صفحات ۱–۶۵۵
(تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۰۶ء)
از
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
اس وقت میں آپ کے سامنے شرک پر کچھ بولنا چاہتا ہوں۔ شرک ایک ایسی بلا ہے جو کہ بنی نوع انسان کے ساتھ شروع زمانہ سے آج تک لگی ہوئی ہے۔ نہ اس نے انسان کا پیچھا چھوڑا اور نہ انسان نے اس کا۔ ہر ایک زمانہ میں ایسے لوگ خدا کی طرف سے مامور ہو کر آتے رہے ہیں جو شرک کو پامال کریں اور توحید کو دنیا میں پھیلائیں۔ لیکن انسان جس کو کہ ایک حد تک خدا تعالیٰ نے آزادی دی ہے آج تک اس مرض کو اپنے دل میں چھپاتا رہا ہے۔ گو بہتوں نے ہدایت پائی اور شہداء اور صدیقین کا مرتبہ پایا مگر پھر بھی دنیا میں ایک بڑی تعداد ایسی رہی ہے جنہوں نے شرک کو نہیں چھوڑا۔
اور جب کہ خدا تعالیٰ ایک قوم کی طرف نبی کو بھیج کر اس کی اصلاح کرتا ہے۔ اور وہ ایک مدت کے بعد جب ان تمام انعامات الٰہی کو جو ان پر وقتاً فوقتاً ہوئے ہوتے ہیں اپنی کوششوں اور سعیوں پر محمول کر کے خدا تعالیٰ سے روگردانی کرتے ہیں تو اس وقت جو پہلی برائی ان کے دل میں پیدا ہوتی ہے وہ شرک ہے۔ اسی واسطے جو نبی دنیا کی اصلاح کے لئے آتا ہے اس کو سب سے پہلے شرک کا ہی مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ اور شیطان کا سب سے بڑا حملہ جو انسان پر ہوتا ہے وہ شرک ہی ہے۔
خدا تعالیٰ کی پاک کتاب قرآن شریف سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ دوسرے گناہوں کو اگر چاہے تو بخش دے گا مگر شرک کو نہیں۔ اور درحقیقت انسان کی کیسی کمزوری اور شرارت ہے کہ وہ خدا جس نے ہمارے لئے طرح طرح کے آسائش کے سامان پیدا کئے ہیں اس سے روگردانی کریں جیسا کہ زمین پیدا کی ہے تاکہ ہم اس پر چلیں پھریں محنت کریں کوشش کریں اور بڑے بڑے مرتبے پائیں۔
پھر اس زمین میں مختلف قسم کی تاثیریں رکھی ہیں وہی زمین ہوتی ہے کہ ہم اس میں گیہوں کا دانہ ڈالتے ہیں اور کچھ دنوں تک معدوم ہو جانے کے بعد وہ دانہ تھوڑا سا باہر نکلتا ہے۔ پھر مختلف زمانوں اور ہواؤں میں سے گزر کر وہ ایک عرصہ کے بعد اس قابل ہو جاتا ہے کہ اس میں اسی قسم کے سینکڑوں دانے اور نکل آتے ہیں اور انسان کی خوراک کا سامان کرتے ہیں۔ پھر اسی زمین میں مکئی کا دانہ ڈالتے ہیں اور وہ اسی زمین کی تاثیر سے اپنے مطابق اثر حاصل کر کے بڑھتا اور آخر انسان کی غذا کے کام آتا ہے۔ اور مختلف فوائد زمین میں رکھے گئے ہیں کہ جو ہماری زندگی اور آرام اور آسائش کے محافظ ہوتے ہیں۔ پھر پرند چرند بنائے ہیں جن سے سینکڑوں فوائد روزانہ اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح اربعہ عناصر۔ پس ذرہ بھر بھی شرک کا دل میں رکھنا ایسا خوفناک امر ہے اور ایسی بے حیائی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ رحیم و کریم نہ ہوتا تو قریب تھا کہ انسان ٹکڑے ٹکڑے کر کے ایک ایسے عذاب میں ڈالا جاتا جس سے کبھی نجات نہ ہوتی۔ مگر یہ اس کی رحمانیت ہے جو انسان کو اب تک بچائے جاتی ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں یہ شیطان سرکش کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ شیطان جس نے یہ کہا ہے کہ میں تیرے بندوں میں سے ایک مقرر حصہ لوں گا یعنی اپنے لئے مخصوص کرلوں گا جو کہ تجھ سے غافل ہوں گے میں تیرے بندوں پر شرک کا حربہ چلاؤں گا ان کے آگے سے حملہ کروں گا اور پیچھے سے حملہ کروں گا غرض کہ دائیں طرف سے بائیں طرف سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے میں ان پر یہ حربہ چلاؤں گا۔ میں ان کو گمراہ کروں گا ان کو لالچ دوں گا اور ان کو حکم کروں گا پس وہ جانوروں کے کان کاٹ کر خدا کی مخلوق کو دوسروں کے لئے مخصوص کریں گے۔ پس جس نے کہ شیطان کو دوست قرار دیا ہے یعنی شرک کیا کیونکہ اس کا یہی حملہ ہے پس وہ بڑے ہی ٹوٹے اور خسارہ میں ہے۔ پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان کا وعدہ جو ہے یہ صرف ایک دھوکے کی ٹٹی ہے۔ اس مقام پر خدا تعالیٰ نے مشرک کے حق میں فرمایا ہے کہ وہ بخشا نہیں جاوے گا۔ وہ شیطان کا تابعدار ہے اور یہ کہ وہ کبھی کامیاب نہ ہو گا۔
پہلی دو باتیں تو ایسی ہیں کہ ان میں مشرک ہمارا مقابلہ کر سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ ہم بھی بخشے جاویں گے اور ہم شیطان کے تابعدار نہیں۔ مگر تیسری بات خدا نے ایسی فرمادی ہے کہ جس سے پہلی دو باتیں بھی تصدیق ہو جاتی ہیں۔ یعنی مشرک کامیاب نہیں ہوں گے۔ سو حضرت آدمؑ سے لے کر آج تک دیکھ لو کہ کیا مشرک کبھی بھی کسی نبی کے مقابلہ میں کامیاب ہوئے؟ حضرت نوحؑ، ہودؑ، صالحؑ، شعیبؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور سب سے آخر میں اور سب سے بڑھ کر حضرت نبی کریم ﷺ تھے کہ جن کو شرک سے مقابلہ کرنا پڑا۔ مگر نتیجہ کیا ہوا کیا ان مشرکوں کا کوئی نام لیوا ہے؟ کوئی نہیں جو کہے کہ میں فرعون یا ابو جہل کی اولاد میں سے ہوں۔ ان لوگوں کی اولاد اپنے آپ کو چھپاتی ہے اور اپنے آباء و اجداد کے اور نام بتلاتی ہے۔ یہ کیوں؟ اس لئے کہ شرک کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ اور چونکہ ان لوگوں پر خدا کے عذاب نازل ہوئے اور وہ ناکام ہوئے اس لئے ان کی اولاد بھی ان کو برا بھلا کہتی ہے اور اس کو پسند نہیں کرتی کہ ان کو ان مشرکوں کے ساتھ منسوب کیا جاوے پس یہ ایک بدیہی ثبوت ہے جو خدا تعالیٰ اس بات کے ثبوت کے لئے پیش کرتا ہے کہ یہ لوگ شیطان کے مرید اور نہ بخشے جانے والے ہیں۔ غرض یہ شرک ایک ایسا پوشیدہ مرض ہے جیسا کہ مریض کو تپ دق جو رفتہ رفتہ انسان کو ہلاک کر کے ہی چھوڑتا ہے یا ایک درخت کو کیڑا کہ ایک مدت کے بعد ایک بڑے عالی شان درخت کو گرا کر زمین کے برابر کر دیتا ہے۔
پس اس سے بچنے کے لئے انسان کو کامل تقویٰ اور پرہیزگاری کی ضرورت ہے۔ انسان کو چاہئے کہ ہر وقت اپنی نظروں کے سامنے خدا تعالیٰ کی صفات کو رکھے تاکہ ہر گھڑی اس کا دل خدا کی طرف جھکا رہے اور خدا بھی اس پر اپنا سایہ ڈالے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اوپر کی طرف اس نے شیطان کے حملوں سے محفوظ رکھی ہے۔ پس انسان کو چاہئے کہ وہ دوڑ کے خدا کے سایہ کے نیچے آ جاوے۔ کیوں کہ جو اس کے سایہ کے نیچے آجاتا ہے وہ شیطان کے حملوں سے بالکل محفوظ ہو جاتا ہے گو شیطان کتنا ہی زور خرچ کرے کہ کسی طرح اس مردِ صالح کو پھسلائے۔ مگر خدا تعالیٰ کی قہر والی نظر اس کو جلا دیتی ہے اور اس کو مجال نہیں ہوتی کہ وہ پھر اس انسان کی طرف نظرِ بد سے دیکھ بھی سکے۔ اور اگر بجائے اس کے ہم سستی کریں اور غفلت کو کام میں لاویں تو ہم کو ایک دم کی بھی فرصت نہیں ملتی کہ ہم اپنے آپ کو اس جنگ کے لئے تیار کریں جو کہ یک لخت ہم کو شیطان سے پیش آتی ہے۔ ایسی حالت میں وہ ہمارے ایمان کو اچک لے جاتا ہے اور ہم کو تہی دست چھوڑ جاتا ہے۔ مگر ہم بکریوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی کم زور اور شیطان ایک طاقتور بھیڑیا ہے پس جب تک ہم خدا جو کہ ہمارا نگہبان ہے اس کے سامنے ہیں تب تک تو شیطان کے خونخوار حملہ سے محفوظ ہیں مگر جب ذرا سی غفلت کی وجہ سے ہم اس کی نظروں سے اوجھل ہوئے کہ شیطان نے ہم کو ایک ہی حملہ میں مغلوب کر لیا۔ خدا کی نظروں سے غائب ہونے کے یہ معنے نہیں کہ کبھی ایسا بھی موقعہ آ جاتا ہے کہ خدا ہم کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تو بصیر ہے۔ میری اس سے یہ مراد ہے کہ جب ہم اس کی خاص نظرِ رحم کو اپنی کسی بدکرداری کی وجہ سے دور کر دیں۔ اور اس لئے ہم کو چاہئے کہ ہر وقت خدا تعالیٰ کے زیادہ اور زیادہ قریب ہونے کی کوشش کریں۔ اور اس کے لئے وہ ہم سے وعدہ کرتا ہے کہ جب ایک قدم تم میری طرف آؤ گے تو میں دو قدم تمہاری طرف آؤں گا اگر تم میری طرف تیز چل کر آؤ گے تو میں دوڑ کر آؤں گا۔ پس جب تک ہم خدا تعالیٰ کی طرف تیز قدموں سے بلکہ دوڑ کر نہ جائیں گے ہماری ایسی حالت ہے جیسا کہ ایک بندھی ہوئی بکری بھیڑیئے کے سامنے اور جس کو کہ بھیڑیا ایک ہی حملہ سے اچک کر لے جاوے گا۔
پس ہر کام کے کرتے ہوئے اور ہر لفظ کے بولتے ہوئے شرک کا دھیان کر لو تاکہ ایسا نہ ہو کہ خدا تعالیٰ سے دور اور شیطان کے شکار ہو جاؤ۔ اس وقت ممکن ہے کہ بعض لوگوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ میں نے شرک کا اس طرح بیان کیا ہے گویا کہ دنیا میں اور کوئی گناہ ہے ہی نہیں۔ لیکن نہیں میرا مطلب یہ نہیں بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ شرک ہی سے دوسرے گناہ بھی پیدا ہوتے ہیں۔
جب ایک انسان شرک سے بالکل پاک ہو تو کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ گناہ کرے۔ کیوں کہ جب وہ خداتعالیٰ کی کل صفات پر ایمان رکھتا ہے تو وہ کوئی برائی نہیں کر سکتا۔ چور جب چوری کو جاتا ہے۔ اگر اس کو یہ ایمان ہو کہ ایک خدا ہے جو کہ دیکھتا ہے اور گناہ کی سزا دیتا ہے تو پھر وہ کبھی چوری نہیں کر سکتا اسی طرح دوسرے گناہ کرنے والے اگر بجائے مخلوق الٰہی سے ڈرنے کے خود خالق سے ہی ڈریں تو وہ ان تمام فریبوں اور گندگیوں کو چھوڑ دیں جو کہ بصورت دیگر ان کے دلوں میں جاگزیں ہوتے ہیں۔ پس جو شرک کو چھوڑتا ہے وہ کبھی کوئی گناہ نہیں کر سکتا جس کا کہ اس کو علم ہو اور بے علمی کی خطاء کو تو خدا بھی نہیں پکڑتا۔ اس لئے حدیث شریف میں آیا ہے کہ مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ (یعنی جو کوئی کامل طور سے شرک کو چھوڑ دے وہ جنت میں داخل ہوگا) کیوں کہ جب وہ شرک کو چھوڑ دے گا اور حقیقی طور سے خدا کو واحد اور اس کی صفات کو برحق مان لے گا تو وہ کوئی اور گناہ کرے گا ہی نہیں اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ انعامات الٰہیہ کا مورد ہو۔ ایسے آدمی کا چلنا پھرنا کھانا اور پینا سب خدا کے ہی لئے ہوتا ہے یعنی جب وہ بولتا ہے تو خدا کے لئے بولتا ہے۔ سنتا ہے تو خدا کے لئے سنتا ہے۔ کھاتا ہے تو خدا کے لئے کھاتا ہے اور پیتا ہے تو خدا کے لئے۔ اس وقت شیطان بھی اس کے قریب نہیں جاتا۔ گویا کہ ایسے آدمی کا شیطان بھی مسلمان ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میرا شیطان بھی مسلمان ہو گیا ہے۔ پس جب انسان اس حد تک اپنے دل کو پاک و صاف کر لیتا ہے۔ تو وہ خدا کا اور خدا اس کا ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی شخص کے لئے خداتعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃً فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ وَادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ(الفجر: ۲۸-۳۱) اس موقعہ پر یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے۔ کہ خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نفس مطمئنہ میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔ پس کیا دوسرے لوگ خداتعالیٰ کی مخلوق نہیں ہیں۔ وہ ہیں مگر اس جگہ خداتعالیٰ ایک استعارہ بیان فرماتا ہے کہ بندہ تو وہ ہے جو اپنے آپ کو بندہ ہونے کے لائق بھی بناوے۔ جو طرح طرح کے شرکوں میں اور مختلف قسم کی بدعتوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کا نفس نفسِ امارہ ہے تو کیوں کردہ میرے بندے ہو سکتے ہیں۔
بندے کا تو فرض ہے کہ خالص اپنے آقا کے لئے ہو جائے مگر جب ایک آدمی خدا کے علاوہ اوروں کی پرستش کرتا ہے ان سے بھی نفع و ضرر کی ویسی ہی امید رکھتا ہے جیسے کہ خدا سے تو کیوں کر وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا بندہ کہہ سکتا ہے۔ اور اصل بندہ تو وہ ہے جو نفس مطمئنہ رکھتا ہے اور اس کا قلب خدا تعالیٰ کی الوہیت سے مطمئن ہے اور وہ کسی اور کو خدا تعالیٰ کا شریک نہیں ٹھہراتا۔ جو ایک خدا کو جو متصف ہے تمام نیک صفات سے اپنے لئے کافی سمجھتا ہے۔ اور جو عبودیت اور خالص بندگی سے آپ کو خدا تعالیٰ کا بندہ ہونے کے لائق بنا دیتا ہے۔ پس اس جگہ عبد کے معنے اسی بندہ کے ہیں جو خدا کا بندہ ہونے کے قابل ہے۔
مثال کے لئے دیکھو آنحضرت ﷺ بھی اسی خدا کے پیدا کئے ہوئے تھے اور ابو جہل بھی۔ مگر ابو جہل نے اپنی شرارت‘ فسق و فجور اور شرک سے اپنے آپ کو خدا کا بندہ ثابت نہ کیا بلکہ بتوں کا بندہ ثابت کیا اور انہیں کی طرف داری میں اپنی جان تک قربان کی۔ مگر آنحضرت ﷺ نے اپنے آپ کو خالص خدا کے لئے ہی کر دیا شرک سے بکلی پرہیز کیا اور اپنی عبادت اور قربانیاں سب خدا کے لئے ہی مخصوص رکھیں اور اپنے آپ کو خدا کا بندہ ثابت کیا۔ پس خود مقابلہ کر کے دیکھ لو کہ اس کا انجام کیا ہوا اور اس کا کیا؟ ابو جہل تو بدر کے میدان میں قتل کیا گیا اور ایک کنویں میں اس کی لاش پھینکی گئی۔ اور اس کے مرتے وقت کی خواہش بھی پوری نہ ہوئی یعنی اس نے کہا تھا کہ میری گردن ذرا لمبی کر کے کاٹنا کیوں کہ عرب کے معززین کی نشانی یہی ہوتی تھی۔ مگر کاٹنے والے نے اس کی گردن سر کے پاس سے کاٹ کر ثابت کیا کہ شیطان کے دوست کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ اور اسی وقت دوسری طرف آنحضرت ﷺ کو وہ فتح نصیب ہوئی کہ وہ خدا تعالیٰ کی جنت کے وارث نہ صرف عقبیٰ میں بلکہ اس دنیا میں بھی ثابت ہوئے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ(89:31)۔ پس وہ انسان جو خدا تعالیٰ سے کامل تعلق کرنا چاہے وہ شرک کو چھوڑ دے۔ کیوں کہ خدا کو شرک پسند نہیں۔
اب میں یہ بات بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ شرک دو قسم پر مشتمل ہے۔ ایک شرکِ جلی اور ایک شرکِ خفی۔ شرکِ جلی وہ جو کھلا کھلا شرک ہے جیسے بتوں وغیرہ کا شرک‘ یا انسان پرستی‘ قبر پرستی‘ چاند اور سورج پرستی وغیرہ وغیرہ۔ ایسے شرک کرنے والے تو اس کا اقرار بھی کرتے ہیں کہ وہ ایسا کرتے ہیں مگر اچھا سمجھ کر اور ایسا شرک اکثر دور بھی ہو جاتا ہے۔
مگر زیادہ خوف کے قابل اور انسان کا دشمن شرک خفی ہے یعنی چھپا شرک۔ ایسا شخص مانتا ہے کہ خدا ایک ہے اور پھر مشرک کا مشرک ہی ہے۔ وہ بتوں کی پرستش اور دوسری چیزوں کی پرستش کو بھی برا سمجھتا ہے مگر پھر بھی شرک کے مرض میں گرفتار ہے۔ وہ ایسا ہے جیسا کہ ایک مریض ایک سخت مرض میں گرفتار ہے اور پھر بھی علاج کرانے سے گریز کرتا ہے۔ حکیم اس کو دوائی دیتا ہے اور وہ حکیم کی عقل پر ہنستا ہے کہ میں تو اچھا بھلا ہوں۔ مگر افسوس کہ اگر اس کو چشمِ بصیرت ہو تو وہ سمجھے کہ میں حکیم پر ہنستا ہوں حالانکہ میری حالت ایسی ہے کہ اس پر رویا جاوے۔ پس ایسے شرک سے بچنے کے لئے سوائے اس کے کوئی علاج نہیں کہ خدا پر ہی کامل بھروسہ رکھا جاوے اور خشوع و خضوع سے دعا کی جاوے کہ یا الٰہی ہم کو اس مہلک مرض سے بچا۔ یہ شرک مختلف شکلوں کا ہوتا ہے جیسا کہ ایک شخص جو اپنے حاکم کے ڈر کے مارے اپنے عبادت کے وقتوں میں تساہل بے جا کرتا ہے۔ یا خیال کرتا ہے کہ یہ حاکم اگر مجھ کو اس نوکری سے الگ کر دے تو میرا اور کوئی چارہ نہیں اور میں سخت مصیبت میں مبتلا ہو جاؤں گا۔ یا یہ کہ اگر فلاں شخص میری مدد نہ کرے گا تو میرا کام نہیں بنے گا۔ تو وہ شرک کرتا ہے اور گویا کہ خدا سے بڑھ کر اپنے حاکم سے ڈرتا ہے یا خدا کی مدد سے بڑھ کر کسی اور کی مدد پر بھروسہ کرتا ہے۔ پھر دوستی کے رنگ میں ہوتا ہے۔ بعض دفعہ انسان کسی دوست کے خوش کرنے کے لئے کوئی ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے جو شریعت کے خلاف ہو۔ اور نہیں سمجھتا کہ خدا کا خوش کرنا مجھ پر زیادہ واجب ہے بہ نسبت اس دوست کے۔ پس وہ شرک کرتا ہے اور پھر اولاد اور مال پر بعض دفعہ ایک انسان اتنا بھروسہ کر لیتا ہے یا اتنی محبت پیدا کر لیتا ہے کہ وہ شرک کے درجہ پر پہنچ جاتی ہے۔ پس ایسے شرک سے بچنے کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔ خدا سے دعائیں کرو اور خود کوشش کرو۔ کیوں کہ جو اس کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے وہ ناکام واپس نہیں آتا۔ جو اس کو پکارتا ہے اس کی سنی جاتی ہے۔ دیکھو آج کل کا زمانہ ایسا خوف ناک ہے کہ خیال کرنے سے ڈر معلوم ہوتا ہے۔ اور ویسا ہی بلکہ بڑھ کر بابرکت بھی ہے کہ سوچنے سے خوشی حاصل ہوتی ہے۔
یہ وہ وقت ہے کہ خدا کا چہرہ سرخ ہو رہا ہے اور قریب ہے کہ وہ دنیا کو ہلاک کر دے۔ مگر ساتھ ہی وہ اس وقت خزانہ کھول کر بیٹھا ہے تاکہ جو سوال کرے وہ اپنے سوال سے بڑھ کر پاوے۔ اس زمانہ کی نسبت ہر قوم اور ہر مذہب میں پیشگوئیاں ہیں کہ اس میں خدا کے مامور کی اور شیطان کی آخری جنگ ہو گی یہاں تک کہ پارسیوں میں بھی پیشگوئی ہے کہ آخر زمانہ میں جس کی فلاں فلاں نشانیاں ہوں گی ۔ اہرمن دیو یعنی شیطان اور یزداں (مراد ہے کہ یزدانی لوگ) کی آخری جنگ ہوگی اور شیطان بالکل قتل کر ڈالا جاوے گا۔ پس یہ زمانہ ایک ایسا زمانہ ہے کہ لوگوں نے مال و زر کو اپنا معبود بنایا ہوا ہے اور گویا کہ خدا کا شریک ٹھہرایا ہے۔
یہ وقت تھا کہ خدا اپنے بندوں کی مدد کرتا کیونکہ وہ رحیم و کریم ہے اور اس نے ایسا ہی کیا ہے۔ اور جیسا کہ نبیوں کے ذریعہ سے خبر دی تھی اس وقت وہ شخص مامور ہوا ہے جس کے لئے مقدر ہے کہ وہ شیطان کے حربہ کو توڑے یعنی شرک کو دور کرے۔ ہاں دنیا دیکھ لے گی کہ شرک کس طرح تباہ ہوگا۔
اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے دلوں سے شرک کو دور کریں اور دوسروں کو بھی بچانے کی کوشش کریں۔ اور ہر وقت حضرت مرزا غلام احمد صاحبؑ مسیح موعود و مہدی معہود کا ہاتھ بٹانے کے لئے تیار رہیں جن کو خدا نے یہ کام سپرد کیا ہے۔ اب وہ زمانہ آگیا ہے کہ مشرک لوگ ناک کے بل گرائے جائیں۔ دنیا کو شرک چھوڑنا پڑے گا خواہ وہ اپنی مرضی سے چھوڑے یا کوڑے سے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا مگر خدا اس کو قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کرے گا۔ مذہب عیسوی جو شرک میں حد سے بڑھا ہوا ہے۔ اور جس نے ہزاروں لاکھوں آدمیوں کو روپیہ اور مال کے زور سے اپنے دین میں شامل کر لیا ہے اب اس کے زوال کا وقت آگیا ہے۔ تم اس کے مال و زر کو دیکھ کر حیران نہ ہو کیوں کہ اس وقت جب کہ اس کا نام و نشان نہ تھا خدا تعالیٰ نے سورہ زخرف میں ارشاد فرمایا تھا کہ اگر مجھ کو اس بات کا خیال نہ ہوتا کہ دنیا اس کو دیکھ کر ہلاک ہو جائے گی تو میں رحمان کے منکروں یعنی عیسائیوں کو اس قدر مال دیتا کہ سونا چاندی کی چھتیں اور سیڑھیاں بناتے۔ پس ڈرو نہیں یہ قرآن شریف کی پیش گوئی پوری ہوئی ہے۔ مگر اب وہ وقت ہے کہ عیسائیت کا بلند اور مضبوط منار گرا دیا جاوے۔ یہ مذہب عیسوی کا قلعہ جس کی دیواریں لوہے کی تھیں اب گرنے کو ہے کیوں کہ اس کو زنگ لگ گیا ہے اور اب وہ اس قدر بودا ہے کہ ایک ہی حربہ سے ٹوٹ جاوے جیسا کہ قاعدہ ہے کہ بارانِ رحمت کے وقت لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے اور وہ کمزور اور بودا ہو جاتا ہے پس جب کہ روحانی بارانِ رحمت کا نزول شروع ہُوا تو اس مذہبی لوہے کو زنگ لگ گیا۔
اب یہ عیسائی سلطنتیں خود بخود اسلام کی طرف رجوع کریں گی اور وہ یورپ جو عیسائیت کا گھر ہے اسلام کا مرکز ہوگا۔ عیسائیوں میں خود بخود شرک کے برخلاف خیال پیدا ہو گئے ہیں۔ یہاں تک کہ بہت سے حضرت عیسیٰؑ کے خدا ہونے کے منکر ہو گئے ہیں۔ اور بعض ایسے بھی ہیں جو نعوذ باللہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ ولد الزنا تھے۔ پس زمانہ خود بخود شرک کو چھوڑنے والا ہے اور قریب ہے کہ خدا اپنا جلال ظاہر کرے۔ یہ احمدی جماعت جو کہ اس وقت موردِ انعامات الٰہیہ اور اس وقت بہت ہی کمزور حالت میں ہے۔ ایک دن آنے والا ہے کہ تمام دنیا میں پھیل جاوے گی۔ خدا ہمارے امام کو فرماتا ہے اور وعدہ دیتا ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ اور اس وقت جو ایک کمزوری کی سی حالت ہے یہ ہماری اپنی کمزوری کی وجہ سے ہے ہم اس وقت یتیم کی طرح ہیں جس کو تمام دنیا نے چھوڑ دیا ہے۔ ایک یتیم تو وہ ہوتا ہے جس کا صرف باپ ہی مر جاتا ہے مگر ہم سے سب دنیا نے قطع تعلق کر لیا۔ اگر ترقی چاہتے ہو تو ایک دل ہو کر دعائیں مانگو کیوں کہ خدا وحدت کو پسند کرتا ہے کیوں کہ وہ خود واحد ہے۔ پس جب کہ ایک یتیم کی آواز عرشِ عظیم کو ہلا دیتی ہے تو کیا چار لاکھ یتیموں کی آواز کچھ بھی اثر نہ کرے گی؟ شرک کو دور کر دو اور تمہارے کام ٹھیک ہو جائیں گے۔ اب میں آپ لوگوں کے سامنے اس رکوع کا مجمل طور سے بیان کرتا ہوں جو کہ میں نے تقریر کے شروع میں پڑھا تھا۔ یعنی سورہ لقمان کا دوسرا رکوع
اس جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَقَدۡ اٰتَیۡنَا لُقۡمٰنَ الۡحِکۡمَۃَ اَنِ اشۡکُرۡ لِلّٰہِ ؕ وَمَنۡ یَّشۡکُرۡ فَاِنَّمَا یَشۡکُرُ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَمَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیۡدٌ(لقمان: ۱۳)۔ یعنی میں نے لقمان کو حکمت بخشی تاکہ شکر کرے اللہ کا۔ اور جو شکر کرتا ہے پس وہ اپنے نفس کے لئے کرتا ہے۔ اور جو کفر کرتا ہے پس اللہ تو بے پرواہ ہے اور تعریف والا ہے۔ اس جگہ خدا تعالیٰ ظاہر کرتا ہے کہ میں نے لقمان کو حکمت دی اور دنیا تو پہلے ہی لقمان کو عقل مند مانتی ہے۔ دنیا میں دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ جن کو دنیا عقلمند سمجھتی ہے اور خدا کے نزدیک وہ ذلیل ہوتے ہیں۔ اور ایک وہ جن کو دنیا بھی عقلمند اور حکیم سمجھتی ہے اور خدا بھی۔ پس یہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ صرف دنیا ہی لقمان کو عقلمند بتاتی ہے بلکہ میں نے بھی اس کو حکمت دی ہے اور میں بھی اس کو حکمت
والا قرار دیتا ہوں۔ اب دیکھنا چاہئے کہ دنیا میں کون سا انسان تابعداری کرانے کے قابل ہوتا ہے۔ وہی جو عقلمند ہو۔ اور وہ جو کہ بیوقوف اور جاہل مطلق ہو وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ اس کی فرماں برداری کی جاوے۔
پس اس جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ کہ لقمان تو دنیاوی لوگوں کے خیال بموجب اور دینی لوگوں کے ایمان کے مطابق ایک حکمت والا آدمی تھا۔ پس ایسے آدمی کی بات تو بڑی وزن دار ہے۔ اور چاہئے کہ دنیا اس کو قبول کرے کیوں کہ وہؔ اجوہ اہل الرائے۔ اب جو بات کہ لقمان کہتا ہے وہ آگے بیان ہو گی۔ پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ حکمت کا نتیجہ ہونا چاہئے کہ خدا کا شکر کیا جاوے تاکہ وہ خدا اپنے پہلے انعامات سے بھی بڑھ کر اس پر انعامات کرے۔ اور جو شکر کرے وہ تو انسان کی اپنی جان کے لئے بھی مفید ہوتا ہے۔ کیوں کہ انسان کے شکر کرنے سے خدا تعالیٰ کا تو کچھ بڑھ نہیں جاوے گا خدا تعالیٰ کی صفات میں نہ طاقت میں کوئی ترقی ہو گی بلکہ الٹا شکر کرنے والے کو فائدہ پہنچے گا۔ پس با وجود ان باتوں کے ہوتے ہوئے کفر کرے تو خدا تعالیٰ کو اس کی کیا پرواہ ہے۔ کیا اس کے کفر سے خدا میں کسی قسم کی کمی واقع ہو جائے گی؟ اور اس طرح وہ شخص اپنا ہی نقصان کرے گا۔ دیکھو کہ آدمؑ کے زمانہ سے لے کر آج تک جنہوں نے شکر کیا وہ بڑھے اور پھولے اور پھلے۔ مگر جنہوں نے کفر کیا وہ ہمیشہ تباہ ہی ہوئے۔ نوح علیہ السلام اور ایسا ہی لوط علیہ السلام نے شکر کیا۔ وہ ترقی پا گئے خدا کے مقبول ہوئے۔ ان کی قوم نے کفر کیا وہ تباہ ہو گئیں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام سے عذاب کے وقت وعدہ کیا تھا کہ جو تیرے تعلق والے ہیں میں ان کو بچاؤں گا۔ جب طوفان آیا تو ایک بیٹا لگا ڈوبنے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے آہ و زاری کی کہ اے خدا یہ تو میرا بیٹا ہے۔ حکم ہوا کہ خاموش کہ یہ تیرا بیٹا نہیں۔ اگر تیرا بیٹا ہوتا تو تیرا ساتھ دیتا اور مجھ پر ایمان لاتا۔ جب تو نے میرے ساتھ خالص تعلق پیدا کیا اور شرک سے بکلی پر ہیز تو جو لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں وہی لوگ تیرے تعلق والے ہیں۔
پس اے احمدی قوم! خدا تمہارا رشتہ دار نہیں۔ شرک سے پرہیز کرو اور عبادت کرو تاکہ خدا تمہارا نگہبان ہو جائے۔ دیکھو کہ خدا نے نوح علیہ السلام کے بیٹے تک کی پرواہ نہیں کی۔ پس اس بات سے خوش ہونا کہ احمدی ہیں نادانی ہے۔ بلکہ ایسے کام کرو کہ احمدی ہونے کے لائق ثابت ہو اور اسی طرح لوطؑ کی بستی کا حال دیکھ لو کہ کس طرح ہو گئی کہ کفر کرتی تھی اور حضرت لوطؑ جو شکر کرنے والے بندے تھے بچ گئے۔ یہاں حضرت لوطؑ
کی بیوی سے بھی ویسا ہی واقعہ پیش آیا۔ کیوں کہ وہ کافروں سے تعلق رکھتی تھی۔ پھر ہے کہ وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِہٖ وَہُوَ یَعِظُہٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشۡرِکۡ بِاللّٰہِ ؕؔ اِنَّ الشِّرۡکَ لَظُلۡمٌ عَظِیۡمٌ(31:14) اور جب کہا لقمان نے اپنے بیٹے کو جب کہ وہ اس کو نصیحت کرتا تھا کہ اے لڑکے اللہ سے شرک نہ کر کیوں کہ شرک ایک بڑا ظلم ہے۔ اس جگہ خدا تعالیٰ لقمان کا کلام بتاتا ہے۔ کہ وہ حکمت والا انسان یہ بات کہتا ہے اور پھر اپنے لڑکے کو کہ جس کو اس نے اچھی بات ہی کہنی تھی اور پھر معمولی طور سے نہیں کہا بلکہ وہ اس وقت اس کو نصیحت کرتا تھا تاکہ اس کی آئندہ زندگی ٹھیک ہو۔ کہ اے بیٹے خدا سے شرک نہ کر کیوں کہ شرک جو ہے وہ ایک بڑا ظلم ہے۔ ایک ایسا خدا جو کہ ہم پر ہر طرح سے احسان کرتا ہے اور ہمارے نفع اور ضرر پر بھی قادر ہے۔ اس کے ساتھ ہم اوروں کو برابر ٹھہرائیں کتنا ظلم ہے۔ اب یہاں خیال رکھنا چاہئے کہ شرک سے مراد یہ نہیں کہ صرف لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دیا اور پاک ہو گئے۔ بلکہ حضرت لقمان فرماتے ہیں کہ کل شرک جلی اور خفی سے اپنے آپ کو بچا۔ پھر آگے فرماتا ہے وَوَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ ۚ حَمَلَتۡہُ اُمُّہٗ وَہۡنًا عَلٰی وَہۡنٍ وَّفِصٰلُہٗ فِیۡ عَامَیۡنِ اَنِ اشۡکُرۡ لِیۡ وَلِوَالِدَیۡکَ ؕ اِلَیَّ الۡمَصِیۡرُ(31:15) یعنی میں نے انسان کو اس کے والدین کے حق میں وصیت کی ہے۔ اس کی والدہ کس قدر تنگی اور سستی سے اس کا بار اٹھاتی ہے اور دو برس تک اس کو دودھ پلاتی ہے پس شکر کر میرا اور اپنے والدین کا میری طرف ہی لوٹنا ہے۔ یہاں والد کا شکر کرنے کی وجہ بیان نہیں کی۔ مگر وہ ظاہر ہے کہ جب اس کی والدہ تنگی میں ہوتی ہے تو وہ اس کی پرورش کرتا ہے اور جب یہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی بھی خبرگیری کرتا ہے۔ پھر ایک اور بات ہے کہ خدا تعالیٰ یہاں فرماتا ہے کہ میرا شکر کر۔ یہاں کوئی وجہ تو بیان نہیں کی گئی تو انسان کیوں اس کا شکر کرے۔ اصل بات یہ ہے کہ بچہ کی محبت خدا تعالیٰ نے اس کو پیدا کرنے کے بعد اس کے والدین کے دل میں ایسی ڈال دی ہے کہ اگر وہ ایسا نہ کرتا تو بچہ ایک دن زندہ نہ رہ سکتا۔ پھر پیدا ہوتے ہی ماں کی چھاتیوں میں دودھ اتر آتا ہے اسی طرح ہوا پانی وغیرہ۔ پھر آگے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ورنہ میری طرف ہی آنا ہے اگر ایسا نہ کیا تو وہاں اس کی سزا بھگتو گے۔ پھر ہے کہ وَاِنۡ جَاہَدٰکَ عَلٰۤی اَنۡ تُشۡرِکَ بِیۡ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ۙ فَلَا تُطِعۡہُمَا وَصَاحِبۡہُمَا فِی الدُّنۡیَا مَعۡرُوۡفًا ۫ وَّاتَّبِعۡ سَبِیۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَیَّ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ(31:16)۔ اس جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ماں باپ بھی جن کی تابعداری تجھ پر فرض کی گئی ہے اور جس کے نہ کرنے پر عذاب کی دھمکی دی گئی ہے وہ بھی اگر کہیں کہ مجھ سے شرک کر جس کا کہ تجھ کو علم نہیں پس ان کی بات نہ مان مگر پھر بھی دنیا میں ان کی تابعداری ہی کر اور اس کی تابعداری کر جو میری طرف جھکتا ہے کیوں کہ پھر تمہارا لوٹنا میری طرف ہے جہاں کہ تم کو تمہارے اعمال سے خبردار کیا جائے گا۔ یہاں خدا تعالیٰ سخت تاکید کرتا ہے کہ والدین کی بھی اس معاملہ میں پرواہ مت کرو اور مجھ سے شرک نہ کرو اور جب کہ تم میں اور والدین میں ایک قسم کی جدائی ہوئی تو گویا کہ تم ایک یتیم کی طرح رہ گئے مگر خدا تعالیٰ کسی کا احسان نہیں اٹھاتا۔ پھر خدا تعالیٰ نے جیسا کہ تمہارے پیدا ہونے کے وقت تمہارے والدین سے کیا یعنی ان کے دلوں میں محبت ڈال دی ویسا ہی اب اپنے رسول یا مامور کے دل میں تمہاری محبت ڈال دے گا بلکہ اس سے بڑھ کر کیونکہ خدا کچھ چیز لے کے زیادہ کر کے واپس کرتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَّاتَّبِعۡ سَبِیۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَیَّ(31:16) جو میری طرف جھکتا ہے یعنی اس کے رسول کی تابعداری کرو۔ اور اسی کو والدین تصور کرو۔ اب پھر لقمان کا قول آیا۔ یٰبُنَیَّ اِنَّہَاۤ اِنۡ تَکُ مِثۡقَالَ حَبَّۃٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ فَتَکُنۡ فِیۡ صَخۡرَۃٍ اَوۡ فِی السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِی الۡاَرۡضِ یَاۡتِ بِہَا اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَطِیۡفٌ خَبِیۡرٌ(31:17)۔ یعنی ایسے ہی اگر ایک ذرا سا دانہ ہو جو رائی کے برابر ہو تو خواہ وہ پتھر میں یا آسمانوں میں اور خواہ زمین میں ہو اس کو لے آئے گا کیوں کہ لطیف خبیر ہے۔ یہاں بھی حضرت لقمان اپنے بیٹے کو بتاتے ہیں کہ خدا ذرا ذرا سی بات کو بھی جانتا ہے۔ پس شرک سے اتنا بچ کہ رائی کا ایک حصہ بھی نہ رہے پھر ہے یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡہَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَاصۡبِرۡ عَلٰی مَاۤ اَصَابَکَ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ(31:18)۔ یعنی اے بیٹے نماز کو قائم کر۔ نیک باتوں کا وعظ کر اور بدیوں سے لوگوں کو منع کر اور صبر کر اس مصیبت پر جو تجھے پہنچے کیوں کہ یہ بڑے کاموں میں سے ہے۔ اس جگہ حضرت لقمان اپنے بیٹے کو فرماتے ہیں کہ صرف بدی سے بچنا کوئی کمال نہیں بلکہ بدی سے بچنا اور پھر نیکی کرنا کمال ہے۔ پس اس لئے فرماتے ہیں کہ شرک کو ترک کرنے کے بعد نماز کو قائم کر دے۔ یعنی اپنی عبادتوں کو سنوار۔ یہاں تک کہ تیرا بولنا تیرا سننا اور کھانا پینا خدا کے لئے ہی ہو جائے۔ جس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ خدا کا مامور ہو جائے گا اور لوگوں کو نیک باتیں سنانا اور بدیوں سے منع کرنا تیرا کام ہو جائے گا۔ پھر اس وقت جیسا کہ سنت ہے لوگ تیرے مخالف ہو جائیں گے اور تکلیفیں اور اذیتیں تجھ کو دیں گے کیوں کہ رسولوں کے ساتھ شروع شروع میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ پس تو ان باتوں پر صبر کر کیونکہ یہ بڑے امور سے ہے پھر ہے کہ تُصَعِّرۡ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ(31:19) یعنی لوگوں کے لئے اپنے منہ کو مت موڑ اور زمین میں کبراور اکڑ سے مت چل کیونکہ خدا کو متکبر اور فخر کرنے والا انسان پسند نہیں ہوتا۔ اب حضرت لقمان فرماتے ہیں
کہ جب تو صبر کرے گا تو ایک مدت کے بعد لوگ تیری طرف رجوع کریں گے کیوں کہ جب تو خدا کے لئے لوگوں سے علیحدہ ہو جاوے گا اور لوگ تجھ سے عداوت کریں گے تو آخر خدا خلائق کا منہ تیری طرف پھیر دے گا یہاں تک کہ قریب ہے کہ تو ان سے کج خلقی کرے۔ پس ایسا مت کرو بلکہ چلو تو ایسی طرز سے کہ اس میں شیخی کی بو نہ پائی جاوے کیوں کہ یہ بات خدا کو پسند نہیں۔ وَاقۡصِدۡ فِیۡ مَشۡیِکَ وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِکَ ؕ اِنَّ اَنۡکَرَ الۡاَصۡوَاتِ لَصَوۡتُ الۡحَمِیۡرِ(31:20) یعنی میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز نرم اور نیچی کر کیوں کہ سب سے بری آواز گدھے کی ہے۔ اس جگہ پر بھی بیان ہے کہ جب تو نبی ہو جائے اور لوگ تیری طرف دور دور سے آویں اور تو دوڑ کر گھر میں گھس جاوے تو ان کو کس قدر صدمہ ہو گا کہ ہم تو ملنے آئے اور یہ دوڑ کر گھر چلے گئے۔ یا کوئی دور سے آیا تھا کہ کچھ کلام سنیں گے مگر یہاں تو نے ایسی اونچی اور کرخت آواز سے کلام کیا کہ اس کے دل کو برا لگا کیونکہ دیکھو گدھے کی اونچی آواز ہے مگر سب آوازوں سے بری معلوم ہوتی ہے۔ اس رکوع میں حضرت لقمان اپنے بیٹے کو فرماتے ہیں کہ تو پہلے شرک کو چھوڑ اور اس طرح گناہوں کو ترک کر کے عبادت کو قائم کر پھر جب تو گناہوں کو چھوڑ دے گا۔ اور نیکیاں کرے گا تو خدا کا برگزیدہ ہو جائے گا۔ پس دیکھو کہ خدا کے کلام سے ظاہر ہے کہ کل برائیوں کی جڑ یہی شرک ہے۔ اب میں یہ دعا کر کے بیٹھتا ہوں کہ خدا ہم کو پاک کرے۔ ہمارے دل سے شرک کا زنگ دور کرے اور ہم کو توفیق دے کہ ہم بھی لقمان کی ان نصائح پر عمل کر سکیں۔ آمین۔
منقول از تشحیذ الاذہان
از
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
محبت کیا ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ محبت ایک خیال ہے اور بعض کا قول ہے کہ محبت ایک جذبہ ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ محبت ایک اور ہی چیز ہے جو کہ انسان کی پیدائش کے وقت جبکہ وہ پہلا سانس لیتا ہے اس میں داخل کی جاتی ہے۔ تو کیا محبت ایک انسانی فطرت ہے؟ نہیں نہیں۔ محبت ایک غرض ہے جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں آدمی کا نام ہی انسان رکھا گیا ہے جس کے معنے ہیں محبت کرنے والا جیسے کہ سورۃ الر حمٰن میں خدائے عزّوجل نے فرمایا ہے کہ خَلَقَ الْاِنْسَانَ۔ عَلَّمَهُ الْبَیَانَ(الرحمٰن: ۴-۵) یعنی انسان کو پیدا کیا اور اس کو قوتِ بیانیہ بخشی عَلَّمَهُ الْبَیَانَ کے معنے اس آیت کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے کیا ہی صاف ہو جاتے ہیں کہ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ(الذاریات: ۵۷) اب دیکھنا چاہئے کہ عبادت دو قسم کی ہوتی ہے ایک قولاً اور ایک فعلاً۔ پس اس جگہ خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے انسان کو قوت بیانیہ بخشی پس کیا وجہ ہے کہ وہ میری نافرمانی کرتا اور اس قوت بیانیہ سے جو میں نے اس کو عطا کی ہے میری تسبیح و تقدیس نہیں بیان کرتا۔ خلق الانسان سے پایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس جگہ اشارہ کرتا ہے۔ اے آدمی میں نے تو تیری پیدائش ہی میں محبت کرنا رکھ دیا ہے۔ تیرا مقصود تو محبت کرنا ہے پھر تو اس قدر احسانات اور عنایات کے باوجود جو کہ میں تجھ پر کرتا ہوں غیر کی محبت میں پڑ گیا ہے۔ اس جگہ ان آیات کے لکھنے سے میرا صرف اتنا مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ نے آدمی کو پیدا ہی محبت کے لئے کیا ہے اور اس کے پیدا کرنے کا مقصد اور غرض یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں سرشار ہو اور اس دائمی زندگی بخشنے والے سمندر میں ہمیشہ غوطہ زن رہے جیسا کہ کسی شخص کا قول ہے کہ۔
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
یعنی انسان کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی محبت میں سرشار رہے اور وہ درد جو کہ محبت کا لازمی نتیجہ ہے اس کی باریک ٹیس سے ایک خاص لذت اٹھائے ورنہ تابعداری اور اطاعت کے لئے فرشتے موجود ہی تھے۔ اب دیکھنا چاہئے کہ وہ اختیارات جو انسان کو دیئے گئے ہیں وہ کسی اور مخلوق کو نہیں دیئے گئے فرشتہ ایک مخلوق ہے کہ جس کا خدا تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں بہت ذکر کیا ہے اور جن کی معرفت خدا تعالیٰ اکثر اپنے بندوں پر اپنا کلام نازل فرماتا ہے میں نے اکثر اس لئے کہا ہے کہ بزرگ اور اولیاء اس بات کے بھی قائل ہیں کہ بلا کسی وسیلہ کے بھی خدا کا کلام انسان پر نازل ہوتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جبکہ خدا تعالیٰ اپنے کسی بندہ پر خاص طور سے مہربان ہوتا ہے جیسا کہ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم ایک ایسا نمونہ موجود ہیں کہ جو ہر وقت ہماری نظروں کے سامنے موجود ہے اور اگرچہ وہ فوت ہو گئے ہیں مگر پھر بھی ان کے معجزات‘ نشانات اور پیشگوئیاں جو کہ ہر زمان اور ہر مکان میں پوری ہو رہی ہیں ایک ایسی حجت ہے کہ جو ہر وقت ہمارے سامنے نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کا زندہ وجود پیش کرتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ آپؐ سے بلا کسی وسیلہ کے خدا تعالیٰ نے کلام کیا۔ جیسا کہ معراج کے موقعہ پر اور دیگر بہت سے موقعوں پر اور یہی نہیں آپؐ تو بڑی شان کے آدمی تھے۔ آپؐ کے ادنیٰ غلاموں پر خدا تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے ایسی شفقت فرمائی ہے کہ ان سے اس طرح بلا وسیلہ مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے۔ میں اس وقت یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ فرشتہ باوجود ایسی مقرب الٰہی مخلوق ہونے کے اس نعمت سے محروم ہے کہ اس کے دل میں محبت پیدا ہو (محبت وہ چیز ہے جو کہ خود بخود ایک مخلوق کے دل میں پیدا ہو) اور فرشتہ جو خدا تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس کرتا ہے تو وہ کچھ ارادہ سے نہیں کرتا بلکہ اس کی خلقت میں ایسا رکھا گیا ہے اور اس کے برخلاف نہیں کر سکتا۔ مگر انسان بسا اوقات خدا تعالیٰ سے نفرت بھی کرتا ہے جیسا کہ دہریہ وغیرہ کیونکہ وہ اس ہستی کو مانتے ہی نہیں اور سرے ہی سے اس کا انکار کرتے اور لغو بیہودہ قرار دیتے ہیں۔ پس انسان کی محبت خدا سے اور فرشتہ کی محبت خدا سے ایک فرق رکھتی ہے۔ انسان ایک ارادہ اور خواہش سے اور محبت سے خدائی تعلق کرتا ہے تو فرشتہ بلا ارادہ اور محبت کے پس وہ تعلق اتنا قابل قدر نہیں جو کہ بلا کسی محبت کے ہو بلکہ وہ جو کہ ارادہ اور اختیار سے ہو زیادہ قابل قدر ہے اور یہ مؤخر الذکر تعلق صرف ایک انسان کو ہی نصیب ہے اور باقی مخلوقات پہلی قسم کا تعلق رکھتی ہے۔ یعنی انسان تو بعض دفعہ اپنے اسی اختیار کو جو کہ اس کو خدا تعالیٰ نے عنایت کیا ہے کام میں لا کر اس سے قطع تعلق کر لیتا ہے۔ گو یہ کام کیسا ہی ہو اور اس کا نتیجہ کتنا ہی خطرناک ہو مگر ایسا واقعہ تو ہوتا ہے کہ
ایک انسان خدا سے اپنا تعلق توڑ بیٹھا اور راندہ درگاہ الٰہی ہو گیا۔ مگر اس کے برخلاف دوسری مخلوق ایسا نہیں کر سکتی اور نہ ان میں یہ طاقت اور قوت ہے صرف انسان کو ہی یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ دیکھتا ہے اور سوچتا ہے پھر اس کے بعد جو اس کی ضمیر فیصلہ کرتی ہے اس پر عمل کرتا ہے خواہ تو اپنے برے اعمال کی وجہ سے اس طرف میلان کرے کہ جس طرف رجوع کرنے سے وہ ہمیشہ کیلئے تباہ ہو جائے اور یا اسی راہ کو اختیار کرے کہ خدا کے فضل سے منزل مقصود تک پہنچ جائے اور یہ خدا تعالیٰ اپنے پاک کلام قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحۡمِلۡنَہَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡہَا وَحَمَلَہَا الۡاِنۡسَانُ ؕ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوۡمًا جَہُوۡلًا(احزاب: ۷۳) یعنی ہم نے اپنی امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی پس انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور ڈرے مگر انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ تحقیق انسان ظالم اور جاہل ہے اس جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنی امانت یعنی محبت کو آسمانوں کے رہنے والوں یعنی فرشتوں اور زمین کے حیوانات اور پہاڑوں کے جانداروں پر پیش کیا مگر وہ اس کے اٹھانے سے ڈرے اور انکار کر دیا مگر انسان نے جو کہ ظالم اور جاہل ہے اس کو اٹھا لیا اور محی الدین ابن عربی صاحبؒ جو کہ ائمہ اسلام میں سے گزرے ہیں فرماتے ہیں کہ اس جگہ پر انسان کی تعریف ہے مذمت نہیں اور ظالم اور جاہل کے الفاظ جو کہ بظاہر برے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں اس جگہ پر تعریف کے طور پر استعمال ہوئے ہیں اور وہ اس طرح ہے کہ ظالم سے مراد ہے کہ انسان اپنی جان پر ظلم کر سکتا ہے اور ان مصیبتوں اور تکلیفوں کو برداشت کر سکتا ہے جو کہ خدا کی محبت میں اس کو پیش آئیں۔ اور جاہل اس لئے کہ اس نے ان تکالیف اور شدائد کی بابت سوچا بھی نہیں جو اس کو اس راہ میں پیش آسکتی تھیں۔ اور دوسرے حیوانات نے دور اندیشی سے اس سے انکار کر دیا اور گو کہ اس جگہ انسان نے دور اندیشی سے کام نہیں لیا لیکن یہ اس کی تعریف ہے کہ اس نے خدا تعالیٰ کی محبت کو ایک پیاری اور عمدہ چیز دیکھ کر کسی اور بات کا خیال بھی نہیں کیا۔ اور وہ بوجھ جس کا اٹھانا دوسروں نے ناپسند کیا تھا اس کو برضا و رغبت اٹھا لیا۔ اور اسی لئے ہے کہ جب انسان اپنے عہد اور اقرار کو پورا کرتا اور خدا کی محبت میں اپنے آپ کو باوجود سخت سخت مصیبتوں اور تکلیفوں کے ثابت قدم رکھتا ہے تو اس پر اس قدر انعام اور اکرام ہوتے ہیں جو کہ کسی اور مخلوق پر نہیں ہوتے۔ پس یہ بات ثابت ہے کہ انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جو کہ محبت کرنے کیلئے پیدا کی گئی ہے۔ اور جس میں ایک طاقت رکھی گئی ہے کہ وہ اپنے خیال میں اپنے نفع یا نقصان کو سوچ سمجھ کر ایک چیز سے محبت یا نفرت کرے۔ اب یہ دیکھنا چاہئے کہ انسان کا مشاہدہ جہاں تک ہے اور جہاں تک انسانی عقل کام کر سکتی ہے یہ بات سنت اللہ سے ثابت ہوئی ہے کہ جہاں گل ہے وہاں خار ہونا ضروری ہے اور جہاں صحت ہے وہاں بیماری بھی لازم ہے اور جہاں راحت ہے وہاں غم بھی دروازہ پر سمجھنا چاہئے اور یہ کہ جہاں کسی چیز سے محبت ہے اس کی ضد سے نفرت بھی لازمی امر ہے۔ پس جیسا کہ انسان کی پیدائش میں خدا تعالیٰ نے محبت رکھی ہے ایسا ہی ایک حصہ نفرت کا بھی رکھا گیا ہے اور اس سے یہ ضروری ٹھہرتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے محبت کی جائے تو غیر اللہ سے نفرت بھی ہو یا یہ کہ جب سستی اور کسل اور بد طینتی اور بد بختی اس کے ساتھ دامن گیر ہو جائیں اور اس کے دل میں غیر اللہ کے لئے محبت پیدا ہو جائے تو لازم و ملزوم کی طرح ہو گا کہ اس بد بخت کو خدائے قادر اور پیدا کنندہ زمین و آسمان سے نفرت پیدا ہو جائے۔ گو کہ یہ نفرت بوجہ اس زنگ کے ہو جو اس کے دل پر اس کی شامت اعمال کی وجہ سے لگ گیا ہے غیر اللہ کی محبت وہ محبت نہیں جو کسی انسان سے کی جائے بلکہ وہ محبت ہے جو خدا کے مقابلہ میں کسی اور سے کی جائے۔ ایک انسان سے محبت کرنا اس لئے کہ ہم کو خدا تعالیٰ نے بھائی بھائی بنایا ہے اور حکم دیا ہے کہ آپس میں محبت سے اور پیار سے رہو اور ایک دوسرے کی اس کے تکلیف کے وقتوں میں مدد کرو اور یہ کہ اپنے بھائیوں پر احسان کرو ایک ثواب کا کام اور نیکی کی چیز ہے۔ مگر جو محبت اس لئے کی جاتی ہے کہ اس سے کچھ دنیاوی خواہشیں پوری کی جائیں یا شیطانی وساوس کو ترقی دی جائے یا یہ کہ اس محبت میں کسی خدا تعالیٰ کے حکم کے برخلاف کیا جائے پس ایسی محبت غیر اللہ کی محبت ہے۔ اور وہ دن دور نہیں کہ ایسے شخص جو اس قسم کی محبت کرنے والے ہیں اسی دنیا میں پیشتر اس کے کہ ان کی موت کا زمانہ آئے اور وہ خالق حقیقی ان کو رو برو بلائے تاکہ ان سے حساب طلب کیا جائے اس انجام کو دیکھ لیں جو کہ غیر اللہ کی محبت کا ہوتا ہے۔ اس جگہ میں کسی قدر محبت کی تشریح کرتا ہوں۔ محبت ایک جذبہ تو ہے لیکن جذبہ خلقی ہے جو کہ انسان کے پیدا ہونے سے لے کر اس کی موت تک بلکہ ایک نامعلوم زمانہ تک اس کے ساتھ ساتھ جاتا اور ہر جگہ اس کے کام آتا ہے یہ کچھ ایسا زبردست جادو ہے جس کو ایک انسان سمجھ نہیں سکتا کہ کیا ہے اور کیونکر پیدا ہوتا ہے۔ بارہا دیکھا جاتا ہے کہ ایک چیز کی طرف قدرتاً میلان طبیعت بڑھتا جاتا ہے اور یہاں تک کہ سوائے اس کے کچھ نظر نہیں آتا اور ہر وقت اسی چیز کا خیال دامن گیر رہتا ہے اور خود محبت کرنے والا نہیں جانتا کہ میں اس چیز سے محبت کیوں کرتا ہوں اور کیا وجہ ہے کہ میری طبیعت باوجود اس کے کہ میں اس کو اس طرف سے ہٹانا بھی چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں
کہ میرا خیال کسی اور طرف بٹ جائے لیکن پھر ایک غیبی طاقت کشاں کشاں مجھ کو اور میرے دل کو اور میری آنکھوں کو اسی طرف کھینچے لئے چلی جاتی ہے اور میں بے بسی اور بے کسی کے عالم میں پڑا رہ جاتا ہوں اور میری حالت اس وقت مردہ کی سی ہوتی ہے جس کو اس کے اقرباء نہلا دھلا کر اور ایک کفن میں لپیٹ کر کنجِ لحد میں جالٹاتے ہیں اور وہ بے چارہ اس قابل بھی نہیں ہوتا کہ ہاتھ بھی ہلا سکے۔ یا ایک بے جان لکڑی کے ٹکڑے کی سی ہوتی ہے کہ اس کو کوئی اٹھا کر کہیں پھینک دیتا ہے تو کہیں کوئی ترکھان ایک تیز ہتھیار سے کاٹ کاٹ کر طرح طرح کی چیزیں بناتا اور اپنے دام کھرے کرتا ہے۔ وہ ہے کہ جانتی بھی نہیں کہ مجھ سے کیا کیا جا رہا ہے یا ایک کمزور عورت جو خلقی طور پر کمزور پیدا کی گئی ہے اس کو اٹھا کر تیز اور تند جلتی ہوئی آگ کی نذر کردیتی ہے جہاں وہ ایک پل میں خاک کی ایک چٹکی کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ ہاں خود محبت کرنے والا نہیں جانتا کہ یہ بہکی بہکی باتیں اور یہ بے بسی کے کام مجھ سے کون کرواتا ہے۔ اصل میں یہ قدرت کے سایہ تلے محبت کا زبردست ہاتھ ہی ہوتا ہے جو اس قدر طاقت اور قوت کے ساتھ زبردست سے زبردست دل کو موم سے زیادہ نرم اور دنیا و مافیہا سے بے خبر کر دیتا ہے۔ بارہا دیکھا جاتا ہے کہ ایک سخت دل اور طاقتور جوان جو میدانِ جنگ کے خوفناک سین (نظارہ) سے ذرہ بھر بھی خوف زدہ نہیں ہوتا، جو قتل و خون کو ایک معمولی کھیل سے زیادہ نہیں سمجھتا اور جس کے خیال میں چمکتی ہوئی تلوار اور دل دہلا دینے والی گولی کی آواز ایک دل خوشکن نظارہ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی۔ یکایک اس نئے زیادہ سخت محبت کے ہاتھ میں پکڑا جاتا ہے اور ایسا خود رفتہ ہوتا ہے کہ اس کی پہلی بہادری اور جرأت ایک دم میں کافور ہو جاتی ہے۔ اور وہ جو کہ ایک فوج کے سر کو جھکا دیتا تھا اب ایک بچپن کے دوست اور تکلیف کے وقتوں کے غمگسار کے آگے اس طرح سرِ تسلیم خم کئے کھڑا ہوتا ہے گویا کہ اس کے کانوں نے شوخی اور بہادری اور جرأت کا نام ہی نہیں سنا۔ ایسا کون کرواتا ہے یہ محبت ہی تو ہے لیکن یہ محبت اس محبت سے زیادہ قوی ہے جو اس کو میدانِ جنگ میں کھڑا کرتی تھی۔ اس وقت اس کو ملک و دولت یا کسی اور چیز کی محبت تھی جو جنگ کی ترغیب دیتی تھی۔ لیکن اب وہ محبت ہے جو کہ ایک انسان کے حسنِ اخلاق اور دیگر احسانوں نے پیدا کر دی ہے۔ میرے خیال میں محبت کو اور چیزوں کے ساتھ تشبیہ دینے کے بجائے اگر آگ کے ساتھ تشبیہ دی جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ کیونکہ محبت اگر کسی چیز کے لئے حد سے بڑھنا شروع ہوتی ہے تو اس شخص کو کچھ ایسا محو کر دیتی ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو بھی بھول جاتا ہے۔ بیشک غیر اللہ کیلئے ایسی محبت انسان کو خاک کر کے چھوڑتی ہے۔ لیکن یہ
محبت کی آگ جب خدا کی مرضی کے مطابق بھڑکائی جاتی ہے تو گو کہ اس کا کمال یہی ہے کہ اس کو جو محبت کی آگ کو اپنے دل میں بھڑکا رہا ہے خاک کر دے۔ لیکن میں سچ کہتا ہوں کہ وہ خاک بھی پھر خاکِ شفا بن جاتی ہے۔ جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے۔
عشقِ مولا جو کرے شمع صفت جلوہ گری۔:۔
خاک ہو جائے جو پروانہ تو بن جائے پری
یعنی اگر خدا تعالیٰ کا عشق شمع کی طرح لوگوں پر ظاہر ہو تو اس وقت وہ لوگ جو اس سے محبت کرنے والے ہیں گو کہ پروانہ کی طرح اس پر فدا ہو جائیں اور اس میں یعنی محبت کی آگ میں جل کر خاک ہو جائیں پھر بھی وہ جلنے کے بعد بجائے پروانہ کے پری ہو جائیں گے۔ یعنی پروانہ تو ایک ناچیز کیڑا ہے اسی طرح انسان بھی ایک ناچیز کیڑے سے زیادہ نہیں لیکن جب خدا کی محبت کو اپنے دل میں بھڑکاتا ہے اور اس میں جل جاتا ہے تو اس وقت خدا اس کو پری کا درجہ دے دیتا ہے (پری ایک خیالی مخلوق ہے کہ لوگوں نے اس قدر خوبصورت متصور کیا ہے کہ کوئی اور مخلوق اس کے برابر حسین اور خوبصورت نہیں ہے) یعنی وہ لوگ پھر اس قدر عالی مرتبہ اور حسین ہو جاتے ہیں کہ خلقت ان پر ٹوٹ پڑتی ہے اور وہ عشقِ الٰہی کی آگ میں خاک ہو کر خاک شفا ہو جاتے ہیں اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ان کو خدا تعالیٰ مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ ”بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“۔ وہ وقت کیا عظیم الشان وقت ہوتا ہے کیونکہ اس وقت وہ گمنامی کے گڑھے سے ایک دم شہرت کے اونچے ٹیلے پر بٹھائے جاتے ہیں پس دنیا دیکھ لیتی ہے کہ یہ ہے اس محبت کا انجام جو کہ اس نے خدا سے کی تھی۔ چونکہ خدا تعالیٰ اپنے محبت کرنے والے کو کبھی نہیں چھوڑتا اس لئے وہ روز بروز ایسے شخص کو ترقی دیتا اور اس کے تابعداروں کے حلقہ کو روز بروز بڑھاتا جاتا ہے اس وقت اگرچہ وہ شخص تنہائی چاہتا ہے اور خلوت کو پسند کرتا ہے۔ لیکن لوگ جوق در جوق اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کو ہر وقت گھیرے رہتے ہیں اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ اس نے خدا کے لئے اپنے عزیز واقارب کو چھوڑا تھا۔ اور ہر وقت یادِ الٰہی میں مشغول رہتا تھا۔ پس خدا اس گمنامی کا بدلہ جو اس شخص نے اس کے لئے اختیار کی تھی اس طرح دیتا ہے کہ روز بروز اس کی شہرت کو زیادہ کرتا ہے اور وہ جو اس کے مخالف ہوتے ہیں انہیں تباہ کرتا ہے اور اس وقت وہ شخص جو برسوں خدا کی محبت میں دن گزارتا رہا ہے خدا کا محبوب ہو جاتا ہے اور کیا ہی اچھا ہے وہ شخص جو کہ محبت اس سے کرتا ہے جو دائمی ہے اور جو طاقت رکھتا ہے کہ اپنے چاہنے والے کو بدلہ دے اور جو ہمیشہ رہنے والا ہے اور جو کل صفات سے موصوف ہے بہ نسبت اس شخص کے جو محبت اس سے کرتا ہے جو آخر مرنے والا ہے تباہی ہر وقت اس کا انتظار کر رہی ہے اور اس وقت اس سے محبت کرنے والے کو سوائے تباہی، بربادی، ذلت اور رسوائی کے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ ہاں مگر اس شخص کو جو کسی دوسرے سے خدا کی رضا کے حاصل کرنے کے لئے محبت کرتا ہے گو کہ وہ فانی چیز ہے لیکن خدا کی رضا تو فانی نہیں۔ جب ایک شخص خدا کے رسول سے محبت کرتا ہے کہ اس کی بدولت میں خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کروں اور تاکہ خدا کی رضا میرے شامل حال ہو جائے اس محبت میں وہ روز بروز ترقی حاصل کرتا اور آخر کار سب رشتوں سے زیادہ وہ اس کو عزیز ہو جاتا ہے باپ بیٹا بھائی اور دوسرے عزیزوں کی محبت اس کے دل میں کہیں کم ہوتی ہے بہ نسبت اس محبت کے جو وہ خدا کے رسول سے کرتا ہے۔ یہ محبت اگرچہ ایک انسان سے ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ خدا کی محبت بھی ترقی کرتی جاتی ہے اور جب ایک شخص اس غرض سے اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں اور بھائی سے محبت کرتا ہے کہ خدا کا حکم ہے تو اس محبت کی تہہ میں بھی خدا کی ہی محبت ہوتی ہے۔ قیامت کے دن ایسے شخص کے سر پر خدا کا سایہ ہو گا۔ اور اس قادر مطلق مالک یوم الدین کی پیاری آواز اس شخص کے کان میں آئے گی اور اس وقت اس کو کیسی خوشی ہو گی جب وہ سنے گا کہ اے میرے بندے تو نے مجھ سے محبت کی اور میرے لئے تکلیفیں اٹھائیں تیرا چلنا پھرنا کھانا پینا اور جاگنا سونا سب میرے ہی لئے تھا۔ تو نے میری رضا کو اپنی رضا پر مقدم رکھا اور جن سے میں نے کہا تھا تو نے محبت کی اور جن کے تعلق سے میں ناراض تھا تو ان سے الگ رہا۔ اس وقت کیسی خوشکن آواز اس کے کان میں پڑے گی۔ کہ فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ وَادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ(الفجر: ۳۰، ۲۹) اس وقت اس کو ان چند روزہ تکالیف کے بدلے جو کہ اس نے خدا کے لئے برداشت کی ہوں گی دائمی بہشت ملے گا اور وہ ہمیشہ کیلئے اس محبت کا ثمرہ پائے گا جو اس نے خدا سے کی۔ میں اس جگہ یہ بھی بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ محبت وہی نہیں کہ جو کسی انسان سے کی جائے یا کسی اور چیز سے کی جائے بلکہ میرے خیال میں ہر اک کام میں جو انسان کرتا ہے اور ہر اک بات جس کو انسان ترک کرتا ہے اس کی محبت یا نفرت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ انسان اپنے پیدا ہونے کے وقت سے جتنے کام کرتا ہے سب محبت کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ کیونکہ جب انسان کو کسی کام کی محبت نہ ہو تو وہ کیونکر اس کو کر سکتا ہے۔ اب یہ دیکھنا چاہئے کہ محبت کیونکر پیدا ہوتی ہے میرے خیال میں محبت حسن سے پیدا ہوتی ہے اور شاید سب دنیا اس کو قبول کرتی ہو گی۔ اب خواہ حسن صورت ہو خواہ حسن سیرت ہو اور خواہ حسن انجام ہو۔ حسن صورت اس طرح کہ انسان ایک چیز کو اس لئے پسند کرتا ہے کہ اس کی شکل بھاگئی ہے اور اس میں
کوئی چیز ایسی ہے یا خصوصیت ہے جو اس کی آنکھوں کو پسند آگئی ہے اور حسن سیرت اس طرح کہ کسی کے اچھے اخلاق اور عمدہ برتاؤ سے ایک شخص کا دل اس طرف مائل ہو جاتا ہے اور ایسی محبت اس کے دل میں پیدا کر دیتا ہے کہ وہ محبت کرنے والا شخص اس دوسرے شخص کی جگہ اپنے دل میں خاص طور سے پاتا ہے۔ اور حسن انجام اس طرح کہ ایک شخص کسی کام کے شروع کرنے سے پہلے سوچتا ہے اور غور کرتا ہے کہ اس کا انجام کیا ہو گا۔ جب وہ اس کے انجام کو اچھا اور سودمند دیکھتا ہے تو وہ ہر طرح سے اس کام کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ تین قسم کی محبتیں ہیں جو میرے خیال میں طرح طرح کی شکلوں میں انسان کی زندگی میں پیش آتی ہیں۔ بعض دفعہ انسان ایک چیز سے محبت کرتا ہے اور نہیں جانتا کہ مجھ کو اس سے کیوں محبت ہے اگرچہ اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے لیکن اس شخص کی نظروں سے پوشیدہ۔ دیکھا جاتا ہے کہ ایک آدمی مدت تک ایک جگہ رہتا اور پھر جب وہ کسی وجہ سے اس جگہ کو چھوڑتا ہے تو اس کے دل میں ایک قسم کا قلق اور گھبراہٹ پائی جاتی ہے۔ حالانکہ وہ جتنی مدت تک اس جگہ رہا کبھی بھی اس جگہ کی محبت اس کے دل میں جوش زن نہیں ہوئی۔ اسی طرح دو بچپن کے دوست جو ایک جگہ رہتے رہے ہیں اور جنہوں نے ایک ہی جگہ تعلیم پائی ہے۔ شاید بہت کم ایسے موقعہ پاتے ہوں گے کہ انہیں ایک دوسرے کی محبت محسوس ہو لیکن جدائی اچانک آکر اس محبت کو شعلہ زن کر دیتی ہے جو ان کے دلوں میں مدت سے خفیہ طور پر بڑھ رہی تھی اس وقت وہ جانتے ہیں اور ان کے دل اچھی طرح محسوس کر لیتے ہیں کہ ہاں ہمیں آپس میں محبت تھی اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ محبت اس آگ کی طرح ہے جو آہستہ آہستہ دہکتی رہتی ہے اور جب اس کو کسی چیز سے ہلایا جاتا ہے تو وہ اچانک شعلہ زن ہوتی ہے۔ میرے خیال میں استغفار پڑھنے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے۔ کہ محبت الٰہی کی آگ کو بھڑکایا جائے کیونکہ انسان استغفار پڑھنے کے وقت اپنے گناہوں کو اپنے سامنے دیکھتا ہے اور جانتا ہے کہ اگر یہی حالت رہی تو یہ گناہ مجھ میں اور میرے پیارے میں جدائی ڈالین گے۔ اور آخر کار میں خدا تعالیٰ سے دور جا پڑوں گا۔ جس سے میں محبت کرتا ہوں اور شیطان کے نزدیک ہو جاؤں گا۔ جس سے میں نفرت کرتا ہوں۔ پس اس جدائی کو سامنے دیکھ کر وہ کانپ اٹھتا ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت اس کے دل میں اور بھی جوش زن ہوتی ہے۔ اور اس طرح وہ ان گناہوں کو یک لخت ترک کر دیتا ہے جن کی کہ وہ واقفیت حاصل کر لیتا ہے اور ان بندوں کے لئے جو آخر کار گناہوں کے پھندے سے نکل جاتے ہیں استغفار ایک ترقی کا موجب ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ جتنا خدا کے قریب جاتے ہیں اتنا ہی ان کے دل میں
اس کے پاس جانے کا اور اشتیاق بڑھتا ہے۔ اور وہ جو کچھ کہ فاصلہ بیچ میں ہوتا ہے اس کو ایک گناہ تصور کرتے ہیں اور خدا سے التجا کرتے ہیں کہ ہم کو اور بھی اپنے نزدیک کر لے۔ غرض کہ یہ محبت ایک ایسی زبردست طاقت ہے کہ یہ ایک طاقتور اور کمزور انسان پر یکساں حکومت کرتی ہے۔ محبت کے کمال کا نام دنیا میں استقلال رکھا گیا ہے۔ بعض لوگوں میں محبت کی قوت بہت کم ہوتی ہے انہی لوگوں کا نام بالفاظِ دیگر کم ہمت اور بے استقلال ہے۔ کیونکہ جب انسان کو کسی چیز کی خواہش ہی بدرجہ کمال نہ ہوگی تو کس طرح ایک عرصہ دراز تک اس کے حاصل کرنے کے لئے سرگرداں و پریشان رہ سکتا ہے۔ مگر جب ایک شخص کو کسی چیز سے بہت ہی انس ہوگا اور وہ چاہے گا کہ کسی طرح میں اس کو حاصل کر ہی لوں۔ اس وقت وہ ہر قسم کی تکالیف اور مصائب اور شدائد کو برداشت کرلے گا۔ اور ہر طرح سے آخر اس کو حاصل کر ہی لے گا جیسا کہ کسی نے کہا ہے مَنْ جَدَّ وَجَدَ ورنہ کم سے کم وہ دنیا پر ثابت کردے گا کہ میں ایسا شخص نہیں ہوں کہ کم توجہی سے کسی کام کو ناتمام چھوڑ دوں بلکہ جب تک میرے ہاتھ پاؤں چلیں اور جب تک دنیاوی وسائل میرا ہاتھ بٹا سکیں۔ میں ہر ایک اس کام کو جس کے کرنے کا ارادہ کرلوں کمال تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ ہیں محبت کی طاقتیں اور قوتیں جن سے وہ دنیا میں کام لیتی ہے۔ یہ جب جوش زن ہوتی ہے تو اس وقت انسان کی حالت ناگفتہ بہ ہوتی ہے اس کے ہوش و حواس سب ہوا ہو جاتے ہیں اور بے چینی اور بے کلی اس وقت اس کی جلیس ہوتی ہیں وہ اپنے دل میں ایسا درد محسوس کرتا ہے کہ سوائے چند گرم آنسوؤں کے جو کہ اس کی گھبراہٹ کا کچھ تھوڑا سا حال بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کوئی نہیں ہوتا جو اس کی حالت کا اظہار کر سکے۔ بلکہ خود اس کی طاقتِ گویائی بھی کچھ کام نہیں دیتی۔ اور وہ جس کی زبان کبھی تالو سے نہ لگتی تھی۔ کلیجہ تھامے ہوئے بیٹھا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ حالت اس قابل ہوتی ہے کہ اس کا مشاہدہ کیا جائے۔ لیکن یہ تو تب ہو اگر دوسروں کو ایسا واقعہ پیش نہ آتا ہو۔ بچپن سے لے کر بڑھاپے تک۔ بلکہ قبر کے کونہ تک یہی واقعات پیش آتے ہیں۔ ایک دودھ پیتا بچہ تک بھی اپنی ماں کی گود میں اور ایک اجنبی کی گود میں فرق محسوس کرتا ہے اور دوسرے کے ہاتھوں میں جا کر خواہ مخواہ روپڑتا ہے یا بیکل ہو جاتا ہے۔ حالانکہ وہ اس وقت اپنے پرائے میں کچھ تمیز نہیں کر سکتا اور اس کو نہیں معلوم ہوتا کہ کون میرا دوست ہے اور کون میرا دشمن ہے وہ صرف اس محبت کے تعلق کی وجہ سے جو اس کو اپنی والدہ سے ہوتی ہے غیر میں اور اپنی ماں میں ایک فرق محسوس کرتا ہے۔ جیسا کہ کسی نے کہا ہے۔ کہ دل را بہ دل رہست۔ یعنی اگرچہ ایک کو دوسرے کی محبت کا علم بھی نہ ہو تو بھی بوجہ محبت کی کشش کے وہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جب بچہ ذرا بڑا ہو جاتا ہے تو اس وقت بھی وہ محبت کے اثر سے محفوظ نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ اپنے ہم عمر بچوں سے محبت کا تعلق رکھتا ہے اور جب وہ کچھ اور بڑا ہوتا ہے۔ یعنی بلوغت کے قریب پہنچتا ہے تو اس وقت سے دوسرا سلسلہ محبت کا شروع ہو جاتا ہے یعنی اس کو کسی قدر عقل آجاتی ہے کہ محبت کرنے کے لائق ایک اور ہستی ہے جو کہ زمین و آسمان کی پیدا کرنے والی اور برے بھلے کی فرق کرنے والی ہے۔ پس اس وقت اگر وہ اپنی اصلاح کرتا اور صاف اور سیدھی راہ پر چلتا ہے تو آئندہ زندگی میں اس کے لئے بہت سی آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور وہ راہ جو بہتوں کو بہت دشوار اور ناقابل گزر معلوم ہوتا ہے اس کے لئے ایک عمدہ آسان اور بلا خوف و خطر ہو جاتا ہے۔ پھر اسی طرح انسان جوان ہو کر بھی بہت سے تعلقات رکھتا ہے اور اس کو محبت کرنی پڑتی ہے۔ اور جب وہ بوڑھا ہوتا ہے تو تعلقات اور بھی زیادہ ہو جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ محبت بھی ترقی کر جاتی ہے۔ اور پھر بوجہ ایک لمبی عمر پانے کے بوڑھا آدمی اپنے کئی دوستوں کو چھوڑ چکا ہوتا ہے اور وہ اس سے پہلے اس دنیائے فانی کو الوداع کہہ چکے ہوتے ہیں اور خواہ مخواہ اس کو وہ زمانہ جبکہ یہ اپنے دوستوں میں بیٹھتا تھا یاد آتا ہے اور محبت اس کو بیقرار کرتی ہے اور نہیں تو اپنی پچھلی عمر کی باتیں یاد آکر اس کی خدا سے محبت اور بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ وہ اپنے گناہوں سے ڈرتا اور پچھتاتا ہے اور اگر دوستوں کی جدائی کا داغ بھی رکھتا ہو اور کچھ صلاحیت بھی رکھتا ہو تو بے ساختہ کہہ اٹھتا ہے سُبْحَانَ اللّٰہِ یعنی سب کے لئے فنا مقدر ہے اور تکلیفیں آرام کے ساتھ ضروری ہیں۔ لیکن صرف ہاں صرف ایک اللہ تعالیٰ ہے جو ان تمام انقلابات اور فنا سے پاک ہے یا بے اختیاری میں وہ یہ کلمہ زبان پر لاتا ہے کہ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(البقرہ: ۱۵۷) یہ فقرہ جو کسی غم کے وقت بولا جاتا ہے میرے خیال میں اس کے معنوں میں بھی محبت کی طرف ایک اشارہ ہے۔ یعنی جب ایک چیز جس کو ہم پسند کرتے ہیں ٹوٹ جاتی یا گم ہو جاتی ہے یا ایک شخص ہم سے جدا ہوتا ہے خواہ دائمی خواہ ایک وقت مقررہ تک کے لئے اس وقت ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم تو خدا کے لئے ہی ہیں اور ہم نے اسی طرف لوٹنا ہے یعنی فنا سب کے لئے ہے سوائے خدا تعالیٰ کے اور ہم بھی کسی دن انہی فنا شدہ لوگوں کی طرح فنا ہو جائیں گے۔ لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فقرے میں ایک محبت کا بھی اشارہ ہے۔ یعنی خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو سکھلاتا ہے کہ نقصان کے وقت تم یہ پڑھا کرو اور اس میں اشارہ فرماتا ہے کہ تم تو میرے لئے ہی ہو اور میرے پاس ہی لوٹو گے اور ایک میری ہی ہستی ہے کہ جس کی محبت تم کو کچھ فائدہ دے سکتی ہے۔ تو کیا وجہ کہ تم ایک فانی چیز سے اس قدر محبت کرتے ہو تم کو تو چاہئے کہ تم مجھ سے محبت کرو جو فانی نہیں۔ وہ چیزیں تو تم سے جدا ہونے والی ہیں اور اس کے برخلاف میری طرف تم لوٹنے والے ہو اور مجھ سے تم کو جدائی نہیں تو بتلاؤ کہ ایسی چیز سے محبت کرنی چاہئے جو جدا ہونے والی ہے اور آخر رنج دینے والی ہے یا اس ہستی سے جس کی طرف لوٹنا ہوگا۔ اور اس سے کبھی لوٹنا نہ ہوگا اور ہمیشہ اس محبت کا ثمرہ ملتا رہے گا۔ پس جب انسان کسی خسارہ یا تکلیف کے وقت اس فقرہ کو زبان پر لاتا ہے تو اس کے دل میں فوراً صبر اور استقلال کی ترغیب پیدا ہوتی ہے۔ کہ کیا وجہ میں ایک فانی چیز سے محبت کروں جبکہ نہایت حسین اور نہایت پیارا غیر فانی خدا میرے سامنے محبت کرنے کو موجود ہے۔ مگر جب انسان خدا سے محبت کرتا ہے تو ساتھ ہی اس کے دل میں خدا کی مخلوق کی محبت بھی جوش زن ہوتی ہے اور جتنا وہ اس میں بڑھتا جاتا ہے اتنا ہی اس میں بھی ترقی کرتا ہے۔ اس وقت انسان جس چیز کو دیکھتا ہے معاً قادر خدا کی قدرت یاد آجاتی ہے کہ یہ سب صناعیاں اسی کی ہیں۔ اور جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے وہ سب اسی کی مخلوق ہے۔ پس بوجہ اس کے کہ وہ اس کے محبوب کی بنائی ہوئی چیز ہے اور اسی کے ارادہ اور حکم سے بنی ہے وہ اس کی قدر کرتا ہے اور اسی لئے وہ ان گناہوں سے بچ جاتا ہے جن میں کہ دوسرے لوگ اس وجہ سے پھنسے ہوئے ہوتے ہیں کہ ان کو خدا سے محبت نہیں ہوتی یا اس درجہ تک نہیں ہوتی مثلاً ایک خدا سے محبت کرنے والا انسان اسراف سے پرہیز کرے گا کیونکہ وہ برداشت ہی نہیں کر سکے گا کہ ایک چیز جو کہ خدا نے اس کو دی ہے بلا ضرورت اور بلا وجہ ضائع کی جائے اور وہ ظلم و تعدی سے پرہیز کرے گا کیونکہ اس کی طبیعت اس کی متحمل نہیں ہو سکے گی کہ خدا تعالیٰ کی بنائی چیز کو تباہ کرے اور اسی طرح اس محبت سے جو کہ ایک انسان کو خدا سے ہو وہ دیگر تمام گناہوں اور کمزوریوں سے بچتا ہے۔ اور برخلاف اس کے جو خدا تعالیٰ سے محبت نہیں رکھتا اگر انجام کے خوف سے اور سزا کے ڈر سے گناہوں اور بدیوں سے بچنے کی کوشش بھی کرے تو اس حد تک نہیں بچ سکتا جہاں تک کہ وہ شخص جو کہ محبت اور اخلاص کی وجہ سے بچتا ہے۔ اس وقت یہ بھی کہہ دینا ضروری ہے کہ اخلاص سے کام کرنے والا انسان بھی ایک قسم کی سزا کا ڈر اور خوف رکھتا ہے مگر وہ بھی اس لئے ہوتا ہے کہ کہیں میری محبت میں خلل نہ آجائے اور ایسا نہ ہو کہ میں خدا تعالیٰ سے دور جا پڑوں۔ ہاں بعض اولیاء کے قول سے یہ بھی ظاہر ہے کہ ایسے انسان بھی دنیا میں ہوتے ہیں جن کے دل میں خوف دوزخ یا امید بہشت کچھ بھی نہیں ہوتا اور صرف اس اخلاص اور محبت کی وجہ سے اعمال کرتے ہیں جو کہ ان کو خدا سے ہوتا ہے اس جگہ اصل مطلب تو میرا یہ ہے کہ اخلاص اور محبت الٰہیہ سے انسان گناہوں سے بچ جاتا ہے۔ اور محبت کے درجے مختلف ہیں۔ جتنی محبت ہو گی اسی قدر قرب الٰہی نصیب ہو گا اور گناہوں سے بچنے کی توفیق ملے گی۔ پس ضروری ہوا کہ گناہوں سے بچنے کیلئے اور ترقی درجات کے لئے ہم اپنا تعلق خدا سے بڑھائیں اور اپنے دل میں وہ اخلاص اور وہ محبت پیدا کریں جس سے کہ ہم خدا تعالیٰ کے قریب ہو جائیں اور شیطان ہم پر حملہ کرنے سے روکا جائے اور ہم ایک سورج کی طرح ہوں جس سے ایک دنیا روشنی پکڑتی ہے۔ مگر مسئلہ زیر بحث تو یہ ہے کہ آیا وہ خدا جس سے ہمیں محبت کرنی چاہئے وہ عیسائیوں کا خدا ہے، یہودیوں کا خدا ہے، ہندوؤں کا خدا ہے یا مسلمانوں کا خدا ہے۔ اس جگہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تو ایک ہی ہے مگر مختلف مذاہب مختلف رنگوں میں اس کو پیش کرتے ہیں اور مختلف شریعتیں اس کی طرف منسوب کی جاتی ہیں☆اور یہ مذاہب کا جھگڑا بہت پرانے زمانہ سے چلا آتا ہے۔ اس لئے ایک صاحب بصیرت کا فرض ہے کہ وہ غور سے سب مذاہب پر نظر ڈالتے ہوئے فیصلہ کرے کہ کون سا مذہب سچا اور کون سا خدا اس قابل ہے کہ اس سے محبت کی جائے۔ بالفاظِ دیگر کون سا مذہب ہے جو کہ خدا کی طرف سے ہے۔
اب اس موقع پر ہم مختلف مذاہب پر ایک مختصر نظر ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ ناظرین اس سے فائدہ اٹھائیں اور کسی وقت جب کہ ان کو اس قسم کا مباحثہ کرنا پڑے تو اس پر نظر رکھیں۔ پہلے ہم عیسائیوں کے خدا کو لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ عیسائی اپنے خدا کی نسبت کیا عقیدہ رکھتے ہیں دیکھا جاتا ہے کہ عیسائی ایک مدت سے توحید فی التثلیث اور تثلیث فی التوحید کے قائل ہیں۔ یعنی وہ اس بات کے قائل ہیں کہ توحید تثلیث میں ہے اور تثلیث توحید میں ہے اگرچہ یہ ایک ایسی چیز ہے جو انسانی سمجھ میں نہیں آسکتی۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک تین ہو اور تین ایک۔ مگر خواہ یہ ٹھیک ہو یا نہ ہو عیسائی ایسا عقیدہ رکھتے ہیں اور تین کے قائل ہیں اور پھر ساتھ ہی ایک کے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ باپ بیٹا اور روح القدس تین خدا ہیں لیکن ساتھ ہی یہ سب ایک ہی ہیں۔ پہلے تو ہم اس بات پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مذہب بہت کچھ انسانی دست برد کے نیچے آچکا ہے۔ کیونکہ تین خداؤں کی کونسل ظاہر کرتی ہے کہ ایک خدا انتظامِ مخلوق سے قاصر ہے جو کہ خود ان کے عقیدہ کے بر خلاف ہے۔ وہ خدا کو قادرِ مطلق سمجھتے ہیں پھر کیونکر ممکن ہو کہ تینوں قادر ہوں قادرِ مطلق تو وہ ہے جو بلا کسی اور کی مدد کے حکمران ہو مگر یہاں تو دو اور ساتھ لگے ہوئے ہیں ہم خود عیسائی سلطنتوں میں دیکھتے ہیں کہ جب ایک کام پر ایک سے زیادہ آدمی لگائے جاتے ہیں تو ان میں سے ایک کو دوسرے کی نسبت زیادہ اختیار دیئے جاتے ہیں اور وہ بوجہ اس امتیاز کے جو کہ اپنے دوسرے ساتھیوں پر رکھتا ہے اس اختلاف کو مٹاتا ہے جو کہ وقتاً فوقتاً حادثاتِ زمانہ اور ضروریاتِ وقت کی وجہ سے ان میں پڑ جاتا ہے۔ پس اگر یہ ممکن تھا کہ تین ہی قادرِ مطلق ہوں تو یہ عیسائی سلطنتیں جو کہ حضرت عیسیٰؑ کی غلامی کا دم بھرتی ہیں کچھ نمونہ ہم کو بھی تو دکھلائیں کہ کس طرح تین کا قادرِ مطلق ہونا ممکن ہو سکتا ہے جبکہ اس کے ساتھ ملتی ہوئی بات بھی ہم ان میں نہیں پاتے تو کیوں کر خیال کر سکتے ہیں کہ ان کے خدا تین بھی ہیں اور پھر قادرِ مطلق بھی اور پھر ایک کے ایک۔ تین کا ہندسہ ظاہر کرتا تھا کہ انتظام کے لئے کثرتِ رائے پر فیصلہ ہوتا ہو گا۔ مگر افسوس اور حیرت کی بات تو یہی ہے کہ پھر وہ تینوں قادرِ مطلق بھی ہیں اگر کثرتِ رائے ہوتی ہے تو جب ایک مخالف کی بات نہ مانی جاتی ہو گی تو کیا اس کی قدرت میں کوئی فرق نہیں واقع ہوتا ہو گا۔ بات یہ ہے کہ یہ عقیدہ کچھ ایسا بے ڈھنگا اور لغو واقع ہوا ہے کہ کوئی انسانی عقل حتیٰ کہ خود عیسائی بھی اس کو سمجھ نہیں سکتے بلکہ جب ان سے سوال کیا جائے تو صاف جواب دیتے ہیں کہ یہ عقیدہ انسانی عقل سے بالا ہے مگر کیا وہ عقیدہ جو انسانی عقل سے بالا ہو اس قابل ہے کہ انسان کے سامنے پیش کر کے اس کو پریشان اور حیران کر دیا جائے کیا یہ عیسائیوں کے خدا کی کونسل کا ظلم نہیں کہ وہ ایسا عقیدہ انسان کو منوانا چاہتی ہے جس کے مطابق اس نے انسان کا دماغ بنایا ہی نہیں۔ ایک دنیاوی گورنمنٹ تو اپنی رعایا کی بہتری کی تجاویز سوچتی ہے اور نہیں تو کم سے کم اس بات کا خیال رکھتی ہے کہ کہیں وہ بوجھ جو میں اس پر ڈالتی ہوں حد سے زیادہ تو نہیں ہو جاتا مگر یہ آسمانی کونسل اس بات پر انسان کو دائمی دوزخ میں ڈالتی ہے جس کا ماننا اس کے لئے ناقابلِ برداشت بوجھ ہے۔ کیا یہی وہ عدل ہے کہ جس پر عیسائیوں کا خدا فخر کرتا ہے؟ پھر ایک اور بات ہم کو نہایت تعجب میں ڈالتی ہے کہ جبکہ زمانہ ایک ہے یعنی جب سے خدا ہے اس وقت سے بیٹا۔ اور ساتھ ہی قدرت اور طاقت بھی ایک ہی ہے اور پھر بیٹے کی ماں بھی کوئی نہیں تو ایک کو بیٹا اور ایک کو باپ کس طرح قرار دیا گیا ہے کیا بیٹے کا حق نہیں کہ وہ باپ ہونے کا دعویٰ کرے جبکہ وہ قادرِ مطلق ہے اور باپ کا ہم عمر بھی تو کیوں اس کی حق تلفی کر کے اس کو بیٹا قرار دیا گیا ہے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائیت کی بنیاد کفارہ پر رکھی گئی ہے اور یہی چبوترہ ہے جس پر کہ عیسائیت کا بت رکھا گیا ہے یا یہی وہ مسالہ ہے کہ جس پر عیسائیت کی عمارت کھڑی کی گئی ہے اور اس کفارہ سے یہ مراد ہے کہ جب بیٹے نے یعنی مسیح نے دیکھا کہ باپ تو بوجہ عدل کے کسی کا گناہ بخش نہیں سکتا اور اتنی مخلوق خواہ مخواہ جہنم میں جا رہی ہے تو اس نے اپنی قربانی کر کے مخلوقات الٰہی کو گناہ سے بچایا۔ یعنی وہ مسیح کی شکل میں اس دنیا میں ظہور پذیر ہوا اور پھر یہودیوں کے ہاتھ سے سولی دیا جا کر تمام گناہوں کو اپنے سر پر لے لیا اور اب وہ جو کہ اس کے کفارہ پر ایمان لائیں ان کے تمام گناہ بخشے جائیں گے۔ اور وہ ان وعدوں کے مستحق ہوں گے جو کہ خدا تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے ساتھ کئے ہیں مگر اس پر غور کرنے کے ساتھ ہی پہلا اعتراض جو اس پر پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ جب خدا بھی قادرِ مطلق اور بیٹا بھی تو کیا وجہ کہ مسیح نے اپنی قدرت سے تمام لوگوں کو نجات نہ دیدی تو پھر ہم دیکھتے ہیں کہ (یعقوب باب ۲ آیت ۱۳) میں صاف طور سے لکھا ہے کہ ”رحم عدالت پر غالب ہوتا ہے“ تو کیوں خدا کو ضرورت پڑی کہ اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان کرے اور خلقت کو گناہ سے بچائے جبکہ رحم عدالت پر غالب ہے تو کیوں اس نے رحم کر کے لوگوں کو نہیں چھڑادیا اور کیوں اس نے ان کو جو کہ گناہگار تھے بخش نہ دیا؟ اور اگر یہ کہا جائے کہ یعقوب کا قول ہمارے لئے سند نہیں تو یہ ایک نہایت ذلیل عذر ہو گا۔ کیونکہ اگر ایسا ہے تو کیوں یعقوب کے خطوط کو بائبل میں جگہ دی گئی ہے اور اگر وہ اس قابل ہیں کہ ان کو ردی کے ٹوکرے میں پھینک دیا جائے تو کیوں اب بھی عیسائی اس سے سند لیتے ہیں۔ اگر وہ خطوط غلطی سے بائبل میں درج ہو گئے تھے تو اب ان کو نکالا جا سکتا ہے مگر اس صورت میں بھی ایک بہت بڑی مشکل پیش آوے گی اور وہ یہ کہ مسیح نے اپنے بارہ حواریوں کے لئے تخت کا وعدہ کیا تھا اور اگرچہ وہ پورا نہیں ہوا مگر پھر بھی عیسائیوں نے تخت سے مراد آسمانی تخت لے کر کسی قدر اپنا پیچھا چھڑایا تھا اور اب جبکہ یعقوب کے خطوں کو بھی خلافِ ارشادِ حضرت عیسیٰؑ تصور کیا جائے گا تو لازم ہو گا کہ یعقوب کو بھی ایک بدگو اور جھوٹا انسان سمجھا جائے اور اس صورت میں دو حواری روحانی تختوں سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ ایک تو یعقوب دوسرے یہودا اسکریوتی جس نے تیس روپے لے کر اپنے استاد یسوع کو دشمنوں کے حوالے کر دیا اور اس روحانی تخت سے محروم رہا جس کا اس سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اور اب جبکہ دو حواری آسمانی تخت سے محروم کئے جائیں گے تو معلوم نہیں کہ عیسائیوں کو وہ کس قسم کے تخت ماننے پڑیں گے جس کا کہ یسوع نے اپنے حواریوں سے وعدہ کیا تھا۔ اب میں اصل مطلب کی طرف لوٹتا ہوں اور
عیسائیوں کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ذرا ”رحم عدالت پر غالب ہوتا ہے“ کے معنی تو بتائیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ دانیال نبی کی کتاب باب ۹ آیت ۱۶ میں لکھا ہے۔ ”اے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں کہ تو اپنی ساری راست بازی کے موافق اپنے قہر اور اپنے خشم سے جو تیرے ہی شہر یروشلم پر ہے جو کوہ مقدس ہے دست بردار ہو۔ کیونکہ ہمارے گناہوں کے اور ہمارے باپ دادوں کی شرارتوں کے سبب سے یروشلم اور تیرے لوگ ان ساری قوموں کے حضور میں جو آس پاس ہیں موردِ ملامت ہوئے“ اس جگہ دانیال نبی اپنے گناہوں اور اپنی قوم کے گناہوں کی معافی خدا تعالیٰ سے چاہتے ہیں۔ پس اگر وہ گناہ معاف نہیں کر سکتا اور عادل ہے تو دانیال نبی کا یہ فعل عبث ہو جاتا ہے مگر اس کے بر خلاف جبریل نے آکر ان کو سنایا ہے کہ تیری دعا سنی گئی اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ تواریخ نمبر ۲ باب ۳۰ آیت ۲۱ میں لکھا ہے کہ حزقیاہ نے بنی اسرائیل کیلئے دعا مانگی ”اور خداوند نے اس کی سنی اور معاف کیا“ (فارن بائبل سوسائٹی۔ مشن سٹیم پریس لدھیانہ مطبوعہ ۱۹۰۸ء) کیا عیسائی صاحبان اتنا نہیں سمجھ سکتے کہ جب خدا کی عادت ہے کہ وہ گناہ معاف کر دیتا ہے تو کیوں اس کو لغو کام سوجھا کہ اپنے بیٹے کو مفت میں پھانسی دلوائی اور لوگوں کے گناہ معاف نہ کئے پھر ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائی اس بات کے جواب میں بعض دفعہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ یسوع سے پہلے جو لوگ بیٹے پر ایمان رکھتے تھے ان کے گناہ بھی بخشے گئے لیکن اس جگہ یہ بات بھی نہیں کیونکہ ایمان لانے والے کے گناہ تو پہلے ہی بخشے گئے خدا نے یہ کیا لغو بات کہی کہ میں نے حزقیاہ کی دعا سن کر گناہ معاف کئے جو کفارہ پر پہلے سے ہی ایمان لائے ہوئے تھے اور جن کا یقین اور اخلاص اول ہی سے کامل تھا ان کو گناہگار ٹھہرانا ایک بہت بڑی ناانصافی ہے اور یا تو اس جگہ خدا سے ہی غلطی ہو گئی ہے یا حزقیل نبی نے نعوذ باللہ افتراء سے کام لیا اور مخلوق الٰہی کو دھوکہ دینا چاہا ہے اور یہ دونوں ایسی صورتیں ہیں کہ ان میں سے ایک کو مان کر بھی عیسائیت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
مگر نہیں جس مذہب کا خدا گناہ سے پاک نہیں اس میں ایک نبی پر تہمت کا لگنا اور گناہگار ثابت ہونا کوئی بڑی بات نہیں پھر ہم دیکھتے ہیں اب تک جو ہم نے ثابت کیا ہے یہ ہے کہ عیسائیوں کا خدا اول تو اس قابل ہی نہیں کہ وہ سمجھ میں آسکے اور پھر اس کی باتیں اور کلام کچھ ایسی متناقض واقع ہوئی ہیں کہ ایک عقلمند سے عقلمند انسان ان کے سمجھنے سے قاصر ہے کیونکہ ایک طرف تو وہ گناہ معاف کرتا ہے اور دوسری طرف وہ کہتا ہے کہ میں عادل ہوں اور گناہ معاف نہیں کر سکتا۔ یہ بات تعجب اور حیرت سے دیکھنے کے قابل ہے کہ خدائے قادر کو کیا ضرورت پڑی کہ اس نے ایسا دور خا کلام کیا۔ کیا وہ اپنے بندوں سے ڈرتا ہے یا کوئی اور بھید ہے جس کو ہم سمجھ نہیں سکتے۔ مگر پہلی بات زیادہ زبردست معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس نے یہودیوں کی مار کھا کر ایک تجربہ حاصل کر لیا تھا اور خیال کیا تھا کہ اگر میں کفارہ کا باطل مسئلہ ان کے سامنے پیش نہ کروں گا تو معلوم نہیں مجھ سے کیا سلوک کریں گے۔ اب ہم اتنا تو ثابت کر چکے ہیں کہ کفارہ کا مسئلہ انسانی عقل سے بعید ہے اور یہ کہ عیسائیوں کا خدا ادھورا کلام کرتا ہے پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم ایسے خدا سے محبت کریں اور ہر لحظہ اور ہر گھڑی اپنے دل میں اس کا تصور جمائے رکھیں۔ اب ہم دیکھتے ہیں تو عیسائیوں کا خدا جو وعدہ کرتا ہے اس کو پورا بھی نہیں کرتا۔ اس نے کہا ہے کہ گناہ کی سزا جسم پر پڑتی ہے اور روح پر بھی۔ اور یہی اکثر عیسائیوں کا عقیدہ ہے جیسا کہ پیدائش باب ۳ آیت ۱۶ میں ہے کہ ”میں تیرے حمل میں تیرے درد کو بہت بڑھاؤں گا تو درد کے ساتھ بچے جنے گی“ اسی طرح آیت ۱۸، ۱۹ میں ہے ”وہ (زمین) تیرے لئے کانٹے اور اونٹ کٹارے اگاوے گی اور تو کھیت کی نبات کھائے گا۔ تو اپنے منہ کے پسینہ کی روٹی کھائے گا“ اور یہ وہ سزا ہے جو کہ آدم علیہ السلام و حوا کو بسب ایک گناہ کے خدا تعالیٰ نے دی ہے مگر جبکہ کوئی مسیح کے کفارہ پر ایمان لائے تو چاہئے کہ وہ اس تکلیف سے بچ جائے۔ کیونکہ مسیح کے کفارہ پر ایمان لانے سے اس کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف کئے گئے اور اب اس کا حق ہے کہ اگر وہ عورت ہے تو دردِ زہ سے بچہ نہ جنے اور اگر مرد ہے تو اس کو محنت مزدوری نہ کرنی پڑے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ یورپ میں ہر سال بیسیوں عورتیں بچہ جننے کی تکلیف سے ہلاک ہو جاتی ہیں۔ کیا خدا کو اپنا وعدہ بھول گیا؟ یا وہ آرام میں ہے اور قصوں کے دیووں کی طرح جو کہ ایک دراز زمانہ تک ایک ہی کروٹ پر سوتے رہتے ہیں وہ بھی سو رہا ہے۔ بہرحال کچھ بھی ہو اسے خبردار کرنا چاہئے اور تمام عیسائیوں کا فرض ہے کہ وہ مل کر اس کی خدمت میں ایک ڈیپوٹیشن پیش کریں تاکہ اس روزمرہ کی تکلیف سے بچ جائیں۔ اور ایسا ہو کہ پھر عورتیں بلا درد کے بچہ جنیں اور مرد بلا محنت کے روزی حاصل کریں تب بیشک عیسائیوں کا فرض ہو گا کہ وہ دنیا کے سامنے اس مذہب کو پیش کریں۔ اور گو کہ تثلیث لوگوں کی سمجھ میں نہ آوے مگر ان کا یہ کہنے کا حق ہو جائے گا کہ وہ جو ہم سے وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا کیا گیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وعدہ کرنے والا بھی موجود ہے۔ مگر جبکہ ان کا خدا وعدہ کر کے بھول جاتا ہے تو ہم اس سے نجات کی کس طرح امید رکھ سکتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے عیسائیوں سے تین وعدے کئے ہیں مگر اب تک ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا اس نے بارہ حواریوں سے بارہ تخت کا وعدہ کیا۔ یہاں تک کہ لوقا باب ۲۲ آیت
۳۶ میں ہے کہ ”اب جس کے پاس بٹوا ہو لیوے اور اسی طرح جھولی بھی اور جس کے پاس نہ ہو وہ اپنی پوشاک بیچ کر تلوار خریدے“ اس کا سوائے اس کے اور کیا مطلب ہو سکتا ہے کہ اس تخت کے وعدہ کو اور بھی مضبوط کیا جائے مگر افسوس ہے تخت تو کیا ملنے تھے ان میں سے ایک حواری تو برگشتہ ہو گیا جس نے کہ تیس کھوٹے درہم لے کر اپنے استاد کا سراغ بتایا اور ایک نے تین دفعہ یسوع پر لعنت کی۔ پس ایک تو یہ وعدہ تھا جو آج تک پورا نہ ہوا۔ اور دوسرا وہ ہے جو قیامت تک بھی نہ ہو گا یعنی مسیح نے حواریوں سے وعدہ کیا تھا (لوقا باب ۲۱ آیت ۲۷) لوگ ابنِ آدم کو بدلی میں قدرت اور بڑے جلال کے ساتھ آتے دیکھیں گے ”پھر آیت ۳۲، ۳۳ میں ہے کہ ”میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک یہ سب نہ ہو لیوے یہ پشت کبھی نہ گزرے گی آسمان و زمین ٹل جائیں گے پر میری باتیں کبھی نہ ٹلیں گی“ مگر وہ پشت تو الگ رہی اس زمانہ سے آج تک یہودیوں کی بیسیوں پشتیں گزر گئیں مگر اب تک یسوع آسمان سے قدرت اور بڑے جلال کے ساتھ نہیں اترا۔ پھر تیسری وعدہ خلافی وہ ہے جو کہ ہم اوپر گناہوں کی معافی کی نسبت بیان کر چکے ہیں۔ اب دیکھنا چاہئے کہ جب یہ تینوں وعدے جو مسیح یا خدا نے اپنے بندوں سے کئے تھے وہ آج تک پورے نہیں ہوئے تو اس سے اور کیا امید ہو سکتی ہے۔ اب ہم آخری بات جو ناظرین کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں وہ عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح لعنتی تھا۔ اور یہ بات بالکل ہی لغو اور بیہودہ ہے کیونکہ لعنت تعلق رکھتی ہے دل سے اور کسی کا لعنتی ہونا ظاہر کرتا ہے کہ اس کا دل خدا نے پھر گیا۔ مگر یہاں تو خود مسیح ہی خدا تھا اس کا دل پھرا تو کس سے پھرا اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ اس وقت انسانی قالب میں تھا تو اور الزام آئے گا اور اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ اس کا دل خدا سے جو باپ تھا پھر گیا اور یہ بات ناممکن ہے کیونکہ وہ اسی کی طرف تو لوگوں کو بلانے آیا تھا پس ان تمام باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیوں کا خدا وہ خدا نہیں جس سے ہم کسی بہتری کی امید کر سکیں یا ہمارا دل جس کی طرف محبت کرنے کے لئے جھک جائے اور یہ کفارہ کی آڑ بھی سوائے دھوکے کی ٹٹی کے اور کچھ نہیں اور یہ ایک لغو بات ہے کہ مرے کوئی اور گناہ کسی کے بخشے جائیں ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی دنیا میں ایسا نہیں ہوا کہ ایک شخص کے سر درد ہو اور دوسرا اپنے سر میں پتھر مار لے اور وہ جو کہ سر درد میں مبتلا تھا بیماری سے شفایاب ہو پھر ہم کس طرح یقین کر سکتے ہیں کہ مسیح نے دنیا پر رحم کھا کر اپنے آپ کو قربان کر دیا اور دوسروں کے گناہوں کو اپنے سر پر لے لیا۔
اور وہ جو کہ قادرِ مطلق تھا اور خدا کا اکلوتا بیٹا تھا ایک دن اس پر ایسا بھی آیا کہ وہ اپنے باپ سے تعلق توڑ بیٹھا اور اس قادرِ مطلق کا انکار کر دیا جس کی طاقت اور جلال کا وہ سب سے زیادہ واقف تھا۔ کیونکہ لعنت کا یہی مفہوم ہے اور اگر توریت ہم کو ایسی نظیر بتاتی تو کچھ بات بھی تھی مگر بجائے اس کے کہ توریت کفارہ کی کوئی نظیر بتائے وہ الٹی اس کی منکر ہے۔ کیونکہ پیدائش باب ۴۴ آیت ۱۶، ۱۷ میں لکھا ہے کہ ”یہودا بولا کہ ہم اپنے خداوند سے کیا کہیں اور کیا بولیں اور کیونکر اپنے تئیں پاک ٹھہراویں کہ خدا نے تیرے چاکر کی بدکاری ظاہر کی دیکھ کہ ہم اور وہ بھی جس پاس سے پیالہ نکلا اپنے خداوند کے غلام ہیں وہ بولا خدا نہ کرے کہ میں ایسا کروں۔ یہ شخص جس پاس سے پیالہ نکلا وہی میرا غلام ہو گا۔ اور تم اپنے باپ کے پاس سلامت جاؤ“۔ اس جگہ حضرت یوسفؑ اپنے بھائی کو ایک پیالہ کی چوری کا ملزم بھی ٹھہراتے ہیں۔ (یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ کہیں درحقیقت حضرت یوسفؑ کے بھائی نے چوری کی بلکہ پیالہ حضرت یوسفؑ کے غلاموں سے غلہ کی بوری میں رکھا گیا تھا) اور ان کے دوسرے بھائی اپنے آپ کو ان کے پاس ایک قیدی یا غلام کے طور پر پیش کرتے ہیں مگر وہ جواب دیتے ہیں کہ خدا نہ کرے کہ میں ایسا کروں اور اگر کفارہ جائز ہوتا تو حضرت یوسفؑ کے بھائی جواب دیتے کہ جب خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو دنیا کی خاطر قربان کر دیا اور اس بیٹے کی قربانی کو قبول کیا تو کیا وجہ کہ ہماری قربانی اپنے بھائی کے بدلے رد کی جائے اور خود حضرت یوسفؑ جو کہ نبی تھے یہ فقرہ زبان پر نہ لاتے۔ کیونکہ خدا نہ کرے کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ ایک کے بدلے دوسرے کو پکڑنا شریعت کے لحاظ سے ناجائز تھا اس لئے حضرت یوسفؑ فرماتے ہیں کہ خدا نہ کرے کہ مجھ سے ایسا برا فعل سرزد ہو۔ اس جگہ کوئی شخص یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ حضرت یوسفؑ کے بھائی اپنے بھائی کے بدلے میں اپنے آپ کو غلام نہیں قرار دیتے بلکہ وہ اپنے آپ کو اس کے ساتھ پکڑواتے ہیں۔ مگر حضرت یوسفؑ کے جواب پر غور کرنے سے یہ بات اس پر کھل جائے گی کہ ان کا اصل مطلب یہی تھا کہ ان میں سے ایک رکھا جائے اور چھوٹا بھائی چھوڑ دیا جائے اور پھر اس گفتگو میں آگے چل کر یہودا کا آیت ۳۳ میں یہ کہنا کہ ”اب مجھے اجازت دیجئے کہ تیرا چاکر جوان کے بدلے اپنے خداوند کی غلامی میں رہے اور جوان کو اس کے بھائیوں کے ساتھ جانے دے“ صاف ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس کے بدلے میں قید کروانا چاہتا تھا۔ مگر حضرت یوسفؑ نے صاف جواب دیا اور اس کو ایک گناہ قرار دیا۔
پس جبکہ کفارہ شریعت میں ناجائز تھا اور نبی اس کو ایک گناہ ٹھہراتے تھے تو کیونکر یہ مانا جائے کہ حضرت عیسیٰؑ سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں وہ ان کے کفارہ پر ایمان رکھتے تھے۔ یا کفارہ پر بھی ہم کس طرح یقین کریں جبکہ شریعت موسوی اس کو ناجائز ٹھہراتی ہے۔ جس شریعت پر چلنے کا فخر خود حضرت عیسیٰؑ کو تھا پھر ان دلائل کے علاوہ ایک بات ایسی زبردست ہے کہ جس کو خیال میں لا کر ہم ایک دم کیلئے بھی حضرت عیسیٰؑ کو خدائی کا منصب نہیں دے سکتے یا دوسرے الفاظ میں ہم قطعاً یہ وہم بھی نہیں کرسکتے کہ عیسائی مذہب سچا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی قبر سری نگر کے خانیار محلہ میں معلوم کی گئی ہے اور انجیل سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ صلیب پر مرے نہیں بلکہ اس پر سے زندہ اتار لئے گئے تھے۔ اور تاریخی شہادتوں سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچائی گئی ہے کہ وہ سری نگر میں آئے اور وہاں آ کر فوت ہوئے جس کی گواہی خود سری نگر کے باشندے بھی دیتے ہیں اب ہم نے مختصر سے دلائل اس بات کے دے دیئے ہیں کہ آیا عیسائی مذہب سچا ہے یا نہیں۔ یا کہ اس کا خدا اس قابل ہے کہ ہم اس سے محبت کریں یا نہیں۔ اور ان دلائل سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ بہت سے انسانی تصرفات اس مذہب میں جگہ رکھتے ہیں اور یہ اس قابل نہیں رہا کہ خدا کی تلاش کرنے والا آدمی اس سے کچھ فائدہ اٹھائے۔ اس لئے اب ہم یہودیوں میں خدا کی تلاش کرتے ہیں کہ شاید ہم کو وہ خدا ملے جس سے کہ ہم محبت کریں اور وہ ہماری محبت کا بدلہ دے اور اس قابل ہو کہ ہم اس سے تسلی پائیں جو کہ آفات اور مشکلات کے وقت اپنے بندوں کی دستگیری کرے۔ مگر افسوس کہ اس مذہب کی طرف ایک ہی قدم اٹھا کر ایک مایوسی سی ہو جاتی ہے اور طالب حق جو کہ حق اور اصلیت کی تلاش میں دن رات سرگردان و پریشان رہتا ہو اور جس کو فکر اور غم اس لئے گھیرے رہتے ہوں کہ کسی طرح اس کو وہ خدا ملے کہ جس کی محبت سے اس کا دل پاک ہو جائے اور یہ ایک سکھ اور چین کی زندگی پاوے گھبرا اٹھتا ہے اور حیران ہوتا ہے کہ یہ کیسا مذہب ہے کہ جس کے پیرو خدا کے تعلق اور اس کے راستہ کی ہدایت کو اپنے لئے ہی مخصوص سمجھتے ہیں۔ ناظرین کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ سوائے ہمارے نجات کسی کو نہیں مل سکتی اور یہ کہ اور کوئی شخص اگر ہم میں داخل ہونا چاہے تو اس کے لئے یہ دروازہ قطعاً بند ہے اور ایسا ممکن نہیں کہ کوئی شخص توریت اور حضرت موسیٰؑ پر ایمان لا کر یہودیوں کے زمرہ میں داخل ہو جائے۔ اگر کوئی شخص یہودیوں میں داخل نہیں ہو سکتا تھا تو چاہئے تھا کہ کوئی اور طریقہ بھی نکالا جاتا کہ جس سے دنیا دائمی عذاب اور ہمیشہ کیلئے لعنت سے بچ جاتی۔ مگر نہیں۔ شاید خدا تعالیٰ کا یہودیوں سے رشتہ ہے کہ نجات سوائے ان کے اور کسی کو مل ہی نہیں سکتی۔ اس نجات کا فائدہ ہی کیا ہوا کہ سوائے ایک فرقہ کے اور کسی کو نہ ملے باقی تمام فرقے اور تمام قومیں باوجود اقرار کرنے کے کہ یہودی مذہب سچا اور خدا کی طرف سے ہے اس بات سے محروم رہیں کہ وہ خدا کی محبت کی لذت اٹھائیں۔ پھر جبکہ یہودیوں پر ہی نجات کا ملنا منحصر ہے تو جزاء و سزا اور حشر و نشر وغیرہ بالکل بیہودہ اور لغو ہو جاتے ہیں اور اسی لئے یہودیوں کے بعض فرقے بالکل انکار کر بیٹھے ہیں کہ کبھی جزاء و سزا کا کوئی دن آوے گا۔ اور انہوں نے یہی نہیں کیا کہ جزاء و سزا کا ہی انکار کریں بلکہ ان کے خیال میں مذہب کوئی چیز نہیں صرف کچھ قوانین ہیں تاکہ بنی نوع انسان میں انتظام قائم رہے۔ پس ایسے لوگوں کا ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں جنہوں نے مذہب کو ایک معمولی قوانین کا مجموعہ قرار دیا ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو دنیا میں کبھی کوئی سلطنت اس دو ہزار سال کے عرصہ میں رہ ہی نہیں سکتی تھی کیونکہ اس عرصہ کے درمیان کوئی یہودی سلطنت ہوئی ہی نہیں پھر یہ انتظام جو ہے تو کیونکر قائم رہا اور اگر یہ کہیں کہ عیسائی بھی توریت پر ایمان رکھتے ہیں ان کی سلطنت یہودیوں کی سلطنت ہی ہے تو یہ غلط ہے۔ کیونکہ ان کو تو بزعم خود کسی شریعت کی ضرورت ہی نہیں اور ان کو اجازت ہے کہ سوائے چند باتوں کے جو کہ حواریوں کی کونسل نے قرار دی ہیں اور سب کام کریں اور جس طرح دل چاہے عمل کریں ان کے گناہوں کا بوجھ تو بیچارے مسیح کی گردن پر رکھا گیا ہے۔ اور یہ بالکل آزاد ہیں پھر عیسائیوں کی سلطنت کو اپنے اصول کے مطابق سمجھنا خلاف واقعہ ہو گا۔ اور اس کے علاوہ عیسائی سلطنتیں کہیں قصور معاف کرتی ہیں تو کہیں سزا دیتی ہیں حالانکہ توریت میں ہے کہ دانت کے بدلے دانت اور ہاتھ کے بدلے ہاتھ لو تاکہ دنیا عبرت حاصل کرے۔ پس عیسائی سلطنتوں کو اپنے میں شامل کرنا تو کسی طرح بجا ہی نہیں۔ اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا میں بغیر تعلیم موسوی کے بھی انتظام چل سکتا ہے۔ اور دوسری قومیں بھی اس قابل ہیں کہ وہ بغیر توریت کی مدد کے دنیا کا انتظام چلاویں پس ہم اب ان فرقوں پر نظر ڈالتے ہیں جو کہ جزاء و سزا کے قائل ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے جبکہ خدا تعالیٰ کے روبرو لوگ اپنے اعمال کا حساب دیں گے اور وہ کام جو کہ انہوں نے دنیا میں کئے ہوں گے ان کا بدلہ ان کو ملے گا مگر یہاں پھر یہ اعتراض آتا ہے کہ جب یہودیوں کیلئے نجات لازم ہے اور دوسروں کے لئے حرام تو جزاء و سزا کے دن کی ضرورت ہی کیا ہے؟ کیونکہ جزاء و سزا اس لئے ہے کہ وہاں بھلے اور برے میں فرق کر کے دکھایا جائے اور ظاہر کیا جائے کہ فلاں نے بہت عمدہ کام کیا اور فلاں نے بہت برا اور اس لئے اس کو جو کہ نیک اور شریف تھا خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ یہ انعام دیئے جاتے ہیں اور وہ جو کہ بد تھا اور برائی کے سوا اور کچھ نہیں جانتا تھا یہ سزا دی جاتی ہے۔ مگر یہاں تو یہ بات ہی نہیں کیونکہ یہودیوں کیلئے نجات لازم ہوئی اور دوسروں کے لئے حرام پھر کیا ضرورت تھی کہ حشر و نشر کا دن مقرر کیا جاتا اور پھر خدا تعالیٰ کا نعوذ باللہ یہ سخت ظلم ہے کہ اس نے ایک شخص کو یہودیوں میں پیدا کیا اور دوسرے کو نہیں اور با وجود اس کے کہ وہ یہودی نیک اعمال بھی نہیں کرتا اور یہ دوسرا آدمی چاہتا ہے کہ میں یہودی فرقے میں داخل ہو کر نجات پاؤں۔ مگر وہ جو یہودی ہے مفت میں نجات حاصل کرتا ہے اور وہ جو کہ کسی اور گروہ سے ہے بلا گناہ کے مارا جاتا ہے اگر خدا تمام دنیا کو یہودی پیدا کرتا تو بھی کچھ بات تھی کہ اس نے تمام انسانوں کو یہودی پیدا کیا تھا مگر ایک نے اپنی بد اعمالی کی وجہ سے سزا پائی اور دوسرے نے نجات مگر یہاں تو گویا کہ دھکے دے کر بنی نوع انسان کو نجات اور محبت الٰہی سے خارج کیا گیا ہے۔ قیامت کے دن اگر ایک انسان کہے کہ میں تو یہودی مذہب قبول کرنے کے لئے تیار تھا مگر اے خدا تو نے اور تیرے جانشینوں اور حاکموں نے مجھ کو ایسا کرنے سے باز رکھا تو اس وقت خدا تعالیٰ کیا جواب دے سکتا ہے سوائے اس کے کہ میری مرضی میں جس کو چاہوں دوزخ میں ڈالوں اور جس کو چاہوں بہشت عطا کروں مگر یہ وہ جواب نہیں ہو سکتا کہ جس سے ایک طالب حق کی تسلی ہو سکے۔ اور اس صورت میں یہودیوں کے مذہب اور اس کے خدا کی مثال اس کنویں کی سی ہو گی جس پر ایک شخص کھڑا ڈول نکال رہا ہے اور کہتا ہے کہ وہ جو پیاسا ہے اس طرف آئے تاکہ میں اس کو شیریں اور ٹھنڈے پانی سے سیر کروں اور اس گرمی کی شدت اور سختی سے بچاؤں جو کہ سورج کی گرم اور جھلس دینے والی دھوپ سے پہنچ رہی ہے مگر جب ایک پیاسا جو کہ کئی کوس کا سفر کرتا ہوا اور ریتلے میدان اور دھوپ کی گرمی سے تکلیف اٹھاتا ہوا آیا اور اس نے اس کنویں پر کھڑے ہوئے شخص کی آواز سن کر اور اس کے کلمات سے تسلی پا کر اس سے کچھ پانی مانگا تو اس نے اس آفت زدہ مسافر کو جھڑک دیا کہ جا اپنا راستہ لے کیونکہ یہ پانی تیرے لئے نہیں بلکہ ان لوگوں کے لئے ہے جو کہ سامنے اس بڑے گھنے اور سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھے ہیں اور جو کہ شیریں اور سرد چشمہ کا پانی اچھال رہے ہیں اور بے فکری اور خوشی ان کے چہرہ سے عیاں ہے۔ پس کیا کوئی شخص اس شخص کو عقلمند کہے گا جس نے کہ ایک پیاسے آدمی کو تھوڑا سا پانی دینے میں دریغ کیا تاکہ وہ پیاس کی شدت کو رفع کرے اور ان لوگوں کو ایک ڈول دینا چاہتا ہے جو کہ خود ایک چشمہ میں پاؤں ڈالے ہوئے بیٹھے ہیں اور درخت کا سایہ ان کو دھوپ کی شدت سے بچا رہا ہے پس دیکھو کہ وہ کنواں تو وہ تعلیم ہے جو کہ یہودیوں کا خدا دیتا ہے اور وہ شخص جو پانی نکال رہا ہے وہ خود خدا ہے جو کہ نجات کیلئے لوگوں کو پکار رہا ہے اور وہ لوگ جو سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھے ہیں اور چشمہ میں پاؤں ڈالے بیٹھے ہیں یہودی ہیں۔ جو کہ یہودی ہونے اور بنی اسرائیل میں پیدا ہونے کی وجہ سے خوش ہیں۔ اور عذابِ آخرت سے بے فکر ہیں اور وہ جو کہ دور سے پانی مانگنے آتا ہے اور جس کو پیاس کی شدت سے سخت تکلیف ہے ان لوگوں میں سے ہے، جو کہ دوسرے مذہبوں، قوموں اور فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور جو کہ (خدا نخواستہ) یہودیوں کی تعلیم ہی سچی سمجھ کر اور پیاس کو بجھا دینے والی سمجھ کر آیا ہے اور چاہتا ہے کہ مجھ کو بھی وہی تعلیم تلقین کی جائے مگر آگے سے صاف جواب ملتا ہے کہ نہیں یہ تو انہی لوگوں کیلئے ہے جن کو پہلے سے ہی یہودیت کا جامہ پہنایا گیا ہے۔ پس اس صورت میں کیسا باطل ہو جاتا ہے یہ دعویٰ کہ نجات حاصل کرنے کا یہی راستہ ہے اور یہی وہ پیالہ ہے جس کے پینے سے محبت کی آگ تسکین پکڑتی ہے۔ کیونکہ جب ایک گمراہ اور ایک پیاسا ہدایت پانا اور پیاس کی شدت سے بچنا چاہے تو صاف جواب دیا جاتا ہے کہ پہلے یہودیت کا یعنی بنی اسرائیل ہونے کا سرٹیفکیٹ دکھاؤ اور پھر نجات ملے گی اس تعلیم کا فائدہ ہی کیا ہے جو کہ عالموں کو دی جائے اور کس کام کی ہے وہ نجات جو کہ نجات یافتوں کو ملے۔ پس یہ عقیدہ عیسائیوں کے کفارہ کی طرح اس قابل نہیں کہ جس کو کوئی عقلمند باور کر سکے یا کوئی حق کا طالب جس سے تسلی پا سکے بلکہ فوراً خیال اس طرف جاتا ہے کہ ضرور اس تعلیم میں کوئی ایسا نقص ہے کہ جس کو چھپانے کیلئے نجات کا دروازہ صرف یہودیوں پر ہی کھولا گیا ہے اور مخالفوں کی نظروں سے پوشیدہ رکھا گیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی کمزوریاں دوسروں پر کھل جائیں۔ اب ہم یہودیوں کی تعلیم پر کچھ روشنی ڈالنی چاہتے ہیں مگر اس سے پیشتر اتنا کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق بھی اگرچہ یہودی صاف طور سے نہ کہیں مگر ان کے عقائد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی حد تک یہ خدا تعالیٰ کے جسم کے قائل ہیں جیسا کہ لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کر کے ساتویں دن آرام کیا اور آرام کرنے کے لئے جسم کی ضرورت ہے کیونکہ تھکاوٹ کے بعد ہی آرام ہوتا ہے اور تکلیف کے بعد ہی راحت کی ضرورت پڑتی ہے اور ہم اس کو مان لیتے اگر اس کے یہ معنی لئے جاتے کہ یہ ایک استعارہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ مگر قرآن شریف نے ان کار کیا ہے اور فرمایا ہے کہ خدا نے زمین و آسمان کو بنایا اور تھکا نہیں جس سے صاف طور سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت یہود کا مذہب یہی تھا کہ خدا در حقیقت تھک گیا اور اس کو آرام کی حاجت ہوئی اور یہود نے اس کا انکار نہیں کیا کہ ہم تو کسی تھکاوٹ کے قائل ہی نہیں اور یہ ہم پر تہمت لگائی گئی ہے۔ بلکہ وہ خاموش رہے اور اس سے ثابت کیا ہے کہ ہم اس عقیدہ کو در حقیقت سچا سمجھتے ہیں پس ایسا خدا جو
خود تھک جاتا ہے ہماری محبت کا کیا بدلہ دے سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ وہ دنیا کے انتظام سے ہی تھک جائے اور دوزخ ، بہشت سب کو فنا کر دے اور اس طرح وہ جو کہ گناہگار ہیں فائدے میں رہیں کہ اس دنیا میں بھی عیش کرتے رہے اور آگے بھی کوئی پرسش نہ ہوئی اور وہ نیک اور صالح آدمی جو کہ تمام عمر خداتعالیٰ کی محبت کیلئے بڑے بڑے مجاہدات کرتے رہے بے بدلہ کے چھوڑ دیئے جائیں اور ان کی تمام محنتیں برباد ہو جائیں۔ غرض کہ یہ مسئلہ انسانی سمجھ سے بالا ہے اور اس لئے ہم اس پر بے فائدہ خامہ فرسائی نہیں کرنا چاہتے۔ اور چاہتے ہیں کہ اب ہم یہودیوں کی تعلیم کو دیکھیں کہ وہ کیسی ہے شاید وہی کچھ ایسی تسلی بخش نکل آئے کہ باقی سب دھبے مٹ جائیں۔ مگر افسوس کہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا بھی نہیں ہے کیونکہ وہ انسانی فطرت کے برخلاف ہے کیونکہ حکم ہے کہ جو کوئی تمہارا دانت توڑ دے تو تم اس کا دانت توڑ دو اگر کوئی تمہاری آنکھ پھوڑ دے تو تم اس کی آنکھ پھوڑ دو اور اسی طرح یہ کہ اگر کوئی تمہارا آدمی مار دے تو تم اس کو مار دو یا دیت لو اور تمام امور میں عفو کا کہیں نام بھی نہیں حالانکہ انسانی فطرت میں ہے کہ بعض دفعہ ایک انسان ایک گناہ کو معاف کر دیتا ہے تو دوسرے وقت میں کسی مصلحت کے لئے کسی گناہ کی سزا بھی دیتا ہے۔ اور اگر یہودیوں کی تعلیم پر عمل کیا جائے تو ایک دن میں ہی دنیا کا کام تمام ہو جائے یعنی ملک میں طرح طرح کے فساد اور بیسیوں بغاوتیں پھوٹ پڑیں اور کوئی گورنمنٹ یا حکومت نہ ہو کہ جس کی رعایا اس قاعدے سے تنگ آکر مقابلہ پر کمر نہ باندھے۔ اصل میں یہ بات ہے کہ یہ قوانین وقتی تھے اور ایک قوم کیلئے محدود تھے۔ اس لئے ان کو تمام دنیا پر حاوی کرنا سخت نادانی ہے اور پھر اگر یہودی بننے کا دروازہ کھلا ہو۔ تو اس بات پر بحث کی جائے اور اچھی طرح ثابت کیا جائے کہ وہ کوئی اور ہی زمانہ تھا کہ جب یہ تعلیم پھیلائی جاتی اور قابلِ عمل سمجھی جاتی تھی لیکن اب دنیا کے حالات بدل گئے ہیں اور دنیا میں علم اور سائنس کے بڑھ جانے، ریلوں کے جاری ہونے اور تار کے پھیلنے سے لوگوں کا دستور العمل اور طریقہ معاشرت بھی بدل گیا ہے۔ پس اس زمانہ میں یہ تعلیم ایک بوسیدہ عصا سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی کہ جس کو زور سے زمین پر مارنے سے کھل جاتا ہے کہ اس کے اندر سوائے کچھ کرم خوردہ بُورے کے اور کچھ نہیں ہے۔ پھر مکالمہ مخاطبہ الہام یا وحی جو کچھ بھی اس کو کہیں یہ ایک فرقہ کی کامل سچائی کی دلیل ہوتا ہے۔ کیونکہ جب یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ایک فرقہ کے بہت سے افراد الہام الٰہی سے مستفیض ہوتے رہے ہیں اور ان کے ساتھ نصرتِ الٰہی بھی شامل ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس سلسلہ کے ساتھ خداتعالیٰ کا سچا تعلق ہے جو اوروں کے ساتھ نہیں اور ضروری اور یقینی ہو گا کہ وہ سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو کیونکہ خدا تعالیٰ کی نصرت اور اس کا کلام کبھی جھوٹے اور مفتری انسان یا گروہ کے شامل حال نہیں ہوتا اور اس بات کی بحث ہم اگلے حصے میں کریں گے کہ آیا الہام ضروری ہے یا نہیں اور اس وقت صرف مجملاً بیان کرتے ہیں کہ الہام ایک بڑی شہادت ہے کسی مذہب کے سچا ہونے یا نہ ہونے پر مگر یہودی اور عیسائی اس سے محروم ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا دینی جسم اب الہام یا دوسرے الفاظ میں سچائی کی روح سے خالی ہے اور اس قابل نہیں کہ ہماری تسلی کر سکے کیونکہ جب ہم محبت کریں گے تو فطرتاً ہمارے دل میں محبوب سے کلام کرنے کا شوق بھی پیدا ہو گا۔ اور اگر وہاں سے کوئی جواب ہی نہ ملے تو کیا کیا بدظنیاں ہمارے دل میں پیدا ہوں گی۔ پس ہماری تسلی کے لئے یہ موجودہ یہودی مذہب تو کافی نہیں ہو سکتا۔
اب ہم ہندو مذہب پر نظر ڈالتے ہیں یا یہ کہو کہ ہم سناتن دھرم کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ مگر ہم اول یہ کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس مذہب کے پیروؤں کے نزدیک یہ مذہب اس وقت سے چلا آتا ہے جبکہ یہ موجودہ دنیا پیدا ہوئی اور ان کے خیال کے بموجب پرمیشور نے اپنا کلام چار رشیوں پر اتارا اور ان کو الہام سے مستفیض کیا مگر اس کے بعد الہام کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا اور اب خواہ کوئی کتنا سر پٹکے لیکن ممکن ہی نہیں کہ وہ دروازہ کھولا جائے۔ پھر ان کا یہ عقیدہ ہے کہ بتوں کی پرستش کے سوا پرمیشور کا ملنا محال ہے اور پھر یہ کہ تناسخ ہمیشہ انسان کے ساتھ ساتھ لگا رہتا ہے اور ایک انسان کبھی گائے کی شکل میں اور کبھی کتے کی شکل میں اس دنیا میں بار بار آتا ہے۔ اب ہم جدا جدا مسائل پر نظر ڈالتے ہیں اول یہ کہ سب سے قدیم وید ہے اس کی تعلیم مکمل ہے اور پھر الہام کی ضرورت نہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ وید کا قدیم ماننا بالکل غلط ہے۔ کیونکہ سب سے پرانے وید کی عمر جو ہے تو وہ تین سوا تین ہزار سے زیادہ نہیں کیونکہ وید کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس وقت کا لکھا ہوا ہے جبکہ آریہ ہندوؤں کو ہندوستان کے اصلی باشندوں سے مقابلہ اور جنگیں پیش آئی ہیں کیونکہ اس میں دعائیں ہیں کہ یا الٰہی ہم کو فتح دے اور ہمارے دشمنوں کو ذلیل کر اور ہماری گائیں زیادہ دودھ دیں پس یہ کوئی بڑا عرصہ نہیں ہے بلکہ اگر چار ہزار سال بھی مان لیں تب بھی حضرت نوحؑ کے بعد کا زمانہ ہی ہے اور اس طرح ہندوؤں کا یہ دعویٰ کہ ہم اور ہماری کتابیں قدیم سے چلے آتے ہیں بالکل غلط ٹھہرتا ہے۔ ہم مثال کے طور پر یہاں چند منتر نقل کرتے ہیں جن سے ظاہر ہو جائے گا کہ درحقیقت وید میں کیا ہے اور کس زمانہ کا ہے۔ رگ وید، انوواک سوکت میں اس طرح
لکھا ہے کہ ”ہم تیری جو ہمارا دوست ہے اور جس کو سب فوقیت دیتے ہیں اور سب بلاتے ہیں منت کرتے ہیں تاکہ تو اے گھروں کی حفاظت کرنے والے اپنے پوجاریوں پر مہربان ہو“ پھر آگے چل کر اسی میں ہے کہ ”پس اے اندر جو ہماری بہتری میں راضی ہوتا ہے ایسا کر کہ ہمیں خوراک بافراط ملے اور مضبوط اور بہت دودھ دینے والی گائیں ہمارے ہاتھ آویں جن کے باعث سے ہمیں خوشی نصیب ہو۔“
پھر انوواک بارہ سوکت نو میں ہے ”ایسا ہو کہ اگنی تیرے دولت مند پجاری بہت خوراک حاصل کریں ایسا ہو کہ وہ بدبادان جو تیری مہما کرتے ہیں اور تجھے جماتے ہیں ان کی عمر دراز ہو ایسا ہو کہ ہم لڑائیوں میں اپنے دشمنوں سے لوٹ حاصل کریں اور دیوتا کا بھاگ انہیں نذر کریں۔“
ان تین منتروں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کس زمانہ کا لکھا ہوا ہے۔ گائیوں کی زیادتی کی دعا گھروں کی حفاظت کی دعا، عمروں کی ترقی کی دعا، اور دشمن پر فتح پانے کی دعا صاف ظاہر کرتی ہے کہ اس وقت کا لکھا ہوا ہے جبکہ آریہ ہندو وسط ایشیا کو چھوڑ کر ہندوستان میں آئے تھے اور یہاں کے اصل باشندوں سے ان کی جنگیں رہتی تھیں جو باشندے کہ اب تک بھی کہیں کہیں ہندوستان میں موجود ہیں۔ اور پھر منو کے دھرم شاستر میں جو قوانین مقرر کئے گئے ہیں کہ اس طرح ہمیں رہنا چاہئے اور ہمارے فلاں فلاں قوم سے یہ یہ حقوق ہونے چاہئیں صاف ظاہر کرتا ہے کہ اس وقت تک ہندوؤں میں سوشل قانون نہ تھے جن کے بغیر کوئی فاتح طاقت یا حاکم قوم کبھی رہ ہی نہیں سکتی اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آریہ ہندوؤں کا زمانہ یا دید کا زمانہ منو کے قریب قریب کا زمانہ ہی ہے پس اس طرح بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وید سب سے پہلے یا ازلی کتاب نہیں ہے بلکہ کئی کتابوں کے بعد کی ہے اور ایک محدود زمانہ رکھتی ہے پس مدعی کا یہ دعویٰ کہ یہ سب سے پہلی کتاب ہے اور اس کے بعد الہام کی کوئی حاجت نہیں بالکل غلط ٹھہرتا ہے۔ پہلی کتاب تو اس لئے نہیں کہ اس زمانے سے پہلے جبکہ دید کا دنیا میں نزول ہوا یا یہ کہو کہ وید لکھا گیا ہے کئی اور قومیں اور نسلیں بڑی بڑی شان وشوکت کے ساتھ حکومت کرچکی ہیں۔ اور یہ ضروری ہے کہ وہ کسی مذہب کی پابند ہوں کیونکہ ان کے لئے بھی پرمیشر نے کوئی طریقہ تو ہدایت اور رہنمائی کا رکھا ہی ہوگا اور اگر ان کی رہنمائی کے لئے کوئی کتاب یا صحیفہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوا تھا تو اس طرح خدا سخت ظالم ثابت ہوتا ہے کہ جس نے باوجود اس کے کہ ایک گروہ کو پیدا کیا، زبان دی، طاقت دی اور دنیا پر اختیار دیا مگر وہ راستہ جو اس کی طرف رہنمائی کرتا تھا ان کو نہ بتایا۔ اس دنیاوی زندگی کے لئے جو
کہ چند روزہ ہے ہر طرح کے آسائش کے سامان ان کے لئے مہیا کئے گئے مگر اس دائمی زندگی کے لئے اور اس دائمی عیش کیلئے جو کہ مرنے کے بعد انسان کو مل سکتا ہے کوئی طریقہ یا قاعدہ مقرر نہ کیا گیا اور انسان کو وحشی جانور کی طرح زمین پر چھوڑ دیا کہ زمین میں پھرے اور سوائے کھانے پینے کے اور کسی کام سے سروکار نہ رکھے۔ مگر چونکہ ہندوؤں کا یہ عقیدہ ہے کہ پرمیشور ظالم نہیں اس لئے یہ ماننا پڑے گا کہ ان لوگوں کے لئے بھی ہدایت کی کوئی راہ مقرر کی گئی تھی پس ہم یہی ثابت کرنا چاہتے تھے اور جب یہ ثابت ہوا تو معلوم ہوا کہ وید سے پہلے بھی کوئی کتاب تھی جس سے دنیا کی رہنمائی کی جاتی تھی۔ پس ہندوؤں کا یہ عقیدہ کہ پرمیشور ایک ہی دفعہ بولا اور اس کی طرف سے ایک ہی کتاب ہے یعنی وید خود ان کے اپنے عقیدہ کی رو سے باطل ٹھہرتا ہے۔
پھر اگر یہ کہا جائے کہ پرمیشور پہلے تو بولتا تھا لیکن وید چونکہ مکمل کتاب تھی اس نے اسے پھر بولنا اور کسی کو اپنے کلام سے مستفیض کرنا مناسب نہ سمجھا کیونکہ خدا کوئی لغو بات تو کرتا ہی نہیں پس جب ضرورت نہ رہی تو اس نے کلام کا سلسلہ بھی منقطع کر دیا۔ مگر یہ بات بھی کچھ زیادہ وقعت نہیں رکھتی کیونکہ ہم پہلے ثابت کرچکے ہیں کہ وید کی اصلاح کی ضرورت ہوئی اور اس لئے منو کا دھرم شاستر بنایا گیا۔ اور بفرض محال ضرورت بھی نہ پڑی سہی تو بھی تو ضروری نہیں کہ خدا تعالیٰ کلام نہ کرے اور چپ ہو کر بیٹھ جائے جب ایک وقت بولتا تھا تو اب کیوں نہیں بولتا۔ مانا کہ تعلیم پوری ہو گئی مگر ایک عاشق رات دن اسی فکر میں رہتا ہے کہ کسی طرح اپنے معشوق یا محبوب سے کلام کرے اس کا بھی تو کچھ حق ہے کہ وہ اس تڑپ کو دور کرنے کا جو کہ اس کے دل میں بار بار پیدا ہوتی ہے کوئی ذریعہ حاصل کرے پس اگر کچھ نہیں تو اس بے قرار کو ہی جو کہ پرمیشور کے بدلہ اپنا مال اسباب، جان اور عزت و آبرو تک قربان کر کے جنگل بہ جنگل پھر رہا ہے اپنی آواز سنایا کرے تا کہ اس کے دل کو تسلی ہو اور وہ اس محبت میں جو کہ خالص اسی کے ساتھ رکھتا ہے اور بھی ترقی کرے اور نہ صرف یہی بلکہ دوسرے لوگوں کی تسلی کا بھی باعث ہو کیونکہ جب لوگ دیکھیں گے کہ خدا تعالیٰ ایک آدمی سے کلام کرتا ہے تو ان کے دل میں اس کی ہستی کا کامل یقین ہو جائے گا اور وہ خود بھی کوشش کریں گے کہ ہم بھی اس آدمی کی طرح خدا تعالیٰ سے محبت کر کے یہ رتبہ حاصل کریں پس یہ بات نہ صرف ایک بیقرار محبت کی تسلی کا باعث ہو گی بلکہ لوگوں کی ترقی ایمان اور خدا تعالیٰ سے محبت کرنے کی خواہش کا ذریعہ بنے گی جس سے کہ خدا تعالیٰ کی وہ غرض بھی پوری ہو جائے گی جو کہ اس نے انسان کے پیدا کرنے میں رکھی تھی پس تعلیم کا پورا ہونا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ الہام و وحی کا سلسلہ بھی بند کیا جائے بیشک شریعت ختم سمجھی جائے گی لیکن خدا تعالیٰ سے کلام کرنے کی خواہش جو کہ محبت کا لازمی نتیجہ ہے کبھی بھی رک نہیں سکتی کیونکہ محب یعنی محبت کرنے والا اس بات کو چاہتا ہے کہ جس سے میں محبت کرتا ہوں کسی طرح اس کا حال بھی مجھ کو معلوم ہو کہ وہ مجھ کو چاہتا ہے یا نہیں اور اس بات کے دریافت کرنے کے لئے ہر طرح کی وہ کوشش کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے مگر اہلِ ہنود کے مذہب میں کوئی ایسی بات نہیں رکھی گئی ہے جس سے کہ محب محبوب کی محبت کو دریافت کر سکے اور اس طرح گویا کہ کل عاشقوں کا خون کیا گیا ہے جو کہ اپنی جانیں اس بات کے لئے قربان کر دیتے ہیں کہ کسی طرح محبوب ہم پر ایک نظر ڈالے اور جبکہ ان کو تسلی ہی نہ ہو گی کہ پرمیشور ہماری محبت کو جانتا ہے یا نہیں تو ان کے دل کس طرح قرار پائیں گے اور وہ کوشش جو کہ خدا تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں کس طرح جاری رہ سکے گی جبکہ ان کو معلوم بھی نہ ہو گا کہ ہماری کوشش کہاں تک بار آور ہوئی یا کس حد تک اس کے کامیاب ہونے کی امید ہے اور اس صورت میں تھوڑی مدت کے بعد عاشقوں کے دل کھٹے ہو جائیں گے اور طرح طرح کے خیالات اور وساوس میں پڑ جائیں گے یہاں تک کہ خود اس ہستی سے ہی انکار کر بیٹھیں گے۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوؤں میں کثرت سے خدا کا انکار پایا جاتا ہے جیسا کہ آریہ جینی ناستک مت وغیرہ وغیرہ۔ یہاں آریہ کا لفظ پڑھ کر ناظرین تعجب کریں گے کہ ان کا نام دہریوں یا خدا کی ہستی کا انکار کرنے والوں کی فہرست میں کیوں لایا گیا ہے۔ کیونکہ یہ خدا کا انکار نہیں کرتے بلکہ اقرار کرتے ہیں مگر میں آگے چل کر انشاء اللہ آریوں کے بیان میں ثابت کروں گا کہ آریہ درحقیقت خدا کا ہی انکار کرتے ہیں اور دہریت کے پھیل جانے کے علاوہ جو لوگ خدا پر ایمان بھی لاویں وہ بھی اس یقین اور معرفت کے ساتھ خدا کو کب مان سکتے ہیں جیسا کہ وہ جن کے سامنے ہر وقت ایسے لوگ موجود ہیں جن سے کہ خدا ہم کلام ہوتا ہے کیونکہ شنیدہ کے بود مانند دیدہ۔
ان کو کیا معلوم کہ کسی زمانہ میں کچھ رشی گزرے تھے اور ان سے کچھ کلام بھی کیا گیا ہے لیکن اب وہ سلسلہ قطعاً بند کیا گیا ہے اور جو کہ اس بات پر کچھ بھی غور کریں گے ان کے دل میں فوراً یہ شک گزرے گا کہ کہیں یہ رشیوں کا ہونا اور ان سے خدا کا کلام کرنا ان قصوں میں سے تو نہیں جو کہ بچوں کے بہلانے کے لئے بنائے گئے ہیں کیونکہ اگر یہ سچ ہوتا کہ خدا کسی سے کلام بھی کرتا ہے تو آج کل بھی کسی سے کرتا یا کم سے کم کسی تاریخی زمانہ میں اس کی شہادت پائی جاتی۔ مگر ایسا نہیں اس لئے ضرور اس میں کوئی راز ہے۔ اور ایسے شکوک کو رفع کرنے کے لئے اور دنیا پر اپنا نام ثابت کرنے کے لئے پرمیشور کو ضروری تھا کہ وہ کچھ بندوبست کرتا مگر افسوس کہ ہمیں کوئی ایسا ذریعہ نہیں ملتا جس سے کہ ہم اس اعتراض کو مٹاسکیں اور اگر کوئی ہے اور اب بھی کوئی ایسا انسان دنیا میں موجود ہے جس سے خدا کلام کرتا ہے تو امید ہے کہ کوئی ہندو مہاشہ ہمیں اس سے انٹروڈیوس (Introduce) کرائیں گے اور دنیا پر ایک بڑا احسان کریں گے کہ آج تک مخالف جس بات کا رونا رو رہے تھے اور بار بار اعتراض کرتے تھے کہ الہام الٰہی کا سلسلہ بند ہو گیا ہے وہ غلط ہے اور ہندوؤں میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو کہ رشیوں کی طرح خدا سے اس قسم کا تعلق رکھتے ہیں۔ مگر یہ ثابت کرنا ایسا ہی محال ہے جیسا کہ یہ ثابت کرنا کہ تین ایک ہے اور ایک تین۔ پس ہم دوسری بات کو لیتے ہیں اور اس بات کو کہ آیا ہم نے ہندوؤں کا سلسلہ الہام سے منقطع ہونا ثابت کر دیا ہے یا نہیں ناظرین کے انصاف پر ہی چھوڑتے ہیں اور وہ دوسری بات ان کا یہ عقیدہ ہے کہ بتوں کی پرستش کے بغیر نجات کا ملنا محال ہے اس عقیدہ کے ردّ کے لئے ہم کو کچھ گہری تحقیقات کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ہم پہلے اس بات کو ثابت کر چکے ہیں کہ کسی سوال کا آگے سے جواب ملنا ہی اس بات کا کامل ثبوت ہوتا ہے کہ وہ چیز درحقیقت اس بات کے لائق ہے کہ ہماری بات کو پورا کر سکے یا ہم کو تسلی ہی دے سکے مگر بتوں کے آگے سر جھکانا اس قدر فضول ہے کہ خواہ کتنا ہی چیخیں چلائیں وہاں سے جواب باصواب ملنا تو الگ رہا انکار تک سے اطلاع نہیں دی جاتی۔ پھر ہم کس طرح تسلیم کرلیں کہ وہ سنتے بھی ہیں۔ کیونکہ ایک چیز کا یا ایک جاندار کا بولنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ سنتا بھی ہے مگر جب چیخنے پر بھی جواب نہ ملے تو فوراً خیال اس طرف جاتا ہے کہ ضرور اس جاندار کی یا تو زبان نہیں یا کان نہیں اور ان دونوں صورتوں میں بتوں کا ابطال ہوتا ہے اگر سنتے نہیں تو انہوں نے ہمارے کام خاک کرنے ہیں۔ اور اگر بول نہیں سکتے اور خود اپنے لئے گویائی پیدا نہیں کر سکتے تو ہمارے لئے کیا کر سکتے ہیں۔ اور دوسرے غور کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندوؤں نے ان عجائبات قدرت کو جن کے سمجھنے سے ان کی عقل قاصر رہی خدا یا اس کے نائب تصور کر لیا ہے اور اسی طرح بڑی اور شاندار چیزوں کو بھی وہی درجہ عطا کیا ہے۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک دو چیزوں کو انہوں نے خدا نہیں بنایا بلکہ لاکھوں چیزوں کو قابلِ پرستش ٹھہرایا ہے یہاں تک کہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ہندوؤں کے تینتیس (۳۳) کروڑ دیوتا ہیں۔ اور یہ کامل ثبوت ہے ہمارے دعویٰ کا کہ درحقیقت جس بات کی بڑائی ان کے دل میں بیٹھ گئی اس کی یہ پرستش کرنے لگ گئے۔ اور جو بڑا آدمی ان میں پیدا ہوا اس کی انہوں نے پوجا شروع کردی یہاں تک کہ انہوں نے مسلمان فقیروں کو بھی اوتار مان لیا ہے اور آج ہندوستان میں کئی سو سے زیادہ ایسی مسلمانوں کی قبریں ہوں گی جن کو ہندو پوجتے ہیں۔ اور دیکھا جاتا ہے کہ درخت جب پرانا ہو جاتا ہے تو اس کی بھی یہ پرستش کرنے لگ جاتے ہیں۔ خوبصورت پتھروں کی پوجا شروع کر دیتے ہیں اور ضعیف الاعتقادی میں یہاں تک بڑھ گئے ہیں کہ عورت اور مرد کی شرم گاہوں تک کی پوجا کرتے ہیں۔
پس کیا یہ بات اس بات کے ثبوت کے لئے کافی نہیں کہ ہر ایک عجیب اور شاندار چیز کی یہ پرستش کرنے لگ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید اسی میں خدا مل جائے اور جس کو اس بات پر بھروسہ نہ ہو کہ خدا کس طریقہ سے ملتا ہے تو وہ اوروں کی ہدایت کا بیڑا کس طرح اٹھا سکتا ہے اور وہ کس طرح کہہ سکتا کہ خدا اس طریقہ سے ملتا ہے اور اس طریقہ سے نہیں۔ قرآن شریف نے بت پرستی کے ابطال میں ایک بہت عمدہ دلیل بیان کی ہے وہ اس طرح ہے کہ حضرت سلیمانؑ نے جو کہ بنی اسرائیل کے ایک بڑے بادشاہ گزرے ہیں اور اس کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی ہونے کا درجہ بھی رکھتے ہیں ایک عورت کو جو کہ سبا کی شہزادی تھی اپنے پایہ تخت میں بلایا اور وہ شہزادی سورج پرست تھی (یہ پوجا ہندوؤں میں نہایت کثرت سے جاری ہے) اور انہوں نے اس کو غلطی پر ثابت کرنے کے لئے ایک مکان بنایا اور اس میں ایسے شیشہ کا فرش کیا جو کہ نہایت صاف تھا اور اس کے نیچے سے نہر گزاری جس سے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا یہاں نہریں جاری ہیں اور بیچ میں کوئی روک حائل نہیں اور جب وہ شہزادی وہاں سے گزرنے لگی تو اس نے نہر سمجھ کر اپنے پائنچے اٹھائے مگر حضرت سلیمانؑ نے فرمایا کہ یہ شیشہ کا فرش ہے نہر نہیں جس پر اس نے اپنی غلطی کا اقرار کیا کہ میں جو سورج کی پرستش کرتی تھی اس میں میری غلطی ہی تھی۔ سورج کے لئے روشنی مہیا کرنے والی ایک اور ذات ہے جس نے خود سورج کو پیدا کیا اور اس میں روشنی پھیلانے کے خواص بھی رکھے۔ پس اسی طرح ہنود میں یہ جس قدر بت پرستی پھیلی ہوئی ہے صرف کم توجہی کی وجہ سے ہے اگر اس معاملہ میں یہ تدبیر کرتے اور پریمیشور سے دعا کرتے تو ممکن تھا کہ ان کو ہدایت ہوتی مگر انہوں نے اس معاملہ میں کچھ بھی توجہ نہ کی۔ حالانکہ اسی پر آئندہ زندگی کا مدار تھا اور موت کے بعد کے زمانہ کا اس کے مطابق آغاز تھا۔ یعنی بھلے کاموں کی جزاء بھلی اور برے کاموں کی جزاء بری ملنی تھی۔ اب ہم تناسخ کا مسئلہ لیتے ہیں کہ جس پر ہندوؤں کو بڑا فخر ہے اور جس پر کہ مدت سے ہندوؤں اور دوسرے مذاہب میں مباحثات کا سلسلہ جاری ہے۔ تناسخ یہ ہے کہ جس طرح انسان کام کرتا ہے اسی طرح کا اس کو بدلہ مل کر وہ دوسری دفعہ پھر پیدا ہوتا ہے اور اگر کسی نے کوئی برے کام کئے ہوتے ہیں تو بیل گدھا کتا وغیرہ بہت سی مختلف شکلوں میں اس دنیا میں دوبارہ لوٹ آتا ہے اور ایک مدت کے بعد جبکہ اس کے گناہوں کی پوری سزا مل چکتی ہے تو پھر اس کو بہشت میں داخل کیا جاتا ہے۔ اب دیکھنے کی یہ بات ہے کہ جب انسان اس دنیا میں آتا ہے تو اس وقت گویا کہ وہ کچھ اچھے کام کر کے اس کے بدلہ میں یہ انعام پاتا ہے اور اگر پھر وہ اچھے ہی کام کرے تو پھر اس کو دوبارہ دنیا میں انسان کی شکل ہی میں آنا چاہئے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک زمانہ میں ہندوؤں میں ایک بہت بڑا عالم و فاضل پیدا ہوتا ہے اور اس کے مرنے کے بعد ایک زمانہ گزر جاتا ہے مگر کوئی اس کا جوڑ پیدا نہیں ہوتا۔ اگر تناسخ کا مسئلہ درحقیقت صحیح تھا تو ضروری تھا کہ ایک بڑا آدمی جو کہ اپنی ساری عمر میں ہمیشہ اچھے کام ہی کرتا رہا پھر ایک عالی شان گھرانے میں پیدا ہو اور دنیا میں اپنے ظہور سے برکتیں پھیلائے مگر مشاہدہ اس کے برخلاف ظاہر کرتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عقیدہ ہی غلط ہے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ کوئی انسان برے اعمال کرنے کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا تو یہ ماننا پڑے گا کہ سناتن دھرم نجات کے بالکل برخلاف ہے اور اس کے پیروان بے فائدہ نجات کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ تناسخ کی وجہ سے نجات کا دروازہ بالکل بند ہے اور اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ تناسخ سے نجات پر کوئی اثر نہیں پڑتا تو کم سے کم یہ مشکل تو حل نہیں ہوتی کہ کرشن علیہ السلام کی پیشگوئی ہے کہ آخر زمانہ میں جب بدی بڑھ جائے گی ’گائے بکری کے برابر دودھ دے گی‘ دس برس کی لڑکی بچہ جنے گی تو اس وقت کلنک اوتار جنم لیں گے اور وہ کل جگ کا زمانہ ہو گا۔ پس اس صورت سے لازمی تھا کہ بجائے اس کے کہ دنیا میں انسانوں کی دن دگنی رات چوگنی ترقی ہوتی روز بروز آبادی گھٹتی جاتی کیونکہ کل جگ کے زمانہ میں بدیوں کی کثرت کی وجہ سے انسان بہت کم پیدا ہوتے اور گھوڑے کتے خچر بندر اور ریچھ کی کوئی حد ہی نہ ہوتی۔ بلکہ بجائے اس کے کہ دنیا میں اس قدر ترقیاں ہوتیں چاہئے تھا کہ انسان وحشیوں کی طرح ہو جاتے۔ تمام ترقیاں رک جاتیں اور درندوں اور انسانوں میں کوئی فرق نہ رہتا۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوؤں میں اس وقت کوئی سلطنت نہیں ہے حالانکہ بعض نیکیوں کا بدلہ ہوتا تھا کہ ایک انسان باخدا راجہ یا مہاراجہ ہو جائے جیسا کہ بکرماجیت پر تھوی راج وغیرہ پہلے زمانہ میں ہوئے اور یہ کہ اس کے ماتحت ایک بڑا ملک ہو جس پر کہ وہ خود مختارانہ حکمراں ہو۔ مگر آج چونکہ ہندوؤں میں ایسا کوئی نہیں اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نیکیاں اور وہ خوبیاں جن کا بدلہ انسان کو اس صورت میں ملتا ہے وہ اب رہی ہی نہیں اور دنیا سے ایسے عمدہ کام ہی اٹھ گئے ہیں جن سے کہ ایک انسان خود مختار راجہ بنتا تھا اور اس طرح ہم خیال کر سکتے ہیں کہ کچھ مدت کے بعد یہ مذہب مر جائے بلکہ روحانی طور پر اب بھی مردہ ہی ہے کیونکہ اس وقت ان میں کوئی ایسا نیک بخت نہیں ہے جس نے کہ نیک کام کرنے کے بعد راجہ مہاراجہ کا درجہ حاصل کیا ہو۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت بھی ہم میں راجہ مہاراجہ موجود ہیں تو یہ بے فائدہ کی بحث ہوگی۔ کیونکہ اس وقت کے راجوں کی حالت تو اظہر من الشمس ہے پس معلوم ہوتا ہے کہ اس مذہب میں سے وہ نیکیاں جن سے کہ با اختیار راجہ کی صورت میں انسان پیدا ہوتا ہے نہیں رہیں اور اس کا یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ ایسا آدمی کسی اور مذہب میں پیدا ہو جاتا ہے مگر یہ گویا اپنے پیر پر آپ کلہاڑی مارنی ہے کیونکہ اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ دوسرے مذاہب بھی سچے ہیں۔
اس وقت ایک اور بہت زبردست دلیل ہمارے خیال میں آئی ہے جس سے کہ تناسخ کا ابطال خوب اچھی طرح سے ہوتا ہے۔ ہنود کو بڑا فخر اس بات کا ہے کہ ہم قدیم سے ہیں اور ہم فلاں فلاں سورماؤں کی نسلوں سے ہیں اور دوسری تمام نسلیں پیچھے کی ہیں اور ہماری نسبت کم درجے کی ہیں مگر تناسخ کو مانتے ہوئے یہ عقیدہ بالکل باطل ہو جاتا ہے کیونکہ تمام دنیا کی قوموں کی شناخت تمام نسلوں کا امتیاز اور تمام ملکوں کے باشندوں کا فرق تناسخ کو ماننے کی صورت میں قطعاً نہیں رہتا کیونکہ جو کوئی اچھے کام کرے گا وہ اس مذہب میں آجائے گا اور جو کوئی برے کام کرے گا وہ دوسرے مذاہب کے حصہ میں آجائے گا پس کوئی بڑی بات نہیں کہ ایک شودر نیک کام کر کے برہمنوں کے زمرہ میں جا ملے اور ایک برہمن برے کام کر کے عیسائیوں میں جا پیدا ہو۔ اور ایک مسلمان اپنے اعمال کی وجہ سے شودروں میں جنم لے پس یہ تمام ذات پات کے جھگڑے لغو اور بیہودہ ہو جاتے ہیں جن پر کہ ہندو دھرم نے بڑا زور دیا ہے۔
اگر ایک شودر نیک کام کر کے اگلے جنم میں برہمن بن سکتا ہے تو شودر اور برہمن میں کیا فرق ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ جس شودر پر کوئی سختی روا رکھی جائے وہ اس وقت برہمنوں میں ملنے کا کام کر رہا ہو اور جس برہمن کی ہندو دھرم کے رو سے رعایت کی جائے اس کے اعمال اس وقت ایسے ہوں جیسے کہ شودروں کے۔ پس کیا اس شودر پر سختی کرنی اور اس برہمن کی رعایت کرنی جن کے اعمال مذکورہ بالا طریق پر ہوں ظلم نہیں ہوگا۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ دوسرے لوگ نیک اعمال ہی نہیں کرتے تو اس صورت میں بھی بہت مشکل پیش آتی ہے کیونکہ پھر تو گویا کہ پرمیشور نے ہندو دھرم کے تباہ کرنے کی نیت کی ہے کیونکہ دوسروں نے تو نیک اعمال کرنے ہی نہ ہوئے اور ہندو دھرم نے بڑھنا ہی نہ ہوا اور دوسرے لوگ نیک اعمال کریں گے تبھی تو وہ تناسخ کے ذریعہ ہندو دھرم میں جنم لیں گے مگر جب وہ نیک اعمال کریں گے ہی نہیں تو ہندو دھرم بڑھے گا کیونکراور جب بڑھے گا نہیں تو کم ضرور ہو گا کیونکہ برے اعمال تو ہندوؤں نے ضرور کرنے ہوئے اور اس طرح وہ دوسرے مذاہب میں جا کر جنم لیں گے۔ اور ہندو دھرم روز بروز گھٹتا ہی جاوے گا اور پھر ایک اور مشکل پیش آوے گی کہ گائے جو کہ ان کے نزدیک ایک بڑا متبرک جانور ہے اس کی جون میں دوسرے مذہب والے جنم لیتے رہیں گے غرضکہ اس طرح پر لازم تھا کہ ہندو مذہب دو چار صدیوں میں ہی تباہ ہو جاتا مگر چونکہ اب تک تباہ نہیں ہوا اس لئے معلوم ہوا کہ یہ بات غلط ہے کہ دوسرے مذاہب والے نیک اعمال نہیں کرتے بلکہ ثابت ہوا کہ وہ نیک اعمال کرتے ہیں اور اس کے بدلے ہندوؤں میں جنم لیتے ہیں اور اس صورت میں وہ ذاتوں کے تمام قوانین جو کہ ہندوؤں میں ایک سخت حکم کے طور پر سمجھے جاتے ہیں فضول ٹھہرتے ہیں جیسا کہ ہم پیچھے ثابت کر آئے ہیں اور جب ایک مذہب کی وہ بات جو کہ بڑے ستونوں میں سے ہو رد کی جائے تو باقی کی نسبت ہم کیا امید کر سکتے ہیں اور یہاں تو صرف ایک ہی نہیں بلکہ کئی اور باتیں ہم غلط ثابت کر چکے ہیں۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ تناسخ سے عملی طور سے فائدہ کیا مرتب ہوتا ہے۔ اگر تناسخ سے یہ فائدہ خیال کیا جاتا ہے کہ انسان اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر پاک ہو جائے تو یہ صورت تو ناممکن ہے کیونکہ ہر ایک گناہ کے بدلے ایک جون بھگتنی پڑتی ہے اور پھر ہر ایک جون میں گناہ لازم ہوئے تو اس طرح کبھی انسان جونوں کے پھندے سے بچ نہیں سکتا۔ پس ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اس جونوں میں بدلنے کے کام سے پرمیشور نے کیا فائدہ سوچا ہے۔ جہاں تک ہم سوچتے ہیں تناسخ کی وجہ سے نجات ایک دم کے لئے بھی حرام ہے۔ پس پرکاش کا عقیدہ رکھنا یا سرگ پر ایمان لانا بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ کیونکہ جب نجات ممکن ہی نہیں تو بہشت یا جنت بھی ساتھ ہی ناممکن ٹھہرے۔ میرے وہم میں بھی نہیں آ سکتا کہ اس عقیدہ پر ایمان لا کر پھر کوئی شخص نجات کا قائل ہو سکے۔ اگر اس عقیدہ کو مانیں تو پرمیشور کا نَعُوْذُ بِاللّٰهِ فریبی ہونا ثابت ہوتا ہے اور اگر اس عقیدہ کا انکار کریں تو پھر مذہبِ ہنود کا سچا ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ پس اب اس صورت میں جو کہ کچھ سناتن دھرمی صاحبان اپنے پر گوارا کر لیں وہی ہم کو بھی منظور ہو گا یا تو کہہ دیں کہ بیشک انسان کو خدا نے ایک خیالی جنت کی طرف بلایا ہے حالانکہ بہشت صرف ایک ڈھکوسلا ہے۔ یا اقرار کریں کہ ہمارا مذہب جھوٹا ہے۔ اگر ہماری رائے پوچھیں تو ہم دوسری بات کو ترجیح دیں گے کہ اصل میں تو یہ مذہب کسی وقت کسی اور صورت میں خدا کی طرف سے ہی تھا مگر بعض ناخدا ترسوں نے دنیا کے گمراہ کرنے کے لئے اس میں بہت کچھ ملا دیا جس سے کہ اس مذہب کی صورت مسخ ہو کر اور کی اور ہی بن گئی پس اس صورت میں جو الزام خدا پر وارد ہوتا ہے وہ بندوں پر لگ جائے گا اور اس میں چنداں کوئی حرج بھی نہیں کیونکہ ہر وقت اور ہر زمانہ میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہی رہتے ہیں جن کو صرف جھوٹ اور فریب سے ہی دلچسپی ہوتی ہے اور ان کا خیال ہر وقت سچائی کو مٹانے کے درپے ہوتا ہے۔
اب ایک اور مختصر اعتراض ہم اس عقیدہ پر کرتے ہیں کہ کم سے کم پرمیشور کو لازم تھا کہ ان غریب جونیں بھگتنے والوں کو اس بات کی اطلاع کر دیا کرتا کہ فلاں گناہ اور فلاں قصور کے بدلے میں تم کو یہ سزا دی جاتی ہے جس سے کہ اس انسان کو اتنا فائدہ تو ضرور ہوتا کہ وہ آئندہ اس گناہ سے تو بچتا اور جب گناہ کا پتہ ہی ایک آدمی کو نہ دیا جائے گا تو وہ اس سے بچنے کی کیا خاک کوشش کرے گا۔ بلکہ بے خبری کی وجہ سے پھر گناہوں میں پھنس کر گناہوں کا ایک اور تومار اکٹھا کر لے گا جس کی وجہ سے وہ کبھی جونوں کے چکر سے نجات حاصل کر ہی نہیں سکتا۔ پس یہ کیا انصاف اور کس قسم کا عدل ہے کہ بلا گناہ اور بغیر بتائے جرم کے ایک شخص کو سزا دی جاتی ہے حالانکہ یہی لوگ جو اس عقیدہ پر ایمان لاتے ہیں اگر کہیں کوئی برٹش مجسٹریٹ غلطی سے کسی مجرم کو بلا بتائے گناہ کے سزا دیتا ہے تو اس قدر واویلا کرتے ہیں کہ جس کی کوئی حد نہیں رہتی ایک طرف تو اخباروں والے وہ شور مچاتے ہیں کہ ان کے آرٹیکل پڑھتے پڑھتے لوگ تھک جاتے ہیں دوسری طرف وکیل اور بیرسٹر جلسوں پر جلسے کر کے پبلک کو جگاتے ہیں کہ دیکھو اس قدر ظلم ہم پر ہو رہا ہے حالانکہ وہ بات کچھ بھی نہیں ہوتی پھر اسی پر بس نہیں بلکہ بڑے بڑے لیکچرار ملک کا دورہ کرتے ہیں اور دھواں دھار تقریروں سے ایک تنکے کا پہاڑ بنا کر دکھاتے ہیں اور سامعین سے انصاف چاہتے ہیں کہ کیا اب کوئی ظلم کی حد رہ گئی ہے۔ مگر یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ یہ تو بات ہی کچھ نہیں ہمارا پرمیشور بھی اسی طرح کرتا ہے کہ گناہ تو بتاتا ہی نہیں اور جھٹ ایک شخص کو پکڑ کر کتا بنا دیتا ہے تو دوسرے کو بندر۔ اگر ان کی فطرت سے یہ بات باہر ہے کہ بغیر خطا کے بتائے کے سزا دی جائے اور یا اس کو گناہ سمجھتے ہیں تو سب سے پہلے تو انہیں پرمیشور کے مقابلہ میں اجیٹیشن (Agitation) کرنا چاہئے تھا اور جوش کی نمائش کرنی چاہئے تھی کیونکہ جب وہ ذرا سی سزا برداشت نہیں کر سکتے تو بڑی سزا کس طرح برداشت کریں گے۔
اب میں اس مسئلہ کو ختم کرتا ہوں اور ناظرین کو یہ بتائے دیتا ہوں کہ اگرچہ میں نے اتمام حجت
کے لئے یہ جواب لکھ دیئے ہیں مگر اصل میں ان کی کوئی اتنی بڑی ضرورت بھی نہ تھی کیونکہ اہل ہنود کے پاس تناسخ کی کوئی دلیل نہیں ہے اور پرمیشور نے بتایا نہیں کہ فلاں فلاں گناہ کے بدلے فلاں جون بھگتنی پڑے گی۔ ان کے نبیوں نے بھی ظاہر نہیں کیا کہ ہم پہلے فلاں جون میں تھے اور اب فلاں جونیں بھگتیں گے پھر عقل سلیم باور نہیں کرتی۔ اب ان کا صرف دعویٰ ہی دعویٰ رہ جاتا ہے کہ انسان تناسخ کے پھیر میں آکر جونیں بھگتے گا۔ ہم کہتے ہیں کہ نہیں بھگتے گا ان کے پاس دلیل کیا ہے اگر انکا دعویٰ یہ ہے کہ ایسا ہو گا تو ہمارا دعویٰ ہے کہ نہیں ہو گا۔ اگر ان کے پاس دلیل کوئی نہیں تو ہمارے پاس نہ ہونے کی دلیلیں ہیں۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر آئے ہیں۔ ہم نے اس مضمون میں بڑی بڑی باتیں غلط ثابت کر کے دکھائی ہیں☆ اور اب صاف ظاہر ہے کہ ہندوؤں کا خدا تو اس قابل نہیں کہ ہم اس سے محبت کر سکیں کیونکہ نہ ہماری پکار کا جواب دیتا ہے نہ ہم پر رحم کرتا ہے اور باوجود اس سے محبت کرنے کے وہ الٹا ہم کو تناسخ کے لایعنی پھیر میں ڈالتا ہے۔
اب ہم آریہ مت کو لیتے ہیں۔ یہ ایک نیا فرقہ ہنود میں نکلا ہے مگر اپنا بہت سا پہلو بدل کر دنیا کے سامنے پیش ہوا ہے اس فرقے پر نظر ڈالنے سے پہلے ہم اتنا کہہ دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس کے متعلق کچھ لکھنا نہیں چاہتے تھے کیونکہ اس فرقے کے بانی اور اس کے چیلوں نے جو نمونہ دنیا کو دکھایا ہے وہ سخت ہی قابل مذمت ہے اس فرقے کا ظہور چالیس پچاس برس کے اندر کا ہی ہے اور اس قلیل عرصہ میں بھی اس کے پیروان نے جس قدر لوگوں کا دل دکھایا ہے اس کے بیان کرنے کی کوئی حاجت نہیں یہ جب بات شروع کرتے ہیں تو پہلے اس کو گالیوں سے مزین کر لیتے ہیں۔ لڑائی جھگڑا اور فساد ان کے وعظوں میں اکثر ہوتا ہے کوئی بزرگ دنیا میں نہیں گزرا ہو گا کہ جس کی توہین نہ کی ہو ۔ آدمؑ کو گالیاں حضرت ابراہیمؑ کو تبرے ،موسیٰؑ کی توہین ،عیسیٰؑ کی مذمت ، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کہ جن کے اخلاق کا نمونہ کسی نے دکھایا نہ دکھا سکتا ہے ان سے دشمنی کرنا ان کے نزدیک عین ثواب کا کام ہے اور نیکی کا جزو اعظم ہے اور پھر یہی نہیں باوا نانک صاحبؒ کہ جن کو تمام مذاہب والے نیک کہتے ہیں اور ان کو عزت کی نظر سے دیکھتے ہیں ان کی نسبت بھی سخت وست الفاظ یہ لوگ زبان پر لاتے ہیں مگر اس بات کے جواب میں یہ لوگ تہذیب کو بالائے طاق رکھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اپنے مخالفین کو گالیاں کیوں نہ دیں جبکہ ہمارا ایمان ہے
کہ وہ ایسے ہی ہیں مگر اس بات کا معلوم نہیں کیا جواب دیں گے کہ کرشن ؑاور رام چندر جی بیچاروں نے کیا قصور کیا تھا کہ یہ لگے ان کو بھی برا بھلا کہنے اور اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو گالیاں دینے سے کام ہے خواہ کوئی سامنے ہو۔ جب دیکھا کہ فلاں بزرگ کی بات ہمارے خیال کے برخلاف ہے تو پیٹ بھر کے گالیاں سنادیں اور دوسرے لوگ تو خیر مخالف ہی تھے اپنے باپ دادوں کو بھی خالی نہیں چھوڑا جن کی بہت سی باتوں پر یہ اب بھی عمل کرتے ہیں اور ان کی بیویاں تو تمام کمال انہیں رسومات کی پابند ہیں جو پرانے زمانے سے چلی آتی ہیں۔ پھر جبکہ گھر میں زور نہیں چلتا تو باہر دنیا پر کس طرح چل سکتا ہے۔ یہی باتیں تھیں کہ جن کی وجہ سے ہم نے خیال کیا کہ ایسے لوگوں سے کلام کرنا اور ان کی نسبت کچھ لکھنا گویا ان کو عزت دینا ہے اور اپنے بزرگوں کی نسبت گالیاں سننا ہے مگر اس لئے کچھ لکھنا ضروری سمجھا کہ ان کا فتنہ روز بروز بڑھتا ہی جاتا ہے اور جیسا کہ چراغ بجھنے کے وقت ایک تیز روشنی دیکر گل ہو جاتا ہے۔ یا ایک مرنے والا انسان مرتے وقت باوجود سخت بیمار ہونے کے کچھ دیر کے لئے بالکل تندرست ہو جاتا ہے اور اس میں غیر معمولی قوت اور طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور نادان آدمی سمجھتے ہیں کہ اب یہ اچھا ہو گیا حالانکہ حکیم کی نظر میں یہ اس کی موت کی نشانی ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ لوگ جبکہ ویدک مذہب کی زیست کے دن ختم ہو گئے تو آریہ مت کی شکل میں ایک دفعہ چمکے ہیں۔ یا ایک انسان کو مرتے وقت جو افاقہ ہو جاتا ہے اس کی طرح ہنود میں بھی افاقۃ الموت کی طرح یہ لوگ پیدا ہو گئے۔ اور نادان لوگ ان کی تیزی اور طراری سے خائف ہو گئے ہیں کہ کیا در حقیقت ان میں کوئی روحانیت ہے جس کی وجہ سے ان میں اس قدر جوش و خروش ہے۔ مگر یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ یہ ٹمٹماتا ہوا چراغ یا مرتا ہوا انسان ہے کہ جو جلد ہی اس دنیا سے نابود ہو جائے گا ان کی حالت ظاہر کرتی ہے کہ جلدی ہی کچھ تو ان میں سے دہریہ ہو جائیں گے اور کچھ مسلمان۔ انہوں نے اپنے پرانے مذہب کو چھوڑ کر گویا کہ ایک قدم ترقی کی طرف بڑھایا ہے مگر اس قدم بڑھانے میں کچھ ایسی غلطی کی ہے اور وہ ٹھوکر کھائی ہے کہ کہیں کے کہیں جا پڑے ہیں۔ اس فرقہ نے ہنود میں ایک بڑی اصلاح کی ہے کہ بت پرستی کو ترک کر دیا ہے مگر ساتھ ہی ایک ایسی خوفناک غلطی کر بیٹھے ہیں کہ اس پر غور کرنے سے بدن کانپ اٹھتا ہے یعنی ان کا عقیدہ ہے کہ روح اور مادہ ایسے ہی ازلی ہیں جیسے کہ خدا اور یہ مخلوقات نہیں بلکہ خود بخود ہیں۔ اس پر بڑا اعتراض ہوتا ہے کہ پھر خدا خدا کیوں ہے۔ روح اور مادہ تو پہلے سے موجود ہیں تو پھر خدا کی ضرورت کیا رہی اور خدا سے ہمارے تعلقات کیونکر رہ سکتے ہیں وہ محبت کا تعلق جو کہ انسان کو خدا سے ہے وہ تو اسی صورت میں ہے جبکہ انسان اس کی مخلوق ہے اور جبکہ وہ خدا کے بے پایاں رحم اپنے پر دیکھتا ہے مگر جبکہ رحم تو خدا نہیں کر سکتا کیونکہ جونوں کے چکر سے انسان کو وہ چھوڑ ہی نہیں سکتا۔ اور خالقیت کا بھی کوئی تعلق نہیں تو پھر انسان اس سے محبت کیونکر کر سکتا ہے اور جبکہ خدا سے محبت کرنے کا کوئی مادہ موجود نہیں تو یہ محبت کہاں سے آگئی اور انسانی دل میں محبت کرنے کا پرمیشور کو خیال کیونکر آیا جبکہ وہ جانتا تھا کہ انسان کی محبت مجھ سے ہونا ناممکن ہے اور پھر یہ کہ انسان کے پیدا کرنے کی غرض کیا تھی؟ اس کی صفات تو اس بات کی مقتضی ہے ہی نہیں کیونکہ نہ وہ رحمان ہے کہ اس کی صفتِ رحمانی چاہتی تھی کہ کوئی مخلوق ہو اور میں اس پر اس کے کسی کام کے لئے احسان کروں اور نہ وہ رحیم ہے۔ کیونکہ جب وہ جونوں کے چکر میں انسان کو سرگردان کرتا ہے اور اتفاقاً انسان کبھی گناہوں سے پاک ہو کر (اگرچہ یہ ناممکن ہے جیسا کہ ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں) پرکاش کی سیر کا مستحق ہوتا ہے یا دوسرے الفاظ میں نجات کے قابل ہو جاتا ہے تو پرمیشور آریوں کے خیال کے مطابق ایک گناہ اس کا رکھ چھوڑتا ہے تاکہ یہ میرے پھندے میں سے نکل نہ جائے اور اس بات کا ہونا ایک رحیم انسان سے بھی بعید ہے۔ چہ جائیکہ رحیم خدا ایسا کرے پس معلوم ہوا کہ خدا رحیم بھی نہیں اور دوسرے یہ بھی نہیں کہ اس کی صفتِ خالقی اس کو انسان کے پیدا کرنے پر مجبور کرے اس موقعہ پر مخالف یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کی جوڑنے جوڑنے والی طاقت اس کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ ایسی مخلوق پیدا کرے اول تو وہ خود ہی شرمندہ ہو گا بشرطیکہ کچھ بھی حیاء رکھتا ہو کیونکہ خدا تعالیٰ سے یہ بہت ہی بعید ہے کہ صرف جوڑنے جاڑنے کی طاقت رکھتا ہو اور اس کے علاوہ بالکل ناطاقت اور بے اختیار ہو اور دوسرے یہ بات نہ صرف سائنس دان یا علم طبعی کے جاننے والے ہی مانتے ہیں کہ ہر ایک چیز میں ایک کشش اتصال ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ دوسرے حصے یا دوسری چیز کو کھینچتی ہے۔ بلکہ خود آریہ صاحبان بھی اس کے قائل ہیں اور اس پر یقین رکھتے ہیں۔ پس اس طرح اس جوڑنے کی طاقت کا بھی ابطال ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جب مادہ میں خود ہی جڑنے کا مادہ تھا تو خدا کو یا پرمیشور کو بیچ میں دخل دینے کی کیا حاجت ہوئی۔ مادہ نے تو خود بخود جڑنا ہی تھا اور مختلف صورتیں اختیار کرنی ہی تھیں پھر پرمیشور کا کیا تعلق اور پھر مادہ ازل سے موجود تھا اور خدا نے اس کو نہیں بنایا تھا تو اس میں ایک طاقت تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ پر قائم تھا اور خدا تعالیٰ کے اس پر قبضہ کرنے کے وقت ایک جنگ کی ضرورت تھی۔ کیونکہ جبکہ ایک طاقت والی چیز دوسری پر قبضہ کرنا چاہتی ہے تو بغیر مزاحمت یا جھگڑے کے نہیں کر سکتی جیسا کہ ایک قوی آدمی پر جب بیماری کا حملہ ہوتا ہے تو اس کی طاقت اور بیماری میں ایک سخت جنگ ہوتی ہے اور اس کے بعد جس کا غلبہ ہوتا ہے وہی انسانی مزاج پر حاوی ہو جاتی ہے۔ پس اسی طرح خدا اور مادہ میں ایک جنگ ہونی چاہئے تھی اب اگر یہ جنگ نہیں ہوئی تو مادہ اور روح ازلی نہیں ہو سکتے۔ اور اگر ہوئی ہے تو علاوہ اس کے کہ خدا کی طاقتوں اور صفتوں پر ایک سخت دھبہ آتا ہے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک معین وقت ہے۔ کیونکہ جنگ کا ہونا اور پھر ایک کا دوسرے پر غلبہ پانا بھی ایک وقت چاہتا ہے۔ اور اس کے بعد پرمیشور کا جوڑنے جاڑنے کا کام کرنا ایک وقت محدود ہو جاتا ہے جو کہ خود آریہ کے عقیدہ کے برخلاف ہے اور درحقیقت بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ دہریت کا پیش خیمہ کھڑا کیا ہے ورنہ آریہ مت کوئی مذہب نہیں کیونکہ جب خدا بھی ازلی ہوا۔ پھر روح بھی ازلی ہوئی اور مادہ بھی ازلی ہوا۔ اور ان میں اتصال کی طاقت بھی ہے تو باقی خدا کا کام کیا رہ گیا۔ اور یہ اس بات کی پکی دلیل ہے کہ آریوں نے اپنے پرانے مذہب کو تباہ کرنے کے لئے ایک قدم ترقی کی ہے اور انہوں نے خیال کیا کہ اگر شروع میں ہی دہریت ظاہر کی تو ہندو پیچھے پڑ جائیں گے اور بنا بنایا کام بگڑ جائے گا پس اس صورت سے قدم بڑھانے چاہئیں کہ ہندوؤں کو خبر نہ ہو اور کام بھی ہو جائے اور اس بات کے ثابت کرنے کے لئے مجھے کوئی بڑی دلیل دینے کی ضرورت نہیں بلکہ خود یہ مسئلہ بھی میرے دعویٰ کی تائید کرتا ہے کہ خدا مادہ اور روح تینوں ازلی ہیں اب خدا کا کام تو صرف اتنا رہ گیا کہ ان کو جوڑ دے مگر ساتھ ہی پھر ان میں بھی جڑنے کی طاقت ہے اب صرف ان کو ایک قدم اور چلنا ہو گا اور پھر یہ دہریوں میں جائیں گے۔ وہ یہ کہ خدا نے جوڑا بھی نہیں بلکہ خود بخود یہ چیزیں جڑ گئیں کیونکہ ان میں قوتِ اتصال خود ہی تھی۔ اور اب بھی یہ کوئی مذہب نہیں رکھتے بلکہ صرف قومیت کے لئے انہوں نے ایک مذہب بنا رکھا ہے۔ ورنہ ان کے خیالوں میں جو کچھ ہے وہ صرف یہ چند روزہ دنیاوی ترقی ہے اور اس کے بعد ان کا کوئی عقیدہ نہیں کہ کوئی دوزخ یا بہشت ہے دوزخ تو انہوں نے تناسخ کے پھیر کا نام رکھا ہے اور بہشت وہ جب اس پھیرے سے نجات ملے☆مگر خود ان کا ایک عقیدہ ہی تناسخ کا رد کرتا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تناسخ اور پرکاش کا عقیدہ صرف زبانی باتیں ہیں ورنہ دل سے یہ اس بات کے قائل نہیں وہ عقیدہ یہ ہے کہ فلاں فلاں رات کو عورت سے صحبت کرنے سے لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں اور فلاں فلاں میں لڑکے۔ اول تو یہ عقیدہ بذاتِ خود غلط اور عقل سے بعید ہے کیونکہ اگر یہ سچ ہو تا تو کم سے کم آریوں کے ہاں لڑکوں کی وہ کثرت ہوتی کہ دنیا دنگ رہ جاتی مگر ہم ایسا نہیں دیکھتے ہیں بلکہ خود پنڈت لیکھرام کے ہاں جو کہ ان کا ایک گرو گھنٹال گزرا ہے کوئی اولاد نہیں ہوئی اور اس وقت ان کے کئی بڑے بڑے لیڈروں کے ہاں نرینہ اولاد نہیں غرض کہ یہ عقیدہ عملی طور سے بالکل غلط ثابت ہوا ہے اور پھر ایک اور بات اس کو غلط ثابت کرتی ہے اور اس کے بیان کرنے سے پہلے ہم کو افسوس سے یہ کہنا پڑے گا کہ؎ دروغ گور احافظہ نباشد
اور وہ یہ ہے کہ جب پنڈت دیانند نے جو کہ ان کے مذہب کا بانی ہے تاریخیں مقرر کر دی ہیں کہ فلاں میں لڑکے اور فلاں میں لڑکیاں پیدا ہوں گی تو پھر اس بات کے کہنے کی کیا ضرورت پیش آئی کہ نیوگ میں گیارہ لڑکے ہی شمار ہوں گے اور لڑکیاں اس شمار میں نہیں ہوں گی جبکہ لڑکے پیدا کرنا اپنے اختیار میں ہے تو پھر لڑکیوں کا کیا ذکر۔ وہ مرد جس کے اولاد نہیں ہوتی وہ خود دیکھ لے گا کہ فلاں رات لڑکا پیدا کرنے کی ہے وہ اسی دن نیوگی خاوند کو بلائے گا اصلی بات وہی ہے جو کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں کہ پنڈت دیانند کو وہ قاعدہ بھول گیا جو کہ وہ لڑکے اور لڑکیاں پیدا کرنے کی نسبت باندھ آئے تھے اور نیوگ کا ذکر کرتے ہوئے انہیں فکر ہوئی کہ اگر لڑکیاں ہی پیدا ہوں تو پھر کیا ہو گا خاوند کی سب محنت رائیگاں ہوئی اور بیوی بھی ہاتھ سے جائے گی اس لئے انہوں نے قاعدہ بنایا کہ شرط یہ ہے کہ نیوگی اولاد نرینہ ہو مگر اس طرح خود انہوں نے اس قاعدہ کو توڑ دیا جو کہ اولاد حاصل کرنے کے لئے باندھا تھا مگر اس وقت ہمارا مدعا اور تھا یہ قاعدہ بذات خود تو غلط ثابت ہو ہی گیا ہے اس لئے ہم اصل بات کی طرف لوٹتے ہیں اور وہ یہ کہ آریوں کا عقیدہ ایسا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں پیدا کرنا اپنا اختیار ہے پس جبکہ ایسا ہے تو تناسخ غلط ٹھہرتا ہے کیونکہ ایک انسان جس نے پچھلے جنم میں ایسے کام کئے تھے کہ جن کی وجہ سے اس کے لڑکے نہیں ہوئے تھے وہ اس قاعدہ پر چل کر نرینہ اولاد حاصل کر سکتا ہے پس اس سے تناسخ باطل ہو جاتا ہے تناسخ تو تب صحیح تھا کہ انسان لڑکے لڑکیاں خود نہ پیدا کر سکے اور جیسے عمل کئے ہیں ویسی سزا یا بدلہ پائے مگر اس صورت میں بدلہ نہیں رہتا بلکہ انسان کا اپنا اختیار ہو جاتا ہے اور اس طرح تناسخ رد ہو جاتا ہے پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک غریب آدمی کے لڑکے ہونے تھے اور ایک امیر کے لڑکیاں اور یہ اس لئے کہ انہوں نے پچھلے جنم اس کے مطابق کام کئے تھے مگر امیر تو دیانند کے قواعد کے مطابق لڑکے حاصل کرتا ہے اور غریب کے لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں حالانکہ وہ لڑکے تو بوجہ اس غریب کے پچھلے جنم کے کاموں کے اس کے ہاں پیدا ہونے تھے اور خود وہ لڑکے جو کہ امیر کے ہاں جا کر پیدا ہو گئے ان کے اعمال تو ایسے تھے کہ وہ اس غریب کے ہاں پیدا ہو کر فاقوں سے عمر گزارتے انہوں نے اعمال ہی ایسے کئے تھے کہ ان کو یہ سزا دی جاتی ہے اب جو وہ امیر کے گھر پیدا ہو گئے تو کس کام کے بدلہ میں ہوئے جبکہ مسئلہ تناسخ مجبور کر رہا ہے کہ وہ ایک غریب کے ہاں پیدا ہوں ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس عقیدہ سے جو کہ خود آریوں کا عقیدہ ہے تناسخ کی جڑ کٹ جاتی ہے یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ لڑکے لڑکیاں اعمال کے مطابق ہیں اپنے اختیار میں نہیں یا تناسخ کے عقیدہ کو باطل قرار دیا جائے گا اور ان دونوں صورتوں میں آریہ مت کا ابطال ہوتا ہے یہ دلیل ایسی قاطع ہے کہ ضد اور ہٹ سے اگر کام نہ لیا جائے تو آریوں پر ایک بڑا سخت حربہ ہے ہاں اگر آریہ صاحبان اپنی جبلی عادت کو کام میں لا کر پھر بھی گالیوں پر اتر آئیں اور ہماری اس دلیل کو غور سے نہ دیکھیں نہ سمجھیں تو اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہم مسلمانوں کی طرف سے کافی دلائل اس بات کے ثبوت کے لئے دیئے گئے ہیں کہ آریہ مت کو قبول کر کے ایسے پرمیشور سے معاملہ نہیں پڑتا جس سے کہ محبت کی جا سکے بلکہ سراسر اس کے برخلاف ہے میں انتظار کرتا ہوں کہ اس اعتراض کے ہوتے ہوئے آریہ صاحبان تناسخ کی سچائی کی کیا دلیل دیتے ہیں اگرچہ یہ لازمی امر ہے کہ وہ کوئی جواب گھڑ تو ضرور لیں گے اور اس شد و مد سے اس کو بیان کریں گے گویا سچائی اور حق ان کے دلوں میں بھرا ہوا ہے۔
اب میں اصل مطلب کی طرف لوٹتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تناسخ خود ان کے عقیدہ کے مطابق غلط ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا عقیدہ تناسخ کی نسبت زبانی ہی ہے ورنہ یہ اصل میں موت کے بعد کوئی اور عالم مانتے ہی نہیں اور دہریت کی طرف بڑی تیزی سے قدم مار رہے ہیں یا بالفاظ دیگر دہریہ ہی ہیں۔ اور ان کے اس عقیدہ سے مادہ اور روح ازلی ہیں خدا کے علم میں بھی فرق آتا ہے کیونکہ جس چیز کو اس نے پیدا ہی نہیں کیا ان کی خاصیتوں اور ماہیتوں کا اس کو علم کیونکر ہوا وہ تو ازلی ابدی ہیں جیسا کہ پرمیشور ہے اور پرمیشور نے اس کو پیدا ہی نہیں کیا تو کیونکر ان کے مخفی در مخفی رازوں سے واقف ہو گیا یا کم سے کم اس کو ایک مدت تجربات کرنے میں لگی ہوگی کہ وہ مادہ اور روح کی اصل حقیقت معلوم کرے جو کہ پرمیشور پر ایک بدنما دھبہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پرمیشور پر افتراء کیا گیا ہے
دوسری بات ان کے اعتقاد کی یہ ہے کہ خدا جب دیکھتا ہے کہ تناسخ سے ایک آدمی نجات حاصل کرنے لگا ہے اور قریب ہے کہ وہ اس پھیرے سے بالکل بچ جائے تو وہ اس کو پرکاش میں جگہ دیتا ہے جہاں کہ وہ کچھ مدت آرام سے گزارتا ہے اور پھر ایک گناہ کے بدلہ میں جو کہ خدا نے نجات دیتے وقت رکھ چھوڑا تھا یعنی اس گناہ کی سزا ابھی اس کو نہیں دی تھی اس کو تناسخ کے چکر میں ڈال دیا جاتا ہے اس موقع پر طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ایسا کیا جاتا ہے جبکہ اس کا صرف ایک گناہ رہ گیا تھا اور وہ نجات کے کنارے پر کھڑا تھا اور قریب تھا کہ اس دریا میں ہمیشہ کیلئے غوطہ مارے اور دائمی تکالیف سے بچ جائے کہ پرمیشور نے اس کو ایک غوطہ دیا اور باہر کھڑا کر دیا کہ جا پھر تکالیف کے سمندر میں تیر۔ کیا یہ ظلم نہیں؟ کیا یہ صریح زیادتی نہیں اور پھر ایک ایسی چیز پر جس کا قدامت اور ابدیت میں ایسا ہی دعویٰ ہے جیسا کہ پرمیشور کا۔ پھر جو اس کی مخلوق نہیں اور پھر وہ جو کہ پرمیشور کی کوئی ضرورت نہیں رکھتی اگر پرمیشور نہ بھی ہو تو وہ خود بخود جڑ سکتی ہے اور مختلف شکلوں میں تبدیل ہو سکتی ہے اور پھر یہی نہیں کہ اس طرح مادہ اور روح کو نجات حاصل کرنے سے روکا گیا ہے بلکہ نجات کے دوسرے قواعد بھی ایسے سخت اور کڑے مقرر کئے گئے ہیں کہ نجات ناممکن ہے۔ کیونکہ ہر ایک جیوہتیا پر جون کا چکر لگانا پڑتا ہے اور پانی جو کہ انسانی ضروریات سے مقرر کیا گیا ہے اس کے ہر قطرے میں ہزاروں کیڑے ہوتے ہیں اور ہوا میں کیڑے ہوتے ہیں اور پھر یہ ہی نہیں بلکہ پنڈت دیانند کے مقرر کردہ قواعد کے رو سے ہر ایک چیز میں روح ہوتی ہے یہاں تک کہ پودوں اور درختوں میں بھی ہوتی ہے تو اس صورت میں جو چیز انسان کھائے گا وہ جاندار ہو گی اور اس کا کھانا جیوہتیا ہو گا اور جو شخص ایک بھی سانس لے بوجہ ان جرموں کی ہتیا کے جو کہ ہوا میں ہوتے ہیں سینکڑوں جونیں بھگتے گا۔ پس نجات ناممکن ہے اور خود پنڈت دیانند کو معلوم نہیں اتنے کیڑوں اور جانداروں کو ہلاک کرنے کی وجہ سے جو کہ وہ اپنی زندگی میں کرتے رہے کن کن جونوں میں جنم لینا پڑے گا۔ چونکہ ہندوؤں کے بیان میں کافی طور سے تناسخ کا ردّ ہو چکا ہے اس لئے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں اور اب ہم عملی حصے کو دیکھتے ہیں کہ کیا وہ ایسا حصہ ہے جو کہ انسانی فطرت کے مطابق ہے یا نہیں۔ سو پہلے تو ان کے طرزِ معاشرت پر نظر ڈالنے سے ہم کو نیوگ کا ایسا خوفناک مسئلہ نظر آتا ہے جس پر عمل کرنا ایک شریف آدمی کا کام نہیں۔ یہاں تک کہ خود آریہ صاحبان بھی اس سے کچھ پرہیز ہی کرتے ہیں ہاں بعض بعض حد سے بڑھے ہوئے اس کو بھی ایک خوبی ہی سمجھتے ہیں مگر یہ شاذ و نادر ہی ہیں اور شاذ کا عام میں دخل نہیں اس لئے ہم یہی کہیں گے کہ عام آریہ اس مسئلہ کے بر خلاف ہیں۔ پھر جبکہ وہ خود اس پر عمل نہیں کرتے تو دوسرے مذاہب والے تو خواہ مخواہ اس سے نفرت ہی کریں گے۔ شاید بعض ناظرین اس مسئلہ کی حقیقت سے ناواقف ہوں اس لئے ہم ان کے علم کے لئے اس کی تشریح کر دیتے ہیں نیوگ آریہ سماج کا ایک مسئلہ ہے جس کی رو سے وہ مرد جس کے ہاں اولاد نہ ہوتی ہو دو یا تین سال تک انتظار کر کے اپنی بیوی کو اولاد کی خاطر ایک اور مرد سے ہم بستر کرواتا ہے اور ایسے مرد سے جو اولاد ہوتی ہے وہ بانٹ لی جاتی ہے اور اس طریقہ سے گیارہ لڑکوں تک حاصل کئے جاسکتے ہیں اور یہ کام ایک ہی مرد سے نہیں ہونا چاہئے بلکہ پانچ چھ آدمیوں کے ذریعہ یہ تعداد پوری کروانی چاہئے اور پھر اس عرصہ میں جبکہ ایک مرد دوسرے کی بیوی سے نیوگ کر رہا ہو اس بیوی والے شخص کو چاہئے کہ عمدہ عمدہ غذاؤں سے نیوگ کرنے والے شخص کو تازہ کرے اور ہر طرح کی آسائش کے سامان اس کے لئے مہیا کرے۔ اب دیکھنا چاہئے کہ اس عقیدہ پر اگر عمل کیا جائے تو دنیا میں کیسی خوفناک تباہی آنے کا اندیشہ ہے بلکہ یقین ہے کیونکہ اول تو عورتیں خلقی طور پر با حیا اور شرمیلی بنائی گئی ہیں جب ان کو ایسے کام کے لئے کہا جائے گا تو ممکنات سے بعید نہیں کہ ان میں سے بعض بلکہ اکثر خود کشی کر کے مرجائیں جیسا کہ دنیا میں اس قسم کے موقعوں پر ہمیشہ ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں اور پھر اگر وہ مان بھی لیں تو آئے دن کے طعن و تشنیع سے وہ ایک مہینہ بھی زندہ نہیں رہ سکیں گی جب ایک عورت کا خاوند مر جاتا ہے اور وہ دوسرا خاوند کرتی ہے تو اس وقت بھی عورتیں اس کو طعنے دیتی ہیں تو وہ جب ایک مرد کے زندہ ہوتے ہی اور کسی مرد سے صحبت کرے گی تو کیا کچھ اس پر اعتراض نہ آئے گا وہ خود اپنے دل میں کیسی شرمندہ ہوگی اور اپنے رشتہ داروں عزیزوں میں کس منہ سے بیٹھے گی درحقیقت آریہ سماج نے زنا کاری کا دروازہ کھول دیا ہے۔ کنچنیاں جو کہ بازاروں میں بیٹھ کر اپنے پیٹ پالنے کے لئے زنا کرواتی ہیں ان بیچاریوں کا پھر کیا قصور رہ گیا کہ ان کو برا کہا جائے اگر نیوگ درحقیقت جائز ہے تو ان کا کام کچھ اچھا ہی ہے کیونکہ وہ روزی کمانے کے واسطے ایسا کرتی ہیں اور اپنی عصمت کے بدلے کچھ پیسے لیتی ہیں اور اس طرح اپنی آخری زندگی کو تباہ کر کے اس دنیا کی زندگی کے لئے کچھ سامان مہیا کرتی ہیں۔ مگر نیوگ کرانے والی عورت تو نہ صرف اپنی پچھلی یعنی بعد از موت کی زندگی کو تباہ کرتی ہے۔ بلکہ اس دنیا کا سامان بھی ضائع کرتی ہے کیونکہ حکم ہے کہ نیوگی مرد کو خوب کھلاؤ پلاؤ اور اس طرح اسے نیوگ کیلئے تازہ کرو۔ اب آریہ صاحبان خود مقابلہ کرلیں کہ ایک عورت تو دین ضائع کر کے دنیا کماتی ہے اور دوسری دین و دنیا ضائع کر کے سوائے ندامت اور رسوائی کے کچھ بھی حاصل نہیں کرتی ان دونوں میں سے کون سی مقابلہ ً دوسری کے فائدہ میں ہے۔ پھر یہ دیکھنا چاہئے کہ مرد کی غیرت کس طرح قبول کرے گی کہ اپنے ہوتے ہوئے وہ اپنی بیوی کو دوسرے مرد سے ہم بستر کروائے اور پھر ساتھ ہی اس کی خاطر بھی کرے۔ اس زمانہ میں کئی ایسے واقعات پیش آئے ہیں کہ
ایک مرد نے اپنی بیوی کو دوسرے سے بے حجاب باتیں کرتے ہوئے دیکھ کر ہی اس کو قتل کردیا اور جبکہ اتنی بات ہی انسان کی غیرت برداشت نہیں کرسکتی تو زنا کی حالت دیکھ کر وہ کب برداشت کر سکے گا۔ اور اسی حالت کو دیکھ کر ہماری مہربان گورنمنٹ نے بھی ایسے موقعوں کے لئے کچھ رعایت کر دی ہے اور ایسا آدمی جو کہ غیرت میں آکر کوئی خون کر بیٹھتا ہے اس کے لئے سزا میں بھی کچھ نرمی رکھی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی فطرت ہی ایسی واقع ہوئی ہے کہ ایسے موقع پر ایک قدرتی جوش پیدا ہو جاتا ہے اور انسان کبھی برداشت ہی نہیں کرسکتا کہ اس کی بیوی اور مرد سے ہم بستر ہو۔ ایک عرصہ ہوا کہ ایک مقدمہ اس قسم کا پیش ہوا تھا جس میں ایک شخص پر اس لئے کاروائی چلائی گئی تھی کہ اس نے اپنی بیوی کو زنا کی حالت میں دیکھ کر قتل کر دیا تھا اور ماتحت عدالت نے اس کو سخت سزا کا حکم دیا مگر اپیل ہونے پر جج نے فیصلہ دیا کہ درحقیقت یہ ایسا موقع ہوتا ہے کہ انسان غصہ کو برداشت نہیں کرسکتا میں اس کے لئے یہ سزا مناسب نہیں سمجھتا بلکہ اگر وہ عورت پہلی ضرب میں مرجاتی تو میں اس کو سزا قریباً نہ ہی دیتا مگر چونکہ کئی ضربات سے عورت مری ہے اس لئے میں کچھ سزا اس کو دیتا ہوں۔ اب دیکھنا چاہئے کہ انسانی فطرت اس عقیدہ کے برخلاف ہے جیسا کہ گورنمنٹ کے قانون سے اور روز مرہ کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے اور خود آریہ مت کے پیروان بھی اس نیوگ کے عقیدہ پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو پھر یہ عقیدہ عملی رنگ میں لانے کے لئے نہ معلوم پنڈت دیانند نے کیوں پیش کیا شاید اس میں کوئی خاص غرض ہو جس کو ہم نہ سمجھ سکتے ہوں ورنہ اور کوئی بات تو نظر نہیں آتی۔
اور جب مخلوقات عالم پر نظر کرتے ہیں تو سراسر اس عقیدہ کے برخلاف نظر آتا ہے انسانی فطرت اس کو برداشت نہیں کر سکتی عقل اس کو نہیں سمجھ سکتی اور یہاں تک کہ جانور تک اس کو پسند نہیں کرتے کیونکہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک مرغا کچھ مرغیوں میں پھر رہا ہوتا ہے اس وقت اگر کوئی اور مرغان میں آکر داخل ہو جائے تو خواہ وہ کمزور ہی کیوں نہ ہو اس پر حملہ آور ہوتا ہے اور اسی طرح کتا بھی جب اس کے سامنے کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے تو دوسرے کتے پر حملہ کرتا ہے۔ پس جب جانور تک اس بات کو برا مناتے ہیں تو انسانی فطرت اس کو کیونکر برداشت کر سکتی ہے یہ مسئلہ ایسا نہیں تھا کہ اس کو دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا اس کو دنیا میں مشتہر کرنے سے آریہ مت نے دنیا پر زناکاری کا دروازہ کھول دیا ہے اور انسانوں کی اخلاقی حالت پر ایک سخت خوفناک حملہ کیا ہے اور چونکہ یہ ایک گندہ مسئلہ ہے اس لئے اس پر زیادہ لکھنا ہم مناسب نہیں سمجھتے اور ان کے ایک اور
عملی عقیدہ کو لیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہر با ایمان آریہ کا فرض ہے کہ وہ مردہ کو جلاتے وقت صندل عود اور کستوری وغیرہ کو کام میں لائے اور یہی نہیں بلکہ ڈیڑھ من روغن زرد بھی جلا کر خاکستر کرے مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ عقیدہ ایسا ہے کہ جس پر عمل ہو سکے یا صرف ستیارتھ پرکاش کے صفحوں کو سیاہ کرنے کے لئے گھڑا گیا ہے۔ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ کتنے آریہ اس پر عمل کر سکتے ہیں یا کرتے ہیں اور غریب آدمی اس پر کس طرح عمل کر سکتا ہے یا آریہ مت کے لحاظ سے غریب آریہ نہیں ہوتا اگر چہ پنڈت دیا نند نے اس کے لئے جو کہ اتنی چیزوں کو مہیا نہ کر سکے قاعدہ تو مقرر کر دیا ہے اور ایک تجویز اس کو ایسی بتائی ہے جس سے وہ کامیاب ہو جائے مگر وہ اصل حکم سے بھی زیادہ مشکل ہے وہ یہ کہ ایسا شخص بھیک مانگے یا گورنمنٹ سے مدد چاہے مگر جب تک کہ وہ غریب جس کے ہاں موت ہو گئی ہے قریباً ڈیڑھ سو روپیہ مختلف شہر و دیار میں پھر کر اور پیسہ پیسہ اور کوڑی کوڑی جمع کر کے لائے گالاش سڑے گی اور خاص کر طاعون کے دنوں میں کہ دہائی ہوا کی وجہ سے دوسری لاشیں بھی جلدی جلدی سڑ جاتی ہیں اور طاعون کے بیمار کی لاش تو چو میں گھنٹہ کے اندر خراب ہو جاتی ہے پھر ایک لمبے عرصہ کی کوشش اور محنت کے بعد جو ایک شخص روپیہ جمع کر کے لایا بھی تو وہ کس کام آئے گالاش تو پہلے ہی خاک ہو جائے گی اور دوسری تجویز جو کہ گورنمنٹ سے مانگنے کی لکھی ہے وہ بھی عجیب ہے کیونکہ اول تو ایک ایک عرضی گورنمنٹ کی خدمت میں دیجاوے کہ مجھے فلاں فلاں چیزیں چا چاہئیں اور پھر وہاں سے منظوری ہو اور پھر روپیہ ملے اس صورت میں بھی لاش سڑ جائے گی اور تعفن اور سڑاندھ کی وجہ سے دو چار اور کو بھی ساتھ لے جائے گی جن کے لئے پھر بھیگ مانگنی یا گورنمنٹ کے پاس امداد کیلئے درخواست کرنی پڑے گی اور دوسرے یہ کہ اگر گورنمنٹ ہر ایک لاش کے لئے دو دو سو روپیہ دینے لگی تو کام چل چکا جبکہ یہی آریہ صاحبان پیچتے اور چلاتے ہیں کہ ٹیکسوں سے رعایا پس گئی ہے تو اس صورت میں نہیں معلوم اور کتنے ٹیکس لگانے پڑیں گے بلکہ پھر بھی خزانہ کو نقصان ہی ہو گا اور اگر ایسا گورنمنٹ منظور بھی کرے اور اس سے نقصان بھی نہ ہو تو کل کو سکھ اٹھیں گے کہ ہمارے مردے کے جلانے کے لئے پانچ سو روپیہ کی حاجت ہے اور پھر سناتن دھرم کہیں گے کہ ہمارے مردے کے جلانے کے لئے ہزار روپیہ کی حاجت ہے اور اس طرح گویا کہ گورنمنٹ کا کام مردہ جلانا ہی رہ جائے گا جو کہ اس کی شان سے بعید ہے اور پھر جنگوں کے موقعہ پر یہ قانون کس طرح چل سکے گا کیونکہ وہاں تو ایک گھنٹہ میں ہزاروں خون ہو جاتے ہیں اگر وہاں کستوری گھی عود اور صندل جلائیں گے تو لڑائی کے دوسرے اخراجات
سے زیادہ تو یہی خرچ پڑ جائے گا اور پھر اس وقت جبکہ سامان وغیرہ کا پہنچانا آگے ہی مشکل ہو جاتا ہے اور عود اور صندل کے طومار بھی جانے شروع ہو گئے تو لڑائی میں فتح پا چکے۔ غرضیکہ یہ ایسا ایک عقیدہ ہے جو عمل میں قطعاً نہیں آ سکتا اور نا معلوم پنڈت دیانند نے ایسا عقیدہ بیان کرنے میں کیا مصلحت سوچی تھی۔
پھر ایک اور حکم ہے کہ چاہئے کہ ایک با ایمان آریہ چار سو سال کی عمر پا کر مرے اور یہ ایک ایسا حکم ہے کہ جس پر خود پنڈت دیانند بھی عمل نہیں کر سکا اور چونکہ پنڈت دیانند نے اس کو ایمان کا معیار مقرر کیا ہے اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ خود ان کی کیا حالت ہو گی کیونکہ انہوں نے ایک پہنچ آریہ کی عمر بھی نہیں پائی جس کی بابت خود انہوں نے لکھا ہے کہ دو سو سال کی ہونی چاہئے۔ پس جس تعلیم پر کہ خود معلم عمل نہ کر سکے اس پر دوسرا کب عمل کر سکتا ہے اور اب تک اگر کوئی اور آریہ اس کا ثبوت دیتا تو ہم مان بھی لیتے کہ در حقیقت ایسا دنیا میں ہوتا ہے مگر جہاں تک تاریخ بتاتی ہے اس وقت تک ہمیں کوئی ایسا آدمی نہیں معلوم ہوتا جس نے آریوں کے اصول پر عمل کر کے چار سو یا کم سے کم دو سو سال کی عمر بھی پائی ہو پس ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوائے زبانی جمع خرچ کے آریوں کے پاس اور کچھ نہیں ہے وہ مسائل جن پر صرف ایمان لانے کی ضرورت ہے مثلاً روح اور مادہ کا خدا کی طرح ازلی ہونا اور تناسخ وہ تو ایسے لغو ہیں کہ دہریہ میں اور آریوں میں کوئی فرق نہیں رہتا اور مسائل جن پر عمل کرنے کا آریوں کو حکم دیا گیا ہے ایسے بودے ہیں اور ان پر عمل کرنا اس قدر مشکل بلکہ ناممکن ہے کہ خود آریہ مت کا بانی اور اس کے چیلے بھی اس پر عمل نہیں کر سکے جیسا کہ نیوگ اور مردہ کے جلانے کے قواعد اور پھر چار سو سال کی عمر کا پانا غرضیکہ یہ مذہب سر سے پیر تک ایسی ہی باتوں سے بھرا ہوا ہے اور نا معلوم ان لوگوں میں باوجود اس قدر نقائص ہونے کے دوسرے مذاہب پر حملہ کرنے کی جرأت کیونکر پیدا ہوئی اور خاص کر اسلام جیسے پاک اور مقدس مذہب پر بے بنیاد تہمتیں لگانے کا خیال ان کے دلوں میں کیونکر سمایا۔ حالانکہ ان کو چاہئے تھا کہ خود اپنے مذہب میں اس قدر نقائص اور غلطیاں دیکھ کر کسی اور مذہب کی طرف رجوع کرتے اور جس طرح ہوتا کوشش اور سعی سے آخر اس بات کو دریافت کر لیتے کہ کونسا مذہب سچا ہے اور اس صورت میں امید قوی تھی کہ خدا تعالیٰ جو کہ رحیم و کریم ہے آخر ان لوگوں کو ہدایت دیتا اور گمراہی سے بچاتا اور اس اندھیرے سے جس میں کہ یہ کھڑے ہوئے سرگردان و پریشان ہو رہے ہیں نکال کر کسی روشن جگہ کھڑا کرتا یا کم سے کم اگر ان لوگوں میں اس قدر ہمت اور دلیری نہ تھی کہ یہ سچا مذہب اختیار کرتے تو خود ہی خاموش بیٹھتے اور بلاوجہ لوگوں کا دل نہ دکھاتے اور بڑے بڑے انبیاء علیہم السلام پر تہمتیں نہ لگاتے اور گالیوں سے باز رہتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا اور شوخی کا پہلو اختیار کیا اور حلم اور انکسار کو چھوڑ دیا غالباً انہوں نے کسی آئندہ حساب کتاب کا گمان نہیں کیا بلکہ سوچا کہ جو کچھ ہے اسی دنیا میں ہے جیسا کہ ہم ثابت کرچکے ہیں کہ ان کے عقیدوں سے پایا جاتا ہے گالیاں دینا اور بزرگوں کو بری طرح یاد کرنا تو ان کے خمیر میں ہے یہاں تک کہ ان کے بعض پرجوش ممبروں نے ایسی کتابیں لکھی ہیں کہ جن سے سوائے حق پوشی اور مسلمانوں کا دل دکھانے کے اور کوئی مطلب نہیں اور ان کتابوں میں ہمارے نبی کریم ﷺ کو ایسے سخت الفاظ سے یاد کیا گیا ہے کہ سن کر بھی دل کباب ہو جاتا اور معاً خیال آتا ہے کہ مہ نور می فشاند و سگ بانگ می زند۔ اور دل میں ایک جوش پیدا ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو دنداں شکن جواب دیا جائے ۔ اور ان کے گندے اور ناقابل عمل عقائد کو خوب کھول کر ان کے سامنے رکھ دیا جائے اور پھر ان سے پوچھا جائے کہ کیا یہ تعلیم ایسی ہے کہ اس پر کوئی شریف آدمی عمل کر سکے؟ مگر پھر خیال آتا ہے کہ اس تعلیم کو اچھی طرح سے کھول کر رکھ دینا بھی ایک سخت مشکل کام ہے اس لئے نہیں کہ وہ ایک مضبوط دیوار میں ہے اور اس پر حملہ کرنا دشوار ہے بلکہ اس لئے کہ وہ اس قدر گندی اور فحش ہے کہ دنیا اس کو حیا کے مارے دیکھ نہیں سکے گی اور شریف آدمی اس کو پڑھ کر غیرت سے کانپ اٹھے گا۔ کہ کیا یہ تعلیم ہے جو کہ آریہ صاحبان دنیا میں پھیلاتے ہیں اور جس کو یہ لوگ عالمگیر اصول قرار دیتے ہیں اس لئے ہم نے دو تین باتیں ان کی بیان کردی ہیں تاکہ یہ خیال نہ کریں کہ ہمارے مذہب کے قلعہ کو کوئی توڑ نہیں سکتا اور خدا کے فضل سے ہم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آریوں کا خدا اس قابل نہیں کہ اس سے کوئی طالب حق محبت کر سکے نہ تو اس نے ہم کو پیدا کیا ہے اور نہ ہم کو مٹا سکتا ہے اور نہ وہ رحیم ہے اور نہ ہی وہ ہم کو نجات دے سکتا ہے پس اس میں کسی قسم کا بھی حسن نہیں جس کی وجہ سے ہم اس سے محبت کریں۔ تعلیم وہ ہے جو کہ نا قابل عملدرآمد ہے عقیدہ وہ ہے کہ انسان جس کو ایک منٹ کیلئے بھی اپنے ذہن میں نہیں رکھ سکتا اور خود اس تعلیم پر چلنے والوں اور ایسا عقیدہ رکھنے والوں کا نمونہ اس قدر برا ہے کہ رہی سہی امید بھی منقطع ہو جاتی ہے۔ اس لئے ہم اسلام پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں کہ کیا یہ مذہب بھی باقی تمام مذہبوں کی طرح انسانی دست برد کے نیچے آچکا ہے یا نہیں اور کیا اس میں بھی ایسی ہی کمزوریاں ہیں جن پر کہ دشمن کے ہاتھ پڑ سکتے ہیں مگر اس سے پہلے کہ میں اسلام کی دوسری باتوں پر نظر ڈالوں اتنا
کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلام نے جو دوسرے مذاہب کی نسبت اپنی رائے بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمام ملکوں اور قوموں کے لئے انہیں کے حالات کے مطابق رسول بھیجے اور ان کو ہدایت کی اور وہ باتیں بتائیں جن سے کہ وہ اس کو یعنی خدا کو پالیں اور یہ کہ خدا کی سنت رہی ہے اور اس نے ہر زمانہ میں انسانوں کے لئے ایک ایسی تعلیم مقرر کی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے عادات و اطوار کو خدا کے منشاء کے مطابق کریں اور جب ایک قوم نے بوجہ کسل سستی اور عیش و آرام کے زیادہ ہو جانے کے خدا تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کی تو اس نے پھر دوبارہ ایسے نبی مقرر کئے جو کہ بندوں کی اصلاح کریں اور ان کو پھر اپنے اصل مقام پر لا کھڑا کریں اور اسلام ہم کو بتاتا ہے کہ کسی قوم پر تب تک عذاب الٰہی نازل نہیں ہوتا جب تک کہ ان میں رسول نہ پیدا کیا جائے جو کہ ان پر خدا کی حجت کو قائم کرے اور جب تک کہ وہ دلائل عقلی نقلی سے اور معجزات اور الہامات الٰہی سے ان پر ان کی غلطیوں کو ثابت نہ کر دے اور خدا سے ملنے کی راہ کو ان پر آشکار نہ کر دے لوگ مستوجب سزا نہیں ہوتے۔
اسلام ہم کو بتاتا ہے کہ مجھ سے پہلے بہت سے اور مذہب گزرے ہیں جو کہ خدا کی طرف سے ہوئے ہیں اور جو مختلف قوموں اور زمانوں کے لئے رہنما تھے اور اسی وجہ سے ہمارا ایمان ہے کہ عیسائی یہود اور ہنود وغیرہ مذاہب اصل میں سچے تھے اور امتداد زمانہ سے مسخ ہو کر ان کی شکلیں بدل گئیں اور یہ قرآن شریف کے شروع ہی میں سورۃ الحمد سے بھی ظاہر ہوتا ہے جیسا کہ ہے اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(1:2) ترجمہ سب تعریفیں ہیں اس کے لئے جو کہ تمام جہانوں کا رب ہے۔ اب دیکھنا چاہئے کہ رب کے کیا معنی ہیں رب کے معنی ہیں وہ ذات جو کہ ایک چھوٹی چیز کو رفتہ رفتہ نشوو نما دے کر بڑا کرے اور یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے کیونکہ وہ ایک نطفہ سے انسان بناتا ہے اور رفتہ رفتہ انسان کی حالت اور عمر کے لحاظ سے سامان مہیا کر کے اس کو ترقی بخشتا ہے یا ایک دانہ کو جب کہ وہ زمین کے اندر پڑا ہوتا ہے اور خطرہ ہوتا ہے کہ انسان کے پیروں تلے کچلا جا کر تباہ نہ ہو جائے یا کسی جانور کی خوراک نہ بنے اگاتا ہے اور جب ذرا سی سبزی دانہ کے باہر نکلتی ہے اس وقت بھی وہ نازک ہوتا ہے اور اس کے ٹوٹنے یا تباہ ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے پس خدا تعالیٰ وہاں سے بھی اس کو بچاتا ہے اور اسکو غذا دے کر اور بھی بڑا کرتا ہے یہاں تک کہ وہ بڑا ہوتے ہوتے آخر خود دانے نکالتا ہے اور کئی بالیں اس میں نکلتی ہیں جن میں کہ سینکڑوں دانے ہوتے ہیں۔ غرضیکہ ہر ایک چیز کی ربوبیت کر کے اور اس کے مناسب حال غذا دے کر خدا تعالیٰ بڑا کرتا ہے اور اسی لئے اس کا نام رب ہے پس اس آیت شریفہ میں ہے کہ سب تعریفیں اس کے لئے جو کہ سب جہانوں کا رب ہے۔ اب ربوبیت کی بھی دو قسمیں ہیں ایک تو ربوبیت جسمانی اور ایک روحانی۔ کیونکہ انسان دو چیزوں سے مرکب ہے ایک نفس ہے جس کو عوام الناس روح کہتے ہیں اور اس لئے روح کے نام سے ہی مشہور ہے لیکن قرآن شریف روح کے معنے کلام کرتا ہے اور دوسری چیز جس سے کہ انسان مرکب ہے وہ جسم ہے پس ان دونوں کے لئے مختلف قسم کی ربوبیت کی ضرورت ہے اور اسی کی طرف اشارہ ہے کہ خداتعالیٰ ہر ایک قسم کی ربوبیت کرتا ہے اور ہر ایک کی کرتا ہے۔ پس اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خداتعالیٰ نے صرف اس موجودہ مذہب اسلام سے ہی دنیا کی ربوبیت نہیں کی بلکہ روحانی ربوبیت اس سے پہلے بھی وہ کرتا رہا ہے اور مختلف قوموں اور ملکوں میں اس کی طرف سے روحانی طبیب مقرر ہوتے رہے ہیں۔ اس جگہ موجودہ مذہب اسلام کا لفظ جو کہ میں نے استعمال کیا ہے اس کے یہ معنے ہیں کہ ایک اسلام تو یہ ہے جو کہ نبی کریم ﷺ کے ذریعہ دنیا پر ظاہر ہوا مگر اس سے پہلے جو مذہب ہوتے رہے ہیں وہ بھی اسلام کے مطابق ہی تھے اور خداتعالیٰ نے ان کا نام بھی اسلام ہی رکھا ہے۔ فرق یہ ہے کہ وہ مکمل نہیں تھے اور موجودہ مذہب اسلام ہر پہلو سے مکمل ہے۔ غرضیکہ ربوبیت تو خدا پہلے بھی کرتا تھا مگر اس وقت یہ فرق تھا کہ وہ خاص فرقوں اور خاص ملکوں اور مقررہ وقتوں کے لئے ہوتی تھی اور وہ قواعد روحانی ربوبیت کے جو کہ خداتعالیٰ نے مقرر کئے تھے وہ ایک مدت کے بعد کچھ تو لوگ بگاڑ دیتے تھے اور کچھ زمانہ کی حالت کی وجہ سے بدلادیئے جاتے تھے۔ اور اسی لئے ہمارا مذہب ہے کہ یہ تمام قومیں جو اس وقت ایسی گمراہی میں پڑ رہی ہیں کسی وقت خدا کے کلام سے مستفیض ہو چکی ہیں اور بوجہ سستی اور غفلت کے جو کہ انہوں نے خدا کے حکم سے ظاہر کی یہ اس سے دور جا پڑیں اور اس درخت کی طرح ہو گئیں جو کہ پانی سے دور ہو اور کچھ عرصہ کے بعد بالکل سوکھ جائے اور یہ کل مذاہب کے بر خلاف عقیدہ ہے یعنی ہندو عیسائی یہود اور آریہ اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ سوائے ان کے کسی اور کو ہدایت ہوئی اور ان کے خیال میں ان کے اپنے بزرگوں کے سوا کسی کو کلام الٰہی سے حصہ نہیں ملا حالانکہ یہ صریح ظلم ہے اور زیادتی ہے کہ ایک کو تو خوب سیر کیا جائے اور دوسرا خواہ بھوک اور پیاس کے مارے تباہ ہو جائے روٹی کے ایک لقمے یا پانی کے ایک گھونٹ سے بھی محروم رکھا جائے اور چونکہ ہم اس کو ہندوؤں اور یہودیوں کے حصے میں اچھی طرح لکھ آئے ہیں اس لئے یہاں لکھنے کی ضرورت نہیں غرضیکہ وہ ظلم جو کہ اور مذاہب نے جائز رکھا ہے اس کو اسلام نے مٹا دیا ہے اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ تمام دنیا میں جہاں کہیں انسانی نسل رہتی ہے خدا نے اپنی طرف رہنمائی کرنے کے لئے سامان مہیا کر دیا ہے اور اپنے بندوں کی کمزوری پر ہر جگہ رحم کیا ہے اور یہ بات عقل کے بر خلاف ہے کہ خدا نے جسمانی ربوبیت کا سامان تو تمام دنیا کے لئے مہیا کر دیا لیکن روحانی ربوبیت کا خیال بالکل ہی نہیں کیا اور سوائے ایک قوم کے سب کو اس سے محروم رکھا اور اسی لئے خدا تعالیٰ اپنے کلام کے شروع ہی میں اس بات کی تردید کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ میں ہر قسم کی ربوبیت ہر جہاں کے لوگوں کی کرتا ہوں اور یہ جو افتراء باندھا گیا ہے کہ میں کسی اور کی ربوبیت نہیں کرتا بلکہ صرف ایک قوم کا ہی متکفل ہوں بالکل غلط ہے بلکہ میں تو تمام جہانوں کا ربوبیت کرنے والا ہوں اب خواہ وہ ربوبیت جسمانی ہو اور خواہ روحانی۔ اس جگہ مخالف ایک اعتراض کر سکتا ہے کہ جب اسلام نے بھی نجات اسلام پر ہی منحصر رکھی ہے تو ربوبیت تمام جہاں کی کہاں گئی مگر اس کا جواب صاف ہے کہ گو خدا تعالیٰ نے آئندہ کے لئے اسلام پر ہی نجات کا دارومدار رکھا ہے مگر پھر بھی یہ اعتراض نہیں پڑ سکتا کیونکہ خدا نے شریعت کا دروازہ بند کیا ہے اور وہ بھی اس لئے کہ شریعت کامل ہو گئی ہے ورنہ الہام الٰہی کا دروازہ تو بالکل کھلا ہے اور جو شخص کہ جائز طریقہ سے اس کا فائدہ اٹھانا چاہے اٹھا سکتا ہے یعنی اسلام میں داخل ہو کر اور نبی کریم ﷺ کی سنت کی اتباع کر کے ایک شخص خدا تعالیٰ سے مکالمہ و مخاطبہ کر سکتا ہے حالانکہ دوسرے مذاہب کا خیال ہے کہ سوائے ان لوگوں کے جو کہ ان کے آباء واجداد تھے اور کسی کو یہ درجہ نصیب نہیں ہوا۔ پس ان میں تو ربوبیت کا دروازہ غیر مذاہب والوں پر بلکہ خود ان پر بھی بند ہے اور اسلام میں یہ دروازہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہے اور اب بھی ہم میں ایک ایسا شخص موجود ہے جس سے کہ خدا کلام کرتا ہے اور اپنی پاک آواز اس کو سناتا ہے اور اس کے سبب سے اور لوگ بھی اس کے غلاموں میں سے ایسے موجود ہیں جو کہ الہام الٰہی سے مستفیض ہیں اور اس کے کلام کی سچائی آتھم کی وجہ سے عیسائیوں اور یہودیوں پر اور لیکھرام کی وجہ سے آریوں اور سناتیوں پر ثابت ہے اور اب اگر وہ نہ مانیں تو اس میں نہ تو اس خدا کے مامور کا کچھ قصور ہے اور نہ خدا کا ہی ظلم ہے ان پر حجتیں قائم ہو چکی ہیں اور عذاب الٰہی کا دروازہ کھل رہا ہے اور کھلنے والا ہے چونکہ اس جگہ میں نے آتھم اور لیکھرام کا نام لیا ہے اس لئے اس کی بابت کچھ لکھ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ آتھم ایک عیسائی تھا جس کی سرشت میں گالیاں دینا اور مسلمانوں کا دل دکھانا بھرا ہوا تھا اور اس نے ایک موقع پر نعوذ باللہ دجال کا لفظ نبی کریم ﷺ کے لئے استعمال کیا۔ جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو مباہلہ کے لئے بلایا اور اس کے لئے پیشگوئی کی کہ اگر رجوع الی الحق نہ کیا تو تجھ پر خدا کا عذاب نازل ہو گا اور تو پندرہ ماہ کے اندر اس دنیا سے اٹھا لیا جائے گا اس لئے کہ تو نے نبی کریم ﷺ کے لئے دجال کا لفظ استعمال کیا ہے مگر اس نے یہ سنتے ہی اپنے کانوں پر ہاتھ رکھا اور اس لفظ کے کہنے سے مکر گیا اور پیشگوئی کا رعب اس کے دل پر ایسا پڑا کہ وہ اس عرصہ میں بھاگتا پھرا اور اپنے دوستوں کو کہتا تھا کہ مجھ پر تین دفعہ حملہ کیا گیا ہے ایک دفعہ تو ایک پڑھے ہوئے سانپ نے مجھ پر حملہ کیا اور دو دفعہ مسلح سپاہیوں نے۔ مگر ناظرین پڑھے ہوئے سانپ کی حقیقت خوب سمجھ سکتے ہیں اور گورنمنٹ انگریزی کی عملداری میں مسلح آدمیوں کا حملہ کرنا بھی سمجھ میں آسکتا ہے جبکہ ہتھیار رکھنے کی قطعاً ممانعت ہے اور پھر دن کے وقت اور لدھیانہ جیسے شہر میں جہاں کہ اس کا داماد ایک معزز عہدہ پر نوکر تھا۔ پس یہ باتیں صاف ظاہر کرتی ہیں کہ وہ پیشگوئی سے اس قدر خائف تھا کہ اس کی قوت متخیلہ نے اس کے سامنے ایسے نظارے پیش کئے اور یہی اس کے ڈرنے کی علامات تھیں جس کی وجہ سے وہ میعاد کے اندر مرنے سے بچ گیا مگر چونکہ اس نے میعاد کے بعد یہ تہمتیں لگائیں کہ مجھ پر حملے کئے گئے اور مجھ کو مارنے کی فکر کی گئی اور حق کو چھپانا چاہا اس لئے اس کو قسم کے لئے بلایا گیا اور کہا گیا کہ اگر تو اپنے دل میں خائف نہیں ہوا اور پیشگوئی کا رعب تیرے دل پر نہیں چھا رہا تھا تو آکر قسم کھا جا۔ جس کے جواب میں عیسائیوں نے کہا کہ ہمارے مذہب میں قسم کھانا منع ہے حالانکہ پولوس رسول نے قسم کھائی ہے اور یہ صرف ایک ڈھکوسلا تھا اور اس کی سزا میں یہ ہوا کہ آتھم پھر پندرہ مہینے کی میعاد میں مر گیا اور اس سے پہلے یہ اعلان ہو چکا تھا کہ چونکہ اس نے حق پوشی کی ہے اس لئے یہ اب بھی سزا سے بچ نہیں سکتا اور یہ صاف بات ہے کہ اگر وہ توبہ نہ کرتا اور دل میں خائف نہ ہوتا جیسا کہ خود اس نے روتے ہوئے اپنے دوستوں کے سامنے اس کا اقرار کیا تو پیشگوئی ایک طرح سے لغو ہو جاتی کیونکہ خدا نے یہ شرط کیوں لگا دی جبکہ اس نے توبہ ہی نہیں کرنی تھی تو چاہئے تھا کہ خدا صاف ظاہر کرتا کہ اس میعاد میں یہ مر جائے گا مگر چونکہ اس نے خائف ہونا تھا اس لئے یہ شرط لگائی گئی اور اس طرح دو پیشگوئیاں پوری ہوئیں ایک تو وہ خائف ہوا اور دوسرے جلدی مر بھی گیا جیسا کہ اعلان کیا گیا تھا کہ یہ اگر قسم نہ کھائے گا تو سزا پائے گا اور اس طرح اس کی موت سے نہ صرف عیسائیوں پر ہی حجت پوری ہوئی بلکہ یہودیوں پر بھی کیونکہ ان کا اصل ایک ہی ہے اور دونوں ایک ہی شریعت پر عملدرآمد کرنے والے اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہیں گو عمل نہ کریں۔ اب میں دوسری پیشگوئی کا بیان کرتا ہوں یعنی وہ جو لیکھرام کی نسبت کی گئی تھی یہ پیشگوئی اس طرح ہوئی کہ لیکھرام جو کہ آریوں کا ایک زبردست چلتا پرزہ تھا
جب اسلام کو برا بھلا کہنے میں حد سے زیادہ گذر گیا اور نبی کریم ﷺ کی نسبت نہایت سخت الفاظ استعمال کرنے لگا۔ تو اس وقت مخالفت کے جوش میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی کہا کہ اگر تمہارا خدا سچا ہے اور تم کو اپنے کلام سے مستفیض کرتا ہے تو میری نسبت کوئی عذاب کی پیشگوئی کرو اور چونکہ اس شخص کے کلام سے اور تحریر سے مسلمانوں کے دلوں کو سخت صدمہ ہوا تھا اور ان کے جگر اس کے جھوٹے دعووں اور نبی کریم ﷺ کو گالیاں دینے سے چھد گئے تھے اور کمزور اعتقاد کے مسلمان قریب تھا کہ ڈگمگا جائیں کیونکہ ان کو اپنے دین سے اس قدر واقفیت نہیں تھی کہ مخالف کو اعتراض کا جواب دے سکیں اور اس شخص نے اسلام کی خوبیوں کو برائی کے رنگ میں رنگین کر کے ایسے الفاظ میں پیش کیا کہ وہ حیران ہو گئے اور سوائے خاموشی کے کچھ جواب نہ دے سکے اور اس لئے ضروری ہوا کہ اس کے باطل دعووں کو لوگوں پر کھول دیا جاوے اور اس کی لاف و گزاف کو ظاہر کر دیا جائے اور اسی لئے حضرت مسیح موعودؑ نے خدا سے دعا کی اور وہاں سے یہ جواب ملا کہ چھ برس کے اندر عید کے دوسرے دن یہ شخص قتل کیا جائے گا۔ چنانچہ پیشگوئی عام طور پر شائع کی گئی اور چونکہ لیکھرام شرارت میں حد سے زیادہ گزرا ہوا تھا اس لئے اس کے واسطے توبہ کا دروازہ بند تھا اور کوئی شرط اس پیشگوئی میں نہ تھی اور قطعی فیصلہ تھا کہ چھ برس کے اندر عید کے دوسرے دن یہ شخص قتل کیا جائے گا اور اس نے بھی اس کو ایک بناوٹی بات سمجھ کر ایک پیشگوئی شائع کی کہ مرزا صاحب تین برس کے اندر مر جائیں گے مگر اس نے تو دیکھ لیا کہ وہ پیشگوئی غلط ہوئی اور دنیا گواہ ہے کہ بجائے مرزا صاحب کے فوت ہونے کے وہ اب تک زندہ ہیں اور ایک بڑی جماعت ان کے ماتحت ہو گئی ہے جس کی تعداد کئی لاکھ تک پہنچ گئی ہے مگر اس بات کی تمام دنیا گواہ ہے کہ اس پیشگوئی کے پانچویں سال جبکہ ایک ہی سال پیشگوئی میں باقی رہ گیا تھا عید کے دوسرے دن عصر کے وقت وہ قتل کیا گیا اور قاتل کا اب تک پتہ نہیں لگا کہ وہ کون تھا حالانکہ اس کے مکان کے ارد گرد ایک شادی ہو رہی تھی اور دروازہ پر بہت سے لوگ کھڑے ہوئے تھے اور پھر وہ قاتل اپنا چھرا اور تہبند بھی وہیں چھوڑ گیا اور ان قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کوئی فرشتہ تھا تمام ہندوستان چھان مارا گیا۔ بڑے بڑے مسلمانوں کی تلاشیاں لی گئیں مگر قتل کا سراغ نہ ملنا تھا نہ ملا۔ بعض بے درد دشمنانِ اسلام نے مسلمان بچوں کو زہر آلودہ مٹھائیاں کھلا کر مار ڈالا یہاں تک کہ بیسیوں بچے ملک پنجاب میں اس طرح بیدردی سے ہلاک کئے گئے کہ الامان۔ مگر پنڈت لیکھرام کے خون کا جو دھبہ آریہ سماج اور کل وید کے پیروان کے دامن پر لگا وہ نہ اب تک مٹا ہے اور نہ آئندہ مٹے گا۔ گو پنڈت لیکھرام کا خون آریوں میں ایک جوش پیدا کر گیا لیکن ساتھ ہی ثابت کر گیا کہ اسلام خدا کی طرف سے ہے اور آریہ سماج اور دوسرے ویدک مذاہب محض باطل فروشی کر رہے ہیں اور یہ بھی ثابت کر گیا کہ خدا کا کلام اب بھی اپنے نیک بندوں پر نازل ہوتا ہے اور اس کی ربوبیت اب بھی اسلام میں عام ہے۔
اب میں ثابت کر چکا ہوں کہ یہ عقیدہ جو اور مذاہب کا ہے کہ سوائے ہماری قوم کے چند افراد کے اور کسی کو الہام نہیں ہوا اور وہ بھی اب آئندہ کے لئے بند ہے بالکل غلط ہے اور اسلام میں اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور اس کا ثبوت آج کل کے زمانہ میں بھی موجود ہے جیسا کہ لیکھرام کی اور آتھم کی موت اور یہی ایک خوبی اسلام کی سچائی کی کافی دلیل ہے اور آئندہ اور بحث کی ضرورت نہیں مگر میں چاہتا ہوں کہ حتی الوسع وہ اعتراضات جو غیر قوموں پر پڑتے ہیں (وہ جو کہ میں پیچھے ذکر کر آیا ہوں) ان سے اسلام کو پاک ثابت کر کے دکھلاؤں اور یہ بتلاؤں کہ اسلام تمام خوبیوں کا مجموعہ ہے۔
اب میں تناسخ کے مسئلہ کو لیتا ہوں جس کو میں ثابت کر آیا ہوں کہ ایک لغو مسئلہ ہے اور انصاف کے برخلاف ہے اس مسئلہ کی اسلام نے سخت تردید کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ یہ تعلیم خدا کی طرف سے نہیں مگر اس کے ساتھ ہی اسلام ہم کو ایک اور تناسخ بتاتا ہے جو کہ ایسا خوبصورت ہے کہ نہ تو وہ انسانی فطرت کے برخلاف ہے اور نہ ظلم کے لفظ کا اس پر اطلاق ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ اسلام نے انسان کے لئے تین جونیں بھگتنی مقرر کی ہیں یعنی انسانی حالت کے تین درجہ مقرر کئے ہیں ایک تو نفسِ امارہ پھر نفسِ لوامہ اور تیسرے نفسِ مطمئنہ یہ تین حالتیں ہیں جن میں سے کہ انسان کو گزرنا پڑتا ہے نفسِ امارہ تو وہ انسانی حالت ہے جبکہ انسان گناہ کرتا ہے اور برائیوں میں گھرا ہوا ہوتا ہے اور نفسِ لوامہ وہ حالت ہے جبکہ انسان اس درجہ تک ترقی کر جاتا ہے کہ جب ایک گناہ کرتا ہے تو ساتھ ہی اس کے پھر اس گناہ سے پچھتاتا بھی ہے اور نفسِ مطمئنہ وہ انسانی حالت ہے جبکہ ایک انسان گناہوں کے دائرہ سے نکل کر حالتِ اطمینان میں ہو جاتا ہے اور اس کو شیطانی حملوں اور برے خیالات سے نجات مل جاتی ہے یہ تین حالتیں ہیں جو کہ انسان پر وارد ہوتی ہیں میرا خیال ہے کہ شاید اس مسئلہ سے ملتا جلتا کوئی مسئلہ ہو گا جس سے بگڑ کر یہ تناسخ کا مسئلہ نکل آیا اگرچہ ایسا لطیف اور پرمعنی ارشاد سوائے اسلام کے اور کسی مذہب میں نہیں پایا جاتا مگر شاید کوئی اس عقیدہ سے ملتا جلتا عقیدہ ان مذہبوں میں بھی ہو۔ میں یہ نہیں مان سکتا کہ بالکل یہ عقیدہ ان لوگوں میں ہو گا کیونکہ اگر یہ ہو تا تو کبھی ان لوگوں کو یہ غلطی نہ پڑتی اور یہ لوگ کبھی بھی تناسخ کے قائل نہ ہوتے کیونکہ یہ بالکل سیدھا اور سادہ ہے اور پھر انسانی فطرت کے مطابق ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ پہلے مذہب بھی ناقص تھے اور کامل نہ تھے اس لئے اچھی طرح سے ان میں یہ عقیدہ بیان نہیں کیا گیا اور کسی دھوکے کی وجہ سے ہندو وغیرہ تناسخ کے قائل ہو گئے اور میرے اس خیال کی تائید بدھ کا یہ عقیدہ بھی کرتا ہے کہ انسانوں کے چار درجہ ہیں ایک تو وہ جس میں کہ انسان بار بار تناسخ کے پھیر میں آتا ہے اور دوسرا وہ جس میں کہ انسان صرف ایک دفعہ جون کے چکر میں آتا ہے اور تیسرا وہ جس میں ہو کر انسان کبھی نہیں لوٹتا اور چوتھا تیسرے کا کمال ہے یعنی بہت سے پاک لوگوں کا درجہ☆اور یہ عقیدہ ظاہر کرتا ہے کہ ان لوگوں میں بھی کچھ ایسی بات تھی جس کو کہ یہ تعلیم کے ناقص ہونے کی وجہ سے اچھی طرح ظاہر نہیں کر سکے اور آخر اسلام نے جو کہ کامل مذہب ہے اس کو انسان پر کھول دیا۔ اور اس محبت کے تعلق کو جو کہ وہ خدا سے رکھتا تھا اس عقیدہ سے اور بھی بڑھا دیا۔
بدھ کے اس مذکورہ بالا عقیدہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں تناسخ سے مراد وہ جونوں کا چکر نہیں جس کے یہ لوگ قائل ہیں کیونکہ جب ایک درجہ ایسا بھی رکھا گیا ہے جس درجہ کا انسان دوبارہ دنیا میں ایک دفعہ ہی آتا ہے تو معلوم ہوا کہ وہ دوبارہ آنا روحانی ہے یا بالفاظ دیگر حالت کے تغیر کا نام ہے کیونکہ اگر در حقیقت انسان دنیا میں دوبارہ آئے تو پھر گناہ کرے گا کیونکہ اس کو معلوم تو ہے ہی نہیں کہ میں دنیا میں کس گناہ کی سزا میں آیا ہوں پس پھر وہ جونوں کے چکر میں آجائے گا مگر اس عقیدہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک دفعہ آئے گا زیادہ دفعہ نہیں پس یہ جسمانی تغیر نہیں بلکہ روحانی تغیر ہے یعنی جب اس درجہ پر انسان پہنچ جاتا ہے تو صرف اس کو ایک جون بدلنی پڑتی ہے اور وہ نفس لوامہ کو چھوڑ کر نفس مطمئنہ کو اختیار کرتا ہے مگر صفائی کے ساتھ اور دلائل کے ساتھ اگر بیان کیا ہے تو صرف اسلام نے ہی بیان کیا اور اسلام کو ہی فخر ہے اس بات کا کہ اس نے یہ رازِ انسانی مدارج کا دنیا پر ظاہر کیا اور وہ علم و معرفت اس عقیدہ میں بھر دی جس سے کہ دوسرے مذاہب بالکل کورے تھے اور ان میں اس قدر کمال ہی نہ تھا کہ وہ اس کو دنیا پر ظاہر کر سکیں اور پھر یہ بھی تحقیقاً نہیں کہ آیا اس کے قریب قریب کوئی عقیدہ بھی ان میں تھا کہ نہیں کیونکہ اس پر کوئی تاریخی شہادت نہیں صرف میرا ایسا خیال ہے کہ بدھ کا تناسخ کے متعلق عقیدہ شاید اس کے قریب قریب ہو اور بوجہ تعلیم کے ناقص ہونے کے وہ دوسرے الفاظ اور دوسرے معنوں میں استعمال کیا گیا ہو۔ جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں۔ بہرحال اسلام نے اس عقیدہ کو ایسے طریق اور ایسے روشن پیرایہ میں بیان کیا ہے کہ انسان کا ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔
اب میں اپنے اصل مطلب کی طرف لوٹتا ہوں اور وہ یہ کہ اسلام نے ہم کو ایسے عقیدہ کے متعلق رہنمائی کی ہے جس سے کہ انسان بہت کچھ روحانی ترقی کر سکتا ہے اور وہ کمزوریاں اور نقائص جو کہ انسان میں بوجہ اس کے طبعی خاصہ کے ہوتے ہیں اس عقیدہ پر ایمان لانے اور اس کے معارف پر غور کرنے سے خود بخود دور ہو جاتے ہیں۔ میں اس مسئلہ کے متعلق زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں سمجھتا کیونکہ ہمارے امام و مرشد نے جلسہ مہوتسو کے موقعہ پر ایک لیکچر تحریر کیا تھا اس میں خوب اچھی طرح اور واضح طور سے اس مسئلہ کو حل کیا تھا اور ثابت کیا تھا کہ یہ مسئلہ سوائے اسلام کے اور کسی نے اس طرح نہیں بیان کیا کہ جس سے انسان ہدایت پا سکے۔ اس لئے جو صاحب اس کی نسبت مفصل علم حاصل کرنا چاہیں وہ اس لیکچر کو پڑھیں۔
اب میں خدا تعالیٰ کے متعلق اسلام کا عقیدہ بیان کرتا ہوں۔ دیکھنا چاہئے کہ دنیا کا جو مذہب ہے (بشرطیکہ وہ خدا کا قائل ہو) اگرچہ خدا کے کتنے ہی شریک ٹھہراتا ہو مگر آخر توحید کا قائل ہوتا ہے اور کسی نہ کسی طرح آخری نقطہ پر پہنچ کر وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ خدا ایک ہے اس وقت کے مشہور مذاہب کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں ان میں سے عیسائیت توحید کی سخت دشمن ہے مگر اس میں بھی یہ عقیدہ ہے کہ باپ بیٹا روح القدس تین خدا ہیں مگر نہیں تین نہیں ایک خدا ہے اور اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ انہوں نے مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دیا ہے مگر ساتھ ہی ان کو فطرت کے تقاضا سے مجبور ہو کر کوئی ایسا طریق ایجاد کرنا پڑا ہے جس سے توحید میں خلل نہ آئے پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہندو بھی باوجود کروڑوں بت ماننے کے اپنے آپ کو ایک ہی خدا کا قائل بتاتے ہیں اور یہودی اور آریہ بھی توحید کے عقیدہ پر ہی زور دیتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید کا عقیدہ انسان کی فطرت کے موافق ہے اور گو کہ امتدادِ زمانہ سے کسی مذہب میں کتنا ہی شرک ترقی کر جائے مگر پھر بھی اس کے پیرو توحید کو نہیں چھوڑتے اور ہم پیچھے ثابت کر آئے ہیں کہ توحید ہی درحقیقت سچ ہے اور وہ لوگ جو شرک کرتے ہیں غلطی پر ہیں اور اب ہم دیکھتے ہیں کہ سوائے اسلام کے توحید پر کسی نے زور نہیں دیا اور نہ کسی مذہب نے توحید کا ثبوت دیا ہے۔ عیسائی اگر ایک طرف توحید کے قائل ہیں تو ساتھ ہی تثلیث پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ یہودیوں نے اگرچہ توحید میں کوئی خرابی نہیں پیدا کی لیکن انہوں نے شرک کی بیخ کنی بھی نہیں کی اور نہ ہی توحید پر زور دیا۔
ہندو توحید کو ماننے کے ساتھ ساتھ بت پرستی بھی لازم قرار دیتے ہیں اور آریہ جو کہ توحید پر اپنا پورا یقین بتاتے ہیں۔ روح اور مادہ کو ازلی مان کر عملی طور سے اس کا انکار کرتے ہیں۔ یہ فخر صرف اسلام کو ہی ہے کہ وہ خدا کا شریک کسی کو نہیں ٹھہراتا اور شرک کی بیخ کنی کرتے ہوئے توحید پر زور دیتا ہے ہاں صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو کہ عملی طور سے توحید کو قائم کرتا بت پرستی سے باز رکھتا اور خدا کی طرح کسی کو ازلی ابدی نہیں قرار دیتا۔ اگرچہ تمام مذاہب نے توحید کو چھوڑ دیا لیکن اسلام کے خدا نے ہر ایک مسلمان کے دل میں اس عقیدہ کو اس طرح داخل کر دیا ہے کہ وہ نکل ہی نہیں سکتا خود خدا تعالیٰ کا نام ہی اسلام میں وہ رکھا گیا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہو سکتا۔ وہ نام اللہ ہے یعنی تمام نیک صفات خوبیوں اور طاقتوں کا مجموعہ اور یہ نام کسی اور مذہب نے اپنے خدا کو نہیں دیا۔ یہ ایک ایسا پیارا نام ہے جو کہ اس ذات پاک کی تمام خوبیوں اور احسانوں کو انسان کے دل پر یک دم اس طرح نقش کر دیتا ہے کہ اس میں سے محبت کا ایک تیز شعلہ نکل کر اس دوئی یا شرک کو جلا دیتا ہے جو کہ انسان کے ساتھ ایک خفیہ دشمن کی طرح لگا رہتا ہے اور ایک صلاحیت رکھنے والا انسان اس نام کو اپنی زبان پر لا کر بے چین ہو جاتا اور محبت کے درد کو محسوس کرتا ہے کیونکہ معاً اس کو خدا تعالیٰ کی خوبیاں اور اس کے محاسن کا ایک مختصر نقشہ یاد آتا ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کی طاقتوں پر نظر کرتا ہے تو اس کی بڑائی جبروت شوکت اور صولت کو دیکھ کر حیرت میں آ جاتا ہے اور دنگ رہ جاتا ہے اور جب اپنی کمزوری بے بساطی بے کسی بے بسی پر نظر کرتا ہے تو حیرت تعجب اور دبدبہ محبت کی گداز کر دینے والی گرم جوشی میں بدل جاتے ہیں اور اس وقت انسان نہیں جانتا کہ میں اس محبت کو کس طرح ظاہر کروں اور وہ محبت ایسی زبردست ہوتی ہے کہ انسانی دل میں سما نہیں سکتی اور آخر آنسوؤں کے رنگ میں اس کو کسی قدر ٹھنڈا کیا جاتا ہے پھر انسان خدا تعالیٰ کی بزرگی پاکی اور قدوسیت پر نظر کرتا ہے اور ساتھ ہی اپنی گنہگاری غفلت اور سستی کو جانچتا ہے تو پھر وہی پہلی حالت اس پر طاری ہو جاتی ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ اس مشت خاک پر یہ احسانات سوائے اس رحیم و کریم ذات کے اور کون کر سکتا ہے اور کس کی طاقت ہے کہ ہمارے گناہوں کو بخشے اور پھر ساتھ اس قدر انعامات کرے کہ زبان تو الگ رہی اگر ہزار سال تک ہمارا ہر ایک ذرہ ان کو گنے تو بھی ناممکن ہے کہ گن سکے۔ غرضیکہ اللہ کا نام زبان پر آتے ہی انسان کے دل و دماغ محبت کی زنجیر میں پروئے جاتے ہیں اور جتنا اس نام کی وسعت پر غور کرو اتنا ہی اسلام کی سچائی کا یقین دل میں پختہ ہو جاتا ہے اور یہ اسلام کے خدا کی طرف سے ہونے پر ایک بین دلیل ہے کیونکہ کسی اور مذہب نے خدا کی صفات اور طاقتوں کا اس طرح بیان نہیں کیا تھا اور صرف اسلام نے ہی اس بحر بے کنار کو ایک چھوٹے سے لفظ میں بند کیا ہے کہ اگر اس کی تشریح کی جائے تو خود خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر سمندر سیاہیوں کے ختم ہو جائیں تب بھی وہ ختم نہ ہو اور انسان کی طاقت ہی نہیں کہ اس کو بیان کر سکے صرف خدا تعالیٰ ہی قادر ہے کہ اپنی صفات اور طاقتوں کو بیان کر سکے اور اسی کا کام ہے کہ اس نے ایک اللہ کے لفظ میں سب کچھ بھر دیا۔
اور چونکہ سوائے اسلام کے تمام مذاہب ناقص اور نامکمل تھے اسی لئے ان میں یہ لفظ نہیں پایا جاتا اور ان میں ایسا کوئی لفظ نہیں جو کہ اس لفظ کا قائم مقام ہو سکے اور اس لئے وہ توحید کے ثابت کرنے میں قاصر رہے گا مگر اسلام چونکہ کامل اور مکمل مذہب ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے اس میں یہ لفظ رکھ دیا کہ جس سے شرک کی سخت بیخ کنی ہوتی ہے اور وہ شخص جو کہ خدا پرمیشور کو اللہ مانتا ہو ممکن ہی نہیں کہ شرک پر یقین رکھے یا بدعتوں کو جائز ٹھہرائے پس جیسا کہ اسلام نے ایک ہی لفظ سے شرک کا درخت جڑ سے اکھیڑ دیا۔ اس طرح تمام مذاہب باوجود اپنے تمام دعووں اور لاف و گزاف کے نہیں کر سکے پس کیا اسلام نے توحید کو دنیا پر ثابت کیا ہے یا دوسرے مذاہب نے؟ کوئی عقلمند بھی ان کھلے کھلے دلائل کے ہوتے ہوئے باور نہیں کر سکتا کہ غیر مذاہب نے شرک کی اس قدر بیخ کنی کی ہے جس قدر کہ اسلام نے بلکہ اس کے پاسنگ بھی نہیں کی اور ایسے لفظ کا ان میں نہ ہونا ان مذاہب کے نامکمل ہونے پر دلالت کرتا ہے کیونکہ جب خدا کی ہستی کو پوری طرح ظاہر کرنے والا لفظ ہی ان میں نہیں تو وہ اس ہستی کو سمجھ ہی کس طرح سکتے ہیں اگر کسی اور زبان میں ایسا لفظ ان کے موعود ذہنی پرمیشور یا خدا کے لئے موجود ہے تو اس کو پیش کر کے ہم کو جھوٹا ثابت کریں۔
ناظرین یہ لفظ ایسا وسیع ہے اور خدا کی ہستی کا مفہوم اس طرح بیان کرتا ہے کہ ایسی ہستی مان کر جس کا نام اللہ ہو ہم شرک قطعاً نہیں کر سکتے کیونکہ علاوہ ان صفات اور قوتوں کے جو کہ اس نام میں ہیں اس سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ وہ ہستی جس کا یہ نام ہے اس کا کوئی شریک نہیں پس اسلام نے یہ نام بتا کے دنیا پر ایک بہت بڑا احسان کیا ہے جس کا انکار کرنے والا خدا اور مخلوق دونوں کے نزدیک سخت گنہگار ہے۔ اب ہم یہ تو ثابت کر چکے ہیں کہ اسلام نے ایک اللہ کے لفظ سے ہی شرک کی جڑ اکھیڑ دی ہے اور اس کے علاوہ خدا تعالیٰ نے توحید کو مسلمانوں کے دلوں میں کئی طرح بٹھایا ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان جب سے پیدا ہوتا ہے اس کو توحید کا سبق دیا جاتا ہے ایک بچے کے پیدا ہوتے ساتھ ہی اس کے کان میں اذان کہی جاتی ہے جس میں کہ صاف طور سے ہے اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ سوائے خدا کے اور کوئی معبود نہیں اور اس طرح گویا کہ بچہ کے کان میں اس وقت جبکہ وہ ابھی دنیا میں داخل ہی ہوا ہوتا ہے توحید الٰہی کا کلمہ پھونکا جاتا ہے اور جس طرح جسمانی ترقیات کرنے کے لئے وہ پہلا قدم رکھتا ہے اسی طرح اس کو روحانی ترقیات کی طرف بھی بلایا جاتا ہے اور اس کے کانوں کو ان محبت کے الفاظ سننے کا مشتاق بنایا جاتا ہے جن کا سننا اس کی آئندہ روحانی ترقی کے کے لئے لازمی امر ہوتا ہے پھر ایک مسلمان کو دن میں کئی دفعہ خدا تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرنا پڑتا ہے ایک نماز میں ہی بیسیوں دفعہ اللہ کا نام لینا پڑتا ہے جو کہ شرک کا قاتل ہے اور نمازیں دن میں پانچ دفعہ پڑھنی پڑتی ہیں اور پھر ہر ایک نماز کے وقت اذان اور اقامت کہی جاتی ہیں جو کہ خود توحید کی تعلیم دینے والی ہیں پھر ہر شادی اور غمی کے موقع پر اور تعجب و حیرت کے موقعہ پر ہمارے لئے ایسے الفاظ مقرر کئے گئے ہیں جن سے کہ توحید کا مفہوم خوب اچھی طرح سے ظاہر ہوتا ہے جیسا کہ خوشی کے وقت اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کا کلمہ زبان پر لانا جس کے معنی ہیں کہ سب تعریف ہے واسطے اللہ کے اور اس طرح غم کے موقعہ پر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(البقرہ: ۱۵۷) کا کہنا جس کے معنے ہیں کہ ہم اللہ کے لئے ہی ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹیں گے پھر تعجب و حیرت کے موقعہ پر سُبْحٰنَ اللّٰهِ کہنا یعنی پاک ہے اللہ پس ہمارے ہر کام میں اٹھتے بیٹھتے توحید کا ذکر ہوتا ہے۔ پھر جب ایک شخص اپنا پہلا مذہب چھوڑ کر مسلمان ہونے لگتا ہے اس وقت بھی اس سے یہی کلمہ کہلوایا جاتا ہے کہ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ پس ان باتوں پر غور کرنے سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اسلام ہی اس واحد خدا کی طرف سے ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے تب ہی تو اس میں توحید کا اس قدر لحاظ رکھا گیا ہے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دوسرے مذاہب نے توحید کو دنیا میں پھیلانے کے لئے کوئی وسائل اختیار نہیں کئے مگر اسلام نے کئے ہیں اور اللہ کا لفظ جو کہ بذات خود شرک کو رد کرنے والا ہے اسلام نے ہی استعمال کیا ہے اور سوائے عربی کے اور کسی زبان یا مذہب میں اس کا ہم معنی لفظ نہیں پایا جاتا اب چونکہ ہم اپنے اصل مدعا کو ثابت کر چکے ہیں اس لئے دوسری بات کو لیتے ہیں یعنی کفارہ کی نسبت اسلام نے ہم کو کیا بتایا ہے۔
یہ بات پیچھے لکھی جا چکی ہے کہ کفارہ پر ہی عیسائیت کی عمارت کی بنیاد ہے اور اس مسئلہ کے متعلق ہم کافی طور سے لکھ چکے ہیں کہ یہ کسی سچے مذہب کا عقیدہ نہیں ہو سکتا اور چونکہ ہم نے
اسلام کو سچا قرار دیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ یہ دکھایا جاوے کہ اس مذہب میں کفارہ کا عقیدہ باطل سمجھا جاتا ہے اور اس کے لئے کچھ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں صرف اتنا لکھنا کافی ہے کہ قرآن شریف میں جو کہ مسلمانوں کی پاک کتاب ہے اور جس پر ایمان لانا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے اور جس سے کسی مسئلہ کی نسبت بھی باوجود اس علم کے کہ وہ قرآن شریف میں ہے یہ کہنا کہ ہم اس کو نہیں مانتے کفر ہے۔ اس کے متعلق صاف طور سے یہ حکم ہے کہ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی(بنی اسرائیل: ۱۶) یعنی کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اور یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص کوئی گناہ کرے اور دوسرا اس کو اپنے ذمہ لے لے اور درحقیقت ایسا نہ ہو تو لوگ خدا کا بھی انکار کر بیٹھیں اور ان کو سخت ابتلا پیش آویں کیونکہ اس طرح مذہب کھیل بن جاتا ہے اور انصاف میں فرق آتا ہے پس اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس کو نا جائز ٹھہرایا ہے اور اس بد نما دھبہ سے اسلام کا چہرہ بالکل پاک و صاف ہے۔ اب خدا کے رحمان ہونے کا سوال ہے کہ آیا خدا رحمان ہے یا نہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ صفتِ رحمانیت کا بہت سے مذاہب انکار کرتے ہیں مثلاً عیسائی، ہنود، آریہ وغیرہ اور ان کا خیال ہے کہ خدا تعالیٰ جو کچھ عطا کرتا ہے وہ صرف ہمارے اعمال کے بدلہ میں ہوتا ہے اور کوئی گناہ بخشا نہیں جاتا جب تک کہ اس کی سزا نہ مل جائے اور اس لئے عیسائیوں کو کفارہ کا مسئلہ ایجاد کرنا پڑا ہے یا یہ کہو کہ کفارہ کی تصدیق کے لئے خدا کی رحمانیت کا اقرار کیا گیا ہے اور ہنود آریہ اور بدھ مذہب وغیرہ کو خدا کی رحمانیت سے انکار کر کے تناسخ کا بعید از عقل عقیدہ ماننا پڑا ہے کیونکہ ان کو یہ مشکلات پیش آئی ہیں کہ چونکہ انسان ضعیف ہے اس لئے وہ گناہوں میں دھنسا رہتا ہے اور اگر اس کی سزا میں اس کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تو پھر تمام لوگ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے اور اس طرح نجات ناممکن ہو جائے گی پس انہوں نے سوچ کر یہ تناسخ کا مسئلہ نکالا کہ اس دنیا میں ہی بار بار اسے گناہوں کی سزا ملتی ہے اور ہر ایک گناہ یا ہر ایک نیکی کی وجہ سے انسان بری یا اچھی جونوں میں ہمیشہ جنم لیتا رہتا ہے مگر اس عقیدہ کو ہم غلط ثابت کر چکے ہیں اور یہ بھی بتا چکے ہیں کہ اسلام نے صفتِ رحمانیت کی تائید میں بہت زور دیا ہے اور برخلاف دوسرے مذاہب کے اس صفت کو خدا کے لئے ضروری ٹھہرایا ہے بلکہ قرآن شریف کے شروع ہی میں بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ(1:1) سے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام میں انسان کی زندگی کے لئے یہ صفت لازمی اور ضروری ہے اور بغیر اس کے انسان کی زندگی محال بلکہ ناممکن ہے کیونکہ خدا کی صفتِ رحمانیت وہ ہے جس کی وجہ سے خدا بغیر کسی کام کے انسان یا دوسری مخلوقات پر رحم کرتا ہے اور ان کی ضروریات کو مہیا کرتا ہے پس اگر خدا رحمان نہ ہو تو ایک دم میں انسان ہلاک ہو جائیں کیونکہ ہوا پانی وغیرہ جو کہ ہر ایک جاندار کو میسر ہیں اسی لئے میسر ہیں کہ خدا رحمان ہے اور اگر وہ رحمان نہ ہو تو چاہئے کہ ہوا بند ہو جائے اور پانی خشک ہو جائے اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ پچھلے اعمال کی وجہ سے ہے تو یہ اعتراض ہو گا کہ کیا پچھلے اعمال کی وجہ سے ہر ایک کو ہوا اور پانی ملنے چاہئیں کیونکہ کسی نے کم درجہ کے اعمال کئے ہیں اور کسی نے بہت عمدہ‘ اور کسی نے گھوڑا بننے کے کام کئے ہیں‘ تو کسی نے گدھا بننے کے ہر ایک کے لئے ہوا اور پانی کا مہیا ہونا ظاہر کرتا ہے کہ یہ اعمال کی وجہ سے نہیں بلکہ خدا کی صفتِ رحمانیت کی وجہ سے ہے کیونکہ دوسری صورت میں ماننا پڑے گا کہ تمام لوگ ایک دو ایسے کام ضرور کر لیتے ہیں کہ اگلی جون میں ہوا اور پانی ان کو میسر ہو جائے مگر جبکہ یہ تو معلوم ہی نہیں کہ یہ چیزیں کس نیکی کے بدلہ میں ملتی ہیں تو انسان ایسے کام کیونکر کرتا ہے اور کس طرح کر سکتا ہے۔ پس ہر ایک جاندار کے لئے پانی اور ہوا کا مہیا ہونا خدا کی رحمانیت اور تناسخ کے ابطال پر دلالت کرتا ہے اور پھر ایک اور بات بھی ہے کہ انسان کو دوسرے جانوروں پر فوقیت دینا اور گدھے کو سور کی نسبت اچھا جاننا جو ہے یہ بھی تو خدا کی رحمانیت کا ثبوت ہے جبکہ تناسخ کے ماننے والے صاحب یہ کہتے ہیں کہ اچھے اعمال کرنے والا انسان بنتا ہے اور برے اعمال کرنے والا حیوان تو اس طرح گویا کہ وہ انسان کی فضیلت دوسروں پر بتاتے ہیں اور یہ فضیلت سوائے رحمانیت کے ہو نہیں سکتی اور اس بات کو ماننے پر کہ انسان کو دوسرے جانوروں پر فضیلت ہے یہ سوال ہو گا کہ خدا نے انسان کو دوسرے جانوروں پر فضیلت کیوں دی اور اس کا جواب ہو گا کہ رحمانیت کی وجہ سے۔ پس اسلام ہم کو یہی بتاتا ہے کہ خدا رحمان ہے اور بڑا رحمان ہے اس نے ہمارے لئے وہ تمام چیزیں جو کہ ضروری تھیں بغیر ہمارے کسی کام کے مہیا کی ہیں اور چونکہ ہم ضعیف مخلوق ہیں اس لئے وہ ہمارے گناہوں کو معاف بھی کر دیتا ہے اور اسی وجہ سے ہمارا دل ہر وقت اس کی طرف جھکتا ہے اور محبت کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ محبوب محبت کرنے والے کی خطائیں اور کوتاہیاں معاف کرے اور اس کی غلطیوں سے درگذر کرے پس اگر خدا ایسا نہ کرتا تو محبت قائم ہو ہی نہیں سکتی تھی جب ایک انسان خدا تعالیٰ کے بے شمار احسانات اور انعامات کو دیکھتا ہے تو خود بخود اس کی طرف جھکتا ہے۔ اور اس کا دل بے اختیار چاہتا ہے کہ تمام رکاوٹوں کو دور کر کے کسی طرح اس محبوب سے جا ملوں جو کہ میری محبت کا بدلہ دے سکتا ہے اور ایسا خدا صرف اسلام کا خدا ہے وہ رحمان ہے رحیم ہے علیم ہے خبیر ہے اور تمام مخلوقات کا خالق ہے اور یہ تمام باتیں محبت کے تعلق کو بڑھانے والی ہیں چونکہ وہ خالق ہے اس لئے سب مخلوقات عالم فطرتاً اس کی طرف جھکتی ہے اور اس کے مخلوق ہونے کی وجہ سے ہر ایک ذرہ ذرہ اس کی حمد و ثناء میں لگا رہتا ہے اور چونکہ وہ رحمان و رحیم ہے اس لئے اس کے احسانات کو دیکھ کر کوئی ذی روح نہیں جو کہ سجدہ میں نہ گر جائے اور اس کے خیال میں ایسا محو نہ ہو جائے کہ گویا اپنے آپ کو بھول ہی جائے (بشرطیکہ طبع سلیم رکھتا ہو) اور چونکہ وہ علیم و خبیر ہے اس لئے ہر ایک محبت کرنے والا دل اس کی اس صفت سے تسلی پکڑتا ہے اور جانتا ہے کہ میری محبت فضول نہیں جائے گی اور چونکہ قادر ہے اس لئے کسی عمل کے ضائع جانے کا انسان کو اندیشہ نہیں ہوتا اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا اسلام نے دوسری قوموں اور مذہبوں کو اپنے میں داخل کرنے کا کوئی طریقہ رکھا ہے یا نہیں اور اس کے لئے پہلی ہی نظر ڈالنے پر ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں اسی فیصدی سے زیادہ اور قوموں اور غیر مذاہب کے آدمی داخل ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کا خدا بخیل نہیں بلکہ چونکہ وہ خالق ہے اس لئے اس نے اپنی تمام مخلوقات کی رہنمائی کے لئے دروازہ کھلا رکھا ہے اور خود نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی میں چاروں طرف وکیل بھیجے تاکہ تمام دنیا میں اس بات کی تبلیغ ہو جائے کہ خدا کا وعدہ پورا ہو گیا اور وہ جو کہ ہدایت اور رشد کا طالب ہے فائدہ اٹھائے اور قرآن شریف میں بار بار آتا ہے کہ قرآن شریف تمام دنیا کی ہدایت کے لئے ہے پس یہ اعتراض جو کہ کئی اور مذاہب پر پڑتا ہے کہ ان میں ہدایت کا دروازہ بند رکھا گیا ہے اسلام پر قطعاً نہیں پڑتا اور اس وقت ہم ان مذاہب کو بھی جو کہ دوسرے اور لوگوں کو اپنے اندر شامل کرنا جائز سمجھتے ہیں یہ پوچھتے ہیں کہ کیا ان کی کتابوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ تمام دنیا کے لئے ہیں؟ نہیں قطعاً نہیں۔ کسی کتاب نے بھی ایسا دعویٰ نہیں کیا مگر قرآن شریف نے یہ دعویٰ کیا ہے بلکہ دوسری کتابوں میں یہ بھی نہیں کہ ہماری تعلیم ہر زمانہ کے لئے ہے اگر کوئی مدعی ہے تو ثابت کرے کہ کسی کتاب نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ میں ہمیشہ کے لئے ہوں اور مجھے منسوخ کرنے والی اور کتاب کوئی نہیں آئے گی۔ اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ کوئی ایسا ثابت نہیں کر سکے گا اور صرف اسلام نے ہی یہ دعویٰ کیا ہے جیسا کہ ان دو آیتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا(الاعراف: ۱۵۹) اور اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ(المائدہ: ۴)۔ جن میں سے پہلے کی نسبت تو خدا تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو فرماتا ہے کہ تو لوگوں کو یہ آیت سنا جس کے معنی ہیں کہ میں تمام دنیا کی طرف رسول ہو کر آیا ہوں اور دوسری میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آج کے دن میں نے تمھارے لئے دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت آخری درجہ تک پہنچا دی یعنی اس دین کے بعد اور کوئی دین نہیں آوے گا اور اس دین کو کامل کر کے میں نے اپنی نعمت تم پر بدرجہ کمال پہنچا دی ہے پس یہ وہ دعوٰی ہے جو کہ کسی اور کتاب نے نہیں کیا۔ اور غیر مذاہب کا کوئی حق نہیں کہ اپنے مذاہب کو کامل اور ہر زماں و مکاں کے مناسب حال قرار دیں اور ان مذاہب کے پیرواں کا ایسا دعوٰی کرنا گویا کہ مدعی ست اور گواہ چست کی مثال اپنے پر صادق کرنا ہے اور وہ دعوٰی ہرگز ہرگز قابل پذیرائی نہیں ہو سکتا کیونکہ ان کا کوئی حق نہیں کہ بر خلاف اپنی کتاب کے ایک نیا عقیدہ دنیا کے سامنے پیش کریں اور یہ خصوصیت جو کہ اسلام میں ہے اس کا جواب آریہ نہیں دے سکتے کیونکہ وید جس کو کہ وہ کامل کتاب مانتے ہیں ایسا دعوٰی قطعاً نہیں کرتا اور نہ ان کی دیگر پرانی مذہبی کتابوں میں یہ دعوٰی ہے پس اسلام نے ہی یہ دعوٰی کیا ہے اور اب مخالفین کو چاہئے کہ ان پر ایمان لائیں کیونکہ کامل کتاب کی ضرورت تو انہوں نے بھی مانی ہے اور ان کی اپنی کتاب کامل نہیں اور ایک قرآن شریف نے ہی یہ دعوٰی کیا ہے اور اس کے بعد اور کوئی کتاب بھی نہیں آئی پس باوجود اس کے پھر اس سے انکار کرنا ضد اور ہٹ دھرمی نہیں تو اور کیا ہے۔ ہم یہ بھی ثابت کر چکے ہیں کہ تمام دوسرے مذاہب نے ایک مکمل مذہب کی ضرورت تسلیم کی ہے اور اسی لئے ان کے پیروان کو ضرورت پڑی کہ اپنے اپنے مذہب کو کامل کہیں مگر وہ مکمل نہیں ہو سکتے کیونکہ نہ تو خود ان کی کتابوں میں یہ دعوٰی ہے اور نہ ہی ان کی تعلیم کامل ہے پس ان حالات کے ہوتے ہوئے ہم اسلام کی نسبت ہی یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہی مذہب ہے جو اپنی تعلیم میں کامل ہے اور جو ہر زمانہ کے لئے مناسب ہے اور جو ایک طالب حق کو تسلی بخشتا ہے جیسا کہ ہمارے امام نے فرمایا ہے کہ۔
آؤ لوگو کہ یہیں نورِ خدا پاؤ گے
لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے
اب دو باتیں رہ گئی ہیں کہ جن کا جواب دینا ہمارے ذمہ باقی ہے ایک تو یہ کہ اسلام کی تعلیم کیسی ہے اور دوسرے یہ کہ اس میں الہام کا سلسلہ جاری ہے یا نہیں؟ پس پہلی بات کا جواب یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم جیسی اور کسی مذہب کی تعلیم نہیں کیونکہ اسلام نے تعلیم میں ہر ایک بات کا لحاظ رکھا ہے اور ہم پر دو حقوق فرض رکھے ہیں ایک تو حقوق اللہ اور دوسرے حقوق العباد اور یہی دو حقوق ہیں کہ جن پر کسی مذہب کا انحصار ہوتا ہے کیونکہ انسان کو اپنی زندگی میں صرف دو تعلقات سے کام پڑتا ہے ایک تو وہ تعلق جو کہ خدا سے ہوتا ہے اور دوسرا وہ جو اس کو دوسری چیزوں سے ہوتا ہے اور جس مذہب میں ان دونوں تعلقات کی نسبت تعلیم پوری ہو اس کو خدا کی طرف سے سمجھنا چاہئے اور ہم دیکھتے ہیں کہ سوائے اسلام کے اور کسی مذہب نے اس تعلیم کو پورا نہیں کیا۔ حقوق اللہ کے پورا کرنے کے لئے ہم پر عبادت اور محبت الٰہی فرض کی گئی ہے اور حقوق العباد کے پورا کرنے کے لئے ہم پر حسن اخلاق اور احسان فرض کیا گیا ہے اور وہ تعلقات جو کہ اس دنیاوی زندگی میں بھی پیش آتے ہیں ان کی نسبت ایسے احکام دیئے گئے ہیں کہ جن سے نہ تو ہمارے تعلقات میں فرق آوے اور نہ خدا تعالیٰ کی کسی طرح کی نافرمانی ہو۔ اس جگہ حقوق اللہ کا ذکر کرنا میں نہیں چاہتا کیونکہ مضمون بہت لمبا ہو جائے گا اور اس کے لکھنے کی ضرورت بھی نہیں جس کو ان کے معلوم کرنے کی ضرورت ہو وہ شریعت اسلام سے واقفیت حاصل کرے مگر مختصراً یہ کہ نمازیں پڑھو اور روزہ رکھو، زکوٰۃ دو، حج کرو، خدا تعالیٰ سے محبت کرو، اس کے نبیوں سے اخلاص رکھو، ملائکہ پر ایمان رکھو، زنا نہ کرو، فسق و فجور سے بچو اور اسی طرح اور بہت سے احکام ہیں اور حقوق العباد میں پہلے تو انسان کا حق خود اپنے پر ہوتا ہے اسلئے اس کے لئے حکم ہے کہ علم سیکھو اور دین کے ساتھ اپنی روزی کا خیال بھی رکھو سوال سے پرہیز کرو تاکہ اخلاق پر اثر نہ پڑے پھر والدین کے تعلق کی طرف حکم ہے کہ ان کی فرمانبرداری کرو۔ بیوی کے ساتھ اچھی طرح پیش آؤ پھر اولاد کی نسبت ہے کہ ان کی اچھی طرح تربیت کرو بھائیوں اور بہنوں کے لئے حکم ہے کہ ان سے نیک سلوک کرو۔ دوستوں سے محبت اور اخلاق برتو، ہمسایوں کا خیال رکھو، مسافروں کو مدد دو، غریبوں پر رحم کرو، قیدیوں کو چھڑاؤ (بشرطیکہ ان کی اصلاح کی امید ہو) اور گورنمنٹ کی وفاداری کرو غرضیکہ وہ تعلقات جو ایک بندے کے خدا سے ہونے چاہئیں اور وہ جو کہ بندوں سے ہونے چاہئیں ان سب کو اس خوبی سے بیان کیا ہے کہ ایک بد طینت آدمی بھی اگر ان پر عمل کرے تو فرشتہ بن جاوے۔ پس یہ ایسی تعلیم ہے کہ اگر صرف اسلام میں یہی ہوتی تو بھی یہ مذہب اس قابل تھا کہ اس کی پیروی کی جاتی اور یہاں تو ایک ایسی بڑی خوبی اس میں موجود ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے بھی اسلام کا انکار کرنا نہایت سخت بے شرمی ہے۔ اور وہ خوبی یہ ہے کہ اسلام نے دوسرے مذاہب کی طرح الہام کے سلسلہ پر مہر نہیں لگائی بلکہ اسلام کا دعویٰ ہے کہ وہ جو میرے احکام پر چلے اور نیکی اور تقویٰ کا بیج اپنے دل میں بوئے اور اخلاص اور محبت کو خدا سے بڑھائے اس کو بلا امتیاز قوم اور بلا خصوصیت ملک ہر ایک زمانہ میں الہام ہو سکتا ہے اور یہ وہ دعویٰ ہے جس کا مقابلہ اور کوئی مذہب نہیں کر سکتا عیسائیت ہے تو وہ الہام سے منکر۔ یہودی مذہب ہے تو وہ الہام کا مخالف۔ ہندو ہیں تو الہام کے ہونے سے مایوس اور آریہ کا کہنا ہی کیا ہے۔ وہ تو الہام کو فضول اور لغوبات قرار دیتے ہیں۔
یاد رکھنا چاہئے کہ الہام ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے کہ ہر ایک زمانہ کے لوگوں کا دل تسلی پاسکتا ہے۔ اگر کسی زمانہ میں الہام ہوتا تھا تو آج کیوں نہیں ہوتا کیا خدا پچھلے زمانہ میں بولتا تھا اور اب نہیں بولتا کیا وہ کسی زمانہ میں سنتا تھا اور اب نہیں سنتا۔ وہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے وہ اب نہیں بولتا؟ ایک طالب حق جو کہ دن رات اٹھتے اور بیٹھتے خدا تعالیٰ کی محبت ہی میں محو رہتا ہو اس کے لئے یہ کیسی کمر توڑ دینے والی بات ہے کہ خدا نے کسی زمانہ میں کلام کیا تھا مگر وہ اب کسی سے کلام نہیں کر سکتا۔ آخر اس کے لئے کوئی وجہ ہونی چاہئے تھی جب بولنا خدا کی صفت ہے تو کیا خدا کی صفات معطل بھی ہو جایا کرتی ہیں؟ اگر معطل ہو جاتی ہیں تو خدا قادر مطلق اور ازلی ابدی کیونکر ہو سکتا ہے۔ اگر معطل نہیں ہوتیں تو اب وہ کیوں نہیں بولتا؟ یہ سوال ہیں جو کہ ایک محقق کے دماغ میں فوراً گونج اٹھتے ہیں جبکہ وہ یہ عقیدہ سنتا ہے اور اس کا جواب کوئی اور مذہب سوائے خاموشی کے اور کچھ نہیں دیتا مگر اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو کہ اس کا دنداں شکن جواب دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ جو لوگ سلسلہ الہام کو منقطع خیال کرتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں اس لئے یہ سوال ہی لغو ہے۔ خدا بولتا تھا اور اب بھی بولتا ہے چونکہ یہ اس کی صفت ہے کہ وہ بولتا ہے اس لئے یہ معطل نہیں ہو سکتی اور یہ اسلام کا دعویٰ ہی نہیں بلکہ اس کا عملی ثبوت بھی وہ دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر زمانہ میں مسلمانوں میں ایسے آدمی موجود رہتے ہیں جو الہام الٰہی سے مستفیض ہوتے ہیں اور ہر صدی کے سر پر ایک مجدد ہوتا ہے جو الہام کے جھٹلانے والوں کے ردّ میں ایک زندہ دلیل ہوتا ہے اور اس بات کے ثبوت کے لئے کہ آیا کسی شخص کو واقعی الہام ہوتا ہے یا نہیں خدا تعالیٰ نے یہ علامت رکھی ہے کہ ایسا شخص غیب کی خبریں بتاتا ہے اور وہ پوری ہوتی ہیں مگر اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ ہر ایک غیب اس پر ظاہر ہوتا ہے بلکہ میرا مطلب اس سے یہ ہے کہ بعض خبریں غیب کی خدا تعالیٰ پیش از وقت بتاتا ہے تاکہ لوگوں کو اس بات کا ثبوت دے کہ درحقیقت یہ شخص جھوٹا نہیں ہے بلکہ میری طرف سے ہے اور اس کا دعویٰ سچا اور بادلیل ہے مگر چونکہ غیب کی خبریں تو بعض دفعہ نجومی اور جوتشی بھی دیتے ہیں اور بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ ان کی باتیں پوری ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ ہر موسم میں کچھ نہ کچھ بکتے رہتے ہیں آخر کوئی نہ کوئی بات پوری ہونی ہی ہوئی اور پھر یہ کہ ایک کہتا ہے بارش ہو گی۔ دوسرا کہتا ہے کہ نہیں ہو گی آخر ان دونوں میں سے ایک کی بات تو پوری ہو گی پس جس کی بات پوری ہو گئی اس کی دھاک بندھ گئی اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنے پاک بندوں اور ان دنیا کے کیڑوں کے درمیان فرق رکھا ہے ایک تو یہ ہے کہ نجومی کی بات تو کبھی پوری ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی۔ مگر ان لوگوں کی پیشگوئیاں ہمیشہ پوری ہو کر رہتی ہیں ہاں عذاب کی پیشگوئیاں بعض دفعہ ٹل جاتی ہیں مگر یہ اس وقت ہوتا ہے جبکہ وہ لوگ جن کی نسبت وہ پیشگوئی ہوئی ہو توبہ کریں اور گناہوں سے بچیں اور اپنے پچھلے گناہوں کا اقرار کر کے خدا سے عفو مانگیں اور اس صورت میں ان کی سچائی اور بھی صفائی سے ظاہر ہوتی ہے۔ دوسرا یہ فرق ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی پیشگوئیاں اپنے اندر ایک خدائی جلال رکھتی ہیں جن کے پورا ہونے سے ان کی بڑائی اور ان کے مخالفوں کی ذلت ہوتی ہے پھر ایک یہ بھی ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے ظہور کے وقت لوگ خواہ مخواہ ان کی مخالفت کرتے ہیں حالانکہ نجومیوں کی مخالفت کوئی نہیں کرتا اور ان کے ساتھ مخالفت کرنے کا نتیجہ آخر یہ ہوتا ہے کہ دشمن ہلاک ہو جاتے ہیں اور سب سے بڑی ان کی سچائی کی دلیل نصرت الٰہی ہوتی ہے یعنی دعاؤں کا قبول ہونا، دوستوں کی تعداد اور فرمانبرداروں کی جماعت کا بڑھنا، دشمنوں کا پے در پے ہلاک ہونا اور زمینی اور آسمانی شہادتوں کا جمع ہونا غرضیکہ یہ ایسے امور ہیں کہ عقلمند آدمی ان سے بہت کچھ فائدہ اٹھا سکتا ہے اور جبکہ وہ ایسا زمانہ دیکھے وہ آسانی سے فیصلہ کر سکتا ہے کہ آیا مدعی جھوٹا ہے یا سچا۔ اور اس کو خدا کی طرف سے وحی ہوتی ہے یا القائے شیطانی ہوتا ہے۔ جیسا کہ ابوبکرؓ نے نبی کریم ﷺ کا دعویٰ سنتے ہی قبول کیا اور فراست سے سمجھ لیا کہ یہ شخص جھوٹا نہیں ہو سکتا اور اس زمانہ میں مولوی نور الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو فوراً پہچان لیا اور ایمان لائے کہ یہ شخص کاذب نہیں اور اس کا بدلہ ان لوگوں کو یہ ملتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک باقی لوگوں کی نسبت زیادہ مقرب ہو جاتے ہیں مگر باوجود آسان ہونے کے ایسے لوگوں کا پہچاننا مشکل بھی ہوتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ مؤمن اور منافق میں فرق کرنے کے لئے لوگوں کو ابتلاء میں بھی ڈالتا رہتا ہے پس بڑا ہی دلیر ہوتا ہے وہ انسان جو کہ باوجود ابتلاؤں کے ایسے شخص کو قبول کرتا ہے اور آفات و مشکلات زمانہ سے بالکل بے خوف و خطر رہتا ہے۔
اب میں اصل مطلب کی طرف لوٹتا ہوں کہ اسلام میں ہر وقت ایسے لوگ موجود رہتے ہیں جو وحی الٰہی سے مستفیض بھی ہوتے ہیں اور ان کی بدولت دوسروں کو بھی الہام ہو جاتے ہیں اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ وہ لوگ ان کی تصدیق کریں اور الہام پر یقین کریں کہ یہ بھی کچھ چیز ہے اور عام لوگوں کو بھی ان کے زمانہ میں سچی خوابیں آتی رہتی ہیں تاکہ وہ بھی الہام کے وجود میں شک نہ لائیں پس کیا ایسا مذہب قابل قدر ہے جو کہ خدا سے ہم کلام کروا کر انسان کی تسلی کرتا ہے یا وہ جس میں ہمیشہ کے لئے مکالمہ و مخاطبہ کا دروازہ بند کیا گیا ہے؟ آریہ لوگ اپنی شوخی کی وجہ سے یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ کیا خدا بھی کبھی کبھی خوش ہو کر اپنے بندوں سے ملاقات کرتا ہے مگر ان دریدہ دہن مخالفوں کو اس وقت یہ بات بھول جاتی ہے کہ پرمیشور بھی ایک زمانہ میں رشیوں کے ساتھ ملاقاتیں کیا کرتا تھا اگر وہ کوئی عیب کی بات نہیں تو یہ بھی نہیں۔ میں افسوس کرتا ہوں کہ ان لوگوں کو قطعاً خیال نہیں آتا کہ ایک مردے اور زندہ کا کیا مقابلہ ہو سکتا ہے یا ایک اندھے یا سوجاکھے کا کیا جوڑ ہے اگر دوسرے مذہب مردہ ہیں تو اسلام زندہ ہے کیونکہ وہ اس زندگی کے پانی سے محروم ہیں جو کہ وحی کے رنگ میں اسلام میں ہر دم تازہ روح پھونکتا ہے اور دوسرے مذاہب اگر اندھے ہیں تو یہ اسلام سوجاکھا ہے کیونکہ دوسرے مذاہب کی روحانی آنکھیں وحی کی روشنی سے محروم ہیں اور اسلام کی آنکھوں میں دن رات وحی و الہام کی روشنی کا سرمہ ڈالا جاتا ہے اگر انسان غور کرے تو یہ بات سمجھ میں آنی کچھ مشکل نہیں ہے کہ وحی کے بغیر محبت کامل ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ کیا ثبوت ہے کہ خدا قادر ہے اور وہ سنتا بھی ہے اور دیکھتا بھی ہے جب کہ ہم کو کوئی جواب ہی نہیں ملتا تو ہمارے پاس اس کے ہونے نہ ہونے کی کیا دلیل ہے اور جبکہ ہم کو اس کے وجود کا یقین نہیں تو اس سے ہماری محبت کامل کیونکر ہو سکتی ہے؟ پس محبت کے کامل ہونے کے لئے الہام کی سخت ضرورت ہے اور یہ زندہ ثبوت اسلام کے پاس ایسا موجود ہے جس کے مقابلہ میں دوسرے مذاہب کچھ بھی نہیں پیش کر سکتے۔ اگر غور کیا جائے تو وحی ایک پانی کے چشمہ کی طرح ہے اور مذاہب درختوں کی طرح پس اسلام تو وہ درخت ہے جو کہ عین چشمے میں کھڑا ہے اور جس کی جڑوں میں ہر وقت پانی جذب ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ درخت تازہ اور سرسبز رہتا ہے اس کی ٹہنیاں نرم پتے سبز پھول خوشبودار اور پھل شیریں اور تازہ ہیں مگر دوسرے مذاہب اس درخت کی طرح ہیں جو کہ پانی کی بہت ضرورت رکھتا ہو اور خشکی سے اس کی چھال گر رہی ہو اور جس کے ارد گرد کوسوں تک پانی کا نام و نشان نہ ہو اور جس کے پتے گر گئے ہوں پھل کبھی لگا ہی نہ ہو پس کیا وہ درخت جو کہ چشمہ میں ہے نفع رساں ہے یا وہ جو کہ خشک کھڑا ہے۔ سبز درخت سے تو بہت فائدے اٹھائے جا سکتے ہیں مگر اس درختِ خشک سے سوائے ایندھن کے اور کیا کام لیا جا سکتا ہے۔
اب میں اپنے مضمون کے خاتمہ پر پہنچ گیا ہوں کیونکہ میں نے ثابت کیا ہے کہ غیر مذاہب کے خدا اس قابل نہیں ہیں کہ ان سے محبت کی جائے اور ان کی تعلیم ایسی ناقص ہے کہ انسان اس پر عملدرآمد نہیں کر سکتا مگر ساتھ ہی یہ بھی ثابت کر چکا ہوں کہ اسلام پر کوئی اعتراض نہیں پڑتا اور اسلام کی تعلیم انسانی فطرت کے مطابق ہے اور خدا قادر مطلق ہے اور کل عیوب سے پاک ہے اور سب سے بڑی خصوصیت اسلام میں یہ بتائی ہے کہ اس میں محبت کرنے والے کو بالکل صاف جواب نہیں ملتا بلکہ خدا تعالیٰ اس کے امتحان کے بعد اس سے ہم کلام ہوتا ہے اور اس محبت کی گرمی کو جو محبت کرنے والے کے دل میں ہر ایک چیز کو جلا رہی ہوتی ہے اپنے تسکین دہ کلام سے ٹھنڈا کرتا ہے اور اس سوزش اور جلن کو دور کرتا ہے جو کہ جواب کے نہ ملنے سے پیدا ہوتی ہے اور اس طرح محبت اور بھی چمک اٹھتی ہے اور اس کے دل میں ایک جوش پیدا ہوتا ہے کہ میں خدا کے اور بھی قریب ہو جاؤں اور اس طرح بڑھتے بڑھتے وہ یہاں تک نزدیک ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی نسبت فرماتا ہے اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْکَ یعنی تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میرا نام دنیا میں تیرے سبب سے ظاہر ہے اور تیری عزت میرے سبب سے ہے اور درحقیقت خدا تعالیٰ کے نام کا جلال دنیا پر ظاہر کرنے والے یہی لوگ ہوتے ہیں جو کہ اس کی محبت کے دریا میں غرق ہوتے ہیں اور ان کی عزت صرف اس وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ خدا سے محبت کرتے ہیں۔
میں محبت الٰہی کے لفظ پر جس قدر سوچتا ہوں اسی قدر ایک خاص لذت اور وجد دل میں پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیارا ہے مذہب اسلام جس نے ہم کو ایسی نعمت کی طرف ہدایت کی ہے جس سے ہمارے دل روشن اور ہمارے دماغ منور ہوتے ہیں۔ اسلام کی تعلیم ہمارے زخمی دلوں کے لئے ایک مرہم کا کام دیتی ہے اور اگر اسلام نہ ہوتا تو بخدا طالب حق تو زندہ ہی مر جاتے اور وہ جن کے دلوں میں محبت کا ذوق ہے ان کی کمر ٹوٹ جاتی۔ اور محبت ایک ناممکن وجود سمجھی جاتی۔ اور اس کو وہم سے موسوم کیا جاتا۔ کیونکہ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ کوئی ایسی ہستی نہیں جس سے ہم محبت کر سکیں تو وہ محبت کے وجود میں شک لانے کے سوا اور کیا کر سکتے۔ خدا نے اسلام سا مذہب انسان کو عطا کر کے غمگین دلوں کو تسکین دی ہے۔ اور زخمی سینوں کو مرہم عنایت کی ہے۔ جب ایک خدا سے محبت کرنے والا انسان دیکھتا ہے کہ وہ جس سے میں محبت کرتا ہوں ایک ایک ذرہ کو دیکھتا ہے۔ اور دلوں کی باتوں کو جانتا ہے وہ سنتا ہے اور بولتا ہے اور پھر یہ کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ اپنے سے محبت کرنے والے کو بدلہ دے تو اس وقت وہ اپنے دل میں اس محبت کی وجہ سے ایک خوشی حاصل کرتا اور خاص لذت محسوس کرتا ہے۔
اب میں اس مضمون کو ختم کرتا ہوں ہم سب کو خدا کے ساتھ اخلاص اور محبت نصیب ہو اور وہ لوگ جو گمراہ ہیں ہدایت پائیں اور اس ہستی سے محبت کریں جو کہ محبت کے لائق ہے۔ آمین۔
خاکسار میرزا محمود احمد (تشحیذ الاذہان مارچ ۱۹۰۷ء)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر
بعض اعتراضات کا جواب
از
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
ناظرین کو اس بات سے ناواقفیت نہیں ہے کہ ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کو بوقت ساڑھے دس بجے حضرت اقدس مسیح الزماں مہدی دوراں نے اس دارِ فانی سے دارِ آخرت کی طرف کوچ کیا اور خدا کا وہ کلام جو اس کے مسیح پر نازل ہوا تھا پورا ہوا کہ وَ لَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی۔ ۲۵؍ مئی ۱۹۰۸ء کو حضرت اقدس تندرست تھے۔ اور سوائے پرانی بیماری دستوں کے جو کہ قریباً ایک مہینہ سے پھر لاحق ہو رہی تھی اور سب طرح خیریت تھی اگرچہ اس بیماری کی وجہ سے نقاہت ہو رہی تھی مگر چونکہ مدتوں کی تھی اس لئے چنداں خیال نہ تھا۔ اور اسی حالت میں حضرتؑ نے لاہور میں کئی تقریریں کیں اور ایک کتاب پیغامِ صلح لکھی جو ۳۱؍ مئی کو ایک بڑے جلسہ میں سنائی جانے والی تھی مگر خدا کی باتوں کو کون جانتا ہے۔ شام کے وقت آپ سیر کو گئے اور وہاں سے واپس آکر فرمایا کہ آج مجھ کو بہت دست آرہے ہیں اور نقاہت زیادہ ہے۔ قریباً دس بجے کھانا کھانے کے لئے بیٹھے اور راقم عاجز بھی آپ کے ساتھ تھا۔ ایک دو لقمہ کھا کر فرمایا کہ پھر دست آیا ہے۔ اور کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ رفع حاجت کے بعد آکر پلنگ پر لیٹ گئے اور طبیعت بہت کمزور تھی مگر ابھی زیادہ تکلیف نہ تھی قریباً دو اڑھائی بجے مجھے جگوا یا جب میں اٹھا تو معلوم ہوا کہ حضرت اقدسؑ بہت بیمار ہیں اور ایک دو دوست اور بھی آچکے ہیں ڈاکٹر موجود تھے اور حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفۃ خلیفۃ اللہ بھی دعا و دوا میں مشغول تھے۔ کوئی تین ساڑھے تین بجے نبض بالکل ساکت ہو گئی اور دل کی حرکت بند ہو گئی مگر ایک منٹ کے بعد ہی پھر آپ کی حالت رو بصحت ہو گئی۔ اور آپ نے آنکھیں کھول دیں صبح ساڑھے چھ بجے تک ہوش رہا مگر پھر آپ سو گئے اور اسی حالت میں قریباً ساڑھے دس بجے آپ کی وفات ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(2:157)۔
اگرچہ الہام الٰہی صاف طور سے آپ کی وفات کی خبر دے رہے تھے لیکن بوجہ محبت کے اس طرف خیال نہ جاتا تھا کہ اتنی جلدی آپ کی وفات ہو گی۔ مگر حضرت اقدسؑ سمجھ چکے تھے کہ میری وفات قریب ہے چنانچہ یہ بات الوصیت سے صاف طور سے ظاہر ہوتی ہے اور پھر اس کے بعد وقتاً فوقتاً گھر میں اس کا ذکر کرتے رہتے تھے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو متواتر خبر مل رہی ہے کہ تیری وفات قریب ہے۔
غرضیکہ یہ آپؑ کی وفات ہے جس نے مجھ کو اس رسالہ کے لکھنے کی تحریک کی ہے۔ اور چونکہ مخالفین سلسلہ نے اپنی پرانی عادت کے مطابق اس موقعہ پر بھی بہت کچھ زہر اگلا ہے اور اپنے نفسانی گندوں کا اظہار کیا ہے اور حضرتؑ کی وفات پر بہت کچھ اعتراض کئے ہیں۔ اس لئے راقم عاجز کے دل میں خداوند تعالیٰ نے یہ تحریک پیدا کی کہ میں ان تمام اعتراضوں کا جو مجھ تک پہنچے ہیں اور عام طور پر شائع کئے جاتے ہیں جواب دوں اور حتی الوسع مخالفین کی خباثت کو ظاہر کروں کہ وہ کن کن فریبوں اور جھوٹوں سے کام لیتے ہیں چنانچہ اس رسالہ میں علاوہ دیگر مفید باتوں کے عبدالحکیم مرتد اور ثناء اللہ کی لن ترانیوں کے جواب بھی دیئے گئے ہیں اور جو حضرت اقدسؑ کی پیشگوئیوں پر اعتراض کئے جاتے ہیں ان کا رد بھی کیا گیا ہے۔ وَمَا تَوْفِيْقِيْ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ۔
والسلام خاکسار مرزا بشیر الدین محمود احمد
بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم نَحمَدُہٗ وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُولِہِ الكَرِیم
اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَهٗ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُهٗ
خدا تعالیٰ کے پاک کلام کُلُّ مَنۡ عَلَیۡہَا فَانٍ وَّیَبۡقٰی وَجۡہُ رَبِّکَ ذُو الۡجَلٰلِ وَالۡاِکۡرَامِ(الرحمٰن: ۲۷۔۲۸) کے مطابق جو کوئی پیدا ہوا وہ فوت ہوا۔ اور جو آئندہ پیدا ہو گا وہ بھی فوت ہو گا۔ سوائے خدا کی ذاتِ واحد کے اور کوئی نہیں جو ہمیشہ ہو اور ہمیشہ رہے۔ آج سے تیرہ سو سال پہلے خدا تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو وفات دے کر اس بات کو ایسی طرح ثابت کر دیا کہ کوئی شک و شبہ کی گنجائش بھی نہیں رہی اور آج تیرہ سو سال آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد حضرت مسیح موعودؑ کی وفات نے خدا تعالیٰ کے کلام کی سچائی کو دنیا پر ظاہر کیا اور ثابت کر دیا کہ کوئی شخص خواہ خدا تعالیٰ کا کیسا ہی پیارا ہو اور کتنی ہی بڑی شان کا ہو۔ آخر بشر ہے اور مخلوق ہے اور ایک دن اس کے لئے مرنا ضروری ہے۔ مگر مبارک وہ جو ان باتوں سے نصیحت پکڑے اور اپنے نفس کو شرک کی ملوثی سے پاک رکھے۔
چونکہ نبیوں کا کام بھی دنیا سے شرک اور دوسرے گناہوں کا دُور کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ اپنے نام کی چمکار دکھلانے کے لئے ان کے ہاتھوں سے ایسے نشان دکھلاتا ہے کہ دنیا پر خدا تعالیٰ کا وجود روزِ روشن کی طرح ثابت ہو جاتا ہے اور دنیا گویا کہ خدا تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتی ہے اور ان کی وفات کے ساتھ بھی ایسے نشان وابستہ ہوتے ہیں کہ ان کی موت بھی چشمِ بصیرت
رکھنے والوں کے لئے خدا تعالیٰ کی ذات کا ایک بین ثبوت ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود کی پیدائش اور وفات بھی تمام نبیوں کی طرح ہوئی۔ آپ کے لئے پیشگوئی تھی کہ آنے والا مسیح توام پیدا ہوگا اور اس کے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوگی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حضرت کی پیدائش دنیا کے لئے ایک نشان قرار دی گئی کیونکہ اس سے خدا تعالیٰ کی شوکت اور جلال ثابت ہوا۔ اور اس کے ایک بزرگ بندے کا کلام جو اس نے خدا سے خبر پا کر کیا تھا پورا ہوا۔ اور پھر آپ کی وفات بھی سنتِ انبیاء کے مطابق ایک نشان کے طور پر ہوئی۔ کیونکہ آپ نے اپنی وفات پانے سے پہلے ہی دُنیا کو اس بات کی خبر دے دی تھی کہ میں عنقریب وفات پانے والا ہوں۔
چنانچہ آپؐ نے دسمبر ۱۹۰۵ء میں رسالہ الوصیت شائع کیا اور اس میں بوضاحت اس امر کو لکھ دیا کہ اب میں بہت جلد وفات پانے والا ہوں اور اپنے پیدا کرنے والے اور مامور کرنے والے کی طرف جانا میرے لئے مقدر ہو چکا ہے۔ اس لئے میں اپنی وصیت کو شائع کرتا ہوں۔ چنانچہ اس الوصیت کے شروع میں آپ تحریر فرماتے ہیں۔ کہ ”چونکہ خدائے عزوجل نے متواتر وحی سے مجھے خبر دی ہے کہ میرا زمانہ وفات نزدیک ہے اور اس بارہ میں اس کی وحی اس قدر تواتر سے ہوئی کہ میری ہستی کو بنیاد سے ہلا دیا اور اس زندگی کو میرے پر سرد کر دیا۔ اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اپنے دوستوں اور ان تمام لوگوں کے لئے جو میرے کلام سے فائدہ اٹھانا چاہیں چند نصائح لکھوں“۔ (الوصیت صفحہ ۳‘ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۰۱) اور پھر آگے چل کر یوں تحریر فرمایا ہے۔ کہ ”سو اے عزیزو! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھاتا ہے۔ تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلاوے۔ سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔ اس لئے تم میری بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے۔ کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا۔ اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں۔ لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا۔ جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔ جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے۔ بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے۔ جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا۔‘‘ سو ضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے۔ تاکہ اس کے وہ دن آوے جو دائمی وعدہ کا دن ہے۔ وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفادار اور صادق خدا ہے۔ وہ سب کچھ تمہیں دکھلائے گا جس کا اس نے وعدہ فرمایا ہے۔ اگرچہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں اور بہت بلائیں ہیں جن کے نزول کا وقت ہے۔ پر ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے۔ جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبر دی۔ میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا۔ اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں۔ اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے۔ جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔ سو تم خدا کی قدرتِ ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعا کرتے رہو۔ اور چاہئے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دعاؤں میں لگے رہیں۔ تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھاوے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے۔ اپنی موت کو قریب سمجھو۔ تم نہیں جانتے کہ کس وقت وہ گھڑی آ جائے گی۔“ (رسالہ الوصیت صفحہ ۷-۸‘ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۰۵-۳۰۶)
اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اب آپ کی زندگی کے بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔ اور قریب ہی وہ خدا کا پاک وجود ہم سے اٹھایا جانے والا ہے۔ چنانچہ اسی الوصیت میں یہ الہام الٰہی درج ہیں کہ ”بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔ اس دن سب پر اداسی چھا جائے گی۔ یہ ہوگا۔ یہ ہوگا۔ یہ ہوگا۔ بعد اس کے تمہارا واقعہ ہوگا۔ تمام حوادث اور عجائبات قدرت دکھلانے کے بعد تمہارا حادثہ آئیگا۔ اور پھر آپ نے جماعت کی نازک حالت کو ملاحظہ کر کے اس خوف سے کہ کہیں یہ ابتلاء میں نہ پڑیں مندرجہ ذیل الفاظ میں آنے والے ابتلاؤں سے ان کو آگاہ کیا۔ ”مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے۔ اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی ضروری ہے تا خدا تمہاری آزمائش کرے کہ کون اپنے دعویٰ بیعت میں صادق اور کون کاذب ہے۔ وہ جو کسی ابتلاء سے لغزش کھائے گا وہ کچھ بھی خدا کا نقصان نہیں کرے گا اور بد بختی اس کو جہنم تک پہنچائے گی۔ اگر وہ پیدا نہ ہوتا تو اس کے لئے اچھا تھا۔ مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے اور ان پر مصائب کے زلزلے آئیں گے۔ اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور قومیں ہنسی اور ٹھٹھا کریں گی اور دنیا ان سے سخت کراہت کے ساتھ پیش آئے گی۔ وہ آخر فتح یاب ہوں گے۔ اور برکتوں کے دروازے ان پر کھولے جائیں گے۔ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ایسا ایمان جو اس کے ساتھ دنیا کی ملوثی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بزدلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں۔ اور خدا فرماتا ہے کہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے“
(رسالہ الوصیت صفحہ ۱۱‘ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۰۹)
اور پھر آپؐ کی وصیت پر ہی بس نہیں ہوئی۔ بلکہ اس کے شائع ہونے کے بعد بھی متواتر ان الہامات کا سلسلہ جاری رہا۔ اور خدا تعالیٰ نے بار بار اپنے بندے کو اس بات کی اطلاع دی کہ اب تیرا وقت قریب آگیا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اہل بیت اور دیگر جماعت کی تسلی کے لئے بھی کلام الٰہی نازل ہوتا رہا۔ چنانچہ مندرجہ ذیل الہامات اور رؤیائے صالحہ جو اس بارے میں ہوئے اختصار کے ساتھ یہاں بطور نمونہ درج کئے جاتے ہیں۔
”رؤیا میں میں نے مولوی عبدالکریم صاحب کو دیکھا اور فوت شدہ خیال کرکے ان سے کہا کہ میری عمر اتنی ہو کہ سلسلہ کی تکمیل کے واسطے کافی وقت مل جائے۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحصیلدار۔ میں نے انہیں کہا کہ آپ غیر متعلق بات کیوں کرتے ہیں۔ جس امر کے لئے کہا ہے اس کے لئے دعا کریں تو انہوں نے سینہ تک ہاتھ اٹھائے مگر آگے نہ اٹھائے۔ اور کہا کہ اکیس۔ اکیس۔ اکیس اور یہی کہتے ہوئے چلے گئے“ اب اس خواب پر غور کرتے ہوئے ہر ایک صاحب بصیرت دیکھ سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے۔ کہ حضرت اقدسؑ کے دعا کے لئے کہنے پر مولوی صاحب نے شرح صدر سے دعا نہیں کی۔ کیونکہ ان کو خدا کی طرف سے علم دیا گیا تھا۔ کہ جس قسم کی تکمیل حضرت اقدسؑ چاہتے ہیں وہ نہ تو انبیاء کی سنت سے ہے۔ اور نہ آپ کو اتنی عمر ملنی ہے۔ اس لئے انہوں نے منہ تک ہاتھ اٹھانے کی بجائے سینہ تک ہاتھ اٹھا کر روک لئے اور اس بات کو خود حضرت اقدسؑ نے بھی محسوس کیا۔ کیونکہ آپ نے خواب کو لکھتے ہوئے ذکر کیا ہے۔ کہ مولوی صاحب نے سینہ تک ہاتھ اٹھائے ہیں اور آگے نہیں اٹھائے۔ پھر مولوی صاحب کا اکیس۔ اکیس۔ اکیس کہنا ظاہر کرتا ہے۔ کہ اکیس کا لفظ آپ کی تبلیغ کی عمر کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ کیونکہ آپ کا سوال مولوی صاحب سے یہ تھا کہ مجھ کو اتنی عمر ملے کہ سلسلہ کی تبلیغ کے لئے کافی ہو اور اس کے جواب میں مولوی صاحب نے اکیس کا لفظ فرمایا ہے۔ یعنی تمہاری اس تبلیغ کا وقت اکیس تک ہوگا۔ چنانچہ واقعات کو دیکھنے سے اس خواب کی سچائی بڑے زور سے ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ حضرت اقدسؑ کا اشتہار بیعت جمادی الاول ۱۳۰۶ھ میں شائع ہوا ہے۔ اور اکیسویں سال اسی مہینے میں آپ کا انتقال ہوا۔ اور اسی طرح ۱۸۸۸ء میں اشتہار بیعت نکلا۔ اور ۱۹۰۸ء میں وفات ہوئی۔ جس سے اس خواب کی تعبیر خوب واضح ہوگئی۔ کہ اس خواب سے یہ مراد تھی کہ اکیسویں سال آپ کی وفات ہوگی۔ پس ہر ایک عقلمند اور دانا اس بات سے نصیحت پکڑ سکتا ہے۔ اور دیکھ سکتا ہے کہ خداوند تعالیٰ کا کلام اس
کے مسیح موعودؑ پر نازل ہو کر کس شان و شوکت سے پورا ہوا۔ (کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ یہ خواب آج بنائی گئی ہے بلکہ آج سے اڑھائی سال پہلے بدر، الحکم اور ریویو آف ریلیجنز مورخہ ۲۰۔ دسمبر ۱۹۰۵ء میں شائع ہو چکی ہے۔ اور پھر اسی کے ساتھ کی ایک خواب انہیں دنوں کی ہے۔ جس سے اس خواب کے معنی اور بھی کھل جاتے ہیں۔ اور وہ اسی نمبر ریویو آف ریلیجنز میں اور دیگر اخباروں میں شائع ہو چکی ہے۔ کہ ”ایک کوری ٹڈ میں کچھ پانی مجھے دیا گیا ہے۔ پانی صرف دو تین گھونٹ باقی اس میں رہ گیا ہے☆لیکن بہت مصفّٰی اور مقطّر پانی ہے۔ اس کے ساتھ الہام تھا۔ آبِ زندگی۔ (تذکرہ صفحہ ۵۷۳) اب دیکھنا چاہئے کہ ۱۹۰۵ء کے آخر میں یہ الہام اور رؤیا ہوئے ہیں۔ اور اس وقت بتایا گیا ہے کہ تیری زندگی کے صرف دو تین سال رہ گئے ہیں۔ چنانچہ پورے اڑھائی سال کے بعد حضرت اقدسؑ نے وفات پائی۔ اور یہ اس لئے ہوا کہ خدا تعالیٰ کی باتیں پوری ہوئے بغیر نہیں رہتیں۔ اور وہ جو اس کے کلام کی مخالفت کرتے ہیں۔ وہ خود ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ اور دین و دنیا میں ان کی رسوائی ہوتی ہے۔ اور وہ اس وقت تک نہیں مرتے جب تک کہ خدا ان پر اپنی حجت قائم نہ کر دے اور دنیا ان کی کذب بیانی پر آگاہ نہ ہو جائے۔ جس طرح نبی اپنی نیکی اور تقویٰ اور خدا کی راہ میں قربان ہونے سے اس کی عزت کو دنیا میں دوبارہ قائم کرتے ہیں یہ لوگ بھی اپنی حد سے بڑھی ہوئی شرارت اور بدزبانی اور حق کی مخالفت کی وجہ سے موردِ عتابِ الٰہی بن کر اس کے جلال کے دنیا میں پھیلانے والے ہوتے ہیں۔ یہی لوگ سب سے زیادہ نبیوں کے نام کو مٹانا چاہتے ہیں۔ مگر نہیں کہہ سکتے کہ ان سے زیادہ ان کے نام کا روشن کرنے والا کوئی اور بھی ہے۔ یہی لوگ ہیں جو ہمیشہ خدا کے قائم کئے ہوئے سلسلوں کی تباہی کے لئے دن رات لگے رہتے ہیں۔ مگر نہیں کہہ سکتے کہ ان سلسلوں کی ترقی کے لئے ان سے زیادہ کوئی اور بھی کوشاں ہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ دنیا میں گمراہی اور ضلالت پھیلائیں۔ مگر خدا انہی کے منہ سے نکلی ہوئی باتوں سے ان سعید روحوں کو جو محبتِ الٰہی کے لئے دیوانوں کی طرح ہوتی ہیں ہدایت دیتا ہے۔ اور ان کے دلوں میں ایک ایسی تڑپ پیدا کر دیتا ہے کہ خدا کے رسولوں کے دیکھنے کے بغیر ان کو چین نہیں آتا۔ اور جب وہ ان ہدایت کے سرچشموں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں تو پھر کوئی دنیوی طاقت ان کو ان کی اطاعت سے نہیں روک سکتی۔ الغرض خدا تعالیٰ اپنے پاک بندوں پر اس لئے نشانات کی بارش برساتا ہے کہ تا
ان کے ذریعہ خدا کا وجود دنیا پر ظاہر ہو جائے اور لوگ ان رسولوں کی سچائی میں شک نہ لائیں۔ چنانچہ اسی قدیم سنت اللہ کے مطابق ہمارے حضرت اقدسؑ سے بھی خداوند تعالیٰ کا ایسا ہی سلوک ہوا۔ اور صرف ان کی زندگی میں ہی ان کے ہاتھ پر نشانات نہیں دکھائے گئے بلکہ ان کی وفات خود ایک نشان ہے مگر اس کے لئے جو آنکھیں رکھتا ہو۔ اور وفات کے بعد بھی بہت سے ایسے نشانات ہیں جو دکھائے جاویں گے اور جن کی اطلاع خدا تعالیٰ نے اپنے بندے کے ذریعہ سے ایک مدت پہلے ہم کو دیدی ہے۔ اور قطع نظر اور نشانات کے حضرتؑ کی وفات خود ایک ایسا زبردست نشان ہے کہ ایک صاحب بصیرت کے ماننے کے لئے کافی ہے۔ کیونکہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک شخص اپنے مرنے سے تین برس پہلے اپنی وصیت شائع کر دے۔ اور اس میں لکھ دے کہ عنقریب اب میں فوت ہونے والا ہوں۔ اور میری وفات اچانک ہوگی۔ اور اڑھائی تین سال کے بعد جبکہ میری تبلیغ کا اکیسواں سال ہو گا اس وقت یہ واقعہ ہوگا۔ اور پھر انہیں خوابوں اور الہاموں پر ہی حصر نہیں بلکہ اور بیسیوں الہام ہیں جن سے تاریخ وفات اور مہینہ تک بھی ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک الہام ہے۔ علم الدرمان ۲۲۳ (تذکرہ صفحہ ۶۷۷) اور یہ الہام ۱۵۔ اکتوبر ۱۹۰۶ء کا ہے۔ علم عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں جاننا۔ اور درمان ایک فارسی لفظ ہے جس کے معنی ہیں علاج۔ یعنی علاج کا علم ۱۵ اکتوبر سے ۲۲۳ دن بعد ہو جائے گا۔ اب دیکھنا چاہئے کہ ۱۵۔ اکتوبر سے دوسو تیسواں دن کون سا ہے۔ سو حساب لگا کر دیکھو کہ وہ دن ۲۵۔ مئی ۱۹۰۸ء ہے۔ چنانچہ اس الہام کے مطابق حضرت اقدسؑ ۲۶ مئی کو فوت ہوئے۔ اب ایک اور غور طلب امر ہے جس کا شاید مخالف کم فہمی سے انکار کر دے۔ اور وہ یہ کہ الہام تو ہوا ہے ۱۹۰۶ء کو اور فوت ہوئے ہیں ۱۹۰۸ء میں تو یہ ایک سال اور ۲۲۳ دن ہوئے۔ سو یاد رہے کہ اس کی دو وجوہات ہیں۔ اول تو یہ کہ اس کے ساتھ ہی الہام ہے کہ اِنَّ الْمَنَايَا لَا تُطِيْشُ سِهَامُهَا (تذکرہ صفحہ ۶۷۸) یعنی موت کے تیر خطا نہیں جاتے۔ (اس سے بھی ثابت ہے کہ یہ ۲۲۳ والا الہام موت کے متعلق ہے) اور پھر اس کے بعد الہام ہوا۔ اِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ ؕ نَزِيْدُ عُمْرَكَ (تذکرہ صفحہ ۶۷۹) (دیکھو ریویو آف ریلیجنز مورخہ ۲۰ نومبر ۱۹۰۶ء) یعنی تیری وفات تو ۱۹۰۷ء میں ہی تھی مگر ہم نے اس عمر کو بڑھا دیا۔ چنانچہ پورے ایک سال تک عمر میں ترقی دی گئی۔ اور ایک سال کے بعد وہ حساب شروع ہوا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرتؑ کی وفات ۲۶ مئی کو تھی۔ اور اگر آپ ۱۹۰۷ء میں فوت ہو جاتے تو ایک تو چند معاندین سلسلہ شور مچادیتے کہ ہماری پیشگوئی کی معیاد کے اندر فوت ہوئے۔ اور ایک یہ کہ اس وقت ۲۷ تاریخ کو
آپ کی وفات ٹھہرتی۔ اس لئے ضروری تھا کہ آپ کی وفات لیپ ایر (یعنی جس سال میں فروری کے ۲۹ دن ہوں) میں ہوتی تاکہ پورے ۲۲۳ دن کے بعد ۲۶؍ مئی کو فوت ہوں۔ پس صاف ثابت ہوتا ہے۔ کہ آپ کی وفات ۱۹۰۸ء میں ہونی چاہئے تھی جو کہ لیپ ایر ہے نہ کہ ۱۹۰۷ء میں جس میں فروری کے ۲۸ دن ہوتے ہیں۔ اور ۲۲۳ دن ۲۶؍ مئی تک ختم نہیں ہوتے۔ بلکہ ۲۷ کو ختم ہوتے ہیں۔ اب غور کرنا چاہئے کہ یہ پیشگوئی کیسی کھلی اور بیّن ہے۔ ہاں اگر مخالف اب بھی انکار کریں تو سوائے حضرت مسیح موعودؑ کے اس الہام کے کہ ”اِنَّمَاۤ اَشْکُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَی اللّٰهِ“ ہم اور کیا کہہ سکتے ہیں۔ ایک نبی آیا اور ان کے لئے رات اور دن غم کھا کر اس دنیا سے اٹھ گیا اور یہ لوگ اب تک اس سے انکار کرتے ہیں۔ ہماری خدا سے یہ خواہش نہیں کہ یہ مخالف ہلاک ہوں بلکہ دل ان کے لئے درد محسوس کرتا ہے۔ اور کڑھتا ہے۔ اور ایک تڑپ ہے کہ خدا ان کو ہدایت دے اور اپنے نبی کی شناخت دے۔ اگرچہ یہ لوگ ہم پر طعن و تشنیع کرتے ہیں۔ مگر ہم ان کے لئے دعائیں کرتے ہیں کہ اے خدائے قادر تو ہمارے دلوں کو جانتا ہے اور تجھے علم ہے کہ ہمارے دل ان گم گشتہ راہوں کے لئے کیسی تکلیف پاتے ہیں۔ پس اے عالم الغیب والشھادۃ ہمارے دکھوں اور تکلیف کو دیکھ ہم پر رحم کر اور ان غموں سے ہم کو چھڑا اور ہمارے بھائیوں کو ہدایت اور نور کا راستہ جو تیرا نبی ہمارے لئے کھول گیا ہے بتا۔ اور انہیں اس کی شناخت کی توفیق عطا کر۔ ہاں وہ جو شرارت میں حد سے بڑھتے ہیں اور دوسروں کو بھی ہدایت کی راہ سے روکتے ہیں اور ہنسی اور ٹھٹھا کرتے ہیں ان کی حالت کو دیکھ کر بے اختیار ان کی ہلاکت کی دعا نکلتی ہے۔ نہ اس لئے کہ ہمیں ان سے کچھ عداوت ہے بلکہ اس لئے کہ ان کی وجہ سے دوسرے لوگ اس چشمۂ معرفت سے سیراب ہونے سے محروم نہ رہ جائیں اور شدت پیاس سے ہلاک نہ ہو جائیں جو کہ خدا تعالیٰ نے حضرت اسماعیلؑ کی حالت کی طرح ان کی حالتوں پر رحم کھا کر اپنے نبی کے ذریعہ سے ان پر ظاہر کیا ہے۔
پھر ایک الہام ۲۸؍ ستمبر ۱۸۹۴ء کا ہے جو مدت سے دنیا میں شائع ہو چکا ہے۔ اور وہ ”داغِ ہجرت“ (تذکرہ صفحہ ۷۷۲) ہے۔ اب غور کرنے والے دیکھیں کہ ہجرت ہوئی تو کیسی ہوئی۔ فوت ہوئے تو کہاں لاہور میں جہاں اس واقعہ کے ہونے کا کسی کو وہم تک نہ تھا۔ اگرچہ خدا تعالیٰ اپنی وحی میں صاف طور پر لاہور کا ذکر بھی کر چکا تھا۔ غرض اس دنیا سے ہجرت ایسے وقت میں ہوئی جب اپنے وطن سے بھی دور تھے اب اس سے زیادہ ہجرت کیا ہو سکتی ہے۔ پھر مئی فروری ۱۹۰۷ء کو الہام ہوا کہ افسوس ناک خبر آئی اور انتقال ذہن لاہور کی طرف ہوا۔ چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا۔ پھر ۲؍ مارچ
۱۹۰۷ء کو الہام ہوئے (ریویو جلد ۶ نمبر ۳) اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا۔ ہے تو بھاری۔ مگر خدائی امتحان کو قبول کر۔ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ۔ اے میرے اہلِ بیت خدا تمہیں شر سے محفوظ رکھے ۔ اَنْتَ مِنِّيْ وَ اَنَا مِنْكَ ۔ اَنْتَ الَّذِيْ طَارَ إِلَيَّ رُوْحُهٗ ۔ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَ بَيْنَهُمْ ۔ اَعَجِبْتُمْ اَنْ تَمُوْتُوْا۔ ان کی لاش کفن میں لپیٹ کر لائے ہیں☆(الہامات ۲۔۷ مارچ ۱۹۰۷ء تذکرہ ۷۰۰۔۷۰۱) اب دیکھنا چاہئے کہ یہ سب الہام ایک وقت اور ایک دن کے ہیں۔ اور اکٹھے ہوئے ہیں۔ اور ان سے صاف طور سے حضرتؑ کی وفات نکلتی ہے۔ اور ان الہاموں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے۔ کہ حضرت اقدسؑ قادیان سے کہیں باہر فوت ہوں گے اور آپ کی لاش کفن میں لپیٹ کر یہاں لائی جائے گی۔
پھر ۱۲؍دسمبر ۱۹۰۷ء کو یہ الہام ہوا ہے کہ ”بخرام کہ وقتِ تو نزدیک رسید“۔ ستائیس کو ایک واقعہ (ہمارے متعلق) اَللّٰهُ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰی”خوشیاں منائیں گے“۔ (الہام ۲۰؍دسمبر ۱۹۰۷ء تذکرہ ۷۲۵) ”وقتِ رسید“۔ اب اگر ان الہاموں کو ملا کر دیکھا جاوے۔ تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ عنقریب آپ کی وفات ہونے والی ہے۔ اور ۲۷ تاریخ سے اس واقعہ کا کچھ تعلق ہوگا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ ستائیس کو قادیان میں دفن کئے گئے۔ اور ساتھ ہی اَللّٰهُ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰی کا الہام ہے۔ یعنی زندہ تو صرف خدا رہتا ہے۔ ورنہ سب نے آخر کار مرنا ہے اور کوئی نہیں جو پیدا ہوا اور مرے نہیں۔ پھر آگے ہے کہ ”خوشیاں منائیں گے“ یعنی مخالفانِ سلسلہ اس دن بہت ہی خوش ہوں گے۔ اور پھر دوبارہ وضاحت سے بیان فرمایا کہ ”وقت رسید“ یعنی تیرا وقت آپہنچا۔
پھر ۲۶؍اپریل ۱۹۰۸ء کو الہام ہوا۔ کہ ”مباش ایمن از بازیئ روزگار“۔ چنانچہ اگلے مہینہ اسی وقت اور اسی تاریخ کو حضرت اقدسؑ بیمار ہوئے۔ پھر لاہور جا کر الہام ہوا۔ کہ ”مکن تکیہ بر عمر ناپائیدار“✱(تذکرہ صفحہ ۷۵۶) پھر الہام ہوا اَلرَّحِيْلُ ثُمَّ الرَّحِيْلُ۔ (تذکرہ صفحہ ۷۵۶) یہ بھی اسی بارے میں تھا۔ پھر ۷؍مارچ ۱۹۰۸ء کو الہام ہوا۔ ”ماتم کدہ“ (تذکرہ صفحہ ۷۵۲)۔ اور پھر دیکھا کہ ”جنازہ آتا ہے“۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا تھا کہ آپؑ کہیں باہر وفات پائیں گے۔ اب کیا کوئی عقلمند انسان اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ حضرتؑ کی وفات سنتِ انبیاء کے طور پر ہوئی اور خدا کے وجود کے لئے ایک بیّن شہادت کے طور پر ہوئی۔ چنانچہ حضرت صاحب کا اس بارے میں ایک الہام
تھا جو کہ لفظ بہ لفظ پورا ہوا۔ اور وہ یہ ہے۔ قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَنُسُکِیۡ وَمَحۡیَایَ وَمَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(6:163) چنانچہ اس کے مطابق حضرت اقدس کی وفات ایک نشان کے طور پر ہوئی ۔ اور خدا کے وجود کو ثابت کرنے والی ہوئی۔ پھر ایک پیشگوئی ہے جس میں موت کی پیشگوئی بھی ہے اور جماعت کو بھی تسلی ہے کہ موت قریب۔ اِنَّ اللہَ یَحْمِلُ كُلَّ حِمْلٍ یعنی تیری موت قریب ہے۔ تو اپنے بعد جماعت کا فکر نہ کر کیونکہ خداوند تعالیٰ وہ تمام بوجھ خود اٹھائے گا۔ اس کے ساتھ اور بھی الہامات ہیں۔ جو آپ کی موت کو ظاہر کرتے ہیں۔ مگر بوجہ طوالت کے میں انکو یہاں درج نہیں کرتا۔
اب دیکھنا چاہئے کہ حضرت نے آج سے اڑھائی برس پہلے اپنی وصیت شائع کر دی تھی۔ اور اس میں صاف طور پر لکھ دیا تھا کہ میرا وقت قریب آگیا ہے اور عنقریب میں تم سے جدا ہو جاؤں گا اور خدا کی تقدیر پوری ہونے والی ہے اور میں انبیاء کی سنت کے مطابق اس طرح فوت ہوں گا کہ لوگ سمجھیں گے کہ ناکامی رہی۔ مگر اصل میں ناکامی نہ ہوگی۔ اور خدا اپنی پوری طاقت اور جلال کے ساتھ میرا نام روشن کرے گا۔ اور دنیا پر میری سچائی کو ظاہر کر دے گا۔ وہ لوگ جو اس وقت زندہ رہیں گے وہ میری سچائی کو آنکھوں سے دیکھیں گے اور یہ وعدہ نہیں ٹلے گا جب تک خون کی ندیاں نہ بہا دی جائیں۔ اور عذاب الٰہی اس وقت تک نازل ہوتے رہیں گے اور مصیبتیں دنیا کو نہیں چھوڑیں گی جب تک کہ خدا کا نام دنیا پر روشن نہ ہو اور جب تک کہ وہ لوگ جو رات دن گناہوں میں پڑے رہتے ہیں اپنے افعال و اقوال سے باز نہ آئیں اور خدا کے لئے اپنے نفس کی قربانی نہ کریں اور خدا کے ارادہ کو اپنے لئے قبول نہ کریں اور میری سچائی پر ایمان نہ لائیں۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا کے برگزیدہ نبی محمد مصطفیٰﷺ کو تو مردہ خیال کیا جائے اور عیسیٰ علیہ السلام کو اب تک آسمان پر زندہ بہ جسم عنصری مانا جائے ۔ یہ ایک ایسا گناہ ہے اور ہمارے پاک نبی ﷺ کی اس قدر ہتک ہے کہ خداوند تعالیٰ کی غیرت اس کو برداشت نہیں کر سکتی اور ضرور ہے کہ وہ دنیا سے اس شرک کی بیخ کنی کرے۔
اور پھر متواتر وحی سے اس بات کی تائید ہوتی رہی اور خداوند تعالیٰ نے بار بار آنے والے واقعہ کی خبر دی اور اس طرح کھلم کھلا اعلان کیا گیا کہ دوست تو دوست دشمنوں کو بھی اس سے انکار نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے تاریخ اور سال تک بھی مقرر کر دیا۔ چنانچہ آپ زندگی والی خواب میں بتا دیا کہ دو تین سال کے اندر اندر ہی آپ وفات پائیں گے اور ۲۳؍دن والی رویا میں ۲۶؍ مئی اور لیپ ائیر بتا دیا۔ یعنی ۱۹۰۸ء میں۔ پس اب سوائے کسی بد بخت اور کور باطن انسان کے کس کو انکار ہو سکتا ہے اور کونسی سعید روح ہے جو باوجود ایسے ایسے کھلے نشانوں اور زبردست تائیدات الٰہیہ کے اس خدا کے رسولؐ کا انکار کرے۔ جو دنیا میں اپنا کام پورا کر کے اپنے بھیجنے والے کی طرف چلا گیا۔
مگر میں دیکھتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ حضرتؑ کی وفات خود ان کی سچائی کا ایک زبردست نشان ہے اور خدا تعالیٰ کی ہستی اس سے ثابت ہوتی ہے اور اس کی طاقت اور جبروت ظاہر ہوتا ہے پھر بھی بعض کور باطن اور ضدّ و تعصب سے بھرے ہوئے اور دروغ و کذب بیانی کو شیر مادر سمجھنے والے اس کو اپنی سچائی کا نشان قرار دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ حضرت اقدسؑ کی وفات ہماری پیشگوئی کے مطابق ہوئی۔ اور بعض ان میں ایسے ہیں جو اس کو مباہلہ کی وجہ سے قرار دیتے ہیں۔ اور نہیں سمجھتے کہ خدا کے رسولوں اور برگزیدوں کی مخالفت کا انجام اچھا نہیں ہوتا اور وہ درخت جو خدا لگانا چاہتا ہے کوئی نہیں جو اس کو کاٹ سکے۔ کیا ان میں اتنی عقل نہیں اور وہ اس قدر شعور بھی نہیں رکھتے کہ ایک معمولی کسان درخت لگاتے ہوئے اس بات کا انتظام کر لیتا ہے کہ کوئی پرند چرند یا آدمی اس کو ضرر نہ پہنچا سکے۔ اور اس کے لئے وہ پہلے سے ہی ایسی تدابیر عمل میں لاتا ہے کہ جس سے وہ پودا ان تمام حوادث زمانہ سے بچ رہے جو ممکن ہے کہ اس کو مضبوط جڑ پکڑنے تک پیش آئیں۔ تو خداوند تعالیٰ نے جو ہر ایک بھید کا جاننے والا ہے اور تمام زمانوں کا علم رکھتا ہے اور ہر ایک بات پر قادر ہے، جو وہ چاہتا ہے کرتا ہے۔ اور اس کے راستہ میں کوئی شخص رکاوٹ پیدا نہیں کر سکتا۔ اور اس کے ارادہ کے برخلاف خواہ تمام مخلوقات عالم مل کر کرنا چاہے تو بھی اس کے برخلاف کچھ نہیں کر سکتے۔ اور اگر وہ چاہے تو ایک دم میں تمام مخلوقات عالم کو تباہ کر دے۔ کیونکہ وہ خالق ہے تمام چیزوں کا اور قادر ہے ہر ایک بات پر اور کوئی نہیں جو اس کے حکم کے برخلاف دم بھی مار سکے کیونکہ اس درخت کو جو وہ لگانا چاہتا ہے خالی چھوڑ دیا اور اس کے لئے حفاظت کے سامان مقرر نہیں کئے اور درندوں اور پرندوں کو اجازت دے دی کہ جس طرح چاہو اس درخت کو تباہ کر دو۔ مگر میں ان لوگوں کو جو ایسا خیال کرتے ہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ خداوند تعالیٰ کوئی لغو کام نہیں کرتا۔ اور جب وہ دنیا میں ایک سلسلہ قائم کرنا چاہتا ہے اور اس طرح اپنے نام کی عزت جو بنی نوع انسان کے دلوں میں سے اٹھ چکی ہوتی ہے پھر دوبارہ بلند کرنا چاہتا ہے تو خواہ تمام دنیا اس سلسلہ کے برخلاف زور لگائے اور شیطان اپنی کل فوجوں کے ساتھ رحمانی لوگوں پر حملہ کرے اور اس وقت کے رسول کو خواہ کس قدر دکھ دیئے جائیں اور کیسی کیسی رکاوٹیں اس کے راستہ میں پیدا کی جائیں تو بھی وہ اس کام کو کر کے چھوڑتا ہے۔ اور وہ جو اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں آخر ہلاک ہو جاتے ہیں اور ایک دنیا ان کی ذلت اور تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتی ہے۔ اور وہ ہمیشہ نصرت اور فتح کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ اور ایک وقت مقررہ تک اپنا کام کر کے اور دنیا کو سیدھی راہ دکھا کر پھر اپنے بھیجنے والے کی طرف چلے جاتے ہیں اور ان کے پیچھے ان کے متبعین اس کام کو پورا کرتے ہیں۔ اور خدا کی نصرت ان کے شاملِ حال ہوتی ہے پس جبکہ خدا تعالیٰ نے اپنی سنت قدیمہ کے ماتحت اس زمانے میں ایک نبی بھیجا تو کیونکر ممکن ہے کہ وہ اس کو بغیر مدد کے چھوڑ دے اور اس کی جماعت کو تباہ ہونے دے۔ اگر وہ نبی اب ان میں نہیں رہا اور اپنا کام ختم کر کے اس دنیا سے عالمِ جاوداں کی طرف چلا گیا ہے تو کیا ہوا ۔ خداوند تعالیٰ جو حی و قیوم ہے ان کو ضائع ہونے نہیں دے گا۔ کیونکہ وہ اسی کا لگایا ہوا پودا ہے۔ تمام دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گی اور اس پر ثابت ہو جائے گا کہ خدا ہمیشہ سچے کا حامی ہوتا ہے۔ پس وہ مدعی جو اس وقت حضرت مسیح موعودؑ کی وفات پر شور مچاتے اور اس کو اپنی کرامت بتاتے ہیں دیکھ لیں گے کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور خداوند تعالیٰ ان سے کیا سلوک کرتا ہے۔ کیا وہ سچوں کی طرح خدا کی طرف سے نصرت و مدد پاتے ہیں یا ہلاکت کا منہ دیکھتے ہیں۔ مگر وہ لوگ یاد رکھیں کہ جھوٹا کبھی فروغ نہیں پاسکتا۔ اور آج اگر وہ سلامت ہے تو ضرور ہے کہ وہ کل ہلاک کیا جائے۔ کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ جھوٹے کو بھی وہی مدد اور نصرت دے جو سچوں کو دیتا ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہو تو دنیا تباہ اور برباد ہو جائے اور خدا کا نام دنیا سے مٹ جائے اور کوئی نہ ہو جو کہہ سکے کہ سچائی اس طرف ہے اور خدا کے نبیوں کی پہچان کا کوئی طریقہ باقی نہ رہے۔ پس میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ سچے اور جھوٹے کی بڑی شناخت یہی ہے کہ سچے کے ساتھ نصرتِ الٰہی اور مددِ خداوندی شامل ہوتی ہے۔ مگر جھوٹا با وجود اس کے کہ وہ اپنا تمام زور خرچ کرے اور تمام شیطانی فوجیں اس کے ساتھ ہوں وہ کبھی وہ نصرت اور فتح اور مقبولیت نہیں حاصل کر سکتا جو سچے کو خدا تعالیٰ کی طرف سے عنایت ہوتی ہے۔ پس اے لوگو! تم نے حضرت مسیحؑ کی زندگی کو اور ان کے حالات کو دیکھ لیا ہے اور وہ مدد اور نصرت جو خدا تعالیٰ نے ان کو بخشی ہے اس کا مشاہدہ کر لیا ہے اب کچھ مدت انتظار کرو اور ان جھوٹے مدعیوں کی زندگی کو بھی دیکھو۔ اور کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ یہ لوگ تمہاری آنکھ کے سامنے ہلاک ہو جائیں گے۔ اور ایسی ذلت ان کے حصہ میں آئے گی۔ کہ ان کے طرف دار حضرت مسیح موعودؑ کے مقابلہ میں ان کا نام لیتے ہوئے شرمائیں گے اور یہ ایک ایسا نشان ہوگا کہ اس کے بعد حضرت مسیح موعودؑ کے لئے کسی اور نشان کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اور تمام طالب حق اور سچائی کے ڈھونڈنے والے اپنی آنکھوں کے سامنے ہدایت اور نور کا راستہ کھلا ہوا دیکھیں گے۔ اور بغیر حضرت مسیح موعودؑ کے قبول کرنے کے ان کو اور کوئی چارہ نظر نہیں آئے گا۔ پس ان مدعیوں کے برخلاف ہم کو کچھ بہت بڑے دلائل لکھنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ خود سچائی اور جھوٹ میں فرق کر دکھائے گا۔ مگر اس لئے کہ ان کے بےہودہ فخر اور جھوٹے دعووں کو سن کر ان پڑھ اور جاہل لوگ دھوکہ میں نہ آجائیں۔ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ کچھ نہ کچھ لکھا جائے۔ چنانچہ سب سے پہلے میں ان دعویداروں میں سے میاں عبدالحکیم خاں مرتد کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس کو دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ میری پیشگوئی کے مطابق فوت ہوئے۔
اے ناظرین! میں اس شخص کا رڈ لکھنے سے پہلے آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ایک اول درجہ کا بد زبان آدمی ہے۔ اور اپنی تحریر اور تقریر کے وقت تہذیب و شائستگی کو بالائے طاق رکھ دیتا ہے۔ اور بات بات میں گالیاں نکالنا اس کا کام ہے۔ اور جب کسی مخالف کا ذکر کرتا ہے تو حد سے بڑھ جاتا ہے اور غصہ اس پر قبضہ کر لیتا ہے اور عقل اس کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ اور یہ وہ شخص ہے جو کہ حضرت مسیح موعودؑ کا بیس سال تک مرید رہا ہے۔ اور اس کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ مرزا صاحب کی تائید میں مجھے الہام ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ اس بات کو شائع بھی کر چکا ہے کہ ایک شخص میرے رشتہ داروں میں سے جو مرزا صاحب کا مخالف تھا اس کی نسبت مجھے خبر دی گئی کہ اگر یہ مخالفت سے باز نہ آئے گا تو طاعون سے ہلاک ہو گا۔ چنانچہ بعد میں ایسا ہی ظہور میں آیا۔ اور باوجود الہاموں اور خوابوں کے جو کہ یہ ان کی تائید میں پیش کرتا تھا صرف اس بات سے حضرت صاحب کا مخالف ہو گیا کہ اس نے ایک دفعہ آپ کو خط لکھا اور اس میں تحریر کیا کہ ایک شخص جو نبی کریمؐ کو نہیں مانتا مگر اعمالِ صالحہ بجالاتا ہے اور خدا کی توحید کا قائل ہے وہ بخشا جائے گا۔ اس پر حضرت مسیح موعودؑ نے لکھا کہ یہ عقیدہ بالکل فاسد ہے۔ خدا تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے ذریعہ دنیا پر حجت قائم کر دی ہے اور اب جو کوئی ان پر ایمان نہ لائے وہ بخشا نہیں جا سکتا کیونکہ اعمالِ صالحہ بغیر ان کی اطاعت کے نہیں ہو سکتے۔ اس پر یہ شخص بگڑ بیٹھا اور حد سے زیادہ بد ظنی کرنے لگا اور بد زبانی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا اور اس خدا کے مرسل کو جو اس کے جلال کو قائم کرنے آیا تھا اس قدر گالیاں دیں کہ کوئی زبان نہیں جو ان کا اعادہ کر سکے اور کوئی قلم نہیں جو ان کو دوبارہ تحریر میں لا سکے۔ اور پھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ ایک پیشگوئی شائع کی کہ میں صادق ہوں اور حضرت مسیح موعودؑ نعوذ باللہ جھوٹے ہیں اور جھوٹا سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جائے گا۔ اور اس کی میعاد تین سال بتائی۔
ناظرین غور کریں کہ اس شخص نے کس قدر جھوٹ اور فریب سے کام لیا ہے۔ کیونکہ حضرت صاحب شائع کر چکے تھے کہ میری زندگی کے اب دو یا تین سال باقی رہ گئے ہیں اور عنقریب میں دنیا کو چھوڑنے والا ہوں پس اس نے اس بات سے فائدہ اٹھایا اور اشتہار دے دیا کہ مرزا صاحب تین سال کے اندر فوت ہو جائیں گے۔ پس کیا کوئی انصاف پسند طبیعت اس بات کی اجازت دے سکتی ہے کہ ایسے شخص کے مقابلہ میں جو بڑے زور سے پیشگوئی کر چکا ہو کہ دو تین سال کے اندر ہی فوت ہو جاؤں گا اور خدا نے مجھے اس کے متعلق بار بار وحی کی ہے اور اس قدر تواتر سے یہ وحی مجھ پر نازل ہوئی ہے کہ میری زندگی مجھ پر سرد ہوگئی ہے۔ کوئی شخص پیشگوئی کرے کہ یہ شخص تین سال کے اندر فوت ہو جائے گا اور یہ صادق اور کاذب کا ایک نشان ہوگا۔ اور اگر ایسا ہی واقعہ ہو جیسا کہ میں کہتا ہوں تو اس سے میری سچائی ثابت ہوگی۔ پس کیا وہ شخص جو اس قدر دغا بازی سے کام لے اور دنیا کو دھوکہ دینا چاہے خدا کا نبی کہلا سکتا ہے؟
ناظرین خود غور کر سکتے ہیں کہ اگر ایک مجلس میں زید اٹھ کر کہے کہ میرے گھر میں بچہ پیدا ہونے والا ہے اور چند ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ اور یہ بات سن کر بکر اٹھے اور قسم کھا کر کہے کہ میں خدا کا نبی ہوں اور میری سچائی کا یہ نشان ہے کہ زید کے ہاں حمل ہے تو لوگ اس کو سوائے سودائی یا جھوٹے کے اور کیا سمجھیں گے۔ جب مرزا صاحب نے اپنی موت کی پہلے سے خبر دیدی تھی اور جماعت کو اور دوسرے لوگوں کو اپنی وصیت سے اطلاع دے دی تھی۔ اور ان کے الہاموں سے صاف ثابت ہوتا تھا کہ تین برس کے اندر ۲۶ ؍ مئی کو وہ فوت ہو جائیں گے۔ تو پھر عبدالحکیم خاں کا ان کی موت کی نسبت پیشگوئی کرنا اگر ایک صریح مکر اور فریب یا شیطانی الہام نہیں تو اور کیا ہے کیونکہ اگر مرزا صاحب نعوذ باللہ جھوٹے تھے تو ان کی موت کا الہام پہلے عبدالحکیم کو ہونا چاہئے تھا کیونکہ اس کو خبر دینے والا خدا تھا اور مرزا صاحب کو خبر دینے والا (نعوذ باللہ) شیطان تھا۔ مگر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ حضرت اقدسؑ کو تو (نعوذ باللہ) شیطان نے پہلے خبر دے دی اور خدا تعالیٰ نے عبدالحکیم کو اس کے بعد خبر دی۔ گویا کہ ان کی وفات کا پہلے تو شیطان کو علم ہوا اور پھر اس سے خبر پا کر حضرت اقدسؑ کو علم ہوا۔ اور ان سے عبدالحکیم کے خدا نے سن کر عبدالحکیم کو خبر دی۔ (نعوذ باللہ من ہٰذا) اور اس بات کو تسلیم کر کے ماننا پڑے گا کہ عبدالحکیم کا خدا ایک شیطان سے بھی کم علم رکھنے والا ہے جو کہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایک ایسا گندہ اعتراض ہے کہ اس کو ماننے والا کبھی مسلمان نہیں کہلا سکتا۔ اور ممکن نہیں کہ اس کا ایمان خدا پر قائم رہ سکے اور اگر آج نہیں تو کل ضرور یہ شخص دہریہ ہو جائے گا۔ پس چاہئے کہ عبدالحکیم خاں اس خیال سے توبہ کرے۔ کیونکہ ہمارا خدا بڑا غیور خدا ہے۔ وہ اس بات کو برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کی پاک ذات پر ایسا گندہ اعتراض کیا جائے اور وہ جو ایسا خیال رکھتا ہے ضرور ہے کہ ہلاک کیا جائے اور تباہ کیا جائے اور اس کی موت ایسی ذلت سے ہو کہ آئندہ آنے والی نسلیں اس سے عبرت پکڑیں۔ پس اگر اس دلیل پر غور کیا جائے تو ایک عقلمند انسان اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ کون حق پر ہے اور کس کے حصہ میں جھوٹ کی نجاست آئی ہے۔ اور وہ کون ہے جس سے خدا کلام کرتا اور کس کے لئے شیطان نے اپنا دامِ تزویر پھیلایا ہوا ہے۔
اب میں اس بات کے ثابت کرنے کے لئے چند دلائل لکھتا ہوں کہ میاں عبدالحکیم خاں بالکل حق سے دور ہیں۔ اور ان کا ہاتھ سچائی کے دامن کو چھو بھی نہیں گیا۔ اور وہ ایک اندھے کی طرح ہیں جو طوفانِ باد و باران کے وقت سجاکھوں کو اپنی طرف بلائیں اور کہیں کہ آؤ میں تمہاری راہنمائی کروں۔ اور اس پیاسے کی طرح ہیں جس کی شدتِ پیاس کی وجہ سے جان لبوں پر آ رہی ہو اور وہ ایک ایسے شخص کو جو کہ ایک سرد اور شیریں چشمہ کے کنارے پر بیٹھا ہوا اپنی اور اپنے ساتھیوں کی پیاس بجھا رہا ہو بلائے اور وعدہ دے کہ آؤ میں تمہیں پیاس سے نجات دلاؤں۔ خواہ وہ افتراء سے کام لیتے ہیں یا ان کو شیطانی الہام ہوتے ہیں بہرحال وہ باوجود ضلالت میں گرے ہوئے ہونے کے احمدی جماعت کو ہدایت دینے کے لئے بلاتے ہیں۔ اول دلیل جو ان کے مفتری ہونے کی ہے وہ تو میں اوپر لکھ آیا ہوں۔ مگر ناظرین کی آسانی کے لئے پھر دوبارہ لکھتا ہوں۔
دلیل اول تو میاں عبدالحکیم خاں کے جھوٹے ہونے کی یہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے صاف طور سے اپنی وفات کی نسبت آج سے تین سال پہلے ہی پیشگوئی کی ہوئی تھی اور نہ صرف معمولی طور سے اس کا اعلان کیا تھا بلکہ کئی ہزار کی تعداد میں اشتہار الوصیت جس میں مفصل طور سے اس بات کو لکھا تھا کہ اب میں فوت ہونے والا ہوں شائع کیا تھا کہ میری وفات کی نسبت اس زور سے اور اس تواتر سے وحی الٰہی نازل ہو رہی ہے کہ میری زندگی میرے لئے سرد ہو گئی ہے۔ اور جماعت کو نصیحت کی تھی کہ میرے بعد ان اصولوں پر کاربند ہونا اور ان باتوں پر عمل کرنا کہ وہ کام جو خدا نے کرنا چاہا ہے تمہارے ہی ہاتھوں سے پورا ہو اور یہ بھی لکھا تھا کہ میری وفات اس طرح ہو گی کہ لوگ سمجھیں گے کہ ناکامی ہوئی مگر اصل میں وہ کامیابی ہو گی۔ کیونکہ خدا کی سنت ہمیشہ سے یہی چلی آئی ہے کہ نبی روحانیت کا بیج بو کر چلا جاتا ہے اور اس کے بعد وہ پھولتا پھلتا ہے۔ اور جب تک وہ نبی رہے اس وقت تک سلسلہ کو کامل ترقی نہیں ہوتی۔ چنانچہ ایسا ہی نبیوں کے زمانہ میں ہوا اور ہوتا ہے اور آئندہ ہو گا۔ مگر اس ظاہری حالت کو دیکھ کر نادان اور کم فہم لوگ (جیسے میاں عبدالحکیم) سمجھتے ہیں کہ یہ سلسلہ اب تباہ ہو جائے گا۔ اور وہ تمام کارروائی جو اب تک ہوئی برباد ہو جائے گی۔ مگر ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ اور وہ سلسلہ کچھ ابتلاء کے بعد اور بھی بڑھتا ہے اور ترقی کرتا ہے۔ اور پھر اس اشتہار الوصیت کے بعد کئی کئی رنگوں پر آپ کی وفات کی خبر دی گئی اور یہاں تک اس کو کھول دیا گیا جیسا میں پیچھے ثابت کر آیا ہوں سال اور مہینہ اور تاریخ تک بتا دی گئی۔ پس ایسی صورت میں میاں عبدالحکیم کا یہ پیشگوئی کرنا کہ حضرت اقدسؑ تین سال کے اندر فوت ہو جائیں گے ایک ذلیل مکر اور جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے؟ ورنہ کم سے کم اس قدر تو ضرور ثابت ہوتا ہے کہ میاں عبدالحکیم پر شیطان نازل ہوتا ہے۔ اور جس طرح بعل کے نبیوں کی معرفت وہ خداوند تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسولوں کی مخالفت کرتا تھا آج کل بھی اس نے ایسا ہی کام شروع کیا ہے۔ اور دنیا کو دھوکہ میں ڈالنے کے لئے سادہ لوح لوگوں کو پھسلانے کے لئے اس نے یہ کارروائی کی ہے۔ اور میاں عبدالحکیم کو بسبب اس کی دماغی بناوٹ اور اس بیجا غصہ اور غضب کے جو اس کی طبیعت پر حکمران ہے اس نے اپنے کام کے لئے چن لیا ہے۔ ورنہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ شیطان ایک شخص کو خبر دے اور رحمان اس خبر کے دنیا میں شائع ہو جانے کے بعد میاں عبدالحکیم پر اپنا کلام نازل کرے۔ اگر میاں عبدالحکیم کا خدا ایسا ہی طاقتور ہے تو شیطان اس سے زیادہ زبردست ہے۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ کی شان سے بالکل بعید ہے کہ وہ شیطان کی بتائی ہوئی خبر سن کر اپنے بندہ کو اطلاع دے۔ بلکہ آج تک یہی ہوتا آیا ہے اور یہی ہو گا کہ پہلے خدا تعالیٰ اپنے ایک بندہ کو ایک خبر دیتا ہے۔ اور پھر اس سے سن کر شیطان اپنے دوستوں کو جا کر اطلاع دیتے ہیں۔ چنانچہ یہی معاملہ یہاں بھی ہوا ہے۔ اور میاں عبدالحکیم کے الہام کرنے والے نے پہلے حضرت اقدسؑ کا الہام بدر، الحکم اور ریویو میں پڑھا اور پھر ان کے کان میں جا کر پھونک دیا۔ اور اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ عبدالحکیم نے اپنے رسالہ ذکر الحکیم نمبر ۴ میں لکھا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنی وصیت شائع کر دی ہے اور لکھ دیا ہے کہ میری وفات قریب ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبدالحکیم کو معلوم تھا کہ حضرتؑ نے اپنی وفات کی پیشگوئی کی ہے۔ چنانچہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے تو حضرت اقدسؑ نے خبر دی کہ میری وفات قریب ہے اور وہ دو تین سال کے اندر ہو گی۔ جیسا کہ میں ثابت کر آیا ہوں اس پر عبدالحکیم خاں نے اپنی پیشگوئی شائع کر دی کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ مرزا تین سال میں فوت ہو جائے گا۔ اس کے بعد حضرت اقدسؑ پر متواتر وحی ہوئی کہ بہت جلد تمہاری وفات ہونے والی ہے۔ اس پر میاں عبدالحکیم نے ایک دوسری پیشگوئی شائع کر دی جس میں چودہ ۱۴؍ ماہ میعاد مقرر کر دی۔ یعنی قریباً سال بھر پہلی پیشگوئی میں سے کم کر دیا۔ کیونکہ جب اس نے یہ پیشگوئی کی تھی۔ تو اس وقت تین سال والی پیشگوئی میں سے قریباً آٹھ ماہ گذر چکے تھے۔ پھر حضرت اقدسؑ کو کچھ ایسے الہام ہوئے۔ تیری عمر بڑھا دی گئی ہے۔ اس پر آپ نے ایک اور الہام شائع کر دیا۔ کہ اگر زیادہ سے زیادہ مہلت ملی تو وہ تین سال والی پیشگوئی کے متعلق ہو گی۔ پھر جب حضرت اقدسؑ کو موت کے الہام ہوئے اور بتایا گیا کہ اب تو بہت ہی قریب وقت آ گیا ہے۔ تو آپ کو جھٹ الہام ہوا کہ مرزا ۲۱۔ ساون مطابق ۴؍ اگست کو فوت ہو جائے گا۔ چنانچہ خداوند تعالیٰ نے اس مفتری کو ایسا پکڑا کہ سب کچھ کیا کرایا برباد ہو گیا اور اس کی کذب بیانی کو ایسا ظاہر کر دیا کہ قیامت تک یہ سیاہی اس کے چہرے سے نہیں اتر سکتی۔ کیونکہ باوجود اس کے کہ اس نے بڑے دعویٰ سے پیشگوئی کی تھی کہ عین ۲۱ ساون کو مرزا فوت ہو جائے گا۔ حضرت اقدسؑ ۲۶؍ مئی کو فوت ہوئے۔ اور اس کو جھوٹا ثابت کر گئے۔ پس اس شخص کا مفتری ہونا صاف ثابت ہے۔ کیونکہ پہلے اپنی موت کی خبر حضرت اقدسؑ نے دی تھی۔ اور پھر اس نے۔ اور وہ بھی اس کی بتائی ہوئی خبر غلط نکلی کیونکہ اس نے تین سال کی میعاد فسخ کر کے ۴؍ اگست کی تاریخ مقرر کر دی تھی۔ تو پھر ناظرین خود سمجھ سکتے ہیں کہ لعنتِ خدا کس پر پڑی۔ مگر میاں عبدالحکیم کو کون سمجھائے۔ ایک تو وہ حضرت صاحبؑ کی پیشگوئیوں سے مضمون اڑا کر اپنی پیشگوئی بنا کر شائع کر دیتے ہیں۔ یا یہ کہ ان کا الہام بھیجنے والا یہ کام کرتا ہے۔ اور پھر دعویٰ اس بات کا کرتے ہیں کہ میں خدا کا رسول اور وقت کا مصلح ہوں۔ تف ہے اس رسالت پر اور لعنت ہے اس اصلاح پر کہ اول تو چوری کرنی اور پھر شریفوں کے سامنے فخر کرنا۔ مجھے افسوس تو اس بات پر آتا ہے کہ یہ شخص اتنا بھی نہیں سمجھتا کہ حضرت صاحبؑ کی وفات سے سچائی تو ان کی ظاہر ہوئی۔ اور پیشگوئی تو ان کی پوری ہوئی۔ پھر یہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے لگا۔ کیا اس میں شرم و حیا کا اتنا مادہ بھی نہیں رہا کہ یہ اس بات کو سمجھ لے کہ حضرت اقدسؑ نے تو اس کی پیشگوئی کے وجود سے پہلے اپنی وفات کی خبر دی تھی؟ اور کیا اس میں اتنی بھی عقل نہیں رہی کہ یہ الوصیت کے الفاظ کو سمجھ سکے؟ اس کے وہ تمام دعاوی علوم و فنون کہاں گئے۔ جب یہ اردو اچھی طرح نہیں سمجھ سکتا تو قرآن شریف کی تفسیر کیا لکھتا ہے جو غیر زبان میں ہے۔ اب ناظرین غور کریں کہ الوصیت میں حضرت اقدسؑ نے اس کی پیشگوئی سے مدت پہلے اپنی وفات کی خبر دی تھی۔ اور ایک الہام سے تین سال کی میعاد بھی مقرر کی گئی تھی۔ جو میں مضمون کے شروع میں لکھ آیا ہوں۔ تو اس کے بعد اس شخص کا کوئی پیشگوئی کرنا ایک اول درجہ کی حماقت، جہل، بیوقوفی اور نادانی نہیں تو اور کیا ہے۔ بلکہ ہمارا حق ہے کہ ہم اس کو اس کی چالا کی اور شرارت پر محمول کریں۔
دوسری دلیل بھی میں کسی قدر لکھ آیا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس کو شیطانی الہام ہوتے ہیں۔ اور اس کے کئی ثبوت ہیں۔ اول یہ کہ اس نے خود اپنی تصانیف میں اس بات کا اقرار کیا ہے کہ میرے عمل بھی اچھے نہیں ہیں اور میں ایک بدعمل مؤمن ہوں۔ اور مجھے شیطانی الہام بھی ہوتے ہیں۔ پس جو شخص خود مانتا ہے کہ مجھ پر شیطان کا تصرف ہے۔ اس کے الہاموں کی نسبت اور زیادہ ثبوت دینے کی چنداں ضرورت نہیں۔ کیونکہ جب ملہم خود اقراری ہے تو دوسرے کو کیا شک ہو سکتا ہے۔ مگر یہ بات جو اس نے لکھی ہے واقعی عجیب ہے کہ میں بدعمل مؤمن ہوں۔
تعجب ہے کہ آپ رحمۃ للعالمین بھی ہیں اور پھر ساتھ ہی نماز روزہ کے بھی پابند نہیں۔ افسوس اس شخص کو یہ بات لکھتے ہوئے اتنا شعور بھی نہیں آیا کہ جب لوگ اس رحمۃ للعالمین کو نماز روزہ کا پابند نہ دیکھیں گے تو نبی کریم ﷺ کی نسبت جن کے زمانہ کو تیرہ سو سال گزر گئے ہیں نعوذ باللہ کیا خیال کریں گے۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا اصل بات یہ تھی کہ آپ خود اس بات کے مقر ہیں کہ مجھ کو شیطانی الہامات ہوتے ہیں۔ اور خود آپ کے الہامات نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ آپ کو شیطانی الہامات بھی ہوتے ہیں اور رحمانی کوئی نہیں ہوتا۔ کیونکہ جو الہام ہوتا ہے وہ پہلے حضرت اقدس کو ہو چکا ہوتا ہے یا ایک واقعہ کے بعد اس کے مطابق آپ کو ایک الہام ہو جاتا ہے۔ اور اگر کوئی الہام ان دونوں باتوں سے الگ ہوتا ہے تو وہ اکثر بلکہ ہمیشہ جھوٹا نکلتا ہے۔ جیسا کہ حضرت صاحب کی وفات کی نسبت اس نے لکھا تھا۔ کہ ۲۱؍ ساون کو ہو گی۔ مگر وہ ۲۶؍ مئی کو فوت ہوئے۔ اور پھر ایک اور ثبوت اس کے جھوٹے ہونے کا یہ ہے کہ خود اس کو اقرار ہے کہ مجھ کو رحمانی الہامات بھی ہوتے ہیں اور شیطانی بھی۔ پس کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ ایک ایسے دل پر اپنا کلام نازل کرے جس پر پہلے سے شیطانی قبضہ ہے۔ کیا سیاہی اور سفیدی ایک جگہ اکٹھی ہو سکتی ہے؟ پاک اور ناپاک ملائے جا سکتے ہیں؟ ببول کو ممکن نہیں کہ انگور لگیں۔ اور گوخور مکھی کبھی بھی شہد کا چھتہ تیار نہیں کر سکتی۔ پھر کس طرح ممکن ہے کہ ایک ملہم شیطانی پر خدا کا کلام نازل ہو۔ اور وہ اس کو رحمۃ للعالمین قرار دے جس کلام کی نسبت خدا تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے کہ لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ(الواقعہ: ۸۰) کیا وہ نجس دل پر نازل ہو سکتا ہے جس میں اس قدر خشیتِ خدا بھی نہیں
کہ احکام شرعیہ پر عمل کرے؟ پس خود اپنے مقولہ کے مطابق عبد الحکیم خاں جھوٹا اور مفتری ٹھہرتا ہے اور ہر ایک عقلمند جو اس سے نتیجہ نکال سکتا ہے وہ ظاہر ہے۔
تیسری دلیل جو میں اس کے مفتری ہونے کے ثبوت میں پیش کرنا چاہتا ہوں اور جس کا ذکر اس نے اپنے دعویٰ کے ثبوت میں اعلان الحق میں بھی کیا ہے۔ (یہ رسالہ اس نے حضرت صاحبؑ کی وفات پر اپنی سچائی کے ثبوت کے لئے شائع کیا ہے) یہ ہے کہ اس شخص نے حضرت اقدسؑ کی وفات کی نسبت پیشگوئی شائع کی کہ آپ تین سال کے اندر فوت ہو جائیں گے۔ اور یہ جھوٹے اور سچے کے فیصلہ کے لئے ایک نشان ہوگا۔ اس پیشگوئی کی اصل حقیقت تو میں پہلے ہی لکھ آیا ہوں کہ پہلے حضرت اقدسؑ خود یہ پیشگوئی کر چکے تھے کہ میں جلد فوت ہو جاؤں گا۔ اور الہام الٰہی سے ظاہر ہوتا تھا کہ تین سال کے اندر ہی آپ فوت ہو جائیں گے۔ اور ایسے وقت میں اس کا یہ پیشگوئی کرنا محض ایک شرارت تھی۔ مگر خیر خدا تعالیٰ نے اس کو جھوٹا ثابت کرنا تھا۔ اس لئے تھوڑے دنوں کے بعد اس کو القائے شیطانی ہوا کہ اب تین سال کی میعاد چودہ ماہ رہ گئی ہے۔ اور یہ بھی پہلے کی طرح چوری ہی تھی۔ کیونکہ حضرت اقدسؑ نے دوبارہ شائع کیا تھا کہ اب میری موت قریب ہے۔ اب یہاں تک تو شیطان نے اپنی بڑی فتح سمجھی۔ کہ خدا کے کلام میں سے چرا کر اور الہام الٰہی میں سے اخذ کر کے میں نے اپنا گھر پورا کر لیا۔ مگر خدا تو بڑا علام الغیوب ہے۔ وہ جانتا تھا کہ یہ سب باتیں اس کی دھری رہ جائیں گی اور وہی ہوگا جو میرا ارادہ ہے چنانچہ کچھ مدت کے بعد شیطان نے اس پر اپنا کلام نازل کیا اور بتایا کہ مرزا ۲۱۔ ساون مطابق ۴؍ اگست کو فوت ہو جائے گا۔ چنانچہ اس نے اس الہام کو اس خیال سے کہ اب میری بڑی فتح ہو گی مختلف اخباروں میں شائع کرا دیا مثلاً روزانہ پیسہ اخبار، وطن اور اہل حدیث اور اس کے علاوہ بریلی گزٹ میں بھی اس کا یہ الہام شائع ہوا۔ کہ مرزا ۴؍ اگست کو فوت ہو جائے گا۔ اور اسی طرح بہت سے خطوط میں اس نے اس الہام کا ذکر کیا جو اب تک موجود ہیں۔ مگر اس کے برخلاف حضرت مسیح موعودؑ کو خداوند تعالیٰ نے الہام کیا کہ ”خدا سچے اور جھوٹے میں فرق کر دکھائے گا“۔ اور ساتھ ہی بتا دیا کہ میری وفات ۱۵؍ اکتوبر کے ۲۲۳ دن بعد ہوگی اور بیعت کے اکیسویں سال ہوگی جیسا کہ میں اپنے مضمون کے پہلے حصہ میں ثابت کر آیا ہوں۔ پس اب عقلمند لوگ مقابلہ کر کے دیکھیں کہ کون سچا رہا اور کون جھوٹا۔ حضرت مسیح موعودؑ کو بھی آپ کی وفات کی تاریخ اور مہینہ بتایا گیا تھا۔ اور دونوں کے الہامات مختلف اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں۔ اب غور کرنے والے غور کریں کہ کون سچا رہا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی وفات کی خبر ۲۶؍ مئی
بتلائی تھی۔ اور اس نے ۴؍ اگست تاریخ مقرر کی تھی۔ چنانچہ آپ مطابق خدائی الہام کے اسی تاریخ کو فوت ہو گئے اور اس کو کذّاب ثابت کر گئے۔ اور دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ یہ شخص شیطان سے خبر پانے والا ہے۔ کیونکہ جب تک کہ حضرت کے الہامات سے سرقہ کرتا رہا تب تک تو کسی قدر راستی پر رہا۔ اور جونہی بلند پروازی شروع کی اور چاہا کہ اپنے شیطانی الہاموں کا رحمانی الہاموں سے مقابلہ کرے تو وہیں ہلاکت کا منہ دیکھا اور سخت ذلیل اور خوار ہوا۔ اور دنیا نے اس کی اصلیت کو پا لیا اور صادق اور کاذب کا فیصلہ ہو گیا اب کیا کوئی شخص باوجود ایسے صریح ثبوتوں کے اس کی نسبت ایک لمحہ کے لئے بھی گمان کر سکتا ہے کہ یہ اپنے اندر کچھ بھی صداقت رکھتا ہے۔ اور کیا کوئی سعید روح اب بھی حضرت صاحب کی سچائی کا انکار کر سکتی ہے؟ دیکھو آپ نے آج سے ڈیڑھ سال پہلے بتا دیا تھا کہ میں ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کو وفات پاؤں گا اور اس دن لوگ خوشیاں منائیں گے۔ مگر بر خلاف اس کے اس نے ۴؍ اگست کی تاریخ بتائی تھی۔ پس خدا تعالیٰ نے جھوٹے اور سچے میں فرق کر دکھایا۔ پھر بار بار اس شخص کا اپنی سچائی پر زور دینا حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ جبکہ اس کی اپنی قلم کا لکھا ہوا الہام موجود ہے کہ اب ۱۴؍ ماہ والی پیشگوئی کی جگہ مرزا ۴؍ اگست کو فوت ہو گا۔ اور اس کے دستخط کا فوٹو پیسہ اخبار لاہور میں شائع ہو چکا ہے۔ اور اہل حدیث اور وطن میں بھی اس کی طرف سے یہ الہام درج ہے۔ تو کیا اب یہ انکار کر سکتا ہے کہ میں نے پیشگوئی نہیں کی تھی۔ دیکھو سچوں اور جھوٹوں کا فرق کہ سچے تو بعض اوقات افسوس کرتے ہیں۔ کہ یہ پیشگوئی شائع نہیں کی۔ مگر جھوٹے جو شائع کر بیٹھے ہیں اس پر بھی شرمندہ اور پریشان رہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کاش ہم یہ پیشگوئی شائع نہ کرتے۔ اور ایسا ہی حال عبدالحکیم کا ہوا ہے۔ باوجود اس کے کہ یہ الفاظ اس کے الہام کے پیسہ اخبار وغیرہ میں شائع ہو چکے ہیں پھر بھی اب یہ انکار کرتا ہے۔ اور اپنے رسالہ میں لکھتا ہے کہ میں نے ۴؍ اگست تک کی پیشگوئی کی تھی جو پوری ہوئی۔ مگر ہم اس کا جواب سوائے لَّعۡنَتَ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰذِبِیۡنَ(آل عمران: ۶۲) کے اور کیا دے سکتے ہیں۔ اگر پیسہ اخبار، وطن، اہل حدیث اور یونین گزٹ بریلی میں اس کا یہ الہام شائع نہ ہو چکا ہوتا تو یہ جتنا چاہتا جھوٹ بول سکتا تھا مگر خدا نے اسے ناک سے پکڑ لیا ہے اب یہ بچ کس طرح سکتا ہے۔ افسوس رسول ہونے کا دعویٰ اور اس قدر جھوٹ۔ کیا مسیلمہ کذّاب اس سے زیادہ جھوٹ بولتا تھا۔ نہیں۔ زمانہ کی ترقی کے ساتھ مسیلمہ کی روح نے بھی ترقی کی ہے اور آگے سے زیادہ افتراء پردازی پر کمر باندھی ہے۔ الغرض اس شخص نے ۴؍ اگست کو حضرت اقدس کی تاریخ وفات مقرر کی تھی مگر آپ ۲۶؍ مئی کو فوت ہو کر شیطانی الہاموں کی قلعی کھول گئے اور آپ کے الہامات میں ۲۶؍ مئی تاریخ مقرر ہوئی تھی۔ سو اس تاریخ کو آپ نے وفات پائی اور یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے سچے اور جھوٹے کا فیصلہ ہے۔ جو چاہے قبول کرے۔ ورنہ یاد رہے کہ کسی شخص کا کفر یا ارتداد خدا اور اس کے نبیوں کی شان میں کوئی فرق نہیں پیدا کرتا۔ بلکہ خود ان کے کافر اور ان سے ارتداد کرنے والوں کو کہنا پڑتا ہے یٰلَیۡتَنِیۡ کُنۡتُ تُرٰبًا(78:41) یعنی کاش کہ میں مٹی ہی ہوتا یا پیدا ہی نہ ہوتا۔ پس اب بھی وقت ہے جو چشمِ بصیرت رکھتے ہیں وہ خدا کے رسول کا اقرار کریں تاکہ ان کا مددگار ہو۔ ورنہ وہ دن آتے ہیں کہ انکار کرنے والے اپنے انکار کا مزہ چکھ لیں گے اور پھر سوائے پچھتانے کے اور کچھ نہ ہو سکے گا۔
چوتھی بات جس کا میں جواب دینا چاہتا ہوں اور جس سے عبدالحکیم کا دروغ ثابت ہوتا ہے یہ ہے کہ اس نے اپنے اشتہار اعلان الحق میں لکھا ہے کہ مرزا صاحب نے تبصرہ میں یہ الفاظ لکھے ہیں جو میری سچائی ظاہر کرتے ہیں کہ اپنے دشمن کو کہہ دے کہ خدا تجھ سے مؤاخذہ کرے گا۔ میں تیری عمر کو بڑھاؤں گا۔ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ جولائی ۱۹۰۷ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے رہ گئے ہیں یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیشگوئی کرتے ہیں۔ ان سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھا دوں گا تا معلوم ہو کہ میں خدا ہوں۔ اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے۔ ”اور پھر لکھا ہے۔ کہ ”دنیا میں تیرا نام بلند کیا جائے گا۔ اور نصرت و فتح تیرے شامل حال ہو گی۔ اور دشمن جو تیری موت چاہتا ہے۔ وہ خود تیری آنکھوں کے روبرو اصحاب فیل کی طرح نابود ہو جائے گا۔ اور تباہ ہو جائے گا۔“۔ ان فقرات کے لکھنے سے وہ نتیجہ نکالتا ہے کہ مرزا صاحب فوت ہو گئے اور میں زندہ ہوں اور یہ میری سچائی کا نشان ہے۔ مگر اس نادان کو یہ سمجھ نہیں آئی کہ مرزا صاحب کی وفات سے اگر نعوذ باللہ ان کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تو اس سے اس کی سچائی کس طرح ثابت ہوئی۔ فرض کرو کہ نعوذ باللہ مرزا صاحب کی تمام پیشگوئیاں غلط ہوئیں اور ایک بھی سچی نہیں ہوئی تو بھی اس کی صداقت ثابت نہیں۔ اور اس کی سچائی تو اس بات سے ثابت ہوتی تھی کہ اس کی اپنی پیشگوئی بھی سچی نکلتی جب اس نے مرزا صاحب کی وفات کی تاریخ ۴؍ اگست مقرر کی۔ اور مرزا صاحب اپنی پیشگوئی کے مطابق ۲۶؍ مئی کو فوت ہوئے۔ تو یہ خود بخود جھوٹا اور کاذب ثابت ہو گیا۔ اب اس کا یہ عذر کہ مرزا صاحب کی ایک پیشگوئی سچی نہیں نکلی۔ تو اس سے اس کی سچائی ثابت ہوتی ہے محض ایک دھوکہ ہے۔ اور پھر دوسری بات یہ ہے کہ اشتہار تبصرہ اس وقت شائع کیا گیا ہے جب اس نے حضرت مرزا صاحب کی وفات کی میعاد چودہ ماہ مقرر کی تھی۔ اس وقت یہ لکھا گیا تھا کہ خدا نے دشمن کو جھوٹا کرنے کے لئے
میری عمر بڑھادی۔ چنانچہ اگر وہ چودہ ماہ کی میعاد عبدالحکیم قائم رکھتا تو اس وقت اس کا یہ اعتراض ہو سکتا تھا کہ میری بتائی ہوئی میعاد کے اندر فوت ہو گئے ہیں اس لئے میں سچا ہوں۔ مگر جب اس نے خود اس پیشگوئی کو رد کر دیا اور لکھ دیا کہ بجائے چودہ ماہ والی پیشگوئی کے اب ۴؍ اگست کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ تو تبصرہ میں جو کچھ لکھا گیا تھا اس کے پورے ہونے کی ضرورت نہیں رہی۔ کیونکہ وہ اشتہار تو اس غرض کے لئے لکھا گیا تھا کہ جھوٹے اور سچے میں فرق ثابت کیا جائے اور دنیا پر ظاہر ہو جائے کہ کون جھوٹا ہے اور کون سچا۔ پس جب اس نے ۴؍ اگست تاریخ وفات مقرر کر دی۔ تو اب سچے اور جھوٹے میں فرق اس طرح ہو سکتا تھا کہ ایک دوسرے کی پیشگوئی کے مطابق ہلاک ہو جاتا۔ اور اس طرح اپنے آپ کو جھوٹا ثابت کر جاتا۔ پس خدا تعالیٰ نے مرزا صاحب کو ۲۶؍ مئی کو وفات دے کر ثابت کر دیا کہ عبدالحکیم جھوٹا ہے۔ چنانچہ تبصرہ کے الفاظ بھی یہی ہیں کہ جو دشمن تیری وفات کی پیشگوئی کرتے ہیں ان کو میں جھوٹا ثابت کروں گا پس صاف ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کا منشا اس جگہ دشمن کو جھوٹا ثابت کرنے کا تھا نہ کچھ اور۔ چنانچہ جب اس نے اپنی پیشگوئی کو خود ہی رد کر دیا اور لکھا کہ اب ۴؍ اگست کی تاریخ مقرر ہو گئی ہے تو خدا تعالیٰ نے اس کو اس طرح جھوٹا ثابت کیا کہ آپ کو ۲۶؍ مئی کو وفات دے دی اور اس کی پیشگوئی ایک دیوانہ کی بڑ کی طرح ردی گئی۔ اور جھوٹے اور سچے میں خدا تعالیٰ نے فرق کر کے دکھلا دیا کہ سچوں کی باتیں سچی اور جھوٹوں کی جھوٹی ہوتی ہیں۔ چنانچہ ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر ایک شخص کو کہا جائے کہ تو اس لئے ہلاک ہو جائے گا کہ تو اسلام کو برا کہتا ہے اور گالیاں دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ شخص اسلام لے آئے اور بڑا متقی اور پرہیز گار ہو جائے تو وہ اس ہلاکت سے بچ جائے گا کیونکہ اس نے وہ بات چھوڑ دی۔ اسی طرح یہاں بھی یہی معاملہ ہے۔ عبدالحکیم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت پیشگوئی کی کہ وہ چودہ مہینے کے اندر فوت ہو جائیں گے اور یہ میری سچائی کا نشان ہے۔ اس پر حضرت مسیح موعودؑ نے شائع کیا کہ ایسا نہیں ہو گا بلکہ یہ خود میرے سامنے ہلاک ہو جائے گا۔ اور یہ سب باتیں اس لئے ہیں کہ سچے اور جھوٹے میں فرق ہو جائے۔ چنانچہ اگر یہ شخص اس پیشگوئی پر قائم رہتا۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے ہلاک ہو جاتا اور وہ زندہ رہتے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کو تو اپنے نبی اور رسول کی سچائی ظاہر کرنی منظور تھی نہ کہ کچھ اور۔ مگر چونکہ بعد میں یہ اپنی بات سے پھر گیا اور اس نے چودہ ماہ والی پیشگوئی کو اپنی سچائی کا نشان قرار نہ دیا۔ بلکہ لکھا کہ میری سچائی کا ثبوت یہ ہے کہ مرزا ۴؍ اگست کو فوت ہو گا۔ تو خدا تعالیٰ نے بھی اپنی پہلی بات کو منسوخ کر دیا اور جس راہ سے اس نے اس کے رسول کو پکڑنا چاہا تھا اسی راہ سے اس کو پکڑ لیا۔ یعنی حضرت صاحب کو اس کی مقرر کردہ تاریخ پر وفات نہ دی۔ اور ۲۶؍ مئی کو دی جو تاریخ خود آپ کے الہامات سے ثابت ہوتی تھی۔ اور اس طرح خدا کا وہ کلام کہ ”جھوٹے اور سچے میں فرق کر کے دکھایا جائے گا“ پورا ہوا۔ اور عبدالحکیم کے منہ پر کذاب کا ایسا بد نما داغ لگا جو قیامت تک مٹ نہیں سکتا۔ اور یہ بات جو میں نے لکھی ہے کہ جب عبدالحکیم نے چودہ ماہ والی پیشگوئی کو منسوخ کر دیا تو خدا نے بھی اپنے وعید کو دوسرے رنگ میں بدل دیا بے ثبوت نہیں بلکہ قرآن شریف سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ جن لوگوں کے لئے فرمایا تھا کہ لَہُمۡ فِی الدُّنۡیَا خِزۡیٌ وَّلَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ(2:115)۔ ان میں سے بھی بہت سے لوگ آخر کار ایمان لائے اور بڑے بڑے انعام و اکرام کے مستحق ٹھہرے پس اس جگہ بھی خدا تعالیٰ نے اپنی سنت قدیمہ کے مطابق جس کی نسبت وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَحۡوِیۡلًا(35:44) کا حکم آیا ہے عمل کیا۔ اور جب عبدالحکیم خاں نے اپنی پیشگوئی کو چھوڑ کر ایک اور پیشگوئی پر اپنی سچائی کا مدار رکھا تو خداوند تعالیٰ نے بھی اپنی بے پایاں قدرتوں سے چاہا کہ اس کو اپنی راہ سے ہلاک کرے۔ چنانچہ اس نے اس کی پیشگوئی کو بالکل غلط ثابت کر دیا۔ اور اس نے بتایا تھا کہ حضرت اقدس علیہ السلام ۴؍ اگست کو فوت ہوں گے مگر ایسا نہ ہوا۔ چنانچہ یہ جھوٹا ٹھہرا۔ اور تبصرہ میں بتایا ہوا عذاب اِذَا فَاتَ الشَّرْطُ فَاتَ الْمَشْرُوْطُ کے مطابق اس پر سے ٹل گیا۔ کیونکہ اس کو جھوٹا ثابت کرنا ضروری تھا۔ سو خدا نے ثابت کر دیا۔
پانچویں بات جو عبدالحکیم کے تمام دعاوی کو بالکل توڑ دیتی ہے۔ اور اس کے جھوٹ کا قلع قمع کر دیتی ہے ایسی صاف ہے کہ خدا کے فضل سے اس کے بعد اس شخص کا ہاتھ کہیں پڑ ہی نہیں سکتا اور خواہ کتنے ہی دانت پیسے اور پیشانی رگڑے ممکن ہی نہیں کہ اپنے مطلب کے مطابق کوئی بات نکال سکے۔ چنانچہ اگر غور سے دیکھا جائے تو حضرت اقدس علیہ السلام نے کبھی کوئی الہام شائع نہیں کیا جس میں یہ آیا ہو کہ عبدالحکیم تیری زندگی میں ہلاک ہو جائے گا۔ زیادہ سے زیادہ مندرجہ ذیل چند الہامات ہیں جن سے یہ اپنے مطلب کی بات نکالتا ہے۔ مگر میں یہ ثابت کرتا ہوں کہ ہرگز ان سے کہیں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عبدالحکیم آپ کی زندگی میں ہلاک ہو گا۔ اور پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ وہ الہامات اس وقت کے ہیں جبکہ اس نے چودہ ماہ والی پیش گوئی کی تھی اور اس پیشگوئی کے بدلنے پر ان الہامات کی سزا بھی اور رنگ میں بدل گئی۔ بہرحال وہ الہامات یہ ہیں رَبِّ فَرِّقْ بَيْنَ صَادِقٍ وَّ كَاذِبٍ۔ اَنْتَ تَرٰی كُلَّ مُصْلِحٍ وَّ صَادِقٍ۔ اَلَمْ تَرَكَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحَابِ الْفِيْلِ
اَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِيْ تَضْلِيْلٍ۔ تیرے دشمنوں کا اخزاء و افناء تیرے ہی ہاتھ سے مقدر تھا۔ چنانچہ ان الہامات سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی جس سے یہ معلوم ہو کہ عبدالحکیم حضرت اقدسؑ کی زندگی میں ہلاک ہو گا بلکہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ خدا سچے اور جھوٹے میں فرق کر کے دکھلاوے گا۔ اور وہ اصحابِ فیل کی طرح ذلیل ہو کر ہلاک ہو گا اور اس کے تمام مکر و فریب غارت ہو جاویں گے۔ اور وہ بوجہ مخالفت حضرت اقدسؑ کے ہلاک ہو گا۔ اب ان الہامات کو دیکھ کر ہر ایک اہلِ عقل دیکھ سکتا ہے کہ خداوند تعالیٰ نے کس طرح گھیر کر اس سے ۴۔اگست والی پیشگوئی شائع کروائی اور کس طرح اس کے مکر کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور تمام دنیا کی نظروں میں اس کو ذلیل کیا اور ان الہامات کے جو معنی حضرت اقدسؑ نے کئے ہیں کہ وہ میرے سامنے ہلاک ہو گا ایک اجتہادی غلطی تھی اور اجتہادی غلطی ہر نبی سے ہوتی رہتی ہے۔ چنانچہ اس کی بہت سی نظیریں قرآن شریف اور احادیث صحیحہ میں موجود ہیں مثلاً حضرت نوحؑ کے قصّہ کو ہی دیکھو کہ ان سے وعدہ تھا کہ تیرے اہل بچائے جائیں گے اور جب طوفان میں اپنے بیٹے کو غرق ہوتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے خداوند تعالیٰ سے کہا کہ رَبِّ اِنَّ ابۡنِیۡ مِنۡ اَہۡلِیۡ(ہود: ۴۶) یعنی اے خدا میرا بیٹا بھی تو میرے اہل سے ہے یہ کیوں غرق ہونے لگا۔ تو اس پر خدا نے جواب دیا اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنۡ اَہۡلِکَ(ہود: ۴۷) یعنی وہ تیرے اہل سے نہیں اور فَلَا تَسۡـَٔلۡنِ مَا لَـیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ(ہود: ۴۷) یعنی ایسی بات مجھ سے مت پوچھ جس کا تجھ کو علم نہیں۔ پھر حضرت یونس علیہ السلام کو بھی اجتہادی غلطی لگی۔ اور جب ان کی پیشگوئی کے مطابق ان کی قوم ہلاک نہ ہوئی تو ایسے گھبرائے کہ خدا تعالیٰ اپنے کلام میں فرماتا ہے کہ اگر خدا کا فضل نہ ہوتا تو وہ ملزم کر کے پھینک دیئے جاتے۔ چنانچہ قرآن شریف میں آتا ہے۔ لَوۡلَاۤ اَنۡ تَدٰرَکَہٗ نِعۡمَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ لَنُبِذَ بِالۡعَرَآءِ وَہُوَ مَذۡمُوۡمٌ(القلم: ۵۰)
پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اجتہادی غلطی لگی اور انہوں نے سمجھا کہ میں خود بنی اسرائیل کو کنعان میں پہنچاؤں گا۔ حالانکہ وہ راستہ میں ہی فوت ہو گئے۔ اور ان کے ساتھی بھی تقریباً تمام راستہ میں ہی فوت ہوئے۔ اور ان کے ایک خلیفہ نے بنی اسرائیل کو منزل مقصود تک پہنچایا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اجتہادی غلطی لگی اور انہوں نے سمجھا کہ میرے حواریوں کو دنیاوی بادشاہت ملے گی اور انہوں نے ان کو حکم دیا کہ کپڑے بیچ کر تلواریں خریدو۔ حالانکہ دنیاوی بادشاہت تو الگ رہی۔ ان کو چین سے بیٹھنا تک نصیب نہ ہوا۔ اور پھر آخر میں ہمارے سردار اور ہادی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اجتہادی غلطی لگی اور آپ ایک کشف کی بناء پر حج کو چل دیئے اور بڑی تکلیفوں کے بعد وہاں پہنچے تو کام نہ ہوا۔ اس بات سے حضرت عمرؓ جیسے بزرگ کو ابتلاء کا سامنا ہوا۔ پس غور کا مقام ہے کہ جب اجتہادی غلطی کا ہو جانا کسی نبی کی شان پر کوئی دھبہ نہیں لگاتا۔ اور اس سے اس کی سچائی پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا تو حضرت مسیح موعودؑ جو پچھلے انبیاء کی سنت پر آئے ہیں اگر کوئی اجتہادی غلطی کر بیٹھیں تو ان پر کیا الزام آسکتا ہے اصل تو الہامات کو دیکھنا چاہئے کہ ان کے کیا معنی ہیں۔ اور پھر یہ بات بھی ہوتی ہے کہ ایک نبی سے ایک وعدہ ہوتا ہے اور وہ اس کے جانشین یا اس کی اولاد کے ہاتھوں سے پورا ہوتا ہے۔ پس باوجود ان تمام دلائل کے جو میں اوپر بیان کر آیا ہوں یہ مان بھی لیا جائے کہ ۴؍اگست کی پیشگوئی کے باوجود بھی تبصرہ والا اشتہار قائم رہا اور منسوخ نہیں ہوا تو بھی کوئی الزام نہیں آتا۔ اور کسی بات سے حضرت اقدسؑ کی تکذیب اور عبدالحکیم کی تصدیق نہیں ہوتی۔ کیونکہ جو معنی کئے گئے ہیں وہ خدا کی طرف سے تفہیم نہیں بلکہ اپنا اجتہاد ہے۔ پس اگر اس کے مطابق واقعہ نہ ہو تو ملہم کے الہام پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کی سچائی اور بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اس نے کوئی منصوبہ بنا کر الہام پیش نہیں کئے تھے بلکہ خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے وہ الہامات تھے۔
اب ناظرین غور کر کے دیکھیں کہ عبدالحکیم کے ہاتھوں میں رہ کیا جاتا ہے جس پر اس کو ناز ہے۔ اس کے لئے اشتہار ”خدا سچے کا حامی ہو“ اور تبصرہ میں اور حقیقتہ الوحی میں یہ الہامات درج ہیں کہ یہ ہلاک ہو گا اور اس طرح ذلت کے عذاب سے مرے گا اور اس دنیا سے اٹھایا جائے گا کہ دنیا اس بات کو جان لے گی کہ یہ محض افتراء پر تھا۔ اور اس کے الہاموں میں رحمانیت کا کوئی حصہ نہیں تھا اور وہ القائے شیطانی تھے۔ اور اس کے بعد کسی کو جرأت نہ ہو سکے گی کہ خدا کے برگزیدہ کے سامنے اس کو پیش کر سکے اور اس کو کوئی نصرت و مدد الٰہی نہ ملے گی اور مقبولیت سے محروم رہے گا۔ چنانچہ ان الہاموں کی مدت ابھی گزر نہیں گئی اور ہم کو ان کی سچائی میں کوئی کلام نہیں ضرور ہے کہ خدا کا کلام پورا ہو اور وہ جو جھوٹا ہے عذاب الٰہی میں گرفتار ہو اور ذلت اس کے حصہ میں آئے۔ پس باوجود اس کے کہ تبصرہ میں حضرت صاحبؑ نے محض اپنا اجتہاد لکھا ہے کہ یہ شخص میری زندگی میں ہلاک ہو جائے گا۔ اور الہاموں میں قطعاً اس کا ذکر نہیں بلکہ صرف اتنا ذکر ہے کہ عبدالحکیم کے مکر ضائع کئے جائیں گے اور وہ ذلت سے ہلاک ہو گا۔ عبدالحکیم خاں کا اس بات کو اپنی تصدیق کے لئے پیش کرنا محض شرارت ہے۔ کیونکہ اس کا الہام پورا نہیں ہوا۔ اور یہ اس کی طرف بالکل توجہ نہیں کرتا مگر حضرت صاحبؑ کے اجتہاد کی غلطی کو اپنی سچائی کی دلیل قرار دیتا ہے۔ یہ کیسے
افسوس کی بات ہے۔ اور کس قدر شرم کا مقام ہے۔ ہاں اس شخص کو تو چاہئے تھا کہ پیشگوئی کے غلط نکلنے پر سخت نادم ہوتا اور پریشان ہوتا اور توبہ کرتا اور پھر سچائی کی طرف رجوع کرتا اور خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا۔ مگر اس نے بر خلاف اس کے اپنے اس الہام کو جو پورا نہیں ہوا نظر انداز کر دیا اور حضرت صاحبؒ کی اجتہادی غلطی کو اپنے لئے مصدّق قرار دیا۔ کیا وہ شخص سچائی کا طالب اور حق کا جویا قرار دیا جا سکتا ہے جو اپنے الہام کے جھوٹا نکلنے کو تو چھپائے مگر دوسرے کی اجتہادی غلطی پر خوشیاں منائے۔ کیا یہ ظلم نہیں کہ ایک شخص جو اپنی پیشگوئی کے مطابق فوت ہوا۔ اور جس نے اڑھائی سال اپنی وفات سے پہلے خبر دے دی ہو کہ میں تین سال کے اندر فوت ہو جاؤں گا اس کی وفات کو اپنے شیطانی یا بناؤٹی الہاموں کے مطابق اپنی سچائی کا نشان قرار دیا جائے۔ اب میں اچھی طرح سے عبدالحکیم خاں کی دروغ بیانی اور القائے شیطانی کو ثابت کر آیا ہوں۔ اور میں نے لکھا ہے کہ گو اس شخص کو حضرت صاحب کی وفات کی پیشگوئی کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ کیونکہ خود حضرت اقدس آج سے اڑھائی سال پہلے اپنی وفات کی خبر دے چکے تھے اور اس کے بعد ان کے حق میں کسی کا پیشگوئی کرنا صریح شرارت پر دلالت کرتا ہے۔ اور پھر اگر اس شخص نے پیشگوئی کی بھی تھی تو وہ از طرف شیطان تھی نہ از طرف رحمان کیونکہ اس شخص نے خود اپنی تصانیف میں اس بات کو مانا ہے کہ مجھ کو شیطانی الہام بھی ہوتے ہیں اور جس کو شیطانی الہام ہوں اس کو رحمانی نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ خدا کا کلام نجس دماغ پر نہیں اترتا۔ اور پھر تیسری بات جو میں نے ثابت کی ہے یہ ہے کہ اس کی پیشگوئی جو اس نے پیسہ اخبار وغیرہ میں شائع بھی کر دی تھی غلط نکلی ہے۔ کیونکہ اس نے لکھا تھا کہ مرزا ۱۴؍اگست کو فوت ہو گا۔ حالانکہ ہمارے حضرت اقدس ۲۶؍ مئی کو فوت ہوئے اور یہ وہ تاریخ ہے جو میں نے ثابت کیا ہے کہ حضرت صاحب نے تبصرہ میں جو لکھا ہے کہ میری آنکھوں کے سامنے مر جائے گا وہ چودہ مہینہ والی پیشگوئی کی بناء پر تھا۔ کیونکہ اس نے لکھا تھا کہ حضرت اقدس چودہ ماہ میں فوت ہو جائیں گے۔ پس اگر آپ اس میعاد میں فوت ہو جاتے تو مخالفین کی نظر میں نعوذ باللہ جھوٹے ٹھہرتے۔ اس لئے خدا کے کلام سے استدلال کر کے آپ نے لکھا کہ نہیں میں فوت نہیں ہوں گا۔ بلکہ تو میری آنکھوں کے سامنے ہلاک ہو گا۔ لیکن جب اس نے اس پیشگوئی کو خود ہی منسوخ کر دیا اور لکھ دیا کہ مجھے پہلی پیشگوئی کے بجائے یہ الہام ہوا ہے۔ کہ مرزا ۲۱ ساون مطابق ۴؍ اگست کو فوت ہو جائے گا تو خدا تعالیٰ نے بھی اسکو اسی رنگ میں جھوٹا کیا۔ یعنی بجائے ۴؍ اگست کے حضرت اقدس کو ۲۶؍ مئی کو
وفات دی جو تاریخ آپ کے الہام سے ثابت ہوتی ہے۔ اب کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ پیچھے کیوں نہ فوت ہوئے سو اس کا جواب یہ ہے کہ ایک تو آپ کو الہام ہو چکا تھا کہ ۱۵؍ اکتوبر کے ۲۲۳ دن کے بعد آپ کی وفات ہوگی جو ۲۶؍ مئی بنتی ہے۔ اور دوسرے یہ کہ عبد الحکیم ایک سیماب مزاج آدمی ہے اگر حضرت صاحب اور زندہ رہتے تو جھٹ کہہ دیتا کہ بجائے ۲۱ ساون کے اب پھر تین سال والی میعاد ہو گئی ہے۔ بلکہ کوئی تعجب نہ تھا کہ کہہ دیتا کہ اب دس سال ہو گئی ہے پس کیا خدا اس بات کا ذمہ دار ہے کہ ان لوگوں کی بکواس کے مطابق ایک شخص کی عمر بڑھاتا ہی جائے۔ پانچویں دلیل جو میں نے دی ہے وہ یہ ہے کہ اچھا بطور تنزل ہم ان کے تمام اعتراضوں کو مان بھی لیتے ہیں پھر بھی حضرت اقدس جھوٹے نہیں ٹھہرتے بلکہ ان کی سچائی ہر طرح ظاہر ہے کیونکہ اصل دارو مدار فیصلہ کا الہام الٰہی پر ہوتا ہے۔ پس جبکہ الہام الٰہی سے کہیں بھی یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ عبد الحکیم مرزا صاحب کی زندگی میں ہلاک ہو جائے گا تو پھر ان کی اجتہادی غلطی پر اس قدر زور دینا محض تعصب اور ضد ہے۔ کیونکہ جب ایسی اجتہادی غلطیاں کل انبیائے کرام سے ہوتی رہی ہیں اور قرآن شریف ان کا ذکر کرتا ہے اور احادیث میں ان کا بیان ہے تو پھر حضرت صاحب پر یہ اعتراض خصوصیت سے کس طرح آ سکتا ہے؟ اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھو اور اپنے دلوں کو ٹٹولو کیا وہ تم کو ایسا اعتراض کرنے پر ملامت نہیں کرتے جو صرف مرزا صاحب پر ہی نہیں بلکہ تمام نبیوں پر بھی وارد ہوتے ہیں۔ تم حضرت مسیح موعودؑ کی مخالفت میں اس قدر دیوانے کیوں ہو رہے ہو۔ ذرا تحمل و صبر سے کام لو اور ٹھنڈے دل سے اس معاملہ پر غور کرو تو تم پر کھل جائے گا اور روزِ روشن کی طرح ظاہر ہو جائے گا کہ تم ایسے بے ہودہ اور لغو اعتراضوں سے صرف حضرت مسیح موعودؑ کا ہی انکار نہیں کر رہے بلکہ آدمؑ سے لے کر نبی کریم ﷺ تک تمام نبیوں کی ہتک کرتے ہو۔ اور ایسے کلمات تمہارے منہ سے نکلتے ہیں جن سے ان کا انکار لازم آتا ہے۔ اور وہ جن کی عزت کرنا تمہارا فرض ہے اور جن کی تابعداری کرنا تمہارے لئے فخر کا باعث ہے انہیں پر اپنی بد زبانی کے تیر چلا رہے ہو۔ تم سمجھتے ہو کہ تم دین کی خدمت میں مصروف ہو مگر جس قدر ضرر دین کو تمہارے ہاتھوں سے پہنچ رہا ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ تم اپنی بیوقوفی کی وجہ سے اسی تنے کو کاٹ رہے ہو جس پر خود کھڑے ہو۔ اور دنیا کے لالچ اور عزت اور بڑائی کی خواہش نے تم کو دیوانہ بنا رکھا ہے اور تم اپنے نفع کے لئے دین کا نقصان کر رہے ہو اور جاہل اور نادان لوگوں کو اپنے فائدہ کی خاطر اس سچائی اور ہدایت کے سرچشمہ سے روک رہے ہو جو خدا نے ان کی حالتوں پر رحم کھا کر ظاہر کیا ہے۔ خدا کا خوف
تمہارے دلوں سے کیوں اٹھ گیا اور یوم الدین پر تمہیں کیوں ایمان نہیں رہا۔ دین کے مغز کو چھوڑ کر قشر کی طرف لپک رہے ہو۔ اور نہیں دیکھتے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ کیا وہ اسلام کا خدا جو غیور خدا ہے جو شریر اور بدبخت انسان کو بغیر سزا دیئے کے نہیں چھوڑتا تمہارے اعمال و اقوال سے ناواقف ہے۔ کیا یہ بغض اور کینہ اور عداوت جو تم اس کے مامور سے ظاہر کر رہے ہو اس کی نظروں سے پوشیدہ ہے۔ کیا وہ خدا جس نے نوحؑ کے وقت میں کفار کو غرق کیا اور لوطؑ کی بستی کو الٹا دیا اور عیسیٰؑ کے مخالفوں کو ذلیل و خوار کیا اور نبی کریم ﷺ کے دشمنوں کو تباہ و برباد کیا اور جو رسول دنیا میں آیا اس کی مدد کی اور جنہوں نے انکار کیا انہیں ہلاک کیا۔ آج اپنے رسول کی مدد چھوڑ دے گا اور اپنی سنت اور وعدوں کے خلاف اس کے قائم کئے ہوئے سلسلہ کو تباہ ہونے دے گا۔ ہاں ذرا غور تو کرو کہ آدمؑ سے لے کر حضرت نبی کریم ﷺ تک جو وعدے مسیح موعودؑ کی نسبت کئے گئے تھے کیا وہ خالی جائیں گے۔ اور شیطان بغیر سزا کے چھوڑ دیا جائے گا۔ اور کفر ایمان کو کھا جائے گا۔ اور شرک توحید پر غالب آجائے گا۔ اور کیا تم یقین کرتے ہو کہ اس کے بعد اسلام کا کوئی نام بھی لے گا۔ اور وہ دین جو نبی کریمؐ اور صحابہؓ نے خدا کی خاطر اپنی جانیں قربان کر کے قائم کیا تھا اس کی طرف کوئی رجوع بھی کرے گا؟ پس جب ایسا نہیں ہے۔ اور خدا اپنے بندوں کو دشمنوں کے ہاتھوں میں نہیں چھوڑتا۔ اور ان کو مدد اور نصرت دیتا ہے۔ اور جس کام کے لئے ان کو بھیجتا ہے اس کو پورا کر کے چھوڑتا ہے۔ اور ان کے ارادوں کو پورا کرتا ہے۔ اور ہر میدان اور ہر لڑائی میں ان کو فتح دیتا ہے۔ اور ہمیشہ کامیابی ان کے ساتھ رہتی ہے۔ اور ان کے دشمن ہلاک کئے جاتے ہیں۔ اور دین و دنیا میں ذلیل کئے جاتے ہیں۔ اور وہ جو چشم بصیرت رکھتے ہیں اپنی آنکھوں سے سچائی اور جھوٹ میں فرق دیکھ لیتے ہیں۔ تو آج بھی جبکہ خدا نے ایک رسول بھیجا اور اس کو وعدہ دیا کہ دنیا میں تیرا نام روشن کروں گا۔ اور تیرے دشمنوں کو ہلاک کروں گا۔ اور وہ جو تیرے ساتھ ہوں گے ہمیشہ ان کی مدد و نصرت کروں گا۔ اور ان کے مقابل کھڑے ہونے والوں کو پسپا کروں گا۔ وہ ہر ایک دشت اور ہر ایک میدان اور ہر ایک پہاڑ اور ہر ایک وادی میں فتح پائیں گے۔ یہاں تک کہ فرمایا جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا اِلٰی يَوْمِ الْقِیٰمَةِ (تذکرہ: ۶۱) یعنی وہ جو تیرے تابعدار ہوں گے انہیں تیرے منکروں پر قیامت تک فوقیت دوں گا۔ اور ان کا ہاتھ ہمیشہ ان کے اوپر رہے گا۔ تو کیونکر ممکن ہے کہ وہ جو مخالفت کرتے ہیں بغیر عذاب کے چھوڑے جائیں اور انہیں موقعہ دیا جائے کہ سچائی کے طرف داروں کو ہلاک کر دیں۔ پس خدا سے ڈرو اور توبہ کرو تاکہ خدا اپنے عذابوں کو تم سے ٹال دے اور تم ان مصیبتوں سے بچ جاؤ جو قریب ہے کہ خدا کے وعدہ کے مطابق دنیا کو گھیر لیں اور قیامت کا نظارہ تمہاری نظروں کے سامنے پھر جائے ۔ یہ نہ خیال کرو کہ ابھی عذاب کے آنے میں دیر ہے بلکہ سچائی کی مخالفت حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اور حق کے طرف داروں کو اس قدر دکھ دیا گیا ہے کہ شاید جب سے دنیا پیدا ہوئی ایسا کبھی نہیں کیا گیا ہو گا۔ اور وہ جنہوں نے خدا کے رسول کا ساتھ دیا اس قدر ستائے گئے ہیں کہ ممکن نہیں کہ ان کی آہیں آسمان تک نہ پہنچی ہوں۔ اور اس خدا کے برگزیدہ کی وفات کے بعد جبکہ چار لاکھ احمدی اپنے روحانی باپ کے سائے سے جدا ہو گئے اس قدر دشنام دہی اور سخت زبانی سے کام لیا گیا ہے اور اتنی ایذارسانی کی گئی ہے کہ اس کا پورا علم خدا کے سوا اور کسی کو نہیں ہو سکتا۔ پس جبکہ ایک یتیم کے رونے کی آواز سے عرشِ عظیم کانپ جاتا ہے تو کیا چار لاکھ انسانوں کی دل آزاری سے اس میں جنبش نہ آئی ہو گی۔ خدا کا وعدہ اس کے رسول کی معرفت ہمیں پہنچ چکا ہے اور ہمیں اپنے وجود سے بڑھ کر اس پر یقین ہے۔ اور ضرور ہے کہ ایک دن ان تمام ظلموں اور دکھوں کا بدلہ لیا جائے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ طاعون ابھی ملک سے رخصت نہیں ہوئی اور آئے دن کے زلزلے ایک بڑے زلزلہ کی پیشگوئی کر رہے ہیں کہ جس کی نسبت خدا کا رسول پہلے سے اطلاع دے چکا ہے۔ پس اے نادانو خدا کے دن کے آنے سے پہلے توبہ کرو کیونکہ اس وقت جبکہ عذاب سر پر آپہنچا تو بہ قبول نہیں ہوتی اور گریہ وزاری بے فائدہ ہو جاتی ہے۔ پس تدبر کرو۔ اور قرآن شریف کی اس آیت پر غور کر کے نصیحت پکڑو۔ وَاِنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اِلَّا نَحۡنُ مُہۡلِکُوۡہَا قَبۡلَ یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ اَوۡ مُعَذِّبُوۡہَا عَذَابًا شَدِیۡدًا ؕ کَانَ ذٰلِکَ فِی الۡکِتٰبِ مَسۡطُوۡرًا(بنی اسرائیل: ۵۹) یعنی کوئی بستی ایسی نہیں کہ جس کو قیامت سے پہلے ہم ہلاک نہ کر دیں یا سخت عذاب میں مبتلانہ کریں۔ اور یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے اور پھر خدا تعالیٰ کے مامور حضرت مسیح موعودؑ کو خبر دی گئی ہے کہ یہ وعدہ نہیں ٹلے گا جب تک کہ خون کی ندیاں نہ بہادی جائیں۔ پس یہ وقت ہے کہ اپنے دلوں کو سنوارو اور تقویٰ اور طہارت اختیار کرو تاکہ خدا کے دن کے آنے سے پہلے تمہارا نام مغضوبین سے کاٹ دیا جائے۔ تم سمجھتے ہو کہ ہمارا اس سلسلہ سے کوئی دنیاوی مقصد ہے اور دنیاوی لالچ نے ہمیں اس کام کے لئے مجبور کیا ہے مگر میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ مسیح موعودؑ کی دعاؤں نے ہمارے دلوں کو تمہارے لئے بے قرار کر دیا۔ ہم نے تمہارے لئے اس کی تڑپ مشاہدہ کی اور ہمارے دل بھی غمگین ہو گئے۔ ان کے کلام کو پڑھو اور غور کرو کہ اس کا دل تمہارے لئے کیسا بے چین تھا۔
کشتیٔ اسلام بے لطف خدا اب غرق ہے
اے جنوں کچھ کام کر بیکار ہیں عقلوں کے وار
مجھ کو دے اک فوقِ عادت اے خدا جوش و تپش
جس سے ہو جاؤں میں غم میں دیں کے اک دیوانہ وار
وہ لگادے آگ میرے دل میں مِلّت کے لئے
شعلے پہنچیں جس کے ہر دم آسمان تک بے شمار
اے خدا تیرے لئے ہر ذرّہ ہو میرا فدا
مجھ کو دکھلا دے بہارِ دیں کہ میں ہوں اشکبار
باوجود اس کے کہ وہ رات اور دن تمہارے لئے دعائیں کرتا تھا پھر بھی تسلی نہیں ہوئی۔ اور اب وہ خدا سے دعا کرتا ہے کہ اے خدا میرے دل میں اور بھی زیادہ تڑپ پیدا کر کہ میں اپنی قوم کے لئے آہ و زاری کروں اور ہر وقت میری آہوں کے شعلے آسمان تک پہنچیں۔ اب اے ناظرین جو کچھ میں نے تمہیں کہنا تھا وہ کہہ چکا ہوں۔ اور چونکہ مضمون کی حد سے باہر آگیا ہوں۔ اس لئے پھر اپنے اصل مضمون کی طرف لوٹتا ہوں اور عبدالحکیم کی نسبت کچھ تھوڑا سا اور لکھ کر مضمون کے دوسرے حصّہ کو شروع کرتا ہوں۔
عبدالحکیم جس کو خدا کا رسول ہونے کا دعویٰ ہے جھوٹ اور افتراء سے کام لینے سے بھی باز نہیں آتا۔ اس نے اپنے رسالہ اعلان الحق میں یہ الہام شائع کیا ہے۔ کہ مرزا پھیپھڑے کی مرض سے ہلاک ہو گیا۔ اور پھر لکھتا ہے کہ اگرچہ اصل مرض جس سے مرزا کی ہلاکت ہونی تھی یہی تھی۔ مگر مرزائیوں نے اس بات کو چھپائے رکھا۔ اور دنیا پر مرزا کے پھیپھڑے کی مرض کو ظاہر نہ ہونے دیا۔ گویا کہ نعوذ باللہ حضرت اقدس کو سل کی بیماری ہو گئی تھی۔ لعنت اللہ علی الکاذبین۔ اس قدر جھوٹ بولتے ہوئے اس شخص کو خدا کا خوف بھی نہیں آتا اور شاید اس کو وہ دن بھولا ہوا ہے جبکہ خدا کے روبرو اس کو ان تمام بہتانوں اور تہمتوں کا جواب دہ ہونا پڑے گا مگر افسوس کہ شیطان نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا ہوا ہے اور یہ سچ اور جھوٹ میں فرق نہیں کر سکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ حضرت اقدس کو نومبر ۱۹۰۷ء میں موسمی کھانسی ہوئی تھی۔ یہ خبر عبدالحکیم کے شیطان نے بدر اخبار میں پڑھ کر آپ کو جابتائی۔ اور اس نے جھٹ یہ الہام بنالیا۔ کہ مرزا کو پھیپھڑے کی مرض ہوگئی ہے اور وہ اس سے ہی ہلاک ہو گیا۔ یعنی ہلاک ہو گا۔ مگر شاید دوبارہ اس کو یہ بتانا بھول گیا کہ وہ انہیں دنوں میں اچھے بھی ہو گئے تھے۔ اور جب دسمبر میں آپ نے یہ الہام بنایا تھا۔ اس وقت حضرت شفا یاب ہو چکے تھے اور یہ الہام آپ کے الہام بھیجنے والے نے اس خیال سے بتایا تھا کہ حضرت اقدس کثرتِ مطالعہ اور تصنیف کے کام میں تو لگے ہی رہتے ہیں اور عمر بھی بہت ہو گئی ہے اس لئے یہ کھانسی سل ہی ہوگی۔ مگر اسے کیا معلوم کہ یُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَیۡثُ اَتٰی(20:70) خدا جھوٹے کو کبھی کامیاب نہیں کرتا۔ وہ موسمی کھانسی تھی۔ اور اسی موسم میں اچھی ہو گئی۔ اور پھر دروغ گو را حافظہ نباشد کی مثال آپ پر کیسی صادق آئی ہے کہ یہ لکھ کر کہ مجھ کو الہام ہوا تھا کہ مرزا پھیپھڑے کی مرض سے ہلاک ہو گا۔ آپ آگے لکھتے ہیں کہ مرزا مرضِ حیضہ سے ہلاک ہوا۔ شاید آپ کی خدائی طب میں حیضہ پھیپھڑے سے بھی پیدا ہوتا ہو گا۔ افسوس اے عبد الحکیم اگر تو ذرا بھی خشیتِ خدا سے کام لیتا تو آج اس درجہ کو کیوں پہنچتا۔ شرم! شرم!! شرم!!!
اس کے علاوہ ایک اور جھوٹ عبد الحکیم خاں نے بولا ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ نے ایک اپنا الہام مختلف اخباروں میں شائع کیا تھا۔ کہ مرزا ۲۱؍ ساون مطابق ۴؍ اگست کو فوت ہو جائے گا۔ اور مختلف لوگوں کو خطوط میں بھی یہی لکھا تھا۔ جن میں سے ایک دو ہمارے پاس بھی موجود ہیں۔ اور پیسہ اخبار میں آپ کے خط کا فوٹو بھی شائع ہو چکا تھا۔ مگر باوجو د اس کثرتِ اشاعت کے آپ نے اپنے رسالہ اعلان الحق میں یوں لکھا ہے کہ میں نے شائع کیا تھا کہ ۴؍ اگست تک مرزا فوت ہو جائے گا۔ حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے اگر مختلف اخباروں میں یہ شائع نہ ہو چکا ہوتا۔ تو یہ کذب بیانی کام بھی آتی۔ مگر باوجود اس قدر شہادتوں کے آپ کا اس طرح دلیری سے بات بدل لینا کمال درجہ جرات پر دلالت کرتا ہے۔ اور اس کی وجہ سوائے لالچ کے اور کچھ نہیں۔ آپ نے سمجھا کہ حضرت اقدس فوت تو ہو ہی گئے ہیں۔ اس وقت جھوٹ بول کر بھی کام نکال لینا روا ہے کیونکہ دروغِ مصلحت آمیز جائز ہے۔ اور اگر اور کچھ نہیں تو کم سے کم دوائیوں اور کتابوں کا اشتہار تو ہو جائے گا۔ اور ان کی بکری سے کچھ نہ کچھ نفع تو مل ہی رہے گا۔ چنانچہ آپ نے اعلان الحق میں جس میں اپنی رسالت اور مرزا صاحب کی وفات کا ذکر کیا ہے۔ مختلف دواؤں اور کتابوں کا بھی اشتہار دیا ہے اور شاید اس اشتہار میں یہی مصلحت سمجھی ہو کہ حضرت اقدس کی مخالفت کی وجہ سے اشتہار کو لوگ پڑھیں گے۔ اور ساتھ ہی اصل مقصد بھی حاصل ہو جائے گا مگر افسوس تو اس بات کا ہے کہ دعویٰ رسالت کو پیش کرتے ہوئے بھی آپ جھوٹ بولنے سے نہ چوکے۔ پیسہ اخبار، وطن، اہلحدیث، یونین گزٹ اور دیگر کئی اخباروں میں آپ کی پیشگوئی چھپ چکی ہے۔ اور خود آپ نے اپنے رسالہ میں اس بات کا اقرار کیا ہے کہ ان ان اخبارات میں میری پیشگوئی شائع ہو چکی ہے۔ اور پھر باوجود اس کے ”۴؍ اگست کو“ کی جگہ آپ نے ”۴؍ اگست تک“ بنا لیا۔ تف بر ایں دعوٰی مسلمانی۔ چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد جب رسول یہ کام کرنے لگے تو امت کیا کرے گی؟
اب میں عبدالحکیم کی نسبت کافی لکھ چکا ہوں۔ اور اگر خداوند تعالیٰ کی مرضی ہوئی اور اس کا فضل شامل حال ہوا تو جن لوگوں کے دلوں میں کوئی شکوک ہوں گے وہ اس کو پڑھ کر رفع ہو جائیں گے۔ کیونکہ سوائے فضلِ خدا کے کوئی کام بھی نہیں ہو سکتا اور اس بارے میں تو خود اس کا اپنا کلام ہے کہ یُّضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ وَیَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ(فاطر: ۹)؎۔ پس کون ہے جو دعوٰی سے کہہ سکے کہ میری تحریر سے ہر ایک شک و شبہ دور ہو جائے گا۔ انسان کا کام کوشش کرنا ہے۔ اور ہدایت محض خداوند تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ چنانچہ میں عبدالحکیم خاں کے باطل دعوٰی کا جواب دے کر مولوی ثناء اللہ کی طرف رجوع کرتا ہوں جو کہ امرتسر کے رہنے والے ہیں۔ اور بوجہ حضرت اقدس سے خاص بغض رکھنے کے احمدی جماعت کے اکثر لوگ ان کو جانتے ہیں۔ جیسے مسیح ناصریؑ کے وقت بعض فقیہ اور فریسی اسی کوشش میں لگے رہتے تھے کہ کسی طرح آپ کو دکھ پہنچے ویسے ہی مولوی ثناء اللہ صاحب مسیح قادیانی کے پیچھے لگے رہے ہیں۔ مگر اس قدر فرق ہے کہ وہ لوگ کسی قدر شرافت سے کام لیتے تھے۔ اور مولوی ثناء اللہ صاحب تمسخر کا ایک زندہ پتلا ہے۔ اور اس کے علاوہ گالیاں دینے میں بھی آپ نے ایک خاص مہارت پیدا کی ہوئی ہے۔ غرض خدا کے فرستادہ کی مخالفت ہی ان کا کام ہے۔ اور اسی پر ان کی زندگی کا دارومدار ہے۔ کوئی موقعہ ایسا نہیں گذرتا کہ یہ کچھ طعن و تشنیع نہ کریں۔ ہمارے سلسلہ کے لئے کوئی خوشی کا دن ہو یا غم کا ان کی ظریف طبیعت کے لئے ایک مشغلہ ہاتھ آ جاتا ہے۔ ظرافت کے فن کے مشاق سے مشاق آدمی کسی بات کو معمولی تصور کریں مگر یہ اس پر قہقہہ اڑائے بغیر نہیں رہ سکتے۔ زبان اردو کے گندے سے گندے شعر جو کسی دیوان سے مل سکیں وہ دینی معاملات میں آپ استعمال کرتے ہیں اور کثرت سے یاد کئے ہوئے ہیں۔ غرض تمسخر اور بد زبانی یہ دو گُر ہیں جن میں آپ کو خاص ملکہ ہے۔ اور جو آپ کی ہر ایک تحریر میں پائے جاتے ہیں۔ خشیت تو خیر خاص خاص لوگوں میں ہوتی ہے۔ یہ شرافت کا بھی بعض موقعوں پر خیال نہیں رکھتے۔ احمدی جماعت کی جو خوبی ہے وہ ان کی نظر میں عیب دکھائی دیتی ہے۔ اور جو نیکی ہے یہ اس کو برائی تصور کرتے ہیں۔ اور دین کی خدمت کے لئے وہ خواہ کیسی ہی کوشش کرے یہ پھر بھی اس کو شرارت پر محمول کرتے ہیں۔ غرض کہ آپ کے خیال میں یا کم سے کم آپ کی زبان پر یہ بات ضرور ہے کہ احمدیوں کی نمازیں ریاء ہیں۔ روزے فریب ہیں۔ زکوٰۃ و خیرات سب دکھلاوے کے لئے ہیں۔ مخلوق خدا سے بھلائی ہے تو وہ صرف اپنے فائدہ کے لئے۔ غیر قوموں سے اسلام کی سچائی ثابت کرنے کے لئے مباحثے ہیں تو وہ صرف ذاتی نفعوں کے لئے ہیں۔ اور یورپ و امریکہ میں اسلام کی تبلیغ ہے تو نفسانی خواہش سے ہے۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ برتن میں ہوتا ہے وہی نکلتا ہے۔ اور گندے دلوں کی زبان سے بھی نجاست ہی ٹپکتی ہے۔ اپنے خیالات چونکہ دنیاوی لالچ اور مالی ترقی سے پُر ہیں اس لئے اس خدا کے مصلح اور اس کی جماعت پر بھی وہی شک ہے۔ انبیاء اور ان کی جماعت ایک صاف و شفاف آئینہ کی طرح ہوتے ہیں۔ بد بخت لوگ اس میں اپنا چہرہ دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کی ایسی جماعت ہے حالانکہ وہ نہیں سمجھتے کہ خود ان کے دلوں میں ہی گندگی ہے اور وہ نجاست سے پُر ہیں۔ اور ایک پھوڑے کی طرح ان کے جسم میں سوائے پیپ اور خون کے اور کچھ نہیں۔ اور نہیں جانتے کہ بغض اور حسد نے ان کی آنکھیں بے نور کر دی ہیں۔ اور باوجود آنکھوں کے نہیں دیکھتے اور ان پر خدا کا غضب ایسا بھڑکا ہے کہ کان تو رکھتے ہیں مگر سن نہیں سکتے اور دل ہیں مگر پاکیزگی سے دور ہیں اور ان کی زبانیں ہیں جو برے کلمات کے بولنے میں قینچی سے زیادہ تیز چلتی ہیں مگر پھر بھی حق کے کہنے کے لئے وہ گونگے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ایک بڑا کام کر رہے ہیں اور رسولوں کی مخالفت ہماری دنیا سنوار دے گی۔ مگر نہیں جانتے کہ یہی کام ان کو دین سے کوسوں دور لے جا رہا ہے اور دوزخ کے دروازہ کی طرف ہدایت کر رہا ہے۔ کاش کہ وہ عقل سے کام لیتے اور فکر اور تدبر کرتے تو شاید ہلاکت سے بچ جاتے۔
غرض جب اس بد گمانی نے بہت ترقی کی اور ملک میں بھی اس کا اثر ہونے لگا تو حضرت اقدس کو اس کے روکنے کا خیال پیدا ہوا۔ چنانچہ ”قادیان کے آریہ اور ہم“ کتاب کے شائع ہونے پر مولوی ثناء اللہ نے لکھا کہ میں قسم کھا سکتا ہوں کہ مرزا صاحب جھوٹے ہیں۔ اور ان کے الہام سراسر کذب ہیں۔ اس پر ان کو لکھا گیا کہ آپ کو کتاب حقیقتہ الوحی شائع ہونے پر بھیج دی جائے گی۔ آپ اس کو پڑھ کر قسم کھا کر شائع کر دیں کہ یہ تمام الہامات جھوٹے ہیں اور کل معجزات غلط ہیں۔ اور یہ بھی لکھ دیں کہ اے خدا اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو میری دعا ہے کہ تیرے حکم لعنت اللہ علی الکاذبین کے مطابق تیرا عذاب مجھ پر نازل ہو۔ اور اس کے شائع ہونے کے بعد حضرت اقدس بھی شائع کر دیں گے کہ یہ تمام الہامات خدا کی طرف سے ہیں۔ اور اگر میں جھوٹا ہوں۔ تو میری دعا ہے کہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔ مگر مولوی ثناء اللہ جو سوائے باتیں بنانے کے اور کچھ جانتے ہی نہیں اور دین حق کا شرارت سے مقابلہ کرنا چاہتے تھے اس بات کو مان کر کس طرح فیصلہ کر سکتے تھے۔ انہوں نے بات کو ٹالنے کے لئے اس بات پر زور دینا چاہا۔ کہ پہلے عذاب کی تعیین کر دو۔ تو پھر میں مباہلہ کرتا ہوں۔ اور باوجود اس کے کہ قرآن و حدیث سے ان کو بتایا گیا اور ثابت کیا گیا کہ مباہلہ میں کوئی عذاب کی تعیین نہیں ہوتی بلکہ سوائے لعنت اللہ علی الکاذبین اور کچھ نہیں کہا جاتا۔ انہوں نے اپنے پہلے کلام سے پھرنا نہ چاہا اور خلاف حکم و سنت ایک نئی بدعت نکالنے پر زور دیتے گئے۔ اور اس کا سوائے اس کے کیا مدعا تھا کہ کسی طرح یہ پیالہ ان کے سر سے ٹل جائے اور وہ اس امتحان سے نجات پائیں۔ پس سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا تھا کہ فیصلہ کی کوئی اور راہ نکالی جائے۔ چنانچہ حضرت اقدسؑ نے اس خیال سے کہ زیادہ تر مولوی ثناء اللہ کو خود اشتہار دینے کی دقت ہے اپنی طرف سے ایک اشتہار شائع کیا۔ اور اس میں اس قسم کی دعا کی کہ اے خدائے قادر چونکہ مولوی ثناء اللہ بد زبانی میں حد سے بڑھ گیا ہے اور میری نسبت تمام دنیا میں عام طور سے شائع کرتا ہے کہ یہ شخص کاذب ہے جھوٹا ہے اور فریبی ہے اور اس نے کوئی معجزات اور خوارق نہیں دکھلائے۔ گویا کہ یہ تمام میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری طرف سے نہیں ہوں اور محض لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے میں نے یہ دعویٰ کیا ہے۔ پس اے میرے مولیٰ اور میرے قادر خدا جو کہ میرے دل کی حالت کو جانتا ہے اور علم رکھتا ہے میں نے یہ افتراء نہیں کیا بلکہ تیری طرف سے حکم پا کر ایسا کیا ہے۔ سچے اور جھوٹے میں فرق کر کے دکھلا تاکہ دنیا گمراہی سے بچ جائے اور تو ایسا کر کہ اگر میں سچا ہوں تو ثناء اللہ کو میری زندگی میں کسی مہلک مرض میں گرفتار کر یا میرے سامنے ہی اسے موت دے ورنہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھے اس کی زندگی ہی میں اس دنیا سے اٹھا لے اور ثناء اللہ اور اس کے ساتھیوں کو اس سے خوشی پہنچا۔ اور اس دعا کے اوپر یہ بات صاف صاف لکھ دی کہ میں کسی الہام یا پیشگوئی کی بناء پر فیصلہ نہیں چاہتا بلکہ خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ایسا کرے۔ اور اس کے آخر میں یہ بھی لکھ دیا کہ مولوی ثناء اللہ اس دعا کو اپنے اخبار میں چھاپ کر جو چاہیں نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔
اب ناظرین غور کر سکتے ہیں کہ یہ ایک فیصلہ کا طریق تھا جس سے جھوٹے اور سچے میں فرق ہو جائے اور اس کی غرض سوائے اس کے کچھ نہ تھی کہ حق اور باطل میں کچھ ایسا امتیاز پیدا ہو جائے کہ ایک گروہ بنی نوع انسان کا اصل واقعات کی تہہ تک پہنچ جائے اور شرافت اور نیکی کا مقتضا یہ تھا کہ مولوی ثناء اللہ اس دعا کو پڑھ کر اپنے اخبار میں شائع کر دیتا کہ ہاں مجھ کو یہ فیصلہ منظور ہے۔ مگر جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں اس کو سوائے ہوشیاری اور چالاکی کے اور کسی بات سے تعلق ہی نہیں۔ اور اگر وہ ایسا کرتا تو خداوند تعالیٰ اپنی قدرت دکھلاتا۔ اور ثناء اللہ اپنی تمام گندہ دہانیوں کا مزہ چکھ لیتا۔ اور اسے معلوم ہو جاتا کہ ایک ذات پاک ایسی بھی ہے جو جھوٹوں اور سچوں میں فرق کر دکھلاتی ہے۔ اور وہ جو بدی اور بد ذاتی کرتا ہے اپنے کئے کی سزا کو پہنچتا ہے اور شریر اپنی شرارت کی وجہ سے پکڑا جاتا ہے۔ مگر جبکہ بر خلاف اس کے اس نے اس فیصلہ سے بھی انکار کیا اور لکھ دیا کہ مجھ کو یہ فیصلہ منظور نہیں تو آج جبکہ حضرت صاحبؒ فوت ہو گئے ہیں۔ اس کا یہ دعویٰ کرنا کہ میرے ساتھ مباہلہ کرنے کی وجہ سے فوت ہوئے ہیں۔ اور یہ میری سچائی کی دلیل ہے۔ کہاں تک انصاف پر مبنی ہے اور کیا کوئی انصاف پسند انسان ایسا بھی ہے جو ان تمام واقعات کو دیکھ کر پھر بھی اس بات پر شک لا سکے کہ مولوی ثناء اللہ کو سوائے اس دنیا کی شہرت سے اور کچھ مد نظر نہیں۔ اور وہ خدا جو آسمانوں کا خدا ہے اور جس کی ہر ایک دل پر نظر ہے اور جو ہر ایک چھپی اور کھلی بات کو جانتا ہے اس کی آنکھوں سے پوشیدہ ہے اور اس کو اس کی ہستی پر ایمان نہیں۔ یہ دنیا کو ہی اپنا مال کار سمجھتا ہے اور روزِ حشر سے بے پرواہ ہے۔ چنانچہ اس دعا کے شائع ہونے کے بعد جن الفاظ میں اس نے اس فیصلہ سے انکار کیا میں وہ نیچے درج کرتا ہوں تاکہ ہر ایک انسان بطور خود مولوی ثناء اللہ صاحب کی چالاکی سے واقف ہو جائے اور جان لے کہ خدا تعالیٰ نے مسیحؑ کو بے وقت نہیں بھیجا غرض کہ مولوی صاحب اس فیصلہ سے انکار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”اس دعا کی منظوری مجھ سے نہیں لی اور بغیر منظوری کے اس کو شائع کر دیا“☆ ”میرا مقابلہ تو آپ سے ہے اگر میں مر گیا تو میرے مرنے سے اور لوگوں پر کیا حجت ہو سکتی ہے✱ تمہاری یہ دعا کسی صورت میں فیصلہ کن نہیں ہو سکتی کیونکہ
مسلمان تو طاعونی موت کو بموجب حدیث شریف کے ایک قسم کی شہادت جانتے ہیں۔ پھر وہ کیوں تمہاری دعا پر بھروسہ کر کے طاعون زدہ کو کاذب جانیں گے۔ ☆اور ان وجوہات کو لکھ کر اور اس آسان فیصلہ سے پہلو بچا کر آپ ان الفاظ میں صاف طور سے اس دعا سے انکار کر چکے ہیں۔ کہ مختصر یہ کہ میں تمہاری درخواست کے مطابق حلف اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ اگر تم اس حلف کے نتیجہ سے مجھے اطلاع دو۔ اور یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں۔ اور نہ کوئی دانا اسے منظور کر سکتا ہے۔ ✱(اخبار اہلحدیث ۲۶؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۵، ۶) اب دیکھنا چاہئے کہ مولوی ثناء اللہ نے اس دعا کے بعد اس فیصلہ سے صاف طور سے انکار کر دیا ہے۔ اور لکھا ہے کہ اس فیصلہ کا اثر سوائے میرے اور کس پر پڑ سکتا ہے۔ پس مجھ کو یہ فیصلہ منظور نہیں۔ اور آپ لکھتے ہیں کہ اگر عذاب مقرر کر دیا جائے تو میں مرزا صاحب کے جھوٹے ہونے پر قسم کھا سکتا ہوں۔ نہیں تو مجھ کو یہ فیصلہ منظور نہیں۔ حالانکہ بار بار لکھا گیا ہے کہ خدا کسی کے منہ کی بات پورا کرنے کا ذمہ دار نہیں۔ اور قرآن شریف سے عذاب کی تعیین دعا میں ثابت نہیں ہوتی۔ اور آپ نے یہ بھی لکھا کہ اس فیصلہ کو کوئی دانا منظور نہیں کر سکتا۔ اس پر مجھ کو بہت تعجب ہے۔ کیونکہ اب جبکہ مرزا صاحبؒ فوت ہو گئے ہیں مولوی ثناء اللہ دنیا کو دھوکا دینے کے لئے کیوں اس دعا کو لوگوں کے سامنے فیصلہ کے لئے پیش کرتے ہیں۔ کیا وہ اس وقت دانا تھے۔ اور اب جاہل مطلق ہو گئے ہیں۔ کہ اب اس فیصلہ کو منظور کرنے لگے۔ کیا وہ اپنی ہی تحریر کے مطابق اب جاہل مرکب نہیں ٹھہرتے اور ان کی حماقت میں کچھ شک رہ جاتا ہے؟ کیونکہ اس وقت تو وہ صاف طور سے انکار کر چکے ہیں اور لکھ چکے ہیں کہ کوئی دانا اس فیصلہ
کو نہیں مان سکتا۔ اور اب جبکہ مرزا صاحب فوت ہو چکے ہیں۔ تو اپنی ولایت ثابت کرنے کے لئے اشتہار دے دیا کہ اس دعا کے مطابق میں سچا ثابت ہوا۔ لیکن اگر وہ غور کریں اور تدبر سے کام لیں تو ان پر کھل جائے گا کہ اس فیصلہ کو مان کر بجائے سچا ثابت ہونے کے وہ محض جاہل اور احمق ثابت ہوئے ہیں۔ کیونکہ وہ خود شائع کر چکے ہیں کہ اس کے ماننے والا دانا نہیں یعنی احمق ہے۔ اب ناظرین خود سوچ سکتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں کہ پہلے تو مباہلہ سے مولوی ثناء اللہ صاحب نے انکار کیا اور پھر جب دعا کا طریق فیصلہ کے لئے مقرر کیا کہ اس طرح حق ثابت ہو جائے اور جھوٹے اور سچے میں امتیاز ہو جائے تو اس نے اس کا بھی انکار کر دیا اور لکھا کہ اس کا اثر تو مجھ پر پڑتا ہے پھر اس کا کیا فائدہ مگر یہ نہ سمجھا کہ جب اسی نے قسم کھانے کی خواہش ظاہر کی تھی اور لکھا تھا کہ اگر عذاب معین کر دیا جائے تو میں قسم کھا سکتا ہوں۔ اس وقت بھی تو عذاب کا اثر اسی پر پڑتا تھا نہ کسی اور پر۔ پھر اس وقت کیوں بڑھ بڑھ کر خلاف سنت کہتا تھا کہ عذاب کی تعیین کر دو تو میں قسم کھا لیتا ہوں کہ مرزا جھوٹا ہے۔ کیا قسم کھانے کے وقت ثناء اللہ کی حیثیت اور تھی اور اس دعا کے شائع کرنے کے وقت اور یا محض بہانہ جوئی سے کام لیا گیا تھا۔ بہرحال جبکہ یہ خود انکار کر چکا ہے اور اس فیصلہ کو رَدّ کر چکا ہے تو اب اس وقت اس کا پھر اسی دعا پر زور دینا شرارت نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا اسے معلوم نہیں کہ اس وقت اس نے اس طریق فیصلہ سے انکار کر دیا تھا اس کا اشتہار جو اس نے حضرت اقدسؑ کی وفات کے بعد دیا ہے ظاہر کرتا ہے کہ اس نے محض دھوکا دہی سے کام لیا ہے۔ کیونکہ اس میں اس نے مان لیا ہے کہ میں نے اس وقت اس طریق فیصلہ سے انکار کر دیا تھا اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ جان بوجھ کر حضرت کی وفات کو اس دعا کی بناء پر قرار دیتا ہے۔ کیونکہ باوجود اقرار کرنے کے کہ میں نے انکار کر دیا تھا پھر اپنی سچائی ظاہر کرتا ہے۔ کیا یہ اتنی بات سمجھنے سے بھی قاصر ہے کہ اس مباہلہ یا دعا کی ضرورت تو سچے اور جھوٹے کے فیصلہ کے لئے تھی۔ اور اسی لئے تھی کہ کاذب اور اس کے ساتھیوں پر حجت قائم ہو جائے اور وہ گمراہی سے بچ جائیں مگر جب اس نے اس فیصلہ سے صاف انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ یہ ہمارے لئے کوئی حجت نہیں تو پھر اگر اس دعا کا اثر اس پر پڑتا اور یہ کسی عذاب میں مبتلا ہوتا تو صاف جواب دیتا کہ میں نے تو صاف انکار کر دیا تھا کہ یہ فیصلہ مجھے قبول نہیں پھر اس کے اثر کے کیا معنی اور اگر یہ حضرت کی زندگی میں مر جاتا تو اس کے چیلے لکھتے کہ ہمارا گرو اس فیصلہ سے انکار کر چکا ہے۔ اس لئے ہم پر اس کی موت سے کوئی حجت قائم نہیں ہوئی۔ پس جب خود اسی کے انکار سے واقعات کا پہلو بالکل بدل گیا ہے تو اب اس کا حضرت صاحب کی وفات پر یہ ظاہر کرنا کہ میرے ساتھ مباہلہ کی وجہ سے وہ فوت ہوئے ہیں سراسر اتہام ہے اور تہمت ہے اور جھوٹ ہے۔ کیا یہ اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ اس نے اس وقت انکار کیا تھا اور اس دعا کے فیصلہ کو منظور نہیں کیا تھا۔ پس جب یہ خود اپنی زبان سے انکار کر چکا ہے اور اس طریق فیصلہ کو نامنظور کر چکا ہے۔ تو اب یہ کس طرح حضرت صاحب کی وفات سے اپنی سچائی ثابت کر سکتا ہے۔ اسے چاہئے تھا کہ شرم کرتا اور حیا سے کام لیتا مگر حق کے مخالفوں سے ایسا کس طرح ہو سکتا ہے۔ وہ جھوٹ اور فریب سے کام لینا برا نہیں سمجھتے بلکہ ایک قسم کا ثواب سمجھتے ہیں۔ اس وقت تو سچائی کے رعب میں آکر اس نے حیلہ بازی سے اپنا سر عذاب الٰہی کے نیچے سے نکالنا چاہا مگر جب اس کے انکار مباہلہ سے وہ عذاب اور طرح سے بدل گیا تو اس نے اس منسوخ شدہ فیصلہ کو پھر دہرانا شروع کر دیا۔ مگر کیا یہ خیال کرتا ہے کہ وہ عذاب سے بچ جائے گا یا خدا کا غضب اس پر نہیں بھڑکے گا۔ نہیں اس کی یہ سراسر غلطی ہے جو اس کے مامور کا انکار کرتے ہیں وہ سزا سے نہیں بچتے اور خدا تعالیٰ انہیں بری طرح پیستا ہے اور دنیا پر ظاہر کر دیتا ہے کہ جھوٹے اور سچے میں کیا فرق ہے۔ اگر مولوی ثناء اللہ نے اس دعا کے فیصلہ سے انکار کر کے اس بات سے اپنے آپ کو بچا لیا ہے کہ یہ حضرت صاحبؓ کی زندگی میں فوت نہیں ہوا تو کیا ہوا۔ خدا کا کلام بڑے زور سے اطلاع دے رہا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے مخالف نہیں بچیں گے۔ اور وہ اس دنیا میں اور آخرت میں ذلت کا عذاب بھگتیں گے۔ اور خدا ان کو اس طرح ہلاک کرے گا کہ دنیا ان کا نام لیتے ہوئے شرمائے گی۔ اور آئندہ آنے والی نسلیں اپنی اولاد کو ان کے نام لے کر نصیحت کریں گی کہ دیکھو بدی کا بدلہ بدی ہوتا ہے۔ ان لوگوں نے خدا کے مامور کی دشمنی کی اور اس ذلت اور عذاب میں پڑے۔ پس کیا ہی خوش قسمت ہے وہ انسان جو روشنی سے فائدہ اٹھائے۔ اور کیسا بد بخت ہے وہ جو نصف النہار کے وقت سورج کا انکار کرے۔ وہ جن کی آنکھیں تندرست ہیں روشنی پر خوش ہوتے ہیں۔ مگر وہ جو آشوبِ چشم میں مبتلا ہیں روزِ روشن میں بھی اندھیرے میں رہنا پسند کرتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ نہ صرف مولوی ثناء اللہ نے اسی وقت اس دعا کے اثر سے انکار کیا بلکہ پیچھے بھی اس سے انکار کرتا رہا۔ کیونکہ اصل بات یہ ہے کہ جھوٹے اور شریر کے دل میں ایک قسم کا خلجان ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میرے جھوٹ کی سزا مجھ کو ملے گی اور وہ شرارتیں جو میں نے کی ہیں وہ رنگ لائے بغیر نہیں رہیں گی اور ایک دن مجھے ان کی سزا برداشت کرنی پڑے گی۔ چنانچہ مئی ۱۹۰۸ء کے مرقع قادیانی میں اس بات سے ڈر کر کہ کہیں خداوند تعالیٰ اس شوخی اور شرارت کا مزہ نہ چکھائے آپ نے یہ مضمون لکھا ہے اور اس میں آپ لکھتے ہیں کہ مجھ پر مرزا صاحب کے مباہلہ کا کوئی اثر نہیں ہوا اور سال جو میعاد مباہلہ ہوتا ہے وہ گذر گیا۔ اور اس طرح آپ نے اپنی طرف سے زور لگایا ہے کہ یہ ثابت کر دیں کہ میعاد مباہلہ گذر گئی ہے۔ اب مجھ پر کوئی عذاب نہیں آنا چاہیئے۔ اور اب میں محفوظ ہوں۔ چنانچہ آپ حضرت اقدس کی وفات سے چند دن پہلے اپنے ایک مضمون میں جو رسالہ مرقع میں پہلی جون کو شائع ہوا لکھتے ہیں۔ ”مرزائی جماعت کے جوشیلے ممبرو! اب کس وقت کے منتظر ہو تمہارے پیر مغاں کی مقرر کردہ مباہلہ کی میعاد کا زمانہ تو گذر گیا“۔ مگر افسوس کہ یہ بات لکھتے ہوئے شرم تو نہ آئی کہ میں اس دعا کو مباہلہ کا نام دیتا ہوں جس کا انکار کر چکا ہوں۔ جبکہ آپ اپنے اخبار اہلحدیث میں صاف طور سے اس دعا کے اثر کا انکار کر چکے ہیں اور لکھ چکے ہیں کہ میں اس طریق فیصلہ کو قطعاً نامنظور کرتا ہوں اور مجھے اس سے قطعی اتفاق نہیں اور کوئی دانا اس سے اتفاق نہیں کر سکتا۔ تو اب آپ کو کیا ہوا کہ اپنے ہی قول کے مطابق بیوقوف اور جاہل بن کر اس کے مطابق فیصلہ چاہتے ہیں۔ خیر اس بات پر تو ہم کافی لکھ آئے ہیں۔ اس عبارت کے یہاں نقل کرنے سے ہمارا اصل مطلب یہ ہے کہ آپ نے نہ صرف اس دعا کے اثر سے انکار ہی کیا بلکہ ایک سال کی میعاد کے بعد اس کو مباہلہ کا نام دے کر اس کی میعاد کو ختم کر دیا چنانچہ مرقع کی مندرجہ بالا سطور سے جو اس کے صفحہ ۲۰ بابت جون ۱۹۰۸ء میں درج ہیں۔ اور جو کہ میں اوپر نقل کر آیا ہوں۔ صاف پتہ لگتا ہے کہ مولوی ثناء اللہ کے خیال میں اس دعا کی میعاد ختم ہو گئی ہے یا کم سے کم حق کے خوف سے ان کو مجبور کیا ہے کہ وہ ایسا مضمون لکھ کر اپنا پیچھا چھڑائیں۔ اور اپنے خیال میں اس عذاب سے بچ جائیں جو کہ ان کے لئے آسمان پر مقرر ہو چکا ہے۔ یا کم سے کم کسی مصیبت کے وقت یہ بات کہہ سکیں کہ میں اس دعا کے فیصلہ سے شروع میں بھی انکار کر چکا ہوں۔ اور مزید احتیاط کے لئے ایک سال کے بعد بھی میں نے اس کا انکار شائع کر دیا ہے۔ مگر جبکہ وہ دو دفعہ پہلے اس کا انکار کر چکے ہیں تو اب حضرت صاحب کی وفات کو اس دعا کی بناء پر کیوں ٹھہراتے ہیں۔ کیا خدا کا خوف ان کے دل میں اس قدر بھی نہیں کہ وہ کم سے کم اس بات کو ہمارے مقابل پر بطور دلیل کے نہ لائیں جس کا ماننا وہ خود دانائی سے بعید اور حماقت قرار دے چکے ہیں۔
تیسری بات یہ ہے کہ کسی نبی کا دنیا میں مبعوث ہونا یا مامور ہونا صرف اسی غرض کے لئے ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو راہِ راست سے دور جا پڑے ہیں۔ اور طرح طرح کے دشوار گذار جنگلوں اور میدانوں میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ ان کو صراطِ مستقیم پر چلایا جائے اور وہ لوگ جو خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔ یا اس کی ذات میں کسی اور کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ ان پر خدا کی واحد ولا شریک ہستی کو ظاہر کیا جائے اور اس کے جلال کو دنیا میں قائم کیا جائے اور بدیوں اور بدکاریوں اور مختلف قسم کے گناہوں کی جڑ زمین سے اکھاڑ دی جائے اور ان تمام شیطانی کارروائیوں اور فریبوں اور مکروں کو برباد کیا جاوے اور خاک میں ملا دیا جائے جو کہ خدا تعالیٰ کی محبت کے راستہ میں کئے جاتے ہیں اور تاکہ ایسا ہو کہ خدا کے نام کی برکت پھر دنیا میں پھیلائی جائے اور سعید دلوں سے اس کی دوری کا بیج نکال دیا جائے اور بجائے کفر کی پلیدیوں اور گندگیوں اور نجاستوں کے پودا کے ایمان اور تقویٰ کا مضبوط اور سایہ دار درخت لگایا جائے اور انسانوں کے دلوں میں الفت اور محبت اور یگانگی پیدا کی جائے اور حسنِ ظنی کے وسیع اور باامن راستہ پر ان کو بلایا جائے ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نہیں چاہتا کہ انسان کو گمراہی اور ضلالت میں چھوڑ دے۔ چنانچہ جب کبھی شرک اور بدعت اور فسق و فجور دنیا میں پھیل جاتے ہیں اور گناہوں سے دنیا بھر جاتی ہے اور وہ جو پاک اور مقدس ہوتے ہیں ان پر ہنسی کی جاتی ہے اور دین کی باتوں کو ٹھٹھے میں اڑایا جاتا ہے اور خدا کے نام کی پرواہ نہیں کی جاتی اور اس کا جلال دلوں سے اٹھ جاتا ہے اور ایک ایسا اندھیرا دنیا پر چھا جاتا ہے کہ آفتابِ وحدت کا روشن چہرہ بالکل چھپ جاتا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ اس زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا کوئی نہیں اور مختلف قسم کے بتوں کی پوجا کی جاتی ہے کوئی تجارت کو اپنا رزاق سمجھتا ہے تو کوئی زراعت کو اور بہت سے ہوتے ہیں جو اس خدائے قادر کی بجائے ضعیف اور ناتواں انسان کی پرستش کرتے ہیں اور ایک کثیر تعداد مخلوق کی بے جان چیزوں سے اپنی حاجت روائی کرنا چاہتی ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور زمین اور پہاڑ اور دریا اور جنگل اور درخت اور پتھر اور لکڑی اور تصویروں کو خدا کا قائم مقام سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ ایک زمانہ ہوتا ہے کہ دنیا خدا کی سلطنت کی بجائے شیطان کی سلطنت کو قبول کر لیتی ہے اور بنی نوع انسان کا دشمن ایک دوست کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایسے وقت میں خدا کی غیرت جوش میں آتی ہے اور اس کا رحم اور غضب ایک ہی وقت میں بھڑک اٹھتے ہیں۔ اور وہ ارادہ کر لیتا ہے کہ دنیا سے گناہوں کو دور کیا جائے ۔ اور اس کا چہرہ پھر دوبارہ روشن کیا جائے اور بعد اور دوری کے بادلوں کو اس کے آگے سے ہٹا دیا جائے۔ اور اس کی بجائے اس کی رحمت کی بارش دنیا پر ہو اور محبت اور پیار کی خوشگوار ہواؤں کے جھونکوں سے ان پاک باز روحوں کے دماغوں کو معطر کیا جائے جو کہ خدا کی بادشاہت کے لئے مدتوں سے غم کرتے اور رنج اٹھاتے ہیں۔ اور یہ ایسا وقت ہوتا ہے کہ اس کے غضب کی کوئی انتہاء نہیں ہوتی کیونکہ بدکار
لوگ بدی میں حد سے زیادہ بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور وہ ایسا غصہ میں ہوتا ہے کہ گویا کبھی بھی ایسا خشم ناک نہیں ہوا۔ مگر ساتھ ہی وہ اسی وقت اور انہیں دنوں میں ایسا مہربان ہوتا ہے کہ نہیں کہہ سکتے کہ اس سے زیادہ وہ پہلے بھی کبھی مہربان ہوا کیونکہ یہ وقت اس کے پیارے بندوں کے انعامات حاصل کرنے کا ہوتا ہے۔ اور وہ جو بدیوں کو چھوڑتے ہیں اور نیکی کی طرف راغب ہوتے ہیں اس کے بے پایاں رحم اور احسان کے لذیذ اور خوشبودار پھلوں کو کھاتے ہیں اور ایسے امن کی حالت میں ہوتے ہیں کہ گویا جنت ان کے لئے دنیا ہی میں اتر آئی ہے اس وقت دنیا سے بدی کو دور کرنے اور نیکی کو پھیلانے کے لئے خدا اپنے بندوں میں سے کسی کو چن لیتا ہے اور اپنا کلام اس پر نازل کرتا ہے اور اپنی رحمتیں اور برکتیں اس کے شامل حال کر دیتا ہے اور ہر حال اور ہر مقام میں اس کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ جو اس بندے کو دکھ دیتا ہے گویا خدا کو دکھ دیتا ہے۔ اور وہ جو اس کے ساتھ ہوتا اور اس کے کام میں ہاتھ بٹاتا ہے گویا خدا کے ساتھ ہوتا اور اس کی مرضی کے لئے کام کرتا ہے۔ پس اصل غرض جو ایک نبی کی بعثت کی ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ دنیا سے بدی اور بدکاری کو دور کیا جائے اور اس کی بجائے نیکی اور تقویٰ کو رواج دیا جائے اور بجائے شیطان کی سلطنت کے خدا کی سلطنت قائم کی جائے چنانچہ جو لوگ ان کی بعثت کی اصل غرض سمجھ لیتے ہیں وہ کبھی ٹھوکر نہیں کھاتے پس جبکہ یہ صاف ظاہر ہے کہ ان کے آنے کی اصل غرض اصلاح ہے تو ہر ایک چشم بصیرت رکھنے والا انسان سمجھ سکتا ہے کہ ان کے ہر ایک کام میں بھی اصلاح ہی مد نظر ہوگی۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ان کی تمام پیشگوئیاں اور معجزات بھی اسی غرض کے پورا کرنے کے لئے ہوں گے۔ پس جبکہ یہ بات ثابت ہو گئی تو اب یہ دیکھنا چاہئے کہ حضرت اقدس بھی اسی غرض کے پورا کرنے کے لئے مبعوث ہوئے تھے اور انکی رسالت سے اصل غرض خدا تعالیٰ کی یہ نہ تھی کہ آتھم مرے یا لیکھرام قتل ہو یا آسمان پر چاند اور سورج کو گرہن لگے یا زمین پر طاعون پھیلے یا کانگڑہ اور سان فرانسکو میں زلزلے آئیں بلکہ اصل غرض یہ تھی اور اسی لئے وہ مبعوث ہوئے تھے کہ اصلاح ہو۔ اور اگر کوئی پیشگوئی کی جاتی تھی تو اس لئے کہ اصلاح ہو اور لوگ اس نشان کو دیکھ کر اس کی شناخت کریں۔ اور اگر کسی کی موت کی خبر دی جاتی تھی تو وہ بھی اس لئے کہ حق کے دشمنوں پر ایک حجت قائم ہو اور سعید روحیں اصلاح حاصل کریں چنانچہ ہر ایک نبی کے وقت جو وعید کی پیشگوئیاں ٹل جاتی تھیں اور بعض دفعہ التواء میں پڑ جاتی تھیں تو اس کی اصل وجہ بھی یہی ہوتی تھی۔ کیونکہ جب خدا تعالیٰ اصلاح کی کوئی اور صورت پیدا کر دیتا تھا تو پھر اس عذاب کی ضرورت نہیں رہتی تھی۔ اور وہ یا تو ایک وقت تک ملتوی ہو جاتا تھا یا منسوخ ہو جاتا تھا۔ اور اسی سنت اللہ کے مطابق خدا تعالیٰ نے اس وقت بھی اپنے نبی سے سلوک کیا اور حضرت اقدسؑ کے عہد بابرکت میں بھی اسی طرح ہوا جیسے پہلے نبیوں کے زمانہ میں۔ اور جب کوئی وعید کی پیشگوئی ہوئی یا کسی اور صورت سے کسی دشمن کو عذاب کا وعدہ دیا گیا اور اصلاح کی کوئی اور صورت نکل آئی تو پھر وہ وعید کی پیشگوئی ٹل گئی۔ چنانچہ آتھم کے وقت میں بھی ایسا ہی ہوا کہ جب اس نے رجوع کیا اور اپنے دل میں سخت ڈرا اور عین مباہلہ کے وقت امرتسر میں اس نے نبی کریم اللہﷺ کو گالیاں نکالنے سے انکار کیا جو کہ بنائے مباہلہ تھی تو خداوند تعالیٰ نے اس پر سے عذاب کو ٹال دیا اور اس کو ڈھیل دی اور وہ پندرہ ماہ سے زیادہ زندہ رہا۔ لیکن جب اس نے قسم کھانے سے انکار کیا اور پھر مفسدہ کا خوف ہوا تو خداوند تعالیٰ نے اصلاح اسی میں دیکھی کہ پھر اسی مدت (پندرہ ماہ میں) اسے ہلاک کیا جائے اور پہلے جو اس کو ڈھیل دی گئی تو صرف اسی وجہ سے کہ اس نے اپنے نفس کی اصلاح کی لیکن جب اس نے پھر شرارت کی تو ملک کی اصلاح اس میں تھی کہ اس کو ہلاک کیا جاتا چنانچہ خدا تعالیٰ نے ایسا ہی کیا۔ اسی طرح ثناء اللہ کے لئے بھی حضرت اقدس نے جو بددعا کی تو اس لئے کہ دنیا میں اصلاح ہو اور وہ لوگ جو اس کے زیر اثر ہیں وہ اس عذاب کو دیکھ کر ڈریں اور توبہ کریں۔ اور ان پر حجت قائم ہو جائے۔ پس اس دعا کا اصل مدعا ثناء اللہ کی پارٹی پر اتمام حجت کرنا تھا کیونکہ کسی شخص کی وفات سے یا ہلاکت سے اس کے دشمنوں پر کیا اثر ہو سکتا ہے وہ تو کہہ دیں گے جھوٹا تھا ہلاک ہو گیا مگر وہ جو اس کے دوست ہیں اور اس سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کی عزت انکے دلوں میں ہے اس کی موت سے نصیحت پکڑ سکتے ہیں اور اپنی اصلاح کر سکتے ہیں اور ان پر اتمام حجت ہو سکتا ہے۔ پس دعا جو ثناء اللہ کے لئے کی گئی تھی اس کا اثر صرف اس کے پیروان پر ہو سکتا تھا اور وہی تھے جن کے سامنے ہم یہ بات پیش کر سکتے تھے۔ کہ ثناء اللہ مرزا صاحب کی دعا کے مطابق مر گیا۔ لیکن جب ثناء اللہ نے محض شرارت اور چالاکی سے اس دعا کے فیصلہ سے انکار کر دیا۔ اور صاف لکھ دیا کہ میرا مرنا کسی کے لئے کوئی حجت نہیں اور میری موت سے مرزا صاحب کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا اور یہ بھی لکھا کہ اس فیصلہ کو میں منظور نہیں کرتا۔ چنانچہ اہلحدیث ۲۶؍اپریل ۱۹۰۷ء میں درج ہے کہ ”یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اسے منظور کر سکتا ہے۔“ پس جبکہ ثناء اللہ نے اس فیصلہ کو دانائی سے بعید اور ناقابل منظوری سمجھ کے رد کر دیا تو پھر اس کی پارٹی پر اس کی موت کا کیا اثر پڑ سکتا تھا۔ اگر یہ مر جاتا تو وہ کہہ دیتے کہ ہمارا استاد تو لکھ گیا ہے کہ یہ فیصلہ مجھے منظور نہیں پھر ہمارے لئے یہ کیونکر قطعی ہو سکتا ہے چنانچہ خداوند تعالیٰ نے چاہا کہ اسی کے قول کے مطابق اس کو پکڑے اور ملزم کرے۔ تاکہ ایسا ہو کہ وہ کام جس کے لئے حضرت مسیح موعودؑ مبعوث ہوئے تھے پورا ہو اور دنیا میں اصلاح کا بیج بویا جائے۔
پس چونکہ ان کی بعثت کی اصل غرض ثناء اللہ کا مارا جانا نہ تھی بلکہ سنت انبیاء کے مطابق دنیا کی اصلاح تھی۔ اس لئے خداوند تعالیٰ نے اسکو اسی کے قول کے مطابق پکڑا چنانچہ حضرت اقدسؑ کی دعا نقل کرتے ہوئے اہلحدیث میں ایک نوٹ دیا ہے۔ جو اس کے نائب ایڈیٹر کی طرف سے ہے۔ اور اس نے اس کی کوئی تردید نہیں کی اور نہ کبھی اس کے خلاف لکھا وہ نوٹ یہ ہے کہ ”آپ اس دعویٰ میں قرآن شریف کے صریح خلاف کہہ رہے ہیں قرآن تو کہتا ہے کہ بدکاروں کو خدا کی طرف سے مہلت ملتی ہے۔ سنو قُلْ مَنۡ کَانَ فِی الضَّلٰلَۃِ فَلۡیَمۡدُدۡ لَہُ الرَّحۡمٰنُ مَدًّا(مریم: ۷۶) اور اِنَّمَا نُمۡلِیۡ لَہُمۡ لِیَزۡدَادُوۡۤا اِثۡمًا(آل عمران: ۱۷۹) اور وَیَمُدُّہُمۡ فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ(البقرہ: ۱۶) وغیرہ آیات تمہارے دجل کی تکذیب کرتی ہیں اور سنو بَلۡ مَتَّعۡنَا ہٰۤؤُلَآءِ وَاٰبَآءَہُمۡ حَتّٰی طَالَ عَلَیۡہِمُ الۡعُمُرُ(الانبیاء: ۴۵) جن کے صاف معنی یہی ہیں کہ خداتعالیٰ جھوٹے دغاباز مفسد اور نافرمان لوگوں کو لمبی عمریں دیا کرتا ہے۔ تاکہ وہ اس مہلت میں اَور بھی برے کام کر لیں پھر تم کیسے من گھڑت اصول بتلاتے ہو کہ ایسے لوگوں کو بہت عمر نہیں ملتی۔ کیوں نہ ہو۔ دعویٰ تو مسیح، کرشن اور محمدؐ و احمد بلکہ خدائی کا ہے اور قرآن میں یہ لیاقت؟ ذٰلِکَ مَبۡلَغُہُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ(53:31) “ پس اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اگر ثناء اللہ مر جاتا تو اس کے تابعین یا ہم خیالوں پر کیا اثر پڑتا یا ان پر اتمام حجت کیونکر ہوتی۔ وہ تو صاف کہہ دیتے کہ ہم تو پہلے ہی کہہ چکے تھے اور ہمارا استاد ہم سے اتفاق رکھتا تھا کہ جھوٹے کو زیادہ عمر ملتی ہے اور مفسد اور کذّاب ڈھیل دیئے جاتے ہیں پس ہم پر کیا اتمام حجت ہے اور اس کی تائید میں اہلحدیث ۲۶؍اپریل ۱۹۰۷ء کے صفحہ ۴ کا وہ نوٹ جو میں اوپر لکھ آیا ہوں پیش کر دیتے اور اس طرح وہ اصلاح جس کو مد نظر رکھ کر وہ دعا شائع کی گئی تھی نہ ہوتی۔ پس خدا تعالیٰ نے خود انہیں کے مقولوں کے مطابق ان کو پکڑا اور اپنا کلام پورا کیا کہ یُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَیۡثُ اَتٰی(20:70) یعنی جھوٹے اور مفسد لوگ خواہ کوئی راہ اختیار کریں خداوند تعالیٰ ان کو کامیاب نہیں کرتا۔ بلکہ انہیں کے اصولوں کے مطابق ان کو پکڑتا ہے۔ دیکھو یہ کیسی بات صاف ہے۔ کہ غلام دستگیر قصوری، اسماعیل علیگڈھی، چراغ دین جمونی اور فقیر مرزا ان کا یہ مذہب تھا کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مر جاتا ہے۔ اور وہ جو خدا پر افتراء کرتا ہے لمبی عمر نہیں پاتا۔ اور صادق کو خداوند تعالیٰ برخلاف جھوٹوں کے دیر تک زندہ رکھتا ہے۔ اور انہوں نے اس عقیدہ کو مد نظر رکھ کے خدا سے دعا کی کہ چونکہ تو جھوٹوں کو ڈھیل نہیں دیتا۔ اور صادق کو نصرت دیتا ہے اس لئے جھوٹے پر تیری لعنت ہو اور جھوٹا سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جائے اور یہی اسلام نے مباہلہ کا طریق رکھا ہے کہ لَعْنَتُ اللّٰهِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ کہہ دیں پس خداوند تعالیٰ نے ان کو اسی راہ سے پکڑا اور ان کے قول کے مطابق ہی ان کو سزا دی اور جس طریق پر وہ اس کے رسول کو جھوٹا کرنا چاہتے تھے خود ان کو جھوٹا ثابت کیا۔ مگر اس کے برخلاف ثناء اللہ اور اس کی پارٹی کا عقیدہ یہ تھا۔ کہ جھوٹے کو لمبی عمر ملتی ہے۔ اور کاذب ڈھیل دیا جاتا ہے۔ اور حضرت اقدسؐ کی دعا کے مقابل پر اہلحدیث ۲۶؍ اپریل ۱۹۰۷ء میں یہ شائع بھی کیا چنانچہ خدا نے اس کو ڈھیل دی۔ اور اسی کے اعتقاد کے مطابق اس پر اور اس کے چیلوں پر اتمام حجت کیا پس کیا یہ ایک صاف بات نہیں کہ ایک شخص کے برخلاف جب چند آدمی یکے بعد دیگرے اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ تو جھوٹا ہے اور ہم سچے اور سچا جھوٹے کے مقابلہ پر فتح پاتا ہے اور جھوٹا اس کی زندگی میں ہلاک کیا جاتا ہے۔ تو وہ خود اپنی اپنی باری میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اور اس کی سچائی پر مہر کر جاتے ہیں۔ مگر ایک اور شخص اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ بات جھوٹ ہے کہ سچا دیر تک زندہ رہتا ہے اور جھوٹا اس کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے بلکہ قرآن شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جھوٹے کو ڈھیل دی جاتی ہے۔ اور وہ لمبی عمر پاتا ہے اور یہ اس کے کذّاب مفسد اور دغا باز ہونے کی نشانی ہوتی ہے اور اسکے بعد خدا تعالیٰ ایسے کہنے والے کو ڈھیل دیتا اور اسی کے قول کے مطابق اس لئے اس کو زندہ رکھتا ہے کہ وہ شرارت میں حد سے بڑھ جائے۔ اور گناہوں کو انبار در انبار اکٹھا کر لے تو کیا یہ اسی کے قول کے مطابق اس کے کذّاب اور مفسد ہونے کی دلیل نہیں؟ اس سے پہلے کئی بدبختوں نے یہ نسخہ آزمایا کہ جھوٹے سچوں کی زندگی میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اور ان کو خدا نے ذلیل و خوار کیا۔ اور وہ سچے کے دیکھتے دیکھتے ہلاک ہوئے۔ اور خدا کے روبرو سیہ رو ہو گئے اور اپنی بدبختی پر مہر لگا گئے۔ اور اپنے جھوٹ کا ثبوت دے گئے لیکن ان کے بعد مولوی ثناء اللہ نے پہلے قول کے برخلاف کہا کہ جھوٹے کی لمبی عمر ہوتی ہے۔ پس خدا تعالیٰ نے سَنَسِمُہٗ عَلَی الۡخُرۡطُوۡمِ(القلم: ۱۷) کے مطابق اس کو لمبی عمر دی اور اس کے ناک پر داغ لگایا۔ اور اس کے زندہ رہنے نے اسی کے قول کے مطابق اس کو جھوٹا دغا باز مفسد اور نافرمان قرار دیا۔ اور حضرت اقدس کی سچائی ثابت کی۔ پس باوجود اس کے کہ اس شخص پر یعنی ثناء اللہ امرتسری پر خدا تعالیٰ نے ہر طرح حجت قائم کر دی ہے۔ اور ثابت کر دیا ہے کہ یہ شخص محض جھوٹا اور مفتری ہے اور کذّاب ہے۔ اور خدا اور اس کے رسول پر ٹھٹھا کرتا ہے۔ اور فریب اور مکر دینا اس کا کام ہے۔ سچ سے متنفر ہے اور جھوٹ پر قربان ہے مگر ابھی اس کا وہ طریقہ نہ گیا۔ اور اس نے کوئی ہدایت نہ پائی اور سمجھا کہ خدا کا کلام اس پر سے ٹل جائے گا کیا یہ نہیں جانتا کہ خدا کی باتیں پوری ہو کر رہتی ہیں۔ اور اس کو جو ڈھیل دی گئی ہے وہ صرف اس لئے ہے کہ یہ خود اپنے قول کے مطابق کذاب ثابت ہو اور اس کے بعد ذلّت کے عذاب سے ہلاک ہو تاکہ دنیا دیکھ لے کہ مفتری کا کیا انجام ہوتا ہے۔ اور جھوٹے آسمانی عذاب سے ہلاک ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ اس کے بعد میں ایک اور قول اس کے رسالہ مرقع قادیانی میں سے نقل کرتا ہوں جس سے میرے پہلے دعویٰ کی تائید ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی شخص عبد الحق سرہندی کا مضمون اس میں شائع ہوا ہے اور اس میں اس شخص نے لکھا ہے کہ مرزا صاحب اور مرزائیوں سے یہ سوال ہے کہ اگر جھوٹے کا سچے کی زندگی میں مرنا واقعی ضروری اور قانون الٰہی ہے جیسا کہ آپ کی تحریرات سے ثابت ہوتا ہے تو معاذ اللہ نقل کفر کفر نباشد۔ کیا محمد رسول اللہ ﷺ مسیلمہ کذاب سے پہلے انتقال فرمانے کے باعث اسی جنرل رول (General Rule) کے زیر اثر ہیں؟ معاذ اللہ ثمّ معاذ اللہ ! بریں عقل و دانش بباید گریست۔ اور اس مضمون کی اس نے قطعاً تردید نہیں کی اور کیوں کرتا اس نے تو خود اپنے آپ کو ہی الزام سے بچانے کے لئے یہ کوشش کی تھی۔ اب ناظرین اس مضمون کو دیکھ کر خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس نے معیار سچے اور جھوٹے کے پرکھنے کا یہ رکھا تھا کہ جھوٹا لمبی عمر پاتا ہے اور یہ اس کے قول کے مطابق نہ صرف قرآن شریف سے ہی ثابت ہے بلکہ مسیلمہ کا زندہ رہنا اس کی دلیل ہے۔ پس جب اس نے خود فیصلہ کی بنیاد اس پر رکھی کہ جھوٹے کو ڈھیل دی جاتی ہے تو خدا تعالیٰ نے بھی اس سے ویسا ہی سلوک کیا۔ کیونکہ کسی پر حجت قائم کرنے کے لئے چاہئے کہ کوئی ایسی طرز نکالی جائے جس سے اسے اتفاق ہو جائے۔ اس سے پہلے چند لوگوں نے جھوٹے کے لئے ہلاکت بتائی وہ حضرت اقدسؑ کی زندگی میں ہلاک ہو گئے۔ اس نے لکھا کہ مسیلمہ کذاب نبی کریم ﷺ کے بعد بھی زندہ رہا اس لئے یہ کوئی دلیل نہیں بلکہ جھوٹے کو لمبی عمر دی جاتی ہے۔ پس خدا تعالیٰ نے ویسا ہی کیا اور اسکو اسی کے قول کے مطابق قائل کیا اور نادم کیا اور ثابت کر دیا کہ ثناء اللہ مسیلمہ کذاب کی طرح ہے اور ان لوگوں کی طرح ہے جن کی نسبت قرآن شریف میں ڈھیل دینے کا حکم ہے۔ اور حضرت اقدسؑ احمدؑ کے غلام ہیں۔ اور ان کے پیرو ہیں اور ہر ایک بات میں ان کے قدم بقدم چلنے والے ہیں۔ اور ان سے بھی خدا وہی سلوک کرتا ہے جو پہلے نبیوں سے کرتا تھا۔ پس ناظرین جائے غور ہے کہ حضرت اقدسؔ پر دو طرح سے حملہ کیا گیا ہے۔ ایک تو ایسے لوگوں نے حملہ کیا ہے جو یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے اور خدا سے دعا کی کہ وہ اس قانون کے مطابق سچے اور جھوٹے میں فرق کر کے دکھلائے۔ اور امید ظاہر کی کہ چونکہ حضرت اقدس نعوذ باللہ جھوٹے ہیں۔ اس لئے وہ ان کی زندگی میں ہلاک ہو جائیں گے۔ اور چونکہ وہ سچے ہیں اس لئے وہ ان کے بعد تک زندہ رہیں گے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے ان کی دعا سنی اور فیصلہ کر دیا کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے اور ان کو حضرت اقدسؔ کی زندگی میں ہلاک کیا اور ذلیل کیا۔ اس کے بعد مولوی ثناء اللہ نے یہ رنگ بدلا کہ جھوٹا زیادہ عمر پاتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ نے اس کو اس کے قول کے مطابق ہی جھوٹا ثابت کیا۔ اور حضرت اقدسؔ کی سچائی پر مہر کی۔ اور یہ اس لئے ہوا کہ جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں کہ کسی نبی کے آنے کا یہ مدعا نہیں ہوتا کہ وہ چند لوگوں کے مرنے کی پیشگوئیاں کر دے۔ اور وہ پوری ہو جائیں یا یہ کہ چند اور غیب کی خبریں دے جو اسی طرح واقع ہوں بلکہ ان کی آمد کا اصل منشاء اصلاح ہوتی ہے۔ چنانچہ اسی وجہ سے ان کے مخالفین پر کئی طریقوں سے اتمام حجت کی جاتی ہے۔ اور دنیا پر اس رسول کی سچائی ثابت کی جاتی ہے۔ پس اسی طرح حضرت اقدس کے مخالفین سے ہوا۔ ان کا انکار یا ہلاک کرنا بعثت کا اصل سبب نہیں تھا۔ بلکہ ان کے ساتھیوں پر اور خود ان پر حجت قائم کرنے کے لئے انذاری پیشگوئیاں کی گئی تھیں یا اور طریق سے فیصلہ لکھا گیا تھا۔ اور اصل مقصد آپ کی بعثت کا اصلاحِ قومی تھا۔ پس جب ثناء اللہ نے اور اس کے مریدوں نے ظاہر کیا کہ جھوٹے کو لمبی عمر ملتی ہے۔ تو خدا تعالیٰ نے اس گروہ پر حجت قائم کرنے کے لئے اسی طریق سے ان کو پکڑا تاکہ دنیا میں اصلاح کی صورت نظر آئے۔ اب اگر کوئی کہے کہ اچھا پھر اتمام حجت سے نتیجہ کیا نکلا اور اس کا فائدہ کیا ہوا۔ جبکہ وہ اپنی ضد پر قائم رہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سنّتِ الٰہیہ اسی طرح ہے کہ پہلے ہر ایک سلسلہ حقہ کی مخالفت کی جاتی ہے اور بعد ازاں جب خوب اچھی طرح تبلیغ ہو جاتی ہے۔ اور لوگ الگ بیٹھ کر تمام واقعات پر تدبر کرتے ہیں۔ تو ان کو سمجھ آجاتی ہے کہ کون حق پر ہے۔ اور کون جھوٹ کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ پس جبکہ کچھ عرصہ گذر جائے گا اور لوگ غور کریں گے تو خود بخود ان پر اصل راز کھل جائے گا۔ اور دوسرے ایسے لوگوں کا جواب وہی ہے جو وہ اس آیت کا دیتے ہیں کہ لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفۡسَکَ اَلَّا یَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ(الشعراء: ۴) یعنی خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تو اپنی جان کو اس غم میں ہلاک کر دے گا کہ یہ لوگ تیری بات نہیں مانتے اور ایمان نہیں لاتے۔ پس جب نبی کریم ﷺ جیسے عظیم الشان نبی کے اتمام حجت پر بھی لوگوں نے نہیں مانا اور اس کا ان کو اتنا غم ہُوا کہ گویا اس غم میں اپنی جان کو ہی ہلاک کر دیتے اور ہر وقت اسی فکر میں رہتے تھے تو آج اگر ان کے غلام اور تابع کی بات کو سن کر اور اتمامِ حجت کے بعد یہ لوگ نہ مانیں تو کیا تعجب ہے کیونکہ سنت اللہ یہی ہے کہ ایک تو نبی کے وقت قدرت دکھائی جاتی ہے۔ اور ایک اس کے بعد جس سے وہ سلسلہ جو قائم ہوتا ہے تمام دنیا میں پھیل جاتا ہے پس اب وقت آگیا ہے کہ سلسلہ احمدیہ خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ سنت کے مطابق ترقی کرے (انشاء اللہ) غرض کہ ثناء اللہ اور اس کے ساتھیوں پر خود انہی کے قول کے مطابق حجت قائم ہو گئی ہے اور یہ میں خوب اچھی طرح ثابت کر آیا ہوں کہ اگر ایسا نہ ہوتا اور وہ حضرت اقدس کی زندگی میں ہی مرجاتا تو آئندہ لوگ کہتے کہ اصل فیصلہ کا طریق یہی ہے کہ جھوٹے کو عمر لمبی ملتی ہے اور پہلے لوگوں نے مباہلہ میں غلطی کی۔ اور ثناء اللہ نے چونکہ ٹھیک راہ اختیار کی تھی اس لئے حضرت اقدس کو ڈھیل دی گئی۔ اور اس طرح وہ کذّاب ثابت ہوئے پس جب خدا تعالیٰ کی غیرت نے برداشت نہ کیا کہ اس کے نبی پر کوئی الزام رہے اور اس نے اپنے فرستادہ کے ساتھ اپنے وعدہ کے مطابق سلوک کیا۔ اور اس کو وفات دے کر اس الہام کو پورا کیا کہ لَا نُبْقِىْ لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِكْرًا۔ چنانچہ جب تک لوگوں نے جھوٹے کے لئے سچے کی زندگی میں مرجانا معیار مقرر کیا۔ تب تک تو وہ خود ہلاک ہوتے رہے اور حضرت مسیح موعودؑ کی سچائی کو اپنی موت سے ثابت کرتے رہے۔ اور جب معیارِ صداقت یہ مقرر ہُوا کہ سچا جھوٹے کے سامنے ہی فوت ہو جاتا ہے۔ جیسے نبی کریم ﷺ مسیلمہ کذاب کے سامنے اور جھوٹا لمبی عمر پاتا ہے تو خدا تعالیٰ نے اس معیار کے مطابق ثناء اللہ کو ڈھیل دے کر مسیلمہ کذاب سے مشابہت دی اور حضرت اقدس کی سچائی کو ثابت کیا۔ پس جبکہ اسی کے مقرر کئے ہوئے معیار کے مطابق اس کو ڈھیل دی گئی ہے اور آدمؑ اول کی طرح آدمؑ ثانی کے ایک مخالف پر بھی اِلٰی یَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ(الحجر: ۳۹) کا فتویٰ جاری ہُوا ہے تو پھر ثناء اللہ کیوں بڑھ بڑھ کر باتیں بناتا ہے۔ خود اس کی تحریر اور اس کے دوستوں کی تحریر اس کو ملزم کر رہی ہے اور یہ اپنے منہ سے جھوٹا ثابت ہوا ہے۔ تو پھر یہ شور و شر اور دعاوی باطلہ اگر محض بے شرمی اور بے حیائی کی دلیل نہیں تو اور کیا ہے۔ مگر اسے یاد رکھنا چاہئے کہ آدمؑ اول کے مخالف کو تو لمبی ڈھیل دی گئی تھی کیونکہ اس نے لمبی ڈھیل کی ہی خواہش کی تھی لیکن چونکہ اس نے صرف اس قدر عمر چاہی تھی کہ سچے کے فوت ہونے کے بعد بھی زندہ رہے اور اپنی دروغ بیانی پر مہر لگا جائے اور آدمِ ثانیؑ کے وقت شیطان کا مارا جانا بھی ایک فیصلہ شدہ امر ہے اس لئے جلد ہی اس کا فیصلہ ہو جائے گا۔ اور اس طرح کہ دنیا مان لے گی کہ یہ معمولی موت نہیں بلکہ اس موت نے ایک نبی کی سچائی پر شہادت دی ہے۔ اور یہ بات میں نہیں کہتا بلکہ خدائے زمین و آسمان کہتا ہے اور اس کی بات ٹلا نہیں کرتی پس وہ جو زندہ رہیں گے دیکھ لیں گے۔ کہ جس طرح ثناء اللہ کے زندہ رہنے نے اس کے کذب پر مہر لگائی ہے۔ ویسا ہی اس کی موت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کی ایک دلیل ہوگی۔ انشاء اللہ العزیز۔
ایک اور اعتراض کیا جاتا ہے کہ جس کا جواب دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ جب حضرت اقدسؑ کا الہام تھا کہ تیری دعا سنی گئی تو پھر آپ پہلے کیوں فوت ہوئے۔ سو یاد رہے کہ اس کا جواب میں اوپر دے آیا ہوں کہ کسی نبی کی بعثت کی اصل غرض بعض اشخاص کی وفات یا بعض جگہوں کی تباہی نہیں ہوتی بلکہ اصلاح خلق اصل غرض ہوتی ہے پس وعید کی پیشگوئیاں اگر ٹل جاتی ہیں تو صرف اس وجہ سے کہ اصلاح کی کچھ اور صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ جب حضرت اقدسؑ نے ثناء اللہ کی نسبت دعا کی اور خدا تعالیٰ نے آپ کو اس کی ہلاکت کی خبر دی تو وہ ایک وعید کی پیشگوئی ہوگئی۔ پس چونکہ وعید کی پیشگوئیوں کی بھی اصل غرض اصلاح ہوتی ہے۔ اس لئے وہ اسی رنگ میں پوری ہوئی جس طرح اتمام حجت ہو سکتی تھی۔ کیونکہ اگر اس کے برخلاف ثناء اللہ حضرتؑ کی زندگی میں مر جاتا تو اس کے ساتھی کہتے کہ چونکہ یہ فوت ہو گیا اور حضرت اقدسؑ زندہ رہے اس لئے وہ ہمارے اور ہمارے استاد کے قبل کے مطابق اور فیصلہ کی شرط کے مطابق نعوذ باللہ مسیلمہ کذاب کی مانند ثابت ہوئے۔ پس خدا تعالیٰ نے جو کچھ وعدہ دیا تھا وہ یہی تھا کہ سچے اور جھوٹے میں فرق کر دکھلائے گا۔ اور یہی انذاری پیشگوئی کی غرض ہوتی ہے چنانچہ اس کے وعدہ کے مطابق اس کو ملزم کرنے کے لئے خداوند تعالیٰ نے اسی کے قول کے مطابق اس کو ڈھیل دے کر مسیلمہ کذاب کا ہم رتبہ ثابت کیا۔ اور دوسرے یہ کہ کیا حضرت اقدسؑ کی وفات سے جو اس کی نسبت الہام تھے وہ بھی منسوخ ہو گئے؟ نہیں وہ تو جب تک یہ مرتا نہیں اس کے ساتھ ہیں اور ان کے عذاب سے یہ اسی وقت بچ سکتا ہے جب توبہ کرے اور رجوع لائے۔ ورنہ یاد رہے کہ خدا کا کلام کبھی نہیں ٹلتا اور بغیر پورا ہوئے نہیں رہتا۔ پس حضرت صاحب کی دعا پر بھی کوئی اعتراض نہیں آسکتا کیونکہ وہ ضرور قبول ہوئی اور دعا کی بجائے ایک انذاری پیشگوئی کی صورت میں بدل گئی۔ اور جب اس نے جھوٹے کے لئے ڈھیل ملنے کی شرط مقرر کی تو اس کو ڈھیل دی گئی اور اپنے وقت پر وہ پیشگوئی بھی اپنا رنگ دکھلائے گی۔
اب آخر میں ایک اور بات لکھتا ہوں تاکہ شریر اور بد بخت لوگ سادہ لوح لوگوں کو دھوکے میں نہ ڈالیں اور وہ یہ ہے کہ حضرت اقدسؑ کے بعد ثناء اللہ کا زندہ رہنا بجائے اس کی سچائی کے اس کا کذاب اور مفسد ہونا ثابت کرتا ہے میں کافی لکھ آیا ہوں۔ اب یہ لکھتا ہوں کہ یہ شخص اپنی معمولی شوخی کے مطابق اس دعا کا نام مباہلہ رکھتا ہے جس کا انکار بھی کرچکا ہے چنانچہ ایک دفعہ حضرت اقدس کے بر خلاف مضمون لکھتا ہوا لکھتا ہے کہ ”مباہلہ اس کو کہتے ہیں جو فریقین مقابلہ پر قسمیں کھائیں“۔ پھر اسی مضمون میں آگے چل کر لکھتا ہے کہ ”قسم اور ہے مباہلہ اور ہے۔ قسم کو مباہلہ کہنا آپ جیسے ہی راست گوؤں کا کام ہے۔ اور کسی کا نہیں۔“ اب ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ مولوی ثناء اللہ نے جب خود ہی یہ فیصلہ کیا ہے کہ مقابلہ پر قسمیں کھانے کا نام مباہلہ ہے اور اس کے سوا کسی اور بات کو مباہلہ قرار دینا راست گوئی کے خلاف ہے۔ اور بالکل جھوٹ ہے تو اب اس کا اس دعا کو جو کہ حضرت صاحبؑ نے شائع کی تھی مباہلہ قرار دینا افتراء نہیں تو اور کیا ہے اور دعا میں نہ تو حضرت صاحب نے قسم کھائی ہے نہ ثناء اللہ نے پھر باوجود اس کے اس کو مباہلہ قرار دینا خود اسی کے فیصلہ کے مطابق اس کو جھوٹا ثابت کرتا ہے۔ پس ناظرین کو چاہئے کہ وہ اس کے مکر اور فریب میں نہ آئیں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ خود یہی ایک سال پہلے ۱۹؍اپریل ۱۹۰۷ء کے اہلحدیث صفحہ ۴ میں مباہلہ کی وہ تعریف جو اوپر لکھ آیا ہوں لکھ چکا ہے۔ اور اس کے برخلاف یکطرفہ قسم کو بھی مباہلہ کہنے والے کی نسبت جو فتویٰ دے آیا ہے اوپر درج ہے۔ پس جبکہ یک طرفہ قسم بھی مباہلہ نہیں ہو سکتی تو وہ دعا جو بغیر قسم کے کی گئی ہو اور فریق مخالف نے اس کو منظور بھی نہ کیا تو وہ کیونکر مباہلہ ہو سکتی ہے۔ اور اس کا مباہلہ کے رنگ میں پیش کرنا کہاں تک موجب راستی ہو سکتا ہے۔ اس شخص نے چاہا کہ عوام کو دھوکہ دے لیکن خدا جس کی پردہ دری کرنا چاہے پھر اس کی حماقت اور دروغ بیانی پر کون پردہ ڈالے۔ افسوس باوجود ان جھوٹوں اور فریبوں کے اور دغا بازیوں کے پھر یہ لوگ خدا کے مامور اور مرسل کے مقابلہ پر کھڑے ہو کر بڑے بڑے علم وفن کا دعویٰ کرتے ہیں۔
اب میں چونکہ ثناء اللہ کی نسبت خدا کے فضل سے کافی لکھ آیا ہوں اس لئے مضمون کے اس حصہ کو ختم کر کے دوسرے کو شروع کرتا ہوں۔ مگر آخر میں خلاصۃً پھر لکھتا ہوں کہ ثناء اللہ کی نسبت حضرت صاحبؑ نے دعا کی تھی اور اوپر لکھ دیا تھا کہ میں یہ وحی یا الہام کے ذریعہ نہیں کہتا اور باوجود اس کے ثناء اللہ نے اس دعا کے فیصلہ سے انکار کیا اور لکھا کہ ”یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اس کو منظور کر سکتا ہے“ پھر باوجود اس انکار کے اس کا یہ دعویٰ کہ مرزا صاحب میرے مباہلہ کی وجہ سے فوت ہوئے صریح شرارت ہے۔ جب یہ خود اس فیصلہ کو غلط قرار دے چکا ہے اور
لکھ چکا ہے کہ اس کا قبول کرنا بیوقوفوں کا کام ہے۔ تو اب اس کو مان کر بیوقوف کیوں بنتا ہے اور اپنے کہے کے برخلاف کیوں چلتا ہے؟ اور جب اس نے خود اس کو نامنظور کیا تو اب اس دعا کے مطابق فیصلہ کا کیوں منتظر ہے؟ اور دوسرے یہ کہ نہ صرف اس نے شروع میں ہی اس دعا کے فیصلہ سے انکار کیا بلکہ آخر سال میں بھی حضرت کی وفات سے چند دن پہلے اس بات کا انکار کیا اور لکھا کہ اب چونکہ سال گذر گیا ہے اس لئے مباہلہ کی میعاد ختم ہوگئی اور اب کوئی اثر مباہلہ کا نہیں ہو سکتا۔ پس جب یہ خود ہی حضرت کی وفات سے پہلے اس میعاد کو ختم کرچکا ہے تو اب اگر اس دعا کو اس کے کہنے کے مطابق مباہلہ بھی مان لیا جائے تو بھی اس مباہلہ کے مطابق حضرت اقدسؑ کی وفات نہیں ہو سکتی کیونکہ خود ثناء اللہ اس میعاد کو ختم کرچکا ہے۔ اور تیسری بات جو میں نے لکھی ہے یہ ہے کہ نبی کے آنے کی اصل غرض اصلاح ہوتی ہے نہ کہ انذاری پیشگوئیاں۔ پس اس وجہ سے انذاری پیشگوئیوں میں التواء بھی ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ وہ منسوخ بھی ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ محض اصلاح کے لئے ہوتی ہیں۔ جب اصلاح کا اور طریقہ نکل آئے یا مخالف پر اتمامِ حجت کرنے کی کوئی اور صورت پیدا ہو جائے تو وہ بدل جاتی ہیں۔ چنانچہ اس طرح حضرت اقدسؑ کی ثناء اللہ کی نسبت دعا یا پیشگوئی انذاری رنگ میں تھی اور اصلاح کے لئے تھی جب اس نے اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ ہمارے لئے جھوٹے کا سچے کی زندگی میں مرجانا کوئی اتمامِ حجت نہیں بلکہ قرآن شریف سے اس کے برخلاف جھوٹے کا ڈھیل دیا جانا ثابت ہوتا ہے اور اسی کے مطابق مسیلمہ کذاب آنحضرت ﷺ کے فوت ہونے کے بعد ہلاک ہوا تو اب اصلاح کی یہ صورت تھی کہ ثناء اللہ کو ڈھیل دی جائے تاکہ اس کے ساتھیوں پر اور اس پر اتمامِ حجت ہو اور انہیں کے فیصلہ کے مطابق ان کو ملزم کیا جائے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے ایسا ہی کیا اور ثناء اللہ اپنے ہی قول کے مطابق مفسد و دغا باز اور جھوٹا ثابت ہوا اور اخیر میں میں نے لکھا ہے کہ یہ شخص لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے اس دعا کو مباہلہ قرار دیتا ہے جو حضرت اقدس نے اس کے لئے کی۔ مگر اس سے پہلے خود لکھ چکا ہے کہ مباہلہ طرفین کے مقابلہ پر قسمیں کھانے کو کہتے ہیں اور اس کے برخلاف کہنے والا جھوٹا ہے۔ پس یہ خود ہی جھوٹا ثابت ہوا اور عوام کو چاہئے کہ اس کے مکر اور فریب سے بچیں۔
اب جبکہ میں عبدالحکیم اور ثناء اللہ کے بارے میں کسی قدر تفصیل سے واقعات لکھ آیا ہوں۔ اور ان کی طرف سے جو اعتراض ہوتے ہیں خدا کے فضل سے ان کا جواب دے چکا ہوں۔ مناسب سمجھتا ہوں کہ حضرت اقدسؑ کی بعض ایسی پیشگوئیوں پر بھی کچھ لکھوں جو کہ مخالفین سلسلہ کے خیال میں اب تک پوری نہیں ہوئیں یا ان کے پورے ہونے میں کچھ کسر رہ گئی ہے مگر ان کے شروع کرنے سے پہلے پھر میں اس اصول کی طرف ناظرین کی توجہ مبذول کراتا ہوں کہ ہر ایک نبی کی بعثت کی غرض دنیا میں اصلاح ہوتی ہے۔ اور اس کی تعلیم کو نظر انداز کرنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔ بلکہ ہر حال میں پہلے اس کی تعلیم پر غور کرنا شرط ہے اور پھر بعد اس کے اس کی پیشگوئیوں پر نظر ڈالنی چاہئے۔ پس اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے ان تمام اعتراضوں کا جواب دوں گا جو کہ مخالفین سلسلہ کی طرف سے حضرت اقدسؑ پر کئے جاتے ہیں چنانچہ سب سے اول میں حضرت اقدسؑ کی عمر کے بارہ میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔
اول۔ عام طور سے اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضرت اقدسؑ کا ایک الہام تھا جو کہ انہوں نے بارہا شائع کیا تھا کہ میری عمر اسی سال کے قریب قریب ہو گی حالانکہ وہ میعاد مقررہ سے پہلے فوت ہو گئے۔ اور یہ بات ان کی سچائی میں شکوک کی گنجائش پیدا کرتی ہے کیونکہ جب انہوں نے بڑے زور سے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ میری عمر اسی سال کے قریب ہو گی تو کیا وجہ کہ وہ پہلے فوت ہوئے۔ اگر یہ خبر ان کو خدا کی طرف سے ملی تھی اور وہ سچے نبی تھے تو چاہئے تھا کہ اس الہام کے مطابق فوت ہوتے ورنہ جب وہ اپنے الہام کے مطابق فوت نہ ہوئے اور اپنی بتائی ہوئی میعاد سے پہلے انتقال کر گئے تو مخالفوں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ ان کی تکذیب کریں اور ان کے دعویٰ میں شک لاویں۔
اسکا جواب یہ ہے کہ حضرت اقدسؑ نے کہیں نہیں لکھا کہ میری عمر ضرور ہی اسی برس ہوگی۔ بلکہ اس بات کو مخالفین بھی مانتے ہیں کہ آپ کا الہام تھا کہ آپ کی عمر اسی کے قریب ہوگی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور آپ اسی برس کے قریب عمر پا کر فوت ہوئے۔ چنانچہ اس کے ثبوت میں میں خود حضرت اقدسؑ کی کتابوں میں سے اور مخالفین سلسلہ کے مضامین میں سے حوالہ دوں گا اور انشاء اللہ ثابت کروں گا کہ حضرت اقدسؑ کی عمر اسی کے قریب تھی۔ یعنی جب حضرت اقدسؑ نے وفات پائی تو آپ اس وقت ۷۴ سال کے تھے۔ چنانچہ اول حوالہ جو میں خود آپ کے مضمون میں سے پیش کرتا ہوں یہ ہے کہ ڈوئی کے مقابلہ میں جب آپ نے اشتہار دیا ہے اور اس کو مقابلہ کے لئے بلایا ہے تو اس وقت آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ”میں ایک آدمی ہوں جو پیرانہ سالی تک پہنچ چکا ہوں۔ میری عمر غالباً چھیاسٹھ سال سے بھی کچھ زیادہ ہے“ (دیکھو ریویو آف ریلیجنز ستمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۳۴۶) پس اب ہر ایک شخص غور کر سکتا ہے کہ جب ستمبر ۱۹۰۲ء کو آپ کی عمر ۶۶ سال سے بھی کچھ زیادہ ہے تو ۱۹۰۸ء میں مئی کے مہینہ میں جب آپ نے وفات پائی تو آپ کی عمر شمسی حساب کے لحاظ سے کم سے کم ۷۲ سال کی ہوتی ہے کیونکہ اگر پورے ۶۶ سال کی عمر اس وقت شمار کریں تو مئی تک آپ کی عمر کے اکہتر سال اور نو ماہ بنتے ہیں لیکن چونکہ آپ نے لکھا ہے کہ اس وقت ۶۶ سال سے بھی زیادہ ہے اس لئے تین ماہ اس میں اور شامل کر کے پورے ۷۲ سال ہوئے۔ اور قمری حساب کی رو سے یہی ۷۲ سال ۷۴ سال اور تین ماہ بنتے ہیں پس جو عمر آپ نے ڈوئی کے اشتہار میں لکھی ہے اگر غور سے کوئی دشمن اس پر نظر ڈالے تو صاف سمجھ سکتا ہے کہ آپ کی پیشگوئی کس زور و شور سے پوری ہوئی۔ اور اس کا ایک ایک لفظ صادق ثابت ہوا۔ آپ نے اس پیشگوئی کو شائع کیا ہے اور اس وقت گویا کہ قریباً تیس سال عمر کے باقی تھے۔ جب یہ الہام ہوا۔ پس کیا کوئی کاذب انسان جو خدا سے کوئی تعلق نہ رکھتا ہو تیس سال پہلے اپنی نسبت کہہ سکتا ہے کہ میں اس قدر سال اور زندہ رہوں گا۔ انسان کو اپنی زندگی کا ایک دم کے لئے بھی اعتبار نہیں۔ پھر ایک شخص کا یہ کہنا کہ میں تیس سال اور زندہ رہوں گا اور میری عمر قریباً اسی سال کی ہوگی کوئی چھوٹی بات نہیں بلکہ ایک نشان ہے جو پورے زور سے پورا ہوا۔ مگر مبارک وہ جو آنکھیں رکھتا ہے اور خوش قسمت ہے وہ جو نیکی کی راہ کو دیکھے اور قبول کرے۔
پھر دوسری دلیل یہ ہے کہ حضرت صاحب کی کتاب نصرۃ الحق یا حصہ پنجم براہین میں درج ہے
کہ اب میری عمر ستر برس کے قریب ہے اور تین برس کی مدت گزر گئی کہ خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی کہ ”تیری عمر اسی برس کی ہو گی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم“۔ پس اس جگہ سے بھی صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت اقدسؑ کی عمر ۱۳۲۳ھ میں ستر سال سے کچھ اوپر تھی۔ اور اب ۱۳۲۶ھ میں ۷۴ سال کی ہوئی (کیونکہ نصرۃ الحق میں یہ بات ۱۳۲۳ھ میں لکھی گئی تھی) اور اس عبارت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اسی سال کی عمر سے الہام میں کیا مراد تھی اور اس کے معنی خدا تعالیٰ کے علم میں کیا تھے اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ ۷۴ سے لے کر ۸۶ سال کی عمر تک بھی جب حضرت اقدسؑ فوت ہوتے وہ پیشگوئی کی میعاد کے اندر ہی ہوتا۔ اس بات کو خود آپ نے بھی اس کتاب میں آگے چل کر تشریح سے لکھا ہے کہ نہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ میری عمر اسی سال سے ضرور زیادہ ہو جائے گی۔ بلکہ اس بارے میں جو فقرہ وحی الٰہی میں درج ہے اس میں مخفی طور سے یہ امید دلائی گئی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو اسی برس سے بھی عمر کچھ زیادہ ہو سکتی ہے اور جو الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ تو ۷۴ سال اور ۸۶ سال کے اندر اندر عمر کی تعیین کرتے ہیں“۔ (یہ دونوں عبارتیں ضمیمہ براہین حصہ پنجم کے صفحہ ۹۷ پر ہیں) اب اس عبارت کو پڑھ کر ہر ایک شخص غور کر سکتا ہے کہ حضرت اقدسؑ نے صاف طور سے لکھ دیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھ کو خبر دی ہے کہ تیری عمر ۷۴ اور ۸۶ سال کے درمیان ہو گی۔ اور میں خود آپؑ کی ہی عبارتوں سے ثابت کر آیا ہوں کہ آپؑ کی عمر وفات کے وقت ۷۴ بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ تھی۔ پس اب کسی معترض کا کیا حق ہو سکتا ہے کہ اس قسم کا اعتراض کرے۔ اور باوجود اس کے کہ پیشگوئی بڑے زور و شور سے پوری ہوئی اس پر نکتہ چینی کرے۔ ہاں وہ جو خدا سے نہیں ڈرتے اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے باز رکھنے کے لئے تو ہمارے پاس کوئی ہتھیار نہیں اور نہ کسی بے شرم کا منہ بند کرنا ہمارا کام ہے۔ مگر وہ جو خدا کی ہستی پر ایمان لاتے ہیں اور جزاء و سزا کے دن کا یقین رکھتے ہیں خدا کو حاضر و ناظر جان کر بتائیں کہ کیا حضرت اقدسؑ کی پیشگوئی لفظ لفظ پوری نہیں ہوئی اور کیا حضرت اقدسؑ خدا کے الہام کے مطابق ۷۴ سال کی عمر پا کر فوت نہیں ہوئے۔ خدا نے جو وعدہ اپنے مامور سے کیا تھا پورا کیا اور اس کو اپنے قول کے مطابق عمر دی۔ اب اگر کسی کور چشم اور بد باطن انسان کو کلام ہے تو وہ ڈوئی کے اشتہار کو پڑھے اور نصرت الحق کو جو عنقریب شائع ہونے والی ہے دیکھے تو اس کو معلوم ہو جائے گا اور اس کا دل گواہی دے اٹھے گا کہ حضرت مسیح موعود سے جو کچھ وعدہ کیا گیا تھا وہ کیسی صفائی سے پورا ہوا اور میں علاوہ حضرت اقدس کی کتابوں کے اور جگہوں سے
بھی اس کا ثبوت دے سکتا ہوں اور خود مخالفین کے کلام سے ثابت کر سکتا ہوں کہ حضرت کی عمر ۷۴ سال کی تھی چنانچہ حضرت اقدسؑ کی وفات پر جو مضمون زمیندار کے لائق ایڈیٹر نے لکھا ہے اس میں وہ لکھتے ہیں کہ ”مرزا غلام احمد صاحب ۱۸۶۰ء یا ۱۸۶۱ء کے قریب ضلع سیالکوٹ میں محرر تھے اس وقت آپ کی عمر ۲۲ تا ۲۴ سال کی ہو گی اور ہم چشم دید شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے ۔ کاروبار ملازمت کے بعد ان کا تمام وقت مطالعہ دینیات میں صرف ہوتا تھا“ (زمیندار اخبار پرچہ ۲۸؍ مئی ۱۹۰۸ء صفحہ ۵)۔ اب دیکھنا چاہئے کہ جب ساٹھ یا اکسٹھ میں آپ کی عمر ۲۴ کے قریب تھی تو ۱۹۰۸ء میں آپ کی عمر شمسی حساب سے ۷۲ یا اس سے کچھ کم ہوئی اور قمری حساب سے ۷۴ سال یا کچھ زیادہ۔ اور یہ ایک ایسی گواہی ہے جو خدا تعالیٰ نے ایک ایسے شخص کے منہ سے دلوائی جو اس سلسلہ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ پس کیا اس پر بھی کسی کو اعتراض ہو سکتا ہے؟ اس کے بعد ہم ایک اور گواہی ایک ایسے مخالف کی پیش کرتے ہیں جس کا کام سوائے اس سلسلہ کی مخالفت کے اور کچھ بھی نہیں اور جو اس سلسلہ کی مخالفت میں جھوٹ بولنا بھی جائز سمجھتا ہے یعنی اب ہم مولوی ثناء اللہ امرتسری کی تحریر سے ثابت کرتے ہیں کہ حضرت اقدسؑ اپنے الہام کے مطابق عمر پا کر فوت ہوئے اور وہ یہ ہے کہ ”باقی رہا یہ کہ سب مخالفین کو مار کر مریں گے (یعنی حضرت اقدس) سو اس سوال کا جواب بھی مرزا جی اپنے رسالہ الوصیت میں لکھ کر نفی میں دے چکے ہیں۔ یعنی کہہ چکے ہیں کہ میری موت عنقریب اسی سال کی عمر کے کچھ نیچے اوپر ہے۔ جس کے سب زینے آپ غالباً طے کر چکے ہیں“ (اہلحدیث ۳؍ مئی ۱۹۰۷ء صفحہ ۶) اس عبارت سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف حضرت مسیح موعودؑ ہی لکھ چکے ہیں کہ اسی سال والے الہام کے مطابق میری عمر ختم ہو چکی ہے بلکہ مولوی ثناء اللہ بھی اس بات کو مانتا ہے اور لکھتا ہے کہ آپ غالباً سب زینے اس پیشگوئی کے طے کر چکے ہیں۔ پس جبکہ دوست اور دشمن سب اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت کی وفات عین پیشگوئی کے مطابق ہوئی تو اب اس پر اعتراض کرنا سراسر بیجا اور حق طلبی کے بر خلاف ہے مگر اسکے ساتھ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ عمر کا حساب کچھ ایسا پختہ نہیں ہوتا۔ اور نہ عام طور سے تاریخ پیدائش محفوظ رکھی جاتی ہے۔ اور خود حضرت مسیح موعودؑ کی تاریخ پیدائش اور مہینہ محفوظ نہیں۔ اگر کسی وقت آپ نے اندازاً کچھ اور عمر بتادی ہو تو اس سے اس بات میں کوئی حرج نہیں آتا۔ کیونکہ عام طور سے عمر کے معاملہ میں زیادہ احتیاط نہیں ہوتی۔ اور بہت جگہ اندازہ سے کام لیا جاتا ہے۔ مگر اس جگہ جو عمر ہم نے لکھی ہے وہ خوب تحقیق سے لکھی گئی ہے۔ اور نہ صرف حضرت اقدسؔ کی مختلف تحریروں سے لی گئی ہے بلکہ خود مخالفین سلسلہ کے بیانوں سے ثابت ہوتی ہے اور خاص کر جناب مولوی سراج الدین احمد صاحب ایڈیٹر زمیندار کی رائے بہت معتبر ہے۔ جو اپنا چشم دید حال سناتے ہیں کہ انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کو ۶۰ یا ۶۱ء میں دیکھا اور اس وقت آپ کی عمر قریباً ۲۴ برس کی تھی۔ پس اب بھی اگر کسی کو اعتراض ہو تو یہ اس کی سیاہ باطنی پر دلالت کرتا ہے۔ چاہئے کہ توبہ اور استغفار کرے تاکہ خدا کا رحم اس کے شامل حال ہو۔
اب ہم ناظرین کی آسانی کے لئے ایک اور طرح سے عمر کے سوال کو حل کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی وفات سے چوبیس برس پہلے اطلاع دی گئی تھی کہ تمہاری عمر اسی کے قریب ہو گی اور اس الہام کے مطابق آپ قریباً بتیس سال تک زندہ رہے پھر رسالہ الوصیت میں آپ نے شائع کیا کہ اب میری عمر بہت ہی تھوڑی رہ گئی ہے اور میری موت کے دن قریب آگئے ہیں اور اس پیشگوئی کے مطابق اڑھائی سال کے اندر فوت ہو گئے۔ اب غور کرنا چاہئے کہ حضرت صاحب نے اپنی وفات سے چونتیس برس پہلے چالیس کی عمر میں یہ پیشگوئی کی تھی کہ میری عمر اسی سال کی ہو گی اور یہ پیشگوئی ایک فوق العادت طور سے پوری ہوئی کیونکہ کون کہہ سکتا ہے کہ میں کل تک زندہ رہوں گا یا یہ سال مجھ پر سلامت گزرے گا مگر وہ جس پر خدا رحم کرے اور اپنی کلام سے مشرف کرے۔ چونتیس برس کی عمر ایک اتنی لمبی عمر ہے کہ اس میں ایک بچہ جوان ہو کر اپنے ہاں پوتے پیدا ہوتے ہوئے دیکھ سکتا ہے۔ پس یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک مفتری کہہ سکے کہ میں چونتیس پینتیس برس اور زندہ رہوں گا۔ اگر کوئی ایسا دعویٰ کر سکتا ہے تو اس کو ہمارے سامنے پیش کرو مگر شرط یہ ہے کہ وہ کہے کہ میں خدا سے خبر پا کر ایسا کہتا ہوں۔ پس جبکہ ایک جھوٹے سے ایسا دعویٰ ہونا ناممکن ہے تو سوچو کہ حضرت اقدسؑ نے خدا سے خبر پا کر ایسی خبر دی اور وہ اس کے مطابق چونتیس سال تک زندہ بھی رہے۔ اور جب خدا نے خبر دی کہ اب تمہاری وفات قریب ہے تو انہیں دنوں میں فوت ہو گئے۔ اور اس طرح دو پیشگوئیاں پوری ہوئیں۔ ایک تو عمر کی زیادتی کی کہ تم اس قدر عرصہ تک زندہ رہو گے اور ایک وفات کی کہ اب تمہاری وفات قریب ہے۔
پس حضرت صاحب کی وفات سے تو ان کی سچائی ثابت ہوتی ہے نہ کہ تکذیب۔ ہم بفرضِ محال مان لیتے ہیں کہ حضرت صاحب اپنی بتائی ہوئی عمر سے پہلے فوت ہو گئے مگر اس سے بھی تو کوئی شبہ آپؑ کی سچائی میں نہیں آتا بلکہ اور سچائی ثابت ہوتی ہے کیونکہ جب حضرت مسیح موعودؑ نے الوصیت شائع کر دی اور لکھ دیا کہ اب میری عمر ختم ہو گئی ہے اور میری وفات قریب ہے تو پہلا الہام منسوخ ہو گیا۔ اور اب دوسرے الہام کے مطابق ہم کو نتیجہ کا انتظار کرنا چاہئے تھا سو ایسا ہی ہوا اور آپ عین اسی وقت پر جو کہ بتایا گیا تھا فوت ہوئے۔ پس یہ کیسی صاف بات ہے کہ جب تک کہ حضرت اقدسؑ کہتے رہے کہ میری عمر اسی سال کے قریب ہے اس وقت تک تو آپ زندہ رہے اور آپ نے اس الہام کے مطابق چونتیس سال عمر پائی۔ مگر جب آپ نے الہام شائع کیا کہ اب میری وفات قریب ہے۔ تو آپ میعاد مقررہ کے اندر فوت ہو گئے۔ اور اس طرح دو نشان پورے ہوئے اور حضرت اقدسؑ کی سچائی کا ثبوت بنے۔ پس بفرض محال اگر مان بھی لیا جائے کہ آپ اسی برس والے الہام کے مطابق فوت نہیں ہوئے تب بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ الوصیت نے تو اس الہام کو منسوخ کر کے ثابت کر دیا کہ وہ تک بندی نہیں تھی بلکہ خدا کا کلام تھا۔ ممکن تھا کہ اگر الوصیت والا الہام پورا نہ ہوتا تو لوگ کہتے کہ آپ نے ایک بَڑ مار دی تھی کہ میری عمر اس قدر ہوگی سو پوری ہو گئی مگر خدا تعالیٰ نے موت کے الہامات سے ثابت کر دیا کہ سب کام خدا کے اختیار میں ہیں وہ جب چاہتا ہے کسی کو لمبی عمر دیتا ہے اور جب چاہتا ہے اس کو وفات دیتا ہے۔ اور اس طرح اس نے حضرت اقدسؑ کے الہامات کی سچائی کو بھی ثابت کر دیا۔ ہاں اگر الوصیت میں موت کی پیشگوئی نہ ہوتی تو لوگ کہتے کہ وہ وقت مقررہ سے پہلے فوت ہوئے لیکن جب الوصیت سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اب وفات قریب ہے۔ تو خود بخود پہلی پیشگوئی چونتیس برس تک اپنا جلال دکھا کر منسوخ ہو گئی اور موت کی پیشگوئی کا انتظار شروع ہوا۔ پس اگر یہ نہ بھی مانا جائے کہ حضرت کی عمر ۷۴ سال کی ہوئی اور اسی سال کے قریب ہوئی جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں۔ تو پھر بھی آپ پر کوئی الزام نہیں آتا کیونکہ جب موت کے الہام ہو گئے تو معلوم ہوا کہ اب کچھ سال عمر باقی بھی ہے تو وہ بھی منسوخ ہو گئی۔ غرضیکہ مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں سے کسی میں بھی مخالف یا معترض کا ہاتھ نہیں پڑ سکتا کیونکہ اول تو میں نے ثابت کر دیا ہے کہ آپ پیشگوئی کے مطابق عمر پا کر فوت ہوئے اور اگر بفرض محال نہ بھی ہوئے تو الوصیت کے بعد وہ پہلی پیشگوئی منسوخ سمجھی جائے گی کیونکہ وہ اگر عمر کی زیادتی ظاہر کرتی تھی تو یہ عمر کا انقطاع ظاہر کرتی تھی پس ہر طرح سے خدا کا کلام سچا ثابت ہوتا ہے۔ اور مخالف معترض کا کوئی حق نہیں کہ وہ بغیر علم کے تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ(17:37) کے حکم کے برخلاف خواہ مخواہ اعتراض کرے ورنہ یاد رہے کہ اس قسم کے اعتراضوں سے کوئی نبی نہ بچے گا۔
۲۔ دوسری بات جس کا میں جواب دینا چاہتا ہوں۔ وہ نکاح والی پیشگوئی ہے۔ جس کی نسبت مخالف اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت صاحب فوت ہو گئے ہیں اور وہ پوری نہیں ہوئی۔ سو یاد رہے۔
کہ یہ پیشگوئی اولاً ایک اشتہار میں جو ۱۸۸۸ء میں شائع ہوا درج ہوئی تھی۔ اور اس میں لکھا گیا تھا کہ بوجہ اس کے کہ آپ کے بعض قریبی رشتہ دار حق کی مخالفت کرتے ہیں ان پر عذاب آئے گا۔ اور اطلاع دی گئی تھی کہ اگر احمد بیگ اپنی لڑکی کا نکاح آپ سے نہ کرے گا تو نکاح کے بعد تین سال بلکہ اس سے بھی قریب زمانہ میں مرجائے گا۔ اور وہ جو اس لڑکی سے نکاح کرے گا اڑھائی سال کے اندر فوت ہو جائے گا۔ اور لڑکی کے والد کے ہاں اور بھی فوتیاں ہوں گی مگر اس کے ساتھ رجوع کی شرط تھی۔ کیونکہ یہ تمام سزا ان لوگوں کے لئے اس لئے تجویز ہوئی تھی کہ وہ خدا کی باتوں سے ٹھٹھا کرتے اور اس کے کلام پر ہنستے تھے۔ اور جب وہ رجوع کر لیں تو لازم تھا کہ وہ عذاب سے بچائے جائیں جو کہ ان کے لئے مقرر ہو چکا تھا۔ پس دیکھنا چاہئے کہ اس پیشگوئی کی ایک شاخ جو احمد بیگ اور اس کے رشتہ داروں کے لئے تھی کیسے زور سے پوری ہوئی اول تو اس پیشگوئی کے مطابق احمد بیگ جس نے بدزبانی کو نہ چھوڑا اور اپنی ضد سے باز نہ آیا اس لڑکی کے نکاح تک زندہ رہا اور جب اس نے ۷؍ اپریل ۱۸۹۲ء میں اس لڑکی کا ایک اور جگہ نکاح کر دیا تو وہ پیشگوئی کی مقرر کردہ میعاد کے اندر یعنی ۳۱؍ دسمبر ۱۸۹۲ء کو فوت ہو گیا۔ اور بجائے تین سال کے چوتھے مہینہ تک ہی اس کو عذاب الٰہی نے گرفتار کر لیا اور اس کے ساتھ ہی اس کے گھر میں اور کئی موتیں ہوئیں۔ پس ہر ایک طالب حق جان سکتا ہے کہ اس پیشگوئی کی ایک شاخ کس زور سے پوری ہوئی۔ اول تو احمد بیگ لڑکی کے نکاح تک زندہ رہا پھر وہ نکاح کے بعد چار مہینہ کے اندر ہی فوت ہو گیا۔ اور اس کے ساتھ ہی اس کے گھر میں اور بھی کئی فوتیاں ہوئیں۔ پس اس کا لازمی نتیجہ تھا کہ وہ شخص جو اس لڑکی کا خاوند تھا رجوع کرتا اور شرارت سے توبہ کرتا۔ اور اس لڑکی کی والدہ بھی اپنے گناہوں سے باز آتی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور ان لوگوں نے بہت کچھ فروتنی دکھلائی اور اس لڑکی کا ایک چچا اس سلسلہ میں داخل ہوا اور اپنے کل گذشتہ گناہوں سے تائب ہوا۔ پس ضروری تھا کہ خدا کا عذاب ان پر سے ٹل جاتا۔ اور وہ اس آنے والی آفت سے مامون رہتے کیونکہ جب شرط نہ رہی تو مشروط بھی نہ رہا اور باقی رہا دوبارہ حضرت مسیح موعودؑ سے نکاح کا معاملہ اس کا جواب دینے کی ہم کو کچھ ضرورت نہیں۔ کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ اپنی کتاب حقیقت الوحی میں خود دے گئے ہیں اور اس کی نسبت خدا کا صاف فیصلہ تحریر فرما گئے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ ”اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ اَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ تُوْبِیْ تُوْبِیْ فَاِنَّ الْبَلَاءَ عَلٰی عَقِبِكِ پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔ کیا آپ کو خبر نہیں کہ یَمۡحُوا اللّٰہُ مَا یَشَآءُ وَیُثۡبِتُ(13:40) نکاح آسمان پر پڑھا گیا یا عرش پر مگر آخر وہ سب کاروائی شرطی تھی۔ شیطانی وساوس سے الگ ہو کر اس کو سوچنا چاہئے۔ کیا یونسؑ کی پیشگوئی نکاح پڑھنے سے کچھ کم تھی۔ جس میں بتلایا گیا تھا کہ آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ چالیس دن تک اس قوم پر عذاب نازل ہو گا۔ مگر عذاب نازل نہ ہوا حالانکہ اس میں کسی شرط کی تصریح نہ تھی۔ پس وہ خدا جس نے اپنا ایسا ناطق فیصلہ منسوخ کر دیا کیا اس پر مشکل تھا کہ اس نکاح کو بھی منسوخ یا کسی اور وقت پر ٹال دے“ (حقیقۃ الوحی تتمہ صفحہ ۱۳۳، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۷۰-۵۷۱) اب غور کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعودؑ اس پیشگوئی کی نسبت اپنی زندگی میں ہی لکھ گئے ہیں اور فیصلہ کر گئے ہیں کہ یا تو وہ کسی اور وقت پر ٹل گیا ہے یا بالکل فسخ ہو گیا ہے۔ پس اب اس پیشگوئی پر اعتراض کرنا نہایت جہالت پر دلالت کرتا ہے۔ کاش کہ لوگ پہلے بات کی تہ کو پہنچیں اور پھر اعتراض کیا کریں۔ یاد رہے کہ آج سے ایک سال پہلے حضرت اقدسؑ یہ فیصلہ کر چکے ہیں۔ کہ وہ نکاح بوجہ عورت اور مرد دونوں کے رشتہ داروں کے رجوع کے منسوخ ہو چکا ہے۔ اور اگر آپ ایسا نہ بھی لکھتے تو بھی چونکہ وہ پیشگوئی شرطی تھی۔ ہر ایک عقلمند انسان سمجھ سکتا تھا کہ چونکہ ان لوگوں نے جن کی نسبت یہ پیشگوئی تھی رجوع کیا اور توبہ کی اور اس شوخی سے باز آئے جو وہ پہلے دکھلاتے تھے تو وہ فیصلہ بھی ان پر سے ٹل گیا۔ پس باوجود اس کے پھر اعتراض کرنا اچھا نہیں۔ اور ہر ایک معترض کو خدا سے ڈرنا چاہئے کہ وہ بڑی غیرت والا ہے اور اپنی آیات پر ہنسنے والوں کو بغیر سزا کے نہیں چھوڑتا۔
۳۔ تیسری بات جس پر اعتراض کیا جاتا ہے۔ وہ پانچویں بیٹے کی پیشگوئی ہے جس کی نسبت مخالفینِ سلسلہ کا خیال ہے کہ وہ اب تک پوری نہیں ہوئی۔ کیونکہ حضرت اقدسؑ نے مواہب الرحمٰن کے صفحہ ۱۳۹ پر صاف طور سے لکھا تھا۔ کہ بُشِّرْتُ بِخَامِسٍ فِيْ حِيْنٍ مِّنَ الْاَحْيَانِ یعنی مجھے ایک پانچویں بیٹے کی بشارت دی گئی ہے اور اسی طرح اور بہت سے الہامات سے ثابت ہوتا ہے۔ کہ آپؑ کے ہاں ایک اور لڑکا پیدا ہونے والا ہے مثلاً یہ کہ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ حَلِيْمٍ۔ يَنْزِلُ مَنْزِلَ الْمُبَارَكِ۔ سَأَهَبُ لَكَ غُلَامًا زَكِيًّا۔ رَبِّ هَبْ لِيْ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اِسْمُهُ يَحْيٰى۔ مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعُلَا كَاَنَّ اللّٰهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مگر ان پیشگوئیوں کے ساتھ ہی مخالفین کو یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت اقدسؑ کا ایک الہام جو کہ اخبار الحکم ۳۰ جون ۱۸۹۹ء کو شائع ہو چکا ہے۔ یعنی اِنِّيْ اَسْقُطُ مِنَ اللّٰهِ وَ أُصِيْبُهٗ یعنی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہوں اور اسی کی طرف جاتا ہوں۔ پھر اس کے بعد الہام ہوا ” كَفٰى هٰذَا “۔ اور ساتھ ہی لکھا ہے کہ یہ مبارک احمد کی
ولادت کے وقت کے الہام ہیں اب ہر ایک غور کرنے والا انسان سمجھ سکتا ہے کہ پہلے الہام سے تو ثابت ہوتا تھا کہ ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو بچپن میں ہی فوت ہو جائے گا۔ اور دوسرے الہام کے یہ معنی ہیں کہ یہ نسل یا یہ اولاد کافی ہے اور اب اس کے بعد کوئی نرینہ اولاد نہیں ہوگی چنانچہ پہلے الہام کے مطابق مبارک احمد آٹھ سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔ اور دوسرے الہام کے مطابق آپ کے ہاں اور کوئی نرینہ اولاد نہیں ہوئی اور تین چار برس کا عرصہ دراز گزرا کہ آپ کو الہام ہوا کہ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اور اس الہام کو آپ نے اپنے پوتے پر لگایا کیونکہ جب دونوں کلام خدا کی طرف سے تھے۔ تو ان میں تناقض نہیں ہونا چاہئے تھا اور دونوں ایک دوسرے کے مطابق ہونے چاہئیں تھے۔ چنانچہ ملہم نے بھی اسی بات کے خیال سے آئندہ بیٹے کے الہام کو اپنے پوتے پر چسپاں کیا۔ کیونکہ پوتا بھی بیٹے کے قائمقام ہوتا ہے۔ پس اس کے بعد لازم ہے کہ ہر ایک الہام جو آئندہ بیٹے کی نسبت ہو وہ آئندہ نسل کے لئے ہو۔ اور پھر یہ بھی غور کرنا چاہئے کہ زبان کے لحاظ سے بھی بیٹا آئندہ نسل کے کسی فرد پر بھی بولا جاتا ہے چنانچہ عربی میں اس طرح کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ اکثر قبیلوں کے نام ان کے کسی بزرگ کے نام پر ہوتے ہیں۔ اور وہ اس کی اولاد کہلاتے ہیں۔ چنانچہ بنو ہاشم اور بنو قریظہ کے دو قبیلے جو مکہ اور مدینہ کے ہیں۔ مسلمانوں کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ ایک تو وہ قبیلہ ہے جس سے نورِ اسلام کا درخت پھوٹا اور ایک وہ ہے جس نے اس کے تباہ کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ اور پھر بنی امیہ کی خلافت اور بنی عباس کی سلطنت بھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ اے دلوں کے اندھو! غور کرو!! کیا ہارون الرشید اور مامون الرشید عباس کے بیٹے تھے یا خلیفہ مروان اور عمر بن عبدالعزیز امیہ کے لڑکے تھے؟ ہاں ذرا تدبر سے کام لو اور دیکھو! کہ حضرت اقدسؑ کا ایک الہام ہے جو آج سے تیس برس پہلے شائع ہو چکا ہے کہ يُنْقَطِعُ مِنْ اٰبَاءِكَ وَ يُبْدَءُ مِنْكَ یعنی آئندہ تیرے بڑوں کا نام اڑایا جائے گا اور تیری نسل کا نام تجھ سے مشہور ہو گا۔ اور دوسرے یہ کہ اوروں کی نسل ہلاک کی جائے گی اور آپ کی رکھی جائے گی۔ مگر وہ جو تقویٰ اختیار کریں اس سے مستثنیٰ ہوں گے مگر بہرحال آئندہ نسل آپ کے نام پر شروع ہوگی اور آپ کی اولاد کہلائے گی۔ سو اگر اس الہام کی بناء پر ایک آئندہ ہونے والے لڑکے کی بشارت اس رنگ میں دے دی گئی کہ وہ تیری ہی اولاد سے ہو گا تو کیا حرج ہوا۔ جب دنیا اپنے طور پر ایک شخص کو صدیوں گزرنے کے بعد بھی ایک دوسرے شخص کا بیٹا قرار دیتی ہے اور عمر بن عبدالعزیز اور ہارون الرشید امیہ اور عباس کے لڑکے کہلاتے ہیں تو کیا وجہ کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعودؑ کی نسل میں سے کسی آئندہ ہونے والے لڑکے کو ان کے لڑکے کے نام سے پکار نہ سکے۔ کیا وہ کام جس کا انسان کو اختیار ہے خدا اسکے کرنے سے معذور ہے؟ یا جب دنیا کے طالب ایک شخص کو کسی پہلے گذرے ہوئے شخص سے نسبت دیتے ہیں حالانکہ وہ اس کا مستحق نہیں ہوتا۔ تو کیا خدا جو خوب جانتا ہے کہ کون کس سے نسبت دیئے جانے کے لائق ہے ایسا نہیں کر سکتا؟ آج وہ سید جو ہزاروں قسم کی بدیوں میں مبتلا ہیں اور لاکھوں گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں اور سینکڑوں قسم کی بدکاریاں صبح اور شام ان سے سرزد ہوتی ہیں۔ اور وہ جن کے اقوال ایک شریف آدمی کی زبان پر نہیں لائے جاسکتے اور جن کے افعال ایسے نہیں ہیں کہ نیکوں کی مجلس میں ان کا ذکر بھی کیا جائے تو آلِ محمد ﷺ کہلانے کے مستحق ہیں۔ مگر حضرت مسیح موعودؑ کی نسل میں سے کسی لڑکے کو اگر خدا تعالیٰ نے کسی مصلحت کی وجہ سے ان کا لڑکا قرار دیا اور اس کے وجود کی ان کو بشارت دی تو وہ ناجائز ٹھہرا؟ کیا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ خدا ان سے بھی زیادہ محدود طاقتوں والا ہے؟ یا اس کو نسبت دینے کا علم نہیں اور وہ اس بارے میں غلطی کر بیٹھتا ہے؟ (نعوذ باللہ) آج سینکڑوں نہیں ہزاروں لیکچرار اپنی تقریروں میں زور زور سے چلّا چلّا کر کہتے ہیں کہ اے بنی آدم ایسا مت کرو۔ ایسا کرو۔ مگر ان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ ہمارے باپ کا نام تو آدمؑ نہ تھا۔ پھر تم کیوں ہم کو اس نام سے پکارتے ہو۔ مگر حضرت صاحبؑ کی نسل میں سے ایک بچہ کو اگر ان کا لڑکا قرار دیا گیا تو کون سا اندھیر آگیا۔ کَفٰی هٰذَا کا الہام صاف ثابت کرتا ہے کہ بیٹے کے الہام آئندہ نسل کے کسی لڑکے کی نسبت ہیں۔ اور پھر وہ الہام جس میں ہے کہ تیری اولاد تیرے نام سے مشہور ہوگی۔ اس کی اور بھی تائید کرتا ہے کہ آئندہ نسل کو بھی حضرت مسیح موعودؑ کا بیٹا کہا جاسکتا ہے۔ خدا تعالیٰ تو خوب جانتا ہے کہ کون ان کا بیٹا بننے کے لائق ہے اس لئے اگر کسی عظیم الشان لڑکے کی نسبت جو دنیا میں ایک تبدیلی پیدا کر دے خبر دی جائے اور اس کو حضرت صاحب کا بیٹا قرار دیا جائے تو کیا حرج ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی تو فرمایا ہے کہ اہل فارس میں سے جو ایمان لائے وہ بنی فاطمہ میں سے ہے پس کیا اہل فارس خود حضرت فاطمہؓ کے لڑکے بن جاتے ہیں۔ اور پھر اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ جیسے قرآن وحدیث میں کثرت سے یہ محاورہ استعمال ہوتا ہے۔ تو حضرت مسیح موعودؑ سے اگر خدا تعالیٰ نے اس رنگ میں کلام کیا تو کیا حرج واقع ہوا مثلاً قرآن شریف میں یہودیوں کو بار بار بنی اسرائیل کے نام سے پکارا جاتا ہے حالانکہ اسرائیل کو فوت ہوئے قریباً اڑھائی ہزار برس گزر گئے تھے۔ اور یہودیوں کو پھر بھی خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے نام سے پکارا ہے اگر یہ محاورہ عرب کا نہ ہوتا اور کتب الٰہیہ میں ایسا طریق نہ ہوتا تو اس وقت کے یہودی جو
بات بات پر اعتراض کرتے تھے فوراً بول اٹھتے اور شور مچادیتے کہ دیکھو ایسا مت کہو ہم بنی اسرائیل نہیں۔ اور اپنے والدین کا نام بتاتے کہ ان لوگوں کی اولاد سے ہیں۔ اور پھر قرآن شریف میں حضرت ابراہیمؑ کی نسبت آتا ہے کہ وَوَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ ؕ وَیَعۡقُوۡبَ(الانعام: ۸۵) یعنی ہم نے حضرت ابراہیمؑ کو اسحقؑ اور یعقوبؑ عطا کئے حالانکہ حضرت یعقوبؑ حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے نہ تھے۔ بلکہ حضرت اسحقؑ کے لڑکے تھے۔ پس معلوم ہوا کہ خدا کے کلام میں ایسا آجاتا ہے اور اس میں اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اور پھر قرآن شریف میں آتا ہے وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَکُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَکُمُ الطُّوۡرَ(البقرہ: ۶۴) حالانکہ مخاطب تو وہ تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف تھے۔ اور حوالہ ان کا دیا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں گزرے ہیں۔ کیا یہودیوں کا حق نہ تھا کہ وہ کہتے کہ یہ غلط ہے، ہم سے طُور کے نیچے کوئی معاہدہ نہیں لیا گیا۔ مگر افسوس کہ وہ آج کل کے معترضین سے زیادہ سمجھ رکھتے تھے اور جانتے تھے کہ کبھی پہلوں کا نام لیا جاتا ہے اور مخاطب پچھلے کئے جاتے ہیں۔ اور پہلے مراد ہوتے ہیں۔ اور بیٹے سے پوتا یا پڑپوتا یا نسل میں سے کوئی اور شخص مراد ہو سکتا ہے اور اس میں کوئی اعتراض کی بات نہیں ہوتی۔ پھر مسلمانوں کو بہت سے حکم قرآن شریف میں دیئے گئے ہیں۔ مثلاً یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوۡہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ(الطلاق: ۲) یعنی اے نبی جب طلاق دو تم عورتوں کو تو طلاق دو ان کو ان کی عدت پر۔ تو کیا یہ احکام خاص حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہیں۔ اور دوسرے مسلمان اس سے بری ہیں۔ اور اگر بفرضِ محال وہ شامل ہو گئے تو آج کل کے مسلمان تو ضرور اس کی پابندی سے آزاد ہوں گے۔ پس جب ایسا نہیں ہے اور کلامِ الٰہی میں اس قسم کا کلام آجاتا ہے۔ تو اس بے فائدہ اعتراض سے کیا فائدہ۔ اعتراض تو ایسا ہونا چاہئے جو عقل کے مطابق ہو اور پہلے انبیاء پر نہ پڑے جب ایک اعتراض سے قرآن شریف اور احادیث صحیحہ اور کل انبیاء علیہم السلام پر حرف آتا ہے تو ایسا اعتراض بجائے فائدہ کے الٹا عذابِ الٰہی کا موجب ہوتا ہے۔ پس وہ جو اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں اور اپنے دلوں میں خوش ہوتے ہیں چاہئے کہ ڈریں۔ کیونکہ خداتعالیٰ کی غیرت شریر کو سزا کے بغیر نہیں چھوڑتی اور بے جا طعنہ کرنے والا خود موردِ قہر الٰہی ٹھہرتا ہے۔ غور کرو کہ قرآن شریف میں صاف آتا ہے وَجَاہِدُوۡا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِہَادِہٖ ؕ ہُوَ اجۡتَبٰٮکُمۡ وَمَا جَعَلَ عَلَیۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ مِنۡ حَرَجٍ ؕ مِلَّۃَ اَبِیۡکُمۡ اِبۡرٰہِیۡمَ ؕ ہُوَ سَمّٰٮکُمُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ(الحج: ۷۹) اور کوشش کرو اللہ کی راہ میں خوب کوشش۔ جس نے پسند کیا تم کو اور نہیں کی تمہارے لئے دین میں کوئی تنگی۔ وہ دین جو تمہارے باپ ابراہیمؑ کا ہے جس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔ اب کیا ان آیات سے یہ نکلتا ہے کہ ہر ایک مسلمان کے باپ کا نام ابراہیمؑ ہوتا ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو حضرت ابراہیمؑ کی طرز پر کام کرتا اور ان کے بتائے ہوئے رستہ پر چلتا ہے اور اسلام قبول کرتا ہے وہ خدا کے نزدیک ایسا ہے جیسے حضرت ابراہیمؑ کا بیٹا۔ ورنہ یہ بات ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ دنیا کی سینکڑوں قومیں ایسی ہیں جو اسلام میں داخل ہیں مگر حضرت ابراہیمؑ کی نسل سے نہیں اور نہ ان کی قوم کا حضرت ابراہیمؑ کے خاندان سے کوئی تعلق ہے پس جب خدا تعالیٰ نے ہر ایک اس شخص کو جو مسلمان ہوتا ہے۔ اور خدا کی راہ میں کوشش کرتا ہے حضرت ابراہیمؑ کا بیٹا قرار دیا اور بیٹے کے لفظ کو اس قدر وسیع کر دیا کہ بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل کی بھی کوئی شرط نہ رکھی تو پھر اگر آج اس خدا نے حضرت مسیح موعودؑ کی نسل میں سے کسی کو انہیں کا بیٹا قرار دیا تو کیا حرج ہے؟ جبکہ آج بیس کروڑ انسان جو مسلمان کہلاتے ہیں خواہ عرب کے رہنے والے ہوں یا شام کے غرضیکہ ایران، افغانستان، ہندوستان، چین، جاپان کے علاوہ یورپ و امریکہ کے باشندے بھی حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے کہلا سکتے ہیں اور خدا تعالیٰ قرآن شریف میں ان کو ابراہیمؑ کے بیٹے قرار دیتا ہے تو ایک شخص کو اگر حضرت مسیح موعودؑ کا بیٹا قرار دیا گیا تو کیا غضب ہوا پھر حدیث دیکھتے ہیں تو اس میں بھی بہت سے ایسے محاورات پاتے ہیں مثلاً معراج کی رات جب آنحضرت ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام سے حضرت ابراہیمؑ کی نسبت پوچھا کہ یہ کون ہیں۔ تو انہوں نے جواب میں کہا کہ ھٰذَا اَبُوْكَ الصَّالِحُ یعنی یہ تیرا نیک باپ ہے۔ اور ایسا ہی حضرت آدمؑ کی نسبت فرمایا۔ پس جب قرآن و حدیث سے یہ بات صاف ثابت ہے تو پھر حضرت اقدسؑ پر کیوں اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان کو ایک لڑکے کا وعدہ تھا جو پورا نہ ہوا۔ خدا کے وعدے ٹلا نہیں کرتے اور وہ پورے ہو کر رہتے ہیں۔ اسی طرح یہاں بھی ہو گا۔ ان الہامات سے یہ مراد نہ تھی کہ خود حضرت اقدسؑ سے لڑکا ہو گا۔ بلکہ یہ مطلب تھا کہ آئندہ زمانہ میں ایک ایسا شخص تیری نسل سے پیدا ہو گا جو خدا کے نزدیک گویا تیرا ہی بیٹا ہو گا۔ اور وہ علاوہ تیرے چار بیٹوں کے تیرا پانچواں بیٹا قرار دیا جائے گا۔ جیسے کہ حضرت عیسیٰؑ ابن داؤدؑ کہلاتے ہیں۔ ایسا ہی وہ آپ کا بیٹا کہلائے گا اور اس میری بات کی تائید خود حضرت اقدسؑ کے اس الہام سے بھی ہوتی ہے جو میں اوپر درج کر آیا ہوں یعنی كَفٰی ھٰذَا جس کے معنی یہ تھے کہ حضرت اقدسؑ کے ہاں اب نرینہ اولاد نہ ہو گی۔ چنانچہ اس کے بعد دو لڑکیاں ہوئیں اور لڑکا کوئی نہیں ہوا۔ اور خود حضرت اقدسؑ کا بھی یہی خیال تھا۔ کیونکہ انہوں نے بھی ایک الہام جس میں بیٹے کی بشارت تھی اپنے پوتے پر لگایا تھا ورنہ اگر ان کو یہ خیال ہوتا کہ میرے ہی بیٹا ہو گا تو پوتے پر کیوں لگاتے۔ سمجھتے کہ آئندہ بیٹا ہو گا اور وہ الہام پورا ہو جائے گا۔ پس صاف ظاہر ہے کہ وہ الہامات کسی آئندہ نسل کے لڑکے کی نسبت تھے۔ خواہ پوتا ہو یا پڑپوتا ہو یا کچھ مدت بعد ہو۔ اب بعض لوگ اعتراض کر سکتے ہیں کہ ایک شخص جس کے چار لڑکے موجود ہوں کہہ سکتا ہے کہ میرے ایک لڑکا ہو گا۔ اور چونکہ اسکے اولاد موجود ہے اس لئے اس کے کوئی نہ کوئی تو بچہ ہو گا ہی پس کیا ہم اس طرح اس کو نبی مان لیں۔ اس لئے یہ بات بھی یاد رہے کہ اول تو ہم اس کی دیگر نشانیوں کو دیکھیں گے کہ وہ اس کی نبوت پر گواہی دیتی ہیں یا نہیں اگر واقعی اس کے ساتھ ایسے نشانات ہیں۔ جن سے ایک شخص نبی قرار دیا جا سکتا ہے تو اس میں کیا شک ہے کہ وہ نبی ہے۔ پیشگوئیاں بعض بڑے جلال کی ہوتی ہیں۔ بعض معمولی درجہ کی ہوتی ہیں اور ذرا ذرا سے واقعات کی بعض اوقات نبی کو خبر دی جاتی ہے تو اس پر اس بات سے کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ اور دوسرے یہ کہ حضرت اقدسؑ نے صرف یہ پیشگوئی نہیں کی کہ میرے ایک بیٹا ہو گا بلکہ اس کے ساتھ شرائط رکھے ہیں اور وہ یہ کہ وہ حلیم ہو گا نیک فطرت اور پاک ہو گا۔ اس زمانہ کے لوگوں میں سے ایک خاص امتیاز رکھتا ہو گا۔ اور یحیٰ نبی کی خصلتوں پر ہو گا۔ اور سب سے بڑی شرط یہ کہ وہ اس جلال کے ساتھ آئے گا کہ گویا اس کے زمانہ میں خدا خود زمین پر اتر آئے گا۔ پس اگر کوئی شخص اس قسم کی پیشگوئی کرے اور وہ اپنے وقت پر پوری بھی ہو جائے تو کیا شک ہے کہ وہ سچا ہے اور اسکے الہام رحمانی ہیں۔ پس معترضین کو چاہئے کہ بجائے ان پیشگوئیوں پر اعتراض کرنے کے ان پیشگوئیوں کو دیکھیں جو اس خاص زمانہ کے لئے ہیں اور جو سینکڑوں کی تعداد میں پوری ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں۔ اگر آئندہ ہونے والی پیشگوئیوں کو نظر اعتراض سے دیکھا گیا تو کوئی نبی سچا ثابت نہ ہو سکے گا مثلاً حضرت موسیٰ نے خبر دی تھی کہ میری قوم شام کی وارث ہو گی اگر ان کے فوت ہونے سے انکی قوم بگڑ جاتی اور ان کو کافر و دجال ٹھہراتی تو کس قدر مشکل پڑتی۔ یا جب حضرت داؤد سے وعدے کئے گئے تھے اور وہ حضرت مسیح کے وقت میں پورے ہوئے تو کیا درمیانی زمانہ کے لوگوں کا حق نہ تھا کہ وہ اعتراض کرتے کہ فلاں فلاں وعدہ پورا نہیں ہوا یا حضرت عیسیٰؑ نے جب اپنے حواریوں کو تختوں کے وعدے دیئے تھے اور اپنے لئے بادشاہی کی خبر دی تھی تو اس وقت اگر وہ لوگ انکار کر بیٹھتے کہ خود تو سولی پر لٹکایا گیا معلوم نہیں ہمارا کیا حال ہو گا تو کیا ان کے لئے بہتر ہوتا؟ یا ہمارے نبی کریم ﷺ نے ریل کی سواری کی خبر دی تھی جو آج کل آکر پوری ہوئی تو کیا بیچ کی بارہ صدیوں کے لوگ دینِ اسلام کو ترک کر دیتے اور کفر اختیار کر لیتے کہ وہ نئی سواری کا وعدہ پورا نہیں ہوا۔ پس جب سب نبیوں سے
ایسا ہوتا چلا آیا ہے اور انہوں نے آئندہ زمانہ کی خبریں بھی دیں ہیں۔ تو اگر حضرت مسیح موعودؑ نے کچھ آئندہ کی خبریں دیں اور بتایا کہ میری نسل میں سے ایک ایسا لڑکا ہوگا جس کی ہیبت اس قدر ہوگی کہ گویا خدا آسمان سے اس کی مدد کے لئے اتر آیا تو کیا ہوا؟ اس سے تو ان کی اور بھی سچائی ثابت ہوگی۔ اور اس وقت کے لوگ اس پیشگوئی کو پورا ہوتے دیکھیں گے۔ اور مزہ اٹھائیں گے۔ آج کل کے لوگوں سے جو وعدے ہیں وہ ان پر غور کریں اور ان پر جو شکوک ہیں وہ بیان کریں اور توبہ استغفار ساتھ کرتے رہیں تا انہیں اصل حقیقت معلوم ہو اور خدا اپنے خاص فضل سے ان پر سچائی کھول دے۔ اور وہ صراطِ مستقیم دیکھ لیں تاکہ ہلاکت سے بچ جائیں۔ ورنہ جیسا کہ میں لکھ آیا ہوں یہ بیٹے کی پیشگوئی تو کسی ایسے لڑکے کی نسبت ہے جو آپ کی نسل سے ہو گا اور بڑی شان کا آدمی ہو گا اور خدا کی نصرت اس کے ساتھ ہوگی۔ اور یہ بھی میں ثابت کر آیا ہوں کہ حضرت اقدس کے الہامات میں ہی اس قسم کے استعارہ نہیں ہیں بلکہ پہلے نبیوں کے کلام میں اور قرآن وحدیث میں بھی ہیں کہ بیٹا کہا جاتا ہے اور مراد نسل میں سے کوئی آدمی ہوتا ہے۔
اب اس کے بعد میں ایک اور چھوٹا سا اعتراض لکھ کر اس کا جواب دیتا ہوں۔ جو کہ اگرچہ بہت فضول ہے لیکن چونکہ بعض طبیعتوں میں خلجان پیدا ہو رہا ہے۔ اس لئے اس پر بھی لکھنا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ حضرت اقدس تو وفات پا گئے مگر مولوی محمد حسین صاحب نے اب تک توبہ نہیں کی اور آپ پر ایمان نہیں لائے۔ سو یاد رہے کہ حضرت صاحب نے یہ بات کہیں نہیں لکھی کہ وہ میری زندگی میں ایمان لائیں گے بلکہ اگر کہیں لکھا ہے تو یہ کہ مولوی صاحب مجھ کو مانیں گے۔ سو مولوی صاحب اب تک خدا کے فضل سے زندہ ہیں اور تندرست ہیں یہ کون سی بڑی بات ہے کہ وہ اپنی طرز کو بدل دیں جہاں انہوں نے مہدی کے عقائدِ باطلہ کا رد کر دیا ہے اور گورنمنٹ کو اطمینان دلایا ہے کہ ایسا کوئی مہدی یا مسیح نہیں آئے گا جو خون کی ندیاں بہائے اور مولویوں کے گھروں کو لوٹ کے مال سے بھرے بلکہ وہ دلائلِ قاطع سے دنیا میں تبدیلی پیدا کرے گا۔ تو کیا تعجب ہے کہ وہ کچھ تھوڑا سا فرق جو ہم میں اور ان میں رہ گیا ہے اس کو بھی دور کر دیں۔ خدا کے ہاتھ میں ہر ایک کے دل ہیں اور وہ ہر ایک کے ارادہ پر متصرف ہے۔ جب وہ اپنی زندگی پر غور کریں گے اور دیکھیں گے کہ انہوں نے اپنے بچپن کے رفیق اور جوانی کے غمگسار اور ادھیڑ عمر کے ہادی سے اپنی گذشتہ عمر میں کیا کیا سلوک کئے ہیں اور باوجود اس کے کہ انہوں نے اپنے پورے زور سے اس کے سلسلہ کو تباہ کرنا چاہا مگر خدا نے اس کو ہر میدان اور ہر جگہ میں فتح ہی دی اور پھر اپنے لئے اس کی
تڑپ اور غم اور ہمدردی اور سچ پر لانے کے لئے کوشش کو ملاحظہ کریں گے تو خود بخود ان کے دل سے تَاللّٰہِ لَقَدۡ اٰثَرَکَ اللّٰہُ عَلَیۡنَا وَاِنۡ کُنَّا لَخٰطِئِیۡنَ(یوسف: ۹۲) کی آواز آئے گی اور جب وہ شعر پڑھیں گے کہ
حُسَيْنٌ دَفَاهُ الْقَوْمُ فِيْ دَشْتِ كَرْبَلَا
وَ كَلَّمَنِيْ ظُلْمًا حُسَيْنٌ آخَرُ
ایک حسینؑ وہ تھا جس کو دشمنوں نے کربلا میں قتل کیا
اور ایک وہ حسینؓ ہے جس نے مجھ کو ظلم سے مجروح کیا
كَمِثْلِكَ مَعَ عِلْمٍ بِحَالِیْ وَ فِطْنَةٍ
عَجِبْتُ لَهٗ يَبْغِی الْهُدٰی ثُمَّ يَأْطُرُ
تیرے جیسا آدمی میرے حال سے واقف اور دانا
تعجب ہے کہ وہ ہدایت پر آکر پھر راہِ راست چھوڑ دے
قَطَعْتَ وَدَادًا قَدْ غَرَسْنَاهُ فِي الصِّبَا
وَ لَيْسَ فُؤَادِيْ فِي الْوِدَادِ يُقَصِّرُ
تو نے اس دوستی کو کاٹ دیا جس کا درخت ہم نے بچپن میں لگایا تھا
مگر میرے دل نے دوستی میں کوئی کوتاہی نہیں کی
وَوَ اللّٰهِ اِنْ اُجْعَلْ عَلَيْكَ مُسَلَّطًا
فَاِنَّ يَدِيْ عَمَّا يُجَازِيْكَ تَقْصُرُ
اور قسم ہے خدا کی اگر میں تجھ پر مسلط کیا جاؤں
تو میرا ہاتھ تجھے سزا دینے سے قاصر رہے گا
تو ان کا دل یوسفؑ کے بھائیوں سے کچھ کم درد محسوس نہ کرے گا۔ مگر اصل بات تو یہی ہے کہ جس کو خدا ہدایت دے وہی ہدایت پاسکتا ہے ان کی نسبت بیشک خدا کی طرف سے ایک بشارت ہے اور حضرت اقدسؑ نے بارہا اس کا ذکر بھی کیا ہے مگر نا معلوم کہ وہ کیونکر پوری ہو کیونکہ حضرت اقدسؑ نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان کو موت کے وقت اطلاع دی جائے گی کہ حق پر نہیں ہیں۔ اور اس بات پر مخالفین کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔ کیونکہ قرآن شریف میں جو یہ لکھا ہے کہ فرعون نے مرتے وقت کہا کہ اٰمَنۡتُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیۡۤ اٰمَنَتۡ بِہٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِیۡلَ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ(یونس: ۹۱) تو اس کا ثبوت سوائے اس کے کیا ہے کہ خدا کے کلام میں یوں آیا ہے پس اگر کوئی شخص حضرت اقدسؑ پر اعتراض کرے تو اس کو چاہئے کہ پہلے اس بات کو سوچ لے کہ یہ اعتراض خود کلام پاک قرآن شریف پر بھی وارد ہوگا۔ پس اصل بات یہ ہے کہ کلام اللہ کے کئی حصے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ پیشگوئیاں ہوتی ہیں جو دشمنوں پر حجت قائم کرنے کے لئے ہوتی ہیں۔ اور ایک ایسی ہوتی ہیں جو اپنوں کی اصلاح کے لئے ہوتی ہیں۔ اور تیسری وہ جو ایمان بالغیب کے لئے ہوتی ہیں۔ مثلاً بہشت کے متعلق جو بعض وعدے قرآن و احادیث میں کئے گئے ہیں ان پر کوئی مخالف اعتراض نہیں کر سکتا کیونکہ وہ اس تیسرے حصہ میں ہیں اور اس کی مثالیں ہر ایک قوم اور مذہب کی کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔ پس اگر مولوی صاحب موصوف اپنی وفات کے وقت ایمان لے آئیں تو اس پر دشمنوں
کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ وہ اس کو فرعون کا معاملہ سمجھ لیں۔ اور اول تو یہ اعتراض قبل از وقت ہے مولوی صاحب ابھی زندہ ہیں ایمان لانے کا بہت وقت پڑا ہے۔ اس پر اعتراض کرنا ہی فضول ہے۔ کیا مولوی صاحب فوت ہو گئے ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائے۔؟
تیسرا اعتراض زلزلہ کے بارے میں کیا جاتا ہے کہ حضرت اقدسؑ نے لکھا ہے کہ یہ زلزلہ میرے سامنے آئے گا حالانکہ آپ فوت ہو گئے اور کوئی زلزلہ نہیں آیا۔ سو یاد رہے کہ حضرت اقدسؑ کو کئی الہامات زلزلوں کے بارے میں آئے ہیں بعض جگہ تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زلزلہ آپؐ کے سامنے آئے گا۔ اور بعض جگہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بعد آئے گا۔ سو اس کی یہ وجہ ہے کہ آپ نے کئی زلزلوں کی خبر دی تھی بعض کی نسبت تو آپ نے خبر دی ہے کہ وہ میرے سامنے آئیں گے۔ چنانچہ الہامات کے بعد بڑے بڑے خوفناک زلزلے آئے جنہوں نے زمین کو ہلا دیا۔ اور دنیا کانپ گئی اور بہت سے انسان چیخ اٹھے کہ یہ کیا ہونے والا ہے۔ چنانچہ سول ملٹری گزٹ نے بھی لکھا کہ نہ معلوم دنیا کو کیا ہونے والا ہے۔ چنانچہ جنوبی امریکہ، بخارا، اور کوئٹہ کے خوفناک زلزلے کچھ ایسے نہیں ہیں کہ نظر انداز کئے جائیں۔ پس جہاں یہ الہام پورے ہوئے ہیں باقیوں کا بھی انتظار کرنا چاہئے اور ایک عظیم الشان زلزلہ کی خبر جو نصرت الحق میں دی گئی ہے اور اس میں حضرت اقدسؑ نے لکھا ہے کہ وہ میرے سامنے آئے گا تو اس کی نسبت یہ الہام بھی درج ہو چکا ہے کہ رَبِّ اَخِّرْ وَقْتَ هٰذَا یعنی اے میرے خدا یہ زلزلہ جو نظر کے سامنے ہے اس کا وقت کچھ پیچھے ڈال دے اور اس سے پہلے حضرت اقدس نے صاف لکھا ہے کہ ”آج زلزلے کے وقت کے لئے توجہ کی گئی کہ وہ کب آئے گا اسی توجہ کی حالت میں زلزلہ کی صورت آنکھوں کے آگے آگئی“۔ پس اس الہام سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس زلزلہ میں تاخیر ہو گئی ہے اور وہ کچھ مُدّت بعد واقعہ ہو گا اور یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حضرت کے بعد ہو گا۔ کیونکہ اس کا نظارہ ایسا خوفناک نظر آیا ہے کہ آپ نے دعا کی کہ یا اللہ اس زلزلہ کو ابھی ٹال دے یعنی میری زندگی میں نہ آئے۔ کیونکہ اگر وہ آپ کی زندگی میں آتا تو پھر اس کا دوسرے وقت پر ٹلنا بے فائدہ تھا۔ اور اس کا خوفناک نظارہ آپ کو دیکھنا پڑتا۔ پھر اس الہام کے ساتھ ایک اور الہام ہے کہ اَخَّرَهُ اللّٰهُ اِلٰی وَقْتٍ مُّسَمًّی یعنی خدا نے تیری دعا سن لی اور اس زلزلہ کو تیری زندگی کے بعد کسی وقت پر ٹال دیا۔ پس اب اس پیشگوئی پر کس کو اعتراض ہو سکتا ہے۔ اگر حضرت اقدسؑ کو ایک زلزلہ کا الہام ہوتا تب تو اعتراض کی کچھ گنجائش ہو سکتی تھی کہ وہ نہیں آیا۔ مگر جب چار پانچ زلزلوں کی طرف اشارہ تھا جو قیامت کا نمونہ ہوں گے مگر ایک ان میں سے بہت بڑا ہو گا۔ اور اس کی نسبت آپ نے لکھا تھا کہ وہ میرے سامنے آئے گا مگر پھر الہام ہوا کہ نہیں آئے گا۔ تو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ بیشک ہم مانتے ہیں کہ یہ الہامات بھی تھے کہ آپ کے سامنے بھی کئی زلزلے آئیں گے مگر وہ پورے بھی ہوئے۔ اور ان پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ امریکہ کے زلزلے اور بخار اور کوئٹہ کے زلزلے جنہوں نے ایک دم میں ہزاروں جانوں اور کروڑوں روپے کا نقصان کر دیا۔ انہیں الہامات کے مطابق تھے۔ جو حضرت صاحب کی زندگی میں آئے اور کل الہامات کو پورا کر گئے۔ اور اگر کوئی یہ کہے کہ الہام کے الفاظ تو یہ تھے کہ اُرِیْکَ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ یعنی میں تجھے سخت زلزلہ دکھاؤں گا۔ پس امریکہ اور بخارا کے زلزلے آپ نے کہاں دیکھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عربی زبان کا محاورہ ہے جو ایسے موقعوں پر استعمال ہوتا ہے جیسے قرآن شریف میں آتا ہے کہ اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصۡحٰبِ الۡفِیۡلِ(105:2) یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ خدا نے اصحاب فیل سے کیا کیا۔ حالانکہ اصحاب فیل کا واقعہ تو نبی کریم ﷺ سے پہلے ہو چکا تھا۔ انہوں نے کب دیکھا کہ خدا نے ان سے کیا کیا۔ پس اس بات پر اعتراض کرنا کسی نادان کا ہی کام ہے دانا ایسا نہیں کر سکتا۔ پھر ایک اور بات ہے۔ کہ اگر بفرض محال ہم مان بھی لیں کہ حضرت کا کوئی الہام نہ تھا کہ یہ زلزلہ تیرے بعد آئے گا۔ تو بھی کیا حرج ہے آپ کو بار بار الہام ہوتا ہے وَ اِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ یعنی یا تو ہم بعض وعید کی پیشگوئیاں تجھے دکھلائیں گے یا وفات دیں گے۔ یعنی بعض ان میں سے تجھے دکھائیں گے اور بعض تیرے بعد ظہور میں آئیں گی۔ پس اگر یہ پیشگوئی ٹل گئی ہو اور خدا نے کچھ مدت تک ملتوی کر دی ہو تو کیا تعجب ہے۔ اور اگر کوئی یہ کہے کہ اس کی اطلاع خدا نے نہیں دی تو یاد رہے کہ یونس نبیؑ کو بھی اسکی اطلاع نہیں ملی تھی۔ اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یونس نبیؑ کا قصہ اس معاملہ کو حل کر دیتا ہے۔ کیونکہ ان سے بھی وعدہ تھا کہ چالیس دن تک ان کی قوم پر عذاب آئے گا اور ان کی زندگی میں ہو گا۔ مگر وہ عذاب ٹل گیا تو کیا اس سے یہ لازم آیا کہ یونس نبیؑ ہمیشہ زندہ رہے۔ کیونکہ نہ وہ عذاب آئے گا اور نہ اسکی موت کا وقت آئے گا۔ پس جب ایسا نہیں تو اس موقعہ پر کیوں اعتراض کیا جاتا ہے۔ خدا نے اس عذاب کو ایک مدت پیچھے ٹال دیا۔ تو کیا اب ضروری تھا کہ وہ اس وقت تک حضرت اقدس کو زندہ رکھتا۔ مگر یہ جواب ہم مخالفین کے تمام اعتراضوں کو مان کر دیتے ہیں۔ ورنہ حقیقی جواب یہی ہے کہ حضرت اقدس کو بہت سے زلزلوں کی خبر دی گئی تھی اور الہام تھا کہ یہ تیری زندگی میں آئیں گے چنانچہ جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں وہ آئے بھی۔ اور ایک عظیم الشان زلزلہ کی جو خبر دی گئی تھی کہ وہ آپؑ کی زندگی میں آئے گا اس کی نسبت دوبارہ الہام ہو چکا تھا کہ وہ آپ کی موت کے بعد ہو گا۔ چنانچہ اسی طرح ہوا۔ اور میں وہ دونوں الہام جو اس بارہ میں ہوئے اوپر درج کر آیا ہوں۔ پس یہ کہنا کہ وہ زلزلہ حضرت صاحبؑ کی زندگی میں کیوں نہ آیا ایک بے ہودہ اعتراض ہے اور بے فائدہ ضد ہے۔
اب آخر میں اس قدر اور لکھنا چاہتا ہوں کہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ دلائل تو ان لوگوں کے لئے ہوئے جو مسلمان ہیں یا عیسائی ہیں۔ مگر آریوں کے لئے جو ان مذکورہ بالا پیشگوئیوں پر اعتراض کرتے ہیں کیا جواب ہیں۔ سو یاد رہے کہ اول تو میرے جواب قریباً کل کے کل ایسے ہیں جو خدا کے فضل سے کل قوموں کے لئے ہیں مثلاً عمر کی نسبت شہادۃ صحیحہ کہ وہ پوری ہوئی اور الہام کے مطابق ہوئی۔ نکاح کے متعلق یہ جواب کہ اس کا ایک حصہ اس صفائی سے پورا ہوا کہ اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اور دوسرا اس لئے التواء میں پڑ گیا اور فسخ کیا گیا کہ جن کی نسبت سزا تجویز تھی انہوں نے رجوع کیا اور ایک اور صریح جواب یہ دیا ہے کہ خود حضرت اقدسؑ لکھ گئے ہیں کہ وہ فسخ ہو گیا یا التواء میں پڑ گیا ہے۔ اور زمانہ نے بتا دیا ہے کہ وہ فسخ ہی ہو گیا ہے۔ پس جب خود ملہم کہہ گیا ہے کہ وہ فسخ ہو گیا تو کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ اور بیٹے کی نسبت بھی لکھ آیا ہوں کہ حضرت کے الہاموں سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ان کے ہاں نہیں بلکہ آئندہ نسل سے ہو گا اور ایک خاص شان کا ہو گا۔ اور مولوی محمد حسین اور زلزلہ کی نسبت بھی ایسے ہی جواب دے آیا ہوں۔ پس اگر ان کا کوئی اعتراض ہو سکتا ہے تو ان جوابوں پر جو گذشتہ نبیوں کی مثالیں دیکر دیئے گئے۔ سو وہ الزامی جواب ہیں حقیقی نہیں حقیقی وہ ہیں جو سب کے لئے ایک ہیں۔ اور دوسرے ان لوگوں کے لئے ہمارا صاف جواب یہ ہے کہ ہمیشہ کثرت دیکھنی چاہئے۔ پیشگوئیوں میں متشابہات بھی ہوتی ہیں۔ بعض آئندہ زمانہ کے لئے ہوتی ہیں۔ پس ان پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ کثرت کی طرف نظر کرنی چاہئے۔ سو جہاں حضرت اقدسؑ کی ہزاروں پیشگوئیاں روزِ روشن کی طرح پوری ہوئیں۔ اگر چند پیشگوئیاں کسی وجہ سے بعض لوگوں کو سمجھ میں نہ آئیں تو ان پر اعتراض کرنا محض ضد اور تعصب ہے اور صداقت کے طالب ان باتوں سے دور ہیں۔ اور دوسری یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ حضرت اقدسؑ کے تین دعوے تھے ایک مہدیؑ کا ایک عیسیٰؑ کا ایک کرشنؑ کا اور اس وقت تین قومیں ہی زبردست ہیں مسلمان، عیسائی اور ہندو۔ پس ہر ایک قوم کے لئے جو معجزات دکھلائے گئے ہیں، وہ انہیں کے رنگ کے ہیں۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کے نبیوں کے حالات چونکہ معلوم ہیں اس لئے ان کے رنگ کی پیشگوئیاں ان کو دکھائی گئیں۔ یعنی بعض پیشگوئیاں صاف اور بعض متشابہات کے رنگ میں کیونکہ ان کے نبیوں کی پیشگوئیاں بھی اسی طرز پر ہیں اور اس لئے وہ ہم پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتے ہاں کرشن ہونے کی حالت میں جو پیشگوئیاں ہندوؤں کی کل قوموں کو دکھائی گئی ہیں ان پر اعتراض کرنے کا ان کو حق حاصل ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ چونکہ ہندوؤں کے نبیوں کے حالات غائب ہیں اور پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچ سکتے اور ان میں کوئی تاریخ نہیں جس سے ان کے اصل واقعات کا پتہ مل سکے۔ اور دوسرے ان کی ایک قوم آریہ ان نبیوں کے وجود سے بھی منکر ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے ان کے لئے جو معجزات دکھائے وہ ایسے صاف ہیں کہ ان پر کوئی اعتراض نہیں آسکتا۔ مثلاً دیانند، لیکھرام اور قادیان کے بعض آریوں کی نسبت پیشگوئیاں ایسی صاف اور صریح ہیں کہ کسی ہندو کی مجال نہیں کہ ان پر اعتراض کرسکے۔ بلکہ بعض سلیم الفطرت ہندو صاف طور سے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ پوری ہوگئیں۔ اور بعض کے نام حضرت اقدسؑ نے اپنی بعض کتابوں میں درج بھی کئے ہیں۔ پس ہندو صاحبان کو چاہئے کہ اعتراض کرشن کے معجزات پر کریں جو ان کے لئے ہیں کیونکہ ہر ایک قوم پر اسی کے رنگ میں حجت قائم کی جاتی ہے اور دوسروں کو اس پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ مثلاً ایک قوم اخلاقی تعلیم کو اصل دارومدار سچائی کا سمجھتی ہے۔ تو اس پر ہم اسلام کی سچائی اسی رنگ میں ثابت کریں گے اور دوسری قوموں کو اس پر کوئی اعتراض کا حق نہ ہو گا۔ یا مثلاً ہم عیسائیوں کو کہیں کہ جن نشانیوں کا نبی توریت میں بتایا گیا تھا وہ ہمارے نبی کریم اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تھے اور یہ ان کی سچائی کا ایک نشان ہے۔ تو اس پر آریوں یا سناتن دھرم کو کچھ اعتراض نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ان کے رنگ میں ان پر اتمام حجت قائم کی گئی۔ پس ہندو قوموں کو چاہئے کہ وہ کرشن والی پیشگوئیوں پر اعتراض کریں جہاں خدا کے فضل سے ان کو اعتراض کی کوئی گنجائش نہ ملے گی کیونکہ خدا تعالیٰ نے انہیں کے رنگ میں ان پر اتمام حجت قائم کی ہے۔ پس یاد رہے کہ اوّل تو کل جواب جو میں دے آیا ہوں وہ سب قوموں کے لئے یکساں ہیں۔ اور دوسرے کثرت دیکھنی چاہئے۔ اور تیسرے ہندو قوموں کو ان پیشگوئیوں پر اعتراض کرنے کا حق حاصل ہے جو کرشن کی حیثیت میں ہیں۔ اور خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے وہ پیشگوئیاں بالکل صاف طور سے پوری کی ہیں۔ کیونکہ اگر ان میں متشابہات ہوتے تو ہم کو آریوں پر ان کی سچائی ثابت کرنی مشکل ہو جاتی۔ کیونکہ ان کے نبیوں کے حالات ملنے بہت مشکل بلکہ قریباً ناممکن ہیں۔ پس خدا کے فضل سے دنیا کی کوئی قوم نہیں جو حضرت مسیح موعودؑ کے الہامات پر اعتراض کرسکے اور خدا تعالیٰ کا کلام بڑے زور سے پورا ہو کر ان کی سچائی پر مہر لگا رہا ہے۔ کہ لَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَى اور دوسرا یہ الہام کہ قَرُبَ اَجَلُكَ الْمُقَدَّرُ وَلَا نُبْقِیْ لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِكْرًا۔
اب اس کے بعد میں اتنا لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ حضرت اقدسؑ کی پیشگوئیوں پر جو اعتراضات کا سلسلہ مخالفین نے شروع کیا ہے وہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہے اور حق پسندی کے لحاظ سے ان کو کوئی حق نہیں کہ وہ اس قسم کے اعتراض کریں۔ کیونکہ بعض ایسی پیشگوئیوں پر اعتراض کرنا جو متشابہات سے ہوں راستی کا شیوہ نہیں۔ کیونکہ پیشگوئیوں کی تصدیق اس طرح نہیں ہوا کرتی کہ تمام کی تمام پیشگوئیاں بالکل صاف اور سیدھے رنگ میں پوری ہو جائیں اور ہر ایک شخص ان کو سمجھ سکے۔ چنانچہ قرآن شریف نے اس مسئلہ کو بالکل صاف کر دیا ہے۔ اور اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی۔ کیونکہ قرآن شریف کے اول ہی صفحہ پر یہ آیت تحریر ہے کہ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ(2:3-4) یعنی قرآن شریف میں ہدایت ہے ان متقیوں کے لئے جو غیب کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں یعنی وہ یہ نہیں چاہتے کہ وہ تمام آیات الہیہ کی طرح ان کے آگے کھول کر رکھ دی جائیں۔ اور ایسی سیدھی طرح سے ان کو پیش کیا جائے کہ کوئی ذی روح بھی ان سے انکار نہ کر سکے۔ بلکہ جب بعض باتیں دیکھتے ہیں جن سے مذہب کی سچائی ثابت ہوتی ہے تو پھر وہ اسی سے اندازہ لگا کر باقی غیب کی باتوں پر ایمان لے آتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ سنّتِ الہیہ کے مطابق بعض پیشگوئیاں یا بعض احکام متشابہات ہوتے ہیں جو کہ ممکن ہے کہ ایک کی سمجھ میں نہ آئیں اور دوسرے کی عقل ان کو پا لے اور ان کی سچائی کی تصدیق کرے۔ پس خداوند تعالیٰ ایسے ہی لوگوں کو متقی قرار دیتا ہے جو کہ عقل سے کام لیتے ہیں۔ اور ہر ایک بات کو روزِ روشن کی طرح صاف دیکھنا ضروری نہیں سمجھتے۔ اور اگر ہر ایک بات ایسی صاف ہو جایا کرے کہ اندھے سے اندھا بھی اس کو سمجھ لیا کرے تو دنیا میں کفر و ارتداد کا سلسلہ ہی نہ رہے۔ حالانکہ قرآن شریف سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ کفار ہمیشہ دنیا پر رہیں گے۔ اور خود زمانہ کی رفتار اس بات کو ثابت کرتی ہے اور اگر کسی نبی کے زمانہ میں کل کی کل دنیا مسلمان ہو سکتی تھی۔ تو اس بات کے سب سے زیادہ مستحق ہمارے نبی ﷺ تھے جو تمام نبیوں کے سردار اور خاتم النبیین ہیں۔ مگر جب ان کے زمانہ میں ایسا نہیں ہوا تو پھر کسی اور نبی کی نسبت ہم کب یہ گمان کر سکتے ہیں کہ اس کے زمانہ میں تمام کی تمام دنیا ایمان لے آئے گی اور کفر کا نام دنیا سے مٹ جائے گا۔ اور اگر کوئی شخص ایسا گمان کرتا ہے تو وہ نبی کریم ﷺ کی صریح ہتک کرتا ہے۔ اور آیت شریفہ وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ(3:56) کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ(ال عمران: ۵۶) بھی صاف ظاہر کرتی ہے کہ قیامت تک کفر اور ارتداد کا سلسلہ جاری رہے گا اور سچے نبیوں کے دشمن ہمیشہ اور ہر جگہ موجود رہیں گے۔ پس معلوم ہوا کہ کبھی اور کسی نبی کے وقت ایسے کھلے کھلے نشان نہیں دکھائے گئے کہ تمام کی تمام دنیا ایمان لے آئے۔ بلکہ ہر زمانہ میں کچھ محکمات اور کچھ متشابہات بھی بیان کئے گئے ہیں۔ چنانچہ حضرت نوحؑ کے دشمن آخر وقت تک انکار کرتے رہے۔ کہ ہم کو کوئی نشان نہیں دکھایا گیا اور آخر ذلت سے ہلاک ہوئے۔ اور حضرت ابراہیمؑ اور اسحٰقؑ کے دشمنوں کا بھی یہی حال رہا۔ اور پھر حضرت موسیٰؑ کے مقابلہ میں فرعون کو بھی یہی شکایت رہی کہ کوئی نشان آسمانی لاؤ۔ عصا کا سانپ بنانا تو ایک سحر ہے اور غرق ہوتے وقت اس پر ظاہر ہوا کہ سچا کون تھا اور جھوٹا کون۔ اور جب اس پر اس حد تک بات کھل گئی اور ثابت ہو گیا کہ حضرت موسیٰؑ سچے تھے تو اس وقت اس کو ایمان نے کوئی فائدہ نہ دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر حق بالکل ظاہر ہو جائے اور کوئی امتیاز عقلمند اور بے عقل میں فرق کرنے کا نہ رہے تو اس وقت کا ایمان کام نہیں آتا۔ پس کسی نبی سے ایسے معجزات کا طلب کرنا جو بالکل صریح ہوں اور متشابہات ان میں قطعاً نہ ہوں بالکل بے فائدہ اور سنت اللہ کے خلاف ہے۔ کیونکہ جب ایسے صاف نشانات کسی نبی کی سچائی ثابت کرنے کے لئے ظاہر ہوں تو پھر اس پر ایمان لانا بالکل بے فائدہ ہو گا اور ایسے وقت میں ایمان لانے والے کو رضائے الٰہی کے حاصل کرنے کا موقع نہ ملے گا اور اس کا حشر وہی ہو گا جو فرعون کا ہوا۔ مگر چونکہ خدا تعالیٰ کا منشاء کسی نبی کے بھیجنے سے عام اصلاح کا ہوتا ہے۔ اور کھوٹے کو کھرے سے پرکھنے کا ہوتا ہے۔ اس لئے ہر ایک نبی کے وقت معجزات ایسے ہی رنگ میں دکھائے جاتے ہیں کہ سعید الفطرت اور عقلمند لوگ ان سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ مگر کج طبع اور بد باطن انسان اس نور کے حاصل کرنے سے محروم رہتے ہیں اور آخر تک کٹ حجتی کرتے رہتے ہیں اور باوجود سینکڑوں نشانوں کے وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی کوئی نشان نہیں دکھایا گیا اور ایسے لوگوں کا سوائے عذاب الٰہی کے کوئی جواب نہیں ہوتا۔ جب عذاب آتا ہے تو پھر سمجھتے ہیں کہ ہاں خدا کا وعدہ سچا تھا اور اس کا رسول برحق مگر اس وقت کا ایمان کسی کام نہیں آتا۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی لوگوں نے ایسے ہی اعتراض کئے اور کہا کہ آپؐ آسمان پر چڑھ کر کتاب لائیں تب آپ کو ہم مان لیں گے۔ مگر اسکا جواب جو ملا وہ ظاہر ہی ہے کہ اَوۡ یَکُوۡنَ لَکَ بَیۡتٌ مِّنۡ زُخۡرُفٍ اَوۡ تَرۡقٰی فِی السَّمَآءِ ؕ وَلَنۡ نُّؤۡمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیۡنَا کِتٰبًا نَّقۡرَؤُہٗ ؕ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا(بنی اسرائیل: ۹۴) یعنی کافر نبی کریم ﷺ کو کہتے ہیں کہ اگر آپؐ کے لئے ایک سونے کا مکان ہو یا آسمان پر چڑھ جائیں تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ مگر صرف آسمان پر چڑھنا ہی کافی نہیں بلکہ وہاں سے ایک ایسی کتاب بھی لے آئیں جس کو ہم پڑھ سکیں۔ (خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ) ان کو کہہ دے کہ میں کیا ہوں صرف ایک بشر رسول ہوں۔ یعنی بشر رسول سے تو ایسے صاف اور صریح کام نہیں ہوتے جو خلافِ سنت بھی ہوں اور خلافِ بشریت بھی ہوں۔ اب صاف ظاہر ہے کہ اگر نبی کریم اللہ علیہ وسلم ایسا صاف معجزہ دکھا دیتے تو کل کے کل کفار مسلمان ہو جاتے۔ بلکہ کل دنیا کے لوگ آپؐ پر ایمان لے آتے لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ معجزات ایسے صاف نہیں دکھاتا کہ جن سے کل دنیا مان جائے۔ اور ایمان لانا صدق کی بناء پر نہ رہے اور ہر کاذب و صادق کو زبردستی نبی کی طرف جھکا دیا جائے۔ اس لئے وہ معجزات میں ایسے متشابہات بھی رکھتا ہے جن سے سعید لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور دوسرے لوگ الٹا اور بھی بیزار ہو جاتے ہیں۔ اور صریح پیشگوئیوں اور محکمات کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جس سے نیکوں اور بدوں میں ایک بیّن فرق ہو جاتا ہے۔ اور دنیا دیکھ لیتی ہے کہ کون سچائی کا دلدادہ ہے اور کون جھوٹ اور فریب کا شیدا۔ چنانچہ یہی وجہ تھی کہ باوجود ہزاروں معجزات اور آیات کے بہت سے خبیثوں نے نبی کریم اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی اور ان کو نہیں مانا۔ اور بجائے محکمات کے متشابہات کی طرف گئے۔ اگر تعلیم پر ان کی نظر پڑی تو متشابہات پر اور اگر آیات پر انہوں نے غور کیا تو متشابہات کو مدنظر رکھا۔ پس اس وجہ سے وہ ہلاک ہو گئے اور سچائی کو دیکھ نہ سکے مگر جنہوں نے متشابہات کی پرواہ نہیں کی اور ایمان بالغیب کے مسلّم مسئلہ پر عمل کیا وہ ان تمام مشکلات سے بچ رہے اور ہر قسم کے ابتلاؤں سے محفوظ رہے۔ انہوں نے اصول کو دیکھا اور فروع کو ان کے مطابق کیا۔ مگر بر خلاف اس کے کفار نے چاہا کہ پہلے چھت تیار کریں اور پھر بنیاد رکھیں گے اور وہ ناکامیاب ہوئے۔ پس اصل شناخت کسی نبی کی اس طرح ہو سکتی ہے کہ کثرت کی طرف نظر کی جائے اور متشابہات کو نظر انداز کیا جائے۔ کیونکہ جب تک ایسا نہ کیا جائے کبھی کامیابی نہیں ہو سکتی۔ اور راستی اور حق پسندی بھی یہی چاہتی ہے کہ جو حق ثابت ہو گیا ہے اس کو قبول کیا جائے اور جو سمجھ میں نہیں آتا اس کے لئے انتظار کیا جائے۔ اور جو شخص دس محکمات پیشگوئیوں کو نہیں مانتا اس سے کیا امید ہو سکتی ہے کہ ایک پیشگوئی جو متشابہات سے ہے اگر پوری ہو جائے تو وہ اس کو مان لے گا۔ بلکہ غالب یقین یہی ہے کہ وہ اس سے بھی کوئی بہانہ بنا کر چھٹکارا کر لے گا۔ پس سچا اصول یہی ہے کہ انسان ہر وقت قرآن شریف کی اس آیت کو مدنظر رکھے کہ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ مِنۡہُ اٰیٰتٌ مُّحۡکَمٰتٌ ہُنَّ اُمُّ الۡکِتٰبِ(3:8) اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ(ال عمران: ۸) یعنی وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر کتاب جس میں نشان ہیں محکمات بھی جو کتاب یعنی قرآن شریف کی جڑ ہیں اور دوسری ایسی باتیں بھی اس میں ہیں جو متشابہات ہیں۔ یعنی بعض باتیں جو اصول کے طور پر بتائی گئی ہیں وہ تو محکمات ہیں۔ اور بعض متشابہات بھی ہوتی ہیں جو بعض کو سمجھ آتی ہیں اور بعض کو نہیں اور ان کا صحیح علم خدا تعالیٰ کے پاس ہوتا ہے پس ان پر اعتراض کرنا انہیں لوگوں کا کام ہے جو کج طبع ہیں پس ہر ایک نبی کی سچائی کو پرکھنے کے لئے اس کی تمام پیشگوئیوں پر مجموعی نظر ڈالنی چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ کثرت کس طرف ہے اور محکمات بھی ہیں یا تمام متشابہات ہی ہیں۔ اور اگر ثابت ہو کہ محکمات بھی ہیں تو متشابہات کو چھوڑ کر چاہئے کہ سچائی کی راہ کو قبول کیا جائے۔ اور کثرت کو مد نظر رکھ کر قلت کا خیال نہ کیا جائے یعنی جب اکثر پیشگوئیاں محکمات سے ہوں اور تھوڑی سی متشابہات سے تو چاہئے کہ محکمات کا لحاظ کیا جائے اور متشابہات کو خدا کے علم پر چھوڑ دیا جائے۔ ورنہ اگر یہ اصول نہ برتا جائے تو کسی نبی کی سچائی ثابت نہیں ہو سکتی اور آدمؑ سے لے کر نبی کریمﷺ تک تمام نبی نعوذ باللہ جھوٹے ٹھہرتے ہیں کیونکہ ہر ایک کے ساتھ متشابہات لگے ہوئے ہیں۔ اور ایمان بالغیب کا مسئلہ بھی بالکل اڑ جاتا ہے۔ کیونکہ اگر متشابہات نہ ہوں اور محکمات ہی ہوں تو پھر کسی کا ایمان کام نہیں آئے گا۔ اور ہر ایک شخص فرعون کی طرح نامراد مرے گا۔ ایمان کا ثواب تو تبھی تک ملتا ہے جب تک کہ انسان اپنے نفس کی قربانی کر کے ایک بات محض رضائے الٰہی کے لئے مان لیتا ہے۔ ورنہ اگر متشابہات کا سلسلہ ہی اٹھ جائے تو ایمان ایمان نہیں رہتا۔ چنانچہ یہودیوں نے جب یہ سوال کیا کہ اَرِنَا اللّٰہَ جَہۡرَۃً فَاَخَذَتۡہُمُ الصّٰعِقَۃُ بِظُلۡمِہِمۡ(النساء: ۱۵۴) یعنی جب انہوں نے کہا کہ ہم کو خدا ظاہر میں دکھا تو ان کو اس گناہ کی وجہ سے عذاب نے پکڑ لیا جس سے ظاہر ہوتا ہے۔ کہ یہ سوال کرنا کہ ہم کو ایسی پیشگوئیاں چاہئیں جو متشابہات میں سے نہ ہوں۔ بلکہ صرف محکمات میں سے ہوں ایک گناہ ہے۔ اور ایسے نشانات کا طلب کرنا جن سے حق ایک اور ایک دو کی طرح ظاہر ہو جائے ایک بدی ہے۔
اسی بناء پر میں پوچھتا ہوں کہ جبکہ حضرت اقدس کی پیشگوئیوں میں بھی بعض متشابہات پائی جاتی ہیں تو ان پر کیوں اعتراض کیا جاتا ہے۔ آپ کے ہاتھوں پر سینکڑوں نشانات دکھائے گئے جو ایک بیّن طور سے پورے ہوئے پس اگر چند پیشگوئیاں سمجھ میں نہیں آئیں یا بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے۔ کہ وہ غلط ہوئیں تو ان کی وجہ سے ان ہزارہا پیشگوئیوں کو چھوڑ دینا جو لاکھوں کی تعداد میں پوری ہوئی ہیں کہاں تک درست ہو سکتا ہے۔ کیا سچائی کی تڑپ رکھنے والا ایسا کام کر سکتا ہے۔ حضرت اقدسؑ ایسے
وقت میں دنیا میں آئے جبکہ تاریکی اور جہل چاروں طرف پھیلا ہوا تھا اور ہر ایک شخص جو ذرہ بھی عقل رکھتا ہو اس فکر میں تھا کہ میرے پاس کون سے ثبوت ہیں جو ہستی باری تعالیٰ کو ثابت کر سکیں اور سچے اور جھوٹے مذاہب میں میں کن اصول کے ذریعہ امتیاز کروں۔ اور ان پیچوں کے حل کرنے کا کوئی راستہ ان کو نظر نہیں آتا تھا۔ اور جبکہ تمام مذاہب باطلہ کا زور اس قدر بڑھ گیا تھا کہ اسلام کا وجود دنیا سے اٹھنے کو تھا۔ اس وقت آپؑ نے مبعوث ہو کر جو پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ دنیا کو اس زمانہ کے رنگ کے مطابق عقلی اور نقلی دلائل سے منوا دیا کہ کونسا مذہب سچا ہے اور ساتھ ہی معجزات کے منکروں کو للکارا کہ تم میں سے جو آیات و نشانات الہیہ کا انکار کرتے ہیں میرے سامنے آئیں اور سچ اور جھوٹ میں فرق کر کے دیکھ لیں۔ اس وقت سے لے کر آپؑ کی وفات تک ہزاروں بلکہ لاکھوں نشانات آپ کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے جن کے گواہ نہ صرف احمدی جماعت کے لوگ ہی ہیں بلکہ دیگر مسلمان اور غیر مذاہب کے لوگ بھی۔ چنانچہ عیسائی اور برہمو آریہ تک ان نشانات سے انکار نہیں کر سکتے پس باوجود اس قدر نشانات کی بارش کے اور نصرت الہیہ کے پھر بعض متشابہات پر اعتراض کرنا اگر غلطی نہیں تو اور کیا ہے اور میں پہلے ثابت کر آیا ہوں کہ ہر ایک نبی کے ساتھ متشابہات کی پیشگوئیاں بھی لگی ہوئی ہیں۔ تاکہ سچے اور جھوٹے میں فرق کر کے دکھایا جائے اور عقلمند اور جاہل میں امتیاز کیا جائے۔ چنانچہ قرآن شریف میں بار بار آتا ہے کہ اٰیٰتٌ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ(45:6) یعنی نشان ہیں عقل والوں کے لئے جس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ پردہ رکھ لیا جاتا ہے تاکہ ایمان بالغیب کا ثواب بھی ان کو ملے اور ہمیشہ ایسے نشانات ہی اتارے جاتے ہیں جن کو عقلمند ہی سمجھ سکتے ہیں۔ اور وہ جن کے دل بغض اور حسد کے زنگ سے آلودہ ہوتے ہیں اس کو نہیں سمجھ سکتے۔ چنانچہ جب اسی سنت کے مطابق حضرت اقدسؑ کی پیشگوئیوں میں بھی کچھ متشابہات ہیں تو اس میں کیا حرج ہے۔ سچائی کا فیصلہ ہمیشہ محکمات کی کثرت پر ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف سے صاف ثابت ہوتا ہے اور میں یہ ثابت بھی کر چکا ہوں۔ پھر حضرت صاحب کے معاملہ میں کیوں خلاف دستور اور طریقوں سے فیصلہ چاہا جاتا ہے۔ تریاق القلوب، حقیقت الوحی اور نزول المسیح کو پڑھ کر دیکھو کہ کس قدر بینات درج ہیں۔ کیا ان کو دیکھ کر مخالفین نے حضرت اقدسؑ کو قبول کر لیا جو متشابہات کے پورا ہونے پر زور دیتے ہیں۔ بلکہ ان کی ہٹ دھرمی صاف ظاہر کرتی ہے کہ ان کا مطلب صرف اعتراض کرنے سے ہے ورنہ اگر حق کی تلاش ہوتی تو وہ ہزاروں پیشگوئیاں جو پوری ہوئیں اور جنہوں نے روز روشن کی طرح حضرت اقدسؑ کے دعویٰ کو ثابت کر دیا۔ کیا کچھ کم تھیں؟ کیا وہ لوگ ان پیشگوئیوں کو دیکھ کر نصیحت نہیں پکڑ سکتے۔ حضرت ابوبکرؓ نے تو بغیر کسی نشان دیکھے کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کر لیا۔ مگر یہ نادان باوجود اس قدر بیّنات کے پھر حق سے منہ موڑتے ہیں اور متشابہات پر زور دیتے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مطلب حق اور باطل کو ملانے سے ہے اور کچھ نہیں۔ جب قرآن شریف نے ہم کو یہی راہ بتایا ہے کہ ہم محکمات کو دیکھیں اور متشابہات کا خیال نہ کریں تو باوجود اس نصِ صریح کے کیوں ایک دوسرا طریق اختیار کیا جائے ۔ اور اگر متشابہات پر زیادہ زور دیا بھی گیا تو پھر کل انبیاء کا انکار کرنا پڑے گا کیونکہ کل انبیاء علیہم السلام کی پیشگوئیوں میں متشابہات پائے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے سردار اور ہادی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں بھی اس سے خالی نہیں۔ پس جب سب انبیاء کے کلام میں ایسا پایا جاتا ہے تو پھر حضرت اقدسؑ پر کوئی کیا اعتراض کر سکتا ہے۔ اور جو شخص ان کو اس وجہ سے جھوٹا سمجھتا ہے چاہئے کہ کل انبیاء کا انکار کرے۔ پس صاف اور بے خطر طریق وہی ہے جو قرآن شریف نے بتایا ہے یعنی متشابہات کا خیال نہ کرو۔ کیونکہ ان کے لئے تعبیریں ہوتی ہیں اور وہ مختلف رنگوں میں پوری ہو جاتی ہیں بلکہ محکمات کو دیکھو جن پر فیصلہ کا اصل دارومدار ہوتا ہے۔ اور اس اصول پر جب ہم دیکھتے ہیں تو حضرت اقدسؑ کی وفات پر جس قدر اعتراضات ہوتے ہیں۔ سب کے سب بلا امتیاز خود بخود رد ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ حضرت اقدسؑ کی سینکڑوں پیشگوئیاں ہیں جو پوری ہو چکی ہیں۔ اور ہزاروں نشانات ان کے ہاتھ پر دکھائے گئے ہیں۔ پس ان کے ہوتے ہوئے متشابہات کی طرف ہم توجہ نہیں کر سکتے اگر کوئی پیشگوئی پوری نہ ہوتی اور کل کی کل متشابہات ہی ہوتیں تو پھر کسی کو حق ہو سکتا تھا کہ وہ یہ اعتراض کرے کہ فلاں پیشگوئی پوری نہ ہوئی۔ لیکن جب بفضلِ خدا خود حضرت اقدسؑ اپنی زندگی میں سینکڑوں نشانات کی فہرست شائع کر چکے ہیں جو ایسے کھلے طور سے پورے ہوئے کہ ان میں کوئی شک کی گنجائش نہیں رہتی تو اب برخلاف حکمِ قرآن و احادیث بعض ایسی پیشگوئیوں پر اعتراض کرنا جو بظاہر پوری نہیں ہوئیں عقل سے بعید ہے۔ اور یہ اعتراضات نہ صرف حضرت اقدسؑ پر پڑتے ہیں۔ بلکہ کل انبیاءؑ پر وارد ہوتے ہیں۔ جس سے ان سب کا انکار لازم آتا ہے۔
میں یہ بھی ثابت کر آیا ہوں کہ متشابہات کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر متشابہات نہ ہوں تو ایک تو ایمان بالغیب کا ثواب نہ رہے اور دوسرے کل دنیا مسلمان ہو جائے جو خدا تعالیٰ کی سنت کے برخلاف ہے کیونکہ وہ اپنے پاک کلام میں فرما چکا ہے کہ وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ(3:56) الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ(ال عمران: ۵۶) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار ہر زمانہ میں رہیں گے۔ پس اس بات کی توقع رکھنا کہ کسی نبی کے کلام میں متشابہات نہ ہوں اور محکمات ہی محکمات ہوں ایک ایسا خیال ہے جو کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ اور دوسرے متشابہات میں ایک اور حکمت بھی ہوتی ہے کہ انسانی فطرت کچھ عجیب طرح سے واقع ہوئی ہے کہ جو کوئی بڑا آدمی گذرتا ہے اس کے تابعین کچھ مدت گذرنے کے بعد اس کی پرستش کرنے لگتے ہیں۔ مثلاً کرشن، رامچندر، عزیر، مسیحؔ جن کو کچھ مدت بعد خدا کا شریک سمجھ لیا گیا۔ پس اگر متشابہات ان کی پیشگوئیوں میں نہ ہوں اور محکمات ہی محکمات ہوں اور بشری لوازمات سے یہ لوگ پاک ہوں تو شاید بجائے خدا کے شریک بنانے کے تمام انبیاء کو خدا ہی سمجھ لیا جاتا۔ چنانچہ اس وجہ سے خدا تعالیٰ نے ان کے ساتھ بشری کمزوریوں کو بھی رکھا ہے۔ اور متشابہات کا سلسلہ بھی قائم کر دیا ہے۔ تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں ان کے حالات کو پڑھ کر اور ان کی پیشگوئیوں کو دیکھ کر اندازہ لگا سکیں کہ یہ لوگ بھی ہماری طرح انسان ہی تھے۔ اور خدائی میں ان کی کوئی شراکت نہ تھی۔ چنانچہ غور سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رامچندر کی بیوی کو راون کا لے جانا اور ان کو خبر نہ ہونا اور پھر بڑی تکلیفوں کے بعد آس پاس کی قوموں سے مدد لے کر راون پر فتح پانا اسی لئے تھا کہ ان کی امت ان کو خدائی کا درجہ نہ دے اور اگر دے تو سعید الفطرت انسان ہمیشہ سمجھ سکیں کہ وہ ایک برگزیدہ نبی تھے۔ خدا نہ تھے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰؔ کا یہودیوں سے مار کھا کر سولی پر لٹکایا جانا اور تخت کے وعدہ کا جھوٹا نکلنا بھی اسی لئے تھا کہ عیسائی ان کو خدا کا بیٹا کہتے ہوئے شرمائیں اور سعید روحیں ہمیشہ ان باتوں پر غور کر کے شرک کی ملوتی سے اپنے آپ کو پاک رکھیں۔ پس ظاہر ہے کہ متشابہات کا ہونا نہ صرف اس لئے ضروری تھا کہ سچوں اور جھوٹوں کو الگ کیا جائے بلکہ اس لئے بھی کہ آئندہ نسلیں کسی نبی کو خدایا اس کا شریک نہ بنا لیں۔ اور اگر وہ ایسا کریں بھی تو سعید انسان عقل سے کام لے کر اس شرک سے الگ رہیں۔ پس ہر ایک طالب حق کو چاہئے کہ جو کوئی شخص حضرت اقدس کی بعض پیشگوئیوں پر جو متشابہات سے ہیں اعتراض کرے تو اس کے سامنے یہ معاملہ کھول کر بیان کر دے کہ متشابہات کا ہونا ہر ایک نبی کی پیشگوئیوں کے لئے ضروری ہے۔ اور ہر ایک نبی کے ساتھ ایسا ہوتا آیا ہے۔ اور خدا کی سنت یہی رہی ہے۔ اور سچائی کے دریافت کرنے کے لئے محکمات ہی دیکھے جاتے ہیں۔ چنانچہ حضرت اقدس کی محکمات پیشگوئیاں اس کثرت کے ساتھ ہیں کہ کوئی صاحب بصیرت انسان ان کو دیکھ کر آپ کی سچائی میں شک نہیں لا سکتا۔ اور یہ فیصلہ کا ایک ایسا آسان اور محکم طریق ہے کہ اس سے وہ تمام اعتراضات جو حضرت کی پیشگوئیوں پر پڑتے ہیں۔ دور ہو جاتے ہیں۔ اور سچائی کا چہرہ روشن ہو جاتا ہے۔ اور یہ اس لئے ہے کہ خدائے زمین و آسمان نے اپنے پاک کلام قرآن شریف میں فیصلہ کی یہی راہ بتائی ہے۔ جیسا کہ میں اوپر بتا آیا ہوں اور ثابت کر آیا ہوں یعنی متشابہات کو چھوڑ کر محکمات پر نظر کی جائے۔
اس جگہ میں اس بات کا ذکر کرنا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ اصل ثبوت سچائی کا پیشگوئیاں ہی نہیں بلکہ اور دلائل بھی ہیں جن سے ایک نبی کی سچائی کو ہم ثابت کر سکتے ہیں۔ کیونکہ پیشگوئیاں صرف وقتی ہوتی ہیں اور پھر محض قصے رہ جاتے ہیں جس سے آئندہ زمانہ کے لوگ بہت فائدہ اٹھا نہیں سکتے۔ بعد ازاں تعلیم رہ جاتی ہے۔ اور خود نبی کے وقت میں بھی ایسی اور راہیں ہیں جن سے اس کی سچائی ظاہر ہوتی ہے مثلاً نبی کریم اللہﷺ کی سچائی کا ایک ثبوت خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ دیا ہے کہ قُلۡ لَّوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا تَلَوۡتُہٗ عَلَیۡکُمۡ وَلَاۤ اَدۡرٰٮکُمۡ بِہٖ ۫ۖ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ(یونس: ۱۷) یعنی اے نبی تو ان لوگوں کو کہہ دے کہ اگر اللہ چاہتا تو میں یہ آیات تمہارے سامنے نہ پڑھتا۔ اور نہ تم کو ان کی خبر دیتا۔ پس تحقیق میں نے اس سے پہلے ایک عمر تم میں گزاری ہے پھر تم کیوں عقل نہیں کرتے۔ یعنی میں تم میں ایک لمبا عرصہ گزار چکا ہوں پھر تم میری سچائی میں کیا شک لاتے ہو۔ کیونکہ اگر مجھے پہلے افتراء کرنے کی عادت ہوتی تو اس موقعہ پر بھی تم شک کر سکتے تھے کہ اس کو کوئی الہام نہیں ہوتا بلکہ یہ خود بنا لیتا ہے۔ لیکن جب تم میرے پچھلے حالات سے واقف ہو اور جانتے ہو کہ میں جھوٹا نہیں ہوں تو اس موقعہ پر کیوں یہ شک کرتے ہو۔ اور جب میں انسانوں پر جھوٹ نہیں بولتا تھا تو کس طرح ممکن ہے کہ اب خدا پر جھوٹ بولوں۔ اب دیکھنا چاہئے کہ ایک رسول کی سچائی کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ ایک ثبوت رکھا ہے۔ کہ وہ اپنی پچھلی زندگی کی نظیر دے کر اپنی سچائی کو ثابت کرتا ہے کہ میں ہمیشہ سے نیک عمل کرتا رہا ہوں اور جھوٹ سے مجھے نفرت رہی ہے۔ پھر اب میں کیوں خدا پر افتراء باندھنے لگا۔ اب اہل انصاف غور کریں کہ یہی دعویٰ حضرت اقدسؑ نے کیا ہے۔ اور آج تک کسی کو جرأت نہیں کہ آپؑ پر کوئی الزام لگا سکے۔ پس کیونکر چند متشابہات پیشگوئیوں کی وجہ سے ہم ان کا انکار کر سکتے ہیں۔ مسلمان تو الگ خود ہندو اور عیسائی بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ آپ اپنی تمام عمر میں نہایت نیک اور پارسا رہے ہیں۔ پس یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ جو شخص چالیس برس تک ایک عام زندگی بسر کرے اور جھوٹ سے متنفر ہو اور سچ کا شیدا ہو وہ اپنی آخر عمر میں خدا پر افتراء کرے اگر یہ کوئی سچائی کی دلیل نہیں تو یاد رکھو کہ
آدمؑ سے لے کر نبی کریم ﷺ تک تمام انبیاء علیہم السلام پر اعتراض وارد ہوگا۔ غرض نبی کی زندگی میں اور اس کے بعد پیشگوئی ہی کوئی سچائی کا ثبوت نہیں بلکہ اور بہت سی باتیں قرآن و احادیث سے ثابت ہیں جن سے نبی کی شناخت ہوتی ہے۔ چنانچہ ان میں سے ایک مثال کے طور پر میں لکھ بھی آیا ہوں اور ثابت کر آیا ہوں کہ اس لحاظ سے بھی حضرت اقدسؑ کی سچائی ثابت ہوتی ہے۔ اور دیگر وجوہات سے بھی جو میں بہ سبب طوالت کے یہاں لکھ نہیں سکتا آپ کا حق پر ہونا پایۂ ثبوت کو پہنچتا ہے۔ پس با وجود ان تمام وجوہات کے چند متشابہات کی وجہ سے حضرت اقدسؑ کا انکار کرنا صاف شقاوت پر دلالت کرتا ہے۔ اور ظاہر کرتا ہے۔ کہ آدم اول کی طرح آدم ثانی کا بھی محض حسد اور تکبر کی وجہ سے انکار کیا گیا ہے۔ غرض یہ باتیں تو نبی کی زندگی کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ مگر اس کے بعد ایک تعلیم ہی رہ جاتی ہے۔ جو مخالفین اور طالبان حق کے سامنے پیش کی جاسکتی ہے۔ پس اب ہمیں حضرت اقدسؑ کی سچائی کو پرکھنے کے لئے ضروری ہے۔ کہ ان کی تعلیم کو دیکھیں اور اس سے اندازہ لگائیں کہ آیا واقعی انہوں نے وہ کام کیا جو ایک نبی کے لئے ضروری ہے یا نہیں۔ اب تعلیم بھی تین قسم کی ہوتی ہے۔ اول تو عام شرعی معاملات کی تعلیم جو روزمرہ پیش آتے ہیں۔ دوسری وہ تعلیم روحانی جس سے جماعت میں نیکی اور تقویٰ پیدا ہو جائے۔ تیسری وہ تعلیم جس سے غیر مذاہب کا مقابلہ کیا جائے۔ اور انہیں تینوں تعلیموں کے پھیلانے کے لئے ہر ایک نبی دنیا میں آتا ہے۔ پس دیکھنا چاہئے کہ حضرت صاحبؒ نے ان تمام تعلیمات کو ایسا پھیلایا ہے کہ دوست تو دوست دشمن تک انکار نہیں کر سکتے۔ ہر ایک فرد بشر چلّا چلّا کر کہہ رہا ہے کہ حضرت صاحب نے اس وقت اسلام کی وہ خدمت کی ہے کہ اسکا انکار سخت نمک حرامی ہے۔ اسلامی مسائل کو ایسا صاف کیا ہے کہ کسی دشمن کی طاقت نہیں کہ ان پر حملہ کر سکے مسیحؑ کی وفات کے مسئلہ کو صاف کر کے مسلمانوں کے دلوں میں سے شرک کے بت کو اس طرح نکالا کہ خدائے واحد کا روشن چہرہ ان میں منعکس ہونے لگا۔ خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کے مسئلہ پر روشنی ڈالی کہ گویا خدا کو سامنے دکھا دیا۔ عرش اعظم کی فلاسفی ایسے رنگ میں بیان فرمائی کہ کل اعتراضات جو مخالفین کرتے تھے یکدم دور ہو گئے۔ الہام اور وحی کے دروازہ کو ہمیشہ کے لئے کھلا ثابت کر کے اسلام کو زندہ مذہب ثابت کیا۔ جہاد کا مسئلہ ایسا صاف کیا کہ خونریزی کا بد نما داغ ہمیشہ کے لئے اسلام کے دامن سے مٹ گیا۔ دعا کی حقیقت اور قبولیت کو روزِ روشن کی طرح کھول کر بتادیا کہ یہ برکت اسلام میں ہی ہے اور اخوت اور محبت کی خوبیاں بیان فرما کر دشمنوں کو بھی بھائی بھائی بنا دیا۔☆غرض جو جو برائیاں اور بد اعتقادیاں مسلمانوں میں پھیل گئی تھیں ان کو دور کیا اور وہ اصل اعتقاد جو قرآن و احادیث سے ثابت ہوتے تھے ان میں پھیلائے جن کو سعید روحوں نے قبول کیا۔ مگر وہ جو شقی تھے ان سے متنفر ہو گئے پھر اس کے بعد دوسری تعلیم جو روحانیت کے متعلق ہے ایسی دی کہ اب خدا کے فضل سے تین چار لاکھ احمدی ہیں جن میں سے اکثر صحابہؓ کے صدق کا نمونہ پھر دکھا رہے ہیں۔ بیسیوں ہیں جو دہریت کی عمیق غار میں گرے ہوئے تھے مگر حضرت اقدس کی تعلیم سے متاثر ہو کر اب فنا فی اللہ ہو رہے ہیں۔ سینکڑوں ہیں جو طرح طرح کے شرکوں اور بدعتوں کو چھوڑ کر خدا اور رسول کے دلدادہ و شیدا ہو رہے ہیں۔ وہ جنہیں اسلام کے نام سے نفرت تھی اب اس پر جان دیتے ہیں اور وہ جو ایمان کے نام سے ناواقف تھے۔ اب دوسروں کو ایمان کی طرف بلاتے ہیں۔ غرض تیرہ سو سال کے بعد آپ نے پھر ثابت کر دیا کہ قرآن کی تعلیم پر چل کر انسان کیا سے کیا ہو سکتا ہے۔ پھر تیسری تعلیم جو غیر مذاہب کے متعلق ہے وہ دی ہے کہ اب کوئی مذہب اسلام سے بڑھ کر اپنی خوبیاں بیان نہیں کر سکتا۔ تمام مذاہب کی غلطیاں ثابت کر کے ان کو اسلام کی خوبیوں کا قائل کر دیا اور دشمنوں کے منہ سے وہ کلمات نکلوائے جو اسلام کی تعریف سے مملوء تھے۔ براہین جیسی مدلّل کتاب لکھ کر آریوں، برہموؤں اور دہریوں کا قلع قمع کر دیا۔ آئینہ کمالات اسلام لکھ کر وساوس شیطانی کو ایسا دور کیا کہ دل صاف ہو گئے۔ جلسہ مذاہب میں وہ تقریر کی کہ کل غیر مذاہب کو اسلام کی برتری ماننی پڑی۔ بشپ کو چیلنج دے کر عیسائیت کو پاش پاش کیا تو لیکھرام کو ہلاک کر کے آریوں کو سبق دیا۔ غرض ان کے وجود کی برکت سے اسلام کا پاک چہرہ پھر دنیا پر مہر عالم تاب کی طرح چمکا اور دوست و دشمن نے اس کی سچائی کا اقرار کیا۔ یہاں تک کہ آپ کی وفات پر بہت سے مسلمانوں نے اس بات کو مانا کہ ان کا ہر ہر لفظ مردہ دلوں کے لئے مسیحائی کا کام کرتا تھا۔ پس یہی کام تھا جس کے لئے وہ آئے تھے۔ اور پورا کر گئے۔ اور یہی تعلیم ہی ہے جو ان کی سچائی کو ثابت کرتی ہے۔ اور میں اگر اس کی نسبت کسی قدر تفصیل سے لکھوں تو یہ ایک بڑا مضمون بن جائے گا۔ اس لئے اسی قدر لکھ کر ختم کرتا ہوں۔ اور امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ میں یا کوئی اور صاحب آئندہ اس معاملہ پر ذرا وسیع نظر ڈالیں گے۔
غرض اب میں یہ ثابت کر آیا ہوں کہ پیشگوئیاں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک محکمات اور ایک متشابہات اور قرآن شریف کے حکم کی رو سے متشابہات پر بحث نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ کثرت محکمات کی ہو تو پھر متشابہات کا ذکر کرنا ہٹ دھرمی ہے۔ اور اس اصول پر نظر ڈالتے ہوئے حضرت اقدس پر کوئی اعتراض نہیں رہتا اور پھر میں نے لکھا ہے کہ اصل تعلیم ہی سچائی کا معیار ہے۔ اس پر نظر ڈالیں تو آپ کی سچائی میں کوئی شک و شبہ نہیں رہتا۔ غرض یہ دو اصول ایسے ہیں کہ اگر احمدی جماعت ان کو یاد رکھے گی۔ تو انشاء اللہ مخالفین کے تمام اعتراضوں سے محفوظ رہے گی۔ وَ اٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔
راقم خاکسار میرزا بشیر الدین محمود احمد
(تشحیذ الاذہان جون/جولائی ۱۹۰۸ء)
تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۰۸ء
از
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
”یہ وہ تقریر ہے جو میں نے جلسہ کے موقعہ پر اٹھائیس تاریخ کو کی اس سے پہلے اخبار بدر میں بھی شائع ہو چکی ہے اور مکرمی قاضی اکمل صاحب نے تیار کی۔ لیکن اب تصنیف را مصنف نیکو کند بیان کے مطابق میں خود ان نوٹوں سے جو اس موقعہ پر سیکرٹری صاحب انجمن تشحیذ الاذہان نے لئے تھے اس کو تیار کرتا ہوں۔.........“ خاکسار مرزا محمود احمد
یہ سوال طبعاً ہر ایک شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہے کہ ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں اور اس اصل مقصد کو کیوں کر پاسکتے ہیں کہ جس کے لئے ہم پیدا کئے گئے ہیں سو اس کے جواب کے لائق قرآن شریف سے زیادہ اور کوئی کتاب نہیں ہے اس لئے چند آیات قرآن شریف سے پڑھ کر آپ لوگوں کو سناتا ہوں۔
ہر ایک شخص کو یہ سوچنا چاہئے کہ خدا نے مجھے کیوں پیدا کیا ہے اور جبکہ مرنا ہر ایک انسان کے لئے ضروری ہے تو دیکھنا یہ ہے کہ مرنے کے بعد کیا ہو گا جب اس چند روزہ زندگی کے لئے انسان اس قدر کوششیں کرتا ہے اور تدبیریں کام میں لاتا ہے اور روزانہ ضرورتیں محسوس کرتا ہے تو کیا اس لامحدود زندگی کے زمانہ کے لئے ضرورت نہیں اور کیا ہمیں اس کے لئے کچھ بھی تیاری نہیں کرنی چاہئے؟
ہمارے انبیاءؑ و اولیاء آخرت کے متعلق بہت کچھ حالات بیان کر چکے ہیں اور جو ضرورتیں وہاں پیش آئیں گی اور جو ان کے حصول کے ذرائع ہیں ان کی نسبت قرآن شریف بہت بسط اور تفصیل کے ساتھ ہمیں بہت کچھ بتا چکا ہے۔ دیکھو خدا تعالیٰ کسی چیز کو بے فائدہ اور لغو پیدا نہیں کرتا۔ کیونکہ یہ اس کی شان کے بر خلاف ہے اس نے جو انسان کو حواس خمسہ اور ہاتھ پاؤں دل و دماغ دیئے ہیں تو جب مرنے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی ملے گی تو وہاں بھی کچھ ایسے سامان موجود ہونے چاہئیں جن میں یہ چیزیں مشغول رہیں چنانچہ خدا تعالیٰ نے جنت میں وہ سامان پیدا کئے ہیں اور اگر وہ ایسا نہ کرتا تو اس کا انسان کو پیدا کرنا ایک عبث عمل ٹھہرتا چنانچہ جیسا کہ جنت میں اس نے سامان بنائے ہیں ویسا ہی اس نے ان کے حصول کے ذرائع بھی بتا دیئے ہیں اور اسلام اس راستہ کو بتاتا ہے جس پر چل کر انسان اپنی منزلِ مقصود کو پہنچ سکے اور ان انعامات کو پا سکے جو اس کے لئے بعد از موت مقرر ہیں۔ چنانچہ یہ آیتیں جو میں نے پڑھی ہیں ان میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم لوگ مجھے اپنی ساٹھ یا ستر برس کی زندگی اور تھوڑا مال دے دو۔ تو میں اس کے بدلہ میں تمہیں ایک غیر محدود زندگی اور بے شمار اجر دوں گا جس کا دوسرا نام جنت ہے۔ سو خدا تعالیٰ ان آیتوں میں فرماتا ہے کہ ہم نے مؤمنوں سے ان کی جان اور مال خرید لیا ہے اور یہ اس لئے کہ ان کو اس کے بدلہ میں جنت دی جائے سو کیسا خوش قسمت ہے وہ انسان کہ جو ایسا با نفع اور مفید سودا کرے جس میں نفع ہی نفع ہے اور نقصان نام کو نہیں۔ انسان ایک ذرا سا سودا کرنے لگے تو بڑی احتیاط کرتا ہے اور ہمیشہ وہی خریدتا ہے جو مفید اور نفع رساں ہو۔ پس کیسا افسوس ہے اس پر جو ایسی تجارت نہ کرے کہ جس میں لاکھوں کا نہیں کروڑوں کا نہیں بلکہ غیر محدود نفع ہے۔ خدا تعالیٰ اس جگہ فرماتا ہے کہ اس سودے میں کوئی نقصان نہیں ہے۔ پھر تجارت میں اس بات کا لحاظ بھی کر لیا جاتا ہے کہ بازار کا بھاؤ کیا ہے اور یہ تجارت ایسی تو نہیں جس سے پہلے سوداگر ضرر اٹھا چکے ہیں۔ سو اس دینی تجارت میں بھی ہمارا فرض ہے کہ ہم بھاؤ دریافت کریں اور اپنے سے پہلے تاجروں پر غور کریں کہ انہوں نے اس تجارت سے کیا نفع یا نقصان اٹھایا۔ سو ہم دیکھتے ہیں کہ آدمؑ سے لے کر ہمارے نبی کریم ﷺ تک بے شمار سوداگر ہو گزرے ہیں جنہوں نے ہمیشہ اس سوداگری سے فائدہ ہی اٹھایا بلکہ جو شخص ان کے مقابلہ میں کسی اور جنس کا سوداگر بنا وہ ان کے سامنے ہلاک کیا گیا اور وہی کامیاب رہے۔ ان
سوداگروں میں سے سب سے بڑے ہمارے آنحضرت ﷺ تھے۔ جب آپ نے اس تجارت کو شروع کیا تو آپ ایک یتیم بچہ تھے کوئی آپ کو جانتا تک نہ تھا مگر خدا نے آپ کو دُرّ یتیم بنایا اور وہ مرتبہ دیا کہ اس وقت کروڑوں آدمی آپ کے نام پر جان دینے کو تیار ہیں آپ کو وہ چمک عنایت کی گئی کہ سورج کی روشنی ماند پڑ گئی۔ آپ کو اس تجارت سے اس قدر فائدہ پہنچا کہ اب تک کہ تیرہ سو برس گذر چکے ہیں آپ کے نام کی عزت کے لئے لوگ کوششیں کرتے ہیں۔ چنانچہ آج جو ہم لوگ اس جگہ اکٹھے ہوئے ہیں تو صرف اس لئے کہ اس برگزیدہ نبی کا نام دنیا سے مٹاجاتا ہے اسے پھر روشن کریں پس جبکہ آپ نے اس آیت کے موجب سودا کر کے اس قدر نفع اٹھایا تو ہمیں بھی چاہئے کہ جب کبھی کوئی سودا کریں تو دیکھ لیں کہ آیا ہم سے پہلے آنحضرت ﷺ نے یہ سودا کیا تھا کہ نہیں تاکہ ہم بھی آپ کے قدم بقدم چل کر اسی طرح فائدہ اٹھائیں۔ پس اگر ہم آپ کی خریدی ہوئی جنس کو خریدیں گے تو ضرور نفع اٹھائیں گے اور اگر وہ جنس خریدیں گے جو ہم سے پہلے فرعون و ابوجہل نے خریدی تھی تو ضرور ہے کہ ہم اپنی آئندہ زندگی سے بے توجہی کریں کیونکہ بے توجہی ایمان کی کمزوری پر دلالت کرتی ہے اگر ایمان کامل ہو تو کبھی خدا کی طرف سے غفلت نہ ہو۔ دیکھو ایک طالب علم کو یقین ہوتا ہے کہ میں ایک دن ضرور کامیاب ہوں گا اور ایک خاص امتحان پاس کر کے بہت عزت حاصل کروں گا اس کے لئے وہ راتوں کو جاگتا ہے اور اس کی غرض اس قدر ہوتی ہے کہ اس زندگی کے بقیہ ایام آرام سے گذر جائیں اور وہ یہاں تک محنت کرتا ہے کہ بعض اوقات اس کو سل اور دق ہو جاتی ہے۔ مزدور سارا دن محنت کرتا ہے۔ دھوپ میں ٹوکری اٹھاتا اور سردی میں سرد گارے میں گھستا ہے یہاں تک کہ اس کا بدن ٹھٹھر جاتا ہے اور یہ سب اس امید میں کہ شام کو گھر میں جا کر آرام پائے گا۔ پس اگر انسان کو ایمان ہو کہ اس دنیا کی تھوڑی سی زندگی میں اگر میں خدا کی بتائی ہوئی تجارت کروں گا تو ابدالآباد تک نفع اٹھاؤں گا تو وہ بے توجہی کیوں کرے۔ پس اصل بات یہی ہے کہ گناہ گار انسان کو روزِ آخرت پر ایمان ہی نہیں ہوتا اگر اس کو ایمان ہو تو وہ بے توجہی کبھی نہ کرے۔
پس انسان کو چاہئے کہ اپنے لئے وہ مال جمع کرے کہ جو اس کے کام آئے نہ وہ کہ اس کے بعد اس کے ورثاء برباد کریں۔ دنیا کا روپیہ اگر یہ جمع کرتا ہے تو اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء اسے بے طرح لٹادیں گے اور ضائع کر دیں گے لیکن اگر یہ اس قرآن کی بتائی ہوئی تجارت کو کرتا ہے تو اس سے وہ نفع اٹھائے گا کہ اس کے بعد کوئی اسے برباد نہ کر سکے گا بلکہ مرنے کے بعد اسی کے کام آئے گا۔ خدا تعالیٰ ایسے تاجروں کا خود خزانچی بن جاتا ہے پس جس کا خزانچی خدا ہو اس کو اور کسی کی کیا ضرورت ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کا خزانچی امین ہو۔ پس جب خدا سا امین خزانچی ملے تو اور کیا چاہئے اور خدا کے پاس مال رکھوانے میں صرف یہی فائدہ نہیں کہ وہ امین ہے بلکہ علاوہ امانت کے وہ اس مال کو بڑھاتا ہے اور جب مال واپس کرتا ہے تو ہزاروں لاکھوں بلکہ غیر محدود گنا زیادہ کر کے دیتا ہے پس اس تجارت اور امانت میں فائدہ ہی فائدہ ہے کوئی نقصان نہیں مگر شرط یہ ہے کہ پہلے اپنی جان و مال کو خدا کے سپرد کر دے اور اپنے وجود کو بیچ میں سے الگ کرے ہاں جب وہ ایسا کر لے گا تو پھر اسے چند روزہ زندگی کے بدلہ غیر محدود زندگی ملے گی اور اس تھوڑے سے مال کے بدلہ بے شمار دولت ملے گی۔
پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ(4:77) یعنی ایسے مؤمن جنہوں نے اپنی جانیں اور اپنے مال خدا کے ہاتھ جنت کے بدلہ میں بیچ دیئے ہیں وہ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں یعنی ان کا فرض یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ خدا کی راہ میں جہاد کریں پس اس جگہ خدا تعالیٰ ان کو اپنے راہ میں جہاد کرنے کی تعلیم دیتا ہے آگے جہاد خواہ تلوار کا ہو خواہ قلم کا خواہ زبان کا خواہ کسی اور قسم کا۔ پس جب انسان کچھ روپیہ کے بدلے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر فوج کی نوکری کرتا ہے تو وہ خدا کی فوج میں کیوں داخل نہیں ہوتا جہاں بے تعداد اجر ملتا ہے۔ ہر ایک انسان فطرتاً کہیں نوکری کرتے ہوئے دیکھ لیتا ہے کہ کہیں مجھ پر پیچھے کوئی آفت تو نہیں آئے گی۔ چنانچہ اکثر لوگ ان ریاستوں میں جہاں بد نظمی پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ نوکری نہیں کرتے کہ کہیں لینے کے دینے نہ آئیں اور تنخواہ کے علاوہ جائیداد تک ضبط نہ ہو (جیسے اکثر ریاستوں میں ہوتا ہے) پس جس کو خدا جیسا وعدوں کا پورا اور مہربان مالک نوکر رکھے اسے اور کیا چاہئے ان دنیاوی گورنمنٹوں کے پاس انسان کچھ روپیہ کے لئے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور جنگوں میں سر کٹواتا ہے۔ ممکن ہے کہ جہنم کے دروازے ان کے لئے کھولے جاویں مگر جو خدائی گورنمنٹ کی راہ میں مارا جاتا ہے یعنی دین کی خدمت کرتا ہوا فوت ہو جاتا ہے اس پر دوزخ کی آگ حرام ہے اور جنت کی حوریں اس کی منتظر ہیں۔ پھر دنیاوی گورنمنٹوں کے ملازم سپاہی جب ہزاروں معرکہ مار کر پنشن لیتے ہیں تو ان کو نصف پنشن ملتی ہے۔☆مگر خدا کا سپاہی جب پنشن لیتا ہے یعنی فوت ہوتا ہے تو اس قدر عظیم الشان پنشن دی جاتی ہے کہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتی تھی۔ پھر یہاں کی سلطنتوں کی حفاظت سپاہی کرتے ہیں مگر بر خلاف اس کے الٰہی گورنمنٹ اپنے سپاہیوں کی خود حفاظت کرتی ہے اور یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ(المائدہ: ۶۸) کی خوش آئند آواز انہیں سنائی جاتی ہے وہ زندہ رہیں یا فوت ہو جائیں دونوں حالتوں میں فائدہ میں رہتے ہیں۔
پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَیَقۡتُلُوۡنَ وَیُقۡتَلُوۡنَ(9:111) یعنی وہ لوگ جو اس طرح خدا کے ساتھ تجارت کریں اور اس کی فوجوں میں داخل ہو جائیں ان میں دلیری بھی چاہئے اور چاہئے کہ وہ دوسروں کو ماریں اور آپ مارے جائیں اور اپنی جانیں لفظاً نہیں بلکہ عملاً خدا کے سپرد کریں۔ پھر فرماتا ہے کہ وَعۡدًا عَلَیۡہِ حَقًّا فِی التَّوۡرٰٮۃِ وَالۡاِنۡجِیۡلِ وَالۡقُرۡاٰنِ ؕ وَمَنۡ اَوۡفٰی بِعَہۡدِہٖ مِنَ اللّٰہِ(9:111) یعنی یہ سودا کر کے جو انعام اور نفع خدا نے تم کو دینے کا وعدہ کیا ہے کیا یہ سچا ہے یا جھوٹا سو خدا تعالیٰ یہاں اپنے وعدہ کی نظیریں بتاتا ہے کہ ہر ایک شخص دیکھ سکتا ہے کہ میں نے تین بڑی قوموں سے وعدے کئے تھے تو کیا وہ غلط نکلے؟ جب نہیں تو پھر تم کیوں ڈرتے ہو جب خدا کی عادت ہے کہ وعدوں کا سچا ہے اور جو کہتا ہے اسے پورا کرتا ہے۔ تو پھر یہ وعدہ جو تم سے کیا گیا ہے کیوں پورا نہ ہو گا کیا خدا سے زیادہ کوئی اور بھی ہے جو وعدوں کا سچا اور پورا ہو۔ پس تم اپنی جانوں اور مالوں کو اس کے سپرد کرو۔ وہ وعدہ کرتا ہے کہ تم کو اس تجارت سے بہت فائدہ پہنچے گا اور تم ابدالآباد کی زندگی اور لاانتہا مال پاؤ گے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ یہ وعدہ میں نے کیا ہے اور بالکل حق اور درست کیا ہے یعنی قسمی طور سے ہے اور مؤمنوں کا حق ہے کہ اس سے وہ وعدہ پورا کروائیں اور یہ پہلے اہل توریت سے ہو چکا ہے یعنی موسیٰؑ سے بھی ایک وعدہ ہوا تھا کہ ہم تیری قوم کو فرعون کے ہاتھوں سے نجات دیں گے اور تم کو بڑی ترقی دیں گے۔ چنانچہ جب حضرت موسیٰؑ مبعوث ہوئے ہیں تو اس وقت بنی اسرائیل پر بہت ظلم ہوتے تھے۔ یعنی کل قوم کو آدھا دن اینٹیں بنانی پڑتی تھیں اور وہ اس ملک میں نہایت ذلت سے رہتے تھے مگر جب حضرت موسیٰؑ نے آکر ان لوگوں کو خبر دی کہ اب خدا کا ارادہ تم کو چھڑانے کا ہے اور وہ اب تم کو آزاد کرے گا اور پھر جا کر فرعون کو کہا کہ تو اس قوم کو چھوڑ دے تو اس کا نتیجہ ایسا خطرناک ہوا کہ پہلے تو صرف آدھا دن انہیں کام کرنا پڑتا تھا اب فرعون نے یہ خیال کر کے کہ یہ لوگ آدھا دن جو خالی رہتے ہیں اس میں مختلف خیالات اٹھتے رہتے ہیں اور آزادی کی امنگیں پیدا ہوتی ہیں۔ آؤ ان کو سارے دن کام پر لگائے رکھو۔ حکم دیا کہ آج سے یہ لوگ اینٹیں پکانے کے لئے لکڑیاں بھی خود ہی اکٹھی کیا کریں اور نصف وقت اینٹیں بنائیں اور نصف وقت میں اس کے لئے ایندھن جمع کریں اب یہ ایسا وقت تھا کہ بنی اسرائیل گھبرا گئے اور لگے موسیٰؑ کو برا بھلا کہنے کہ آگے تو پھر بھی کچھ وقت خالی رہتا تھا اس کے آنے سے وہ بھی جاتا رہا اور آگے سے بھی زیادہ مصیبت پڑی مگر کیا خدا کا کلام جھوٹا نکلا؟ نہیں۔ اس کے پورا ہونے کا وقت قریب تھا ہاں یہ واقعہ جو ہوا تو صرف اس وجہ سے کہ تاخدا انہیں بتائے کہ یہ کام جو کچھ ہوا یہ بنی اسرائیل کی کوششوں اور تدبیروں سے نہیں ہوا بلکہ محض خدا کے فضل سے اور اس کے وعدہ کے مطابق ہوا اور اس نے ظاہر کیا کہ جب انسان کچھ نہیں کر سکتا اور بات ناممکن ہو جاتی ہے تو اس وقت میں اسے کر کے دکھا دیتا ہوں۔ پس جب بنی اسرائیل طرح طرح کے عذابوں کی تاب نہ لا سکے اور ان کی چیخ و پکار بڑھ گئی اور انہوں نے آہ و زاری شروع کی تو خدا نے اپنا وعدہ پورا کیا اور ان کو فرعون کے ہاتھوں سے بچایا اور اس کو مع اپنی فوجوں کے سمندر میں غرق کیا اور یہ اس لئے ہوا کہ بنی اسرائیل نے اس کے دکھوں سے تنگ آکر بہت آہ و زاری کی تھی پس خدا نے بنی اسرائیل کے آنسوؤں کو سمندر بنا کر فرعون کو غرق کیا اور وہ فرعون جو حضرت موسیٰؑ سے ہنسی کرتا تھا اسے اپنا جلوہ سمندر کی تہہ میں دکھایا اور بتا دیا کہ خدا جیسا آسمان پر ہے ویسا زمین پر بھی ہے پس تو مکان کیوں بناتا ہے آئیں تجھے قعرِ زمین کی تہہ میں سمندر کی لہروں کے نیچے دکھا دوں۔ پس اس طرح خدا کا وعدہ پورا ہوا اور جو موسیٰؑ سے کہا گیا تھا لفظ بلفظ سچا ثابت ہوا پھر دوسرا وعدہ خدا تعالیٰ نے ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور جب کہ آپؐ بالکل تن تنہا تھے اس وقت آپؐ کو وہ خبر دی جو انسانی عقل اور سمجھ سے بالا تھی۔ یعنی آپؐ کو وعدہ دیا کہ ایک بڑی قوم آپؐ کے ساتھ ہوگی اور آپؐ کا نور کُل دنیا میں پھیل جائے گا اور وہ مکہ جہاں آپؐ بے کسی کی حالت میں رہتے تھے اسی میں آپؐ فاتح ہو کر آئیں گے پس یہ ایسے وعدے تھے جن پر ایمان لانا تو الگ اس وقت کے لوگ حیران ہوتے تھے کہ کیا یہ کسی عقل مند کے منہ سے نکل سکتے ہیں۔ وہ یتیم جو خود محتاج تھا اس کو وعدہ دیا جاتا ہے کہ تیری وجہ سے دنیا کے یتیموں اور بیواؤں کی پرورش ہوگی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور کل دنیا نے ان وعدوں کو پورا ہوتے دیکھ لیا اور اس وقت کروڑوں کی تعداد میں پھیلے ہوئے مسلمان اسی وعدہ کا نتیجہ ہیں پس یہ وعدہ بھی خدا نے بڑے زور و شور سے پورا کیا۔ پھر ایک اور وعدہ تھا جو حضرت عیسیٰؑ سے کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ اس کے متبع اس کے منکروں پر غلبہ پائیں گے اور ایسا غلبہ پائیں گے کہ پھر اس کے مخالف کبھی سر نہ اٹھائیں گے اور ہمیشہ آپؐ کے متبعین کے ماتحت ہی رہیں گے۔ شروع شروع میں یہودیوں نے زور لگایا اور اس خدا کے برگزیدہ کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھا مگر خدا نے دکھا دیا کہ جنہوں نے آپ کے سر پر کانٹے رکھے تھے آخر انہیں کانٹوں کے بستروں پر لوٹنا پڑا اور یہ وہی حضرت عیسیٰؑ والا وعدہ ہے کہ جس کے طفیل ہم اس وقت یہاں جمع ہو گئے ہیں کیونکہ خدا کے فضل سے ہماری گورنمنٹ برطانیہ نے جو ایک عیسائی سلطنت ہے ہمیں مذہبی آزادی دے رکھی ہے اور اگر یہ گورنمنٹ نہ ہوتی تو ہم ایسا نہ کر سکتے۔ غرض ان تین وعدوں کا ذکر خداوند تعالیٰ یہاں فرماتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ تین وعدے ہیں جو میں نے کئے ہیں اور ایسے وقت میں کئے ہیں جبکہ ان کے پورے ہونے کا گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا تو پھر انسان کیوں میرے وعدوں پر شک لاتا ہے۔ دیکھو دنیا میں بار بار یہ نظارہ نظر آیا ہے کہ ایک گداگر کو جب ایک جگہ سے ایک پیسہ بھی مل جائے تو جب وہ اس جگہ سے گذرتا ہے تو صدا دیئے بغیر آگے نہیں بڑھتا کیونکہ اسے امید ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے یہاں سے کچھ نہ کچھ مل ہی رہے گا اور اس کا پچھلا تجربہ اسے ایسا کرنے پر مجبور کرتا ہے تو جب خدا تعالیٰ کے وعدوں کو بار بار پورے ہوتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور کبھی وہ خطا نہیں گئے تو پھر کیوں اس کے وعدہ پر اعتبار نہ کیا جائے اور کیوں ہم اس کے دروازہ پر گرے نہ رہیں۔ دنیا میں ایک انسان وعدہ کرتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آتے ہیں اور اس پر اعتبار کرتے ہیں پھر خدا کے وعدہ پر کیوں شک لائیں۔ انسان کے وعدہ میں تو بہت مشکلات ہیں مثلاً جو شخص جھوٹا وعدہ کرتا ہے یا اب تو اس نے سچے دل سے وعدہ کیا ہے لیکن چند دن کے بعد نیت بدل جائے پھر اگر نیت بھی نہ بدلے تو جن حالات پر اس نے وعدہ کیا تھا وہ حالات بدل جاویں یا وہ خود فوت ہو جائے یا خود وہ چیز جس کا وعدہ تھا جاتی رہے مگر خدا پر تو یہ گمان بھی نہیں ہو سکتا کہ وہ وعدہ کر کے بدل جائے اور یہ بات بالکل ناممکن ہے کہ اس پر کوئی ابتلاء آئے یا جس چیز کو قائم رکھنا چاہئے وہ ضائع ہو جائے پس انسان کے وعدہ پر تو ہم کو شک کی گنجائش ہے۔ اور طبعاً شک ہونا ہی چاہئے۔ مگر خدا کے وعدہ پر تو شک لانا کفر کی نشانی ہے۔ سلطنت کے ایک ادنیٰ ملازم پر ہم یقین کرتے ہیں کہ جو وعدہ اس نے کیا ہے اسے پورا کرے گا۔ پھر خدا کے وعدہ پر ہم کیوں کر تردد کریں وہ ہمیشہ زندہ ہے جس پر کوئی زوال نہیں جس کی قدرتوں کو کوئی روک نہیں سکتا جس کے قبضہ میں کل کائنات ہے اور جس کی حکومت ذرہ ذرہ پر ہے۔ پس چاہئے کہ انسان بجائے کسی انسان سے وعدہ لینے کے خدا سے وہ وعدہ لے جس کے پورا ہونے میں کوئی شک نہیں ہم سے بھی خدا نے اس وقت ایک وعدہ کیا ہے اور اس کا پورا ہونا ہماری کوششوں پر منحصر ہے یہ مت سمجھو کہ یہ کوئی نیا وعدہ ہے۔ نہیں بلکہ وہی ہے جس کی نسبت میں نے ابھی آیت پڑھی ہے کہ حَقًّا فِی التَّوۡرٰٮۃِ وَالۡاِنۡجِیۡلِ وَالۡقُرۡاٰنِ(9:111) یہ وعدہ ہم سے اس بناء پر نہیں کہ ہم مسیحؑ کی وفات کو مان لیں بلکہ خدا نے اپنے رسول یعنی مسیح موعودؑ کی معرفت ہم سے وعدہ کیا ہے کہ اگر اسی جنس کو خریدیں گے جس کو پہلوں نے خریدا تو ہم سے بھی وہی نیک سلوک ہو گا۔ پس چاہئے کہ ہم بجائے اس کے کہ مسیحؑ کی وفات کے متعلق قرآن کی آیتیں اور حدیثیں تلاش کریں اور مسیحؑ کو فوت شدہ ثابت کرنے کی کوشش کریں ہم اپنے نفس کی وفات ثابت کریں اور خدا کی مرضی کے آگے اپنے نفس کو بالکل ہلاک کر دیں کیونکہ اگر مسیحؑ کی وفات ثابت کریں تو دنیا کو کوئی ایسا بڑا فائدہ نہیں پہنچ سکتا ہاں نفس کی وفات ایک ایسی بات ہے کہ جس کے ثابت ہونے کے بعد دنیا میں اصلاح ہو سکتی ہے۔ ہم خدا کے رسول کو مان کر دنیا کے نزدیک تو کافر اور قابلِ نفرت ٹھہر چکے ہیں ایسا نہ ہو کہ خدا کے نزدیک بھی ہم کافر ہی ٹھہریں اس لئے چاہئے کہ ہر وقت خدا سے ڈر کر کام کریں۔ دنیاوی تجارتیں ہم نے اس لئے چھوڑیں کہ ہم دینی تجارت کریں گے اور اس وجہ سے ہمارے مخالف ہم سے اس بات میں بڑھ گئے اب اگر دین کی تجارت میں بھی سستی کریں تو پھر خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ کے مصداق ہو جائیں گے (نعوذ باللہ) ہم نے بیعت کے وقت خدا سے گویا کہ وعدہ کر لیا ہے کہ ہم دنیا کی جنس نہ خریدیں گے بلکہ ہمیشہ دین کی جنس کو مقدم رکھیں گے پس چاہئے کہ ہمیشہ اس کا خیال رہے انسان کوئی چیز خریدتے وقت دو چار اور تجربہ کاروں کو بھی دکھا لیتا ہے کہ آیا اس میں کچھ نقص تو نہیں۔ اسی طرح دینی چیزیں خریدنے کے لئے بھی خدا تعالیٰ نے ایسے تجربہ کار عنایت کئے ہیں کہ جو ہمیں ہر ایک چیز کے حسن و قبح سے آگاہ کر دیتے ہیں اور وہ ہمارے اعضاء ہیں مثلاً ہاتھ پاؤں دل و دماغ آنکھ کان ناک اور زبان وغیرہ جب کوئی کام ہم ایسا کرتے ہیں جو بری جنس سے ہوتا ہے تو فوراً ہمیں یہ اطلاع دیتے ہیں کہ یہ کام عہد کے خلاف ہوا ہے۔ قرآن مجید میں ہے وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ وَنَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِہٖ نَفۡسُہٗ(ق: ۱۷) میرے خیال میں یہ آیت قرآن شریف کی منجانب اللہ ہونے کا ثبوت ہے کیونکہ اس میں خدا تعالیٰ اس بات کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ قرآن شریف کو میں نے بھیجا ہے جو انسان کا پیدا کرنے والا ہوں اور اس کے کل خیالوں اور وسوسوں کو جانتا ہوں اگر یہ کسی اور شخص یا مخلوق کی طرف سے ہوتا تو اس میں انسان کے دلی خیالات کا اظہار کس طرح ہوتا اور چونکہ اس میں انسان کے کل وسوسوں اور خیالوں کے متعلق ہدایتیں اور جواب ہیں اس لئے صاف ثابت ہوا کہ اس کا بھیجنے والا میں ہی ہوں جو مخلوقات کا رب ہوں۔ پس یہ ایک کیسی کھلی بات ہے جو قرآن شریف اپنے منجانب اللہ ہونے کے بارے میں پیش کرتا ہے انسان کے مختلف وسوسوں کو انسان نہیں جانتا پھر قرآن شریف نے کل وساوس کے جواب کیوں کر دیئے اس لئے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے پس یہ آیت قرآن شریف کی سچائی کو ثابت کرتی ہے اس لئے غور کر کے دیکھ لو کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں کوئی نیکی نہیں بتائی جس کو کر کے اعضاء خوش نہ ہوتے ہوں اور کوئی ایسی بدی نہیں بتائی کہ جس کو کر کے اعضاء برا نہ مناتے ہوں اور یہ قرآن شریف کی سچائی کا ایک کامل ثبوت ہے۔ غرضیکہ خدا تعالیٰ نے انسان کو دینی سودا کرنے کے لئے چند تجربہ کار عنایت کئے ہیں جو ہر ایک کام کے وقت بتاتے ہیں کہ یہ نیک ہے یا بد۔
اس کے بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم اس بیع کو کر چکو اور اس کے تمام لوازم کو پورا کر لو تو تم اب اس بیع کے نتیجہ سے خوش ہو جاؤ کیونکہ تم نے وہ کام کیا ہے جس کا نتیجہ بہت ہی نیک ہوگا اور وہ ایک عظیم الشان کامیابی ہوگی پس جب ایک ادنیٰ انسان یا عہدہ دار کی دی ہوئی خوشخبری پر ہم اس قدر خوش ہوتے ہیں کہ جاموں میں پھولے نہیں سماتے تو خدا کی بتائی ہوئی خوش خبری پر ہم کیوں خوش نہ ہوں۔ جانتے ہو کہ خدا کا ایک دن ہزار دن کا ہوتا ہے تو جب وہ ایک چیز کو بڑی کہتا ہے تو نہ معلوم وہ کتنی بڑی ہوگی میرے تو وہم میں بھی نہیں آسکتی۔
اب اس کے بعد خدا نے چند شرطیں بتائی ہیں کہ جو اس بیع میں ضروری ہیں اور جن کے بغیر یہ بیع مکمل نہیں ہو سکتی اول تو یہ کہ انسان ہر وقت اپنے گناہوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگتا رہے کیونکہ انسان بعض دفعہ پاک ہو جاتا ہے اور کبائر گناہوں کا بیج رہ جاتا ہے مگر رفتہ رفتہ اس کے دل پر زنگ لگتا رہتا ہے اور آخر ہلاک ہو جاتا ہے۔ اس کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ ترکیب بتائی ہے کہ توبہ کرتے رہو جو گناہوں کے زنگ کی تلافی ہے اس میں یہ بھی بتایا ہے کہ میں غیر مذاہب کے جھوٹے خداؤں کی طرح ایسا نہیں ہوں کہ کبھی گناہ بخشوں ہی نہیں بلکہ جب کوئی توبہ کرے تو میں گناہ بخش دیتا ہوں غرض کہ انسان کا دل ایک شیشہ کی طرح ہوتا ہے اگر وہ توبہ نہ کرے تو گدلا ہوتا رہتا ہے اور آخر ایک دن ناکارہ ہو جاتا ہے اس موقعہ پر مجھے ایک خواب یاد آگئی ہے وہ بھی سنا دیتا ہوں میں نے ایک دفعہ دیکھا کہ میں اسی طرف منہ کر کے جس طرح اب کھڑا ہوں لیکچر دے رہا ہوں اور اسی طرح اس طرف حضرت خلیفۃ المسیح بیٹھے ہیں اور میں بیان کر رہا ہوں کہ انسان کا دل ایک شیشہ کی طرح ہے اور ایک ایسا شخص جس نے کبھی پہلے آئینہ نہ دیکھا ہو جب وہ اس کے پاس آ کھڑا ہو تو سمجھتا ہے کہ کوئی اور شخص ہے۔ مگر جب وہ اپنی ہر ایک حرکت کے ساتھ اس میں بھی حرکت پاتا ہے تو آخر اس پر کھل جاتا ہے کہ یہ میرا ہی عکس ہے اور وہ اس سے اپنے عیب یا حسن پر آگاہی حاصل کرنے میں کام لیتا ہے اسی طرح خدا نے اپنا جلوہ دکھانے کے لئے انسان کے دل کو پیدا کیا ہے پس جیسا کہ ایک شیشہ میلا ہو جاتا ہے اور کام نہیں دیتا تو اس کا مالک اسے پھینک دیتا ہے اور وہ چور چور ہو جاتا ہے ایسا ہی خدا بھی جب دیکھتا ہے کہ کوئی دل میلا ہو گیا ہے اور اب اس کے جلوہ کو قبول نہیں کرتا تو وہ اسے زور سے پھینک دیتا ہے اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ اس وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ میرے ہاتھ میں ایک شیشہ پکڑا ہوا تھا جسے میں نے ان الفاظ کے ساتھ زور سے زمین پر دے مارا اور کہا کہ اس طرح پھینک دیتا ہے اس کے گرنے سے ایک ہیبت میرے دل پر طاری ہوئی اور میری آنکھ کھل گئی۔ اس کے بعد شرک کا حال مجھ پر اس خواب سے کھلا کہ ایک بزرگ انسان جب اپنے دل کو بہت صاف کرتا ہے اور خدا کا جلوہ اس پر اچھی طرح سے پڑتا ہے تو کم علم لوگ سمجھتے ہیں کہ یہی خدا ہے مگر اصل میں اسے خدا سے کیا نسبت وہ تو اس کا ایک ادنٰی بندہ ہے۔ لیکن چونکہ اس کے دل پر خدا کا عکس پڑتا ہے اس لئے لوگ اسے خدا سمجھ لیتے ہیں اور یہی بھید ہے تمام دیوتاؤں وغیرہ کا۔ خیر یہ تو ایک بات میں بات آگئی اور اس طرح میری خواب بھی پوری ہو گئی اب پھر اصل مقصد کی طرف لوٹتا ہوں اور وہ یہ کہ توبہ کے بعد خدا تعالیٰ نے عبادت کو رکھا ہے۔ یعنی انسان نہ صرف اپنے دل کو صاف کرے اور توبہ سے زنگ کو دور کرتا رہے بلکہ پھر اپنے دل کی صفائی سے بھی کام لے یعنی اپنے دل پر خدا تعالیٰ کے جلوہ کا عکس بھی ڈالتا رہے اور اپنے وقت کا ایک حصہ عبادت میں خرچ کرے۔ عبادت میں یہ حکمت ہے کہ اس سے انسان کا تعلق خدا تعالیٰ سے روز بروز بڑھتا رہتا ہے اور اگر انسان عبادت نہ کرے تو ضرور ہے کہ چند ہی دن میں انسان کا تعلق خدا سے کٹ کر شیطان سے ہو جائے پس خدا تعالیٰ نے عبادت کرنے کی طرف اپنے بندوں کو خاص توجہ دلائی ہے دیکھو تجارت وہ بری ہوتی ہے جو ایک جگہ ٹھہر جائے اور اس کے نفع میں ترقی نہ ہو جب کسی سوداگر سے یہ معاملہ پیش آیا تو سمجھو کہ اس کا کاروبار جلد ہی تباہ ہو جائے گا پس اسی طرح اگر انسان خدا سے تعلق پیدا کر کے آخرت کا نفع نہ جمع کرے تو دینی تجارت بھی جاتی رہے گی اور وہ اس میں گھاٹا کھائے گا پس چاہئے کہ انسان عبادت میں سستی نہ کرے ورنہ سب کیا کرایا غارت ہو گا۔ ہم دنیا میں عبادت کی ایک موٹی سی مثال دیکھتے ہیں کہ بہت سے آدمی اپنی جگہ کے افسر سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب ایک دو منٹ کے لئے اس سے ملاقات نصیب ہوتی ہے تو ان کو حد درجہ کی خوشی ہوتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا مقصد حاصل کر لیا اور گو کہ اس کوشش میں ان کو بہت سی تکلیفیں بھی اٹھانی پڑتی ہیں اور بہت سا روپیہ بھی خرچ کرنا پڑتا ہے مگر
کچھ پرواہ نہیں کرتے۔ پھر بعض دفعہ پہرہ داروں اور اردلیوں کی جھڑکیاں کھاتے ہیں مگر اف تک نہیں کرتے۔ تو جب کسی شخص کو خدائے عزوجل سے جو احکم الحاکمین ہے ملنے کا موقعہ ملے تو وہ کیسا خوش نصیب ہے اور اگر وہ سستی کرے تو اس سے بدتر اور کون ہے۔ دیکھو خدا کسی کو جھڑکیاں نہیں دیتا بلکہ اگر کوئی ایک قدم اس کی طرف جاتا ہے تو وہ اس کی طرف دو قدم چل کر آتا ہے اور اگر کوئی آہستہ چل کر آتا ہے تو وہ تیز آتا ہے اور اگر کوئی تیز چل کر آتا ہے تو وہ دوڑ کر آتا ہے۔ اور یہ بات بھی نہیں کہ اس کے دیدار اور ملاقات کے لئے مہینوں یا برسوں انتظار کرنا پڑے بلکہ ایک دن میں کم سے کم پانچ دفعہ اس نے ہمیں ملاقات کا موقعہ دیا ہے پھر اگر ہم سستی کریں تو یہ ہماری بدبختی ہے (نعوذ باللہ) نہ کہ کچھ اس پر الزام ہے۔ پھر عبادت کے بعد خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حمد اور شکر بھی کرنا چاہئے اور اس کے احسانوں کو ہمیشہ یاد کرتے رہنا چاہئے۔ دیکھو ایک فقیر کو ایک آدمی پیسہ دیتا ہے تو وہ اس قدر ممنون ہوتا ہے کہ اس کو سچے دل سے ہزاروں دعائیں دیتا ہے اور نہایت شکر گزار ہوتا ہے۔ تو پھر خدا تعالیٰ کہ جس نے ہم پر بے پایاں احسان کئے ہماری شکر گزاری کا کس قدر مستحق ہے اور اگر ہم شکر کریں تو اس سے اس کو کچھ فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ خود ہم کو ہی نفع ملتا ہے کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ(ابراہیم: ۸) یعنی اگر تم لوگ میرا شکر کرو گے تو میں تم کو اور بھی دوں گا اور زیادہ سے زیادہ انعام کروں گا پس اس کے شکریہ ادا کرنے میں ہم اس پر کچھ احسان نہیں کرتے بلکہ الٹا خود فائدہ اٹھاتے ہیں اگر ہم ناشکری کریں تو اس کا نقصان بھی خود ہم کو اٹھانا پڑے گا کیونکہ خدا تعالیٰ کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ بنگال گورنمنٹ کے بے شمار احسانات کا کفران کر کے اگر بنگالی برسرِ فساد ہوئے تو انہوں نے بعض انسانی جانیں لے لیں اور ملک کے ایک حصہ میں بے امنی پھیلا دی لیکن خدائی گورنمنٹ سے کوئی شخص مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی شخص ناشکری کرتا ہے تو وہ خود سزا پائے گا اور وہ غم و غصہ سے کس قدر جوش بھی دکھائے تو بھی لاحاصل ہو گا کیونکہ کسی دنیاوی گورنمنٹ کے عہدہ داروں کو تو بم کے گولے کارگر ہو سکتے ہیں مگر الٰہی گورنمنٹ ایسی طاقتور ہے کہ اس کے افسروں پر کوئی ہتھیار اثر نہیں کر سکتا کیونکہ ان کے لئے وَاللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ(المائدہ: ۶۸) کا حکم جاری ہو چکا ہوتا ہے پھر اگر ہم میں سے کوئی گورنمنٹ کی ناشکری کرے تو بوجہ انسان ہونے کے ممکن ہے کہ اس کے عہدہ دار اس واقعہ سے بے خبر رہیں لیکن آسمانی بادشاہت کے بر خلاف کہنے والا تو کبھی بچ ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ کسی طرح بھی اپنے خیالات کو چھپا نہیں سکتا اور چونکہ خدا تعالیٰ مخفی سے مخفی رازوں کو جانتا ہے اس لئے ایسا
شخص ضرور مستوجب سزا ہو گا۔ میں نے شرک کے معاملہ میں بارہا سوچا ہے کہ خدا تعالیٰ بھی بڑا رحیم ہے کہ اول تو خود ہی ہماری آسائش کے سامان بہم پہنچاتا ہے اور ہر قسم کی نعمتیں ہمیں عنایت کرتا ہے پھر ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے اس نے ہمیں اعضاء اور حواس بھی پہلے سے ہی دے رکھے ہیں لیکن اگر کبھی ہمارے منہ سے یہ نکل جاوے کہ خدا کا ہم پر بڑا فضل ہے اور ہم شکر کریں تو وہ اور بھی خوش ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے بندے نے بڑا کام کیا آؤ میں اس پر اور بھی احسان کروں مگر غور کر کے دیکھو تو ہم نے کچھ بھی نہیں کیا سب کچھ اسی کا دیا ہوا تھا دل جس نے شکر کرنے کا خیال کیا اور زبان جس نے شکر کیا یہ بھی تو اسی کی دی ہوئی ہے پھر ہم نے کیا کیا جس کا بدلہ وہ ہمیں دیتا ہے۔ غرضیکہ اس بات کو سوچ کر مجھے بڑی حیرت آتی ہے کہ خدا کیسا رحیم و کریم ہے۔
پھر آگے چل کر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ علاوہ شکر کے تم لوگ میری خاطر اپنی جانوں سے کچھ چھڑاؤ بھی یعنی بعض ایسی چیزیں جو تمہارے لئے جائز بھی ہوں وہ چھوڑ دو تا مجھ سے تعلق اور بھی بڑھے مثلاً اعتکاف کرو کہ اپنی آزادی کو میرے لئے چھوڑ دیا۔ اسی طرح اور بعض بدیوں سے رکو اور پرہیز کرو اس کے بعد فرماتا ہے کہ تم لوگ میرے لئے رکوع و سجود بھی کرو یعنی ہر وقت فرمانبرداری کی طرف توجہ لگائے رکھو۔ اس رکوع و سجود پر مجھے خیال آتا ہے کہ انسان کو بھی خدا نے کیسا ضدین کا تابع پیدا کیا ہے یہی انسان ہے کہ ایک وقت اگر برائی کی طرف جھکتا ہے تو حد درجہ کی شرارتیں کرنے لگتا ہے اور نیکی کی طرف توجہ کرتا ہے تو تب بھی کہیں کا کہیں جا پہنچتا ہے۔ میں نے کتے کو دیکھ کر خیال کیا کہ اس میں دو صفتیں ہیں ایک تو بری اور ایک نیک۔ بری صفت تو حرص ہے۔ نیک صفت وفاداری۔ مگر جب انسان شرارت پر آتا ہے تو کتے کی فرمانبرداری کرتا ہے اور حریص ہو جاتا ہے۔ مگر افسوس ہے اس پر کہ وہ ان کی نیک صفت اختیار نہیں کرتا یعنی اپنے مالک اور آقا کی ذرا بھی وفاداری نہیں کرتا اس صورت میں وہ کتے سے بھی بدتر جمابدتر ہے۔ مگر ساتھ ہی ایسے لوگ بھی ہیں جو کتے سے سبق نہیں لیتے اور فرشتوں سے نصیحت حاصل کرتے ہیں یعنی وہ خدا کے ہر حکم کے آگے فرشتوں کی طرح سجدہ کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں بلکہ فرشتہ سے بھی بڑھ جاتے ہیں اور نہ صرف سجدہ کرتے ہیں بلکہ رکوع بھی کرتے ہیں۔ پس انسان اگر برائی کی طرف لگتا ہے تو کتے سے بھی بدتر ہو جاتا ہے اور اگر نیکی اختیار کرتا ہے تو فرشتوں سے بھی بڑھ جاتا ہے غرضیکہ خدا تعالیٰ نے اس جگہ پر اپنے بندوں کو راستہ بتایا ہے کہ تم لوگ فرشتوں کی پیروی کرو اور پھر ان سے بھی بڑھ جاؤ۔
پھر فرمایا ہے کہ تم لوگ امر بالمعروف کرو یعنی بنی نوع انسان کو ہمیشہ نیک باتوں کی طرف بلاتے رہو۔ دیکھو اگر ایک شخص کے پاس کچھ روپیہ ہو اور وہ اپنے ایک بھائی کو جو سخت مصیبت میں مبتلا ہو وہ نہ دے تو دنیا اسے کس قدر ناپسند کرتی ہے اور اس سے کس قدر نفرت کی جاتی ہے کیونکہ اس کے پاس ایک چیز تھی اور باوجود اس کے اس نے اپنے بھائی کی جو اس چیز کا سخت محتاج تھا مدد نہ کی۔ اس کو تمام لوگ ذلیل سمجھنے لگتے ہیں پس اگر کسی شخص کے پاس روحانی خزانہ ہو یعنی سچا مذہب اس نے پالیا ہو تو کیوں وہ دوسروں کو ہدایت نہ کرے اگر وہ ہدایت نہ کرے گا اور لوگوں کو امر بالمعروف کرنے سے بخل یا سستی کرے گا تو وہ اس دنیاوی بخیل سے کہیں بدتر ہو گا کیونکہ ایک مالدار شخص نے اگر کسی بھائی کی مدد نہ کی تو اس کا اثر صرف چند گھنٹوں یا دنوں یا مہینوں یا سالوں تک ہو گا کیونکہ آخر موت کے بعد اس غریب کو ہر ایک دکھ سے نجات مل جائے گی لیکن اگر کوئی ہدایت پا کر ہدایت نہیں دیتا تو وہ اپنے بھائی کو ابد الآباد تک کے لئے ہلاک کرنا چاہتا ہے پس یہ اس دنیاوی بخیل سے کہیں بڑھ کر ہے پس انسان کو چاہئے کہ ہر وقت امر بالمعروف کرتا رہے اور جو ہدایت کا خزانہ اس کے پاس ہے اس سے اپنے بھائیوں کو محروم نہ رکھے ورنہ اس کا نام خدا کے حضور بخیلوں میں لکھا جائے گا اور جب دنیاوی مال کے بخیل کے لئے خدا فرماتا ہے کہ وہ کبھی ہدایت نہیں پا سکتا تو جانتے ہو روحانی مال کا بخیل کس قدر عذاب کا مستوجب ہو گا۔ یاد رکھو کہ دنیاوی بخیل بچ سکتا ہے مگر روحانی بخیل کے دل پر جب مہر لگائی جاتی ہے تو وہ نہیں ٹوٹا کرتی۔
پھر خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ حدود الٰہیہ کی حفاظت کرو یعنی گناہوں سے بچو اور نیکیوں کو بھی اس حد تک کرو جہاں تک حکم ہے ایسا نہ ہو کہ بے موقعہ عبادت کر بیٹھو کیونکہ وہ بھی ہلاکت کا ذریعہ ہے دیکھو نماز کیسی ثواب کی چیز ہے لیکن اگر کوئی شخص جان بوجھ کر سورج چڑھتے ہوئے نماز پڑھتا ہے تو وہ نماز اس کے لئے ہلاکت ہو جائے گی اور روزہ کس قدر نیکی ہے لیکن اگر کوئی شخص ارادۃً عید کے دن روزہ رکھتا ہے تو وہی روزہ اس کے لئے تباہی کا باعث ہو گا پس معلوم ہوا کہ ہر ایک کام اپنے وقت پر اچھا ہوتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے بتلایا ہے کہ نیکی ہو یا بدی ہو حدود اللہ کا لحاظ ضرور رکھو کیونکہ انسان کا اصل مقصد تو خدا تعالیٰ کی خوشی ہے۔ نماز روزہ اگر یہی عبادتیں کسی اور طرح پر ہوتیں تو خدا کو خوش کرنے کے لئے انسان اسی طرح کرتا پس چونکہ خدا تعالیٰ ہی مقصود بالذات ہے اس لئے اس کی مقرر کردہ حدود سے آگے بڑھنا نہیں چاہئے۔
آخر میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کسی انسان نے اس پر عمل کیا اور دینی تجارت کے عہد نامہ پر ثابت قدم رہا تو ایسے شخص کو جو ایک بااخلاص مؤمن کا درجہ پا چکا ہے بشارت دو۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک معمولی افسر اگر کسی کو اس کی کامیابی کی بشارت دے تو وہ پھولا نہیں سماتا۔ تو جس کو خدا بشارت دے وہ کیسا خوش قسمت ہے اور کس طرح غمگین ہو سکتا ہے۔ اگر انسان خدا کو غفّار و ستّار اور وعدوں کا پورا کرنے والا مان کر پھر بھی غم کھائے تو یہ اس کی بڑی سخت نادانی ہے کیا اسے یقین نہیں کہ خدا تعالیٰ نے اس سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ صبر کرے گا اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(2:157) پڑھے گا تو اسے نعم البدل عنایت ہو گا پس مؤمن انسان کو کوئی غم نہیں پہنچتا وہ دکھوں میں خوش اور غموں میں فرحان و شادان رہتا ہے۔ یہ تمام چیزیں جو ہمارے پاس ہیں یہ سب خدا کی امانتیں ہیں بلکہ ہم خود بھی اسی کے ہیں پس اگر وہ کسی وقت مصلحت سے ایک امانت ہم سے واپس لیتا ہے تو ہم کیوں اس پر رنج کریں۔ امانت کی واپسی پر جو شخص افسوس کرتا واویلا اور شور مچاتا اور چلاتا ہے اس کو کل دنیا پاگل کہتی ہے پس اگر خدا نے ہم سے کوئی امانت لے لی اور ہم شور و غل کریں تو ہمارے پاگل ہونے میں کیا شک ہے اور ایسا کرنا مؤمن کی شان سے بالکل بعید ہے۔ دیکھو کہ خدا اپنے بندوں پر کیسا مہربان ہے وہ کبھی کسی پر ظلم نہیں کرتا جو شخص اس کے کسی فعل پر نالاں ہوتا ہے تو وہ نعوذ باللہ اسے ظالم سمجھتا ہے مگر خدا ظالم نہیں۔ ہم اپنے آپ کو ہی دیکھتے ہیں کہ اس کا ایک نبیؐ ہم میں آیا اور اپنا کام کر کے ہم سے جدا ہو گیا یہ ایک ایسا صدمہ ہے جو دنیا میں سب سے بڑھ کر ہے مگر کیا خدا نے اس پر ظلم کیا کبھی نہیں بلکہ جب اس نے مصلحت وقت یہی دیکھی کہ اسے واپس بلائے تو ساتھ ہی اس نے ہماری تسلی کے لئے قدرتِ ثانی کا وعدہ کر دیا کہ اس کے جانے کے بعد میں تمہیں اپنی قدرت کا دوسرا ظہور دکھلاؤں گا پس اس طرح اس نے حضرت مسیح موعودؑ کی پیدائش اور وفات دونوں کو مبارک کر کے دکھلا دیا۔ اب میں لیکچر ختم کرتا ہوں اور قرآن شریف کی آیات سے وہ طریق بتا چکا ہوں کہ ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں۔
وَ اٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
والسلام مرزا محمود احمد
(دسمبر ۱۹۰۹ء)
(پادری میکلین کے لیکچر کا جواب)
از
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد
نحمده و نصلی علیٰ رسوله الکریم بسم الله الرحمن الرحیم
۴؍دسمبر ۱۹۰۹ء کو پادری میکلین صاحب نے مشن کالج لاہور کے کمپاؤنڈ میں ایک لیکچر اس بات پر دیا تھا کہ نجات کیا ہے اور کس طرح حاصل ہو سکتی ہے اس لیکچر میں آپ نے گو وہی باتیں دہرائی ہیں جو ایک مدت سے مسیحی صاحبان فرما رہے ہیں اور جن کا جواب سالہا سال سے دیا جا رہا ہے مگر اس خیال سے کہ مسیحی لیکچروں کو سننے کے بعد اگر لوگوں کو ساتھ ہی مسیحی نجات کی اصل حقیقت بھی معلوم ہو جائے تو شاید کسی نیک فطرت کو فائدہ پہنچے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ کے لیکچر کے جواب میں ایک مختصر سا مضمون لکھ کر ظاہر کروں کہ وہ نجات جو پادری صاحب نے بیان فرمائی ہے وہ اصل میں نجات ہے یا نہیں۔ پہلے اس کے کہ میں مسیحی نجات پر کچھ لکھوں گناہ کی تعریف اور جو کچھ اس کی نسبت قرآن شریف بلکہ توریت نے بھی بتایا ہے مختصراً بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔
یاد رہے کہ نجات کا سب دارو مدار تقویٰ اور طہارت پر ہی ہے اگر کوئی شخص گناہوں سے بالکل پاک ہو جائے تو وہ نجات پا گیا اور جو گناہوں کے پھندے میں پھنس گیا اور شیطانی تصرف میں آ گیا وہ ہلاک ہو گیا۔ پس ہم دیکھتے ہیں کہ گناہ کیا ہے یاد رہے کہ گناہ نام ہے ان خداداد طاقتوں کے غیر محل استعمال کرنے کا جو کہ خدائے تعالیٰ نے انسان کو عنایت فرمائی ہیں مثلاً انسان کو بہادری عنایت ہوئی ہے اگر کوئی شخص اس کو اس کے محل پر استعمال نہ کرے اور غیر محل اور نا جائز استعمال شروع کر دے تو اس کا نام ظلم ہو جائے گا اور وہ گناہ کہلائے گا۔ یا ایک شخص کو دولت دی گئی ہے اور وہ اس کو نا جائز طور سے استعمال کرتا ہے تو وہ مسرف کہلا کر گناہ گار ٹھہرے گا اور جس کو عقل اور دانائی دی گئی ہو وہ اسے غیر محل استعمال کر کے فریب و دغا کرے تو وہ گناہ گار کہلائے گا اسی طرح اعضائے انسانی میں زبان کو، آنکھوں کو، کانوں کو، ناک کو، ہاتھوں کو، پاؤں کو غرضیکہ ہر ایک عضو کو غیر محل استعمال کرنے والا گناہ گار ہے اور خدا کے حضور میں قصور وار۔ اور وہ جو میانہ رو ہے اور صراط مستقیم سے ادھر ادھر نہیں ہوتا وہ متقی اور پرہیز گار ہے۔ پس گناہ اسی کا نام ہے کہ انسان اعتدال کو چھوڑ دے اور اپنے فرائض منصبی میں کمی کرنے لگ جائے یا زیادتی شروع کر دے مثلاً انسان کو شہوانی قویٰ عنایت کئے گئے ہیں کوئی شخص انہیں اعتداء کرتا ہے اور عدل پر قائم نہیں رہتا اور ان قویٰ کو اپنے موقعہ اور محل پر استعمال نہیں کرتا اور بیوی کو چھوڑ کر غیر عورت پر استعمال کرتا ہے تو ایسا شخص چونکہ اعتدال کو ہاتھ سے دے بیٹھا اس لئے گناہ گار کہلائے گا اور خدا کے حضور میں مجرم سمجھا جائے گا لیکن جو اس قوت کو بر محل اور با موقعہ استعمال میں لاتا ہے وہ متقی ہے اور وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ لِفُرُوۡجِہِمۡ حٰفِظُوۡنَ(المؤمنون: ۶) کے گروہ میں شامل ہے غرض کہ اسی طرح کل گناہوں کو دیکھ لو کہ نیک صفات کو اعتدال سے استعمال نہ کرنے سے ہی پیدا ہوتے ہیں ورنہ اصل میں گناہوں کا وجود نہیں۔
پس مشاہدہ ہم کو یہ بات بتاتا ہے کہ گناہ صرف صراط مستقیم کو چھوڑنے کا نام ہے چنانچہ سورۃ فاتحہ میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ(1:6-7) یعنی متقیوں کی راہ وہ ہے جو سیدھی ہو اور اعتدال سے ہو اور وہ لوگ جو تقویٰ سیکھنا چاہیں انہیں چاہئے کہ دعا مانگیں کہ انہیں بھی ان لوگوں کی پیروی کی توفیق ملے اور ایسا نہ ہو کہ وہ یہودیوں کی طرح ہو جائیں کہ جنہوں نے مسیح اور آنحضرت ﷺ کے نہ ماننے سے انبیاء اللہ کی تعظیم میں کمی کی اور سبت میں اعتداء کیا اور اسی طرح مسیحیوں کی پیروی نہ اختیار کریں کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ اور خود اپنی شریعت کو نہ مان کر تفریط سے کام لیا اور مسیح کی محبت میں حد سے زیادہ غلو کیا اور دوسرے بتایا کہ ایسا نہ ہو کہ تم کسی سے بے جا عداوت کر بیٹھو یا علم صحیح اور علم الٰہی جو تم کو انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ ملا ہے کی خلاف ورزی کرو اور مغضوب بن جاؤ یا کسی سے زیادہ اور بے جا محبت کر کے اور ان علوم الٰہیہ کے خلاف جن کو انبیاءؑ لائے چل کر ان سے محروم رہ جاؤ اور ضلال میں پڑ جاؤ۔
پس اس سورۃ میں خدائے تعالیٰ نے گناہ کی کیفیت کھول کر بیان فرمادی ہے کہ وہ اصل چیز کیا ہے غرض کہ نیکی اصل اور صراط مستقیم ہوتی ہے اور بدی صراط مستقیم سے ادھر ادھر ہونے کو کہتے ہیں چنانچہ انسان میں جو اصل چیز پیدا کی گئی ہے وہ حسن ہے چنانچہ قرآن شریف میں ہے کہ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ(التین: ۵) اور پھر اس طرح خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ قُلۡ اِنَّنِیۡ(6:162) ہَدٰٮنِیۡ رَبِّیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ۬ۚ دِیۡنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا(سورۃ انعام: ۱۶۲) یعنی کہہ دے کہ خدائے تعالیٰ نے مجھ کو صراطِ مستقیم کی ہدایت کی ہے جو کہ استوار اور بے کجی کی ہے اور ابراہیمؑ کا طریقہ ہے جو اعتدال پر قائم رہنے والا انسان تھا پھر خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا غَیۡرَ ذِیۡ عِوَجٍ لَّعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ(الزمر: ۲۹) اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰی عَبۡدِہِ الۡکِتٰبَ وَلَمۡ یَجۡعَلۡ لَّہٗ عِوَجًا(سورۃ کہف: ۲) اور پھر سورہ فرقان میں فرماتا ہے وَعِبَادُ الرَّحۡمٰنِ الَّذِیۡنَ یَمۡشُوۡنَ عَلَی الۡاَرۡضِ ہَوۡنًا وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الۡجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا(الفرقان: ۶۴) یعنی ہمارے پاک بندے وہی ہیں کہ جو اپنی ایام زندگی کو جو کہ ان کو وَلَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰی حِیۡنٍ(البقرہ: ۳۷) کے حکم کے مطابق اس زمین پر گزارنے پڑتے ہیں اعتدال کے ساتھ گزارتے ہیں اور ان کی زندگی سکینت اور وقار کے ساتھ ہوتی ہے نہ تو تیزی سے کام لیتے ہیں اور نہ کمال سستی کو برتتے ہیں بلکہ تمام عمر فتنوں اور فسادوں سے بچتے رہتے ہیں اور اگر کوئی شریر جاہل ان سے بات کرتے ہیں اور جھگڑا برپا کرنا چاہتے ہیں تو وہ درگذر کر جاتے ہیں۔
غرض کہ اول تو میں نے عقلاً ثابت کیا ہے کہ گناہ اصل میں راہِ راست سے ادھر ادھر پھر جانے کا نام ہے اور پھر قرآن شریف کا مذہب بیان کیا ہے کہ قرآن شریف نے اس مسئلہ کو خوب حل کیا ہے چنانچہ ان آیات کے علاوہ جو میں اوپر درج کر آیا ہوں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ قرآن شریف نے جس قدر الفاظ گناہ کیلئے استعمال کئے ہیں وہ لغت عرب میں یا تو زیادتی کے یا کمی کے معنی دیتے ہیں چنانچہ اثم کے معنوں میں کمی مفہوم ہے جیسا کہ آثمہ عربی میں اس اونٹنی کو کہتے ہیں کہ جو سست چلتی ہو اور پھر جناح بھی جھک جانے اور اعتدال کو چھوڑ دینے کو کہتے ہیں اسی طرح ذنب زیادتی کے معنے دیتا ہے اور پھر اعتداء اور عصیان اور افراط وغیرہ سب الفاظ زیادتی اور شدت کے معنے دیتے ہیں پس صاف معلوم ہوتا ہے کہ جیسا کہ عقل انسانی چاہتی ہے قرآن شریف نے بھی گناہ کو راہِ راست سے بڑھ جانے یا پیچھے رہ جانے سے تعبیر کیا ہے اور اصل پیدائش انسان کی نیکی اور تقویٰ پر رکھی ہے پس اب ہم پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا کہ خدا نے گناہ کیوں پیدا کیا کیونکہ خدائے تعالیٰ نے انسان کو چند صفات حسنہ ودیعت کر کے اسے ایک حد تک مقدرت دے دی کہ ان پر عمل کر کے مدارج ترقی حاصل کرے اب یہ اسکا اپنا قصور ہے کہ ان کے پورا کرنے میں کوتاہی کرے یا اعتداء کرے۔
غور کر کے دیکھ لو چونکہ انسان میں اصل میں نیکی کا مادہ ہے اس لئے زیادہ تر کام اس کی نیکی کے ہوتے ہیں مثلاً ایک شخص جس کو جھوٹا کہا جاتا ہے وہ دن بھر میں سینکڑوں تو سچ بولتا ہے ہاں ایک دو جھوٹ بھی بول لیتا ہے اور ان ایک دو جھوٹوں کی وجہ سے وہ جھوٹا کہلاتا ہے اور یہ اس لئے کہ اس نے قانون فطرت کو توڑ دیا اور اصل راہ سے پھر گیا اس لئے جب انسان سچ بولتا ہے تو لوگ حیران نہیں ہوتے اور وہ ایک معمولی بات سمجھی جاتی ہے مگر جب کوئی جھوٹ بولے تو سب کے سب اسکی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں کہ یہ کیا بکواس کرتا ہے۔
چنانچہ ہمارے آنحضرت ﷺ نے اس مسئلہ کو کیا خوب ادا کیا ہے اَللّٰھُمَّ نَقِّنِیْ مِنْ خَطَايَایَ کَمَا يُنَقَّی الثَّوْبُ الْاَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ جس سے معلوم ہوا کہ اصل میں انسانی دل سفید کپڑے کی طرح ہے اور پھر قرآن شریف میں بھی خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فِطۡرَتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا(الروم: ۳۱) یعنی انسان کے خصائل اور ثنایا خدائے تعالیٰ کے اخلاق پر پیدا کئے گئے ہیں اور یہ بات بدیہی ہے جیسا کہ میں پچھلی مثال میں ثابت کر آیا ہوں کہ اصل نیکی ہے بدی صرف اعتداء کا نام ہے۔ جیسے کہ آنکھ دیکھنے کیلئے دی گئی ہے اور دیگر فوائد کیلئے عنایت کی گئی ہے اس کو بد نظری کے کام میں لانا یا کانوں کو غیبت کے سننے پر لگانا یا زبان سے بدگوئی کرنا۔ پس میں نے پوری طرح سے ثابت کر دیا ہے کہ بدی اعتداء ہے۔
اب یہ ضرورت پڑے گی کہ یہ بات کس طرح معلوم ہو گی کہ صراطِ مستقیم کیا ہے اور کونسا ہے سو اول تو خود فطرت انسانی انسان کو اس کا پتہ دیتی ہے اور دوسرے اس کے پہچاننے کے لئے یہ سب سے عمدہ معیار ہے کہ جس قدر باتیں انسان کے دل میں تعظیم الٰہی پیدا کریں اور اس کو مخلوق کی شفقت پر مائل کریں اور فساد سے اس کا دل پھیر دیں تو وہ تو صراطِ مستقیم ہیں اور جو اس کے برخلاف ہوں وہ سب گناہ اور بدیاں ہیں اور انہی احکام کے اظہار کے لئے شریعتیں آتی ہیں تاکہ خدائے تعالیٰ انسان کو اپنی رضاء کے تمام احکام بتا دے اور وہ باخبر ہو جائے کہ کونسی راہیں کمی کی اور کونسی زیادتی کی ہیں اور کونسی كَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا(الفرقان: ۶۸) کی راہیں ہیں
پس معلوم ہوا کہ انسانی اعمال کو ٹھیک کرنے والی شریعت ہی ہے کیونکہ وہ انسان کو ان راہوں سے واقف کرتی ہے کہ جو مستقیم ہوتی ہیں کیونکہ انسان کو معرفت ہی ایک کام کے کرنے پر تیار کرتی ہے اور وہی دوسرے کام سے روکتی ہے مثلاً ایک شخص کو جب علم کی معرفت حاصل ہو اور وہ اس کے فوائد پر آگاہ ہو جائے تو خود بخود اس کے پڑھنے کی طرف مائل ہو جاتا ہے چنانچہ جس قدر کوئی کسی نیک چیز کا عرفان حاصل کرے اسی قدر اس کی طرف زیادہ جھکتا ہے اور جس قدر کسی بد چیز کا عرفان حاصل ہو اسی قدر بچتا ہے چنانچہ جس کو اچھی طرح سے زہر کے خواص پر واقفیت ہو وہ زہر کا پیالہ کبھی نہ پیئے گا اور جو آگ کی طاقت سے واقف ہو وہ کبھی اس میں ہاتھ نہیں ڈالے گا اور یہ جانتے ہوئے کہ اس بل میں سانپ ہے اور سانپ کے کاٹنے سے کیا نقصان ہوتا ہے کوئی اس بل میں ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ کرے گا پس اصل چیز جو گناہوں سے انسان کو روک سکتی ہے وہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور فضل کا جاذب ایمان ہے اور جیسے ایمان بڑھے گا ویسے ہی اعمال ہوں گے اور ایمان شریعت کو چاہتا ہے بے علم انسان کیلئے کوئی لاکھ اپنا سر پھوڑے یا کسی اور کو زہر دے دے لیکن اگر وہ آگ میں ہاتھ ڈالتا ہے تو وہ جلے گا اور اگر پہاڑ سے بے سامان کودتا ہے تو ہڈی پسلی تڑوائے گا۔
پس چونکہ گناہ سے نجات ہی اصل نجات ہے جیسا کہ خود پادری میکلین صاحب نے اپنے لیکچر میں بیان کیا ہے اس لئے معلوم ہوا کہ اصل ذریعہ نجات کا فضل ہے اور اس کا جاذب ایمان اور اعمال تو ایمان کے ثمرات ہوں گے اور شریعتِ کاملہ کے بغیر کوئی چیز نجات کے لئے کافی نہیں ہو سکتی کیونکہ علمِ تام سے ہی انسان نیکی کرتا اور گناہ سے بچتا ہے یعنی راہِ راست سے ادھر ادھر نہیں ہوتا پس جب فضل کے ساتھ علمِ تام ہو اور صراطِ مستقیم سے کامل واقفیت ہو تو ایسا انسان گناہوں سے بچ گیا اور ناجی ہوا کیونکہ عرفانِ کامل کے بعد گناہ سرزد نہیں ہو سکتا اور اس بات کو ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی لیا ہے جبکہ فرمایا کہ اگر تم کو وہ علم ہو جو کہ مجھ کو حاصل ہے تو تم ہنسو کم اور روؤ زیادہ یعنی علمِ تام کے بعد انسان گناہوں سے بچ جاتا ہے۔
چنانچہ برخلاف پادری میکلین کے جو کہ کہتے ہیں کہ کوئی آدمی دنیا میں نیک نہیں ہوا اور نہ کسی نے دعویٰ کیا۔ ہمارا ہادی فرماتا ہے قُلۡ اِنَّنِیۡ ہَدٰٮنِیۡ رَبِّیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ(الانعام: ۱۶۲) بلکہ آپؐ کے اتباع کرامؓ کی نسبت ارشاد ہے وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡہُ(التوبہ: ۱۰۰) پھر بدری صحابیوںؓ کی نسبت آیا ہے کہ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ(حم السجدة: ۴۱) یعنی اب تم اس قدر عرفان حاصل کر چکے ہو کہ اب تمہارا ہر ایک کام نیکی ہی ہو گا اور بدی سے تم بالکل محفوظ ہو گئے ہو اور تمہارے ذرہ ذرہ میں صراطِ مستقیم کی شناخت سرایت کر گئی ہے پس تمہارے ہر ایک کام میں اب نیکی ہی نیکی ہوگی۔ اسی طرح مذہبِ اسلام کا دعویٰ ہے کہ کل انبیاء بالکل پاک اور نیک تھے چنانچہ ہمارے آنحضرت ﷺ تو عام دنیا کو للکار کر فرماتے ہیں کہ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا(یونس: ۱۷) یعنی میں تم میں ایک عمر بسر کر چکا ہوں کیا تم نے مجھ میں کچھ گناہ دیکھا ہے کہ اب مجھ کو جھوٹا سمجھتے ہو چنانچہ کسی سے جواب نہ بن آیا۔ اسی طرح امت محمدیہ میں سینکڑوں نہیں ہزاروں اس قسم کے لوگ پیدا ہوئے ہیں اور اس وقت بھی ہیں چنانچہ ابھی ایک شخص نے خدا کی طرف سے مامور ہو کر ساری دنیا کو پکارا کہ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا(10:17) لیکن کوئی مقابلہ نہ کر سکا غرض کہ اسلام کا دعویٰ ہے کہ میں نہ صرف پاک اور ناجی لوگ ہی پیدا کرتا ہوں بلکہ ایسے لوگ بھی میری اتباع سے پیدا ہوتے ہیں کہ جو انبیاء کا درجہ رکھتے ہیں اور الہام الٰہی سے مشرف ہوتے ہیں پس باوجود اس دعویٰ کے پادری صاحب کا کیا حق ہے کہ وہ کہیں کہ کوئی نہیں جو اپنے آپ کو شریعت پر چل کر گناہوں سے پاک قرار دیتا ہو حالانکہ مسلمانوں میں ایسے لوگ ہو گزرے ہیں اور ہر زمانہ میں آتے ہیں۔
اور پھر پادری صاحبان کا کہنا کہ خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں آدمؑ کی نسبت بھول کا لفظ استعمال کیا ہے اس میں کیا حرج ہے۔ کاش کہ آپ اتنا سمجھتے کہ گناہ اور نسیان میں بڑا فرق ہے۔ پھر آپ نے فرمایا ہے کہ قرآن شریف میں ہے کہ انسان میں عزم نہیں ہے افسوس اگر آپ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ(آل عمران: ۱۶۰) کو دیکھتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ وہ بدوں کی نسبت ہے نیک لوگ بڑے عزم والے ہوتے ہیں۔ پھر یہ کہنا بھی غلط ہے کہ انسان بے صبر پیدا کیا گیا ہے کیونکہ دوسری طرف بَشِّرِ الصَّابِرِيْنَ بھی تو قرآن شریف میں ہے کہ تیرے پیروؤں میں ایک گروہ صابرین کا ہے۔ پھر سورۃ اعراف میں ہے کہ وَتَمَّتۡ کَلِمَتُ رَبِّکَ الۡحُسۡنٰی عَلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ۙ بِمَا صَبَرُوۡا(الاعراف: ۱۳۸) مؤمنون میں ہے کہ جَزَیۡتُہُمُ الۡیَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا(المؤمنون: ۱۱۲) فرقان میں ہے کہ اُولٰٓئِکَ یُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَۃَ بِمَا صَبَرُوۡا(الفرقان: ۷۶) قصص میں ہے کہ یُؤۡتَوۡنَ اَجۡرَہُمۡ مَّرَّتَیۡنِ بِمَا صَبَرُوۡا(القصص: ۵۵) باوجود اس قدر شہادتوں کے پھر کہنا کہ انسان بے صبر پیدا کیا گیا ہے نا انصافی نہیں تو اور کیا ہے؟ یہاں بھی نیکوں اور بدوں کی ہی تفریق ہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ قرآن شریف میں انسان کو ظلم پیشہ اور جاہل قرار دیا ہے مگر آپ کی نظر وہاں نہ پڑی جہاں کہ خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ فِی السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ وَالۡکٰظِمِیۡنَ الۡغَیۡظَ(3:135) وَالۡعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِ ؕ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ(ال عمران: ۱۳۵)۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ قرآن شریف میں آیا ہے کہ انسان ٹوٹے میں ہے مگر ساتھ ہی آپ نے یہ نہ دیکھا کہ اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ ۬ۙ وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ(العصر: ۴)۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ قرآن شریف میں ہے کہ انسان کا دل وسوسہ پیدا کرتا ہے یہ بالکل غلط ہے ثبوت دو اور پھر یہ نہ دیکھا کہ اَلۡیَوۡمَ یَئِسَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ دِیۡنِکُمۡ(المائدہ: ۴) اور پھر ایک جماعت کے لئے رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡہُ(98:9) بھی قرآن شریف میں ہے اور پھر شیطان کی نسبت فرماتا ہے کہ اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌ ؕ وَکَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیۡلًا(بنی اسرائیل: ۶۶) یعنی نفسانی وساوس انہی لوگوں کے دلوں میں اٹھتے ہیں کہ جو گندے اور حق سے دور ہوں نیک لوگ اس سے بالکل پاک ہوتے ہیں پس اسلام نے ہرگز انسان کو گناہوں کا پتلا قرار نہیں دیا بلکہ ایک پاک مخلوق جو کہ جب راہِ راست سے پھر جاتی ہے تو ناپاک ہو جاتی ہے اس طرح مسیح صاحبان کا وہ اعتقاد بھی برباد ہو جاتا ہے کہ گناہ انسان کو ورثہ میں ملا ہے۔
پھر پادری صاحب کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ چونکہ ہم کو گناہ سے نفرت ہے اس لئے اس کی سزا ضرور ملنی چاہئے اور چونکہ سزا نہ دینے سے عدل میں فرق آتا ہے اس لئے اس کی سزا ضرور دینی چاہئے ۔ یاد رہے کہ انسانی فطرت بخشش کو زیادہ چاہتی ہے جیسے کہ ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ بنی نوع انسان ایک دوسرے کے قصوروں کو بخوشی بخش دیتے ہیں اور لاکھوں خطاؤں پر چشم پوشی کر دیتے ہیں پس اگر خدائے تعالیٰ ہر ایک ذرہ ذرہ سے گناہ کو پکڑے تو بڑا اعتراض آئے گا کہ بڑا سخت اور ظالم ہے کیونکہ دنیا میں بھی گناہوں پر چشم پوشی نہ کرنے والے لوگ ظالم ہی سمجھے جاتے ہیں ورنہ کسی کو حد سے زیادہ تکلیف دینے والے لوگ تو کم ہی ہوتے ہیں اور خدائے تعالیٰ پر یہ بھی اعتراض آئے گا کہ کیسا سخت گیر ہے کہ عدل کی صفت پر تو چلتا ہے کہ میرے بندوں میں ہے تو مجھ میں کیوں نہ ہو مگر جو رحم اور بخشش کی صفت ہے اس سے بکلی محروم ہے تو ایسا خدا گویا اپنی پیدا کردہ مخلوق تباہ کر کے خوش ہوتا ہے۔ اسلام اس کے برخلاف بتاتا ہے کہ اَوۡ یُوۡبِقۡہُنَّ بِمَا کَسَبُوۡا وَیَعۡفُ عَنۡ کَثِیۡرٍ(الشوریٰ: ۳۵) یعنی خدائے تعالیٰ چاہے تو گناہ گاروں کو ہلاک کر دے مگر وہ اکثر معاف کر دیتا ہے۔
علاوہ ازیں اگر عدل صفت مانا جائے گا تو پھر مسیحیوں کا مذہب برباد ہو جائے گا سنئے یسوع عدل کی مٹی خراب کرتا ہے متی باب ۵ آیت ۳۸ تا ۴۱ میں ہے کہ ”تم سُن چکے ہو کہ کہا گیا آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت پر میں تمہیں کہتا ہوں کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو تیرے دہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اسکے آگے پھیر دے اور اگر کوئی چاہے کہ تجھ پر نالش کر کے تیری قبالے کُرتے کو بھی اسے لینے دے اور جو تجھے ایک کوس بیگار لے جاوے اس کے ساتھ دو کوس چلا جا“ اب فرمائیے کہ عدل کہاں رہا۔ توریت نے تو عدل کی تعلیم دی تھی مگر یسوع نے اسکو ایسا تباہ کیا کہ عدل کا نام و نشان ہی نہ چھوڑا اب بتائیے کہ اگر یہ تعلیم اچھی ہے تو بقول آپ کے کیا وہ نیکی جو انسان میں ہے وہ خدا میں نہیں اور اگر بری ہے تو مسیحی مذہب کا تب بھی خاتمہ ہے پس سچی بات وہی ہے کہ جو اسلام نے بتائی ہے۔
وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا ۚ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ(الشوریٰ: ۴۱) یعنی تکلیف کا بدلہ اتنی ہی تکلیف ہے مگر جو بخش دے اور ایسی بخشش کرے کہ اس سے اصلاح ہو تو اس کو خدا تعالیٰ اعلیٰ اجر دے گا۔ مگر یہ بھی یاد رہے کہ خدا تعالیٰ ظالمین کو پسند نہیں کرتا یعنی نہ اس کو جس نے ظلم کیا نہ اس کو جس نے باوجود اس کے کہ رحم میں اصلاح ہوتی تھی رحم نہ کیا اور نہ اس کو کہ جس نے ایسے موقعہ پر رحم کیا کہ وہ صریح طور سے فساد پیدا کرنے والا تھا پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَمَنۡ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ(الشوریٰ: ۴۴) یعنی جو اصلاح کے لئے صبر کرے اور چشم پوشی سے کام لے اس نے بڑا عظیم الشان کام کیا اس سے پادری صاحب کا پہلا اعتراض بھی اٹھ جاتا ہے کہ مخلوق میں عزم نہیں خدا تعالیٰ نے تو عزم پیدا کرنے کی ترکیب بھی بتا دی کہ صبر اور چشم پوشی سے کام لو تو عزم کی صفت تم میں پیدا ہو جائے گی۔ غرض کہ انسان میں عدل ادنیٰ درجہ کی صفت ہے اور رحم اس سے اعلیٰ۔ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ مالک قرار دیا گیا ہے پس مالک مختار ہے کہ جس کو چاہے چھوڑ دے ہاں بے گناہ کو وہ نہیں پکڑتا کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ(ق: ۳۰) یعنی میں اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
اور یہ کہنا کہ گورنمنٹ رحم نہیں کرتی اس لئے خدا بھی نہیں کرے گا ٹھیک نہیں کیونکہ کسی گورنمنٹ کا کام حجت نہیں ہو سکتا ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی فطرت ایسا چاہتی ہے اور بقول آپ کے جو نیک صفت ہم میں ہو وہ خدا تعالیٰ میں بدرجہ کمال ہونی چاہئے۔ علاوہ اس کے یہ بات ہے کہ گورنمنٹ کے کام کا اثر ایک ملک پر پڑتا ہے ممکن ہے کہ ذرا سی غلطی میں کوئی تباہی آجاوے اور دوسرے گورنمنٹ دلوں کی واقف نہیں کہ یہ شخص سچی توبہ کرتا ہے کہ نہیں تیسرے گورنمنٹ انسانی اجسام اور ارواح کی مالک نہیں ہوتی کہ سب گناہوں پر چشم پوشی کی اس کو طاقت ہو جیسے کہ اسلام میں ایک قاتل کو گورنمنٹ معاف نہیں کرسکتی ہاں مقتول کے وارث کر سکتے ہیں آخر میں یہ بات عرض کروں گا کہ یہ بھی جھوٹ ہے کہ گورنمنٹ معاف نہیں کرتی گورنمنٹ کرتی ہے اور سینکڑوں کو کرتی ہے کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ایسے صدہا واقعات ہوئے ہیں کہ اگر ججوں نے معاف نہیں کیا تو صوبہ کے گورنر یا خود وائسرائے نے سزا معاف کر دی ہو۔ پھر آپ وہ بات کہتے کیوں ہیں کہ جو اصل میں غلط ہے؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ مسیحؑ نے جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں رحم ہی رحم کی تعلیم دی ہے عدل کو برباد کر دیا ہے۔ پس اب میں ثابت کر چکا ہوں کہ گناہ معاف ہونے ضروری ہیں اور انسانی فطرت اس کو چاہتی ہے اور جو مذہب اس کے برخلاف کہتا ہے وہ واقعہ اور حقیقت سے محجوب ہے۔ غرض کہ گناہ کا معاف ہونا ضروری ہے اور عقل اسی کو چاہتی ہے۔ اسلام نے اسے ایک اعلیٰ پیرایہ میں بیان فرمایا ہے خود عیسائیوں نے اسے لیا ہے مگر ایک بھدے اور خطرناک رنگ میں۔
جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ہوں انسان گناہوں سے بچ سکتا ہے اور گناہ معاف ہو سکتے ہیں اور کامل شریعت کے ذریعہ کامل معرفت حاصل کر کے انسان گناہوں سے بچ سکتا ہے۔ اور جو شریعت انسان کو گناہوں سے بچاتی نہیں وہ ناقص ہے اور کسی کام کی نہیں پس سچی بات یہی ہے کہ گناہوں سے انسان کامل شریعت کی معرفت بچ سکتا ہے اور وہ مذہب جو اس کے برخلاف کہتا ہے وہ الزام سے بچنے کیلئے کہ میری قلعی نہ کھل جائے ایسا کرتا ہے اور انسانوں پر الزام دیتا ہے کہ تم ہی گندے ہو ورنہ میں تو پاک ہوں۔ کیا ایک پولیس مین کے سامنے چور چوری کرتا ہے ہرگز نہیں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ مجھے نقصان پہنچے گا نہ اس لئے کہ اس کے لئے کوئی شخص پھانسی پر چڑھ چکا ہے۔ کیا ایک فوج کی موجودگی میں ڈاکو ڈاکہ ماریں گے کبھی نہیں نہ کسی کفارہ کی وجہ سے بلکہ اس لئے کہ ان سے بڑی طاقت وہاں موجود ہے جو ان کو سزا دے گی۔ اسی طرح شریعت علاوہ اعمال حسنہ کے بتانے کے خداتعالیٰ کی قدرت اور طاقت اس قدر انسان پر روشن کر دیتی ہے کہ وہ گناہ پر قادر ہی نہیں رہتا پس کیا پولیس مین کی آنکھ سے تو چور چوری کو چھوڑ سکتا ہے مگر خداتعالیٰ کی آنکھ کا کامل علم رکھتے ہوئے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ پس اصل بات یہی ہے کہ کامل معرفت انسان کو گناہ سے بچاتی ہے ورنہ تجسم کا سب ڈھکوسلا ہے اور وہ اس لئے کہ شریعت کے عیب نہ کھل جائیں۔
باقی یہ بات کہ انسان کے لئے نمونہ چاہئے بالکل درست ہے مگر وہ آدمی چاہئے نہ کہ خدا۔ کیا ہمیں معلوم نہیں کہ خدا پاک ہے پھر خدا ہم کو نمونہ کیا دکھائے گا اور کیا جو کام خدا کر سکے وہ بندہ بھی کر سکتا ہے اگر خدا نے ایک نمونہ دکھایا تو کیا ہوا ایک شخص اعتراض کر سکتا ہے کہ وہ خدا تھا اس نے وہ کام کر لئے میں بندہ ہوں مجھ سے نہیں ہو سکتے انسان پر حجت انسانی نمونہ کی ہو سکتی ہے نہ کہ خدا کے نمونہ کی ۔ خدا کو تو ہم پہلے ہی پاک جانتے ہیں اور اگر کہا جاوے کہ خدا انسانی قالب میں آیا تھا اور انہیں طاقتوں کے ساتھ تو پھر یہ اعتراض ہو گا کہ جب اس میں وہی طاقتیں تھیں جو انسان میں ہوتی ہیں تو پھر اس میں اور انسان میں فرق کیا رہا۔ بجائے اس کے کہ آپ عرش سے تشریف لاتے یہیں سے کوئی بندہ چن لیا جاتا اور اس صورت میں یہودیوں کو اسبات پر فخر کرنے کا موقعہ بھی نہ رہتا کہ ہم وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے خدا کو مارا پیٹا اور سولی پر کھینچ دیا غرض کہ مسیحی جو نجات کیلئے خدا کے تجسم اور کفارہ کے قائل ہیں یہ ایک لغو بات ہے۔
چنانچہ میں اس مضمون پر کچھ اور لکھنے سے پہلے مسیحیوں سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ اول سب سے پہلے ثابت کیا جائے کہ خدا تین ہیں کیونکہ جب تک خدا تین ثابت نہ ہو جائیں تو نہ کفارہ رہتا ہے نہ نجات۔ توریت میں تو ہے کہ ہمارے خدا کا شریک کوئی نہیں خروج باب ۸ آیت ۱۸ یہودی اب تک اسی پر عمل کرتے ہیں الفاظ ان کی تائید کرتے ہیں دوم اگر تین خدا ہیں تو یسوع ہی وہ تیسرا خدا ہے کیونکہ بیٹے کا لفظ بہتوں پر بولا گیا ہے آدمؑ کو بھی خدا کا بیٹا کہا گیا ہے اور اس کا کوئی باپ بیان نہیں کیا بلکہ ملک صدق تو سارے جہاں اور مسیحؑ سے زیادہ ہیں یسوع صرف اپنے آپ کو ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ حواریوں کو بھی خدا کا بیٹا قرار دیتا ہے بلکہ اپنے آپ کو تو ابن آدم ہی کہتا ہے پس یا تو حواری بھی خدائی میں ساتھ شریک ہیں یا مسیح بھی نہیں اور پھر ایک مشکل ہے کہ متی میں یسوع یوسف کا بیٹا قرار دیا گیا ہے جو اور بھی مشکل میں ڈالتا ہے ورنہ یہودی کمبخت بہت کچھ اعتراض کرتے ہیں مگر کچھ بھی ہو اناجیل سے یسوع کی خواہ کس قدر عظمت ہی بیان کی جاوے ملک صدق کے برابر تو وہ ہرگز نہیں پہنچ سکتا کیونکہ جو صفات ملک صدق میں بیان کئے جاتے ہیں وہ اسے یسوع پر بہت کچھ فضیلت دیتے ہیں اور نہ صرف توریت میں بلکہ زبور میں اور پھر اعمال میں بھی اس کا ذکر کیا ہے
چنانچہ پیدائش باب ۱۴ آیت ۱۸ میں ہے کہ ملک صدق کا بادشاہ روٹی اور مے نکال لایا اور وہ خدا تعالیٰ کا کاہن تھا پھر ابراہیم نے اسے دہ یکی بھی دی زبور میں داؤد کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ ”خداوند نے قسم کھائی ہے اور وہ کبھی نہ پچھتائے گا تو ملک صدق سالم کی طرح ابد تک کاہن ہے“ پھر عبرانیوں میں پولوس رسول مسیح کی نسبت کہتا ہے کہ ”وہ خدا کی طرف سے ملک صدق کی مانند سردار کاہن کہلایا۔“ پھر اسی جگہ اس کی نسبت لکھا ہے کہ ”وہ پہلے اپنے نام کے موافق راستے کا بادشاہ ہے اور پھر شاہ سالیم یعنی سلامتی کا بادشاہ یہ بے باپ بے ماں بے نسب نامہ جس کے نہ دنوں کا شروع نہ زندگی کا اخیر مگر خدا کے بیٹے سے مشابہ ٹھہرا“ ان عبارات سے تو ملک صدق سالیم کی شان زیادہ معلوم ہوتی ہے وہ ازلی ابدی ہے اور بے ماں باپ کے ہے حالانکہ یسوع کا باپ اگر یوسف نہیں تو ماں مریم تو ضرور تھی مگر وہ بن باپ بن ماں کے اور پھر ازلی ہمارے خیال میں تو وہ ابنیت کا زیادہ مستحق ہے۔ سوم یہ کہ مسیح خوشی سے مرنا نہ چاہتا تھا کیونکہ انجیل میں ہے کہ ”اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے گزر جائے تو بھی میری خواہش نہیں بلکہ تیری خواہش کے مطابق ہو“ متی باب ۲۶ آیت ۳۹۔ اب اس سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ یسوع کی اپنی مرضی نہ تھی کہ وہ صلیبی موت مرے جس سے معلوم ہوا کہ اس نے کسی کے بدلے میں اپنی جان نہیں دی بلکہ قہر درویش برجانِ درویش پر عمل کرتے ہوئے مراد وسرے یہ کہ خدا نے زبردستی اس کو دار پر کھنچوایا کیونکہ وہ کہتا ہے کہ ”تیری خواہش کے مطابق ہو“ پس اس طرح خدا ظالم ٹھہرا کہ اس طرح بے دردی سے ایک بے گناہ کو اور پھر اپنے بیٹے کو جو اس کی بادشاہت میں اور خدائی میں بھی شریک تھا۔ یوں مروا دیا۔ شاید اس خیال سے کہ ایک شریک تو راستہ سے ہٹے۔ چہارم سوال یہ کہ سب کچھ ہی مانا مگر یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ مسیح واقعی صلیب پر مر گیا تھا کیونکہ انجیل اس کے بر خلاف کہتی ہے جیسا کہ میں نے لکھا ہے یعنی حاکم وقت چاہتا تھا کہ وہ بچ جائے۔ پھانسی دینے والا اس کا اپنا مرید تھا۔ قبر سے اٹھنے کے بعد وہ مریدوں کے پاس گیا وہ ڈرے کہ کہیں بھوت نہ ہو مگر اس نے اپنے زخم ان کو دکھائے۔ پھر ان کا شک دور کرنے کے لئے ان کے ساتھ روٹی کھائی اور لوگوں سے چھپتا پھرا۔ اگر وہ جی اٹھا تھا اور اب پھر خدا ہو گیا تھا تو لوگوں سے اس قدر ڈر کیوں تھا؟
غرض جب تک یہ سوال حل نہ ہو جائیں مسیحی صاحبان کا کوئی حق نہیں کہ وہ نجات کو ثابت کرنے بیٹھیں خیر اب میں اس مضمون پر مسیحی صاحبوں کے جواب دینے کے بغیر ہی کچھ روشنی ڈالتا ہوں۔
یاد رہے کہ ہر ایک بات کو ثابت کرنے کے لئے پہلے دعویٰ ہوتا ہے پھر دلیل پس لازم تھا کہ یسوع کی ابنیت اور کفارہ کے مسئلہ کو پہلے تو انجیل سے ثابت کیا جائے مگر پادری صاحب نے انجیل کی ایک آیت بھی اس بارہ میں نہیں لکھی حالانکہ ان کا فرض تھا کہ وہ پہلے یہ بتاتے کہ انجیل میں مسیح نے یہ دعویٰ کیا ہے اور انہیں معنوں میں کیا ہے کہ جن میں مسیحی صاحبان کرتے ہیں۔ ہم تو انجیل میں کہیں یہ دعوے نہیں پاتے یسوع بیچارہ تو آپ لوگوں سے ڈرتا ہوا ہمیشہ اپنے آپ کو ابن آدم کے لفظ سے پکارتا ہے۔ تاکہ احمق میری پیدائش کو عجیب خیال کر کے کہیں مجھ کو کچھ اور ہی نہ سمجھ لیں مگر مسیحی صاحبان پھر بھی باز نہ آئے پس جب تک ابنیت کا دعویٰ اور دلائل انجیل سے ہی نہ بتائے جائیں تب تک تو مدعی سست اور گواہ چست والا معاملہ ہے یسوع تو اپنے آپ کو ابن آدم قرار دیتا ہے اور مسیحی صاحبان زبردستی اسے خدا کی ولایت کا خلعت عطا فرماتے ہیں گویا کہ خدا کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ایک متبنّٰی بنائے۔
اسی طرح کفارہ کا حال ہے کہ اس کا بھی کوئی ذکر انجیل میں نہیں مگر مسیحیوں نے من مانے عیش اڑانے کے لئے اس مسئلہ کو گھڑ لیا ہے۔ کیونکہ جب خدا ہی کسی کا بوجھ اپنے سر پر اٹھا لے تو پھر اسے کیا پرواہ۔ ادھر مسیحی اس زور سے کفارہ کا اعلان کرتے ہیں اور مسیح کو اپنی خوشی سے بنی نوع انسان پر قربان ہونے والا خیال کرتے ہیں ادھر یسوع کو دیکھیں تو وہ صلیب پر چڑھنے سے پہلے درد ناک الفاظ میں خدا تعالیٰ سے اپیل کرتا ہے کہ للّٰہ اگر کوئی صورت بچانے کی ہو تو اس پر عمل کیجئے کیونکہ یہ گھڑی مجھ پر بہت سخت ہے۔ حالانکہ اگر کفارہ کا مسئلہ ہوتا تو یسوع کو چاہئے تھا کہ اس دن عید مناتا اور ساری رات خوشی اور خرمی میں گزارتا کہ آج وہ مبارک دن آیا ہے کہ جس کے فراق میں گھڑیاں گننی مشکل ہو گئیں تھیں مگر اس کے برخلاف وہ روتا ہے وہ چلاتا ہے۔ وہ آنے والی مصیبت کے خوف میں کبھی بیٹھتا ہے کبھی کھڑا ہوتا ہے کبھی زمین پر گر کر ذلیل حالت بنا کر خدا کے حضور میں گڑگڑاتا ہے کہ اے باپ جس کے لئے میں نے بہت دکھ اٹھائے یہاں تک کہ مجھے کسی جگہ پر ٹھہرنا تک مشکل ہو گیا یہ مصیبت مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتی اگر ہو سکے تو اس کو ٹال دے۔ تو پھر گھبراہٹ میں اپنے حواریوں میں آتا ہے کہ اٹھو اور تم بھی دعاؤں میں مشغول ہو جاؤ کہ نامعلوم خدا کس کی سنے اور میں مصیبت سے بچ جاؤں۔ چنانچہ اسی لئے وہ شہر سے باہر ایک خفیہ جگہ میں جا کر بیٹھ رہا کہ کسی طرح یہ وقت گزر جائے پس کیا اس کرب و اندوہ ظاہر کرنے والے کو کہا جا سکتا ہے کہ وہ خوشی سے تمام دنیا کے گناہ اپنے کندھے پر اٹھا کر پھانسی پر لٹک گیا؟ پھر یہ نہ بھی ہو تو کیا کبھی ہو سکتا ہے کہ ایک کے سر میں درد ہو تو دوسرا اپنے سر پر پتھر مارے یہ کبھی نہیں ہوتا جو گناہ کرتا ہے وہی پکڑا جاتا ہے ورنہ کفارہ سے تو معلوم ہوا کہ خدا کو سزا دیتے ہوئے مزہ آتا ہے یہ نہ سہی وہ سہی مگر کوئی نہ کوئی ہونا چاہئے کہ جس کو وہ سزا دے۔ ہاں ایک بات اور بھی ہے کہ اگر شیطان کا سر کچلا گیا اور مسیح کفارہ ہوئے تو خود شیطان اور قاتل یہود کیوں نہ کفارہ سے مستفید ہوں۔
علاوہ اس کے یسوع کے نزول سے پہلے لوگوں کا کیا حال ہوگا وہ بیچارے تو سب جہنمی ہوئے جن میں کہ موسیٰؑ اور داؤدؑ بھی شامل ہیں۔ پھر کیا خدا پر الزام نہ آیا کہ اگر بیٹے کو پھانسی دینی ہی تھی تو شروع میں دیتا اور نہ کہ دنیا کے خاتمہ پر اور یہ بھی غلط ہے کہ وہ کفارہ پر ایمان لائے تھے کیونکہ اول تو توریت میں اس کا کوئی ذکر نہیں دوسرے حضرت یوسفؑ کے ایک قول سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو کفارہ پر نہ صرف ایمان ہی نہ تھا بلکہ اس کو ظلم قرار دیتے تھے چنانچہ جب بنیامین کے بورے میں پیالہ نکلا تو یہودا نے کہا کہ ہم بھی اپنے آپ کو گناہ میں غلام بناتے ہیں مگر یوسفؑ نے کہا کہ خدا نہ کرے کہ میں ایسا کروں اور جب وہ اس قدر زاری کر رہے تھے تو وہ یوسفؑ کو یسوع کے کفارہ کی یاد دلا کر ایسا کر سکتے تھے کہ اپنے میں سے ایک کو اسکے بدلے میں چھوڑ جائیں اور بنیامین کو لے جائیں۔
علاوہ اس کے کفارہ پر ایک یہ اعتراض بھی پڑتا ہے کہ خدا نے لوگوں کو تو گناہوں کے بدلہ میں ابدالآباد کی سزا دی اور اپنے بیٹے کو صرف تین دن سزا دے کر چھوڑ دیا حالانکہ اسکے سر پر سب دنیا کے گناہ تھے اسکے لئے تو کوئی اور بھی سخت دوزخ بنانی چاہئے تھی اور اگر یہ کہا جائے کہ نہیں چونکہ وہ خدا تھا اور غیر محدود تھا اس لئے تین دن کی سزا کافی تھی تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ غیر محدود کی نسبت محدود سے ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ چونکہ وہ غیر محدود تھا تو سزا تو ایک منٹ کیا بلکہ ایک ایسے چھوٹے وقت میں ہونی چاہئے تھی کہ وہ گنا بھی نہ جاتا ورنہ اگر تین دن کی سزا مقرر ہوگی تو بندوں میں اور خدا میں ایک نسبت ہو جائے گی اور اس طرح غیر محدود نہ رہے گا بلکہ محدود ہو جائے گا اور اگر کہا جائے کہ تین دن کی سزا علی الحساب دے دی گئی ہے تو خدا اس طرح ظالم بن جاتا ہے۔ کفارہ پر ایک اور بھی اعتراض ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جب ایک تین اور تین ایک ہیں تو جب یسوع تین دن مرا رہا تو ضرور ہے کہ باقی دونوں خدا بھی مرے رہے ہوں کیونکہ ایک تین ہے اور اگر وہ نہ مرے ہوں تو دو خدا باقی رہ گئے ہوں گے اور اس طرح خداؤں میں جدائی لازم آئے گی جو کہ تین ایک اور ایک تین کے مسئلہ کے برخلاف ہوگا اور اگر کہا جائے کہ نہیں اصل میں خدا تینوں ہی زندہ رہے تھے وہ ایک اوپر ہی کاروائی تھی تو پھر بھی کفارہ باطل ہو جاتا ہے اور خدا نعوذ باللہ بہانے باز ٹھہرتا ہے۔
علاوہ ازیں کفارہ کے مسئلہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا تو عادل ہے اور یسوع عادل نہیں پس یا خدا ناقص ہوا یا یسوع۔ علاوہ ازیں دونوں کی مختلف صفات مان کر دو وجود الگ الگ ماننے پڑتے ہیں کہ یہ خدا ہے جو عادل ہے اور یہ یسوع ہے جو محبت ہے سو اس طرح ایک تین اور تین ایک نہیں رہتا اور خداؤں میں فرق لازم آتا ہے۔ علاوہ ازیں کفارہ پر یہ بھی ایک اعتراض ہے کہ اگر کفارہ پر ایمان لانے کے باوجود بھی عمل کی ضرورت ہے تو وہ کفارہ کفارہ ہی نہ رہا کیونکہ اس صورت میں مسیح کی موت سے ہم کو کچھ فائدہ نہ ہوا۔ اور اگر عمل کرنے کی ضرورت نہیں تو کفارہ سے گناہ پھیلیں گے نہ کہ رکیں گے اور اس طرح کفارہ گناہ پھیلانے والا ثابت ہو گا۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ کفارہ پر ایمان لانے سے گناہ ہوتے ہی نہیں تو یہ بھی غلط کیونکہ جس قدر گناہ یورپ میں ہو رہا ہے اس قدر نہ پہلے ہوا نہ اب غیر قوموں میں ہے کہا جاتا ہے کہ ساٹھ فیصدی حرامی بچے پیدا ہوتے ہیں پھر کفارہ کا کیا اثر؟
یسوع کے کفارہ پر ایمان لا کر دنیا نے گناہوں سے کیا بچنا ہے جو کچھ انجیل پیش کرتی ہے اس سے تو خود یسوع پر بھی سو سو اعتراض وارد ہوتے ہیں اور وہ قابلِ تقلید کیا قابلِ نفرت ٹھہرتا ہے۔ اور اس طرح مسیحیوں کا یہ کہنا بھی کہ دنیا کو نمونہ کی ضرورت ہے اور یسوع نمونہ بن کر آیا غلط ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے نمونہ کو دیکھ کر تو اور بھی شکوک شروع ہو جاتے ہیں کہ جب خدا خود گناہوں سے نہیں بچ سکتا تو بندے بیچارے کس حساب میں۔ وہ خود بھی بیچارہ کہتا ہے کہ مجھے نیک مت کہو۔ پس یا تو اسکو جھوٹا قرار دو یا گناہ گار دونوں صورتوں میں قابلِ تقلید نہیں۔ مسیحی صاحبان یہ بھی کہتے ہیں کہ چونکہ گناہ آدم کے ورثہ میں آیا ہے اور یسوع کا باپ نہ تھا اس لئے معلوم ہوا کہ وہ گناہ گار نہیں ہو سکتا تھا تو اس کا جواب اول تو یہ ہے کہ یسوع کی لائف اس پر خوب روشنی ڈالتی ہے دوسرے سوال یہ ہے کہ آدم میں گناہ کہاں سے آگیا اگر آدمؑ میں پیدا ہو سکتا تھا تو دوسرے آدمیوں میں اسے پیدا ہوتے کیا ہرج ہے چوتھے یہ کہ اس سے مسیح کی فضیلت نہیں نکلتی بلکہ الٹا نقص نکلتا ہے کیونکہ توریت ہم کو بتاتی ہے کہ اصل گناہ عورت کی طرف سے تھا چنانچہ پیدائش باب ۳ آیت ۱۲ میں ہے کہ آدم نے کہا کہ اس عورت نے جسے تو نے میرے ساتھ کر دیا تھا مجھے اس درخت سے دیا اور میں نے کھایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل گناہ کا منبع عورت تھی۔ تو اس صورت میں مسیح کے بن باپ پیدائش سے تو اور بھی نقص لازم آتا ہے اور وہ بجائے اس کے کہ گناہ سے پاک ٹھہرے اور بھی گناہ میں ملوث ثابت ہوتا ہے کیونکہ آدم کا پاک حصہ اس نے نہ لیا اور حوا کا وارث بنا۔
اب آخر میں دو قطعی ثبوت پیش کرتا ہوں کہ کفارہ پر ایمان لانے سے کوئی فائدہ نہیں۔ اول تو یہ کہ مسیح نے کہا ہے کہ ”میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں اگر یقین کرو اور شک نہ لاؤ تو نہ صرف یہی کر سکو گے جو انجیر کے درخت پر ہوا۔ بلکہ اگر اس پہاڑ سے کہو گے کہ تو اکھڑ جا اور سمندر میں جا گر تو ویسا ہی ہو گا“ (متی: ۲۱-۲۱) اب پادری صاحبان کل مسیحی ممالک سے زیادہ نہیں تو ایک آدمی ہی اس قسم کا پیش کر دیں جو اس قسم کا معجزہ دکھائے ورنہ یا تو کفارہ ہی غلط ثابت ہوا نہیں تو سب کے سب مسیحی صاحبان بے ایمان ثابت ہوئے۔ دوسرا یہ کہ توریت میں ہے کہ آدم کو گناہ کے بدلہ میں خدا نے کہا کہ تو اپنے منہ کے پسینہ سے روٹی کھائے گا اور عورت دردِ زہ سے بچہ جنے گی پس اس کفارہ پر ایمان لانے کے بعد تو چاہئے تھا کہ مسیحی صاحبان ان دونوں عذابوں سے بچ جاتے لیکن مشاہدہ تو یہ ثابت نہیں کرتا پس جب کفارہ کا کچھ بھی فائدہ نہیں تو اس کے پیش کرنے سے کیا فائدہ؟ ہم تمام مسیحی دنیا سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ لوگ بے محنت روٹی کھاتے ہیں یا آپ کی عورتیں بغیر درد کے بچہ جنتی ہیں اگر ایسا نہیں تو پھر کفارہ نجات کا باعث ہرگز نہیں اور ہرگز نہیں۔ پس اب میں ثابت کر چکا ہوں کہ نجات اعمال سے ہی ہوتی ہے اور اعمال فضل کو حاصل کرتے ہیں اور اعمال کیلئے کامل شریعت کی ضرورت ہے اور جو شریعت اپنے آپکو اعمال کا سدھارنے والا نہیں مانتی وہ ناقص ہے اور یہ کہ کفارہ کا نجات سے کچھ تعلق نہیں کیونکہ نہ مسیحؑ خوشی سے صلیب پر چڑھا اور نہ وہ صلیب پر مرا جیسے کہ میں متی کے حوالہ سے بتا آیا ہوں کہ اس کا زندہ رہنا زیادہ یقینی ہے اور یہ کہ نہ صرف کفارہ ایک لغو مسئلہ ہے بلکہ اس کا نتیجہ اب تک عیسائیوں نے کچھ نہیں دیکھا۔ ہم رحم کر کے اپنے سے کمزوروں کے گناہ بخشتے ہیں پس خدا بدرجہ اولیٰ بخشتا ہے۔ وَاخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
مرزا محمود احمد
(تشحیذ الاذہان دسمبر ۱۹۰۹ء)
(منقول از تشحیذ الاذہان)
از
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
اس وقت جو میں یہ مضمون لکھنے لگا ہوں اس سے میری یہ غرض نہیں کہ کسی مذہب کی برائی بیان کروں یا کسی فرقہ کے اصول پر نکتہ چینی کروں یا کسی گروہ کی عیب گیری کروں یا کسی جماعت کی کمزوری آشکار کروں یا کسی سلسلہ کے نقائص پر روشنی ڈالوں بلکہ اس مضمون سے میری غرض اور منشاء اور ارادہ اور خواہش اور تمنا اور مدعا یہ ہے اور صرف یہی ہے کہ طالبانِ حق کے سامنے اس سچائی اور حقیقت اور معرفت اور روشنی اور نور کو ظاہر کروں جو ایک مردہ کو زندہ کرتا ہے اور اندھے کو آنکھیں بخشتا ہے اور بہرے کو کان عنایت کرتا ہے اور بیمار کو شفا دیتا ہے اور جو بحرِ گناہ میں ڈوبنے والے کو قعرِ ضلالت سے نکال کر صداقت کے سورج کی تپش میں لا بٹھاتا ہے اور اندھے کنویں میں گرے ہوئے انسان کو معرفتِ الٰہی کے پہاڑوں کی بلند چوٹیوں پر لا کر کھڑا کر دیتا ہے۔ اور وہ اسلام ہے کہ جس کی بدولت ہزاروں نہیں لاکھوں وحشی درندوں سے انسان اور انسان سے باخدا انسان بن گئے۔ یہی وہ چشمہ ہے کہ جس سے بے انتہا مخلوقات نے نہ صرف اپنے گلوں کو تر کیا اور شدتِ پیاس کو بجھایا بلکہ اپنے عزیزوں اور کنبہ داروں اور قریبیوں اور دوستوں اور آشناؤں اور واقفوں کو بھی سیر کیا۔ اس پاک مذہب کے دسترخوان پر جو بیٹھا اس نے انعاماتِ الٰہیہ کے لطیف اور لذیذ کھانوں کو چکھا ہی نہیں بلکہ ان سے سیر ہوا۔ غرض لاکھوں نہیں کروڑوں نے اس مذہب میں داخل ہو کر اپنی زندگی کا اصل مدعا پا لیا اور اس خالقِ حقیقی کے بے انتہا فیوض و برکات سے حصہ لیا کہ جن کو طالبانِ حق اپنے مال‘ اپنی جان‘ اپنی عزت‘ اپنی آبرو اور اپنی بڑائی سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں اور جن کی خواہش میں لاکھوں باصفا انسان دنیا و مافیہا کو چھوڑ کر دیوانہ وار پھرتے ہیں۔
یہ بات ظاہر ہے اور ہر ایک شخص اسے سمجھ سکتا ہے کہ سچا مذہب وہی ہے جو خدائے تعالیٰ تک مخلوق کی رہنمائی کرے اور اس درمیانی پردہ کو اٹھا دے جو عابد و معبود میں حجاب کا کام دیتا ہے۔ اور اپنے اندر ایک ایسی طاقت رکھتا ہو کہ ان تمام رکاوٹوں کو جو انسان اور خدا کے درمیان حائل ہوں دور کر دے اور اپنے ماننے والے کو گناہوں سے نکال کر نیکی اور تقویٰ کے دریا میں غوطہ دے اور کمزور انسانوں کو ایسی طاقت عنایت کرے کہ وہ شیطان کے پنجہ سے بالکل نکل جائیں اور اس کا ان پر کوئی تسلط نہ رہے اور ان کے دلوں میں رعبِ حق اس قدر بٹھائے کہ وہ گناہوں کے پھندوں کو مکڑی کے جالوں کی طرح توڑ پھوڑ کر آزادی کی ہوا کھانے لگیں اور خدائے تعالیٰ کی محبت اور عشق کو ان کے قلوب میں ایسا قائم کر دے کہ گویا انسان ہر وقت خدائے تعالیٰ کی معرفت میں ڈوبا ہوا ہو اور نورِ ایمان کی روشنی سے اس کی زیارت میں مشغول ہو اور صفائی باطن کی آنکھوں سے اس کو دیکھ رہا ہو اور مخلوق کو خدائے تعالیٰ میں ہو کر مشاہدہ کرتا ہو اور ہمدردیِ بنی نوع ہر گھڑی اس کے مد نظر ہو غرض کہ فنا فی اللہ ہو جائے اور وہ زندگی اس کو نصیب ہو کہ وہ ہر ایک چیز کو اپنی آنکھوں سے نہیں بلکہ خدا کی آنکھوں سے دیکھے۔
اور جو مذہب ایسا نہ کرتا ہو اور اس میں یہ طاقت ہی نہ ہو کہ وہ انسان کو جو ہر وقت محبت کی تلاش میں رہتا ہے خدا کی دائمی محبت کے چشمہ سے پانی پلائے اور اس سوزِ فراق کو جو محب کو اپنے محبوب کی جدائی میں ہوتا ہے وصل کی ٹھنڈک سے سرد کرے اور طالب کو مطلوب کا پتہ دے اور گمراہ کو ہدایت دے اور بھولے بھٹکوں کو راہ پر لائے اور طالبانِ دید کو معرفتِ تامہ کی آنکھوں سے خدائے تعالیٰ کا دیدار کرائے اور اس سچی صفات کو بیان کر کے مخلوق کے دلوں میں ان کی محبت کا ایک ولولہ پیدا کر دے اور ایک ایسی آگ لگا دے کہ جو دلوں کو پھونک دے اور سینوں کو جلا دے اور دنیا و مافیہا کو خاک کر کے خدا ہی خدا کا جلوہ انسان کی آنکھوں میں ظاہر کر دے اور دنیا کے سامنے وہ تجاویز پیش کرے کہ جن سے فساد دور ہوں اور دشمنیاں جاتی رہیں اور کینہ اور بغض کی آگ بھسم ہو جائے۔ اور بنی نوع انسان کے لئے وہ امن کا دروازہ کھول دے کہ جس سے ان پر انعامات و کراماتِ الہیہ کی ہوائیں خوشگوار رنگ میں محبت کی خوشبو کو ساتھ لئے ہوئے چلیں اور وہ اپنے کانوں سے اس محبوبِ حقیقی کی شیریں آواز کو سنیں کہ جس کی ملاقات کی تڑپ مخلوقات کے دلوں میں روزِ ازل سے لگی ہوئی ہے تو ایسا مذہب جھوٹا ہے اور وہ قطعاً خدا کی طرف سے نہیں کیونکہ اس میں اس یارِ یگانہ کی طرف سے کوئی نشان موجود نہیں۔ وہ مردہ ہے اس کو اختیار کر کے کوئی کیا کرے کیونکہ وہ انسان کو خدا سے ملاتا نہیں بلکہ دور کرتا ہے اور بنی نوع انسان کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ اس کو مصیبت میں ڈالتا ہے اور خود اس کے پیروؤں کو اس کی حفاظت کرنی پڑتی ہے۔
پس اس کھلے اور صاف معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اسلام کے سوا اور کوئی مذہب اس پر پورا نہیں اترتا۔ کیونکہ اسلام قشر نہیں بلکہ ایک خوش ذائقہ مغز ہے اور مردہ نہیں بلکہ زندہ ہے اور نہ صرف خود زندہ ہے بلکہ دوسروں کو بھی زندہ کرتا ہے اور اس کا ثبوت اس کے اصولوں کو دیکھنے سے خوب مل سکتا ہے چنانچہ قرآن شریف اور احادیث کو دیکھنے سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں دلائل اس مذہب کی سچائی کے ملتے ہیں جو سورج سے زیادہ روشن ہیں اور ستاروں سے زیادہ چمکتے ہیں اور چاند سے زیادہ منور ہیں اور جن کے حسن کو دیکھ کر لاکھوں آدمی پروانہ کی طرح فدا ہوئے اور ہوتے ہیں اور ہوں گے۔ مگر چونکہ اس مضمون پر مفصل لکھنا ایک بڑے وقت کو چاہتا ہے اور اس کے علاوہ اس رسالہ میں اس کی گنجائش بھی نہیں ہو سکتی اس لئے میں اس موقعہ پر سورۃ فاتحہ سے مختصراً کچھ باتیں اخذ کر کے یہاں لکھوں گا۔ ہاں امید کرتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ کا فضل شامل حال رہا تو آئندہ اس رسالہ میں اس قسم کے مضامین جو صرف اسلام کی صداقت ثابت کرنے والے ہوں دیتا رہوں گا۔
سورہ فاتحہ جس پر میں اس وقت کچھ لکھنا چاہتا ہوں قرآن شریف کی سب سے پہلی سورۃ ہے یا یوں کہنا چاہئے کہ یہ قرآن شریف کا خلاصہ ہے اور وہ تمام معارف جو کل قرآن میں مفصل کر کے بیان کئے گئے ہیں اس میں اجمالاً بیان ہیں۔ اور چونکہ خدائے تعالیٰ غیر محدود ہے اس لئے اس کے کلام میں بھی غیر محدود ہی معانی ہوتے ہیں چنانچہ اس سورۃ میں جو جو معانی ہیں ان پر پورے طور سے احاطہ کرنا تو ایک انسان کی طاقت سے باہر اور محال ہے ہاں فکرِ ہر کس بقدرِ ہمت اوست۔ جس قدر کسی کو نورِ قلب عطا ہوا ہو اور جس نے جس قدر تلاش کی ہو اور اس کوچہ میں کوشش کی ہو وہ اسی قدر فائدہ حاصل کر لیتا ہے۔ چنانچہ اس سورۃ میں خدائے تعالیٰ کے وجود اور پھر اس کے کلام نازل کرنے اور اسلام کی سچائی کا بڑی وضاحت سے ذکر ہے مگر چونکہ اس موقعہ پر میرے مخاطب وہی لوگ ہیں جو کہ خدائے تعالیٰ کے وجود کے قائل مگر اسلام کے منکر ہیں اس لئے میں وہی ثبوت پیش کروں گا جن سے عظمت قرآن ثابت ہو۔ اور اس سے پہلے میں وہ آیات نقل کر دینی مناسب سمجھتا ہوں۔
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ(1:2-4)
چنانچہ جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ سچا دین وہی ہو سکتا ہے کہ جس میں خدائے تعالیٰ اور مخلوق کے تعلق کو مضبوط کیا جائے یعنی وہ مذہب ایسی پُر معرفت اور روحانیت سے بھری ہوئی باتیں بتائے کہ جن سے مخلوق کو خود بخود خدائے تعالیٰ سے محبت پیدا ہو اور علاوہ اس کے باقی مخلوقات پر رحم کرنے کا مادہ پیدا ہو۔ اور ایسا مذہب اپنے اندر کچھ نشانی بھی رکھتا ہو۔ اسلام نے ہر ایک پہلو کو خوب واضح کیا ہے۔ چنانچہ اول ہی بات جو اس سورۃ میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسان کو سکھایا گیا ہے کہ وہ خدا جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے وہ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ہے اور اس قابل اور لائق ہے کہ اس کی حمد کی جائے۔ چنانچہ یہ بات ہر ایک عقل مند پر ثابت ہے کہ محبت کے دو ہی طریقے ہیں ایک حسن دوسرا احسان سو اس آیت میں خدائے تعالیٰ نے دونوں پہلوؤں کو لیا ہے اور بتایا ہے کہ اسلام کا خدا وہ ہے کہ جو ہر ایک چیز کا ربوبیت کرنے والا ہے اور اسے اپنے حدود کے اندر بتدریج ترقی دیتا اور بدرجہ کمال تک پہنچاتا ہے چنانچہ ہم جب دنیا پر نظر کرتے ہیں تو ہر ایک چیز میں اس صفت کا جلوہ دیکھتے ہیں اور ایک رائی کے دانہ سے لے کر بڑی سے بڑی چیز تک یہی صفت اپنا کام کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے مثلاً انسان کو ہی دیکھو ایک وقت ایسا ہوتا ہے کہ یہ ایک نطفہ کی طرح ہوتا ہے اور اس کو ننگی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے بلکہ بغیر مائکروسکوپ کی مدد کے اس کا دیکھا جانا بالکل ناممکن ہوتا ہے پھر اس حالت سے نکل کر جب یہ رحم مادر میں داخل ہوتا ہے تو ایک عرصہ گزرنے کے بعد اس نطفہ کی شکل ایک منجمد خون کی سی ہو جاتی ہے اور جب ایک مدت اور اس پر گزر جاتی ہے تو وہ ایک بوٹی کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور اس کے بعد اس میں ہڈی کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے اور اس پر گوشت چڑھ جاتا ہے اور اس کے بعد اذن الٰہی کی ایسی ہوا اس پر چلتی ہے کہ وہی بے جان چیز زندہ ہو جاتی ہے اور خدائے تعالیٰ کے عظیم اور بے پایاں فیوض کو حاصل کرنے کے لئے تیار ہو جاتی ہے اور اس وقت اس کی حالت میں پہلی حالت سے زمین و آسمان کا فرق پیدا ہو جاتا ہے چنانچہ اسی ربوبیت کی طرف اشارہ ہے حضرت احدیت کا کہ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ ثُمَّ جَعَلۡنٰہُ نُطۡفَۃً فِیۡ قَرَارٍ مَّکِیۡنٍ ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَۃَ مُضۡغَۃً فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا ٭ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلۡقًا اٰخَرَ ؕ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحۡسَنُ الۡخٰلِقِیۡنَ(المؤمنون: ۱۳-۱۵) چنانچہ یہ آیت اسی صفت ربوبیت کی تشریح میں خدائے تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے کہ ہم اس قسم کی ربوبیت کرنے والے ہیں کہ ایک ذرا سی ناچیز چیز کو جو لیتے ہیں تو اپنی صفت ربوبیت کام میں لا کر کہاں سے کہاں تک پہنچا دیتے ہیں چنانچہ وہ اجزاء جو مٹی میں تھے ہم نے ان کو نطفہ اور علقہ اور مضغہ اور پھر ہڈی اور گوشت کی شکلوں میں تبدیل کرتے ہوئے آخر اپنی صفت ربوبیت کو یہاں تک وسیع کر دیا کہ وہ بے جان چیز جاندار ہو گئی اور ایک نئی ہی مخلوق بن گئی۔ پس اللہ تعالیٰ کی کیسی کیسی برکات ہیں کہ جن سے ایسی ایسی اعلیٰ اور کامل مخلوقات پیدا ہوتی ہیں۔ غرض کہ یہ تو انسان کی ایک مثال ہے ہر ایک چیز دنیا کی اس صفت کے ماتحت ترقی کر رہی ہے اور غور کرنے والے انسان کے لئے کثیر نفع کا باعث ہو سکتی ہے چنانچہ ہم ایک بڑ کو دیکھتے ہیں کہ اس کا بیج ایک رائی کے دانہ کے برابر ہوتا ہے مگر جب خدائے تعالیٰ کی صفتِ ربوبیت کے ماتحت آتا ہے اور بڑھنا شروع ہوتا ہے تو وہی رائی کے برابر دانہ اتنے بڑے درخت کی شکل میں تبدیل ہو جاتا ہے کہ سینکڑوں آدمی اس کے سایہ کے نیچے آرام کرتے ہیں غرض کہ کوئی چیز ہو بے جان ہو کہ جاندار‘ بڑی ہو کہ چھوٹی‘ ٹھوس ہو کہ سیال‘ سخت ہو کہ نرم خدائے تعالیٰ کی صفتِ ربوبیت کے نیچے اپنا کام کر رہی ہے اور اگر ایک دم بھی وہ صفت اپنا کام چھوڑ دے تو یک لخت سب کارخانہ برباد ہو جائے۔ چنانچہ سورج سے لے کر شہابِ ثاقب تک اور پہاڑ سے لے کر ذرہ تک اور ہاتھی سے لے کر ایک مچھر تک ہر ایک چیز اور مخلوقات کا ایک ایک جُزْءً لَّا يَتَجَزَّىٰ اس کی ربوبیت کے نیچے ہے اور ہر جگہ پر اور ہر مقام پر اس کی یہ صفت اپنا کام کر رہی ہے تو پھر ایسا خدا جو اس قدر کامل ہے اور اپنی اس صفت کی وجہ سے نہ صرف حسن بلکہ احسان میں بھی بے نظیر ہے کہ جس کا مقابلہ کوئی ہستی نہیں کر سکتی تو پھر اس خدا کی حمد نہ کی جائے تو اور کس کی حمد کرنے پر انسان کا دل مائل ہو سکتا ہے۔
پس اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(1:2) میں خدائے تعالیٰ نے اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ دنیا کی ہر ایک چیز پر نظر ڈال کر دیکھو کہ وہ میری صفتِ ربوبیت کے ماتحت چل رہی ہے اور کوئی چیز بغیر میری مدد کے قائم نہیں رہ سکتی اور کل حسنوں اور کل خوبیوں اور کل نیکیوں اور کل خوبصورتیوں اور کل احسانوں کا منبع میں ہی ہوں۔ اور میری ہی ذات سے یہ تمام کارخانہ چل رہا ہے اور میں نے صفتِ ربوبیت کے ماتحت ہر ایک چیز کو جو کہ ضروری ہے پیدا کر دیا ہے پس باوجود اس خوبی اور حسن اور احسان کے کون ہے جو میری حمد سے دل چرائے پس جیسا کہ انسانی دل حسن و احسان کو دیکھ کر بے اختیار محبت سے بھر جاتا ہے اس آیت کی تلاوت کے ساتھ ہی انسان کا دل خدا کی طرف جھکتا ہے اور اس کی محبت جوش مارتی ہے اور ایک خود رفتگی پیدا ہو جاتی ہے اور وفورِ عشق سے ایک ایسا سرور پیدا ہو جاتا ہے کہ جس سے انسان خدائے تعالیٰ کے احسانات کے ذریعہ خود اس کی ہی زیارت کر لیتا ہے اور دل منور ہو جاتا ہے اور چونکہ ربوبیت ہر ایک چیز کو جو راستہ کی رکاوٹ ہوتی ہے دور کرتی ہے اس لئے ایسے شخص کے دل پر ربوبیت اپنا خاص پرتو ڈالتی ہے اور وہ گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے اور اس کا دل ایک سکینت محسوس کرنے لگتا ہے تو ایسے وقت خدائے تعالیٰ کی صفتِ رحمانیت اپنا اثر شروع کرتی ہے اور وہ شخص جو ربوبیت کے اسرار پر واقفیت حاصل کر لیتا ہے خدائے تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے اور اس کا عشق اس کے دل میں بیٹھ جاتا ہے اور تمام دنیا کے تعلقات توڑ کر وہ بس اسی کا ہی ہو جاتا ہے اور ہر وقت اسی کے ذکر میں مشغول رہتا ہے۔ پس جبکہ ایسی حالت اس کی ہو جاتی ہے تو خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں الرَّحِیْم بھی ہوں یعنی جو میری راہ میں کوشش کرتے ہیں ان کی خاص طور سے مدد کرتا ہوں چنانچہ فرمایا ہے کہ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ(التوبہ: ۱۲۸) اور ایک دوسرے موقعہ پر اس کی اور بھی تشریح کی ہے کہ حَقًّا عَلَیۡنَا نَصۡرُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ(الروم: ۴۸) یعنی جب صفت ربوبیت سے انسان کا دل خدا ہی کی طرف جھک جاتا ہے اور اس کی رحمانیت کو دیکھ کر وہ دنیا سے قطع تعلق کر کے ہمارا ہی ہو جاتا ہے تو اس وقت ہم اس پر صفتِ رحیمیت کا پرتو ڈالتے ہیں اور وہ ہمارے حضور میں محبوب ہو جاتا ہے اور اس وقت کے بعد اس کی مدد اور دستگیری ہم پر فرض ہو جاتی ہے اور ہم اس کو محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ہر میدان اور وادی میں اس کو فتح دیتے ہیں اور اس کے مخالفین کو ہلاک کرتے ہیں اور اس کے دوستوں کو عزت اور اقبال دیتے ہیں اور جو کوئی اس کا دشمن ہو وہ ہمارا دشمن ہو جاتا ہے اور ہماری غیرت اس کے لئے بہت بڑھ جاتی ہے۔ اور ہم اس کے لئے آسمان سے برساتے ہیں اور زمین سے نکالتے ہیں اور گویا یہ زمین و آسمان ہی نہیں رہتا بلکہ ایک اور زمین اور نیا آسمان ہم اس کے لئے پیدا کر دیتے ہیں اس کے بعد خدائے تعالیٰ نے مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ(1:4) کی صفت بیان فرما کر بتایا ہے کہ جب وہ شخص ہمیں اس قدر پیارا ہو جاتا ہے تو پھر ہم اس کی شان اور مرتبہ کے مطابق ایک فیصلہ کرتے ہیں کہ جس سے اس کے مخالفین ہلاک ہو جاتے ہیں اور فتح و نصرت ان لوگوں کے نام پر ہوتی ہے چنانچہ جیسا موقعہ ہو جسمانی طور سے خواہ روحانی طور سے ان کو دنیا کا مالک بنا دیا جاتا ہے چنانچہ ایک اور جگہ پر فرمایا کہ اَلۡمُلۡکُ یَوۡمَئِذٍ لِّلّٰہِ ؕ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَکَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ(الحج: ۵۷-۵۸) یعنی جب کہ انسان ترقی کرتا کرتا ہمارا پیارا ہو جاتا ہے تو ہم اس کے اور اس کے مخالفین کے لئے ایک فیصلہ کا دن بناتے ہیں جس میں کہ ہم خاص طور سے اپنا جلال ظاہر کرتے ہیں اور ان کے درمیان فیصلہ کرتے ہیں چنانچہ جو ہمارے نیک بندے کے احباب ہوتے ہیں وہ تو اس دن بڑے امن اور چین کی حالت میں ہوتے ہیں اور مخالفین خائب و خاسر ہو کر غم و غصہ اور ناکامی اور ذلت کی آگ میں جلتے ہیں اور یہ دنیا ہی ان کے لئے دوزخ ہو جاتی ہے۔ اور مؤمن اسی دنیا میں جنت کا مزہ چکھ لیتے ہیں چنانچہ فرمایا کہ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ(البقرہ: ۳۹) یعنی ان کو نہ کچھ خوف رہتا ہے اور نہ غم اور وہ خدائے تعالیٰ کی عنایات کا خوشگوار پھل کھاتے ہیں اور اسی کی طرف اشارہ ہے کہ بہشتی کہیں گے کہ ہٰذَا الَّذِیۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ(البقرہ: ۲۶) یعنی یہ مزہ تو ہم دنیا میں بھی کامیابی کے رنگ میں چکھ چکے ہیں جو کہ اب آکر مکمل طور سے اٹھا رہے ہیں۔
غرض کہ ان آیات میں خدائے تعالیٰ نے اول تو اپنی کُلّی صفات کا مجملاً ذکر کیا ہے کیونکہ اللہ کا لفظ ہی ان تمام صفات پر دلالت کرتا ہے جو کہ خدائے تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں اور جو ہر قسم کی نیکی پر مشتمل ہیں اور ہر قسم کی بدی سے مبرّا ہیں۔ جیسا کہ قرآن شریف میں مختلف جگہ پر آتا ہے کہ اللّٰہَ تَوَّابٌ حَکِیۡمٌ(النور: ۱۱) اور اللّٰہَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ(النور: ۲۱) سورہ انفال میں اَنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ(الانفال: ۱۸) حج میں اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ(الحج: ۶۲) بقرہ میں اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ(البقرہ: ۱۹۷) توبہ میں اللّٰہَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ(التوبہ: ۷۸) مائدہ میں اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ(المائدہ: ۳۵) مجادلہ میں اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ(المجادلہ: ۳) حج میں اللّٰہَ لَہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ(الحج: ۶۵) ذاریات میں اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ(الذاریات: ۵۹) حج میں اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ(الحج: ۴۱-۵۷) آل عمران میں وَاللّٰہُ یُحۡیٖ وَیُمِیۡتُ(آل عمران: ۱۵۷) اور سورہ حشر میں اَلۡمَلِکُ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ الۡمُؤۡمِنُ الۡمُہَیۡمِنُ الۡعَزِیۡزُ الۡجَبَّارُ الۡمُتَکَبِّرُ ؕ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ہُوَ اللّٰہُ الۡخَالِقُ الۡبَارِئُ الۡمُصَوِّرُ لَہُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی(الحشر: ۲۴-۲۵) غرض یہ کہ اول تو لفظ اللہ میں مجملاً اور پھر رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ(الفاتحہ: ۲-۳-۵) میں ذرا کھول کر وہ تمام خوبیاں بیان کر دی گئی ہیں کہ جو اللہ کی ذات میں پائی جاتی ہیں اور کل بدیوں سے اسے مبرّا کر دیا ہے۔ سو جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں سچے مذہب کی نشانی یہ ہے کہ وہ انسان کو خدائے تعالیٰ سے محبت پیدا کرائے نہ کہ نفرت سو اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ(الفاتحہ: ۲-۳-۵) سے بڑھ کر اور کوئی راہ نہیں کہ انسان کو خدا سے تعلق پیدا کروایا جائے۔ کیونکہ انسان فطری طور سے ایسا محبوب چاہتا ہے کہ جو خوبصورت اور خوب سیرت ہو اور کوئی مذہب نہیں جس نے خدا کو ایسا پاک اور پیار اور محسن دکھایا ہو جیسا کہ اسلام نے بتایا ہے اور چونکہ وہ ہستی جس نے اس کارخانہ کو اس خوبی سے چلایا ہوا ہے سب سے زیادہ کامل چاہئے اور سب صفات حسنہ اس میں پائی جانی چاہئیں تاکہ وہ ناقص نہ رہ جائے اس لئے سچے مذہب کا فرض ہے کہ وہ ان تمام صفات حسنہ کو پیش کرے اور خدائے تعالیٰ کو اصلی اور سچے رنگ میں لوگوں کو دکھائے نہ کہ ایسے رنگ میں
کہ ایک معشوق نہایت خوبصورت ہو مگر اس کی ناک کٹی ہوئی ہو یا اندھا ہو یا بہرا ہو یا کان ندار دیا ہاتھ پاؤں سے عاری ہو کیونکہ اگر کوئی مذہب خدائے تعالیٰ کو ایسے رنگ میں پیش کرے کہ اس میں صفات حسنہ کامل طور سے نہ پائی جائیں یا یہ کہ اس میں کسی قدر کمزوری رہ جائے یا بدی پائی جائے تو ایسا مذہب بالکل جھوٹا ہے کیونکہ وہ نہ صرف خدا کو ناقص قرار دیتا ہے بلکہ نقص کو مان کر چونکہ خدا کا حادث ہونا بھی ثابت ہوتا ہے اس لئے قریباً خدا کا منکر ہی ہے۔ پس جیسا کہ ہم اوپر بتا آئے ہیں خدائے جہان و جہانیان نے اسلام میں قرآن شریف میں اپنی صفات حسنہ آپ ہی بتائی ہیں کیونکہ وہ غیر محدود ہے اور اس کی صفات کی کنہ اور اصلیت کو سوائے اس کے کوئی اور ہستی نہیں پہنچ سکتی کیونکہ اس کے سوا سب چیزیں محدود ہیں اور جیسا کہ میں اوپر ثابت کر آیا ہوں ان مذکورہ بالا آیتوں میں ان کا نچوڑ بیان فرمایا ہے اور کوئی نیک صفت نہیں جو کمال کو چاہتی ہو اور خدائے تعالیٰ میں اسلام نے ثابت نہ کی ہو مگر اس کے برخلاف دیگر مذاہب میں ایسا نہیں ہے اور اگر ہے تو یہ بار ثبوت ہمارے مخالفین پر ہے کہ ان کی الہامی کتب نے بھی خدائے رحیم کی صفات پر ایسی روشنی ڈالی ہے اور اگر ایسا نہیں کیا اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ قطعاً ایسا نہیں کیا تو پھر جبکہ انہوں نے خدائے تعالیٰ کی ان صفات کو جو انسان سے تعلق رکھتی ہیں بیان ہی نہیں کیا تو لوگ خدائے تعالیٰ کو سمجھ ہی کیا سکتے ہیں یعنی جبکہ ان کو بتایا ہی نہیں گیا کہ خدائے تعالیٰ کون سی ہستی ہے اور اس میں کونسی صفات پائی جاتی ہیں تو پھر انسان کو اس سے تعلق پیدا کرنا کس طرح ممکن ہے ایک چیز جس کا زید کو علم ہی نہیں وہ اس سے محبت کیونکر کر سکتا ہے یہ ممکن ہے کہ ایک چیز ہی نہ ہو اور وہمی طور سے اس کی ایک تعریف کر کے انسان اس سے محبت کرنے لگے جیسے بعض لوگ کیمیا سے۔ لیکن نہیں ہو سکتا کہ ایک چیز کو انسان جانتا ہی نہ ہو نہ وہمی طور سے نہ علمی طور سے اور نہ یقینی طور سے اور پھر اس سے محبت بھی کرے اور تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ پس جبکہ غیر مذاہب خدا کی صفات پر روشنی ڈالتے ہی نہیں اور اگر ڈالتے ہیں تو اس کو نَکٹا اندھا بہرا یا بے دست و پا بتاتے ہیں تو اسلام کے مقابلہ پر جو خدا کو کل صفات حسنہ کا متصف اور برائیوں سے مبرّا قرار دیتا ہے کیونکر ٹھہر سکتے ہیں پس اصل اور سچی بات یہی ہے کہ سوائے اسلام کے اور کوئی مذہب خدا کو اس رنگ میں پیش نہیں کرتا کہ اس سے محبت ہو سکے بلکہ ان کے پیش کردہ اصول کے مطابق خدا سے گھن آتی ہے اور نفرت پیدا ہوتی ہے پس اسلام ہی ایک سچا مذہب ہے۔
اس کے علاوہ انہی آیات سے ایک اور بھی بات نکلتی ہے جو کہ اسلام کی سچائی اظہر من الشمس کردیتی ہے اور وہ یہ کہ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(1:2) میں خدائے تعالیٰ نے اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ میں تمام عالموں کا رب ہوں یعنی خواہ کسی ملک کا باشندہ ہو یا کوئی زبان بولنے والا ہو یا کیسے اخلاق سے ہی متصف ہو سورج اور چاند اور دیگر ستارے اور پانی اور ہوا اور زمین اور آگ اور جمادات اور نباتات میں نے ہر قسم کے لوگوں کی ربوبیت کے لئے پیدا کر دیئے ہیں۔ کسی سے بخل نہیں کیا کیونکہ میں رَبُّ الْعَالَمِیْنَ ہوں سو اسی طرح صاف بات ہے کہ جب سب دنیا میری بنائی ہوئی ہے اور میں نے ان کے لئے جسمانی آسائش اور آرام کے سامان مہیا کئے ہیں تو کیا ان کی روح کے لئے کچھ فکر نہ کروں گا سو جیسا کہ میں جسمانی عالم کا پرورش کرنے والا ہوں ایسا ہی روحانی عالم کا بھی ہوں جیسا کہ فرمایا کہ قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُکُمۡ غَوۡرًا فَمَنۡ یَّاۡتِیۡکُمۡ بِمَآءٍ مَّعِیۡنٍ(الملک: ۳۱) یعنی ان سے کہو کہ اگر تمہارا پانی سوکھ جائے تو کون ستھرا پانی عنایت کرتا ہے یعنی جبکہ تم کو اس جسمانی زندگی کے لئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور جب ضرورت ہوتی ہے تو خدا نازل کرتا ہے تو کیا روحانی زندگی جو ابدی ہے اس کے لئے الہام الٰہی یا پانی نازل نہ کرے گا۔ پھر دوسری جگہ فرمایا کہ قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّیۡ(بنی اسرائیل: ۸۶) یعنی کہہ دے کہ یہ الہام و وحی جو ہے یہ تو ربوبیت کی صفت کے ماتحت لازمی ہے اور ربوبیت سے ہی تعلق رکھتا ہے۔ پس جسمانی ربوبیت کو دیکھتے ہوئے اس کے کیوں منکر ہوتے ہو اور پھر قرآن شریف نے فرمایا ہے کہ مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ(فاطر: ۲۵) یعنی کوئی قوم نہیں جس میں ہم نے اپنا مامور نہ بھیجا ہو سو اس آیت میں خدائے تعالیٰ نے بدلالت ثابت کیا ہے چونکہ ربوبیت عام ہے اس لئے جسمانی رنگ میں بھی عام ہے اور روحانی رنگ میں بھی یعنی ہر ایک قوم کے باشندوں کو جو الہام الٰہی پانے کے مستحق ہوں الہام کیا جاتا ہے یعنی وہ رحمانیت و رحیمیت کے مقتضیٰ کو پورا کرتے ہوئے یَوْمِ الدِّیْنِ میں پاس ہو جائیں تو ان کے لئے الہام الٰہی کا دروازہ کھلا ہے اور چونکہ یہ ربوبیت ہر زمانہ کیلئے ہے اسی لئے اسلام نے ہر زمانہ میں ایک مجدد بتلایا ہے تاکہ لوگ الہام کو ہر زمانہ میں دیکھتے اور آزماتے رہیں۔ پس بتاؤ کہ کیا وہ مذہب جو یہ بتاتا ہے کہ میں نے کسی زمانہ میں اپنے پیرؤوں کو خدا سے ملایا تھا سچا ہو گا؟ یا وہ جو کہتا ہے کہ میں ہر وقت دکھا سکتا ہوں؟ اور کیا وہ مذہب جو خدائے تعالیٰ کی سب نعمتوں کو ہر زمانہ اور ہر مکان کے لئے عام کرتا ہے محبت کے قابل ہے یا وہ جو خدا کو اب معطل مانتا ہے گویا کہ اب وہ بہرہ ہے۔
پس اب میں گنجائش کے مطابق کافی طور سے لکھ چکا ہوں کہ اسلام ہی ہے جو انسان اور خدا کے تعلقات کو مضبوط کرتا ہے اور انسان کے دل میں اس خالقِ حقیقی کی محبت کا فوارہ جاری کر دیتا
ہے اور اگر کسی اور مذہب کے پیرو کا اس کے بر خلاف یقین ہو تو وہ اس کے مقابلہ میں اپنی کتاب میں سے دعویٰ اور دلائل پیش کرے ورنہ بے فائدہ جھگڑوں سے کیا فائدہ۔
وَ اٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
خاکسار میرزا محمود احمد (تشحیذ الاذہان دسمبر ۱۹۰۹ء)
(منقول از تشحیذ الاذہان)
از
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
مسیحیوں کی طرف سے ہمیشہ اعتراض ہوا کرتا ہے کہ نجات کی حقیقت کو ہی غیر مذاہب کے لوگ نہیں سمجھتے تو پھر اس کے حصول کے ذرائع ان کو کیونکر معلوم ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ جو چیز کسی کو معلوم ہی نہ ہو۔ وہ اس کے حاصل کرنے میں کامیاب کیونکر ہو سکتا ہے مثلاً ایک شخص نہیں جانتا کہ وکالت کا کوئی امتحان ہوتا ہے تو پھر وہ اس کے پاس کرنے کی تیاری کیونکر کر سکتا ہے۔ یا اگر کسی کو یہ بھی معلوم ہو کہ وکالت کا امتحان ہوتا ہے مگر وہ یہ نہ جانے کہ اس میں کیا کچھ پڑھایا جاتا ہے اور کون کون سی کتاب کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے تو ایسے شخص سے اس کے پاس کرنے کی کیا امید ہو سکتی ہے۔ مرض کا علاج تب ہی ہوتا ہے کہ جب مرض کی تشخیص بھی ہو چکی ہو۔ اگر کوئی مرض کی حقیقت سے ہی ناواقف ہے تو پھر اس کا علاج کیا خاک کرے گا۔ پس اس اعتراض کے ماتحت وہ کل مذاہب کو ردّ کرتے اور ان کے پیرؤوں کی بیوقوفیوں پر ہنستے ہیں۔ مگر دعویٰ اور دلائل میں بڑا فرق ہے۔ ایک انسان دعویٰ تو بہت کر سکتا ہے مگر ثبوت ہر ایک دعویٰ کا مشکل سے لاسکتا ہے۔ مگر ثبوت کے بغیر تو دعووں کی کچھ وقعت نہیں ہوتی۔ اس لئے اگر پادری صاحبان ہم پر ہنسیں تو ہم بھی بقول حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام یہی کہیں گے کہ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡکُمۡ کَمَا تَسۡخَرُوۡنَ(ھود: ۳۹)
مگر چونکہ نجات کا مسئلہ ایک مہتم بالشان مسئلہ ہے اس لئے میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں رسالہ تشحیذ الاذہان میں سلسلہ وار ایک مفصل مضمون لکھ کر اس پر کچھ روشنی ڈالوں اور ثابت کروں کہ جو نجات کی حقیقت اسلام نے بتائی ہے کوئی مذہب اس تک نہیں پہنچ سکا اور یہ کہ کل مذاہب اس معاملہ میں بہت حد تک غلطی پر ہیں۔ وَ مَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔
ارادہ تو میرا اس مضمون پر کچھ لکھنے کا مدت سے تھا۔ مگر ایک عرصہ سے طبیعت کچھ علیل رہی ہے۔ چنانچہ اول تو قریباً ایک ماہ تک کسی قدر بخار ہوتا رہا اور سخت سر درد کا دورہ رہا۔ اب کوئی ہفتہ بھر سے کھانسی ہو رہی ہے۔ مگر اس خیال سے کہ آخر یہ کام کرنا تو ہے ہی خدا تعالیٰ کے بھروسہ پر شروع کرتا ہوں۔ اگر منشائے الٰہی ہو گا تو پورا ہو رہے گا۔ اس علالت طبع کی وجہ سے ہی قدامت مادہ کا مضمون بھی شروع نہ کر سکا۔ حالانکہ میں نے وعدہ کیا تھا کہ مارچ تک شروع کر دیا جائے گا شاید ایک دو ماہ اس میں اور توقف پڑ جائے۔ وَاللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
چونکہ یہ مضمون سلسلہ وار نکلے گا (انشاء اللہ) اس لئے جملہ خریداران رسالہ سے التجا ہے کہ وہ اس کو سنبھال کر رکھیں تو آخر میں انشاء اللہ ایک چھوٹی سی کتاب بن جائے گی۔ اور ممکن ہے کہ کسی وقت کوئی سعید روح اس سے فائدہ اٹھائے۔ وَمَا عَلَیۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ(36:18)
راقم خاکسار مرزا محمود احمد
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
میں اس مضمون کے شروع کرنے سے پہلے اس قدر لکھ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ چونکہ اس وقت غیر مذاہب کو اپنے مذاہب کی طرف بلانے والے تین ہی گروہ ہیں۔ اول مسلمان دوم مسیحی اور سوم آریہ اس لئے میں اس مضمون میں سب سے پہلے فلسفہ نجات پر جو کچھ اسلام نے روشنی ڈالی ہے۔ اس کو ایک حد تک مفصل بیان کروں گا۔ اور بعد ازاں مختصر طور سے غیر مذاہب کے بیانات پر کچھ تنقید کروں گا۔ اور سچے اسلام کی سچائی ثابت کرنے کے بعد غیر مذاہب کے دلائل کو توڑنے کی چنداں ضرورت بھی نہ ہوگی۔ کیونکہ جب اسلام کا دعویٰ دلائل قطعیہ سے ثابت ہو گیا۔ تو پھر دوسرے مذاہب آپ ہی باطل ہو گئے۔ اتنا لکھنے کے بعد میں دو امر اور بھی کھول دینے ضروری سمجھتا ہوں۔
اول تو یہ کہ تینوں مذاہب جن کا میں ذکر کر آیا ہوں اپنے خیالات اور دعاوی کی بناء ایک الہامی کتاب پر رکھتے ہیں کہ جس کی نسبت ان کا یقین واثق ہے کہ وہ خدائے علیم و خبیر کی طرف سے ہے۔ پس جبکہ تینوں مذاہب کا یہی خیال ہے اور وہ اس پر پکے ہیں اور جو ان کی کتاب پر شک کرے اور اسے جھوٹا کہے وہ اس کو دروغ گو اور نادان کہتے ہیں۔ تو پھر ضروری ہے کہ ہر ایک مدعی اپنے مذہب کی طرف جو کچھ منسوب کرے اس کا دعویٰ اور دلیل اسی الہامی کتاب میں سے پیش کرے۔ کیونکہ جب وہ کتاب اپنے اندر کامل ہو اور ہر قسم کے دعاوی جو اس مذہب کے قیام کے لئے ضروری ہوں اس کے اندر موجود ہوں۔ اور نہ صرف دعاوی ہی بلکہ دلائل بھی وہ خود ہی دیتی ہو۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک بات خدا تو بھول گیا اور اپنی کتاب میں درج کرنے سے قاصر رہا مگر انسان اس کی مدد کے لئے اٹھا۔ اور اس نے اس خدا کے کام کو کامل کیا اور اس طرح سے وہ بوجھ جو خدا سے نہ اٹھ سکا وہ انسان نے اٹھایا اور خدا کو اس مصیبت سے بچا لیا۔ مثلاً جب کفارہ کا مسئلہ مسیحی صاحبان پیش کریں تو ضروری ہے کہ پہلے توریت و انجیل سے اس کا دعوٰی پیش کریں اور پھر اس کے دلائل بھی انہیں کتابوں سے پیش کریں۔ کیونکہ جب ایک نادان آدمی تک اپنی بات کے ساتھ دلائل بیان کرتا ہے تو کیونکر ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ جو کوئی فعل لغو نہیں کرتا ایک ایسا بڑا مسئلہ جس پر بنی نوع انسان کی نجات کا دار و مدار ہو اپنی کتاب میں بیان نہ کرے اور ایک مدت کے بعد انسان کو یہ مسئلہ اپنی عقل سے بنانا پڑے۔ یا یہ کہ دعوٰی تو الٰہی کتاب میں ہو کہ کفارہ کا مسئلہ بھی ایک سچا اور پکا مسئلہ ہے۔ مگر اس کے لئے کوئی دلیل نہ رکھی ہو اور انسان کو مجبوراً اس کے لئے دلائل تلاش کرنے پڑیں۔ اور خدا تعالیٰ کی مدد کے لئے اسے دن رات کوشش کی ضرورت ہو۔ اور پھر کہیں جا کر وہ دعوٰی جو خدا تعالیٰ نے کیا تھا انسان کی مدد سے تکمیل کو پہنچے اور اس طرح خدا تعالیٰ کا انسان حامی اور مددگار بن جائے۔
پس ضروری ہے کہ کل ایسے مسائل جن پر انسان کی نجات کا دار و مدار ہو ان کا دعوٰی الہامی کتاب میں موجود ہو اور اس کے ساتھ دلائل بھی دیئے گئے ہوں ورنہ جیسے مقدمہ والوں کو وکیلوں کی تلاش کرنی پڑتی ہے۔ ایسے ہی اس کی کتابوں کے لئے بھی ایسے وکلاء کی ضرورت پڑے گی کہ جو خدا تعالیٰ کے بے دلائل دعاوی کو ثابت کریں۔ پس جس مذہب میں کوئی مہتم بالشان مسئلہ اعتقادی یا عملی جس سے نجات کا تعلق ہو ایسا پایا جائے گا کہ جو اس کی الہامی کتاب میں نہیں تو یا تو ہم کہہ دیں گے کہ اس مسئلہ کا تمہاری کتاب کو انکار ہے یا یہ کہ وہ الہامی کتاب ناقص ہے مگر چونکہ خدا تعالیٰ کی طرف نقص کو منسوب کرنا ایک سخت گناہ ہے اس لئے مجبوراً کہنا پڑے گا کہ یا تو وہ کتاب الہامی ہی نہیں اور یا انسانی دستبرد سے تباہ ہو گئی ہے ورنہ اگر انسان کو اجازت ہو کہ جو کچھ چاہے الہامی کتاب کی طرف منسوب کر دے اور کوئی ضرورت نہیں کہ اس میں ہو یا نہ ہو تو دنیا میں شرارت کی کوئی حد نہیں رہے گی۔ اور جس کا جو خیال ہو گا وہ اسے خدا کی کتاب کی طرف منسوب کر دے گا۔ اور اعتراض پر جواب دے گا کہ جیسے تم نے چند عقیدے بنا لئے اور الہامی کتاب میں ان کی کوئی اصل نہیں ویسے ہی میں نے بھی بنا لئے تو اس طرح ایمان اٹھ جائے گا اور امن جاتا رہے گا اور مذہب کی سچائی کا کوئی معیار نہ رہے گا اور الہامی کتابوں کی کوئی حقیقت اور وقعت نہ رہے گی۔ پس ہر ایک مسئلہ کو پیش کرتے ہوئے چاہئے کہ انسان اس کو اپنی کتاب میں دکھائے اور پھر اس کے دلائل بھی اسی کتاب میں سے دکھائے۔ اور اگر دعوٰی دکھا دیا ہے تو پھر اس کے لئے دلائل بھی اسی
کتاب میں سے دکھائے تاکہ انسان پر اس الہامی کتاب کی عزت ثابت ہو۔ مثلاً یہی نجات کا مسئلہ ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اول تو ایک مسیحی اپنی کتاب میں سے دکھائے کہ نجات بھی کوئی چیز ہے اور اگر ہے تو وہ کیا ہے۔ اور پھر اس کے حصول کے کون سے ذرائع ہیں اور یہ تمام باتیں جو بیان کی گئی ہوں۔ تو ان کے ساتھ دلائل بھی دیئے گئے ہوں ورنہ یہی کہنا پڑے گا کہ مدعی سست اور گواہ چست۔
پس اس مضمون میں انشاء اللہ جو اسلامی اصل پیش کروں گا اسے قرآن شریف سے پیش کروں گا۔ اور اس کے دلائل بھی قرآن شریف سے ہی دوں گا اور اس کی مد میں اگر کوئی حدیث رسول اللہ ﷺ ہوگی تو اسے بھی تفسیر کے طور پر پیش کروں گا۔ اور میرے خیال میں مذہبوں کا فیصلہ کرنے کے لئے اس سے زیادہ آسان اور کوئی راہ نہیں۔ ورنہ اگر انسان من گھڑت اعتقاد بنانے شروع کر دے۔ تو پھر مذہب تو کچھ چیز نہیں رہتا۔ اور نہ الہامی کتاب کی ہی کوئی ضرورت رہتی ہے اور بات بھی کیسی لغو ہے کہ جس خدا نے ہم کو پیدا کیا اور ہم ماں کے رحم میں تھے تو وہاں بھی ہماری پرورش کے سامان تیار کئے پھر ہم پیدا ہوئے تو یہاں ماں کی چھاتیوں میں دودھ پہلے سے تیار تھا۔ بڑے ہوئے تو ہر قسم کے خورد و نوش کے سامان مہیا پائے جس نے دن کے لئے سورج اور رات کے لئے چاند اور ستارے بنائے۔ پھر ایسا خدا جو قادر ہے جو دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے اور ہر قسم کے وساوس اس پر روشن ہیں۔ کیا اس نے ہماری نجات کے ذرائع نہیں پیدا کئے اور اپنی کتاب میں بھی ان عقائد کا کوئی ذکر نہیں کیا کہ جس پر انسان کی نجات کا دارومدار ہے۔ اور اس کے لئے اسے اور لوگوں سے التجا کرنی پڑی کہ تم ہمارے لئے کچھ اعتقادات بناؤ کہ جن پر ہم ایمان لائیں اور ان کے لئے کچھ دلائل بھی تلاش کرو کہ تاہم چشموں کی نظروں میں سبک اور ذلیل نہ ہوں۔ اگر مذہب کی یہی اصلیت ہے تو پھر یہ مذہب آج بھی گئے اور کل بھی گئے۔
میں اس دعویٰ کو بھی بغیر دلیل کے پیش کرنا پسند نہیں کرتا۔ اس لئے خود قرآن شریف سے اس کا ثبوت دیتا ہوں کہ قرآن شریف نے اس اصول کو تسلیم کیا ہے اور اپنی سچائی کا اسے دارومدار ٹھہرایا ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ الَّذِیۡنَ یُجَادِلُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰہُمۡ ۙ اِنۡ فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ اِلَّا کِبۡرٌ مَّا ہُمۡ بِبَالِغِیۡہِ ۚ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ(المؤمن: ۵۷) ترجمہ (وہ لوگ جو کہ اللہ کی آیتوں کے بارے میں بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس (خدا کی طرف سے) آئی ہو۔ بحث میں لگے رہتے ہیں ان کے دلوں میں بڑی بڑی خواہشیں ہیں۔ جن کو وہ کبھی نہ پہنچیں گے۔ پس اللہ کی پناہ مانگتا رہ۔ وہ سب سننے والا اور سب دیکھنے والا ہے۔ ناقل) اس آیت میں خدا تعالیٰ نے مخالفینِ اسلام پر یہ حجت قائم کی ہے کہ جب تم مذاہب کے متعلق گفتگو کرتے ہو تو تمہارا فرض ہے کہ دعوٰی اور دلیل پیش کیا کرو۔ مگر جب کہ تم کوئی دلیل پیش نہیں کرتے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے تم کو ملی ہو تو دعوٰی باطل سے کیا حاصل بلادلائل مباحثہ کا کیا نتیجہ۔ پس اس آیت میں خدا تعالیٰ نے کل مذہبی مباحثوں کا آسان اور سہل طریق بتا دیا ہے کہ اگر فیصلہ چاہو تو سہل راہ یہ ہے کہ دلائل پیش کرو جو کہ تمہاری کتب میں دیئے گئے ہوں نہ کہ جس کی جو مرضی ہوئی عقیدہ گھڑ لیا اور شتر بے مہار کی طرح بولتے چلے گئے۔ مسیحی صاحبان میں اگر یہ عادت داخل ہوئی۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ ان کی جدت پسندی اور آئے دن کی ایجادوں کی وجہ سے ہوئی کیونکہ ان میں جہاں ہزاروں ہزار موجد اور سائنس کے علماء پیدا ہو گئے۔ وہاں پادریوں نے بھی اپنی عزت قائم رکھنے کے لئے آئے دن نئے نئے عقیدے اور نئے نئے دعاوی ایجاد کرنے شروع کئے۔ مگر نہ معلوم آریہ صاحبان نے ان ایجادوں میں کہاں سے کمال حاصل کیا۔ غرض کہ یہ طرز خواہ مسلمان اختیار کریں یا مسیحی یا آریہ بہت ہی خطرناک اور ضرر رساں ہے کہ جس کے دل میں جو کچھ آیا وہ کہہ دیا۔ جس کا ثبوت تو ثبوت دعوٰی تک کتاب میں سے نہ نکلے۔ پس یہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا جو ایک بے عیب ہستی ہے اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کی بھی طاقت نہ رکھے۔ اور اپنا منشاء بیان کرنے سے قاصر رہے اور انسان کا فرض ہو کہ جو دعاوی خدا تعالیٰ سے بیان کرنے میں رہ گئے تھے یا جن کے لئے اسے کوئی دلیل نہیں سمجھ میں آئی۔ ان دعاوی کو تلاش کرے اور دلائل بھی اپنی طرف سے پیش کرے۔ میرے خیال میں تو اس اعتقاد کا شخص خدا تعالیٰ کے علم اور طاقت کا منکر ہے اور مذاہب کا مصلح نہیں بلکہ مفسد ہے۔
دیکھو قرآن شریف نے کیسے بین طور سے فرمایا ہے کہ مَا کَانَ حَدِیۡثًا یُّفۡتَرٰی وَلٰکِنۡ تَصۡدِیۡقَ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَتَفۡصِیۡلَ کُلِّ شَیۡءٍ وَّہُدًی وَّرَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ(يوسف: ۱۱۲) یعنی قرآن شریف کوئی جھوٹی بات نہیں ہے بلکہ یہ تو سچا کرنے والی ہے اس کو جو کہ آگے آیا ہے اور اس میں تو ہر ایک بات جو کہ دین کے متعلق ہے مفصل دعوٰی اور دلیل کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ اور اس میں گمراہوں کے لئے ہدایت راستی کے طریق ہیں اور یہ تو ایمانداروں کے لئے ایک رحمت کا موجب ہے۔ ایسا نہیں کہ اس کو مان کر انسان ایک مصیبت میں پڑ جائے اور آگے من گھڑت دعاوی اور دلائل کے ساتھ اس کی مدد کرنی پڑے۔
علاوہ اس کے قرآن شریف ایک اور جگہ فرماتا ہے کہ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ وَنَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِہٖ نَفۡسُہٗ ۚۖ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِیۡدِ(ق: ۱۷) اس آیت میں خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کی سچائی کا ثبوت دیا ہے اور فرمایا ہے کہ قرآن شریف کی سچائی کا یہ ثبوت ہے اور اس کے خدا کی طرف سے ہونے کی یہ دلیل ہے کہ وساوسِ نفسانی کو کوئی انسان تو سمجھ ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ کسی کو کیا معلوم ہے کہ دوسرے کے دل میں کیا کیا خیالات گزرتے ہیں اور کون کون سی بات اس کے دل میں کھٹکتی ہے۔ اگر کوئی سمجھ سکتا ہے تو وہ خالق ہی ہے۔ پس جبکہ خالق ہی سمجھ سکتا ہے تو قرآن شریف کے ہماری طرف سے ہونے کی یہ دلیل ہے کہ ہم نے کل وساوسِ انسان کا اس میں با دلائل رَدّ کیا ہے۔ اور یہ کسی انسان کا کام نہیں ہو سکتا۔ اس لئے ثابت ہوا کہ کلام جو ہے تو اسی ہستی کی طرف سے ہے کہ جو خالق ہے کل انسانوں کی تبھی تو اس نے ہر ایک کے خیال کا اس میں رد کر دیا۔ ورنہ غیر تو غیر انسان تو اپنے بیوی بچے کے خیالات پر بھی آگاہی حاصل نہیں کر سکتا۔ پھر کس طرح ممکن تھا کہ کوئی انسان ایسی کامل کتاب اپنی طرف سے بنائے کہ جس میں کل وساوسِ انسان کا ردّ موجود ہو۔ اور باہر سے دعوٰی یا دلائل مانگنے کی کچھ ضرورت نہ پڑے۔ پس اس آیت میں قرآن شریف نے دعوٰی کیا ہے کہ کل دعوے اور دلائل میرے اندر موجود ہیں۔ اور میں ایک کامل کتاب ہوں اور کسی قسم کا بھی وسوسہ اور شیطانی خیال ہو اس کا جواب تدبر کرنے والے انسان کے لئے مجھ میں موجود ہو گا۔ اور کوئی اعتراض بھی ذات وصفات الٰہیہ پر نہ پڑے گا کہ جس کا جواب نہ دیا گیا ہو۔ اور کوئی حرف گیری اسلامی عقائد پر نہ کی جائے گی کہ جس کا ردّ نہ کیا گیا ہو۔ پس یہ کام خدا کے سوا اور کسی کا ہو نہیں سکتا اس لئے یہ کتاب ضرور الہامی ہے۔
اب میں کافی طور سے بتا چکا ہوں کہ قرآن شریف نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہر ایک الہامی کتاب کا فرض ہونا چاہئے کہ کل ضروری باتوں کا اس میں بیان ہو۔ اور وہ بغیر دلائل کے بیان نہ کی گئی ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کے لئے دلائل بھی آنے چاہئیں۔ اگر قرآن شریف کے بتائے ہوئے اس پاک اصول پر دنیا کاربند ہوتی تو میں خیال کرتا ہوں کہ بہت سے جھگڑے خود بخود ہی طے ہو جاتے اور کچھ لمبے چوڑے مباحثات نہ کرنے پڑتے۔۔۔ مگر افسوس کہ چونکہ غیر مذاہب اس نعمت سے خالی ہیں۔ اس لئے حتی المقدور وہ اس کے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ مگر میں نے اس پر اس لئے زور دیا ہے کہ شاید کسی سعید روح کو کچھ فائدہ پہنچے اور وہ سوچے اور غور کرے کہ کیا وجہ کہ ہم خدا کی مدد کو آئیں ۔ اور وہ خود اپنی الہام کردہ کتاب کو ایسا ناقص رکھے کہ دلائل تو دلائل دعاؤں تک ہم کو خود تیار کرنے پڑیں۔ اور اس صورت میں پھر خدا تعالیٰ کا ہم پر کیا احسان ہوا۔ یہ تو ہماری اپنی کوششوں کا نتیجہ ہوا کہ لوگ خدا کو سمجھنے لگے ورنہ اگر ہم کوشش نہ کرتے تو خدا کی کتاب ایک بے فائدہ چیز کی طرح رہ جاتی۔ مگر اسلام ہی ایک مذہب ہے کہ کہتا ہے کہ تم ہماری مخلوق ہو ہم کو تمہاری مدد کی کچھ ضرورت نہیں۔ ہم نے اپنی کتاب کو کامل بنایا ہے۔ اور دعاویٰ اور دلائل میں ناقص نہیں رکھا۔ پس اگر تم ہدایت پاتے ہو تو نہ اس لئے کہ تم ہم پر احسان کرتے ہو بلکہ اس لئے کہ ہم نے تمہارے لئے سچائی کو ایسا بیّن کر کے کہہ دیا ہے کہ سوائے نادان یا شریر آدمی کے کوئی اس کا انکار نہیں کر سکتا۔ پس جس رنگ سے اسلام کو خدا تعالیٰ نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس طرح اسلام پر اس کے ماننے والوں کا کوئی احسان نہیں۔ بلکہ اسلام کا ان پر ہے۔ لیکن دوسرے مذاہب کا دارو مدار ان کے پیروؤں پر ہے۔ اگر انہوں نے ان کی خبر گیری کی اور اپنے پاس سے ان کے لئے دلائل مہیا کئے تب تو وہ کچھ بچ رہے۔ ورنہ جسمِ بے جان کی طرح زمین پر جا پڑے جو کہ ایک سچے مذہب کی نشانی نہیں۔ پس اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے میں تمام دعاویٰ اور ان کے دلائل قرآن شریف سے ہی بیان کروں گا۔ وَ مَا تَوْفِيْقِیْ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔
دوسری بات جو تمہید ہی میں بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ یہ ہے کہ تمام مذاہب کا جو جھگڑا پڑتا ہے۔ تو صرف ایک دوسرے کو دعوت کرنے کی وجہ سے ہی پڑتا ہے۔ مثلاً مسیحی جب تمام دنیا کے مذاہب کے پیروؤں کو اپنی طرف بلاتے ہیں۔ اور اپنے مذہب کو ہی سچا سمجھ کر دوسروں کو بھی اس کے قبول کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ تبھی دوسرے مذاہب کو بھی اس کے ردّ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر دنیا میں کل مذاہب ایسے ہی ہوتے کہ وہ ایک دوسرے کے پیروؤں کو اپنے اندر ملانے کی طرف توجہ نہ کرتے۔ یا انہیں ممنوع ہوتا تو ہرگز یہ ضرورت پیش نہ آتی کہ ایک مذہب دوسرے مذہب کی اس زور شور سے تردید کرتا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان فرقوں میں جو دوسرے مذاہب کے پیروان کو اپنے اندر شامل نہیں کرتے۔ اس قسم کے مباحثات پیش نہیں آتے۔ مثلاً کہیں نظر نہیں آئے گا کہ یہودی اور سناتن دھرم کے پیرو ایک دوسرے کے برخلاف سختی سے مذہبی مباحثات کر رہے ہوں۔ مگر یہودیوں
مسیحیوں یا یہودیوں اور مسلمانوں میں اس قسم کے مباحثات بہت سے مقام پر مشاہدہ میں آسکتے ہیں۔ مگر پھر بھی کامل جوش کے ساتھ نہیں کیونکہ مسیحی یا مسلمان تو یہودیوں کو اپنے اندر شامل نہیں کرتے۔ مگر جب یہی مباحثات مسلمانوں اور مسیحیوں یا مسیحیوں اور آریوں کے درمیان دیکھے جائیں تو بڑی کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ اور اس کی یہ وجہ ہے کہ تینوں قومیں ایک دوسرے کو اپنے اندر شامل کرلینا جائز حق نہیں بلکہ ثواب کا کام سمجھتی ہیں اور اس لئے چاہتی ہیں کہ جس طرح ہو اپنے مدمقابل کو بھی اپنا ہم زبان بنالیں ایک مسلمان چاہتا ہے کہ کل مسیحی بھی مسلمان ہو جائیں۔ اور ایک مسیحی چاہتا ہے کہ کل مسلمان بھی مسیحی ہو جائیں۔ اور اسی طرح ایک آریہ ان دونوں گروہوں کی نسبت ایسے ہی خیال رکھتا ہے۔ گو میں اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ تینوں کے محرکات مختلف ہوں۔ مثلاً کوئی تو اس لئے چاہتا ہو کہ خدا تعالیٰ کا فضل میری طرح سے دیگر بنی نوع انسان پر بھی نازل ہو۔ اور وہ بھی حقیقی نجات سے بہرہ ور ہوں۔ اور دوسرا اس لئے کہ مشرق میں ہمارا قدم خوب مضبوطی سے جم جائے۔ اولاً تیسرا اس لئے کہ ہمارے حق میں ووٹ دینے والوں کی کثرت ہو جائے۔ اور کونسلوں میں ہمارے ممبر کثرت سے ہوں۔ اور ہماری پولیٹیکل عزت بڑھ جائے۔
مگر اس جگہ ہم کو اس سے بحث نہیں کہ ان میں سے ہر ایک کے محرکات کیا ہیں۔ بلکہ ہمارا منشاء صرف یہ ہے کہ کسی نہ کسی خیال کے ماتحت یہ تینوں مذاہب تمام دنیا کو اپنے خیالات میں رنگین کرنا چاہتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ انہیں تینوں گروہوں میں آپس میں زیادہ مباحثات ہوتے ہیں۔ پس اگر ثابت ہو جائے اور مسیحی اس بات کو مان لیں کہ ہمارے مذہب میں دوسرے لوگوں کا شامل کرنا جائز نہیں۔ تو فوراً ان کا یہ جوش و خروش جاتا رہے۔ اور سب پادری اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔ اور اگر آریہ اپنے سناتن دھرمی بھائیوں کی طرح شدھی کا ناجائز ہونا یقین کرلیں تو ابھی ان کی یہ تمام تیزی جاتی رہے۔ اور یہ جس قدر مذہبی رسالے اور اخبار نکل رہے ہیں ایک ایک کر کے سب بند ہو جائیں۔ اور کل مذہبی مباحثات یک قلم موقوف ہو جائیں۔
پس جب یہ بات ہے تو میں بھی اس مضمون کے شروع کرنے سے پہلے اس بات پر غور کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ آیا مسیحیوں کو ہم سے مباحثات کرنے اور ہم کو اپنے مذہب میں شامل کرنے کی اجازت بھی ہے کہ نہیں۔ اگر نہیں تو پھر کسی اور بحث کی ضرورت نہیں رہتی۔ اور اسی طرح
آریوں کی نسبت دیکھنا ہے کہ کیا ان کے مذہب نے انہیں دوسرے لوگوں کو اپنے اندر شامل کرنے کی اجازت بھی دی ہے یا نہیں۔ اگر نہیں تو پھر آریوں سے بھی ہم کو بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ پس نجات کے سوال پر بحث ہی تب ہو سکتی ہے کہ اول یہ سوال حل کیا جائے کہ یہ تینوں مذاہب تبلیغِ عام کے مجاز بھی ہیں یا نہیں۔ اگر ان میں سے کوئی مذہب تبلیغِ عامہ کا مجاز نہیں تو پھر وہ ان مباحثات میں شامل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اول تو ہم مسیحیوں کی کتاب انجیل میں دیکھتے ہیں کہ کیا ان کو عام منادی کی اجازت بھی ہے یا نہیں۔ جس کے بعد پھر نجات کے مسئلہ پر بحث کی ضرورت ہو گی۔
اول میں مسیحیت کو دیکھتا ہوں کہ اس کے متعلق یسوع کا کیا حکم ہے کہ آیا اس کی تلقین غیر مذاہب کے لوگوں کو کی جائے یا نہ۔ سو اول ہی جو حکم مجھے انجیل میں نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ مسیح کچھ واعظ مقرر کرتا ہے اور ان کو حکم کرتا ہے کہ ”غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا۔ بلکہ پہلے اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جاؤ۔ اور انہیں منادی کرو۔ اور کہو کہ آسمان کی بادشاہت نزدیک آئی“ (متی باب ۱۰ آیت ۵‘۶‘۷) چنانچہ اس آیت سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یسوع غیر قوموں میں منادی کو ناجائز سمجھتا ہے کیونکہ وہ حواریوں کو خاص طور سے منع کرتا ہے کہ تم یہودی قوموں میں ہی منادی کرو مگر غیر قوموں میں مت جاؤ۔ گویا کہ وہ ایسے نجس اور ناپاک لوگ ہیں کہ ان کو اپنے مذہب کی تلقین کرنی تو الگ رہی ان کے پاس جانے سے بھی انسان ناپاک ہو جاتا ہے۔ اس لئے جس قدر ممکن ہو ان سے دور رہنا ہی مناسب اور پسندیدہ ہے۔
پس جبکہ یسوع ہی غیر قوموں کی نسبت یہ حکم پاس کرتا ہے تو پھر آج مسیحی صاحبان کا کیا حق ہے کہ وہ اس پیغام کو جو یسوع خاص بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں کے لئے لایا تھا کل دنیا کے سامنے پیش کریں۔ یسوع کی اس طرح خاص طور سے تاکید سے معلوم ہوتا ہے کہ حواریوں کی عادات اور مزاجوں سے اسے اس قسم کا خوف ضرور تھا کہ یہ لوگ جرأت کر کے غیر مذاہب والوں کو بھی کہیں وعظ نہ شروع کر دیں۔ سو اس نے اس خرابی کو روکنے کے لئے شروع میں ہی نصیحت کر دی کہ دیکھنا غیر مذاہب کے لوگوں میں جا کر نصیحت مت کرنا اور میری تعلیم کو ان کے سامنے مت پیش کرنا بلکہ یہی نہیں ان کے پاس تک نہ پھٹکنا پھر تعجب کی بات ہے کہ جب یسوع کا یہ فیصلہ ہے تو پھر پادری صاحبان کس برتے پر دنیا میں انجیل کی منادی کرتے پھرتے ہیں۔ اور لوگوں کو جائز و ناجائز
طریق سے اپنے مذہب میں شامل کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔
ایک بات اس جگہ پر اور قابلِ غور ہے کہ اگر مسیحی صاحبان فرما دیں کہ یہاں تو صاف لفظ آیا ہے کہ پہلے اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جاؤ۔ اس میں سے ہمیشہ کی ممانعت کہاں سے نکال لی۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت سے یہ ضرور نکلتا ہے کہ جب تک یہودیوں کی کھوئی ہوئی بھیڑوں میں منادی نہ ہو جائے تب تک غیر قوموں میں منادی نہ کی جائے۔ اب اس کی دو ہی صورتیں ہیں۔ یا تو اس کے یہ معنی ہیں کہ ان کو جب تک اپنے اندر شامل نہ کر لو تب تک دوسرے لوگوں کی طرف رخ نہ کرو۔ اور یا یہ معنی ہیں کہ انہیں ایک دفعہ خبر دیدو کہ آسمان کی بادشاہت نزدیک ہے۔ اور پھر تمہارا کچھ فرض نہیں۔ سو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں معنی لے کر بھی مسیحیوں پر سے الزام دور نہیں ہوتا۔ کیونکہ اگر یہ معنی لئے جائیں کہ جب تک یہودی مان نہ لیں اس وقت تک غیر قوموں میں تبلیغ نہ کی جائے تب بھی مسیحیوں پر اعتراض ہے کہ اب تک یہودی دنیا میں باقی ہیں۔ جب تک وہ کل کے کل تمہاری منادی میں نہ آجائیں، تب تک غیر قوموں میں منادی کرنا سراسر ناجائز ہے۔ اور یسوع کے حکم کے ماتحت جب تک ایک یہودی بھی صفحہ دنیا پر موجود ہے۔ تب تک مسیحی کسی اور کو اپنے مذہب کی تلقین نہیں کر سکتے۔ پس ان کا ہم لوگوں کو ابھی انجیل سنانا قبل از وقت ہے۔ پہلے اپنے خدا کے اکلوتے بیٹے کے حکم کے ماتحت کل یہودیوں کو مسیحی بنالیں تو پھر ہماری طرف رخ کریں۔
اور اگر اس کے یہ معنی لئے جائیں کہ نہیں صرف ایک دفعہ منادی کر دینی ہی کافی تھی۔ آگے کوئی مانے یا نہ مانے۔ اس سے کچھ غرض نہیں۔ یہ اس کی اپنی دیانت اور امانت پر منحصر ہے۔ تو پھر بھی یہ اعتراض پڑتا ہے کہ یسوع کی کھوئی ہوئی بھیڑیں تو وہ تھیں کہ جن کو بخت نصر یروشلم کے علاقہ سے لے گیا تھا۔ چنانچہ بائبل پڑھنے والوں سے مخفی نہیں ہے کہ اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ اور وہ تمام ملک شام اور اس کے آس پاس پھیلے ہوئے تھے۔ چنانچہ جب ان میں شرارتیں حد سے زیادہ بڑھ گئیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے حدود کو انہوں نے توڑ دیا۔ اور دنیا میں بجائے امن قائم کرنے کے فساد مچانے لگے۔ تو بابل کا بادشاہ بخت نصر ان پر حملہ آور ہوا۔ اور خدا نے اس کے ہاتھوں ان کو سزا دی چنانچہ بخت نصر ان کے دس قبیلوں کو پکڑ کر اپنے ساتھ لے آیا۔ اور ان کو افغانستان وغیرہ ممالک میں پھیلا دیا (چنانچہ افغان اور کشمیری انہیں کی نسلوں میں سے ہیں) اور یروشلم اور اسکے گرد و نواح میں صرف دو قبیلے رہ گئے۔ سو وہ دس قبیلے جو بخت نصر کی قید میں پڑ کر اپنے وطن سے دور جا پڑے۔ وہ بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑیں کہلائے۔ اور انہیں کے لئے مسیحؑ اپنے حواریوں کو حکم دیتا ہے کہ پہلے تم اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جاؤ۔ مگر بر خلاف اس کے ہم دیکھتے ہیں۔ کہ حواریوں نے ان گم شدہ بھیڑوں کی طرف توجہ ہی نہیں کی۔ بلکہ یسوع کے صلیب پر چڑھائے جانے کے بعد ہی فوراً غیر قوموں کی طرف متوجہ ہو گئے۔ جو کہ قطعاً نا جائز تھا۔ پس اگر صرف منادی کے معنی ہی لئے جائیں تب بھی تو کام نہیں چلتا۔ کیونکہ حواریوں نے یسوع کے حکم کے خلاف کھوئی ہوئی بھیڑوں کی طرف بھی نہیں توجہ کی۔ اور ان غریبوں کا خیال تک نہیں کیا۔ بلکہ مالدار قوموں کے پھانسنے کی طرف متوجہ ہو گئے۔ پس ان معنوں کی رو سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کل یورپ و امریکہ کے مسیحی بے فائدہ اپنے آپ کو مسیحی کہتے ہیں کیونکہ جب تک حواری کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش نہ کر لیتے۔ ان میں تبلیغ کرنا ہی ان کے لئے نا جائز تھا۔ اور یسوع کی اس کے لئے ممانعت تھی۔ پس یورپ اور امریکہ کے لوگ تو ایشیا کے مسیحی بنانے کی فکر میں ہیں۔ اور انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ خود وہ بھی مسیحی نہیں ہیں۔
دُوُم مرقس باب ۷ آیت ۲۶، ۲۷ میں لکھا ہے ”کہ ایک عورت جس کی لڑکی پر بھوت سوار تھا یسوع کے پاس آئی اور یہ عورت یونانی تھی۔ اور اس نے آکر اپنی لڑکی کے چنگا ہونے کی درخواست کی۔ پھر یسوع نے اسے کہا کہ پہلے فرزندوں کو سیر ہونے دے۔ کیونکہ فرزندوں کی روٹی لے کے کتوں کے آگے ڈالنا لائق نہیں۔“ پس اس جگہ سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ مذہب کی تلقین تو الگ رہی۔ یسوع تو ان سے معمولی مہربانی سے پیش آنا تک پسند نہیں کرتا۔ بلکہ کہتا ہے کہ تم کتے ہو۔ تمہارے آگے میں اپنے فرزندوں کی روٹی کیونکر ڈال دوں۔ پس ان آیات کو دیکھتے ہوئے بھی کون کہہ سکتا ہے کہ یسوع کا منشاء دیگر اقوام میں تبلیغ کرنے کا بھی تھا۔
سِوُم حزقیل باب ۳۴ آیت ۱۶ میں ہے کہ ”میں اس کو جو کھویا گیا ڈھونڈوں گا۔ اور اسے جو ہانکا گیا پھر لاؤں گا۔ اور اس کی ہڈی کو جو ٹوٹ گئی ہے باندھوں گا اور بیمار کو تقویت دوں گا“ اس میں ایک پیشگوئی معلوم ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل کے بارہ گھرانے اکٹھے کئے جائیں گے۔ اور ان میں ایک نبی بھیجا جائے گا کہ جو کمزوروں کو طاقتور اور بہادروں کو ضعیف کر دے گا۔ اور اس کے ہاتھ پر پھر بنی اسرائیل کی جماعت ایک ہو جائے گی۔ چنانچہ بائبل کے حاشیہ پر اس کا حوالہ دیا گیا ہے کہ اس پیشگوئی کا ذکر متی باب ۱۸ آیت ۱۰ میں بھی ہے۔ جس کے دیکھنے سے یہ عبارت نظر آتی ہے کہ ”ابن آدم آیا ہے کہ کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈ کے بچاوے۔“ جس سے معلوم ہوا کہ حزقیل نبی نے جو
پیشگوئی کی تھی۔ یسوع اسے اپنی نسبت بتاتا ہے۔ اور لوگوں پر حجت قائم کرتا ہے۔ کہ کیا تم کو معلوم نہیں کہ حزقیل نبی نے ایک پیشگوئی کی تھی۔ کہ ایک نبی آئے گا۔ جو کھوئے ہوؤں کو ڈھوندے گا۔ پس جب میں اس کام کے لئے آگیا ہوں۔ تو پھر میرا انکار کیوں کرتے ہو۔ پس معلوم ہوا کہ خود یسوع بھی اپنا کام بنی اسرائیل کے بارہ گھرانوں کی تلاش بتاتا ہے۔ پس کس طرح ہو سکتا ہے کہ جس کا کام تھا بنی اسرائیل کی بھیڑوں کو ڈھونڈنے کا۔ وہ لگ جائے یورپ کی بھیڑوں کی تلاش میں۔
کیا وہ افسر عقلمند سمجھا جاتا ہے کہ گورنمنٹ تو اسے سوڈان پر حملہ کرنے کے لئے بھیجے اور وہ جاپان پر حملہ کر دے۔ اور کیا ایسا نوکر اعتبار کے قابل ہو سکتا ہے کہ جسے کہا جائے کہ پینے کے لئے سرد پانی لاؤ اور وہ منہ دھونے کے لئے گرم پانی لے آئے۔ یا وہ دکاندار لین دین کے قابل سمجھا جائے گا کہ جس سے ٹوپی منگوائی جائے اور وہ جوتی بھیج دے۔ پس کس طرح ممکن ہے کہ یسوع تو بھیجا جائے بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں کی تلاش میں مگر وہ اس کام کو چھوڑ چھاڑ کر یورپ کی طرف متوجہ ہو۔ مگر چونکہ یہ کام ایک بہت ہی ناقص عقل اور کوتہ اندیش انسان کا ہے۔ اس لئے یسوع کی طرف ہم اس کو منسوب نہیں کر سکتے۔ کیونکہ دوسرے مقامات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ غیر قوموں میں تبلیغ کو برا جانتا تھا۔ پس ہم یہی کہیں گے کہ یسوع کے صلیب دیئے جانے کے بعد کسی وقت یہ بدعت نکلی کہ غیر قوموں میں مسیحیت کی تبلیغ شروع ہوئی جو کہ بائبل کی تعلیم کے بالکل بر خلاف تھی۔ کیونکہ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یسوع صرف بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں کے لئے ہی تھا ورنہ باقی دنیا سے اس کا کچھ کام نہ تھا۔
چہارم متی باب ۵ آیت ۱۷ سے ۲۰ تک میں ہے کہ ”یہ خیال مت کرو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتاب منسوخ کرنے کو آیا میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں۔ کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں۔ ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہرگز نہ مٹے گا۔ جب تک سب کچھ پورا نہ ہو۔ پس جب کوئی ان حکموں میں سے سب سے چھوٹے کو ٹال دیوے۔ اور ویسا ہی آدمیوں کو سکھاوے آسمان کی بادشاہت میں سب سے چھوٹا کہلائے گا۔ پر جو کہ عمل کرے اور سکھاوے وہی آسمان کی بادشاہت میں سب سے بڑا کہلائے گا۔“ اس آیت میں یسوع نے بیّن طور سے اپنا کام بتا دیا ہے۔ کہ میں توریت سے ایک نقطہ اور ایک شوشہ تک مٹانہیں سکتا اور نہ مٹانا چاہتا ہوں۔ اور کوئی حکم جو توریت میں ہو۔ اس کو منسوخ کرنا میرے اختیار سے بالا ہے۔ یا میں ایسا کرنا ہی نہیں چاہتا۔ اور یہ کہ نہ صرف توریت بلکہ علاوہ توریت کے مجموعہ بائبل میں جتنے نبیوں کی کتب ہیں۔ ان میں سے کسی کتاب کے کسی حکم کا بھی انکار کرنے یا اسے منسوخ کرنے کے لئے میں مبعوث نہیں ہوا۔ بلکہ میرا تو یہ کام ہے کہ میں ان احکام کو پورا کروں۔ اور جن باتوں پر لوگوں نے عمل چھوڑ دیئے ہیں۔ ان پر ان سے عمل کرواؤں اور جو جو غفلتیں ان میں پھیل گئی ہیں۔ ان کو دور کروں۔ اور پھر موسیٰؑ کے زمانہ کی طرح یہودیوں کو توریت کا پکا مطیع اور فرمانبردار بناؤں۔ اور اگر کوئی ایک حکم بھی مجھ سے چھڑوانا چاہے۔ تو میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔ اور جیسے توریت اور دوسرے انبیاء کی کتب میں مذکور ہے۔ اسی پر عمل کروں گا۔ اور اپنے پیرؤوں سے عمل کرواؤں گا۔ بلکہ وہ کہتا ہے کہ توریت کے احکام سے تو ایک شوشہ کا ٹل جانا بھی اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے کہ آسمان و زمین ٹل جائیں۔ اور دنیا غارت ہو جائے۔ پس ممکن ہے کہ ایک دم میں تمام زمین و آسمان برباد ہو جائیں۔ مگر توریت کے کسی حکم کا ٹلنا یا منسوخ ہونا محال اور بالکل محال ہے۔ پس اس آیت سے بہت سے مسئلوں کا خود بخود ہی حل ہو جاتا ہے۔ مگر اس وقت تو ہم کو صرف اس معاملہ سے تعلق ہے۔ کہ آیا مسیحیوں کو غیر قوموں میں تبلیغ کرنے کی اجازت بھی ہے یا نہیں۔ سو جبکہ خود مسیح کہتا ہے کہ میں توریت یا دوسرے نبیوں کے مقولوں میں سے کسی کو بھی ردّ کرنے نہیں آیا۔ تو صاف بات ہے کہ ہم یہودیوں میں دیکھ لیں کہ وہ کیا اس کے متعلق رائے رکھتے ہیں۔
ہم دیکھتے ہیں تو ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ توریت و دیگر صحفِ انبیاء نے یہودیوں کو اپنے مذہب کی تلقین تو الگ غیر قوموں سے میل ملاپ کرنے تک کو منع کیا ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ یہودی غیر اقوام کو بہت نفرت سے دیکھتے ہیں۔ اور نجات کو اپنے ہی اندر مخصوص رکھتے ہیں، اور اپنے سوا دوسری قوموں کو نفرت سے غیر مختون کہتے ہیں۔ اور اگر ان میں یہ تعلیم نہ ہوتی۔ تو شاید مسیحی تعلیم بڑھنے بھی نہ پاتی اور وہیں کی وہیں رہ جاتی۔ مگر چونکہ یہودی تو لوگوں کو اپنے اندر شامل نہ کرتے تھے مگر مسیحی کر لیتے تھے۔ اس لئے ان کی طاقت روز بروز بڑھنے لگی۔ غرضیکہ یہودیوں میں غیر قوموں کو اپنے اندر شامل کرنا ایک سخت گناہ خیال کیا جاتا تھا۔ اور اس حکم کے برخلاف کرنا ایک بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ بلکہ جو ایسا کرے خود اس کے ساتھ تعلق رکھنا بھی ایک گناہ جانتے تھے۔ تو اس صورت میں مسیحؑ کے اپنے قول کے مطابق ہی کہ میں توریت کے احکام کا ایک شوشہ مٹانے یا منسوخ کرنے نہیں آیا۔ بلکہ اسے پورا کرنے آیا ہوں۔ چاہئے تھا کہ حواری یا جن لوگوں نے غیر مختون قوم کو اپنے اندر شامل کیا وہ اس کام سے رکتے اور بچتے۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اور ان کے اس فعل سے انجیل کی عام منادی کا جواز نہیں نکلتا بلکہ نافرمانی اور محسن کشی سمجھی جاتی ہے۔ کتنے ظلم کی بات ہے کہ یسوع جس کام کے لئے آیا تھا اور جس کا وہ بار بار اعلان کرتا ہے اس کو ترک کر کے اپنے من مانے کام شروع کر دیئے گئے ہیں۔ توریت اور صحف انبیاء سے غیر قوموں کی منادی منع تھی۔ مسیح ان کی سچائی کو قبول کرتا ہے۔ پھر بتاؤ کہ کس حکم سے غیر قوموں سے تعلقات پیدا کرنے اور ان میں تبلیغ کرنے کا فتویٰ ملا۔ دوسرے یہ کہ نہ صرف توریت کی نسبت ہی بلکہ مسیح تو فقیہوں کے اقوال کی نسبت بھی کہتا ہے کہ جو کچھ یہ کہتے ہیں وہ کرو پر جو کچھ وہ کرتے ہیں وہ نہ کرو۔ چنانچہ فقیہی اور فریسی تو اس کام کو بہت برا کہتے تھے۔ سو ان کے اقوال کے مطابق بھی حواریوں کو ایسا کرنا نا جائز تھا۔ کیونکہ خود یسوع نے کہا ہے کہ فقیہوں اور فریسیوں کے اقوال پر عمل کرو۔
اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ یہودیوں میں غیر قوموں میں تبلیغ کرنا منع تھا مجھے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ خود پطرس رسول کے قول سے یہ بات ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ اعمال باب ۱۰ آیت ۲۸ میں اس رسول کی بابت لکھا ہے کہ اس نے ایک سردار کو جو یہودی نہ تھا۔ کہا کہ ”تم جانتے ہو کہ یہودی کو بیگانے سے صحبت رکھنی یا اس کے ہاں جانا روا نہیں“ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حواری بھی اس کا اقرار کرتے ہیں کہ یہودی کو دوسرے سے صحبت رکھنی روا نہیں۔ اور اپنا مذہب اسے تلقین کرنا ناجائز ہے۔ پس بموجب اس قاعدہ کلیہ کے جو یسوع نے مقرر فرمایا تھا کہ میں ایک شوشہ تک توریت سے نہ مٹاؤں گا۔ مسیحیت کی تلقین غیر قوموں میں کرنی ناجائز تھی اور ہے۔
پھر اعمال باب ۱۱ آیت ۱ سے ۳ تک لکھا ہے کہ ”اور رسولوں اور بھائیوں نے جو یہودیہ میں تھے۔ سنا کہ غیر قوموں نے بھی خدا کا کلام قبول کیا۔ اور جب پطرس یروشلم میں آیا۔ تو مختون اس سے یہ کہہ کر بحث کرنے لگے۔ کہ تو نا مختونوں کے پاس گیا۔ اور ان کے ساتھ کھایا“ اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یسوع کے صلیب پانے کے بعد تک حواریوں کا یہی خیال تھا کہ نا مختونوں اور غیر قوموں میں تبلیغ ناجائز ہے۔ جس سے یہودیوں کا مذہب خوب معلوم ہو جاتا ہے۔ اور یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ یسوع نے صلیبی واقعہ تک اپنے پہلے حکم کو غیر قوموں میں تبلیغ نہ کرنا موقوف نہیں کیا تھا۔
اس سے بھی زیادہ کھلی یہ بات ہے کہ اعمال باب ۱۱ آیت ۱۹ میں چند رسولوں کی نسبت لکھا ہے کہ وہ ”پھرتے پھرتے فینیکے و کپرُس اور انطاکیا میں پہنچے۔ مگر یہودیوں کے سوا کسی کو کلام نہ سناتے تھے“ جس سے خوب اچھی طرح سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہودیوں میں غیر قوموں کو ہدایت کرنا
سخت ممنوع تھا۔ پس خود حواریوں کے اقوال اور افعال سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودیوں میں غیر قوموں میں تبلیغ کرنا منع تھا۔ اور چونکہ خود یسوع نے کہا ہے کہ میں توریت اور دوسرے انبیاء کے احکام کا ایک شوشہ تک نہیں مٹاؤں گا۔ بلکہ وہ ابد تک قائم رہیں گے تو پھر کسی حواری کا یا ان کی کونسل کا کوئی حق نہیں کہ وہ اس قانون کو بدل سکیں خواہ کسی خواب یا الہام کی ہی بناء پر ہو کیونکہ جس کی نسبت خود خدا کا بیٹا (نعوذ باللہ) کہتا ہے کہ وہ قانون کو ابد تک نہ بدلیں گے ان کو بدلنا کسی پطرس یا شمعون کے رؤیا یا الہام کی بناء پر کسی طرح درست نہیں ہو سکتا۔ ورنہ دو ہی صورتیں ہیں یا تو یہ مان لیا جائے کہ یسوع کا علم ناقص تھا اور یا یہ کہ مذکورہ بالا کلمات انجیل میں پیچھے سے مل گئے ہیں ان دونوں حالتوں میں انجیل کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔
پنجم ایک اور دلیل کا یہاں لکھ دینا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ یسوع ایک موقعہ پر حواریوں کو فرماتا ہے کہ ”وہ چیز جو پاک ہے۔ کتوں کو مت دو اور اپنے موتی سوروں کے آگے نہ پھینکو کہ وے انہیں پامال کریں۔ اور پھر کر تمہیں پھاڑیں“ (متی باب ۷ آیت ۶) اس آیت میں یسوع نے کیسے پرزور اور جوش دلانے والے الفاظ میں حواریوں سے التجا اور استدعا کی ہے کہ دیکھو اپنے جوشوں کو دباؤ اور نرمی سے کام لو میں جو تم کو تعلیم سکھاتا ہوں وہ موتیوں کی طرح ہے۔ اسے ضائع مت کرو۔ اسے غیر قوموں کے سامنے پیش مت کرو۔ کیونکہ جیسے موتیوں کی قدر کتے اور سور نہیں کر سکتے۔ اسی طرح یہ لوگ بھی اعلیٰ باتوں کی قدر پہچاننے سے عاری ہیں۔ اور اگر تم ان کے سامنے یہ تعلیم پیش کرو گے۔ تو جیسے سور موتیوں کو پاؤں میں روند ڈالتے ہیں۔ اسی طرح سے یہ لوگ اس تعلیم کو تباہ کر دیں گے۔ اور اس کی خوبی کو خاک میں ملا دیں گے۔ اور اس میں اپنی طرف سے بہت سی باتیں ملا دیں گے۔ یہاں تک کہ وہ موتی جو تم ان کے سامنے پیش کرو گے۔ وہ ان مسلے ہوئے موتیوں کی طرح ہو جائیں گے جو زمین پر روندے گئے ہوں اور ان میں اور مٹی میں کچھ فرق نہ ہو سکے گا۔ اور نہ صرف وہ اس تعلیم کو ہی خراب کر دیں گے۔ بلکہ تم پر اور مجھ پر ایسے ایسے الزام باندھیں گے کہ پھر بچنے کی کوئی راہ نہ ملے گی۔
پس کیسی سچی یہ تعلیم تھی جو یسوع نے دی۔ اور کیا ہی پاک وہ نصیحت تھی جو اس نے کی مگر افسوس اس دن پر کہ جب حواریوں نے یا (میرے خیال کے مطابق) ان کے بعد اور لوگوں نے یسوع کے ان درد بھرے کلمات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے یونانیوں اور رومیوں پر یہ مذہب پیش کیا۔ اور ماتم اس قوم کے لئے جس نے اپنے محسن اپنے نجات دہندہ اپنے مہربان اپنے استاد کے ارشاد بلکہ وصیت کو یوں خاک میں ملا دیا۔ اور بت پرست قوموں کے سامنے مسیحت کو پیش کیا۔ وہ لوگ جن کی گھٹی میں ہی بت پرستی پڑی ہوئی تھی وہ کب اس مذہب میں داخل ہو کر اسے ترک کر سکتے تھے۔ اگر پہلے محبت اور غضب اور وقت اور قسمت کے بت پجتے تھے۔ تو اب انہوں نے یسوع اور مریم کے بتوں کے آگے سر جھکا دیئے۔ اور اسی طرح وہ تعلیم جو توحید سکھاتی تھی سب سے زیادہ بت پرستی کی تلقین کرنے والی تعلیم ہو گئی اور وہ یسوع جس نے کہ قوم کی خاطر بڑے بڑے دکھ اٹھائے تھے۔ اس کو انہوں نے بڑی بے دردی کے ساتھ ملعون قرار دیا (نعوذ باللہ) اور اسی طرح پہلے نوشتوں کا کلام پورا ہوا ”کہ اپنے موتی سؤروں کے آگے نہ ڈالو کہ وہ انہیں پامال کریں۔ اور پھر کر تمہیں پھاڑیں“۔ یسوع کے احسانات فراموش کر دیئے گئے۔ اس کی کل نیکیاں بھلا دی گئیں۔ اس کی کل مہربانیاں نظر انداز کر دی گئیں۔ اور وہ قوم کا مصلح بغیر کسی جرم کے ملعون قرار دیا گیا اور اس کے پیروان نے اس کی تعلیم کو غیر قوموں کے سامنے پیش کر کے اسے پھڑوایا اور گالیاں دلوائیں۔ سچ ہے کہ نادان دوست سے دانا دشمن اچھا ہوتا ہے۔ مگر اب کیا ہو سکتا ہے۔ یسوع کے اپنے ہی شاگردوں نے سادگی کی وجہ سے بت پرستوں کے آگے موتی ڈال دیئے جنہوں نے ان کو روند ااور خود ان کے استاد کو پھاڑا۔ کیا اس سے زیادہ کوئی حملہ ہو سکتا ہے کہ ایک فدائے قوم اور نیک آدمی کو من مانے عیش اڑانے کے لئے ملعون قرار دیا۔ گوپراٹسٹنٹ فرقہ نے کچھ اصلاح کی مگر کس طرح ممکن تھا کہ نوشتوں کا لکھا ٹل جائے۔
اب میں اس مسئلہ کو لمبا کرنا نہیں چاہتا میں انجیل سے اچھی طرح ثابت کر آیا ہوں کہ مسیحی تعلیم کا غیر قوموں میں پھیلانا نہ صرف ممنوع ہے بلکہ خطرناک گناہ ہے۔ پس جبکہ انجیلی نجات سوائے یہودیوں کے اور لوگوں کے لئے ہے ہی نہیں تو مسیحی بننا ہی بالکل لغو اور بیہودہ فعل ہے۔ اور ان کا نجات کے مسئلہ پر لوگوں سے بحث کرنا ہی فضول۔
اس کے بعد میں آرین تعلیم کو لیتا ہوں مگر اسے میں زیادہ لمبا نہیں کرنا چاہتا اور اگر کروں تو بھی بڑی مشکلات ہیں کیونکہ یہ لوگ تاریخ سے نابلد رہے ہیں۔ ان کی کوئی بات سچی ملتی ہی نہیں۔ جو مرضی آئے یہ کہہ دیں وہ سب سچ۔ مگر غیر مذاہب والے اگر ان کی پچھلی کتابوں یا قدیم نشانات سے کوئی واقعہ نکال کر ثابت کر دیں تو وہ سب بالکل غلط اور نادرست ناقابل اعتبار ہوتا ہے۔ وید کا کوئی ترجمہ صحیح نہیں اور نہ ہو سکتا ہے۔ پنڈت دیانند نے جو کچھ لکھا اس میں دشمنوں کی دست برد ہمیشہ ہوتی رہی۔ تاریخ دانی کا یہ حال ہے کہ ان کے ایک اخبار نویس لکھتے ہیں کہ بکرماجیت سے بھی پہلے ایک راجہ تھا۔ جس نے سرحد پر حملہ کر کے مسلمانوں کی لڑکیاں چھینی تھیں گویا کہ آنحضرت ﷺ سے بھی سات آٹھ سو برس پہلے مسلمان سرحد پر رہا کرتے تھے۔
مگر پھر بھی چونکہ تنقید کرنی ہی پڑتی ہے۔ اس لئے کچھ نہ کچھ لکھنا ضروری ہے مگر زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ صرف اس قدر کافی ہے کہ بقول ان کے دنیا کروڑوں برس سے چلی آرہی ہے۔ تو اتنی مدت میں صرف آج پنڈت دیانند کو یہ بات سوجھی کہ وید سب دنیا کے لئے ہے۔ اور جس قدر رشی منی گزرے ہیں سب اس سمجھ سے خالی تھے۔ تو پھر یہ بڑا پاپ اور ظلم ہے کہ وہ تعلیم جو ساری دنیا کے لئے تھی وہ پرماتما نے صرف ہند میں مخصوص کر چھوڑی اور یہی نہیں بلکہ صرف آرین قوم کے لئے خاص کر دی جب کروڑوں برس سے تمام ہندورشی، منی یہی کہتے آئے ہیں تو آج پنڈت صاحب کو ہم کس طرح مان لیں کہ یہ درست کہہ رہے ہیں۔ کیوں نہ کہیں کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کو دیکھ کر آپ کو بھی شوق چڑھ آیا کہ ہم کیوں پیچھے رہیں۔ کیوں نہ وید کو بھی تمام دنیا کے لئے بتائیں بے شک ایک رنگ میں تو وید تمام عالم کے لئے ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ہندوؤں کی بعض کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمالیہ سے پرے کچھ نہیں۔ بس دنیا وہاں ختم ہے۔ تو اس صورت میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ وید سب دنیا کے لئے اترا تھا۔ کیونکہ جب دنیا ہندوستان کا ہی نام ہے۔ تو بیشک وید سب دنیا میں شائع ہو چکا ہے اور ہمیشہ سے اس کی تعلیم دنیا کے (یعنی ہندوستان) کے ہر کونہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ اور اس بات کے مان لینے میں ہم کو بھی کچھ مضائقہ نہیں۔ لیکن اگر دنیا سے مراد کل عالم لیا جائے تو پھر ہم وید کو کل دنیا کے لئے نہیں مان سکتے اور نہ خود ہندوؤں کی کتابیں ہم کو اس بات کی اجازت دیتی ہیں۔
مگر اصل بات یہی ہے کہ جب سے آرین لوگ ہندوستان میں آئے ہیں اور جب سے کہ وید تصنیف ہوئے ہیں۔ اسی وقت سے ان کی تعلیم کو ہندوؤں میں خاص رکھا گیا اور شودروں کے لئے ایسے سخت قانون بنائے گئے کہ ان کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ لوگ اپنے سوا دوسرے لوگوں کو کیا سمجھتے تھے۔ چنانچہ حکم تھا کہ اگر کوئی شودر وید کو سن لے یا خود بھی نہ سنے اس کے کان میں ہی آواز پڑ جائے تو اس کو سخت سزائیں دی جائیں اور کان کاٹ دیئے جائیں آنکھیں نکال دی جائیں وغیرہ وغیرہ۔ اور وید کو چھونے پر تو بہت ہی سخت سزائیں ملتی تھیں۔ پس ایسی حالت میں یہ کہنا کہ وید سب دنیا کے لئے ہے کہاں تک ٹھیک ہو سکتا ہے۔ جب آریوں کے بزرگوں کا عمل اور ان کی کتب
ہم کو یہ واقعات بتا رہی ہیں۔ تو پھر زبان سے وید کو کل عالم کے لئے کہہ دینے سے تو کچھ نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ اگر کوئی تعلیم وید کی ایسی ہوتی کہ جس میں سب دنیا کی ہدایت کا اقرار ہوتا تو آخر اس اربوں برس میں کوئی رشی منی یا اوتار تو اس دھرم کے کام کو اپنے ہاتھ میں لیتا اور کہتا کہ وید سے معلوم ہوتا ہے کہ سب دنیا کو ہدایت کرو‘ پھر اس کتاب کو اپنے گھر میں کیوں چھپائے بیٹھے ہو۔ اور اگر جب سے وید نازل ہوئے ہیں۔ سب ہندو دھرم سے دور اور ہدایت سے خالی ہی رہے ہیں۔ اور کسی کو بھی ہندوستان سے باہر کے لوگوں کی حالت پر رحم نہیں آیا۔ اور نہ وید کی تعلیم کی حمایت کا ہی جوش پیدا ہوا تو ایسی کتاب جس نے دو ارب برس میں ایک کو بھی ہدایت نہ کی۔ آج اس سے ہم کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اور ہماری نجات کے لئے وہ کیا کر سکتی ہے۔
غرض کہ وید نہ تو تمام دنیا کے لئے ہونے کا مدّعی کرتا ہے۔ اور نہ ہی اس کی وجہ بتاتا ہے اور علاوہ اس کے وید اب تک ہندوستان سے باہر نہیں پھیلایا گیا۔ اور ہمالیہ سے باہر اس کی تلقین نہیں ہوئی۔ اور شاستروں سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ وید کو غیر قومیں سنیں تک نہیں۔ اور خود ہندو بزرگوں کا عمل یہی ظاہر کرتا ہے چنانچہ آریہ قوم کے سوا جو کہ بہت تھوڑی تعداد میں ہے۔ اور لاکھوں سے نہیں بڑھتی قریباً کل فرقے اس بات کے قائل ہیں کہ وید کا باہر نکالنا اور غیر قوموں کو اپنے اندر شامل کرنا بالکل ناجائز ہے۔ اور گناہِ عظیم ہے۔ تو اس صورت میں آریوں کا نجات کا دروازہ تمام دنیا کے لئے کھلا ثابت کرنا بالکل غلط ہے۔ اور ان کو کوئی حق نہیں کہ غیر قوموں میں اپنے مذہب کی تلقین کریں۔
میں دیکھتا ہوں کہ تمہید بہت لمبی ہوتی جاتی ہے۔ مگر پھر بھی ضروری ہے کہ میں قرآن شریف سے اس بات کا دعویٰ دکھاؤں کہ وہ سب دنیا کے لئے ہے۔ اور یہ کہ آنحضرتﷺ ہر زمانہ اور ہر جگہ کے لئے خاتم النبیین ہو کر مبعوث ہوئے ہیں۔ اور اب تک جس کو تیرہ سو برس گزر گئے ہیں یا آئندہ آپؐ کی غلامی سے منکر شخص کی رسائی دربارِ الٰہی میں نہیں ہو سکتی۔
چنانچہ اول ہی اول جو آیت ہم کو سورۃ فاتحہ میں نظر آتی ہے وہ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(1:2) ہے جس کے معنی ہیں کہ سب تعریف ہے اس کے لئے جو سب دنیا کا رب ہے یعنی پرورش کرنے والا ہے۔ جس میں کہ ہم کو بتایا گیا ہے کہ شکر کرو اس خدا کا جس نے وہ کتاب بھیجی کہ جس نے پہلی سب کتابوں کو موقوف کر کے جو مختلف قوموں کے لئے تھیں اس کتاب کو ارسال کیا کہ جو ربوبیت عالمین کی صفت کے ماتحت اب سب دنیا کی ربوبیت کرے گی۔ اور خواہ کسی مقام کا رہنے والا آدمی ہو سب کے لئے اس نے اپنے دروازوں کو کھول دیا ہے۔ اور کسی دکھیارے کو رد نہیں کرتی اور کسی سائل کو دھتکارتی نہیں۔ نہ کسی ملک کے ساتھ اپنے آپ کو مخصوص کرتی ہے۔ چنانچہ یہ وہ آیت ہے کہ مسلمان اس کو دن میں کم سے کم چالیس دفعہ تو پڑھ ہی چھوڑتے ہیں۔
علاوہ اس کے سورۃ انعام کے رکوع ۲ میں خدا تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو کہہ دے کہ وَاُوۡحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَمَنۡۢ بَلَغَ(الانعام: ۲۰) یعنی وحی کیا گیا ہے میری طرف یہ قرآن تاکہ میں تم کو اس سے ڈراؤں اور اس کو ڈراؤں جس کو یہ پہنچے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن ہر ایک شخص کے لئے ہے۔ اور کسی قوم یا ملک کی خصوصیت نہیں جس کے کان میں یہ پڑے وہی مخاطب ہے اور کوئی نہیں جو کہہ سکے کہ میں تو اس کے مخاطبین میں سے نہیں ہوں۔ بلکہ جس کو یہ پہنچ جائے اسی کو آنحضرت ﷺ کے دعویٰ کی طرف جھکنا پڑے گا۔ اور سستی یا شرارت پر کوئی عذر نہ سنا جاوے گا۔ چنانچہ اس آیت میں ایک پیشگوئی بھی ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے کہ قرآن شریف کے منکرین کے لئے جو سزائیں بتائی گئی ہیں اور یہ جو کہا گیا ہے کہ جو شرارت کرے گا اور اس کتاب سے ٹھٹھا کرے گا وہ ہلاک ہو گا اور دنیا میں ذلیل ہو گا۔ وہ صرف اہل عرب کے لئے نہیں بلکہ دنیا بھر میں جہاں جہاں یہ جائے گا وہیں اس کے مقابلہ کرنے والے ذلیل و خوار ہوں گے۔ اور ان کے لئے بھی نذیر ہو گا۔ چنانچہ اس لئے فرمایا کہ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَمَنۡۢ بَلَغَ(6:20) یعنی تاکہ انذاری پیشگوئی تم کو بھی اور جن کو یہ پہنچے ان کو بھی سنا دی جائے۔ اور یہ قرآن شریف کا ایک عظیم الشان معجزہ ہے اور آیت ہے کہ جس کے مقابلہ میں اور کوئی کتاب نہیں ٹھہر سکتی چنانچہ آتھم اور لیکھرام نے اس پیشگوئی کے مطابق اپنا انجام دیکھ لیا اور اس پیشگوئی کے شاہد بنے اور دیگر لوگوں نے بھی اس کا مشاہدہ کیا۔ پس علاوہ اس کے کہ اس آیت سے یہ نکلتا ہے کہ قرآن شریف سب دنیا کے لئے ہے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس کو یہ پہنچے اس کے لئے یہ انذار ساتھ موجود ہے۔ کہ اس شہنشاہی پروانہ سے اگر ٹھٹھا کرو گے۔ تو آنحضرتؐ اسی لئے آئے تھے کہ سب دنیا کو کہہ دیں کہ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَمَنۡۢ بَلَغَ(6:20)۔
علاوہ ازیں سورۃ اعراف رکوع ۲۰ میں ہے کہ قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَا ۣالَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ(الاعراف: ۱۵۹) یعنی ان کو کہہ دے کہ ایک دو کے لئے نہ کسی خاص قوم کے لئے اور نہ ہی کسی خاص ملک کے لئے بلکہ میں دنیا کے ہر گوشہ کے باشندوں کے لئے مبعوث ہو کر آیا ہوں۔ اور میرا بھیجنے والا اللہ ہے۔ جو کہ آسمان و زمین کا بادشاہ ہے اور مالک ہے۔ اس لئے میری بات کو ہلکا مت خیال کرو بلکہ یاد رکھو کہ اگر تم نے میرا مقابلہ کیا تو لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ(57:6)۔ ملک اسی کا ہے وہ تم سے فوراً چھین لے گا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا جس نے مقابلہ کیا وہ ذلیل ہوا اور علاوہ اور ذلتوں کے ملک بھی خالی کرنا پڑا پھر آپؐ کے سچے متبعین حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے زمانوں میں بھی جو کوئی سامنے آیا ذلیل ہوا اور خائب و خاسر ہوا۔ چنانچہ اس وقت تو اور رنگ تھا اب بھی پادری صاحبان نے جس وقت سے اسلام کے برخلاف منہ زوری کرنی شروع کی ہے اس وقت سے یورپ سے پادریوں کی حکومت مٹتی جاتی ہے۔ اور اب صرف چند جگہ ہی رہ گئی ہے۔ ورنہ کل یورپ میں ان کا سکہ چلنا بند ہو گیا ہے۔ وہ طاقتیں جو کروڑوں روپیہ ان کی مدد کے لئے خرچ کرتی تھیں اب روپیہ دینا تو الگ خود ان سے وصول کرنا چاہتی ہیں۔ انگلستان سے ان کا دخل اٹھ گیا۔ فرانس و بلجیم سے ان کا دخل اٹھ گیا۔ جرمن سے ان کو جواب ملا۔ ایشیا میں ان کی ذلت ہوئی تو امریکہ نے ان کی اطاعت کا جوا اتار کر پھینک دیا۔ چنانچہ تاریخ کو اٹھا کر دیکھو کہ جس وقت سے اسلام کے برخلاف انہوں نے زہر اگلنا شروع کیا ہے اور قرآن شریف کی ہتک پر کمر باندھی ہے تبھی سے ان پر تباہی آنی شروع ہوئی ہے۔ اور کہاں تو بادشاہ تک پادریوں سے ڈرتے تھے۔ اور کہاں مذہب کے برخلاف فیصلے ہو رہے ہیں اور اگر پادری صاحبان کچھ چوں چرا کریں تو گورنمنٹ تو الگ عوام تک بھی گرجا پھونک دیتے ہیں۔ لمبی تحقیقات تو تاریخوں سے ہو سکتی ہے۔ میں ایک واقعہ یہاں لکھ دیتا ہوں جس سے میری تصدیق ہوتی ہے۔ ڈاکٹر جے۔ ایف آرنلڈ مسلم مشن سوسائٹی کے آنریری سیکرٹری کی کتاب اسلام اور عیسائیت سے جو کہ ۱۸۷۴ء میں چھپی ہے۔ ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ سب سے اول مسلمانوں کے برخلاف اگر کوئی باقاعدہ سوسائٹی تیار ہوئی ہے۔ تو وہ ۱۸۲۲ء میں بیل کے مقام پر ہوئی ہے۔ (جو کہ غالباً سوئٹزرلینڈ میں ہے) چنانچہ اس سوسائٹی نے ایک ہزار سے زائد مشنری ادھر ادھر بھیجے تھے۔ مگر یہ سوسائٹی بہت جلد ۱۸۳۳ء میں گورنمنٹ کے حکم سے ملک بدر کی گئی۔ چنانچہ ڈاکٹر فنڈر جو میزان الحق کا مصنف ہے۔ وہ بھی اس گروہ کے ساتھ یورپ سے بھیجا گیا تھا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے فوراً ہی اس سوسائٹی کو مفسد قرار دلوا کر ذلت کے ساتھ ملک بدر کرا دیا۔ مگر چونکہ پادری صاحبان نے نصیحت حاصل نہیں کی اس لئے آج ہم دیکھتے ہیں تو یورپ میں کہیں۔ یونیٹرین فرقہ کا زور ہے۔ جو یسوع کی ابنیت پر سو سو قہقہہ لگاتا ہے۔ تو کہیں فری تھنکر پیدا ہو گئے ہیں کہ جن کا کام ہی پادری صاحبان کو گالیاں دینا اور ان کے راز پوشیدہ کو ظاہر کرنا ہے۔ مگر یہ باتیں بھی کچھ نہ تھیں اگر یورپ مسیحیت پر قائم رہتا مگر جو لوگ یورپ سے دنیا کو نجات دینے کے لئے نکلے تھے۔ ان کے اپنے وطن میں اسی فی صد سے بھی زیادہ لوگ دہریہ ہو گئے ہیں۔ اور اسی وجہ سے جہاں جہاں پادریوں کا کچھ اختیار تھا۔ ان کو اس سے بے دخل کر دیا گیا ہے۔ یہ اس آیت کے ماتحت ہے کہ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ(57:6) بیشک سب کچھ خدا ہی کا ہے۔ وہ اس پاک کتاب پر ٹھٹھا کرنے والوں کو بغیر سزا کے نہیں چھوڑتا مگر اس کو جو توبہ کرے۔
تیسری آیت اس بارے میں سورۃ سبا کے رکوع ۳ میں ہے کہ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیۡرًا وَّنَذِیۡرًا وَّلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ(سبا: ۲۹) یعنی ہم نے تجھ کو نہیں بھیجا مگر صرف اس لئے کہ اب تمام دنیا کے لئے ایک نبی کی ضرورت تھی اور وہ اس بات کی محتاج تھی کہ بجائے الگ الگ نبی آنے کے ایک ہی نبی آئے جو کامل اور مکمل ہو جس کے وجود پر تمام دنیا کی ہدایت کا دار و مدار ہو اور جس کے توسط سے لوگ اس خالق حقیقی تک پہنچیں کہ جس تک پہنچنا تمام بزرگیوں سے بزرگ تر اور تمام انعامات سے بڑا انعام ہے۔ اس لئے ہم نے تجھ کو اس کام کے لئے چنا اور بشیر و نذیر بنا کر مبعوث کیا۔ مگر اکثر لوگ جانتے نہیں اور تیری بے کسی کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ یہ شخص جو ایسا کمزور اور غیر مشہور ہے۔ اس کی تعلیم اور ہدایت تمام دنیا میں کس طرح پہنچے گی۔ اور کس طرح تمام دنیا کے لئے بشیر و نذیر ہو جائے گا۔ ایک ہمارا مقابلہ تو یہ کر نہیں سکتا۔ پھر سب دنیا میں اس کے پیرو کس طرح پھیل جائیں گے اور یہ چند آدمی بڑھتے بڑھتے کل دنیا کا احاطہ کس طرح کرلیں گے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ ان لوگوں کے خیالات و اقوال کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ جب مخالفین اسلام نے آنحضرت ﷺ کا یہ قول سنا کہ میں سب دنیا کے لئے مبعوث ہوا ہوں اور سب کے لئے بشیر و نذیر ہو کر آیا ہوں اور میری تعلیم ہر جگہ پھیل جائے گی تو وہ حیران ہوئے وَیَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ(سبا: ۳۰) یعنی اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہو گا اور کب آپ کی بشارت اور آپ کا انذار تمام دنیا میں پھیل جائے گا۔ اور آپ کے دشمن ذلیل اور پیرو با عزت ہوں گے۔ اس پر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ کہ قُلۡ لَّکُمۡ مِّیۡعَادُ یَوۡمٍ لَّا تَسۡتَاۡخِرُوۡنَ عَنۡہُ سَاعَۃً وَّلَا تَسۡتَقۡدِمُوۡنَ(سبا: ۳۱) ان کو کہہ دو کہ دوسروں سے تم کو کیا اپنی سنو کہ تمہارے لئے ایک یوم (جو الہامی کتب میں ایک قلیل مدت سے مراد ہوتی ہے) کی مدت مقرر ہو چکی ہے۔ اب اس مدت کے
اندر اندر تم کو تو انذار سنا دیا جائے گا۔ اور موقعہ بدر پر تم کو اس انکار کی حقیقت معلوم ہو جائے گی۔ باقیوں کا معاملہ خدا کے سپرد ہے جب ان کا موقعہ آئے گا ان تک بھی یہ کلام پہنچ جائے گا۔ ہاں تمہارا واقعہ ان کے لئے ایک عبرت کا کام دے گا۔ چنانچہ ان لوگوں نے بدر کے موقعہ پر اپنی قسمت کا انجام دیکھ لیا اور کچھ مدت کے اندر اندر ہی اسلام دنیا میں پھیل گیا جو کہ ایک عقلمند کے لئے ایک بڑی آیت ہے۔ جو مذکورہ بالا آیت کے مطابق پوری ہوئی۔
پھر چوتھی آیت میں جس میں آنحضرت ﷺ کے عہدہ کی میعاد بیان کی گئی ہے کہ کب تک آپؐ کا مذہب قائم رہے گا۔ یہ ہے مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا(سورۃ احزاب: ۴۱) یعنی نہیں ہیں آنحضرت ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن آپؐ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ اور رسول بھی کیسے کہ خاتم النبیین ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز کا جاننے والا ہے۔ اور کوئی ذرہ بھی اس کے علم سے باہر نہیں۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ اور آپؐ کے بعد اب کوئی شخص نہیں آئے گا کہ جس کو نبوت کے مقام پر کھڑا کیا جائے۔ اور وہ آپؐ کی تعلیم کو منسوخ کر دے اور نئی شریعت جاری کرے بلکہ جس قدر اولیاء اللہ ہوں گے اور متقی اور پرہیزگار لوگ ہوں گے سب کو آپؐ کی غلامی میں ہی ملے گا جو کچھ ملے گا۔ اس طرح خدا تعالیٰ نے بتا دیا کہ آپؐ کی نبوت نہ صرف اس زمانہ کے لئے ہے۔ بلکہ آئندہ بھی کوئی نبی اور نہیں آئے گا بلکہ اب ہمیشہ کے لئے آپؐ کی ہی تعلیم جاری رہے گی۔ اور یہی لوگوں کی ہدایت کا موجب ہو گی جو اس سے باہر نکلے گا وہ درگاہ الٰہی میں نہیں پہنچ سکے گا۔
اس جگہ ایک اور نکتہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا(33:41) مگر بظاہر اس جگہ اس کا جوڑ کوئی معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس قدر باتیں بیان فرمائی ہیں وہ ظاہر ہیں۔ ان کے لئے یہ بتانا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز کا جاننے والا ہے کچھ ضروری نہ تھا۔ سو اصل بات یہ ہے کہ یہاں آپؐ کے خاتم النبیین ہونے کے متعلق ایک پیشگوئی ہے۔ اور وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے دنیا میں سینکڑوں نبی گزرے ہیں جن کو ہم جانتے ہیں۔ اور جنہوں نے بڑی بڑی کامیابیاں دیکھیں بلکہ کوئی صدی نہیں معلوم ہوتی کہ جس میں ایک نہ ایک جگہ مدعی نبوت نظر نہ آتا ہو۔ چنانچہ کرشنؑ، رام چندرؑ، بچھدھؑ، کنفیوشسؑ، زرتشتؑ، موسیٰؑ اور عیسیٰؑ تو ایسے ہیں کہ جن کے پیرو اب تک دنیا میں موجود ہیں۔ اور بڑے زور سے اپنا کام کر رہے ہیں۔ اور
ہر ایک اپنی ہی سچائی کا دعویٰ پیش کرتا ہے۔ مگر آنحضرت ﷺ کے دعویٰ کے بعد تیرہ سو برس گزر گئے ہیں کہ کسی نے آج تک نبوت کا دعویٰ کر کے کامیابی حاصل نہیں کی۔ آخر آپؐ سے پہلے بھی تو لوگ نبوت کا دعویٰ کرتے تھے۔ اور ان میں سے بہت سے کامیاب ہوئے۔ (جن کو ہم تو سچا ہی سمجھتے ہیں) مگر آپؐ کی بعثت کے بعد یہ سلسلہ کیوں بند ہو گیا۔ اب کیوں کوئی کامیاب نہیں ہوتا صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہی پیشگوئی ہے کہ آپؐ خاتم النّبیّین ہیں۔ اب ہم اسلام کے مخالفین سے پوچھتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر کیا نشان ہو سکتا ہے کہ آپؐ کے دعوے کے بعد کوئی شخص جو مدعی نبوت ہوا ہو کامیاب نہیں ہوا۔ پس اس کی طرف اشارہ تھا کہ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا(33:41) یعنی ہم نے آپ کو خاتم النّبیّین بنایا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ آپؐ کے بعد اب کوئی نبی نہ آئے گا اور کوئی جھوٹا آدمی بھی ایسا دعویٰ نہیں کرے گا کہ ہم اس کو ہلاک نہ کر دیں۔ چنانچہ یہ ایک تاریخی پیشگوئی ہے کہ اس کا ردّ کسی سے ممکن نہیں۔ اگر ہے تو ہمارے سامنے پیش کرو۔ مگر اس طرح نہیں کہ کسی نے دعویٰ کیا ہو۔ اور لاکھ دو لاکھ اس کے پیرو ہو گئے۔ بلکہ ایسا آدمی کہ جس نے آنحضرت ﷺ یا آپؐ سے پہلے نبیوں کی طرح کامیابی حاصل کی ہو مگر کوئی نہیں جو ایسی نظیر پیش کر سکے۔
غرض قرآن شریف نے بڑے زور سے دعویٰ کیا ہے کہ میں تمام دنیا کے لئے آیا ہوں اور ہر زمانہ کے لئے ہوں مگر بر خلاف اس کے جیسے کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں۔ دوسری کتب کا یہ دعویٰ نہیں۔ اس لئے ان کا دعویٰ کرنا کہ ہم نجات سب عالم کے لئے پیش کرتے ہیں۔ کسی طرح بھی درست نہیں اور ان کا کوئی اختیار نہیں کہ اپنی تعلیم غیر مذاہب کے سامنے پیش کریں۔ اور جب ان کو ان کی کتب اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتیں تو ہمارے سامنے ان کا اپنی نجات کو پیش کرنا ہی غلط ہے۔ کیونکہ ان کی نجات تو انہیں تک محدود ہے اور اسلام کی نجات سب دنیا کے لئے ہے۔ اور چونکہ خدا تعالیٰ رب العالمین ہے۔ اس لئے سچی بات یہ ہے کہ اصل نجات وہی ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔
جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں میری غرض اس مضمون کو اس جگہ لکھنے سے صرف یہی ہے کہ میں بتاؤں کہ ان لوگوں کی کتب ان کو اجازت ہی نہیں دیتیں کہ یہ اپنی نجات دوسروں کے سامنے پیش کریں۔ پھر ہمارا ان کا مقابلہ کیا چنانچہ میں نے ہر ایک مذہب کے متعلق الگ الگ ثابت کیا ہے کہ سوائے اسلام کے مسیحیت اور آرین مذہب کا غیر قوموں میں پھیلانا بالکل خلاف اصول ہے۔ اور منع ہے چنانچہ اس لئے ان کا ہم سے نجات کے بارے میں بحث کرنا خلاف اصول ہے۔
اب میں اصل مضمون کی طرف لوٹتا ہوں اور سب سے پہلے یہ بتاتا ہوں کہ اسلامی نجات کیا ہے۔ اور یہ کہ واقعی وہی نجات سچی اور حقیقی ہے۔ اور باقی سب مذاہب کی پیش کردہ نجاتیں ناقص ہیں۔
ہر ایک مضمون پر قلم اٹھانے سے پہلے ضروری ہوتا ہے کہ اس کی تشریح کر دی جائے اور تعریف کر دی جائے تاکہ ایک تو مضمون کے حصہ کرنے میں آسانی ہو۔ اور ایک پڑھنے والے کو اس کے سمجھنے میں مدد ملے۔ اس لئے میں لفظ نجات کی تحقیقات کرنی ضروری سمجھتا ہوں۔
یاد رہے کہ نجات ایک عربی زبان کا لفظ ہے کہ جس کے معنی دریافت کرنے کے لئے ہم کو عربی لغات کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اول لفظ نجات کے وہ معنی جو لغت عربی ہم کو بتاتی ہے لکھ دوں۔
تاج العروس جلد ۱۰ صفحہ ۳۵۶ پر لکھا ہے کہ اَلنَّجَاةُ الْخَلَاصُ مِمَّا فِيْهِ الْمَخَافَةُ وَ نَظِيْرُهَا الْمَلَامَةُ ذَكَرَهُ الْحَرَالِيُّ وَ قَالَ غَيْرُهُ هُوَ مِنَ النَّجْوَةِ وَ هِيَ الْاِرْتِفَاعُ مِنَ الْهَلَاكِ وَ قَالَ الرَّاغِبُ اَصْلُ النَّجَاةِ اَلْاِنْفِصَالُ مِنَ الشَّيْءِ وَ مِنْهُ نَجَا فُلَانٌ مِنْ فُلَانٍ اب اس صورت میں نجات کے تین معنی ہوئے۔ ایک تو خوف والی چیز سے خلاصی دوسرے یہ کہ ہلاکت کی جگہ سے اونچا کر دینا اور ٹیلہ پر جگہ دینا اور تیسرے کسی چیز سے جدا ہو جانا مگر بہرحال ہم کو ان تینوں معنوں سے اتنا معلوم ہو گیا کہ نجات کہتے ہیں کسی مکروہ چیز سے بچ جانے کو۔ پس اب ہم مذاہب کو دیکھتے ہیں تو ان کا اصل مقصد خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے انسان کو بچانا اور اس سے سچا تعلق پیدا کروانا ہوتا ہے۔ اس لئے مذاہب نے جو یہ لفظ لیا ہے اور استعمال کیا ہے تو انہوں نے اس کو انہیں مذکورہ بالا معنوں میں استعمال کیا ہے۔ اور نجات کے لفظوں کو اپنی اصطلاح میں خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے بچنے اور اس کی رضا حاصل کرنے پر حصر کیا ہے۔ اور واقعی اگر دیکھا جائے تو اصل خوف تو خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے ہی ہوتا ہے۔ اگر وہ راضی ہے تو پھر ہر ایک آفت سے انسان محفوظ ہے اور اگر وہ ناراض ہے تو ساری دنیا کی نعمتیں موجود ہوتے ہوئے بھی کوئی سکھ اور چین اور آرام نصیب نہیں ہو سکتا۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ خدا راضی ہو تو کل جہاں راضی ہوتا ہے اور اگر وہ ناراض ہو تو اور تو اور خود اپنے ہاتھ پاؤں تک نافرمان اور قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔ اس وجہ سے اگر کسی چیز سے ڈر ہو سکتا ہے تو وہ غضب الٰہی ہے۔ پس کل مذاہب نے غضب الٰہی سے بچنے اور
رضائے الٰہی کے حصول کا نام نجات رکھا ہے۔ اور اس حد تک کل مذاہب متفق ہیں۔ لیکن دوسرے قدم پر اختلاف شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ بعض مذاہب تو ایک بات پیش کر کے کہتے ہیں کہ جس کو یہ حاصل ہو جائے تو وہ خدا کی ناراضگی سے نجات پا گیا دوسرے اس کے برخلاف کوئی اور بات پیش کر کے کہتے ہیں کہ نہیں جب تک اس درجہ کو انسان حاصل نہ کرے تب تک نجات ناممکن ہے۔ پھر اس بات پر جھگڑا اٹھتا ہے کہ ایک شخص اگر گناہ کرتا رہا اور ایک خاص وقت تک خدا تعالیٰ سے باغی رہا تو اب اس کی توبہ قبول کر کے نجات ملے گی یا نہیں اور اگر ملے گی تو کس طرح؟ اسی طرح اور بہت سے مسائل ہیں کہ جن پر مختلف مذاہب آپس میں اختلاف رکھتے ہیں۔ اس لئے مسئلہ نجات کے حل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر غور کیا جائے۔ کیونکہ ہر ایک مذہب کا پیرو جب اس لفظ کو استعمال کرتا ہے تو اپنے عقائد کے ماتحت وہ اس لفظ کے ایک خاص معنی اپنے دل میں رکھتا ہے۔ چنانچہ جب ایک عیسائی اس لفظ کو استعمال کرے گا تو وہ اس سے یہ مراد لے گا کہ پچھلے گناہوں سے توبہ کے ذریعہ نجات نہیں ہوتی بلکہ کفارہ مسیح پر ایمان لانے سے نجات ہوتی ہے۔ اور ایک آریہ جب اس لفظ کو استعمال کرے گا تو اس کا مقصد یہ ہو گا کہ پچھلے گناہوں کی سزا بھگتے بغیر انسان نجات پا ہی نہیں سکتا اور جب تک کہ وہ مختلف طرح کی جونوں کے چکر میں پھنس کر اپنے گناہوں کا کفارہ نہ کرے تب تک کسی قسم کی مکتی کی امید کرنی اس کا خیال خام ہے۔ یا ایک مسیحی جب نجات کا ذکر کرے گا۔ تو وہ اس بات پر پکا ہو گا۔ کہ گناہگاروں کے لئے دوزخ ابدی ہے۔ اور آریہ نیکیوں کے لئے مکتی کو ابدی قرار نہ دے گا۔ مگر مسلمان ان دونوں کے برخلاف خیالات رکھتا ہو گا۔ پس جب نجات پر بحث کی جائے تو ان تمام پہلوؤں پر نظر رکھنی ضروری ہے۔ کیونکہ بغیر اس کے نجات کا مضمون کامل نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس وجہ سے میں ارادہ رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ اپنے مضمون میں ان تمام پہلوؤں پر بحث کروں کہ جن سے نجات کا مسئلہ پورا ہوتا ہے۔ اور ہر ایک حصہ میں جہاں غیر مذاہب سے اختلاف ہو اس کو بیان کروں۔ اور ان کے دلائل اور اسلام کے دلائل کا موازنہ کر کے بتاؤں کہ سوائے اسلام کے باقی سب مذاہب کی پیش کردہ نجاتیں اپنے ایک حصہ یا دوسرے حصہ میں سقم رکھتی ہیں۔ اور اس وجہ سے ناقص ہیں۔ مگر چونکہ اسلام خدا کی طرف سے ہے اس لئے اسلامی نجات ہر طرح کامل اور فطرت کے مطابق ہے۔
چنانچہ اس خیال کو مد نظر رکھ کر سردست میرا ارادہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ نے عمر صحت اور طاقت دی۔ تو انشاء اللہ اس مضمون کو چھ حصوں میں لکھوں گا۔ اول یہ کہ کیا اسلام میں پچھلے گناہوں سے نجات ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو کس طرح؟ دوم یہ کہ کیا اسلام انسان کے گناہوں سے پاک ہونے کا قائل ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو کس طرح؟ سوم یہ کہ کیا اسلام مرنے کے بعد گناہوں کی معافی کا قائل ہے یا نہیں؟ چہارم یہ کہ کیا دوزخ کا عذاب غیر محدود ہے؟ پنجم یہ کہ کیا جنت کا انعام منقطع ہے؟ اور ششم خاتمہ جس میں انشاء اللہ اس مضمون کے متعلق متفرق باتوں کو بیان کیا جائے گا۔ وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔
جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں نجات کے مضمون کو میں نے مختلف چھ حصوں پر تقسیم کیا ہے۔ اور سب سے پہلے میں مذکورہ بالا ہیڈنگ پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں کیونکہ جب ایک انسان خدا کی طرف جھکتا ہے تو ضرور ہے کہ اسے پہلے یہی سوال پیش آئے کہ کیا میرے پہلے گناہ جو میں اب تک کر چکا ہوں وہ معاف ہو سکتے ہیں کہ نہیں؟ اور اس سوال کے حل کئے بغیر نجات پر بحث کرنا ہے بھی فضول کیونکہ جب گناہ ہی معاف نہ ہوئے تو پھر نجات کس طرح ممکن ہے۔
یاد رہے کہ اسلام ہم کو اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے غفار ہونے پر ہر حالت میں ایمان لائیں اور کسی وقت بھی اس کے بے پایاں فضل و کرم سے ناامید نہ ہوں۔ بلکہ ہر دم یقین کریں کہ اگر خدا تعالیٰ کے انعامات ہمارے شاملِ حال نہ ہوں تو ہماری زندگیاں تلخ ہو جائیں اور جینا ہمارے لئے دوبھر ہو جائے اور یہ کہ وہ ہماری خطاؤں کو معاف کرتا ہے اور اگر سچی توبہ کی جائے جو فضل کی جاذب ہو تو ہمارے گناہوں کو ملیا میٹ کر دیتا ہے وہ محبت سے پُر محبت کے قابل ہستی ہے جس کے مدِ نظر انسان کی اصلاح ہے اس کی ہلاکت نہیں پس جس وقت انسان اصلاح کی طرف جھکتا ہے اور اپنی غلطیوں پر آگاہ ہو کر ان کے دور کرنے کی طرف توجہ کرتا ہے تو آسمان کے دروازے بھی اس کے لئے کھل جاتے ہیں اور ملاءِ اعلیٰ کی توجہ بھی اس کی اصلاح کی طرف منصرف ہو جاتی ہے پس مبارک ہے وہ جو ان باتوں پر غور کرے اور فائدہ اٹھائے۔ برخلاف اس کے مسیحی اور آرین یہ خیال کرتے ہیں کہ پچھلے گناہ قطعاً معاف نہیں ہو سکتے جو ہو چکا سو ہو چکا۔ اب واپس نہیں لیا جا سکتا۔ اب اگر کوئی شخص اپنی اصلاح کرنا چاہتا ہے۔ تو یہی طریق ہے کہ آئندہ کے لئے گناہوں سے بچے اور پچھلے گناہوں کی سزا کا منتظر رہے (مسیحی ایک طریق گناہوں کی سزا سے بچنے کا بتاتے ہیں مگر وہ اس جگہ کچھ تعلق نہیں رکھتا اس لئے انشاء اللہ آئندہ بیان ہوگا)
پس ہمارا اور دیگر مذاہب کا اس مسئلہ میں ایک عظیم الشان اختلاف ہے جس پر بحث کرنا ضروری ہے اور چونکہ گناہوں کی معافی کا تعلق خدا تعالیٰ کی صفات سے ہے اور ساری بحث کا دارو مدار اس پر آن رہتا ہے کہ آیا خدا تعالیٰ کی صفات یہ چاہتی ہیں کہ انسان کے گناہوں کو بروقت توبہ معاف کیا جائے یا اسے ضرور ہی سزا دی جائے اور باوجود اس کی ندامت اور پشیمانی کے اور آئندہ اصلاح پر آمادہ ہونے کے اس کو ہلاک کر کے چھوڑا جائے ۔ اس لئے اولاً میں خدا تعالیٰ کی صفات پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔
یاد رہے کہ یہی مسئلہ نہیں بلکہ جس قدر دیگر مسائل میں مذاہب کا اختلاف ہے وہ صرف خدا تعالیٰ کی صفات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے چنانچہ دنیا کے مذاہب پر نظر رکھنے والے اور ان کی تحقیقات میں دلچسپی رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ کل مذاہب میں جب برائیاں پڑی ہیں ۔ اور طرح طرح کی بدعات داخل ہوئی ہیں تو اس کا اصل باعث یہی ہے کہ مرور زمانہ سے ان لوگوں میں خدا تعالیٰ کی کسی ایک صفت یا بہت سی صفات کے متعلق غلط فہمی ہوگئی جس کی وجہ سے ان کے اعمال بھی بگڑتے بگڑتے کسی اور طرز پر آگئے مثلاً ایک فرقہ جو خدا تعالیٰ کی نسبت یہ خیال کرتا ہو کہ خدا تعالیٰ کو ذرہ ذرہ کا علم ہوتا ہے۔ اگر مرور زمانہ سے وہ خدا تعالیٰ کے علم کی صفت کے سمجھنے سے دھوکہ کھا جائے اور اس کا یہ خیال ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کو کلیات کا ہی علم ہے اور جزئیات کا علم نہیں ۔ تو ضرور ہے کہ اسکے بہت سے عقائد ساتھ ہی بدل جائیں گے مثال کے طور پر اُن کو ماننا پڑے گا کہ قیامت کو ان کے بہت سے گناہ خدا تعالیٰ کی نظر سے پوشیدہ ہونے کی وجہ سے سزا سے بچ جائیں گے۔ اور وہ یہ بھی خیال کریں گے کہ خدا تعالیٰ کو دھوکہ بھی دیا جا سکتا ہے۔
غرضیکہ خدا تعالیٰ کی ایک صفت میں غلط فہمی ہو جانے کی وجہ سے ہی مذاہب میں اختلافات پیدا ہوئے ہیں اور اگر سب مذاہب صفات الٰہیہ اور ان کے ظہور میں متفق ہوتے تو پھر کوئی اختلاف نہ ہوتا اور سب مذاہب ایک ہی بات کے ماننے والے ہوتے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ سوائے بہت چھوٹے چھوٹے اختلافات کے سب مذاہب ایک ہی ہو جاتے مگر چونکہ صفات الٰہیہ کے سمجھنے اور ان کے ظہور کے طریقہ میں بہت کچھ اختلافات ہو گئے ہیں۔ اس لئے آپس میں اس قدر بُعد واقعہ ہو گیا
ہے کہ اگر ایک مذہب کو مانا جائے تو دوسرے کو ضرور ہی غلط کہنا پڑتا ہے۔ کیونکہ یا تو انہوں نے خدا تعالیٰ کی صفات میں کچھ کمی کر دی ہے یا زیادتی ورنہ اگر غور سے دیکھا جائے تو کیا ہنود یا آریہ یا مسیحی یا یہودی یا زرتشتی جان بوجھ کر اپنے آپ کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں اور دوزخ کو دیکھتے ہوئے اس میں کودنے کی کوشش کرتے ہیں؟ بلکہ اس کے برخلاف ہم دیکھتے ہیں تو دہریت کو چھوڑ کر باقی کل مذاہب اس طاقتور ہستی سے تعلق پیدا کرنے کے لئے کوشاں ہیں اور مختلف طریق سے اور جائز اور ناجائز وسائل سے اسے خوش کرنے اور اپنے پر مہربان کرنے کے لئے لگے ہوئے ہیں صرف فرق اتنا ہے کہ اس کی صفات میں دھوکہ کھایا ہے اور اس لئے راستہ سے بھٹک گئے ہیں۔
ان کی مثال ایسی ہے کہ جیسے چار آدمی ایک شہر کی تلاش میں نکلیں۔ اور ایک تو ٹھیک سیدھے راستہ پر چلتا جائے اور باقی اپنی جلد بازی اور نافہمی کی وجہ سے اصل جہت کو چھوڑ کر دوسری راہیں اختیار کریں اور ان میں سے کوئی شمال کو چلا جائے کوئی جنوب کو چلا جائے اور کوئی مشرق کو چلا جائے۔ پس اس میں شک نہیں کہ یہ سب اس شہر کی تلاش میں سرگرداں و کوشاں ہیں۔ لیکن یہ فرق ہو گیا ہے کہ ایک تو ان نشانات پر جو بتائے گئے تھے چلا جاتا ہے اور آخر منزلِ مقصود کو پہنچ بھی جائے گا۔ مگر باقی تین نے اپنی طرف سے کچھ ایسی باتیں ان نشانات میں ملا لیں کہ اصل راستہ سے بھٹک کر کہیں کے کہیں چلے گئے۔ اور اگر اصل راستہ کی طرف نہ لوٹے تو ضرور ہے کہ اسی طرح چلتے چلتے مر جائیں گے اور منزل مقصود کو نہ پائیں گے مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ ان کو بھی اس شہر تک پہنچنے کی تڑپ ہے۔ اس طرح موجودہ مذاہب میں سے سچے مذہب کو چھوڑ کر (خواہ وہ کوئی مذہب ہو) باقی سب مذاہب کے پیرو گو خدا تعالیٰ سے ملنے کی تڑپ رکھتے ہیں مگر وہ نشانات جو ان کو اس کے ملنے کے لئے بتائے گئے تھے (یعنی اس کی صفات) ان میں انہوں نے ایسی خود ساختہ باتیں ملا لی ہیں کہ اب وہ اصل راستہ سے بھٹک کر کہیں کے کہیں نکل گئے ہیں اور ان آلائشوں کی وجہ سے جن میں آلودہ ہو گئے ہیں زمین و آسمان کے خدا کو چھوڑ کر اپنے خیالات کے بموجب کچھ اور خدا تجویز کر کے ان کے پیچھے لگ گئے ہیں اور ان کی مثال ان بکریوں کی ہے کہ جنہوں نے رات کے وقت اپنے مالک کے قدموں پر چلنا ترک کر دیا اور ادھر ادھر ہو گئیں اب چور ان کو بلاتا ہے اور وہ اس کے پیچھے لگ جاتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ وہ اس کا مالک ہے مگر صبح سے پہلے وہ ان کو قصاب کے سپرد کر دے گا اور آئندہ ان کو اپنا گھر دیکھنا نصیب نہ ہو گا۔
چنانچہ اس دھوکے میں پڑ کر کسی نے تو محبت کے جوش میں برہما، وشنو، کرشن اور رام چندر کے بھیس میں اسے دیکھا۔ اور کسی نے اس پاک ہستی کو ورا ، شیر ، مگر مچھ ، کچھوے کی شکل میں اعتقاد کیا۔ کسی نے یسوع کے رنگ میں رنگین پایا۔ تو کسی نے بدھ کی صورت میں جلوہ گر (نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ كُلِّ ذٰلِكَ) یہودیوں نے اگر موسیٰؑ کی معرفت اس کا دیدار چاہا تو زرتشتیوں نے زرتشت کی وساطت سے اس کی ملاقات کی خواہش کی مگر سچی بات یہی ہے کہ وہ وراء الوریٰ ہستی اس بات کی محتاج نہیں کچھ ، مگر مچھ یا کسی انسان کی صورت اختیار کرے اور یہ بات اس کی صفات کے بھی بر خلاف ہے۔ اس کا دیدار اس کی صفات کی معرفت سے ہوتا ہے چنانچہ اس سچے مسئلہ کو رسول اللہ ﷺ کی معرفت خدا تعالیٰ نے ہم تک پہنچایا اور فرمایا کہ لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ(الشوریٰ: ۱۲) کہ اس کی مانند کوئی چیز نہیں کہ جس کے بھیس میں وہ آسکے اور دوسرے مقام پر فرمایا کہ لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَہُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ ۚ وَہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ(الانعام: ۱۰۴) یعنی یہ مادی آنکھیں اس کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتیں ہاں وہ ان آنکھوں کی کنہ کو خوب پہنچتا ہے اور وہ بڑا لطیف اور خبیر ہے۔
پس ان سب بد عقائد کی جڑ صفات الہیہ سے بے خبری ہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بعض نادان محبت کی وجہ سے بعض خدا نما لوگوں کو خدا ہی سمجھ بیٹھتے ہیں اور بعض مخلوقات الہیہ کو اس کا شریک قرار دیتے ہیں۔ اسی کی طرف قرآن شریف میں خدا تعالیٰ اشارہ فرماتا ہے کہ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ(الحج: ۷۵) یعنی لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات سے پوری آگاہی حاصل نہیں کی اور نہ اس کی بڑائی کا پورا اندازہ کیا تحقیق اللہ قوی اور غالب ہے۔ کیا معنی کہ لوگ جو غفلت میں پڑ گئے ہیں اور ایسے معبودوں کی طرف جھک گئے ہیں جو خود ضعیف ہیں اور کوئی طاقت اور قوت نہیں رکھتے اور نقصوں سے پاک نہیں ہیں بلکہ طرح طرح کے نقائص سے آلودہ ہیں ایسے لوگوں نے صفات الہیہ کا پوری طرح سے مطالعہ ہی نہیں کیا۔ اور بلا سوچے سمجھے من گھڑت صفات خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر دی ہیں۔ کہ جن کی وجہ سے اصل معبود سے دور جا پڑے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مسئلہ نجات میں بھی مختلف اقوام نے دھوکہ کھایا ہے۔
۹ اسلام کی تعلیم سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ پاک ذات جس کی محبت میں لاکھوں نہیں کروڑوں روحیں بے چین رہی ہیں اور ہیں اور رہیں گی تمام نقائص سے پاک ہے اور کسی قسم کی اس میں کمی نہیں ہے بلکہ تمام نیک صفات کی وہ جامع ہے اور بالکل بے عیب ہے اور کوئی اعلیٰ صفت نہیں کہ جس کا ہونا اس ذات کے لئے ضروری ہو اور وہ اس میں نہ پائی جاتی ہو اور نہ کوئی ایسی صفت ہے کہ جس کے ہونے سے اس میں نقص لازم آتا ہو۔۔۔اور وہ اس میں پائی جاتی ہو۔
اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی صفات سے آگاہ کرنے کے لئے قرآن شریف میں مختلف جگہ پر صفات الٰہیہ کا ذکر کیا گیا ہے تا ایسا نہ ہو کہ اس مذہب کے پیروؤں کو کچھ مدت کے بعد خدا تعالیٰ کی صفات میں دھوکہ لگ جائے اور وہ سیدھے راستہ سے بھٹک جائیں اور نیکی کا طریق ان سے چھوٹ جائے اور ضلالت اور گمراہی کی وجہ سے یہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف وہ صفات منسوب کریں کہ جو درحقیقت اس میں نہیں ہیں اور ان کا ہونا اس کے لئے عیب کا موجب ہو اور ایسی صفات جن کے نہ پائے جانے سے اس میں کمی لازم آتی ہو اور نقص وارد ہوتا ہو ان صفات کو اس سے جدا کر دیں اور اس کے نتیجہ میں اس حقیقی خدا کا دامن چھوڑ کر مصنوعی خداؤں کے پیچھے لگ جائیں۔ پس قرآن شریف ہم کو بتاتا ہے کہ وہ خدا جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور ان میں طرح طرح کے جانور پیدا کئے اور انسان کو بنایا۔ اور بادلوں سے پانی اتارا۔ اور آگ اور ہوا سے انسان کے فوائد کی تکمیل کی وہ خدا بڑا طاقتور خدا ہے اور اس کے تمام فعل بالا رادہ ہوتے ہیں۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جس کام کو وہ کرنا چاہے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ اور جس کام کو وہ روکنا چاہے اسے کوئی کرنے والا نہیں۔
علاوہ اس کے قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے ہم کو یہ بھی بتایا ہے کہ انسان کی خلقت میں ہی نیکی اور تقویٰ رکھا گیا ہے۔ جس سے وہ نیک بات اور بری بات میں فرق کر سکے۔ چنانچہ فرماتا ہے فِطۡرَتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا ؕ لَا تَبۡدِیۡلَ لِخَلۡقِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ ٭ۙ وَلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ(الروم: ۳۱) یعنی اللہ کی طرف سے دی ہوئی فطرت وہی ہے جو اس نے اپنے بندوں میں رکھی ہے اللہ کی خلق میں کوئی تبدیلی نہیں چاہئے۔ یہ ایک دین ہے جو استوار ہے لیکن اکثر لوگ ناواقف ہوتے ہیں یعنی اللہ کی طرف سے انسان میں ایسی صفات رکھی گئی ہیں کہ جن سے وہ ایک حد تک صفات الٰہیہ کا مظہر بن سکتا ہے اور ایسی ایسی صفات حسنہ اس میں ودیعت کی گئی ہیں کہ جن کی مدد سے وہ نیک وبد کو پرکھ سکتا ہے اور اس طرح سمجھ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف کن صفات کو منسوب کرنا جائز اور کن کو منسوب کرنا ناجائز ہے اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ انسان میں بھی ایک حد تک الٰہی صفات کا رنگ دیا گیا ہے اور اس لئے جب فطرت کے مطابق انسان الٰہی صفات کو پرکھتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ فلاں فلاں صفات کا اللہ تعالیٰ سے جدا کرنا اور فلاں فلاں صفات کا اس سے منسوب کرنا برا ہے۔ پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان میں وہی صفات ہیں کہ جو میری طرف سے اسے میری معرفت حاصل کرنے کے لئے دی گئی ہیں اور چونکہ میری خلق میں کوئی تبدیلی نہیں چاہئے ۔ اس لئے ایسا نہ ہو کہ تم خلافِ فطرت ایسی صفات تجویز کرو۔ جو میری خلق کے خلاف ہیں۔ اور میں نے ان کو پیدا کیا بلکہ ہمیشہ عقل و فطرت سے کام لیا کرو اور ان دونوں کو اپنا رہنما بناؤ۔ اور جب تک تم خود ان میں تبدیلی نہ کرو گے اس وقت تک تم راہِ راست پر رہو گے۔ اس جگہ پر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام کا یہ منشاء ہرگز نہیں کہ عقل سے بالا کوئی علوم نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ فطرت و عقل کے مطابق کل علوم ہونے چاہئیں اس کے خلاف نہ ہوں مثلاً کوئی شخص ہم کو آکر بتائے کہ زید لاہور گیا ہے تو یہ بات ہماری عقل سے بالا ہے خلاف نہیں کیونکہ ہم کو سماع سے معلوم ہوئی ہے خود عقل بغیر کسی کی اطلاع کے اس بات کو دریافت نہ کر سکتی تھی۔ مگر جب معتبر خبر ہم کو ملی تو ہماری عقل نے کوئی وجہ اس کے رد کرنے کی نہیں پائی۔ پس جہاں جہاں میں عقل و فطرت کو انسان کا رہنما بتلاؤں گا میرا یہی مطلب ہو گا کہ جن باتوں کے وہ برخلاف نہ ہوں ان کو قبول کرو خواہ وہ کسی ذریعہ سے پایہ ثبوت کو پہنچی ہوں۔
پس خدا تعالیٰ اس آیت میں ہم کو بتاتا ہے کہ فطرت انسانی تو ہماری ہی پیدا کی ہوئی ہے۔ اور اس میں ہم نے اپنے صفات کا پرتو ڈالا ہے پس اس میں تبدیلی مت کرو۔ اور اس کو اپنا رہنما بناؤ۔ اور جب تک تم اس اصول پر چلتے رہو گے اور اس راہ کو نہ چھوڑو گے تو تم سیدھی راہ پر رہو گے اور ہماری صفات کے سمجھنے میں دھوکہ نہ کھاؤ گے۔ چنانچہ فرماتا ہے ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ(30:31) یعنی جو دین کہ اس طرح فطرت کے مطابق ہم کو چلاتا ہے اور وہ اصول ہم کو بتاتا ہے جو فطرت کے برخلاف نہ ہوں وہی سچا ہے اور باقی سب مذاہب جھوٹے ہیں اور غلطی پر ہیں اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی حقیقت کو ہی نہیں سمجھا۔ اور وہ سیدھے راستہ سے دور جا پڑے ہیں اور کیونکہ ان کی بات بے ثبوت ہے اور ان کے پاس کوئی دلیل نہیں کہ جس سے وہ اپنے دعوے کو ثابت کر سکیں اور یہ ایک ایسا اصول ہے کہ جس کو اکثر لوگ نہیں جانتے۔
پس قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایک حد تک انسان کو اپنے صفات کا مظہر بتاتا ہے اور جو طاقتیں کہ خدا تعالیٰ میں ہیں ایک حد تک انسان پر اس کا پرتو ڈالا ہے۔ چنانچہ اس کی تائید میں رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث بھی ہے جس میں آپؐ فرماتے ہیں کہ تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰهِ یعنی اے لوگو! تم اللہ تعالیٰ کی صفات کا اپنے آپ کو مظہر بناؤ۔ اور وہ صفات حسنہ جو خدا تعالیٰ نے تم میں ودیعت کی ہیں ان کو ترک مت کرو۔ اور ان سے غافل مت ہو۔ بلکہ ان میں ترقی دو۔ اور اپنے آپ کو کامل مظہر بناؤ۔ چنانچہ ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اس کی اور بھی تشریح کی ہے اور فرمایا ہے کہ جب مومن اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے بالکل سپرد کر دیتا ہے۔ تو اس وقت خدا تعالیٰ اس کے ہاتھ ہو جاتا ہے جن سے وہ پکڑتا ہے اور زبان ہو جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے اور کان ہو جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے۔ اور پاؤں ہو جاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے۔ اس حدیث کا بھی یہی مطلب ہے کہ انسان ایسا اپنی فطرت پر پکا ہو جاتا ہے کہ اس میں کسی قسم کی تبدیلی بھی جائز نہیں رکھتا۔ اس لئے چونکہ انسانی فطرت میں الٰہی صفات رکھی گئی ہیں اور اس کی کل حرکات فطرت کے مطابق ہو جاتی ہیں تو اس وقت گویا اس کا ہر ایک فعل خدا کا ہی فعل ہو جاتا ہے اور ایسا انسان خدا تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے۔
پس اسلام نے سچے مذہب کی یہ نشانی بتائی ہے کہ وہ فطرت کے مطابق ہو اس کے برخلاف نہ ہو اور خدا تعالیٰ کی طرف ایسی صفات منسوب نہ کرتا ہو جو خلاف فطرت ہوں بلکہ ایسی صفات کو منسوب کرتا ہو جو عین فطرت کے مطابق ہوں۔ اور مشاہدہ بھی اس کی تائید کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان میں ایسی صفات رکھی ہیں کہ جن سے انسان فیصلہ کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف کونسی صفت منسوب کر سکتے ہیں اور کونسی نہیں۔
اس لئے مجھ کو کوئی بڑے دلائل دینے کی بھی ضرورت نہیں صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ اگر انسانی فطرت میں ایسی طاقت نہ ہوتی تو وہ خدا کی صفات کو سمجھ ہی نہ سکتا کیونکہ جو طاقت ایک چیز میں ہوتی ہی نہیں تو وہ اس قسم کا کام نہیں دے سکتی۔ مثلاً یہ کہ طوطے میں بولنے کی طاقت ہے جب ہم اس کو بولنا سکھاتے ہیں تو وہ بولنے لگتا ہے لیکن چونکہ بیل میں بولنے کی طاقت نہیں ہم لاکھ کوشش کریں وہ کبھی نہیں بول سکے گا کیونکہ اس میں وہ مادہ ہی نہیں رکھا گیا یا یہ کہ اونٹ کو پر نہیں دیئے گئے اور اس میں اڑنے کی طاقت نہیں رکھی گئی۔ اب لاکھ بھی ہم اس سے کہیں کہ تو اڑ اور وہ پرندوں کو اڑتا ہوا دیکھے لیکن نہ تو اس کی توجہ ہی اس طرف جاسکتی ہے اور نہ وہ اڑ ہی سکتا ہے اسی طرح کل جانور جن کو انسان کی طرح ترقی کی طاقت نہیں دی گئی اگر یہ ان کو سمجھانا چاہیں کہ دانا کے لئے ہر وقت ترقی کی فکر میں لگا رہنا ضروری ہوتا ہے اور ایجادوں سے اپنی قوم کو فائدہ پہنچانا اس کا فرض ہوتا ہے تو وہ اس سے کوئی نتیجہ نہیں نکال سکتے کیونکہ ان میں یہ طاقت ہی نہیں رکھی گئی۔ انسان کو دیکھو کہ کہاں سے کہاں ترقی کر کے آگیا ہے مگر جانور جس طرح آج سے دو ہزار یا تین ہزار یا چار ہزار سال پہلے تھا۔ اسی طرح آج کل بھی ہے یعنی جس طرح مکھی آج سے ہزاروں سال پہلے شہد تیار کیا کرتی تھی۔ اسی طرح اب بھی کرتی ہے۔ یہ نہیں کہ انسان کی طرح نئی نئی ایجادیں کرتی
رہے۔ مگر آج سے دو ہزار سال پہلے اگر انسان رتھوں پر سوار ہوتا تھا اور اس کے بعد جنڈول اور پینس اور سکھ پال وغیرہ سواریاں نکل آئیں پھر اور ترقی کی تو گھوڑے گاڑیاں ایجاد ہوئیں اور پھر ان میں مختلف قسم کی کتر بیونت ہوتی رہی اور وہاں سے انسان نے ترقی کی تو ریل ایجاد کی اور پہلے اگر دس میل فی گھنٹہ رفتار تھی تو پھر پندرہ میل اور رفتہ رفتہ ایک سو دس میل تک لے آیا اور سٹیم سے ترقی کی تو برقی طاقت سے کام لینے لگا اور اس سے بھی بڑھا تو ہوائی جہاز ایجاد کئے۔ مگر مکھی نے شہد کے بنانے کے طریقہ میں اور ریشم کے کیڑے نے کپڑے کے بنانے میں اس عرصہ میں نئی نئی ایجادیں نہیں کیں جس کی وجہ یہی ہے کہ ان میں یہ طاقت ہی نہیں رکھی گئی۔ اب اگر ہم کسی جانور کو فلسفہ کے مسائل سمجھانے بیٹھیں تو کیا سمجھا سکتے ہیں؟ کبھی نہیں کیونکہ اسمیں وہ مادہ ہی نہیں۔
پس جب تجربہ ہم کو بتاتا ہے کہ جو طاقت کسی چیز میں نہ ہو وہ اس سے کام نہیں لے سکتی تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ اگر انسان میں ان صفات کا پرتو نہ ڈالا گیا ہو جو خدا تعالیٰ میں ہیں تو پھر بھی وہ اس کی صفات کو سمجھ سکے۔ خدا تعالیٰ کو ملنے کا ایک ہی طریق ہے اور وہ اس کی صفات کا کامل علم ہے پس جب انسان ان صفات کا علم ہی نہیں حاصل کر سکے گا تو وہ ان کا عرفان کیونکر حاصل کرے گا۔ پس الٰہی گیان یا عرفان کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان میں الٰہی صفات کا جلوہ موجود ہو اور یہی مطلب ہے ان آیات و احادیث کا جو میں پہلے لکھ آیا ہوں کہ انسان میں الٰہی صفات کا پرتو ایک حد تک ڈالا گیا ہے۔ اور اس کی فطرت اس طرح نیک بنائی گئی ہے کہ اگر وہ اس سے کام لے تو وہ ضرور خدا تعالیٰ کی صفات کو سمجھ سکتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ الٰہی صفات کے سمجھنے کا ایک ہی طریق ہے کہ انسان فطرت انسانی کو دیکھے اور پھر ہر ایک مذہب کی بتائی ہوئی صفات کو اس کسوٹی پر پرکھے۔ تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ کونسا مذہب سچا ہے اور فطرت کے مطابق ہے اور کونسا جھوٹا اور فطرت کے بر خلاف۔ پس اب میں اسلام کا دعویٰ مشاہدات کے دلائل سے ثابت کر آیا ہوں کہ انسان میں الٰہی صفات کا ضرور ایک حد تک جلوہ ہونا چاہئے تاکہ انسان الٰہی صفات کو سمجھنے کے لائق ہو اور اگر اس میں وہ صفات نہ رکھے جاتے تو وہ ایک جانور کی طرح جو فلسفہ کے مسائل ہزار برس پڑھانے پر بھی نہیں پڑھ سکتا۔ الٰہی صفات کے سمجھنے کے نا قابل ہوتا۔
پس اب مذاہب کے دعاوی کے پرکھنے کے لئے ہمارے لئے ایک بہت آسان راہ نکل آئی کہ اگر کسی مذہب کا دعویٰ عقل انسانی اور فطرت کے بر خلاف ہو اور متعارض ہو تو وہ غلط اور بے بنیاد ہے۔ کیونکہ جب ہماری فطرتیں الٰہی صفات کا جلوہ گاہ ہیں تو جو بات ہماری فطرتوں کے بر خلاف اور صریح متعارض ہے ضروری ہے کہ وہ الٰہی صفات کے بھی برخلاف اور متعارض ہو۔ اس لئے اگر کوئی مذہب خدا تعالیٰ کی طرف کوئی ایسی صفت منسوب کرے کہ جو ہماری فطرتوں کے برخلاف اور متعارض ہے تو ہم فوراً سمجھ لیں گے کہ یہ صفت خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا بالکل ناجائز اور منع ہے۔
اب جبکہ یہ طے ہو گیا کہ کل مذاہب کی بتائی ہوئی الٰہی صفات کو مد نظر رکھ کر ہم دیکھیں گے کہ انسانی خلقت کس طرح واقع ہوئی ہے۔ چنانچہ غور سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی فطرت میں ایسی صفات ہیں کہ جن کو وہ فطرتاً نیک کہتا ہے اور بعض ایسے فعل ان سے سرزد ہوتے ہیں کہ ان کو وہ فطرتاً برا کہتا ہے چنانچہ پھر تجربہ اور مشاہدہ اس پر گواہی دیتا ہے کہ واقعی یہ فعل نیک ثمرات کالانے والا اور یہ فعل برے نتائج کا پیدا کرنے والا ہے مثلاً جب ایک انسان دوسرے سے محبت اور اخلاص سے پیش آتا ہے اور کشادہ پیشانی سے ملاقات کرتا ہے تو دوسرے کے دل میں فطرتاً اس کی محبت پیدا ہوتی ہے اور اس کی بہتری کا خیال اس کے دل میں جاگزین ہو جاتا ہے۔
لیکن اگر برخلاف اس کے کوئی شخص دوسرے سے کج خلقی سے پیش آتا ہے اور اخلاق حمیدہ کو ترک کر دیتا ہے اور انسانیت کو چھوڑ کر درندگی کا رنگ اختیار کر لیتا ہے تو لوگ اس سے کنارہ کرتے ہیں اور الگ ہو جاتے ہیں۔ اور اس کی صحبت کو ترک کر دیتے ہیں اور اس سے جدائی اختیار کر لیتے اور اس کی عزت ان کے دلوں سے اٹھ جاتی ہے اور اس کی بجائے نفرت گھر کر لیتی ہے اور تمام علاقہ میں اس کی شکایات کی آواز بلند ہو جاتی ہے اور وہ لوگوں میں انگشت نما ہو جاتا ہے۔
پس غور کرو کہ اس با اخلاق انسان کی محبت اور اس کج اخلاق کی نفرت کی کیا وجہ ہے اور کیوں ان کے ساتھ لوگوں نے تعلقات کو بڑھایا اور اس سے علیحدگی اختیار کی اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ اس نے تو فطرت انسانی کے جذبات کو ملحوظ رکھا۔ اور اس نے فطرت کو بدل دیا۔
پھر اسی طرح ایک شخص جو بڑا سچا ہے اور سچ کی وجہ سے خواہ اس کا نقصان بھی ہو جائے ۔ وہ اسے ترک نہیں کرتا اور جھوٹ کے قریب نہیں جاتا۔ اس کی بات پر تمام لوگ اعتبار کرتے ہیں اور جو کچھ وہ کہتا ہے اس کا انکار نہیں کیا جاتا۔ اور اس کی شہادتوں کی تصدیق کی جاتی ہے اور اس کو جھٹلانے والا خود جھوٹا سمجھا جاتا ہے۔ اور اس کے برخلاف وہ شخص جو اپنی فطرت کو بدلتا ہے اور جھوٹ کی نجاست کو استعمال کرتا ہے اور سچ کے بولنے کے پاک طریق کو چھوڑ دیتا ہے اس کا اعتبار اٹھ جاتا ہے اور غیر تو غیر خود اس کے یار و غمگسار تک اس کی باتوں کو خلاف واقعہ سمجھتے ہیں۔ اور اس کی بات کا انکار کرنا برا نہیں بلکہ دور اندیشی سمجھا جاتا ہے اور اس کی بدنامی چاروں طرف پھیل جاتی ہے۔ اسی طرح تمام نیک صفات کا نتیجہ نیک نکلتا ہے اور بد افعال کا نتیجہ بد اور یہ ایک ایسا آلہ اور ایسی کسوٹی ہے کہ جس پر انسان اپنی صفات کو پرکھ سکتا ہے اور اس طرح اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ واقعی وہ صفات جو فطرتاً نیک معلوم ہوتی ہیں وہ ہیں بھی نیک اور یہ کہ جو صفات فطرتاً بد معلوم ہوتی ہیں اس کے نتائج بھی بد نکلتے ہیں۔ پس فطرت کے پرکھنے کے لئے ایک تجربہ بھی انسان کو دیا گیا ہے کہ جس سے انسان اپنی فطرت کو پرکھتا رہتا ہے۔ اور اس کے علاوہ ضمیر ہے کہ جو اس کی مددگار بنی ہوئی ہے اور اس کو آگاہ کرتی رہتی ہے کہ اس کا کونسا کام فطرت کے مطابق ہے اور کون سا بر خلاف فطرت۔ پس جب انسان فطرت سے کام لیتا ہے تو اسے کوئی ملامت نہیں ہوتی اور جب وہ فطرت کے بر خلاف کام کرتا ہے تو فوراً اس کو ملامت شروع ہو جاتی ہے۔ اور گو کہ ایک مدت تک فطرت کے بر خلاف کام کرنے سے دل پر ایک زنگ لگ جاتا ہے اور فطرت انسانی مسخ ہو جاتی ہے اور اس آئینہ کی طرح ہو جاتی ہے کہ جو زنگ کی کثرت کی وجہ سے عکس قبول نہیں کرتا اور اپنی اصلی حالت کو چھوڑ دیتا ہے۔ مگر پھر بھی ایسے انسان کسی نہ کسی وقت فطرت کے مطابق بول ہی اٹھتے ہیں ایک چور اپنے گروہ میں چوری کو برا سمجھتا ہے ایک ٹھگ اپنے گروہ میں ٹھگی کو مکروہ خیال کرتا ہے۔ کنجر تک اپنی بہو سے پیشہ نہیں کرواتے۔
پس معلوم ہوتا ہے کہ فطرت کہیں نہ کہیں سے اپنا راستہ تلاش کر ہی لیتی ہے۔ علاوہ ازیں اکثر بدیوں میں ایک حد تک اخفاء کا خیال رہتا ہے جس سے انسان کو اس کی فطرت پر آگاہی ہوتی رہتی ہے۔ غرضیکہ فطرت انسانی کو جب ہم دیکھتے ہیں تو بعض صفات کو وہ نیک خیال کرتی ہے اور بعض کو مکروہ۔ پس اس فطرت سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کونسی صفت خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنی نیک ہے اور کونسی بری۔ جو صفات کہ انسان کے قدس پر دلالت کرتی ہیں۔ اور وہ اس کے نقائص کو دور کرنے کے لئے نہیں ہیں وہ تو خدا تعالیٰ کی طرف انسان منسوب کرتا ہے۔ اور جو صفات کہ بری ہوں یا نقائص پر دلالت کرتی ہوں تو وہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کی جاتیں۔ پس اب ہم دیکھتے ہیں کہ انسان میں رحم کا مادہ ہے اور یہ ایک نیک صفت یقین کی گئی ہے اور اس کے بر خلاف جس انسان نے رحم کے بر خلاف کام کیا ہو وہ خود لوگوں کی نظر میں گر جاتا ہے۔ فطرت انسانی کو مشاہدہ کر کے دیکھ لو کہ یہ شروع سے ہی رحم کی محتاج چلی آئی ہے۔ چنانچہ اگر والدین کی طبیعت میں رحم کا مادہ نہ ہو تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ بچہ بڑھ سکے۔ بچہ تو پیدا ہوتے ہی ہلاک ہو جائے گا اور ایک دن بھی زندہ نہ رہ سکے گا۔ پس جبکہ والدین جو صرف بچہ سے ایک عارضی تعلق رکھتے ہیں اور اس کے اس دنیا میں لانے کے وسیلہ ہی ٹھہرے ہیں اور اس کے پیدا کرنے میں خود ان کی کوششیں کوئی دخل نہیں رکھتیں اس ذرا سے تعلق کی وجہ سے اپنے بچہ پر اس قدر رحم کرنے لگتے ہیں جو محبت بلکہ عشق کے نام سے موسوم ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ جو کہ اصل خالق اور مالک ہے کیا رحم نہ کرے گا؟ غرض کہ انسان بچپن سے ہی رحم کا محتاج ہے۔ والدین جب تک اس پر رحم نہ کریں وہ ایک دم بھی گزارہ نہیں کر سکتا۔ پھر آگے چل کر ہم دیکھتے ہیں تو بچوں کے بہت سے قصوروں پر نظر اندازی کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ بے علم بچہ ہے اس کو کیا سزا دینی ہے۔ چنانچہ بچوں کو سزا دینے والے سخت بے رحم اور ظالم تصور کئے جاتے ہیں اور اپنے بچے تو الگ رہے دوسرے کے بچوں کو سزا ملتے ہوئے دیکھ کر بھی انسانی فطرت جوش میں آجاتی ہے اور فوراً سفارشیں شروع ہو جاتی ہیں کہ یہ بے علم معصوم بچہ ہے اس کو سزا کیوں دیتے ہو۔ اور یہ سب اس لئے کہ وہ ناقص ہے اور اس کا علم اپنے کمال کو نہیں پہنچا۔ اسی طرح جب انسان بڑا ہوتا ہے تو پھر اس وقت یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ جوان آدمی ہے۔ نادانی کی وجہ سے جوش جوانی میں ایسا کام کر بیٹھا۔ اور اس کے لئے بھی ایک راہ رحم کرنے کی نکال لی جاتی ہے اور جب وہ ذرا بوڑھا ہوا تو پھر کہا جاتا ہے ضعیف آدمی ہے سزا کے قابل نہیں معافی بہتر ہے۔ غرض کہ فطرت انسانی ہر وقت رحم کی ملتجی رہتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی فطرت میں رحم کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور وہ ہر وقت اپنے اوپر رحم چاہتا ہے اور دوسرے کے لئے بھی رحم کی درخواست کرتا ہے مثلاً جو شخص دوسروں پر رحم نہیں کرتا اور ان کے قصوروں اور خطاؤں کو نہیں بخشتا وہ اپنے ہم چشموں کی نظروں میں ذلیل ہو جاتا ہے اور اوچھا کہلاتا ہے۔ اور یہ صفت انسانوں میں ہی نہیں بلکہ حیوانوں میں بھی بعض دفعہ نظر آتی ہے۔ غرضیکہ احسان و مغفرت انسانی سرشت میں ہے اور بنی نوع انسان روز ایک دوسرے کے گناہوں پر چشم پوشی کرتے رہتے ہیں ہاں اس پر یہ اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ بعض دفعہ مرحمت یعنی مغفرت کرنے سے اور مجرم پر رحم کرنے سے برائی اور بڑھ جاتی ہے تو یاد رہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان عالم الغیب تو ہے ہی نہیں بعض دفعہ اپنے فیصلہ میں غلطی کرتا ہے اور جہاں عقوبت مناسب ہوتی ہے وہاں رحم کر بیٹھتا ہے تو اس کا نتیجہ بھی برا پیدا ہوتا ہے اس صفت رحم پر کچھ اعتراض نہیں ہوتا کیونکہ یہ تو اس کو بر خلاف فطرت استعمال کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جیسے کہ ایک دوائی جو خواہ کیسی ہی مفید ہو اور کیسی ہی قیمتی اور لاثانی ہو اگر کسی ایسے مریض کو دی جائے کہ جس کے لئے وہ مضر ہے تو ضرور نقصان کرے گی۔ لیکن اس سے اس دوائی پر کوئی اعتراض نہیں پڑے گا کہ یہ خراب ہے مثلاً کونین ایک بڑی مقدار میں ایک حاملہ عورت کو دے دی جائے تو وہ اسے نقصان کرتی ہے گو اس سے کونین پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہو تا کیونکہ یہ تو تشخیص کرنے والے کی غلطی ہے کہ اس نے مریض کی حالت کو نہ دیکھا۔ پس اگر رحم کو بے موقعہ استعمال کرنے پر اس کا کوئی برا نتیجہ نکلے تو یہ تشخیص کا نقص ہے نہ کہ رحم کا کیونکہ رحم تو بہر حال ایک عمدہ صفت ہے ہاں جب اسے غیر محل استعمال کیا جائے گا تو ضرور اس سے نقصان ہو گا۔ پس اس قسم کے نقصانوں سے خود رحم پر کوئی اعتراض نہیں پڑتا۔ اور وہ بہر حال ایک عمدہ صفت ہے۔ غرضکہ ہم دیکھتے ہیں کہ رحم انسانی سرشت میں ازل سے پڑا ہوا ہے۔ اور رحم نہ کرنے والا اگر ظالم نہیں تو بخیل ضرور خیال کیا جاتا ہے۔
خدا تعالیٰ نے ہر ایک روحانی بات کا ایک پہلو اس دنیا میں دکھایا ہے تاکہ انسان اس کو دیکھ کر سمجھ سکے کہ اسی طرح وہ معاملہ بھی ہوگا۔ اسی کے مطابق اپنے کاموں میں ہم دیکھتے ہیں کہ رحم کی صفت پر جب تک عمل نہ کیا جاوے تو ہمارے اخلاق اپنا کمال حاصل نہیں کرتے چنانچہ عدل خود بھی ایک عمدہ صفت رحم کے ماتحت ہے یعنی جبکہ ہم کسی کو اس کا پورا بدلہ دیں تو وہ عدل کہلاتا ہے اور جب ہم اسے زیادہ دیں تو وہ احسان یا رحم کہلاتا ہے جیسے کہ ایک مزدور جو سارا دن کام کرتا رہا اور شام کو اسے آٹھ آنے مزدوری ملنی ہے اگر ہم اسے ایک روپیہ دیدیں تو یہ ہمارا رحم ہے اور احسان ہے اور اس فعل سے ہماری دنیا میں بدنامی نہیں ہوگی بلکہ شہرت ہوگی اور ہماری نیکی کی لوگ تعریف کریں گے یا ایک قرضدار جس نے ہمارا کچھ روپیہ دینا ہے اگر ہم اس سے پورا روپیہ وصول کریں تو یہ ہمارا عدل ہو گا اور کوئی ہم پر اعتراض نہ کرے گا کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔ لیکن اگر ہم اس کو روپیہ بخش دیں یا کم استطاعتی پر خیال کرکے اس کو اور ڈھیل دیدیں تو یہ ہمارا رحم ہوگا۔ اور اس پر ہم بدنام نہیں نیک نام ہوں گے اور خود اس شخص کے دل میں جو ہمارا مقروض ہے ہماری عزت اور محبت بڑھ جائے گی۔
جیسا کہ قرآن شریف نے بھی اس مسئلہ کو خوب وضاحت سے بیان فرمایا ہے کہ وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا ۚ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ(الشوریٰ: ۴۱) یعنی اس بات کی خدا تعالیٰ اجازت دیتا ہے کہ جس نے جس قدر بدی تم سے کی ہے اسی قدر اس کو سزا دے لو۔ لیکن اگر کوئی اصلاح سمجھ کر معاف کر دے تو وہ عند اللہ ماجور ہو گا۔ اور خدا تعالیٰ کی
درگاہ میں انعام کا مستحق ہوگا۔ ہاں یہ خیال رہے کہ خداتعالیٰ ظالمین کو پسند نہیں کرتا۔ یعنی نہ ان کو جنہوں نے ظلم کیا اور نہ ان کو جنہوں نے اصلاح، عفو میں دیکھ کر پھر بھی سزا دی اور نہ ان کو جنہوں نے بے حیائی سے کام لیا اور عفو سے دنیا میں اور بھی فساد پیدا کیا۔ پس اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عفو اور رحم عدل سے زیادہ عمدہ صفتیں ہیں اور اس سے اعلیٰ درجہ پر ہیں اور خود تجربہ ہم کو بتاتا ہے کہ جب ہم عدل کرتے ہیں تو اس کے لئے ہم ایسے مشکور نہیں ہوتے جیسا کہ رحم کے وقت مثلاً ایک مزدور کو اس کی پوری مزدوری دے کر ہم شکریہ کے مستحق نہیں ہوتے ہاں جب ہم اس کو کچھ انعام بھی دے دیں تو اس وقت وہ دل سے ہمارا شکریہ ادا کرتا ہے اور دوسرے لوگوں کی نظروں میں بھی ہم قابل تحسین ٹھہرتے ہیں یا جبکہ ایک شخص ہم کو گالیاں دیتا ہے یا مارتا ہے تو اگر ہم اس وقت عفو میں اصلاح دیکھ کر اس کو معاف کر دیں جس سے آئندہ اس کو نصیحت ہو جائے تو یہ ہمارا عیب نہیں سمجھا جائے گا۔ بلکہ ایک خوبی ہوگی اور لوگ بجائے اس کے کہ ہم کو ظالم کہیں کہ ہم نے عدل نہیں کیا کہ مزدور کو بجائے آٹھ آنے کے روپیہ دے دیا اور قرض خواہ کو معاف کر دیا اور ہم کو تکلیف دینے والے کو بغیر تکلیف کے چھوڑ دیا بلکہ لوگ ہماری تعریف کریں گے اور ہم کو رحمدل قرار دیں گے۔ اور بجائے نقص کے یہ فعل ہماری خوبی سمجھی جائے گی۔ غرضیکہ انسان میں رحم کا مادہ ہے۔ اور عمدہ سمجھا جاتا ہے۔ اور عدل سے بہت بڑا درجہ رکھتا ہے۔ اور حسب موقعہ رحم نہ کرنے والا ظالم تصور کیا جاتا ہے پس جبکہ اس خوبی کو اپنے اندر دیکھتے اور روز مشاہدہ کرتے ہیں تو پھر ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ خداتعالیٰ اس خوبی سے محروم ہے اور اس کی صفات میں رحم کا کوئی مادہ نہیں۔ پس انسانی مشاہدہ ہم کو بتاتا ہے اور روز روشن کی طرح کھول دیتا ہے کہ خداتعالیٰ میں رحم کی صفت ضرور ہے ورنہ وہ ناقص ہوگا اور ناقص ذات اپنے اندر آپ قائم نہیں رہ سکتی اور اس طرح خداتعالیٰ کے وجود سے ہی انکار کرنا پڑے گا۔ اور دہریت کی طرف رجوع کرنا ہوگا یا کم سے کم یہ ماننا پڑے گا کہ جو نیک صفات ہم میں ہیں وہ خداتعالیٰ میں نہیں اور بعض نیکیاں ایسی بھی ہیں کہ جن میں ہم خداتعالیٰ سے بڑھ گئے ہیں۔ اور یہ ایک سخت کفر اور شرک کا کلمہ ہے کہ جو ایک نیک آدمی کبھی بھی اپنی زبان پر نہیں لا سکتا۔ غرض کہ اب میں ثابت کر چکا ہوں کہ خداتعالیٰ نے اپنی ذات کے سمجھانے کے لئے ہم میں اپنی صفات کا ایک پرتو رکھا ہے جس سے کہ ہم نیکی اور بدی کو پہچان سکتے ہیں۔ اور اندازہ کر سکتے ہیں کہ خداتعالیٰ کی طرف کونسی صفت کا منسوب کرنا خلاف شان ہے۔ اور کونسی صفت کا اس سے الگ کرنا اس کے نقص پر دلیل ہے۔ چنانچہ قرآن شریف سے میں نے
اس کا ثبوت دیا ہے اور پھر میں نے بتایا ہے کہ رحم کی صفت انسان میں ہے اور وہ عدل سے بڑھ کر سمجھی جاتی ہے اور اگر وہ نہ ہوتی تو دنیا کا کارخانہ ہی الٹ جاتا۔ اور پھر قرآن شریف سے میں نے اس مسئلہ کو بھی نکال کر بتایا ہے کہ اسلام بھی اسی کا قائل ہے چنانچہ جب یہ ثابت ہو چکا۔ تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ میں بھی رحم کا مادہ ہے اور وہ چونکہ عدل سے بالا ہے اور اعلیٰ مرتبہ ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنی گوناگوں حکمتوں سے کام لے کر اس صفت کو بھی استعمال کیا ہے۔ اور میرا اس مسئلہ کو یہاں لکھنا اس باعث سے ہے کہ اس مسئلہ کے حل ہونے سے نجات کا مسئلہ خود بخود حل ہو جاتا ہے۔
اسلام کے سوا دوسرے مذاہب نے عدل اور رحم میں فرق محسوس نہ کرنے میں نجات کے معاملہ میں غلطی کھائی ہے اور اگر وہ خدا تعالیٰ کی ان صفات میں دھوکہ نہ کھاتے تو کبھی بھی نجات کے معاملہ میں ان کو غلطی نہ ہوتی۔
اب میں اسلام کی نجات کو بتاتا ہوں کہ وہ کس طرح انسانی نجات کو قوانین فطرت کے مطابق قرار دیتی ہے۔ سو یاد رہے کہ خدا تعالیٰ ہم کو بتاتا ہے کہ میں رحمن ہوں۔ میں رحیم ہوں۔ اگر تم گنہگار ہو اور جہل اور کم علمی سے یا معرفت کی کمی سے تمہارے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے۔ اور تمہاری عمر کو گناہوں کے کیڑے نے گھن لگا دیا۔ اور تم ایک عرصہ تک اپنی ماں کی چھاتیوں سے جدا رہے ہو اور مصنوعی پستانوں کو جو دانتوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور بھوک ان سے دور نہیں ہوتی چوستا رہے ہو۔ اور ان دشوار گزار راہوں میں پڑے رہے ہو جو انسان کو صراطِ مستقیم سے دور پھینک دیتی ہیں اور اس بچھڑے کی طرح جو اپنی ماں کو بھول کر ایک مصنوعی گائے کے پیچھے لگ جائے کہ جس کے اندر سوائے بھس کے اور کچھ نہیں میری پرستش کو چھوڑ کر ہوا و ہوس کے غلام بنے رہے۔ تو آؤ میں تمہارے گناہ بخش دوں گا۔ اور جیسے ماں اپنے بچھڑے ہوئے بچہ کو جو ایک مدت تک آوارہ رہا ہو اور پھر اپنی آوارگی پر پشیمان ہو کر اپنی ماں کے گھر میں رہنے کے لئے آیا ہو اپنے کلیجہ سے لگا لیتی ہے ویسے میں تمہاری کل خطاؤں کو بھلا دوں گا۔ اور نئے سرے سے تم سے عہد باندھوں گا اور تمہاری کل کمزوریوں کو نظر انداز کر دوں گا اور تمہارے گناہوں کو میٹ دوں گا۔ اور تمہاری بدیوں کو پوشیدہ کر دوں گا۔ اور تمہیں وہ کچھ دوں گا کہ جس کا گمان تک بھی تمہیں نہ ہو۔
چنانچہ فرماتا ہے کہ قُلۡ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ وَاَنِیۡبُوۡۤا اِلٰی رَبِّکُمۡ وَاَسۡلِمُوۡا لَہٗ(39:54-55) مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ الۡعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ(الزمر: ۵۴، ۵۵) یعنی اے میرے بندو! کہ جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی۔ اور گناہوں میں ڈوب گئے اور خطاؤں میں غرق ہو گئے۔ اور ہر وقت ظلم و تعدی میں لگے رہے ہو اور جنہوں نے خدا کی راہ بھلا کر اور راہ اختیار کرلی ہے اور اس مہربان اور سچے محبوب کو چھوڑ کر اور اشیاء سے دل لگایا ہے اور حقیقت کی بجائے جھوٹ کو پسند کیا ہے اور خالق کی جگہ مخلوق کو چن لیا ہے۔ اور نیکی کو ترک کر کے بدی کو لے لیا ہے۔ ناامید مت ہو اور میری درگاہ سے مایوسی مت کرو۔ کیونکہ میں تو سب گناہوں کو معاف کر دیا کرتا ہوں اور ہر ایک قسم کی خطاؤں سے درگذر کرتا ہوں اور بڑا مہربان ہوں تم گھبراتے کیوں ہو اور مایوس کیوں ہوتے ہو۔ جس وقت تم کو سمجھ آئے۔ اور تم معلوم کرلو کہ اصل سچی راہ کونسی ہے اور سلامتی کس طریق میں ہے اور ہدایت کا راستہ کونسا ہے اور نیکی اور تقویٰ کیا ہے اور بدی میں کون کون سے نقائص ہیں اور گناہوں سے کیا نقصان ہے اور تمہارے دل نیکی کی طرف جھک جائیں اور تم کو سچائی کی لو لگ جائے اور پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے تم بے چین ہو جاؤ تو اس وقت میری طرف جھکو۔ اور اپنے گناہوں کا خیال مت کرو اور مضیٰ ما مضیٰ سمجھ کر اپنی پچھلی زندگی کو بھلا دو۔ اور آئندہ کے لئے بہتری کا ارادہ کرلو اور یاد رکھو کہ میں تمہارا رب ہوں جس نے تمہاری جسمانی کمزوریوں کے لئے اور بیماریوں کے لئے ہر ایک قسم کی دوا تجویز کی ہے۔ اور تمہاری جسمانی ضروریات کے لئے سامان مہیا کئے ہیں اور والدین کی محبت بھری گود سے تمہاری مدد کی ہے پس جب کہ میں ایسا رب ہوں تو اپنی روحانی مصیبتوں کے وقت بھی گھبراؤ مت اور بلا کھٹکے توبہ کرو۔ اور میری طرف جھک جاؤ اور آئندہ میری فرمانبرداری کا اقرار کرلو اور ارادہ کرلو تاکہ تم اس عذاب سے بچ جاؤ جو کہ جب آتا ہے تو پھر کسی کی مدد نہیں کی جاتی۔
پس کیسی پاک ہے یہ تعلیم اور کیسا پیارا ہے یہ کلام جو اسلام نے نجات کے بارے میں بیان فرمایا ہے جو نہ صرف کل اعتراضوں اور کمزوریوں سے ہی مبّرا ہے بلکہ فطرت انسانی کے عین مطابق ہے اور ہمارے روزمرہ کے مشاہدات کی تائید کرتا ہے۔ کیونکہ والدین کو الگ کر کے جب کہ ہمارے دوست و آشنا عزیز و اقرباء اور ہمسائے اور واقف اور ملاقاتی تک بھی ہم پر رحم کرتے ہیں اور ہماری کمزوریوں پر چشم پوشی کرتے ہیں اور اگر ہمارے قصوروں کو یاد رکھیں اور حافظہ سے گرانہ دیں تو کینہ توز اور کمینہ کہلاتے ہیں تو پھر وہ خدا جو ہمیں وجود میں لایا اور ہمارے لئے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور ہر قسم کی نعمتوں سے ہمیں بہرہ مند کیا اور کرم اور فضل سے ہمارا گھر بھر دیا۔ اور
ہر قسم کے سامان ہمارے لئے مہیا کئے اور ذرہ ذرہ چیز کا خیال رکھا اور کوئی چیز نہ رہی کہ جس کی ہم کو ضرورت ہو اور اس نے اسے پیدا نہ کیا ہو اور کوئی سامان نہ رہا جو ہمارے لئے آرام کا موجب ہو اور اس نے اسے نظر انداز کر دیا ہو۔ جس نے ہماری پرورش کے لئے والدہ کی چھاتیوں میں سے دودھ نکالا اور ہم کو نا معلوم ذریعوں سے اس کے پینے کا علم سکھلایا۔ جب کہ کوئی شئے ہم کو کچھ نہ سکھلاتی تھی اور جس نے چرند پرند اور درند پر ہم کو حکومت بخشی اور چاند اور سورج کو ہمارے لئے مسخر کیا اور عناصر کو ہمارے تابع فرمان بنایا۔ کیا ہمارے گناہوں پر چشم پوشی نہ کرے گا اور ہماری خطاؤں سے درگزر نہ کرے گا؟ اور جبکہ ہم اس کے پاس اپنی کمزوریوں سے واقف ہو کر مدد کے لئے جائیں۔ اور ہمدردی کے لئے چلائیں اور ہمارے سینے فرطِ غم سے پھٹ جائیں اور دوزخ کا نظارہ ہماری آنکھوں کے سامنے پھر جائے اور کرب و اندوہ سے ایک دیوانگی طاری ہو جائے تو کیا وہ مہربان اپنی محبت کے دامن کو ہم سے الگ رکھے گا اور ہم پر نہیں ڈالے گا۔ اور کیا ایسے وقت میں اپنی الفت کی چادر میں ہم کو نہیں لپٹائے گا۔ اس کی مہربانیاں اور بندہ پروریاں ظاہر کرتی ہیں اور فطرتِ انسانی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ رحیم کریم ہستی وہ مہربان ذات جو ماں باپ سے زیادہ مہربان اور عزیز واقرباء سے زیادہ محبت کرنے والی اور بھائی بندوں سے زیادہ الفت رکھنے والی اور بیوی بچوں سے زیادہ پیار کرنے والی ہے ضرور ضرور اور ضرور ہماری توبہ کو قبول کرے گی اور ہمیں ہلاکت کے گڑھے سے نکال لے گی کیونکہ جب کہ ہم اپنے پیاروں کی توبہ قبول کرتے اور اجنبیوں پر رحم کرتے ہیں تو کس طرح ممکن ہے کہ وہ مہربان خدا ہم پر رحم نہ کرے گا۔ یہ خیال اس کی نسبت دل میں لانا بھی کفر ہے اور وہ بڑا پاک ہے اور بڑا مہربان ہے۔
وہ ہم کو اپنے پاک کلام میں بتاتا ہے کہ ہرگز نا امید مت ہو اور مایوسی میں نہ پڑو۔ بلکہ جب تم اپنے گناہوں پر آگاہ ہو جاؤ اور نیکی کی قدر کو پہچان لو تو فوراً توبہ کرو اور یہ خیال مت کرو کہ اب کیا ہوگا۔ اب تو تم بہت سے گناہ کر چکے ہو اور جہنمی ہو چکے ہو بلکہ ہر وقت میری رحمت کے امیدوار رہو کہ میں ماں باپ سے زیادہ مہربان ہوں اور بیوی بچوں سے زیادہ خیر خواہ۔ اور ایک جگہ ہی نہیں بلکہ بیسیوں جگہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے اس مضمون میں کہا ہے کہ میں بخشنہار ہوں اور خطاؤں کو معاف کرتا ہوں اسی لئے ناامید ہونے والے کو کافر کہا ہے چنانچہ فرماتا ہے کہ تَایۡـَٔسُوۡا مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡکٰفِرُوۡنَ(یوسف: ۸۸) یعنی اے لوگو! تم خدا تعالیٰ کی مہربانی سے ناامید مت ہو کیونکہ اس کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں کہ جو
کافر ہوتے ہیں یعنی جن کو اس کے لطف اور کرم پر بھروسہ نہیں ہوتا۔ اور جو اس کی مہربانیوں کو جو کہ پیدائش کے دن سے اس دن تک ان پر ہوئی ہوتی ہیں بھلا چکے ہوتے ہیں کیونکہ اگر وہ ایماندار ہوتے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر نہ کرچکے ہوتے تو کبھی بھی یہ گمان نہ کرتے کہ خدا تعالیٰ آڑے وقت میں ان کے کام نہ آئے گا اور توبہ قبول نہ کرے گا پھر اور بہت سی جگہوں میں بار بار فرماتا ہے کہ توبہ کرو توبہ قبول ہوگی چنانچہ فرماتا ہے کہ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ تَوۡبَۃً نَّصُوۡحًا ؕ عَسٰی رَبُّکُمۡ اَنۡ یُّکَفِّرَ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ وَیُدۡخِلَکُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ(التحريم: ۹) یعنی اے لوگو جن کو مجھ پر ایمان آگیا ہے میری طرف توبہ کرو اور ایسی توبہ کہ جو خالص ہو تو قریب ہے کہ میں جو تمہارا رب ہوں۔ تمہاری بدیوں اور گناہوں اور خطاؤں اور کمزوریوں اور نقصوں کو دور کر دوں اور پردہ ڈال دوں اور اس کے بعد تم کو وہ مدارج عنایت کروں کہ تم دین و دنیا میں بڑے ہو جاؤ۔ اور میرے انعامات و اکرامات کے مستحق بن جاؤ اور ملکوں کا بادشاہ تم کو بنا دیا جائے ۔ پس اس جگہ خدا تعالیٰ نے اپنے گنہگار بندوں کو دلیری دی ہے اور کہا ہے اگر تمہارے دل ایمان کی طرف جھک گئے اور تم نے مجھے پہچان لیا ہے تو آؤ توبہ کرو تاکہ تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں اور انعامات الٰہیہ کے تم وارث ہو جاؤ اور پھر فرماتا ہے کہ اَلَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ یَقۡبَلُ التَّوۡبَۃَ عَنۡ عِبَادِہٖ وَیَاۡخُذُ الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ(التوبہ: ۱۰۵) یعنی کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ ہی تو ہے جو کہ توبہ کو قبول کرتا ہے اپنے بندوں سے اور صدقات لیتا ہے اور یہ کہ تحقیق اللہ تعالیٰ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے اس جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ اصل میں تو خدا تعالیٰ ہی توبہ قبول کرتا ہے اور کوئی نہیں جو کہ توبہ قبول کرے جس کا یہ مطلب ہے کہ اول تو لوگ خدا تعالیٰ جیسے مہربان اور عنایت فرما ہو نہیں سکتے دوسرے جو لوگ مہربانی کرتے ہیں وہ بھی تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قوتوں کو کام میں لاتے ہیں اس لئے اصل توبہ اللہ ہی قبول کرتا ہے پس خدا تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ انسانوں نے توبہ کیا قبول کرنی ہے اصل توبہ تو میں قبول کرتا ہوں کیونکہ میں سب سے زیادہ محبت کرنے والا ہوں پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ غَافِرِ الذَّنۡۢبِ وَقَابِلِ التَّوۡبِ شَدِیۡدِ الۡعِقَابِ ۙ ذِی الطَّوۡلِ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ اِلَیۡہِ الۡمَصِیۡرُ(المؤمن: ۴) یعنی اللہ تعالیٰ گناہوں کا بخشنے والا اور توبہ کا قبول کرنے والا ہے اور یہ اس لئے نہیں کہ وہ سزا دے نہیں سکتا بلکہ وہ شدید العقاب ہے۔ ہاں یہ مہربانی اس لئے ہے کہ وہ ذی الطول یعنی انعام کرنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اور اسی کی طرف پھر جانا ہے۔ غرض کہ اب میں ثابت کر چکا ہوں کہ خدا تعالیٰ میں کل نیک صفات
پائی جاتی ہیں اور جو کوئی کسی نیک صفت کو اس سے الگ کرتا ہے گویا کہ وہ اس میں نقص مانتا ہے اور اس طرح ناقص قرار دے کر اس کے قائم بالذات ہونے سے بھی منکر ہے اور میں نے بتایا ہے کہ انسانی خلقت میں بھی رحم بھرا ہوا ہے اور یہ کہ عدل رحم سے نچلے درجہ کی ایک صفت ہے اور خدا تعالیٰ جو تمام محاسن کا جامع ہے رحم سے کبھی بھی الگ نہیں ہو سکتا۔ بلکہ وہ بڑا رحیم کریم ہے اور جب کوئی شخص اپنے گناہوں سے سچے دل سے پچھتائے اور خدا کے حضور میں توبہ کرے تو چونکہ وہ ماں باپ سے بھی زیادہ مہربان ہے اس لئے جیسا کہ ماں باپ اپنی اولاد کا قصور معاف کرتے ہیں اس سے زیادہ اور بہت زیادہ وہ اپنے بندوں کا قصور معاف کرتا ہے اور میں نے قرآن شریف سے ہر ایک بات کا ثبوت دیا ہے پس اب ہر اک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جیسے اسلام نے پچھلے گناہوں سے عذاب سے بچنے کا طریق بتایا ہے اور جس قسم کی نجات اسلام نے بیان فرمائی ہے وہ کسی مذہب نے بیان نہیں کی اور چونکہ اسلام کی نجات ہی فطرت انسانی اور مشاہدہ قدرت سے اور عقل سے ثابت ہوتی ہے اس لئے سوائے اس کے اور کوئی نجات ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ با اخلاق انسان تو رحم کے پتلے ہوتے ہیں مگر وہ خدا جو سب مہربانوں سے زیادہ مہربان اور سب شفیقوں سے زیادہ شفیق ہے وہ اس صفت سے محروم ہو۔ گویا کہ وہ ایک معشوق ہے کہ جس کا ایک عضو ندارد ہے پس ایسا خدا قائم بالذات خدا ہو سکتا ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں پس یہ تمام نقص جیسا کہ میں پہلے بیان کر آیا ہوں صرف صفات الٰہیہ کے نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور چونکہ اسلام تمام زمانہ کی دست برد سے پاک ہے اور قرآن شریف ایک ہی محفوظ کتاب ہے اس لئے اس مسئلہ کو اسی کتاب نے ٹھیک طور پر حل کیا ہے اور ایسا پاک اور نقائص سے مبرّا خدا انسان کے سامنے پیش کیا ہے کہ جس کی شفقت اور رحمت کو دیکھ کر مردہ دل زندگی پاتے اور گمراہ ہدایت حاصل کرتے ہیں پس اصل نجات وہی ہے جو کہ اسلام نے بیان فرمائی ہے۔
ایک اور پہلو سے نظر ڈالنے پر بھی میرے اس بیان کی تصدیق ہوتی ہے اور وہ یہ کہ دنیا میں تین قسم پر ہر ایک چیز منقسم ہوتی ہے۔ ادنیٰ اوسط اور اعلیٰ۔ ادنیٰ پر اوسط بہر حال افضل مانی جائے گی اور اوسط پر اعلیٰ کو فوقیت ہوگی۔ اور اس رو سے بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ظلم صفات میں سے ادنیٰ ہے کیونکہ اس کے معنی ہیں ایک چیز کو غیر موقعہ پر رکھنا اور اس طرح پر کسی کی حق تلفی کرنی اور اس سے اوپر پھر عدل کی صفت ہے کہ جس کے معنی ہیں کہ جس کا جتنا حق تھا اس کو اسی قدر دے دینا یعنی اگر کوئی شخص ایک روپیہ کا مستحق ہے تو اس کو بغیر کمی یا زیادتی کے ایک روپیہ ہی حوالہ کر دینا۔ اور
اس درجہ سے اوپر پھر ایک اور درجہ ہے جس کا نام ہے رحم جس کے معنی ہیں کہ ایک شخص کو جس قدر اس کا حق تھا اس سے زیادہ دے دیا جائے مگر اس سے کسی اور کی حق تلفی نہ ہو۔ مثلاً ایک شخص نے ایک مزدور لگایا اور اس نے دو روپیہ کا کام کیا تو دو روپیہ کی بجائے اسے اگر تین دے دیئے تو یہ اس کا رحم ہے ہاں شرط یہ ہے کہ کسی اور کا حق مار کر ایسا نہ کیا گیا ہو کیونکہ اس صورت میں یہ رحم رحم نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ خالق و مخلوق کے مدارج بھی ہم دیکھتے ہیں تو تین ہی ہیں ایک تو وہ لوگ جو شریر ہیں اور شیطانی آدمی کہلاتے اور اسکے متبع سمجھے جاتے ہیں اور دوسرے وہ جو کہ نیک ہوتے ہیں اور ایک خود اس کائنات کا وجود میں لانے والا پس ظلم تو اصل صفت شیطان کی ہے کہ اس کے متبع اس صفت سے متصف ہیں اور عدل اصل صفت نیک لوگوں کی ہے اور رحم اصل صفت خدا تعالیٰ کی ہے اور یہی مناسب تقسیم ہے کیونکہ شیطانی کام تو شیطان سے ہی سرزد ہوں گے اور چونکہ مخلوق خالق کے برابر نہیں ہو سکتی اس لئے ضرور ہے کہ اس کی اصل صفت وہ ہو جو کہ وسط میں ہے یعنی عدل۔ اور خالق کی صفت سب سے اعلیٰ ہو یعنی رحم چنانچہ قرآن شریف سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے اور کہیں خدا تعالیٰ نے ظلم کا لفظ اپنے لئے استعمال نہیں کیا بلکہ یہی فرمایا کہ یُظۡلَمُوۡنَ فَتِیۡلًا(4:50) یعنی ہماری درگاہ میں فیصلہ کے وقت ایک ذرہ بھر بھی ظلم نہیں ہوتا۔ اور نیک لوگوں کو رحم کی ترغیب دیتے ہوئے یہ بھی فرمایا اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ(16:91) یعنی اللہ تعالیٰ تم کو نیک صفات میں سب سے پہلے عدل کی تعلیم دیتا ہے ہاں جب تم کمال حاصل کرلو تو تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰهِ کے ماتحت تم کو پھر رحم کی صفت بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے چنانچہ فرماتا ہے وَالۡاِحۡسَانِ وَاِیۡتَآیِٔ ذِی الۡقُرۡبٰی(16:91) لیکن سارا کا سارا قرآن شریف دیکھ جاؤ ایک جگہ بھی تم عدل کا لفظ خدا تعالیٰ کے لئے نہ پاؤ گے بلکہ یہی پاؤ گے اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ(8:70) جس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کی اصل صفت رحم ہے جس کے ماتحت آکر عدل بھی ہو جاتا ہے ورنہ زیادہ تر وہ رحم سے ہی کام لیتا ہے پس قرآن شریف میرے اس دعوے کی تائید کرتا ہے اور یہ کوئی ایسا دعویٰ نہیں جو میرا خود ساختہ ہو خود فطرتِ انسانی اس پر مہر کرتی ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ مخلوق و خالق کی تقسیم اس طرح پر ہے کہ اول شیطان کہ جو ظلم کرتا ہے اور اس کی ترغیب دیتا ہے دوم خدا تعالیٰ کہ جو عدل کرتا ہے اور سب سے اعلیٰ مرتبہ پر انسان ہے کہ جو رحم کی صفت سے متصف ہے اور یہ ایک ایسا خیال ہے کہ جس کے ماننے کے لئے کوئی ذی عقل تیار نہیں جس سے لازمی طور سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسا کہ قرآن شریف سے ثابت ہے خدا تعالیٰ ضرور رحیم کریم ہے اور اپنے بندوں کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور
ان کے پچھتانے پر ان کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش نہیں آتا۔ بلکہ نرمی کرتا ہے۔
اور اگر خدا تعالیٰ کو نعوذ باللہ رحیم نہ مانا جائے اور توبہ کو قبول کرنے والا نہ مانا جائے☆ تو ایک اور بھی عظیم الشان اعتراض پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارا خالق نہیں ہے کیونکہ خالق اپنی مخلوق کے خواص سے خوب واقف ہوتا ہے۔ اور فطرتِ انسانی میں ہم رحم کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا پاتے ہیں پس اب دو صورتوں میں سے ایک صورت ہے یا تو آریوں، مسیحیوں کا خدا (نعوذ باللہ) ہمارا خالق نہیں کیونکہ اس کو معلوم نہیں کہ فطرتِ انسانی میں محبت اور رحم کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے تب ہی تو وہ ہم کو وہ تعلیم دیتا ہے جو ہماری فطرت کے برخلاف ہے اور جب وہ ہماری فطرت کے برخلاف ہے تو اس پر عمل کرنا تکلیف مالایطاق ہے۔ اور اگر وہ ہمارا خالق ہے اور ضرور ہے تو ماننا پڑے گا کہ وہ ضرور رحیم ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ وہ ہماری فطرت میں تو یہ بات رکھ دے کہ رحم کو ہم عدل سے زیادہ سمجھیں۔ اور پسند کریں اور خود رحیم نہ ہو کیونکہ اس صورت میں ہم کو (نعوذ باللہ) اس سے کبھی بھی محبت نہیں پیدا ہو سکتی۔
اب میں خدا کے فضل و کرم سے قوانین فطرت اور نیچر سے ثابت کر چکا ہوں کہ خدا تعالیٰ ضرور رحیم ہے اور توبہ کو قبول کرتا ہے کیونکہ محبت حسین سے ہوتی ہے اور رحم ایک بڑا حسن ہے۔ پس کسی صورت میں خدا تعالیٰ جو اصل معشوق ہے اس حسن سے خالی نہیں ہو سکتا اور یہ کسی صورت میں بھی ممکن نہیں کہ وہ مہربان خدا جو والدین سے لاانتہا درجہ زیادہ محبت کرنے والا ہے جبکہ اس کے آگے ہم پشیمان ہو کر جائیں اور شرمندگی سے اس کی دہلیز پر اپنی گردن جھکا دیں تو وہ ہم کو کند چھری سے ذبح کر دے اور اگر ایسا ہو تو خدا تعالیٰ اخلاق میں انسان سے بھی ادنیٰ متصور ہو گا جو ناممکن ہے۔ اور یہ بھی میں نے ثابت کیا ہے کہ اس عقیدہ سے پھر خدا تعالیٰ کے خالق ہونے سے بھی جواب دینا پڑتا ہے پس وہی طریق راست اور درست ہے کہ جو قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے اور جیسا کہ میں آیات کے حوالوں سے ثابت کر آیا ہوں کہ خدا تعالیٰ ضرور رحیم ہے اور گناہوں کو وہ ضرور بخشتا ہے اور اس جیسا توبہ کو قبول کرنے والا اور کوئی ہے ہی نہیں۔ کیونکہ وہ وحدہٗ لا شریک ہے چنانچہ مسیحیوں کے لئے تو یہ مثال کافی ہے کہ جب یونسؑ نبی کی قوم پر اس کے کفر کی وجہ سے عذاب آیا تو ان کے چیخنے اور چلّانے پر وہ عذاب ہٹ گیا پھر یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو بخشا اور خدا نے اسے ملامت نہ کی خود مسیحؑ کہتا ہے کہ:
”اور جبکہ تم دعا کے لئے کھڑے ہوتے ہو۔ اگر تمہیں کسی پر کچھ شکایت ہو تو اسے معاف کرو تا کہ تمہارا باپ بھی جو آسمان پر ہے تمہارے قصوروں کو معاف کرے اور اگر تم معاف نہ کرو گے۔ تو تمہارا باپ جو آسمان پر ہے۔ تمہارے قصور معاف نہ کرے گا“ (مرقس ۱۱ آیت ۲۵، ۲۶) آریوں کا خدا دیا لو کرپالو ہے۔ اس سے بھی معاملہ فیصل ہو جاتا ہے۔
مسیحی صاحبان اور ان کی دیکھا دیکھی آریہ مہاشے توبہ کے مسئلہ پر پانچ اعتراض کرتے ہیں جن کا جواب دینا بھی میں اس جگہ ضروری سمجھتا ہوں اور گو کہ اس سے مضمون لمبا ہو جائے گا۔ مگر اس کے بغیر مضمون کا ایک حصہ ناقص رہ جاتا ہے اس لئے ضروری ہے۔
پہلا اعتراض توبہ کی قبولیت پر یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ توبہ قبول کرتا ہے تو گویا ظالم ہے (نعوذ باللہ)۔
مگر ایسا اعتراض کرنے والے ظلم کی حقیقت کو جانتے ہی نہیں۔ کیونکہ جیسا کہ میں اپنے مضمون میں ثابت کر آیا ہوں جب ایک شخص گناہوں سے پچھتا کر اور اپنی غلطی سمجھ کر واپس آتا ہے اور خدا تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کرتا ہے تو اس وقت اس کی توبہ کا قبول نہ کرنا ایک حد تک ظلم کہلا سکتا ہے۔ مگر اس کی توبہ کو قبول کر لینا اور اس کے گناہوں پر چشم پوشی کرنا کوئی ظلم نہیں بلکہ احسان کہلاتا ہے۔ پس اگر خدا تعالیٰ کسی پر احسان کرے تو اس پر کوئی الزام نہیں آتا بلکہ یہ بات اس کی شان کے شایاں ہے کیونکہ یہ بات ہر اک پر عیاں و مبرہن ہے کہ اگر ایک شخص کسی کو اس کے کسی فعل کے بغیر کچھ روپیہ بطور احسان کے دے دے تو اس کو لوگ ظالم نہیں سمجھتے۔ بلکہ جیسے کہ میں بیان کر چکا ہوں ظلم کے معنی تو یہ ہیں کہ کسی شخص کی حق تلفی کی جائے اور جب تک کسی کی حق تلفی نہ ہو تو وہ عطا ظلم نہیں بلکہ احسان ہوتی ہے مثلاً ہم جو ایک فقیر کو کچھ دیتے ہیں تو ہمارے نوکر کبھی شکایت نہیں کر سکتے کہ تم نے ہم پر ظلم کیا بلکہ اگر ہم ان کی تنخواہ سے کچھ رقم کاٹ کر فقیروں کو دیں تو اس وقت ان کی شکایت بجا ہو گی کہ ہمارا حق کسی اور کو کیوں دیا گیا یا مثلاً ایک آقا کسی مزدور کی کمزور حالت کو دیکھ کر اسے وقت سے پہلے رخصت کر دے تو اسے ظلم نہیں کہتے۔ ہم گورنمنٹ کو ہی دیکھتے ہیں کہ بعض قیدی اس لئے میعاد سے پہلے چھوڑ دیتی ہے کہ ان کی صحت خطرہ میں تھی۔ مگر کوئی نہیں جو گورنمنٹ کے برخلاف شکایت کرے کہ اس نے سخت ظلم کیا اور ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی ہے کہ اس قیدی کو میعاد سے پہلے ہی چھوڑ دیا ہے کیونکہ سب دیکھتے ہیں کہ اس قیدی کی حالت قابلِ رحم تھی اور گورنمنٹ نے جو کچھ کیا بالکل مناسب کیا۔ پس اگر خدا تعالیٰ بھی کسی مجرم کی حالت قابلِ رحم دیکھے اور جان لے کہ شرم و حیا کی آگ سے اس کی ہوا و ہوس جل کر خاک ہو گئی ہے اور ندامت کے مارے اس کے لئے زندگی وبالِ جان ہے تو اسے کیوں نہ بخشے اور کیوں اس کے دل میں اطمینان پیدا نہ کر دے اور کیوں نہ کہے کہ لَا تَثۡرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ(12:93) غرض کہ گناہ کا بخشنا ظلم نہیں ہوتا۔ ظلم وہ ہے کہ جس میں کسی کی حق تلفی ہو اور اس میں کسی کی حق تلفی نہیں ہاں بعض اوقات گناہوں کا نہ بخشنا ظلم ہو جاتا ہے۔
دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ کیا خدا تعالیٰ گناہوں کو پسند کرتا ہے کہ توبہ کو قبول کرتا ہے کیونکہ جب انسان کو یقین ہو جائے کہ میں جتنے گناہ بھی کر لوں اور کتنے قصور بھی مجھ سے سرزد ہو جائیں ایک توبہ سے سب پر پانی پھر جائے گا اور میں پھر پاک و صاف ہو جاؤں گا اور کوئی دکھ اور درد مجھ کو نہ پہنچے گا اور کسی قسم کی سزا مجھ کو نہ ملے گی۔ تو اس صورت میں وہ گناہوں پر دلیر ہو جائے گا اور کہے گا کہ اب تو گناہ کر لو پھر توبہ کر لیں گے اور امن کی کوئی صورت نہ باقی رہے گی اور گناہوں کی کثرت سے دنیا بھر جائے گی مگر یہ اعتراض کوتاہ چشموں کی نظروں میں کچھ وقعت رکھے مگر قرآن شریف اور قوانینِ نیچر کے دیکھنے والے اس کی حقیقت سے آگاہ ہیں کہ محض بے حقیقت ہے۔
کیونکہ جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں توبہ اصلاح کے لئے ہے نہ کہ فساد پھیلانے کے لئے اگر کوئی شخص توبہ کے مسئلہ کی آڑ میں گناہ پھیلانا چاہتا ہے تو وہ شریر اور فسادی ہے اور چونکہ معاملہ ایک علیم و خبیر ہستی سے ہے اس لئے اس کی یہ بات چل نہیں سکتی۔ ایک انسان دوسرے انسان کا ارادہ نہیں جان سکتا۔ مگر پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ عدالتوں میں اس بات پر بڑے زور سے بحث ہوتی ہے اور جرح قدح ہوتی ہے کہ مجرم کا ارادہ کیا تھا اور چند قرائن سے ثابت کیا جاتا ہے کہ مجرم نے جو جرم کیا ہے اس کے سرزد ہوتے وقت اس کا ارادہ فساد کا تھا یا صلح کا اور دوسری بات یہ دیکھی جاتی ہے کہ آیا جس وقت مجرم نے یہ جرم کیا اس وقت وہ کسی اشتعال یا جوش میں تھا یا ٹھنڈے دل سے اور سوچ بچار کر کے اس سے وہ فعل شنیعہ سرزد ہوا تھا۔ اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس نے وہ کام نیک نیتی سے یا کسی خاص جوش یا غیرت یا غضب کے ماتحت کیا ہے۔ تو اس کے جرم کو یا تو معاف کیا جاتا ہے یا سزا میں بہت تخفیف کی جاتی ہے۔ اور باوجود اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ حج کے پاس کوئی بدیہی ثبوت اس بات کا نہیں ہوتا کہ واقعی یہ فعل کس ارادہ سے ہوا تھا۔ مگر جس ہستی کے ساتھ توبہ کا معاملہ درپیش ہے اسلامی عقائد کی رو سے وہ علیم و خبیر اور جبار (مصلح) ہے اور اسلام کا خدا ذرہ ذرہ سی بات کو جانتا ہے اور کوئی چیز نہیں خواہ وہ مادی ہو یا غیر مادی جو اس کی نگاہوں سے پوشیدہ ہو پھر اس سے کسی کا ارادہ کس طرح مخفی ہو سکتا ہے اور وہ بغیر ارادہ کا لحاظ کرنے کے کس طرح کسی مجرم کو سزا دے سکتا یا چھوڑ سکتا ہے۔ حالانکہ وہ رحم کرتا ہے اور ظلم نہیں اور فساد نہیں بلکہ اصلاح چاہتا ہے۔ چنانچہ سورۃ مائدہ میں فرماتا ہے کہ وَّلٰکِنۡ یُّرِیۡدُ لِیُطَہِّرَکُمۡ(المائدہ: ۷) یعنی اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے کہ تم کو پاک کرے۔ پس ایسا شخص تو گند پھیلاتا ہے اور توبہ کے بہانہ سے دنیا میں فساد چاہتا ہے۔ پس وہ کب اس قابل ہو سکتا ہے کہ اس گندے ارادہ کے ساتھ توبہ کے دروازہ میں داخل کیا جائے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ تو ایسے خبیث لوگوں کے لئے فرماتا ہے کہ اُدۡعُوۡا رَبَّکُمۡ تَضَرُّعًا وَّخُفۡیَۃً ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِہَا وَادۡعُوۡہُ خَوۡفًا وَّطَمَعًا ؕ اِنَّ رَحۡمَتَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ مِّنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ(الاعراف: ۵۶، ۵۷) یعنی خبردار خدا تعالیٰ کے ساتھ معاملہ کرنے میں شوخی اور شرارت سے کام نہ لو۔ بلکہ جب اسے پکارو تو بڑی عاجزی اور تضرع سے پکارو اور علاوہ اس کے لوگوں سے بالکل الگ ہو کر بھی اسے یاد کرتے رہا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو ناپسند کرتا ہے اور یاد رکھو کہ وہ احکام جو بغرض اصلاح اترے ان کے نزول کے بعد فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کو خوف وطمع سے یاد کرو۔ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت محسنین سے قریب ہے پس اس جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو احکام اصلاح کے لئے اترے ہیں اگر تم باوجود ان کے اترنے کے فریبوں کے ساتھ شرارت اور فساد کی راہ تلاش کرو گے تو تمہارا انجام نیک نہ ہو گا۔
پس جو شخص اس بد ارادہ سے گناہ کرتا ہے کہ توبہ کی آڑ میں میں سزا سے محفوظ رہوں گا۔ وہ سخت دھوکے میں ہے اور سخت ٹھوکر کھائے گا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ دھوکہ نہیں کھاتا۔ اور ایسا دھوکہ دینے والا انسان تو مؤمن ہی نہیں کیونکہ اس کو صفات الٰہیہ پر ایمان ہی نہیں کہ وہ یہ سمجھ سکے کہ خدا تعالیٰ ان سب کمزوریوں سے پاک ہے پس اس قسم کے ارادہ والا انسان تو بجائے اس کے کہ توبہ سے کچھ فائدہ اٹھائے توبہ سے پہلے ہی ہلاک کیا جائے گا اور عذاب الٰہی اس پر نازل ہو گا۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کو ایسا ناقص سمجھتا ہے کہ وہ دھوکے میں آ جاتا ہے اور اس وجہ سے اسے دھوکہ دینا چاہتا
ہے۔ دوسرے توبہ تو اسے کہتے ہیں کہ ایک شخص یک لخت اپنی غلطی پر آگاہ ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف آئے اور اس کا دل غم کے مارے پگھل جائے اور وہ رنج و الم کے پہاڑوں کے نیچے دب جائے مگر اس ارادہ سے گناہ کرنے والا انسان کہ میں ایک مدت تک گناہ کر کے پھر چھوڑ دوں گا تو پہلے سے ہی ایک سکیم تیار کر چکا تھا۔ اس کی جھوٹی توبہ توبہ کہلا ہی کب سکتی ہے اور ایسے شخص کا دل تو ایسا ہو گا کہ اسے توبہ کا موقعہ ہی نہ ملے گا چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ(المائدہ: ۱۰۹) اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ ہُوَ مُسۡرِفٌ کَذَّابٌ(المؤمن: ۲۹) وَاللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ(البقرہ: ۲۵۹) پس پھر کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اسلام نے توبہ کا دروازہ کھول کر گویا گناہوں کا دروازہ کھول دیا ہے۔
دوسرا جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ مخالف کا اعتراض مان کر بھی توبہ گناہوں کی محرک تب ہو سکتی تھی کہ اگر انسان کو اس کی موت کا وقت بتا دیا جاتا کہ فلاں شخص فلاں وقت مرے گا اور فلاں فلاں وقت مرے گا۔ کیونکہ اس صورت میں ہو سکتا تھا کہ بعض لوگ کہتے کہ مرنے سے پہلے توبہ کر لیں گے لیکن خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے اِنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ۚ وَیُنَزِّلُ الۡغَیۡثَ ۚ وَیَعۡلَمُ مَا فِی الۡاَرۡحَامِ ؕ وَمَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَکۡسِبُ غَدًا ؕ وَمَا تَدۡرِیۡ نَفۡسٌۢ بِاَیِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ(لقمان: ۳۵) یعنی اللہ ہی جانتا ہے کسی کی مقررہ گھڑی کب آئے گی۔ اور وہی بارش نازل کرتا اور رحموں میں جو کچھ ہے اسے جانتا ہے اور نہ کوئی جانتا ہے کہ اس نے کل کیا کچھ کمانا ہے اور نہ کوئی یہ جانتا ہے کہ اس کو کس مقام پر موت آنی ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ تو بڑا جاننے والا اور خبردار ہے۔ پس اس آیت میں خدا تعالیٰ زمانہ اور مکان دونوں کی نفی فرماتا ہے۔ اور فرماتا ہے کہ نہ تو انسان یہ جانتا ہے کہ وہ کب مرے گا کیوں کہ اس صورت میں وہ موت سے پہلے توبہ کر سکتا ہے اور نہ وہ یہ جانتا ہے کہ وہ کہاں مرے گا۔ کیونکہ اس صورت میں شریر آدمی اس مقام پر جاتے ہی نہ اور اگر جانا پڑتا تو وہاں رہنے کے زمانہ میں توبہ کرتے تب بیشک فساد کا خطرہ ہو سکتا تھا۔ مگر انسان کو نہ اپنے مرنے کے ایام معلوم نہ مقام معلوم اور علاوہ اس کے فرماتا ہے کہ وہ یہ بھی تو نہیں جانتا ہے کہ کل اس کے حالات کیسے ہوں گے آیا توبہ کی توفیق ملے گی یا نہیں کیونکہ وہ ناواقف ہے کہ کل اس نے کیا کمانا ہے۔ پس اس آیت نے اس اعتراض کا کامل جواب دے دیا ہے کیونکہ ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ بوڑھے ہی نہیں بچے بھی اور جوان بھی اور ادھیڑ بھی مرتے رہتے ہیں اور بیماریاں انسان پر ایسی اچانک آتی ہیں کہ ایک منٹ میں جان کا خاتمہ کر دیتی ہیں بعض دفعہ
دیکھا گیا ہے کہ انسان سوتے سوتے مر گیا۔ بعض دفعہ محفلِ دوستاں میں قہقہہ لگاتے لگاتے جان نکل گئی۔ بیٹھے تھے کھڑے ہوئے اور گر کر مر گئے۔ کام کرتے ہوئے دل کو ایسا صدمہ پہنچا کہ دستخط نصف ہی رہ گیا اور مرغِ روح قالبِ عنصری سے پرواز کر گیا۔ سیڑھیاں چڑھنے لگے کہ ایک پیراو پر رکھا اور ایک نیچے کہ جان نکل گئی۔ دیوالہ نکل گیا اور ساتھ ہی پیغامِ اجل بھی آگیا۔ ایک دست آیا اور ختم۔ نکسیر پھوٹی اور سرد ہو گئے۔ ہیضہ آیا اور چل دیئے۔ طاعون آئی اور گھر کا گھر برباد کر گئی۔ غرض ایک نہیں لاکھوں نظیریں ہر سال اس قسم کی پائی جاتی ہیں وبائیں، اندرونی اور بیرونی بیماریاں، رنج و غم، دشمنوں کے حملے، لڑائیاں، فساد، بغاوتیں، زلزلہ، طوفان، بجلیاں ہزاروں چیزیں ہیں کہ انسان کی جان کے درپے ہیں اس سے بچے تو اس میں جا پڑے، اس سے نجات پائی تو تیسری درپیش ہے غرضیکہ اس صورت میں ممکن ہی نہیں کہ انسان کہے کہ اب تو گناہ کر لو پھر توبہ کر لیں گے ممکن ہے کہ اس ارادہ کے دل میں آتے ہی جان نکل جائے۔ پس چونکہ موت کا نہ زمانہ نہ مکان انسان کو بتایا گیا ہے اس لئے توبہ پر یہ اعتراض نہیں آسکتا کہ اس طرح گناہوں پر دلیری ہوگی اور یہ اعتراض تو خود مسیحی صاحبان پر بھی پڑتا ہے۔ کیونکہ جب کفارہ پر ایمان لانے سے انسان گناہوں سے بچ سکتا ہے تو کفارہ بدرجہ اولیٰ بدیوں کی ترغیب دلانے والا ہے۔ توبہ کے مسئلہ پر اس قسم کے اعتراض کرنے والوں کی عقلوں پر تو مجھ کو سخت تعجب آتا ہے کیونکہ توبہ جن لوگوں کے لئے ہے ان کا ذکر تو خود قرآن شریف نے کر دیا ہے چنانچہ فرماتا ہے کہ وَالَّذِیۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسۡتَغۡفَرُوۡا لِذُنُوۡبِہِمۡ ۪ وَمَنۡ یَّغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ۪۟ وَلَمۡ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا وَہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَجَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِیۡنَ(ال عمران: ۱۳۶، ۱۳۷) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ توبہ انہیں لوگوں کے لئے ہے جو شرارت سے فساد پھیلانا نہیں چاہتے بلکہ غلطیوں یا غفلت کی وجہ سے گناہوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور پھر اپنے گناہ پر اصرار نہیں کرتے پھر قرآن شریف میں ایک دوسری جگہ پر ہے وَاِذَا جَآءَکَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ کَتَبَ رَبُّکُمۡ عَلٰی نَفۡسِہِ الرَّحۡمَۃَ ۙ اَنَّہٗ مَنۡ عَمِلَ مِنۡکُمۡ سُوۡٓءًۢا بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ وَاَصۡلَحَ فَاَنَّہٗ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ(الانعام: ۵۵) اس آیت سے علاوہ اس کے کہ خداتعالیٰ کی رحیمیت ثابت ہوتی ہے یہ بھی ظاہر ہے کہ توبہ انہی لوگوں کے لئے ہے جو مذہب، ملک، رسم و عادت، نامناسب تعلیم، ضد اور غفلت اور بد صحبت کی وجہ سے گناہ کرتے ہیں نہ کہ ان کے لئے جو شرعی احکام میں حیلہ جوئی کرتے اور اس طرح فساد کا راستہ تلاش کرتے ہیں پس توبہ کے مسئلہ پر کسی صورت سے بھی یہ اعتراض نہیں پڑ سکتا کہ اس سے گناہوں کی تحریک ہوگی بلکہ یہ تو گناہوں کی بیخ کنی ہے اور دوسرے یہ بات بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں کہ ساتھ ہی فرماتا ہے واصلح یعنی نہ صرف زبانی توبہ کرے۔ بلکہ اس حد تک وہ توبہ میں بڑھ جائے کہ اس کا اثر آکر بدن پر بھی پڑے۔ اور اس توبہ کرنے والے کے اعمال بھی اس بات پر گواہی دیں کہ واقعی وہ صادق ہے اور اپنے دعوے میں مفتری نہیں اور وہ کوشش کرے کہ اس نے جو کچھ کیا تھا اس کی اصلاح ہو جاوے اور نیکی میں اس قدر علو کرے کہ اس سے اس کے پچھلے اعمال بھی دھوئے جائیں مثلاً ایک شخص اگر بخیل تھا تو یہی نہیں کہ اپنا بخل چھوڑ دے بلکہ کامل توبہ تب ہوگی کہ وہ سخاوت بھی اختیار کرے۔ بلکہ اور کو بھی اس طرف مائل کرے تب بیشک وہ اس قابل ہو گا کہ اس کے پچھلے گناہوں پر چشم پوشی کی جائے۔ اب بتاؤ کہ کیا اس تعلیم سے گناہ پھیلتا ہے کہ رکتا ہے۔ آیا وہ شخص جو توبہ کی تعلیم کے ماتحت بخل سے اس قدر بچ کر سخاوت کا محرک ہوا ہے گناہ کا پھیلانے والا کہلائے گا یا دور کرنے والا۔
ایک اور اعتراض توبہ کی قبولیت پر آریوں کی طرف سے یہ سنا جاتا ہے کہ جو ہو گیا وہ اَن ہُوا کس طرح ہو سکتا ہے کیونکہ جس شخص نے ایک گناہ کیا فرض کرو کہ کسی کے گھر چوری کی تو اگر وہ توبہ کرے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کا وہ فعل رہے ہی نہ اور اس کا وجود ہی معدوم ہو جائے کیونکہ جو کچھ ہو چکا وہ اب واپس لوٹ نہیں سکتا۔ پھر توبہ کے قبول کرنے کے کیا معنی کیونکہ جب ایک گنہگار ایک کام کر چکا تو اسے یہ کہنا کہ اس نے کیا ہی نہیں غلط اور خلافِ عقل طریق ہے۔
گو کہ یہ اعتراض آریوں کی طرف سے اکثر سنا گیا ہے مگر مجھے آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ کس دماغ سے نکلا ہے۔ قرآن شریف ہرگز کہیں نہیں کہتا کہ جس شخص نے گناہ کیا اور اس کے بعد توبہ کرلی اور وہ توبہ قبول ہو گئی تو اس شخص کا گناہ ایسا محو ہوا کہ یہ مت کہو کہ اس نے گناہ کیا تھا بلکہ کہو کہ اس سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا۔ بلکہ قرآن شریف نے تو اس کا نام ہی غفران رکھا ہے یعنی ڈھانپ دینا۔ اور بار بار فرمایا ہے کہ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ(8:70) جس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ اس گناہ کو ڈھانک دیتا ہے۔ چنانچہ ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں کے گناہوں کو ہم بخشتے ہیں یہ نہیں کہ لکڑی سے یا چاقو سے ان کے گناہوں کو کھرچ دیتے ہیں بلکہ ان کے گناہوں کے نتیجہ سے ان کو بچا لیتے ہیں۔ مثلاً ایک نوکر ہم کو ناراض کرے اور ہمارا کوئی کام خراب کر دے مگر پھر توبہ کرے اور اپنی غلطی کا اقرار کرے اور اپنی سچائی کو پوری طرح سے ظاہر کر دے اور ثابت کر دے کہ بیشک اب وہ سخت پشیمان ہے تو ہم اس کا کوئی اپریشن نہیں کرواتے نہ اس پر کوئی عمل جراحی کرتے ہیں کہ جس سے اس نے جو کچھ قصور کیا تھا وہ معدوم ہو جائے بلکہ یہی کرتے ہیں کہ جو اس نے کیا تھا اس کے نتیجہ سے اس کو بچا لیتے ہیں اور سزا نہیں دیتے۔
خود لفظ توبہ کے معنی ہی رجوع کرنے کے ہیں یعنی جب انسان کچھ قصور کرتا ہے تو پھر وہ اپنی غلطی کا اقرار کرتا ہے اور اپنی پہلی حالت کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس وقت مالک بھی اپنی مہربانی کی طرف لوٹ آتا ہے اور پہلا سا سلوک کرنے لگتا ہے پس توبہ کے قبول ہونے کے یہی معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ اس فعل کی جو انسان سے سرزد ہوا تھا سزا نہیں دیتا بلکہ اپنی پہلی مہربانی پر لوٹ آتا ہے۔ پس اس سے تو قطعاً یہ نہیں پایا جاتا کہ اس سے گناہ سرزد نہیں ہوا۔ بلکہ یہ معلوم ہوا کہ انسان نے گناہ کر کے پشیمانی ظاہر کی اور خدا تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کی اور سزا سے بچا لیا۔ اور اس پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا لوگ ہمیشہ گناہ کرتے ہیں اور شریف اور محسن آقاؤں کے گناہ بخشا ہی کرتے ہیں۔ ابھی بادشاہ جارج پنجم کے تخت نشین ہونے پر پانچ سو سال کی قید معاف کی گئی ہے۔ کیا گورنمنٹ نے ان کے قصور کسی طرح مٹا دیئے تھے یا کسی خاص اوزار سے چھیل دیئے تھے؟ اگر گورنمنٹ بغیر کسی دقت کے یہ کام کر سکتی ہے تو کیا اللہ تعالیٰ ہی لوگوں کے پچھلے گناہ معاف نہیں کر سکتا۔ اور اگر کرے تو اسی صورت میں کہ پہلے کسی ہتھیار سے ان کے گناہوں کو چھیل دے۔ افسوس اور تعجب ہے اس قسم کے معترضین پر۔
توبہ کی قبولیت پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اگر توبہ واقعی قبول ہوتی ہے تو چاہئے کہ ایک زانی جب توبہ کرے تو زنا کے سبب سے جو آتشک یا سوزاک اسے ہوا تھا وہ دور ہو جائے۔ اسی طرح دوسرے نتائج جو گناہ کی وجہ سے بھگت رہا ہے ان سے نجات پا جائے مگر واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ آتشک کا مریض ہزار توبہ کرنے پر پھر بھی اسی مرض میں گرفتار رہتا ہے یا کسی اور گناہ کی وجہ سے اسے کوئی صدمہ پہنچ گیا تھا۔ تو وہ بھی موجود رہتا ہے دور نہیں ہوتا تو ہم کس طرح مان سکتے ہیں کہ توبہ کا کوئی اثر ہے اور واقعی اس سے انسان بدی کے نتائج سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
یاد رہے کہ انسان دو چیزوں سے مرکب ہے ایک جسم ہے اور ایک روح ہے اور دونوں کے الگ الگ کام ہیں اور الگ الگ طریق سے وہ اپنی غذائیں حاصل کر رہے ہیں ہر ایک کی بیماریاں الگ ہیں اور ان کے علاج بھی پھر الگ الگ ہی ہیں ایک کسی بات سے فرحت حاصل کرتا ہے تو دوسرا کسی اور ہی بات سے مگر باوجو د اس کے چونکہ آپس میں دونوں کے تعلقات بہت ہیں اور مضبوط ہیں۔ اس لئے شدتِ فرح یا شدتِ غم میں ایک دوسرے پر اثر کرتے ہیں چنانچہ بعض لوگ کوئی خوشی کی خبر سن کر موٹے ہو جاتے ہیں یا غم کی خبر سن کر کمزور ہو جاتے ہیں اور ضعف محسوس کرنے لگتے ہیں۔
اسی طرح گناہ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ جو خالص روحانی ہیں۔ اور ان کا اثر جسم پر نہیں پڑتا۔ اور ایک گناہ وہ ہیں کہ جن میں روح اور جسم دونوں شریک ہوتے ہیں پس جن گناہوں میں جسم و روح دونوں شریک ہوتے ہیں ان میں اکثر دونوں کو ہی سزا ملتی ہے۔ پس جو شخص توبہ کرتا ہے اگر اس کو جو سزائیں ملتی ہیں صرف روحانی ہیں تو اس کے لئے اپنے اعتقاد کی درستی اور سچی توبہ کرنی ضروری ہے اور اگر یہ توبہ اپنی حد کو پہنچ جائے گی تو اس کا گناہ بخشا جائے گا۔ اور وہ اپنے دل میں ایک فرحت محسوس کرنے لگے گا لیکن اگر وہ گناہ جسم و روح دونوں سے مشترک سرزد ہوا ہے تو چاہئے کہ دونوں ہی مل کر توبہ کریں اور اگر اس صورت میں توبہ کامل ہو گی تو دونوں سزا سے محفوظ ہو جائیں گے اور اگر روحانی توبہ کامل اور جسمانی ناقص ہو گی تو روح تو بچ جائے گی لیکن جسم اپنی سزا بھگتتا رہے گا۔ مثلاً ایک شخص نے زنا کیا تو ایک تو اس کی روح نے خدا تعالیٰ کا گناہ کیا اور ایک اس کے جسم نے کہ وہ بھی روح کے شریک حال ہوا۔ پس ایک تو وہ خدا تعالیٰ کے حضور میں گناہ گار ہو کر روحانی عذاب کا مستوجب ہو گا۔ خواہ وہ یہاں ملے یا آخرت میں اور ایک سزا اس کے جسم کو ملے گی اور وہ آتشک یا سوزاک کی شکل میں ہو گی۔ پس اگر ایسا شخص توبہ کرتا ہے تو اگر اس کی توبہ کامل ہے یعنی اس نے پورے طور سے اپنے گناہوں کی معافی بھی چاہی اور سچے دل سے علاج بھی کروایا تو ایسا شخص اس گناہ کی سزا سے بچ جائے گا۔ اور اگر اس نے روحانی توبہ تو نہ کی۔ مگر علاج کروایا اور وہ اپنی حد کو پہنچ گیا تو اس کا جسم سزا سے بچ جائے گا۔ یعنی آتشک سے وہ نجات پا جائے گا مگر اس کی روح اب بھی گنہگار ہو گی اور اگر روحانی توبہ کامل ہو گی اور علاج میں کسی وجہ سے نقص رہا۔ تو روح بچ جائے گی۔ مگر جسم سزا بھگتتا رہے گا۔
پس چونکہ جسم اور روح الگ الگ حصہ ہیں اور ان دونوں کے علاج الگ الگ ہیں اس لئے دانا انسان وہی ہے کہ جو توبہ کے وقت خیال رکھے کہ میں نے گناہ صرف روحانی کیا ہے یا اس میں میرا جسم اور روح دونوں شامل تھے اور میں جسمانی اور روحانی دونوں سزائیں بھگت رہا ہوں پس اگر وہ دونوں حصوں میں سزا محسوس کرتا ہے تو دونوں کا علاج الگ الگ طریق سے کرے اور وہ یہی ہے کہ روح کا علاج روحانی کرے اور توبہ و استغفار سے کام لے اور جسم کا جسمانی یعنی طبی علاج کرائے۔
پس جو شخص صرف توبہ واستغفار سے کام لیتا ہے اور اس کے جسم نے جو گناہ کیا تھا اس کی تلافی نہیں کرتا تو ایسا شخص اگر اپنی جسمانی سزا سے نہیں بچا تو اسلام کے بتائے ہوئے توبہ کے مسئلہ پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا۔ اس شخص کی توبہ تو کامل ہی نہیں ہوئی کیونکہ اس نے خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستہ کو یعنی طبی علاج کو ترک کیا اور اسے اختیار نہیں کیا۔ پس ضرور ہے کہ جس حصہ میں اس کی توبہ ناقص رہی ہے اس میں وہ سزا پائے۔
لیکن جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں چونکہ روح کا جسم سے کمال درجہ کا تعلق ہے اس لئے بعض دفعہ روح کا اثر جسم پر بھی پڑ جاتا ہے اور کوئی بات روح پر کمال درجہ کا اثر کرے تو اکثر دیکھا گیا ہے کہ جسم بھی اس سے متاثر ہو جاتا ہے۔ اس لئے جن لوگوں کی توبہ اس حد کو پہنچ جاتی ہے کہ روح شدت اثر سے تڑپ اٹھتی ہے اور وہ توبہ کی ضروری شرط عمل صالحہ سے بھی کام لیتے ہیں اور اپنی اصلاح کامل طور سے کر لیتے ہیں۔ اور ان کے دل میں ایسی تڑپ پیدا ہو جاتی ہے کہ نہ صرف پچھلے گناہوں کی بھی تلافی ہو جاتی ہے بلکہ آئندہ کے لئے بھی ان کے خدائے تعالیٰ سے ایسے تعلقات پیدا ہو جاتے ہیں کہ وہ غیر منقطع ہوتے ہیں تو اس صورت میں دیکھا جاتا ہے کہ روحانی توبہ ہی جسم پر اثر کرتی ہے اور بغیر کسی جسمانی علاج کے وہ لوگ اپنے جسمانی دکھوں سے بھی نجات حاصل کر لیتے ہیں چنانچہ اس کی مثالیں بزرگان اسلام کی لائف میں بکثرت ملتی ہیں۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ بعض لوگوں کی توبہ جب کمال درجہ کو پہنچ گئی تو نہ صرف ان کی روح نے ہی نجات پائی بلکہ اس دنیا میں اس کا اثر نمودار ہوا۔ اور وہ دکھ جو ان کے پچھلے گناہوں کی وجہ سے ان کا جسم پا رہا تھا وہ بھی خود بخود دور ہو گئے۔ اور لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ واقعی اس شخص کی توبہ نے اپنا اثر کیا۔ ہمارے حضرت مرزا صاحبؑ کی دعاؤں سے ہی ہم نے بہت دفعہ مشاہدہ کیا ہے کہ بہت سے لوگوں نے شفاء حاصل کی اور روحانی بیماریوں کے ساتھ جسمانی بیماریوں سے بھی نجات پائی۔ پس یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ توبہ سے کبھی بھی جسمانی بیماریاں دور نہیں ہوئیں۔ بلکہ ہوتی ہیں اور ضرور ہوتی ہیں۔ ہاں شرط یہ ہے کہ توبہ خود اس درجہ کامل ہو جائے کہ وہ جسم پر بھی اثر کرے یا کسی کامل انسان کی دعا ساتھ مل جاوے کہ جو اس کے لئے رحمت کا باعث ہو جائے۔ چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ جہاں طب رہ گئی وہاں توبہ و دعا نے کام نکال دیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کے لفظ ہی تھے کہ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَی الۡاَرۡضِ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ دَیَّارًا(نوح: ۲۷) کہ جنہوں نے آدمیوں پر ہی نہیں پانیوں پر بھی اثر کر دکھلایا۔ مسیحؑ کے پاس جب اندھوں اور کوڑھیوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی تو اس نے ان کو اچھا کیا۔ کیا یہ جسم پر اثر نہ تھا۔ رسول اللہؐ کے مخالفین نے جب قحط کا عذاب پایا اور گھبرا کر توبہ کی تو بارش نازل ہوئی اور بارش سے تنگ آگئے تو بند کی گئی یہ اجسام پر ہی اثر تھا یا کچھ اور۔ ہمارے حضرت صاحب کے پاس کئی بیمار آئے اور آپ نے ان کو بھی توبہ کرنے کے لئے کہا اور دعا بھی کی آخر وہ لوگ اپنے دکھوں سے بچ گئے۔ پس کون کہہ سکتا ہے کہ توبہ سے جسمانی بیماریاں کیوں دور نہیں ہوتیں۔ جب توبہ کامل ہوتی ہے تو ضرور ہوتی ہیں۔ مگر چونکہ انسان جسم اور روح سے مرکب ہے اس لئے اسے عموماً چاہئے کہ روح کی بیماریوں کے لئے روحانی توبہ کرے اور جسم کی بیماریوں کے لئے جسمانی توبہ یعنی علاج اور یہی اصل اور سچا طریق ہے ہاں خدا تعالیٰ نے مخالفین کا منہ بند کرنے کے لئے ایسی مثالیں بھی پیدا کر چھوڑی ہیں کہ صرف توبہ و دعا سے جسمانی بیماریاں بھی دور ہو جاتی ہیں اگر کوئی شپر چشم انکار کرے تو اور بات ہے۔
اگر توبہ کا مسئلہ ایسا ہی سچا اور پکا ہے تو دنیاوی گورنمنٹیں کیوں مجرموں کو ان کے توبہ کرنے پر چھوڑ نہیں دیتیں؟۔
یہ اعتراض بھی توبہ کے منکر بہت کیا کرتے ہیں کہ کیوں دنیا میں لوگ ایک دوسرے کی توبہ قبول نہیں کر لیا کرتے۔ اور عدالتیں کیوں سزا دیتی ہیں۔ کیوں نہیں مجرموں کے اقرار پر اور آئندہ احتیاط کے وعدہ پر ان کو چھوڑ دیتیں۔
یاد رہے کہ جیسا کہ پہلے میں لکھ آیا ہوں خدا تعالیٰ علیم و خبیر ہے اور دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے۔ اور سچے اور جھوٹے کو جانتا ہے اور خفیہ اور پوشیدہ اسرار اس پر ظاہر ہیں اور کوئی بات نہیں جو اس سے پوشیدہ ہو خواہ سمندروں کی تہہ میں کوئی چیز بیٹھی ہوئی ہو یا پانیوں کی گہرائیوں میں۔ خواہ مچھلی کے پیٹ میں، خواہ عمیق کانوں میں، خواہ پہاڑوں میں، خواہ کنوؤں میں، خواہ ہواؤں میں ملی ہوئی ہو، خواہ انسانی دماغ میں خیالات کے رنگ میں پوشیدہ ہو، خواہ آسمان پر ہو، خواہ زمین میں، خواہ مادی ہو، خواہ غیر مادی، خواہ زمانہ ماضی کی ہو یا حال کی یا استقبال کی وہ ایسا علیم ہے کہ کوئی معلوم اس کے احاطہ علم سے باہر نہیں پس اس کا توبہ کو قبول کرنا اور رنگ کا ہے اور گورنمنٹ کا حال اور ہے۔ گورنمنٹ کے جج مدعی اور مدعا علیہ دونوں کا حال نہیں جانتے۔ ان کو کیا معلوم کہ آیا اپنی غلطی پر پریشان و پشیمان ہونے والا انسان واقعہ میں سچا ہے یا شرارت کرتا اور سزا سے بچنا چاہتا ہے۔ پس جس کو دوسرے کے ارادہ اور خیالات سے واقفیت ہی نہ ہو تو وہ کس طرح جرأت کر کے اسے چھوڑ سکتا اور معاف کر سکتا ہے۔ کیونکہ ممکن ہے کہ وہ مجرم جسے مجسٹریٹ چھوڑنے کی نیت رکھتا ہو اپنے دل میں یہ ارادہ کر رہا ہو کہ اب کے چھوٹے تو ضرور ایسی احتیاط سے جرم کروں گا کہ کسی کو علم ہو ہی نہ سکے مجسٹریٹ کی حالت تو بہت ہی خطرناک ہوتی ہے۔ وہ بے چارہ تو بالکل اندھیرے میں ہوتا ہے اور اصلی حالت سے ناواقف۔ اسے تو خود ظالم و مظلوم میں ہی امتیاز نہیں ہوتا اور محض تاریکی میں پڑا ہوا اندازوں سے کام لیتا ہے اور حاطب اللیل کی طرح خطا و ثواب دونوں کا مرتکب ہوتا ہے۔
کہتے ہیں کہ ایک بزرگ شہر کے قاضی مقرر کئے گئے تو ان کے دوست ان کو ملنے گئے اور بڑی خوشی ظاہر کی اور مسرت کا اظہار کیا مگر جب اندر بلائے گئے اور ان سے ملاقات ہوئی تو دیکھا کہ بڑے زور سے رو رہے ہیں اور کثرتِ گریہ و زاری سے ہچکیاں بندھی ہوئی ہیں اور سانس اکھڑا ہوا ہے دوستوں نے کہا حضرت اس وقت یہ رونا کیسا اور اس بے موسم کی برسات کے کیا معنی۔ یہ تو خوشی کا وقت تھا اور دعوتوں کا موقعہ آپ اس قدر گھبرا کیوں رہے ہیں اس بزرگ نے جواب دیا کہ احمقو تم نہیں جانتے کہ میں کیسی خطرناک حالت میں ہوں۔ میں ایک نابینا ہوں جو دو بیناؤں کے فیصلہ کے لئے مقرر کیا گیا ہوں اور ایک جاہل ہوں جو دو عالموں کے فیصلہ کے لئے چنا گیا ہوں کیونکہ مدعی اور مدعا علیہ میرے پاس آئیں گے اور وہ دونوں اپنا اپنا حال خوب جانتے ہوں گے کہ ہم جھوٹے ہیں یا سچے ہیں مگر میں بالکل ناواقف اور جاہل ان کا فیصلہ کروں گا۔ کیا یہ خوش ہونے اور فرحت ظاہر کرنے کا موقعہ ہے یا رنج و غم میں کڑھنے کا۔
اس لطیفہ میں جو جج صاحب کی حالت بیان کی گئی ہے۔ واقعہ میں صحیح اور درست ہے۔ اور اس میں سرِ مُو فرق نہیں۔ پھر باوجود اس قدر عجز کے جج کیا کر سکتا ہے اور کس طرح ایک مجرم کو بخش سکتا ہے جبکہ وہ نہیں جانتا کہ یہ شخص شرارتی ہے یا سچے دل سے توبہ کرتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کسی کے دل میں کیا مخفی ہے وہ شرارتی اور سچے آدمی میں فرق کر سکتا ہے اور دونوں کے ارادوں کو جانتا ہے۔ اس لئے وہ توبہ قبول کر سکتا ہے۔
دوسرے یہ کہ گورنمنٹ اور خدا تعالیٰ کے احکام کا آپس میں مقابلہ کرنا ہی سخت غلطی ہے۔
کیونکہ خدا تعالیٰ تو مالک ہے اور ہر چیز اس کی اپنی بنائی ہوئی ہے۔ اور اس کے قبضہ قدرت میں ہے بر خلاف اس کے بادشاہوں اور گورنمنٹوں کے حالات اور ہیں کیونکہ وہ اپنی رعایا کے مالک نہیں ہوتیں۔ بلکہ ان کے جھگڑوں اور فسادوں کے دور کرنے کے لئے ججوں کی طرح ہوتی ہیں۔ اور خواہ بظاہر ایک گورنمنٹ دوسرے ملک کو بزور بازو ہی فتح کرے اور اپنا مال و دولت ہی خرچ کر کے اس پر قابو پائے لیکن اگر غور کیا جائے تو اس کا حال ایسا ہی ہے کہ جیسے چند آدمی مل کر ایک شخص کو مقرر کر دیں کہ تم ہمارا فیصلہ کیا کرو تاکہ ہم میں جھگڑے اور فساد نہ پڑیں۔ پس جیسا کہ اس شخص کا کام نہیں کہ کسی کو کچھ دے دے یا رحم کر کے معاف کرے ایسا ہی گورنمنٹ کا بھی یہ کام نہیں کہ وہ اپنی طرف سے کسی پر خاص رحم کرے کیونکہ وہ تو ایک ایجنٹ کی طرح ہے جسے پبلک نے اپنے کام نکالنے کے لئے مقرر کیا ہے اور پھر جو گورنمنٹ کی طرف سے جج مقرر ہوتے ہیں ان کا تو بالکل کوئی دخل ہی نہیں کیونکہ نہ صرف وہ لوگوں کے حقوق کے مالک ہی نہیں بلکہ علاوہ اس کے وہ مقرر ہی اس کام پر کئے گئے ہیں کہ جیسے واقعات ان کے سامنے پیش کئے گئے ہوں ان کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ اور گورنمنٹ نے ان کا اختیار ہی اس حد تک رکھا ہے پس ان کا مقابلہ خدا تعالیٰ سے کرنا کیسا سفیہانہ فعل ہے کیونکہ یہ لوگ تو کوئی بھی اختیار نہیں رکھتے اور پبلک سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ ان کا فرض منصبی یہی ہے اور وہ اس بات کی تنخواہ لیتے ہیں کہ فریقین کے حالات سن کر اپنے اختیارات کے اندر اندر کسی کو چھوڑ دیں۔ اور کسی کو سزا دے دیں لیکن خدا تعالیٰ تو کسی کا مقرر کردہ نہیں ہے اور نہ وہ ان کی طرح بے اختیار ہے بلکہ چونکہ اس نے انسان کو پیدا کیا ہے اور بنایا ہے اور پھر اس کی زندگی کے قائم رکھنے کے لئے اور مختلف اشیاء کو بھی خلق کیا ہے اور اس کے آرام کے لئے طرح طرح کے سامان مہیا کئے ہیں اس لئے وہ انسان کا بلکہ ہر ایک چیز کا مالک ہے اور اس پر تصرف رکھتا ہے اور پھر بدلہ دینے کی قدرت رکھتا ہے۔ پس اگر وہ کسی پر رحم کرے تو یہ اس کے شایانِ شان ہے۔ لیکن اگر جج بلا اختیار کے کسی پر رحم کرے تو گویا امانت میں خیانت کرتا ہے۔ کیونکہ وہ کام کرتا ہے جو اس کے سپرد نہ تھا اور اگر اسے اختیار ہوتا اور پھر کسی پر رحم کرتا تو اس میں کوئی حرج نہ تھا۔ اور خدا تعالیٰ مالک ہے اس لئے اسے رحم کرنے کا پورا اختیار ہے اور یہی وجہ ہے کہ جج عام طور پر رحم نہیں کرتا بلکہ عدل کرتا ہے اور خدا تعالیٰ عام طور پر عدل ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ رحم بھی کرتا ہے پس ججوں یا گورنمنٹ کا مقابلہ خدا تعالیٰ کے ساتھ کرنا بیوقوفی ہے۔
پھر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ بھی غلط ہے کہ گورنمنٹ رحم نہیں کرتی بلکہ گورنمنٹ کے رحم کثرت
سے پائے جاتے ہیں دیگر گورنمنٹوں کو جانے دو۔ ہندوستان کی گورنمنٹ کو ہی لے لو کہ جہاں مجرموں کی سزاؤں کے لئے اور مختلف قوانین بنائے گئے ہیں۔ وہاں ساتھ ایک مد رحم کی بھی رکھی گئی ہے۔ چنانچہ صوبوں کے افسروں اور پھر وائسرائے کا اختیار ہے کہ کسی مجرم کو خاص حالات کے ماتحت معاف کر دے چنانچہ بارہا دیکھا گیا ہے کہ ایک شخص چیف کورٹ تک سے مجرم قرار دیا گیا اور مستوجب سزا ہوا۔ لیکن لیفٹنٹ گورنر نے یا وائسرائے نے اس کے حالات پر غور کر کے قابلِ رحم سمجھا اور صاف معاف کر دیا۔ ابھی پیچھے لالہ لاجپت رائے اور اجیت سنگھ گورنمنٹ برطانیہ کی خاص مہربانی اور وزیر ہند کے حکم سے جلاوطنی کی سزا سے آزاد کئے گئے پھر بنگالہ کے سر بر آوردہ لوگ جو محسن کشی کے خطرناک جرم میں قید کئے گئے تھے معاف کر دیئے گئے اور اپنے گھروں میں امن و امان سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ بیسیوں قاتل چھوٹ چکے ہیں اور طرح طرح کے مجرم رحم سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں خاص خاص موقعوں مثلاً تاجپوشی، تخت نشینی، جشن وغیرہ پر بھی بہت سے قیدیوں کی سزا کو معاف کر دیا جاتا ہے۔ پھر یہ کہنا کہ گورنمنٹ کیوں رحم نہیں کرتی کہاں تک درست ہو سکتا ہے۔
جہاں تک مجھے علم تھا کہ توبہ کے مسئلہ پر یہ اعتراض ہوا کرتے ہیں ان کا جواب تو میں لکھ چکا ہوں۔ اب مختصراً یہ بتانا چاہتا ہوں (انشاء اللہ) کہ دیگر مذاہب یعنی مسیحی اور آریہ اگر توبہ کے مسئلہ کو قبول نہیں کرتے تو وہ اس کی جگہ کیا تعلیم پیش کرتے ہیں اور وہ کہاں تک درست ہے۔
پہلے میں مسیحی تعلیم کو دیکھتا ہوں کہ وہ انسان کے پچھلے گناہوں کی معافی کی نسبت کیا فتویٰ دیتی ہے اور وہ ہماری تسلی کے لئے کون سا طریقہ اختیار کرتی ہے۔
چنانچہ مسیحی کتب کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے گناہ سوائے اس کے کہ وہ مسیح کے کفارہ پر ایمان لائے نہیں معاف ہو سکتے اور جب تک وہ یہ یقین نہ کر لے کہ مریم کا بیٹا یسوع جو اصل میں خدا ہی کا بیٹا تھا اور یہ کہ وہ انسان کے گناہ اپنے سر پر اٹھا کر مظلومیت کی حالت میں مصلوب ہوا تب تک نجات غیر ممکن ہے۔ لیکن اس میں بہت سی دقتیں ہیں اول تو یہ کہ مسیحی صاحبان کے اس دعوے کے ثبوت کے لئے سخت مشکلات ہیں۔ سب سے اول جو مشکل پڑتی ہے وہ
تثلیث کا ثبوت ہے۔ یعنی وہ یہ نہیں ثابت کر سکتے کہ خدا تین ہیں اور کفارہ کے مسئلہ کے لئے سب سے پہلے ان کو یہی بات ثابت کرنی ضروری ہے کیونکہ جب تک تین خدا ثابت نہ ہوں تو ایک خدا کا ان میں سے مصلوب ہونا باطل ٹھہرتا ہے اور گو محض مادی اشیاء اور عقلی دلائل سے خدا تعالیٰ کا وجود بھی ثابت کرنا ایک حد تک مشکل ہے لیکن اسے مان کر بھی یہ سب کائنات عالم اگر کسی پیدا کرنے والے کو چاہتی ہے اور چونکہ کوئی مصنوع بغیر صانع کے نہیں ہوتا اس لئے کسی صانع عالم کے وجود کا اقرار کرنا پڑتا ہے لیکن اس سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ کوئی ہستی ایسی چاہئے کہ جو اس عالم کی خالق ہو مگر یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ایک سے زیادہ ہستیاں ہیں۔ اگر بفرضِ محال مانا جائے کہ وہ ایک سے زیادہ ہیں تو کیوں دو نہ مانی جائیں یا چار تصور نہ کی جائیں تین کی کیا خصوصیت ہے۔ پس مسیحی صاحبان کے لئے اول تو تثلیث کا ثابت کرنا ہی ناممکن ہے۔ کیونکہ جو کچھ وہ ثبوت دے سکتے ہیں وہ ایک خدا کو ثابت کرتا ہے زیادہ کو نہیں اور اگر ایک سے زیادہ خدا تصور کئے جا سکیں تو پھر ہر ایک کو حق ہے کہ وہ دو خدا مانے یا چار مانے یا پانچ مانے اس میں کوئی حرج نہیں۔ پس جبکہ تثلیث کا ثابت کرنا ہی مشکل ہے۔ نہیں بلکہ اس کے لئے کوئی دلیل بھی پیش نہیں کی جا سکتی۔ تو پھر مسیح کا کفارہ آپ ہی باطل ہو گیا اور اگر وہ مان بھی لی جائے تو اب یہ دقت ہے کہ ایک کو باپ اور ایک کو بیٹا کیوں مانا جائے۔ یہ کس دلیل سے ثابت ہے کہ ایک باپ ہونا چاہئے۔ اور ایک بیٹا اور ایک روح القدس اور کیوں نہ کہا جائے کہ تینوں باپ ہی ہیں۔ یا تینوں بیٹے ہی ہیں یا تینوں روح القدس ہی ہیں اور یہ کیوں خیال کیا جائے کہ مسیح بیٹا تھا کیوں نہ اس کو باپ تصور کیا جائے۔ پس تثلیث کے مسئلہ کے بعد یہ بہت سے سوال ہیں جو حل کئے جانے ضروری ہیں اور پھر یہ سوال بھی حل کرنے کے قابل ہے کہ اگر تین ہی خدا ہیں اور ہے بھی ایک بیٹا اور ایک باپ اور ایک روح القدس تو پھر مسیح ہی کو تیسرا خدا کیوں مانا جائے اور لوگ بھی ہیں جو کہ مسیح سے بہت زیادہ کامیاب ہوئے ہیں ان کو کیوں نہ خدا خیال کیا جائے۔ اور اگر مصیبتوں اور تکلیفوں کے اٹھانے پر ہی خدا کا دارو مدار ہے تو ایسے لوگ بھی کم نہیں جو اپنے ملک کو ترقی دینے کے لئے بڑے بڑے عذاب برداشت کر کے مر گئے ان کو اس مرتبہ سے کیوں محروم رکھا جائے۔ اور اس کے علاوہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہو گا کہ آیا خود یسوع بھی اس کے لئے تیار تھا کہ نہیں اور اسے اس کی مرضی سے پھانسی پر لٹکایا گیا تھا یا زبردستی اور اگر یہ سوال بھی حل ہو جائے تو پھر یہ دیکھنا ہو گا کہ آیا یسوع پھر صلیب پر مرا بھی کہ نہیں۔ کیونکہ اگر وہ پھانسی پر نہیں مرا تو سب کیا کرایا خاک میں مل جائے گا اور جب اتنے سوال حل ہو جائیں تو پھر کفارہ کے مسئلہ پر انسان گفتگو کر سکتا ہے اور تب صحیح موقعہ ہے کہ اس خلافِ عقل مسئلہ پر توجہ کی جائے اور دیکھا جائے کہ آیا یہ واقعہ ہوا ہے یا ہو سکتا ہے۔
پس میں مختصراً انہی سوالوں پر روشنی ڈالتا ہوں اور اول اس بات کو دیکھتا ہوں کہ آیا ایک سے زیادہ خدا ہو سکتے ہیں اور چونکہ مخاطب میرے اس وقت مسیحی صاحبان ہیں اس لئے سب سے پہلے بائبل کا حوالہ دیتا ہوں کیونکہ حضرت موسیٰؑ اور ان کے بعد کے نبیوں کی شریعت کی سچائی کے خود یسوع بھی مقر ہیں۔ استثناء ۳۲ آیت ۳۹ میں لکھا ہے ”اب دیکھو کہ ہاں میں ہی وہ ہوں اور کوئی معبود میرے ساتھ نہیں میں ہی مارتا ہوں اور میں ہی جلاتا ہوں میں ہی زخمی کرتا ہوں اور میں ہی چنگا کرتا ہوں اور ایسا کوئی نہیں جو میرے ہاتھ سے چھڑا دے“ اور پھر استثناء ۴ آیت ۳۵ میں ہے ”یہ سب تجھ ہی کو دکھایا گیا کہ تو جانے کہ خداوند ہی خدا ہے۔ اور اس کے سوا کوئی نہیں“ پھر یسعیاہ باب ۴۵ آیت ۵ میں ہے ”میں ہی خداوند ہوں اور کوئی نہیں: میرے سوا کوئی خدا نہیں“ پھر یسعیاہ باب ۴۵ آیت ۱۸، ۲۱، ۲۲ میں ہے ”کیا میں خداوند نے ہی یہ نہیں کہا کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ صادق القول اور نجات دینے والا خدا میرے سوا کوئی نہیں میری طرف رجوع لاؤ تاکہ تم نجات پاؤ۔ اے زمین کے کناروں کے سارے رہنے والو کہ میں خدا ہوں اور میرے سوا کوئی نہیں“۔ یہ آیات تو وہ ہیں کہ جو پرانے عہد نامہ سے نقل کی گئی ہیں۔ اور جن سے تثلیث کا مردود ہونا بین و ظاہر ہے اب نئے عہد نامہ یعنی انجیل سے میں ایک آیت نقل کرتا ہوں کہ جس سے منکشف ہو جائے گا کہ خود مسیح بھی تثلیث کا منکر اور توحید کا قائل تھا۔ چنانچہ مرقس باب ۱۲ آیت ۲۹، ۳۰ میں مرقوم ہے کہ کسی نے مسیح سے پوچھا کہ سب حکموں میں سے اول کون سا ہے تو ”یسوع نے اس کے جواب میں کہا کہ سب حکموں میں سے اول یہ ہے کہ اے اسرائیل سن وہ خداوند جو ہمارا خدا ہے ایک ہی خداوند ہے اور تو خداوند کو جو تیرا خدا ہے اپنے سارے دل سے اور اپنی ساری جان سے اور اپنی ساری عقل سے اور اپنے سارے زور سے پیار کر اول حکم یہ ہے“۔ پس باوجود اس حکم کے جو خود مسیح دیتا ہے کہ سب سے پہلے تیرا فرض یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کی توحید کا قائل ہو یہ کہنا کہ خدا تین ہیں کس قدر بعید از عقل ہے۔
یہ ثبوت تو وہ ہے جو خود مسیحیوں کی کتب مقدسہ میں سے میرے دعویٰ کی تائید میں ملتا ہے اور علاوہ اس کے خود مسیح بھی توحید کی ہی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن قطع نظر اس ثبوت کے عقل بھی تثلیث کی مؤید نہیں کیونکہ جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں اس عالمِ مادی کو دیکھ کر بے شک انسان کو خیال آتا ہے کہ اس کا بنانے والا کوئی ہونا چاہئے۔ لیکن عقل قطعاً اس بات پر گواہی نہیں دیتی کہ ایک سے زیادہ خالقوں نے اس عالم کو بنایا ہے۔ کیونکہ یا تو اس دنیا کو ایک ہی ہستی نے بنایا ہے یا بہت سی ہستیوں نے بنایا ہے۔ اور ہر ایک اس کے ایک حصہ کے بنانے پر قادر تھی اور دوسرے پر نہیں۔ یا یہ کہ ہر ایک ہستی اس دنیا کو پیدا کر سکتی تھی لیکن اس نے اسے بنایا نہیں بلکہ سب نے مل کر بنایا ہے۔ سو پہلی صورت کو تو عقل تصور میں لاسکتی ہے اور دوسری دو صورتوں کو نہیں کیونکہ دوسری صورت میں تو خدا تعالیٰ ناقص ٹھہرتا ہے۔ اور تیسری صورت کو عقل دریافت نہیں کر سکتی۔ کیونکہ ہمارے پاس کوئی آلہ نہیں کہ جس کے ذریعہ سے معلوم کر سکیں کہ یہ دنیا ایک نے بنائی ہے یا دو نے یا تین نے یا چار نے۔ پس بہرحال یہی صورت اختیار کرنی پڑے گی کہ یہ سب عالم ایک طاقتور خدا نے بنایا ہے۔ اور اسی کی مؤید ہیں وہ آیتیں جو کہ میں نے خود مسیحیوں کی کتب مقدسہ سے نقل کی ہیں۔ پس جب خدا تعالیٰ کی توحید ثابت ہو گئی تو کفارہ کے لئے ایک خدا کے مصلوب کر دینے کی گنجائش بھی باقی نہ رہی۔
اس کے بعد دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر ایک سے زیادہ ہستیاں قبول بھی کرلی جائیں تو پھر اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ وہ دو ہیں یا تین ہیں یا چار ہیں کیونکہ اگر ایک سے زیادہ خدا ہیں تو پھر یہ بات برابر ہے کہ وہ دو ہوں یا ہزاروں ہوں پس اس کا ثابت کرنا بھی مسیحیوں کے لئے دقت طلب ہو گا۔ اور جبکہ مسیحیوں کے عقیدہ کے مطابق مصلوب ہونے والا بیٹا چاہئے تو یہ ثابت کرنا بھی مشکل ہو گا کہ آیا وہ خدا آپس میں ولدیت کا تعلق رکھتے ہیں یا بھائی بھائی ہیں کیونکہ جب تک ان میں سے ایک بیٹا نہ ثابت ہو لے تو مسیح کا مصلوب ہونا بے فائدہ رہتا ہے۔
پھر یہ مان کر کہ تین خدا ہیں۔ اور ان میں سے دو کا تعلق آپس میں باپ بیٹے کا ہے۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں مسیح کو ہی بیٹا تصور کیا جائے کیا وجہ ہے کہ جب اس سے بہتر آدمی دنیا میں موجود ہیں تو انہیں ابن اللہ کا نام دیا جائے کیونکہ خدا مخلوق سے بہرحال زیادہ طاقتور ہونا چاہئے۔ پس مسیح کسی طرح خدا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس سے زیادہ لائق اور زیادہ کامیاب آدمی دنیا میں موجود ہیں پس اگر ضرور کسی کو دنیا میں ابن اللہ بنانا ہے تو کیوں نہ ان کو اسی خطاب سے پکارا جائے۔ کیونکہ وہ اس کے زیادہ مستحق ہیں اور جب اس مقابلہ پر کوئی دوسرا شخص مسیح کو نیچا دکھائے تو پھر مسیح کی ابنیت کے ساتھ کفارہ کا مسئلہ بھی خود بخود رد ہو جائے گا۔ اور چونکہ اس موقعہ پر مسیحیت اور اسلام کا مقابلہ کرتا ہوں اس لئے رسول اللہؐ اور مسیحؑ کی زندگیوں کا نہایت مختصر الفاظ میں مقابلہ کر کے
دکھلاتا ہوں کہ ان دونوں میں سے کس کو دوسرے پر فضیلت ہے۔ مسیحؑ کی پیدائش جس ملک میں ہوئی ہے وہ اپنے وقت میں امن و امان کے لئے مشہور تھا۔ لیکن اس کے برخلاف رسول اللہؐ جس ملک میں پیدا ہوئے ہیں وہ اپنے فسادوں اور جنگوں کے لئے شہرۂ آفاق تھا۔ اور ان دونوں باتوں کو مدنظر رکھ کر ایک عقلمند انسان خوب سمجھ سکتا ہے کہ آپؐ کو اس ملک کے درست کرنے کے لئے کیا کیا مشکلات پیش آ سکتی تھیں اور برخلاف اس کے مسیحؑ کس امن و چین میں تھا۔ کیونکہ یروشلم پر اس وقت رومیوں کی حکومت تھی جو کہ اپنے وقت میں قانون کی پابندی کے لئے ایک خاص شہرت رکھتے تھے اور ان کے ملک میں کسی کی مجال نہ تھی کہ کسی شخص پر بلا قانون کے ظلم کر سکے۔ پس مسیحؑ کا اس ملک میں پیدا ہونا اس کے لئے بہت سی آسانیوں کا باعث تھا کیونکہ گو اس کے مخالف اس کی تعلیمات کے اور اس کی جان کے ہی مخالف ہوں لیکن جوش کے ماتحت اس پر حملہ نہیں کر سکتے تھے۔ اور گو وہ غضب میں اندھے بھی ہو جاتے مگر ان کے لئے بغیر قانون کی آڑ کے اور کوئی وسیلہ نہ تھا جس سے مسیحؑ کو سیدھا کر سکیں۔ برخلاف اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس قوم سے واسطہ پڑا تھا وہ اپنے جوشوں کے پورا کرنے کے لئے بالکل آزاد اور مختار تھی اور کوئی قانون نہ تھا جو ایسے سخت سے سخت ارادوں کی روک تھام کر سکے اور نہ صرف کوئی دنیاوی سلطنت یا قانون ہی اس کو اپنی حدود میں نہ رکھ سکتا تھا بلکہ کوئی شریعت بھی اس قوم کے پاس نہ تھی جو کہ اس کے دل پر حکومت کرتی ہو اور نہ ہی علوم سے ان کو کچھ بہرہ تھا کہ اخلاق کی رہنمائی سے ہی وہ اپنے جوشوں سے باز رہتی۔ پس اگر مسیحؑ کی قوم قیدی تھی تو یہ اس کے برخلاف آزاد تھی اور اگر وہ بند تھی تو یہ کھلی تھی۔ اور اگر اس کے رستہ میں رکاوٹیں تھیں تو یہ بے روک ٹوک تھی اور اگر وہ اپنے جوشوں کے پورا کرنے سے قاصر تھی تو یہ قادر تھی اور وہ کسی شریعت کے جوئے یا عذاب کے خوف کے نیچے تھی تو یہ ان دونوں باتوں سے بری۔ پس جو اختیار کہ مسیحؑ پر اس کی قوم کو تھا۔ اس سے کہیں زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آپؐ کی قوم کو تھا اور جو نقصان کہ مسیحؑ کی قوم اس کو بسب گوناگوں رکاوٹوں کے نہ پہنچا سکتی تھی وہ رسول اللہؐ کی قوم اپنی آزادی کی وجہ سے پہنچا سکتی تھی۔ پھر مسیحؑ قانون کی پناہ میں ہونے کے علاوہ اپنے ماں باپ کی پناہ اور اپنے بھائیوں کی حمایت میں تھا برخلاف اس کے رسول اللہؐ کے والدین اور دادا آپؐ کے بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے۔ اور صرف ایک چچا کی مدد آپؐ کے ساتھ تھی۔ پھر مسیحؑ کی تعلیم وہی تھی جو کہ توریت و زبور وغیرہ کی ہے لیکن رسول اللہؐ کفار کے اپنے طرزِ عمل کو ہی برا نہ کہتے تھے بلکہ ان کے معبودوں کو بھی حَصَبُ جَہَنَّمَ(21:99) قرار دیتے تھے۔ جس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ مسیحؑ کی قوم کو ان سے کچھ زیادہ اختلاف نہ تھا مگر رسول اللہؐ کی قوم میں اور آپؐ میں ایک اختلافات کا سمندر حائل تھا جو ان کو آپؐ کی مخالفت کے لئے ہر دم ابھارتا تھا۔ پھر جو شخص مسیحؑ کی پیروی کرتا تھا اسے سوائے گالیوں کے اور کچھ نقصان نہ پہنچتا تھا یا زیادہ ہوا تو کہیں بار پیٹ پڑ جاتی تھی۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تعلق پیدا کرنا نہ صرف عزیز واقرباء سے قطع تعلق کر لینا تھا بلکہ اپنی جان سے بھی ناامید ہونا تھا۔ چنانچہ حواریوں کا زیادہ سے زیادہ پٹنا ثابت ہے اور صحابہؓ کا نہ صرف مار کھانا بلکہ قتل ہونا پایۂ ثبوت کو پہنچتا ہے اور پھر قتل بھی معمولی نہیں۔ ایسے واقعات بھی ہیں کہ مرد کی ایک ٹانگ ایک اونٹ سے باندھ دی اور دوسری دوسرے سے اور پھر دونوں کو مختلف سمتوں میں چلا دیا اور پھر مسیحؑ کے ساتھ کی عورتوں کی نسبت تو گالی گلوچ بھی ثابت نہیں اور رسول اللہؐ کو ماننے والی عورتوں میں سے بعض کا قتل اور ایسا قتل کہ ان کے فروج میں نیزہ مار کر مار دیا گیا ثابت ہے۔ پھر مسیحؑ شہروں اور بستیوں میں کھلم کھلا وعظ دیتا پھرتا تھا اور رسول کریم ﷺ کے مخالفین آپؐ کو اس قدر آزادی نہیں دیتے تھے بلکہ آپؐ کا ا کے دکے آدمیوں میں تبلیغ کرنا بھی وہ لوگ ناپسند کرتے تھے۔ اور جہاں آپؐ کو دیکھتے زدوکوب کرنے سے نہ ٹلتے تھے پھر اگر مسیحؑ کہیں بھاگ جاتا تو وہ لوگ ایسے ناراض نہ تھے کہ اس کا پیچھا کرتے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں تشریف لے گئے تو آپؐ کا پیچھا لوگوں نے وہاں تک کیا۔ مسیحؑ کے پکڑنے کا خیال اُس کے مخالفین کو ایسا نہ تھا۔ جتنا کہ آپؐ کے مخالفین کو آپؐ کے گرفتار اور قتل کرنے کا تھا۔ کیونکہ مسیحؑ کے سر کا اس کے دشمنوں نے تیس درہم انعام مقرر کیا لیکن رسول اللہؐ کے لئے ایک سو اونٹ کا انعام اعلان کیا گیا۔ پھر مسیحؑ کی جنگ یعنی زبانی بات چیت صرف یہودیوں سے تھی اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی سچائی سے سب دنیا کو اپنے مقابل پر لا کھڑا کیا تھا۔ اور مسیحؑ اپنی حکومت کی پناہ میں تھا اور رسول اللہ ﷺ کے مقابل پر نہ صرف آپؐ کی اپنی قوم تھی بلکہ اس وقت کی دونوں زبردست یعنی قیصر و روما اور کسریٰ کے ایران کی حکومتیں بھی آپؐ کے استیصال کا ارادہ رکھتی تھیں اور علاوہ ان کے عرب کے مسیحی اور یہودی بھی آپؐ کے ساتھ بیر رکھتے تھے۔ مگر باوجود ان تمام مشکلات کے جو رسول اللہ ﷺ کے راستہ میں تھیں اور ان خطرات کے جو آپؐ کی ہلاکت کے لئے اگر آپؐ (نعوذ باللہ) جھوٹے ہوتے کافی تھے۔ آپؐ بڑھے اور پھولے اور پھلے اور دن رات آپؐ کا قدم آگے بڑھا اور جو کوئی آپؐ کے مقابلہ میں آیا ہلاک ہوا۔ اور جو کوئی آپؐ پر گرا ہلاک ہوا اور جس پر آپؐ گرے اسے ہلاک کر دیا۔ آپؐ کے مخالفین کے گھر اجڑ گئے ان کی بستیاں ویران ہو گئیں جس نے آپؐ پر تلوار چلائی قتل کیا گیا ان کی بیویاں بیوہ ہو گئیں ان کے بچے یتیم ہوئے۔ ان پر رونے والا بھی کوئی نہ ملا۔ چیلیں اور کتے آپؐ کے اعداء کا گوشت کھا گئے۔ وہ دنیا و آخرت میں ذلیل کئے گئے اور کوئی نہ تھا جو ان کو بچاتا وہ برباد کر دیئے گئے اور کوئی نہ نکلا جو ان کی مدد کو آتا۔ جنہوں نے آپؐ کو گم نام کرنا چاہا تھا وہ خود گم نام ہو گئے اور آج تک ان کے نام و نشان کا پتہ نہیں آج کوئی ہے جو ابو جہل کی نسل ہونا اپنے لئے پسند کرے۔ کیا کوئی ہے جو عتبہ و شیبہ کے نام اپنے آباء میں لینا فخر سمجھے۔ وہ صنادیدِ عرب جو اپنے ملک کے باپ کہلاتے تھے۔ ان کی امارتیں آپؐ کے سامنے گر گئیں وہ آپؐ کی اطاعت میں سر کے بل گرائے گئے۔ ان کے ماتھوں پر غلامی کا داغ لگایا گیا وہ بہادروں کا بہادر اور بادشاہوں کا بادشاہ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ فتح کرنے گیا اور وہ بت جو خدائے واحد کے مقابلہ میں کھڑے کئے جاتے تھے اسی کے بندہ کے آگے سرنگوں کئے گئے۔ اور اس کے زبردست ہاتھوں ان کے ٹکڑے اڑا دیئے گئے۔ زمین سے لے کر آسمان تک اس کا نور چمکا اور خود خدا نے اس کے صدق پر شہادت دی اور اس کارحیم کریم دل اپنے مخالفین کے لئے پسیجا اور لَا تَثۡرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ(12:93) کی دلکش آواز نے نہ صرف آپؐ کے مخالفین کے جسموں کو ہی بچا لیا بلکہ ان کی روحوں کو بھی ابدی دوزخ کے پھندے سے نجات دلا دی۔ (الکامل فی التاریخ۔ ابن الاثیر جلد ۱ صفحہ ۲۴۳۔ بیروت ۱۹۶۵ء)
لیکن یسوع باوجود ان آسانیوں کے جو میں اوپر لکھ آیا ہوں کہ نہ اس کی قوم ایسی خطرناک تھی اور نہ اس کو اس سے ایسی دشمنی ہی تھی روز بروز کمزور ہی ہوتا گیا۔ اور آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ شخص اپنے حواریوں کو بارہ تختوں کا وعدہ دیتا تھا اور ابن اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا تھا۔ اور اپنے آپ کو شہزادہ کہتا تھا جو یہودیوں کی ہلاکت کی پیشگوئیاں کر رہا تھا جو رومن سلطنت کی بھی کچھ حقیقت نہ سمجھتا تھا جسے اپنی ترقیوں کی بڑی بڑی امیدیں تھیں۔ اور جو آسمانی بادشاہت کے وعدہ دے کر اپنے حواریوں کے حوصلہ کو بڑھا رہا تھا۔ یہودیوں کے قبضہ میں پڑا اور کچھ ایسا پھنسا کہ آخر نہایت کرب و اندوہ اٹھا کر سولی پر لٹکایا گیا۔ اور اس وقت اس کے دشمنوں نے اس کے منہ پر تھوکا اور کانٹوں کا تاج پہنایا اور پانی کی جگہ سرکہ پلایا۔ اور اس بے بسی وبے کسی کی حالت میں وہ چیخا اور ایلی ایلی لما سبقتنی کی دردناک اور مایوسی کی مجسم آواز اس کے منہ سے نکلی اور بقول مسیحیوں کے ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اور ساتھ ہی ان تمام دعووں پر جو اس نے اپنی ذات کی نسبت اور حواریوں کے بارے میں کئے تھے پانی پھر گیا۔ اب بتاؤ کہ کیا وہ شخص جو باوجود سخت سے سخت مصیبتوں کے اور دشمنوں کے حملہ کے کامیاب ہوا۔ خدا کا بیٹا کہلانے کا مستحق ہے یا وہ جو مقابلہٴ چین اور آرام سے زندگی بسر کر رہا تھا اور جس کے راستہ میں کوئی سخت رکاوٹیں نہیں تھیں۔ مگر باوجود اس کے ناکامی و نامرادی سے اس دنیا سے گزر گیا۔ (بقول مسیحی صاحبان کے)
یہ تو دنیاوی کامیابی ہوئی علاوہ اس کے کامل تعلیم سچے اور مخلص مرید اور پاک زندگی اور بے نظیر معجزات اور قدسی صفات کے لحاظ سے بھی رسول اللہ کو مسیحؑ پر بدرجہا فضیلت تھی۔ پس کوئی رنگ بھی لے لو اور کسی طریق پر بھی آپؐ کا مسیحؑ سے مقابلہ کر لو۔ آپؐ کی فضیلت مسیحؑ پر ثابت ہے۔ پس اگر کسی معنے میں کوئی خدا کا بیٹا کہلا سکتا ہے۔ تو وہ رسول اللہؐ ہیں نہ کہ مسیحؑ۔ علاوہ ازیں مسیحؑ نے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہا بھی نہیں بلکہ وہ تو ہمیشہ ابن آدم ہی کہلاتا رہا۔ ہاں اگر سمجھیں۔ خدا کے بیٹے کا لفظ اس نے اپنے لئے استعمال کیا بھی تو ان معنوں میں تو بہت سے آدمی خدا کے بیٹے ہیں۔ مثلاً کل یہودیوں کی نسبت توریت میں ہے کہ ”تب تو فرعون کو یوں کہیو کہ خداوند نے یوں فرمایا ہے کہ اسرائیل میرا بیٹا بلکہ پلوٹھا ہے“ (خروج ۴ آیت ۲۲) سو اس آیت سے تو کل بنی اسرائیل ہی خدا کے بیٹے بلکہ پلوٹھے معلوم ہوتے ہیں مسیحؑ کی خصوصیت ہی کیا ہے۔
اس کے بعد جو بات کفارہ کے مسئلہ پر روشنی ڈالتی ہے یہ ہے کہ آیا مسیحؑ صلیب پر لٹکایا جانے کے لئے خوش بھی تھا یا نہیں۔ اگر وہ ناراض تھا تو پھر کفارہ کا مسئلہ کسی طرح بھی صادق نہیں ہو سکتا۔ اور اس کے لئے ہم کو دور جانے کی ضرورت نہیں خود مسیحؑ کی اس وقت کی حالت کا بیان کافی ہو گا۔ چنانچہ متی ۲۶ آیت ۳۶ تا ۴۶ میں لکھا ہے کہ ”پھر یسوع ان کے ساتھ گتسمنی نام ایک مقام پر آیا۔ اور شاگردوں سے کہا یہاں بیٹھو جب تک میں وہاں جا کر دعا مانگوں تب اس نے پطرس اور زبدی کے دو بیٹے ساتھ لئے اور غمگین اور نہایت دلگیر ہونے لگا۔ تب اس نے ان سے کہا کہ میرا دل نہایت غمگین ہے بلکہ میری موت کی سی حالت ہے۔ تم یہاں ٹھہرو اور میرے ساتھ جاگتے رہو اور کچھ آگے بڑھ کر منہ کے بل گرا۔ اور دعا مانگتے ہوئے کہا کہ اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے گزر جائے تو بھی میری خواہش نہیں بلکہ تیری خواہش کے مطابق ہو“۔ پھر لوقا ۲۲ آیت ۳۹ تا ۴۶ میں ہے کہ ”اور وہ نکل کے اپنے دستور پر زیتون کے پہاڑ کی طرف چلا۔ اور اس کے شاگرد اس کے پیچھے ہو لئے اور اس جگہ پہنچے اس نے ان سے کہا دعا مانگو تاکہ آزمائش میں نہ پڑو اور اس نے ان سے تیر کے ایک ٹپے پر بڑھ کے گھٹنے ٹیک کر دعا مانگی۔ اور کہا کہ اے باپ اگر تو چاہے تو یہ پیالہ مجھ سے دور کر لے لیکن میری مرضی نہیں۔ بلکہ تیری مرضی کے موافق ہو اور آسمان سے ایک فرشتہ اس کو دکھائی دیا۔ جو اسے قوت دیتا تھا۔ اور وہ جانکنی میں پھنس کے بہت گڑگڑا کے دعا مانگتا تھا اور اسکا پسینہ لہو کی بوند کی مانند ہو کر زمین پر گرتا تھا۔ اور دعا سے اٹھ کر اپنے شاگردوں کے پاس آیا اور انہیں غم سے سوتے پایا۔ اور ان سے کہا کہ تم کیوں سوتے ہو؟ اٹھ کر دعا مانگو تاکہ آزمائش میں نہ پڑو“۔ اب ان دونوں حوالوں سے مندرجہ ذیل واقعات معلوم ہوتے ہیں۔
اول تو یہ کہ اس واقعہ کی اطلاع ملنے سے یسوع پر ایسا غم طاری تھا کہ اس کی حالت موت کی طرح ہو گئی تھی۔ دوم یہ کہ اس نے اپنے شاگردوں سے بڑے زور سے التجا کی کہ وہ اس کے لئے دعا کریں تاکہ وہ اس مصیبت سے بچ جائے۔ سوم یہ کہ وہ خود بھی بہت گریہ و زاری سے اس تلخ پیالہ کے ٹل جانے کی دعا کرتا رہا چہارم یہ کہ اس کی اپنی مرضی صلیب پر لٹکنے کی نہ تھی بلکہ مجبور تھا۔ اور خدا تعالیٰ کے حکم کے مقابلہ میں اس کا کچھ بس نہ چلتا تھا۔ پنجم یہ کہ اس کا درد یہاں تک بڑھ گیا کہ خدا تعالیٰ کو تسلی دینے کے لئے ایک فرشتہ نازل کرنا پڑا۔ ششم یہ کہ پھر بھی اس کی تسلی نہ ہوئی بلکہ اس نے دعا میں اس قدر زور لگایا کہ اس کا پسینہ خون کی طرح سرخ ہو کر بہنے لگا۔
ان سب باتوں کو غور سے دیکھو تو خود بخود کھل جائے گا کہ یسوع کا قطعاً منشاء نہ تھا کہ وہ صلیب پر لٹکایا جائے بلکہ اس خبر کو سن کر اس کے ہوش اڑ گئے اور صبر کا دامن ہاتھ سے جاتا رہا۔ اور ہلاکت کا خوفناک منظر اس کی آنکھوں کے آگے پھر گیا۔ اور زمین پاؤں کے تلے سے نکل گئی اور دنیا اندھیر ہو گئی۔ اور اس نے اس خیال سے کہ شاید اس کی نہیں تو اس کے مریدوں کی دعا ہی بارگاہ الٰہی میں سنی جائے ان سے التجا کی اور عاجزی سے درخواست کی کہ وہ اس کے لئے دعا کریں۔ کہ شاید وہ ابتلاء ٹل جائے۔ اور وہ مصیبت گزر جائے اور خود بھی اس حد تک دعا کی کہ شدت غم میں پسینہ کی جگہ خون بہنے لگا۔ تو جس شخص کا یہ حال ہو کہ وہ گھٹنوں کے بل گر گر کر اپنے بچائے جانے کی درخواست کرے اور گڑگڑائے اور روئے اور چلائے اور آسمان کو سر پر اٹھا لے اس کی نسبت کون عقلمند کہہ سکتا ہے کہ اس نے بنی نوع انسان کے گناہ اپنے سر پر اٹھا لئے اور خوشی سے صلیب پر چڑھ گیا۔ اگر یہی آثار خوشی کے ہوتے ہیں۔ تو جیل خانوں میں سینکڑوں آدمی ہر سال اسی خوشی سے جانیں دیتے ہیں۔
لوقا کا یہ لکھنا کہ اس کی تسلی کے لئے فرشتہ بھیجا گیا ظاہر کرتا ہے کہ یسوع کا غم کمال تک پہنچ گیا تھا۔ ورنہ خدا تعالیٰ کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ فرشتہ بھیجتا۔ کہ جو اس کے دل کو آکر سہارا دیتا۔ مگر
عجیب بات یہ ہے کہ باوجود فرشتہ کے تسلی دینے کے یسوع کا دل مطمئن نہ ہوا اور وہ برابر گھبراتا رہا۔ پس اگر واقعی وہ اپنی مرضی سے صلیب پر چڑھنے کے لئے اس دنیا میں آیا تھا تو یہ رنج اور یہ گھبراہٹ اور یہ گریہ و زاری کیونکر ہو سکتی تھی؟
پھر یسوع اپنی دعا میں یہ کہتا ہے کہ اے باپ جس طرح ہو یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے۔ مگر وہی ہو جو تیری مرضی ہو نہ کہ میری۔ صاف ظاہر کرتا ہے کہ یسوع کی مرضی تو یہی تھی کہ وہ صلیب پر نہ لٹکایا جائے۔ مگر حکم خداوندی کے آگے کچھ پیش نہ چلتی تھی۔ تب ہی تو کہتا ہے کہ باوجود میری اس خواہش کے کہ میں صلیب سے بچ جاؤں میں تیری مرضی پر صابر ہوں۔ پس اس سے نہ صرف یہی معلوم ہوتا ہے کہ یسوع خود صلیب پر نہ چڑھنا چاہتا تھا۔ بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ خدا باپ نے (نعوذ باللہ) اس کو زبردستی صلیب پر لٹکایا۔ اور اس کا ایسا کرنا صریحاً عدل کے خلاف تھا کیونکہ کسی معصوم اور بے گناہ کو زبردستی صلیب پر لٹکانا سخت ظلم ہے پس جس طریقہ سے مسیحی خدا کا عدل ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اسی سے اس کا ظلم ثابت ہوتا ہے اور خدا کی طرف ظلم کا منسوب کرنا خود ایک بڑا ظلم ہے۔
مگر سب سے بڑھ کر یسوع کے وہ کلمات ہیں جو کہ اس نے صلیب پر لٹکایا جانے کے وقت بار بار دہرائے اور وہ یہ ہیں کہ ایلی ایلی لما سبقتنی۔ یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ یہ کلمات ایسے توحید سے پر اور مایوسی میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ عقلمند انسان ان کو سن کر کبھی گمان نہیں کر سکتا کہ یسوع بھی خدائی کا شریک ہو سکتا تھا۔ اور پھر اگر وہ خوشی سے صلیب پر لٹکنا چاہتا تھا۔ تو وہ اس حد تک کیوں گھبرا جاتا۔ کہ خدا پر اپنے عہد کے ترک کر دینے کا الزام دیتا۔ اگر وہ مسیحی دنیا کے بچانے کے لئے ہی دنیا میں آیا تھا۔ تو جس دن اس نے سنا تھا کہ مجھے صلیب پر لٹکانے لگے ہیں۔ اس دن اسے بجائے غم کے خوشی ہونی چاہئے تھی۔ اور چاہئے تھا کہ وہ اپنے کل مریدوں کو اکٹھا کر کے جشن کرتا۔ اور اپنی عادت کے مطابق وہ سب لوگ مل کر خوب شرابیں پیتے۔ اور ناچتے اور گاتے کہ وہ مبارک دن اور بابرکت گھڑی اب قریب آگئی ہے کہ جس کے شوق میں یسوع آسمان کو چھوڑ کر اس زمین پر آیا تھا۔ اور مصلوب ہوتے وقت بجائے یہ کہنے کے کہ اے میرے خدا۔ اے میرے خدا۔ تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ اسے یہ کہنا چاہئے تھا۔ کہ اے میرے باپ۔ اے میرے باپ میں خوشی سے بنی نوع انسان کے لئے جان دیتا ہوں اور ان کے گناہ اپنے سر پر اٹھاتا ہوں۔ مگر وہ گھبراہٹ وہ آہ و زاری ظاہر کرتی ہے کہ جس کفارہ کو مسیحی صاحبان نجات کا ایک ہی ذریعہ قرار دیتے ہیں خود یسوع بھی اس سے ناواقف تھا۔
ان سب باتوں کے بعد یہ دیکھنا ہے کہ آیا یسوع صلیب پر فوت بھی ہوا تھا کہ نہیں اور چونکہ مسیحیوں کو قائل کرنے کے لئے سب سے بہتر ذریعہ اناجیل ہی ہیں اس لئے میں انہیں سے ہی روشنی ڈالتا ہوں۔ یسوع کی صلیبی موت قطعاً ثابت نہیں بلکہ صلیب پر سے بچ جانا ثابت ہے۔ متی باب ۲۷ میں ہے کہ جب یسوع حاکم کے سامنے لے جایا گیا تو اس نے اس سے بہت سے سوال کئے مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا اور اس پر حاکم بہت متعجب ہوا۔ مگر اس کا دستور تھا کہ ہر عید پر ایک قیدی کو یہودیوں کی خاطر چھوڑ دیتا تھا۔ اس نے یہودیوں سے پوچھا۔ میں کس کو چھوڑوں۔ برناباس کو جو ایک مشہور چور تھا یا یسوع کو۔ کیونکہ وہ سمجھ گیا تھا کہ یسوع حسد کی وجہ سے پکڑایا گیا تھا۔ یہودیوں نے برابا کو چھوڑنے کی درخواست کی۔ اتنے میں حاکم کی بیوی نے آدمی بھیجا۔ کہ خبردار اس نیک آدمی کو کچھ نہ کہنا کیونکہ میں نے آج رات کو اس کی وجہ سے بڑی تکالیف اٹھائی ہیں۔ اس لئے پیلاطوس نے پھر یسوع کو بچانے کے لئے کوشش کی۔ مگر یہودیوں نے نہ مانا تو اس نے ان سے پوچھا۔ کہ کیوں اس نے کیا بدی کی کہ میں اسے صلیب پر لٹکاؤں انہوں نے کچھ جواب نہ دیا اور یہی شور مچایا کہ نہیں اسے صلیب دو۔ تب اس نے سب یہودیوں کے سامنے ہاتھ دھوئے اور کہا کہ تم جو چاہو کرو۔ میں اس راستباز کے خون سے بری ہوں اور اسے یہودیوں کے سپرد کر دیا۔ جنہوں نے اسے جمعہ کے دن شام کے وقت صلیب پر لٹکا دیا اور ابھی تین گھنٹہ نہ گزرنے پائے تھے کہ ایک بڑا زلزلہ آیا اور اندھیرا چھا گیا اور چونکہ یہودی سبت کے دن کسی کو صلیب پر نہ رکھ سکتے تھے۔ اس لئے انہوں نے سب کو اتار لیا اور یوحنا کے بیان کے مطابق اس کے ساتھ جو دو چور صلیب پر لٹکائے گئے تھے ان کی ہڈیاں توڑی گئیں۔ مگر یسوع کی کوئی ہڈی نہ توڑی۔ اور ایک شخص نے جب ان کے پہلو کو چھیدا تو اس میں سے خون نکلا پھر جیسا کہ متی لکھتا ہے۔ یوسف آرمیتیایسوع کا ایک شاگرد پیلاطوس کے پاس گیا۔ اور اس سے اس کی لاش مانگی۔ مگر پلاطوس نے بموجب بیان مرقس کے متعجب ہو کر شبہ کیا۔ کہ کیا وہ ایسی جلدی مر گیا۔ اور اسے اس کے سپرد کر دیا اس نے اسے ایک مکان میں جا کر ڈال دیا۔ اور مریم مگدلینی وغیرہ دروازہ پر بیٹھی رہیں پھر یہودیوں کو شبہ ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ یسوع کے شاگرد اسے چرا کر لے جائیں۔ اور کہہ دیں کہ وہ زندہ ہو گیا اس لئے اپنے پہرہ دار مقرر کئے۔ مگر جب وہ گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ پتھر قبر پر سے ڈھلکا ہوا ہے۔ اور ایک آدمی نے مریم مگدلینی وغیرہ سے جو وہاں یسوع کے دیکھنے کو آتی تھیں کہا کہ یسوع تو اب یہاں نہیں ہے بلکہ چلا گیا ہے تم جا کر اس کے شاگردوں سے کہو کہ وہ گلیل میں تم کو ملے گا۔ غرض وہ وہاں گئیں اور گلیل میں سب شاگرد اکٹھے ہوئے اور یسوع بھی چھپتا ہوا وہاں پہنچا۔ مگر اس کے شاگردوں نے شک کیا۔ کہ شاید یہ اس کی روح ہے مگر بقول یوحنا کے اس نے تھوما سے کہا کہ وہ اس کے زخموں میں انگلیاں ڈال کر دیکھے کیونکہ روح میں ہڈی نہیں ہوتی۔ اور پھر ان کے ساتھ بیٹھ کر مچھلی اور روٹی اور شہد کھایا۔
اب ان تمام واقعات کو ملا کر دیکھو کہ کیا ان سے یسوع کی وفات ثابت ہوتی ہے یا اس کا بچ جانا ثابت ہے۔ حاکم وقت اس کو بچانا چاہتا تھا۔ اور اس کی بیوی نے خواب دیکھا تھا کہ اگر اس کو تکلیف پہنچی تو تمہاری خیر نہیں۔ اس کو یقین تھا کہ یسوع بے گناہ ہے۔ پھر جب وہ صلیب پر لٹکایا گیا ہے۔ تو جمعہ کا دن تھا اور شام کا وقت اور باوجود اس کے اندھیری آگئی۔ اور یہودی ڈرے کہ کہیں شام نہ پڑ گئی ہو۔ کیونکہ ان کے مذہب کے رو سے ہفتہ کے روز کسی کا صلیب پر لٹکانا عذاب کا محرک تھا پس انہوں نے اسے بموجب مختلف روایات کے اڑھائی گھنٹہ سے پانچ گھنٹہ تک لٹکایا۔ حالانکہ صلیب پر آدمی تین دن تک لٹک کر بھی زندہ رہتے تھے اور ہڈیاں توڑے جانے پر مرتے تھے۔ پھر مسیح دو تین گھنٹوں میں کیونکر مر گیا۔ پھر اس کے دو ساتھیوں کی تو ہڈیاں توڑی گئیں۔ اس کی ہڈیاں بھی توڑی نہ گئیں اور اس کا پہلو چھیدنے پر خون نکلا جو زندگی کی علامت ہے پھر اس کے شاگرد یوسف نے جھٹ پٹ اس کی لاش حاصل کرنے کی کوشش کی اور خود حاکم وقت کو شبہ ہوا کہ اتنی جلدی یسوع کیونکر مر گیا۔ لاش حاصل کر کے کسی تنگ قبر میں نہیں بلکہ ایک کمرہ میں رکھی تاکہ ہوا کا گزر رہے پھر یسوع ہوش آنے پر چھپ کر نکلا اور جلیل گیا اور خفیہ خفیہ ہی شاگردوں سے ملا اگر وہ مر کر زندہ ہوا تھا۔ اور اب پھر خدا ہو گیا تھا تو اسے چھپنے کی کیا ضرورت تھی۔ اور پھر خود یہودیوں کو شبہ تھا کہ وہ زندہ ہے۔ تبھی انہوں نے پہرہ مقرر کیا۔ غرض یسوع پر مسیحیوں کی طرح حواریوں نے بھی شبہ کیا کہ شاید کوئی روح ہے۔ مگر اسنے انہیں اپنے زخم دکھائے۔ اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔ اب ان سب واقعات کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ وہ مر گیا تھا۔ بلکہ ثابت ہے کہ وہ زندہ تھا۔ اور علاوہ ان واقعات کے تاریخی شہادت بھی ہے کہ یہودیوں نے اس کی تلاش کی اور وہ ان سے چھپتا ہوا کشمیر میں آیا۔ اور یہاں ایک سو بیس برس کی عمر پا کر فوت ہو گیا۔ اور خانیار محلہ میں اس کی قبر ہے اور میں نے خود دیکھی ہے چنانچہ میں نے اس کی نگہبان بڑھیا سے پوچھا کہ یہ کس کی قبر ہے تو اس نے کہا کہ عیسیٰ نبی کی جو کسی اور ملک سے آیا تھا۔ پھر میں نے جب اس سے سوال کیا۔ کہ مولوی تو کہتے ہیں کہ وہ آسمان پر زندہ چلا گیا تو کیونکر کہتے ہیں کہ وہ مر گیا۔ تو اس نے کہا کہ وہ تو پڑھے ہوئے ہیں میں ان کے مقابلہ میں کیا کہہ سکتی ہوں مگر بڑوں سے یونہی روایت آئی ہے۔ پھر خود مسیحؑ کا کہنا کہ میں اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں کے لئے آیا ہوں ظاہر کرتا ہے کہ اس کا کشمیر اور افغانستان میں آنا ضروری تھا۔ چنانچہ کشمیر میں اب تک بابل اور ہاروت ماروت کی قبریں موجود ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ یہ لوگ بنی اسرائیل کا بقیہ ہے۔ اور خود لفظ کشمیر جو اصل میں کسیر ہے اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ بنی اسرائیل ہی سے ہیں کشمیریوں سے پوچھ کر دیکھو کہ وہ کون ہیں۔ تو وہ یہی جواب دیں گے کہ کاشریعنی کشمیر کے رہنے والے۔ جس کے معنی ہیں کَ شِیر یعنی وہ ملک جو شام کی مانند ہے چنانچہ یروشلم کا علاقہ شیر یا سیر☆کہلاتا تھا پس عقلاً بھی اور نقلاً بھی یسوع کا وہاں آنا ثابت ہے۔ اور اس کا صلیب سے بچ رہنا یقینی۔ پس جب ثابت ہو گیا کہ یسوع صلیب سے زندہ اتر آیا تھا۔ اور مرا نہ تھا تو کفارہ خود باطل ہو گیا۔
جس قدر ثبوت میں نے کفارہ کے ابطال کے دیئے ہیں ان سے کافی طور سے ثابت ہو گیا ہے کہ کفارہ کا مسئلہ من گھڑت ہے۔ اور بائبل سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کیونکہ اول تو خدائے تعالیٰ کی توحید ثابت ہے اور تثلیث بے ثبوت ہے۔ پھر یہ ثابت نہیں کہ ایک سے زیادہ خدا اگر مان لئے جائیں تو وہ باپ بیٹا ہیں اور پھر اگر باپ بیٹا بھی ہیں تو مسیح ہی وہ بیٹا ہے کیونکہ اگر بیٹا ہونا ضروری ہو تو اور آدمی موجود ہیں کہ جو ہر طرح ابنیت کے یسوع سے زیادہ حقدار ہیں۔ اور اگر یسوع کو بیٹا مان بھی لیا جائے تو یہ ثابت نہیں کہ اس نے خوشی سے صلیب پر لٹکایا جانا پسند بھی کیا تھا تو اس کا صلیب پر مرنا ثابت نہیں بلکہ صلیب سے صاف بچ کر کشمیر کی طرف چلا جانا ثابت ہے۔ لیکن اب میں کفارہ کے متعلق اور چند اعتراضات پیش کرتا ہوں کہ جن سے کفارہ کے خیال کی کمزوری ثابت ہوتی ہے۔
اوّل یہ کہ بائبل میں ہے کہ جو کاٹھ یعنی صلیب پر لٹکایا جائے گا وہ لعنتی موت مرے گا۔ اور خدا سے دور ہو گا پس کیونکر ممکن ہے کہ ایک شخص کی نسبت جو خدا کا بیٹا بھی مانا جائے یہ بات کہی جائے کہ ایک وقت اس پر ایسا آیا تھا کہ وہ خدا سے دور ہو گیا تھا کیونکہ خدا سے دور ہونا دل سے تعلق رکھتا ہے۔ اور جب ایک شخص خداتعالیٰ سے غافل ہو جائے اور اس سے نفرت کرنے لگے۔ تو کہا جاتا ہے کہ وہ خدا سے دور ہے یا لعنتی ہے پس یسوع کی نسبت کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ کسی وقت اسے خدا سے نفرت ہوگئی تھی اور وہ اس سے دور ہو گیا تھا حالانکہ جھوٹے نبیوں کی نسبت پیشگوئی تھی کہ وہ تو کاٹھ پر لٹکائے جائیں گے مگر سچوں کے ساتھ ایسا سلوک کبھی نہ ہو گا۔ پس اگر یسوع کاٹھ پر مر گیا تھا تو کفارہ تو کفارہ خود یسوع کی نبوت تک ثابت نہیں ہوتی۔
دوم یہ کہ کفارہ کو مان کر بھی خدائے تعالیٰ کی عدالت ثابت نہیں رہتی۔ کیونکہ کیسے ظلم کی بات ہے کہ اگر ایک کمزور مخلوق یعنی انسان گناہ کرے تو اسے ابد الآباد کے لئے جہنم میں ڈالا جاتا ہے اور اپنے بیٹے کو باوجود اس کے کہ اس کے سر پر کروڑوں گناہ ہیں تین دن کے لئے دوزخ میں رکھا جاتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ خدا تھا اور غیر محدود تھا اس لئے اسے تین دن کی سزا دی گئی تو اس پر یہ الزام آتا ہے کہ پھر خدا محدود ہو جاتا ہے۔ کیونکہ غیر محدود کے ساتھ محدود کو کوئی نسبت نہیں ہو سکتی اور جب دو چیزوں میں نسبت ہو گی ۔ تو وہ ضرور محدود ہوں گی۔ کبھی کسی نے حساب میں یہ سوال نہ دیکھا ہو گا کہ اگر کسی محدود چیز کو اس قدر کام کے بدلہ میں اتنا بدلہ دیا جائے ۔ تو غیر محدود ہستی کو اپنے ہی کام کے بدلہ میں کتنا دیا جائے گا۔ پس اس صورت میں یسوع کو تین دن کیا ایک سیکنڈ کی بھی سزا نہیں مل سکتی تھی اور اگر یہ کہا جائے کہ گو نسبت تو کوئی نہیں بیٹھی مگر علیٰ الحساب سزا دیدی گئی تھی تو یہ ظلم ہے پس یسوع کو تین دن تک سزا کا ملنا ممکن ہی نہیں اگر ممکن ہو بھی تو ظلم ہے۔
سوم یہ کہ یسوع کو جو تین دن تک دوزخ کی سزا ملی تو یہ خدا بیٹے کو سزا ملی تھی یا یسوع انسان کو اگر بیٹے کو سزا ملی تھی تو خدا میں تقسیم لازم آتی ہے۔ یعنی اگر تین خدا ہیں تو ان دنوں میں دو رہ گئے تھے اور اگر ایک ہیں تو اس کا ۲/۳ حصہ رہ گیا تھا۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ سزا یسوع انسان کو ملی تھی تو پھر وہی اعتراض پڑتا ہے کہ اس صورت میں اسے صرف تین دن کی سزا دینا مسیحیوں کے اعتقاد کے مطابق ظلم تھا۔ اور دوسرے ایک دھوکہ تھا کیونکہ جب واقعہ میں خدا بیٹا خدا باپ کے پاس موجود تھا۔ تو پھر اس نے ایک خاک کا پتلا بنا کر اس کا نام اپنا بیٹا رکھ دیا اور اسے صلیب دے کر اپنے عدل کو قائم رکھنے کی کوشش کی جو صریح دھوکہ ہے۔
چہارم کفارہ کا عقیدہ خلاف عقل ہے کیونکہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ زید کے پیٹ میں درد ہو اور عمر اپنی پسلی میں چھری مار لے۔ اور زید اچھا ہو جائے۔
پنجم اگر کفارہ سچا ہے تو پہلے نبیوں کا کیا حشر ہو گا کہ جو توحید کے قائل تھے اور انہیں یسوع کے کفارہ پر ایمان لانے کا موقعہ نہیں ملا اگر وہ کفارہ پر ایمان لائے بغیر نجات پاسکتے تھے تو ہم کیوں نہیں پا سکتے اور کیا نئی ضرورت پیدا ہوئی تھی کہ یسوع کو صلیب پر لٹکانا پڑا۔ پہلے نبی بڑے زور سے توحید باری کے قائل تھے پس وہ کفارہ کے قائل کس طرح ہو سکتے تھے اور حضرت یوسفؑ سے جب ان کے بھائیوں نے کہا کہ بن یامین کے بدلہ میں ان کو قید کرے تو اس نے انکار کیا اور کہا کہ یہ ظلم ہے اگر کفارہ درست تھا تو انہوں نے کیوں نہ بدلہ منظور کر لیا۔
ششم۔ اس وقت کی مسیحی سلطنتیں کیوں کفارہ پر عمل کر کے ایک کے بدلے میں دوسرے آدمی کو پھانسی نہیں دے دیتیں۔ کیونکہ اگر وہ اس کو جائز رکھیں تو ہزاروں آدمی روپیہ کے زور سے اپنے قائم مقام دے دیں اور خود کو سزا سے بچائیں۔
ہفتم۔ کیا وجہ ہے کہ مسیحی گورنمنٹیں مسیحیوں کو سزا دیتی ہیں کیونکہ جب ان کے گناہ معاف ہو چکے ہیں تو اب وہ جو چاہیں کریں ان پر کوئی الزام نہیں۔ اور اگر باوجود کفارہ پر ایمان لانے کے انسان کے لئے گناہوں سے بچنا لازمی ہے تو کفارہ کا فائدہ کیا ہوا پھر تو کفارہ بالکل بے سود ہے اور دوسرے کفارہ کے مسئلہ کی ضرورت تو تب پڑی جبکہ مان لیا گیا کہ انسان گناہوں سے نہیں بچ سکتا۔ اس لئے اس کی نجات کے لئے یسوع صلیب پر لٹکایا گیا۔ پس اگر کفارہ کے ساتھ نیک اعمال کی شرط لگی ہوئی ہے تو نجات محال ہے کیونکہ مسیحی عقائد کے رو سے انسان گناہوں سے بچ ہی نہیں سکتا۔ پس جب انسان نے ضرور گناہ کرنے ہیں اور کفارہ نے اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں پہنچانا جب تک اعمال نیک نہ ہوں تو نجات ناممکن ہو گئی اور اگر کہا جائے کہ کفارہ پر ایمان لانے سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں تو پھر مسیحی مجرم کو سزا دینا نا جائز ہوا۔ بلکہ اگر وہ گندہ سے گندہ فعل بھی کرے تو اسے تسلی دینی چاہئے کہ تو نے بہت عمدہ کیا تیرے سب گناہ یسوع نے اٹھائے ہیں تو اب ناجی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ جب انسان کفارہ پر ایمان لاتا ہے تو وہ گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے تو یہ بالکل جھوٹ ہے کیونکہ مسیحی ممالک کے حالات اظہر من الشمس ہیں۔ اور یوروپین تہذیب کے واقف خوب جانتے ہیں۔ دوسرے بفرض محال اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ مسیحیوں نے کبھی گناہ نہیں کیا تو یہ اعتراض پڑتا ہے کہ جب مسیحی گناہ کرتے ہی نہیں تو پھر یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ مسیح نے ہمارے گناہ اٹھا لئے جب گناہ ہی نہ ہوئے تو پھر اٹھایا کیا۔
غرض کوئی پہلو ہی لے لو کفارہ کا مسئلہ غلط ہی ثابت ہوتا ہے اور عقل سے بالا نہیں بلکہ اس کے خلاف ہے۔ پس جو طریق کہ مسیحی مذہب نے گناہوں سے نجات حاصل کرنے کا بتایا ہے۔ بالکل باطل اور بیہودہ ہے اور کوئی ذی عقل اس طریق سے اپنے گناہوں کی معافی کا امیدوار نہیں ہو سکتا۔✱
(منقول از تشحیذ الاذہان)
از
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
فرعون کا حال قرآن شریف میں پڑھ کر اکثر لوگ تو یہی سمجھتے ہیں کہ یہ بھی کسی خاص بادشاہ کا نام تھا۔ مگر اصل یہ ہے کہ جیسے چین کے بادشاہ فغفور، ایران کے کسریٰ، روم کے قیصر، جاپان کے میکاڈو اور روس کے زار کہلاتے ہیں۔ اسی طرح مصر کے بادشاہ اور صاحب تخت کو فرعون کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ اس لئے جیسے حضرت یوسفؑ کے وقت میں فرعون حکمران تھا۔ اسی طرح حضرت موسیٰؑ کے زمانہ میں بھی اسی کی حکومت تھی لیکن یہ فرق ضرور ہے کہ وہ فرعون یوسف تھا اور یہ فرعون موسیٰ اس نے تو ایک نبی کی عزت و اکرام کر کے اپنے ملک کو قحط کی مصیبت سے بچا لیا اور اس نے ایک نبی کی ہتک کر کے اپنا ملک اور دولت دونوں کو ویران اور برباد کر وایا اس نے تو حضرت یوسفؑ اور ان کے بھائیوں کو بلا کر بڑے آرام سے رکھا اور اس نے اس مہمان کے بیٹے بڑی بے دردی سے قتل کروائے پس فرعونِ یوسف اور فرعونِ موسیٰ میں زمین و آسمان کا فرق ہے وہ بالا بخت تھا یہ کم بخت۔
یہ یقینی طور سے تو نہیں بتایا جاسکتا کہ فرعونِ یوسف اور فرعونِ موسیٰ میں کتنے بادشاہ گزرے ہیں مگر پھر بھی اندازاً کہا جا سکتا ہے کہ چودہ پندرہ تو گزرے ہی ہوں گے۔ کیونکہ بنی اسرائیل نے مصر کی سرزمین میں قریباً دو صدیاں گزار دی تھیں اس عرصہ میں بنی اسرائیل نے خوب ترقی کی اور معدودے چند انفاس سے ہزاروں کی تعداد کو پہنچ گئے۔ اس لئے فراعنہ ان سے کسی قدر خائف رہنے لگے جس کا نتیجہ ہوا کہ ان پر طرح طرح کے ظلم ہونے شروع ہو گئے۔ فراعنہ (فرعون کی جمع) کے ان سے ڈرنے کی ایک یہ وجہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ خود فراعنہ بھی مصر کے اصلی باشندے نہ تھے☆بلکہ مشرق سے جا کر اس ملک پر قابض ہو گئے تھے اور یہ بنی اسرائیل اہلِ عرب کی طرح سامی النسل تھے۔ چنانچہ حضرت ابراہیمؑ کے خاندان کا اس ملک سے خاص تعلق بھی اس خیال پر کچھ روشنی ڈالتا ہے۔ پس ان کو ہر وقت خیال رہتا تھا کہ ایسا نہ ہو کوئی قوم زبردست ہو کر اصل باشندوں سے یا کسی اور قوم سے مل کر ہم کو اس ملک سے نکال دے۔ پس جب بنی اسرائیل کی بڑھتی ہوئی طاقت انہوں نے دیکھی تو ارادہ کیا کہ کسی طرح اس کو روکا جائے۔ چنانچہ انہوں نے بنی اسرائیل کو طرح طرح کے دکھ دینے شروع کئے۔ اور علاوہ ان کے بچے قتل کرنے کے کل کی کل قوم سے اینٹیں پاتھنے کا کام لینا شروع کیا اور ان کے مشغول رکھنے کے لئے دو شہر فسّوم اور رَعمسیس تیار کروانے شروع کر دیئے۔ جن میں سے مؤخر الذکر شہر اس وقت کے فرعون کے نام پر تھا اس شخص کا بیٹا منفتاح وہ مشہور شخص ہے جس نے ایک نبی کی مخالفت کر کے اپنا ہی نہیں بلکہ اپنے باپ دادوں کا نام بھی بدنام کر دیا کیونکہ بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک بڑھی کہ ”ہر فرعون را موسیٰ“ کی مثل نے تو گویا ہر ایک فرعون کو ظالم و خود سر ہی قرار دے دیا۔ یہ شخص بڑا متکبر تھا۔ اور اسے بھی اپنے باپ کی طرح عمارتیں بنانے کا بہت شوق تھا۔ جس کا ایک باعث تو یہ تھا کہ بنی اسرائیل کام میں لگے رہیں دوسرے اس وقت ارد گرد کے بادشاہوں سے صلح ہونے کی وجہ سے اسے فرصت بھی بہت تھی اور تیسرے اس خاندان میں عمارتیں بنوانے کا شوق مدتوں سے چلا آیا تھا۔ چنانچہ لفظ فرعون بھی اصل میں پَر آو اور اَو سے مرکب ہے جس کے معنے ہیں ”بڑا مکان“ اول تو یہ لفظ صرف مکانوں پر ہی بولا جاتا تھا لیکن غالباً آخر میں شاہی قلعہ کی عظمت کو دیکھ کر اسی کے لئے یہ لفظ مخصوص ہو گیا اور شاہی قلعہ کے بعد خود بادشاہ پر یہ لفظ بولا جانے لگا۔ چنانچہ اس وقت بھی اس کی ایک مثال ہے۔ اعلٰی سلطانِ روم کے وزراء کو بابِ عالی کہتے ہیں۔ غرض یہ کہ امن کی زندگی، خاندانی شوق اور پھر بنی اسرائیل کو کام میں لگائے رکھنے کے خیال نے فرعون منفتاح کو بھی عمارتوں کی تعمیر کی طرف متوجہ رکھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل میں بڑی کمزوری اور پست ہمتی پھیل گئی اور ان کے دل فرعون کے ڈر سے مرعوب ہو گئے۔ چنانچہ قرآن شریف میں ہے قَالَ اَصۡحٰبُ مُوۡسٰۤی اِنَّا لَمُدۡرَکُوۡنَ(الشعراء: ۶۲) حالانکہ ناامیدی اور مجبوری کمزور سے کمزور انسان کو مقابلہ پر ابھار دیتی ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل اس وقت ایسے پست ہمت ہو گئے تھے کہ ان میں ایسے موقعہ پر بھی جرأت دکھانے کی جرأت باقی نہ تھی۔
جب یہ حالت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان وعدوں کے مطابق جو حضرت ابراہیمؑ سے ان کی اولاد کے متعلق کئے تھے ایک شخص کو پیدا کیا۔ جس کا نام اس کے والدین نے موسیٰؑ رکھا۔ موسیٰؑ کی پیدائش کے وقت بچوں کے قتل کا حکم ظالم بادشاہ کی طرف سے عام ہو رہا تھا۔ ان کی والدہ بھی خائف تھیں کہ کوئی گھڑی میں یہ بچہ بھی ظالموں کے ہاتھ سے قتل کیا جائے گا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے بموجب آیت شریفہ وَاَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰۤی اُمِّ مُوۡسٰۤی اَنۡ اَرۡضِعِیۡہِ ۚ فَاِذَا خِفۡتِ عَلَیۡہِ فَاَلۡقِیۡہِ فِی الۡیَمِّ وَلَا تَخَافِیۡ وَلَا تَحۡزَنِیۡ ۚ اِنَّا رَآدُّوۡہُ اِلَیۡکِ وَجَاعِلُوۡہُ مِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ(القصص: ۸) (اور ہم نے وحی کی والدہ موسیٰؑ کی طرف کہ اس کو دودھ پلا اور جب تو ڈرے اس کی جان کے متعلق تو اسے دریا میں ڈال دے اور ڈر نہیں اور نہ غم کھا میں اسے تیری طرف واپس لاؤں گا۔ اور رسولوں کی جماعت میں داخل کروں گا) انہیں اللہ تعالیٰ نے ظالموں کے ہاتھوں سے بچالیا۔ پھر یہ ہوا کہ دریا کے کنارے پر ان کو فرعون کی لڑکی نے دیکھا اور اس کو ان پر رحم آیا۔ ان کو نکال کر پالنے کا ارادہ کیا جیسا کہ قرآن شریف میں ہے۔ فَالۡتَقَطَہٗۤ اٰلُ فِرۡعَوۡنَ لِیَکُوۡنَ لَہُمۡ عَدُوًّا وَّحَزَنًا ؕ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَہَامٰنَ وَجُنُوۡدَہُمَا کَانُوۡا خٰطِئِیۡنَ(القصص: ۹) یعنی اسے اٹھا لیا فراعنہ کی اولاد میں سے کسی نے تاکہ ہو ان کے لئے دشمن اور غم کا باعث۔ تحقیق فرعون اور ہامان اور ان کا لشکر خطا کار تھے۔ فرعون نے مارنا چاہا لیکن بیٹی کی دلجوئی یا کسی اور غرض کے لئے اس کی بیوی شفیع ہوئی اور ان کو بیٹا بنا لینے کا ارادہ ظاہر کیا اور قتل سے روکا۔ چنانچہ قرآن شریف میں ہے وَقَالَتِ امۡرَاَتُ فِرۡعَوۡنَ قُرَّتُ عَیۡنٍ لِّیۡ وَلَکَ ؕ لَا تَقۡتُلُوۡہُ ٭ۖ عَسٰۤی اَنۡ یَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّخِذَہٗ وَلَدًا وَّہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ(القصص: ۱۰) دودھ پلانے کے لئے آپ کی والدہ ہی مقرر ہوئیں۔ اس لئے بچپن ہی سے آپ کو فراعنہ اور بنی اسرائیل کے تعلقات کا حال معلوم ہوتا رہا۔ اور خوب اچھی طرح ذہن نشین ہو گیا کہ اس وقت ان کی حالت جانوروں سے بدتر ہے۔ بڑے ہوئے تو شہزادگی کی زندگی بسر کرنے کی وجہ سے قوی خوب مضبوط اور خیالات عالی تھے۔ مظلوموں کی مدد پر ہر وقت تیار رہتے۔ ایک دفعہ دیکھا کہ ایک عبری سے ایک فرعونی لڑ رہا ہے۔ آپ سے اس کا ظلم نہ دیکھا گیا۔ بڑھ کر اس فرعونی کو مکا مارا اور اتفاقاً وہ
ایسے مقام پر لگا کہ وہ مر گیا۔ دوسرے دن پھر دو شخصوں کو لڑتے دیکھا جن میں سے ایک وہی کل والا عبرانی تھا۔ آپؑ نے فرمایا کہ تو بڑا شوخ ہے، روز لڑائی کرتا ہے۔ یہ کہہ کر ان دونوں کی طرف لپکے۔ اس نے سمجھا مجھے بھی مارنے آتے ہیں۔ بول اٹھا کہ آپؑ نے جیسے کل فلاں کو مارا تھا آج مجھے بھی مارنا چاہتے ہیں آپؑ سمجھے کہ اب بات کھل گئی اور فراعنہ سے لڑائی کی ابتدا ہو گئی مصر کو چھوڑ کر ایک اور ملک میں آگئے جہاں قریباً دس سال رہے اور اللہ تعالیٰ کا حکم پا کر ملک مصر میں واپس آئے۔ راستہ میں فرعون کی ہدایت کا کام سپرد ہوا۔ اب یہ وہ فرعون نہ تھا جس کے عہد میں یہ بھاگے تھے۔ بلکہ رمسیس کے بعد اس کا بیٹا منفتح بیٹھاتھا۔ چنانچہ حضرت موسیٰؑ اس کے پاس پیغامِ الٰہی لیکر پہنچے اور حکم الٰہی کے ماتحت بڑی نرمی سے عرض کیا کہ آپ کے رب کی طرف سے ہم رسول ہیں کہ آپ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دیں۔
یہ کل واقعہ قرآن شریف میں یوں ہے قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنۡ یَّفۡرُطَ عَلَیۡنَاۤ اَوۡ اَنۡ یَّطۡغٰی قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیۡ مَعَکُمَاۤ اَسۡمَعُ وَاَرٰی فَاۡتِیٰہُ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلَا رَبِّکَ فَاَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ۙ وَلَا تُعَذِّبۡہُمۡ ؕ قَدۡ جِئۡنٰکَ بِاٰیَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکَ ؕ وَالسَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الۡہُدٰی اِنَّا قَدۡ اُوۡحِیَ اِلَیۡنَاۤ اَنَّ الۡعَذَابَ عَلٰی مَنۡ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی قَالَ فَمَنۡ رَّبُّکُمَا یٰمُوۡسٰی قَالَ رَبُّنَا الَّذِیۡۤ اَعۡطٰی کُلَّ شَیۡءٍ خَلۡقَہٗ ثُمَّ ہَدٰی(طٰہٰ: ۴۴-۵۱) یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام و ہارونؑ کو فرمایا کہ تم دونوں فرعون کی طرف جاؤ کہ وہ سرکش ہو رہا ہے۔ پس دونوں اس سے بڑی نرم باتیں کرو تاکہ وہ ان پر عمل کرے اور ڈرے۔ ان دونوں نے عرض کیا کہ اے ہمارے رب ہم تو ڈرتے ہیں کہ وہ ہمارے معاملہ میں زیادتی سے کام نہ لے اور حضور کے پیغام کے مقابل سرکشی کام میں نہ لائے۔ فرمایا کہ تم اس بات سے خوف مت کرو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں پس اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تیرے رب کی طرف سے رسول ہیں۔ پس تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے اور انہیں عذاب مت دے۔ ہم تیرے پاس دلائل بھی لائے ہیں جو تیرے رب کی طرف سے ہیں اور سلامت وہی رہتا ہے جو ہدایت کے پیچھے چلے۔ ہماری طرف وحی کی گئی ہے کہ جو جھٹلائے یا منہ پھیرے اس کے لئے عذاب ہو گا (فرعون نے ان کی بات کی کچھ پرواہ نہ کی اور بحث شروع کر دی) اس نے کہا کہ اے موسیٰ تمہارا رب کون ہے (وہ حضرت ہارونؑ کی طرف مخاطب بھی نہیں ہوا معلوم ہوتا ہے۔ وہ ان کو نعوذ باللہ بہت حقیر جانتا تھا۔ لیکن حضرت موسیٰؑ چونکہ قلعہ میں
رہتے رہے تھے اور اِس کے بھائیوں کی طرح پرورش پاتے رہے تھے اس لئے ان کو مخاطب کیا) آپؑ نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور پھر اسے راہ دکھائی۔
اس مباحثہ کے بعد آپس میں اور جھگڑے ہوتے رہے لیکن فرعون نے قطعاً اس کی پرواہ نہ کی اور بنی اسرائیل کو دکھ دہی اور ایذاء رسانی میں بڑھتا گیا اور یہاں تک بڑھا کہ بنی اسرائیل چلّا اٹھے کہ اے موسیٰؑ تیرے آنے سے تو ہمارے دکھ اور بھی بڑھ گئے ہیں آخر معاملہ جب حد سے بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو حکم دیا کہ اب ملک مصر سے راتوں رات نکل بھاگو۔ چنانچہ وہ ایک رات مصر سے چلے اور شام کا رستہ لیا۔ خشکی کا راستہ جس میں آجکل نہر سویز نکالی گئی ہے دور تھا۔ جلدی میں سمندر کے ساحل کی راہ لی اتنے میں فرعون منفتاح کو خبر ہو گئی وہ پیچھے بھاگا اور کنارہ سمندر پر ان کو جالیا۔ بنی اسرائیل تو گھبرا گئے لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم سے موسیٰؑ نے ان کو سمندر میں گھس جانے کا حکم دیا۔ پانی پھٹ گیا۔ اور وہ بیچ میں سے صاف نکل گئے۔ فرعون کو بھی یہ نظارہ دیکھ کر دلیری پیدا ہوئی۔ اور وہ بھی مع لشکر اندر گھس گیا۔ لیکن ایک دفعہ گھسنے کے بعد پھر باہر نکلنا نصیب نہ ہوا۔ ایک ہی لہر سی آئی کہ اسے مع لشکر کے بہا کر لے گئی۔ قرآن شریف میں آتا ہے کہ اس موقعہ پر اس نے کہا کہ اٰمَنۡتُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیۡۤ اٰمَنَتۡ بِہٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِیۡلَ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ(یونس: ۹۱) یعنی میں ایمان لے آیا کہ کوئی معبود نہیں سوائے اس کے کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے۔ اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں لیکن یہ وقت توبہ کا نہ تھا۔ بہت سے ایسے مواقع توبہ کے ملے پر اس نے قدر نہ کی ہر دفعہ شرارت میں ترقی ہی کی۔ پس جب عذاب آہی گیا۔ اور پانی نتھنوں سے نیچے اتر گیا تو اب توبہ کا کون سا موقعہ تھا۔ اس لئے فرماتا ہے۔ کہ آٰلۡـٰٔنَ وَقَدۡ عَصَیۡتَ قَبۡلُ وَکُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ فَالۡیَوۡمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَکَ اٰیَۃً ؕ وَاِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ(یونس: ۹۲-۹۳) یعنی اب تو توبہ کرتا ہے اور پہلے نافرمانیاں کر چکا ہے۔ اور فسادیوں کے گروہ میں شامل رہا ہے۔ پس آج کے دن ہم تیرے بدن کو نجات دیں گے۔ تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لئے نشان ہو اور لوگوں میں سے اکثر ہماری نشانیوں سے غافل ہیں اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کی لاش غرق ہونے سے بچ گئی بلکہ سمندر کے باہر جا پڑی اور اس کے لشکریوں نے اسے اٹھا کر دفن کیا۔ یہ ایک ایسا دعویٰ ہے کہ جس کا وجود قرآن شریف کے سوا اور کہیں نہیں پایا جاتا۔ نہ توریت میں کہیں اس کا ذکر ہے نہ انجیل میں اور نہ انبیاءؑ کی کتب میں۔ لیکن یہ ثابت کرنا کہ آج سے تین ہزار سال پہلے ایک شخص کی لاش دریا سے نکلی تھی یا نہیں؟ بہت مشکل تھا۔ مگر جو
کچھ خدا تعالیٰ فرمائے اس کے سچا ہونے میں بھی کچھ کلام نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے یہ سامان بنا دیا کہ اس زمانہ میں جبکہ ہر ایک علم کی ترقی ہو رہی ہے۔ آثارِ قدیمہ کی تحقیقات کا شوق بھی بہتوں کو لگا ہوا ہے ایسے لوگوں میں سے بعض آدمی مصر کے آثارِ قدیمہ کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ انہیں میں سے ایک شخص مسٹر لاریٹ نے مقابرِ فراعنہ میں ۱۸۹۸ء میں ایک بادشاہ کو تابوت میں پڑا پایا۔ اور جو کچھ اس پر لکھا ہوا تھا اسے پڑھ کر معلوم کیا کہ یہ ”خون اتن“ بادشاہ کی لاش ہے۔ لیکن چونکہ ”ہیر غلیف“ خط میں اکثر دھوکا ہو جاتا ہے۔ اس لئے مسٹر جروف کے سامنے اس نے یہ معاملہ پیش کیا جس نے اس لفظ کو ریان با پڑھا۔ دونوں کے تنازعہ کو دور کرنے کے لئے ہیرو کو بلایا گیا۔ اور اس کے ساتھ اور علماء بھی تھے جب انہوں نے وہ حروف دیکھے تو فوراً بول اٹھے کہ ”یہ ریان با ہے۔ ریان با موسیٰ کا فرعون تھا۔“ اس تابوت کو اور کھولا گیا۔ تو اس پر منفتح بھی لکھا ملا۔ جو فرعونِ موسیٰ کا دوسرا نام تھا۔ اب تو سب کو یقین ہو گیا کہ یہ وہی ہے فوراً وہ لاش قاہرہ دار الخلافہ مصر میں لائی گئی۔ اور وہاں کے عجائب خانہ کے ایوانِ قیصری میں رکھی گئی جس میں کہ اور بہت سے بادشاہوں اور بیگمات کی لاشیں رکھی گئی ہیں اس تحقیقات سے زمانہ قدیم کے آثار کے متلاشیوں کو تو جو خوشی ہوئی ہو گی وہ سمجھ میں آ ہی سکتی ہے مگر مسلمانوں کے لئے تو اس تحقیقات نے بڑی بڑی خوشیوں کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ کیونکہ جو بات آج سے تیرہ سو سال پہلے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی۔ وہ آج پایۂ صداقت کو پہنچ رہی ہے کیونکہ جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں فرعون کے جسم کے محفوظ رہنے کی خبر سوائے قرآن شریف کے اور کسی کتاب میں نہیں ہے پس آج اس لاش نے نکل کر اسلام کی سچائی پر ایک بیّن دلیل قائم کر دی ہے کہاں تین ہزار سال کا مردہ اور کہاں اس کی نسبت یہ بتا دینا کہ یہ آنے والی قوموں کے لئے ہدایت کا باعث ہو گا۔ کچھ کم تعجب کی بات نہیں۔ یہ لاش عمدگی سے مسالہ لگی ہوئی ہے☆اور فرعون کی شکل اچھی طرح سے پہچانی جاتی ہے اور بہت سی علامتیں جن کا ذکر کتبِ تواریخ میں تھا اس میں پائی جاتی ہیں اس کی تصویر بھی بعض اخباروں میں چھپی ہے لیکن وہ ہمیں دستیاب نہیں ہو سکی اس لئے یہاں نہیں دی جا سکتی۔ ورنہ اگر کہیں سے مل جاتی۔ تو ہم کو بڑی خوشی ہوتی کہ ہم اس کو بھی شائع کر دیتے تا کہ لوگ دیکھتے کہ یہ وہ شخص ہے جو آج سے تین ہزار سال پہلے سمندر میں غرق ہوا تھا اور جس کی
نسبت قرآن شریف میں بتایا گیا تھا کہ اس کی لاش بچ گئی ہے اور محفوظ رکھی ہوئی ہے اور یہ کہ ایک زمانہ میں وہ مل بھی جائے گی۔ اور لوگوں کے لئے عبرت کا باعث ہو گی۔ اور اس طرح ایک پیشگوئی میں گویا پانچ باتیں بتائی گئی تھیں۔
اول تو یہ کہ فرعون کی لاش سمندر میں بہہ نہیں گئی بلکہ وہ سلامت باہر پہنچ گئی کیونکہ سمندر میں ڈوبنے والے کا اکثر تو یہی حال ہوتا ہے۔ کہ یا تو اسے جانور کھا جاتے ہیں اور یا وہ دور دراز بہہ جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ بلا کسی قسم کے نقص کے کنارہ پر لگادی گئی تھی۔
دوسری بات یہاں سے یہ معلوم ہوئی کہ اس کو مسالہ بھی لگایا گیا تھا۔ کیونکہ یہ بھی ممکن تھا کہ اسے مسالہ نہ لگایا جاتا۔ جیسا کہ اس فرعونِ منفتناع کے باپ رعمسیس کی لاش کو مسالہ نہیں لگایا گیا تھا۔ کیونکہ وہ کوڑھ کی وجہ سے بہت گل گیا تھا اور اسی طرح یہ ضروری نہ تھا کہ ہر ایک بادشاہ کی لاش کو مسالہ لگایا جائے۔ پس آیت قرآن شریف کے اس حصہ یعنی لِتَکُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَکَ اٰیَۃً(10:93) سے صاف ثابت ہے کہ اسے مسالہ بھی لگایا جائے گا۔ کیونکہ اگر مسالہ نہ لگایا جاتا تو وہ اس وقت تک گل سڑ جاتی ہم تک پہنچتی ہی کیونکر۔
تیسرے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ آخر زمانہ تک محفوظ بھی رہے گی۔ کیونکہ یہ بھی کچھ ضروری نہیں کہ سب مسالہ والی لاشیں آج تک محفوظ رہیں۔ ہزاروں لاکھوں لاشیں تھیں جو مسالہ دار تھیں لیکن ضائع ہو گئیں۔ کیونکہ ایک زمانہ مصر میں ایسا آیا ہے کہ جو رات کو شمع کی بجائے مسالہ دار لاشوں کے ٹکڑے جلاتے تھے۔ کیونکہ وہ ایسی عمدہ جلتی ہیں کہ جیسے کافوری شمع اور اور بھی کئی ذریعے ہیں جن سے وہ ضائع ہو سکتی ہیں۔ پس اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا تھا کہ وہ لاش ہر قسم کی مہلک چیزوں سے بچ کر پچھلے لوگوں تک پہنچ بھی جائے گی۔
چوتھے یہ معلوم ہوا کہ نہ صرف وہ محفوظ رہے گی بلکہ وہ مل بھی جائے گی کیونکہ اگر کسی کھوہ یا غار میں پڑی رہتی تو لوگوں کے لئے کس نفع کا باعث ہو سکتی تھی۔
پانچویں یہ کہ وہ مل کر پہچانی بھی جائے گی کیونکہ ”نشان“ تبھی ہو سکتی تھی کہ اگر اس کی شناخت بھی ہو جاتی۔ اگر بالفرض وہ مل بھی جاتی۔ مگر اس کی شناخت نہ ہوتی۔ تب بھی اس میں نقص رہ جاتا۔
پس اس ایک آیت میں پانچ آیتیں ہیں جو قرآن شریف کی سچائی کی دلیل ہیں اور مومنوں کے لئے ازدیادِ ایمان کا باعث ہیں۔
پس اس لاش پر مجھے سخت تعجب ہے کہ جب اس میں جان تھی تب تو اس نے ہزاروں کو گمراہ کیا ہوگا۔ لیکن روح سے جدا ہو کر اور ہزاروں سال تہِ زمین میں رہ کر اس میں کیا کیمیائی اثر پیدا ہو گیا کہ آج یہ لاکھوں کے ازدیادِ ایمان کا باعث ہو گئی۔
سب سے بڑھ کر تعجب کی یہ بات ہے کہ اس لاش کو فرعونِ موسیٰ کی لاش کہنے والے مسلمان نہیں کہ ان پر الزام آسکے کہ انہوں نے قرآن شریف کی ایک آیت درست کرنے کے لئے یہ جھوٹا دعویٰ کر دیا بلکہ خود مسیحی مورّخ ہیں اور وہ بڑے زور سے دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ لاش منفتح یا ریان یا فرعونِ موسیٰ کی لاش ہے۔
اس بات کا ثبوت کہ یہ لاش واقعی منفتح کی ہے ایک تو یہ ہے کہ اس لاش کے اوپر کپڑے پر لکھا ہوا تھا کہ یہ منفتح کی لاش ہے۔ بلکہ اس کی ایک تصویر بھی اوپر دی گئی تھی جو کہ کئی انگریزی اخباروں میں شائع کی گئی ہے اور جس کو ڈھونڈ کر شائع کرنے کی ہم انشاء اللہ کوشش کریں گے تاکہ فرعونِ موسیٰ کا حال پڑھنے کے بعد ہمارے ناظرین اس کی تصویر کے ذریعہ سے گویا خود اسے ہی دیکھ لیں۔
دوسرا یہ کہ کئی علامتیں اس کے بدن پر ایسی پائی گئی ہیں جو کہ فرعونِ موسیٰ میں پائی جاتی تھیں مثلاً مسوڑوں کی بیماری کہ اس کا نشان اس لاش میں بھی پایا جاتا ہے۔
تیسرے اس کی شکل سیتی اوّل سے جو اس کا دادا تھا ملتی ہے اور اس بات کا ثبوت کہ منفتح ہی فرعونِ موسیٰ تھا۔ اول تو یہ ہے کہ اس کا زمانہ حکومت اور بنی اسرائیل کے خروج کا زمانہ ایک ہے پس سوائے اس کے کہ مانا جائے کہ بنی اسرائیل اسی کے دورانِ حکومت میں مصر سے نکلے تھے اور کوئی چارہ نہیں۔ دوسرے یہ کہ توریت سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل رعمسیس شہر کی تعمیر کرتے تھے۔ اور رعمسیس منفتح کے باپ کا نام تھا۔ پس بہرحال وہ زمانہ منفتح کے باپ کی حکومت کا تھا چنانچہ لکھا ہے کہ موسیٰ کے وطن چھوڑ دینے کے بعد وہ فرعون مر گیا اور دوسرے فرعون کے عہد میں موسیٰ واپس آئے اور بنی اسرائیل کو طلب کیا۔ پس ضرور ہے کہ اس وقت منفتح حکمران ہو۔
تیسرے قرآن شریف اور توریت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فرعون کے بعد اس خاندان پر زوال آگیا۔ اور تاریخ سے ثابت ہے کہ فراعنہ کی اس شاخ کا آخری بادشاہ جس کے بعد زوال آگیا وہ منفتح ہی تھا۔
چوتھے یہ کہ بنی اسرائیل کے بچوں کو دریا میں ڈلوانے والا بادشاہ رعمسیس ہی تھا۔ پس اس
صورت میں بھی بنی اسرائیل کا مصر سے خروج اس کے بیٹے منفتاح ہی کے زمانہ میں ہو سکتا ہے۔ اس کی نسبت تالمود میں لکھا ہے کہ بڑا ہوشیار اور مکار تھا اور اس کا قد چھوٹا تھا۔
چونکہ یہ بیمار رہتا تھا اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ جلد ضعیف ہو گیا کیونکہ جو لاش نکلی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت کمزور تھا۔ حالانکہ یہ حضرت موسیٰؑ سے اندازاً تین سال چھوٹا تھا۔ کیونکہ جیسا کہ قرآن شریف سے ثابت ہے اس کی ماں نے حضرت موسیٰؑ کو اس بہانہ سے بچایا تھا کہ ہمارا بیٹا کوئی نہیں اسے پال لیں۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اس کے اولاد کوئی نہ تھی اور یہ بادشاہ کا دوسرا بیٹا تھا۔ اور اس کا بڑا بھائی بوجہ سادہ لوح ہونے کے بادشاہ کو پسند نہ تھا۔ اور اس نے اسے تخت سے محروم کر دیا تھا۔ پس کم سے کم حضرت موسیٰؑ کے اٹھانے کے دو سال بعد اس کے بڑے بھائی کی پیدائش مانیں۔ اور اس کے تیسرے سال تو اس حساب سے تین سال یا دو سال آپؑ سے چھوٹا معلوم ہوتا ہے۔ ہاں اس کی بہن جس نے اول اول آپ کو اٹھایا ہے آپ سے کوئی پندرہ سولہ برس بڑی ہوگی اس کا نام منفتاح ہیروغلوفی حروف میں اس طرح لکھا جاتا ہے۔
خاکسار مرزا محمود احمد (تشحیذ الاذہان جنوری ۱۹۱۱ء)
از
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد
چند دنوں سے وطن اور المنیر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح پر اعتراض کیا گیا ہے کہ آپ نے احمدیوں اور غیر احمدیوں میں ایک ذرا سے فرق پر اختلاف ڈلوایا اور لکھ دیا کہ ہم میں اصولی فرق ہے اسی طرح پیسہ اخبار میں کسی شوخ چشم نے ایک مضمون دیا ہے کہ امید ہے حضرت خلیفۃ المسیح اس فیصلہ کو واپس لے کر حضرت مرزا صاحب کے الہامات کو باطل کر دیں گے۔ اور ان پر سے کفر کا فتویٰ واپس لے لیں گے لیکن تعجب ہے کہ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ ہم لوگ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی اللہ مانتے ہیں تو کیونکر آپ کے فتویٰ کو رد کر سکتے ہیں اور حضرت خلیفۃ المسیح تو آپ کے خلیفہ اور آپ کے کاموں کو پورا کرنے والے ہیں آپ کیونکر آپ کے الہاموں کو رد کر سکتے ہیں اصل میں یہ لوگ مامورین اور انبیاء و رسل کی مخالفت کی حقیقت کو سمجھتے ہی نہیں تبھی تو کہتے ہیں کہ حضرت کے مخالف کیونکر کافر ہوئے۔ یا کم سے کم نیک نیتی سے نہ ماننے والے کیونکر کافر ہوئے حالانکہ رسول اللہ کو نہ ماننے والے کیا سب کے سب بد نیت تھے اور کیا سب پر حجت قائم ہو چکی ہے۔ سوئٹزر لینڈ کے پہاڑوں میں کون تبلیغ کرنے گیا تھا۔ لیکن باوجود اس کے اسلام کی رو سے وہ کافر ہیں۔ باقی یہ رہا کہ ان کو سزا ملے گی یا نہیں یہ خدا تعالیٰ جانتا ہے۔ شریعت کا فتویٰ تو ظاہر پر ہے اس لئے ہم ان کو کافر کہیں گے۔ پس جب تبت اور سوئٹزر لینڈ کے باشندے رسول اللہ ﷺ کے نہ ماننے پر کافر ہیں تو ہندوستان کے باشندے مسیح موعود علیہ السلام کو نہ ماننے سے کیونکر مؤمن ٹھہر سکتے ہیں غرضیکہ یہ خیال بالکل بے ہودہ اور عقل سے بعید تھا اس لئے اس کی تردید لازمی نظر آئی تاکہ احمدی بھائی دھوکا نہ کھائیں۔ لیکن چونکہ حضرت خلیفۃ المسیح کا فتویٰ بھی ضروری تھا اس لئے یہ مضمون بہ تمام و کمال آپ کو دکھایا گیا اور آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ مجھے اس مضمون سے مخالفت نہیں اور ہرگز مخالفت نہیں اور تحریر فرمایا ہے کہ
اب اسے عام مخلوق کی ہدایت کے لئے شائع کرتا ہوں احمدی بھائیوں کو چاہئے کہ اس کی خوب اشاعت کریں اور یہ مضمون دوسرے دوستوں کو جا کر سنائیں کیونکہ غیر احمدی اس وقت پورے زور سے ہم کو اپنے اندر ملانا چاہتے ہیں اور جب حضرتؓ کی مخالفت کے باوجود انسان مسلمان کا مسلمان رہتا ہے تو پھر آپؑ کی بعثت کا فائدہ ہی کیا ہوا۔ والسلام
خاکسار مرزا محمود احمد
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَیِّاٰتِ اَعْمَالِنَا
آیات صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ(الفاتحہ: ۷) اور تَشَابَہَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ(البقرہ: ۱۱۹) سے ظاہر ہوتا ہے کہ انبیاءؑ کی جماعتوں اور ان کے مخالفین کا ایک ہی طریق ہوتا ہے۔ نبیوں کی مشابہت نبیوں سے ان کی جماعتوں کی مشابہت اپنے سے پہلی جماعتوں سے اور ان کے مکفرین کی مشابہت ان سے پہلے کے مکفرین سے ہوتی ہے۔ جس طرح نبی اور ان کی جماعتیں ایک ہی راستہ پر قدم مارتے چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح ان کے مخالفوں کے پیرو بھی اپنے پیشروؤں کی سنت پر عامل ہوتے ہیں۔ خصوصاً جن انبیاءؑ کی آپس میں مشابہت اور مماثلت ہو اور ایک ہی قسم کے کام ان کے سپرد ہوں۔ تو ان کے حالات تو آپس میں بہت ہی کچھ ملتے جلتے ہیں ان پر اور ان کی جماعتوں پر ایک ہی سے ابتلاء آتے ہیں۔ ایک ہی سے شیطانی حملے ان پر ہوتے ہیں۔ اور ایک ہی راہ سے ان کو پھسلانے کی کوشش کی جاتی ہے ہمارے حضرت کو چونکہ حضرت مسیحؑ سے مشابہت تھی اور آپ ان کے مثیل تھے۔ آپ کے واقعات بھی ان سے بہت کچھ ملتے جلتے ہیں جیسے وہاں ایک امن و امان کی سلطنت تھی۔ یہاں اس سے بڑھ کر امن و امان کی حکومت ہے جیسے وہاں ایک غیر ملک کے باشندوں کی گورنمنٹ تھی یہاں بھی غیر ملک کے باشندوں کی گورنمنٹ ہے جیسے وہاں تقریر و تحریر سے تبلیغ کی جاتی تھی ویسے ہی یہاں بھی کی جاتی ہے جس طرح ان پر خون کا مقدمہ کیا گیا اور آخر میں آپ کی نجات ہوگئی۔ اسی طرح یہاں بھی ایک خون کا مقدمہ ہوا جس میں آخر میں آپ کی نجات ہوئی۔ جس طرح وہاں کفر کے فتوے لگے یہاں بھی لگے۔ جس طرح آپ کے مخالف مولوی آپ کے پیچھے پھرتے اسی طرح اب بھی پھرتے رہے۔ پس ضرور تھا کہ جس طرح آپ کی وفات کے بعد آپ کی جماعت پر ابتلاء آئے۔ اسی طرح حضرت صاحب کی وفات کے بعد بھی جماعت پر اسی طرح ابتلاء آتے۔ چنانچہ ایک مدت سے بلکہ شاید میں غلطی پر نہ ہوں گا اگر کہوں کہ حضرت صاحب کی زندگی کے زمانہ سے مجھے اس بات کا خیال تھا اور خوف تھا اور میں دیکھتا ہوں کہ ایک مدت سے آثار ظاہر ہو رہے ہیں لیکن چونکہ حضرت مسیح موعودؑ صرف مثیل مسیحؑ ہی نہ تھے بلکہ مہدی مسعود بھی تھے اس لئے امید بلکہ یقین ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت ان ابتلاؤں کے زمانہ سے صاف اور بے عیب نکل جائے گی۔
چنانچہ اگر میں بھولتا نہیں تو میں نے خود حضرت خلیفۃ المسیح کے منہ سے یہ سنا ہے کہ ایک دفعہ آپ نے حضرت صاحب سے پوچھا کہ آپ مثیل مسیح ہیں۔ اس لئے ان واقعات سے خوف آتا ہے۔ جو مسیح کی جماعت سے پیش آئے فرمایا کہ ہاں خوف تو ہے لیکن چونکہ میں مہدی بھی ہوں اس لئے اللہ تعالیٰ انجام نیک کرے گا۔ پس گو خوف ہے لیکن نیک انجام کی بڑی امیدیں لگی ہوئی ہیں۔
اب میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں اور بیان کرتا ہوں کہ وہ ابتلاء کیا تھا جو حضرت مسیحؑ کے بعد آپ کی جماعت کو آیا۔ انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیحؑ کی وفات کے بعد آپ کی جماعت کو غیر قوموں نے اپنی طرف کھینچنا شروع کیا اور حالات ہی کچھ ایسے پیدا ہوتے گئے کہ جن کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسیحی لوگ ان میں مل گئے۔ ان مٹھی بھر آدمیوں پر وہ کثرت غالب آئی اور یونانی اور رومی مشرکانہ خیالات اور مداہنت ان میں پیدا ہو گئی۔ بعض حواری جو الگ رہے ان کا بقیہ خاتم النبیّین رسول رب العلمین ﷺ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ کے وقت تک چلا۔ لیکن چونکہ اصل توحید آگئی۔ اس لئے ان کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا سے اٹھا لیا اور وہ اپنا کام کر کے خاموشی کے ساتھ اس دنیا سے گذر گئے۔ چنانچہ سلمان فارسیؓ بھی انہیں لوگوں کے بتائے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تھے۔
ہمارے حضرت کی زندگی کے آخری ایام میں اور بعد وفات کے بھی اس قسم کی تحریکات مخالفین سلسلہ کی طرف سے ہوئی ہیں۔ اور ہو رہی ہیں۔ ایک وہ وقت تھا کہ ہمارے بر خلاف چاروں طرف سے کفر کے فتوے شائع ہوتے تھے۔ ہمارے سلسلہ کے کمزور اور ضعیف انسانوں کو بے طرح کچلا جاتا تھا۔ وہ ماریں کھاتے تھے۔ گالیاں سنتے تھے۔ قتل بے گناہ ہوتے تھے۔ عدالتوں میں گھسیٹے جاتے تھے۔ مگر یہ سب کچھ کس لئے ہوتا۔ صرف اس لئے کہ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑا قادر ہے اور رسول اللہؐ کی پیشگوئی کے مطابق اس نے اس امت میں سے ایک مامور بھیج دیا ہے۔ جو دنیا کو گمراہی سے بچائے اور اس کا نام اس نے مسیح موعود اور مہدی مسعود رکھا ہے۔ گویا ہم پر فرد جرم اس لئے لگائی گئی کہ ہم نے خدا کے حکم کو کیوں مانا اور کیوں نہ اسے کہہ دیا کہ ہم کب تک تیرے احکام کو مانتے چلے جائیں آج تک بہت سے انبیاء کو تو مان لیا اب بس کرو اور ہم کو اس اطاعت سے معاف کرو۔ ہاں ہم اس لئے واجب القتل قرار دیئے گئے کہ ہم حقیقی بادشاہ کے فرماں بردار ہوئے اور ان باغیوں کے ساتھ نہیں ملے جنہوں نے اس کے مامور کا انکار کیا۔ اور اگر واقعی یہ کوئی ایسا جرم تھا جس کی سزا ہم کو یہ ملنی چاہئے تھی۔ تو خدا کی قسم ہم اس جرم کے مرتکب ضرور ہوئے ہیں۔ اور جس طرح ہمارے حضرتؑ نے رسول اللہ ﷺ کی نسبت فرمایا ہے
بعد از خدا بعشق محمدؐ مخمّرم
گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم
ہم بھی کہتے ہیں کہ اگر خدا کے ماموروں اور رسولوں کا اقرار اور ان کی اطاعت کفر ہے تو خدا کی قسم ہم اس قسم کے کافر ضرور ہیں۔ اور اگر اسی کا نام کفر رکھا جاتا ہے تو اس کفر کو ہم ذریعہ نجات یقین کرتے ہیں۔
اس کے بعد وہ زمانہ آیا کہ خدا تعالیٰ نے ہم کو فتوحات دیں اور ہماری جماعت کو روز بروز ترقی ہونی شروع ہوئی اور جوں جوں مخالفینِ سلسلہ نے شور مچایا یہ سلسلہ اور بھی بڑھا اور بیسیوں ہیں جو مخالفین ہی کی کتب کو پڑھ کر اس سلسلہ میں داخل ہوئے اور جس قدر عذاب ہم کو دیئے گئے ان سے بجائے ہماری ذلت و کمزوری کے ترقی اور عزت ہی ہوتی گئی۔ جس قدر ہمارے مخالفین نے ہمیں چاہِ گمنامی میں پھینکنا چاہا۔ خدا نے اسی قدر ہم کو شہرت کے ٹیلہ پر بلند کھڑا کیا۔ اور ہماری جماعت کا رعب مخالفین کے دلوں میں بیٹھ گیا اور خدا کی دی ہوئی نصرت و فتح کو انہوں نے مشاہدہ کیا۔ اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اسلام کے دشمنوں کی فوجیں ہمارے آگے سے فرار ہوگئیں۔ اور انہوں نے سن لیا کہ دجال اس مسیح کے مقابل میں ٹھہر نہیں سکا۔ اور ملائکہ کی ہیبت ناک آوازیں ان کے کانوں میں پہنچیں۔ تب ان کو یقین ہو گیا کہ اب یہ سلسلہ بڑھے گا اور ہر ایک سرسبز وادی اور ویران جنگل اور اونچے پہاڑ اور وسیع سمندر پر ان کی آواز بلند ہو گی اور وہ اسلام کا نشان جس میں مشرکانہ خیالات کی وجہ سے بے رونقی اور زنگ پیدا ہو گیا تھا یعنی کلمہ شہادت وہ پھر اپنی اصلی رونق سے دنیا پر ظاہر ہو گا۔ اور وہ دن دور نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمودہ کے مطابق دنیا دیکھ لے گی کہ ”دنیا میں ایک نذیر آیا۔ مگر دنیا نے اسے قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا۔ اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو دنیا پر ظاہر کرے گا“ جب حق کھل گیا۔ اور بات ظاہر ہو گئی تو شیطان نے وہی حربہ استعمال کرنا چاہا جس سے کہ حضرت مسیحؑ کی جماعت کو دق کیا تھا۔ اور ان کی بڑھتی ہوئی طاقت کو توڑ دیا تھا یعنی اس نے مولویوں اور گدی نشینوں سے کام بگڑتا ہوا دیکھ کر امراء اور تعلیم یافتہ گروہ کو چنا اور چونکہ یہ لوگ اکثريا تولا مذہب ہوتے ہیں۔ یا دین کی حقیقت سے غالباً ناواقف اور عملی حصہ میں تو فیصدی بہت ہی کم نکلیں گے جو جماعت نماز بلکہ صلوٰۃ و صوم و زکوٰۃ کے پابند ہوں۔ اس لئے ان کے ہاتھوں میں وہی حربہ دیا جو حواریوں کے مقابلہ میں غیر قوموں کو دیا تھا۔ یعنی وہ صلح کے لئے بڑھے اور انہوں نے اپنے چہرے ایسے بنائے گویا اسلام کے غم نے ان کی کمر توڑ دی ہے اور مختلف فرقوں کا تفرقہ دیکھ کر ان کے دل پراگندہ اور آنکھیں پُر نم ہیں اور یہ ایسا بوجھ ہے کہ جس سے ان کی پشت خم ہو رہی ہے اور مسلمانوں کی تباہی کو دیکھ کر وہ بے موت مر رہے ہیں۔ اور ایسی حالت بنا کر وہ ہمارے پاس آئے اور اپنی خطاؤں کا اقرار کیا اور کہا کہ ہماری غلطی تھی کہ ہم آپ لوگوں سے الگ ہوئے اور بزرگوں کا کام ہمیشہ خطاؤں سے چشم پوشی کرنا ہوتا ہے پس آپ ہماری غفلت سے نظر اندازی کریں اور ہم کو اپنا خیر خواہ تصور کریں اور آج سے ہم میں اور آپ میں یگانگت ہو جائے اور ہم ایک ہو کر اسلام کو دشمنوں سے بچائیں۔ اور اس کے بعد ایک عاشقِ مفتون کی طرح انہوں نے ہم سے گلہ شروع کیا اور کہا کہ جب ہم میں اور آپ میں کوئی اصولی فرق نہیں اور ہمارا ایک ہی خدا اور ایک ہی رسول ہے تو آپ ہم سے الگ کیوں ہوئے اور ہمارے پیچھے نمازیں پڑھنی کیوں چھوڑ دیں اور کیا ضرور تھا کہ اگر ہمارے جُہّال سے کوئی خطا ہوئی تھی تو آپ اس کا نوٹس لیتے اور اس پر بگڑ بیٹھتے۔ آپ کو تو بڑے رحم اور وسعتِ نظر سے کام لینا چاہئے تھا اور صرف اس بات پر کہ ہم مرزا صاحب کو مامور من اللہ نہیں مانتے کافر قرار دینا آپ کی شان سے بہت بعید تھا۔ اور ہم تو مرزا صاحب کو ایک بڑا راست باز انسان اور اسلام کا سچا خادم تصور کرتے ہیں اور صرف آپ سے اس قدر اختلاف ہے کہ ہم آپ کے بعض ان دعاویٰ کو نہیں مانتے کہ جن میں وہ اپنے آپ کو خدا کی طرف سے رسول اور مسیح موعود اور مہدی مسعود ہونے کا ذکر کرتے ہیں اور مختلف موقعوں پر مختلف لوگوں کے سامنے ان باتوں پر اتنا زور دیا کہ قریب تھا کہ بہت سے لوگوں کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے۔ اور وہ مدت کے بچھڑے ہوؤں کی طرح ان سے لپٹ جاتے۔ اور آپس کے اختلافات گلے لگ کر مٹائے جاتے لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل شاملِ حال ہوا اور حضرت صاحبؓ کا مہدویت کا رنگ غالب رہا۔
اور عین مصیبت میں پڑ جانے کے وقت اللہ تعالیٰ نے ہماری حفاظت کی اور کئی لوگوں کو یہ بات سمجھ میں آگئی کہ اگر ایک مامور کے بھیجنے کے بعد یہی نتیجہ نکلتا ہے اور انجام ایسا ہی ہوتا ہے اور باوجود اس کے انکار کے پھر بھی انسان خدا تعالیٰ کا پیارا ہی رہتا ہے تو ہم کو اس قدر مشکلات میں پڑ جانے کی کیا ضرورت تھی اور کیوں خدا نے ایک مامور کو بھیج کر خواہ مخواہ ہم کو مصیبتوں میں ڈالا اور اپنوں اور بیگانوں کی نظر میں حقیر کیا اور کافر ٹھہرایا۔ انہوں نے خیال کیا کہ اگر ایک مامور کا انکار ایسا ہی ایک چھوٹا سا انکار تھا اور خفیف بات تھی تو خدا نے یہ کیوں کہا کہ میں اس کے انکار کے بدلہ میں دنیا کو ہلاک و برباد کر دوں گا۔ اور طرح طرح کے عذاب اس دنیا میں بھیجے اور لاکھوں انسانوں کو دیکھتے دیکھتے ہلاک کر دیا اور کیوں اتنی مدت تک ملک کے علماء و فضلاء کو اس کی مخالفت کی وجہ سے ذلت سے مارتا رہا۔ اور کیا وجہ ہوئی کہ آج سے ہزاروں سال پہلے نبیوں کی زبان پر اس کی خبر دی اور انجیل میں اس کا ذکر کیا اور قرآن شریف میں اس کی بعثت کی نسبت پیشگوئی کی اور اگر یہ ایک معمولی بات تھی اور ایک فروعی سا فرق تھا تو کیوں اس نے خود اس کو الہام کے ذریعہ سے کہا کہ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ یعنی وہ مسلمان جو تیرا انکار کرتے ہیں اور تیرے منکر ہیں ان کو رفتہ رفتہ کمزور کر دوں گا اور تجھے وہ عظمت دوں گا کہ تیرے پیرو ہمیشہ ان سے معزز رہیں گے اور ان باتوں کے سوچنے کے بعد ان کے دل بشاش ہو گئے اور انہوں نے جان لیا کہ عین گڑھے میں گرتے ہوئے خدا تعالیٰ نے ہماری رہبری کی لیکن یہ شور بڑھتا گیا۔ اور اب میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے مخالف کھلے طور پر اخباروں میں اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس جدائی کو جانے دو اور ہم سے آ ملو گو مرزا صاحب سے دعاویٰ میں غلطی ہوئی۔ اور ایسے موقع پر میں نے ضروری جانا کہ ایسے لوگوں کی دھوکہ دہی کو ظاہر کروں اور اس خطرہ سے جو تعلق کے نیچے مخفی ہے انہیں آگاہ کروں اور اس معاملہ میں حضرت صاحب کی جو رائے ہے اس سے بھی ان کو مطلع کروں۔ تاکہ وہ اپنے قدموں پر مضبوط ہو کر جم جائیں۔ اور میں سچ سچ کہتا ہوں اور میرے دل میں اس بات کے لکھنے میں کوئی نفاق کا شائبہ نہیں۔ اگر میں نفاق کو پسند کرتا تو سب سے پہلے غیر احمدیوں کی عظیم الشان جماعت میں ملنے کی کوشش کرتا اور یہ تو ظاہر ہے کہ اس طرح حضرت صاحب کو جو گالیاں دی جاتی ہیں وہ کم ہو جاتیں۔ اور کون نہیں چاہتا کہ اس کے باپ کو لوگ گالیاں نہ دیں اور اس کے والد کی نسبت فحش الفاظ استعمال نہ کئے جائیں۔ پس اگر آپ لوگ ان کو پیر سمجھ کر دشمنوں کے حملہ سے بچانا چاہتے ہیں تو میرے ان سے دو رشتے ہیں۔ وہ میرے والد بھی ہیں اور آقا اور پیر بھی لیکن میں نفاق پر موت کو ترجیح دیتا ہوں اور اس وقت سے پناہ مانگتا ہوں جب میں وہ بات کروں جو میرے دل میں نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کی اس معاملہ میں نصرت چاہتا ہوں اور میں اسی سے مدد مانگتا ہوں۔ کہ وہ مجھے گناہوں میں پڑنے سے بچائے۔ میں جانتا ہوں کہ کوئی مجھے گناہوں کی بھٹی سے نہیں بچا سکتا مگر اللہ اور مجھے کامل یقین ہے کہ مَنْ يَّهْدِى اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهٗ وَ مَنْ يُّضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ پس اس سے ہر قسم کی شرارت نفس اور خبیث باطن سے پناہ مانگتے ہوئے میں نے اس کام کو کیا ہے اور میں اس سے امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے ضرور بچائے گا اور ہر قسم کے ابتلاؤں سے محفوظ رکھے گا۔
غرضیکہ اے عزیزو! ہمارا ایمان ہے کہ حضرت صاحب خدا کے مرسل تھے اور مامور من اللہ تھے اور ہمارا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء ہمیشہ بھیجتا رہتا ہے اور نہ معلوم اور کتنے انبیاء آگے بھیجے گا لیکن ساتھ ہی یہ بھی ہمارا ایمان ہے کہ حضرت نبی کریم محمد رؤوف رحیم رسول اللہ خاتم النّبیین کے بعد کوئی تشریعی نبی نہیں آئے گا اور آپؐ ہر قسم کی نبوتوں کے خاتم ہیں اور آئندہ جس کو اللہ تعالیٰ تک رسوخ ہو گا وہ آپ ہی کی اطاعت کے دروازہ سے گزر کر ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا کہ قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ(آل عمران: ۳۲) اور اسی میں آپ کی عزت ہے۔ کیونکہ کیا وہ شخص معزز کہلا سکتا ہے جس کے ماتحت کوئی بھی افسر نہ ہو۔ بلکہ معزز وہی ہوتا ہے جس کے ماتحت بہت سے افسر ہوں۔ دنیا میں ہی دیکھ لو کہ تم بادشاہ کے لقب کو زیادہ معزز جانتے ہو یا شہنشاہ کے لقب کو۔ پس شہنشاہ کا لفظ اس لئے کہ اس میں بادشاہوں پر حکومت کا مفہوم پایا جاتا ہے بادشاہ پر معزز ہے ادنیٰ نہیں۔ اسی طرح ایسی نبوت جس کے ماتحت اور نبوتیں بھی ہوں اس نبوت سے اعلیٰ اور افضل ہے جس کے ماتحت اور نبوت کوئی نہ ہو۔ کیا وہ شخص زیادہ معزز ہو گا جو دربارِ شاہی تک انسان کو پہنچادے یا جو دروازہ پر ہی لے جا کر چھوڑ دے۔ پس ہمارا یقین ہے کہ محمد رسول اللہ اللّٰھم صل علیٰ محمد اپنی امت میں سے لوگوں کو اٹھا کر اعلیٰ مقامات پر پہنچا دیتے ہیں اور آپؐ کے ماتحت ہزاروں نبی ہوں گے۔ جو آپؐ کے ایک ایک لفظ کو قابلِ اطاعت جانیں گے اور آپ کی محبت اور فرمانبرداری کو ذریعہ نجات یقین کریں گے۔ کیا یہ زیادہ معزز درجہ ہے یا وہ جو ہمارے مخالف پیش کرتے ہیں۔ پس ہم اسی اصل کے ماتحت حضرت مسیح موعودؑ کو بموجب احادیث صحیح نبی اور مامور مانتے ہیں اور اس اعتقاد سے رسول اللہ ﷺ کی شان میں فرق نہیں آتا بلکہ اور بھی اعلیٰ ثابت ہوتی ہے۔
اور ہمارا ایمان ہے کہ جیسے اور انبیاء کے منکرین اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے بعید کئے جاتے تھے آپؑ کے منکرین کا بھی یہی حال ہے اور اس کا نمونہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے پس کیسے تعجب کی بات ہوگی اگر ہم باوجود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کے پھر اس بات سے انکار کریں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے مخالفین کو سخت ذلت دی ہے اور دنیاوی عزت کو دیکھ کر ہماری آنکھیں چندھیا جائیں۔ ہمیں وہ دقتیں اور مشکلات پیش نہیں آئیں جو صحابہؓ کو پیش آئیں تھیں۔ پھر ہماری بزدلی کیا ایمان کی کمزوری پر دال نہ ہوگی؟ ہم یہ کب کہتے ہیں کہ ہمارے مخالف کافر باللہ ہیں۔ لیکن اس میں کیا شک ہے کہ وہ کافر بالمأمور ہیں کافر کے معنی منکر کے ہیں۔ پس یہ کیسا جھوٹ ہے کہ اگر ہم باوجود ان کے انکار کے پھر ان کو مؤمن کا مؤمن ہی سمجھیں۔ مؤمن تو وہ تب ہو سکتے ہیں کہ جب اپنے عقائد باطلہ سے رجوع کریں اور حضرت مسیحؑ کے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کریں جو حقیقت میں منکر ہے اسے ہم مؤمن کیونکر کہہ سکتے ہیں۔ پس جو لوگ کہ باوجود ہزاروں نشانوں کے دیکھنے کے انکار کرتے ہیں ان کے کافر بالمأمور ہونے میں کوئی شک نہیں اور وہ خدا تعالیٰ کے احکام کی ایک ذرہ بھر بھی عزت نہیں کرتے؟ کیونکہ اگر وہ خوف خدا رکھتے اور ان کے دل میں نور ایمان ہوتا تو وہ ایک مامور کی بے قدری اس قدر کیوں کرتے۔
تعجب ہے کہ یہ لوگ اس موعود ذہنی کو تو اس قدر درجہ دیتے ہیں کہ اس کے منکر کافر ہوں گے اور جو اس کی مخالفت کرے گا۔ وہ دجال ہوگا اور ہلاک کیا جائے گا پھر جب حضرت مسیح موعودؑ اس بات کے مدعی ہیں کہ میں وہی ہوں۔ تو پھر آپ کی مخالفت کے باوجود ہم سے کسی اور فتوے کے کیوں امیدوار ہیں جو کچھ اس آنے والے موعود کے مخالفین کی نسبت ان کا خیال ہے ہم تو اس سے ان لوگوں کو کم ہی جانتے ہیں۔
حضرت صاحب کے زمانہ میں بھی بار بار اس مسئلہ کو اٹھایا گیا ہے اور ہمیشہ آپؑ نے اس کو خوب واضح کر کے بیان کیا ہے اور ایسا کھول دیا ہے کہ اس کا انکار سوائے اس کے کہ کوئی ان فتووں کو نظر انداز کر دے اور کسی طرح سے نہیں ہو سکتا۔ پھر ہمارے مخالف کیوں بار بار ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں وہ زمانہ یاد کریں جبکہ کفر کی بوچھاڑ ہم پر پڑتی تھی۔ اور ملامت کے تیروں سے ہمارا بدن زخمی کیا جاتا تھا اور تمام لوگوں کی آنکھیں اس طرف لگی ہوئی تھیں کہ کب یہ سلسلہ تباہ ہوتا ہے اور ایسے وقت میں خدا نے ہماری تائید کی اور ہر ایک دکھ اور درد سے ہم کو بچایا اور ہر ایک شر سے ہم کو محفوظ رکھا تو ہم کیسے ناشکر گزار ہوں گے کہ جب خدا نے ہم کو ہر مصیبت سے بچا کر امن کی زندگی عطا فرمائی تو ہم کو اس وقت یہ نہیں چاہئے کہ تَرۡکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ(ہود: ۱۱۴) کی نہی کو نعوذ باللہ کہیں پسِ پشت ڈال دیں۔ ہاں سوچو تو سہی کہ جس کے باپ کو کوئی جھوٹا سمجھتا اور مفتری خیال کرتا ہے تو وہ اس سے تعلق توڑ دیتا ہے اور اس سے دوستی اور محبت پیدا نہیں کر سکتا پس ہم کس طرح ان لوگوں سے جو ہمارے والد سے زیادہ معزز اور محبوب انسان کی ہتک کریں اور اسے جھوٹا خیال کریں صلح کر سکتے ہیں۔ اگر ہم ایسا خیال کریں تو ہم سے زیادہ بے شرم کون ہو سکتا ہے اسلام نے دنیا کے معاملات میں تعصب اور مخالفت کو ناجائز قرار دیا ہے پس ہم جہاں تک دنیا کا تعلق ہے ان لوگوں سے نرمی کا برتاؤ کر سکتے ہیں۔ لیکن دین کے معاملہ میں یہ اور راہ پر قدم زن ہیں اور ہم اور راہ پر اور یہ ایسا ہی معاملہ ہے جیسا کوئی شخص مسلمان ہو کر اپنے والدین سے ہر قسم کا سلوک کرتا ہے اور شرعاً اس کی ممانعت نہیں بلکہ حکم ہے۔ لیکن ان کے پیچھے نمازیں پڑھنے میں ہم کو تائل ہے اور اس کے ذمہ دار خود یہی لوگ ہیں۔ کفر کی ابتداء انہوں نے کی نہ ہم نے۔ اول اول تو خدا نے رحم کیا اور کوئی حکم نہ دیا لیکن جب مخالفت حد سے بڑھ گئی تو خدا نے چاہا کہ ان کو اس فیض سے محروم کر دے جو ان کو اس مامور من اللہ سے برائے نام تعلق کی وجہ سے تھا اور اس نے فیصلہ کر دیا کہ اب ان لوگوں سے تمہارا کوئی تعلق نہیں تو اب کس طرح ممکن ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے فیصلہ کو توڑ کر ان سے مل جائیں۔
اور ہمارے مخالف اپنے دل میں اتنا تو سوچیں کہ جب وہ حضرت مسیح موعودؑ کو راستباز مانتے ہیں تو کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر وہ جھوٹ بولتے رہے ہیں اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس معاملہ میں ہم ان کو جھوٹا نہیں بلکہ غلطی خوردہ جانتے ہیں وہ الہام کی حقیقت سے بالکل ناواقف ہیں اور در حقیقت اس کے منکر ہیں۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک شخص روز اس بات کا مدعی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کلام کیا اور کہا کہ تو مامور ہے اور مرسل ہے اور پھر بھی وہ غلطی پر ہے۔ یہ تو ایسا ہی ہو گا جیسے زید روز ہم کو کہے کہ میں آج عمر سے ملا ہوں اور ہم باوجود اس کلام کے روز مرہ سننے کے پھر یہ کہیں کہ اس کو غلطی لگی ہوئی ہے ایسے شخص کی نسبت کوئی عقلمند غلطی کا فتویٰ نہیں دیتا۔ بلکہ یا تو اسے جھوٹا سمجھا جاتا ہے یا سچا۔ پھر کس طرح ممکن ہے کہ تیس سال تک حضرت صاحب اس بات کا دعویٰ کرتے رہے کہ قریباً روز خدا تعالیٰ مجھ سے کلام کرتا ہے اور ہزاروں عبارتیں پیش کر دیں کہ یہ مجھ پر نازل ہوئی ہیں اور اصل حقیقت یہ تھی کہ محض وہ دھوکا میں پڑے ہوئے تھے۔ (نعوذ باللہ من ذالک) پس جو شخص کہتا ہے کہ میں حضرت مرزا صاحب کو راستباز اور اسلام کا سچا خیر خواہ یقین کرتا ہوں اور پھر آپ کے الہامات کو نہیں مانتا وہ یا تو منافق ہے کہ اپنے دل کا خبث ظاہر نہیں کرتا اور اصل میں پورے طور سے منکر ہے اور یا پاگل ہے کہ اس میں اتنی بھی تمیز نہیں کہ وہ سمجھ سکے کہ کوئی شخص تیس سال تک اس بات میں دھوکا نہیں کھا سکتا کہ خدا تعالیٰ روز مجھ سے کلام کرتا ہے اور حالانکہ بات کچھ بھی نہیں پس دونوں صورتوں میں اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں اور وہ ہم میں سے نہیں ہو سکتا۔
اب میں وہ عبارتیں درج کرتا ہوں کہ جو حضرت صاحب نے مختلف کتب میں لکھی ہیں تاکہ میرے دوستوں کو معلوم ہو کہ حضرت اقدس کا منشاء کیا تھا سب سے پہلے میں وہ عبارت درج کرتا ہوں جو حضرت صاحب نے الہام کی بناء پر لکھی ہے اور جس کا کوئی احمدی انکار نہیں کر سکتا۔ یہ اس خط میں درج ہے جو آپ نے عبد الحکیم کے جواب میں لکھا ہے وَ ھُوَ ھٰذَا
”اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ ہزار ہا آدمی جو میری جماعت میں شامل نہیں کیا راستبازوں سے خالی ہیں تو ایسا ہی آپ کو یہ خیال بھی کر لینا چاہئے کہ وہ ہزار ہا یہود اور نصارٰی جو اسلام نہیں لائے کیا وہ راستبازوں سے خالی تھے۔ بہرحال جبکہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مؤاخذہ ہے تو یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ اب میں ایک شخص کے کہنے سے جس کا دل ہزاروں تاریکیوں میں مبتلا ہے خدا کے حکم کو چھوڑ دوں اس سے سہل تر بات یہ ہے کہ ایسے شخص کو اپنی جماعت میں سے خارج کرتا ہوں۔ ہاں اگر کسی وقت صریح الفاظ سے آپ اپنی توبہ شائع کریں اور اس خبیث عقیدہ سے باز آجائیں تو رحمت الٰہی کا دروازہ کھلا ہے وہ لوگ جو میری دعوت کے رد کرنے کے وقت قرآن شریف کی نصوص صریحہ کو چھوڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے کھلے کھلے نشانوں سے منہ پھیرتے ہیں ان کو راستباز قرار دینا اسی شخص کا کام ہے جس کا دل شیطان کے پنجے میں گرفتار ہے۔“
اب اس عبارت سے مفصلہ ذیل باتیں نکلتی ہیں اول تو یہ کہ حضرت صاحب کو اس بات کا الہام ہوا ہے کہ جس کو آپ کی دعوت پہنچی اور اس نے آپ کو قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں دوسرے یہ کہ اس الزام کے نیچے وہی لوگ نہیں ہیں کہ جنہوں نے تکفیر میں جدوجہد کی ہے بلکہ ہر ایک شخص جس نے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں اور تیسرے یہ کہ وہ خدا کے نزدیک قابلِ مواخذہ ہے اور سزا کا مستحق ہے چوتھے یہ کہ اس عقیدہ کی وجہ سے کہ حضرت صاحب کے منکر کافر نہیں بلکہ ناجی ہیں عبدالحکیم مرتد کو آپؑ نے جب تک وہ اس عقیدہ سے توبہ نہ کرے، جماعت سے خارج کر دیا۔ پانچویں یہ کہ آپؑ فرماتے ہیں کہ یہ عقیدہ خبیث ہے۔ چھٹے یہ کہ جو شخص حضرت صاحبؑ کے منکرین کو اور آپ کے دعاوی کے نہ ماننے والے کو راستباز قرار دیتا ہے اس کا دل شیطان کے پنجہ میں گرفتار ہے۔ یہ باتیں میں نے اپنے پاس سے نہیں بنائیں بلکہ حضرتؑ کے لفظ ہیں جو نقل کئے گئے ہیں جو چاہے قبول کرے اور چاہے تو ردّ کردے۔
اس عبارت میں جو آتا ہے کہ یہ بات مجھے الہام سے بتائی گئی ہے اس کی تائید ان الہامات سے بھی ہوتی ہے جن میں کہ منکرین حضرتؑ کو کافر کہا گیا ہے۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ قُلْ عِنْدِيْ شَهَادَةٌ مِّنَ اللّٰهِ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّؤْمِنُوْنَ قُلْ عِنْدِيْ شَهَادَةٌ مِّنَ اللّٰهِ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ وَ قُلِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّيْ عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَفِرِيْنَ حَصِيْرًا يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْكَفِرُوْنَ قُلْ جَاءَكُمْ نُوْرٌ مِّنَ اللّٰهِ فَلَا تَكْفُرُوْا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ رَدَّ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ شَكَرَ اللّٰهُ سَعْيَهُ قُلْ يٰٓاَيُّهَا الْكَفَّارُ اِنِّيْ مِنَ الصَّدِقِيْنَ وَ عِنْدِيْ شَهَادَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ اِنِّيْٓ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ لَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكَفِرِيْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا غرض جیسا کہ حضرت صاحب نے مذکورہ بالا عبارت میں فرمایا ہے کہ مجھے الہام سے بتایا گیا ہے کہ تیرے نہ ماننے والے خواہ مکفر ہوں یا خاموش۔ مسلمان نہیں ہیں اور خدا کے حضور سزا کے مستحق ہیں اور یہ کہ ان کو راستباز جاننے والا شیطانی خیال کے درپے ہے جب تک توبہ نہ کرلے۔ ان باتوں کی تصدیق مذکورہ بالا الہامات سے بھی ہوتی ہے۔ (تذکرہ)
پس جبکہ ہم کو سچائی کے ماننے کا دعویٰ ہے تو کیا ہمارا نفاق نہ ہوگا اگر ہم ان باتوں کو چھپاویں۔ کیا کوئی مسلمان برداشت کرتا ہے کہ اس کا کوئی دوست ہندوؤں سے بھی کچھ کچھ تعلق رکھے اور کبھی کبھی ان کو یہ سنا دے کہ ہم آپ کو بھی ناجی اور اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ سمجھتے ہیں۔ وہاں کیوں اس اعتقاد کو برا کہا جاتا ہے اسی لئے کہ نفاق ہے۔ پس اس جگہ بھی وہی نفاق ہوگا بلکہ اگر ہم مخالف کے سامنے دبی زبان سے اس کے حق پر ہونے کا بھی کچھ اقرار کریں گے تو اس کے دو برے نتیجے ہوں گے ایک تو یہ کہ تھوڑے دنوں بعد جب ہمارا اصلی عقیدہ دشمن کو معلوم ہوگا تو اس کے دل میں ہماری طرف سے سخت نفرت بیٹھ جائے گی اور وہ سمجھے گا کہ یہ اول درجہ کے جھوٹے ہیں اور دوسرے یہ کہ جب حضرت صاحبؑ نے ایسا صاف فتویٰ دیا ہے تو لوگ مروڑ تروڑ کر کچھ کے کچھ معنی کرتے ہیں تو اگر اس موقعہ پر ذرا بھی غفلت سے کام لیا گیا۔ تو اس سے آئندہ کے لئے سخت برے نتائج پیدا ہوں گے اور آئندہ اس خاموشی کو اجماع قرار دیا جا کر اس سے نہ معلوم کیا کیا نتائج نکالے جائیں گے اور آئندہ زمانہ میں نیک لوگ ہماری نسبت وہی الفاظ استعمال کریں گے جو اب ہم پولوس وغیرہ کی نسبت استعمال کرتے ہیں اور بجائے نیک دعا دینے کے بددعاؤں کے نشانہ ہوں گے اور اس وقت کی ہماری کوتاہی آئندہ زمانہ کے لئے نمونہ بد ہوگی۔ کیونکہ کسی مامور کے قرب کے زمانہ کے لوگوں کے افعال بھی بطور سند کے پکڑے جاتے ہیں۔
اور یہ خیال کرنا کہ مخالف زیادہ ہیں اس لئے ہم کو ڈر کر قدم رکھنا چاہئے ایک خیال باطل ہے کیونکہ حضرت صاحبؑ کے زمانہ کی نسبت ہم اس وقت زیادہ ہیں اور حضرت صاحبؑ نے کبھی ڈرنے کی تعلیم نہیں دی بلکہ صاف مقابلہ کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم کو کچھ نقصان نہیں پہنچا ہماری جماعت آگے سے بہت زیادہ ہے اور بڑھ رہی ہے۔
مذکورہ بالا عبارت میں ایک لفظ قابلِ تشریح ہے اور وہ یہ کہ حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ جس کو میری دعوت پہنچ گئی اور اس نے نہ مانا تو وہ مسلمان نہیں اور دعوت پہنچنے کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ایسے رنگ میں پہنچے کہ جس کو وہ قبول کرے لیکن مخالفین کو ابھی ایسے رنگ میں دعوت نہیں پہنچی۔ اور یہ اعتراض عبدالحکیم نے بھی کیا ہے جس کا جواب میں حضرت صاحب کی اپنی کتاب سے دیتا ہوں آپ حقیقتہ الوحی میں فرماتے ہیں۔
دو امر ضروری ہیں وہ شخص جو خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہے وہ لوگوں کو اطلاع دے دے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اور ان کو ان غلطیوں پر متنبہ کر دے کہ فلاں فلاں اعتقاد میں تم خطا پر ہو یا فلاں فلاں عملی حالت میں تم سست ہو دوسرے یہ کہ آسمانی نشانوں اور دلائل عقلیہ اور نقلیہ سے اپنا سچا ہونا ثابت کرے۔
پھر فرماتے ہیں کہ میں نے پنجاب ہندوستان کے بعض شہروں میں خود جا کر خدا تعالیٰ کے پیغام کو پہنچا دیا۔ اور ستر کے قریب کتابیں عربی اور فارسی اور اردو اور انگریزی میں حقانیت اسلام کے بارے میں جن کی جلدیں ایک لاکھ کے قریب ہوں گی تالیف کر کے ممالک اسلام میں شائع کی ہیں اور اسی مقصد کے لئے کئی لاکھ اشتہار شائع کیا ہے اور ہمارے سلسلہ سے غیر ملکوں کے لوگ بے خبر نہیں بلکہ امریکہ اور یورپ کے دور دراز ملکوں تک ہماری دعوت پہنچ گئی ہے۔
اور جس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو گو شریعت نے جس کی بناء ظاہر پر ہے اس کا نام بھی کافر رکھا ہے اور ہم بھی باتباع شریعت اس کو کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا(البقرہ: ۲۸۷) قابل مواخذہ نہیں ہوگا۔
ان مندرجہ بالا آیتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اول تو یہ ضروری نہیں کہ زید یا بکر کہے کہ مجھ پر اتمام حجت نہیں ہوا اور مجھے دعوت نہیں پہنچی بلکہ اتنا کافی ہو گا کہ وہ نبی لوگوں کو اطلاع دے دے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ نشانات ہوں اور بس اتمام حجت ہوئی اور دعوت پہنچ گئی اور بات بھی یہی درست ہے کیونکہ جب اس شخص نے لوگوں کو کھول کھول کر سنا دیا اور نشانات آسمانی ظاہر ہو گئے تو پھر کسی کا یہ کہنا کہ فلاں فلاں کو ابھی دعوت نہیں پہنچی کیسا غلط مسئلہ ہے اگر یہ اصول لیا جائے گا تو ماننا پڑے گا کہ کسی مامور کی دعوت سوائے ان لوگوں کے جو اس کی بیعت میں داخل ہوئے کسی کو نہیں پہنچی اور قرآن شریف اور رسول اللہ ﷺ اور دیگر اولیائے کرام نے جو لوگوں کو کافر کہا ہے سب جھوٹ ہو جائے گا۔
دوسری بات یہ نکلتی ہے کہ حضرت صاحب نے پوری طرح سے تبلیغ کر دی ہے اور ہندوستان میں تبلیغ ہو چکی ہے بلکہ بعض دیگر ممالک میں بھی۔
تیسری یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جن کو تبلیغ نہیں ہوئی۔ اس کا حساب خدا کے ساتھ ہے ہم نہیں جانتے کہ تبلیغ ان کو ہو چکی ہے یا نہیں کیونکہ کسی کے دلی خیالات پر آگاہ نہیں اس لئے چونکہ شریعت کی بناء ظاہر پر ہے ہم ان کو کافر کہیں گے گو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ وہ سزا کے لائق ہیں۔ یا بموجب حدیث صحیح پھر موقعہ دیئے جانے کے لائق ہیں۔
جو حضرت صاحب کو نہیں مانتا اور کافر بھی نہیں کہتا وہ بھی کافر ہے۔ حضرت صاحب فرماتے ہیں:
”یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم کے ہیں کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افتراء کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۶۳) حاشیہ پر لکھتے ہیں ”سو جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قرار دے کر مجھے کافر ٹھہراتا ہے اس لئے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کافر بنتا ہے۔“ پھر فرماتے ہیں کہ ”علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیشگوئی موجود ہے“ پھر فرماتے ہیں ”اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خداتعالیٰ کے نشانوں کو رد کرتا ہے اور مجھ کو باوجود صدہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے وہ مؤمن کیوں کر ہو سکتا ہے“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۶۴)
اب جبکہ میں حضرت صاحبؑ کی ایک ایسی عبارت نقل کر چکا ہوں جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے ایک ہی قسم کے لوگ ہیں اور دونوں میں کوئی فرق نہیں اور جس طرح کافر کہنے والا ایک مسلمان کو کافر کہہ کر کافر بنتا ہے اسی طرح ایک نبی کو نہ ماننے والا اسے نہ ماننے کی وجہ سے کافر ٹھہرتا ہے میں ایک اور حوالہ درج کرتا ہوں جس میں آپ نے اس شخص کو بھی جو آپ کو سچا جانتا ہے مگر مزید اطمینان کے لئے ابھی بیعت میں توقف کرتا ہے کافر ٹھہرایا ہے چنانچہ آپ ضمیمہ براہین احمدیہ صفحہ ۱۸۷ میں اس سوال کے جواب میں کہ ”چونکہ حضرت کی اب تک کوئی ایسی تاثیر روشن طور پر ظہور میں نہیں آئی اور دو تین لاکھ آدمی کا حضرت کے سلسلہ میں داخل ہونا گویا دریا میں سے ایک قطرہ ہے پس اگر تاثیر بیّن کے ظہور تک کوئی بغیر انکار کے داخل سلسلہ ہونے میں توقف اور تاخیر کرے تو یہ جائز ہو گیا نہیں۔“ فرماتے ہیں کہ ”توقف اور تاخیر بھی ایک قسم انکار کی ہے“ اب ہر ایک دانا اور عقلمند انسان دیکھ سکتا ہے کہ سائل نے اپنے سوال میں کس قدر شرائط لگائی ہیں کہ ایک شخص آپؐ کو جھوٹا بھی نہیں مانتا۔ اور آپ کا انکار بھی نہیں کرتا اور محض مزید اطمینان کے لئے بیعت میں ابھی توقف کرتا ہے تو اس کی نسبت کیا فتویٰ ہے جس کے جواب میں آپ فرماتے ہیں کہ اس کا بھی وہی حال ہے جو منکر کا حال ہے اور منکر کا حال اوپر کے فتویٰ میں جو حقیقۃ الوحی سے نقل کیا گیا ہے درج ہے یعنی اسے کافر قرار دیا گیا ہے بلکہ وہ بھی جو آپ کو کافر تو نہیں کہتا مگر آپ کے دعویٰ کو نہیں مانتا کافر قرار دیا گیا ہے بلکہ وہ بھی جو آپؐ کو دل میں سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپؐ کا انکار نہیں کرتا لیکن ابھی بیعت میں اسے کچھ توقف ہے کافر قرار دیا گیا ہے پس سوچنے کا مقام ہے کہ حضرت صاحب نے اس معاملہ میں کس قدر تشدد سے کام لیا ہے اور عقل بھی یہی چاہتی ہے کیونکہ اگر ایک ہندو رسول اللہؐ کو سچا مانے اور دل میں اقرار بھی کرے اور ظاہر طور پر انکار بھی نہ کرے۔ ہاں بعض واقعات کی وجہ سے ابھی کھلم کھلا اسلام لانے سے پرہیز کرے تو ہم اسے کبھی بھی مسلمان نہیں کہتے بلکہ اسے کافر ہی سمجھتے ہیں۔ اور شریعت اسلام کبھی اس کے ساتھ ناطہ رشتہ کو جائز نہیں رکھتی۔ یعنی اس کے ساتھ کسی مسلمان عورت کے بیاہ دینے کی اجازت نہیں دیتی۔ پس اسی طرح اس غیر احمدی کا حال ہے جو حضرت صاحب کو دل میں سچا بھی جانتا ہے لیکن ابھی بیعت کرنے میں متردّد ہی ہے پس جو لوگ ابھی آپ کے دعویٰ کے ماننے میں متردّد ہیں ان کی نسبت حضرت صاحب نے کفر کا فتویٰ دیا ہے جیسا کہ میں حضرت صاحب کی عبارتیں اوپر نقل کر آیا ہوں۔
پھر دوسری جگہ فرماتے ہیں ”چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے اس لئے ہم منکرین کو مؤمن نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مؤاخذہ سے بری ہیں اور کافر منکر ہی کو کہتے ہیں کیونکہ کافر کا لفظ مؤمن کے مقابل پر ہے اور کفر دو قسم پر ہے ایک کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرتؐ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعودؑ کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا ماننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں کیونکہ جو شخص باوجود شناخت کرنے کے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتا وہ بموجب نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ اور اس میں شک نہیں کہ جس پر خدا تعالیٰ کے نزدیک اول قسم کفر یا دوسری قسم کفر کی نسبت اتمام حجت ہو چکا ہے وہ قیامت کے دن مؤاخذہ کے لائق ہو گا“۔
ان عبارتوں سے یہ نتائج نکلتے ہیں اول تو یہ کہ مکفّر اور خاموش ایک ہی گروہ میں ہے کیونکہ جو مانتا ہے اسے مؤمن کہتے ہیں اور کافر مؤمن کے مقابل میں ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو نہیں مانتا خواہ وہ مکفّر ہو یا خاموش ہو کافر ہے اور یہ دونوں گروہ ایک ہی قسم کے ہیں دوسری یہ کہ جو آپ کو نہیں مانتا وہ ضرور آپؑ کو مفتری قرار دیتا ہے تیسری یہ کہ جو آپؑ کو نہیں مانتا اس کا ایمان در حقیقت خدا تعالیٰ پر بھی نہیں اور نہ رسول اللہؐ پر ہی ہے۔ چوتھے یہ کہ چونکہ وہ شخص آیات اللہ کا منکر ہے اس لئے مؤمن نہیں ہو سکتا۔ پانچویں یہ کہ چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے اسے ہم مؤمن نہیں کہہ سکتے اور چھٹے یہ کہ وہ مؤاخذہ سے بری نہیں۔ ساتویں یہ کہ کفر دو قسم کا ہے ایک اللہ اور رسول کا کفر اور ایک دیگر آیات کا کفر جس میں حضرت صاحب کا کفر بھی شامل ہے۔ آٹھویں یہ کہ اصل میں یہ سب کفر ایک ہی ہے جس نے آپؑ کا کفر کیا اس نے خدا اور رسول کا کفر بھی ساتھ ہی کیا۔ نویں یہ کہ جس پر ان دونوں کفروں میں سے کوئی ایسی قسم کفر کی ثابت ہو جائے وہ قیامت کے دن زیر مؤاخذہ ہو گا۔
اس بات کے ثبوت میں کہ حضرت صاحب نے کل ان لوگوں کو جن پر اتمام حجت ہو چکا ہے اور دعوت پہنچ چکی ہے شرعاً قابل مؤاخذہ ٹھہرایا ہے یہ عبارت کافی ہے۔ ”میں یہ کہتا ہوں کہ چونکہ میں مسیح موعود ہوں اور خدا تعالیٰ نے عام طور پر میرے لئے آسمان سے نشان ظاہر کئے ہیں پس جس شخص پر میرے مسیح موعود ہونے کے بارے میں خدا کے نزدیک اتمام حجت ہو چکا ہے اور میرے دعویٰ پر وہ اطلاع پا چکا ہے قابل مؤاخذہ ہو گا۔ کیونکہ خدا کے فرستادوں سے دانستہ منہ پھیرنا ایسا امر نہیں ہے کہ اس پر کوئی گرفت نہ ہو اس گناہ کا داد خواہ میں نہیں ہوں بلکہ ایک ہی ہے جس کی تائید کے لئے میں بھیجا گیا ہوں یعنی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ میرا نہیں بلکہ اس کا نا فرمان ہے جس نے میرے آنے کی پیشگوئی کی“۔(حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۷۸)
پھر اربعین نمبر ۳ صفحہ ۳۲ میں فرمایا کہ ”ایسا ہی آیت وَاتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰہٖمَ مُصَلًّی(البقرہ: ۱۲۶) اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے۔ تب ہر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہو گا اور ان سب فرقوں میں سے وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہو گا“ اور اسی طرح براہین پنجم میں فرماتے ہیں کہ ”انہی دنوں میں آسمان سے ایک فرقہ کی بنیاد ڈالی جائے گی اور خدا اپنے منہ سے اس فرقہ کی حمایت کے لئے ایک قرنا بجائے گا اور اس قرنا کی آواز سے ہر ایک سعید اس فرقہ کی طرف کھنچا آئے گا۔ بجز ان لوگوں کے جو شقی ازلی ہیں۔ جو دوزخ کے بھرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں“
اس کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح کا ایک حلفیہ بیان بھی نقل کرتا ہوں آپ نے حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے بعد تحریر کیا۔ عصر جدید میں ایک مضمون نکلا تھا جس میں کہ نامہ نگار نے بڑے زور سے پیشگوئی کی تھی کہ اب چونکہ حضرت مرزا صاحبؑ فوت ہو گئے ہیں اور ان کے بعد حضرت مولوی صاحب جانشین ہوئے ہیں اور آپ کے عقائد اصل میں مرزا صاحب کے خلاف ہیں اور آپ درحقیقت تمام ان باتوں کو نہیں مانتے جو مرزا صاحب نے بیان کی ہیں اور اس لئے عنقریب وہ دن آنے والے ہیں کہ جب مولوی صاحب تمام جماعت احمدیہ کو پھر مسلمانوں میں شامل کریں گے اور میں نے اس کے جواب میں ایک مضمون لکھا تھا جس پر آپ نے یہ عبارت تحریر فرمائی۔ جو کہ تشحیذ الاذہان جلد ۳ نمبر ۸ میں شائع ہو چکی ہے وَ هُوَ هٰذَا۔
”میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر اعلان کرتا ہوں کہ میں مرزا صاحب کے تمام دعاوی کو دل سے مانتا اور یقین کرتا ہوں اور ان کے معتقدات کو نجات کا مدار ماننا میرا ایمان ہے“۔ دستخط حضرت خلیفۃ المسیح نور الدین
اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے معتقدات بھی نجات کا ایک مدار ہیں۔
اسی طرح ڈاکٹر عبدالحکیم مرتد کو ایک خط میں حضرت خلیفۃ المسیح فرماتے ہیں کہ ”پھر ان انبیاءؑ کی خلاف ورزی کے متعلق ہم آپ کو ایک آیت سناتے ہیں۔ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمۡ یَتَضَرَّعُوۡنَ فَلَوۡلَاۤ اِذۡ جَآءَہُمۡ بَاۡسُنَا تَضَرَّعُوۡا وَلٰکِنۡ قَسَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖ فَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ اَبۡوَابَ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ حَتّٰۤی اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰہُمۡ بَغۡتَۃً فَاِذَا ہُمۡ مُّبۡلِسُوۡنَ(الانعام: ۴۳، ۴۵) ۴۴۔۴۵) اس آیت پر غور کرو“
اسی طرح اسی خط میں حضرت مسیحؑ کے مخالفین کی نجات کی نسبت عبدالحکیم کو تحریر فرماتے ہیں کہ
”پھر آپ نے تیرہ کروڑ مسلمانوں پر رحم فرمایا ہے اور ذکر کیا ہے کہ تیرہ سو سال میں تیرہ کروڑ مسلمان تیار ہوئے ہیں سب کو نجات حاصل کرنا چاہئے حکیم و ڈاکٹر صاحب دو ارب اللہ کی مخلوق اس وقت موجود ہے تیرہ کروڑ اگر محمد رسول اللہ ﷺ کے باعث تیار ہوئی ہیں تو دو ارب اللہ کی مخلوق ڈارون کے طریق سے لاکھوں برس اور معلوم نہیں کہ کب سے جو تیار ہوئی ان سب نے اگر نجات نہ پائی تو تیرہ کروڑ چیز ہی کیا ہیں“
اس مندرجہ بالا عبارت میں حضرت خلیفۃ المسیحؑ اس کے سوال کا جواب دیتے ہیں کہ مرزا صاحب کی مخالفت کی وجہ سے تیرہ سو سال کی کوششوں کا نتیجہ یہ تیرہ کروڑ مسلمان کیوں غیر ناجی قرار دیا جائے اور فرماتے ہیں کہ جس طرح رسول اللہؐ کی مخالفت کی وجہ سے دو ارب انسان غیر ناجی ہو سکتا ہے اسی طرح اب اللہ تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت مرزا صاحبؑ کی وجہ سے یہ تیرہ کروڑ غیر ناجی ہو سکتا ہے اور ان مندرجہ بالا اقتباسات سے حضرت خلیفۃ المسیح کا اعتقاد خوب ظاہر ہو جاتا ہے۔
اور پھر آگے چل کر فرماتے ہیں ”کہ نجات فضل سے ہے اور فضل کا جاذب تقویٰ ہے اور تقویٰ کا بیان لَیْسَ الْبِرَّ والی آیت میں ہے اور اس میں شاید مرزا کا بھی کہیں ذکر آیا ہو“۔ اس میں آپ نے آیت کے اس حصہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جس میں نجات کے مداروں میں نبیوں پر ایمان لانا بھی ضروری قرار دیا ہے۔
اب میں حضرت صاحب کی وہ عبارت نقل کرتا ہوں۔ جس میں کہ آپ نے خاموش لوگوں کی نسبت تحریر فرمایا ہے فرماتے ہیں۔
”اگر دوسرے لوگوں میں تخم دیانت اور ایمان ہے اور وہ منافق نہیں ہیں تو ان کو چاہئے کہ ان مولویوں کے بارے میں ایک لمبا اشتہار ہر ایک مولوی کے نام کی تصریح سے شائع کر دیں کہ یہ سب کافر ہیں کیونکہ انہوں نے ایک مسلمان کو کافر بنایا تب میں ان کو مسلمان سمجھ لوں گا بشرطیکہ ان میں کوئی نفاق کا شبہ نہ پایا جائے۔ اور خدا کے کھلے کھلے معجزات کے مکذّب نہ ہوں“۔ پھر آخر پر لکھتے ہیں ”دوسو مولوی کے کفر کی نسبت نام بنام ایک اشتہار شائع کریں بعد اس کے حرام ہو گا کہ میں انکے اسلام میں شک کروں بشرطیکہ کوئی نفاق کی سیرت ان میں نہ پائی جائے“۔ پھر حاشیہ پر ارشاد
فرماتے ہیں ”میں دیکھتا ہوں جس قدر لوگ میرے پر ایمان نہیں لاتے وہ سب کے سب ایسے ہیں کہ ان تمام لوگوں کو وہ مؤمن جانتے ہیں جنہوں نے مجھے کافر ٹھہرایا ہے پس میں اب بھی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتا لیکن جن میں خود انہیں کے ہاتھ سے ان کی وجہ کفر پیدا ہو گئی ہے انہیں کیونکر مؤمن کہہ سکتا ہوں“۔ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۶۵‘ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۶۹)
اب ان عبارتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحب ان لوگوں کو بھی جو آپ کو کافر نہیں کہتے اور نہ ان مولویوں کو کافر کہتے ہیں جنہوں نے آپ کو کافر قرار دیا ہے۔ کافر قرار دیتے ہیں کیونکہ آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ جو لوگ مجھے کافر نہیں کہتے وہ میرے مکفّرین کو بھی کافر نہیں کہتے اور اس طرح خود انہیں کے ہاتھ سے وجہ کفر پیدا ہو گئی ہے اس طرح آپ کے مکفّرین کو کافر نہ کہنے کو بھی آپ نے وجہ کفر قرار دیا ہے پس جو لوگ آپ کو کافر نہیں کہتے اور ساتھ ہی غیر احمدیوں کو بھی کامل مسلمان ہی جانتے ہیں۔ وہ بھی کافر ہیں اور کسی صورت میں مسلمان نہیں کہلا سکتے اور صرف یہی کافی نہیں رکھا گیا کہ وہ ان کو کافر کہیں بلکہ نام بنام ان لوگوں کے کفر کا اعلان اشتہاروں اور اخباروں کے ذریعہ سے شائع کریں جنہوں نے آپ پر کفر کا فتویٰ دیا ہے اور جو فتویٰ کہ ہزاروں کی تعداد میں ہندوستان میں شائع ہو چکا ہے۔
اور وفات سے چند ہی دن پہلے مسٹر فضل حسین صاحب بیرسٹر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے فرمایا ”جو ہمیں کافر نہیں کہتے ہم انہیں بھی اس وقت تک ان کے ساتھ ہی سمجھیں گے (مکفّروں کے ساتھ) جب تک کہ وہ ان سے الگ ہونے کا اشتہار بذریعہ اعلان نہ کریں اور ساتھ ہی نام بنام یہ نہ لکھیں کہ ہم ان مکفّرین کو بموجب حدیث صحیحہ کافر سمجھتے ہیں“ (بدر۔ مئی ۱۹۰۸) یاد رہے کہ یہ فقرہ اس تقریر کا آخری فقرہ ہے۔ یہی دو حوالے ہیں کہ جن کو ہمارے مخالف بار بار پیش کرتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ تمہارے امام نے جب لکھ دیا ہے کہ ہم ان لوگوں کو جو ہمارے معاملہ میں خاموش ہیں کافر نہیں سمجھتے تو اب تم ہم لوگوں سے مل جاؤ لیکن ایسے لوگوں کی عقلوں پر سخت تعجب اور افسوس آتا ہے کیا انہیں اس عبارت میں یہ بات نظر نہیں آتی۔ کہ اس میں بڑی بڑی شرائط لگائی گئی ہیں اور کیا کوئی ایسا شخص ہے جس نے ان شرائط کو پورا کر دیا ہے ہاں ہمیں اس شخص کا نام تو بتاؤ جس نے بموجب حضرت صاحب کی تحریر کے دوسو مولویوں کا نام لے لے کر انہیں کافر قرار دیا ہو اور اس بات کا اقرار کیا ہو کہ حضرت صاحب کے معجزات ٹھیک نکلے اور آپؑ راست باز تھے اور یہی نہیں بلکہ اس کے ایمان میں نفاق کا کوئی شائبہ نہ ہو۔ پس جب ایسا کوئی شخص نہیں اور کسی نے ان شرائط کو پورا نہیں کیا تو ہم کس طرح ان کو الگ سمجھ لیں اور گھر بیٹھے زبانی باتوں کے دھوکے میں آجائیں۔ جب ہمارے امام نے صریح الفاظ میں لکھ دیا ہے کہ جو ہمیں کافر نہیں کہتے ہم انہیں بھی اس وقت تک ان کے ساتھ سمجھیں گے جب تک کہ وہ ان سے الگ ہونے کا اعلان بذریعہ اشتہار نہ کریں اور ساتھ ہی نام بنام یہ نہ لکھیں کہ ہم ان مکفّرین کو بموجب حدیث صحیحہ کافر سمجھتے ہیں پس ہم کیوں کر اس شخص کی اطاعت سے نکل جائیں جس کو ہم نے سچا یقین کیا اور جس کے معجزات ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھے اور جس کا خدا سے تعلق ہم نے مدتوں مشاہدہ کیا، ہم اپنے اس سردار اور حاکم کی بات کو کیونکر رد کر دیں جس کے ہاتھ پر ہم نے اپنے آپ کو بیچ دیا اور اپنے خیالات اور اپنی خواہشات اس کے لئے قربان کر دیں ایسی جرأت تو وہ شخص کر سکتا ہے کہ جس کے دل میں ایمان نہ ہو۔ جو نور یقین سے کورا ہو اور جس کو خدا نے معرفت کی آنکھیں نہ دی ہوں۔ اور یہ قطعاً خیال نہ کرو کہ اس قول کا پہلے قول سے کچھ اختلاف ہے اور اس میں حضرت صاحب نے پہلے کی نسبت نرمی کر دی ہے کیونکہ انبیاء اپنے الہاموں کے سب سے زیادہ قائل اور مؤمن ہوتے ہیں دیکھو حضرت صاحب اپنی کتاب اربعین میں تحریر فرماتے ہیں کہ ”مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن پر“ پس یہ خیال سخت گندہ ہو گا اگر ہم یہ کہیں کہ حضرت صاحب نے اس پہلی الہامی بات کو رد کر دیا بلکہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان میں تطبیق کریں اور بہرحال ہم کو اس عبارت کو پہلی عبارت کے ماتحت کرنا پڑے گا کیونکہ وہ الہامی ہے اور اس کے معنی بھی ہم نے نہیں خود حضرت صاحب نے کئے ہیں چنانچہ اگر کوئی شخص غور سے دیکھے تو اس جگہ حضرت صاحب نے تعلیق محال بالمحال سے کام لیا ہے کیونکہ جو شخص حضرت صاحب کے منکرین کو نام بنام کافر قرار دے گا اور باوجود حضرت صاحب کے ان دعاوی کے آپ کو سچا قرار دے گا اور آپ کے الہامات اور معجزات پر یقین لائے گا اور پھر آپ کی بیعت نہ کرے گا۔ تو ایسا شخص دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو وہ منافق ہو گا کہ لوگوں کے ڈر سے سچ کو قبول نہیں کرتا اور یا حکم الٰہی کا صریح منکر ہو گا کیونکہ حضرت صاحب نے بیعت الہام کے ذریعہ سے شروع کی ہے اور قرآن شریف میں انبیاء کے منکرین کو کافر کہا گیا ہے۔
پس ایسا شخص جس پر حق کھل گیا اور اس نے حضرتؐ کے راست باز ہونے کو سمجھ لیا تو پھر وہ بیعت نہیں کرتا تو اس میں یا تو نفاق کا شائبہ ہے یا کفر کا اور حضرت صاحبؓ نے یہ شرط ساتھ قرار دی ہے کہ پھر ایسا شخص منافق بھی نہ ہو پس جو شخص ان شرائط پر عمل کرے گا اس کے لئے تو بیعت ضروری ہو جائے گی اور اگر بیعت نہ کرے گا تو منافق ہو گا۔ پس جو شخص ایسا اشتہار دے بھی دے جس میں مخالف مولویوں پر کفر کا فتویٰ دے اور پھر بھی بیعت نہ کرے تو ایسا شخص ضرور منافق ہے پس حضرت صاحب نے تو ایک محال بات پیش کر کے مخالفین پر ایک حجت قائم کی ہے نہ یہ کہ ان کے لئے راستہ کھولا ہے اس عبارت کو پیش کر کے ہم سے صلح چاہنے والا بعینہٖ اس شخص کی طرح ہے جو قرآن شریف کی آیت قُلۡ اِنۡ کَانَ لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدٌ ٭ۖ فَاَنَا اَوَّلُ الۡعٰبِدِیۡنَ(الزخرف: ۸۲) کو پیش کر کے ہم سے یہ چاہے کہ ہم یسوع کی عبادت کریں اور اسے خدا کا بیٹا مان لیں۔ یہاں تو یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ نہ تو تم خدا کا بیٹا ثابت کر سکو گے اور نہ میں قبول کروں گا اسی طرح مذکورہ بالا عبارت میں حضرت صاحبؓ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی ہمارے مخالفین کا نام لے لے کر قریباً دو سو مکفّر مولویوں پر کفر کا فتویٰ اشتہار کے ذریعہ شائع کرائے اور پھر اس میں نفاق بھی نہ ہو تو ہم ایسے کو مؤمن مان لیں گے اور یہ بات ناممکن ہے کہ کوئی شخص ایسا کرے اور پھر باوجود بیعت نہ کرنے کے منافق بھی نہ ہو پس یہ تو ایک تعلیق محال بالمحال تھی اسے سند کے طور سے پیش کرنا تو ایک بڑی جہالت ہے۔
اور اس لمبی تقریر کی بھی ہم کو کچھ ضرورت نہیں کیونکہ ابھی تو کوئی شخص نہیں پیش کیا گیا جس نے ان شرائط پر عمل کیا ہو پس اس کے ذریعہ صلح چاہنا اول درجہ کی نادانی ہے جس قدر لوگ متفرق طور سے احمدیوں کے پاس آ کر یا جماعتوں میں اس قسم کا اقرار کرتے ہیں وہ تو ان لوگوں کی طرح ہیں جن کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاِذَا لَقُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚۖ وَاِذَا خَلَوۡا اِلٰی شَیٰطِیۡنِہِمۡ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا مَعَکُمۡ ۙ اِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَہۡزِءُوۡنَ(البقرہ: ۱۵) وہ اگر ہم سے صلح چاہتے ہیں تو اپنی دنیاوی حیثیت بڑھانے کے لئے نہ کہ ان کے دلوں میں دین کی تڑپ ہے اگر واقعی ان کو خدا تعالیٰ سے کچھ محبت ہوتی اور دین کی تڑپ ہوتی اور تقویٰ کا ایک ذرہ بھی ان کے دلوں میں باقی ہوتا تو وہ کیوں کوشش سے اس شخص کے دعوٰی کو نہ سنتے جس نے تئیس برس پکار پکار کر سنایا کہ خدا نے مجھ سے کلام کیا اور مجھے دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے اور میں اس کی طرف سے مامور مقرر کیا گیا ہوں۔ اس نے لیکچروں کے ذریعہ، اشتہاروں اور رسالوں کے ذریعہ کتابوں کے ذریعہ اپنی آمد کا اعلان کیا
لیکن کیا ان لوگوں نے ذرہ بھر بھی توجہ کی۔ ایک آریہ اخبار ذرہ بھر بھی ان کے پولیٹیکل حقوق کے بر خلاف لکھتا ہے تو ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے آنکھوں سے شعلے نکلنے لگتے ہیں اور ناسزا الفاظ بے اختیار ان کے منہ سے نکل جاتے ہیں اور راس کماری سے لے کر ہمالیہ کی چوٹیوں اور کلکتہ سے لے کر پشاور تک تار برقی کی طرح ایک جوش پھیل جاتا ہے اور چاروں طرف غورو فکر شروع ہو جاتا ہے لیکن خدا کے مامور کی آواز ان کے کانوں میں تئیس سال تک پڑتی رہی اور دنیا کی بے توجہی پر غضب الٰہی نازل ہوا۔ لیکن ان کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی یہ مست پڑے رہے اور غفلت کے لحافوں کو انہوں نے اپنے سر سے نہ اتارا۔ انہوں نے آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا کہ یہ ہے کون اور پرواہ تک نہ کی خدا کی پکار کو سننے سے انکار کر دیا اور حقارت سے منہ پھیر لیا یہ ان کا ایمان ہے اور یہ وہ تڑپ ہے جو دین کے لئے ان کے دلوں میں پائی جاتی ہے اور باوجود اس حالت کے یہ لوگ ہمارے سامنے آتے ہیں اور ہمیں صلح کے لئے بلاتے ہیں اور پھر زیادہ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ یہ تحریک جس گروہ سے اٹھی ہے اور جو گروہ کہ ہم کو اپنے پیچھے نمازیں پڑھوانا چاہتا ہے وہ خود نماز نہیں پڑھتا۔ جو لوگ نمازیں پڑھتے ہیں وہ تو ہم کو کافر سمجھتے ہیں مگر یہ لوگ جو ٹھٹھے اور ہنسی میں اپنا دن گزارتے ہیں اور اسلام کے پاک احکام پر تمسخر کرتے ہیں جن پر یورپ کا رنگ تہ بہ تہ چڑھا ہوا ہے ہمیں بلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں بلاؤ اور ہمارے پیچھے نماز پڑھو۔ ہم کس کے پیچھے نماز پڑھیں کیا ان لوگوں کے پیچھے جن کو اگر مسلمان بھی سمجھ لیا جائے تو شاید نماز پڑھنی ناجائز ہو؟ ہاں ہم کن کے پیچھے نماز پڑھیں کیا ان لوگوں کے پیچھے جنکے دلوں میں اسلام محض ایک قومیت ہے اور رسول اللہ ﷺ کی عزت صرف اپنے پولیٹیکل حقوق کے محفوظ رکھنے کے لئے کی جاتی ہے بے شک اس تحریک کا اس گروہ سے اٹھنا ہی اس بات پر شاہد ہے کہ یہ تحریک رحمن کی طرف سے نہیں۔
اب میں حضرت صاحب کا وہ فتویٰ نقل کرتا ہوں جس میں کہ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے روکا گیا ہے آپؐ فرماتے ہیں کہ ”پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفّر اور مکذّب یا متردّد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو اسی کی طرف حدیثِ بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ اِمَامُکُمْ مِّنْکُمْ یعنی جب مسیح نازل ہو گا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا پس تم ایسا ہی کیا کرو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔ جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور ہر ایک حال میں مجھے حَکَم ٹھہراتا ہے اور ہر ایک تنازع کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے پس جانو کہ وہ مجھ سے نہیں ہے کیونکہ میری باتوں کو جو خدا سے ملی ہیں عزت سے نہیں دیکھتا اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں“
اب اس عبارت پر غور کرنے سے اول تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھتا ہے یا غیر احمدیوں سے تعلق رکھتا ہے وہ ایسے فعل کا مرتکب ہوتا ہے جو قطعی حرام ہے دوسرے یہ کہ ہمارے لئے لازمی ہے کہ ہم غیر احمدیوں سے قطعی طور سے الگ رہیں۔ تیسرے یہ کہ جو ایسا نہیں کرتا اس پر خدا کا الزام ہے۔ چوتھے یہ کہ ایسے شخص کے اعمال حبط ہو جائیں گے۔ پانچویں یہ کہ جو حضرت صاحب کا دل سے معتقد ہے وہ آپ کے اس فیصلہ اور دیگر فیصلوں کو مانتا ہے۔ چھٹے یہ کہ جو نہیں مانتا اس کے دل میں خود اختیاری کا مرض ہے۔ ساتویں یہ کہ حضرت صاحب ان الفاظ میں کہ وہ مجھ سے نہیں اس سے قطع تعلق کرتے ہیں۔ آٹھویں یہ کہ ایسا کرنے والے کی عزت آسمان پر بھی نہیں کی جائے گی اب باوجود ان فتووں کے ہم کیا کریں اور کس طرح ان لوگوں کے ساتھ شامل ہو جائیں جو ہلاکت کے گڑھے کی طرف ہم کو بلاتے ہیں۔
اب ایک طرف تو خدا کا کلام ہم کو اپنی طرف بلاتا ہے اور دوسری طرف چند لوگ جن کے ایمانوں کا ہم کو کوئی علم نہیں بلکہ وہ صریح طور سے ایک مامور کے مکفر ہیں ہم کو اپنی طرف کھینچتے ہیں پس بہتر ہے کہ ہم خدا کی آواز کو قبول کریں اور جس طرح پہلی دفعہ ہم نے انسانوں پر خدا کے احکام کو مقدم کیا اب بھی وہی نمونے دکھائیں حضرت صاحب خدا سے خبر پا کر فرماتے ہیں کہ مجھے نہ قبول کرنے والوں کو راست باز جاننے والا ان کے پیچھے نماز پڑھنے والا اور ان سے بکلی قطع تعلق نہ کرنے والا شیطان کے پنجہ میں ہے اور آپ پر ایمان نہیں رکھتا اس کے اعمال حبط ہو جائیں گے اور آسمان پر اس کی عزت نہ ہو گی پس ہمارے لئے کیسا خطرناک ابتلاء ہے ایک طرف تو ظاہری چین اور امن نظر آ رہا ہے۔ دشمنوں کی نظروں میں ایک عزت ہوتی ہے اور شاید گورنمنٹ کی نظروں میں بوجہ سرگروہ سے تعلق ہو جانے کے زیادہ وقعت پانے کی امید ہے اور دوسری طرف خدا کے مامور کا فتویٰ ہے کہ اگر تم ان سے بکلی قطع تعلق نہیں کرتے تو پھر تمہارا مجھ سے قطع تعلق ہے اگر عاجلہ کو دیکھا جائے تو پہلی بات میں فائدہ ہے لیکن اگر یومِ ثقیل کا خیال کیا جائے تو سوائے دوسری بات پر عمل کرنے کے کوئی چارہ نہیں ہم ان لوگوں سے صلح کرتے ہوئے ان آیات قرآنی کو کہاں چھپائیں۔ ۣالَّذِیۡنَ یَتَّخِذُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ اَیَبۡتَغُوۡنَ عِنۡدَہُمُ الۡعِزَّۃَ فَاِنَّ الۡعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیۡعًا(النساء: ۱۴۰) یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ اَتُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَجۡعَلُوۡا لِلّٰہِ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا(النساء: ۱۴۵) اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡفُرُوۡنَ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَیُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَیَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّنَکۡفُرُ بِبَعۡضٍ ۙ وَّیُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ حَقًّا ۚ وَاَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا(النساء: ۱۵۱، ۱۵۲) اور خصوصیت سے آخری آیت میں تو ہم خاص طور سے اسی گروہ کا ذکر پاتے ہیں جو مدعی ہیں کہ ہم مرزا صاحب کو مسلمان متقی اور راست باز انسان مانتے ہیں لیکن نبی نہیں مانتے اور جو کہتے ہیں کہ نجات ایمان باللہ پر ہے نہ ایمان بالرسل پر اور جن کا خیال ہے کہ رسول اللہؐ کے انکار کی وجہ سے عذاب ہو بھی لیکن مرزا صاحب کے نہ ماننے کا کوئی حرج نہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں اور پکے کافر ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور عذاب کے مستحق ہیں (اور حضرت صاحبؑ بھی فرماتے ہیں کہ مَنْ فَرَّقَ بَيْنِيْ وَ بَيْنَ الْمُصْطَفٰى فَمَا عَرَفَنِيْ وَ مَا رَاٰی) اور پھر فرماتا ہے کہ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ(الانعام: ۲۲) پس با وجود ان صریح نصوص کے ہم کیونکر انکار کر دیں اور کہہ دیں کہ تمام رسولوں کا ماننا ضروری نہیں اور یہ کہ مسیح موعودؑ کا ماننا مدارِ نجات میں شامل نہیں اگر ہم ایسا کہیں تو ہم بھی اسی گروہ میں شامل ہو جائیں گے جن کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ حَقًّا ۚ وَاَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا(النساء: ۱۵۲) اور جن کی نسبت فرماتا ہے اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ(6:22) (فَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذَالِكَ الْكَذِبِ وَ الْبُهْتَانِ وَ بِفَضْلِهِ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيٰطِيْنِ) اور اگر ہم ایسا کریں تو گویا عبدالکریم مرتد کی پیشگوئی کو پورا کر دیں اور شیطان کے مؤید ہو جائیں کیونکہ اس کی مخالفت بھی اس بات پر ہوئی تھی اور وہ جماعت سے اسی لئے خارج کیا گیا تھا کہ اس کا دعویٰ تھا کہ سوائے ان چند مکفّرین کے جنہوں نے مخالفت میں زور مارا ہے باقی سب ناجی ہونے چاہئیں اور کفر کا فتویٰ ان پر نہیں دینا چاہئے پس ہمارا بھی ایسے ہی عقائد رکھنا گویا عبدالحکیم کی پیروی کرنا اور حضرت مسیح موعودؑ کا انکار کرنا ہے اور اس کی شیطانی پیشگوئی کو پورا کرنا ہے کہ عنقریب مرزائی مرزا صاحب پر ایمان کو غیر ضروری قرار دے کر باقی تمام غیر فرقوں کو بھی مسلمان قرار دیں گے اور اعمال پر نجات کا مدار جانیں گے اور ایمان بالرسل کو علیحدہ کر دیں گے پس ان باتوں کا ماننا ہمارے لئے موت ہے اور سلسلہ کی تکذیب۔
آخر میں یہ لکھنا بھی ضروری جانتا ہوں کہ میں ہی ان خیالات سے ایسا متنفر نہیں بلکہ جہاں تک مجھے علم ہے خود ہمارا امام اور دیگر دانا لوگ سب کے سب ان خیالات کو پسند نہیں کرتے پس میں کہہ سکتا ہوں کہ ہم سب خدا کے فضل سے اس پر امید کرتے ہیں اور اسی کو اپنا سہارا قرار دیتے ہوئے اور مسیحؑ ناصری کی جماعت کے تجربہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے شرحِ صدر کے ساتھ اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے خدا کے مامور کو قبول کیا ہے اور اس کے ہر ایک حکم کو مدارِ نجات یقین کرتے ہیں اس لئے بلا کسی تأمل کے کہتے ہیں کہ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡکُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ(60:5)۔
خاکسار۔ مرزا محمود احمد
(تشحیذ الاذہان اپریل ۱۹۱۱ء)
از
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ صبح کے قریب میں نے دیکھا کہ ایک بڑا محل ہے اور اس کا ایک حصہ گرا رہے ہیں اور اس محل کے پاس ایک میدان ہے اور اس میں ہزاروں آدمی پتھیروں کا کام کر رہے ہیں اور بڑی سرعت سے اینٹیں پاتھتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیسا مکان ہے اور یہ کون لوگ ہیں اور اس مکان کو کیوں گرا رہے ہیں؟ تو ایک شخص نے جواب دیا کہ یہ جماعت احمدیہ ہے اور اس کا ایک حصہ اس لئے گرا رہے ہیں تا پرانی اینٹیں خارج کی جائیں (اللہ رحم کرے) اور بعض کچی اینٹیں پکی کی جائیں اور یہ لوگ اینٹیں اس لئے پاتھتے ہیں تا اس مکان کو بڑھایا جاوے اور وسیع کیا جائے۔ یہ ایک عجیب بات تھی کہ سب پتھیروں کا منہ مشرق کی طرف تھا اس وقت دل میں خیال گزرا کہ یہ پتھیرے فرشتے ہیں اور معلوم ہوا کہ جماعت کی ترقی کی فکر ہم کو بہت کم ہے بلکہ فرشتے ہی اللہ تعالیٰ سے اذن پا کر کام کر رہے ہیں۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ جو کوئی کسی کے کام میں اسے مدد دیتا ہے وہ اس کا دوست اور پیارا بن جاتا ہے تو اگر ہم اس وقت ملائکہ کے کاموں میں مدد کریں گے جو خود اپنی ہی مدد ہے تو ضرور ہے کہ ملائکہ کا ہم سے خالص تعلق ہو جائے اور اس تعلق کی وجہ سے خود ہمارے نفوس کی بھی اصلاح ہو اور ملائکہ ہمارے دلوں میں کثرت سے نیک تحریکیں شروع کر دیں۔ چنانچہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں دو تحریکیں پیدا کیں کہ جن سے سلسلہ کی خدمت مد نظر ہے ایک تو یہ کہ طاعون شروع ہے اور اب کے سال بہت بڑھے گی۔ اس لئے ایک اشتہار دیا جائے جس میں لوگوں کو اس سلسلہ کی دعوت دی جائے۔ اور اس موقعہ پر لوگوں کے دل نسبتاً زیادہ سخت نہیں ہوتے اس لئے اللہ تعالیٰ چاہے تو بہت فائدہ ہو گا اور یہ اشتہار ہزاروں کی تعداد میں کثرت سے بلاد ہند میں شائع کیا جائے۔ چنانچہ یہ اشتہار میں نے لکھ کر چھپنے کے لئے دے دیا ہے جو چند دنوں تک ہی تیار ہو جائے گا۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ احمدی احباب خصوصاً جن علاقوں میں طاعون کا زور ہو اس اشتہار کی کثرت سے اشاعت کریں گے اور جن کے دل میں اللہ تعالیٰ یہ تحریک پیدا کرے وہ مجھ سے اشتہار طلب کریں جو فوراً ان کی خدمت میں بھیج دیا جائے گا۔ دوسری تحریک جو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالی ہے کہ ایک انجمن قائم کی جائے جس کے ممبران خصوصیت سے قرآن و حدیث اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تبلیغ کی طرف توجہ رکھیں اور افرادِ جماعت میں صلح و آشتی پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس کے ممبران اپنے دنیاوی کام کرتے ہوئے بھی اپنے آپ کو دین کے لئے وقف کر دیں یعنی ہر ایک موقعہ سے جو تبلیغِ حق کا ملے فائدہ اٹھائیں اور گویا اس فکر میں اپنے اوپر آرام و چین حرام کر دیں پس اس لئے میں اس اعلان کے ذریعہ سے ہر ایک اس روح کو جو اپنے اندر حق کے پہنچانے کا جوش رکھتی ہے بلاتا ہوں کہ وہ اس کام میں مدد دے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی امیدوار ہو۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء تو پورا ہو کر رہے گا یہ ایک موقعہ ہے کہ جو ہم کو دیا گیا ہے جس نے ایک مامور کو دنیا کی ہدایت اور روشنی کے لئے بھیجا وہ اس کے نور کو اور ہدایت کو دنیا میں پھیلائے گا۔ کیا دنیا با وجود ایک مامور من اللہ کے آنے کے تاریک ہی رہے گی؟ ہر گز نہیں ایسا ہر گز نہیں ہو گا خدا تعالیٰ کی باتیں ٹلا نہیں کرتیں۔ باقی مبارک وہ جو اللہ تعالیٰ کے ارادوں میں اپنے ارادوں کو شامل کر دیتا ہے اور جیتے جی اپنے مولا کی راہ میں اپنی خواہشوں اور امنگوں پر موت وارد کر لیتا ہے۔ یہ شخص ہے جو حقیقی زندگی بسر کرتا ہے اور اس کی حیات سچی حیات ہے۔ ورنہ وہ انسان جو باوجود اشرف المخلوقات ہونے کے سگِ دنیا بن کر طمع و حرص کے مردار پر گرتا ہے اور اپنے ہمسایہ اور پڑوسی سے لڑ اور جھگڑ کر اپنی زندگی بسر کرتا ہے اس کی زندگی ہی کیا اور اس کے جینے کا فائدہ ہی کیا۔ بہتر ہوتا کہ وہ پیدا ہی نہ ہوتا اور وہ دن دور نہیں جب کہ اسے کہنا پڑے گا کہ یٰلَیۡتَنِیۡ کُنۡتُ تُرٰبًا(78:41)۔ پس مت سمجھو کہ دنیا کی ترقیوں اور مال و جلال کے بڑھانے سے تم اپنے اصلی مقصد کو پہنچ گئے بلکہ جب تک اپنے بھائی کی فکر نہ کرو اور دین کی فکر تمہیں سوہانِ جان ہو کر نہ لگے تم نے اپنی عمر ضائع کر دی اور قیمتی وقت بیہودہ باتوں میں کھو دیا۔ کاش تم اتنا سمجھتے کہ جس مسافر نے دور جانا ہو اور لمبی منزل طے کرنی ہو وہ جس قدر ممکن ہو بوجھ کو ہلکا کرتا ہے اور فضول اور زائد چیزوں کو نہیں اٹھاتا۔ پس کیا افسوس ہے اس پر جس نے نہ معلوم کیسے دشوار گزار راستوں سے گزر کر میدانِ حشر میں پہنچنا ہے اور ہر وقت اسی فکر میں ہے کہ جو کچھ بھی ملے وہ اپنے کندھے پر اٹھا لوں۔ دنیا کی آسائشیں اور عیش و عشرت کی زندگی ایک بوجھ ہے جو اس
مسافر کو تھکا کر چور کر دے گا اور جنت کے دروازہ پر پہنچنے سے پہلے ہی اس کی ہڈیاں توڑ دے گا۔ لیکن خدمتِ دین ہی ایک ایسی سواری ہے جو ہر وقت اسے بہشتِ بریں کی طرف اڑائے لئے جا رہی ہے۔ کتنے دل ہیں کہ جو اپنے بھائیوں کیلئے غمگین ہیں اور کتنی آنکھیں ہیں جو دنیا کی گمراہی کو دیکھ کر چشم پُر آب ہیں۔ ہاں کتنے جگر دین کی پراگندگی پر چاک چاک ہو رہے ہیں اور کن کن کے گریبان ایسے پھٹے ہیں کہ وہ بس سئے ہی نہیں جاتے۔ ہمارے ہزاروں نہیں لاکھوں نہیں کروڑوں بھائی ہیں کہ جنہوں نے خدا کو بھی نہیں پہچانا جو ملائکہ کے منکر ہیں جو کتبِ سماوی کے قائل نہیں جو رسولوں پر ٹھٹھا کرتے ہیں جن کے زمانہ میں خدا کا ایک مأمور آیا لیکن انہوں نے اس کی قدر نہ کی اور اپنی آنکھوں سے غفلت کی پٹی اتار کر اسے نہیں دیکھا۔ ہم نے ان کے لئے کیا کیا اور ان تک اس مجددِ دین کے پاک و شیریں کلمات کے پہنچانے میں کس قدر کوشش کی۔ کیا تم نے سنا نہیں کہ خفتہ را خفتہ کے کند بیدار جب ہم خود ہی سوتے رہے اور دنیا کی جھوٹی چمک اور یورپ کی فریب دہ جلوہ آرائیوں پر مرتے رہے۔ تو غیر کو جگانے سے پہلے بہتر ہے کہ اپنے آپ کو جگائیں اور دوسرے کی آنکھوں سے جہل کی پٹی اتارنے سے پہلے اپنی ہی آنکھوں کا فکر کریں۔ ملائکہ اس کام میں لگے ہوئے ہیں پس بہتر ہے کہ ہم بھی لہو لگا کر شہیدوں میں مل جائیں۔ کام تو اللہ ہی نے کرنا ہے ہماری تو کوششیں ہی ہیں اور سچی بات تو یہ ہے کہ کوشش کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے۔
ہمارا کچھ نہیں سب کچھ اسی درگہ سے ملتا ہے
بلا حکمِ خدا کب ایک تنکا تک بھی ہلتا ہے
یہ مت سمجھو کہ ہم اس کام کے لائق نہیں اگر ہمت و استقلال ہو اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق ہو تو پھر وہ خود ہی قرآن و حدیث کا علم سکھلا دیتا ہے حضرت اقدس فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ایک رات میں کئی ہزار عربی الفاظ کا مادہ سکھلا دیا گیا تھا۔ پس خدا کے خزانے وسیع ہیں کمر ہمت کو چست کرو اور دنیا کو کھول کر سنا دو کہ ”دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا مگر خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کرے گا“۔ اسلام کا سورج گہن کے نیچے ہے۔ خدا کے حضور میں تڑپو آہ و زاری کرو تا وہ گہن دور ہو اور دنیا خدا تعالیٰ کا چہرہ دیکھے اور قرآن اور رسولِ کریم ﷺ کی عظمت اس پر ظاہر ہو اور حضرت مسیح موعودؑ کی سچائی سے صاف آگاہ ہو۔ دھوکے کو چھوڑ دو اور صاف صاف الفاظ میں دنیا پر وہ سچائیاں ظاہر کر دو جو خدا نے تم کو دی ہیں تا قیامت کے دن سبکدوش ہو کہ ہم نے اپنی طرف سے تبلیغ کر دی تھی کون جانتا ہے کہ میں کل
تک زندہ رہوں گا پس ہر ایک انسان کا فرض ہے کہ وہ کل کے آنے سے پہلے ہی اپنے خیالات کا دنیا پر اظہار کرے اور مولیٰ سے جو کچھ ہدایت پائی اس کو لوگوں پر پیش کرے پھر جس کا دل چاہے مانے اور جو چاہے انکار کر دے۔ حضرت مسیحؑ نے اس تبلیغ کے کام کے لئے اپنے حواریوں کو کہا تھا کہ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ(3:53) آج میں بھی حضرت مسیحؑ کے تتبع کے طور پر اپنے دوستوں کے آگے یہی کلمہ دہراتا ہوں کہ اپنی کمر ہمت باندھ کر میرے ساتھ اس کام میں شامل ہو اور جہاں تک ہو سکے اس کام کو کرو تا خدا تعالیٰ کی درگاہ سے انعام کے مستحق ہو یہ سلسلہ تو ضرور پھیلے گا ہی لیکن ہم نے سستی دکھائی تو ہم انصار کیونکر بنیں گے لیکن چونکہ یہ بڑا عظیم الشان کام ہے اس لئے میں یہ شرط لگانی پسند کرتا ہوں کہ جس نے اس کام میں حصہ لینا ہو وہ پہلے سات دفعہ استخارہ کرے تا اللہ تعالیٰ اس کے کام کا ذمہ دار ہو جاوے اور اگر سات دفعہ استخارہ کرنے کے بعد اس کے دل کو اللہ تعالیٰ اس طرف جھکا دے تو پھر شوق سے اس انجمن میں داخل ہو چنانچہ میں نے بھی اس اعلان کے پہلے خود کئی دفعہ استخارہ کیا اور نہ صرف خود ہی کیا۔ بلکہ کئی ایک نیک اور صالح دوستوں سے بھی استخارہ کروایا اور کئی ایک دوستوں کو اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارات بھی ہوئیں تب جا کر یہ کام میں نے شروع کیا اور استخارہ کرنے کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح سے بھی اجازت لی۔ چنانچہ اس انجمن کے وہ قواعد جس کی پابندی ہر ایک ممبر کو لازمی ہو گی وہ بھی حضرت خلیفۃ المسیح کے حضور پیش کر کے اجازت حاصل کر لی گئی ہے وہ قواعد یہ ہیں۔
(۱) اس مجلس کے ہر ایک ممبر کا فرض ہو گا کہ حتی الوسع تبلیغ کے کام میں لگا رہے اور جب موقعہ ملے اس کام میں اپنا وقت صرف کرے جو اپنے گاؤں یا شہروں میں کر سکیں وہاں کریں جنہیں زیادہ موقعہ ملے اور علاقہ میں بھی۔
(۲) ہر ایک ممبر کا فرض ہو گا کہ قرآن شریف اور حدیث کے پڑھنے اور پڑھانے میں کوشاں رہے۔
(۳) ہر ایک ممبر کا فرض ہو گا کہ سلسلہ احمدیہ کے افراد کی آپس میں صلح اور اتحاد پیدا کرنے میں کوشاں رہے اور لڑائی اور جھگڑوں سے بچے۔ خصوصاً جبکہ آپس میں کوئی جھگڑا ہو تو خود فیصلہ کر لیں ورنہ حضرت خلیفۃ المسیح سے دریافت کر لیں۔
(۴) ہر ایک قسم کی بدظنیوں سے بچے جو اتحاد اور اتفاق کو کاٹتی ہیں۔
(۵) ہر ماہ کے آخر میں وہ مجھے یا جس کو اللہ تعالیٰ اس کام پر مقرر کرے اطلاع دیں کہ انہوں نے اس ماہ میں کیا کام کیا۔ (۶) اس مجلس کے ممبر آپس میں رشتہ اتحاد پختہ کرنے کے لئے کوشاں رہیں اور تعلق بڑھانے کے لئے ایک دوسرے کے لئے دعا کریں اور حدیث صحیح کے مطابق جو قریب کے دوست ہوں ایک دوسرے کی دعوت کریں اور
تَهَادَوْا تَحَابُّوْا پر عمل کریں اور عام طور سے عموماً اور ممبران سے خصوصاً ہمدردی ظاہر کریں اور بوقت مشکلات مدد کریں۔ (۷) تسبیح اور تحمید پر کوشش کریں اور چونکہ رسول کریمؐ کے ہم پر لاکھوں کروڑوں احسانات ہیں ان پر کثرت سے درود بھیجیں اور نماز کے علاوہ درود پڑھنے کے وقت خلفاء کا لفظ بڑھا کر خصوصیت سے حضرت مسیح موعودؑ کو مد نظر رکھیں۔ (۸) اس مجلس کے ممبر خصوصیت سے حضرت خلیفۃ المسیح کی فرمانبرداری کا خیال رکھیں۔ (۹) نمازیں پابندی اوقات سے ادا کریں اور نوافل صلوٰۃ و صدقہ اور روزہ کے لئے بھی کوشش کریں کیونکہ ترقیات روحانی نوافل سے ہوتی ہیں۔ جو صاحب استخارہ مقررہ کے بعد ممبر ہونا چاہیں مجھے اطلاع دیں۔ تاکہ ان کا نام درج کیا جائے وَاٰخِرُ دَعۡوٰٮہُمۡ اَنِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(10:11) خاکسار مرزا محمود احمد از قادیان (تشحیذ الاذہان مئی ۱۹۱۱ء)
(ڈلہوزی کے پادری لیگسن سے گفتگو)
(جون ۱۹۱۱ء)
از
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
انسان کو اپنی عمر میں کئی ایسے واقعات پیش آتے ہیں جنکو اگر محفوظ رکھا جائے اور تحریر میں لایا جائے تو نہ صرف اس کے لئے بلکہ بہت سے اور لوگوں کے لئے مفید و بابرکت ثابت ہوں۔ بعض دفعہ ایک چھوٹی سی بات بڑے بڑے نتائج پیدا کرتی اور ایسے ایسے ثمرات اس سے نکلتے ہیں کہ جو سننے والے کے لئے خضر راہ ہو جاتے ہیں مسیحیوں میں پہاڑی وعظ ایک ایسا اعلیٰ درجہ کا پر مغز اور پر معارف وعظ سمجھا جاتا ہے کہ جس کے مقابل میں دنیا کی کوئی تحریر اور نوشتہ نہیں ٹھہر سکتا۔ اور وہ انیس سو (۱۹۰۰) سال سے اب تک اسے پڑھتے ہیں اور اس کی لطافت اور نزاکت پر سر دھنتے ہیں۔ مسیحؑ نے نہ معلوم کن جذبات اور کن خیالات کے ماتحت وہ الفاظ کہے ہونگے۔ مگر مسیحیوں کے نزدیک آئندہ آنے والے خطرناک اور مہیب راستوں میں اور قبر کے اندھیروں اور حشر و نشر کے تشویش افزا میدان میں وہ ایک ایسا دوست اور رہنما ہے کہ جس پر عمل کر کے انسان ہر قسم کے دکھوں اور مصیبتوں سے بچ سکتا ہے۔
مجھے بھی پچھلے دنوں پہاڑ پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اور وہاں پنجاب کے ایک مشہور و معروف پادری صاحب سے ہمکلامی کا موقعہ ملا۔ چونکہ وہ گفتگو جو میرے اور پادری صاحب کے درمیان ہوئی میرے خیال میں صراطِ مستقیم کے متلاشیوں کے لئے کسی صورت میں پہاڑی وعظ سے کم نہیں اور چونکہ احد المتکلمین ایک مسیحی صاحب ہیں اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ میں بھی اس گفتگو کا نام پہاڑی وعظ ہی رکھوں امید ہے کہ پادری صاحبان مندرجہ بالا وجوہات پر غور کرتے ہوئے اس پر اظہار ناپسندیدگی نہ فرمائیں گے۔
عصر کے بعد حسبِ معمول میں اور میرے دوست ڈلہوزی سے بیلوں کی طرف سیر کے لئے
گئے ۔ شام کے وقت گھر کو واپس آتے ہوئے راستہ میں ایک طویل القامت کثیر اللحیہ پادری صاحب سڑک پر جاتے ہوئے ملے۔ مجھے خیال آیا کہ یہ پادری صاحب نہ معلوم کہاں سے اور کن کن امیدوں کو ساتھ لئے ہوئے اس دور دراز گوشہ میں پڑے ہوئے پہاڑ پر تشریف لائے ہیں اس لئے مناسب ہے کہ ان سے مل کر ان کی کوششوں کی داد دی جائے ۔ اس لئے میں نے سید عبد الحئی صاحب عرب مولوی فاضل کو جو اس وقت میرے ہمراہ تھے کہا کہ وہ پادری صاحب سے بڑھ کر دریافت کریں کہ ہم ان کی کوٹھی پر ان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا وہ اسے ناپسند تو نہ فرمائیں گے۔ پادری صاحب نے اس بات پر بہت خوشی کا اظہار کیا اور ہمیں مسیحیت کا شکار سمجھ کر بڑی خوشی سے ملاقات کی اجازت دی۔ اور بتا دیا کہ آپ کی کوٹھی بائیں جانب پوسٹ آفس کے نیچے ہے اور یہ کہ ہم جس وقت چاہیں ان سے مل سکتے ہیں۔
دوسرے تیسرے روز پادری صاحب ہم کو ڈلہوزی کے بازار میں کتابوں کا ایک بنڈل ہاتھ میں لئے ہوئے نظر آئے جو قریباً تمام کی تمام اسلام کے خلاف تھیں اور اسی غرض سے لکھی گئی تھیں کہ نادان اور جاہل مسلمانوں کو پھسلا کر دائرہ اسلام سے خارج کر کے مسیح کی بھیڑوں میں شامل کیا جائے پادری صاحب نے عند الملاقات دو رسالے ہمیں بھی دیئے۔ جن میں اسلام اور اس کے بانی پر مختلف پیرایوں میں حملے کئے گئے تھے۔ انہیں پڑھ کر میری طبیعت میں اور بھی جوش آیا کہ پادری صاحب سے مل کر ضرور چند باتوں کا تصفیہ کرنا چاہئے۔
اس اتفاقی ملاقات کے دوسرے یا تیسرے دن فرصت نکال کر میں اور دو اور دوست پادری صاحب کی ملاقات کے لئے گئے۔ نصف گھنٹہ کی تلاش کے بعد پادری صاحب کی کوٹھی کا پتہ لگا۔ جو ایک ایسی پر فضا اور خوبصورت مقام پر بنی ہوئی تھی کہ اس کو دیکھ کر بے اختیار مسیح کا وہ قول یاد آتا تھا کہ دولت مند اس وقت تک خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ گزر جائے ڈلہوزی پر بہت ہی عمدہ کوٹھیاں ہیں اور اعلیٰ سے اعلیٰ مقامات پر بنی ہوئی ہیں لیکن ایسی خوبصورت اور دلکش جگہ کسی کو بھی میسر نہیں آئی اور صرف مشن ہی کی کوٹھی ہے کہ جس کو ایسی دلربا سینری میں واقع ہونے کا فخر حاصل ہے۔ چونکہ پہلے روز عرب صاحب ہی پادری صاحب کو ملے تھے اس لئے انہی کو آگے کیا گیا کہ اجازت حاصل کریں پادری صاحب برآمدے میں ہی کھڑے تھے دیکھ کر بڑے تپاک سے ملے اور اندر لے گئے اور ملاقات کے کمرے میں ہم تینوں کو بٹھا کر ایک دو منٹ کے لئے باہر تشریف لے گئے۔ واپس آنے پر پادری صاحب نے
حسبِ معمول مختلف واقعات پر گفتگو شروع کی۔ اور انگلستان کی موجودہ حالت پر باتیں ہوتی رہیں۔ اسی دوران میں معلوم ہوا کہ پادری صاحب ۳۵ سال سے کام کر رہے ہیں۔ اور گجرات وزیر آباد سیالکوٹ میں مدت مدید تک آپ نے مشن کی خدمات کی ہیں۔ اور آجکل ایک سال سے پونہ میں ہیں۔ ان پادری صاحب کا نام ینگسن ہے۔ چونکہ ہمارے رسالہ کے بہت سے ناظرین جو سیالکوٹ گجرات اور وزیر آباد سے تعلق رکھتے ہیں آپ سے واقف ہوں گے جیسا کہ ہم نے باہر سنا تھا ہم نے عندالملاقات پادری صاحب کو بہت ہی خلیق اور نرم پایا۔
ادھر ادھر کی گفتگو کے بعد پادری صاحب نے گفتگو کا رخ مسیحیت کی طرف پھیرا اور چاہتے تھے کہ مسیحیت کے متعلق طول طویل تفصیلات میں ہم کو لے جائیں۔ اور جو احسانات مسیحیت نے یورپ پر کئے ہیں ہمارے سامنے بیان کریں۔ لیکن چونکہ وقت کم اور فرصت قلیل تھی میں نے عرض کی کہ ہم سردست تثلیث کے متعلق کچھ پوچھنا چاہتے ہیں جس کی پادری صاحب نے بڑی خوشی سے اجازت دی۔
یہ گفتگو گو کہ دو گھنٹے تک رہی لیکن جہاں تک محفوظ رہ سکی اسے ہم یہاں درج کرتے ہیں اور جس طرح سوال و جواب کے پیرایہ میں ہوئی اسی طرح لکھتے ہیں چونکہ میں نے جاتے ہی پادری صاحب سے عرض کر دیا تھا کہ میں آپ سے جو گفتگو کروں گا وہ طالب حق ہونے کی حیثیت سے کروں گا نہ کسی مذہب کے پیرو ہونے کی حیثیت سے۔ اس لئے میں مندرجہ ذیل گفتگو میں اپنے نام کی جگہ طالب حق کا لفظ استعمال کروں گا۔
طالب حق۔ پادری صاحب آپکا تثلیث کے متعلق کیا خیال ہے؟
پادری صاحب۔ میرا خیال ہے کہ تثلیث تین اقنوم کا نام ہے ایک اقنوم خدا باپ‘ ایک اقنوم مسیح بیٹا‘ اور ایک روح القدس اور میں ان تینوں کی خدائی کا قائل ہوں۔
طالب حق۔ پادری صاحب آپ کی اقنوم سے کیا مراد ہے۔
پادری صاحب۔ مسکرا کر اقنوم آپ ہی کی زبان کا لفظ ہے۔
طالب حق۔ بیشک ہماری زبان کا لفظ ہے لیکن ہم خدا تعالیٰ کی نسبت اس لفظ کا استعمال نہیں کرتے۔ اس لئے جب خدا تعالیٰ کی نسبت یہ لفظ استعمال ہو تو ہمیں اس کے معنے سمجھنے میں دقت ہوتی ہے۔
پادری صاحب۔ میں تو اور اس کے لئے کوئی لفظ تجویز نہیں کر سکتا۔
طالب حق ۔ اگر آپ اردو یا عربی میں اس کے لئے کوئی اور لفظ تجویز نہیں کر سکتے تو انگریزی میں ہی سہی۔
پادری صاحب ۔ انگریزی میں ہم اس کے لئے پرسونیلٹی (Personality) استعمال کرتے ہیں☆
طالب حق ۔ میں نے ایک امریکن پادری سے دریافت کیا تھا تو انہوں نے اس کے معنے کیپسیٹی کے بتائے تھے✱ (Capacity)۔
پادری صاحب ۔ نہیں نہیں۔ اس کے معنے پرسونیلٹی کے ہیں۔
طالب حق ۔ مجھے تو نہ اقنوم کے معنے سمجھ آتے ہیں اور نہ پرسونیلٹی کے۔ میں تو آپ سے کھول کر پوچھنا چاہتا ہوں۔ آپ یہ فرمائیے کہ یہ تینوں کیا حیثیت رکھتے ہیں مثلاً یہی کہ دنیا کا خالق کون ہے۔
پادری صاحب ۔ آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ محبت ہے۔ اس میں محبت کا مادہ ہے وہ چاہتا ہے کہ کسی چیز سے محبت کرے اور یہ تمام دنیا کی چیزیں فانی ہیں۔ اصلی نہیں ہیں اس لئے ضروری تھا کہ ایک ایسا وجود ہو تاکہ جس سے خدا محبت کرتا۔ سو اس لئے بیٹے کی ضرورت تھی اور اس کو تو آپ بھی مانتے ہوں گے کہ اگر کوئی ایسا وجود نہ ہو کہ جس سے خدا محبت کرے تو وہ محبت فضول جائے گی۔
طالب حق ۔ پادری صاحب آپ نے بہت ہی معقول بات فرمائی ہے لیکن میں اس وقت تثلیث کو سمجھنا چاہتا ہوں نہ کہ تثلیث کی ضرورت کو۔ میرا سوال تو یہ تھا کہ یہ دنیا کس طرح پیدا ہوئی ۔ اور کس نے کی۔
پادری صاحب ۔ کلمے سے پیدا ہوئی۔ خدا نے کی۔
طالب حق ۔ کلمہ دنیا بن گیا۔ اور یہ دنیا اسی کا حصہ ہے یا خدا نے حکم دیا۔ اور وہ ہو گئی۔
پادری صاحب ۔ مسکرا کر او ہو ہمارا یہ خیال نہیں ہے کہ دنیا نیست سے پیدا ہوئی ۔ یہ آریوں کا خیال ہے مجھ سے ایک دفعہ ایک آریہ ملا تھا۔ اس نے مجھ سے پوچھا تھا کہ دنیا کس طرح پیدا ہوئی نیست سے ہست کس طرح ہو سکتا ہے۔ میں نے اسے جواب دیا کہ ہمارا ہر گز یہ مذہب نہیں۔ کہ نیست سے ہست ہوا۔ خدا نے حکم کیا ہو جا وہ ہو گئی۔ ہم نہیں مانتے کہ اس نے نیست کو کہا کہ تو کچھ بن جا۔
طالب حق۔ او ہو آپ نے بہت اچھا جواب دیا۔ اور بہت لطیف بات کہی لیکن میری عرض یہ تھی کہ کلمہ سے دنیا پیدا ہوئی یا خدا کے امر پر دنیا موجود ہوگئی۔
پادری صاحب۔ ہاں کلمہ مسیح ہے انجیل میں لکھا ہے کہ ابتداء میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا۔ اور کلام خدا تھا۔ یہی ابتداء میں خدا کے ساتھ تھا سب چیزیں اس سے موجود ہوئیں اور کوئی چیز موجود نہ تھی جو بغیر اس کے ہوئی۔ زندگی اس میں تھی۔ اور وہ زندگی انسان کا نور تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابتداء میں خدا کے ساتھ مسیح تھا اور مسیح سے دنیا پیدا ہوئی۔ آپ کے مذہب اسلام میں بھی مسیح کو کلمہ کہا گیا ہے۔ کیا میں آپ کو اس کی نسبت کچھ سناؤں۔
طالب حق۔ پادری صاحب میں نے آپ سے ابتداء ہی میں عرض کر دیا تھا کہ میں ایک ایسے انسان کی حیثیت سے آپ کے پاس آیا ہوں جس کی نظر میں تمام مذاہب برابر ہیں۔ اور گو میں مسلمان ہوں لیکن اس وقت میں ایسے پیرا یہ میں گفتگو کروں گا گویا کل مذاہب ابھی میرے زیر تحقیق ہیں اس لئے آپ ابھی انجیل کی نسبت کلام فرماویں۔ اگر قرآن شریف کی تحقیقات کی ضرورت ہوگی تو میں کسی مولوی کے پاس جاؤں گا۔ قرآن شریف کی تحقیقات کے لئے مجھے کسی پادری کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے۔ وید کی نسبت میں پنڈت سے پوچھوں گا۔ قرآن شریف کی نسبت کسی مولوی سے۔ اور بائبل کی نسبت پادری صاحب سے تحقیقات کروں گا یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ میں بائبل سمجھنے کیلئے کسی مولوی کے پاس جاؤں اور قرآن شریف سمجھنے کے لئے کسی پادری کے پاس۔ آپ اس وقت بائبل سے کلام فرمائیں۔
پادری صاحب۔ مسکرا کر۔ ہاں تو بیشک آپ بائبل کی نسبت سوال کرتے ہیں۔ بائبل سے جیسا کہ میں نے بتلایا ہے یہی معلوم ہوتا ہے کہ کلام سے دنیا پیدا ہوئی۔
طالب حق۔ تو پادری صاحب آپ تثلیث کے کیوں قائل ہیں۔ کلام ایک صفت ہے اور خدا میں بیسیوں صفات پائی جاتی ہیں دیکھتا ہے، سنتا ہے، قادر ہے، علیم ہے، خالق ہے۔ آپ صرف صفت کلام کو ہی کیوں خدا قرار دیتے ہیں۔ آپ کل صفات الٰہیہ کو ابنائے الٰہیہ قرار دیں۔ آپ کے مذہب کے رو سے تو صرف تثلیث پر ہی کفایت نہیں کی جا سکتی۔
پادری صاحب۔ او ہو آپ کو غلطی لگ گئی ہے کیا آپ خدا کے کلام کو انسانی کلام سمجھتے ہیں۔ اس بات کو تو آپ بھی مانتے ہیں کہ خدا میں اور انسان میں مشابہت نہیں ہے کلام صفت نہیں کلام قدرت ہے۔
طالب حق۔ پادری صاحب کلام وہ ذریعہ ہے کہ جس سے ہم اپنا مافی الضمیر دوسرے پر ظاہر کرتے ہیں یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ میں اور ہم میں بہت فرق ہے وہ خالق ہے اور ہم مخلوق ہیں لیکن جیسے انسان کے دیکھنے کی طاقت، سننے کی طاقت اور اس کے علم کو آپ لوگ صفات انسانی قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی بھی ان طاقتوں کو صفات ہی قرار دیتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ خدا کی صفت علم کو یا صفت سمع کو تو آپ صفت قرار دیں اور صفت کلام کو اس بناء پر کہ خدا اور انسان میں بہت فرق ہے دوسری ذات قرار دیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم زبان سے زید کو حکم دیتے ہیں کہ تو آ۔ اور وہ آجاتا ہے ہمارے مافی الضمیر کے اظہار کا یہی طریقہ ہے لیکن ہم اپنے اس کلام کو اپنے جیسا انسان قرار نہیں دیتے۔ نہ یہ کہتے ہیں کہ ہم دو ہیں۔ ایک ہم اور ایک ہمارا کلام۔ اور اگر ایسا ہو تو کلام کو ایک ذات قرار دینا اور سمع و بصر کو نہ قرار دینا ترجیح بلا مرجح ہوگا۔ پھر علاوہ ازیں آپ صرف اس کلام کو جس کے واسطے دنیا پیدا کی گئی۔ کیوں خدا کہتے ہیں۔ کیوں توریت اور انجیل اور دیگر صحف انبیاء کو خدا اقرار نہیں دیتے۔ اگر آپ خدا کی صفات سمع و بصر و علم کو خدا قرار نہیں دیتے۔ تو آپ کم از کم انجیل یوحنا کے ماتحت کہ ”ابتداء میں کلام تھا۔ اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا“ انجیل و توریت کو اور دیگر صحف انبیاء کو خدا اقرار دیں۔
پادری صاحب۔ مسکرا کر۔ نہیں نہیں ہم انجیل توریت کو خدا نہیں مانتے ہمارے مذہب میں ایسا جائز نہیں۔ اور ہم تو کلام کو صفت قرار نہیں دیتے۔ بلکہ ایک ذات قرار دیتے ہیں۔
طالب حق۔ تو آپ کلام کو کیا سمجھتے ہیں۔
پادری صاحب۔ قدرت
طالب حق۔ جناب نے فرمایا کہ ہم کلام کو قدرت سمجھتے ہیں۔ لیکن آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ قدرت بھی کوئی علیحدہ ذات نہیں۔ مثلاً میرے ہاتھ میں پکڑنے کی قدرت ہے۔ یہ قدرت میرے ارادے کے ماتحت ہے۔ اس میں خود کوئی علم نہیں۔ جب ہاتھ کو حکم دیتا ہوں کہ تو پکڑ تو وہ پکڑ لیتا ہے۔ اسی ہاتھ سے میں مفید سے مفید اور مضر سے مضر چیز کو پکڑ سکتا ہوں۔ اور میرے علم اور ارادے کے ماتحت میرے ہاتھ کو جس چیز کو میں حکم دوں پکڑنا ہوگا۔ مثال کے طور پر یہ چیز میرے سامنے پڑی ہوئی ہے پس اپنے ہاتھ کو حکم دیتا ہوں کہ تو اس کو پکڑ چنانچہ اس نے میرے ارادے کے ماتحت اس کو پکڑ لیا۔ لیکن خود میرے ہاتھ کے پکڑنے میں تو کوئی علم نہیں۔ اگر آپ مسیح کو قدرت بھی قرار دیں اور کلام کا دوسرا نام قدرت رکھیں۔ تب بھی تو مسیح کوئی علیحدہ ذات قرار نہیں پاسکتا۔ ورنہ ہر ایک چیز میں کچھ نہ کچھ قدرت ضرور ہوتی ہے۔ تو اس طرح ہر ایک ذات کو دو ذاتیں قرار دینا پڑے گا اور دوسرے اس صورت میں یہ بھی لازم آتا ہے کہ مسیح علم اور ارادے سے خالی تھا کیونکہ جیسا کہ میں ثابت کر آیا ہوں کہ قدرت صفتِ علم وارادہ کے بکلی ماتحت ہوتی ہے اس صورت میں مسیح خدا کے علم وارادہ کے بکلی ماتحت ہوا۔ اور وہ چیز جو علیم وقدیر ہستی کے ہاتھ میں ایک ہتھیار کے طور پر ہو۔ اور خود اس کا کوئی دخل نہ ہو وہ خدا نہیں کہلا سکتی۔ خدا تو وہی ہے جو علیم و قدیر ہو۔ اور تمام نقائص سے مبرا اور خوبیوں سے متصف ہو۔
پادری صاحب۔ ہم تو مسیح کو علم سے خالی نہیں سمجھتے مسیح ضرور علیم ہے۔
طالب حق۔ یہ بےشک درست ہے کہ آپ مسیح کو ایک علیم ہستی مانتے ہیں اور گو مسیح انجیل میں اپنے علم کا منکر ہے مگر اس وقت مجھے اس سے کوئی تعلق نہیں۔ میں آپ ہی کی بات کو مانتا ہوں۔ اور چونکہ مسیح خدا ہے اس لئے ہونا بھی ایسا ہی چاہئے لیکن یہ اعتقاد کی بات ہے اور جیسا کہ پہلے بیان کر آیا ہوں آپکی خدمت میں ایسے انسان کی حیثیت سے حاضر ہوا ہوں جس نے عام دنیا کے اعتقادوں کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے کہ کونسا اعتقاد سچا ہے اور چونکہ ایسا متلاشی کسی کتاب کا قائل نہیں ہوتا ضروری ہے کہ اس کے سامنے عقلی دلائل پیش کئے جائیں۔ اور جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں مسیح کو اگر کلمہ مان لیا جاوے تو اول تو وہ ایک صفت اور پھر علم سے خالی ثابت ہوتا ہے اور چونکہ میں عقلی دلیل سے ہی فائدہ اٹھا سکتا ہوں اس لئے ضرور ہے کہ یا تو سرے سے مسیح کے کلمہ ہونے کا ہی انکار کردوں یا آپ کے قول کو مانتے ہوئے اسے کلمہ تو قرار دوں لیکن علم سے خالی۔
پادری صاحب۔ بیشک عقل تو یہی کہتی ہے لیکن انجیل اس بات کو نہیں مانتی۔
طالب حق۔ تو کیا عقل کی رو سے تثلیث کا ماننا ممکن ہے۔
پادری صاحب۔ اس میں کیا شک ہے کہ عقل انسانی ہستی باری کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتی۔
طالب حق۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے عقل ہی ایک سمجھ کا ذریعہ بنایا ہے تو بغیر عقل کے ہم کسی بات کو مان کیونکر سکتے ہیں۔ بےشک بعض باتیں عقل سے بالا ہوتی ہیں لیکن کوئی الٰہی مذہب اپنے پیروؤں سے خلافِ عقل باتیں نہیں منواتا۔ میں اس بات میں آپ سے متفق ہوں کہ ذات الٰہی کی کنہ کو سمجھنا انسانی عقل کا کام نہیں۔ کیونکہ وہ محدود ہے مگر یہ ضروری ہے کہ جن باتوں کو ماننا مدار نجات ہے وہ انسانی عقل کی پہنچ کے اندر ہونی چاہئیں۔ کیونکہ اگر بعض ایسی باتیں مدار نجات قرار دے دی جائیں جو عقل کے خلاف ہوں۔ تو انسان کے لئے نجات کا دروازہ بالکل بند ہو جائے گا۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لانا نجات کیلئے ضروری ہے تو ہستی باری کا ثبوت ضرور ایسا ہونا چاہئے جو عقل کے خلاف نہ ہو اور ہم دیکھتے ہیں کہ واقعی انسانی عقل مختلف ذرائع سے اس بات پر مجبور ہے کہ ہستی باری کو مانے۔ اور خلاف اس کے اللہ تعالیٰ کے وجود کی کیفیت انسان کے دماغ میں نہیں آسکتی۔ اس لئے اس کو الہیٰ مذہب چھیڑتے تک نہیں۔ ہاں جو حصہ صفات الہیہ کا تھا۔ چونکہ وہ سمجھ میں آسکتا تھا اس لئے وہ بیان بھی کر دیا گیا پس چونکہ تثلیث کا مسئلہ آپ کے مذہب کی رو سے نجات کا جزو اعظم ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ یہ ایسے پیرایہ میں بیان کیا جاتا جس کو عقل انسانی سمجھ سکتی۔
پادری صاحب۔ بیشک عقل یہی کہتی ہے لیکن تثلیث کے ماننے سے پہلے انجیل کا ماننا ضروری ہے۔
طالب حق۔ انجیل کو انسان تب مانے جب اصول مسیحیت ثابت ہو جائیں۔ ان مسائل کے حل ہونے سے پہلے انسان انجیل کو کب مان سکتا ہے۔
پادری صاحب۔ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔ انجیل کے ماننے سے پہلے ان مسائل کا سمجھنا مشکل ہے۔
طالب حق۔ بہت اچھا۔ آپ اس مسئلہ کو تو عقلی طور پر حل نہیں کر سکتے۔ یہی فرمائیے۔ موجودہ زمانے میں اس تمام دنیا کا انتظام کس کے سپرد ہے۔ خدا باپ کے یا خدا بیٹے کے۔
پادری صاحب۔ انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوقات کا انتظام مسیح یعنی بیٹے کے سپرد ہے۔
طالب حق۔ تو کیا خدا باپ دنیا کو کلمہ کی معرفت پیدا کرنے کے بعد خالی بیٹھا ہے۔
پادری صاحب۔ نہیں صفات الہیہ کا تعطل تو جائز نہیں۔ تمام جہان کا انتظام وہی کرتا ہے۔
طالب حق۔ پادری صاحب۔ ابھی تو آپ نے فرمایا تھا کہ بیٹا انتظام کرتا ہے۔ اب اس بات کے تین پہلو ہو سکتے ہیں۔ یا تو یہ کہ ایک معطّل ہے اور ایک کام میں لگا ہوا ہے اس صورت میں ایک خدا کی صفات پر تعطّل ثابت آئے گا جو جائز نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دونوں بانٹ کر کام کرتے ہیں۔ اس صورت میں یہ ماننا پڑے گا کہ ایک خدا سارا کام نہیں کر سکتا۔ بلکہ دونوں خدا اپنے اپنے حصہ کا کام نپٹاتے ہیں۔ اس صورت میں خدا تعالیٰ پر نعوذ باللہ محدودیت کا الزام ثابت ہوتا ہے۔ اور اگر یہ مانا جائے کہ دونوں ملے جلے سارا کام کر رہے ہیں تو اس صورت میں بھی یہ الزام آئے گا کہ اللہ تعالیٰ نعوذ باللہ بیہودہ کام میں لگا ہوا ہے۔
پادری صاحب۔ میں آپ کو ابھی بتا چکا ہوں کہ یہ مسائل عقل میں نہیں آسکتے بلکہ خدا کے کلام انجیل پر ایمان لانے کے بعد سمجھ میں آسکتے ہیں۔
طالب حق۔ جبکہ بنیادی اصول ہی سمجھ میں نہ آئیں تو ہم انجیل کو کیونکر جانیں اور چونکہ آپ مسئلہ تثلیث کو خود عقل کے خلاف تسلیم فرماتے ہیں اس لئے اب ہمیں اجازت دیجئے کیونکہ زیادہ گفتگو فضول ہے۔ ہمیں کچھ اور بھی مسائل پوچھنے تھے مگر اس کے لئے پھر کسی وقت آئیں گے۔
پادری صاحب۔ ذات باری کی نسبت عقل فیصلہ نہیں کر سکتی۔ ہمارا بڑا اصول کفارے کا مسئلہ ہے اور اسی پر ہم زیادہ زور دیتے ہیں۔ امید ہے کہ آپ پھر کسی وقت تشریف لا کر اس مسئلے پر گفتگو فرمادیں گے۔
اس بات کا وعدہ کرنے کے بعد ہم پادری صاحب سے رخصت ہو کر اپنے گھر واپس آئے اور دیر تک پادری صاحب کے ان جوابوں پر حیران و ششدر رہے۔
(گوشت خوری کے ہندو عقیدہ پر تبصرہ)
از
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد
بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم نحمَدُہٗ و نُصَلِّی عَلٰی رَسُولِہِ الكَرِیم
کل فاتح قوموں میں گوشت خوری کی عادت پائی جاتی ہے اور کسی ملک کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لو جب کسی قوم نے ترقی کی ہے۔ اس کے افراد میں گوشت خوری کا رواج ضرور ہو گا۔ ہاں اَلنَّادِرُ كَالْمَعْدُوْمِ۔
کسی قوم میں کسی جانور کا گوشت پسند کیا جاتا ہے تو کسی قوم میں کسی جانور کا۔ بعض قومیں بکرے کے گوشت کو اعلیٰ سے اعلیٰ گوشت قرار دیتی ہیں بعض دُنبہ کے گوشت کو پسند کرتی ہیں۔ بعض گائے کے گوشت کو سب سے زیادہ مزیدار قرار دیتی ہیں بعض اونٹ کو لطیف سمجھتی ہیں۔ پھر بعض کے خیال میں مچھلی کا سا گوشت کسی حیوان کا نہیں ہوتا۔ اور بعض کے نزدیک طیور کا گوشت سب پر فائق ہے بعض جنگلی جانوروں کے شکار کو پسند کرتی ہیں لیکن گوشت کا رواج دنیا کے اکثر حصوں میں ہے۔ اور دنیا کی آبادی کا اکثر حصہ اس کا استعمال رکھتا ہے۔
اس زمانہ میں آریوں نے اس بات پر زور دینا شروع کیا ہے کہ گوشت خوری سخت گناہ ہے اور اپنے جیسے جانداروں پر ظلم ہے۔ جب کہ دیگر حیوان بھی ویسی ہی روح رکھتے ہیں جیسے ہم۔ اور ہماری طرح تکلیف کا احساس ان میں بھی ہے تو پھر گوشت خوری کے کیا معنی اور کیوں اپنے مزے کی خاطر جانوروں کو تکلیف میں ڈالا جائے؟ اور جبکہ گوشت کے علاوہ اور کھانے بھی موجود ہیں۔ پھر گوشت کا استعمال صریح سنگدلی پر دال ہے۔
لیکن آریہ بھی اس کے مزے سے نہیں بچ سکے۔ جب کہ ان میں گوشت خوری کے خلاف تحریک ہوئی فوراً ان میں دو پارٹیاں ہو گئیں۔ ایک گھاس خور کہلائی اور دوسری نے ماس خور نام پایا۔
چنانچہ کالج پارٹی ماس خور ہی ہے۔ اور وہی زیادہ کام کر رہے ہیں۔ دیانند کالج جو پنجاب کے کالجوں میں خاص شہرت رکھتا ہے اسی پارٹی کا بنایا ہوا ہے اور اسی کی کوششوں پر چلتا ہے۔
تعجب ہے کہ حیوانوں کی تکالیف پر تو آریہ اس قدر ناراض ہوتے ہیں اور تمام فرقوں اور قوموں سے دست و گریبان ہونے کے لئے تیار ہیں۔ اور اپنے جلسوں میں ان کی طرف سے ایڈووکیٹ بن کر کل گوشت خور قوموں کو ظالم اور مجرم قرار دیتے ہیں۔ لیکن انسانوں کا گوشت کھانا ان کا شیوہ ہے۔ کوئی بزرگ کوئی ولی کوئی ریفارمر ایسا نہیں گزرا جس پر ذاتی طور سے گند اور خبث کا الزام انہوں نے نہ لگایا ہو اور جسے ہر قسم کی ناپاکیوں میں ملوث نہ قرار دیا ہو۔ مسلمان ان کے ہم وطن ہیں۔ ان کے ماتحت مدتوں تک آرام و چین سے یہ لوگ زندگی بسر کرتے رہے ہیں۔ ان کی حکومتوں میں بڑے بڑے عہدوں پر رہ چکے ہیں۔ اور بڑی سے بڑی ذمہ داریوں کے کام ان کے سپرد رہے ہیں لیکن پھر ان کے اس قدر احسانوں کے باوجود جو سلوک اہل ہنود کا مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ وہ ہر کس و ناکس پر ظاہر ہے۔ خیر مسلمانوں کی سلطنت تو گزر چکی تھی۔ اب اس زمانہ میں انگریزی گورنمنٹ کے ماتحت ہندو مسلمان کس سُکھ اور چین سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور ہمارے فائدے کے لئے انگریز کیا کیا محنتیں برداشت کرتے ہیں اور کس کس طرح کی کاوشوں سے ہمارے فائدہ کی صورتیں نکالتے ہیں لیکن باوجود اس احسان کے چند سال سے اہل ہنود میں سے ایک معتد بہ گروہ ان کا دشمن ہو رہا ہے۔ اور احسان کے بدلہ ان کی جانوں کے درپے ہو رہا ہے۔ تنزل کے طور پر مان بھی لیں کہ گورنمنٹ نے بعض ہمارے حقوق دبالئے ہیں تو کیا محسنوں کی بعض غلطیوں پر چشم پوشی نہیں کیا کرتے۔ کیا احسان کی قدر اسی طرح کی جاتی ہے کہ جب تک محسن کچھ دیتا رہا آرام سے رہے اور ذرا اس سے غلطی ہوئی تو دست و گریبان ہو گئے اور اس کے قتل تک سے باز نہ آئے۔
جو قوم حیوانوں کے گوشت کھانے پر ناراض ہے اسے کم سے کم انسانوں کے گوشت کھانے سے تو پرہیز کرنا چاہئے تھا مگر افسوس کہ آریہ حیوانوں کے لئے تو اس قدر چیختے اور چلاتے ہیں مگر انسانوں کی ہمدردی ان میں نام کو باقی نہیں۔ ہر ایک فرقہ اور گروہ ان کے ہاتھوں سے نالاں ہے۔ اس لئے نہیں کہ ان کی وجہ سے کسی مذہب کو خطرہ ہے بلکہ اس لئے کہ ان کے وجود سے خود تہذیب کے وجود کو خطرہ لگا ہوا ہے اور ممکن ہے کہ ان کے ہاتھوں ہندوستان کی اخلاقی حالت بہت ہی نیچے گر جائے۔
آجکل کے آریہ تو گوشت خوری پر اس قدر شور و شر کرتے ہیں اور ایک گائے کے بدلہ اگر سو انسان بھی مارنا پڑے تو دریغ نہیں کرتے۔ چنانچہ سکھوں کے زمانہ میں اس قسم کے بہت سے واقعات ہو چکے ہیں کہ ایک گائے کے بدلہ میں بیسیوں انسانوں کا خون کیا گیا۔ اور اب بھی ہندو ریاستوں میں گائے کا مارنا قتل انسان کے برابر رکھا گیا ہے۔ اور پچھلے دنوں کلکتہ میں گائے کی قربانی پر جو فساد ہوئے ہیں اور انسانی خون تک نوبت پہنچی ہے۔ یہ سب باتیں بتاتی ہیں کہ اس وقت ہندوؤں میں حیوانوں کے ذبح کرنے اور خصوصیت سے گائے کی قربانی کرنے سے کیا جوش پیدا ہو جاتا ہے اور کس طرح وہ ایسے موقعہ پر انسانی خون سے بھی پرہیز نہیں کرتے۔
لیکن اگر ان کے آباء کا حال پڑھیں اور اس زمانہ پر نظر کریں جب ہنود اپنے پورے زور میں تھے اور ہندوستان انہیں کے قبضہ میں تھا۔ اور جس وقت کے گیت گاتے ہوئے آج بھی ان کی زبانیں خشک ہوتی ہیں۔ اور جس زمانہ کو یاد کر کر کے ان کے مردہ دلوں میں فرحت کی لہر پیدا ہو جاتی ہے۔ تو واقعہ کچھ اور ہی معلوم ہوتا ہے۔ اور ہم نہ صرف عام جانوروں کے گوشت کو ہی لکڑیوں کے انباروں پر بھنتا ہوا دیکھتے ہیں۔ بلکہ برہمنوں کو گائے کے گوشت کے کباب کھاتے ہوئے پاتے ہیں۔ اور یہ نظارہ ان کے دلوں میں ایک خاص ولولہ پیدا کرتا ہے۔ چنانچہ وہ ان دعاؤں میں جو وہ اپنے معبودوں کے سامنے کرتے ہیں۔ اس کو پیش کر کے اپنے لئے برکتیں اور رحمتیں طلب کرتے ہیں۔
وید کی کئی شرتیوں سے دوسرے جانوروں کی قربانی تو الگ رہی گائے تک کی قربانی ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ رگوید میں ہے۔
”اے اندر جو کہ تیز رفتار اور طاقت ور اور سب کا سوامی ہے۔ اس ورترا پر اپنا بجر چلا۔ اور اس کو جدا جدا کر جیسے قصائی گائے کو کاٹتا ہے تاکہ مینہہ برسے اور پانی زمین سے بہے۔“ چوتھا ادھیائے انواک دس سوکت ۴ منتر ۱۲۔ اس سے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ ویدوں کے زمانہ میں گائے ذبح کی جاتی تھی بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عام طور سے ذبح کی جاتی تھی۔ کیونکہ قصائی کا پتہ اس جگہ ہوتا ہے جہاں کثرت سے جانور ذبح کئے جائیں ورنہ کبھی کبھار ذبح کرنے کے لئے قصائی نہیں ہوتے لوگ خود کر لیتے ہیں۔ قصائی اسی جگہ ہوں گے جہاں ذبح کی اُجرت سے ان کا گزارہ چل سکتا ہو۔
ڈاکٹر راجندر لعل صاحب مترجم سنسکرت کے ایک بڑے عالم بنگالی گزرے ہیں لکھتے ہیں۔ جو حیوان ذبح کئے جاتے تھے ان کو قدیم آریہ کھاتے بھی تھے۔ چنانچہ وہ بتلاتے ہیں سودالیانہ سوتر میں
چڑھاووں کے بقیہ کے کھانے کی نسبت ہدایتیں دی گئی ہیں اور اتھربن وید کی گوپتھ برہمن میں مفصّل طور سے ان شخصوں کے نام پائے جاتے ہیں جو قربانی کی رسم کے ادا کرنے میں کچھ نہ کچھ لیا کرتے تھے اور بتلایا جاتا ہے کہ ہر ایک کو قربانی شدہ جانور کا کون کون سا حصہ ملنا چاہئے۔
اسی طرح پروفیسر ولسن صاحب لکھتے ہیں۔ ”اس میں کچھ شک نہیں ہے۔ کہ گھوڑا ذبح کیا جاتا تھا اور اس کا بدن ٹکڑے ٹکڑے کرکے درست کیا جاتا تھا۔ اور اس میں سے کچھ ٹکڑے تو اُبالے جاتے تھے اور کچھ بھونے جاتے تھے“
ڈاکٹر راجندر لعل مترا اپنی کتاب انڈین آرین پر لکھتے ہیں کہ ”ہندو مذہب کی تعلیم خواہ کیسی ہی رحم اور مہربانی سے پُر کیوں نہ ہو۔ مگر وہ حیوانوں کی قربانی کے بالکل مخالف نہیں ہے۔ بلکہ بہت سی بڑی بڑی رسموں کے ادا کرتے وقت کئی قسم کے حیوان اور پرندے کثرت کے ساتھ ذبح کئے جاتے تھے۔ ایک رسم کے پورا کرنے کے لئے رسم ادا کرنے والے کے لئے بھی ضروری ہوتا تھا کہ وہ سمندر میں ڈوب کر مر جائے۔ اس کو وہ مہا پر ستھنا کہتے تھے۔ ایک اور رسم کفارہ کے لئے ہوتی تھی جس میں گنہگار اپنے تئیں جیتا ہی جلا کر راکھ کر لیتا تھا اس کو شنا کہتے تھے بنگال کی رحمدل عورتیں بہت عرصہ تک اپنے پلوٹھے بچوں کو دریائے گنگا میں پھینکتی رہی ہیں۔ آجکل اگر ہندو مذہب کے پیرؤوں نے ان باتوں پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے (گورنمنٹ کے ڈر سے۔ مؤلف مضمون ہٰذا) تو یہ فرض کرنا بھی خلاف عقل معلوم نہیں ہوتا کہ قدیم زمانہ میں دیوتاؤں کے غضب کے مٹانے کے لئے انسان قربان کئے جاتے تھے“ اس اقتباس سے بھی ظاہر ہے کہ ست جگ میں قربانی کی جاتی تھی بلکہ انسان بھی قربان کئے جاتے تھے۔
مونٹ سٹورٹ انفنسٹن لکھتے ہیں کہ منو کے دھرم شاستر میں بڑے بڑے تیوہاروں میں بیل کے گوشت کھانے کے لئے برہمنوں کو تاکید کی گئی ہے اگر نہ کھائیں تو گنہگار ہوں۔
شاستر میں لکھا ہے کہ جو جانور کھانے میں آتے ہیں اور جو لوگ انہیں کھاتے ہیں دونوں کو برہما نے پیدا کیا ہے۔ اس لئے اگر شاستر کے طور پر انہیں کھاویں تو کچھ گناہ نہیں اور دیوتاؤں اور پتروں کو گوشت چڑھا کر کھانا کچھ پاپ نہیں۔ اور برہمنوں کو ساہنے، گرگٹ، چھپکلی، مگرمچھ، خرگوش وغیرہ کھانا درست ہے (حجۃ الہند) منو شاستر میں ہے کہ سورج کی اترائیں اور دکھشائن میں بلیدان یعنی قربانی کرنا اور کھانا فرض ہے۔ (حجۃ الہند)
اسرب اپنکھد اتھربن وید میں ہے کہ جن حیوانات کے تلے کے دانت ہیں وہ خورندہ ہیں۔
خوراک سے خورندہ کو شرف حاصل ہے (حجتہ الہند)
اس کے علاوہ مہابھارت وغیرہ کتب سے تو گوشت خوری کی عجیب کیفیت معلوم ہوتی ہے خود راجہ رامچندر شکار کرتے تھے اور بھون کر کھاتے تھے۔
پس جبکہ اچھی طرح ثابت ہے کہ ست جگ میں جبکہ دنیا میں بدی کا نام و نشان نہ تھا اور وید اتر رہے تھے۔ گوشت خوری جاری تھی۔ اور بعض تیوہاروں کے موقعہ پر فرض تھی۔ تو اس زمانہ میں نا معلوم آریہ صاحبان اس کے خلاف اس قدر کیوں زور لگا رہے ہیں۔ یا تو ویدوں کو اور اس زمانہ کے تمام لوگوں کو گندہ اور ناپاک قرار دیں یا اقرار کریں کہ گوشت خوری کے معاملہ میں جو ان کی رائے ہے وہ صرف کمزوری اور ضعفِ قلب کی وجہ سے ہے۔
اس بات کے ثابت کرنے کے بعد کہ اگر گوشت خوری بری ہے تو ہندو مذہب بھی اس برائی میں مبتلا ہے اور خود وید اور منو شاستر جس کی عظمت کا اقرار پنڈت دیانند کرچکے ہیں اس پر شاہد ہیں اور اس رسم کے مؤید ہیں۔ میں ایک اور پہلو سے گوشت خوری کے مسئلہ پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔
اول سوال یہ ہے کہ گوشت خوری بری کیوں ہے؟ اس کا جواب سوائے اس کے کیا ہے کہ بلا وجہ دوسری روحوں کو تکلیف دی جاتی ہے۔ اور ان پر ظلم کیا جاتا ہے پس معلوم ہوا کہ گوشت خوری اپنی ذات میں بری نہیں بلکہ اس لئے بری ہے کہ جس ذریعہ سے گوشت آتا ہے اس میں ظلم کا شائبہ ہے کیونکہ جب ایک جانور ذبح ہو چکا۔ اس کے بعد اس کو کیا تکلیف محسوس ہو سکتی ہے۔ اس کو تکلیف تو تب تک تھی جب تک وہ ذبح ہو رہا تھا۔ ذبح ہونے کے بعد وہ ایک جسم بے جان ہے۔ اس کے ٹکڑے کرو اور اس کی ہڈیاں پیس دو، جلا دو، خاک کر دو اس میں اب تکلیف کا کوئی احساس باقی نہیں رہا جیسے پتھر لکڑی وغیرہ اشیاء بے حس ہیں ویسا ہی وہ جسم بے جان بے حس و حرکت ہے۔ پس ظلم گوشت کھانے میں نہیں۔ ظلم اس طریقِ حصول میں ہے جس سے گوشت انسان کو ملتا ہے۔ اور گوشت کھانے والا اس لئے ظالم ہے کہ یا تو وہ خود کسی روح کو تکلیف دیتا ہے یا اس کے باعث کسی روح کو تکلیف دی جاتی ہے کیونکہ اگر وہ گوشت نہ کھائے تو لوگ جانور ذبح بھی نہ کریں۔ غرض یہ کہ اصل میں برا جانور کا مارنا ہے نہ کہ کھانا۔ آریوں کو تو چاہئے کہ اس بات پر زور دیں کہ جانور ذبح نہ کئے جائیں نہ کہ اسبات پر کہ کھائے نہ جائیں۔☆ دریائی شکار بغیر مارنے کے ملتے ہیں اور بہت سی قومیں مردہ مچھلی کھاتی ہیں۔ اس اصول کے ماتحت ان کا کھانا جائز ہوگا۔
اب جبکہ یہ ثابت ہو گیا کہ گوشت خوری میں بری چیز جانوروں کا مارنا یا ذبح کرنا ہے۔ ہم بتاتے ہیں کہ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ یا پرمیشور کی طرف سے ہی لگا ہوا ہے اور کوئی جان زندہ ہی نہیں رہ سکتی جب تک کہ وہ اور جانوں کو اپنے لئے قربان نہ کرے اس لئے اس میں اگر کوئی ظلم ہے تو اس کا پیدا کنندہ خود پرمیشور ہے۔ اور پرمیشور کی طرف ظلم منسوب نہیں ہوتا۔ بلکہ جو بات خداوند تعالیٰ کی طرف منسوب ہو جائے اور ثابت ہو جائے تو اس کو ہم رحم ہی قرار دیتے ہیں۔ ہاں اس کی وجہ معلوم نہ ہو سکے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی وجہ ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔ کسی چیز کی وجہ سمجھ میں نہ آنے سے کسی مذہب پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ مذہب کے لئے اتنا ضروری ہے کہ وہ یہ ثابت کر دے کہ فلاں بات خدا کی طرف سے ہے اور جب وہ ایسا ثابت کر دے تو اب اس کی وجہ سے اسے جھوٹا نہیں کہا جا سکتا۔ مثلاً اگر آریہ یہ ثابت کر دیں کہ مادہ غیر مخلوق ہے اور اس پر خدا تعالیٰ کی گواہی لائیں اور کسی شخص پر کھل جائے کہ واقعی خدا تعالیٰ نے ہی یہ کہا ہے تو اب وہ اس بات کی بناء پر کہ یہ بات عقل میں نہیں آئی آریہ مذہب کو جھوٹا نہیں کہہ سکتا۔ کیونکہ سینکڑوں باتیں ہیں جن کی وجہ اور جن کا سبب لوگوں کو نہیں معلوم لیکن اس سے ان کے وجود میں کوئی شک نہیں ہو سکتا۔ ایک مریض کے اگر پیٹ میں درد ہوتی ہو تو اس وجہ سے کہ اس درد کا باعث معلوم نہیں اس درد کو غلط قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اسی طرح اگر یہ ثابت ہو جائے کہ زندگی کا قیام ہی اس بات پر ہے کہ ایک جنس دوسری جنس کو قتل کرے یا ہلاک کرے تو اب اس کا نام ظلم نہیں ہو سکتا بلکہ یہ کہا جائے گا کہ اس کی وجہ ہماری سمجھ میں نہیں آتی (یہ اس کے لئے ہے جس کی سمجھ میں نہ آئے ورنہ ہماری سمجھ میں تو آتی ہے)۔
میرے اس دعویٰ کی تائید میں کہ سب جانوروں کا گزارہ دوسرے جانداروں پر ہے سب سے پہلے یہ بات ہے کہ پرمیشور نے ایسے جانور پیدا کئے ہیں جو سوائے گوشت کے اور کچھ کھا ہی نہیں سکتے۔ مثلاً شیر، چیتا، باز، شکرہ وغیرہ ان کی خوراک ہی گوشت ہے اور اس کے بغیر ان کی زندگی ہی قائم نہیں رہ سکتی۔ اگر یہ فعل ناپسند تھا تو ایسی مخلوق پیدا ہی کیوں کی۔ اور ایک روح کو ایک گناہ کرنے پر مجبور کیوں کر دیا۔ اگر شیر چیتے وغیرہ کو اختیار دیا جاتا کہ خواہ وہ گوشت کھائیں اور خواہ گھاس وغیرہ تب تو یہ جواب ہو سکتا تھا کہ جب دونوں قدرتیں اس میں رکھی گئی ہیں تو اب یہ اس کا قصور ہے اور پاپ ہے کہ وہ گوشت کھاتا ہے۔ لیکن یہاں تو اس میں کوئی اور طاقت اور قدرت رکھی ہی نہیں گئی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پرمیشور اسی طرزِ زندگی کو اس کے لئے پسند کرتا ہے پھر اگر یہ ظلم ہے تو پرمیشور کی طرف سے ہے لیکن پرمیشور کی طرف ظلم منسوب نہیں ہوتا اس لئے ماننا پڑے گا کہ یہ ظلم نہیں ہے۔ ہاں اگر کوئی کہے کہ وہ تو مجبور ہے۔ انسان تو مجبور نہیں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ ظلم تھا تو پرمیشور نے اسے مجبور کیوں کیا۔ کیا پرمیشور ظلم پر مجبور کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ کا اسے مجبور کرنا ہی ثابت کرتا ہے کہ یہ ظلم نہیں ہے۔
ایک آریہ کہہ سکتا ہے کہ یہ جون اس روح کو سزا کے طور پر ملی ہے۔ لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ گناہ کیا تھا اس شیر کی روح نے اور عذاب ہو رہا ہے دوسروں کو۔ وہ کسی ہرن کو کسی گائے کو کسی انسان کو کھا رہا ہے سزا تو دوسروں کو مل رہی ہے اس کا کیا نقصان ہوا؟ لیکن اعتراض تو یہ ہے کہ یہ کیسی سزا ہے جس کا نتیجہ اور گناہ پیدا ہونا ہے۔ گورنمنٹ کسی کو قید اس لئے کرتی ہے کہ وہ چوری اور ڈاکے سے بچے نہ کہ اس لئے کرتی ہے کہ اور چوریاں کرے۔ یہ تو ایسی سزا ہے جیسے ایک جج کسی چور کو یہ سزا دے کہ دس چوریاں اور کر۔ سزا تو مجرم کو گناہ سے بچانے کے لئے دی جاتی ہے یہاں ایک گنہگار کو ایسی سزا دی گئی ہے کہ جس کی وجہ سے وہ اور گناہ کرے اور ابد الآباد کے لئے جونوں کے چکر میں پھنسا رہے۔ اور اگر کوئی کہے کہ شیر کی جون میں جو خون وہ کرے گا اس کی سزا اس کو نہ ملے گی تو پھر الزام آئے گا کہ جب اس کے ہاتھوں سے خون کرانے کا کوئی نتیجہ نہ نکلے گا تو اس سے خون کرانا جانوروں پر بلاوجہ ظلم کرانا ہے تو اس ظلم کی ابتداء نعوذ باللہ خدا کی طرف سے ہوگی نہ کہ انسان کی طرف سے۔
غرض اس قسم کے گوشت خور جانوروں کے وجود سے جو گوشت کے سوا کچھ اور نہیں کھاتے ثابت ہوتا ہے کہ کسی جاندار کو ذبح کرنا ظلم نہیں۔ ورنہ اللہ تعالیٰ پر نعوذ باللہ ظلم کا اطلاق ہوگا۔
گوشت خوری کے مضمون پر بحث کرتے ہوئے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ آریوں کے اعتقاد کے موجب کل حیوانوں کی روحیں اصل میں ایک ہی قسم کی ہیں کیونکہ کبھی ایک روح سانپ بن جاتی ہے۔ اور کبھی انسان اور کبھی شیر اور کبھی باز۔ پس تناسخ کے مسئلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سب حیوانوں کی روحیں ایک ہی قسم کی ہیں خواہ وہ خوردبینی کیڑے کی روح ہو یا ہاتھی کی اور چونکہ روح کو آریہ مفرد مانتے ہیں اس لئے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ روح میں تغیر نہیں ہوتا۔ جس حالت میں روح انسان میں تھی اسی حالت میں اب وہ سانپ یا بچھو کے قالب میں ہوگی پس باریک سے باریک کیڑوں کی ہلاکت ایسی ہی ظالمانہ کاروائی ہوگی جیسی کہ انسان یا ہاتھی کی ہلاکت۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ علاوہ ان جانوروں کے جو کہ پیدا ہی گوشت خور کئے گئے ہیں باقی سب جاندار بھی اپنی زندگی کے قیام کے لئے دوسرے جانداروں کی ہلاکت پر مجبور ہیں۔
پیدائش سے موت تک انسان مختلف بیماریوں میں مبتلا رہتا ہے۔ بارہا اسے زخم لگتے ہیں اندرونی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں خوردبینی کیڑوں کی وجہ سے کئی بیماریاں اسے لاحق ہوتی ہیں اور ان بیماریوں کا علاج یہی ہوتا ہے کہ ایسی کرم کش دوائیاں استعمال کی جائیں کہ جن سے وہ کرم ہلاک ہوں اور انسان اس دکھ اور بیماری سے بچے اور کوئی مذہب اس فعل کو برا نہیں کہتا۔
جب تک خوردبین کی ایجاد نہ ہوئی تھی اس وقت تک تو بہت سے کیڑے دریافت نہ ہوئے تھے لیکن خوردبین کی ایجاد نے ثابت کر دیا ہے کہ اس ہماری دنیا میں باریک سے باریک کیڑے موجود ہیں جن کی ہزاروں قسمیں ہیں۔ اور جن کے ہلاک کرنے سے ہم بچ نہیں سکتے۔ اور وہ ایسے چھوٹے قد کے ہیں کہ اعلیٰ سے اعلیٰ خوردبین کے بغیر ہم انہیں دیکھ بھی نہیں سکتے۔ چنانچہ زولوجیکل اصطلاح کے رو سے ان کیڑوں کو پروٹوزوا کہتے ہیں۔ بعض انتڑیوں کی بیماریوں اور زخموں کے علاوہ آتشک کی ایک قسم بھی کیڑوں سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان کیڑوں کا ہلاک کرنا گناہ ہے۔ خود آریہ ڈاکٹر اپنے ہاتھوں سے ہزارہا کیڑوں کا روزانہ خون کرتے ہوں گے مگر انہیں کوئی ظالم نہیں کہتا حالانکہ جیسی انسانی روح ہے ویسی ہی آریہ اعتقاد کی رو سے ان کیڑوں کی روح ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ایک جان بچانے کے لئے ہزاروں جانوں کو ہلاک کیا جائے۔
بھابڑے اپنی طرف سے بڑی کوشش کرتے ہیں اور بعض منہ پر کپڑا باندھ لیتے ہیں تاکہ جُرم (Germs) منہ میں داخل نہ ہو سکیں لیکن خوردبینی اجرام کو یہ رکاوٹیں کب روک سکتی ہیں اور انسان خواہ کتنی ہی کوشش کرے ان کی ہلاکت سے کب محفوظ رہ سکتا ہے۔ پس یہ خیال کہ مسلمان یا مسیحی قومیں جانداروں کو ہلاک کرتی ہیں غلط ہے آریہ بھی روزانہ ہزاروں پروٹوزوا کا خون کرتے ہیں اور ان کے مذہب کی رو سے انسانی روح اور ان کیڑوں کی روح میں کچھ فرق نہیں۔
اسی طرح موتی، ریشم اور مشک ایسی اشیاء ہیں کہ جو بغیر جان لینے کے حاصل ہو ہی نہیں سکتے اور مشک کا استعمال تو ہندوؤں کی عبادتوں کا ایک جزو ہے۔
سل کا علاج مچھلی کا تیل ثابت ہوا ہے اسی طرح معدہ کی مختلف بیماریوں کے لئے پیپسین بے نظیر دوائی مانی گئی ہے جو کہ معدہ کے گلینڈز کا رس ہوتا ہے مگر میں نہیں جانتا کہ ان مفید دواؤں کے استعمال سے آریہ پرہیز کریں گے۔
اسی طرح انسان کی پیدائش میں ہی مختلف کیڑوں کی ہلاکت رکھی گئی ہے انسان کی منی میں بہت سے سپرمیٹوزوا پائے جاتے ہیں اور انہی میں سے ایک کا بچہ بنتا ہے۔ اور وہ رحم مادر میں بیج کا کام دیتا ہے لیکن باقی سب کے سب فنا ہو جاتے ہیں مر جاتے ہیں یا غذا بن جاتے ہیں اب بتائیے اس کا علاج کیا ہو سکتا ہے۔ سینکڑوں دفعہ انسان اپنی عمر میں جماع کرتا ہو گا۔ اور اس سے کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا۔ تو ہر دفعہ وہ کئی جانوں کا قاتل بنتا ہے لیکن آریہ اس پر اعتراض نہیں کرتے۔ چونکہ شہوت انسان کے اندر ایک زبردست طاقت رکھی گئی ہے اس لئے اس خون سے بچنا تو انسان کی طاقت سے باہر ہے ہر ایک انسان کو اس میں مبتلا ہونا پڑے گا۔ اور اگر انسان جماع کرنا ہی چھوڑ دیں تو پھر نسل انسانی کا خاتمہ ہے۔ اور اگر ایک جماع میں ایک بچہ بھی پیدا ہو تب بھی بہت سے سپرمیٹوزوا بے فائدہ ہلاک ہو جائیں گے پس نہ صرف یہ کہ انسان و حیوان کو زندگی کے مختلف اوقات میں اپنی جان کی حفاظت کے لئے مختلف جانوں کا خون کرنا پڑتا ہے بلکہ انسان و حیوان کی نسل ہی تب چل سکتی ہے جبکہ بعض جانوں کا خون کیا جائے اب اگر یہ فعل ظلم ہے تو اس ظلم کا بانی نعوذ باللہ پر میشور ہے جس کی طرف ظلم کا منسوب کرنا ایک کبیرہ گناہ ہے اس لئے ماننا پڑے گا کہ یہ ظلم نہیں ہے۔
حیوان تو حیوان بعض پودوں کو بھی اپنی پرورش کے لئے جان لینی پڑتی ہے چنانچہ فلائی ٹریپ ایک پودا ہوتا ہے کہ جس کے پتوں میں ایک خاص حس ہوتی ہے اور جس وقت ان پر کوئی کیڑا آکر بیٹھے تو وہ چھوئی موئی کے پودہ کی طرح اپنے پتوں کو سکیڑ لیتا ہے اور اس کو کھا جاتا ہے۔ اور بغیر اس کے اس کی کامل پرورش ہوتی ہی نہیں ہے کیونکہ وہ اگر کیڑوں کو نہ کھائیں تو کافی نائیٹروجن ان کے جسم میں نہیں پہنچتی اور اس کے بغیر ان کی پرورش محال ہے پس انسان تو خیر انسان تھا پر میشور نے تو جانداروں کو ہلاک کر کے کھانے کا کام تو پودوں کے بھی سپرد کر دیا ہے۔
اب باوجود اس قدر دلائل کے کہ تمام حیوان اور بعض پودے اپنی جان کی حفاظت کے لئے دوسرے جانداروں کی ہلاکت پر مجبور ہیں یہ الزام لگانا کہ جانداروں کا ذبح کرنا ایک بڑا ظلم ہے خود ظلم ہے۔ جب ہماری زندگی کا دارومدار ہی اس بات پر رکھا گیا ہے تو پھر یہ ظلم کیونکر ہو سکتا ہے۔ اور جب یہ ظلم نہیں تو ہم اپنی ضرورت کے پورا کرنے کے لئے بعض جانوروں کو مار سکتے ہیں اور جب مارنا ہی ظلم ثابت نہ ہوا تو گوشت کا کھانا تو پھر کسی صورت میں قابلِ اعتراض رہا ہی نہیں کیونکہ ذبح کردہ جانور کا گوشت ایک بے جان چیز ہے۔ اس کے کھانے یا پکانے میں کسی قسم کے ظلم یا دکھ کا کچھ تعلق نہیں۔
کوئی شخص یہ اعتراض کر سکتا ہے جس قدر مثالیں پیش کی گئی ہیں ان میں تو انسان مجبوری سے یہ کام کرتا ہے اور گوشت کھانے کے لئے جو جانور ذبح کئے جاتے ہیں ان میں نہ کوئی مجبوری ہے اور نہ اشد ضرورت اس کا جواب میں پہلے دے چکا ہوں لیکن اب پھر لکھتا ہوں کہ مجبوری بے شک استثناء میں داخل ہوتی ہے لیکن ہم تو دیکھتے ہیں کہ اس ہلاکت کے فعل پر تمام کے تمام انسان قریباً ہر روز کسی نہ کسی طریق پر مجبور ہیں اگر یہ مجبوری اس قسم کی ہوتی کہ کروڑوں میں سے ایک آدمی برسوں میں ایک دفعہ اس فعل پر مجبور ہو جاتا تو ہم کہتے کہ تھا تو یہ ظلم لیکن مجبوری پیش آگئی کیا کیا جائے۔ لیکن یہاں تو بات ہی اور ہے ایک فعل کے کرنے پر ہم سب کے سب قریباً ہر روز مجبور ہوتے ہیں اب اسے ظلم کیونکر کہہ سکتے ہیں اتفاقی بات ہوتی تو خیر یہ بہانہ ہو سکتا تھا لیکن یہ رکاوٹ تو ہر انسان کے راستہ میں درپیش ہے اس لئے اس کو مجبوری کہہ کر ظلم نہیں کہہ سکتے۔
دوسرے جس قدر مثالیں دی گئی ہیں وہ سب کی سب مجبوری سے نہیں ہیں موتی، مشک، ریشم کا حصول اور چمڑے کا استعمال اس میں کوئی مجبوری نہیں لیکن ہزاروں ہیں جو گوشت کے استعمال کو برا کہتے ہیں اور ان چیزوں کا استعمال کرتے ہیں پھر جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں ایک دفعہ کے جماع میں کئی جانوں کا نقصان ہو جاتا ہے وہ کہاں کی مجبوری ہے۔
مذکورہ بالا دلائل کے علاوہ ایک بات اور خاص طور سے قابلِ غور ہے وہ یہ کہ خود پنڈت دیانند اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں لکھتا ہے ”جو نہایت درجہ کے تموگنی ہیں وہ نہ چلنے والے درخت وغیرہ کا کیڑے مکوڑوں کا مچھلی، سانپ، کچھوے ’مویشی اور مرگ (جنگلی چوپائیہ) کا جنم پاتے ہیں (صفحہ ۳۴۶)۔
اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ پودا اور درخت بھی وہی روح رکھتے ہیں کہ جو انسان میں ہے پھر جانور کے ذبح کرنے یا درخت کے کاٹنے یا اس کا پھل توڑنے یا کھیتی کو کاٹنے میں کیا فرق رہے گا جیسا دکھ ایک جانور کو ذبح کرنے سے اسے ہوتا ہوگا۔ ایسا بلکہ اس سے بھی زیادہ درخت یا اس کے پھل کے کاٹنے سے ہوتا ہوگا۔ کیونکہ جانور تو ایک منٹ میں ذبح ہو جاتا ہے اور درخت کو کاٹتے ہوئے بہت دیر لگتی ہے۔ پھر پھل کاٹنا یا شاخ کاٹنا تو اور بھی خطرناک ہے اور بالکل ایسا ہے جیسے ہم آدمی کی انگلیاں کاٹ دیں۔ یا ہاتھ پاؤں توڑ دیں پس اس صورت میں آریہ مسلمانوں کی نسبت زیادہ پاپ کماتے ہیں اور گوشت خوروں کی نسبت ان کو زیادہ خوف لگا ہوا ہے۔ اور جب ان اشیاء میں بھی جان ہے تو انسان اب کھائے کیا اور زندہ کس طرح رہے؟
اب اس بات کے ثابت کرنے کے بعد کہ جانداروں کے ذبح کرنے کا کل پاپ نعوذ باللہ پرمیشور کے اپنے حکم اور جبر سے ہے۔ اور آریہ بھی مسلمانوں یا دیگر اقوام کی طرح اس فعل میں شریک ہیں۔ میں بتاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی فعل حرام یا حلال کیوں قرار دیا ہے سو یاد رہے کہ قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز حرام تبھی کی جاتی ہے کہ جب وہ عقل کے لئے، جسم کے لئے، اخلاق کے لئے یا روحانی قویٰ کے لئے مضر ہو اس کے سوا اللہ تعالیٰ کسی فعل کو منع نہیں کرتا خواہ وہ کھانے کا ہو، پینے کا ہو، معاملات سے ہو، عبادات سے ہو اور منع صرف اسی صورت میں کرتا ہے کہ جب مذکورہ شرائط میں سے کوئی شرط پائی جاوے یا ایک سے زیادہ شرائط پائی جائیں۔ اسی طرح گوشت خوری کے متعلق جن جانوروں کا گوشت مذکورہ شرائط کے ماتحت آتا تھا ان کا مارنا منع کر دیا۔ جیسے سؤر کا گوشت کھانا یا انسان کو مارنا کہ یہ کام اخلاق کیلئے اور روح کے لئے مضر ہیں اور جن جانوروں کا مارنا یا کھانا ان شرائط کے تحت نہ تھا ان کی نسبت منع نہیں فرمایا۔ جس کا جی چاہے کھائے اور فائدہ اٹھائے۔
اس میں کیا شک ہے کہ جسم انسانی گوشت پوست ہڈیوں اور اعصاب وغیرہ سے بنا ہوا ہے اور اس کی اعلیٰ غذا وہی ہوگی جو ان اشیاء کی جن سے انسان مرکب ہے پرورش کرے۔ اور ایسی غذائیں اکثر حیوانات و نباتات میں پائی جاتی ہیں اور انسان کے لئے ضروری ہے کہ چن کر وہ غذائیں استعمال کرے جو اس کے لئے زیادہ مفید ہوں ادنیٰ سے ادنیٰ پودا اور ادنیٰ سے ادنیٰ حیوانات ان غذاؤں کو استعمال کرتے ہیں جو ادنیٰ درجہ کی مرکب ہوتی ہیں۔ اور جوں جوں وہ نباتی یا حیوانی مادہ میں ترقی کرتے ہیں ان کی غذا زیادہ مرکب ہوتی جاتی ہے اور وہ ضروری اغذیہ کو ادنیٰ مرکبات سے نہیں لے سکتے۔ انسان چونکہ اعلیٰ سے اعلیٰ حیوان ہے اس کے لئے اعلیٰ سے اعلیٰ مرکبات کا استعمال ضروری ہے۔ اور البیومن کے استعمال کے بغیر انسانی جسم کی خوراک بالکل ناقص رہتی ہے بعض پودوں میں بھی البیومن ضرور پایا جاتا ہے لیکن گوشت میں تو ایک بڑا حصہ البیومن کا ہوتا ہے اس لئے البیومن کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے گوشت بہ نسبت دوسرے پودوں کے زیادہ مفید ہے۔ ہاں بعض اغذیہ ایسی بھی ہیں جو نباتات سے زیادہ عمدہ مل سکتی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نباتات و حیوانات دونوں کے استعمال سے نہیں روکا اور دونوں کا استعمال ان کے لئے جائز قرار دیا ہے۔ لیکن جو اشیاء کسی صورت میں مضر تھیں ان سے منع کر دیا ہے۔ چونکہ انسانی جسم کے لئے البیومن کی بہت ضرورت ہوتی ہے اور یہ بہت جلد خون میں ملتی ہے۔ اس لئے گوشت کا کھانا بھی انسان کے لئے ضروری ہے کیونکہ یہ گوشت میں بہت کثرت سے پائی جاتی ہے اسی طرح بعض ضرورتوں کے لئے نباتات کا استعمال عمدہ و مفید ہے۔ اور اللہ تعالیٰ مفید اشیاء کے استعمال سے انسان کو نہیں روکتا۔
گوشت کا استعمال ایک بہت معمولی بات تھی لیکن آریوں نے خواہ مخواہ اسے بڑھا دیا ہے ایسی اہمیت دی ہے کہ ایک دوست کے پیش کرنے پر ہم کو بھی رسالہ (تشحیذ الاذہان) کے کئی صفحہ صرف کرنے پڑے لیکن ان صفحات کا کوئی افسوس نہ ہو گا اگر کسی شخص کو فائدہ پہنچ جائے اور وہ سمجھ لے کہ یہ باتیں معمولی ہیں اور مذہب کی سچائی کا ان سے کچھ تعلق نہیں مذہب کچھ اور ہی ہے اور پھر اس اصول کو سمجھ کر مذہب کی طرف توجہ کرے۔
مرزا محمود احمد
(تشحیذ الاذہان جولائی ۱۹۱۱ء)
(تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۱۱ء)
از
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
(تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۱۱ء)
حضرت مسیح ناصریؑ فرماتے ہیں۔ درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا پکا سچا اور ایسا پاک کلمہ ہے۔ کہ اس میں زمانے کے تغیرات، ملکوں، حکومتوں، علموں اور سائنسوں کے تغیّرات نے ذرا بھی تبدیلی نہیں پیدا کی۔ ۱۹۰۰ء برس گزر گئے۔ لیکن اب بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ فقرہ ”درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے“ بالکل صحیح ہے۔
جب میں رسول کریم ﷺ کی صداقت کو اسی جملہ میں مرکوز دیکھتا ہوں تو یہ فقرہ مجھے بڑا مزا دیتا ہے۔ واقعی درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔
دیکھو آم کا درخت ہے۔ اس میں اگر ایسے پھل نہیں لگتے جس سے لوگ نفع اٹھائیں تو وہ آم کس کام کا۔ اگر وہ شیریں پھل دیتا ہے تو آم ہے ورنہ ایک لکڑی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ اسی طرح اگر انگور کی بیل میں انگور عمدہ لگتے ہیں تو وہ انگور ہے ورنہ محض ایک گھاس ہے۔
ہمارے رسول اللہ ﷺ کی ذات پر بہت سے اعتراض کئے جاتے ہیں اور بعض بے باک شریر آپ کو بدیوں میں ملوث بتا کر اس سورج کو چھپانا چاہتے ہیں جس سے تمام جہان روشن ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ یہی فقرہ آپؐ کے چال چلن کی بریت کے لئے کافی ہے۔ کیونکہ انسان جس قسم کا ہو اسی قسم کی باتیں کیا کرتا ہے۔ اس کے متعلق مجھے ایک قصہ یاد آیا ہے۔ رابعہ بصریؒ ایک مشہور بزرگ عورت گذری ہیں۔ ان کے سامنے چند آدمیوں نے مسجد میں دنیا کی مذمت کی اور اس قدر مذمت کی کہ عصر کا وقت آگیا۔ عصر کے بعد پھر اس طائفہ نے دنیا کی مذمت شروع کردی۔ آپ نے غضب ناک ہو کر کہا کہ یقیناً تم دنیا کے طالب ہو اسی لئے دنیا کا ذکر کرتے ہو کیونکہ انسان کو جو چیز پسند ہو اسی کا ذکر کرتا ہے بعض اوقات محبوب کے شکوہ میں وہی مزا آتا ہے جو اس کی تعریف میں آیا کرتا ہے غرض انسان کو جس سے محبت ہو اسی کا اکثر ذکر کرتا ہے۔ یہی اصل ہاتھ میں لے کر رسول کریم ﷺ کی زندگی پاک ثابت کرنے کو میرے لئے قرآن مجید کافی ہے۔
یوں تو عیسائیوں نے آپؐ کے خلاف کتابیں لکھی ہیں۔ اور مسلمانوں نے مجاہد النبی میں جو کچھ لکھا ہے وہ بہت ہی زیادہ ہے۔ لیکن ایک معترض کہے گا کہ یہ دونوں نا قابل اعتبار ہیں۔ ایک مسلمان نے خوش اعتقادی سے کہنا ہی ہوا کہ آپؐ کی توجہ ہر وقت خدا کی طرف لگی رہتی تھی۔ اور ایک عیسائی کا مذہبی فرض ہے کہ اس کے خلاف کہے۔ پس تاریخ معیار نہیں۔ ہاں قرآن شریف ضرور قابلِ اعتماد ہے جو تبدیل نہیں ہوا۔ عیسائیوں اور یہودیوں کے خیال میں نبی کریم ﷺ کا اپنا بنایا ہوا ہو۔ اور مسلمانوں کے نزدیک خدا کا کلام۔ دونوں صورتوں میں نبی کریم ﷺ کی زندگی پاک اور مطہر ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ ان پاک خیالات کا منبع وہی قلب ہو سکتا ہے جو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک ہو۔ اگر کوئی قلب اس قسم کے پاک و جامع کلام کا اہل ہوتا تو آدمؑ سے لے کر آپؐ کے زمانہ تک کسی اور نبی پر یہ القاء ہوتا۔ ابراہیمؑ بھی خدا کو بہت پیارا تھا۔ موسیٰؑ بھی بہت پیارا تھا۔ عیسیٰؑ بھی۔ مگر ان پیاروں میں سے کسی کو وہ کلام نہ دیا بلکہ اپنے سب سے پیارے نبی عربی ﷺ کو دیا۔ انسان کی فطرت میں بھی یہ امر ہے کہ وہ اعلیٰ سے اعلیٰ، عمدہ سے عمدہ چیز اپنے پیارے بچے کے لئے رکھتا ہے۔ پس خدا نے بھی اپنا لاثانی کلام اپنے اسی بندے کو دینا تھا جو سب پیاروں سے زیادہ پیارا تھا نہ کہ کسی گندوں سے بھرے ہوئے انسان کو جیسا کہ نعوذ باللہ مخالفین کا آنحضرت ﷺ کے بارے میں گمان ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ قرآن مجید کا کوئی رکوع بلکہ کوئی آیت عظمت و جبروتِ الٰہی کے ذکر سے خالی نہیں۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو کس قدر تعلق و اخلاص اللہ تعالیٰ سے تھا پھر مختلف حالات و اوقات کے متعلق جو احکام ہیں ان پر غور کریں تو بھی آپ ﷺ کی پاک و مطہر زندگی کا ثبوت ملتا ہے۔ جب ہم کھانا کھانے بیٹھتے ہیں تو ارشاد ہوتا ہے۔ دیکھو کیا کرنے لگے ہو پہلے بسم اللہ کہہ
لو۔ جب کھانا کھا چکتے ہیں تو حکم ہوتا ہے الحمد للہ کہو ورنہ ناشکری ہوگی۔ اس ذات کا شکر ضروری ہے جس نے رزق بخشا، صحت بخشی، معدہ دیا، دانت دئیے۔ اسی طرح جب ہم کوئی کام شروع کرنے لگتے ہیں تو وہ خیر خواہ ہمیں ہدایت کرتا ہے کہ تمہارا علم ناقص ہے تمہاری قوت میں کمزوری ہے پس اس پاک و قدوس قادر و مقتدر سے مدد مانگ کر شروع کرو استخارہ کرلو۔ نکاح کے لئے یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ(النساء: ۲) سنا کر خدا کا ڈر یاد دلا دیا۔ اسی طرح جب ہم صبح کے وقت نیند سے اٹھتے ہیں تو ہم کو حکم ہوتا ہے کہ کام شروع کرنے سے پہلے خدا کی تسبیح و تحمید و تقدیس کرلو۔ پھر جب سورج ڈھلنے لگتا ہے تو یادِ خدا کا حکم ہوتا ہے تاکہ تمہاری روحانیت کا آفتاب اسی طرح زائل نہ ہو جائے۔ پھر عصر کے وقت جب آفتاب کی حدت بہت کچھ کم ہو جاتی ہے تو پھر خدا کے حضور گڑگڑانے کا حکم دیا۔ پھر جب سورج ڈوب جاتا ہے تو اس وقت بھی دعا کا حکم ہے کہ الٰہی جس طرح یہ جسمانی سورج ڈوب گیا ہے روحانی سورج نہ ڈوب جائے اور ہم انوارِ خداوندی سے محروم نہ رہ جائیں۔ پھر جب بالکل اندھیرا پڑ جاتا ہے تو پھر اس نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ(النور: ۳۶) کے حضور کھڑا ہونے کا حکم دیتا ہے ایسا نہ ہو کہ ہم طرح طرح کی ظلمات میں رہ کر تباہ ہو جائیں۔ یہ تعلیم یہ پاک تعلیم کیا کسی گندے انسان کے دل سے نکل سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ اسی شخص کے پاک قلب سے نکل سکتی ہے جس کی زندگی نہایت مطہر اور سارے جہان کے لئے نمونہ ہو۔ یاد رکھو جو شخص دنیا کو جس قدر دین کی طرف متوجہ کرتا ہے یقیناً وہ اسی قدر خدا کا والہ و شیدا ہے۔
پس یہ تعلیم کہ اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، چلتے پھرتے ہر وقت خدا کو یاد رکھو۔ اس اخلاص، اس محبت، اس عشق، اس پیار، اس شیفتگی کا پتہ دیتی ہے جو نبی کریم ﷺ کو خدا سے تھی۔ پھر اسی تعلیم کا اثر دیکھ کر مسلمانوں کے بچے، بوڑھے، جوان، عورتیں سب اسی رنگ میں رنگین ہیں۔ کوئی بچہ گرتا ہے تو فوراً منہ سے حَسْبُکَ اللہ، جب کوئی خوشی ہوتی ہے تو زبانیں پکار اٹھتی ہیں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔ آخر یہ بات کس نے ان کے دل میں ڈالی؟ رسول کریم ﷺ نے۔ انسان اپنے پیارے کا نام کسی نہ کسی بہانے سے ضرور سننا چاہتا ہے۔ پس نبی کریم ﷺ کا پیارا تو خدا تھا۔ آپؐ نے ہر حرکت و سکون ہر قول و فعل سے پہلے پیارے کا نام بتا دیا۔ سب سے نازک موقعہ تو انسان کے لئے وہ ہوتا ہے جب شہوت کا بھوت اس کے سر پر سوار ہو۔ جس وقت انسان سب کچھ بھول کر صرف اسی خیال میں محو ہو جاتا ہے۔ اور جب وہ دنیا اور دنیا کے پیاروں سے الگ ہو کر ایک پیارے میں
منہمک رہ جاتا ہے تو ایسے جوش کے وقت بھی نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہوتا ہے۔ کہ اَللّٰھُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَ جَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا پڑھ لیا کرو۔ غرض کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ تاریخی شہادت کی حاجت نہیں۔ صرف قرآن مجید ثابت کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا ہر قول و فعل خدا کے لئے تھا اور آپ ﷺ کی زندگی پاک و مطہر تھی۔
لوگ مذاہب بناتے ہیں کوئی کہتا ہے گدی بن جائے، کسی کو حکومت کا شوق ہوتا ہے، کسی کو دولت جمع کرنے کا خیال۔ غرض مختلف وجوہات ہیں جن سے لوگ دین اختیار کرتے ہوں گے۔ کوئی عیسائی بنتا ہے تو اسے یہ بھی خیال آتا ہو گا کہ میرے ضلع کے ڈپٹی یا میرے صوبہ کے لیفٹینینٹ گورنر یا میرے ملک کے وائسرائے خوش ہو جائیں گے۔ مگر محمد رسول اللہ ﷺ وہی تعلیم دیتا ہے جس سے خدا کا قرب خدا کی خوشنودی حاصل ہو۔ وہ اپنے پیروؤں کو تعلیم دیتے وقت ارشاد فرماتا ہے کہ شاید تمہارے دل میں کوئی وسوسہ آجائے۔ اس لئے اَعُوْذُ اور بِسْمِ اللہ پڑھ لینی چاہئے۔ جن کو محض اپنا مذہب پھیلانے کا شوق ہوتا ہے وہ تو کہتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں داخل ہو خواہ کسی طرح۔ مگر یہاں ارشاد ہے کہ یہ دروازہ عشق الٰہی کا ہے اس میں شیطانی ملوثی سے نہ آؤ۔ بلکہ شیطان پر لعنت بھیج کر اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ کر، پھر یہ اَعُوْذُ نہ صرف ابتداء میں ہے۔ بلکہ انتہاء میں بھی یہی ارشاد ہوتا ہے کہ قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ(114:2) پڑھ لو۔ جس سے یہ مراد ہے کہ الٰہی میں نے تیری کتاب کو پڑھا ہے۔ ممکن ہے کہ کئی قسم کے قصور سرزد ہوئے ہوں۔ اپنی عظمت کا خیال آگیا ہو کہ میں صوفی بن جاؤں، لوگ مجھے بزرگ کہیں، میرے پاؤں چومیں، پس اپنے رب کی پناہ میں آکر عرض کرتا ہوں کہ محض اسی کی محبت ہو جس کی خاطر میں لوگوں کو اس کی تلقین کروں۔
یوں تو سارا قرآن مجید تقویٰ کی تعلیم سے لبریز ہے مگر جو آیت میں نے آپ لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنائی ہے۔ اس میں بھی ایک خاص رنگ میں تقویٰ کی ہی تعلیم دی گئی ہے۔ جس سے اس بات کا ثبوت مل سکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی کیسی پاک اور تقویٰ سے لبریز تھی۔ بلکہ میرا مطلب یہ ہے۔ کہ یہ پاک تعلیم اسی کو مل سکتی تھی جو خود تقویٰ سے معمور ہو۔ اس لئے اس کتاب سے رسول اللہؐ کی قلبی کیفیت ہم معلوم کر سکتے ہیں۔ کیا ہی خوش قسمت تھے وہ لوگ جنہوں نے یہ پاک کلام خود رسول اکرم العلیٰ الصلٰوۃ کے منہ سے سنا۔ دیکھو دہلی میں دربار ہوا۔ بادشاہ سلامت نے جو کچھ فرمایا وہ اخباروں کے ذریعے کئی کانوں تک پہنچ گیا۔ مگر جو لذت ان لوگوں کو آئی ہوگی جنہوں نے خود بادشاہ کے منہ سے سنا وہ ان لوگوں کو نہیں آسکتی جنہوں نے اخباروں میں پڑھا۔ پھر بھی میں دیکھتا ہوں کہ قرآن مجید ایسا پاک اور موثر کلام ہے کہ تیرہ سو برس گذر جانے پر بھی اپنے اندر ایک ایسی لذت رکھتا ہے کہ پاک دل مؤمن تو متوالے ہو جاتے ہیں۔
قرآن مجید کی تلاوت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں تین باتوں پر بہت زور ہے۔ اول تو یہ کہ اللہ ایک جامع جمیع صفاتِ کاملہ، کُل عیبوں اور نقصوں سے منزہ ہستی ہے اور وہ ہی وہ ہے اور کچھ بھی نہیں (دوم) اس کے مقابلہ میں تمام مخلوقات بلکہ اشرف المخلوقات انسان تک ہیچ ہے اور ناکارہ اور حاجتمند۔ اسی کی مہربانیوں کا محتاج ہے۔ پس انسان کو چاہئے کہ اسی کا ہو کر رہے اسی سے پیار اسی سے محبت رکھے۔ اور (سوم) چونکہ سب ایک ہی خدا کی مخلوق ہو اس لئے آپس میں محبت کرو۔ جن چیزوں میں ذرا بھی مشابہت یا مناسبت ہو ان کی آپس میں اُلفت ہو جاتی ہے۔ حضرت محی الدین ابن عربیؒ نے دیکھا کہ ایک کوا اور کبوتر اکٹھے بیٹھے ہیں وہ حیران ہوئے کہ ان کا کیا جوڑ ہے۔ کوئی ہم میں سے ہو تا تو خیال بھی نہ آتا۔ اور آتا بھی تو یہ کہتے ہوئے آگے گذر جاتا کہ کون اپنا وقت ضائع کرے۔ مگر وہ بھی اپنی نظیر آپ تھے وہیں ٹھہر گئے اور دیکھتے رہے۔ آخر معلوم ہوا کہ ان دونوں کے پر ٹوٹے ہوئے ہیں اور اسی مناسبت سے وہ اکٹھے بیٹھے ہیں۔ پس ہم لوگ بھی جب سب خدا کے ہیں تو کیوں لڑیں، جھگڑیں۔ کیوں نہ آپس میں محبت رکھیں۔ ایک ہی بادشاہ کی رعایا ہو کر لڑائی کیسی؟
اللہ کی عظمت، جلال، جبروت پر ایمان، اپنے نفس کی اصلاح، آپس میں بنی نوع انسان کا محبت و پیار یہ نچوڑ ہے تعلیمِ قرآنی کا اور اسی کو اعلیٰ سے اعلیٰ مختلف پیرایوں میں ذکر فرماتا ہے۔
اور اس نصیحت و ہدایت پر عمل کرانے کے دو طریق ہیں۔ انعام و عتاب باپ اپنے بیٹے کو پہلے تو کہتا ہے کہ لو یہ پیسہ لو اور مدرسے جاؤ لیکن اگر پیسہ لے کر نہیں جاتا تو پھر اسے باوجود پیار کے تھپڑ مارتا ہے۔ یہ دو طریق اس لئے ہیں کہ بعض طبائع احسان سے مانتی ہیں اور بعض خوف سے۔ اسی لئے قرآن شریف جو ہر قسم و ہر طبیعت کے لوگوں کو ہدایت سکھانے آیا ہے دونوں طریقوں سے کام لیتا ہے۔ احسان بھی جتاتا ہے اور خوف بھی دلاتا ہے۔ یعنی اگر احسان نہ مانو گے تو اللہ دکھوں میں ڈال سکتا ہے۔ اگر مانو گے تو انعام پاؤ گے۔ لوگ کہتے ہیں کہ خدا رحمن و رحیم ہے وہ پھر ایسا کیوں کرتا ہے۔ طاعون کیوں بھیجا ایسے لوگ احمق ہیں اور طبائع کا علم نہیں رکھتے۔ اگر بچہ پیسہ لے کر بھی مدرسے نہیں جاتا تو اب اسے مار کر بھیجنا باپ کا ظلم نہیں۔ اگر کوئی شخص کنویں میں چھلانگ مارنے لگے۔ اور ایک دوسرا آدمی اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دے تو وہ ظالم نہیں بلکہ رحیم ہے۔ جب دونوں قسم کی طبیعتیں ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں نافرمانی کرنے والوں کو ڈر نہ دلائے۔ اگر دس آدمی جنت میں جائیں گے تو غالباً ان میں پانچ ایسے ہوں گے جو خوف الٰہی کی وجہ سے نیک ہوئے اور اس لئے دوزخ سے بچ گئے ہیں پس اگر تخویف کا پہلا درجہ ترک کر دیا جاتا تو شاید نصف جنتی جنت حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے۔ رسول کریم ﷺ کے بارے میں لَسۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِمُصَۜیۡطِرٍ(الغاشیہ: ۲۳) آیا ہے۔ مگر میں تو کہا کرتا ہوں کہ کاش رسول کریم ﷺ ہم پر داروغہ ہوتے تو لوگوں کا اکثر حصہ جہنم میں پڑ جانے سے بچ جاتا۔
اس قدر تمہید کے بعد میں ان آیات کے معنے کرتا ہوں قُلۡ یٰعِبَادِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا(39:11) اے میرے پیارے رسول کہہ دو۔ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو۔ یٰعِبَادِ کہنے میں جو لطف ہے اس پر میں زور دیتا ہوں۔ کیونکہ شاید سب لوگ نہ سمجھیں۔ لیکن چونکہ مجھے بچپن سے شاعرانہ مذاق رہا ہے۔ اس لئے میں اس کا خوب مزا حاصل کرتا ہوں۔ جن میں ذرا بھی محبت کا مادہ ہے وہ اس طرزِ خطاب کی لذت سے خوب آشنا ہیں۔ اس دنیا کے فانی محبوبوں کی طرف سے عشاق آرزو کیا کرتے ہیں کہ کاش وہ ہمیں اپنی گلی کا کتا ہی کہہ دے کوئی گالی ہی دیدے۔ تو اس محبوب حقیقی سے جو حسن و احسان کا سرچشمہ ہے یَا عِبَادِ میں جو محبت کی چاشنی ملی ہوئی ہے اسے کچھ وہی دل سمجھ سکتے ہیں جو اس کوچہ سے آشنا ہیں۔
پھر یَا عِبَادِ ہی نہیں کہا بلکہ فرمایا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا(10:64) یعنی اے وہ بندو جو اس بات کے مدعی ہو کہ مجھ پر ایمان رکھتے ہو یاد رکھو کہ صرف دعوٰی کوئی چیز نہیں۔ پس ایمان ایک دعوٰی ہے اس کے ساتھ عمل بھی چاہئے۔ اور جو زبانی دعوٰی کرتا ہے مگر عمل نہیں کرتا۔ اس میں اور پاگل میں کچھ فرق نہیں۔ آپ ایک پاگل خانہ میں جا کر دیکھیں وہاں بھی وہی نظارہ نظر آئے گا۔ میں گیا تو ایک پاگل کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ میں بادشاہ ہوں ‘مہدی ہوں ‘میں ساری دنیا کو فتح کر لوں گا۔ پھر ایک اور پاگل کو خلیفۃ المسیح نے دیکھا کہ کنکروں کا ڈھیر آگے لگا کر بیٹھا ہے اور اپنے تئیں خزانوں کا مالک سمجھ کر کہہ رہا ہے کہ تم لاکھ لے جاؤ۔ تم دس لاکھ لے جاؤ۔ اب ان پاگلوں اور اس شخص میں کیا فرق ہے جو مومن ہونے کا مدعی ہے مگر عمل مومنوں والے نہیں کرتا۔ غرض جو صرف زبانی باتیں بنانے والا ہے وہ پاگل ہے۔ جس طرح پاگل کہتا ہے میں بادشاہ ہوں، حکیم ہوں، طبیب ہوں، مہندس ہوں، سُلطان ہوں، اور اس سے وہ سچ مچ بادشاہ وغیرہ نہیں بن جاتا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص محض زبان سے کہتا ہے کہ میں مؤمن ہوں اور اس کے مطابق اس کے اعمال نہیں تو وہ ان انعامات کا وارث نہیں ہو سکتا جو مؤمن کے لئے مقرر ہیں۔ پس میرے دوستو! تمہیں پاگل خانہ دیکھنے کے لئے لاہور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ خود تمہارے گھر میں پاگل خانہ کا نظارہ موجود ہے۔ جو شخص کہتا ہے کہ میں مؤمن ہوں اور عمل ویسے نہیں کرتا وہ پاگل کی طرح ہی ہے۔ کیونکہ وہ بھی اپنے آپ کو ایک ایسا درجہ دیتا ہے جس کا حقیقتاً وارث نہیں۔
اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔ یہاں احسان وخوف دونوں یاد دلا دیئے ہیں۔ کس کا تقویٰ کرو۔ اپنے رب کا۔ زمین جس پر سوتے ہو وہ کس کی ہے؟ اسی رب کی۔ آسمان کو کس نے بنایا؟ خدا نے۔ آنکھوں میں نور کس نے بخشا؟ خدا نے۔ جس کے ذریعے ایک دوسرے کو پہچانتے رستہ دیکھتے اور کتابیں پڑھتے ہو پھر ہاتھ، دماغ، دل بھی اسی نے بخشے جن چیزوں سے ہم کام لیتے ہیں پھر جن قوتوں سے ان کو استعمال میں لاتے ہیں وہ سب ہی رب کی دی ہوئی ہیں۔ تو کیا ہمارا فرض نہیں کہ اس کے فرمانبردار رہیں؟ کہتے ہیں چور جس گھر پر کھانا کھا لے وہاں چوری نہیں کرتا۔ حالانکہ چور ایسا ذلیل ہے کہ کوئی شریف آدمی اس کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں کرتا تو پھر جس کا تم روز کھاتے ہو اسی کی نمک حرامی کرو تو اس چور سے بدتر ہو یا نہیں۔ کان، حلق، زبان، منہ، پانی، سب کچھ خدا کا دیا ہو مگر محبت کریں اوروں سے اور اپنے حقیقی محسن کو بھول جائیں۔ کس قدر شرم اور افسوس کی بات ہے۔ کیا لطیف نکتہ معرفت ہے اس حکایت میں جو میں نے پچھلے دنوں پڑھی کہ ابراہیم ادہمؒ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ مجھ سے گناہ نہیں چھوٹ سکتے۔ آپ نے فرمایا چھ باتیں بتاتا ہوں ان پر عمل کرو پھر بے شک گناہ کر لیا کرو (۱) جب تو خدا کا گناہ کرے تو خدا کا بنایا ہوا رزق نہ کھائیو (۲) دوسرا یہ کہ اگر خدا کا گناہ کرنا ہے تو خدا کے ملک میں نہ رہیو۔ (۳) یہ کہ اگر خدا کا گناہ کرنا ہے تو خدا سے چھپ کر کیجئیو (۴) چہارم یہ کہ اگر خدا کا گناہ کرنا ہے تو ملک الموت جب آوے تو کہنا کہ مجھے اتنی مہلت دو کہ میں توبہ کر لوں۔ (۵) پنجم یہ کہ اگر وہ نہ مانے تو پھر منکر نکیر جب سوال کریں تو ان سے انکار کر دینا کہ میں تمہارے سوالوں کا جواب نہیں دیتا (۶) ششم یہ کہ جب تجھے دوزخ میں ڈالنے لگیں تو اَڑ بیٹھنا کہ میں تو یہاں نہیں جاتا۔ اس نے عرض کیا کہ حضور یہ تو نہیں ہو سکتا۔ فرمایا پھر کیسی بے حیائی اور بے شرمی ہے کہ تو اسی کا رزق کھاتا ہے اسی کی زمین پر رہتا ہے پھر موت کا مالک نہیں اور پھر اس کے سامنے اس کے احکام کو ٹالتا ہے۔
یاد رکھو کہ بڑی بڑی مشکلوں اور مصیبتوں میں صرف ایک رب ہی ہے جو کام آتا ہے۔ ماں کے پیٹ میں انسان کو رزق کون دیتا ہے۔ جب پیٹ سے باہر آتا ہے تو ہوا کھانے کو کس نے مہیا کی۔ روشنی کے لئے سورج چاند کس نے بنائے ۔ بلکہ میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ ماں باپ کے دل میں وہ محبت جو تیری پرورش کا موجب ہوئی ۔ کس نے یہ پیدا کی۔ اگر بجائے محبت کے نفرت ڈال دیتا تو تیرا کیا بس چلتا اور کیا حال ہوتا ۔ باوجود اس احسان اس شفقت اس پیار کے پھر بھی انسان ہیں کہ اس سے بے تعلقی کرتے ہیں ۔ وہ چوروں سے بدتر ہیں۔ یہ تو احسان ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے متوجہ کیا۔ لیکن جو محبت سے نہیں مانتے اس کے لئے دوسرے معنی خوف کے بھی بیان کئے ہیں۔
خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ستارے یہ زمین یہ بیوی بچے یہ طاقتیں یہ قویٰ یہ مال یہ دولت یہ چاند یہ سورج یہ تجارت یہ حرفت کے اسباب ہمارے بنائے ہوئے ہیں۔ اگر ہم اپنی ربوبیت کا تعلق قطع کر لیں تو بتاؤ کون ہے جو ربوبیت کرے اگر ہم اندھا کر دیں ۔ تو کون ہے جو آنکھیں دے۔ اگر ہم ہاتھ توڑ دیں تو کون ہے جو ہاتھ دے۔ تو پھر زبان دی اگر گونگا کر دیں تو کون ہے جو گویا کرے۔ ہم نے کان دیئے اگر بہرہ کر دیں تو کون ہے جو کان دے۔ احسان سے نہ مانو گے تو ہم اپنے قہر سے منوائیں گے۔ کیونکہ سب خزانے ہمارے ہی قبضۂ اقتدار میں ہیں۔
اسی کے آثار میں سے طاعون، زلزلے اور وبائی بیماریاں ہیں۔ لیکن لوگ ہیں کہ باوجود اس تباہی کے نہیں مانتے۔ تعجب کی بات ہے کہ نمبردار تحصیلدار دھتکار دے تو زمیندار کی جان نکلتی ہے۔ ہوش اڑ جاتے ہیں۔ لیکن خدا کی طرف سے مامور آکر سناتے ہیں کہ فرمانبرداری کروگے تو انعام پاؤ گے اور اگر نافرمانی کروگے تو نقصان اٹھاؤ گے مگر اس طرف توجہ نہیں کرتے۔ ایک تحصیل کے چپڑاسی کا رعب تو ہے لیکن خدا کے فرستادوں۔ اور پھر حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جیسے فرستادوں کا رعب نہیں۔ یہ بے ایمانی کا نشان ہے۔ طاعون سے گھر کے گھر ویران ہو گئے۔ اگر اب بھی نہیں جاگو گے تو پھر کون سی آفت ہے جو تمہیں جگائے گی۔ کیا خدا تعالیٰ اپنی بات کو چھوڑ دے گا؟ بال ہٹ، تریا ہٹ، راج ہٹ۔ یہ تین ہٹیں بہت مشہور ہیں۔ مگر خدا کی ہٹ کے مقابلہ میں یہ کیا چیز ہیں۔ اگر طاعون اور زلزلوں سے لوگ نہیں مانیں گے تو وہ اپنی اور آفتیں نازل کر دے گا۔ کیا اس کے خزانوں میں عذابوں کی کچھ کمی ہے۔ وہ سب کو ایک دم میں پیس کر کوڑا کرکٹ بنا سکتا ہے۔ بچہ جو اپنے آپ کو سنبھال بھی نہیں سکتا وہ تو اپنی ہٹ نہیں چھوڑتا۔ عورت جو خاوند کی محکوم ہے وہ تو اپنی ہٹ نہیں چھوڑتی۔ راجہ جو مخلوق کا بنایا ہوا راجہ ہے وہ بھی جب بول اٹھتا ہے کہ میں یہ کام کروں گا تو کر کے رہتا ہے۔ تو پھر وہ جو ان سب کا رب ہے کیا اس کے آگے ہماری ہٹ چل سکتی ہے۔ پس سن رکھو کہ جو نافرمانیوں سے اور خدا کے مأموروں سے شوخیاں کرنے سے باز نہیں آتے ان کو منوایا جائے گا۔ دیکھو عرب کے لوگوں نے کم ہٹیں نہیں کیں۔ مگر رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں ان کی کچھ پیش نہ گئی۔ وہی لوگ جو باعزت کہلاتے تھے آخر ذلیل و حقیر ہوئے اور ایسے کاٹ دیئے گئے کہ بے نام و نشان رہ گئے۔ ابو جہل سید العرب تھا۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں کیا وہ اڑ سکا۔ پھر یہاں تک خدا کے پاک بندے کو کامیابی ہوئی کہ ہر ایک بستی میں سید کہلانے والا کوئی نہ کوئی موجود ہے۔ مگر ابو جہل کی نسل سے کوئی نہیں بنتا۔ باوجودیکہ نسل اس کی موجود ہے مگر اس کی طرف منسوب ہونا عار کا موجب سمجھا جاتا ہے۔ سید کیا ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے لڑکے کی نہیں بلکہ لڑکی کی اولاد ہیں۔ مگر لوگ کہتے ہیں کچھ بھی ہو کسی طرح رسول اللہ ﷺ سے ہمارا تعلق تو بنا رہے۔ گو قرآن مجید میں اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ(الحجرات: ۱۴) آیا ہے۔ اور ابو جہل کی اولاد ہونا کوئی بری بات نہیں۔ مگر پھر بھی لوگ پسند نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے خدا کے مأمور کا مقابلہ کیا۔ پس وہ ذلیل و حقیر ہوا۔
اب میں بتاتا ہوں کہ وہ تقویٰ کیا ہے جس کے حصول کے لئے یہ ارشاد فرمایا۔ تقویٰ کے تین مدارج ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھائے (اور بھی ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اس وقت بیان کرنے کے لئے یہی دل میں ڈالے ہیں) اور میں انہیں ایسی طرز میں سنانے کی کوشش کروں گا کہ زمیندار بھی سمجھ جائیں۔ لیکن ان کے بیان کرنے سے پہلے میں اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ تقویٰ ایک ایسی نعمت ہے کہ جس شخص کو حاصل ہو پھر وہ اس کے مقابل میں دنیا کی کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا چنانچہ ایک بات حضرت اقدسؑ کی مجھے یاد آگئی۔ آپ لوگوں کا حق ہے کہ آپ کو سنائی جائے۔ کیونکہ اگرچہ میرا حضرت سے دوہرا یعنی جسمانی بھی اور روحانی بھی تعلق ہے۔ مگر روحانی لحاظ سے آپ بھی ان کے بیٹے ہیں۔ آپ کی نوٹ بک میں نے دیکھی۔ آپ کا معمول تھا کہ جب کوئی پاک خیال پاک جذبہ دل میں اٹھتا تو آپ لکھ لیتے۔ اس نوٹ بک میں خدا کو مخاطب کر کے لکھا ہے ”او میرے مولیٰ! میرے پیارے مالک! میرے محبوب! میرے معشوق خدا! دنیا کہتی ہے تو کافر ہے۔ مگر کیا تجھ سے پیارا مجھے کوئی اور مل سکتا ہے۔ اگر ہو تو اس کی خاطر تجھے چھوڑ دوں۔ لیکن میں تو دیکھتا ہوں کہ جب لوگ دنیا سے غافل ہو جاتے ہیں۔ جب میرے دوستوں اور دشمنوں کو علم تک نہیں ہوتا کہ میں کس حال میں ہوں۔ اس وقت تو مجھے جگاتا ہے۔ اور محبت سے پیار سے فرماتا ہے کہ غم نہ کھا۔ میں تیرے ساتھ ہوں۔ تو پھر اے میرے مولیٰ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس احسان کے ہوتے پھر میں تجھے چھوڑ دوں۔ ہر گز نہیں ہر گز نہیں۔
لیکن تقویٰ ایک دم میں حاصل نہیں ہوتا۔ یہ نہ سمجھو کہ ایک دم میں تم کو اعلیٰ سے اعلیٰ مدارج مل جائیں۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ ادھر بیعت کی اور ادھر علمِ روحانی کے دروازے کھل جائیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے سب کام وقت پر ہوتے ہیں۔ چنانچہ قرآن شریف میں اس بات کو عجیب طور سے بیان کیا گیا ہے۔ لیکن چونکہ اکثر لوگ آیاتِ قرآنی کے ربط کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ اس لئے ناواقف رہتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا ہے۔ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ٭ۖ وَّمَا مَسَّنَا مِنۡ لُّغُوۡبٍ فَاصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ(ق: ۳۹-۴۰) بظاہر خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ(16:4) اور پھر فَاصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ(50:40) میں کچھ ربط نہیں معلوم ہوتا ہے۔ مگر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ میں نے خدا ہو کر زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا اور اس عرصہ کی وجہ سے میں تھکا نہیں۔ تو تم نے اے نبی خدا کا بندہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے نہ کہ خدا ہونے کا۔ پس تم کیوں گھبراتے ہو۔ خدا تعالیٰ کے سارے کام صبر کے ساتھ ہوتے ہیں۔ نو ماہ میں نطفہ سے بچہ بنتا ہے۔ پھر بچہ سے جوان اور جوان سے بوڑھا ہوتا ہے۔ اب تمہارے ساتھ جو وعدے ہیں۔ وہ بھی ضرور پورے ہوں گے تم تسبیح میں لگے رہو یعنی خدا تعالیٰ کی قدوسیت اور اپنی احتیاج کا اقرار اور وعظ کرتے رہو کامیاب ہو جاؤ گے۔ اجی سوچنے کی بات ہے کہ جب خدا تعالیٰ جو تمام نقصوں اور عیبوں سے پاک ہے۔ جب وہ اپنے کام سج سج کرتا ہے تو تم جو پاک نہیں تمہیں کیا جلدی ہے۔ اکثر لوگوں کو میں دیکھتا ہوں کہ اسی جلد بازی کی وجہ سے بدظن ہو جاتے ہیں کہ آتے ہی کہہ دیا۔ ہم نے بیعت تو کرلی۔ مگر ہمیں رسول کی زیارت کیوں نہیں ہوئی۔ ہم کو اولیاء اللہ کے مدارج کیوں نہیں مل گئے۔ ہمیں تجارت میں کیوں گھاٹا ہوا۔ یہ سب فاسد خیالات ہیں۔ خدا تعالیٰ جب رسول کریم ﷺ کی خاطر اپنے قوانین نہیں توڑتا۔ تو تم کہاں کے تیس مار خاں ہو کہ تم جو کہو وہ فوراً ہو جائے۔ غرض ہر بات صبر کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور صبر کا پہلا درجہ تقویٰ ہے۔ ایک مفسر نے تقویٰ کی تعریف کی ہے جو مجھے بہت پسند ہے۔ مگر مفسر سے میری مراد کشاف، خازن، کبیر، جلالین کے مفسر نہیں۔ بلکہ وہ جو قرآن پڑھایا کرتے تھے۔ وہ لکھتا ہے کہ تقویٰ کی یہ مثال ہے کہ
ایک تنگ رستہ جس کے اردگرد کانٹے دار جھاڑیاں ہوں جن کی شاخیں راستہ کے اردگرد پھیلی ہوئی ہوں اور اس میں کسی ایسے انسان کو گزرنا پڑے جس نے موٹا کھلا چوغہ پہنا ہوا ہو تو جس طرح یہ آدمی اپنے کپڑے سنبھال کر گزرتا ہے اور چاروں طرف احتیاط کی نگاہ ڈالتا جاتا ہے اسی طرح چاہئے کہ انسان اپنے نفس کو دنیا کی آلائشوں سے جو اسے کئی کئی طریقوں سے اپنی طرف کھینچنا چاہتی ہیں بچاتا جائے۔ تب وہ متقی ہو سکتا ہے۔ غرض کہ تقویٰ کا پہلا درجہ صبر ہے۔
مگر صبر کے صرف یہی معنے نہیں کہ کوئی مر گیا تو خاموش رہیں بلکہ صبر کے تین معنے ہیں۔ (۱) مصیبت پڑے تو انسان جزع فزع سے پرہیز کرے مثلاً کوئی پیارا مر جائے تو کہہ دے مولیٰ کی چیز تھی اس نے لے لی (۲) بدیوں سے پرہیز کرے نفس کو لگام چڑھائے رکھے۔ ایسے متقی کی مثال یہ ہے کہ کوئی سوار ہو اور اس کا گھوڑا بھوکا ہو اور جس راستہ پر وہ چل رہا ہو اس کے اردگرد کھیت ہوں اور گھوڑا ان میں منہ ڈالنا چاہے اور وہ سوار اس کی لگام کھینچے رکھے تا ایسا نہ ہو کہ غیر کے کھیت کا نقصان ہو کر اس کے لئے مصیبت کا باعث ہو۔ اسی طرح اس درجہ کے متقی کا کام ہے کہ نفس کے سرکش گھوڑے کو لگام دیئے رکھے۔ اور اسے محارم میں پڑنے سے بچائے رکھے (۳) پھر صبر کے معنے قناعت کے ہیں یعنی جو احسانات اور انعامات اللہ تعالیٰ کے انسان پر ہوں ان سے زیادہ کی حرص نہ کرے۔
ہر قسم کی بدیوں سے رکنے والے کا نام صابر متقی ہے۔ اور یہ سب سے گھٹیا درجہ ہے اس کی مثال یوں ہے کہ کسی کے ہاں کوئی مہمان جائے تو وہ جو کچھ میزبان دے وہی لیتا ہے اسی طرح ہم اللہ کے مہمان ہیں۔ جن چیزوں کے استعمال کی اس نے اجازت دی ہے وہی استعمال کرنے کے حق دار ہیں۔ یہ درجہ کوئی اتنا بڑا نہیں۔ جب ایک معمولی شریف مہمان اپنے میزبان کے گھر سے خود کھانا نہیں اٹھا لاتا اور نہ اس کی کوئی چیز لے کر چمپت ہوتا ہے تو پھر ایک مؤمن کی شان سے یہ بعید ہے کہ وہ خدا کا مہمان ہو کر بغیر اس کی اجازت کے اس کے حکم کے خلاف اس کی چیزوں میں دست اندازی کرے۔ اگر میزبان اپنے مہمان کے سامنے کوئی کھانا لا کر رکھے اور مہمان کہے کہ نہیں مجھے پلاؤ لا دو، فلاں مٹھائی مجھے لا دو، یا میزبان اپنے مہمان کے آگے کوئی چیز رکھ کر کسی مصلحت سے اٹھا لے اور مہمان چیخنا شروع کر دے تو وہ مہمان بہت برا سمجھا جائے گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کوئی نعمت دے کر پھر کسی اپنی حکمت سے واپس لے لے تو جزع و فزع نہیں کرنی چاہئے کیونکہ یہ جزع و فزع محض بیوقوفی ہے۔ پس تقویٰ کا پہلا درجہ تو ضبطِ نفس ہے۔ یعنی نفس کو نافرمانی حضرت رب العزت سے روکے رکھے اور اگر وہ اپنی حکمت سے اس کا کوئی بیٹا مار دے تو جزع و فزع نہ کرے۔ ایسے متقی کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَلَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَالۡجُوۡعِ وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(البقرہ: ۱۵۶-۱۵۷)۔ یعنی ہم تم کو آزمائیں گے کچھ ڈرائیں گے۔ کچھ بھوکا رکھیں گے پھر مال کا نقصان ہو گا۔ پھر جان کا نقصان، پھر پیداوار کا نقصان جو ان ابتلاؤں میں ثابت قدم رہے گا۔ تو اسے بشارت ہو۔ کہ وہ صابر کا درجہ پا گیا۔ کیونکہ جب اس پر کوئی مصیبت آئی مثلاً بیٹا مر گیا تو اس نے کہا کہ میرا کیا تھا یہ تو خدا ہی کا تھا اس نے اپنے پاس بلا لیا میں کیوں گھبراؤں۔ میں بھی تو اسی کا ہوں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والا ہوں (یہ صابر متقی کے نقطہ خیال سے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(2:157) کے معنے ہیں) گھبراہٹ تو تب ہوتی کہ کوئی چیز کھوئی جاتی۔ جب انسان سمجھے کہ میں بھی وہیں جا رہا ہوں جہاں وہ بلا لیا گیا تو کیوں گھبراؤں اور کیوں جزع فزع کروں۔ دیکھو کسی قادیان آنے والے کا اسباب ہو۔ اور وہ بٹالہ کے سٹیشن پر چھکڑے پر رکھ دیا جائے۔ اور اس سے پہلے روانہ کر دیا جائے تو وہ مہمان بہت بیوقوف ہوگا۔ اگر جزع و فزع شروع کر دے کیونکہ آخر اسے بھی وہیں جانا ہے جہاں وہ اسباب پہنچے گا۔
صبر کے دوسرے معنی اس آیت سے حل ہوتے ہیں جو یہودیوں کے بارے میں ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰؑ سے عرض کیا یٰمُوۡسٰی لَنۡ نَّصۡبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ(البقرہ: ۶۲)۔ دیکھئے انہوں نے خدا کے دیئے پر قناعت نہ کی۔ یہ خلاف صبر کیا۔ پھر صبر نام ہے بدیوں سے بچنے اور عمل صالح پر قائم رہنے کا یہ معنے سورۃ العصر سے حل ہوتے ہیں۔ جہاں اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ(العصر: ۳) کے مقابلہ میں وَتَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ ۬ۙ وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ(العصر: ۴) رکھا گیا ہے جس میں حق ایمان کے مقابلہ میں رکھا گیا ہے۔ اور صبر عملوا الصّٰلِحٰت کے مقابلہ میں۔ پس صبر کے معنی قرآن شریف نے بھی عمل صالح کے کئے ہیں۔
دوسرا درجہ تقویٰ کا شکر ہے۔ اس درجے کا متقی شاکر کہلاتا ہے۔ قرآن شریف میں صَبَّارٌ شَكُوْرٌ آیا ہے۔ شاکر اور صابر میں یہ فرق ہے۔ کہ شاکر انسان پر جب دکھ آتا ہے تو وہ صابر کی طرح صرف اتنا ہی نہیں کہتا کہ خدا کا مال تھا اس نے لے لیا۔ بلکہ وہ ایک قدم اور آگے بڑھاتا ہے اور کہتا ہے کہ کچھ گھبرانے کی بات نہیں ایک چیز اس نے لے لی ہے تو کیا ہوا فلاں فلاں نعمت بھی تو اسی کی دی ہوئی ہے۔ میرا کیا حق تھا کہ وہ یہ نعمتیں مجھے دیتا۔ پس اس کی جناب میں شکر کا سجدہ بجالاتا ہے۔ صابر گئی ہوئی چیز کی طرف خیال رکھتا ہے اور صرف اسی کے متعلق اپنا صبر ظاہر کرتا ہے۔ مگر شاکر کہتا ہے جو اب میرے پاس ہے وہ بھی تو میرا حق نہیں۔ شاکر بھی انا للّٰہ پڑھتا ہے۔ مگر وہ اس کے اور معنی لے لیتا ہے یعنی وہ صرف یہ نہیں کہتا کہ جہاں وہ چیز گئی ہے میں بھی وہاں جانے والا ہوں۔ بلکہ وہ کہتا ہے کہ جو چیزیں میرے پاس موجود ہیں یہ سب بھی تو خدا ہی کی ہیں۔ تقویٰ ایک پہاڑی ہے۔ ایک شخص وہ ہے جو اس پر چڑھتے ہوئے آنے والی مصیبتوں بلاؤں شیروں چیتوں بھیڑیوں کا مقابلہ کرتا ہے اور پیچھے نہیں ہٹتا۔ اسے صابر کہیں گے۔ اور ایک وہ جو نہ صرف ان کا مقابلہ کرتا ہے بلکہ ہر مصیبت پر ایک قدم آگے بڑھتا ہے۔ یہ شاکر ہے۔ شاکر کے مال کا جب کوئی نقصان ہوتا ہے تو اسے ضائع شدہ کی فکر نہیں ہوتی بلکہ موجود پر شکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ بھی میرا حق نہ تھا محض خدا کا فضل ہے اور اس طرح پر وہ محبت الٰہی میں بڑھ جاتا ہے۔ صابر نماز پڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ ایک حکم تھا جو میں نے ادا کر دیا۔ مگر شاکر نماز کے بعد پھر سجدے میں گر جاتا ہے کہ میرے مولیٰ تیرا احسان تیرا فضل تیرا انعام ہے کہ تو نے مجھے توفیق دی کہ میں تیری عبادت بجالایا۔ صابر تو صرف صدقہ دیتا ہے۔ اور شاکر کہتا ہے کہ شکر ہے کہ میرے مولیٰ نے مجھ سے خدمت لی۔ صابر فرض کے ادا کرنے کو اپنا کمال سمجھتا ہے شاکر شکر کرتا ہے کہ کروڑوں ہیں جو تیری درگاہ سے دور ہیں۔ تیرا فضل ہوا کہ میں حکم بجالانے کے قابل ہوا۔ صابر کسی نقصان جان پر سمجھتا ہے کہ خدا کی چیز تھی اس نے لے لی۔ شاکر کہتا ہے کہ الٰہی لاکھوں ہیں جن کے بیوی نہیں، بچہ نہیں، بھائی نہیں، بہن نہیں اور مجھے تو نے یہ سب کچھ بخشا ہے۔ تیرے احسانوں کا کہاں تک شکر ادا کروں۔ پس وہ کسی مصیبت کے وقت کسی جان و مال کے نقصان کے وقت اور بھی آستانہ الوہیت پر گرتا اور اپنے مولیٰ کے احسانوں پر فدا ہوتا ہے۔
دو مثالیں صابر اور شاکر کے فرق کو ظاہر کرنے کے لئے سناتا ہوں۔ ایک تو اسلام سے پہلے کا قصہ ہے جو مثنوی میں لکھا ہے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔ مولانا رومؔ کا معمول ہے کہ حق سکھانے کے لئے کوئی نہ کوئی تمثیل ضرور پیش کر دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں حضرت لقمان ایک شخص کے ملازم تھے۔ آقا بوجہ ان کی مخلصانہ خدمات کے ان سے بہت پیار کرتا تھا۔ ایک دفعہ اس کے پاس خربوزہ آیا جو بے بہار کا تھا۔ اس نے عجوبہ چیز سمجھ کر ایک پھانک از راہ محبت لقمان کو دی۔ آپ نے اسے چٹخارے لے لے کر کھانا شروع کیا حالانکہ دراصل وہ خربوزہ بہت تلخ اور بدمزہ تھا۔ آقا نے اپنے وفادار مخلص غلام کو چٹخارے لیتے دیکھ کر ایک پھانک اور دی جو آپ نے بڑے مزے سے کھائی۔ یہ حالت دیکھ کر آقا کو شوق ہوا کہ میں بھی خربوزہ کھاؤں۔ کیونکہ بڑا مزیدار معلوم ہوتا ہے۔ جب اس نے چکھا تو معلوم ہوا سخت کڑوا اور بد مزہ ہے۔ اس نے حضرت لقمان سے پوچھا کہ یہ خربوزہ تو سخت کڑوا ہے۔ آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں۔ میں اس خیال سے کہ آپ کو پسند ہے بار بار پھانکیں دیتا رہا۔ حضرت لقمان نے جواب دیا کہ اتنی مدت آپ کے ہاتھ سے میٹھی اور خوشگوار چیزیں کھاتا رہا ہوں۔ میں بڑا ہی ناشکر گزار ہوتا کہ جس ہاتھ سے اس قدر میٹھی چیزیں کھائیں اس سے ایک کڑوی ملنے پر ناک بھوں چڑھاتا۔ پس اسی طرح شاکر متقی کہتا ہے اللہ کے مجھ پر ہزاروں احسان ہیں اگر ایک ⟨؟⟩ مصیبت بھی آگئی تو کیا ہوا یہ بھی شکر کا مقام ہے۔ گویا شاکر کو تکلیف کے وقت اللہ کے احسان یاد آنے لگتے ہیں۔
دوسرا قصہ نبی کریم ﷺ کے وقت کا ہے۔ احد کی لڑائی میں یہ خبر اڑ گئی کہ حضرت نبی کریم ﷺ شہید ہو گئے۔ میدانِ جنگ میں تو اس غلط فہمی کی تردید ہو گئی لیکن دوسرے لوگوں میں یہ خبر ابھی پھیل رہی تھی۔ جب لشکرِ اسلام واپس لوٹا تو ایک صحابیہؓ دیوانہ وار بڑھی اور پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کا کیا حال ہے؟ جس شخص سے سوال کیا وہ چونکہ جانتا تھا کہ آپ بفضلِ الٰہی بخیریت ہیں اس لئے اسے تو کچھ فکر نہ تھی اس نے اس سوال کی طرف توجہ نہ کی اور جواب میں اس عورت سے کہا کہ تمہارا خاوند مارا گیا۔ مگر وہ نبی ﷺ کی محبت میں متوالی ہو رہی تھی۔ اس نے پھر یہ سوال کیا۔ رسول اللہؐ کا کیا حال ہے؟۔ جواب ملا۔ تیرا باپ مارا گیا۔ اس نے کہا مجھے بتاؤ کہ رسول اللہ ﷺ تو بخیر و عافیت ہیں؟ جواب ملا تیرا بھائی بھی مارا گیا۔ اس پر پھر وہ بولی کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کا حال بتاؤ۔ جواب دینے والے نے کہا کہ وہ ہر طرح سلامت ہیں۔ مگر اسے اس پر بھی تسلی نہ ہوئی اور اس نے کہا مجھے دکھاؤ وہ کہاں ہیں۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ بھی آگئے۔ اس عورت نے کہا کہ جب تو زندہ ہے تو ہر مصیبت میرے لئے آسان ہے۔ میرے دوستو یہ شاکر صحابیہؓ تھی۔ دیکھو رسول اللہؐ کے مقابلہ میں باپ بیٹا اس کی نگاہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ کیا اس زمانے میں بھی کوئی ایسی مومنہ عورت ہے؟ عورت تو درکنار کوئی ایسا مرد بھی تم میں موجود ہے؟ غرض شاکر وہ ہے جو فرض ادا کرنے پر پھولتا نہیں۔ بلکہ وہ خدا کے حضور سجدے میں گر جاتا ہے۔ چندہ دینے والوں میں سے بعض تو ایسے ہیں جو چندہ دے کر صدر انجمن یا خلیفۃ المسیح پر احسان کرتے ہیں بعض ایسے ہیں جو کہتے ہیں فرض ادا ہو گیا۔ مگر ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم پر خدا کا احسان ہے کہ اس نے ہم سے یہ خدمت لی مجھے اس زمانے کا ایک واقعہ یاد ہے کہ منی آرڈروں میں سے جو حضرت صاحب کے نام آئے ایک کے کوپن پر لکھا تھا کہ یہ پندرہ روپیہ ارسال ہیں۔ ایک روپیہ لنگر کے لئے اور باقی آپ خدا کے لئے اپنے نفس پر خرچ کریں اور مجھ پر احسان فرمائیں۔
پھر جب زلزلہ آیا اور حضرت اقدس باہر باغ میں تشریف لے گئے اور مہمانوں کی زیادہ آمد و رفت وغیرہ کی وجوہات سے لنگر کا خرچ بڑھ گیا۔ تو آپ نے ارادہ فرمایا کہ قرض لے لیں فرماتے ہیں میں اسی خیال میں آرہا تھا کہ ایک شخص ملا جس نے پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور اس نے ایک پوٹلی میرے ہاتھ میں دیدی اور پھر الگ ہو گیا۔ اس کی حالت سے میں ہرگز نہ سمجھ سکا کہ اس میں کوئی قیمتی چیز ہوگی۔ لیکن جب گھر آکر دیکھا تو دو سو روپیہ تھا۔ حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ اس کی حالت سے ایسا ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اپنی ساری عمر کا اندوختہ لے آیا۔ پھر اس نے اپنے لئے یہ بھی پسند نہ کیا کہ میں پہچانا جاؤں۔ یہ شاکر کا مقام ہے۔
ایک اور بندہ ہے اس کا نام محسن ہے۔ وہ شاکر سے ایک درجہ آگے بڑھتا ہے۔ محسن کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو معاً اسے خیال آتا ہے کہ میرے اور بھائی بھی ہیں ان کو بھی بڑی تکلیف ہوئی ہوگی اور میں بڑا غافل ہوں کہ ان کی خبر نہیں لیتا۔ پس وہ جب اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(2:157) پڑھتا ہے تو اس کے یہ معنی لیتا ہے کہ ہم سب لوگ خدا کے بندے ہیں یہ مصیبت مجھ ہی پر نہیں آئی بلکہ اور بھی خدا کے بندے ہیں۔ پس وہ ان کی ہمدردی کے لئے اٹھتا ہے۔ اور کمر ہمت چست کر کے ایک ایک کی غم خواری میں کوشش کرتا ہے۔ جب اس کا کوئی عزیز مرتا ہے تو اسے دوسرے لوگوں کی تکلیف کا غایت درجہ احساس ہونے لگتا ہے اور وہ کہتا ہے میرے بھائیوں میں سے جس کا کوئی عزیز مرا ہے اسے بھی بہت دکھ پہنچا ہوگا۔ پس وہ ہر طرح سے ان کی نصرت کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ محسن صرف آپ ہی صبر نہیں کرتا اور نہ صرف خدا کے حضور موجودہ نعمتوں پر شکر بجالاتا ہے بلکہ وہ دوسروں سے بھی ہمدردی کرتا ہے۔ حضرت صاحب کا ایک واقعہ یاد آگیا۔ گو ماموروں اور مرسلوں کا درجہ محسنوں سے بہت بڑھ کر ہے۔ مگر اس واقعہ سے محسن کا مقام ظاہر ہو جائے گا۔ مبارک احمد جب بیمار پڑا تو آپ کی محویت کا یہ عالم تھا کہ گویا اور کوئی فکر ہی نہیں۔ اپنے ہاتھ سے اس کو دوائی پلاتے اور دن کو آرام تو درکنار کئی راتیں جاگتے گزار دیں۔ مگر جونہی اس کی جان نکلی آپ نے قلم دوات منگوائی اور لوگوں کو خط لکھنے شروع کر دیئے کہ اس ابتلاء میں صبر و شکر سے کام لو۔ بجائے اس کے کہ جس کا بیٹا مرا وہ خود صبر کی تلقین کا محتاج ہوتا یا شکر کرنا کافی سمجھتا اسے دوسروں کی فکر پڑ گئی۔ اور اپنا حال یہ ہے کہ خوش ہو رہے ہیں کہ خداتعالیٰ کی پیشگوئی پوری ہو گئی۔ کیونکہ پہلے ہی خدا نے فرما دیا تھا کہ یہ چھوٹی عمر میں اس کے حضور واپس بلا لیا جائے گا۔ یہ صبر و شکر آپ کا بلکہ دوسروں کو صبر و شکر کی تعلیم کوئی سنگدلی کی وجہ سے نہیں تھی۔ نرم دلی کا تو یہ عالم ہے کہ آپ بچہ کی تکلیف دیکھ کر رات کو بھی نہیں سو سکتے۔ یہاں تک کہ اس کی بیماری میں خدمت کرتے کرتے خود بیمار ہو گئے۔ مگر جب وہ وفات پاتا ہے تو آپ خوش ہوتے ہیں کہ خدا کی امانت تھی خدا کے پاس پہنچ گئی۔ اور پھر اس سرور کا اثر آپ کے چہرہ مبارک سے بھی ظاہر ہے۔ اور آپ خط پر خط لکھ رہے ہیں اور تقریر پر تقریر کئے جارہے ہیں کہ خدا کا بڑا فضل بڑا احسان ہوا۔ تم لوگوں کو بھی شکر بجالانا چاہئے۔ آپ کو اپنے بیٹے کی فکر نہیں پڑی بلکہ لوگوں کی فکر پڑی کہ شاید اسی راہ سے میرے مولیٰ کا جلال دنیا پر ظاہر ہو۔ یہ درجہ محسن کا ہے۔
ان تینوں مرتبوں کا ذکر اس آیت میں ہے۔ لَیۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیۡمَا طَعِمُوۡۤا اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّاٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّاٰمَنُوۡا ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّاَحۡسَنُوۡا ؕ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ(مائدہ: ۹۴) پہلا درجہ اتقاء کا تو ایمان و عمل صالح ہے جو صابر متقی کی شان ہے۔ پھر تقویٰ کریں۔ اور ایمان پر ثابت قدم ہوں یہ شاکر متقی کا ذکر ہے۔ پھر تقویٰ کریں اور احسان میں بڑھیں۔ یہ محسن متقی کی شان ہے اور اللہ محسنوں کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ اس جگہ پہلے دو درجوں کا نام نہیں۔ لیکن قرآن شریف کے دوسرے مقاموں سے معلوم ہوتا ہے کہ محسن سے پہلے صابر و شاکر ہی کا درجہ ہے۔
خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو تینوں درجوں کا متقی بنائے۔ تقویٰ کوئی آسان بات نہیں ہے کہنا تو آسان ہے پر کرنا مشکل۔ دیکھو تم وعدہ کر چکے ہو دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔ پس ضروری ہے کہ اس پر ثابت قدم رہو اور اعمالِ صالحہ میں ترقی کرو۔
نماز فرض ہے۔ بہت سے احمدی نمازوں کو باجماعت ادا کرنے میں سُست ہیں۔ نماز دین کا ستون ہے۔ اور مجھ سے کوئی پوچھے تو قرآن شریف سے یہ بات ثابت ہے کہ نماز بغیر جماعت کے ہوتی ہی نہیں۔ سوائے اس صورت کے کہ کوئی عذرِ شرعی ہو۔
دوسرے درجے پر زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ میں بہت سے بھائی کمزوری دکھاتے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں جب فتنۂ ارتداد پھیل گیا۔ اور صرف گاؤں میں نماز باجماعت رہ گئی۔ اور لشکر بھی شام کو بھیج دیا گیا۔ تو بھی آپ نے زکوٰۃ دینے والوں کے نام ارشاد بھیجا کہ رسول اللہؐ کے زمانے میں اگر کوئی رسہ دیتا تھا اور اب نہیں دیتا تو میں تلوار کے زور سے لوں گا۔ حضرت عمرؓ ایسے جری و بہادر نے بھی رائے دی کہ اس وقت مصلحتِ وقت نہیں کہ زکوٰۃ پر زور دیا جائے۔ مگر آپ نے ان کی ایک نہ مانی۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ زکوٰۃ کس قدر ضروری ہے۔ اگر احمدی اپنی زکوٰۃ کا باقاعدہ انتظام کریں اور اسے امام کے حضور بھیج دیا کریں تو بہت سے قومی کام پورے ہو سکتے ہیں۔
تیسرا رکن روزے ہیں۔ یہ ایسی پاک عبادت ہے کہ حدیث میں آیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہر نیکی کا ایک اجر ہے مگر روزوں کا اجر میں ہوں۔ روزہ داروں کے لئے بہشت کے تمام دروازے کھول دیئے جائیں گے کہ جس دروازے سے چاہو جنت میں داخل ہو۔ بلکہ ایک دروازہ اور ہو گا جس کا نام ریان ہو گا۔
پھر حج ہے۔ غیر احمدی کہتے ہیں۔ احمدی حج نہیں کرتے۔ تم میں سے جو ذی استطاعت ہیں وہ حج کر کے دکھا دیں کہ ہم لوگ مکہ معظمہ کی کس قدر تعظیم کرتے ہیں۔
پھر وَتَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ ۬ۙ وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ(103:4) پر عمل کرو۔ دنیا میں نیک باتیں پھیلانے والے بنو۔ اور بری باتوں سے روکو۔ اصلاح اپنے گھروں سے شروع کرو۔ آپس میں محبت رکھو۔ الفت بڑھاؤ۔ میل جول کو ترقی دو تعلقات کو مستحکم کرو۔ یہ سب باتیں تقویٰ کے لئے ضروری ہیں اس لئے ان کا بیان کیا۔
ایسے محسنوں کی نسبت فرماتا ہے۔ کہ جو لوگ دنیا میں نیکی کرتے ہیں اسی دنیا میں ان کو نیکی ملے گی۔ کیا پاک معیار ہے۔ جو لوگ خدا کے پیارے ہیں وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتے۔ کوئی ہے جو کھڑا ہو کر کہہ سکے کہ فلاں متقی ذلیل ہو کر مرا، مجنوں ہو کر مرا، یا کوئی خدا کا صدیق، خدا کا متقی، خدا کا پرہیز گار مرگی زدہ ہو کر مرا۔ کوئی ہے جو یہ گواہی دے سکے کہ متقی ایسا بوڑھا ہو گیا کہ وہ اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ(16:71) کو پہنچ گیا ہو۔ ہاں اس کے خلاف میں شہادت دے سکتا ہوں۔ کہ بڑے بڑے ذی سطوت و صاحب حکومت بادشاہ با وجود اتنے اقتدار و وقار کے مجذوم ہو گئے۔ ان کو مر گیاں پڑیں۔ وہ دیوانے ہو گئے۔ پس دوستو تقویٰ اختیار کرو۔ کیونکہ تقویٰ وہ دولت لازوال ہے جو ختم نہیں ہوتی۔ بلکہ بڑھتی ہے۔ اور تقویٰ ہی وہ تریاق ہے جس کے سبب انسان تمام قسم کے زہروں سے محفوظ رہتا
ہے۔ محسن متقی کے لئے یہ انعام دنیا میں ہیں۔ اور آخرت میں اس سے بھی بڑھ کر پائے گا۔
متقی کو ابتلاء بھی آتے ہیں۔ مگر گھبرانا نہیں چاہئے۔ بلکہ ثابت قدم رہنا ضروری ہے۔ اگر تمہیں ایک جگہ تکلیف ہے تو خدا کی زمین کھلی ہے دوسرے مقام پر ہجرت ہو سکتی ہے۔ اور صبر سے کام لینے والوں کو بغیر حساب کے رزق دیا جاتا ہے۔
بادشاہ کے پاس بہت نعمتیں ہیں مگر پھر بھی اس کو کئی دکھ ہیں۔ لیکن صابر پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہوتا ہے وہ اس سے وعدہ فرماتا ہے کہ میں تجھے بے حساب دوں گا اور یہ سب اجر ہے اس بات کا کہ صابر خدا کے حضور اپنی اطاعت کی گردن ڈال دیتا ہے۔ اس کے فرمانوں کی بجا آوری پر ثابت قدم رہتا ہے۔ اور ہر ابتلاء کے وقت آگے قدم بڑھاتا اور دوسری مخلوق کو بھی یہی تعلیم دیتا ہے اب ان آیات کو پڑھ کر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ احکام لوگوں کے لئے ہی ہیں یا خود رسول اللہؐ کو بھی یہ حکم دیئے گئے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلۡ اِنِّیۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰہَ مُخۡلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ وَاُمِرۡتُ لِاَنۡ اَکُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ(الزمر: ۱۲، ۱۳) مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں دین کو اس کے لئے خالص کر کے۔ اور مجھے حکم دیا گیا کہ میں فرمانبرداروں میں اول نمبر پر رہوں۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ حکم رسول کریم ﷺ کے لئے بھی یکساں ہیں۔ اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا رسول کریم ﷺ نے اس حکم پر عمل بھی کیا کہ نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلۡ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ قُلِ اللّٰہَ اَعۡبُدُ مُخۡلِصًا لَّہٗ دِیۡنِیۡ(الزمر: ۱۴-۱۵) کہہ کہ میں اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے عذابِ عظیم سے ڈرتا ہوں اور کہہ کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کی اطاعت میں شریک نہیں کرتا۔ ان آیات میں نبی کریمؐ نے اپنی پاک زندگی کو پیش کیا ہے۔ اور ڈنکے کی چوٹ کہا ہے کہ میرا خدا سے تعلق ہے۔ کوئی ہے جو میری زندگی پر عیب لگائے۔ آریہ زینبؓ کے نکاح کے بارے میں شور ڈالتے ہیں۔ اور عیسائی آپؐ کو ڈاکو وغیرہ کہتے ہیں۔ (نعوذ باللہ) حالانکہ یہ اس وقت موجود نہ تھے۔ اور نہ ان کے پاس معتبر ذرائع سے کوئی خبر پہنچی ہے۔ جو لوگ اس وقت زندہ گواہ تھے ان کو تو اس زور سے چیلنج دیا گیا کہ میری زندگی پاک ہے کوئی ہے جو عیب لگائے۔ میں تو اللہ کی مخلصانہ فرمانبرداری کرتا ہوں۔ فَاعۡبُدُوۡا مَا شِئۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ(الزمر: ۱۶) تم اس کے سوا کسی اور کی بندگی کر کے دیکھ لو۔ کوئی سکھ ملتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ
عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ اس کی نافرمانی کرنے والے کیسے ٹوٹے میں پڑتے ہیں۔ ابو جہل کی مثال صاف ہے کہ وہ اپنی عزت و وجاہت شوکت و قسمت پر کس قدر گھمنڈ رکھتا تھا۔ حتیٰ کہ مرنے کے وقت بھی اس نے کہا میری گردن ذرا لمبی کر کے کاٹنا تاکہ لوگوں کو معلوم رہے کہ میں سردار ہوں۔ مگر ابن مسعودؓ نے کہا کہ میں تیری آخری خواہش بھی پوری نہیں ہونے دوں گا اور خوب رگڑ کر گردن کاٹی۔ اچھا یہ تو کئی سو سال کا واقعہ ہے۔ اسی زمانے میں دیکھ لو۔ خدا کا ایک مامور آیا۔ اس کے مقابلہ میں ایک لاٹ مولوی اٹھا۔ اس وقت اس کی یہ حالت تھی کہ جب کبھی لاہور میں جاتا اور انارکلی سے گزرتا تو اس کے استقبال و ملاقات کے لئے بے شمار آدم اکٹھا ہو جاتا۔ یہاں تک کہ ہندو بھی اپنی دوکانیں چھوڑ کر باہر نکل کھڑے ہوتے۔ اس کے مقابلہ میں حضرت اقدس جنہوں نے شاکر و محسن طبیعت پائی تھی۔ تحدیث نعمت کے طور پر اپنا واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ سرائے میں جا کر میں ٹھہرا۔ چارپائی نہ ملی۔ اصطبل میں ایک جگہ ملی جہاں نیچے فرش پر رات کاٹنی پڑی۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ ایک سکھ جو وہاں موجود تھا۔ ساری رات بڑبڑاتا رہا کہ یہ کہاں سے آگیا میں آگے ہی تنگ تھا۔ ایک وقت تو یہ تھا۔ یا اب یہ وقت بھی آیا کہ بغیر اس کے کہ پہلے اطلاع دی جائے۔ ہر سٹیشن پر آدمیوں کے پرے کے پرے جم جاتے تھے۔ موافق لوگوں کو تو خیر آنا ہی تھا مگر مخالف بھی کیا ہندوستانی کیا پنجابی کیا انگریز ایک دوسرے پر ٹوٹے پڑتے تھے اور جگہ نہ ملتی تھی۔ ہر ایک کی یہی خواہش تھی کہ میں کسی طرح چہرہ دیکھ لوں۔ بر خلاف اس کے وہ مولوی جو کسی وقت ان زوروں پر تھا۔ میں نے اسے دیکھا ہے کہ ایک سٹیشن پر ایک گٹھڑی اٹھائے ہاتھوں میں کھانا پکڑے ریل کی طرف اکیلا دوڑا جاتا تھا۔ اس واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ گھاٹے میں کون ہے۔ وہ جو خدا کے ماموروں کے مقابلہ کے لئے اٹھا۔ خدا نے تمہارے لئے یہ فرقان چھوڑ دیا ہے۔ اب بھی اگر تم اپنے ایمانوں کو چھپاؤ یا غفلت سے اپنی اولاد کو پھر غیر احمدیوں میں شامل ہونے دو تو تم گویا قتل اولاد کے مرتکب ہوتے ہو۔ میں دیکھتا ہوں جن کے باپوں کو حضرت اقدس سے بڑا اخلاص تھا اور بڑا تعلق تھا۔ اب ان کے بعض بیٹوں میں وہ شوق نہیں۔ اپنی اولاد کا فکر کرو انہیں دین کی طرف لگاؤ۔ کیا تمہارا بیٹا تمہارے سامنے زہر کھانے لگے یا کنویں میں چھلانگ مارنے لگے تو تم اسے اجازت دے دو گے؟ ہرگز نہیں۔ پس خدا کی نافرمانی چھوٹی سی بات ہے جس سے تم منع نہیں کرتے اور کیا جب تمہارا کوئی بچہ کنویں میں گرنے لگے تو ایک بار منع کر کے چپ ہو جاؤ گے؟ ہرگز نہیں۔ تو کیا وجہ ہے کہ گناہ سے جو زہر سے بڑھ کر ہلاک کرنے والی چیز ہے صرف ایک دو بار کہہ کر چپ ہو جاؤ۔ چاہئے کہ بار بار منع کرو اور اپنی اولاد کو نماز قائم کرنے اور شعائر اللہ کی تعظیم کی تاکید کرو۔ اور تقویٰ اختیار کرنے کی ہدایت کرو اور خود بھی تقویٰ کو مدارِ نجات سمجھو۔ کیونکہ جو تقویٰ اختیار نہیں کرتے ان کا اوڑھنا بچھونا آگ ہی آگ ہے☆ان کے لئے سکھ کی کوئی صورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ بڑا رحمن ہے۔ قبل از وقت اپنے عذاب سے خوف دلاتا ہے۔ اور فرماتا ہے میرے بندو عذاب سے بچاؤ ڈھونڈو، فرمانبرداری کا طریقہ اختیار کر لو۔ اور جو لوگ جھوٹی باتوں (طاغوت کے معنی ہیں) سے بچتے ہیں انہیں بشارت دے دو۔ ایک معمولی حاکم سے کوئی بشارت ملے تو انسان پھولا نہیں سماتا۔ پھر اس انسان کی خوشی کا کیا ٹھکانا ہو سکتا ہے جسے وہ احکم الحاکمین بشارت دے۔ زمینی گورنمنٹوں کے معمولی انعام کے وعدے بلکہ تنخواہ پانے کی امید پر سپاہی اپنا سر دینے کو تیار ہوتے ہیں حالانکہ اس گورنمنٹ کے ملازم کو پختہ یقین نہیں کہ یہ روپیہ مجھے ملے گا بھی یا نہیں۔ شاید اس کے پانے سے پہلے ہی مر جاؤں۔ اور اگر مل بھی گیا تو خدا جانے اس سے سکھ ملے یا نہ ملے۔ لیکن خدا تعالیٰ تو ابد الآباد زندہ ہے اور اپنے وعدوں کی وفا پر قادر ہے۔ اگر اس شخص کے (جس سے وعدہ کیا گیا ہے) حیات کے دن دنیا سے پورے ہو گئے ہیں تو آئندہ زندگی میں بیش از پیش دینے کو تیار ہے۔ غرض یہ بشارتِ خداوندی تو ایسی ہے کہ مر جاؤ تو بھی اس سے مستفید ہو زندہ رہو تو اسی دنیا میں بدلہ پا لو۔ ان بندوں کا سب سے اعلیٰ وصف جن کو خدا تعالیٰ سے بشارت ملتی ہے یہ ہے کہ وہ اچھی اچھی باتوں پر عمل کرتے ہیں✱يَتَّبِعُونَ اَحْسَنَهُ کے دو معنی ہیں۔ ایک تو یہ کہ قرآن مجید پر عمل کرتے ہیں کیونکہ دوسرے مقام پر اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِیۡثِ کِتٰبًا(39:24) فرما کر اللہ نے بتا دیا کہ احسن القول قرآن مجید ہے۔ دوم یہ قرآن شریف میں جو مختلف مدارج تقویٰ کے بیان ہوئے ہیں ان میں سے بڑے سے بڑے درجہ کے لئے کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً ابھی جو مدارج میں نے بیان کئے ہیں ان کے مطابق اس آیت کا وہ مصداق ہو سکتا ہے جو صرف صبر و شکر پر کفایت نہ کرے بلکہ احسان کی طلب کرے یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنی جناب سے ہدایت بخشی اور یہی درحقیقت اُولُوا الْاَلْبَابِ ہیں۔ دنیا میں یوں تو بڑے بڑے فلسفی اور دانشمندی کا دم بھرنے والے ہو گزرے ہیں اور اب بھی ہیں مگر دانا وہی ہے جسے خدا خود ہدایت دے اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اپنی جناب سے ہدایت کی
راہیں سمجھائے ان پر چلائے پھر منزلِ مقصود پر پہنچائے ، عملِ صالح کرنے باہمی رشتہ محبت بڑھانے اور حق پھیلانے کی توفیق دے۔ کوئی ہم میں سے کسی دوسرے بھائی کی ٹھوکر کا باعث نہ ہو۔ ہماری حالتیں ایسی خراب نہ ہو جائیں۔ کہ لوگ سمجھیں وہ رسول سچا نہ تھا جس کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت کی۔ بلکہ ہمارے عملوں سے لوگوں کو یقین ہو جائے کہ یہ ایک صادق نبی کے پیرو ہیں۔ آمین۔
(مسیح موعود علیہ السلام کی علامات کے بارہ میں گفتگو)
از
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد
بسم الله الرحمن الرحیم نَحمَدُہٗ و نُصَلِّی عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیم
اِتَّقُوا اللهَ! اِتَّقُوا اللهَ!! اِتَّقُوا اللهَ!!!
ای محمدؐ در قیامت چون بر آری سر ز خاک
سر بر آور دیں قیامت در میانِ خلق بین
کوئی صاحب غلام سرور نامی کانپور سے ایک اشتہار شائع کرتے ہیں جس میں انہوں نے اس بات کے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جب میں اور چند دیگر احباب مختلف عربی مدارس کو دیکھنے کے لئے ہندوستان کے مختلف شہروں میں دورہ کرتے ہوئے کانپور بھی گئے تھے تو چند طلباء مدرسہ جامع العلوم نے آکر ہمارے سامنے ایک حدیث پیش کی اور ہماری طرف سے حافظ روشن علی صاحب اس کو حضرت مسیح موعودؑ پر چسپاں نہ کرسکے اس لئے وہ اس معاملہ کو پبلک کی اطلاع کے لئے عام طور سے شائع کرتے ہیں۔ مجھے اس اشتہار کو پڑھ کر نہایت افسوس ہوا کہ واقعات کے چہرہ پر کیسا سیاہ پردہ ڈالا گیا ہے۔ جو گفتگو مذکورہ بالا اشتہار میں شائع کی گئی ہے وہ بالکل غلط ہے۔ اور پھر اس مبدل و محرف مکالمہ سے نتائج بھی غلط نکالے گئے ہیں۔ اصل واقعہ یوں ہے کہ چند طلباء مدرسہ نے آکر ذکر کیا کہ ہم بعض احادیث آپ سے پوچھنا چاہتے ہیں۔ جس پر ان کو جواب دیا گیا کہ ہم یہاں مباحثہ کے لئے نہیں آئے ۔ ہاں اگر آپ ہمارے خیالات دریافت کرنا چاہیں تو بڑی خوشی سے آپ کو ان سے آگاہ کیا جاوے گا۔ جس پر انہوں نے اس بات کا یقین دلایا کہ وہ محض استفادہ کے طور پر آئے ہیں (جس قول کی سچائی اشتہار دیکھنے والوں پر ظاہر ہوگئی ہوگی) چنانچہ اس وقت کانپور کے
مدرسہ الہیات کے پرنسپل جناب مولوی عبدالقادر صاحب آزاد سبحانی بھی وہاں تشریف فرما تھے ۔ انہوں نے بھی کہا کہ واقعی اگر آپ لوگ استفادہ کے طور پر آئے ہیں تو بیشک جو دریافت فرمانا ہو ان لوگوں سے دریافت فرماویں ۔ لیکن ایسا نہ ہو کہ پیچھے یہ استفادہ بحث کا رنگ پکڑ لے ۔ اس پر وہ طالب علم صاحب جو سب کے زعیم معلوم ہوتے تھے ان کے بھی پیچھے پڑ گئے ۔ آخر اس بحث کو کوتاہ کرنے کے لئے میں نے حافظ روشن علی صاحب کو مقرر کیا کہ وہ ان صاحبان کے سوالات کا جواب دیں ۔ چنانچہ ان میں سے ایک صاحب نے جن کا نام اس اشتہار سے حافظ مولوی محمد یوسف معلوم ہوتا ہے مذکورہ ذیل حدیث پیش کی کہ اس کو مرزا صاحب پر منطبق کریں ۔ ” عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ و قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يُنْزِلُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ اِلَى الْاَرْضِ فَيَتَزَوَّجُ وَ يُوْلَدُ لَهُ يَمْكُثُ خَمْسًا وَّ اَرْبَعِيْنَ سَنَةً ثُمَّ يَمُوْتُ وَ يُدْفَنُ مَعِىْ فِىْ قَبْرِىْ فَاَقُوْمُ اَنَا وَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ فِيْ قَبْرٍ وَّاحِدٍ بَيْنَ اَبِيْ بَكْرٍ وَّ عُمَرَ(مشکوٰة: ۴۸۰ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) “ جس کا مطلب یہ ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ عیسیٰؑ ابن مریم اتریں گے اور شادی کریں گے اور ان کے ہاں اولاد ہوگی اور پینتالیس سال رہ کر وفات پائیں گے اور دفن کئے جاویں گے میرے ساتھ میری قبر میں ۔ پس کھڑے ہوں گے میں اور عیسیٰؑ ابن مریم ایک ہی قبر سے ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کے درمیان۔
اس کا جواب حافظ روشن علی صاحب نے یہ دیا کہ آپ پہلے اس حدیث کو رسول اللہ ﷺ تک ثابت کریں ۔ یعنی جیسا کہ حضرت امام بخاری و مسلم و ابو داؤد و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و امام مالک و امام احمد بن حنبل و غیر ہم کبار محدثینؒ کا قاعدہ ہے کہ وہ جو حدیث بیان کرتے ہیں اس کے ساتھ وہ ساری سند بیان کرتے ہیں ۔ کہ ہم نے کس سے سنا اور اس نے آگے کس سے سنا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ تک پہنچا دیتے ہیں اسی طرح آپ بھی اس حدیث کی سند بیان کریں کہ یہ کس شخص نے لکھی ہے اور اس نے آگے کس سے سنی تاکہ جو اس حدیث کے راوی ہیں ان پر جرح قدح ہو سکے ۔ اور معلوم ہو کہ آیا اس حدیث کے راویوں میں کوئی کمزور اور غیر معتبر راوی تو شامل نہیں ہے ۔ کیونکہ جس شخص نے پہلے پہل یہ حدیث روایت کی ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے قریباً پانچ سو سال بعد گزرا ہے اس کو یہ حدیث کیونکر معلوم ہوئی ۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے وقت موجود نہ تھا ۔ آخر کسی سے سنی ہوگی پس جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کس سے سنی اور جس سے سنی وہ معتبر تھا یا نہیں ہم اس حدیث کو حدیث رسول اللہ ﷺ کیونکر مان لیں اگر
آج کل کوئی شخص اٹھ کر کہے کہ رسول اللہ صلّٰی اللہ علیہ وسلّم نے فلاں بات یوں فرمائی تھی تو کیا ہمارا فرض ہے کہ بغیر کسی ثبوت کے اس کی بات ہم مان لیں یا تو وہ کسی کتاب کا حوالہ دے کہ میں نے یہ حدیث فلاں کتاب میں پڑھی یا بتائے کہ میں نے یہ حدیث فلاں معتبر آدمی سے سنی اس نے آگے فلاں سے سنی اور اسی طرح رسول اللہ صلّٰی اللہ علیہ وسلّم تک پہنچائے۔ اس بات کا جواب حافظ محمد یوسف نے یہ دیا کہ مِشکوٰۃ میں موجود ہے (عجیب جواب ہے علماء نے صحاح ستہ تک کی بعض احادیث پر جرح کی ہے اور حافظ صاحب مِشکوٰۃ کی ہر ایک حدیث کو حجت قرار دیتے ہیں کہ جس میں نہ صرف صحاح ستہ بلکہ دوسری احادیث کی کتب کے علاوہ صحابہؓ اور تابعین اور تبع تابعین تک کے اقوال کو ہر قسم کی کتب سے نقل کیا گیا ہے۔ اور خود مصنف نے احادیث کے تین باب باندھے ہیں۔ اور تیسرے باب کو پہلے دو بابوں سے بہت ادنیٰ درجہ کا قرار دیا ہے۔ اور یہ حدیث جس کے راویوں تک کا پتہ نہیں تیسرے باب کی ہی حدیث ہے۔ اور دوم حدیث کے اماموں کے مقرر کردہ قواعد کے لحاظ سے بھی ثابت نہیں ہوتی تو ہم پر کب حجت ہو سکتی ہے)
حافظ روشن علی صاحب۔ مِشکوٰۃ میں موجود ہونے سے ہم پر حجت نہیں ہو سکتی۔ ہمارے یہاں مِشکوٰۃ مسلّم نہیں ہے (جب تک اس کی کوئی حدیث ائمہ محدثین کے مقرر کردہ قواعد کے ماتحت ثابت نہ ہو ہم اس کے ماننے کے پابند نہیں) سند کے ساتھ اس حدیث کو رسول اللہ صلّٰی اللہ علیہ وسلّم تک پہنچائیں تا اس کے راویوں پر نگاہ کی جائے کہ کس پائے کے ہیں۔
حافظ محمد یوسف صاحب۔ آپ کے ہاں کیسی حدیث مسلّم ہوا کرتی ہے۔
حافظ روشن علی صاحب۔ اگر عقائد کے متعلق ہو تو متواتر یا مشہور حدیث اور اگر اعمال کے متعلق ہو تو ایسی احادیث بھی ہم مان لیتے ہیں کہ جو قرآن کریم اور متواتر حدیث کے بر خلاف نہ ہو۔
حافظ محمد یوسف صاحب۔ جو حدیث احکام پر مشتمل نہ ہو اس کے متعلق کیا اعتقاد ہے۔
حافظ روشن علی صاحب۔ اگر وہ قرآن اور حدیث متواتر مشہور کے خلاف نہ ہو تو مسلّم ہے۔
حافظ محمد یوسف صاحب۔ یہ حدیث آپ کو کیوں مسلّم نہیں۔
حافظ روشن علی صاحب۔ اس لئے کہ یہ حدیث نہ متواتر ہے نہ مشہور ہے اور نہ احاد۔ اس کی سند تک موجود نہیں۔
مشکوٰۃ میں موجود ہے ابن جوزی اس کے راوی ہیں مشکوٰۃ آپ کی جماعت میں مسلّم ہے۔ آپ دفع الوقتی کرتے ہیں۔
(اس کا جواب میں اپنے نوٹ میں پہلے دے چکا ہوں کہ ابن جوزی جو یہ حدیث نقل کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے چار پانچ سو سال بعد ہوئے ہیں۔ اور نہ تو انہوں نے یہ بتایا ہے کہ یہ حدیث انہوں نے کس کتاب میں دیکھی ہے اور نہ یہ لکھا ہے کہ ہم نے کس سے سنی پھر ہم اس حدیث کو کیونکر مان سکتے ہیں علاوہ ازیں ابن جوزی وہ شخص ہے کہ جس نے شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ جیسے پاک اور مقدس انسان پر کچھ فتویٰ دیا ہے اور ایک کتاب تلبیس ابلیس لکھ کر اپنی محجوبانہ حالت کا ثبوت دیا ہے۔ جو شخص ایسا غیر محتاط ہو اور ایسے ایسے ائمہ دین کی شان میں اس قسم کے الفاظ استعمال کرے ہمیں تو اگر وہ سند کے ساتھ بھی کوئی بات بیان کرے تو اس کے ماننے میں ایک حد تک تامل ہے)
ابن جوزی ایک راوی چوتھی پانچویں صدی کا آدمی رسول اللہ ﷺ تک حدیث کو کس طرح پہنچا سکتا ہے۔ مشکوٰۃ ہمارے ہاں مسلّم نہیں۔ آپ کو ہماری جماعت کا علم نہیں۔ اس پر گفتگو ختم ہو گئی۔ اس پر حافظ روشن علی صاحب نے فرمایا کہ باوجود اس کے کہ یہ حدیث ثابت نہیں مگر میں آپ کی خاطر اس کے معنی کر دیتا ہوں حدیث میں لفظ ہے يَنْزِلُ یعنی آئے گا چنانچہ مرزا صاحب بھی آئے ہیں۔ دوسرا لفظ ہے يَتَزَوَّجُ جس کے معنی ہیں نکاح کرے گا۔ مرزا صاحب نے نکاح کیا ہے۔ تیسرا لفظ ہے يُولَدُ لَهُ جس کے معنی ہیں اس کے اولاد ہو گی مرزا صاحب صاحبِ اولاد ہیں۔
اجی یہ باتیں تو ہر ایک صاحب اولاد پر صادق آتی ہیں۔ مسیح کی خصوصیت کیا ہے امتیازی نشان تو وہی چوتھا ہے کہ مسیح علیہ السلام فوت ہو جاویں گے اور رسول اللہ ﷺ کی قبر میں دفن کئے جاویں گے۔
اس کا کیا ثبوت ہے کہ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ مسیح کی خصوصیتیں بیان کر رہے ہیں (کیونکہ اگر خصوصیتیں ہوتیں تو پہلی تین باتیں کیوں بیان فرماتے اگر یہ مانا جائے کہ اس حدیث میں خصوصیتیں بیان ہو رہی ہیں۔ تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے سوا اور نہ کوئی دنیا میں آتا ہے اور نہ اس کا نکاح ہوتا ہے اور نہ اس کے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ان تینوں باتوں میں حضرت مسیح کے علاوہ دوسرے لوگ شامل ہو سکتے
ہیں۔ تو باقی خصوصیتوں کے بھی ایسے معنی ہو سکتے ہیں کہ جن میں حضرت مسیحؑ کے علاوہ دوسرے لوگ شامل ہوں۔)
(اس کے ساتھ ہی حافظ روشن علی صاحب نے فرمایا) کہ اچھا آپ کی بات مان کر ہی کہ قبر میں دفن ہونا ہی حضرت مسیحؑ کی شناخت کا نشان ہے۔ یہ ماننا پڑے گا کہ جب تک حضرت مسیحؑ فوت نہ ہوں ان کو کوئی نہ مانے کیونکہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کی قبر میں دفن کئے جاویں گے تب تو ان کی شناخت ہو گی۔ اس حدیث کے یہ معنی ہیں کہ مسیح موعودؑ چونکہ رسول اللہ ﷺ کا خادم ہے اور نہایت مقرب خادم ہے۔ اس لئے اس کو اسی جنت میں جگہ ملے گی جس میں رسول اللہ ﷺ ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اَلْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِّنْ رِّيَاضِ الْجَنَّةِ یعنی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتا ہے۔ (جامع العلوم کی طرف سے جو اشتہار دیا گیا ہے اس میں حافظ روشن علی صاحب نے جو حدیث بتائی تھی اَلْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِّنْ رِّيَاضِ الْجَنَّةِ۔ اس کو غلط کر کے یوں لکھا گیا ہے۔ کہ حافظ صاحب نے فرمایا قَبْرِیْ رَوْضَةٌ مِّنَ الْجَنَّةِ۔
حافظ محمد یوسف صاحب۔ یہ حدیث بالکل غلط ہے۔ ان الفاظ کے ساتھ کہیں موجود نہیں۔ بلکہ حدیث یوں ہے۔ مَا بَيْنَ قَبْرِیْ وَ مِنْبَرِیْ رَوْضَةٌ مِّنْ رِّيَاضِ الْجَنَّةِ یہ کہہ کر آپ نے بہت بہت کچھ شور مچایا۔ اور کہا کہ مَنْ كَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ۔ یعنی جو جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں کر لے۔
(حالانکہ جو حدیث مولوی محمد یوسف صاحب نے فرمائی وہ اور حدیث تھی اور جو حافظ روشن علی صاحب نے فرمائی وہ اور تھی چنانچہ اس کا ثبوت آگے چل کر دیا جائے گا۔)
حافظ روشن علی صاحب نے ان کے اس غیر مہذبانہ برتاؤ کے جواب میں فرمایا کہ یہ حدیث ہے اور بالکل سچ ہے۔ ہم سفر میں ہیں ہمارے پاس کتابیں نہیں آپ لکھ لیں ہم اس کا پورا پورا حوالہ لکھ دیں گے انشاء اللہ العزیز۔
اس کے بعد جماعت طلباء اپنی خیالی فتح کا اظہار کرتے ہوئے رخصت ہوئے۔ اب ان باتوں سے ناظرین خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ فتح کس کی تھی۔ ہمیں فتح و شکست سے کچھ غرض نہیں۔ حق بتانا ہمارا کام ہے۔ اور ہماری خواہش ہے اگر طلباء جامع العلوم یا ان کے استادوں کو فتح کے نام سے کچھ حاصل ہوتا ہے تو وہ بیشک ڈنکے بجائیں۔ ہمیں تو وہ شکست جس میں راستی کو ملحوظ رکھا گیا ہو اس فتح سے بدرجہا پیاری ہے جس میں واقعات پر پردہ ڈالا گیا ہو۔ یہ تو ہم ثابت کر ہی چکے ہیں کہ یہ حدیث
قطعاً رسول اللہ ﷺ تک ثابت نہیں اور اس کے راویوں کے نام تک بھی معلوم نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے پانچ سو سال بعد ایک شخص یہ حدیث بیان کرتا ہے۔ اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح حدیثوں کے خلاف ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں حدیث ہے۔
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَا سَيِّدُ وُلْدِ اٰدَمَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَ اَوَّلُ مَنْ يَّنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ وَ اَوَّلُ شَافِعٍ وَ اَوَّلُ مُشَفَّعٍ(کتاب الفضائل جلد دوم) ترجمہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے میں ہی اولادِ آدم کا سردار قیامت کے روز ہوں اور میں ہی ہوں جس کی قبر سب سے پہلے کھلے گی اور میں ہی سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوں۔ اور میں ہی ہوں جس کی شفاعت سب سے پہلے قبول کی جاوے گی۔
اس حدیث میں صریح معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہؐ کو دیگر انبیاءؑ و اولیاء پر جو فضیلتیں دی گئی ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ آپؐ کی قبر سب سے پہلے کھلے گی۔ اگر حضرت عیسیٰؑ آپؐ کی قبر میں دفن ہوں گے تو پھر تو وہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ میری قبر پہلے کھلی۔
وہ قبر تو پھر حضرت رسولِ کریم ﷺ اور حضرت مسیحؑ میں مشترک ہو گئی۔ اس لئے پہلے کھلنے سے رسول اللہ ﷺ کی تو کچھ شان ثابت نہیں ہوتی۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ قبر بوجہ مسیح کے کھولی جائے گی۔ اور اگر اس فضیلت میں کسی کو آپؐ کے ساتھ شامل کر دیا گیا تو جائز ہو گا کہ دوسری خصوصیات میں بھی دوسرے لوگ آپؐ کے ساتھ شامل ہو جائیں اور آپؐ کے ساتھ اور انبیاءؑ کو بھی شفاعت کی اجازت مل جائے اور وہ بنی آدم کے سردار کا لقب پائیں۔ افسوس! کہ اب اسلام کی حقیقت یہ باقی رہ گئی ہے۔ کہ ایسے بھی مسلمان ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی کوئی خصوصیت پسند نہیں کرتے۔ آپؐ خاتم النّبیّن تھے لیکن ان مسلمانوں نے کہا کہ ہم آپؐ کو خاتم النّبیّن بننے نہ دیں گے۔ اور حضرت مسیحؑ کو انیس سو برس کے بعد آسمان سے کھینچ بلایا اب جو آخر میں آئے گا وہ خاتم النّبیّن ہو گا یا جو پہلے آیا تھا وہ خاتم النّبیّن ہو گا؟ کاش وہ خیال کرتے کہ اس طرح رسول اللہؐ کی خصوصیت ختمِ نبوت کا تو خاتمہ ہو جاتا ہے!! اور خاتم النّبیّن تو حضرت مسیحؑ بن جاتے ہیں جن کے بعد اور کوئی نبی نہ ہو گا جو آدمی خدا تک پہنچے گا ان کے فیض سے پہنچے گا پھر رسول اللہؐ کی خصوصیت تھی کہ آپؐ کے ہاتھ پر لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ(9:33) کی پیشگوئی پوری ہو گی۔ وہ بھی انہوں نے مسیحؑ ناصری کے ذمے لگا دی کہ اس کے زمانہ میں اسلام دنیا میں کلی طور پر پھیلے گا اگر یہ کام رسول اللہ ﷺ کا کوئی خادم کرتا تب تو رسول اللہ ﷺ کا کام سمجھا جاتا۔ حضرت مسیحؑ کا
کام آپؐ کا کام کیونکر سمجھا جا سکتا ہے جو کہ بنی اسرائیل کے نبی ہیں ان کا کام تو یا ان کی طرف منسوب ہو گا یا حضرت موسیٰؑ کی طرف۔ اب ایک خصوصیت آپؐ کی قبر کی تھی وہ بھی یہ برداشت نہیں کر سکے اور لا کر مسیحؑ کو بھی آپؐ کی قبر میں داخل کر دیا تاکہ جب سب سے پہلے رسول کریم ﷺ کی قبر کھلے تو مسیح بھی اس فضیلت میں شامل ہوں۔ کاش عام مسلمان ہی غور کرتے کہ ان کے علماء ان کو کس راہ پر چلا رہے ہیں۔ غرض یہ حدیث صریح طور سے اس حدیث کو رد کرتی ہے جو مولوی محمد یوسف صاحب نے پیش کی تھی۔ اور اول تو وہ حدیث ثابت ہی نہیں ابن جوزی کا قول ہے جس کا وہ حال ہے کہ حضرت سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ جیسے بزرگ پر فتویٰ دیا اور مخالفت کی اور اگر بہ فرضِ محال اسے حدیث کا درجہ دے بھی دیں تو اس کے وہ معنی نہیں ہو سکتے جو مولوی صاحب نے کئے ہیں۔ کیونکہ اس طرح مسلم کی صحیح حدیث کا رد ہوتا ہے علاوہ ازیں کون مسلمان برداشت کر سکتا ہے کہ رسول اللہؐ کی قبر کھودی جائے یہ بات تو انسان اپنے دشمن کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ قبر کھودنا تو مردہ کو اذیت دینا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تو قبر پر کھڑے ہونے اور اس پر تکیہ لگانے تک سے منع فرمایا ہے کہ مردہ کو اذیت ہوتی ہے۔ پھر مسلمان کیونکر برداشت کرتے ہیں کہ مسیح کی خاطر آپؐ کی قبر کھودی جاوے گی۔ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِكَ۔ لِلّٰہ اس پر غور کرو! اور نبی کریم ﷺ سید ولد آدم کی قبر کی اتنی توہین نہ کرو!
اب ہم اس حدیث کا حوالہ دیتے ہیں جس کا ذکر حافظ روشن علی صاحب نے بوقتِ مباحثہ کیا تھا اور جس پر مولوی محمد یوسف صاحب نے شور مچایا تھا۔ کہ یہ حدیث ہی نہیں دیکھو کتاب بشریٰ لکئیب بلقاء الحبیب امام سیوطی رحمتہ اللہ علیہ مطبوعہ مصر صفحہ نمبر ۵۷۔ اَخْرَجَ الْبَيْهَقِيُّ وَ ابْنُ اَبِی الدُّنْيَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ الْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِّنْ رِّيَاضِ الْجَنَّةِ اَوْ حُفْرَةٌ مِّنْ حُفَرِ النَّارِ۔ یعنی بیہقی نے اور ابن ابی الدنیا دونوں نے حضرت ابن عمرؓ سے اپنی کتابوں میں روایت کی تھی کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ قبر جنت کے چمنوں میں سے ایک چمن ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔ اب اس حدیث سے قبر کے معنی جنت کے چمن بھی ہو گئے۔ پس خود رسول اللہ ﷺ کے قول سے ابن جوزی کی حدیث کے معنی ہو گئے کہ حضرت مسیح موعودؑ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنت میں داخل کئے جاویں گے۔ کیونکہ خادم آقا کے ساتھ اکٹھا ہی رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح ابن مندہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی تھی کہ عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُ فِيْ قَبْرِهِ فِيْ رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ وَلَيُرْ حَبُّ لَهُ فِيْ قَبْرِهِ سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا وَّ يُنَوَّرُ لَهُ فِيْ قَبْرِهِ كَلَيْلَةِ الْبَدْرِ. یعنی حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا رسول اللہؐ سے کہ آپؐ نے فرمایا مؤمن اپنی قبر میں ایک سبز چمن میں ہوتا ہے اور اس کی قبر اس کے لئے ستر ہاتھ چوڑی کی جاتی ہے اور اس کی قبر چودھویں رات کی طرح روشن کی جاتی ہے اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قبر سے مراد یہ قبر نہیں بلکہ جنت کی کسی جگہ کا نام ہے یا جنت سے پہلے کوئی اور مقام ہے جہاں مؤمن کو رکھا جاتا ہے۔ اور ہر طرح کی کشائش وہاں ہوتی ہے۔ ورنہ اگر اس قبر کے معنی کئے جاویں تو آج تک اتفاقی طور پر بہت سی قبریں کھدی ہیں کہیں قبر میں باغ نظر نہیں آیا۔ اور نہ قبر ستر ہاتھ چوڑی لمبی معلوم ہوئی ہے۔ اگر یوں ہو تو قبرستانوں کے لئے جگہ ہی نہ ملے۔ اس حدیث کے یہی معنی معلوم ہوتے ہیں کہ قبر وہ مقام ہے جہاں کہ وفات کے بعد مؤمن کو رکھا جاتا ہے۔ اور وہ مکان ستر گز چھوڑ کر اگر ستر ہزار گز بھی ہو تب بھی اس کے ماننے میں نہ کسی حدیث کا خلاف ہوتا ہے اور نہ مشاہدہ اس کا انکار کر سکتا ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَکۡفَرَہٗ مِنۡ اَیِّ شَیۡءٍ خَلَقَہٗ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ؕ خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ ثُمَّ السَّبِیۡلَ یَسَّرَہٗ ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقۡبَرَہٗ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَہٗ(عبس: ۱۸-۲۳) مطلب ”انسان ہلاک ہو کس چیز نے اس کو کفر کی تعلیم دی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے کس چیز سے پیدا کیا ہے ایک نطفہ سے پیدا کیا ہے۔ پھر اس کے لئے ہر قسم کے اندازے مقرر کئے۔ پھر ہدایت کے راستے میں سہولتیں پیدا کیں۔ پھر اسے مارا اور قبر میں دفن کیا پھر جب چاہے گا اٹھائے گا“۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قبر سے کیا مراد تھی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قبر میں ہم داخل کرتے ہیں معلوم ہوا کہ قبر سے یہی مٹی کی قبر مراد نہیں ہوتی جس میں انسان کے عزیز و رشتہ دار داخل کرتے ہیں۔ بلکہ اس سے کوئی ایسا مقام بھی مراد ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ خود اپنے خاص اذن سے داخل کرتا ہے پس خلاصہ جواب یہ ہے کہ غلام سرور صاحب کے اشتہار میں اظہار امر واقعہ میں صریح تحریف کی گئی ہے اور جو حدیث مولوی محمد یوسف نے پیش کی تھی وہ قطعاً علم حدیث کی رو سے ثابت نہیں ہے اور اگر بہ فرض اس کو مان بھی لیں تو اس کے جو معنی وہ کرتے ہیں۔ اس میں نہ صرف رسول کریم ﷺ کی ہتک ہے بلکہ جس کو کوئی غیور مسلمان برداشت نہیں کر سکتا بلکہ وہ مسلم کی صحیح حدیث کے خلاف ہے اور یہ کہ بعض دیگر حدیثوں سے اس حدیث کے معنی
صاف ہو جاتے ہیں اور کوئی اشکال نہیں رہتا جیسا کہ درج کیا گیا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اصحابِ کانپور جو ایک دفعہ کمالِ بے تعصبی کا نمونہ دکھا چکے ہیں اس پر غور کر کے فائدہ اٹھائیں گے۔ اور وہی پہلو اختیار کریں گے جس میں رسول اللہ ﷺ کی عزت قائم ہوتی ہو۔ اور آپؐ کی اتباع اختیار کر کے آپؐ کے خادم اور خدا کے مامور مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی اتباع اختیار کریں گے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی عزت اسی میں ہے کہ آپؐ کے خدام سے وہ لوگ پیدا ہوں جو مسیحائی کا درجہ پائیں۔
عجب نوریست درجانِ محمدؐ
عجب لعلیست درکانِ محمدؐ
دگر استاد را نامے نہ دانم
کہ خواندم در دبستانِ محمدؐ
بدیگر دلبرے کارے ندارم
کہ ہستم کشتۂ آنِ محمدؐ
وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی
خاکسار مرزا بشیر الدین محمود احمد قادیان
(محررہ اپریل ۱۹۱۲ء)
از
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد
نحمده و نصلی علیٰ رسولہ الکریم بسم اللہ الرحمن الرحیم
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ(آل عمران: ۱۴۵) (محمد ایک رسول ہی ہیں ان سے پہلے سب رسول وفات پا چکے) قرآن مجید میں آیت موجود ہے۔ خلت کے معنی بھی قرآن مجید ہی سے حل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اس کے آگے فرمایا اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ(آل عمران: ۱۴۵) یعنی خلا کی دو ہی صورتیں ہیں۔ موت یا قتل۔ تیسری صورت کے لئے إِلیٰ صلہ آتا ہے پھر معلوم نہیں عیسیٰ علیہ السلام کی وفات میں کون سا شبہ باقی رہ جاتا ہے جبکہ آنحضرت ﷺ نے اپنی روئیت بیان فرمائی کہ شبِ معراج ان کو فوت شدہ انبیاء کی ارواح کے ساتھ دیکھا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وفات النبیؐ کے روز یہی آیت پڑھ کر نبی کریم ﷺ کی وفات پر استدلال فرمایا جو کبھی کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اگلے تمام انبیاء کی وفات کو نہ مان لیا جاوے۔ پھر نہ تو فِیۡہَا تَحۡیَوۡنَ وَفِیۡہَا تَمُوۡتُوۡنَ(الاعراف: ۲۶) (اسی زمین میں زندہ رہتے ہو اور اسی زمین میں مرو گے) ان کو آسمان پر جانے دیتا ہے اور نہ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ(النساء: ۱۵۹) سے ان کی رفعت جسمانی ثابت ہوتی ہے کیونکہ یہ یہود کے جواب میں فرمایا جو انہیں مقتول بالصلیب کر کے ملعون بنانا چاہتے تھے مگر خدا نے جیسا کہ اس کا وعدہ تھا کہ اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ(آل عمران: ۵۶) ان کو وفات دے کر وہ رفع دیا جو اپنے تمام پیاروں کو دیا کرتا ہے۔
پھر فَیُمۡسِکُ الَّتِیۡ قَضٰی عَلَیۡہَا الۡمَوۡتَ(الزمر: ۴۳) سے اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ کلیہ بھی فرما دیا کہ ارواح موت کے بعد روکی جاتی ہیں اور مردہ دوبارہ زندہ ہو کر اس دنیا میں نہیں آتا اَنَّہُمۡ اِلَیۡہِمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ(یٰس: ۳۲) تو مسیحؑ جو وفات پا چکا ہے وہ کس طرح آ سکتا ہے۔ اِلَّا اسی رنگ میں جیسے الیاسؑ یوحنا کے رنگ میں آیا اور حضرت عیسیٰؑ نے تمام یہود کو اپنا یہ فیصلہ سنا دیا کہ جس ایلیا کے تم انتظار میں ہو وہ آچکا یعنی یوحنا اس کی خوبو پر آیا ہے دیکھو متی باب ۱۱ آیت ۱۳-۱۴۔ قرآن مجید کی آیت استخلاف پر تدبر کرنے سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ مسیح دوبارہ بروزی رنگ میں نازل ہوگا ۔ کیونکہ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ(النور: ۵۶)۔ مطلب۔ ضرور خلیفہ بنائے گا امت محمدیہ کے کامل الایمان عمل صالح کرنے والوں کو جیسا کہ ان سے پہلے موسوی امت میں خلفاء بنائے ہیں۔ بتادیا کہ محمدی سلسلہ خلفاء موسوی سلسلہ خلفاء کی مانند ہے۔ مشبّہ مشبّہ بہ ایک نہیں ہوتے اس لئے محمدی مسیح اور ہے۔ موسوی مسیح اور۔ ایک ہی نام کا اطلاق سورۃ تحریم کے آخر کے مطابق غایت مشابہت سے ہے۔ مسیح بن مریم کا حلیہ سرخ رنگ گھونگریالے بال اور آنے والے مسیح کا حلیہ گندمی رنگ سیدھے بال جیسا کہ حدیث کی کتابوں سے ظاہر ہے۔ دونوں کو علیحدہ علیحدہ ثابت کرتا ہے۔ یہاں تک تو موعود کی کیفیت نزول سے بحث تھی۔ اور نزول آسمان سے اترنے کو نہیں کہتے چنانچہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں فرمایا قَدۡ اَنۡزَلَ اللّٰہُ اِلَیۡکُمۡ ذِکۡرًا رَّسُوۡلًا(الطلاق: ۱۱،۱۰) (اتارا تمہاری طرف یاد دلانے والا رسول) اب باقی یہ سوال رہ گیا ہے کہ اس امت محمدیہ سے جو مسیح و مہدی آنے والا تھا وہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب ہی کیونکر ہیں؟ سو اس کے لئے دیکھنا چاہئے کہ یہ تو متفق اللفظ مان لیا گیا ہے کہ یہی زمانہ ظہور مہدی کا ہے جیسا کہ اس زمانہ کے فتن سے ظاہر ہے اور اسلام کا ضعف دلالت کرتا ہے۔ اور اِنَّ اللّٰهَ يَبْعَثُ لِهٰذِهِ الْاُمَّةِ عَلٰى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَّنْ يُّجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا (ابو داؤد کتاب الملاحم) کی حدیث صحیح اور اس کے مطابق ہر صدی کے سر پر مجدد کا ظہور بھی اس کا مؤید ہے۔ اس صدی میں چونکہ صلیب پرستی کا زور ہے اس لئے ضرور تھا کہ چودھویں صدی کا عظیم الشان مجدد اپنے کام کے لحاظ سے کاسر الصلیب کا لقب پائے۔ اور مسیح و مہدی کہلائے۔ درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی مبعوث ہو کر اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔ اور آپ نے ان باتوں کا بیج بو دیا یا نہیں جن پر اسلام کی ترقی کا دارومدار اور دلائل و براہین سے کسر صلیب کا انحصار ہے۔
اے حضرات! آپ انصاف سے دیکھئے اس وقت تمام دنیا اور پھر ملک ہندوستان میں کونسی جماعت ہے جو حقیقی معنوں میں جماعت کہلانے کی مستحق ہے اور جو اپنے تمام اقوال و افعال کو ایک امام کے ماتحت عملی طور پر رکھتی ہے اور کون سی وہ جماعت ہے جس میں وحدت جو تمام کامیابیوں کی جڑ ہے موجود ہے اور جو اپنے مال و جان سے قرآن مجید اور نبی اکرم ﷺ کی تقدیس و تطہیر اور ان کے عظمت و جلال کو قلوب میں راسخ کرنے کے لئے ہر وقت مستعد ہے۔ بلا خوف تردید اس
سوال کا یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ جماعت احمدیہ۔ جب کسی پادری سے مباحثہ ہو۔ جب یہ سوال ہو کہ اسلام میں دوسرے مذہبوں سے کیا امتیاز ہے تو اس کا جواب دینے کے لئے صرف یہی جماعت جرات کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے۔ اور اس کا ہر ایک فرد بتا سکتا ہے کہ اسلام کا دارو مدار قصے اور کہانیوں پر نہیں بلکہ اس وقت بھی وہ وہی نشان دکھا سکتا ہے جو اگلے انبیاء و اولیاء نے اپنے صدق کے ثبوت میں دکھائے۔ آخر یہ سب کچھ کس مردِ خدا کی قوتِ قدسیہ کے طفیل ہے اسی کے جو وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِی اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ(الصف: ۷)۔ الایہ۔ وَ یُسَمّٰی بِاسْمِ نَبِیِّکُمْ(سنن ابی داؤد جلد سوئم کتاب المہدی صفحہ ۳۷۲) کی پیشگوئی کے مطابق احمدؔ کے نام سے نبی کریم ﷺ کا ایک غلام بن کر آیاتِ بینات کے ساتھ آیا۔
ان آیاتِ بینات میں سے ایک یہ ہے کہ وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ لَاَخَذۡنَا مِنۡہُ بِالۡیَمِیۡنِ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡہُ الۡوَتِیۡنَ(الحاقۃ: ۴۵۔۴۷) کہ اگر ہم پر افتراء کرے تو دائیں ہاتھ سے گرفت کر کے رگِ جان کاٹ دیں۔ آپ کا الہام بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ۱۸۶۸ء کا ہے۔ ۱۹۰۸ء تک آپ اپنے دعوے پر مؤکد قسموں کے ساتھ قائم رہے۔ اور اتنی مدت میں کامیابی پر کامیابی دیکھی کیا کوئی مفتری ہو کر یہ فلاح پا سکتا ہے۔ کیا اتنے سال جو نزولِ قرآن کے زمانہ ۲۳ سال سے بھی بہت زیادہ ہے ہر روز نئے سے نئے افتراء کر کے دعوئے نبوت و رسالت کے ساتھ کبھی کوئی شخص کامیابی کے ساتھ زندہ رہا ہے کیا تاریخ کوئی نظیر پیش کر سکتی ہے؟ ہرگز نہیں اگر ایسا ہو تو جھوٹے اور سچے نبیوں میں امتیاز ہی اٹھ جائے۔ ایک معمولی دنیاوی سلطنت میں جس کے اختیار اور علم و اخبار کا ذریعہ بہت ہی محدود ہے۔ کوئی جعلی تحصیل دار بن کر سکھ نہیں پاسکتا تو خدا کی گورنمنٹ میں کوئی مصنوعی پیغمبر کب سکھ پاسکتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے۔
(دوم) پھر دیکھو! اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ اس کی اپنے رسل و انبیاء کے ساتھ سنّت جاریہ ہے۔ آپؑ پر اس کثرت و صفائی کے ساتھ غیب کا اظہار کیا کہ تاریخ انبیاء اور انبیاء میں سے خاص انبیاء کے سوا کوئی اور نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ چنانچہ نہایت بے بسی و گمنامی کی حالت میں خدا نے آپ پر وحی نازل کی۔ یَاْتِیْكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ ؕ یَاْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ ؕ یَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوْحِیْ اِلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ ؕ وَ لَا تُصَعِّرْ لِخَلْقِ اللهِ وَ لَا تَسْئَمْ مِنَ النَّاسِ دیکھو براہین احمدیہ مطبوعہ ۱۸۸۱ء صفحہ ۲۴۱۔ کہ ہر ایک راہ سے لوگ تیرے پاس آئیں گے۔ اور ایسی کثرت سے آئیں گے کہ وہ راہیں جن پر وہ چلیں گے عمیق ہو جائیں گی۔ تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن
کے دلوں میں ہم آپ القاء کریں گے۔ مگر چاہئے کہ تو خدا کے بندوں سے جو تیرے پاس آئیں گے بد خلقی نہ کرے اور چاہئے کہ تو ان کی کثرت دیکھ کر ملاقاتوں سے تھک نہ جائے۔ ایک شخص ایک ایسے گاؤں میں رہنے والا جس کے نام سے بھی مہذب دنیا میں سے کوئی آگاہ نہیں یہ اعلان کرتا ہے پھر باوجود سخت مخالفتوں اور روکوں کے ایک دنیا دیکھتی ہے کہ امریکہ وافریقہ سے لے کر تمام علاقوں کے لوگ یہاں حاضر رہتے ہیں اور آدمیوں کی کثرت کا یہ عالم ہے کہ ان سب سے مصافحہ و ملاقات کرنا کسی معمولی آدمی کا کام نہیں ہو سکتا۔ پھر ایک مقتدر جماعت اپنے اپنے پیارے وطن چھوڑ کر یہاں رہنا اختیار کرتی ہے اور قادیان کا نام تمام دنیا میں مشہور ہو جاتا ہے کیا یہ چھوٹی سی بات ہے اور ایسا نشان ہے جسے معمولی نظر سے ٹال دیا جاوے؟
(سوم) تمام مذہبوں پر اتمام حجت۔ عیسائیوں کے لئے امرتسر کے مقام پر جنگ مقدس ہوئی وہاں آپ نے شائع فرمایا کہ جو فریق عمد اًجھوٹ کو اختیار کر رہا ہے وہ ایام مباحثہ کے لحاظ سے پندرہ ماہ کے اندر ہاویہ میں گرایا جائے گا بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ اس میں دراصل دو پیش گوئیاں تھیں۔ آتھم نے اپنی کتاب اندرونۂ بائبل میں آنحضرت ﷺ کو (نعوذ باللہ) دجال لکھا تھا۔ مگر اس نے اس وقت اس قول سے رجوع کیا اس لئے شرطِ رجوع سے فائدہ اٹھا کر پیش گوئی کے دوسرے حصے کے مطابق بچ گیا۔ اور جب اس نے رجوع سے انکار کیا تو پھر پندرہ ماہ کے اندر مر گیا۔ پھر انہیں عیسائیوں میں سے ڈوئی نے امریکہ میں نبوت کا دعویٰ کیا اور اپنے ناپاک کلمات شائع کئے۔ کہ ”میں خدا سے دعا کرتا ہوں وہ دن جلد آئے کہ اسلام دنیا سے نابود ہو جائے اے خدا تو ایسا ہی کر۔ اے خدا اسلام کو ہلاک کر۔“
تو صرف یہ حضور مسیح موعود ہمارے امام ہمام علیہ السلام تھے جنہوں نے اس کے مقابلے میں اشتہار دیا کہ اے شخص جو مدعی نبوت ہے آ اور میرے ساتھ مباہلہ کر۔ ہمارا مقابلہ دعا سے ہو گا اور ہم دونوں خدائے تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ ہم میں سے جو شخص کذاب ہے وہ پہلے ہلاک ہو (ٹیلیگراف ۵؍جولائی ۱۹۰۳ء) لیکن اس نے رعونت سے کہا کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں ان مچھروں اور مکھیوں کا جواب دوں گا اگر میں اپنا پاؤں ان پر رکھوں تو ان کو کچل کر مار ڈالوں۔ (ڈوئی کا پرچہ دسمبر ۱۹۰۳ء) مگر حضور مہدیؑ نے فرما دیا تھا۔ اور اسی اشتہار ۲۳؍اگست ۱۹۰۳ء میں شائع کیا تھا کہ اگر ڈوئی مقابلہ سے بھاگ گیا تب بھی یقیناً سمجھو کہ اس کے صیحون پر جلد تر آفت آنے والی ہے۔ اے قادر اور کامل خدا! یہ فیصلہ جلد کر اور ڈوئی کا جھوٹ لوگوں پر ظاہر کر دے۔
پھر اس کے بعد معزز ناظرین سنو کیا ہوا۔ وہ جو شہزادوں کی زندگی بسر کرتا تھا۔ جس کے پاس سات کروڑ نقد تھا اس کی بیوی اور اس کا بیٹا دشمن ہو گئے اور باپ نے اشتہار دیا کہ وہ ولد الزنا ہے۔ آخر اس پر فالج گرا۔ پھر غموں کے مارے پاگل ہو گیا آخر مارچ ۱۹۰۷ء میں بڑی حسرت و دکھ کے ساتھ (جیسا کہ خدا نے اپنے مامور کو پہلے اطلاع دی اور جیسا کہ حضرت اقدسؑ نے ۲۰؍فروری ۱۹۰۷ء کے اشتہار میں شائع فرمایا تھا ۔ ”خدا فرماتا ہے کہ میں ایک تازہ نشان ظاہر کروں گا جس میں فتح عظیم ہوگی۔ وہ تمام دنیا کے لئے ایک نشان ہو گا۔“ ہلاک ہو کر خدا کے سچے نبی کی صداقت پر مہر لگا گیا یہ عیسائی دنیا۔ پرانی دنیا اور نئی دنیا۔ دونوں پر حضور کی فتح تھی۔
پھر سنو! اس ملک میں آریوں کا زور ہے ان کا زعیم لیکھرام تھا۔ رسالہ کرامات الصادقین مطبوعہ صفر ۱۳۱۱ھ میں یہ پیش گوئی درج کی کہ لیکھرام کی نسبت خدا نے میری دعا قبول کر کے مجھے خبر دی ہے کہ وہ چھ سال کے اندر ہلاک ہوگا۔ اور اس کا جرم یہ ہے کہ وہ خدا کے نبی ﷺ کو گالیاں دیتا تھا اور برے لفظوں کے ساتھ توہین کرتا تھا۔ پھر ۲۲؍فروری ۱۸۹۳ء کے اشتہار میں اس کے مرنے کی صورت بھی بتادی۔ عِجْلٌ جَسَدٌ لَّهٗ خُوَارٌ لَّهٗ نَصَبٌ وَّعَذَابٌ یعنی لیکھرام گوسالہ سامری ہے جو بے جان ہے اور اس میں محض ایک آواز ہے جس میں روحانیت نہیں اس لئے اسکو عذاب دیا جائے گا جو گوسالہ سامری کو دیا گیا تھا اور ہر ایک شخص جانتا ہے کہ گوسالہ سامری کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا اور پھر جلایا گیا اور دریا میں ڈالا گیا تھا۔ پھر ۲۔ اپریل ۱۸۹۳ء کو آپ نے ایک کشف دیکھا (دیکھو برکات الدعا کا حاشیہ) کہ ایک قوی مہیب شکل جو گویا انسان نہیں ملائک شداد و غلاظ سے ہے۔ وہ پوچھتا ہے لیکھرام کہاں ہے۔ پھر کرامات الصادقین کے اس شعر سے
وَ بُشِّرْتُنِيْ رَبِّیْ وَ قَالَ مُبَشِّرًا
سَتَعْرِفُ يَوْمَ الْعِيْدِ وَ الْعِيْدُ اَقْرَبُ
دن بھی بتا دیا یعنی عید سے دوسرے دن ہفتہ والے دن اور
الا اے دشمنِ نادان و بے راہ
بترس از تیغِ برانِ محمدؐ
پانچ سال پہلے شائع کر کے قتل کی صورت بھی بتادی۔ آخر لیکھرام ۶؍ مارچ ۱۸۹۷ء کو قتل کیا گیا۔ اور سب نے متفق اللفظ مان لیا کہ یہ پیش گوئی بڑی صفائی کے ساتھ پوری ہو کر اسلام کے لئے حجت ناطقہ ٹھہری۔
اسی طرح قادیان کے آریہ تھے۔ جنہوں نے خدا کے مرسل کو دکھ دینے اور بد زبانی کرنے میں کوئی دقیقہ باقی نہ چھوڑا تھا۔ اور ان میں سے ان کے اخبار شبھ چنتک (جس کے ذریعے یہ غلط فہمیاں پھیلاتے تھے) کے ایڈیٹر و منتظم سرکش تھے۔ آخر خدا کی غیرت جوش میں آئی اور آپ نے ”قادیان کے آریہ اور ہم“ ایک رسالہ لکھا۔ اور صفحہ ۲۱‘۲۲ میں یہ پیشگوئی ان لوگوں کے حق میں کی یہ لوگ ان نبیوں کی تکذیب میں جن کی سچائی سورج کی طرح چمکتی ہے۔ حد سے بڑھ گئے ہیں خدا جو اپنے بندوں کے لئے غیرت مند ہے ضرور اس کا فیصلہ کرے گا وہ ضرور اپنے نبیوں کے لئے کوئی ہاتھ دکھلائے گا۔ اسی طرح اور بھی کئی الہام تھے۔ آخر ان کو طاعون ہوا اور تینوں تین دن کے اندر طاعون کا شکار ہو گئے۔ اور ایسے تباہ ہوئے کہ کوئی ان کا قائم مقام نہ ہوا۔ یہ غیر قوموں پر اتمامِ حجت تھا۔ مسلمان کہلانے والے مولویوں پر یوں اتمامِ حجت کی کہ تمام مشہور مولویوں کے نام لکھ کر ان کو مباہلہ کے لئے بلایا اور لکھا (دیکھو انجام آتھم) میں دعا کروں گا اے خدا علیم و خبیر اگر تو جانتا ہے کہ یہ تمام الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں تیرے ہی الہام ہیں اور تیرے منہ کی باتیں ہیں تو ان مخالفوں کو جو اس وقت حاضر ہیں ایک سال کے عرصہ تک نہایت سخت دکھ کی مار میں مبتلا کر۔ کسی کو اندھا کر دے اور کسی کو مجذوم اور کسی کو مفلوج اور کسی کو مجنون اور کسی کو مصروع اور کسی کو سانپ یا سگِ دیوانہ کا شکار بنا اور کسی کے مال پر آفت نازل کرا اور کسی کی جان پر اور کسی کی عزت پر۔ اور صفحہ ۶۷ پر لکھتے ہیں میں یہ بھی شرط کرتا ہوں کہ میری دعا کا اثر صرف اس صورت میں سمجھا جائے کہ جب تمام وہ لوگ جو مباہلہ کے میدان میں بالمقابل آویں ایک سال تک ان بلاؤں میں سے کسی بلا میں گرفتار ہو جائیں اگر ایک بھی باقی رہا تو میں اپنے تئیں کاذب سمجھوں گا اگرچہ وہ ہزار ہوں یا دو ہزار۔ ذرا غور سے پڑھو کیا کوئی شخص اتنا بڑا دعویٰ سوا صادق مامور کے کر سکتا ہے۔ حق ‘حق ہی ہوتا ہے کوئی مولوی مقابل پر نہ آیا۔ اور یوں حضور کی صداقت اور اپنی بطالت پر عملی گواہی دے دی اور ان میں سے بہت آپؐ کی آنکھوں کے سامنے انہیں بیماریوں سے مرے۔ ان حُجَجِ نَیِّرَہ کے ہوتے اور اس خدمتِ اسلامی کی موجودگی میں جس میں کوئی شائبہ اپنی غرضِ دنیاوی کا نہیں پایا جاتا (چنانچہ دیکھو اگر آپ کو دنیا کا کمانا مقصود ہوتا تو اپنی کوئی جائیداد بڑھاتے اپنی اولاد کے لئے گدی کو مخصوص کر جاتے) کون آپؐ پر ایمان لانے سے بے رغبتی کر سکتا ہے۔ اِلَّا مَنۡ سَفِہَ نَفۡسَہٗ(البقرہ: ۱۳۱) مسیح کے لئے جو نشانات آپ لوگوں نے مقرر کئے ہیں وہ زیادہ تر یہی مشہور ہیں۔
۱۔ دو زرد چادروں کے ساتھ اترے گا۔ ۲۔ دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اترے گا۔ ۳۔ کافر اس کے دم سے مریں گے۔ ۴۔ ایسا معلوم ہو گا کہ ابھی ابھی حمام سے نکلا ہے اور پانی کے قطرے اس کے سر کے بالوں سے موتیوں کی طرح ٹپک رہے ہوں گے۔ ۵۔ دجال کے بالمقابل خانہ کعبہ کا طواف کرے گا۔ ۶۔ صلب کو توڑے گا۔ ۷۔ خنزیر کو قتل کرے گا۔ ۸۔ ایک بیوی کرے گا اس سے اولاد اس کے لئے ہو گی۔ ۹۔ دجال کو قتل کر دے گا۔ ۱۰۔ مسیح موعودؑ طبعی موت سے مرے گا اور آنحضرتؐ کے مقبرہ میں دفن ہو گا۔
اس کی تشریح میں حضرت مسیح موعودؑ ہی کی تحریر سے پیش کرتا ہوں۔ (۱) دو زرد چادریں وہ دو بیماریاں ہیں (دیکھو کتب تعبیر الرؤیا) جو بطور علامت کے مسیح موعودؑ کے جسم کو ان کا روزِ ازل سے لاحق ہونا مقدر کیا گیا تھا تاکہ اس کی غیر معمولی صحت بھی ایک نشان ہو۔
(۲) دو فرشتوں سے مراد اس کے لئے دو قسم کے غیبی سہارے ہیں جن پر اس کی اتمامِ حجت موقوف ہے ایک وہی علم متعلق عقل اور نقل کے ساتھ اتمامِ حجت جو بغیر کسب اور اکتساب کے اس کو عطا کیا جائے گا دوسری اتمامِ حجت نشانوں کے ساتھ جو بغیر انسانی دخل کے خدا کی طرف سے نازل ہوں گے۔
(۳) کافروں کو دم سے مارنا اس سے یہ مطلب ہے کہ مسیح موعودؑ کے نفس یعنی اسکی توجہ سے کافر ہلاک ہوں گے۔
(۴) اور سر کے بالوں سے موتیوں کی طرح قطرے ٹپکنا اس کشف کے یہ معنی ہیں کہ مسیح موعودؑ اپنی بار بار توبہ اور تضرّع سے اپنے اس تعلق کو جو اس کو خدا کے ساتھ ہے تازہ کرتا رہے گا گویا وہ ہر وقت غسل کرتا ہے۔ ورنہ جسمانی غسل میں کون سی خاص خوبی ہے اس طرح تو ہندو بھی ہر روز صبح کو غسل کرتے ہیں اور غسل کے قطرے بھی ٹپکتے ہیں۔
(۵) اور طوافِ خانہ کعبہ وہ یہ ہے کہ آخری زمانہ میں ایک گروہ پیدا ہو گا جس کا نام دجال ہے وہ اسلام کا سخت دشمن ہو گا اور وہ اسلام کو نابود کرنے کے لئے جس کا مرکز خانہ کعبہ ہے چور کی طرح اس کے گرد طواف کرے گا تا اسلام کی عمارت کو بیخ و بُن سے اکھاڑ دے۔ اس کے مقابل پر مسیح موعودؑ بھی مرکزِ اسلام کا طواف کرے گا جس کی تمثیلی صورت خانہ کعبہ ہے اور اس طواف سے مسیح موعودؑ کی غرض یہ ہو گی کہ اس چور کو پکڑے جس کا نام دجال ہے اور اس کی دست درازیوں سے مرکزِ اسلام کو محفوظ رکھے۔
(۶) اور صلیب توڑنے سے یہ سمجھنا کہ صلیب کی لکڑی یا سونے چاندی کی صلیبیں توڑ دی جائیں گی یہ سخت غلطی ہے۔ اس قسم کی صلیبیں تو ہمیشہ اسلامی جنگوں میں ٹوٹتی رہی ہیں بلکہ اس سے مطلب یہ ہے کہ مسیح موعودؑ صلیبی عقیدہ کو توڑ دے گا اور بعد اس کے دنیا میں صلیبی عقیدہ کا نشوونما نہ ہوگا… اس کا اقبال صلیب کے زوال کا موجب ہو گا اور صلیبی عقیدہ کی عمر اس کے ظہور سے پوری ہو جائے گی۔ اور خود بخود لوگوں کے خیالات صلیبی عقیدہ سے بیزار ہوتے چلے جائیں گے جیسا کہ آج کل یورپ میں ہو رہا ہے۔
(۷) اور یہ پیش گوئی کہ خنزیر کو قتل کرے گا یہ ایک نجس اور بد زبان دشمن کو مغلوب کرنے کی طرف اشارہ ہے اور اس کی طرف اشارہ ہے کہ ایسا دشمن مسیح موعودؑ کی دعا سے ہلاک کیا جاوے گا۔
(۸) مسیح کی اولاد ہوگی یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا اس کی نسل سے ایک ایسے شخص کو پیدا کرے گا جو اس کا جانشین ہو گا اور دین اسلام کی حمایت کرے گا۔
(۹) دجال کو قتل کرے گا اس کے یہ معنی ہیں کہ اس کے ظہور سے دجالی فتنہ رو بزوال ہو جائے گا اور خود بخود کم ہوتا جائے گا اور دانشمندوں کے دل توحید کی طرف پلٹا کھا جائیں گے۔
(۱۰) مسیح موعود بعد وفات کے آنحضرت ﷺ کی قبر میں داخل ہو گا اس کے یہ معنی کرنا کہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کی قبر کھودی جائے گی۔ یہ جسمانی خیال کے لوگوں کی غلطیاں ہیں جو گستاخی اور بے ادبی سے بھری ہوئی ہیں بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ مسیح موعودؑ مقام قرب میں آنحضرت ﷺ سے اس قدر قریب ہو گا کہ موت کے بعد آنحضرت ﷺ کے قرب کا رُتبہ اس کو ملے گا۔ اور اس کی روح آنحضرت ﷺ کی روح سے جا ملے گی گویا ایک ہی قبر میں ہیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کو خوب غور سے پڑھنے اور پھر ان پاک عقائد کو دل سے مان لینے کی توفیق عطا فرمادے۔ (آمین)
(محررہ اپریل ۱۹۱۲ء)
از
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ
اَفِی اللّٰہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ(14:11)
اس زمانہ میں عقائد و ایمانیات پر جو مادی دنیا نے اعتراضات کئے ہیں ان میں سے سب سے بڑا مسئلہ انکارِ ذاتِ باری ہے۔ مشرک گو خدا کا شریک ان کو بناتا ہے لیکن کم سے کم خدا تعالیٰ کے وجود کا تو قائل ہے دہر یہ بالکل ہی انکاری ہے موجودہ سائنس نے ہر چیز کی بنیاد مشاہدات پر رکھی ہے اسلئے دہریہ سوال کرتے ہیں کہ اگر کوئی خدا ہے تو ہمیں دکھاؤ ہم بغیر دیکھے کے اُسے کیونکر مان لیں ۔ چونکہ اسوقت کی ہوا نے اکثر نوجوانوں کے دلوں میں اس پاک ذات کے نقش کو مٹا دیا ہے اور کالجوں کے سینکڑوں طالب علم اور بیرسٹر وغیرہ وجودِ باری کے منکر ہو رہے ہیں اور انکی تعداد روز افزوں ہے اور ہزاروں آدمی ایسے پائے جاتے ہیں جو بظاہر قوم و ملک کے خوف سے اظہار تو نہیں کرتے لیکن فی الحقیقت اپنے دلوں میں وہ خدا پر کچھ یقین نہیں رکھتے۔ اس لئے میں نے ارادہ کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے تو میں اس پر ایک چھوٹا سا ٹریکٹ لکھ کر شائع کروں شائد کسی سعید روح کو اس سے فائدہ پہنچ جائے۔
۱۔ دہریوں کا پہلا سوال یہ ہے کہ اگر خدا ہمیں دکھا دو تو ہم مان لیتے ہیں۔ مجھے اس سوال کے سننے کا کئی بار موقع ملا ہے لیکن ہمیشہ اس کے سننے سے حیرت ہوتی ہے انسان مختلف چیزوں کو مختلف حواس سے پہچانتا ہے کسی چیز کو دیکھ کر ، کسی کو چھو کر ، کسی کو سونگھ کر ، کسی کو سن کر ، کسی کو چکھ کر ، رنگ کا علم دیکھنے سے ہو سکتا ہے سونگھنے یا چھونے یا چکھنے سے نہیں پھر اگر کوئی شخص کہے کہ میں تو رنگ کو تب مانوں گا کہ اگر مجھے اسکی آواز سنواؤ تو کیا وہ شخص بیوقوف ہے یا نہیں۔ اسی طرح آواز کا علم سننے سے ہوتا ہے لیکن اگر کوئی شخص کہے کہ مجھے فلاں شخص کی آواز
دکھاؤ پھر میں دیکھ کر مانوں گا کہ وہ بولتا ہے تو کیا ایسا شخص جاہل ہو گا یا نہیں۔ ایسا ہی خوشبو سونگھ کر معلوم ہوتی ہے لیکن اگر کوئی شخص طلب کرے کہ اگر تم مجھے گلاب کی خوشبو چکھا دو تو تب میں مانوں گا تو کیا ایسے شخص کو دانا کہہ سکیں گے۔ اس کے خلاف چکھ کر معلوم کرنے والی چیزوں یعنی ترشی، شیرینی، کڑواہٹ، نمکینی کو اگر کوئی سونگھ کر معلوم کرنا چاہے تو کبھی نہیں کر سکتا پس یہ کوئی ضروری نہیں کہ جو چیز سامنے نظر آئے اسے تو ہم مان لیں اور جو چیز سامنے نظر نہ آئے اسے نہ مانیں ورنہ اس طرح تو گلاب کی خوشبو، لیموں کی ترشی، شہد کی مٹھاس، مصبّر کی کڑواہٹ، لوہے کی سختی، آواز کی خوبی سب کا انکار کرنا پڑیگا کیونکہ یہ چیزیں تو نظر نہیں آتیں بلکہ سونگھنے چکھنے چھونے اور سننے سے معلوم ہوتی ہیں پس یہ اعتراض کیسا غلط ہے کہ خدا کو ہمیں دکھاؤ تب ہم مانیں گے کیا یہ معترض گلاب کی خوشبو کو دیکھ کر مانتے ہیں یا شہد کی شیرینی کو پھر کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق یہ شرط پیش کی جاتی ہے کہ دکھا دو تب مانیں گے۔
علاوہ ازیں انسان کے وجود میں خود ایسی چیزیں موجود ہیں کہ جن کو بغیر دیکھے کے یہ مانتا ہے اور اسے ماننا پڑتا ہے۔ یہ سب انسان اپنے دل جگر دماغ انتڑیاں پھیپھڑے اور تلی کو دیکھ کر مانتے ہیں یا بغیر دیکھے کے۔ اگر ان چیزوں کو اس کے دکھانے کیلئے نکالا جاوے تو انسان اسی وقت مر جائے اور دیکھنے کی نوبت ہی نہ آئے۔
یہ مثالیں تو میں نے اس بات کی دی ہیں کہ سب چیزیں صرف دیکھنے سے ہی معلوم نہیں ہوتیں بلکہ پانچ مختلف حواس سے ان کا علم ہوتا ہے اب میں بتاتا ہوں کہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ جنکا علم بلا واسطہ ان پانچوں حواس سے بھی نہیں ہوتا بلکہ ان کے معلوم کرنے کا ذریعہ ہی اور ہے مثلاً عقل یا حافظہ یا ذہن ایسی چیزیں ہیں کہ جن کا انکار دنیا میں کوئی بھی نہیں کرتا لیکن کیا کسی نے عقل کو دیکھا ہے یا سنا یا چکھایا سونگھایا چھوا ہے پھر کیونکر معلوم ہوا کہ عقل کوئی چیز ہے یا حافظہ کا کوئی وجود ہے پھر قوت ہی کو لے لو ہر انسان میں تھوڑی بہت قوت موجود ہے کوئی کمزور ہو یا طاقت ور مگر کچھ نہ کچھ طاقت ضرور رکھتا ہے مگر کیا قوت کو آج تک کسی نے دیکھا یا سنا یا چھوا یا چکھا ہے پھر کیونکر معلوم ہوا کہ قوت بھی کوئی چیز ہے اس بات کو ایک جاہل سے جاہل انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ ان چیزوں کو ہم نے اپنے حواس سے معلوم نہیں کیا بلکہ ان کے اثرات کو معلوم کر کے ان کا پتہ لگایا ہے مثلاً جب ہم نے دیکھا کہ انسان مختلف مشکلات میں گھر کر کچھ دیر غور کرتا ہے اور کوئی ایسی تدبیر نکالتا ہے جس سے وہ اپنی مشکلات دور کر لیتا ہے جب اس طرح مشکلات کو حل ہوتے ہوئے ہم نے دیکھا تو یقین کر لیا کہ کوئی چیز ایسی انسان میں موجود ہے جو ان موقعوں پر اس کے کام آتی ہے اور اس چیز کا نام ہم نے عقل رکھا۔ پس عقل کو بلا واسطہ ہم نے پانچوں حواسوں میں سے کسی سے بھی دریافت نہیں کیا بلکہ اس کے کرشموں کو دیکھ کر اس کا علم حاصل کیا اسی طرح جب ہم نے انسان کو بڑے بڑے بوجھ اٹھاتے دیکھا تو معلوم کیا کہ اس میں کچھ ایسا مادہ ہے جس کی وجہ سے یہ بوجھ اٹھا سکتا ہے اپنے سے کمزور چیزوں کو قابو کر لیتا ہے اور اس کا نام قوت یا طاقت رکھ دیا۔
اس طرح جس قدر لطیف سے لطیف اشیاء کو لیتے جاؤ گے انکے وجود انسانوں کی نظروں سے غائب ہی نظر آئیں گے اور ہمیشہ ان کے وجود کا پتہ ان کے اثر سے معلوم ہو گا نہ کہ خود انہیں دیکھ کر یا سونگھ کر یا چکھ اور چھو کر۔
پس اللہ تعالیٰ کی ذات جو الطف سے الطف ہے اس کا علم حاصل کرنے کیلئے ایسی ایسی قیدیں لگانی کس طرح جائز ہو سکتی ہیں کہ آنکھوں کے دیکھے بغیر اسے نہیں مانیں گے کیا بجلی کو کہیں کسی نے دیکھا پھر کیا الیکٹرسٹی کی مدد سے جو تار خبریں پہنچتی ہیں یا مشینیں چلتی ہیں یا روشنی کی جاتی ہے اسکا انکار کیا جاسکتا ہے۔ ایتھر کی تحقیقات نے فزیکل علوم کی دنیا میں تہلکہ مچادیا ہے لیکن کیا اب تک سائنس کے ماہرین اسکے دیکھنے سننے سونگھنے چھونے یا چکھنے کا کوئی ذریعہ نکال سکے۔ لیکن اس کا وجود نہ مانیں تو پھر یہ بات حل ہی نہیں ہو سکتی کہ سورج کی روشنی دنیا تک پہنچتی کیونکر ہے۔ پس کیسا ظلم ہے کہ ان شواہد کے ہوتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ خدا کو دکھاؤ تو ہم مانیں گے۔ اللہ تعالیٰ نظر تو آتا ہے لیکن انہیں آنکھوں سے جو اس کے دیکھنے کے قابل ہیں۔ ہاں اگر کوئی اسکے دیکھنے کا خواہشمند ہو تو وہ اپنی قدرتوں اور طاقتوں سے دنیا کے سامنے ہے اور باوجود پوشیدہ ہونے کے سب سے زیادہ ظاہر ہے۔ قرآن شریف میں اس مضمون کو نہایت ہی مختصر لیکن بے نظیر پیرایہ میں اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا ہے کہ لَا تُدۡرِکُہُ الۡاَبۡصَارُ ۫ وَہُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ ۚ وَہُوَ اللَّطِیۡفُ الۡخَبِیۡرُ(الانعام: ۱۰۴) یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے کہ نظریں اس تک نہیں پہنچ سکتیں بلکہ وہ نظروں تک پہنچتا ہے اور وہ لطیف اور خبردار ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ تیری نظر اس قابل نہیں کہ خدا کی ذات کو دیکھ سکے کیونکہ وہ تو لطیف ذات ہے اور لطیف اشیاء تو نظر نہیں آتیں جیسا کہ قوت ہے عقل ہے روح ہے بجلی ہے ایتھر ہے یہ چیزیں کبھی کسی کو نظر نہیں آتیں پھر خدا کی لطیف ذات تک انسان کی نظریں کب پہنچ سکتی ہیں۔ ہاں پھر خدا کو لوگ کس طرح دیکھ سکتے ہیں اور اس کی معرفت کے حاصل کرنے کا کیا طریق ہے اسکا جواب دیا کہ وَہُوَ یُدۡرِکُ الۡاَبۡصَارَ(6:104) یعنی خود وہ نظروں تک پہنچتا ہے اور باوجود اسکے کہ انسانی نظر کمزوری کی وجہ سے اس کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتی وہ اپنی طاقت اور قوت کے اظہار سے وہ اپنی صفات کاملہ کے جلوہ سے اپنا وجود آپ انسان کو دکھاتا ہے اور گو نظر انسانی اس کے دیکھنے سے قاصر ہے مگر وہ خود اپنا وجود اپنی لاانتہاء قوتوں اور قدرتوں سے مختلف پیرائوں میں ظاہر کرتا ہے کبھی قہری نشانوں سے کبھی انبیاء کے ذریعہ سے کبھی آثارِ رحمت سے اور کبھی قبولیتِ دعا سے۔
اب اس بات کے ثابت کرچکنے کے بعد کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ماننا اس بات پر منحصر کیا جائے کہ ہم اسے دکھا دیں اور سوائے دیکھنے کے کسی چیز کو مانا ہی نہ جائے تو دنیا کی قریباً ۴/۵ اشیاء کا انکار کرنا پڑیگا اور بعض فلاسفروں کے قول کے مطابق تو کل اشیاء کا۔ کیونکہ ان کا مذہب ہے کہ دنیا میں کوئی چیز نظر نہیں آتی بلکہ صرف صفات ہی صفات نظر آتی ہیں۔ اب میں اسطرف متوجہ ہوتا ہوں کہ وہ کون سے دلائل ہیں جن سے وجودِ باری تعالیٰ کا پتہ لگتا ہے اور انسان کو یقین ہوتا ہے کہ میرا خالق کوئی اور ہے اور میں ہی اپنا خالق نہیں۔
میں اپنے اس عقیدہ کے ماتحت کہ قرآن شریف نے کمالاتِ روحانی کے حصول کے تمام ذرائع بیان فرمائے ہیں۔ ہستی باری کے کل دلائل قرآن شریف سے ہی پیش کرونگا۔ وَ مِنَ اللّٰهِ التَّوْفِیْقُ اور چونکہ سب سے پہلا علم جو انسان کو اس دنیا میں آکر ہوتا ہے وہ کانوں سے ہوتا ہے اسلئے میں بھی سب سے پہلے سماعی دلیل ہی لیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ایک جگہ فرماتا ہے کہ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَکّٰی وَذَکَرَ اسۡمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا وَالۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ وَّاَبۡقٰی اِنَّ ہٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰی صُحُفِ اِبۡرٰہِیۡمَ وَمُوۡسٰی(الاعلیٰ: ۱۵-۲۰) یعنی مظفر و منصور ہو گیا وہ شخص کہ جو پاک ہوا اور اسنے اپنے رب کا زبان سے اقرار کیا اور پھر زبان سے ہی نہیں بلکہ عملی طور سے عبادت کرکے اپنے اقرار کا ثبوت دیا لیکن تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو حالانکہ انجام کار کی بہتری ہی اصل بہتری اور دیرپا ہے۔ اور یہ بات صرف قرآن شریف ہی پیش نہیں کرتا بلکہ سب پہلی کتابوں میں یہ دعویٰ موجود ہے چنانچہ ابراہیمؑ اور موسیٰؑ نے جو تعلیم دنیا کے سامنے پیش کی اسمیں بھی یہ تعلیم موجود ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مخالفینِ قرآن پر یہ حجت پیش کی ہے کہ اپنی نفسانی خواہشوں سے بچنے والے خدا کی ذات کا اقرار کرنیوالے اور پھر اس کا سچا فرمانبردار بننے والے ہمیشہ کامیاب اور مظہر ہوتے ہیں۔ اور اس تعلیم کی سچائی کا ثبوت یہ ہے کہ یہ بات پہلے مذاہب میں مشترک ہے چنانچہ اسوقت کے بڑے مذاہب مسیحی یہودی اور کفار مکہ پر حجت کیلئے حضرت ابراہیمؑ اور موسیٰؑ کی مثال دیتا ہے کہ ان کو تو تم مانتے ہو انہوں نے بھی یہ تعلیم دی ہے پس قرآن شریف نے ہستی باری تعالیٰ کا ایک بہت بڑا ثبوت یہ بھی دیا ہے کہ کل مذاہب اسپر متفق ہیں اور سب اقوام کا یہ مشترک مسئلہ ہے چنانچہ جسقدراس دلیل پر غور کیا جائے نہایت صاف اور سچی معلوم ہوتی ہے۔ حقیقت میں کل مذاہب دنیا اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی ہستی ہے جس نے کل جہان کو پیدا کیا۔ مختلف ممالک اور احوال کے تغیر کی وجہ سے خیالات اور عقائد میں بھی فرق پڑتا ہے لیکن باوجود اس کے جس قدر تاریخی مذاہب ہیں سب اللہ تعالیٰ کے وجود پر متفق اللسان ہیں گو اس کی صفات کے متعلق ان میں اختلاف ہو موجودہ مذاہب یعنی اسلام، مسیحیت، یہودیت، بدھ ازم، سکھ ازم، ہندوازم اور زرتشتی سب کے سب ایک خدا ایلوہیم، پرم ایشور، پرم آتما، ست گرو، یا یزدان کے قائل ہی ہیں مگر جو مذاہب دنیا کے پردہ سے مٹ چکے ہیں ان کے متعلق بھی آثار قدیمہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سب کے سب ایک خدا کے قائل اور معتقد تھے۔ خواہ وہ مذاہب امریکہ کے جدا شدہ ملک میں پیدا ہوئے ہوں یا افریقہ کے جنگلوں میں خواہ روما میں خواہ انگلستان میں خواہ جاوا و سماترا میں خواہ جاپان اور چین میں خواہ سائبیریا و منچوریا میں۔ یہ اتفاق مذاہب کیونکر ہوا اور کون تھا جس نے امریکہ کے رہنے والے باشندوں کو ہندوستان کے عقائد سے یا چین کے باشندوں کو اہل افریقہ کے عقائد سے آگاہ کیا۔ پہلے زمانہ میں ریل و تار اور ڈاک کا یہ انتظام تو تھا نہیں جو اب ہے۔ نہ اس طرح جہازوں کی آمد و رفت کی کثرت تھی گھوڑوں اور خچروں کی سواری تھی اور بادبانی جہاز آجکل کے دنوں کا سفر مہینوں میں کرتے تھے اور بہت سے علاقے تو اس وقت دریافت بھی نہ ہوئے تھے پھر ان میں مختلف المذاق اور مختلف الرسوم اور ایک دوسرے سے نا آشنا ممالک میں اس ایک عقیدہ پر کیونکر اتفاق ہو گیا۔ من گھڑت ڈھکوسلوں میں تو دو آدمیوں کا اتفاق ہونا مشکل ہوتا ہے پھر کیا اس قدر قوموں کا اور ملکوں کا اتفاق جو آپس میں کوئی تبادلہ خیالات کا ذریعہ نہ رکھتی تھیں اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ عقیدہ ایک امر واقعہ ہے اور کسی نا معلوم ذریعہ سے جسے اسلام نے کھول دیا ہے ہر قوم پر اور ہر ملک میں اسکا اظہار کیا گیا ہے۔ اہل تاریخ کا اس امر پر اتفاق ہے کہ جس مسئلہ پر مختلف اقوام کے مؤرخ متفق ہو جاویں اس کی راستی میں شک نہیں کرتے پس جب اس مسئلہ پر ہزاروں لاکھوں قوموں نے اتفاق کیا ہے تو کیوں نہ یقین کیا جائے کہ کسی جلوہ کو دیکھ کر ہی سب دنیا اس خیال کی قائل ہوئی ہے۔
دوسری دلیل جو قرآن شریف میں ہستی باری تعالیٰ کے متعلق دی ہے ان آیات سے معلوم ہوتی ہے کہ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیۡنٰہَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ عَلٰی قَوۡمِہٖ ؕ نَرۡفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنۡ نَّشَآءُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ وَوَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ وَیَعۡقُوۡبَ ؕ کُلًّا ہَدَیۡنَا ۚ وَنُوۡحًا ہَدَیۡنَا مِنۡ قَبۡلُ وَمِنۡ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَسُلَیۡمٰنَ وَاَیُّوۡبَ وَیُوۡسُفَ وَمُوۡسٰی وَہٰرُوۡنَ ؕ وَکَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ وَزَکَرِیَّا وَیَحۡیٰی وَعِیۡسٰی وَاِلۡیَاسَ ؕ کُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ وَاِسۡمٰعِیۡلَ وَالۡیَسَعَ وَیُوۡنُسَ وَلُوۡطًا ؕ وَکُلًّا فَضَّلۡنَا عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ(الانعام: ۸۴-۸۷) پھر کچھ آیات کے بعد فرمایا کہ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدٰٮہُمُ اقۡتَدِہۡ(الانعام: ۹۱) یعنی ایک دلیل ہے جو ہم نے ابراہیمؑ کو اس کی قوم کے مقابل میں دی اور ہم جس کے درجات چاہتے ہیں بلند کرتے ہیں تحقیق تیرا رب بڑا حکمت والا اور علم والا ہے اور ہم نے اسے اسحاق و یعقوب دیئے ہر ایک کو ہم نے سچا راستہ دکھایا اور نوح کو بھی ہم نے سچا راستہ دکھایا اس سے پہلے اور اس کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان ایوب یوسف موسیٰ اور ہارون کو بھی اور ہم نیک اعمال میں کمال کرنے والوں کے ساتھ اسی طرح سلوک کیا کرتے ہیں اور زکریا یحییٰ عیسیٰ اور الیاس کو بھی راہ دکھایا اور یہ سب لوگ نیک تھے اور اسمعیل اور یسع اور لوط کو بھی راستہ دکھایا اور ان سب کو ہم نے اپنے اپنے زمانہ کے لوگوں پر فضیلت دی تھی اور پھر فرماتا ہے کہ یہ وہ لوگ تھے کہ جن کو خدا نے ہدایت دی پس تو ان کے طریق کی پیروی کر۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس قدر نیک اور پاک لوگ جس بات کی گواہی دیتے ہیں وہ مانی جائے یا وہ بات جو دوسرے ناواقف لوگ کہتے ہیں اور اپنے چال چلن سے ان کے چال چلن کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ سیدھی بات ہے کہ انہیں لوگوں کی بات کو وقعت دی جاوے گی جو اپنے چال چلن اور اپنے عمل سے دنیا پر اپنی نیکی اور پاکیزگی اور گناہوں سے بچنا اور جھوٹ سے پرہیز کرنا ثابت کر چکے ہیں پس ہر ایک شخص کا فرض ہے کہ وہ انہیں کا تتبع کرے اور ان کے مقابل میں دوسرے لوگوں کی بات کا انکار کر دے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس قدر نیکی اور خلق کے پھیلانے والے گزرے ہیں اور جنہوں نے اپنے اعمال سے دنیا پر اپنی راستی کا سکہ بٹھا دیا تھا وہ سب کے سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ایک ایسی ہستی ہے جسے مختلف زبانوں میں اللہ یا گاڈ یا پرمیشور کہا گیا ہے۔ ہندوستان کے راستباز رامچندرؔ کرشنؔ، ایران کا راستباز زرتشتؔ، مصر کا راستباز موسیٰؑ، ناصرہ کا راستباز مسیحؑ، پنجاب کا ایک راستباز نانکؔ پھر سب راستبازوں کا سرتاج عرب کا نور محمد مصطفٰےؐ جس کو اسکی قوم نے بچپن سے صادق کا خطاب دیا اور جو کہتا ہے کہ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا(یونس: ۱۷) میں نے تو تم میں اپنی عمر گزاری ہے کیا تم میرا کوئی جھوٹ ثابت کر سکتے ہو اور اسکی قوم کوئی اعتراض نہیں کرتی اور ان کے علاوہ اور ہزاروں راستباز جو وقتاً فوقتاً دنیا میں ہوئے ہیں یک زبان ہو کر پکارتے ہیں کہ ایک خدا ہے اور یہی نہیں بلکہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس سے ملاقات کی اور اس سے ہم کلام ہوئے ۔ بڑے سے بڑے فلاسفر جنہوں نے دنیا میں کوئی کام کیا ہو وہ ان میں سے ایک کے کام کا ہزارواں حصہ بھی پیش نہیں کر سکتے بلکہ اگر ان لوگوں اور فلاسفروں کی زندگی کا مقابلہ کیا جائے تو فلاسفروں کی زندگی میں اقوال سے بڑھ کر افعال کے باب بہت ہی کم نظر آئیں گے ۔ وہ صدق اور راستی جو انہوں نے دکھائی وہ فلاسفر کہاں دکھا سکے ؟ وہ لوگوں کو راستی کی تعلیم دیتے ہیں مگر خود جھوٹ سے پرہیز نہیں کرتے ۔ لیکن اس کے مقابلہ میں وہ لوگ جن کا نام میں اوپر لے چکا ہوں صرف راستی کی خاطر ہزاروں تکلیفوں کو برداشت کرتے رہے لیکن کبھی ان کا قدم اپنی جگہ سے نہیں ہلا انکے قتل کرنے کے منصوبے کئے گئے ۔ ان کو وطنوں سے خارج کیا گیا ، ان کو گلیوں اور بازاروں میں ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی، ان سے کل دنیا نے قطع تعلق کر لیا مگر انہوں نے اپنی بات نہ چھوڑی اور کبھی نہ کیا کہ لوگوں کی خاطر جھوٹ بولکر اپنے آپ کو بچا لیتے اور ان کے عمل نے ، انکی دنیا سے نفرت نے ، نمائش سے علیحدگی نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ وہ بے غرض تھے اور کسی نفسانی غرض سے کوئی کام نہ کرتے تھے ۔ پھر ایسے صادق ایسے قابل اعتبار یک زبان ہو کر کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی اسکی آواز سنی اور اس کے جلوے کا مشاہدہ کیا تو ان کے قول کا انکار کرنے کی کسی کے پاس کیا وجہ ہے ۔ جن لوگوں کو ہم روز جھوٹ بولتے سنتے ہیں وہ بھی چند مل کر ایک بات کی گواہی دیتے ہیں تو ماننا ہی پڑتا ہے جن کے احوال سے ہم بالکل ناواقف ہوتے ہیں وہ اخباروں میں اپنی تحقیقات شائع کرتے ہیں تو ہم تسلیم کر لیں گے مگر نہیں مانتے تو ان راستبازوں کا کلام نہیں مانتے ۔ دنیا کہتی ہے کہ لندن ایک شہر ہے اور ہم اسے تسلیم کرتے ہیں جغرافیہ والے لکھتے ہیں کہ امریکہ ایک بڑا اعظم ہے اور ہم اسکی تصدیق کرتے ہیں سیاح کہتے ہیں کہ سائبیریا ایک وسیع اور غیر آباد علاقہ ہے ہم اس کا انکار نہیں کرتے ۔ کیوں؟ اس لئے کہ بہت سے لوگوں کی گواہی اسپر ہو گئی ہے ۔ حالانکہ ہم ان گواہوں کے حالات سے واقف نہیں کہ وہ جھوٹے ہیں یا سچے مگر اللہ تعالیٰ کے وجود پر عینی گواہی دینے والے وہ لوگ ہیں کہ جن کی سچائی روز روشن کی طرح عیاں ہے انہوں نے اپنے مال و جان وطن عزت و آبرو کو تباہ کر کے راستی کو دنیا میں قائم کیا پھر ان سیاحوں اور جغرافیہ والوں کی بات کو ماننا اور ان راستبازوں کی بات کو نہ ماننا کہاں کی راستبازی ہے۔ اگر لندن کا وجود چند لوگوں سے سن کر ثابت ہو سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا وجود ہزاروں راستبازوں کی گواہی پر کیوں ثابت نہیں ہو سکتا۔
غرضیکہ ہزاروں راستبازوں کی شہادت جو اپنے عینی مشاہدہ پر خدا تعالیٰ کے وجود کی گواہی دیتے ہیں کسی صورت میں بھی رد کے قابل نہیں ہو سکتی تعجب ہے کہ جو اس کوچہ میں پڑے ہیں وہ تو سب باتفاق کہہ رہے ہیں کہ خدا ہے لیکن جو روحانیت کے کوچہ سے بالکل بے بہرہ ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان کی بات نہ مانو کہ خدا ہے حالانکہ اصول شہادت کے لحاظ سے اگر دو برابر کے راستباز آدمی بھی ایک معاملہ کے متعلق گواہی دیں تو جو کہتا ہے کہ میں نے فلاں چیز کو دیکھا اسکی گواہی کو اسکی گواہی پر جو کہتا ہے میں نے اس چیز کو نہیں دیکھا ترجیح دی جائے گی کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ان میں سے ایک کی نظر اس چیز پر نہ پڑی ہو لیکن یہ ناممکن ہے کہ ایک نے نہ دیکھا ہو اور سمجھ لے کہ میں نے دیکھا ہے پس خدا کے دیکھنے والوں کی گواہی اس کے منکروں پر بہر حال حجت ہو گی۔
تیسری دلیل جو قرآن شریف سے معلوم ہوتی ہے یہ ہے کہ انسان کی فطرت خود خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایک دلیل ہے کیونکہ بعض ایسے گناہ ہیں کہ جن کو فطرت انسانی قطعی طور پر ناپسند کرتی ہے ماں، بہن اور لڑکی کے ساتھ زنا ہے۔ پاخانہ پیشاب اور اس قسم کی نجاستوں کے ساتھ تعلق ہے۔ جھوٹ ہے یہ سب ایسی چیزیں ہیں کہ جن سے ایک دہریہ بھی پرہیز کرتا ہے مگر کیوں؟ اگر کوئی خدا نہیں تو کیوں؟ وہ کیوں ماں اور بہن اور دوسری عورتوں میں کچھ فرق جانتا ہے۔ جھوٹ کو کیوں برا جانتا ہے۔ کیا دلائل ہیں کہ جنہوں نے مذکورہ بالا چیزوں کو اس کی نظر میں بد نما قرار دیا ہے اگر کسی بالائی طاقت کا رعب اس کے دل پر نہیں تو وہ کیوں ان سے احتراز کرتا ہے؟ اسکے لئے تو جھوٹ اور سچ ظلم اور انصاف سب ایک ہی ہونا چاہئے جو دل کی خوشی ہوئی کر لیا۔ وہ کونسی شریعت ہے جو اسکے جذبات پر حکومت کرتی ہے، جس نے دل پر اپنا تخت رکھا ہے۔ اور گو ایک دہریہ زبان سے اسکی حکومت سے نکل جائے لیکن وہ اسکی بنائی ہوئی فطرت سے باہر نہیں نکل سکتا اور گناہوں سے اجتناب یا انکے اظہار سے اجتناب اسکے لئے ایک دلیل ہے کہ کسی بادشاہ کی جوابدہی کا خوف ہے جو اس کے دل پر طاری ہے گو وہ اسکی بادشاہت کا انکار ہی کرتا ہے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَاۤ اُقۡسِمُ بِیَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ وَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالنَّفۡسِ اللَّوَّامَۃِ(القیمة: ۲، ۳) یعنی جیسا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ نہ خدا ہے نہ جزا سزا ہے ایسا نہیں بلکہ ہم ان امور کی شہادت کیلئے دو چیزیں پیش کرتے ہیں ایک تو اسبات کو کہ ہر بات کیلئے ایک قیامت کا دن مقرر ہے جس میں کہ اس کا فیصلہ ہوتا ہے اور نیکی کا بدلہ نیک اور بدی کا بدلہ بد مل جاتا ہے اگر خدا نہیں تو جزاء و سزا کیونکر مل رہی ہے اور جو لوگ قیامت کبریٰ کے منکر ہیں وہ دیکھ لیں کہ قیامت تو اس دنیا سے شروع ہے زانی کو آتشک و سوزاک ہوتا ہے شادی شدہ کو تو نہیں ہوتا حالانکہ دونوں ایک ہی کام کر رہے ہوتے ہیں۔ دوسری شہادت نفس لوامہ ہے یعنی انسان کا نفس خود ایسے گناہ پر ملامت کرتا ہے کہ یہ بات بری ہے اور گندی ہے دہریہ بھی زنا اور جھوٹ کو برا جانیں گے تکبر اور حسد کو اچھانہ سمجھیں گے مگر کیوں؟ ان کے پاس تو کوئی شریعت نہیں۔ اس لئے نا کہ ان کا دل برا مانتا ہے اور دل اسی لئے برا مانتا ہے کہ مجھے اس فعل کی ایک حاکم اعلیٰ کی طرف سے سزا ملے گی گو وہ لفظوں میں اسے ادا نہیں کر سکتا اسی کی تائید میں ایک اور جگہ قرآن شریف میں ہے فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَتَقۡوٰٮہَا(الشمس: ۹) اللہ تعالیٰ نے ہر نفس میں نیکی اور بدی کا الہام کر دیا ہے پس نیکی بدی کا احساس خود خدا کی زبردست دلیل ہے اگر خدا نہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک چیز کو نیک اور ایک کو بد کہا جاوے جو دل میں آئے لوگ کیا کریں۔
چوتھی دلیل جو قرآن شریف سے ذات باری کے متعلق معلوم ہوتی ہے یہ ہے وَاَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الۡمُنۡتَہٰی وَاَنَّہٗ ہُوَ اَضۡحَکَ وَاَبۡکٰی وَاَنَّہٗ ہُوَ اَمَاتَ وَاَحۡیَا وَاَنَّہٗ خَلَقَ الزَّوۡجَیۡنِ الذَّکَرَ وَالۡاُنۡثٰی مِنۡ نُّطۡفَۃٍ اِذَا تُمۡنٰی(النجم: ۴۳-۴۷) یعنی یہ بات ہر ایک نبی کی معرفت ہم نے پہنچادی ہے کہ ہر ایک چیز کا انتہاء اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی جا کر ہوتا ہے اور خواہ خوشی کے واقعات ہوں یا رنج کے وہ خدا ہی کی طرف سے آتے ہیں اور موت اور حیات سب اسی کے ہاتھ میں ہیں اور اسنے مرد و عورت دونوں کو پیدا کیا ہے ایک چھوٹی سی چیز سے جس وقت وہ ڈالی گئی۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اسطرف متوجہ کیا ہے کہ ہر ایک فعل کا ایک فاعل ہوتا ہے اور ضرور ہے کہ ہر کام کے کرنے والا بھی کوئی ہو پس اس تمام کائنات پر اگر غور کرو گے تو ضرور تمہاری رہنمائی اس طرف ہو گی کہ سب اشیاء آخر جا کر ذات باری پر ختم ہوتی ہیں اور وہی انتہاء ہے تمام اشیاء کی اور اسی کے اشارے سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی حالت کی طرف متوجہ کر کے فرمایا ہے کہ تمہاری پیدائش تو ایک نطفہ سے ہے اور تم تو جوں جوں پیچھے جاتے ہو اور حقیر ہوتے جاتے ہو پھر تم کیونکر اپنے خالق ہو سکتے ہو جب خالق کے بغیر کوئی مخلوق ہو نہیں سکتی اور انسان اپنا آپ خالق نہیں ہے کیونکہ اسکی حالت پر جس قدر غور کریں وہ نہایت چھوٹی اور ادنیٰ حالت سے ترقی کر کے اس حالت کو پہنچتا ہے اور جب وہ موجودہ حالت میں خالق نہیں تو اس کمزور حالت میں کیونکر خالق ہو سکتا تھا تو ماننا پڑے گا کہ اس کا خالق کوئی اور ہے جس کی طاقتیں غیر محدود اور قدرتیں لا انتہاء ہیں۔ غرضیکہ جس قدر انسان کی درجہ بدرجہ ترقی پر غور کرتے جائیں اس کے اسباب باریک سے باریک تر ہوتے جاتے ہیں اور آخر ایک جگہ جا کر تمام دنیاوی علوم کہہ دیتے ہیں کہ یہاں اب ہمارا دخل نہیں اور ہم نہیں جانتے کہ یہ کیوں ہو گیا اور وہی مقام ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ کا ہاتھ کام کر رہا ہوتا ہے اور ہر ایک سائنس دان کو آخر ماننا پڑتا ہے کہ اِلٰی رَبِّکَ الۡمُنۡتَہٰی(53:43) یعنی ہر ایک چیز کی انتہاء ہوتی ہے اور آخر ایک ایسی ہستی پر ہوتی ہے کہ جس کو وہ اپنی عقل کے دائرہ میں نہیں لاسکتے اور وہی خدا ہے یہ ایک موٹی دلیل ہے کہ جسے ایک جاہل سے جاہل انسان بھی سمجھ سکتا ہے۔
کہتے ہیں کہ کسی نے ایک بدوی سے پوچھا تھا کہ تیرے پاس خدا کی کیا دلیل ہے اس نے جواب دیا کہ جنگل میں ایک اونٹ کی مینگنی پڑی ہوئی ہو تو میں دیکھ کر بتا دیتا ہوں کہ یہاں سے کوئی اونٹ گزرا ہے پھر اتنی بڑی مخلوقات کو دیکھ کر میں معلوم نہیں کر سکتا کہ اسکا کوئی خالق ہے☆ واقعی یہ جواب ایک سچا اور فطرت کے مطابق جواب ہے اور اس مخلوقات کی پیدائش کی طرف اگر انسان توجہ کرے تو آخر ایک ہستی کو ماننا پڑتا ہے کہ جس نے یہ سب پیدا کیا۔
پانچویں دلیل ہستی باری کی جو قرآن شریف نے دی ہے گو اسی رنگ کی ہے لیکن اس سے زیادہ زبردست ہے اور وہاں استدلال بالاولٰی سے کام لیا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَبٰرَکَ الَّذِیۡ بِیَدِہِ الۡمُلۡکُ ۫ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرُ ۣالَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡغَفُوۡرُ الَّذِیۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ؕ مَا تَرٰی فِیۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ؕ فَارۡجِعِ الۡبَصَرَ ۙ ہَلۡ تَرٰی مِنۡ فُطُوۡرٍ ثُمَّ ارۡجِعِ الۡبَصَرَ کَرَّتَیۡنِ یَنۡقَلِبۡ اِلَیۡکَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّہُوَ حَسِیۡرٌ(الملک: ۲-۵)۔ یعنی بہت برکت والا ہے وہ جس کے ہاتھ میں ملک ہے وہ ہر ایک چیز پر قادر ہے اس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا ہے تاکہ دیکھے کہ تم میں سے کون زیادہ نیک عمل کرتا ہے اور وہ غالب ہے بخشندہ ہے اسنے ساتوں آسمان بھی پیدا کئے اور ان میں آپس میں موافقت اور مطابقت رکھی ہے تو کبھی کوئی اختلاف اللہ تعالیٰ کی پیدائش میں نہیں دیکھے گا پس اپنی آنکھ کو لوٹا کیا تجھے کوئی شگاف نظر آتا ہے دوبارہ اپنی نظر کو لوٹا کر دیکھ تیری نظر تیری طرف تھک کر اور ماندہ ہو کر لوٹے گی۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ تمام کائنات اتفاقاً پیدا ہو گئی اور اتفاقی طور پر مادہ کے ملنے سے یہ سب کچھ بن گیا اور سائنس سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہو سکتا ہے کہ دنیا خود بخود جڑ کر آپ ہی چلتی جائے اور اس کا پھرانیوالا کوئی نہ ہو۔ لیکن ان کا جواب اللہ تعالیٰ ان آیات میں دیتا ہے کہ اتفاقی طور سے جڑنے والی چیزوں میں کبھی ایک سلسلہ اور انتظام نہیں ہوتا بلکہ بے جوڑی ہوتی ہے مختلف رنگوں سے مل کر ایک تصویر بنتی ہے لیکن کیا اگر مختلف رنگ ایک کاغذ پر پھینک دیں تو اس سے تصویر بن جائے گی۔ اینٹوں سے مکان بنتا ہے لیکن کیا اینٹیں ایک دوسرے پر پھینک دینے سے مکان بن جائے گا۔ بفرضِ محال اگر یہ مان لیا جائے کہ بعض واقعات اتفاقاً بھی ہو جاتے ہیں لیکن نظامِ عالم کو دیکھ کر کبھی کوئی انسان نہیں کہہ سکتا کہ یہ سب کچھ آپ ہی ہو گیا۔ مانا کہ خود بخود ہی مادہ سے زمین پیدا ہو گئی اور یہ بھی مان لیا کہ اتفاقاً ہی انسان پیدا ہو گیا لیکن انسان کی خلقت پر نظر تو کرو کہ ایسی کامل پیدائش کبھی خود بخود ہو سکتی ہے عام طور سے دنیا میں ایک صفت کی خوبی سے اسکے صَنّاع کا پتہ لگتا ہے ایک عمدہ تصویر کو دیکھ کر فوراً خیال ہوتا ہے کہ کسی بڑے مصور نے بنائی ہے ایک عمدہ تحریر کو دیکھ کر سمجھا جاتا ہے کہ کسی بڑے کاتب نے لکھی ہے اور جس قدر ربط بڑھتا جائے اسی قدر اس کے بنانے یا لکھنے والے کی خوبی اور بڑائی ذہن نشین ہوتی جاتی ہے پھر کیونکر تصور کیا جاتا ہے کہ ایسی منتظم دنیا خود بخود اور یونہی پیدا ہو گئی۔ ذرا اس بات پر تو غور کرو کہ جہاں انسان میں ترقی کرنے کے قویٰ ہیں وہاں اسے اپنے خیالات کو عملی صورت میں لانے کیلئے عقل دی گئی ہے اور اس کا جسم بھی اس کے مطابق بنایا گیا ہے چونکہ اس کو محنت سے رزق کمانا تھا اس لئے اسے مادہ دیا کہ چل پھر کر اپنا رزق پیدا کر لے درخت کا رزق اگر زمین میں رکھا ہے تو اسے جڑیں دیں کہ وہ اسکے اندر سے اپنا پیٹ بھر لے۔ اگر شیر کی خوراک گوشت رکھی تو اسے شکار مارنے کیلئے ناخن دیئے اور اگر گھوڑے اور بیل کیلئے گھاس کھانا مقدر کیا تو انکو ایسی گردن دی جو جھک کر گھاس پکڑ سکے اور اگر اونٹ کیلئے درختوں کے پتے اور کانٹے مقرر کئے تو اسکی گردن بھی اونچی بنائی کیا یہ سب کارخانہ اتفاق سے ہوا۔ کیا اتفاق نے اس بات کو معلوم کر لیا تھا کہ اونٹ کو گردن لمبی دوں اور شیر کو پنجے اور درخت کو جڑیں اور انسان کو ٹانگیں۔ ہاں کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ جو کام خود بخود ہو گیا اس میں اس قدر انتظام رکھا گیا ہو۔ پھر اگر انسان کے لئے پھیپھڑا بنایا تو اس کے لئے ہوا بھی پیدا کی اگر پانی پر اسکی زندگی رکھی تو سورج کے ذریعہ بادلوں کی معرفت اسے پانی پہنچایا اور اگر آنکھیں دیں تو انکے کار آمد بنانے کیلئے سورج کی روشنی بھی دی تاکہ وہ اس میں دیکھ بھی سکے کان دیئے تو ساتھ اس کے خوبصورت آوازیں بھی پیدا کیں زبان کے ساتھ ذائقہ دار چیزیں بھی عطا فرمائیں ناک پیدا کیا تو خوشبو بھی مہیا کر دی ممکن تھا کہ اتفاق انسان میں بھوک پیدا کر دیتا لیکن اس کے لئے یہ ہوا کا سامان کیوں کر پیدا ہو گیا اور ممکن تھا کہ آنکھیں انسان کی پیدا ہو جاتیں لیکن وہ عجیب اتفاق تھا کہ جس نے کروڑوں میلوں پر جا کر ایک سورج بھی پیدا کر دیا تاکہ وہ اپنا کام کر سکیں اگر ایک طرف اتفاق نے کان پیدا کر دیئے تھے تو یہ کونسی طاقت تھی جس نے دوسری طرف آواز بھی پیدا کر دی برفانی ممالک میں مان لیا کہ کتے یا ریچھوں کو تو اتفاق نے پیدا کر دیا لیکن کیا سبب کہ ان کتوں یا ریچھوں کے بال اتنے لمبے بن گئے کہ وہ سردی سے محفوظ رہ سکیں۔ اتفاق ہی نے ہزاروں بیماریاں پیدا کیں اتفاق ہی نے ان کے علاج بنا دیئے اتفاق ہی نے بچھوبوٹی جسکے چھونے سے خارش ہونے لگ جاتی ہے پیدا کی اور اس نے اس کے ساتھ پالک کا پودا اگا دیا کہ اس کا علاج ہو جائے۔ دہریوں کا اتفاق بھی عجیب ہے کہ جن چیزوں کے لئے موت تجویز کی ان کے ساتھ توالد کا سلسلہ بھی قائم کر دیا اور جن چیزوں کے ساتھ موت نہ تھی وہاں یہ سلسلہ ہی نہیں رکھا انسان اگر پیدا ہوتا اور مرتا نہیں تو کچھ سالوں میں ہی دنیا کا خاتمہ ہو جاتا اس لئے اس کے ساتھ فنا لگا دی لیکن سورج اور چاند اور زمین نہ نئے پیدا ہوتے ہیں نہ اگلے فنا ہوتے ہیں۔ کیا یہ انتظام کچھ کم تعجب انگیز ہے کہ زمین اور سورج میں چونکہ کشش رکھی ہے اس لئے ان کو ایک دوسرے سے اتنی دور رکھا کہ آپس میں ٹکرا نہ جاویں کیا یہ باتیں اس بات پر دلالت نہیں کرتی ہیں کہ ان سب چیزوں کا خالق وہ ہے جو نہ صرف علیم ہے بلکہ غیر محدود علم والا ہے اس کے قواعد ایسے منضبط ہیں کہ ان میں کچھ اختلاف نہیں اور نہ کچھ کمی ہے مجھے تو اپنی انگلیاں بھی اس کی ہستی کا ایک ثبوت معلوم ہوتی ہیں مجھے جہاں علم دیا تھا اگر شیر کا پنجہ مل جاتا تو کیا میں اس سے لکھ سکتا تھا شیر کو علم نہیں دیا اسے پنجے دیئے مجھے علم دیا لکھنے کیلئے انگلیاں بھی دیں۔
سلطنتوں میں ہزاروں مدبّر انکی درستی کیلئے رات دن لگے رہتے ہیں لیکن پھر بھی دیکھتے ہیں کہ ان سے ایسی ایسی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں کہ جن سے سلطنتوں کو خطرناک نقصان پہنچ جاتا ہے بلکہ بعض اوقات بالکل تباہ ہو جاتی ہیں لیکن اگر اس دنیا کا کاروبار صرف اتفاق پر ہے تو تعجب ہے کہ ہزاروں دانا دماغ تو غلطی کرتے ہیں لیکن یہ اتفاق تو غلطی نہیں کرتا لیکن سچی بات یہی ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے جو بڑے وسیع عالم کا مالک اور عزیز ہے اور اگر یہ نہ ہوتا تو یہ انتظام نظر نہ آتا۔ اب جس طرف نظر دوڑاکر دیکھو تمہاری نظر قرآن شریف کے ارشاد کے مطابق خائب و خاسر واپس آئیگی اور ہر ایک چیز میں ایک انتظام معلوم ہو گا نیک جزاء اور بد کار سزا پارہے ہیں ہر ایک چیز اپنا مفوّضہ کام کر رہی ہے اور ایک دم کیلئے ست نہیں ہوئی یہ ایک بہت وسیع مضمون ہے لیکن میں اسے یہیں ختم کرتا ہوں۔ عاقل را اشارہ کافی است۔
قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے منکر ہمیشہ ذلیل و خوار ہوتے ہیں اور یہ بھی ایک ثبوت ہے ان کے باطل پر ہونے کا کیونکہ اللہ اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ فتوحات دیتا ہے اور وہ اپنے مخالفوں پر غالب رہتے ہیں اگر کوئی خدا نہیں تو یہ نصرت اور تائید کہاں سے آتی ہے چنانچہ فرعون موسیٰ کی نسبت فرماتا ہے کہ فَقَالَ اَنَا رَبُّکُمُ الۡاَعۡلٰی فَاَخَذَہُ اللّٰہُ نَکَالَ الۡاٰخِرَۃِ وَالۡاُوۡلٰی(النّٰزعٰت: ۲۵، ۲۶) یعنی جب حضرت موسیٰؑ نے اسے اطاعت الٰہی کی نسبت کہا تو اس نے تکبر سے جواب دیا کہ خدا کیسا، خدا تو میں ہوں پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس جہاں میں بھی اور اگلے جہاں میں بھی ذلیل کر دیا چنانچہ فرعون کا واقعہ ایک بیّن دلیل ہے کہ کس طرح خدا کے منکر ذلیل و خوار ہوتے رہتے ہیں علاوہ ازیں دنیا میں کبھی کوئی سلطنت دہریوں نے قائم نہیں کی بلکہ دنیا کے فاتح اور ملکوں کے مصلح اور تاریخ کے بنانے والے وہی لوگ ہیں کہ جو خدا کے قائل ہیں کیا یہ انکی ذلت و نکبت اور قوم کی صورت میں کبھی دنیا کے سامنے نہ آنا کچھ معنی نہیں رکھتا۔
اللہ تعالیٰ کی ہستی کی یہ ہے کہ اس کی ذات کے ماننے والے اور اس پر ایمان رکھنے والے اور اس پر حقیقی ایمان رکھنے والے ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں اور باوجود لوگوں کی مخالفت کے ان پر کوئی مصیبت نہیں آتی خدا تعالیٰ کی ہستی کے منوانے والے ہر ملک میں پیدا ہوئے ہیں اور جس قدر ان کی مخالفت ہوئی ہے اتنی اور کسی کی نہیں لیکن پھر دنیا اس کے خلاف کیا کر سکی۔ رامچندر کو بن باس دینے والوں نے کیا سکھ پایا؟ اور راون نے کونسی عشرت حاصل کر لی؟ کیا رامچندر کا نام ہزاروں سال کیلئے زندہ نہیں ہو گیا اور کیا راون کا نام ہمیشہ کیلئے بدنام نہیں ہوا؟ اور کرشن کی بات کا رد کر کے کورو نے کیا فائدہ حاصل کیا۔ کیا وہ کرو چھتر کے میدان میں تباہ نہ ہوئے؟ فرعون بادشاہ جو بنی اسرائیل سے اینٹیں پتھواتا تھا اس نے موسیٰؑ جیسے بے کس انسان کی مخالفت کی مگر کیا موسیٰؑ کا کچھ بگاڑ سکا؟ وہ غرق ہو گیا اور موسیٰؑ بادشاہ ہو گئے۔ حضرت مسیحؑ کی دنیا نے جو کچھ مخالفت کی وہ بھی ظاہر ہے اور انکی ترقی بھی جو کچھ ہوئی پوشیدہ نہیں ان کے دشمن تو تباہ ہوئے اور ان کے غلام ملکوں کے بادشاہ ہو گئے۔ ہمارے آقا بھی دنیا میں سب سے زیادہ اس پاک ذات کے نام کے پھیلانے والے تھے یہاں تک کہ ایک یورپ کا مصنف کہتا ہے کہ ان کو خدا کا جنون تھا (نعوذ باللہ) ہر وقت خدا خدا ہی کہتے رہتے تھے۔ ان کی سات قوموں نے مخالفت کی اپنے پرائے سب دشمن ہو گئے مگر کیا پھر آپ کے ہاتھ پر دنیا کے خزانے فتح نہیں ہوئے؟ اگر خدا نہیں تو یہ تائید کس نے کی؟ اگر یہ سب کچھ اتفاق تھا تو کوئی مبعوث تو ایسا ہو تا جو خدا کی خدائی ثابت کرنے آتا اور دنیا اسے ذلیل کر دیتی مگر جو کوئی خدا کے نام کو بلند کرنے والا اٹھا وہ معزز و ممتاز ہی ہوا چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَرَسُوۡلَہٗ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ(المائدہ: ۵۷) اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں سے دوستی کرتا ہے پس یاد رکھنا چاہئے کہ یہی لوگ خدا کے ماننے والے ہی غالب رہتے ہیں۔
آٹھویں دلیل جو قرآن شریف سے اللہ تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت میں ملتی ہے یہ ہے کہ وہ دعاؤں کو قبول کرتا ہے جب کوئی انسان گھبرا کر اس کے حضور میں دعا کرتا ہے تو وہ اسے قبول کرتا ہے۔ اور یہ بات کسی خاص زمانہ کے متعلق نہیں بلکہ ہر زمانہ میں اس کے نظارے موجود ہوتے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَلۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡشُدُوۡنَ(البقرۃ: ۱۸۷) یعنی جب میرے بندے میری نسبت سوال کریں تو انہیں کہہ دو کہ میں ہوں اور پھر قریب ہوں پکارنے والے کی دعا کو سنتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں اب اگر کوئی شخص کہے کہ کیونکر معلوم ہو کہ دعا خدا سنتا ہے کیوں نہ کہا جائے کہ اتفاقاً بعض دعا کرنے والے کے کام ہو جاتے ہیں جیسے بعض کے نہیں بھی ہوتے۔ اگر سب دعائیں قبول ہو جائیں تب بھی کچھ بات تھی لیکن بعض کے قبول ہونے سے کیونکر معلوم ہو کہ اتفاق نہ تھا بلکہ کسی ہستی نے قبول کر لیا تو اسکا جواب یہ ہے کہ دعا کی قبولیت اپنے ساتھ نشان رکھتی ہے چنانچہ ہمارے آقا حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ثبوت باری تعالیٰ کی دلیل میں یہ پیش کیا تھا کہ چند بیمار جو خطرناک طور پر بیمار ہوں چنے جائیں اور بانٹ لئے جائیں اور ایک گروہ کا ڈاکٹر علاج کریں اور ایک طرف میں اپنے حصہ والوں کیلئے دعا کروں پھر دیکھو کہ کس کے بیمار اچھے ہوتے ہیں۔ اب اس طریق امتحان میں کیا شک ہو سکتا ہے چنانچہ ایک سگ گزیدہ جسے دیوانگی ہو گئی اور جس کے علاج سے کسولی کے ڈاکٹروں نے قطعاً انکار کر دیا تھا اور لکھ دیا تھا کہ اس کا کوئی علاج نہیں اس کے لئے آپ نے دعا کی اور وہ اچھا ہو گیا حالانکہ دیوانے کتے کے کاٹے ہوئے دیوانہ ہو کر کبھی اچھے نہیں ہوتے۔ پس دعاؤں کی قبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی ایسی ہستی موجود ہے جو انہیں قبول کرتی ہے اور دعاؤں کی قبولیت کسی خاص زمانہ سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ ہر زمانہ میں اس کے نمونے دیکھے جا سکتے ہیں جیسے پہلے زمانہ میں دعائیں قبول ہوتی تھیں ویسے ہی اب بھی ہوتی ہیں۔
نویں دلیل قرآن شریف سے وجودِ باری کی الہام معلوم ہوتی ہے یہ دلیل اگرچہ میں نے نویں نمبر پر رکھی ہے لیکن درحقیقت نہایت عظیم الشان دلیل ہے جو خدا تعالیٰ کے وجود کو یقینی طور سے ثابت کر دیتی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَفِی الۡاٰخِرَۃِ(ابراھیم: ۲۸) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندوں کو اس دنیا اور اگلی دنیا میں پکی باتیں سنا سنا کر مضبوط کرتا رہتا ہے پس جب کہ ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ ایک بڑی تعداد کے ساتھ ہم کلام ہوتا رہتا ہے تو پھر اس کا انکار کیونکر درست ہو سکتا ہے اور نہ صرف انبیاء اور رسولوں کے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے بلکہ اولیاء سے بھی باتیں کرتا ہے اور بعض دفعہ اپنے کسی غریب بندہ پر بھی رحم کر کے اس کی تشفی کیلئے کلام کرتا ہے چنانچہ اس عاجز سے بھی اس نے کلام کیا اور اپنے وجود کو دلائل سے ثابت کیا پھر یہی نہیں بعض دفعہ نہایت گندے اور بد باطن آدمیوں سے بھی ان پر حجت قائم کرنے کیلئے بول لیتا ہے چنانچہ بعض دفعہ چوہڑوں چماروں کنجنیوں تک کو خوابیں اور الہام ہو جاتے ہیں اور اس بات کا ثبوت کہ وہ کسی زبردست ہستی کی طرف سے ہیں یہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ان میں غیب کی خبریں ہوتی ہیں جو اپنے وقت پر پوری ہو کر بتا دیتی ہیں کہ یہ انسانی دماغ کا کام نہ تھا اور نہ کسی بد ہضمی کا نتیجہ تھا اور بعض دفعہ سینکڑوں سال آگے کی خبریں بتائی جاتی ہیں تاکہ کوئی یہ نہ کہہ دے کہ موجودہ واقعات خواب میں سامنے آگئے اور وہ اتفاقاً پورے بھی ہو گئے چنانچہ توریت اور قرآن شریف میں مسیحیوں کی ان ترقیوں کا جنکو دیکھ کر اب دنیا حیران ہے پہلے ذکر موجود تھا اور پھر صریح لفظوں میں تفصیل کے ساتھ۔ بلکہ ان واقعات کا بھی ذکر ہے جو آئندہ پیش آنے والے ہیں مثلاً الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ(التکویر: ۵) یعنی ایک وقت آتا ہے کہ اونٹنیاں بیکار ہو جائیں گی اور حدیث مسلم میں اس کی تفسیر یہ ہے وَ لَيُتْرَكَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعٰى عَلَيْهَا یعنی اونٹوں سے کام نہ لیا جائے گا چنانچہ اس زمانے میں ریل کے اجراء سے یہ پیشگوئی پوری ہو گئی ریل کے متعلق نبی کریمﷺ کے کلام میں ایسے ایسے اشارے پائے جاتے ہیں جن سے ریل کا نقشہ آنکھوں میں پھر جاتا ہے اور یقین ہو جاتا ہے کہ کلامِ نبوت میں بھی سواری
(مراد) ہے جو حبسِ ماء (Steam) سے چلے گی اور اپنے آگے دھوئیں کا ایک پہاڑ رکھے گی اور سواری اور بار برداری کے لحاظ سے حمار کی طرح ہوگی اور چلتے وقت ایک آواز کرے گی وَغَیْرُ ذٰلِکَ۔
دوم الصُّحُفُ نُشِرَتۡ(التکویر: ۱۱) یعنی کتابوں اور نوشتوں کا بہ کثرت شائع ہونا آجکل بباعث چھاپہ کی کلوں کے جس قدر اس زمانہ میں کثرت اشاعت کتابوں کی ہوئی ہے اسکے بیان کی ضرورت نہیں۔
سوم۔ وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ(التکویر: ۸) نوع انسان کے باہمی تعلقات کا بڑھنا اور ملاقاتوں کا طریق سہل ہو جانا کہ موجودہ زمانے سے بڑھ کر متصور نہیں۔
چہارم۔ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ ۙ تَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ(النّٰزعٰت: ۷) متواتر اور غیر معمولی زلزلوں کا آنا یہاں تک کہ زمین کانپنے والی بن جائے سو یہ زمانہ اس کے لئے بھی خصوصیت سے مشہور ہے۔
پنجم۔ وَاِنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اِلَّا نَحۡنُ مُہۡلِکُوۡہَا قَبۡلَ یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ اَوۡ مُعَذِّبُوۡہَا(بنی اسرائیل: ۵۹) کوئی ایسی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے پہلے پہلے ہلاک نہیں کریں گے یا کسی حد تک اس پر عذاب وارد نہیں کریں گے چنانچہ اسی زمانہ میں طاعون اور زلزلوں اور طوفان اور آتش فشاں پہاڑوں کے صدمات اور باہمی جنگوں سے لوگ ہلاک ہو رہے ہیں اور اس قدر اسباب موت کے اس زمانہ میں جمع ہوئے ہیں اور اس شدت سے وقوع میں آئے ہیں کہ اس مجموعی حالت کی نظیر کسی پہلے زمانہ میں پائی نہیں جاتی۔ پھر اسلام تو ایسا مذہب ہے کہ ہر صدی میں اس کے ماننے والوں میں سے ایسے لوگ پیدا ہوتے رہتے ہیں جو الہام الٰہی سے سرفراز ہوتے رہتے ہیں اور خارق عادت نشانات سے ظاہر کرتے ہیں کہ ایک قادر و توانا مدبر بالارادہ ہستی ہے۔ چنانچہ اس زمانہ کے مامور پر نہایت بے بسی و گمنامی کی حالت میں خدا نے وحی نازل کی یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ یَّنْصُرُکَ رِجَالٌ نُّوْحِیْ اِلَیْھِمْ مِّنَ السَّمَاءِ وَلَا تُصَعِّرْ لِخَلْقِ اللهِ وَ لَا تَسْئَمْ مِنَ النَّاسِ (دیکھو براہین احمدیہ مطبوعہ ۱۸۸۱ء صفحہ ۲۴۱۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۶۷ حاشیہ) کہ ہر ایک راہ سے لوگ تیرے پاس آئیں گے اور ایسی کثرت سے آئیں گے کہ وہ راہیں عمیق ہو جائیں گی۔ تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں میں ہم آپ القاء کریں گے مگر چاہئے کہ تو خدا کے بندوں سے جو تیرے پاس آئیں گے بد خلقی نہ کرے اور چاہئے کہ تو ان کی ملاقاتوں سے تھک نہ جائے۔ ایک شخص ایک گاؤں میں رہنے والا جس کے نام سے مہذب دنیا میں سے کوئی آگاہ نہ تھا یہ اعلان کرتا ہے پھر باوجود
سخت مخالفتوں اور روکوں کے ایک دنیا دیکھتی ہے کہ امریکہ اور افریقہ سے لیکر تمام علاقوں کے لوگ یہاں حاضر رہتے ہیں اور آدمیوں کی کثرت کا یہ عالم ہے کہ ان سب سے مصافحہ و ملاقات کرنا معمولی آدمی کا کام نہیں۔ ایک مقتدر جماعت اپنے پیارے وطن کو چھوڑ کر یہاں رہنا اختیار کرتی ہے اور قادیان کا نام تمام دنیا میں مشہور ہو جاتا ہے۔ کیا یہ چھوٹی سی بات ہے اور یہ ایسا نشان ہے جسے معمولی نظر سے ٹال دیا جائے؟
دوم عیسائیوں میں سے ڈوئی نے امریکہ میں نبوت کا دعویٰ کیا اور اپنے یہ ناپاک کلمات شائع کئے کہ ”میں خدا سے دعا کرتا ہوں وہ دن جلد آئے کہ اسلام دنیا سے نابود ہو جائے اے خدا تو ایسا ہی کر۔ اے خدا اسلام کو ہلاک کر“ تو صرف یہ حضور مسیح موعود ہمارے امام علیہ السلام ہی تھے جنہوں نے اس کے مقابلہ میں اشتہار دیا کہ اے شخص جو مدعی نبوت ہے آ اور میرے ساتھ مباہلہ کر ہمارا مقابلہ دعا سے ہو گا اور ہم دونوں خدا تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ ہم میں سے جو شخص کذّاب ہے وہ پہلے ہلاک ہو (ٹیلیگراف ۵ جولائی ۱۹۰۳ء) لیکن اس نے رعونت سے کہا۔ کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں ان مچھروں اور مکھیوں کا جواب دوں گا اگر میں اپنا پاؤں ان پر رکھوں تو ان کو کچل کر مار ڈالوں (ڈوئی کا پرچہ دسمبر ۱۹۰۳ء) مگر حضور نے فرمایا تھا اور اسی اشتہار ۲۳ اگست ۱۹۰۳ء میں شائع کیا تھا کہ اگر ڈوئی مقابلہ سے بھاگ گیا تب بھی یقیناً سمجھو کہ اس کے صیہون پر جلد آفت آنے والی ہے۔ اے خدا اور کامل خدا یہ فیصلہ جلد کر اور ڈوئی کا جھوٹ لوگوں پر ظاہر کر دے۔ پھر اس کے بعد معزز ناظرین سنو کیا ہوا۔ وہ جو شہزادوں کی زندگی بسر کرتا تھا جس کے پاس سات کروڑ نقد تھا اس کی بیوی اور اس کا بیٹا دشمن ہو گئے اور باپ نے اشتہار دیا کہ وہ ولد الزنا ہے آخر اس پر فالج گرا پھر غموں کے مارے پاگل ہو گیا آخر مارچ ۱۹۰۷ء میں بڑی حسرت اور دکھ کے ساتھ جیسا کہ خدا نے اپنے مامور کو پہلے اطلاع دی اور جیسا کہ حضرت اقدس نے ۲۰ فروری ۱۹۰۷ء کے اشتہار میں شائع فرمایا تھا۔ خدا فرماتا ہے کہ ”میں ایک تازہ نشان ظاہر کروں گا جس میں فتح عظیم ہو گی وہ تمام دنیا کے لئے ایک نشان ہو گا“ ہلاک ہو کر خدا کی ہستی پر گواہی دے گیا۔ یہ عیسائی دنیا۔ پرانی دنیا نئی دنیا۔ دونوں پر حضور کی فتح تھی۔
سوم اس ملک میں آریوں کا زور ہے انکا زعیم لیکھرام تھا رسالہ کرامات الصادقین مطبوعہ صفر ۱۳۱۱ھ میں یہ پیشگوئی درج کی کہ لیکھرام کی نسبت خدا نے میری دعا قبول کر کے مجھے خبر دی ہے کہ وہ چھ سال کے اندر ہلاک ہو گا اور اس کا جرم یہ ہے کہ وہ خدا کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا تھا اور برے لفظوں کے ساتھ توہین کرتا تھا پھر ۲۲؍ فروری ۱۸۹۳ء کے اشتہار میں اسکے مرنے کی صورت بھی بتادی عِجْلٌ جَسَدٌ لَّهٗ خُوَارٌ لَّهٗ نَصَبٌ وَّ عَذَابٌ یعنی لیکھرام گوسالہ سامری ہے جو بےجان ہے اور اس میں محض ایک آواز ہے جس میں روحانیت نہیں اس لئے اس کو عذاب دیا جاوے گا جو گوسالہ سامری کو دیا گیا تھا ہر ایک شخص جانتا ہے کہ گوسالہ سامری کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا اور پھر جلایا گیا اور دریا میں ڈالا گیا تھا پھر ۲؍ اپریل ۱۸۹۳ء کو آپ نے ایک کشف دیکھا۔ (دیکھو برکات الدعا کا حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۳۳) ایک قوی مہیب شکل جو گویا انسان نہیں ملائک شداد اور غلاظ سے ہے وہ پوچھتا ہے کہ لیکھرام کہاں ہے پھر کرامات الصادقین کے اس شعر سے دن بھی بتادیا۔
وَ بَشَّرَنِیْ رَبِّیْ وَقَالَ مُبَشِّرًا
سَتَعْرِفُ يَوْمَ الْعِيْدِ وَ الْعِيْدُ اَقْرَبُ
یعنی عید سے دوسرے دن ہفتہ والے دن اور۔
الا اے دشمن نادان و بے راہ
بترس از تیغِ برانِ محمدؐ
پانچ سال پہلے شائع کر کے قتل کی صورت بھی بتادی آخر لیکھرام ۶؍ مارچ ۱۸۹۷ء کو قتل کیا گیا اور سب نے متفق اللفظ مان لیا کہ یہ پیشگوئی بڑی صفائی کے ساتھ پوری ہو کر اللہ کی ہستی کیلئے حجت ناطقہ ٹھہری پس الہام الہی ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے خدا کا انکار کرنا نہایت بے حیائی بے شرمی ہو گی۔
دسویں دلیل جو ہر ایک نزاع کے فیصلہ کے لئے قرآن شریف نے بیان فرمائی ہے اس آیت سے نکلتی ہے کہ وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(العنکبوت: ۷۰) یعنی جو لوگ ہمارے متعلق کوشش کرتے ہیں ہم ان کو اپنی راہ دکھا دیتے ہیں اور اس آیت پر جن لوگوں نے عمل کیا وہ ہمیشہ نفع میں رہے ہیں۔ وہ شخص جو خدا تعالیٰ کا منکر ہو اسے تو ضرور خیال کر لینا چاہئے کہ اگر خدا ہے تو اس کے لئے بہت مشکل ہو گی پس اس خیال سے اگر سچائی کے دریافت کرنے کی اس کے دل میں تڑپ ہو تو اسے چاہئے کہ گڑگڑا کر اور بہت زور لگا کر وہ اس رنگ میں دعا کرے کہ اے خدا اگر تو ہے اور جس طرح تیرے ماننے والے کہتے ہیں تو غیر محدود طاقتوں والا ہے تو مجھ پر رحم کر اور مجھے اپنی طرف ہدایت کر اور میرے دل میں بھی یقین اور ایمان ڈال دے تاکہ میں محروم نہ رہ جاؤں اگر اس طرح سچے دل سے کوئی شخص دعا کرے گا اور کم سے کم چالیس دن تک اس پر عمل کرے گا تو خواہ اس کی پیدائش کسی مذہب میں ہوئی ہو اور وہ کسی ملک کا باشندہ ہو رب العالمین اس کو ضرور ہدایت کرے گا اور وہ جلد دیکھ لے گا کہ اللہ تعالیٰ ایسے رنگ میں اس پر اپنا وجود ثابت کر دے گا کہ اس کے دل سے شک و شبہ کی نجاست بالکل دور ہو جائے گی۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ اس طریق فیصلہ میں کسی قسم کا دھوکہ نہیں ہو سکتا پس سچائی کے طالبوں کے لئے اس پر عمل کرنا کیا مشکل ہے؟
فی الحال ان دس دلائل پر ہی میں اپنا مضمون ختم کرتا ہوں اور گو قرآن شریف میں اور دلائل بھی ہیں لیکن میں سردست انہیں پر اکتفا کرتا ہوں اگر کوئی اس پر غور کرے گا تو انہیں دلائل میں سے اس کے لئے اور دلائل بھی نکل آئیں گے وَاللهُ الْمُسْتَعَانُ۔
آخر میں ان احباب سے جن کے ہاتھ میں یہ پمفلٹ پہنچے استدعا کرتا ہوں کہ اسے پڑھنے کے بعد کسی اور ایسے دوست کو دے دیں کہ جس کے لئے اسے مفید سمجھیں۔
(تشحیذ الاذہان مارچ ۱۹۱۳ء)
از
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
ہندوستان کیا ہر ملک میں جنگل کے جنگل درختوں کے کھڑے ہوتے ہیں۔ ان درختوں کو کس نے لگایا۔ اور کون ان کی حفاظت کر رہا ہے۔ کس نے ان کو پانی دیا پھر کس نے جانوروں اور حشرات الارض سے ان کی نگہبانی کی۔ وہ کونسی قوم تھی جو اپنا وقت اور مال صرف کر کے ان کے لگانے اور پھر ان کی حفاظت کرنے میں مصروف رہی اگر کوئی قوم ایسی نظر نہیں آتی تو پھر وہ کہاں سے آئے آسمان پر ایک ہستی ہے جس نے زمین کو آسمان کو سورج کو چاند کو ستاروں کو سیاروں کو آگ کو پانی کو مٹی کو ہوا کو انسان کو حیوان کو پیدا کیا ہے۔ اسی نے ان درختوں کو لگایا اور ایسے رنگ میں لگایا ہے کہ جسے دیکھ کر عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے بیج کو جسے دیکھ کر کوئی وہم بھی نہیں کر سکتا کہ اس میں سے اس قدر عظیم الشان درخت کھڑا ہو جائے گا۔ ہوائیں اڑا کر لاتی ہیں۔ اور ایک خالی جگہ پر گر جاتا ہے۔ پھر ہلکی ہوائیں اس پر کچھ گرد و غبار ڈال دیتی ہیں۔ اور پھر آسمانوں اور زمینوں کا بادشاہ سورج کو حکم دیتا ہے کہ اپنی حرارت سے وہ سمندروں میں سے پانی کھینچے مون سون اسے اڑا لاتی ہیں اور رفتہ رفتہ وہ بادل کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اور اس وسیع میدان میں کہ جس میں وہ بیج آپڑا تھا آکر برستا ہے۔ اور پھر بغیر اس کے کہ کوئی انسان بیلوں اور کنووں کی مدد سے اسے پانی دے اسے پانی مل جاتا ہے اور وہ بیج اپنی طاقت کے مطابق پھولتا ہے۔ اور پھر اس میں سے ایک باریک سی شاخ نکلتی ہے جو زمین سے خوراک حاصل کرتی ہے۔ اور سورج سے حرارت لیکن چند سال نہیں گزرنے پاتے کہ وہ ایک درخت ہو جاتا ہے
اور پھر اسے پھل لگتے ہیں اور پھر اپنے وقت پر وہ پھل زمین پر گر جاتے ہیں۔ اور ان سے اس طریق پر درخت پیدا ہوتے ہیں۔ اور ہوتے ہوتے لاکھوں لاکھ درخت پیدا ہو جاتے ہیں اور بعض دفعہ ان کا دائرہ سینکڑوں میلوں تک وسیع ہو جاتا ہے۔ کیا کوئی اس بیج کو دیکھ کر نتیجہ نکال سکتا تھا کہ یہ بیج اس طرح بڑھے گا۔ ہاں کیا کوئی اس چھوٹی سی شاخ کو جو بارش کے بعد زمین سے نمودار ہوئی تھی دیکھ کر فیصلہ کر سکتا تھا کہ یہ شاخ لاکھوں شاخوں کی جڑ ہوگی پھر کیا کوئی اس اکیلے درخت کو دیکھ کر کہہ سکتا تھا کہ اس درخت سے لاکھوں درخت پیدا ہوں گے۔ مگر اس دنیا کا ایک آقا ہے اس کے ایک ادنیٰ سے اشارے سے یہ سب ہوا اور ہوتا ہے۔
جس طرح بغیر کسی کے بیج لگائے بغیر کسی کے پانی دیئے بغیر کسی کی ظاہری حفاظت اور کوشش کے جنگل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح نا معلوم طور سے ایک روحانی بیج دنیا میں ڈالا جاتا ہے اور اسے دیکھ کر ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ اکیلا بیج جو کسی کی حفاظت میں نہیں جلد تباہ ہو جائے گا اور کسی کے پاؤں تلے آکر پس جائے گا۔ اور کوئی کونپل اس سے پیدا بھی ہوئی تو وہ جلد روندی جائے گی۔ لیکن وہ نادان کیا جانتا ہے کہ اس کا نگران کسی کو نظر نہیں آتا مگر وہ سب کا نگراں ہے اور کوئی چیز اس کی نظروں سے پوشیدہ نہیں وہ اس کی حفاظت کرتا ہے اور الہام کے پانی سے سیراب کرتا ہے۔ وہاں بے شک اس بیج کے مالی نظر نہیں آتے۔ مگر اس کی حفاظت کے لئے ملائکہ تلواریں لئے کھڑے ہوئے ہیں۔ اور ہر ایک خطرہ سے اسے محفوظ رکھتے ہیں لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ روحانی بیج جو خدا نے دنیا میں ڈالا ہے جلد تباہ ہو جائے گا لیکن ایک دن یہ دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں کہ وہ تمام دنیا میں پھیل گیا ہے اس کے کاٹنے کی کسی کو طاقت نہیں بلکہ جو چیز اس کی لپیٹ میں آتی ہے اس کے سامنے سر تسلیم خم کرتی ہے کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصۡلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ تُؤۡتِیۡۤ اُکُلَہَا کُلَّ حِیۡنٍۭ بِاِذۡنِ رَبِّہَا ؕ وَیَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ(ابراہیم: ۲۵-۲۶) کَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطۡـَٔہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ یُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیۡظَ بِہِمُ الۡکُفَّارَ ؕ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّاَجۡرًا عَظِیۡمًا(الفتح: ۳۰)
چونکہ حضرت مسیح موعودؑ بھی انہی بیجوں میں سے ایک بیج تھے اس لئے ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ ہوا۔ آج سے تیس سال پہلے کون کہہ سکتا تھا کہ یہ بیج اس قدر ترقی کرے گا اور نہ صرف اپنے اندر ترقی کرے گا بلکہ لاکھوں کا باپ ہو گا اور ہزاروں لاکھوں نفوس اس سے اپنا تعلق پیدا کریں گے اور کوئی مخالف اس پر غالب نہ ہو سکے گا۔ لیکن جو خدا کا منشاء تھا پورا ہوا اور زمین نے ایک تازہ نشان دیکھا۔ اور وہ احمدی جماعت جس کے ۳۱۳؍ آدمیوں کی فہرست نہ پوری ہو سکتی جب تک کہ بچے اور عورتیں اس میں داخل نہ کئے جائیں۔ اب اس قدر ترقی کر گئی ہے کہ ایک ہزار آدمی قادیان میں ہی موجود ہے اور مجموعی طور سے چار لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔
یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ جماعت کی ترقی کے ساتھ ضروریات بھی ترقی کرتی جاتی ہیں۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ حضرت صاحبؓ کی کتب کے شائع کرنے کے لئے ایک پریس کی ضرورت تھی۔ اور بہت مشکل کے ساتھ ایک پریس کھڑا کیا گیا تھا پھر حضرت صاحبؓ نے ضروریاتِ سلسلہ کیلئے ایک رسالہ نکالنا چاہا لیکن وہ اس وجہ سے رک رہا کہ اس کے لینے والے نظر نہ آتے تھے لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے کئی پریس یہاں کام کر رہے ہیں اور دو ہفتہ وار ایک پندرہ روزہ اور چار ماہوار رسالے یہاں سے نکل رہے ہیں اور پھر بھی ضروریات اس قدر بڑھ رہی ہیں کہ کئی معاملات ابھی توجہ کے قابل باقی ہیں کہ جن کی طرف یہ رسالہ اور اخبار توجہ نہیں کر سکتے۔ یا تو وہ زمانہ تھا کہ ایک کرایہ کے مکان میں پندرہ سولہ لڑکے پڑھتے تھے ایک انٹرنس پاس ہیڈ ماسٹر تھا۔ اور اب جماعت اس حد تک ترقی کر گئی ہے کہ سینکڑوں طلباء سکول میں تعلیم پاتے ہیں اور ڈیڑھ لاکھ روپیہ کے خرچ سے بورڈنگ اور مدرسہ تیار کرنا پڑا ہے۔ اور بورڈنگ ابھی پورا نہ ہو چکا تھا کہ تنگ معلوم دینے لگا ایک انٹرنس پاس کردہ ہیڈ ماسٹر کی جگہ مولوی صدر الدین صاحب بی اے بی ٹی جیسا لائق آدمی اور مدرّسین میں کئی دیگر گریجوایٹ کام کر رہے ہیں غرض کہ جماعت کے ساتھ اس کی ضروریات بھی بڑھتی چلی گئیں اور بڑھ رہی ہیں اور ان کا پورا کرنا ہمارا فرض ہے۔
ان بڑھنے والی ضروریات میں سے ایک نئے اخبار کی ضرورت ہے بے شک ایک وہ زمانہ تھا کہ جماعت قلیل تھی۔ اور پھر اکثر لوگ زمینداروں کے طبقہ میں سے تھے۔ لیکن اب علاوہ اس مخلص جماعت کی ترقی کے ہزاروں مخلص تعلیم یافتہ پیدا ہو گئے ہیں جن کے علوم کو وسعت دینے کے لئے اخبار کی اَشَدّ ضرورت ہے۔ پریس کی موجودہ آسانیوں نے ساری دنیا کی خبروں سے آگاہی کو ایک سہل الحصول امر بنا دیا ہے اس لئے علم دوست طبقہ اس فائدہ سے محروم رہنا پسند نہیں کرتا۔ علاوہ ازیں اللہ تعالٰی کے قائم کردہ سلسلوں کے افراد کو ہر معاملہ میں دوسروں سے بڑھ کر قدم مارنا چاہئے اور سب مفید علوم میں ان کا نمبر دوسروں پر فائق ہونا ضروری ہے۔
ایک نئے اخبار کی یہ ہے کہ بہت سے احمدی ہیں کہ جو احمدی تو ہو گئے ہیں لیکن ان کو بھی معلوم نہیں کہ احمدی ہو کر ہم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اور کس طرح ہمیں دوسروں کی نسبت رسومات و بدعات اور مقاماتِ اسراف سے بچنا چاہئے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے بھی ایک سخت کوشش کی ضرورت ہے۔
یہ ہے کہ ترقی کرنے والی قوم کے لئے اپنے اسلاف کے نیک کاموں‘ بلند ارادوں‘ وسیع الحوصلگیوں‘ صبر و استقلال کے کارناموں سے واقف ہونا اور اپنے کام کو پورا کرنے کے لئے ہر قسم کی مشقت اٹھانے کے لئے تیار ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس لئے احمدی جماعت کو تاریخ اسلام سے واقفیت بھی ضروری ہے خصوصاً رسول کریمؐ (فداہ ابی و امی) اور صحابہؓ کی تاریخ سے۔
اس وقت یہ ہے کہ ہندوستان نہیں بلکہ دنیا کی اکثر قوموں میں اس وقت سخت بے چینی پھیلی ہوئی ہے اور ایک دوسرے کے خلاف بغض و عناد کا دریا جوش مار رہا ہے۔ اور اس سلسلہ میں ہندوستان میں بھی ایک گروہ ایسا پیدا ہو گیا ہے کہ جو گورنمنٹ انگلشیہ کے خلاف عجیب عجیب رنگ سے بدظنیاں پھیلا رہا ہے اور وفاداری کے پردہ میں اس حکومت کو کمزور کرنے کی فکر میں ہے۔ اور چونکہ ہمارا کوئی ایسا اخبار نہیں کہ جو سیاست کے اہم مسائل پر اس نقطۂ خیال سے روشنی ڈالے کہ جو حضرت صاحب نے قائم کیا ہے اس لئے خطرہ ہے کہ ہم میں سے بعض احباب اس رَو میں نہ بہہ جائیں اس لئے ضروری ہے کہ بڑے زور سے اس معاملہ پر حضرت صاحب کی تحریروں سے روشنی ڈالی جائے اور احمدیوں میں اس سیاست کو رائج کیا جائے جسے حضرت صاحب نے پیش کیا۔ اور ان اصولوں کو شہرت دی جائے جن پر حضرت صاحبؑ احمدی جماعت کو چلانا چاہتے تھے۔ اور احمدی جماعت کو اس موقعہ پر اس کے اہم فرائض بار بار یاد دلائے جائیں تاکہ وہ اپنے امام کے پیش کردہ معیارِ وفاداری پر قائم رہیں۔
احمدی جماعت میں تعلیم کا پھیلانا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ جس طرح ہندوستان میں اور قومیں تعلیم میں پیچھے رہی ہوئی ہیں۔ اسی طرح احمدی بھی تعلیم میں سست ہیں حالانکہ اللہ فرماتا ہے ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ(39:10) الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ(الزمر: ۱۰) اور رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں كَلِمَةُ الْحِكْمَةِ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ اَخَذَهَا حَيْثُ وَجَدَهَا۔ پس احمدی جماعت کا اہم فرض تھا کہ اس معاملہ میں دوسروں سے بڑھ کر قدم مارتی اور اس جماعت کا کوئی فرد نہ رہتا جو تعلیم یافتہ نہ ہو۔ اور نہ صرف خود تعلیم حاصل کرتے بلکہ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے۔
یہ ہے کہ احمدی جماعت اب ہندوستان کے ہر گوشہ میں پھیل گئی ہے لیکن آپس میں ایک دوسرے سے واقفیت پیدا کرنا اور میل ملاپ کو ترقی دینا بہت ضروری ہے اور اس کے علاوہ یہ کوشش بھی ضروری ہے کہ وہ آپس کے جھگڑے آپس میں ہی فیصلہ کیا کریں۔
احمدی جماعت کو دنیا کی ترقی سے آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے محروم نہ رہیں۔ اور دین دنیا میں ترقی حاصل کریں۔ اور اس کے لئے ضروری ہے کہ تجارت حرفت و صنعت اور ایجادات جدیدہ سے انہیں آگاہ کرنے کا کوئی ذریعہ نکالا جائے۔
تبلیغ کے لئے کوشش کرنا اور جن ممالک میں تبلیغ نہیں ہوئی ان کی طرف توجہ دینا اور دشمنانِ اسلام کی تبلیغی کوششوں سے مسلمانوں کو آگاہ کرنا۔
ان ضروریات کو مدِ نظر رکھ کر ہم نے ارادہ کیا ہے کہ ایک اخبار قادیان سے نکالا جائے۔ جو ان ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ دیگر ضروری امور میں احمدی جماعت کی خدمت بجالائے اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری اس خواہش کو پورا کرے اور اس اخبار کو مفید بنائے۔
ایک سوال جو ہر نئے کام کے اجراء پر لوگوں کے دل میں پیدا ہوا کرتا ہے یہ ہے کہ کیا اس نئے اخبار کا بوجھ قوم پر نہیں پڑے گا۔ اور کیا آگے ہی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مد نظر رکھ کر یہ ضروری نہیں کہ قوم پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے؟ لیکن اس کے جواب میں مجھے صرف اتنا کہنے کی ضرورت ہے کہ تمہارے کام خدا نے کرنے ہیں اور جب خدا نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے تو اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے وہ سامان بھی ضرور مہیا کرے گا۔ جس مولیٰ نے بچے کی پیدائش سے پہلے ماں کی چھاتیوں میں دودھ اتارا ہے۔ اور انسان کی پیدائش سے پہلے سورج، چاند، ستارے، پانی اور ہوا پیدا کئے ہیں کیا وہ ہماری ضرورتوں کے پورا کرنے کے لئے کوئی تدبیر نہ کرے گا؟ جرأت اور ہمت اور استقلال سے کام لیتے ہوئے اس کے حضور میں گر جاؤ تو وہ تمہاری ہر مشکل کو آسان کر دے گا۔ اور ہر طرف سے آسمان کے دروازے تم پر کھل جائیں گے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ وہ ہر احمدی کی مدد کرتا ہے اور بہت سے ہیں کہ جو زمین سے اٹھا کر آسمان پر بٹھا دئے گئے ہیں اور سینکڑوں ہیں کہ جنہیں گڑھوں سے نکال کر بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر جگہ دی گئی ہے۔ پھر کیا وہ خدا تمہاری ان ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کچھ سامان نہ کرے گا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ جب تعلیم الاسلام ہائی سکول کے لئے بورڈنگ کی تجویز ہوئی اور پچاس ہزار کی ضرورت بتائی گئی تو ہزاروں تھے جو کہتے تھے کہ اس کمزور جماعت سے یہ کب ہو سکتا ہے۔ لیکن کیا پھر صرف بورڈنگ ہی نہیں بلکہ سکول بھی تیار نہ ہو گیا۔ اور کیا تعمیر کے اخراجات کے ہوتے ہوئے تمہاری ہی جیبوں سے دوسرے بیسیوں کاموں کے لئے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے نہیں نکلے۔ یہ سب کچھ کیونکر ہوا خدا کے حکم سے اور اس لئے کہ خدا تمہارے ساتھ ہے اور جب تم دین کی راہ میں خرچ کرتے ہو تو وہ تمہارے لئے آمدن کے اور کئی دروازے کھول دیتا ہے۔ پس جس نے یہ شک کیا کہ یہ جماعت اتنے بوجھ کیونکر اٹھائے گی اس نے اس بات کو جھٹلا دیا کہ یہ جماعت اللہ کے فضل سے وَّاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ(62:4) کی مصداق ہے اور اس نے اس کی ناقدری کی۔ ابھی ایک اخبار کیا بیسیوں کام تم نے کرنے ہیں اور تمہیں کرنے پڑیں گے اور وہ ضرور ہو کر رہیں گے کیونکہ خدا کے منشا پورے ہو کر رہتے ہیں۔ لیکن یہ سب ترقی اسی طرح غیر معلوم طور سے ہو گی جس طرح ایک بیج سے جنگل بن جاتا ہے اور عقل اس کو نہیں سمجھ سکتی۔
میں مختصراً اس اخبار کے اغراض بیان کر دینا بھی اس جگہ ضروری سمجھتا ہوں۔
۱۔ مذہب اسلام کی خوبیوں کو مخالفین کے سامنے پیش کرنا۔ قرآن شریف کے کمالات سے آگاہ کرنا۔
۲۔ حضرت صاحبؒ کی تعلیم اور آپؑ کی جماعت کی خصوصیات کو لوگوں پر ظاہر کرنا۔
۳۔ جماعت کو مذہب اسلام سے واقف کرنا اور ہر قسم کی بدعات اور رسومات کی ظلمتوں سے نکالنے کی کوشش کرنا اور اخلاق کی درستی کی طرف توجہ دلانا۔
۴۔ تاریخ اسلام کے ان مفید حصوں کو شائع کرنا جن سے ہمت۔ استقلال۔ قربانی۔ جرأت۔ ایثار۔ ایمان۔ وفاداری وغیرہ خصال حسنہ میں ترقی کی تحریک ہو۔
۵۔ تعلیم کی ترغیب دینا اور اس کے لئے مفید تجاویز پیش کرنا ۶۔ تبلیغ اسلام کی ترغیب دینا اس کے لئے ذرائع کی تلاش کرنا اور مخالفین کی تبلیغی کوششوں سے آگاہ کرنا۔ ۷۔ سیاست میں جماعت کو ان اصولوں پر چلنے کی تعلیم دینا کہ جن پر حضرت صاحبؑ قوم کو چلانا چاہتے تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح چلانا چاہتے ہیں۔ اور گورنمنٹ کی وفاداری کی تعلیم دینا۔ ۸۔ ضروری مفید اخبار کی واقفیت بہم پہنچانا جن سے عموماً خبروں کے لئے اور کسی اخبار کی احتیاج نہ رہے خصوصاً عالم اسلام کی خبروں سے آگاہ کرنا۔ ۹۔ احمدی جماعت میں آپس میں میل ملاپ اور واقفیت کے بڑھانے اور مرکزی حیثیت میں ملانے کی کوشش کرنا۔ ۱۰۔ صنعت و حرفت تجارت وغیرہ کے متعلق اور ایجادات جدیدہ کے متعلق بقدر امکان واقفیت بہم پہنچانا۔
میں نے اس امر کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح سے مشورہ لیا تو آپ نے جو کچھ اس پر تحریر فرمایا ہے وہ جماعت کی آگاہی کیلئے نقل کیا جاتا ہے ”ہفتہ وار پبلک اخبار کا ہونا بہت ہی ضروری ہے۔ جس قدر اخبار میں دلچسپی بڑھے گی خریدار خود بخود پیدا ہوں گے ہاں تائید الٰہی حسن نیت اخلاص اور ثواب کی ضرورت ہے زمیندار، ہندوستان، پیسہ اخبار میں اور کیا اعجاز ہے؟ وہاں تو صرف دلچسپی ہے اور یہاں دعا، نصرت الٰہیہ کی امید بلکہ یقین۔ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ کام شروع کر دیں“
نور الدین (دستخط)
اس تحریر کو پڑھ کر کوئی شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ ایک ایسے اخبار کی ضرورت ہے اس لئے بموجب ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح توکّلاً علی اللہ اس اخبار کو شائع کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے ہمارا کام کوشش ہے برکت اور اتمام خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے لیکن چونکہ یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے اس لئے اس کی مدد کا یقین ہے بے شک ہماری جماعت غریب ہے لیکن ہمارا خدا غریب نہیں ہے
اور اس نے ہمیں غریب دل نہیں دیئے پس میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت اس طرف پوری توجہ کرے گی اور اپنی بے نظیر ہمت اور استقلال سے کام لے کر جو وہ اب تک ہر ایک کام میں دکھاتی رہی ہے اس کام کو بھی پورا کرنے کی کوشش کرے گی اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مذکورہ بالا تحریر کو صرف ارادوں اور خواہشوں تک ہی نہ رہنے دے اور سلسلہ کی ضروریات کے پورا کرنے میں ہمارا ہاتھ بٹائے۔ کام کرنے والے آدمی کم ہیں اس لئے بے شک شروع میں دقت پیش آئے گی لیکن اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا(العنکبوت: ۷۰) خدا تعالیٰ ہمیں جہاد فی اللہ کی توفیق دے اور لوگوں کے دلوں میں الہام کرے کہ وہ اس کام میں مدد دیں۔
یہ اخبار انشاء اللہ گورنمنٹ کی شرائط کو پورا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا تو ماہِ جون کی کسی تاریخ کو شائع ہو گا بارہ صفحہ کا اخبار ہو گا۔ اور سردست ابتدائی اخراجات کو مدِ نظر رکھ کر اس کی قیمت چار روپے رکھی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو اس میں کمی کرنے کا موقعہ بھی اگلے سال مل سکتا ہے چونکہ اخبار کے شروع کرنے سے پہلے اس بات کا اطمینان بہت ضروری ہے کہ کچھ خریدار مہیا ہو جائیں اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ جن دوستوں کی خدمت میں یہ اشتہار پہنچے وہ اس کی خریداری کے متعلق اطلاع دیں۔ اخبار کا پہلا پرچہ ایسے سب دوستوں کے نام وی پی کیا جائے گا اور امید ہے کہ احباب اپنے دوستوں میں بھی اس کی خریداری کی کوشش کریں گے۔ فی الحال اس کا ایڈیٹر میں ہی ہوں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کوئی مناسب آدمی بھیج دے۔ کل خط و کتابت متعلق اخبار و اطلاع خریداری قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل قادیان ضلع گورداسپور کے نام ہونی چاہیئے لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ(آل عمران: ۹۳) رَحِمَكُمُ اللہُ۔ وَآخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
المشتہر مرزا محمود احمد
سب انتظام مکمل ہو چکا تھا کہ لاہور سے ایک دوست نے پیغامِ صلح کا پراسپکٹس ارسال کیا پیغامِ صلح کا ذکر تو پہلے سن چکا تھا لیکن پہلے تو ایک دوست نے بتایا کہ ابھی اس کی تجویز معرضِ التواء میں رکھی گئی ہے جب تک کہ خواجہ صاحب کے رسالہ کا انتظام مکمل نہ ہو جائے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ جاری تو ہو گا لیکن یہ نہ معلوم ہوا کہ کب۔ لیکن پراسپکٹس سے معلوم ہوا کہ اس کا اعلان ہو چکا ہے گو کہ پہلے ایک سے زیادہ اخبار موجود ہیں لیکن ایک وقت میں دو اخبار کا نکالنا مناسب نہ جان کر حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں معاملہ دوبارہ پیش کر دیا کہ وہ اخبار بھی شائع ہو رہا ہے اس لئے اگر مناسب ہو تو فی الحال اسے بند رکھا جائے لیکن حضرت خلیفۃ المسیح نے اس پر ذیل کی عبارت تحریر فرمائی
”مبارک ہے۔ کچھ پروانہ کریں وہ اور رنگ ہے یہ اور۔ کیا لاہور اخبار بہت نہیں“ نور الدین (دستخط)
اس لئے ”فضل“ (جو نام کہ اس اخبار کا حضرت خلیفۃ المسیح نے رکھا ہے) کا پراسپکٹس بھی شائع کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ پیغام صلح اور فضل دونوں کو جماعت کے لئے مفید اور بابرکت بنائے۔ آمین۔
یہ اشتہار مختلف جماعتوں کے سیکرٹریوں کے نام بھیجا جائے گا۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ کسی ایسے موقعہ پر جب کہ جماعت کے سب احباب جمع ہوں اسے پڑھ کر سنا دیں تاکہ جماعت کے سب احباب اس سے آگاہ ہو جائیں۔ اور پھر دوسرے لوگوں میں اسے تقسیم کر دیں۔ اور چونکہ کم اشاعت کی صورت میں اخبار کو بہت نقصان پہنچتا ہے اس لئے جہاں تک ہو سکے اس کی خریداری کے بڑھانے میں کوشاں ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہندو اخباروں اور عیسائی اخباروں کو مسلمان خریدتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے اخبارات کو نہ خریدیں۔ لیکن میرے خیال میں اس امر کی طرف جماعت کے احباب کو پوری توجہ نہیں ہوئی اگر وہ اس طرف توجہ کریں تو اللہ تعالیٰ چاہے تو اس میں بہت کچھ کامیابی ہو سکتی ہے کوئی اخبار اسی وقت اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتا ہے کہ کم سے کم تین ہزار خریدار اسے مل جائیں اور ایک ہزار خریدار میں تو اس کی چھپائی کے اخراجات مشکل سے چل سکتے ہیں۔ اعلیٰ مضامین کا حاصل کرنا اور مفید معلومات کا پیش کرنا اور بھی مشکل ہے اور اگر ہزار سے بھی کم ہوں تو خسارہ ہی خسارہ ہے۔ پس جس دوست تک یہ اشتہار پہنچے اگر پورے زور سے اس کی خریداری کے بڑھانے میں کوشش کرے تو جماعت میں سے ہی تین ہزار خریدار کامل جانا کچھ بڑی بات نہیں۔ کیا چار لاکھ کی جماعت میں سے چار ہزار خواندہ آدمی جو اخبار خرید سکے نہیں مل سکتا؟ ضرور مل سکتا ہے لیکن اول تو کوشش نہیں کی گئی دوم ان کوششوں کے ساتھ دعاؤں کی مدد نہیں لی گئی۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس اخبار میں دلچسپی لینے والے احباب دعائیں کرتے اور اللہ
تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اس کے لئے کوشش شروع کریں گے تو پھر دیکھیں گے کہ خدا تعالیٰ ان کی کس طرح مدد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے تمام احباب پر اپنے فضل کی بارشیں نازل کرے آمین
(مرزا محمود احمد)
نوٹ۔ قیمت چار روپے (۴؍روپے) پیشگی سالانہ ہوگی جو ہمیشہ پیشگی وصول کی جائے گی۔
(’’بدر‘‘ قادیان جون ۱۹۱۳ء)
(الفضل میں شائع ہونے والے سلسلہ مضامین کا مجموعہ)
از
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
تاریخ کے بڑے بڑے پہلوؤں میں سے ایک بہت بڑا پہلو تاریخ بنانے والوں کا حال بھی ہوتا ہے کہ وہ کس قسم کے لوگ تھے۔ اگر تاریخی واقعات ہمیں یہ علم دیتے ہیں کہ فلاں فلاں باتوں کا انجام نیک یا بد نکلتا ہے۔ تو تاریخ کے بنانے والوں کی سیرت ہمیں اس بات کی تعلیم دیتی ہے کہ کس قسم کی سیرت کے لوگوں سے کیسے کیسے واقعات سرزد ہوتے ہیں اس لئے تاریخ اسلام کے باب میں سب سے پہلے میں نے یہی مناسب سمجھا ہے کہ تاریخ اسلام کے بانی کی سیرت بیان کروں کہ جس پر سب مسلمان جان و دل سے فدا ہیں اور جس کی نسبت خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ(الاحزاب: ۲۲) پس تاریخ اسلام کو پڑھ کر جو نتائج انسان نکال سکتا ہے اور جو جو فوائد اس سے حاصل کر سکتا ہے اس سے کہیں بڑھ کر اس پاک انسان کی سیرت پر غور کر کے نفع اٹھا سکتا ہے۔
سیرت نبوی ﷺ کے لکھنے کے مختلف طریق ہیں۔ اول تو یہ کہ عام تاریخوں سے لکھی جاوے دوسرے یہ کہ احادیث سے جمع کی جاوے تیسرے یہ کہ قرآن شریف سے اقتباس کی جاوے۔ پہلا ماخذ تو بہت ادنیٰ ہے کیونکہ اس میں دوست دشمن کی رائے کی تمیز کرنا ایک مشکل بلکہ محال کام ہے۔ دوسرا ماخذ یعنی حدیث سے واقعات کا جمع کرنا زیادہ قابل اعتبار ہے کیونکہ مؤرخین کی طرح محدثین ہر ایک سنی سنائی بات کو نہیں لکھ دیتے بلکہ روایت کو آنحضرت ﷺ تک برابر چلاتے ہیں اور پھر روایت کرنے والوں کے چال چلن کو خوب پرکھ کر ان کی روایت نقل کرتے ہیں۔ تیسرا طریق قرآن شریف سے آنحضرت ﷺ کی سیرت لکھنے کا ہے اور یہ سب سے اعلیٰ، اکمل اور تمام نقصوں سے پاک ہے لیکن یہ کام بہت ذمہ داری کا ہے اس لئے سردست میں نے پہلے
اور تیسرے مأخذ کی بجائے دوسرے مأخذ کو اختیار کیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو کسی وقت قرآن شریف سے بھی آنحضرت ﷺ کی سیرت لکھنے کا ارادہ ہے لیکن چونکہ اختصار اور صرف اعلیٰ درجہ کی روایات کا درج کرنا ہی مقصود ہے اس لئے احادیث میں سے بھی میں نے صرف بخاری کو چنا ہے اور یہ مختصر سیرت صرف بخاری جیسی معتبر کتاب سے لی ہے اور اس کے سوا کسی اور حدیث سے مدد نہیں لی۔
باوجود اس کے کہ صرف بخاری کی احادیث سے جو اصح الکتب ہے میں نے یہ سیرت اختیار کی ہے پھر بھی اختصار پر اختصار سے کام لیا ہے اور اس کو صرف رسول کریم ﷺ کی سیرت کا ایک باب سمجھنا چاہئے ورنہ اس بحر بے کنار کو عبور کرنا تو کچھ آسان کام نہیں۔ چونکہ پیاروں کی ہر ایک بات پیاری ہوتی ہے اور ان کی شکل و شباہت، چال ڈھال اور لباس و خورد و نوش کا طریق بھی دلکش اور محبت افزا ہوتا ہے اس لئے ابتداء میں میں انہی باتوں کو بیان کروں گا۔ سیرت کے ساتھ اگر صورت اور عادات بھی مل جاویں تو وہ آدمی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔
رسول کریم ﷺ (فداہ نفسی) مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے ۔ آپؐ کی پیدائش سے پہلے آپؐ کے والد عبداللہ فوت ہو چکے تھے ۔ آپؐ کو آپ کی والدہ آمنہ اور دادا عبدالمطلب نے پرورش کیا ۔ لیکن یہ دونوں بھی آپؐ کی صغر سنی ہی میں فوت ہو گئے جس کے بعد آپ کے چچا ابو طالب آپ کے نگران رہے ۔ آپؐ نے تریسٹھ سال کی عمر پائی اور ساری عمر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حاصل کرنے میں اور اس کے نام کو دنیا میں بلند کرنے میں خرچ کی ۔ دنیا میں نہ کوئی ویسا پیدا ہوا اور نہ ہو گا ۔ تمام انسانی کمالات آپؐ پر ختم ہو گئے ۔ تقویٰ کی سب راہیں آپ نے طے کیں اور محبت الٰہی کے تمام دروازوں میں سے گزرے ۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاتم الانبیاء کا خطاب دیا اور ہمیشہ کے لئے اپنے دربار کی رسائی کے لئے آپ کی اتباع کو شرط قرار دیا ۔
آپؐ میانہ قامت تھے نہ بہت لمبے اور نہ پستہ قد ۔ آپؐ کا رنگ بہت خوبصورت تھا نہ تو بالکل سفید جیسے سرد ممالک کے لوگوں کا ہوتا ہے اور نہ گندم گوں ۔ آپؐ کے بال نہ تو گھونگرالے تھے اور نہ بالکل سیدھے بلکہ کسی قدر خم دار تھے ۔ آپ کے بالوں کا رنگ کسی قدر سرخی مائل تھا اور بڑھاپے میں کچھ بال کنپٹیوں کے پاس سے سفید ہو گئے تھے باقی بال کالے ہی رہے ۔ سر کے بال آپ لمبے رکھتے تھے جو کانوں کی لو تک آتے تھے ۔ آپ ہمیشہ
بالوں میں کنگھی کرتے اور آخر عمر میں مانگ بھی نکالتے تھے۔ سر میں تیل یا خوشبو لگانا بھی آپ کی عادت میں داخل تھا۔ آپ کا جسم بہت نازک اور ملائم تھا۔ آپ کے جسم میں سے خوشبو آتی تھی۔ آپ کا سینہ چوڑا تھا اور دونوں کندھوں کے درمیان بہت فاصلہ تھا۔ آپ کے ہاتھ پاؤں بہت موٹے تھے اور ہتھیلیاں بہت چوڑی تھیں۔ آپ سوتی کپڑے کو اور خصوصاً دھاری دار کو زیادہ پسند فرماتے تھے اور اسی قسم کے کپڑے میں آپ دفن بھی کئے گئے تھے لیکن درحقیقت جس قسم کا کپڑا ہوتا آپ اسے استعمال کر لیتے۔ اپنے آقا کی ہر ایک نعمت کا شکر کرتے۔
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ اکثر اوقات بات تین دفعہ دہراتے تاکہ لوگ اچھی طرح سمجھ جاویں اور سلام بھی تین دفعہ کرتے۔ اسی طرح حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپؐ بات ایسی آہستگی کے ساتھ کرتے کہ اگر کوئی چاہے تو آپؐ کے لفظ گن لے اور جس طرح دوسرے لوگ جلدی جلدی بات کرتے ہیں آپؐ ایسا نہ کرتے تھے۔
آپ تمام طیّب اشیاء کھاتے تھے لیکن اس بات کا لحاظ رکھتے تھے کہ وہ صدقہ نہ ہوں۔ حتیٰ کہ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ میں بعض دفعہ گھر جاتا ہوں اور وہاں بستر پر کوئی کھجور پڑی دیکھتا ہوں تو پہلے تو کھانے کے لئے اٹھا لیتا ہوں لیکن پھر اس خیال سے کہ کہیں صدقہ نہ ہو پھینک دیتا ہوں۔ اس بات سے اس وقت کے مسلمانوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ ان کا رسول ﷺ صدقہ سے کس قدر پرہیز کرتا تھا۔ اب تو بعض لوگ اچھا بھلا مال رکھتے ہوئے بھی صدقہ کے لینے میں مضائقہ نہیں کرتے۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ کوئی جب کوئی چیز آپ کو دیتا آپؐ پوچھتے۔ اگر ہدیہ ہوتی تو خود بھی استعمال فرماتے ورنہ آس پاس کے غرباء میں تقسیم کر دیتے۔ آپ کی خوراک ایسی سادہ تھی کہ اکثر کھجور اور پانی پر گزارہ کرتے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپؐ کے انصار ہمسائے دودھ تحفہ بھیجتے تو اکثر ہم لوگوں کو پلا دیتے۔ لیکن باوجود اس قدر سادگی کے طیبات سے پرہیز نہ تھا اور جھوٹے صوفیوں کی طرح آپؐ طیبات کو ترک نہ کر بیٹھے تھے بلکہ آپؐ عمدہ سے عمدہ غذائیں جیسے مرغ وغیرہ بھی کھا لیتے تھے۔ پانی پیتے وقت آپ کی یہ عادت تھی کہ تین دفعہ بیچ میں سانس لیتے اور یکدم پانی نہ چڑھا جاتے۔ نہ صرف اس میں آپؐ کا وقار پایا جاتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ صحت کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔ گوشت کو آپؐ پسند فرماتے تھے لیکن اس کا زیادہ استعمال نہ تھا کیونکہ سادہ زندگی کی وجہ سے آپ کھجور اور پانی پر ہی کفایت کر لیتے ۔ ایک صحابیؓ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آپؐ کے سامنے کدو پکا کر رکھا گیا تو آپؐ نے اسے بہت پسند فرمایا ۔ ان تمام کھانوں کے ساتھ آپؐ اصل مالک کو نہ بھولتے بلکہ خدا کا نام لے کر کھانا شروع کرتے اور دائیں ہاتھ سے کھاتے اور اپنے آگے سے کھاتے اور جب کھا چکتے تو فرماتے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيْرًا طَيِّبًا مُّبَارَكًا فِيْهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَّلَا مُوَدَّعٍ وَّلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا(بخاری کتاب الاطعمه باب ما يقول اذا فرغ من طعامه) سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ۔ بہت بہت تعریفیں پاک تعریفیں ۔ برکت والی تعریفیں ۔ ایسی تعریفیں کہ جو ایک دفعہ پر بس کرنے والی نہ ہوں ۔ جو چھوڑی نہ جاویں ۔ جن کی ہمیشہ عادت رہے اے ہمارے رب یعنی مولا تیرا شکر تو میں بہت بہت کرتا ہوں پر تو بھی مجھ پر رحم کر اور آج کے انعام پر ہی بس نہ ہو جائے بلکہ تو ہمیشہ مجھ پر انعام کرتا رہ اور میں ہمیشہ تیرا شکر کرتا رہوں ۔ اس دعا پر غور کرو اور دیکھو کہ کھانا کھاتے وقت آپ کے دل میں کیا جوش موجزن ہوں گے اور کیا شکر کا دریا پھوٹ کر بہہ رہا ہو گا ۔ پھر اس پر بھی غور کرو کہ لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ(الاحزاب: ۲۲) یعنی تمہارے لئے رسول کریم ﷺ ایک بہتر سے بہتر نمونہ ہے جس کی تمہیں پیروی کرنی چاہئے ۔
آپؐ کا حلیہ‘ لباس اور کھانے پینے کا طریقہ لکھنے کے بعد مناسب سمجھتا ہوں کہ اب کچھ آپؐ کی بعض عادات پر بھی لکھا جاوے۔ ہر انسان کچھ نہ کچھ عادات کے ماتحت کام کرتا ہے۔ ہاں بعض تو نیک عادات کے عادی ہوتے ہیں اور بعض بد کے۔ شریر اپنی شرارت کی عادتوں میں مبتلا ہوتا ہے تو شریف نیک عادات کا عادی۔
ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دو عادات جو میں اس جگہ بیان کرتا ہوں ان سے معلوم ہوگا کہ آپؐ کس قدر یُمن و نیکی کی طرف متوجہ تھے اور کس طرح ہر معاملہ میں میانہ روی اختیار فرماتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے انسان کامل بنایا تھا۔ تمام نیک جذبات آپؐ میں پائے جاتے تھے اور ہر خوبی کو اپنے موقع اور محل پر استعمال فرماتے اور ایسا طریق اختیار کرتے جس سے اللہ تعالیٰ کا کوئی خلق ضائع نہ ہو جائے۔ بعض بناوٹی صوفیاء کا قاعدہ ہوتا ہے کہ وہ کچھ ایسے تکلفات اور مشقتوں میں اپنے آپ کو ڈال لیتے ہیں کہ جس کی وجہ سے انہیں کئی پاک جذبات اور کئی طیبات کو ترک کرنا پڑتا ہے۔ بعض کھانے میں خاک ملالیتے ہیں۔ بعض گندی ہو جانے اور سڑ جانے کے بعد غذا استعمال کرتے ہیں۔ بعض سارا دن سر ڈالے بیٹھے رہتے ہیں اور ایسی شکل بناتے ہیں کہ گویا کسی ماتم کی خبر سنکر بیٹھے ہیں اور ہنسنا تو درکنار بشاشت کا اظہار بھی حرام سمجھتے ہیں۔ لیکن ہمارا سردار صلی اللہ علیہ وسلم جسے خدا نے انسانوں کا رہنما بنایا تھا وہ ایسا کامل تھا کہ کسی پاک جذبہ کو ضائع ہونے نہ دیتا، ہنسی کے موقع پر ہنستا‘ رونے کے موقع پر روتا‘ خاموشی کے موقع پر خاموش رہتا اور بولنے کے موقع پر بولتا‘ غرض کوئی صفت اللہ تعالیٰ نے پیدا نہیں کی کہ جسے اس نے ضائع ہونے دیا ہو اور اپنے عمل سے اس نے ثابت کر دیا کہ وہ خدا کی خدائی کو مٹانے نہیں بلکہ قائم
کرنے آیا ہے اور یہی اس کی ادا ہے جو ہر طبیعت اور مذاق کے آدمی کو موہ لیتی ہے اور کچھ ایسی کشش رکھتی ہے کہ بے اختیار دل اس پر قربان ہوتا ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپؐ ہنستے بھی تھے لیکن اعتدال سے اور ہنسی کے وقت آپؐ کی طبیعت پر سے قابو نہ اٹھتا بلکہ ہنسی طبعی حالت پر رہتی چنانچہ فرماتی ہیں کہ مَا رَاَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا حَتّٰى اَرٰى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ اِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ(كتاب الادب باب التبسم والضحک) یعنی میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح گلا پھاڑ کر ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا کوا نظر آنے لگ جائے بلکہ آپؐ صرف تبسم فرماتے تھے یعنی آپؐ کی ہنسی ہمیشہ ایسی ہوتی تھی کہ منہ نہ کھلتا تھا اور آپؐ افراط و تفریط دونوں سے محفوظ تھے۔ نہ تو ہنسی سے بکلی اجتناب تھا اور نہ قہقہہ مار کر ہنستے کہ جس میں کئی قسم کے نقص ہیں۔ آجکل تو میں دیکھتا ہوں کہ مسلمان امراء میں یہ رواج ہو گیا ہے کہ وہ اس زور سے قہقہہ مارتے ہیں کہ دوسرا سمجھے کہ شاید چھت اُڑ جائے گی اور اس طرح وہ آجکل کے پیرزادوں کی ضد ہیں۔
آنحضرت ﷺ (فداہ نفسی) کی یہ بھی عادت تھی کہ آپؐ ہمیشہ دائیں طرف کا لحاظ رکھتے۔ کھانا کھاتے تو دائیں ہاتھ سے۔ لباس پہنتے تو پہلے دایاں ہاتھ یا دایاں پاؤں ڈالتے۔ جوتی پہنتے تو پہلے دایاں پاؤں پہنتے۔ غسل میں پانی ڈالتے تو پہلے دائیں جانب۔ غرض کہ ہر ایک کام میں دائیں جانب کو پسند فرماتے۔ حتیٰ کہ جب آپؐ کوئی چیز مجلس میں بانٹنی چاہتے تو پہلے دائیں جانب سے شروع فرماتے۔ اور اگر اس قدر ہوتی کہ صرف ایک آدمی کو کفایت کرتی تو اسے دیتے جو دائیں جانب بیٹھا ہوتا۔ اور اس بات کا اتنا لحاظ تھا کہ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ حَلَبْتُ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً دَاجِنٍ فِيْ دَارِيْ وَ شِيْبَ لَبَنُهَا بِمَاءِ مِنَ الْبِئْرِ الَّتِيْ فِيْ دَارِيْ فَاَعْطٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ فَشَرِبَ مِنْهُ حَتّٰى اِذَا نَزَعَ الْقَدَحَ مِنْ فِيْهِ وَعَلٰى يَسَارِهِ اَبُوْبَكْرٍ وَعَنْ يَمِيْنِهِ اَعْرَابِيٌّ فَقَالَ عُمَرُ وَ خَافَ اَنْ يُعْطِيَهُ الْاَعْرَابِيَّ اَعْطِ اَبَا بَكْرٍ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ عِنْدَكَ فَاَعْطَاهُ الْاَعْرَابِيَّ الَّذِيْ عَلٰى يَمِيْنِهِ ثُمَّ قَالَ اَلْاَيْمَنُ فَالْاَيْمَنُ(تجرید بخاری باب فی الشرب) یعنی میں نے رسول اللہ ﷺ کے لئے ایک بکری کا جو گھر میں رہتی تھی دودھ دوہا اور اس کے بعد دودھ میں اس کنویں سے پانی ملایا جو میرے گھر میں تھا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کو وہ پیالہ دیا گیا۔ اس وقت آپؐ کے بائیں جانب حضرت ابوبکرؓ اور دائیں جانب ایک اعرابی تھا آپؐ نے اس میں سے کچھ پیا۔ پھر جب پیالہ منہ سے ہٹایا تو حضرت عمرؓ نے اس خوف سے کہ کہیں اس اعرابی کو جو آپؐ کے دائیں جانب بیٹھا تھا نہ دے دیں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ابوبکرؓ آپ کے پاس بیٹھے ہیں انہیں دے دیجئے گا۔ لیکن آپؐ نے اس اعرابی کو جو آپؐ کے دائیں جانب بیٹھا تھا وہ پیالہ دیا اور فرمایا کہ دایاں دایاں ہی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ دائیں جانب کا کتنا لحاظ رکھتے تھے جو آپؐ کی پاک فطرت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ فطرت انسانی میں دائیں کو بائیں پر ترجیح دینا رکھا ہے اور اکثر ممالک کے باشندے باوجود آپس میں کوئی تعلق نہ رکھنے کے اس معاملہ میں متحد ہیں اور دائیں کو بائیں پر ترجیح دیتے ہیں۔ اور چونکہ آنحضرت ﷺ کی فطرت نہایت پاک تھی اس لئے آپؐ نے اس بات کی بہت احتیاط رکھی۔ ایک اور حدیث بھی آپؐ کی اس عادت پر روشنی ڈالتی ہے۔ سہل ابن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِيْنِهِ غُلاَمٌ اَصْغَرُ الْقَوْمِ وَالأَشْيَاخُ عَنْ يَسَارِهِ فَقَالَ يَا غُلاَمُ اَتَأْذَنُ لِيْ اَنْ اُعْطِيَهُ الأَشْيَاخَ قَالَ مَا كُنْتُ لِاُوْثِرَ بِفَضْلِيْ مِنْكَ اَحَدًا يَا رَسُوْلَ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْكَ وَسَلَّمْ) فَاَعْطَاهُ اِيَّاهُ۔(بخاری المساقاة باب في الشرب) آنحضرت ﷺ کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں سے آپؐ نے کچھ پیا۔ اس وقت آپؐ کے دائیں جانب ایک نوجوان بیٹھا تھا جو سب حاضرین مجلس میں سے صغیر السن تھا اور آپؐ کے بائیں طرف بوڑھے سردار بیٹھے تھے۔ پس آپؐ نے اس نوجوان سے پوچھا کہ اے نوجوان کیا تو مجھے اجازت دیتا ہے کہ میں یہ پیالہ بوڑھوں کو دوں۔ اس نوجوان نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ میں آپؐ کے تبرک کے معاملہ میں کسی اور کے لئے اپنا حق نہیں چھوڑ سکتا۔ اس پر آپؐ نے وہ پیالہ اسی کو دے دیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ دائیں طرف کا ایسا لحاظ رکھتے کہ بائیں طرف کے بوڑھوں کو پیالہ دینے کے لئے آپؐ نے اول اس نوجوان سے اجازت طلب فرمائی اور اس کے انکار پر اس کے حق کو تسلیم کیا۔
آپؐ کو خدا تعالیٰ سے کچھ ایسی محبت اور پیار تھا کہ کوئی معاملہ ہو اس میں خدا تعالیٰ کا ذکر ضرور کرتے۔ اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے، کھاتے پیتے، غرض کہ ہر موقع پر خدا کا نام ضرور لیتے۔ جس کا ذکر انشاء اللہ تعالیٰ آگے چل کر کیا جائے گا۔ یہاں صرف اسقدر لکھنا ہے کہ یہ بات بھی آپؐ کی عادات میں داخل تھی کہ سونے سے پہلے دونوں ہاتھوں کو ملا کر دعا فرماتے پھر سب بدن پر ہاتھ پھیر لیتے چنانچہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيْهِمَا فَقَرَأَ فِيْهِمَا قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَ وَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ(بخاری کتاب التفسیر باب فضل المعوّذات) یعنی آپؐ ہر شب جب اپنے بستر پر جاتے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں ملاتے پھر ان میں پھونکتے اور قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ(112:2)، قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِ(113:2)، قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ(114:2) پڑھتے۔ پھر جہاں تک ہو سکتا اپنے بدن پر ہاتھ ملتے اور ابتداء سر اور منہ اور جسم کے اگلے حصہ سے فرماتے اور تین دفعہ ایسا ہی کرتے۔ ذرا ان تین سورتوں کو با ترجمہ پڑھو اور پھر سوچو کہ رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور غنا پر کتنا ایمان تھا۔ کس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ کے بغیر اپنی زندگی خطرہ میں سمجھتے تھے۔
پیشتر اس کے کہ میں آنحضرت ﷺ کے اخلاق پاکیزہ کا فرداً فرداً ذکر کروں ضروری سمجھتا ہوں کہ اس مضمون پر ایک مجموعی حیثیت سے بھی روشنی ڈالوں جس سے پڑھنے والے کو پہلے ہی سے تنبیہ ہو جائے کہ کس طرح آپؐ ہر پہلو سے کامل تھے اور اخلاق کی تمام شاخوں میں آپؐ دوسروں کی نسبت بہت آگے بڑھے ہوئے تھے۔ اس بات کے مفصل ثبوت کے لئے تو انسان کو احادیث کا مطالعہ کرنا چاہئے کیونکہ جب آپؐ کا سلوک صحابہؓ سے اور ان کا عشق آپؐ سے دیکھا جائے تو بے اختیار منہ سے نکل جاتا ہے۔
مرحبا احمد مکی مدنی العربی
دل و جاں باد فدایت چہ عجب خوش لقبی
لیکن اس جگہ میں مختصراً یہ بتانا چاہتا ہوں کہ عرب ایک وحشی قوم تھی اور وہ کسی کی اطاعت کرنا حتی الوسع عار جانتی تھی اور اسی لئے کسی ایک بادشاہ کے ماتحت رہنا انہیں گوارہ نہ تھا بلکہ قبائل کے سردار عوام سے مشورہ لے کر کام کرتے تھے۔ یہاں تک کہ قیصر و کسریٰ کی حکومتیں ان کے دونوں طرف پھیلی ہوئی تھیں لیکن ان کی وحشت اور آزادی کی محبت کو دیکھ کر وہ بھی عرب کو فتح کرنے کا خیال نہ کرتی تھیں۔ عمرو بن ہند جیسا زبردست بادشاہ جس نے ارد گرد کے علاقوں پر بڑا رعب جمایا ہوا تھا وہ بھی بدوی قبائل کو روپیہ وغیرہ سے بمشکل اپنے قابو میں لا سکا اور پھر بھی یہ حالت تھی کہ ذرا ذرا سی بات پر وہ اسے صاف جواب دے دیتے تھے اور اس کے منہ پر کہہ دیتے تھے کہ ہم تیرے نوکر نہیں کہ تیری فرمانبرداری کریں چنانچہ لکھا ہے کہ عمرو بن ہند نے اپنے سرداروں سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص ایسا بھی ہے کہ جس کی ماں میری ماں کی خدمت کرنے سے عار کرے۔ اس کے مصاحبوں نے جواب دیا کہ ایک شخص عمرو بن کلثوم ہے اور عرب قبیلہ بنی تغلب کا سردار ہے۔ اس کی ماں بے شک آپ کی ماں کی خدمت سے احتراز کرے گی اور اسے اپنے لئے عار
سمجھے گی جس پر بادشاہ نے ایک خط لکھ کر عمرو بن کلثوم کو بلوایا اور لکھا کہ اپنی والدہ کو بھی ساتھ لیتے آنا کیونکہ میری والدہ اسے دیکھنا چاہتی ہے۔ عمرو بن کلثوم اپنی والدہ اور چند اور معزز خواتین کو لے کر اپنے ہمراہیوں سمیت بادشاہ کے خط کے بموجب حاضر ہو گیا بادشاہ کی والدہ نے حسب مشورہ اس کی والدہ سے کچھ کام لینا تھا۔ دونوں زنان خانہ میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ والدہ شاہ نے کسی موقع پر سادگی کے ساتھ کہہ دیا کہ ذرا فلاں قاب مجھے اٹھا دو۔ عمرو بن کلثوم کی والدہ لیلیٰ نے جواب دیا کہ جسے ضرورت ہو خود اٹھالے۔ اس پر والدہ شاہ نے مکرّر اصرار کیا لیکن لیلیٰ نے بجائے اس حکم کی تعمیل کے زور سے نعرہ مارا کہ وَا اٰذِلَّاهُ يَا لَبَنِيْ تَغْلِبَ اے بنی تغلب دوڑو کہ تمہاری ذلت ہو گئی ہے۔ اس آواز کا سننا تھا کہ اس کے بیٹے عمرو بن کلثوم کی آنکھوں میں تو خون اتر آیا۔ بادشاہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا گھبرا اٹھا۔ چونکہ اپنے پاس تو کوئی ہتھیار نہ تھا ادھر ادھر دیکھا۔ بادشاہ کی تلوار کھونٹی کے ساتھ لٹک رہی تھی اس کی طرف جھپٹا اور تلوار میان سے نکال کر ایک ہی وار سے بادشاہ کا سر اڑا دیا لیکن اس سے بھی جوش انتقام نہ اترا۔ باہر نکل کر سپاہیوں کو حکم دیا کہ شاہی مال و متاع لوٹ لو۔ بادشاہ کی سپاہ تو غافل تھی اس کے سنبھلتے سنبھلتے لوٹ لاٹ کر صفایا کر دیا اور اپنے وطن کی طرف چلا آیا۔ چنانچہ اپنے ایک قصیدہ میں اس شاعر نے عمرو بن ہند کو مخاطب کر کے اپنے آزاد ہونے کا ذکر یوں کیا ہے:۔
اَبَا هِنْدٍ فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْنَا
وَ اَنْظِرْنَا نُخَبِّرْكَ الْيَقِيْنَا
اے ابا ہند تو ہمارے معاملہ میں جلدی نہ کر
اور ہمیں ڈھیل دے ہم تجھے یقینی بات بتائیں گے
بِاَنَّا نُوْرِدُ الرَّايَاتِ بِيْضًا
وَنُصْدِرُ هُنَّ حُمْرًا قَدْ رَوِيْنَا
وہ یہ کہ ہم سفید جھنڈوں کے ساتھ جنگ میں جاتے ہیں
اور جب واپس آتے ہیں تو وہ جھنڈے خون سے سرخ و سیراب ہوتے ہیں
وَ اَيَّامٍ لَنَا غُرٍّ طِوَالٍ
عَصَيْنَا الْمَلِكَ فِيْهَا اَنْ نَدِيْنَا
اور بہت سے ہمارے مشہور اور دراز معرکے ہیں
کہ ہم نے ان میں بادشاہ کی نافرمانی کی تا اس کے مطیع نہ ہو جائیں
وَرِثْنَا الْمَجْدَ قَدْ عَلِمَتْ مَعَدٌّ
نُطَا عِنْ دُوْنَهُ حَتّٰى يَبِيْنَا
عرب جانتے ہیں کہ ہم بزرگی کے وارث ہیں
اپنے شرف کے لئے لڑتے ہیں تاکہ وہ ظاہر ہو جائے
اَلَا لَا يَعْلَمُ الْاَقْوَامُ اَنَّا
تَضَعْضَعْنَا وَاَنَّا قَدْ وَنِيْنَا
خبردار تو ہمیں یہ نہ سمجھ کہ ہم
کمزور اور سست و کاہل ہو گئے ہیں
اَلَا لَا يَجْهَلَنْ اَحَدٌ عَلَيْنَا
فَنَجْهَلَ فَوْقَ جَهْلِ الْجَاهِلِيْنَا
خبردار کوئی ہم پر جہالت سے ظلم نہ کرے
ورنہ ہم ظالموں کے ظلم کا سخت بدلہ دیں گے
بِاَیِّ مَشِیْئَۃٍ عَمْرَو بْنَ ھِنْدٍ
نَکُوْنُ لِقَیْلِکُمْ فِیْھَا قَطِیْنَا
کس وجہ سے عمرو بن ہند تو چاہتا ہے
کہ ہم تیرے گورنر کے فرمانبردار ہو جائیں
تُھَدِّدُنَا وَ تُوْعِدُنَا رُوَیْدًا
مَتٰی کُنَّا لِاُمِّکَ مَقْتَوِیْنَا
تو ہمیں ڈراتا ہے اور دھمکاتا ہے جانے بھی دے
ہم تیری ماں کے خادم کب ہوئے تھے
فَاِنَّ قَنَاتَنَا یَا عَمْرُو اَعْیَتْ
عَلَی الْاَعْدَاءِ قَبْلَکَ اَنْ تَلِیْنَا
اے عمرو ہمارے نیزوں نے انکار کیا ہے
تجھ سے پہلے بھی کہ دشمنوں کے لئے نرم ہو جائیں
ان اشعار کو دیکھو کس جوش کے ساتھ وہ بادشاہ کو ڈانٹتا ہے اور اپنی آزادی میں فرق آنا نہیں دیکھ سکتا۔ جو حال بنی تغلب کا ان اشعار سے معلوم ہوتا ہے وہی حال قریناً قریباً سب عرب کا تھا اور خصوصاً قریش مکہ تو کسی کی ماتحتی کو ایک دم کے لئے بھی گوارہ نہیں کر سکتے تھے کیونکہ انہیں کعبہ کی ولایت کی وجہ سے جو حکومت کل قبائل عرب پر تھی اس کی وجہ سے ان کے مزاج دوسرے عربوں کی نسبت زیادہ آزاد تھے بلکہ وہ ایک حد تک خود حکومت کرنے کے عادی تھے اس لئے ان کا کسی شخص کی حکومت کا اقرار کر لینا تو بالکل امر محال تھا یہ وہ قوم تھی کہ جس میں رسول کریم ﷺ کا ظہور ہوا اور پھر ایسے رنگ میں کہ آپؐ نے ان کی ایک نہیں دو نہیں تمام رسوم و عادات بلکہ تمام اعتقادات کا قلع قمع کرنا شروع کیا جس کے بدلہ میں انکے دلوں میں آپؐ کی نسبت جو کچھ بغض و کینہ ہو گا وہ آسانی سے سمجھ میں آ سکتا ہے۔
مگر آپؐ کے اخلاق کو دیکھو کہ ایسی آزاد قوم با وجود ہزاروں کینوں اور بغضوں کے جب آپؐ کے ساتھ ملی ہے اسے اپنے سر پیر کا ہوش نہیں رہا وہ سب خود سری بھول گئی اور آپؐ کے عشق میں کچھ ایسی مست ہوئی کہ وہ آزادی کے خیال خواب ہو گئے۔ اور یا تو کسی کی ماتحتی کو برداشت نہ کرتی تھی یا آپؐ کی غلامی کو فخر سمجھنے لگی۔ اللہ اللہ! بڑے بڑے خونخوار اور وحشی عرب مذہبی جوش سے بھرے ہوئے قومی غیرت سے دیوانہ ہو کر آپؐ کے خون کے پیاسے ہو کر آپؐ کے پاس آتے تھے اور ایسے رام ہوتے تھے کہ آپؐ ہی کا کلمہ پڑھنے لگ جاتے۔ حضرت عمرؓ جیسا تیز مزاج گھر سے یہ تہیّہ کر کے نکلا کہ آج اس مدعی نبوت کا خاتمہ ہی کر کے آؤں گا۔ غصہ سے بھرا ہوا تلوار کھینچے ہوئے آپؐ کے پاس آتا ہے لیکن آپؐ کی نرمی اور وقار و سکینت اور اللہ تعالیٰ پر ایمان
دیکھ کر آپؐ کو قتل تو کیا کرنا تھا خود اپنے نفس کو قتل کر کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو گیا۔ کیا کوئی ایک نظیر بھی دنیا میں ایسی معلوم ہوتی ہے کہ جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ ایسی آزاد اور خونخوار قوم کو کسی نے ایسا مطیع کیا ہو اور وہ اپنی آزادی چھوڑ کر غلامی پر آمادہ ہو گئی ہو اور ہر قسم کی فرمانبرداری کے نمونے اس نے دکھائے ہوں۔ اگر کوئی ایسی قوم پائی جاتی ہو تو اس کا نشان و پتہ ہمیں بتاؤ تاہم بھی تو اس کے حالات سے واقف ہوں۔ لیکن میں سچ سچ کہتا ہوں کہ کوئی مصلح ایسے وسیع اخلاق لے کر دنیا میں نہیں آیا جیسا کہ ہمارا آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اور اس لئے کسی مصلح کی جماعت نے ایسی فدائیت نہیں دکھائی جیسے ہمارے آنحضرت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے صحابہؓ نے چنانچہ بخاری شریف میں صلح حدیبیہ کے واقعات میں مسور ابن مخرمہ کی روایت ہے کہ جب آپؐ حدیبیہ میں ٹھہرے ہوئے تھے تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تھوکتے تھے تو صحابہؓ اچک کر آپؐ کا تھوک اپنے منہ اور ہاتھوں پر مل لیتے تھے اور جب وضو کرنے لگتے تو وضو کے بچے ہوئے پانی کے لینے کے لئے اس قدر لڑتے کہ گویا ایک دوسرے کو قتل کر دیں گے۔ اور جب آپؐ کوئی حکم دیتے تھے تو ایک دوسرے کے آگے بڑھ کر اس کی تعمیل کرتے۔ اور جب آپؐ بولنے لگتے تو سب اپنی آوازوں کو نیچا کر لیتے اور صحابہؓ کے اس اخلاص اور محبت کا ان ایلچیوں پر جو گفتگو کے لئے آئے تھے ایسا اثر پڑا کہ انہوں نے اپنی قوم کو واپس جا کر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپؐ کی مخالفت سے باز آجائیں۔
اسی طرح بخاری میں لکھا ہے کہ جنگِ احد پر جانے کے متعلق جب آپؐ نے انصارؓ سے سوال کیا تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے آپؐ کو جواب دیا یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کیا آپؐ سمجھتے ہیں کہ ہم حضرت موسیٰؑ کے ساتھیوں کی طرح کہہ دیں گے کہ فَاذۡہَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوۡنَ(المائدہ: ۲۵) یعنی تو اور تیرا رب جاؤ اور دونوں دشمنوں سے لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں بلکہ خدا کی قسم ہم تیرے آگے بھی اور پیچھے بھی اور دائیں بھی اور بائیں بھی تیرے دشمنوں سے مقابلہ کریں گے۔ اے چشمِ بصیرت رکھنے والو! اے فہیم دل رکھنے والو خدا را ذرا اس جواب کا اس جواب سے مقابلہ تو کرو جو حضرت موسیٰؑ کو ان کی امت نے دیا اور اس عمل سے بھی مقابلہ کرو جو حواریوں سے حضرت مسیحؑ کے گرفتار ہونے کے وقت سرزد ہوا۔ اور پھر بتاؤ کہ کیا اس قربانی اس فدائیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہمارا رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ایسے اخلاق رکھتا تھا کہ جن کی نظیر دنیاوی بادشاہوں میں تو خیر تلاش کرنی ہی فضول ہے دینی بادشاہوں یعنی نبیوں میں بھی نہیں مل سکتی۔ اور اگر کوئی نبی ایسے اخلاق رکھتا تو ضرور اس کی امت بھی اس پر اس طرح فدا ہوتی جس طرح آپؐ پر۔
مگر اس اخلاق کے مقابلہ کے ساتھ عربوں کی آزادی کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے۔ اس موقع پر میں ایک اور نظیر دینی بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ جس سے مردوں کے علاوہ عورتوں کے اخلاص کا نمونہ بھی ظاہر ہو جائے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جَاءَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ مَا كَانَ عَلَىٰ ظَهْرِ الْاَرْضِ مِنْ اَهْلِ خِبَاءٍ اَحَبَّ اِلَىَّ اَنْ يَّذِلُّوْا مِنْ اَهْلِ خِبَائِكَ ثُمَّ مَا اَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَىٰ ظَهْرِ الْاَرْضِ اَهْلُ خِبَاءٍ اَحَبَّ اِلَىَّ اَنْ يَّعِزُّوْا مِنْ اَهْلِ خِبَائِكَ(بخاری کتاب المناقب باب ذکر ہند بنت عتبہ) یعنی ہند بنت عتبہ آئی اور اس نے حضرت رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ روئے زمین پر کوئی خیمہ والا نہ تھا جس کی نسبت میں آپ سے زیادہ ذلت کی خواہشمند ہوں اور اب روئے زمین پر کوئی گھر والا نہیں جس کی نسبت میں آپ کے گھر والوں سے زیادہ عزت کی خواہشمند ہوں۔ اس عورت کی طرف دیکھو یا تو وہ بغض تھا یا ایسی فریفتہ ہو گئی اور اس کی وجہ سوائے ان اخلاق کریمہ اور اس نیکی اور تقویٰ کے کیا تھی جو آپ میں پائے جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بھی اس کی یہی وجہ بیان فرماتا ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں لکھا ہے فَبِمَا رَحۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنۡتَ لَہُمۡ ۚ وَلَوۡ کُنۡتَ فَظًّا غَلِیۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِکَ(اٰل عمران: ۱۶۰) غرض کہ ان اخلاق حسنہ کا ایسا نیک اثر پڑا کہ ایک ایک کر کے تمام عرب قبیلے آپ کی خدمت میں آ حاضر ہوئے۔ بھلا اس واقعہ کا عمرو بن ہند کے واقعہ سے مقابلہ تو کر کے دیکھو ”ببیں تفاوت راہ از کجاست تا بکجا“۔
اس وقت تک تو میں نے آنحضرتؐ کے اخلاق حسنہ کو آپؐ کے صحابہؓ کی فدائیت سے ثابت کیا ہے اب ایک اور طریق سے اس امر پر روشنی ڈالتا ہوں۔ آدمی کا سب سے زیادہ تعلق اپنی بیوی سے ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس روزانہ بہت سا وقت خرچ کرنا پڑتا ہے اور بہت سی ضروریات میں اس کے ساتھ مشارکت اختیار کرنی پڑتی ہے اس لئے یہ تو ممکن ہے کہ انسان باہر لوگوں کے ساتھ تکلف کے ساتھ نیک اخلاق کے ساتھ پیش آسکے اور ایک وقت کے لئے اس گند کو چھپالے جو اس کے اندر پوشیدہ ہو لیکن یہ بات بالکل ناممکن ہے کہ کوئی اپنی برائیوں اور بد خلقیوں کو اپنی بیوی سے پوشیدہ رکھ سکے کیونکہ علاوہ ایک دائمی صحبت اور ہر وقت کے تعلق کے بیوی پر مرد کو کچھ اختیار بھی ہوتا ہے اور اس کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر وہ اپنی فطری بد اخلاقی کا اکثر اوقات اس کے سامنے اظہار کر دیتا ہے۔ پس انسان کے
اخلاق کا بہتر سے بہتر گواہ اس کی بیوی ہوتی ہے جس کا تجربہ دوسرے لوگوں کے تجربہ سے بہت زیادہ صحیح مشاہدات پر مبنی ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے اخلاق کے متعلق جو گواہی حضرت خدیجہؓ نے دی ہے وہ آپ ﷺ کے نیک اخلاق کو ثابت کرنے کے لئے کافی سے زیادہ ہے اور اس کے بعد کسی زائد شہادت کی ضرورت نہیں رہتی۔ حضرت عائشہؓ وحی کی ابتداء بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ جب پہلی دفعہ آنحضرت ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو آپ بہت گھبرائے اور غار حرا سے گھر کی طرف لوٹے اور آپ کا دل دھڑک رہا تھا حضرت خدیجہؓ کے پاس آکر آپؐ نے فرمایا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ جلد کپڑا اوڑھا دو۔ جس پر آپؐ پر کپڑا ڈال دیا گیا یہاں تک کہ آپؐ کا کچھ خوف کم ہوا اور آپؐ نے سب واقعہ حضرت خدیجہؓ کو سنایا اور فرمایا کہ مجھے تو اپنی نسبت کچھ خوف پیدا ہو گیا ہے۔ اس بات کو سنکر جو کچھ حضرت خدیجہؓ نے فرمایا وہ یہ ہے كَلَّا وَاللهِ مَا يُخْزِيْكَ اللهُ اَبَدًا اِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَ تَحْمِلُ الْكَلَّ وَ تَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَ تَقْرِی الضَّيْفَ وَ تُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ(بخاری باب کیف كان بدء الوحی) یعنی سنو جی میں خدا کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ خدا تجھے کبھی ذلیل نہیں کرے گا کیونکہ تو رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہے اور کمزوروں کا بوجھ اٹھاتا ہے اور تمام وہ نیک اخلاق جو دنیا سے معدوم ہو چکے ہیں ان پر عامل ہے۔ مہمانوں کی خدمت کرتا ہے اور سچی مصیبتوں پر لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ اس کلام کے باقی حصوں پر تو اپنے وقت پر لکھوں گا سر دست حضرت خدیجہؓ کی گواہی کو پیش کرتا ہوں جو آپ نے قسم کھا کر دی ہے یعنی تَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ کی گواہی گو کافی تھی لیکن اپنے خدا کی قسم کے ساتھ مؤکد کر کے بیان فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ میں تمام اخلاق حسنہ پائے جاتے ہیں حتّٰی کہ وہ اخلاق بھی جو اس وقت ملک میں کسی اور آدمی میں نہیں دیکھے جاتے تھے۔
یہ گواہی کیسی زبردست اور کیسی صاف ہے اور پھر بیوی کی گواہی اس معاملہ میں جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں نہایت ہی معتبر ہے۔ حضرت خدیجہؓ فرماتی ہیں کہ کل اخلاق حسنہ جو دنیا سے معدوم ہو چکے ہیں آپؐ میں پائے جاتے تھے۔
حضرت خدیجہؓ کی گواہی پیش کرنے کے بعد میں خود آنحضرت ﷺ کی گواہی اپنی نیک سیرتی کی نسبت پیش کرتا ہوں۔ شاید اس پر بعض لوگ حیران ہوں کہ اپنی نسبت آپ گواہی کے کیا معنی ہوئے لیکن یہ گواہی رسول کریم ﷺ نے ایسی بے تکلفی سے اور بغیر پہلے غور کے دی ہے کہ موافق تو الگ رہے مخالف کو بھی اس کے ماننے سے انکار نہیں ہونا چاہئے۔ اس حدیث میں جس میں حضرت خدیجہؓ کی گواہی کا ذکر ہے آگے چل کر لکھا ہے کہ حضرت خدیجہؓ آنحضرت ﷺ کو اپنے ساتھ اپنے بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور انہیں کل حال سنایا انہوں نے سن کر کہا کہ یہ فرشتہ جو آپؐ پر نازل ہوا ہے یہ وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ پر نازل فرمایا تھا اور فرمایا کہ يَا لَيْتَنِیْ فِيْهَا جَذَعًا لَيْتَنِیْ اَكُوْنُ حَيًّا اِذْ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ(بخاری جلد اول باب كيف كان بدء الوحى) یعنی اے کاش کہ میں اس وقت جوان و توانا ہوں۔ اے کاش کہ میں اس وقت زندہ ہوں جبکہ تجھے تیری قوم نکال دے گی رسول اللہؐ نے سنکر فرمایا کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟
اس گفتگو سے اور خصوصاً رسول کریم ﷺ کے اس قول سے کہ ”کیا مجھے میری قوم نکال دے گی“ معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کا اندر کیسا صاف تھا۔ اور جب آپؐ نے ورقہ بن نوفل سے یہ بات سنی کہ آپؐ کو اہل مکہ نکال دیں گے تو آپ کو اس سے سخت حیرت ہوئی کیونکہ آپ اپنے نفس میں جانتے تھے کہ مجھ میں کچھ عیب نہیں۔ اور اگر آپ ذرہ بھر بھی اپنی طبیعت میں تیزی پاتے تو اس قدر تعجب کا اظہار نہ فرماتے لیکن ورقہ کی بات سنکر اس پاک فطرت انسان کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ ہیں کیا میری قوم مجھے نکال دے گی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ بعض خبیث الفطرت ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو ہر نور کی مخالفت کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ تو اس بات پر حیران تھا کہ اس پاک زندگی اور اس دردمند دل کے باوجود میری قوم مجھے کیوں کر نکال دے گی۔
اخلاق پر ایک مجملاً بحث کرنے کے بعد اب میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے آنحضرت ﷺ کے اخلاق کا تفصیلاً بیان کرنا چاہتا ہوں لیکن پیشتر اس کے کہ میں فرداً فرداً آپؐ کے اخلاق کا بیان کروں ان کی تقسیم کر دینا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ اس تقسیم کو مد نظر رکھ کر ناظرین پر یہ بات پوری طرح عیاں ہو جاوے کہ تمام کے تمام شعبہ ہائے اخلاق میں آپؐ کمال کو پہنچ گئے تھے اور ہر حصہ زندگی میں آپؐ کے اخلاق اپنا جلوہ دکھا رہے تھے اور کوئی صنف خوبی کی باقی نہ رہی تھی جس میں آپؐ نے دوسرے تمام انسانوں کو اپنے پیچھے نہیں چھوڑ دیا۔ میں نے جہاں تک غور کیا ہے انسان کے تعلقات تین طرح کے ہوتے ہیں۔ سب سے پہلا تعلق تو اسکا خدا سے ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کا خالق و رازق ہے۔ اس کے فضل کے بغیر اس کا ایک دم آرام سے نہیں گزر سکتا بلکہ آرام تو الگ رہا اس کی زندگی ہی محال ہے۔ اس کے احسانات کی کوئی حد نہیں ہر ایک لمحہ میں اس کے فضلوں کی بارش ہم پر ہو رہی ہے۔ کمزور سے کمزور ضعیف سے ضعیف حالت سے اس نے ہمیں اس حد کو پہنچایا ہے اور عقل و خرد بخش کر کل مخلوقات پر فضیلت بخشی ہے اس لئے اگر اس کے ساتھ ہمارے تعلقات درست نہ ہوں۔ اگر ہمارے اخلاق تعلق باللہ میں ادنیٰ ہوں اور اس کے احسانات کو ہم فراموش کر دیں تو ہم سے زیادہ کوئی ذلیل نہیں۔ خالق کے بعد ہمارا تعلق مخلوق سے ہے کہ ان میں بھی کوئی ہمارا محسن ہے، کوئی ہمارا معلم ہے، کوئی ہمارا مہربان ہے، کوئی درد خواہ ہے، کوئی ہمارے آرام و آسائش میں کوشاں ہے، کوئی ہماری محبت اور توجہ کا محتاج ہے، کوئی اپنی کمزوریوں اور اپنی گری ہوئی حالت اور اپنے ہم سفروں سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے ہم سے نصرت و مدد کا متمنی ہے۔ غرضیکہ ہزاروں طریق سے ہزاروں آدمی ہم سے متعلق ہیں اور اگر ہمارے معاملات ان سے درست نہ ہوں اگر ان سے بد خلقی سے پیش آئیں تب بھی دنیا کا امن و امان جاتا رہتا ہے اور فساد و بغاوت میں ترقی ہوتی ہے پس اگر ہمارے اخلاق مخلوق سے درست نہ ہوں تو ہم ایک ڈاکو کی طرح ہیں جو دنیا سے اس کے امن و آرام کا متاع لوٹتا اور غارت کرتا ہے۔
تیسرا تعلق ہمارا خود اپنے نفس سے ہے کہ یہ بھی ہماری بہت سی توجہات کا محتاج ہے اور جس طرح ہمارا خالق سے منہ موڑنا یا مخلوق سے بد اخلاقی سے پیش آنا نہایت مضر اور مخرب امن ہے اسی طرح ہمارا اپنے نفس سے بد سلوکی کرنا اور اخلاق رذیلہ سے پیش آنا نہایت خطرناک اور باعث فساد ہے۔ پس وہی انسان کامل ہو سکتا ہے کہ جو ان تینوں معاملات میں کامل ہو اور ان اصناف میں سے ایک صنف میں بھی کمزوری نہ دکھلائے۔
اگر ان تینوں اقسامِ اخلاق کو مد نظر رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اکثر انسان جو اخلاق میں کامل سمجھے جاتے ہیں بہت سی کمزوریاں رکھتے ہیں۔ اور اگر ایک قسم کے اخلاق میں انہیں کمال حاصل ہے تو دوسری قسم میں انہیں کوئی دسترس نہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے پیاروں اور پاک بندوں کا گروہ ہی نکلے گا کہ جو ان تینوں اقسامِ اخلاق میں کمال رکھتا ہے اور کسی خوبی کو اس نے ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ اور جب آپ رسول کریم ﷺ کے اخلاق کا مطالعہ غور سے کریں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ وہ تمام صاحب کمال لوگوں کے سردار تھے اور باوجود اس کے کہ دنیا میں بہت سے صاحبِ کمال لوگ گزرے لیکن جس رنگ میں آپ رنگین تھے اس کے سامنے سب کے رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں اور جن خوبیوں کے آپ جامع تھے ان کا عشر عشیر بھی کسی اور انسان میں نہیں پایا جاتا
عجب نوریست در جانِ محمدؐ
عجب لعلیست در کانِ محمدؐ
ندانم ہیچ نفسے در دو عالَم
کہ دارد شوکت و شانِ محمدؐ
ہم اس بات سے قطعاً منکر نہیں ہیں کہ آپؐ کے پہلے بھی اور آپؐ کے بعد بھی بڑے بڑے صاحب کمال پیدا ہوئے ہیں لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کی مثال اور آنحضرت ﷺ کی مثال دیئے اور سورج کی ہے اور سمندر اور دریا کی ہے کیونکہ وہ دلربا یکتا ان تمام خوبیوں کا جامع تھا جو مختلف اوقات میں مختلف صاحب کمال لوگوں نے حاصل کیں۔ آپؐ نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے احکام کی اطاعت میں ایسا محو کر دیا تھا کہ دنیا میں اس کے روشن مظہر ہو گئے تھے اور وہ تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ کہنے والا انسان خود اس قول کا کامل نمونہ تھا
زاں نمط شد محو دلبر کز کمالِ اتحاد
پیکر او شد سراسر صورتِ ربِ رحیم
بوئے محبوبِ حقیقی میدمِد زاں روئے پاک
ذاتِ حقانی صفاتش مظہرِ ذاتِ قدیم
میں ان تینوں اقسامِ اخلاق میں سے پہلے تو اس کے اخلاقِ حسنہ میں سے وہ حصہ بیان کروں گا کہ جس سے آپؐ کا تعلق باللہ بدرجہ کمال ثابت ہوتا ہے۔ پھر وہ حصہ جس سے آپؐ کے نفس کی پاکیزگی اور کمال ثابت ہوتا ہے۔ اور آخر میں وہ حصہ جس سے مخلوق سے آپؐ کے تعلق کی کیفیت کھلتی ہے۔
آپؐ کی خشیت الٰہی کا ثبوت ایک دعا سے خوب ملتا ہے۔ انسان جس وقت لوگوں سے جدا ہو کر دعا مانگتا ہے تو اس وقت اسے کسی بناوٹ کی ضرورت نہیں ہوتی اور اس وقت کے خیالات اگر کسی طرح معلوم ہو جائیں تو وہ اس کے سچے خیالات ہوں گے کیونکہ وہ ان خیالات کا اظہار تخلیہ میں کرتا ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نماز میں یہ دعا مانگا کرتے تھے اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْیَا وَ فِتْنَةِ الْمَمَاتِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْمَاْثَمِ وَ الْمَغْرَمِ فَقَالَ لَہٗ قَائِلٌ مَّا اَکْثَرَ مَا تَسْتَعِیْذُ مِنَ الْمَغْرَمِ فَقَالَ اِنَّ الرَّجُلَ اِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَ وَعَدَ فَاَخْلَفَ(بخاری کتاب الصلوة باب الدعاء قبل السلام) اے میرے خدا میں تیری ہی پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے اور میں پناہ مانگتا ہوں مسیح الدجال کے فتنہ سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے اے میرے رب میں پناہ مانگتا ہوں گناہوں سے اور قرضہ سے اس دعا کو سنکر ایک شخص نے پوچھا کہ آپؐ قرضہ سے اس قدر کیوں پناہ مانگتے ہیں۔ فرمایا کہ جب انسان قرضدار ہو جاتا ہے تو بات کرتے وقت جھوٹ بول جاتا ہے اور وعدہ کر کے اس کے خلاف کرتا ہے۔ کیسی پاک دعا ہے آپؐ کے اندرونہ پر کیسی روشنی ڈالتی ہے اور اس سے کیسا کھلا کھلا ظاہر ہو جاتا ہے کہ آپؐ اللہ تعالیٰ سے کیسے خائف تھے۔ کس طرح اس کے حضور گرتے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے پھر اسی سے عرض کرتے کہ مجھ سے تو کچھ نہیں ہو سکتا تو خود ہی فضل کر۔
بڑوں اور چھوٹوں میں کیا فرق ہوتا ہے۔ جن کے پاس کچھ ہوتا ہے وہ کیسے منکسر المزاج ہوتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ جیسے انسان اور ختم نبوت کا دعویٰ، قرآن شریف جیسی کتاب اتر رہی ہے۔ نصرت الٰہی کی وہ بھر مار ہے کہ دشمن و دوست حیران ہیں۔ ہر گھڑی پیار و محبت کے اظہار ہو رہے ہیں۔ حتیٰ کہ بارگاہِ خداوندی سے قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ(آل عمران: ۳۲) کا حکم جاری ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ آپ کی شان میں فرماتا ہے کہ الَّذِیۡنَ یُبَایِعُوۡنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوۡنَ اللّٰہَ(الفتح: ۱۱) اور اسی طرح ارشاد ہوتا ہے کہ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوۡسَیۡنِ اَوۡ اَدۡنٰی(النجم: ۱۰) لیکن خشیت الٰہی کا یہ حال ہے کہ آپ فرماتے ہیں وَاللّٰهِ مَا اَدْرِیْ وَ اَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ مَا يُفْعَلُ بِيْ خدا کی قسم میں نہیں جانتا باوجود اس کے کہ میں خدا کا رسول ہوں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ سچ ہے کہ جسے جتنا قربِ شاہی نصیب ہوتا ہے اسی طرح وہ خائف بھی زیادہ ہوتا ہے۔ ادھر تو اس بادشاہِ دو جہاں کا اللہ تعالیٰ کی خشیت میں یہ کمال تھا ادھر ہم آجکل فقراء کو دیکھتے ہیں کہ ذرا کوئی بات ہوئی اور کہتے ہیں کہ الٹادوں طبقۂ زمین و آسمان۔ ایک ہاتھ میں سوٹا اور ایک ہاتھ میں کشکول گدائی لئے پھرتے ہیں۔ بدن پر ہندو فقیروں کی طرح راکھ ملی ہوئی ہوتی ہے معرفت الٰہی سے بالکل بے بہرہ ہوتے ہیں۔ قرآن شریف پر عمل تو الگ رہا ایک آیت بھی پڑھ نہیں سکتے لیکن دعاوی دیکھو تو کہو کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ سب کاروبارِ خدائی انہیں سپرد کر کے آپ علیحدہ ہو گیا ہے یہ تو جہلاء کا گروہ ہے پیروں کی بھی ایسی ہی حالت ہے بعض تو فقط اپنی بہشت تو الگ رہی اپنے دستخطی رقعوں پر دوسروں کو بھی بہشت دلاتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی انکی حالت پر رحم کرے اور ہمیں اس پاک رسولؐ کی اطاعت کی توفیق دے کہ اس کے بغیر نجات نہیں۔
بدر کے موقع پر آنحضرت ﷺ سے جو ظہور میں آیا وہ بھی چشم بصیرت رکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کرنے کیلئے کافی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کے دل میں اللہ تعالیٰ کا کس قدر خوف تھا۔ جنگ بدر کے موقع پر جبکہ دشمن کے مقابلہ میں آپؐ اپنے جاں نثار بہادروں کو لے کر پڑے ہوئے تھے۔ تائید الٰہی کے آثار ظاہر تھے کفار نے اپنے قدم جمائے پختہ زمین پر ڈیرے لگائے تھے اور مسلمانوں کے لئے ریت کی جگہ چھوڑی تھی لیکن خدا نے بارش بھیج کر کفار کے خیمہ گاہ میں کیچڑ ہی کیچڑ کر دیا اور مسلمانوں کی جائے قیام مضبوط ہو گئی۔ اسی طرح اور بھی تائیدات سماوی ظاہر ہو رہی تھیں لیکن باوجود اس کے اللہ تعالیٰ کا خوف آنحضرت ﷺ کے دل پر ایسا غالب تھا کہ سب وعدوں اور نشانات کے باوجود اس کے غناء کو دیکھ کر گھبراتے تھے اور بیتاب ہو کر اس کے حضور میں دعا فرماتے تھے کہ مسلمانوں کو فتح دے۔ چنانچہ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِيْ قُبَّةٍ اَللّٰهُمَّ اِنِّىْٓ اَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَ وَعْدَكَ اَللّٰهُمَّ اِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ فَاَخَذَ اَبُوْ بَكْرٍ بِيَدِهٖ فَقَالَ حَسْبُكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ فَقَدْ اَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ وَ هُوَ فِي الدِّرْعِ فَخَرَجَ وَ هُوَ يَقُوْلُ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ(بخاری کتاب الجہاد باب ما قیل فی درع النبی صلی اللہ علیہ وسلم) نبی کریمؐ جنگ بدر میں ایک گول خیمہ میں تھے اور فرماتے تھے کہ اے میرے خدا میں تجھے تیرے عہد اور وعدے یاد دلاتا ہوں اور ان کے ایفاء کا طالب ہوں۔ اے میرے رب اگر تو ہی (مسلمانوں کی تباہی) چاہتا ہے تو آج کے بعد تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے آپؐ کا ہاتھ پکڑ لیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ بس کیجئے آپؐ نے اپنے رب سے دعا کرنے میں حد کر دی رسول کریم ﷺ نے اس وقت زرہ پہنی ہوئی تھی آپؐ خیمہ سے باہر نکل آئے اور فرمایا کہ ابھی ان لشکروں کو شکست ہو جائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے بلکہ یہ وقت ان کے انجام کا وقت ہے اور یہ وقت ان لوگوں کے لئے نہایت سخت اور کڑوا ہے۔ اللہ اللہ ! خوف خدا کا ایسا تھا کہ باوجود وعدوں کے اس کے غناء کا خیال تھا لیکن یقیں بھی ایسا تھا کہ جب حضرت ابوبکرؓ نے عرض کی تو بآوازِ بلند سنا دیا کہ میں ڈرتا نہیں بلکہ خدا کی طرف سے مجھے علم ہو چکا ہے کہ دشمن شکست کھا کر ذلیل و خوار ہو گا اور آئمتہ الکفر
یہیں مارے جائیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
جس جگہ پر عذاب آ چکا ہو وہاں آپؐ نہ ٹھہرتے۔ رسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ سے اس قدر خائف تھے اور اس کا تقویٰ آپؐ کے دل میں ایسا مستولی تھا کہ نہ صرف آپؐ ایسے افعال سے محفوظ تھے کہ جن سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا خوف ہو اور نہ صرف لوگوں کو ایسے افعال میں مبتلا ہونے سے روکتے تھے بلکہ آپؐ ان مقامات میں ٹھہرنا برداشت نہ کرتے تھے جس جگہ کسی قوم پر عذاب آ چکا ہو۔ اور ان واقعات کو یاد کر کے ان افعال کو آنکھوں کے سامنے لا کر جن کی وجہ سے وہ عذاب نازل ہوئے آپؐ اس قدر غضب الٰہی سے خوف کرتے کہ اس جگہ کا پانی تک استعمال کرنا آپؐ مکروہ جانتے چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں لَمَّا نَزَلَ الْحِجْرَ فِيْ غَزْوَةِ تَبُوْكَ اَمَرَهُمْ اَنْ لَّا يَشْرَبُوْا مِنْ بِئْرِهَا وَلَا يَسْتَقُوْا مِنْهَا فَقَالُوْ اقَدْ عَجَنَّا مِنْهَا وَاسْتَقَيْنَا فَاَمَرَهُمْ اَنْ يَّطْرَحُوْا ذٰلِكَ الْعَجِيْنَ وَيُهَرِيْقُوْا ذٰلِكَ الْمَاءَ(بخاری کتاب بدء الخلق باب قول اللہ تعالی عز و جل و الی ثمود اخاھم صالحا) جب آنحضرت ﷺ غزوہ تبوک کے موقع پر مقام حجر پر اترے آپؐ نے صحابہؓ کو حکم دیا کہ اس کنویں سے پانی نہ پیئیں اور نہ پانی بھریں یہ حکم سن کر صحابہؓ نے جواب دیا کہ ہم نے اس پانی سے آٹا گوندھ لیا ہے اور پانی بھر لیا ہے آپؐ نے حکم دیا کہ اس آٹے کو پھینک دو اور اس پانی کو بہا دو۔ اس خوف الٰہی کو دیکھو اور دنیا کے سب راستبازوں کی زندگیوں کا اس پاک نبیؐ کی زندگی سے مقابلہ کرو کہ اس میں خوف الٰہی کس قدر زیادہ تھا۔
پہلے میں ذکر کر چکا ہوں کہ آنحضرت ﷺ اپنی نسبت فرماتے تھے کہ وَمَا اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ آپؐ کبھی اس بات کا دعویٰ نہ کرتے کہ اپنے اعمال کے زور سے جنت کے وارث بن جائیں گے بلکہ ہمیشہ یہی تعلیم دیتے کہ خدا کے فضل سے جو کچھ ملے گا ملے گا اور اپنی نسبت بھی یہی فرماتے کہ میری نجات بھی خدا کے ہی فضل سے ہوگی۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ لَنْ يُدْخِلَ اَحَدًا عَمَلُهُ الْجَنَّةَ قَالُوْا وَلَا اَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ قَالَ وَ لَا اَنَا اِلَّا اَنْ يَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰهُ بِفَضْلِهٖ وَرَحْمَتِهٖ فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَ لَا يَتَمَنَّيَنَّ اَحَدُكُمُ الْمَوْتَ اِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ اَنْ يَّزْدَادَ خَيْرًا وَّاِمَّا مُسِيْئًا فَلَعَلَّهُ اَنْ يَّسْتَعْتِبَ(بخاری کتاب المرضی باب نھی تمنی المریض الموت) فرماتے ہیں میں نے رسول کریم ﷺ کو ایک دفعہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی کو اس کا عمل جنت میں نہیں داخل کرے گا۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہؐ کیا آپؐ بھی اپنے اعمال کے زور سے جنت میں داخل نہ ہوں گے آنحضرت ﷺ نے جواب دیا کہ میں بھی اپنے اعمال کے زور سے جنت میں داخل نہ ہوں گا بلکہ خدا کا فضل اور اس کی رحمت مجھے ڈھانپ لیں گے تو میں جنت میں داخل ہوں گا اس لئے تم نیکی کرو اور سچائی سے کام لو اور خدا کی نزدیکی کو تلاش کرو اور تم میں سے کوئی موت کی آرزو نہ کرے کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو شاید وہ نیکی میں اور ترقی کرے اور اگر بد ہے تو شاید اس کی توبہ قبول ہو جائے اور اسے خدا کی رضاء کے حاصل کرنے کا موقع مل جائے۔
اس حدیث سے رسول کریم ﷺ کی خشیت کا پتہ چلتا ہے کہ آپؐ نے خدا تعالیٰ کی قدرت، بڑائی اور جلال کا کیسا صحیح اندازہ لگایا تھا اور کس طرح آپؐ کے دل پر حقیقت منکشف تھی کہ آپؐ ان اعمال کے ہوتے ہوئے بھی اس بادشاہ کی غناء سے ایسے خائف تھے کہ فرماتے کہ خدا کا فضل ہی ہو تو نجات ہو ورنہ اس کے فضل کے بغیر نجات کیونکر ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ اسلام نجات کو اعمال کا نتیجہ نہیں بلکہ خدا کے فضل کا نتیجہ قرار دیتا ہے ہاں اعمالِ صالحہ خدا کے فضل کے جاذب ہوتے ہیں اس لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ نجات خدا کے فضل سے ہے اس لئے تم نیکی اور تقویٰ سے کام لو معلوم ہوا کہ نیکی اور اعمالِ صالحہ فضل کے جاذب ہیں چنانچہ ایک دوسری حدیث میں اس کی اور تشریح ہو جاتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ ہی اس حدیث کے بھی راوی ہیں اور اس میں انہوں نے پہلی حدیث سے اتنا زیادہ بیان فرمایا ہے وَ اغْدُوۡا وَ رُوۡحُوۡا وَ شَیْئٌ مِّنَ الدُّلْجَةِ وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوۡا(بخاری کتاب الرقاق باب القصد والمداومة على العمل) یعنی خدا کے فضل کے سوا نجات نہیں اسی لئے صبح کے وقت عبادت کرو اور شام کے وقت بھی اور کچھ رات کے وقت بھی اور خوب قصد کرو۔ پوری طرح سے قصد کرو۔ جنت میں پہنچ جاؤ گے اس حدیث سے صاف کھل جاتا ہے کہ اپنے اعمال کو فضل کا جاذب قرار دیا ہے۔
لوگ گناہ کرتے ہیں اور پھر جرأت کرتے ہیں اور خدا کا خوف ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتا اور ایسے سنگدل ہو جاتے ہیں کہ کبھی ان کے دلوں میں یہ خیال پیدا نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے مورد نہ بن جائیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے میں نے ایک شخص سے ذکر کیا کہ تم توبہ و استغفار کیا کرو اور نیکی میں ترقی کرو اس نے مجھے جواب دے دیا کہ
کیا آپ مجھے گندہ جانتے ہیں کیا میں گناہ گار ہوں کہ آپ مجھے نیکی اور تقویٰ اور استغفار کے لئے کہتے ہیں؟ میں یہ بات سنکر حیران ہی ہو گیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں سے اتنا ناواقف ہے اور اس کے جلال سے اتنا بے خبر ہے کہ اسے اتنی بھی نہیں سمجھ کہ اس بادشاہ سے انسان کو کیسا خائف رہنا چاہئے دنیاوی بادشاہوں کے مقربین کو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی خدمت و خوشامد کے باوجود بھی ان سے یہی عرض کرتے رہتے ہیں کہ اگر کچھ قصور ہو گیا ہو تو عفو فرمائیں۔ بے شک بہت سے لوگ حتی المقدور نیکی کا خیال رکھتے ہیں مگر پھر بھی انسان سے خطا کا ہو جانا کچھ تعجب کی بات نہیں۔ رسول کریمؐ کو دیکھو کیسی معرفت تھی، کیسی احتیاط تھی، کس طرح خدا تعالیٰ سے خائف رہتے تھے اور باوجود اس کے کہ تمام انسانوں سے زیادہ آپؐ کامل تھے اور ہر قسم کے گناہوں سے آپؐ پاک تھے۔ خود اللہ تعالیٰ آپؐ کا محافظ و نگہبان تھا مگر باوجود اس تقدیس اور پاکیزگی کے یہ حال تھا کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے خائف رہتے نیکی پر نیکی کرتے، اعلیٰ سے اعلیٰ اعمال بجالاتے، ہر وقت عبادتِ الٰہیہ میں مشغول رہتے مگر باوجود اس کے ڈرتے اور بہت ڈرتے۔ اپنی طرف سے جس قدر ممکن ہے احتیاط کرتے مگر خدا تعالیٰ کے غناء کی طرف نظر فرماتے اور اس کے جلال کو دیکھتے تو اس بارگاہِ صمدیت میں اپنے سب اعمال سے دستبردار ہو جاتے اور استغفار کرتے اور جب موقع ہو تا توبہ کرتے۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ وَاللَّهِ إِنِّي لَاَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ اَكْثَرَ مِنْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً(بخاری کتاب الدعوات باب استغفار النبی صلی اللہ علیہ وسلم)، میں نے آنحضرت ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ خدا کی قسم میں دن میں ستر دفعہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کے حضور میں اپنی کمزوریوں سے عفو کی درخواست کرتا ہوں اور اس کی طرف جھک جاتا ہوں۔
رسول کریمؐ اللہ تعالیٰ کے فضل سے گناہوں سے پاک تھے نہ صرف اس لئے کہ انبیاء کی جماعت مَعْصُوْمٌ عَنِ الْإِثْمِ وَالْجُرْمِ ہوتی ہے بلکہ اس لئے بھی کہ انبیاء میں سے بھی آپ سب کے سردار اور سب سے افضل تھے آپؐ کا اس طرح استغفار اور توبہ کرنا بتاتا ہے کہ خشیت الٰہی آپؐ پر اس قدر غالب تھی کہ آپ اس کے جلال کو دیکھ کر بے اختیار اس کے حضور میں گر جاتے کہ انسان سے کمزوری ہو جانی ممکن ہے تو مجھ پر اپنا فضل ہی کر۔ وہاں تو یہ خشیت تھی اور یہاں یہ حال ہے کہ ہم لوگ ہزاروں قسم کے گناہ کر کے بھی استغفار و توبہ میں کوتاہی کرتے ہیں اَسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّيْ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَّ اَتُوْبُ اِلَيْهِ۔
آنحضرتؐ موت سے کسی وقت غافل نہ رہتے اور خشیت الٰہی آپؐ پر اس قدر غالب تھی کہ ہر روز یہ یقین کر کے سوتے کہ شاید آج ہی موت آجاوے اور آج ہی اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا پڑے اور اس لئے آپؐ ایک ایسے مسافر کی طرح رہتے تھے جسے خیال ہوتا ہے کہ ریل اب چلی کہ چلی وہ کبھی اپنے آپ کو ایسے کام میں نہیں پھنساتا کہ جسے چھوڑنا مشکل ہو۔ آپؐ بھی ہر وقت اپنے محبوب کے پاس جانے کیلئے تیار رہتے اور جو دم گزرتا اسے اس کے فضل کا نتیجہ سمجھتے اور موت کو یاد رکھتے۔ حذیفہ بن الیمانؓ فرماتے ہیں كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ خَدِّهِ ثُمَّ يَقُولُ اللّٰهُمَّ بِاسْمِكَ اَمُوتُ وَاَحْيَا وَإِذَا قَامَ قَالَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ اَحْيَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ (بخاری کتاب الدعوات باب وضع الید تحت الخد الیمن) رسول کریمؐ کی عادت تھی کہ جب آپؐ اپنے بستر پر لیٹتے اپنے رخسار کے نیچے اپنا ہاتھ رکھتے اور فرماتے اے میرے مولا میرا مرنا اور جینا تیرے ہی نام پر ہو اور جب سو کر اٹھتے تو فرماتے شکر ہے میرے رب کا جس نے ہمیں زندہ کیا مارنے کے بعد۔ اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ ہر رات جب بستر پر جاتے تو اپنی طرف سے حساب ختم کر جاتے اور خدا تعالیٰ سے دعا مانگتے کہ اگر میں فوت ہو جاؤں تو تب بھی تیرے ہی نام پر میری زندگی ہو اور جب اٹھتے تو خدا تعالیٰ کے احسان پر حمد کرتے کہ میں تو اپنی طرف سے دنیا سے علیحدہ ہو چکا تھا تیرا ہی فضل ہوا کہ تو نے پھر مجھے زندہ کیا اور میری عمر میں برکت دی۔
جس طرح مذکورہ بالا دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریمؐ ہر وقت موت کو یاد رکھتے تھے اسی طرح مذکورہ ذیل دعا بھی اس بات پر شاہد ہے کہ آپؐ اپنی زندگی کی ہر گھڑی کو آخری گھڑی جانتے تھے اور جب آپؐ سونے لگتے تو اپنے رب سے اپنے معاملہ کا فیصلہ کر لیتے اور گویا ہر ایک تغیر کیلئے تیار ہو جاتے۔ چنانچہ براء بن عازبؓ کی روایت ہے کہ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اَوَى إِلَى فِرَاشِهِ نَامَ عَلَى شِقِّهِ الْاَيْمَنِ ثُمَّ قَالَ اللّٰهُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِيْ اِلَيْكَ وَ وَجَّهْتُ وَجْهِيْ إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ اَمْرِيْ إِلَيْكَ وَاَلْجَأْتُ ظَهْرِيْ إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَاَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ اٰمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِيْ اَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِيْ اَرْسَلْتَ (بخاری کتاب الدعوات باب النوم علی الشق الایمن) فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ جب اپنے بستر پر جا کر لیٹتے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹتے پھر فرماتے اے میرے رب میں اپنی جان تیرے سپرد کرتا ہوں اپنی سب توجہ تیری ہی طرف پھیرتا ہوں۔ میں اپنا معاملہ تیرے ہاتھوں میں دیتا ہوں۔ اور اپنے آپ کو تیری پناہ میں دیتا ہوں۔ تجھ سے نفع کا امیدوار ہوں۔ تیری بڑائی اور استغنا سے خائف بھی ہوں تیرے غضب سے بچنے کے لئے کوئی پناہ کی جگہ نہیں اور نہ کوئی نجات کا مقام ہے مگر یہی کہ تجھ ہی سے نجات و پناہ طلب کی جائے میں اس کتاب پر جو تو نے نازل کی ہے اور اس رسولؐ پر جو تو نے بھیجا ہے ایمان لاتا ہوں۔
لوگ اپنی دوکان کو بند کرتے وقت اس کا حساب کر لیتے ہیں مگر خدا سے جو حساب ہے اسے صاف نہیں کرتے۔ مگر کیسا برگزیدہ وہ انسان تھا جو صبح سے شام تک خدا کے فرائض کے ادا کرنے میں لگا رہتا اور خود ہی انہیں ادا نہ کرتا بلکہ ہزاروں کی نگرانی بھی ساتھ ہی کرتا تھا کہ وہ بھی اپنے فرائض کو ادا کرتے ہیں یا نہیں مگر رات کو سونے سے پہلے اپنی تمام کوششوں اور عبادتوں سے آنکھ بند کر کے عاجزانہ اپنے مولیٰ کے حضور میں اس طرح حساب صاف کرنے کے لئے کھڑا ہو جاتا کہ گویا اس نے کوئی خدمت کی ہی نہیں اور اس وقت تک نہ سوتا جب تک اپنی جان کو پورے طور سے خدا کے سپرد کر کے دنیا و مافیہا سے براءت نہ ظاہر کر لیتا اور خدا کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہ دے لیتا۔
اس دعا سے ایک عجیب نکتہ معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ رسول کریمؐ کو اپنی نبوت پر اس قدر یقین کامل تھا کہ آپؐ عین تنہائی میں ہر روز سوتے وقت خدا کے سامنے اقرار فرماتے کہ مجھے اپنی نبوت پر ایمان ہے اور اسی طرح قرآن شریف پر بھی ایمان ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ اپنی تعلیم کو لوگوں کے لئے ہی قابل عمل نہیں جانتے تھے بلکہ سب سے پہلے اپنے نفس کو کہتے تھے کہ یہ حکم خدا کا آیا ہے اور اس کا رسول یوں کہتا ہے کہ اس پر ایمان لا۔ اس لئے تو آپؐ فرماتے ہیں کہ اٰمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِیْٓ اَنْزَلْتَ وَ نَبِیِّكَ الَّذِیْٓ اَرْسَلْتَ۔
بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے وہ خواہ مخواہ اپنے آپ کو فتنوں میں ڈالتے ہیں اور اس طرح اپنے نفس کا امتحان کرتے ہیں مگر یہ لوگ بعض دفعہ ان فتنوں میں ایسے گرتے ہیں کہ پھر سنبھلنے کی طاقت نہیں رہتی اور بجائے ترقی کرنے کے ان کا قدم نیچے ہی نیچے چلا جاتا ہے کچھ آدمی ایسے ہوتے ہیں جو خود بڑے بڑے کام طلب کرتے ہیں کہ ہمیں اگر ایسی مصیبت کا موقع ملے تو ہم یوں کریں اور یوں کریں اور اس طرح دین کی خدمت کریں لیکن رسول کریمؐ کی نسبت اس کے خلاف ہے۔ آپؐ کبھی پسند نہ فرماتے تھے کہ کوئی انسان خدا تعالیٰ سے ابتلاؤں کی خواہش کرے کیونکہ کوئی کیا جانتا ہے کہ کل کیا ہو گا۔ ممکن ہے کہ خدا کی غیرت اسے تباہ کر دے۔
ممکن ہے کہ اس کے اپنے اعمال کی کمزوری اس کے آگے آجائے۔ ممکن ہے کہ شیطان اس کے دل پر تسلط پا کر اسے خراب کر دے اور یہ گمراہ ہو جائے چنانچہ آپؐ خود بھی بجائے ابتلاؤں کی آرزو کرنے کے ان سے بچنے کی دعا کرتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوْءِ الْقَضَاءِ وَشَمَاتَةِ الْاَعْدَاءِ(بخاری کتاب الدعوات باب التعوذ من جهد البلاء) رسول کریمؐ ہمیشہ خدا سے پناہ مانگتے تھے کہ مجھ پر کوئی ایسی مصیبت نہ آئے جو میری طاقت سے بڑھ کر ہو کوئی ایسا کام نہ پیش آجائے کہ جس کا نتیجہ ہلاکت ہو۔ اور کوئی خدا کا فیصلہ ایسا نہ ہو کہ جس کو میں ناپسند کروں اور کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو کہ جس سے میرے دشمنوں کو خوشی کا موقع ملے۔ اس دعا سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپؐ کے دل میں کیسی خشیت الٰہی تھی اور آپؐ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کیسا کمزور جانتے اور کبھی اپنی بڑائی کے لئے اور اپنے ایمان کے اظہار کے لئے کسی بڑے کام یا ابتلاء کی آرزو نہ فرماتے اور یہی حقیقی ایمان ہے جس کی اقتداء کا مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے۔ لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ(الاحزاب: ۲۲)
رسول کریم ﷺ کی ایک اور دعا بھی ہے جو آپؐ ہمیشہ خدا تعالیٰ سے طلب فرماتے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کے دل میں کس قدر خوف الٰہی تھا ابو موسیٰؓ فرماتے ہیں آپؐ ہمیشہ دعا فرماتے تھے کہ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ خَطِيْئَتِيْ وَجَهْلِيْ وَاِسْرَافِيْ فِيْ اَمْرِيْ وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِهِ مِنِّي اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ هَزْلِيْ وَجِدِّيْ وَخَطَايَايَ وَعَمْدِيْ وَكُلُّ ذٰلِكَ عِنْدِيْ(بخاری کتاب الدعوات باب قول النبى صلى الله عليه وسلم اللهم اغفر لى ما قدمت و اخرت) اے اللہ میرے اعمال کے نتائج بد سے مجھے محفوظ رکھ اور میری خطاؤں کے نتائج سے بھی۔ میں اگر اپنی ناواقفیت کی وجہ سے کوئی کام جو کرنا ہو نہ کروں یا کوئی کام جس حد تک مناسب تھا اس سے زیادہ کر بیٹھوں اور جسے تو میری نسبت زیادہ جانتا ہے تو اس کے نتائج سے بھی مجھے محفوظ رکھ۔ اے اللہ اگر کوئی بات میں بے دھیان کہہ بیٹھوں یا متانت سے کہوں، غلطی سے کہوں یا جان کر کہوں اور یہ سب کچھ مجھ میں ممکن ہے۔ پس تو ان میں سے اگر کسی فعل کا نتیجہ بد نکلتا ہو تو اس سے مجھے محفوظ رکھیو۔
حضرت عائشہؓ رسول کریمؐ کی ایک اور دعا بھی بیان فرماتی ہیں اور وہ بھی اس بات پر شاہد ہے کہ جو ایمان و خشیت رسول کریم ﷺ میں تھی اس کی نظیر کسی اور انسان میں نہیں مل سکتی۔ انسان دعا اس سے مانگتا ہے جس پر یقین ہو کہ یہ کچھ کر سکتا ہے۔ ایک موحّد جو بتوں کی بےکسی سے
واقف ہے کبھی کسی بت کے آگے جا کر ہاتھ نہیں پھیلائے گا کیونکہ اسے یقین ہے کہ یہ بت کچھ نہیں کر سکتے لیکن ایک بت پرست ان کے آگے بھی ہاتھ جوڑ کر اپنا حالِ دل کہہ سناتا ہے کیونکہ اسے ایمان ہے کہ یہ بت بھی خدا تعالیٰ کے قرب کا ایک ذریعہ ہیں۔ فقیر بھی اس بات کو دیکھ لیتے ہیں کہ فلاں شخص دے گا یا نہیں اور جس پر انہیں یقین ہو کہ کچھ دے گا اس سے جا کر طلب کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی اس سے کچھ مانگتا ہے جس پر اسے ایمان ہو کہ اس سے ملے گا۔ رسول کریمؐ کا ہر وقت خدا سے امداد طلب کرنا، نصرت کی درخواست کرنا اور اٹھتے بیٹھتے اسی کے کواڑ کھٹکھٹانا، اسی سے حاجت روائی چاہنا کیا اس بے مثل یقین اور ایمان کو ظاہر نہیں کرتا جو آپؐ کو خدا پر تھا۔ اور کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپؐ کا دل یادِ الٰہی اور خشیتِ ایزدی سے ایسا معمور و آباد تھا کہ توجہ الی المخلوق کا اس میں کوئی خانہ خالی ہی نہ تھا۔ اگر یہ بات کسی اور انسان میں بھی پائی جاتی تھی اور اگر کوئی اور شخص بھی آپؐ کے برابر یا آپ کے قریب بھی ایمان رکھتا تھا اور خدا کا خوف اس کے دل پر مستولی تھا تو اسکے اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے میں بھی خشیتِ الٰہی کے یہ آثار پائے جانے ضروری ہیں مگر میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ زمین کے ہر گوشہ میں چراغ لے کر گھوم جاؤ، تاریخوں کی ورق گردانی کرو، مختلف مذاہب کے مقتداؤں کے جیون چرتر، سوانح عمریاں اور بائیو گرافیاں پڑھ جاؤ مگر ایسا کامل نمونہ کسی انسان میں نہ پاؤ گے۔ اور وہ خوفِ خدا جو رسول کریمﷺ کے ہر ایک قول سے ظاہر ہوتا ہے اور وہ حزم و احتیاط جو آپؐ کے ہر ایک فعل سے ٹپکتی ہے اس کا عشر عشیر بھی کسی دوسرے انسان کی زندگی میں پایا جانا محال ہے۔ وہ دعا جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے یہ ہے۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَالْھَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنٰی وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ اَللّٰھُمَّ اغْسِلْ عَنِّیْ خَطَایَایَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِیْ مِنَ الْخَطَایَا کَمَا نَقَّیْتَ الثَّوْبَ الْاَبْیَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَایَایَ کَمَا بَاعَدْتَ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ(بخاری کتاب الدعوات باب التعوذ من الماثم المغرم) اے میرے رب میں تجھ سے سستی اور شدید بڑھاپے اور گناہوں اور قرضہ اور قبر کے فتنہ اور قبر کے عذاب اور دوزخ کے فتنہ اور اس کے عذاب اور دولت کے فتنہ کے نقصانوں سے پناہ مانگتا ہوں اور اسی طرح میں غربت کے فتنہ سے پناہ مانگتا ہوں اور مسیح الدجال کے فتنہ سے پناہ مانگتا ہوں اے میرے اللہ میری خطاؤں کو مجھ سے برف اور اولوں کے پانی کے ساتھ دھو دے اور میرے دل کو ایسا صاف کر دے کہ جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل سے صاف کر دیا ہے اور مجھ میں اور گناہوں میں اتنا فاصلہ حائل کر دے جتنا تو نے مشرق و مغرب میں رکھا ہے۔
اے وہ انسان جسے رسول کریم ﷺ سے عداوت ہے تو بھی ذرا اس دعا کو غور سے پڑھا کر اور دیکھ کہ وہ گناہوں سے کس قدر متنفر تھے۔ وہ بدیوں سے کس قدر بیزار تھے۔ وہ کمزوریوں سے کس طرح بری تھے۔ وہ عیبوں سے کس قدر پاک تھے اور ان کا دل خشیت الٰہی سے کیسا پُر تھا فَتَدَبَّرُوْا هُتَدَ بِهُدَاهُ۔
اس بات کے بتانے کے بعد کہ رسول کریم ﷺ کی زندگی اور آپ کا ہر فعل خشیت الٰہی کی ایک زندہ مثال ہے میں آپؐ کی غیرت دینی کے متعلق کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔
بہت سے لوگ اعلیٰ سے اعلیٰ اخلاق کے نمونہ دکھاتے ہیں مگر یہ اخلاق اسی وقت تک ظاہر ہوتے ہیں جب تک انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ ذرا ان کے منشاء کے خلاف کوئی بات ہو اور ان کی آنکھیں لال پیلی ہو جاتی ہیں اور منہ سے جھاگ آنی شروع ہو جاتی ہے۔ اور اگر اشارۃً بھی کوئی انہیں ایسی بات کہہ بیٹھے جس میں وہ اپنی ہتک سمجھتے ہوں تو وہ اسے برداشت نہیں کر سکتے بلکہ ہر ممکن سے ممکن طریق سے اس کا بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں اور جب تک مدّمقابل سے بدلہ نہ لے لیں انہیں چین نہیں آتا۔
مگر انہیں لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ جب خدا اور رسول کی کوئی ہتک کرتا ہے تو اسے بڑی خوشی سے سنتے ہیں اور ان کو وہ قطعاً بری نہیں معلوم ہوتی اور ایسی مجلسوں میں اٹھنا بیٹھنا ناپسند نہیں کرتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کسی وقت ان سے بھی کوئی غلطی ہو جاتی ہے اور اس طرح ان کا دین برباد ہو جاتا ہے۔
جتنے اخلاق اخلاق اور تہذیب تہذیب پکارنے والے لوگ ہیں ان کی زندگیوں کا مطالعہ کر کے دیکھ لو ضرور ان میں یہ بات پائی جائے گی کہ دوسروں کے معاملہ میں اور خصوصاً دین کے معاملہ میں غیرت کے اظہار کو وہ بد خلقی اور بد تہذیبی قرار دیتے ہیں مگر اپنے معاملہ میں ان کا معیارِ اخلاق ہی اور ہے اور وہاں اعلیٰ اخلاق سے کام لینا ان کے لئے ناممکن ہو جاتا ہے۔
مؤمن انسان کا کام اس کے بالکل برخلاف ہونا چاہیے اور اسے اخلاق کا اعلیٰ نمونہ اپنے معاملات میں دکھانا چاہئے اور حتیٰ الوسع کوشش کرنی چاہیئے کہ بہت سے موقعوں پر چشم پوشی سے ہی کام لے اور جب تک عفو سے کام نکل سکتا ہو اور اس کا خراب نتیجہ نہ نکلتا ہو اسے ترک نہ کرے لیکن دین کے معاملہ میں قطعاً بے غیرتی کا اظہار نہ کرے اور ایسے تمام مواقع جن میں دین کی ہتک ہوتی ہو ان سے الگ رہے اور ایسی تمام مجلسوں اور صحبتوں سے پرہیز کرے کہ جن میں دین کی ہتک اور اس سے ٹھٹھا ہوتا ہو اور دین پر جس قدر اعتراض ہوں ان کو دور کرنے کی کوشش کرے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو معلوم ہو گا کہ وہ خدا تعالیٰ کی قدوسیت قائم کرنے کی نسبت اپنے نفس پر اعتراضات دور کرنے کے لئے زیادہ کوشاں رہتا ہے اور جتنا اسے اپنی صفائی کا خیال ہے اتنا خدا تعالیٰ اور دینِ حق کی تنزیہہ کا خیال نہیں۔
رسول کریم ﷺ کی زندگی اس معاملہ میں بھی عام انسانوں سے بالکل مختلف ہے اور آپؐ بجائے اپنے نفسانی معاملات اور ذاتی تکالیف پر اظہارِ غضب و غصہ کے نہایت ملائمت اور نرمی سے کام لیتے اور اگر کوئی اعتراض کرتا تو اس پر خاموش رہتے اور جب تک خاموشی سے نقصان نہ پہنچتا ہو کبھی دَبّ اعتراضات کی طرف توجہ نہ کرتے مگر خدا تعالیٰ کے معاملہ میں آپؐ بڑے باغیرت تھے اور یہ کبھی برداشت نہ کرسکتے تھے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی ہتک کرے اور جب کوئی ایسا موقع پیش آتا آپ فوراً اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ کرتے یا اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے احکام سے لا پرواہی کرتا تو اسے سخت تنبیہہ کرتے۔
حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے فرمایا کہ جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجَّالَةِ يَوْمَ أُحُدٍ وَكَانُوا خَمْسِينَ رَجُلًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ فَقَالَ إِنْ رَأَيْتُمُونَا تَخْطَفُنَا الطَّيْرُ فَلَا تَبْرَحُوا مَكَانَكُمْ هَذَا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ وَ إِنْ رَأَيْتُمُونَا هَزَمْنَا الْقَوْمَ وَ أَوْطَأْنَاهُمْ فَلَا تَبْرَحُوا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ فَهَزَمُوهُمْ قَالَ وَ أَنَا وَ اللَّهِ رَأَيْتُ النِّسَاءَ يَشْتَدِدْنَ قَدْ بَدَتْ خَلَاخِلُهُنَّ وَ أَسْوُقُهُنَّ رَافِعَاتٍ ثِيَا بَهُنَّ فَقَالَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرٍ الْغَنِيمَةَ أَيْ قَوْمِ الْغَنِيمَةَ ظَهَرَ أَصْحَابُكُمْ فَمَا تَنْتَظِرُونَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جُبَيْرٍ أَنَسِيتُمْ مَا قَالَ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا وَاللَّهِ لَنَأْتِيَنَّ النَّاسَ فَلَنُصِيبَنَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ فَلَمَّا أَتَوْهُمْ صُرِفَتْ وُجُوهُهُمْ فَأَقْبَلُوا مُنْهَزِمِينَ فَذَاكَ إِذْ يَدْعُوهُمُ الرَّسُولُ فِي أُخْرَاهُمْ فَلَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ اِثْنَیْ عَشَرَ رَجُلًا فَاَصَابُوْا مِنَّا سَبْعِیْنَ وَ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَصْحَابُہٗ اَصَابَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ یَوْمَ بَدْرٍ اَرْبَعِیْنَ وَمِائَةً سَبْعِیْنَ اَسِیْرًا وَّسَبْعِیْنَ قَتِیْلًا فَقَالَ اَبُوْ سُفْیَانَ اَفِی الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَنَهَاهُمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یُّجِیْبُوْهُ ثُمَّ قَالَ اَفِی الْقَوْمِ ابْنُ اَبِیْ قُحَافَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ اَفِی الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ رَجَعَ اِلٰٓی اَصْحَابِہٖ فَقَالَ اَمَّا هٰٓؤُلَاءِ فَقَدْ قُتِلُوْا فَمَا مَلَکَ عُمَرُ نَفْسَهٗ فَقَالَ کَذَبْتَ وَاللّٰهِ یَا عَدُوَّ اللہِ اِنَّ الَّذِیْنَ عَدَدْتَّ لَاَحْیَاءٌ کُلُّهُمْ وَقَدْ بَقِیَ لَکَ مَا یَسُوْءُکَ قَالَ یَوْمٌ بِیَوْمِ بَدْرٍ وَالْحَرْبُ سِجَالٌ اِنَّکُمْ سَتَجِدُوْنَ فِی الْقَوْمِ مُثْلَةً لَّمْ اَمُرْ بِهَا وَلَمْ تَسُؤْنِیْ ثُمَّ اَخَذَ یَرْتَجِزُ اعْلُ هُبَلُ اعْلُ هُبَلُ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلَا تُجِیْبُوْا لَہٗ قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ مَا نَقُوْلُ قَالَ قُوْلُوا اللہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ قَالَ اِنَّ لَنَا الْعُزّٰی وَلَا عُزّٰی لَکُمْ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلَا تُجِیْبُوْا لَہٗ قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ مَا نَقُوْلُ قَالَ قُوْلُوا اللہُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰی لَکُمْ(بخاری کتاب الجہاد باب ما یکرہ من التنازع والاختلاف فی الحرب) یعنی رسول کریم ﷺ نے پیادہ فوج کے پچاس آدمیوں پر احد کے دن عبداللہ بن جبیر ؓ کو مقرر کیا اور فرمایا کہ اگر تم یہ بھی دیکھ لو کہ ہمیں جانور اچک رہے ہیں تب بھی اپنی اس جگہ سے نہ ہلنا جب تک تم کو میں کہلا نہ بھیجوں۔ اور اگر تم یہ معلوم کر لو کہ ہم نے دشمن کو شکست دے دی ہے اور ان کو مسل دیا ہے تب بھی اس وقت تک کہ تمہیں کہلا نہ بھیجا جائے اپنی جگہ نہ چھوڑنا۔ اس کے بعد جنگ ہوئی اور مسلمانوں نے کفار کو شکست دے دی۔ حضرت براء ؓ فرماتے ہیں خدا کی قسم میں دیکھ رہا تھا کہ عورتیں کپڑے اٹھا اٹھا کر بھاگ رہی تھیں اور ان کی پنڈلیاں ننگی ہو رہی تھیں اس بات کو دیکھ کر عبداللہ بن جبیر ؓ کے ساتھیوں نے کہا کہ اے قوم غنیمت کا وقت ہے غنیمت کا وقت ہے تمہارے ساتھی غالب آگئے پھر تم کیا انتظار کر رہے ہو اس پر عبداللہ بن جبیر ؓ نے انہیں کہا کہ کیا تم رسول کریم ﷺ کا حکم بھول گئے ہو۔ انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم ہم بھی ساری فوج سے مل کر غنیمت حاصل کریں گے۔ جب لشکر سے آ کر مل گئے تو ان کے منہ پھیرے گئے اور شکست کھا کر بھاگے اسی کے بارہ میں قرآن شریف کی یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ یاد کرو جب رسول تم کو پیچھے کی طرف بلا رہا تھا اور رسول کریم ﷺ کے ساتھ سوائے بارہ آدمیوں کے اور کوئی نہ رہا اس وقت کفار نے ہمارے ستر آدمیوں کا نقصان کیا اور رسول کریم ﷺ اور آپؐ کے اصحابؓ نے جنگِ بدر میں کفار کے ایک سو چالیس آدمیوں کا نقصان کیا تھا۔ ستر قتل ہوئے تھے اور ستر قید کئے گئے
تھے۔ غرضیکہ جب لشکر پراگندہ ہو گیا اور رسول کریمؐ کے گرد صرف ایک قلیل جماعت ہی رہ گئی تو ابو سفیان نے پکار کر کہا کہ کیا تم میں محمد (ﷺ) ہے اور اس بات کو تین بار دہرایا لیکن رسول کریمؐ نے لوگوں کو منع کر دیا کہ وہ جواب نہ دیں۔ اس کے بعد ابو سفیان نے تین دفعہ بآوازِ بلند کہا کہ کیا تم میں ابن ابی قحافہ (حضرت ابو بکرؓ) ہے۔ اس کا جواب بھی نہ دیا گیا تو اس نے پھر تین دفعہ پکار کر کہا کہ کیا تم میں ابن الخطاب (حضرت عمرؓ) ہے۔ پھر بھی جب جواب نہ ملا تو اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ یہ لوگ مارے گئے ہیں۔ اس بات کو سن کر حضرت عمرؓ برداشت نہ کر سکے اور فرمایا کہ اے خدا کے دشمن تو نے جھوٹ کہا ہے جن کا تو نے نام لیا ہے وہ سب کے سب زندہ ہیں اور وہ چیز جسے تو ناپسند کرتا ہے ابھی باقی ہے۔ اس جواب کو سنکر ابو سفیان نے کہا کہ آج کا دن بدر کا بدلہ ہو گیا۔ اور لڑائیوں کا حال ڈول کا سا ہوتا ہے تم اپنے مقتولوں میں بعض ایسے پاؤ گے کہ جن کے ناک کان کٹے ہوئے ہوں گے۔ میں نے اس بات کا حکم نہیں دیا تھا لیکن میں اس بات کو ناپسند بھی نہیں کرتا۔ پھر فخریہ کلمات بآوازِ بلند کہنے لگا اُعْلُ ھُبَلُ اُعْلُ ھُبَلُ یعنی اے ہبل (بت) تیرا درجہ بلند ہو اے ہبل تیرا درجہ بلند ہو۔ اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم اس کو جواب کیوں نہیں دیتے۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم کیا کہیں؟ آپؐ نے فرمایا کہو ”کہ خدا تعالیٰ ہی سب سے بلند رتبہ اور سب سے زیادہ شان والا ہے“۔ ابو سفیان نے یہ بات سنکر کہا ”ہمارا تو ایک بت عُزّٰی ہے اور تمہارا کوئی عُزّٰی نہیں“۔ جب صحابہؓ خاموش رہے تو رسول کریمؐ نے فرمایا کہ کیا تم جواب نہیں دیتے۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ ہم کیا کہیں۔ آپؐ نے فرمایا انہیں کہو کہ ”خدا ہمارا دوست و کارساز ہے اور تمہارا کوئی دوست نہیں“۔
اس واقعہ سے اچھی طرح معلوم ہو سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ خدا تعالیٰ کے معاملہ میں کیسے باغیرت تھے۔ ابو سفیان اپنی جھوٹی فتح کے نشہ میں مخمور ہو کر زور سے پکارتا ہے کہ کیا آپ زندہ ہیں لیکن آپؐ اپنی جماعت کو منع فرماتے ہیں کہ تم ان باتوں کا جواب ہی نہ دو اور خاموش رہو۔ ایک عام آدمی جو اپنے نفس پر ایسا قابو نہ رکھتا ہو ایسے موقع پر بولنے سے کبھی باز نہیں رہ سکتا اور لاکھ میں سے ایک آدمی بھی شاید مشکل سے ملے جو اپنے دشمن کی جھوٹی خوشی پر اس کی خوشی کو غارت کرنا پسند نہ کرے۔ لیکن چونکہ ابو سفیان اس دعویٰ سے رسول کریمؐ کی ذات کی ہتک کرنا چاہتا تھا اور یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ میں نے ان کو قتل کر دیا ہے اسلئے رسول کریمؐ نے نہ صرف خود جواب نہ دیا بلکہ صحابہؓ کو بھی منع کر دیا۔
مگر جونہی کہ ابو سفیان نے خدا تعالیٰ کی ذات پر حملہ کیا اور سر میدان شرک کا اعلان کیا اور بجائے خدا تعالیٰ کی عظمت بیان کرنے کے ہبل بت کی توصیف کی تو آپؐ برداشت نہ کر سکے اور صحابہؓ کو حکم دیا کہ اسے جواب دو کہ خدا کے سوا اور کوئی نہیں جو عظمت و جلال کا مالک ہو۔ پھر جب اس نے یہ ظاہر کیا کہ عزیٰ ہمارا مددگار ہے آپؐ نے صحابہؓ کو حکم دیا کہ اسے کہہ دو کہ ہمارا خدا مدد گار ہے اور ہم کسی اور کی مدد نہیں چاہتے اور یہ بات بھی خوب یاد رکھو کہ خدا ہماری مدد کرے گا اور تمہاری مدد کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔
اللہ اللہ اپنے نفس کے متعلق کیا صبر ہے اور خدا تعالیٰ اور اس کے دین کی کیسی غیرت ہے۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَ سَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ
رسول کریم ﷺ کی غیرت دینی کے ظاہر کرنے کے لئے اگرچہ پچھلی مثال بالکل کافی تھی لیکن میں اس جگہ ایک اور واقعہ بھی لکھ دینا ضروری سمجھتا ہوں جس سے خوب روشن ہو جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نہ صرف دشمنوں کے مقابلہ میں غیرت دینی کا اظہار فرماتے تھے بلکہ دوستوں سے بھی اگر کوئی حرکت ایسی ہوتی جس سے احکام الٰہیہ کی ہتک ہوتی ہو تو آپؐ اس پر اظہار غیرت سے باز نہ رہتے اور اس خیال سے خاموش نہ رہتے کہ یہ ہمارے دوستوں کی غلطی ہے اسے نظر انداز کر دیا جائے۔
حضرت کعب ابن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔
لَمْ اَتَخَلَّفْ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِیْ غَزْوَةٍ غَزَاهَا إِلَّا فِیْ غَزْوَةِ تَبُوْكَ غَيْرَ اَنِّیْ كُنْتُ تَخَلَّفْتُ فِیْ غَزْوَةِ بَدْرٍ وَلَمْ يُعَاتِبْ اَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْهَا إِنَّمَا خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيْدُ عِيْرَ قُرَيْشٍ حَتّٰى جَمَعَ اللّٰهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَدُوِّهِمْ عَلٰى غَيْرِ مِيْعَادٍ وَ لَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حِيْنَ تَوَاثَقْنَا عَلَى الْإِسْلَامِ وَ مَا اُحِبُّ اَنَّ لِیْ بِهَا مَشْهَدَ بَدْرٍ وَّ إِنْ كَانَتْ بَدْرٌ اَذْكَرَ فِی النَّاسِ مِنْهَا كَانَ مِنْ خَبَرِیْ اَنِّیْ لَمْ اَكُنْ قَطُّ اَقْوٰى وَلَا اَيْسَرَ حِيْنَ تَخَلَّفْتُ عَنْهُ فِیْ تِلْكَ الْغَزَاةِ وَاللّٰهِ مَا اجْتَمَعَتْ عِنْدِیْ قَبْلَهٗ رَاحِلَتَانِ قَطُّ حَتّٰی جَمَعْتُهُمَا فِیْ تِلْكَ الْغَزْوَةِ وَ لَمْ يَكُنْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيْدُ غَزْوَةً إِلَّا وَرّٰی بِغَيْرِهَا حَتّٰی كَانَتْ تِلْكَ الْغَزْوَةُ غَزَاهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِیْ حَرٍّ شَدِيْدٍ وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيْدًا وَّ مَفَازًا وَعَدُوًّا كَثِيْرًا فَجَلّٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ اَمْرَهُمْ لِيَتَاَ هَّبُوْا اُهْبَةَ غَزْوِهِمْ فَاَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِیْ يُرِيْدُ وَ الْمُسْلِمُوْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ كَثِيْرٌ وَّ لَا يَجْمَعُهُمْ كِتَابٌ حَافِظٌ يُرِيْدُ الدِّيْوَانَ قَالَ كَعْبٌ فَمَارَجُلٌ يُرِيْدُ اَنْ يَّتَغَيَّبَ اِلَّا ظَنَّ اَنْ سَيَخْفَى لَهٗ مَا لَمْ يَنْزِلْ فِيْهِ وَحْىُ اللّٰهِ وَغَزَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ تِلْكَ الْغَزْوَةَ حِيْنَ طَابَتِ الثِّمَارُ وَ الظِّلَالُ وَ تَجَهَّزَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَ الْمُسْلِمُوْنَ مَعَهٗ فَطَفِقْتُ اَغْدُوْ لِكَىْ اَتَجَهَّزَ مَعَهُمْ فَاَرْجِعُ وَلَمْ اَقْضِ شَيْئًا فَاَقُوْلُ فِیْ نَفْسِىْ اَنَا قَادِرٌ عَلَيْهِ فَلَمْ يَزَلْ يَتَمَادٰى بِىْ حَتَّى اشْتَدَّ بِالنَّاسِ الْجِدُّ فَاَصْبَحَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَ الْمُسْلِمُوْنَ مَعَهٗ وَ لَمْ اَقْضِ مِنْ جَهَازِىْ شَيْئًا فَقُلْتُ اَتَجَهَّزُ بَعْدَهٗ بِيَوْمٍ اَوْ يَوْمَيْنِ ثُمَّ اَلْحَقُهُمْ فَغَدَوْتُ بَعْدَ اَنْ فَصَلُوْا لِاَتَجَهَّزَ فَرَجَعْتُ وَلَمْ اَقْضِ شَيْئًا ثُمَّ غَدَوْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ وَلَمْ اَقْضِ شَيْئًا فَلَمْ يَزَلْ بِىْ حَتَّى اَسْرَعُوْا وَ تَفَارَطَ الْغَزْوُ وَ هَمَمْتُ اَنْ اَرْتَحِلَ فَاُدْرِكَهُمْ وَلَيْتَنِیْ فَعَلْتُ فَلَمْ يُقَدَّرْ لِیْ ذٰلِكَ فَكُنْتُ اِذَا خَرَجْتُ فِی النَّاسِ بَعْدَ خُرُوْجِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَطُفْتُ فِيْهِمْ اَحْزَنَنِیْ اَنِّىْ لَا اَرٰى اِلَّا رَجُلًا مَّغْمُوْصًا عَلَيْهِ النِّفَاقُ اَوْ رَجُلًا مِّمَّنْ عَذَرَ اللّٰهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ وَلَمْ يَذْكُرْنِیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ حَتّٰى بَلَغَ تَبُوْكَ فَقَالَ وَ هُوَ جَالِسٌ فِی الْقَوْمِ بِتَبُوْكَ مَا فَعَلَ كَعْبٌ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِّنْ بَنِیْ سَلِمَةَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ حَبَسَهٗ بُرْدَاهُ وَ نَظَرُهٗ فِیْ عِطْفَيْهِ فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ بِئْسَ مَا قُلْتَ وَاللّٰهِ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ اِلَّا خَيْرًا فَسَكَتَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ فَلَمَّا بَلَغَنِیْ اَنَّهٗ تَوَجَّهَ قَافِلًا حَضَرَنِیْ هَمِّىْ فَطَفِقْتُ اَتَذَكَّرُ الْكَذِبَ وَ اَقُوْلُ بِمَا ذَا اَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهٖ غَدًا وَ اسْتَعَنْتُ عَلٰى ذٰلِكَ بِكُلِّ ذِىْ رَاْیٍ مِّنْ اَهْلِیْ فَلَمَّا قِيْلَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَدْ اَظَلَّ قَادِمًا زَاحَ عَنِّى الْبَاطِلُ وَ عَرَفْتُ اَنِّىْ لَنْ اَخْرُجَ مِنْهُ اَبَدًا بِشَيْءٍ فِيْهِ كَذِبٌ فَاَجْمَعْتُ صِدْقَهٗ وَ اَصْبَحَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَادِمًا وَ كَانَ اِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَءَ بِالْمَسْجِدِ فَيَرْكَعُ فِيْهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَعَلَ ذٰلِكَ جَاءَهُ الْمُخَلَّفُوْنَ فَطَفِقُوْا يَعْتَذِرُوْنَ اِلَيْهِ وَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ وَ كَانُوْا بِضْعَةً وَّ ثَمَانِيْنَ رَجُلًا فَقَبِلَ مِنْهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَانِيَتَهُمْ وَ بَايَعَهُمْ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمْ وَ وَكَلَ سَرَائِرَهُمْ اِلَى اللّٰهِ تَعَالٰى فَجِئْتُهٗ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ ثُمَّ قَالَ تَعَالَ فَجِئْتُ اَمْشِیْ حَتّٰی جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ لِیْ مَا خَلَّفَكَ اَلَمْ تَكُنْ قَدِ ابْتَعْتَ ظَهْرَكَ فَقُلْتُ بَلٰى اِنِّىْ وَاللّٰهِ يَا رَسُوْلَ اللهِ لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ اَهْلِ الدُّنْيَا لَرَأَيْتُ اَنْ سَاَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ بِعُذْرٍ وَلَقَدْ اُعْطِيْتُ جَدَ لًا وَلٰكِنِّى وَ اللهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُكَ الْيَوْمَ حَدِيْثَ كَذِبٍ تَرْضٰى بِهِ عَنِّىْ لَيُوْشِكَنَّ اللهُ اَنْ يُسْخِطَكَ عَلَىَّ وَلَئِنْ حَدَّثْتُكَ حَدِيْثَ صِدْقٍ تَجِدُ عَلَىَّ فِيْهِ اِنِّىْ لَاَرْجُوْ فِيْهِ عَفْوَ اللهِ لَا وَ اللهِ مَا كَانَ لِىْ مِنْ عُذْرٍ وَ اللهِ مَا كُنْتُ قَطُّ اَقْوٰى وَ لَا اَيْسَرَ مِنِّىْ حِيْنَ تَخَلَّفْتُ عَنْكَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَمَّا هٰذَا فَقَدْ صَدَقَ فَقُمْ حَتّٰى يَقْضِيَ اللهُ فِيْكَ فَقُمْتُ وَثَارَ رِجَالٌ مِنْ بَنِيْ سَلِمَةَ فَاتَّبَعُوْنِيْ فَقَالُوْا لِيْ وَاللهِ مَا عَلِمْنَاكَ كُنْتَ اَذْنَبْتَ ذَنْبًا قَبْلَ هٰذَا وَلَقَدْ عَجَزْتَ اَنْ لَا تَكُوْنَ اِعْتَذَرْتَ اِلٰى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا اعْتَذَرَ اِلَيْهِ الْمُتَخَلِّفُوْنَ قَدْ كَانَ كَافِيْكَ ذَنْبَكَ اِسْتِغْفَارُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَ فَوَ اللهِ مَا زَالُوْا يُؤَنِّبُوْ نِيْ حَتّٰى اَرَدْتُّ اَنْ اَرْجِعَ فَاُكَذِّبَ نَفْسِيْ ثُمَّ قُلْتُ لَهُمْ هَلْ لَقِيَ هٰذَا مَعِىَ اَحَدٌ قَالُوْا نَعَمْ رَجُلَانِ قَالَا مِثْلَ مَا قُلْتَ فَقِيْلَ لَهُمَا مِثْلُ مَا قِيْلَ لَكَ فَقُلْتُ مَنْ هُمَا؟ قَالُوْا مُرَارَةُ بْنُ الرَّبِيْعِ الْعَمْرِىُّ وَ هِلَالُ بْنُ اُمَيَّةَ الْوَاقِفِىُّ فَذَكَرُوْا لِىْ رَجُلَيْنِ صَالِحَيْنِ قَدْ شَهِدَا بَدْرًا فِيْهِمَا اُسْوَةٌ فَمَضَيْتُ حِيْنَ ذَكَرُوْ هُمَا لِيْ وَنَهٰى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِيْنَ عَنْ كَلَامِنَا اَيُّهَا الثَّلٰثَةُ مِنْ بَيْنِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهُ فَاجْتَنَبَنَا النَّاسُ وَتَغَيَّرُوْا لَنَا حَتّٰى تَنَكَّرَتْ فِيْ نَفْسِىَ الْاَرْضُ فَمَا هِىَ الَّتِىْ اَعْرِفُ فَلَبِثْنَا عَلٰى ذٰلِكَ خَمْسِيْنَ لَيْلَةً فَاَمَّا صَاحِبَايَ فَاسْتَكَانَا وَ قَعَدَا فِيْ بُيُوْتِهِمَا يَبْكِيَانِ وَاَمَّا اَنَا فَكُنْتُ اَشَبَّ الْقَوْمِ وَاَجْلَدَ هُمْ فَكُنْتُ اَخْرُجُ فَاَشْهَدُ الصَّلوٰةَ مَعَ الْمُسْلِمِيْنَ وَاَطُوْفُ فِي الْاَسْوَاقِ وَلَا يُكَلِّمُنِىْ اَحَدٌ وَاٰتِىْ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاُسَلِّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِيْ مَجْلِسِهِ بَعْدَ الصَّلوٰةِ فَاَقُوْلُ فِيْ نَفْسِيْ هَلْ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِرَدِّ السَّلَامِ عَلَىَّ اَمْ لَا ثُمَّ اُصَلِّىْ قَرِيْبًا مِنْهُ فَاُسَارِقُهُ النَّظَرَ فَاِذَا اَقْبَلْتُ عَلٰى صَلَاتِيْ اَقْبَلَ اِلَىَّ وَاِذَا الْتَفَتُّ نَحْوَهُ اَعْرَضَ عَنِّىْ حَتّٰى اِذَا طَالَ عَلَىَّ ذٰلِكَ مِنْ جَفْوَةِ النَّاسِ مَشَيْتُ حَتّٰى تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ اَبِيْ قَتَادَةَ وَهُوَ ابْنُ عَمِّىْ وَاَحَبُّ النَّاسِ اِلَىَّ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَوَ اللهِ مَا رَدَّ عَلَىَّ السَّلَامَ فَقُلْتُ يَا اَبَا قَتَادَةَ اَنْشُدُكَ بِاللهِ هَلْ تَعْلَمُنِىْ اُحِبُّ اللهَ وَرَسُوْلَهُ فَسَكَتَ فَعُدْتُّ لَهُ فَنَشَدْتُّهُ فَسَكَتَ فَعُدْتُّ لَهُ فَنَشَدْتُّهُ فَقَالَ اللهُ وَرَسُوْلُهُ اَعْلَمُ فَفَاضَتْ عَيْنَايَ وَتَوَلَّيْتُ حَتّٰى تَسَوَّرْتُ الْجِدَارَ قَالَ فَبَيْنَا اَنَا اَمْشِيْ بِسُوْقِ الْمَدِيْنَةِ اِذَا نَبَطِيٌّ مِّنْ اَنْبَاطِ اَهْلِ الشَّامِ مِمَّنْ قَدِمَ بِالطَّعَامِ يَبِيْعُهُ بِالْمَدِيْنَةِ يَقُوْلُ مَنْ يَّدُلُّ عَلٰی كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ فَطَفِقَ النَّاسُ يُشِيْرُوْنَ لَهُ حَتّٰی اِذَا جَاءَنِيْ دَفَعَ اِلَیَّ كِتَابًا مِّنْ مَّلِكِ غَسَّانَ فَاِذَا فِيْهِ اَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِيْ اَنَّ صَاحِبَكَ قَدْ جَفَاكَ وَلَمْ يَجْعَلْكَ اللهُ بِدَارِ هَوَانٍ وَلَا مَضْيَعَةٍ فَالْحَقْ بِنَا نُوَاسِكَ فَقُلْتُ لَمَّا قَرَأْتُهَا وَهٰذَا اَيْضًا مِّنَ الْبَلَاءِ فَتَيَمَّمْتُ بِهَا التَّنُّوْرَ فَسَجَرْتُه بِهَا حَتّٰی اِذَا مَضَتْ اَرْبَعُوْنَ لَيْلَةً مِّنَ الْخَمْسِيْنَ اِذَا رَسُوْلُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَاْتِيْنِي فَقَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَاْمُرُكَ اَنْ تَعْتَزِلَ امْرَاَتَكَ فَقُلْتُ اُطَلِّقُهَا اَمْ مَا ذَا اَفْعَلُ قَالَ لَا بَلِ اعْتَزِلْهَا وَلَا تَقْرَبْهَا وَاَرْسَلَ اِلٰی صَاحِبَیَّ مِثْلَ ذٰلِكَ فَقُلْتُ لِامْرَاَتِی الْحَقِيْ بِاَهْلِكِ فَتَكُوْنِيْ عِنْدَهُمْ حَتّٰی يَقْضِیَ اللهُ فِيْ هٰذَا الْاَمْرِ قَالَ كَعْبٌ فَجَاءَتِ امْرَاَةُ هِلَالِ بْنِ اُمَيَّةَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ اِنَّ هِلَالَ بْنَ اُمَيَّةَ شَيْخٌ ضَائِعٌ لَيْسَ لَه خَادِمٌ فَهَلْ تَكْرَهُ اَنْ اَخْدُمَه قَالَ لَا وَلٰكِنْ لَّا يَقْرَبْكِ قَالَتْ اِنَّه وَاللهِ مَا بِهِ حَرَكَةٌ اِلٰی شَيْءٍ وَاللهِ مَا زَالَ يَبْكِيْ مُنْذُ كَانَ مِنْ اَمْرِه مَا كَانَ اِلٰی يَوْمِهِ هٰذَا فَقَالَ لِيْ بَعْضُ اَهْلِيْ لَوِ اسْتَاْذَنْتَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ امْرَاَتِكَ كَمَا اَذِنَ لِامْرَاَةِ هِلَالِ بْنِ اُمَيَّةَ اَنْ تَخْدُمَه فَقُلْتُ وَاللهِ لَا اَسْتَاذِنُ فِيْهَا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يُدْرِيْنِيْ مَا يَقُوْلُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا اسْتَاْذَنْتُه فِيْهَا وَاَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَلَبِثْتُ بَعْدَ ذٰلِكَ عَشْرَ لَيَالٍ حَتّٰی كَمُلَتْ لَنَا خَمْسُوْنَ لَيْلَةً مِّنْ حِيْنَ نَهٰی رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَلَامِنَا فَلَمَّا صَلَّيْتُ صَلوةَ الْفَجْرِ صُبْحَ خَمْسِيْنَ لَيْلَةً وَّ اَنَا عَلٰی ظَهْرِ بَيْتٍ مِّنْ بُيُوْتِنَا فَبَيْنَا اَنَا جَالِسٌ عَلَی الْحَالِ الَّتِی ذَكَرَ اللهُ قَدْ ضَاقَتْ عَلَیَّ نَفْسِیْ وَضَاقَتْ عَلَیَّ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ اَوْفٰی عَلٰی جَبَلِ سَلْعٍ بِاَعْلٰی صَوْتِهِ يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ اَبْشِرْ قَالَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَّعَرَفْتُ اَنْ قَدْ جَاءَ فَرَجٌ وَاٰذَنَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللهِ عَلَيْنَا حِيْنَ صَلّٰی صَلوةَ الْفَجْرِ فَذَهَبَ النَّاسُ يُبَشِّرُوْنَنَا وَذَهَبَ قِبَلَ صَاحِبَیَّ مُبَشِّرُوْنَ وَرَكَضَ اِلَیَّ رَجُلٌ فَرَسًا وَسَعٰی سَاعٍ مِّنْ اَسْلَمَ فَاَوْفٰی عَلَی الْجَبَلِ فَكَانَ الصَّوْتُ اَسْرَعَ مِنَ الْفَرَسِ فَلَمَّا جَاءَنِی الَّذِیْ سَمِعْتُ صَوْتَه يُبَشِّرُنِيْ نَزَعْتُ لَه ثَوْبَیَّ فَكَسَوْتُه اِيَّاهُمَا بِبُشْرَاهُ وَاللهِ مَا اَمْلِكُ غَيْرَهُمَا يَوْمَئِذٍ وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَيْنِ فَلَبِسْتُهُمَا وَانْطَلَقْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتَلَقَّانِي النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا يُّهَنِّئُوْنِيْ بِالتَّوْبَةِ يَقُوْلُوْنَ لِتَهْنِكَ تَوْبَةُ اللهِ عَلَيْكَ
قَالَ كَعْبٌ حَتّٰى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ حَوْلَهُ النَّاسُ فَقَامَ إِلَيَّ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِاللّٰهِ يُهَرْوِلُ حَتّٰى صَافَحَنِيْ وَهَنَّانِيْ وَاللّٰهِ مَا قَامَ إِلَيَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِيْنَ غَيْرُهُ وَلَا اَنْسَاهَا لِطَلْحَةَ قَالَ كَعْبٌ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبْرُقُ وَجْهُهُ مِنَ السُّرُوْرِ أَبْشِرْ بِخَيْرِ يَوْمٍ مَرَّ عَلَيْكَ مُنْذُ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ قَالَ قُلْتُ أَمِنْ عِنْدِكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ اَمْ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ قَالَ لَا بَلْ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَكَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ حَتّٰى كَأَنَّهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ وَكُنَّا نَعْرِفُ ذٰلِكَ مِنْهُ(بخاری کتاب المغازی باب حدیث کعب بن مالک)
حضرت کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول کریم ﷺ سے کسی لڑائی میں پیچھے نہیں رہا۔ سوائے غزوۂ تبوک کے۔ ہاں جنگ بدر میں پیچھے رہا تھا اور اس کی یہ وجہ تھی کہ آنحضرت قریش کے قافلہ کو مدنظر رکھ کر گئے تھے (کسی بڑی جنگ کی امید نہ تھی) مگر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے دشمنوں سے بغیر قبل از وقت تعیّن وقت و مقام کرنے کے لڑوا دیا۔ ہاں میں لیلۃ عقبہ میں موجود تھا۔ جب ہم نے اسلام پر قائم رہنے کا عہد کیا تھا اور مجھے جنگ بدر اس رات سے بڑھ کر محبوب نہیں کہ میں لوگوں میں ذکر کروں کہ میں بھی جنگ بدر میں شریک تھا گو کہ عوام میں جنگ بدر لیلہ عقبہ سے زیادہ ہی سمجھی جاتی ہے۔ خیر تبوک کے واقعہ کے وقت میرا یہ حال تھا کہ میں نسبتاً زیادہ مضبوط اور سامان والا تھا اور کسی جنگ کے وقت میرے پاس دو سواری کی اونٹنیاں اکٹھی نہیں ہوئیں مگر اس وقت میرے پاس دو اونٹنیاں موجود تھیں۔ رسول کریم ﷺ کی عادت تھی کہ جب جنگ کو جاتے تو اپنی منزل مقصود کو ظاہر نہ کرتے تھے لیکن اس دفعہ چونکہ گرمی سخت تھی اور سفر دور کا تھا اور راستہ میں غیر آباد جنگل تھے اور بہت سے دشمنوں سے پالا پڑنا تھا اس لئے آپؐ نے مسلمانوں کو خوب کھول کر بتا دیا تاکہ وہ جنگ کے لئے تیار ہو جائیں اور وہ طرف بھی بتا دی جس طرف جانے کا ارادہ تھا۔ اس وقت مسلمان بہت ہو چکے تھے اور ان کا رجسٹر کوئی نہ تھا اس لئے جو لوگ اس لڑائی میں غیر حاضر رہنا چاہتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ جب تک رسول کریم کو وحی نہ ہو ان کا غیر حاضر رہنا مخفی ہی رہے گا اور موسم کا یہ حال تھا کہ میوہ پک چکا تھا اور سایہ بھلا معلوم ہوتا تھا۔ غرض کہ رسول کریم ﷺ نے اور مسلمانوں نے جنگ کی تیاری شروع کی اور میں بھی ہر صبح جنگ کی تیاری کے مکمل کرنے کے لئے نکلتا تا میں بھی ان کے ساتھ تیار ہو جاؤں مگر پھر لوٹ آتا اور
کچھ کام نہ کرتا اسی طرح دن گزرتے رہے اور لوگوں نے محنت سے سامانِ سفر تیار کر لیا یہاں تک کہ رسول کریمؐ اور مسلمان ایک صبح روانہ بھی ہو گئے اور ابھی میں نا تیار تھا پھر میں نے کہا کہ اب میں ایک دو دن میں تیاری کر کے آپ سے جاملوں گا۔ ان کے جانے کے بعد دوسرے دن بھی میں گیا مگر بغیر تیاری کے واپس آگیا اور اسی طرح تیسرے دن بھی میرا یہی حال رہا اور ادھر لشکر جلدی جلدی آگے نکل گیا۔ میں نے کئی بار ارادہ کیا کہ جاؤں اور ان سے مل جاؤں اور کاش میں ایسا ہی کرتا مگر مجھ سے ایسا نہ ہو سکا۔ پھر جب رسول کریمؐ کے جانے کے بعد میں باہر نکلتا اور لوگوں میں پھرتا تو مجھے یہ بات دیکھ کر سخت صدمہ ہوتا کہ جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے یا تو وہ تھے جو منافق سمجھے جاتے تھے یا وہ ضُعَفَاء جن کو خدا نے معذور رکھا تھا رسول کریم ﷺ نے اس وقت تک مجھے یاد نہیں کیا جب تک کہ تبوک نہ پہنچ گئے۔ وہاں آپؐ نے پوچھا کہ کعب بن مالک کہاں ہے؟ بنی سلمہ کے ایک آدمی (عبداللہ بن انیس) نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ اپنے حسن و جمال (یا لباس کی خوبی) پر اترا کر رہ گیا (آپ کے ساتھ نہیں آیا) یہ سن کر معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا تو نے بری بات کہی خدا کی قسم یا رسول اللہ ہم تو اس کو اچھا آدمی (سچا مسلمان) سمجھتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ خاموش ہو رہے۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ خبر آئی کہ آنحضرت ﷺ تبوک سے لوٹے آرہے ہیں تو میرا غم تازہ ہو گیا۔ جھوٹے جھوٹے خیال دل میں آنے لگے (یہ عذر کروں وہ عذر کروں) مجھ کو یہ فکر ہوئی کعب اب کل آپ کے غصے سے تو کیونکر بچے گا میں نے اپنے عزیزوں میں سے جو جو عقل والے تھے ان سے بھی مشورہ لیا۔ جب یہ خبر آئی کہ آپ مدینہ کے قریب آن پہنچے اس وقت سارے جھوٹے خیالات میرے دل سے مٹ گئے اور میں نے یہ سمجھ لیا کہ جھوٹی باتیں بنا کر میں آپ کے غصے سے بچنے والا نہیں۔ اب میں نے یہ ٹھان لیا (جو ہونا ہو وہ ہو) میں تو سچ سچ کہہ دوں گا خیر صبح کے وقت آپ مدینہ میں داخل ہوئے آپؐ کی عادت تھی جب سفر سے تشریف لاتے تو پہلے مسجد میں جاتے وہاں ایک دوگانہ ادا فرماتے (آپ نے مسجد میں دوگانہ ادا فرمایا) پھر لوگوں سے ملنے کے لئے بیٹھے اب جو جو (منافق) لوگ پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے آنا شروع کیا اور لگے اپنے اپنے عذر بیان کرنے اور قسمیں کھانے۔ ایسے لوگ اسی (۸۰) سے کچھ اوپر تھے آپ نے ظاہر میں ان کا عذر مان لیا ان سے بیعت لی ان کے واسطے دعا کی ان کے دلوں کے بھید کو خدا پر رکھا۔ کعب کہتے ہیں میں بھی آیا میں نے جب آپؐ کو سلام کیا تو آپ مسکرائے مگر جیسے غصے میں کوئی آدمی مسکراتا ہے پھر فرمایا آؤ میں گیا۔ آپؐ کے سامنے بیٹھ گیا آپؐ نے پوچھا کعب تو کیوں پیچھے رہ گیا تو نے تو سواری بھی
خریدی تھی میں نے عرض کیا بیشک اگر کسی دنیا دار شخص کے سامنے میں اس وقت بیٹھا ہوتا تو باتیں بنا کر اس کے غصے سے بچ جاتا۔ میں خوش تقریر بھی ہوں مگر خدا کی قسم میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر آج میں جھوٹ بول کر آپؐ کو خوش کر لوں تو کل اللہ تعالیٰ (اصل حقیقت کھول کر) پھر آپ کو مجھ پر غصے کر دے گا (اس سے فائدہ ہی کیا ہے) میں سچ ہی کیوں نہ بولوں گو آپؐ اس وقت سچ بولنے کی وجہ سے مجھ پر غصہ کریں گے مگر آئندہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی مجھ کو امید تو رہے گی خُدا کی قسم (میں سراسر قصور وار ہوں) زور‘ طاقت‘ قوت‘ دولت سب میں کوئی میرے برابر نہ تھا اور میں یہ سب چیزیں ہوتے ہوئے پیچھے رہ گیا یہ سنکر آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ کعب نے سچ سچ کہہ دیا کعب اب ایسا کر تو چلا جا جب تک اللہ تعالیٰ تیرے باب میں کوئی حکم نہ اتارے۔ میں چلا۔ بنی سلمہ کے کچھ لوگ اٹھ کر میرے پیچھے ہوئے اور کہنے لگے خدا کی قسم ہم کو تو معلوم نہیں کہ تو نے اس سے پہلے بھی کوئی قصور کیا ہو۔ تو نے اور لوگوں کی طرح جو پیچھے رہ گئے تھے آنحضرت ﷺ سے کوئی بہانہ کیوں نہ کر دیا اگر تو بھی کوئی بہانہ کرتا تو آنحضرت ﷺ کی دعا تیرے قصور کے لئے کافی ہو جاتی۔ وہ برابر مجھ کو لعنت ملامت کرتے رہے قسم خدا کی ان کی باتوں سے پھر میرے دل میں آیا کہ آنحضرتؐ کے پاس لوٹ کر چلوں اور اپنی اگلی بات (گناہ کے اقرار) کو جھٹلا کر کوئی بہانہ نکالوں۔ میں نے ان سے پوچھا۔ اچھا اور بھی کوئی ہے جس نے میری طرح قصور کا اقرار کیا ہو۔ انہوں نے کہا ہاں دو اور بھی ہیں انہوں نے بھی تیری طرح گناہ کا اقرار کیا ہے ان سے بھی آنحضرت ﷺ نے یہی فرمایا ہے جو تجھ سے فرمایا ہے میں نے پوچھا وہ دو شخص کون کون ہیں انہوں نے کہا مرارہ بن ربیع عمری اور ہلال بن امیہ واقفی۔ انہوں نے ایسے دو نیک شخصوں کا بیان کیا جو بدر کی لڑائی میں شریک ہو چکے تھے اور جن کے ساتھ رہنا مجھ کو اچھا معلوم ہوا خیر جب انہوں نے ان دو شخصوں کا نام بھی لیا (تو مجھ کو تسلی ہوئی) میں چل دیا۔ آنحضرت ﷺ نے تمام مسلمانوں کو منع کر دیا خاص کر ہم تینوں آدمیوں سے کوئی بات نہ کرے اور دوسرے لوگ جو پیچھے رہ گئے تھے (جنہوں نے جھوٹے بہانے کئے تھے) ان کے لئے یہ حکم نہیں دیا اب لوگوں نے ہم سے پرہیز شروع کیا (کوئی بات تک نہ کرتا) بالکل کورے ہو گئے (جیسے کوئی آشنائی ہی نہ تھی) ایسے ہی پچاس راتیں (اسی پریشان حالی میں) گزریں میرے دونوں ساتھی (مرارہؓ اور ہلالؓ) تو روتے پیٹتے اپنے گھروں میں بیٹھ رہے اور میں جوان مضبوط آدمی تھا تو (مصیبت پر صبر کر کے) باہر نکلتا نماز کی جماعت میں شریک ہوتا بازاروں میں گھومتا رہتا مگر کوئی شخص مجھ سے بات نہ کرتا۔ میں آنحضرت ﷺ کے پاس بھی آتا آپؐ نماز پڑھ کر اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے میں آپ کو سلام کرتا پھر مجھے شبہ رہتا۔ آپؐ نے (مبارک) ہونٹ ہلا کر مجھ کو سلام کا جواب بھی دیا یا نہیں۔ پھر میں آپؐ کے قریب کھڑے ہو کر نماز پڑھتا رہتا اور دزدیدہ نظر سے آپؐ کو دیکھتا۔ آپؐ کیا کرتے جب میں نماز میں ہوتا تو مجھ کو دیکھتے اور جب میں آپؐ کو دیکھتا تو آپؐ منہ پھیر لیتے۔ جب اسی طرح ایک مدت گزری اور لوگوں کی روگردانی دوبھر ہو گئی تو میں چلا اور ابو قتادہ اپنے چچا زاد بھائی کے باغ کی دیوار پر چڑھا اس سے مجھ کو بہت محبت تھی میں نے اس کو سلام کیا تو خدا کی قسم! اس نے سلام کا جواب تک نہ دیا۔ میں نے کہا ابو قتادہ تجھ کو خدا کی قسم تو مجھ کو اللہ اور اس کے رسول کا ہوا خواہ سمجھتا ہے (یا نہیں) جب بھی اس نے جواب نہ دیا میں نے پھر قسم دے کر دوبارہ یہی کہا لیکن جواب ندارد پھر تیسری بار قسم دے کر یہی کہا تو اس نے یہ کہا کہ اللہ اور رسول خوب جانتے ہیں بس اس وقت تو (مجھ سے رہا نہ گیا) میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور پیٹھ موڑ کر دیوار پر چڑھ کر وہاں سے چل دیا۔ میں ایک بار مدینہ کے بازار میں جا رہا تھا اتنے میں ملک شام کا ایک (نصرانی) کسان ملا جو مدینہ میں اناج بیچنے لایا تھا وہ کہہ رہا تھا لوگو کعب بن مالک کو بتلاؤ۔ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا اس نے غسان کے بادشاہ کا (جو نصرانی تھا) ایک خط مجھ کو دیا مضمون یہ تھا۔ مجھ کو یہ خبر پہنچی ہے کہ تمہارے پیغمبر صاحب نے تم پر ستم کیا ہے اللہ تعالیٰ نے تم کو ایسا ذلیل نہیں بنایا ہے نہ بیکار (تم تو کام کے آدمی ہو) تم ہم لوگوں سے آن کر مل جاؤ ہم تمہاری خاطر مدارت بخوبی کریں گے۔ میں نے جب یہ خط پڑھا تو (اپنے دل میں کہنے لگا) یہ ایک دوسری بلاء ہوئی۔ میں نے وہ خط لے کر آگ کے تنور میں جھونک دیا۔ ابھی پچاس راتوں میں سے چالیس راتیں گزری تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لانے والا (خزیمہ بن ثابت) میرے پاس آیا کہنے لگا آنحضرتؐ کا یہ حکم ہے تم اپنی جورو (عمیرہ بنت جبیر) سے بھی الگ رہو۔ میں نے پوچھا کیا اس کو طلاق دے دوں یا کیسا کروں اس نے کہا نہیں اس سے الگ رہو صحبت وغیرہ نہ کرو۔ میرے دونوں ساتھیوں کو بھی یہی حکم کیا۔ آخر میں نے اپنی جورو سے کہہ دیا نیک بخت تو اپنے کنبے والوں میں چلی جا۔ وہیں رہ جب تک اللہ میرا کچھ فیصلہ نہ کرے (وہ چلی گئی) کعب نے کہا ہلال ابن امیہؓ کی جورو (خولہ بنت عاصم) آنحضرتؐ کے پاس آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ہلال ابن امیہؓ (میرا خاوند) بوڑھا پھونس ہے اگر میں اس کا کام کرتی رہوں تو کیا آپؐ اس کو برا سمجھتے ہیں آپؐ نے فرمایا۔ نہیں (کام کاج کرنے میں قباحت نہیں) پر وہ تجھ سے صحبت نہ کرے اس نے کہا خدا کی قسم وہ تو کہیں چلتا پھرتا بھی نہیں ہے جب سے یہ واقعہ ہوا ہے تب سے برابر رو دھو رہا ہے آج تک وہ اسی حال میں ہے کعب نے کہا مجھ سے بھی میرے بعض عزیزوں نے کہا تم بھی اگر اپنی جورو کے باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگو (کہ وہ تمہاری خدمت کرتی رہے) تو مناسب ہے جیسے آنحضرتؐ نے ہلال بن امیہ کی جورو کو خدمت کی اجازت دی (تم کو بھی اجازت دیں گے) کعب نے کہا میں تو خدا کی قسم کبھی اس باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہیں مانگنے کا کیونکہ مجھ کو معلوم نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرمائیں (اجازت دیں یا نہ دیں) میں جوان آدمی ہوں (ہلال کی طرح ضعیف اور ناتواں نہیں ہوں) خیر اس کے بعد دس راتیں اور گزریں اب پچاس راتیں پوری ہوگئیں اس وقت سے جب سے آپؐ نے لوگوں کو ہم سے سلام کلام کی ممانعت فرمادی تھی۔ پچاسویں رات کی صبح کو جب میں فجر کی نماز پڑھ کر اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا تھا تو جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا وَضَاقَتۡ عَلَیۡہِمۡ اَنۡفُسُہُمۡ(التوبہ: ۱۱۸) میرا دل تنگ ہو رہا تھا اور زمین اتنی کشادہ ہونے پر بھی مجھ پر تنگ ہو گئی تھی۔ اتنے میں میں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو سلع پہاڑ پر چڑھ کر پکار رہا تھا (یہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے) کعب بن مالک رضی اللہ عنہ خوش ہو جا۔ یہ سنتے ہی میں سجدے میں گر پڑا اور مجھ کو یقین ہو گیا۔ اب میری مشکل دور ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کے بعد لوگوں کو خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا قصور معاف کر دیا۔ اب لوگ خوشخبری دینے میرے پاس اور میرے دونوں ساتھیوں (مرارِہ اور ہلال) کے پاس جانے لگے۔ ایک شخص (زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ) گھوڑا کداتے ہوئے میرے پاس آئے اور قبیلے کا ایک شخص دوڑتا ہوا پہاڑ پر چڑھ گیا (حمزہ بن عمرو اسلمی) اور پہاڑ پر کی آواز گھوڑے سے جلد مجھ کو پہنچ گئی۔ خیر جب یہ خوشخبری کی آواز مجھ کو پہنچی میں نے (خوشی میں آن کر) کیا کیا دو کپڑے جو میرے پاس تھے وہ اتار کر اس کو پہنا دیئے اس وقت کپڑوں کی قسم سے میرے پاس یہی دو کپڑے تھے اور میں نے (ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے) دو کپڑے مانگ کر پہنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا۔ رستے میں فوج در فوج لوگ مجھ سے ملتے جاتے تھے اور مجھ کو مبارکباد دیتے جاتے تھے اور کہتے تھے اللہ کی معافی تم کو مبارک ہو۔ کعب کہتے ہیں جب میں مسجد میں پہنچا۔ دیکھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہیں لوگ آپ کے گرد ہیں طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ مجھ کو دیکھ کر دوڑ کر اٹھے اور مصافحہ کیا۔ مبارکباد دی۔ خدا کی قسم مہاجرین میں سے اور کسی نے اٹھ کر مجھ کو مبارکباد نہیں دی۔ میں طلحہ رضی اللہ عنہ کا یہ احسان کبھی بھولنے والا نہیں۔ کعب کہتے ہیں جب میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا میں نے دیکھا آپؐ کا چہرہ خوشی سے جگمگا رہا تھا آپ نے فرمایا کعب وہ دن تجھ کو مبارک ہو جو ان سب دنوں سے بہتر ہے جب سے تیری ماں نے تجھ کو جنا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ معافی اللہ کی طرف سے ہوئی یا آپؐ کی طرف سے۔ آپؐ نے فرمایا نہیں اللہ کی طرف سے ہوئی (اس نے خود معافی کا حکم اتارا)۔ آنحضرت ﷺ جب خوش ہوتے تو آپؐ کا چہرہ چاند کی طرح روشن ہو جاتا ہم لوگ اس کو پہچان لیتے۔
اس واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ رسول کریمؐ کی فطرت کیسی پاک اور مطہر تھی اور کس طرح آپؐ ہر رنگ میں کامل ہی کامل تھے۔ بے شک بعض آدمی ہوتے ہیں جو غیرت دینی رکھتے ہیں مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض تو دشمنوں کے مقابلہ میں اظہارِ غیرت کر دیتے ہیں مگر دوستوں کے معاملہ میں اظہارِ غیرت نہیں کر سکتے اور بعض دوستوں پر اظہارِ غیرت کر دیتے ہیں مگر دشمنوں کے سامنے دب جاتے ہیں۔ مگر رسول کریم ﷺ ایسے کامل انسان تھے کہ خواہ دین کی ہتک یا احکامِ الہیہ سے بے پرواہی دوست سے ہو یا دشمن سے برداشت نہ کر سکتے تھے اور فوراً اس کا ازالہ کرنا چاہتے۔ ادھر تو طبیعت کی نرمی کا یہ حال تھا کہ گالیوں پر گالیاں ملتی ہیں اور تکلیفیں دی جاتی ہیں مگر آپؐ پرواہ بھی نہیں کرتے اور ادھر خدا کے معاملہ میں غیرت کا یہ حال تھا کہ جب ابو سفیان آپؐ کی ہتک کرتا رہا تو کچھ پرواہ نہ کی۔ مگر جب شرک کے کلمات منہ پر لایا تو فرمایا اسے جواب دو۔ یہ تو دشمن کا حال تھا دوستوں کے معاملہ میں بھی ایسے ہی سخت تھے۔ منافق جنگ سے پیچھے رہ گئے تو کچھ پرواہ نہ کی ایک مؤمن نے جو اس حکم الٰہی کے بجالانے میں سستی کی تو آپ نے کس قدر غیرت سے کام لیا۔ اور باوجود اس کے محبت کا یہ عالم تھا کہ ان ایامِ ناراضگی میں بھی کعب بن مالک ؓ کو کنکھیوں سے دیکھتے رہتے۔
آنحضرت ﷺ کی غیرتِ دینی جس وضاحت سے مذکورہ بالا واقعات سے ثابت ہوتی ہے اس پر کچھ اور زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں۔ اب میں آپؐ کے ایک اور خُلق پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کا معاملہ خدا تعالیٰ سے کیسا پاک تھا اور کس طرح آپؐ کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا خیال رہتا تھا۔
انسان فطرتاً کسی کی مصیبت کو دیکھ کر رحم کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ بہت سے لوگ جب کسی مجرم کو سزا ملتی دیکھتے ہیں تو باوجود اس علم کے کہ اس سے سخت جرائم سرزد ہوئے ہیں ان کے دل کو دکھ پہنچتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اب اس شخص سے جرم تو ہو ہی گیا ہے اور یہ تائب بھی ہے اسے چھوڑ دیا جائے تو اچھا ہے لیکن یہ ایک کمزوری ہے اگر اس جذبہ سے متاثر ہو کر مجرموں کو چھوڑ دیا جائے تو گناہ اور جرائم بہت ہی بڑھ جائیں۔
فطری رحم کے علاوہ جب کسی بڑے آدمی سے جرم ہو تو لوگ عام طور پر نہیں پسند کرتے کہ اسے سزا ملے اور اس کی بڑائی سے متاثر ہو کر چاہتے ہیں کہ اسے کسی طرح چھوڑ دیا جائے بلکہ بڑے دولتمند یا کوئی دنیاوی وجاہت رکھنے والے آدمی تو روپیہ اور اثر خرچ کر کے ایک ایسی جماعت اپنے ساتھ کر لیتے ہیں کہ جو مشکلات کے وقت ان کا ساتھ دیتی ہے اور باوجو د قانون کی خلاف ورزی کے اپنے جتھے کی مدد سے اپنے جرائم کے اثر سے بچ جاتے ہیں۔
ان قوموں میں جن کے اخلاق گر جاتے ہیں اور جن کے افراد میں طرح طرح کی بدیاں آ جاتی ہیں ان میں خصوصاً یہ رواج عام ہو جاتا ہے کہ بڑے لوگ قانون کے خلاف عمل کر کے بھی بچ جاتے ہیں اور صرف غرباء ہی سزا پاتے ہیں۔
رسول کریم ﷺ اس بات کے سخت مخالف تھے اور آپؐ کا جو معاملہ خدا کے ساتھ تھا اور جس طرح آپؐ تمام بنی نوع انسان کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہتے تھے اس کے لحاظ سے آپؐ کبھی پسند نہ کرتے تھے کہ احکام شریعت سے امراء کو مستثنیٰ کر کے غرباء ہی کو اس کا مکلف سمجھا جائے بلکہ آپؐ باوجود ایک رحیم دل اور ہمدرد طبیعت رکھنے کے ہمیشہ احکام شریعت کے جاری کرنے میں محتاط رہتے اور مجرمین کو سزا سے بچنے نہ دیتے اور جس طرح آپؐ غرباء کو سزا دیتے امراء بھی اسی طرح احکام شریعت کے ماتحت جکڑے جاتے اور اس معاملہ میں آپؐ بڑے غیور تھے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ اَنَّ امْرَاَةً مِّنْ بَنِیْ مَخْزُوْمٍ سَرَقَتْ فَقَالُوْا مَنْ یُّكَلِّمُ فِيْهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَجْتَرِئُ اَحَدٌ اَنْ يُّكَلِّمَهٗ فَكَلَّمَهُ اُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ اِنَّ بَنِيْ اِسْرَآئِیْلَ كَانَ اِذَا سَرَقَ فِيْهِمُ الشَّرِيْفُ تَرَكُوْهُ وَ اِذَا سَرَقَ الضَّعِيْفُ قَطَعُوْهُ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعْتُ يَدَهَا (بخاری کتاب المناقب باب ذکر اسامہ بن زید) بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی اس پر لوگوں نے چاہا کہ کون ہے جو رسول کریمؐ سے اس عورت کے معاملہ میں سفارش کرے لیکن کسی نے اس کی جرأت نہ کی (کیونکہ رسول کریمؐ حدود کے قائم کرنے میں بڑے سخت تھے) آخر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے رسول کریمؐ سے ذکر کیا مگر آپؐ نے جواب دیا کہ بنی اسرائیل کی عادت تھی کہ جب ان میں کوئی شریف چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے مگر جب کوئی غریب چوری کرتا تو اس کا ہاتھ قطع کر دیتے۔ مگر میرا یہ حال ہے کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دوں۔
اس واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپؐ کا خدا سے کیا تعلق تھا اور واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں خلیفہ تھے کیونکہ خلیفہ اسی کو کہتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کے احکام کو دنیا میں جاری کرے اور یہ رسول کریمؐ ہی تھے کہ جو بغیر کسی کے خوف ملامت کے حدود اللہ کا قیام کرتے اور کسی کی رعایت نہ کرتے۔
رسول کریم ﷺ کے جو تعلقات اللہ تعالیٰ سے تھے اور جس طرح آپؐ نے خدا سے معاملہ صاف رکھا ہوا تھا اس پر یہ بات بھی روشنی ڈالتی ہے کہ آپ اپنے تمام کاموں میں پہلے یہ دیکھ لیتے کہ خدا تعالیٰ کا کیا حکم ہے اور جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم نہ ہوتا آپؐ کسی کام کے کرنے پر دلیری نہ کرتے۔ چنانچہ مکہ سے باوجود ہزاروں قسم کی تکالیف کے آپؐ نے ہجرت نہیں کی ہاں صحابہؓ کو حکم دے دیا کہ اگر وہ چاہیں تو ہجرت کر جائیں اور لوگوں کی شرارت کو دیکھ کر صحابہؓ کو ہجرت کرنی بھی پڑی اور بہت سے صحابہؓ حبشہ کو اور کچھ مدینہ کو ہجرت کر گئے اور صرف حضرت ابو بکرؓ اور حضرت علیؓ اور رسول کریمؐ یا اور چند صحابہؓ مکہ میں باقی رہ گئے۔
کفار مکہ کو دوسرے لوگوں کی نسبت رسول کریم ﷺ سے فطرتاً زیادہ بغض وعداوت تھی کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ آپؐ ہی کی تعلیم کی وجہ سے لوگوں میں شرک کی مخالفت پھیلتی جاتی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ اگر وہ آپکو قتل کر دیں تو باقی جماعت خود بخود پراگندہ ہو جائے گی اس لئے بہ نسبت دوسروں کے وہ آنحضرتؐ کو زیادہ دکھ دیتے اور چاہتے کہ کسی طرح آپؐ اپنے دعاوی سے باز آجائیں لیکن باوجود ان مشکلات کے آپؐ نے صحابہؓ کو تو ہجرت کا حکم دے دیا مگر خود ان دکھوں اور تکلیفوں کے باوجود مکہ سے ہجرت نہ کی کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی اذن نہ ہوا تھا۔ چنانچہ جب حضرت ابو بکرؓ نے پوچھا کہ میں ہجرت کر جاؤں تو آپؐ نے جواب دیا- عَلٰی رِسْلِكَ فَإِنِّيْ أَرْجُوْ أَنْ يُّؤْذَنَ لِيْ آپ ابھی ٹھہریں امید ہے کہ مجھے بھی اجازت مل جائے۔
اللہ اللہ کیا پاک انسان تھا۔ دکھ پر دکھ تکالیف پر تکالیف پہنچ رہی ہیں سب ساتھیوں کو حکم دے دیتا ہے کہ جاؤ جس جگہ امن ہو چلے جاؤ لیکن خود اپنی جگہ سے نہیں ہلتا اور باوجود مخالفت کے اس بات کا منتظر ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم آئے تو میں اس پر کاربند ہوں۔ کیا کسی انسان میں
یہ ہمت ہے کیا کوئی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف ایسا متوجہ ہو کہ ایسے خطرناک مصائب کے اوقات میں بھی دشمنوں کی مخالفت کو برداشت کرتا جائے اور جب تک خدا کا حکم نہ ہو اپنی جگہ نہ چھوڑے۔
پھر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دعویٰ ہی نہیں ہے بلکہ واقعہ میں آپ اس وقت تک مکہ سے نہیں نکلے جب تک کہ خدا کی طرف سے حکم نہ ہوا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں فَبَيْنَمَا نَحْنُ يَوْمًا جُلُوْسٌ فِيْ بَيْتِ اَبِيْ بَكْرٍ فِيْ نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ قَائِلٌ لِّاَبِيْ بَكْرٍ هٰذَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَنِّعًا فِي سَاعَةٍ لَّمْ يَكُنْ يَاْتِيْنَا فِيْهَا فَقَالَ اَبُوْبَكْرٍ فِدَاءٌ لَّهُ اَبِيْ وَاُمِّيْ وَاللّٰهِ مَا جَاءَ بِهِ فِي هٰذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا اَمْرٌ قَالَتْ فَجَاءَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَاْذَنَ فَاُذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِاَبِيْ بَكْرٍ اَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ فَقَالَ اَبُوْ بَكْرٍ اِنَّمَا هُمْ اَهْلُكَ بِاَبِيْ اَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ قَالَ فَاِنِّيْ قَدْ اُذِنَ لِيْ فِي الْخُرُوْجِ فَقَالَ اَبُوْ بَكْرٍ اَلصَّحَابَةَ بِاَبِيْ اَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ (بخاری کتاب المناقب باب هجرة النبی صلی اللہ علیه و سلم و اصحابه الى المدينة) ہم ایک دن بیٹھے ہوئے تھے کہ عین دوپہر کے وقت رسول کریمؐ تشریف لائے اور سر لپیٹا ہوا تھا۔ آپ اس وقت کبھی نہیں آیا کرتے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا میرے ماں باپ آپؐ پر فدا ہوں آپ اس وقت کسی بڑے کام کے لئے آئے ہوں گے۔ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریمؐ نے اجازت مانگی اور اجازت ملنے پر گھر میں آئے اور فرمایا کہ جو لوگ بیٹھے ہیں ان کو اٹھا دو۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ مجھے قسم ہے کہ وہ آپؐ کے رشتہ دار ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اچھا مجھے ہجرت کا حکم ہوا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ مجھے بھی ساتھ ہی جانے کی اجازت دیجئے رسول کریمؐ نے فرمایا بہت اچھا۔
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ اس وقت تک مکہ سے نہیں نکلے جب تک حکم نہ ہوا اور آخر وقت تک اس بات پر قائم رہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں کرنا۔ کیسا ایمان، کیسا یقین، کیسا پاک تعلق ہے فِدَاكَ اَبِيْ وَاُمِّيْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ۔
واقعہ ہجرت بھی ایک عجیب ہولناک واقعہ ہے۔ سارا عرب مخالف اور خون کا پیاسا تھا مگر رسول کریمؐ صرف ایک ساتھی لے کر مدینہ کی طرف چل پڑے۔ راستہ میں تمام وہ قومیں آباد تھیں جو مذہب کی مخالفت کی وجہ سے آپ کو مارنے کی فکر میں رہتی تھیں اور صرف قریش کے ڈر کے مارے خاموش تھیں لیکن اب وہ وقت آگیا تھا کہ جب قریش خود آپ کے قتل کے درپے تھے اور کل قبائلِ عرب کو تسلی تھی کہ اگر ہم نے اس شخص کو قتل کر دیا تو قریش کو ناراضگی کی کوئی وجہ نہ ہوگی۔ اور صرف یہی نہیں کہ قریش کی مخالفت کا خوف نہ رہا تھا بلکہ قریش نے رسول کریم ﷺ کو مکہ سے غیر حاضر دیکھ کر آپ کے قتل پر انعام مقرر کر دیا تھا اور مدینہ کے راستہ میں جس قدر قبائل آباد تھے انہیں یہ اطلاع دے دی تھی کہ جو شخص رسول کریمؐ اور حضرت ابوبکرؓ کو زندہ یا مردہ لے آئے گا اسے سو سو اونٹ فی کس انعام ملے گا۔ عرب کے قبائل جن کی زندگی ہی لوٹ مار پر بسر ہوتی تھی اور جو آتشِ حسد سے پہلے ہی جل بھن کر کوئلہ ہو رہے تھے اس موقع کو کب ہاتھ سے جانے دے سکتے تھے ہر طرف آپؐ کی تلاش شروع ہوئی اور گویا ہر قدم پر جو آپ اٹھاتے خوف تھا کہ کسی خون کے پیاسے دشمن سے پالا پڑے گا ایسے موقع پر اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہادر سے بہادر انسان بھی دل ہار بیٹھتا ہے اور آخری جدوجہد سے بھی محروم ہو جاتا ہے اور اگر نہایت دلیر اور خلافِ معمول کوئی نہایت قوی دل انسان بھی ہو تو اس پر بھی خوف ایسا مستولی ہو جاتا ہے کہ اس کی ہر ایک حرکت سے اس کا اظہار ہوتا ہے۔ میں نے بڑے بڑے بہادروں کے واقعات پڑھے ہیں لیکن ایسے موقع پر ان کی جو حالت ہوتی ہے اس کا رسول کریمؐ کے واقعہ سے مقابلہ بھی کرنا جائز نہیں ہو سکتا۔ تاریخ دان جانتے ہیں کہ بھاگتے ہوئے نپولین کا کیا حال تھا اور اس کے چہرہ پر حسرت کے کیسے بیّن آثار پائے جاتے تھے وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمایوں کس طرح بار بار اپنے آپ کو دشمن کے ہاتھوں میں سپرد کر دینے کے لئے تیار ہو جاتا تھا۔ اور اگر اس کے ساتھ چند نہایت وفادار جرنیل نہ ہوتے تو وہ شاید ایسا کر بھی دیتا۔ اسی طرح اور بہت سے بڑے بہادر جرنیل گزرے ہیں جن پر مشکلات کے ایام آئے ہیں اور وہ ایسے اوقات میں جب دشمن ان کے چاروں طرف ان کی جستجو میں پھیل گیا گھبرا گئے ہیں لیکن رسول کریمؐ ان دنیاوی لوگوں میں سے نہ تھے آپ کی نظریں دنیا کی طرف نہیں لگی ہوئی تھیں بلکہ آپ کی آنکھ خدا کی طرف اٹھی ہوئی تھی۔ دنیا کے اسباب آپ کے مد نظر نہ تھے اور آپ یہ خیال نہ کرتے تھے کہ ایسے وقت میں میں تن تنہا صرف ایک ساتھی کے ساتھ کیا کر سکتا ہوں اور ایسے خطرناک راستہ میں اگر دشمن آ جائے تو اس کے مقابلہ کے لئے میرے پاس کیا سامان ہیں بلکہ آپؐ یہ دیکھ رہے تھے کہ میرے ساتھ وہ خدا ہے جو ہمیشہ سے اپنے نیک بندوں کا محافظ چلا آیا ہے اور جس کے وار کا کوئی دشمن مقابلہ نہیں کر سکتا۔ وہ خدا نوحؑ کا خدا ، ابراہیمؑ کا خدا ، موسیٰؑ کا خدا ، یونسؑ کا خدا ، ایوبؑ کا خدا ، داؤدؑ کا خدا ، سلیمانؑ کا خدا ، مسیحؑ کا خدا تھا وہی میرا خدا ہے اس کی طاقتیں کبھی زائل نہیں ہوتیں اور وہ ایک دم کے لئے غافل نہیں ہے۔ سراقہ بن جعشم لالچ اور دشمنی سے دیوانہ ہو کر آتا ہے اور دور سے دیکھ کر آپ کی طرف گھوڑا دوڑا دیتا ہے اس کے دل میں امید دریا کی طرح لہریں مارتی ہے۔ وہ نہ صرف اپنے مذہب کی توہین کرنے والے کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ کر اپنے سوختہ دل کو تسکین دینا چاہتا ہے بلکہ دو سو اونٹ کا انعام جو اسے اپنی قوم میں ایک بہت بڑا رتبہ دینے کے لئے کافی تھے اس کی ہمت کو اور بھی بلند کر دیتا ہے۔ جس طرح شکاری اپنے شکار کو دیکھ کر لپکتا ہے اسی طرح وہ رسول کریمؐ کو دیکھ کر آپؐ کی طرف لپکتا ہے اور تیر کمان ہاتھ میں لے کر چاہتا ہے کہ آپ پر وار کرے وہ اکیلا نہیں بلکہ ایک نعرہ مار کر وہ اپنے ارد گرد ہزاروں آدمیوں کو جمع کر سکتا ہے کیونکہ رسول کریمؐ اس وقت اسی کے علاقہ سے گزر رہے ہیں۔ لیکن آپؐ اس وقت کیا کرتے ہیں کیا بھاگ جاتے ہیں کیا ڈر کر اپنے آپؐ کو اس کے سپرد کر دیتے ہیں کیا آپ کے قدم لڑکھڑانے لگ جاتے ہیں۔ کیا ان کے حواس بیکار ہو جاتے ہیں۔ کیا اسے قتل کر کے راہِ فرار اختیار کرنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ نہیں وہ خدا پر توکّل کرنے والا انسان ان میں سے ایک بات بھی نہیں کرتا اور سراقہ کی اتنی پرواہ بھی نہیں کرتا جتنی ایک بیل کی کی جاتی ہے حضرت ابوبکرؓ باوجود اس جرأت اور بہادری کے باوجود اس ایمان اور یقین کے باوجود اس توکّل اور بھروسہ کے جو آپ میں پایا جاتا تھا مڑ مڑ کر دیکھتے جاتے ہیں کہ سراقہ اب ہمارے کس قدر نزدیک آ گیا ہے لیکن رسول کریمؐ اس کی پرواہ بھی نہیں کرتے اور گھبرانا اور دوڑنا تو الگ خوف و ہراس کا اظہار تو جدا آپ نے ایک دفعہ منہ پھیر کر بھی اس کی طرف نہیں دیکھا جس نے سراقہ کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا اور اس کی آنکھیں کھل گئیں کہ میں کس انسان کا پیچھا کر رہا ہوں اور وہ مدّت العمر اس نظارہ کو اپنے حافظہ سے نہیں مٹا سکا بلکہ اس خلافِ معمول واقعہ نے اس کے دل پر ایسا اثر کیا کہ وہ ہمیشہ اسے بیان کرتا تھا اور کہتا تھا کہ سَمِعْتُ قِرَاءَةَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ هُوَ لَا يَلْتَفِتُ وَ اَبُوْ بَكْرٍ يُّكْثِرُ الْاِلْتِفَاتَ(بخاری کتاب المناقب باب هجرة النبی صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابه الی المدینة)۔ یعنی میں گھوڑا دوڑاتے دوڑاتے رسول کریمؐ کے اس قدر نزدیک ہو گیا کہ میں رسول کریمؐ کے قرآن پڑھنے کی آواز سن رہا تھا اور میں نے دیکھا کہ رسول کریمؐ دائیں بائیں بالکل نہیں دیکھتے ہاں حضرت ابوبکرؓ بار بار دیکھتے جاتے تھے۔
اللہ اللہ ! خدا تعالیٰ پر کیسا بھروسہ ہے۔ دشمن گھوڑا دوڑاتا ہوا اس قدر نزدیک آگیا ہے کہ آپؐ کی آواز اس تک پہنچ سکتی ہے اور آپؐ تیر کی زد میں آگئے ہیں مگر آپؐ ہیں کہ گھبراہٹ کا محسوس کرنا تو الگ رہا قرآن شریف پڑھتے جاتے ہیں ادھر حضرت ابوبکرؓ بار بار دیکھتے جاتے ہیں کہ اب دشمن کس قدر نزدیک پہنچ گیا ہے کیا اس بھروسہ اور توکّل کی کوئی اور نظیر بھی مل سکتی ہے۔ کیا کوئی انسان ہے جس نے اس خطرناک وقت میں ایسی بے توجہی اور لاپرواہی کا اظہار کیا ہو۔ اگر آپؐ کو دنیاوی اسباب کے استعمال کا خیال بھی ہوتا تو کم سے کم اتنا ضرور ہونا چاہئے تھا کہ آپؐ اس وقت یا تو سراقہ پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے یا وہاں سے تیز نکل جانے کی کوشش کرتے لیکن آپؐ نے ان دونوں باتوں میں سے ایک بھی نہیں اختیار کی نہ تو آپ تیز قدم ہوئے اور نہ ہی آپؐ نے یہ ارادہ کیا کہ کسی طرح سراقہ کو مار دیں بلکہ نہایت اطمینان کے ساتھ بغیر اظہار خوف و ہراس اپنی پہلی رفتار پر قرآن شریف پڑھتے ہوئے چلے گئے۔ وہ کونسی چیز تھی جس نے اس وقت آپؐ کے دل کو ایسا مضبوط کر دیا۔ کونسی طاقت تھی جس نے آپؐ کے حوصلہ کو ایسا بلند کر دیا۔ کونسی روح تھی جس نے آپؐ کے اندر اس قسم کی غیر معمولی زندگی پیدا کر دی؟ یہ خدا پر توکّل کے کرشمہ تھے اس پر بھروسہ کے نتائج تھے۔ آپؐ جانتے تھے کہ ظاہری اسباب میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ دنیا کی طاقتیں مجھے ہلاک نہیں کر سکتیں کیونکہ آسمان پر ایک خدا ہے جو مجھے دیکھ رہا ہے جو ان سب اسباب کا پیدا کرنیوالا ہے پس خالق اسباب کے خلاف اسباب کچھ نہیں کر سکتے یہ توکّل آپؐ کا ضائع نہیں گیا بلکہ خدا نے اسے پورا کیا اور سراقہ جو دو سو اونٹ کے لالچ میں آیا تھا آپؐ سے معافی مانگ کر واپس چلا گیا اور خدا نے اس کے دل پر ایسا رعب ڈالا کہ اس نے اپنی سلامتی اس میں سمجھی کہ خاموشی سے واپس چلا جائے بلکہ اس نے اور تعاقب کرنے والوں کو بھی واپس لوٹا دیا۔
جب رسول کریم ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ بھی مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کو جائیں تو آپؐ اور حضرت ابوبکرؓ ایک رات کو مکہ سے نکل کر جبل ثور کی طرف چلے گئے۔ یہ پہاڑ مکہ سے کوئی چھ سات میل پر واقع ہے۔ اس پہاڑ کی چوٹی پر ایک غار ہے جس میں دو تین آدمی اچھی طرح آرام کر سکتے ہیں اور بیٹھ تو اس سے زیادہ سکتے ہیں۔ جب کفار نے دیکھا کہ آپ اپنے گھر میں موجود نہیں ہیں باوجود پہرہ کے خدا کے فضل سے دشمنوں کے شر سے صحیح و سالم نکل گئے ہیں اور دشمن باوجود کمال ہوشیاری اور احتیاط کے خائب و خاسر ہو گئے تو انہوں نے کوشش کی کہ تعاقب کر کے آپؐ کو گرفتار کر لیں اور اپنے غضب کی آگ آپؐ پر برسائیں اور فوراً ادھر ادھر آدمی دوڑائے کچھ آدمی اپنے ساتھ ایک کھوجی لے کر چلے جس نے آپؐ کے قدموں کے نشانات کو معلوم کر کے جبل ثور کی طرف کا رخ کیا جب جبل ثور پر پہنچے تو اس نے بڑے زور سے اس بات کا اقرار کیا کہ یہ لوگ اس جگہ سے آگے نہیں گئے بلکہ پہاڑی پر موجود ہیں۔
کھوجی عام طور سے ہوشیار ہوتے ہیں اور گورنمنٹ اور محکمہ پولیس والے ان سے بہت کچھ فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ طریق انسان کی دریافت کرنے کا ایک بہت پرانا طریق ہے خصوصاً ان ممالک میں جہاں جرائم کی کثرت ہو اس طریق سے بہت کچھ کام لینا پڑتا ہے اس لئے غیر مہذب ممالک میں اور ایسے ممالک میں کہ جہاں کوئی باقاعدہ حکومت نہ ہو اس فن کی بڑی قدر و قیمت ہوتی ہے اور جہاں زیادہ ضرورت ہو وہاں اس فن کی ترقی بھی ہو جاتی ہے اس لئے عرب اور اس قسم کے دیگر ممالک میں جہاں رسول کریمؐ (فداہ ابی و امیّ) سے پہلے کوئی باقاعدہ حکومت نہ تھی اور جرائم کی کثرت تھی یہ پیشہ بڑے زوروں پر تھا اور نہایت قابل وثوق سمجھا جاتا تھا۔ پس کھوجی کا یہ کہہ دینا کہ آپؐ ضرور یہاں تک آئے ہیں ایک بہت بڑا ثبوت تھا اور ایسی حالت میں غار کے اندر بیٹھے ہوؤں کا جو حال ہونا چاہئے وہ سمجھ میں آسکتا ہے۔
وہ کیسا وقت ہو گا جب رسول کریمؐ اور حضرت ابو بکرؓ دونوں بغیر سلاح و ہتھیار کے غارِ ثور کے اندر بیٹھے ہوں گے اور دشمن سر پر کھڑا باتیں بنا رہا ہو گا۔ غارِ ثور کوئی چھوٹی سی غار نہیں جس کا منہ ایسا تنگ ہو کہ جس میں انسان کا گھسنا مشکل سمجھا جائے یا جس کے اندر جھانکنا مشکل ہو بلکہ ایک فراخ منہ کی کھلی غار ہے جس کے اندر جھانکنے سے آسانی سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کوئی اندر بیٹھا ہے یا نہیں۔ پس ایسی حالت میں دنیاوی اسباب کے لحاظ سے مشرکین مکہ کے لئے یہ بات بالکل قرینِ قیاس بلکہ ضروری تھی کہ وہ کھوجی کے کہنے کے مطابق ذرا آنکھیں جھکا کر دیکھ لیتے کہ آیا رسول کریمؐ غار میں تو نہیں بیٹھے اور یہ کوئی ایسا عظیم الشان کام نہ تھا کہ جسے وہ لاپرواہی سے چھوڑ دیتے کہ ایسے ضعیف خیال کی بناء پر اتنی محنت کون برداشت کرے۔ پس ایسے انسانوں کا جو ایسے خطرہ کی
حالت میں اس غار میں بیٹھے ہوئے ہوں گھبرانا اور خَوف کرنا بالکل فطرت کے مطابق ہوتا اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بہادر سے بہادر انسان بھی اس وقت خوف نہ کرتا لیکن اگر کوئی ایسا جری انسان ہو بھی جو ایسے وقت میں اپنی جان کی پرواہ نہ کرے اور بے خوف بیٹھا رہے اور سمجھ لے کہ اگر دشمن نے پکڑ بھی لیا تو کیا ہوا آخر ایک دن مرنا ہے تو بھی یہ امر بالکل فطرت انسانی کے مطابق ہو گا کہ ایسا آدمی جو ایسے مقام پر ہو کم سے کم یہ یقین کرلے کہ یہ لوگ ہمیں دیکھ ضرور لیں گے کیونکہ عین سرے پر پہنچ کر اور ایسی یقینی شہادت کے باوجود غار میں نظر بھی نہ ڈالنا بالکل اسباب کے خلاف ہے۔
مگر ہمارا رسولؐ فداہ ابی وامی کیا کرتا ہے؟ حضرت ابوبکرؓ فرماتے ہیں كُنْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَارِ فَرَفَعْتُ رَأْسِيْ فَإِذَا أَنَا بِأَقْدَامِ الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ لَوْ أَنَّ بَعْضَهُمْ طَأْطَأَ بَصَرَهُ رَآنَا قَالَ اُسْكُتْ يَا أَبَا بَكْرٍ اِثْنَانِ اللّٰهُ ثَالِثُهُمَا(بخاری جلد اول کتاب المناقب باب هجرة النبی صلعم و اصحابه الى المدينة) میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ غار میں تھا میں نے اپنا سر اٹھا کر نظر کی تو تعاقب کرنے والوں کے پاؤں دیکھے اس پر میں نے رسول کریمؐ سے عرض کیا یا رسول اللہؐ اگر کوئی نظر نیچی کرے گا تو ہمیں دیکھ لے گا تو آپؐ نے جواب میں ارشاد فرمایا۔ چپ اے ابی بکر۔ ہم دو ہیں ہمارے ساتھ تیسرا خدا ہے (پھر وہ کیونکر دیکھ سکتے ہیں)۔
اللہ اللہ کیا توکّل ہے۔ دشمن سر پر کھڑا ہے اور اتنا نزدیک ہے کہ ذرا آنکھ نیچی کرے اور دیکھ لے لیکن آپؐ کو خدا تعالیٰ پر ایسا یقین ہے کہ باوجود سب اسباب مخالف کے جمع ہو جانے کے آپؐ یہی فرماتے ہیں کہ یہ کیوں کر ہو سکتا ہے خدا تو ہمارے ساتھ ہے پھر وہ کیوں کر دیکھ سکتے ہیں؟
کیا کسی ماں نے ایسا بچہ جنا ہے جو اس یقین اور ایمان کو لے کر دنیا میں آیا ہو۔ یہ جرأت و بہادری کا سوال نہیں بلکہ توکّل کا سوال ہے خدا پر بھروسہ کا سوال ہے۔ اگر جرأت ہی ہوتی تو آپؐ یہ جواب دیتے کہ خیر پکڑ لیں گے تو کیا ہوا ہم موت سے نہیں ڈرتے۔ مگر آپؐ کوئی معمولی جرنیل یا میدانِ جنگ کے بہادر سپاہی نہ تھے آپؐ خدا کے رسول تھے اس لئے آپؐ نے نہ صرف خوف کا اظہار نہ کیا بلکہ حضرت ابوبکرؓ کو بتایا کہ دیکھنے کا تو سوال ہی نہیں ہے خدا ہمارے ساتھ ہے اور اس کے حکم کے ماتحت ہم اپنے گھروں سے نکلے ہیں پھر ان کو طاقت ہی کہاں مل سکتی ہے کہ یہ آنکھ نیچی کر کے ہمیں دیکھیں۔
یہ وہ توکّل ہے جو ایک جھوٹے انسان میں نہیں ہو سکتا۔ جو ایک پر فریب دل میں نہیں ٹھہر سکتا۔ شاید کوئی مجنون ایسا کر سکے کہ ایسے خطرناک موقع پر بے پرواہ رہے۔ لیکن میں پوچھتا ہوں کہ مجنوں فقدان حواس کی وجہ سے ایسا کہہ تو لے لیکن وہ کون ہے جو اس کے مجنونانہ خیالات کے مطابق اس کے متعاقبین کی آنکھوں کو اس سے پھیر دے اور متعاقب سر پر پہنچ کر پھر اس کی طرف نگاہ اٹھا کر نہ دیکھ سکیں۔
پس رسول کریم ﷺ کا توکّل ایک رسولانہ توکّل تھا اور جسے خدا تعالیٰ نے اسی رنگ میں پورا کر دیا آپؐ نے خدا تعالیٰ پر یقین کر کے کہا کہ میرا خدا ایسے وقت میں مجھے ضائع نہیں کرے گا اور خدا نے آپ کے توکّل کو پورا کیا اور آپ کو دشمن کے قبضہ میں جانے سے بچا لیا اور اسے اس طرح اندھا کر دیا کہ وہ آپؐ کے قریب پہنچ کر خائب و خاسر لوٹ گیا۔
یہ وہ توکّل ہے جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ حضرت موسیٰؑ سے بھی ایک موقع پر اس قسم کے توکّل کی نظیر ملتی ہے لیکن وہ مثال اس سے بہت ہی ادنیٰ ہے کیونکہ حضرت موسیٰؑ کے ساتھیوں نے فرعونیوں کو دیکھ کر کہا کہ اِنَّا لَمُدۡرَکُوۡنَ(26:62) ہم ضرور گرفتار ہو جائیں گے اس پر حضرت موسیٰؑ نے جواب میں کہا اِنَّ مَعِیَ رَبِّیۡ سَیَہۡدِیۡنِ(الشعراء: ۶۳) لیکن رسول کریم ﷺ کا توکّل ایسا کامل تھا کہ اس نے آپؐ کے ساتھی پر بھی اثر ڈالا اور حضرت ابو بکرؓ نے موسائیوں کی طرح گھبرا کر یہ نہیں کہا کہ ہم ضرور پکڑے جائیں گے بلکہ یہ کہا کہ اگر وہ نیچی نظر کریں تو دیکھ لیں۔ اور یہ ایمان اس پرَتو کا نتیجہ تھا جو نورِ نبوت اس وقت آپ کے دل پر ڈال رہا تھا۔ دوسرے حضرت موسیٰؑ کے ساتھ فوج تھی اور ان کے آگے بھاگنے کی جگہ ضرور موجود تھی لیکن رسول کریمؐ کے ساتھ نہ کوئی جماعت تھی اور نہ آپؐ کے سامنے کوئی اور راستہ تھا۔ اسی طرح اور بھی بہت سے فرق ہیں جو طوالت کی وجہ سے میں اس جگہ بیان نہیں کرتا۔
رسول کریمؐ کو خدا تعالیٰ پر ایسا توکّل تھا کہ ہر مصیبت اور مشکل کے وقت اسی پر نظر رکھتے اور اس کے سوا ہر شئے سے توجہ ہٹا لیتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپؐ آجکل کے صوفیاء کی طرح اسباب کے تارک نہ تھے کیونکہ اسباب کا ترک گویا خدا تعالیٰ کی مخلوق کی ہتک کرنا اور اس کی پیدائش کو لغو قرار دینا ہے۔ لیکن اسباب کے مہیا کرنے کے بعد آپؐ بکلی خدا تعالیٰ پر توکّل کرتے اور گو اسباب مہیا کرتے لیکن ان پر بھروسہ اور توکّل کبھی نہ کرتے تھے اور صرف خدا ہی کے فضل کے امیدوار رہتے حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ آپؐ ہر ایک گھبراہٹ کے وقت فرماتے۔ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمٰوَاتِ وَ رَبُّ الْاَرْضِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ(بخاری جلد ۲ کتاب الدعوات باب الدعاء عند الکرب) کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے وہ رب ہے بڑے تخت حکومت کا۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ آسمانوں کا رب ہے وہ زمین کا رب ہے۔ وہ بزرگ تخت کارب ہے (یعنی میرا بھروسہ اور توکل تو اسی پر ہے)۔
اسلام کے عظیم الشان احکام میں سے زکوٰۃ اور صدقہ کے احکام ہیں۔ ہر مسلمان پر جس کے پاس چالیس سے زائد روپے ہوں اور ان پر سال گزر جائے فرض ہے کہ ان میں سے چالیسواں حصہ وہ خدا کی راہ میں دے دے۔ یہ مال محتاجوں اور غریبوں پر خرچ کیا جاتا ہے اور وہ لوگ جو کسی سبب سے اپنی حوائج کو پورا کرنے سے قاصر ہوں اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا ابناء السبیل کو مدد دی جاتی ہے۔ اس کے محصلوں کی تنخواہ بھی اس میں سے ہی نکلتی ہے غرض کہ محتاجوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے شریعت اسلام نے یہ قاعدہ جاری کیا ہے اور اس میں بہت سے ظاہری اور باطنی فوائد مدّنظر ہیں لیکن اس کا ذکر بے موقع ہے۔ زکوٰۃ کے علاوہ جو ایک وقت مقررہ پر سرکار کے خزانہ میں داخل ہو کر غرباء میں تقسیم کئے جانے کا حکم ہے صدقہ کا بھی حکم دیا گیا ہے کہ ہر ایک ذی استطاعت کو مناسب ہے کہ وہ اپنے طور پر اپنے غریب بھائیوں کی دستگیری کرے اور حتی الوسع ان کی امداد میں دریغ نہ کرے۔
رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں اور بعد میں بھی جب تک اسلامی حکومت رہی چونکہ زکوٰۃ باقاعدہ وصول کی جاتی تھی اس لئے ایک کثیر رقم جمع ہو جاتی تھی اور خزانہ شاہی کی ایک بہت بڑی مد تھی اور اگر رسول کریمؐ چاہتے تو اپنی اولاد کے غرباء کا اس رقم میں سے ایک خاص حصہ مقرر کر سکتے تھے جس کی وجہ سے سادات ہمیشہ غربت سے بچ جاتے اور افلاس کی مصیبت سے ہمیشہ کے لئے آزاد ہو جاتے لیکن رسول کریمؐ کے سینہ میں وہ دل تھا جو توکّل علی اللہ سے پر تھا اور آپ کی توجہ غیر اللہ کی طرف پھرتی ہی نہ تھی اس قدر رقم کثیر خزانہ میں آتی تھی۔ اور تھی بھی غرباء کے لئے۔ کسی کا حق نہ تھی کہ اس کی تقسیم ظلم سمجھی جاتی۔ ایسی حالت میں اگر آپ اپنی اولاد کے لئے بصورت غربت ایک حصہ مقرر کر جاتے تو یہ بات نہ لوگوں کے لئے قابل اعتراض ہوتی اور نہ کسی پر ظلم ہوتا۔ لیکن وہ باغیرت دل جو آپؐ کے سینہ میں تھا اور وہ متوکل قلب جو آپ رکھتے تھے کب برداشت کر سکتا تھا کہ آپ صدقہ و زکوٰۃ پر اپنی اولاد کے لئے صورت گزارہ مقرر کرتے۔ پھر آپ کو تو یقین تھا کہ خدا تعالیٰ ان کا متکفّل ہو گا اور خود ان کی مدد کرے گا۔ آپ کے دل میں ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں آ سکتا
تھا کہ ان کے لئے کسی سامان کے مہیا کرنے کی مجھے ضرورت ہے اس لئے آپ نے اپنی اولاد کے لئے اس رقم میں سے کوئی حصہ ہی مقرر نہ کیا۔ اللہ اللہ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں کے ہاتھوں میں حکومت ہوتی ہے وہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اپنی اولاد اور رشتہ داروں کے لئے کچھ سامان کر جائیں لیکن آپ نے نہ صرف خود ہی اللہ تعالیٰ پر توکل کیا اور اپنی اولاد کے لئے زکوٰۃ میں سے کوئی حصہ نہ مقرر کیا بلکہ ان کو بھی خدا پر توکل کرنے کا سبق سکھایا اور انہیں حکم دے دیا کہ تمہارے لئے اس مال سے فائدہ اٹھانا ہی ناجائز ہے۔
زکوٰۃ کے علاوہ جو لوگ اپنے پاس سے صدقات دیتے ہیں ممکن تھا کہ سادات کو وہ اس میں شریک کر لیتے لیکن رسول کریم ﷺ نے اپنی اولاد کو ایسا توکل کا سبق دینا چاہا کہ اسے صدقات سے بھی محروم کردیا اور زکوٰۃ و صدقہ دونوں کی نسبت حکم دے دیا کہ میری اولاد اور اولاد کی اولاد کے لئے زکوٰۃ و صدقہ لینا نا جائز ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتٰى بِالتَّمْرِ عِنْدَ صِرَامِ النَّخْلِ فَيَجِيْئُ هٰذَا بِتَمْرِهِ وَ هٰذَا مِنْ تَمْرِهِ حَتّٰى يَصِيْرَ عِنْدَهُ كَوْمًا مِنْ تَمْرٍ فَجَعَلَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا يَلْعَبَانِ بِذٰلِكَ التَّمْرِ فَاَخَذَ اَحَدُهُمَا تَمْرَةً فَجَعَلَهَا فِيْ فِيْهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَخْرَجَهَا مِنْ فِيْهِ فَقَالَ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ اٰلَ مُحَمَّدٍ لَا يَاْكُلُوْنَ الصَّدَقَةَ(بخاری کتاب الزکوٰة باب اخذ صدقة التمر عند صرام النخل) کھجور کے کٹنے کے وقت رسول کریم ﷺ کے پاس کھجوریں لائی جاتی تھیں۔ ہر ایک اپنی اپنی کھجوریں لاتا تھا اور رسول کریم ﷺ کے آگے رکھ دیتا یہاں تک کہ آپؐ کے پاس ایک ڈھیر ہو جاتا۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما ان کھجوروں سے کھیلنے لگے اور ان میں سے ایک نے ایک کھجور لی اور اپنے منہ میں ڈال لی۔ پس ان کی طرف رسول کریمؐ نے دیکھا اور کھجور ان کے منہ سے نکال دی اور فرمایا کہ تجھے علم نہیں کہ آل محمدؐ صدقہ نہیں کھایا کرتے۔
اللہ اللہ کیسی احتیاط ہے۔ کیا ہی توکل ہے ایک کھجور بچے نے منہ میں ڈال لی تو اس میں حرج نہ تھا۔ لیکن آپؐ کا توکل ایسا نہ تھا جیسا کہ عام لوگوں کا ہوتا ہے۔ آپؐ چاہتے تھے کہ بچپن سے ہی بچوں کے دلوں میں وہ ایمان اور توکل پیدا کر دیں کہ بڑے ہو کر وہ کبھی صدقات کی طرف توجہ نہ کریں اور خدا کی ہی ذات پر بھروسہ رکھیں۔
نہ صرف یہ کہ رسول کریمؐ نے اپنی اولاد کو صدقہ سے محروم کر دیا بلکہ خود بھی کوئی ایسی جائداد نہیں چھوڑی جس سے آپؐ کے بعد آپؐ کی بیویوں اور اولاد کی پرورش اور گزارہ کا انتظام ہو سکتا۔ ممکن تھا کہ یہ خیال کر لیا جاتا کہ گو آپؐ نے اپنی آل کیلئے ہمیشہ کے لئے کوئی سامان نہیں مہیا کیا لیکن اپنے موجودہ رشتہ داروں کے لئے کوئی سامان کر دیا۔ لیکن یہ بھی نہیں ہوا۔ اور جس وقت فوت ہوئے ہیں اس وقت آپؐ کے گھر میں کوئی روپیہ نہیں تھا۔ عمرو بن حریثؓ فرماتے ہیں مَا تَرَكَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ دِرْهَمًا وَلَا دِيْنَارًا وَلَا عَبْدًا وَلَا اَمَةً وَلَا شَيْئًا إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ وَ سِلَاحَهُ وَ اَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً(بخاری کتاب الوصایا) رسول کریم ﷺ نے اپنی وفات کے وقت کچھ نہیں چھوڑا نہ کوئی درہم نہ دینار نہ غلام نہ لونڈی اور نہ کچھ اور چیز سوائے اپنی سفید خچر اور اپنے ہتھیاروں کے اور ایک زمین کے جسے آپؐ صدقہ میں دے چکے تھے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ آپؐ کی حیثیت ایک بادشاہ کی تھی اور آپؐ چاہتے تو اپنے رشتہ داروں کے لئے سامان کر سکتے تھے اور کم سے کم اس قدر روپیہ چھوڑ جانا تو آپؐ کے لئے کچھ مشکل نہ تھا کہ جس سے آپؐ کی بیویوں اور اولاد کا گزارہ ہو سکے۔
آپؐ کے پاس صرف خزانہ کا روپیہ ہی نہ رہتا تھا کہ جس کا اپنی ذات پر خرچ کرنا آپؐ گناہ تصور فرماتے تھے اور اس کا ایک حبّہ بھی آپؐ استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ خود آپؐ کی ذات کے لئے بھی آپکے پاس بہت مال آتا تھا اور صحابہؓ اس اخلاص اور عشق کے سبب جو انہیں آپؐ سے تھا بہت سے تحائف پیش کرتے رہتے تھے اور اگر آپؐ اس خیال سے کہ میرے بعد میرے رشتہ دار کس طرح گزارہ کریں گے ایک رقم جمع کر جاتے تو کر سکتے تھے لیکن آپؐ کے وسیع دل میں جو خدا تعالیٰ کی ہیبت اور اس کے جلال کا جلوہ گاہ تھا۔ جو یقین و معرفت کا خزانہ تھا یہ دنیاوی خیال سما بھی نہیں سکتا تھا۔ جو کچھ آتا آپؐ اسے غرباء میں تقسیم کر دیتے اور اپنے گھر میں کچھ بھی نہ رکھتے حتیٰ کہ آپؐ کی وفات نے ثابت کر دیا کہ وہ خدا کا بندہ جو دنیا سے نہیں بلکہ خدا سے تعلق رکھتا تھا دنیاوی آلائشوں سے پاک اپنے بھیجنے والے کے پاس چلا گیا۔ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِكْ وَسَلِّمْ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ.
رسول کریم ﷺ کی نہایت پیاری بیٹی موجود تھیں اور ان کی آگے اولاد تھی اور اولاد کی اولاد اپنی ہی اولاد ہوتی ہے مگر آپؐ نے نہ کوئی مال اپنی بیویوں کے لئے چھوڑا اور نہ اولاد کے لئے۔ ہاں بعض لوگوں کو خیال ہوتا ہے کہ ہماری بیویاں اور اولاد خود دولت مند ہیں۔ ہمیں ان کے گزارہ کی کچھ فکر نہیں مگر یہاں یہ معاملہ بھی نہ تھا آپؐ کی بیویوں کی کوئی ایسی جائداد الگ موجود نہ تھی کہ جس سے وہ اپنا گزارہ کر سکیں نہ ہی آپؐ کی اولاد آسودہ حال تھی کہ جس سے آپؐ بے فکر ہوں ان کے پاس کوئی جائداد کوئی روپیہ کوئی مال نہ تھا کہ جس پر دنیا سے بے فکر ہو جائیں ایسی صورت میں اگر آپؐ ان لوگوں کے لئے خود کوئی اندوختہ چھوڑ جاتے تو کسی شریعت کسی قانون انسانیت کے خلاف نہ ہوتا اور دنیا میں کسی انسان کا حق نہ ہوتا کہ وہ آپؐ کے اس فعل پر اعتراض کرتا لیکن آپؐ ان جذبات اور خیالات کے ماتحت کام نہیں کرتے تھے جو ایک معمولی آدمی کے دل میں موجزن ہوتے ہیں۔ آپؐ کے محسوسات اور محرکات ہی اور تھے۔ آپؐ نے خدا تعالیٰ کی قدرت اور طاقت کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تھا اور اس کے فضلوں کی وسعت کو جانتے تھے۔ آپؐ کو یقین تھا کہ میں اپنے پیچھے اگر مال چھوڑ کر نہیں جاتا تو کچھ حرج نہیں میری وفات کے بعد میرے پسماندگان کا ایک نگران ہے جس پر کبھی موت نہیں آتی جو کبھی غافل نہیں ہوتا جو اپنے پیاروں کو ان کی مصیبتوں کے وقت کبھی نہیں چھوڑتا جو ان کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کے لئے تیار رہتا اور ضرورتوں کے پیدا ہونے سے پہلے ان کے پورا کرنے کے سامان کر دیتا ہے خدا تعالیٰ کے وسیع خزانوں کو دیکھتے ہوئے آپؐ اس بات کو ایک سیکنڈ کے لئے بھی پسند نہیں کر سکتے تھے کہ اپنے پسماندگان کے لئے خود کوئی سامان کر جائیں خدا پر آپکو توکل تھا اور اس پر بھروسہ کرتے تھے اور یہ وہ توکل کا اعلیٰ مقام ہی تھا کہ جس پر قائم ہونے کی وجہ سے دنیا داروں کے خلاف آپؐ کی توجہ بجائے دنیاوی سامانوں کے آسمانی اسباب پر پڑتی تھی۔
جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں رسول کریمؐ کو کسی کام میں بھی دنیا اور اہل دنیا کی طرف توجہ نہ تھی اور ارضی اسباب کی طرف آپؐ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتے تھے بلکہ ہر کام میں آپؐ کی نظر خدا تعالیٰ ہی کی طرف لگی رہتی کہ وہی کچھ کرے گا گویا کہ توکل کا ایک کامل نمونہ تھے جس کی نظیر نہ پہلے انبیاء میں ملتی ہے نہ آپؐ کے بعد آپؐ کے سے توکل والا کوئی انسان پیدا ہوا ہے۔
مسیلمہ کے نام سے سب مسلمان واقف ہیں اس شخص نے رسول کریم ﷺ کے بعد حضرت ابوبکرؓ کی خلافت میں سخت مقابلہ کیا تھا اگرچہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ہی یہ شخص نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا تھا مگر مقابلہ اور جنگ حضرت ابوبکرؓ کے لشکر ہی سے ہوا اور ان ہی افواج قاہرہ نے اس
کو شکست دی۔ مسیلمہ رسول کریمؐ کی زندگی میں ایک لشکر جرار لے کر آپ کے پاس مدینہ میں آیا اور آپ سے اس بات کی درخواست کی کہ اگر آپ اسے اپنے بعد خلیفہ بنالیں تو وہ اپنی جماعت سمیت آپ کی اتباع اختیار کرلے گا اور اسلام کی حالت چاہتی تھی کہ آپ اس ذریعہ کو اختیار کر لیتے اور اس کی مدد سے فائدہ اٹھا لیتے لیکن جس پاک وجود کو خدا تعالیٰ کی طاقت پر بھروسہ اور توکل تھا اور وہ انسانی منصوبوں کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہ کر سکتا تھا آپ نے اس کی درخواست کو فوراً رد کر دیا۔
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں قَدِمَ مُسَيْلَمَةُ الْكَذَّابُ عَلٰى عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَقُوْلُ اِنْ جَعَلَ لِيْ مُحَمَّدُ الْاَمْرَ مِنْۢ بَعْدِهِ تَبِعْتُهُ وَقَدْ مَهَا فِيْ بَشَرٍ كَثِيْرٍ مِّنْ قَوْمِهِ فَاَقْبَلَ اِلَيْهِ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ مَعَهُ ثَابِتُ ابْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَ فِيْ يَدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِطْعَةُ جَرِيْدٍ حَتّٰی وَقَفَ عَلٰی مُسَيْلَمَةَ فِيْ اَصْحَابِهِ فَقَالَ لَوْ سَاَلْتَنِيْ هٰذِهِ الْقِطْعَةَ مَا اَعْطَيْتُكَهَا وَلَنْ تَعْدُوَ اَمْرَ اللّٰهِ فِيْكَ وَلَئِنْ اَدْبَرْتَ لَيَعْقِرَنَّكَ اللّٰهُ وَاِنِّيْ لَاَرَاكَ الَّذِيْ اُرِيْتُ فِيْهِ مَا رَاَيْتُ وَهٰذَا ثَابِتٌ يُّجِيْبُكَ عَنِّيْ ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَسَاَلْتُ عَنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنَّكَ اَرَى الَّذِيْ اُرِيْتَ فِيْهِ مَا رَاَيْتَ فَاَخْبَرَنِيْ اَبُوْ هُرَيْرَةَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا اَنَا نَائِمٌ رَاَيْتُ فِيْ يَدَىَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَاَهَمَّنِيْ شَانُهُمَا فَاُوْحِيَ اِلَيَّ فِي الْمَنَامِ اَنْ اَنْفُخَهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا فَاَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ بَعْدِيْ اَحَدُ هُمَا الْعَنْسِيُّ وَالْاٰخَرُ مُسَيْلِمَةُ(بخاری کتاب المغازی باب وفد بنی حنیفۃ و حدیث ثمامة بن أثال)
رسول کریمﷺ کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب آیا اور کہنے لگا کہ اگر محمد ﷺ اپنے بعد مجھے حاکم مقرر کر دیں تو میں ان کا متبع ہو جاؤں اور اس وقت وہ اپنے ساتھ اپنی قوم میں سے ایک جماعت کثیر لایا تھا۔ رسول کریمؐ یہ بات سنکر اس کی طرف آئے اور ثابت ابن قیس ابن شماس رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے اور رسول کریمؐ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک شاخ کا ٹکڑا تھا۔ آپ آئے یہاں تک کہ مسیلمہ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور وہ اپنے ساتھیوں میں بیٹھا تھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر تو مجھ سے یہ شاخ بھی مانگے تو میں تجھے نہ دوں اور جو کچھ خدا نے تیرے لئے مقدر کیا ہے تو اس سے آگے نہیں بڑھے گا اور اگر تو پیٹھ پھیر کر چلا جائے گا تو اللہ تعالیٰ تیری کونچیں کاٹ دے گا اور میں تو تجھے وہی شخص پاتا ہوں جس کی نسبت مجھے وہ نظارہ دکھایا گیا تھا جو میں نے دیکھا اور یہ ثابت ہیں میری طرف سے تجھے جواب دیں گے پھر آپ وہاں سے چلے گئے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے پوچھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا ہے کہ میں تو تجھے وہی شخص پاتا ہوں جس کی نسبت وہ نظارہ دکھایا گیا تھا جو میں نے دیکھا اس پر مجھے حضرت ابو ہریرہؓ نے بتایا کہ رسول کریمؐ نے فرمایا تھا کہ ایک دفعہ میں سو رہا تھا کہ میں نے دیکھا میرے دونوں ہاتھوں میں دو کڑے ہیں جو سونے کے ہیں ان کا ہونا مجھے کچھ ناپسند سا معلوم ہوا اس پر مجھے خواب میں وحی نازل ہوئی کہ میں ان پر پھونکوں جب میں نے پھونکا تو وہ دونوں اڑ گئے۔ پس میں نے تعبیر کی کہ دو جھوٹے ہوں گے جو میرے بعد نکلیں گے ایک تو عنسی ہے اور دوسرا مسیلمہ۔
اس واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ پر کیسا یقین تھا اور آپ خدا تعالیٰ کی مدد پر کیسے مطمئن تھے۔ آپ کے چاروں طرف کافروں کا زور تھا جو ہر وقت آپ کو دکھ دیتے اور ایذاء پہنچانے میں مشغول رہتے تھے اور جن جن ذرائع سے ممکن ہوتا آپ کو تکلیف پہنچاتے تھے۔ قیصر و کسریٰ بھی اپنے اپنے حکام کو آپ کے مقابلہ کے لئے احکام پر احکام بھیج رہے تھے بنی غسان لڑنے کے لئے تیاریاں کر رہے تھے ایرانی اس بڑھتی ہوئی طاقت کو حسد و حیرت کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے ہر ایک حکومت اس نئی تحریک پر شک و شبہ کی نگاہیں ڈال رہی تھی۔ ایسے وقت میں جب تک ایک لشکر جرار آنحضرتؐ کے اردگرد جمع نہ ہو تا آپ کے لئے اپنے دشمنوں کی زد سے بچنا بظاہر مشکل بلکہ ناممکن نظر آتا تھا مدینہ منورہ سے لے کر مکہ مکرمہ تک کی فتوحات نے آپ کو ہر ایک آس پاس کی حکومت کے مد مقابل کھڑا کر دیا تھا اور دور بین نگاہیں ابتداء امر میں ہی اس بڑھنے والی طاقت کو تباہ کر دینے کی فکر میں تھیں کیونکہ انہیں یقین تھا کہ یہ طاقت اگر اور زیادہ بڑھ گئی تو ہمارے بڑے بڑے قصور محلات کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گی پھر آنحضرتؐ ان عظیم الشان مظاہروں کے مقابلہ کے لئے جو کچھ بھی تیاری کرتے کم تھی۔ انسانی عقل ایسی حالت میں جس طرح دوست و دشمن کو اپنے ساتھ ملانا چاہتی ہے اور جن جن تدابیر سے غیروں کو بھی اپنے اندر شامل کرنا چاہتی ہے وہ تاریخ کے پڑھنے والوں کو آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہیں۔
لیکن وہ میرا پیارا زمینی نہیں بلکہ آسمانی تھا۔ بڑھتے ہوئے لشکر اور دوڑتے ہوئے گھوڑے۔ اٹھتے ہوئے نیزے اور چمکتی ہوئی تلواریں اس کی آنکھوں میں کچھ حقیقت نہیں رکھتی تھیں وہ ملائکہ آسمانی کا نزول دیکھ رہا تھا اور زمین و آسمان کا پیدا کنندہ اس کے کان میں ہر دم تسلی آمیز کلام
ڈال رہا تھا اس کا دل یقین سے پُر اور سینہ ایمان سے معمور تھا۔ غرضیکہ بجائے دنیاوی اسباب پر بھروسہ کرنے کے اس کا توکل خدا پر تھا۔ پھر بھلا ان مصائب سے وہ کب گھبرا سکتا تھا اس نے مسیلمہ اور اس کے لشکر پر بھروسہ کرنا ایک دم کے لئے بھی مناسب نہ جانا اور صاف کہہ دیا کہ خلافت کا دھوکہ دے کر تجھے اپنے ساتھ ملانا اور تیری قوم کی اعانت حاصل کرنی تو علیحدہ امر ہے ایک کھجور کی شاخ کے بدلہ میں بھی اگر تیری حمایت حاصل کرنی پڑے تو میں اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھوں۔
اس غیور دل کی حالت پر غور کرو۔ اس متوکل انسان کی شان پر نظر ڈالو۔ اس یقین سے پُر دل کی کیفیت کا احساس اپنے دلوں کے اندر پیدا کر کے دیکھو کہ کس یقین اور توکل کے ماتحت وہ مسیلمہ کو جواب دیتا ہے کیا کوئی بادشاہ ایسے اوقات میں اس جرأت اور دلیری کو کام میں لاسکتا ہے کیا تاریخ کسی گوشت اور پوست سے بنے ہوئے انسان کو ایسے مواقع میں سے اس سلامتی سے نکلتا ہوا دکھا سکتی ہے اگر نہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ آپ کی زندگی سے مقابلہ کرنا ہی غلط ہے کیونکہ آپ نبی تھے اگر آپؐ کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے تو انبیاءؑ سے مگر جو شان آپؐ کو حاصل ہے اس کی نظیر انبیاء میں بھی نہیں مل سکتی کیونکہ آپؐ کو سب انبیاء پر فضیلت ہے۔
اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مسیلمہ کو جواب دیتے وقت رسول کریم اللہ اﷺ کے یہ مد نظر نہ تھا کہ آپ حکومت کے حق کو اپنی اولاد کے لئے محفوظ رکھنا چاہتے تھے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو آپ کا انکار توکل علی اللہ کے باعث نہیں بلکہ اپنی اولاد کی محبت کی وجہ سے قرار دیا جاتا لیکن رسول کریمؐ نے اپنی اولاد کو اپنے بعد اپنا جانشین نہیں بنایا بلکہ حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کی طرف اشارہ فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا انکار کسی دنیاوی غرض کے لئے نہ تھا بلکہ ایک بے پایاں یقین کا نتیجہ تھا۔
اسی طرح یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مسیلمہ کذاب کی مدد حاصل کرنا بظاہر مذہبی لحاظ سے بھی مضر نہ تھا کیونکہ اگر وہ یہ شرط پیش کرتا کہ میں آپ کی اتباع اس شرط پر کرتا ہوں کہ آپ فلاں فلاں دینی باتوں میں میری مان لیں تو بھی یہ کہا جاسکتا تھا کہ اپنی بات کی پیچ کی وجہ سے آپ نے اس کے مطالبہ کا انکار کر دیا لیکن اس نے کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے معلوم ہو کہ وہ مذہب میں تبدیلی چاہتا تھا۔ پس آپ کا انکار صرف اس توکل اور یقین کا نتیجہ تھا جو آپ کو خداتعالیٰ پر تھا۔
ایک اور بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آپ اگر چاہتے تو اس وقت مسیلمہ کو پکڑ کر مروا دیتے کیونکہ گو وہ ایک کثیر جماعت کے ساتھ آیا تھا مگر پھر بھی مدینہ میں تھا اور آپ کے ہاتھ کے نیچے لیکن اس معاملہ میں بھی آپ نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا کہ وہ خود اس موذی کو ہلاک کرے گا۔ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِكْ وَسَلِّمْ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
رسول کریمؐ کی عادت تھی کہ بہت آرام اور آہستگی سے کلام کرتے تھے اور آپ کے کلام میں جوش نہ ہوتا تھا بلکہ بہت سہولت ہوتی تھی لیکن آپ کی یہ بھی عادت تھی کہ جہاں خدا تعالیٰ کا ذکر آتا آپ کو جوش آجاتا تھا اور آپ کی عبارت میں ایک خاص شان پیدا ہو جاتی تھی۔ چنانچہ احادیث کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر کے آتے ہی آپ کو جوش آجاتا تھا اور آپ کے لفظ لفظ سے معلوم ہوتا تھا کہ عشق الٰہی کا دریا آپ کے اندر لہریں مار رہا ہے آپ کے کلام کو پڑھ کر محبت کی ایسی لپٹیں آتیں کہ پڑھنے والے کا دماغ معطر ہو جاتا۔ اللہ اللہ آپؐ صحابہؓ میں بیٹھ کر کس پیار سے باتیں کرتے ہیں ان کی دلجوئی کرتے ہیں انکی شکایات کو سنتے ہیں۔ پھر صحابہ ہی کا کیا ذکر ہے کافر و مؤمن آپ کی ہمدردی سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور ہر ایک تکلیف میں آپؐ مہربان باپ اور محبت کرنے والی ماں سے زیادہ ہمدرد و مہربان ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں جہاں اس کا اور غیر کا مقابلہ ہو جائے آپ بے اختیار ہو جاتے ہیں محبت ایسا جوش مارتی ہے کہ رنگ ہی اور ہو جاتا ہے۔ سننے والے کا دل ایک ایسی وابستگی پاتا ہے کہ آپؐ ہی کا ہمرنگ ہو جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی وہ عظمت بیان کرتے ہیں کہ دل بے اختیار اس پر قربان ہونا چاہتا ہے وہ ہیبت بیان کرتے ہیں کہ بدن کانپ اٹھتا ہے وہ جلال بیان کرتے ہیں کہ جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ایسا خوف دلاتے ہیں کہ مؤمن انسان کا دل تو خوف کے مارے پگھل ہی جاتا ہے پھر ایسی شفقت و محبت کا بیان کرتے ہیں کہ ٹوٹے ہوئے دل جڑ جاتے ہیں اور گری ہوئی ہمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ اللہ اللہ آپؐ کے عام کلام کا مقابلہ اگر اس کلام سے کریں کہ جس میں بندوں کو خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتے ہیں تو زمین و آسمان کا فرق معلوم دیتا ہے گویا خدا تعالیٰ کا ذکر آتے ہی آپؐ کا رو آں رو آں اس کی طرف جھک جاتا ہے اور ذرہ ذرہ اس کے احسانات کو یاد کرنے لگتا ہے اور زبان ان کی ترجمان ہوتی ہے۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریمؐ سے سنا کہ
فرماتے تَھ اَلْحَلَالُ بَیِّنٌ وَّالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَّ بَیْنَھُمَا مُشَبَّھَاتٌ لَّا یَعْلَمُھَا کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الشُّبُھَاتِ فَقَدِ اسْتَبْرَا لِعِرْضِہٖ وَ دِیْنِہٖ وَ مَنْ وَّقَعَ فِی الشُّبُھَاتِ کَرَاعٍ یَّرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰی یُوْشِكُ اَنْ یُّوَاقِعَہٗ اَلَا وَ اِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی اَلَا وَ اِنَّ حِمَی اللّٰہِ فِیْ اَرْضِہٖ مَحَارِمُہٗ اَلَا وَ اِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً اِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ اَلَا وَ ھِیَ الْقَلْبُ(بخاری کتاب الایمان باب فضل من استبرا لدینہ) حلال بھی بیان ہو چکا ہے اور حرام بھی بیان ہو چکا اور ان دونوں کے درمیان کچھ ایسی چیزیں ہیں کہ مشابہ ہیں انہیں اکثر لوگ نہیں جانتے پس جو کوئی شبہات سے بچے اس نے اپنی عزت اور دین کو بچا لیا اور جو کوئی ان شبہات میں پڑ گیا اس کی مثال ایک چرواہے کی ہے جو بادشاہ کی رکھ کے اردگرد اپنے جانوروں کو چراتا ہے قریب ہے کہ اپنے جانوروں کو اندر ڈال دے۔ خبردار ہر ایک بادشاہ کی ایک رکھ ہوتی ہے خبردار اللہ کی رکھ اس کی زمین میں اس کے محارم ہیں۔ خبردار جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو جائے تو سب جسم درست ہو جاتا ہے اور جب وہ خراب ہو جائے تو سب جسم خراب ہو جاتا ہے۔ خبردار اور وہ گوشت کا ٹکڑا قلب ہے۔
اس عبارت کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے دل میں اس وقت اللہ تعالیٰ کی محبت کا ایک دریا اُمڈ رہا تھا۔ آپؐ دیکھتے تھے کہ ایک دنیا اس پاک ہستی کے احکام کو توڑ رہی ہے اور اس کے احکام پر عمل کرنے سے محترز ہے لوگ اپنے نفوس کے احکام کو مانتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے ارشادات کی تعمیل نہیں کرتے۔ پھر آپؐ کو خدا تعالیٰ سے جو محبت تھی اس کے رو سے آپؐ کب برداشت کر سکتے تھے کہ لوگ اس پیارے رب کو چھوڑ دیں۔ ان خیالات نے آپؐ پر یہ اثر کیا کہ ہر وقت خدا تعالیٰ کی عظمت کا ذکر کرتے اور لوگوں کو بتاتے کہ دنیاوی بادشاہوں کی اطاعت کے بغیر انسان سکھ نہیں پا سکتا تو پھر اس قادرِ مطلق کی نافرمانی پر کب سکھ پا سکتا ہے جو سب بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔
میں جب مذکورہ بالا حدیث کو پڑھتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں کہ آپؐ کس جوش کے ساتھ خدا کو یاد کرتے ہیں بناوٹ سے یہ کلام نہیں نکل سکتا اس خالص محبت کا ہی نتیجہ تھا جو آپؐ خدا سے رکھتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر پر آپؐ کو اس قدر جوش آجاتا اور آپؐ چاہتے کہ کسی طرح لوگ ان نافرمانیوں کو چھوڑ دیں اور خدا تعالیٰ کی اطاعت میں لگ جائیں۔ اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کو حیرت تھی کہ لوگ کیوں اس طرح دلیری سے ایسے کام کر لیتے ہیں جن سے خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا خوف ہو۔ جس کام میں کسی حاکم کی ناراضگی کا خیال ہو۔ لوگ اس کے کرنے سے بچتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا کوئی خوف نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ اس کی نافرمانی سے کچھ نقصان نہ ہو گا لیکن رسولِ کریمؐ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی ہی اصل ناراضگی ہے اور انسان کو چاہئے کہ نہ صرف گناہوں سے بچے بلکہ ان کاموں سے بھی بچے کہ جن کے کرنے میں شک ہو کہ یہ جائز ہیں یا نا جائز کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ان کاموں کے کرنے پر ہلاک ہو جائے اور وہ اسے خدا تعالیٰ کے رحم کے استحقاق سے محروم کر دیں۔ خدا تعالیٰ کے نام پر یہ جوش اور اس قدر اظہارِ خوف و محبت ظاہر کرتا ہے کہ آپؐ کے دل میں محبت الٰہی اس درجہ تک پہنچی ہوئی تھی کہ ہر ایک انسان کی طاقت ہی نہیں کہ اس کا اندازہ بھی کر سکے۔
پچھلی مثال سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یادِ الٰہی کے وقت آپﷺ کو کس قدر جوش آتا اور کس قدر محبت سے مجبور ہو کر آپؐ کے کلام میں خاص شان پیدا ہو جاتی تھی۔ اب میں ایک اور واقعہ بتاتا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ کی یاد کا نہایت ہی شوق تھا اور آپؐ عبادات کے بجالانے میں کَمَا حَقَّهٗ مشغول رہتے تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آپؐ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو بوجہ سخت ضعف کے نماز پڑھانے پر قادر نہ تھے اس لئے آپؐ نے حضرت ابوبکرؓ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔ جب حضرت ابوبکرؓ نے نماز پڑھانی شروع کی تو آپؐ نے کچھ آرام محسوس کیا اور نماز کے لئے نکلے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَّفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ يُهَادٰى بَيْنَ رَجُلَيْنِ كَاَنِّيْ اَنْظُرُ رِجْلَيْهِ تَخُطَّانِ الْاَرْضَ مِنَ الْوَجَعِ فَاَرَادَ اَبُوْ بَكْرٍ اَنْ يَّتَاَخَّرَ فَاَوْمَاَ اِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنْ مَّكَانَكَ ثُمَّ اُتِيَ بِهِ حَتّٰى جَلَسَ اِلٰى جَنْبِهِ وَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيْ وَ اَبُوْ بَكْرٍ يُصَلِّيْ بِصَلَاتِهِ وَالنَّاسُ يُصَلُّوْنَ بِصَلَاةِ اَبِيْ بَكْرٍ (بخاری کتاب الآذان باب حد المريض ان يشهد الجماعة) کہ حضرت ابوبکرؓ کو نماز پڑھانے کا حکم دینے کے بعد جب نماز شروع ہو گئی تو آپؐ نے مرض میں کچھ خفت محسوس کی پس آپؐ نکلے کہ دو آدمی آپ کو سہارا دے کر لے جا رہے تھے اور اس وقت میری آنکھوں کے سامنے وہ نظارہ ہے کہ شدتِ درد کی وجہ سے آپؐ کے قدم زمین سے چھوتے جاتے تھے۔ آپؐ کو دیکھ کر حضرت ابوبکرؓ نے ارادہ کیا کہ پیچھے ہٹ آئیں۔ اس ارادہ کو معلوم کر کے رسولِ کریم ﷺ نے
ابوبکرؓ کی طرف اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہو۔ پھر آپؐ کو وہاں لایا گیا اور آپؐ حضرت ابوبکرؓ کے پاس بیٹھ گئے اس کے بعد رسول کریمؐ نے نماز پڑھنی شروع کی اور حضرت ابوبکرؓ نے آپؐ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کی اور اور باقی لوگ حضرت ابوبکرؓ کی نماز کی اتباع کرنے لگے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کیسی ہی خطرناک بیماری ہو خدا تعالیٰ کی یاد کو نہ بھلاتے۔ عام طور پر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ ذرا تکلیف ہوئی اور سب عبادتیں بھول گئیں اور نماز باجماعت اور دوسرے شرائط کی ادائیگی میں تو اکثر کوتاہی ہو جاتی ہے لیکن آپؐ کا یہ حال تھا کہ معمولی بیماری تو الگ رہی اس مرض میں کہ جس میں آپؐ فوت ہو گئے اور جس کی شدت کا یہ حال تھا کہ آپؐ کو بار بار غش آجاتے تھے اٹھنے سے قاصر تھے لیکن جب نماز شروع ہو گئی تو آپؐ برداشت نہ کر سکے کہ خاموش بیٹھ رہیں اسی وقت دو آدمیوں کے کاندھے پر سہارا لے کر باوجود اس کمزوری کے قدم لڑکھڑاتے جاتے تھے نماز باجماعت کے لئے مسجد میں تشریف لے آئے۔ بے شک ظاہر اً یہ بات معمولی معلوم ہوتی ہے لیکن ذرا رسول کریمؐ کی اس حالت کو دیکھو جس میں آپؐ مبتلا تھے پھر اس ذکر الٰہی کے شوق کو دیکھو کہ جس کے ماتحت آپؐ نماز کے لئے دو آدمیوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر تشریف لائے تو معلوم ہو گا کہ یہ واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہ تھا بلکہ آپؐ کے دل میں ذکر الٰہی کا جوش تھا اس کے اظہار کا ایک آئینہ تھا۔ ہر ایک صاحب بصیرت سمجھ سکتا ہے کہ ذکر الٰہی آپؐ کی غذا تھی اور اس کے بغیر آپؐ اپنی زندگی میں کوئی لطف نہ پاتے تھے۔ اسی کی طرف آپؐ نے اشارہ فرمایا ہے کہ جن چیزوں سے مجھے محبت ہے ان میں سے ایک قُرَّةُ عَيْنِيْ فِي الصَّلوٰةِ یعنی نماز میں میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔ شریعت کے لحاظ سے آپؐ کا باجماعت نماز پڑھنا یا مسجد میں آنا کوئی ضروری امر نہ تھا کیونکہ بیماری میں شریعت اسلام کسی کو ان شرائط کے پورا کرنے پر مجبور نہیں کرتی لیکن یہ عشق کی شریعت تھی یہ محبت کے احکام تھے بے شک شریعت آپؐ کو اجازت دیتی تھی کہ آپؐ گھر میں ہی نماز ادا فرماتے لیکن آپؐ کو ذکر الٰہی سے جو محبت تھی وہ مجبور کرتی تھی کہ خواہ کچھ بھی ہو آپؐ ہر ایک تکلیف برداشت کر کے تمام شرائط کے ساتھ ذکر الٰہی کریں اور اپنے پیارے کو یاد کریں جب اس تکلیف کی حالت میں آپؐ کو ذکر الٰہی سے یہ وابستگی تھی تو صحت کی حالت میں قیاس کیا جا سکتا ہے۔
میں پیچھے لکھ چکا ہوں کہ رسول کریمؐ کو اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق تھا کہ خدا تعالیٰ کا ذکر آتے ہی آپؐ کے اندر ایک جوش پیدا ہو جاتا اور یہ کہ آپؐ کو خدا تعالیٰ سے ایسی محبت تھی کہ تندرستی
اور بیماری میں خدا تعالیٰ کا ذکر ہی آپؐ کی غذا تھا۔ اب میں ایک اور واقعہ یہاں درج کرتا ہوں جس سے معلوم ہوگا کہ آپؐ جہاں تک ہو سکتا لوگوں میں خدا تعالیٰ کے ذکر کی عادت پیدا کرتے۔
حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ذَ هَبَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِلٰی بَنِیْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فَحَانَتِ الصَّلٰوةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ اِلٰٓی اَبِیْ بَكْرٍ فَقَالَ اَتُصَلِّیْ لِلنَّاسِ فَاُقِيْمُ قَالَ نَعَمْ فَصَلّٰی اَبُوْبَكْرٍ فَجَاءَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ النَّاسُ فِی الصَّلٰوةِ فَتَخَلَّصَ حَتّٰی وَقَفَ فِی الصَّفِّ فَصَفَّقَ النَّاسُ وَ كَانَ اَبُوْبَكْرٍ لَّا يَلْتَفِتُ فِیْ صَلٰوتِهِ فَلَمَّا اَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيْقَ اِلْتَفَتَ فَرَاٰی رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَشَارَ اِلَيْهِ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ فَرَفَعَ اَبُوْبَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللّٰهَ عَلٰی مَا اَمَرَ بِهِ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذٰلِكَ ثُمَّ اسْتَاْخَرَ اَبُوْبَكْرٍ حَتّٰی اسْتَوٰی فِی الصَّفِّ وَ تَقَدَّمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰی فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا اَبَابَكْرٍ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَثْبُتَ اِذَا اَمَرْتُكَ فَقَالَ اَبُوْبَكْرٍ مَا كَانَ لِاِبْنِ اَبِیْ قُحَافَةَ اَنْ يُصَلِّیَ بَيْنَ يَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لِیْ رَايْتُكُمْ اَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيْقَ مَنْ رَابَهُ شَیْئٌ فِیْ صَلٰوتِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَاِنَّهٗ اِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ اِلَيْهِ وَ اِنَّمَا التَّصْفِيْقُ لِلنِّسَاءِ (بخاری کتاب الآذان باب من دخل لیؤم الناس) رسول کریم ﷺ بنی عمرو بن عوف میں گئے تاکہ ان میں صلح کروائیں پس نماز کا وقت آگیا اور مؤذن حضرت ابو بکرؓ کے پاس آیا اور کہا کہ کیا آپ رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھوائیں گے۔ میں اقامت کہوں آپ نے جواب دیا کہ ہاں پھر حضرت ابو بکرؓ نماز کیلئے کھڑے ہوئے اتنے میں رسول کریمؐ تشریف لے آئے اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپؐ صف چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور پہلی صف میں جا کر کھڑے ہو گئے جب آپؐ کی آمد کی اطلاع ہوئی تو لوگ تالیاں پیٹنے لگے (تا حضرت ابو بکرؓ کو معلوم ہو جائے) لیکن حضرت ابو بکرؓ نماز میں دوسری طرف کچھ توجہ نہ فرماتے جب تالیاں پیٹنا طول پکڑ گیا تو آپ متوجہ ہوئے اور معلوم کیا کہ رسول کریمؐ تشریف لائے ہیں رسول کریم اللہ علیہ والہ وسلم نے آپؓ کی طرف اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہو اس پر حضرت ابو بکرؓ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور اس عزت افزائی پر خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا اور حمد کی پھر آپؓ پیچھے ہٹ گئے اور صف میں مل گئے اور رسول کریم ﷺ آگے بڑھے اور نماز پڑھائی۔ سلام پھیرنے کے بعد فرمایا کہ اے ابو بکرؓ جب میں نے حکم دیا تھا تو پھر آپ رضی اللہ عنہ کو کونسی چیز مانع ہوئی کہ نماز پڑھاتے رہتے۔ حضرت ابوبکرؓ نے
جواب دیا کہ ابن ابی قحافہ کی کیا حیثیت تھی کہ رسول کریمؐ کے آگے کھڑا ہو کر نماز پڑھاتا (ابو قحافہ حضرت ابوبکرؓ کے والد تھے) پھر آپ نے (لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر) فرمایا کہ کیا وجہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ تم لوگوں نے اس قدر تالیاں پیٹیں۔ جسے نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے اسے چاہیے کہ سبحان اللہ کہے کیونکہ جب وہ سبحان اللہ کہے گا تو خود ہی اسکی طرف توجہ ہوگی اور تالیاں پیٹنا تو عورتوں کا کام ہے۔
اس حدیث سے اگرچہ اور بہت سے سبق ملتے ہیں لیکن اس جگہ مجھے صرف ایک امر کی طرف متوجہ کرنا ہے اور وہ یہ کہ آنحضرتؐ کی تمام عمر کی کوشش یہی تھی کہ جس جس طرح سے ہو سکے لوگوں کی زبان پر خدا کا نام جاری کیا جائے ۔ خود تو جس طرح آپؐ ذکر میں مشغول رہتے اس کا حال میں بیان کر چکا ہوں مگر اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہر ایک کی زبان پر یہی لفظ دیکھنا چاہتے تھے۔
آپؐ کی آمد کی اطلاع دینے کے لئے اگر صحابہؓ نے تالیاں بجائیں تو یہ ان کا ایک رواج تھا اور ہر ایک ملک میں اطلاعِ عام کے لئے یا متوجہ کرنے کے لئے لوگ تالیاں بجاتے ہیں آج کل بھی جلسوں میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب کسی لیکچرار کی کوئی بات پسند آئے تو اس پر تالیاں پیٹتے ہیں تاکہ لوگوں کو توجہ پیدا ہو کہ یہ حصۂ لیکچر خاص توجہ کے قابل ہے پس تالیاں بجانا اس کام کے لئے رائج ہے لیکن رسول کریمؐ کی یادِ الٰہی سے محبت دیکھو کہ آپؐ نے دیکھا کہ بعض دفعہ ضرورت تو ہوتی ہے کہ لوگوں کو کسی کام کی طرف متوجہ کیا جائے پھر کیوں نہ اس ضرورت کے موقع پر بجائے اس بے معنی حرکت کے لوگوں کو اس طرف لگا دیا جائے کہ وہ اپنے خیالات اور جوشوں کے اظہار کے لئے بجائے تالیاں بجانے کے سبحان اللہ کہہ دیا کریں ۔ کم سے کم ایسے موقع پر ہی خدا کا ذکر ان کی زبان پر جاری ہوگا۔
یہ وہ حکمت و فلسفہ ہے جسے دنیا کے کسی رہنما اور ہادی نے نہیں سمجھا اور کوئی مذہب نہیں جو اس حکم کی نظیر پیش کر سکے کہ اس نے بھی بجائے لغویات کے لوگوں کو ایسی تعلیم کی طرف متوجہ کیا ہو کہ جو ان کے لئے مفید ہو سکے تالیاں بجانا بے شک جذباتِ انسانی کا ترجمان تو ہو سکتا ہے لیکن وہ ایسا ہی ترجمان ہے کہ جیسے ایک گونگے کے خیالات کا ترجمہ اس کے اشارات ہو جاتے ہیں کیونکہ تالیاں بجانے سے صرف اسی قدر معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کے دل میں کوئی جوش ہے اور یہ اس کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہے یا یہ کہ کسی کو غلطی پر دیکھ کر اسے اس کی غلطی پر متنبہ کرنا چاہتا ہے لیکن اس سے زیادہ اور کوئی نتیجہ نہیں نکلتا لیکن رسول کریم ﷺ صرف اسی پر اکتفاء نہ کر سکتے تھے آپ ایک طرف تو کُل لغویات کو مٹانا چاہتے تھے دوسری طرف آپ کے دل میں یہ جوش موجزن رہتا کہ خدا تعالیٰ کے نام کی کثرت ہو اور ہر ایک مجلس اور مقام میں اسی کا ذکر کیا جائے اس لئے آپ نے بجائے ان بے معنی اشارات کے جن سے گو اشارۃً حصول مطلب ہو جاتا تھا ایسے الفاظ مقرر کئے کہ جن سے نہ صرف حصول مطلب ہوتا ہے بلکہ انسان کی روحانیت میں ازدیاد کا باعث ہے اور عین موقع کے مناسب ہیں اور پھر خدا تعالیٰ کا ذکر بھی ہو جاتا ہے۔
یاد رکھنا چاہئے کہ انسان جب کبھی کسی شئے کی طرف توجہ کرتا ہے اسے ناپسند کرنے کی وجہ سے یا پسندیدگی کے باعث۔ تو ان دونوں صورتوں میں سبحان اللہ کے کلمہ کا استعمال نہایت با موقع اور با محل ہے۔ اگر کسی انسان کے کسی فعل کو ناپسند کرتا ہے تو سبحان اللہ اس لئے کہتا ہے کہ آپ سے کوئی سہو ہوا ہے۔ سہو سے تو صرف خدا کی ہی ذات پاک ہے ورنہ ہر ایک انسان سے سہو ممکن ہے۔ اس مفہوم کو سمجھ کر آدمی اپنی غلطی پر متنبہ ہو جاتا ہے اسی طرح اگر کوئی شخص کوئی عمدہ کام کرے تو اس میں بھی سبحان اللہ کہا جاتا ہے جس کی یہ غرض ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام نقصوں سے پاک ہے اور جو کچھ اس نے پیدا کیا ہے اسے بھی پاک ہی پیدا کیا ہے یہ کام جو کسی سے سرزد ہوا ہے یا یہ قول جو کسی کی زبان پر جاری ہوا ہے اپنی خوبی اور حسن میں خدا تعالیٰ کی پاکیزگی اور طہارت یاد دلاتا ہے جو تمام خوبیوں کا پیدا کرنے والا ہے۔
غرض کہ سبحان اللہ کا کلمہ اس ضرورت کو پورا کرتا ہے جس کے لئے توجہ دلائی جاتی ہے اور افسوس اور خوشی دونوں کا اظہار اس سے ایسی عمدگی سے ہوتا ہے جو اور کسی کلمہ سے نہیں ہو سکتا۔ پس اس کلمہ کے مقابلہ میں تالیاں بجانا اور سیٹیاں مارنا بالکل لغو اور بے فائدہ ہے اور ان لغو حرکات کے مقابلہ پر ایسا پاک کلمہ رکھ دینا رسول کریمؐ کی ہی پاک طبیعت کا کام تھا ورنہ ہزاروں سال سے اس لغو حرکت کو روکنے کی کسی اور کے دل میں تحریک نہیں ہوئی ہاں صرف رسول کریمؐ ہی ہیں جو اس نکتہ تک پہنچے اور آپؐ نے ایسے موقع پر خدا تعالیٰ کا نام لینے کی تعلیم دے کر ثابت کر دیا ہے کہ آپؐ ہر ایک موقع پر خدا تعالیٰ کا ذکر کرنا پسند فرماتے اور اسی کا ذکر آپؐ کے لئے غذا تھا۔
اس واقعہ کے علاوہ اور بھی بہت سے واقعات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ چاہتے تھے کہ خدا تعالیٰ کا ذکر زیادہ کیا جائے چنانچہ چھینک پر‘ کھانا شروع کرتے وقت‘ پھر ختم ہونے کے بعد‘ سوتے وقت‘ جاگتے وقت‘ نمازوں کے بعد‘ کوئی بڑا کام کرتے وقت‘ وضو کرتے وقت غرضیکہ اکثر اعمال میں آپ نے خدا تعالیٰ کے ذکر کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نہ صرف خود ہی ذکر الٰہی میں زیادہ مشغول رہتے تھے بلکہ دوسروں سے بھی چاہتے تھے کہ وہ بھی یاد الٰہی میں مشغول رہیں جو کہ آپؐ کے کمال محبت پر دال ہے۔ میں نے بہت آدمی دیکھے ہیں کہ ذرا عبادت کی اور مغرور ہو گئے چند دن کی نمازوں یا عبادتوں کے بعد وہ اپنے آپ کو فرعونِ بے سامان یا فخر اولیاء سمجھنے لگتے ہیں اور دنیا و مافیھا ان کی نظروں میں حقیر ہو جاتی ہے بڑے سے بڑے آدمی کی حقیقت کچھ نہیں جانتے بلکہ انسان کا تو کیا کہنا ہے خدا تعالیٰ پر بھی اپنا احسان جتاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو عبادات ہم نے کی ہیں گویا خدا تعالیٰ پر احسان کیا ہے اور وہ ہمارا ممنون ہے کہ ہم نے اس کی عبادت کی ورنہ اگر عبادت نہ کرتے تو وہ کیا کر لیتا جو لوگ اس طرز کے نہیں ہوتے ان میں سے بھی اکثر ایسے دیکھے گئے ہیں کہ عبادت کر کے کچھ تکبر ضرور آجاتا ہے اور بہت ہی کم ہیں کہ جو عبادت کے بعد بھی اپنی حالت پر قائم رہیں اور یہی نیکوں کا گروہ ہے پھر سمجھ سکتے ہو کہ نیکوں کے سردار اور نبیوں کے سر بر آوردہ حضرت رسول کریم ﷺ کا کیا حال ہو گا۔ آپ تو کُل خوبیوں کے جامع اور کُل نیکیوں کے سرچشمہ تھے عبادت کسی تکبر یا بڑائی کے لئے کرنا تو الگ رہا جس قدر خدا تعالیٰ کی بندگی بجالاتے اتنی ہی ان کی آتشِ شوق تیز ہوتی اور آپؐ بجائے عبادت پر خدا تعالیٰ کو اپنا ممنونِ احسان بنانے کے خود شرمندہ احسان ہوتے کہ الٰہی اس قدر توفیق جو عبادت کی ملتی ہے تو تیرے ہی فضل سے ملتی ہے۔ آپؐ کی عبادت ایک تسلسل کا رنگ رکھتی ہے کچھ حصہ وقت جب عبادت میں گزارتے تو خیال کرتے کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے اس کام کی توفیق دی اس احسان کا شکر بجالانا ضروری ہے اس جذبہ ادائیگی شکر سے بے اختیار ہو کر کچھ اور عبادت کرتے اور پھر اسے بھی خدا تعالیٰ کا ایک احسان سمجھتے کہ شکر بجالانا بھی ہر ایک کا کام نہیں جب تک خدا تعالیٰ کا احسان نہ ہو۔ پھر اور بھی زیادہ شوق کی جلوہ نمائی ہوتی اور پھر اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہو جاتے اور یہ راز و نیاز کا سلسلہ ایسا وسیع ہوتا کہ بارہا عبادت کرتے کرتے آپؐ کے پاؤں سوج جاتے صحابہؓ عرض کرتے یا رسول اللہ اس قدر عبادت کی آپؐ کو کیا حاجت ہے آپؐ کے تو گناہ معاف ہو چکے ہیں اس کا جواب آپ یہی دیتے کہ پھر کیا میں شکر نہ کروں۔
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ فرماتے ہیں اِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَقُوْمُ لِيُصَلِّيَ حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ اَوْ سَاقَاهُ فَيُقَالُ لَهُ فَيَقُولُ اَفَلَا اَكُوْنُ عَبْدًا شَكُوْرًا(بخاری کتاب التہجد باب قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم اللیل)، رسول کریم نماز کے لئے کھڑے ہوا کرتے تھے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ آپ کے قدم (یا کہا) پنڈلیاں سوج جاتیں۔ لوگ آپ سے جب کہتے (کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں) تو آپ جواب دیتے کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟
اللہ اللہ کیا عشق ہے کیا محبت کیا پیار ہے خدا تعالیٰ کی یاد میں کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے تن بدن کا ہوش نہیں رہتا خون کا دوران نیچے کی طرف ہو جاتا ہے اور آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے ہیں لیکن محبت اس طرف خیال ہی نہیں جانے دیتی آس پاس کے لوگ دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں کہ یہ کرتے کیا ہیں اور آپ کے درد سے تکلیف محسوس کر کے آپ کو اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ آپ یہ کیا کرتے ہیں اور کیوں اپنے آپ کو اس تکلیف میں ڈالتے ہیں اور اس قدر دکھ اٹھاتے ہیں آخر کچھ تو اپنی صحت اور اپنے آرام کا بھی خیال کرنا چاہئے مگر وہ دکھ جو لوگوں کو بے چین کر دیتا ہے اور جس سے دیکھنے والے متاثر ہو جاتے ہیں۔ آپ پر کچھ اثر نہیں کرتا اور عبادت میں کچھ سستی کرنے اور آئندہ اس قدر لمبا عرصہ اپنے رب کی یاد میں کھڑے رہنا ترک کرنے کی بجائے آپ ان کی اس بات کو ناپسند کرتے ہیں اور انہیں جواب دیتے ہیں کہ کیا میں خدا کا شکر گزار بندہ نہ بنوں وہ مجھ پر اس قدر احسان کرتا ہے اس قدر فضل کرتا ہے اس شفقت کے ساتھ مجھ سے پیش آتا ہے پھر کیا اس کے اس حسن سلوک کے بدلہ میں اس کے نام کا ورد نہ کروں؟ اس کی بندگی میں کوتاہی شروع کر دوں۔
کیا اخلاص سے بھرا اور کیسی شکر گزاری ظاہر کرنے والا یہ جواب ہے اور کس طرح آپ کے قلب مطہر کے جذبات کو کھول کر پیش کر دیتا ہے خدا کی یاد اور اس کے ذکر کی یہ تڑپ اور کسی کے دل میں ہے۔ کیا کوئی اور اس کا نمونہ پیش کر سکتا ہے۔ کیا کسی اور قوم کا بزرگ آپ کے اس اخلاص کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ میں اس مضمون کے پڑھنے والے کو اس طرف بھی متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس عبادت کے مقابلہ میں اس بات کا خیال بھی رکھنا چاہئے کہ آپ کس طرح کاموں میں مشغول رہتے تھے اور یہی نہیں کہ رات کے وقت عبادت کے لئے اٹھ کر کھڑے ہو جاتے اور دن بھر سوئے رہتے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر اس شوق اور تڑپ کا پتہ نہ لگتا جو اس صورت میں ہے کہ دن بھر بھی آپ خدا تعالیٰ کے نام کی اشاعت اور اطاعت اور فرمانبرداری کا رواج دینے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔ خود پانچ اوقات میں امام ہو کر نماز پڑھاتے تھے دور دور کے جو وفود اور سفراء آتے تھے ان کے ساتھ خود ہی ملاقات کرتے اور ان کے مطالبات کا جواب دیتے۔ جنگوں کی کمان بھی خود ہی کرتے۔ صحابہؓ کو قرآن شریف کی تعلیم بھی دیتے۔ جج بھی خود تھے تمام دن جس قدر جھگڑے لوگوں میں ہوتے ان کا فیصلہ کرتے۔ عُمّال کا انتظام، بیت المال کا انتظام، ملک کا انتظام، دینِ اسلام کا اجراء اور پھر جنگوں میں فوج کی کمان، بیویوں کے حقوق کا ایفاء۔ پھر گھر کے کام کاج میں شریک ہونا یہ سب کام آپ دن کے وقت کرتے اور ان کے بجالانے کے بعد بجائے اس کے کہ چُور ہو کر بستر پر جا پڑیں اور سورج کے نکلنے تک اس سے سر نہ اٹھائیں بار بار اٹھ کر بیٹھ جاتے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے تمحید کرتے اور نصف رات کے گزرنے پر اٹھ کر وضو کرتے اور تن تنہا جب چاروں طرف خاموشی اور سناٹا چھایا ہوا ہوتا اپنے رب کے حضور میں نہایت عجز و نیاز سے کھڑے ہو جاتے اور تلاوتِ قرآن شریف کرتے اور اتنی اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے حتّٰی کہ عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کھڑا ہو گیا تو اس قدر تکلیف ہوئی کہ قریب تھا کہ میں نماز توڑ کر بھاگ جاتا کیونکہ میرے قدم اب زیادہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتے تھے اور میری طاقت سے باہر تھا کہ زیادہ کھڑا رہ سکوں۔ یہ بیان اس شخص کا ہے جو نوجوان اور رسول کریم ﷺ سے عمر میں کہیں کم تھا جس سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ آپؐ کی ہمت اور جذبہ محبت ایسا تیز تھا کہ باوجود پیری کے اور دن بھر کام میں مشغول رہنے کے آپؐ عبادت میں اتنی اتنی دیر کھڑے رہتے کہ جوان اور پھر مضبوط جوان جن کے کام آپ کے کاموں کے مقابلہ میں پاسنگ بھی نہ تھے آپ کے ساتھ کھڑے نہ رہ سکے اور تھک کر رہ جاتے۔
یہ عبادت کیوں تھی اور کس وجہ سے آپؐ یہ مشقت برداشت کرتے تھے۔ صرف اسی لئے کہ آپ ایک شکر گزار بندے تھے اور آپ کا دل خدا تعالیٰ کے احسانات کو دیکھ کر ہر وقت اس کے ذکر کرنے کی طرف مائل رہتا چنانچہ جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں جب آپؐ سے سوال کیا گیا کہ آپ اس قدر عبادت میں کیوں مشغول رہتے ہیں تو آپ نے یہی جواب دیا کہ کیا میں خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
غرضیکہ جس محبت اور شوق سے آپ ذکرِ الٰہی میں مشغول رہتے تھے اور ان مشاغل کے باوجود جو آپ کو دن کے وقت درپیش رہتے تھے اس کی نظیر دنیا میں اور کسی ہادی کی زندگی میں نہیں مل سکتی اول تو میں دعویٰ کرتا ہوں کہ اگر دنیا کے دیگر ہادیان کے اشغال کا آپ کے اشغال سے مقابلہ کیا جائے تو ان کے اشغال ہی آپ کے مقابلہ میں بہت کم نکلیں گے لیکن اس فرق کو نظر انداز کر کے بھی ان کی زندگی میں ذکر الٰہی کی یہ کثرت نہ پائی جائے گی۔ بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے احسانات کا مطالعہ جس غور سے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے اور کسی انسان نے نہیں کیا۔ اسی لئے جس محبت سے آپ اپنے پیارے کا نام لیتے تھے اور کسی انسان نے نہیں لیا۔ ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ کے محبین اور ذاکرین میں بڑے بڑے لوگ ہوئے ہیں لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ آپ جیسا ذاکر اور مُحِبّ اور کوئی نہیں مل سکتا۔
سوائے شاذ و نادر کے عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ انسان اپنی زندگی پر حریص ہوتا ہے حتیٰ کہ ڈاکٹروں نے فیصلہ کر دیا ہے کہ جو شخص خودکشی کرتا ہے وہ ضرور پاگل ہو جاتا ہے یا خودکشی کے وقت اسے جنون کا دورہ ہوتا ہے ورنہ عقل و خرد کی موجودگی میں انسان ایسا کام نہیں کرتا۔ جب موت قریب ہو تو اس وقت تو اکثر آدمی اپنے مشاغل کو یاد کر کے افسوس کرتے ہیں کہ اگر اور کچھ دن زندگی ہوتی تو فلاں کام بھی کر لیتے اور فلاں کام بھی کر لیتے۔ جوانی میں اس قدر حرص نہیں ہوتی جس قدر بڑھاپے میں ہو جاتی ہے اور یہی خیال دامنگیر ہو جاتا ہے کہ اب بچوں کے بچے دیکھیں اور پھر ان کی شادیاں دیکھیں اور جب موت قریب آتی ہے تو اور بھی توجہ ہو جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کا بستر مرگ دیکھا گیا ہے کہ حسرت و اندوہ کا مظہر اور رنج و غم کا مقام ہوتا ہے اور ”اگر“ اور ”کاش“ کا اعادہ اس کثرت سے کیا جاتا ہے کہ عمر بھر میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ مرنے والا پے در پے اپنی خواہشات کا ذکر کرتا ہے اور اپنے وقت کو وصیت میں صرف کرتا ہے میرے فلاں مال کو فلاں کے سپرد کرنا اور میری بیوی سے یہ سلوک کرنا اور بیٹیوں سے یوں حسن سلوک سے پیش آنا فلاں سے میں نے اس قدر روپیہ لینا ہے اور فلاں کو اس قدر دینا ہے غرض اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں جو روزانہ ہر گھر میں دوہرائی جاتی ہیں اور چونکہ موت کا سلسلہ ہر جگہ لگا ہوا ہے اور ہر فردِ بشر کو اس دروازہ سے گزرنا پڑتا ہے اس لئے تمام لوگ ان کیفیات کو جانتے ہیں زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔
میرا آقا جہاں اور ہزاروں باتوں میں دوسرے انسانوں سے اعلیٰ اور مختلف ہے وہاں اس بات میں بھی دوسروں سے بالاتر ہے۔ اس میرے سردار کی موت کا واقعہ کوئی معمولی سا واقعہ نہیں کس گمنامی کی حالت سے ترقی پا کر اس نے اس عظیم الشان حالت کو حاصل کیا تھا اور کس طرح خدا تعالیٰ نے اسے ہر دشمن پر فتح دی تھی اور ہر میدان میں غالب کیا تھا۔ ایک بہت بڑی حکومت کا مالک اور بادشاہ تھا اور ہزاروں قسم کے انتظامات اس کے زیر نظر تھے لیکن اپنی وفات کے وقت اسے ان چیزوں میں سے ایک کا بھی خیال نہیں۔ نہ وہ آئندہ کی فکر کرتا ہے نہ تدابیر ملکی کے متعلق وصیت کرتا ہے نہ اپنے رشتہ داروں نے متعلق ہدایات لکھواتا ہے بلکہ اس کی زبان پر اگر کوئی فقرہ جاری ہے تو یہی کہ اَللّٰھُمَّ فِي الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی اَللّٰھُمَّ فِي الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی اے میرے اللہ مجھے رفیق اعلیٰ میں جگہ دے اے میرے اللہ مجھے رفیق اعلیٰ میں جگہ دے۔
اس فقرہ کو ذرا ان مضطربانہ حرکات سے مقابلہ کر کے دیکھو جو عام طور سے مرنے والوں سے سرزد ہوتی ہیں کیسا اطمینان ثابت ہوتا ہے۔ کیسی محبت ہے۔ ساری عمر آپ خدا تعالیٰ کو یاد کرتے رہے اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے۔ خلوت و جلوت غرضیکہ ہر جگہ آپ کو خدا ہی خدا یاد تھا اور اسی کا ذکر آپ کی زبان پر جاری تھا اور اب جبکہ وفات کا وقت آیا تب بھی بجائے کسی اور دنیاوی غرض یا مطلب کی طرف متوجہ ہونے کے خدا ہی کی یاد آپ کے سینہ میں تھی اور جن کو چھوڑ چلے تھے ان کی فرقت کے صدمہ کی بجائے جن سے ملنا تھا ان کی ملاقات کی تڑپ تھی اور زبان پر اپنے رب کا نام جاری تھا۔
آہ! کیسا مبارک وہ وجود تھا۔ کیا احسان ماننے والا وہ انسان تھا۔ اس کی زندگی بہتر سے بہتر انسانوں کے لئے اسوہ حسنہ اور مہذب سے مہذب روحوں کے لئے ایک نمونہ تھی اس نے اپنے پیدا ہونے سے مرنے تک کوئی وقت اپنے رب کی یاد سے غافل نہیں گزارا۔ وہ پاک وجود خدا تعالیٰ میں بالکل محو ہی ہو گیا تھا اور اس کی نظر میں سوائے اس وحدہٗ لاشریک خدا کے جو لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَلَمۡ یُوۡلَدۡ(112:4) ہے اور کوئی وجود جچتا ہی نہ تھا۔ پھر بھلا جو ذکر کہ تمام عمر اس کی زبان پر رہا وفات کے وقت وہ اسے کہاں بھلا سکتا تھا۔ جو کچھ انسان ساری عمر تکتایا کرتا رہا ہو وہی اسے وفات کے وقت بھی یاد آتا ہے۔ پھر جس کی عمر کا مشغلہ ہی یاد الٰہی ہو اور زندگی بھر جس کی روحانی غذا ہی ذکر الٰہی ہو وہ وفات کے وقت اور کسی چیز کو کب یاد کر سکتا تھا۔
مجھے میرا مولا پیارا ہے اور مجھے محمد رسول اللہﷺ بھی پیارا ہے کیونکہ وہ میرے مولا کا سب سے بڑا عاشق اور دلدادہ ہے اور جسے جس قدر میرے رب سے زیادہ الفت ہے مجھے بھی وہ اسی قدر عزیز ہے۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
میں نے پیچھے بعض واقعات سے یہ ثابت کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ کو ذکرِ الٰہی سے کیسی محبت تھی اور آپؐ کس طرح ہر موقع پر خدا تعالیٰ کا نام لینا پسند فرماتے تھے اور صرف خود ہی پسند نہ فرماتے تھے بلکہ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے اور وفات کے وقت بھی آپؐ کی زبان پر خدا تعالیٰ کا ہی ذکر تھا۔ اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپؐ خدا تعالیٰ کے ذکر پر چشم پُرنم ہو جاتے تھے اور آپؐ کا خدا تعالیٰ کا ذکر کرنا یا سننا معمولی بات نہ تھی بلکہ ایک عاشقانہ درد اور محبانہ ولولہ اس کا محرک اور باعث تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں قَالَ لِیَ النَّبِیُّ صَلَّى اللہُ عَلَیْهِ وَ سَلَّمَ اِقْرَأْ عَلَیَّ قُلْتُ اَقْرَأُ عَلَیْكَ وَ عَلَیْكَ اُنْزِلَ قَالَ فَاِنِّیْ اُحِبُّ اَنْ اَسْمَعَہٗ مِنْ غَیْرِیْ فَقَرَأْتُ عَلَیْهِ مِنْ سُوْرَۃِ النِّسَاءِ حَتّٰی بَلَغْتُ فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰی ھٰٓؤُلَاءِ شَہِیْدًا قَالَ اَمْسِكْ فَاِذَا عَیْنَاہُ تَذْرِفَانِ(بخاری کتاب التفسیر باب قولہ تعالیٰ کیف اذا جئنا من کل امة بشھید) مجھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے کچھ قرآن سناؤ میں نے کہا کہ کیا میں آپؐ کو قرآن سناؤں حالانکہ قرآن شریف آپؐ ہی پر نازل ہوا ہے۔ فرمایا کہ مجھے یہ بھی پسند ہے کہ میں دوسرے کے منہ سے سنوں۔ پس میں نے سورۃ نساء میں سے کچھ پڑھا یہاں تک کہ میں اس آیت تک پہنچا کہ پس کیا حال ہو گا جب ہر ایک امت میں سے ہم ایک شہید لائیں گے اور تجھے ان لوگوں پر شہید لائیں گے اس پر آپؐ برداشت نہ کر سکے اور فرمایا کہ بس کرو۔ اور میں نے دیکھا کہ آپؐ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔
اللہ اللہ کیسا عشق ہے اور پھر کیسا ایمان ہے۔ آپؐ قرآن شریف کو جو خدا تعالیٰ کا کلام ہے خود پڑھنے اور دوسروں کو سنانے کا حکم دیتے تھے اور پھر اپنے محبوب کا کلام سنکر چشم پُر آب ہو جاتے آپ ایسے بہادر تھے کہ میدانِ کارزار میں آپ تک دشمن کی رسائی نہ ہوتی اور حضرت علیؓ جیسے بہادر آدمی فرماتے ہیں کہ جس جگہ آپ کھڑے ہوتے تھے وہاں وہی آدمی کھڑا ہو سکتا تھا جو نہایت دلیر اور بہادر ہو اور معمولی آدمی کی جرأت نہ پڑ سکتی تھی کہ آپ کے پاس کھڑا ہو۔ پھر ایسا بہادر انسان کہ جس کے سامنے بڑے بڑے بہادروں کی روح کانپتی تھی اور ان کی گردنیں جھک جاتی تھیں وہ بہادر انسان جس کے نام کو سنکر بادشاہ خوف کھاتے تھے جس کی بہادری کا شہرہ تمام عرب اور شام اور ایران میں ہو رہا تھا جس کی ہمت بلند کے سامنے قیصر و کسریٰ کے ارادے پست ہو رہے تھے وہ خدا تعالیٰ کا کلام سنکر روتا ہے اور آپؐ کے دل کی کیفیت ایسی ہو جاتی ہے کہ زیادہ سننا گویا اس کے لئے برداشت سے بڑھ کر ہے۔ کیا یہ بات مطہر قلب پر دلالت نہیں کرتی کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایک محبت کا دریا اس کے سینہ میں بہہ رہا تھا اور عشق کی آگ اس کے اندر بھڑک رہی تھی۔ کیا خدا تعالیٰ کے ذکر پر یہ حالت اور پھر ایسے بہادر انسان کی جو کسی بشر سے خائف نہ تھا اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ خدا تعالیٰ کی محبت نے آپؐ کے روئیں روئیں میں دخل کیا ہوا تھا اور خدا تعالیٰ کا ذکر آپؐ کی غذا ہو گیا تھا اور اس کا جلال اور اس کی عظمت آپ کے سامنے ہر وقت موجود رہتی تھی اور اپنے مولا کا ذکر سنتے ہی آپ بے چین ہو جاتے۔ کلام الٰہی آپ کی تسلی کا باعث تھا اور یہی آپ کے عشق کو تیز کرتا اور آپ اپنے پیارے کو یاد کر کے بے اختیار ہو جاتے آپ بڑی شان کے آدمی تھے اور خدا تعالیٰ سے جو آپ کو تعلق تھا وہ اور کسی انسان کو حاصل نہیں ہوا لیکن پھر بھی جب آپؐ خدا تعالیٰ کی ملاقات کو یاد کرتے اور قیامت کا نظارہ آپؐ کی آنکھوں کے آگے آتا تو باوجود ایک مضبوط دل رکھنے کے آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑتے۔
ایک خاص بات جو رسول کریمؐ کی زندگی میں دیکھی جاتی ہے اور جس میں کوئی نبی اور ولی آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا بلکہ آپؐ کے قریب بھی نہیں پہنچتا وہ آپ کا شرک سے بیزار ہونا ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ کل انبیاء شرک سے بچانے کے لئے دنیا میں آئے اور بلا استثناء ہر ایک نبی کی تعلیم یہی تھی کہ خدا تعالیٰ کو ایک سمجھا جائے خواہ کوئی نبی ہندوستان میں۔ جو شرک و بت پرستی کا گھر ہے پیدا ہوا یا مصر میں جو رب الارباب کے عقیدہ کا مرکز تھا ظاہر ہوا خواہ آتش پرستان ایران میں جلوہ نما ہوا یا وادیِ کنعان میں نور افشاں ہوا یہ بات سب میں پائی جاتی ہے کہ وہ شرک کو بیخ و بن سے اکھاڑنے کے درپے رہے اور ان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد یہی تھا کہ خدا تعالیٰ کو ایک سمجھا جائے اور اس کی ذات یا صفات یا اسماء میں کسی کو اس کا شریک نہ سمجھا جائے نہ بنایا جائے وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ(الانبیاء آیت ۲۶) اور ہم نے نہیں بھیجا تجھ سے پہلے کوئی رسول مگر اس کی طرف وحی کی کہ کوئی معبود نہیں مگر اللہ پس میری عبادت کرو۔ یُنَزِّلُ الۡمَلٰٓئِکَۃَ بِالرُّوۡحِ مِنۡ اَمۡرِہٖ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖۤ اَنۡ اَنۡذِرُوۡۤا اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوۡنِ(النحل آیت :۳) اللہ تعالیٰ اپنے کلام کے ساتھ اپنے حکم سے فرشتوں کو اپنے بندوں میں سے جس پر پسند کرتا ہے اتارتا ہے لوگوں کو ڈراؤ کہ سوائے میرے کوئی معبود نہیں پس میرا تقویٰ اختیار کرو۔
ان آیات کی بناء پر ہم ایمان لائے ہیں کہ سب انبیاء کا مشترکہ مشن اشاعتِ توحید اور تخریب شرک تھا مگر بڑے سے بڑے نبیوں اور مرسلین کی زندگی کا رسول کریم کی زندگی سے مقابلہ کرکے دیکھ لو جو فکر اور فہم آپؐ کو شرک کی بیخکنی کا تھا اس کی نظیر اور کہیں نہیں ملتی حضرت موسیٰؑ نے فرعون کو ایک خدا کی پرستش کی تبلیغ کی۔ حضرت مسیح ناصریؑ نے ایک سائل کو کہا کہ سب سے بڑا حکم یہ ہے کہ تو اس خدا کو جو آسمان پر ہے اپنے سچے دل اور سچی جان سے پیار کر۔ حضرت ابراہیمؑ نے اپنی قوم کے بتوں کو توڑ کر ان پر شرک کے عقیدہ کا بطلان ثابت کیا۔ حضرت نوحؑ نے بھی اپنی قوم کو واحد خدا کی پرستش کی طرف بلایا لیکن ہمارے سردار و آقا ہادی برحق اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَیْہِ نے جس طرح شرک مٹانے کے لئے جدوجہد کی ہے اس کی مثال اور کسی نبی کی ذات میں نہیں ملتی۔ بےشک دیگر انبیاء نے اپنی عمر کا ایک حصہ شرک کے مٹانے پر خرچ کیا مگر جو دھت اس مرض کو مٹانے کی خاتم النبیّین اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَیْہِ کو لگی ہوئی تھی وہ اور کسی کو نہ تھی۔ آپ نے اپنے دعویٰ کے بعد ایک ہی کام کو مد نظر رکھا کہ ایک خدا کی پرستش کروائی جائے۔ تمام اہل عرب جو شرک میں ڈوبے ہوئے تھے آپ کے مخالف ہوگئے اور یہاں تک آپ سے درخواست کی کہ جس طرح ہو آپ ہمارے معبودوں کی تردید کو جانے دیں اور ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آپ جو مطالبہ بھی پیش کریں گے ہم اسے قبول کریں گے حتّٰی کہ اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ بھی بنالیں گے اور ایسا بادشاہ کہ جس کے مشورہ کے بغیر ہم کوئی کام نہ کریں گے۔ مگر باوجود اس تحریص و ترغیب کے اور باوجود طرح طرح کے ظلم و ستم کے جو آپ پر اور آپؐ کی امت پر توڑے جاتے تھے آپ نے ایک لمحہ اور ایک سیکنڈ کے لئے بھی یہ برداشت نہ کیا کہ خدا تعالیٰ کی وحدت کے بیان میں سستی کریں بلکہ آپ نے ترغیب و تحریص دینے والوں کو یہی جواب دیا کہ اگر سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لا کھڑا کرو تب بھی میں خدا تعالیٰ کی وحدت کا بیان واقرار ترک نہ کروں گا۔ جو تکالیف لوگوں کی طرف سے شرک کی تردید کی وجہ سے آپؐ کو پہنچیں ویسی اور کسی نبی کو نہیں پہنچیں۔ اور جس طرح آپؐ کو اور آپ کے متبعین کو خدا تعالیٰ کے ایک ماننے پر ستایا اور دکھ دیا گیا ہے اس طرح اور کسی کو تکلیف نہیں دی گئی۔ مگر پھر بھی آپ اپنے کام میں بجائے سست وغافل ہونے کے روز بروز زیادہ سے زیادہ مشغول ہوتے گئے۔ حتّٰی کہ بعض صحابہ قتل کئے گئے۔ آپ کو وطن چھوڑنا پڑا۔ رشتہ دار چھوڑنے پڑے ۔ زخمی ہوئے۔ ان تمام تکالیف کے بعد آپ اپنے مخالفین کو بھی جواب دیتے کہ اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ۔ پہلے انبیاء نے اپنی اپنی قوم سے مقابلہ کیا اور خوب کیا لیکن ہمارے آنحضرت اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَیْہِ نے ایک قوم سے نہیں دو قوموں سے نہیں بلکہ اس وقت کی سب قوموں اور مذاہب سے خدا کے لئے مقابلہ کیا۔ اس وقت ایک بھی ایسی قوم نہ تھی جو شرک کی مرض میں گرفتار نہ ہو عرب تو سینکڑوں بتوں کے پجاری تھے ہی اور مجوسی تو آگ کے آگے ناصیہ فرسائی کرتے ہی تھے یہود جو تورات کے پڑھنے والے اور حضرت موسیٰؑ کے ماننے والے تھے وہ بھی عزیر ابن اللہ پکار رہے تھے اور اپنے احبار کو صفات الوہیت سے متصف یقین کرتے تھے اور ان سے بھی بڑھ کر نصاریٰ تھے جو سب سے قریب تھے۔ حضرت مسیحؑ کی امت ہو کر اس قدر بڑھ گئے تھے کہ خود مسیح کو جو اللہ تعالیٰ کی پرستش قائم کرنے آئے تھے قابل پرستش سمجھنے لگے تھے۔ ہندوستان اور چین کی تو کچھ پوچھو ہی نہیں گھر گھر میں بت تھے اور شہر شہر میں مندر تھے پھر ایسی شورش کے زمانہ میں آپ کا توحید باری کے ثابت کرنے کے لئے کھڑا ہو جانا اور تمام قوموں کو پکار پکار کر سنانا کہ تم جس قدر معبود میرے خدا کے سوا پیش کرتے ہو سب جھوٹے اور بے ثبوت ہیں ایک ایسا کام تھا جسے دیکھ کر عقل حیران ہوتی ہے اور جس قدر آپ کی اس کوشش و ہمت پر غور کیا جائے معلوم ہوتا ہے کہ آپ شرک سے ایسے بیزار تھے کہ ایک ساعت کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی اور کے سامنے اپنا سر جھکائے۔ خدا تعالیٰ کی محبت میں ایسے سرشار ہوئے کہ دنیا بھر کے مذاہب اور قوموں کو اپنا دشمن بنا لیا اور یکدم سب سے اپنا قطع تعلق کر لیا اور صرف اس سے صلح رکھی جس نے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا اقرار کیا۔ اس وقت جو معبود باطلہ تھے ان کے مٹانے اور اڑانے کے علاوہ آپؐ نے اپنی تعلیم میں اس بات کا التزام رکھا کہ مسلمانوں کو پوری طرح سے خبردار کیا جائے کہ آئندہ بھی کسی وجہ سے مرض شرک میں مبتلا نہ ہو جاویں اسلام کیا ہے سب سے پہلے اس کا اقرار کرنا کہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مسلمانوں کو دن میں پندرہ دفعہ بلند مکان پر سے یا منارہ پر سے یہ پیغام اب تک پہنچایا جاتا ہے کہ اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پھر تمام عبادات میں خدا تعالیٰ کی وحدت کا اقرار کرایا جاتا ہے۔ مسلمان تو مسلمان غیر مذاہب کے پیرو بھی اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ جس قدر اسلام شرک کو مٹاتا ہے اتنا اور کوئی مذہب اس کا استیصال نہیں کرتا اور یہ کیوں ہے اسی نفرت کی وجہ سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شرک سے تھی۔ عمر بھر آپؐ اس مرض کے مٹانے میں لگے رہے حتیٰ کہ آپؐ نے اپنی وفات سے پہلے وہ خوشی دیکھی جو اور کسی نبی کو دیکھنی نصیب نہ ہوئی کہ آپؐ کی سب قوم ایک خدا کو ماننے والی ہو گئی مگر پھر بھی وفات کے وقت جو خیال آپؐ کو سب سے زیادہ تھا وہ یہی تھا کہ کہیں میرے بعد میری قوم مجھے خدا تعالیٰ کا شریک نہ بنائے اور جس طرح پہلی امتوں نے اپنے انبیاء کو صفات الوہیت سے متصف کیا تھا یہ بھی مجھ سے ویسا ہی سلوک نہ کریں۔ اس خیال نے آپ پر ایسا اثر کیا کہ آپؐ نے اپنی مرض الموت میں یہود و نصاریٰ پر لعنت کی کہ انہوں نے اپنے احبار کی قبور کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں قَالَ فِيْ مَرَضِهِ الَّذِيْ مَاتَ فِيْهِ لَعَنَ اللّٰهُ الْيَهُوْدَ وَ النَّصَارَى اتَّخَذُوْا قُبُوْرَ اَنْبِيَاءِهِمْ مَسَاجِدَ قَالَتْ لَوْ لَا ذٰلِكَ لَاَبْرَزُوْا قَبْرَهُ(بخاری کتاب الجنائز باب ما يكره من اتخاذ المساجد على القبور) آنحضرت ﷺ نے اس مرض میں جس میں وفات پائی فرمایا اللہ تعالیٰ یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبور کو مساجد بنا لیا ہے اور حضرت عائشہؓ نے یہ بھی زائد کیا کہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو صحابہؓ آپؐ کی قبر کو بند نہ کرتے بلکہ ظاہر کرتے اس حدیث سے پتہ لگ سکتا ہے کہ آپ کو شرک سے کیسی نفرت تھی وفات کے وقت سب سے بڑا خیال آپ کو یہ تھا کہ میں عمر بھر جو ایک خدا کی تعلیم دیتا رہا ہوں لوگ اسے بھول نہ جائیں اور میرے بعد پھر کہیں شرک میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اور اگر پہلے معبودوں کو چھوڑا ہے تو اب مجھے ہی معبود نہ بنا بیٹھیں اور اپنے اس نقص کے دور کرنے کے لئے ایسے سخت الفاظ استعمال فرمائے جن سے صحابہ کرامؓ ایسے متاثر ہوئے کہ انہوں نے خوف کے مارے آپ کی قبر کو بھی ظاہر کرنا پسند نہ کیا تا آپ کے حکم کے خلاف نہ ہو جائے چنانچہ اب تک وہ قبر مبارک ایک بند مکان میں ہے جس تک جانے کی لوگوں کو اجازت نہیں۔
آنحضرت ﷺ کی پاک سیرت پر قلم اٹھانا کوئی آسان کام نہیں اسی لئے میں نے ابتداء میں ان مشکلات کو بیان کر کے بتایا تھا کہ سیرت تین طرح لکھی جاسکتی ہے۔ تواریخ سے، احادیث سے، قرآن کریم سے اور میں نے بتایا تھا کہ سردست میں احادیث سے اور پھر احادیث میں سے بھی جو سیرۃ بخاری سے معلوم ہوتی ہے وہ اس جگہ درج کروں گا۔ میں نے سیرت کے عام ابواب پر بحث کرنے کے بعد لکھا تھا کہ سیرت انسانی کے تین حصہ ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو خدا تعالیٰ سے تعلقات کے متعلق ہو جس کا نام میں نے اخلاص باللہ رکھا تھا اور دوسرا جو خود اپنے نفس کے متعلق ہو اس کا نام طہارتِ نفس مناسب معلوم ہوتا ہے اور چونکہ اخلاص باللہ کا حصہ میں ختم کر چکا ہوں اس لئے اب دوسرے حصہ کو شروع کیا جاتا ہے جو طہارتِ نفس کے ہیڈنگ کے ماتحت ہو گا۔
طہارتِ نفس کے باب میں سب سے پہلے اس بات کے متعلق شہادت بیان کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کو بدی سے سخت نفرت تھی۔ اگرچہ بظاہر یہ بات کوئی عجیب نہیں معلوم ہوتی اور سوال اٹھتا ہے کہ آپ کو بدی سے کیوں نفرت نہ ہوتی جب ایک عظیم الشان قوم کے آپؐ رہبر اور ہادی تھے اور ہر وقت اپنے متبعین کو بدیوں سے روکتے رہتے تھے اور جس کا کام رات دن یہی ہو کہ وہ لوگوں کو بدیوں سے روکے اور امر بالمعروف کرے۔ اسے تو اپنے اعمال میں بہت محتاط رہنا ہی پڑتا ہے ورنہ اس پر الزام آتا ہے اور لوگ اسے طعنہ دیتے ہیں کہ تم دوسروں کو منع کرتے ہو اور خود اس کام کو کرتے ہو لیکن اگر غور کیا جائے تو دنیا میں وعظ کہنے والے تو بہت ملتے ہیں مگر ایسے واعظ جو اپنے نمونہ سے دنیا میں نیکی پھیلائیں بہت کم ہیں ایسے واعظ تو اس وقت بھی ہزاروں ہیں جو لوگوں کو پاکیزگی اور انقطاع الی اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔ لیکن کیا ایسے لوگوں کی بھی کوئی کثیر جماعت پائی جاتی ہے جو خود عمل کر کے لوگوں کے لئے خضرِ راہ بنیں اِلَّا مَا شَاءَ اللّٰهُ وَ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ کسی شاعر نے کہا ہے اور بالکل سچ کہا ہے کہ
ہر کسے ناصح برائے دیگراں
ہر ایک دوسروں کے لئے ناصح ہے اپنے نفس کا حال بھلائے ہوئے ہے پھر ایک شاعر کہتا ہے
واعظانِ کیں جلوہ بر محراب و منبر میکنند
چوں بخلوت میروند آں کارِ دیگر میکنند
یہ واعظ جو محراب و منبر پر جلوہ افروز ہو کر لوگوں کے لئے ناصح بنتے ہیں جب خلوت میں جاتے ہیں تو ان کے اعمال بالکل اور ہی ہوتے ہیں اور ان اعمال کا پتہ بھی نہیں چلتا جن کا وعظ وہ منبر پر سے کیا کرتے تھے اس وقت مسلمان علماء کو دیکھو۔ قرآن شریف کو ہاتھ میں لے کر خشیت الٰہی کے وعظ بڑے زور سے کہتے ہیں لیکن خود خدا کا خوف نہیں کرتے۔ پادری انجیل سے یہ روایت لوگوں کو سناتے ہیں کہ دولت مند خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا اگر کوئی تیری ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسری بھی پھیر دے لیکن دولتمند پادری موجود ہیں پھر ان میں سے کتنے ہیں جو ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسری پھیر دینی تو درکنار دوسرے مذاہب کے بانیوں کی نسبت بدگوئی میں ابتداء سے ہی بچتے اور پرہیز کرتے ہوں۔ پنڈت دان اور پن کے متعلق طول طویل کتھائیں پڑھ کر لوگوں کو اس طرف مائل کرتے ہیں مگر اپنے آپ کو کسی قسم کے دان پن سے بری سمجھتے ہیں۔ غرضیکہ جب روزانہ زندگی کا مشاہدہ کیا جائے تو اکثر واعظ ایسے ہی ملتے ہیں کہ جو کل پند و نصائح کو دوسروں کے لئے واجب العمل قرار دیتے ہیں مگر اپنے نفوس کو بنی نوع انسان سے خارج کر لیتے ہیں اور ایسے بہت ہی کم ہیں کہ جن کا قول و فعل برابر ہو اور وہ لوگوں کو نصیحت کرتے وقت ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بھی ملامت کرتے جائیں بلکہ لوگوں کو کہنے سے پہلے اپنے نفس کی اصلاح کریں۔ پس گو یہ
بات بظاہر بالکل معمولی معلوم ہوتی ہے کہ واعظ تو بدیوں سے بچتے ہی ہوں گے لیکن دراصل یہ ایک نہایت مشکل اور کٹھن راستہ ہے جس پر چل کر بہت کم لوگ ہی منزلِ مقصود کو پہنچتے ہیں اور ابتداءِ دنیا سے آج تک جس قدر وعاظ ایسے گزرے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ دوسروں کو کہا اس پر خود بھی عامل ہوئے ان کے سردار اور رئیس ہمارے آنحضرت ﷺ تھے۔ آپؐ کی ساری زندگی میں ایک بات بھی ایسی نہیں ملے گی کہ آپؐ کی اور دوسروں کی مصلحتیں ایک ہی ہوں مگر پھر بھی آپؐ نے دوسروں کو اور حکم دیا ہو اور اپنے لئے کچھ اور ہی تجویز کر لیا ہو۔
بعض اوقات خود صحابہؓ چاہتے تھے کہ آپؐ آرام فرمائیں اور اس قدر محنت نہ کریں لیکن آپؐ قبول نہ فرماتے۔ اگر لوگوں کو عبادتِ الٰہی کا حکم دیتے تو خود بھی کرتے اگر لوگوں کو بدیوں سے روکتے تو خود بھی رکتے غرضیکہ آپؐ نے جس قدر تعلیم دی ہے ہم بغیر کسی منکر کے انکار کے خوف کے کہہ سکتے ہیں کہ اس پر آپؐ خود عامل تھے اور شریعتِ اسلام کے جس قدر احکام آپؐ کی ذات پر وارد ہوتے تھے سب کو نہایت کوشش اور تعمّد کے ساتھ بجالاتے مگر اس وقت جس بات کی طرف خاص طور سے میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ بدی سے نفرت ہے۔
اعمالِ بد تو انتہائی درجہ ہے ادنیٰ درجہ تو بد اخلاقی اور بدکلامی ہے جس کا انسان مرتکب ہوتا ہے اور جب اس پر دلیر ہو جاتا ہے تو پھر اور زیادہ جرأت کرتا ہے اور بد اعمال کی طرف راغب ہوتا ہے لیکن جو شخص ابتدائی نقائص سے ہی پاک ہو وہ دوسرے سخت ترین نقائص اور کمزوریوں میں کب مبتلا ہو سکتا ہے اور میں انشاء اللہ تعالیٰ آگے جو کچھ بیان کروں گا اس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپؐ کیسے پاک تھے اور کس طرح ہر ایک نیکی میں آپؐ دوسرے بنی نوع پر فائق و برتر تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَكَانَ يَقُوْلُ اِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ اَحْسَنَكُمْ اَخْلَاقًا(بخاری کتاب المناقب باب صفة النبی صلی الله علیه وسلم) نبی کریم ﷺ نہ بدخلق تھے نہ بدگو اور فرمایا کرتے تھے کہ تم میں بہتر وہی ہیں جو تم سے اخلاق میں افضل ہوں۔
اللہ اللہ کیا پاک وجود تھا۔ آپؐ حسنِ اخلاق برتتے تب لوگوں کو نصیحت کرتے۔ آپؐ بدکلامی سے بچتے تب دوسروں کو بھی اس سے بچنے کے لئے حکم دیتے اور یہی وہ کمال ہے کہ جس کے حاصل ہونے کے بعد انسان کامل ہو سکتا ہے اور اس کی زبان میں اثر پیدا ہوتا ہے اب لوگ چلّا چلّا کر مر جاتے ہیں کوئی سنتا ہی نہیں۔ نہ ان کے کلام میں اثر ہوتا ہے نہ کوشش میں برکت۔ اس کی وجہ یہی
ہے کہ وہ خود عامل نہیں ہوتے لوگوں کو کہتے ہیں مگر رسول کریمؐ خود عامل ہو کر لوگوں کو تبلیغ کرتے جس کی وجہ سے آپؐ کے کلام میں وہ تاثیر تھی کہ تئیس سال میں لاکھوں آدمیوں کو اپنے رنگ میں رنگین کر لیا۔
عبداللہ بن عمروؓ کے اس قول اور شہادت کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ اول تو وہ ہر وقت رسول کریمؐ کی صحبت میں رہتے تھے اور جو اکثر اوقات ساتھ رہے اسے بہت سے مواقع ایسے مل سکتے ہیں کہ جن میں وہ دیکھ سکتا ہے کہ اس شخص کے اخلاق کیسے ہیں۔ کبھی کبھی ملنے والا تو بہت سی باتیں نظر انداز بھی کر جاتا ہے بلکہ کسی بات پر بھی یقینی شہادت نہیں دے سکتا۔ لیکن جنہیں ہر وقت کی صحبت میسر ہو اور ہر مجلس میں شریک ہوں وہ خوب اچھی طرح اخلاق کا اندازہ کر سکتے ہیں پس عبداللہ بن عمروؓ ان صحابہؓ میں سے تھے جنہیں رسول کریمؐ کے ساتھ رہنے کا خاص موقع ملتا تھا اور جو آپؐ کے کلام کے سننے کے نہایت شائق تھے ان کا ایسی گواہی دینا ثابت کرتا ہے کہ درحقیقت آپ کوئی ایسی شان رکھتے تھے کہ عسرو یسر میں اپنے اخلاق کا اعلیٰ سے اعلیٰ نمونہ پیش کرتے تھے۔ ورنہ کبھی تو آپؐ کے ہر وقت کے ہم صحبتوں کو ایسا موقع بھی پیش آتا کہ جس میں آپؐ کو کسی وجہ سے چیں بہ جبیں دیکھتے لیکن ایسے موقع کا نہ ملنا ثابت کرتا ہے کہ آپ کے اخلاق نہایت اعلیٰ اور ارفع تھے اور کوئی انسان ان میں نقص نہیں بتا سکتا تھا۔
ایک طرف اگر عبداللہ بن عمروؓ کی گواہی جو اعلیٰ پایہ کے صحابہؓ میں سے تھے نہایت معتبر اور وزنی ہے تو دوسری طرف یہ بات بھی خاص طور سے مطالعہ کرنے کے قابل ہے کہ یہ فقرہ کس شخص کی شان میں کہا گیا ہے معمولی حیثیت کے آدمی کی نسبت اور معمولی واقعات کی بناء پر اگر اس قسم کی گواہی کسی کی نسبت دے بھی دی جائے تو گو اس کے اخلاق اعلیٰ سمجھے بھی جائیں مگر اس شہادت کو وہ اہمیت نہیں دی جاسکتی جو اس شہادت کو ہے اور وہ شہادت ایک معمولی انسان کے اخلاق کو ایسا روشن کر کے نہیں دکھاتی جیسی کہ یہ شہادت رسول کریم ﷺ کے اخلاق کو کیونکہ یہ اخلاق جن واقعات کی موجودگی میں دکھائے گئے ہیں وہ کسی اور انسان کو پیش نہیں آتے۔
دنیا میں دو قسم کے انسان ہوتے ہیں ایک وہ جو عسر میں نہایت بد خلق ہو جاتے ہیں دوسرے وہ جو یسر میں چڑچڑے بن جاتے ہیں۔ رسول کریمؐ پر یہ دونوں حالتیں اپنے کمال کے ساتھ وارد ہوئی ہیں اور دونوں حالتوں میں آپؐ کے اخلاق کا اعلیٰ رہنا ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان آپؐ کا مقابلہ نہیں کر سکتا جو تکلیفیں اور دکھ آپؐ کو پہنچے ہیں وہ اور کونسا انسان ہے جسے پہنچے ہوں مکہ کی تیرہ سالہ
زندگی کے حالات سے کون نہیں واقف ، مدینہ کے ابتدائی ایام سے کون بے خبر ہے ، کن شدائد کا آپؐ کو سامنا ہوا، کن مشکلات سے پالا پڑا، دوست دشمن ناراض تھے، رشتہ دار جواب دے بیٹھے، اپنے غیروں کی نسبت زیادہ خون کے پیاسے ہو رہے تھے ، ملنا جلنا قطعاً بند تھا ، ایک وادی میں تین سال محصور رہنا پڑا، نہ کھانے کو نہ پینے کو، جنگل کے درخت اور بوٹیاں غذا بنیں، شہر میں آنا منع ہو گیا، پھر چمکتی ہوئی تلواریں ہر وقت سامنے نظر آتی تھیں ، رؤساء سے قیام امن کی امید ہوتی وہ بھی مخالف ہو گئے، بلکہ نوجوانوں کو اور اکسا اکسا کر دکھ دینے پر مائل کرتے رہے، باہر نکلتے ہیں تو گالی گلوچ تو کچھ چیز ہی نہیں پتھروں کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے ، اپنے رب کے حضور گرتے ہیں تو اونٹ کی اوجھڑی سر پر رکھ دی جاتی ہے ، حتیٰ کہ وطن چھوڑ دیتے ہیں ، پھر وطن بھی وہ وطن جس میں ہزاروں سال سے قیام تھا، اپنے جد امجد کے ہاتھوں سے بسایا ہوا شہر جس کو دنیا کے ہزاروں لالچوں کے باوجود آبا و اجداد نے نہ چھوڑا تھا ، ایک شریروں اور بدمعاشوں کی جماعت کے ستانے پر چھوڑنا پڑتا ہے، مدینہ میں کوئی راحت کی زندگی نہیں ملتی بلکہ یہاں آگے سے بھی تکلیف بڑھ جاتی ہے ، ایک طرف منافق ہیں کہ خود آپؐ کی مجلس میں آکر بیٹھتے ہیں اور بات بات پر سنا سنا کر طعنہ دیتے ہیں، آپؐ کے سامنے آپؐ کے خلاف سرگوشیاں کرتے ہیں ، ممکن سے ممکن طریق پر ایذاء دیتے ہیں اور پھر جھٹ توبہ کر کے عفو کے طالب ہوتے ہیں ، اپنے مہربان اہل وطن مکہ سے اخراج کے منصوبوں پر ہی کفایت نہیں کرتے جب دیکھتے ہیں کہ جسے ہم تباہ کرنا چاہتے تھے ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا ہے اور اب ایک اور شہر میں جا بسا ہے تو وہاں بھی پیچھا کرتے ہیں ، آس پاس کے قبیلوں کو اکساتے ہیں ، اور اپنے ساتھ شریک کر کے دگنی طاقت سے اسے مٹانا چاہتے ہیں ، یہود و نصاریٰ اہل کتاب تھے ان پر کچھ امید ہو سکتی تھی وہ بغض و حسد کی آگ میں جل مرتے ہیں اور امی اور مشرک اقوام سے بھی زیادہ بغض و عناد کا اظہار کرتے ہیں ، پڑھے ہوؤں کی شرارتیں بھی کہتے ہیں پڑھی ہوئی ہوتی ہیں انہوں نے نہ صرف خود مقابلہ شروع کیا بلکہ دور دور تک آپؐ کی مخالفت کا بیج بونا شروع کیا نصاریٰ بد حواس ہو کر قیصر روم کی چوکھٹ پر جبین نیاز گھسنے گئے تو یہود اپنی سازشوں کے پیٹھ ٹھونکنے والے ایرانیوں کے دربار میں جا فریادی ہوئے کہ للہ اس اٹھتی ہوئی طاقت کو دباؤ کہ گو بظاہر معمولی معلوم ہوتی ہے مگر انداز کہہ دیتے ہیں کہ چند ہی سال میں تمہارے تختوں کو الٹ دے گی اور عنان حکومت تمہارے ہاتھوں سے چھین لے گی۔ یہ سب ستم و قہر کس پر تھے ایک ایسے انسان پر جو دنیا کی اصلاح اور ترقی کے سوا کوئی اور مطلب ہی نہ رکھتا تھا جس کے کسی گوشۂ
دماغ میں ملک گیری کے خیالات نہ تھے جو اپنا قبلہ توجہ خدا تعالیٰ کی وحدت کے قیام کو بنائے بیٹھا تھا۔ پھر کس جماعت کے خلاف یہ دیو ہیکل طاقتیں اٹھ کھڑی ہوئی تھیں جو اپنی مجموعی تعداد میں جس میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے چند ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ اب ان تکالیف میں ایک قابل سے قابل حوصلہ مند سے حوصلہ مند انسان کا گھبرا جانا اور چڑچڑاہٹ کا اظہار کرنا اور بد خلقی دکھانا بالکل قرینِ قیاس ہو سکتا ہے لیکن ان واقعات کی بناء پر بھی عبد اللہ بن عمروؓ کہتے ہیں کہ آپ لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَّلَا مُتَفَحِّشًا۔ نہ بد خلق تھے نہ بد گو تھے۔
اگر کہو کہ ایک جماعت ایسی بھی تو ہوتی ہے جس کے اخلاق بجائے تکالیف کے خوشی کے ایام میں بگڑتے ہیں تو خوشی کی گھڑیاں بھی آپؐ نے دیکھی ہیں۔ آپؐ خدا کے رسول اور اس کے پیارے تھے یہ کیونکر ہو سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ناکام دنیا سے اٹھا لیتا وفات سے پہلے پہلے خدا تعالیٰ نے آپ کو اپنے دشمنوں پر غلبہ دے دیا اور دشمن جس تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا اسی سرعت سے پیچھے ہٹنے لگا۔ قیصر و کسریٰ تو بے شک آپ کی وفات کے بعد تباہ ہوئے اور آپ کے غلاموں کے ہاتھوں ان کا غرور ٹوٹا لیکن کفارِ عرب، جماعتِ منافقین، یہود و نصاریٰ کے وہ قبائل جو عرب میں رہتے تھے وہ تو آپ کے سامنے آپ کے ہاتھوں سے نہایت ذلت سے ٹھوڑیوں کے بل گرے اور سوائے اس کے کہ طلبگارِ عفو ہوں اور کچھ نہ بن پڑا۔ اس بیکسی اور بے بسی کے بعد جس کا نقشہ پہلے کھینچ چکا ہوں بادشاہت کی کرسی پر آپؐ فروکش ہوئے اور سب دشمن پامال ہو گئے۔ مگر با وجود ان فاتحانہ نظاروں کے ان ایامِ ترقی کی ان ساعاتِ بہجت و فرحت کے عبد اللہ بن عمروؓ فرماتے ہیں کہ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَّلَا مُتَفَحِّشًا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ بد اخلاق تھے نہ بد گو۔
میں عبد اللہ بن عمروؓ کی شہادت سے بتا چکا ہوں کہ آنحضرتؐ کو بدی سے کیسی نفرت تھی اور بدی کرنا یا بد خلقی کا اظہار کرنا تو الگ رہا آپ بد کلامی اور بد گوئی تک سے محترز تھے اور با وجود ہر قسم کے عسر و یسر میں سے گزرنے کے کسی وقت اور کسی حال میں بھی آپ نے نیکی اور تقویٰ کو نہیں چھوڑا اور آپؐ کے منہ پر کوئی نازیبا لفظ کبھی نہیں آیا جو ایک عظیم الشان معجزانہ طاقت کا ثبوت ہے جو آپ کے ہر کام میں اپنا جلوہ دکھا رہی تھی۔
اب میں ایک اور ثبوت پیش کرتا ہوں کہ آپ بدی اور ظلمت سے سخت متنفر تھے اور آپ کے دل کے ہر گوشہ میں نورِ ایمان متمکن تھا اور وہ ثبوت آپؐ کی ایک دعا ہے جو آپ کے دلی جذبات
کی مظہر ہے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ آپ صبح کی سنتوں کے بعد یہ دعا مانگتے۔ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِيْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا وَ فِيْ سَمْعِیْ نُوْرًا وَعَنْ یَّمِیْنِیْ نُوْرًا وَعَنْ یَّسَارِیْ نُوْرًا وَفَوْقِیْ نُوْرًا وَتَحْتِیْ نُوْرًا وَاَمَامِیْ نُوْرًا وَخَلْفِیْ نُوْرًا وَاجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا(بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء اذا نتبه من اللیل) یعنی اے اللہ میرے دل کو نور سے بھر دے اور میری آنکھوں کو نورانی کر دے اور میرے کانوں کو بھی نور سے بھر دے اور میری دائیں طرف بھی نور کر دے اور بائیں طرف بھی اور میرے اوپر بھی نور کر دے اور نیچے بھی نور کر دے۔ اور نور کو میرے آگے بھی کر دے اور پیچھے بھی کر دے۔ اور میرے لئے نور ہی نور کر دے۔
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو یہ دعا مانگتے ہوئے سننے کا اتفاق مجھے اس طرح ہوا کہ میں اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک دن سویا جو رسول کریمؐ کی ازواج مطہرات میں سے تھیں اور میں نے رسول کریم ﷺ کو دیکھا کہ اس طرح دعا مانگتے تھے اور نماز پڑھتے تھے۔ پس یہ دعا ایسے خلوت کے وقت کی ہے کہ جس وقت انسان اپنے خدا سے آزادی کے ساتھ اپنا حالِ دل عرض کرتا ہے۔ اور اگرچہ خدا تعالیٰ پہلے ہی سے انسان کے خفیہ سے خفیہ خیالات کو جانتا ہے پھر بھی چونکہ فطرت انسانی اسے عرضِ حال پر مجبور کرتی ہے اس لئے بہتر سے بہتر وقت جس وقت انسان کی حقیقی خواہشات کا علم ہو سکتا ہے وہ وقت ہے کہ جب وہ سب دنیا سے علیحدہ ہو کر اپنے گھر میں اپنے رب سے عاجزانہ التجا کرتا ہے کہ میری فلاں فلاں خواہش کو پورا کر دیں یا فلاں فلاں انعام مجھ پر فرما دیں۔
غرض کہ یہ دعا ایسے وقت کی ہے جب کہ خدا تعالیٰ کے سوا آپؐ کا محرم راز اور کوئی نہ تھا اور صرف ایک نابالغ بچہ اس وقت پاس تھا اور وہ بھی اپنے آپ کو علیحدہ رکھ کر چپکے چپکے آپ کے اعمال وحرکات کا معائنہ کر رہا تھا۔ اب اس دعا پر نظر ڈالو کہ یہ کس طرح آپ کے تقویٰ اور طہارت پر روشنی ڈالتی ہے۔ میں بتا چکا ہوں کہ آپؐ ہر ایک قسم کی بدکلامی وبدگوئی، بداخلاقی اور بداعمالی سے پاک تھے اور یہی نہیں کہ پاک تھے بلکہ آپ کو بدی سے سخت نفرت اور نور اور نیکی اور تقویٰ سے پیار تھا اور یہی انسانی کمال کا اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ ہے یعنی وہ بدی سے بچے اور تقویٰ کی زندگی بسر کرے۔ ظلمت سے متنفر ہو اور نور سے محبت رکھے مگر اس حدیث سے پچھلی حدیث پر اور بھی روشنی پڑ جاتی ہے کیونکہ پچھلی حدیث سے تو یہ ثابت ہوتا تھا کہ آپؐ بدی سے متنفر تھے مگر اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ فعل بالاتحاد عادۃً نہ تھا اور یہ اور بھی کمال پر دلالت کرتا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے کام انسان عادتاً کرتا ہے یا فطرتاً بعض کاموں کی طرف راغب ہوتا ہے اور بعض سے بچتا ہے، بہت سے لوگ دنیا میں دیکھے جاتے ہیں کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے یا چوری نہیں کرتے۔ اور ان کے جھوٹ سے بچنے یا چوری نہ کرنے کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ وہ جھوٹ سے دل میں سخت متنفر ہیں یا چوری کو برا جانتے ہیں بلکہ ان کا یہ کام صرف ان کی نیک فطرت کی وجہ سے ہی ہوتا ہے اور بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ صرف عادت کے نہ ہونے کی وجہ سے ان بدیوں سے بچتے ہیں ، اگر ان کی عادت انہیں ڈال دی جائے تو وہ ان افعال کے مرتکب بھی ہو جائیں۔ ایسا ہی بعض لوگ دیکھے جاتے ہیں کہ کسی نہ کسی وجہ سے رحم مادر سے ہی ان کے غصہ یا غضب کی صفت میں ضعف آچکا ہوتا ہے اور وہ باوجود سخت سے سخت اسباب طیش انگیز کے کبھی اظہار غضب نہیں کرتے بلکہ ان کا دل غیرت و حیا کے جذبات سے بالکل خالی ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ لوگ اگرچہ نرم دل کہلائیں گے لیکن ان کا غضب سے بچنا ان کی صفات حمیدہ میں سے نہیں سمجھا جائے گا کیونکہ یہ ان کا کمال نہیں بلکہ قدرت نے ہی انہیں ان جوشوں سے مبرّا رکھا ہے۔ لیکن ایک ایسا انسان جو غضب سے صرف اس وجہ سے بچتا ہے کہ وہ اسے برا جانتا ہے اور رحم سے محبت رکھتا ہے اور باوجود اس کے کہ اسے طیش دلایا جائے اپنے جوشوں کو قابو میں رکھتا ہے وہ تعریف کے لائق ہے اور پھر وہ شخص اور بھی قابل قدر ہے کہ جس کے افعال اس سے بالارادہ سرزد ہوتے ہیں نہ خود بخود۔
رسول کریم ﷺ کا اپنے لئے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگنا کہ یا اللہ مجھے ظلمت سے بچا کر نور کی طرف لے جا اور بدی سے مجھے بچا لے ثابت کرتا ہے کہ آپؐ کا بد کلامی یا بد اخلاقی سے بچنا اس تقویٰ کے ماتحت تھا جس سے آپؐ کا دل معمور تھا اور یہی وجہ تھی کہ آپؐ خدا تعالیٰ سے دعا بھی مانگتے تھے ورنہ جو لوگ نیکی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی فطرت کی وجہ سے بعض گناہوں سے بچے ہوئے ہوتے ہیں وہ ان سے بچنے کی دعا یا خواہش نہیں کیا کرتے کیونکہ ان کے لئے ان اعمال بد کا کرنا نہ کرنا برابر ہوتا ہے اور ان سے احتراز صرف اس لئے ہوتا ہے کہ ان کی پیدائش میں ہی کسی نقص کی وجہ سے بعض جذبات میں کمی آجاتی ہے جن کے استعمال سے خاص خاص بدیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
اس بات کے ثابت کرنے کے بعد کہ آنحضرت ﷺ کے تمام اعمال بالارادہ تھے اور اگر کسی کام سے آپؐ بچتے تھے تو اسے برا سمجھ کر اس سے بچتے تھے نہ کہ عادتاً اور اگر کوئی کام آپؐ کرتے تھے تو اسی لئے کہ آپؐ اسے نیک سمجھتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ جانتے
تھے۔ اب میں اس دعا کی تشریح کرنی چاہتا ہوں تاکہ معلوم ہو کہ آپ کے بدی سے تنفر اور نیکی سے عشق کا درجہ کہاں تک بلند تھا۔
انسان جو کرتا ہے اس کی اصل وجہ اس کے دل کی ناپاکی اور عدم طہارت ہوتی ہے۔ اگر دل پاک ہو تو گناہ بہت کم سرزد ہو سکتا ہے کیونکہ پھر جو گناہ ہو گا وہ غلطی سے ہو گا یا نانہمی سے نہ کہ جان بوجھ کر۔ ہاں جب دل گندہ ہو جائے تو اس کا اثر جو روح پر پڑتا ہے اور وہ قسم قسم کے گناہوں کا ارتکاب شروع کر دیتے ہیں۔ ایک چور بے شک اپنے ہاتھ سے کسی کا مال اٹھاتا ہے لیکن دراصل ہاتھ ایک باطنی حکم کے ماتحت ہو کر کام کر رہا ہے اور اصل باعث وہ دل کی حرص ہے جس نے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ غیر کا مال اٹھا لے۔ اسی طرح اگر ایک جھوٹا جھوٹ بولتا ہے تو گو خلافِ واقعہ کلمات اس کی زبان پر ہی جاری ہوتے ہیں لیکن نہیں کہہ سکتے کہ زبان نے جھوٹ بولا کیونکہ وہ دل کے اشارہ پر کام کرتی ہے اور اسے جس طرح اس کا حکم پہنچا اس نے کام کر دیا۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اَلَا وَ اِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَةً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّهٗ وَ اِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّهٗ اَلَا وَ هِیَ الْقَلْبُ(بخاری کتاب الایمان باب فضل من استبرا لدینہ) جسم انسان میں ایک لوتھڑا ہے کہ جب وہ درست ہو جائے تو سب جسم درست ہو جاتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے تو سب جسم بگڑ جاتا ہے۔ خبردار ہو کر سنو کہ وہ دل ہے۔ پس دل کے نیک ہونے سے جوارح سے بھی نیک اعمال ظاہر ہوتے ہیں اور اس کے خراب ہو جانے سے ہاتھ پاؤں آنکھیں کان اور زبان سب خراب ہو جاتے ہیں۔
اسی وجہ سے آنحضرت ﷺ نے اپنی دعا میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی ہے کہ الٰہی میرے دل میں نور بھر دے۔ جب دل میں نور بھر گیا تو پھر ظلمت کا گزر کیونکر ہو سکتا ہے اور گناہ ظلمت سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔
جس طرح گناہ دل سے پیدا ہوتے ہیں اسی طرح دل کو خراب کرنے کے لئے کوئی بیرونی سامان ایسے پیدا ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے دل اپنی اصل حالت سے نکل جاتا ہے اس لئے رسول کریم ﷺ نے دل میں نور بھرنے کی درخواست کے بعد دعا فرمائی کہ جن ذریعوں سے قلبِ انسانی بیرونی اشیاء سے متاثر ہوتا ہے ان میں بھی نور ہی بھر دے یعنی آنکھوں اور کانوں کو نورانی کر دے۔ میری آنکھیں کوئی ایسی بات نہ دیکھیں کہ جس کا دل پر خراب اثر پڑے۔ نہ کان وہ باتیں سنے جن سے دل بدی کی طرف مائل ہو۔ پھر اس سے بڑھ کر آپ نے یہ سوچا کہ کان اور آنکھیں بھی تو آخر وہی سنتے اور دیکھتے ہیں جو ان کے ارد گرد ہوتا ہے۔ اگر ارد گرد ظلمت کے سامان ہی نہ ہوں اور بدی کی تحریک اور میلان پیدا کرنے والے ذرائع ہی مفقود ہوں تو پھر انہوں نے دل پر کیا خراب اثر ڈالنا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ عَنْ یَّمِیْنِیْ نُوْرًا وَّ یَسَارِیْ نُوْرًا وَّ فَوْقِیْ نُوْرًا وَّ تَحْتِیْ نُوْرًا وَ اَمَامِیْ نُوْرًا وَّ خَلْفِیْ نُوْرًا(بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء اذا انتبه من اللیل) اے اللہ میری بینائی اور شنوائی کو نور سے منور کر کے یہ بھی کر کہ میرے دائیں بائیں ، آگے پیچھے، اوپر نیچے جہاتِ ستہ میں نور ہی نور ہو جائے اور جن باتوں سے آنکھوں اور کانوں کے ذریعہ دل پر برا اثر پڑتا ہے وہی میرے ارد گرد سے فنا ہو کر ان کی بجائے تقویٰ اور طہارت کے پیدا کرنے والے نظارے مجھے چاروں طرف سے گھیر لیں۔ پھر اس خیال سے کہ پوشیدہ در پوشیدہ ذرائع سے بھی دل ملوث ہوتا ہے۔ فرمایا کہ وَ اجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا میرے لئے نور کے دروازے کھول دے ظلمت سے میرا کچھ تعلق ہی نہ رہے نور ہی سے میرا واسطہ ہو اس دعا کو پڑھ کر ہر ایک تعصب سے کور آدمی سمجھ سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ بدیوں سے کیسے متنفر تھے۔
بہت سے انسان اپنی حماقت سے بجائے فائدہ کے الٹا نقصان کر لیتے ہیں اور اپنے نزدیک جسے خوبی سمجھتے ہیں وہ دراصل برائی ہوتی ہے اور اس پر عامل ہو کر تکلیف اٹھاتے ہیں۔ بہت سے لوگ دیکھے جاتے ہیں کہ وہ اپنے نفس کو خواہ مخواہ کی مشقت میں ڈال کر تکلیف دیتے ہیں اور اسے فخر سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا ایک ذریعہ جانتے ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنا کوئی آسان امر نہیں پہلے انسان پوری طرح سے اپنے نفس کو مارے اور اپنے ہر فعل اور قول کو اس کی رضا کے مطابق بنائے اپنی خواہشات کو اس کے لئے قربان کر دے۔ اپنی آرزوؤں کو اس کے منشا کے مقابلہ میں مٹا دے۔ اپنے ارادوں کو چھوڑ دے۔ اس کی خاطر ہر ایک دکھ اور تکلیف اٹھانے کو تیار ہو جائے۔ اس کے مقابلہ میں کسی چیز کی خاک عظمت نہ سمجھے اور جس چیز کے قرب سے اس سے دوری ہو اسے ترک کر دے۔ اپنے اوقات کو ضائع ہونے سے بچائے تب ہی انسان خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کر سکتا ہے اور جب اس کا فضل نازل ہو تو اس کی رحمت کے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں اور وہ ان اسرار کا مشاہدہ کرتا ہے جو اس سے پہلے اس کے واہمہ میں بھی نہیں آتے تھے اور یہ حالت انسان کے لئے ایک جنت ہوتی ہے جسے اسی دنیا میں حاصل کر لیتا ہے اور خدا تعالیٰ کے انعامات کا ایسے ایسے رنگ میں مطالعہ کرتا ہے کہ عقل حیران ہو جاتی ہے اور جنت کی تعریف ان کشوف پر صادق آتی ہے کہ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ۔
لیکن باوجود اس بات کے پھر بھی نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ مشقت اٹھانے سے حاصل ہو سکتا ہے کیونکہ بہت سے انسان اپنی عمر کو رائگاں کر دیتے ہیں اور کسی اعلیٰ درجہ پر نہیں پہنچتے۔ اہلِ ہنود میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں کہ جو اپنے ہاتھ سکھا دیتے ہیں۔ ایسے بھی پائے جاتے ہیں کہ جو سردیوں میں پانی میں کھڑے رہتے ہیں اور گرمیوں میں اپنے اردگرد آگ جلا کر اس کے اندر اپنا وقت گزارتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں کہ جو سارا دن سورج کی طرف ٹکٹکی لگا کر دیکھتے رہتے ہیں اور جدھر سورج پھرتا جائے ان کی نظر اس کے ساتھ پھرتی جاتی ہے۔ پھر ایسے بھی ہیں جو نجاست اور گندگی کھاتے ہیں مردوں کا گوشت کھاتے ہیں۔ غرض کہ طرح طرح کی مشقتوں اور تکالیف کو برداشت کرتے ہیں اور ان کا منشا یہی ہوتا ہے کہ وہ خدا کو پالیں لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ یہ لوگ بجائے روحانیت میں ترقی کرنے کے اور گرتے جاتے ہیں۔ مسیحیوں میں بھی ایک جماعت پادریوں کی ہے جو نہانے سے پرہیز کرتی ہے۔ نکاح نہیں کرتی۔ صوف کے کپڑے پہنتی اور بہت اقسام طیبات سے محترز رہتی ہے لیکن اسے وہ نورِ قلب عطا نہیں ہوتا جس سے سمجھا جائے کہ خدا تعالیٰ انہیں حاصل ہو گیا بلکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ان لوگوں کے اخلاق عام مسیحیوں کی نسبت گرے ہوئے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو سارا سال روزہ رکھتے ہیں اور ہمیشہ روزہ سے رہتے ہیں حالانکہ رسول کریم ﷺ نے دائمی روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے پھر بعض لوگ طیبات سے پرہیز کرتے ہیں۔ اپنے نفس کو خواہ مخواہ کی مشقتوں میں ڈالتے ہیں لیکن پھر بھی کوئی کمال حاصل نہیں ہوتا۔ غرض کہ جس طرح بغیر محنت و کوشش کے خدا تعالیٰ نہیں ملتا اسی طرح اپنے نفس کو بلا فائدہ مشقت میں ڈالنے سے بھی خدا نہیں ملتا بلکہ الٹا نقصان پہنچ جاتا ہے۔ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں کہ جنہوں نے اول اول تو شوق سے سخت سے سخت محنت اٹھا کر بعض عبادات کو بجالانا شروع کیا اور اپنے نفس پر وہ بوجھ رکھا جسے وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا اور آخر تھک کر ایسے چور ہوئے کہ عبادت تو کجا خدا تعالیٰ کی ہستی سے ہی منکر ہو گئے اور کہنے لگے کہ اگر کوئی خدا ہوتا تو ہماری ان محنتوں کو ضائع کیوں کرتا ہم تو اس کوشش و محنت سے ورد و وظائف کرتے رہے لیکن وہاں سے ہمیں کچھ اجر بھی نہیں ملا اور آسمان کے دروازے چھوڑ آسمان کی کوئی کھڑکی بھی ہمارے لئے نہیں کھلی۔ اور جب یہ شکوک ان کے دلوں میں پیدا ہونے شروع ہوئے تو وہ گناہوں پر دلیر ہو گئے اور وعظ و پند کو بناوٹ سمجھ لیا اور خیال کر لیا کہ ہم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں وہ بھی ہماری ہی طرح تھے اور نعوذ باللہ ان کے دل ہماری طرح ہی تاریک تھے اور لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے بڑے بڑے دعوے کرتے تھے۔
ان واقعات سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ بے فائدہ مشقت بھی خطرناک ہوتی ہے اور نفس کو ایسے ابتلاؤں میں ڈالنا کہ جو غیر ضروری ہیں بجائے فائدہ کے مہلک ثابت ہوتا ہے۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ جو تمام دنیا کے لئے رحمت ہو کر آئے تھے اپنے صحابہؓ کو روکتے تھے کہ وہ اپنے نفوس کو حد سے زیادہ مشقت میں نہ ڈالیں چنانچہ لکھا ہے کہ ایک صحابیؓ ایک دوست کے ہاں گئے تو آپ کو معلوم ہوا کہ وہ سارا دن روزہ رکھتا اور رات کو تہجد میں وقت گزارتا ہے۔ اس پر انہوں نے انہیں ڈانٹا جس پر یہ معاملہ آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچا آپؐ نے فرمایا اس نے ٹھیک ڈانٹا کیونکہ انسان پر بہت سے حقوق ہیں ان کا پورا کرنا اس کے لئے ضروری ہے۔
خود آنحضرتؐ کا عمل ثابت کرتا ہے کہ آپؐ ہمیشہ احکام الٰہی کے پورا کرنے میں چست رہتے اور ایسے جوش کے ساتھ خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے کہ جوان جوان صحابہؓ آپؐ کا مقابلہ نہ کر سکتے تھے جیسا کہ میں بالتفصیل آپ کی عبادت کے ذکر میں لکھ آیا ہوں لیکن باوجود اس کے آپؐ آسان راہ کو قبول کرتے اور اپنے نفس کو بے فائدہ دکھ نہ دیتے بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ اس وقت تک عبادت کرو جب تک دل ملول نہ ہو جائے۔ حضرت عائشہؓ آپؐ کے اعمال کی نسبت فرماتی ہیں مَا خُيِّرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ اَمْرَيْنِ اِلَّا اَخَذَ اَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ اِثْمًا فَاِنْ كَانَ اِثْمًا كَانَ اَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ(بخاری کتاب بدء الخلق باب صفة النبی صلی اللہ علیہ وسلم) رسول اللہ ﷺ کو کسی دو باتوں میں اختیار نہیں دیا گیا مگر آپؐ نے اسے قبول کیا جو دونوں میں سے آسان تر تھی بشرطیکہ گناہ نہ ہو اور اگر کسی کام میں گناہ ہوتا تو سب لوگوں سے زیادہ آپؐ اس سے بچتے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ آسان راہ کو اختیار کیا کرتے تھے اور تکلیف میں اپنے آپ کو نہ ڈالتے۔ ایک خیال جو اس حدیث سے پیدا ہو سکتا تھا کہ گویا آپؐ خدا کے راستہ میں مشقت نہ برداشت کر سکتے تھے (نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ) اس کا رد بھی خود حضرت عائشہؓ نے فرما دیا کہ یہ بات اسی وقت تک تھی کہ جہاں دین کا معاملہ نہ ہو۔ اگر کسی موقع پر آسانی اختیار کرنا دین میں نقص پیدا کرتا ہو تو پھر آپ سے زیادہ اس آسانی کا دشمن کوئی نہ ہوتا۔ یہ وہ کمال ہے جس سے آپ کی ذات تمام انبیاء پر فضیلت رکھتی ہے کہ وہ اپنے اپنے رنگ میں کامل تھے لیکن آپؐ ہر رنگ میں کامل تھے۔ کوئی پہلو بھی تو انسانی زندگی کا ایسا نہیں جس میں آپؐ دوسروں سے پیچھے ہوں یا ان کے برابر ہوں۔ ہر بات میں کمال ہے اور دوسروں سے بڑھ کر قدم مارا ہے اور ہر خوبی کو اپنی ذات میں جمع کر لیا ہے۔
بے شک بہت سے لوگ ہیں کہ جو اپنی جان کو آرام میں رکھتے ہیں مگر خدا کو ناراض کرتے ہیں۔ لوگوں کو خوش کرتے ہیں۔ بعض خدا کو راضی کرنے کی کوشش میں اپنے نفس کو ایسے مصائب میں ڈالتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا قرب بھی نصیب نہیں ہوتا اور آگے سے بھی گمراہ ہوتے جاتے ہیں مگر میرا پیارا ہادی تو ساری دنیا کے لئے ہادی ہو کر آیا تھا وہ کسی خاص طرز یا مذاق کے لوگوں کا رہبر نہ تھا۔ ہر ملک اور قوم کے آدمی اسکی غلامی میں آئے تھے اس نے اپنے اخلاق کا ایک ایسا بے لوث اور مکمل نمونہ دکھایا ہے کہ کوئی آدمی اس کی غلامی میں آئے ناکام و نامراد نہیں رہتا بلکہ اپنے کامل دلی مقصد اور مدعا کو پا لیتا ہے۔
در حقیقت تعصب کو ایک طرف رکھ کر اگر دیکھا جائے تو آپ کی یہ صفت ایک ایسی حکیمانہ صفت تھی کہ اس پر جس قدر غور کیا جائے اس کے فوائد زیادہ روشن ہوتے جاتے ہیں۔ ایک ہی نسخہ ہوتا ہے جسے طبیب بھی بتاتا ہے اور ایک بڑھیا بھی بتاتی ہے لیکن وہ طبیب تو حکمت کی بناء پر اسے تجویز کرتا ہے اور بڑھیا صرف اس وجہ سے کہ اس کے کسی رشتہ دار کو کبھی اس سے فائدہ پہنچا تھا۔ یہی فرق روحانیت کے مدارج میں بھی ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں کوشش کرتے ہیں مگر ان کے افعال کی بناء جہالت پر ہوتی ہے اور وہ حکمت سے کام نہیں لیتے مگر رسول کریم ﷺ کے تمام کاموں کی بناء علم پر تھی۔ آپؐ خوب جانتے تھے کہ کسی چیز سے اپنی طاقت سے زیادہ کام لینے کے یہ معنے ہیں کہ اسے ہمیشہ کے لئے کام سے معطل کر دیا جائے۔ اس لئے آپ اپنے قوٰی کو ہر محل اور بر موقع استعمال کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ سب مقابلہ کرنے والوں سے آگے نکل گئے اور کوئی انسان ایسا پیدا نہیں ہوا جو آپؐ سے آگے نکلتا تو کجا آپ کی برابری بھی کر سکے۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَ سَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
وقار ایک عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں عالی حوصلگی، حلم اور بڑائی، چونکہ لوگ عام طور پر اس لفظ کو استعمال کرتے ہوئے اس کے معانی سے ناواقف ہوتے ہیں اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس کے معنے کر دوں تاکہ ناظرین کو معلوم ہو جائے کہ جب میں وقار کا لفظ استعمال کرتا ہوں تو اس سے میری مراد کیا ہوتی ہے۔ چونکہ عام طور سے یہ لفظ اردو میں عزت کے معنے میں استعمال ہونے لگا ہے اور عام لوگ کہا کرتے ہیں کہ فلاں شخص بڑے وقار والا ہے اور اس سے
ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ بڑی عزت والا ہے یا معزز ہے لیکن دراصل اس لفظ سے گو بڑائی اور عزت کے معنے نکلتے ہیں لیکن اس سے مراد نفس کی بڑائی ہوتی ہے یعنی جس شخص میں چھچھورا پن، کمینگی اور ہلکا پن نہ ہو۔ ذرا ذرا سی بات پر چڑھ نہ جائے لوگوں کی باتیں سنکر ان پر حوصلہ نہ ہار دے۔ مخالف کی باتوں کو ایک حد تک برداشت کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔ اسے صاحبِ وقار کہیں گے۔ اور جو رذیل لوگوں کی صحبت میں رہتا ہو، چھوٹی چھوٹی باتوں پر چڑ جاتا ہو، ذرا ذرا سی تکلیف پر گھبرا جاتا ہو، چھوٹے چھوٹے مصائب پر ہمت ہار بیٹھتا ہو وہ صاحبِ وقار نہیں ہوگا۔ خواہ اسکے پاس کتنی ہی دولت ہو اور کیسے ہی عظیم الشان عہدہ پر مقرر ہو۔ پس گو وقار کے معنوں میں عظمت اور بڑائی بھی ہے مگر میری اس جگہ وقار سے وہی مراد ہے جو میں نے پہلے بیان کر دی ہے۔
آنحضرت ﷺ کو جو عہدہ اور شان اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی تھی وہ دنیاوی بادشاہوں سے کسی صورت میں کم نہ تھی۔ اور گو آپؐ خود اپنے زہد و تقویٰ کی وجہ سے اپنی عظمت کا اظہار نہ کرتے ہوں لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ آپؐ ایک بادشاہ تھے اور تمام عرب آپؐ کے ماتحت ہو گیا تھا اور اگر آپؐ ان سب طریقوں کو اختیار کر لیتے جو اس وقت کے بادشاہوں میں مروج تھے تو دنیاوی نقطۂ خیال سے آپؐ پر کوئی الزام قائم نہیں ہو سکتا تھا اور آپؐ دنیاوی حکومتوں کی نظر میں بالکل حق بجانب ہوتے لیکن آپؐ کی عزت اس بادشاہت کی وجہ سے نہ تھی جو شہروں اور ملکوں پر حکومت کے نام سے مشہور ہے بلکہ دراصل آپؐ کی عزت اس بادشاہت کی وجہ سے تھی جو آپؐ کو اپنے دل پر حاصل تھی۔ جو آپؐ کو دوسرے لوگوں کے دلوں پر حاصل تھی۔ آپ نے باوجود بادشاہ ہونے کے اس طریق کو اختیار نہ کیا جس پر بادشاہ چلتے ہیں اور اپنی عظمت کے اظہار کے لئے وہ نمائشیں نہ کیں جو سلطان کیا کرتے ہیں کیونکہ آپ نبیؐ تھے اور نبیوں کے سردار تھے اور بادشاہ ہو کر جو معاملہ آپؐ نے اتباع سے کیا وہ اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ آپؐ کا نفس کیسا پاک تھا اور ہر قسم کے بد اثرات سے کیسا منزّہ تھا۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ سَاَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَىُّ الْعَمَلِ اَحَبُّ اِلَى اللهِ قَالَ الصَّلوةُ عَلٰى وَقْتِهَا قَالَ ثُمَّ اَىٌّ قَالَ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ ثُمَّ اَىٌّ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيْلِ اللهِ قَالَ حَدَّثَنِيْ بِهِنَّ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَ لَوِ اسْتَزَدْتُّهُ لَزَادَنِيْ (صحیح بخاری کتاب المواقیت باب فضل الصلوة لوقتها) میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کونسا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پیارا ہے۔ فرمایا نماز اپنے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ پھر کونسا عمل۔ فرمایا کہ والدین سے نیکی کرنا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ پھر کون سا عمل ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں کوشش کرنا۔ عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ مجھ سے نبی کریمؐ نے یہ بیان فرمایا اور اگر میں آپؐ سے اور پوچھتا تو آپؐ اور بتاتے۔
بظاہر تو یہ حدیث ایک ظاہر بین کو معمولی معلوم ہوتی ہو گی لیکن غور کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپؐ کا وقار کیسا تھا کہ صحابہؓ آپؐ سے جس قدر سوال کئے جائیں آپؐ گھبراتے نہ تھے بلکہ جواب دیتے چلے جاتے اور صحابہؓ کو یقین تھا کہ آپؐ ہمیں ڈانٹیں گے نہیں۔ امراء کو ہم دیکھتے ہیں کہ ذرا کسی نے دو دفعہ سوال کیا اور چیں بجبیں ہو گئے۔ کیا کسی کی مجال ہے کہ کسی بادشاہ وقت سے بار بار سوال کرتا جائے اور وہ اسے کچھ نہ کہے بلکہ بادشاہوں اور امراء سے تو ایک دفعہ سوال کرنا بھی مشکل ہوتا ہے اور وہ سوالات کو پسند ہی نہیں کرتے اور سوال کرنا اپنی شان کے خلاف اور بے ادبی جانتے ہیں اور اگر کوئی ان سے سوال کرے تو اس پر سخت غضب نازل کرتے ہیں۔
اس کے مقابلہ میں ہم رسول کریم ﷺ کو جانتے ہیں کہ باوجود ایک ملک کے بادشاہ ہونے کے طبیعت میں ایسا وقار ہے کہ ہر ایک چھوٹا بڑا جو دل میں آئے آپ سے پوچھتا ہے اور جس قدر چاہے سوال کرتا ہے۔ لیکن آپ اس پر بالکل ناراض نہیں ہوتے بلکہ محبت اور پیار سے جواب دیتے ہیں اور اس محبت کا ایسا اثر ہوتا ہے کہ وہ اپنے دلوں میں یقین کر لیتے ہیں کہ ہم جس قدر بھی سوال کرتے جائیں آپ ان سے اکتائیں گے نہیں۔ کیونکہ جو حدیث میں اوپر لکھ آیا ہوں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف اس موقع پر آپؐ اعتراضات سے نہ گھبرائے بلکہ آپؐ کی یہ عادت تھی کہ آپؐ دین کے متعلق سوالات سے نہ گھبراتے تھے کیونکہ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے جتنے سوال آپؐ سے کئے آپ نے ان کا جواب دیا۔ اور پھر فرماتے ہیں کہ لَوِ اسْتَزَدْتُ لَزَادَ۔ اگر میں اور سوال کرتا تو آپؐ پھر بھی جواب دیتے۔ اس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یقین تھا کہ آپ جس قدر سوالات بھی کرتے جائیں آنحضرت ﷺ اس پر ناراض نہ ہوں گے بلکہ ان کا جواب دیتے جائیں گے اور یہ نہیں ہو سکتا تھا جب تک رسول کریم ﷺ کی عام عادت یہ نہ ہو کہ آپ ہر قسم کے سوالات کا جواب دیتے جائیں۔
دیگر احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ صحابہؓ کے سوالات پر خفا نہ ہوتے تھے بلکہ بڑی خندہ پیشانی سے ان کے جواب دیتے تھے اور یہ آپؐ کے وقار کے اعلیٰ درجہ پر شاہد ہے کیونکہ معمولی طبیعت کا آدمی بار بار سوال پر گھبرا جاتا ہے مگر آپؐ باوجود ایک ملک کے بادشاہ ہونے کے رحمت و شفقت کا ایسا اعلیٰ نمونہ دکھاتے رہے جو عام انسان تو کجا دیگر انبیاء بھی نہ دکھا سکے۔
اس حدیث کے علاوہ ایک اور حدیث بھی ہے جس سے آپؐ کے وقار کا علم ہو سکتا ہے۔ اور گو یہ حدیث میں پہلے بیان کر چکا ہوں کیونکہ اس سے آپؐ کے یقین اور ایمان پر بھی روشنی پڑتی ہے لیکن چونکہ اس حدیث سے آپ کے وقار کا حال بھی کھلتا ہے اس لئے اس جگہ بھی بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ سراقہ بن جعشم کہتا ہے کہ جب رسول کریمؐ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے تو مجھے اطلاع ملی کہ آپؐ کے لئے اور حضرت ابو بکرؓ کے لئے مکہ والوں نے انعام مقرر کیا ہے جو ایسے شخص کو دیا جائے گا جو آپؐ کو قتل کر دے یا قید کر لائے۔ اس پر میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر بھاگا اور چاہا کہ جس طرح ہو آپکو گرفتار کر لوں تا اس انعام سے متمتع ہو کر اپنی قوم میں مالدار رئیس بن جاؤں۔ جب میں آپ کے قریب پہنچا میرے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور میں زمین پر گر پڑا۔ اس پر میں نے اٹھ کر تیروں سے فال نکالنی چاہی کہ آیا یہ کام اچھا ہے یا برا کروں یا نہ کروں اور تیروں میں سے وہ جواب نکلا جسے میں ناپسند کرتا تھا یعنی مجھے آپ کا تعاقب نہیں کرنا چاہیے۔ مگر پھر بھی میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا اور آپ کے پیچھے بھاگا اور اس قدر نزدیک ہو گیا کہ آپ کی قراءت کی آواز آنے لگی اور میں نے آپؐ کو دیکھا کہ آپؐ بالکل کسی طرف نہ دیکھتے تھے مگر حضرت ابو بکرؓ بار بار ادھر ادھر دیکھتے جاتے تھے۔
اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ میں صفتِ وقار نہایت اعلیٰ درجہ پر تھی اور آپؐ خطرناک سے خطرناک اوقات میں بھی اپنے نفس کی بڑائی کو نہ چھوڑتے تھے۔ اور خواہ آپؐ کو گھر میں بیٹھے ہوئے اپنے شاگردوں سے معاملہ کرنا پڑے جو دین کی جدت کی وجہ سے بار بار سوال کرنے پر مجبور تھے اور خواہ میدانِ جنگ میں دشمن کے ملک میں خطرناک دشمنوں کے مقابلہ میں آنا پڑے ہر دو صورتوں میں آپؐ اپنے وقار کو ہاتھ سے نہ دیتے۔ اور جس وقت صابر سے صابر اور دلیر سے دلیر انسان چڑچڑاہٹ اور گھبراہٹ کا اظہار کرے اس وقت بھی آپؐ وقار پر قائم رہتے اور تعلیم اور جنگ دو ہی موقعہ ہوتے ہیں جہاں وقار کا امتحان ہوتا ہے اور جاننے والے جانتے ہیں کہ اسی وجہ سے استادوں کو اپنے اخلاق کے درست کرنے کی کیسی ضرورت رہتی ہے اور جو استاد اس بات سے غافل ہو جائے اور اپنی ذمہ داری کو نہ سمجھے بہت جلد طلباء اس کے اخلاق کو بگاڑ دیتے ہیں یہی حال میدانِ جنگ میں بہادر سپاہی کا ہوتا ہے جو باوجود جرأت اور بہادری کے بعض اوقات وقار کھو بیٹھتا ہے اور چھچھورا پن اور گھبراہٹ کا اظہار کر بیٹھتا ہے مگر وہ نیکوں کا نیک بہادروں کا بہادر ان سب عیوب سے پاک تھا۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَ سَلِّمْ۔
انسان کی اعلیٰ درجہ کی خصال میں سے ایک جرأت بھی ہے۔ جرأت کے بغیر انسان بہت سے نیک کاموں سے محروم رہ جاتا ہے۔ جرأت کے بغیر انسان دنیا میں ترقی نہیں کر سکتا۔ جرأت کے بغیر انسان اپنے ہم عصروں کی نظروں میں ذلیل و سبک رہتا ہے۔ غرض کہ جرأت‘ بہادری‘ دلیری اعلیٰ درجہ کی صفات میں سے ہیں اور جس انسان میں یہ خصلتیں ہوں وہ دوسروں کی نظر میں ذلیل نہیں ہو سکتا۔
جب کہ آنحضرت ﷺ جامع کمالات انسانی تھے اور ہر ایک بات میں جو انسان کی زندگی کو بلند اور اعلیٰ کرنے والی ہو دوسرے کے لئے نمونہ اور اسوہ حسنہ تھے اور جو عمل یا قول یا خوبی یا نیکی سے تعبیر کیا جاسکے اس کے آپؐ معلم تھے اور کل پاک جذبات کو ابھارنے کے لئے ان کا وجود خضرِ راہ تھا تو ضروری تھا کہ آپؐ اس صفت میں بھی خاتم الانبیاء والاولیاء بلکہ خاتم الناس ہوں اور کوئی انسان اس حسن میں آپ پر فائق نہ ہو سکے چنانچہ آپ کی زندگی پر غور کرنے والے معلوم کر سکتے ہیں کہ آپ نے اپنی عمر میں بہادری اور جرأت کے وہ اعلیٰ درجہ کے نمونے دکھائے ہیں کہ دنیا میں ان کی نظیر نہیں مل سکتی بلکہ تاریخیں بھی ان کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہیں لیکن چونکہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ موجودہ صورت میں مَیں صرف وہ واقعات جو بخاری میں درج ہیں پیش کروں گا اس لئے اس جگہ صرف ایک دو واقعات پر کفایت کرتا ہوں۔
دراصل اگر غور کیا جائے تو آنحضرت ﷺ کی مکہ کی زندگی ہی بہادری کا ایک ایسا اعلیٰ نمونہ ہے کہ اسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ تیرہ سال تک ایک ایسے مقام پر رہنا کہ جہاں سوائے چند انفاس کے اور سب لوگ دشمن اور خون کے پیاسے ہیں اور بغیر خوف کے لوگوں کو اپنے دین کی باتیں سنانا اور پھر ایسے دین کی جو لوگوں کی نظر میں نہایت حقیر اور مکروہ تھا۔ کوئی ایسا کام نہیں جس کے معلوم ہونے پر آپ کے کمالات کا نقشہ آنکھوں تلے نہ کھنچ جاتا ہو۔ اس تیرہ سال کے عرصہ میں کیسے کیسے دشمنوں کا آپ کو مقابلہ کرنا پڑا۔ انواع و اقسام کے عذابوں سے انہوں نے آپؐ کے قدم صدق کو ڈگمگانا چاہا لیکن آپؐ نے وہ بہادری کا نمونہ دکھایا کہ ہزار ہا دشمنوں کے مقابلہ میں تنِ تنہا سینہ سپر رہے اور اپنے دشمنوں کے سامنے اپنی آنکھ نیچی نہ کی اور جو پیغام خدا کی طرف سے لے کر آئے تھے اسے کھلے الفاظ میں بغیر کسی اخفاء واسرار کے لوگوں تک پہنچاتے رہے غرض کہ آپؐ کی زندگی تمام کی تمام جرأت و دلیری کا ایک بے مثل نمونہ ہے مگر جگہ کی قلت کی وجہ سے میں ایک
دو واقعات سے زیادہ نہیں لکھ سکتا۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لَنَا يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ فَقَالَ مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا(بخاری کتاب الجہاد باب اسم الفرس والمعاد) مدینہ میں کچھ گھبراہٹ تھی پس نبی کریم ﷺ نے ہمارا گھوڑا مستعار لیا جس کا نام مندوب تھا اور فرمایا کہ ہم نے کوئی گھبراہٹ کی بات نہیں دیکھی اور ہم نے تو اس گھوڑے کو سمندر پایا یعنی نہایت تیز و تند۔ حضرت انسؓ نے ایک حدیث میں اس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ایک دفعہ مدینہ میں کسی غنیم کے حملہ آور ہونے کی خبر تھی اور مسلمانوں کو ہر وقت اس کے حملہ آور ہونے کا انتظار تھا۔ ایک رات اچانک شور ہوا اور دور کچھ آوازیں سنائی دیں۔ صحابہؓ فوراً جمع ہونے شروع ہوئے اور ارادہ کیا کہ جمع ہو کر چلیں اور دیکھیں کہ کیا غنیم حملہ آور ہونے کے لئے آرہا ہے۔ وہ تو ادھر جمع ہوتے اور تیار ہوتے رہے اور ادھر رسول کریم ﷺ بغیر کسی کو اطلاع دیئے ایک صحابیؓ کا گھوڑا لے کر سوار ہو کر جدھر سے آوازیں آرہی تھیں ادھر دوڑے اور جب لوگ تیار ہو کر چلے تو آپؐ انہیں مل گئے اور فرمایا کہ گھبراہٹ کی تو کوئی وجہ نہیں شور معمولی تھا۔ اور اس گھوڑے کی نسبت فرمایا کہ بڑا تیز گھوڑا ہے اور سمندر کی طرح ہے یعنی لہریں مار کر چلتا ہے۔
اس واقعہ سے ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ آپؐ کیسے دلیر و جری تھے کہ شور سنتے ہی فوراً گھوڑے پر سوار ہو کر دشمن کی خبر لینے کو چلے گئے اور اپنے ساتھ کوئی فوج نہ لی۔ لیکن جب اس واقعہ پر نظر غائر ڈالی جائے تو چند ایسی خصوصیات معلوم ہوتی ہیں کہ جن کی وجہ سے اس واقعہ کو معمولی جرأت و دلیری کا کام نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ واقعہ خاص طور پر ممتاز معلوم ہوتا ہے۔
اول امر جو قابل لحاظ ہے یہ ہے کہ جرأت و دلیری دو قسم کی ہوتی ہے ایک تو وہ جو بعض اوقات بزدل سے بزدل انسان بھی دکھا دیتا ہے اور اس کا اظہار کمال مایوسی یا انقطاع اسباب کے وقت ہوتا ہے اور ایک وہ جو سوائے دلیر اور قوی دل کے اور کوئی نہیں دکھا سکتا۔ پہلی قسم کی دلیری ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے ایسے جانوروں سے بھی ظاہر ہو جاتی ہے جو جرأت کی وجہ سے مشہور نہیں ہیں مثلاً مرغی ان جانوروں میں سے نہیں ہے کہ جو جرأت کی صفت سے متصف ہیں بلکہ نہایت ڈرپوک جانور ہے مگر بعض اوقات جب بلی یا چیل اس کے بچوں پر حملہ کرے تو یہ اپنی چونچ سے اس کا مقابلہ کرتی ہے۔ اور بعض اوقات تو ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ چیل مرغی کا بچہ اٹھا کر لے گئی تو وہ اس کے پیچھے اس زور سے کودی کہ دو دو گز تک اس کا مقابلہ کیا۔ حالانکہ مرغی لڑنے والے جانوروں میں سے نہیں ہے۔ مرغی تو خیر پھر بھی بڑا جانور ہے چڑیا تک اپنے سے کئی کئی گنے جانوروں کے مقابلہ کے لئے تیار ہو جاتی ہے مگر یہ اسی وقت ہوتا ہے جب وہ دیکھ لے کہ اب کوئی مفرّ نہیں اور میری یا میرے بچوں کی خیر نہیں۔ جب جانوروں میں اس قدر عقل ہے کہ وہ جب مصیبت اور بلا میں گھر جاتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ اب سوائے موت کے اور کوئی صورت نہیں تو وہ لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتے ہیں اور حتّی الوسع دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں تو انسان جو اشرف المخلوقات ہے وہ اس صفت سے کب محروم رہ سکتا ہے چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ بعض انسان جو معمولی اوقات میں نہایت بزدل اور کمزور ثابت ہوئے تھے جب کسی ایسی مصیبت میں پھنس گئے کہ اس سے نکلنا ان کی عقل میں محالات سے تھا تو انہوں نے اپنے دشمنوں کا ایسی سختی سے مقابلہ کیا کہ ان پر غالب آگئے اور جیت گئے اور ایسی جرأت دکھائی کہ دوسرے مواقع میں بڑے بڑے دلیروں سے بھی نہ ظاہر ہوتی تھی۔ پس ایک جرأت وہ ہوتی ہے جو انقطاع اسباب کے وقت ظاہر ہوتی ہے اور بزدل کو بہادر اور ضعیف کو توانا اور ڈرپوک کو دلیر بنا دیتی ہے مگر یہ کوئی اعلیٰ درجہ کی صفت نہیں کیونکہ اس میں چھوٹے بڑے ، ادنیٰ اور اعلیٰ سب شریک ہیں قابلِ تعریف جرأت وہ ہے جو ایسے اوقات میں ظاہر ہو کہ اسباب کا انقطاع نہ ہوا ہو۔ بہت کچھ امیدیں ہوں۔ بھاگنے اور بچنے کے راستے کھلے ہوں یعنی انسان اپنی مرضی سے جان بوجھ کر کسی خطرہ کی جگہ میں چلا جائے نہ یہ کہ اتفاقاً کوئی مصیبت سر پر آپڑی تو اس پر صبر کر کے بیٹھ رہے۔
اب دیکھنا چاہئے کہ رسولِ کریم ﷺ سے جو اس وقت جرأت کا اظہار ہوا ہے تو یہ جرأت دوسری قسم کی ہے اگر آپ اتفاقاً کہیں جنگل میں دشمن کے نرغہ میں آجاتے اور اس وقت جرأت سے اس کا مقابلہ کرتے تو وہ اور بات ہوتی اور یہ اور بات تھی کہ آپؐ رات کے وقت تن تنہا بغیر کسی محافظ دستہ کے دشمن کی خبر لینے کو نکل کھڑے ہوئے۔ اگر آپؐ نہ جاتے تو آپؐ مجبور نہ تھے۔ ایسے وقت میں باہر نکلنا افسروں کا کام نہیں ہوتا۔ صحابہؓ آپؐ خبر لاتے اور اگر جانا ہی تھا تو آپؐ دوسروں کا انتظار کر سکتے تھے مگر وہ قوی دل جس کے مقابلہ میں شیر کا دل بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتا اس بات کی کیا پرواہ کرتا تھا۔ شور کے سنتے ہی گھوڑے پر سوار ہو کر خبر لانے کو چل دیئے اور ذرا بھی کسی قسم کا تردّد یا فکر نہیں کیا۔
دوسرا امر جو اس واقعہ کو ممتاز کر دیتا ہے یہ ہے کہ آپؐ نے ایسے وقت میں ایسا گھوڑا لیا جس پر سواری کے آپ عادی نہ تھے حالانکہ ہر ایک گھوڑے پر سوار ہونا ہر ایک آدمی کا کام نہیں ہوتا۔ ایسے خطرہ کے وقت ایک ایسے تیز گھوڑے کو لے کر چلے جانا جو اپنی سختی میں مشہور تھا یہ بھی آپؐ کی خاص دلیری پر دلالت کرتا ہے۔ تیسرا امر جو اس واقعہ کو عام جرأت کے کارناموں سے ممتاز کرتا ہے وہ آپؐ کی حیثیت ہے۔ اگر کوئی معمولی سپاہی ایسا کام کرے تو وہ بھی تعریف کے قابل تو ہو گا مگر ایسا نہیں ہو سکتا جیسا کہ افسر و بادشاہ کا فعل۔ کیونکہ اس سپاہی کو وہ خطرات نہیں جو بادشاہ کو ہیں۔ اول تو سپاہی کو مارنے یا گرفتار کرنے کی ایسی کوشش نہیں کی جاتی جتنی بادشاہ یا امیر کے گرفتار کرنے یا مارنے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ اس کے مارنے یا قید کر لینے سے فیصلہ ہی ہو جاتا ہے۔ دوسرے سپاہی اگر مارا جائے تو چنداں نقصان نہیں بادشاہ کی موت ملک کی تباہی کا باعث ہوتی ہے۔ پس باوجود ایک بادشاہ کی حیثیت رکھنے کے آپؐ کا اس وقت دشمن کی تلاش میں جانا ایک ایسا ممتاز فعل ہے جس کی نظیر نہیں مل سکتی۔
رسول کریم ﷺ ہی دنیا کے لئے ایک کامل نمونہ ہو سکتے ہیں کیونکہ آپؐ ہر ایک امر میں دوسرے انسانوں سے افضل ہیں اور ہر ایک نیکی میں دوسروں کے لئے رہنما ہیں۔ ہر ایک پاک صفت آپ میں پائی جاتی ہے اور آپؐ کا کمال دیکھ کر آنکھیں چندھیا جاتی ہیں اور آپؐ کے نور سے دل منور ہو جاتے ہیں۔ علماء میں آپؐ سر بر آوردہ ہیں۔ متقیوں میں آپؐ افضل ہیں۔ انبیاء میں آپؐ سردار ہیں۔ ملک داری میں آپ کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ جرأت میں آپؐ فردِ وحید ہیں۔ غرض کہ ہر ایک امر میں آپؐ خاتم ہیں اور آپؐ کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
میں نے پیچھے آپؐ کی جرأت کا ایک واقعہ بیان کیا تھا کہ کس طرح آپؐ سب صحابہؓ سے پہلے خطرہ کے معلوم کرنے اور دشمن کی خبر لینے کے لئے تنِ تنہا چلے گئے۔ اب میں ایک اور واقعہ بیان کرتا ہوں جس سے پڑھنے والے کو خوب اچھی طرح سے معلوم ہو جائے گا کہ جو کرشمے بہادری اور جرأت کے آپؐ نے دکھلائے وہ کوئی اور انسان نہیں دکھا سکتا۔
جو لوگ جنگ کی تاریخ سے واقف و آگاہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ دشمن کا سب سے زیادہ زور افسروں اور جرنیلوں کو نقصان پہنچانے پر خرچ ہوتا ہے اور سب سے زیادہ اسی بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ سردارِ لشکر اور اس کے سٹاف کو قتل و ہلاک کر دیا جائے اور یہ اصل ایسی ہے کہ پرانے زمانہ سے اس پر عمل ہوتا چلا آیا ہے بلکہ پرانے زمانہ میں تو جنگ کا دارومدار ہی اس پر تھا کہ افسر کو
قتل یا قید کر لیا جائے۔ اور اس کی زیادہ تر وجہ یہ تھی کہ پچھلے زمانہ میں خود بادشاہ میدانِ جنگ میں آتے تھے اور آپ ہی فوج کی کمان کرتے تھے اس لئے ان کا قتل یا قید ہو جانا بالکل شکست کے مترادف ہوتا تھا اور بادشاہ کے ہاتھ سے جاتے رہنے پر فوج بے دل ہو جاتی تھی اور اس کے قدم اکھڑ جاتے تھے اور اس کی مثال ایسی ہی ہو جاتی تھی جیسے بے سر کا جسم۔ کیونکہ جس کی خاطر لڑتے تھے وہی نہ رہا تو لڑائی سے کیا فائدہ۔ پس بادشاہ یا سردار کا قتل یا قید کر لینا بڑی سے بڑی شکستوں سے زیادہ مفید اور نتائج قطعیہ پر منتج تھا اس لئے جس قدر خطرہ بادشاہ کو ہوتا تھا اتنا اور کسی انسان کو نہ ہوتا۔
اس بات کو جو شخص اچھی طرح سمجھ لے اسے ذیل کا واقعہ محوِ حیرت بنا دینے کے لئے کافی ہے عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ لَهُ رَجُلٌ اَفَرَرْتُمْ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لَكِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَفِرَّ إِنَّ هَوَازِنَ كَانُوْا قَوْمًا رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا لَقِيْنَا هُمْ حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ فَانْهَزَمُوْافَا قْبَلَ الْمُسْلِمُوْنَ عَلَى الْغَنَائِمِ وَاسْتَقْبَلُوْنَا بِاسِهَامٍ فَاَمَّا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَفِرَّ فَلَقَدْ رَاَيْتُهُ وَإِنَّهُ لَعَلىٰ بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَإِنَّ اَبَا سُفْيَانَ اٰخِذٌ بِلِجَا مِهَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ اَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ ۔ اَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبْ(بخاری کتاب الجہاد باب من قاد دابة غیرہ فی الحرب)
براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ آپ سے کسی نے کہا کہ کیا تم لوگ جنگ حنین کے دن رسول کریمؐ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ آپؓ نے جواب میں کہا کہ رسول کریم اللہﷺ نہیں بھاگے۔ ہوازن ایک تیر انداز قوم تھی اور تحقیق ہم جب ان سے ملے تو ہم نے ان پر حملہ کیا اور وہ بھاگ گئے۔ ان کے بھاگنے پر مسلمانوں نے ان کے اموال جمع کرنے شروع کئے لیکن ہوازن نے ہمیں مشغول دیکھ کر تیر برسانے شروع کئے پس اور لوگ تو بھاگے مگر رسول کریم اللہﷺ نہ بھاگے بلکہ اس وقت میں نے دیکھا تو آپؐ اپنی سفید خچر پر سوار تھے اور ابو سفیان نے آپؐ کے خچر کی لگام پکڑی ہوئی تھی اور آپؐ فرمارہے تھے میں نبیؐ ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے۔ میں عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہوں۔
اس واقعہ کی اہمیت کے روشن کرنے کے لئے میں نے پہلے بتایا تھا کہ بادشاہ لشکر میں سب سے زیادہ خطرہ میں ہوتا ہے کیونکہ جو نقصان بادشاہ کے قتل یا قید کر لینے سے لشکر کو پہنچتا ہے وہ کوئی ہزار سپاہیوں کے مارے جانے سے نہیں پہنچتا۔ پس دشمن کو جس قدر آپ کا تجسّس ہو سکتا تھا اور کسی کا نہیں۔ پس جبکہ اچانک دشمن کا حملہ ہوا اور وہ اپنے پورے زور سے ایک عارضی غلبہ پانے میں کامیاب ہوا اور لشکرِ اسلام اپنی ایک غلطی کی وجہ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوا تو دشمن کے لئے ایک غیر مترقبہ موقع تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ پر حملہ کرتا اور اپنے مدت کے بغض اور عناد کو عملی جامہ پہناتا۔ پس ایسی صورت میں آپؐ کا وہاں کھڑا رہنا ایک نہایت خطرناک امر تھا جو نہایت بہادری اور جرأت چاہتا تھا اور عام عقلِ انسانی اس واقعہ کی تفصیل کو دیکھ کر ہی حیران ہو جاتی ہے کہ کس طرح صرف چند آدمیوں کے ساتھ آپؐ وہاں کھڑے رہے۔
آپؐ کے ساتھ اس وقت بارہ ہزار بہادر سپاہی تھے جو ایک سے ایک بڑھ کر تھا اور سینکڑوں مواقع پر کمال جرأت دکھلا چکا تھا مگر حنین میں کچھ ایسی ابتری پھیلی اور دشمن نے اچانک تیروں کی ایسی بوچھاڑ کی کہ بہادر سے بہادر سپاہی کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ تابِ مقابلہ نہ لا سکا حتّٰی کہ جنگ کا عادی بلکہ میدانِ جنگ کا تربیت یافتہ عرب کا گھوڑا بھی گھبرا کر بھاگا اور بعض صحابہؓ کا بیان ہے کہ اس شدت کا حملہ تھا کہ ہم باوجود کوشش کے نہ سنبھل سکتے تھے اور چاہتے تھے کہ پاؤں جما کر لڑیں مگر قدم نہ جمتے تھے اور ہم اپنے گھوڑوں کو واپس کرتے تھے لیکن گھوڑے نہ لوٹتے اور ہم اس قدر ان کی باگیں کھینچتے تھے کہ گھوڑے دوہرے ہو جاتے تھے مگر پھر آگے کو ہی بھاگتے تھے اور واپس نہ لوٹتے تھے۔ پس اس خطرناک وقت میں جب ایک جرار لشکر پیٹھ پھیر چکا ہو ایک شخص تنِ تنہا صرف چند وفادار خدام کے ساتھ دشمن کے مقابلہ میں کھڑا رہے اور تیروں کی بارش کی ذرا بھی پرواہ نہ کرے تو یہ ایک ایسا فعل نہیں ہو سکتا جو کسی معمولی جرأت یا دلیری کا نتیجہ ہو بلکہ آپؐ کے اس فعل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے سینہ میں ایک ایسا دل رکھتے تھے جو کسی سے ڈرنا جانتا ہی نہ تھا اور خطرناک دشمن کے مقابلہ میں ایسے وقت جبکہ اس کے پاس کوئی ظاہر سامان موجود نہ ہو کھڑا رہنا اس کے لئے ایک معمولی کام تھا اور یہ ایک ایسا دلیرانہ کام ہے ایسی جرأت کا اظہار ہے کہ جس کی نظیر اولین و آخرین کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔
آپؐ (فداہ ابی و امی) خوب جانتے تھے کہ کفارِ عرب کو اگر کسی جان کی ضرورت ہے تو میری جان کی۔ اگر وہ کسی کے دشمن ہیں تو میرے دشمن ہیں۔ اگر وہ کسی کو قتل کرنا چاہتے ہیں تو مجھے۔ مگر باوجود اس علم کے باوجود بے یار و مددگار ہونے کے آپؐ ایک قدم پیچھے نہ ہٹے بلکہ اس خیال سے کہ کہیں خچر ڈر کر نہ بھاگ جائے ایک آدمی کو باگ پکڑوا دی کہ اسے پکڑ کر آگے بڑھاؤ تا یہ بے بس ہو کر بھاگ نہ جائے۔ بےشک چند آدمی آپؐ کے ساتھ اور بھی رہ گئے تھے مگر وہ اول تو اس عشق کی وجہ سے جو انہیں رسول کریمؐ کے ساتھ تھا وہاں کھڑے رہے دوسرے ان کی جان اس خطرہ میں نہ تھی جس میں آنحضرت کی جان تھی۔ پس باوجود کمال دلیری کے آپؐ کی جرأت کا مقابلہ وہ لوگ بھی نہیں کر سکتے جو اس وقت آپؐ کے پاس کھڑے رہے۔ اس جگہ ایک اور بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ایسے وقت میں ایک بہادر انسان اپنی ذلت کے خوف سے جان دینے پر آمادہ بھی ہو جائے اور بھاگنے کا خیال چھوڑ بھی دے تب بھی وہ یہ جرأت نہیں کر سکتا کہ دشمن کو للکارے اور اگر للکارے بھی تو کمال مایوسی کا اظہار کرتا ہے اور جان دینے کے لئے آمادگی ظاہر کرتا ہے مگر آپؐ نے اس خطرناک وقت میں بھی پکار کر کہا کہ میں خدا کا نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں اور میں عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہوں جس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خطرناک وقت میں بھی آپؐ گھبرائے نہیں بلکہ ان لوگوں کو پکار کر سنا دیا کہ میں تو سچا ہوں اور خدا کی طرف سے ہوں تم میرا کیا بگاڑ سکتے ہو۔ پس ایسے خطرناک موقع پر خون کے پیاسے دشمنوں کے مقابلہ میں کھڑا رہنا پھر انہیں اپنی موجودگی کی اطلاع خود نعرہ مار کر دینا پھر کامل اطمینان اور یقین سے فتح کا اظہار کرنا ایسے امور ہیں کہ جن کے ہوتے ہوئے کوئی شخص میرے آقاؐ کے مقابلہ میں جرأت و دلیری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق بادشاہ بھی بنا دیا تھا اور گو آپؐ کے مخالفین نے ناخنوں تک زور مارا مگر خدا کے وعدوں کو پورا ہونے سے کون روک سکتا ہے باوجود ہزاروں بلکہ لاکھوں دشمنوں کے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو اپنے دشمنوں پر فتح دی اور وہ سب آپؐ کے سامنے گردنیں جھکا دینے پر مجبور ہوئے اور انہیں چار و ناچار آپؐ کے آگے سرِ نیاز مندی جھکانا پڑا۔ مختلف ممالک سے زکوٰۃ وصول ہو کر آنے لگی جس کا انتظام آپؐ ہی کرتے تھے مگر جس رنگ میں کرتے تھے اسے دیکھ کر سخت حیرت ہوتی ہے۔
آجکل کے بادشاہوں کو دیکھو کہ وہ لوگوں کا روپیہ کس طرح بےدریغ اڑا رہے ہیں۔ وہ مال جو غرباء کے لئے جمع ہو کر آتا ہے اسے اپنے اوپر خرچ کر ڈالتے ہیں اور ان کے خزانوں کا کوئی حساب نہیں۔ اگر وہ اپنے خاص اموال کو اپنی مرضی کے مطابق خرچ کریں تو ان پر کوئی اعتراض نہ ہو مگر غرباء کے اموال جو صرف تقسیم کرنے کے لئے ان کے سپرد کئے جاتے ہیں ان پر بھی وہ ایسا دست تصرف پھیرتے ہیں کہ جیسے خاص ان کا اپنا مال ہے اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں۔ مگر آنحضرت کا حال بالکل اس کے برخلاف تھا۔ آپ کبھی لوگوں کے اموال پر ہاتھ نہ ڈالتے بلکہ باوجود اپنے لاثانی تقویٰ اور بے نظیر خشیت الٰہی کے آپ لوگوں کے اموال کو اپنے گھر بھی رکھنا پسند نہ کرتے تھے۔ حضرت عقبہؓ فرماتے ہیں کہ صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ مُسْرِعًا يَتَخَطَّىٰ رِقَابَ النَّاسِ إِلَىٰ بَعْضِ حُجَرِ نِسَائِهِ فَفَزِعَ النَّاسُ مِنْ سُرْعَتِهِ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فَرَأَىٰ اَنَّهُمْ عَجِبُوْا مِنْ سُرْعَتِهِ فَقَالَ ذَكَرْتُ شَيْئًا مِنْ تِبْرٍ عِنْدَنَا فَكَرِهْتُ اَنْ يَّحْبِسَنِيْ فَاَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ(بخاری کتاب الصلوٰۃ باب من صلی بالناس فذکر حاجۃ) میں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے مدینے میں عصر کی نماز پڑھی۔ پس آپ نے سلام پھیرا اور جلدی سے کھڑے ہو گئے اور لوگوں کی گردنوں پر سے کودتے ہوئے اپنی بیویوں میں سے ایک کے حجرہ کی طرف تشریف لے گئے۔ لوگ آپؐ کی اس جلدی کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ پس جب باہر تشریف لائے تو معلوم کیا کہ لوگ آپؐ کی جلدی پر متعجب ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ مجھے یاد آگیا کہ تھوڑا سا سونا ہمارے پاس رہ گیا ہے اور میں نے ناپسند کیا کہ وہ میرے پاس پڑا رہے اس لئے میں نے جا کر حکم دیا کہ اسے تقسیم کر دیا جائے۔
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مال کے معاملہ میں نہایت محتاط تھے اور کبھی پسند نہ فرماتے کہ کسی بھول چوک کی وجہ سے لوگوں کا مال ضائع ہو جائے۔ آپؐ کی نسبت یہ تو خیال کرنا بھی گناہ ہے کہ نعوذ باللہ آپ اپنے نفس پر اس بات سے ڈرے ہوں کہ کہیں اس سونے کو میں نہ خرچ کرلوں۔ مگر اس سے یہ نتیجہ ضرور نکلتا ہے کہ آپ اس بات سے ڈرے، کہ کہیں جہاں رکھا ہو وہیں نہ پڑا رہے اور غرباء اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہ جائیں۔ اور اس خیال کے آتے ہی آپؐ دوڑ کر تشریف لے گئے اور فوراً وہ مال تقسیم کروایا اور پھر مطمئن ہوئے۔
اس احتیاط کو دیکھو اور اس بے احتیاطی کو دیکھو جس میں آج مسلمان مبتلا ہو رہے ہیں۔ امانتوں میں کس بے دردی سے خیانت کی جا رہی ہے۔ لوگ کس طرح غیروں کا مال شیرِ مادر کی طرح کھا رہے ہیں۔ حقوق کا اتلاف کس زور و شور سے جاری ہے مگر کوئی نہیں جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے۔ آنحضرت ﷺ جیسا پاک انسان جس پر گناہ کا شبہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ غرباء کے اموال کی نسبت ایسی احتیاط کرے کہ ان کا مال استعمال کرنا تو الگ رہا اتنا بھی پسند نہ فرمائے کہ اسے اپنے گھر میں پڑا رہنے دے اور اب گھر میں رکھنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے پاس اپنے اموال رکھوائیں تاہم پھر انہیں واپس نہ دیں۔ کاش ہمارے رؤساء اس نکتہ کو سمجھتے اور آنحضرت ﷺ کی پیروی اختیار کرتے جو باوجود معصوم ہونے کے اپنے نفس پر ایسا محاسبہ رکھتے کہ ذرہ سی غفلت میں بھی نہ پڑنے دیتے اور یہ لوگ دیکھتے کہ ہم تو اپنے نفوس پر ایسے قابو یافتہ نہیں پھر بغیر کسی حساب کے لوگوں کے اموال کو جمع کرنا ہمارے لئے کیسا خطرناک ہوگا مگر اس طرف قطعاً توجہ نہیں اور کل روپیہ بجائے غرباء کی خبرگیری کے اپنے ہی نفس پر خرچ کر دیتے ہیں اور جن کے لئے روپیہ جمع کیا جاتا ہے اور جن پر خرچ کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے بادشاہوں کو دیا ہے ان کی کوئی خبر ہی نہیں لیتا۔ آنحضرت ﷺ کا یہ فعل ہمیشہ کے لئے مسلمان بادشاہوں کے لئے ایک نمونہ ہے جس پر عمل کرنے سے وہ فلاح دارین پاسکتے ہیں۔ اگر رعایا کو یقین ہو جائے کہ ان کے اموال بے جا طور سے نہیں خرچ کئے جاتے تو وہ اپنے بادشاہ کے خلاف سازشوں کی مرتکب نہ ہو مگر ہمارے بادشاہوں نے اپنے حقوق کو آنحضرت ﷺ کے حقوق سے کچھ زیادہ ہی سمجھ لیا ہے اور اپنے نفس پر آپ سے بھی زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔
پچھلے واقعہ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایسا محتاط تھے کہ غرباء کا مال جبتک ان کے پاس نہ پہنچ جائے آپ کو آرام نہ آتا اور آپ کسی کے حق کے ادا کرنے میں کسی قسم کی سستی یا دیر کو روانہ رکھتے۔ لیکن وہ واقعہ جو میں آگے بیان کرتا ہوں ثابت کرتا ہے کہ آپؐ اموال کی تقسیم میں بھی خاص احتیاط سے کام لیتے اور ایسا کوئی موقع نہ آنے دیتے کہ لوگ کہیں کہ آپ نے اموال کو خود اپنے ہی لوگوں میں تقسیم کر دیا۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں اَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا شَكَتْ مَا تَلْقٰى مِنْ اَثَرِ الرَّحَا فَاَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ سَبْيٌ فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ فَوَجَدَتْ عَائِشَةَ فَاَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ اَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيْئِ فَاطِمَةَ قَالَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ اِلَيْنَا وَ قَدْ اَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْتُ لِاَقُوْمَ قَالَ عَلٰى مَكَانِكُمَا فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتّٰى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلٰى صَدْرِيْ وَ قَالَ اَلَا اُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِّمَّا سَاَلْتُمَانِيْ اِذَا اَخَذْ تُمَا مَضَاجِعَكُمَا تُكَبِّرَا اَرْبَعًا وَّ ثَلَاثِيْنَ وَ تُسَبِّحَا ثَلَاثًا وَّ ثَلَاثِيْنَ وَ تَحْمَدَا ثَلَاثَةً وَّ ثَلَاثِيْنَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمَا مِنْ خَادِمٍ(بخاری کتاب المناقب باب مناقب علی بن ابی طالبؓ) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے شکایت کی کہ چکی پیسنے سے انہیں تکلیف ہوتی ہے۔ اسی عرصہ میں آنحضرت ﷺ کے پاس کچھ غلام آئے۔ پس آپ آنحضرتؐ کے پاس تشریف لے گئیں لیکن آپؐ کو گھر پر نہ پایا اس لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنی آمد کی وجہ سے اطلاع دے کر گھر لوٹ آئیں۔
جب آنحضرت ﷺ گھر تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ نے جنابؐ کو حضرت فاطمہ کی آمد کی اطلاع دی جس پر آپؐ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے میں نے آپ کو آتے دیکھ کر چاہا کہ اٹھوں مگر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ پر لیٹے رہو۔ پھر ہم دونوں کے درمیان آکر بیٹھ گئے یہاں تک کہ آپؐ کے قدموں کی خنکی میرے سینہ پر محسوس ہونے لگی۔ جب آپؐ بیٹھ گئے تو آپؐ نے فرمایا کہ میں تمہیں کوئی ایسی بات نہ بتادوں جو اس چیز سے جس کا تم نے سوال کیا ہے بہتر ہے اور وہ یہ کہ جب تم اپنے بستروں پر لیٹ جاؤ تو چونتیس دفعہ تکبیر کہو اور تینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہو اور تینتیس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہو پس یہ تمہارے لئے خادم سے اچھا ہو گا۔
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اموال کی تقسیم میں ایسے محتاط تھے کہ باوجود اس کے کہ حضرت فاطمہؓ کو ایک خادم کی ضرورت تھی اور چکی پیسنے سے آپ کے ہاتھوں کو تکلیف ہوتی تھی مگر پھر بھی آپؐ نے ان کو خادم نہ دیا بلکہ دعا کی تحریک کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی متوجہ کیا۔ آپؐ اگر چاہتے تو حضرت فاطمہؓ کو خادم دے سکتے تھے کیونکہ جو اموال تقسیم کے لئے آپؐ کے پاس آتے تھے وہ بھی صحابہؓ میں تقسیم کرنے کے لئے آتے تھے اور حضرت علیؓ کا بھی ان میں حق ہو سکتا تھا اور حضرت فاطمہؓ بھی اس کی حقدار تھیں لیکن آپؐ نے احتیاط سے کام لیا اور نہ چاہا کہ ان اموال میں سے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو دے دیں کیونکہ ممکن تھا کہ اس سے آئندہ لوگ کچھ کا کچھ نتیجہ نکالتے اور بادشاہ اپنے لئے اموال الناس کو جائز سمجھ لیتے پس احتیاط کے طور پر آپؐ نے حضرت فاطمہؓ کو ان غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو آپؐ کے پاس اس وقت بغرضِ تقسیم آئیں کوئی نہ دی۔
اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جن اموال میں آپؐ کا اور آپ کے رشتہ داروں کا خدا تعالیٰ نے حصہ مقرر فرمایا ہے ان سے آپؐ خرچ فرما لیتے تھے اور اپنے متعلقین کو بھی دیتے تھے ہاں جب تک کوئی چیز آپؐ کے حصہ میں نہ آئے اسے قطعاً خرچ نہ فرماتے اور اپنے عزیز سے عزیز رشتہ داروں کو بھی نہ دیتے۔ کیا دنیا کسی بادشاہ کی مثال پیش کر سکتی ہے جو بیت المال کا ایسا محافظ ہو۔ اگر کوئی نظیر مل سکتی ہے تو صرف اسی پاک وجود کے خدام میں سے۔ ورنہ دوسرے مذاہب اس کی نظیر نہیں پیش کر سکتے۔
مذکورہ بالا واقعات سے روزِ روشن کی طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نہایت محتاط تھے اور ہر معاملہ میں کمال احتیاط سے کام کرتے تھے خصوصاً اموال کے معاملہ میں آپؐ نہایت احتیاط فرماتے کہ کسی کا حق نہ مارا جائے اور عارضی طور پر بھی لوگوں کو حق رسی میں دیر کرنا پسند نہ فرماتے بلکہ فوراً غرباء کو حقوق دلوا دیتے تھے۔ اب میں اسی امر کی شہادت کے لئے ایک اور واقعہ بیان کرتا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کے اموال کا خیال رکھنے کے علاوہ ان کے ایمانوں کا بھی خیال رکھتے تھے اور کبھی ایسے چندوں کو قبول نہ فرماتے جو بعد میں کسی وقت چندہ دہندگان کے لئے وبالِ جان ثابت ہوں یا کسی وقت اسے افسوس ہو کہ میں نے کیوں فلاں مال اپنے ہاتھ سے کھو دیا آج اگر میرے پاس ہو تا تو میں اس سے فائدہ اٹھاتا۔
مکہ میں جب تکالیف بڑھ گئیں اور ظالموں کے ظلموں سے تنگ آکر آنحضرت ﷺ کو پہلے اپنے صحابہؓ کو دوسرے ممالک میں نکل جانے کا حکم دینا پڑا اور بعد ازاں خود بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنا وطن عزیز ترک کر کے مدینہ کی طرف ہجرت اختیار کرنی پڑی تو آپؐ پہلے مدینہ سے کچھ فاصلہ پر بنی عمرو بن عوف کے مہمان رہے اور دس دن سے کچھ زیادہ وہاں ٹھہرے اس کے بعد آپؐ مدینہ تشریف لائے اور چونکہ یہاں مستقل طور پر رہنا تھا اس لئے مکانات کی بھی ضرورت تھی اور سب سے زیادہ ایک مسجد کی ضرورت تھی جس میں نماز پڑھی جائے اور سب مسلمان وہاں اکٹھے ہو کر اپنے رب کا نام لیں اور اس کے حضور میں اپنے عجز و انکسار کا اظہار کریں اور آنحضرت ﷺ جو ہر وقت اللہ تعالیٰ ہی کے خیال میں رہتے تھے اور آپ کا ہر ایک فعل عظمت الٰہی کو قائم کرنے والا تھا آپؐ کو ضرور بالضرور سب سے پہلے تعمیر مسجد کا خیال پیدا ہونا چاہئے تھا۔ چنانچہ جب آپؐ مدینہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے آپ نے جو کام کیا وہ یہی تھا کہ آپؐ اپنے محبوب و مطلوب کے ذکر کا مقام اور اس کے حضور گرنے اور عبادت کرنے کی جگہ تیار کریں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور ہمارے مطاع و آقا خاتم النبیین ﷺ کی زوجہ مطہرہ تھیں آپ نے ایک طویل حدیث میں تمام واقعہ ہجرت مفصل بیان فرمایا ہے۔ آپ فرماتی ہیں فَلَبِثَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ بَنِیْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً وَّأُسِّسَ الْمَسْجِدُ الَّذِيْ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰی وَ صَلّٰی فِيْهِ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَسَارَ يَمْشِیْ مَعَهُ النَّاسُ حَتّٰی بَرَكَتْ عِنْدَ مَسْجِدِ الرَّسُوْلِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِيْنَةِ وَ هُوَ يُصَلِّیْ فِيْهِ يَوْمَئِذٍ رِجَالٌ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ كَانَ مِرْبَدًا لِّلتَّمْرِ لِسُهَيْلٍ وَّسَهْلٍ غُلَامَيْنِ يَتِيْمَيْنِ فِيْ حَجْرِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ هٰذَا إِنْ شَآءَ اللّٰهُ الْمَنْزِلُ ثُمَّ دَعَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُلَامَيْنِ فَسَاوَمَهُمَا بِالْمِرْبَدِ لِيَتَّخِذَهُ مَسْجِدًا فَقَالَا بَلْ نَهَبُهُ لَكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ فَأَبَى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَّقْبَلَهُ مِنْهُمَا هِبَةً حَتّٰى ابْتَاعَهُ مِنْهُمَا ثُمَّ بَنَاهُ مَسْجِدًا(بخاری باب هجرة النبی صلی الله علیه وسلم واصحابه الى المدينة)
نبی کریم ﷺ بنی عمرو بن عوف میں کچھ دن ٹھہرے۔ دس دن سے کچھ اوپر اور اس مسجد کی بنیاد رکھی جس کی نسبت قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی اور اس میں رسول کریم ﷺ نے نماز پڑھی پھر آپ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور آپ کے ساتھ لوگ پا پیادہ چلنے لگے۔ آپ کی اونٹنی چلتی گئی یہاں تک کہ وہ مدینہ کے اس مقام پر پہنچ کر بیٹھ گئی جہاں بعد میں مسجد نبوی تیار کی گئی اور اس وقت وہاں مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے۔ اس مقام پر کھجوریں سکھائی جاتی تھیں اور وہ دو یتیم لڑکوں کا تھا جن کا نام سہیل اور سہل تھا اور جو سعد بن زرارہ ؓ کی ولایت میں پلتے تھے۔ جب یہاں آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی تو آپ نے فرمایا کہ انشاء اللہ یہاں ہی ٹھہریں گے۔ پھر رسول کریم ﷺ نے ان دونوں لڑکوں کو بلوایا اور ان سے چاہا کہ اس جگہ کی قیمت طے کرکے انہیں قیمت دے دیں تاکہ وہاں مسجد بنائیں۔ اور دونوں لڑکوں نے جواب میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم قیمت نہیں لیتے بلکہ آپ کو ہبہ کرتے ہیں مگر رسول اللہ ﷺ نے ہبہ لینے سے انکار کیا اور آخر قیمت دے کر اس جگہ کو خرید لیا۔
اس حدیث سے ایک بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ مدینہ میں داخل ہوتے ہی پہلا خیال آپ کو یہی آیا کہ مسجد بنائیں اور پہلے آپ نے اس کے لئے کوشش شروع کی اور آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا جو جوش تھا اس کا کسی قدر پتہ اس واقعہ سے لگ جاتا ہے۔ دوسرے یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ آپ معاملات میں کیسے محتاط تھے۔
اہل مدینہ نے بار بار درخواست کرکے آپ کو بلایا تھا اور خود جا کر عرض کی تھی کہ آپ ہمارے شہر میں تشریف لائیں اور ہم آپ کو اپنے سر آنکھوں پر بٹھائیں گے اور جان و مال سے آپ کی خدمت کریں گے اور جہاں تک ہماری طاقت ہوگی آپ کو آرام پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ غرض کہ بار بار کی درخواستوں اور اصرار کے بعد آپ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت تشریف لائے اور مدینہ والوں کا فرض تھا کہ آپ کو جگہ دیتے اور حق مہمان نوازی ادا کرتے اور مسجد بھی تیار کراتے اور آپؐ کی رہائش کے لئے بھی مکان کا بندوبست کرتے اور وہ لوگ حق کو سمجھتے بھی تھے اور ہر طرح خدمت کے لئے حاضر تھے مگر چونکہ آپؐ کے تمام کام اللہ تعالیٰ کے سپرد تھے اور ہر ایک فعل میں آپؐ اسی پر اتکال کرتے تھے اس لئے آپؐ نے اپنی رہائش کے لئے ایسی جگہ کو پسند کیا جہاں اللہ تعالیٰ آپؐ کو رکھنا پسند کرے اور بجائے خود جگہ پسند کرنے کے اپنی اونٹنی کو چھوڑ دیا کہ خدا تعالیٰ جہاں اسے کھڑا کرے وہیں مسجد بنائی جائے اور وہیں رہائش کا مکان بنایا جائے ۔ اب جس جگہ آپؐ کی اونٹنی کھڑی ہوئی وہ دو یتیموں کی جگہ تھی اور وہ بھی آپؐ کے خدام میں تھے اور ہر طرح آپؐ پر اپنا جان و مال قربان کرنے کے لئے تیار تھے اور بطور ہبہ کے وہ زمین پیش کرتے تھے مگر با وجود اس کے کہ آپؐ اہل مدینہ کے مہمان تھے اور وہ لڑکے مہمان نوازی کے ثبوت میں آپؐ کو وہ زمین مفت دینا چاہتے تھے آپؐ نے اس کے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اس کی وجہ وہ احتیاط تھی جو آپؐ کے تمام کاموں میں پائی جاتی تھی۔
اول تو آپؐ یہ نہ چاہتے تھے کہ وہ نابالغ بچوں سے بغیر معاوضہ کے زمین لیں کیونکہ ممکن تھا کہ وہ بچپن کے جوش و خروش میں آپؐ کی خدمت میں زمین پیش کر دیتے لیکن بڑے ہو کر ان کے دل میں افسوس ہوتا کہ اگر وہ زمین ہم بیچ دیتے یا اس وقت ہمارے پاس ہوتی تو وہ زمین یا اس کی قیمت ہمارے کام آتی اور ہماری معیشت کا سامان بنتی۔ اس احتیاط کی وجہ سے اس خیال سے کہ ابھی یہ بچے ہیں اور اپنے نفع و نقصان کو نہیں سمجھ سکتے آپؐ نے اس زمین کے مفت لینے سے بالکل انکار کر دیا۔ گو وہ لڑکے اپنے ایمان کے جوش میں زمین ہبہ کر رہے تھے اور اگر آپؐ اسے قبول کر لیتے تو بجائے افسوس کرنے کے وہ اس پر خوش ہوتے کیونکہ صحابہؓ کی زندگیوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بچے بھی جوانوں سے کم نہ تھے اور چودہ پندرہ سال تک کے بچے مال تو کیا جان دینے کے لئے تیار ہو جاتے چنانچہ بدر کی جنگ میں دو ایسے بچے بھی شامل ہوئے تھے۔ پس باوجود اس کے کہ وہ بچے تھے اور ابھی کم سن تھے مگر بظاہر حالات ان کے ایمانوں کے اندازہ کرنے سے کہا جا سکتا تھا کہ وہ اس پر کبھی متأسف نہ ہوں گے مگر پھر بھی رسول کریم ﷺ نے مناسب نہ جانا کہ امکانی طور پر بھی ان کو ابتلاء میں ڈالا جائے اور اسی بات پر اصرار کیا کہ وہ قیمت وصول کریں اور اگر چاہیں تو اپنی زمین فروخت کر دیں ورنہ آپؐ نہیں لیں گے۔ آخر آپؐ کے اصرار کو دیکھ کر ان بچوں اور ان کے والیوں نے قیمت لے لی اور وہ زمین آپؐ کے پاس فروخت کر دی۔ آجکل دیکھا جاتا ہے کہ یتامیٰ سے بھی لوگ چندہ وصول کرتے ہیں اور بالکل اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ شاید ان کو بعد ازاں تکلیف ہو اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بالکل خدا کا خوف نہیں کرتے مگر رسول کریمؐ نے اپنے طریق عمل سے بتا دیا کہ باوجود اس کے کہ آپؐ حقدار تھے اور اہل مدینہ کے مہمان تھے آپؐ نے ان یتامیٰ سے بغیر قیمت زمین لینے سے انکار کر دیا اور باصرار قیمت ان کے حوالہ کی۔ افسوس کہ کامل اور اکمل نمونہ کے ہوتے ہوئے مسلمانوں نے اپنے عمل میں سستی کر دی ہے اور یتامیٰ کے اموال کی قطعاً کوئی حفاظت نہیں کی جاتی۔ ان کے اموال کی حفاظت تو الگ رہی خود محافظ ہی یتامیٰ کے مال کھا جاتے ہیں اور اس احتیاط کے قریب بھی نہیں جاتے جس کا نمونہ رسول کریمؐ نے دکھایا ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ(2:157)۔
یتامیٰ کے اموال کے لینے سے رسول کریمؐ نے جس احتیاط سے انکار کر دیا اور باوجود اصرار کے مسجد کے لئے بھی زمین کا لینا پسند نہ کیا وہ تو پچھلے واقعہ سے ظاہر ہے۔ اب ایک اور واقعہ اسی قسم کا لکھتا ہوں۔ ہوازن کے ساتھ جب رسول کریم ﷺ کا مقابلہ ہوا تو ان کے بہت سے مرد اور عورتیں قید ہوئے اور بہت سا مال بھی صحابہؓ کے قبضہ میں آیا۔ چونکہ آنحضرتؐ نہایت رحیم و کریم انسان تھے اور ہمیشہ اس بات کے منتظر رہتے کہ لوگوں پر رحم فرمائیں اور انہیں کسی مشقت میں نہ ڈالیں۔ آپؐ نے نہایت احتیاط سے کام لیا اور کچھ دن تک انتظار میں رہے کہ شاید قبیلہ ہوازن کے لوگ آکر عفو طلب کریں تو ان کے اموال اور قیدی واپس کر دیئے جائیں مگر انہوں نے خوف سے یا کسی باعث سے آپؐ کے پاس آنے میں دیر لگائی تو آپؐ نے اموال و قیدی بانٹ دیئے۔ اس واقعہ کو امام بخاریؒ نے مفصل بیان کیا ہے۔ مِسْوَر بن مَخْرَمَہؓ کی روایت ہے۔ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَامَ حِيْنَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِيْنَ فَسَأَلُوْهُ اَنْ يَّرُدَّ اِلَيْهِمْ اَمْوَالَهُمْ وَ سَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ اَحَبُّ الْحَدِيْثِ اِلَىَّ اَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوْا اِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ اِمَّا السَّبْىَ وَاِمَّا الْمَالَ وَ قَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِكُمْ وَ قَدْ كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِيْنَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ اِلَيْهِمْ اِلَّا اِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِيْنَ فَاَثْنٰى عَلَى اللّٰهِ تَعَالٰى بِمَا هُوَ اَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ اَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ اِخْوَانَكُمْ هٰؤُلَاءِ قَدْ جَاءُوْنَا تَائِبِيْنَ وَ اِنِّىْ قَدْ رَأَيْتُ اَنْ اَرُدَّ اِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ فَمَنْ اَحَبَّ مِنْكُمْ اَنْ يُّطَيِّبَ بِذٰلِكَ فَلْيَفْعَلْ وَ مَنْ اَحَبَّ مِنْكُمْ اَنْ يَّكُوْنَ عَلٰى حَظِّهِ حَتّٰى نُعْطِيَهُ اِيَّاهُ مِنْ اَوَّلِ مَا يُفِيْئُ اللّٰهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذٰلِكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ لَهُمْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنَّا لَا نَدْرِىْ مَنْ اَذِنَ مِنْكُمْ فِىْ ذٰلِكَ مِمَّنْ لَّمْ يَاْذَنْ فَارْجِعُوْا حَتّٰى يَرْفَعَ اِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ اَمْرَكُمْ فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ثُمَّ رَجَعُوْا اِلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَخْبَرُوْهُ اَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوْا وَ اَذِنُوْا ۔(بخاری کتاب الوکالہ باب اذا وهب شيئا لوكيل)
ترجمہ :۔ جب وفد ہوازن بحالت قبول اسلام آنحضرت ﷺ کے پاس آیا آپؐ کھڑے ہوئے۔ ہوازن کے ڈیپوٹیشن کے ممبروں نے آنحضرتؐ سے سوال کیا کہ ان کے مال اور قیدی واپس کئے جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جواب میں فرمایا کہ مجھے سب سے پیاری وہ بات لگتی ہے جو سب سے زیادہ سچی ہو۔ پس میں صاف صاف کہہ دیتا ہوں کہ دونوں چیزیں تمہیں نہیں مل سکتیں۔ ہاں دونوں میں سے جس ایک کو پسند کرو وہ تمہیں مل جائے گی۔ خواہ قیدی آزاد کروالو خواہ اموال واپس لے لو۔ اور میں تو تمہارا انتظار کرتا رہا مگر تم نہ پہنچے۔ اور رسول کریمؐ طائف سے لوٹتے وقت دس سے کچھ اوپر راتیں ان لوگوں کا انتظار کرتے رہے تھے جب انہیں یہ معلوم ہو گیا کہ رسول کریمؐ انہیں صرف ایک ہی چیز واپس کریں گے تو انہوں نے عرض کیا کہ اگر یہی بات ہے تو ہم اپنے قیدی چھڑوانا پسند کرتے ہیں۔ اس پر آنحضرتؐ مسلمانوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنے کے بعد فرمایا کہ سنو تمہارے ہوازن کے بھائی تائب ہو کر تمہارے پاس آئے ہیں اور میری رائے ہے کہ میں ان کے قیدی انہیں واپس کردوں۔ پس جو کوئی تم میں سے یہ پسند کرے کہ اپنی خوشی سے غلام آزاد کردے تو وہ ایسا کردے۔ اور اگر کوئی یہ چاہے کہ اس کا حصہ قائم رہے اور جب خدا سب سے پہلی دفعہ ہمیں کچھ مال دے تو اسے اس کا حق ہم ادا کردیں تو وہ اس شرط سے غلام آزاد کر دے۔ لوگوں نے آپؐ کا ارشاد سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم نے آپؐ کے لئے اپنے غلام خوشی سے آزاد کر دیئے مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم تو نہیں سمجھتے کہ تم میں سے کس نے خوشی سے اجازت دی ہے اور کس نے اجازت نہیں دی۔ پس سب لوگ یہاں سے اٹھ کر اپنے خیموں پر جاؤ یہاں تک کہ تمہارے سردار تم سے فیصلہ کر کے ہمارے سامنے معاملہ پیش کریں۔ پس لوگ لوٹ گئے اور ہر قبیلہ کے سردار نے اپنے طور پر گفتگو کی پھر سب سردار رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ سب لوگوں نے دل کی خوشی سے بغیر کسی عوض کی طمع کے اجازت دے دی ہے کہ آپؐ غلام آزاد فرماویں۔
اس جگہ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آنحضرتؐ جس قبیلہ میں پلے تھے اور جس میں سے آپؐ کی دائی تھیں وہ ہوازن کی ہی ایک شاخ تھی۔ پس ایک لحاظ سے ہوازن کے قبیلہ والے آپؐ کے رشتہ دار تھے اور ان سے رضاعت کا تعلق تھا چنانچہ جب وفد ہوازن آنحضرتؐ کی خدمت میں پیش ہوا تو اس میں سے ابوبرقان اسعدی (آنحضرتؐ کی دائی حلیمہ سعد قبیلہ میں سے ہی تھیں) نے آپؐ کی خدمت میں عرض کیا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ اِنَّ فِيْ هٰذِهِ الْحَظَائِرِ اِلَّا اُمَّهَاتُكَ وَخَالَاتُكَ وَحَوَاضِنُكَ وَ مُرْضِعَاتُكَ فَامْنُنْ عَلَيْنَا مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْكَ۔ یا رسول اللہ ان احاطوں کے اندر حضور کی مائیں اور خالہ اور کھلایاں اور دودھ پلائیاں ہی ہیں اور تو کوئی نہیں پس حضورؐ ہم پر احسان فرمائیں اللہ تعالیٰ آپ پر احسان کرے گا۔ پس ہوازن کے ساتھ آپ کا رضاعی تعلق تھا اور اس وجہ سے وہ اس بات کے مستحق تھے کہ آنحضرتؐ ان کے ساتھ نیک سلوک کرتے۔ چنانچہ آپؐ نے اسی ارادہ سے دس دن سے زیادہ تک اموالِ غنیمت کو مسلمانوں میں تقسیم نہیں کیا اور اس بات کے منتظر رہے کہ جونہی ہوازن پشیمان ہو کر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوں اور اپنے اموال اور قیدیوں کو طلب کریں تو آپ واپس فرماویں کیونکہ تقسیم غنائم سے پہلے آپ کا حق تھا کہ آپ جس طرح چاہتے ان اموال اور قیدیوں سے سلوک کرتے خواہ بانٹ دیتے خواہ بیت المال کے سپرد فرماتے۔ خواہ قیدیوں کو آزاد کر دیتے اور مال واپس کر دیتے مگر باوجود انتظار کے ہوازن کا کوئی وفد نہ آیا جو اپنے اموال اور قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کرتا اس لئے مجبوراً دس دن سے زیادہ انتظار کر کے طائف سے واپس ہوتے ہوئے جعرانہ میں آپ نے ان اموال اور غلاموں کو تقسیم کر دیا۔ تقسیم کے بعد ہوازن کا وفد بھی آپہنچا اور رحم کا طلبگار ہوا اور اپنا حق بھی جتا دیا کہ یہ قیدی غیر نہیں ہیں بلکہ جناب کے ساتھ کچھ رشتہ اور تعلق رکھتے ہیں اور اس خاندان کی عورتیں ان قیدیوں میں شامل ہیں جس میں کسی عورت کا حضور نے دودھ بھی پیا ہے اور اس لحاظ سے وہ آپ کی مائیں اور خالائیں اور کھلائیاں اور دائیاں کہلانے کی مستحق ہیں پس ان پر رحم کر کے قیدیوں کو آزاد کیا جائے اور اموال واپس کئے جائیں۔ تقسیم سے پہلے تو حضور ضرور ہی ان کی درخواست کو قبول کر لیتے اور آپؐ کا طریق عمل ثابت کرتا ہے کہ جب کبھی بھی کوئی رحم کا معاملہ پیش ہوا ہے حضور سرور کائناتؐ نے بےنظیر رحم سے کام لیا۔ مگر اب یہ مشکل پیش آگئی تھی کہ اموال و قیدی تقسیم ہو چکے تھے اور جن کے قبضہ میں وہ چلے گئے تھے اب وہ ان کا مال تھا۔ اور گو وہ لوگ اپنی جان و مال کو اس حبیبِ خدا کی مرضی پر قربان کرنے کے لئے تیار تھے اور انہوں نے سینکڑوں موقعوں پر قربان ہو کر دکھا بھی دیا مگر پھر بھی ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ کچھ کمزور اور ناتواں ہوتے ہیں کچھ قوی دل اور دلیر اس لئے حضورؐ نے اس موقع پر نہایت احتیاط سے کام لیا اور بجائے اس کے کہ فوراً صحابہؓ کو حکم دیتے کہ ہوازن سے میرا رضاعی رشتہ ہے تم ان کے اموال اور قیدی رہا کر دو اول تو خود ہوازن کو ہی ملامت کی کہ تم نے دیر کیوں کی اگر تم وقت پر آجاتے تو جس طرح اور عرب قبائل سے سلوک کیا کرتے تھے تم پر بھی احسان کیا جاتا اور تمہارا سب مال اور قیدی تم کو مل جاتے مگر خیر اب تم کو اموال اور قیدیوں میں سے ایک چیز دلوا سکتا ہوں اور اس فیصلہ سے آنحضرتؐ نے گویا نصف بوجھ مسلمانوں پر سے اٹھا دیا اور فیصلہ کر دیا کہ دو میں سے ایک چیز تو انہیں کے ہاتھ میں رہنے دی جائے اور جب ہوازن نے قیدیوں کی واپسی کی درخواست کی تو آپؐ نے پھر بھی مسلمانوں کو سب قیدی واپس کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ کہہ دیا کہ جو چاہے اپنی خوشی سے آزاد کر دے اور جو چاہے اپنا حصہ قائم رکھے۔ آئندہ اللہ تعالیٰ جو سب سے پہلا موقع دے اس پر اس کا قرضہ اتار دیا جائے گا اور اس طرح گویا ان تمام کمزور طبیعت کے آدمیوں پر رحم کیا جو ہر قوم میں پائے جاتے ہیں۔ مگر ہزار آفرین ہے اس جماعت پر جو آنحضرتؐ کی تعلیم سے بنی تھی کہ آپؐ کا ارشاد سنکر ایک نے بھی نہیں کہا کہ ہم آئندہ حصہ لے لیں گے بلکہ سب نے بالاتفاق کہہ دیا کہ ہم نے حضورؐ کی خاطر سب قیدیوں کو خوشی سے رہا کر دیا مگر آپؐ نے اس پر بھی احتیاط سے کام لیا اور حکم دیا کہ پھر مشورہ کر لیں ایسا نہ ہو بعض کی مرضی نہ ہو اور ان کی حق تلفی ہو اپنے اپنے سرداروں کی معرفت اپنے فیصلہ سے اطلاع دو۔ چنانچہ جب قبائل کے سرداروں کی معرفت آنحضرتؐ کو جواب ملا تو تب آپؐ نے غلام آزاد کئے۔ سُبْحَانَ اللّٰہِ کیسی احتیاط ہے اور کیا بے نظیر تقویٰ ہے۔ آپؐ نے یہ بات بالکل برداشت نہ کی کہ کوئی شخص آپؐ پر یہ اعتراض کرے کہ آپؐ نے زبردستی ہوازن کے غلام آزاد کرا دیئے۔ اور چونکہ اس قبیلہ سے آپؐ کا رضاعی تعلق تھا اس لئے آپؐ نے خاص احتیاط سے کام لیا اور بار بار پوچھ کر قیدیانِ ہوازن کو آزادی دی۔
اگر کسی شخص نے سچے مرید اور کامل متبع دیکھنے ہوں تو وہ آنحضرت ﷺ کے صحابہؓ کو دیکھے جو اپنے جان و مال کو رسول کریمؐ کے نام پر قربان کر دینے میں ذرا دریغ نہ کرتے تھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ عضل اور قارہ دو قبیلوں کے کچھ لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہماری قوم اسلام کے قریب ہے آپؐ کچھ آدمی بھیجئے جو انہیں دین اسلام سکھائیں۔ آپؐ نے ان کی درخواست پر چھ صحابہؓ کو حکم دیا کہ وہاں جا کر انہیں اسلام سکھائیں اور قرآن شریف پڑھائیں۔ ان صحابہؓ کا عاصم بن عاصم رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا۔ جب یہ لوگ صحابہؓ کو لے کر چلے تو راستہ میں ان سے شرارت کی اور عہد شکنی کر کے ہذیل قبیلہ کے لوگوں کو اکسایا کہ انہیں پکڑ لیں۔ انہوں نے ایک سو آدمی ان چھ آدمیوں کے مقابلہ میں بھیجا۔ صحابہؓ ایک پہاڑ پر چڑھ گئے۔ کفار نے ان سے کہا کہ وہ اتر آئیں وہ انہیں کچھ نہ کہیں گے۔ حضرت عاصمؓ نے جواب دیا کہ انہیں کافروں کے عہد پر اعتبار نہیں وہ نہیں اتریں گے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ہماری حالت کی رسول اللہ صلعم کو خبر دے۔ مگر چھ میں سے تین آدمی کفار پر اعتبار کر کے اتر آئے۔ مگر جب انہوں نے ان کے ہاتھ باندھنے چاہے تو ایک صحابیؓ نے انکار کر دیا کہ یہ تو خلافِ معاہدہ ہے مگر وہاں معاہدہ کون سنتا تھا اس صحابیؓ کو قتل کر دیا گیا باقی دو میں سے ایک کو صفوان بن امیہ نے جو مکہ کا ایک رئیس تھا خرید لیا اور اپنا غلام کر کے نسطاس کے ساتھ بھیجا کہ حرم سے باہر اس کے دو بیٹوں کے بدلہ قتل کر دے۔ نسطاس نے قتل کرنے سے پہلے ابن الدثنہ رضی اللہ عنہ (اس صحابی) سے پوچھا کہ تجھے خدا کی قسم سچ بتا کہ کیا تیرا دل چاہتا ہے کہ تمہارا رسول اس وقت یہاں ہمارے ہاتھ میں ہو اور ہم اسے قتل کریں اور تو آرام سے اپنے گھر میں اپنے بیوی بچوں میں بیٹھا ہو۔ ابن الدثنہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ محمد (ﷺ) وہاں ہوں جہاں اب ہیں (یعنی مدینہ میں) اور ان کے پاؤں میں کوئی کانٹا چبھے اور میں گھر میں بیٹھا ہوا ہوں۔ اس بات کو سنکر ابو سفیان جو اس وقت تک اسلام نہ لایا تھا وہ بھی متاثر ہو گیا اور کہا کہ میں نے کسی کو کسی سے اتنی محبت کرتے ہوئے نہیں دیکھا جتنی محمد (ﷺ) کے صحابی محمد (ﷺ) سے محبت کرتے تھے۔
یہ وہ اخلاص تھا جو صحابہؓ کو آنحضرت ﷺ سے تھا اور یہی وہ اخلاص تھا جس نے انہیں ایمان کے ہر ایک شعبہ میں پاس کرا دیا تھا اور انہوں نے خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا۔ اے احمدی جماعت کے مخلصو! تم بھی مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک رسولِ کریمؐ اور پھر مامورِ وقت مسیح موعود سے ایسی ہی محبت نہ رکھو۔
جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں آنحضرت ﷺ ہر معاملہ میں نہایت حزم اور احتیاط سے کام لیتے تھے۔ اب میں ایک حدیث نقل کر کے بتانا چاہتا ہوں کہ آپؐ دعائیں بھی نہایت محتاط تھے اور کبھی ایسی دعا نہ کرتے جو یکطرفہ ہو بلکہ ایسی ہی دعا کرتے جس میں تمام پہلو مد نظر رکھے جائیں جیسا کہ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ كَانَ اَكْثَرُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ(بخاری کتاب الدعوات باب قول النبی صلی الله عليه وسلم آتنا فی الدنیا حسنة) یعنی نبی کریمؐ اکثر اوقات یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ ہمیں اس دنیا میں بھی نیکی اور بھلائی دے اور آخرت میں بھی نیکی اور بھلائی عنایت فرما اور عذاب نار سے ہمیں محفوظ رکھ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بھی آپؐ کی اس دعا کا ذکر فرمایا ہے۔ فَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا وَمَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ خَلَاقٍ وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّقُوۡلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّفِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ(البقرہ: ۲۰۱-۲۰۲) یعنی لوگوں میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کرتے ہیں کہ الٰہی اس دنیا کا مال ہمیں مل جائے اور ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ اور کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں اے رب اس دنیا کی بھلائی بھی ہمیں پہنچا اور آخرت کی نیکی بھی ہمیں پہنچا اور آگ کے عذاب سے ہمیں محفوظ رکھ۔
اب اس دعا پر غور کرنے سے پتہ لگ سکتا ہے کہ آپؐ کس قدر احتیاط سے کام فرماتے تھے۔ عام طور پر انسان کا قاعدہ ہے کہ جو مصیبت پڑی ہوئی ہو اسی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور دوسرے تمام امور کو اپنے ذہن سے نکال دیتا ہے اور ایک ہی طرف کا ہو رہتا ہے اور اس وجہ سے اکثر دیکھا گیا بہت سے لوگ حق و حکمت کی شاہراہ سے بھٹک کر کہیں کے کہیں نکل جاتے ہیں اور سچائی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ لیکن آنحضرتؐ ایسے کامل انسان تھے کہ آپؐ مصائب سے گھبرا کر ایک ہی طرف متوجہ نہ ہو جاتے تھے بلکہ ہر وقت کل ضروریات پر آپؐ کی نظر رہتی تھی۔ اور اس دعا سے ہی آپؐ کے اس کمال پر کافی روشنی پڑ جاتی ہے کیونکہ آپؐ صرف دنیا کے مصائب اور مشکلات کو مد نظر نہ رکھتے تھے بلکہ جب دنیاوی مشکلات کے حل کرنے کے لئے اپنے مولا سے فریاد کرتے تو ساتھ ہی مابعد الموت کی جو ضروریات ہیں ان کے لئے بھی امداد طلب کرتے۔ اور جب قیامت کے دل ہلا دینے والے نظاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے لا کر خدا تعالیٰ کی نصرت کے لئے درخواست کرتے تو ساتھ ہی اس دنیا کی مشکلات کے دور کرنے کے لئے بھی جو مزرعۂ آخرت ہے التجا کرتے اور کسی مشکل یا تکلیف کو حقیر نہ جانتے بلکہ نہایت احتیاط سے دنیاوی اور دینی ترقیوں کے لئے بغیر کسی ایک کی طرف سے غافل ہونے کے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہتے۔
علاوہ ازیں اس دعا سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ اپنی دعاؤں کے الفاظ میں بھی نہایت احتیاط برتتے تھے کیونکہ آپؐ نے یہ دعا نہیں کی کہ یا الٰہی ہمیں دین اور دنیا دے بلکہ یہ دعا کی کہ الٰہی ہمیں دین اور دنیا کی بہتری عنایت فرما کیونکہ بعض دفعہ دنیا تو ملتی ہے مگر وہ بجائے فائدہ کے نقصان رساں ہو جاتی ہے۔ اسی طرح دین بھی بعض لوگوں کو ملتا ہے مگر وہ اس کے ملنے کے باوجود کچھ سکھ نہیں پاتے اس لئے آپؐ نے دعا میں یہ الفاظ بڑھا دیئے کہ الٰہی دنیا کی بہتری ہمیں دے۔ یعنی دنیا کے جس حصہ میں بہتری ہو ہمیں وہ ملے ایسا کوئی حصہ دنیا ہمیں نہ ملے جس کے ملنے سے بجائے فائدہ کے نقصان ہو اور آخرت میں بھی ہمیں بھلائی ملے نہ کہ کسی قسم کی برائی کے ہم حقدار ہوں۔
لوگوں کا قاعدہ ہوتا ہے کہ امراء سے فائدہ اٹھانے کے لئے ہزاروں قسم کی تدابیر سے کام لیتے ہیں اور جب ان کے مزاج میں دخل پیدا ہو جاتا ہے تو اپنی منہ مانگی مرادیں پاتے ہیں اور جو کہتے ہیں وہ امراء مان لیتے ہیں۔ مگر آنحضرتؐ ایسے محتاط تھے کہ آپ کے دربار میں بالکل یہ بات نہ چل سکتی تھی۔ آپ کبھی کسی کے کہنے میں نہ آتے تھے اور آپ کے حضور میں باتیں بنا کر اور آپ کو خوش کر کے یا خوشامد سے یا سفارش سے کام نہ چل سکتا تھا۔ آپ کا طریق عمل یہ تھا کہ آپ تمام عہدوں پر ایسے ہی آدمیوں کو مقرر فرماتے تھے جن کو ان کے لائق سمجھتے تھے کیونکہ بصورت دیگر خطرہ ہو سکتا ہے کہ رعایا یا حکومت کو نقصان پہنچے یا خود عُمّال کا ہی دین خراب ہو۔ پس کبھی کسی عہدہ پر سفارش یا درخواست سے کسی کا تقرر نہ فرماتے اور وہ نظارے جو دنیاوی بادشاہوں کے درباروں میں نظر آتے ہیں دربارِ نبوت میں بالکل معدوم تھے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اَقْبَلْتُ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَ مَعِيَ رَجُلاٰنِ مِنَ الْاَشْعَرِيِّيْنَ فَقُلْتُ مَا عَلِمْتُ اَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ فَقَالَ لَنْ اَوْ لَا نَسْتَعْمِلُ عَلٰی عَمَلِنَا مَنْ اَرَادَهٗ(بخاری کتاب الاجارة باب استئجار الرجل الصالح) یعنی میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے ساتھ اشعری قبیلہ کے دو اور آدمی بھی تھے ان دونوں نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ انہیں کوئی ملازمت دی جائے۔ اس پر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے علم نہ تھا کہ یہ کوئی ملازمت چاہتے ہیں۔ آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا کہ ہم اسے جو خود خواہش کرے اپنے عُمّال میں ہرگز نہیں مقرر کریں گے یا فرمایا کہ نہیں مقرر کریں گے۔
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب سرورِ کائنات کو بنی نوع انسان کی بہتری کا کتنا خیال تھا۔ اللہ اللہ یا تو یہ زمانہ ہے کہ حکومتوں کے بڑے سے بڑے عہدے خود درخواست کرنے پر ملتے ہیں یا
آپ کی احتیاط تھی کہ درخواست کرنے والے کو کوئی عہدہ ہی نہیں دیتے تھے۔
در حقیقت اگر غور کیا جائے تو ایک شخص جب کسی عہدہ کی خود درخواست کرتا ہے تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس کی کوئی غرض ہے اور کچھ تعجب نہیں کہ اس عہدہ پر قائم ہو کر وہ لوگوں کو دکھ دے اور ان کے اموال پر دست اندازی کرے۔ مگر جس شخص کو اس کی درخواست کے بغیر کسی عہدہ پر مامور کیا جائے تو اس سے بہت کچھ امید ہو سکتی ہے کہ وہ عدل و انصاف سے کام لے گا اور لوگوں کے حقوق کو تلف نہ کرے گا کیونکہ اسے اس عہدہ کی خواہش ہی نہ تھی بلکہ خود بخود اسے سپرد کیا گیا ہے۔
دوسرے یہ بھی بات ہے کہ جب حاکم یہ فیصلہ کر دے کہ جو شخص خود کسی عہدہ کی درخواست کرے یا کسی سے سفارش کروائے اسے کوئی عہدہ دینا ہی نہیں تو اس سے یہ بڑا فائدہ ہوتا ہے کہ آئندہ کے لئے جائز و ناجائز وسائل سے حکام کے مزاج میں دخل پیدا کرنے کا بالکل سدّ باب ہو جاتا ہے اور خوشامد بند ہو جاتی ہے کیونکہ حکام سے رسوخ پیدا کرنے یا ان کی جھوٹی خوشامد کرنے سے یہی غرض ہوتی ہے کہ کچھ نفع حاصل کیا جائے۔ پس جب حاکم یہ فیصلہ کر دے کہ جو خود درخواست کرے گا اسے کسی عہدہ پر مامور نہ کیا جائے گا تو ان تمام باتوں کا سدّ باب ہو جاتا ہے۔ اور گو آنحضرت ﷺ کا نفس پاک ان عیبوں سے بالکل پاک تھا کہ آپ کی نسبت یہ خیال کیا جا سکے کہ آپ کسی کی بات میں آ جائیں گے مگر آپ نے اس طریق عمل سے مسلمانوں کے لئے ایک نہایت شاندار سڑک تیار کر رکھی ہے جس پر چل کر وہ حکومت کی بہت سی خرابیوں سے بچ سکتے ہیں۔
مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ دوسری قوموں کی نسبت مسلمان حکومتوں میں ہی حکام کے منہ چڑھ کر لوگ بہت فائدہ اٹھاتے ہیں اور سفارشوں سے جو کام نکلتے ہیں وہ لیاقت سے نہیں نکلتے۔ اگر مسلمان حکام اس طرف غور کرتے تو آج اسلامی حکومتوں کا وہ حال نہ ہوتا جو ہے۔ اور پھر آنحضرت جن لوگوں کی نسبت یہ احتیاط برتتے تھے ویسے لوگ بھی تو آجکل نہیں۔ صحابہؓ تو وہ تھے کہ جنہوں نے خدا کی راہ میں اپنے مال اور جانیں بھی لٹا دیں وہ دوسروں کے اموال کی طرف کب نظر اٹھا کر دیکھ سکتے تھے۔ مگر آجکل تو دوسروں کے اموال کو شیرِ مادر سمجھا جاتا ہے۔ پھر جب آنحضرت ﷺ ایسے پاکباز لوگوں کی نسبت بھی ایسے احتیاط برتتے تھے تو آجکل کے زمانہ کے لوگوں کی نسبت تو اس سے بہت زیادہ احتیاط کی جانی چاہئے۔
اس زمانہ میں لوگ عام طور پر تکلف کی عادت میں بہت مبتلا ہیں اور اس زمانہ کی خصوصیت نہیں جو قوم ترقی کر لے اس میں تکلف اپنا دخل کر لیتا ہے۔ دولت اور مال اور عزت کے ساتھ ساتھ تکلف بھی ضرور آموجود ہوتا ہے اور بڑے آدمیوں کو کچھ نہ کچھ تکلف سے کام لینا پڑتا ہے لیکن جو مزا سادگی کی زندگی میں ہے وہ تکلف میں نہیں۔ اور گو تکلف ظاہر میں خوشنما معلوم ہو مگر اندر سے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ذوق نے کیا ہی خوب کہا ہے کہ؎
اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسر
آرام سے ہیں وہ جو تکلف نہیں کرتے
تکلف کی وجہ سے لاکھوں گھرانے برباد ہو جاتے ہیں اور تصنع اور بناوٹ ہزاروں کی بربادی کا باعث ہو چکے ہیں مگر چونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ تکلف کے سوا ہماری عزت نہیں ہوتی برابر اس مرض میں مبتلا چلے جاتے ہیں اور کچھ علاج نہیں کرتے۔ بادشاہ اور امراء یہ سمجھتے ہیں کہ اگر تکلف اور بناوٹ سے ہم اپنی خاص شان نہ بنائے رکھیں گے تو ماتحتوں میں بھی ہماری عزت نہ ہو گی اور اپنے ہم چشموں میں ذلیل ہوں گے اسی لئے بہت سے مواقع پر سادگی کو بر طرف رکھ کر بناوٹ سے کام لیتے ہیں اور ہزاروں موقعوں پر اپنے مافی الضمیر کو بھی بیان نہیں کر سکتے۔ میں ایک مجلس میں شامل ہوا جہاں بہت سے بڑے بڑے لوگ جمع تھے جو اس وقت ہندوستان میں خاص شہرت رکھتے ہیں اور بعض ان میں سے لیڈرانِ قوم کہلاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ہندو تھے کچھ مسلمان۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو ایک بیرسٹر صاحب نے کہا کہ ایک مدت ہو گئی کہ تکلف کے ہاتھوں میں تکلیف اٹھا رہا ہوں۔ ہر وقت بناوٹ سے اپنے آپ کو سنجیدہ بنائے رکھنا پڑتا ہے اور بہت سی باتیں کرنے کو دل چاہتا ہے مگر تکلف مانع ہوتا ہے کیونکہ وہ شان قائم نہیں رہتی مگر اب میں بالکل تنگ آگیا ہوں۔ اس زندگی کا فائدہ کیا۔ ایک دوسرے صاحب بولے کہ بے شک میرا بھی یہی حال ہے اور میں تو اب اس زندگی کو جہنم کا نمونہ پاتا ہوں پھر تو سب نے یہی اقرار کیا اور تجویز ہوئی کہ آج کی مجلس میں تکلف چھوڑ دیا جائے اور بے تکلفی سے آپس میں بات چیت کریں اور بناوٹ نزدیک نہ آئے۔ مگر خدا تعالیٰ انسان کو اس سادگی سے بچائے جو اس وقت ظاہر ہوئی۔ اسے دیکھ کر معلوم ہو سکتا تھا کہ آج دنیا کی کیا حالت ہے کیونکہ جس قوم کے لیڈر یہ نمونہ دکھا رہے تھے اس کے عوام نے کیا کمی رکھی ہو گی۔ کلام ایسا فحش کہ شریف آدمی سن نہ سکے۔ مذاق ایسا گندہ کہ سلیم الفطرت انسان برداشت نہ کر سکے۔ باتوں سے گزر کر ہاتھوں پر آ گئے اور ایک دوسرے کے سر پر چپتیں بھی رسید ہونی شروع ہو گئیں۔ پھر کچھ میوہ کھا رہے تھے اس کی گٹھلیوں کی وہ بوچھاڑ شروع ہوئی کہ الامان۔ میں نے تو سمجھا کہ اس گولہ باری میں میری خیر نہیں ایک کونہ میں ہو کر بیٹھ گیا۔ اور جب یہ سادگی ختم ہوئی تو میری جان میں جان آئی کہ آنکھ ناک سلامت رہے۔
جو نمونہ سادگی اس مجلس کے ممبران نے دکھایا جو ہندو مسلمان دونوں قوموں میں سے تھے اس سے تو ان کے تکلف کو میں لوگوں کے لئے ہزار درجہ بہتر سمجھتا ہوں مگر اس سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ وہ تکلف خود ان لوگوں کے لئے وبال جان ہو رہا تھا اور ہے۔ گو وہ خوش نظر آتے ہیں مگر در حقیقت اپنی جھوٹی عظمت اور عزت قائم کرنے کے لئے لوگوں کے سامنے ایسے سنجیدہ بنے رہتے ہیں اور ایسے بنے ٹھنے رہتے ہیں کہ اپنے حقیقی جذبات کو چھپانے اور اپنے جسم کو حد سے زیادہ مشقت میں ڈالنے کی وجہ سے ان کے دل مردہ ہو گئے ہیں اور زندگی ان کے لئے تلخ ہو گئی ہے۔ امراء کے مقابلہ میں دوسرا گروہ علماء اور صوفیاء کا ہے جو دین کے عماد اور ستون سمجھے جاتے ہیں یہ بھی تکلفات میں مبتلا ہیں اور انہیں بھی اپنی عزت کے قائم رکھنے کے لئے تکلف سے کام لینا پڑتا ہے۔ اپنی چال میں، اپنی گفتگو میں، اپنے اٹھنے بیٹھنے میں، اپنے پہننے میں، اپنے کھانے میں ہر بات میں تکلفات سے کام لیتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اسی سے ہمارا تقدس ثابت ہوتا ہے۔ یہ مذہبی لیڈر خواہ کسی مذہب کے ہوں اس مرض میں مبتلا ہیں۔ مسلمان صوفیاء کو ہی کوئی جا کر دیکھے کس طرح مراقبہ کی حالت میں اپنے مریدوں کے سامنے بیٹھتے ہیں مگر بہت ہوتے ہیں جن کے دل اندر سے اور ہی خواہشات رکھتے ہیں اور ان کی زندگیاں اپنے بھائیوں یعنی امراء سے زیادہ سکھ والی نہیں ہوتیں بلکہ شاید کچھ زیادہ ہی تلخ ہوں کیونکہ وہ اپنے جذبات کے پورا کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی راہ نکال لیتے ہیں مگر علماء اور صوفیاء اس سے بھی محروم ہیں۔
میری اس بیان سے یہ غرض ہے کہ دنیا میں تکلف کا بہت دور دورہ ہے اور دینی اور دنیاوی دونوں قسم کے عظماء اس مرض میں مبتلا ہیں اور نہ صرف آج مبتلا ہوئے ہیں بلکہ دنیا میں یہ نقشہ ہمیشہ سے قائم ہے اور سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید و نصرت ہو اور بہت کم لوگ اس بناوٹ سے بچ سکتے ہیں۔
ہمارے ہادی اور رہنما آنحضرت ﷺ رحمۃ للعالمین ہو کر آئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو کل دنیا کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا ہے اس لئے آپؐ نے ہمارے لئے جو نمونہ قائم کیا وہی سب سے درست اور اعلیٰ ہے اور اس قابل ہے کہ ہم اس کی نقل کریں۔ آپؐ نے اپنے طریق
عمل سے ہمیں بتایا ہے کہ جذباتِ نفس جو پاک اور نیک ہیں ان کو دبانا تو کسی طرح جائز ہی نہیں بلکہ ان کو تو ابھارنا چاہئے ۔ اور جو جذبات ایسے ہوں کہ ان سے گناہوں اور بدیوں کی طرف توجہ ہوتی ہو ان کا چھپانا نہیں بلکہ ان کا مارنا ضروری ہے۔ پس اگر تکلف سے بعض ایسی باتیں نہیں کرتے جن کا کرنا ہمارے دین اور دنیا کے لئے مفید تھا تو ہم غلط کار ہیں اور اگر وہ باتیں جن کا کرنا دینِ اسلام کے رو سے ہمارے لئے جائز ہے صرف تکلف اور بناوٹ سے نہیں کرتے ورنہ دراصل ان کے شائق ہیں تو یہ نفاق ہے۔ اور اگر لوگوں کی نظروں میں عزت و عظمت حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو خاموش اور سنجیدہ بناتے ہیں تو یہ شرک ہے۔ آنحضرتؐ کی زندگی میں ایسا ایک بھی نمونہ نہیں پایا جاتا جس سے معلوم ہو کہ آپؐ نے ان تینوں اغراض میں سے کسی کے لئے تکلف یا بناوٹ سے کام لیا بلکہ آپؐ کی زندگی نہایت سادہ اور صاف معلوم ہوتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنی عزت کو لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں سمجھتے تھے بلکہ عزت و ذلت کا مالک خدا کو ہی سمجھتے تھے۔
جو لوگ دین کے پیشوا ہوتے ہیں انہیں یہ بہت خیال ہوتا ہے کہ ہماری عبادتیں اور ذکر دوسرے لوگوں سے زیادہ ہو اور خاص طور پر تصنع سے کام لیتے ہیں تا لوگ انہیں نہایت نیک سمجھیں۔ اگر مسلمان ہیں تو وضو میں خاص اہتمام کریں گے اور بہت دیر وضو کے اعضاء کو دھوتے رہیں گے اور وضو کے قطروں سے پرہیز کریں گے۔ سجدہ اور رکوع لمبے لمبے کریں گے۔ اپنی شکل سے خاص حالتِ خشوع و خضوع ظاہر کریں گے اور خوب وظائف پڑھیں گے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باوجود اس کے کہ سب سے اتقٰی اور اورع تھے اور آپ کے برابر خشیت اللہ کوئی انسان پیدا نہیں کر سکتا مگر باوجود اس کے آپؐ ان سب باتوں میں سادہ تھے اور آپ کی زندگی بالکل ان تکلفات سے پاک تھی۔
ابو قتادہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا اِنِّیْ لَاَ قُوْمُ فِی الصَّلٰوۃِ اُرِیْدُ اَنْ اُطَوِّلَ فِیْھَا فَاَسْمَعُ بُکَاءَ الصَّبِیِّ فَاَتَجَوَّزُ فِیْ صَلَاتِیْ کَرَ اھِیَةَ اَنْ اَشُقَّ عَلٰی اُمِّہٖ(بخاری کتاب الصلوٰۃ باب من اخف الصلوٰۃ عند بکاء الصبی) یعنی میں بعض دفعہ نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور ارادہ کرتا ہوں کہ نماز کو لمبا کر دوں مگر کسی بچہ کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو اپنی نماز کو اس خوف سے کہ کہیں میں بچہ کی ماں کو مشقت میں نہ ڈالوں نماز مختصر کر دیتا ہوں۔ کس سادگی سے آنحضرت نے فرمایا کہ ہم بچہ کی آواز سنکر نماز میں جلدی کر دیتے ہیں۔ آجکل کے صوفیاء تو ایسے قول کو شاید اپنی ہتک سمجھیں کیونکہ وہ تو اس بات کے اظہار میں اپنا فخر سمجھتے ہیں کہ ہم نماز میں ایسے مست ہوئے کہ کچھ خبر ہی
نہیں رہی۔ اور گو پاس ڈھول بھی بجتے رہیں تو ہمیں کچھ خیال نہیں آتا۔ مگر آنحضرتؐ ان تکلفات سے بَری تھے۔ آپؐ کی عظمت خدا کی دی ہوئی تھی نہ کہ انسانوں نے آپ کو معزز بنایا تھا۔ یہ خیال وہی کر سکتے ہیں جو انسانوں کو اپنا عزت دینے والا سمجھتے ہوں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اَنَّہٗ سُئِلَ كَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْ فِیْ نَعْلَیْہِ قَالَ نَعَمْ(بخاری کتاب الصلوٰة باب الصلوٰة فی النعال) یعنی آپ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم ﷺ جوتیوں سمیت نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ آپ نے جواب دیا کہ ہاں پڑھ لیتے تھے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کس طرح تکلفات سے بچتے تھے۔ اب وہ زمانہ آگیا ہے کہ وہ مسلمان جو ایمان اور اسلام سے بھی ناواقف ہیں۔ اگر کسی کو اپنی جوتیوں سمیت نماز پڑھتے دیکھ لیں تو شور مچا دیں اور جب تک کوئی ان کے خیال کے مطابق کل شرائط کو پورا نہ کرے وہ دیکھ بھی نہیں سکتے مگر آنحضرتؐ جو ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں آپ کا یہ طریق نہ تھا بلکہ آپ واقعات کو دیکھتے تھے نہ تکلفات کے پابند تھے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے طہارت اور پاکیزگی شرط ہے اور یہ بات قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے۔ پس جب جوتی پاک ہو اور عام جگہوں پر جہاں نجاست کے لگنے کا خطرہ ہو پہن کر نہ گئے ہوں تو اس میں ضرورت کے وقت نماز پڑھنے میں کچھ حرج نہیں۔ اور آپؐ نے ایسا کر کے امتِ محمدیہ پر ایک بہت بڑا احسان کیا کہ انہیں آئندہ کے لئے تکلفات اور بناوٹ سے بچا لیا۔ اس اسوہ حسنہ سے ان لوگوں کو فائدہ اٹھانا چاہئے جو آجکل ان باتوں پر جھگڑتے ہیں اور تکلفات کے شیدا ہیں۔ جس فعل سے عظمتِ الٰہی اور تقویٰ میں فرق نہ آئے اس کے کرنے پر انسان کی بزرگی میں فرق نہیں آسکتا۔
حضرت ابن مسعود انصاریؓ سے روایت ہے قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِّنَ الْاَنْصَارِ يُقَالُ لَہٗ اَبُوْ شُعَیْبٍ وَ كَانَ لَہٗ غُلَامٌ لَّحَّامٌ فَقَالَ اِصْنَعْ لِیْ طَعَامًا اَدْعُوْ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ فَدَعَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنَّكَ دَعَوْتَنَا خَامِسَ خَمْسَةٍ وَهٰذَا رَجُلٌ قَدْ تَبِعَنَا فَاِنْ شِئْتَ اَذِنْتَ لَہٗ وَ اِنْ شِئْتَ تَرَكْتَہٗ قَالَ بَلْ اَذِنْتُ لَہٗ(بخاری کتاب الاطعمة باب الرجل يتكلف الطعام لاخوانه) آپ نے فرمایا کہ ایک شخص انصار میں تھا۔ اس کا نام ابو شعیب تھا اور اس کا ایک غلام تھا جو قصائی کا پیشہ کرتا تھا۔ اسے اس نے حکم دیا کہ تو میرے لئے کھانا تیار کر کہ میں رسول اللہ ﷺ کو چار اور آدمیوں سمیت کھانے کے لئے بلاؤں گا۔ پھر اس نے رسول کریم ﷺ سے بھی کہلا بھیجا کہ حضورؐ کی اور چار اور آدمیوں کی دعوت ہے۔ جب آپؐ اس کے ہاں چلے تو ایک اور شخص بھی ساتھ ہو گیا۔ جب آپؐ اس کے گھر پر پہنچے تو اس سے کہا کہ تم نے ہمیں پانچ آدمیوں کو بلوایا تھا اور یہ شخص بھی ہمارے ساتھ آگیا ہے اب بتاؤ کہ اسے بھی اندر آنے کی اجازت ہے یا نہیں۔ اس نے کہا یا رسول اللہ اجازت ہے تو آپؐ اس کے سمیت اندر چلے گئے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کس طرح بے تکلفی سے معاملات کو پیش کر دیتے۔ شاید آپؐ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو چپ ہی رہتا مگر آپؐ دنیا کے لئے نمونہ تھے اس لئے ہر بات میں جب تک خود عمل کر کے نہ دکھاتے ہمارے لئے مشکل ہوتی۔ آپؐ نے اپنے عمل سے بتا دیا کہ سادگی ہی انسان کے لئے مبارک ہے اور ظاہر کر دیا کہ آپؐ کی عزت تکلف یا بناوٹ سے نہیں تھی اور نہ آپؐ ظاہری خاموشی یا وقار سے بڑا بننا چاہتے تھے بلکہ آپؐ کی عزت خدا کی طرف سے تھی۔
میں نے پچھلی فصل میں بتایا ہے کہ آپؐ کس طرح سادگی سے کام لیتے اور تکلفات سے پرہیز کرتے تھے اور بناوٹ سے کام نہ لیتے تھے۔ اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آنحضرتؐ نہ صرف بے تکلفی سے سب کام کر لیتے اور اس معاملہ میں سادگی کو پسند فرماتے بلکہ آپؐ کی زندگی بھی نہایت سادہ تھی اور وہ اسراف اور غلو جو امراء اپنے گھر کے اخراجات میں کرتے ہیں آپؐ کے ہاں نام کو نہ تھا بلکہ ایسی سادگی سے اپنی زندگی بسر کرتے کہ دنیا کے بادشاہ اسے دیکھ کر ہی حیران ہو جائیں اور اس پر عمل کرنا تو الگ رہا یورپ کے بادشاہ شاید یہ بھی نہ مان سکیں کہ کوئی ایسا بادشاہ بھی تھا جسے دین کی بادشاہت بھی نصیب تھی اور دنیا کی حکومت بھی حاصل تھی مگر پھر بھی وہ اپنے اخراجات میں ایسا کفایت شعار اور سادہ تھا اور پھر بخیل نہیں بلکہ دنیا نے آج تک جس قدر سخی پیدا کئے ہیں ان سب سے بڑھ کر سخی تھا۔
جن کو اللہ تعالیٰ دولت اور مالی دیتا ہے ان کا حال لوگوں سے پوشیدہ نہیں۔ غریب سے غریب ممالک میں بھی نسبتاً امراء کا گروہ موجود ہے حتی کہ جنگلی قوموں اور وحشی قبیلوں میں بھی کوئی نہ کوئی طبقہ امراء کا ہوتا ہے اور ان کی زندگیوں اور دوسرے لوگوں کی زندگیوں میں جو فرق نمایاں ہوتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں خصوصاً جن قوموں میں تمدن بھی ہو ان میں تو امراء کی زندگیاں ایسی پر عیش و عشرت ہوتی ہیں کہ ان کے اخراجات اپنی حدود سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔
آنحضرتؐ جس قوم میں پیدا ہوئے وہ بھی فخر و خیلاء میں خاص طور پر مشہور تھی اور حشم و خدم کو مایہ ناز جانتی تھی۔ عرب سردار باوجود ایک غیر آباد ملک کے باشندہ ہونے کے بیسیوں غلام رکھتے اور اپنے گھروں کی رونق کے بڑھانے کے عادی تھے اور عرب کے ارد گرد دو قومیں ایسی بستی تھیں کہ جو اپنی طاقت و جبروت کے لحاظ سے اس وقت کی کل معلومہ دنیا پر حاوی تھیں۔ ایک طرف ایران اپنی مشرقی شان و شوکت کے ساتھ اپنے شاہانہ رعب و داب کو کل ایشیا پر قائم کئے ہوئے تھا تو دوسری طرف روم اپنے مغربی جاہ و جلال کے ساتھ اپنے حاکمانہ دستِ تصرّف کو افریقہ اور یورپ پر پھیلائے ہوئے تھا اور یہ دونوں ملک عیش و طرب میں دوسری حکومتوں کو کہیں پیچھے چھوڑ چکے تھے اور آرائش و آرام کے ایسے سامان پیدا ہو چکے تھے کہ بعض باتوں کو تو اب اس زمانہ میں بھی کہ آرام و آسائش کے سامانوں کی ترقی کمال درجہ کو پہنچ چکی ہے۔ نگاہِ حیرت سے دیکھا جاتا ہے۔ دربارِ ایران میں شاہانِ ایران جس شان و شوکت کے ساتھ بیٹھنے کے عادی تھے اور ان کے گھروں میں جو کچھ سامانِ طرب جمع کئے جاتے تھے اسے شاہنامہ کے پڑھنے والے بھی بخوبی سمجھ سکتے ہیں اور جنہوں نے تاریخوں میں ان سامانوں کی تفصیل کا مطالعہ کیا ہے وہ تو اچھی طرح سے ان کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا کہ دربارِ شاہی کی قالین میں بھی جواہرات اور موتی ٹنکے ہوئے تھے اور باغات کا نقشہ زمردوں اور موتیوں کے صرف سے تیار کر کے میدانِ دربار کو شاہی باغوں کا مماثل بنا دیا جاتا تھا۔ ہزاروں خدام اور غلام شاہِ ایران کے ساتھ رہتے اور ہر وقت عیش و عشرت کا بازار گرم رہتا۔
رومی بادشاہ بھی ایرانیوں سے کم نہ تھے اور وہ اگر ایشیائی شان و شوکت کے شیدانہ تھے تو مغربی آرائش اور زیبائش کے دلدادہ ضرور تھے۔ جن لوگوں نے رومیوں کی تاریخ پڑھی ہے وہ جانتے ہیں کہ رومیوں کی حکومتوں نے اپنی دولت کے ایام میں دولت کو کس طریق سے خرچ کیا ہے۔
پس عرب جیسے ملک میں پیدا ہو کر جہاں دوسروں کو غلام بنا کر حکومت کرنا فخر سمجھا جاتا تھا اور جو روم و ایران جیسی مقتدر حکومتوں کے درمیان واقع تھا کہ ایک طرف ایرانی عیش و عشرت اسے لبھا رہی تھی تو دوسری طرف رومی زیبائش و آرائش کے سامان اس کا دل اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ آنحضرتؐ کا بادشاہِ عرب بن جانا اور پھر ان باتوں میں سے ایک سے بھی متاثر نہ ہونا اور روم و ایران کے دامِ تزویر سے صاف بچ جانا اور عرب کے بت کو مار کر گرا دینا کیا یہ کوئی ایسی بات ہے جسے دیکھ کر پھر بھی کوئی دانا انسان آپ کے پاکبازوں کا سردار اور طہارتِ النفس میں کامل نمونہ ہونے میں شک کر سکے۔ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔
علاوہ اس کے کہ آپؐ کے اردگرد بادشاہوں کی زندگی کا جو نمونہ تھا وہ ایسا نہ تھا کہ اس سے آپؐ وہ تاثر حاصل کرتے جن کا اظہار آپؐ کے اعمال کرتے ہیں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا درجہ دے دیا تھا کہ اب آپؐ تمام مخلوقات کے مرجعِ افکار ہو گئے تھے اور ایک طرف روم آپؐ کی بڑھتی ہوئی طاقت کو اور دوسری طرف ایران آپؐ کے ترقی کرنے والے اقبال کو شک و شبہ کی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اور دونوں متفکر تھے کہ اس سیلاب کو روکنے کے لئے کیا تدبیر اختیار کی جائے اس لئے دونوں حکومتوں کے آدمی آپؐ کے پاس آتے جاتے تھے اور ان کے ساتھ خط و کتابت کا سلسلہ شروع تھا ایسی صورت میں بظاہر ان لوگوں پر رعب قائم کرنے کے لئے ضروری تھا کہ آپؐ بھی اپنے ساتھ ایک جماعت غلاموں کی رکھتے اور اپنی حالت ایسی بناتے جس سے وہ لوگ متاثر اور مرعوب ہوتے مگر آپؐ نے کبھی ایسا نہ کیا۔ غلاموں کی جماعت تو الگ رہی گھر کے کام کاج کے لئے بھی کوئی نوکر نہ رکھا اور خود ہی سب کام کر لیتے تھے۔ حضرت عائشہؓ کی نسبت لکھا ہے کہ اَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَصْنَعُ فِيْ بَيْتِهِ قَالَتْ كَانَ يَكُوْنُ فِيْ مِهْنَةِ اَهْلِهِ تَعْنِیْ فِيْ خِدْمَةِ اَهْلِهِ فَاِذَا حَضَرَتِ الصَّلوٰةُ خَرَجَ اِلَى الصَّلوٰةِ(بخاری کتاب الصلوٰۃ باب من کان فی حاجة اھلہ فاقیمت الصلوٰة فخرج) یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے آپؐ نے جواب دیا کہ آپؐ اپنے اہل کی مہنت کرتے تھے۔ یعنی خدمت کرتے تھے۔ پس جب نماز کا وقت آجاتا آپؐ نماز کے لئے باہر چلے جاتے تھے۔
اس حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ آپؐ کس سادگی کی زندگی بسر فرماتے تھے اور بادشاہت کے باوجود آپؐ کے گھر کا کام کاج کرنے والا کوئی نوکر نہ ہو تابلکہ آپؐ اپنے خالی اوقات میں خود ہی اپنی ازواجِ مطہرات کے ساتھ مل کر گھر کا کام کاج کروا دیتے۔ اللہ اللہ کیسی سادہ زندگی ہے۔ کیا بینظیر نمونہ ہے۔ کیا کوئی انسان بھی ایسا پیش کیا جاسکتا ہے جس نے بادشاہ ہو کر یہ نمونہ دکھایا ہو کہ اپنے گھر کے کام کے لئے ایک نوکر بھی نہ ہو۔ اگر کسی نے دکھایا ہے تو وہ بھی آپؐ کے خدام میں سے ہو گا کسی دوسرے بادشاہ نے جو آپؐ کی غلامی کا فخر نہ رکھتا ہو یہ نمونہ کبھی نہیں دکھایا۔ ایسے بھی مل جائیں گے جنہوں نے دنیا سے ڈر کر اسے چھوڑ ہی دیا۔ ایسے بھی ہوں گے جو دنیا میں پڑے اور اسی کے ہو گئے۔ مگر یہ نمونہ کہ دنیا کی اصلاح کے لئے اس کا بوجھ اپنے کندھوں پر بھی اٹھائے رکھا اور ملکوں کے انتظام کی باگ اپنے ہاتھ میں رکھی مگر پھر بھی اس سے الگ رہے اور اس سے محبت نہ کی
اور بادشاہ ہو کر فقر اختیار کیا یہ بات آنحضرت ﷺ اور آپؐ کے خدام کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتی۔ جن لوگوں کے پاس کچھ تھا ہی نہیں۔ وہ اپنے رہنے کے لئے مکان بھی نہ پاتے تھے اور دشمن جنہیں کہیں چین سے نہیں رہنے دیتے تھے کبھی کہیں اور کبھی کہیں جانا پڑتا تھا ان کے ہاں کی سادگی کوئی اعلیٰ نمونہ نہیں۔ جس کے پاس ہو ہی نہیں اس نے شان و شوکت سے کیا رہنا ہے مگر ملکِ عرب کا بادشاہ ہو کر لاکھوں روپیہ اپنے ہاتھ سے لوگوں میں تقسیم کر دینا اور گھر کا کام کاج بھی خود کرنا یہ وہ بات ہے جو اصحابِ بصیرت کی توجہ کو اپنی طرف کھینچے بغیر نہیں رہ سکتی۔
عرب کے ملک میں اب بھی چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہیں اور ان کے افسر یا امیر جس طرزِ رہائش کے عادی ہیں انہیں بھی جاننے والے جانتے ہیں۔ خود شریفِ مکہ جنہیں صرف حجاز میں ایک حد تک دخل و تصرف حاصل ہے انہی کے دروازہ پر بیسیوں غلام موجود ہیں جو ہر وقت خدمت کے لئے دست بستہ ہیں مگر آنحضرتؐ سارے عرب پر حکمران تھے۔ یمن اور حجاز اور نجد اور بحرین تک آپؐ کے قبضہ میں تھے مگر باوجود تمام عرب اور اس کے ارد گرد کے علاقوں پر حکومت کرنے کے آپؐ کا گھر کے کاروبار خود کرنا اس پاکیزگی کی طرف متوجہ کر رہا ہے جو آپؐ کے ہر فعل سے ہویدا تھی۔
دنیا طلبی اور اظہارِ جاہ و جلال کی آگ اس وقت لوگوں کے دلوں کو جلا رہی تھی اور امراء تو اس کے بغیر امراء ہی نہیں سمجھے جاتے تھے مگر اس آگ میں سے سلامت نکلنے والا صرف وہی ابراہیمؑ کا ایک فرزند (ﷺ) تھا جس نے اپنے دادا کا معجزہ اور بھی بڑی شان کے ساتھ دنیا کو دکھایا۔
میں نے پچھلے باب میں آنحضرت ﷺ کی سادگی کا ذکر کیا ہے کہ آپؐ کس طرح تکلفات سے محفوظ تھے اور آپؐ کا ہر ایک فعل اپنے اندر سادگی اور بے تکلفی کا رنگ رکھتا تھا اب میں آپؐ کی سادہ زندگی کا حال بیان کرنا چاہتا ہوں۔
جو لوگ اس زمانہ کے امراء اور دولت مندوں کے دیکھنے کے عادی ہیں وہ تو خیال کرتے ہوں گے کہ رسول اللہ ﷺ بھی انہیں کی طرح عمدہ عمدہ کھانے کھایا کرتے ہوں گے اور ایک شاہانہ دسترخوان آپؐ کے آگے بچھتا ہو گا لیکن وہ یہ معلوم کر کے حیران ہوں گے کہ واقعہ بالکل خلاف تھا۔ اور اگر ایک طرف آنحضرت ﷺ سادگی کے کامل نمونہ تھے تو دوسری طرف سادہ زندگی میں بھی آپؐ دنیا کے لئے ایک نمونہ تھے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انہوں نے اپنے بھانجہ حضرت عروہؓ سے فرمایا يَا ابْنَ أُخْتِيْ إِنْ كُنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى الْهِلَالِ ثُمَّ الْهِلَالِ ثَلَاثَةَ اَهِلَّةٍ فِيْ شَهْرَيْنِ وَمَا أُوْقِدَتْ فِيْ أَبْيَاتِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ فَقُلْتُ يَا خَالَةُ مَا كَانَ يُعِيْشُكُمْ قَالَتْ الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ إِلَّا أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِرَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِيْرَانٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ كَانَتْ لَهُمْ مَنَائِحُ وَكَانُوا يَمْنَحُوْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اَلْبَانِهَا فَيَسْقِيْنَا(كتاب الهبة و فضلها، بخاري) اے میرے بھانجے ہم لوگ تو دیکھا کرتے تھے ہلال کے بعد ہلال حتی کہ تین تین ہلال دیکھ لیتے یعنی دو ماہ گزر جاتے مگر آنحضرت ﷺ کے گھر میں آگ نہ جلتی تھی۔ حضرت عروہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا اے خالہ پھر آپ لوگ کیا کھاتے تھے۔ حضرت عائشہؓ نے جواب دیا کہ اَسْوَدَان یعنی کھجور اور پانی کھا کر گزارہ کیا کرتے تھے۔ ہاں اتنی بات تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے اردگرد انصارؓ ہمسایہ تھے اور ان کے پاس دودھ والی بکریاں تھیں وہ آپؐ کو ان کا دودھ ہدیہ کے طور پر دیا کرتے تھے اور آپؐ دودھ ہمیں پلا دیا کرتے تھے۔
اللہ اللہ کیسی سادہ زندگی ہے کہ دو دو ماہ تک آگ ہی نہیں جلتی اور صرف کھجور اور پانی یا دودھ پر گزارہ ہوتا ہے اس طریق عمل کو دیکھ کر مسلمانوں کو شرمانا چاہئے کیونکہ آجکل اسی اکل و شرب کی مرض میں گرفتار ہیں۔ اگر پوری طرح تحقیقات کی جائے تو مسلمانوں کا روپیہ کھانے پینے میں ہی خرچ ہو جاتا ہے اور وہ مقروض رہتے ہیں۔ وہ اس نبی کی امت ہیں جو مقتدر ہو کر پھر سادہ زندگی بسر کرتا تھا پھر کیسے افسوس کی بات ہے کہ ان کے پاس نہیں ہوتا اور وہ زبان کے چسکے کو پورا کرنے کے لئے قرض لے کر اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالتے ہیں۔ اگر وہ اپنے آپ کو آنحضرتؐ کے اسوہ حسنہ پر چلاتے اور اسراف سے مجتنب رہتے تو آج اس بدتر حال کو نہ پہنچتے۔
اس جگہ یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آنحضرتؐ اگر ایک طرف سادگی کا نمونہ تھے تو دوسری طرف رہبانیت کو بھی ناپسند فرماتے تھے۔ اور اگر اعلیٰ سے اعلیٰ غذا آپ کے سامنے پیش کی جاتی تھی تو اسے بھی استعمال فرماتے تھے اور یہ نہیں کہ نفس کشی کے خیال سے اعلیٰ غذاؤں سے انکار کر دیں اور یہی کمال ہے جو آپؐ کو دوسرے لوگوں پر فضیلت دیتا ہے کیونکہ آپ کل دنیا کے لئے آئے تھے نہ کہ صرف کسی خاص قوم یا خاص گروہ کے لئے اس لئے آپ کا ہر قسم کی خوبی میں کامل ہونا ضروری تھا اور اگر آپؐ ایک طرف سادہ زندگی میں کمال رکھتے تھے تو دوسری طرف طیّب اشیاء کے استعمال سے بھی قطعاً اجتناب نہ فرماتے تھے۔
اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کبھی ایسی بات بھی ہو جاتی تھی کہ دو ماہ تک آگ نہ جلے مگر اب میں ایک اور
حدیث درج کرتا ہوں جس سے معلوم ہو گا کہ یہ واقعہ چند مہینوں یا سالوں کا نہیں بلکہ آپؐ کی وفات تک یہی ہوتا رہا اور صرف چند ماہ تک آپ نے اس مشقت کو برداشت نہیں کیا بلکہ آپ ہمیشہ اس سادگی کی زندگی کے عادی رہے اور عسرو یسر ایک سا حال رہا۔ اگر ابتداءِ عہد میں کہ آپؐ دشمنوں کے نرغہ میں گھرے ہوئے تھے اور آپ کو اپنا وطن تک چھوڑنا پڑا تھا آپ اس سادگی سے بسر کرتے تھے تو اس وقت بھی جبکہ روپیہ آپؐ کے پاس آتا اور آپ ایک ملک کے بادشاہ ہو گئے تھے آپ اسی سادگی سے بسر اوقات کرتے اور کھانے پینے کی طرف زیادہ توجہ نہ فرماتے تھے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ اَنَّهٗ مَرَّ بِقَوْمٍ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ شَاةٌ مَّصْلِيَّةٌ فَدَعَوْهُ فَاَبٰی اَنْ يَّاْ كُلَ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ مِنَ الدُّنْيَا وَ لَمْ يَشْبَعْ مِنْ خُبْزِ الشَّعِيْرِ(بخاری کتاب الاطعمة باب ما كان النبى صلى الله عليه وسلم واصحابه ياكلون) یعنی حضرت ابوہریرہؓ ایک جماعت پر گزرے اور اس کے سامنے ایک بھنی ہوئی بکری پڑی تھی پس انہوں نے آپ کو بھی بلایا مگر آپ نے کھانے سے انکار کیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے گزر گئے اور آپؐ نے پیٹ بھر کر جو کی روٹی نہیں کھائی (اس لئے میں بھی ایسی چیزیں نہیں کھاتا) اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک دو دن نہیں بلکہ وفات تک آنحضرتؐ نے ایسی ہی سادہ زندگی بسر کی۔
اس بات کی تصدیق حضرت عائشہؓ بھی فرماتی ہیں۔ آپ سے روایت ہے کہ مَا شَبِعَ اٰلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ الْبُرِّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتّٰی قُبِضَ(بخاری کتاب الاطعمة باب ما كان النبى صلى الله عليه وسلم واصحابه ياكلون) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل نے اس وقت سے کہ آپ مدینہ تشریف لائے اس وقت تک کہ آپ فوت ہو گئے تین دن متواتر گیہوں کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔
ان تینوں حدیثوں کو ملا کر روز روشن کی طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نہایت سادگی سے زندگی بسر کی اور باوجود اس محنت اور مشقت کے جو آپ کو کرنی پڑتی تھی آپ اپنے کھانے پینے میں اسراف نہ فرماتے تھے اور اسی قدر کھاتے جو زندگی کے بحال رکھنے کے لئے ضروری ہو اور آپ کا کھانا عبادت اور قوت کے قائم رکھنے کے لئے تھا نہ کہ آپ کی زندگی دنیا کے بادشاہوں کی طرح کھانوں کی خواہش میں گزرتی تھی۔ آپ ہی اس مصرع کے پورا کرنیوالے تھے کہ
اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ آپؐ کا کھانا بھی نہایت سادہ ہوتا تھا اور جو کچھ کھاتے تھے اِس میں بھی بہت تکلفات سے کام نہ لیتے تھے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ مَا عَلِمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَكَلَ عَلَى سُكْرُجَةٍ قَطُّ وَلَا خُبِزَ لَهٗ مُرَقَّقٌ قَطُّ وَلَا اَكَلَ عَلٰى خِوَانٍ قَطُّ قِيْلَ لِقَتَادَةَ فَعَلٰى مَا كَانُوْا يَاْكُلُوْنَ قَالَ عَلَى السُّفَرِ(بخاری کتاب الاطعمة باب الخبز المرقق والاكل على الخوان) مجھے نہیں معلوم ہوا کہ آنحضرتؐ نے کبھی طشتریوں میں کھایا ہو اور نہ آپ کے لئے کبھی چپاتیاں پکائی گئیں اور نہ کبھی آپ نے تخت پر کھایا۔ قتادہ ؓ (جنہوں نے حضرت انسؓ سے روایت کی ہے) سوال کیا گیا کہ پھر وہ کس پر کھایا کرتے تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ دسترخوان پر۔
حضرت انسؓ کی روایت اس لحاظ سے قریباً اہلِ بیت کے برابر سمجھی جانے کے قابل ہے کہ آپ ابھی بچہ تھے کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہے کیونکہ ان کے رشتہ داروں نے انہیں آنحضرتؐ کی خدمت کے لئے پیش کیا تھا اور یہ آنحضرتؐ کے مدینہ میں تشریف لانے کے وقت سے جو آپ کے ساتھ رہے تو وفات تک الگ نہ ہوئے اور آپ کی زندگی بھر خدمت میں مشغول رہے۔ پس آپ کی روایت ایک واقف کار کی روایت ہے جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ایسے امور میں بہت سے دوسروں کی نسبت زیادہ پختہ اور مضبوط رائے دے سکتا تھا اس لئے نہایت وزن دار اور واقعات کے مطابق ہے۔ اب اس زندگی کو مجموعی حیثیت سے دیکھو کہ ایک انسان بادشاہ ہے اسے سب کچھ نصیب ہے۔ اگر چاہے تو اچھے سے اچھے کھانے کھا سکتا ہے اور پُر تکلف دسترخوانوں پر بیٹھ سکتا ہے لیکن باوجود مقدرت کے وہ اسی بات پر کفایت کرتا ہے کہ کبھی تو کھجور اور پانی سے اپنی بھوک کو توڑ لیتا ہے اور کبھی جو کی روٹی کھا کر گزارہ کر لیتا ہے اور کبھی گیہوں کی روٹی تو کھاتا ہے مگر وہ بے چھنے آٹے کی ہوتی ہے۔ پھر نہ اس کے سامنے کوئی بڑا دسترخوان بچھایا جاتا ہے نہ سینیوں میں کھانا چنا جاتا ہے بلکہ ایک معمولی دسترخوان پر سادہ کھانا رکھ کر کھا لیتا ہے اور باوجود ایسی سادہ زندگی بسر کرنے کے دنیا کے اعلیٰ سے اعلیٰ کھانا کھانے والوں اور اپنے جسم کی پرورش کرنیوالوں سے ہزار گنا بڑھ کر کام کرتا ہے۔ آنحضرتؐ نے اپنی زندگی میں یہ بھی نمونہ دکھا دیا ہے کہ ہر قسم کی اعلیٰ سے اعلیٰ غذائیں بھی استعمال فرما لیتے تھے مگر دوسری طرف اس سادہ زندگی سے ہمارے ان امراء کے لئے ایک نمونہ بھی قائم کر دیا ہے جن کی زندگی کا انتہائی مقصد اعلیٰ خوراک اور پوشاک ہوتی ہے۔
آنحضرت ﷺ کی کونسی خوبی ہے جسے انسان خاص طور پر بیان کر سکے۔ کوئی شعبئہ زندگی بھی تو نہیں جس میں آپؐ دوسروں کے لئے نظیر نہ ہوں۔ مختلف خوبیوں میں مختلف لوگ باکمال ہوتے ہیں مگر یہ دین و دنیا کا بادشاہ تو ہر بات میں دوسروں پر فائق تھا۔ جو بات بھی لو اس میں آپؐ کو صاحب کمال پاؤ گے۔ میں نے پچھلے باب میں بتایا تھا کہ آپؐ اپنے گھر میں بیویوں کو ان کے کاموں میں مدد دیتے تھے مگر اب اس سے زیادہ میں ایک واقعہ بتاتا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں آپ کسی ادنیٰ سے ادنیٰ کام میں حرج نہ دیکھتے تھے بلکہ اس میں فخر محسوس کرتے تھے اور صحابہؓ کے دوش بدوش ہو کر ہر ایک چھوٹے سے چھوٹا کام کرتے اور کبھی یہ نہ ہوتا کہ انہیں حکم دے دیں اور آپ خاموش ہو کر بیٹھ رہیں۔ صحابہؓ کی خوشی تو اسی میں تھی کہ آپ آرام فرمائیں اور وہ آپؐ کے سامنے اپنی فدائیت اور اخلاص کے جوہر دکھائیں مگر آپ کبھی اس کو پسند نہ فرماتے اور ہر کام میں خود شریک ہوتے اور صحابہؓ کا ہاتھ بٹاتے۔
حضرت عائشہؓ ہجرت کے متعلق ایک لمبی حدیث بیان کر کے فرماتی ہیں کہ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَسَارَ يَمْشِیْ مَعَهُ النَّاسُ حَتَّى بَرَكَتْ عِنْدَ مَسْجِدِ الرَّسُوْلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَ هُوَ يُصَلِّيْ فِيْهِ يَوْمَئِذٍ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ وَ كَانَ مِرْبَدًا لِلتَّمْرِ لِسُهَيْلٍ وَ سَهْلٍ غُلَامَيْنِ يَتِيْمَيْنِ فِيْ حَجْرِ اَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ حِيْنَ بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ هٰذَا اِنْ شَاءَ اللهُ الْمَنْزِلُ ثُمَّ دَعَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ الْغُلَامَيْنِ فَسَاوَمَهُمَا بِالْمِرْبَدِ لِيَتَّخِذَهُ مَسْجِدًا فَقَالَا لَا بَلْ نَهَبُهُ لَكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ فَاَبَى رَسُوْلُ اللهِ اَنْ يَقْبَلَهُ مِنْهُمَا هِبَةً حَتَّى ابْتَاعَهُ مِنْهُمَا ثُمَّ بَنَاهُ مَسْجِدًا وَ طَفِقَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ اللَّبِنَ فِيْ بُنْيَانِهِ وَ يَقُوْلُ وَ هُوَ يَنْقُلُ اللَّبِنَ هٰذَا الْحِمَالُ لَا حِمَالَ خَيْبَرْ هٰذَا اَبَرُّ رَبَّنَا وَ اَطْهَرُ وَ يَقُوْلُ اللّٰهُمَّ اِنَّ الْاَجْرَ اَجْرُ الْاٰخِرَةِ فَارْحَمِ الْاَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ(بخاری باب هجرة النبی صلی الله علیه وسلم و اصحابه الی المدینه) یعنی پھر آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور بنی عمرو بن عوف کے پاس سے جہاں آپؐ سب سے پہلے آکر ٹھہرے تھے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اور لوگ بھی آنحضرتؐ کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے یہاں تک کہ آپؐ کی اونٹنی اس جگہ پر جا کر بیٹھ گئی جہاں بعد میں آنحضرتؐ کی مسجد بنائی گئی اور اس جگہ ان دنوں میں کچھ مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے اور یہ سہیل اور سہل نامی دو لڑکوں کی کھجوریں سکھانے کا مقام تھا جو یتیم تھے اور اسعد بن زرارہ کی ولایت میں تربیت پا رہے تھے۔ پس رسول اللہ ﷺ نے جب آپؐ کی اونٹنی وہاں بیٹھ گئی فرمایا کہ انشاء اللہ یہاں ہمارے رہنے کی جگہ ہو گی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں لڑکوں کو جن کی وہ جگہ تھی بلوایا اور ان سے اس جگہ کی قیمت دریافت کی تاکہ وہاں آپؐ مسجد تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپؐ کے ہاتھ فروخت نہیں کرتے بلکہ آپؐ کو ہبہ کرتے ہیں۔ مگر رسول اللہ ﷺ نے ان سے بطور ہبہ کے وہ زمین لینے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ ان دونوں لڑکوں نے وہ زمین فروخت کر دی۔ پھر آپؐ نے وہاں مسجد بنانی شروع کی اور مسجد بنتے وقت آپؐ خود بھی صحابہؓ کے ساتھ اینٹیں ڈھوتے تھے اور ڈھوتے وقت یہ شعر پڑھتے جاتے تھے۔ یہ بوجھ خیبر کا بوجھ نہیں بلکہ اے ہمارے رب یہ اس سے زیادہ پاکیزہ اور عمدہ ہے۔ اسی طرح آپؐ یہ شعر بھی پڑھتے اے خدا بدلہ تو وہی بہتر ہے جو آخرت کا ہو پس جب یہ بات ہے تو تو مہاجرین اور انصار پر رحم فرما۔
اس حدیث میں آپؐ کا یہ قول کہ یہ بوجھ خیبر کا بوجھ نہیں اس سے یہ مراد ہے کہ لوگ خیبر سے کھجوریں یا اور پھل پھول ٹوکروں میں بھر کر لایا کرتے تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ اینٹیں جو ہم اٹھا رہے ہیں یہ اس بوجھ کی طرح نہیں ہیں بلکہ اس میں تو دنیا کا فائدہ ہوتا ہے اور اس بوجھ کے اٹھانے سے آخرت کا فائدہ ہے اس لئے یہ بوجھ اس بوجھ سے بہت بہتر اور عمدہ ہے۔
اس حدیث کو پڑھ کر کون انسان ہے جو حیرت میں نہ پڑ جائے۔ آنحضرتؐ کے ارشاد پر قربان ہونیوالوں کا ایک گروہ موجود تھا جو آپؐ کی راہ میں اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار تھے مگر آپؐ کا یہ حال ہے کہ خود اپنے جسم مبارک پر اینٹیں لاد کر ڈھو رہے ہیں۔ یہ وہ کمال ہے جو ہر ایک بے تعصب انسان کو خود بخود آپؐ کی طرف کھینچ لیتا ہے اور چشمِ بصیرت رکھنے والا حیران رہ جاتا ہے کہ یہ پاک انسان کن کمالات کا تھا کہ ہر ایک بات میں دوسروں سے بڑھا ہوا ہے۔ خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے ایک گھر بن رہا ہے اور آپؐ اس کی اینٹیں ڈھونے کے ثواب میں بھی شامل ہیں۔ خود اپنے کندھوں پر اینٹیں رکھتے ہیں اور مسجد کی تعمیر کرنے والوں کو لا کر دیتے ہیں۔ یہ وہ عمل تھا جس نے آپؐ کو ابراہیمؑ کا سچا وارث اور جانشین ثابت کر دیا تھا کیونکہ اگر حضرت ابراہیمؑ نے خود اینٹیں ڈھو کر کعبہ کی تعمیر کی تھی تو اس وارث علوم سماویہ نے مدینہ منورہ کی مسجد کی تعمیر میں اینٹیں ڈھونے میں اپنے اصحابؓ کی مدد کی۔
کہنے کو تو سب بزرگی اور تقویٰ کا دعویٰ کرنے کو تیار ہیں مگر یہ عمل ہی ہے جو پاکبازی اور زبانی جمع خرچ کرنے والوں میں تمیز کر دیتا ہے اور عمل ہی میں آکر سب مدعیانِ تقویٰ کو آپؐ کے سامنے باادب سر جھکا کر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔
اس حدیث سے اگر ایک طرف ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کسی قسم کے کام کرنے سے خواہ وہ بظاہر کیسا ہی ادنیٰ کیوں نہ ہو کسی قسم کا عار نہ تھا۔ آپؐ اس معبود حقیقی کی رضا کی تمام راہوں میں دوسروں سے آگے قدم مارتے تھے تو دوسری طرف یہ امر بھی روشن ہو جاتا ہے کہ آپؐ ماتحتوں سے کام لینے کے ہر فن میں بھی اپنی نظیر آپؐ ہی تھے۔ تاریخ نے ہزاروں لاکھوں برسوں کے تجربات کے بعد ثابت کیا ہے کہ ماتحتوں میں جوش پیدا کرنے اور انہیں اپنے فرائض کے ادا کرنے میں ہوشیار بنانے کا سب سے اعلیٰ اور عمدہ نسخہ یہی ہے کہ خود آفیسر بھی انہیں کام کر کے دکھائیں۔ اور جو شخص خود کام کرے گا اس کے ماتحت ضرور کام میں چست و چالاک ہوں گے مگر جو آفیسر کام سے جی چرائے گا اس کے ماتحت بھی اپنے فرائض کے ادا کرنے میں کوتاہی کریں گے اور بہانہ ہی ڈھونڈتے رہیں گے کہ کسی طرح اپنی جان چھڑائیں۔ آنحضرتؐ نے اس گُر کو ایسا سمجھا تھا کہ آپؐ کی ساری زندگی اس قسم کی مثالوں سے پُر ہے۔ آپؐ اپنے ماتحتوں کو جو حکم بھی دیتے اس میں خود بھی شریک ہوتے اور آپ کی نسبت کوئی انسان یہ نہ کہہ سکتا تھا کہ آپ صحابہؓ کو مشکلات میں ڈال کر خود آرام سے بیٹھ رہتے ہیں بلکہ آپ ہر ایک کام میں شریک ہو کر ان کے لئے ایک ایسی اعلیٰ اور ارفع نظیر قائم کر دیتے کہ پھر کسی کو اس پر اعتراض کرنے کا موقع نہ رہتا اگر کوئی افسر اپنے ماتحتوں کو کوئی حکم دے کر خود آرام سے پیچھے بیٹھ رہے تو ضرور ان کے دل میں خیال گزرے گا کہ یہ شخص خود تو آرام طلب ہے مگر دوسروں کو ان کی طاقت سے بڑھ کر کام دیتا ہے اور گو مفوضہ کام زیادہ بھی نہ ہو تو بھی وہ بالطبع خیال کریں گے کہ انہیں ان کی طاقت سے زیادہ کام دیا گیا ہے اور اس بے دلی کی وجہ سے وہ جس قدر کام کر سکتے ہیں اس سے نصف بھی نہ کر سکیں گے اور جو کچھ کریں گے بھی وہ بھی ادھورا ہو گا مگر جب خود افسر اس کام میں شریک ہو گا اور سب سے آگے اس کا قدم پڑتا ہو گا تو ماتحت شکایت تو الگ رہی اپنی طاقت اور قوت کا سوال ہی بھول جائیں گے اور ان میں کوئی اور ہی روح کام کرنے لگے گی۔
اور اسی حکمت سے کام لے کر آنحضرتؐ نے صحابہؓ کی زندگیوں میں ایسی تبدیلی پیدا کر دی تھی کہ وہ معمولی انسانوں سے بہت زیادہ کام کرنے والے ہو گئے تھے۔ وہ ہر ایک کام میں اپنے سامنے ایک نمونہ دیکھتے تھے حتیٰ کہ اگر اینٹیں ڈھونے کا کام بھی ہوتا تھا جو عام مزدوروں کا کام ہے اور ان کا رسولؐ انہیں اس کام کے کرنے کا حکم دیتا تھا تو سب سے پہلے وہ خود اس کام کی ابتداء کرتا تھا جس کی وجہ سے مردہ دلوں کے دل زندہ اور سستوں کے بدن چست اور کم ہمتوں کی ہمتیں بلند ہو جاتی تھیں۔ ہر ایک عقلمند اس بات کو سوچ کر معلوم کر سکتا ہے کہ جو لوگ آنحضرتؐ کی نسبت یہ یقین رکھتے تھے کہ آپ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں ، اس کے رسولؐ ہیں اس کے نبیؐ ہیں سب انبیاءؑ سے افضل ہیں ، آپؐ کی اطاعت سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو سکتی ہے ، آپؐ کی ہی فرمانبرداری میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہے ، آپؐ کل انبیاء کے کمالات کے جامع ہیں ، آپؐ کی ہی خدمت کرنے سے جنت کے دروازے کھلتے ہیں ، وہ جب دیکھتے ہوں گے کہ ایسا عظیم الشان انسان خود اپنے کندھوں پر اینٹیں رکھ کر مسجد بنانے والوں تک پہنچاتا ہے تو ان کے اندر کن خیالات کا دریا موجزن ہوتا ہو گا اور وہ کس جوش اور کس خلوص سے اس کام کو بجالاتے ہوں گے بلکہ کس طرح بجائے تکان کے انکے چہروں سے بشاشت ٹپکتی ہوگی۔ ان میں اچھے اچھے رؤساء بھی تھے ، سردار بھی تھے ، مالدار بھی تھے ، معزز بھی تھے ، مگر وہ سب کے سب اپنے عقیدہ کی بناء پر اپنے آپ کو آنحضرتؐ سے کم درجہ پر یقین کرتے تھے اور اپنے آپکو خادم سمجھتے تھے۔ پس جب وہ آپؐ کو اس جوش سے کام کرتے ہوئے دیکھتے ہوں گے تو کیا ان کے بدن کے ہر ایک حصہ میں سنسناہٹ نہ پھیل جاتی ہوگی اور کیا امیر سے امیر انسان بھی اس بلند رتبہ انسان کی معیت میں اینٹیں ڈھونا اپنے لئے ایک نعمتِ عظمیٰ نہ خیال کرتا ہو گا اور بجائے ذلت کے عزت نہ جانتا ہو گا۔ ہاں ان میں سے ہر ایک ایسا ہی سمجھتا ہو گا اور بالکل ایسا ہی سمجھتا ہوگا۔ اور چونکہ آنحضرتؐ اپنی ساری عمر میں اسی نمونہ پر قائم رہے اور آپؐ نے کبھی اس سنت کو ترک نہیں کیا اس لئے آپؐ کے صحابہؓ میں یہ بات طبیعتِ ثانی ہوگئی تھی اور وہ روزانہ ان کی معیت کے جوش سے متاثر ہو کر جس طرح کام کرتے تھے اس کے ایسے عادی ہو گئے تھے کہ آپؐ کی غیر حاضری میں بلکہ آپؐ کی وفات کے بعد بھی ان کا طریقِ عمل وہی تھا اور یہ ایک عام بات ہے کہ انسان جس کام کو کچھ مدت تک لگاتار کرتا رہے اس کا عادی ہو جاتا ہے اور جو لوگ ابتداء میں سستی کی عادت ڈال لیتے ہیں وہ سست ہی رہتے ہیں اور جو چستی سے کام کرنے کے عادی ہوں وہ اسی طریق پر کام کئے جاتے ہیں پس جبکہ آنحضرتؐ ہر ایک کام میں صحابہؓ کے شریکِ حال بن کر ان کو خطرناک سے خطرناک اور خوفناک سے خوفناک کام کے کرنے پر آمادہ کر دیتے تھے۔ اور اسی طرح دنیا داروں کی نظروں میں ادنیٰ سے ادنیٰ نظر آنے والے کاموں میں بھی ساتھ شریک ہو کر ان کے دلوں سے جھوٹی عزت اور تکبر کے خیالات کو بالکل نکال دیتے تھے اور اس طریق کا آپ ان کو دس سال متواتر عادی کرتے رہے تھے۔ یہ عادت انہیں کیونکر بھول سکتی تھی۔ چنانچہ جب صحابہؓ کو اپنے سے کئی کئی گنا سپاہ سے مقابلہ پیش آیا اور اس وقت کی کل متمدن قوموں سے ایک ہی وقت میں جنگ چھڑ گئی تو ان کے قدموں میں وہ ثبات دیکھا گیا اور ان کے ہاتھوں نے ایسی طاقت کے کارنامے دکھائے اور ان کے دلوں نے ایسی بے ہراسی اور بے خوفی کا اظہار کیا کہ دنیا دنگ ہو گئی اور اس کی وجہ یہی تھی کہ آنکھوں کے سامنے آنحضرتؐ کا پاک نمونہ ہر وقت رہتا تھا اور وہ ایک لمحہ کے لئے بھی اس دین و دنیا کے بادشاہ کو نہ بھولتے تھے اور اپنے سے دس دس گنا فوج کو الٹ کر پھینک دیتے تھے بلکہ صحابہؓ دوسرے عربوں کی جنگ پر بھی ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ اب دنیا کو کیا ہو گیا۔ آنحضرتؐ کے ماتحت تو ہم اس طرح لڑتے تھے کہ پردوں کے پرے اڑا دیتے تھے اور کوئی ہمارے سامنے ٹھہر نہ سکتا تھا پس آپؐ کے ساتھ مل کر کام کرنے میں تدبیر ملکی کا وہ نمونہ نمایاں ہے کہ جس کی مثال کوئی اور انسان نہیں پیش کر سکتا۔ اس حدیث سے ایک اور بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرتؐ کو ہر وقت اپنے صحابہؓ کو نیکی اور تقویٰ کی تعلیم دینے کا خیال رہتا تھا کیونکہ آپ نے اس موقع پر جو اشعار سنے ہیں وہ ایسے بے نظیر اور مناسبِ موقع ہیں کہ ان سے بڑھ کر ناممکن ہے۔ آپؐ کی عادت تھی کہ آپ پورا شعر نہیں پڑھا کرتے تھے مگر صرف اس موقع پر یا ایک دو اور موقعوں پر آپ نے پورے شعر پڑھے ہیں۔ ہاں آپؐ شعر بالکل نہ کہتے تھے اور یہ شعر بھی کسی اور مسلمان کے کہے ہوئے تھے۔
ہاں تو ان اشعار میں آپؐ نے صحابہؓ کو بتایا ہے کہ تم خیبر کی کھجوریں اور سبزیاں وغیرہ اکثر اُٹھاتے ہو گے اور اس کے اٹھانے میں تمہیں یہ خیال ہوتا ہو گا کہ ہم دنیا کا فائدہ اٹھائیں گے اور مال کمائیں گے۔ مگر یہ یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے لئے جو کام انسان کرتا ہے وہ گو بظاہر کیسا ہی ادنیٰ معلوم ہو۔ درحقیقت نہایت پاک اور عمدہ نتائج پیدا کرنے والا ہوتا ہے پس یہ خیال اپنے دلوں میں مت لانا کہ ہم اس وقت کیسا ادنیٰ کام کرتے ہیں کہ مٹی اور اینٹیں ڈھو رہے ہیں بلکہ خوب سمجھ لو کہ یہ اینٹیں جو تم ڈھو رہے ہو ان کھجوروں اور میووں کے بوجھ سے جو خیبر سے آتا ہے کہیں بہتر ہیں اور اس میں تمہارے نفوس کی پاکیزگی کا سامان ہے ان میووں کے بوجھ کی ہستی ہی کیا ہے کہ اس کے مقابلہ میں اسے رکھا جائے۔ دوسرے شعر میں آنحضرتؐ نے انہیں بتایا ہے کہ اس کام میں کسی مزدوری یا نفع کا خیال مت رکھنا بلکہ یہ تو خدا کا کام ہے جس میں اگر کسی نفع کی امید ہے تو وہ اللہ ہی کی طرف سے ہو گا اور بجائے فوری نفع کے انجام کی بہتری ہو گی اور جس کا انجام اچھا ہو اس سے زیادہ کامیاب کون ہو سکتا ہے پس اسی پر نظر رکھو۔ اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کر دی کہ خدایا یہ لوگ اپنے کام چھوڑ کر تیرے لئے مشقت اٹھا رہے ہیں تو ان پر رحم فرما۔ پس شاعر نے تو جن خیالات کے ماتحت اشعار کہے ہوں گے ان سے وہی واقف ہو گا مگر آپؐ نے ان اشعار کو پڑھ کر اس کے معانی کو وہ وسعت دے دی ہے کہ باید و شاید۔
میں نے اس سے پہلے آنحضرت ﷺ کی زندگی کا ایک ایسا واقعہ بیان کیا ہے جس سے آپ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے اور انسانی قلب اس سے اعلیٰ سے اعلیٰ اصول طہارتِ نفس کے اور قومی ترقی کے نکال سکتا ہے۔ اب میں ایک اور واقعہ اسی پہلے واقعہ کی تائید میں درج کرتا ہوں لیکن چونکہ وہ نئے حالات اور نئے واقعات کو لئے ہوئے ہے اس لئے اس کا ذکر بھی کسی قدر تفصیل سے ہی مناسب ہے۔
یہ بات تو تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آنحضرتؐ سے جو مخالفت مکہ والوں کو تھی اس کی نظیر دنیا کی کسی اور تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپ کی مخالفت اور ایذاء رسانی کے لئے جو تدابیر انہوں نے کیں یا جو منصوبے انہوں نے باندھے وہ اپنی نظیر آپ ہی تھے اور کبھی کسی قوم نے دنیاوی مخالفت میں یا دینی عداوت میں کسی انسان کی بلاوجہ ایسی بدخواہی نہیں کی جیسی اہلِ مکہ نے آنحضرتؐ سے کی مگر خدا تعالیٰ نے ہر میدان میں آنحضرت ﷺ کو فتح دی اور آپؐ ہر دشمن پر فاتح رہے۔ گو چھوٹے چھوٹے حملے تو مدینہ میں آتے ہی شروع ہو گئے تھے مگر دراصل جنگوں کی ابتداء اب جنگِ بدر سے ہی سمجھنا چاہئے کہ جس نے ایک طرف کفار کے بڑے بڑے سرداروں کو خاک میں ملا دیا اور دوسری طرف مسلمانوں پر ثابت کر دیا کہ خدا تعالیٰ کی تائید انسان کو ہر مشکل سے سلامت نکال سکتی ہے اور دشمن خواہ کتنا ہی بہادر اور تعداد میں زیادہ ہو آسمانی تدابیر کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اس سے ان کے حوصلے بڑھ گئے۔ قریش کو اپنے سرداروں کے مارے جانے کا طیش ایک دم چین نہ لینے دیتا تھا اور وہ آئے دن مسلمانوں پر حملہ کرتے رہتے تھے جن میں سے مشہور حملہ احد کا بھی ہے یہ حملے متواتر چھ سال تک ہوتے رہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ جنگ بدر چھ سال تک متواتر جاری رہی اور اس کا خاتمہ احزاب پر ہوا جبکہ دشمن نے آخری مرتبہ ہزیمت اٹھا کر پھر مسلمانوں کو دکھ دینے کا ارادہ نہ کیا بلکہ ناامیدی اور مایوسی کا شکار ہو گئے اور سمجھ گئے کہ ہم مسلمانوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
جنگ احزاب جس کا ذکر قرآن شریف میں بار بار آیا ہے ایک نہایت خطرناک جنگ تھی جس میں مسلمان ایسے مجبور ہوئے تھے کہ انہیں قضائے حاجت کے لئے باہر جانے کو بھی رستہ نہ ملتا تھا اور کفار نے مدینہ کا محاصرہ کر لیا تھا اور دس ہزار کا لشکر مرنے مارنے کے ارادہ سے مٹھی بھر مسلمانوں کے سامنے پڑا ہوا تھا۔ جو مشکلات کے نرغہ میں گھرے ہوئے تھے۔
جب مسلمانوں کو اس لشکر کی آمد کی خبر ہوئی تھی تو آنحضرتؐ نے سب صحابہؓ کو بلا کر مشورہ کیا کہ کیا کیا جائے حضرت سلمانؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ایسے موقع پر ہمارے ملک میں تو خندق کھود لیتے ہیں اور اس کے پیچھے بیٹھ کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں۔ آپؐ نے یہ بات سنکر خندق کھودنے کا حکم دیا اور اسی وجہ سے جنگ احزاب کو غزوہ خندق بھی کہتے ہیں۔
چالیس چالیس ہاتھ زمین دس دس آدمیوں کو کھودنے کے لئے بانٹ دی گئی اور کام زور و شور سے جاری ہو گیا مگر آنحضرتؐ کہاں تھے؟ آپ بھی ان لوگوں میں کام کر رہے تھے جو ادھر سے ادھر مٹی ڈھو رہے تھے کیونکہ کچھ لوگ زمین کھودتے تھے اور کچھ وہاں سے مٹی اٹھا کر ایک طرف کر دیتے تھے حتیٰ کہ آپ کا بدن مٹی۔ سے بھر گیا تھا۔
حضرت براءؓ سے روایت ہے۔ قال : رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْاَحْزَابِ يَنْقُلُ التُّرَابَ ، وَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ ، وَ هُوَ يَقُولُ : (لَوْ لَا اَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا ، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا ، فَأَنْزِلِ السَّكِينَةَ عَلَيْنَا ، وَثَبِّتِ الْاَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا ، إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا ، إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا).(بخاری کتاب الجهاد باب حفر الخندق) ترجمہ: فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ احزاب میں اس حالت میں دیکھا ہے کہ آپؐ بھی مٹی ڈھو رہے تھے اور آپ کے گورے گورے پیٹ پر مٹی پڑی ہوئی تھی اور آپ یہ فرماتے جاتے تھے۔ الٰہی اگر تیرا فضل نہ ہوتا تو ہمیں ہدایت نصیب نہ ہوتی اور نہ ہم صدقہ دیتے نہ نمازیں پڑھتے۔ پس ہم پر اپنی طرف سے تسلی نازل فرما اور اگر جنگ پیش آئے تو ہمارے پاؤں کو ثبات دیجئے وہ دشمن کے مقابلہ میں بالکل نہ ڈگمگائیں۔ الٰہی یہ کافر ہم پر ظلم اور زیادتی سے حملہ آور ہو گئے ہیں اور ہمارے خلاف انہوں نے بغاوت کی ہے کیونکہ جب انہوں نے ہمیں شرک و کفر میں مبتلا ہونے کی دعوت دی ہے ہم نے ان کی بات کے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
اللہ اللہ وہ کیا ہی پیاری مٹی ہو گی جسے آپ اٹھاتے تھے اور وہ مٹی کروڑوں من سونے سے زیادہ قیمتی تھی جسے اٹھانے کے لئے خاتم النبیّٖن ﷺ کے ہاتھ اٹھتے تھے اور جسے آپؐ کے پیٹ پر گرنے کا شرف حاصل ہوتا تھا قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ عذاب شدید کو دیکھ کر وَیَقُوۡلُ الۡکٰفِرُ یٰلَیۡتَنِیۡ کُنۡتُ تُرٰبًا(النباء:۴۱) کافر کہہ اٹھیں گے کہ کاش ہم مٹی ہوتے اور شریر و بدمعاش لوگ جب سزا پاتے ہیں تو ایسے ہی جملے کہا کرتے ہیں اور اپنی حالت پر افسوس ہی کیا کرتے ہیں مگر خد ا گواہ ہے وہ مٹی جو آنحضرتؐ کے پیٹ پر گرتی تھی اس کی نسبت تو ایک مؤمن کا دل بھی للچاجاتا ہے کہ وہ یٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرَابًا کہہ اٹھے اور یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ براءؓ اس واقعہ کا بیان کرتے ہوئے اس مٹی کا بھی ذکر کرتے ہیں جو آپؐ کے پیٹ پر گرتی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس مٹی کو بھی عشق کی نگاہوں سے دیکھتے تھے اور لالچ کی نگاہیں ادھر پڑ رہی تھیں اسی لئے تو مدتوں کے بعد جب وہ جنگ احزاب کا ذکر فرماتے ہیں تو وہ مٹی جو آنحضرت ﷺ کے جسم اطہر پر پڑتی تھی انکو یاد آ جاتی ہے۔
میں حیران ہوں کہ صحابہؓ کس محبت اور کس شوق سے اس وقت آنحضرتؐ کی طرف دیکھتے ہوں گے۔ خدایا وہ مزدور کیسا ہو گا اور کس شان کا ہو گا جس کے سر پر نبوت کا تاج تھا اور دوش پر مٹی کا ڈھیر۔ صحابہؓ کے قدموں میں کیسی تیزی اور کیسی پھرتی پیدا ہو گئی ہو گی ہر ایک ان میں سے اپنے دل میں کہتا ہو گا کہ خدا کے لئے جلد اس مٹی کو صاف کر کے جس قدر ہو سکے آنحضرتؐ کا کام کم ہو اور وہ ایک دوسرے سے بڑھ کر بوجھ اٹھاتے ہوں گے تاکہ جلد اس بوجھ کو ختم کریں اور آنحضرت ﷺ کو آرام دیں۔
میری عقل چکراتی ہے جب میں صحابہؓ کے ان جذبات کا نقشہ اپنے دل میں کھینچتا ہوں جو اس وقت ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہوں گے میری قوت متخیلہ پریشان ہو جاتی ہے جب میں ان خیالات پریشاں کو اپنے سامنے حاضر کرتا ہوں جو اس وقت صحابہؓ کے دل و دماغ میں گشت لگا رہے ہوں گے۔ اف ایک بجلی ایک سٹیم ہو گی جو اس وقت ان کے اندر کام کر رہی ہو گی۔ نہیں بجلی اور سٹیم کی کیا حقیقت ہے عشق کی گرمی ان سے کام لے رہی تھی اور وہ مٹی جو وہ اپنی گردنوں اور کندھوں پر رکھتے تھے انہیں ہر ایک قسم کی نعمت سے زیادہ معلوم ہوتی تھی وہ بوجھ انہیں سب غموں سے چھڑا رہا تھا اور وہ مٹی انہیں ہیروں اور جواہرات سے زیادہ قیمتی معلوم ہوتی تھی جسے نبیوں کے سرتاج کے کندھوں پر رکھے جانے کا فخر حاصل تھا۔
کیا کوئی مسلمان بادشاہ ایسا ہے جسے اس مٹی کے اٹھانے میں عذر ہو! نہیں اس وقت کے اسلام سے غافل بادشاہ بھی اسے اٹھانے میں فخر سمجھیں گے پھر وہ نیکو کار گروہ اسے اپنی کیسی کچھ عزت نہ خیال کرتا ہوگا۔
اور یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ایک گھوڑے پر کھڑے ہوئے حکم نہیں دے رہے تھے بلکہ دوسروں کو حکم دینے سے پہلے آپ خود اپنے کندھوں پر مٹی کا ڈھیر رکھتے تھے پھر جو لوگ اپنے محبوب و آقا کو مٹی ڈھوتے دیکھتے ہوں گے وہ جس شوق سے بھی اس کام کو کرتے بالکل مناسب اور بجا ہوتا یہ ایک ایسی اعلیٰ تدبیر تھی جس سے اگر ایک طرف آنحضرت کی محبت الٰہی ظاہر ہوتی ہے تو دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ فطرتِ انسانی کو خوب سمجھتے تھے اور آپ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اگر ماتحتوں میں روح پھونکنی ہو تو اس کا ایک ہی گر ہے کہ خود ان کے ساتھ مل کر کام کرو پھر ان میں خود بخود جوش پیدا ہو جائے گا اور اس طرح آپ نے ایک ناقابلِ فتح لشکر تیار کر دیا جو ہر زمانے کے لئے مایۂ ناز ہے۔
اس حدیث سے ہمیں کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ اول تو یہ کہ آنحضرتؐ نے صرف ایک دفعہ ہی صحابہؓ کے ساتھ مل کر کام نہیں کیا بلکہ ہمیشہ کرتے تھے کیونکہ پہلا واقعہ جو میں نے بیان کیا ہے وہ آپؐ کی مدنی زندگی کا ابتدائی واقعہ ہے اور یہ چھ سال بعد کا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آپؐ کی عادت تھی کہ کوئی کام کسی کو نہ دیتے مگر خود اس میں شامل ہوتے تاکہ خود بھی ثواب سے حصہ لیں اور دوسروں کو اور بھی رغبت اور شوق پیدا ہو کہ جب ہمارا آقا خود شامل ہے تو ہمیں اس کام سے کیا عار ہو سکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ انہیں چستی سے کام کرنے کی عادت ہو اور وہ آپ کے شمول کی وجہ سے جس تیزی سے کام کرتے ہوں گے اسے ان کی عادت میں داخل کر دیا جائے۔
دوسرے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جس وقت آپؐ مدینہ تشریف لائے تھے اس وقت آپ بالکل نو وارد تھے اور ابھی آپؐ کی حکومت قائم نہ ہوئی تھی اور گو سینکڑوں جاں نثار موجود تھے جو اپنی جان قربان کرنے کیلئے حاضر تھے مگر پھر بھی دنیا کے لحاظ سے آپ کے ماتحت کوئی علاقہ نہ تھا مگر
غزوہ احزاب کے وقت گو آپ کے لشکر کی تعداد کم تھی مگر بارہا کھلے میدانوں میں کفار کو شکست دے چکے تھے۔ یہودیوں کے دو قبیلے جلاوطن ہو کر ان کی املاک مسلمانوں کے قبضہ میں آگئی تھیں۔ مدینہ اور اسکے گرد و نواح میں آپ کی حکومت قائم ہو گئی تھی۔ بقیہ یہودی معاہدہ کی رو سے مسلمانوں سے دب کر صلح کر چکے تھے اس لئے اب آپ کی پہلی حالت اور اس حالت میں بہت فرق تھا اور اب آپ ایک ملک کے حاکم یا بادشاہ تھے پس اس وقت آپ کا صحابہؓ کے ساتھ مل کر کام کرنا جبکہ آپ کی عمر بھی چھپن سال کی ہو چکی تھی ایک اور ہی شان رکھتا ہے اور یہ واقعہ پہلے واقعہ سے بھی زیادہ شاندار ہے۔
اس واقعہ سے اس بات کی بھی مزید تائید ہو جاتی ہے کہ آپؐ کسی وقت نصیحت سے غافل نہ ہوتے تھے کیونکہ اب بھی آپ نے جو شعر پڑھنے کے لئے چنے ہیں وہ ایسے با محل ہیں کہ ان میں مسلمانوں کو اپنے کام میں دل لگانے کے لئے ہزاروں ترغیبیں دی ہیں کس طرح انہیں اللہ تعالیٰ کا احسان بتایا ہے کہ یہ خدا کا ہی فضل ہے کہ تم مسلمان ہوئے اور خدا تعالیٰ پر احسان نہ جتانا کہ اس کے دین میں کوشش کر رہے ہو بلکہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اسلام کی توفیق دی اور تمہیں ہدایت کی راہوں پر چلایا۔ پھر کس طرح اشارہ فرمایا کہ یہ جنگ کوئی دنیاوی جنگ نہیں بلکہ ایک مذہبی جنگ ہے اور اس کا اصل باعث کیا ہے؟ صرف یہ کہ ہم خدا کو کیوں مانتے ہیں شرک کیوں نہیں کرتے اور کیوں کفار کی بات نہیں مان لیتے ۔ اس میں یہ بھی بتایا ہے کہ جنگ کی ابتداء کفار کی طرف سے ہوتی ہے اور ہمارا کام تو یہی رہا ہے کہ ہم ان کی شرارتوں کے قبول کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں۔
میں مانتا ہوں کہ یہ شعر کسی اور کے کہے ہوئے ہیں اور آپؐ شعر نہیں کہتے تھے مگر موقعہ پر ان شعروں کو چن لینا یہ بتاتا ہے کہ آپؐ کس طرح نصیحت کے پہلو کو ہمیشہ اختیار کرتے تھے عرب ایسے موقعوں پر شعر کہنے اور پڑھنے کے عادی ہیں اور صحابہؓ بھی شعر کہتے تھے مگر سب اشعار میں سے ان کو چن لینا یہ حکمت سے خالی نہ تھا اور واقعات بتا رہے ہیں کہ یہ انتخاب بے معنی نہ تھا بلکہ مسلمانوں کو بہت سے ضروری مسائل کی طرف متوجہ کرنا تھا۔
غرض کہ آنحضرتؐ کی زندگی پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ خدا کی راہ میں ہر ایک کام میں صحابہؓ کے شریک رہتے تھے اور یہ بات دنیا کے کسی بادشاہ میں اس حد تک نہیں پائی جاتی۔
اب میں آنحضرت ﷺ کے اخلاق کے ایک اور پہلو پر روشنی ڈالتا ہوں جس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے کیسا مطہر پیدا کیا۔
بادشاہوں کے درباروں اور رؤساء کی مجالس میں بیٹھنے والے جانتے ہیں کہ ان مقامات میں بیجا تعریف اور جھوٹی مدح کا بازار کیسا گرم رہتا ہے اور کس طرح درباری اور ہم مجلس رؤساء کی تعریف اور مدح میں آسمان اور زمین کے قلابے ملاتے ہیں اور وہ ان کو سن سنکر خوش اور شاداں ہوتے ہیں۔ ایشیائی شاعری کا تو دارومدار ہی عشقیہ غزلوں اور امراء کی مدح سرائی پر ہے۔ شاعر اپنے قصیدہ میں جس امیر کی مدح کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے دنیا کی ہر ایک خوبی اس کی طرف منسوب کر دیتا ہے اور واقعات اور حقیقت سے اسے کوئی غرض نہیں ہوتی جس قدر ممکن ہو جھوٹ بولتا ہے اور تعریف کا کوئی شعبہ اٹھا نہیں رکھتا۔ ہر ایک رنگ سے اس کی بڑائی بیان کرتا ہے اور اس کا دل خوب جانتا ہے کہ میرے بیان میں سوواں حصہ بھی صداقت نہیں۔ سننے والے بھی جانتے ہیں کہ محض بکواس کر رہا ہے مگر وہ جب اس امیر یا بادشاہ کی مجلس یا دربار میں اپنا قصیدہ پڑھ کر سناتا ہے تو ہر ایک شعر پر اپنی داد کا خواہاں ہوتا ہے اور سننے والے جو اس کی دروغ گوئی سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں قصیدہ کے ایک ایک مصرع پر ایک دوسرے سے بڑھ بڑھ کر داد دیتے اور تعریف کرتے ہیں کہ سبحان اللہ کیا خوب کہا اور خود وہ امیر جس کی شان میں وہ قصیدہ کہا جاتا ہے باوجود اس علم کے کہ مجھ میں وہ باتیں ہرگز نہیں پائی جاتیں جو شاعر نے اپنے قصیدہ میں بیان کی ہیں۔ ایک ایک شعر پر اسے انعام دیتا اور اپنی ذات پر ناز و فخر کرتا ہے حالانکہ قصیدہ کہنے والا سننے والا اور جس کے حق میں کہا گیا ہے۔ سب کے سب واقعات سے ناواقف نہیں ہوتے اور ہر ایک جانتا ہے کہ قصیدہ میں جو مضامین بیان کئے گئے ہیں ان میں ایک شمہ بھر بھی صداقت و راستی نہیں امراء کی قید کیا ہے عام طور پر ہر ایک انسان کا یہی حال ہے (اِلَّا مَاشَاءَ اللّٰہ) کہ وہ اپنی تعریف سنکر خوش ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ میری مدح کی جائے اور جب کوئی اسکی نسبت جھوٹی مدح سے بھی کام لیتا ہے تو اس کے اندر یہ جرأت نہیں ہوتی کہ اس کا انکار کر سکے بلکہ سکوت کو ہی پسند کر لیتا ہے۔
مگر ہمارے آنحضرت فداہ ابی و امی ایسے برگزیدہ اور پاک و مطہر انسان تھے کہ آپؐ ان کمزوریوں سے بالکل پاک تھے۔ اور اگر ایک طرف ہر قسم کی خوبیوں کے جامع اور نیکیوں کے خازن تھے تو دوسری طرف آپؐ یہ بھی کبھی پسند نہ فرماتے تھے کہ کوئی شخص آپؐ کی نسبت کوئی ایسی بات بیان کرے جو درحقیقت آپؐ میں نہیں پائی جاتی۔
ربیع بنت معوّذ سے روایت ہے کہ دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ بُنِیَ عَلَیَّ، فَجَلَسَ عَلٰی فِرَاشِیْ کَمَجْلِسِکَ مِنِّیْ، وَجُوَیْرِیَاتٌ یَّضْرِبْنَ بِالدُّفِّ، یَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِهِنَّ یَوْمَ بَدْرٍ، حَتّٰی قَالَتْ جَارِیَةٌ: وَفِیْنَا نَبِیٌّ یَّعْلَمُ مَا فِیْ غَدٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: ﴿لَا تَقُوْلِیْ هٰکَذَا، وَ قُوْلِیْ مَا کُنْتِ تَقُوْلِیْنَ﴾(بخاری کتاب المغازی باب قصہ غزوہ بدر)۔ یعنی جس دن میری شادی ہوئی ہے اس دن آنحضرتؐ میرے پاس تشریف لائے اور میرے فرش پر بیٹھ گئے اسی طرح جس طرح تو بیٹھا ہے (یہ بات راوی کو کہی) اور کچھ لڑکیاں دف بجا رہی تھی اور بدر کی جنگ میں جو ان کے بزرگ مارے گئے تھے ان کی تعریفیں بیان کر رہی تھیں یہاں تک کہ ایک لڑکی نے یہ مصرع پڑھنا شروع کیا (اس مصرع کا ترجمہ یہ ہے) کہ ہم میں ایک رسول ہے جو کل کی بات جانتا ہے۔ اس بات کو سنکر آنحضرتؐ نے اسے ٹوکا اور فرمایا کہ یہ مت کہو اور جو کچھ پہلے گارہی تھی وہی گاتی جا۔
یہ وہ اخلاق ہیں جو انسان کو حیران کر دیتے ہیں اور وہ ششدر رہ جاتا ہے کہ ایک انسان ان تمام کمالات کا جامع ہو سکتا ہے۔ بے شک بہت سے لوگوں نے جن کی زبان تیز تھی یا قلم رواں تھی تقریر و تحریر کے ذریعہ اعلیٰ اخلاق کے بہت سے نقشے کھینچے ہیں لیکن وہ انسان ایک ہی گزرا ہے جس نے صرف قول سے ہی نہیں بلکہ عمل سے اعلیٰ اخلاق کا نقشہ کھینچ دیا اور پھر ایسا نقشہ کہ اس کی یاد چشمِ بصیرت رکھنے والوں کو کبھی نہیں بھول سکتی۔
ایک طرف دنیا کو ہم اپنی تعریف و مدح کا ایسا شیدا دیکھتے ہیں کہ خلافِ واقعہ تعریفوں کے پل باندھ دیئے جاتے ہیں اور جن کی مدح کی جاتی ہے بجائے ناپسند کرنے کے اس پر خوش ہوتے ہیں اور ایک طرف آنحضرتؐ کو دیکھتے ہیں کہ ذرا منہ سے ایسا کلام سنا کہ جو خلافِ واقعہ ہے تو با وجود اس کے کہ وہ اپنی ہی تعریف میں ہو تا اس سے روک دیتے اور کبھی اسے سننا پسند نہ فرماتے: بیں تفاوت راہ از کجاست تا بکجا۔ اہلِ دنیا کدھر کو جا رہے ہیں اور وہ ہمارا پیارا کدھر کو جاتا ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ ایسے بھی لوگ پائے جاتے ہیں کہ جو اپنی تعریف کو پسند نہیں کرتے اور بے جا تعریف کرنے والے کو روک دیتے ہیں اور بادشاہوں میں سے بھی ایسے آدمی گزرے ہیں مگر آپؐ کے فعل اور لوگوں کے فعل میں ایک بہت بڑا فرق ہے جو آپؐ کے عمل کو دوسروں کے اعمال پر امتیاز عطا کرتا ہے انگلستان کے مورّخ اپنے ایک بادشاہ (کیننوٹ) کے اس فعل کو کبھی اپنی یاد سے اترنے نہیں دیتے کہ اس نے اپنے بعض درباریوں کی بے جا خوشامد کو ناپسند کر کے انہیں ایسا سبق دیا جس سے وہ آئندہ کے لئے اس سے باز آ جائیں۔ یعنی جب بعض لوگوں نے اس سے کہا کہ سمندر بھی تیرے ماتحت ہے تو اس نے ان پر ثابت کر دیا کہ سمندر اس کا حکم نہیں مانتا۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ایک دنیاوی بادشاہ تھا اور روحانی بادشاہت سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا نہ اسے روحانی حکومت و تصرف کا ادعاء تھا۔ پس اگر ایک ایسی بات کا اس نے انکار کر دیا جو اس کے اپنے راہ سے علیحدہ تھی تو یہ کچھ بڑی بات نہ تھی اسی طرح دیگر لوگ جو جھوٹی مدح سے متنفر ہوتے ہیں ان کے حالات میں بھی بہت کچھ فرق ہے آنحضرت ایک ایسی قوم میں تھے جو سر تسلیم جھکانے کے لئے صرف ایک ایسے شخص کے آگے تیار ہو سکتی تھی جو اپنی طاقت سے بڑھ کر طاقت رکھتا ہو کیونکہ اس کی رگ رگ میں حریت اور آزادی کا خون دوڑ رہا تھا پس اس کے سامنے اپنے آپ کو معمولی انسانوں کی طرح پیش کرنا بلکہ اگر ان میں سے کوئی آپ کی ایسی تعریف بھی کرے جو وہ اپنے بڑوں کی نسبت کرنے کے عادی تھے تو اسے روک دینا یہ ایک ایسا فعل تھا جس سے ایک اوسط درجہ کا انسان گھبرا جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کے بغیر میرا گزارہ کیونکر ہو گا۔ دوم آپ کو دعویٰ تھا نبوت کا اور نبوت میں آئندہ خبریں دینا ایک ضروری امر ہے پس یہ تعریف خود آپ کے کام کی نسبت تھی گو مبالغہ سے اسے اور کا اور رنگ دے دیا گیا تھا۔ پس آپ کا اس تعریف سے انکار کرنا دوسرے لوگوں سے بالکل ممتاز ہے اور آپ کے نیک نمونہ سے کسی اور انسان کا نمونہ خواہ وہ انبیاءؑ میں سے ہی کیوں نہ ہو قطعاً نہیں مل سکتا۔
اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس طرح حریت پیدا کرنی چاہتے تھے۔ اس قسم کے خیالات اگر پھیلائے جاتے اور آپؐ ان کے پھیلائے جانے کی اجازت دے دیتے تو مسلمانوں میں شرک ضرور پھیل جاتا مگر ہمارا رسولؐ تو شرک کا نہایت خطرناک دشمن تھا وہ کب اس بات کو پسند فرما سکتا تھا کہ ایسی باتیں مشہور کی جائیں جو واقعات کے خلاف ہیں اور جن سے دنیا میں شرک پھیلتا ہے پس اس نے جو نہی ایسے کلمات سنے کہ جن سے شرک کی بو آتی تھی فوراً ان سے روک دیا اور اس طرح بنی نوع انسان کو ذہنی غلامی سے بچا لیا اور حریت کے ایک ایسے ارفع اسٹیج پر کھڑا کر دیا جہاں غلامی کی زہریلی ہواؤں کا پہنچنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ اے سوچنے والو سوچو تو سہی کہ اگر آنحضرتؐ کو دنیا کی عزت اور رتبہ منظور تھا اور آپ کا سب کام دنیاوی جاہ و جلال حاصل کرنے کے لئے تھا تو آپ کے لئے کیا مناسب تھا۔ کیا یہ کہ لوگوں میں اپنی عزت و شان کے بڑھانے کے لئے باتیں مشہور کراتے یا کہ معتقدین کو ایسا کرنے سے روکتے کیا وہ لوگ جو اپنی خواہش اور آرزو کے ماتحت دنیا میں
بڑا بننا چاہتے ہیں اسی طرح کیا کرتے ہیں۔ کیا وہ بغیر امتیاز جھوٹ اور سچ کے اپنی شان دوبالا نہیں کرنی چاہتے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ایک انسان کو بغیر اس کے اشارہ کے کچھ لوگ وہ شان دینا چاہتے ہیں جو اگر کسی انسان میں پائی جائے تو وہ مرجع خلائق بن جائے تو وہ انہیں روکتا ہے اور فوراً کہہ دیتا ہے کہ اور اور باتیں کرو مگر ایسا کلام منہ پر نہ لاؤ جس سے اس وحدہٗ لا شریک ذات کی ہتک ہوتی ہو جو سب دنیا کا خالق و مالک ہے اور میری طرف وہ باتیں منسوب نہ کرو جو درحقیقت مجھ میں نہیں پائی جاتیں۔ ہاں بتلاؤ تو سہی کہ اس کا کیا سبب ہے؟ کیا یہ نہیں کہ وہ دنیا کی عزتوں کا محتاج نہ تھا بلکہ خدا کی رضا کا بھوکا تھا۔ دنیا اس کی نظر میں ایک مُردار سے بھی کم حیثیت رکھتی تھی۔
آرام و آسائش کے اوقات میں اپنے ہوش و حواس پر قابو رکھنا کوئی بات نہیں۔ انسان کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اس پر کوئی مشکل پیش آئے اور پھر اس میں وہ اپنے حواس کو قائم رکھے اور بد حواس نہ ہو جائے۔ آنحضرتؐ کو اپنی عمر میں ہر قسم کے واقعات پیش آئے اور بہادری اور جرأت میں آپؐ نے اپنے آپ کو بے نظیر ثابت کر دکھایا ہے جیسا کہ ہم اس سے پہلے مختلف واقعات سے ثابت کر چکے ہیں ان مصائب و آسائش کے مختلف دوروں نے آپ کی عظمت اور جلال کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ہر حالت میں اپنی کوئی نہ کوئی خوبی ظاہر کی ہے۔ خواہ عسر کا زمانہ ہو یا یسر کا۔ آپؐ بے عیب ثابت ہوئے ہیں اور آپ کی شان ارفع سے ارفع تر ثابت ہوئی ہے۔ نہ تو مصائب کے ایام میں آپ سے کوئی ایسی بات ظاہر ہوئی جس سے آپ پر عیب گیری کا موقع ملے نہ خوشی کے دنوں میں آپ سے کوئی ایسا فعل سرزد ہوا جس سے آپ پر اعتراض کرنے کی گنجائش پیدا ہو ہر رنگ اور شکل میں آپؐ دنیا کے لئے ایک قابلِ قدر نمونہ ثابت ہوئے ہیں۔ جرأت و بہادری کی نسبت تو میں لکھ چکا ہوں اس جگہ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آنحضرتؐ کو اپنے حواس پر کیسا قابو تھا اور کس طرح خطرناک سے خطرناک مصائب میں آپؐ استقلال اور ٹھنڈے دل کے ساتھ غور کرنے کے عادی تھے اور آپ سے کبھی کوئی ایسی حرکت نہ ہوتی تھی جس سے کسی قسم کی گھبراہٹ ظاہر ہو اور یہ بھی کہ کیوں کر ہر ایک مصیبت میں آپ کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ ہی دکھائی دیتا تھا۔
یہ تو میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے بادشاہوں کی طرح اپنے ساتھ کوئی پہرہ یا گارڈ نہیں رکھتے تھے بلکہ دوسرے صحابہؓ کی طرح آپؐ بھی اکیلے اپنے کام میں مشغول رہتے تھے ایسے اوقات میں دشمن کو جس قدر دکھ پہنچانے کے مواقع مل سکتے ہیں وہ ایک واقف کار انسان کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ہو سکتے۔ جو انسان ایک ہی وقت میں اپنے ملک کے ہر طبقہ کے انسانوں اور ہر فرقہ کے پیروؤں سے خصوصاً اور باقی دنیا سے عموماً جنگ شروع کر چکا ہو اور ان کے عقائد اور خیالات کو مٹا کر ان کی جگہ اپنی لائی ہوئی تعلیم کو پھیلانے میں کوشاں ہو۔ اس سے دیگر مذاہب اور مخالف امراء کے پیروؤں اور متبعین کو جو کچھ بھی عداوت ہو کم ہے اور وہ ہر ممکن سے ممکن ذرائع سے اسے تکالیف پہنچانے کی کوشش کریں گے اور خصوصاً جبکہ انہیں معلوم ہو کہ جس شخص کو ایذاء پہنچانا انہیں مقصود ہے وہ بغیر کسی نگرانی یا پہرہ کے گلیوں اور میدانوں میں تن تنہا چلتا پھرتا انہیں مل سکتا ہے۔
آپؐ کے مخالفین نے ان حالات سے فائدہ اٹھانے کے لئے جو تدابیر کیں ان سے بحیثیت مجموعی مجھے غرض نہیں۔ میں صرف بخاری کی روایات سے کچھ واقعات اس سیرت میں بیان کر رہا ہوں جن سے آپؐ کے اخلاق پر روشنی پڑتی ہے اس لئے صرف ایک ایسا واقعہ جس سے معلوم ہو سکے گا کہ کس طرح آپؐ کی جان پر اچانک حملہ کیا گیا اور آپؐ نے اس وقت اپنے ہوش و حواس کو کس طرح بجارکھا۔ اس جگہ بیان کرتا ہوں۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰهِ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمَا اَخْبَرَهُ اَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ فَلَمَّا قَفَلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ فَاَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِیْ وَادٍ کَثِیْرِ الْعِضَاءِ فَنَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِی الْعِضَاءِ يَسْتَظِلُّوْنَ بِالشَّجَرِ وَ نَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ قَالَ جَابِرٌ فَنِمْنَا نَوْمَةً ثُمَّ اِذَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوْنَا فَجِئْنَاهُ فَاِذَا عِنْدَهُ اَعْرَابِیٌّ جَالِسٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنَّ هٰذَا اِخْتَرَطَ سَيْفِیْ وَاَنَا نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِیْ يَدِهِ صَلْتًا فَقَالَ لِیْ مَنْ يَّمْنَعُكَ مِنِّیْ قُلْتُ اللّٰهُ فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ ثُمَّ لَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔(بخاری کتاب المغازی باب غزوة ذات الرقاع)
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نجد کی جانب ایک غزوہ میں شریک ہوئے اور جب آپؐ سفر سے لوٹے۔ تو آپ بھی حضور کے ساتھ لوٹے راستہ میں لشکر ایک ایسی وادی میں جو کانٹے دار درختوں سے پُر تھی دوپہر کے وقت گزرا۔ پس رسول اللہ ﷺ وہاں اتر پڑے اور آپ کے ساتھی ادھر ادھر درختوں میں پھیل گئے اور درختوں کے سائے میں آرام کرنے لگے۔ آنحضرت ﷺ بھی ایک کیکر کے درخت کے نیچے
ٹھہر گئے اور اپنی تلوار اس درخت سے لٹکا دی۔ جابرؓ فرماتے ہیں کہ ہم تھوڑی دیر سو گئے پھر اچانک آنحضرت کی آواز آئی کہ آپؐ ہمیں بلاتے ہیں پس ہم آپ کے پاس آئے اور کیا دیکھتے ہیں کہ آپؐ کے پاس ایک اعرابی بیٹھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے میری تلوار میان سے کھینچی اور میں سو رہا تھا پس میں جاگ پڑا اور اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی پس اس نے مجھے کہا کہ مجھ سے تجھے کون بچائے گا میں نے اسے جواب دیا کہ اللہ بچائے گا پس دیکھو یہ سامنے بیٹھا ہے پھر جابرؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے اسے کوئی سزا نہ دی۔ دوسری جگہوں سے اس واقعہ میں اس قدر اور زیادتی معلوم ہوتی ہے کہ اللہ کا نام سن کر اس شخص پر اس قدر ہیبت طاری ہوئی کہ اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اور آنحضرتؐ نے اٹھالی اور اس سے فرمایا کہ اب تجھے میرے ہاتھ سے کون بچائے گا تو اس نے جواب دیا کہ کوئی نہیں۔ پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا اور صحابہؓ کو بلا کر دکھایا۔
اس حدیث سے کیسے واضح طور سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت کو اپنے حواس پر ایسا قابو تھا کہ نہایت خطرناک اوقات میں بھی آپ نہ گھبراتے۔ کہنے کو تو شاید یہ ایک چھوٹی سی بات معلوم ہوتی ہے کہ اس اعرابی نے آپ سے پوچھا کہ اب آپ کو کون بچائے گا اور آپ نے فرمایا کہ اللہ لیکن عمل میں یہ بات مشکل ترین امور میں سے ہے۔
اول تو سویا ہوا انسان پہلے ہی بہت سی غفلتوں کے نیچے ہوتا ہے اور بغیر کسی خوف و خطر کے بھی ایک سوئے ہوئے آدمی کو جگا دیا جائے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور کسی خطرناک آواز یا نظارہ کو اگر ایک سویا ہوا انسان سنکر یا دیکھ کر اٹھے تو اس کے حواس قائم رہنے نہایت مشکل ہوتے ہیں۔ پس اگر جاگتے ہوئے کوئی دشمن حملہ کرتا تو وہ واقعہ ایسا صاف اور روشن نہ ہوتا جیسا کہ یہ ہے کیونکہ اس سے ایک طرف تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو کسی خطرہ کا گمان تک بھی نہ تھا جب اس شخص نے آپؐ پر حملہ کیا اور آپ کسی ایسے فعل سے انتہائی درجہ کی لاعلمی میں تھے اور دوسری طرف دشمن کو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ہر قسم کی تیاری اور ہوشیاری کا موقع حاصل تھا۔ علاوہ ازیں ایک آدمی جب بیٹھا یا کھڑا ہو تو وہ حملہ آور کا مقابلہ نہایت آسانی سے کر سکتا ہے اور کم سے کم اسے اپنی جگہ بدلنے میں آسانی ہوتی ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کے حملہ کو اگر طاقت اور قوت سے میں نہیں روک سکتا تو کم سے کم چستی اور چالاکی سے اس کے حملہ کو ضرور بچا سکتا ہوں اور اس کی ضرب سے ایک طرف ہو کر اپنی جان بچانے کا موقع حاصل ہو سکتا ہے لیکن آنحضرتؐ اس وقت لیٹے ہوئے تھے اور پھر سوئے ہوئے جاگے تھے جس کی وجہ سے کوئی ظاہری تدبیر دشمن کے حملہ کو روکنے کی نہ تھی اور پھر آپؐ غیر علاقہ میں تھے اور دشمن اپنی جگہ پر تھا جہاں اپنی حفاظت کا اسے ہر طرح یقین تھا مگر باوجو دان حالات کے آپؐ نے ایک ذرہ بھر بھی تو گھبراہٹ ظاہر نہ کی۔
اس اعرابی کا یہ کہنا بھی کہ اب تجھے کون بچا سکتا ہے صاف ظاہر کرتا ہے کہ اسے بھی کامل یقین تھا کہ اب کوئی دنیاوی سامان ان کے بچاؤ کا نہیں مگر اسے کیا معلوم تھا کہ جس شخص پر میں حملہ کرنا چاہتا ہوں وہ معمولی انسانوں میں سے نہیں بلکہ ان میں سے ہے جو خالق ارض و سما کے دربار کے مقرب اور اس کے ظلِّ عافیت کے نیچے آئے ہوئے ہوتے ہیں۔
آنحضرت ﷺ نے اسے جس آرام اور اطمینانِ قلب کے ساتھ جواب دیا ہے کہ مجھے اللہ بچائے گا وہ روزِ روشن کی طرح اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ آپ کے دل میں غیر اللہ کا خوف ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں آتا تھا اور آپ کا دل ایسا مضبوط اور قوی تھا کہ خطرناک سے خطرناک اوقات میں بھی اس میں گھبراہٹ کا وجود نہ پایا جاتا تھا اور اپنے حواس پر آپ کو اس قدر قدرت تھی کہ اور تو اور خود دشمن بھی جو آپ کے قتل کے ارادہ سے آیا تھا بد حواس ہو گیا اور اس کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ کر گر گئی کیونکہ اس نے دیکھ لیا کہ میں ایک ایسی طاقت کا مقابلہ کر رہا ہوں جسے نقصان پہنچانے کی بجائے میں خود تباہ ہو جاؤں گا۔
آنحضرت ﷺ کبھی ضد سے کام نہ لیتے تھے بلکہ جس بات میں خیر دیکھتے اس کو اختیار کرتے تھے اور قطعاً اس بات کی پرواہ نہ کرتے کہ اس سے میرے کسی حکم کی خلاف ورزی تو نہیں ہوتی۔
ہم دیکھتے ہیں کہ رجالِ سیاستِ دنیویہ نے اپنے اصولوں میں سے ایک یہ اصل بھی بنا رکھی ہے کہ بادشاہ یا حاکم جو حکم دے دے اور جو فیصلہ کر دے اس میں تغیر نہ کرے اور جس طرح کیا ہے اس پر قائم رہے تاکہ لوگوں کے دل میں یہ نہ خیال پیدا ہو کہ ہم نے ڈرا کر منوا لیا ہے یا کم سے کم دوسروں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے کہ ایک بات کہہ کر پھر اس سے رجوع کر لیا ہے اور اس اصل پر رجالِ سیاست ایسے پکے اور قائم رہتے ہیں کہ بعض اوقات جنگوں تک نوبت پہنچ جاتی ہے مگر وہ اپنی بات کی پچ کے لئے اور دبدبہ حکومت قائم رکھنے کے لئے ملک کو جنگ میں ڈال دیتے ہیں لیکن اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اپنے فیصلہ کو واپس لے لیں۔
جو لوگ تاریخِ انگلستان سے واقف ہیں ان سے یہ امر پوشیدہ نہیں کہ ریاستہائے متحدہ سے جنگ کی وجہ یہی ہوئی کہ انگلستان کے رجالِ سیاست ایک فیصلہ دے کر اس کو واپس نہیں لینا چاہتے تھے گو وہ اس بات کو خوب سمجھ گئے تھے کہ ہم غلطی کر رہے ہیں جس کا نتیجہ ایک خونریز جنگ ہوئی اور ایک سرسبز و شاداب ملک ہاتھ سے جاتا رہا۔
خود ہندوستان میں تقسیمِ بنگالہ کا فیصلہ ایک کھلی نظیر موجود ہے کہ خود وزراء انگلستان قبول کرتے کہ یہ فیصلہ درست نہیں ہوا لیکن ڈرتے تھے کہ اسے تبدیل کر دیں گے تو ملک میں حکومت کی بے رُعبی ہو گی چنانچہ جب تک شہنشاہ ہند کی تاجپوشی کا ایک نہایت غیر معمولی موقع پیش نہیں آیا اس حکم کو منسوخ نہیں کیا گیا۔
اور درحقیقت بظاہر دنیاوی نقطۂ خیال سے یہ بات ہے بھی درست کیونکہ جب رعایا کے دل میں یہ بیٹھ جائے کہ ہم جس طرح چاہیں کر سکتے ہیں یا ان کو یہ خیال ہو جائے کہ ہمارا حاکم تو بالکل غیر مستقل مزاج آدمی ہے اسے جس طرح چاہیں پھیر دیں تو وہ بہت دلیر اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں سست ہو جاتی ہے اور اسی وجہ سے رجالِ سیاست نے اس بات کو بہت پسند کیا ہے کہ حاکم اپنے فیصلہ کو بہت جلدی واپس نہ لے بلکہ حتیٰ الامکان اس پر قائم رہے۔
ہمارے آنحضرت ﷺ جس پاک فطرت کو لے کر پیدا ہوئے اور جن کمالات کو آپؐ نے حاصل کیا تھا وہ چاہتے تھے کہ آپ ہمیشہ خیر اختیار کریں ایک دنیاوی بادشاہ یا حاکم اس بات پر فخر کر سکتا ہے کہ میں اپنے ایامِ حکومت میں حکومت کے رعب کو قائم رکھتا رہا ہوں اور ایک مضبوط ارادہ کے ساتھ نظامِ حکومت چلاتا رہا ہوں مگر میرے اس پیارے کا یہ فخر نہ تھا کہ میں نے جو کچھ کہہ دیا اس پر پابند رہا ہوں بلکہ اس کا فخر یہ تھا کہ میں نے جب عمل کیا خیر پر کیا اور جب مجھے معلوم ہوا کہ میں فلاں رنگ میں کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہوں میں نے اس کے پہنچانے میں کوتاہی نہیں کی پس اگر روحانیت کی دنیا میں کوئی شخص قابلِ اتباع ہو سکتا ہے تو وہ آنحضرت ﷺ ہی ہو سکتے ہیں۔
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: إِنَّا اَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ نَفَرٌ مِّنَ الْاَشْعَرِيِّيْنَ فَاسْتَحْمَلْنَاهُ ، فَأَبٰى اَنْ يَّحْمِلَنَا، فَاسْتَحْمَلْنَاهُ ، فَحَلَفَ اَنْ لَّا يَحْمِلَنَا ، ثُمَّ لَمْ يَلْبَثِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ اَنْ اُتِيَ بِنَهْبِ اِبِلٍ ، فَاَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ ، فَلَمَّا قَبَضْنَاهَا قُلْنَا : تَغَفَّلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَمِيْنَهُ ، لَا نُفْلِحُ بَعْدَهَا اَبَدًا ، فَاَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ، إِنَّكَ حَلَفْتَ اَنْ لَّا تَحْمِلَنَا وَ قَدْ حَمَلْتَنَا ؟ قَالَ : «اَجَلْ ، وَلٰكِنْ لَّا اَحْلِفُ عَلٰى يَمِيْنٍ ، فَاَرٰی غَيْرَهَا خَيْرًا مِّنْهَا اِلَّا اَتَیْتُ الَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ مِّنْھَا(بخاری کتاب المغازی باب قدوم الاشعریین واھل الیمن)
آپ نے فرمایا کہ ہم چند آدمی جو اشعری قبیلہ کے تھے۔ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور ہم نے آپ سے سواری مانگی۔ آپ نے فرمایا کہ سواری نہیں ہے میں نہیں دے سکتا۔ ہم نے پھر عرض کیا کہ ہمیں سواری دی جاوے تو آپ نے قسم کھائی کہ ہمیں سواری نہ دیں گے پھر کچھ زیادہ دیر نہ لگی تھی کہ نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ اونٹ لائے گئے پس آپؐ نے حکم دیا کہ ہمیں پانچ اونٹ دیئے جاویں۔ پس جب ہم نے وہ اونٹ لے لئے ہم نے آپس میں کہا کہ ہم نے تو آنحضرت ﷺ کو دھوکا دیا ہے اور آپؐ کو آپؐ کی قسم یاد نہیں دلائی ہم اس کے بعد کبھی مظفر و منصور نہ ہوں گے اس خوف سے میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ آپ ہمیں سواری نہ دیں گے اور اب تو آپ نے ہمیں سواری دے دی ہے۔ فرمایا ہاں اسی طرح ہوا ہے میں کوئی قسم نہیں کھاتا لیکن جب اس کے سوا کوئی اور بات بہتر دیکھتا ہوں تو وہ بات اختیار کر لیتا ہوں جو بہتر ہو۔
اس واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا مقصود کیا تھا آپ کے کام کسی دنیاوی مصلحت یا ارادہ کے ماتحت نہ ہوتے تھے بلکہ آپ اپنے ہر کام میں یہ بات مد نظر رکھتے تھے کہ جو کچھ آپ کرتے ہیں وہ واقعہ میں نفع رساں بھی ہے یا نہیں اور اگر کبھی معلوم ہو جائے کہ آپ نے کوئی ایسا کام کیا ہے یا اس کے کرنے کا ارادہ کیا ہے جو کسی انسان کے لئے مضر ہو گا یا اسے اس سے تکلیف ہو گی تو آپ فوراً اپنے پہلے حکم کو واپس لے لیتے اور وہی بات کرتے جو بہتر اور نفع رساں ہوتی۔
ایک ظاہر بین انسان کہہ سکتا ہے کہ اس سے رعب و داب میں فرق آتا ہے اور حکومت کو نقصان پہنچتا ہے مگر اس بات سے تو آپ کی خوبی اور نیکی کا پتہ چلتا ہے کہ خواہ کوئی امر کیسا ہی خطرناک اور مُضر معلوم ہوتا ہو آپ بے دھڑک اسے اختیار کر لیتے تھے جبکہ آپ کو یقین ہو جاتا ہے کہ اس سے لوگوں کے حقوق کی نگہداشت ہوتی ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کا ایک خاص نشان تھا کہ باوجود اس بات کے آپ کو ایسا رعب و داب میسر تھا جو دنیا کے کسی بادشاہ کو میسر نہیں۔ واقعہ میں ایک بادشاہ کا اصل فرض یہ ہے کہ وہ لوگوں کو سکھ پہنچائے اور آپ نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ آپ دین و دنیا کے لئے ایک کامل نمونہ تھے اور آپؐ کی زندگی دنیاوی بادشاہوں کے لئے بھی نمونہ ہے کہ بادشاہوں کو اپنے ماتحتوں اور رعایا کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے اور کس طرح ضد اور تعصب سے الگ ہو کر ہر ایک قربانی اختیار کر کے لوگوں کو آرام پہنچانے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔
ہمیں اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ماتحتوں پر اسی وقت بادشاہ کے حکم بدل دینے کا اثر پڑتا ہے جب کہ ان کو یہ یقین ہو کہ بادشاہ ہمارا یقینی خیر خواہ نہیں بلکہ اس نے ڈر کر اپنے حکم میں تبدیلی کی ہے اور جب انہیں یقین ہو کہ اس کے احکام ایک غیر مستقل طبیعت کا نتیجہ ہیں لیکن اگر انہیں اس بات کا کامل یقین ہو جائے کہ کوئی بادشاہ یا حاکم ان سے ڈر کر یا بے استقلالی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے حکم بدلتا ہے کہ وہ ان کا خیر خواہ ہے اور کسی وقت بھی ان کی بھلائی سے غافل نہیں ہوتا تو بجائے اس کے کہ ان کے دلوں میں بے رُعبی پیدا ہو وہ اس سے اور بھی مرعوب ہو جاتے ہیں اور ان کے دل محبت سے بھر جاتے ہیں اور جو بادشاہ اپنی رعایا اور ماتحتوں کے دلوں میں اپنی خیر خواہی کا ایسا یقین بٹھا دے وہی سب سے زبردست بادشاہ ہے اور یہی خیال تھا جس نے کہ ابو موسیٰؓ اور ان کے ساتھیوں کو مجبور کیا کہ بجائے اس خیال کے کہ یہ سمجھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی قسم کی بے استقلالی ظاہر ہوئی ہے انہوں نے ننگ کے لئے پیدل جانا منظور کیا مگر یہ نہ پسند کیا کہ آپ کو دوبارہ قسم یاد دلائے بغیر ان سواریوں کو استعمال کریں۔ اور یہ اس عظیم الشان فتح کا نشان تھا جو آپ کو اپنے اصحابؓ کے دلوں پر حاصل تھی۔
انسان کے نیک خصال میں سے تحمّل کی خصلت بھی اعلیٰ درجہ کی ہے کیونکہ تحمّل سے بہت سے جھگڑوں فسادوں اور لڑائیوں کا قلع قمع ہو جاتا ہے۔ بہت دفعہ انسان ایک بات سنکر بحث مباحثہ میں پڑ جاتا ہے اور بجائے فائدہ کرنے کے نقصان پہنچاتا ہے۔ بعض لوگ تو اپنے خیال کے خلاف بات سنتے ہی کچھ ایسے دیوانہ ہو جاتے ہیں کہ حدِّ اعتدال سے بڑھ کر گالیوں پر اتر آتے ہیں اور عظیم الشان فسادوں کے بانی ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے منشا کے خلاف بات سنکر ایسی طول طویل بحثیں شروع کر دیتے ہیں کہ جن کا ختم ہونا محالات سے ہو جاتا ہے لیکن حقیقی مصلح وہی ہے جو اکثر اوقات تحمّل سے کام لیتا ہے اور احتیاط کے ساتھ سمجھاتا ہے۔
آجکل کے بادشاہ یا علماء یا گدی نشین اپنی حیثیت کا قیام ہی اسی میں دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص ان کے خلاف بات نہ کرے اور مرضی کے خلاف بات دیکھ کر فوراً ناراض ہو جاتے ہیں اور تحمّل سے کام نہیں لیتے ممکن نہیں کہ ان لوگوں کے مزاج کے خلاف کوئی شخص بات کہہ دے اور پھر بغیر کچھ سخت و سست کلام سننے کے اس مجلس سے اٹھے مگر ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس طرز کے نہ تھے۔ اس موقع پر تحمّل سے کام لیتے اور بجائے گالیاں دینے اور سختی کرنے کے ایسانرمی کا طریق اختیار کرتے کہ دوسرا خود بخود شرمندہ ہو جائے۔
حضرت علیؓ اپنا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک موقع پر جبکہ حضرت علیؓ نے آپ کو ایسا جواب دیا جس میں بحث اور مقابلہ کا طرز پایا جاتا تھا تو بجائے اس کے کہ آپ ناراض ہوتے یا خفگی کا اظہار کرتے آپ نے ایک ایسی لطیف طرز اختیار کی کہ حضرت علیؓ غالباً اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس کی حلاوت سے مزا اٹھاتے رہے ہوں گے اور انہوں نے جو لطف اٹھایا ہو گا وہ تو انہیں کا حق تھا۔ اب بھی آنحضرت ﷺ کے اس اظہار ناپسندیدگی کو معلوم کر کے ہر ایک باریک بین نظر محوِ حیرت ہو جاتی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَ فَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَيْلَةً ، فَقَالَ : اَلَا تُصَلِّيَانِ فَقُلْتُ : يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! اَنْفُسُنَا بِيَدِ اللّٰهِ ، فَاِذَا شَاءَ اَنْ يَّبْعَثَنَا بَعَثَنَا ، فَانْصَرَفَ حِيْنَ قُلْنَا ذَالِكَ وَلَمْ يَرْجِعْ اِلَىَّ شَيْئًا ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُوَلٍّ يَّضْرِبُ فَخِذَهُ ، وَهُوَ يَقُوْلُ : وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْئٍ جَدَلًا(بخاری کتاب التہجد باب تحریض النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی قیام اللیل) یعنی نبی کریم ﷺ ایک رات میرے اور فاطمہ الزہراءؓ کے پاس تشریف لائے جو رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور فرمایا کہ کیا تم تہجد کی نماز نہیں پڑھا کرتے۔ میں نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ہماری جانیں تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں جب وہ اٹھانا چاہے اٹھا دیتا ہے۔ آپ اس بات کو سنکر لوٹ گئے اور مجھے کچھ نہیں کہا پھر میں نے آپؐ سے سنا اور آپ پیٹھ پھیر کر کھڑے ہوئے تھے اور آپ اپنی ران پر ہاتھ مار کر کہہ رہے ہیں کہ انسان تو اکثر باتوں میں بحث کرنے لگ پڑتا ہے۔ اللہ اللہ کس لطیف طرز سے حضرت علیؓ کو آپ نے سمجھایا کہ آپ کو یہ جواب نہیں دینا چاہئے تھا۔ کوئی اور ہوتا تو اول تو بحث شروع کر دیتا کہ میری پوزیشن اور رُتبہ کو دیکھو۔ پھر اپنے جواب کو دیکھو کہ کیا تمہیں یہ حق پہنچتا تھا کہ اس طرح میری بات کو رَدّ کر دو۔ یہ نہیں تو کم سے کم بحث شروع کر دیتا کہ یہ تمہارا دعویٰ غلط ہے کہ انسان مجبور ہے اور اس کے تمام افعال اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں وہ جس طرح چاہے کرواتا ہے چاہے نماز کی توفیق دے چاہے نہ دے اور کہتا کہ جبر کا مسئلہ قرآن شریف کے خلاف ہے لیکن آپ نے ان دونوں طریق میں سے کوئی بھی اختیار نہ کیا اور نہ تو ان پر ناراض ہوئے نہ بحث کر کے حضرت علیؓ کو ان کے قول کی غلطی پر آگاہ کیا بلکہ ایک طرف ہو کر ان کے اس جواب پر اس طرح اظہار حیرت کر دیا کہ انسان بھی عجیب ہے کہ ہر بات میں کوئی نہ کوئی پہلو اپنے موافق نکال ہی لیتا ہے اور بحث شروع کر دیتا ہے حقیقت میں آپ کا اتنا کہہ دینا ایسے ایسے منافع اندر رکھتا تھا کہ جس کا عُشرِ عشیر بھی کسی اور کی سوجھ بوجھ سے نہیں پہنچ سکتا تھا۔
اس حدیث سے ہمیں بہت سی باتیں معلوم ہوتی ہیں جن سے آنحضرتؐ کے اخلاق کے مختلف پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے اور اسی جگہ ان کا ذکر کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
اول تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو دینداری کا کس قدر خیال تھا کہ رات کے وقت پھر کر اپنے قریبوں کا خیال رکھتے تھے۔ بہت لوگ ہوتے ہیں جو خود تو نیک ہوتے ہیں، لوگوں کو بھی نیکی کی تعلیم دیتے ہیں لیکن ان کے گھر کا حال خراب ہوتا ہے اور ان میں یہ مادہ نہیں ہوتا کہ اپنے گھر کے لوگوں کی بھی اصلاح کریں اور انہی لوگوں کی نسبت مثل مشہور ہے کہ چراغ تلے اندھیرا۔ یعنی جس طرح چراغ اپنے آس پاس تمام اشیاء کو روشن کر دیتا ہے لیکن خود اس کے نیچے اندھیرا ہوتا ہے اسی طرح یہ لوگ دوسروں کو تو نصیحت کرتے پھرتے ہیں مگر اپنے گھر کی فکر نہیں کرتے کہ ہماری روشنی سے ہمارے اپنے گھر کے لوگ کیا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مگر آنحضرتؐ کو اس بات کا خیال معلوم ہوتا ہے کہ ان کے عزیز بھی اس نور سے منور ہوں جس سے وہ دنیا کو روشن کرنا چاہتے تھے اور اس کا آپ تعہد بھی کرتے تھے اور ان کے امتحان و تجربہ میں لگے رہتے تھے۔ اور تربیت اعزاء ایک ایسا اعلیٰ درجہ کا جوہر ہے جو اگر آپ میں نہ ہوتا تو آپ کے اخلاق میں ایک قیمتی چیز کی کمی رہ جاتی۔
دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپؐ کو اس تعلیم پر کامل یقین تھا جو آپؐ دنیا کے سامنے پیش کرتے تھے اور ایک منٹ کے لئے بھی آپ اس پر شک نہیں کرتے تھے اور جیسا کہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ نَعُوْذُ بِاللّٰہ دنیا کو الو بنانے کے لئے اور اپنی حکومت جمانے کے لئے آپ نے یہ سب کارخانہ بنایا تھا ورنہ آپ کو کوئی وحی نہ آتی تھی۔ یہ بات نہ تھی۔ بلکہ آپؐ کو اپنے رسول اور خدا کے مامور ہونے پر ایسا ثلج قلب عطا تھا کہ اس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ کیونکہ ممکن ہے کہ لوگوں میں آپ بناوٹ سے کام لے کر اپنی سچائی کو ثابت کرتے ہوں لیکن یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ رات کے وقت ایک شخص خاص طور پر اپنی بیٹی اور داماد کے پاس جائے اور ان سے دریافت کرے کہ کیا وہ اس عبادت کو بھی بجا لاتے ہیں جو اس نے فرض نہیں کی بلکہ اس کا ادا کرنا مؤمنوں کے اپنے حالات پر چھوڑ دیا ہے اور جو آدھی رات کے وقت اٹھ کر ادا کی جاتی ہے۔ اس وقت آپؐ کا جانا اور اپنی بیٹی اور داماد کو ترغیب دینا کہ وہ تہجد بھی ادا کیا کریں اس کامل یقین پر دلالت کرتا ہے جو آپ کو اس تعلیم پر تھا جس پر آپ لوگوں کو چلانا چاہتے تھے ورنہ ایک مفتری انسان جو جانتا ہو کہ ایک تعلیم پر چلنا نہ چلنا ایک سا ہے اپنی اولاد کو ایسے پوشیدہ وقت میں اس تعلیم پر عمل کرنے کی نصیحت نہیں کر سکتا یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ایک آدمی کے دل میں یقین ہو کہ اس تعلیم پر چلے بغیر کمالات حاصل نہیں ہو سکتے۔
تیسری بات وہی ہے جس کے ثابت کرنے کے لئے میں نے یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ آنحضرتؐ ہر ایک بات کے سمجھانے کے لئے تحمل سے کام لیا کرتے تھے اور بجائے لڑنے کے محبت اور پیار سے کسی کو اس کی غلطی پر آگاہ فرماتے تھے۔ چنانچہ اس موقع پر جب حضرت علیؓ نے آپ کے سوال کو اس طرح رد کرنا چاہا کہ جب ہم سو جائیں تو ہمارا کیا اختیار ہے کہ ہم جاگیں کیونکہ سویا ہوا انسان اپنے آپ پر قابو نہیں رکھتا۔ جب وہ سو گیا تو اب اسے کیا خبر ہے کہ فلاں وقت آگیا ہے اب میں فلاں کام کر لوں اللہ تعالیٰ آنکھ کھول دے تو نماز ادا کر لیتے ہیں ورنہ مجبوری ہوتی ہے (کیونکہ اس وقت الارم کی گھڑیاں نہ تھیں) اس بات کو سنکر آنحضرتؐ کو تو حیرت ہونی ہی تھی کیونکہ آپؐ کے دل میں جو ایمان تھا وہ کبھی آپؐ کو ایسا غافل نہ ہونے دیتا تھا کہ تہجد کا وقت گزر جائے اور آپؐ کو خبر نہ ہو اس لئے آپؐ نے دوسری طرف منہ کر کے صرف یہ کہہ دیا کہ انسان بات مانتا نہیں جھگڑتا ہے۔ یعنی تم کو آئندہ کے لئے کوشش کرنی چاہئے تھی کہ وقت ضائع نہ ہو نہ کہ اس طرح ٹالنا چاہیئے تھا۔ چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں میں نے پھر کبھی تہجد میں ناغہ نہیں کیا۔
ہم پہلے حضرت علیؓ کے ایک واقعہ سے ثابت کر چکے ہیں کہ آنحضرت اللّٰھم صل علیٰ محمد وبارک وسلم نہایت بردبار تھے اور برخلاف بہت سے بادشاہوں کے جو اپنے خلاف بات سن کر یا اپنی مرضی کے ناموافق حرکت دیکھ کر نہایت غصہ اور جوش سے بھر جاتے ہیں اکثر چشم پوشی اور اعراض سے کام لیتے تھے اور ایسا طریق اختیار کرتے جس میں تحمل کا پہلو غالب ہو۔ اب ہم ایک اور ایسا ہی واقعہ بیان کرتے ہیں جو ایک دوسرے پہلو سے آپ کے تحمل پر روشنی ڈالتا ہے اور آپ کی صفات حسنہ کو اور بھی روشن کر کے ظاہر کرتا ہے۔
آنحضرت اللّٰھم صل علیٰ محمد وبارک وسلم ہوازن پر فتح پا کے واپس آرہے تھے اور اس جنگ میں جو اموال مسلمانوں کے ہاتھ آئے ان کی تقسیم کا سوال درپیش تھا۔ آپ کا منشا تھا کہ اگر ہوازن تائب ہو کر آجائیں اور معافی کے خواستگار ہوں تو ان کے اموال اور قیدی انہیں واپس کر دیئے جائیں لیکن دن پر دن گذرتے چلے گئے اور ہوازن کی طرف سے کوئی وفد طلب گارِ معافی ہو کر نہ آیا۔ بہت دن تک آپ نے تقسیمِ اموال کے کام کو تعویق میں رکھا۔ لیکن آخر اس بات کو مناسب سمجھا کہ اموال تقسیم کر دیئے جائیں۔ چنانچہ جعرانہ پہنچ کر آپ نے ان اموال کو تقسیم کرنا شروع کیا۔ منافق تو ہمیشہ اس
تاک میں لگے رہتے تھے کہ کوئی موقعہ ملے تو ہم آپ پر اعتراض کریں۔ کوئی نہ کوئی راہ نکال کر ذوالخویصرہ التمیمی نے عین تقسیم کے وقت بڑھ کر کہا کہ آپ اس تقسیم میں عدل کو مد نظر رکھیں۔ جس سے اس کی مراد یہ تھی کہ آپ اس وقت عدل سے کام نہیں لے رہے امام بخاری صاحب نے اس واقعہ کو حضرت جابرؓ سے یوں روایت کیا ہے کہ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ غَنِيمَةً بِالْجِعْرَانَةِ، إِذْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ: اِعْدِلْ، فَقَالَ لَهُ: «لَقَدْ شَقِيتُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ»۔(كتاب الجهاد باب و من الدليل على ان الخمس لنوائب المسلمين) یعنی آنحضرت ﷺ اموالِ غنیمت کو جعرانہ کے مقام پر تقسیم فرمارہے تھے کہ ایک شخص نے آپ کو کہا کہ آپ عدل سے کام لیں۔ آپؐ نے جواب دیا کہ اگر میں نے عدل نہیں کیا تو تو بڑی بے برکتی اور بد بختی میں مبتلا ہو گیا۔ اللہ اللہ کیسے خطرناک حملہ کا جواب وہ پاک رسولؐ کس نرمی سے دیتا ہے کس حلم سے اسے سمجھاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ سے جو عشق صحابہ کو تھا وہ ایسا نہ تھا کہ وہ ایسی باتیں برداشت کر سکتے۔ بلکہ حضرت عمرؓ اور خالد بن ولیدؓ تو ہمیشہ ایسے مواقع پر تلوار کھینچ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ مگر آنحضرت ﷺ ان کو ہمیشہ روکتے رہتے تھے کہ ان لوگوں سے اعراض کرو۔ پس ایسے وقت میں جبکہ مکہ کے حدیث العہد مسلمان جو ابھی ان آداب سے بالکل ناواقف تھے جو ایک رسول کے حضور بجالانے ایک مؤمن کا فرض ہوتا ہے اور جو ایک ذرہ سے اشارہ سے صراطِ مستقیم سے ہٹ کر کہیں کے کہیں پہنچ سکتے تھے آپ کے ارد گرد کھڑے تھے اور وہی وقت تھا جب انہوں نے یہ سبق سیکھنا تھا کہ رسولِ کریم ﷺ کے ساتھ ہمیں کس طرح عمل کرنا چاہئے ایک شخص کا آگے بڑھ کر نہایت بے حیائی سے آپ سے کہنا کہ حضور ذرا عدل مد نظر رکھیں اور بے انصافی اور حق تلفی نہ کریں ایک خطرناک فعل تھا۔ جس سے ایک طرف تو ان قوانین کی خلاف ورزی ہوتی تھی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ساتھ کلام کرنے کے متعلق بیان فرمائے ہیں۔ دوسرے ان تمام مواعید پر پانی پھر جاتا تھا جو اس شخص نے آنحضرت ﷺ کے حضور کئے تھے اور جو ہر ایک مسلمان کو مسلمان ہونے کے لئے کرنے پڑتے ہیں۔ تیسرے سیاسی لحاظ سے آپ کے رعب کو ایک خطرناک نقصان پہنچانے والے تھے۔ اور چوتھے نو مسلموں کے لئے ایک نہایت بد نظیر قائم کرنے والے تھے جن کے دل ابھی اس عزت کا خیال بھی نہیں کر سکتے تھے جو صحابہؓ کے دلوں میں بھری ہوئی تھی۔ پس وہ الفاظ جو ذوالخویصرہ کے منہ سے اس وقت نکلے ایک دنیاوی دربار میں خطرناک سے خطرناک سزا کا فتویٰ دلانے کے لئے کافی تھے۔ اور اگر زمانہ قدیم کے درباروں میں ایسا انسان قتل کا مستوجب خیال کیا جاتا تو موجودہ دورِ دستوریت میں بھی ایسا آدمی سزا سے محفوظ نہ رہ سکتا لیکن وہ بادشاہ ہر دو جہاں اس کے گستاخانہ کلام کے جواب میں کیا کہتا ہے؟ کیا اسے سزا کا حکم دیتا ہے؟ کہ تا ان نو مسلموں پر آپ کا رعب بیٹھ جائے جو نہایت نگران نگاہوں سے صحابہ اور آنحضرت ﷺ کے تعلقات کو اس لئے دیکھ رہے تھے کہ ان سے اندازہ لگا سکیں کہ یہ تعلقات مصنوعی یا حقیقی، عارضی ہیں یا مستقل، سطحی ہیں یا ان کی جڑیں دل کے تمام کونوں میں مضبوطی سے گڑی ہوئی ہیں کیا وہ میرا پیارا اگر اسے کسی بدنی سزا کا مستحق قرار نہیں دیتا۔ تو کم سے کم زبانی طور پر ہی اسے سخت دھمکی دیتا ہے کہ اگر ایسے الفاظ پھر تمہارے منہ سے نکلے تو تم کو سخت سزا دی جائے گی؟ نہیں وہ بھی نہیں کرتا۔ کیا وہ اسے اپنے سامنے سے دور ہو جانے کا حکم دیتا ہے؟ نہیں! وہ اس سے بھی اجتناب کرتا ہے۔ پھر اس مجرم کے لئے وہ کیا سزا تجویز کرتا ہے! وہ باوجود صحابہ کی چڑھی ہوئی تیوری کے اور باوجود ان کے ہاتھوں کے بار بار دستہ تلوار کی طرف جانے کے اسے نہایت پر حکمت اور پر معنی جواب دیتا ہے جس سے بہتر جواب کوئی انسانی دماغ تجویز کر ہی نہیں سکتا وہ اسے خود اسی کے فعل سے ملزم کرتا ہے خود اسی کے اقوال سے قائل کرتا ہے خود اسی کے اعمال سے شرمندہ کرتا ہے وہ کہتا ہے تو یہ کہ لَقَدْ شَقِيْتَ إِنْ لَّمْ اَعْدِلْ اگر میں نے عدل نہ کیا تو تو بد بختی کے گڑھے میں گر گیا۔ کیونکہ تو نے تو مجھے خدا کا رسول سمجھ کر بیعت کی ہے۔ اور دعویٰ کرتا ہے کہ میں آپ کو خدا کی طرف سے یقین کرتا ہوں اور مجھے اپنا رہنما اور پیشوا قرار دیتا ہے تو ان خیالات کے باوجود اے نادان جب تُو مجھے انصاف سے دور اور عدل سے خالی خیال کرتا ہے تو تجھ سے زیادہ بد بخت اور کون ہو سکتا ہے جو اپنے آپ کو ایک ایسے شخص کے پیچھے لگاتا ہے جو اتباع کے قابل نہیں اور اس آدمی سے ہدایت چاہتا ہے جو خود گمراہ ہے اور اس سے صداقت طلب کرتا ہے جو جھوٹ بولنے میں کوئی عیب نہیں دیکھتا اور اگر تو مجھے نبی نہیں خیال کرتا بلکہ جھوٹا خیال کرتا ہے تو پھر بھی تُو نہایت شقی ہے کیونکہ باوجود مجھے جھوٹا سمجھنے کے پھر میرے ساتھ رہتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ میں آپ کو سچا خیال کرتا ہوں۔
اللہ اللہ کیسا پاک جواب ہے کیسا مسکت اور مبکت جواب ہے جسے سن کر ایک حیا دار سوائے اس کے کہ زندہ ہی مر جائے اور کوئی جواب نہیں دے سکتا۔ یہ تھا آپ کا تحمل یہ تھی آپ کی بردباری جو آپ کو دنیا کے تمام انسانوں سے افضل ثابت کرتی ہے۔ بہت ہیں جو اشتعال انگیز الفاظ کو
سن کر خاموشی سے اپنے حلم کا ثبوت دیتے ہیں لیکن میرے آقا کا تحمل بھی لغو نہ تھا اگر آپؐ خاموش رہتے تو اس کے اعتراض کا جواب کیا ہوتا آپؐ نے تحمل کا ایک اعلیٰ نمونہ دکھایا اور ایسا نمونہ جو کہ اپنے اندر ایک عظیم الشان سبق بھی رکھتا تھا اور معترضین کے لئے ہدایت تھا۔ کاش! اس حدیث سے وہ لوگ کچھ نصیحت حاصل کریں جو ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کر کے پھر اعتراضات سے نہیں رکتے کیونکہ ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان کا یہ فعل خود ان کی شقاوت پر دال ہے۔
اب ایک اور مثال درج کرتا ہوں۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: اَنَّہٗ بَیْنَا ھُوَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ مَعَہُ النَّاسُ ، مُقْبِلًا مِّنْ حُنَیْنٍ ، عَلِقَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْاَعْرَابُ یَسْأَلُوْنَہٗ ، حَتّٰی اِضْطَرُّوْہُ اِلٰی سَمُرَۃٍ فَخَطِفَتْ رِدَآءَہٗ ، فَوَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اَعْطُوْنِیْ رِدَائِیْ ، فَلَوْ كَانَ عَدَدُ هٰذِهِ الْعِضَاەِ نَعَمًا لَّقَسَمْتُهٗ بَیْنَکُمْ ، ثُمَّ لَا تَجِدُوْنِیْ بَخِیْلًا ، وَلَا کَذُوْبًا ، وَلَا جَبَانًا۔ (بخاری کتاب الجہاد باب ما كان النبى صلى الله عليه وسلم يعطى المؤلفة قلوبهم) ایک دفعہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ کے ساتھ اور بھی لوگ تھے۔ آپؐ حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے۔ راستہ میں کچھ بادیہ نشین عرب آ گئے۔ اور آپ کے پیچھے پڑ گئے اور آپ سے سوال کرنے لگے۔ اور آپ پر اس قدر زور ڈالا کہ ہٹاتے ہٹاتے کیکر کے درخت تک لے گئے۔ جس سے آپؐ کی چادر پھنس گئی۔ پس آپ ٹھہر گئے اور فرمایا کہ میری چادر مجھے پکڑا دو۔ اگر ان کانٹے دار درختوں کے برابر بھی میرے پاس اونٹ ہوتے (یعنی بہت کثرت سے ہوتے) تو بھی میں سب تم میں تقسیم کر دیتا اور تم مجھ کو بخیل اور جھوٹا اور بزدل نہ پاتے۔ اللہ اللہ یہ وہ شخص ہے جسے ناپاک طبع انسان دنیا طلب کہتے ہیں۔ اور طرح طرح کے ناپاک الزام لگاتے ہیں یہ وہ انسان ہے جسے اندھی دنیا مغلوب الغضب کہتی ہے یہ وہ وجود ہے جسے ظالم انسان ظالم قرار دیتے ہیں کیا اس تحمل والا انسان ظالم یا مغلوب الغضب ہو سکتا ہے۔ کیا اس سیر طبیعت کا انسان دنیا طلب ہو سکتا ہے۔ عرب کا فاتح اور حنین کا بہادر اپنے خطرناک دشمن کو شکست دے کر واپس آ رہا ہے۔ ابھی اس کے سپاہیوں کی تلواروں سے خون کا رنگ بھی نہیں چھوٹا زبردست سے زبردست انسان اس کو پیٹھ دکھا چکے ہیں اور اس کی تیز تلوار کے آگے اپنی گردنیں جھکا چکے ہیں۔ اور وہ اپنی فتح مند افواج کے ساتھ میدانِ جنگ سے واپس آ رہا ہے مگر کس شان سے اس کا حال ابھی پڑھ چکے ہو۔ کچھ عرب آ کر آپؐ سے سوال کرتے ہیں اور پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں کہ کچھ لئے بغیر نہیں لوٹیں گے آپؐ بار بار انکار کرتے ہیں کہ میرے پاس کچھ نہیں مگر وہ باز نہیں آتے۔ پھر اور پھر سوال کرتے ہیں اور باوجود آپ کے انکار کے مصر ہیں کہ ہمیں ضرور کچھ دلوا یا جائے مگر آپ باوجود اس شان کے کہ سارے عرب کو آپ کے سامنے گردن جھکا دینی پڑی ان سے کیا سلوک کرتے ہیں ان کے بار بار کے سوال سے ناراض نہیں ہوتے۔ ان پر خفگی کا اظہار نہیں کرتے بلکہ ان کو بتاتے ہیں کہ آپ کے پاس اس وقت کچھ نہیں ورنہ ضرور ان کو بھی دیتے۔ لیکن وہ لوگ پھر بھی مصر ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ کیا اس لئے نہیں کہ کل دنیا اس بات سے واقف تھی کہ وہ بہادر انسان جو خطرناک جنگوں میں جس وقت اس کے ساتھی بھی پیچھے ہٹ جاتے ہیں اکیلا دشمن کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ایسا متحمل مزاج ہے کہ اپنی حاجتوں کو اس کے پاس جس زور سے بھی پیش کریں گے وہ کبھی ناراض نہیں ہو گا۔ بلکہ اس کا جواب محبت سے بھرا ہوا اور شفقت سے مملوء ہو گا پھر کیا اس لئے نہیں کہ آپ کے اخلاق حسنہ اور آپ کے حسن سلوک کا دنیا میں ایسا شہرہ تھا کہ بادیہ نشین عرب بھی اس بات سے ناواقف نہ تھے کہ ہم جس قدر بھی اصرار کریں گے ہمیں کسی سرزنش کا خطرہ نہ ہو گا۔ ضرور یہی بات تھی جس کی وجہ سے وہ عرب آپ پر اس قدر زور ڈال رہے تھے۔ اور باتوں سے ہی آپ سے کچھ وصول نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ جب ناامیدی ہو گئی تو آپ کو پکڑ کر اصرار کرنا شروع کیا کہ ہمیں ضرور کچھ دیں۔ اور آپ ان سے ہٹتے ہٹتے راستہ سے اس قدر دور ہو گئے کہ آخر آپ کی چادر کانٹے دار درختوں میں جا پھنسی۔ اور اس وقت آپ نے ان کو ان محبت آمیز الفاظ میں ملامت کی کہ میں انکار بخل کی وجہ سے نہیں کرتا بلکہ اس مجبوری سے کہ میرے پاس اس وقت کچھ نہیں۔ اگر میرے پاس کچھ ہوتا تو میں ضرور تم کو دے دیتا حتیٰ کہ سامنے کھڑے ہوئے درختوں کے برابر بھی اگر اونٹ میرے پاس ہوتے تو سب تم کو دے دیتا۔ اور ہرگز بخل نہ کرتا نہ جھوٹ بولتا نہ بزدلی دکھاتا۔ دنیا کا کوئی بادشاہ ایسا جواب نہیں دے سکتا وہ جو اپنی عزت اور اپنی بڑائی کے طلب گار ہوتے ہیں۔ وہ اس قدر تحمل نہیں کر سکتے۔ آنحضرت ﷺ کی حیثیت کے انسان کا ایسے موقعہ پر جب آپ سے ان اعراب نے اس درشتی سے سلوک کیا تھا مذکورہ بالا جواب دینا اپنی نظیر آپ ہی ہے۔ اور دنیا کا کوئی بادشاہ کوئی حاکم کوئی سردار اس تحمل کی نظیر نہیں دکھا سکتا۔ پھر آپ جو جواب دیتے ہیں وہ کیسا لطیف ہے۔ فرماتے ہیں...... کہ اگر ان درختوں کے برابر بھی اونٹ ہوتے تو میں تمہیں دے دیتا۔ اور تم مجھے بخیل جھوٹا اور بزدل نہ پاتے۔ ایک موٹی نظر والے انسان کو تو شاید یہ تین الفاظ بے ربط معلوم ہوں لیکن دانا انسان سمجھتا ہے کہ یہ تینوں الفاظ جو آپ نے فرمائے بالکل موقعہ کے مطابق تھے۔ اور ان سے بہتر لفظ اور ہو ہی نہیں
سکتے تھے۔ کیونکہ مال کا نہ دینا بخل سے متعلق ہے۔ پس آپ نے فرمایا کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو تم مجھے بخیل نہ پاتے یعنی تمہیں معلوم ہو جاتا کہ میں بخیل نہیں کیونکہ میں تمہیں مال دے دیتا اور جھوٹا بھی نہ پاتے۔ یہ اس لئے فرمایا کہ بعض لوگ جھوٹ بول کر سائل سے پیچھا چھڑا لیتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ ہے نہیں۔ پس فرمایا کہ تمہیں یہ بھی معلوم ہو جاتا کہ میں بخیل نہیں ہوں اور یہ بھی کہ جھوٹا نہیں ہوں کہ جھوٹ بول کر سب مال یا اس کا بعض حصہ اپنے لئے بچالوں اور نہ مجھے بزدل پاتے۔ یعنی میرا تمہیں مال دینا اس وجہ سے نہ ہوتا کہ میں تم لوگوں سے ڈر جاتا کہ کہیں مجھے نقصان نہ پہنچاؤ۔ لیکن میں جو مال دیتا دل کی خوشی سے دیتا۔
شاید کوئی شخص کہے کہ آپ کے اتنا کہہ دینے سے کیا بنتا ہے کہ اگر میرے پاس ہوتا تو میں دے دیتا کیا معلوم ہے کہ آپ اس وقت دیتے یا نہ دیتے۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ ہر سخن وقتے و ہر نکتہ مقامے دارد۔ میں اس جگہ یہ بتا رہا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کا تحمل کیسا تھا اور کس طرح آپ ناپسند اور مکروہ باتیں سن کر نرمی اور ملائمت سے جواب دیتے تھے۔ اور خفگی اور ناراضگی کا اظہار قطعاً نہ فرماتے بلکہ جہاں تک ممکن ہوتا معترض کو کوئی نیک بات بتا کر خاموش فرما دیتے۔ آپ کی سخاوت کا ذکر تو دوسری جگہ ہوگا۔ اور اگر کوئی بہت مصر ہو تو میں آپ کے تحمل کی ایسی مثال بھی جس میں ایک طرف آپ نے تحمل فرمایا ہے اور دوسری طرف سخاوت کا اظہار فرمایا ہے دے سکتا ہوں اور وہ بھی صحیح بخاری سے ہے۔ اور وہ یہ کہ انس بن مالکؓ بیان فرماتے ہیں کہ کُنْتُ أَمْشِیْ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ عَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِیٌّ غَلِيْظُ الْحَاشِيَةِ، فَاَدْرَكَهُ اَعْرَابِیٌّ فَجَذَبَهُ جَذْبَةً شَدِيْدَةً، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَثَّرَتْ بِهِ حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَذْبَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: مُرْ لِیْ مِنْ مَالِ اللهِ الَّذِيْ عِنْدَكَ، فَالتَفَتَ إِلَيْهِ فَضَحِكَ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ۔(بخاری کتاب الجہاد باب ما كان النبی یعطی المؤلفة قلو بهم)
یعنی میں ایک دفعہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ نے ایک نجران کی بنی ہوئی چادر اوڑھی ہوئی تھی جس کے کنارے بہت موٹے تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی آپ کے قریب آیا اور آپ کو بڑی سختی سے کھینچنے لگا۔ یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ اس کے سختی سے کھینچنے کی وجہ سے چادر کی رگڑ کے ساتھ آپ کی گردن پر خراش ہو گئی۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ آپ کے پاس جو مال ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی دلوا ئیں پس آپ نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا اور مسکرائے اور فرمایا کہ اسے کچھ دے دو۔
اس مثال سے آپ کا تحمل پہلی مثال سے بھی زیادہ ظاہر ہوتا ہے پہلی مثال سے تو یہ ظاہر ہوتا تھا کہ آپ کے پاس کچھ تھا نہیں اور کچھ سائل آپ سے بار بار انعام طلب کرتے تھے اور جبکہ آپ انکار فرما رہے تھے کہ میرے پاس کچھ نہیں اور وہ لینے پر مصر تھے۔ ان لوگوں کا آپ پر زور کرنا سمجھ میں آسکتا ہے اور خیال ہوسکتا ہے کہ چونکہ وہ لوگ سخت محتاج تھے اور ان کی حالت زار تھی۔ اور نا امیدی میں انسان کے حواس ٹھکانے نہیں رہتے اس لئے ان کی زیادتی پر آپ جیسے رحیم انسان کا تحمل کرنا کچھ تعجبات سے نہ تھا لیکن دوسرا واقعہ اس واقعہ سے بہت زیادہ آپ کے تحمل پر روشنی ڈالتا ہے کیونکہ اس شخص نے بغیر سوال کے آپ پر حملہ کر دیا اور اس حملہ کی کوئی وجہ نہ تھی نہ اس نے سوال کیا تھا نہ آپ نے انکار فرمایا تھا نہ اسے کوئی نا امیدی پیش آئی تھی۔ مال سامنے موجود تھا آپ دینے کو تیار تھے پھر بلا وجہ اس طرح گستاخی سے پیش آنا ایک نہایت ہی ناشائستہ حرکت تھی اور اس کے سوال پر اسے ڈانٹنا چاہئے تھا۔ اور پھر اس نے جو طریق اختیار کیا تھا وہ صرف گستاخانہ ہی نہ تھا کہ یہ خیال کر لیا جاتا کہ چلو اس سے کوئی حقیقی نقصان تو ہوا نہیں جاہل آدمی ہے اور جنگلی ہے اور آدابِ رسول سے ناواقف ہے۔ اسے معاف ہی کر دینا بہتر ہو گا بلکہ وہ ایذاء رسانی کا طریق تھا اور اس کی اس حرکت سے آنحضرت ﷺ کو سخت تکلیف بھی پہنچی اور گردنِ مبارک پر خراش بھی ہو گئی بلکہ اس حدیث کو حمام نے اس طرح روایت کیا ہے کہ چادر پھٹ گئی اور اس کا حاشیہ چمڑہ کو پھاڑتا ہوا گوشت تک گھس گیا پس وہ شخص اس بات کا پورے طور پر مستحق تھا کہ اسے آپ سختی سے علیحدہ کر دیتے۔ لیکن باوجود ان تمام باتوں کے آپ اس سے یہ سلوک فرماتے ہیں کہ اس کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ اسے بھی ضرور کچھ دے دو۔ گویا مسکرا کر اسے بتاتے ہیں کہ میں تمہارے جیسے نادانوں کو جو آدابِ رسول سے ناواقف ہیں بجائے ڈانٹنے کے قابلِ رحم خیال کرتا ہوں اور بجائے ناراضگی کے تمہاری حالت پر مسکراتا ہوں کہ تم میرے تحمل سے ہی فائدہ اٹھاؤ۔
کہنے کو سب لوگ متحمل والے بن جاتے ہیں لیکن عمل ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے انسان کی حقیقت کھلتی ہے اور اس کے دعاویٰ کے صدق اور کذب کا حال معلوم ہوتا ہے دنیا میں بڑے بڑے بادشاہ گزرے ہیں جو عدل و انصاف کے لحاظ سے خاص شہرت رکھتے ہیں جو متحمل مزاج مشہور ہیں اور جن کے تحمل اور بردباری کے افسانوں سے تاریخوں کے صفحات بھرے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایسے بھی ہیں جو مذہبی عزت کے لحاظ سے بھی اپنے زمانہ کے لوگوں میں ممتاز تھے۔ اور جو بعد میں بھی اپنے ہم مذہبوں کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیئے گئے ہیں ایسے بادشاہ بھی گذرے ہیں جو بادشاہت کے علاوہ مذاہب کے بانی اور پیشوا بھی ہوئے ہیں اور خاص سلسلوں کے جاری کرنے والے ہیں جن کے مرنے کے ساتھ ان کی بادشاہت کا تو خاتمہ ہو گیا لیکن ان کی روحانی بادشاہت مدت ہائے دراز تک قائم رہی بلکہ اب تک بھی مختلف حکومتوں کے ماتحت رہنے والے لوگ درحقیقت اپنے دل اور اپنی روح کے لحاظ سے انہیں کے ماتحت ہیں جو نیکی اور تقویٰ میں بے نظیر خیال کئے جاتے ہیں جو اخلاق میں آنے والی نسلوں کے لئے ایک نمونہ خیال کئے جاتے ہیں مگر کوئی ہے جو تمام دنیا کی تاریخوں کی ورق گردانی کرنے کے بعد تمام اقوام کے بادشاہوں اور پیشواؤں کے حالات کی چھان بین کرنے کے بعد ان اخلاق کا انسان دکھا سکے اور اس تحمل کی نظیر کسی اور انسان میں بتا سکے جو آنحضرت ﷺ نے دکھایا میں یہ نہیں کہتا کہ آنحضرتؐ کے سوا کوئی شخص تحمل کی صفت سے متصف ہوا ہی نہیں لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ اس درجہ تک تحمل کا اظہار کرنے والا جس درجہ تک آپ نے ظاہر فرمایا کوئی انسان نہیں ہوا اور نہ آئندہ ہو گا کیونکہ آپ کمال کی اس سرحد تک پہنچ گئے ہیں کہ اس کے بعد کوئی ترقی نہیں۔
ممکن ہے کہ کوئی صاحب کہیں کہ آپ بادشاہوں اور حاکموں کی کیوں شرط لگاتے ہیں اس مقابلہ کے میدان کو اور بھی کیوں وسیع نہیں کر دیتے کہ دنیا کے کل افراد کے تحمل کو سامنے رکھ کر مقابلہ کر لیا جائے کہ آیا کوئی انسان اس صفت میں آپ کی برابری کر سکتا ہے یا نہیں۔ مگر میں کہتا ہوں کہ تحمل اسی انسان کا قابل قدر ہے جسے طاقت اور قدرت ہو جو شخص خود دوسروں کا محتاج ہو دوسروں سے خائف ہو اپنے دشمنوں کے خوف سے چھپتا پھرتا ہو اسے دنیا میں سر چھپانے کی جگہ نہ ملتی ہو اس کا تحمل بھی کوئی تحمل ہے اس کی زبان تو اس پر ظلم کرنے والوں نے بند کر دی ہے اور اس میں یہ طاقت ہی نہیں کہ ان کے حملوں کا جواب دے سکے پس جو حاکم نہیں یا بادشاہ نہیں یا دنیاوی لحاظ سے کوئی خاص عزت نہیں رکھتا اس کا تحمل کوئی تحمل نہیں بلکہ بہت دفعہ ایک مغلوب الغضب انسان بھی اپنے ایذاء دہندوں کے خوف سے اپنے غضب کو دبا لیتا ہے۔ اور گو دل ہی دل میں جلتا اور کڑھتا ہے اور جی ہی جی میں گالیاں دیتا اور کوستا ہے لیکن اظہار غضب کی طاقت نہیں رکھتا کیونکہ جانتا ہے کہ اس کا نتیجہ میرے حق میں اور بھی مضر ہو گا پس آنحضرتؐ کے مقابلہ میں اس شخص کے تحمل کی مثال پیش کی جا سکتی ہے جو آپ ہی کی طرح بااختیار اور طاقت رکھتا ہو اور پھر آپ ہی کی طرح تحمل دکھانے والا ہو ورنہ مثل مشہور ہے کہ زبردست مارے اور رونے نہ دے ایسا
زبردست جو کسی زبردست کے پنجہ ستم میں گرفتار ہواس نے قابلِ عتاب گفتگو سن کر یا زبردست سلوک دیکھ کر اظہار ناراضگی کرنا ہی کیا ہے؟ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ طریق تو انصاف پُر مبنی تھا۔ اور عقلاً، اخلاقاً ہمارا حق تھا کہ ہم مذکورہ بالا شرط سے مشروط مقابلہ کا مطالبہ کریں لیکن اگر کوئی شخص دنیا کے تمام انسانوں میں بھی آپ جیسے باکمال انسان کو پیش کر سکے تو ہم اس کے معاملہ پر غور کرنے کے لئے تیار ہیں۔ بشرطیکہ بے حیائی کا نام تحمل نہ رکھ لیا جاوے۔
اب ایک سوال اور باقی رہ جاتا ہے۔ اور وہ یہ کہ بعض لوگ پیدائشی ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو غصہ آتا ہی نہیں بلکہ جو معاملہ بھی ان سے کیا جائے وہ تحمل ہی تحمل کرتے ہیں اور غضب کا اظہار کبھی نہیں کرتے۔ اور اس کی یہ وجہ نہیں ہوتی کہ وہ اپنے جوش کو دبا لیتے ہیں یا تحمل سے کام لیتے ہیں بلکہ درحقیقت ان کے دل میں جوش پیدا ہی نہیں ہوتا۔ اور انہیں کسی بات کی حقیقت کے سمجھنے کا احساس ہی نہیں ہوتا اور یہ لوگ ہرگز کسی تعریف کے مستحق نہیں ہوتے۔ کیونکہ ان کا تحمل صرف ظاہری ہے۔ اس میں حقیقت کچھ نہیں ایک شکل ہے جس کی اصلیت کوئی نہیں۔ ایک جسم ہے جس میں روح کوئی نہیں۔ ایک قشر ہے جس میں مغز کوئی نہیں۔ اور ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی ٹنڈے شخص کو کوئی دوسرا شخص مارے۔ اور چونکہ اس کے ہاتھ نہیں ہیں وہ مار کھا کر صبر کر چھوڑے۔ اور جس طرح یہ ٹنڈا قطعاً اس تعریف کا مستحق نہیں ہے کہ اسے تو زید یا بکر نے مارا مگر اس نے آگے سے ایک طمانچہ بھی نہ لگایا کیونکہ اس میں طمانچہ لگانے کی طاقت ہی نہ تھی۔ کیونکہ اس کے ہاتھ نہ تھے۔ اس لئے مجبور تھا کہ مار کھاتا اور اپنی حالت پر افسوس کرتا۔ اسی طرح وہ شخص بھی ہرگز کسی تعریف کا مستحق نہیں۔ جس کے دل میں جوش اور حس ہی نہیں۔ اور وہ بری بھلی بات میں تمیز ہی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اس کا تحمل خوبی نہیں بلکہ اس کا باعث فقدان شعور ہے۔ پس ایک معترض کا حق ہے کہ وہ یہ سوال کرے کہ کیوں آنحضرت ﷺ کو بھی ایسا ہی نہ خیال کر لیا جائے۔ خصوصاً جبکہ اس قدر طاقت اور قدرت اور ایسے ایسے جوش دلانے والے مواقع پیدا ہو جانے کے باوجود آپ اس طرح ہنس کر بات ٹال دیتے تھے اور کیوں نہ خیال کر لیا جائے کہ آپ بھی پیدائشاً ایسے ہی نرم مزاج پیدا ہوئے تھے۔ اور فطرتاً آپ مجبور تھے کہ ایسے ایذاء دہندوں کے اعمال پر ہنس کر ہی خاموش ہو رہتے کیونکہ آپ کے اندر انتقام کا مادہ اور بری اور بھلی بات میں تمیز کی صفت موجود ہی نہ تھی۔ (نعوذ باللہ من ذالک)
یہ سوال بالکل درست اور بجا ہے۔ اور ایک محقق کا حق ہے کہ وہ ہم سے اس کی وجہ دریافت کرے کہ کیوں ہم آپؐ کو ایک خاص گروہ میں شامل کرتے ہیں اور دوسرے سے نکالتے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کا بھی جواب دیں کیونکہ اس سوال کا جواب دیئے بغیر آنحضرتﷺ کی سیرت کا ایک پہلو نامکمل رہ جاتا ہے۔ اور آپؐ جیسے مکمل انسان کی زندگی کا کوئی پہلو نہیں جو نامکمل ہو پس اس سوال کا جواب دینے کے لئے ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گواہی پیش کرتے ہیں جو آپؐ کی ازواجِ مطہرات سے تھیں۔ اور آپؐ کے اخلاق کی کماحقہ واقف تھیں۔ صحیح بخاری میں آپؐ سے روایت ہے کہ مَا خُيِّرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَ مَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللّٰهِ، فَيَنْتَقِمَ لِلّٰهِ بِهَا۔(بخاری کتاب المناقب باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم) یعنی آنحضرت ﷺ کو جب کبھی دو باتوں میں اختیار دیا جاتا تھا تو آپؐ دونوں میں سے آسان کو اختیار کر لیتے تھے جب تک کہ گناہ نہ ہو۔ اور جب کوئی گناہ کا کام ہوتا تو آپؐ اس سے سب لوگوں سے زیادہ دور بھاگتے۔ اور آپؐ کبھی اپنے نفس کے لئے انتقام نہ لیتے تھے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمتوں میں سے کسی کی بے حرمتی کی جاتی تھی تو آپؐ خدا کے لئے اس بے حرمتی کا بدلہ لیتے تھے۔
اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو کاموں کا اختیار دیا جاتا کہ آپؐ جو چاہیں کریں تو آپؐ ان دونوں میں سے آسان کو اختیار کرتے (کیونکہ بندہ کا یہی حق ہے کہ اپنے آپ کو ہمیشہ زائد بوجھوں سے بچائے تا ایسا نہ ہو کہ اپنے آپ کو کسی مصیبت میں گرفتار کر دے) لیکن اگر کبھی آپؐ دیکھتے کہ ایک آسان بات کو اختیار کر کے کسی وجہ سے کسی گناہ کا قرب ہو جائے گا۔ تو پھر آپؐ کبھی اس آسان کو اختیار نہ کرتے بلکہ مشکل سے مشکل امر کو اختیار کر لیتے مگر اس آسان کے قریب نہ جاتے (اور یہی اللہ تعالیٰ کے پیاروں کا کام ہے کہ وہ گناہ سے بہت دور بھاگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنے میں کسی سختی یا کسی مشکل کے برداشت کرنے سے نہیں گھبراتے) پھر فرماتی ہیں کہ آپؐ کی یہ بھی عادت تھی کہ آپؐ اپنے نفس کے لئے کبھی انتقام نہ لیتے یعنی خلافِ منشا امور کو دیکھ کر جب تک وہ خاص آپؐ کی ذات کے متعلق ہوتے تحمل سے ہی کام لیتے۔ خفگی‘ ناراضگی یا غضب کا اظہار نہ فرماتے نہ سزا دینے کی طرف متوجہ ہو جاتے۔ ہاں جب آپؐ کی ذات کے متعلق کوئی امر نہ ہو بلکہ اس کا اثر دین پر پڑتا ہو اور کسی دینی مسئلہ کی ہتک ہوتی ہو اور اللہ تعالیٰ کی شان پر کوئی دھبہ لگتا ہو۔ تو آپؐ اس وقت تک صبر نہ کرتے۔ جب تک اس کا انتقام لے کر اللہ تعالیٰ کے جلال کو ظاہر نہ فرما لیتے اور شریر انسان کو جو ہتک حرمۃ اللہ کا مرتکب ہوا ہو سزا نہ دے لیتے۔
اس واقعہ سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ آپ کا تحمل اس درجہ تک پہنچا ہوا تھا کہ آپ کبھی بھی اپنے نفس کے لئے جوش کا اظہار نہ فرماتے بلکہ تحمل اور بردباری سے ہی ہمیشہ کام لیتے۔ لیکن یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ بات قطعاً درست نہیں کہ آپ میں جوش اور انتقام کی صفت پائی ہی نہ جاتی تھی اور آپ پیدائش سے ہی ایسے نرم مزاج واقعہ ہوئے تھے کہ غضب آپ میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا تھا بلکہ جب اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمتوں کی ہتک اور بے حرمتی کا سوال پیدا ہوتا تو آپ ضرور انتقام لیتے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا تحمل کسی پیدائشی کمزوری یا نقص کا نتیجہ نہ تھا بلکہ آپ اپنے اخلاق کی وجہ سے اپنے نفس کے قصورواروں سے چشم پوشی کر جاتے تھے۔ اور اظہار ناراضگی سے اجتناب کرتے تھے۔ اور جو کچھ کہنا بھی ہوتا تھا تو نہایت آہستگی اور نرمی سے کہتے تھے اور ایسا جواب دیتے تھے جس میں بجائے ناراضگی اور غضب کے اظہار کے اس شخص کے لئے کوئی مفید سبق ہو جس سے وہ اپنی آئندہ زندگی میں اپنے چال چلن کی اصلاح کر سکے۔ اور یہی تحمل کا اعلیٰ نمونہ ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت عائشہؓ کی یہ شہادت بلادلیل نہیں ہے بلکہ واقعات بھی اس کی شہادت دیتے ہیں چنانچہ بخاری کی ایک حدیث سے ظاہر ہے جسے مفصل ہم پہلے کسی اور جگہ لکھ آئے ہیں کہ جنگ احد میں جب عام طور پر یہ خبر مشہور ہو گئی کہ آنحضرت ﷺ شہید ہو گئے ہیں اور کفار مکہ علی الاعلان اپنی اس کامیابی پر فخر کرنے لگے اور ان کے سردار نے بڑے زور سے پکار کر کہا کہ کیا تم میں محمد (ﷺ) ہے جس سے اس کی مراد یہ بتانا تھا کہ ہم آپ کو مار چکے ہیں اور آپ دنیا سے رحلت فرما گئے ہیں مگر آنحضرت ﷺ نے اپنے اصحاب کو فرمایا کوئی جواب نہ دیں۔ اور اس طرح اس کا جھوٹا فخر پورا ہونے دیا۔ اور یہ نہیں کہا کہ غضب میں آ کر اسے کہتے کہ میں تو زندہ موجود ہوں یہ بات کہ تم نے مجھے قتل کر دیا ہے بالکل جھوٹ اور باطل ہے اور اس میں کوئی صداقت نہیں۔ ہاں جب ابو سفیان نے یہ کہا کہ اُعْلُ هُبَلُ اُعْلُ هُبَلُ۔ ہبل بت کی شان بلند ہو۔ ہبل بت کی شان بلند ہو تو اس وقت آپ خاموش نہ رہ سکے اور صحابہ کو فرمایا کہ کیوں جواب نہیں دیتے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا جواب دیں۔ فرمایا اسے کہو کہ اَللّٰهُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ! اَللّٰهُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ یعنی تمہارے ہبل میں کیا طاقت ہے وہ تو ایک بناؤٹی چیز ہے اللہ ہی ہے جو سب چیزوں سے بلند
Rank and greatness. And then when he said, لَنَا الْعُزّٰى وَلَا عُزّٰى لَكُمْ you said to your companions to answer him. They submitted: O Messenger of Allah! What should we reply? You said: Say اَللّٰهُ مَوْلٰنَا وَلَا مَوْلٰى لَكُمْ Allah the Almighty is our friend and helper, and you have no helper, meaning 'Uzza has no power; power belongs to Allah the Almighty and He is with us. So from this incident it becomes clear that what Hazrat Aisha (may Allah be pleased with her) testified regarding the morals of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) is not only her own opinion, but events also confirm it and historical proofs testify to its truthfulness. And looking closely at the life of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), even a person of the thickest intellect reaches this conclusion that his forbearance was not the result of the absence of any good quality, but the cause was that you had high morals whose parallel is not found in anyone in the world. And that this forbearance had reached the stage of perfection. But whenever the question of Allah the Almighty's prescribed sanctities arose, the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) never showed leniency, but as quickly as possible arranged suitable measures, and never delayed in establishing the glory of Allah the Almighty. So on the one hand your forbearance was matchless, and on the other hand your determination was high, and this quality of yours was never expressed inappropriately, as is the state in today's era: in matters of one's own ego people get passionate over trivial matters, but when the matter of God and His religion comes up, they teach and preach patience while their lips remain dry. And they do not know that forbearance is only at times of personal pain and grief, otherwise in matters of religion, artificial reconciliation and false compromise is a proof of shamelessness, weakness of faith, and worldly greed.
صبر عربی زبان میں روکنے کو کہتے ہیں اور استعمال میں یہ لفظ تین معنوں میں آتا ہے۔ کسی شخص کا اپنے آپ کو اچھی باتوں پر قائم رکھنا۔ بُری باتوں سے اپنے آپ کو روکنا اور مصیبت اور دکھ کے وقت جزع و فزع سے پرہیز کرنا اور تکلیف کے ایسے اظہار سے جس میں گھبراہٹ اور نا امیدی پائی جائے اجتناب کرنا۔ اُردو زبان میں یا دوسری زبانوں میں یہ لفظ ایسا وسیع نہیں ہے بلکہ اسے ایک خاص محدود معنوں میں استعمال کرتے ہیں اور صرف تیسرے اور آخری معنوں کیلئے اس لفظ کو مخصوص کر دیا گیا ہے یعنی مصیبت اور رنج میں اپنے نفس کو جزع و فزع اور نا امیدی اور کرب کے اظہار سے روک دینے کے معنوں میں۔ چونکہ اُردو میں اس کا استعمال انہیں معنوں میں ہے اس لئے ہم نے بھی اس لفظ کو اسی
معنی میں استعمال کیا ہے اور اس ہیڈنگ کے نیچے ہماری غرض آنحضرت ﷺ کی ایسی صفت پر روشنی ڈالنا ہے جس معنی میں کہ یہ لفظ اُردو میں استعمال ہوتا ہے اس میں تو کوئی شک نہیں کہ یہ ایک نہایت اعلیٰ درجہ کی صفت ہے اور دنیا کی تمام اقوام فطرتاً اس صفت کی خوبی کی قائل ہیں گو بدقسمتی سے ہندوستان اس کے خلاف نظر آتا ہے کہ مردوں پر سالہا سال تک ماتم کیا جاتا ہے اور ایسی بے صبری کی حرکات کی جاتی ہیں اور کرب کی علامات ظاہر کی جاتی ہیں کہ دیکھنے والوں کو بھی تعجب آتا ہے۔ غرضیکہ فطرتاً کل اقوامِ عالم نے صبر کو نہایت اعلیٰ صفت تسلیم کیا ہے اور ہر قوم میں صابر نہایت قابلِ قدر خیال کیا جاتا ہے چونکہ آنحضرت ﷺ کی نسبت ہمارا دعویٰ ہے کہ آپ تمام صفاتِ حسنہ کا مجموعہ تھے۔ اور آپ سے بڑھ کر دنیا کا کوئی انسان نیک اخلاق کا اعلیٰ اور قابلِ تقلید نمونہ نہیں تھا اس لئے ذیل میں ہم صبر کے متعلق آپ کی زندگی کا ایک واقعہ بتاتے ہیں جس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ اس صفت سے کہاں تک متصف تھے۔ بچپن میں اوّل والدہ اور پھر دادا کے فوت ہو جانے سے (والد پیدائش سے بھی پہلے فوت ہو چکے تھے) جو صدمات آپ کو پہنچے تھے۔ ان میں آپ نے جس صبر کا اظہار کیا اور پھر دعویٰ نبوت کے بعد جو تکالیف کفار سے آپ کو پہنچیں اس کو جس صبر واستقلال سے آپ نے برداشت کیا اور یکے بعد دیگرے انہی مصائب کے زمانہ میں آپ کے نہایت مہربان چچا اور وفاداری میں بے نظیر بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات اور اپنے پیارے متبعین کی مکہ سے ہجرت کر جانے پر جس صبر کا نمونہ آپ نے دکھایا تھا وہ ایک ایسا وسیع مضمون ہے کہ قلتِ گنجائش ہم کو ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم ان مضامین کو یہاں شروع کریں اس لئے ہم صرف ایک چھوٹے سے واقعہ کے بیان کرنے پر جو بخاری شریف میں مذکور ہے کفایت کرتے ہیں۔
جیسا کہ سیرۃ النبی کے ابتدا سے مطالعہ کرنے والے اصحاب نے دیکھا ہوگا میں نے اس بات کا التزام کیا ہے کہ اس سیرۃ میں صرف واقعات سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی برتری دکھائی ہے۔ اور آپ کی تعلیم کو کبھی بھی پیش نہیں کیا تا کہ کوئی شخص یہ نہ کہہ دے کہ ممکن ہے آپ لوگوں کو تو یہ کہتے ہوں اور خود نہ کرتے ہوں۔ نعوذ باللہ من ذلک۔ پس اس جگہ بھی میں آپ کی اس تعلیم کو پیش نہیں کرتا جو آپ نے صبر کی نسبت اپنے اتباع کو دی ہے اور جس میں کرب وگھبراہٹ اور ناامیدی کے اظہار سے منع کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی قضاء پر رضا کا حکم دیا ہے بلکہ صرف آپ کا عمل پیش کرتا ہوں۔
عَنْ اُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ اَرْسَلَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ اَنَّ ابْنًا لَّهَا قُبِضَ فَأْتِنَا فَاَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ وَ يَقُوْلُ اِنَّ لِلّٰهِ مَا اَخَذَ وَ لَهٗ مَا اَعْطٰى وَ كُلُّ شَئٍ عِنْدَهٗ بِاَجَلٍ مُّسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَ لْتَحْتَسِبْ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَاْ تِيَنَّهَا فَقَامَ وَ مَعَهٗ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَ اُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَ رِجَالٌ فَرُفِعَ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَ نَفْسُهٗ تَتَقَعْقَعُ كَاَنَّهَا شَنٌّ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ مَا هٰذَا قَالَ هٰذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِ عِبَادِهِ وَ إِنَّمَا يَرْحَمُ اللّٰهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ۔(بخاری کتاب الجنائز باب قول النبی یعذّب المیت ببعض بكاء اهله عليه)
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی نے آپ کو کہلا بھیجا کہ میرا ایک بچہ فوت ہو گیا ہے آپ تشریف لائیں۔ (فوت ہو گیا سے یہ مراد تھا کہ نزع کی حالت میں ہے کیونکہ وہ اس وقت دم توڑ رہا تھا) پس آپ نے جواب اس طرح کہلا بھیجا کہ پہلے میری طرف سے السلام علیکم کہنا اور پھر کہنا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ لے لے وہ بھی اسی کا ہے اور جو دیوے وہ بھی اسی کا ہے اور ہر چیز کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور ایک مقررہ مدت ہے پس چاہئے کہ تم صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید وار رہو۔ اس پر آپ نے (حضرت کی صاحبزادی نے) پھر کہلا بھیجا کہ آپ کو خدا کی قسم آپ ضرور میرے پاس تشریف لائیں پس آپ کھڑے ہو گئے اور آپ کے ساتھ سعد بن عبادہ اور معاذ بن جبل اور ابی بن کعب اور زید بن ثابت اور کچھ اور لوگ تھے جب آپ وہاں پہنچے تو آپ کے پاس وہ بچہ پیش کیا گیا اور اس کی جان سخت اضطراب میں تھی اور اس طرح ہلتا تھا جیسے مشک۔ اس کی تکلیف کو دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے جس پر سعد بن عبادہ نے کہا یا رسول اللہ یہ کیا؟ آپ نے جواب دیا کہ یہ رحمت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کیا ہے اور سوائے اس کے نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رحیم بندوں پر ہی رحم کرتا ہے۔
یہ واقعہ اپنے اندر جو ہدایتیں رکھتا ہے وہ تو اس کے پڑھتے ہی ظاہر ہوگئی ہونگی مگر پھر بھی مزید تشریح کے لئے میں بتا دیتا ہوں کہ اس واقعہ نے آپ کی صفتِ صبر کے دو پہلوؤں پر ایسی روشنی ڈالی ہے کہ جس کے بعد آپ کے اسوہ حسنہ ہونے میں کوئی شک و شبہ رہ ہی نہیں سکتا۔ اول تو آپ کا اخلاص باللہ اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کیونکہ جس وقت آپ کو اطلاع دی گئی کہ آپ کا نواسہ نزع کی حالت میں ہے اور اس کی حالت ایسی بگڑ گئی ہے کہ اب اس کی موت یقینی ہو گئی ہے تو آپ نے کیا پُر حکمت جواب دیا ہے کہ جو خدا تعالیٰ لے لے وہ بھی اس کا مال ہے اور جو دے دے وہ بھی اس کا مال ہے۔ رضا بالفقضا کا یہ نمونہ کیسا پاک کیسا اعلیٰ کیسا لطیف ہے کہ جس قدر اس پر غور کیا جائے اس قدر کمال ظاہر ہوتا ہے پھر اپنی صاحبزادی کو نصیحت کرنا کہ صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھو اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں پر انتہائی درجہ کے یقین اور امید پر دلالت کرتا ہے مگر صرف یہی بات نہیں بلکہ اس واقعہ سے ایک اور بات بھی ظاہر ہوتی ہے اور وہ یہ کہ آپ کا صبر اس وجہ سے نہ تھا کہ آپ کا دل نَعُوْذُ بِاللّٰهِ سخت تھا بلکہ صبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے احسانوں پر امید اور اس کی مالکیت پر ایمان تھا کیونکہ جیسا بیان ہو چکا ہے جب آپ اپنی صاحبزادی کے گھر پر تشریف لے گئے تو آپ کی گود میں تڑپتا ہوا بچہ رکھ دیا گیا اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ سعد بن عبادہ نے غلطی سے اعتراض کیا کہ یا رسول اللہ یہ صبر کیسا ہے کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ آپ نے کیا لطیف جواب دیا کہ رحم اور چیز ہے اور صبر اور شے ہے۔ رحم چاہتا ہے کہ اس بچہ کو تکلیف میں دیکھ کر ہمارا دل بھی دُکھے اور دل کے درد کا اظہار آنکھوں کے آنسوؤں سے ہوتا ہے۔ اور صبر یہ ہے کہ ہم اس بات پر راضی ہو جائیں کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوا سے قبول کریں اور اس پر کرب و اضطرار کا اظہار نہ کریں۔ اور اللہ تعالیٰ کا رحم جذب کرنے کیلئے تو رحم کی سخت ضرورت ہے پہلے انسان اللہ تعالیٰ کے بندوں کے دکھوں میں رحم اور شفقت کی عادت ڈالے تو پھر اس بات کا امیدوار ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اس کی تکالیف میں اس پر رحم کرے۔ غرضیکہ ایک طرف اپنے نواسہ کی وفات کا حال سن کر جو آپ کے بڑھاپے کی عمر کا ثمرہ تھا اور خصوصاً جب کہ آپ کے کوئی نرینہ اولاد موجود نہ تھی، صبر کرنا اور اپنی لڑکی کو صبر کی تلقین کرنا اور دوسری طرف اس بچہ کو دکھ میں دیکھ کر آپ کے آنسوؤں کا جاری ہو جانا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی ہر ایک قضاء پر صابر تھے اور یہ کہ آپ کا صبر سخت دلی (نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ) کا موجب نہ تھا بلکہ آپ کا دل رحم و شفقت سے پُر تھا۔
قابل اور نا قابل انسان کی پرکھ میں استقلال بہت مدد دیتا ہے کیونکہ استقلال سے انسان کے بہت سے پوشیدہ در پوشیدہ اخلاق اور قوتوں کا پتہ لگ جاتا ہے اور مستقل اور غیر مستقل انسان میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ ایک ایسا شخص جو بیسیوں نیک اخلاق کا جامع ہو۔ لیکن اس کے اندر استقلال نہ ہو اس کے اخلاق حسنہ نہ تو اس کے نفس کی خوبی کو ثابت کر سکتے ہیں اور نہ ہی لوگوں کو ان سے کوئی معتد بہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ کیونکہ اگر اس میں استقلال نہیں اور وہ اپنے کاموں میں دوام اختیار نہیں کرتا تو اوّل تو یہی خیال ہو سکتا ہے کہ اس کے نیک اخلاق ممکن ہے کہ بناوٹ کا نتیجہ ہوں۔ اور دوسرے ایک نیک کام کو شروع کر کے جب وہ درمیان میں ہی چھوڑ دے گا تو اس کا کوئی خاص فائدہ بنی نوع انسان کو نہ پہنچے گا۔ بلکہ خود اس شخص کا وہ وقت جو اس نے اس ادھورے کام پر خرچ کیا تھا ضائع سمجھا جائے گا۔ پس استقلال ایک طرف تو اپنے صاحب کے کاموں کی سنجیدگی اور حقیقت پر روشنی ڈالتا ہے اور دوسری طرف اس ایک صفت کی وجہ سے انسان کے دوسرے اخلاقِ حسنہ اور قوائے مفیدہ کے ظہور اور نفع میں بھی خاص ترقی ہوتی ہے اس لئے اس مختصر سیرت میں میں آنحضرتؐ کے استقلال پر بھی کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔
یوں تو اگر غور کیا جائے تو جو کچھ میں اب تک لکھ چکا ہوں اس کا ہر ایک باب بلکہ ہر ایک ہیڈنگ آنحضرتؐ کے استقلال کا شاہد ہے اور کسی مزید تشریح کی ضرورت نہیں۔ مگر سیرت کی تکمیل چاہتی ہے کہ اس کے لئے الگ ہیڈنگ بھی ضرور قائم کیا جاوے۔
آنحضرتؐ کی زندگی پر اگر ہم اجمالی نظر ڈالیں تو ہمیں رسول کریمؐ استقلال کی ایک مجسم تصویر نظر آتے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ استقلال کو بھی اس نمونہ استقلال پر فخر ہے۔ جو رسول کریمؐ نے دکھایا تھا۔
اس حالت کو دیکھو جس میں آنحضرتؐ اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اور پھر اس استقلال کو دیکھو جس سے اس کام کو نباہتے ہیں۔ آپ کی حالت نہ تو ایسی امیرانہ تھی کہ دنیا کی بالکل احتیاج ہی نہ تھی۔ اور گویا آپ دنیا کی فکروں سے ایسے آزاد تھے کہ اس کی طرف توجہ کی ضرورت ہی نہ تھی اور نہ ہی آپ ایسے فقیر اور محتاج تھے کہ آرام و آسائش کی زندگی کبھی بسر ہی نہ کی تھی اس لئے دنیا کا چھوڑنا آپ پر کچھ شاق نہ تھا مگر پھر بھی اس اوسط حالت کے باوجود جس میں آپ تھے اور جو عام طور پر بنی نوع انسان کو دنیا میں مشغول رکھتی ہے اور باوجود بیوی بچوں کی موجودگی اور ان کی فکر کے جب آپ غارِ حراء میں جا کر عبادتِ الٰہی میں مشغول ہوئے تو آپ کے پائے ثبات کو مشرکین کی ہنسی اور ٹھٹھے نے ذرا بھی متزلزل نہ کیا۔ اور آخر اس وقت اس غار کو چھوڑا جب آسمان سے حکم آیا کہ بس اب خلوت کا زمانہ ختم ہوا اور کام کا زمانہ آگیا جا اور ہماری مخلوق کو راہِ راست پر لا۔ يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۙ قُمْ فَاَنْذِرْ ۪ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ۪ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ۪ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ ۪(المدثر: ۲-۶) اس حکم کا نازل ہونا تھا کہ وہ شخص جو باوجود ہزاروں احتیاجوں اور سینکڑوں شغلوں کے اپنے بیوی بچوں کو خدا کے سپرد کر کے وحدہٗ لاشریک خدا کی پرستش میں مشغول تھا۔ اور دنیا و مافیہا سے بے تعلق تھا۔ شہر سے دور راہ سے علیحدہ ایک پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ کر پھر دوسری طرف چند گز نیچے اتر کر ایک پتھر کے نیچے بیٹھ کر، تا دنیا اس کی عبادت میں مخل نہ ہو۔ عبادت الٰہی کیا کرتا تھا۔ اور انسانوں سے ایسا متنفّر تھا گویا وہ سانپ ہیں یا اژدہا۔ دنیا کے سامنے آتا ہے اور یا تو وہ دنیا سے بھاگتا تھا یا اب دنیا اس سے بھاگ رہی ہے۔ اور اس کے نزدیک کوئی نہیں جاتا مگر وہ ہے کہ ہر ایک گھر میں گھستا ہے ہر ایک شخص کو پکڑ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ کعبہ کے میدان میں کھڑا رہتا ہے تاکہ کوئی شخص طواف کرنے کے لئے گھر سے نکلے تو اس سے ہی کچھ بات کر سکوں۔ قافلے آتے ہیں تو لوگ تو اس لئے دوڑے جاتے ہیں کہ جا کر کچھ غلہ خرید لائیں یا جو اسباب تجارت وہ لائے ہیں اسے اپنی ضرورت کے مطابق خرید لیں۔ لیکن یہ شخص کسی تجارت کی غرض سے نہیں بلکہ ایک حق اور صداقت کی خبر دینے کے لئے ان سے بھی آگے آگے دوڑا جاتا ہے۔ اور اس کا پیغام کیا ہے۔ جو ہر ایک انسان کو پہنچانا چاہتا ہے وہ پیغام لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ ہے۔ جس سے عرب ایسی وحشت کھاتے تھے کہ اگر کان میں یہ آواز پڑ جاتی تو کان میں انگلیاں دے لیتے تھے اور جس کے منہ سے یہ الفاظ سنتے اس پر دیوانہ وار لپک پڑتے اور چاہتے کہ اسے ایسی سزا دیں کہ جس سے بڑھ کر اور سزا نا ممکن ہو۔ مگر باوجود عربوں کی اس مخالفت کے وہ تنہائی پسند انسان، غار حراء میں دن گزارنے والا انسان، جب موقعہ پاتا یہ پیغام ان کو سناتا۔ اور کسی مجلس یا کسی جماعت کا خوف یا رعب اسے اس پیغام کے پہنچانے میں روک نہ ہو سکتا۔ یہ کام اس نے ایک دن نہیں، دو دن نہیں، مہینہ نہیں، دو مہینہ نہیں اپنی وفات کے دن تک کیا اور با وجود سب دنیا کی مخالفت کے اپنے کام سے باز نہ آیا۔ نہ عرب کے مشرک اس کو باز رکھ سکے نہ شام کے مسیحی اس کے جوش کو کم کر سکے نہ ایران کے مجوسی اس کو سست کر سکے۔ اور نہ مدینہ اور خیبر کے یہود اس کی راہ میں روک بن سکے۔ ہر ایک دشمنی، ہر ایک عداوت، ہر ایک مخالفت، ہر ایک تکلیف کا مقابلہ کرتے ہوئے وہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا اور ایک منٹ کے لئے بھی اس نے اپنی آواز نیچی نہ کی۔ حتّٰی کہ وفات کے وقت بھی یہی نصیحت کرتا گیا کہ دیکھنا خدا تعالیٰ کا شریک کسی کو نہ بنانا اور وہ وحدہٗ لاشریک ہے کوئی چیز اس کے برابر نہیں حتّٰی کہ سب انسانوں سے افضل محمد ﷺ بھی اس کا ایک بندہ اور رسول ہے۔ اس کی قبر کو بھی دوسری قوموں کے دستور کے مطابق مسجد نہ بنا لینا۔
کیا اس استقلال کا نمونہ دنیا میں کسی اور انسان نے بھی دکھایا ہے؟ کیا ایسے مخالفانہ حالات کے مقابلہ پر ایسا فولادی عزم کسی نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے؟ نہیں اور ہر گز نہیں۔ لوگ ذرا ذرا سا کام کر کے تھک جاتے ہیں اور تھوڑی سی تکلیف دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں بلکہ بغیر تکلیف کے بھی کسی
کام پر اس قدر عرصہ تک متواتر توجہ نہیں کر سکتے جس کا نمونہ آنحضرت ﷺ نے دکھایا اور جس نمونہ کو دیکھ کر نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ نے جس کام کو اپنے ذمہ لیا تھا اس کی خوبی اور بہتری پر دل سے یقین رکھتے تھے۔ کیونکہ اس قدر لمبے عرصہ تک باوجود اس قدر تکالیف کے کوئی انسان ایک ایسے امر پر جسے وہ جھوٹا خیال کرتا ہو قائم نہیں رہ سکتا۔ بلکہ یہ بھی کھل جاتا ہے کہ وہ کونسی طاقت تھی جس سے کام لے کر آپؐ نے ایسی جماعت پیدا کر دی تھی۔ جس نے باوجود قلتِ تعداد کے سب دنیا کو فتح کر لیا تھا وہ آپؐ کا استقلال اور آپؐ کا عمل ہی تھا۔ جس نے ان مٹھی بھر آدمیوں کو جو آپؐ کی صحبت میں رہنے والے تھے کل دنیا کی اصلاح کے کام کے اختیار کرنے کی جرأت دلائی اور صرف جرأت ہی نہیں دلائی بلکہ آخر دم تک ایسا آمادہ کئے رکھا کہ انہوں نے دنیا کی اصلاح کا کام کر کے بھی دکھا دیا۔ مگر افسوس! کہ اب مسلمانوں میں وہ روح کام نہیں کرتی۔
ہم نے مختصراً آنحضرت ﷺ کی زندگی سے ثابت کیا تھا کہ آپؐ میں استقلال کا مادہ ایسے درجہ تک پایا جاتا تھا۔ کہ اس کی نظیر دنیا میں ملنی مشکل ہے۔ اب ہم اسی مضمون کو ایک اور پیرایہ میں بیان کر کے آپؐ کے استقلال کے ایک اور پہلو پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔
جن لوگوں نے انسان کے اخلاق کا وسیع مطالعہ کیا ہے اور اس کی مختلف شاخوں پر نظر امعان ڈالی ہے، وہ جانتے ہیں کہ عوام میں جو اخلاق مشہور ہیں ان سے بہت زیادہ اخلاق انسان میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن قلتِ تدبر یا اخلاق کی کثرت کی وجہ سے یا تو سب اخلاق ابتداء میں معلوم نہیں ہو سکے یا یہ کہ ان میں سے ایک قسم کے اخلاق کا نام ایک ہی رکھ دیا گیا ہے۔ اور اخلاق کی چند انواع مقرر کر کے ان کے نام رکھ دیئے گئے ہیں۔ اور آگے ان کی شناخت اسماء کی بجائے تعریف ہی کافی سمجھ لی گئی ہے۔
استقلال جو ایک نہایت مفید اور دوسرے اخلاق کو چمکا دینے والا خلق ہے، اس کی بھی کئی اقسام ہیں جن کا نام لغت میں موجود نہیں۔ بلکہ سب اقسام کو استقلال کے نام سے ہی یاد کیا جاتا ہے لیکن انسانی اخلاق کا وسیع مطالعہ کرنے سے ہمیں یہ بات واضح طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ اس خلق کی بھی کئی قسمیں ہیں۔
جن میں سے دو بڑی قسمیں یہ ہیں کہ ایک استقلال وہ ہوتا ہے جس کا ظہور بڑے کاموں میں ہوتا ہے۔ اور دوسرا وہ جس کا ظہور چھوٹے کاموں میں ہوتا ہے چنانچہ انسانوں میں دو قسم کے انسان پائے جاتے ہیں بعض ایسے ہیں کہ اہم اور وسیع الاثر معاملات میں جب وہ لگ جاتے ہیں تو گو ان کے راستہ میں خطرناک سے خطرناک مصائب پیش آئیں وہ اپنے کام سے دست برداری نہیں کرتے اور کل دنیا کی مخالفت کے باوجود اپنا کام کئے جاتے ہیں۔ لیکن انہی لوگوں میں بعض ایسے پائے جاتے ہیں کہ روزمرہ کے کاموں میں جو نسبتاً کم اہمیت رکھتے ہوں یا ان کا دائرہ اثر ایسا وسیع نہ ہو جیسا کہ اول الذکر کا وہ استقلال نہیں دکھا سکتے۔ بلکہ چند دن سے زیادہ ان کے ارادہ اور ان کے عمل کو ثبات حاصل نہیں ہوتا۔
اس جماعت کے خلاف ایک ایسی بھی جماعت ہے۔ جو چھوٹے اور محدود الاثر معاملات میں تو خوب استقلال سے کام کر لیتے ہیں۔ لیکن جب کسی مہتم بالشان کام پر ان کو لگایا جاوے تو ان کا استقلال جاتا رہتا ہے اور وہ ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔ اور مفوضہ کام کو پورا کرنے کے اہل ثابت نہیں ہوتے۔
پس ان دونوں گروہوں کو ہم گو صاحب استقلال تو کہیں گے لیکن ہمیں یہ بھی ساتھ ہی اقرار کرنا پڑے گا۔ کہ اگر ایک استقلال کی ایک قسم سے محروم ہے تو دوسرا دوسری سے اور حقیقی طور پر صفتِ استقلال سے متصف انسان وہی ہو گا جو دونوں صورتوں میں اپنے استقلال کو ہاتھ سے نہ دے۔ اور خواہ امور مہمہ ہوں۔ یا امور محدود الاثر۔ اس کا استقلال اپنا اثر ظاہر کئے بغیر نہ رہے۔
جب ہم آنحضرت ﷺ کی سوانح عمری پر نظر ڈالتے ہیں۔ تو آپؐ استقلال کی ہر قسم میں کامل نظر آتے ہیں۔ چنانچہ یہ بات کہ ان امور میں جنہیں آپؐ نے اپنی زندگی کا مقصد قرار دے لیا تھا۔ آپ کیسے مستقل مزاج ثابت ہوئے ہیں۔ پہلے لکھ آیا ہوں۔ اس جگہ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ شرک کی بیخ کنی اور حق کے پھیلانے میں ہی آنحضرت ﷺ نے استقلال کا اظہار نہیں کیا، بلکہ آپؐ کے تمام کاموں سے آپ کی کبھی نہ تھکنے والی طبیعت کا پتہ چلتا ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ آپؐ کی اس عادت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرماتی ہیں: وَكَانَ يَقُوْلُ: خُذُوْا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللّٰهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَ اَحَبُّ الصَّلوةِ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ مَا دُووْمَ عَلَيْهِ وَ اِنْ قَلَّتْ، وَ كَانَ اِذَا صَلَّى صَلَوةً دَاوَمَ عَلَيْهَا (کتاب الصوم باب صوم شعبان) ترجمہ آپؐ فرمایا کرتے تھے۔ کہ وہ عمل کیا کرو جس کے ادا کرنے کی تم میں طاقت ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں ملول ہوتا یہاں تک کہ تم ملول نہ ہو جاؤ۔ (یعنی جس قدر بھی دعا اور عبادت کرو۔ اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہیں رکتا۔ ہاں تم خود ہی تھک کر رہ جاؤ تو رہ جاؤ۔ اس لئے اس قدر عمل مت کرو۔ کہ آخر طبیعت میں نفرت پیدا ہو جائے۔ اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے گنہگار بنو) اور آنحضرت ﷺ کو نمازوں میں سب سے پیاری وہ نماز ہوتی تھی جس پر دوام اختیار کیا جائے ۔ خواہ تھوڑی ہی ہو اور آنحضرت ﷺ جب کسی وقت نماز پڑھتے تھے تو پھر اس وقت کو جانے نہ دیتے تھے۔ ہمیشہ اس وقت نماز پڑھتے رہتے۔
حضرت عائشہؓ کی اس گواہی سے نہایت بیّن اور واضح طور سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا استقلال ہر رنگ میں کامل تھا۔ اور خواہ بڑے کام ہوں یا چھوٹے ۔ آپ استقلال کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ چنانچہ اس شہادت سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں۔
۱۔ صحابہ کو استقلال کا سبق پڑھانا۔ اور ہمیشہ انہیں استقلال کی تعلیم دیتے رہنا۔ کیونکہ طاقت سے بڑھ کر کام کرنے کا نتیجہ ہمیشہ بے استقلالی ہوتا ہے۔ اور آپ کا اس بات سے صحابہؓ کو روکنا در حقیقت انہیں استقلال کی تعلیم دینا تھا۔ اور یہ آنحضرت ﷺ کی خصوصیت ہے جس میں کوئی نبی آپ کا شریک نہیں۔ کہ آپ قرآن کریم کے طریق کے مطابق جب کبھی کسی نیکی کا حکم کرتے یا بدی سے روکتے ۔ تو ہمیشہ اس نیکی کے حصول کی آسان راہ ساتھ بتاتے۔ یا اس بدی کا اصل باعث ظاہر کرتے تاکہ اس سے اجتناب کر کے انسان اس بدی سے بچ جائے۔ اور اسی اصل کے ماتحت آنحضرت ﷺ نے استقلال کی تعلیم بھی صحابہؓ کو دی۔ یعنی انہیں منع فرما دیا کہ جس کام کو آخر تک نباہنا مشکل ہو اس پر اپنی خوشی سے ہاتھ مت ڈالو کہ اس طرح رفتہ رفتہ بے استقلالی کی عادت تم میں پیدا نہ ہو جائے۔
۲۔ اس شہادت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ خود بھی اس تعلیم پر عمل پیرا تھے۔ اور اسی عبادت کو پسند فرماتے جس پر دوام ہو سکتا ہو۔ خواہ وہ تھوڑی ہی ہو۔ اور اس طرح اپنے عمل سے اس بات کا ثبوت دیتے۔ کہ آپ کسی کام میں خواہ چھوٹا ہو خواہ بڑا ۔ استقلال کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔
۳۔ تیسرے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ نہ صرف عام کاموں میں بلکہ عبادت میں بھی آپ استقلال کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ اور یہ ایک خاص بات ہے۔ کیونکہ استقلال یا بے استقلالی کا اظہار عام کاموں میں ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص ایک دن خاص اثر اور جوش کے ماتحت خاص طور پر عبادت کرے۔ اور دوسرے دن نہ کرے۔ تو اس کا ایسا کرنا بے استقلالی نہیں کہلا سکتا۔ لیکن آنحضرت ﷺ اس صفت میں ایسے کامل تھے کہ آپ عبادت میں بھی یہ پسند نہ فرماتے کہ ایک دن ایک عبادت کر کے دوسرے دن چھوڑ دیں۔ بلکہ جب ایک عبادت ایک دن کرتے تو دوسرے دن پھر کرتے تاکہ اس کے ترک سے طبیعت میں بے استقلالی نہ پیدا ہو۔ اور یہ بات آپ کے استقلال پر خاص روشنی ڈالتی ہے۔
دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اس بات کے تو طالب رہتے ہیں کہ دوسرے ان پر احسان کریں لیکن اس بات کا ان کے دل میں خیال بھی نہیں آتا کہ جن لوگوں نے ان پر احسان کیا ہے ان کے احسانات کو یاد رکھ کر ان کا بدلہ بھی دیں۔ ایک دو احسانات کا یاد رکھنا تو الگ رہا والدین جن کے احسانات کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے احسانات کو بھی بہت سے لوگ بھلا دیتے ہیں۔ اور یہ خیال کر لیتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا اپنی محبت سے مجبور ہو کر یا اپنا فرض خیال کر کے کیا ہمیں اب کیا ضرورت ہے کہ خواہ مخواہ ان کی خبرگیری کرتے پھریں۔ لیکن ہمارے آنحضرت ﷺ کا حال دنیا سے بالکل مختلف تھا۔ آپ پر جب کوئی شخص احسان کرتا تو آپ اسے ہمیشہ یاد رکھتے تھے اور کبھی فراموش نہ کرتے تھے۔ اور ہمیشہ آپ کی کوشش رہتی تھی کہ جس نے آپ پر کبھی کوئی احسان کیا ہو۔ اسے اس کے احسان سے بڑھ کر بدلہ دیں ۔ یوں تو آپ کا اپنے رشتہ داروں ، دوستوں ، مریدوں، خادموں اور ہم وطنوں سے سلوک شروع سے آخر تک ہمارے اس دعوے کی تصدیق کر رہا ہے لیکن ہم اسے واضح کرنے کے لئے ایک مثال بھی دے دیتے ہیں۔ جس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ کو اپنے محسن کے احسان کا کس قدر خیال رہتا تھا اور کس طرح اسے یاد رکھتے تھے۔ بدر کی جنگ کے نام سے کون سا مسلمان ناواقف ہو گا یہی وہ جنگ ہے جس کا نام قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرقان رکھا ہے اور یہی وہ جنگ ہے جس میں عرب کے وہ سردار جو اس دعوئی کے ساتھ گھر سے چلے تھے کہ اسلام کا نام ہمیشہ کے لئے مٹادیں گے خود مٹ گئے اور ایسے مٹے کہ آج ان کا نام لیوا کوئی باقی نہیں۔ اور اگر کوئی ہے تو اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرنا بجائے فخر کے عار خیال کرتا ہے۔ غرضیکہ اس جنگ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم الشان کامیابی عطا فرمائی تھی اور بہت سے کفار قید بھی ہوئے تھے۔
وہ لوگ جو گھر سے اس ارادہ سے نکلے تھے کہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے اتباع کا ہمیشہ کے لئے فیصلہ کر دیں گے۔ اور جن کے دل میں رحم کا خیال تک بھی نہ تھا ان سے جس قدر بھی سختی کی جاتی اور جو سزائیں بھی ان کے لئے تجویز کی جاتیں بالکل روا اور مناسب تھیں۔ لیکن ان کی شرارت کے مقابلہ میں آنحضرت ﷺ نے ان سے جو نرم سلوک کیا یعنی صرف ایک خفیف سا تاوان لے کر چھوڑ دیا۔ وہ اپنی آپ ہی نظیر ہے مگر اس نرم سلوک پر بھی ابھی آپ کے دل میں یہ
تڑپ باقی تھی کہ اگر ہو سکے تو اور بھی نرمی ان سے برتوں اور آپ بہانہ ہی ڈھونڈتے تھے کہ کوئی اور معقول وجہ پیدا ہو جائے ۔ تو میں ان کو بلا تاوان لئے کے چھوڑ دوں ۔ چنانچہ اس موقعہ پر آپ نے حضرت جبیرؓ سے جو گفتگو فرمائی وہ صاف ظاہر کرتی ہے کہ آپ کا دل اسی طرف مائل تھا کہ کوئی معقول عذر ہو تو میں ان لوگوں کو یونہی چھوڑ دوں ۔ ہاں بلا وجہ چھوڑنے میں کئی قسم کے پولیٹیکل نقص تھے۔ جن کی وجہ سے آپ بلا کافی وجوہات کے یونہی نہیں چھوڑ سکتے تھے۔ اس گفتگو سے جہاں مذکورہ بالا نتیجہ نکلتا ہے وہاں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے محسنوں کے احسانات کیسے یاد رہتے تھے اور آپ ان کا بدلہ دینے کے لئے تیار رہتے تھے۔ حضرت جبیرؓ فرماتے ہیں کہ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فِیْ اُسَارَی بَدْرٍ : لَوْ کَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِیٍّ حَیًّا ، ثُمَّ کَلَّمَنِیْ فِیْ ھٰٓؤُلَاءِ النَّتْنٰی ، لَتَرَکْتُھُمْ لَہٗ ۔(بخاری کتاب الجہاد باب ما منّ النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی الاساری) یعنی نبی کریم ﷺ نے قیدیانِ بدر کے متعلق فرمایا کہ اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا۔ اور ان ناشدنیوں کے حق میں سفارش کرتا تو میں ضرور ان کو چھوڑ دیتا۔ یہ کیا ہی پیارا کلام ہے۔ اور کن بلند خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں۔ جن کے سینوں میں احسانات کی قدر کرنے والا دل ہو۔
شاید اکثر ناظرین مطعم بن عدی کے نام اور اس کے کام سے ناواقف ہوں۔ اور خیال کریں کہ اس حدیث کا اس مضمون سے کیا تعلق ہے اس لئے میں اس جگہ مطعم بن عدی کا وہ واقعہ بیان کر دیتا ہوں جس کی وجہ سے آنحضرت ﷺ نے اس موقعہ پر مطعم بن عدی کو یاد فرمایا اور خواہش فرمائی۔ کہ اگر آج وہ ہوتا تو میں ان قیدیانِ جنگ کو اس کی سفارش پر چھوڑ دیتا۔
آنحضرت ﷺ جب مکہ میں تشریف رکھتے تھے تو ایک دفعہ ابو جہل اور اس کے چند ساتھیوں نے مشورہ کر کے قریش کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب سے خرید و فروخت اور نکاح وغیرہ کے معاملات بالکل ترک کر دیں کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کو ان کے دشمنوں کے سپرد نہیں کر دیتے۔ کہ جس طرح چاہیں ان سے سلوک کریں۔ چنانچہ اس مضمون کا ایک معاہدہ لکھا گیا کہ آئندہ کوئی شخص بنو ہاشم اور بنو مطلب کے ہاتھ نہ کوئی چیز فروخت کرے گا۔ نہ ان سے خریدے گا اور نہ ان کے ساتھ کسی قسم کا رشتہ کرے گا۔ اس بائیکاٹ کا نتیجہ یہ ہوا کہ قریش کے شر سے بچنے کے لئے حضرت کے چچا ابو طالب کو مذکورہ بالا دونوں گھرانوں سمیت مکہ والوں سے علیحدگی اختیار کرنی پڑی۔ اور چونکہ مکہ ایک وادی غیر ذی زرع میں واقع ہے۔ کھانے پینے کی سخت تکلیف ہونے لگی اور سوائے اس کے کہ کوئی خدا کا بندہ چوری چھپے کوئی چیز دے جائے ان لوگوں کو ضروریاتِ زندگی بھی میسر آنی مشکل ہو گئیں۔ اور قریباً دو سال تک یہی معاملہ رہا۔ اور بعض مؤرخ تو لکھتے ہیں کہ تین سال تک یہی حال رہا جب حالت انتہاء کو پہنچ گئی تو قریش میں سے پانچ شخص اس بات پر آمادہ ہوئے کہ اس ظلم کو دور کیا جائے اور ان قیدیوں کو رہائی دلائی جائے۔ چنانچہ انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے ایک دن عین کعبہ کے پاس کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دیا کہ اب ہم اس ظلم کو زیادہ نہیں دیکھ سکتے یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم لوگ تو پیٹ بھر کر کھانا کھائیں اور آرام سے زندگی بسر کریں۔ مگر چند ہمارے ہی ہم قوم اسی طرح ہماری آنکھوں کے سامنے کھانے پینے سے تنگ ہوں اور باوجود قیمت دینے کے غلہ ان کے ہاتھ فروخت نہ کیا جائے۔ ہم اس معاہدہ کی جو ایسے ظلم کو روا رکھتا ہے پابندی نہیں کر سکتے۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ بہت سے لوگ جن کے دل انصاف سے کورے نہ تھے۔ ان کی تائید میں کھڑے ہو گئے اور آخر وہ معاہدہ پھاڑ کر پھینک دیا گیا۔ اور آنحضرت ﷺ اور آپ کے قبیلہ کے لوگ اس قید سے آزاد ہوئے۔ مطعم بن عدی بھی ان پانچ اشخاص میں سے ایک تھا اور وہی تھا کہ جس نے بڑھ کر اس معاہدہ کو پھاڑ کر پھینک دیا۔
علاوہ ازیں جب آنحضرت ﷺ طائف کے لوگوں کو دعوتِ اسلام دینے کے لئے تشریف لے گئے۔ اور آپ سے وہاں کے بدمعاشوں نے سخت ظلم کا سلوک کیا اور آپ کے پیچھے لڑکے اور کتے لگا دیئے تو آپ کو واپس مکہ میں آنا پڑا لیکن یہ وہ وقت تھا کہ مکہ کے لوگ بھی سخت سے سخت شرارت پر آمادہ ہو رہے تھے۔ اور آپ کو وہاں بھی امن ملنا مشکل تھا اس وقت مطعم بن عدی نے آگے آ کر آپ کو اپنے جوار میں لیا اور اپنی ذمہ داری پر آپ کو پناہ دی۔
یہ وہ احسانات تھے جو مطعم بن عدی نے آپ پر کئے تھے۔ اور جبیرؔ بن مطعم سے آپ کا مذکورہ بالا کلام ظاہر کرتا ہے کہ آپ کو ہمیشہ خیال رہتا تھا کہ کاش وہ زندہ ہوتا۔ اور میں اس کے احسانات کا بدلہ اتارتا۔
چونکہ مطعم نے آپ کو اور آپ کے قبیلہ کو اس قید سے آزاد کرانے میں بہت کوشش کی تھی جس میں آپ بوجہ قریش کے غیر منصفانہ معاہدہ کے گرفتار تھے۔ اور پھر اس وقت جبکہ آپ کے دشمن آپ کو قسم قسم کی تکلیف پہنچانے پر آمادہ تھے آپ کو پناہ دی تھی۔ آپ کی توجہ بدر کے قیدیوں کو دیکھ کر اور یہ خیال کر کے کہ وہ لوگ جو چند سال پہلے مجھے اپنے ہاتھ میں خیال کرتے تھے آج میرے ہاتھ میں گرفتار ہیں فوراً مطعم کے اس احسان کی طرف گئی اور اس احسان کو یاد کر کے فرمایا کہ جس طرح مطعم نے ہمیں قید سے آزاد کروایا تھا اور دشمنوں کی تکلیف سے بچایا تھا آج اگر وہ زندہ ہوتا تو ایسے خطرناک دشمنوں کو میں اس کی سفارش سے قید سے آزاد کر دیتا۔ اور ہر ایک تکلیف سے امن دے دیتا۔
بہت سی طبائع اس قسم کی ہوتی ہیں کہ وہ بہادری میں تو بے شک کمال رکھتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ان میں ایک قسم کی سختی پیدا ہو جاتی ہے۔ اور ان کی بہادری درحقیقت لڑائی اور جھگڑے کا نتیجہ ہوتی ہے اور بجائے ایک خُلقی خوبی کے، عادت کا نتیجہ ہوتی ہے جیسے کہ بعض ایسے ممالک کے لوگ، جہاں امن وامان مفقود ہوتا ہے اور لوگ آپس میں لڑتے اور جھگڑتے رہتے ہیں، عادتاً دلیر اور بہادر ہوتے ہیں لیکن ان کی بہادری کوئی نیک خلق نہیں ہوتی بلکہ روزانہ کی عادت کا نتیجہ ہوتی ہے جیسے کہ بعض جانور بھی بہادر ہوتے ہیں، اور یہ بات ان کے اخلاق میں سے نہیں ہوتی بلکہ ان کی پیدائش ہی ایسے رنگ میں کی گئی ہے کہ وہ بہادر ہوں مثلاً شیر چیتا وغیرہ پس جو انسان کہ عادتاً بہادر ہے یعنی ایسے حالات میں اس نے پرورش پائی ہے کہ اس کی طبیعت میں سختی اور لڑائی جھگڑے کی عادت ہو گئی ہے اس کی بہادری چنداں قابل قدر نہیں۔ جو شخص کہ لڑائی اور جھگڑے سے نفرت رکھتا ہو، موقعہ پر بہادری دکھائے اس کی بہادری قابل قدر ہے۔ میں یہ تو پہلے بتا آیا ہوں کہ رسول کریم ﷺ بے نظیر بہادر تھے اور کوئی شخص بہادری میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپؐ لڑائی اور جھگڑے سے سخت متنفر تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ تو عام طور پر لڑائی اور جھگڑا دیکھتے دیکھتے آپؐ کے اندر بہادری کی صفت پیدا ہو گئی تھی اور نہ ایسا تھا کہ جنگوں اور لڑائیوں کے باعث طبیعت میں ایسی سختی پیدا ہو گئی تھی کہ جھگڑے اور فساد کو طبیعت پسند کرنے لگے اور ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں باتیں اکثر ایک دوسرے کے باعث سے پیدا ہو جاتی ہیں۔ کئی بہادر ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی بہادری ان کی جھگڑالو اور فسادی طبیعت کا نتیجہ ہوتی ہے اور کئی بہادر ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی بہادری ان کو لڑائی اور جھگڑے کا عادی بنا دیتی ہے لیکن آپؐ کی زندگی کے حالات بتاتے ہیں کہ آپؐ بہادر تھے لیکن آپؐ کی بہادری ایک نیک خلق کے طور پر تھی اور باوجود بہادر اور میدانِ کارزار میں ثابت قدم رہنے والا ہونے کے آپؐ کو کسی سے جھگڑتے نہیں دیکھا۔ ہر ایک معاملہ کو سہولت سے طے کرتے اور اگر کسی کو لڑتا دیکھتے بھی تو اس حرکت سے اسے روک دیتے چنانچہ آپؐ کی اس نفرت کا یہ اثر تھا کہ صحابہؓ جنہیں رسول کریم ﷺ کے آخری زمانہ میں جنگ و جدل کے ساتھ ہی واسطہ پڑا رہتا تھا، کبھی آپس میں لڑتے جھگڑتے نہ تھے اور ان کی طبیعت میں سختی اور درشتی پیدا نہیں ہوئی تھی کیونکہ ہر ایک ایسے واقعہ پر رسول کریم ﷺ ان کو روک دیتے تھے۔ برخلاف اس کے، ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر میدانِ جنگ کے بہادر مختلف لڑائیوں اور جھگڑوں سے بجائے گھبرانے کے ان میں مزا حاصل کرتے ہیں اور کئی لوگ تو خود لڑائی کرا کے تماشہ دیکھتے ہیں مگر رسول کریم ﷺ عمر بھر باوجود بے نظیر بہادری کے لڑائیوں اور جھگڑوں سے سخت نفرت کرتے رہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے اندر ایک اور ہی روح تھی جو کام کر رہی تھی اور آپؐ اس دنیا کے لوگوں سے تعلق نہ رکھتے تھے بلکہ آپؐ آسمانی انسان تھے جس کا ہر کام آسمانی تھا۔ رسول کریم ﷺ کی تمام زندگی ہی اس بات پر شاہد ہے کہ آپؐ لڑائی جھگڑے کو سخت ناپسند فرماتے تھے لیکن اس جگہ میں ایک دو مثالیں بھی دیتا ہوں جن سے آپؐ کے پاکیزہ نفس کا پتہ چلتا ہے۔ عبادہ بن الصامتؓ روایت کرتے ہیں خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَتَلَاحَىٰ رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ: خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَتَلَاحَىٰ فُلَانٌ وَّ فُلَانٌ فَرُفِعَتْ ، وَعَسَىٰ اَنْ يَّكُوْنَ خَيْرًا لَّكُمْ ، فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ(بخاری کتاب الصوم باب رفع معرفة لیله القدر لتلاحی الناس) یعنی رسول کریم ﷺ ایک دفعہ اپنے گھر سے لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لئے نکلے۔ اتنے میں دو شخص مسلمانوں میں سے لڑ پڑے (یعنی جب آپؐ نکلے تو دو شخصوں کو لڑتے پایا) اس پر آپؐ نے فرمایا کہ میں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لئے نکلا تھا لیکن فلاں فلاں شخص لڑ رہے تھے جسے دیکھ کر مجھے بھول گیا کہ وہ رات کب ہوگی۔ خیر شاید یہ بھی تمہارے لئے اچھا ہو۔ تم اسے انتیسویں ستائیسویں اور پچیسویں رات میں تلاش کرو۔
ایک مثال تو آپؐ کے تکبر سے بچنے کی میں پہلے دے چکا ہوں ایک اور دیتا ہوں اور انہی دونوں مثالوں پر کیا حصر ہے آنحضرت ﷺ کا ایک ایک عمل اس بات کی روشن مثال ہے کہ آپؐ تکبر سے کوسوں دور تھے لیکن جیسا کہ میں ابتداء میں لکھ آیا ہوں اس سیرت میں میں نے صرف اُس حصہ سیرت پر روشنی ڈالنی ہے جو اَصَحُّ الْکُتُبِ بَعْدَ کِتَابِ اللّٰہِ بخاری سے ہمیں معلوم ہوتا ہے اور دوسرے
جو واقعات پہلے بیان کئے جاچکے ہیں ان کے دوبارہ دہرانے سے بھی اجتناب کرنا مناسب ہے پس ان مجبوریوں کی وجہ سے صرف دو مثالوں پر ہی کفایت کی جاتی ہے جن میں سے ایک تو پہلے بیان ہو چکی ہے اور دوسری ذیل میں درج ہے حضرت ابو ہریرہؓ بیان فرماتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ : اَنَّ اَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ : اَللّٰهِ الَّذِیْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ، اِنْ كُنْتُ لَأَعْتَمِدُ بِكَبِدِیْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْجُوْعِ ، وَ اِنْ كُنْتُ لَأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلٰى بَطْنِیْ مِنَ الْجُوْعِ ، وَ لَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلٰى طَرِيْقِهِمُ الَّذِیْ يَخْرُجُوْنَ مِنْهُ ، فَمَرَّ اَبُوْ بَكْرٍ ، فَسَاَلْتُهُ عَنْ اٰيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللّٰهِ ، مَا سَاَلْتُهُ اِلَّا لِيُشْبِعَنِیْ ، فَمَرَّ وَ لَمْ يَفْعَلْ ، ثُمَّ مَرَّ بِيْ عُمَرُ ، فَسَاَلْتُهُ عَنْ اٰيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللّٰهِ ، مَا سَاَلْتُهُ اِلَّا لِيُشْبِعَنِیْ ، فَمَرَّ وَ لَمْ يَفْعَلْ ، ثُمَّ مَرَّ بِيْ اَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَبَسَّمَ حِيْنَ رَاٰنِیْ ، وَ عَرَفَ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ مَا فِیْ وَجْهِىْ ، ثُمَّ قَالَ : يَا اَبَا هِرٍّ ! قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! قَالَ : اِلْحَقْ ، وَ مَضٰى فَاتَّبَعْتُهُ ، فَدَخَلَ ، فَاسْتَاْذَنَ ، فَاَذِنَ لِيْ ، فَدَخَلَ ، فَوَجَدَ لَبَنًا فِیْ قَدَحٍ ، فَقَالَ : مِنْ اَيْنَ هٰذَا اللَّبَنُ ؟ قَالُوْا : اَهْدَاهُ لَكَ فُلَانٌ اَوْ فُلَانَةُ ، قَالَ : اَبَا هِرٍّ ! قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! قَالَ : اِلْحَقْ اِلٰى اَهْلِ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ لِيْ ، قَالَ : وَ اَهْلُ الصُّفَّةِ اَضْيَافُ الْإِسْلَامِ ، لَا يَاْوُوْنَ عَلٰى اَهْلٍ وَلَا مَالٍ وَ لَا عَلٰى اَحَدٍ ، اِذَا اَتَتْهُ صَدَقَةٌ بَعَثَ بِهَا اِلَيْهِمْ وَ لَمْ يَتَنَاوَلْ مِنْهَا شَيْئًا ، وَ اِذَا اَتَتْهُ هَدِيَّةٌ اَرْسَلَ اِلَيْهِمْ وَ اَصَابَ مِنْهَا وَ اَشْرَكَهُمْ فِيْهَا ، فَسَاءَنِيْ ذٰلِكَ ، فَقُلْتُ : وَمَا هٰذَا اللَّبَنُ فِیْ اَهْلِ الصُّفَّةِ ، كُنْتُ اَحَقَّ اَنَا اَنْ اُصِيْبَ مِنْ هٰذَا اللَّبَنِ شَرْبَةً اَتَقَوّٰی بِهَا ، فَاِذَا جَاءَ اَمَرَنِیْ ، فَكُنْتُ اَنَا اُعْطِيْهِمْ ، وَ مَا عَسٰى اَنْ يَّبْلُغَنِيْ مِنْ هٰذَا اللَّبَنِ ، وَ لَمْ يَكُنْ مِنْ طَاعَةِ اللّٰهِ وَ طَاعَةِ رَسُوْلِهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدٌّ ، فَاَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ فَاَقْبَلُوْا ، فَاسْتَاْذَنُوْا فَاَذِنَ لَهُمْ ، وَ اَخَذُوْا مَجَالِسَهُمْ مِنَ الْبَيْتِ ، قَالَ : يَا اَبَا هِرٍّ ! قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! قَالَ : خُذْ فَاَعْطِهِمْ ، قَالَ : فَاَخَذْتُ الْقَدَحَ ، فَجَعَلْتُ اُعْطِيْهِ الرَّجُلَ فَيَشْرَبُ حَتّٰى يَرْوٰی ، ثُمَّ يَرُدُّ عَلَیَّ الْقَدَحَ ، فَاُعْطِيْهِ الرَّجُلَ فَيَشْرَبُ حَتّٰى يَرْوٰی ، ثُمَّ يَرُدُّ عَلَیَّ الْقَدَحَ فَيَشْرَبُ حَتّٰى يَرْوٰی ، ثُمَّ يَرُدُّ عَلَیَّ الْقَدَحَ ، حَتّٰى انْتَهَيْتُ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ قَدْ رَوِیَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ ، فَاَخَذَ الْقَدَحَ فَوَضَعَهُ عَلٰى يَدِهِ ، فَنَظَرَ اِلَیَّ فَتَبَسَّمَ ، فَقَالَ : اَبَا هِرٍّ ! قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! قَالَ : بَقِيْتُ اَنَا وَ اَنْتَ ، قُلْتُ : صَدَقْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! قَالَ : اُقْعُدْ فَاشْرَبْ ، فَقَعَدْتُ فَشَرِبْتُ ، فَقَالَ : اِشْرَبْ ، فَشَرِبْتُ ، فَمَا زَالَ يَقُوْلُ : اِشْرَبْ ، حَتّٰى قُلْتُ : لَا وَ الَّذِیْ بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا اَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا ، قَالَ : فَاَرَيْنِ فَاَعْطَيْتُهُ الْقَدَحَ، فَحَمِدَ اللّٰهَ وَ سَمّٰى وَ شَرِبَ الْفَضْلَةَ.(بخاری کتاب الرقاق باب كيف كان عيش النبى صلى الله عليه وسلم واصحابه و تخليهم من الدنيا)
ترجمہ۔ اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی اور خدا نہیں کہ میں بھوک کے مارے زمین پر منہ کے بل لیٹ جایا کرتا تھا اور کبھی میں بھوک کے مارے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتا تھا (یعنی رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں اس وقت صحابہؓ زیادہ تر اپنے اوقات دین کے سیکھنے میں ہی خرچ کرتے تھے اور کم وقت اپنی روزی کے کمانے میں لگاتے تھے اس لئے دنیاوی مال آپ کے پاس بہت کم ہوتا تھا اور حضرت ابو ہریرہؓ تو کوئی کام کیا ہی نہ کرتے تھے، ہر وقت مسجد میں اس انتظار میں بیٹھے رہا کرتے تھے کہ کب رسول کریم ﷺ نکلیں تو میں آپؐ کے ساتھ ہو جاؤں اور جو کچھ آپؐ کے دہن مبارک سے نکلے اس کو یاد کرلوں اور چونکہ سوال سے بچتے تھے کئی کئی وقت کا فاقہ ہو جاتا لیکن ہر حال میں شاکر تھے اور آستانۂ مبارک کو نہ چھوڑتے تھے۔) ایک دن ایسے ہوا کہ میں اس راستہ پر بیٹھ گیا جس پر سے صحابہؓ گزر کر اپنے کاروبار کے لئے جاتے تھے۔ اتنے میں (حضرت) ابو بکرؓ گزرے پس میں نے ان سے قرآن کریم کی ایک آیت پوچھی اور میں نے یہ آیت ان سے اس لئے نہ پوچھی تھی کہ وہ مجھے اس کے معنی بتائیں بلکہ اصل غرض میری یہ تھی کہ شاید ان کی توجہ میری طرف ہو اور میرا پیٹ بھر دیں لیکن انہوں نے معنی بتائے اور آگے چل دیئے، مجھے کچھ کھلایا نہیں۔ ان کے بعد (حضرت) عمرؓ گزرے۔ میں نے ان سے بھی قرآن کریم کی ایک آیت پوچھی اور وہ آیت بھی مجھ کو آتی تھی۔ میری اصل غرض یہی تھی کہ وہ مجھے کچھ کھلائیں مگر وہ بھی اسی طرح گزر گئے اور مجھے کچھ نہ کھلایا۔ پھر وہاں سے ابو القاسم ﷺ (یعنی آنحضرت فداہ نفسی) گزرے آپؐ نے جونہی مجھے دیکھا مسکرا دیئے اور جو کچھ میرے جی میں تھا اور جو میرے چہرہ سے عیاں تھا (یعنی بھوک کے آثار) اس کو پہچان لیا پھر فرمایا ابو ہریرہ! میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! حاضر ہوں ارشاد فرمائیے۔ فرمایا میرے ساتھ چلے آؤ۔ پس میں آپؐ کے پیچھے چل پڑا آپؐ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور میرے لئے اجازت مانگی پھر مجھ کو اندر آنے کی اجازت دی۔ پھر آپؐ اندر کمرہ میں تشریف لے گئے اور ایک دودھ کا پیالہ رکھا پایا۔ آپؐ نے دریافت فرمایا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ اندر سے جواب ملا فلاں مرد یا فلاں عورت (حضرت ابو ہریرہؓ کو یاد نہیں رہا کہ مرد کہا یا عورت) نے حضورؐ کے لئے ہدیہ بھیجا ہے۔ اس پر مجھے آواز دی۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! حاضر ہوں۔ فرمایا اہلِ صفہ کے پاس جاؤ اور ان کو میرے پاس بلا لاؤ۔ ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ اہلِ صفہ اسلام کے مہمان تھے جن کے نہ تو کوئی رشتہ دار تھے جن کے پاس رہتے نہ ان کے پاس مال تھا کہ اس پر گزارہ کرتے اور نہ کسی شخص کے ذمہ ان کا خرچ تھا۔ جب نبی کریم ﷺ کے پاس صدقہ آتا تو آپؐ ان کی طرف بھیج دیتے اور اس میں سے خود کچھ نہ کھاتے اور جب آپؐ کے پاس کوئی ہدیہ آتا تو آپؐ ان کو بلا بھیجتے اور ہدیہ سے خود بھی کھاتے اور ان کو بھی اپنے ساتھ شریک فرماتے۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ یہ بات مجھے اچھی نہ لگی اور مجھے خیال گزرا کہ یہ دودھ اصحابِ الصُّفَّہ میں کیوں کر تقسیم ہو گا۔ میں زیادہ مستحق تھا کہ اس دودھ کو پیتا اور قوت حاصل کرتا، جب وہ لوگ آجائیں گے تو آپؐ مجھے حکم فرمادیں گے اور مجھے اپنے ہاتھ سے ان کو تقسیم کرنا پڑے گا اور غالب گمان یہ ہے کہ میرے لئے اس میں سے کچھ نہ بچے گا لیکن خدا اور رسولؐ کی اطاعت سے کوئی چارہ نہ تھا پس میں ان لوگوں کے پاس آیا اور ان کو بلایا۔ وہ آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو اجازت دی پس وہ اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔ اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ابو ہریرہؓ! میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! حاضر ہوں۔ فرمایا۔ یہ پیالہ لو اور ان کو پلاؤ۔ میں نے پیالہ لیا اور اس طرح تقسیم کرنا شروع کیا کہ پہلے ایک آدمی کو دیتا جب وہ پی لیتا اور سیر ہو جاتا تو مجھے پیالہ واپس کر دیتا پھر میں دوسرے کو دیتا جب وہ سیر ہو جاتا تو مجھے پیالہ واپس کر دیتا۔ اسی طرح باری باری سب کو پلانا شروع کیا یہاں تک کہ سب پی چکے اور سب سے آخر میں میں نے نبی کریم ﷺ کو پیالہ دیا آپؐ نے پیالہ لے لیا اور اپنے ہاتھ پر رکھا اور میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا ابو ہریرہؓ عرض کیا یا رسول اللہ! حکم فرمایا اب تو تم اور میں رہ گئے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ درست ہے۔ فرمایا۔ اچھا تو بیٹھ جاؤ اور پیو پس میں بیٹھ گیا اور میں نے دودھ پیا جب پی چکا تو فرمایا کہ اور پیو۔ میں نے اور پیا۔ پھر فرمایا اور پیو۔ اور اسی طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آخر مجھے کہنا پڑا کہ خدا کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے اب تو اس دودھ کے لئے کوئی راستہ نہیں ملتا۔ اس پر فرمایا۔ کہ اچھا تو مجھے دو۔ میں نے وہ پیالہ آپؐ کو پکڑا دیا۔ آپؐ نے خدا تعالیٰ کی تعریف اور بسم اللہ پڑھی۔ اور باقی بچا ہوا دودھ پی لیا۔
اس حدیث سے رسول کریم ﷺ کی سیرت کے جن متفرق مضامین پر روشنی پڑتی ہے ان کے بیان کرنے کا تو یہ موقعہ نہیں مگر اس وقت میری غرض اس حدیث کے لانے سے یہ بیان کرنا ہے کہ رسول کریم ﷺ تکبر سے بالکل خالی تھے اور تکبر آپؐ کے قریب بھی نہ پھٹکتا تھا۔ رسول کریم ﷺ تو خیر بڑی شان کے آدمی تھے اور جس وقت کا یہ واقعہ ہے اس وقت دنیاوی شان بھی آپؐ کو بادشاہانہ حاصل تھی (کیونکہ حضرت ابو ہریرہؓ آپؐ کی وفات سے صرف تین سال پہلے مسلمان ہوئے تھے پس اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ مسلمان ہوتے ہی آپؐ کو یہ واقعہ پیش آیا تب بھی فتح خیبر کے بعد کا یہ واقعہ ہے جبکہ رسول کریمؐ کی حکومت قائم ہو چکی تھی اور عرب کے کئی قبائل آپؐ کی اطاعت کا اقرار کر چکے تھے)۔ آپؐ سے دنیاوی حیثیت میں ادنیٰ لوگوں کو بلکہ معمولی معمولی اُمراء کو دیکھو کہ کیا تکبر اور عجب کے باعث وہ کسی شخص کا جُوٹھا پی سکتے ہیں؟ اس آزادی کے زمانہ میں بھی جبکہ تمام بنی نوع انسان کی برابری کے دعوے کئے جاتے ہیں۔ اس شان کو بنانے کے لئے طب کی آڑ تلاش کی جاتی ہے کہ ایک دوسرے کا جُوٹھا پینے سے ایک دوسرے کی بیماری کے لگ جانے کا خطرہ ہوتا ہے حالانکہ اگر کوئی ایسی بیماری معلوم ہو تو اور بات ہے ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ سُؤْرُ الْمُؤْمِنِ شِفَاءٌ مؤمن کا جُوٹھا استعمال کرنے میں بیماری سے شفاء ہوتی ہے۔ پھر مسلمان کہلانے والوں کا کیا حق ہے کہ اس فتویٰ کے ہوتے ہوئے اپنے تکبر کو پورا کرنے کے لئے اس تارِ عنکبوت عذر کے پیچھے پناہ لیں۔ غرض اس آزادی کے زمانہ میں بھی بادشاہ تو الگ رہے عام لوگ بھی پسند نہیں کرتے کہ اپنے سے نیچے درجہ کے آدمی کا جُوٹھا کھانا یا پانی استعمال کریں اور خواہ دنیاوی حیثیت میں ان سے ادنیٰ درجہ کا آدمی کس قدر ہی صاف اور نظیف کیوں نہ ہو اور ہر قسم کی میلوں اور گندوں سے کتنا ہی پاک کیوں نہ ہو اس کے جُو ٹھے کھانے یا پینے کو بھی استعمال نہیں کرتے اور اس کو برا مناتے ہیں اور اس کو اپنی ہتک خیال کرتے ہیں۔ اور پھر امارت ظاہری الگ رہی، قومیتوں کے لحاظ سے بھی ایسے درجہ مقرر کئے گئے ہیں کہ ایک ادنیٰ قوم کے شخص کا جُوٹھا کھانا یا پانی استعمال کرنا اعلیٰ قوم کے لوگ عار خیال کرتے ہیں خود ہمارے گھر میں ایک دفعہ یہ واقعہ ہوا کہ ایک سیدانی بغرض سوال آئی۔ باتیں کرتے کرتے اس نے پانی مانگا۔ ایک عورت اس کو پانی دینے کے لئے اٹھی اور جو برتن گھڑوں کے پاس پانی پینے کے لئے رکھا تھا اس میں اس نے اسے پانی دیا۔ وہ سیدانی بھی سامنے بیٹھی تھی اس بات کو دیکھ کر آگ بگولا ہوگئی اور بولی کہ شرم نہیں آتی۔ میں سیدانی ہوں اور تو امتیوں کے جُو ٹھے برتن میں پانی دیتی ہے۔ نئے برتن میں مجھے پانی پلانا چاہئے تھا۔ غرض صرف سادات میں سے ہونے کی وجہ سے باوجود اس کے کہ وہ ہمارے ہاں سوال کرنے آئی تھی اور محتاج تھی اس نے اس قدر تکبر کا اظہار کیا کہ دوسرے آدمی کا مستعمل برتن جو سید نہ ہو اس کے سامنے پیش کرنا گویا اس کی ہتک تھی۔ جب مستعمل لیکن صاف کردہ برتن سے اس قدر نفرت تھی تو جُوٹھا پانی تو پھر نہایت ناپاک شئے سمجھی جاتی ہوگی لیکن اس سیدوں کے باپ بلکہ انبیاء کے سید کو دیکھو کہ اصحاب الصُّفّہ جن کو نہ کھانے کو روٹی ، نہ پہننے کو کپڑا، نہ رہنے کو مکان میسر تھا ان کو اپنے گھر پر بلاتا ہے اور ایک نہیں ، دو نہیں ، ایک جماعت کی جماعت کو دودھ کا پیالہ دیتا ہے اور سب کو باری باری پلا کر سب کا بچا ہوا ، کم سے کم نصف درجن مونہوں سے گزرا ہوا دودھ سب سے آخر میں الحمد للہ کہتا ہوا، بسم اللہ کہہ کر پی جاتا ہے اور اس کے چہرہ پر بجائے نفرت کے آثار ظاہر ہونے کے خوشی اور فرحت اور شکر و امتنان کی علامات ہویدا ہوتی ہیں۔
بے شک دنیا میں بڑے بڑے لوگ گزرے ہیں لیکن اس شان و شوکت کا مالک ہو کر جو رسول کریم ﷺ کو حاصل تھی پھر اس قدر تکبر سے بعد کی مثال کوئی پیش تو کرے۔ لیکن خوب یاد رکھو کہ ایسی مثال پیش کرنے پر کوئی شخص قادر نہیں ہو سکتا۔
تکبر کے متعلق دو مثالیں بیان کرنے کے بعد میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ نہ صرف یہ کہ آپؐ کے اندر تکبر نہ تھا بلکہ اس کے علاوہ آپؐ کی طبیعت میں حد درجہ کا انکسار☆بھی تھا اور آپؐ ہمیشہ دوسرے کی تعظیم کرنے کے لئے تیار رہتے تھے اور اپنا رویہ ایسا رکھتے تھے جس سے دوسرے لوگوں کا ادب ظاہر ہو اور یہ وہ بات ہے کہ جس سے عام طور پر لوگ خالی ہوتے ہیں۔ خصوصاً امراء تو اس سے بالکل خالی ہی نظر آتے ہیں۔ ایسے تو شاید بہت سے امراء مل جائیں جو ایک حد تک تکبر سے بچے ہوئے ہوں لیکن ایسے امراء جو تکبر سے محفوظ ہونے کے علاوہ منکسر المزاج بھی ہوں، شاذ و نادر ہی ملتے ہیں اور میرا یہ کہنا کہ شاذ و نادر منکسر المزاج امراء مل سکتے ہیں اس کا بھی یہ مطلب نہیں کہ ایسے امراء بھی ہیں جو اپنے انکسار میں رسول اللہ ﷺ کا نمونہ ہیں۔ کیونکہ رسول کریم ﷺ کا نمونہ تو انبیاء میں بھی نہیں مل سکتا چہ جائیکہ عام امراء میں مل جائے۔ میرا یہ ایمان ہے کہ آپؐ اپنی تمام عادات اور تمام حرکات میں بے نظیر تھے اور اخلاق کے تمام پہلوؤں میں کل انبیاء اور صلحاء پر فضیلت رکھتے تھے۔ پس میں اگر کسی جگہ دوسرے امراء سے آپؐ کا مقابلہ کرتا ہوں تو صرف یہ دکھانے کے لئے کہ بادشاہوں اور امراء میں بھی نیک نمونے تو موجود ہیں لیکن جس طرح ہر رنگ اور ہر پہلو میں آپؐ کامل تھے اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی اور دوسرے یہ بتانے کے لئے کہ آپؐ کو صرف نیک بختوں میں اور صلحاء میں شامل کرنا درست نہیں ہو سکتا بلکہ کسی ایک خلق میں بھی بہتر سے بہتر نمونہ جو مل سکتا ہے اس سے بھی آپؐ کا نمونہ بڑھ کر تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپؐ کوئی نیک بخت بادشاہ نہ تھے بلکہ نبی تھے اور نبیوں کے بھی سردار تھے اور میں ان لوگوں کی کوشش کو نہایت حقارت کی نظر سے دیکھتا ہوں جو آپؐ کی لائف میں یہ کوشش کرتے ہیں کہ آپؐ کے افعال کو چند اور بادشاہوں سے مشابہ کر کے دکھاتے ہیں اور اس طرح گویا آپؐ پر سے وہ اعتراض مٹانا چاہتے ہیں جو آپؐ کے دشمنوں کی طرف سے کئے جاتے ہیں اس کوشش کا نتیجہ سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک اچھے بادشاہ تھے۔ لیکن ہمارا تو یہ دعویٰ ہے کہ آپؐ ایک نبی تھے اور نبیوں کے سردار تھے۔ پس جب تک آپؐ کے اخلاق کو دوسرے انسانوں کے اخلاق سے بہتر اور اعلیٰ نہ ثابت کیا جائے ہمارا دعویٰ باطل ہو جاتا ہے اور صرف بعض شریف بادشاہوں سے آپؐ کی مماثلت ثابت کر دینے سے وہ مطلب ہرگز پورا نہیں ہوتا جس کے پورا کرنے کے لئے ہم قلم اٹھاتے ہیں۔ پس میرا آپؐ کے مقابلہ میں دیگر امراء کی امثلہ پیش کرنا یا ان کی زندگی کی طرف متوجہ کرنا صرف اس غرض کے لئے ہوتا ہے کہ تابتاؤں کہ اچھے سے اچھے نمونہ کو بھی آپؐ کے سامنے لاؤ، بھی وہ آپؐ کے آگے چمک نہیں سکتا بلکہ آپؐ کے سامنے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے نصف النہار کے سورج کے مقابلہ میں شب چراغ۔
خیر یہ تو ایک ضمنی بات تھی۔ میں اس وقت یہ بیان کر رہا تھا کہ گو بعض امراء تکبر سے خالی تو مل سکتے ہیں لیکن منکسر المزاج امراء بہت ہی کم اور شاذ و نادر ہی ملیں تو ملیں لیکن رسول کریم ﷺ ایک بادشاہ ہو کر جس منکسر المراجی سے رہتے تھے وہ انسان کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ عرب کی سی قوم کا بادشاہ لاکھوں انسانوں کی جان کا مالک بڑوں اور چھوٹوں کے سامنے اس انکسار سے کام لیتا ہوا نظر آتا ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ دنیا کے بادشاہوں اور امراء کی زندگی کو دیکھو اور ان کے حالات پڑھو تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی اپنے سے ادنیٰ آدمی کو سلام کہنا تو درکنار‘ اس کے سلام کا جواب دینا بھی ان پر دو بھر ہوتا ہے۔ اول تو بہت سے ہوں گے جو معمولی آدمی کے سلام پر سر تک بھی نہ ہلائیں گے تو بعض ایسے ملیں گے جو صرف سر ہلا دینا کافی سمجھیں گے۔ ان سے بھی کم وہ ہوں گے جو سلام کا جواب دے دیں گے اور جو ابتداء میں سلام کریں وہ تو بہت ہی کم ملیں گے کیونکہ جن کی طبیعت میں تکبر نہ ہو وہ اس بات کو پسند نہ کریں گے کہ کوئی غریب آدمی ان کو سلام کہے تو وہ اس کے سلام کا جواب نہ دیں لیکن ابتداءً ایک غریب آدمی کو سلام کہنا وہ اپنی شان کے خلاف سمجھیں گے۔ لیکن رسول کریم ﷺ کی زندگی کے حالات پڑھ کر دیکھو کہ آپؐ ہمیشہ سلام کہنے میں سبقت کرتے تھے اور کبھی اس بات کے منتظر نہ رہتے تھے کہ کوئی غریب آدمی آپ کو خود
بڑھ کر سلام کرے بلکہ آپؐ کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ آپؐ ہی پہلے سلام کہیں۔ اس کے متعلق میں اس جگہ ایک ایسے شخص کی گواہی پیش کرتا ہوں جس کو آپؐ کی مدینہ کی زندگی میں برابر دس سال آپؐ کے ساتھ رہنے کا اتفاق ہوا ہے۔ میری مراد حضرت انسؓ سے ہے جن کو رسول کریم ﷺ نے مدینہ تشریف لانے پر ملازم رکھا تھا اور جو آپؐ کی وفات تک برابر آپؐ کی خدمت میں رہے۔ ان کی نسبت امام بخاریؒ روایت کرتے ہیں:
عَنْ اَنَسِ ابْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ: اَنَّهٗ مَرَّ عَلٰى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، وَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَفْعَلُهٗ(بخاری کتاب الاستئذان باب التسلیم علی الصبیان)
یعنی حضرت انسؓ ایک دفعہ ایک ایسی جگہ سے گزرے جہاں لڑکے کھیل رہے تھے تو آپؓ نے ان کو سلام کہا اور پھر فرمایا کہ آنحضرت ﷺ اسی طرح کیا کرتے تھے یعنی آپؐ بھی جب لڑکوں کے پاس سے گزرتے تھے۔ تو ان کو سلام کہا کرتے تھے ان واقعات پر سرسری نظر ڈالنے والے انسان کی نظر میں شاید یہ ایک معمولی سی بات ہو لیکن جو شخص کہ ہر ایک بات پر غور کرنے کا عادی ہو وہ اس شہادت سے رسول کریم ﷺ کی منکسرانہ طبیعت کے کمال کو معلوم کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں۔ امراء کے لئے اپنے سے چھوٹے آدمی کو پہلے سلام کہنا ایک نہایت سخت مجاہدہ ہے اور ممکن ہے کہ کبھی کبھار کوئی امیر ایسا کر بھی دے لیکن ہمیشہ اس پر قائم رہنا ایک ایسی بات ہے جس کا ثبوت کسی دنیاوی بادشاہ کی زندگی سے نہیں مل سکتا۔ پھر بچوں کو سلام میں ابتداء کرنا تو ایک ایسی بات ہے جس کی بادشاہ تو الگ رہے امراء سے بھی امید کرنا بالکل محال ہے اور امراء کو بھی جانے دو۔ کتنے بالغ و جوان انسان ہیں جو باوجود دنیاوی لحاظ سے معمولی حیثیت رکھنے کے بچوں کو سلام میں ابتداء کرنے کے عادی ہیں اور جب گلیوں میں بچوں کو کھڑا پاتے ہیں تو آگے بڑھ کر ان کو سلام کرتے ہیں۔ شاید ایسا آدمی جو اس پر تعمد سے قائم ہو اور ہمیشہ اس پر عمل کرتا ہو ایک بھی نہ ملے گا لیکن رسول کریم ﷺ کی نسبت حضرت انسؓ جیسے واقف کار صحابی جو ہر وقت آپؐ کے ساتھ رہتے تھے فرماتے ہیں کہ آپؐ جب بچوں کے پاس سے گزرتے تھے تو ان کو سلام کہتے تھے۔ اس شہادت میں آپؓ نے کئی باتوں پر روشنی ڈالی ہے اول یہ کہ آنحضرت ﷺ انکسار کے اس اعلیٰ درجہ پر قدم زن تھے کہ بچوں کو سلام کہنے سے بھی آپؐ کو عار نہ تھا۔ دوم یہ کہ آپؐ ان کو سلام کہنے میں ابتداء کرتے تھے۔ سوم یہ کہ ایک یا دو دفعہ کی بات نہیں آپؐ ہمیشہ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ اب اس شہادت سے ہر ایک شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ جو شخص بچوں کے ساتھ اس انکسار کے ساتھ پیش آتا تھا، وہ جوانوں کے ساتھ کس انکسار کے ساتھ معاملہ کرتا ہو گا اور اس کا نفس خودی اور تکبر سے کس حد تک پاک ہو گا۔
میں اس امر کی اور بہت سی مثالیں پیش کرتا لیکن چونکہ میں نے اس کتاب میں صرف ان مثالوں سے آپؐ کی سیرت پر روشنی ڈالنے کا ارادہ کیا ہے جو بخاری میں پائی جاتی ہیں اُس لئے اس وقت اسی مثال پر اکتفا کرتا ہوں۔
شروع سے ہی آپؐ کی طبیعت ایسی تھی۔ آپؐ کی منکسرانہ طبیعت کے متعلق جو مثال میں نے دی ہے شاید اس کے متعلق کوئی شخص کہے کہ گو امراء اس منکسرانہ طبیعت کے نہیں ہوتے لیکن چونکہ علاوہ بادشاہت کے آپؐ کو نبوت کا بھی دعویٰ تھا اور نبوت کے لئے ضروری ہے کہ انسان ہر قسم کے لوگوں سے تعلق رکھے اس لئے ممکن ہے کہ نعوذ باللہ آپؐ تکلف سے ایسا کرتے ہوں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک یہ اعتراض درست ہے لیکن رسول کریم ﷺ پر نہیں پڑ سکتا اور اس کی یہ وجہ ہے کہ تکلف کی بات ہمیشہ عارضی ہوتی ہے تکلف سے انسان جو کام کرتا ہے اس پر سے کسی نہ کسی وقت پردہ اٹھ جاتا ہے لیکن جیسا کہ پہلی مثال سے ثابت ہے۔ آنحضرت ﷺ ہمیشہ ایک ہی بات پر قائم رہے اور ایک شخص، جو دس سال رات دن برابر آپؐ کے ساتھ رہا، گواہی دیتا ہے کہ ہمیشہ منکسرانہ معاملہ کرتے تھے تو اب اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی لیکن اس مثال کے علاوہ ایک اور مثال بھی بخاری سے معلوم ہوتی ہے جس سے ثابت ہو جاتا ہے کہ آپؐ کی منکسرانہ طبیعت ان اعلیٰ درجہ کے اخلاق کا نتیجہ تھی جن پر آپؐ قائم تھے نہ کہ بناوٹ کا جیسا کہ آپ کے دشمن کہتے ہیں اور وہ ایک ایسے وقت کی بات ہے جبکہ آپؐ نے ابھی دعویٰ بھی نہ کیا تھا۔ پس اس وقت بھی آپؐ کا انتہاء درجہ کا منکسر المزاج ہونا ثابت کرتا ہے کہ آپؐ کے تمام کام اس دلی پاکیزگی کا نتیجہ تھے جس نے آپؐ کو کسی زمانہ میں بھی نہیں چھوڑا۔
عَنْ عَائِشَةَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنَّهَا قَالَتْ : اَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ ، فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ ، وَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ ، فَيَتَحَنَّثُ فِيْهِ - وَهُوَ التَّعَبُّدُ - اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ اَنْ يَّنْزِعَ إِلَىٰ اَهْلِهِ ، وَيَتَزَوَّدُ لِذٰلِكَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَىٰ خَدِيْجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا ، حَتَّىٰ جَاءَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِيْ غَارِ حِرَاءٍ ، فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ: اقْرَأْ ، قَالَ : مَا اَنَا بِقَارِئٍ ، قَالَ : فَاَخَذَنِيْ فَغَطَّنِيْ حَتَّىٰ بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ، ثُمَّ اَرْسَلَنِيْ فَقَالَ : اِقْرَأْ ، قُلْتُ مَا اَنَا بِقَارِئٍ ، فَاَخَذَنِيْ فَغَطَّنِي الثَّانِیَةَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَهْدَ ، ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ ، فَقَالَ : اِقْرَأْ ، فَقُلْتُ مَا اَنَا بِقَارِئٍ ، فَاَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّالِثَةَ ، ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ ، فَقَالَ : اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ، خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ، اِقْرَأْ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمُ ، فَرَجَعَ بِهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَرْجُفُ فُؤَادُهُ ، فَدَخَلَ عَلٰی خَدِیْجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهَا فَقَالَ : زَمِّلُوْنِیْ زَمِّلُوْنِیْ فَزَمَّلُوْهُ حَتّٰی ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ ، فَقَالَ لِخَدِیْجَةَ وَاَخْبَرَهَا الْخَبَرَ : لَقَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ فَقَالَتْ خَدِیْجَةُ : کَلَّا وَاللّٰهِ مَا يُخْزِیْکَ اللّٰهُ اَبَدًا ، اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ ، وَتَحْمِلُ الْکَلَّ ، وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ ، وَتَقْرِی الضَّیْفَ ، وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ ، فَانْطَلَقَتْ بِهٖ خَدِیْجَةُ حَتّٰی اَتَتْ بِهٖ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ اَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزّٰی اِبْنَ عَمِّ خَدِیْجَةَ ، وَکَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِی الْجَاهِلِيَّةِ ، وَکَانَ یَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعِبْرَانِیَّ ، فَیَکْتُبُ مِنَ الْاِنْجِیْلِ بِالْعِبْرَانِيَّةِ مَا شَاءَ اللّٰهُ اَنْ یَّکْتُبَ ، وَکَانَ شَیْخًا کَبِیْرًا قَدْ عَمِیَ ، فَقَالَتْ لَهٗ خَدِیْجَةُ : يَا بْنَ عَمِّ اِسْمَعْ مِنَ ابْنِ اَخِیْکَ ، فَقَالَ لَهٗ وَرَقَةُ : يَا بْنَ اَخِیْ مَاذَا تَرٰی ؟ فَاَخْبَرَهُ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَاٰی ، فَقَالَ لَهٗ وَرَقَةُ : هٰذَا النَّامُوْسُ الَّذِیْ نَزَّلَ اللّٰهُ عَلٰی مُوْسٰی ، یَالَیْتَنِیْ فِیْهَا جَذَعٌ ، لَیْتَنِیْ اَکُوْنُ حَیًّا اِذْ يُخْرِجُکَ قَوْمُکَ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ : اَوَ مُخْرِجِیَّ هُمْ قَالَ : نَعَمْ ، لَمْ یَاْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهٖ اِلَّا عُوْدِیَ ، وَاِنْ یُّدْرِکْنِیْ يَوْمُکَ اَنْصُرْکَ نَصْرًا مُّؤَزَّرًا ، ثُمَّ لَمْ یَنْشَبْ وَرَقَةُ اَنْ تُوُفِّیَ وَفَتَرَ الْوَحْیُ(بخاری باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ ﷺ)
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ شروع شروع میں رسول کریم ﷺ کو سچی خوابیں آنی شروع ہوئی تھیں۔ آپؐ جو خواب دیکھتے وہ اپنے وقت پر اس طرح ظاہر اپوری ہوتی جیسے پو پھوٹتی ہے۔ اس کے بعد آپؐ کے دل میں علیحدگی کی محبت ڈالی گئی پس آپؐ غارِ حراء میں جا کر علیحدہ بیٹھا کرتے تھے اور کچھ راتیں رہ کر وہاں عبادت کیا کرتے تھے (ایک خدا کی۔ کیونکہ نبوت سے پہلے بھی آپؐ نے کبھی شرک نہیں کیا) اور پھر گھر کی طرف واپس تشریف لاتے تھے اور پھر اس کام کے لئے کھانا وغیرہ لے جاتے یہاں تک کہ آپؐ کے پاس حق آگیا (یعنی وحی نازل ہوئی) اور آپؐ اس وقت غارِ حراء میں ہی تھے آپؐ کے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا کہ پڑھ! آپؐ نے جواباً فرمایا کہ میں تو پڑھنا نہیں جانتا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ اس پر فرشتہ نے مجھے پکڑ لیا اور اپنے ساتھ چمٹالیا اور اس قدر بھینچا کہ طاقت برداشت نہ رہی پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھ! میں نے کہا کہ میں تو پڑھنا نہیں جانتا اس پر اس نے پھر مجھے پکڑا اور اپنے ساتھ چمٹا کر زور سے بھینچا حتیٰ کہ طاقت برداشت نہ رہی پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھ!
یہ آیات لے کر (یعنی یاد کر کے) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے اور آپ کا دل دھڑک رہا تھا۔ وہاں سے آکر آپؐ سیدھے حضرت خدیجہؓ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ مجھے کپڑا اوڑھا ؤ! اس پر آپؐ کے اوپر کپڑا ڈال دیا گیا اور آپؐ لیٹے رہے یہاں تک کہ خوف جاتا رہا۔ پھر حضرت خدیجہؓ کو تمام قصہ سنایا اور فرمایا کہ میں تو اپنی جان پر ڈرتا ہوں (یعنی مجھے خوف ہے کہ مجھ سے کیا معاملہ ہونے لگا ہے) اس پر حضرت خدیجہؓ نے فرمایا کہ ہرگز نہیں۔ خدا تجھے کبھی ذلیل نہیں کرے گا کیونکہ تو رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرتا اور کمزوروں کا بوجھ اٹھاتا ہے اور تمام وہ نیک اخلاق جو دنیا سے معدوم ہو چکے ہیں ان پر عامل ہے اور مہمان کی اچھی طرح سے خاطر کرتا ہے اور سچی مصیبتوں میں لوگوں کی مدد کرتا ہے یہ کہہ کر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لیا اور ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزّٰی جو حضرت خدیجہؓ کے چچا کے بیٹے یعنی چچازاد بھائی تھے‘ ان کے پاس پہنچیں۔ جو جاہلیت کے زمانہ میں مسیحی مذہب اختیار کر چکے تھے اور عبرانی میں انجیل کے بعض حصص ‘جن کی اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دیتا‘ لکھا کرتے تھے (یعنی اپنی جوانی میں) اور اس وقت وہ بوجہ بڑھاپے کے اندھے ہو چکے تھے۔ حضرت خدیجہؓ نے ان سے کہا کہ اے میرے چچا کے بیٹے! اپنے بھائی کے بیٹے کی بات سن۔ ورقہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اے میرے بھائی کے بیٹے! کیا بات ہے۔ آپؐ نے جو کچھ گزرا تھا آپ کے سامنے دہرایا۔ اس پر ورقہ نے کہا کہ یہ وہی فرشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ پر نازل فرمایا تھا۔ اے کاش۔ میں اس وقت جوان ہوتا۔ اے کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب تیری قوم تجھے نکال دے گی اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! کوئی شخص اس تعلیم کے ساتھ نہیں آیا جس کے ساتھ تُو آیا ہے مگر لوگوں نے اس سے دشمنی کی ہے اور اگر مجھے تیرا زمانہ ملا (یعنی جس وقت تیری تعلیم کا اعلان ہوگا اور لوگ مخالفت کریں گے ورنہ نبی تو آپؐ اسی دن سے ہوگئے تھے اور وحی قرآن نازل ہونی شروع ہوگئی تھی) تو میں تیری بڑی مدد کروں گا۔ پھر کچھ ہی دنوں کے بعد ورقہ فوت ہوگئے اور وحی ایک عرصہ کے لئے بند ہوگئی۔
ممکن ہے اس حدیث کے یہاں نقل کرنے پر بعض لوگوں کو تعجب ہوا ہو کہ اس حدیث کے
اس جگہ نقل کرنے سے کیا مطلب ہے اور اس سے آنحضرت ﷺ کے انکسار کا کیا پتہ چلتا ہے لیکن جیسا کہ میں انشاء اللہ ابھی بتاؤں گا۔ یہ حدیث آپ کی منکسرانہ طبیعت پر تیز روشنی ڈالتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انکسار سے آپؐ کا دل معمور تھا اور کسی زمانہ میں بھی آپؐ سے یہ خُلقِ نیک جدا نہیں ہوا۔ انکسار کے ساتھ کام کرنا دلالت کرتا ہے کہ یہ صفت کس شان کے ساتھ آپؐ کے اندر تھی ورنہ بعض لوگ صرف سستی کی وجہ سے انکسار کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے سامنے جو فرشتہ آیا اس نے آپؐ سے کہا کہ پڑھ اور آپؐ نے اس کے جواب میں کہا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپؐ کا اس انکار سے کیا مطلب تھا آیا یہ کہ آپؐ تحریر پڑھنا نہیں جانتے یا یہ کہ عربی زبان کا دہرانا بھی نہیں جانتے۔ کیونکہ قراءت کا لفظ عربی زبان میں دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک معنے اس کے کسی تحریر کو پڑھنے کے ہیں اور دوسرے معنی کسی مقررہ عبارت کو اپنی زبان سے دہرانے کے ہیں چنانچہ جب کوئی شخص کسی کتاب کو پڑھے تو اس کی نسبت بھی کہیں گے کہ يَقْرَأُ الْكِتَابَ اور جب وہ کسی عبارت کو دہرائے گا تو اسے بھی کہیں گے کہ يَقْرَاُ وہ پڑھتا ہے جیسا کہ قرآن کریم کو حفظ پڑھنا بھی قراءت کہلاتا ہے۔ پس اب سوال یہ ہے کہ آیا رسول اللہ ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا تو اس سے کیا مراد ہے۔ آیا یہ کہ آپؐ تحریر نہیں پڑھ سکتے یا یہ کہ آپؐ کسی عبارت کو جو عربی زبان میں ہو دہرا بھی نہیں سکتے۔ اگر یہ ثابت ہو کہ آپؐ کا مطلب یہ تھا کہ آپؐ تحریر نہیں پڑھ سکتے تب تو بات صاف ہے کیونکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ آپؐ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے لیکن یہ مطلب رسول کریم ﷺ کا نہیں ہو سکتا کیونکہ صحیح احادیث سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ آپؐ کے سامنے اس فرشتہ نے کوئی تحریر رکھی تھی اور کہا تھا کہ اسے پڑھو تا آپؐ جواب دیتے کہ میں پڑھنا نہیں جانتا بلکہ جو کچھ صحیح اور مرفوع احادیث سے ثابت ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ ایک فرشتہ آپؐ کے سامنے آیا اور اس نے آکر آپؐ سے کہا کہ آپؐ پڑھیں اور کوئی تحریر آپؐ کے سامنے پیش نہیں کی۔ چنانچہ بخاری کی جو حدیث اوپر نقل کی گئی ہے اس سے بھی یہی ثابت ہے کہ اس فرشتہ نے آپؐ کے سامنے کوئی تحریر نہیں رکھی بلکہ صرف ہوشیار کرنے کے لئے کہا ہے کہ پڑھ! جیسا کہ جب کسی شخص سے کوئی الفاظ کہلوانے ہوں تو کہلوانے والا عام طور پر کہہ دیا کرتا ہے کہ کہو۔ پس اس فرشتہ نے بھی یہی آپؐ سے کہا تھا کہ دہراؤ یعنی جو لفظ میں کہتا ہوں ان کو دہراتے جاؤ۔ چنانچہ تیسری دفعہ فرشتہ نے منہ سے ہی الفاظ کہے نہ کہ کوئی تحریر رکھی۔ اگر پڑھوانا مدّنظر ہوتا اور اس فرشتہ کا آپؐ کو گھونٹنا اس لئے ہوتا کہ آپ کو تحریر پڑھنا آجائے تو ایسا ہونا چاہئے تھا کہ وہ آخری دفعہ آپؐ کے سامنے تحریر رکھ دیتا اور آپؐ گو پہلے پڑھنا نہیں جانتے تھے لیکن معجزانہ طور پر پڑھنے لگ جاتے لیکن آخری دفعہ فرشتہ کا منہ سے الفاظ کہہ کر آپؐ کو دہرانے کے لئے کہنا صاف ثابت کرتا ہے کہ اس وقت آپؐ کے سامنے کوئی تحریر نہ رکھی گئی تھی بلکہ صرف زبانی آپؐ سے ایک عبارت دہرانے کو کہا گیا تھا اور یہ استدلال جو ہم نے کیا ہے اس کے خلاف عبید بن عمیر کی روایت نہیں پیش کی جاسکتی جس میں لکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے جبریلؑ نے ایک تحریر رکھی تھی جو دیباج پر لکھی ہوئی تھی۔ کیونکہ ایک تو یہ حدیث اس پائے کی نہیں جس پائے کی حدیث بخاری کی ہے پھر یہ مرسل حدیث ہے اس لئے اس روایت کے مقابلہ میں، جو اوپر نقل کی گئی ہے، نہیں رکھی جاسکتی۔ سوم۔ خود عبید بن عمیر کی اپنی روایت میں اس کے خلاف ہے کیونکہ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب جبریلؑ نے آپؐ سے کہا کہ پڑھیں۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ میں کیا پڑھوں؟ اور یہ فقرہ کہ میں کیا پڑھوں صاف ثابت کرتا ہے کہ آپؐ کے سامنے کوئی تحریر نہ تھی اگر تحریر ہوتی تو آپؐ ’کیا پڑھوں‘ کا جملہ کیونکر استعمال فرما سکتے تھے۔ غرض حق یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ سے اس فرشتہ نے کوئی تحریر پڑھنے کو نہیں کہا بلکہ یہی کہا کہ آپؐ کہیں (یعنی جو کچھ میں کہوں) اس کے جواب میں آپؐ نے فرمایا کہ میں تو قراءت نہیں جانتا لیکن اب ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جبکہ آپؐ نے صرف عربی کے بعض فقرات دہرانے کو کہا گیا تھا تو آپؐ نے کیوں فرمایا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا حالانکہ یہ کام آپؐ آسانی سے کر سکتے تھے آپؐ کی مادری زبان عربی تھی اور آپؐ اس زبان میں کلام کیا کرتے تھے۔ پھر آپؐ نے یہ کیوں فرمایا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا اور نہ آپؐ عربی کے کلمات کے دہرانے سے عاجز تھے کہ کہا جائے کہ آپؐ نے اس بات سے بھی انکار کیا بلکہ اصل بات یہی ہے کہ آپؐ نے فرشتہ کو دیکھتے ہی خوب سمجھ لیا تھا کہ یہ کس غرض کے لئے آیا ہے کیونکہ قبل از وقت آپؐ کو رویائے صالحہ کے ذریعہ اس کام کے لئے تیار کر دیا گیا تھا۔ اور پھر ایک علیحدہ جگہ میں یک لخت ایک شخص کا نمودار ہونا صاف ظاہر کرتا تھا کہ یہ کوئی انسان نہیں بلکہ فرشتہ ہے پس آپؐ کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ یہ کوئی فرشتہ ہے اور مجھے کوئی کام سپرد کرنے آیا ہے اور آپؐ نے خدا تعالیٰ کی عظمت کی طرف نگاہ کر کے اپنی جبین نیاز خدا تعالیٰ کے آگے جھکا دی اور عرض کیا کہ جو کچھ مجھے پڑھایا جانے لگا ہے میں تو اس لائق نہیں اور یہ جو کچھ آپؐ نے فرمایا بالکل درست اور بجا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے حضور میں یہی کلمہ کہنا بجا تھا اور آپؐ
نے اس کے فرشتہ کو یہی جواب دیا کہ اس بادشاہ کی خدمت کے میں کہاں لائق تھا۔ شاید کوئی شخص کہے کہ یہ تو جھوٹ تھا آپؐ تو لائق تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض نادانی کے باعث ہے جو لوگ جس قدر خدا تعالیٰ کے قریب ہوتے ہیں اسی قدر اس سے خائف ہوتے ہیں اور اس کے جلال سے ڈرتے ہیں۔
بے شک رسول کریم ﷺ سب سے زیادہ اس کام کے لائق تھے۔ لیکن ان کا دل سب انسانوں سے زیادہ خدا تعالیٰ کے خوف سے پُر تھا پس انہوں نے خدا تعالیٰ کے جلال کو دیکھتے ہوئے عذر کیا کہ میں تو اس کام کے لائق نہیں۔ اگر آپؐ اپنے آپ کو سب سے لائق سمجھتے ہوئے ایسا کہتے تب بے شک آپ پر الزام آسکتا تھا بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے جبروت اور جلال پر نظر کرتے ہوئے واقعہ میں اپنے آپ کو اس کی امانت کے اٹھانے کے قابل خیال نہ کرتے تھے اور یہ بات آپؐ کے درجہ کی بلندی پر دلالت کرتی ہے کہ آپؐ باوجود عظیم الشان طاقتوں کے مالک ہونے کے خدا تعالیٰ کے جلال پر ایسے فدا تھے کہ آپؐ نے اپنے نفس کی خوبیوں کو کبھی دیکھا ہی نہیں اور اسی کے جلال کے مطالعہ میں لگے رہے۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی انکسار کی کوئی اور مثال دنیا میں موجود ہے؟ موسیٰؑ کی ایک مثال قرآن کریم سے معلوم ہوتی ہے لیکن آپؐ کے مقابلہ میں وہ بھی کچھ نہیں کیونکہ گو حضرت موسیٰؑ نے اپنے آپ کو اس قابل نہ سمجھا اور نبوت کے بوجھ اٹھانے سے انکار کیا لیکن اپنے بھائی کی طرف اشارہ کیا۔ پس انہوں نے اپنی دانست میں ایک آدمی کو اس قابل خیال کیا کہ وہ اس بوجھ کو اٹھا لے گا لیکن آنحضرت ﷺ نے اپنی نسبت عجیب پیرایہ میں عذر کیا اور کسی کو پیش نہیں کیا جو آپؐ کے عظیم قرب پر دلالت کرتا ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ آپ حضرت موسیٰؑ سے شان میں افضل تھے کہ آپؐ نے اس امانت کے اٹھانے کے لئے کسی انسان پر نظر نہیں کی بلکہ صرف اپنی کمزوری کا اقرار کر کے خدا تعالیٰ کے انتخاب پر صاد کیا۔ غرض آپؐ کا نبوت کے ملنے سے بھی پہلے یہ انکسار کا نمونہ دکھانا ثابت کرتا ہے کہ آپؐ کی طبیعت میں ہی انکسار داخل تھا۔ اور نادان ہے وہ جو خیال کرے کہ آپؐ نے نبوت کے ساتھ اس رنگ کو اختیار کیا۔ اس جگہ ایک اور بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ انکسار جیسا کہ عام طور پر لوگوں کا خیال ہے اس کا نام نہیں کہ کوئی آدمی اپنے آپ کو لائق سمجھتے ہوئے کہے کہ میں تو یہ کام نہیں کر سکتا۔ یہ تو جھوٹ ہے اور جھوٹ کبھی اچھی صفت نہیں ہو سکتی۔ انکسار درحقیقت ایثار کی ایک قسم ہے جو ایک تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ انکسار نام پاتی ہے اور منکسر المزاج نہ اس شخص کو کہیں گے جو نالائق ہو کر اپنی نالائقی کا اقرار کرے اور نہ اسے کہیں گے جو اپنے آپ کو لائق سمجھ کر اپنے نالائق ہونے کا اعلان کرے بلکہ منکسر المزاج وہ شخص ہے جو لائق اور صاحبِ فضیلت ہو کر دوسروں کی خوبیوں پر لیاقت اور فضیلت کے مطالعہ میں ایسا مشغول ہو کہ اپنی لیاقت اور فضیلت اس کی نظروں سے پوشیدہ ہو جائے اور ہر موقعہ پر دوسروں کی لیاقت اور فضیلت اس کے سامنے آجائے اور یہ صفت اس لئے اچھی ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور میں تو یہ ادب کا صحیح طریق ہے اور بندوں میں اس کے ذریعہ سے فساد مٹ جاتے ہیں کیونکہ تمام فساد تکبر یا عدمِ انکسار سے پیدا ہوتے ہیں۔ تکبر جب لوگوں میں پھیل جائے تب تو بہت ہی فساد ہو گا کیونکہ ہر ایک شخص کہے گا میں دوسروں سے بڑا ہو جاؤں لیکن اگر تکبر نہ ہو اور انکسار بھی نہ ہو تب بھی فساد ہو جائے گا کیونکہ اکثر جھگڑے اسی وقت ہوتے ہیں جبکہ طرفین میں ہر ایک شخص اپنے حق پر اڑا رہے اگر ایک ان میں سے اپنے حق کو ترک کر دے تو پھر سب جھگڑے بند ہو جائیں۔ پس انکسار دنیا کے امن و امان کے بڑھانے میں ایک زبردست آلہ ہے اور ایثار کے ساتھ مل کر فساد کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیتا ہے ورنہ جھوٹ بولنا انکسار نہیں کہلاتا جیسا کہ ان دنوں عام طور پر سمجھا جاتا ہے اور نہ انکسار اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص سستی اور غفلت کی وجہ سے کام سے جی چرائے۔ بعض لوگ جنہیں کام کی عادت نہیں ہوتی سستی سے ان کا پالا پڑا ہوا ہوتا ہے وہ انکسار کے پردہ میں اپنا پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں لیکن اس کا نام انکسار نہیں وہ غفلت اور سستی ہے منکسر المزاج وہی شخص ہے کہ وہ کام کی اہلیت رکھتے ہوئے پھر خدا تعالیٰ کے جلال پر نظر کرتے ہوئے اپنی کمزوری کا مقر ہو لیکن جب اس کے کام سپرد ہو تو پوری ہمت سے اس کام کو کرے جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے کیا کہ باوجود اس انکسار کے جب آپؐ کے سپرد اصلاحِ عالم کا کام کر دیا گیا تو وہی شخص جو ”میں پڑھنا نہیں جانتا“ کہہ کر اپنی کمزوری کا اقرار کر رہا تھا۔ رات اور دن اس تندہی سے اس کام کے بجالانے میں لگ گیا کہ دنیا دنگ ہو گئی اور کوئی انسان اس قدر کام کرنے والا نظر نہیں آتا جس قدر کہ آنحضرت ﷺ نے کیا۔ پس آپؐ کا انکسار سچا انکسار تھا۔ کیونکہ باوجود لیاقت رکھنے کے آپؐ نے خدا کے جلال کا ایسا مطالعہ کیا کہ اپنی لیاقت کو بھلا دیا اور اللہ تعالیٰ کے نور کو اس طرح دیکھا کہ معلوم کر لیا کہ میری روشنی در حقیقت اس نور کا سایہ ہے۔
غرض آپؐ کے اس جواب سے کہ ”میں پڑھنا نہیں جانتا“ صاف ثابت ہوتا ہے کہ آپؐ ہمیشہ سے انکسار میں کمال رکھتے تھے اور گو فرشتہ کا آپؐ کو بار بار چمٹا لینا ایک یہ معنی بھی رکھتا ہے کہ اس ذریعہ سے آپؐ کو اپنے کمالات پر واقف کیا جانا تھا لیکن میرے نزدیک تو اس کا ایک یہ بھی مطلب تھا کہ جب فرشتہ نے آپ کو اس بات کی خبر دی کہ دنیا کو خدا کا کلام سنانے پر آپؐ مأمور کئے گئے ہیں تو اس نے دیکھا کہ بجائے اس کے کہ یہ شخص خوشی سے اچھل پڑے اور خود اس پیغام کو لے کر چل پڑے اور لوگوں کو فخریہ سنائے کہ خدا تعالیٰ نے یہ کام میرے سپرد کیا ہے۔ اس نے تو وہ رنگِ انکسار اختیار کیا ہے جو کسی انسان نے اس سے پہلے اختیار نہ کیا تھا تو اس کا دل محبت کے جوش سے بھر گیا اور بے اختیار ہو کر اس نے آپؐ کو اپنے ساتھ چمٹا لیا جو اور محبت کی لہر کا ایک ظہور تھا جو اس کے دل میں پیدا ہو گئی تھی اور جب آپؐ کو گلے لگا کر اس نے چھوڑا اور پھر وہی پیغام دیا اور پھر وہی جواب سنا تو محبت کی آگ نے ایک اور شعلہ مارا اور پھر اس نے آپؐ کو گلے لگا لیا اور اسی طرح تیسری دفعہ کیا اور تیسری دفعہ کے بعد آپؐ کے سامنے وحی الٰہی کے الفاظ پڑھے کہ اب تو آپؐ جو کچھ بھی کہیں یہ خدا کی امانت آپ کے سپرد ہو گئی ہے اور آپؐ نے بلا چوں و چرا اسے قبول کیا۔ لیکن آپؐ کے انکسار کو دیکھو کہ اب بھی تسلی نہیں ہوئی اس قدر اصرار سے حکم ملتا ہے لیکن بھاگے بھاگے حضرت خدیجہؓ کے پاس جاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ مجھے اپنی جان پر ڈر آتا ہے۔ اے نبیوں کے سردار! اے انسانی کمالات کے جامع! اے بنی نوع انسان کے لئے ایک ہی رہنما! تجھ پر میری جان قربان ہو۔ تو اب بھی اپنے کمالات سے آنکھیں بند کرتا ہے اور یہی خیال کرتا ہے کہ میں اس قابل کہاں جو اس وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ کے پیغام کا اٹھانے والا بنوں۔ فرشتہ تاکید پر تاکید کرتا ہے اور پیغامِ الٰہی آپؐ تک پہنچاتا ہے لیکن باوجود اس کے آپؐ ابھی تک اپنے حُسن سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں اور بار بار یہی فرماتے ہیں کہ میں اس قابل کہاں حتیٰ کہ گھر آ کر اپنی غمگسار حضرت خدیجہؓ سے فرماتے ہیں کہ میں اپنی جان پر خائف ہوں۔
چونکہ یہ فقرہ بھی اپنے اندر ایک حکمت رکھتا ہے اس لئے اس کے سمجھانے کے لئے بھی تشریح کی ضرورت ہے۔ الہام انسان کو دو طرح ہوتے ہیں۔ کبھی ترقی کے لئے کبھی حجت کے لئے۔ یعنی کبھی تو خدا تعالیٰ انسان کو اس کے درجہ کے بلند کرنے کے لئے مخاطب فرماتا ہے اور کبھی اس پر حجت قائم کرنے کے لئے چنانچہ بہت سے لوگ جو خدا تعالیٰ کے حضور میں خاص قرب نہیں رکھتے ان کو بھی الہام ہو جاتے ہیں اور وہ نادانی سے اس پر اترا جاتے ہیں حالانکہ وہ ان کے لئے آزمائش اور ان پر حجت ہوتے ہیں۔ اس غلط فہمی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بجائے ان الہامات سے فائدہ اٹھانے کے وہ فخر و تکبر میں پڑ جاتے ہیں اور آخر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ رسول کریم ﷺ بھی چونکہ تواضع کے عالی مقام پر پہنچے تھے۔ جب آپؐ کو الہام ہوا تو آپ گھبرائے کہ ایسا نہ ہو کہ یہ کلام مجھ پر بطورِ آزمائش اور حجت نازل ہوا ہو اور یہ اپنا خوف حضرت خدیجہؓ کے آگے بیان فرمایا جس پر انہوں نے آپؐ کو تسلی دلائی اور بتایا کہ جو اخلاق آپؐ کے ہیں اور جس مقام پر آپؐ ہیں کیا ایسے لوگوں کو بھی خدا تعالیٰ ضائع کرتا ہے اور اپنا یقین ظاہر کرنے کے لئے انہوں نے قسم کھائی کہ تیرے جیسے کاموں والا انسان کبھی ضائع نہیں ہو سکتا۔ حجت اور آزمائش کے لئے تو ان کے الہام ہو سکتے ہیں جن کے اعمال میں کمزوری ہو یا متکبر ہوں۔ جو شخص آپ جیسا غریبوں کا خبر گیر اور اخلاقِ حسنہ کا ظاہر کرنے والا ہے کیا ان کو اللہ تعالیٰ تباہ کر سکتا ہے۔ غرض حضرت خدیجہؓ کا جواب ظاہر کر رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ میں اپنی جان پر ڈرتا ہوں۔ اس کا یہی مطلب تھا کہ مجھے خوف ہے کہ میری آزمائش نہ ہو جس پر انہوں نے تسلی دی کہ آپؐ آزمائش کے مقام سے بالا ہیں۔ آپؐ پر یہ الہامات خدا تعالیٰ کے انعامات کے طور پر نازل ہوئے ہیں چنانچہ آئندہ کی وحی نے آپؐ پر روزِ روشن کی طرح کھول دیا کہ آپؐ خدا تعالیٰ کے مقبول تھے اور آپؐ نے اپنے طریقِ عمل سے بتا دیا کہ آپؐ کا کہنا کہ ”میں کہاں اس الہام کا سنانے والا ہو سکتا ہوں صرف تواضع کے طور پر تھا نہ کہ بوجہ سستی اور ڈر کے کیونکہ جس جرأت اور زور سے آپؐ نے کام کیا اس کی نظیر کسی نبی میں بھی نہیں تھی۔
کسی کو گالی دینے یا برا کہنے سے اس انسان کا تو کچھ نہیں بگڑتا لیکن پھر بھی انسان بالطبع اپنے دشمن کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرتا ہے اور ابتدائے عالم سے یہ مرض بنی نوعِ انسان میں چلی آئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گالی دینا ایک لغو کام ہے۔ سخت کلامی کرنا ایک فضول حرکت ہے مگر اس کے لغو اور فضول ہونے کے باوجود گالی دینے والے گالیاں دیتے ہیں اور سخت کلامی کرنے والے سخت کلامی کرتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کو جب غصہ یا جوش آئے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کا اظہار کرے اور بہت دفعہ جب اس کے غصہ کی کوئی انتہاء نہیں رہتی اور جوش سے اس کی عقل ماری جاتی ہے تو وہ عام الفاظ میں اپنے غصہ کا اظہار نہیں کر سکتا اور جب دیکھتا ہے کہ الفاظ میں میرے غصہ کا اظہار نہیں ہو سکتا تو پھر ایسے الفاظ بولتا ہے کہ جو گو اس غصہ کے اظہار کرنے والے نہ ہوں لیکن ان سے یہ ثابت ہو کہ اس شخص کو سخت طیش ہے چنانچہ اس لئے سخت طیش میں تمام برائیوں کو انسان اپنے دشمن یا دکھ دینے والے کی طرف منسوب کرتا ہے حالانکہ وہ سب برائیاں اس کی طرف منسوب نہیں ہو سکتیں لیکن اصل منشا گالی سے کمالِ طیش کا اظہار ہوتا ہے گویا گالی دینا بھی ایک قسم کا مجاز ہوتا ہے جس کے ذریعہ انتہاء غضب کا اظہار کیا جاتا ہے۔ جو لوگ نہایت غصیلے ہوتے ہیں اور ذرا ذرا سی بات پر ان کا نفس جوش میں آ جاتا ہے وہ گالیاں بھی زیادہ دیتے ہیں اور جو لوگ جس قدر اپنے نفس پر قابو رکھتے ہیں اسی قدر گالیوں سے بچتے ہیں کیونکہ ان کو اس قدر غصہ نہیں آتا کہ جس کو وہ عام الفاظ میں ادا نہ کر سکیں اور اگر آئے بھی تب بھی وہ اپنے نفس کو جھوٹ سے محفوظ رکھتے ہیں کیونکہ گالیاں در حقیقت ایک کمزوری ہے اور سخت طیش کے وقت انسان سے اس کا ظہور ہوتا ہے اور اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہوتا۔ صرف گالی دینے والے کے لئے ان خیالات کا اس سے پتہ چلتا ہے جو وہ اس کے متعلق رکھتا ہے جسے گالی دیتا ہے۔ غرض گالی دینے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہاں ایک پر غضب طبیعت کے جوش کا اظہار اس سے ہو جاتا ہے مگر پھر بھی اکثر لوگ غضب میں گالیاں دیتے ہیں چنانچہ بعض لوگ جو عام طور پر نرم طبیعت رکھتے ہیں جب ان کو بھی غصہ آجائے تو اپنے مخالف کے حق میں گالی دے دیتے ہیں اور جب کسی شخص سے سخت تکلیف پہنچے تب تو بڑے بڑے صابروں کے منہ سے بھی گالی نکل جاتی ہے چنانچہ مسیح ناصریؑ جیسا صابر انسان جس کی زندگی اس کے صبر اور اس کی استقامت پر دلالت کرتی ہے اور جس نے اپنے دشمنوں سے بڑی بڑی سخت مصیبتیں برداشت کر کے بھی ان کے حق میں کوئی سخت کلمہ نہیں کہا۔ اسے بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک موقعہ پر جب اس کے دشمنوں کی شرارت حد کو پہنچ گئی اور حملہ پر حملہ انہوں نے اس پر کیا تو آخر تنگ آکر ایک دن اسے بھی اپنے دشمنوں کے حق میں کہنا پڑا کہ سانپوں کے بچے مجھ سے معجزہ طلب کرتے ہیں اور کون نہیں جانتا کہ وہ لوگ جو حضرت مسیحؑ کے مخالف تھے وہ انسانوں کے بچے تھے لیکن ان کی شرارتوں نے حضرت مسیحؑ کو اس قدر دق کیا کہ آخر تنگ آکر ان الفاظ میں انہیں اپنے غصہ کا اظہار کرنا پڑا۔ اسی طرح ایک دفعہ اپنے حواریوں سے جو ایک دفعہ ان کو سخت تکلیف پہنچی تو اپنے ایک حواری کو انہوں نے شیطان کے لفظ سے یاد کیا حالانکہ وہ وہی حواری تھا جسے انہوں نے خود اپنے بعد خلیفہ مقرر کیا تھا۔ غرض حضرت مسیحؑ کی مثال سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ کبھی بڑے سے بڑا صابر انسان بھی دشمن کی شرارت سے تنگ آکر ایسی گالی دے بیٹھتا ہے۔ لیکن ہمارے آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے وہ شان عطا فرمائی تھی کہ آپؐ کی زبان پر کبھی گالی نہیں آئی حالانکہ جو مخالفت آپؐ کی ہوئی اور جو تکلیف آپؐ کے دشمنوں نے آپؐ کو دی وہ اس حد کی تھی کہ اس کے مقابلہ میں کسی انسان کی تکلیف نہیں پیش کی جا سکتی
لیکن باوجود اس کے کہ آپؐ کے مخالفوں نے ہر طرح سے آپؐ کو دق کیا اور تئیس سال متواتر بلا وجہ آپؐ کو دکھ دیتے رہے اور ان کے ہاتھ روکنے والا بھی کوئی نہ تھا اور حضرت مسیحؑ کے زمانہ کی طرح کوئی حکومت نہ تھی جس کے قانون سے ڈر کر اہل مکہ رسول کریم ﷺ کو ستانے میں کوئی کمی کرتے اور وہ قوم بھی حضرت مسیحؑ کی قوم سے زیادہ سخت تھی لیکن باوجود اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے منہ پر کبھی گالی نہیں آئی۔
ایک دو دن کی تکلیف ہو تو تب بھی کوئی بات تھی۔ سب کہہ سکتے تھے کہ آپؐ نے جبر کر کے اپنے آپؐ کو روکے رکھا۔ ایک دو ماہ کی بات ہوتی تب بھی کہہ سکتے تھے کہ تکلیف اٹھا کر خاموش رہے ایک دو سال کا معاملہ ہو تب بھی خیال ہو سکتا تھا کہ اپنے نفس کو مار کر اپنی زبان کو بند رکھا لیکن تئیس سال کا لمبا عرصہ جو تکالیف و مصائب سے پُر تھا ایک ایسا عرصہ ہے کہ اس عرصہ میں کسی انسان کا ان تکالیف کو برداشت کرتے ہوئے اور ان عداوتوں کو دیکھتے ہوئے جو آنحضرت ﷺ کو دیکھنی اور برداشت کرنی پڑیں ہر قسم کی سخت کلامی سے پرہیز کرنا اور کبھی فحش گوئی کی طرف مائل نہ ہونا دلالت کرتا ہے کہ وہ انسان کوئی عجیب انسان تھا اور نہ صرف عام انسانوں سے برتر تھا بلکہ دوسرے نبیوں پر بھی فضیلت رکھتا تھا۔ کیونکہ جہاں اس نے اپنے آپ پر قابو رکھا وہاں دوسرے نبی بھی نہ رکھ سکے۔ مجھے اپنے اس بیان کے لئے کسی ایک واقعہ سے استدلال کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس معاملہ میں ایک ایسے شخص کی شہادت موجود ہے جو دس سال متواتر آپؐ کے ساتھ رہا اور یہ حضرت انسؓ ہیں وہ فرماتے ہیں کہ لَمْ يَكُنْ رَّسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَاحِشًا وَ لَا لَعَّانًا، وَلَا سَبَّابًا، كَانَ يَقُوْلُ عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ: مَا لَهُ تَرِبَ جَبِيْنُهُ(بخاری کتاب الادب باب ما ینھی من السباب واللعن) یعنی رسول کریم ﷺ نہ تو گالی دینے کے عادی تھے، نہ فحش کلام کے عادی تھے، نہ لعنت کیا کرتے تھے، جب آپؐ کو ہم میں سے کسی پر غصہ آتا تو آپؐ صرف اس قدر فرما دیا کرتے تھے کہ اسے کیا ہوا ہے اس کے ماتھے پر مٹی لگے۔ یہ گواہی ایک ایسے شخص کی گواہی ہے جو کہ آپؐ کے ساتھ آپؐ کی عمر کے آخری حصہ میں جس میں سے پہلا حصہ آپؐ کی تکلیف کے زمانہ میں سے سب سے سخت زمانہ تھا رہا ہے اور پھر آپؐ کی عمر کا وہ حصہ ہے جبکہ ایام جوانی گزر کر بڑھاپا آگیا تھا اور بڑھاپے میں عام طور پر انسان کی طبیعت چڑچڑی ہو جاتی ہے لیکن باوجود اس کے وہ گواہی دیتا ہے کہ اس دس سال کے تجربہ سے اسے معلوم ہوا ہے کہ آپؐ نہ تو کبھی کسی کو گالی دیتے نہ کبھی آپؐ کے منہ سے کوئی فحش کلمہ نکلتا اور نہ کبھی کسی شخص پر لعنت کرتے ہاں حد سے حد غصہ میں اس قدر کہہ دیتے کہ تیرے ماتھے کو مٹی لگے اور یہ فقرہ گالی کا فقرہ نہیں بلکہ یہ الفاظ عرب لوگ پیار سے بھی کہا کرتے ہیں اور گو عام طور پر ان کا استعمال مہمل جملوں کے طور پر ہوتا ہے لیکن کبھی یہ الفاظ محبت کے اظہار کے لئے بھی استعمال کئے جاتے اور ان سے یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ اس کی یہ شوخی دور ہو کیونکہ ماتھا تکبر کی علامت ہے اور اس کو مٹی لگنے سے یہ مراد ہے کہ اس کا یہ تکبر دور ہو۔
نوٹ : اخبار الفضل میں یہ سلسلہ مضامین یہاں تک ہی شائع ہوا تھا لیکن سیرت کے مضمون پر حضور کی متعدد کتب شائع ہو چکی ہیں۔ (مرتب)
(نماز اور اس کے ضروری مسائل)
از
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
اس مختصر مضمون سے میری غرض یہ ہے کہ یورپ کے ان نیک دل اور حق پسند لوگوں کو جو اپنی خداداد عقل اور دانائی سے اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ اسلام کے متعلق اس وقت تک جو کچھ ہم کو سنایا گیا ہے چرچ کے ایجنٹوں کے تعصب کا نتیجہ ہے اور جو اسلام کے متعلق تازہ اور سچی اطلاع حاصل کرنا چاہتے ہیں اسلام کے اس لاثانی اصل کی نسبت واقفیت بہم پہنچاؤں جسے اسلام کے عملی حصہ کا پہلا اصل کہا جاتا ہے۔ میری مراد اس سے نماز ہے۔ مگر پیشتر اس کے کہ میں پورے طور پر نماز میں ایک مسلمان کو جو کچھ کرنا پڑتا ہے بیان کروں اور اس کے ادا کرنے میں جو عبارتیں اس کو کہنی پڑتی ہیں ان کا ترجمہ لکھوں دو ضروری امور کا بیان کر دینا مناسب سمجھتا ہوں۔
عبادت کی غرض ایک طرف تو اس پاک ہستی کے حضور اپنے جذبات شکر کا اظہار ہوتا ہے جسے عربی زبان میں اللہ اور انگریزی میں گاڈ (GOD) کہتے ہیں۔ کیونکہ انسان فطرتاً اپنے محسن کا شکریہ ادا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ جُبِلَتِ الْقُلُوْبُ عَلٰی حُبِّ مَنْ اَحْسَنَ اِلَیْھَا انسانی دل کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ وہ اپنے محسن سے محبت کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ پس نماز کی
ایک بہت بڑی غرض تو یہ ہوتی ہے کہ انسان اپنے رب کے سامنے اس کے احسانوں کا اپنی زبان سے اقرار کرتا رہے۔
مگر اس کے علاوہ عبادت کی ایک اور بھی غرض ہے اور وہ گناہوں اور بدیوں سے پاک کرنا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ انسانی عبادتوں کا محتاج نہیں بلکہ جس قدر احکام اس نے انسان کو دئیے ہیں ان میں اصل غرض اس کا پاک کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ ناپاک سے تعلق نہیں رکھ سکتا اور پسند فرماتا ہے کہ اس سے تعلق کرنے والا بھی پاک ہو پس تمام عبادات میں یہ مدنظر رکھا گیا ہے کہ ان سے نفس انسانی بدیوں اور شرارتوں سے پاک ہو اور ان کے ذریعہ اسے ایسی طاقت مل جائے کہ وہ مختلف قسم کی ہوا و ہوس کو چھوڑنے کے قابل ہو جائے اور ایک طرف اللہ تعالیٰ سے اس کے تعلقات درست ہو جائیں اور دوسری طرف مخلوق الٰہی سے بھی اس کے معاملات بالکل ٹھیک ہوں۔ چنانچہ اسلام نے مذہب کی تعریف ہی یہی کی ہے کہ وہ بندہ کے خدائے تعالیٰ سے تعلقات کو مضبوط کرتا ہو اور بندوں سے اس کے تعلقات کو سنوارتا ہو۔ اور اگر کوئی مذہب ان دونوں باتوں میں سے ایک کے پورا کرنے سے بھی قاصر ہے تو وہ مذہب نہیں ہو سکتا کیونکہ اس سے مذہب کی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔ پس جس قدر عبادات مقرر کی جاتی ہیں ان کی اصل غرض یہی ہوتی ہے کہ بندہ کو خدا تعالیٰ کے نزدیک کر دیا جائے اور گناہوں سے بچنے کی طاقت پیدا کی جائے اور جو عبادت ان دونوں باتوں کے حصول کے ذرائع پیدا کرے وہی مفید عبادت ہے ورنہ اس میں مشغول ہونا اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ قرآن شریف نے اس مضمون کو یوں ادا کیا ہے۔
اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡکَرِ(العنکبوت: ۴۶) نماز بدیوں اور گناہوں سے روکتی ہے یعنی عبادت کی غرض کو پورا کرتی ہے۔
جبکہ یہ معلوم ہو گیا کہ نماز کی اصل غرض اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنا اس کا شکر ادا کرنا اور نفس کی اصلاح کرنا ہے تو جس طریقِ عبادت سے یہ دونوں باتیں حاصل ہوتی ہوں وہی عبادت سچی عبادت ہے۔ اور اس عبادت کی طرف ہدایت کرنے والا مذہب ہی سچا مذہب ہے۔ اسلام نے اپنے پیرؤوں کے لئے جو طریقِ عبادت رکھا ہے اس میں ان اغراض کو پورا کرنے کے لئے جو ذریعے استعمال کئے ہیں وہ اور کسی مذہب نے نہیں کئے اور ہر ایک انسان ذرا غور سے کام لے کر معلوم کر سکتا ہے کہ وہی ذرائع اس قابل ہیں کہ عبادت کی غرض کو پورا کر سکیں۔ وہ ذرائع یہ ہیں۔
جسم و روح کا ایسا گہرا تعلق ہے کہ ایک کا اثر دوسرے پر پڑتا ہے۔ جس طرح غم کی خبر سن کر جسم ایسا متاثر ہوتا ہے کہ اس پر اداسی کے آثار ہویدا ہو جاتے ہیں اسی طرح جسم کو جب کوئی صدمہ پہنچتا ہے تو روح بھی غمگین ہو جاتی ہے اور یہی حال خوشی کا ہے۔ پس قلب کو خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کرنے کے لئے ایک یہ بھی طریق ہے کہ عبادت کے وقت جسم کو بھی کسی ایسی حالت میں رکھا جائے جس سے تذلل پیدا ہو اور اس کا اثر روح پر پڑ کر دل میں بھی رقت اور نرمی پیدا ہو جائے اور انسان خدائے تعالیٰ کی طرف ایک جوش کے ساتھ متوجہ ہو جائے۔ تذلل کے اظہار کے لئے دنیا میں مختلف صورتوں کو اختیار کیا گیا ہے کسی ملک کے لوگ جھک جاتے ہیں کسی ملک میں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا تذلل کا نشان قرار دیا گیا ہے کسی میں گھٹنوں کے بل گرنے کو کسی میں سجدہ کرنے کو۔ اسلام چونکہ خالق فطرت کی طرف سے ہے اس نے تمام فطرتوں اور عادتوں کا خیال رکھتے ہوئے نماز میں ان سب نشانات کو جمع کر دیا ہے اور مختلف المذاق لوگ جس جس حالت میں بھی تذلل کا اظہار کرتے ہیں نماز ان کے مذاق کے مطابق ہے۔ اور ان مختلف اشکال تذلل کے اثر سے انسانی قلب جوش سے بھر جاتا ہے۔ اور خدائے تعالیٰ کے حضور میں جھک جاتا ہے۔ در حقیقت وہ ایک قابل دید نظارہ ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان رب العالمین خدا کے حضور کبھی ہاتھ باندھے کھڑا ہوتا ہے کبھی جھک جاتا ہے۔ کبھی ہاتھ کھول کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ کبھی سجدہ میں گر جاتا ہے۔ کبھی گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتا ہے اور اس کا دل اس محبت سے پر ہوتا ہے جو ایک مخلوق کو خالق سے ہو سکتی ہے اور وہ زبانِ حال سے اقرار کرتا ہے کہ دنیا کی مختلف اقوام جس جس طریق میں بھی اپنی عبادت کا اظہار کرتی ہیں اے خدا میں تیرے سامنے مجموعی طور پر ان سب طریقوں سے اپنی عبودیت کا اقرار کرتا ہوں۔ یہ نظارہ نماز ادا کرنے والے کو ہی نہیں بلکہ اس کے دیکھنے والے کے دل کو بھی متاثر کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکا دیتا ہے۔
دوسرا اصل اسلام نے نماز کی غایت کو حاصل کرنے کا یہ تجویز کیا ہے کہ دعا کو نماز کا مغز قرار دیا ہے چنانچہ حدیث میں ہے:۔
اَلدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ(ابواب الدعوات باب ما جاء فی فضل الدعاء)
دعا نماز کا مغز ہے اور دعا اپنے اندر ایک ایسا مقناطیسی اثر رکھتی ہے کہ ایک طرف تو بندے کو اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیتی ہے اور دوسری طرف اس کے لئے ایسی آسانیاں بہم پہنچا دیتی ہے کہ جن سے وہ گناہوں سے محفوظ رہ سکے۔ جب ہماری استدعاؤں اور التجاؤں کو والدین اور حکامِ دنیا قبول کرتے ہیں تو کیونکر خیال کیا جائے کہ خدائے تعالیٰ جو سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے اپنے بندوں کی دعاؤں کو رد کر دے گا۔ پس نماز کیا ہے دعاؤں کا ایک مجموعہ ہے جس سے ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے اور دوسری طرف دعائیں قبولیت حاصل کر کے انسان کی ہدایت اور ترقی کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔
تیسرا طریق اسلام نے یہ بتایا ہے کہ خدائے تعالیٰ کی طاقتوں کا معائنہ کیا جائے۔ کیونکہ جب تک کسی چیز کا کامل علم انسان کو نہ ہو اس سے اس کا تعلق مکمل نہیں ہو سکتا۔ مثلاً جس انسان کو علم کی خوبی معلوم نہیں وہ اس کے حصول کی کوشش نہیں کر سکتا اسی طرح جو شخص زہر کے اثر سے ناواقف ہے وہ زہر سے نہیں ڈر سکتا پس اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے اور بدیوں سے بچنے کے لئے اس بات کی نہایت ضرورت ہے کہ خدا تعالیٰ کی کامل معرفت ہو جس کے لئے اسلام نے نماز میں ایسی عبارتوں کا پڑھنا ضروری رکھا ہے۔ جن سے انسان پر اللہ تعالیٰ کا پر جلال اور قابلِ محبت ہونا ظاہر ہوتا ہے اور وہ بے اختیار اس کے حضور گر جاتا ہے اور اس کا دل محبت اور خوف سے بھر جاتا ہے۔ کیونکہ جب اس کے سامنے ایک ہی وقت میں اللہ تعالیٰ کے احسانات پیش کئے جاتے ہیں اور نافرمانی اور قطع تعلق کے نتائج سے آگاہی دی جاتی ہے تو اس پر ایک ایسی انقطاعی حالت طاری ہوتی ہے کہ بے اختیار اللہ تعالیٰ کے قریب ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ناظرین نماز کے ترجمہ سے معلوم کر سکیں گے کہ اس بات کو کس حد تک ملحوظ رکھا گیا ہے اور کس طرح نماز میں انسان کو خدائے تعالیٰ کی پاک اور بے عیب ذات کی معرفت پیدا کرا کے اس کے دل کو محبت الٰہی سے بھرنے اور بدیوں سے بچنے کی سہولتیں بہم پہنچائی گئی ہیں۔ جس کی نظیر اور کسی مذہب میں نہیں مل سکتی۔ اسلام نے جو طریق عبادت بتایا ہے وہ ایسا مکمل اور ضرورت کے مطابق ہے کہ کوئی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور اگر کوئی شخص اسلام کی اس عبادت کا ہی بنظر غائر مطالعہ کرے تو سمجھ سکتا ہے کہ اسلام کو دوسرے مذاہب پر کس قدر فضیلت ہے مجھے افسوس ہے کہ میں اس موضوع پر تفصیل سے نہیں لکھ سکتا کیونکہ میری غرض اس مختصر مضمون سے نماز کے ادا کرنے کا طریق بتانا ہے۔
نماز شروع کرنے سے پہلے مسلم کیا کرتا ہے؟ مسلمان جب نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اسے ایک تیاری کرنی پڑتی ہے جسے وضو کہتے ہیں وضو اس طرح کیا جاتا ہے پہلے ہاتھ دھوئے جائیں پھر تین دفعہ کلی کی جائے پھر تین دفعہ ناک میں پانی ڈالا جائے اس کے بعد تین دفعہ ہاتھ میں پانی لے کر منہ دھویا جائے اس کے بعد پہلے دایاں اور پھر بایاں ہاتھ کہنیوں تک دھویا جائے۔ پھر ہاتھ تر کر کے تین انگلیوں کو سر پر پھیرا جائے جس کے بعد انگوٹھے کے ساتھ کی انگلی کو کان میں اور انگوٹھے کو کان کے باہر پھیرا جائے۔ پھر پہلے دایاں اور پھر بایاں پاؤں دھویا جائے اس تمام کام کو وضو کہتے ہیں☆اور یہ نماز سے پہلے ضروری ہوتا ہے۔
وضو کے بعد مسلم کعبہ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو جاتا ہے✱ اور اَللّٰهُ اَکْبَرُ (اللہ سب سے بڑا ہے) کہہ کر اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھا کر اپنے سینہ پر رکھ لیتا ہے۔ دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا جاتا ہے۔ اور دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے بائیں ہاتھ کو کہنی کے قریب سے پکڑ لیتا ہے۔ اس وقت سے اسے کسی سے بولنا یا ادھر ادھر دیکھنا یا اپنی جگہ سے ہلنا منع ہے۔ جب تک نماز ختم نہ کرے۔ ہاتھ سینہ پر رکھنے کے بعد وہ کہتا ہے۔
سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَ بِحَمْدِكَ وَ تَبَارَكَ اسْمُكَ وَ تَعَالٰى جَدُّكَ وَ لَا اِلٰهَ غَيْرُكَ ۔
ترجمہ۔ اے اللہ تو پاک ہے اور حمد کا مستحق ہے اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری شان بہت بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کے بعد کہتا ہے
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ☆
میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان سے۔ جو کہ درگاہ الٰہی سے دور پھینکا گیا ہے۔
اس کے بعد نماز ادا کرنے والا قرآن شریف کی سب سے پہلی سورۃ پڑھتا ہے جسے سورۃ فاتحہ کہتے ہیں اور وہ یہ ہے
ترجمہ۔ میں شروع کرتا ہوں اللہ کا نام لے کر جو بے محنت دیتا ہے۔ (جیسے سورج کی روشنی یا ہوا) اور کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا اور اقرار کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جو کل مخلوقات کی ربوبیت کرتا ہے۔ ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق ہے وہ بغیر محنت کے بھی انعام کرتا ہے۔ اور محنت کا اجر بھی بڑھ چڑھ کر دیتا ہے۔ کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا اور نیکی اور بدی کے نتائج اسی کے حکم کے ماتحت مرتب ہوتے ہیں اور (میں کہتا ہوں کہ اے وہ خدا جس کا میں نے ذکر کیا ہے) ہم تیری ہی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ اور تجھ ہی سے اپنے ہر ایک کام میں مدد مانگتے ہیں۔ تو ہمیں ہر کام میں سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا راستہ جن پر تیرا انعام ہوا ہے اور ایسا مت کیجئو کہ ہم تیرے پیارے بن کر بھی کسی وجہ سے تیرے غضب کو اپنے اوپر بھڑکا لیں یا خود ہی تجھے چھوڑ کر ادھر ادھر متوجہ
ہو جائیں☆۔ اس سورۃ کے پڑھنے پر مسلم کہتا ہے آمین۔ یعنی الٰہی میری اس دعا کو قبول فرما۔ اس کے بعد نماز پڑھنے والا قرآن شریف کا کوئی حصہ پڑھتا ہے خواہ تھوڑا خواہ زیادہ✱پھر وہ اپنے ہاتھ چھوڑ کر کہتا ہے اَللهُ اَكْبَرُ (اللہ سب سے بڑا ہے) اور جھک جاتا ہے۔ حتّٰی کہ اس کا سر اور کمر ایک لیول میں آ جاتے ہیں اور وہ اپنے ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑ لیتا ہے۔ اور کم از کم تین دفعہ یہ الفاظ کہتا ہے۔ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمُ میرا بڑی عظمتوں والا رب پاک ہے۔ پھر یہ الفاظ کہتا ہوا کھڑا ہو جاتا ہے اور اپنے ہاتھ اپنے پہلوؤں کے ساتھ لٹکا دیتا ہے۔ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ جو شخص اللہ تعالیٰ
کے محامد کا اقرار کرے اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔ پھر کہتا ہے رَبَّنَا وَ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيْرًا طَيِّبًا مُّبَارَكًا فِيْهِ اے ہمارے رب تو خوبیوں والا ہے بہت خوبیوں والا ہے جو پاک اور برکت والی ہیں پھر اَللهُ اَكْبَرُ کہتا ہوا سجدہ میں گر جاتا ہے۔ اور کم از کم تین دفعہ یہ الفاظ کہتا ہے سُبْحَانَ رَبِّيَ الْاَعْلَی میرا بڑی شان والا رب پاک ہے پھر اَللهُ اَكْبَرُ کہتا ہوا اٹھ کر گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتا ہے اور دائیں پاؤں کو انگلیوں کے بل کھڑا رکھتا ہے لیکن بائیں پاؤں کو زمین پر بچھا کر اس پر بیٹھ جاتا ہے۔ اور کہتا ہے اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَارْحَمْنِيْ وَ اهْدِنِيْ وَ عَافِنِيْ وَارْفَعْنِيْ وَاجْبُرْنِيْ وَارْزُقْنِيْ اے اللہ میرے گناہوں کو بخش اور مجھ پر رحم کر اور مجھے ہدایت دے اور ہر ایک شر سے محفوظ رکھ اور مجھے عزت عطا کر اور میری اصلاح کر اور مجھے رزق دے اس کے بعد پھر اَللهُ اَكْبَرُ کہہ کر سجدہ میں چلا جاتا ہے۔ اور وہی الفاظ کہتا ہے۔ جو پہلے سجدہ میں کہے تھے۔ اور پھر اَللهُ اَكْبَرُ کہہ کر کھڑا ہو جاتا ہے (اس حد تک جتنی نماز ہو چکی ہے اسے ایک رکعت کہتے ہیں۔ اور نمازیں دو رکعت کی بعض تین کی اور بعض چار رکعتوں کی ہوتی ہیں) اور جس طرح پہلی رکعت پڑھی تھی اسی طرح پھر پڑھتا ہے۔ لیکن پہلی رکعت میں جو یہ دعا پڑھی تھی سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اسے نہیں پڑھتا۔ بلکہ سورۃ فاتحہ سے ابتداء کرتا ہے اور اس کے بعد کوئی حصہ قرآن شریف کا پڑھتا ہے اور پھر سب کچھ اسی طرح کرتا ہے۔ جس طرح پہلی رکعت میں کیا تھا۔ جب دوسری رکعت کے دونوں سجدوں سے فارغ ہو چکتا ہے تو پہلی رکعت کی طرح کھڑا نہیں ہو جاتا بلکہ جس طرح دونوں سجدوں کے درمیان گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا بیٹھ جاتا ہے اور یہ دعا پڑھتا ہے۔
اَلتَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّيِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا النَّبِيُّ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَ عَلٰی عِبَادِ اللّٰهِ الصّٰلِحِيْنَ اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ۔ ترجمہ۔ تمام عبادتیں خواہ زبان کی ہوں یا جسم کی یا مال کی اللہ کے لئے ہی ہیں (یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی ہستی کی عبادت کسی رنگ میں بھی نہیں کرنی) اے نبی (محمد ﷺ) تجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی نازل ہو اور اس کی رحمت اور برکت (یعنی بڑھوتی) اور ہم پر بھی سلامتی نازل
ہو اور جس قدر اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ہیں سب پر سلامتی نازل ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اس کے خادم اور مخلوق ہیں☆(خدا نہیں ہیں نہ اس کے بیٹے) اور اس کے ایک رسول ہیں۔ اس حصہ کو تشہد کہتے ہیں۔
اس کے بعد وہ اسی طرح بیٹھا ہوا یہ پڑھتا ہے اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاھِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ اَللّٰھُمَّ بَارِكْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔
ترجمہ۔ اے اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اس کے سچے متبعین پر تو اسی طرح رحمتیں نازل کر جس طرح ابراہیم اور اس کے متبعین پر رحمتیں نازل کیں۔ تو بڑی تعریف اور بزرگی والا ہے۔
اے اللہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے سچے متبعین کو درجوں میں بڑھا جس طرح تو نے ابراہیم اور اس کے سچے متبعین کو درجوں میں بڑھایا تھا۔ تو بڑی حمد والا اور بزرگی والا ہے۔ اس حصہ کو درود کہتے ہیں۔
پھر اسی حالت میں بیٹھا ہوا یہ دعائیں یا ان میں سے کوئی دعا پڑھتا ہے (ا) اَللّٰھُمَّ اِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ ظُلْمًا کَثِيْرًا وَ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ فَاغْفِرْ لِيْ مَغْفِرَةً مِّنْ عِنْدِكَ وَارْ حَمْنِيْ اِنَّكَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ(بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء فی الصلوٰۃ) (ب) اَللّٰھُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْھَمِّ وَ الْغَمِّ وَ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَ الْبُخْلِ وَ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَ قَھْرِ الرِّجَالِ۔ (ج) رَبِّ اجۡعَلۡنِیۡ مُقِیۡمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ٭ۖ رَبَّنَا وَتَقَبَّلۡ دُعَآءِ(ابراھیم: ۴۱) (د) رَبَّنَا اغۡفِرۡ لِیۡ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡحِسَابُ(ابراھیم: ۴۲) (ہ) رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّفِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ(البقرہ: ۲۰۲)
(ا) اے اللہ میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کئے ہیں۔ اور کوئی گناہ نہیں معاف کر سکتا مگر تو پس تو اپنے رحم سے مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر تو بخشنے والا مہربان ہے۔ (ب) اے اللہ میں تجھ سے ہم اور غم سے پناہ مانگتا ہوں اور تجھ سے بزدلی اور بخل سے پناہ مانگتا ہوں۔ اور تجھ سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے کاموں میں سامان ہی مہیا نہ کر سکوں۔ اور اس بات کی بھی کہ سامان موجود ہوں اور میں ان سے کام نہ لے سکوں۔ اور تجھ سے پناہ مانگتا ہوں۔ کہ میں ایسا مقروض ہو جاؤں جسے ادا نہ کر سکوں۔ اور اس بات سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ میری آزادی جاتی رہے اور کوئی شخص مجھ پر جابرانہ حکومت کرے۔ (ج) اے میرے رب مجھے نماز پڑھنے کی توفیق دے اور میری اولاد کو بھی اے میرے رب اور تو میری دعا کو قبول کر لے۔ (د) اے ہمارے رب مجھے بخش دے اور میرے والدین کو بھی اور مؤمنوں کو اس دن کہ حساب لیا جائے گا (ہ) اے ہمارے رب ہمیں اس دنیا میں بھی سکھ کے اسباب دے اور اگلے جہان میں بھی اور دوزخ کے عذاب سے ہمیں بچا لے۔ اس کے بعد وہ یہ الفاظ کہتا ہوا دائیں طرف منہ پھیر لیتا ہے
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰہِ تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت☆ اور اسی طرح یہی الفاظ کہتا ہوا بائیں طرف منہ پھیر لیتا ہے اور نماز ختم ہو جاتی ہے اب اسے اجازت ہوتی ہے کہ جو چاہے کرے۔ پوری طرح ان ہدایات پر عمل کرے تو اتنی نماز پر چند منٹ خرچ ہوتے ہیں۔
نماز کے اوقات پانچ ہیں۔ اول پو پھوٹنے سے لے کر سورج نکلنے تک ایک نماز ہوتی ہے اس کی دو رکعتیں ہیں جن سے پہلے دو اور رکعتیں الگ پڑھی جاتی ہیں۔ دوسرا وقت سورج ڈھلنے کے وقت سے شروع ہوتا ہے اور قریباً تین گھنٹہ تک رہتا ہے اس وقت چار رکعت پڑھی جاتی ہیں اور ان سے پہلے بھی اور بعد میں بھی چار چار اور رکعتیں پڑھنی مسنون ہیں اس کے بعد ہی عصر کا وقت شروع ہوتا ہے جس میں چار رکعت نماز ادا کی جاتی ہے سورج ڈوبنے کے ساتھ ہی ایک نماز ادا کی جاتی ہے اس میں تین رکعت پڑھی جاتی ہیں۔ اس کے بعد دو رکعت۔ قریباً ڈیڑھ گھنٹہ بعد غروب سے پانچویں نماز کا وقت شروع ہوتا ہے۔ جسے عشاء کہتے ہیں۔ یہ چار رکعت ہے۔ اور اس کے ساتھ دو
رکعت ایک اور تین رکعت ایک ادا کی جاتی ہیں اور اس نماز کا وقت آدھی رات تک رہتا ہے ان نمازوں کے علاوہ مسلمانوں کو ترغیب دلائی گئی ہے کہ وہ آدھی رات کے بعد پوپھٹنے سے پہلے کسی وقت اٹھ کر آٹھ رکعت نماز دو دو رکعت کر کے ادا کریں اور یہ نماز تہجد کہلاتی ہے۔ یہ نماز (ہر مسلم پر) فرض نہیں جو چاہے پڑھے۔
ان دعاؤں کے علاوہ جو نماز میں پڑھنی مسلمان کے لئے ضروری ہیں اور جو کہ عربی زبان میں ادا کی جاتی ہیں اجازت ہے کہ نماز پڑھنے والا اپنی اپنی زبان میں اپنی ضروریات کے لئے دعا کرے اور یہ دعا قیام رکوع سجدہ قعدہ جلسہ ہر ایک موقعہ پر ہو سکتی ہے۔
ہم نے بتایا تھا کہ سورۃ فاتحہ کے بعد چند آیات قرآنی کا پڑھنا ضروری ہوتا ہے۔ اس لئے ہم قرآن شریف کے مختلف مقامات سے چند آیات قرآنیہ دیتے ہیں۔ جو نماز میں پڑھی جا سکتی ہیں۔ (۱) اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ۬ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوۡمٌ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَمَا خَلۡفَہُمۡ ۚ وَلَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ۚ وَلَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا ۚ وَہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ(البقرہ: ۲۵۶)۔ ترجمہ: اللہ وہ ذات ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے وہ بغیر کسی کی مدد کے خود قائم ہے۔ نہ اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ اس کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے۔ کون ہے جو اس کے پاس شفاعت کر سکے مگر اسی کے حکم سے ایسا کر سکتا ہے وہ خوب جانتا ہے جو کچھ لوگ کر چکے ہیں اور جو کچھ کریں گے اور اس کے علم کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا ہاں جس قدر علم وہ خود دے اسی قدر انسان کو اس کی نسبت علم ہو سکتا ہے اس کا علم تو آسمانوں اور زمینوں پر حاوی ہے اور اسے آسمانوں اور زمین کی حفاظت تھکاتی نہیں اور وہ بڑا ہے اور عظمت والا ہے۔ (۲) قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَلَمۡ یُوۡلَدۡ وَلَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ(الاخلاص) ترجمہ۔ کہہ دے کہ اللہ ایک ہے اللہ وہ ہے کہ اس کی مدد کے بغیر کوئی چیز قائم نہیں رہ سکتی۔ نہ اس کا کوئی بیٹا ہے اور نہ وہ کسی کا بیٹا ہے۔ اور اس کا برابروالا کوئی نہیں۔ (۳) یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسۡخَرۡ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوۡمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنۡہُمۡ وَلَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنۡہُنَّ ۚ وَلَا تَلۡمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ ؕ بِئۡسَ(49:12)
الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِیۡمَانِ ۚ وَمَنۡ لَّمۡ یَتُبۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ(الحجرات: ۱۲)
ترجمہ۔ اے مومنو! ایک قوم دوسری قوم کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھے اور اس سے ہنسی نہ کرے کیونکہ ممکن ہے کہ وہ اس سے بہتر ہو اور نہ عورتیں دوسری عورتوں سے ایسا کریں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ دوسری عورتیں ان سے بہتر ہوں (یعنی نیکی کے لحاظ سے) اور نہ آپس میں ایک دوسرے کی عیب چینی کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کو سخت الفاظ سے پکارا کرو۔ (یعنی گالیاں مت دیا کرو) کیونکہ یہ خدا سے عہد شکنی ہوگی اور یہ برا نام ہے کہ ایمان کے بعد فاسق کہلائے۔ اور جو اس کام سے باز نہ آئے گا وہ ظالم ہوگا۔
ترجمہ۔ اے مومنو! تمہیں ہرگز جائز نہیں کہ تم اپنی بیویوں کا مال جبراً لے لو۔ اور نہ تم کو جائز ہے کہ جو کچھ تم ان کو دے چکے ہو اس کا کوئی حصہ واپس لینے کے لئے تم ان سے الگ ہو جاؤ (تاکہ تمہارے غصہ سے ڈر کر وہ مال تمہارے سپرد کر دیں) ہاں اس وقت بے شک ان سے الگ ہو سکتے ہو۔ جب وہ کھلے کھلے گناہ کا ارتکاب کریں اور ان سے ہمیشہ نیک سلوک کیا کرو۔ اور اگر ان کی کوئی بات تم کو ناپسند ہو (تو اس کی وجہ سے ان سے بد سلوکی نہ کرو) یہ بات بالکل قرینِ قیاس ہے کہ تم کو کوئی بات ناپسند ہو اور اللہ تعالیٰ اس میں بڑی بڑی بھلائیاں پیدا کر دے۔ (یعنی اگر تم عورتوں کی ناپسند حرکات دیکھ کر بھی ان سے نیک سلوک کرو گے تو خدا تمہارے لئے سکھ کا سامان کر دینے کا خود ذمہ لیتا ہے۔
ترجمہ۔ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ تم عدل سے کام لو اور لوگوں سے احسان کرو اور ایسا احسان کرو کہ تم کو کسی نفع کا خیال نہ ہو اور منع کرتا ہے اس بات سے کہ تم وہ بدیاں کرو جو تمہاری جان کے متعلق ہوں یا وہ بدیاں جن کا اثر لوگوں پر پڑتا ہو اور (بادشاہ کے خلاف) بغاوت کرنے سے اور تم کو نصیحت کرتا ہے تاکہ تم عمل کرو۔ اور خدا سے جو عہد تم نے باندھا ہے اسے پورا کرو اور مضبوط قسم کھا کر اسے توڑ نہ کرو (اور تم ایسا کیونکر کر سکتے ہو) اور تم نے تو اس پر اللہ تعالیٰ کو ضامن کیا ہے اللہ تعالیٰ تمہارے افعال کو جانتا ہے۔
ترجمہ۔ ہدایت سے دور ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اللہ تین خداؤں میں سے ایک ہے۔ اور معبود تو صرف ایک ہی ہے اور اگر تین خدا کہنے والے اپنے اقوال سے باز نہیں آئیں گے۔ تو ان میں جو لوگ اپنے اس عقیدہ پر قائم رہیں گے ان کو دردناک عذاب پہنچے گا۔ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں جھکتے۔ اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں مانگتے اور اللہ تعالیٰ تو بخشنے والا مہربان ہے۔ مسیح نہیں تھے مگر ایک رسول اور ان سے پہلے اور رسول گذر چکے ہیں (ان سے ان کی زندگی ملا کر دیکھ لو بالکل مشابہ ہے۔ پھر ان کی خدائی کہاں سے ثابت ہوئی) اور ان کی ماں ایک نیک بخت عورت تھیں وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے (اور خدا کھانے سے پاک ہے) دیکھ ہم کس طرح ان کے لئے دلائل پیش کرتے ہیں پھر دیکھ کہاں پھرتے جاتے ہیں۔
(از ریویو مارچ ۱۹۱۳ء)
(حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی وفات پر مسجد نُور میں تقریر)
از
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
اس وقت میں سب دوستوں کی خدمت میں چھوٹی سی عرض کرنی چاہتا ہوں۔ اور سچے دل سے نصیحت کرنی چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی منشا کے ماتحت حضرت خلیفۃ المسیح فوت ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر بڑے بڑے رحم فرمائے۔ اپنی برکتیں ان پر نازل کرے۔ اعلیٰ سے اعلیٰ مدارج پر انہیں ترقی دے اور وہ انہیں ان کے حقیقی دوست محب اور پیارے جن سے انہیں ساری عمر محبت رہی جن کی محبت بلاشبہ انکے رگ و ریشہ میں تھی۔ یعنی آنحضرت ﷺ اور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ان دونوں پیاروں کے ساتھ جگہ دے۔ (مسجد آمین کی آواز سے گونج اٹھی)
اس وقت احمدی جماعت کے اوپر بڑی ذمہ داری پڑ گئی ہے یہ ذمہ داری ہر بچہ وجوان اور بوڑھے پر ہے۔ ساری جماعت ایک امتحان کے نیچے ہے۔ وہ جو اس امتحان میں کامیاب ہو گیا اور پاس ہو گیا۔ خدا کا پسندیدہ اور پیارا ہو گا۔ اور جو اس امتحان میں فیل ہو گیا۔ وہ خدا تعالیٰ کے حضور نیکو کاروں میں نہیں گنا جائے گا۔
ہم پر ایک ذمہ داری ہے ایک بوجھ ہے اس کو اٹھانے اور اس ذمہ داری میں پاس ہونے کے لئے خوب تیاری کرنی چاہئے۔ خوب یاد رکھو کہ کوئی کام کتنا ہی اعلیٰ سے اعلیٰ اور عمدہ سے عمدہ ہو
لیکن اگر ارادہ بد ہو تو وہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ دیکھو نماز کیسی اعلیٰ چیز ہے۔ مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ فَوَیۡلٌ لِّلۡمُصَلِّیۡنَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنۡ صَلَاتِہِمۡ سَاہُوۡنَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ یُرَآءُوۡنَ(الماعون: ۵-۷) وہ نمازیں پڑھتے ہیں مگر اس نماز میں کوئی مغز اور حقیقت نہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ زید یا بکر نماز پڑھتا ہے۔ لیکن چونکہ اسکی غرض اس نماز میں سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ وہ لوگوں کو دکھا رہا ہے۔ اور ریاء ہے اس لئے جب اس میں ریاء شامل ہو گیا تو وہ پاک اور قرب الٰہی کا ذریعہ ہونے کی بجائے لعنت کا موجب ہو جاتی ہے۔ مجھے یہ نکتہ قرآن مجید کے ابتداء میں خوب معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کے پڑھنے سے پہلے اَعُوْذُ پڑھنا چاہئے پھر ہر سورۃ سے پہلے بِسْمِ اللّٰهِ ہے۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ شروع ہوتی ہے۔ پھر بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ کے بعد الٓمّٓ۔ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ شروع ہوتا ہے
اب غور کرو کہ قرآن مجید پڑھنے سے پہلے اَعُوْذُ کا جو حکم دیا گیا اور ہر سورۃ سے پہلے بِسْمِ اللّٰهِ رکھی تو کیا نَعُوْذُ بِاللہ قرآن مجید میں کوئی شیطانی کام تھا۔ اور شیطانی دخل تھا۔ جو یہ تاکید فرمائی؟ اس میں شیطانی دخل نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب تک نیک کام میں نیک ارادہ شامل نہ ہو تو وہ برا اور خطرناک ہو جاتا ہے اس لئے ارادہ کی اصلاح اور پاکیزگی کے لئے یہ حکم دیا کہ قرآن مجید کے پڑھنے سے پہلے اَعُوْذُ پڑھو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شیطانی وسوسوں سے محفوظ رکھے اور نیکی کی توفیق اللہ تعالیٰ کے فضل اور اعانت کے سوا نہیں ملتی اس لئے بسم اللہ کو رکھا جس میں استعانت ہے پس اَعُوْذُ کا حکم دیا اور بِسْمِ اللّٰهِ کو رکھا تاکہ مؤمنین نیت صاف کریں ایسا نہ ہو کہ بد ارادہ تباہ و ہلاک کر دے۔
بہت سے لوگ ہیں جن کے لئے ایک آیت رحم و برکت کا موجب ہو جاتی ہے اور بہتوں کے لئے وہی آیت ہلاکت کا باعث بن جاتی ہے۔ خدا نے فرمایا۔ اَعُوْذُ پڑھو یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔ اور بِسْمِ اللّٰهِ میں مدد مانگنے کی تعلیم دی۔
غرض کوئی کام کتنا ہی بڑا اور اعلیٰ اور پاک کیوں نہ ہو۔ جب تک اس میں نیک نیتی اور اخلاص نہ ہو اندیشہ ہے کہ وہ قرب الٰہی سے دور نہ پھینک دے۔ اب جو عظیم الشان امانت اور بوجھ ہم پر پڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل اور توفیق کے بدوں ہم اس سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتے۔ اس لئے میں تمہیں یہ نصیحت کرتا ہوں۔ کہ جس قدر فرصت ملے۔ بہتر ہے ہم خدا کے حضور دعائیں کریں اور عاجزانہ التماس کریں کہ مولیٰ کریم! تو ہی سچا راستہ دکھا تاکہ گمراہی اور تباہی میں پڑنے کی بجائے ہم تیرے قریب ہوں۔ یہ بڑی ذمہ داری اور بوجھ ہے جس کے اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں جب تک اس کی نصرت نہ آوے ہم نہیں اٹھا سکتے۔ پس اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ(1:6) بار بار اور کثرت سے پڑھو۔ ہم نہیں جانتے کل کیا ہوگا۔ پرسوں کیا ہوگا۔ ایک غیب کی بات پر ہاتھ مارنا ہے اگر غیب دان خدا مدد نہ کرے تو اندیشہ ہے ہلاکت میں پڑ جاویں اس لئے دعائیں کرو استغفار کرو۔ استخارے کرو۔ درود پڑھو۔ تڑپ تڑپ کر دعائیں کرو کہ مولیٰ تو ہی اپنے فضل سے اس امتحان میں کامیاب کر تیرا مسیحؑ آیا۔ بہتوں نے انکار کیا اور وہ ٹھوکر کھا کر اس پتھر پر گرے اور ہلاک ہوئے۔ مگر تو نے اپنے رحم سے ہمیں ہدایت دی۔ پھر اسکی وفات پر پھر ایک موقعہ امتحان کا آیا۔ اور تو نے ہماری ہدایت فرمائی۔ اب پھر ایک اور موقعہ آیا ہے۔ اب بھی فضل کیجئو اور آپ ہماری رہنمائی کرو۔ ہمارے تمام کاموں میں برکت نازل کیجئو۔ دشمنوں کو خوش ہونیکا موقعہ نہ دیجئو اپنی خدمت کے لئے پاک وجود چن لے۔ اَللّٰھُمَّ آمِیْن سب لوگ اپنے دلوں میں چلتے پھرتے دعائیں کریں آج رات کو اٹھ اٹھ کر دعائیں کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مشکلات حل کر دیتا ہے۔ خدا تعالیٰ پر توکل کرو۔ اس کے وعدے سچے ہیں۔ اس نے جو اپنے مسیح موعودؑ سے وعدے کئے۔ وہ پورے ہوئے اور ہونگے۔ ایک انسان جھوٹا وعدہ کر لیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہوتے ہیں وہ صَادِقُ الْوَعْدِ ہے۔ خدا تعالیٰ کے وعدوں کی صداقت پر ایمان لاؤ۔ اور اسی پر توکل اور بھروسہ کرو۔ اب میں بھی دعا کرتا ہوں۔ تم بھی میرے ساتھ ملکر دعا کرو۔ اور اس کے بعد بھی دعائیں کرو۔
(اس تقریر کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے۔ خدا جانے دعا میں کیا سوز اور ابتہال تھا کہ اس نے مسجد نور کو تھوڑی دیر کے لئے مسجد بکاء بنا دیا۔ کوئی آنکھ نہ تھی جو روتی نہ تھی۔ اور دلوں میں ایک سوزش تھی۔ بڑی لمبی دعا کے بعد ایک ایسی تجلّی معلوم ہوتی تھی۔ کہ بجلی کی طرح دلوں پر سکینت کا نزول ہوا۔ دعا کے بعد حضور بیٹھ گئے۔ لوگوں میں ایک قبولیت اور جوش تھا پھر فرمایا کہدو کہ جو روزہ رکھ سکتے ہیں وہ کل روزہ رکھیں۔ اس حکم اور ارشاد کے بعد آپ مسجد نور سے اٹھے اور نواب صاحب کے مکان پر تشریف لے گئے۔)
(الفضل ۱۸؍مارچ ۱۹۱۴ء)