کے قول سے تو صاف ثابت ہے کہ اس امت میں سے نبی ہو سکتا ہے کیونکہ آپ اس بات کو آنحضرت ﷺ کی فضیلت قرار دیتے ہیں۔ پس اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ اس امت میں نبی آ ہی نہیں سکتا تو حضرت مسیح موعود کی یہ دلیل غلط جاتی ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کی جناب سے جو فیضان جاری ہی نہیں۔ اس کی بناء پر آپ کی فضیلت ثابت کرنی درست نہیں لیکن چونکہ حضرت مسیح موعود اسے فضیلت آنحضرتؐ بتاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بعد نبی آسکتا ہے۔ اور جب نبی کا آنا منع نہ ہوا۔ تو مسیح موعود کی نبوت ثابت ہے۔

۱۸۔ اب میں ایک زبردست دلیل دیتا ہوں۔ جس سے روزِ روشن کی طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ایسا نبی جو فی الواقعہ نبی ہو۔ آسکتا ہے۔ جو اپنے درجہ میں نبیوں میں شامل ہو گا نہ کہ محدثوں میں۔ اور یہ کہ حضرت مسیح موعود ایسے ہی نبی ہیں۔ حضرت مسیح موعود محدثیت کی نسبت ۳؍ فروری ۱۸۹۲ء کے اشتہار میں لکھتے ہیں۔ ”اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے بلکہ صرف محدث مراد ہے جس کے معنے آنحضرت ﷺ نے مکلم مراد لئے ہیں۔ یعنی محدثوں کی نسبت فرمایا ہے۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَةَ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ فِيْمَنْ قَبْلَكُمْ مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ رِجَالٌ يُكَلَّمُوْنَ مِنْ غَيْرِ اَنْ يَّكُوْنُوْا اَنْبِيَاءَ فَاِنْ يَّكُ فِيْ اُمَّتِیْ مِنْهُمْ اَحَدٌ فَعُمَرُ(صحیح بخاری کتاب المناقب باب مناقب عمر بن الخطابؓ)، تو پھر مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کی دلجوئی کے لئے اس لفظ کو دوسرے پیرایہ میں بیان کرنے سے کیا عذر ہو سکتا ہے سو دوسرا پیرایہ یہ ہے کہ بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو (یعنی لفظ نبی کو) کاٹا ہوا خیال فرمالیں۔“ (ماخوذ از اشتہار حضرت مسیح موعود ۳؍فروری ۱۸۹۲ء) اس عبارت سے مفصلہ ذیل نتائج نکلتے ہیں:۔

(۱) یہ کہ محدث نبی نہیں ہوتا بلکہ کسی مشابہت کی وجہ سے اس کا نام نبی رکھ دیا جاتا ہے

(۲) یہ کہ محدث سے صرف مکلم مراد ہے یعنی جس سے خدا تعالیٰ کا کلام ہو تا ہو نہ کہ نبی۔

(۳) یہ کہ ایسے محدث بنی اسرائیل میں بہت گزرے ہیں۔

(۴) یہ کہ اس امت میں سے بھی ایسے محدثوں کے ہونے کی امید ہے۔

(۵) یہ کہ حضرت مسیح موعود نے جہاں جزوی نبی کا لفظ اپنی کتابوں میں لکھا تھا اس سے مراد صرف محدث تھا۔ اور لوگوں کو چاہئے کہ اسے کاٹ کر محدث ہی لکھ دیں۔

یہ وہ نتائج ہیں جو حضرت مسیح موعود کی مذکورہ بالا تحریر سے نکلتے ہیں۔ اور نہ صرف یہ کہ آپ کی تحریر سے نکلتے ہیں۔ بلکہ صحیح بخاری کی حدیث سے آپ ان کی صحت پر دلیل لاتے ہیں۔ اور اس طرح اس قول کو اور بھی مضبوط کر دیتے ہیں۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے۔ کہ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی گزرے ہیں جن کو الہام تو ہوا کرتا تھا لیکن وہ نبی نہ تھے۔ پس اگر میری امت میں سے ایسے آدمی ہوئے تو عمرؓ ضرور ہوں گے۔

غرض کہ اس حوالہ سے ثابت ہے کہ بنی اسرائیل میں محدث بہت سے گزرے ہیں۔ اب میں ایک اور حوالہ حضرت مسیح موعود کا نقل کرتا ہوں۔ آپ ختم نبوت کی تشریح میں فرماتے ہیں:۔

”وہ خاتم الانبیاء بنے مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا۔ بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحبِ خاتم ہے۔ بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔ اور اس کی امت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ کا دروازہ کبھی بند نہ ہو گا۔ اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔ ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے۔“ (حقیقة الوحی — روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۹-۳۰)

اِس حوالہ سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں۔

(۱) یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیّین ہونے کے یہ معنے نہیں کہ آپؐ کے بعد فیضِ روحانی بند ہے۔ بلکہ یہ معنے ہیں۔ کہ آپؐ کے بعد ایسا فیضان جاری ہے۔

(۲) یہ کہ آپؐ کے فیضان سے ایک ایسی نبوت ملتی ہے جو پہلے کسی نبی کی اطاعت سے نہیں ملتی تھی۔ اور اس نبوت کا پانے والا امتی نبی کہلاتا ہے۔

اب پہلے حوالہ اور اِس حوالہ کو ملا کر دیکھو۔ کیا نتیجہ پیدا ہوتا ہے۔ پہلے حوالہ میں فرماتے ہیں۔ کہ محدث جسے جزوی نبی بھی کہہ سکتے ہیں۔ پہلی امتوں میں ہوتے رہے ہیں۔ اور اس حوالہ میں فرماتے ہیں۔ کہ امتی نبی وہ درجہ ہے جو پہلے نبیوں کی اتباع سے نہیں ملا کرتا تھا۔ اور ان کا درجہ ایسا بڑا نہ تھا کہ ان کی اتباع سے کوئی فرد ان کی امت کا نبی بن جائے۔

پس ان حوالوں کو ملا کر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پہلی امتوں میں محدث یا جزوی نبی تو ہوتے تھے۔ لیکن پہلے نبیوں میں اس قدر طاقت نہ تھی کہ ان کے فیضان سے امتی نبی ہو سکے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں صرف محدثیت ہی جاری نہیں۔ بلکہ اس سے اوپر نبوت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کیونکہ محدث یا جزوی نبی کا درجہ تو وہ ہے جو پہلی امتوں کے بعض افراد کو بھی مل جایا کرتا تھا لیکن امتی نبی کا وہ درجہ ہے جو پہلے رسولوں کی اتباع سے نہیں مل سکتا تھا۔ کیونکہ وہ خاتم النبیّین نہ تھے۔ اور جزوی نبی کے اوپر کا درجہ سوائے نبی کے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جزو کے بعد کُل ہی ہوتا ہے۔ پس یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ مگر نبوت صرف آپؐ کے فیضان سے مل سکتی ہے۔ براہِ راست نہیں مل سکتی۔ اور پہلے زمانہ میں نبوت براہِ راست مل سکتی تھی۔ کسی نبی کی اتباع سے نہیں مل سکتی تھی۔ کیونکہ وہ اس قدر صاحب کمال نہ تھے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور جبکہ نبوت کا دروازہ علاوہ محدثیت کے امتِ محمدیہ میں کھلا ثابت ہو گیا۔ تو یہ بھی ثابت ہو گیا کہ مسیح موعود بھی نبی اللہ تھے۔ نہ یہ کہ آپؐ کا اصل درجہ تو محدث ہونے کا تھا۔ نبی کا خطاب بعض مشابہتوں کی وجہ سے دے دیا گیا۔ کیونکہ آپؐ کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی کہا ہے۔

اگر کوئی شخص کہے کہ یہ بات آپ نے کہاں سے نکال لی۔ کہ محدث پہلے نبیوں کی اتباع سے ہو سکتے تھے؟ حدیث میں تو یہ ہے کہ ایسے لوگ بنی اسرائیل میں ہوا کرتے تھے۔ یہ تو نہیں فرمایا۔ کہ وہ امتی بھی ہوا کرتے تھے۔ پس ہم ان دونوں حوالوں کو ملا کر یہ نتیجہ نکالتے ہیں۔ کہ رسول اللہ الصلٰوۃ والسلام کے زمانہ سے پہلے تو محدث بھی براہِ راست ہوا کرتے تھے۔ لیکن آپؐ کی امت میں محدث آپؐ کے واسطہ سے ہونے لگے ہیں تو اس کا یہ جواب ہے۔ کہ یہ بات تو آپ نے اپنے پاس سے لگائی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے تو صرف انبیاء کی نسبت لکھا ہے کہ ان کو براہِ راست نبوت ملا کرتی تھی۔ محدثوں کی نسبت کہیں نہیں لکھا کہ ان کو بھی محدثیت براہِ راست ملا کرتی تھی۔ پس بلا وجہ نئی شرط لگانے کی کوئی وجہ نہیں۔ یا تو اس دعوے کا ثبوت قرآن کریم سے دینا چاہئے یا حدیث سے یا پھر مسیح موعودؑ کے کلام سے لیکن تینوں جگہ اس ثبوت کے مہیا کرنے میں ناکامی اور نامرادی ہو گی پس اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ محدث کے علاوہ اس سے بڑھ کر ایک اور نبوت ہے جو پہلے نبیوں کے فیض سے نہیں مل سکتی تھی۔ صرف نبی کریم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے فیض سے مل سکتی ہے حالانکہ محدثیت پہلی امتوں کو بھی مل جاتی تھی۔ اور اب بھی مل جاتی ہے۔ لیکن وہ نبوت پہلی امتوں کو نہیں ملتی تھی اب مل جاتی ہے۔ اور محدثیت چونکہ جزوی نبوت کا نام ہے اس لئے وہ نبوت سوائے نبیوں والی نبوت کے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ اور جبکہ نبوت کا دروازہ کھلا ہوا ۔ تو مسیح موعودؑ جسے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے بھی نبی کہا ہے اور خدا تعالیٰ نے بھی تو اس کے نبی ہونے میں کوئی شک نہیں رہا۔

علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعودؑ اس نبوت کے لئے جو آنحضرت صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی اتباع سے مل سکتی ہے۔ نہ کہ کسی اور نبی کی اتباع سے یہ شرط لگاتے ہیں۔ کہ اس کے لئے امتی ہونا ضروری ہے۔ پس اگر اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ پہلے محدث بغیر فیضانِ انبیاءِ سابقین کے محدث بن جاتے تھے تو یہ بھی ماننا ہو گا۔ کہ وہ امتی نہ ہوتے تھے۔ کیونکہ امتی کے یہ معنے ہیں کہ وہ جو کچھ پائے اپنے نبی کے فیضان سے پائے اور جس شخص نے نبوت کی طرح محدثیت بلا اتباع کسی پرانے نبی کے حاصل کی۔ وہ امتی نہیں کہلا سکتا۔ اور نبی تو وہ ہے ہی نہیں۔ کیونکہ محدث درحقیقت نبی نہیں ہوتا۔ بلکہ بعض مشابہتوں کی وجہ سے اسے جزوی نبی کہہ سکتے ہیں۔ (دیکھو اشتہار ۳؍ فروری ۱۸۹۲ء)

پس اس صورت میں ماننا پڑے گا۔ کہ نبی اور امتی کے سوا کوئی اور گروہ بھی ہوتا ہے جو نہ نبی ہوتا ہے نہ امتی۔ کیونکہ محدث اگر براہِ راست محدث بنے تو نہ نبی کہلا سکتا ہے نہ امتی لیکن اس گروہ کا ہونا محال ہے۔ ہر ایک گروہ جو اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے وہ دو حالت سے خالی نہیں یا نبی ہے یا امتی۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ نہ نبی ہو اور نہ امتی ہو۔ گو یہ ہو سکتا ہے کہ نبی بھی ہو اور امتی بھی۔ کیونکہ اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ ہے تو نبی۔ لیکن اس نے دوسرے نبی کے واسطے سے نبوت پائی ہے۔ اور اس کی امت میں سے ہے۔ اور یہ بات محال نہیں ہے۔ پس محدثیت کی نسبت یہ کہہ ہی نہیں سکتے کہ وہ براہ راست مل سکتی ہے۔ اور بہر حال ماننا پڑے گا کہ پہلے نبیوں کی امت میں محدث یعنی جزوی نبی ہوتے تھے اور اسلام میں بھی محدث یعنی جزوی نبی ہوتے ہیں۔ لیکن پہلے نبیوں کے فیض سے نبوت نہیں مل سکتی تھی۔ اور آنحضرت ﷺ کے فیض سے نبوت مل سکتی ہے اور جب نبوت مل سکتی ہے تو مسیح موعود نبی ہوئے نہ کہ محدث۔

(۱۹) حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ(62:4) ”یہ آیت آخری زمانہ میں ایک نبی کے ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیشگوئی ہے۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ایسے لوگوں کا نام اصحاب رسول اللہ رکھا جاوے۔ جو آنحضرت ﷺ کے بعد پیدا ہونے والے تھے۔ جنہوں نے آنحضرت ﷺ کو نہیں دیکھا۔ آیت ممدوحہ بالا میں یہ تو نہیں فرمایا وَاٰخَرِيْنَ مِنَ الْاُمَّةِ بلکہ یہ فرمایا وَاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ اور ہر ایک جانتا ہے کہ مِنْهُمْ کی ضمیر اصحاب رضی اللہ عنہم کی طرف راجع ہے۔ لہٰذا وہی فرقہ منہم میں داخل ہو سکتا ہے۔ جس میں ایسا رسول موجود ہو۔ کہ جو آنحضرت ﷺ کا بروز ہے۔ اور خدا تعالیٰ نے آج سے چھبیس برس پہلے میرا نام براہین احمدیہ میں محمدؐ اور احمدؐ رکھا ہے اور آنحضرت ﷺ کا بروز مجھے قرار دیا ہے۔“ (تتمہ حقیقت الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۰۲)

اس حوالہ کے لئے تو کسی طول طویل تشریح کی ضرورت ہی نہیں۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ وَاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ میں ایک گروہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جو صحابہؓ کی مانند ہو گا اور صحابہ کی مانند وہ گروہ ہو نہیں سکتا۔ جب تک اس میں رسول بھی موجود نہ ہو۔ پس آپ رسول ہیں۔ اور ایسے رسول ہیں کہ جیسے رسول پہلے اس امت میں نہیں گزرے۔ یعنی آپ جزوی نبی یا رسول نہیں ہیں کیونکہ وَاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ کی آیت کو تو حضرت مسیح موعود نے اپنے پر چسپاں کیا ہے۔ بلکہ بعض جگہ صاف الفاظ میں اپنی ہی جماعت کی نسبت اٰخَرِیْنَ کے لفظ پر حصر کیا ہے۔ اور اگر آپ سے پہلے بھی کوئی رسول اسی قسم کا مانا جائے جیسے کہ آپ تھے تو اس کی جماعت بھی وَاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ کے ماتحت صحابہ رسول اللہ بن جائے گی۔ لیکن چونکہ اس امت میں سوائے حضرت مسیح موعود کی جماعت کے کسی جماعت کو آخرین نہیں قرار دیا گیا۔ معلوم ہوا کہ رسول بھی صرف مسیح موعود ہیں اور چونکہ محدثین تو پہلے بہت گزر چکے ہیں۔ اس لئے یہ بھی ثابت ہوا کہ مسیح موعود کی رسالت محدثیت والی نہیں۔ کیونکہ باوجود محدث ہونے کے پہلے لوگ اس آیت کے مصداق نہ بن سکے جس میں ایک رسول کی خبر دی گئی تھی۔

(۲۰) کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ چونکہ خاتم النبیّین ہیں۔ اس لئے خواہ کسی کو الہامات میں کتنی دفعہ ہی نبی کے نام سے پکارا جائے تب بھی وہ نبی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ نبوت کا سلسلہ تو بند ہو گیا۔ اب اگر نام رکھ دیا جائے تو رکھ دیا جائے اور محدّث بوجہ الہام پانے کے جزوی نبی کہلائے تو کہلائے۔ مگر نبی فی الواقع نہیں ہو سکتا۔ لیکن حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔ ”میں ولایت کے سلسلہ کو ختم کرنے والا ہوں۔ جیسا کہ ہمارے سید آنحضرت ﷺ نبوت کے سلسلہ کو ختم کرنے والے تھے۔ اور وہ خاتم الانبیاء ہیں۔ اور میں خاتم الاولیاء ہوں۔ میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہ جو مجھ سے ہو گا۔ اور میرے عہد پر ہو گا۔“ (خطبہ الہامیہ صفحہ ۳۵۔۴۱، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۶۹-۷۰)

اس عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود خاتم الاولیاء ہونے کا دعویٰ فرماتے ہیں۔ اب دیکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود کے نزدیک خاتم کے وہی معنی ہیں جن کے ذریعہ سے آئندہ نبیوں کا سلسلہ روکا جاتا ہے۔ تو خاتم الاولیاء کے یہ معنی کرنے پڑیں گے کہ اب دنیا میں کوئی ولی نہیں ہو سکتا۔ بلکہ کبھی اگر خدا تعالیٰ کسی کا نام ولی رکھ بھی دے۔ تو اس سے یہ مطلب نہ ہو گا۔ کہ وہ ولی ہو گیا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب صرف اس قدر ہو گا کہ اس کا نام ولی رکھ دیا گیا ہے۔ ورنہ وہ ولی نہیں۔ لیکن اگر یہ معنی نہیں بلکہ یہ ہیں کہ حضرت مسیح موعود کے بعد کوئی شخص ولی نہیں بن سکتا جب تک آپؑ کی فرمانبرداری کا جُوا اپنی گردن پر نہ رکھے۔ تو خاتم النبیّین کے معنے بھی یہی ہیں کہ کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا۔ جب تک آنحضرت ﷺ کی غلامی نہ اختیار کرے۔ ورنہ نبوت کا دروازہ مسدود نہیں۔ اور جبکہ بابِ نبوت کھلا ہوا ہے تو مسیح موعود بھی ضرور نبی ہے۔

گو نبوت کے دلائل تو بہت سے ہیں۔ لیکن اس جگہ اسی قدر پر کفایت کی جاتی ہے۔ میں خیال کرتا ہوں۔ کہ اگر سب دلائل جمع کئے جائیں تو ایک سو سے زائد دلائل مسیح موعود کی نبوت پر مل سکتے ہیں جنہیں کسی اور موقعہ پر پیش بھی کیا جا سکتا ہے مگر فی الحال اسی قدر کافی ہیں۔ اور حق پسند انسان کی ہدایت کے لئے اس سے زیادہ کی حاجت نہیں۔

دلائلِ نبوت میں میں نے نبی اور رسول دونوں کے حوالے نقل کئے ہیں لیکن ممکن ہے کہ کوئی شخص کہہ دے کہ یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ(72:27) والی آیت اور بعض اور دلائل میں رسول کا لفظ ہے نہ نبی کا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے خود اس آیت کا مطلب یہ نکالا ہے کہ یہ نبوت کی شرط ہے پس جبکہ مسیح موعود نے نبی اور رسول میں فرق نہیں کیا ۔ تو کسی احمدی کا حق نہیں کہ فرق کرے ۔ اور اگر کرے بھی تو پھر بھی اسے کچھ فائدہ نہیں۔ کیونکہ جن لوگوں نے ان دونوں ناموں میں فرق کیا بھی ہے وہ رسالت کے درجہ کو نبوت کے درجہ سے بلند قرار دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہر نبی رسول نہیں۔ لیکن ہر رسول نبی بھی ہے۔ پس اگر رسالت سے رسالت ہی مراد لو تب بھی رسالت کے ثابت ہوتے ہی نبوت خود ثابت ہو جائے گی۔

اس سوال کا جواب کہ کیا مسیح موعودؑ کے سوا کوئی اور نبی بھی اس امت میں گزرا ہے یا نہیں؟

ایک یہ سوال بھی کیا جاتا ہے کہ اس امت میں مسیح موعود کے سوا کوئی اور بھی نبی گزرا ہے یا نہیں تو اس کا جواب مختصر تو یہ ہے کہ نہیں۔ اور سب سے پہلے اس بات کے لئے بطور دلیل خود آنحضرت ﷺ کی احادیث کو پیش کیا جاسکتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے صرف ایک شخص کا نام نبی رکھا ہے۔ اور ہمارا حق نہیں کہ آپ کے حکم کے سوا اور کسی کا نام نبی رکھ دیں پھر یہی نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے صرف مسیح موعود کا نام نبی رکھا ہے بلکہ یہ بھی فرما دیا ہے کہ لَیْسَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَہٗ نَبِیٌّ یعنی اس کے اور میرے درمیان کوئی اور نبی نہیں۔ پس خاتم الانبیاء کی گواہی کے باوجود ہم کسی کو نبی کس طرح کہہ سکتے ہیں۔ نبی تو وہ شخص ہو سکتا ہے جس کی صداقت پر آنحضرت ﷺ کی مہر ہو۔ اور آپ مسیح سے پہلے اس امت کے کسی اور آدمی کی نبوت پر مہر صداقت لگانے سے انکار فرماتے ہیں۔ پس ہم بھی اس بات پر مجبور ہیں کہ مسیح موعود سے پہلے اس امت میں کسی اور امتی نبی کے وجود سے انکار کر دیں۔

دوسری شہادت اس بات کی تائید میں کہ حضرت مسیح موعود سے پہلے کوئی اور ولی یا بزرگ یا محدث نبی نہیں ہوا۔ گو بوجہ محدثیت جزوی نبوت ان لوگوں میں پائی جاتی ہو ۔ خود حضرت مسیح موعود کی اپنی تحریریں ہیں۔ اور مسیح موعود وہ شخص ہے جس کو رسول اللہ ﷺ حَکَم وعدل بیان فرماتے ہیں۔ پس اس کا فیصلہ رد کرنا کسی مومن کا کام نہیں ہو سکتا۔ آپ فرماتے ہیں:۔ ”غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کیلئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔ اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔ کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی (حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۶-۴۰۷)

اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اس امت میں اپنے سے پہلے کسی اور شخص کے نبی ہونے سے قطعی انکار کیا ہے۔ پس جب مسیح موعود کہتا ہے کہ امت محمدیہؐ میں اس وقت تک صرف میں ہی ایک شخص ہوں جو نبی کہلانے کا مستحق ہوں تو اب بتاؤ کہ جو لوگ ہر بزرگ اور ولی کو نبی بنا رہے ہیں اور اس طرح مسیح موعود کی نبوت کو باطل کرنا چاہتے ہیں ان کا کیا حال ہوگا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے حضرت مسیح موعود ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۲۸ حاشیہ پر فرماتے ہیں کہ:۔

”جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے۔ اور ہر ایک حال میں مجھے حَکَم ٹھہراتا ہے اور ہر ایک تنازعہ کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا۔ اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے۔ پس جانو کہ وہ مجھ میں سے نہیں ہے کیونکہ وہ میری باتوں کو جو مجھے خدا سے ملی ہیں عزت سے نہیں دیکھتا۔ اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں۔“ (روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۶۴)

اور پھر کتاب نزول المسیح میں فرماتے ہیں:۔

”اور وہ جو خدا کے مأمور اور مرسل کی پورے طور پر اطاعت کرنا نہیں چاہتا اس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔ اور وہ جو خدا کے مأمور اور مرسل کی باتوں کو غور سے نہیں سنتا۔ اور اس کی تحریروں کو غور سے نہیں پڑھتا۔ اس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔ سو کوشش کرو کہ کوئی حصہ تکبر کا تم میں نہ ہو تاکہ ہلاک نہ ہو جاؤ۔“ (نزول المسیح صفحہ ۴۲ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۴۰۳)

پس ہر ایک مؤمن پر فرض ہے کہ مسیح موعود کی تحریروں کی قدر کرے۔ اور ان کو اپنے خیالات کے مطابق بنانے کی بجائے اپنے خیالات ان کے مطابق بنائے۔ اور مسیح موعود کے فیصلہ کو رد نہ کرے اور نہ اس کے الفاظ کو الٹ پھیر کر اپنے مطلب پر پھیرے کہ یہ ایک خطرناک گناہ ہے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کا یہ مطلب ہے کہ احادیث میں چونکہ صرف مسیح کا نام نبی رکھا گیا ہے۔ اس لئے اس نام سے وہ مخصوص ہے۔ ورنہ نبی تو سب محدث تھے۔ لیکن یہ لوگ اس قدر خیال نہیں کرتے کہ حضرت مسیح موعود صرف یہی تو نہیں فرماتے کہ میں اس نام سے مخصوص ہوں۔ تاہم خیال کرلیں کہ آپ کی یہ خصوصیت ہے۔ کہ آپ کو حدیث میں بھی نبی کر کے پکارا گیا ہے بلکہ آپ تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ شرطِ نبوت پہلے بزرگوں میں پائی نہیں جاتی۔ اور جب شرطِ نبوت نہیں پائی جاتی۔ تو پھر وہ نبی کس طرح ہو سکتے ہیں۔ غرض کہ حضرت مسیح موعود کے الفاظ صاف ہیں۔ آپ نہ صرف یہ کہ اپنے آپ کو نبی کے نام پانے کا ایک ہی مستحق قرار دیتے ہیں بلکہ فرماتے ہیں کہ پہلے اولیاء میں وہ شرط ہی پائی نہیں جاتی۔ اس لئے وہ نبی ہو ہی نہیں سکتے۔

اس حوالہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت محدثوں والی جزوی نبوت نہ تھی۔ کیونکہ محدث تو اس امت میں پہلے بھی بہت سے گزر چکے ہیں۔ پھر اگر آپ کی نبوت محدثیت والی جزوی نبوت ہوتی۔ تو وہ محدث بھی حضرت مسیح موعود کے ساتھ نبوت میں شریک ہوتے لیکن با وجود اس کے کہ اس امت میں بہت سے محدث گزرے ہیں۔ جن میں جزوی نبوت تسلیم کی جاسکتی ہے۔ پھر بھی حضرت مسیح موعود ان کی نسبت فرماتے ہیں کہ ان میں شرطِ نبوت نہیں پائی جاتی۔ اور مجھ میں پائی جاتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود محدثیت کی جزوی نبوت سے اوپر کسی اور نبوت کے مدعی تھے۔

جناب مولوی محمد علی صاحب نے اپنے رسالہ میں ایک تقسیم کی ہے کہ ایک کیفیت نبی کی نبوت کی ہے اور ایک محدث کی نبوت کی۔ لیکن اگر کوئی غور سے دیکھے تو وہ تقسیم ان کی اپنی خود ساختہ ہے۔ نبی کی اصل تعریف کو انہوں نے محدثیت کی نبوت کے ماتحت رکھ کر حضرت صاحب کو محدثوں میں شامل کرنا چاہا ہے حالانکہ مسیح موعود سب محدثوں کو اس شرط کے پورا کرنے سے قاصر ظاہر فرما کر اپنے آپ کو اس امت کے باقی سب افراد سے علیحدہ کرتے ہیں۔ مولوی صاحب نے ایسی ہی بات کی ہے جیسے کوئی شخص مثلاً ڈاکٹر کی یہ تعریف کرے کہ ڈاکٹر وہ ہوتا ہے جو ولایت کا پاس یافتہ ہو۔ اور اس تعریف کی بناء پر جس قدر اسٹنٹ سرجن ہیں ان کے ڈاکٹر ہونے سے انکار کر دیوے۔ مولوی صاحب نے بھی یہی کیا ہے۔ نبوت کی بعض خصوصیتوں کو اصل نبوت قرار دے کر اور ان نبیوں کے خصوصی نام لکھ کر کہہ دیا کہ دیکھو یہ نبیوں والی نبوت ہوتی ہے اور یہ حضرت مرزا صاحب میں پائی نہیں جاتی۔ حالانکہ وہ نبوت ہے ہی نہیں وہ تو بعض خصوصیتیں ہیں۔ نبوت کی جو تعریف تھی

اس کو محدثیت کی تعریف سے ملا کر ایک طرف رکھ دیا ہے اور لکھ دیا ہے۔ یہ محدثوں والی نبوت ہوتی ہے کوئی پوچھے کہ جناب نے قرآن کریم کی کس آیت سے یہ تعریف نکالی ہے۔ حضرت مسیح موعود تو فرماتے ہیں کہ جو شرط نبوت ہے۔ وہ اس امت کے اور کسی بزرگ میں نہیں پائی جاتی۔ اور آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود اپنی نبوت محدثوں والی نبوت قرار دیتے رہے۔ اگر آپ کی نبوت محدثوں والی تھی تو آپ محدثوں سے اپنی علیحدگی کیوں ظاہر فرماتے ہیں اور کیوں کہتے ہیں کہ جس شرط کے پائے جانے پر میں نبی ہوں وہ پہلے بزرگوں ولیوں اور اقطاب میں نہیں پائی جاتی لیکن حضرت مسیح موعود کے اس صریح فیصلہ کے ہوتے ہوئے اب دو ہی راہیں ہیں یا تو مسیح موعود کو نبی قبول کیا جائے یا یہ کہہ دیا جائے کہ حضرت مسیح موعود ہیں تو محدث ہی۔ لیکن آپ پہلے بزرگوں کو شرط نبوت سے اس لئے محروم قرار دیتے ہیں کہ دراصل اب تک مسلمانوں میں کوئی محدث ہوا ہی نہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب ہو گا کہ اب تک امت محمدیہؐ میں کوئی شخص مکالمات و مخاطبات کے شرف سے مشرف کیا ہی نہیں گیا جو بالبداہت باطل ہے۔ اور پھر یہ بھی ہو گا کہ وہ سب لوگ جن کو جناب مولوی صاحب اور ان کے دوستوں کی طرف سے محدث قرار دے کر نبوت کا خطاب دیا گیا تھا۔ ان سب سے بھی یہ خطاب واپس لینا پڑے گا۔ اور پھر مرزا صاحب ایک ہی فرد رہ جائیں گے۔ جنہوں نے کسی قسم کی نبوت پائی ہے۔ اور یہی خصوصیت ہے جس کے مٹانے کے لئے اس قدر جوش دکھایا جاتا ہے۔ غرض سوائے اس کے کوئی چارہ ہی نہیں کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت کو محدثوں کی نبوت سے علیحدہ نبوت قرار دیا جائے۔ اور وہ ایک ہی نبوت ہے یعنی نبیوں کی نبوت۔ اور اگر کوئی تیسری نبوت اور ہے تو اس کا ثبوت دیا جائے اور بتایا جائے کہ ایک نبوت نبیوں کی ہوتی ہے۔ ایک محدثوں کی نبوت ہوتی ہے۔ اور ایک اور تیسری نبوت ہوتی ہے مگر مشکل یہ ہے کہ جناب مولوی صاحب اپنے رسالہ میں اس دروازہ کو بھی بند کر چکے ہیں۔ اور مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں نبوت کی تین قسمیں بناتا ہوں۔ حالانکہ حضرت مسیح موعود صرف دو نبوتیں قرار دیتے ہیں۔ ایک نبیوں کی اور ایک محدثوں کی۔ اور مجھ سے ثبوت مانگا ہے کہ میں تیسری نبوت کو ثابت کروں۔ پس اب ان کے لئے یہ راہ نجات بھی بند ہے۔ تیسری نبوت کا دروازہ کھولنا بھی ناممکن ہو گیا ہے۔

میں اس جگہ یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ جناب مولوی صاحب نے میرا مطلب غلط سمجھ کر مجھ پر نبوت کی تین قسمیں قرار دینے کا الزام دیا ہے۔ اصل بات یہ ہے۔ جیسا کہ وہ دوست جنہوں نے میری اس کتاب کا شروع سے مطالعہ کیا ہے سمجھ چکے ہوں گے کہ میں نبوت کی ایک ہی قسم سمجھتا

ہوں۔ یعنی نبیوں کی نبوت۔ کیونکہ جو غیر نبی ہے۔ اس میں بعض کمالات کے پائے جانے کی وجہ سے ایک الگ نبوت تو قائم نہیں ہو جاتی۔ آخر وہ جو کچھ ہے۔ وہی رہے گا۔ ہم جو محدثوں کی نبوت بھی لکھتے ہیں تو اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ یہ ایک الگ قسم کی نبوت ہے۔ بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ محدث میں بھی بعض کمالات نبوت پائے جاتے ہیں۔ ورنہ نبوت تو نبیوں کی ہی ہوگی۔ پس قسم نبوت کے لحاظ سے ہم صرف ایک نبوت سمجھتے ہیں۔ جس میں وہ تین شرائط پائی جائیں جو میں اوپر لکھ آیا ہوں تو وہ نبی ہے۔ اور اس میں نبوت پائی جاتی ہے۔ اور جس میں وہ تین شرائط نہ پائی جائیں وہ نبی نہیں۔ اور اگر اس کی طرف ہم نبوت کا لفظ منسوب کرتے ہیں تو صرف اس مطلب کو سمجھانے کے لئے کہ اس میں بھی بعض کمالات نبوت پائے جاتے ہیں نہ یہ کہ اس میں فی الواقعہ نبوت ہے نبی تو ایک اصطلاح شریعتِ اسلام ہے اور لغت بھی اسی اصطلاح کے معنوں کا اظہار کرتی ہے۔ پس اس اصطلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے نبوت جب ہم کہیں گے تو اس کے معنے ان تین شرائط کا پایا جانا ہے۔ اور جس میں یہ نبوت پائی جائے گی۔ پھر وہ نبی ہی ہوگا۔ غیر نبی کس طرح ہو سکتا ہے۔ غرض نفسِ نبوت کے لحاظ سے ہم صرف ایک ہی قسم کی نبوت مانتے ہیں۔ باقی رہیں خصوصیات ان کے لحاظ سے سینکڑوں اقسام کی نبوت ہو سکتی ہے جیسے سب آدمی آدمیت کے لحاظ سے تو ایک ہیں۔ لیکن خصوصیات کو لو تو انسانوں کی ہزاروں قسمیں بن جاتی ہیں۔ کوئی سید ہے کوئی پٹھان ہے کوئی مغل ہے کوئی شیخ ہے کوئی یورپین ہے کوئی ایشیائی ہے کوئی امریکی ہے۔ پھر کوئی ہندی ہے کوئی چینی ہے کوئی عالم ہے کوئی جاہل ہے کوئی بے دین ہے کوئی دیندار ہے۔ غرض اگر خصوصیات کے لحاظ سے اقسام مقرر کی جائیں تو آدمیوں کی ہزاروں اقسام بن جاتی ہیں۔ مگر کیا اس سے یہ مطلب ہے کہ نفسِ آدمیت کے لحاظ سے آدمیوں کی کئی قسمیں ہیں؟ نہیں یہ مطلب نہیں۔ اسی طرح نبیوں کا حال ہے کہ نفسِ نبوت کے لحاظ سے تو سب نبی نبی ہیں۔ لیکن بعض خصوصیات کی وجہ سے ان کی کئی اقسام ہیں۔ جن میں سے ایک تقسیم کا بیان میں نے اپنے رسالہ میں کیا تھا کہ ایک شریعت لانے والے نبی۔ ایک بلا واسطہ نبوت پانے والے نبی۔ ایک امتی نبی۔ اس تحریر سے یہ کہاں سے نکال لیا گیا کہ میں نفسِ نبوت کے لحاظ سے تین قسمیں نبیوں کی قرار دیتا ہوں۔ اس لحاظ سے تو میں ایک ہی قسم نبوت کی سمجھتا ہوں۔ ہاں خصوصیات کو لو تو سینکڑوں اقسام بھی بن سکتی ہیں خود اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے تِلۡکَ الرُّسُلُ فَضَّلۡنَا بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ۘ مِنۡہُمۡ مَّنۡ کَلَّمَ اللّٰہُ وَرَفَعَ بَعۡضَہُمۡ دَرَجٰتٍ ؕ وَاٰتَیۡنَا عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ الۡبَیِّنٰتِ وَاَیَّدۡنٰہُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ(البقرہ: ۲۵۴) پس جبکہ خدا تعالیٰ نے

بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی تو جس قدر قسمیں نبیوں کی بلحاظ درجہ کے فرق کے بنیں گی وہ بھی ہمیں ماننی پڑیں گی۔ پھر اس کے ماننے کے بغیر بھی چارہ نہیں کہ ایک نبی شریعت لائے ایک نہیں لائے۔ ایک نبی ایسا آیا جو سب دنیا کی طرف تھا۔ پہلے نبی ایسے نہ تھے پس خصوصیات کے لحاظ سے تین کیا سینکڑوں قسمیں بن سکتی ہیں۔ میں نے تو ان تین کا ذکر کیا تھا جن کا میرے مضمون سے تعلق تھا۔ میں نے اقسامِ نبوت کو گننے کا تو ارادہ نہیں کیا تھا۔ ہاں یہ یاد رہے کہ نفسِ نبوت کے لحاظ سے میں ایک ہی نبوت مانتا ہوں جسے آپ نے نبیوں کی نبوت کے نام سے یاد فرمایا ہے۔ ہاں محدث کی نبوت جو میرے کلام میں آتی ہے یا حضرت مسیح موعود کے کلام میں آتی ہے اس کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ اس میں بعض کمالاتِ نبوت پائے جاتے ہیں جو بوجہ درجۂ کمال کو نہ پہنچنے کے اسے نبی نہیں بنا سکتے۔ پس ان کمالات کی وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ محدث میں بھی ایک قسم کی نبوت ہے یا یہ کہ محدث بھی ایک قسم کا نبی ہے۔ ورنہ نفسِ نبوت کے وجود کی وجہ سے نہ اسے نبی کہہ سکتے ہیں ۔ اور نہ اس میں کسی نبوت کو مان سکتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے کہیں تو یہ لکھا ہے کہ محدث میں ایک جزوی نبوت ہوتی ہے۔ اور کہیں لکھا ہے کہ محدث کو کس لغت میں نبی کہتے ہیں؟ پس یہ دونوں قول اوپر کے بیان کردہ اعتباروں کے لحاظ سے ہیں اور دونوں درست ہیں۔

اب میں پھر اپنے اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔ اور یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعودؓ کے صاف فیصلہ سے ظاہر ہے کہ آپ سے پہلے اس امت میں کوئی اور نبی نہیں گزرا لیکن اس حوالہ کے علاوہ حضرت مسیح موعود کی اور تحریروں سے بھی یہ پتہ لگتا ہے کہ آپ سے پہلے اس امت میں کوئی اور نبی نہیں گزرا۔ آپ فرماتے ہیں:۔

”حکمتِ الٰہی نے یہ تقاضا کیا کہ پہلے بہت سے خلفاء کو برعایت ختمِ نبوت بھیجا جائے اور ان کا نام نبی نہ رکھا جائے۔ اور نہ یہ مرتبہ ان کو نہ دیا جائے ۔ تا ختم نبوت پر یہ نشان ہو۔ پھر آخری خلیفہ یعنی مسیح موعود کو نبی کے نام سے پکارا جائے تا خلافت کے امر میں دونوں سلسلوں کی مشابہت ثابت ہو جائے اور ہم کئی دفعہ بیان کر چکے ہیں کہ مسیح موعود کی نبوت ظلی طور پر ہے کیوں کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز کامل ہونے کی وجہ سے نفس نبی سے مستفیض ہو کر نبی کہلانے کا مستحق ہو گیا ہے۔“

(تذکرۃ الشہادتین صفحہ ۴۵، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۵)

اس حوالہ سے بھی صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود سے پہلے کوئی اور شخص اس امت میں سے نہیں گزرا بلکہ صرف مسیح موعود نے ہی یہ نام و مرتبہ پایا ہے۔ پھر حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔

”اگر دوسرے صلحاء جو مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں وہ بھی اسی قدر مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ اور امورِ غیبیہ سے حصہ پا لیتے تو وہ نبی کہلانے کے مستحق ہو جاتے تو اس صورت میں آنحضرت کی پیشگوئی میں ایک رخنہ واقع ہو جاتا۔ اس لئے خدا تعالیٰ کی مصلحت نے ان بزرگوں کو اس نعمت کو پورے طور پر پانے سے روک دیا۔ جیسا کہ احادیثِ صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہو گا وہ پیشگوئی پوری ہو جائے۔“ (حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۷)

ان دونوں حوالوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پہلے صلحائے امت کو امورِ غیبیہ پر اس کثرت سے اطلاع نہیں دی گئی تھی کہ وہ نبی کہلا سکیں۔ اور یہ کہ ایسا شخص ایک ہی ہے۔ اور یہ کہ اگر پہلے صلحاء کو بھی اس نعمتِ نبوت سے حصہ دیا جاتا تو ختمِ نبوت کا امر مشتبہ ہو جاتا ہے۔ اب خدارا ان عبارتوں پر غور کرو۔ اور سوچو کہیں تم ختمِ نبوت کے امر کو مشتبہ تو نہیں کر رہے۔ حضرت مسیح موعود تو فرماتے ہیں کہ پہلے صلحاء کو نبی قرار دینے سے ختمِ نبوت کا امر مشتبہ ہو جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قدر کثرت سے امورِ غیبیہ پر اطلاع نہیں دی کہ وہ نبی ہو سکتا۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت نہیں دی تو کیوں تم ان کو نبی قرار دیتے ہو۔ تمہارے خیال میں تو اللہ تعالیٰ بھی اب کسی کو نبوت نہیں دے سکتا۔ مگر اپنی طاقتوں کے سمجھنے میں کیوں دھوکا کھاتے ہو۔ اور کیوں خدا تعالیٰ کے اختیار کو ہاتھ میں لے کر پہلے صلحاء کو نبوت تقسیم کر رہے ہو۔

بعض لوگ یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے الوصیت میں صاف لکھ دیا ہے کہ ”پس اس طرح پر بعض افراد نے باوجود امتی ہونے کے نبی ہونے کا خطاب پایا۔“ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے سوا کچھ اور لوگوں نے بھی نبوت کا درجہ پایا ہے سو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت صاحب نے جب صاف الفاظ میں لکھ دیا ہے کہ سوائے میرے اس امت میں اور کوئی اس درجہ کو نہیں پہنچا۔ اور پھر اس پر دلیل بھی دی کہ اس لئے کوئی شخص نبی نہیں ہوا کہ کسی نے اس قدر کثرت سے غیب پر اطلاع نہیں پائی جو نبوت کے لئے شرط ہے تو اب وہ معنے جو خود حضرت مسیح موعود کے کلام کے خلاف ہوں کس طرح جائز ہو سکتے ہیں۔ بہرحال وہی معنے کرنے چاہئیں جو آپ کے کلام سے ثابت ہوں۔ اور آپ کے کلام سے روزِ روشن کی طرح ثابت ہے کہ آپ کے سوا کسی نے منصبِ نبوت نہیں پایا۔ تو اب یا تو ہمیں ایسے معنے تلاش کرنے چاہئیں۔ جن سے دونوں حوالے سچے ہو جائیں۔ یا یہ کہ ایک ناسخ ہو ایک منسوخ۔ اگر ناسخ منسوخ قرار دو جو میرے نزدیک درست نہیں۔ تب بھی حقيقة الوحی وصیت کے بعد کی ہے۔ اور اس میں یہ لکھا ہے کہ آپ کے سوا اس امت میں کوئی شخص نبی نہیں ہوا۔ اگر تطبیق دو۔ تب بھی صاف بات ہے۔ کیونکہ الوصیت ہی میں۔ اس حوالہ سے ایک صفحہ پہلے ہی حضرت مسیح موعود لکھتے ہیں کہ یہ ممکن نہ تھا کہ مرتبہ نبوت اس امت میں ایک فرد بھی نہ پاتا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ ایک ہی نبی خیال کرتے ہیں۔ کیونکہ اگر آپ کے نزدیک بہت سے نبی گزرے ہیں تو آپ یوں لکھتے کہ ممکن نہ تھا کہ یہ انعام امت کے اولیاء نہ پاتے۔ لیکن آپ نے یہ لکھا ہے کہ ممکن نہ تھا کہ تمام افراد اس انعام سے محروم رہتے۔ اور ایک شخص بھی اس مرتبہ کو نہ پاتا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کے نزدیک ایک ہی شخص نے اس مرتبہ کو پانا تھا (اصل الفاظ دیکھو الوصیت صفحہ ۱۱) اسی طرح اس صفحہ پر لکھتے ہیں کہ نبوت نام ہے امور غیبیہ پر اطلاع پانے کا جبکہ وہ کیفیت و کمیت میں کمال کو پہنچ جائے۔ اور جو حوالہ کہ میں حقيقة الوحی سے ابھی نقل کر چکا ہوں اس سے ثابت ہے کہ امت کے دوسرے لوگوں کو کثرت سے مکالمہ نہیں ہوا۔ یعنی کمیت میں کمی رہی۔ پس خود الوصیت کی رو سے ہی پہلے کوئی نبی ہونے کے لائق نہ تھا پھر ہم کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے جبکہ نبوت کا ثبوت دو جگہ سے لیا ہے۔ ایک اپنی نسبت نبی کا لفظ لکھے ہونے سے اور ایک عُلَمَاءُ أُمَّتِیْ کَاَنْبِیَاءِ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ سے تو تم حضرت صاحب کے اقوال کو اختلاف سے بچانے کے لئے یہ معنے کر سکتے ہو کہ دوسرے افراد تو کَاَنْبِیَاءِ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ کے ماتحت نبی کا خطاب پانے والے تھے۔ اور ان کی نبوت محدثوں والی نبوت تھی۔ اور حضرت مسیح موعود کی نبوت انبیاء کی سی نبوت۔ کیونکہ ان کو نبیوں سے مشابہت دی گئی ہے۔ اور مسیح موعود کو نبی کہا گیا ہے۔ چنانچہ خود حضرت مسیح موعود کشتی نوح میں تحریر فرماتے ہیں:۔

”اسی طرح یہ قرآنی دعا آنحضرت کے ذریعہ سے قبول ہو کر اخیار و ابرار مسلمان بالخصوص ان کے کامل فرد انبیاء بنی اسرائیل کے وارث ٹھہرائے گئے۔ اور دراصل مسیح موعود کا اس امت میں سے پیدا ہونا یہ بھی اسی دعا کی قبولیت کا نتیجہ ہے کیونکہ گو مخفی طور پر بہت سے اخیار و ابرار نے انبیاءِ بنی اسرائیل کی مماثلت کا حصہ لیا ہے۔ مگر اس امت کا مسیح موعود کھلے کھلے طور پر خدا کے حکم اور اذن سے اسرائیلی مسیح کے مقابل پر کھڑا کیا گیا ہے تا موسوی اور محمدیؐ سلسلہ کی مماثلت سمجھ آجائے۔“ (کشتی نوح صفحہ ۵۵ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۵۲-۵۳)

اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ پہلے اولیاء اور مسیح موعود میں ایک خاص فرق ہے اور وہ یہ کہ گو وہ بھی اپنے اندر ایک قسم کی مماثلت پہلے انبیاء سے رکھتے تھے۔ لیکن کامل مماثلت جو کسی شخص کو کسی نبی سے ہوئی وہ حضرت مسیح موعود ہی ہیں۔ اور آپ ہی کو حکم و اذن سے مامور کیا گیا ہے اور پہلے لوگ ایک مخفی مشابہت رکھتے تھے تو مسیح موعود کی مشابہت اس زور کی تھی کہ اپنے اندر ایک جلال رکھتی تھی۔ پس ہم اس حوالہ کے ماتحت حضرت صاحب کی تحریروں میں جو بظاہر اختلاف معلوم ہوتا ہوا سے اس طرح ایک کر سکتے ہیں کہ جہاں حضرت مسیح موعودؑ نے بعض افراد کو نبی کا خطاب دیا ہے لکھا ہے اس کے یہ معنی کر لیں کہ اس سے وہ نبوت مراد ہے جو كَأَنۢبِیَاءِ بَنِیۡ اِسۡرَائِیۡلَ کی حدیث سے ثابت ہے یعنی ایک مشابہت ہے۔ گو وہ نبی بنائے نہیں گئے اور اس نبوت میں بھی مسیح موعود شامل ہے۔ کیونکہ بڑے درجہ میں چھوٹے درجے خود آ جاتے ہیں۔ لیکن مسیح موعود کی نبوت اس سے الگ بھی تھی اور وہ نبوت فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا(72:27) کی آیت کے ماتحت تھی جس میں آپ کا شریک اور کوئی نہیں تھا۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود نے خود ہی لکھ دیا ہے جیسا کہ میں اوپر نقل کر آیا ہوں کہ اس نعمت کا وارث کوئی اور ولی اس امت کا نہیں ہوا۔ پس آیت فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ(72:27) کے ماتحت تو آپ ہی نبی تھے۔ اور بوجہ اعلیٰ درجہ کے مکالمہ و مخاطبہ کے جس میں اس کثرت سے اظہار علی الغیب نہ ہو جو نبیوں سے مختص ہے۔ دوسرے ولی بھی کمالات نبوت رکھتے تھے۔ اور كَأَنۢبِیَاءِ بَنِیۡ اِسۡرَائِیۡلَ کے مصداق تھے۔ پس نبوت انبیاء تو صرف حضرت مسیح موعودؑ میں پائی جاتی تھی اور محدثیت کی نبوت یعنی بعض کمالات نبوت کے پائے جانے کی وجہ سے جزوی نبوت اور افراد میں بھی تھی جو بوجہ مشابہت نبی بھی کہے جا سکتے ہیں ؎

غرض کہ ایک تو یہ طریق آپ کے اقوال کی تطبیق کا ہے۔ لیکن اصل حقیقت یہی ہے کہ اس جگہ حضرت مسیح موعودؑ نے بعض افراد سے صرف اپنے آپ کو مراد لیا ہے۔ اور یہ بات بعید از قیاس نہیں۔ کیونکہ زبان میں اس کی نظیریں ملتی ہیں۔ کہ بعض افراد سے ایک شخص ہی مراد لے لیا جاتا ہے۔ مثلاً جب ایک شخص ایک بات بیان کرے اور سننے والا اسے پسند نہ کرتا ہو تو بعض دفعہ وہ یوں بھی کہہ دیتا ہے کہ شاید بعض افراد اسے پسند نہ کریں حالانکہ اس کی مراد صرف اپنا نفس ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے کلام پر غور کرے تو بہت دفعہ اپنے منہ سے بعض افراد یا اسی قسم کے اور الفاظ سنے گا۔ جس سے صرف اس کا نفس مراد ہو گا۔ غرض کہ جمع کا لفظ بعض دفعہ بولا جاتا ہے لیکن ہوتا ایک شخص ہی مراد ہے۔ قرآن کریم میں ایک جگہ آتا ہے کہ کافر کہیں گے رَبِّ ارۡجِعُوۡنِ(23:100) اے ہمارے رب! ہمیں واپس لوٹا دے جو لفظ اس آیت کے ہیں۔ ان کے رو سے اس کے یہ معنے بنتے ہیں کہ اے ہمارے تین یا اس سے زیادہ خداؤ! ہمیں لوٹا دو۔ لیکن اسلام تو صرف ایک خدا کی طرف

بلاتا ہے۔ پس اس جگہ جمع سے مراد ایک لے لیا گیا ہے بوجہ اس کی عظمت اور جلال کے۔ حالانکہ قرآن کریم میں جب اللہ تعالیٰ کو مخاطب کیا گیا ہے واحد کے لفظ سے مخاطب کیا گیا ہے۔ مگر اس آیت میں اس کے خلاف ہے۔ اور گو آج کل معزز آدمی کو اردو کی طرح جمع کے لفظ سے پکار لیتے ہیں۔ لیکن قرآن کریم کے زمانہ کی زبان اور خود قرآن کریم کے محاورہ کے یہ خلاف ہے۔ اور صرف اظہار عظمت کے لئے آیا ہے جیسا کہ مسیح موعود کی نسبت پیشگوئی میں فرمایا کہ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ حالانکہ مراد صرف مسیح موعود ہے جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے۔ اور حوالہ آگے گزر چکا ہے۔ پس چونکہ مسیح موعود بوجہ اپنی کئی حیثیتوں کے کئی انبیاء کا مظہر ہے اس لئے بعض افراد کے نام سے حضرت مسیح موعود نے اپنے نفس کو مراد لیا ہے۔ اور حضرت مسیح موعودؑ کے اپنے کلام میں اس کی نظیر پائی جاتی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں

”یعنی اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اس امت کے بعض افراد کو مریم سے تشبیہ دیتا ہے۔ اور پھر کہتا ہے کہ وہ مریم عیسیٰ سے حاملہ ہو گئی۔ اور اب ظاہر ہے کہ اس امت میں بجز میرے کسی نے اس بات کا دعویٰ نہیں کیا کہ میرا نام خدا نے مریم رکھا۔ اور پھر اس مریم میں عیسیٰ کی روح پھونک دی ہے۔۔۔ اور خوب غور کر کے دیکھ لو۔ اور دنیا میں تلاش کر لو کہ قرآن شریف کی اس آیت کا بجز میرے کوئی مصداق نہیں۔ پس یہ پیشگوئی سورۃ تحریم میں خاص میرے لئے ہے۔۔۔ پس اس تمام امت میں وہ میں ہی ہوں۔ میرا نام ہی خدا نے براہین احمدیہ میں پہلے مریم رکھا۔ اور بعد اس کے میری ہی نسبت یہ کہا کہ ہم نے اس مریم میں اپنی طرف سے روح پھونک دی۔ اور پھر روح پھونکنے کے بعد مجھے ہی عیسیٰ قرار دیا پس اس آیت کا میں ہی مصداق ہوں۔ میرے سوا تیرہ سو برس میں کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ پہلے خدا نے میرا نام مریم رکھا۔ اور مریم میں اپنی طرف سے روح پھونک دی جس سے میں عیسیٰ بن گیا۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۵۰-۳۵۱ حاشیہ)

اس حوالہ کو دیکھو کہ ایک ہی جگہ پہلے تو یہ فرمایا ہے کہ اس امت کے بعض افراد کا خداتعالیٰ نے سورہ تحریم میں مریم نام رکھا ہے۔ لیکن پھر فرماتے ہیں کہ اس آیت کا صرف میں ہی مصداق ہوں جس سے یہ بات پایہ ثبوت پہنچ گئی کہ حضرت مسیح موعود کی تحریرات میں یہ محاورہ پایا جاتا ہے کہ بعض افراد سے آپ صرف اپنے آپ کو مراد لیتے ہیں۔ پس جبکہ حضرت مسیح موعود کی تحریرات سے صاف ثابت ہے کہ آپ سے پہلے کوئی ولی اس امت کا نبی نہیں ہوا۔ کیونکہ اس کے لئے کثرت اطلاع برامور غیبیہ شرط ہے جو ان میں نہیں پائی جاتی۔ اور اس لئے کہ اس سے امر ختم نبوت

مشتبہ ہو جاتا ہے۔ اور دوسری طرف یہ بھی ثابت ہے کہ آپ بعض افراد سے مراد صرف اپنا نفس ہی لیتے ہیں۔ تو پھر اس بات میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے الوصیت میں جو یہ فرمایا ہے کہ بعض افراد امت نے نبی کا خطاب پایا۔ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ خود حضرت مسیح موعود نے نبی کا خطاب پایا ہے نہ کہ کسی اور نے۔ اور اگر اس کے خلاف معنے کئے جائیں تو پھر حضرت مسیح موعود کے اقوال میں تناقض ہو گا۔ اور خود مصنف کی تشریح سے اور کس کی تشریح معتبر ہو سکتی ہے۔

شاید کوئی شخص یہ کہہ دے کہ امرِ ختم نبوت کس طرح مشتبہ ہو جاتا ہے۔ جب ایک نبی ہو سکتا ہے تو بہت سے بھی ہو سکتے ہیں۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک بہت سے ہو سکتے ہیں لیکن ختم نبوت ان کے نبی ہونے سے مانع ہے اور اس امر کے سمجھنے کے لئے پہلے ختم نبوت کے معنوں پر غور کرنی چاہئے۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔

”مگر آنحضرت ﷺ کو یہ فخر دیا گیا ہے کہ وہ ان معنوں سے خاتم الانبیاء ہیں کہ ایک تو تمام کمالاتِ نبوت ان پر ختم ہیں اور دوسرے یہ کہ ان کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں اور نہ کوئی ایسا نبی ہے جو ان کی امت سے باہر ہو بلکہ ہر ایک کو جو شرفِ مکالمہ الٰہیہ ملتا ہے وہ انہیں کے فیض اور انہیں کی وساطت سے ملتا ہے اور وہ امتی کہلاتا ہے نہ کوئی مستقل نبی۔“

(چشمۂ معرفت صفحہ ۹ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۸۰)

اس حوالہ سے ختم نبوت کے دو معنے معلوم ہوئے:۔ (۱) یہ کہ آنحضرت ﷺ پر سب کمالاتِ نبوت ختم ہو گئے۔ اور نبوت کا کوئی کمال نہیں جو آپؐ میں نہ پایا جاتا ہو بلکہ آپؐ سب کمالات کے جامع ہیں۔ گویا خاتم النبیّین کے معنے ایسے ہی ہیں جیسے کہہ دیتے ہیں کہ فلاں شخص پر تو بہادری ختم ہو گئی۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس سے بڑھ کر بہادر نہیں ہو سکتا اور بہادری کی تمام جزئیات اس کے اندر جمع ہو گئی ہیں۔ پس خاتم النبیّین کے یہ معنے ہوئے کہ آپ جامع جمیع کمالاتِ انبیاء ہیں۔ (۲) دوسرے یہ معنے معلوم ہوئے کہ آپؐ کے بعد نہ کوئی جدید شریعت آسکتی ہے اور نہ کوئی بلاواسطہ نبی آسکتا ہے۔ بلکہ جو نبی ہو گا۔ امتی نبی کہلائے گا نہ کہ براہِ راست فیض پانے والا مستقل نبی۔

ان دونوں معنوں کے رو سے دیکھو تو دوسرے معنوں نے آنحضرت ﷺ کے بعد دو قسم کی نبوّتوں کو روک دیا۔ یعنی تشریعی اور مستقل نبوت کو۔ پس ایسے نبی ہو سکتے ہیں، جو آنحضرت ﷺ کے فیض سے نبی ہوں۔ اب ہم دوسرے حوالہ کو دیکھتے ہیں۔ کیا یہ بھی نبوت کے دروازہ کو کسی قدر بند کرتا ہے کہ نہیں۔ لیکن اس سے پہلے اس قدر اور بھی معلوم ہونا چاہئے کہ نبوت امت محمدیہ میں ملتی کس طرح ہے۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔

”اگر کوئی شخص اسی خاتم النبیّن میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو۔ اور صاف آئینہ کی طرح محمدیؐ چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا۔“ (ایک غلطی کا ازالہ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۹)

پھر فرماتے ہیں:۔ ”مسیح موعود کی نبوت ظلّی طور پر ہے کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کا بروز کامل ہونے کی وجہ سے نفس نبی سے مستفیض ہو کر نبی کہلانے کا مستحق ہو گیا ہے۔“ (تذکرۃ الشہادتین صفحہ ۴۵، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۵)

مذکورہ بالا دونوں حوالوں کو ملا کر معلوم ہوتا ہے کہ اس امت میں نبوت پانے کا یہی طریق ہے کہ انسان آنحضرت ﷺ کا بروز کامل ہو۔ اور آپ کے کمالات کو اپنے اندر جذب کرے۔ اور ایسا محو ہو کہ خدا تعالیٰ اس کا نام محمد و احمد ہی رکھ دے اور یہ کہ اب نبوت کوئی نئی نہیں بلکہ بوجہ کمال مشابہت اور آنحضرت ﷺ کے کل کمالات کو آئینہ کی طرح اپنے اندر لے لینے کے ایک شخص نبی ہو سکتا ہے کیونکہ جو بروز کامل ہو گا وہ ضرور نبوت کا عکس بھی حاصل کرے گا۔

اب ختم نبوت کے ان معنوں کو لو کہ رسول اللہ ﷺ میں نبوت کے کل کمال پائے جاتے تھے۔ اور ادھر اس بات پر غور کرو کہ نبی وہی ہو سکتا ہے جو آنحضرت ﷺ کا مظہر اتم ہو۔ کیونکہ اس امت کے نبی کو آنحضرت ﷺ کی نبوت ہی ظلّی طور پر حاصل کرنی پڑتی ہے نہ کوئی جدید نبوت۔ لیکن ہمارے آنحضرت ﷺ سے پہلے یہ قاعدہ نہ تھا بلکہ بنی اسرائیل میں سے ہر ایک نبی کے لئے ضروری نہ تھا کہ وہ خود حضرت موسیٰ جیسے کمال پیدا کرے تب نبی ہو۔ کیونکہ نبوت ظلّی نہ تھی بلکہ براہ راست ملا کرتی تھی۔ لیکن اب ظلّی نبوت ہے اور اسی وقت مل سکتی ہے جب کوئی شخص آنحضرت ﷺ کے کل کمالات اپنے اندر ظلّی طور پر اخذ کرے۔ اور گویا من تو شدم والا معاملہ ہو کر اس کا ہر کام رسول اللہ ﷺ کا نمونہ ہو جائے۔ اور ہم قرآن کریم میں وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ(62:4) والی آیت سے معلوم کرتے ہیں کہ ایسا شخص مسیح موعود ہی ہو گا۔ پس وہی نبی ہو سکتا تھا۔ اور اگر

دوسرے خلفاء و محدث نبی کہلاتے تو اس سے ختمِ نبوت میں نقص آجاتا۔ کیونکہ امت محمدیہ میں کسی کو نبی کہنے سے یہ مراد ہے۔ کہ وہ آنحضرت ﷺ میں ایسا فنا ہوا ہے کہ بالکل آپ کا عکس بن گیا ہے۔ اور آپؐ کے کل کمالات کو اس نے اپنے اندر لے لیا ہے لیکن پہلے مجددین اس درجہ کو نہ پہنچے تھے۔ اس لئے ان کو نبی قرار دینے کے یہ معنی ہوتے کہ وہ آنحضرت ﷺ کا کامل بروز ہیں۔ حالانکہ وہ خاتم النبیین یعنی جامع جمیع کمالاتِ نبوت کے مظہر اتم نہ تھے۔ بلکہ بعض کمالات کا مظہر تھے پس ان کو نبی قرار دے کر انہیں رسول اللہ ﷺ کا نمونہ قرار دینے سے ختمِ نبوت کی شان لوگوں کے دلوں سے کم ہو جاتی۔ اور ان مجددین پر رسول اللہ ﷺ کے سب کمالات کو قیاس کرتے اور دھوکا کھاتے۔ کیونکہ وہ تمام کمالات کے مظہر نہ تھے۔ لیکن مسیح موعود آنحضرت ﷺ کے مظہر اتم تھے اور آپ کے وجود کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آنحضرت ﷺ کا وجود قرار دیا ہے۔ پس آپ ہی خاتم النبیین کی شان کو ظاہر کرنے والے تھے۔ جیسا کہ آپ فرماتے ہیں مَنْ فَرَّقَ بَيْنِيْ وَ بَيْنَ الْمُصْطَفٰی فَمَا عَرَفَنِیْ وَ مَا رَایٰ (خطبہ الہامیہ صفحہ ۲۵۹ روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۲۵۹) اس کے یہ معنے نہیں کہ آپ کا اور آنحضرت ﷺ کا درجہ ایک ہو گیا۔ بلکہ آپ کا درجہ تو آنحضرت ﷺ کے مقابلہ میں غلام اور شاگرد کا سا تھا۔ لیکن کامل بروزی تصویر ہونے کے لحاظ سے نہیں کہہ سکتے کہ مرزا غلام احمد اور ہے اور محمد مصطفیٰ اور پس یہی شخص نبی کہلانے کا مستحق ہوا۔ تا ختمِ نبوت کا امر مشتبہ نہ ہو۔

خلاصہ کلام یہ کہ ختم نبوت کے دو معنے جو حضرت صاحب نے کئے ہیں۔ ان میں سے ایک نے تو شریعتِ جدیدہ لانے والی نبوت اور براہِ راست حاصل ہونے والی نبوت کا دروازہ مسدود کر دیا۔ اور ختمِ نبوت کے دوسرے معنوں نے یعنی آنحضرت ﷺ کے جامع جمیع کمالاتِ انبیاء ہونے نے ایسے کل لوگوں کو جو آنحضرت ﷺ کے کامل بروز اور مظہر اتم نہ ہوں درجہ نبوت پانے سے روک دیا۔ اور ایسا شخص جو آپؐ کا مظہر اتم ہو۔ چونکہ مسیح موعود ہی ہو اس کے کامل مظہر ہونے کی گواہی قرآن کریم کی آیت وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ(62:4) بھی دے رہی ہے۔ اس لئے وہی نبی کہلایا تا اس کی نبوت ختم نبوت کے لئے ایک نشان ہو۔ اور لوگ اس کو دیکھ کر اس کے آقا اور استاد حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے کمالات کو معلوم کریں اور اپنے بوسیدہ ایمانوں کو پھر تازہ کر لیں اور صحابہؓ کے ساتھ مشابہت حاصل کریں۔

چنانچہ ایک ظاہر فرق مسیح موعود میں اور پہلے مجددین میں یہ دیکھ لو۔ کہ ان میں سے ایک بھی سب دنیا کی طرف مبعوث نہیں ہوا۔ حالانکہ مسیح موعود سب دنیا کی طرف مبعوث ہوا۔ خواہ وہ کسی علاقہ کے ہوں۔ اب سب دنیا میں اس کے لئے نشانات دکھائے گئے پس مسیح موعود کے سوا کوئی گذشتہ ولی آنحضرت ﷺ کا مظہر اتم نہیں ہوا تا اسے نبی کہا جا سکے۔ اور اگر بغیر مظہر اتم ہونے کے اسے نبی قرار دیا جاتا۔ تو چونکہ امت محمدیہ میں نبوت ظلی ہے ختم نبوت کا امر مشتبہ ہو جاتا اس امت میں صرف ایک شخص مسیح موعود ہی ہے جس کے مظہر اتم ہونے کی شہادت اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تو اپنے قول سے دی ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی طرح سب دنیا کی طرف مبعوث کر کے اس کے مظہر اتم ہونے کی شہادت اپنے فعل سے دی ہے۔ پس مسیح موعود کے مظہر اتم ہونے کے لئے خدا تعالیٰ کی قولی اور فعلی دونوں شہادتیں موجود ہیں۔ اور وہی نبی کہلا سکتا ہے نہ کوئی اور۔

ہاں جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں۔ پہلے مجددین اور اولیاء محدث تھے۔ اور محدث کو بھی چونکہ انبیاء سے ایک مشابہت ہوتی ہے۔ اور چونکہ وہ بھی آنحضرت ﷺ کے بعض کمالات کے مظہر تھے۔ وہ بھی جزوی نبوت سے حصہ لیتے رہے ہیں۔ یعنی بعض کمالات نبوت ان کے اندر بھی موجود تھے اور اگر امت محمدیہ میں نبوت ظلی نہ قرار دی جاتی تو ممکن تھا کہ ان میں سے بعض اعلیٰ استعدادوں والے محدث نبی ہو بھی جاتے لیکن چونکہ اس امت میں ختم نبوت کی وجہ سے نبوت کا درجہ بڑھ گیا ہے اور اب نبی وہی ہو سکتا ہے جو آنحضرت ﷺ کا مظہر اتم ہو اس لئے وہ نبی نہ بن سکے۔ ہاں اپنے استعدادات کی وجہ سے بعض کمالات نبوت انہوں نے حاصل کئے۔ اس لئے جزوی نبوت پائی۔ چنانچہ بہت سے صوفیاء نے اپنی کتب میں اپنے اندر ایسے کمالات پائے جانے کا دعویٰ کیا ہے اور ہم ان کو جھوٹا نہیں کہتے بلکہ راستباز اور خدا تعالیٰ کے برگزیدہ یقین کرتے ہیں۔ ان کو بھی رسول اللہ ﷺ کی بعض شان کا مظہر مانتے ہیں۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ ان میں سے بعض آنحضرت ﷺ کی بعض شان کے مظہر اتم بھی ہوں یعنی بعض کمالات کو انہوں نے کامل طور پر بلحاظ ظلیت حاصل کر لیا ہو۔

چنانچہ مکرم مولوی غلام احمد صاحب اختر نے اوچ سے حضرت محی الدین ابن عربی کا ایک حوالہ فتوحات سے نقل کر کے بھیجا ہے جو یہ ہے فَمِنْ كَرَامَةِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدٍ اَنْ جُعِلَ مِنْ اُمَّتِهِ وَ اَتْبَاعِهِ رُسُلًا وَ اِنْ لَّمْ يُرْسَلُوْا فَهُمْ مِنْ اَهْلِ الْمَقَامِ الَّذِيْ مِنْهُ يُرْسَلُوْنَ وَقَدْ كَانُوْا اُرْسِلُوْا فَاعْلَمْ ذَالِكَ فَلَمَّا انْتَقَلَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَقِيَ الْاَمْرُ مَحْفُوْظًا بِهُؤُلَاءِ الرُّسُلِ فَثَبَتَ الدِّيْنُ قَائِمًا بِحَمْدِ اللّٰهِ مَا انْهَدَمَ مِنْهُ رُكْنٌ اِذْ كَانَ لَهُ حَافِظٌ يَّحْفَظُهُ (الفتوحات المکیہ جلد ۲ صفحہ ۶) یعنی رسول اللہ ﷺ کی کرامت میں سے یہ بھی ہے کہ آپ کی امت میں سے اور آپ کے اتباع میں سے رسولوں کی شان رکھنے والے لوگ پیدا کئے گئے ہیں گو وہ رسول کر کے نہیں نہ بھیجے گئے پس وہ ان مدارج تک پہنچ جاتے تھے پس اس بات کو سمجھ لے پس جب آنحضرت ﷺ وفات پا گئے تو یہ امر اسی طرح ان رسولوں کی معرفت محفوظ رہا۔ اور جس ذریعہ سے دین اللہ تعالیٰ کے فضل سے ثابت رہا۔ اس کا کوئی رکن گرا نہیں۔ کیونکہ ہر وقت اس کا کوئی نہ کوئی حافظ موجود رہا۔ اس عبارت سے ظاہر ہے کہ امت محمدیہ میں ایسے صاحب کمالات لوگ پیدا ہوئے ہیں کہ جو اس مقام تک پہنچے کہ جہاں سے رسالت کا بعث ہوتا ہے لیکن رسول اللہ ﷺ کے علو شان کی وجہ سے انہیں رسول کر کے مبعوث نہیں کیا گیا۔ بلکہ وہ اولیاء میں ہی شامل رہے گو جزوی طور پر آنحضرت ﷺ کے کمالات کا مظہر ہونے کی وجہ سے وہ رسولوں کے مشابہ ہو گئے مگر مسیح موعود کی شان اور ہے۔ جیسا کہ خود ابن عربی صاحب مسیح موعود کی نسبت تحریر فرماتے ہیں فَلَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ حَشْرَانِ يُحْشَرُ مَعَ الرُّسُلِ رَسُوْلًا وَّ يُحْشَرُ مَعَنَا وَلِيًّا تَابِعًا مُّحَمَّدًا صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ یعنی مسیح موعود کے قیامت کے دن دو حشر ہوں گے ایک رسولوں کے ساتھ رسول کی حیثیت سے۔ اور ایک ہم اولیاء کے ساتھ ایک کامل ولی متبع رسول اللہ ﷺ کے طور پر۔ حضرت ابن عربی صاحب نے ان دونوں عبارتوں میں ان مطالب کو جو میں اوپر بیان کر آیا ہوں۔ نہایت لطافت سے بیان کیا ہے۔ یعنی ایک رنگ میں محدثین کو رسولوں سے مشابہت بھی دی ہے اور پھر یہ بھی بتا دیا ہے کہ وہ رسول نہیں بنے۔ اس کے مقابلہ میں مسیح موعود کو دو رنگ دیئے ہیں ایک تو یہ کہ وہ رسول بنا۔ اور دوسرا یہ کہ وہ امتی بھی رہا۔ پس قیامت کے دن اس کی دو شانیں ہوں گی۔ ایک رسول کی شان۔ اور ایک ان دوسرے اولیاء کی شان۔ جو اپنی بعض شان میں رسولوں کے مشابہ ہوئے۔ لیکن رسول نہ بنے۔ اگر حضرت ابن عربی صاحب کا یہ منشاء ہوتا۔ کہ دیگر اولیاء بھی رسول بن گئے تھے۔ جس طرح مسیح موعودؑ۔ تو وہ یہ نہ لکھتے کہ صرف مسیح موعود کے دو حشر ہوں گے۔ بلکہ سب اولیاء کے اسی طرح کے دو حشر بیان کرتے لیکن انہوں نے اس رسالت کے پانے والوں کو جو اولیاء پاتے ہیں صرف امتی ہی رکھا ہے نبیوں کے گروہ میں شامل نہیں کیا۔ اور اس کی یہی وجہ ہے کہ ختم نبوت کی وجہ سے نبوت کا معیار بہت اونچا ہو گیا ہے اور اس باکمال رسول کی پیدائش سے جو سب نبیوں کا سردار تھا اس عہدہ کی اہمیت اس سے بہت زیادہ ہو گئی ہے جو پہلے تھی۔ اور یہ بات رسول اللہ ﷺ کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے ایک زبردست ثبوت ہے۔ جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔

ممکن ہے کہ کوئی شخص اس جگہ یہ سوال کرے کہ جب ختم نبوت سے نبوت کی شان ایسی بڑھ گئی ۔ کہ رسول اللہ ﷺ کا کامل مظہر ہی نبی ہو سکتا ہے۔ تو اب بتاؤ کہ رسول اللہ ﷺ کا وجود باجود تو ہزاروں سالوں کے بعد پیدا ہوا۔ پھر مسیح موعود جسے تم آپ ﷺ کا مظہر اتم بتاتے ہو۔ اتنی جلدی کس طرح پیدا ہو گیا؟ سو اس کا یہ جواب ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے زور سے بلا کسی اور انسان کے سہارے کے اس درجہ کو پہنچے جو خدا تعالیٰ نے آپ کو دیا ہے۔ لیکن حضرت مسیح موعود صرف اپنی ذاتی استعداد کے ساتھ اس رتبہ کو نہیں پہنچے۔ بلکہ آپ کی ذاتی استعداد کے ساتھ فیضانِ محمدی مل گیا۔ اور ایک تو مسیح موعود کی فطری طاقتوں نے اس کو اوپر اٹھایا۔ اور دوسرے رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بلند کیا۔ اس لئے پہلے کی نسبت جلد ایسا کامل انسان ظاہر ہوا ۔ اور تیرہ سو سال کے اندر ایک ایسے کامل انسان کا ظہور بھی آنحضرت ﷺ کے قوتِ فیضان کے کمال کا ایک زبردست ثبوت ہے۔

خاتمہ کتاب

گو یہ کتاب صرف جناب مولوی محمد علی صاحب کے رسالہ کے جواب کے متعلق نہیں رہی بلکہ میں نے اس میں نبوت کے متعلقہ تمام ضروری امور پر بحث کر دی ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو بیسیوں مسائل پر اس میں بحث کر دی گئی ہے۔ لیکن چونکہ میں جس وقت اس کتاب کو لکھنے بیٹھا ہوں۔ اس وقت جناب مولوی صاحب کا ہی رسالہ میرے مدّنظر تھا۔ اور اسی کی تحریک سے یہ کتاب لکھنے کا موقعہ مجھے ملا ہے۔ اس لئے بار بار جناب مولوی صاحب کا ذکر درمیان میں آ جاتا ہے۔ اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ وہ تمام باتیں جن کا ذکر آپ نے اپنے رسالہ میں کیا ہے ان میں سے بھی کوئی بات باہر نہ رہ جائے۔ گو اس وقت تک میں آپ کے رسالہ میں جس قدر قابلِ جواب باتیں تھیں سب کا جواب دے چکا ہوں۔ لیکن ایک بات ابھی باقی ہے جس کا جواب خاتمہ میں دیتا ہوں۔

مولوی صاحب اپنے ٹریکٹ ”القول الفصل کی ایک غلطی کا ازالہ“ صفحہ ۹ میں تحریر فرماتے ہیں۔ ”حضرت مسیح موعود نے الہامی رسالہ توضیح مرام میں یہ تو صاف لکھ دیا ہے“ جناب مولوی صاحب نے اس رسالہ کو الہامی جس لئے لکھا ہے یہ تو ظاہر ہی ہے۔ بات یہ ہے کہ وہ الہامی کے لفظ سے یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ اس میں چونکہ جو کچھ لکھا گیا ہے وہ الہامی ہے اس لئے وہ منسوخ کیونکر ہو سکتا ہے لیکن اوّل تو اس حوالہ سے جو انہوں نے توضیح مرام سے نقل کیا ہے۔ ان کا کوئی مطلب ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ جیسا کہ میں اس سے پہلے ثابت کر چکا ہوں۔ حضرت مسیح موعود کا دعویٰ شروع سے لے کر آخر تک ایک ہی رہا ہے صرف نام میں تغیر ہوا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ توضیح مرام کتاب ساری کی ساری ہرگز الہامی نہیں۔ یہ بات مولوی صاحب کو کسی نے غلط بتائی ہے۔ کیونکہ میں یہ بدظنی نہیں کر سکتا۔ کہ انہوں نے جان بوجھ کر ایک غلط بات لکھی ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کو اس بات کا حکم ہوا تھا۔ کہ وہ اپنا دعوائے مسیحیت شائع کریں۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل کا اظہار کریں۔ اس پر حضرت مسیح موعود نے رسالہ فتح اسلام اور توضیح مرام لکھے اور شائع کئے۔ اور یہ دونوں رسالے الگ نہیں بلکہ درحقیقت ایک ہی کتاب ہے جیسا کہ توضیح مرام کے سرورق سے ظاہر ہے۔ جس پر حصہ دوم فتح اسلام لکھا ہوا ہے۔ اور اسی وجہ سے اس کتاب کے سرورق پر الہامی لکھا گیا ہے۔ اور اس کا اظہار سرورق کے نیچے کے حصے میں کر دیا گیا ہے چنانچہ فتح اسلام جو توضیح مرام کا پہلا حصہ ہے۔ اس کے اوپر بھی الہامی لکھا ہُوا ہے اور نیچے لکھا ہے۔ ”باہتمام شیخ نور احمد مالک مطبع ریاض ہند امرتسر میں طبع ہو کر ہدایتِ عام و تبلیغِ پیام اور اتمامِ حجت کی غرض سے بامرِ واذنِ الٰہی شائع کیا گیا۔“ اس عبارت سے ہر ایک شخص اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔ کہ آیا کتاب الہامی ہے یا اپنے دعویٰ کا شائع کرنا الہامی ہے۔ اگر یہ کتاب الہامی تھی۔ تو حضرت مسیح موعود نے اس کتاب پر یہ کیوں لکھایا کہ یہ آپ کی تالیف کردہ ہے۔ کیا آپ نے اپنے کسی الہام کے متعلق بھی لکھا ہے۔ کہ یہ میرا تالیف کردہ ہے اس کتاب کو الہامی قرار دینا تو حضرت مسیح موعود پر ایک خطرناک حملہ ہے۔ کیونکہ اس کے یہ معنے ہوں گے۔ کہ حضرت مسیح موعود اپنے الہام خود بنایا کرتے تھے۔ یہ کتاب چونکہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی بناء پر لکھی گئی۔ کہ اپنا دعویٰ شائع کرو۔ اس لئے اس پر الہامی لکھ دیا گیا۔ اور نیچے وجہ بھی بتا دی گئی۔ پھر اسے الہامی کہنے سے کیا مراد ہو سکتی ہے۔ شاید کوئی کہہ دے کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے ایک خطبہ کو بھی تو الہامی کہا ہے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس خطبہ کا حال بالکل مختلف ہے۔ اس کا واقعہ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے کہا کہ تم فلاں بات لوگوں کو سنا دو۔ اور اسے الہامی قرار دے دیا گیا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے لئے ایک نشان مقرر فرمایا تھا کہ آپ ایک خطبہ عربی میں پڑھیں۔ اور تائیدِ ایزدی سے آپ کو وسیع مطالب اور فصیح عبارت پر قدرت دی جائے گی۔ پس وہ خطبہ نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔ اور ہمیشہ حضرت مسیح موعود اسے اپنا نشان قرار دیتے رہے ہیں۔ لیکن کیا کبھی توضیح مرام کی نسبت بھی لکھا ہے کہ یہ کتاب میرے نشانات سے ایک نشان ہے پھر اس خطبہ کا نام اس الہام کو یاد دلانے کے لئے اور اس نشان کے تازہ رکھنے کے لئے خطبہ الہامیہ رکھا گیا۔ اور ہم جب اسے خطبہ الہامیہ کہہ کر پکارتے ہیں۔ تو اس سے یہ مراد ہوتی ہے۔ کہ وہ کتاب جس کا نام خطبہ الہامیہ ہے۔ نہ یہ کہ وہ الہامی ہے۔ لیکن توضیح مرام کے نام میں تو الہام کا لفظ نہیں۔ کہ آپ اس لفظ کے لکھنے پر مجبور ہو گئے۔ حضرت صاحب نے کبھی اس کتاب کو الہامی کتاب یا الہامی رسالہ لکھا ہو تو اسے پیش کریں۔ یا کبھی کوئی اس کی عبارت بطور الہام پیش کی ہو تو اس کی سند دیں۔ علاوہ ازیں حضرت مسیح موعود نے ۱۸۹۲ء میں جو اشتہار دیا ہے۔ اور جس کی بعض عبارات اس سے پہلے کئی جگہ نقل ہو چکی ہیں۔ اس میں لکھا ہے کہ توضیح مرام وغیرہ رسالہ میں جہاں لفظ جزوی نبی وغیرہ آیا ہے۔ وہ سادگی سے لکھا گیا ہے اب بتائیے کہ کیا الہام کی طرف بھی سادگی کا لفظ منسوب ہو سکتا ہے۔ نعوذ بالله من ذلك۔

اب میں اس کتاب کو ختم کرتا ہوں۔ اور تمام حق پسندوں سے درخواست کرتا ہوں کہ جو باتیں انہوں نے اس کتاب میں پڑھی ہیں۔ ان کے مطالب پر اچھی طرح غور کریں اور سوچیں۔ کہ حق کس طرف ہے تا ایسا نہ ہو کہ آنحضرت کی کسرِشان کے مرتکب ہوں۔ اور مسیح موعود کے فیصلہ کے رد کرنے والے بنیں بے شک ہر ایک جماعت کو اس بات کا لحاظ رکھنا چاہئے کہ وہ بے جا غلو سے بچے۔ اور افراط سے اپنا دامن پاک رکھے۔ لیکن میرے دوستو! تفریط سے بچنا بھی مؤمن کا فرض ہے۔ اور حق پر قائم رہنا اس پر واجب ہے۔ کیا یہ ضروری ہے کہ غلو کے خوف سے ہم بزرگوں کی ہتک شروع کردیں۔ یہود پر اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے لعنت کی ہے۔ اور اسی لئے کہ انہوں نے حق کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس یہ شانِ مؤمنانہ کے خلاف ہے کہ وہ صرف اس ڈر سے کہ کہیں غلو نہ ہو جائے ۔ حق کے اظہار سے بچے۔ قرآن کریم تو ہمیں عدل کی تعلیم دیتا ہے۔ پس عدل پر قائم رہو۔ اور نہ کسی بات کو حد سے بڑھاؤ اور نہ حد سے گھٹاؤ کہ دونوں باتیں بری ہیں۔ وہ جو غلو کرتا ہے اور ایک نبی کو خدا بنا دیتا ہے وہ بھی ضال ہے۔ لیکن جو خدا تعالیٰ کے ایک رسول کی ہتک کرتا ہے اور اسے اس کے اصلی درجہ سے گرا دیتا ہے مغضوب علیہم گروہ سے اسے بھی مشابہت پیدا ہو گئی ہے اور ان دونوں مقاموں میں سے کوئی مقام بھی نہیں کہ جہاں مؤمن کھڑا رہنا پسند کرے۔ خوب یاد رکھو کہ حق کی پیروی انسان کو نجات دلا سکتی ہے کیا ہم ہر صداقت کو اس لئے چھوڑ سکتے ہیں کہ کہیں غلو نہ ہو جائے غلو تو حد سے بڑھا دینے کو کہتے ہیں۔ پس کسی بات کو غلو قرار دینے سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے۔ کہ آیا وہ حق کے خلاف ہے۔ اگر وہ دلائل قاطعہ سے حق ثابت ہو جائے ۔ تو پھر غلو کے کیا معنے ہوئے؟ کسی بات کو اس کے اصل درجہ تک ماننا تو عین ثواب ہوتا ہے۔ نہ کہ غلو۔ پس مسیح موعود کی ہتک اس جوش میں نہ کرو کہ تم غلو سے دور جا رہے ہو۔ کیونکہ جنہوں نے مسیحؑ کی ہتک کی۔ وہ آج تک سکھ اور چین کی زندگی نہیں پاسکے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ افراط اور تفریط دونوں برے ہیں اور یہ بالکل درست ہے لیکن افسوس تو یہ ہے کہ وہ یہ بات کہتے ہوئے تفریط سے کام لیتے ہیں اور مسیح موعودؑ کا درجہ گھٹا رہے ہیں۔ اور اسی طرح قابلِ الزام ہیں۔ جس طرح بعض وہ لوگ جو اطراء کی طرف راغب ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہم لوگ وسط میں ہیں۔ اور ایک طرف اگر آنحضرت کی عظمت و جلال کے قائل اور آپ کے خاتم النبیّین ماننے کو جزوِ ایمان قرار دیتے ہیں۔ تو دوسری طرف مسیح موعود کی نبوت کا انکار کرکے ختمِ نبوت کی کسرِ شان کرنے سے محفوظ ہیں۔ جناب مولوی صاحب اپنے رسالہ میں لکھتے ہیں۔ کہ حدیث میں آتا ہے کہ مسلمان ایک وقت یہود و عیسائیوں کے مشابہ ہو جائیں گے۔ اس لئے ہمیں خوف کرنا چاہئے تا ایسا نہ ہو کہ ضالّین میں داخل ہو جائیں۔ میں ان کی اس نصیحت کی قدر کرتا ہوں کیونکہ کَلِمَةُ الْحِکْمَةِ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ اَخَذَہَا حَيْثُ وَجَدَهَا۳؎ یعنی حکمت کی بات مؤمن کی گم شدہ چیز ہے جہاں سے ملے اسے لے لے۔ پس میں اس نصیحت کی قدر کرتا ہوں اور ہر ایک مؤمن کا فرض خیال کرتا ہوں کہ وہ ضالّ بننے سے بچے۔ لیکن یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ انہوں نے نصارٰی کا مصداق ہمیں کس طرح سمجھ لیا کیونکہ اول تو نصارٰی کا فتنہ اس وقت موجود ہے ہزاروں مسلمان عیسائی ہو چکے ہیں۔ اور ہو رہے ہیں پس جبکہ نصارٰی میں شامل ہونے والے لوگ موجود ہیں اور پادریوں کا فتنہ بھی خطرناک طور سے موجود ہے کہ ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کو عیسائی کر رہے ہیں تو ایک نیا گروہ عیسائیوں کا بنانے کی کیا وجہ پیش آگئی دوسرے خود حضرت مسیح موعود اپنی کتاب خطبہ الہامیہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ لیکن جو لوگ ضالّین کے وارث ہوئے ان میں بعض نصاریٰ کی خو خصلت اور شعار کو دوست رکھتے ہیں اور اس طرف جھک گئے ہیں لباس میں کوٹوں میں ٹوپیوں اور جوتیوں میں اور طرزِ زندگی میں اور باقی سب خصال میں ان کی نقل کرتے ہیں اور جو شخص اس طرز کے خلاف کرے اس پر ہنستے ہیں اور عیسائی عورتوں سے شادیاں کرتے ہیں اور انہی پر ان کا دل آتا ہے اور بعض ان میں سے جو ضالّین ہو گئے ہیں وہ ہیں کہ جو فلسفہ نصارٰی کی طرف جھک گئے ہیں اور دینی امور میں غفلت سے کام لیتے ہیں اور بہت سی نامناسب باتیں ان کے منہ سے نکلتی رہتی ہیں اور اللہ کے دین کی پرواہ نہیں کرتے۔ اور بعض ضالّین میں شامل ہونے والے وہ ہیں کہ انہوں نے ضلالت کو کمال تک پہنچا دیا ہے اور اسلام سے مرتد ہو گئے ہیں اور بے وقوفی سے اس کے دشمن بن گئے ہیں (ترجمہ عبارت خطبہ الہامیہ صفحہ ۱۰۷، ۱۰۸) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ ضالّین سے مشابہ ہونے والا گروہ بھی حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے مخالفوں کو ہی قرار دیا ہے مگر تعجب ہے کہ آپ کو اپنی وفات تک اس قدر بھی علم نہ ہوا کہ جس ضالّین کے گروہ کی اصلاح کے لئے میں بھیجا گیا ہوں اسے میں خود تیار کر رہا ہوں۔ اور جن کو ضالّین سمجھ کر ان کی اصلاح کی فکر میں ہوں وہ اصل میں المغضوب علیہم کا گروہ ہے۔

غرض جبکہ خود حضرت مسیح موعودؑ جو مغضوب علیہم اور ضالّین کی اصلاح کے لئے بھیجے گئے تھے مغضوب علیہم اور ضالّین کے گروہ کی تعیین کر چکے ہیں تو اور کسی کا کیا حق ہے کہ اپنے مخالف خیالات کو دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث کا غلط استعمال کرے۔ آپ لاہور میں ایسے لوگوں کی ایک جماعت روزانہ دیکھتے ہوں گے پھر آپ کو احمدی جماعت کے ضالّ بنانے کا خیال کیوں پیدا ہوا؟۔

آپ پوچھتے ہیں کہ کیا کوئی امت پہلی امتوں میں سے ایسی بھی گزری ہے جس نے تفریط سے کام لیا ہو سب قومیں افراط سے ہی کام لیتی رہی ہیں پس ثابت ہوا کہ اس وقت بھی افراط سے ہی کام لیا جا رہا ہے لیکن میں پوچھتا ہوں کہ کیا پہلی امتوں میں سے کوئی ایسی امت گزری ہے جس میں خود اس جماعت نے جو نبی کے ہاتھ پر تیار ہوئی ہو اور اس کے فیض صحبت سے تیار ہوئی ہو افراط سے کام لیا ہو اور اس جماعت کا اکثر حصہ غالی اور ضالّ ہو گیا ہو۔ اگر پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ اور یقیناً کبھی نہیں ہوا۔ تو آپ جو پہلی امتوں کی نظیر سے فیصلہ کرنا چاہتے ہیں بتائیں کہ آپ ہم پر غلو کا الزام کس طرح لگا سکتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ ایک قلیل گروہ کو ٹھوکر لگی ہو لیکن یہ بات آپ ہرگز ثابت نہیں کر سکتے کہ نبی کے وقت کی جماعت کا اکثر حصہ گندہ ہو گیا ہو اور آپ اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ آپ قلیل ہیں اور ہم زیادہ ہیں مگر شاید کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ(5:82) کہہ کر یہ ثابت کرنا چاہیں کہ اکثر فاسق ہوتے ہیں تو آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ان جماعتوں کی نسبت نہیں جو نبی کی تیار کردہ ہوتی ہیں اگر ان کے اندر بھی اکثر فاسق ہوں اور کم ہدایت یافتہ تو نبی پر ناکام جانے کا الزام آتا ہے۔ اور اگر آپ کے اس قاعدہ کو انبیاء اور مامورین کے وقت کی جماعتوں پر بھی لگایا جائے تو اس وقت مولوی یار محمد صاحب کی جماعت بہت کم ہے۔ اور پھر تیاپوری صاحب کی کہ اول الذکر کے ساتھ دو تین آدمی ہیں۔ اور مؤخر الذکر کے ساتھ دس پندرہ یا کچھ زیادہ پس آپ کے بتائے ہوئے قاعدہ کے ماتحت تو وہ دونوں ہدایت پر ہوں گے اصل بات یہ ہے کہ جب کبھی آیات قرآنیہ کا غلط استعمال کیا جائے گا ضرور ٹھوکر لگے گی۔

ہاں آپ ایک جواب اور دے سکتے ہیں اور وہ یہ کہ مسیح ناصری کے بعد اس کی جماعت میں غلو پیدا ہو گیا۔ اور حواری بگڑ گئے۔ لیکن آپ کا یہ قول کسی مسیحی پر حجت ہو گا نہ مسلمانوں پر کیونکہ قرآن کریم میں حواریوں کے بگڑنے کے ذکر کی بجائے ان کی تعریف آئی ہے اور مسلمانوں کو کہا ہے کہ تم بھی حواریوں کی طرح انصار اللہ بن جاؤ۔ پس حواریوں کی نظیر کو تبھی پیش کیا جا سکتا ہے جب قرآن کریم کو چھوڑ دیا جائے۔ ہاں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بعد میں تو امتوں نے غلو کیا ہے تو میرا جواب یہ ہے کہ بعد میں تفریط بھی کی ہے خود لاہور میں چکڑالویوں کی جماعت موجود ہے ان سے دریافت کر لیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا درجہ کیا سمجھتے ہیں اور ان کے قول کو کہاں تک حجت خیال کرتے

ہیں پس بعد کی جماعتیں اگر افراط میں مبتلاء ہوئی ہیں تو تفریط کا بھی شکار ہوئی ہیں ہاں ایک نظیر آپ کو اور دے دیتا ہوں کہ رسول اللہ کی زندگی میں ایک قلیل گروہ ایسا بھی تھا جس نے رسول اللہ کے درجہ میں تفریط سے کام لیا۔ چنانچہ ایک شخص نے آپ کے منہ پر کہہ دیا کہ حضور عدل سے تقسیم کریں مطلب یہ کہ آپ عدل نہیں کرتے اور دوسرے لوگوں کی طرح مبتلائے خیانت ہو سکتے ہیں۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ اور جب بعض صحابہؓ اس کے مارنے پر تیار ہوئے تو آنحضرت نے فرمایا کہ اسے جانے دو اس کی ہم خیال ایک اور جماعت اس امت میں سے پیدا ہونے والی ہے چنانچہ خوارج کا گروہ جو الحکم للہ جیسا سچا کلمہ کہہ کر اس سے باطل مراد لیتا تھا اس پیشگوئی کے ماتحت پیدا ہوا۔ غرض قلیل جماعتوں میں افراط و تفریط کے تو نمونے موجود ہیں لیکن اس جماعت کے اکثر حصہ کے گمراہ ہونے کی نظیر نہیں ملتی جو نبی کا صحبت یافتہ ہو پس مقام خوف ہے۔

میری غرض ان سوالوں کے جواب دینے سے یہ تھی کہ بعض باتیں بظاہر وزنی معلوم ہوتی ہیں لیکن درحقیقت بہت بودی ہوتی ہیں ان کی بجائے معقول باتوں کی طرف توجہ کرنی چاہئے ورنہ انسان گمراہ ہو جاتا ہے۔ نبوت کا مسئلہ ایک نہایت نازک مسئلہ ہے میں سب ایسے لوگوں سے جو اللہ تعالیٰ کا خوف اپنے دل میں رکھتے ہیں درخواست کرتا ہوں کہ اس میدان میں پھونک پھونک کر قدم رکھیں کیونکہ مسیح موعودؑ پر ہاتھ ڈالنا درحقیقت خدائے تعالیٰ کا مقابلہ کرنا ہے اگر ایسا شخص آگ میں کود پڑتا یا شیر کے منہ میں اپنا ہاتھ دے دیتا تو اس کے لئے بہتر ہوتا بہ نسبت اس کے کہ مسیح موعودؑ پر ہاتھ ڈالتا۔ آپ لوگوں نے اس کتاب کو پڑھ کر معلوم کر لیا ہو گا کہ نبوت مسیح موعودؑ سے انکار کرنا درحقیقت اسلام کی کمزوری اور آنحضرت کے فیضان کی کمی بلکہ آپ کا دنیا کے لئے ایک عذاب ہونے کا اقرار کرنا ہے نعوذ باللہ من ذالک۔ پس یہ کبھی خیال مت کرو کہ تم مسیح موعودؑ کی نبوت کا انکار کر کے درحقیقت مسیح موعودؑ کی نبوت کا انکار کرتے ہو بلکہ جو شخص ایسا کرتا ہے وہ خود آنحضرت کی شان کم کرتا ہے اور آپؐ کے وجود کو ایک چاند گرہن یا سورج گرہن کے طور پر قرار دیتا ہے جس نے نبوت کے فیضان سے دنیا کو روک دیا۔ اب کوئی لاکھ سر مارے اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں گداز ہو جائے آپ کی اطاعت میں اپنے آپ کو فنا کر دے یہ انعام جو پہلے لوگوں کو ملا کرتا تھا اب نہیں ملتا۔ اے مسلمانو! اے احمدیو!! خدارا اس عقیدہ کے خطرناک نتیجہ پر غور کرو۔ اور دیکھو کہ جو شخص مسیح موعودؑ کی نبوت کا انکار کرتا ہے وہ درحقیقت کشتی اسلام پر کلہاڑے کی ایک خطرناک ضرب مارتا ہے وہ اس نادان کی طرح ہے جس نے اپنے آقا کے منہ پر مکھی بیٹھی دیکھ

کر اسے ہٹایا۔ لیکن وہ پھر آکر بیٹھ گئی۔ اس نے پھر ہٹایا تو وہ پھر بیٹھ گئی پھر ہٹایا تو وہ پھر بیٹھ گئی۔ اس پر اسے مکھی پر سخت طیش آیا اور ایک بڑا پتھر اٹھا کر اس مکھی پر دے مارا کہ یہ کمبخت میرے آقا کو سونے نہیں دیتی لیکن اس کا کیا نتیجہ ہوا۔ اس کا آقا اس مکھی کے ساتھ ہی اس جہان سے رخصت ہو گیا۔ آہ! مسیح موعودؑ کی نبوت کا انکار کرنے والا یہ نہیں خیال کرتا کہ وہ بھی اس نوکر کی طرح ایک مکھی کے اڑانے کے لئے جو در حقیقت اس کے اپنے وہم کا نتیجہ ہے (ورنہ اسکی حقیقت کوئی نہیں) اپنے آقا کا سر کچلنے پر تیار ہو گیا ہے۔ اسلام کو تباہ کر رہا ہے جو شخص ایک شاخ کے بچانے کے لئے جڑ ھ کاٹتا ہے وہ یاد رکھے کہ نہ جڑ ھ رہے گی نہ شاخ۔ اسلام میں نبوت کا مسئلہ ہی تو ایک زبردست مسئلہ ہے جو اسے پچھلے ادیان پر فضیلت دیتا ہے آنحضرت ﷺ کے فیض سے نبوت کا مل جانا ہی تو ایک کمال ہے جو آپ کو دوسرے انبیاء سے افضل ثابت کرتا ہے ورنہ محدث تو پہلے انبیاء کی امتوں میں بھی ہوتے تھے پس اگر آنحضرت ﷺ کی امت میں بھی محدث ہی آسکتے ہیں تو آپ کو دوسرے انبیاء پر کیا فضیلت ہوئی؟ ہمارا نبیؐ خاتم النّبیّن ہے وہ کل کمالات کا جمع کرنے والا ہے کل خوبیاں اس پر ختم ہو گئیں وہ خاتم النّبیّن ہی نہیں وہ خاتم المؤمنین بھی ہے دنیا کے پردہ پر کسی جگہ کوئی شخص مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک اس سے فیض نہ پائے لیکن اس کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ خاتم النّبیّن ہے یعنی نہ صرف نبی ہے بلکہ نبی گر ہے دنیا میں بہت سے نبی گزرے ہیں مگر ان کے شاگرد محدّثیت کے درجہ سے آگے نہیں بڑھے سوائے ہمارے نبی ﷺ کے کہ اس کے فیضان نے اس قدر وسعت اختیار کی کہ اس کے شاگردوں میں سے علاوہ بہت سے محدّثوں کے ایک نے نبوت کا درجہ بھی پایا اور نہ صرف یہ کہ نبی بنا بلکہ اپنے مطاع کے کمالات کو ظلی طور پر حاصل کر کے بعض اولوالعزم نبیوں سے بھی آگے نکل گیا۔ چنانچہ خدائے تعالیٰ نے مسیح ناصری جیسے اولوالعزم نبی پر اسے فضیلت دی اور یہ سب کچھ صرف آنحضرت ﷺ کے فیضان سے ہوا نہ اس کے اپنے زور سے۔ پس اے آنحضرت ﷺ کی محبت کا دم بھرنے والو! مسیح موعودؑ کی نبوت کا انکار کرنا در حقیقت آنحضرت ﷺ کی قوت فیضان کا انکار کرنا ہے اور مسیح موعودؑ کے نبی ہونے سے آنحضرت ﷺ کی شان میں نقص نہیں آتا۔ اور نہ آپ ﷺ کی اس میں ہتک ہے بلکہ یہ سراسر عزت ہے اور وہ عزت ہے جس میں کوئی اور رسول آپ کے ساتھ شامل نہیں جہاں غیر وارث ہو وہاں غیرت ہوتی ہے، لیکن جہاں اپنا شاگرد اور روحانی فرزند وارث ہو وہاں غیرت کا کیا تعلق شاگرد کا بڑھنا تو استاد کی قابلیت پر دلیل ہوتا ہے نہ کہ اس سے استاد کی قابلیت پر کوئی حرف آتا ہے پس مسیح

موعودؑ کے بڑھنے پر حسد مت کرو۔ کہ اس کا بڑھنا در حقیقت آنحضرت ﷺ کا بڑھنا ہے اور اس کی ترقی پر تیوری مت چڑھاؤ کہ جو اس کی ترقی پر منہ بناتا ہے۔ اس کا دل در حقیقت آنحضرت ﷺ کی ترقی کو دیکھ کر جلتا ہے۔ اس بات کو خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ نے پہلے انبیاء نے مسیح موعود کا نام نبی رکھا ہے کل شرائط نبوت اس میں پائی جاتی ہیں اس کی نبوت کا انکار کرنے سے خود اللہ تعالیٰ کی ذات پر غلط بیانی کا الزام آتا ہے یا مسیح موعود پر جھوٹ کا۔ پس اس بات سے توبہ کرو جس سے خدائے تعالیٰ رسول اللہ ﷺ پہلے انبیاء اور مسیح موعود کی تکذیب ہوتی ہے کیونکہ یہ راہ خطرناک ہے اور اس میں طرح طرح کے مصائب ہیں اپنے قدموں کو واپس کر لو کہ تمہارے سامنے ایک گڑھا ہے جس میں گر کر ہلاک نہ ہو جاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود سے فرمایا ہے۔

”کہ دنیا میں ایک نبی آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا۔ اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“

پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ بجائے اس کی جماعت کو بڑھانے اور اس کے انکار کرنے والوں کو گھٹانے کے وہ اس کی جماعت کے اکثر حصہ کو چھوڑ دے اور گمراہ کر دے کیا وہ خدا جو ازل سے سچ بولتا آتا ہے اور جس نے اس زمانہ میں بھی زبردست نشانوں سے اپنی طاقت اور اپنی صداقت کو ثابت کیا ہے۔ ان دنوں اپنے وعدہ کے خلاف کرے گا۔ پس بات کو سمجھو اور اچھی طرح سمجھو۔ کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ مسیح موعودؑ جب دعوائے نبوت کرے گا تو کچھ لوگ اس کی نبوت کے منکر ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ زبردست نشانوں سے مسیح موعودؑ کی صداقت ظاہر کر دے گا اب بتاؤ کہ اگر حضرت مسیح موعودؑ کے بعد جماعت نے فوراً غلو کرنا شروع کر دینا تھا تو چاہئے تھا کہ الہام کے الفاظ یوں ہوتے کہ دنیا میں ایک جزوی نبی آیا پر دنیا نے اسے نبی قرار دے دیا لیکن خدائے تعالیٰ اس کی جزوی نبوت ثابت کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کے درجہ کی کمی ثابت کر کے دکھا دے گا۔ نہ یہ کہ وہ الفاظ ہوتے جو اب الہام میں موجود ہیں اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ لوگ اس کی نبوت کا انکار کریں گے اور یہ انکار ہی چلا جائے گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس کی جماعت کو غالب کر دے لیکن اس کی بجائے ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ مسیح آیا اس کی نبوت کا لوگوں نے انکار کیا اور ابھی انکار کرنے والے ہی زیادہ تھے اور دنیا میں اس کی جماعت کو کوئی خاص ترقی نہ ہوئی تھی اور ابھی زبردست حملے منکروں کو منوانے کے لئے ہو ہی رہے تھے کہ اس کی جماعت نے اس کے درجہ میں غلو کرنا شروع کر دیا حالانکہ یہ بات الہام کے الفاظ کے صریح خلاف ہے الہام تو یہ بتا رہا ہے کہ مسیح موعود کی نبوت کا انکار کرنے والی جماعت پر اللہ تعالیٰ حملہ کرتا چلا جائے گا اور برابر اس کی جماعت کی تائید کرتا چلا جائے گا جب تک کہ غلبہ نہ ہو پس غلبہ تک مسیح موعودؑ کی اکثر جماعت کا اس کے درجہ میں غلو کرنا مذکورہ بالا الہام کے خلاف ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی شہادت سے ہمارے حق پر ہونے کا شاہد ہے کیونکہ اگر کوئی نیا فرقہ نکلا بھی ہے تو اول تو وہ بہت کم ہے جسے بوجہ قلت جماعت احمدیہ نہیں کہا جاسکتا۔ اور دوسرے وہ مسیح موعود کی نبوت کا انکار کرنے والا ہے نہ اس کی نبوت کا اقرار کرنے والا۔

غرض کہ یہ بات سنت اللہ اور مسیح موعودؑ کے الہامات کے بالکل خلاف ہے کہ ایک سلسلہ ابھی پورا نہ ہوا ہو اور اس کو ابھی اپنے ملک میں بھی غلبہ نہ حاصل ہوا ہو اور ابھی وہ ایسی جماعت نہ بنی ہو جو دنیا کی نظروں میں ایک جماعت خیال کی جائے کہ خدائے تعالیٰ اسے چھوڑ دے اور اس کے اکثر افراد حق سے دور ہو جائیں اور راستی کو ترک کر دیں۔ اور غلو میں مبتلاء ہو جائیں۔ اگر ہمارے خیال کے لوگ کم ہوتے تو بے شک کہا جا سکتا تھا کہ انبیاء کی جماعت میں سے کبھی کوئی مرتد بھی ہو جاتا ہے لیکن یہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک نبی کے صحبت یافتوں میں سے اکثر خراب ہو جائیں اور ایسے خراب ہو جائیں کہ ان کی نسبت کافر کا لفظ استعمال ہو سکے کیونکہ ختم نبوت کے بعد کوئی ایسا نبی ماننا جو از روئے قرآن نہیں آسکتا کفر ہے پس اگر مسیح موعود ویسا نبی نہیں جیسا کہ ہم خیال کرتے ہیں تو پھر ہم پر کفر کا الزام آتا ہے اور مدت سے اشارات اشارات میں ہمیں اس بات کی طرف متوجہ بھی کیا جا رہا ہے کیونکہ لکھا جاتا ہے کہ خاتم النبیین کے بعد نبی ماننا کفر ہے لیکن یہ سنت اللہ کے بالکل خلاف ہے کہ اس طرح ایک مامور کے ساتھ ہی اس کی جماعت کو تباہ کر دیا جائے اگر کہو کہ آئندہ نیک لوگ پیدا ہو جائیں گے تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ مسیح موعود فرماتے ہیں کہ جو لوگ میرے زمانہ کے ہیں وہ آئندہ آنے والی نسلوں سے بہتر ہیں پس موجودہ جماعت کاستانوے فیصدی حصہ تو یوں کافر ہو گیا اور آئندہ کے لئے کوئی امید نہ رہی تو مسیح موعود نے کیا کام کیا؟

میرے دوستو! نہایت خوف کا مقام ہے نہایت ہی خوف کا مقام ہے نہایت ہی خوف کا مقام ہے اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنِّىْ مُهِيْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِهَانَتَكَ پس مسیح موعود کی ہتک سے اجتناب کرو کہ اس کی ہتک دراصل اس کے آقا کی ہتک ہے کیا کوئی شخص جو آئینہ کے عکس کا نقص نکالتا ہے کہہ سکتا کہ میں تو آئینہ میں جو عکس ہے اس کا نقص نکالتا ہوں نہیں جو عکس کا نقص نکالتا ہے

وہ درحقیقت عکس والے کے نقص نکالتا ہے اور جو تصویر کو بدصورت کہتا ہے وہ درحقیقت اس کو جس کی تصویر ہے بدصورت کہتا ہے پس مسیح موعود کی نبوت کا جو آنحضرت ﷺ کا بروز کامل ہے انکار نہ کرو کہ یہ اس کی نبوت کا انکار ہو گا۔ جس کا وہ ظل ہے اور جس کے مظہر اتم ہونے کا وہ اعلان کرتا ہے اگر دلائل سے نہیں سمجھ سکتے تو خاموشی اختیار کرو اور دعاؤں پر زور دو اور خدائے تعالیٰ سے فیصلہ چاہو شاید اللہ تعالیٰ تمہاری گریہ وزاری پر رحم کر کے تم کو ہدایت دے اور تا تم جرأت بے جا کر کے عذاب میں مبتلاء نہ ہو جاؤ میں نے صداقت پیش کر دی ہے اب جس کا جی چاہے قبول کرے اور جس کا جی چاہے رد کر دے لیکن رد کرنے والا یہ نہ خیال کرے کہ وہ میری تحریر کو رد کرتا ہے نہیں بلکہ وہ خدا اور اس کے رسول کی باتوں کو رد کرتا ہے کیونکہ میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کی باتوں سے لکھا ہے اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو ہدایت دے اور اسلام کی عظمت کو ظاہر فرمائے اور آنحضرت ﷺ کے جلال اور مسیح موعود کی صداقت کو ظاہر فرمائے آمین۔

وَاٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

خاکسار مرزا محمود احمد

ضمیمہ نمبر ۱

نقل مطابق اصل

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

ایک غلطی کا ازالہ

ہماری جماعت میں سے بعض صاحب جو ہمارے دعویٰ اور دلائل سے کم واقفیت رکھتے ہیں جن کو نہ بغور کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اور نہ وہ ایک معقول مدت تک صحبت میں رہ کر اپنے معلومات کی تکمیل کر سکے وہ بعض حالات میں مخالفین کے کسی اعتراض پر ایسا جواب دیتے ہیں کہ جو سراسر واقعہ کے خلاف ہوتا ہے اس لئے باوجود اہل حق ہونے کے ان کو ندامت اٹھانی پڑتی ہے چنانچہ چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے الفاظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بھی بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں اور براہین احمدیہ میں بھی جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے۔ یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ مکالمات الٰہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے هُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّهٖسه اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے جَرِیُّ اللّٰهِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں؎ پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَالَّذِیْنَ مَعَهٗ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی پھر یہ وحی اللہ ہے جو صفحہ ۴۵۷ براہین میں درج ہے ”دنیا میں ایک نذیر آیا“ اس کی دوسری قراءت یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا۔ اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا

گیا سو اگر یہ کہا جائے کہ آنحضرت ﷺ تو خاتم النّبیّن ہیں پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آسکتا ہے اس کا جواب یہی ہے کہ بے شک اس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پرانا نہیں آسکتا جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری زمانہ میں اتارتے ہیں۔ اور پھر اس حالت میں ان کو نبی بھی مانتے ہیں۔ بلکہ چالیس برس تک سلسلہ وحیِ نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرت ﷺ سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے بیشک ایسا عقیدہ تو معصیت ہے اور آیت وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ(33:41) اور حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے لیکن ہم اس قسم کے عقائد کے سخت مخالف ہیں اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا کہ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ(33:41) اور اس آیت میں ایک پیشگوئی ہے جس کی ہمارے مخالفوں کو خبر نہیں اور وہ یہ ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد پیشگوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیئے گئے اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کرسکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنا فی الرسول کی ۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظلّی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوتِ محمدی کی چادر ہے اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے اور نہ اپنے لئے بلکہ اسی کے جلال کے لئے۔ اسی لئے اس کا نام آسمان پر محمدؐ اور احمدؐ ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ محمدؐ کی نبوت آخر محمدؐ کو ہی ملی گو بروزی طور پر۔ مگر نہ کسی اور کو۔ پس یہ آیت کہ مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ(الاحزاب: ۴۱) اس کے معنی یہ ہیں کہ لَيْسَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِ الدُّنْيَا وَلكِنْ هُوَ اَبٌ لِرِجَالِ الْاٰخِرَةِ لِاَنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ وَلَا سَبِيْلَ إِلَى فُيُوْضِ اللهِ مِنْ غَيْرِ تَوَسُّطِهٖ غرض میری نبوت اور رسالت باعتبار محمدؐ اور احمدؐ ہونے کے ہے۔ نہ میرے نفس کے رو سے اور یہ نام بحیثیت فنا فی الرسول مجھے ملا۔ لہٰذا خاتم النّبیّن کے مفہوم میں فرق نہ آیا لیکن عیسیٰ کے اترنے سے ضرور فرق آئے گا۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ نبی کے معنے لغت کے رُو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کر غیب کی خبر دینے والا۔ پس جہاں یہ معنے صادق آئیں گے نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا اور نبی کا رسول ہونا شرط ہے۔ کیونکہ اگر وہ رسول نہ ہو تو پھر غیبِ مصفّٰی کی خبر اس کو مل نہیں سکتی۔ اور یہ آیت روکتی ہے فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(الجن: ۲۷) اب اگر

آنحضرت ﷺ کے بعد ان معنوں کے رو سے نبی سے انکار کیا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یہ امت مکالمات و مخاطباتِ الٰہیہ سے بے نصیب ہے کیونکہ جس کے ہاتھ پر اخبارِ غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے بالضرورت اس پر مطابق آیت فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ(72:27) کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا۔ اسی طرح جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا جائے گا اسی کو ہم رسول کہیں گے۔ فرق درمیان یہ ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد قیامت تک ایسا نبی کوئی نہیں جس پر جدید شریعت نازل ہو یا جس کو بغیر توسط آنجنابؐ اور ایسی فنا فی الرسول کی حالت کے جو آسمان پر اس کا نام محمدؐ اور احمدؐ رکھا جائے ۔ یونہی نبوت کا لقب عنایت کیا جائے وَ مَنِ ادَّعٰی فَقَدْ كَفَرَ اس میں اصل بھید یہی ہے کہ خاتم النبیین کا مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک کوئی پردہ مغایرت کا باقی ہے اس وقت تک اگر کوئی نبی کہلائے گا۔ تو گویا اس مہر کو توڑنے والا ہو گا جو خاتم النبین پر ہے لیکن اگر کوئی شخص اسی خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پا لیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدیؐ چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا کیونکہ وہ محمدؐ ہے گو ظلی طور پر۔ پس باوجود اس شخص کے دعوٰی نبوت کے جس کا نام ظلی طور پر محمدؐ اور احمدؐ رکھا گیا۔ پھر بھی سیدنا محمدؐ خاتم النبین ہی رہا۔ کیونکہ یہ محمدؐ ثانی اسی محمد ﷺ کی تصویر اور اسی کا نام ہے مگر عیسٰی بغیر مہر توڑنے کے آنہیں سکتا کیونکہ اس کی نبوت ایک الگ نبوت ہے اور اگر بروزی معنوں کے رو سے بھی کوئی شخص نبی اور رسول نہیں ہو سکتا۔ تو پھر اس کے کیا معنے ہیں کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ(1:6-7) سو یاد رکھنا چاہئے کہ ان معنوں کے رو سے مجھے نبوت اور رسالت سے انکار نہیں ہے۔ اسی لحاظ سے صحیح مسلم میں بھی مسیح موعود کا نام نبی رکھا گیا۔ اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس طرح سے اس کو پکارا جائے اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہارِ غیب نہیں ہے مگر نبوت کے معنے اظہار امر غیب ہے اور نبی ایک لفظ ہے جو عربی اور عبرانی میں مشترک ہے یعنی عبرانی میں اسی لفظ کو نابی کہتے ہیں اور یہ لفظ نابا سے مشتق ہے جس کے یہ معنے ہیں خدا سے خبر پا کر پیشگوئی کرنا۔ اور نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ کھلتے ہیں پس میں جبکہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیشگوئی کے قریب خدا کی طرف سے پاکر بچشمِ خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہو گئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں اور جبکہ خود خدا تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیونکر رد کر دوں یا کیونکر اس کے سوا کسی دوسرے سے ڈروں مجھے اس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔ اور جس پر افتراء کرنا لعنتیوں کا کام ہے کہ اس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ اور حضرت محمد مصطفےٰ پر اپنا کلام نازل کیا تھا میرے لئے زمین نے بھی گواہی دی۔ اور آسمان نے بھی۔ اس طرح پر میرے لئے آسمان بھی بولا۔ اور زمین بھی کہ میں خلیفۃ اللہ ہوں مگر پیشگوئیوں کے مطابق ضرور تھا کہ انکار بھی کیا جاتا۔ اس لئے جن کے دلوں پر پردے ہیں وہ قبول نہیں کرتے۔ میں جانتا ہوں کہ ضرور خدا میری تائید کرے گا جیسا کہ وہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی تائید کرتا رہا ہے کوئی نہیں کہ میرے مقابل پر ٹھہر سکے کیونکہ خدا کی تائید ان کے ساتھ نہیں اور جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔ اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا اور میرا یہ قول کہ ” من نیستم رسول و نیاورده ام کتاب “ اس کے معنے صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں۔ ہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے اور ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ میں باوجود نبی اور رسول کے لفظ کے ساتھ پکارے جانے کے خدا کی طرف سے اطلاع دیا گیا ہوں کہ یہ تمام فیوض بلاواسطہ میرے پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے۔ یعنی محمد مصطفےٰ ۔ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسمّٰی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی اور اس طور سے خاتم النبیین کی مہر محفوظ رہی۔ کیونکہ میں نے انعکاسی اور ظلی طور پر محبت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا اگر کوئی شخص اس وحی الٰہی پر ناراض ہو کہ کیوں خدا تعالیٰ نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے تو یہ اس کی

حماقت ہے کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مہر نہیں ٹوٹتی۲؎۔ یہ بات ظاہر ہے کہ جیسا کہ میں اپنی نسبت کہتا ہوں کہ خدا نے مجھے رسول اور نبی کے نام سے پکارا ہے ایسا ہی میرے مخالف حضرت عیسیٰ ابن مریم کی نسبت کہتے ہیں کہ وہ ہمارے نبی کے بعد دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور چونکہ وہ نبی ہیں اس لئے ان کے آنے پر بھی وہی اعتراض ہو گا جو مجھ پر کیا جاتا ہے یعنی یہ کہ خاتم النبیّین کی مہر ختمیت ٹوٹ جائے گی۔ مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت کے بعد جو درحقیقت خاتم النبیّین تھے مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارا جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں اور نہ اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ(62:4) بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت کا ہی وجود قرار دیا ہے پس اس طور سے آنحضرت کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں پس اس طور سے خاتم النبیّین کی مہر نہیں ٹوٹی کیونکہ محمد کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی یعنی بہرحال محمد ہی نبی رہا نہ اور کوئی یعنی جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالاتِ محمدی مع نبوتِ محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا بھلا اگر مجھے قبول نہیں کرتے تو یوں سمجھ لو کہ تمہاری حدیثوں میں لکھا ہے کہ مہدی موعود خلق اور خَلق میں ہم رنگ آنحضرت ہو گا اور اس کا اسم آنجناب کے اسم سے مطابق ہو گا یعنی اس کا نام بھی محمدؐ اور احمد ہو گا۔ اور اس کے اہل بیت میں سے ہو گا۳؎ اور بعض حدیثوں میں ہے کہ مجھ میں سے ہو گا۔ یہ عمیق اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ وہ روحانیت کے رو سے اسی نبی میں سے نکلا ہوا ہو گا۔ اور اسی کی روح کا روپ ہو گا اس پر نہایت قوی قرینہ یہ ہے کہ جن الفاظ کے ساتھ آنحضرت نے تعلق بیان کیا یہاں تک کہ دونوں کے نام ایک کر دیئے ان الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت اس موعود کو اپنا بروز بیان فرمانا چاہتے ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ کا یشوعا بروز تھا۔ اور بروز کے لئے یہ ضرور نہیں کہ بروزی انسان صاحبِ بروز کا بیٹا یا نواسہ ہو ہاں یہ ضرور ہے کہ روحانیت کے تعلقات کے لحاظ سے شخص مورد بروز صاحب بروز میں سے نکلا ہوا ہو۔ اور ازل سے باہمی کشش اور باہمی تعلق درمیان ہو۔ سو یہ خیال آنحضرت کی شان معرفت کے سراسر خلاف ہے کہ آپ اس

بیان کو تو چھوڑ دیں جو اظہارِ مفہوم بروز کے لئے ضروری ہے اور یہ امر ظاہر کرنا شروع کر دیں کہ وہ میرا نواسہ ہوگا۔ بھلا نواسہ ہونے سے بروز کو کیا تعلق اور اگر بروز کے لئے یہ تعلق ضروری تھا تو فقط نواسہ ہونے کی ایک ناقص نسبت کیوں اختیار کی گئی۔ بیٹا ہونا چاہئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی کلامِ پاک میں آنحضرت ﷺ کے کسی کے باپ ہونے کی نفی کی ہے لیکن بروز کی خبر دی ہے اگر بروز صحیح نہ ہوتا تو پھر آیت وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ(62:4) میں اس موعود کے رفیق آنحضرت ﷺ کے صحابہ کیوں ٹھہرتے اور نفی بروز سے اس آیت کی تکذیب لازم آتی ہے جسمانی خیال کے لوگوں نے کبھی اس موعود کو حسن کی اولاد بنایا اور کبھی حسین کی اور کبھی عباس کی لیکن آنحضرت ﷺ کا صرف یہ مقصود تھا کہ وہ فرزندوں کی طرح اس کا وارث ہو گا۔ اس کے نام کا وارث۔ اس کے خُلق کا وارث۔ اس کے علم کا وارث۔ اس کی روحانیت کا وارث اور ہر ایک پہلو سے اپنے اندر اس کی تصویر دکھلائے گا۔ اور وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ سب کچھ اس سے لے گا۔ اور اس میں فنا ہو کر اس کے چہرے کو دکھائے گا۔ پس جیسا کہ ظلی طور پر اس کا نام لے گا۔ اس کا خُلق لے گا۔ اس کا علم لے گا۔ ایسا ہی اس کا نبی لقب بھی لے گا۔ کیونکہ بروزی تصویر پوری نہیں ہو سکتی جب تک کہ یہ تصویر ہر ایک پہلو سے اپنے اصل کے کمال اپنے اندر نہ رکھتی ہو پس چونکہ نبوت بھی نبی میں ایک کمال ہے اس لئے ضروری ہے کہ تصویر بروزی میں وہ کمال بھی نمودار ہو تمام نبی اس بات کو مانتے چلے آئے ہیں کہ وجودِ بروزی اپنے اصل کی پوری تصویر ہوتی ہے یہاں تک کہ نام بھی ایک ہو جاتا ہے پس اس صورت میں ظاہر ہے کہ جس طرح بروزی طور پر محمدؐ اور احمدؐ نام رکھے جانے سے دو محمدؐ اور دو احمدؐ نہیں ہو گئے۔ اسی طرح بروزی طور پر نبی یا رسول کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خاتم النبیّین کی مہر ٹوٹ گئی کیونکہ وجودِ بروزی کوئی الگ وجود نہیں۔ اس طرح پر تو محمدؐ کے نام کی نبوت محمد ﷺ تک ہی محدود رہی۔ تمام انبیاء علیہم السلام کا اس پر اتفاق ہے کہ بروز میں دوئی نہیں ہوتی۔ کیونکہ بروز کا مقام اس مضمون کا مصداق ہوتا ہے کہ

من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جان شدی

تا کس نگوئید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری

لیکن اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئے تو بغیر خاتم النبیّین کی مہر توڑنے کے کیونکر دنیا میں آسکتے ہیں۔ غرض خاتم النبیّین کا لفظ ایک الٰہی مہر ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت پر لگ گئی ہے اب ممکن نہیں کہ کبھی یہ مہر ٹوٹ جائے ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں۔ اور یہ بروز خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک قرار یافتہ عہد تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ(62:4) اور انبیاء کو اپنے بروز پر غیرت نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ انہی کی صورت اور انہی کا نقش ہے لیکن دوسرے پر ضرور غیرت ہوتی ہے دیکھو حضرت موسیٰ نے معراج کی رات جب دیکھا کہ آنحضرت ﷺ ان کے مقام سے آگے نکل گئے تو کیونکر رو رو کر اپنی غیرت ظاہر کی۔ تو پھر جس حالت میں خدا تو فرمائے کہ تیرے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا۔ اور پھر اپنے فرمودہ کے برخلاف عیسیٰ کو بھیج دے تو پھر کس قدر یہ فعل آنحضرت ﷺ کی دل آزاری کا موجب ہو گا۔ غرض بروزی رنگ کی نبوت سے ختمِ نبوت میں فرق نہیں آتا۔ اور نہ مہر ٹوٹتی ہے لیکن کسی دوسرے نبی کے آنے سے اسلام کی بیخ کنی ہو جاتی ہے اور آنحضرت ﷺ کی اس میں سخت اہانت ہے کہ عظیم الشان کام دجال کشی کا عیسیٰ سے ہوا۔ نہ آنحضرت ﷺ سے اور آیت کریمہ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ(33:41) نعوذ باللہ اس سے جھوٹی ٹھہرتی ہے اور اس آیت میں ایک پیشگوئی مخفی ہے اور وہ یہ کہ اب نبوت پر قیامت تک مہر لگ گئی ہے اور بجز بروزی وجود کے جو خود آنحضرت ﷺ کا وجود ہے کسی میں یہ طاقت نہیں جو کھلے کھلے طور پر نبیوں کی طرح خدا سے کوئی علم غیب پاوے اور چونکہ وہ بروزِ محمدی جو قدیم سے موعود تھا وہ میں ہوں۔ اس لئے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی۔ اور اس نبوت کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست و پا ہے کیونکہ نبوت پر مہر ہے ایک بروزِ محمدی جمیع کمالاتِ محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا سو وہ ظاہر ہو گیا اب بجز اس کھڑکی کے اور کوئی کھڑکی نبوت کے چشمہ سے پانی لینے کے لئے باقی نہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ بروزی طور کی نبوت اور رسالت سے ختمیت کی مہر نہیں ٹوٹتی اور حضرت عیسیٰ کے نزول کا خیال جو مستلزم تکذیب آیت وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ(33:41) ہے وہ ختمیت کی مہر کو توڑتا ہے اور اس فضول اور خلافِ عقیدہ کا تو قرآن شریف میں نشان نہیں اور کیونکر ہو سکتا کہ وہ آیت ممدوحہ بالا کے صریح برخلاف ہے لیکن ایک بروزی نبی اور رسول کا آنا قرآن شریف سے ثابت ہو رہا ہے جیسا کہ آیت وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ(62:4) سے ظاہر ہے اس آیت میں ایک لطافت بیان یہ ہے کہ اس گروہ کا ذکر تو اس میں کیا گیا جو صحابہ میں سے ٹھہرائے گئے لیکن اس جگہ اس موردِ بروز کا بتصریح ذکر نہیں کیا یعنی مسیح موعود کا جس کے ذریعہ سے وہ لوگ صحابہ ٹھہرے اور صحابہ کی طرح زیر تربیت آنحضرت ﷺ سمجھے گئے اس ترکِ ذکر سے یہ اشارہ مطلوب ہے کہ موردِ بروز حکم نفی وجود کا رکھتا ہے اس لئے اس کی بروزی نبوت اور رسالت سے مہر ختمیت نہیں ٹوٹتی پس آیت میں اس کو ایک وجود منفی کی طرح رہنے دیا اور اس کے عوض میں آنحضرت ﷺ کو پیش کردیا ہے اور اسی طرح آیت اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ(108:2) میں ایک بروزی وجود کا وعدہ دیا گیا جس کے زمانہ میں کوثر ظہور میں آئے گا۔ یعنی دینی برکات کے چشمے بہہ نکلیں گے اور بکثرت دنیا میں سچے اہل اسلام ہو جائیں گے اس آیت میں بھی ظاہری اولاد کی ضرورت کو نظر تحقیر سے دیکھا اور بروزی اولاد کی پیشگوئی کی گئی اور گو خدا نے مجھے یہ شرف بخشا ہے کہ میں اسرائیلی بھی ہوں اور فاطمی بھی۔ اور دونوں خونوں سے حصہ رکھتا ہوں لیکن میں روحانیت کی نسبت کو مقدم رکھتا ہوں جو بروزی نسبت ہے اب اس تمام تحریر سے مطلب میرا یہ ہے کہ جاہل مخالف میری نسبت الزام لگاتے ہیں کہ یہ شخص نبی یا رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے مجھے ایسا کوئی دعویٰ نہیں میں اس طور سے جو وہ خیال کرتے ہیں نہ نبی ہوں نہ رسول ہوں۔ ہاں میں اس طور سے نبی اور رسول ہوں جس طور سے ابھی میں نے بیان کیا ہے پس جو شخص میرے پر شرارت سے یہ الزام لگاتا ہے جو دعویٰ نبوت اور رسالت کا کرتے ہیں وہ جھوٹا اور ناپاک خیال ہے مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اسی بناء پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا ہے مگر بروزی صورت میں۔ میرا نفس درمیان نہیں ہے۔ بلکہ محمد مصطفیٰ ﷺ ہے اسی لحاظ سے میرا نام محمدؐ اور احمدؐ ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔ علیہ الصلوٰۃ والسلام

خاکسار میرزا غلام احمد از قادیان ۵؍ نومبر ۱۹۰۱ء

ضمیمہ نمبر ۲

حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا سب سے آخری مکتوب

اپنی نبوت کے متعلق

مندرجہ اخبار عام ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء

جس کی نقل اخبار بدر نمبر ۲۳ جلد ۷ مؤرخہ ۱۱؍ جون ۱۹۰۸ء میں بھی شائع ہو چکی ہے

۱۷؍ ماہ مئی ۱۹۰۸ء کو بمقام لاہور جلسئہ دعوت میں جو تقریر حضرت اقدسؑ نے فرمائی تھی اس تقریر کی بناء پر یہ غلط خبر پرچہ اخبار عام ۲۳؍ مئی ۱۹۰۸ء میں شائع ہوئی کہ آپ نے اس جلسئہ دعوت میں دعوائے نبوت سے انکار کیا ہے۔ تو اسی روز حضور نے ایڈیٹر اخبار مذکور کی طرف ایک خط لکھا جس میں اس غلط خبر کی تردید کی۔ چنانچہ حضرت اقدس کا وہ خط یہ ہے:۔

”جناب ایڈیٹر صاحب اخبار عام۔ پرچہ اخبار عام ۲۳؍ مئی ۱۹۰۸ء کے پہلے کالم کی دوسری سطر میں میری نسبت یہ خبر درج ہے کہ گویا میں نے جلسئہ دعوت میں نبوت سے انکار کیا۔ اس کے جواب میں واضح ہو کہ اس جلسہ میں میں نے صرف یہ تقریر کی تھی کہ میں ہمیشہ اپنی تالیفات کے ذریعہ سے لوگوں کو اطلاع دیتا رہا ہوں۔ اور اب بھی ظاہر کرتا ہوں کہ یہ الزام جو میرے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا اور جس کے یہ معنے ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا۔ اور اپنا علیحدہ کلمہ اور علیحدہ قبلہ بناتا ہوں اور شریعت اسلام کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداء اور متابعت سے باہر جاتا ہوں۔ یہ الزام صحیح نہیں ہے بلکہ ایسا دعویٰ نبوت کا میرے نزدیک کفر ہے اور نہ آج سے بلکہ اپنی ہر ایک کتاب میں ہمیشہ میں یہی لکھتا آیا ہوں کہ اس قسم کی نبوت کا مجھے کوئی دعویٰ نہیں اور یہ سراسر میرے پر تہمت ہے اور جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہم کلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا اور انہیں امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں مگر میں ان معنوں سے نبی نہیں ہوں کہ گویا اسلام سے اپنے تئیں الگ کرتا ہوں یا اسلام کا کوئی حکم منسوخ کرتا ہوں میری گردن اس جوئے کے نیچے ہے جو قرآن شریف نے پیش کیا اور کسی کو مجال نہیں کہ ایک نقطہ یا ایک شعشہ قرآن شریف کا منسوخ کر سکے سو میں صرف اس وجہ سے نبی کہلاتا ہوں کہ عربی اور عبرانی زبان میں نبی کے یہ معنے ہیں کہ خدا سے الہام پا کر بکثرت پیشگوئی کرنے والا اور بغیر کثرت سے یہ معنی تحقیق نہیں ہو سکتے جیسا کہ صرف ایک پیسہ سے کوئی مالدار نہیں کہلا سکتا سو خدا اپنے مجھے اپنے کلام کے ذریعہ سے بکثرت علم غیب عطا کیا ہے اور ہزار ہا نشان میرے ہاتھ پر ظاہر کئے ہیں اور کر رہا ہے میں خود ستائی سے نہیں بلکہ خدا کے فضل اور اس کے وعدہ کی بناء پر کہتا ہوں کہ اگر تمام دنیا ایک طرف ہو اور ایک طرف صرف میں کھڑا کیا جاؤں اور کوئی ایسا امر پیش کیا جائے جس سے خدا کے بندے آزمائے جاتے ہیں تو مجھے اس مقابلہ میں خدا غلبہ دے گا۔ اور ہر ایک پہلو کے مقابلہ میں خدا میرے ساتھ ہوگا اور ہر ایک میدان میں وہ مجھے فتح دے گا۔ پس اسی بناء پر خدا نے میرا نام نبی رکھا ہے کہ اس زمانہ میں کثرت مکالمہ مخاطبہ اللہ اور کثرت اطلاع بر علوم غیب صرف مجھے ہی عطا کی گئی ہے اور جس حالت میں عام طور پر لوگوں کو خوابیں بھی آتی ہیں اور بعض کو الہام بھی ہوتا ہے اور کسی قدر ملوثی کے ساتھ علم غیب سے بھی اطلاع دی جاتی ہے مگر وہ الہام مقدار میں نہایت قلیل ہوتا ہے اور اخبار غیبیہ بھی اس میں نہایت کم ہوتی ہیں اور باوجود کمی کے مشتبہ اور مکدر اور خیالات نفسانی سے آلودہ ہوتی ہیں تو اس صورت میں عقل سلیم خود چاہتی ہے کہ جس کی وحی اور علم غیب اس کدورت اور نقصان سے پاک ہو۔ اس کو دوسرے معمولی انسانوں کے ساتھ نہ ملایا جائے بلکہ اس کو کسی خاص نام کے ساتھ پکارا جائے تاکہ اس میں اور اس کے غیر میں امتیاز ہو اس لئے محض مجھے امتیازی مرتبہ بخشنے کے لئے خدا نے میرا نام نبی رکھ دیا اور یہ مجھے ایک عزت کا خطاب دیا گیا ہے تاکہ ان میں اور مجھ میں فرق ظاہر ہو جائے ان معنوں سے میں نبی بھی ہوں اور امتی بھی تاکہ ہمارے سید و آقا کی وہ پیشگوئی پوری ہو کہ آنے والا مسیح امتی بھی ہوگا اور نبی بھی ہوگا۔ ورنہ حضرت عیسیٰ جن کے دوبارہ آنے کے بارے میں ایک جھوٹی امید اور جھوٹی طمع لوگوں کو دامن گیر ہے وہ امتی کیونکر بن سکتے ہیں۔ کیا آسمان سے اتر کر نئے سرے وہ مسلمان ہوں گے اور کیا اس وقت ہمارے نبی خاتم الانبیاء نہیں رہیں گے۔ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰی۔ الراقم خاکسار الْمُفْتَقِرُ اِلَى اللهِ الْاَحَدِ غُلَامُ اَحْمَدَ عَفَى اللهُ عَنْهُ ۲۳؍ مئی ۱۹۰۸ء از شہر لاہور

ضمیمہ نمبر ۳

’’امرِ حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہئے‘‘

۵؍ مارچ ۱۹۰۸ء کے پرچہ اخبار بدر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ڈائری کے ذیل میں مذکور ہے کہ ایک احمدی سے ایک نواب ریاست نے سوال کیا کہ کیا حضرت مرزا صاحب رسالت کے مدعی ہیں جس کے جواب میں اس احمدی دوست نے کہا کہ ان کا ایک شعر ہے۔

من نیستم رسول و نیاورده ام کتاب

ہاں ملہم استم و زخداوند منـذرم

اس سوال و جواب کا ذکر اس احمدی دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں کیا۔ جس پر حضور نے فرمایا کہ:۔ ’’اس کی تشریح کر دینا تھا کہ ایسا رسول ہونے سے انکار کیا گیا ہے جو صاحب کتاب ہو۔ دیکھو جو امور سماوی ہوتے ہیں ان کے بیان کرنے میں ڈرنا نہیں چاہئے۔ اور کسی قسم کا خوف کرنا اہل حق کا قاعدہ نہیں۔ صحابہؓ کرام کے طرز عمل پر نظر کرو۔ وہ بادشاہوں کے درباروں میں گئے اور جو کچھ ان کا عقیدہ تھا وہ صاف صاف کہہ دیا۔ اور حق کے کہنے سے ذرا نہیں جھجکے جبھی تو یَخَافُوۡنَ لَوۡمَۃَ لَآئِمٍ(5:55) کے مصداق ہوئے ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ دراصل یہ نزاع لفظی ہے خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔ پس ہم نبی ہیں۔ ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے اور نئی کتاب لائے ایسے دعوے کو تو ہم کفر سمجھتے ہیں بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی صرف خدا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے جن سے موسوی دین کی شوکت و صداقت کا اظہار ہو پس وہ نبی کہلائے یہی حال اس سلسلہ میں ہے۔ بھلا اگر ہم نبی نہ کہلائیں تو اس کے لئے اور کونسا امتیازی لفظ ہے جو دوسرے ملہموں سے ممتاز کرے۔ دیکھو! اور لوگوں کو بھی بعض اوقات سچے خواب آجاتے ہیں بلکہ بعض دفعہ کوئی کلمہ بھی زبان پر جاری ہو جاتا ہے جو سچ نکل آتا ہے اس لئے تا ان پر حجت پوری ہو اور وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم کو یہ حواس نہیں دیئے گئے پس ہم سمجھ نہیں سکتے کہ یہ کس بات کا دعویٰ کرتے ہیں۔

آپ کو سمجھانا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ کس قسم کی نبوت کے مدعی ہیں ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے کس لئے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں آخر کوئی امتیاز بھی ہونا چاہئے صرف سچے خوابوں کا آنا تو کافی نہیں کہ یہ تو چوہڑے چماروں کو بھی آجاتے ہیں۔ مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ ہونا چاہئے اور وہ بھی ایسا کہ جس میں پیشگوئیاں ہوں اور بلحاظ کمیت و کیفیت کے بڑھ چڑھ کر ہو۔ ایک مصرع سے تو شاعر نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح معمولی ایک دو خوابوں یا الہاموں سے کوئی مدعی رسالت ہو تو وہ جھوٹا ہے۔ ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں اسی لئے ہم نبی ہیں۔ امرِ حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہئے۔“

(بدر ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء جلد ۷ نمبر ۹ صفحہ ۲)

تتمہ حقیقۃ النبوۃ

نبوت مسیح موعود کے متعلق

بعض اعتراضوں کا جواب

میں اپنی طرف سے کتاب حقیقۃ النبوۃ کو ختم کر چکا تھا بلکہ چند اعتراضات حضرت مسیح موعود کی نبوت پر میرے سامنے اور پیش کئے گئے جو منکرین نبوت مسیح موعود کی طرف سے کئے جاتے ہیں اور گو میں نبوت کے متعلق ایسی طرز پر اصولی بحث کر چکا ہوں کہ ہر ایک صاحب فہم و ذکا اسے پڑھ کر ہر ایک اعتراض کا خود ہی جواب دے سکتا ہے لیکن چونکہ میرا ارادہ ہے کہ اس مسئلہ کے متعلق جس قدر مخالف حوالہ جات مل سکیں سب کا جواب دے دیا جائے اس لئے میں تتمہ کے طور پر مختصراً ان اعتراضات کا جواب دے دیتا ہوں تاکہ بعض لوگ نادانوں کو دھوکا نہ دے سکیں۔

(۱) کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی وفات سے چند گھنٹے پہلے اپنی نبوت کا صاف الفاظ میں انکار کر دیا تھا۔ پس وہ آخری گفتگو ہے جس سے اس جھگڑے کا قطعی فیصلہ ہو جاتا ہے۔ میں اس اعتراض کے جواب دینے سے پہلے حضرت مسیح موعودؑ کی وہ ڈائری بدر سے نقل کر دیتا ہوں تا کہ اس کے اصل مضمون سے لوگوں کو آگاہی ہو جائے اور وہ یہ ہے:

لاہور ۲۵؍ مئی ۱۹۰۸ء ظہر۔ ایک شخص سرحدی آیا بہت شوخی سے کلام کرنے لگا۔

سلسلۂ نبوت

اس پر فرمایا: ”میں نے اپنی طرف سے کوئی اپنا کلمہ نہیں بنایا۔ نہ نماز علیحدہ بنائی ہے بلکہ آنحضرتﷺ کی پیروی کو دین و ایمان سمجھتا ہوں۔ یہ نبوت کا لفظ جو اختیار کیا گیا ہے صرف خدا کی طرف سے ہے جس شخص پر پیشگوئی کے طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی بات کا اظہار بکثرت ہو اسے نبی کہا جاتا ہے خدا کا وجود خدا کے نشانوں کے ساتھ پہچانا جاتا ہے۔ اسی لئے اولیاء اللہ بھیجے جاتے ہیں۔ مثنوی میں لکھا ہے آں نبیٔ وقت باشد اے مرید۔ محی الدین ابن عربی نے بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ حضرت مجدد نے بھی یہی عقیدہ ظاہر کیا، پس کیا سب کو کافر کہو گے۔ یاد رکھو یہ سلسلہ نبوت قیامت تک جاری رہے گا۔“

مجدّد کی ضرورت

اس پر اس سرحدی نے سوال کیا کہ دین میں کیا نقص رہ گیا تھا جس کی تکمیل کے لئے آپ تشریف لائے۔ فرمایا: ”احکام میں کوئی نقص نہیں۔ نماز‘ قبلہ‘ زکوٰۃ‘ کلمہ وہی ہے۔ کچھ مدت کے بعد ان احکام کی بجا آوری میں سستی پڑ جاتی ہے بہت سے لوگ توحید سے غافل ہو جاتے ہیں تو وہ اپنی طرف سے ایک بندے کو مبعوث کرتا ہے جو لوگوں کو از سر نو شریعت پر قائم کرتا ہے سو برس تک سستی واقع ہو جاتی ہے۔ ایک لاکھ کے قریب تو مسلمان مرتد ہو چکا ہے۔ ابھی آپ کے نزدیک کسی کی ضرورت نہیں۔ لوگ قرآن چھوڑتے جاتے ہیں۔ سنت نبویؐ سے کچھ غرض نہیں اپنی رسوم کو اپنا دین قرار دے لیا ہے اور ابھی آپ کے نزدیک کسی کی ضرورت نہیں“

اس پر اس شخص نے کہا کہ اس وقت تو سب کافر ہوں گے کوئی تیس چالیس مؤمن رہ جائیں گے فرمایا: ”کیا مہدی کے ساتھ جو مل کر لڑائی کریں گے وہ سب کافر ہی ہوں گے.... انسان جب فسق و فجور میں پڑتا ہے تو کافر کا حکم رکھتا ہے.... اگر ہر صدی پر مجدد کی ضرورت نہ تھی تو بقول آپ کے قرآن کریم اور علماء کافی تھے۔ تو پھر نبی اللہ تعالیٰ پر اعتراض آتا ہے۔ حج کرنے والے حج کو جاتے ہیں زکوٰۃ بھی دیتے ہیں۔ روزے بھی رکھتے ہیں۔ پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سو برس کے بعد مجدد آئے گا۔ مخالفین بھی اس بات کے قائل ہیں۔ پس اگر میرے وقت میں ضرورت نہ تھی تو پیشگوئی باطل جاتی ہے۔ ظاہری حالت پر ہی نہیں جانا چاہئے۔ غیب کا حال تو اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں“ (بدر جلد ۷ نمبر ۲۴ جون ۱۹۰۸ء)

اس ڈائری سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نبی نہ تھے کیونکہ آپ نے اپنے آپ کو مجددین سے تشبیہ دی ہے اور مثنوی رومی کا ایک مصرعہ مخالف کے سامنے پیش کیا ہے کہ ع آں نبی وقت باشد اے مرید۔ اسی طرح محی الدین صاحب ابن عربی اور مجدد الف ثانی صاحب کے عقائد کی طرف بھی اسے توجہ دلائی ہے جس سے معلوم ہوا کہ آپ ویسے ہی نبی تھے جیسے اور مجددین۔ اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ میں اس سے پہلے قطعی اور یقینی طور پر یہ ثابت کر چکا ہوں کہ نبی کی جو تعریف ہے وہ حضرت مسیح موعود پر صادق آتی ہے اور قرآن کریم لغت عرب محاورہ انبیائے

گزشتہ سے میں نے نبوت کی ایک تعریف کی ہے اور پھر دکھایا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ بھی اس تعریف سے متفق ہیں اور آپ نے صاف لکھ دیا ہے کہ نبی کے لئے یہ شرط نہیں کہ جدید شریعت لائے یا کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہو اور یہ بھی کہ نبی کے لئے بموجب قرآن کریم کثرتِ اطلاع بر امورِ غیبیہ شرط ہے اور یہ بات آپ میں پائی جاتی ہے پس جبکہ نبی کی وہ تعریف جو قرآن کریم و لغتِ انبیائے گزشتہ کے عقائد کے اتفاق سے ثابت ہے حضرت مسیح موعودؑ پر صادق آئی تو آپ ضرور نبی ہوئے اور اگر اس نبوت کا نام محدثیت رکھو گے تو کل انبیاء کو محدث ہی قرار دینا پڑے گا کیونکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے لکھا ہے وہ سب بھی اس شرط کے پائے جانے کی وجہ سے نبی کہلائے ہیں جو حضرت مسیح موعودؑ میں پائی جاتی تھی۔ چنانچہ فرماتے ہیں :

”یہ ضرور یاد رکھو کہ اس امت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پا چکے پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے لیکن قرآن شریف بجز نبی و رسول ہونے کے دوسروں پر علومِ غیب کا دروازہ بند کرتا ہے جیسا کہ آیت فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(الجن: ۲۷) سے ظاہر ہے پس مصطفیٰ غیب پانے کے لئے نبی ہونا ضروری ہوا“۔

پھر جبکہ خود حضرت مسیح موعودؑ نے ایک طرف تو یہ لکھا ہے کہ جہاں جہاں میں نے نبوت سے انکار کیا ہے شریعتِ جدیدہ لانے یا بلاواسطہ نبوت پانے سے انکار کیا ہے نہ نبوت سے اور دوسری طرف یہ لکھا ہے کہ نبی کے لئے شریعت لانا یا متبع نہ ہونا شرط نہیں تو پھر اس حوالہ سے اگر کوئی انکار ثابت بھی ہو گا تو صرف اس قدر کہ آپ کوئی جدید شریعت نہیں لائے اور نہ آپ بلاواسطہ نبی بنے اور اس کا انکار کسے ہے؟

پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی آخری تقریر میں جو بمقام لاہور فرمائی۔ کچھ ایسے فقرات فرمائے تھے جن سے لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ آپ نے نبوت سے انکار کر دیا ہے اور اخبار عام کے ۲۳؍ مئی ۱۹۰۸ء کے پرچہ میں یہ بات شائع بھی ہو گئی۔ اس پر حضرت مسیح موعودؑ نے اسی دن یعنی ۲۳؍ مئی ۱۹۰۸ء کو ایک تردیدی اعلان اخبار عام کو بھیجا جس کا ایک فقرہ یہ ہے۔ ”اس جلسہ میں مَیں نے صرف یہ تقریر کی تھی کہ میں ہمیشہ اپنی تالیفات کے ذریعہ سے لوگوں کو اطلاع دیتا رہا ہوں۔ اور اب بھی ظاہر کرتا ہوں کہ یہ الزام جو میرے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا۔ اور جس کے یہ معنی ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اور اپنا علیحدہ کلمہ اور علیحدہ قبلہ بناتا ہوں اور شریعت اسلام کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہوں۔ اور آنحضرت کے اقتداء اور متابعت سے باہر جاتا ہوں۔ یہ الزام صحیح نہیں ہے۔۔۔۔۔ اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر۔۔۔۔۔ انکار کر سکتا ہوں میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک جو اس دنیا سے گذر جاؤں۔“ (بحوالہ بدر ۱۱؍ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۷)

اب غور کرو کہ اگر آپ فی الواقع نبی نہ تھے بلکہ محدث تھے تو یہ کیا وجہ تھی کہ جب کوئی شخص کہتا ہے کہ آپ نبی نہیں ہیں یا یہ کہ آپ نے نبوت سے انکار کر دیا ہے تو آپ فوراً اس کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں ایسا نبی نہیں جیسا تم خیال کرتے ہو یعنی قرآن کریم کو منسوخ کرنے والا لیکن میں نبی ہوں کیا کبھی آپ نے اپنی جماعت کو اس بات پر بھی ڈانٹا تھا کہ مجھے آدمی کیوں قرار دیتے ہو مجھے تو اللہ تعالیٰ بمنزلہ ولدی فرماتا ہے پس بمنزلہ ولد اللہ کہا کرو یا یہ کہ مجھ میں قادرانہ تصرف مانا کرو کیونکہ میں نے رؤیا میں زمین و آسمان بنائے ہیں مگر آپ نے ایسا اعلان کبھی شائع نہیں کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت کا مسئلہ ان مسائل سے کچھ مختلف ہے غرض کہ یہ بات ممکن ہی نہیں کہ ۲۳؍ مئی کو تو آپ اعلان کریں کہ میں نبی ہوں اور میں نے نبوت سے انکار نہیں کیا۔ لیکن ۲۵؍ مئی کو پھر یہ ثابت کریں کہ میں نبی نہیں ہوں۔

باقی رہا یہ کہ آپ نے پہلے مجددین کی نسبت بھی نبوت کو منسوب کیا ہے اور اپنے آپکو ان میں شامل کیا ہے۔ سو اس کا جواب آسان ہے اور جن لوگوں نے اس حوالہ سے دھوکا کھایا ہے وہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے قرآن کریم پر غور نہیں کیا۔ اور بحث مباحثہ کرکے اپنی عزت و شہرت قائم کرنے کے سوا ان کی کوئی غرض نہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ جو کام ہم اپنی عزت قائم کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ وہ درحقیقت ہماری جہالت اور نادانی کے اظہار کا ذریعہ ہے اور بجائے حق طلبی کے ثبوت کے ہماری ضد و تعصب کے آشکار کرنے کا باعث ہے اگر وہ لوگ غور کریں تو ان کو معلوم ہو جائے کہ وہ اس وقت عیسائیوں اور آریوں کے طریق اعتراض کو اختیار کر رہے ہیں۔ وہ بھی اسی قسم کے اعتراض کیا کرتے تھے اور کرتے ہیں اور ایک آیت قرآن لے کر بلا اس بات کے خیال کے کہ اسی مضمون کی تشریح دوسری جگہ سے بھی ہوتی ہے وہ اس پر اعتراض کر دیتے ہیں مثلاً رسول اللہ کی نسبت لفظ استغفار اور ذنب کا دکھا کر مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ دیکھو تمہارا نبی (نعوذ باللہ من ذلک) گنہگار تھا۔ یا وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی(93:8) کو پیش کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ من ذلک۔ اس سے آپ کا گمراہ ہونا ثابت ہے۔ اسی طرح فَلَا تَکُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ(3:61) کی آیت سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بھی قرآن کریم کے وحی الٰہی ہونے پر شک رکھتے تھے وہ نادان نہیں جانتے کہ ان آیات کے علاوہ قرآن کریم کی اور آیات بھی ہیں جن کو ملا کر ان آیات سے نتیجہ نکالنا چاہئے اور محکم کے ماتحت متشابہ کو کرنا چاہئے اور جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ(2:191) کہ اللہ تعالیٰ گنہگاروں اور حد سے نکلنے والوں سے محبت نہیں کرتا اور رسول اللہ ﷺ کی نسبت یہ فرماتا ہے کہ قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ(آل عمران: ۳۲) کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کے محبوب ہو جاؤ گے تو کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ جس کی پیروی بھی خدا تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے وہ گنہگار نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو گنہگار سے محبت نہیں کرتا پھر یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کی نسبت فرماتا ہے کہ لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ(الاحزاب: ۲۲) تمہارے لئے ہمارے اس رسول میں نہایت عمدہ قابل اتباع و نقل نمونہ ہے۔ اسی طرح وہ لوگ امتراء کی آیت کو تو پیش کرتے ہیں لیکن اس محکم آیت پر غور نہیں کرتے کہ قُلۡ ہٰذِہٖ سَبِیۡلِیۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ ۟ؔ عَلٰی بَصِیۡرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیۡ(یوسف: ۱۰۹) کہہ دے یہ میری راہ ہے میں تم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں میں اور میرے متبع ایسی ہدایت پر قائم ہیں جو ہمارے لئے ایسی یقینی ہے جیسے آنکھوں دیکھی۔ اسی طرح ضالّ کا لفظ تو دیکھتے ہیں۔ مگر ان کو قرآن کریم میں یہ آیت نہیں نظر آتی۔ کہ مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمۡ وَمَا غَوٰی(53:3) غرض کہ اس طرح ایک ایک حوالہ سے نتائج نکالنے شروع کر دیئے جائیں تو نہ اسلام اسلام رہتا ہے اور نہ قرآن قرآن۔ کیا یہ معترض لوگ اتنا خیال نہیں کرتے کہ ہم اپنے طریق عمل سے خود قرآن کریم پر اعتراض کر رہے ہیں اور عیسائیوں اور آریوں کی پیٹھ بھر رہے ہیں مگر مجبوری یہ ہے کہ ان لوگوں کو قرآن کریم کے مطالب پر تو عبور ہے ہی نہیں اور اگر ہوتا تو یہ کبھی اعتراض ہی نہ کرتے کیونکہ قرآن کریم نے تو نبی کی تعریف ایسے صاف الفاظ میں کر دی ہے کہ اس کے بعد کسی اعتراض کی گنجائش ہی نہیں رہتی ان لوگوں کو تو صرف حوالہ کے مقابلہ میں حوالہ نکال کر بحث گرم کرنے کا شوق ہے نہ کہ تحقیق حق اگر تحقیق حق مراد ہوتی اور ان مخلصین کو دھوکا دینا مدّ نظر نہ ہوتا جو نیک نیتی مگر غلط فہمی سے ان کے پیچھے چل پڑے ہیں تو کسی اصل اور قاعدہ کے ماتحت بات کرتے نہ کہ متشابہات کے ذریعہ لوگوں کو بہکاتے مگر وہ یاد رکھیں کہ اس طرز سے اسلام کو بلکہ اپنے ایمان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جبکہ حضرت مسیح موعودؑ صاف طور پر فرما چکے ہیں کہ:۔

”غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔ اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرتِ وحی اور کثرتِ امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔“ (حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۶)

پھر یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگر پہلے لوگ اس خطاب کو پاتے تو امر ختم نبوت مشتبہ ہو جاتا جیسا کہ پہلے کسی موقعہ پر لکھا جا چکا ہے تو اب باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعودؑ لکھتے ہیں کہ:۔

(۱) ”پہلے بزرگ نبی کا نام پانے کے مستحق نہیں (۲) کثرت اطلاع بر امور غیبیہ کی اس میں شرط ہے جو ان میں نہیں پائی جاتی (۳) اس نام سے آپ ہی مخصوص ہیں (۴) اگر پہلوں کو بھی نبی بنا دیا جاتا تو امر ختم نبوت مشتبہ ہو جاتا“ اور آپ کے سوا اس امت میں سے کسی اور شخص کو نبی کس طرح کہا جا سکتا ہے۔ بتاؤ کہ ایسے محکم حوالہ کے ہوتے ہوئے جس میں آپ پہلوں کے نبی ہونے کی نفی کرتے ہیں اس کی وجہ بھی بتاتے ہیں اس نام کے پانے کا مستحق صرف اپنے آپ کو بتاتے ہیں اور پہلے بزرگوں کے نبی قرار دینے سے ختم نبوت میں نقص پیدا ہو جانے کا احتمال بتاتے ہیں کسی شخص کا ایک ایسے حوالہ سے جس سے یہ ثابت ہو کہ آپ پہلے مجددین سے اپنے آپ کو مشابہ قرار دیتے ہیں اور ان کی نبوت کی نسبت بھی اقرار کرتے ہیں اگر سند پکڑنا عیسائیوں والی چال نہیں تو اور کیا ہے یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک شخص نبی کا رتبہ پانے کے لئے مخصوص ہو۔ اس کے بغیر کوئی شخص اس نام کا مستحق نہ ہو جن شرائط کے پائے جانے سے کوئی شخص نبی بنتا ہو وہ دوسروں میں پائی بھی نہ جاتی ہوں اگر وہ نبی بن جائیں تو امر ختم نبوت مشتبہ بھی ہو جائے۔ اور پھر بھی پہلے اولیاء نبی ہو جائیں۔ خدارا ایسے لوگ بات کرنے سے پہلے یہ تو سوچ لیا کریں کہ ہم کس جہالت اور نادانی کی طرف لوگوں کو لے جا رہے ہیں کیا ان کو اس قدر توفیق نہ ملی کہ وہ حضرت مسیح موعودؑ کے کسی اور حوالہ کو تلاش کر کے ان دونوں حوالوں کی تطبیق کرتے کیا انہوں نے یہ کوشش نہ کی کہ قرآن کریم پر ہی غور کر کے اس قسم کی مثالیں تلاش کرتے اور پھر دیکھتے کہ ان کی تطبیق کس طرح کی جاتی ہے وہ اس قدر تو سوچتے کہ جس طرح حضرت مسیح موعودؑ نے حقیقۃ الوحی میں نبوت کے متعلق خیالات کے ایک تغیر کو قبول کیا ہے۔ کیا اس کے بعد بھی کسی جگہ پر ایسی تحریر شائع کی ہے۔ کیا پھر یہ ممکن ہے ۲۳

تاریخ کو ایک بات کہہ کر ۲۵؍ کو اس کے خلاف کہیں گے۔ کیا انہوں نے اس حوالہ پر غور نہ کی کہ جہاں میں نے نبوت سے انکار کیا ہے اس سے صرف فلاں قسم کی نبوت مراد ہے مگر یہ توفیق ان کو تب ملتی کہ اول تو علم قرآن نصیب ہو تا پھر تقویٰ اللہ سے کام لیتے جہاں نہ فہم قرآن حاصل ہو۔ اور نہ تقویٰ اللہ سے کام لیا جائے وہاں احتیاط کا گزر کس طرح ہو۔

جبکہ حضرت مسیح موعودؑ نے ایک قسم کی نبوت جو جزوی نبوت کہلاتی ہے محدثین میں بھی قبول کی ہے اور جب تک آپؑ نبی کی تعریف شریعت جدیدہ کالانا یا بلا واسطہ نبوت پانا قرار دیتے رہے۔ اس وقت تک اپنے آپ کو بھی انہی محدثین سا نبی قرار دیتے رہے تو کیوں اس حوالہ کو دوسرے حوالہ سے اس طرح مطابق نہیں کرتے کہ جہاں دوسرے محدثوں میں اپنے آپ کو شامل کرتے ہیں اس سے محدثیت والی جزوی نبوت کی مشابہت مراد ہے اور جہاں ان سے الگ کرتے ہیں وہاں وہ نبوت مراد ہے جو اس امت میں اور کسی شخص کو نہیں ملی۔ اور اگر نہیں کرتے تو بتاؤ کہ عیسائیوں کے اعتراضوں کا تمہارے پاس کیا جواب ہے۔ ہم کب کہتے ہیں کہ محدثوں میں بھی ایک قسم کی نبوت نہیں پائی جاتی اور ہم کب کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ محدث نہ تھے۔ آپؑ بھی اسی طرح محدث تھے۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ محدث تھے اور آنحضرت ﷺ کی نسبت حضرت مسیح موعودؑ نے مجدد اعظم کا لفظ استعمال کیا ہے شاید کوئی نادان اس سے یہ نتیجہ نکالے کہ آنحضرت ﷺ بھی ایک مجدد تھے لیکن ذرا بڑے مجدد تھے کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ نے انہیں بھی مجدد کہا ہے مگر کیا کوئی دانا ایسا کہہ سکتا ہے؟ اگر نہیں تو کیوں؟ صرف اسی لئے کہ بڑے درجہ میں چھوٹا خود شامل ہوتا ہے۔ پس جو نبی ہو وہ ضرور ہے کہ محدث بھی ہو اور جو محدث ہو اضرر ہے کہ وہ محسن اور صالح بھی ہو اور جو صالح ہو وہ مسلمان بھی ہو۔ اگر کسی محدث کو مسلمان کہہ دیں یا مسلمانوں میں اس کو شامل کر دیں تو ضروری نہیں کہ اس کا آخری رتبہ یہی ہو۔ یوں تو رسول اللہ ﷺ کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے کہ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ(7:144) تو اب کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ بس آپ ایک مؤمن تھے اس سے اوپر آپ کی کوئی حیثیت نہیں۔ ایسا خیال رکھنے والا جاہل ہو گا۔ کیونکہ وہ دوسری جگہ دیکھے کہ آپؐ کو نبی کہا گیا ہے پس آپؐ کو گو مؤمنوں میں شامل کیا گیا ہے لیکن نبی کے لفظ نے بتا دیا ہے کہ آپ کو دوسرے مؤمنوں سے ایک خصوصیت ہے۔ اور وہ یہ کہ آپ نبی بھی ہیں اسی طرح کوئی شخص نبی کا لفظ دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ ویسے ہی نبی ہیں جیسے دوسرے اور صرف عرب کی طرف آئے ہیں نہ کہ سب جہاں کی طرف کیونکہ وہ اگر اپنی نظر وسیع کرے گا تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا(الاعراف: ۱۵۹) نے آپ کو سب دنیا کی طرف مبعوث ہونے کی خصوصیت دے دی ہے اور اس خصوصیت نے آپ کو اور بلند مقام پر کھڑا کر دیا ہے اسی طرح کوئی اس خصوصیت کو دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ بس آپؐ ہی ہیں کیونکہ خاتم النبیین کی خصوصیت نے آپ کا درجہ اور بھی بلند کر دیا ہے اسی طرح اگر حضرت مسیح موعودؑ بھی اپنے آپ کو دوسرے مجددین میں شامل کر دیں تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ بس آپؑ مجدد ہی ہیں ایسی ہی حماقت ہے جیسے کوئی شخص اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ کو دیکھ کر کہہ دے کہ بس رسول اللہﷺ کو صرف مؤمن کا خطاب دیا گیا ہے اور کوئی نہیں بلکہ ممکن ہے کہ اگر یہ راستہ کھلا تو اس کے نتیجے بڑے خطرناک ہوں گے۔ حضرت سلیمان کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ مَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ سلیمان کافر نہ تھا۔ اس نے اب یہ سمجھ لو کہ حضرت سلیمان کو اللہ تعالیٰ نے ایسے شخصوں میں شامل کیا ہے جو کافر نہ ہوں۔ اور نعوذ باللہ ان کو متقیوں میں بھی شامل کرنا جائز نہیں ایسے نادان کو یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ سلیمان علیہ السلام کو کہیں مؤمنوں سے اوپر بھی بتایا ہے کہ نہیں؟ اگر کسی بلند درجہ کی طرف رہنمائی کی ہے تو سمجھو کہ وَ مَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ کسی حکمت اور ضرورت کے ماتحت کہا ہے اور اس سے یہ مراد نہیں کہ حضرت سلیمان نبی نہیں اسی طرح بعض جگہ پر نبیوں کی نسبت آتا ہے کہ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ ہم محسنوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں اس لئے فلاں نبی سے بھی ایسا ہی سلوک کیا اب کوئی شخص کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ نے تو حضرت موسیٰ یا حضرت یوسف کے انعامات کو محسن ہونے کے ماتحت رکھا ہے اور باقی سب محسنوں کے ساتھ شامل کیا ہے معلوم ہوا کہ آپ کا محسن ہونا اللہ تعالیٰ ثابت کرنا چاہتا ہے نہ کہ نبی۔ مگر وہ نادان نہیں جانتا کہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کو محسن کی جگہ ظالم خیال کرتے تھے پس ان کو سمجھانے کے لئے محسنوں کی مثال دی۔ تاکہ ان کو معلوم ہو کہ یہ سلوک تو محسنوں سے ہوا کرتا ہے۔ پس سوال کرنے والے کی حیثیت کے مطابق جواب ہوتا ہے اور چھوٹے درجہ والوں کی مشابہت بتانے سے ہمیشہ یہ مراد نہیں ہوتی کہ بڑا درجہ حاصل نہیں بلکہ اگر دوسری جگہ عموم کی تخصیص کر دی گئی ہو تو تخصیص زیادہ معتبر ہو گی اور یہ ایک ایسا قاعدہ ہے جس سے کسی عقلمند کو انکار ہی نہیں ہو سکتا۔

ایک دفعہ میں لکھنؤ میں ندوۃ العلماء کا مدرسہ دیکھنے کے لئے گیا۔ وہاں ایک مولوی ندوۃ العلماء کے مدرس پٹھان میرے ملنے کو آئے اور آکر الہام پر گفتگو شروع کر دی کہ الہام کا سلسلہ تو اب بند ہے مرزا صاحب نبی کیونکر ہو گئے۔ میں نے اس کو سمجھایا کہ قرآن کریم میں الہام و وحی کی جو تعریف ہے وہ الہام ووحی بند نہیں ہاں آپ لوگوں نے جو وحی کی جھوٹی تعریفیں گھڑی ہیں کہ وہ ضرور حامل شریعت ہو اس کے ذمہ دار آپ ہیں نہ کہ ہم۔ ہم تو مسیح موعود پر اس وحی کے آنے کے مقر ہیں جو قرآن کریم نے بیان کی ہے اس پر اس نے اس قدر کج بحثی شروع کی کہ میں حیران ہو گیا اور بڑے زور سے یہ بات بار بار پیش کی کہ قرآن کریم کی تشریح کو جانے دو۔ وہ تعریف جو فقہاء نے لکھی ہے اس کو لو اور ثابت کرو کہ مرزا صاحب پر وحی نازل ہوتی ہے اور اگر ثابت نہیں کر سکتے تو معلوم ہوا کہ آپ جھوٹے ہیں۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ میں نے اس کو بہت سمجھایا کہ مرزا صاحب تو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں ان اصطلاح سازوں کے بھیجے ہوئے تو نہیں کہ ان کی بنائی ہوئی تعریف کے مطابق ان کی وحی ثابت ہو جائے تب اس پر یقین کیا جائے ورنہ رد کر دی جائے اب کیا کوئی شخص میری گفتگو کو سن کر یہ کہہ سکتا تھا کہ میرا یہ مطلب ہے کہ جسے الہام ہو جائے وہ مسیح موعود اور نبی ہو جاتا ہے کیونکہ تب ہی تو حضرت مسیح موعود کے دعووں کو ثابت کرنے کے لئے یہ جواز الہام پر زور دے رہا ہے بلکہ پچھلے ملہموں کے حوالے دے رہا ہے؟ پس اصل بات یہ ہے کہ سائل جو سوال کرتا ہے اس کے مطابق جواب ہوتا ہے چونکہ اس مدرس ندوہ کے خیال میں اب اس امت میں سے کسی شخص کا کوئی رتبہ پانا اس لئے ناممکن ہے کہ وحی بند ہے اس کے سامنے پہلے یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ الہام کا دروازہ کھلا ہے اور تجدید دین کے لئے ہمیشہ مجددین آتے رہتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہ ہو گا کہ اس سے مسیح موعود کے مسیح ہونے یا نبی ہونے کا انکار مراد ہے۔

اس سرحدی شخص کے سوالات کو دیکھو۔ اس کی بھی یہی حالت ہے وہ مجددین کا ہی منکر ہے اور اس کے خیال میں آنحضرت کے بعد قرآن کریم اور علماء کافی ہیں۔ کسی مجدد کی ضرورت نہیں۔ اور وہ نبوت کے معنے نیا کلمہ بنانا اور نئی عبادت مقرر کرنی سمجھتا ہے اب بتاؤ کہ جو شخص تجدید دین کا ہی قائل نہیں اور ندوہ کے مولوی کی طرح الہام کے دروازہ کو مسدود خیال کرتا ہے اور مجددین کی بجائے علماء کا وجود کافی سمجھتا ہے۔ اور اس کا خیال ہے کہ مجدد صرف دین کا نقص نکالنے آتے ہیں اور اس احمق کو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ ایک شخص جو لاکھوں آدمیوں کا پیشوا اور ایک بڑی جماعت کا امام ہے بڑے بڑے لوگ اس کی غلامی میں ہیں اور اس کی جوتیاں اٹھانی فخر خیال کرتے ہیں اس کے سامنے گفتگو کس طرح کرنی چاہئے کیونکہ جیسا کہ بدر میں لکھا ہے کہ اس نے نہایت شوخی سے کلام شروع کیا تھا۔ کیا یہ درست اور مناسب ہو سکتا تھا کہ اس کے سامنے آپ نبوت کی اقسام اور اس کی تشریح شروع کرتے کہ ایک نبوت تشریعی ہوتی ہے ایک غیر تشریعی ایک نبی بلا واسطہ نبوت پاتے ہیں۔ ایک بالواسطہ۔ ایک نبوۃ محدثوں میں بھی پائی جاتی ہے تو اس شخص کی سمجھ میں کیا آ سکتا تھا وہ تو سرے سے الہام اور مجددین کا ہی منکر تھا۔ پھر آپ اس کے سامنے یہ تقریر کس طرح کرتے کہ میں مجددوں سے بڑھ کر ایک اور رتبہ پر فائز ہوں اور امتی نبی ایک خاص درجہ ہے اس کے عقائد کے مطابق تو یہی جواب تھا کہ اگر نبی کے لفظ سے تم چڑتے ہو تو پہلے بزرگوں نے بھی یہ لفظ استعمال کیا ہے پھر ان کو بھی کافر کہو اور اگر مجدد نہیں آسکتے تو رسول اللہ پر اعتراض کرو کہ آپ نے مجددوں کی پیشگوئی کیوں کی۔ اس جواب سے تو اس کو یہ سمجھانا تھا کہ مصلحین کا آنا بند نہیں اور بہت سے مجدد گزر چکے ہیں حتیٰ کہ بعض نے یہ عقیدہ بھی ظاہر کیا ہے کہ نبی ہو سکتے ہیں جیسے کہ مثنوی رومی والوں نے محی الدین ابن عربی صاحب نے۔ مجدد الف ثانی صاحب نے اور عوام مثنوی والوں کے بہت ہی معتقد ہوتے ہیں اور پٹھان مجدد صاحب کے فدائی ہیں اور وہ شخص چونکہ نبوت اور تجدید دین کے معنے ہی یہ خیال کرتا تھا کہ دین کے کچھ نقص نکالے جائیں اور نیا کلمہ اور نئی نمازیں بنائی جائیں اس لئے اسے ان بزرگوں کے اقوال کی طرف جن کی عظمت عام طور پر لوگوں کے دلوں میں ہے متوجہ کیا گیا اور حدیث رسول اللہ اس کو سنائی گئی تاکہ اسے معلوم ہو کہ نبوت اور تجدید دین کے یہی معنے نہیں ہوتے کہ دین کے نقص نکالے جائیں اور نئی شریعت لائی جائے بلکہ یہ الفاظ مختلف معنے رکھتے ہیں چنانچہ بعض پچھلے بزرگوں نے نبوت کو اسلام میں جاری مانا ہے تو کیا ان کو بھی کافر کہو گے؟ اور جب ہم ان بزرگوں کے اقوال کو دیکھتے ہیں تو ان میں سے کسی نے بھی رسالت کے ساتھ مبعوث ہونے کا دعویٰ نہیں کیا پس ان حوالوں سے یہ خیال کرنا کہ وہ نبی تھے صرف قلت تدبر کے باعث ہے ان کا تو یہ مذہب تھا کہ نبی آسکتا ہے اپنی نسبت مبعوث رسول ہونے کا دعویٰ انہوں نے کبھی نہیں کیا اور نہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام پاکر کبھی یہ شائع کیا ہے کہ تم کو رسول کر کے بھیجا جاتا ہے۔ حالانکہ حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا ہے کہ اِنَّا اَرْسَلْنَا اَحْمَدَ اِلٰی قَوْمِہٖ فَقَالُوْا كَذَّابٌ اَّشِرٌ اور یہ بات تیرہ سو سال میں ایک ولی اور ایک محدث میں بھی نہیں پائی جاتی کہ وہ رسالت کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہو۔ بے شک مقام رسالت تک ان میں سے بعض پہنچے لیکن چونکہ کل کمالات ختم نبوت انہوں نے حاصل نہ کئے اس لئے جزوی طور پر نبی تھے نہ کہ فی الواقع نبی ہوئے کیونکہ ظلی نبوت ہر پہلو اور ہر کمال میں عکس تام کی مقتضی ہے جو ان میں نہ تھا غرض کہ سوال کے مطابق جواب ہوتا ہے اور اس سے صرف اسی قدر مطلب نکالنا جائز ہوتا ہے جس کے لئے وہ جواب دیا گیا نہ کہ اس سے زائد اور

جبکہ حضرت مسیح موعود اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ مجھے ایک قسم کی نبوت ملی ہے، جو میرے سوا اور کسی کو نہیں ملی اور قرآن کریم اور احادیث بھی صرف مسیح موعود کی رسالت پر گواہ ہیں اور تعریفِ نبوت پہلے مجددین پر صادق بھی نہیں آتی اس لئے اب ہم اس حوالہ کے سوائے اس کے اور معنی نہیں کر سکتے کہ آپ ایک نبوت میں تو پہلے مجددین کے ساتھ شامل ہیں جس طرح آنحضرت بھی شامل تھے کیونکہ آپ بھی مجدد تھے لیکن ایک نبوت میں ان سے الگ ہیں جس طرح رسول اللہ الگ تھے۔ ایک اور مثال سے بھی اس حوالہ کے معنے کھل جاتے ہیں اور وہ اس طرح کہ حضرت مسیح موعود نے وفاتِ مسیح کے متعلق جواب دیتے ہوئے اپنے مخالفوں کو کہا ہے کہ اگر تم اس مسئلہ کی بناء پر مجھ پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہو تو پھر فلاں فلاں گذشتہ علماء پر بھی یہ فتویٰ لگاؤ بلکہ یہ بھی لکھا ہے کہ پھر تو کل معتزلیوں کو کافر کہنا پڑے گا۔ اب کیا اس مشابہت کے یہ معنے ہیں کہ حضرت صاحب اپنے آپ کو معتزلی ظاہر کرتے تھے یا یہ کہ آپ مجدد نہ تھے بلکہ پہلے علماء کی طرح ایک عالم تھے لیکن ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ مطلب آپ کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس خیال میں وہ میرے متفق تھے گو اتفاق کی مختلف وجوہ تھیں معتزلی اس لئے متفق نہیں کہ اس سے شرک لازم آتا ہے یا یہ کہ آیاتِ قرآنیہ کے خلاف ہے بلکہ ان کا مسیح کو وفات شدہ خیال کرنا اصل میں صرف عقل سے بالا باتوں کے انکار کی وجہ سے تھا اسی لئے وہ سب ایسی باتوں کی تاویل کرتے تھے اسی طرح حضرت مسیح موعود لکھتے ہیں کہ مثنوی رومی والے ابن عربی صاحب اور مجدد الف ثانی صاحب بھی اس بات کے قائل تھے کہ دروازۂ نبوت کھلا ہے اور اس بات کی قائل تو حضرت عائشہؓ بھی تھیں۔ تبھی تو وہ فرماتی ہیں کہ لَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ پس اس کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ وہ سب لوگ نبی تھے نہ تو مثنوی والوں نے اپنے آپ کو نبی کہا ہے نہ ابن عربی صاحب اور مجدد صاحب نے اپنے آپ کو مبعوث نبی کہا ہے۔ ہاں یہ عقیدہ انہوں نے ضرور ظاہر کیا ہے کہ مسیح موعود نبی ہو گا اور وہ زمانہ نبوت کا زمانہ ہو گا۔ بلکہ مجدد صاحب تو اپنے درجہ کی بلندی کی وجہ ہی یہ بتاتے ہیں کہ میں مہدی کے زمانہ کے قریب ہوں پس رسول اللہ کی شعاعِ نبوت جو اس پر پڑ رہی ہے اس کا اثر مجھ پر بھی پڑتا ہے اور اسی وجہ سے وہ پچھلے بزرگوں پر اپنے آپ کو فضیلت دیتے ہیں۔

خلاصہ کلام یہ کہ اس حوالہ کو دوسرے حوالوں سے ملا کر معنے کرنے چاہئیں اور متشابہات کے ماتحت محکمات کو کرنا سخت گناہ ہے۔ اس بات کا انکار بار بار ہوتے ہوئے کہ اس امت میں آپ کے سوا اور کوئی شخص کثرت مکالمہ و مخاطبہ سے جو امور غیبیہ پر مشتمل ہو اور جو نبیوں کے لئے ضروری ہو بہرہ ور نہیں ہوا۔ اس حوالہ کے وہ معنی کیوں کئے جاتے ہیں جو حضرت مسیح موعود کی تکذیب کرتے ہوں بلکہ خود ان بزرگوں کی تکذیب کرتے ہوں جن کی طرف حضرت مسیح موعود نے اشارہ فرمایا ہے چونکہ سائل نبوت کے معنے شریعت جدیدہ کا لانا اور تجدید کے معنے دین میں نئے مسائل کا پیدا کرنا خیال کرتا تھا۔ اس کو ان بزرگوں کی مثال سے سمجھایا گیا جن کا وہ بھی قائل تھا ورنہ اس سے یہ مراد نہ تھی کہ اس سے بڑھ کر آپ کا کوئی درجہ نہیں۔ آپ تو صاف لکھتے ہیں کہ جس کثرت کا نام نبوت قرآن کریم نے رکھا ہے وہ سوائے میرے اور کسی ولی میں نہیں پائی گئی۔ پس محدثیت کی نبوت کے اوپر ایک اور درجہ آپ کا ثابت ہے اور دیگر محدثین میں اگر کبھی اپنے آپ کو شامل کر بھی دیں تو اس کا صرف اس قدر مطلب ہوگا کہ آپ کو وہ درجہ بھی حاصل ہے جیسے ہمارے آنحضرتﷺ کو مؤمنوں اور حضرت موسیٰ کو محسنوں میں شامل کرنے سے یہ مطلب ہے کہ آپ ان لوگوں میں بھی شامل ہیں نہ یہ کہ اس سے بڑا درجہ آپ کو کوئی حاصل نہیں۔

(۲) دوسرا سوال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے خود تحریر فرمایا ہے کہ ہر ایک نبی مطاع ہوتا ہے نہ کہ مطیع اور چونکہ آپ مطیع تھے اس لئے آپ نبی ثابت نہ ہوئے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ میں کتاب حقیقۃ النبوۃ کے شروع میں لکھ آیا ہوں اور حضرت مسیح موعود کے اپنے حوالوں سے ثابت کر چکا ہوں آپ ۱۹۰۰ء سے پہلے یہی خیال کرتے تھے کہ نبی کے لئے شریعت جدیدہ لانا یا بلاواسطہ نبی نہ ہونا اور کسی دوسرے نبی کا متبع اور مطیع نہ ہونا شرط ہے اور اس وقت تک اس آیت سے استدلال کرتے رہے لیکن جب آپ کو انکشاف تام ہوا تو آپ نے اپنا خیال بدل دیا اور صاف لکھ دیا کہ نبی کے لئے یہ ضروری نہیں کہ دوسرے کا متبع نہ ہو۔ پس جبکہ آپ نے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ نبوت کے متعلق آپ کا خیال بدلا ہے اور یہ بھی کہ آپ کے نزدیک نبی کے لئے دوسرے نبی کا متبع نہ ہونا شرط نہیں تو اس سے سمجھ لینا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود نے اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ(النساء: ۶۵) کے خود ہی معنے فرما دیئے ہیں اور بتا دیا ہے کہ یہ شرط نبوت نہیں اور جبکہ قرآن کریم کی دوسری آیات صاف صاف بتا رہی ہیں کہ ایک نبی دوسرے نبی کا مطیع ہوتا ہے اور ہوتا رہا ہے چنانچہ ہمارے آنحضرتﷺ سے پہلے گو کل انبیاء بلاواسطہ نبوت پاتے تھے مگر پھر بھی بعض دوسرے انبیاء کے ماتحت کام کرتے تھے جیسے حضرت ہارون سلیمان یحیٰی زکریا علیہم السلام۔ پس ایسے صریح ثبوت اور مشاہدہ کی موجودگی میں قرآن کریم

کی آیت کے ایسے معنی کرنے جو مشاہدہ اور دوسری آیات کے مفہوم کے خلاف ہوں ہرگز درست نہیں اس آیت کے تو صرف یہ معنے ہیں کہ ہر رسول اسی لئے بھیجا جاتا ہے کہ لوگ اس کا حکم مانیں اور یہ معنے ہرگز نہیں کہ وہ کسی کی نہ مانے اور مشاہدات کے یہ بات خلاف ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَاَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ(النساء: ۶۰) تو کیا اولو الامر کو رسول کی اطاعت سے آزادی حاصل ہو گئی پھر اس قدر تو غور کرو کہ حضرت مسیح اپنے وقت کے حکام کی اطاعت کرتے تھے یا نہیں پس کیا ان کی نبوت سے انکار کر دیں۔ جب ایک غیر مذہب کے حاکم کی اطاعت سے رسالت میں فرق نہیں آجاتا تو ایک دوسرے نبی کی اطاعت سے کیوں فرق آجاتا ہے اگر کہو کہ دین میں اطاعت کسی اور کی نہ کرے تو میں کہتا ہوں یہ بھی غلط ہے کیا نبی اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کرتا۔ معلوم ہوا کہ خصوصیتیں تو ضرور ساتھ لگانی پڑیں گی۔ پس یہ کوئی اعتراض نہیں حضرت مسیح موعود ایک زمانہ میں عوام کے عقیدہ کے مطابق نبی کی ایک تعریف کرتے رہے اور عوام کے عقیدہ کے مطابق اس آیت سے بھی یہ استدلال کرتے رہے کہ کسی قسم کا نبی کسی اور نبی کا متبع نہیں ہو سکتا لیکن جب انکشافِ تام ہوا تو پھر ان معنوں کو بدل دیا۔ اگر کہو کہ کیا آیت قرآنی بھی حضرت مسیح موعود درست نہ سمجھے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء نہایت محتاط ہوتے ہیں جب تک کوئی بات خدا کی طرف سے نہ بتائی جائے ۔ وہ عوام کے عقائد کا تتبع کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے باوجود نفرت کے شراب اور متعہ کو اور سود کو اس وقت تک حرام نہ کیا جب تک وحی الٰہی کا فیصلہ نہ ہوا اسی طرح حضرت مسیح موعود اپنے دعوے سے پہلے متوفیک کے معنے اپنے انعامات سے وافر حصہ دوں گا کرتے رہے حالانکہ بعد کی کتب میں لکھا کہ جب اللہ تعالیٰ فاعل ہو اور کوئی ذی روح مفعول ہو تو اس وقت اس لفظ کے معنے صرف قبضِ روح کے ہوتے ہیں پس بات یہی ہے کہ جب تک انکشافِ تام نہ ہو یہ لوگ عوام کے خیالات کو نہیں چھوڑتے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ وفات سے پہلے ان کو اصل بات کا پتہ بتا دیا جاتا ہے۔ تاکہ نہ ہو کہ لوگ ان کی ہر ایک بات کو غیر الہامی کہہ کر ٹال دیں۔ پس جس طرح حضرت مسیح موعود متوفیک کے معنے پہلے پورے طور پر انعام کرنے کے کرتے رہے حالانکہ بعد میں لکھ دیا کہ اس لفظ کے معنے جب اللہ تعالیٰ فاعل ہو تو قبضِ روح کے سوا اور کچھ ہو ہی نہیں سکتے اسی طرح اس وقت تک کہ آپ نبی کے لئے یہ شرط سمجھتے تھے کہ کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہو آیت مذکورہ کے بھی یہی معنے کرتے رہے کہ کوئی نبی دوسرے نبی کا متبع نہیں ہو سکتا اور بعد میں صاف لکھ دیا کہ نبی کے لئے یہ کوئی شرط نہیں کہ وہ کسی اور نبی کا متبع نہ ہو اور قرآن کریم کی مختلف آیات سے اور تاریخ سے یہی بات حق معلوم ہوتی ہے بلکہ اگر غور کرو تو خود اس آیت سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس آیت میں یہ ذکر ہے کہ لوگوں پر نبی کی اتباع کرنی فرض ہے نہ یہ کہ وہ نبی بھی کسی اور نبی کا متبع نہ ہو۔

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ یَزۡعُمُوۡنَ اَنَّہُمۡ اٰمَنُوۡا بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَحَاکَمُوۡۤا اِلَی الطَّاغُوۡتِ وَقَدۡ اُمِرُوۡۤا اَنۡ یَّکۡفُرُوۡا بِہٖ ؕ وَیُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّضِلَّہُمۡ ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا وَاِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا اِلٰی مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوۡلِ رَاَیۡتَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡکَ صُدُوۡدًا فَکَیۡفَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ ثُمَّ جَآءُوۡکَ یَحۡلِفُوۡنَ ٭ۖ بِاللّٰہِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًا وَّتَوۡفِیۡقًا اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُ اللّٰہُ مَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ٭ فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ وَعِظۡہُمۡ وَقُلۡ لَّہُمۡ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ قَوۡلًۢا بَلِیۡغًا وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَلَوۡ اَنَّہُمۡ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ جَآءُوۡکَ فَاسۡتَغۡفَرُوا اللّٰہَ وَاسۡتَغۡفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَیُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا(النساء: ۶۱-۶۶)

(ترجمہ) کیا تو نے نہیں دیکھا ان لوگوں کی طرف جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اس وحی الٰہی پر جو تجھ پر نازل کی گئی اور اس پر جو تجھ سے پہلے نازل کی گئی۔ چاہتے ہیں کہ فیصلہ لے جاویں بڑے سرکشوں کے پاس حالانکہ انہیں حکم دیا جا چکا ہے کہ ان کی نہ مانیں اور شیطان چاہتا ہے کہ انہیں بالکل گمراہ کر دے اور جب انہیں کہا جائے کہ اس وحی الٰہی کی طرف آؤ جو اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے اور رسول کی طرف آؤ تو تو منافقوں کو دیکھتا ہے کہ وہ تجھ سے بالکل رک جاتے ہیں پس ان کا کیا حال ہو گا۔ جبکہ پہنچے گی انہیں کوئی مصیبت بسبب اس کے جو وہ اپنے ہاتھوں سے کر چکے ہیں پھر تیرے پاس آئیں گے اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہوئے کہ ہمارا ارادہ بجز بہتری چاہنے اور موافقت کرنے کے اور کچھ نہیں تھا۔ ان لوگوں کی بابت اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے پس تو ان سے اعراض کر اور انہیں نصیحت کر اور ان سے دل میں گھر کرنے والی گفتگو کر۔ نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسول مگر اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر یہ لوگ جبکہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تیرے پاس آکر اللہ تعالیٰ سے بخشش چاہتے اور رسول بھی ان کے لئے بخشش چاہتا تو اللہ تعالیٰ کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا رحمت کرنے والا پاتے پس تیرے رب کی قسم یہ لوگ ہرگز مؤمن نہیں ٹھہریں گے جب تک تجھ سے فیصلہ نہ کرائیں۔ اس نزاع کا جو ان میں واقع ہو پھر نہ پائیں اپنے دلوں میں کچھ تنگی اس فیصلہ سے جو تو کرے اور اسے پورے طور پر قبول کریں۔

ان آیات کو پڑھنے سے ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ اس جگہ یہ ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ منافقوں کی نسبت فرماتا ہے کہ یہ لوگ بجائے رسول سے فیصلہ چاہنے کے شیطانی باتوں کو مانتے ہیں حالانکہ ان کو تو یہ حکم ہے کہ رسول کی باتوں کو قبول کریں مگر یہ ایسا نہیں کرتے ہاں جب کوئی تکلیف ہوتی ہے تب بھاگے آتے ہیں کہ حضورؐ قصور ہو گیا ہم نے غلطی کی کہ حضورؐ کا حکم نہیں مانا اصل میں ہماری نیت نیک تھی۔ لیکن ان کو تو یہ خیال کرنا چاہئے کہ ہم جو رسول بھیجتے ہیں اس کی غرض تو یہ ہوتی ہے کہ لوگ اس کی باتوں کو مانا کریں نہ کہ اس کے احکام کو رد کر دیا کریں مگر خیر اگر غلطی بھی ہو جائے تو پھر توبہ کر لیں مگر مؤمن ہونے کی یہ شرط ہے کہ تیرا حکم بہر حال قبول کریں۔ اب بتاؤ کہ ان آیات سے یہ نتیجہ نکالنا کہ نبی کسی اور کا متبع نہیں ہو سکتا کہاں تک جائز ہے۔ یہاں تو یہ ذکر ہے کہ جس قوم کی طرف کوئی رسول آئے اسے اس کے احکام کو قبول کرنا چاہئے پس حضرت مسیح موعود کی صریح تشریح کے بعد اور قرآن کریم کے کھلے کھلے الفاظ کے ہوتے ہوئے لوگوں کو دھوکا دینا دیانت کے خلاف ہے۔

شاید کوئی شخص یہ کہہ دے کہ حضرت مسیح موعود نے مسیح ناصری کے دوبارہ آنے کے خلاف بھی یہ بات پیش کی ہے کہ وہ مستقل نبی ہو کر اس امت کی اصلاح کے لئے کس طرح آ سکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے آپ نے یہ نہیں لکھا کہ وہ آنحضرت کا مطیع کیونکر ہو سکتا ہے بلکہ یہ لکھا ہے کہ اب امتی نبی کے سوا کسی اور نبی کے آنے میں آنحضرت کی ہتک ہے کیونکہ جس شخص نے نبوت کا درجہ آپ کی اطاعت میں نہیں پایا وہ امتی نہیں کہلا سکتا اور جب وہ مستقل نبی ہوا تو اس کا آپؐ پر احسان ہو گا نہ کہ آپؐ کا اس پر احسان ہو گا اور مستقل نبی کے آنے سے ختم نبوت کی مہر بھی ٹوٹ جاتی ہے کیونکہ غیر کا قدم درمیان آ جاتا ہے اسی طرح حضرت عیسیٰ کی بھی ہتک ہے کیونکہ اگر ان کو دوبارہ لایا جائے تو مستقل نبی کی حیثیت میں تو آ نہیں سکتے کیونکہ اس میں آنحضرت کی ہتک ہے اور امتی نبی وہ تب کہلا سکتے ہیں کہ نبیوں کے زمرہ سے جدا کر کے ان کو پہلے امتی بنایا جائے اور پھر دوبارہ نبوت پائیں اور اس میں ان کی ہتک ہے۔ غرض کوئی صورت لو۔ اس میں یا رسول اللہ کی ہتک ہوتی ہے یا خود حضرت مسیح کی ۔ اس لئے ان کا آنا جائز نہیں

نہ اس لئے کہ ایک نبی دوسرے نبی کا متبع نہیں ہوتا بلکہ اس لئے کہ اس سے یا مہر نبوت ٹوٹتی ہے یا حضرت مسیح کی ہتک ہوتی ہے۔ اگر کہو کہ پہلے نبیوں کے ماتحت بھی تو مستقل نبی کام کرتے رہے ہیں اور آنحضرت ﷺ کا ان سے بڑا درجہ ہے آپؐ کے ماتحت کیوں مستقل نبی کام نہیں کر سکتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے نبی خاتم النبیین نہ تھے اس لئے ان کے بعد براہِ راست نبوت پانے والے نبیوں کا آنا ان کی ہتک کا باعث نہ تھا مگر ہمارے آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں اس لئے آپؐ کی اس میں ہتک ہے آپؐ کی قوت فیضان ایسی ہے کہ آپؐ اپنے شاگردوں میں سے اعلیٰ درجہ کے انسان پیدا کر سکتے ہیں اور ضرورت نہیں کہ دوسرے نبیوں کو اپنی مدد کے لئے بلائیں۔

(۳) یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ مَا نُعْنٰی مِنَ النُّبُوَّةِ مَا يُعْنٰی فِي الصُّحُفِ الْاُولٰی سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات بالکل درست ہے پہلے صحف میں نبوت سے مراد وہ نبوت ہوتی تھی جو براہِ راست ملتی تھی کیونکہ وہ نبی بلا واسطہ نبی بنتے تھے لیکن آپؐ کی تحریروں میں جہاں نبی کا لفظ آیا ہے اس کے صرف یہ معنے ہیں کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کے فیضان سے نبوت کا درجہ پایا ہے ورنہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پہلے نبی کسی اور وجہ سے نبی کہلاتے تھے اور آپ اور وجہ سے۔ نبوت کے لحاظ سے تو ایک ہی نبوت ہے ہاں مذکورہ بالا حوالہ میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ جس طرح پہلے صحف میں نبی کے لفظ سے یہ مراد ہوتی ہے کہ انہوں نے براہِ راست نبوت پائی میری نسبت جب لفظ نبی بولا جائے تو اس سے یہ مراد نہیں ہوتی جیسا کہ فرماتے ہیں:۔

”یاد رہے کہ بہت سے لوگ میرے دعویٰ میں نبی کا نام سن کر دھوکا کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہِ راست نبیوں کو ملی ہے لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں میرا ایسا دعویٰ نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت ﷺ کے افاضۂ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپؐ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔“ (حقیقۃ الوحی — روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۲ حاشیہ)

پس اس حوالہ سے یہی مراد ہے کہ آپؐ کی نبوت پہلے نبیوں کی طرح براہِ راست نہیں ورنہ نبوت کے لحاظ سے آپ کوئی فرق تسلیم نہیں کرتے جیسا کہ فرماتے ہیں ”منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے۔“ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ

حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۸ صفحہ ۲۰۹) غرض فرق بتایا ہے تو صرف طریق حصول نبوت میں بتایا ہے۔ ورنہ نبوۃ کے متعلق تو آپ فرماتے ہیں کہ کثرت اطلاع بر امور غیبیہ ہی کی وجہ سے پہلے لوگ نبی کہلائے۔

(۴) ایک سوال یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے نزول جبریل کو نبوت کے لئے شرط ٹھہرایا ہے اور اپنی نسبت جبریل کے نزول کا دعویٰ نہیں کیا۔ سو یاد رہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے ایسا دعویٰ کیا ہے جیسا کہ آپ کا الہام ہے ” جَاءَ نِيْ اَئِيْلُ وَاخْتَارَ وَاَدَارَ اِصْبَعَهُ وَاَشَارَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ اَتٰی فَطُوْبٰی لِمَنْ وَجَدَ وَرَاٰی اَلْاَمْرَاضُ تُشَاعُ وَالنُّفُوْسُ تُضَاعُ “ حاشیہ پر لکھتے ہیں اس جگہ آئیل خدا تعالیٰ نے جبریل کا نام رکھا ہے اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۶ - ۱۰۷)

پس خدا تعالیٰ نے الہام میں آپ کے پاس جبریل کے آنے کی خبر دی ہے۔

(۵) میں نے حقیقتہ النبوۃ میں یہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی گئی اس کثرت سے کہ اس کی نظیر نبیوں میں ہی ملتی ہے پس آپ بموجب آیت فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ(72:27) کے رسول ہوئے ممکن ہے کوئی شخص اس جگہ ازالہ اوہام کے اس حوالہ سے دھوکہ کھائے کہ: ”اس عاجز کو رؤیا صالحہ اور مکاشفہ اور استجابت دعا اور الہامات صحیحہ صادقہ سے حصہ وافرہ نبیوں کے قریب قریب دیا گیا ہے“ (ازالہ اوہام حصہ دوئم صفحہ ۵۳۷، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۴۷۸) پس یاد رہے کہ اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کے الہامات اور وحی پچھلے انبیاء کے برابر نہ تھی اس لئے وہ نبی نہ تھے کیونکہ ازالہ اوہام حضرت مسیح موعودؑ کی ابتدائی کتاب ہے اور اس وقت تک گو آپ کثرت وحی کے مدعی تھے لیکن چونکہ اپنے آپ کو غیر نبی خیال کرتے تھے اس لئے ضرور تھا کہ اپنی وحی کو انبیاء کی وحی کے برابر نہ سمجھتے کیونکہ اپنی وحی کو انبیاء کی وحی کے برابر بتانا خود دعوائے نبوۃ ہے پس یہ تحریر بھی اسی خیال کے بیان پر ہے جس کا ذکر اس کتاب میں کئی موقعہ پر ہو چکا ہے ہاں جب آپ کو معلوم ہوا کہ آپ نبی ہیں تو اپنے الہامات کی کثرت کا اس حد تک اقرار کیا جو نبیوں کے الہامات میں ہوتی ہے۔ پس اول تو اس سے کثرت وحی کا انکار ثابت نہیں اور اگر ہو تو زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ بجائے ابتدائے دعوئی کے جیسا کہ میں نے لکھا ہے آپ نے ایک دو سال بعد کثرت وحی کا اقرار کرنا شروع کیا ہے لیکن اس سے بھی مخالف کو کچھ فائدہ نہ ہو گا اور زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکے گا کہ حضرت مسیح موعود نے تفصیل دعویٰ کا بھی اظہار ایک دو سال بعد میں کیا ہے مگر اصل بحث پر اس سے کچھ اثر نہ پڑے گا لیکن اصل بات یہی ہے کہ اس جگہ حضرت مسیح موعود نے کثرت مکالمہ سے انکار نہیں کیا بلکہ صرف اس لئے کہ آپ اپنے آپ کو نبی نہ جانتے تھے۔ نبیوں سے فرق کرنے کے لئے یہ لکھ دیا ہے کہ آپ کی وحی نبیوں کے قریب قریب ہے لیکن اس وقت بعض لوگ حضرت مسیح موعود کی نبوت کا انکار کر کے اس حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود کی ہتک کرنے سے بھی باز نہیں آتے چنانچہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے رسالہ المہدی میں اس کے ایڈیٹر حکیم محمد حسین المعروف بہ مرہم عیسیٰ نے یوں لکھا ہے ”کیا چند الہامات اور کشوف اور غیب کی خبروں سے جو صرف اس کی اپنی ہی ذات یا متعلقین یا چند دیگر اشخاص یا حوادث کے متعلق ہیں وہ محمد رسول اللہ جیسا نبی ہو گیا“ اگر اس کی یہ مراد ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود کو درجہ میں آنحضرت کے برابر خیال کرتے ہیں تو اس سے بڑھ کر اور کوئی جھوٹ نہیں اور اگر نفس نبوت مراد ہے تو وہ اپنے ہی رسالہ کے آخری صفحوں میں مرزا یعقوب بیگ صاحب کا مضمون دیکھے جہاں وہ لکھتے ہیں ”آنحضرت کی نبوت اور پہلے نبیوں کی نبوت میں بلحاظ نبوت کوئی فرق نہ تھا۔“ اور سمجھ لے کہ بلحاظ نبوت ہم بھی مرزا صاحب کو پہلے نبیوں کے مطابق مانتے ہیں اور بلحاظ درجہ کے آنحضرت کو آقا اور حضرت مسیح موعودؑ کو خادم مانتے ہیں اور اگر مسیح موعود بلحاظ نبوت چند الہامات کی بناء پر آپ کے مشابہ نہیں ہو جاتا تو وہ مجھے بتلائے کہ اور دوسرے نبی حضرت مسیح موعود سے کم الہام پا کر بلحاظ نبوت آنحضرت کے برابر کس طرح ہو سکتے ہیں وہ خوب یاد رکھے کہ حضرت مسیح موعود کو جو نشانات ملے ہیں وہ چند الہامات نہیں جو صرف ان کی اپنی ذات کی نسبت ہوں بلکہ مسیح موعود کو خدا تعالیٰ نے اس قدر کثرت سے غیب پر اطلاع دی ہے کہ آپ تحریر فرماتے ہیں:۔

”اور اگر کہو کہ اس وحی کے ساتھ جو اس سے پہلے انبیاء علیہم السلام کو ہوئی تھی معجزات اور پیشگوئیاں ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ اکثر گزشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیشگوئیاں موجود ہیں بلکہ بعض گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیشگوئیوں کو ان معجزات اور پیشگوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں“ (نزول المسیح صفحہ ۸۴‘ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۴۶۰)

آنحضرت کے سوا اور کونسا نبی گزرا ہے جس کی پیشگوئیاں ایسے جلال اور عظمت اور زور کے ساتھ پوری ہوں اور کُل دنیا کی نسبت ہوں جیسی حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئیاں۔ مسیح موعودؑ تو اکثر نبیوں کی پیشگوئیوں سے اپنی پیشگوئیوں کو زائد بتاتے ہیں اور بعض نبیوں کی پیشگوئیوں کی نسبت فرماتے ہیں کہ ان کو میری پیشگوئیوں سے کوئی نسبت ہی نہیں لیکن یہ نام نہاد احمدی کس حقارت کے ساتھ کہتا ہے کہ چند الہامات جو صرف اس کی ذات کی نسبت یا بعض حوادث کی نسبت ہیں اس پر تم نے اسے نبی ہی بنا دیا اگر مسیح موعودؑ ان چند الہامات سے نبی نہیں بنا تو جن لوگوں کے الہامات کو اس کے الہامات سے نسبت ہی نہیں وہ کس طرح نبی بن گئے حضرت مسیح موعودؑ تو چشمۂ معرفت میں فرماتے ہیں کہ:۔

”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ تھا اور شیطان کا مع اپنی تمام ذریت کے آخری حملہ تھا اس لئے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لئے ہزار ہا نشان ایک جگہ جمع کر دیئے لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے اور محض افتراء کے طور پر ناحق کے اعتراض پیش کر دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح خدا کا قائم کردہ سلسلہ نابود ہو جائے مگر خدا چاہتا ہے کہ اپنے سلسلہ کو اپنے ہاتھ سے مضبوط کرے جب تک کہ وہ کمال تک پہنچ جاوے۔“ (چشمۂ معرفت ۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۳۲)

لیکن بر خلاف اس تحریر کے آج علی الاعلان احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے رسالہ میں یہ لکھا جاتا ہے کہ کیا چند الہامات کی بناء پر جو صرف حضرت مسیح موعودؑ کی ذات کے متعلق اور بعض حوادث کے متعلق تھے ان کو نبی قرار دیا جاتا ہے۔ آہ! افسوس احمدیت کہاں گئی لکھنے والا تو ہمیشہ سے اسی گند میں مبتلاء چلا آیا ہے مگر ان لوگوں کو کیا ہُوا جو آج سے پہلے مسیح موعودؑ کی محبت میں اپنے آپ کو فنا کہتے تھے۔ کیا میرے مقابلہ کے لئے انہوں نے اپنے دل اس قدر سخت کر لئے ہیں کہ مسیح موعودؑ کی ہتک کے رسالے ان کے خرچ پر شائع کئے جاتے ہیں۔ کیا ان کے لئے اس قدر کافی نہیں کہ وہ مجھے اور میرے باقی رشتہ داروں کو گالیاں دے لیں اور صرف مسیح موعودؑ کو اس سے مستثنیٰ کر لیں کہ وہ تو ان کا بھی محسن ہے۔ ہو سکتا ہے کہ خلافت کے مسئلہ کو رد کیا جائے اور نبوت پر اصولی بحث کی جائے لیکن وہ مسیح موعودؑ کو جھٹلانے کی تو کوشش نہ کریں اور اس کی ہتک کے لئے تو ہاتھ نہ اٹھائیں وہ تو کہتا ہے کہ مجھے جس قدر امور غیبیہ پر اطلاع دی گئی اس کے مقابلہ میں بعض نبیوں کی پیشگوئیاں کوئی نسبت ہی نہیں رکھتیں اور وہ تو اپنے الہامات کل دنیا کے لئے بتاتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا کہ اس کی خبر اس نے پہلے نہ دی تھی مگر ضد اور تعصب انسان کو ایسا اندھا کر دیتا ہے کہ آج احمدیوں کے روپیہ سے ایسے رسالے شائع کئے جاتے ہیں جن میں مسیح موعود کو جھوٹا قرار دیا جاتا ہے اور وہ شخص جو کہتا ہے کہ میرے معجزات کے مقابلہ میں بعض پہلے انبیاء کے معجزات کی کوئی نسبت ہی نہیں اور یہ کہ اس کے نشانات کو اگر ہزار نبیوں پر تقسیم کیا جائے تو ان کی نبوت بھی اس سے ثابت ہو جاتی ہے۔ اس کے الہامات کو نہایت حقارت سے ”چند“ کے لفظ سے یاد کیا جاتا ہے اور وہ جو اس بات کا مدعی تھا کہ میرے لئے خدا تعالیٰ نے کل دنیا میں نشانات دکھائے اور دکھاتا رہے گا اس کی نسبت یہ کہا جاتا ہے کہ اس کے الہامات صرف اس کی ذات یا اس کے رشتہ داروں یا بعض اشخاص و حوادث کی نسبت تھے۔ کیا اس سے بڑھ کر اور کوئی ہتک ہوگی۔ پریس ایکٹ اس سے زیادہ شاید کچھ اور لکھنے کی بھی اجازت نہ دیتا ہوگا۔ کیا اگر خدا کا خوف نہ تھا تو اس قدر بھی شرم نہ آئی کہ آخر یہ رسالہ احمدیوں کے خرچ پر چھپے گا۔ انہی کے روپیہ سے انہی کے ہادی اور پیشوا کی نسبت حقارت کے الفاظ لکھ کر شائع کرنا کس شرافت کے ماتحت جائز ہو سکتا ہے۔ خدا کے لئے یہ تو خیال کیا ہوتا کہ مسیح موعود گو میرے بھی والد ہیں لیکن ایک لحاظ سے تو تم لوگوں کے بھی والد ہیں۔ عبد الحکیم نے بھی تو یہی باتیں کہی تھیں جن پر اسے جماعت سے خارج کر دیا گیا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ کا خوف کرو تا اِنِّيْ مُهِيْنٌ کے ماتحت پکڑے نہ جاؤ۔ اور اسی دنیا میں عذاب الٰہی کا مزہ نہ چکھو۔ تم بے شک کہو کہ ہم فتووں سے نہیں ڈرتے اور میرے فتووں سے بے شک نہ ڈرو لیکن خدا کے فتووں سے تو خوف کرو یہ تو نہ ہو کہ غیر احمدیوں کی طرح مسیح موعود کے الہامات کی بھی ہتک کرو یاد رکھو کہ اگر تم بعض لوگ مسیح موعود کی محبت دل سے نکال چکے ہو تو لاکھوں آدمی اس پر اپنی جان قربان کر دینے کے لئے تیار ہیں اور خود تمہارے ساتھیوں میں سے بہت ایسے ہیں جو دل سے مسیح موعود کے عاشق ہیں۔ پس اس کی ہتک کر کے ہمارے دل مت دکھاؤ کہ دکھے ہوئے دل کی آواز عرشِ عظیم کو بھی ہلا دیتی ہے اور خدا تعالیٰ کا غضب دل دکھانے والے پر بھڑک اٹھتا ہے کیا ضروری ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ایسے ہی رنگ سے خاتم النبیّن ثابت کیا جائے جس سے مسیح موعود کو جھوٹا قرار دیا جائے اور اس کے ہزاروں نشانات اور ہزاروں الہامات و کشوف کو چند کے نام سے یاد کیا جائے جن میں سے ایک بڑی تعداد تین جلدوں میں شائع بھی ہو چکی ہے اور ہزاروں الہامات ہیں جو شائع نہیں ہوئے اور پھر اس کا ہر الہام اپنے اندر ایک خارق عادت عظمت رکھتا ہے

مسئلہ نبوت کے متعلق ایک فیصلہ کن دلیل

میں تتمہ حقیقۃ النبوۃ بھی لکھ چکا تھا کہ ایک دوست نے پیغام لاہور کا ایک پرچہ نمبر۸۳ جلد ۲ مورخہ ۱۲؍ جنوری ۱۹۱۵ء مجھے دکھایا جس میں ”مسئلہ نبوت کے متعلق ایک فیصلہ کن دلیل“ کی سرخی کے نیچے بڑے زور سے یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جو اپنی بات بلا دلیل منوائے۔ چنانچہ لکھا ہے ”پس یہ فرق یاد رکھو کہ ایک نبوت کا کام ہوتا ہے اور دوسرا انعام۔ کام یہ ہے کہ اللہ (تعالیٰ) کی طرف سے حکم پا کر لوگوں کو پہنچاتا ہے اور بلا کسی دلیل کے اس حکم کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کے لئے کہتا ہے ایسا شخص حقیقی اور مستقل ہوتا ہے لیکن جس کا حکم بغیر کسی حجت اور دلیل کے واجب التعمیل نہیں وہ حقیقی معنوں میں نبی نہیں ہو سکتا۔ مثلاً اگر مرزا صاحب وفات مسیح کی بابت خدا سے علم پا کر بغیر کسی اور دلیل کے ہمیں منواتے تو ہم کہہ سکتے تھے کہ وہ حقیقی اور مستقل نبی ہیں لیکن جبکہ انہوں نے ایسا نہیں کیا اور باوجود خدا سے علم حاصل کرنے کے اس پر عالمانہ بحث اور جرح و قدح کی ہے اور پھر قرآن سے دلائل دے کر ہمیں منوایا ہے تو اس صورت وہ حقیقی نبی نہیں ہو سکتے“۔ میں تو اس مضمون پر جس قدر غور کرتا ہوں حیرت و تعجب زیادہ ہی زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ اول تو حیران ہوں کہ بلا دلیل منوانے کا مطلب کیا ہے کیا نبی ہر اس شخص کو کہتے ہیں جس کی بات بلا دلیل ہو یا یہ کہ نبی اسی کو کہتے ہیں جو لوگوں سے بلا دلیل بات منوائے؟ اگر اس بات کو درست مان لیا جائے تو اول تو نبیوں سے زیادہ قابلِ رحم جماعت دنیا میں کوئی نہیں رہتی کہ وہ جو بات کہتے ہیں بلا دلیل کہتے ہیں کیونکہ دلیل کا نام آیا اور نبوت باطل ہو گئی۔ دوم اس دلیل سے عیسائیوں کی خوب چڑھ بنے گی وہ آگے ہی اپنی بے سروپا باتوں کے لئے یہی دلیل دیا کرتے ہیں کہ انجیل میں یونہی آیا ہے تم لوگ مان لو خدا کے نوشتوں میں ایسا لکھا ہے قبول کروجب کہا جائے کہ آپ لوگوں پر حجت ہے نہ ہم پر۔ تو کہہ دیتے ہیں۔ نہیں خدا کا کلام ہے سب پر حجت ہے پس اس دلیل سے تو ان کی بات ثابت ہے۔ کیونکہ نبی کے لئے شرط ہے کہ اس کی باتیں بلا دلیل ہوا کریں اور دلیل نہ دیا کرے صرف اس قدر کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا کہا ہے اسے مان لو تیسرے یہ نقص آتا ہے کہ قرآن کریم کی اور آنحضرت ﷺ کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ قرآن کریم

میں تو ہم کوئی ایسا حکم نہیں دیکھتے جو بلا دلیل ہو قرآن کریم تو شروع سے لے کر آخر تک دلائل کا مجموعہ ہے اور سب دعووں کے ساتھ دلیل دیتا ہے۔ سب احکام کے ساتھ ان کی حکمتیں بیان کرتا ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کا وجود ہم سے منواتا ہے تو اس کے لئے زبردست دلائل پیش کرتا ہے۔ وہ ملائکہ کا وجود ہم سے منواتا ہے تو اس کے لئے زبردست دلائل ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ وہ کتابوں کا وجود ہم سے منواتا ہے تو اس کے لئے دلائل دیتا ہے رسولوں کو منواتا ہے تو اس کے لئے دلائل دیتا ہے۔ قیامت پر ایمان لانے کے لئے کہتا ہے تو اس کے لئے دلائل دیتا ہے غرض وہ کونسی بات ہے جس کے ماننے کا قرآن کریم ہمیں حکم دیتا ہے اور اس کے لئے دلائل نہیں دیتا۔ حضرت مسیح موعود نے تو مباحثہ آتھم میں یہ شرط پیش کی تھی کہ سچی کتاب وہی ہو سکتی ہے جو دعویٰ بھی خود کرے اور دلیل بھی خود دے۔ شکر ہے کہ وہ مولوی صاحب جنہوں نے نبی کی مذکورہ بالا تعریف ایجاد کی ہے اس وقت نہ تھے ورنہ پادری صاحب کی بڑے زور سے تائید کرتے اور حضرت مسیح موعود سے کہتے کہ جناب اگر دلیل کا نام درمیان میں آئے تو رسول کی رسالت باطل ہو جاتی ہے آپ کیوں ایسا مطالبہ کرتے ہیں جس سے بجائے صداقت ثابت ہونے کے رسالت باطل ہو جاتی ہے۔ افسوس کہ مولوی صاحب نے قرآن کریم پر بھی غور نہ کیا کہ وہ تو ہر ایک بات با دلائل منواتا ہے نہ کہ بے دلیل۔ اگر کہو کہ ہم نے تو لفظ حکم کارکھا ہے عقائد کا تو یہاں ذکر ہی نہیں بلکہ صرف اعمال کا ذکر ہے تو میں کہتا ہوں کہ آپ نے مثال تو وفات مسیح کی دی ہے کیا وفات مسیح بھی کوئی کام ہے جس کا حکم مسیح موعود نے دیا ہے لیکن احکام کو بھی لو تو ان میں بھی دلائل ساتھ ہیں نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج سب احکام کے قرآن کریم نے دلائل دیئے ہیں اور ان کی خوبیاں بیان کی ہیں اگر کہو نہیں ہمارا یہ مطلب ہے کہ الہام الٰہی میں تو بے شک دلیل ہو لیکن وہ نبی کوئی دلیل نہ دے تو یہ خود ایک دعویٰ ہو گا جس کا ثابت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اور چونکہ مولوی صاحب نبی نہیں ہیں اس لئے خود اپنے عقیدہ کے مطابق انہیں یہ دعویٰ قرآن کریم سے ثابت کرنا ہو گا کہ نبی وہی ہوتا ہے جو اپنے الہام کے علاوہ کوئی دلیل نہ دے۔ لیکن پھر یہ مشکل پیش آئے گی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں بیسیوں امور کے متعلق دلائل موجود ہیں اب تو تحریر کا زمانہ ہے اس لئے مسیح موعود کی سب کتابیں موجود ہیں پہلے نبی بھی خاموش نہ رہتے تھے مگر ان کی باتیں محفوظ نہیں لیکن جس قدر ہیں ان سے دلائل کا پتہ چلتا ہے۔ احادیث میں بکثرت دلائل موجود ہیں۔ انجیل کو ہی دیکھ لو۔ اس میں حضرت مسیح کی طرف دلائل منسوب ہیں پھر میں کہتا ہوں دوسری کتب کی ضرورت نہیں خود قرآن کریم میں

حضرت ابراہیمؑ کے مباحثات درج ہیں۔ حضرت موسیٰؑ کے مباحثات درج ہیں۔ حضرت نوح کے مباحثات درج ہیں اور سب میں دلائل مذکور ہیں پس ان کی نبوت کا بھی انکار کر دینا چاہئے۔ افسوس کہ اس جگہ گنجائش نہیں ورنہ قرآن کریم میں پہلے انبیاء کے جو مباحثات درج ہوئے ہیں ان میں سے بعض کی تشریح کر کے بتاتا کہ وہ کیسے با دلائل ہیں مگر تیسرے ہی پارہ میں حضرت ابراہیمؑ اور ایک بادشاہ کا مباحثہ درج ہے اسے دیکھو کہ وہ با دلائل ہے یا نہیں۔ پھر حضرت مسیح موعود پر کیا الزام ہے کہ وہ دلیل کیوں دیتے ہیں؟ یہ تو سخت مشکل پیدا ہو گئی کہ مخالف تو اعتراض کیا کرتے تھے کہ مرزا صاحب دلیل نہیں دیتے اس لئے صادق نہیں۔ اب کچھ اپنے لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ چونکہ دلیل دیتے ہیں اس لئے آپ کی نبوت ثابت نہیں اگر کہو کہ پہلی کتابوں کے حوالوں سے کوئی بات ثابت نہیں کرنی چاہئے اور حضرت مسیح موعود اپنے دعویٰ کے ثبوت کے لئے قرآن کریم کو پیش کرتے رہے ہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ انجیل میں بھی پہلے نبیوں کی کتابوں سے دلیل لی گئی ہے اور قرآن کریم نے بھی وَمِنۡ قَبۡلِہٖ کِتٰبُ مُوۡسٰۤی(الاحقاف: ۱۳) کہہ کر حضرت موسیٰ کو اپنا گواہ پیش کیا ہے اور یَجِدُوۡنَہٗ مَکۡتُوۡبًا عِنۡدَہُمۡ فِی التَّوۡرٰٮۃِ وَالۡاِنۡجِیۡلِ(الاعراف: ۱۵۸) کہہ کر دونوں کتابوں کو اپنا گواہ بنایا ہے اور اَفَمَنۡ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ(محمد: ۱۵) سے رسول اللہ کے دعویٰ کو با دلیل ثابت کیا ہے غرض کہ یہ ایک ایسا لغو دعویٰ کیا گیا ہے جس کا ثبوت نہ قرآن کریم سے نہ حدیث سے مل ہی نہیں سکتا اور نہ عقل اسے باور کرتی ہے چونکہ کاپی کے صرف دو صفحات خالی تھے اس لئے میں نے اختصار سے کام لیا ہے اور زیادہ لکھنے میں دیر کا خطرہ ہے ورنہ میں اس پر اور مفصل لکھتا۔ شاید اللہ تعالیٰ پھر موقعہ دے دے۔ اصل بات یہ ہے کہ مولوی صاحب دعویٰ اور دلیل میں فرق نہیں سمجھتے۔ وہ نبی کی جو تعریف کرتے ہیں اور جس کو وہ قرآن کریم سے ہرگز ثابت نہیں کر سکتے۔ اسی کو انہوں نے دوسرے لفظوں میں بدل کر دلیل کے طور پر پیش کر دیا ہے اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی مدعی اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے خود ہی گواہ بن جائے اور یہ سزا ملی ہے ان کو رسول اللہ ﷺ کی باتوں کو بے دلیل کہنے کی۔

خاکسار مرزا محمود احمد

۱ میں اپنے مضمون کا اکثر حصہ ختم کر چکا تھا کہ سولہ تاریخ کو مجھے وہ رسالہ ڈاک میں مل گیا گو کافی دیر کے بعد۔ منہ

۲ اس نشان کردہ عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ اس جگہ اپنی فضیلت کسی اور معاملہ میں بیان نہیں فرماتے بلکہ نبی اور حکم ہونے کے لحاظ سے اپنی فضیلت کا ذکر فرماتے ہیں کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ جو شخص پہلے مسیح کو افضل سمجھتا ہے اسے ثابت کرنا چاہئے کہ آنے والا مسیح نہ نبی کہلا سکتا ہے نہ حکم۔ جس سے معلوم ہوا۔ کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ پہلا مسیح نبی تھا۔ اور حضرت مسیح موعودؑ نبی نہ تھے بلکہ اسی طرح آپ کا نام نبی رکھ دیا گیا تھا جیسے آدمی کو شیر کہہ دیں ۔ وہ جھوٹا ہے۔ مرزا محمود احمد۔

۳ اس جگہ کوئی اس بات سے دھوکا نہ کھائے کہ حضرت صاحب تو فرماتے ہیں کہ اس کتاب کے دو چار ورق باقی ہیں اور جس حوالہ پر بحث ہے وہ آخری دو ورق کے اندر ہے کیونکہ جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں حضرت مسیح موعود نے کتاب کے شائع کرنے کے وقت صرف ایک صفحہ زائد لکھا ہے اور جبکہ حضرت مسیح موعود خود اس عقیدہ کو جو اس حوالہ میں درج ہے منسوخ قرار دے چکے ہیں۔ ان کتابوں سے جو ۱۹۰۲ء میں شائع ہوئیں تو صاف ثابت ہے کہ یہ حوالہ پہلے کا لکھا تھا اور حضرت مسیح موعود نے کتاب کو ختم کرنے کے لئے صرف ایک صفحہ اور لکھ کر شائع کرنے کی اجازت دی اور حضرت مسیح موعود کی بات کی تصدیق شہادت نمبر ۷’۶ سے بھی ہوتی ہے۔

۴ یعنی اپنی طرف سے جھوٹے الہام بنا کر خدا کی طرف سے اپنے مامور ہونے کا دعویٰ کرتا۔ منہ

۵ شرط سے مراد اس وقت ہماری اجزائے فصل ہیں شرط کا لفظ اس لئے اس جگہ استعمال کیا گیا ہے تا عوام سمجھ سکیں۔ اسی طرح خصوصیت و خصوصیات سے خاصہ غیر شاملہ مراد ہوئی۔ منہ

۶ اس تحریر سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود نبی اور محدث کو ہم معنے خیال کرتے ہیں کیونکہ یہاں محدث کا لفظ اس لئے بڑھایا گیا ہے کہ ہر ایک نبی محدث بھی ہوتا ہے ورنہ محدث اور نبی ایک نہیں ہیں جیسا کہ حضرت اقدس نے اشتہار ایک غلطی کا ازالہ میں فرمایا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے " مرزا محمود احمد

۷ اس جگہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ نبی کے لئے لغت کے لحاظ سے بھی اور قرآن کریم کے لحاظ سے بھی کثرتِ اطلاع بر امور غیبیہ شرط ہے کیونکہ یہ صیغہ مبالغہ کا ہے لیکن جب لفظ نبوت بولیں تو اس کے دو معنے ہوں گے ایک تو اس لفظ کے معنے نبی کے مفہوم کو علیحدہ کر کے ہوں گے اور وہ صرف خبر دینے کے ہیں اور دوسرے معنے اس کے نبوت انبیاء کے لحاظ سے ہوں گے اس وقت اس کے معنوں میں کثرت کی شرط پائی جائے گی پس ایک شخص جو ایک زبردست خبر دے اس کی خبر کو یا رؤیا کو نبوت کہہ سکیں گے لیکن وہ نبی کا نام پانے کا مستحق نہ ہوگا جب تک اس کے الہامات میں کثرت سے غیب کی خبریں نہ ہوں اور وہ اہم امور کی نسبت نہ ہوں مرزا محمود احمد (دیکھو حوالہ نمبر ۸ جو آگے آتا ہے)

۸ اس بات کی تائید میں حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب حقیقتہ الوحی کا یہ حوالہ بھی پیش کیا جا سکتا ہے "مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا" اس سے ظاہر ہے کہ نبی کا خطاب اللہ تعالیٰ ہی دے تو دے ورنہ آدمی کا حق نہیں کہ آپ ہی نبی بن جائے یا کسی دوسرے کو نبی کا خطاب دے دے جیسا کہ بعض لوگ سید عبد القادر جیلانیؒ اور امام حسینؓ کو نبی کہتے ہیں ایسے لوگ ایک طور پر خدائی کا دعویٰ کرتے ہیں اور جو کام خدا کا ہے اسے اپنے ہاتھوں میں لیتے ہیں تعجب ہے کہ جن لوگوں نے دعوائے نبوت کیا بھی نہیں ان کو تو نبی بنایا جاتا ہے اور جس کا نام خدا اور رسول نبی رکھتے ہیں جو اپنا نام آپ نبی رکھتا ہے اس کی نبوت کی سو سو تاویلیں کی جاتی ہیں اور دوسروں کو اس کے ساتھ شامل کر کے اس کی نبوت کو مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے العجب العجب العجب۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فرمانا بھی قابل غور ہے "انہیں امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے سو میں خدا کے حکم کے مطابق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہو گا" اس سے بھی ظاہر ہے کہ نبی وہی ہے جس کا نام خدا نبی رکھے اور اس کے حکم سے وہ اپنی نبوت کا اعلان کرے نہ کہ ہر کس و ناکس اٹھ کر جسے چاہے نبی کا خطاب دے دے خان بہادر کا خطاب تو گورنمنٹ کے سوا کوئی نہ دے سکے لیکن نبی جو چاہے کسی کو بنا دے۔

۹ اس جگہ کسی کو یہ خیال پیدا نہ ہو کہ حضرت مسیح موعودؑ حقیقتہ الوحی میں تحریر فرماتے ہیں "یاد رہے کہ بہت سے لوگ میرے دعویٰ میں نبی کا نام سن کر دھوکا کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہِ راست نبیوں کو ملی ہے لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں میرا ایسا دعویٰ نہیں (حقیقتہ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۲ حاشیہ ) اور یہ اس حوالہ کے خلاف ہے کیونکہ اس جگہ حضور نے یہ نہیں فرمایا کہ بلا واسطہ نبوت پانے والا ہی نبی کہلاتا ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ میری نبوت اس قسم نبوت سے نہیں جو پہلے انبیاء کو بلاواسطہ ملتی تھی اور قسم کے بدلنے سے نبوت کی نفی نہیں ہوتی بلکہ جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں اس سے نبوت میں اتنا ہی فرق پڑتا ہے جس قدر کسی آدمی کو سید یا پٹھان کہہ دینے سے اس کی آدمیت میں۔ منہ

اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ درحقیقت آیت یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ(72:27) میں ان تینوں شرائط کا مفہوم آجاتا ہے جو میں نے اوپر بیان کی ہیں اور ان تینوں شرطوں کو ایک ہی شرط بھی قرار دے سکتے ہیں لیکن چونکہ ہر ایک شخص کی سمجھ ایسی تیز نہیں ہوتی کہ وہ خود باریک باتوں کا استخراج کرلے اس لئے میں نے ہر شخص کے سمجھانے کے لئے تینوں باتوں کو الگ الگ بیان کر دیا ہے تا ہر شخص کو سمجھنے میں دقت نہ ہو ورنہ یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(72:27-28) کی آیت میں غلبہ علی الغیب کے معنے ہی یہ قرار دیئے ہیں کہ وہ اخبار انذار و تبشیر اپنے اندر رکھتے ہوں اور آیت مُبَشِّرِیۡنَ وَمُنۡذِرِیۡنَ(6:49) درحقیقت کوئی الگ شرط نہیں لگاتی بلکہ اسی آیت کی تفسیر ہے اور نبی کا نام خدا کی طرف سے رکھا جانا بھی اسی آیت سے ثابت ہے کیونکہ غیر نبی پر تو اللہ تعالیٰ کثرت سے غیب ظاہر کرتا ہی نہیں۔ جیسا کہ آیت مذکورہ بالا سے ثابت ہے اور جبکہ اللہ تعالیٰ رسول کو رُسُلِہٖ میں اپنی طرف نسبت دیتا ہے تو یہ بات ثابت ہے کہ نام بھی وہ خود ہی رکھتا ہے ورنہ دوسرے اشخاص کو کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ فلاں شخص اب اس درجہ کو پہنچ گیا پس کثرت سے اظہار امور غیبیہ کا ہونا ایک ایسی شرط ہے جو درحقیقت ایک ہی شرطِ نبوت ہے اور دوسری دونوں شرطیں اسی کی تشریح ہیں جو قرآن کریم سے صاف طور پر ثابت ہیں اور ہم نے ان کو الگ اس لئے بیان کیا ہے تا ہر شخص کی نظر تلے رہیں ورنہ خطرہ تھا کہ بعض لوگ انہیں نظر انداز کر کے ٹھوکر کھاتے۔ منہ

ہوتا ہے کہ آپ صرف نبی نہ تھے بلکہ امتی بھی تھے اور اس بات کے ہم مقر ہیں امتی ہونے سے یہ کیونکر ثابت ہوا کہ آپ نبی نہیں۔ مرزا محمود احمد

۴۴۔ اس حوالہ میں بھی نام نبوت اور نبی ہونے سے انکار کیا ہے یہ نہیں فرمایا کہ مجھے کثرت سے غیب کی اطلاع نہیں دی جاتی یا یہ کہ خدا نے میرا نام نبی نہیں رکھا اور اوپر کے الزامات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں کہ میں کوئی نیا مذہب نہیں لایا کیونکہ ان الزامات میں ملائکہ کا انکار جبرئیل کا انکار اور بہشت و دوزخ کا انکار بھی شامل ہے نبوت کے انکار سے کیا مطلب ہے اس کا بیان آگے مذکور ہو گا۔ مرزا محمود احمد

۴۵۔ اس حوالہ سے بھی ظاہر ہے کہ ختم نبوت کے معنے ہی حضرت مسیح موعود یہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر تمام کمالات ختم ہو گئے اور آپ کے بعد اب کوئی شخص کسی قسم کا کمال حاصل نہیں کر سکتا جب تک آپ سے ظلی طور پر اسے حاصل نہ کرے جو لوگ ظلی کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ صرف نام اور کچھ نہیں جیسے یہ کہتے ہیں کہ ظلی نبی سے یہ مطلب نہیں کہ نبی ہو گئے بلکہ یہ مطلب ہے کہ آپ کا نام نبی رکھ دیا گیا وہ اس حوالہ پر غور کریں اس جگہ حضرت مسیح موعود نے کل کمالات نبوت کی نسبت فرمایا ہے کہ وہ ظلی طور پر حاصل ہوتے ہیں اگر ظلی کے معنے وہی کئے جائیں جو یہ لوگ کرتے ہیں تو پھر اس کا یہ مطلب ہو گا کہ الہام اور رؤیا اور کشوف درحقیقت اولیاء کو کوئی نہیں ہوتے صرف الہام اور رؤیا اور کشوف ان کا نام رکھ دیا جاتا ہے کیونکہ الہام اور رؤیا تو بہت بڑے کمالات نبوت میں سے ہیں پس یہ اب کسی کو نہیں مل سکتے حضرت صاحب کی تحریر کے مطابق تو اب یہ کمال بھی ظلی طور پر پیدا ہو سکتا ہے اور جو معنے ظلی نبی کے کئے جاتے ہیں ان کے رو سے ظلی شئے کوئی حقیقت نہیں رکھتی پس جب الہامات بھی ظلی ثابت ہو گئے تو الہامات سے بھی انکار کرنا پڑے گا اور کہنا پڑے گا کہ جس طرح حضرت مسیح موعود نبی نہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو ظلی نبی کہتے ہیں اسی طرح ان کے الہام درحقیقت الہام نہیں کیونکہ وہ ہر کمال نبوت کو ظلی کہتے ہیں اور الہامات اعلیٰ ترین کمال نبوت ہیں اور اس طرح حضرت مسیح موعود اور ان سے پہلے سب بزرگوں کو ان کے رتبہ اور درجہ سے جواب دینا پڑے گا پھر میں کہتا ہوں کہ آپ کی مسیحیت اور مہدویت بھی تو ظلی ہے پس چاہئے کہ جس طرح نبی کہنا جائز نہیں سمجھتے مسیح بھی نہ کہا کریں اور مہدی بھی نہ کہا کریں کیونکہ حضرت مسیح موعود تو تمام کمالات نبوت کو ظلی قرار دیتے ہیں اور مسیحیت سے مراد وہ کمالات ہیں جو حضرت مسیح میں تھے جو نبی تھے اور مہدویت سے مراد وہ کمالات ہیں جو مہدی اعظم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ میں تھے پس آپ کو نہ مسیح کہنا چاہئے اور نہ مہدی کیونکہ آپ کو جو کچھ ملا ظلی طور سے ملا لیکن یہ خیال باطل ہے ظلی کے معنے صرف یہ ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے جو کچھ پایا آنحضرت ﷺ سے پایا نہ یہ کہ آپ نہ نبی کہلا سکتے ہیں نہ مسیح نہ مہدی آپ نبی بھی تھے اور مہدی بھی تھے اور یہ سب مدارج آپ کے ظلی تھے یعنی آنحضرت ﷺ کی معرفت اور آپ کے عکس کو اخذ کر کے پائے اور جو اس کے خلاف سمجھتا ہے وہ حق پر نہیں۔ مرزا محمود احمد۔

۴۶۔ اس نکتہ کو خوب یاد رکھو کہ اس اشتہار میں حضرت صاحب نے اپنے ناقص نبی ہونے کی بھی تاویل فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ لفظ بھی صرف سادگی سے لکھا گیا ہے اور پھر لکھتے ہیں کہ میری مراد نبی سے صرف محدث ہے جہاں نبی کا لفظ لکھا جا چکا ہے اس کی جگہ محدث لکھ لیں اور اس کی دلیل میں یہ حدیث پیش فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں کئی لوگ ایسے گزرے ہیں کہ ان کو الہام ہوتا تھا مگر وہ نبی نہیں تھے لیکن یاد رہے کہ یہاں صرف کلام الٰہی لکھا ہے اور یہ نہیں لکھا کہ ان کو کثرت سے الہام ہوتے تھے جو اخبارِ غیب پر مشتمل تھے اور نبی ہونے کے لئے کثرت شرط ہے اس لئے وہ لوگ باوجود ملہم ہونے کے نبی نہیں کہلائے جیسا کہ آج کل کئی ایسے شخص ہیں جن کو الہام ہوتے ہیں لیکن چونکہ ان کے الہاموں میں کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع نہیں ہوتی اس لئے نبی نہیں کہلا سکتے۔ اسی طرح یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود نے اس جگہ یہ لکھا ہے کہ میں نبی نہیں محدث ہوں اور نبی سے میری مراد صرف محدث ہے لیکن یہ نہیں فرمایا کہ مجھے کثرت سے غیب نہیں بتلایا جاتا پس آپ نبوت کی شرائط سے اس وقت بھی انکار نہیں کرتے باقی رہا یہ کہ آپ نے اپنے آپ کو بجائے رسول و نبی کے محدث کیوں کہا اس کا جواب مفصل آگے آئے گا۔ مرزا محمود احمد

۴۷۔ اس کا مطلب بھی آگے چل کر بیان ہو گا مگر یاد رہے کہ اس جگہ بھی حضرت مسیح موعود نے کیفیت نبوت کی تفصیل سے انکار نہیں کیا یعنی یہ نہیں کہا کہ مجھے اظہار علی الغیب کا رتبہ حاصل نہیں۔ مرزا محمود احمد

۴۸۔ اس حوالہ سے صاف ثابت ہے کہ آپ اس نبوت کا انکار کرتے ہیں جس سے قرآن شریف کو منسوخ قرار دیا جائے اور نئی شریعت آئے۔ مرزا محمود احمد

۴۹۔ اس عبارت میں بھی ایسی نبوت کا انکار کیا گیا ہے جس میں عقائد اسلام سے منہ پھیر لیا جائے نہ کہ کسی اور نبوت کا لیکن اگر اسی کو تسلیم کر لیا جائے کہ ہر ایک نبوت کے آنے کا انکار کیا گیا ہے تو بھی اس کی تشریح آگے آ جائے گی ہاں یہ یاد رہے کہ اس عبارت سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ پر کثرت سے غیب ظاہر نہیں ہوتا تھا۔ مرزا محمود احمد۔

۳۰۔ اس عبارت میں بھی وہی بات دہرائی گئی ہے کہ ان کے درجہ کا نام محدث ہے نہ نبی اور یہ کہ آپ بہت سے محدثوں میں سے ایک مُحدّث ہیں اس امت میں کوئی نبی نہ آئے گا نہ نیا نہ پرانا۔ لیکن اس جگہ بھی یہ نہیں فرمایا کہ آپ کو کثرت سے امورِ غیبیہ پر اطلاع نہیں دی جاتی۔ اور باقی باتوں کا جواب آگے مفصل آئے گا۔ مرزا محمود احمد

۳۱۔ اس جگہ بھی گو فرمایا ہے کہ میں نبی نہیں رسول نہیں لیکن یہ انکار نہیں کیا آپ کو اظہار علی الغیب کا مرتبہ حاصل نہ تھا بلکہ فرماتے ہیں کہ رسولوں کی مانند خدا تعالیٰ کے روشن نشان اس کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں اور نام نبی کے انکار کی وجہ آگے بتائی جائے گی۔ مرزا محمود احمد۔

۳۲۔ اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ نے انبیاء کے انعامات پانے کا دعویٰ کیا ہے۔ گویا اس کے نام بدلے ہیں اور اس کی وجہ آگے مذکور ہو گی۔ مرزا محمود احمد۔

۳۳۔ اس حوالہ سے بھی ظاہر ہے کہ آپ ایسا نبی ہونے سے منکر ہیں جو قرآن شریف کو چھوڑ کر اور شریعت لائے۔ مرزا محمود احمد۔

۳۴۔ نوٹ۔ ایسے لفظ نہ اب سے بلکہ سولہ برس سے میرے الہامات میں درج ہیں چنانچہ براہین احمدیہ میں ایسے کئی مخاطبات الٰہیہ میری نسبت پاؤ گے۔ منہ (حضرت مسیح موعود)

۳۵۔ اس عبارت سے پہلی سب تحریر حل ہو گئی اور وہ یہ کہ آپ نے خود فرمایا ہے کہ نبی سے مراد وہ نبی ہے جو آپ براہِ راست نبی بن جائے اور آنحضرت ﷺ کو چھوڑ کر کوئی الگ دین بنائے اور ہم حضرت مسیح موعود کو ایسا نبی ہرگز نہیں مانتے مرزا محمود احمد۔

۳۶۔ اس جگہ بھی حضرت مسیح موعود نے یہ انکار کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی نہیں آسکتا نبی کا لفظ صرف ایک معمولی محاورہ ہے لیکن یہ نہیں فرمایا کہ مجھے امورِ غیبیہ پر کثرت سے اطلاع نہیں دی جاتی جو صرف رسولوں کو ملتی ہے نبی کے لفظ سے انکار کی تشریح آگے کی جائے گی۔ مرزا محمود احمد

۳۷۔ اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود اپنے آپ کو لغوی معنوں میں نبی قرار دیتے ہیں اور میں بتا آیا ہوں کہ لغوی معنے نبی کے وہی ہیں جو قرآن کریم نے نبی کے کئے ہیں۔ پس آپ کی نبوۃ ثابت ہے ہاں یہ جو فرمایا کہ اسلامی اصطلاح کے معنے الگ ہیں اس کا مطلب آگے بیان کیا جائے گا۔ مرزا محمود احمد۔

۳۸۔ اس حوالہ سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ لانبی بعدہ کے آپ یہ معنے نہیں کرتے کہ نبی ہو گا ہی نہیں بلکہ یہ کہ وہی نبی ہو گا جو آپ کے فیض سے نبی بنا اور آپ کے وعدہ نے اسے ظاہر کیا۔

۳۹۔ دیکھو اس جگہ اس نبی سے اولیاء کو علیحدہ کیا ہے کہ ایک تو وہ نبی ہے جو آپ کے فیض سے نبی ہوا اور جس کی بابت آپ کی پیشگوئی تھی کہ وہ نبی اللہ ہو گا۔ اور ایک اولیاء ہیں کہ ان کو بھی مکالمات و مخاطبات سے حصہ ملتا ہے لیکن اولیاء کے لئے کثرت کی شرط نہیں لگائی صرف مکالمات و مخاطبات فرمایا ہے اگر کوئی شخص کہے کہ بعض جگہ حضرت مسیح موعود نے اپنی نسبت بھی کثرت کا لفظ ترک کر دیا ہے سو کیوں نہ خیال کیا جاوے کہ اس جگہ بھی کثرت مراد ہے گو لفظ کثرت کا ترک کر دیا ہے تو یاد رہے کہ بے شک حضرت مسیح موعود اپنی نسبت بھی بعض جگہ کثرتِ مکالمہ کی بجائے مکالمہ کا لفظ استعمال کر جاتے ہیں لیکن جبکہ دوسری جگہوں میں آپ نے اپنے مکالمہ کے ساتھ کثرت اور امورِ غیبیہ کی خصوصیات بیان فرمائی ہیں۔ تو اگر بعض جگہ آپ ان الفاظ کو ترک کر دیں تو بھی ہمیں ان کا وہی مفہوم سمجھنا پڑے گا۔ لیکن دیگر اولیاء کے ساتھ آپ نے کثرتِ مکالمہ اور کثرت سے امورِ غیبیہ کے اظہار کی شرط نہیں بیان فرمائی۔ پس اس جگہ کثرت کا مفہوم نہیں نکال سکتے اور اس حوالہ سے دو الگ چیزیں ثابت ہیں ایک نبوت کا وجود جو فیضِ محمدیؐ سے حاصل ہونے والی تھی اور ایک ولایت کا وجود جو وہ بھی فیضِ محمدی سے حاصل ہوتا ہے لیکن اس کے لئے کثرتِ مکالمات شرط نہیں اور جو لوگ ان اولیاء کو بھی نبیوں کے گروہ میں شامل کریں جن کی نسبت قرآن کریم میں اظہار علی الغیب کی شرط لگی ہوئی ہے وہ یاد رکھیں کہ حضرت مسیح موعود نے ان کی نسبت شیطان کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ مرزا محمود احمد۔

۴۰۔ ختمِ نبوت کے معنی بھی اس جگہ صاف کر دیئے ہیں کہ اس سے مراد یہ نہیں کہ کوئی نبی آپ کے بعد نہ آئے گا بلکہ یہ مطلب ہے کہ آپ پر سب کمالات ختم ہو گئے۔ اور لانبی بعدی کے معنی بھی بتائے کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں جو آپ کی امت سے باہر ہو نہ یہ کہ کوئی نبی ہو گا ہی نہیں ایک اور لطیف بات بھی اس جگہ سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ ایسا نبی ہونا مقامِ غیرت نہیں جس سے آپ کی نبوت ثابت ہوتی ہے کیونکہ اگر آپ غیر نبی تھے تو غیرت کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا غیرت کا سوال تو تبھی پیدا ہو سکتا تھا جب آپ نبی ہوتے چنانچہ آپ نے فرمایا کہ غیرت کا سوال اس لئے پیدا نہیں ہوتا کہ گو میں نبی ہوں لیکن چونکہ آنحضرت ﷺ کے نور اور روحانیت سے نبی بنا ہوں اس لئے مقامِ غیرت نہیں اور یہ جواب بالکل درست ہے ایک باپ غیور ہوتا ہے اس بات پر کہ اس کا مال کوئی اور نہ سنبھال لے لیکن اپنے بیٹے کے وارث ہونے پر تو خوش ہوتا ہے اسی طرح اگر کوئی براہِ راست نبوت پاتا

تو جائے غیرت تھی لیکن جبکہ وارثِ نبوۃ آنحضرت ﷺ کا ہی ایک روحانی فرزند ہوا تو غیرت کا کیا سوال؟

۴۱؎ اس حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ امتی نبی کا وجود ختم نبوت کی شان کو بلند کرتا ہے مرزا محمود احمد

۴۲؎ اس عبارت سے ہر ایک صاحب فراست معلوم کر سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود جس نبوت کو بعد آنحضرت ﷺ بند فرماتے ہیں وہ درحقیقت شریعت لانے والی نبوت ہے یا جس نبوۃ سے آنحضرت ﷺ کی پیروی معطل ہو نہ کہ نبوت بند ہے۔ مرزا محمود احمد۔

۴۳؎ اس عبارت پر غور کرو کیسا صاف ہے کہ آپ نے جس نبوت سے انکار کیا ہے وہ ایسی نبوت ہے جس کا ہونا قرآن کریم میں منع ہے نہ یہ کہ ہر ایک نبوت سے انکار کیا ہے۔

۴۴؎ اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ صرف اس نبوت سے انکار کرتے ہیں جس میں آپ آنحضرت ﷺ کی امت سے نکل جائیں یہ نہیں فرماتے کہ میں نبی ہوں ہی نہیں۔

۴۵؎ یہ عبارت نہایت صاف طور پر ایک نبی اور ایک مامور میں فرق کر دکھاتی ہے کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ گو اس امت کے بعض افراد ملہم ہیں لیکن نبی وہ ہوتا ہے جس پر بکثرت امور غیبیہ کا اظہار ہو اور حضرت مسیح موعود اس بات کے مدعی ہیں کہ مجھ پر امور غیبیہ کثرت سے ظاہر کئے جاتے ہیں پس آپ دوسرے مامور ملہموں میں شامل نہیں بلکہ نبیوں میں شامل ہیں۔ مرزا محمود احمد۔

۴۶؎ اس حوالہ میں بھی آپ نے نبوت کی شرائط کا اقرار کیا ہے۔

۴۷؎ اس جگہ بھی صرف اس قسم کی نبوت سے انکار کیا ہے جو پہلے نبیوں کو براہِ راست ملتی تھی نہ کہ نبوت سے بلکہ فرمایا ہے کہ یہ نبوت اتباعِ خاتم النبیین سے ملتی ہے۔

۴۸؎ اس عبارت سے بھی صاف ظاہر ہے کہ آپ کثرت مکالمہ کا دعویٰ کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس کا نام نبوت ہے ہاں جاہل لوگ اسے نبوت خیال نہیں کرتے اور اس جگہ اور لفظ رکھنا چاہتے ہیں۔

۴۹؎ صاف ظاہر ہے کہ آپ نبی ہونے سے انکار نہیں کرتے بلکہ مستقل نبی ہونے سے انکار کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے نبوت براہِ راست نہیں پائی بلکہ آنحضرت ﷺ کے واسطہ سے پائی ہے۔ مرزا محمود احمد۔

۵۰؎ اس عبارت کا بھی مطلب ظاہر ہے کہ مستقل نبی جس نے براہِ راست نبوت پائی ہو اب نہیں آ سکتا اور نہ حضرت مسیح موعود کا ایسا دعویٰ تھا پس نبی کا نام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیا تو یہ ایک اعزازی نام تھا۔ اور اس سے صرف یہ مراد تھی کہ درجہ نبوت کو پہنچ گئے ورنہ اس سے یہ مطلب نہ تھا کہ آپ نے براہِ راست نبوت حاصل کی ہے یا یہ کہ آپ شریعتِ اسلام کے ناسخ ہیں اور اگر اس سے مراد یہ لی جائے کہ آپ نبی نہ تھے بلکہ یونہی نام رکھ دیا گیا تھا تو اس سے مشابہت بہ مسیح نہیں ثابت ہوتی کیونکہ ایک آدمی کو اگر شیر کہہ دیا جاوے تو اس سے اسے شیر سے مشابہت تو پیدا نہیں ہو جاتی۔ بلکہ اس سے تو یہ مراد ہے کہ یہ شیر سے بہادری میں مشابہ ہے نہ یہ کہ شیر کہنے سے شیر کے مشابہ ہو گیا ہے اور اگر کوئی یہ کہے کہ اگر نبی بھی مان لو۔ پھر بھی مشابہت پیدا نہیں ہوتی کیونکہ حضرت مسیح نے براہِ راست نبوت پائی تھی اور حضرت مسیح موعود نے بواسطہ آنحضرت ﷺ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو شخص نبی ہو گیا اس کی دوسرے نبیوں سے مشابہت ہو گئی مشابہت کا اس سے کوئی تعلق نہیں کہ نبوت کس طریق سے ملی ہے۔ ایک کپڑا کو دوسرے کپڑا کے مشابہ کہیں اور اس کی شکل اور اس کی صفت کے لحاظ سے اس کی مشابہت درست ہو تو ایسا کہنا درست ہو گا یہ ضروری نہیں کہ اگر ایک مشین کا بنایا ہوا ہے تو دوسرا بھی مشین کا ہی بنایا گیا ہو۔ خواہ ہاتھ سے بنایا گیا ہو۔ یا مشین سے۔ جب شکل صورت صفت میں مشابہ ہے تو اسے مشابہ ہی کہیں گے اور یہ کبھی نہ ہو گا کہ ایک ململ کے تھان کا نام لٹھے کا تھان رکھ دیں کہ تا دوسرے لٹھے کے تھانوں سے اس کی مشابہت ہو جائے مشابہت تو تبھی ہو گی کہ جب دونوں لٹھے کے تھان ہوں ہاں اس کی ضرورت نہیں کہ وہ دونوں بنائے بھی ایک ہی طرح ہوں بعینہٖ اسی طرح ایک شخص دوسرے سے نبوت کے معاملہ میں تبھی مشابہ ہو گا جب اسے واقع میں نبی بنا دیا جائے نہ اس طرح کہ صرف اس کا نام نبی رکھ دیا جائے اور اگر واقع میں اسے نبی بنا دیا جائے تو دونوں ایک دوسرے کے مشابہ ہو جائیں گے اور یہ سوال نہ ہو گا کہ ان دونوں کو نبوت کس طریق سے ملی ہے نبوت خواہ بلاواسطہ ملے یا بالواسطہ اس سے کوئی حرج نہیں ہوتا مگر شاید کوئی شخص یہ کہے کہ حضرت مسیح موعود نے تو اپنے آپ کو حضرت مسیح سے تمام شان میں افضل قرار دیا ہے پھر مشابہت کہاں رہی تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود صرف مسیح موعود نہ تھے بلکہ مہدی کا عظیم الشان ظہور ہونے کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کا بھی بروز تھے۔ پس مسیحیت کے لحاظ سے آپ مسیح کے مشابہ تھے لیکن آنحضرت ﷺ کا بروز کامل ہونے کی وجہ سے اس سے افضل تھے اور مشابہت میں اس سے فرق نہیں آتا یہاں ایک اور شبہ بھی پیدا کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ تو علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل فرماتے ہیں اور اپنی امت کے علماء کو بنی اسرائیل سے مشابہ قرار دیتے ہیں اس لئے کیا پھر سب علماء نبی تھے اور اکو نبی کہنا جائز ہے کیونکہ تم نے مشابہت کے معنے یہی کئے ہیں سو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو یہ حدیث نہائت ہی مجروح ہے لیکن چونکہ حضرت مسیح موعود نے اس سے استدلال فرمایا ہے اس لئے ہم اسے درست ہی سمجھتے ہیں مگر اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انبیاء سے کس بات میں مشابہ ہیں اس لئے حضرت مسیح موعود کی مسیح سے مشابہت میں اور اس میں فرق ہے مشابہت بھی صرف کسی خاص بات میں ہوتی ہے اور اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل میں انبیاء حفاظت دین کے لئے آتے رہے میری امت میں اللہ تعالیٰ ایسے علماء پیدا کرتا رہے گا جو اس کام کو کرتے رہیں گے لیکن ان کو پہلے انبیاء سے کامل مشابہت نہیں فرمائی اور نہ یہ فرمایا کہ وہ رسالت میں مشابہ ہوں گے جیسے فرمایا کہ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا(73:16) اور اس سے پہلے اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا(73:16) فرما کر بتا دیا کہ مشابہت رسالت میں ہے پس نہ تو اس حدیث میں کامل مشابہت قرار دی ہے اور نہ بتایا کہ نبوت میں مشابہت ہے لیکن مسیح موعود کو مشابہ نہیں کہا اور کاف حرف تشبیہ کا نہیں لگایا بلکہ عیسیٰ ابن مریم اور نبی کے لفظ سے یاد فرما کر کامل مشابہت ظاہر فرمائی جس کے لئے نبی ہونا ضروری ہے۔ مرزا محمود احمد۔

۵۱۔ مستقل نبوت کے معنے خود حضرت مسیح موعود نے کر دیئے ہیں کہ وہ نبوت براہ راست ملے پس اس کے معنے صرف یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آ سکتا جس کو براہ راست نبوت ملے۔

۵۲۔ اس سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں نبی کا ہونا آپ کے کمالات کو ثابت کرتا ہے نہ کہ باطل۔ مرزا محمود احمد

۵۳۔ یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ(72:27) والی آیت کے ماتحت اپنی نبوت کا اقرار کرتے ہیں۔ مرزا محمود احمد۔

۵۴۔ یاد رہے کہ ممکن ہے بعض لوگ شاید دھوکا دینے کیلئے لغت کی چھوٹی چھوٹی کتاب نکال کر دکھا دیں جن میں نہایت اختصار سے معنی دیئے جاتے ہیں اور لفظ کے معنے پورے نہیں بیان کئے جاتے اور نہ کل خصوصیات بیان کی جاتی ہیں پس ان لغات کا اس معاملہ میں کوئی اعتبار نہیں بلکہ اعتبار انہی لغات کا ہو گا جو بڑی ہیں اور جن میں تفصیل سے معنے بتائے جاتے ہیں اور عربی کی سب سے بڑی لغت تاج العروس ہے اور دوسرے نمبر پر لسان العرب ہے پہلی کتاب میں تو نبی کی بالکل وہی تعریف ہے جو قرآن کریم سے ثابت ہے اور دوسری کتاب میں بھی تقریباً وہی بیان ہے سوائے اس کے کہ اس میں یہ نہیں لکھا کہ اس کا نام نبی خدا تعالیٰ رکھے لیکن جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں یہ بات تو عقل چاہتی ہے اور بغیر اس کے کوئی نبی کہلا ہی نہیں سکتا۔ محمود احمد۔

۵۵۔ محدث ہونے سے انکار کے یہ معنے ہیں کہ آپ نے اس سے بڑے درجہ پانے کا دعویٰ کیا ورنہ ہر نبی محدث بھی ہے حتیٰ کہ ہمارے آنحضرت ﷺ بھی محدث تھے۔ منہ

۵۶۔ ایک شخص نے لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو صرف یہ خصوصیت ہے کہ حدیث میں آپ کا نام نبی آیا ہے اور یہ آپ کو دوسرے اولیاء پر فضیلت ہے ورنہ ایسے نبی تو سب بزرگ تھے اس شخص کو یہ لفظ یاد رکھنے چاہئیں کہ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا اور یہ کہ دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں اور جبکہ نہ تو ان لوگوں نے نبی کا خطاب پانے کے قابل درجہ پایا اور نہ وہ اس نام کے مستحق ہیں تو پھر اس کے کیا معنے؟ کہ وہ بھی ایسے نبی تھے جیسے مرزا صاحب صرف بڑے چھوٹے کا فرق تھا اگر وہ ویسے ہی نبی تھے تو وہ اس نام کے مستحق کیوں نہیں؟ مرزا محمود احمد۔

۵۷۔ حضرت مسیح ناصری نے سچ فرمایا ہے کہ اس تنکا کو جو تیرے بھائی کی آنکھ میں ہے کیوں دیکھتا ہے پر کانڈی پر جو تیری آنکھ میں ہے نہیں خیال کرتا وہ لوگ جو ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ تم مسیح موعود کو نبی قرار دیتے ہو اتنا نہیں سوچتے کہ ہم ایک شخص کو نبی قرار دیتے ہیں اور پھر اس کو جسے خدا نے اور اس کے رسول نے نبی کہا ہے تو وہ اس قدر ناراض ہوتے ہیں اور کافر و مرتد بنا دینے کی دھمکیاں دیتے ہیں اور لعنتوں کی بھر مار کرنے کا خوف دلاتے ہیں لیکن اپنا یہ حال ہے کہ ہزاروں آدمیوں کو (جن کو نہ خدا نے نبی کہا نہ اس کے رسول نے نہ انہوں نے خود اپنے آپ کو نبی کہا اور نہ مسیح موعود نے ان کو نبی کہا بلکہ مسیح موعود نے تو یہ کہا کہ وہ نبی کا نام پانے کے مستحق نہیں) نبی قرار دیتے ہیں شاید وہ کہیں کہ ہم جزوی نبی کہتے ہیں سو یاد رہے کہ قرآن کریم کی کس آیت سے ثابت ہے کہ بغیر خدا تعالیٰ کے اذن کے اور بغیر کسی قرینہ کے کسی کو جزوی نبی کہنا جائز ہے؟ درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سزا ہے جو ان لوگوں کو ملی ہے بِئۡسَ لِلظّٰلِمِیۡنَ بَدَلًا(18:51) مسیح موعود کی نبوت سے انکار کیا اور اس کے نبی کہنے والوں کو اشاروں اشاروں میں کافر و ملعون قرار دیا اور خود ہزاروں کو نبی کا خطاب دے دیا ایک طرف تو وہ تنگ دلی کہ جسے خدا نبی کہتا ہے اور اس کا رسول بھی اس کی نبوت سے انکار ہے اور دوسری طرف وہ وسعت قلب کہ جنہوں نے نہ خود اپنے آپ کو نبی کہا اور نہ خدا نے نہ اس کے رسول نے ان کو نبی کہا بلکہ مسیح موعود نے ان کے نبی ہونے سے انکار کیا انہیں بھی نبی کا خطاب دے دیا جاتا ہے۔ مرزا محمود احمد۔

۵۸۔ شریعت نے نبی کی جو تعریف کی ہے اگر اسے لیا جائے تو مسیح موعود پر اس حدیث میں نبی کا لفظ استعارةً استعمال نہیں ہوا لیکن اگر لفظ نبی کے حقیقی معنے وہ قرار دیئے جائیں جو عوام الناس میں غلطی سے استعمال ہو رہے ہیں تو ان معنوں کے رو سے ہم مسیح موعود کی نسبت نبی کے لفظ کا استعمال استعارةً ہی مانتے ہیں کیونکہ اس صورت میں اس کے یہی معنے ہوں گے کہ ایسا نبی جو شریعت نہیں لایا۔ اور اس سے ہمیں پورا پورا اتفاق ہے۔(مرزا محمود احمد)

۵۹؎ مقامِ نبوت سے مراد اس جگہ منصبِ نبوت ہے کیونکہ ایک اور جگہ حضرت صاحب نے تصریح کے ساتھ منصبِ نبوت پانے کا ذکر فرمایا ہے چنانچہ الہام يُلْقِی الرُّوْحَ عَلٰی مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبْدِہٖ مَحَلُّ بَرَکَتِہٖ مَنْ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَکَ مَنْ عَلَّمَ وَ تَعَلَّمَ خدا کی فیلنگ اور خدا کی مہر نے کتنا بڑا کام کیا، لکھ کر اس کا ترجمہ ان الفاظ میں فرماتے ہیں:۔ ”جس پر اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے اپنی روح ڈالتا ہے یعنی منصبِ نبوت اس کو بخشتا ہے اور یہ تو تمام برکت محمد ﷺ سے ہے پس بہت برکتوں والا ہے جس نے اس بندہ کو تعلیم دی اور بہت برکتوں والا ہے جس نے تعلیم پائی۔خدا نے وقت کی ضرورت محسوس کی اور اس کے محسوس کرنے اور نبوت کی مہر نے جس میں شدتِ قوتِ کائینان ہے بڑا کام کیا یعنی تیرے مبعوث ہونے کے دو باعث ہیں (۱) خدا کا ضرورت کو محسوس کرنا اور آنحضرت ﷺ کی مہرِ نبوت کا فیضان“(حقیقۃ الوحی صفحہ ۹۵ و ۹۶)

۶۰؎ حضرت محی الدین صاحب ابن عربی فرماتے ہیں کہ وہ لوگ رسالت کے درجہ تک پہنچ گئے تھے گو ان کو اللہ تعالیٰ نے رسالت کے ساتھ مبعوث نہیں کیا اس بات میں بھی مسیح موعود میں اور ان میں ایک فرق ہے کیونکہ مسیح موعود کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا اَحْمَدَ اِلٰی قَوْمِهٖ فَاَعْرَضُوْا وَقَالُوْا کَذَّابٌ اَشِرٌ پس آپ کو خدا تعالیٰ نے رسول کر کے مبعوث بھی کیا ہے اور اس طرح آپؐ کی رسالت ممتاز ہے دوسروں سے۔منہ۔

۶۱؎ یہ ضرور یاد رکھو کہ اس امت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پا چکے پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے لیکن قرآن شریف بجز نبی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے جیسا کہ آیت یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ(72:27-28) سے ظاہر ہے پس مصطفیٰ غیب پانے کے لئے نبی ہونا ضروری ہوا اور آیت انعمت علیہم گواہی دیتی ہے کہ اس مصطفیٰ غیب سے یہ امت محروم نہیں اور مصطفیٰ غیب حسب منطوق آیت نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے اور وہ طریق براہ راست بند ہے اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ اس موہبت کے لئے محض بروز اور ظلیت اور فنا فی الرسول کا دروازہ کھلا ہے فتدبّر۔منہ

۶۲؎ یہ کیسی عمدہ بات ہے کہ اس طریق سے نہ تو خاتم النبیین کی پیشگوئی کی مہر ٹوٹی اور نہ امت کے کل افراد مفہومِ نبوت سے جو آیت یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ(72:27) کے مطابق ہے محروم رہے مگر حضرت عیسیٰ کو دوبارہ اتارنے سے جن کی نبوت اسلام سے چھ سو برس پہلے قرار پا چکی ہے اسلام کا کچھ باقی نہیں رہتا اور آیت خاتم النبیین کی صریح تکذیب لازم آتی ہے اسکے مقابل پر ہم صرف مخالفوں کی گالیاں سنیں گے سو گالیاں دیں وَسَیَعۡلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ(الشعراء: ۲۲۸)۔

۶۳؎ یہ بات میرے اجداد کی تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک دادی ہماری شریف خاندان سادات سے اور بنی فاطمہ میں سے تھی۔ اس کی تصدیق آنحضرت ﷺ نے بھی کی اور خواب میں مجھے فرمایا کہ سَلْمَانُ مِنَّا اَهْلَ الْبَيْتِ عَلٰی مَشْرَبِ الْحَسَنِ میرا نام سلمان رکھا یعنی دو سلم اور سلم عربی میں صلح کو کہتے ہیں یعنی مقدر ہے کہ دو صلح میرے ہاتھ پر ہوں گی۔ ایک اندرونی کہ جو اندرونی بغض اور شحناء کو دور کرے گی۔ دوسری بیرونی جو کہ عداوت کے وجوہ کو پامال کر کے اور اسلام کی عظمت دکھا کر غیر مذاہب والوں کو اسلام کی طرف جھکا دے گی معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں جو سلمان آیا ہے اس سے بھی میں مراد ہوں ورنہ اس سلمان پر دو صلح کی پیشگوئی صادق نہیں آتی اور میں خدا سے وحی پا کر کہتا ہوں کہ میں بنی فارس میں سے ہوں اور بموجب اس حدیث کے جو کنز العمال میں درج ہے بنی فارس بھی بنی اسرائیل اور اہل بیت میں سے ہیں اور حضرت فاطمہؓ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں چنانچہ یہ کشف براہین احمدیہ میں موجود ہے۔

۶۴؎ چنانچہ جو فقرہ بطور سند منکرینِ نبوت پیش کرتے ہیں خود اس کے ساتھ ہی حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں بَلْ هٰذِهِ الدَّرَجَةُ لَا تُعْطٰی اِلَّا مِنْ اِتِّبَاعِ نَبِيِّنَا خَيْرِ الْوَرٰی جس سے صاف ثابت ہے کہ آپؐ کی مراد یہی ہے کہ مجھے وہ رسالت ملی ہے جو صرف رسول اللہ ﷺ کی اتباع سے ملتی ہے نہ یہ کہ پہلے نبیوں کی نبوت تو نبوت تھی۔ اور آپ کی نبوت نبوت نہ تھی۔منہ۔

۶۵؎ غالباً مولوی صاحب کا یہی مذہب ہے کہ حضرت مسیح موعود کے کسی حکم کی وجہ اگر ثابت ہو جائے تو اسے ماننا چاہئے ورنہ نہیں۔ منہ